MUSNAD AHMED

Search Results(1)

85)

85) اذکار اور دعاؤں کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5422

۔ (۵۴۲۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْإِیمَانُ أَرْبَعَۃٌ وَسِتُّونَ بَابًا، أَرْفَعُہَا وَأَعْلَاہَا قَوْلُ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَدْنَاہَا إِمَاطَۃُ الْأَذَی عَنِ الطَّرِیقِ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں، ان میں بلند ترین اور سب سے اعلی شعبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور سب سے ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5423

۔ (۵۴۲۳)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوْصِنِی، قَالَ: ((إِذَا عَمِلْتَ سَیِّئَۃً فَأَتْبِعْہَا حَسَنَۃً تَمْحُہَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمِنَ الْحَسَنَاتِ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: ((ہِیَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۸۱۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب برائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کر، تاکہ وہ برائی کے اثر کو مٹا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ بھی نیکی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5424

۔ (۵۴۲۴)۔ عن عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تَمَنَّیْتُ أَنْ أَکُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَاذَا یُنْجِینَا مِمَّا یُلْقِی الشَّیْطَانُ فِی أَنْفُسِنَا، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَدْ سَأَلْتُہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((یُنْجِیکُمْ مِنْ ذٰلِکَ أَنْ تَقُولُوْا مَا أَمَرْتُ عَمِّی أَنْ یَقُولَہُ فَلَمْ یَقُلْہٗ۔)) (مسند أحمد: ۳۷)
۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خواہش تھی کہ کاش میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس عمل کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا جو ہمیں ان (وسوسوں اور مذموم امور) سے نجات دلاتا، جو شیطان ہمارے نفسوں میں ڈال دیتا ہے۔ سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا تھا: تم کو ان امور سے اس کلمے کا ذکر نجات دلائے گا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا، لیکن اس نے وہ کلمہ نہیں پڑھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5425

۔ (۵۴۲۵)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) فَقَالَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تَوَفَّی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِیَّہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَہُ عَنْ نَجَاۃِ ہَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ: قَدْ سَأَلْتُہُ عَنْ ذٰلِکَ قَالَ: فَقُمْتُ إِلَیْہِ، فَقُلْتُ لَہُ: بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی أَنْتَ أَحَقُّ بِہَا، قَالَ أَبُو بَکْرٍ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا نَجَاۃُ ہٰذَا الْأَمْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَبِلَ مِنِّی الْکَلِمَۃَ الَّتِی عَرَضْتُ عَلٰی عَمِّی فَرَدَّہَا عَلَیَّ فَہِیَ لَہُ نَجَاۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰)
۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، جبکہ ابھی تک ہم نے یہ سوال ہی نہیں کیا تھا کہ اس امر کی نجات کیا ہے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا، میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم ہی اس چیز کے زیادہ مستحق تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس امر کی نجات کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، لیکن اس نے اس کو قبول نہیں کیا تھا، تو یہ کلمہ اس کے لیے نجات ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5426

۔ (۵۴۲۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۰۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب الموت لوگوںکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5427

۔ (۵۴۲۷)۔ عَنْ زَاذَانَ اَبِیْ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۸۹)
۔ ابو عمر زاذان ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو موت کے وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5428

۔ (۵۴۲۸)۔ عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ الدِّیَٔلِیَّ، عن ابی ذَرٍّرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ ثَوْبٌ أَبْیَضُ، فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَیْتُہُ أُحَدِّثُہُ فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ وَقَدْ اسْتَیْقَظَ، فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ، فَقَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ)) ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِی الرَّابِعَۃِ: ((عَلٰی رَغْمِ أَنْفِ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔))قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَجُرُّ إِزَارَہُ وَہُوَ یَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: فَکَانَ أَبُو ذَرٍّ یُحَدِّثُ بِہٰذَا بَعْدُ وَیَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند أحمد: ۲۱۷۹۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو رہے تھے، میں پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گفتگو کرنے کے لیے گیا، لیکن اس بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو رہے تھے، جب میں تیسری دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں بھی جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور اسی پر فوت ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ تین بار ایسے ہی ہوا، چوتھی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ازار کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے نکلے اور یہ کہہ رہے تھے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے، پھر وہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو اس کے آخر میں کہتے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5429

۔ (۵۴۲۹)۔ عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، کُتِبَتْ لَہُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ حَسَنَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۷۶)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ (نہیں ہے، کوئی معبود برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ اکیلاہے، بے نیاز ہے، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد اور اس کا کوئی ہمسر نہیں) اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5430

۔ (۵۴۳۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَّی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْرَابِیٌ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِنْ طَیَالِسَۃٍ مَکْفُوْفَۃٌ بِدِیْبَاجٍ اَوْ مَزْرُوْرَۃٌ بِدِیْبَاجٌ، فَقَالَ: اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا یُرِیْدُ اَنْ یَرْفَعَ کُلَّ رَاعٍ اِبْنِ رَاعٍ، وَ یَضَعَ کُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ! فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضِبًا فاَخَذَ بِمَجَامِعَ جُبَّتِہِ فَاجْتَذَبَہُ وَ قَالَ: ((لَا اَرَی عَلَیْکَ ثِیَابَ مَنْ لَا یَعْقِلُ۔)) ثُمَّ رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ فَقَالَ: ((اِنَّ نُوْحًا عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ دَعَا اِبْنَیْہِ فَقَالَ: اِنِّیْ قَاصِرٌ عَلَیْکَمَا الْوَصِیَّۃَ، آمُرُکَمَا بِاِثْنَیْنِ وَاَنْھَاکُمَا عَنِ اثْنَتَیْنِ، اَنْھَاکُمَا عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ، وَآمُرُکُمَا بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا فِیْھِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِیْ کِفَّۃِ الْخَیْرَاتِ، وَ وُضِعَتْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فِی الْکِفَّۃِ الْاُخْرٰی کَانَتْ اَرْجَحُ، وَلَوْ اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا حَلْقَۃً فَوُضِعَتْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَلَیْھِمَا لَفَصَمَتْھُمَا اَوْ لَقَصَمَتْھُمَا، وَ آمُرُکُمَا بِسُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ فَاِنَّھَا صَلَاۃُ کُلِّ شَیْئٍ، وَ بِھَا یُرْزَقُ کُلُّ شَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا : تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: میں تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5431

۔ (۵۴۳۱)۔ عَنْ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ، وَکَانَ یَتْبَعُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَیَسْمَعُ قَالَ: کُنْتُ مَعَہُ فَلَقِیَ نَوْفًا، فَقَالَ: نَوْفٌ ذُکِرَ لَنَا: أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ لِمَلَائِکَتِہِ: ادْعُوا لِی عِبَادِی، قَالُوْا: یَا رَبِّ کَیْفَ وَالسَّمٰوَاتُ السَّبْعُ دُونَہُمْ وَالْعَرْشُ فَوْقَ ذٰلِکَ، قَالَ: إِنَّہُمْ إِذَا قَالُوْا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اسْتَجَابُوا۔ (مسند أحمد: ۶۸۶۰)
۔ ثابت کہتے ہیں: شام کے ایک باشندے نے ہمیں بیان کیا، وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ رہتا اور ان کی باتیں سنتا تھا، وہ کہتا ہے: ایک میں ان کے ساتھ تھا کہ وہ نوف کو ملے، نوف نے کہا: ہمیں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: میرے لیے میرے بندوں کو بلاؤ، انھوں نے کہا: اے ربّ! ان کو کیسے بلایا جائے، جبکہ ان کے سامنے سات آسمان حائل ہیں اور ان کے اوپر عرش ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہیں گے تو وہ جواب دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5432

۔ (۵۴۳۲)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، أَنَّ نَوْفًا وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَعْنِی ابْنَ الْعَاصِی اجْتَمَعَا، فَقَالَ نَوْفٌ: لَوْ أَنَّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِیہِمَا وُضِعَ فِی کِفَّۃِ الْمِیزَانِ وَوُضِعَتْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ فِی الْکِفَّۃِ الْأُخْرٰی لَرَجَحَتْ بِہِنَّ، وَلَوْ أَنَّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِیہِنَّ کُنَّ طَبَقًا مِنْ حَدِیدٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ لَخَرَقَتْہُنَّ حَتّٰی تَنْتَہِیَ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۶۷۵۰)
۔ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں جمع ہوئے، نوف نے کہا: اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی مخلوقات کو ایک ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں تو دوسرا پلڑا بھائی ہو جائے گا، اور اگر آسمان، زمین اور ان کے درمیان والی مخلوق کو لوہے کی تہہ بنادیا جائے اور اس پر لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جائے تو یہ کلمہ اس میں سوراخ کرکے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5433

۔ (۵۴۳۳)۔ عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لَنَا مُعَاذٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی مَرَضِہِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا کُنْتُ أَکْتُمُکُمُوہُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۸۴)
۔ کثیر بن مرّہ کہتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مرض الموت کے دوران کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک حدیث سنی تھی، میں اس کو تم سے چھپاتا رہا، اب بیان کر دیتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا آخری کلام لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہو گا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5434

۔ (۵۴۳۴)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وَعُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَاضِرٌ یُصَدِّقُہُ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہَلْ فِیکُمْ غَرِیبٌ یَعْنِی أَہْلَ الْکِتَابِ)) فَقُلْنَا: لَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ، وَقَالَ: ((اِرْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ، وَقُولُوا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَرَفَعْنَا أَیْدِیَنَا سَاعَۃً ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((الْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللَّہُمَّ بَعَثْتَنِی بِہٰذِہِ الْکَلِمَۃِ، وَأَمَرْتَنِی بِہَا، وَوَعَدْتَنِی عَلَیْہَا الْجَنَّۃَ، وَإِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۵۱)
۔ یعلی بن شداد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے سردار شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کی، جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے اور ان کی تصدیق کر رہے تھے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی آدمی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اہل کتاب تھی، ہم نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دروازے کو بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنے ہاتھوں کو بلند کر لو اور کہو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ پس ہم نے کچھ دیر تک اپنے ہاتھ بلند کیے رکھے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے رکھ دیا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے، اے اللہ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا، تو نے مجھے اس کلمہ کا حکم دیا اور مجھ سے اس پر جنت کا وعدہ کیا اور بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو بخش دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5435

۔ (۵۴۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَدِّدُوا إِیمَانَکُمْ۔)) قِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ نُجَدِّدُ إِیمَانَنَا؟ قَالَ: ((أَکْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے اپنے ایمان کی تجدید کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کثرت سے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5436

۔ (۵۴۳۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ظَنَنْتُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَلَّا یَسْأَلَنِی عَنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْکَ، لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِیثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ خَالِصَۃً مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: روزِ قیامت کون لوگ آپ کی سفارش کے زیادہ مستحق ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! میرا خیال تھا کہ کوئی آدمی تجھ سے پہلے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، کیونکہ میں نے تیرے اندر حدیث کی حرص پائی ہے، قیامت کے دن میری سفارش کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہو گا، جو اپنی طرف سے اور خلوص کے ساتھ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5437

۔ (۵۴۳۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ، مِائَتَیْ مَرَّۃٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ لَمْ یَسْبِقْہُ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَہُ، وَلَا یُدْرِکُہُ أَحَدٌ بَعْدَہُ إِلَّا بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن دو سو (۲۰۰) بار یہ ذکر کیا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ(نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کیلئے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) تو اس سے پہلے گزر جانے والا کوئی آدمی اس سے سبقت نہیں لے جا سکے گا اور بعد والوں میں سے کوئی شخص اس کے مقام کو نہیں پا سکے گا، مگر اس کے عمل سے زیادہ عمل کر کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5438

۔ (۵۴۳۸)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَنَحَ مِنْحَۃَ وَرِقٍ أَوْ مِنْحَۃَ لَبَنٍ أَوْ ہَدَی زُقَاقًا فَہُوَ کَعِتَاقِ نَسَمَۃٍ، وَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، فَہُوَ کَعِتَاقِ نَسَمَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۱۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چاندی کا عطیہ دیا، یا دودھ کا عطیہ دیا، یا کسی کو راستے کی رہنمائی کر دی تو اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ کہا، وہ بھی ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5439

۔ (۵۴۳۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال: کَانَ اَکْثَرُ دُعَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ)) (مسند أحمد: ۶۹۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ کے دن زیادہ تر یہ دعا کیا کرتے تھے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5440

۔ (۵۴۴۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، کَانَتْ لَہُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَکُتِبَ لَہُ مِائَۃُ حَسَنَۃٍ، وَمُحِیَتْ عَنْہُ مِائَۃُ سَیِّئَۃٍ، وَکَانَتْ لَہُ حِرْزًا مِنَ الشَّیْطَانِ یَوْمَہُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَلَمْ یَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِہِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو (۱۰۰) بار یہ کلمہ کہا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، اس کے لیے سو (۱۰۰) نیکیاں لکھی جائیں گی، اس سے سو (۱۰۰) برائیاں مٹائی جائیں گی اور یہ عمل شام تک اس کے لیے شیطان سے حفاظت ثابت ہو گا اور کوئی آدمی اس کے عمل سے زیادہ فضیلت والا عمل نہیں لائے گا، مگر وہ جو یہ عمل اس سے زیادہ مقدار میں کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5441

۔ (۵۴۴۱)۔ عَنْ وَاہبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ عَلٰی رَغْمِ أَنْفِ أَبِی الدَّرْدَائِ۔)) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَخَرَجْتُ لِأُنَادِیَ بِہَا فِی النَّاسِ، قَالَ: فَلَقِیَنِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: ارْجِعْ فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِہٰذِہِ اتَّکَلُوا عَلَیْہَا، فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ عُمَرُ)) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۳۹)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ کہے گا، وہ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، ابو درداء کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں: پس میں وہاں سے نکلا اور لوگوں میں اس حدیث کا اعلان کرنے لگا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس چلو، اگر لوگوںکو اس چیز کا علم ہو گیا تو اسی پر توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)۔ پس میں لوٹا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5442

۔ (۵۴۴۲)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْن سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: عَلِّمْنِی کَلَامًا أَقُولُہُ، قَالَ: ((قُلْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔)) خَمْسًا، قَالَ: ہٰؤُلَاء ِ لِرَبِّی فَمَا لِی؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۱)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کھچ کلمات کی تعلیم دیں، تاکہ میں ان کا ورد کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔ یہ پانچ کلمات ہیں، اس نے کہا: یہ کلمات تو میرے ربّ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے لیے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔(اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے رزق دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے عافیت دے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5443

۔ (۵۴۴۳)۔ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ قَالَتْ: مَرَّ بِی ذَاتَ یَوْمٍ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ کَمَا قَالَتْ: فَمُرْنِی بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ وَأَنَا جَالِسَۃٌ، قَالَ: ((سَبِّحِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَسْبِیحَۃٍ، فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ رَقَبَۃٍ تُعْتِقِینَہَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَاحْمَدِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَحْمِیدَۃٍ تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ فَرَسٍ مُسْرَجَۃٍ مُلْجَمَۃٍ تَحْمِلِینَ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَکَبِّرِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَکْبِیرَۃٍ فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ بَدَنَۃٍ مُقَلَّدَۃٍ مُتَقَبَّلَۃٍ، وَہَلِّلِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَہْلِیلَۃٍ۔)) قَالَ ابْنُ خَلَفٍ: أَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَلَا یُرْفَعُ یَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ یَأْتِیَ بِمِثْلِ مَا أَتَیْتِ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۵۰)
۔ سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہوں، اس لیے مجھے کوئی ایسا بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھایا جائے گا، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5444

۔ (۵۴۴۴)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ، عَنْ جُرَیٍّ قَالَ الْتَقَی رَجُلَانِ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ نِصْفُ الْمِیزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ یَمْلَؤُہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ یَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَالْوُضُوئُ نِصْفُ الْإِیمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۴۸۷)
۔ جری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو سلیم کے دو آدمی صحابی تھے، جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِنصف میزان کے برابر ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا ثواب ترازو کو بھر دیتا ہے اور اَللّٰہُ أَکْبَر کا ثواب زمین و آسمان کے درمیانے حصہ کو بھرتا ہے، روزہ نصف صبر ہے اور وضو نصف ایمان ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5445

۔ (۵۴۴۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَلَی الْأَرْضِ رَجُلٌ یَقُولُ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ إِلَّا کُفِّرَتْ عَنْہُ ذُنُوبُہُ، وَلَوْ کَانَتْ أَکْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند أحمد: ۶۴۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین پر جو آدمی یہ کلمات ادا کرتا ہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5446

۔ (۵۴۴۶)۔ عن أَبی الزُّبَیْرِ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: کُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَجُلٌ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ الْکَلِمَاتِ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی لَأَنْظُرُ إِلَیْہَا تَصْعَدُ حَتّٰی فُتِحَتْ لَہَا أَبْوَابُ السَّمَائِ۔)) فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا تَرَکْتُہَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، و قَالَ عَوْنٌ: مَا تَرَکْتُہَا مُنْذُ سَمِعْتُہَا مِنِ ابْنِ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔ (مسند أحمد: ۵۷۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی نے یہ ذکر کیا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ اس آدمی نے کہا: جی میں نے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کلمات کی طرف دیکھ رہا تھا، یہ چڑھے جا رہے تھے، یہاں تک کہ اس کے آسمان کے لیے دروازے کھول دیئے گئے۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ حدیث سنی، اس وقت سے میں نے یہ کلمات ترک نہیں کیے۔ عون راوی نے کہا: جب سے میں نے یہ حدیث سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی، میں نے بھی ان کلمات کی ادائیگی کو ترک نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5447

۔ (۵۴۴۷)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی لَا أَسْتَطِیعُ أَخْذَ شَیْئٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِی مَا یُجْزِئُنِی، قَالَ: ((قُلْ سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لِی؟ قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی۔)) ثُمَّ أَدْبَرَ وَہُوَ مُمْسِکُ کَفَّیْہِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا ہٰذَا فَقَدْ مَلَأَ یَدَیْہِ مِنْ الْخَیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۲۰)
۔ سیدنا ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے آپ مجھے ایسے کلمات سکھلا دیں، جو اس سے مجھے کفایت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کلمات تو سارے اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر لیا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ پھر وہ چلا گیا اور اس نے دونوں ہتھیلیوں کو بند کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر و بھلائی سے بھر لیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5448

۔ (۵۴۴۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اسْتَکْثِرُوا مِنَ الْبَاقِیَاتِ الصَّالِحَاتِ۔)) قِیلَ وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْمِلَّۃُ۔)) قِیلَ: وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْمِلَّۃُ۔)) قِیلَ: وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْمِلَّۃُ۔)) قِیلَ: وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((التَّکْبِیرُ وَالتَّہْلِیلُ وَالتَّسْبِیحُ وَالتَّحْمِیدُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ)) (مسند أحمد: ۱۱۷۳۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باقیات صالحات کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تکبیر، تہلیل، تسبیح، تحمید اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5449

۔ (۵۴۴۹)۔ وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی حَدِیْثٍ لَہُ: ((اَلاَ وَاِنَّ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، ھُنَّ الْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۴۳)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ یہ اذکار باقیات صالحات ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5450

۔ (۵۴۵۰)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنَ الْکَلَامِ أَرْبَعًا، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، فَمَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ کُتِبَ لَہُ عِشْرُونَ حَسَنَۃً، وَحُطَّتْ عَنْہُ عِشْرُونَ سَیِّئَۃً، وَمَنْ قَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَمَنْ قَالَ: اَلْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ کُتِبَ أَوْ کُتِبَتْ لَہُ ثَلَاثُونَ حَسَنَۃً، وَحُطَّ أَوْ حُطَّتْ عَنْہُ بِہَا ثَلَاثُونَ سَیِّئَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۲۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ جس نے سُبْحَانَ اللّٰہِ کہا، اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور بیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی، جس نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکہا، اس کے لیے بھی اتنا ہی اجرو ثواب ہو گا اور جس نے اپنے دل سے اَلْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کہا ، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5451

۔ (۵۴۵۱)۔ عَنْ اَبِی الصَّالِحِ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَفْضَلُ الْکَلَامِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۲۶)
۔ ابو صالح سے مروی ہے کہ ایک صحابی کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: افضل کلام یہ ہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5452

۔ (۵۴۵۲)۔ حَدَّثَنَا أَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ غُصْنًا فَنَفَضَہُ فَلَمْ یَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَہُ فَلَمْ یَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَہُ فَانْتَفَضَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ تَنْفُضُ الْخَطَایَا کَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۶۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شاخ پکڑی، اس کو ہلایا، لیکن اس سے پتے نہ جھڑے، پھر ہلایا، لیکن پھر بھی پتے نہیں جھڑے، پھر اس کو ہلایا تو اس کے پتے جھڑ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، یہ کلمات غلطیوں کو ایسے زائل کرتے ہیں، جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5453

۔ (۵۴۵۳)۔ عَنْ أُمِّہِ حُمَیْضَۃَ بِنْتِ یَاسِرٍ، عَنْ جَدَّتِہَا یُسَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، وَکَانَتْ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ! عَلَیْکُنَّ بِالتَّہْلِیلِ وَالتَّسْبِیحِ وَالتَّقْدِیسِ، وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَیْنَ الرَّحْمَۃَ، وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّہُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۲۹)
۔ سیدہ یسیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم خواتین سے فرمایا: اے مؤمن خواتین! تم تہلیل، تسبیح اور تقدیس کا لازمی اہتمام کیا کرو، اور ان سے غفلت نہ برتو، وگرنہ رحمت کو بھول جاؤ گی اور انگلیوں کی مدد سے ان کلمات کو شمار کیا کرو، کیونکہ انگلیوں سے سوال کیا جائے گا کیونکہ ان سے پوچھا جائے اور ان کو بلوایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5454

۔ (۵۴۵۴)۔ عَنْ اَیُّوْبَ بْنِ سَلْمَانَ رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ صَنْعَائَ قَالَ: کُنَّا بِمَکَّۃَ فَجَلَسْنَا اِلٰی عَطَائِ نِ الْخُرَاسَانِیِّ اِلٰی جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَلَمْ نَسْأَلْہٗ وَلَمْ یُحَدِّثْنَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسْنَا اِلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِثْلُ مَجْلِسِکُمْ ھٰذَا، فَلَمْ نَسْأَلْہٗ وَلَمْ یُحَدِّثْنَا، قَالَ: فَقَالَ: مَالَکُمْ لَا تَتَکَلَّمُوْنَ وَلَا تَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ، قُوْلُوْا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، بِوَاحِدَۃٍ عَشْرًا، وَبِعَشْرَۃٍ مِأَۃً مَنْ زَادَ زَادَ اللّٰہُ وَمَنْ سَکَتَ غَفَرَ لَہٗ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۵۵۴۴)
۔ صنعاء کے ایک آدمی ایوب بن سلمان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں عطاء خراسانی کے پاس مسجد کی دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، نہ ہم نے ان سے سوال کیا اور نہ انھوں نے ہمیں کچھ بیان کیا، پھر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس اس طرح بیٹھ گئے، جیسے تمہارے پاس بیٹھے ہیں، ان سے بھی نہ ہم نے کوئی سوال کیا اور نہ انھوں نے ہمیں کچھ بیان کیا، بالآخر انھوں نے کہا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، نہ تم بات کرتے ہو، نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو، یہ ذکر کرو: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، اللہ تعالیٰ ایک کلمے کے بدلے دس لکھے گا اور دس کے بدلے سو لکھے گا، جس نے زیادہ ذکر کیا، اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ ثواب دے گا اور جو خاموش ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا، …۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5455

۔ (۵۴۵۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْضَلُ الْکَلَامِ بَعْدَ الْقُرْآنِ أَرْبَعٌ وَہِیَ مِنَ الْقُرْآنِ،لَا یَضُرُّکَ بِأَیِّہِنَّ بَدَأْتَ سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۸۶)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کے بعد چار کلمات افضل کلام ہیں اور یہ بھی قرآن کریم سے ہی ہیں، تو جس کلمہ سے مرضی شروع کردے، اس سے کوئی فرق نہیںپڑے گا، وہ چار کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5456

۔ (۵۴۵۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، حُطَّتْ خَطَایَاہُ، وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ کہا، اس کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5457

۔ (۵۴۵۷)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ الْکَلاَ مِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَا اصْطَفَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِعِبَادِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۴۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا کلام افضل ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کلام جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے منتخب فرمایا ہے، یعنی سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5458

۔ (۵۴۵۸)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَدَعْ رَجُلٌ مِنْکُمْ أَنْ یَعْمَلَ لِلّٰہِ أَلْفَ حَسَنَۃٍ حِینَ یُصْبِحُ یَقُولُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ مِائَۃَ مَرَّۃٍ فَإِنَّہَا أَلْفُ حَسَنَۃٍ، فَإِنَّہُ لَا یَعْمَلُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ مِثْلَ ذٰلِکَ فِی یَوْمِہِ مِنْ الذُّنُوبِ، وَیَکُونُ مَا عَمِلَ مِنْ خَیْرٍ سِوٰی ذٰلِکَ وَافِرًا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۲۶)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی صبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے ایک ہزار نیکی کرنا نہ چھوڑے، اس کی صورت یہ ہے کہ وہ سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖکہہ دے، یہ ایک ہزار نیکیاں ہیں، اگر اللہ نے چاہا تو وہ بندہ اس دن ایک ہزار گناہ نہیں کرے گا اور اس کے علاوہ بھی اس کے نیک اعمال اس کے علاوہ وافر مقدار میں ہوں گے ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5459

۔ (۵۴۵۹)۔ عَنْ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یَکْسِبَ فِی الْیَوْمِ أَلْفَ حَسَنَۃٍ؟)) قَالَ: وَمَنْ یُطِیقُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((یُسَبِّحُ مِائَۃَ تَسْبِیحَۃٍ فَیُکْتَبُ لَہُ أَلْفُ حَسَنَۃٍ، وَتُمْحٰی عَنْہُ أَلْفُ سَیِّئَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۹۶)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم روزانہ ایک ہزار نیکی کرنے سے عاجز آ گئے ہو؟ انھوں نے کہا: بھلا کون اتنی نیکیوں کی طاقت رکھتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہِ کہہ دیا کرے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور ایک ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5460

۔ (۵۴۶۰)۔ عَنْ سَھْلٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ نُبِتَ لَہٗ غَرْسٌ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۳۰)
۔ سہل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ کہا، اس کے لیے جنت میں ایک پودا لگا دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5461

۔ (۵۴۶۱)۔ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَتٰی عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُدْوَۃً وَأَنَا أُسَبِّحُ، ثُمَّ انْطَلَقَ لِحَاجَۃٍ ثُمَّ رَجَعَ قَرِیبًا مِنْ نِصْفِ النَّہَارِ، فَقَالَ: ((مَا زِلْتِ قَاعِدَۃً؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((أَلَا أُعَلِّمُکِ کَلِمَاتٍ لَوْ عُدِلْنَ بِہِنَّ عَدَلَتْہُنَّ، أَوْ لَوْ وُزِنَّ بِہِنَّ وَزَنَتْہُنَّ، یَعْنِی بِجَمِیعِ مَا سَبَّحَتْ، سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ خَلْقِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللّٰہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رِضَا نَفْسِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۲۹۴)
۔ سیدہ جویریہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر کے بعد میرے پاس تشریف لائے اور میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کے لیے چلے گئے اور نصف النہار کے قریب واپس آئے اور مجھ سے فرمایا: کیا تو اسی حالت پر بیٹھی ہوئی (ذکر کر رہی ہے)؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے ایسے کلمات کی تعلیم دوں کہ اگر ان کا تیرے اس ذکر سے وزن کیا جائے تو وہ بھاری ثابت ہوں، وہ کلمات یہ ہیں، یہ کلمات تین تین مرتبہ کہے جائیں گے: سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ خَلْقِہِ، … الی … سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔ (اگلی حدیث میں ان کلمات کا ترجمہ دیکھ لیں)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5462

۔ (۵۴۶۲)۔ وَعَنْھَا: خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلّٰی فَجَائَ ہَا فَقَالَتْ: مَا زِلْتُ بَعْدَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَائِبَۃً، قَالَ: فَقَالَ لَہَا: ((لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَکِ کَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَّ لَرَجَحْنَ بِمَا قُلْتِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رِضَائَ نَفْسِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۴)
۔ سیدہ جویریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد کسی کام کے لیے تشریف لے گئے اور پھر ان کے پاس واپس آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے بعد مسلسل ذکر کرتی رہیہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد ایسے کلمات کہے کہ اگر ان کا تیرے ذکر کے ساتھ وزن کیا جائے تو وہ بھاری ہو جائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رِضَائَ نَفْسِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔ (اللہ تعالیٰ پاک ہے اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ تعالیٰ پاک ہے اپنے نفس کی رضامندی کے برابر، اللہ پاک ہے اپنے عرش کے وزن کے برابر، اللہ پاک ہے اپنے کلمات کی سیاہی کے برابر)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5463

۔ (۵۴۶۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَلِمَتَانِ خَفِیفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ، ثَقِیلَتَانِ فِی الْمِیزَانِ، حَبِیبَتَانِ إِلَی الرَّحْمٰنِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۶۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں، ترازو میں بھاری ہیں اور رحمن کو بڑے پیارے ہیں، وہ کلمے یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5464

۔ (۵۴۶۴)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الَّذِینَ یَذْکُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللّٰہِ مِنْ تَسْبِیحِہِ وَتَحْمِیدِہِ وَتَکْبِیرِہِ وَتَہْلِیلِہِ، یَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ، لَہُنَّ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ، یُذَکِّرُونَ بِصَاحِبِہِنَّ، أَلَا یُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ لَا یَزَالَ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ شَیْئٌ یُذَکِّرُ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۵۲)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ تسبیح (سُبْحَانَ اللّٰہ)، تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہ)، تکبیر (اَللّٰہُ اَکْبَر) اور تہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ) کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے جلال کا ذکر کرتے ہیں، تو یہ (اذکار) عرش کے اردا گرد عاجزی کرتے ہیں، شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کی آواز ہوتی ہے اور یہ اپنے (ذکر کرنے والے) صاحب کا تذکرہ کرتے ہیں۔ تو اب کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ تمہارا کوئی ایسا عمل ہو جو (عرش کے پاس) تمھاری یاد دلاتا رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5465

۔ (۵۴۶۵)۔ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی: ((یَا قَبِیصَۃُ! مَا جَائَ بِکَ؟۔)) قُلْتُ: کَبِرَتْ سِنِّی، وَرَقَّ عَظْمِی، فَأَتَیْتُکَ لِتُعَلِّمَنِی مَا یَنْفَعُنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ، قَالَ: ((یَا قَبِیصَۃُ! مَا مَرَرْتَ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ وَلَا مَدَرٍ إِلَّا اسْتَغْفَرَ لَکَ یَا قَبِیصَۃُ! إِذَا صَلَّیْتَ الْفَجْرَ فَقُلْ ثَلَاثًا سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ، تُعَافٰی مِنْ الْعَمٰی وَالْجُذَامِ وَالْفَالِجِ، یَا قَبِیصَۃُ! قُلْ اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِمَّا عِنْدَکَ وَأَفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ، وَانْشُرْ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ، وَأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۸۷۸)
۔ سیدنا قبیصہ بن مخارق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: قبیصہ! کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: میری عمر بڑی ہو گئی ہے اور ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں، اس لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ میں آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دے دیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبیصہ! تو جس پتھر، درخت اور کچی اینٹ کے پاس سے گزرا، اس نے تیرے لیے بخشش طلب کی، اے قبیصہ! جب تو نمازِ فجر ادا کر لے تو تین بار یہ کلمہ کہہ: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ، تجھے اندھے پن، کوڑھ اور فالج سے عافیت مل جائے گی، اے قبیصہ! یہ دعا کیا کرو: اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِمَّا عِنْدَکَ…… وَأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھے سے ان چیز وں کا سوال کرتا ہوں، جو تیرے پاس ہیں، تو مجھ پر اپنا فضل ڈال دے، مجھ پر اپنی رحمت نچھاور کر دے اور مجھ پر اپنی برکات نازل کر دے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5466

۔ (۵۴۶۶)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا فِی الْحَلْقَۃِ، إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْقَوْمِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، فَرَدَّ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْہِ: ((وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ۔)) فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ یُحْمَدَ وَیَنْبَغِی لَہُ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیْفَ قُلْتَ؟)) فَرَدَّ عَلَیْہِ کَمَا قَالَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدِ ابْتَدَرَہَا عَشَرَۃُ أَمْلَاکٍ، کُلُّہُمْ حَرِیصٌ عَلٰی أَنْ یَکْتُبَہَا، فَمَا دَرَوْا کَیْفَ یَکْتُبُوہَا حَتَّی رَفَعُوہَا إِلٰی ذِی الْعِزَّۃِ، فَقَالَ: اُکْتُبُوہَا کَمَا قَالَ عَبْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۳۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی آیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور دوسرے لوگوں کو سلام کہتے ہوئے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں اس کا جواب دیا: وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ۔ جب وہ آدمی بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ یُحْمَدَ وَیَنْبَغِی لَہُ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، بہت زیادہ، پاکیزہ اور برکت کی ہوئی تعریف، جیسا ہمارا ربّ چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور جیسے اس کے لائق ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے کہا؟ اس نے دوہرا کر وہ کلمات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دس فرشتے ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے، ہر ایک اس بات کا حریص تھا کہ وہ ان کو لکھے، لیکن پھر ان کو یہ سمجھ نہ آ سکی کہ وہ ان کو لکھیں کیسے، پھر وہ یہ کلمات ایسے ہی لے کر عزت والے ربّ کے پاس پہنچ گئے، اور اللہ تعالیٰ نے کہا: تم اسی طرح لکھ دو،جیسے میرے بندے نے کہا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5467

۔ (۵۴۶۷)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانٍِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أُصَلِّی إِذْ سَمِعْتُ مُتَکَلِّمًا یَقُولُ: اللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِی، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّی، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَلَکٌ أَتَاکَ یُعَلِّمُکَ تَحْمِیدَ رَبِّکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۴۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو یہ کلمات ادا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضَی مِنْ ذَنْبِی، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضَی بِہِ عَنِّی۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لیے ہے، ساری بادشاہت تیرے لیے ہے، ساری خیر و بھلائی تیرے لیے ہے، سارا معاملہ تیرے طرف لوٹے گا، وہ اعلانیہ ہو یا مخفی، تو اس لائق ہے کہ تیری تعریف کی جائے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میرے وہ گناہ بخش دے، جو گزر چکے ہیں اور بقیہ عمر میں میری حفاظت فرما اور مجھے زیادہ ثواب والا ایسا عمل عطا کر کہ جس کے ذریعے تو راضی ہو جائے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو فرشتہ تھا جو تیرے پاس آیا اور اس نے تجھے اپنے ربّ کی تحمید کی تعلیم دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5468

۔ (۵۴۶۸)۔ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ مَا خَلَقَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ مَا أَحْصٰی کِتَابُہُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ مَا أَحْصَی کِتَابُہُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ کُلِّ شَیْئٍ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ کُلِّ شَیْئٍ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ مِثْلَہَا فَأَعْظَمَ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۹۶)
۔ سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا پڑھی: ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کی مخلوق کے بھرنے کے بقدر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوق کی تعداد کے برابر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس چیزوں کے بھراؤ کے بقدر جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کو اس کی کتاب نے شمار کیا،ساری تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے، ان چیزوں کے بھراؤ کے بقدر، جن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نے شمار کیا، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہر چیز کی تعداد کے برابر اور ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہر چیز کے بھراؤ کے بقدر، پھر اسی طرح سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے، تو اس کو بڑا اجر ملے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5469

۔ (۵۴۶۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَلْقٰی رَجُلًا فَیَقُولُ: ((یَا فُلَانُ کَیْفَ أَنْتَ؟)) فَیَقُولُ: بِخَیْرٍ أَحْمَدُ اللّٰہَ فَیَقُولُ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَعَلَکَ اللّٰہُ بِخَیْرٍ۔)) فَلَقِیَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: ((کَیْفَ أَنْتَ یَا فُلَانُ؟۔)) فَقَالَ: بِخَیْرٍ إِنْ شَکَرْتُ، قَالَ: فَسَکَتَ عَنْہُ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّکَ کُنْتَ تَسْأَلُنِی فَتَقُولُ: جَعَلَکَ اللّٰہُ بِخَیْرٍ، وَإِنَّکَ الْیَوْمَ سَکَتَّ عَنِّی، فَقَالَ لَہُ: ((إِنِّی کُنْتُ أَسْأَلُکَ فَتَقُولُ: بِخَیْرٍ أَحْمَدُ اللّٰہَ، فَأَقُولُ: جَعَلَکَ اللّٰہُ بِخَیْرٍ، وَإِنَّکَ الْیَوْمَ قُلْتَ: إِنْ شَکَرْتُ، فَشَکَکْتَ فَسَکَتُّ عَنْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۵۷۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کو ملتے اور اس سے پوچھتے: اے فلاں! تم کیسے ہو؟وہ کہتا: خیریت ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو جواب دیتے: اللہ تعالیٰ تجھے خیریت کے ساتھ ہی رکھے۔ پھر ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ملے اور اس سے پوچھا: کیسے ہو؟ اس نے کہا: اگر میں شکر ادا کروں تو خیریت ہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جواباً خاموش رہے، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلے جب بھی آپ مجھ سے سوال کرتے تو آپ مجھے یہ دعا دیتے کہ اللہ تعالیٰ تجھے خیر کے ساتھ ہی رکھے، لیکن آج آپ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلے جب میں تجھ سے سوال کرتا تھا تو تو کہتا تھا کہ خیریت ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں اور میں جواباً کہتا کہ اللہ تعالیٰ تجھے خیریت سے ہی رکھے، لیکن آج تو نے کہا ہے کہ اگر میں شکر ادا کروں تو خیریت سے ہوں، تو تو نے شک کا اظہار کیا، سو میں خاموش رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5470

۔ (۵۴۷۰)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا اَنَّ اَبَاہٗ دَفَعَہٗ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْدُمُہٗ قَالَ: فَاَتٰی عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ صَلَیَّتُ رَکْعَتَیْنَ، فَقَالَ: ((اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی بَابٍ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ؟)) قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۵۹)
۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سپرد کر دیا، تاکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کر سکوں، ایک دن وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور میں نے دو رکعت نماز پڑھی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر تیری رہنمائی کروں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5471

۔ (۵۴۷۱)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ؟)) قَال:َ وَمَا ہُوَ:؟ قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۹۳)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر تیری رہنمائی کروں؟ انھوں نے کہا: وہ کون سا ہے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5472

۔ (۵۴۷۲)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا ذَرٍّ! أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ؟ قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۲۳)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! کیا میں تیری جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر رہنمائی نہ کروں، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ کہا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5473

۔ (۵۴۷۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَکْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، فَإِنَّہَا کَنْزٌ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ۔))(مسند أحمد: ۸۳۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ سے زیادہلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5474

۔ (۵۴۷۴)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی بَابٍ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ؟)) قَالَ: وَمَا ھُوَ؟ قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ)) (مسند أحمد: ۲۲۴۵۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں جنت کے دروازوں میں ایک دروازے پر تیری رہنمائی نہ کر دوں؟ انھوں نے کہا: وہ کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5475

۔ (۵۴۷۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ أَمْشِی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَخْلٍ لِبَعْضِ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلَکَ الْمُکْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَہٰکَذَا)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَثَا بِکَفِّہِ عَنْ یَمِینِہِ، وَعَنْ یَسَارِہِ وَبَیْنَ یَدَیْہِ وَقَلِیلٌ مَا ہُمْ ثُمَّ مَشٰی سَاعَۃً، فَقَالَ: ((یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ؟۔)) فَقُلْتُ: بَلٰی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ۔)) ثُمَّ مَشٰی سَاعَۃً فَقَالَ: ((یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَی اللّٰہِ وَمَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی النَّاسِ؟۔)) قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَإِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی النَّاسِ أَنْ یَعْبُدُوہُ وَلَا یُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِکَ فَحَقٌّ عَلَیْہِ أَنْ لَا یُعَذِّبَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۷۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے ایک آدمی کے باغ میں چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! کثیر مال والے لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، مگر جو ایسے ایسے اور ایسے کرے۔ تین بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا کہ تمثیل پیش کرتے ہوئے ایک چلو دائیں جانب ڈالا، ایک بائیں جانب اور ایک سامنے اور پھر فرمایا: لیکن ایسے مالدار کم ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑے سے چلے اور فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا میں تیری جنت کے خزانوں میں سے ایک پر رہنمائی کر دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ذکر کیا کرو: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ۔ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور اللہ تعالیٰ سے بچنے کے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، مگر اسی کی طرف۔) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑا سا چلے اور فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، جب وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5476

۔ (۵۴۷۶)۔ عَنْ أَبِی بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ: قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: قَالَ لِی نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلْ أَدُلُّکَ عَلَی کَلِمَۃٍ کَنْزٍ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ تَحْتَ الْعَرْشِ؟۔)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی، قَالَ: ((أَنْ تَقُولَ: لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) قَالَ أَبُو بَلْجٍ: وَأَحْسَبُ أَنَّہُ قَالَ: فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: أَسْلَمَ عَبْدِی وَاسْتَسْلَمَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: قَالَ أَبُو بَلْجٍ: قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لِأَبِی ہُرَیْرَۃَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، فَقَالَ لَا إِنَّہَا فِی سُورَۃِ الْکَہْفِ {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَائَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ} [الکھف: ۳۹] (مسند أحمد: ۸۴۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا میں ایسے کلمے پر تمہاری رہنمائی کروں، جو عرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہار یہ کہنا کہ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ ابو بلج راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں کہتا ہے: میرا بندہ مطیع اور فرمانبردار ہو گیا ہے۔ میں نے عمرو سے کہا: ابو بلج کہتے ہیں کہ عمرو نے کہا: میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ کلمہ سورۂ کہف میں ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَائَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ}… اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا جو اللہ نے چاہا، کچھ قوت نہیں مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ (سورۂ کہف: ۳۹)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5477

۔ (۵۴۷۷)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَخْبَرَنِی أَبُو أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہِ مَرَّ عَلٰی إِبْرَاہِیمَ، فَقَالَ: مَنْ مَعَکَ یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ: ہَذَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَہُ إِبْرَاہِیمُ: مُرْ أُمَّتَکَ فَلْیُکْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّۃِ، فَإِنَّ تُرْبَتَہَا طَیِّبَۃٌ وَأَرْضَہَا وَاسِعَۃٌ، قَالَ: ((وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّۃِ؟۔)) قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۴۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جس رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء (اور معراج) کرایا گیا ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: اے جبریل! تیرے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اپنی امت کو حکم دینا کہ وہ جنت میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، پس بیشک اس کی مٹی پاکیزہ اور زرخیز ہے اور اس کی زمین وسیع ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: جنت کے پودے کیا ہیں؟ انھوں نے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5478

۔ (۵۴۷۸)۔ عَن عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَکْثَرَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ، جَعَلَ اللّٰہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ کُلِّ ضِیقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کثرت سے استغفار کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو وہم و گمان تک نہیں ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5479

۔ (۵۴۷۹)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ إِبْلِیسَ قَالَ لِرَبِّہِ: بِعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِیْ بَنِیْ آدَمَ مَا دَامَتِ الْأَرْوَاحُ فِیہِمْ، فَقَالَ اللّٰہُ: فَبِعِزَّتِی وَجَلَالِی! لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَہُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِیْ)) (مسند أحمد: ۱۱۲۶۴)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابلیس نے اپنے ربّ سے کہا: تیری عزت اور جلال کی قسم! جب تک بنو آدم میں روحیں موجود رہیں گی، میں ہمیشہ ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے کہا: مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے، میں ان کو بخشتا رہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5480

۔ (۵۴۸۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنِّی لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فِی الْیَوْمِ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعِینَ مَرَّۃً وَأَتُوبُ إِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں ایک دن میں ستر بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5481

۔ (۵۴۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْتُہُ اسْتَغْفَرَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ، أَوْ إِنَّکَ تَوَّابٌ غَفُورٌ۔)) (مسند أحمد: ۵۳۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ نے سو دفعہ بخشش طلب کی اور پھر یہ دعا کی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھ پر رجوع کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والارحم کرنے والا ہے)۔ ایک روایت میں آخر میں إِنَّکَ تَوَّابٌ غَفُورٌ کے الفاظ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5482

۔ (۵۴۸۲)۔ عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِی، وَإِنِّی لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کُلَّ یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۸۰)
۔ سیدنا اغر مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرے دل پر بھی غفلت طاری ہو جاتی ہے اور میں ہر روز سو سو بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5483

۔ (۵۴۸۳)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدَۃٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((الْعَبْدُ آمِنٌ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا اسْتَغْفَرَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۵۳)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن میں رہتا ہے، جب تک اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5484

۔ (۵۴۸۴)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ فِی آخِرِ أَمْرِہِ مِنْ قَوْلِ ((سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا لِی أَرَاکَ تُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ؟ قَالَ: ((إِنَّ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ کَانَ أَخْبَرَنِی أَنِّی سَأَرٰی عَلَامَۃً فِی أُمَّتِی، وَأَمَرَنِی إِذَا رَأَیْتُہَا أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِہِ وَأَسْتَغْفِرَہُ، إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا فَقَدْ رَأَیْتُہَا {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا}۔ [سورۃ النصر])) (مسند أحمد: ۲۴۵۶۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی آخری زندگی میں کثرت سے یہ ذکر کرتے تھے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ یہ ذکر بہت کثرت سے کرنے لگ گئے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میرے ربّ نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا اور پھر مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں جب اس کو دیکھ لوں تو اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کروں اور اس سے بخشش طلب کروں، بیشک وہ توبہ قبول کرنے کرنے والا ہے، اور اب میں نے وہ علامت ان آیات کی صورت میں دیکھ لی ہے: {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا} جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (النصر: ۱۔۳)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5485

۔ (۵۴۸۵)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْجِبُہٗ اَنْ یَّدْعُوْ ثَلَاثًا وَیَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۳۷۴۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین بار دعا کریں اور تین بار استغفار کریں۔

آیت نمبر