MUSNAD AHMED

Search Results(1)

97)

97) مساقات، مزارعت اور زمین کو کرائے پر دینے کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6132

۔ (۶۱۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِیْرِ حَتّٰییُبَیَّنَ لَہُ أَجْرُہُ وَعَنِ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَائِ الْحَجَرِ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۸۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدوری کا تعین کرنے سے پہلے مزدور کو کام پر لگانے سے، بیع نجش سے، بیع لمس سے اور پتھر پھینکنے سے منع فرمایا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6133

۔ (۶۱۳۳)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکِ نِ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: غَزَوْنَا وَعَلَیْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَۃٌ فَمَرُّوْا عَلٰی قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوْا جَزُوْرًا، فَقُلْتُ: أُعَالِجُہَا لَکُمْ عَلٰی أَنْ تُطْعِمُوْنِیْ مِنْہَا شَیْئًا؟ فَعَالَجْتُہَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِیْ أَعْطَوْنِیْ فَأَتَیْتُ بِہٖعُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ فَاَبٰی أَنْ یَأْکُلَہُ، ثُمَّ اَتَیْتُ بِہٖاَبَاعُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاَبٰی أَنْ یَاْکُلَ، ثُمَّ إِنِّیْ بُعِثْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذٰلِکَ فِیْ فَتْحِ مَکَّۃَ فَقَالَ: ((أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُوْرِ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ یَزِدْنِیْ عَلٰی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۷۸)
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ایک غزوہ کیا، اس میں ہمارے امیر سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ہوا یوں کہ ہم سخت بھوک میں مبتلا ہوگئے، ہم ایک قوم کے پاس سے گزرے، انھوں نے اونٹ ذبح کئے ہوئے تھے۔ میں (عوف) نے ان سے کہا: اگر تم مجھے بھی ان میں سے کھلاؤ تو میں تمہیں ان کا گوشت وغیرہ بنا کر دے سکتا ہوں؟انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ میںنے ان کاکام کیا اورانہوں نے مجھے کھانے کے لیے کچھ دیا، میں وہ لے کر سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، لیکن انہوں نے تو کھانے سے انکار کردیا، پھر میں سیدنا ابوعبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، لیکن انہوں نے بھی کھانے سے انکارکردیا، پھر جب فتح مکہ کے موقع پر مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ اونٹوں والے تم ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! ۔اس سے زائد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6134

۔ (۶۱۳۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جُعْتُ مَرَّۃً بِالْمَدِیْنَۃِ جُوْعًا شَدِیْدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِیْ عَوَالِی الْمَدِیْنَۃِ فَاِذَا أَنَا بِاِمْرَأَۃٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا فَظَنَنْتُہَا تُرِیْدُ بَلَّہَ فَأَتَیْتُہَا فَقَاطَعْتُہَا کُلَّ ذَنُوْبٍ عَلٰی تَمْرَۃٍ فَمَدَدْتُ سِتَّۃَ عَشَرَ ذَنُوْبًا حَتّٰی مَجَلَتْ یَدَایَ ثُمَّ أَتَیْتُ الْمَائَ فَأَصَبْتُ مِنْہُ ثُمَّ أَتَیْتُہَا فَقُلْتُ: بِکَفَّیَّ ھٰکَذَا بَیْنَیَدَیْہَا وَبَسَطَ اِسْمَاعِیْلُ (یَعْنِیْ ابْنَ اِبْرَاہِیْمَ أَحَدَ الرُّوَاۃِ) یَدَیْہِ وَجَمَعَہُمَا فَعَدَّتْ لِیْ سِتَّ عَشَرَۃَ تَمْرَۃً فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ فَأَکَلَ مَعِیَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ جب میں مدینہ میں تھا، مجھے بہت سخت بھوک لگی، پس میں کسی کام کی تلاش میں مدینہ منورہ کے بالائی حصہ کی جانب نکلا، اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ مٹی جمع کر چکی تھی اور اب اس کو گارا بنانا چاہتی تھی، میں اس کے پاس آیا اور اس سے ایک ایک ڈول کے بدلے ایک ایک کھجور لینے کا طے کیا، پس میں نے کنوئیں سے پانی کے سولہ ڈول کھینچے ، ان کی وجہ سے میرے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے، پھر میں نے وہ پانی لا کر مٹی پر ڈالا اور پھر اس خاتون کے پاس آیا مزدوری لینے کے لیے اس کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلادیں، اسماعیل راوی نے کیفیت بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور جمع کیا، پس اس عورت نے گن کر سولہ کھجوریں مجھے دیں، پس میں وہ کھجوریں لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ وہ کھجوریں کھائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6135

۔ (۶۱۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ: ثَلَاثَۃٌ أَنَا خَصْمُہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ کُنْتُ خَصْمَہُ خَصَمْتُہُ، رَجُلٌ أَعْطٰی بِیْ ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَاَکَلَ ثَمَنَہُ، وَرَجُلٌ اِسْتَأْجَرَ أَجِیْرًا فَاسْتَوْفٰی مِنْہُ وَلَمْ یُوَفِّہِ أَجْرَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۷۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: روزِ قیامت تین آدمیوں کا مقابل میں ہوںگا اور جس کا مقابل میں ہوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: (۱) وہ آدمی جس نے میرے نام پر عہد کیا، لیکن پھر اسے توڑ ڈالا، (۲) وہ آدمی جو آزاد آدمی کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھاگیا، اور(۳) وہ آدمی جس نے مزدور رکھا اور اس سے کام پورالیا، مگر اس کی مزدوری پوری طرح ادانہ کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6136

۔ (۶۱۳۶)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا فِیْ حَدَیْثٍ لَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّہُ یُغْفَرُ لِأُمَّتِہِ فِیْ آخِرِ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ ھِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا، وَلَکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفَّی أَجْرَہُ اِذَا قَضٰی عَمَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے، اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کی آخری رات میںمیری امت کے لوگوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب قدر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بات یہ ہے کہ جب عامل کام پورا کرتا ہے تو اس کو پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6137

۔ (۶۱۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْأَخْدَعَیْنِ وَبَیْنَ الْکَتِفَیْنِ، حَجَمَہُ عَبْدٌ لِبَنِیْ بَیَاضَۃَ وَکَانَ أَجْرُہُ مُدًّا وَنِصْفًا فَکَلَّمَ أَھْلَہُ حَتّٰی وَضَعُوْا عَنْہُ نِصْفَ مُدٍّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَعْطَاہُ أَجْرَہُ وَلَوْکَانَ حَرَامًا (وَفِیْ لَفْظٍ: سُحْتًا) مَا أَعْطَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۸م)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دو رگوں میں اور دوکندھوں کے درمیان سینگی لگوائی، بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی تھی، اس کی اجرت ڈیڑھ مد تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے مالکوں سے رعایت کی بات کی تو انھوں نے نصف مد کم کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو سینگی لگانے کی اجرت دی تھی، اگریہ حرام ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو نہیں دینی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6138

۔ (۶۱۳۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِیْنَ فَرَغَ: ((کَمْ خَرَاجُکَ؟)) قَالَ: صَاعَانِ، فَوَضَعَ عَنْہُ صَاعًا وَأَمَرَنِیْ فَأَعْطَیْتُہُ صَاعًا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور پھر جب سینگی لگانے والا فارغ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تیری مزدوری کتنی ہے؟ اس نے کہا: جی دو صاع ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے ایک صاع کی رعایت کروا کر مجھے ادائیگی کے لیے حکم دیا، پس میں نے اس کو ایک صاع دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6139

۔ (۶۱۳۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: حَجَمَ اَبُوْطَیْبَۃَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَعْطَاہُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَکَلَّمَ أَھْلَہُ فَخَفَّفُوْا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے راویت ہے کہ ابوطیبہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اناج کا ایک صاع دیا اور اس کے مالک سے اس پر آسانی کرنے کی سفارش کی، پس انھوں نے اس سے تخفیف کر دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6140

۔ (۶۱۴۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ لَا یَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۳۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ کسی کاحق نہیں مارتے تھے، (یعنی اس کو اس کی اجرت دی)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6141

۔ (۶۱۴۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْکُلُوْا بِہٖوَلَاتَسْتَکْثِرُوْابِہٖوَلَاتَجْفُوْاعَنْہُ،وَلَاتَغْلُوْافِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۰)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کوکھانے کا ذریعہ نہ بنائو اور نہ ہی اس کے ذریعہ مال کی کثرت طلب کرو، اس کی تلاوت سے نہ دوری اختیار کرواور نہ اس کے بارے میں غلوّ میں پڑو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6142

۔ (۶۱۴۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّہُ مَرَّ بِرَجُلٍ وَھُوَ یَقْرَأُ عَلٰی قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْیَسْأَلِ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہٖفَاِنَّہُسَیَجِیْئُ قَوْمٌ یَقْرَؤُنَ الْقُرْآنَ یَسْأَلُوْنَ النَّاسَ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۲۶)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ ایک قوم پر قرآن مجید کی تلاوت کررہا تھا،جب وہ فارغ ہوا تو لوگوں سے مانگناشروع کردیا، سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ منظر دیکھ کر کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاـ: جوقرآن مجید کی تلاوت کرے، وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے، عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی کہ جوقرآن پاک کی تلاوت کرے گی اور پھر اس کے ذریعے سے لوگوں سے سوال کرے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6143

۔ (۶۱۴۳)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَھْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ فَأَھْدٰی إِلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَیْسَ لِیْ بِمَالٍ وَأَرْمِیْ عَنْہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی، فَسَاَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنْ سَرَّکَ أَنْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۶۵)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک آدمی نے مجھے بطور ہدیہ ایک کمان دی، میں نے بھی سوچا کہ یہ میرے لیے مال نہیں ہے، بلکہ میں اس کے ذریعے اللہ تعالی کے راستے میں تیر پھینکوں گا، پس میں نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کے بدلے میں تجھے آگ کا طوق ڈالا جائے تو پھر اس کو قبول کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6144

۔ (۶۱۴۴)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اجْعَلْنِیْ إِمَامَ قَوْمِیْ، قَالَ: ((أَنْتَ إِمَامُہُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِہِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا یَأْخُذُ عَلٰی أَذَانِہِ أَجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۰)
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام بنادیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی تو ان کا امام ہے، ان میں سے سب سے کمزور آدمی کا خیال رکھنا اور ایسا مؤذن مقرر کرنا، جو اپنی اذان پر اجرت لینے والا نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6145

۔ (۶۱۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ، فِیْنَا الْعَرَبِیُّ وَالْعَجَمِیُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْاَبْیَضُ، إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَنْتُمْ فِیْ خَیْرٍ، تَقْرَؤُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَسَیَأْتِیْ عَلٰی النَّاسِ زَمَانٌ یُثَقِّفُوْنَہُ کَمَا یُثَقِّفُوْنَ الْقِدْحَ یَتَعَجَّلُوْنَ اُجُوْرَھُمْ وَلَا یَتَأَجَّلُوْنَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۱۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے، ہم میںعرب اور عجم اور کالے اور سفید لوگ موجود تھے، اتنے میںاچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم خیر و بھلائی پر ہو، اللہ تعالی کی کتاب پڑھ رہے ہو اور اللہ کے رسول تمہارے اندر موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ وہ ادائیگی کے لحاظ سے تو قرآن مجید کے الفاظ کو اس طرح سیدھا ادا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی حاصل کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6146

۔ (۶۱۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَرِیَّۃٍ ثَلَاثِیْنَ رَاکِبًا، قَالَ: فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ: فَسَأَلْنَاھُمْ أَنْ یُضَیِّفُوْنَا فَأَبَوْا، قَالَ: فَلُدِغَ سَیِّدُھُمْ، قَالَ: فَاَتَوْنَا فَقَالُوْا: فِیْکُمْ أَحَدٌ یَرْقِیْ مِنَ الْعَقْرَبِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا وَلٰکِنْ لَا أَفْعَلُ حَتّٰی تُعْطُوْنَا شَیْئًا، قَالُوْا: فَإِنَّا نُعْطِیْکُمْ ثَلَاثِیْنَ شَاۃً، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَیْہَا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَبَرَأَ (وَفِیْ لَفْظٍ: قَالَ: فَجَعَلَ یَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَیَجْمَعُ بُزَاقَہُ وَیَتْفِلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْھُمْ بِالشَّائِ، قَالَ: فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ، قَالَ: عَرَضَ فِیْ أَنْفُسِنَا مِنْہَا، قَالَ: فَکَفَفْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ أَصْحَابِیْ: لَمْ یَعْہَدْ إِلَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا بِشَیْئٍ لَا نَاْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا حَتّٰی نَاْتِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَذَکَرْنَا ذَالِکَ لَہُ فقَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ، اِقْسِمُوْھَا وَاضْرِبُوْا لِیْ مَعَکُمْ بِسَہْمٍ، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ: کُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَکَ وَمَا یُدْرِیْکَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أُلْقِیَ فِیْ رَوْعِیْ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۸۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم تیس سوار مجاہدین کو ایک سریّے میں بھیجا، ہم عرب کی ایک قوم کے پاس اترے اوران سے میزبانی کا اپنا حق طلب کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ہوا یوں کہ ان کے ایک سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اورکہنے لگے کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی ڈسنے کا دم کر لیتا ہے، سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں میں کرلیتا ہوں، لیکن میںاس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم ہمیں کچھ عطا نہیں کروگے، انہوں نے کہا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے، سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںنے اس پر سورۂ فاتحہ پرھنی شروع کی اور سات مرتبہ پڑھی،اپنی تھوک جمع کرتا اور پھر اس پر تھوک دیتا، پس وہ تندرست ہوگیا اور انہوں نے تیس بکریاں دے دیں، جب ہم نے وہ بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں، تو ہمیں شک ہو نے لگا (کہ پتہ نہیںیہ ہمارے لئے حلال بھی ہیںیا کہ نہیں)۔سو ہم ان پر کوئی کاروائی کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ ان کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت نہ کر لیں۔ جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے کیسے جانا کہ یہ دم ہے! ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ مقرر کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو خود بھی کھا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلا، بھلا تجھے کیسے پتہ چلا تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: جی بس میرے دل میںیہ بات ڈال دی گئی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6147

۔ (۶۱۴۷)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ رِفَاعَۃَ قَالَ: نَہَانَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کَسْبِ الْإِمَائِ اِلَّا مَا عَمِلَتْ بِیَدِھَا وَقَالَ: ھٰکَذَا بِاَصَابِعِہِ نَحْوَ الْخُبْزِ وَالْغَزْلِ والنَّفْشِ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۰۷)
۔ رافع بن رفاعہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا، مگر وہ جو وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کی کمائی کر لیتی ہو،پھر راوی نے اپنی انگلیوں کی مدد سے روٹی پکانے، سوتر کاتنے اور روئی دھنسنے کی طرف اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6148

۔ (۶۱۴۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجْتَنِی الْکَبَاثَ فقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْہُ فَاِنَّہُ أَطْیَبُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَکُنْتَ تَرَعَی الْغَنَمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَھَلْ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا قَدْ رَعَاھَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیلو چن رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیاہ رنگ والے چنو، کیونکہیہ بہت عمدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ ہر نبی بکریاں چراتارہاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6149

۔ (۶۱۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ وَبُعِثْتُ وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِأَھْلِیْ بِجَیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اس حال میں مبعوث کیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو میں بھی جیاد میں اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6150

۔ (۶۱۵۰)۔ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَۃُ الْعَبَدِیُّ ثِیَابًا مِنْ ھَجَرَ، قَالَ: فَاَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاوَمَنَا فِیْ سَرَاوِیْلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُوْنَ یَزِنُوْنَ بِالْأُجْرَۃِ، فَقَالَ لِلْوَزَّانِ: ((زِنْ وَأَرْجِحْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۰۸)
۔ سیدنا سوید بن قیس کہتے ہیں، میں اور مخرمہ عبدی ہجر کے علاقہ سے کپڑا لائے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت پر وزن کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔

آیت نمبر