Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

88)

88) نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5569

۔ (۵۵۶۹)۔ حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ خَنْبَشٍ کَیْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ کَادَتْہُ الشَّیَاطِینُ؟ قَالَ: جَائَ تِ الشَّیَاطِینُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ الْأَوْدِیَۃِ، وَتَحَدَّرَتْ عَلَیْہِ مِنْ الْجِبَالِ، وَفِیہِمْ شَیْطَانٌ مَعَہُ شُعْلَۃٌ مِنْ نَارٍ، یُرِیدُ أَنْ یُحْرِقَ بِہَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَرُعِبَ، قَالَ جَعْفَرٌ: أَحْسَبُہُ قَالَ جَعَلَ یَتَأَخَّرُ، قَالَ: وَجَائَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! قُلْ، قَالَ: ((مَا أَقُولُ۔)) قَالَ: قُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَعْرُجُ فِیہَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِی الْأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ، یَا رَحْمٰنُ۔)) فَطَفِئَتْ نَارُ الشَّیَاطِیْن وَھَزَمَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۴۰)
۔ ابو تیاح کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن خنبش تمیمی سے پوچھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رات کو کیا کیا تھا جس رات شیاطین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب آئے تھے؟ انھوں نے کہا: اس رات کو شیاطین مختلف وادیوں اور پہاڑوں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ٹوٹ پڑے، ان میں ایک ایسا شیطان بھی تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا اور وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کو جلانا چاہتا تھا۔ لیکن وہ مرعوب ہو گیا، جعفر راوی نے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ گیا، اتنے میں جبریل علیہ السلام آگئے اور کہا: اے محمد! کہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کیا کہوں؟ اس نے کہا: یہ دعا پڑھو: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ …… وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ إِلَّاطَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ، یَا رَحْمٰنُ۔ (میں اللہ کے مکمل کلمات، جن سے کوئی نیک تجاوز کر سکتا ہے نہ بد، کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کے شرّ سے جسے اس نے پیدا کیا اور اس چیز کے شرّ سے جو آسمان سے اترتی ہے اور اس چیز کے شرّ سے جو آسمان میں چڑھ جاتی ہے اور رات کو آنے والے کے شرّ سے، الا یہ کہ وہ خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن!) (نتیجہ یہ نکلا کہ) شیاطین کی آگ بجھ گئی اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں شکست دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5570

۔ (۵۵۷۰)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَنْبَشٍ التَّمِیمِیِّ وَکَانَ کَبِیرًا: أَدْرَکْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: کَیْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ کَادَتْہُ الشَّیَاطِینُ؟ فَقَالَ: إِنَّ الشَّیَاطِینَ تَحَدَّرَتْ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ الْأَوْدِیَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۳۹)
۔ (دوسری سند) راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد الرحمن بن خنبش تمیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو ایک عمر رسیدہ آدمی تھے، سے پوچھا، کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: جس رات شیطان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب آئے تھے، اس رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا کیاتھا؟ انھوں نے کہا: اس رات شیطان مختلف وادیوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ٹوٹ پڑے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5571

۔ (۵۵۷۱)۔ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِیہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْئٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَائِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، لَمْ یَضُرَّہُ شَیْئٌ۔)) (مسند أحمد: ۴۴۶)
۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ دعا پڑھے گا: بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ… وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ(اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے)، کوئی چیز اس کو نقصان نہیں دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5572

۔ (۵۵۷۲)۔ عَن أَبِی مُوسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا خَافَ مِنْ رَجُلٍ أَوْ مِنْ قَوْمٍ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَجْعَلُکَ فِی نُحُورِہِمْ وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شُرُورِہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۵۷)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی آدمی یا قوم سے ڈرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَجْعَلُکَ فِی نُحُورِہِمْ وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شُرُورِہِمْ (اے اللہ! بیشک میں تجھ کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں اور ہم خود ان کے شرور سے تیری پناہ میں آتے ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5573

۔ (۵۵۷۳)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلِمَاتٍ أَقُولُہَا عِنْدَ الْکَرْبِ: ((اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا أُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۲۲)
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے رنج و غم کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی: اللّٰہُ رَبِّی لَا أُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا (اللہ میرا ربّ ہے، میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5574

۔ (۵۵۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعَوَاتُ الْمَکْرُوبِ: اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو، فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، أَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۷۰۲)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے چین اور غم زدہ آدمی کی دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو، فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، أَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، (اے اللہ! میں صرف تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس تو میری ذات کو پلک بھرکے لیے میرے سپرد نہ کر اور میرا سارا معاملہ سنوار دے، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5575

۔ (۵۵۷۵)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: (وَفِیْ لَفْظٍ: لَقَّنَنِیْ) عَلَّمَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَزَلَ بِی کَرْبٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اَوْ شِدَّۃٌ) أَنْ أَقُولَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَلْحَکِیْمُ بَدْلَ الْحَلِیْمِ)، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱)
۔ سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بے چینی اور سختی کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ ،سُبْحَانَ اللّٰہِ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بردبار اور کریم ہے، اللہ پاک ہے، اللہ تعالیٰ بابرکت ہے، جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے، اور ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا ربّ ہے)۔ ایک روایت میں الْحَلِیْم کے بجائے الْحَکِیْم کے الفاظ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5576

۔ (۵۵۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ ہَمٌّ وَلَا حَزَنٌ، فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ، نَاصِیَتِی بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، أَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ، أَوْ عَلَّمْتَہُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ، أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِی کِتَابِکَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیعَ قَلْبِی، وَنُورَ صَدْرِی، وَجِلَائَ حُزْنِی، وَذَہَابَ ہَمِّی، إِلَّا أَذْہَبَ اللّٰہُ ہَمَّہُ وَحُزْنَہُ، وَأَبْدَلَہُ مَکَانَہُ فَرَجًا۔)) قَالَ: فَقِیلَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَلَا نَتَعَلَّمُہَا، فَقَالَ:(( بَلٰی یَنْبَغِی لِمَنْ سَمِعَہَا، أَنْ یَتَعَلَّمَہَا۔)) (مسند أحمد: ۳۷۱۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بھی کسی کو کوئی فکر و غم اور رنج و ملال لاحق ہو اور وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ…… وَذَہَابَ ہَمِّی، (اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل والا ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس خاص نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھلایا ہے یا علم الغیب میں اسے اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی ہے کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میرے فکر کو لے جانے والا بنا دے)۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے فکر و غم اور رنج و ملال کو دور کرکے اس کے بدلے وسعت اور کشادگی عطا کرے گا۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ہر سننے والے کو یاد کر لینے چاہئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5577

۔ (۵۵۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّہُ زَوَّجَ ابْنَتَہُ مِنَ الْحَجَّاجِ بْنِ یُوسُفَ، فَقَالَ لَہَا: إِذَا دَخَلَ بِکِ فَقُولِی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا حَزَبَہُ أَمْرٌ قَالَ ہٰذَا، قَالَ حَمَّادٌ: ظَنَنْتُ أَنَّہُ قَالَ: فَلَمْ یَصِلْ إِلَیْہَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۲)
۔ عبد اللہ بن جعفر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب انھوںنے حجاج بن یوسف سے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اپنی بیٹی سے کہا: جب وہ تیرے پاس آئے تو تو نے یہ دعا پڑھنی ہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بردبار اور کریم ہے، اللہ پاک ہے، جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے، اور ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا ربّ ہے)۔ ان کا خیال تھا کہ جب کوئی معاملہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پریشان کر دیتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا پڑھتے تھے، حماد راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حجاج بن یوسف اس خاتون تک نہ پہنچ پایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5578

۔ (۵۵۷۸)۔ عن أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَلْ مِنْ شَیْئٍ نَقُولُہُ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا۔)) قَالَ: فَضَرَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وُجُوہَ أَعْدَائِہِ بِالرِّیحِ، فَہَزَمَہُمْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّیحِ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۰۹)
۔ سیدنا ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوۂ والے دن کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ذکر ہے، کلیجے منہ کو آ گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالکل ہے، کہو: اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا (اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال اور ہماری گھبراہٹوں کو امن دے)۔ پس اللہ تعالیٰ دشمنوں پر ہوا ایسی ہوا چلائی کہ اس ہوا ذریعے ان کو شکست دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5579

۔ (۵۵۷۹)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بَیْنَ رَجُلَیْنِ فَقَالَ الْمَقْضِیُّ عَلَیْہِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رُدُّوا عَلَیَّ الرَّجُلَ۔)) فَقَالَ: ((مَا قُلْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ یَلُومُ عَلَی الْعَجْزِ، وَلٰکِنْ عَلَیْکَ بِالْکَیْسِ، فَإِذَا غَلَبَکَ أَمْرٌ فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۸۳)
۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ ہوا، جب وہ جانے لگا تو اس نے کہا: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ(اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے کیا ذکر کیا ہے؟ اس نے کہا: جی میں نے یہ کلمات ادا کیے ہیں: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ سستی پر ملامت کرتا ہے، سب سے پہلے تجھے عقلمندی سے کام لینا چاہیے، پھر اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو تو کہے: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5580

۔ (۵۵۸۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَہُنَّ غُفِرَ لَکَ مَعَ أَنَّہُ مَغْفُورٌ لَکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۳)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا میں تجھے ایسے کلمات کی تعلیم دوں کہ جب تو ان کو ادا کرے تو تجھے بخش دیا جائے گا، حالانکہ تجھے پہلے ہی بخشا جا چکا ہے، بہرحال وہ کلمات یہ ہیں: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ بردبار اور کریم ہے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بلند و بالا اور عظیم ہے، اللہ تعالیٰ پاک ہے، جو کہ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا ربّ ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جو کہ تمام جہانوں کا ربّ ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5581

۔ (۵۵۸۱)۔ عَنْ أَبِی وَائِلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتٰی عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! إِنِّی عَجَزْتُ عَنْ مُکَاتَبَتِی فَأَعِنِّی، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ عَلَّمَنِیہِنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَوْ کَانَ عَلَیْکَ مِثْلُ جَبَلِ صِیرٍ دَنَانِیرَ لَأَدَّاہُ اللّٰہُ عَنْکَ، قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: قُلْ ((اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۱۹)
۔ سیدنا ابو وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں اپنی مکاتَبت سے عاجز آ گیا ہوں، لہذا آپ میری مدد کرو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تجھے ان کلمات کی تعلیم دوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سکھائے تھے، اگر تجھ پر صیر پہاڑ کے بقدر دیناروں کا بھی قرض ہوا تو اللہ تعالیٰ تیری طرف سے ادا کر دے گا، اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ (اے اللہ! تو مجھے کافی ہو جا، اپنے حلال کے ساتھ، اپنے حرام سے بچا کر اور اپنے فضل سے مجھے ان افراد سے غنی کر دے، جو تیرے علاوہ ہیں)۔

آیت نمبر