Musnad Ahmad

Search Results(1)

99)

99) ودیعت اور عاریہ کے مسائل

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6160

۔ (۶۱۶۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَحْیَا أَرْضًا مَیْتَۃً فَلَہُ فِیْہَایَعْنِیْ أَجْرًا وَمَا أَکَلَتِ الْعَوَافِیْ مِنْہَا فَہُوَ لَہُ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۲۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مردہ زمین آباد کرے گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور رزق طلب کرنے والے جو جان دار بھی وہاں سے کھائیں گے، اس کے لیےیہ صدقہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6161

۔ (۶۱۶۱)۔ وَعِنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی أَرْضٍ فَہِیَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۹۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6162

۔ (۶۱۶۲)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلٰی أَرْضٍ فَہِیَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۰۱)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی زمین پر دیوار کا گھیرا کر لے گا تو وہ اسی کی ہو گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6163

۔ (۶۱۶۳)۔ عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَمَرَ أَرْضًا لَیْسَتْ لِأَحَدٍ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا)) (مسند احمد: ۲۵۳۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایسی زمین آباد کرے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6164

۔ (۶۱۶۴)۔ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَکْحُوْلٍ رَفَعَہُ قَالَ: ((أَیُّمَا شَجَرَۃٍ أَظَلَّتْ عَلٰی قَوْمٍ فَصَاحِبُہُ بِالْخِیَارِ مِنْ قَطْعِ مَا أَظَلَّ أَوَ أَکْلِ ثَمْرِھَا)) (مسند احمد: ۱۶۱۶۴)
۔ مکحول تابعی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو درخت کسی قوم پر سایہ کرنے لگے تو سائے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سایہ کرنے والے حصے کو کاٹ دے یا اس کا پھل کھا لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6165

۔ (۶۱۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَرِیْمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُوْنَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالِیْہَا کُلِّہَا لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، وَابْنُ السَّبِیْلِ أَوَّلُ شَارِبٍ، وَلاَ یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ بِہِ الْکَلَأُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنویں کا احاطہ اس کی تمام اطراف سے چالیس ہاتھ ہو گا، یہ جگہ اونٹوں اور بکریوں کے بیٹھنے کے لیے ہو گی اور ایسے کنویں سے پینے والا پہلا شخص مسافر ہو گا اور زائد پانی سے اس مقصد کے لیے نہیں روکا جائے گا کہ اس کے ذریعے سے گھاس سے منع کر دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6166

۔ (۶۱۶۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی النَّخْلَۃِ أَوِ النَّخْلَتَیْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَیَخْتَلِفُوْنَ فِیْ حُقُوْقِ ذٰلِکَ، فَقَضٰی أَنَّ لِکُلِّ نَخْلَۃٍ مِنْ أُوْلٰئِکَ مَبْلَغَ جَرِیْدَتِہَا حَیِّزٌ لَھَا۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکیا دو یا تین کھجور کے درختوں کے بارے میںیہ فیصلہ کیا تھا، جبکہ لوگ ان کے حقوق کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہیہ کیا کہ ہر کھجور کی ٹہنیاں جہاں تک پہنچ رہی ہیں، وہ جگہ اسی درخت کا احاطہ ہو گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6167

۔ (۶۱۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ خِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَائُ فِیْ ثَلَاثٍ، فِیْ الْمَائِ وَالْکَلَأِ وَالنَّارِ)) (مسند احمد: ۲۳۴۷۱)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں مسلمان برابر کے شریک ہیں، پانی ، گھاس اور آگ میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6168

۔ (۶۱۶۸)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو (بْنِ الْعَاصِ) کَتَبَ إِلٰی عَامِلٍ لَہُ عَلٰی أَرْضٍ لَہُ أَنْ لَا تَمْنَعَ فَضْلَ مَائِ کَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَائِ لِیَمْنَعَ بِہِ الْکَلَأَ مَنَعَ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَضْلَہُ۔)) (مسند احمد:۶۷۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی زمین کے ایک عامل کو لکھا کہ زائد پانی سے کسی کو نہ روکنا‘ کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اس مقصد کے لیے زائد پانی کو روک لیاکہ گھاس کو روک لے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6169

۔ (۶۱۶۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ بَعْدَ أَنْ یُسْتَغْنٰی عَنْہُ وَلَا فَضْلُ مَرْعًی)) (مسند احمد: ۱۰۵۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرورت پوری ہو جانے کے بعد زائد پانی کو نہ روکا جائے اور نہ زائد چراگاہ کو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6170

۔ (۶۱۷۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًایَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایُمْنَعُ فَضْلُ الْمَائِ لِیُمْنَعَ بِہِ الْکَلَأُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۷۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زائد پانی نہ روکاجائے تاکہ اس سے گھاس میں رکاوٹ ڈال دی جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6171

۔ (۶۱۷۱)۔ عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُمْنَعُ نَقْعُ مَائٍ وَلَا رَھْوُ بِئْرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۲۲)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ کنویں کا زائد پانی روکا جائے اور نہ کنویں سے بہہ کر نشیبی جگہ میں اکٹھا ہو جانے والا پانی روکا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6172

۔ (۶۱۷۲)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (فَذَکَرَ أَحْکَامًا مُتَنَوِّعَۃً مِنْہَا) وَقَضٰی بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ فِی النَّخْلِ لَا یُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ، وَقَضٰی بَیْنَ أَھْلِ الْبَادِیَّۃِ أَنْ لَا یُمْنَعَ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ فَضْلُ الْکَلَأِ (وَقَضٰی) فِیْ شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّیْلِ أَنَّ الْأَعْلٰییُشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَیُتْرَکُ الْمَائُ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ یُرْسَلُ الْمَائُ إِلَی الْأَسْفَلِ الَّذِیْیَلِیْہِ وَکَذٰلِکَ حَتّٰی تَنْقَضِیَ الْحَوَائِطُ أَوْ یَفْنَی الْمَائُ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فیصلوں میں سے بعض فیصلےیہ ہیں، (اس حدیث میں انھوں نے کئی فیصلے ذکر کیے، بیچ میں دو فیصلےیہ تھے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مدینہ کے مابینیہ فیصلہ کیا کہ کنویں کے زائد یا جمع شدہ پانی سے نہ روکا جائے اور دیہاتی لوگوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد گھاس سے منع کرنے کے ارادے سے زائد پانی کو نہ روکا جائے۔ اور نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک باغات ختم ہو جائیںیا پانی ختم ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6173

۔ (۶۱۷۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ الزُّبَیْرَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِیْیَسْقُوْنَ بِہَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ لِلزُّبَیْرِ: سَرِّحِ الْمَائَ، فَاَبٰی فَکَلَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْقِ یَا زُبَیْرُ! ثُمَّ اَرْسِلْ إِلٰی جَارِکَ۔)) فَغَضِبَ الْأَنْصَارِیُّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْ کَانَ ابنَ عَمَّتِکَ، فَتَلَوَّنَ وَجْہُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((احْبِسِ الْمَائَ حَتّٰییَبْلُغَ إِلَی الْجَدْرِ۔)) قَالَ الزُّبَیْرُ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَأَحْسِبُ ھٰذِہٖالْأٰیَۃَ نَزَلَتْ فِیْ ذٰلِکَ: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ…} إِلٰی قَوْلِہِ: {وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} (مسند احمد: ۱۶۲۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کے ایک نالے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، وہ اس نالے سے کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میری کھجوروں کے لئے پانی چھوڑدو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، انصاری وہ مقدمہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زبیر! تم پہلے سیراب کر کے پانی کواپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ لیکن اس فیصلے سے انصاری کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زبیر! اب اتنی دیر پانی روک کر رکھنا کہ منڈیر تک پہنچ جائے، پھر آگے چھوڑنا۔ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں ہی نازل ہوئی تھی: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! وہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ وہ آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ (سورۂ نسائ: ۶۵)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6174

۔ (۶۱۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَقْطَعَ الزُبَیْرَ حُضْرَ فَرْسِہِ بِأَرْضٍ یُقَالَ لَھَا: ثُرَیْرٌ، فَأَجْرَی الْفَرَسَ حَتّٰی قَامَ ثُمَّ رَمٰی بِسَوْطِہِ، فَقَالَ: ((اَعْطُوْہُ حَیْثُ بَلَغَ السَّوْطُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ثریر نامی زمین سے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اتنی جگہ الاٹ کر دی، جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، پس انھوں نے گھوڑا دوڑایا،یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہو گیا تو انھوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اتنی جگہ دے دو، جہاں تک اس کا کوڑا پہنچا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6175

۔ (۶۱۷۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ: أَقْطَعَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا فَذَھَبَ الزُّبَیْرُ اِلٰی آلِ عُمَرَ فَاشْتَرٰی نَصِیْبَہُ فَأَتٰی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا وَاِنِّی اِشْتَرَیْتُ نَصِیْبَ آلِ عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَبْدُالرَّحْمٰنِ جَائِزُ الشَّھَادَۃِ، لَہُ وَعَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۰)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی، پھر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،آلِ عمر کے پاس گئے اور ان کا حصہ خرید کر سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور کہا: سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی تھی اور میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سچی شہادت والے ہیں، وہ ان کے حق میں ہے یا ان کی مخالفت میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6176

۔ (۶۱۷۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا الْأَنْصَارَ لِیُقْطِعَ لَھُمُ الْبَحْرَیْنِ، فَقَالُوْا: لَا، حَتّٰی تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا الْمُہَاجِرِیْنَ مِثْلَنَا، فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ أَثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۰۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کی زمین ان کو الاٹ کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، (ہم اس وقت تک یہ زمین نہیں لیں گے) جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی طرح کی جاگیر نہیں دیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تم میرے بعد اپنے آپ پر ترجیح کو پاؤ گے، پس صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6177

۔ (۶۱۷۷)۔ عَنْ کُلْثُوْمٍ عَنْ زَیْنَبَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَّثَ النِّسَائَ خِطَطَھُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۸۹)
۔ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوںکو ان کے گھروں کا وارث بنایا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6178

۔ (۶۱۷۸)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَانَتْ زَیْنَبُ تَفْلِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہُ اِمْرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَعْظُوْنٍ وَنِسَائٌ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ یَشْکُوْنَ مَنَازِلَھُنَّ وَأَنَّہُنَّ یُخْرَجْنَ مِنْہُ وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِنَّ فِیْہِ، فَتَکَلَّمَتْ زَیْنَبُ وَتَرَکَتْ رَأْسَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکِ لَسْتِ تَکَلَّمِیْنَ بِعَیْنَیْکِ، تَکَلَّمِیْ وَاعْمَلِیْ عَمَلَکِ۔)) فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمَئِذٍ أَنْ یُوَرَّثَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ النِّسَائُ، فَمَاتَ عَبْدُ اللّٰہِ (بْنُ مَسْعُوْدٍ) فَوَرِثَتْہُ اِمْرَأَتُہُ دَارًا بِالْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۹۰)
۔ (دوسری سند)کلثوم کہتے ہیں: سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جوئیں نکال رہی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی اور کچھ مہاجر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں،یہ اپنے گھروں کے بارے میں شکایت کر رہی تھیں کہ (خاوند کی وفات کے بعد) ان کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر تنگی کر دی جاتی ہے، سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک چھوڑ کر بات کرنے لگ گئیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنی آنکھوں سے تو باتیں نہیں کرنی، بات بھی کرو اور اپنا کام بھی کرو۔ (یہ ساری باتیں سن کر) اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ عورتوں کو (ان کے مہاجر خاوندوں) کا وارث بنا یا جائے، پس جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ ان کے مدینہ والے گھر کی وارث بنیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6179

۔ (۶۱۷۹)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ اَبِیْہِ (وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ أَرْضًا قَالَ: فَاَرْسَلَ مَعِیَ مُعَاوِیَۃَ أَنْ أَعْطِہَا إِیَّاہُ أَوْقَالَ: اَعْلِمْہَا اِیَّاہُ۔ قَالَ: فَقَالَ لِیْ مُعَاوِیَۃُ: أَرْدِفْنِیْ خَلْفَکَ، فَقُلْتُ: لَا تَکُوْنُ مِنَ أَرْدَافِ الْمُلُوْکِ، قَالَ: فَقَالَ: أَعْطِنِیْ نَعْلَکَ، فَقُلْتُ: انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَۃِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِیَۃُ أَتَیْتُہُ فَأَقْعَدَنِیْ مَعَہُ عَلٰی السَّرِیْرِ فَذَکَّرَنِی الْحَدِیْثَ، فَقَالَ سِمَاکٌ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): فَقَالَ: وَدِدْتُ اَنِّیْ کُنْتُ حَمَلْتُہُ بَیْنَیَدَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۸۱)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک زمین الاٹ دی اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے یہ زمین دے سکیںیا اس کی نشاندہی کر سکیں۔ سیدنا وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو، لیکن میں نے کہا: اے معاویہ! آپ بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں (یا ان کے نائب بننے والوں میں سے) نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: تو پھر مجھے اپنا جوتا دے دو (تاکہ میں زمین کی شدت سے بچ سکوں)، میں نے کہا: اونٹنی کے سائے میں چل لو۔ پھر جب سیدنا معاویہ خلیفہ منتخب ہوئے اورمیں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور مجھے یہ بات یاد کرا دی، میں نے کہا: اب تو میںیہ پسند کر رہا ہوں کہ کاش آپ کو اپنے سامنے بٹھا لیتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6180

۔ (۶۱۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَلَ أَھْلَ خَیْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ، فَکَانَ یُعْطِیْ أَزْوَاجَہُ کُلَّ عَامٍ مِائَۃَ وَسْقٍ، ثَمَانِیْنَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِیْنَ وَسْقًا مِنْ شَعِیْرٍ، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَمَ خَیْبَرَ فَخَیَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُقْطِعَ لَھُنَّ مِنَ الْأَرْضِ أَوْ یَضْمَنَ لَھُنَّ الْوُسُوْقَ کُلَّ عَامٍ، فَاخْتَلَفْنَ، فَمِنْہُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ یُقْطِعَ لَھَا الْأَرْضَ وَمِنْہُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوْقَ وَکَانَتْ حَفْصَۃُ وَعَائِشَۃُ مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوْقَ۔ (مسند احمد: ۴۷۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل خیبر سے کھیتییا پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر سال اپنی بیویوں کو اسی وسق کھجوروں کے اور بیس وسق جو، یعنی کل سو وسق دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے اور خیبر کو تقسیم کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین الاٹ کر دی جائے یا (سابقہ روٹین کے مطابق) ہر سال ان کو وسق دے دیئے جائیں، امہات المؤمنین نے مختلف انداز اختیار کیے، بعض نے اس چیز کو پسند کیا کہ زمین ان کے نام الاٹ کر دی جائے اور بعض نے اس چیز کو ترجیح دی کہ ان کو وسق ہی دے دئیے جائیں، سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ان میں سے تھیں، جنھوں نے وسق پسند کیے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6181

۔ (۶۱۸۱)۔ عَنْ کَثِیْر بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ مَعَادِنَ الْقَبَلِیَّۃَ جَلْسِیَّہَا وَغَوْرِیَّہَا وَحَیْثُ یَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ یُعْطِہِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَکَتَبَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، ھٰذَا مَا أَعْطٰی مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنیَّ أَعْطَاہُ مَعَادِنَ الْقَبَلِیَّۃِ جَلْسِیَّہَا وَغَوْرِیَّہَا وَحَیْثُیَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ یُعْطِہِ حَقَّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۵)
۔ عمرو بن عوف اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قبلیہ علاقے کی کانیں برائے جاگیر عنایت فرمادیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل تھی، وہ سب انہیں دے دی تھی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کسی مسلمان کا حق نہیں دیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے حق میںیہ تحریر لکھی تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،یہ وہ زمین ہے، جو محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قبلیہ علاقے کی کانیں کی دی ہیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل ہے، وہ ان کو دے دی ہے، جبکہ یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا، جو ان کو دے دیا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6182

۔
۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6183

۔ (۶۱۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمٰی النَّقِیْعَ لِخَیْلِہِ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع نامی جگہ کو اپنے گھوڑوں کے لئے بطور چراگاہ مقرر کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6184

۔ (۶۱۸۴)۔ (وَلَہُ طَرِیْقٌ ثَانٍ عِنْدَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ أَیْضًا) قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أن النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ لِلْخَیْلِ قَالَ حَمَّادٌ: فَقُلْتُ لَہُ: (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ (یَعْنِی الْعُمَرِیَّ)! لِخَیْلِہِ؟ قَالَ: لَا، لِخَیْلِ الْمُسْلِمَیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۴۳۸)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع کی جگہ کو گھوڑوں کے لئے بطورِ چراگاہ مقرر کر دیا، حماد کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6185

۔ (۶۱۸۵)۔ عَنِ الصَّعْبِ بنِ جَثَّامَۃَ اللَّیْثِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ وَقَالَ: ((لَاحِمٰی اِلَّا لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۸۰)
۔ سیدناصعب بن جثامہ لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع مقام کو بطورِ چراگاہ خاص کیا اور فرمایا: اس طرح چراگاہ کو خاص کرنے کا حق صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ہے۔

آیت نمبر