MUSNAD AHMED

Search Results(1)

89)

89) انسان کو پریشان کرنے والی آفات اور عوارض کے وقت کیے جائے والے اذکار کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5582

۔ (۵۵۸۲)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یَنْفَعَ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ وَلٰکِنَّ الدُّعَائَ یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ یَنْزِلْ، فَعَلَیْکُمْ بِالدُّعَائِ عِبَادَ اللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۴)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی چیز کی تیاری، تقدیر سے فائدہ نہیں دیتی، البتہ دعا ان امور میں فائدہ دیتی ہے، جو نازل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی جو نازل نہیں ہوئے، لہٰذا اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5583

۔ (۵۵۸۳)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ یُصِیبُہُ، وَلَا یَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَائُ، وَلَا یَزِیدُ فِی الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۰۲)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی گناہ کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور کوئی چیز تقدیر کو ردّ نہیں کر سکتی، ما سوائے دعا کے اور صرف نیکی ہی ہے، جو عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5584

۔ (۵۵۸۴)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَدَّثَہُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَدْعُو اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ بِدَعْوَۃٍ إِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ، أَوْ کَفَّ عَنْہُ مِنَ السُّوْئِ مِثْلَھَا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۶۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہو، مگر اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتا ہے، یا پھر اس دعا کے بقدر اس سے بری چیز کو ٹال دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5585

۔ (۵۵۸۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَدْعُو بِدَعْوَۃٍ لَیْسَ فِیہَا إِثْمٌ وَلَا قَطِیعَۃُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہُ بِہَا إِحْدٰی ثَلَاثٍ، إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَہُ دَعْوَتُہُ، وَإِمَّا أَنْ یَدَّخِرَہَا لَہُ فِی الْآخِرَۃِ، وَإِمَّا أَنْ یَصْرِفَ عَنْہُ مِنَ السُّوئِ مِثْلَہَا۔)) قَالُوْا إِذًا نُکْثِرُ، قَالَ: ((اللّٰہُ أَکْثَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۵۰)
۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان ایسی دعا کرتا ہو، جس میں گناہ او رقطع رحمی والی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو تین میں سے ایک چیز عطا کرتا ہے، یا اس کی دعا جلدی جلدی قبول کر لی جاتی ہے، یا اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے، یا اس کے بقدر اس آدمی سے بری چیز کو دور کر دیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر ہم بہت زیادہ دعا کریں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ عطا کرنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5586

۔ (۵۵۸۶)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الدُّعَائَ ہُوَ الْعِبَادَۃُ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ} [غافر: ۶۰] (مسند أحمد: ۱۸۵۷۶)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ} … اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کوقبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں، وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ (سورۂ غافر: ۶۰) (سورۂ غافر کو سورۂ مومن بھی کہتے ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5587

۔ (۵۵۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ شَیْئٌ اَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الدُّعَائِ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۳۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی چیز نہیں ہے، جو دعا سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ عزت والی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5588

۔ (۵۵۸۸)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَمْ یَدْعُ اللّٰہَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۱۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5589

۔ (۵۵۸۹)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَنْصِبُ وَجَھَہٗ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْ مَسْأَلِۃٍ اِلَّا اَعْطَاہُ اِیَّاھَا اِمَّا اَنْ یُّعَجِّلَھَا لَہٗ، وَاِمَّا اَنْ یَّدَّخِرَھَا لَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۸۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کوئی سوال کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے چہرے کو گاڑھ لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ہر صورت میں عطا کرتا ہے، یا تو جلدی دے دیتا ہے، یا اس کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5590

۔ (۵۵۹۰)۔ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَسْتَحْیِیْ اَنْ یَبْسُطَ الْعَبْدُ اِلَیْہِ یَدَیْہِ یَسْأَلُہٗ فِیْھِمَا خَیْرًا فَیَرُدَّھُمَا خَائِبَتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۱۵)
۔ سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب بندہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کے لیے اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ دراز کرتا ہے تو وہ اس سے شرماتا ہے کہ ان کو خالی واپس کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5591

۔ (۵۵۹۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ، وَاَنَا مَعَہٗ اِذَا دَعَانِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۲۲۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جیسے میرے بندے کا میرے بارے میںگمان ہوتا ہے، میں ویسے ہی اس کے ساتھ پیش آتا ہوں، اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5592

۔ (۵۵۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَمَنّٰی اَحَدُکُمْ فَلْیَنْظُرْ مَا الَّذِیْ یَتَمَنّٰی، فَاِنَّہٗ لَا یَدْرِیْ مَا الَّذِیْ یُکْتَبُ لَہٗ مِنْ اُمْنِیَّتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۰۱۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی آدمی تمنا کرنے لگے تو اس کو اپنی تمنا پر غور کر لینا چاہیے، کیونکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کی تمنا میں سے کون سی چیز اس کے لیے لکھ لی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5593

۔ (۵۵۹۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْجِبُّہُ الْجَوْامِعُ مِنَ الدُّعَا، وَیَدَعُ مَا بَیْنَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۷۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جامع دعائیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند تھیں، اس کی علاوہ باقی دعائیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھوڑ دیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5594

۔ (۵۵۹۴)۔ عَنِ ابْن جُرَیْجٍ، أَخْبَرَنِی عُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَۃَ أَخْبَرَہُ عَنْ عَمِّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا جَائَ مَکَانًا مِنْ دَارِ یَعْلٰی نَسِیَہُ عُبَیْدُ اللّٰہِ اسْتَقْبَلَ الْبَیْتَ فَدَعَا، قَالَ رَوْحٌ: عَنْ أَبِیہِ، وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ: عَنْ أُمِّہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۵۶۳)
۔ عبد الرحمن بن علقمہ اپنے چچے سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سیدنا یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس فلاں جگہ پر آتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا کرتے۔ عبید اللہ راوی وہ جگہ بھول گئے تھے، ابن بکر راوی نے عبد الرحمن کے چچا کی بجائے اس کی ماں کا ذکر کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5595

۔ (۵۵۹۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَۃَ أَخْبَرَہُ عَنْ عَمِّہِ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا جَائَ مَکَانًا مِنْ دَارِ یَعْلٰی نَسِیَہُ عُبَیْدُ اللّٰہِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَدَعَا۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۰۹)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سیدنا یعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس فلاں جگہ پر آتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا کرتے، عبید اللہ اس جگہ کو بھول گئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5596

۔ (۵۵۹۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمُدُّ یَدَیْہِ حَتّٰی إِنِّی لَأَرٰی بَیَاضَ إِبْطَیْہِ، وَقَالَ سُلَیْمَانُ: یَعْنِی فِی الِاسْتِسْقَائِ۔ (مسند أحمد: ۷۲۱۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اس قدر دراز کیے کہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، سلیمان راوی نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بارش کے لیے دعا مانگ رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5597

۔ (۵۵۹۷)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاقِفًا بِعَرَفَۃَ یَدْعُو ہٰکَذَا وَرَفَعَ یَدَیْہِ حِیَالَ ثَنْدُوَتَیْہِ، وَجَعَلَ بُطُونَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِی الْأَرْضَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۱۰۹)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ مقام پر کھڑے اس طرح دعا کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھوں کو سینے کے برابر اٹھا رکھا تھا اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ زمین کی طرف کیا ہوا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5598

۔ (۵۵۹۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا دَعَا جَعَلَ ظَاھِرَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِی وَجْھَہُ، وباطنَھما مما یلی الارض۔ (مسند أحمد: ۱۲۲۶۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب دعا کرتے توہتھیلیوں کی پشت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کی طرف ہوتی اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5599

۔ (۵۵۹۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَہُمْ قَالَ: لَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی شَیْئٍ مِنْ دُعَائِہِ، وَقَالَ یَحْیٰی مَرَّۃً: مِنَ الدُّعَائِ إِلَّا فِی الِاسْتِسْقَائِ، فَإِنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتّٰی یُرٰی بَیَاضُ إِبِطَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۸۹۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، ما سوائے بارش مانگنے کے، اس موقع پر تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر ہاتھوں کو بلند کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5600

۔ (۵۶۰۰)۔ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا سَأَلَ جَعَلَ بَاطِنَ کَفَّیْہِ إِلَیْہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: اِلٰی وَجْہِہِ) وَإِذَا اسْتَعَاذَ جَعَلَ ظَاہِرَہُمَا إِلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۸۰)
۔ سیدنا خلاد بن سائب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب سوال کرتے تھے تو اپنی ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرے کی طرف کرتے اور جب پناہ مانگتے تھے تو ہتھیلیوں کی پشت چہرے کی طرف کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5601

۔ (۵۶۰۱)۔ عن عَطَاء قَالَ: قَالَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کُنْتُ رَدِیفَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَاتٍ، فَرَفَعَ یَدَیْہِ یَدْعُو فَمَالَتْ بِہِ نَاقَتُہُ فَسَقَطَ خِطَامُہَا، قَالَ: فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدٰی یَدَیْہِ وَہُوَ رَافِعٌ یَدَہُ الْأُخْرَیََٰ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۶۵)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفات کے مقام پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ردیف تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کرنے کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے، اونٹنی کے ایک طرف جھکنے کی وجہ سے اس کی لگام گر گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہاتھ سے لگام کو پکڑا، جبکہ دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5602

۔ (۵۶۰۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَاہِرًا یَدَیْہِ قَطُّ یَدْعُو عَلٰی مِنْبَرٍ وَلَا غَیْرِہِ، مَا کَانَ یَدْعُو إِلَّا یَضَعُ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ وَیُشِیرُ بِأُصْبُعِہِ إِشَارَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۴۳)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مبالغہ کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہو، نہ منبر پر دیکھا اور نہ کسی اور موقع پر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح دعا کرتے تھے کہ اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھ دیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5603

۔ (۵۶۰۳)۔ عن سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ الْأَسْلَمِیّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَسْتَفْتِحُ دُعَائً إِلَّا اسْتَفْتَحَہُ بِسُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی الْعَلِیِّ الْوَہَّابِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۶۳)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی دعا کرنا شروع کرتے، اس کا آغاز ان الفاظ سے کرتے: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی الْعَلِیِّ الْوَہَّابِ (پاک ہے میرا ربّ، جو بلند و بالاہے، بلند رتبہ ہے اور عطا کرنے والا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5604

۔ (۵۶۰۴)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا دَعَا فَرَفَعَ یَدَیْہِ مَسَحَ وَجْھَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۰۷)
۔ سیدنا یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب دعا کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور پھر (آخر میں) ان کو اپنے چہرے پر پھیرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5605

۔ (۵۶۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْقُلُوبُ أَوْعِیَۃٌ، وَبَعْضُہَا أَوْعٰی مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَیُّہَا النَّاسُ! فَاسْأَلُوہُ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَۃِ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَجِیبُ لِعَبْدٍ دَعَاہُ عَنْ ظَہْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ)) (مسند أحمد: ۶۶۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دل برتنوں کی طرح ہیں اور بعض دل بعض سے زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں، پس اے لوگو! جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس حال میں کہ تمھیں اس کی قبولیت کا یقین ہو، بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے کی دعا قبول نہیں کرتا، جو غافل اور بے پرواہ دل سے دعا کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5606

۔ (۵۶۰۶)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ رَجُلًا قَالَ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ حَجَبْتَھَا عَنْ نَاسٍ کَثِیْرِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی نے یوں دعا کی: اے اللہ! صرف مجھے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو بخش، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس کو بہت زیادہ لوگوں سے روک دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5607

۔ (۵۶۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ أُبَیٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا ذَکَرَ الْأَنْبِیَائَ بَدَأَ بِنَفْسِہِ فَقَالَ: ((رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلٰی ہُودٍ وَعَلٰی صَالِحٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۴۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی ّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب انبیائے کرامhکا ذکر کرتے تو اپنی ذات سے شروع کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی رحمت ہو ہم پر، ہود علیہ السلام پر اور صالح علیہ السلام پر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5608

۔ (۵۶۰۸)۔ عن طَلْحَۃَ بْن عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ کَرِیزٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ یُسْتَجَابُ لِلْمَرْئِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ لِأَخِیہِ، فَمَا دَعَا لِأَخِیہِ بِدَعْوَۃٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَکُ: وَلَکَ بِمِثْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۰۹)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں جب وہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسے ہی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5609

۔ (۵۶۰۹)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَتْ تَحْتَہُ أُمُّ الدَّرْدَائِ فَأَتَاہُمْ فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَائِ فَقَالَتْ لَہُ: أَتُرِیدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْعُ لَنَا بِخَیْرٍ، فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((إِنَّ دَعْوَۃَ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَۃٌ لِأَخِیہِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ عِنْدَ رَأْسِہِ مَلَکٌ مُوَکَّلٌ بِہِ، کُلَّمَا دَعَا لِأَخِیہِ بِخَیْرٍ قَالَ آمِینَ وَلَکَ بِمِثْلٍ۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ إِلَی السُّوقِ فَلَقِیتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَحَدَّثَنِی عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۸۱۱۰)
۔ سیدنا صفوان بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کی بیوی سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، ابو زبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا، لیکن سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو گھر پایا، انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تو اس سال حج کرنا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تو پھر ہمارے لیے بھی خیر و بھلائی کی دعا کرنا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا مقبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لے خیر و بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ آمین کہہ کر کہتا ہے: اور تجھے بھی ایسی ہی (خیر وبھلائی) نصیب ہو۔ جب میں بازار کی طرف نکلا تو سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، انھوں نے بھی مجھے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5610

۔ (۵۶۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ فَلَا یَقُولَنَّ: اَللّٰھُمَّ إِنْ شِئْتَ، وَلٰکِنْ لِیُعْظِمْ رَغْبَتَہُ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَتَعَاظَمُ عَلَیْہِ شَیْئٌ أَعْطَاہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۰۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دعا کرے تو وہ اس طرح نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو ایسا کر دے، بلکہ وہ اپنی رغبت پر زور دے (اور اصرار کے ساتھ دعا کرے)، کیونکہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے دشوار اور بڑی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5611

۔ (۵۶۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی إِنْ شِئْتَ، اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِی إِنْ شِئْتَ، وَلٰکِنْ لِیَعْزِمِ الْمَسْأَلَۃَ فَإِنَّہُ لَا مُکْرِہَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۶۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ہر گز اس طرح دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہو تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما، بلکہ وہ اصرار کے ساتھ اپنا سوال پیش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5612

۔ (۵۶۱۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہٖ۔ (مسند أحمد: ۱۱۲۰۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5613

۔ (۵۶۱۳)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُ الْعَبْدُ بِخَیْرٍ مَا لَمْ یَسْتَعْجِلْ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ یَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ: ((یَقُوْلُ: دَعَوْتُ رَبِّیْ فَلَمْ یَسْتَجِبْ لِیْ)) (مسند أحمد: ۱۳۰۳۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ خیر و بھلائی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ تک جلدی نہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ جلدی کیسے کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5614

۔ (۵۶۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہٗ یُسْتَجَابُ لِاَحَدِکُمْ مَالَمْ یُعَجِّلْ فَیَقُوْلُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّیْ فَلَمْ یَسْتَجِبْ لِیْ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۳۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ جلدی نہ کرے، جلدی کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5615

۔ (۵۶۱۵)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ لِابْنِ أَبِی السَّائِبِ قَاصِّ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ثَلَاثًا لَتُبَایِعَنِّی عَلَیْہِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّکَ، فَقَالَ: مَا ہُنَّ بَلْ أَنَا أُبَایِعُکِ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَتْ: اجْتَنِبْ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَائِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ کَانُوا لَا یَفْعَلُونَ ذٰلِکَ، وَقَالَ إِسْمَاعِیلُ مَرَّۃً: فَقَالَتْ: إِنِّی عَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ وَہُمْ لَا یَفْعَلُونَ ذَاکَ، وَقُصَّ عَلَی النَّاسِ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، فَإِنْ أَبَیْتَ فَثِنْتَیْنِ فَإِنْ أَبَیْتَ فَثَلَاثًا، فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ ہٰذَا الْکِتَابَ، وَلَا أُلْفِیَنَّکَ تَأْتِی الْقَوْمَ وَہُمْ فِی حَدِیثٍ مِنْ حَدِیثِہِمْ فَتَقْطَعُ عَلَیْہِمْ حَدِیثَہُمْ، وَلٰکِنْ اتْرُکْہُمْ فَإِذَا جَرَّئُ وْکَ عَلَیْہِ، وَأَمَرُوکَ بِہِ فَحَدِّثْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۳۴۰)
۔ امام شعبی سے مروی ہے، سیدہ عائشہ نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابی سائب سے کہا: تین چیزوںکو یاد رکھ، تو ان پر ضرور ضرور میری بیعت کرے گا، یا میں تجھ سے جھگڑوں گی، اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ کون سی چیزیں ہیں، میں بالکل آپ کی بیعت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱) دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کر، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابۂ کرام ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں پایا، (۲) ہفتہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ کرو، اگر تم انکار کرو تو دو بار کر دو، اگر تم یہ بات بھی نہ مانو تو تین بار کر دو، لیکن لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس طرح کرتے ہوئے نہ پاؤں کہ تو کچھ لوگوں کے پاس جائے، جبکہ وہ اپنی گفتگو میں مصروف ہوں اور تو ان کی بات کو کاٹ دے، بلکہ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے، ہاں اگر وہ تجھ سے مطالبہ کریں اور تجھے حکم دیں تو تب ان سے گفتگو کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5616

۔ (۵۶۱۶۔) عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مُغَفَّلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعَ ابْنًا لَہُ یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْقَصْرَ الْاَبْیَضَ مِنَ الْجَنَّۃِ اِذَا دَخَلْتُھَا (وَفِی لَفْظٍ: اِنِّی اَسْئَلُکَ الْفِرْدَوْسَ وَکَذَا) عَنْ یَمِیْنِی، فَقَالَ: أَیْ بُنَیَّ سَلِ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ، وَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَکُونُ فِی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ قَوْمٌ یَعْتَدُونَ فِی الدُّعَائِ وَالطُّہُورِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت میں سفید محل کا سوال کرتا ہوں، جب میں اس میں داخل ہوں تو وہ میری دائیں جانب ہو، ایک روایت میں ہے: میں تجھ سے فردوس کا اور ایسی ایسی چیز کا سوال کرتا ہوں، تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کر اور آگ سے پناہ مانگ، بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے، جو دعا اور طہارت کے معاملے میں زیادتی کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5617

۔ (۵۶۱۷۔) عَنْ مَوْلًی لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعَ ابْنًا لَہُ یَدْعُو وَہُوَ یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَنَعِیمَہَا وَإِسْتَبْرَقَہَا وَنَحْوًا مِنْ ہٰذَا وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِہَا وَأَغْلَالِہَا، فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللّٰہَ خَیْرًا کَثِیرًا، وَتَعَوَّذْتَ بِاللّٰہِ مِنْ شَرٍّ کَثِیرٍ، وَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ قَوْمٌ یَعْتَدُونَ فِی الدُّعَائِ۔)) وَقَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {ادْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ} وَإِنَّ حَسْبَکَ أَنْ تَقُولَ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۳)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا، اس کی نعمتوں کا، اس کے موٹے ریشم کا اور اس کی فلاں فلاں چیز کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں، آگ سے، اس کی زنجیروں سے اور اس کے طوقوں سے، انھوں نے اس سے کہا: تو نے اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ خیر کا سوال کیا ہے اور بہت زیادہ شرّ سے پناہ مانگی ہے جبکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: عنقریب ایسے لوگ آئیںگے، جو دعا میں زیادتی کریں گے۔ پھر انھوں نے اس آیت کی تلاوت کی: {اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ} اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (الاعراف: ۵۵) اور اپنے بیٹے سے کہا: تجھے یہ چیز کافی ہے کہ تو کہے: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور اس قول اور عمل کا، جو مجھے اس کے قریب کر دے اور میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس قول یا عمل سے بھی، جو جہنم کے قریب کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5618

۔ (۵۶۱۸۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ اسْمُہُ کُلَّ لَیْلَۃٍ حِینَ یَبْقٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْآخِرُ إِلٰی سَمَائِ الدُّنْیَا، فَیَقُولُ: مَنْ یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لَہُ، مَنْ یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ، مَنْ یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرَ لَہُ، حَتّٰی یَطْلُعَ الْفَجْرُ)) فَلِذٰلِکَ کَانُوا یُفَضِّلُونَ صَلَاۃَ آخِرِ اللَّیْلِ عَلٰی صَلَاۃِ أَوَّلِہِ۔(مسند أحمد: ۷۵۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور کہتا ہے: کون مجھے پکارے گا کہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون مجھ سے سوال کرے گا کہ میں اس کو عطا کروں، کون مجھ سے بخشش طلب کرے گا کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ ابتدائے رات کی بجائے آخر ِ رات کی نماز کو ترجیح دیتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5619

۔ (۵۶۱۹۔) (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) فَذَکَرَ مِثْلَہٗ وَفِیْہِ: ((مَنْ ذَا الَّذِی یَسْتَرْزِقُنِی فَأَرْزُقَہُ، مَنْ ذَا الَّذِی یَسْتَکْشِفُ الضُّرَّ فَأَکْشِفَہُ عَنْہُ حَتّٰی یَنْفَجِرَ الْفَجْرُ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۰۰)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: کون مجھ سے رزق طلب کرے گا کہ میں اس کو رزق عطا کروں، کون مجھ سے تکلیف کے دور کرنے کا مطالبہ کرے گا کہ میں اس کی تکلیف کو دور کر دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5620

۔ (۵۶۲۰۔) عَنْ رِفَاعَۃَ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا مَضٰی نِصْفُ اللَّیْلِ أَوْ ثُلُثَا اللَّیْلِ یَنْزِلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِی أَحَدًا غَیْرِی مَنْ ذَا الَّذِی یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرَ لَہُ، مَنْ ذَا الَّذِی یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لَہُ، مَنْ ذَا الَّذِی یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ حَتّٰی یَنْفَجِرَ الْفَجْرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۱۶)
۔ سیدنا رفاعہ جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نصف یا دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے : میں اپنے بندوں کے متعلق اپنے علاوہ کسی سے سوال نہیں کرتا، (کیونکہ مجھے اپنے بندوں کے مکمل حالات معلوم ہیں) کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے، تاکہ میں اس کو بخش دوں، کون ہے جو مجھے پکارے، تاکہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے، تاکہ میں اس کو عطاء کروں، یہاں تک کہ فجر پھوٹ پڑتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5621

۔ (۵۶۲۱۔) عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَنْزِلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ کُلِّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ: ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِیَہٗ، ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَلَہٗ؟ حَتّٰی یَطْلُعَ الْفَجْرُ)) (مسند أحمد: ۱۶۸۶۶)
۔ سیدنا جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اس کو عطاء کروں، کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5622

۔ (۵۶۲۲۔) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((دَعْوَۃُ ذِی النُّونِ إِذْ ہُوَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ {لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ} فَإِنَّہُ لَمْ یَدْعُ بِہَا مُسْلِمٌ رَبَّہُ فِی شَیْء ٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۲)
۔ سیدنا سعد بن وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مچھلی والے کی دعا، جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے، یہ ہے:{لَا اِلٰہَ … مِنَ الظَّالِمِینَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میںظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان بھی جس چیز میں اس دعا کے ذریعے اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5623

۔ (۵۶۲۳۔) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ یَقُولُ: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، فَقَالَ: ((قَدِ اسْتُجِیبَ لَکَ فَسَلْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۰۶)۲۲۴۰۶
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ یہ کہہ رہا تھا: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے لیے قبول کیا جا چکا ہے، پس سوال کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5624

۔ (۵۶۲۴۔) عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَلِظُّوا بِیَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ)) (مسند أحمد: ۱۷۷۳۹)
۔ سیدنا ربیعہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِکے ساتھ چمٹ جاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5625

۔ (۵۶۲۵۔) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَبِی عَیَّاشٍ زَیْدِ بْنِ صَامِتٍ الزُّرَقِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ یُصَلِّی وَہُوَ یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، یَا مَنَّانُ! یَا بَدِیعَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ! یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ! فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ دَعَا اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْأَعْظَمِ الَّذِی إِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۳۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابو عیاش زید بن صامت زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ نماز ادا کر رہے تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ! (اے اللہ! میں تجھ سے اس وجہ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے لیے تعریف ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، اے احسان کرنے والے! اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے!) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا کہ جب اس کے واسطے سے اس کو پکارا جائے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5626

۔ (۵۶۲۶۔) عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَلْقَۃِ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ یُصَلِّی، فَلَمَّا رَکَعَ وَسَجَدَ جَلَسَ وَتَشَہَّدَ ثُمَّ دَعَا فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ)، الْحَنَّانُ بَدِیعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ، یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، إِنِّی أَسْأَلُکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا۔)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ:ٔ ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ دَعَا اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْعَظِیمِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَلْاَعْظَمِ) الَّذِی إِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۰۵)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تھا، ساتھ ہی ایک آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا اور بیٹھ کر تشہد پڑھا تو پھر یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ… إِنِّی أَسْأَلُکَ(اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس بنا پر سوال کرتا ہوں کہ ساری تعریف تیرے لیے ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تو بے حد مہربان ہے، اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے! اے زندہ! اے قائم رکھنے والے! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہے کہ اس آدمی نے کیا دعا کی ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ تعالیٰ سے اس کے ایسے اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کو اس کے واسطے سے پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5627

۔ (۵۶۲۷۔) عَنْ عَبْد اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی أَشْہَدُ أَنَّکَ أَنْتَ اللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ: ((قَدْ سَأَلَ اللّٰہَ بِاسْمِ اللّٰہِ الْأَعْظَمِ الَّذِی إِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطٰی، وَإِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو یہ کلمات ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی …… وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (اے اللہ! میں تجھ کو یہ واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک تو وہ اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو یکتا و یگانہ اور بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسم اعظم کے واسطے سے پکارا ہے کہ جب اس سے اس کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے اور جب اس کو پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5628

۔ (۵۶۲۸۔) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فِی ہٰذَیْنِ الْآیَتَیْنِ {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} وَ {الٓمٓ۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} إِنَّ فِیہِمَا اسْمَ اللّٰہِ الْأَعْظَمَ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۶۳)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} ان دوآیتوں میں اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم کا ذکر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5629

۔ (۵۶۲۹۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (اے اللہ!میرے لیے بخش دے ان گناہوں کو، جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو آگے کرنے والا ہے اور تو پیچھے کرنے والا ہے اور نہیں کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5630

۔ (۵۶۳۰۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْہُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعِفَّۃَ وَالْغِنٰی)) (مسند أحمد: ۳۶۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، پاکدامنی اور غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5631

۔ (۵۶۳۱۔) (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِیْ۔)) (مسند أحمد: ۳۸۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَاَحْسِنْ خُلُقِیْ (اے اللہ! تو نے میری تخلیق کو اچھا بنایا ہے، پس تو میرے اخلاق کو بھی اچھا بنا دے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5632

۔ (۵۶۳۲۔) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِنْ کُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَجْلِسِ یَقُولُ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِی وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ۔)) مِائَۃَ مَرَّۃٍ۔ (مسند أحمد: ۴۷۲۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے اعداد و شمار کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایک مجلس میں یہ دعا سو سو بار پڑھ لیتے تھے: رَبِّ اغْفِرْ لِی وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ (اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5633

۔ (۵۶۳۳۔) عن أَبی صِرْمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ غِنَایَ وَغِنَی مَوْلَایَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۴۸)
۔ سیدنا ابو صرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اپنے (نفس کے) غِنٰی کا اور اپنے مولی کے غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5634

۔ (۵۶۳۴۔) عَنْ زَیْدٍ أَبِی الْقَمُوصِ، عَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ أَنَّہُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُنْتَخَبِینَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِینَ۔)) قَالَ: فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا عِبَادُ اللّٰہِ الْمُنْتَخَبُونَ، قَالَ: ((عِبَادُ اللّٰہِ الصَّالِحُونَ۔)) قَالُوْا: فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ قَالَ: ((الَّذِینَ یَبْیَضُّ مِنْہُمْ مَوَاضِعُ الطُّہُورِ۔)) قَالُوْا: فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ؟ قَالَ: ((وَفْدٌ یَفِدُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ مَعَ نَبِیِّہِمْ إِلٰی رَبِّہِمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۳۹)
۔ ابو قموص زید سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُنْتَخَبِینَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِینَ (اے اللہ! ہمیں اپنے ان بندوں میں سے بنا، جو منتخب ہوں، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں اور وہ مقبول وفد میں سے ہوں)۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے منتخب بندے کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے نیک بندے۔ لوگوں نے کہا: وہ لوگ کون ہوں گے، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کے وضو والے اعضاء چمکتے ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: مقبول وفد سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا وہ وفد ہے، جو اپنے نبی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5635

۔ (۵۶۳۵۔) عَنْ أَبِی الْعَلَائِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَامْرَأَۃٍ مِنْ قَیْسٍ أَنَّہُمَا سَمِعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَحَدُہُمَا: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی۔)) و قَالَ الْآخَرُ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ أَسْتَہْدِیکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۷۷)
۔ سیدنا عثمان بن ابی العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور بنو قیس کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا، ان میں سے ایک نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ وَخَطَئِیْ وَعَمْدِیْ (اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے گناہ، میں نے نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے )۔ دوسرے نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ أَسْتَہْدِیکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ (اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہدایت طلب کرتا ہوں، جو میرے معاملے میں سب سے زیادہ افضل ہو اور میں تجھ سے اپنے نفس کے شرّ سے پناہ طلب کرتا ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5636

۔ (۵۶۳۶۔) عَنْ أَبِی السَّلِیلِ، عَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِی نُمَیْرٍ أَنَّہَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُصَلِّی بِالْأَبْطَحِ تُجَاہَ الْبَیْتِ قَبْلَ الْہِجْرَۃِ، قَالَ: فَسَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ خَطَئِیْ وَجَھْلِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۶۷۰)
۔ ابو سلیل بیان کرتے ہیں کہ بنو نمیر کی ایک بڑھیا خاتون سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غور سے دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت سے پہلے وادیٔ ابطح میں بیت اللہ کے سامنے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ خَطَئِیْ وَجَھْلِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے نادانستہ طور پر اور جہالت کی وجہ سے کیے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5637

۔ (۵۶۳۷۔) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ قَالَ: قَالَ مُعَاوِیَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ، مَنْ یُّرِدْ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُفَقِّہُّ فِی الدِّینِ۔)) سَمِعْتُ ہَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۶۴)
۔ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کلمات منبر پر کہے: اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور دولت مند کو (اس کی دولت) تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی، اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے۔ پھر کہتے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ کلمات سنے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس منبر پر ارشاد فرمائے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5638

۔ (۵۶۳۸) عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْقُرَشِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُو: ((اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہَیْثَمٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۷۷۸)
۔ سیدنا بسر بن ارطاۃ قریشی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ (اے اللہ! ہمارے تمام امور میں ہمارے انجام کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ میں رکھنا۔)۔ ]
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5639

۔ (۵۶۳۹۔) عَنْ أَبِی مُوسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُو بِہٰؤُلَائِ الدَّعَوَاتِ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی خَطَایَایَ وَجَہْلِی وَإِسْرَافِی فِی أَمْرِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَدِّی وَہَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۷۶)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعاکیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی خَطَایَایَ وَجَہْلِی وَإِسْرَافِی فِی أَمْرِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَدِّی وَہَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ ((اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے جہالت کی وجہ سے کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے اللہ! (تو میرے وہ گناہ بخش دے) جو میں نے سنجیدگی میں کیے، جو مذاق میں کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جہالت کی وجہ سے کیے اور یہ سارے گناہ مجھ میں ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5640

۔ (۵۶۴۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا۔)) (مسند أحمد: ۶۶۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا۔ (اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے گناہ، ظلم، مذاق، سنجیدگی اور جان بوجھ کر کیے گئے گنا، اور یہ سارے ہمارے اندر ہیں )۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5641

۔ (۵۶۴۱۔) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَإِذَا أَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِی قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلٰی حُبِّکَ۔)) وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا حَقٌّ فَادْرُسُوہَا وَتَعَلَّمُوہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۶۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ …… وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے، مساکین سے محبت کرنے اور مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں، جب تو کسی قسم میں فتنہ نازل کرنا چاہے تو مجھے وفات دے دے، اس حال میں کہ میں اس فتنے سے بچا ہوا ہوں، میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت کا اور تیری محبت کے قریب کر دینے والے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس دعا کے کلمات حق ہیں ، اس کو سیکھو اور اس کی تعلیم حاصل کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5642

۔ (۵۶۴۲۔) عَنِ ابْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ یَرْصُدُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ یَقُولُ فِی دُعَائِہِ: ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَوَسِّعْ لِی فِی ذَاتِیْ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا رَزَقْتَنِی۔)) ثُمَّ رَصَدَہُ الثَّانِیَۃَ فَکَانَ یَقُولُ: مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۵۰۲)
۔ ابن قعقاع ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نگاہ رکھتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تاک میں رہتا تھا، وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَوَسِّعْ لِی فِی ذَاتِیْ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا رَزَقْتَنِی۔ (اے اللہ! میرے لیے میرا گناہ بخش دے، میرے لیے میری ذات وسیع کر دے اور میرے لیے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عطا کیا ہے)۔ وہ دوسرے دن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تاڑ میں رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر یہی دعا پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5643

۔ (۵۶۴۳۔) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَائُ وْا اسْتَغْفَرُوا۔)) (مسند أحمد: ۲۶۵۴۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَائُ وْا اسْتَغْفَرُوا (اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکی کر کے خشک ہوتے ہیں اورجب ان سے برائی ہو جاتی ہے تو وہ استغفار کرتے ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5644

۔ (۵۶۴۴۔) عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنِ الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْتَغْفِرُکَ لِمَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، إِنَّکَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۱۸)
۔ سیدنا ابن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے سیدنااشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْتَغْفِرُکَ… کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ(اے اللہ! میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، ان گناہوں کی جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، بیشک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5645

۔ (۵۶۴۵۔) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی لِلطَّرِیقِ الْأَقْوَمِ (وَفِیْ لَفْظٍ: رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاھْدِنِی السَّبِیْلَ الْاَقْوَمَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۲۶)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے ہمارے ربّ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے سب سے زیادہ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہے: اے میرے ربّ! بخش دے، رحم فرمااور سب سے سیدھے راستے کی طرف مجھے ہدایت دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5646

۔ (۵۶۴۶۔) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُوْ: ((رَبِّ أَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، وَانْصُرْنِی وَلَا تَنْصُرْ عَلَیَّ، وَامْکُرْ لِی وَلَا تَمْکُرْ عَلَیَّ، وَاہْدِنِی وَیَسِّرِ الْہُدٰی إِلَیَّ، وَانْصُرْنِی عَلٰی مَنْ بَغٰی عَلَیَّ، رَبِّ اجْعَلْنِی لَکَ شَکَّارًا، لَکَ ذَکَّارًا، لَکَ رَہَّابًا، لَکَ مِطْوَاعًا، إِلَیْکَ مُخْبِتًا، لَکَ أَوَّاہًا مُنِیبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِی، وَاغْسِلْ حُوْبَتِی، وَأَجِبْ دَعْوَتِی، وَثَبِّتْ حُجَّتِیْ، وَسَدِّدْ لِسَانِیْ، وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: رَبِّ أَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، …… وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِیْ (اے میرے ربّ! میری مدد فرما، میرے خلاف مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر کر، میرے خلاف تدبیر نہ کر، مجھے ہدایت دے، میرے لیے ہدایت کو آسان کر دے، مجھ پر سرکشی کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما، اے میرے ربّ! مجھے بنا دے تیرا زیادہ شکر کرنے والا، تیرا زیادہ ذکر کرنے والا، تجھ سے زیادہ ڈرانے والا، تیری زیادہ اطاعت کرنے والا، تیری طرف عاجزی کرنے والا، تیرے لیے زیادہ آہ وزاری کرنے والا اور تیری طرف رجوع کرنے والا، اے میرے ربّ ! میری توبہ قبول فرما، میرا گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول کر، میری دلیل کو ثابت کر دینا، میری زبان کو درستگی پر رکھنا اور میرے دل سے کینہ اور حسد نکال دے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5647

۔ (۵۶۴۷۔) (وَعَنْہٗ اَیْضًا) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُونَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُونَ (اے اللہ! میں تیرے لیے مطیع ہوا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ذریعے جھگڑا کیا، تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں، جبکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تو وہ زندہ ہے کہ جس کو موت نہیں آئے گی، جبکہ جن ااور انسان مر جائیں گے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5648

۔ (۵۶۴۸۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَعَوَاتٌ سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا أَتْرُکُہَا مَا عِشْتُ حَیًّا سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ، وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ، وَأَتْبَعُ نَصِیحَتَکَ، وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، چند دعائیہ کلمات ہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنے، جب تک میں زندہ ہوں، ان کو نہیں چھوڑوں گا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ، وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ، وَأَتْبَعُ نَصِیحَتَکَ، وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ (اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ تیرا زیادہ شکریہ ادا کروں، کثرت سے تیرا ذکر کروں، تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیری وصیت کی حفاظت کروں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5649

۔ (۵۶۴۹۔) عَنْ یَحْیَی بْنِ حَسَّانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ لَا تُخْزِنِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ: یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ مِنْ أَہْلِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیرًا حَسَنَ الْفَہْمِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۲۰)
۔ یحییٰ بن حسان سے مروی ہے کہ بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: میں نے فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَا تُخْزِنِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (اے اللہ! روزِ قیامت مجھے رسوا نہ کرنا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5650

۔ (۵۶۵۰۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْعُو فَیَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ طَہِّرْنِی بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰھُمَّ طَہِّرْ قَلْبِی مِنَ الْخَطَایَا کَمَا طَہَّرْتَ الثَّوْبَ الْأَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَیْنِی وَبَیْنَ ذُنُوبِی کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَدُعَائٍ لَا یُسْمَعُ وَعِلْمٍ لَا یَنْفَعُ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ ہٰؤُلَائِ الْأَرْبَعِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِیْشَۃً تَقِیَّۃً وَمِیتَۃً سَوِیَّۃً وَمَرَدًّا غَیْرَ مُخْزٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۲۲)
۔ سیدناعبداللہ بن ابواوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ طَہِّرْنِی بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، …… اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ ہٰؤُلَائِ الْأَرْبَعِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِیْشَۃً تَقِیَّۃً وَمِیتَۃً سَوِیَّۃً وَمَرَدًّا غَیْرَ مُخْزٍ (اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ، اے اللہ! میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے، جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے، میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری فرما، جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری فرمائی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس دل سے جو ڈرتا نہیں، اس نفس سے جو سیر نہیں ہوتا، اس دعاء سے جو سنی نہیں جاتی، اس علم سے جو نفع نہیں دیتا، اے اللہ! میں تجھ سے ان چار چیزوں کی پناہ طلب کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ زندگی، معتدل موت اور آخرت کی طرف ایسے لوٹنے کا سوال کرتا ہوں، جو رسوا کن نہ ہو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5651

۔ (۵۶۵۱۔) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ قَالَ: سَأَلَ قَتَادَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَسًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَیُّ دَعْوَۃٍ کَانَ أَکْثَرَ یَدْعُو بِہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کَانَ أَکْثَرُ دَعْوَۃٍ یَدْعُو بِہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔)) وَکَانَ أَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْعُوَ بِدَعْوَۃٍ دَعَا بِہَا وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْعُوَ بِدُعَائٍ دَعَا بِہَا فِیہِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۰۴)
۔ عبد العزیز سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: امام قتادہ نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دعا کو سب سے زیادہ پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا کر دے اور آخرت میں بھی اچھائی عطا کر دینا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا)۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود جب کوئی مختصر دعا کرتے یا طویل دعا کرتے، وہ یہ دعا ضرور کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5652

۔ (۵۶۵۲۔) عَنْ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَادَ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِینَ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَلْ کُنْتَ تَدْعُو بِشَیْئٍ أَوْ تَسْأَلُہُ إِیَّاہُ)) قَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ أَقُولُ: اَللّٰھُمَّ مَا کُنْتَ مُعَاقِبِی بِہِ فِی الْآخِرَۃِ فَعَجِّلْہُ لِی فِی الدُّنْیَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سُبْحَانَ اللّٰہِ لَا تُطِیقُہُ وَلَا تَسْتَطِیعُہُ، فَہَلَّا قُلْتَ: اَللّٰھُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)) قَالَ: فَدَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَشَفَاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۷۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مسلمان کی تیماری داری کی، وہ پرندے کے اس بچے کی طرح ہو چکا تھا، جو ابھی انڈے سے نکلا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو کوئی دعا یا سوال بھی کرتا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں یہ دعا کرتا تھا: اے اللہ! تو نے مجھے آخرت میںجو سزا دینی ہے، وہ دنیا میں ہی دے دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِ (بڑا تعجب ہے تجھ پر)، تجھے اس چیز کی طاقت و قدرت حاصل نہیں ہے، تو نے یہ دعا کیوں نہ کی: اَللّٰھُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5653

۔ (۵۶۵۳۔) حَدَّثَنِی شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکْثِرُ فِی دُعَائِہِ أَنْ یَقُولَ: ((اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ، قَالَ: ((نَعَمْ، مَا مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ بَشَرٍ إِلَّا أَنَّ قَلْبَہُ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ، فَإِنْ شَائَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَقَامَہُ وَإِنْ شَائَ اللّٰہُ أَزَاغَہُ، فَنَسْأَلُ اللّٰہَ رَبَّنَا أَنْ لَا یُزِیغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا، وَنَسْأَلُہُ أَنْ یَہَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْہُ رَحْمَۃً، إِنَّہُ ہُوَ الْوَہَّابُ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا تُعَلِّمُنِی دَعْوَۃً أَدْعُو بِہَا لِنَفْسِی؟ قَالَ: ((بَلٰی، قُولِی اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا۔))(مسند أحمد: ۲۷۱۱۱)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا)۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا دل بھی الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں (کہ آپ کثرت سے یہ دعا کرتے ہیں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بنو آدم میں سے ہر بشر کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو قائم رکھے گا اور چاہے تو ٹیڑھاکر دے گا، پس ہم اپنے رب سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرے اور ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر دے، بیشک وہ عطا کرنے والا ہے۔ میں (ام سلمہ) نے کہا: کیا آپ مجھے بھی کوئی دعا سکھلا دیں گے، تاکہ میں اس کے ساتھ اپنے نفس کے لیے دعا کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا (اے اللہ! اے میرے ربّ! نبی محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ربّ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، میرے دل کے غصے کو دور کر دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا دے، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5654

۔ (۵۶۵۴۔) عن النَّوَّاس بْن سَمْعَانَ الْکِلَابِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا وَہُوَ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ رَبِّ الْعَالَمِینَ إِنْ شَائَ أَنْ یُقِیمَہُ أَقَامَہُ، وَإِنْ شَائَ أَنْ یُزِیغَہُ أَزَاغَہُ۔)) وَکَانَ یَقُولُ: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰی دِینِکَ، وَالْمِیزَانُ بِیَدِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ یَخْفِضُہُ وَیَرْفَعُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۸۰)
۔ سیدنا نواس بن سمعان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر دل ربّ العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو راہ راست پر رکھے اور اگر چاہے تو ٹیڑھا کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ)۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمن کے ہاتھ میں ترازو ہے، وہ اس کو پست کرتا ہے اور بلند کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5655

۔ (۵۶۵۵۔) عَن عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَعَوَاتٌ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَدْعُوَ بِہَا: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تُکْثِرُ تَدْعُو بِہٰذَا الدُّعَائِ، فَقَالَ: ((إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِیِّ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا شَائَ أَزَاغَہُ وَإِذَا شَائَ أَقَامَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۱۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ آپ بھی یہ دعا کثرت سے کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو ٹیڑھا کر دے اور چاہے تو سیدھا رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5656

۔ (۵۶۵۶۔) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ وَأَہْلُہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتَخَافُ عَلَیْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِہِ، قَالَ: ((إِنَّ الْقُلُوبَ بِیَدِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یُقَلِّبُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۷۳۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ اور گھر والوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، جبکہ ہم آپ کے ساتھ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5657

۔ (۵۶۵۷۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ، یُصَرِّفُ کَیْفَ یَشَائُ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ۔)) (مسند أحمد: )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بنو آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی مانند ہیں، وہ جیسے چاہے ان کو پھیر دیتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ (اے اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5658

۔ (۵۶۵۸۔) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: مَا رَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ إِلَّا قَالَ: ((یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۱۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی آسمان کی طرف سر اٹھایا تو یہ دعا کی: یَامُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ (اے دلوں کو پھیر دینے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5659

۔ (۵۶۵۹۔) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا سُمِّیَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِہِ إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ کَمَثَلِ رِیشَۃٍ مُعَلَّقَۃٍ فِی أَصْلِ شَجَرَۃٍ یُقَلِّبُہَا الرِّیحُ ظَہْرًا لِبَطْنٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۹۵)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (عربی میں دل کو) قَلْب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے، دل کی مثال درخت کے تنے کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی مانند ہے، جس کو ہوا سیدھا اور الٹا کرتی رہتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5660

۔ (۵۶۶۰۔) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ عَامَّۃُ دُعَاء ِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَہِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۱۶۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عام دعا یہ ہوتی تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَہِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ۔(اے اللہ! میرے لیے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے نادانستہ طور پر کیے، جو جان بوجھ کر کیے، جو مخفی طور پر کیے، جو علانیہ طور پر کیے، جو جہالت کی وجہ سے کیے اور جو جاننے بوجھنے کے باوجود کیے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5661

۔ (۵۶۶۱۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْصٰی سَلْمَانَ الْخَیْرَ قَالَ: ((إِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلَام یُرِیدُ أَنْ یَمْنَحَکَ کَلِمَاتٍ تَسْأَلُہُنَّ الرَّحْمٰنَ تَرْغَبُ إِلَیْہِ فِیہِنَّ وَتَدْعُوَ بِہِنَّ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، قُلْ: اَللّٰھُمَّإِنِّی أَسْأَلُکَ صِحَّۃَ إِیمَانٍ وَإِیمَانًا فِی خُلُقٍ حَسَنٍ، وَنَجَاحًا یَتْبَعُہُ فَلَاحٌ یَعْنِی وَرَحْمَۃً مِنْکَ وَعَافِیَۃً وَمَغْفِرَۃً مِنْکَ وَرِضْوَانًا۔)) (مسند أحمد: ۸۲۵۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سلمان خیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ نصیحت فرمائی: بیشک اللہ کا نبی تجھے چند کلمات عطا کرنا چاہتا ہے، تو ان کے ذریعے رحمن سے سوال کرے گا، ان کے ذریعے اس کی طرف رغبت کا اظہار کرے گا اور رات اور دن کو ان کا ورد کرے گا، کہہ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ صِحَّۃَ إِیمَانٍ وَإِیمَانًا فِی خُلُقٍ حَسَنٍ،وَنَجَاحًا یَتْبَعُہُ فَلَاحٌ یَعْنِی وَرَحْمَۃً مِنْکَ وَعَافِیَۃً وَمَغْفِرَۃً مِنْکَ وَرِضْوَانًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے کمالِ ایمان کا، حسن اخلاق والے ایمان کا اور کامیابی والا مقصد پورا ہونے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے رحمت، عافیت، بخشش اور رضامندی کا سوال کرتا ہوں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5662

۔ (۵۶۶۲۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ أَبِیہِ الْعَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنَا عَمُّکَ کَبِرَتْ سِنِّی، وَاقْتَرَبَ أَجَلِی، فَعَلِّمْنِی شَیْئًا یَنْفَعُنِی اللّٰہُ بِہِ، قَالَ: ((یَا عَبَّاسُ! أَنْتَ عَمِّی وَلَا أُغْنِی عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، وَلٰکِنْ سَلْ رَبَّکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاہُ عِنْدَ قَرْنِ الْحَوْلِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اپنے باپ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کا چچا ہوں، اب میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، لہذا آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عباس! تم میرے چچے تو ہو، لیکن میں تم کو اللہ تعالیٰ سے کفایت نہیں کر سکتا، البتہ تم اپنے ربّ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کیا کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار یہ بات دوہرائی، پھر جب وہ سال کے آخر میں آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر یہی بات کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5663

۔ (۵۶۶۳۔) عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ عَلٰی مِنْبَرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: فَبَکٰی أَبُو بَکْرٍ حِینَ ذَکَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ فِی ہٰذَا الْقَیْظِ عَامَ الْأَوَّلِ: ((سَلُوا اللّٰہَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ وَالْیَقِینَ فِی الْآخِرَۃِ وَالْأُولٰی۔)) (مسند أحمد: ۶)
۔ سیدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منبرِ رسول پر یہ کہتے ہوئے سنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، جب انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر کیا تو رونا شروع کر دیا، پھر یہ کیفیت دور ہونے کے بعد انھوں نے کہا: میں نے پچھلے سال گرمیوں کے اس شدید موسم میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے معافی کا، عافیت کا اور ایمانِ کامل کا سوال کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5664

۔ (۵۶۶۴۔) عَنِ الْحَسَنِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَمْ یُعْطَوْا فِی الدُّنْیَا خَیْرًا مِنَ الْیَقِینِ وَالْمُعَافَاۃِ، فَسَلُوہُمَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۳۸)
۔ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: رسول للہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! لوگوں کو دنیا میں ایمانِ کامل اور عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیںکی گئی، لہذا تم اللہ تعالیٰ سے ان دونوں چیزوں کا سوال کیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5665

۔ (۵۶۶۵۔) عن أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ الدُّعَائِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((تَسْأَلُ رَبَّکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَیُّ الدُّعَائِ أَفْضَلَُ قَالَ: ((تَسْأَلُ رَبَّکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ الْیَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَیُّ الدُّعَائِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((تَسْأَلُ رَبَّکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، فَإِنَّکَ إِذَا أُعْطِیتَہُمَا فِی الدُّنْیَا ثُمَّ أُعْطِیتَہُمَا فِی الْآخِرَۃِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی دوسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی تیسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا، اگر یہ دونوں چیزیں تجھے دنیا میں عطا کر دی گئیں اور پھر آخرت میں بھی دے دی گئیں تو تو کامیاب ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5666

۔ (۵۶۶۶۔) عَنْ أَبِی مُوسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَلِ اللّٰہَ تَعَالٰی الْہُدَی وَالسِّدَادَ وَاذْکُرْ بِالْہُدَی ہِدَایَتَکَ الطَّرِیقَ، وَاذْکُرْ بِالسِّدَادِ تَسْدِیدَکَ السَّہْمَ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۴)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور راست روی کا سوال کر، اور ہدایت سے تیری مراد یہ ہو کہ سیدھے راستے کی طرف تیری رہنمائی کر دی جائے اور راست روی سے مراد یہ ہو کہ تیر کی طرح سیدھا کر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5667

۔ (۵۶۶۷۔) عَن زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُ دُعَائً، وَأَمَرَہُ أَنْ یَتَعَاہَدَ بِہِ أَہْلَہُ کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: ((قُلْ کُلَّ یَوْمٍ حِینَ تُصْبِحُ: لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ وَمِنْکَ وَبِکَ وَإِلَیْکَ، اَللّٰھُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حِلْفٍ فَمَشِیئَتُکَ بَیْنَ یَدَیْہِ مَا شِئْتَ کَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ وَمَا صَلَّیْتُ مِنْ صَلَاۃٍ فَعَلٰی مَنْ صَلَّیْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَۃٍ فَعَلٰی مَنْ لَعَنْتَ، إِنَّکَ أَنْتَ وَلِیِّی فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ، أَسْأَلُکَ اَللّٰھُمَّ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَائ،ِ وَبَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَمَاتِ، وَلَذَّۃَ نَظَرٍ إِلٰی وَجْہِکَ وَشَوْقًا إِلٰی لِقَائِکَ مِنْ غَیْرِ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، أَعُوذُ بِکَ اَللّٰھُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَعْتَدِیَ أَوْ یُعْتَدٰی عَلَیَّ،ٔ أَوْ أَکْتَسِبَ خَطِیئَۃً مُحْبِطَۃً أَوْ ذَنْبًا لَا یُغْفَرُ، اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ، فَإِنِّی أَعْہَدُ إِلَیْکَ فِی ہٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا، وَأُشْہِدُکَ وَکَفٰی بِکَ شَہِیدًا، أَنِّی أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، لَکَ الْمُلْکُ وَلَکَ الْحَمْدُ، وَأَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَأَشْہَدُ أَنَّ وَعْدَکَ حَقٌّ، وَلِقَائَکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃَ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لَا رَیْبَ فِیہَا، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ، وَأَشْہَدُ أَنَّکَ إِنْ تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی تَکِلْنِی إِلٰی ضَیْعَۃٍ وَعَوْرَۃٍ وَذَنْبٍ وَخَطِیئَۃٍ، وَإِنِّی لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِکَ، فَاغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہُ، إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۰۶)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک دعا کی تعلیم دی اور ان کو حکم دیا کہ وہ اس دعا کے معاملے میں ہر روز اپنے گھر والوں کا بھی خیال رکھے، (یعنی وہ سارے افراد روزانہ یہ دعا پڑھیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر روز صبح کے وقت کہو: میں (تیری اطاعت کے لیے) حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، اور میں حاضر ہوں، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، تیری طرف سے ہے ، تیرے ساتھ ہے اور تیری طرف ہے، اے اللہ! میں نے جو بات کہی، میں نے جونذر مانی اور میں نے جو قسم اٹھائی، پس تیری مشیت اس کے سامنے ہے، جو تو چاہے گا، وہ ہو گا اور جو تو نہیں چاہے گا، وہ نہیں ہو گی، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر تیرے ساتھ، بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، اے اللہ! میں نے رحمت کی جو دعا کی ہے، وہ اس کے لیے ہے، جس پر تو نے رحمت بھیجی ہے اور میں نے لعنت کی جو بد دعا کی ہے ، وہ اس پر ہو، جس پر تو نے لعنت کی ہے، بیشک تو ہی میرا دوست ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، تو مجھے مسلمان فوت کرنا اور نیکوکار لوگوں کے ساتھ مجھے ملا دینا۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فیصلہ کے بعد رضامند ہونے کا، موت کے بعد راحت کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، لیکن اس میں نقصان پہنچانے والی کوئی تکلیف اور گمراہ کرنے والا کوئی فتنہ ہو۔ اے اللہ! میں اس چیز سے تیری پناہ میں آتا ہو کہ میں ظلم کروں، یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں زیادتی کروں، یا مجھ پر زیادتی کی جائے، یا میں اعمال کو ضائع کرنے والا گناہ کروں، یا میں نہ بخش دیے جانے والے گناہ کا ارتکاب کروں۔ اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! جلال و اکرام والے! بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ بناتا ہے، جبکہ تو ہی بطورِ گواہ کافی ہے، کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت تیرے لیے ہے، ساری تعریف تیرے واسطے ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے، اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، قیامت بلاشک و شبہ آنے والی ہے اور تو قبروں والوں کو اٹھانے والا ہے۔ اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہے کہ اگر تو نے مجھ کو میرے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو نے مجھے ضائع ہونے، عیب، گناہ اور خطا کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ مجھے کوئی بھروسہ نہیں ہے، سوائے تیری رحمت کے، پس میرے لیے میرے سارے گناہوں کو بخش دے، توہی گناہوں کو بخش دینے والا ہے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5668

۔ (۵۶۶۸۔) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أُصَلِّی إِذْ سَمِعْتُ مُتَکَلِّمًا یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ لَکَ اَلْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍٔ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِیْ، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّیْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَلَکٌ أَتَاکَ یُعَلِّمُکَ تَحْمِیدَ رَبِّکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۴۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نماز پڑھا رہا تھا کہ نماز کے بیچ میں ایک آدمی کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍٔ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِیْ، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّیْ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لیے ہے، سارا بادشاہت تیرے لے ہے، ساری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، ساری معاملہ تیری طرف لوٹایا جائے گا، وہ علانیہ ہو یا مخفی، تو اس لائق ہے کہ تیری تعریف کی جائے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میں جو گناہ کر چکا ہوں، تو ان سب کو بخش دے اور بقیہ عمر میں میری حفاظت فرما اور مجھے ایسا مبارک اور مقبول عمل کرنے کی توفیق دے کہ جس کے ذریعے تو مجھ سے راضی ہو جائے)۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دعا اور آواز کے بارے میں فرمایا: یہ فرشتہ تھا، جو تجھے تیرے ربّ کی حمد بیان کرنے کی تعلیم دینے آیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5669

۔ (۵۶۶۹۔) عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا کَنَزَ النَّاسُ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ فَاکْنِزُوْا ہٰؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ، وَالْعَزِیمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا، وَأَسْأَلُکَ لِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۴۳)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرنا شروع کریں گے تو تم ان کلمات کو جمع کرنا شروع کر دینا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ، وَالْعَزِیمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا، وَأَسْأَلُکَ لِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی اور استقامت کا اور رشد و ہدایت پر مضبوطی سے قائم رہنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر ادا کرنے کا اور تیری عبادت کے حسن کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سالم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جو تو جانتا ہے اور ہر اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، اور تجھ سے ہر اس گناہ کی بخشش چاہتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، بیشک تو غیبوں کو جاننے والا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5670

۔ (۵۶۷۰۔) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ دَخَلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَرَادَ أَنْ یُکَلِّمَہُ وَعَائِشَۃُ تُصَلِّی فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکِ بِالْکَوَامِلِ۔)) أَوْ کَلِمَۃً أُخْرٰی فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَۃُ سَأَلَتْہُ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ لَہَا: ((قُولِی اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ مَا سَأَلَکَ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَسْتَعِیذُکَ مِمَّا اسْتَعَاذَکَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَسْأَلُکَ مَا قَضَیْتَ لِی مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَہُ رَشَدًا۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَاَسْأَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ کُلَّ قَضَائٍ تَقْضِیْہٗ لِیْ خَیْرًا۔) (مسند أحمد: ۲۵۶۵۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی بات کرنا چاہی، جبکہ سیدہ خود نماز پڑھ رہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ سے فرمایا: تو کوامل کا لازمی طور پر اہتمام کر۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح کی کوئی بات کی، جب وہ فارغ ہوئیں اور اس ارشاد کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کر: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ مَا سَأَلَکَ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَسْتَعِیذُکَ مِمَّا اسْتَعَاذَکَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَسْأَلُکَ مَا قَضَیْتَ لِی مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَہُ رَشَدًا۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَاَسْأَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ کُلَّ قَضَائٍ تَقْضِیْہٗ لِیْ خَیْرًا۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتا ہوں، وہ جلد آنے والی ہو یا بدیر، مجھے اس کا علم ہویا نہ ہو، اور میں تجھ سے ہر قسم کے شرّ سے پناہ مانگتا ہوں، وہ جلد آنے والا ہو یا دیر سے، مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو، میں تجھ سے جنت کا اور اس کے قریب کر دینے والے قول یا عمل کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے آگ سے اور اس کے قریب کر دینے والے قول اور عمل سے پناہ طلب کرتا ہوں، بلکہ میں تجھ سے ہر اس خیر کاسوال کرتا ہوں، جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور رسول محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا اور میں ہر اس چیز سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور رسول محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پناہ طلب کی، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بارے میں تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس کے انجام میں خیر بنا دے۔ ایک روایت کا آخری جملہ یوں ہے: میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بارے میں تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس میں خیر رکھ دے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5671

۔ (۵۶۷۱۔) )۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا تُعَلِّمُنِی دَعْوَۃً أَدْعُو بِہَا لِنَفْسِی، قَالَ: ((بَلٰی، قُولِی: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی، وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۱۱)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم نہیں دیں گے، جس کے ذریعے میں اپنے لیے دعا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، تم یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی، وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا۔ (اے اللہ! نبی محمد کے ربّ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، میرے دل کا غصہ نکال دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا دے ، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5672

۔ (۵۶۷۲۔) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوْ غَیْرِہِ أَنَّ حُصَیْنًا أَوْ حَصِینًا أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ کَانَ خَیْرًا لِقَوْمِہِ مِنْکَ، کَانَ یُطْعِمُہُمْ الْکَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُہُمْ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُولَ۔ فَقَالَ لَہُ: مَا تَأْمُرُنِی أَنْ أَقُولَ؟ قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی۔)) قَالَ: فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: إِنِّی أَتَیْتُکَ، فَقُلْتَ لِی: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی۔)) فَمَا أَقُولُ: الْآنَ؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَہِلْتُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۳۴)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ حُصَین یا حَصِین نامی آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کی بہ نسبت تو عبد المطلب اپنی قوم کے لیے بہتر تھا، وہ ان کو جگر اور کوہان کھلاتا تھا اور آپ ان کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ اونٹ نحر کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو وہ جواب دیا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، پھر اس نے کہا: آپ مجھے کیا کہنے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی (اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شرّ سے بچا اور سب سے ہدایت یافتہ معاملے پر میرے عزم کو مضبوط کر دے)۔ وہ بندہ چلا گیا، لیکن مسلمان ہو کر پھر آ گیا اور اس نے کہا: میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ نے مجھے اس دعا کی تعلیم دی تھی: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی۔ اب میں کیا کہا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَہِلْتُ۔ (اے اللہ! میرے لیے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے مخفی طور پر کیے اور جو علانیہ کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے اور جن کے بارے میں میں جانتا تھا اور جن کے بارے میں نہیں جانتا تھا)۔ ‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5673

۔ (۵۶۷۳۔) عَنْ اَبِی مَالِکِ نِ الْاَشْجَعِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ طَارِقُ بْنُ اَشْیَمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ، إِذَا أَتَاہُ الْإِنْسَانُ یَقُولُ: کَیْفَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَقُولُ حِینَ أَسْأَلُ رَبِّی؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی، وَقَبَضَ أَصَابِعَہُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْہَامَ، فَإِنَّ ہٰؤُلَائِ یَجْمَعْنَ لَکَ دُنْیَاکَ وَآخِرَتَکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۷۲)
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا طارق بن اُشیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ جب کوئی آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر کہتا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو کیا کہا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے فرماتے یہ کہو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، رمجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے)۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا: یہ کلمات تیرے لیے دنیا و آخرت (کی بھلائی) کو جمع کر دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5674

۔ (۵۶۷۴۔) (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ، إِذَا أَتَاہُ الْإِنْسَانُ یَقُولُ: کَیْفَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَقُولُ حِینَ أَسْأَلُ رَبِّی؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی، وَقَبَضَ أَصَابِعَہُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْہَامَ، فَإِنَّ ہَؤُلَائِ یَجْمَعْنَ لَکَ دُنْیَاکَ وَآخِرَتَکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۷۲)
۔ سیدنا طارق بن اشیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا اور وہ پوچھتا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو کیسے اور کیا کہا کروں؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: تو اس طرح کہا کر: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ! تو مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا: یہ کلمات تیرے لیے دنیا و آخرت (کی بھلائی) کو جمع کر دیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5675

۔ (۵۶۷۵۔) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ یُصَلِّی وَہُوَ یَقُولُ فِی دُعَائِہِ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ، قَالَ: ((سَأَلْتَ الْبَلَائَ فَسَلِ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ۔)) قَالَ: وَأَتٰی عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ تَمَامَ نِعْمَتِکَ، فَقَالَ: ((ابْنَ آدَمَ! ہَلْ تَدْرِی مَا تَمَامُ النِّعْمَۃِ؟)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْوَۃٌ دَعَوْتُ بِہَا أَرْجُو بِہَا الْخَیْرَ، قَالَ: ((فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَۃِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ، وَدُخُولُ الْجَنَّۃِ۔)) وَأَتٰی عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ یَقُولُ: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، فَقَالَ: ((قَدِ اسْتُجِیبَ لَکَ فَسَلْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۰۶)
۔ سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ نماز میں تھا اور اپنی دعا میں یہ الفاظ بھی کہہ رہا تھا: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو آزمائش کا سوال کیا، تو اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے، وہ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے تیری نعمت کی تکمیل کا سوال کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم! کیا تو جانتا ہے کہ نعمت کی تکمیل ہے کیا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میںنے تو صرف خیر کی امید رکھتے ہوئے یہ دعا کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جہنم سے آزادی اور جنت کا داخلہ نعمت کی تکمیل ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک اور آدمی کے پاس آئے اور وہ یہ الفاظ کہہ رہا تھا: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق تیری دعا قبول کی جا چکی ہے، بس تو سوال کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5676

۔ (۵۶۷۶۔) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اَللّٰھُمَّ أَجِرْہُ مِنِّی، وَلَا یَسْأَلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّۃُ: اَللّٰھُمَّ أَدْخِلْہُ إِیَّایَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۹۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی تین بار جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس شخص کو مجھ سے پناہ دے دے، اسی طرح جب آدمی تین بار جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اس کو میرے اندر داخل کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5677

۔ (۵۶۷۷۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، إِنِّی أَعْہَدُ إِلَیْکَ فِی ہٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا، أَنِّی أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، فَإِنَّکَ إِنْ تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی تُقَرِّبْنِی مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِی مِنَ الْخَیْرِ، وَإِنِّی لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِکَ، فَاجْعَلْ لِی عِنْدَکَ عَہْدًا تُوَفِّینِیہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ، إِلَّا قَالَ اللّٰہُ لِمَلَائِکَتِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: إِنَّ عَبْدِی قَدْ عَہِدَ إِلَیَّ عَہْدًا، فَأَوْفُوہُ إِیَّاہُ فَیُدْخِلُہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ سُہَیْلٌ: فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَ بِکَذَا وَکَذَا، قَالَ: مَا فِی أَہْلِنَا جَارِیَۃٌ إِلَّا وَہِیَ تَقُولُ ہٰذَا فِی خِدْرِہَا۔ (مسند أحمد: ۳۹۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ…… إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اگر تو نے مجھ کو میرے نفس کے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو مجھے شرّ کے قریب کر رہا ہے اور خیر سے دور کر رہا ہے اور میرا بھروسہ نہیں ہے، مگر تیری رحمت کے ساتھ، پس تو میرے لیے اپنے ہاں ایک وعدہ کر لے، جس کو تو قیامت کے دن پورا کرے گا، بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا )۔ جو آدمی یہ دعا پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے حق میں روزِ قیامت فرشتوں سے کہے گا: فلاں بندے نے مجھ سے وعدہ لیا تھا، تو اس کے لیے اس کا وعدہ پورا کر دو، پس اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ قاسم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود نے کہا: ہمارے اہل و عیال میں تو ہر بچی اپنے پردے کے اندر یہ ذکر کرتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5678

۔ (۵۶۷۸۔) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَیْفٍ أَنَّ رَجُلًا ضَرِیرًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یُعَافِیَنِی، فَقَالَ: ((إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذٰلِکَ فَہُوَ أَفْضَلُ لِآخِرَتِکَ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَکَ۔)) قَالَ: لَا، بَلِ ادْعُ اللّٰہَ لِی فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَوَضَّأَ وَأَنْ یُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ، وَأَنْ یَدْعُوَ بِہٰذَا الدُّعَائِ، ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ، یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّی فِی حَاجَتِی ہٰذِہِ فَتَقْضِی وَتُشَفِّعُنِی فِیہِ وَتُشَفِّعُہُ فِیَّ)) (مسند أحمد: ۱۷۳۷۳)
۔ سیدنا عثمان بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو میں اس دعا کو مؤخر کر دیتا ہوں، یہ تیری آخرت کے لیے افضل ہو گا، اور اگر تو چاہتا ہے تو میں تیرے لیے دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: نہیں، بس آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا ہی کر دیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ، یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّی فِی حَاجَتِی ہٰذِہِ فَتَقْضِی وَتُشَفِّعُنِی فِیہِ وَتُشَفِّعُہُ فِیَّ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہوتاہے،جو کہ رحمت والے نبی ہیں، اے محمد! میں اپنی ضرورت پورا کروانے کے لیے آپ کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، پس (اے اللہ!) تو میری حاجت پوری کر دے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سفارش میرے حق میں قبول فرما)۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے حق میں میرے سفارش قبول فرما۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5679

۔ (۵۶۷۹۔) (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ ذَھَبَ بَصَرُہٗ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۷۴)
۔ (دوسری سند) ایک ایسا آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جس کی بینائی ختم ہو گئی تھی، …۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5680

۔ (۵۶۸۰۔) (وَعَنْہٗ اَیْضًا) أَنَّ رَجُلًا ضَرِیرَ الْبَصَرِ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَ أَنْ یُعَافِیَنِی، قَالَ: ((إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَکَ، وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاکَ فَہُوَ خَیْرٌ۔)) فَقَالَ: ادْعُہُ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَوَضَّأَ فَیُحْسِنَ وُضُوئَہُ فَیُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ وَیَدْعُوَ بِہٰذَا الدُّعَائِ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی تَوَجَّہْتُ بِکَ إِلٰی رَبِّی فِی حَاجَتِی ہٰذِہِ فَتَقْضِی لِی اَللّٰھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۷۲)
۔ سیدنا عثمان بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت عطا فرمائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو میں دعا کر دیتا ہوں اور اگر تو چاہتا ہے تو میں اس کو مؤخر کر دیتا ہوں، اس میں تیرے لیے بہتری ہو گی۔ اس نے کہا: جی آپ دعا کر دیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوحکم دیا کہ وہ اچھے انداز میں وضو کرے، پھر دو رکعت ادا کرے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ …… اَللّٰھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد، جو کہ رحمت والے نبی ہیں، کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! میں اپنی حاجت کو پورا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس (اے اللہ! تو میری حاجت پوری کر دے، اے اللہ! میرے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سفارش قبول فرما)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5681

۔ (۵۶۸۱۔) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ بِہٰؤُلَائِ الْخَمْسِ، وَیُخْبِرُ بِہِنَّ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُبِکَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۵)
۔ سیدنا سعد بن ابو وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ ان پانچ کلمات کا حکم دیتے تھے اور بتاتے تھے کہ یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سے مروی ہیں، وہ کلمات یہ ہیں: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں بخیلی سے، بزدلی سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس چیز سے کہ مجھے ادھیڑ عمر میں لوٹا دیا جائے، میں تجھ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں دنیا کے فتنے سے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں عذاب ِ قبر سے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5682

۔ (۵۶۸۲۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّیْطَانِ مِنْ ہَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ، قَالَ: وَہَمْزُہُ الْمُوتَۃُ وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ وَنَفْخُہُ الْکِبْرِیَائُ۔ (مسند أحمد: ۳۸۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شیطان کے ہَمْز، نَفْث اور نَفْخ سے پناہ طلب کیا کرتے تھے، ہَمْز سے مراد اس کا جنون ہے، نَفْث سے مراد اس کا شعر ہے اور نَفْخ سے مراد اس کا تکبر ہے۔