MUSNAD AHMED

Search Result (37)

9)

9) قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 481

۔ (۴۸۱)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَمْشِیْ فَمَالَ اِلٰی دَمْثٍ فِیْ جَنْبِ حَائِطٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ: ((کَانَ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ اِذَا بَالَ أَحَدُہُمْ فَأَصَابَہُ شَیْئٌ مِنْ بَوْلِہِ تَتَبَّعَہُ فَقَرَضَہُ بِالْمَقَارِیْضِ۔)) وقَالَ: ((اِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَبُوْلَ فَلْیَرْتَدْ لِبَوْلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۶۶)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چل رہے تھے، پس ایک دیوار کے پہلو میں نرم جگہ کی طرف مائل ہوئے اور وہاں پیشاب کیا اور پھر فرمایا: جب بنو اسرائیل کا کوئی آدمی پیشاب کرتا اوراگر پیشاب اس کو لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچیوں سے کاٹتا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ نرم جگہ تلاش کر لیا کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 482

۔ (۴۸۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِتَّقُوْا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ۔)) قِیْلَ: مَا الْمَلَاعِنُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((أَنْ یَقْعُدَ أَحَدُکُمْ فِیْ ظِلٍّ یُسْتَظَلُّ فِیْہِ أَوْ فِیْ طَرِیْقٍ أَوْ فِیْ نَقْعِ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لعنت والے تین مقامات سے بچو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ لعنت والے مقامات کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس سائے کو استعمال کیا جاتا ہو، اس میں یا راستے میں یا پانی کے گھاٹ میں پیشاب کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 483

۔ (۴۸۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِتَّقُوْا اللَّعَّانَیْنِ۔)) قَالُوْا: وَمَا اللَّعَّانَانِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلَّذِیْ یَتَخَّلَّی فِیْ طَرِیْقِ النَّاسِ أَوْ فِیْ ظِلِّہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۴۰)
سیدناابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو لعنت کرنے والی چیزوں سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ لعنت کرنے والی چیزیں کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی لوگوں کے راستے میں یا سائے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 484

۔ (۴۸۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُعَاذٌ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْجُحْرِ، وَاِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوْا السِّرَاجَ، فَاِنَّ الْفَأْرَۃَ تَأْخُذُ الْفَتِیْلَۃَ فَتَحْرِقُ أَھْلَ الْبَیْتِ، وَأَوْکِئُوْا الْأَسْقِیَۃَ وَخَمِّرُوْالشَّرَابَ وَغَلِّقُوْا الْأَبْوَابَ بِاللَّیْلِ۔)) قَالُوْا لِقَتَادَۃَ: مَا یَکْرَہُ مِنَ الْبَوْلِ فِیْ الْجُحْرِ؟ قَالَ: یُقَالُ: اِنَّہَا مَسَاکِنُ الْجِنِّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی ہرگز بِل میں پیشاب نہ کرے، اور جب تم نے سونا ہو تو چراغ کو بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا اس کی بتی پکڑ کر گھر والوں کو جلا سکتی ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کر دیا کرو۔ لوگوں نے قتادہ سے کہا: بِل میں پیشاب کرنے کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے؟ انھوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کے مسکن ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 485

۔ (۴۸۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِیْ مُسْتَحَمِّہِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ فِیْہِ، فَاِنَّ عَامَّۃَ الْوِسْوَاسِ مِنْہُ)) (مسند أحمد: ۲۰۸۴۴)
سیدنا عبداللہ بن مغفل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی غسل خانے میں پیشاب نہ کیا کرے، پھر اس میں وضو کرے گا، پس عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 486

۔ (۴۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبُوْلَ الرَّجُلُ فِیْ مُسْتَحَمِّہِ، فَاِنَّ عَامَّۃَ الْوِسْوَاسِ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۳۷)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے، کیونکہ عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 487

۔ (۴۸۷)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ: لَقِیْتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ سِنِیْنَ کَمَا صَحِبَہُ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ أَرْبَعَ سِنِیْنَ، قَالَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَمْتَشِطَ أَحَدُنَا کُلَّ یَوْمٍ وَأَنْ یَبُوْلَ فِیْ مُغْتَسَلِہِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَۃُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ یَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَۃِ، وَلْیَغْتَرِفُوْا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلْیَغْتَرِفَا) جَمِیْعًا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۳۷)
حُمید بن عبد الرحمن حِمْیَری کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ ؓکی طرح چار برسوں تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کا شرف ملا تھا ، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یابیوی خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 488

۔ (۴۸۸)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِؓ قَالَ: بَلَغَہُ أَنَّ أَبَا مُوْسٰی کَانَ یَبُوْلُ فِیْ قَارُوْرَۃٍ وَیَقُوْلُ: اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانُوْا اِذَا أَصَابَ أَحَدَ ہُمُ الْبَوْلُ قَرَضَ مَکَانَہُ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَکُمْ لَا یُشَدِّدُ ھٰذَا التَّشْدِیْدَ، لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ نَتَمَاشٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْتَہَیْنَا اِلَی سُبَاطَۃٍ فَقَامَ یَبُوْلُ کَمَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ، فَذَہَبْتُ أَتَنَحّٰی عَنْہُ، فَقَالَ: ((أُدْنُہُ۔)) فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی کُنْتُ عِنْدَ عَقِبِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۷)
سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابو موسی ؓ(پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے) ایک شیشی میں پیشاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کوکاٹتا تھا، توا نھوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارا یہ ساتھی اس قدر سختی نہ کرے، میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل رہا تھا، پس جب ہم کوڑا کرکٹ والی ایک جگہ کے پاس پہنچے تو تمہاری طرح ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں یہ دیکھ کر دور ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہو گیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 489

۔ (۴۸۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ أُخْرٰی)۔ عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنْتَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقٍ فَتَنَحّٰی فَأَتٰی سُبَاطَۃَ قَوْمٍ فَتَبَاعَدْتُّ مِنْہُ، فَأَدْنَانِیْ حَتَّی صِرْتُ مِنْ عَقِبَیْہِ فَبَالَ قَائِمًا وَدَعَا بِمَائٍ فتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ؓ کہتے ہیں: میں ایک راستے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ذرا ہٹ کر ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس آگئے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے دور ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اپنے قریب کر لیا، یہاں تک کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو پیشاب کیا اور پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 490

۔ (۴۹۰)۔عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی سُبَاطَۃِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، قَالَ حَمّادُ بْنُ أَبِیْ سُلَیْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۳۱)
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک قوم کے گندگی والے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ حماد بن ابی سلیمان نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ٹانگوں کو کھلا کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 491

۔ (۴۹۱)۔عَنِ الْمِقْدَامِ عن أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَکَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْہُ، مَا بَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمًا مُنْذُ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۵۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جو آدمی تجھے یہ بات بیان کرے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو پیشاب کیا ہے تو تو اس کی تصدیق نہ کر، کیونکہ جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قرآن کا نزول شروع ہوا، اس وقت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 492

۔ (۴۹۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ وَکَانَ اِذَا أَتٰی حَاجَتَہُ أَبْعَدَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۳۴)
سیدنا عبدالرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ حج کے لیے جا رہے تھے، پس جب میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیت الخلاء سے نکلے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چل پڑا اور راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے بیٹھ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جایا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 493

۔ (۴۹۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتَی الْغَائِطَ فَلْیَسْتَتِرْ، فَاِنْ لَمْ یَجِدِ اِلَّا أَنْ یَجْمَعَ کَثِیْبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْیَسْتَدْبِرْہُ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِیْ آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۲۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے، وہ پردہ کرے، اور اگر اسے کوئی چیز نہ ملے تو وہ ریت کا ایک ڈھیر جمع کر کے اس کی طرف پیٹھ کر لے، کیونکہ شیطان بنوآدم کی دبروں سے کھیلتا ہے، جس نے ایسے کیا، اس نے اچھا کیا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 494

۔ (۴۹۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَنَۃَؓ قَالَ: کُنْت أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَیْنِ، قَالَ: فخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ومَعَہُ دَرَقَۃٌ أَوْ شِبْہُہَا فَاسْتَتَرَ بِہَا فَبَالَ جَالِسًا، قَالَ: فقُلْنَا: أَیَبُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا تَبُوْلُ الْمَرْأَۃُ؟ قَالَ: فَجَائَ نَا فَقَالَ: ((أوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، کَانَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ اِذَا أَصَابَہُ شَیْئٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَہُ، فَنَہَاہُمْ عَنْ ذٰلِکَ فَعُذِّبَ فِیْ قَبْرِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۱۲)
سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا عمرو بن عاص ؓبیٹھے ہوئے تھے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے پاس ایک ڈھال یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عورت کی طرح پیشاب کرتے ہیں؟ اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: کیا تم جانتے نہیں ہو کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب بنواسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس مقام کو کاٹتا تھا، لیکن ان کے ساتھی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیا، پس اس وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 495

۔ (۴۹۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوْا اِلَیْہِ یَبُوْلُ کَمَا تَبُوْلُ الْمَرْأَۃُ، قَالَ: فَسَمِعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَقَالَ: ((وَیْحَکَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۹۱۰)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: بعض لوگوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف دیکھو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بات سن لی اور فریایا: تیرا ناس ہو، کیا تو نہیں جانتا کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 496

۔ (۴۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایخَرُجِ الرَّجُلَانِ یَضْرِبَانِ الْغَائِطَ کَاشِفَیْنِ عَوْرَتَہُمَا یَتَحَدَّثَانِ فَاِنَّ اللّٰہَ یَمْقُتُ عَلَی ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۳۰)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو آدمی اس طرح نہ نکلیں کہ وہ دونوں پائخانہ کر رہے ہو، شرمگاہوں کو ننگا کر رکھا ہو اور اس حالت میں گفتگو بھی کر رہے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت پر سخت ناراض ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 497

۔ (۴۹۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ یُسَلِّمُ عَلَیْہِ وَھُوَ غَیْرُ مُتَوَضِّیئٍ فَقَالَ: ثَنَا سَعَیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْحُضَیْنِ أَبِیْ سَاسَانَ عَنِ الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّہُ سَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَوَضَّأُ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ حَتّٰی تَوَضَّأَ فَرَدَّ عَلَیْہِ، وقَالَ: ((اِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ اِلَّا أَنِّیْ کَرِہْتُ أَنْ أَذْکُرُ اللّٰہَ اِلَّا عَلٰی طَہَارَۃٍ۔)) قَالَ: فَکَانَ الْحَسَنُ مِنْ أَجْلِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ یَکْرَہُ أَنْ یَقْرَأَ أَوْ یَذْکُرَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی یَطْہُرَ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۴۳)
سیدنا مہاجر بن قنفذؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو کر رہے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور پھر جواب دیا اور فرمایا: مجھے اس چیز نے تیرا جواب دینے سے روکا کہ میں طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ناپسند کرتا ہوں۔ اسی حدیث کی وجہ سے جنابِ حسن طہارت کے بغیر قراء ت کرنے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 498

۔ (۴۹۸)۔ عَنِ الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ جُدْعَانَؓ قَالَ: سَلَّمْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَوَضَّأُ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ وُضُوْئِہِ قَالَ: ((لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ اِلَّا أَنِّیْ کُنْتُ عَلَی غَیْرِ وُضُوْئٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) اِلَّا أَنِّیْ کَرِہْتُ أَنْ أَذْکُرَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا عَلٰی طَہَارَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۴۲)
سیدنا مہاجر بن قنفذؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سلام کا جواب نہ دیا، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اپنے وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے اس چیز نے تیرے سلام کا جواب دینے سے روکا کہ میں باوضو نہیں تھا۔ ایک روایت میں ہے: میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 499

۔ (۴۹۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبُوْلُ أَوْ قَدْ بَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ حَتّٰی تَوَضَّأَ ثُمَّ رَدَّ عَلَیَّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۴۳)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پیشاب کر رہے تھے یا پیشاب کر چکے تھے کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وضو کیا اور پھر میرا جواب دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 500

۔ (۵۰۰)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ بْنِ الرَّاہِبِ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وقَدْ بَالَ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَالَ بِیَدِہِ اِلَی الْحَائِطِ، یَعْنِیْ أَنَّہُ تَیَمَّمَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۰۵)
سیدنا عبد اللہ بن حنظلہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ٔکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پیشاب کر چکے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے اس وقت تک اس کا جواب نہیں دیا، یہاںتک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دیوار پر ہاتھ مار کر تیمم کر لیا۔ (پھر سلام کا جواب دیا)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 501

۔ (۵۰۱)۔ عَنْ أَبِیْ سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَیْئًامِنَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ یَمَسَّ مَائً۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۴۲)
ابو سلام کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھنے والے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا اور پھر پانی کو چھونے سے پہلے قرآن مجید کے کچھ حصے کی تلاوت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 502

۔ (۵۰۲)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا دَخَلَ الْخَلَائَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعَوْذُ بِکُ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۹۶۹)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعَوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ… اے اللہ! میں خبیث جنّوںاور خبیث جننیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 503

۔ (۵۰۳)۔ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ صُہَیْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَتَی الْخَلَائَ قَالَ: ((أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِ أَوِ الْخَبَائِثِ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: وَقَدْ قَالَہُمَا جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۱۴۰۴۴)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء کو آتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِِ۔… میں خبث اور خبیث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 504

۔ (۵۰۴)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ ہٰذِہِ الْحُشُوْشَ مُحْتَضَرَۃٌ، فَاِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۵۰۱)
سیدنا زید بن ارقمؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک ان طہارت خانوں میں شیطان حاضر ہوتے ہیں، اس لیے جب کوئی آدمی اِن میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھا کرے: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ …اے اللہ! بیشک میں خبیث جنّوں اور خیبث جننیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 505

۔ (۵۰۵)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ: ((غُفْرَانَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۷۳۵)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء سے باہر آتے تو کہتے: غُفْرَانَکَ … (اے اللہ!) میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 506

۔ (۵۰۶)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّبَیْدِیِّؓ قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمیَقُوْلُ: ((لَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔)) وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۵۲)
سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں پہلا آدمی ہوں، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی آدمی قبلہ رخ ہو کر پیشاب نہ کرے۔ اور میں پہلا آدمی ہوں، جس نے لوگوں کو یہ حدیث بیان کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 507

۔ (۵۰۷)۔عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِیْ مَعْقِلِ الْأَسْدِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہَی أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَیْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۹۹۲)
سیدنا معقل بن ابو معقل اسدیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب یا پائخانہ کرتے وقت دو قبلوں کی طرف منہ کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 508

۔ (۵۰۸)۔عَنْ رَافِعٍِ بْنِ أَبِی اِسْحٰقَ مَوْلٰی أَبِیْ طََلْحَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا أَیُوْبَ الْأَنْصَارِیَّؓ یَقُوْلُ وَھُوَ بِمِصْرَ: مَا أَدْرِیْ کَیْفَ أَصْنَعُ بِہٰذِہِ الْکَرَایِیْسِ؟ یَعْنِیْ الْکُنُفَ، وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا ذَہَبَ أَحَدُکُمْ اِلَی الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلَا یَسْتَدْبِرْہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۱۱)
سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ کہتے ہیں، جبکہ وہ مصر میں تھے: میں نہیں جانتا کہ میں ان طہارت خانوں کو کیسے استعمال کروں، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا ہے: جب کوئی پیشاب یا پائخانہ کرنے کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 509

۔ (۵۰۹)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ أَبِیْ أَیُوْبَ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا أَتٰی أَحَدُکُمُ الْغَائِطَ فَلَا یَسْتَقْبِلَنَّ الْقِبْلَۃَ وَلَکِنْ لِیُشَرِّقْ أَوْ لِیُغَرِّبْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِیْضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُاللّٰہَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۲۱)
سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے تو وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہم شام میں آئے تو دیکھا کہ طہارت خانے قبلہ رخ بنائے گئے تھے،پس ہم پھر جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 510

۔ (۵۱۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، اِذَا أَتَیْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْہَا)) وَنَہٰی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ ((وَلَا یَسْتَطِیْبُ الرَّجُلُ بِیَمِیْنِہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۶۲)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں، جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو نہ قبلہ کی طرف منہ کیا کرو اور نہ پیٹھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے (استنجا میں) لید اور بوسیدہ ہڈی استعمال کرنے سے منع کیا اور نیز فرمایا: آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 511

۔ (۵۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ سَلْمَانِ الْفَارِسِیِّؓ قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِکِیْنَ وَہُمْ یَسْتَہْزِئُوْنَ بِہِ: اِنَّی لَأَرٰی صَاحِبَکُمْ یُعَلِّمُکُمْ حَتَّی الْخِرَائَۃَ، قَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، أَمَرَ نَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا نَسْتَدْبِرَہَا) وَلَا نَسْتَنْجِیَ بِأَیْمَانِنَا وَلَا نَکْتَفِیَ بِدُوْنِ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ لَیْسَ فِیْھَا رَجِیْعٌ وَلَا عَظْمٌ۔ (مسند أحمد:۲۴۱۰۳)
سیدنا سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے کہ کسی مشرک نے مذاق کرتے ہوئے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا نبی تو تم لوگوں کو قضائے حاجت کے آداب تک کی تعلیم دیتا ہے۔ سیدنا سلمان ؓ نے کہا: جی بالکل، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف منہ نہ کریں اور نہ پیٹھ اور دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں اور ان میں کوئی لید، گوبر اور ہڈی نہیں ہونی چاہیے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 512

۔ (۵۱۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَالْقِبْلَۃَ أَوْ أَنْ نَسْتَقْبِلَہَا بِفُرُوْجِنَا اِذَا أَہْرَقْنَا الْمَائَ، قَالَ: ثُمَّ رَأَیْتُہُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِعَامٍ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹۳۳)
سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ یا منہ کرنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت کرتے ہوئے) دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 513

۔ (۵۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: رَقِیْتُ یَوْمًا فَوْقَ بَیْتِ حَفْصَۃَ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی حَاجَتِہِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَالْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۴۶۰۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن سیدہ حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ شام کی طرف منہ کر کے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 514

۔ (۵۱۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِلَفْظِ)۔ لقَدْ ظَہَرْتُ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی ظَہْرِ بَیْتِنَا فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَاعِدًا عَلَی لَبِنَتَیْنِ مُسْتَقْبِلًا بَیْتَ الْمَقْدِسِ۔ (مسند أحمد: ۴۹۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 515

۔ (۵۱۵)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَلّٰی عَلَی لَبِنَتَیْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۵۷۴۷)
سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 516

۔ (۵۱۶)۔ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَؓ، أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبُوْلُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ، قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِیْ: ثَنَا اِسْحٰقُ یَعْنِی الطَّبَّاعَ مِثْلَہُ، قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَبُوْ قَتَادَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۹۲۸)
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 517

۔ (۵۱۷)۔ عَنْ عُمَرَبْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ أَنَّہُ قَالَ: مَااسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَۃَ بِفَرْجِیْ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا، فَحَدَّثَ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ عَائِشَۃَؓ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِخَلاَئِہِ أَنْ یُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ لَمَّا بَلَغَہُ أَنَّ النَّاسَ یَکْرَہُوْنَ ذٰلِکَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((قَدْفَعَلُوْہَا؟ اِسْتَقْبِلُوْا بِمَقْعَدَتِی الْقِبْلَۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۰۱۵)
عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے اتنے عرصے سے اپنی شرم گاہ کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ نہیں ہوا، لیکن عراک بن مالک نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے کہا: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کویہ بات پہنچی کہ لوگ قبلہ رخ ہونے کو ناپسند کرتے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی لیٹرین کو قبلہ رخ کرکے بنا دیا جائے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا لوگ ایسے ہی سمجھنے لگ گئے ہیں؟ تو پھر میری سیٹ کو قبلہ رخ کر دو۔

آیت نمبر