AL SILSILA SAHIHA

Search Results(1)

10)

10) حج اور عمرے کابیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1527

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عن رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: أتانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ فَإِنَّهَا مِنْ شَعَائرِ الْحَجِّ.
) زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور كہا: اے محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے صحابہ كو حكم دو كہ تلبیہ میں آواز بلند كریں كیوں كہ یہ حج كے شعائر میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1528

عن ابن عباس مرفوعا: أَدِيْمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ والذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ حج اور عمرے پردوام اختیار كرو، كیوں كہ یہ دونوں محتاجی اور گناہوں كو اس طرح ختم كر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے كا زنگ ختم كر دیتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1529

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَأَرَادَ الْخُرُوجَ وَلَمْ تَكُنْ أُمُّ سَلَمَةَ طَافَتْ بِالْبَيْتِ وَأَرَادَتِ الْخُرُوجَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ فَلَمْ تُصَلِّ حَتَّى خَرَجَتْ.
) ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آپ مكہ میں تھے اور واپس جانے كا ارادہ كر رہے تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ابھی بیت اللہ كا طواف نہیں كیا تھا۔ انہوں نے بھی واپس جانے كا ارادہ كر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا: جب صبح كی نماز كی اقامت ہو جائےاور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں تو اپنے اونٹ پر سوار ہو كر طواف كر لینا ۔ انہوں نے ایسا ہی كیا انہوں نے مکہ سے نکل کر نماز پڑھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1530

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا طُفْتُ طَوَافَ الْخُرُوجِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ.
) ام سلمہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میں نے طواف خروج (طواف وداع) تو كیا ہی نہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز كی اقامت كہہ دی جائے تو لوگوں كے پیچھے اپنے اونٹ پر سوار ہو كر طواف كر لو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1531

عن ابن عَبَاس قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم إذا رَمَيْتَ الْجِمَارَ كَان لَك نوراً يَوْم الْقِيَامَة.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رمی جمار کروگے تو قیامت كے دن تمہارے لئے نور كا باعث ہوگا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1532

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمرہ كو كنكریاں مار لو تو تمہارے لے بیویوں كے علاوہ ہر چیز حلال ہوگئی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1533

عن عَائَشَة مرفوعاً: إِذا قَضَى أَحَدُكُمْ حَجَّهُ فَلْيُعَجِّل الرِّحْلَة إلى أَهِلِهِ فَإِنَّهُ أُعَظَمُ لِأَجْرِهِ.
) عائشہ رضی اللہ عنہا سےمرفوعا مروی ہےكہ: جب تم میں سےكوئی شخص اپنا حج مكمل كر لے تو وہ اپنے گھر والوں كی طرف واپسی میں جلدی كرے، كیوں كہ یہ اس كے لئے بڑے اجر كا باعث ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1534

عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ أَبِيهَا أَنَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَه: أَرْدِفْ أُخْتَكَ عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ الأَكَمَةَ فَمُرْھَا فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ
حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بكر رضی اللہ عنہا اپنے والد سے بیان كرتی ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنی بہن عائشہ رضی اللہ عنہا كو اپنے پیچھے بٹھالواور اسے تنعیم سے عمرہ كرواؤ ، جب تم ٹیلےسے اترو، تو اسے احرام باندھنے كا كہو، یہ مقبول عمرہ ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1535

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہےكہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:وادی محسر كےاوپر سے جاؤ اور(چنےکی مانند)چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1536

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌العَام الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:اُرْمُلُوا بِالْبَيْتِ لِيَرى الْمُشْرِكينَ قُوَّتَكُمْ فَلَمَّارَمَلُوا قَالَتْ قُرَيْشٌ مَا وَهَنَتْهُمْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ قریش نے كہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس كے ساتھیوں كو یثرب كے بخارنے كمزور كر دیا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ كرنے کےلئے مكہ آئے تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے كہا:بیت اللہ کے گرد تین مرتبہ دوڑکرچکرلگاؤتاكہ مشركین تمہاری قوت دیكھ لیں، جب انہوں نےدوڑکرچکرلگائےتوقریش کہنے لگے: بخار نے تو انہیں کمزور ہی نہیں کیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1537

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اُرْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ.
) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چنے کے برابر چھوٹی کنکریوں سے رمی کرو۔( ) یہ حدیث صحابہ کی جماعت سے جن میں ؟؟؟ بن سنہ، عبدالرحمن بن معاذ تیمی، ام سلیمان، ابن عمرو بن الاحوص، عثمان بن عبید التیمی اور جابر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1538

عن ابن عمر مرفوعاً: اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذَا الْبَيْتِ فَإِنَّه قَدْ هُدِمَ مَرَّتَيْن وَيُرْفَع في الثَّالِثَة.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےمرفوعا مروی ہے كہ اس گھر سے فائدہ اٹھاؤكیوں كہ یہ دومرتبہ گرایا جا چكا ہےاورتیسری مرتبہ اس کو اٹھا لیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1539

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهم هَذِهِ حَجَّةٌ لَا رِيَاءَ فِيهَا وَلَا سُمْعَةَ.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ یہ ایسا حج ہے جس میں نہ كوئی ریا ہے اور نہ كوئی دکھاوا۔ ( ) یہ حدیث انس، ابن عباس اور بشر بن قدامہ ؟؟؟ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1540

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَل عَلىَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِأَرْبَع ليالٍ خَلَوْنَ أَوْ خَمْسٍ مِنْ ذِى الْحجَّةِ فِي حَجَّتِهِ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَغْضَبَكَ أَدْخَلَهُ الله النَّارَ؟! فَقَالَ: أَمَا شَعَرْتِ أَنِّى أَمَرْتهم بِأَمْرٍ فَهُمْ يَتَرَدَّدُونَ وَلَوْ كُنت اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْىَ وَلَا اشْتَريْتُهُ حَتى أَحِلَّ كَمَا حَلُّوا.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ حج كے موقع پر ذی الحج کی چار یا پانچ راتیں گزر چكی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس غصے كی حالت میں آئے۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ كو كس شخص نے غصہ دلایا؟ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں داخل كرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تمہیں معلوم نہیں كہ میں نے انہیں ایك حكم دیا تھا لیكن یہ لوگ ابھی تك تردد میں ہیں۔اگر مجھے اس بات کی پہلے خبر ہوتی جو بعد میں ہوئی ہے تو میں قربانی کے جانور کے ساتھ نہ لاتا اور نہ ہی (حج سے پہلے) خریدتا یہاں تک کہ میں بھی ان کی طرح حلال ہوجاتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1541

قال صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الله يَقُولُ: إِنَّ عَبْدًا أَصَححتُ لَه جِسْمَه وَوَسَّعْتُ عَلَيْهِ في الْمَعِيشَة تَمْضِي عَلَيْهِ خَمْسَةُ أَعْوَامٍ لَا يَفِدُ إِلَيَّ لَمَحْرُومٌ.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا وہ بندہ جس كا جسم میں نے تندرست بنایا، اس كی معیشت كشادہ كی، اس كے پانچ سال گزر جائیں اور وہ حج كا سفر نہ كرے تو وہ(بھلائی سے)محروم ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1542

عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا رَمَى الْجِمَارَ مَشَى إِلَيْهَا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرات کو کنکریاں مارنے کے لئے پیدل چلتے ہوئے آتے اور واپس لوٹتے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1543

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ طُعْمٍ وَذِكْرِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایامِ تشریق ،كھانے اور ذكر كے دن ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1544

عَنْ جَابِرِ مرفوعا: بِرُّ الْحَجِّ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَطِيبُ الْكَلاَمِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: حج كی نیكی كھانا كھلانا اور عمدہ گفتگو ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1545

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حج اورعمرہ بار باركرو كیوں كہ یہ محتاجی اورگناہ اس طرح ختم كر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہےكا زنگ ختم كر دیتی ہے۔ یہ حدیث عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عمر بن خطاب اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1546

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ إِذَا أَتَتَا عَلَى الْوَقْتِ تَغْتَسِلاَنِ وَتُحْرِمَانِ وَتَقْضِيَانِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حائضہ اور نفاس والی جب اس جال میں میقات پر پہنچ جائیں تو غسل كریں، احرام باندھیں اور بیت اللہ كا طواف كے علاوہ تمام مناسك ادا كریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1547

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قال: سُئِل رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أَفْضَلُ الحَجُّ؟ قَالَ: الْعَجُّ وَالثَّجُّ.
ابو بكر صدیق‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےپوچھاگیا:كونسا حج افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:جس میں بلند آواز سے تلبیہ پڑھا جائے اور قربانی کے جانوروں کا خون بہایا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1548

عن جابر قال: قال رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللهِ دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ.
جابر‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجاج اور عمرہ كرنے والے اللہ كا وفد ہیں۔ اللہ نے انہیں بلایا انہوں نےاللہ كے بلاوے كو قبول كیا، انہوں نے اللہ سے مانگا ،اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا كیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1549

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مرفوعا: خَمْسٌ مِّنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِى قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ: الْغُرَابُ، وَالْحِدْأَةُ، وَالْفَاْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں قتل كرنے سے مر م پر كوئی گناہ نہیں، كوا، چیل، چوہیا، بچھو اور پاگل كتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1550

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعاً: خَيْرُ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مَاءُ زَمْزَمَ فِيهِ طَعَامٌ مِنَ الطُّعْمِ وَشِفَاءٌ مِنَ السُّقْمِ، وَشَرُّ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مَاءٌ بِوَادِي بَرَهُوتٍ بَقِيَّةُ حَضْرَمَوْت كَرِجْلِ الْجَرَادِ مِنَ الْهَوَامِّ يُصْبِحُ يَتَدَفَّقُ وَيُمْسِي لا بَلالَ بِهَا.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: روئے زمین پر بہترین پانی آبِ زم زم ہے، اس میں كھانے كی قوت اور بیماری سے شفا ہے۔ اور روئے زمین پر بدترین پانی، برہوت وادی كا پانی ہے جو حضر موت كا باقی ماندہ علاقہ ہے۔جو زہریلے کیڑے مکوڑوں میں سے ٹڈی کے پاؤں کی طرح ہے،صبح ہوتی ہے تو زور سے بہتا ہے اور شام کو کوئی نمی باقی نہیں رہتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1551

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الرَّاعِي يَرْمِي بِاللَّيلِ، ويَرْعَى بِالنَّهَارِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سےمروی ہےكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:چرواہارات كےوقت رمی كرسكتاہےاوردن كےوقت بكریاں چرا سكتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1552

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الرَّاعِي يَرْمِي باللَّيلِ، ويَرْعَى بالنَّهَارِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سےمروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چرواہا رات كے وقت رمی كر سكتا ہے اور دن كے وقت بكریاں چراسكتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1553

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهَا: طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجّكِ وَعُمْرَتِكِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا: تمہارا بیت اللہ كا طواف اور صفا ومروہ كے درمیان سعی كرنا، تمہارے حج اور عمرے كے لئے كافی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1554

عَنِ الفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ: عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى فَهَبَطَ حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا قَالَ: عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي تُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ.
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ:جب لوگ عرفہ كی رات اور(عرفات میں)جمع ہونے كی صبح ایك دوسرے كو دھكے دے رہے تھےتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سےفرمایا:سكینت ووقار اختیار كرو۔ آپ اپنی اونٹنی كو قابو كئے ہوئے تھے۔ جب آپ منیٰ میں داخل ہوئے تو نیچے اتر آئے ، جب محسر میں نیچے اترےتو آپ نے فرمایا: تم (چنے کی مانند)چھوٹی كنكریاں لو جن سے جمرہ كو كنكریاں ماری جائیں گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1555

) عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (معاوية بن حيدة) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَاطِعُ السِّدْرِ يُصَوِّبُ اللهُ رَأْسَهُ فِى النَّارِ.
بھز بن حكیم اپنے والد سے وہ ان كے دادا(معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ )سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بیری كو كاٹنے والا، اللہ تعالیٰ اس كے سر كو جہنم کی آگ میں غوطہ دے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1556

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَمَى جَمَرَة الْعَقَبَةِ مَضَى وَلَمْ يَقِفْ.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جمرہ عقبہ كو كنكریاں ماریں تو چل پڑے اور ركے نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1557

عَنْ ابْنِ عُمر: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا طَاف بِالْبَيْتِ مَسَحَ أَو قَالَ: اسْتَلَمَ الْحَجَرَ و الرُّكْنَ في كُلِّ طَوَافٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیت اللہ كا طواف كیا تو ہرطواف میں حجر اسود اور ركن كو چھوا یاكہاكہ استلام كیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1558

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بيوم خَطَبَ النَّاسَ فَأَخْبَرَهُمْ بِمَنَاسِكِهِمْ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یوم ترویہ سے ایك دن پہلے لوگوں كو خطبہ دیا اور مناسك كےبارے میں بتلایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1559

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:كَانَ مِنْ تَلْبِيَتِه صلی اللہ علیہ وسلم : لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كا ایك (طریقۂ)تلبیہ یہ بھی تھا: لَبَّيْكَ إِلٰهَ الْحَقِّ، حاضر ہوں اے سچے معبود۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1560

عَنْ عَائِشَة: أَنَّهَا كَانتَ تَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَتُخْبِرُ أَنَّ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كَان يَحْمِلُ مَاءَ زَمْزَم (في الأداوى والْقِرَبِ و كَان يَصُبُّ عَلَى الْمَرْضَى و يُسْقِيهِم).
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ وہ آب زم زم ساتھ اٹھا کر لاتی تھیں۔ اور بتاتی تھیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آب زم زم برتنوں اورمشكیزوں میں اٹھاتے، مریضوں پر ڈالتے اور انہیں پلاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1561

عن عثمان بن عفان:كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُخَمِّرُ وَجْهَه و هَو مُحْرِمٌ.
عثمان بن عفان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام كی حالت میں اپنا چہرہ ڈھانپ لیا كرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1562

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَزُورُ الْبَيْتَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ لَيَالِي مِنًى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ كی ہر رات بیت اللہ كی زیارت كرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1563

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَزُورُ الْبَيْتَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ لَيَالِي مِنًى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ كی ہر رات بیت اللہ كی زیارت كرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1564

كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ.
تمام ایامِ تشریق ذبح كے دن ہیں۔( ) یہ حدیث جبیر بن مطعم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور صحابی، ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1565

عن جَابِرُ بْنِ عَبْدِ اللهِ قال: قال رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مكہ كی ہر گلی ایك راستہ اور منحر( نحر كرنے كی جگہ)ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1566

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى الْمَدِينَةِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں قربانی كا گوشت مدینے لایا كرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1567

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَدَغَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَقْرَبٌ وَهُوَ يُصَلي فَقَالَ: لَعَنَ الله الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ مُصَلِّياً وَلَا غَيْرَه فَاقْتُلُوهَا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ حالتِ نماز میں ایك بچھو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو ڈس لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی بچھوپر لعنت كرے، نمازی، غیر نمازی کسی کو بھی نہیں چھوڑتا، اسے حل و حرم میں قتل كردو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1568

عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ مَرفُوعاً: لَيْس عَلَى النَّسَاء حَلْقٌ إِنَّمَا عَلَى النَّسَاء التَّقْصِير.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: (حج و عمرہ کے بعد) عورتوں پر بال منڈوانا لازم نہیں، بلكہ بال چھوٹے كروانا لازم ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1569

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: مَا أَهَلَّ مُهِلٌّ قَطُّ إِلا بُشِّرَ، وَلا كَبَّرَ مُكَبِّرٌ قَطُّ إِلا بُشِّرَ. قِيلَ: بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب بھی کو تلبیہ کہنے والا بآواز بلند تلبیہ کہتا ہے اسے خوشخبری دی جاتی ہے اور تكبیر كہنے والا جب بھی تكبیر (اللہ اكبر) كہے گا اسے خوشخبری دی جاتی ہے۔ پوچھا گیا: كیا جنت كی؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1570

عن عَائِشَة أنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ الله فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِى بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ؟
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یومِ عرفہ کےعلاوہ ایسا كوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کی بڑی تعداد كو جہنم سے آزاد كرتا ہو۔ اللہ قریب ہوتا ہے ،پھر فرشتوں پر فخر كرتا ہے اور فرماتا ہے: یہ اور كیا چاہتے ہیں؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1571

عَنْ عُقْبَةَ بن عَامِرٍ الجهني قال: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الكَعبَة حَافِيَةً حَاسِرَةً، فَأَتَي عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الكَعبَة حَافِيَةً حَاسِرَةً! فقَالَ: مُرُوهَا فَلْتَرْكَبْ ولتَخْتَمِرْ، (وَلْتَحُجَّ) (وَلْتُهْدِ هَدْياً).
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میری بہن نے نذر مانی كہ وہ ننگے سر ،ننگے پاؤں كعبے كی طرف پیدل جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس كے پاس آئے اور پوچھا: اس كا كیا معاملہ ہے؟ گھر والوں نے كہا: اس نے نذر مانی ہے كہ كعبہ كی طرف ننگے سر ننگے پاؤں پیدل جائے گی۔ آپ نے فرمایا: اسے كہو سوار ہو جائے اور چادر اوڑھ لے(حج كرے) (اور قربانی كرے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1572

عن عمر بن الْخِطَاب قال: من السَّنَة النُّزُول بِـ (الْأَبْطَح) عَشِيَّة النَّفْرِ.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ: نفر(ذی الحجہ کی ۱۲ ویں تاریخ جب حاجی منی سےواپس ہوکرمکہ معظمہ کا رخ کرتےہیں) كی رات (ابطح) میں قیام كرنا سنت ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1573

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ (سَبْعًا) وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ كَعَدلِ رَقَبَةٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے بیت اللہ كے(سات) چكر لگائے، اور دوركعتیں پڑھیں تو گویا اس نے ایك گردن آزاد كی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1574

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حبْشِى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللهُ رَأْسَهُ فِى النَّارِ (يَعنِي من سِدْرِ الحَرَمِ).
عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے بیری كا درخت كاٹا اللہ تعالیٰ اس كے سر كو آگ میں ڈالے گا( یعنی:حرم كی بیری) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1575

عن ابن عَبَاس: أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا تَحُجُّ امْرَأَةٌ إِلَا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ فَقَال رَجُلٌ: يَا نَبِي الله! إِنِّي اكتُتِبتُ في غَزَوْةِ كَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ؟ قال: ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم كے بغیر عورت حج نہ كرے، ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میرا نام فلاں غزوے میں لكھ دیا گیا ہے جب كہ میری بیوی حج کے لئے نکل چکی ہے؟ آپ نے فرمایا: جاؤ اور اس كے ساتھ حج كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1576

عَنْ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ: أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا عَلَى جَمَلٍ يَتْبَعُ رِحَالَ النَّاسِ بِمِنًى وَنَبِيُّ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم شَاهِدٌ وَالرَّجُلُ يَقُولُ: لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرَ لَنَا أَنَّ ذَلِكَ الْمُنَادِي كَانَ بِلَالًا.
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اس نے ایك آدمی كو اونٹ پر بیٹھے دیكھا، جو منیٰ میں لوگوں کی اقامت گاہوں میں جارہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے اور وہ آدمی كہہ رہا تھا: ان ایام میں روزہ مت ركھو، كیوں كہ یہ كھانے پینے كے دن ہیں۔ ہمیں بتایا گیا كہ وہ اعلان كرنےوالے بلال‌رضی اللہ عنہ تھے۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1577

عَنْ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَيَقُولُ:لَايُقْطَعُ الْأَبْطحُ إِلَّاشَدًّا.
شیبہ کی ایک لونڈ جو کہ اس کے بیٹے کی ماں تھی، مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو صفا و مروہ كے درمیان سعی كرتے دیكھا، آپ فرما رہے تھے:ابطح كودوڑ كر پار كیا جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1578

عن أبي عِمْرَان الجوني أَنَّه حَجّ مَع مَوَالِيه قال: فَأَتَيْتُ أَمَّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: يَا أَمَّ الْمُؤْمِنِين! إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ بِالْحَجّ أَو بِالْعُمْرَة؟ قَالَت: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ. وَإِنْ شِئْتَ فَبَعْدَ أَنْ تَحُجَّ فَذَهبْتُ إِلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ لِي مِثلَ ذَلكَ فَرَجَعْتُ إِلَى أَمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: يَا آلَ مُحَمَّدٍ! مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بعمرة فِي حَجِّةِ.
ابو عمران جونی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ اس نے اپنے غلاموں كے ساتھ حج كیا ،كہتے ہیں كہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا كے پاس آیا ،اور كہا: اے ام المؤمنین میں نے كبھی حج نہیں كیا، میں دونوں میں سے كس سے ابتدا كروں، حج سے یا عمرے سے؟ انہوں نے كہا: اگر چاہو تو حج سے پہلے عمرہ كر لو اور اگر چاہو تو حج كے بعد عمرہ كر لو۔ پھر میں ام المؤمنین صفیہ کے پاس آیا۔ تو انہوں نے بھی ایسے ہی بتایا۔ میں پھر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آیا میں نےصفیہ كی بات بتائی، ام سلمہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا: اے آلِ محمد ! تم میں سے جو حج كرنا چاہے وہ حج كے ساتھ عمرے کا تلبیہ كہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1579

عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَهُ غَدَاةَ جَمْعٍ: يَا بِلَالُ أَسْكِتِ النَّاس أَوْ أَنْصِتِ النَّاس ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللهِ.
) بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مزدلفہ کے دن کی صبح فرمایا: اے بلال لوگوں كو خاموش كرواؤ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس اجتماع میں تم پر فراخی كی ہے، تمہارے گناہ گار شخص كو تمہارے نیك شخص كی وجہ سے عطا كیا اور تمہارے نیك شخص نے جو سوال كیااسےعطا كیا۔ اب اللہ كے نام كے ساتھ آگے بڑھو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1580

عن عَائِشَة مرفوعا: يَا عَائِشَةُ! لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ (وَلَيْس عِنْدِي مِن النَفَقَة مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ) (لَأَنْفَقتُ كَنْزَ الكَعبَة فِي سَبِيْلِ اللهِ وَ) لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالأَرْضِ (ثُم بَنيْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيْم) وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ (مَوضُوْعَيْن فِي الأَرْضِ) بَابًا شَرْقِيًّا (يَدخُل النَاس مِنْه) وَبَابًا غَرْبِيًّا (يَخْرجُون مِنْه) وَزِدْتُ فِيه سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ –وَفِي رواية: وَلأَدخَلتُ فِيْهَا الحِجْر- فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتِ الْكَعْبَةَ. (فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِى أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّى لأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ. فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ). وفي رواية عنها: قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الْجَدْرِ –أي: الحجر- أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟ قَالَ: «نَعَمْ». قُلْتُ فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِى الْبَيْتِ؟ قَالَ: «إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ». قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا؟ قَالَ: فَعَلَ ذَلِكَ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا وفي رواية: تَعَزُّزًا أَنْ لاَ يَدْخُلَهَا إِلاَّ مَنْ أَرَادُوا فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِى حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِى الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافَ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِى الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالأَرْضِ. (فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ)، (وفي رواية: فَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى هَدْمِهِ. قَالَ يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ: وَقَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ وَبَنَاهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ الْحِجْر وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عليه السلام حِجَارَةً مُتَلَاحِمَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ مُتَلَاحِكَةً
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: اے عائشہ اگر تمہاری قوم شرك سے نئی نئی اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی( اور میرے پاس اتنامال نہیں كہ میں اس كی عمارت مضبوط كر دوں) (تومیں كعبے كے خزانے اللہ كے راستے میں خرچ كر دیتا اور) میں كعبے كو گرا كر زمین كے برابر كر دیتا(پھر ابراہیم علیہ السلام كی بنیادوں پر كھڑا كرتا)(زمین كے برابر) دو دروازے بناتا، ایك مشرقی جانب( جس سے لوگ داخل ہوتے) دوسرا مغربی جانب( جس سے لوگ باہر نكلتے) اور حجر(حطيم) كے چھ ہاتھ اس میں داخل كرتا۔ اور ایك روایت میں ہے:میں حجر كو اس میں داخل كرتا، كیوں كہ جب قریش نے كعبہ بنایا تھا تو یہ حصہ چھوڑ دیا تھا( میرے بعد اگر آپ کی قوم كو آسانی میسر ہوتو وہ اسے بنالے، آؤ میں تمہیں دكھاؤں كہ انہوں نے كونسا حصہ چھوڑا ہے۔ آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا كو سات بازو پر محیط جگہ دكھائی۔ اور ان سے مروی ایك روایت میں ہے: كہتی ہیں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا كیا یہ بیت اللہ كا حصہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میں نے كہا: تب انہوں نے اسے بیت اللہ میں داخل كیوں نہیں كیا؟ آپ نے فرمایا: تمہاری قوم كے پاس خرچ كم ہوگیا تھا۔ میں نے كہا: اس كے بلند دروازے كا كیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ تمہاری قوم نے كیا ہے تاكہ جسے وہ چاہیں داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں روك دیں۔ اور ایك روایت میں ہے: فخر كرتے ہوئے تاكہ جسے وہ چاہیں داخل ہونے دیں،جب كوئی آدمی اس میں داخل ہونا چاہتا تو اسے داخل ہونے كے لئے چھوڑ دیتے ،وہ اوپر چڑھتا جب وہ اس میں داخل ہونے والا ہوتا تو اسےدھكا دےكرگردایتے ۔ اگر تمہاری قوم نئی نئی جاہلیت سے اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی اور مجھے ڈر ہے كہ (ایسا کرنے سے) ان كے دل انكار كر دیں گے۔ تو میں جدر(دیوار، حجر) كو بیت اللہ میں داخل كروادیتا۔ اور اس كے دروازے كو زمین كے برابر كر دیتا، جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نگران بنے تو انہوں نے اسے گراگر اس كے دو دروازے بنا دیئے ۔ اور ایك روایت میں ہے: یہی وہ حدیث تھی جس نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما كو خانہ كعبہ گرانے پر ابھارا، یزید بن رومان نے كہا: جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرا كر بنایا اور اس میں حجر كو داخل كیا تو میں بھی ان كے پاس موجود تھا، میں نے ابراہیم كی بنیادوں کے پتھراس طرح جڑے ہوئے دیکھےجیسے وہ اونٹوں کی قطارکی کوہانوں کی طرح ہوں۔

آیت نمبر