Musnad Ahmad

Search Results(1)

82)

82) آزادی کے احکام کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5292

۔ (۵۲۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلَا یَحْلِفْ إِلَّا بِاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) وَکَانَتْ قُرَیْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِہَا فَقَالَ: ((لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْْْْْ۔)) (مسند أحمد: ۵۴۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی قسم اٹھانا چاہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے۔ چونکہ قریشی لوگ اپنے آباء کی قسم اٹھاتے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے آباء کی قسم نہ اٹھایا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5293

۔ (۵۲۹۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی حَلْقَۃٍ فَسَمِعَ رَجُلًا فِی حَلْقَۃٍ أُخْرٰی وَہُوَ یَقُولُ: لَا وَأَبِی، فَرَمَاہُ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِالْحَصٰی، وَقَالَ: إِنَّہَا کَانَتْ یَمِینَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَنَہَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا وَقَالَ: ((إِنَّہَا شِرْکٌ)) (مسند أحمد: ۵۲۲۲)
۔ سعد بن عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، جب انھوں نے دوسری مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو یوں کہتے ہوئے سنا: نہیں، میرے باپ کی قسم ہے، تو انھوں نے اس کو کنکری ماری اور کہا: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی اسی طرح قسم اٹھاتے تھے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شرک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5294

۔ (۵۲۹۴)۔ وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَنَہَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ بِشَیْئٍ دُونَ اللّٰہِ تَعَالٰی فَقَدْ أَشْرَکَ)) وَقَالَ الْآخَرُ: ((وَہُوَ شِرْکٌ)) (مسند أحمد: ۴۹۰۴)
۔ (دوسری سند) اسی طر ح کی روایت ہے، البتہ اس میںہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم اٹھائی، اس نے شرک کیا۔ ایک راوی کے الفاظ یہ ہیں: اور وہ شرک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5295

۔ (۵۲۹۵)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗ قَالَ: لَا وَاَبِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَہْ، اِنَّہٗ مَنْ حَلَفَ بِشَیْئٍ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ اَشْرَکَ۔)) (مسند أحمد: ۳۲۹)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب انھوں نے یوں کہتے ہوئے قسم اٹھائی کہ نہیں، میرے باپ کی قسم ہے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: رک جاؤ، بیشک جس نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم اٹھائی،ا س نے شرک کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5296

۔ (۵۲۹۶)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَقُوْلُ: وَاَبِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ، فَإِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ۔)) قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَمَا حَلَفْتُ بِھَا بَعْدُ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا۔ (مسند أحمد: ۴۵۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یوں کہتے ہوئے سنا کہ میرے باپ کی قسم ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے آباء کی قسمیں اٹھانے سے منع کرتا ہے، جب کوئی آدمی قسم اٹھائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، یا پھر خاموش رہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس کے بعد نہ میں نے جان بوجھ کر ایسی قسم اٹھائی اور نہ کسی کا بات نقل کرتے ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5297

۔ (۵۲۹۷)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَ: فَوَاللّٰہِ مَا حَلَفْتُ بِھَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ نَھٰی عَنْھَا وَلَا تَکَلَّمْتُ بِھَا ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا۔ (مسند أحمد: ۱۱۲)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی قسم کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ کی قسم ہے، جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، میں نے ایسی قسم نہیں اٹھائی اور نہ ایسا کلام کیا، نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی کی کلام نقل کرتے ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5298

۔ (۵۲۹۸)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزَاۃٍ فَحَلَفْتُ: لَا وَاَبِیْ، فَھَتَفَ بِیْ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِیْ فَقَالَ: ((لَا تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ۔)) فَاِذَا ھُوَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۱۴)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک غزوے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، میں نے یوں قسم اٹھائی: نہیں، میرے باپ کی قسم! میرے پیچھے سے کسی آدمی نے بآواز بلند کہا: اپنے آباء کی قسمیں نہ اٹھاؤ۔ جب میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5299

۔ (۵۲۹۹)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ وَلَا بِالطَّوَاغِیْتِ)) وَقَالَ یَزِیْدُ: وَالطَّوْاغِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۰۰)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپوں اور طاغوت کی قسمیں نہ اٹھایا کرو۔ یزید راوی نے اپنی روایت میں طواغی کے الفاظ ذکر کیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5300

۔ (۵۳۰۰)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، فَجِئْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَتَرَکْتُ عِنْدَہُ رَجُلًا مِنْ کِنْدَۃَ، فَجَائَ الْکِنْدِیُّ مُرَوَّعًا فَقُلْتُ: مَا وَرَائَ کَ؟ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ آنِفًا فَقَالَ: أَحْلِفُ بِالْکَعْبَۃِ، فَقَالَ: احْلِفْ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ، فَإِنَّ عُمَرَ کَانَ یَحْلِفُ بِأَبِیہِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحْلِفْ بِأَبِیکَ فَإِنَّہُ مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ أَشْرَکَ۔)) (مسند أحمد: ۶۰۷۳)
۔ سعد بن عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، پھر میں ایک کندی باشندے کو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چھوڑ کر سعید بن مسیب کے پاس چلا گیا، وہ کندی آدمی گھبرا کر وہاں پہنچ گیا، میں نے اس سے کہا: تیرے پیچھے کون لگا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: ابھی ایک آدمی، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں کعبہ کی قسم اٹھاتا ہوں، انھوں نے کہا: تو کعبہ کے ربّ کی قسم اٹھا، کیونکہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے باپ کی قسم اٹھاتے تھے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اپنے باپ کی قسم مت اٹھاؤ، کیونکہ جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی، اس نے شرک کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5301

۔ (۵۳۰۱)۔ عَنْ قُتَیْلَۃَ بِنْتِ صَیْفِیٍّ الْجُہَیْنِیَّۃِ قَالَتْ: أَتَی حَبْرٌ مِنْ الْأَحْبَارِ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّکُمْ تُشْرِکُونَ، قَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ وَمَا ذَاکَ؟)) قَالَ: تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ وَالْکَعْبَۃِ، قَالَتْ: فَأَمْہَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّہُ قَدْ قَالَ: ((فَمَنْ حَلَفَ فَلْیَحْلِفْ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔)) قَالَ: یَا مُحَمَّدُ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّکُمْ تَجْعَلُونَ لِلّٰہِ نِدًّا، قَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ وَمَا ذَاکَ؟)) قَالَ: تَقُولُونَ مَا شَائَ اللّٰہُ وَشِئْتَ، قَالَ: فَأَمْہَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّہُ قَدْ قَالَ: ((فَمَنْ قَالَ مَا شَائَ اللّٰہُ فَلْیَفْصِلْ بَیْنَہُمَا ثُمَّ شِئْتَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۳۳)
۔ قُتیلہ بنت صیفی جہنیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! تم بہترین لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم شرک نہ کرتے ہوتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) وہ کیسے؟ اس نے کہا: جب تم قسم اٹھاتے ہو تو کہتے ہو: کعبہ کی قسم۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اب جو آدمی بھی قسم اٹھائے وہ کعبہ کے ربّ کی قسم اٹھائے (نہ کہ کعبہ کی)۔ اس نے پھر کہا: اے محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )! تم بڑے اچھے لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم اللہ کیلئے اس کا ہمسر نہ ٹھہراتے ہوتے! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! وہ کیسے؟ اس نے کہا: تم کہتے ہو کہ جو اللہ چاہے اور تم چاہو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اگر کوئی آدمی مَا شَائَ اللّٰہُ کہے تو وہ فاصلہ کرے اور ثُمَّ شِئْتَ کہے (یعنی: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5302

۔ (۵۳۰۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِی حَلِفِہِ وَاللَّاتِ فَلْیَقُلْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِہِ تَعَالَ أُقَامِرْکَ فَلْیَتَصَدَّقْ بِشَیْئٍ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی اور اس نے اپنی قسم میں کہا: لات کی قسم ہے، تو وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ جوا کھیلیں تو وہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5303

۔ (۵۳۰۳)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزّٰی، فَقَالَ أَصْحَابِی: قَدْ قُلْتَ ہُجْرًا، فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ قَرِیبًا، وَإِنِّی حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُلْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ ثَلَاثًا، ثُمَّ انْفُثْ عَنْ یَسَارِکَ ثَلَاثًا، وَتَعَوَّذْ وَلَا تَعُدْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۰)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے لات اور عزی کی قسم اٹھا لی، میرے ساتھیوں نے مجھے کہا: تم نے قبیح کلام بولا ہے، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: ہمارا دورِ جاہلیت قریب قریب ہے اور میں نے لات و عزی کی قسم اٹھا لی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم تین بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ کہو، پھر تین بار اپنی بائیں طرف تھوکو اور پناہ طلب کرو اور دوبارہ ایسی قسم نہ اٹھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5304

۔ (۵۳۰۴)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَمَنْ حَلَفَ بِمِلَّۃٍ سِوَی الْإِسْلَامِ کَاذِبًا فَہُوَ کَمَا قَالَ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۹۸)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر قسم اٹھائی، جبکہ وہ جھوٹا تھا، تو وہ اسی طرح ہو جائے گا، جیسے اس نے کہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5305

۔ (۵۳۰۵)۔ عن ابْن بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ أَنَّہُ بَرِیئٌ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ کَانَ کَاذِبًا فَہُوَ کَمَا قَالَ، وَإِنْ کَانَ صَادِقًا فَلَنْ یَرْجِعَ إِلَی الْإِسْلَامِ سَالِمًا)) (مسند أحمد: ۲۳۳۹۴)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے یوں قسم اٹھائی کہ وہ اسلام سے بری ہو جائے گا، اب اگر وہ جھوٹا ہوا تو اسی طرح ہو جائے گا، جیسے اس نے کہا اور اگر وہ سچا ہوا تو وہ اسلام کی طرف سالم واپس نہیں آئے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5306

۔ (۵۳۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَاللّٰہِ! لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۸۴۷۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر سے زائد بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5307

۔ (۵۳۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ: کَانَتْ یَمِیْنُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلَّتِیْ یَحْلِفُ عَلَیْھَا: ((لَا وَمُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۸۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قسم کے الفاظ، جن پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قسم اٹھاتے تھے، وہ یہ ہوتے تھے: لَا وَمُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ (دلوں کو الٹ پلٹ کر دینے والی ذات کی قسم)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5308

۔ (۵۳۰۸)۔ عَنْ أَبی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا مَعَہُ فَجَائَہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: أَعْطِنِی یَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَقَالَ: ((لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ)) فَجَذَبَہُ فَخَدَشَہُ قَالَ: فَہَمُّوا بِہِ، قَالَ: ((دَعُوہُ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَعْطَاہُ، قَالَ: وَکَانَتْ یَمِینُہُ أَنْ یَقُولَ: ((لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ۔)) (مسند أحمد: ۷۸۵۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے، اتنے میں ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے محمد! مجھے کچھ دو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھینچا، جس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خراش بھی آ گئی، صحابہ نے اس کے ساتھ کچھ کرنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو کچھ عطا کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان الفاظ میں بھی قسم ہوتی تھی: لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5309

۔ (۵۳۰۹)۔ وَفِیْ حَدِیْثِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہٗ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۹۸۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے اندر کھڑے ہوئے اورفرمایا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں!
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5310

۔ (۵۳۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: َقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَا یَسْمَعُ بِی أَحَدٌ مِنْ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ وَلاَ یَھُودِیٌّ وَلاَ نَصْرَانِیٌّ، وَمَاتَ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِی اُرْسِلْتُ بِہِ، اِلاَّ کَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ۔ )) (مسند أحمد: ۸۱۸۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو شخص بھی میرے بارے میں سنے گا، وہ اس امت سے ہو، یا یہودی ہو، یا عیسائی ہو، اور پھر وہ اس حال میں مر جائے کہ میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5311

۔ (۵۳۱۱)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا مِنْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ فِیْ قِصَّۃٍ آخَرَ رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ قَالَ: وَیَبْقَی رَجُلٌ یُقْبِلُ بِوَجْہِہِ إِلَی النَّارِ فَیَقُولُ: أَیْ رَبِّ قَدْ قَشَبَنِی رِیحُہَا وَأَحْرَقَنِی ذَکَاؤُہَا، فَاصْرِفْ وَجْہِی عَنِ النَّارِ، فَلَا یَزَالُ یَدْعُو اللّٰہَ حَتّٰی یَقُولَ: فَلَعَلِّی إِنْ أَعْطَیْتُکَ ذٰلِکَ أَنْ تَسْأَلَنِی غَیْرَہُ، فَیَقُولُ: لَا وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُکَ غَیْرَہُ، الحدیث۔ (مسند أحمد: ۱۰۹۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی یہ مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، جس میں جہنم سے نکلنے والے آخری شخص کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی باقی رہ جائے گا، جب وہ اپنا چہرہ آگ کی طرف کرے گاتو کہے گا: اے میرے ربّ! آگ کی مکروہ ہوا نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے بھڑکنے نے مجھے جلا دیا ہے، پس تو میرا چہرہ اس سے پھیر دے، پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کہے گا: ممکن ہے کہ اگر میں تجھے یہ چیز عطا کر دوں تو تو مجھ سے کسی اور چیز کا سوال شروع کر دے؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے علاوہ تجھ سے کوئی سوال نہیں کروں گا…۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5312

۔ (۵۳۱۲)۔ وَجَائَ فِیْ حَدِیْثِ الْاِفْکِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اُبَیٍّ فَقَامَ اُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا: لَعَمْرُاللّٰہِ لَنَقْتُلَنَّہٗ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۶۱۴۱)
۔ طویل حدیث الافک میں مذکور ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہوئے اور عبد اللہ بن ابی ّ کے سلسلے میں عذر خواہی کی، لیکن سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اللہ کی عمر کی قسم! ہم ضرور ضرور اس کو قتل کریں گے، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5313

۔ (۵۳۱۳)۔ عَنْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَّرَ أُسَامَۃَ عَلٰی قَوْمٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِی إِمَارَتِہِ فَقَالَ: ((إِنْ تَطْعَنُوا فِی إِمَارَتِہِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِی إِمَارَۃِ أَبِیہِ، وَایْمُ اللّٰہِ إِنْ کَانَ لَخَلِیقًا لِلْاِمَارَۃِ۔)) الحدیث۔ (مسند أحمد: ۴۷۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر بنایا، لیکن جب لوگوں نے اس کی امارت پر نقد کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس کے باپ کی امارت میں بھی طعن کی ہو گی، اللہ کی قسم ہے، بیشک امارت کے لائق ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5314

۔ (۵۳۱۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ أَیُّوبُ: لَا أَعْلَمُہُ إِلَّا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنٰی فَہُوَ بِالْخِیَارِ، إِنْ شَائَ أَنْ یَمْضِیَ عَلَی یَمِینِہِ، وَإِنْ شَائَ أَنْ یَرْجِعَ غَیْرَ حِنْثٍ أَوْ قَالَ غَیْرَ حَرَجٍ۔)) (مسند أحمد: ۴۵۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی ، لیکن ساتھ ہی استثناء کر لیا تو اس کو اختیار حاصل ہو گا، اگر وہ چاہے تو اپنی قسم کو نافذ کر دے اور چاہے تو قسم کا تقاضا پورا نہ کرے، اس سے اس کی قسم ٹوٹے گی نہیں، یا فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5315

۔ (۵۳۱۵)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ فَقَالَ: اِنْ شَائَ اللّٰہُ فَھُوَ بِالْخِیَارِ، اِنْ شَائَ فَلْیَمْضِ وَاِنْ شَائَ فَلْیَتْرُکْ)) (مسند أحمد: ۶۱۰۳)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندہ قسم اٹھاتا ہے اور اِنْ شَائَ اللّٰہُ کہہ کر اس کو مستثنی کر لیتا ہے، تو اس کو اختیار مل جاتا ہے ،چاہے تو قسم کو پورا کر دے اور چاہے تو توڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5316

۔ (۵۳۱۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَقَالَ: اِنْ شَائَ اللّٰہُ فَقَدِ اسْتَثْنٰی)) (مسند أحمد: ۴۵۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی اور ساتھ ہی اِنْ شَائَ اللّٰہُ بھی کہہ دیا تو اس نے قسم کا استثناء کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5317

۔ (۵۳۱۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ فَقَالَ: إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمْ یَحْنَثْ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۷۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی اور اِنْ شَائَ اللّٰہ بھی کہا تو وہ حانث نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5318

۔ (۵۳۱۸)۔ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ حَنْظَلَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا نُرِیدُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ فَأَخَذَہُ عَدُوٌّ لَہُ، فَتَحَرَّجَ النَّاسُ أَنْ یَحْلِفُوْا وَحَلَفْتُ أَنَّہُ أَخِی فَخَلّٰی عَنْہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((أَنْتَ کُنْتَ أَبَرَّہُمْ وَأَصْدَقَہُمْ، صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۴۶)
۔ سیدنا سوید بن حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ہمارے ساتھ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، راستے میں ان کو دشمن نے پکڑ لیا اور لوگوں نے ان کے حق میں قسم اٹھانے میں حرج محسوس کیا، لیکن میں نے قسم اٹھا دی کہ وہ میرا بھائی ہے، اس وجہ سے دشمن نے ان کو رہا کر دیا، جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور میں نے ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اِن سب میں بڑھ کر قسم کو پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ سچے ہو، تم نے سچ بولا ہے، کیونکہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5319

۔ (۵۳۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمِیْنُکَ عَلٰی مَا یُصَدِّقُکَ بِہِ صَاحِبُکَ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((بِمَا یُصَدِّقُکَ بِہِ صَاحِبُکَ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری قسم اس چیز پر ہے، جس پر تیرا ساتھی تیری تصدیق کر رہا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5320

۔ (۵۳۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِین یَقْتَطِعُ بِہَا مَالَ مُسْلِمٍ لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) وَقَرَأَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِصْدَاقَہُ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلّ: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا أُولٰئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ} [آل عمران: ۷۷] (مسند أحمد: ۳۵۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان کا مال ہتھیا لینے کے لیے قسم اٹھائی وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میںملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اس آیت کی تلاوت کی: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ …… لَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ} … جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5321

۔ (۵۳۲۱)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَزَادَ قَالَ: فَخَرَجَ الْأَشْعَثُ وَہُوَ یَقْرَؤُہَا، قَالَ: فِیَّ أُنْزِلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ، إِنَّ رَجُلًا ادَّعٰی رَکِیًّا لِی فَاخْتَصَمْنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((شَاہِدَاکَ أَوْ یَمِینُہُ؟)) فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّہُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ صَبْرًا یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالًا لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۱۸۵)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا اشعث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے نکلے اور کہا: یہ آیت میرے بارے میںنازل ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے میرے کنویں کا دعوی کر دیا، پس ہم جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے دو گواہ ، یا اس کی قسم؟ میں نے کہا: اگر اس نے قسم اٹھائی تو یہ جھوٹی قسم اٹھائے گا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے آپ کو کسی کے مال کا مستحق ثابت کرنے کے لیے حاکم کے پاس قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5322

۔ (۵۳۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عَمِیرَۃَ، عَنْ أَبِیہِ عَدِیٍّ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ یُقَالُ لَہُ امْرُؤُ الْقَیْسِ بْنُ عَابِسٍ رَجُلًا مِنْ حَضَرَمَوْتَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَرْضٍ، فَقَضٰی عَلَی الْحَضْرَمِیِّ بِالْبَیِّنَۃِ فَلَمْ تَکُنْ لَہُ بَیِّنَۃٌ، فَقَضٰی عَلَی امْرِئِ الْقَیْسِ بِالْیَمِینِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ: إِنْ أَمْکَنْتَہُ مِنَ الْیَمِینِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ذَہَبَتْ وَاللّٰہِ أَوْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ أَرْضِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ کَاذِبَۃٍ لِیَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ أَخِیہِ لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) قَالَ رَجَائٌ: وَتَلَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} [آل عمران: ۷۷]، فَقَالَ امْرُؤُ الْقَیْسِ: مَاذَا لِمَنْ تَرَکَہَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْجَنَّۃُ۔)) قَالَ: فَاَشْہَدْ أَنِّی قَدْ تَرَکْتُہَا لَہُ کُلَّہَا (مسند أحمد: ۱۷۸۶۸)
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کندہ کے ایک آدمی امرؤ القیس بن عابس کی حضرموت کے ایک باشندے سے کسی زمین کے بارے میں لڑائی ہو گئی، وہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا کہ حضرمی گواہی پیش کرے، لیکن اس کے پاس گواہی نہیں تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امرؤ القیس کے بارے میں فیصلہ دیا کہ وہ قسم اٹھائے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ نے اس سے قسم لینے کا مطالبہ کیا تو یہ زمین تو چلی جائے گی، جبکہ کعبہ کے ربّ کی قسم ہے کہ یہ میری زمین ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے بھائی کا مال ہتھیا لینے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غصے میں ہو گا۔ رجاء راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} … بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں۔ امرء القیس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے اس زمین کو چھوڑ دیا، اس کے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جنت ہو گی۔ اس نے کہا: تو پھر آپ گواہ بن جائیں کہ میں نے یہ ساری زمین اس کے لیے چھوڑ دی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5323

۔ (۵۳۲۳)۔ عَنْ اَبِی مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِخْتَصَمَ رَجُلَانِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۹۷۴۳)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی روایت ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5324

۔ (۵۳۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْیَمِیْنُ الْکَاذِبَۃُ مُنْفِقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مُمْحِقَۃٌ لِلْکَسْبِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((لِلْبَرْکَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم، مال کو تو بیچنے والی ہوتی ہے، لیکن کمائی کی برکت کو مٹا دیتی ہے۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5325

۔ (۵۳۲۵)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ کَاذِبَۃٍ مَصْبُوْرَۃٍ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ بِوَجْھِہِ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۰۱۵۴)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے حاکم کی عدالت میں جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائی، وہ اپنے چہرے کے لیے آگ سے ٹھکانہ تیار کر لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5326

۔ (۵۳۲۶)۔ عَنِ ابْنِ سُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْیَمِیْنُ الْفَاجِرَۃُ الَّتِیْ یَقْتَطِعُ بِھَا الرَّجُلُ مَالَ الْمُسْلِمِ تَعْقِمُ الرَّحِمَ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۲۷)
۔ سیدنا ابن سود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی جس جھوٹی قسم کے ذریعے مسلمان کے مال کو ہتھیا لیتا ہے، وہ صلہ رحمی اور لوگوں کے ما بین نیکی کو کاٹ دیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5327

۔ (۵۳۲۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَشْھَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ اَوْ اَمَۃٍ یَحْلِفُ عِنْدَ ھٰذَا الْمِنْبَرِ عَلٰی َمِیْنٍ آثِمَۃٍ وَلَوْ عَلٰی سِوَاکٍ رَطْبٍ اِلَّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۴۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو مر د و زن میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا، اگرچہ وہ تر مسواک پر قسم اٹھا رہا ہو، اس کے لیے آگ واجب ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5328

۔ (۵۳۲۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحْلِفُ اَحَدٌ عَلٰی مِنْبَرِیْ کَاذِبًا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یَسْتَحِقُّ بِھَا حَقَّ مُسْلِمٍ) اِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے آپ کو کسی مسلمان کے حق کا حقدار ثابت کرنے کے لیے میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5329

۔ (۵۳۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَأَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُدَّعِیَ الْبَیِّنَۃَ، فَلَمْ یَکُنْ لَہُ بَیِّنَۃٌ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ، فَحَلَفَ بِاللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکَ قَدْ فَعَلْتَ وَلٰکِنْ غُفِرَ لَکَ بِإِخْلَاصِکَ قَوْلَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مُدّعِی سے گواہی کا مطالبہ کیا، لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مُدّعیٰ علیہ سے قسم اٹھوائی اور اس نے اس اللہ کی قسم اٹھا دی، جس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قسم تو تو نے جھوٹی اٹھائی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے تجھے اس لیے معاف کر دیا ہے کہ تو نے اخلاص کے ساتھ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5330

۔ (۵۳۳۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اخْتَصَمَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلَانِ فَوَقَعَتِ الْیَمِینُ عَلٰی أَحَدِہِمَا، فَحَلَفَ بِاللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ مَا لَہُ عِنْدَہُ شَیْئٌ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّہُ کَاذِبٌ إِنَّ لَہُ عِنْدَہُ حَقَّہُ، فَأَمَرَہُ أَنْ یُعْطِیَہُ حَقَّہُ وَکَفَّارَۃُ یَمِینِہِ مَعْرِفَتُہُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ أَوْ شَہَادَتُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، فیصلہ میں ایک آدمی کو قسم اٹھانا پڑ گئی، اس نے اس اللہ کی قسم اٹھائی کہ جس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے کہ اس آدمی کی اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگئے اور کہا: یہ آدمی جھوٹا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کو اس کا حق ادا کرے اور اس کی قسم کا کفارہ اس کی یہ معرفت یا شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5331

۔ (۵۳۳۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسند أحمد: ۵۳۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث روایت کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5332

۔ (۵۳۳۲)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُہَاجِرِینَ یُقَالُ لَہُ: عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ صَفْوَانَ، وَکَانَ لَہُ بَلَائٌ فِی الْإِسْلَامِ حَسَنٌ، وَکَانَ صَدِیقًا لِلْعَبَّاسِ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ جَائَ بِأَبِیہِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَایِعْہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ،فَأَبٰی وَقَالَ: ((إِنَّہَا لَا ہِجْرَۃَ۔)) فَانْطَلَقَ إِلَی الْعَبَّاسِ وَہُوَ فِی السِّقَایَۃِ، فَقَالَ: یَا أَبَا الْفَضْلِ! أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَبِی یُبَایِعُہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ فَأَبٰی، قَالَ: فَقَامَ الْعَبَّاسُ مَعَہُ وَمَا عَلَیْہِ رِدَائٌ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰۂِٔ! قَدْ عَرَفْتَ مَا بَیْنِی وَبَیْنَ فُلَانٍ وَأَتَاکَ بِأَبِیہِ لِتُبَایِعَہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ فَأَبَیْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا لَا ہِجْرَۃَ۔)) فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَتُبَایِعَنَّہُ، قَالَ: فَبَسَطَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ، قَالَ: فَقَالَ: ہَاتِ أَبْرَرْتُ قَسَمَ عَمِّی وَلَا ہِجْرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۶۳۶)
۔ مجاہد کہتے ہیں: عبد الرحمن بن صفوان نامی ایک مہاجر صحابی تھا، اس نے اچھے انداز میں اسلام کی آزمائش کو پورا کیا تھا، یہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دوست تھا، یہ صحابی فتح مکہ والے دن اپنے باپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہجرت پر اس کی بیعت لو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا: اب کوئی ہجرت نہیں ہے۔ وہ آدمی سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلا گیا، جبکہ وہ زمزم کا پانی پلا رہے تھے، اور ان سے کہا: اے ابو الفضل! میں اپنے باپ کو لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تاکہ ہجرت پر ان سے بیعت لیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کر دیا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، ان پر قیمص کی جگہ پر اوڑھی جانے والی چادر بھی نہیں تھی، بہرحال وہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میرا فلاں آدمی کے ساتھ کتنا تعلق ہے، وہ اپنے باپ کو لے کر آیا تاکہ آپ ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ نے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ اب کوئی ہجرت نہیں ہے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں آپ پر قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور اس سے بیعت لیں گے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: آجا، بیعت کر لے، میں اپنے چچا کی قسم پوری کر رہا ہوں، ہجرت اب کوئی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5333

۔ (۵۳۳۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہَا قَالَتْ: أَہْدَتْ إِلَیْہَا امْرَأَۃٌ تَمْرًا فِی طَبَقٍ فَأَکَلَتْ بَعْضًا وَبَقِیَ بَعْضٌ، فَقَالَتْ: أَقْسَمْتُ عَلَیْکِ إِلَّا أَکَلْتِ بَقِیَّتَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَبِرِّیہَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَی الْمُحَنِّثِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۳۴۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، ایک خاتون نے ان کی طرف ایک تھال میں کچھ کھجوریں بھیجیں، اس (عائشہ) نے کچھ کھجوریں کھالی اور کچھ بچ گئیں، لیکن اس خاتون نے مجھے کہا: میں تجھ پر قسم اٹھاتی ہوں کہ تو باقی کھجوریں بھی کھائے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی قسم کو پورا کر دے، کیونکہ گناہ اس پر ہوتا ہے، جو قسم توڑنے کا سبب بنتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5334

۔ (۵۳۳۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعٍ وَنَہَانَا عَنْ سَبْعٍ، قَالَ: فَذَکَرَ مَا أَمَرَہُمْ مِنْ عِیَادَۃِ الْمَرِیضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِیتِ الْعَاطِسِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۶۹۸)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کا ذکر کیا، جن کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا، ان میں سے بعض امور تھے: مریض کی تیمارداری کرنا، جنازوں کے پیچھے چلنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا اور قسم اٹھانے والے کی قسم پورا کرنا، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5335

۔ (۵۳۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ حَدِیْثِ رُؤْیَا اَعْبَرَھَا (اَیْ فَسَّرَھَا) اَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَمَامَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ بَعْدَ تَعْبِیْرِھَا: اَصَبْتُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَصَبْتَ وَاَخْطَأْتَ۔)) قَالَ: اَقْسَمْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَتُخْبِرُنِیْ، فَقَالَ: ((لَا تُقْسِمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، یہ ایک خواب سے متعلقہ حدیث تھی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس کی تعبیربیان کی اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں نے درست تعبیر بیان کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے بعض پہلو درست بیان کیے ہیں اور بعض میں غلطی کی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور مجھے میری غلطی پر آگاہ کریں گے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5336

۔ (۵۳۳۶)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ اَبَابَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَقْسَمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقْسِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قسم اٹھائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5337

۔ (۵۳۳۷)۔ عَنْ اِبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَأٰی عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ علیہ السلام رَجُلًا یَسْرِقُ، فَقَالَ لَہٗ عِیْسٰی: سَرَقْتَ؟ قَالَ: کَلَّا وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، قَالَ عِیْسٰی: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَکَذَبَّتُ عَیْنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۳۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا اور پھر اس سے کہا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! میں ہر گز چوری نہیں کی۔ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5338

۔ (۵۳۳۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ فَرَأٰی خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ)) (مسند أحمد: ۶۹۰۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی، لیکن پھر دیکھا کہ بہتری کسی دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5339

۔ (۵۳۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَأٰی خَیْرًا مِنْھَا فَکَفَّارَتُھَا تَرْکُھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۷۵۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چیز پر قسم اٹھائی، لیکن پھر کسی دوسری چیز میں بہتری محسوس کی تو اس قسم کا کفارہ یہ ہو گا کہ وہ آدمی اس کو ترک کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5340

۔ (۵۳۴۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ فَرَأٰی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَتَرْکُہَا کَفَّارَتُہَا۔)) (مسند أحمد: ۶۷۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چیز پر قسم اٹھائی، لیکن پھر اس نے دیکھا کہ دوسری چیز اس سے بہتر ہے تو اس پہلی چیز کو نہ کرنا ہی اس قسم کا کفارہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5341

۔ (۵۳۴۱)۔ عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، عَنْ اَبِیْہِ مَالِکِ بْنِ نَضْلَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗ قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِلٰی مَا تَدْعُو؟ قَالَ: ((إِلَی اللّٰہِ وَإِلَی الرَّحِمِ۔)) قُلْتُ: یَأْتِینِی الرَّجُلُ مِنْ بَنِی عَمِّی، فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِیَہُ ثُمَّ أُعْطِیہِ؟ قَالَ: ((فَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ وَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ، أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ لَکَ عَبْدَانِ أَحَدُہُمَا یُطِیعُکَ وَلَا یَخُونُکَ وَلَا یَکْذِبُکَ وَالْآخَرُ یَخُونُکَ وَیَکْذِبُکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ الَّذِی لَا یَخُونُنِی وَلَا یَکْذِبُنِی وَیَصْدُقُنِی الْحَدِیثَ أَحَبُّ إِلَیَّ، قَالَ: ((کَذَاکُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۶۰)
۔ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور صلہ رحمی کی طرف۔ میں نے کہا: میرا ایک چچا زاد میرے پاس آتا ہے اور میں قسم اٹھا لیتا ہوں کہ میں اس کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں اس کو کچھ دے دیتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اپنی قسم کا کفارہ دے اور بہتر چیز کو اختیار کر، توخود غور کر کہ اگر تیرے دو غلام ہوں، ان میں اے ایک غلام تیری اطاعت کرتا ہو، تجھ سے خیانت نہ کرتا ہو اور نہ تجھ سے جھوٹ بولتا ہو، جبکہ دوسرا غلام خیانت کرتا ہو اور جھوٹ بولتا ہو۔ میںنے کہا: نہیں، بلکہ وہی جو خیانت نہیں کرتا اور جھوٹ نہیں بولتا اور سچی بات کرتا ہے، وہ مجھے زیادہ پسند ہو گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بھی اپنے ربّ کے ہاں ایسے ہی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5342

۔ (۵۳۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((یَاعَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ اِذَا آلَیْتَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَھَا خَیْرًا مِنْھَا فَائْتِ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ وَکَفِّرْ عَنْ یَمِیْنِکَ)) (مسند أحمد: ۲۰۸۹۲)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے عبد الرحمن بن سمرہ! جب تو کسی چیز پر قسم اٹھا لے اور پھر کسی دوسری چیز کو بہتر خیال کرے تو تو بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5343

۔ (۵۳۴۳) عَنْ عَدِیٍّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَأٰی غَیْرَھَا خَیْرًا مِنْھَا فَلْیَاْتِ الَّذِی ھُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِیْنِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۴۰)
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھا لے، لیکن پھر کسی دوسرے چیز کو بہتر سمجھے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5344

۔ (۵۳۴۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ:: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَاٰی غَیْرَھَا خَیْرًا مِنْھَا فَلْیَاْتِ الَّذِی ھُوَ خَیْرٌ وَلْیَتْرُکْ یَمِیْنَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۴۶)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھا لی، لیکن پھر اس نے بہتری کسی اور چیز میں دیکھی تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5345

۔ (۵۳۴۵)۔ عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ قَالَ سَمِعْتُ عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ وَأَتَاہُ رَجُلٌ یَسْأَلُہُ مِائَۃَ دِرْہَمٍ، فَقَالَ: تَسْأَلُنِی مِائَۃَ دِرْہَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ وَاللّٰہِ لَا أُعْطِیکَ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ ثُمَّ رَأٰی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا فَلَیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۵۴)
۔ تمیم بن طرفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے سو درہموں کا سوال کیا، انھوں نے کہا: تو مجھ سے سو درہم کا سوال کرتا ہے، جبکہ میں حاتم کا بیٹا ہوں، اللہ کی قسم! میں تجھ کو نہیں دوں گا، لیکن پھر انھوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جو قسم اٹھا لے، لیکن پھر کسی اور چیز میں بہتری محسوس کرنے لگے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے۔ (تو میں تجھے کچھ نہ دیتا، پھر اس کو چار سو درہم دے دیئے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5346

۔ (۵۳۴۶)۔ عَنْ زَہْدَمٍ الْجَرْمِیِّ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ أَبِی مُوسٰی فَقَدَّمَ فِی طَعَامِہِ لَحْمَ دَجَاجٍ وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَیْمِ اللّٰہِ أَحْمَرُ کَأَنَّہُ مَوْلًی فَلَمْ یَدْنُ قَالَ لَہُ أَبُومُوسَی: ادْنُ فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْکُلُ مِنْہُ، قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُہُ یَأْکُلُ شَیْئًا فَقَذِرْتُہُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَہُ أَبَدًا، فَقَالَ: ادْنُ أُخْبِرْکَ عَنْ ذٰلِکَ، إِنِّی أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَہْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِیِّینَ نَسْتَحْمِلُہُ وَہُوَ یَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ، قَالَ أَیُّوبُ: أَحْسِبُہُ وَہُوَ غَضْبَانُ، فَقَالَ: ((لَا وَاللّٰہِ مَا أَحْمِلُکُمْ، وَمَا عِنْدِی مَا أَحْمِلُکُمْ۔)) فَانْطَلَقْنَا فَأُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَہْبِ إِبِلٍ، فَقَالَ: ((أَیْنَ ہٰؤُلَائِ الْأَشْعَرِیُّونَ؟)) فَأَتَیْنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرٰی فَانْدَفَعْنَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِی: أَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَسْتَحْمِلُہُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا یَحْمِلَنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَیْنَا فَحَمَلَنَا، فَقُلْتُ: نَسِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمِینَہُ، وَاللّٰہِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمِینَہُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، ارْجِعُوا بِنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلْنُذَکِّرْہُ یَمِینَہُ، فَرَجَعْنَا إِلَیْہِ فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتَیْنَاکَ نَسْتَحْمِلُکَ فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا، فَعَرَفْنَا أَوْ ظَنَنَّا أَنَّکَ نَسِیتَ یَمِینَکَ، فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَکُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنِّی وَاللّٰہِ إِنْ شَاء َ اللّٰہُ لَا أَحْلِفُ عَلٰی یَمِینٍ، فَأَرٰی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا إِلَّا أَتَیْتُ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَتَحَلَّلْتُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۲۰)
۔ زہدم جرمی کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے مرغی کا گوشت پیش کیا، بنو تیم اللہ قبیلے کا ایک آدمی بھی وہاں موجود تھا، اس کا رنگ سرخ تھا اور ایسے لگ رہا تھا کہ وہ غلام ہے، وہ اس کھانے کے قریب نہ آیا، سیدنا ابوموسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: قریب آ جا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے، اس نے کہا: میں نے اس کو ایک ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھا کہ اس وجہ سے میں ا س سے گھن محسوس کی اور قسم اٹھا لی کہ میں اس کو کبھی بھی نہیں کھاؤں گا، انھوں نے کہا: قریب ہو جا، میں تجھے اس کے بارے میں بھی خبر دیتا ہوں، میں اشعریوں کے ایک گروہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواریوں کا سوال کرنے آئے تھے اور اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زکوۃ کے اونٹ تقسیم کر رہے تھے، ایوب راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تم کو سواریاں نہیں دوں گا، اور نہ میرے پاس اب سواریاں ہیں۔ سو ہم واپس چلے گئے، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مالِ غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے لیے سفید کوہانوں والے پانچ اونٹوں کا حکم دیا، ہم وہ لے کر واپس چلے گئے، میں (ابو موسی) نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سواریاں مانگنے کے لیے آئے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو پیغام بھیج کر بلا لیا اور ہمیں سواریاں دے دیں، میں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی قسم کے بارے میں بھول گئے ہیں، اللہ کی قسم! اگر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قسم سے غافل کر دیا تو ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو ں گے، لے جاؤ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف، تاکہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قسم یاد کروائیں، پس ہم لوٹ آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سواریوں کا مطالبہ کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے تھے، لیکن آپ نے قسم اٹھا لی تھی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سواریاں دے دیں، اب ہمیں یہ گمان ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی قسم کے بارے میں بھول گئے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تم کو سواریاں دی ہیں، رہا مسئلہ میرا تو اللہ کی قسم ہے کہ ان شاء اللہ میں جب بھی قسم اٹھاتا ہوں اور پھر کسی اور چیز کو بہتر محسوس کرتا ہوں تو میں وہی اختیار کرتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5347

۔ (۵۳۴۷)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((اِلَّا اَتَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ وَکَفَّرْتُ عَنْ یَمِیْنِیْ۔)) اَوْ قَالَ: ((اِنِّیْ کَفَّرْتُ عَنْ یَمِیْنِیْ وَاَتَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۸۷)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مگر میں اسی چیز کو اختیار کرتا ہوں، جو بہتر ہوتی ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ یا فرمایا: بیشک میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور بہتر چیز کو اختیار کر لیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5348

۔ (۵۳۴۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ اَبَا مُوْسٰی اسْتَحْمَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَافَقَ مِنْہُ شُغْلًا، فَقَالَ: فَقَالَ: ((وَاللّٰہِ لَا أَحْمِلُکَ۔)) فَلَمَّا قَفّٰی دَعَاہُ فَحَمَلَہُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! إِنَّکَ حَلَفْتَ أَنْ تَحْمِلَنِی؟ قَالَ: ((فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۰۷۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری کا سوال کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مصروف پایا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواریاں نہیں دوں گا۔ جب وہ جانے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلایا اور سواری دے دی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ مجھے سواری نہیں دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میں قسم اٹھاتا ہوں کہ تم کو ضرور ضرور سواری دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5349

۔ (۵۳۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَاٰی خَیْرًا فَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِیْنِہِ وَلْیَفْعَلِ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک چیز پر قسم اٹھائی، لیکن بعد میں کسی اور چیز میں خیر دیکھی تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5350

۔ (۵۳۵۰)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ اَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اسْتَلْجَجَ اَحَدُکُمْ بِالْیَمِیْنِ فِیْ اَھْلِہِ فَاِنَّہُ آثَمُ لَہٗ عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الْکَفَّارَۃِ الَّتِیْ اَمَرَ بِھَا۔)) (مسند أحمد: ۷۷۲۹)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے اہل کے معاملے میں کوئی قسم اٹھائے اور (بزعم خود) سچا بنتا پھرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت گنہگار ہو گا، اس کفارہ سے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5351

۔ (۵۳۵۱)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! لَأَنْ یَلَجَّ أَحَدُکُمْ بِیَمِینِہِ فِی أَہْلِہِ آثَمُ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ أَنْ یُعْطِیَ کَفَّارَتَہُ الَّتِی فَرَضَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۹۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب کوئی آدمی اپنے اہل کے معاملہ میں کوئی قسم اٹھاتا ہے اور (اس قسم کے بہانے اڑا رہتا ہے) تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے زیادہ گنہگار ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرض کیا ہوا کفارہ ادا کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5352

۔ (۵۳۵۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نَذْرَ إِلَّا فِیمَا ابْتُغِیَ بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا یَمِینَ فِی قَطِیعَۃِ رَحِمٍ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر صرف اس چیز میں ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو تلاش کیا جائے اور قطع رحمی میں کوئی قسم نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5353

۔ (۵۳۵۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِیمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا عِتْقَ لِابْنِ آدَمَ فِیمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا طَلَاقَ لَہُ فِیمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا یَمِینَ فِیمَا لَا یَمْلِکُ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کے لیے اس میں کوئی نذر نہیں، ابن آدم کے لیے اس کی کوئی آزادی نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس میں اس کی کوئی طلاق نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی قسم نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو۔

آیت نمبر