AL SILSILA SAHIHA

Search Result (143)

14)

14) شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ،ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1880

عَنْ أَبِي مُوسَي الأَشْعَرِيِِّ رضی اللہ عنہ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: آمِرُوا اليَتِيْمَة فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: (کنواری) لڑکی سے اس کے بارے میں مشورہ کر لو اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1881

عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي (مُعَاَوِيَة بْنِ حَيْدَه) قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهُنَّ وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ وَأَطْعِمْهَا إِذَا طَعِمْتَ وَاكْسُهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تُقَبِّحِ الْوَجْهَ وَلَا تَضْرِبْ.
بھز بن حکیم اپنے والد سے وہ ان کے دادا(معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ )سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہماری بیویاں ہیں ہم کس طرف سے ان کے پاس آئیں ،اور کون سی طرف چھوڑدیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کھیتی میں جہاں سے مرضی آؤ، اور جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے کو برا مت کہو اور نہ مارو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1882

عَنْ خُزَيْمَة بْن ثَابِت عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِتْيَانُ النِّسَآء فِي أَدْبَارِهِنْ حَرَامٌ .
خزیمہ بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیویوں کی دبرمیں جماع کر نا حرام ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1883

عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ؟ قَالَ: أَجَلْ، مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ . ( )
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےصحابہ میں بیٹھے تھے۔آپ (گھر میں) داخل ہوئے۔ پھر باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے غسل کیا ہوا تھا۔ہم نےکہا: اےاللہ کےرسول!کیاکوئی معاملہ ہوگیاتھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:ہاں،فلاں عورت میرےپاس سےگزری تومیرےدل میں بیویوں سےملنے کی خواہش پیداہوگئی،میں اپنی ایک بیوی کےپاس گیااوراس سےخواہش پوری کی۔ تم بھی اسی طرح کیاکروکیوں کہ تمہارابہترین عمل حلال کام کرناہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1884

عَنْ أَنَس مَرْفُوْعًا: أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللهِ تَعَالَى عَبْدُ اللهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَالْحَارِث .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ کو سب سے زیادہ پیارے نام عبداللہ، عبدالرحمن اور حارث ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1885

عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: احْبِسُوا صِبْيَانَكُمْ حَتَّى تَذْهَبَ فَوْعَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تَخْتَرِقُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے بچوں کو رات کی شفق غائب ہونے تک روک کر رکھو، کیوں کہ یہ ایسی گھڑی ہے جس میں شیاطین پھیل جاتے ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1886

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: إِذَا أَتَاكُمْ مَّنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کا اخلاق اور دین تمہیں پسند ہو تو اس سے شادی کر دو، اگر اس طرح نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ فساد پھیل جائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1887

عَنْ جَابِر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ : قَدمْتُ مِنْ سَفَرٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: « إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَكَ فَاعْمَلْ عَمَلاً كَيِّساً » . فَلَمَّا أَتَيْتُ أَهْلِي، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: « إِذا أَتَيْتَ أَهْلَكَ فَاعْمَلْ عَمَلاً كَيِّساً ».قَالَتْ: دُوْنَكَ .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہواتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اپنی بیوی کے پاس آؤ تودانشمندی والا عمل کرو ۔ جب میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جب تم اپنی بیوی کے پاس آؤ تو دانشمندی والا عمل کرو۔کہنے لگی: دور رہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1888

عَنْ طَلْقٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ مِّنِ امْرَأَتِهِ حَاجَةً فَلْيَأْتِهَا وَلَوْ كَانَتْ عَلَى تَنُّورٍ.
طلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے حاجت پوری کرناچاہے تووہ اس کے پاس آجائے اگرچہ وہ تنورپر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1889

عَنْ أَبِي مُوْسَى ،أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: « إِذَا أَرَادَ الرَّجُلَ أَنْ يُّزَوِّجَ ابْنَتَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهَا » .
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہے تو اس سے اجازت لے لے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1890

عَنْ مَالِك بن الْحُوَيْرِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَرَادَ اللهُ - جَلَّ ذِكْرُه- أَنْ يَّخْلُقَ النَّسَمَةَ، فَجَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ طَارَ مَاؤُهُ فِي كُلِّ عِرْقٍ وَعَصْبٍ مِّنْهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ السَّابِعِ أَحْضَرَ اهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ كُلَّ عِرْقٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آدَمَ، ثُمَّ قَرَأَ: فِیۡۤ اَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ؕ(۸) (الانفطار) .
مالک بن حویرث‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ جب اللہ (عزوجل) کسی جان کو (بچے کو) پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو شوہر اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے اس کا پانی اس کی ہر رگ اور ہر پٹھے میں اڑ کر پہنچ جاتا ہے، جب ساتواں دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر رگ کو اپنے اور آدم کے درمیان حاضر کرتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی:(الانفطار:۸) جس صورت میں چاہا اسے ترتیب دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1891

عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ مَرْفُوْعًا: إِذَا أُلْقى فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا .
سھل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:جب کسی شخص کے دل میں کسی عورت سے شادی کی خواہش پیدا ہو جائے تو اسےدیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1892

عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا مَرْفُوْعًا: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے: جب کوئی عورت فساد کی نیت کے بغیر اپنے گھر سے کھانا دے تو اس کے کھانا کھلانے کی وجہ سے اس کے لئے اجر ہے۔ اور اس کے شوہر کے لئے کمانے کی وجہ سے اجر ہے۔ اور گھر کے خادم کے لئے بھی اسی طرح اجرہے، کوئی کسی کا اجر کم نہیں کرے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1893

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جب کوئی بیوی اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کر دے تو اس کے لئے نصف اجر ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1894

عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَيِّب أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْر أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) پر کوئی شخص کنواری سے شادی کرے تو اس کے پاس سات دن ٹھہرے اور جب کنواری پر ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1895

عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « إِذاَ تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفُ دِيْنِه، فَلْيَتَّقِ اللهَ فِيْمَا بَقِيَ » .
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ شادی کرتا ہے تو اپنا نصف ایمان مکمل کرلیتا ہے، اب اسے چاہئےجوباقی ہے اس میں اللہ سے ڈرتا رہے۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1896

عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَّنْظُرَ إِلَيْهَا إِذَا كَانَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا لِخِطْبَتِهِ وَإِنْ كَانَتْ لَا تَعْلَمُ .
ابو حمید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے تو اسے دیکھنے میں کوئی گناہ نہیں جب وہ اسے شادی کے لئے دیکھے اگرچہ اسے (عورت کو)علم بھی نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1897

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنھما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَطَـبَ أَحَدُكُمُ الْمَـرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَـاعَ أَنْ يَّنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے تو اگر وہ نکاح کی طرف مائل کرنے والی چیز دیکھ سکتا ہو تو دیکھ لے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1898

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمْ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلْتُجِبْ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو بلائے تو وہ اس کے پاس جائے اگرچہ وہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1899

عَنِ الْعِرْباَض بْنِ سَارِيَة، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: « إِذَا سَقَى الرَّجُلُ امْرَأَتَه أُجِرَ». فَقُمْتُ إِلَيْهاَ فَسَقَيْتُهاَ، وَأَخْبَرْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌.
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو پانی پلائے تو اسے اجر دیا جاتا ہے۔ میں کھڑا ہوا اور اپنی بیوی کو پانی پلایا اور جو حدیث میں نے سنی تھی اسے بھی بتائی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1900

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ،: إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ يَنْتَشِرُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جب سورج غروب ہوجائے تو اپنے بچوں کو روک لو، کیوں کہ یہ ایسی گھڑی ہے جس میں شیطان پھیل جاتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1901

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا فَلَا يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيْبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت (سفر سے واپس) آئے تو وہ رات کے وقت ہی اپنی بیوی کے پاس نہ آئے جب تک وہ استرا استعمال نہ کر لے اور بکھرے بالو ں والی کنگھی نہ کرلے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1902

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن عَمْرو مَرْفُوْعاً : إِذَا مَلَكَ الرَّجُل الْمَرْأَةَ لَمْ تَجُزْ عَطِيَّتُهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ
عبداللہ بن عمر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جب آدمی بیوی کا مالک بن جائے(یعنی شادی کرلے) تو اس کے لئے اس کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1903

عَنْ سَعْد بْن أَبِي وَقَاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « أَرْبَعٌ مِّنَ السَّعَادَة: اَلمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، وَالَمْسْكَنُ الوَاسِعُ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ الهَنِيءُ . وَأَرْبَعٌ مِّنَ الشَّقَاوَةِ: الجَارُ السُّوء، وَالْمَرْأَة السُّوء، وَالْمَرْكَبُ السُّوء، وَالْمَسْكَنُ الضيِّق »
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں خوش بختی سے ہیں۔ نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی، اور اچھی سواری۔ اور چار چیزیں بد بختی سے ہیں: برا پڑوسی، بری بیوی، بری سواری، اور تنگ مکان۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1904

عَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوْعًا: اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ قَالَ قِيلَ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَكَلَّمَ؟ قَالَ: سُكُوتُهَا إِذْنُهَا
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: عورتوں سے ان کے(ہونے والےشوہروں کے بارے میں) مشورہ کر لیا کرو۔ آپ سے کہا گیا: کنورای لڑکی بات کرنے سے شرماتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1905

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ اتَّبَعَتْنَا ابْنَةُ حَمْزَةَ فَنَادَتْ: يَا عَمُّ يَا عَمُّ! فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا فَتَنَاوَلتُهَا فَاطِمَةَ قُلْتُ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اخْتَصَمْنَا فِيهَا أَنَا وَزَيْدٌ وَّجَعْفَرٌ ، فَقُلْتُ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِجَعْفَر: أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي .وَقَالَ لِزَيْد: أَخُونَا وَمَوْلَانَا .وَقَالَ لِي : أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ . إِدْفَعُوْهَا إِلَى خَالَتِهَا فَإِنَّ الخْاَلَة اُمٌ. فَقُلْتُ : أَلَا تُزَوِّجُهَا يَا رَسُوْل اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌؟ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ .( )
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو حمزہ‌رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چل پڑی اور پکارنے لگی: چچا جان، چچا جان، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ اور کہا: اپنے چچا کی بیٹی کو پکڑو ،جب ہم مدینے آئے تو میں زید اور جعفر رضی اللہ عنہم اس کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ میں نے کہا: میں نے اسے پکڑا تھا اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور زید‌رضی اللہ عنہ نے کہا یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے،اور جعفر نے کہا: میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے پاس (یعنی میری بیوی)ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر‌رضی اللہ عنہ سے کہا: تم عادت اور صورت میں میرے مشابہہ ہو، زید‌رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ہمارے بھائی اور دوست ہو اور مجھ سے کہا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ اسے اس کی خالہ کے سپرد کر دو، کیوں کہ خالہ ماں کے برابر درجہ رکھتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ نے فرمایا: یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1906

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن أَبِي عبْدِ اللهِ بن هَبَّارٍ بن الأَسْوَد عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ زَوَّجَ بِنْتًا لَهُ، وَكَانَ عِنْدَهُمْ كِبرُ وَغَرَابِل، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَمِعَ الصَّوْتَ، فَقَالَ: مَا هَذا؟ فَقِيْلَ: زَوَّجَ هَبَّارٌ ابْنَتَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَشِيدُوا النِّكَاحَ أَشِيدُوا النِّكَاحَ، هَذَا نِكَاحٌ لاَسَفَاحٌ. قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: الطَّبْلُ الكَبِيْر، وَالغَرَابِيْلُ الصُّنُوْج
عبداللہ بن ابی عبداللہ بن ھباربن اسود رضی اللہ عنہ اپنےوالدسےوہ ان کےداداسےبیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ان کے پاس یک رخا ڈھول اور دف تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائےتو آواز سنی :آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ ھبار‌رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:”نکاح کا اعلان کرو، نکاح کا اعلان کرو ،یہ نکاح ہےزنا نہیں“۔میں نے کہا: الْكبر(ڈھول)کیا ہے؟انہوں نے کہا: بڑا طبلہ اورغَرَابِلْ کا مطلب جھانجھ(دف وغیرہ)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1907

عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوْعًا: أَشِيـرُوا عَلَى النِّسَـاءِ فِي أَنْـفُسِهِنَّ. فَقَـالُوا: إِنَّ الْـبِكْرَ تَسْتَحِي يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ: الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا بِلِسَانِهَا وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا .( )
عدی بن عدی الکندی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ :عورتوں سے ان کی شادی کے بارے میں اشارۃً پوچھ لیا کرو، عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری لڑکی شرم محسوس کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثیبہ اپنے بارے میں اپنی زبان سے بتائے اور کنواری کی خاموشی اس کی رضا مندی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1908

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ الْعَزْلِ؟ فَقَالَ: اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَمَا قَضَى اللهُ فَهُوَ كَائِنٌ فَلَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ
ابو سعید‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حنین کے دن ہمیں قیدی عورتیں ہاتھ آئیں ،ہم ان کا فدیہ یا (بیچ کر) قیمت چاہتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا، آپ نے فرمایا: جو چاہو کرو، اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کر لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، کیوں کہ پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1909

عَنِ النُّعْمَانَ بْنِ بَشِيرٍ مَرْفُوْعًا: اِعْدِلُوْا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، اِعْدِلُوْا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، اِعْدِلُوْا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سےمرفوعاًمروی ہے کہ:اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو، اپنی اولاد کےدرمیان عدل کرو، اپنی اولاد کےدرمیان عدل کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1910

عَنْ مُعَاوِيَة بْن قرة عَنْ عَمِّه (أَخِي قرَّة بْن أَيَاسٍ) أَنَّهُ كَانَ يَأتِي النِّبِيَّ بِابْنِه فَيجْلِسه بَيْنَ يَدَيْه، فَقاَلَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : تُحِبُّه ؟ قَالَ: نَعَمْ حُبَّا شَدِيْداً، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْغُلاَمَ مَاتَ ، فَقاَلَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : كَأَنَّكَ حَزِنْتَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: أَجَل يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: أَفَمَا يَسُرُّك إِذَا أَدْخَلَكَ الله الْجَنَّة أَن تَجِدَه عَلَى بابٍ من أَبْوَابِهَا فَيَفْتَحُه لَكَ؟ قَالَ: بَلىَ ، قَالَ: فَإِنَّهُ كَذَلِك إِنْ شَاءَ الله .
معاویہ بن قرۃ رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے اور اسے اپنے سامنے بٹھا لیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں بہت زیادہ ،پھر وہ بچہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: شاید تم اس پر غمگین ہو؟ انہوں نے کہا: ہا ں اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پسند نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل کر ے تو تم اسے جنت کے دروازے پر دیکھو اور وہ تمہارے لئے دروازہ کھولے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاملہ اسی طرح ہوگا۔ ان شاءاللہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1911

قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ فِي الْجَنَّةِ؟ النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي ناَحِيَةِ الْمِصْرِ -لاَ يَزُوْرُه إِلاَّ لِله- فِي الْجَنَّةِ، أَلا أُخْبِرُكُمْ بنسَائِكُمْ فِي الْجَنَّةِ؟! ، « كُلّ وَدُود وَلودٍ إِذَا غَضِبَتَ أَوَ أسِيْءَ إِلَيْهَا أو غَضِبَ زَوْجُھََا قَالَتْ : هَذِهِ يَدِي فِي يَدِك ، لاَ أَكْتَحِل بِغَمْضٍ حَتَّى تَرْضَى » . روی من حدیث انس و ابن عباس و کعب بن عجرة رضی اللہ عنھم.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں جنت میں جانے والے مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ نبی جنت میں ہے، صدیق جنت میں ہے،شہید جنت میں ہے، بچہ جنت میں ہے،اورجوشخص شہرکےکسی کونےمیں اپنےبھائی سےملاقات صرف اللہ کی رضاکےلئےکرتاہےوہ جنت میں ہے۔کیا میں تمہیں جنت میں جانے والی عورتوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ہر محبت کرنے والی زیادہ بچے جننے والی، جب تم غصےہو جاؤیا اس سےناراضگی کااظہار کرو(یا اس کا شوہر اس سے غصے ہو جائے)تو وہ کہے:یہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک آپ راضی نہیں ہوں گے میں سرمہ نہیں ڈالوں گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1912

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَسَمِعَ عَائِشَةَ وَهِيَ رَافِعَةٌ صَوْتَهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ: يَا ابْنَةَ أُمِّ رُومَانَ! وَتَنَاوَلَهَا أَتَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ: فَحَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ جَعَلَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ لَهَا يَتَرَضَّاهَا: أَلَا تَرَيْنَ أَنِّي قَدْ حُلْتُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَكِ قَالَ: ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يُضَاحِكُهَا قَالَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ أَشْرِكَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَشْرَكْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرنے لگے۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز سنی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےاونچی آوازمیں بات کر رہی تھیں۔آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر داخل ہوئے اور کہا:اے ام رومان کی بیٹی!کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کر رہی ہو؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان آگئے۔ جب ابو بکر‌رضی اللہ عنہ باہر نکل گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں راضی کرنےکےلئےکہنے لگے:کیا تم نے دیکھا نہیں کہ میں اس آدمی اور تمہارے درمیان آگیا تھا۔پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئےاورآپ سےاجازت طلب کرنے لگے۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہنسا رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، ابو بکر‌رضی اللہ عنہ اندر آئے تو ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:اے اللہ کے رسول! اپنی صلح میں مجھے بھی شریک کرلیجئے جس طرح آپ نے مجھےاپنے جھگڑےمیں شریک کیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1913

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَجُل جَالِس مَعَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَجاَءَه ابْنٌ لَه ، فَأَخَذَهُ فَقَبَّلَهُ ، ثُمَّ أَجْلَسَه فِي حِجْرِه، وَجَاءَت ابنَةٌ لَه ، فَأَخَذَهَا ، فَأَجْلَسَهَا إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : « أَلاَ عَدَلْتَ بَيْنَهُمَا » .( ) (یعنی اِیْنَہ وَبِنْتَہ فِیْ تَقْبِیْلِھِمَا)
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا تھا اس کا بیٹا آیا تو اس نے اسے پکڑ کر اس کا بوسہ لیا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، پھر اس کی بیٹی آئی اور اسے پکڑ کر اپنےپہلو میں بٹھا لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ان کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا۔ (یعنی بیٹے اور بیٹی کے درمیان بوسہ لینے میں۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1914

عَن الزُّبَيْر،قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « أَلَا عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَّضْرِبَ امرَأَتَه ضَرْبَ الْأَمَةِ ، أَلَا خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِه » .
زبیر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار !ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح مارے جیسے لونڈی کو مارا جاتا ہے؟ خبردار! تم میں بہترین وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1915

عَنْ عَامِر قَالَ؛ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بنَ بَشِيْر وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَر فَقاَلَ: تَصَدَّقَ أَبِي عَلَيَّ بِصَدَقَةٍ، فَقَالَتْ عُمْرةُ بِنْتُ رَوَاحَة: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ عَلَيْهَا رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَأَتَى بَشِيْر رَسُوْل اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى ابْنِي بِصَدَقَةٍ، فَقَالَتْ عُمْرَة بِنْت رَوَاحَة: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِد عَلَيْهَا رَسُوْل اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ: أَلَكَ بَنُونٍ غَيْرَه؟ . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَكُلّهُم أَعْطَيْتَ مِثْلَمَا أَعْطَيْتَ؟ . قَالَ: لاَ. قَالَ: هَذَا جَوْرٌ؛ فَلَا تُشْهِدْنِي عَلَيْهِ، اتَّقُوا اللهَ، وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ؛ كَمَا تُحِبُّونَ أنْ يَبَرُّوْكُمْ .
عامر سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر‌رضی اللہ عنہ سے سنا وہ منبر پر خطاب کر رہے تھے کہ: میرے والد نے مجھ پر صدقہ کیا، عمرہ بنت رواحہ نے کہا: مںی اس وقت تک یہ بات نہیں مانوں گی جب تک تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہیں بنا لیتے۔ بشیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے بیٹے پر صدقہ کیاہے، عمرہ کہتی ہیں کہ : میں تو اس وقت راضی ہوں گی جب آپ اس پر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو گواہ بناؤ گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس بیٹے کے علاوہ تمہارے بیٹے ہیں؟ بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے ہر ایک کو اس جتنا دیا ہے؟ بشیر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ظلم ہے، اس پر مجھے گواہ مت بناؤ، اللہ سے ڈر جاؤ اپنی اولادکے درمیان عدل کرو، جس طرح تمہیں یہ بات پسند ہے کہ وہ سب تم سے اچھا سلوک کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1916

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی عورت بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورت کہ جب اس کا شوہر اس کی طرف دکھے تو اس خوش کردے۔ جب اسے کوئی حکم دے تو فرمانبرداری کرے، خاوند کو جو با ت نا پسند ہے اپنے نفس اور اپنے مال کے بارے میں اس کی مخالفت نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1917

عَنْ عَائِشَة  أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَكَرَ فَاطِمَةَ  قَالَتْ : فَتَكَلّمْتُ أَنَا فَقَالَ : « أَمَا تَرْضِيْنَ أَنْ تَكُوْنِي زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَة ؟ » قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: « فَأَنْتِ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيِا وَالْآخِرَة »
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو میں نے کوئی بات کہی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم دنیا و آخرت میں میری بیوی رہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تم دنیا و آخر ت میں میری بیوی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1918

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْتَعْدِي عَلَى وَالِدِهِ قَالَ: إِنَّهُ أَخَذَ مَالِيْ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ وَمَالُكَ مِنْ كَسْبِ أَبِيكَ؟.
عبداللہ بن عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اپنے والد کی شکایت کر رہا تھاکہ اس نے میرا مال لے لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ تم اور تمہارا مال تمہارے والد کی کمائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1919

عَنْ جَابِر بنِ عَبْدِاللهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ إِبْلِيـسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمـَاءِ- وَفِي طَـرِيْق: البَحْر- ثُـمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا، قَالَ: ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ:مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ! قَالَ الْأَعْمَشُ: أُرَاهُ قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ابلیس اپنا تخت پانی پر لگاتا ہے۔اور ایک روایت میں ہے :سمندر پر لگاتا ہے۔پھر اپنے لشکر پھیلا دیتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ فتنہ گر، سب سےزیادہ اس کےقریب ہوتا ہے۔ایک آتا ہے اور کہتا ہے:میں نے فلاں فلاں کام کیا۔ابلیس کہتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا۔پھر ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے میں نے بیوی اور شوہر کے درمیان جدائی کروا کر چھوڑی، ابلیس اسےخودسےقریب کرتاہےاورکہتاہے:تم سب سےاچھےہو۔اعمش نے کہا کہ میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ خود سے اسے چمٹا لیتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1920

عَنِ ابنِ عُمَر مَرْفُوْعاً: « إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوْبِ عِنْدَ اللهِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ امرَأَةً، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا ، طَلَّقَهَا ، وَذَهَبَ بِمَهْرِهَا ، وَرَجُلٌ استَعْمَلَ رَجُلاً، فَذَهَبَ بِأُجْرَتِه ، وَآخَرُ يَقْتُل دَابَّةً عَبَثاً »
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ کے نزدیک سب سے عظیم جرم والا وہ شخص ہے جس نے کسی عورت سے شادی کی،پھر جب اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو اسے طلاق دے کر اس کا مہر ہتھیا لیا، اور دوسرا وہ شخص جس نے کسی شخص سے مزدوری کروائی اور اس کی مزدوری ہتھیا لی، اور وہ شخص جس نے کسی چوپائے کو فضول میں قتل کر دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1921

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللهِ: أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غیرت کرتا ہے اور مومن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن حرام کام کا ارتکاب کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1922

عَنِ الْمِقْدَامِ بن مَعْدِي كَرِبٍ أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَخَالاتُكُمْ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَمَا یعلِّقُ يَدَاهَا الْخَيْطَ فَمَا يَرْغَبُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ صَاحِبِهِ (حَتى يَمُوتَا هَرَمًا)
مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اللہ کی حمدو ثنا بیان کی پھر فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہیں عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے،کیوں کہ یہ تمہاری مائیں ،بیٹیاں اور خالائیں ہیں۔اہل کتاب میں سے کوئی آدمی جب کسی عورت سے اس کی چھوٹی عمر میں اور غربت میں شادی کرتا تو دونوں ایک دوسرے سے بے رغبتی نہ کرتے(حتی کہ دونوں بوڑھے ہو کر مر جاتے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1923

عَنْ أَبِي سَعِيْد، أَوْ جَابِر أَنَّ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ خُطْبَةً ، فَأَطَالَهَا ، وَذَكَرَ فِيْهَا أَمْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَة ، فَذَكَر «أَنَّ أَوَّل؟ مَا هَلَكَ بَنُو إِسْرائِيْل أَنَّ امْرَأَةَ الفَقِيْر كاَنَتْ تُكَلِّفُهُ مِنَ الثِّيَاب أَوْ الصِّيغ، أَوْ قَالَ: مِن الصِّيغِة مَا تُكلّفُ امرأَةُ الغَنِي، فَذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْل كاَنَتْ قَصِيْرَة ، وَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَب وَخَاتَماً لَه غَلْقٌ وَطَبْق، وَحَشَّتْه مِسْكاً ، وَخَرَجَتْ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيْلَتَيْنِ أَوْ جَسِيْمَتَيْنِ ، فَبَعَثُوا إِنْسَاناً يَتْبَعهم فَعَرَف الطَوِيْلَتَيْنِ ، وَلَمْ يَعْرِفْ صَاحِبَة الرِّجْلَيْنِ مِنْ خَشَب
ابو سعید یا جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمبا خطبہ ارشادفرمایا اور اس میں دنیا اور آخرت کے معاملات کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: بنی اسرائیل کا کی ہلاکت کا پہلا سبب یہ بنا کہ کسی غریب کی بیوی اپنے شوہرسےایسے کپڑوں یا زیورات کا مطالبہ کرتی جو امیر کی بیوی کرتی اور آپ نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا تذکرہ کیا جو پستہ قد تھی، اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں بنوائیں اور ایک انگوٹھی جس میں ڈھکن لگا ہوا تھا ،اسے مشک کی خوشبوسے بھردیااوردو لمبی یا موٹی عورتوں کے درمیان چلنے لگی۔لوگوں نے ایک آدمی بھیجاجو ان کا پیچھا کرے،اس نے لمبی عورتوں کو تو پہچان لیالیکن لکڑی کی ٹانگوں والی عورت کو نہیں پہچانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1924

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَوْلَادَكُمْ هِبَةُ اللهِ لَكُمْ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ (ۙ۴۹) (الشورى) فَهُمْ وَامْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد، تمہارے لئے اللہ کی طرف سے عطیہ ہے۔(الشورى:۴۹) ترجمہ:”جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے“۔ تو جب تمہیں ضرورت ہو تویہ اولاد اور ان کا مال تمہارے لئے ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1925

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ  أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌آلَى مِنْ نِّسَائِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا- أَوْ رَاحَ- فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَّا تَدْخُلَ شَهْرًا؟ فَقَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ اپنی بیویوں سے ایلاء( پاس نہ جانے کی قسم) کیا۔ جب انتیس(۲۹) دن گزر گئے تو صبح کے وقت آئے یا شام کے وقت ،آپ سے کہا گیا کہ: آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس (۲۹)دن کا بھی ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1926

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ زَجَرْتُ أَنْ يُّسَمَّى بَرَكَة وَنَافِعاً وَأَفْلَحَ . فَلَا أَدْرِي قَالَ: أَفْلَحَ أَوْ لَا، فَقُبِضَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تومیں برکت، نافع اور افلح نام رکھنے سے منع کردوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے افلح کہا یا نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے لیکن اس سے منع نہیں فرمایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1927

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْر: أَنَّ ابَاه نَحَلَهُ نَحْلاً فَأَرَادَ أَنْ يَّشْهَدَ النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: كُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ كَماَ نَحَلْتَهُ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلْ بَيْنَ وَلَدِكَ كَمَا عَلَيْهِمْ مِّنَ الْحَقّ أَن يَبرُّوك
نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک تحفہ دیا اور چاہا کہ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے تمام بچوں کو اسی طرح دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر یہ لازم ہے کہ تم اپنی اولاد میں انصاف کرو، جس طرح ان کی ذمہ داری ہے کہ تم سےاچھا سلوک کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1928

عَنْ عَلِيّ بْن الْحُسَيْنِ أَنَّ الْمِسْوَر بْن مَخْرَمَةَ حَدَّثَ: أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَا قَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَّغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللهِ! لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ: إِنَّ فَاطِمَةَ بِضْعَةٌ مِّنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِيْنِهَا قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَأَوْفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا، وَفِي رِوَايَةٍ : عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَداً
علی بن حسین رضی اللہ عنہ ،مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ یزید بن معاویہ کے پاس سےحسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کے موقع پر مدینہ آئے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ علی بن حسین سے ملے اور کہا: کیا آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟ حکم کیجئے ،انہوں نے کہا: نہیں ، مسور رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دیں گے؟ کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ لوگ اس پر قبضہ کر لیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو جس وقت تک مجھے قتل نہیں کر دیتے اس وقت تک کوئی بھی شخص اس تلوار تک نہیں پہنچ سکے گا۔ علی بن ابی طالب‌رضی اللہ عنہ نے فاطمہ کی موجودگی میں ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تومیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس مسئلے میں منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرتے سنا۔میں ان ایام میں بالغ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے خوف ہے کہ اس کے دین کے بارے میں اسے آزمائش میں مبتلا نہ کر دیا جائے ۔ پھر بنی عبدشمس میں سے اپنے داماد کا ذکر کیا، اور ان کے بارے میں تعریفی کلمات کہے، فرمایا: اس نے جو بات کی اسے سچا کردکھایا انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تو وفا بھی کیا۔ میں کسی حلال چیز کو حرام نہیں کر سکتا اور نہ کسی حرام چیز کو حلال کر سکا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے رسول کے دشمن کی بیٹی کبھی بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں ۔اور ایک روایت میں ہے :کسی ایک آدمی کے پا س کبھی بھی(جمع نہیں ہوسکتیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1929

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہےایک طریقے پرہر گزسیدھی نہیں ہوگی۔ اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اسی ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دو گے اور اسے توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1930

عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِية، أَنّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ أُمِّ مُبَشِّرِ بنْتَ الْبَرَاءِ بن مَعْرُورٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي اشْتَرَطْتُ لِزَوْجِي أَنْ لا أَتَزَوَّج بَعْدَهُ. قَالَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم :إِنَّ ذَلِكَ لا يَصْلُحُ.
ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام مبشر بنت براء بن معرور کو نکاح کا پیغام بھیجا تو کہنے لگیں کہ میں نے اپنے شوہر سے مشروط کیا تھا کہ اس کے بعد شادی نہیں کروں گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شرط درست نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1931

عَنْ مَسْرُوقٍ وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا كَتَبَا إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَسْأَلَانِهَا عَنْ أَمْرِهَا؟ فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا: أَنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ (لَيْلَة) فَتَهَيَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَيْرَ فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَقَالَ: قَدْ أَسْرَعْتِ، اِعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ: وَفِيمَ ذَاكَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتِّ زَوْجًا صَالِحًا فَتَزَوَّجِي
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے مروی ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی طرف خط لکھ کر اس کے معاملے کےبارے میں پوچھا؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے دونوں کو جواباً لکھا کہ: اس کے ہاں اس کے شوہر کی وفات کےپچیس(۲۵)دن بعد بچہ پیدا ہوا ، وہ بہتررشتے کی تلاش میں تیار ہوئی۔ ابو سنابل بن بعکک اس کے پاس سے گذرا تو کہا: تم نے جلدی کی ،آخری مدت چار ماہ دس دن تک عدت گزارو، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول میرے لئے بخشش کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس وجہ سے ؟ میں نے انہیں(وہ بات)بتائی تو آپ نے فرمایا: اگر تمہیں کوئی نیک آدمی ملے تو اس سے شادی کر لینا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1932

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا. يَعْنِي: الصِّغَرِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نےایک انصاری خاتون سے شادی کا ارادہ کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ ،کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں تھوڑا سا نقص ہوتا ہے، یعنی چھوٹی ہوتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1933

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیکھ لو ، کیوں کہ ممکن ہے اس طرح تمہارے مابین دائمی محبت پیدا ہو جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1934

عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ عَمَّةً لَهُ (يُقَال :اسْمُهَا أَسْمَاء) اَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِبَعْضِ الْحَاجَة ، فَقَضَى حَاجَتَهَا فَقاَلَ لهَاَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ! قَالَ: كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ.
حصین بن محصن رحمۃ اللہ علیہ اپنی پھوپھی (کہا جاتا ہے کہ ان کا نام اسماء تھا)سے بیان کرتےہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کام سے آئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت پوری کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے کس طرح کا برتاؤ کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: میں اس کے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی۔ سوائے جب میں عاجز آجاؤں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، خیال رکھنا کہ تم اس سے (اپنے شوہرسے)کس طرح کا سلوک کرتی ہو کیوں کہ وہ تمہاری جنت اور جہنم ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1935

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ. ( )جَآءَ مِنْ حَدِیْثِ عائشة وانس دفیہ قصة.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں ،مردوں کے برابر ہیں۔ یہ حدیث سیدۃ عائشہ اور انس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور سا میں ایک قصہ بھی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1936

عَنْ فَاطِمَة بِنْتُ قَيْسٍ قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ أَنَا بِنْتُ آلِ خَالِدٍ وَإِنَّ زَوْجِي فُلَانًا أَرْسَلَ إِلَيَّ بِطَلَاقِي وَإِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَهُ النَّفَقَةَ وَالسُّكْنَى فَأَبَوْا عَلَيَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَيْهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسَّكَنُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ .
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آئی اور کہا: میں آل خالد کی اولاد ہوں، میرے شوہر نے مجھے طلاق بھجوائی ہے، میں نے اس کے گھر والوں سے خرچے اور رہائش کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اس نے اسے تیسری طلاق بھجوائی ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرچہ اور رہائش کا حق عورت کے لئے اس وقت ہوتا ہے جب شوہر کو رجوع کرنے کا حق ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1937

) عَنِ الْمُغِيرَة بْن شُعْبَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ: یٰۤاُخۡتَ ہٰرُوۡنَ (مريم: ٢٨) وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا: فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نجران آیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہنے لگے: تم اس طرح آیت پڑھتے ہو:(مريم:٢٨) اے ہارون علیہ السلام کی بہن۔ جب کہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسی ٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے گزر چکے تھے۔جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: وہ لوگ اپنے سے پہلے انبیاء اور صالحین کے نام رکھا کرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1938

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دو کمزوروں کی حق تلفی سے منع کرتا ہوں۔ یتیم، اور عورت
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1939

) عَنْ عَائِشَة زَوْجَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ قَالَ: یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ ... (الأحزاب28-29) إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَـفِي أَيِّ شَيْئٍ أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا گیا تو آپ نے مجھ سے ابتداء کرتے ہوئے فرمایا: میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں ،تم پر لازم ہے کہ جب تک اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لوتم جلدی مت کرنا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں آپ کو معلوم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ سے علیحدہ ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ ...(الأحزاب28-29) میں نے کہا: میں کس مسئلے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں ؟میں تواللہ،اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1940

عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَة، قَالَتْ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَنَا فِي جَوَارِ أَترَابٍ لِي ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ: إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ قَالَ: لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ فَيَرْزُقَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرُ فتَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، اور میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا: خوشحال لوگوں کی طرح ناشکری کرنے سے بچو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوشحال لوگوں کی نا شکری کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:ممکن ہے تم میں سے کوئی عورت لمبی عمراپنے والدین کے درمیان غیرشادی شدہ رہے،پھر اللہ تعالیٰ اسے شوہر عطا کر دے، پھر اس سے اولاد عطا کرے، پھر کسی دن غصے میں آکر اس کی نا شکری کر بیٹھے اور کہے: میں نے تو کبھی تم سے بھلائی دیکھی ہی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1941

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاس مَرْفُوْعًا:الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَّلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَاصُمَاتُهَا.
عبداللہ بن عباس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: بیوہ، اپنے متعلق اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1942

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: شِهَابٌ فَقَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنْتَ هِشَامٌ.( )
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جسے شہاب کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم ہشام ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1943

عَنْ عاَئِشَة، مَرْفُوعاً: تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ، فَانْكِحُوا الأَكِفَّاءَ، وَأَنْكِحُوا إِلِيْهِمْ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہےکہ: اپنے نطفے کےلئے اچھا انتخاب کرو، برابر(کفو) سے نکاح کرو، اور انہیں نکاح میں دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1944

عن أبى امامة مرفوعا: تَزَوَّجُوا فَاِنِّى مُكَاثِرٌ بِكُمْ الاُمَمُ يَوْمَ القِيَامَةِ وَلَا تَكُوْنوُا كَرَهْبَانِيَّة النَّصَارَى.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: شادی کرو کیوں کہ میں تمہاری وجہ سے قیامت کے دن دوسری امتوں پر فخر کر سکوں گا اور عیسائیوں کی رہبانیت کی طرح نہ ہو جانا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1945

عن عائشة قالت: أنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌في سَفَرٍ وَهِيَ جَارِيَةٌ، (قَـالَتْ: لَـمْ أَحْمِل اللَّـحْم وَلَـم أبدُن) فَقَال لاصْحَابِه تَقَدَّمُوا (فَتَقَدَّمُوا) ثُمَّ قَالَ: تَعَالِي أُسَابِقَكِ فَسَابَقْتُه فَسَبَقَتُه عَلَى رِجْلَي فَلَمَا كَانَ بَعَدُ (وفي رِوَايَةٍ : فَسَكَتَ عَنِّي حَتَّى إِذَا حَمَلْتُ اللَّحْمَ وَبدُنْت ونَسِيْتُ) خَرَجْتُ مَعَه في سَفَرٍ فَقَال لِاصْحَابِه: تَقَدَّمُوا (فَتَقَدَّّمُوا) ثم قال: تَعَالِي أُسَابِقُك ونسيْتُ الَّذِي كَان وَقَدْ حَمَلْتُ اللَّحْم فَقُلْتُ: كَيْفَ أُسَابِقُك يَا رَسُول اللّه وَأَنَا عَلَى هَذِه الحالِ؟ فَقَال: لَتَفْعَلُنّ فَسَابَقْتُه فَسَبَقَنِي فـ ( جَعَل يَضْحَك و) قال: هَذِه بِتِلْك السَّبْقَة.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ ابھی وہ کم عمر تھیں(وہ کہتی ہیں کہ ابھی مجھ پر گوشت بھی نہ چڑھا تھا اور نہ میرا جسم بھاری ہوا تھا)آپ نے اپنے صحابہ سے کہا: آگے چلے جاؤ،(وہ آگے چلے گئے) پھر آپ نے فرمایا: آؤ، دوڑ کا مقابلہ کریں، میں نے آپ سے مقابلہ کیا تو تیزر فتاری کی وجہ سے میں آپ سے جیت گئی، پھر اس کے بعد ایک موقع آیا۔اور ایک روایت میں ہے: آپ خاموش رہے حتی کہ جب مجھ پر گوشت چڑھ گیا اور میں بھاری بدن والی ہوگئی اور مجھے وہ واقعہ بھول چکا تھا۔ ایک سفر میں میں آپ کے ساتھ چلی، آپ نے اپنے صحابہ سے کہا: آگے چلے جاؤ(وہ آگے چلے گئے) پھر فرمایا: آؤ، دوڑ کا مقابلہ کریں۔ مجھے پچھلا واقعہ بھول چکا تھا۔ اور مجھ پر گوشت بھی چڑھ چکا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس طرح آپ سے مقابلہ کر سکتی ہوں، میرا یہ حال ہو چکا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں مقابلہ تو کرنا پڑے گا، میں نے آپ سے مقابلہ کیا، آپ مجھ سے سبقت لے گئے (اور ہنسنے لگے) فرمایا: یہ اس جیت کا بدلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1946

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى إِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثَةٍ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى مَالِهَا وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى جَمَالِهَا وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى دِينِهَا فَخُذْ ذَاتَ الدِّينِ وَالْخُلُقِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے تین خوبیوں میں سے کسی ایک خوبی کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے: اس کے مال کی وجہ سے ، اس کی خوب صورتی کی وجہ سےاوراس کے دین کی وجہ سے۔ پس تم دین اور اخلاق والی عورت پسند کرو، تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1947

عن أبي موسى الأشعري ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مرفوعا: ثلاثةٌ يَدْعُوْنَ الله فَلَا يُسْتَجَابُ لهُمْ: رجلٌ كانتْ تَحتَه امرأةٌ سيئةُ الخلقِ فَلم يُطَلّقْهَا، ورجلٌ كانَ لَه عَلى رجلٍ مَالٌ فلم يشهدْ عَليه، ورجلٌ آتى سفِيهًا مَاله وَقَدْ قَالَ الله عز وجل (وَ لَا تُؤۡتُوا السُّفَہَآءَ اَمۡوَالَکُمُ)(النساء:5).
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: تین آدمی ایسے ہیں جو دعا کرتے ہیں لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جاتی : وہ شخص جس کے پاس بد خلق بیوی تھی، لیکن اس نے اس عورت کو طلاق نہیں دی، وہ شخص جس کا کسی دوسرے شخص کے ذمے کچھ مال تھا لیکن اس نےگواہ نہیں بنایا اور وہ شخص جس نے اپنا مال کسی بے وقوف کو دیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(النساء:5) بے وقوفوں کو اپنا مال نہ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1948

عن ابن عباس مرفوعا: الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَّلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِى نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا.
عبداللہ بن عباس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ :ثیبہ اپنے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے اس کی اجازت اس کا والدلے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1949

عَنْ عَائِشَة، قَالَتْ: جَاءَتْ عَجُوْزٌ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ: لَهَا رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « مَنْ أَنْتِ؟» قَالَتْ: أَنَا جُثَامَة الْمُزَنية، فَقَالَ: « بَلْ أَنْتِ حَسَّانَةُ الْمُزنية ، كَيْفَ أَنْتُمْ ؟ كَيْفَ حَالُكُم ؟ كَيْفَ كُنْتُمْ بَعْدَنَا ؟ » قَالَتْ: بِخَيْر بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُوْل اللهِ، فَلَمَّا خَرَجتْ قُلْت: يَا رَسُولَ الله، تُقْبِلُ عَلَى هَذِهِ الْعَجُوز هَذَا الْإِقْبَال؟ فَقَالَ: « إِنَّهاَ كَانَتْ تَّأْتِيْنَا زَمَن خَدِيْجَة، وَإِنَّ حُسْن الْعَهْدِ مِنَ الْإِيْمَان».
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک بوڑھی عوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ میرے پاس تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جثامہ مزنیہ۔ آپ نے فرمایا: بلکہ تم حسانہ مزنیہ ہو۔ تم کیسے ہو؟ تمہارا کیا حال ہے؟ ہمارے بعد تمہارا کیا بنا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! خیریت سے ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان۔جب وہ چلی گئی تو میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ اس بوڑھی عورت پر اتنی توجہ دے رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے زمانے میں آیا کرتی تھی، اور اچھا برتاؤ ایمان سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1950

عَنْ أَبِي كَبْشَةَ مَرْفُوْعًا: خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لأَهْلِهِ
ابو کبشہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہےکہ: تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1951

عَنْ عَبْدِ الوَهَّاب بن بخت مَرْفُوْعاً: «خَيْرُ الأَسْمَاء: عَبْدُ الله، وَعَبْدُ الرَّحْمَن، وَأَصْدَقُ الأَسْمَاء: هَمَامٌ وَحَارِثُ ، وَشَرَّ الأَسْماء: حَرْبٌ ، وَمُرَّةٌ»
عبدالوہاب بن بخت رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: بہترین نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں، اور سچے نام ہمام، حارث، اور بدترین نام حرب(جنگ) اور مرہ(کڑواہٹ )ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1952

عَنْ أَبِى اُذَيْنَةَ الصَّدَفى أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: خَيْرُ نِسَائِكُمْ الوَدُوْدُ الوَلُوْد المَوَاتِيَةُ الْمَوَاسِيَةُ إِذَا اتَّقَيْن اللهَ وَشَرُّ نِسَائِكُمْ المُتَبَرِّجَات المُتَخَيِّلَات وَهُنَّ الْمُنَافِقَاتُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّة مِنْهُنَّ إِلَّا مِثْلَ الْغُرَابِ الأَعْصَم.
ابو اذینہ صدفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہترین عورتیں وہ ہیں جو زیادہ محبت کرتی ہیں، زیادہ بچے جنتی ہیں اتفاق کرنے والی اور غم گساری کرنے والی ہوں۔جب وہ اللہ سے ڈریں ،اور تمہای بدترین عوتیں وہ ہیں جو زیب و زینت اختیار کرنے والی اور تکبر کرنے والی ہوں ،یہی عورتیں منافق ہیں۔ان میں سے جنت میں اتنی ہی عورتیں جائیں گی جتنی تعداد کووں میں سرخ چونچ اور سرخ پاؤں والے کوّوں کی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1953

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مَرْفُوْعًا: خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ .
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: بہترین نکاح وہ ہے جو سہولت کے ساتھ ہو جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1954

عَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوْعًا: « خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ ، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ » .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: تم میں بہترین شخص وہ ہےجو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہے، اور جب تمہارا ساتھی فوت ہوجائے تو اسے چھوڑ دو(اس کی برائیاں بیان نہ کرو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1955

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سے بہتر ہوں اور جب تمہارا ساتھی مر جائے تو اسے چھوڑ دو(اس کی برائیاں بیان نہ کرو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1956

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ أَحَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيْعَتَيْهَا؟ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دُونَكِ فَانْتَصِرِي فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فِيهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : مجھے معلوم بھی نہ ہوا اور زینب میرے حجرے میں بغیر اجازت داخل ہوگئیں، وہ بہت غصےمیں تھیں، پھر کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کے لئے کافی ہے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ آپ کے لئے پلٹے گی؟ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئیں تو میں نے (جواب دینے سے) گریز کیا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا بدلہ لو، میں نے ان کو ایسا جواب دیا حتی کہ میں نے دیکھا کہ زینب رضی اللہ عنہا کا منہ خشک ہو چکا ہے، وہ مجھے کوئی جواب نہ دے سکیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دمک رہا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1957

) عَنْ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ
عبدالرحمن بن سالم بن عتبہ بن عویم بن ساعدہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: کنواریوں کو ترجیح دو، کیوں کہ وہ منہ کی میٹھی، زیادہ بچے جننے والی اور کم پر راضی ہونے والی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1958

) عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ لَوْ نَزَلْتَ وَادِيًا وَفِيهِ شَجَرَةٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا وَوَجَدْتَ شَجَرًا لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا فِي أَيِّهَا كُنْتَ تُرْتِعُ بَعِيرَكَ؟ قَالَ، فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ مِنْهَا. تَعْنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے خیال میں اگر آپ کسی وادی میں پڑاؤ ڈالیں اور اس میں ایک ایسا درخت ہو جس سے کھایا گیا ہو اور دوسرا ایسا درخت ہو جس سے کھایا نہ گیا ہو، آپ کس درخت سے اپنا اونٹ چرائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درخت سے جس سے چرایانہ گیا ہو۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور کنواری عورت سے شادی نہیں کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1959

) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ : أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ لَهُ فحلانِ فاغتَلَمَا، فَأَدْخَلَهُمَا حَائِطًا فَسَـدَّ عَـلَيْهِمَا البَاب ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَرَادَ أَنْ يَّدْعُوَ لَهُ وَالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَاعِدٌ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَار ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ الله إِنِّي جِئْتُ فِي حَاجَةٍ وَإِنَّ فَحْلَيْنِ لِي اغْتَلَمَا فَأَدْخَلْتُهُمَا حَائِطاً ، وَسَدَدْتُّ البَابَ عَلَيْهِمَا فَأُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي أَنْ يُسَخِّرَهُمَا اللهُ لِي فَقَالَ لِأَصْحَابِه: قُوْمُوْا مَعَنَا . فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى الْبَابَ، فَقَالَ: افْتَحْ، فَفَتَحَ الْبَابَ فَإِذَا أَحَدُ الْفَحْلَيْنِ قَرِيبٌ مِّنَ الْبَابِ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَجَدَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشُدُّ بِهِ رَأْسَهُ، وأُمْكِنُكَ مِنْهُ، فَجَاءَ بِحِطَامٍ فَشَدَّ بِهِ رَأْسَهُ، وأَمْكَنَهُ مِنْهُ، ثُمَّ مَشَيَا إِلَى أَقْصَى الْحَائِطِ إِلَى الْفَحْلِ الآخَرِ، فَلَمَّا رَآهُ وَقَعَ لَهُ سَاجِدًا، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشَدُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَشَدَّ رَأْسَهُ وأَمْكَنَهُ مِنْهُ، وَقَالَ: اذْهَبْ فَإِنَّهُمَا لا يَعْصِيَانِكَ، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَانِ فَحْلَانِ لاَ يَعْقِلانِ سَجَدَا لَكَ أَفَلا نَسْجُدُ لَكَ؟ قَالَ: لا آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ وَلَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا يَسْجُدُ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے دو سانڈھ تھے ۔وہ جوان ہو گئے تو اس نے ان دونوں کو ایک باغ میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، پھر دعا کروانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ انصار کی ایک جماعت بھی بیٹھی ہوئی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں ایک کام سےآیا ہوں۔ میرے دو بیل جوان ہو چکے ہیں میں نے ان دونوں کو ایک باغ میں بند کر کے دروازہ بندکر دیاہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ ان دونوں کو میرے لئے مطیع کر دے۔ آپ نے اپنے صحابہ سے کہا: آؤہمارے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے پاس پہنچے تو فرمایا: دروازہ کھولو، اس نے دروازہ کھولا تو ایک بیل دروازے کے قریب ہی تھا،جب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے لئے سجدے میں گر گیا ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی چیز لاؤ جس سے میں اس کا سر باندھوں اور اسے تیرے قابو میں دے دوں۔ وہ انصاری ایک نکیل لایا۔ آپ نے اس کا سر باندھا اور اسے قابو کیا۔ پھر آپ دونوں باغ کے دوسرے کنارے دوسرے بیل تک گئے۔ جب اس بیل نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے لئے سجدے میں گر گیا۔ آپ نے اس آدمی سے کہا: میرے پاس کوئی چیز لاؤ جس سے میں اس کا سر باندھوں۔ آپ نے اس کا سر باندھا اور اسے قابو کیا۔ اور فرمایا: جاؤ !اب یہ دونوں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے یہ دیکھا تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! یہ دو بیل تو سمجھ بھی رکھتے اور آپ کو سجدہ کر رہے ہیں، کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں کسی بھی شخص کو حکم نہیں دیتا کہ وہ کسی اور کو سجدہ کرے اور اگر میں کسی کو حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1960

عَنْ عتبة بن عَبْد السلمي قَالَ: « كَانَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَتاَهُ رَجُلٌ وَلَهُ اسْمٌ لَا يُحِبُّه، حَوَّلَه »
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا شخص آتا جس کا نام آپ کو پسند نہ ہوتا تو آپ اسے تبدیل کر دیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1961

كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ بِنْتاً مِّنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَّذْكُرُ فُلَانَةً يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتِ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا. روی من حدیث عائشہ، و ابی ھریرة، و ابن عباس و انس بن مالک رضی اللہ عنھم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتے تو پردے کےپاس بیٹھتے اور فرماتے: فلاں شخص فلاں کا ذکر کر رہا تھا اس بیٹی کا اوراس مردکا نام لیتے جو اس کا تذکرہ کر رہا تھا۔ اگر وہ خاموش رہتی تو اس کی شادی کر دیتےاور یا اگر نا پسند کرتی تو پردےپرہاتھ مار دیتی ،جب وہ پردے پر ہاتھ مار تی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس کی شادی نہ کرتے۔ یہ حدیث سیدہ عائشہ، سیدنا ابوہریرہ، عبداللہ بن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1962

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ:كاَنَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا سَمِعَ اسْماً قَبِيْحاً غَيَّرَهُ فَمَرَّ عَلَى قَرْيَة يُّقَالُ لَهَا: عَفْرَة، فَسَمَّاهَا: خَضِرَةٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی برا نام سنتے تو اسے تبدیل کردیتے۔ آپ ایک بستی کے پاس سے گزرے جسے ”عفراء“ کہا جاتا تھا۔ تو آپ نے اس کا نام تبدیل کر کےخضرہ (سرسبز) رکھ دیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1963

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ، فَقِيلَ: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : زَيْنَبَ
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ(نیک عورت)تھا،کہا گیا کہ وہ تو خود کا تزکیہ کرتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رضی اللہ عنہا رکھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1964

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَيَدْلَعُ لِسَانَهُ لِلْحَسَن بن عَلِيِّ ، فَيَرَى الصَّبِيُّ حُمْرَة لِسَانِه فَيَبْهَشُ إِلَيْهِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی اللہ عنہا کے لئے اپنی زبان باہر نکالتے،بچہ زبان کی سرخی دیکھتا تو خوشی سے اس کی طرف لپکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1965

عَنْ عُمَرَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا
عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، پھر اس سے رجوع کر لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1966

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْمُرُ بَنَاتَهُ وَنِسَاءَهُ أَنْ يَّخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ
عبداللہ بن عباس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ کی طرف جانے کا حکم دیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1967

عَنْ عَائِشَة أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كاَنَ يُغَيِّرَ الإِسْمَ القَبِيْحَ إِلَى الْإِسْم الحَسَن .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برے نام کو اچھے نام میں تبدیل کردیتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1968

عَنْ أَنَسٍ :كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُلَاعِبُ زَيْنَبَ بنْتِ أُمِّ سَلَمَة وَهُوَ يَقُوْل: يَا زُوَيْنَب! يَا زُوَيْنَب مِرَاراً
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کھیلا کرتے تھے اور کہتے اے زوینب، اے زوینب، بار بار کہتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1969

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدہ جو یریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، آپ نے ان کا نام تبدیل کر کے جویریہ رکھ دیا، آپ کو یہ بات نا پسند تھی کہ کوئی آپ سے کہے: کہ آپ برہ(نیک عورت)کے پاس سےآئے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1970

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :لَمْ يُرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلُ النِّكَاحِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح یافتہ جیسے دو محبت کرنے والے کہیں نظر نہیں آتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1971

عَنْ زَيْدِ بن أَرْقَمَ ، أَنَّ مُعَاذًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ أَهْلَ الْكِتَابِ يَسْجُدُونَ لأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ ؟ أَفَلا نَسْجُدُ لَكَ ؟ قَالَ: لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَّسْجُدَ لأَحَدٍ لَّأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجَهَا ، وَلا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا عَلَى قَتَبٍ لَّأَعْطَتْهُ
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کتاب اپنے علماء اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں ،آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہرکو سجدہ کرے، بیوی اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی حتی کہ اگر شوہر اس سے ملاپ کا مطالبہ کرے اور وہ اونٹ کے پالان پر ہو اور وہ اس کی خواہش پوری بھی کر دے تب بھی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1972

عَنْ عَبْدِاللهِ بنِ عَمْرو مَرْفُوْعًا: لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عَتَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا بَيْعٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: آدمی جس عورت کا ذمہ دارنہیں، اس کی طلاق کا حق نہیں رکھتا۔جس غلام کا مالک نہیں ،اس کی آزادی کا حق نہیں رکھتا اور جس سامان کا مالک نہیں، اسے بیچنے کا حق نہیں رکھتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1973

عَنْ عَائِشَة مَرْفُوْعاً: « لَيْسَ عَلَى وَلَدِ الزِّناَ مِنْ وِّزْرِ أَبْوَيْهِ شَيْءٌ: وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ولدالزنا(زنا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے)پر اس کے والدین کے گناہ میں سے کچھ نہیں، وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی (فاطر۱۸) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1974

عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَنْتَهِكَ شَيْئًا مِّنْ مَالِهَا إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا
واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کو حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مال میں سےخرچ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1975

) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةَ غِلْمَةٍ فَمَاتَـتْ أُمُّهُـمْ فَـوَرَّثُوهَـا رِبَاعَهَا وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيهَا فَأَخْرَجَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَمَاتُوا فَقَدَّمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَمَاتَ مَوْلًى لَهَا وَتَرَكَ مَالًا لَّهُ فَخَاصَمَهُ إِخْوَتُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، اس کے تین بچے ہوئے، ان کی ماں فوت ہوگئی، اس کے بچے اپنی ماں کے سامان اوراس کے آزاد کردہ غلام کی ملکیت کے وارث بنے۔ عمرو بن عاص اس عورت کے بیٹوں کے عصبہ(باپ کی جانب سے رشتے دار)میں سے تھے۔ وہ انہیں لے کر شام کی طرف لے گئےجہاں وہ بھی فوت ہو گئے، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا واپس آئے تو اس عورت کا آزاد کردہ غلام بھی مر چکا تھا۔ اس نے کچھ مال چھوڑا تھا۔ اس عورت کے بھائی اس کا فیصلہ لے کر عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ یا بیٹے نے جو جمع کیا ہے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے جو کوئی بھی ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1976

عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ مَرْفُوْعًا: مَا أَعْطَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ .
عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو جو کچھ دیتا ہے وہ صدقہ ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1977

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنَ الرِّجَالِ فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَّأْتِيكَ فِيهِ قَالَ: مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ قَالَ: فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ: مَا مِنِ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِّنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِّنْهُنَّ: أَوِ اثْنَانِ؟ قَالَ أَوِ اثْنَانِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! ہم آدمیوں کی مجلس میں آپ کے پاس نہیں آسکتیں، ہم آپ سے کسی ایک دن کا وعدہ لینے آئی ہیں جس میں ہم آپ کے پاس آ سکیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں کے گھر میں تمہارا وعدہ رہا۔ آپ اس دن وعدے کے مطابق ان کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو باتیں کہیں ان میں یہ بھی تھا کہ : جس کسی عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہوگی۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: دو بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھی فوت ہو جائیں تب بھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1978

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِّنْ مَّسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: (وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ) (آل عمران: ٣٦) .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا فرما رہے تھے: جو بنی آدم بھی پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے ،شیطان کے چھونے کی وجہ سے بچہ چیخ مار کر روتا ہے، سوائے مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے، پھر ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: (آل عمران: ٣٦) پھر میں اس (مریم) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1979

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعًا: مَا مِنْ مُّسْلِمٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: جس مسلمان کے ہاں دو بیٹیاں ہوئیں جب تک وہ اس کے پاس رہیں،اس نے ان سے اچھا سلوک کیا، تو وہ دونوں اسے جنت میں داخل کر دیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1980

) عَنْ حَبِيْبَة أَوْ أُمِّ حَبِيْبَة قَالَتْ: كُنَّا فِي بَيْتِ عَائِشَة فَدَخَل رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: (مَا مِنْ مُّسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلاثَةٌ أَطْفَالٍ لَّمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلا جِيءَ بِهِمْ حَتَّى يُوقَفُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُونَ أَنَدْخُلُ وَلَمْ يَدْخُلْ أَبْوَانَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: - فَلاَ أَدْرِي فِي الثَّانِيَة - اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَآبَاؤُكُمُ، قَالَ: فَذَلِك قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلّ : فَمَا تَنۡفَعُہُمۡ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیۡنَ (ؕ۴۸) (المدثر: ٤٨) ، قَالَ : نَفَعَتِ الْآباَءَ شَفَاعَةُ أَوْلَادِهِمْ).
حبیبہ یا ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: جس بھی مسلمان کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو گئے ،تو قیامت کے دن ان تینوں کو لایا جائے گا اور جنت کے دروازے پر کھڑا کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ، وہ کہیں گے کیا ہم داخل ہو جائیں ؟ ابھی تک ہمارے والدین تو داخل ہی نہیں ہوئے؟ ان سے کہا جائے گا ۔مجھے نہیں معلوم کہ دوسری مرتبہ۔ تم اور تمہارے والدین جنت میں داخل ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (المدثر: ٤٨) سفارش کرنے والوں کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کو ان کی اولاد کی سفارش نفع دے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1981

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ النِّسَاءَ فَقَالَ لَهُنَّ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ أَجَلُّهُنَّ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَصَاحِبَةُ الِاثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: وَصَاحِبَةُ الِاثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خطبہ دیا اور فرمایا:تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوگئے، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرلے گا۔ایک باوقار عمر رسیدہ عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا جس عورت کے دوبچے فوت ہوجائیں وہ بھی جنت میں جائے گی؟،آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : دو(فوت شدہ) بچوں کی ماں بھی جنت میں جائے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1982

عَنْ جَابِر بن عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: لَمَّا طَلَّقَ حَفْص بن المُغَيْرَة امرَأَتَه فَاطِمَةَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِزَوْجِهَا: مَتِّعْهَا قَالَ: لاَ أَجِدُ مَا أُمَتِّعُهَا قَالَ: فَإِنَّهُ لَابُدَّ مِنَ الْمَتَاعِ قَالَ: مَتِّعهَا وَلَوْ نِصْف صَاع مِّنْ تَمَرٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حفص بن مغیرہ‌رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شوہر سے کہا: اسے کچھ فائدہ (مال، سامان) دو، اس نے کہا: میرے پاس تو اسے دینے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا: فائدہ لازمی دینا ہے۔ اور فرمایا: اسے فائدہ دو اگرچہ کھجور کا نصف صاع ہی کیوں نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1983

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَّمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَّاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ۔اس نے مجھ سے کھانا مانگا، میرے پاس صرف ایک کھجور تھی ،میں نے وہ کھجور اسے دے دی۔ اس نے وہ کھجور لی اور دونوں بیٹیوں میں میں تقسیم کر دی، خود اس سے کچھ نہ کھایا، پھر کھڑی ہوئی اور اپنی بیٹیوں کو لے کر چلی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے آپ کو وہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان بییواں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو یہ اس کے لئے آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1984

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مَرْفُوْعًا: مَنْ أَتَى النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ فَقَدْ كَفَرَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص بیوی سے اس کی دبر میں ملتا ہے اس نے کفر کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1985

) عَنْ رَجُلٍ مِّنْ مُّزَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَمَا يَسْأَلُهُ النَّاسُ؟ فَانْطَلَقْتُ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللهُ وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللهُ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا فَقُلْتُ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي: لَنَاقَةٌ لَهُ هِيَ خَيْرٌ مِّنْ خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلِغُلَامِهِ نَاقَةٌ أُخْرَى هِيَ خَيْرٌ مِّنْ خَمْسِ أَوَاقٍ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ
مزینہ کے ایک شخص سے مروی ہے کہ اس سے اس کی والدہ نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر لوگوں کی طرح کیوں نہیں مانگتے؟ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لئےگیا۔ میں نے آپ کو کھڑے ہو کر خطاب کرتے دیکھا ، آپ فرمارہے تھے : جو شخص عفت چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن رکھے گا اور جو شخص لوگوں سے بے پرواہ ہو جائے گا اللہ تعالیٰ اسے غنی کردے گا، جس شخص نے لوگوں سے سوال کیا حالانکہ اس کے پاس پانچ وسق کے برابر خوراک تھی، تو گویا اس نے چمٹ کر سوال کیا میں نے اپنے آپ سے کہا: میرے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ وسق سے بہتر ہے، اور میرے غلام کی بھی ایک اونٹنی ہے جو پانچ وسق سے بہتر ہے۔ پھر میں واپس لوٹ آیا اور آپ سے کوئی چیز نہیں مانگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1986

عَنْ أَبَی كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! قَدْ كَانَ شَيْءٌ؟ قَالَ: أَجَلْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةٌ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ .
ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ اندر گئے، پھر غسل کر کے باہر آئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی معاملہ ہو گیاتھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میرے پاس سے فلاں عورت گزری تو میرے دل میں اپنی بیویوں کی خواہش پیدا ہوگئی ۔ میں اپنی ایک بیوی کے پاس گیا اور اس سے ملاپ کیا۔ تم بھی اسی طرح کیا کرو ، کیوں کہ تمہارا بہترین کام حلال کام ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1987

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ مِنَّا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی خادم کو اس کے مالکوں کے خلاف بھڑکایا وہ ہم میں سے نہیں ۔اور جس شخص نے شوہر سے اس کی بیوی کو بہکایا وہ ہم میں سے نہیں