MUSNAD AHMED

Search Results(1)

96)

96) وکالت کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6104

۔ (۶۱۰۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَجْلَی الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا ظَہَرَ عَلٰی خَیْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُوْدِ مِنْہَا وَکَانَتِ الْأَرْضُ حِیْنَ ظَہَرَ عَلَیْہَالِلّٰہِ تَعَالٰی وَلِرَسُوْلِہِ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُوْدِ مِنْہَا، فَسَاَلَتِ الْیَہُوْدُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقِرَّھُمْ بِہَا عَلٰی أَنْ یَکْفُوْا عَمَلَہَا وَلَھُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نُقِرُّکُمْ بِہَا عَلٰی ذٰلِکَ مَاشِئْنَا۔)) فَقَرُّوْا بِہَا حَتّٰی أَجْلَاھُمْ عُمَرُ إِلَی تَیْمَائَ وَأَرِیْحَائَ۔ (مسند احمد:۶۳۶۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو حجاز سے جلاوطن کیا، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر کے علاقے پرقابض ہوئے تو وہاں سے یہودیوں کو نکال دینے کا ارادہ کیا، کیونکہ فتح کے بعد وہ زمین اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اس شرط پر ہمیں ہییہاں ٹھہرنے دیا جائے کہ ہم نصف پھل کے عوض محنت کریں گے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، ہم جب تک چاہیں گے، تم کویہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہاں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی جانب جلا وطن کردیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6105

۔ (۶۱۰۵)۔ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْرَکَہُمْ یَذْکُرُوْنَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ ظَہَرَ عَلٰی خَیْبَرَ وَصَارَتْ خَیْبَرُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمِیْنَ ضَعُفَ عَنْ عَمَلِہَا فَدَفَعُوْھَا إِلَیالْیَہُوْدِیَقُوْمُوْنَ عَلَیْہَا وَیُنْفِقُوْنَ عَلَیْہَا عَلٰی أَنَّ لَھُمْ نِصْفَ مَا خَرَجَ مِنْہَا۔ الْحَدِیْثَ (مسند احمد: ۱۶۵۳۰)
۔ بشیر بن یسارسے مروی ہے کہ انھوں نے کئی صحابہ کرام کو اس طرح ذکر کرتے ہوئے پایا کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر پر غالب آئے اور خیبر، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مسلمانوں کی ملکیت میں آگیا تو چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اور صحابہ) خود اس میں کام کاج کرنے سے کمزور تھے، اس لیے اس کو یہودیوں کے سپرد کردیا کہ وہ اس کی نگرانی کریں گے اور اس پر خرچ کریں گے اور ان کو اس کے عوض نصف پھل ملے گا۔ (الحدیث)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6106

۔ (۶۱۰۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَ خَیْبَرَ اَرْضَھَا وَ نَخْلَھَا مُقَاسَمَۃً عَلٰی النِّصْفِ۔ (مسند احمد:۲۲۵۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کی زمین اورکھجوریں نصف نصف حصے پر یہودیوں کودے دی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6107

۔ (۶۱۰۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَ خَیْبَرَ اَرْضَھَا وَ نَخْلَھَا مُقَاسَمَۃً عَلٰی النِّصْفِ۔ (مسند احمد:۲۲۵۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر والوں سے نصف آمدن پر معاملہ طے کیا وہ کھیتی ہو یا پھل۔ الحدیث۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6108

۔ (۶۱۰۸)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُسْتَأْجَرَ الْاَرْضُ بِالدَّرَاھِمِ الْمَنْقُوْدَۃِ أَوْ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۶)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے درہموں کی نقدی کے عوض یا پیداوار کے تہائی اورچوتھائی حصے پربدلے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6109

۔ (۶۱۰۹)۔ عَنْ اَبِی النَّجَاشِیِّ مَوْلٰی رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: سَاَلْتُ رَافِعًا عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ فَقُلْتُ: إِنَّ لِیْ أَرْضًا أُکْرِیْہَا؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَا تُکْرِھَا بِشَیْئٍ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا فَاِنْ لَمْ یَزْرَعْہَا فَلْیُزْرِعْہَا أَخَاہُ، فَاِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلْیَدَعْہَا۔)) فَقُلْتُ لَہُ: أَرَأَیْتَ اِنْ تَرَکْتُہُ وَ أَرْضِیْ فَاِنْ زَرَعَہَا ثُمَّ بَعَثَ إِلیَّ مِنَ التِّبْنِ؟ قَالَ: لَا تَأْخُذْ مِنْہَا شَیْئًا وَلَا تِبْنًا، قُلْتُ: إِنِّیْ لَمْ أُشَارِطْہُ إِنَّمَا أَھْدٰی إِلیَّ شَیْئًا، قَالَ: لَا تَأْخُذْ مِنْہُ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۹)
۔ سیدنا رافع کے غلام ابونجاشی کہتے ہیں: میںنے سیدنا رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میںسوال کیا اور کہا: میری زمین ہے، کیا میں اسے کرائے پر دے سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: اس کو کسی چیز کے عوض کرانے پر نہ دینا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے، اگر خود کاشت نہیں کرتا تو اپنے کسی بھائی کاشت کرنے کے لیے دے دے اور اگر وہ اس طرح بھی نہیں کرتا تو اس کو ویسے ہی چھوڑ دے۔ میں نے کہا: جییہ بتائیں کہ اگر میں اپنی زمین کو کاشت کے بغیر چھوڑ دیتا ہے، لیکن اگر میرا کوئی بھائی اس کو کاشت کرتا ہے اور میری طرف کچھ چارہ بھیج دیتا ہے (تو اس میں کیا حرج ہے)؟ انھوں نے کہا: تو اس سے کچھ بھی نہ لے اور نہ چارہ۔ میں نے کہا: جی میں اس سے کوئی شرط نہیں لگاتا، بس وہ میری طرف کوئی چیز بطورِ ہدیہ بھیج دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس سے کچھ بھی نہ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6110

۔ (۶۱۱۰)۔ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کُنَّا نُخَابِرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُصِیْبُ مِنَ الْقِصْرِیِّ وَمِنْ کَذَا فَقَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْ لِیُحْرِثْہَا أَخَاہُ وَاِلَّا فَلْیَدَعْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۰۴)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں زمین بٹائی پر دیتے تھے اور بسا اوقات غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے وہ دانے ہمیں ملتے تھے،جو گاہنے سے الگ نہ ہو سکے ہوں،اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ اس کو خود کاشت کرےیاپھر کسی بھائی کو برائے کاشت دے دے، وگرنہ اس کو ویسے ہی چھوڑدے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6111

۔ (۶۱۱۱)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: جَائَ نَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَمْرٍ کَانَ یَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَۃُ اللّٰہِ وَطَاعَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْفَقُ، نَہَانَا أَنْ نَزْرَعَ أَرْضًا یَمْلِکُ أَحَدُنَا رَقَبَتَہَا أَوْ مِنْحَۃَ رَجُلٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۱۶)
۔ رافع کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ہو کر آئے اور کہا : رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایاہے کہ وہ کام ہمارے لئے بہتری والاتھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فرمانبرداری ہمارے لئے سب سے زیادہنفع بخش ہے، تفصیلیہ ہے کہ اگر زمین کسی کی ملکیت ہے یا کسی کا عطیہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں بٹائی پر کام کرنے سے منع فرما دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6112

۔ (۶۱۱۲)۔ عَنْ أُسَیْدِ بْنِ ظُہَیْرِ بْنِ أَخِیْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: کَانَ أَحَدُنَا اِذَا اسْتَغْنٰی عَنْ أَرْضِہِ أَعْطَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبْعِ وَالنِّصْفِ وَیَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَۃَ وَمَا سَقَی الرَّبِیْعُ وَکَانَ الْعَیْشُ إِذْ ذَاکَ شَدِیْدًا وَکَانَ یُعْمَلُ فِیْہَا بِالْحَدِیْدِ وَمَاشَائَ اللّٰہُ وَیُصِیْبُ مِنْہَا مَنْفَعَۃً، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہَاکُمْ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَکُمْ نَافِعًا، وَطَاعَۃُ اللّٰہِ وَطَاعَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْفَعُ لَکُمْ، اِنَّ النَّبِیَّیَنَہَاکُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَیَقُوْلُ: ((مَنِ اسْتَغْنٰی عَنْ أَرْضِہِ فَلْیَمْنَحْہَا أَخَاہُ أَوْ لِیَدَعْ۔)) وَیَنْہَاکُمْ عَنِ الْمُزَابَنَۃِ، وَالْمُزَابَنَۃُ: أَنْ یَکُوْنَ الرَّجُلُ لَہُ الْمَالُ الْعَظِیْمُ مِنَ النَّخْلِ فَیَأْتِیْہِ الرَّجُلُ فَیَقُوْلُ: قَدْ أَخَذْتُہُ بِکَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۰۸)
۔ اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہم ضرورت سے زائد زمین پیداوار کے تہائی، چوتھائی اور نصف حصے پر بٹائی پر دے دیا کرتے تھے اور تین تین نالیوں، غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے دانوں اور چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی زمین کی شرط لگا لیتے تھے، جبکہ اس وقت گزران میں بڑی تنگی ہوتی تھی، پھر وہ لوگ لوہے کے آلات وغیرہ سے زراعت کرتے تھے اور ہمیں بھی نفع مل جاتا تھا لیکن ہوا یوں کہ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آئے اورکہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں ایک ایسے کام سے روک دیا ہے، جو کہ تمہارے لئے نفع بخش تھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ فائدہ مندہے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں بٹائی پر کھیتی باڑی کرنے سے منع کر دیا ہے اور فرمایاہے: جس کے پاس زائدزمین ہو، وہ اسے اپنے بھائی کو بلاعوض عاریۃ دے دے یا پھر اس کو خالی پڑا رہنے دے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیںمزابنہ سے بھی منع کر دیا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس کھجورکے درختوں پر لگا ہوا بہت زیادہ مال ہو اور اس کے پاس دوسرا آدمی آئے اور کہے: میں تجھے کھجوروں کے اتنے وسق دے کر یہ کھجوریں خریدتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6113

۔ (۶۱۱۳)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْحَقْلِ، قَالَ الْحَکْمُ: وَالْحَقْلُ الثُّلُثُ وَالرُّبْعُ۔ (مسند احمد:۱۵۹۲۳)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزارعت یعنی پیداوار کے تہائی اورچوتھائی حصہ پر زمین بٹائی پر دینے سے منع کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6114

۔ (۶۱۱۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَزْرَعَہَا وَعَجَزَ عَنْہَا فَلْیَمْنَحْہَا أَخَاہُ الْمُسْلِمَ وَلاَ یُؤَاجِرْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۸۱)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس کو کاشت کرے، اگر اس کو کاشت کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اس سے عاجز آ گیا ہو تو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو عطیہ کے طور پر دے دے اور اس کو کرائے پر نہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6115

۔ (۶۱۱۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَزْرَعَہَا وَعَجَزَ عَنْہَا فَلْیَمْنَحْہَا أَخَاہُ الْمُسْلِمَ وَلاَ یُؤَاجِرْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۸۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بعض لوگوں کے پاس زائد زمینیں ہوتی تھیں، وہ ان کو تہائی ،چوتھائی اور نصف حصے کے عوض اجرت پر دے دیتے تھے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس کو کاشت کرے یاپھر اپنے کسی بھائی کو بطور عطیہ دے دے، اگر وہ ایسا کام نہ کرنا چاہے تو پھر اپنی زمین کو اپنے پاس رکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6116

۔ (۶۱۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ لَہُ فَضْلُ أَرْضٍ أَوْ مَائٍ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْ لِیَزْرَعْہَا أَخَاہُ وَلَا تَبِیْعُوْھَا۔)) فَسَاَلْتُ سَعِیْدًا: مَا لَاتَبِیْعُوْھَا الْکِرَائُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۵۷)
۔ (تیسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زائد زمینیاپانی ہو تو اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو دے دے اور اس کو فروخت نہ کرے۔ سلیم بن حیان کہتے ہیں: میں نے سعید سے پوچھا کہ فروخت نہ کرنے کامطلب کرائے پر دینا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6117

۔ (۶۱۱۷)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْأَرْضَ کَانَتْ تُکْرٰی عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا عَلٰی الْأَرْبِعَائِ وَشَیْئٍ مِنَ التِّبْنِ لَا أَدْرِیْ کَمْ ھُوَ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُکْرِیْ أَرْضَہُ فِیْ عَہْدِ اَبِیْ بَکْرٍ وَعَہْدِ عُمَرَ وَعَہْدِ عُثْمَانَ وَ صَدْرِ إِمَارَۃِ مُعَاوِیَۃَ حَتّٰی اِذَا کَانَ فِیْ آخِرِھَا بَلَغَہُ أَنَّ رَافِعًا یُحَدِّثُ فِیْ ذٰلِکَ بنَہْیِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاہُ وَأَنَا مَعَہُ فَسَأَلَہُ فقَالَ: نَعَمْ نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کِرَائَ الْمَزَارِعِ، فَتَرَکَہَا ابْنُ عُمَرُ فَکَانَ لَا یُکْرِیْہَا فَکَانَ اِذَا سُئِلَ یَقُوْلُ: زَعَمَ ابْنُ خَدِیْجٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ۔ (مسند احمد: ۴۵۰۴)
۔ امام نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میںچھوٹی نہروں کے پاس اگنے والی فصل اور چارے کے کچھ مقدار کے عوض زمینوں کو کرائے پر دیا جاتا تھا، میںیہ نہیں جانتا کہ چارے کی مقدار کتنی ہوتی تھی۔ اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کے زمانوں میں اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد کے شروع میں اپنی زمین کو کرائے پر دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آخر دور جاری تھا کہ انہیںیہ بات موصول ہوئی کہ سیدنا رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین کو اس طرح کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس وہ ان کے پاس آئے، جبکہ میں نافع بھی ان کے ساتھ تھا اور اُن سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کام ترک کردیا اور کرائے پر زمین دینے کو چھوڑ دیا، پھر جب ان سے اس بارے میں پوچھا کیا جاتا تھا تو وہ کہتے ہیں: سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاخیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6118

۔ (۶۱۱۸)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ عَبْدِاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: یَا ابْنَ خَدِیْجٍ! مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ کِرَائِ الْأَرْضِ؟ قَالَ رَافِعٌ: لَقَدْ سَمِعْتُ عَمَّیَّ وَکَانَا قَدْ شَہِدَا بَدْرًا یُحَدِّثَانِ اَھْلَ الدَّارِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۱۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے ابن خدیج! تم زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا بیان کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے اپنے دوچچو ں سے سنا ، وہ اپنے گھر والوں کو یہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6119

۔ (۶۱۱۹)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: کُنَّا نُحَاقِلُ بِالْْاَرْضِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُکْرِیْہَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبْعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمّٰی، فَجَائَ ذَاتَ یَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُوْمَتِیْ، فَقَالَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَاعَۃُ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ أَنْفَعُ لَنَا، نَہَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ فَنُکْرِیْہَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمّٰی، وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ یَزْرَعَہَا أَوْ یُزْرِعَہَا وَ کَرِہَ کِرَائَ ھَا وَمَاسِوٰی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۱۷)
۔ سیدنا رافع ابن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداوار اور معین غلے کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے، میرے ایک چچا ہمارے ہاں آئے اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کر دیا ہے، جو ہمارے لئے سود مند تھا، بہرحال اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لئے زیادہ مفید ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداواریا غلے کی معین مقدار کے عوض کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے اور زمین کے مالکوں کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کاشت کریںیا کسی کو کاشت کرنے کے لیے دے دیں ، اس کے علاوہ باقی صورتوں کو ناپسند کیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6120

۔ (۶۱۲۰)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ: قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمُخَابَرَۃِ، قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَۃُ؟ قَالَ: یُؤْجَرُ الْأَرْضُ بِنِصْفٍ أَوْبِثُلُثٍ أَوْ بِرُبُعٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۷۰)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مخابرہ سے منع فرمایا ہے، میں نے کہا: مخابرہ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: زمین کو نصف یا تہائییاچوتھائی پیدوار کے عوض کرائے پر دینا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6121

۔ (۶۱۲۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُخَابِرُ وَلَانَرٰی بِذٰلِکَ بَأْسًا حَتّٰی زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْہُ فَتَرَکْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۹۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مخابرہ کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، پھر ہم نے اس کو ترک ہی کردیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6122

۔ (۶۱۲۲)۔ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ، قَالَ: قُلْتُ: بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ؟ قَالَ: لَا، اِنَّمَا نَہٰی عَنْہُ بِبَعْضِ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا، فَأَمَّا بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ فَـلَا بَأْسَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۰)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھیتیوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، میں حنظلہ نے کہا: اگر سونے اور چاندی کے عوض میں دے تو؟ انہوںنے کہا: جی نہیں، صرف زمین کو اس کی پیداوار کے بعض حصے کے عوض میں دینے سے منع کیا گیا ہے، سونے اور چاندی کے عوض زمین کو کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6123

۔ (۶۱۲۳)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ الْحَکْمُ اَخْبَرَنِیْ عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْحَقْلِ، قُلْتُ: وَمَا الْحَقْلُ؟ قَالَ: الثُّلُثُ وَالرُّبْعُ، فَلَمَّا سَمِعَ ذٰلِکَ اِبْرَاہِیْمُ کَرِہَ الثُّلُثَ وَالرُّبْعَ وَ لَمْ یَرَ بَأْسًا بِالْأَرْضِ الْبَیْضَائِیَأْخُذُھَا بِالدَّرَاھِمِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۰۴)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے حکم سے دریافت کیا کہ محاقلہ کیا ہے؟ انہوںنے کہا: زمین کو تہائییاچوتھائی حصہ پر کاشت کرنا، جب ابراہیم نے یہ بات سنی تو وہ تہائی اور چوتھائی حصے پر زمین کاشت کرنے کو ناپسند کرتے تھے، البتہ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ کوری زمین درہموں کے عوض لی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6124

۔ (۶۱۲۴)۔ عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَأَنْ یَمْنَحَ اَحَدُکُمْ أَخَاہُ أَرْضَہُ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَأْخُذَ عَلَیْہَا کَذَا وَکَذَا لِشَیْئٍ مَعْلُوْمٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَھُوَ الْحَقْلُ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَۃُ۔ (مسند احمد: ۲۸۶۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پر زمین دے دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کے عوض کوئی متعین چیز لے۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ حقل ہے اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6125

۔ (۶۱۲۵)۔ عَنْ حَنْظَلَۃَ الزُّرَقِیِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ أَنَّ النَّاسَ کَانُوْا یُکْرُوْنَ الْمَزَارِعَ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَاذِیَانَاتِ وَمَا سَقَی الرَّبِیْعُ وَشَیْئٍ مِنَ التِّبْنِ، فَکَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کِرَائَ الْمَزَارِعِ بِہٰذَا وَنَہٰی عَنْہَا، وَقَالَ رَافِعٌ: وَلَا بَأْسَ بِکِرَائِہَا بِالدَّرَاھِمِ وَالدَّنَانِیْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۰۲)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بڑی نہروں کے پاس والی فصل، چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی فصل اور کچھ چارے یا بھوسے کے عوض کھیتوں کو کرائے پر دیتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طریقے سے کھیتوں کو کرائے پر دینے کو ناپسند کیا اور اس سے منع فرما دیا، پھر سیدنا رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: البتہ درہم و دینار کے عوض کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6126

۔ (۶۱۲۶)۔ (وَعَنْہ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ أَنَّہُ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَمِّیْ أَنَّہُمْ کَانُوْا یُکْرُوْنَ الْأَرْضَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا یَنْبُتُ عَلٰی الْاَرْبِعَائِ وَشَیْئٍ مِنَ الزَّرْعِ یَسْتَثْنِیْہِ صَاحِبُ الزَّرْعِ فنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: کَیْفَ کِرَاؤُھَا؟ أَ بِالدِّیْنَارِ وَالدِّرْھَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَیْسَ بِہَا بَأْسٌ بِالدِّیْنَارِ وَالدِّرْھَمِ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۱۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا نے مجھے بیان کیا کہ وہ لوگ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں چھوٹی نہروں کے آس پاس اگنے والی فصل اور کچھ کھیتی، جس کو مالک مستثنی کرتا تھا، کے عوض زمین کو کرائے پر دیتے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ میں حنظلہ نے سیدنا رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:تو پھر زمین کو کس طرح کرائے پر دیا جائے؟ کیا درہم و دینار کے عوض؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کھیتی کو درہم و دینار کے عوض کرائے پر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6127

۔ (۶۱۲۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ أَنَّ أَصْحَابَ الْمَزَارِعِ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانُوْا یُکْرُوْنَ مَزَارِعَہُمْ بِمَا یَکُوْنُ عَلٰی السَّوَاقِی مِنَ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَائِ مِمَّا حَوْلَ البِئْرِ فَجَائُ وْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاخْتَصَمُوْا فِیْ بَعْضِ ذٰلِکَ فَنَہَاھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُکْرُوْا بِذٰلِکَ، وَقَالَ: ((اَکْرُوْا بِالذَّھَبِ وَالفِّضَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۲)
۔ سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کھیتیوں کے مالکان عہد ِ نبوی میں اپنی کھیتیاں اس قطعۂ زمین کے عوض کرائے پردیتے تھے، جہاں پانی والی نالیاں بہتی تھیںیا کنویں کے ارد گرد جہاں پانی خود بخود چڑھ آتاتھا، لیکن جب وہ بعض معاملات میں جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اس طرح زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا اور فرمایا: سونے اورچاندی کے عوض زمین کرائے پردیاکرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6128

۔ (۶۱۲۸)۔ عَنْ عَمْرِو بِْن دِیْنَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ: کُنَّا نُخَابِرُ وَلَانَرٰی بِذٰلِکَ بَأْسًا حَتّٰی زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْہُ، قَالَ عَمْرٌو: وَذَکَرْتُہُ لِطَاؤُوْسٍ فَقَالَ طَاؤُوْسٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمْنَحُ اَحَدُکُمْ أَخَاہَ الْأَرْضَ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَأْخُذَ لَھَا خَرَاجًا مَعْلُوْمًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن دینار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ بٹائی پرزمین دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایاہے۔ عمروبن دینار نے کہا: جب میںنے طاؤوس کے سامنے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما تو یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم میںسے کوئی آدمی اپنی زمین اپنے بھائی کوبطور عطیہ دے دے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر زمین کی مقررہ پیداوار لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6129

۔ (۶۱۲۹)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی قُرًی عَرَبِیَّۃٍ فَأَمَرَنِیْ أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ، قَالَ سُفَیَانُ: حَظُّ الْأَرْضِ: اَلثُّلُثُ وَالرُّبُعُ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۶۸)
۔ سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عرب کی چند بستیوں کی طرف بھیجا اور حکم دیاکہ میں وہاں سے زمین کاتہائی اور چوتھائی لے کر آؤں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6130

۔ (۶۱۳۰)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ طَاؤُوْسٍ وَعَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: خَرَجَ إِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَہَانَا عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا وَأَمْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْرٌ لَنَا مِمَّا نَہَانَا عَنْہُ، قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْلِیَذَرْھَا أَوْ لِیَمْنَحْہَا۔)) قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِطَاؤُوْسٍ وَکَانَ یَرٰی أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِہِمْ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ أَنْ یَمْنَحَہَا أَخَاہُ خَیْرٌ لَہُ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: وَکَانَ عَبْدُالْمَلِکِ یَجْمَعُ ھٰؤُلائِ: طَاؤُوْسًا وَعَطَائً وَمُجَاھِدًا، وَکَانَ الَّذِیْیُحَدِّثُ عَنْہُ مُجَاہِدٌ، قَالَ شُعْبَۃُ: کَأَنَّہُ صَاحِبُ الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۸)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع کر دیا جوہمارے لئے فائدہ مندتھا، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حکم ہی ہمارے لئے اس کام سے بہتر ہے، جس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا اسے ویسے ہی چھوڑ دے، یا کسی بھائی کو کاشت کے لیے بطورِ عطیہ دے دے۔ عبد الملک کہتے ہیں: میںنے طاؤس سے اس حدیث کا ذکر کیا،ان کا خیال تھا کہ اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیاد ہ علم رکھنے والے ہیں اور وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، اگر وہ اپنے بھائی کو کاشت کے لیے دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: عبد الملک ان تین راویوں کو جمع کرتے تھے: طاؤس، عطاء اور مجاہد، اور مجاہد سے بیان کرنے والے راوی کے بارے میں شعبہ کا خیال تھا کہ وہ صاحب ِ حدیث ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6131

۔ (۶۱۳۱)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ، أَنَا وَاللّٰہِ أَعْلَمُ بِالْحَدِیْثِ مِنْہُ، إِنَّمَا أَتٰی رَجُلَانِ قَدِ اقْتَتَلَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنْ کَانَ ھٰذَا شَأْنَکُمْ فَـلَا تُکْرُوْا الْمَزَارِعَ۔)) قَالَ: فَسَمِعَ رَافِعٌ قَوْلَہُ: ((لَاتُکْرُوْا الْمَزَارِعَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۶۶)
۔ عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا زیدبن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالی سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معاف فرمائے، میں اس حدیث ِ مبارکہ کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں، اصل بات یہ تھی کہ جب دو آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر جھگڑے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرتمہارییہ صورت حال ہے تو پھر زمینیں کرائے پر ہی نہ دیاکر و۔ سیدنا رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صرف یہ الفاظ سنے تھے کہ زمینوں کو کرائے پر نہ دیا کرو۔

آیت نمبر