Diontae Johnson Authentic Jersey  Hadith e Nabavi (S.A.W) - MUSNAD AHMED

MUSNAD AHMED

Search Results(1)

94)

94) مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6083

۔ (۶۰۸۳)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرْجَۃِ الصَّلَاۃِ وَالصِّیَامِ وَالصَّدَقَۃِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ((إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَیْنِ ھِیَ الْحَالِقَۃُ)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۸)
۔ سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتلائوں کہ جس کا درجہ نماز، روزے اور صدقہ سے بھی زیادہ ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپس میں مصالحت کرنا اورآپس میں فساد پیدا کرنا تو (نیکیوں کو) تباہ کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6084

۔ (۶۰۸۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الصُّلْحُ جَائِزٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے مابین صلح کروانا جائز عمل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6085

۔ (۶۰۸۵)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ یَخْتَصِمَانِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَوَارِیْثَ بَیْنَہُمَا قَدْ دَرَسَتْ لَیْسَ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَیَّ وَاِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ اَلْحَنُ بِحُجَّتِہِ (أَوْ قَدْ قَالَ: لِحُجَّتِہِ) مِنْ بَعْضٍ فَاِنِّیْ اَقْضِیْ بَیْنَکُمْ عَلٰی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ شَیْئًا فَـلَا یَأْخُذْہُ فَاِنَّمَا اَقْطَعُ لَہُ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ، یَأْتِیْ إِسْطَامًا فِیْ عُنُقِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَبَکَی الرَّجُلَانِ وَقَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا: حَقِّیْ لِأَخِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَا إِذَا قُلْتُمَا فَاذْھَبَا فَاقْتَسِمَا ثُمَّ تَوَخَّیَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَہِمَا ثُمَّ لِیَحْلِلْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا صَاحِبَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۵۳)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ انصار کے دو آدمی رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس میراث کا مقدمہ لے کر آئے، جبکہ اس میراث کے آثار مٹ چکے تھے اور ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں تھی، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بھی ایک بشر ہوں، تم لوگ میرے پاس اپنے فیصلے میرے پاس لے آتے ہو، ممکن ہے کہ کوئی آدمی اپنی دلیل کے نشیب و فراز سے واقف ہونے کی وجہ سے اس کو اچھے انداز میں پیش کرے اور پھر میں (ان ہی امور کی بنا پر) تم میں فیصلہ کر دو (تو سن لو کہ) میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ کر دوں تو وہ نہ لے، کیونکہ ایسی صورت میں میں اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا، وہ قیامت والے دن اس کے ذریعے اپنی گردن میں آگ بھڑکاتے ہوئے آئے گا۔ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا: میرا حق میرے بھائی کے لئے ہے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب جبکہ تم یہ کہہ رہے ہو تو پھر جا کر اس کو اس طرح تقسیم کر لو کہ حق کو تلاش کرو اور پھر قرعہ اندازی کر لو اور ہر آدمی اپنے بھائی کو معاف بھی کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6086

۔ (۶۰۸۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ یَعْنِیْ مَظْلِمَۃً لِأَخِیْہِ فِیْ مَالِہِ أَوْ عِرْضِہِ فَلْیَأْتِہِ فَلْیَسْتَحِلَّہَا مِنْہُ قَبْلَ أَنْ یُؤْخَذَ أَوْ تُوْخَذَ وَلَیْسَ عِنْدَہُ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ، فَاِنْ کَانَتْ لَہُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِہِ فَأُعْطِیَہَا ھٰذَا وَ اِلَّا أُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِہِ ھٰذَا فَأُلْقِیَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۱۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال اور عزت میںکوئی زیادتی کی ہو تو اس کے پاس آکر اس کو معاف کر والے، قبل اس کے کہ اس کا مؤاخذہ کیاجائے، وگرنہ جس کا مؤاخذہ کیا جائے گا، اس دن درہم و دینار نہیں چلے گا، اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوں گی تو اس سے نیکیاں لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی، وگرنہ مظلوم کی برائیاں ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6087

۔ (۶۰۸۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ اِلٰی أَوْلِیَائِ الْقَتِیْلِ فَاِنْ شَائُ وْا قَتَلُوْا وَإِنْ شَائُ وْا أَخَذُوْا الدِّیَۃَ وَھِیَ ثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثُوْنَ جَذْعَۃً وَأَرْبَعُوْنَ خَلِفَۃً وَذٰلِکَ عَقْلُ الْعَمْدِ، وَمَا صَالَحُوْا عَلَیْہِ فَہُوَ لَھُمْ وَ ذٰلِکَ تَشْدِیْدُ الْعَقْلِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کرقتل کیا، اسے مقتول کے ورثاء کے سپرد کر دیا جائے گا، اگر وہ چاہیں اسے قتل کردیں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیںاور دیت کی تفصیلیہ ہے کہ تیس حقّے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹیاں ہوں، یہ قتلِ عمدکی دیت ہے اور اس کے علاوہ وہ چیز بھی شامل ہے، جس پر صلح ہو جائے،یہ سخت دیت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6088

۔ (۶۰۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمْنَعُ اَحَدُکُمْ أَخَاہُ مَرْفِقَہُ أَنْ یَضَعَہُ عَلٰی جِدَارِہِ)) (مسند احمد: ۲۳۰۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے (پڑوسی) بھائی کو نفع والی چیزیعنی دیوار پر (لکڑی وغیرہ) رکھنے سے منع نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6089

۔ (۶۰۸۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمْنَعَنَّ رَجَلٌ جَارَہُ أَنْ یَغْرِزَ خَشَبَتَہُ۔)) أَوْْ قَالَ: ((خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۵۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے پڑوسی کو دیوار میں کوئی شہتیر وغیرہ لگانے سے منع نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6090

۔ (۶۰۹۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اسْتَأْذَنَ اَحَدُکُمْ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَنْ سَأَلَہُ جَارُہُ) أَنْ یَغْرِزَ خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہِ فَـلَا یَمْنَعْہُ۔)) فَلَمَّا حَدَّثَہُمْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ طَأْطَئُوْا رُؤُوْسَہُمْ فَقَالَ: مَالِیْ أَرَاکُمْ مُعْرِضِیْنَ، وَاللّٰہِ! لَأَرْمِیَنَّ بِہَا بَیْنَ أَکْتَافِکُمْ۔ (مسند احمد: ۷۲۷۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑھنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اس کو نہ روکے۔ جب سیدنا ابوہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگو ں کو یہ حدیث سنائی انہوں نے اپنے سرجھکا لیے،یہ دیکھ کر سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے لگ رہا ہے کہ تم اس حکم سے اعراض کر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں نے وہ لکڑی تمہارے کندھوں میں ٹھونس دینی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6091

۔ (۶۰۹۱)۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ أَنَّ أَخَوَیْنِ مِنْ بَنِیْ الْمُغِیْرَۃِ أَعْتَقَ أَحَدُھُمَا أَنْ لا یَغْرِزَ خَشَبًا فِیْ جِدَارِہِ فَلَقِیَا مُجَمِّعَ بْنَ یَزِیْدَ الْأَنْصَارِیَّ وَرِجَالًا کَثِیْرًا فَقَالُوْا: نَشْہَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمْنَعُ جَارٌ جَارَہُ أَنْ یَغْرِزَ خَشَبًا فِیْ جِدَارِہِ۔)) فَقَالَ الْحَالِفُ: أَیْ أَخِیْ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّکَ مَقْضِیٌّ لَکَ عَلَیَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ اُسْطُوَانًا دُوْنَ جِدَارِیْ، فَفَعَلَ الْآخَرُ فَغَرَزَ فِیْ الْأُسْطُوَانِ خَشَبَۃً، فَقَالَ لِیْ عَمْرٌو: فَأَنَا نَظَرْتُ إِلٰی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۳۵)
۔ عکر مہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ بنو مغیرہ کے دو بھائی تھے، ان میں سے ایک نے غلا م آزاد کرنے کی قسم اٹھاکر کہا کہ وہ اپنے ہمسائے کواپنی دیوار میں شہتیر نہ رکھنے دے گا، پھر جب ان دونوں کی ملاقات سیدنا مجمع بن یزید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور کئی صحابہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا: ہم لوگ یہ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں شہتیر وغیرہ رکھنے سے نہ روکے۔ یہ سن کر قسم اٹھانے والے نے کہا: اے میرے بھائی! مجھے پتہ چل گیا کہ یہ فیصلہ میری مخالفت میں اور تیرے حق میں ہونے والا ہے، جبکہ میں قسم بھی اٹھا چکا ہوں، اب تو میری دیوار کے ساتھ ستون بنالے، پس اس نے ایسے ہی کیا اور پھر ستون پر لکڑی رکھ لی۔ عمرو نے مجھ سے کہا: میں نے اس چیز کو دیکھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6092

۔ (۶۰۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِی الطَّرِیْقِ فَدَعُوْا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوْا، وَمَنْ سَئَلَہُ جَارُہُ أَنْ یَدْعَمَ عَلٰی حَائِطِہِ فَلْیَدَعْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ کر عمارتیں تعمیر کر لو، اور جو اپنے پڑوسی سے اس کی دیوارپر شہتیر رکھنے کا مطالبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو رکھنے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6093

۔ (۶۰۹۳)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، وَلِلرَّجُلِ أَنْ یَجْعَلَ خَشَبَۃً فِیْ حَائِطِ جَارِہِ، وَالطَّرِیْقُ الْمِیْتَائُ سَبْعَۃُ اَذْرُعٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۶۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیںاور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ لے اور آمد ورفت والا راستہ سات ہاتھ چھوڑناہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6094

۔ (۶۰۹۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اخْتَلَفُوْا فِیْ الطَّرِیْقِ رُفِعَ مِنْ بَیْنِہِمْ سَبْعَۃُ أَذْرُعٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگوں میںراستہ کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو درمیان سے سات ہاتھ چھوڑا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6095

۔ (۶۰۹۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہَا، فَقَضٰی أَنْ یَتْرُکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَ أَذْرُعٍ، قَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ تُسَمَّی الْمِیْتَائَ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6096

۔ (۶۰۹۶)۔ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ أَخِیْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: کَانَ لِلْعَبَّاسِ مِیْزَابٌ عَلٰی طَرِیْقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِیَابَہُیَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَقَدْ کَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ فَلَمَّا وَافَی الْمِیْزَابَ صُبَّ مَائٌ بِدَمِ الْفَرْخَیْنِ فَأَصَابَ عُمَرَ، وَفِیْہِ دَمُ الْفَرْخَیْنِ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِہِ ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِیَابَہُ وَلَبِسَ ثِیَابًا غَیْرَ ثِیَابِہِ ثُمَّ جَائَ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَأَتَاہُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَلْمَوْضِعُِ الَّذِیْ وَضَعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ: وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَیْکَ لَمَا صَعِدْتَّ عَلٰی ظَہْرِیْ حَتّٰی تَضَعَہُ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِیْ وَضَعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفَعَلَ ذٰلِکَ الْعَبَّاسُ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۰)
۔ سیدنا عبید اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک پر نالہ تھا، اس کا پانی راستے پر گرتا تھا، ایک بار یوں ہوا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جمعہ کے دن لباس پہنا اور وہاں سے گزرے، اُدھر سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دو چوزے ذ بح کئے گئے تھا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پرنالے کے نیچے پہنچے تو چوزوں کے خون والا پانی اُن پر گرا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس پرنالے کو وہاں سے اکھاڑنے کاحکم دے دیا اور خود واپس گھر لو ٹ کر کپڑے تبدیل کئے اور پھر تشر یف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، تب سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: اللہ کی قسم! یہ وہ جگہ ہے، جہاں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود پرنالہ لگایا تھا، یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تو پھر میں تم نے پر زور بات کرتا ہوں کہ تم میری کمر پر چڑھو اور اس پرنالے کو اس جگہ پر نصب کر دو، جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لگایا تھا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایسے ہی کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6097

۔ (۶۰۹۷)۔ عَنْ اَبِی الْمِنْہَالِ أَنَّ زَیْدَ بْنَ اَرْقَمَ وَالْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ کَانَا شَرِیْکَیْنِ فَاشْتَرَیَا فِضَّۃً بِنَقْدٍ وَنَسِیْئَۃٍ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَھُمَا أَنَّ مَا کَانَ بِنَقْدٍ فَأَجِیْزُوْہُ وَمَا کَانَ بِنَسِیْئَۃٍ فَرُدُّوْہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۲۲)
۔ ابومنہال سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم اور سیدنا بر اء بن عاز ب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دونوں آپس میں شراکت کے ساتھ کاروبار کرتے تھے، ایک دفعہ انہوں نے چاندی خریدی، اس کی کچھ مقدار نقدتھی اور کچھ ادھار، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا علم ہوا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جو سودانقد ونقد ہواہے، اس کو برقرار رکھا جائے اور جو ادھار پر ہوا ہے، اس کو واپس کر دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6098

۔ (۶۰۹۸)۔ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَکَانَ أَحَدُنَا یَأْخُذُ النَّاقَۃَ عَلٰی النِّصْفِ مِمَّا یَغْنَمُ حَتّٰی إِنَّ لِأَحَدِنَا الْقِدْحَ (وَفِیْ لَفْظٍ: حَتّٰی إِنَّ اَحَدَنَا لَیَطِیْرُ لَہُ الْقِدْحُ) وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّیْشَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۱۹)
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتا تھا، ہم اس طرح کرتے کہ ایک آدمی اپنے حصے کی غنیمت کے نصف حصے پر اونٹنی خرید لیتا تھا، اب بسا اوقات ایسے ہوتا کہ مال غنیمت میں سے کسی کو تیر ملتا اور کسی کو پھل اور پر۔

آیت نمبر