MUSNAD AHMED

Search Results(1)

95)

95) صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6099

۔ (۶۰۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِیْنَ الَّذِیْیُعْطِیْ مَا أُمِرَ بِہٖکَامِلًامُوَفَّرًاطَیِّبَۃً بِہٖنَفْسُہُحَتّٰییَدْفَعَہُ إِلَی الَّذِیْ أُمِرَ لَہُ بِہٖأَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۱)
۔ سیدنا ابوموسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ امانت دار منشی جو مالک کے حکم کے مطابق پورا پورا اور خوش دلی سے اس کو دے دیتا ہو، جس کے حق میں اس کو حکم دیا جاتا ہے، وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6100

۔ (۶۱۰۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اُتِیَ بِصَدَقَۃٍ قَالَ: ((اللّٰہم صَلِّ عَلَیْہِ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِصَدْقَۃِ مَالِ اَبِیْ فَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِیْ أَوْفٰی۔))۔ (مسند احمد: ۱۹۳۲۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس صدقہ لایا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دینے والے کے لیےیوں دعا کرتے: اے اللہ! اس آدمی پر رحمت فرما۔ ایک دفعہ میں اپنے باپ کے مال کاصدقہ لے کرآیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ!ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6101

۔ (۶۱۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مَعَہُ بِہَدْیِہِ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِلُحُوْمِہَا وَجُلُوْدِھَا وَأَجِلَّتِہَا۔ (مسند احمد: ۸۹۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قر بانیاں دے کر بھیجا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ ان کا گو شت، چمڑے اور جھولیں صدقہ کر دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6102

۔ (۶۱۰۲)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ شَبِیْبٍ أَنَّہُ سَمِعَ الْحَیَّیُخْبِرُوْنَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ الْبَارِقِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مَعَہُ بِدِیْنَارٍیَشْتَرِیْ لَہُ أُضْحِیَّۃً (وَقَالَ مَرَّۃً: أَوْشَاۃً) فَاشْتَرٰی لَہُ اثْنَتَیْنِ فَبَاعَ وَاحِدَۃً بِدِیْنَارٍ وَاَتَاہُ بِالْاُخْرٰی فَدَعَا لَہُ بِالْبَرْکَۃِ فِیْ بَیْعِہِ فَکَانَ لَوِ اشْتَرٰی التُّرَابَ لَرَبِحَ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۷۱)
۔ سیدنا عروہ بن ابی الجعد بارقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربانی کا جانور یا ایک بکری خریدنے کے لیے مجھے ایک دینار دے کر بھیجا، ہوا یوں کہ میں نے اس کی دو بکریاں خرید لیں اور ان میں سے ایک کو ایک دینار کے عوض فروخت کر دیا اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے میری تجارت میں برکت کی دعا کی۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اگر مٹی بھی خرید لیتے تو ان کو اس میں نفع ہوتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6103

۔ (۶۱۰۳)۔ عَنْ اَبِی الْجَوَیْرِیَۃِ أَنَّ مَعْنَ بْنِ یَزِیْدَ حَدَّثَہُ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَا وَاَبِیْ وَجَدِّیْ وَخَطَبَ عَلَیَّ فَاَنْکَحَنِیْ وَخَاصَمْتُ اِلَیْہِ فَکَانَ اَبِیْیَزِیْدُ خَرَجَ بِدَنَانِیْرَیَتَصَدَّقُ بِہَا فَوَضَعَہَا عِنْدَ رَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ وَأَخَذْتُہَا فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اِیَّاکَ أَرَدْتُ بِہَا فَخَاصَمْتُہُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَکَ مَانَوَیْتَیَایَزِیْدُ! وَلَکَ یَامَعْنُ! مَا أَخَذْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۵۴)
۔ سیدنا معن بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اور میرے باپ اور دادا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے میری منگنی کی اور نکاح بھی کر دیا، ایک دن میرے و الد سیدنایزید صدقہ کرنے کے لیے دینار لے کر نکلے اور مسجد میں ایک بندے کے پاس رکھ دیئے (تاکہ وہ کسی کو دے دے)، لیکن میں خود اس سے لے کر گھر آ گیا، میرے باپ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں نے ان کو ساتھ لیا اور یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے یزید! تو نے جو نیت کی، وہ ہو گئی، اور اے معن! تو نے جس نیت سے لیے ہیں، وہ تیرے لیے ہے۔

آیت نمبر