MUSNAD AHMED

Search Result (29)

79)

79) امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5178

۔ (۵۱۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْخَیْلِ، فَقَالَ: ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَہِیَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَھِیَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَ ھی عَلٰی رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ أَجْرٌ الَّذِی یَتَّخِذُہَا وَیَحْبِسُہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَمَا غَیَّبَتْ فِی بُطُونِہَا فَہُوَ لَہُ أَجْرٌ، وَإِنْ اسْتَنَّتْ مِنْہُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ کَانَ لَہُ فِی کُلِّ خُطْوَۃٍ خَطَاہَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَ لَہُ نَہْرٌ، فَسَقَاہَا مِنْہُ کَانَ لَہُ بِکُلِّ قَطْرَۃٍ غَیَّبَتْہُ فِی بُطُونِہَا أَجْرٌ۔)) حَتّٰی ذَکَرَ الْأَجْرَ فِی أَرْوَاثِہَا وَأَبْوَالِہَا۔ (مسند أحمد: ۸۹۶۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گھوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر وابستہ کر دی گئی ہے، گھوڑا کسی کے لیے اجر ہوتا ہے، کسی کے لیے پردہ اور کسی کے لیے گناہ۔ جو گھوڑا باعث ِ اجر ہو تا ہے، وہ وہ ہوتاہے، جس کو آدمی اللہ کی راہ کی خاطر پالتا ہے، ایسا گھوڑا جو کچھ کھاتا ہے، اس میں بھی اس کے مالک کے لیے اجر ہے اور جب وہ ایک دو ٹیلوں تک چلتا ہے تو اس کے ہر ہر قدم کے بدلے مالک کے لیے اجر ہوتا ہے، اگر سامنے نہر آ جائے اور وہ اس سے پانی پی لے تو وہ جو پانی پیتا ہے، اس کے ہر ہر قطرے کے عوض مالک کو ثواب ملتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کے اجر وثواب کا بھی ذکر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5179

۔ (۵۱۷۹)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِیْمَانًا بِاللّٰہِ وَتَصْدِیْقًا لِمَوْعُوْدِہِ کَانَ شِبَعُہٗ وَرِیُّہٗ وَبَوْلُہٗ وَرَوْثُہٗ حَسَنَاتٍ فِیْ مِیْزَانِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی راہ میں ایک گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، سیراب ہونا، پیشاب اور لید، یہ سب چیزیں روزِ قیامت اس کے ترازو میں نیکیاں ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5180

۔ (۵۱۸۰)۔ عن أَسْمَاء بِنْتِ یَزِیدَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْخَیْلُ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ مَعْقُودٌ أَبَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ رَبَطَہَا عُدَّۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَأَنْفَقَ عَلَیْہَا احْتِسَابًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَإِنَّ شِبْعَہَا وَجُوعَہَا وَرِیَّہَا وَظَمَأَہَا وَأَرْوَاثَہَا وَأَبْوَالَہَا فَلَاحٌ فِی مَوَازِینِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ رَبَطَہَا رِیَائً وَسُمْعَۃً وَفَرَحًا وَمَرَحًا فَإِنَّ شِبَعَہَا وَجُوعَہَا وَرِیَّہَا وَظَمَأَہَا وَأَرْوَاثَہَا وَأَبْوَالَہَا خُسْرَانٌ فِی مَوَازِینِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۲۶)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ قیامت کے دن تک، یعنی ہمیشہ کے لیے خیر وابستہ کر دی گئی ہے، پس جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے تیاری کرتے ہوئے گھوڑا باندھا اور اسی کے راستے کی خاطر ثواب کی نیت سے اس پر خرچ کیا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، بھوکا ہونا، سیراب ہونا، پیاسا ہونا اور اس کا پیشاب، یہ سب چیزیں قیامت کے دن اس کے ترازوں میں کامیابی کا باعث ہوں گی، لیکن جس نے گھوڑے کو ریاکاری، شہرت اور اتراہٹ کے لیے پالا تو اس کے سیر ہونے، بھوکا رہنے، سیراب ہونا، پیاسا ہونا اور اس کی لید اور پیشاب، یہ سب چیزیں قیامت کے دن اس کے ترازوں میں خسارے کا باعث بنیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5181

۔ (۵۱۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند أحمد: ۵۲۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5182

۔ (۵۱۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۱۳۶۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5183

۔ (۵۱۸۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ، وَالنَّیْلُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَأَہْلُہَا مُعَانُونَ عَلَیْہَا، فَامْسَحُوا بِنَوَاصِیہَا، وَادْعُوا لَہَا بِالْبَرَکَۃِ، وَقَلِّدُوہَا، وَلَا تُقَلِّدُوہَا بِالْأَوْتَارِ)) وَقَالَ عَلِیٌّ: وَلَا تُقَلِّدُوہَا الْأَوْتَارَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر اور مقصود و مطلوب وابستہ کر دیا گیا ہے اور ان کے مالکان ان پر سوار ہو کر سختیاں جھیلتے ہیں، پس تم لوگ گھوڑوں کی پیشانیوں کو چھوا کرو اور ان کے لیے برکت کی دعا کیا کرو اور ان کو قلادے ڈالو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5184

۔ (۵۱۸۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبَرَکَۃُ فِیْ نَوَاصِی الْخَیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۴۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5185

۔ (۵۱۸۵)۔ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْتِلُ عُرْفَ فَرَسٍ بِأُصْبُعَیْہِ وَہُوَ یَقُولُ: ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِیہَا الْخَیْرُ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۱۰)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی انگلیوں کے ساتھ گھوڑے کی گردن کے بال بٹتے اور فرماتے: قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر یعنی اجر اور غنیمت وابستہ کر دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5186

۔ (۵۱۸۶)۔ عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمْ یَکُنْ شَیْئٌ اَحَبَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْخَیْلِ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰھُمَّ غَفْرًا، لَا، بَلِ النِّسَائُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۵۷۸)
۔ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کوئی چیز نہیں ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہے، گھوڑوں کی بہ نسبت، پھر سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ! بخش دے، نہیں، بلکہ آپ کو عورتیں سب سے زیادہ پسند تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5187

۔ (۵۱۸۷)۔ عَنْ عِیْسَی بْنِ عَلِیٍّ عَن اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ یُمْنَ الْخَیْلِ فِیْ شُقْرِھَا)) (مسند أحمد: ۲۴۵۴)
۔ عیسیٰ بن علی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک گھوڑے کی برکت سرخ گھوڑوںمیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5188

۔ (۵۱۸۸)۔ عَنْ أَبِی وَہْبٍ الْجُشَمِیِّ، وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَسَمَّوْا بِأَسْمَائِ الْأَنْبِیَائِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَائِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللّٰہِ وَعَبْدُالرَّحْمٰنِ، وَأَصْدَقُہَا حَارِثٌ وَہَمَّامٌ، وَأَقْبَحُہَا حَرْبٌ وَمُرَّۃُ، وَارْتَبِطُوا الْخَیْلَ، وَامْسَحُوا بِنَوَاصِیہَا وَأَعْجَازِہَا، أَوْ قَالَ: ((وَأَکْفَالِہَا وَقَلِّدُوہَا وَلَا تُقَلِّدُوہَا الْأَوْتَارَ، وَعَلَیْکُمْ بِکُلِّ کُمَیْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَدْہَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۴۱)
۔ سیدنا ابو وہب جشمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں، سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور قبیح نام حرب اور مرہ ہیں، گھوڑوں کو سرحدی حفاظت کے لیے تیار رکھو، ان کی پیشانی اور سرین کو چھوا کرو اور ان کو قلادے ڈالا کرو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں، گھوڑوں کی ان قسموں کا اہتمام کرو: سیاہی سرخی مائل یعنی قرمزی رنگ کے گھوڑے جن کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، سفید و سرخ گھوڑا جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو اور وہ سخت سیاہ گھوڑا جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5189

۔ (۵۱۸۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ مَعْنَاہُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَدْرِی بِالْکُمَیْتِ بَدَأَ أَوْ بِالْأَدْہَمِ، قَالَ: وَسَأَلُوہُ لِمَ فَضَّلَ الْأَشْقَرَ؟ قَالَ: لِأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ سَرِیَّۃً فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ جَائَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ الْأَشْقَرِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۴۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، پھر اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، محمد راوی کہتے ہیں: مجھے اس چیز کا علم نہ ہو سکا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے سیاہی سرخی مائل گھوڑے کا ذکر کیا یا سیاہ گھوڑے کا۔ جب لوگوں نے اس سے سوال کیاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفید و سرخ گھوڑے کو کیوں فضیلت دی تو اس نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سریہ بھیجا تھا، جو آدمی سب سے پہلے فتح کی خوشخبری لایا تھا، وہ اس قسم کے گھوڑے پر سوار تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5190

۔ (۵۱۹۰)۔ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ الْخَیْلِ الْأَدْہَمُ الْأَقْرَحُ الْأَرْثَمُ، مُحَجَّلُ الثَّلَاثِ، مُطْلَقُ الْیَمِینِ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ أَدْہَمَ فَکُمَیْتٌ عَلٰی ہٰذِہِ الشِّیَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۹۲۹)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین گھوڑا وہ ہے، جو سخت سیاہ ہو، اس کی پیشانی پر ہلکی سفیدی اور اوپر والے ہونٹ پر سفیدی ہو اور اس کی تین ٹانگیں سفید ہوں اور دائیں ٹانگ سیاہ ہو، اگر سخت سیاہ گھوڑا نہ ہو، تو سیاہی سرخی مائل گھوڑا ہو جائے، لیکن اس کی باقی صفات یہی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5191

۔ (۵۱۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَکْرَہُ الشِّکَالَ مِنَ الْخَیْلِ۔ (مسند أحمد: ۷۴۰۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شِکَال گھوڑے کو ناپسند کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5192

۔ (۵۱۹۲)۔ عَنْ أَبِی عَامِرٍ الْہَوْزَنِیِّ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ الْأَنْمَارِیِّ، أَنَّہُ أَتَاہُ فَقَالَ: أَطْرِقْنِی مِنْ فَرَسِکَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَطْرَقَ فَعَقَّتْ لَہُ الْفَرَسُ کَانَ لَہُ کَأَجْرِ سَبْعِینَ فَرَسًا حُمِلَ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ)) (مسند أحمد: ۱۸۱۹۵)
۔ ابو عامر ہوزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے اور کہا: مجھے جفتی کے لیے اپنا گھوڑا دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے جفتی کے لیے کسی کو گھوڑا دیا اور اس کے نتیجے میں گھوڑا پیدا ہوا تو اس کے لیے ایسے ستر گھوڑوں کا ثواب ہو گا، جو اللہ کے راستے میں سواری کے لیے دیئے جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5193

۔ (۵۱۹۳)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ أُہْدِیَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَغْلٌ أَوْ بَغْلَۃٌ، فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا؟ قَالَ: بَغْلٌ أَوْ بَغْلَۃٌ؟ قُلْتُ: وَمِنْ أَیِّ شَیْئٍ ہُوَ؟ قَالَ: یُحْمَل الْحِمَارُ عَلَی الْفَرَسِ فَیَخْرُجُ بَیْنَہُمَا ہٰذَا، قُلْتُ: أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلٰی فُلَانَۃَ؟ قَالَ: ((لَا إِنَّمَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ الَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَََََ۔)) (مسند أحمد: ۷۶۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خچر کا نر یا مادہ بطور تحفہ دیا گیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خچر نسل کا نر یا مادہ ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب گدھے سے گھوڑی کی جفتی کرائی جاتی ہے تو ان سے یہ پیدا ہوتا ہے، میں نے کہا: تو پھر کیا ہم فلاں گدھے سے فلاں گھوڑی کی جفتی نہ کروائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہ لوگ ایسا کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5194

۔ (۵۱۹۴)۔ عَنْ دَحِیَّۃَ الْکَلْبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَا اَحْمِلُ لَکَ حِمَارًا عَلٰی فَرَسٍ فَیُنْتِجَ لَکَ بَغْلًا فَتَرْکَبُھَا؟ قَالَ: ((اِنَّمَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۰۰۰)
۔ سیدنا دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے گدھے سے گھوڑی کی جفتی نہ کرواؤں، تاکہ خچر پیدا ہو اور آپ اس پر سواری کریں؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ لوگ یہ کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5195

۔ (۵۱۹۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَھَانَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نُنْزِیَ حِمَارًا عَلٰی فَرَسٍ۔ (مسند أحمد: ۷۳۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم گھوڑی کی جفتی گدھے سے کروائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5196

۔ (۵۱۹۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ اِخْصَائِ الْخَیْلِ وَالْبَھَائِمِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فِیْھَا نِمَائُ الْخَلْقِ۔ (مسند أحمد: ۴۷۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں اور دوسرے چوپائیوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: خصی نہ کرنے سے نسل بڑھتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5197

۔ (۵۱۹۷)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِیِّ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ زَارَ تَمِیمًا الدَّارِیَّ، فَوَجَدَہُ یُنَقِّی شَعِیرًا لِفَرَسِہِ، قَالَ: وَحَوْلَہُ أَہْلُہُ، فَقَالَ لَہُ رَوْحٌ: أَمَا کَانَ فِی ہٰؤُلَائِ مَنْ یَکْفِیکَ، قَالَ تَمِیمٌ: بَلٰی، وَلٰکِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ امْرِئٍ مُسْلِمٍ یُنَقِّی لِفَرَسِہِ شَعِیرًا ثُمَّ یَعْلِفُہُ عَلَیْہِ إِلَّا کُتِبَ لَہُ بِکُلِّ حَبَّۃٍ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۸۰)
۔ شرحبیل بن مسلم خولانی کہتے ہیں: روح بن زنباع، سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملنے کے لیے آئے اور ان کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے گھوڑے کے لیے جَو صاف کر رہے تھے اور ان کے بیوی بچے ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے، روح نے کہا: کیا ان افراد میں کوئی ایسا بندہ نہیں ہے، جو تمہیں اس کام سے کفایت کرے، سیدنا تمیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان آدمی نے اپنے گھوڑے کے لیے جو صاف کر کے اس کو کھلاتا ہے تو اس کے لیے ہر ہر دانے کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5198

۔ (۵۱۹۸)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ، عَنْ سُھَیْلِ بْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُنْفِقُ عَلَی الْخَیْلِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَبَاسِطِ یَدَیْہِ بِالصَّدَقَۃِ لَا یَقْبِضُھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۶۸)
۔ سیدنا ابو الدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سہیل بن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ کی راہ والے گھوڑے پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے، جس نے صدقہ کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو پھیلا رکھا ہو اور وہ ان کو بند کرنے والا نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5199

۔ (۵۱۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُضْمِرُ الْخَیْلَ۔ (مسند أحمد: ۵۵۸۸)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑوں کی تضمیر کیا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5200

۔ (۵۲۰۰)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِنِالسُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جَزِّ اَعْرَافِ الْخَیْلِ وَنَتْفِ اَذْنَابِھَا، وَجَزِّ نَوَاصِیْھَا، وَقَالَ: ((اَمَّا اَذْنَابُھَا فَاِنَّھَا مُذَابُّھَا، وَاَمَّا عِرَافُھَا فَاِنَّھَا اِدْفَائُھَا، وَاَمَّا نَوَاصِیْھَا فَاِنَّ الْخَیْرَ مَعْقُوْدٌ فِیْھَا، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَنَوَاصِیْھَا مَعْقُوْدٌ بِھَا الْخَیْرُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۹۰)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑے کی گردن کے بال، دم کے بال اور پیشانی کے بال کاٹنے سے منع کیا اور فرمایا: گھوڑوں کی دُمیں (مکھیوں وغیرہ کو) ہٹاتی ہیں، گردن کے بال ان کو سردی سے بچاتے ہیں اور پیشانیاں، کیا بات ہے ان کی کہ اللہ تعالیٰ نے روزِ قیامت تک خیر کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5201

۔ (۵۲۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْخَیْلُ ثَلَاثَۃٌ فَفَرَسٌ لِلرَّحْمٰنِ، وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ، وَفَرَسٌ لِلشَّیْطَانِ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمٰنِ فَالَّذِی یُرْبَطُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَعَلَفُہُ وَرَوْثُہُ وَبَوْلُہُ وَذَکَرَ مَا شَائَ اللّٰہُ، وَأَمَّا فَرَسُ الشَّیْطَانِ فَالَّذِی یُقَامَرُ أَوْ یُرَاہَنُ عَلَیْہِ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَالْفَرَسُ یَرْتَبِطُہَا الْإِنْسَانُ یَلْتَمِسُ بَطْنَہَا فَہِیَ تَسْتُرُ مِنْ فَقْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۵۶)
۔ عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک گھوڑا رحمن کیلئے ہوتا ہے، ایک انسان کیلئے اور ایک شیطان کیلئے ہوتا ہے، رحمن والا گھوڑا وہ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے کیلئے باندھا جاتا ہے، پس اس کا چارہ بلکہ لید اور پیشاب، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بہت سی چیزیں ذکر کیں، سب چیزوں میں اجر ہے۔ شیطانی گھوڑا وہ ہے، جس پر جوا کھیلا جاتا ہے اور (جاہلیت کے طریقوں کے مطابق) بازیاں لگائی جاتی ہیں اور انسانی گھوڑا وہ ہے، جس کو انسان اس مقصد کیلئے باندھتا ہے کہ اس کے بچے پیدا ہوں اور حاجت پر پردہ پڑا رہے (یعنی اس کے ذریعے گھر کی ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5202

۔ (۵۲۰۲)۔ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((الْخَیْلُ ثَلَاثَۃٌ، فَرَسٌ یَرْبِطُہُ الرَّجُلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَثَمَنُہُ أَجْرٌ، وَرُکُوبُہُ أَجْرٌ، وَعَارِیَتُہُ أَجْرٌ، وَعَلَفُہُ أَجْرٌ، وَفَرَسٌ یُغَالِقُ عَلَیْہِ الرَّجُلُ وَیُرَاہِنُ، فَثَمَنُہُ وِزْرٌ وَعَلَفُہُ وِزْرٌ، وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَۃِ فَعَسٰی أَنْ یَکُونَ سَدَادًا مِنَ الْفَقْرِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالَی۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۱۸)
۔ ایک انصاری صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ گھوڑا ہے کہ جس کو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے باندھ کر رکھتا ہے، اس کی قیمت بھی اجر ہے ، اس کی سواری بھی اجر ہے، اس کا عاریۃً دینا بھی اجر ہے اور اس کا چارہ بھی اجر ہے ، دوسرا وہ گھوڑا ہے، جس پر جوا اور (جاہلیت کی) بازیاں لگائی جاتی ہیں، ایسے گھوڑے کی قیمت بھی گناہ ہے اور اس کا چارہ بھی مالک کے لیے بوجھ ہے، تیسرا وہ گھوڑا ہے، جس کو اس لیے پالا جاتا ہے کہ وہ بچے جنم دے گا، ممکن ہے کہ اس قسم کی وجہ سے مالک کی فقیری دور ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5203

۔ (۵۲۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ شَمَاسَۃَ: أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ حُدَیْجٍ مَرَّ عَلَی أَبِی ذَرٍّ، وَہُوَ قَائِمٌ عِنْدَ فَرَسٍ لَہُ، فَسَأَلَہُ مَا تُعَالِجُ مِنْ فَرَسِکَ ہٰذَا؟ فَقَالَ: إِنِّی أَظُنُّ أَنَّ ہٰذَا الْفَرَسَ قَدْ اسْتُجِیبَ لَہُ دَعْوَتُہُ، قَالَ: وَمَا دُعَائُ الْبَہِیمَۃِ مِنَ الْبَہَائِمِ؟ قَالَ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا مِنْ فَرَسٍ إِلَّا وَہُوَ یَدْعُو کُلَّ سَحَرٍ فَیَقُولُ: اللّٰہُمَّ أَنْتَ خَوَّلْتَنِی عَبْدًا مِنْ عِبَادِکَ، وَجَعَلْتَ رِزْقِی بِیَدِہِ، فَاجْعَلْنِی أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَہْلِہِ وَمَالِہِ وَوَلَدِہِ، قَالَ أَبِی: وَوَافَقَہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِمَاسَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۷۷۳)
۔ ابو شماسہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : معاویہ بن حُدَیج، سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے تھے انھوں نے ان سے سوال کیا کہ وہ تو بس اپنے گھوڑے کے ساتھ ہی لگے رہتے ہیں، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس گھوڑے کی دعا قبول ہوتی ہے، انھوں نے کہا: چوپائیوں میں سے ایک چوپائے کی دعا کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نہیں ہے کوئی گھوڑا، مگر وہ سحری کے وقت یہ دعا کرتا ہے: اے اللہ! تو نے مجھے اپنے بندوں میں ایک بندے کے سپرد کر دیا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھ دیا ہے، اب مجھے اس کے اہل، مال اور اولاد سے بڑھ کراس کا محبوب بنا دے۔امام احمد نے کہا: عمرو بن حارث نے ابن شماسہ سے روایت لینے میں اس کی موافقت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5204

۔ (۵۲۰۴)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حُدَیْجٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ فَرَسٍ عَرَبِیٍّ إِلَّا یُؤْذَنُ لَہُ مَعَ کُلِّ فَجْرٍ یَدْعُو بِدَعْوَتَیْنِ یَقُولُ: اللّٰہُمَّ خَوَّلْتَنِی مَنْ خَوَّلْتَنِی مِنْ بَنِی آدَمَ، فَاجْعَلْنِی مِنْ أَحَبِّ أَہْلِہِ وَمَالِہِ إِلَیْہِ أَوْ أَحَبَّ أَہْلِہِ وَمَالِہِ إِلَیْہِ)) قَالَ أَبُوعَبْدالرَّحْمٰنِ قَالَ أَبِی: خَالَفَہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ: عَنْ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاشَۃَ و قَالَ لَیْثٌ عَنْ أَبِی شِمَاشَۃَ أَیْضًا۔ (مسند أحمد: ۲۱۸۲۹)
۔ معاویہ بن حُدَیج سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر عربی گھوڑے کو ہر فجر کے وقت دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، پس وہ کہتا ہے: اے اللہ! تو مجھے بنو آدم میں سے جس کے سپرد کرے، مجھے اس کے اہل اور مال سے بڑھ کر اس کا محبوب بنا دے۔ امام احمد نے کہا: عمر و بن حارث نے اس کی مخالفت کی اور کہا: یزید عن عبد الرحمن بن شماسۃ ، لیث نے بھی عن ابی شماسۃ کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5205

۔ (۵۲۰۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ یُحْمَلُ عَلَی نَجِیبِہَا، وَتُعِیرُ أَدَاتَہَا، وَتُمْنَحُ غَزِیرَتُہَا، وَیُجْبِیہَا یَوْمَ وِرْدِہَا فِی أَعْطَانِہَا۔)) (مسند أحمد: ۹۷۶۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اونٹوں کی بہترین تعداد تیس ہے، ان میں سے عمدہ اونٹ کی سواری کی جاتی ہے، اس کا ڈول عاریۃً دیا جاتا ہے، دودھ والی اونٹنی بطور عطیہ دی جاتی ہے اور پانی پینے کے دن جب وہ اپنے باڑوں میں جمع ہوتے ہیں تو ان کو دوہ کر (محتاجوں کو) دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5206

۔ (۵۲۰۶)۔ عَنْ عَبَّادِبْنِ تَمِیمٍ أَنَّ أَبَابَشِیرٍ الْأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہُ: أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَسُولًا، لَا یُبْقَیَنَّ فِی رَقَبَۃِ بَعِیرٍ قِلَادَۃٌ مِنْ وَتَرٍ وَلَا قِلَادَۃٌ إِلَّا قُطِعَتْ، قَالَ اِسْمَاعِیْلُ: قَاَل وَاَحْسِبُہُ، قَالَ: وَالنَّاسُ فِیْ مِیَاھِِھِمْ۔
۔ سیدنا ابو بشیر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک قاصد بھیجا، وہ یہ اعلان کر رہا تھا کہ اونٹ کی گردن میں کوئی قلادہ ہر گز باقی نہ چھوڑا جائے، وہ تانت کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ اسماعیل راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ اس وقت لوگ پانیوں پر تھے۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۳۲)

آیت نمبر