Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

12)

12) میراث کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1721

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ فِي مِثْلِ مَقَامِي هَذَا فَقَالَ: أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَحْلِفُ أَحَدُهُمْ عَلَى الْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ عَلَيْهَا وَيَشْهَدُ عَلَى الشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدَ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنَالَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَسُرُّهُ حَسَنَتُهُ وَتَسُوءُهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ .
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ عمرو رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں لوگوں سے خطاب كیا، كہنے لگے: اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری طرح ایسی ہی جگہ كھڑے ہوئے اور فرمایا: میرے صحابہ سے حسنِ سلوك كرو، پھر ان لوگوں سے كرنا جو ان سے متصل ہوں، پھر ان لوگوں سے جو ان سے متصل ہوں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گےجو قسم مانگنےسے پہلے ہی قسم كھائیں گےاورگواہی مانگنے سے پہلے ہی گواہی دیں گے۔تم میں سے جوشخص جنت کی آسائش پسندکرتا ہےوہ جماعت سے چمٹا رہے، كیوں كہ شیطان ایك كے ساتھ ہوتا ہے اور دو سے دور رہتا ہے۔ كوئی شخص كسی عورت سے علیحدگی میں نہ ملے ، كیوں كہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس شخص كو اس كی نیكی خوش كرے اور برائی نا پسند لگے تو وہ مومن ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1722

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (عَبْدَاللهِ بْنِ عَمْرُوْ) قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَجَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّا أَهْلٌ وَعَشِيرَةٌ فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ فَإِنَّهُ قَدْ نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ فَقَالَ: اخْتَارُوا بَيْنَ نِسَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ. قَالُوا: خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا نَخْتَارُ أَبْنَاءَنَا قَالَ: أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَقُولُوا إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَبِالْمُؤْمِنِينَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا قَالَ: فَفَعَلُوا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ أَمَّا مَا كَانَ لِي ولِبَنِي فَزَارَةَ فَلَا وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا فَقَالَتِ الْحَيَّانِ: كَذَبْتَ بَلْ هُوَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ بِشَيْءٍ مِّنَ الْفَيْءِ فَلَهُ عَلَيْنَا سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يُفِيئُهُ اللهُ عَلَيْنَا ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَتَعَلَّقَ بِهِ النَّاسُ يَقُولُونَ اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا بَيْنَنَا حَتَّى أَلْجَئُوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي فَوَاللهِ لَوْ كَانَ لَكُمْ بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ نِعَمٌ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا لَا تَلْقَوْنِیْ بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا ثُمَّ دَنَا مِنْ بَعِيرِهِ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ فَجَعَلَهَا بَيْنَ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَفَعَهَا فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ وَلَا هَذِهِ (الوَبْرَةِ) إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَرُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا .
عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان كے دادا سے بیان كرتے ہیں( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے) كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس موجود تھا ، آپ كے پاس ہوازن كے وفود آئے اور كہنے لگے: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم بال بچوں والے اور خاندان والے ہیں، ہم پر احسان كیجئے اللہ آپ پر احسان كرے گا۔ ہم ایسی مصیبت میں گرفتار ہیں جو آپ پر مخفی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اموال اور بال بچوں میں سے كسی ایك كو چن لو۔ انہوں نے كہا: آپ نے ہمارے اموال اور اولاد میں اختیار دے دیا ہے، ہم اپنے بیٹے لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تمہارے لئے ہے۔ جب میں ظہر كی نماز پڑھوں تو تم كہنا: ہم مومنین كے سامنےاپنے بیوی بچوں كے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی سفارش ركھتے ہیں۔ انہوں نے ایسا ہی كیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو میرے لئے اور بنی عبدالمطلب كے لئے حصہ ہے وہ تمہارا ہوا۔ مہاجرین نے كہا: ہمارا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے لئے ہے۔ انصار نے بھی یہی بات كہی ۔ عیینہ بن بدر نے كہا: میرا اور بنی فزار ہ کا حصہ نہیں۔ اقرع بن حابس نے كہا: میرا اور بنو تمیم كا حصہ بھی نہیں۔ عباس بن مرداس نے كہا: میرا اور بنو سلیم كا حصہ بھی نہیں۔ حیان نے كہا: اس نے جھوٹ بولا ،یہ حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے لئے ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو ! ان کے بیوی بچے ان کو واپس كر دو، جو شخص مالِ فئی میں سے لینا چاہے اس كے لئے مالِ فئی (غنیمت) میں سے جو اللہ تعالیٰ ہمیں دے گا۔ چھ گناہ ہے۔ پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ لوگ آپ سے چمٹ گئے اور كہنے لگے ہمارا حصہ ہم میں تقسیم كریں، یہاں تک کہ آپ كو ایك كیكر كے درخت سے لگادیا، اور آپ كی چادر کانٹوں میں پھنس گئی۔ اچك لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! مجھے میری چادر واپس كر دو، اللہ كی قسم! اگر تہامہ كے درختوں كے برابر بھی تمہارے لئے اونٹ ہوتے تو میں تمہارے درمیان تقسیم كر دیتا ۔ پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا ۔پھر آپ اپنے اونٹ كے قریب ہوئے اور اس كی كوہان سے كچھ بال لے كر اپنی شہادت اور درمیانی انگلیوں میں پكڑے،پھر انہیں بلند كر كے فرمایا: اے لوگو ! میرے لئے اس مالِ غنیمت اور ان بالوں سوائے خمس كے اور خمس کچھ بھی نہیں۔ بھی تم میں واپس لوٹا دیا جائے گا۔ سوئی اور دھاگہ بھی واپس كرو، كیوں كہ خیانت ، قیامت كے دن خیانت كرنے والے كے لے عار ،ذلت اور آگ كا باعث ہوگی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1723

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت كے بارے میں سب سے زیادہ خوف گمراہ كرنے والے ائمہ (حكام ) كا ہے۔( ) یہ حدیث سیدنا عمر بن خطاب، ابودرداء، ابوذر غفار، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے آزاد کردہ غلام ثوبان، شداد بن اوس اور علی رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1724

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو خلیفوں كی بیعت كی جائے تو بعد والے کو قتل کردو۔ یہ حدیث سیدنا ابو سعید، ابوہریرہ، معاویہ بن ابی سفیان، انس بن مالک اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے مروی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1725

عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ مَرْفُوْعاً: إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جب تین شخص كسی سفر پر نكلیں تو كسی ایك كو امیر بنا لیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1726

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجُرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَرَجُلٌ سَأَلَهُ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَمْنَعُونَا حَقَّنَا وَيَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ.
علقمہ بن وائل بن حجر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ایك آدمی آپ سے سوال كر رہا تھا: اگرہم پر ایسے امراء مقرر ہو جائیں جو ہمارا حق نہ دیں اور اپنا حق (زبردستی) لیں تو آپ كا اس بارے میں كیا خیال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت كرو، كیوں كہ ان كے ذمے وہ ہے جس كے وہ ذمے دار ہیں اور تمہارے ذمے وہ ہے جس كے تم ذمے دار ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1727

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالْهَجِير وَهُوَ مَرْعُوْبٌ فَقَالَ : أَطِيْعُونِي مَا كُنْتُ بَيْن أَظْهُرِكُم وَعَلَيْكُم بِكِتَابِ الله عَزَّ وَجَلَّ , أَحَلُّوا حَلَالَه وَحَرِّمُوا حَرَامَه .
عوف بن مالك اشجعی رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہجیر میں خطبہ دیا۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مرعوب تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تك میں تمہارے درمیان ہوں میری اطاعت كرو، اور اللہ عزوجل كی كتاب كو مضبوطی سے تھام لو۔ اس كے حلال كو حلال سمجھو اور اس كے حرام كو حرام سمجھو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1728

عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَامَ فِيْناَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطِيْباً، فَكَانَ مِنْ خُطْبَتِهِ أَنْ قَالَ: أَلَا إِنِّي أَوْشَك أَنْ أُدْعَى فَأُجِيْبَ، فَيَلِيْكُمْ عُمَّال مِنْ بَعْدِي، يَقُوْلُوْنَ مَا يَعْلَمُوْن، وَيَعْمَلُون بِماَ يَعْرِفُوْنَ ، وَطَاعَةُ أُولَئِكَ طَاعَةٌ ، فَتَلْبِثُونَ كَذَلِك زَمَانًا ، ثُمَّ يَلِيْكُم عُمَّالَ مِنْ بَعْدِهِم ، يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَعْلَمُونَ، وَيَعْمَلُون بِمَا لَا يَعْرِفُون، فَمَن نَاصَحَهُمْ وَوَازَرَهُمْ وَشَدَّ عَلَى أَعْضَادِهِمْ، فَأُولَئِكَ قَدْ هَلَكُوا وَأَهْلَكُوا، خَالِطُوْهُمْ بِأَجْسَادِكُمْ ، وَزَايِلُوْهم بِأَعْمَالِكُم ، وَاشْهَدُوا عَلَى الْمُحْسِنِ أَنَّه مُحْسِنٌ ، وَعَلَى الْمُسِيءِ بِأَنَّهُ مُسِيءٌ .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے كے لئے كھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا: خبردار قریب ہے كہ مجھے بلایا جائے اور میں بلاواقبول كرلوں۔ میرے بعد تمہیں ایسے حكام ملیں گے جو ایسی بات كہیں گے جس كا علم ہوگا اور نیك اعمال كریں گے۔ ان كی اطاعت ہی حقیقی اطاعت ہے۔ تم ایك لمبا عرصہ اسی طرح گزاروگے۔ پھر ان كے بعد تمہیں ایسے حكام ملیں گے جو ایسی بات كہیں گے جس كا علم نہیں ہوگا اور برے اعمال كریں گے۔ جن لوگوں نے ان كی خیر خواہی كی ان كی مدد كی اور انہیں تقویت پہنچائی تو یہ لوگ خود بھی ہلاك ہوں گے اور دوسروں كو بھی برباد كریں گے۔ اپنے جسموں سے ان میں شامل ہو جاؤ لیكن اپے اعمال سے ان كا اثر زائل كردو۔ نیك آدمی كی گواہی دو كہ یہ نیك ہے اور برے آدمی كے بارے میں بھی بتاؤ كہ یہ برا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1729

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: مِمَّنْ أَنْتَ فَقُلْتُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ قَالَتْ: كَيْفَ كَانَ صَاحِبُكُمْ لَكُمْ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ؟ فَقَالَ: مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِنْ كَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ وَيَحْتَاجُ إِلَى النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ فَقَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي الَّذِي فَعَلَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخِي أَنْ أُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا: اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ.
عبدالرحمن بن شماسہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ كہتے ہیں كہ میں کچھ پوچھنے کے لئے عائشہ رضی اللہ عنہا كے پاس آیا، انہوں نے كہا: تم كن لوگوں سے تعلق ركھتے ہو؟ میں نے كہا: اہل مصر سے تعلق ہے۔ انہوں نے كہا: تمہارے اس معركے میں تم نے اپنے امیر كو كیسا پایا؟ اس مصری نے كہا: ہمیں اس كی كوئی بات بری محسوس نہیں ہوئی، اگر ہم میں سے كسی كا اونٹ مرجاتا تو اسے اونٹ دے دیتا، اگر غلام مر جاتا تو اسے غلام دے دیتا، اگر خرچے كی ضرورت ہوتی تو خرچہ دیتا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا كہنے لگیں: محمد بن ابو بكر(میرے بھائی) نے جو کیا وہ مجھے اس بات سے نہیں روکے گی کہ سے كیا كہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی وہ بات نہ بتاؤں جو آپ نے میرے اس گھر میں كہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ جو شخص میری امت كے كسی معاملے كا والی بنا اور اس نے ان پر سختی كی تو تو بھی اس پر سختی كر اور جو شخص میری امت كے كسی معاملے كا نگران بنا اس نے ان پر نرمی كی تو تو بھی اس پر نرمی كر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1730

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً: إِنَّ اللهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاه أَحَفِظَ أَمْ ضَيَّعَ؟ حَتى يُسأَل الرَّجُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِه.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس كی رعایا كے بارے میں سوال كرے گا۔ اس نے رعایا كی حفاظت كی یا اسے ضائع كر دیا۔ حتی كہ آدمی سے اس كے گھر والوں كے بارے میں بھی پوچھا جائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1731

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِأَبِي الْهَيْثَم: هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِذَا أَتَانَا سَبِيٌّ فَأْتِنَا، فَأُتِي النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِرَأْسَيْنِ لَيْسَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ فَأَتَاه أَبُو الْهَيْثَم، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : اخْتَرْ مِنْهُمَا قَالَ: يَا رَسُول الله اخْتَرْ لِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم :إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُه يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ خَيْراً. فَقَالَتِ امْرَأَتُه: ما أَنْتَ بِبَالِغ مَا قَالَ فِيْهِ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلًّا أَنْ تُعْتِقَه قَالَ: فَهُو عَتِيْقٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الله لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا خَلِيفَةً إِلَّا وَلَه بِطَانَتَان، بِطَانَةٌ تَأْمُرُه بِالْمَعْرُوف وَتَنْهَاه عَنِ الْمُنْكَر، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوْهُ خِبَالًا وَمَنْ يُوقَ بِطَانَةَ السُّوْءِ فَقَدْ وُقِيَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو الہثیم سے فرمایا:كیا تمہارا كوئی خادم ہے؟ اس نے كہا:نہیں۔آپ نے فرمایا:جب ہمارے پاس قیدی آئیں تب آنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس دو قیدی آئے تیسرا ان كے ساتھ نہیں تھا۔ ابو الہیثم آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے پسند كر لو۔ ابو الہیثم نے كہا:اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے پسند كیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس سے مشورہ لیا جائے وہ اس كے پاس امانت ہوتا ہے۔ اسےلے لو كیوں كہ میں نے اسے نماز پڑھتے دیكھاہے اور اس سے اچھا سلوك كرنا۔ اس كی بیوی نے اس سے كہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ تم اسے آزاد کردو۔ ابو الہیثم نے كہا:یہ آزاد ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے كسی نبی یا خلیفہ كو مبعوث كیا تو اس كے دو دوست بنائے، ایك دوست اسے نیكی كا حكم دیتا ہے اور برائی سے روكتا ہے اور دوسرا دوست اس كے نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ خالی نہیں جانے دیتا۔ اور جو شخص برے دوست سے بچا لیا گیا وہ یقینا بچ گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1732

عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ (عَبْدِاللهِ بْنِ عُمَرَ) أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ –يُرِيدُ: أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ- فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللهِ! إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لَهَا وَايْمُ اللهِ! إِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ وَايْمُ اللهِ! إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقاً لهَاَ -يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ- وَايْمُ اللهِ! إِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ، فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُم .
سالم اپنے والد( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما )سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:آپ منبر پر تھے: اگر تم اس كی امارت میں نكتہ چینی كرتے ہو، (آپ كی مراد اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے)تو اس سے پہلے تم نے اس کے والد كی امارت میں بھی نكتہ چینی كی تھی، اور اللہ كی قسم وہ اس كے لائق تھے اور اللہ كی قسم وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ اور اللہ كی قسم یہ بھی امارت كے لائق ہے۔ (آپ كی مراد اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے)اور اللہ كی قسم اس كے والد كے بعد یہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ میں تمہیں اس كے بارے میں وصیت(حکم ) كرتا ہوں، كیوں كہ یہ تمہارے نیك لوگوں میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1733

عَنْ عَوُفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُم عَنِ الْإِمَارَة وَمَا هِي ؟ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ ، وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ ، وَثَالِثُهَا عَذَابٌ يَّوِمُ الْقِيَامَة إِلَّا مَنْ عَدَلَ فَكَيْفَ يَعْدِلُ مَعَ أَقْرِبيهِ ؟
عوف بن مالك رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگ تم چاہو تو میں تمہیں امارت كے بارے میں بتادوں كہ یہ كیا ہے؟ اس كا پہلا مرحلہ ملامت ہے، اس كا دوسرا مرحلہ ندامت ہے اور اس كا تیسرا مرحلہ قیامت كے دن عذاب ہے ۔سوائے اس شخص كے جس نے انصاف كیا، لیكن اقرباء كی موجودگی میں وہ انصاف كس طرح كر سكتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1734

عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو -وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم - دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحَطَمَةُ . فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ! فَقَالَ: وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ؟ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ، وَفِي غَيْرِهِمْ!
حسن رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ ( جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ میں سے تھے)عبیداللہ بن زیاد كے پاس آئے اور كہا:اے بیٹے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنافرما رہے تھے:بدترین نگران ظلم كرنے والے ہیں، تم ان میں شامل ہونے سے بچو۔ عبیداللہ نے اس سے كہا:بیٹھ جاؤ، كیوں كہ تم محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ كے کچرے (بےکارشخص ہو)میں سے ہو۔عائذنےكہا:كیاان میں کچراتھا؟کچراتوان كےبعداوران كےعلاوہ میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1735

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ؟ -كَأَنَّهَا تَقُولُ الْمَوْتَ- قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ .
جبیر بن مطعم‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئی ، آپ نے اسے حكم دیا كہ وہ دوبارہ آپ كے پاس آئے ۔ اس نے كہا: اگر میں آؤں اور آپ كو نہ پاؤں تو پھر آپ كا كیا خیال ہے؟ وہ آپ کی موت مرادلے رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو پھر ابو بكر رضی اللہ عنہ كے پاس آنا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1736

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَامَ وَأَخَذَ بِعِضَاةِ الْبَابِ ثُمَّ قَالَ: هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ؟ قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ غَيْرُ فُلَانٍ ابْنِ أُخْتِنَا فَقَالَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا دَامُوا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا وَإِذَا قَسَمُوا أَقْسَطُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ الله وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ .
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایك گھر كے دروازے پر كھڑے ہوئے جس میں قریش كے كچھ لوگ بیٹھے تھے۔ آپ دروازے كا كواڑ پكڑ كر كھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: كیا قریش كے علاوہ بھی كوئی گھر میں ہے؟ آپ كو بتایا گیا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہماری بہن كافلاں بیٹا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا انہی میں سے ہے، پھر فرمایا: یہ امارت قریش میں ہوگی،جب تك وہ اس بات پر رہیں کہ جب ان سے رحم طلب كیا جائے تو رحم كریں، جب فیصلہ كریں تو انصاف كر یں اور جب تقسیم كریں تو انصاف كریں۔ ان میں سے جس نے ایسا نہیں كیا تو اس پر اللہ كی لعنت، فرشتوں كی اور تمام لوگوں كی لعنت ہے۔ اس سے فرض و نفل قبول نہیں كئے جائیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1737

عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ وَهُمْ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ فَغَضِبَ فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ الهُر عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ .
زہری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ محمد بن جبیر مطعم بیان كرتے ہیں كہ معاویہ رضی اللہ عنہ تك یہ خبر پہنچی(وہ قریش كے وفد میں ان كے ساتھ تھے)كہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما حدیث بیان كرتے ہیں كہ عنقریب كوئی قحطانی بادشاہ ہوگا، معاویہ رضی اللہ عنہ غصے سے كھڑے ہوگئے۔ اللہ كی حمدوثناء بیان كی، پھر كہا: اما بعد! مجھ تك یہ بات پہنچی ہے كہ تم میں سے كچھ آدمی ایسی احادیث بیان كرتے ہیں جو اللہ كی كتاب میں نہیں، نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ یہ تمہارے كم علم لوگ ہیں، گمراہ كن خواہشات سے بچو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: یہ امارت قریش میں رہے گی، جو جب تك قریش اللہ كا دین قائم رکھیں گےان سے دشمنی كرے گا اللہ تعالیٰ اسے چہرے كے بل گرادے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1738

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِعُبَادَةَ: يَا عُبَادَةُ كَلِمَاتُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ. فَقَالَ عُبَادَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوِهِمْ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَقْسِمِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ وَلَا تَغُلُّوا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللهِ -تَبَارَكَ وَتَعَالَى- الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ يُنَجِّي اللهُ -تَبَارَكَ وَتَعَالَى- بِهِ مِنَ الْغَمِّ وَالْهَمِّ .
مقدام بن معدیكرب كندی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ وہ عبادہ بن صامت ابو درداءاور حارث بن معاویہ كندی رضی اللہ عنہم كے پاس بیٹھے یہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ذکر کر رہے تھے۔ ابو درداء نے عبادہ رضی اللہ عنہما سے كہا: عبادہ رضی اللہ عنہ ! فلاں فلاں غزوے میں خمس كے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے الفاظ كس طرح ہیں؟ عبادہ رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایك غزوے میں تقسیم كے اونٹوں كے پہلو میں نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہوگئے۔ اور اونٹ كے بال اپنی انگلیوں میں پكڑ كر كہا: یہ تمہاری غنیمت سے ہے۔ اس میں میرا بھی اتنا حصہ ہے جتنا تمہارا ،سوائے خمس كے اور خمس بھی تم میں واپس كر دیا جائے گا۔ سوئی، دھاگہ ان سے بڑھ كر اور ان سے كم ترسب واپس كر دو، خیانت نہ كرو، كیوں كہ دنیا و آخرت میں خیانت كرنے والے كے لئے آگ اور عار كا باعث ہے۔ اللہ كے راستے میں لوگوں سے دور اور قریب جہاد كرو۔ اللہ كے راستے میں كسی ملامت كرنے والے كی ملامت كی پرواہ نہ كرو۔ حضرو سفر میں اللہ كی حدود قائم كرو۔ اللہ كے راستے میں جہاد كرو،كیوں كہ جہاد جنت كے دروازوں میں سے عظیم دروازہ ہے۔ اس كی وجہ سے اللہ تبارك و تعالی غم اور پریشانی سے نجات دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1739

عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ .
شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ثقیف كے وفد میں ایك كوڑھی شخص تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس كی طرف پیغام بھیجا كہ ہم نے تجھ سے بیعت لے لی اور اب واپس چلے جاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1740

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: دَخَلَتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْن: يَا رَسُولَ الله! أَمِّرْنَا عَلَى بَعْض مَا وَلَّاكَ الله، وَقَالَ الآخَر مِثْلَ ذَلِك ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّا وَالله لَا نُوَلِّي هَذَا الْعَمَل أَحَدًا سَأَلَه وَلَا أَحَدًا حَرِصَ عَلَيْهِ .
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں میرے دو چچا زاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے۔ ایك نے كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اللہ تعالیٰ نے آپ كو جو حكمرانی دی ہے اس میں سے ہمیں بھی دیجئے۔ دوسرے نے بھی ایسی ہی بات کہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم كسی ایسے شخص كو ذمہ داری نہیں دیتے جو اس كا مطالبہ كرے، نہ ہی كسی ایسے شخص كو جو اس كی حرص ركھتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1741

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَاعِيًا ثُمَّ قَالَ: انْطَلِقْ أَبَا مَسْعُودٍ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَجِيءُ وَعَلَى ظَهْرِكَ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ لَهُ رُغَاءٌ قَدْ غَلَلْتَهُ. قَالَ: إِذًا لَا أَنْطَلِقُ قَالَ: إِذًا لَا أُكْرِهُكَ .
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زكاۃ وصول کرنے کے لئے بھیجنے کا ارادہ کیا، پھر فرمایا: ابو مسعود جاؤ، میں قیامت كے دن تجھے اس حال میں نہ پاؤں كہ تمہاری گردن پر زكاۃ كا اونٹ ہو جو بلبلا رہا ہو، جسے تم نے خیانت سے حاصل كیا ہو۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے كہا: تب تو میں نہیں جاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں مجبور نہیں كروں گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1742

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَكُونُ نَدَامَةً (وَحَسْرَةً) يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عنقریب تم امارت كی حرص كرو گے، اور عنقریب قیامت كے دن یہ امارت ندامت (اور حسرت) كا باعث ہوگی۔ اس لئے دودھ پلانے والی اچھی ہوتی ہے اور دودھ چھڑانے والی بری۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1743

عَنْ عَبْدِ اللهِ مَرْفُوْعاً: إِنَّهُ سَيَلِي أُمُوْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ؟ قَالَ: لَيْسَ -يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ- طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللهَ قَالَهَا ثَلَاثاً.
عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ عنقریب میرے بعد تمہارے معاملات كے ایسے نگران آئیں گے جو سنت كو ختم كریں گے اور بدعت كو پروان چڑھائیں گے۔ نماز كو ان كے اوقات سے مو خر كریں گے۔ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اگر میں انہیں پاؤں تو كیا كروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(اے ام عبد كے بیٹے)جس شخص نے اللہ كی نا فرمانی كی اس کی اطاعت نہیں آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1744

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَة يَقُوْل: حَاصَرْنَا خَيْبَر فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يُفْتح لَه وَأَخَذَ مِنَ الْغَد عُمَرُ فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَح لَه وَأَصَابَ النَّاسُ يَوْمَئِذ شِدَّةٌ وَجَهْدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنِّي دَافِعُ لِوَائِي غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ الله وَرَسُولَه وَيُحِبُّه الله وَرَسُوْلُهُ لا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَح لَه وَبِتْنَا طَيِّبَة أَنْفُسِنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا فَلَمَا أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْغَدَاة ثُمَّ قَامَ قَائِمًا وَدَعَا بِاللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافهِم فَمَامِنَّا إِنْسَانٌ لَه مَنْزِلَةٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَّا هُوَ يَرْجُو أَن يَكُونَ صَاحِبُ اللِّوَاءِ فَدَعَا عَلِيَّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ أَرْمَد فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْه وَمَسَحَ عَنْه وَدَفَعَ إِلَيْه اللِّوَاءَ وَفَتَحَ اللهُ لَه، وَأَنَا فِيْمَنْ تَطَاوَل إِلَيْهَا .
عبداللہ بن بریدہ رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ میں نے ابو بریدہ رضی اللہ عنہ سے سنا كہہ رہے تھے : ہم نے خیبر كا محاصرہ كیا، ابو بكر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پكڑا لیكن انہیں فتح نہ ملی،دوسرے دن عمر‌رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پكڑا لیكن انہیں بھی فتح نہیں ملی اور واپس پلٹ آئے۔ اس دن لوگوں كو سخت مشقت محسوس ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:كل میں ایسے شخص كو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس كے رسول سے محبت كرتا ہوگا اور اللہ اور اس كا رسول اس سے محبت كرتے ہوں گے۔ جب تك فتح نہیں ہوگی وہ واپس نہیں پلٹے گا۔ ہم رات خوش ہو كر سوئے كہ كل فتح ہو جائے گی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح كی نماز پڑھائی، پھر كھڑے ہو كر جھنڈا منگوایا ۔ لوگ اپنی صفوں میں تھے، ہم میں سے جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے كسی بھی حد تك قریب تھا وہ امید لگائے ہوئے تھا كہ جھنڈا اسے ملے گا۔ آپ نے علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب كو بلایا ان كی آنكھوں میں تكلیف تھی۔ آپ نے ان كی آنكھوں میں لعاب مبارك ڈالا ان پر ہاتھ پھیرا اور جھنڈا انہیں دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح دی۔ میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے خیبر كی طرف پیش قدمی كی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1745

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي قَرِيبٍ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ لَا وَاللهِ مَا رَأَيْتُ صَفِيْحَةَ وُجُوهِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ فَذَكَرُوا النِّسَاءَ فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ فَتَحَدَّثَ مَعَهُمْ حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! فَإِنَّكُمْ أَهْلُ هَذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللهَ فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى هَذَا الْقَضِيبُ لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ لَحَى قَضِيبَهُ فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ يَصْلِدُ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس قریش كے اسی(۸۰)آدمیوں میں تےے،ان میں صرف قریشی ہی تھے۔ اللہ كی قسم میں نے اس دن لوگوں كے چہروں سے زیادہ ہشاش بشاش چہرے نہیں دیكھے۔ انہوں نے عورتوں كا ذكر كیا تو ان كے بارے میں باتیں كرنے لگے۔ آپ بھی ان كے ساتھ شامل ہوگئے حتی كہ میں خواہش كرنے لگا كہ آپ خاموش ہو جائیں۔ پھر میں آپ كے پاس آیا تو آپ نے کلمہ شہادت پڑھا، پھر فرمایا: اما بعد: اے قریش كی جماعت! تم اس امارت كے اہل ہو جب تك تم اللہ كی نا فرمانی نہ كرو گے۔ جب تم اللہ كی نافرمانی كرنے لگ جاؤ گے تو تمہاری طرف ایسے لوگ بھیجے جائیں گے جو تمہیں اس چھڑی کی طرح چھیل دیں گے، آپ نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی كی طرف اشارہ كیا ، پھر اسے چھیل دیا تو وہ اندر سے سفید نكلی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1746

عَنِ الْعِرْبَاض بن سَارِيَة، قَالَ: وَعَظَناَ رَسُول اللهِ بَعْدَ صَلاَةِ الْغَداة مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُون وَوَجِلَتْ مِنْهاَ الْقُلُوبُ،فقال رجل من اصحابہ: يَا رَسُول الله كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدَّعٍ، فَقَالَ: أُوْصِيْكُم بِتَقْوَى الله، وَالسَّمْع وَالطَّاعَة، وَإِنْ كاَنَ عَبْداً حَبْشِياًّ، فَإِنَّه مَنْ يَعِشْ مِنْكُم بَعْدِي يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُم بِسُنَّتِي وَسَنَة الْخُلَفَاء الرَّاشِدِين الْمَهْدِيِّين بَعْدِي ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذ ، وَإِيَّاكُم وَمُحْدَثَاتُ الْأُمُور ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ .
عرباض بن ساریہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح كی نماز كے بعد ایك فصیح و بلیغ (دلوں تك اثر كرنے والا) وعظ كیا جس سے آنكھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے۔ آپ كے صحابہ میں سے ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو الوداع ہونے والے كی گفتگو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ كے تقویٰ اور سمع و اطاعت كی وصیت كرتا ہوں اگرچہ تم پر كوئی حبشی غلام ہی كیوں نہ مقرر ہو، كیوں كہ تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیكھے گا۔ اس لئے تم میرے بعد میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء كا طریقہ لازمی طور پر اختیار كرنا، اسے دانتوں سے مضبوطی سے پكڑ لینا۔(دین میں) نئے كاموں سے بچنا، كیوں كہ ہر نیا كام بدعت ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1747

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَوَّلُ هَذَا الأَمْرِ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ خِلافَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَتَكادَمُونَ عَلَيْهِ تَكادُمَ الْحُمُرِ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ، وَإِنَّ أَفْضَلَ جهادِكُمُ الرِّبَاطُ، وَإِنَّ أَفْضَلَ رباطِكُمْ عَسْقَلانُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دین كا ابتدائی حصہ نبوت اور رحمت ہے۔ پھر خلافت اور رحمت ہوگا، پھر بادشاہت او رحمت ہوگا ، پھر اس بادشاہت پر لوگ گدھوں كی طرح ایک دوسرے کو کاٹیں گے ، تب تم پر جہاد لازم ہے، اور افضل جہاد رِبَاطْ (سرحدوں كی حفاظت ) ہے۔ اور افضل رباط عسقلان كا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1748

عَنْ عُبَيْد اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ: بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ -قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ! قُلْتُ: لَا قَالَ: هُوَ عَلِيُّ - وَكَانَتْ عَائِشَةُ  تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: -بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ-: أَهْرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ. وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ تِلْكَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ: قَدْ فَعَلْتُنَّ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ .
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیماری سے نڈھال ہو گئے اور تكلیف بڑھ گئی تو آپ نے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں بیماری كے ایام گزارنے كی اجازت لی۔ سب نے آپ كو اجازت ے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں كے سہارے زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے باہر نكلے۔ عباس رضی اللہ عنہ اور ایك دوسرے شخص كے درمیان ، عبیداللہ نے كہا كہ عبداللہ بن عباس‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جانتے ہو دوسراآدمی كون تھا؟ میں نے كہا: نہیں۔ انہوں نے كہا: وہ علی‌رضی اللہ عنہ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان كرتی ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوئے اور بخار كی شدت بڑ گئی تو آپ نے فرمایا: مجھ پر سات ایسے مشكیزوں سے پانی ڈالو جن كے منہ نہ كھولے گئے ہوں۔ ممكن ہے میں لوگوں سے عہد لوں، انہیں حفصہ رضی اللہ عنہا كے ٹب میں بٹھایا گیا، پھر ہم ان پر ان مشكیزوں سے پانی ڈالنا شروع ہوئے ،حتی كہ آپ نے ہمیں اشارہ كیا كہ تم نے اپنا كام كر لیا۔ پھر آپ لوگوں كی طرف چلے گئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1749

عَنْ أَبِي الْأَعْوَر السَّلَمِيّ مَرْفُوْعاً: إِيَّاكُم وَأَبْوَابِ السُّلْطَانِ , فَإِنَّهُ قَدْ أَصْبَح صَعْبًا هَبُوْطاً .
ابو الاعور سلمی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: بادشاہوں كے دروازوں پر جانے سے بچو، كیوں كہ یہ بہت مشكل اور ذلت كا باعث ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1750

عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّمَا رَاعٍ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَغَشَّهَا فَهُوَ فِي النَّارِ .
معقل بن یسار‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كوئی بھی شخص رعایا كا نگران بنا اور اس نے ان سے دھوكہ كیا تو وہ آگ میں جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1751

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ (:إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْراً بِوَاحاً ، عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيْهِ بُرْهَانٌ) وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے تنگی ،آسانی ،پسند، نا پسند، ہم پر ترجیح كے باوجود سمع و اطاعت پر بیعت کی، اور اس بات پر كہ ہم یہ امارت اس كے اہل لوگوں سے نہیں چھینیں گے( سوائے اس صورت میں كہ ہم كفر بواح(ظاہری كفر) دیكھیں اور تار رے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل ہو) اور اس بات پر كہ ہم جہاں كہیں بھی ہوں حق كہیں گے۔ اللہ كے بارے میں كسی ملامت كرنے والے كی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1752

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بعُكَاظٍ وَمَجَنَّةَ وَفِي الْمَوَاسِمِ بِمِنًى يَقُولُ: مَنْ يُؤْوِينِي؟ مَنْ يَنْصُرُنِي؟ حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ -كَذَا قَالَ- فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ: احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ. وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللهُ إِلَيْهِ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا قُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللهِ لَا تَخَافُونَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ إِبْنُ زُرَارَةَ -وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ- قَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ! فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَن تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جَبِيْنَةً فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ عُذْرٌ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ قَالُوا أَمِطْ عَنَّا يَا سَعَدُ! فَوَاللهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا وَشَرَطَ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ .
جابر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مكہ میں دس سال قیام كیا۔ عكاظ اور مجنۃ میں لوگوں كے گھروں اور دوكانوں پر اور حج كے موسم میں منی جاتے اور فرماتے : كون مجھے پناہ دے گا؟ كون میری مدد كرے گا؟ تاكہ میں اپنے رب كا پیغام پہنچاؤں ، اور اس شخص كے لئے بدلے میں جنت ہے۔ صورتحال یہ تھی كہ اگر كوئی آدمی یمن سے یا مضر قبیلے کا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی قوم كے لوگ اس سے كہتے: قریش كے جوان سے بچنا كہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گلیوں سے گزرتے تو لوگ انگلیوں سے اشارے كرتے، آخر كار اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے آپ طرف بھیجا۔ ہم نے آپ كو پناہ دی اور آپ كی تصدیق كی، ہم میں سے كوئی آدمی آپ كی طرف آتا تو آپ پر ایمان لے آتا۔ آپ اسے قرآن پڑھاتے، وہ واپس پلٹ آتا تو اس كے گھر والے اس کے اسلام لانے كی وجہ سے اسلام لے آتے، حتی كہ انصار كا كوئی گھر ایسا نہ بچا جس میں مسلمان نہ ہوں اور اسلام كا اظہار نہ كرتے ہوں۔ پھر سب نے مشورہ كیا ہم كب تك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو مكے كے پہاڑوں میں ٹھوكریں كھانے كے لئے چھوڑے ركھیں گے؟ اور آپ خوف كی حالت میں كب تك رہیں گے؟ پھر ہم میں سے ستر آدمی آپ كے پاس گئے اور موسم حج میں آپ كے پاس آئے۔ ہم نے آپ سے عقبہ كی گھاٹی میں ملنے كا وعدہ كیا۔ ہم ایك ایك دو دو كر كے سارے كے سارے آپ كے پاس جمع ہو گئے۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ كی بیعت كرنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا: چستی اور كاہلی میں سمع واطاعت پر ، تنگی اور آسانی میں خرچ كرنے، پر نیكی كا حكم كرنے اور برائی سے منع كرنے پر میری بیعت کرو، اور اللہ كے بارے میں حق بات كہنے ،كسی ملامت كرنے والے كی ملامت سے نہ ڈرنے ، اور میری مدد كرنے، اور جب میں تمہارے پاس آؤں تو جس چیز سے اپنے آپ اپنی بیویوں اور بچوں كی حفاظت كرتے ہو میری بھی حفاظت كرنے پر مجھ سے بیعت كرو تو تمہارے لئے جنت ہے۔ ہم آپ كی طرف اٹھ كر گئے اور آپ كی بیعت كرنے لگے، ابن زرارہ‌رضی اللہ عنہ نے آپ كا ہاتھ پكڑ كر كہا: جو ہم میں سے سب سے چھوٹے تھے، اے یثرب والو ! ذرا ٹھہرو، ہم نے یہ سفر اس لئے كیا ہے كہ ہم جانتے ہیں كہ آپ اللہ كے رسول ہیں، انہیں آج كے دن نكالنا تمام عرب سے جدائی ہے، تمہارے بہترین لوگوں كا قتل ہے، اور تمہیں تلواریں كاٹیں گی، اگر تم ان مصیبتوں پر صبر كرو گے تو تمہار اجر اللہ كے ذمے ہے اور اگر تمہیں اپنی جانوں كا خوف لاحق ہوگیا ہے تو یہ بات بیان كر دو، اللہ كے ہاں یہ تمہارا عذر ہوگا۔ وہ كہنے لگے: سعد رضی اللہ عنہ !ہمارے معاملے میں مت بولو، ہم كبھی بھی یہ بیعت نہیں چھوڑیں گے، نہ ہی ان سے ہاتھ كھینچیں گے۔ پھر ہم كھڑے ہو كر آپ كی بیعت كرنے لگے، آپ نے ہم سے بیعت اور شرط لی اور اس پر ہمیں جنت كا وعدہ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1753

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ مَرْفُوْعاً: تَعَالَوْا بَايِعُونِى عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئاً وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُوْنِي فِي مَعْرُوْفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئاً فَعُوقِبَ بِهِ فِى الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئاً مِنْ ذَلِكَ فَسَتَرَهُ اللهُ فَأَمْرُهُ إِلِى اللهِ إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)كہ: آؤ مجھ سے بیعت كرو كہ تم اللہ كے ساتھ كسی كو شریك نہ كرو گے، چوری نہ كرو گے، زنا نہ كرو گے، اپنی اولاد كو قتل نہ كرو گے، كسی پر بہتان نہ لگاؤ گے، نیكی كے كام میں میری نا فرمانی نہ كرو گے، جس شخص نے بیعت كو پورا كیا اس كا اجر اللہ كے ذمے ہے۔اور جس شخص نے ان میں سے كسی گناہ كا ارتكارب كیا اور دنیا میں اسے سزا دی گئی تو یہ اس كے لئے كفارہ ہے، اور جس شخص نے ان میں سے كسی گناہ كا ارتكاب كیا اور اللہ تعالیٰ نے اس كی پردہ پوشی كی تو اس كا معاملہ اللہ كے ذمے ہے، چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف كر دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1754

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ:كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ فَقَالَ: يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ! أَتَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الْأُمَرَاءِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ قَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِیَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم ایك مسجد میں بیٹھے تھے۔ بشیر رضی اللہ عنہ ایسا شخص تھا جو اپنی حدیث یاد رکھتے ۔ ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے اور كہنے لگے بشیر بن سعد! كیا تمہیں امراءكے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی حدیث یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے كہا:مجھے آپ كا خطبہ اچھی طرح یاد ہے۔ ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ حذیفہ كہنے لگے كہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تك اللہ چاہے گا كہ تم میں نبوت رہے تو نبوت رہے گی، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا۔ پھر نبوت كے طریقے پر خلافت ہوگی، جب تك اللہ چاہے گا خلافت رہے گی، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا۔ پھرظلم والی بادشاہت آجائے گی جب تك اللہ چاہے گا یہ بادشاہت رہے گی، جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا، پھرسرکشی والی بادشاہت ہوگی جب تك اللہ چاہے گا یہ رہے گی، پھر جب اسے اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا، پھر نبوت كے منہج پر خلافت ہوگی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1755

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن حَوَالَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ذَاتَ يَوِمٍ: تَهْجَمُوْنَ عَلَى رَجُلٍ مُعْتَجر بِبُرْدٍ حبرةٍ، يُبَايِعُ النَّاسَ مِنْ أَهَلِ الْجَنَّة فَهَجَمْنَا عَلَى عُثَمَان بْنِ عَفَّانَ وَهُوَ مُعْتَجِر بِبُرْد حَبْرَة يُبَايُع النَّاسَ قَالَ: يَعْنِي الشِّراَء وَالْبَيْع.
عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک شخص پر ہجوم کی صورت میں آؤ گے جس نے دھاری دار چادر اوڑھ رکھی ہو گی وہ لوگوں سے بیعت کرے گا اور جنتی ہوگا ۔عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر ہم عثمان بن عفان‌رضی اللہ عنہ کے پاس ہجوم کی صورت میں آئے وہ دھاری دار چادر اوڑھے ہوئے تھے ور لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔عبد اللہ نے کہا :یعنی خرید و فروخت
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1756

عن سَلْمَان رضی اللہ عنہ قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ثلاثةٌ لَايدخلونَ الجنَّةَ: الشّيخُ الزّانِي، والإِمامُ الكذّابُ، والعائلُ المَزْهُوُّ
سلمان رضی اللہ عنہ كہتےہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔بوڑھا زانی،جھوٹاحكمران اورمتکبرفقیر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1757

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا يَرُدُّ الله دُعاَءَهُمْ : الذَّاكرُ اللهَ كثيراً، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُوْم، وَالْإِمَام الْمُقْسِط.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین بندے ایسے ہیں جن كی دعا اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتے : اللہ كا بہت زیادہ ذكر كرنے والا، مظلوم كی بددعا، اور عادل حكمران كی دعا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1758

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین بندے ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت كے دن بات نہیں کرے گا ۔ نہ ان كی طرف دیکھے گا نہ انہیں گناہوں سے پاك كرے گا اور ان كے لئے درد ناك عذاب ہے۔ وہ شخص جس كے پاس بیابان جنگل میں زائد پانی تھا لیكن اس نے مسافر كو نہیں دیا، وہ شخص جس نے عصر كے بعد كسی شخص كو كوئی چیز فروخت كی، اس نے اللہ كی قسم كھائی كہ اس نے فلاں فلاں قیمت میں یہ چیز لی ہے اور خریدنے والے نے اسے صحیح سمجھا ، لیكن معاملہ اس كے برعكس تھا۔ اور وہ شخص جس نے حاكم كی بیعت صرف دنیا حاصل كرنے كے لئے كی، اگر اسے دیتا ہے تو وفا كرتا ہے اور اگر نہیں دیتا تو بد عہدی كرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1759

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: خَرَجَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌( إِلَى خَيْبَر) حِيْنَ اسْتَخْلَف سِبَاع بْن عُرْفُطَة عَلَى الْمَدِيَنَة قَالَ أَبُو هُرَيْرَة: قَدمْتُ الْمَدِيَنَة مُهَاجِرًا فَصَلَّيْتُ الصُّبْحَ وَرَاءَ سِبَاع (فَقَرَأ في الرَّكْعَة الْأُولَى: کٓہٰیٰعٓصٓ ۟﴿ۚ۱﴾ (مريم) وَقَرَأ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَة وَیۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ (المطففين) قَالَ أَبُوهُرَيْرَة: فَأَقُولُ فِي الصَّلاَةِ: وَيْلٌ لِأَبِي فُلَان! لَهُ مِكْياَلَانِ إِذَا اكْتَالَ اكْتَال بِالْوَافِي، وإِذَا كَالَ كَالَ بِالنَّاقِص، فَلَمَا فَرَغْنَا من صَلَاتِنَا أَتَيْنَا سِباَعاً فَزَوَّدَنَا شَيْئًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَدِ افْتَتَحَ خَيْبَر، فَكَلَّمَ الْمُسْلِمَيْن، فَأَشْرَكُونَا في سُهْمَانِهِم.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خیبر كی طرف) نكلے ۔ آپ نے سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ كو مدینے كا عارضی نگران بنایا۔میں ہجرت كرتے ہوئے مدینے آیا میں نے صبح كی نماز سباع كے پیچھے پڑھی،(تو انہوں نے پہلی ركعت میں كھیعص اور دوسری ركعت میں ویل للمطففین پڑھی، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نمازمیں سوچ رہا تھا : ابو فلاں كے لئے ہلاكت ہو، اس كے دو پیمانے ہیں ،جب كسی سے لیتا ہے تو پورا تولتا ہے اور جب كسی كو دیتا ہے تو كم تولتا ہے۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو سباع كے پاس آئے انہوں نے ہمیں تھوڑا سا سامان سفر دے دیا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ (تب تک) خیبر فتح ہوچکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے بات کی تو انہوں نے ہمیں بھی (مال غنیمت) حصے میں شریک کرلیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1760

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِك الأَشْجَعِي مَرْفُوْعاً: خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ؟ فَقَالَ: لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمْ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُونَهُ فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ .
عوف بن مالك اشجعی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تمہارے بہترین حكمران وہ ہیں جن سے تم بھی محبت كرتے ہو اور وہ بھی تم سے محبت كرتے ہیں ، وہ تمہارے لئے دعائیں كرتے ہیں اور تم ان كے لئے دعائیں كرتے ہو۔ اور تمہارے بدترین حكمران وہ ہیں جن سے تم نفرت كرتے ہو اور وہ تم سے نفرت كرتے ہیں،تم ان پر لعنت كرتے اور وہ تم پر لعنت كرتے ہیں۔ كہا گیا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كیا ہم تلوار كے ذریعے ان سے امارت نہ چھین لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تك وہ نماز قائم كریں۔ جب تم اپنے حكمرانوں كی طرف سے كوئی نا پسندیدہ معاملہ دیكھو تو اس كے عمل كو نا پسند كرو اور اس كی اطاعت سے ہاتھ نہ كھینچو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1761

عَنْ سَفِينَة أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَن مَوْلى رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مرفوعا:الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُوْنُ بَعْدَ ذَلِكَ مُلُوْكاً
سفینہ ابی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےمرفوعامروی ہے كہ:خلافت تیس(30)سال رہےگی اس كے بعد بادشاہت آجائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1762

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرْفُوْعاً: الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ وَالْهِجْرَةُ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ بَعْدُ .
عتبہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:خلافت قریش میں ہوگی، فیصلہ انصار میں، دعوت حبشیوں میں اور اس كے بعد ہجرت مسلمانوں اور مہاجرین میں ہوگی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1763

عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ؟ فَقَالَ: اشْتَرَطَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا وَلَا جِهَادَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: سَيَصَّدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا.
ابن لہیعہ سے مروی ہے كہ ابو زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان كیا كہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ثقیف كے معاملے كے بارے میں دریافت كیا جب انہوں نے بیعت كی۔ جابر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شرط لگائی كہ نہ ان پر زكاۃ لاگو ہوگی نہ جہاد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ اسلام لے آئیں گے تو جلد ہی زكاۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی كریں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1764

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : سَيَكُون بَعْدِي خُلَفَاء يَعْمَلُون بِمَا يَعْلَمُوْن وَيَفْعَلُون مَا يُؤْمَرُون، وَسَيَكُون بَعْدِي خُلَفَاء يَعْمَلُون بِمَا لَا يَعْلَمُونَ وَيَفْعَلُون بِمَا لَا يُؤْمَرُون، فَمَن أَنْكَر عَلَيْهِم بَرِئ وَمَن أَمْسَكَ يَدَه سَلِمَ وَلَكِن مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میرے بعد اسے خلفاء آئیں گے جو علم کے مطابق عمل کریں گے اور انہیں جس کام کا حکم دیا جائے گا وہ سرانجام دیں گے۔ پھر ان کے بعد ایسے خلفاءآئیں گے جو ایسے عمل كریں گے جن كے بارے میں جانتے نہیں ہوں گے ، اور جس كا حكم نہیں دیا گیا ہوگا وہ كام كریں گے۔ جس نے ان كے عمل كا انكار كیا وہ بری ہے، جس نے ان سے اپنا ہاتھ روک لیا وہ سلامت رہا ، لیكن جو راضی ہوگیا اور اس كی فرمانبرداری كی(وہ ہلاك ہوگیا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1765

عَنْ عُبَادَة بنِ الصَّامِت مَرْفُوْعاً: سَيَلِيكُم أُمَرَاءَ بَعْدِي يُعَرِّفُونَكُم ما تُنْكِرُون، وَيُنْكِرُون عَلَيْكُم ما تَعْرِفُون، فَمَن أَدْرَك ذَلِك مِنْكُم فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى الله .
عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میرے بعد عنقریب ایسے حكمران آئیں گے جسے تم برائی سمجھتے ہو گے وہ تمہیں نیكی باور كرائیں گے ۔ اور جسے تم نیكی سمجھتے ہو گے اسے برائی باور كرائیں گے۔ تم میں سے جو ایسے حاكم كا زمانہ پائے تو اللہ کی نافرمانی کرنے والے کی کوئی اطاعت نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1766

عن أبي هُرَيْرَة قَالَ :قَالَ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: طَاعَةُ الْإِمَامِ حَقٌّ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَأْمُرْ بِمَعْصِيَةِ الله عَزّ وَجَلَّ , فَإِذَا أَمَرَبِمَعْصِيَةِ اللهِ , فَلَا طَاعَةَ لَه .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی پر حكمران كی اطاعت لازم ہے جب تك وہ اللہ كی نافرمانی كا حكم نہ دے۔ جب وہ اللہ كی نا فرمانی كا حكم دے تو پھر كوئی اطاعت نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1767

عَنْ عَلْقَمَةَ بن وَائِلٍ، عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَعْمَلُوْنَ بِغَيْرِ طَاعَةِ اللهِ؟ فَقَالَ: عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ .
علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے كہا:اگر ہم پر ایسے حكمران مسلط ہو جائیں جو اللہ كی نافرمانی والےعمل كریں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:ان پروہی ذمہ داری ہےجس كاانہیں ذمہ داربنایاگیااورتم پروہی ہےجس كےتم ذمےداربنائے گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1768

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ مُخَاصِراً لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ الدَّجَّالِ الْأَئِمَّةَ الْمُضِلُّوْنَ .
ابو ذر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ایک دوسرے کی کمر پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے گھر تك گیا، میں نے سنا آپ فرما رہے تھے: دجال كے علاوہ مجھے اپنی امت كے بارے میں سب سے زیادہ خوف گمراہ كرنے والے حكمرانوں كا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1769

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللهُ بِهَذَا الْخَيْرِ(فَنَحْنُ فِيْهِ)، (وَجَاءَ بِكَ) فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ(كَمَا كاَنَ قَبْلَهُ؟). (قَالَ: يَا حُذَيْفَةُ! تَعلَّمْ كِتاَبَ اللهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيْهِ، (ثَلاَثَ مَرَّاتٍ). قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَبَعْدَ هَذَا الشرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. (قُلْتُ فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟ قَالَ: السَّيْف). قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ (وَفِي طَرِيْقٍ: قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟) قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ (وَفِي طَرِيْقٍ: تَكُوْنُ إِمَارَةٌ (وَفِي لَفْظٍ: جَمَاعَةٌ) عَلَى أَقْذَاءٍ، وَهُدْنَة عَلَى) دَخَن. قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: قَوْمٌ (وَفِي طَرِيْقٍ: أُخْرَى: يَكُوْنُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ (يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَ) يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ (وَسَيَقُوْمُ فِيْهِمْ رِجَالٌ قُلُوْبُهُمْ قُلُوْبُ الشَّيَاطِيْن، فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ). (وَفِي أُخْرَى: الْهُدْنَةُ عَلَى دَخَنٍ مَا هِيَ؟ قَالَ: لاَ تَرْجِعُ قُلُوْبُ أَقوَام عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ). قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ ، (فِتْنَةٌ عُمْيَاء صُمْيَاء عَلَيْهَا) دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! صِفْهُمْ لَنَا. قَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا. قُلْتُ: (ياَ رَسُوْلَ الله) فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، (تَسْمَعْ وَتُطِيْعَ الْأَمِيْرَ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ). قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ. (وَفِي طَرِيْقٍ): فَإِنْ تَمُتْ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٍ عَلَى جَذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدٌا مِنْهُمْ). (وَفِي أُخْرَى): فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ لِلهِ -عَزَّوَجَلَّ- فِي الْأَرْضِ خَلِيْفَةً ، فَالْزَمْهُ وَإِنْ ضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ، فَإِنْ لَمْ تَرَ خَلْيْفَةً فَاهْرُبْ (فِي الْأَرْضِ) حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى جَذْلٍ شَجَرَةٍ). (قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّال. قَالَ: قُلْتُ: فَبِمَ يَجِيُءُ؟ قَالَ: بِنَهْرٍ -أَوْ قَالَ: مَاءٍ وَناَرٍ- فَمَنْ دَخَلَ نَهْرَهُ حَطَّ أَجْرُهُ ، وَوَجَبَ وِزْرُهُ، وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحَطَّ وِزْرُهُ. (قُلْتُ: يَارَسُوْلَ الله: فَمَا بَعْدَ الدَّجَّال؟ قَالَ: عِيْسَى ابْنُ مَرْيَم علیہ السلام). قَالَ: قُلْتُ: ثَمَّ مَاذَا؟ قَالَ: لَوْأُنْتِجَتْ فَرَساً لَمْ تَرْكَبْ فُلُوَّهَا حَتَّى تَقُوْمُ السَّاعَة ) .
حذیفہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر كے بارے میں سوال كیا كرتے تھے، اور میں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے شر كےبارے میں سوال كیا كرتا تھا، اس خدشے سے كہ كہیں شر مجھ تك نہ پہنچ جائے۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم جاہلیت اور شر میں مبتلا تھے ، تب اللہ تعالیٰ ہمارے پاس اس خیر(دین اسلام)كو لایا(جس میں ہم داخل ہوگئے)(اور آپ كو لایا)كیا اس خیر كے بعد كوئی شر ہے(جس طرح پہلے تھا؟) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تین مرتبہ)فرمایا:اے حذیفہ! اللہ كی كتاب كا علم حاصل كرو اور جو كچھ اس میں ہے اس كی پیروی كرو۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !كیا اس شر كے بعد كوئی خیر ہے؟ آپ نے فرمایا: (ہاں)میں نے كہا: اس سے بچاؤ كس طرح ممكن ہے؟ آپ نے فرمایا:تلوار سے)(میں نے كہا: كیا اس شر كے بعد خیر ہے؟(اور ایك روایت میں ہے:میں نے كہا:كیا تلوار كے بعد كچھ باقی بچے گا؟)آپ نے فرمایا:ہاں اور اس میں (اور ایك روایت میں ہے:امارت(اور ایك روایت میں ہے:جماعت ہوگی)دلوں میں فساد ہوگا۔ دخن (دھوکے پر صلح ہوگی) میں نے كہا: یہ دخن كیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ایك قوم ہوگی(اور دوسری روایت میں ہے: میرے بعد ایسے حكمران ہوں گے (جو میرے طریقے كے خلاف طریقہ اختیار كریں گے)اور میرے راستے كے علاوہ دوسرا راستہ اختیار كریں گے، ان میں نیك عمل بھی ہوں گے اور برے بھی(اور ان میں ایسے لوگ بھی كھڑے ہوں گے جن كے دل انسانوں كے جسموں میں شیاطین كے دلوں جیسے ہوں گے) (اور دوسری روایت میں ہے:دھوکے پر صلح کا کیا مطلب؟آپ نے فرمایا:لوگوں كے دل اس بات پر واپس نہیں آئیں گے جس پر وہ پہلے تھے)میں نے كہا: كیا اس خیر كے بعد كوئی شر ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں(اندھا بہرا فتنہ ہوگا، اس پر ) ایسے بلانے والے ہیں جو جہنم كے دروازوں پر كھڑے ہیں، جنہوں نے ان كی بات قبول كی وہ انہیں جہنم میں پھینك دیں گے۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان كا حلیہ بتایئے؟ آپ نے فرمایا: ہمارے جیسی كھال ہوگی اور ہماری زبان بولیں گے، میں نے كہا:(اے اللہ كے رسول) اگر مجھے وہ زمانہ مل جائے تو آپ مجھے كیا حكم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مسلمانوں كی جماعت اور ان كے امام(امیر) كو لازم پكڑنا(تم اس كی بات سنو اور اس امیر كی اطاعت كرو، اگرچہ تمہاری پشت پر كوڑے لگائے جائیں اور تمہارا مال ضبط كر لیا جائے تب بھی اس كی بات سنو اور اطاعت كرو)میں نے كہا: اگر اس وقت مسلمانوں كی جماعت اور امیر نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا: تب تمام فرقوں سے الگ ہو جانا اور موت آنے تك اسی حال پر قائم رہنا اگرچہ درخت کے تنے سے چمٹے رہنا پڑے۔ (اور ایك روایت میں ہے)اے حذیفہ اگر تم مرو تو حالت یہ ہو كہ تم کسی درخت کے تنے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو تمہارے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ ان میں سے كسی كی پیروی كرو۔ (اور دوسری روایت میں ہے)اگر اس دن تم زمین میں اللہ عزوجل كا مقررر كردہ خلیفہ دیكھو تو اس سے چمٹ جاؤ چاہے وہ تمہاری پشت پر كوڑے لگوائے اور تمہارا مال ہتھیالے۔ اگر تم كوئی خلیفہ نہ دیكھو تو(زمین پہاڑ وغیرہ میں) بھاگ جاؤ حتی كہ تمہیں موت آجائے اور تم درخت کے تنے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو۔ (میں نے كہا: پھر كیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا:پھر دجال نكلے گا، میں نے كہا: وہ كیا لائے گا؟ آپ نے فرمایا: ایك نہر ، یا فرمایا:پانی اور آگ۔ جو شخص اس كی نہر میں داخل ہوگیا اس كا اجر ضائع ہوگیا اور اس پر گناہ لازم ہو گیا، اور جو شخص اس كی آگ میں داخل ہوگیا اس كا اجرو اجب ہو گیا اور اس كا گناہ ختم ہوگیا(میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ دجال كے بعد كیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام، میں نے كہا:پھر كیا ہوگا آپ نے فرمایا :اگر کوئی گھوڑی بچہ جنے گی وہ سواری کے قابل بھی نہیں ہوگا کہ قیامت آجائے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1770

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ فِي الْبَيْعَةِ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیعت لینے میں عورتوں سے مصافحہ نہیں كرتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1771

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ مَرْفُوْعاً: كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ مِنَ الْمَغْنَمِ ثُمَّ يَقُولُ مَا لِي فِيهِ إِلَّا مِثْلُ مَا لِأَحَدِكُمْ ثُمَّ يَقُوْلُ: إِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّ الْغُلُولَ خِزْيٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ وَمَا فَوْقَ ذَلِكَ وَجَاهِدُوا فِي اللهِ الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ إِنَّهُ يُنَجِّي اللهُ صَاحِبَهُ مِنْ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ .
عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت كے اونٹوں كے بال لے كر فرمایا: میرے لئے بھی اس میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا تمہارے عام آدمی كا ۔ پھر فرمایا: خیانت سے بچو، كیوں كہ خیانت قیامت كے دن خائن كے لئے رسوائی كا باعث ہوگی۔ سوئی دھاگہ اور اس سے بڑھ كر چیز واپس كر دو، اللہ كے راستے میں قریب اور دور ،حضر اور سفر میں جہاد كرو ، كیوں كہ جہاد جنت كا دروازہ ہے ۔ یہ جہاد كرنے والے كو پریشانی اور غم سے نجات دیتا ہے ۔ اللہ كے لئے قریبی اور دور كے عزیزپر اللہ كی حدود قائم كرو۔ اور اللہ كے بارے میں تمہیں كسی ملامت كرنے والے كی ملامت کمزور نہ کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1772

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخِطَّاب قَالَ : كَان صلی اللہ علیہ وسلم يَسْمَرُ مَعَ أَبِي بَكرٍ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِيْن، وَأَناَ مَعَهُمَا .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں كے كسی معاملے میں ابو بكر رضی اللہ عنہ كے ساتھ رات گئے تك گفتگو كرتے رہتے ، اور میں بھی آپ دونوں كے ساتھ ہوتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1773

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: كُنَّا مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَامَ كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ: لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ فَلَمَّا سَمِعَ (مُعَاوِيَةَ) بِذِكْرِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَجْلَسَ النَّاسَ فَقَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَيْهِ مُرَجِّلًا (مُعْدِفاً) قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ -أَوْ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْ – هَذَا- يعني: عثمان-رضي الله عنه- هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنِ اتَّبَعَهُ عَلَى الْهُدَى قَالَ فَقَامَ ابْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَصَاحِبُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ .
جبیر بن نفیر رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ كی شہادت كے بعد معاویہ‌رضی اللہ عنہ كے لشکر میں تھے۔ كعب بن مرہ بہزی‌رضی اللہ عنہ كھڑے ہوئے اور كہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایك بات نہ سنی ہوتی تو میں اس جگہ كھڑا نہ ہوتا۔ جب(معاویہ رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا تذكرہ سنا تو لوگوں كو بٹھادیا، انہوں نے كہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس بیٹھے تھے كہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیدل وہاں سے گزرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے قدموں كے نیچے یا اس کے پاؤں کے نیچے سے ایك فتنہ نكلے گا۔ یہ( یعنی عثمان‌رضی اللہ عنہ ) اور جنہوں نے ان كی پیروی كی ہدایت پر ہوں گے۔ ابن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ منبر كے پاس سے كھڑے ہوئے اور كہا: كیا تم اس حدیث كو بیان كرنے والے ہو؟ انہوں نے كہا: ہاں۔ ابن حوالہ نے كہا: واللہ میں بھی اس مجلس میں موجود تھا، اگر مجھے معلوم ہوتا كہ لشكر میں میری تصدیق كرنے والا كوئی ہے تو میں پہلے اس حدیث كو بیان كرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1774

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ عِنْدَ اسْتِهِ .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دھوكہ باز شخص كے لئے قیامت كے دن اس کی دبر پر ایك جھنڈا ہوگا جس كے ذریعے وہ پہچانا جائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1775

عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَة ، قَالاَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَأْتِيَنّ عَلَيْكُم أُمَرَاء يُقْرِّبُونَ شِرَارَ النَّاس، وَيُؤَخِّرُوْنَ الصَّلاَة عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَمَن أَدْرَك ذَلِك مِنْهُمْ فَلَا يَكُوْنَنَّ عَرِيْفاً ، وَلَا شُرْطِيًّا ، وَلَاجَابِيًا، وَلَاخَازِنًا
ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم پر ایسے امراء مقرر ہوں گے جو شرار الناس(بد ترین لوگوں) كو اپنے قریب كریں گے اور نماز كو ان كے اوقات سے مو خر كریں گے، جو شخص ان کا زمانہ پائے تو وہ نہ حاکم بنے ، نہ ساَہی بنے،نہ ٹیکس وصول کرنے والا ،نہ خزانچی بنے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1776

عَنْ شَدَّادِ بن أَوْسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرْفُوْعاً: لَيُحْمَلَنَّ شِرَارُ هَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى سَنَنِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ .
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت كے بدترین لوگ تم سے پہلے کے اہل کتاب کے طریقوں پر برابر برابر چلیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1777

عَنْ يَزِيْدِ بْن شَريكٍ، أَنَّ الضِّحَّاك بن قيس بَعَثَ مَعَه بِكِسْوَةٍ إلى مَرْوَان بن الْحَكَم فَقَال مَرْوَان لِلْبَوَّاب: انْظُر مَنْ بِالْبَاب ؟ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَة ، فَاَذِنَ لَه فَقَالَ: يَا أبا هُرَيْرَة ، حَدِّثْنَا شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْلَ: لَيُوشِكُ رَجَلٌ أَنْ يَتَمَنَّى أَنَّه خرَّ مِنَ الثُّرَيَّا وَلَم يَلِ مِنْ أَمَرِ النَّاسِ شَيْئًا.
یزید بن شریك سے مروی ہے كہ ضحاك بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں كچھ كپڑے دے كر مروان بن حكم كی طرف بھیجا، مروان نے دربان سے كہا: دیكھو دروازے پر كون ہے؟ دربان نے كہا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ مروان نے انہیں اجازت دے دی۔ مروان نے كہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ،ہمیں كوئی حدیث بیان كیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: عنقریب آدمی یہ خواہش كرے گا كہ وہ وہ ثریا سے گر جائے لیكن لوگوں كے معاملات كا ذمہ دار نہ بنے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1778

عَنْ يَزِيْدِ بْن شَرِيْك، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ بَعَثَ مَعَهُ بِكِسْوَةٍ إِلَى مَرْوَانِ بْنِ الْحَكَم فَقَالَ مَرْوَان لِلْبَوَّاب: انْظُر مَنْ بِالْبَاب؟ قَالَ: أَبُوْ هُرَيْرَة، فَاَذِنَ لَه فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَة، حَدِّثْنَا شَيْئًا سَمِعْتَه مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: لَيُوشَكَنَّ رَجُلٌ أَنْ يَتَمَنَّى أَنَّه خَّر مِنَ الثُّرَيَّا وَلَمْ يَلِ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا.
یزید بن شریك سے مروی ہے كہ ضحاك بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں كچھ كپڑے دے كر مروان بن حكم كی طرف بھیجا ۔ مروان نے دربان سے كہا:دیكھو دروازے پر كون ہے۔ دربان نے كہا: ابو ہریرہ ‌رضی اللہ عنہ ہیں۔ مروان نے انہیں اجازت دے دی۔ مروان نے كہا: ابو ہریرہ ہمیں كوئی حدیث بیان كیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: عنقریب آدمی خواہش كرے گا كہ وہ ثریا سے گر جائے لیكن لوگوں كے معاملات كا ذمہ دار نہ بنے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1779

عَنْ عَمْروٍ بْنِ مُرَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ سُفْيَان: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنْ إِمَامٍ يُغْلِقُ بَابَهُ دُونَ ذَوِي الْحَاجَةِ وَالْخَلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ إِلَّا أَغْلَقَ اللهُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُونَ خَلَّتِهِ وَحَاجَتِهِ وَمَسْكَنَتِهِ .
عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے:جو حكمران ضرورتمندوں، فقیروں اورمسكینوں پر اپنا دروازہ بندكر دیتاہے،اللہ تعالیٰ اس كی حاجت، ضرورت اورمسكینی کے سامنے آسمانوں كے دروازے بند كر دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1780

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دس آدمیوں پر بھی امیر مقرر ہوگا تو قیامت كے دن اسے طوق ڈال كر اس کا عدل اسے چھڑا لے گا یا اس کا ظلم و ستم اس کو ہلاک کردے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1781

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص دس یا ان سے زیادہ آدمیوں کا امیر مقرر كر دیا گیا تو قیامت كے دن اسے اللہ كے سامنے اس حال میں لایا جائے گا كہ اس كے دونوں ہاتھ اس كی گردن میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ اس كی نیكی انہیں كھلوادے گی یا اس كا گناہ اسے ہلاك كر وا دے گا۔ اس كی ابتداء ملامت ہے اس كا وسط ندامت ہے اور اس كی انتہا قیامت كے دن رسوائی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1782

عَنِ الْحَسَنِ قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَالَ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيْثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَّا حَدَّثْتُكَ إِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَّسْتَرْعِيْهِ اللهُ رَعِيَّةً يَّمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِّرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ .
حسن رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ:عبیداللہ بن زیاد نے معقل بن یسا ر رضی اللہ عنہ كی مرض الموت میں عیادت كی ، معقل‌رضی اللہ عنہ نے كہا:میں تمہیں ایك حدیث بیان كرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔اگر مجھے اپنی کی زندگی امید ہوتی تو میں تمہیں یہ حدیث بیان نہ كرتا، میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے كو كوئی رعایا دیتا ہے اور وہ اپنی رعایا كو دھوكہ دیتے ہوئے مر جاتاہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام كردیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1783

عَنْ عَبْدِ الله بن بُرَيْدَة، عَنْ أَبِيه مَرْفُوْعاً: ما نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطٌّ، إِلَّا كَانَ الْقَتْل بَيْنَهُم، وَلَا ظَهَرَت الْفَاحِشَةُ في قَوْمٍ قَطُّ، إِلَّا سَلَّطَ الله عَلَيْهِم الْمَوْت، وَلَا مَنَع قَوْمٌ الزَّكَاة، إِلَا حَبَس الله عَنْهُم الْقَطْر
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ: جب کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو ان میں قتل عام ہوجاتا ہے، جب کسی قوم میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کردیتا ہے اور جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1784

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَأيَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو شخص اطاعت سے نكل گیا اور جماعت سے علیحدہ ہوگیا او ر اسی حالت میں مر گیا تو وہ جاہلیت كی موت مرے گا، اور جس شخص نے اندھے جھنڈے كے نیچے، عصبیت كے غصے كی وجہ سے یا عصبیت كی طرف بلاتے ہوئے یا عصبیت كی مدد كرتے ہوئے لڑائی کی اور قتل كر دیا گیا تو اس كا قتل جاہلیت كا ہوگا۔ اور جو شخص میری امت كے خلاف نكلا اس كے نیك و بد كو مارنے لگا اور مومن (کے قتل) سے كنارہ كشی نہیں كی نہ كسی عہد والے كے عہد كا پاس كیا تو وہ مجھ سے تعلق نہیں ركھتا اور میں اس سے تعلق نہیں ركھتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1785

عَنِ ابْنُ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَاحُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ:جس شخص نے اطاعت سے ہاتھ كھینچا وہ قیامت كے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات كرے گا كہ اس كے لئے كوئی دلیل نہیں ہوگی، اور جو شخص اس حال میں مر گیا كہ اس كی گردن میں بیعت كا كڑا نہیں تھا تو وہ جاہلیت كی موت مرا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1786

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ مَرْفُوْعاً: مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ.
جندب بن عبداللہ بجلی سے مرفوعا مروی ہے كہ جو شخص اندھے جھنڈے كے نیچے، عصبیت كی دعوت دیتے ہوئے یا عصبیت كی مدد كرتے ہوئے مارا گیا ، اس كی موت جاہلیت كی موت ہوگی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1787

عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّتِي (عَائِشَة) تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ وَّلِيَ مِنْكُمْ عَمَلًا فَأَرَادَ اللهُ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرًا صَالِحًا إِنْ نَّسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ .
قاسم بن محمد سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے اپنی پھو پھی(عائشہ رضی اللہ عنہا ) سے سنا كہہ رہی تھیں كہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص تم میں سے كسی كام كا ذمہ دار بنا اور اللہ تعالیٰ نے اس سے بھلائی كا ارادہ كر لیا تو اسے نیك وزیر دے دے گا۔ اگر بھول جائے گا تو یاد دہانی كروائے گا اور اگر یاد ہوگا تو اس كی مدد كرے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1788

عَنْ عَائَشَة، قَالَتْ: جَآءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: يَا رَسُوْلَ الله، إِنَّك لَأَحَبّ إِلَيّ مِنْ نَّفْسِي، وَإِنَّك لَأَحَبّ إِلَيّ مِنْ أَهِلِي، وَأَحَبّ إِلَيّ مِنْ وَّلَدِي، وَإِنِّي لَأَكُون في الْبَيْت، فَأَذْكُرُكَ فَمَا أَصْبِرُ حَتَّى آتِيْكَ، فَأَنْظُرُ إِلَيْكَ، وَإِذَا ذَكَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَكَ عَرَفْتُ أَنَّك إِذَا دَخَلَتَ الْجَنَّة رَفَعْتَ مَعَ النَّبِيِّين ، وَإِنِّي إِذَا دَخَلَتُ الْجَنَّة خَشِيْتُ أَنْ لَا أَرَاك. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيْل بِهَذِهِ الْآيَة: وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا (ؕ۶۹) (النساء)
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں، میرے گھر والوں سے زیادہ عزیزہیں، میری اولاد سے زیادہ عزیز ہیں، میں گھر میں ہوتا ہوں اورآپ كو یاد كرتا ہوں تو مجھے صبر نہیں آتا جب تك آپ كو آكر دیكھ نہ لوں ۔ جب مجھے اپنی موت اور آپ كی موت یاد آتی ہے تو مجھے معلوم ہے كہ آپ كو انبیاء كے ساتھ بلند مقام دے دیا جائے گا اور جب میں جنت میں جاؤں گا تو مجھے ڈر ہے كہ آپ كو نہیں دیكھ سكوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے كوئی جواب نہیں دیا حتی كہ جبریل علیہ السلام یہ آیت لے كر نازل ہوئے:(النساء:۶۹) اور جس شخص نے اللہ اور اس كے رسول كی اطاعت كی تو یہ ان لوگوں كے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام كیا، انبیاء میں سے، صدیقین میں سے، شہداء اور صالحین میں سے، اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1789

عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِابْنِ أَخٍ لَهُ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ .
مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ اپنے بھتیجے كو لے كر نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ہجرت پر بیعت كرنے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں ، بلكہ یہ اسلام پر بیعت كرے، كیوں كہ فتح( مكہ) كے بعد كوئی ہجرت نہیں، اور یہ پیروی كرنے والوں میں سے ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1790

عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ یُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّہُ قَالَ: لَا طَاعَۃَ فِي مَعْصِیَۃِ اﷲِ۔ تبارک وتعالی۔
عمران بن حصین رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام میں کوئی اطاعت نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1791

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَّبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى خُرَاسَانَ فَأَبَى عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي وَاللهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِحَرِّهَا وَتُصَلُّونَ بِبَرْدِهَا وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِّنْ زِيَادٍ فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي قَالَ: فَأَرَادَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَيْهَا قَالَ: فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ قَالَ: فَقَالَ عِمْرَانُ: أَلَا أَحَدٌ يَّدْعُو لِيَ الْحَكَمَ؟ قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ. قَالَ: فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ. قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ. قَالَ: فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؟ قَالَ: نَعَمْ فَقَالَ عِمْرَانُ: لِلهِ الْحَمْدُ أَوْ: اللهُ أَكْبَرُ .
عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ زیاد نے چاہا كہ عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ كو خراسان كا نگران بنا كر بھیجے ، انہوں نے انكار كر دیا، اس كے ساتھیوں نے اس سے كہا: كہ تم نے خراسان كی ذمہ داری چھوڑ دی ؟ عمران‌رضی اللہ عنہ نے كہا: واللہ مجھے یہ بات پسند نہیں كہ میں اس كی گرمی میں جلوں اور تم اس كی ٹھنڈك سے لطف اندوز ہو ، اور میں اس بات سے بھی ڈرتا ہوں كہ جب میں دشمن كے سامنے آؤں تو زیادكا خط میرے پاس آئے(عہد سے معزولی کا)۔ اگر میں آگے بڑھتا ہوں، تو ہلاك ہو جاتا ہوں اور اگر پیچھے ہٹتا ہوں تو میری گردن اڑا دی جاتی ہے ۔ پھر زیاد نے حكم بن عمرو غفاری‌رضی اللہ عنہ كو خراسان كا نگران بنانا چاہا۔ انہوں نے زیاد كی بات مان لی عمران‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا كوئی شخص حكم‌رضی اللہ عنہ كو میرے پاس بلا كر لائے گا؟ ایك قاصد حكم‌رضی اللہ عنہ كی طرف گیا، حكم‌رضی اللہ عنہ پیغام سن كر عمران كے پاس آئے۔ عمران‌رضی اللہ عنہ نے حكم‌رضی اللہ عنہ سے كہا: كیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے كہ آپ نے فرمایا: اللہ تبارك و تعالیٰ كی نافرمانی میں كسی شخص كی اطاعت نہیں؟ حكم‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جی ہاں، عمران‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اللہ كے لئے ہی تمام حمد ہے، یا كہا اللہ اكبر
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1792

عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا فَأَوْقَدَ نَارًا وَقَالَ: ادْخُلُوهَا. فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَّدْخُلُوهَا وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ: لَا طَاعَةَ (لِبَشَرٍ) فِي مَعْصِيَةِ اللهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك لشكر بھیجا اور اس پر ایك شخص كو نگران بنایا اس نے آگ جلائی اور كہا:اس میں كود جاؤ۔ كچھ لوگوں نے اس میں چھلانگ لگانے كا ارادہ كرلیا اور، دوسرے لوگوں نے كہا:ہم تو اسی سے بھاگ كر مسلمان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بات كا تذكرہ كیا گیا تو آپ نے ان لوگوں سے كہا جو اس میں چھلانگ لگانا چاہتے تھے:اگر تم اس میں چھلانگ لگا دیتے تو قیامت تك اسی میں رہتے،اوردوسرےلوگوں كےلئےاچھی بات كہی اورفرمایا:اللہ كی نافرمانی میں(كسی بشر)كی كوئی اطاعت نہیں۔اطاعت صرف نیكی كےكام میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1793

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن زَرِيْرِ الْغَفَّارِيّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَلِي بْن أَبِي طَالِبْ يَوْمَ أَضْحٰى فَقَدَّمَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً , فَقُلْنَا: يَا أَمِير الْمُؤْمِنِين! لَوْ قَدَّمْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذا الْبَطّ وَالْوَزّ , و الْخَيْر كَثِيرٌ، قَالَ: يَا ابن زَرِير إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللِه صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ إِلَّا قَصْعَتَانِ: قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُه، وَقَصْعَةٌ يُطْعِمُهَا.
عبداللہ بن زریر غفاری رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ ہم عیدالاضحٰی كے دن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ كے پاس آئے تو انہوں نے ایك کھچڑی وغیرہ کا برتن ہمارے سامنے پیش كیا۔ ہم نے كہا:اے امیر المومنین! اگرآپ ہمیں بطخ اور مرغابی وغیرہ کا گوشت پیش کرتے جبکہ مال تو بہت ہےتو کتنا اچھا ہوتا، علی رضی اللہ عنہ نے كہا:اے ابن زریر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا:خلیفہ كے لئے صرف دوپیالے كافی ہیں۔ ایك پیالہ جس سے وہ خود اور اس كے گھروالے كھائیں اور دوسرا پیالہ وہ جس سے دوسروں كو كھلائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1794

عَنْ جَابِر بْنَ سَمُرَةَ مَرْفُوْعاً: لاَ يَزاَلُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيْزاً إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِّنْ قُرَيْشٍ .
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ یہ دین بارہ خلفاء تك غالب(عزت دار) رہے گا، سب كے سب قریش سے ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1795

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرُو مَرْفُوْعاً: لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْ النَّاسِ اثْنَانِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب تك دو انسان بھی باقی ہیں یہ امار ت قریش میں رہے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1796

عَنْ مُعَاوِيَةَ بن أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: يَكُون أُمَرَاء ، فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهِم (قَوْلُهُمْ)، يَتَهَافَتُون فِي النَّار يَتْبَعُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا .
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: ایسے حكمران آئیں گے (جن كی بات کا حكم)رد نہیں كیا جائے گا، لیكن جہنم میں ایك دوسرے كے پیچھے گرتے چلے جائیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1797

عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَّا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ. قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُوْنَ ذَاكَ. ثُمَّ قَالَ: يُوشكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَّا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدٌّ. قُلْنَا: مِنْ أَيْنَ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّومِ يَمْنَعُوْنَ ذَاكَ قَالَ: ثُمَّ أَمْسَكَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ حَثْوًا لَا يَعُدُّهُ عَدًّا. قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلَاءِ: أَتَرَيَانِ اَنَّہ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيْزِ؟ فَقَالَا: لَا .
ابو نضرہ رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كے پاس تھے انہوں نے كہا: ممکن ہے کہ جلد ہی اہل عراق كے پاس قفیز (پیمانہ)اور درہم نہ آئیں ، ہم نے كہا: یہ كہاں سے ہوگا؟انہوں نے كہا: عجم كی طرف سے، وہ روك لیں گے۔ پھر كہا: ممکن ہے کہ اہل شام كے پاس مد( پیمانہ) اور دینار نہ آئیں ،ہم نے كہا: یہ كہاں سے ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ: روم کی طرف سے، وہ روک لیں گے۔ پھر تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوگئے، پھر فرمایا: میری امت كے آخر میں ایك خلیفہ ہوگا جو مٹھی بھر بھر كر مال دے گا، اسے شمار نہیں كرے گا۔ میں نے ابو نضرہ اور ابو العلاء سے كہا: كیا آپ كے خیال میں عمر بن عبدالعزیز تو نہیں، دونوں نے كہا: نہیں۔( )

آیت نمبر