AL SILSILA SAHIHA

Search Results(1)

15)

15) سفر، جہاد اور جانوروں سے نرمی کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2023

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: ابْغُونِي الضُّعَفَاءَ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لئے کمزور لوگوں کو تلاش کرو، کیوں کہ تمہیں تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2024

عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: أَتى جِبْرِيلُ النَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ فِيْنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ
رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: تم اہل بدر کو اپنے لوگوں کے مقابلے میں کیا حیثیت دیتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افضل مسلمان ۔جبریل کہنے لگے: اسی طرح ہم میں سے جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے (ہم انہیں افضل شمار کرتے ہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2025

عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ: اتَّقُوا اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوهَا صَالِحَةً وَكُلُوهَا صَالِحَةً .
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ کمر سے لگا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اچھے طریقے سے ان پر سوار ی کرو، اور ان کی صحت کی حالت میں ہی ان کا گوشت کھالیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2026

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يَنْشُدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَنْشُدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِّنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللهَ! أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي اللهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف دیکھ (کر ٹوکا) تو حسان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا اور اس مسجد میں تم سے بہتر شخص (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھا۔ پھر حسان رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگے: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا:(اے حسان) میری طرف سے جواب دو، اے اللہ(حسان کی) روح القدس کے ساتھ مدد فرما۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2027

عن أُم كَبْشَة امْرَأَةً مِّنْ قُضَاعَةَ: أَنَّها اسْتَأْذَنَتِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَن تَغْزُو مَعَهُ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ الله! إِنِّي أُدَاوِي الجَرِيْحَ، وأَقُومُ عَلَى المَرِيْضِ، قَالَ: فَقَال رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : اجْلِسِي لَا يَتَحَدَّث النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَغْزُو بِامْرَأَة.
ام کبشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہونا چاہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں وہ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں زخمیوں کا علاج کروں گی، اور مریضوں کی تیمار داری کروں گی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بیٹھ جاؤ لوگ کہیں یہ بات نہ کرنے لگ جائیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عورت کو لے کر جہاد کر رہے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2028

) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوْصَى بِثَلَاثَةٍ فَقَالَ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ثُمَّ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ. وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَ فَأُنْسِيتُهَا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین وصیتیں کیں۔ آپ نے فرمایا: مشرکین کو جزیرة العرب سے نکال دو، وفد کا اسی طرح اکرام کرو جس طرح میں ان کا اکرام کرتا ہوں۔ پھر فرمایا: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: تیسری چیز سے خاموشی اختیار کی یا فرمایا کہ تیسری وصیت مجھے بھول گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2029

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَّسَاجِدَ
ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آخری بات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی وہ یہ تھی کہ: اہل حجاز اور اہل نجران کے یہودیوں کو جزیرة العرب سے نکال دو ۔اور یاد رکھو ! کہ بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2030

عَن أَنسِ بنِ مَالِك، أَنَ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذَا أَخْصَبَتِ الْأَرَضُ فَانْزِلُوا عَنْ ظَهْرِكُمْ وَأَعْطُوْه حَقَّهُ مِنَ الْكَلَأَ، وَإِذَا أَجْدَبَتِ الْأَرَضُ فَامْضُوا عَلَيْهَا، وَعَلَيْكُم بِالدُّلْجَة، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمین سرسبز زمین آجائے تو اور جب زمین بے آباد (بنجرو خشک)ہو جائے تو وہاں سے چلے جاؤ، اور اندھیرے(میں سفر) کو لازم کرو، کیوں کہ رات میں زمین لپیٹ دی جاتی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2031

عَنْ عُقْبَةَ بن عَامِرٍ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَرَدْتَّ أَنْ تَغْزُوَ اِشْتَرِ فَرَسًا أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلًا مُطْلَقَ الْيُمْنَى، فَإِنَّكَ تَغْنَمُ وَتَسْلَمُ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جہاد کا ارادہ کرو تو ایک سیاہ رنگ کا گھوڑا خریدو، جس کی پیچانی اور پاؤں سفید چمکدار ہوں۔ جس کے دائیں پاؤں میں سفیدی نہ ہوتو تم غنیمت سمیٹو گے اور سلامت رہو گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2032

عَنْ صَخْرِ بْنِ عَيْلَةَ: إِنَّ قَوْمًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَرُّوا عَنْ أَرْضِهِمْ حِينَ جَاءَ الْإِسْلَامُ فَأَخَذْتُهَا فَأَسْلَمُوا فَخَاصَمُونِي فِيهَا إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَرَدَّهَا عَلَيْهِمْ وَقَالَ: إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ فَهُوَ أَحَقُّ بِأَرْضِهِ وَمَالِهِ .
صخر بن عیلہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اسلام کا ظہورہوا تو بنی سلیم کی ایک قوم اپنے علاقے سے بھاگ گئی، میں نے وہ زمین اپنے قبضے میں کر لی، پھر وہ مسلمان ہو گئے اور زمین کے لئے مجھ سے جھگڑا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ۔آپ نے وہ زمین انہیں واپس لوٹا دی اور فرمایا: جب آدمی مسلمان ہو جاتا ہے تو وہ اپنی زمین اور مال کا زیادہ حق دار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2033

عن أبي هُرَيْرَة عن النَّبِي قال: إِذَا خَرَجْتَ مِنْ مَّنْزِلِكَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْن يَمْنَعَانِكَ مِنْ مَّخْرَجِ السُّوءِ، و إِذَا دَخَلْتَ إِلَى مَنْزِلِكَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَمْنَعَانِكَ مِنْ مَّدْخَلِ السُّوْءِ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے گھر سے نکلو تو دو رکعتیں پڑھ لو۔ یہ دو رکعتیں تمہیں (سفر کی) تکلیف سے بچائیں گی۔ اور جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھ لو یہ دو رکعتیں تمہیں (گھر میں برائی یا) تکلیف سے بچائیں گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2034

عَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لِي بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ لِي: إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غِذَاءَ رِبَاعِهِمْ وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ وَلَا يُبطلوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا
سوادہ بن ربیع‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کچھ مانگا تو آپ نے مجےں کچھ اونٹنیاں دیں پھر فرمایا: جب تم اپنے گھر واپس جاؤ تو اپنے (گھروالوں کو)حکم دو کہ اپنے جانوروں کی خوراک اچھی رکھیں اور انہیں حکم دو کہ وہ اپنے ناخن کاٹ کر رکھیں اور ان ناخنوں کے ذریعے اپنے جانوروں کے تھنوں کو دودھ دوہتے وقت تکلیف نہ دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2035

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ (خَزَائِن) فَارِسُ وَالرُّومُ أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَقُولُ كَمَا أَمَرَنَا اللهُ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ تَتَنَافَسُونَ ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ
عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب فارس اور روم کے(خزانے) تم پر کھول دیئے جائیں گے، تو اس وقت تم کس طرح کے بن جاؤ گے؟ عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہی بات کہیں گے جو اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیا ہے۔ (یعنی شکر کریں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ بھی، تم ایک دوسرے سے رشک کرو گے، پھر حسد کرنے لگو گے، پھر ایک دوسرے سےپیٹھ پھیرو گے، پھر آپس میں بغض رکھو گے، یا اسی طرح کچھ کرو گے، پھر تم مہاجرین کے گھروں کی طرف جاؤ گے اور انہیں ایک دوسرے کی گردنوں پر رکھو گے(ایک دوسرے کا حکم بناؤ گے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2036

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنّ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَال: إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً (فِي سَفرٍ) فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب (کسی سفر میں )تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک شخص ان کی امامت کروائے اور امامت کا زیادہ حقدار قرآن کریم کا زیادہ علم والا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2037

) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْلُ: إِذَا مَرَرْتُم عَلَى أَرْضِ قَدْ أُهْلِكَتْ بِهَا أُمَّةٌ مِّنَ الْأُمَمِ فَأغذُوا السَّيْرَ.
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسی زمین کے پاس سے گزرو جس میں کسی امت کو ہلاک کیا گیا ہو تو تیزی سے گزروجاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2038

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: إِذَا وَقَعَتِ الْمَلَاحِمُ بَعَثَ اللهُ بَعْثًا مِّنَ الْمَوَالِي (مِن دِمشق) هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَبِ فَرَسًا وَأَجْوَدُهُ سِلَاحًا يُؤَيِّدُ اللهُ بِهِمُ الدِّينَ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب خونخوار جنگیں چھڑ جائیں گی تو اللہ تعالیٰ (دمشق) سے مدد گاروں کا ایک لشکر بھیجے گا جو عرب کے بہترین شہہ سوار اور ہتھیار چلانے میں انتہائی ماہر ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے دین کی مدد کرے گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2039

عَنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ مَرْفُوْعًا: اِرْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً وَاِيتَدِعُوهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ.
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:ان جانوروں پر مناسب طریقےسےسواری کرو اور انہیں صحیح سلامت چھوڑ دوانہیں کرسی مت بناؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2040

عن أبي هريرة قَال: مَرَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى قَوْمٍ يَّرْمُونَ فَقَالَ: اِرْمُوا (بني إِسْمَاعِيلَ) فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے پاس سے گزرے جو تیراندازی کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: (اسماعیل علیہ السلام کی اولاد )تیر اندازی کرو کیوں کہ تمہارے والد بھی تیر انداز تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2041

عن جابر أنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَج عَام الفَتْحِ، ثُمَّ اجْتَمَعَ إِلَيْه الْمَشَاةُ مِنْ أَصْحَابِه، وَصَفُّوا له، فَقَالُوا : نَتَعَرَّضُ لِدَعَوَاتِ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فقالوا: اِشْتَدّ عَلَيْنَا السَفَرُ، وَطَالَتِ الشقَّة، فَقَال لَهم رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اسْتَعِينُوا بالنَّسْلِ، فَإِنَّه يُقَطِّع عَنْكُم الْأَرَض وتَخِفُّونَ لَه، قَالَ: فَفَعَلْنَا، فَخفنَا له، وَذَهَبَ مَا كُنَّا نَجِدُ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال نکلے تو آپ کے گرد آپ کے پیدل چلنے والے صحابہ جمع ہو گئے۔ اور صف بنا کر کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں چاہتے ہیں، اور کہنےلگے: ہم پر سفر بھاری ہو گیا ہے، مشقت طویل ہوگئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا:تیز چلنے میں مدد طلب کرو جو (تیز چلنا) تمہارا سفر بھی کٹوا دے گا اور تم آسانی بھی محسوس کرو گے۔ ہم نے ایسا ہی کیا ہم ہلکے پھلکے بھی ہوگئے اور ہماری تھکاوٹ بھی ختم ہوگئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2042

عَنْ سَهْلِ ابْن الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَـتَّى كَانَتْ عَشِيَّةً فَحَضَرْتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ آبَائِهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَشَائِهِمْ اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَالَ: تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ تعالىٰ ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَّحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ قَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: فَارْكَبْ فَرَكِبَ فَرَسًا لَّهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اِسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ وَلَا نُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَحْسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا أَحْسَسْنَاهُ فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ يُصَلِّي يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَالَ: أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَكُمْ فَارِسُكُمْ فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اطَّلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا فَلَمْ أَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: لَا إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيًا حَاجَةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَدْ أَوْجَبْتَ فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَّا تَعْمَلَ بَعْدَهَا
سہل بن حنظلیہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے،اور چلتے ہی رہے حتی کہ رات ہو گئی، نماز کا وقت ہوا۔ ایک گھڑ سوارآیا اور کہنے لگا:اے اللہ کے رسول!میں آپ کے آگے گیا تھا حتی کہ میں فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھ گیا، میں نے دیکھا کہ میں ہوازن میں ان کی بھیڑ وں، اونٹوں اوربکریوں کے ساتھ کھڑا ہوں ، وہ حنین کی طرف جمع ہو رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: یہ مال اللہ کے حکم سے کل مسلمانوں کا مال غنیمت ہوگا۔ پھر فرمایا:آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا؟ انس بن ابی مرثد غنوی‌رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول میں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سوار ہوجاؤ، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھاٹی پر چڑھ جاؤ، اور رات کو تمہاری طرف سے غفلت نہ ہو۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لےر نکلے اور دو رکعت ادا کی، پھر فرمایا:کیا تم نے اپنے گھڑ سوار کو دیکھا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے اسے نہیں دیکھا۔ پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور (نماز ہی میں) گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے۔ جب آپ نے نماز مکمل کر لی اور سلام پھیر لیا تو فرمایا: خوش ہو جاؤ، تمہارا شسواار آگیا، ہم گھاٹی کی طرف درختوں کے جھنڈ میں دیکھنے لگے، اچانک وہ نمودار ہوگیا، اورآکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس نے سلام کیا اور کہنے لگا: میں یہاں سے چلتا ہوا اس گھاٹی کی چوٹی پر پہنچ گیا جہاں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا۔ جب صبح ہوئی تو میں دونوں گھاٹیوں پر چڑھا لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: کیا رات کو تم گھوڑے سے اترے تھے؟ کہنے لگا:نہیں سوائے نماز اور قضائے حاجت کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:تم نے (جنت) واجب کر لی، اب اس کے بعد تم کوئی عمل نہ بھی کرو تب بھی تم پر کوئی حرج نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2043

عَنْ قَزْعَةَ قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ فَقَالَ: تَعَالَ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَقَالَ: أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ
قزعہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک کام سے بھیجا تو کہنے لگے:آؤ تاکہ میں تمہیں الوداع کر سکوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے الوداع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی ایک کام سے بھیجا تو فرمایا: أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ، ”میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کا خاتمہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2044

عن عبد الله الخُطمي قال: كان النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَرَاد أَنْ يَّسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ، قال: أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ.
عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر کو الوداع کرتے تو فرماتے : أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ، ”میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کا خاتمہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2045

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا وَدَّعَ أَحَدًا قَالَ أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو الوداع کرتے تو فرماتے : أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ، ”میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کا خاتمہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں “۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2046

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعاً: اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا هَذَا بِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللهِ فِي سَبِيلِ اللهِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اس قوم پر اللہ کا غصہ شدید ہوجاتا ہے جو ایسا کام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرتی ہے، آپ اس وقت اپنے رباعی دانتوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اس آدمی پر اللہ کا غصہ شدید ہوجاتا ہے جسے اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں (لڑائی کرتے ہوگے) قتل کردے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2047

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِر الجُهني قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: مَتَى أَوْلَجْتَ خُفَّيْكَ فِى رِجْلَيْكَ؟ قُلْتُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ: فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا؟ قُلْتُ: لاَ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن شام سے مدینے کی طرف چلا، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: تم نے اپنے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے دن، انہوں نے کہا: کیا تم نے ان دونوں کو اتارا ہے؟ میں نے کہا:نہیں عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تم نے سنت پر عمل کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2048

) عَنْ أَبِي سَعِيد الخُدرِي مرفُوعاً: أفضَلُ الْجِهَادِ عِنْدَ الله يَوْمَ الْقِيَامَة الَّذِين يُلْقُونَ في الصَّفِّ فَلَا يُلْفِتُون وُجُوهَهُم حَتَّى يُقْتَلُوا، أُولَئِكَ يَتَلَبَّطُونَ في الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الجَنَّةِ، يَنْظُرُ إِلَيْهِم ربُّكَ، إِن رَبَّك إِذَا ضَحِكَ إلَى قَوْمٍ فَلَا حِسَابَ عَليْهِم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: قیامت کے دن اللہ کے ہاں افضل جہاد (کرنے والے) وہ لوگ ہوں گے جو پہلی صف میں ٹکراتے ہیں اور قتل ہونے تک مڑ کر نہیں دیکھتے۔ یہی لوگ ہیں جو جنت میں بلند محلات میں دوڑتے پھریں گے تمہارا رب ان کی طرف دیکھ رہا ہوگا یقیناً تمہارا رب جب کسی قوم کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے تو ان پر کوئی حساب نہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2049

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ (وَفِي رِوَايَة: حَقٌّ). عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ. ( )ورد من حدیث ابی سعید الخدری، و ابی امامة و طارق بن شہاب، و جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھم والزھری مرسلا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف (اور ایک روایت میں ہے: حق)کا کلمہ کہنا ہے ۔ یہ حدیث سیدنا ابوسعید خدری، ابوامامہ، طارق بن شہاب اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے اور امام زھری سے مرسلا مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2050

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ مرفوعا: أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ
عمرو بن عبسہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:افضل جہاد (اس شخص کا ہے)جس کے گھوڑے کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور اس کا خون بہا دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2051

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: أَفْضَلُ النَّاسِ وَفِي رِوَايَةٍ: خَيْرُ النَّاسِ رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِّنْ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللهَ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: کونسا شخص افضل ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: افضل شخص (اور ایک روایت میں ہے: بہترین شخص ) وہ آدمی ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرتا ہے ۔پھر وہ مومن ہے جو کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2052

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَلْفَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِّنَ النَّاسِ وَكَانَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِحَاجَتِهِ هَدَفًا أَوْ حَائِشَ نَخْلٍ فَدَخَلَ حَائِطًا لِّرَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ (فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ) حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَمَسَحَ سِراته إلى سَنامه ذِفْرَاهُ فَسَكَنَ فَقَالَ: مَنْ رَّبُّ هَذَا الْجَمَلِ؟ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟ فَجَاءَ فَتًى مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: لِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: أَفَلَا تَتَّقِي اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللهُ إِيَّاهَا؟ فَإِنَّهُ شَكَا إِلَيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ
عبداللہ بن جعفر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راز داری میں مجھ سے کوئی بات کیھ جو میں لوگوں سے بیان نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی ضرورت کے لئے سب سے پسندیدہ جگہ کوئی ٹیلہ یا کھجوروں کا جھنڈ ہوا کرتا تھا۔آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں سامنے ایک اونٹ کھڑا ہے(جب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ بلبلا یا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کے کان کی کی پشت سے لے کر کوہان تک ہاتھ پھیرا تو وہ پر سکون ہوگیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری نوجوان آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم ان جانوروں کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس پر بوجھ لاد کر تھکاتے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2053

) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى رَجُلٍ وَاضِعٍ رِجْلَه عَلَى صَفْحَةِ شَاةٍ وَهُوَ يَحُدُّ شَفْرَتَهُ وَهِيَ تَلْحَظُ إِلَيْهِ بِبَصَرِهَا، فَقَالَ: أَفَلَا قَبْلَ هَذاَ؟! تُرِيْدُ أَنْ تُمِيْتَهَا مَوْتَتَيْن؟!.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو اپنی ٹانگ ایک بکری کے اوپر رکھے چھری تیز کر رہا تھا۔ بکری اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس سے پہلے چھری تیز نہیں کر سکتے تھے؟ کیا تم چاہتے ہو کہ اسے دو مرتبہ مارو؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2054

عن فضالة قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ فَقَال: يَا رَسُولَ الله صَلَّى الله عليكَ، ما أَقْرَبُ الْعَمَل إِلَى الجِهَادِ؟ قال: أَقْرَب الْعَمَلِ إلى الله عزوجل: الْجِهَاد في سَبِيل اهلُ وَ لَا يُقَارِبِهُ شَيْءٌ (إِلَا من كَان مِثْل هذا وَأَشَار النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إلى قَائمٍ لايُفْتِرُ من قِيَامٍ وَلَا صِيَامٍ).
فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور کہا:اے اللہ کے رسول!آپ پر اللہ کی رحمت ہو، جہاد کے برابر کونسا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے اور اس کے برابر کوئی عمل نہیں سوائے اس جیسے شخص کے( اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے قیام کرنے والے کی طرف اشارہ کیا)، جو قیام اور روزے میں وقفہ نہ کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2055

عَن ابن عُمَرَ رضی اللہ عنہ ، عَن النِّبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَرُبَّمَا لَم يَرْفَعْه قَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكُم بِلَيْلَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْلَةِ القَدْرِ؟ حَارِسٌ حَرَسَ في أَرْضِ خَوْفٍ، لَعَلَّه أَن لَّا يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے فوعاً بیان کرتے ہیں اور کبھی کبھی اسے مرفوعاً بیان نہیں کرتے : آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا میں تمہیں لیلۃ القدر سے افضل رات نہ بتاؤں؟ خوف کے علاقے میں پہرہ دینے والا(جسے یہ خدشہ ہو کہ) شاید وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹ کر نہ جا سکے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2056

عَن أَبِي الطُفَيل، قَالَ: ضَحِكَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ حَتَّى اِسْتَغْرَقَ ضِحِكًا ثم قال: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا ضَحِكْتُ؟ قُلْنَا: يَا رَسُولَ الله! مِمَّا ضَحِكْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ نَاسًا مِّنْ أُمَتِي يُسَاقُون إِلَى الْجَنَّة في السَّلَاسِل ما أَكْرَهَهَا إليهم، قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: قَوْمٌ مِّنَ الْعَجَمِ يَسْبِيْهِمُ الْمُهَاجِرُون فَيُدْخِلُونَهُمْ في الْإِسْلَام .
ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا حتی کہ آپ کھل کھلاکرہنسنےلگے۔ پھر فرمایا: کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کس وجہ سے ہنسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں، انہیں یہ بہت ناپسندیدہ اور ناگوار ہے۔ہم نے کہا:یہ کون لوگ ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجمی لوگ ہیں جنہیں مہاجرین قیدی بنائیں گے، اور انہیں اسلام میں داخل کریں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2057

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حِينَ أَجْلَى الْأَحْزَابَ (يعني يوم الخندق) عَنْهُ: الْآنَ (وفي رواية: اليوم) نَغْزُوهُمْ (يعني: مُشْرِكِي مَكَّةَ الَّذِينَ اِنْهَزَمُوا فِي غَزْوةِ الخَنْدَقِ) وَلَا يَغْزُونَا (نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ).
سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب لشکر واپس چلے گئے( یعنی خندق کے موقع پر)۔ اب (اور ایک روایت میں ہے: آج کے بعد) ہم ان سے جہاد کریں گے، (یعنی مشرکین مکہ سے جوغزوہ خندق میں شکست کھا گئے) اور یہ ہم سے لڑائی نہیں کرسکیں گے (یعنی ہم ان کی طرف چڑھائی کریں گے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2058

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ: اللَّهُمَّ (أَنتَ) خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ. فَقَالَ لَهُ: رَجُلٌ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ؟ فَقَالَ: مِنْ خَيْرٍ مِّنْ عُمَرَ مِنْ رَّسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا، جب تم اپنے بستر پر آؤ تو کہو: اللهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ،” اے اللہ (تو نے) مجھےپیدا کیا اور تو ہی فوت کرے گا۔ تیرے لئے ہی مرنا ہے، اور تیرے لئے ہی زندہ رہنا، اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما، اور اگر اسے فوت کردے تو اس کی بخشش فرما، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں“۔ اس آدمی نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ بات عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر شخص، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سنی ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2059

عن زَيَاد بن جُبَير بن حية، قال: أَخْبَرَنِي أبي أَن عمر بن الْخطَاب رِضْوَان الله عليه، قال للهرمزان: أَمَا إِذ فُتَّنِيْ بِنَفْسِك فَانْصَح لي، وَذَلك أَنَّه قال لَه: تَكَلَّم لَا بأس، فأمِنَه، فَقَال الهرمزان: نَعَم إِن فَارِس الْيَوْم رَأْسٌ وَّجَنَاحَانِ، قَالَ: فَأَيْن الرأسُ؟ قَالَ: نَهَاوَنْد مَع بُنْدَارِ، قَالَ: فَإِنَّ مَعَه أَسَاوِرَة كِسْرَى، وَأَهْل أصفهان، قال : فَأَيْن الجَنَاحَانِ؟ فَذَكَر الْهُرْمُزَان مَكَانًا نَسِيْتُه، فَقَال الهرمزان: اقْطَعْ الْجَنَاحَيْن تُوْهِن الرَأْسَ، فَقَال لَه عمر رِضْوَان الله عليه: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ الله، بَل أَعْمِدُ إِلَى الرَّأْسِ فَيَقْطَعُه الله، فَإِذَا قَطَعَه الله عَنِّي انْقَطَع عَنِّي الجَنَاحَانِ، فَأَرَاد عمر أَن يَسِير إِلَيْه بِنَفْسِهِ، فَقَالُوا : نُذَكِّرُك الله يَا أَمِير الْمُؤْمِنِين أَن تَسِير بِنَفْسِك إلى العجم، فَإِن أَصَبْت بِهَا لَم يَكُن لَلْمُسْلِمِين نظام، وَلَكِنْ ابْعَث الجنود، قال: فَبَعَث أَهَل المدينة، وَبَعَث فِيهِم عبد الله بن عمر بن الخطاب، وَبَعَث الْمُهَاجِرِين والأنصار، وَكَتَب إلى أبي مَوسَى الأشعري، أَن سِر بِأَهْل البصرة، وَكَتَب إلى حُذَيْفَة بن اليمان، أَن سِر بِأَهْل الكوفة، حَتَّى تَجْتَمِعُوا بنهاوند جميعا، فَإِذَا اجتمعتم، فَأَمِيرُكُم النُّعْمَان بن مُقْرِن الْمُزَنِیُّ. فَلَمَا اجْتَمَعُوا بنهاوند أَرْسَل إِلَيْهِم بُنْدَار (العلج) أَن أَرْسِلُوا إِلَيْنَا يَا مَعْشَر الْعَرَب رَجُلًا مِنْكُم نُكَلِّمُهُ، فَاخْتَار النَّاسُ الْمُغِيَرة بن شعبة، قال أَبِيْ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْه رَجُلٌ طويلٌ، أَشْعَثَ أعورَ، فَأَتَاهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا سَأَلْنَاهُ؟ فَقَال لَنا: إِنِّي وَجَدْتُ الْعَلَج قَد اسْتَشَار أَصْحَابه في أَيِّ شَيْءٍ تَأْذَنُون لِهَذَا العربي؟ أَبَشَارَتُنَا وَبَهْجَتُنَا وَمُلْكُنَا؟ أَوْ نَتَقَشَّفُ لَهُ، فَنَزْهَدُهُ عَمَّا في أَيْدِيَنَا؟ فَقَالُوا: بَل نَأْذَن لَه بِأَفْضَل ما يَكُون من الشَّارَة والعدة، فَلَمَّا رَأَيْتُهُم رَأَيْتُ تِلْكَ الحِرَاب، وَالدَّرَق يَلْمَعُ مِنْهُ البَصَر، وَرَأَيْتُهُم قِيَامًا عَلَى رأسه، وَإِذَا هُو عَلَى سَرِيرٍ مِنْ ذَهَبٍ، وَعَلَى رَأْسِهِ التَّاجُ، فَمَضَيْتُ كَمَا أَنَا، وَنَكَسْتُ رَأْسِي لِأَقْعُد مَعَه عَلَى السرير، قال: فَدُفِعْتُ وَنُهِرْتُ، فَقُلْتُ إِن الرُّسُل لَا يُفْعَلُ بِهْم هَذا، فَقَالُوا لِي : إِنَّمَا أَنْتَ كَلْبٌ أَتَقْعُد مَعَ الْمَلِكِ؟!، فَقُلْت: لَأَنَا أَشْرَفُ في قَوْمِي مِنْ هَذَا فِيْكُمْ، قَالَ : فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: اِجْلِسْ، فَجَلَسْتُ، فَتُرْجِمَ لِي قَولُه؟ فَقَال: يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ! إِنَّكُم كُنْتُم أَطْوَل النَّاس جُوْعًا، وَأَعْظَم النَّاس شَقَاءً، وَأَقْذَرَ النَّاس قَذَرًا، وَأَبْعَد النَّاس دارًا، وأَبْعَدَهُ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَمَا كَان مَنَعَنِي أَن آمُر هَذِه الأَسَاوِرَةِ حَوْلِي، أَنْ يَنْتَظِمُوْكُمْ بِالنِّشَابِ، إِلَا تَنْجِيْسًا لِجِيَفِكُمْ لِأَنَّكُم أَرْجَاسٌ، فَإِن تَذْهَبُوا يُخَلّٰي عَنْكُمْ، وَإِنْ تَأْبُوا نُبَوِّئُكُمْ مَصَارِعَكُمْ، قال الْمُغِيَرة : فَحَمَدْتُ الله وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ : وَالله ما أَخْطَأَتَ مِنْ صِفَتِنَا وَنَعْتِنَا شَيْئًا، إِنْ كُنَّا لَأَبْعَد النَّاس دَارًا وَأَشَدّ النَّاس جُوعًا وَأَعْظَم النَّاس شَقَاءً وَأَبْعَد النَّاس من كُل خَيْرٍ حَتَّى بَعَثَ الله إِلَيْنَا رَسُوْلًا، فَوَعَدَنَا بِالنَّصْر في الدُّنْيَا وَالْجَنَّة في الآخرة، فَلَم نَزَلْ نَتَعَرَّفُ مِنْ رَبِّنَا مُذْ جَاءَنَا رَسُولُه ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الفَلاح، وَالنَّصْرَ، حَتَّى أَتَيْنَاكُمْ، وَإِنَّا وَالله نَرَى لَكُم مُلْكًا وَعَيْشًا لَا نَرْجِعُ إِلَى ذَلِكَ الشَّقَاءِ أَبَدًا، حَتَّى نَغْلِبَكُمْ عَلَى مَا فِي أَيْدِيْكُمْ، أَو نُقْتُلَ في أَرْضِكُمْ، فَقَال : أَمَّا الأعور، فَقَد صَدَقَكُم الَّذِي في نفسه، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ، وَقَد وَالله أرْعَبْتُ الْعَلْج جهدي، فَأَرْسَل إِلَيْنَا الْعَلْج إِمَّا أَن تَعْبُرُوا إِلَيْنَا بِنَهَاوَنْد، وَإِمَّا أَنْ نَعْبُرَ إِلَيْكُمْ، فَقَال النُّعْمَان : اُعْبُرُوا، فَعَبَرْنَا قَالَ أَبِي : فَلَم أَر كَالْيَوْم قَطُ، إِن الْعُلُوج يجيئون، كَأَنَّهُم جِبَال الحَدِيْد، وَقَدْ تَوَاثَقُوا أَنْ لَا يَفِرُّوا مِنَ العَرَبِ، وَقَد قُرن بَعْضُهُم إِلَى بَعْضٍ، حَتَّى كَان سَبْعَةٌ في قران، وَأَلْقَوْا حَسَك الْحَدِيد خَلْفَهُمْ، وَقَالُوا : من فَر مِنَّا عقره حَسَك الحديد، فَقَال الْمُغِيَرة بن شُعُبَة حِين رَأَى كَثْرَتَهُم : لَم أَر كَالْيَوْم قَتِيْلًا، إِن عَدُوَّنَا يَتْرُكُون أَنْ يَتَنَامُوا، فَلَا يُعَجَّلُوا أما وَالله لَو أَن الْأَمْر إِلَيّ لَقَد أَعْجَلْتُهُم به، قال : وكان النُّعْمَانُ رَجُلًا بَكَّاءً، فَقَال : قَد كَان الله جَلّ وَعَز يُشْهِدُك أَمْثَالَهَا فَلَا يَحْزُنْكَ وَلَا يَعِيْبُكَ مَوْقِفُكَ، وَإِنِّي وَالله ما يَمنَعُنِي أَن أناجزهم، إِلَا لِشَيْءٍ شَهِدْتُه من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، أن رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان إِذ غَزَا فَلَم يُقَاتِلْ أَوَّل النَّهَار لَم يُعَجِّلْ حَتَّى تَحْضُر الصَّلَوَات وَتَهُبُّ الأَرْوَاحَ، وَيُطَيِّبُ القِتَالَ، ثم قال النُّعْمَان : اللَّهُمّ إِنِّي أَسْأَلَك أَن تَقَرّ عَيْنَي بِفَتْحٍ يَكُون فِيه عِزُّ الإِسْلَامِ، وَأَهْلِهِ وَذُلُّ الْكُفْرِ وَأَهْلِهِ، ثُمَّ اخْتِم لِي عَلَى أَثْر ذَلِك بالشهادة، ثم قال : أمِّنُوا يَرْحَمُكُم الله، فَأَمَّنَّا وَبَكَى فَبَكَيْنَا، فَقَال النُّعْمَان: إِنِّي هازٌّ لِوَائِي فَتَيَسَّرُوا لِلسِّلَاحِ، ثُمَّ هَازِّهُ الثَّانِيَةَ، فَكُونُوا مُتَيَسِّرِيْنَ لِقِتَالِ عَدُوِّكُم بِإِزَائِكُمْ، فَإِذَا هَزَزْتُهَا الثَّالِثَةَ، فَلْيَحْمِلْ كُلُّ قَوْمٍ عَلَى مَنْ يَلِيْهِم مِنْ عَدُوِّهمْ عَلَى بَرَكْةِ الله، قَالَ: فَلَمَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَهَبَّت الْأَرْوَاح كَبَّر وكبرنا، وَقَال رِيح الْفَتْح وَالله إِن شَاء الله، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَن يَسْتَجِيبَ الله لِي وَأَن يُفْتَح عَلَيْنَا فهزَّ اللِّوَاءَ فَتَيَسَّرُوا، ثُمَّ هَزَّهُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ هَزَّه الثالثة، فَحَمَلَنَا جَمِيَعًا كُلُّ قَوْمٍ عَلَى مَنْ يَلِيْهِمْ، وَقَال النُّعْمَان : إِنْ أَنَا أَصَبْتُ فَعَلَى النَّاسِ حُذَيْفَة بن اليمان، فَإِنْ أُصِيْبَ حُذَيْفَةَ، فَفُلَان، فَإِن أُصِيبَ فُلَانٌ (ففُلَانٍ)، حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً آخِرُهُم الْمُغِيَرة بن شعبة، قال أبي : فَوَالله ما عَلِمْت من الْمُسْلِمَيْن أحدًا، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إلى أَهْلِه، حَتَّى يُقْتَلَ أَو يَظْفُرَ فَثَبتوا لنا، فَلَم نَسْمَع إِلَا وَقْع الْحَدِيد عَلَى الحديد، حَتَّى أُصِيب في الْمُسْلِمَيْن عصَابَةً عظيمةً، فَلَمَّا رَأَوْا صَبْرَنَا وَرَأَوْنَا لَا نُرِيد أَن نَرْجِع، انهزموا، فَجَعَل يَقَعُ الرَّجُلُ، فَيَقَعُ عَلَيه سَبْعَةٌ في قران، فَيُقْتَلُون جميعا، وَجَعَل يعقرهم حَسَك الْحَدِيد خلفهم، فَقَال النُّعْمَان : قَدِّمُوا اللِّوَاء فَجَعَلْنَا نُقَدِّمُ اللِّوَاءَ فَنَقْتُلُهُم ونهزمهم، فَلَمَّا رَأَى النعمان، قَد اسْتَجَاب الله لَه وَرَأَى الْفَتْح جَاءَتْه نِشَابَةٌ، فَأَصَابَت خَاصِرَتِه فقتلته، فَجَاء أَخُوه مَعْقَل بن مُقْرَن فسجى عليه ثَوْبًا وَأَخَذ اللِّوَاء فَتَقَدَّم ثم قال: تَقَدَّمُوا رحمكم الله، فَجَعَلْنَا نَتَقَدَّمُ فَنَهْزَمُهُمْ ونقتلهم، فَلَمَا فَرَغْنَا وَاجْتَمَع الناس، قالوا: أَيْن الأمير؟ فَقَال معقل: هذا أَمِيرُكُم قَد أَقَرَّ الله عَيْنَه بِالْفَتْح وَخَتَم لَه بالشهادة، فَبَايَع النَّاسَ حُذَيْفَةَ بن اليمان، قال : وكَانَ عُمَرُ ابن الخطاب رِضْوَان الله عليه بِالْمَدِينَة يَدْعُو الله، وَيَنْتَظِرُ مِثْلَ صَيْحَة الحُبْلَى، فَكَتَبَ حُذَيْفَةُ، إلى عُمَرَ بِالْفَتْح مَع رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِين، فَلَمَّا قَدِم عَلَيْه قَالَ: أَبْشِرْ يَا أَمِير المؤمنين، بِفَتْحٍ أَعَزَّ اللهُ فِيه الْإِسْلَام وَأَهْلَه وأذل فِيه الشِّرْك وأهله، وَقَال: النُّعْمَان بَعَثَكَ؟ قال: اِحْتَسَبَ النَّعْمَان يَا أَمِير المؤمنين، فَبَكَى عُمَرُ وَاْسْتَرْجَعَ، فَقَالَ : وَمَنْ وَيْحَكَ، فَقَال: فُلَانٌ، وَفَلَانٌ، وفلانٌ، حَتَّى عَدَّ نَاسًا ثُمَّ قَالَ وَآخَرِين يَا أَمِير الْمُؤْمِنِين لَا تَعْرِفُهُم، فَقَالَ: عُمَرُ رِضْوَان الله عَلَيْه، وَهُو يَبْكِي لَا يَضُرُّهُمْ، أَنْ لَا يَعْرِفُهُم عُمُرُ، لَكِن الله يَعْرِفُهُم
زیاد بن جبیر بن حیہسے مروی ہے کہتے ہیں:مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا:جب تم میرے پاس سےجاہی رہےہوتومیرےلئےایک نیکی کردو،عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تھا کہ:ڈرو مت اور اسے امان دے دی۔ ہرمزان نے کہا: ٹھیک ہے،آج کے فارس کا ایک سر اور دو بازو ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:سر کہاں ہے؟ ہر مزان نے کہا:نہاوند، بندار کے ساتھ ۔کیوں کہ اس کے ساتھ کسریٰ کے ستون اور اہل اصفہان ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:بازو کہاں ہیں؟ ہر مزان نے ایک جگہ کا ذکر کیا جو مجھے بھول گئی۔ ہرمزان نے کہا: دونوں بازو کاٹ دو، سر کمزور ہو جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ کے دشمن! تم جھوٹ بولتے ہو، میں سر کی طرف جاؤں گا، اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ سر کاٹ دے گا تو بازوخودبخودختم ہو جائیں گے۔عمر رضی اللہ عنہ نے خود جانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: امیر المومنین ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ عجم کی طرف نہ جائیں۔ اگر آپ کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو مسلمانوں کا نظام سنبھالنے والا کوئی نہیں۔آپ لشکر بھیج دیجئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کو بھیجا، ان میں عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کو بھی بھیجا۔ مہاجرین و انصار کو بھی بھیجا اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم بصرہ والوں )بصرہ کے مجاہدین کا لشکر) کو لے کر آؤ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تم اہل کفوہ (کوفہ کے مجاہدین کا لشکر) کو لے کر آؤ، اور سب نہاوند میں جمع ہو جاؤ، جب تم جمع ہو جاؤ تو تمہارے امیر نعمان بن مقرن مزنی ہوں گے۔ جب وہ نہاوند میں جمع ہوگئے ۔تو بندار نے ان کی طرف (کافر شخص)بھیجا کہ اے عرب کی جماعت!ہمارے پاس اپنا کوئی آدمی بھیجو، ہم اس سے بات چیت کریں(مذاکرات کریں) لوگوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو چنا ، میرے والد کہتے ہیں: گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں، لمبے قد، بکھرے بالوں والے، بھینگے، وہ بندار کے پاس گئے، جب وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نےایک عجمی کافر کو دیکھاکہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ طلب کر رہا ہے۔ تم نے اس عربی کو کیوں بلایا ہے؟ کیا اسے ہماری شان و شوکت، حسن و جمال اور بادشاہت ہمارے پاس ہے ہم اسے غنیمت جانیں؟ کہنے لگے: کہا نہیں، بلکہ اس سے بھی بلند تر مقصد کے لئے بلایا ہے تاکہ ہم اسے اپنی عسکری قوت اور عددی برتری دکھائیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کے نیزے بھی دیکھے اور ڈھالیں بھی جن سے آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں۔ انہیں اس کے سر پر کھڑے دیکھا، وہ سونے کے ایک تخت پر بیٹھا تھا۔ اس کے سر پر تاج تھا، میں اپنی اسی کیفیت میں چلتارہا۔ میں نے اس کے ساتھ تخت پر بیٹھنا چاہا تو مجھے (تخت سے) ہٹا دیا گیا، میں نے کہا:قاصدوں کے ساتھ اس طرح نہیں کیا جاتا۔ وہ مجھ سے کہنے لگے: تم کتے ہو کیا تم بادشاہ کے ساتھ بیٹھوگے؟ میں نے کہا: جتنا،توعزت دار ہے اس سے زیادہ میں اپنی قوم میں محترم ہوں،نہاوند نے مجھے ڈانٹ دیا، اور کہا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، مجھے اس کی بات ترجمہ کر کے بتائی گئی ۔اس نے کہا: اے عرب کی جماعت! تم لوگوں میں طویل بھوک والے تھے، سب سے زیادہ بدبخت تھے،سب سے گندے لوگ تھے۔ صحراو بیابان میں تمہارا گھر تھا، ہر بھلائی سے دور تھے مجھے اور کسی بات نے نہیں روکا کہ میں اپنے سرداروں کو تمہارا نظم و ضبط بہتر کرنے کا حکم دوں، سوائے تمہاری بدبو دارنجس لاشوں کے کیوں کہ تم پلید ہو۔ اگر تم واپس چلے جاؤ تو تمہارا راستہ چھوڑ دیاجائے گا، اگر انکار کرو گے تو یہ تمہارا قبرستان ہوگا۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور کہا: واللہ آپ نے ہمارا کوئی وصف اور عادت غلط بیان نہیں کی۔ ہم واقعی بہت دور صحرا بیابان میں تھے ۔اور ستگ بھوک والے تھے، سب سے زیادہ بدبخت تھے۔ بھلائی سے بہت دور تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا، اس نے ہمیں دنیا میں مدد کا وعدہ دیا اور آخرت میں جنت کا۔ جب سے اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم آیا ہے ہم اپنے رب کے مدد اور کامیابی کو پرکھتے آرہے ہیں، حتی کہ ہم تمہارے پاس آگئے۔ اللہ کی قسم! ہم تمہاری بادشاہت اور عیش والی زندگی دیکھ رہے ہیں ہم اس بدبختی کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں جائیں گے، یہاں تک کہ ہم تمہارے قبضے میں موجود ہر چیز پر غالب نہ آجائیں ۔یا ہم تمہاری زمین میں قتل نہ کردیئے جائیں۔ اس نے کہا: بھینگے آدمی نے اپنے دل کی سچی بات تمہارے سامنے کر دی۔ میں اس کے پاس سے اٹھ گیا، واللہ میں نے علج رضی اللہ عنہ (عجمی کافر)کو اپنی جرأت سے مرعوب کر دیا۔ علج (عجمی کافر)نے ہماری طرف پیغام بھیجا کہ: یا تو تم نہاوند پار کر کے ہمارے پاس آؤ ورنہ ہم آتے ہیں، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہاوند پار کرو، ہم نے نہاوند پار کیا۔ میرے والد کہتے ہیں: میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی دن نہیں دیکھا۔ علج (عجمی کافر)اس طرح آرہے تھے گویا وہ لوہے کے پہاڑ ہوں۔ ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے عرب سے بھاگیں نہیں، اور انہیں آپس میں ملا دیا گیا حتی کہ ایک زنجیر میں سات آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے پیچھے لوہے کے آرے ڈال دئیے کہ جو بھاگے گا اسے لوہے کے آرے کاٹ دیں گے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ان کی کثرت دیکھی تو کہاکہ آج کے دن جتنے مقتول میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ہمارے دشمن کی نیندیں اڑی ہوئی تھیں کہ ان پر جلدی نہ کی جائے۔ واللہ معاملہ اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں جلدی کرتا، نعمان رضی اللہ عنہ بہت زیادہ رونے والے انسان تھے۔ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسے کئی مواقع عطا کئے ہیں، اس لئے یہ تمہیں غمزدہ نہ کرے اور تمہارے موقف کو معیوب نہ کرے، اور مجھے ان سے ٹکرانے سے کوئی چیز نہیں روکتی سوائے اس بات کے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ابتدائی حصے میں قتال نہیں کرتے تھے۔ جب تک نماز کا وقت نہ ہو جاتا، اور ہوائیں چلنا شروع نہ ہو جاتیں،جلدی نہ کرتے، اور لڑائی کا بہترین وقت نہ ہو جاتا۔پھر نعمان جلدی نہ کرتے کہنے لگے: اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو ایسی فتح سے جس میں اسلام اور اہل اسلام کی عزت اور کفر اور اہل کفر کی ذلت ہو، میری آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرما۔ پھر اس کے بعد میرا خاتمہ شہادت کی موت پر کر دے۔ پھر کہنے لگے: آمین کہو، اللہ تم پر رحم کرے، ہم نے آمین کہا۔ وہ رونے لگے تو ہم بھی رونے لگے، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جھنڈالہراؤں گا ۔اپنا اسلحہ تیار کر لینا، پھر دوسری مرتبہ اسے لہراؤں گا تو اپنے سامنے دشمن سے لڑائی کے لئے تیار ہو جانا، جب میں اسے تیسری مرتبہ لہراؤں گا تو ہر شخص اللہ سے برکت کی امید کرتے ہوئے اپنے سامنے والے دشمن پر حملہ کر دے۔ جب نماز کا وقت ہوگیا۔ اور ہوائیں چل پڑیں تو انہوں نے تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی ۔کہنے لگے: واللہ فتح کی ہوا ہے، ان شاء اللہ اور مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ میری دعا قبول کرے گا، اور ہمیں فتح دے گا، انہوں نے جھنڈا لہرایا تو وہ تیار ہوگئے پھر دوسری مرتبہ لہرایا پھر تیسری مرتبہ لہرایا تو ہم سب نے اکھٹے ہو کر اپنے ساتھ والوں پر حملہ کر دیا۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے کچھ ہو جائے تو امیر حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہوں گے، اگر حذیفہ کو کچھ ہو جائے تو فلاں، اگر فلاں کو کچھ ہو جائے تو (فلاں)حتی کہ سات نام گنوائے، آخر میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ میرے والد کہتے ہیں :واللہ میں مسلمانوں میں سے کسی شخص کو نہیں جانتا جو چاہتا ہو کہ وہ قتل یا کامیاب ہونے سے پہلے گھر واپس پلٹ جائے وہ ثابت قدم رہے۔ ہم صرف تلواروں کی گرج سن رہے تھے۔ حتی کہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی، جب انہوں نے دیکھا کہ ہم نے صبر کر لیا ہے(ہم ڈٹ گئے ہیں) اور واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تو منتشر ہوگئے۔ ایک آدمی گرتا تو اس پر سات آدمی گرتے اور سب قتل کر دیئے جاتے۔ پیچھے سے لوہے کے آرے انہیں کاٹنے لگے۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جھنڈا آگے کرو، ہم جھنڈا آگے کرنے لگے، ہم انہیں قتل کرتے اور شکست دیتے، جب نعمان رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی ہے اور فتح دیکھ لی تو ایک تیرآیا اور ان کی پسلی میں جا گھسا اور وہ شہید ہوگئے ۔ ان کے بھائی معقل بن مقرن آئے اور ان پر کپڑا ڈال دیا، اور جھنڈا پکڑ لیا، آگے بڑھ کر کہنے لگے: آگے بڑھو اللہ تم پر رحم کرے، ہم آگے بڑھتے انہیں شکست دیتے اور قتل کرتے رہے۔ جب ہم فارغ ہوئے اور لوگ جمع ہوگئے، تو کہنے لگے: امیر کہاں ہیں: معقل نے کہا: یہ تمہارا امیر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں کو فتح دکھا کر ٹھنڈک عطا فرمائی، اور خاتمہ شہادت پر کیا۔ لوگوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینے میں اللہ سے دعائیں کر رہے تھے اور چیخنے والی حاملہ کی طرح بڑی شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک مسلمان شخص کے ہاتھ فتح کا پیغام بھیجا، جب وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: امیر المومنین فتح مبارک ہو، جنگ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام اور اہل اسلام کو عزت دی اور شرک اور اہل شرک کو ذلیل کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا نعمان نے تمہیں بھیجا ہے؟ اس آدمی نے کہا: امیر المومنین! نعمان رضی اللہ عنہ اجر پاگئے۔ عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، پھر کہنے لگے: اور کون کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: فلاں فلاں، حتی کہ کئی لوگ گنوادیے۔ پھر کہنے لگا: امیر المومنین دوسرے وہ لوگ جنہیں آپ نہیں جانتے ۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جبکہ وہ رو رہے تھے: کوئی حرج نہیں اگر عمر انہیں نہیں جانتا لیکن اللہ تو انہیں جانتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2060

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَّاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَّاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ .
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اشعری لوگوں کے پاس جب کسی معرکے میں کھانا کم رہ جاتا ہے یا مدینے میں انکے گھروں میں ذخیرہ تھوڑا رہ جاتا ہے تو جو ان کے پاس ہوتا ہے اسے ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں، پھر آپس میں ایک برتن برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2061

) عَنْ حُمَيْدٍ (يَعْنِي: ابْنَ هِلَالٍ) قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِّنَ الطُّفَاوَةِ طَرِيْقُهُ عَلَيْنَا فَأَتَى عَلَى الْحَيِّ فَحَدَّثَهُمْ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي عِيرٍ لَّنَا فَبِعْنَا بِضَاعَتنَا (الأصل بياعتنا) ثُمَّ قُلْتُ: لَأَنْطَلِقَنَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَلَآتِيَنَّ مَنْ بَعْدِي بِخَبَرِهِ قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِذَا هُوَ يُرِينِي بَيْتًا قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِيهِ (يعني بيتا في المدينة) فَخَرَجَتْ فِي سَرِيَّةٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ وَتَرَكَتْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ عَنْزًا لَّهَا وَصِيصَتِهَا كَانَتْ تَنْسِجُ بِهَا قَالَ: فَفَقَدَتْ عَنْزًا مِّنْ غَنَمِهَا وَصِيصِتِهَا فَقَالَتْ: يَا رَبِّ إِنَّكَ قَدْ ضَمِنْتَ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِكَ أَنْ تَحْفَظَ عَلَيْهِ، وَإِنِّي قَدْ فَقَدْتُّ عَنَزًا مِّنْ غَنَمِي وَصِيصِتِي وَإِنِّي أَنْشُدُكَ عَنْزِي وَصِيصِتِي قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَذْكُرُ شِدَّةَ مُنَاشَدَتِهَا لِرَبِّهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَىٰ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَأَصْبَحَتْ عَنْزُهَا وَمِثْلُهَا وَصِيصِتُهَا وَمِثْلُهَا وَهَاتِيكَ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا إِنْ شِئْتَ
حمید(بن ہلال) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے طفاوہ قبیلے کا کہ ایک آدمی تھا جو ہمارے پاس سے گزراکرتا تھا وہ قبیلے والوں کے پاس آیا اور انہیں بتانے لگا کہ میں اپنے ایک قافلے میں مدینے آیا، ہم نے اپنا سامان بیچ دیا، پھر میں کہنے لگا: میں اس شخص کی طرف جاتا ہوں اور اپنے پیچھے والوں کے لئے اس کی خبر لاتا ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ مجھے ایک گھر دکھانے لگے، کہےا لگے:ایک عورت اس گھر میں تھی(یعنی مدینے کے ایک گھر میں) وہ مسلمانوں کے ساتھ ایک سریہ (وہ لڑائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دوسرے صحابی کو سپہ سالار لشکر بنا کر بھیجیں) میں نکلی، اوراس نے اپنے ریوڑ میں بارہ بکریاں اور تکلا جس سے وہ سوت کاتی تھی یا بننے کا کام کرتی تھی۔ چھوڑا (واپس آئی تو) ان بکریوں میں سے ایک بکری اور تکلا گم پایا۔ وہ کہنے لگی: اے میرے رب تو نے اس شخص کے لئے ضمانت دی ہے جو تیرے راستے میں نکلتا ہے کہ تو اس کے پیچھے گھر بار کی حفاظت کرے گا، میرے ریوڑ میں سے ایک بکری اورکوچ گم ہے۔ میں تجھے واسطہ دیتی ہوں کہ میری بکری اورکوچ واپس لوٹا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی شدت مناجات کا ذکر کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی بکری اور اس جیسی ایک اوربکری، اورایک تکلا اور اس جیسا دوسرا تکلا واپس مل گیا، اگر چاہو تو اس سے پوچھ لو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2062

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُّ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُّنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن سب سےپہلےایک شہیدکےمعاملےکافیصلہ کیا جائے گا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں شمار کروائے گا وہ انہیں تسلیم کرے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے ان کے بدلے میں کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں شہید ہونے تک قتال کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :تو جھوٹ بولتا ہے، تم نے قتال صرف اس لئے کیا تاکہ لوگ تمہیں بہادر کہیں اور یہ بات کہہ دی گئی۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ دوسرا شخص جس نے علم سیکھا اور سکھایا ہوگا، اور قرآن پڑھا ہوگا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں شمار کروائے گا، وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :تو نے میرے لئے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لئے قرآن پڑھا ۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے ۔تم نے علم اس لئے حاصل کیا تاکہ لوگ تمہیں عالم کہیں اور قرآن اس لئے پڑھا تاکہ لوگ تمہیں قاری کہیں۔ اور یہ بات کہہ دی گئی، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کرجہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال کی فراوانی دی ہوگی اور ہر قسم کا مال عطا کیا ہوگا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا، وہ ان کا اعتراف کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان کے بدلے کیا کیا؟ وہ کہے گا: تو جس راستے میں خرچ کرنے کو محبوب سمجھتا تھا میں نے ایسا کوئی راستہ نہیں چھوڑا جس میں خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :تو جھوٹ بولتا ہے، تم نے یہ کام اس لئے کیا تاکہ لوگ تمہیں سخی کہیں اور یہ بات کہی جا چکی، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2063

عن أم سلمة  زوج النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهَا قَالَت لَمَا ضَاقَت عَلَيْنَا مَكَّةُ وأوذى اَصْحَابُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وفُتنوا وَرَأَوْا ما يُصِيبُهُم مِّنَ الْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ في دِينِهِم وأَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يَسْتَطِيعُ دَفْعَ ذَلِكَ عَنْهُم وكان رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌في مَنَعَة مِّنْ قَوْمِه وَعَمِّه لَا يَصِل إِلَيْهِ شئٌ مِّمَّا يَكْرَه مما يَنَال أَصحابَه فَقَال لَهم رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَلِكًا لَّا يُظْلَمُ أَحَدٌ عِنْدَه فَالحَقُوا بِبِلَادِهِ حَتَّى يَجْعَل الله لَكُم فَرَجًا وَّمَخْرَجًا مِمَّا أَنْتُمْ فِيه فَخَرَجْنَا إِلَيْهَا أَرْسَالًا حَتَّى اجْتَمَعْنَا وَنَزَلْنَا بِخَيْر دَارٍ إِلَى خَيْرِ جَار، أمنَّا عَلَى دِيْنِنَا وَلَمْ نَخْشَ مِنْه ظُلْمًا
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ: جب مکہ ہم پر تنگ ہوگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو تکالیف دی جانے لگیں۔ انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیا گیا، اور انہوں نے اپنے دین میں آزمائش اور مصیبت دیکھی اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دور کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوداپنی قوم اور اپنے چچا کی حفاظت میں تھے۔ آپ کے صحابہ کو جو تکالیف پہنچتیں ہیں وہ آپ کو نہیں پہنچیںا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: حبشہ میں ایک بادشاہ ہے اس کے پاس کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا ، اس تکلیف کی وجہ سے جس میں تم ہو،اس بادشاہ کے ملک میں چلے جاؤ جب تک اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کشادگی اورکوئی راستہ نہ نکال دے، ہم تھوڑے تھوڑے حبشہ کی طرف نکلے حتی کہ ہم وہاں جمع ہوگئے۔ بہترین گھر سے، بہترین پڑوسی کے پاس، اپنے دین کے بارے میں بے خوف ہوگئے اور ظلم کا ڈر نہ رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2064

عَنِ الْبَراَء بْنِ عَازِبٍ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: إِنْ بُيِّتُّمْ فَلْيَكُنْ شِعَارُكُمْ (حم) لَايُنْصَرُونَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر رات کے وقت نکلو تو تمہارا شعار (خفیہ لفظ)حم لَا يُنْصَرُونَ ہوناچاہئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2065

عن أبي ذرقال: سألتُ رسولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّ الجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تُجَاهِدَ نَفْسَكَ وَهَوَاكَ فِي ذَاتِ الله.( )
ابو ذر رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کونسا جہاد افضل ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی جان اور خواہش سے اللہ کے لئے جہاد کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2066

عن أبي حُمِيد الساعدي: أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَج يَوْمَ أُحُدٍ حَتَّى إِذَا جَاوَزَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ إِذَا هَو بكَتِيْبَةٍ خَشْنَاءَ فَقَالَ: مَنْ هَؤَلاءِ؟ فَقَالُوا: هَذَا عَبْدُ اهلّ بْنُ أبيّ (بن سَلُول) في ست مئة مِّنْ مَّوَالِيه مِنَ الْيَهُودِ مِنْ أَهَلِ قَيْنُقَاع وهُمْ رَهْطُ عَبْدِ الله بْنِ سَلَامٍ قَالَ: وَ قَدْ أَسْلَمُوا؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُول الله قَالَ: قُولُوا لَهم: فَلْيَرْجعُوا فَإِنَّا لَا نَسْتَعِين بِالْمُشْرِكِين عَلَى المشركين.
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے موقع پر نکلے جب ثنیۃ الوداع پار کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اسلحے سے لیس لشکر آرہا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟، صحابہ نے کہا: یہ عبداللہ بن ابی(ابن)سلول اپنے چھ سو اہل قینقاع کے یہودی دستوں کے ساتھ ہے، اور یہ عبداللہ بن سلام کا قبیلہ ہے، آپ نے پوچھا: کیا یہ مسلمان ہوگئے ہیں؟ صحابہ نے کہا: نہیں اےاللہ کے رسول، آپ نے فرمایا: ان سے کہو: واپس لوٹ جائیں، کیوں کہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد نہیں لیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2067

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ؟ قَالُوا الَّذِي يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يُقْتَلَ قَالَ: إِنَّ الشَّهِيدَ فِي أُمَّتِي إِذًا لَّقَلِيلٌ، الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ وَالطَّعِينُ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ وَالْمَجْنُوبُ فِي سَبِيلِ اللهِ شَهِيدٌ. قَالَ مُحَمَّدٌ (يَعْنِي: ابْنِ اسْحَاق)، الْمَجْنُوبُ: صَاحِبُ الْجَنْبِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم شہید کسے کہتے ہو؟ صحابہ نے کہا: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں قتال کرتا ہوا قتل کر دیاجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہید تھوڑے ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں قتل کیا جانے والا شہید ہے،اللہ کے راستے میں طاعون سے مرنے والا شہید ہے، اللہ کے راستے میں ڈوبنے والا شہید ہے، اللہ کے راستے میں اپنی سواری سے گرنے والا شہید ہے، اللہ کے راستے میں ذات الجنب (پیٹ کی بیماری) سے مرنے والا شہید ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2068

عَنْ بُرَيْدَةَ، قال: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى فَقَالَ لَهَا: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ
بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی غزوے میں نکلے جب واپس آئے تو ایک کالے رنگ کی لڑکی(لونڈی) آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحیح سلامت واپس بھیج دیا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی۔ اور اشعار پڑھوں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: اگر واقعی تم نے نذر مانی ہے تو ٹھیک ہے وگرنہ نہیں۔ وہ دف بجانے لگی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے وہ دف بجاتی رہی، پھر علی رضی اللہ عنہ آئے وہ دف بجاتی رہی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے وہ دف بجاتی رہی، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے دف اپنے نیچے رکھ لی اور اس پر بیٹھ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر !شیطان تم سے ڈرتا ہے، میں بیٹھا تھا یہ دف بجا رہی تھی، ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے یہ دف بجاتی رہی، پھر علی رضی اللہ عنہ آئے یہ دف بجاتی رہی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے یہ دف بجاتی رہی، جب تم آئے تو اس نے دف پھینک دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2069

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا: إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُنْضِي شَيَاطِينَهُ كَمَا يُنْضِي أَحَدُكُمْ بَعِيرَهُ فِي السَّفَرِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:مومن اپنےشیطانوں کواس طرح تھکاتا ہےجس طرح کوئی شخص سفرمیں اپنےاونٹ کو تھکاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2070

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّبْلِ
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ تعالیٰ نے شعر کے بارے میں نازل فرمایا جو نازل فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مومن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم جو اشعار پڑھتے ہو گویا ان کے لئے تیر کی کاٹ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2071

عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ رِجَالًا مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ بَعْضُهُمْ لِبعض: إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ أُنَاسًا يَّقُولُونَ إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا كَانَ الْجِهَادُ
جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا: ہجرت ختم ہوگئی ہے، وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، اور کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہجرت ختم ہوگئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک جہاد ہے ہجرت ختم نہیں ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2072

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌انْتَدَبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرَسُولِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ حِينَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ ريح مِسْك وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُّ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ أَبَدًا وَلَكِني لَا أَجِدُ سَعَةً فَيَتبِعونِي وَلَا تطيب أَنفسهم فَيَتَخَلَّفُون بَعدي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوَدِدْتُّ أَن أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلُ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا ذمہ اٹھایا ہے جو اس کے راستے میں نکلا ہے۔ وہ صرف اور صرف میرے راستے میں جہاد کے لئے نکلا ہے، میرے ساتھ ایمان رکھتا اور میرے رسول کی تصدیق کرتا ہے۔ تو میرا ذمہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اسے اس گھر تک واپس لوٹاؤں جس سے وہ نکلا ہے،اجر اور غنیمت دے کر۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اللہ کے راستے میں جو زخم لگتا ہے تو قیامت کے دن وہ اسی شکل میں آئے گا جس شکل میں وہ زخم لگتے وقت تھا۔ اس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن خوشبو کستوری کی ہوگی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر میں اپنی مسلمانوں پر مشقت نہ سمجھتا تو میں کبھی کسی معرکے سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ کے راستے میں لڑا جاتا ہے لیکن میں وسعت نہیں پاتا کہ یہ میرے پیچھے آئیں اور نہ ہی یہ خوش ہوتے ہیں کہ میرے بعد اطمینان سے بیٹھےرہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں پھر قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں پھر قتل کر دیا جاؤں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2073

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنْ أَدَمٍ فِي نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَفْتُوحٌ عَلَيْكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ كَمَثَلِ بَعِيرٍ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يُنْزَعُ مِنْهَا بِذَنَبِهِ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ ایک سرخ خیمے میں تھے۔ عبدالملک نے کہا: چمڑے کا بنا ہوا تھا تقریباً چالیس آدمیوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں فتح دی جائے گی، تمہاری مدد کی جائے گی، اور تمہیں مال غنیمت ملے گا۔ جس شخص کو ایسا دور ملے وہ اللہ سے ڈر جائے، نیکی کا حکم کرے، برائی سے منع کرے، صلہ رحمی کرے، اور جس شخص نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کیا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے، اور اس شخص کی مثال جو ناحق پر اپنی قوم کی مدد کرتا ہے اس اونٹ کی طرح ہے جسے کسی کنویں میں پھینک کر دم سے کھینچا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2074

عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رُؤي وَهُوَ يَمْسَحُ وَجْهَ فَرَسه بِرِدَائِهِ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنِّي عُوتِبْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْخَيْلِ
یحیی بن سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ اپنے گھوڑے کا چہرہ چادر سے صاف کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے گھوڑوں کے بارے میں تنبیہ کی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2075

) عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَاللهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام ڈال دیا گیا (یعنی اسلام کی محبت ڈال دی گئی)۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! واللہ میں کبھی بھی ان کی طرف نہیں جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عہد نہیں توڑتا، اور قاصد کو نہیں روکتا، ابھی واپس چلے جاؤ اگر تمہارے دل کی یہی کیفیت رہے جو اب ہے تو پھر واپس آجانا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2076

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ أَوْصِنِي فَقَالَ: سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ قَبْلِكَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا:مجھے نصیحت کیجیئے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا:تم نے مجھ سے وہی سوال کیاہےجو میں نےتم سےپہلےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےکیا تھا۔میں تمہیں اللہ کےتقویٰ کی نصیحت کرتاہوں کیوں کہ یہ ہرمعاملےکی بنیاد یا چوٹی ہے۔ اور جہاد کو لازم کر لو کیوں کہ یہ اسلام کی رہبانیت ہے۔ اللہ کا ذکر اور تلاوتِ قرآن لازم کر لو کیوں کہ یہ آسمان میں اور زمین میں تمہارا ذکر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2077

عَنْ سَهْلِ بن حُنَيْفٍ، مَرْفُوْعًا: أَوَّلُ مَا يُهَرَاقُ من دَمِ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذَنْبُهُ كُلُّهُ إِلا الدَّيْنَ.
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، سوائے قرض کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2078

عن حَمْزة بن عمرو: أَنَّه سَأَل رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم عن الصِّيَام في السَّفَر فَقَال: أَيُّ ذَلِك عَلَيْك أَيْسَر فَافْعَل
حمزہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کام آسان لگے کر لو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2079

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا: إِيَّاكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ فَإِنَّ اللهَ تعالى إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ وَجَعَلَ لَكُمْ الْأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوا حَاجَتَكُمْ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہےکہ:جانوروں کی پشتوں کو منبر بنانے سے بچواللہ تعالیٰ نےانہیں تمہارے لئےاس وجہ سےمطیع کیا ہےکہ یہ تمہیں کسی ایسےشہرتک (باآسانی)پہنچا دیں،جس تک تم بہت مشقت سے پہنچتےاورتمہارےلئےزمین بنائی، اس پراپنی ضرورتیں پوری کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2080

) عَنْ أَبِي طَيْبَة أَنَّ شُرَحْبِيل بن المسط دَعَا عَمَرَو بن عَبَسَة السُّلَمِيّ فَقَال: يَا ابن عَبَسَة! هَل أَنْتَ مُحَدِّثِي حديثًا سَمِعْتَه أَنْتَ مِنْ رَسُولِ الله لَيْسَ فِيْه تَزِيْدُ وَلَا كَذِبٌ وَلَا تُحَدِّثِيْنه عَنْ آخَرَ سَمِعه مِنْه غَيْرَك؟ قال: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَيُّمَا رَجُلٍ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَبَلَغَ مُخْطِئًا أَوْ مُصِيبًا فَلَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَرَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَأَيُّمَا رَجُلٍ شَابَّ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَهِيَ لَهُ نُورٌ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَكُلُّ عُضْوٍ مِّنَ الْمُعْتَقِ بِعُضْوٍ مِنْ الْمُعْتِقِ فِدَاءٌ لَهُ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَكُلُّ عُضْوٍ مِنَ الْمُعْتَقَةِ بِعُضْوٍ مِنَ الْمُعْتِقَةِ فِدَاءٌ لَهَا مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ قَدَّمَ لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ صُلْبِهِ ثَلَاثَةً لَمْ يَبْلُغُواالْحِنْثَ أَوِ امْرَأَةٍ فَهُمْ لَهُ سُتْرَةٌ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وُضُوءٍ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَأَحْصَى الْوَضُوءَ إِلَى أَمَاكِنِهِ سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ أَوْ خَطِيئَةٍ لَهُ فَإِنْ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا
ابو طیبہ سے مروی ہے کہ شرحبیل بن مسط نے عمرو بن عبسہ سلمی‌رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: ابن عبسہ کیا تم مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کرو گے جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، نہ اس میں زیادتی کرو نہ جھوٹ بولو؟ کسی ایسے شخص سے بیان نہ کرنا جس نے تمہارے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک تیر پھینکا وہ خطا ہوگیا یا نشانے پر لگا، اس کے لئے اولاد اسماعیل میں سے ایک گرد ن آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے۔ ۲۔ جو آدمی اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوگیا وہ (بڑھاپا یا سفید بال)اس کے لئے نور کا باعث ہوگا۔۳۔ وہ شخص جس نے کسی مسلمان شخص کو آزاد کیا، تو آزاد کئے جانے والے کا ہر عضو، آزاد کرنے والے کے ہر عضو کا جہنم سے بدلہ ہوگا۔۴۔ جس مسلمان عورت نے کوئی مسلمان عورت آزاد کی تو آزاد کی جانے والی عورت کا ہر عضو، آزاد کرنے والی عورت کے ہر عضو کا جہنم سے بدلہ ہوگا۔ ۵۔ اور جس آدمی یا عورت کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے اور انہوں نے صبر کیا،اجر کی امید رکھی، تو وہ قیامت کے دن آگ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔۶۔ اور جو شخص نماز پڑھنے کے ارادے سے وضو کے لئے اٹھا اور ہر عضو تک وضو کا پانی اچھی طرح پہنچایا، وہ ہر گناہ یا خطا سے پاک ہوجائےگا، اگر نماز کے لئے کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اگر بیٹھ گیا تو سلامتی کے ساتھ بیٹھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2081

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: بَيْنَمَا رَجُلٌ يمشي بِطَرِيقٍ إذ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ وَخَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ مِنِّي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَا خُفَّهُ ثم أمسكه بفيه حتى رقى فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ الله! وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:ایک آدمی راستے میں جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اسے ایک کنواں نظرآیا۔ وہ اس میں اتر گیا، پانی پیا اور باہرآگیا۔کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتاپیاس کی وجہ سے ہانپ رہا ہے اور گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس آدمی نے کہا:اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس لگی ہے جس طرح مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں میں اترااپناجوتاپانی سےبھرا، پھراسےمنہ میں پکڑ کر اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کی قدرکی اوراسےبخش دیا۔صحابہ نےکہا:اےاللہ کےرسول!کیاہمارےلئےچوپایوں میں بھی اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:ہر ذی روح میں اجر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2082

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ قد كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِّنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فاستقت له به فَسَقَتْهُ إياه فَغُفِرَ لَهَا بِهِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:ایک کتا چکر کاٹ رہا تھا،اورپیاس کی وجہ سے مرنے کے قریب پہنچ گیا تھا، اچانک بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے اسے دیکھا اس نے اپنا دوپٹہ اتار کر اسے پانی میں ڈالا اور اسے پانی پلایا (اس کے اس کام کی وجہ سے) اسے بخش دیا گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2083

عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللهُ .
نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم جزیرة العرب میں جہاد کرو گے اور اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا۔ پھر فارس سے جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا، پھر روم سے جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا۔ پھر تم دجال سے جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ اس کے خلاف بھی فتح عطا کرے گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2084

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْوَالِدِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں مقبول ہیں ان میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا(بددعا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2085

عن أبي الدرداء، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: ثَلَاثَةٌ يُحِبَّهُم الله عَزّ وجل، يَضْحَكُ إِلَيْهِم وَيَسْتَبْشِرُ بِهِمْ، الَّذِي إِذَا انْكَشَفَت فِئَةٌ قَاتَلَ وَرَاءَهَا بِنَفْسِه لِلهِ عَزّ وجل، فَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ، وَإِمَّا أَن يَنْصُرَه الله وَيَكْفِيْهِ، فيقول الله: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي كَيْفَ صَبَرَ لِي نَفْسَهُ، وَالَّذِي لَه امْرَأَةً حَسْنَاء وَفِرَاشٌ لَيِّنٌ حَسَنٌ، فَيَقُومُ مِنَ اللَّيْل فـ(يقول) يَذَرُ شَهْوَتَه فَيَذْكُرُنِي وَيُنَاجِيْنِي وَلَو شَاءَ رَقَدَ، وَالَّذِي يَكُونُ فِي سَفَرٍ وَكَانَ مَعَه رَكْبٌ فَسَهَرُوا وَنَصَبُوا ثُمَّ هَجَعُوا فَقَام من السَّحَر فِي سَرَّاءٍ أَوْضَرَّاءٍ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، ان کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے، اور انہیں خوشخبری دیتا ہے۔ وہ شخص کہ جب کوئی لشکر اس کے سامنے آیا تو اس نے اپنی جان سے اللہ کے لئے ان سے قتال کیا۔ یا تو وہ قتل کر دیا گیا یا اللہ تعالیٰ نے اسے فتح دے دی اور اس کی حفاظت کی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو اس نے کس طرح میرے لئے اپنے آپ کو روکا؟ اور وہ شخص جس کی حسین و جمیل بیوی، اور نرم بستر ہے اور وہ رات کو قیام کرتا اور اپنی شہوت چھوڑدیتا ہے، میرا ذکر کرتا ہے اور مجھ سے سرگوشی کرتا ہے۔ اگر چاہتا تو سویا رہتا۔ اور وہ شخص جو کسی سفر میں ہو، اس کے ساتھ قافلہ بھی ہو، وہ رات گئے سفر کر کے تھک جائیں پھر سو جائیں اور یہ شخص آسانی یا تکلیف میں سحری کے وقت قیام کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2086

عن ابن عَبّاس قال: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَيْبَرَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ، وَرَجُل يَتْلُوهُمَا، يَقُولُ: اِرْجِعَا، حَتَّى أَدْرَكَهُمَا، فَرَدَّهُمَا، ثُمَّ (لَحِقَ الْأَوَّل فَـ) قَال: إِن هَذَيْن شيطَانَانِ، (وَإِنِّي لَم أَزَل بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا عَنْكَ، فَإِذَا أَتَيْت رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ) فَأَقْرأ على رسول الله السلامَ، وَأَعلمه أَنا في جَمْعِ صَدَقَاتِنَا. وَلَو كَانت تصْلُح لَه بَعَثْنَا بها إليه، قال: فَلَمَّا قَدِمَ (الرَّجُلُ)، على النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَه فَنَهَى عِنْدَ ذَلِكَ عَنِ الْخَلْوَة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی خیبر سے نکلا، اس کے پیچھے دو آدمی لگے، اور ایک آدمی ان دونوں کے پیچھے لگا اور ان دونوں سے کہہ رہا تھا:واپس جاؤ، حتی کہ ان دونوں تک پہنچ گیا اور دونوں کو واپس لوٹا دیا، پھر (پہلے شخص سے جا ملا) اور کہنے لگا:یہ دونوں شیطان تھے(میں ان کے ساتھ ساتھ رہا اور انہیں واپس بھیج دیا، جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو تو )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہنا، اور انہیں بتانا کہ میں زکاة جمع کر رہا ہوں، اگر وہ آپ کے لئے درست ہے تو ہم اسے آپ کے پاس بھیج دیں۔ جب (وہ آدمی)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ کو واقعہ بیان کیا تو اس وقت آپ نے تنہائی سے منع فرما دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2087

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَلَا يُغْلَب اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: بہترین ساتھی چار ہیں(تعداد میں)بہترین سریہ چار سو کا ہے۔ بہترین لشکر چار ہزار کا ہے۔ اور بارہ ہزار کا لشکر قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2088

عن ابن عَبَاس رضی اللہ عنہ مرفوعا: خَيْر النَّاس في الْفِتَن رَجُلٌ آخِذٌ بِعَنَان فَرَسِه -أو قال: بِرَسَن فرسه- خَلْفَ أَعْدَاء الله يُخِيفُهُم وَيُخِيفُونَه أو رجل معتزلٌ في باديته يؤدي حق الله الذي عليه.
ا بن عبا س رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:فتنوں کے دور میں بہترین شخص وہ ہےجو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اللہ کے دشمنوں کےپیچھےانہیں خوف میں مبتلاکئےہوئےہواور دشمن اسےخوفزدہ کریں،یا وہ شخص جوکسی وادی میں تنہاہواوراپنےذمےاللہ کاحق اداکرتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2089

عن أم مُبَشِّرٍ تبلغ به النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: خَيرُ النّاس مَنْزِلةً: رَجُلٌ عَلى مَتن فَرسِه يُخيفُ العَدوَّ ويُخِيفُونه
ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:درجے کے لحاظ سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار (اللہ کے) دشمنوں کو خوف میں مبتلا کئے ہوئے ہو۔ اور وہ اسے خوفزدہ کر رہے ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2090

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو مَرْفُوْعًا: الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: ایک سوار شیطان ہے، دوسوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2091

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو مَرْفُوْعًا: الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: ایک سوار شیطان ہے، دوسوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2092

قال النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : سَافِرُوا تَصِحُّوا وَاغْزُوا تَسْتَغْنُوا. جآء من حدیث ابی ھریرة و ابن عمرو ابن عباس و ابی سعید رضی اللہ عنھم و زید بن اسلم مرسلا.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر کرو تندرست رہو گے، جہاد کرو غنی ہو جاؤ گے۔ یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے اور زید بن اسلم سے مرسلا مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2093

عن طَلْقِ بن حَبيبِ الْبَصْرِيّ أَن أبا طَلِيق حَدَّثَهُمْ: أَنَّ امْرَأَتَه أُمُّ طُلِيقٍ أَتَتْه فَقَالَت له: حَضَر الْحَجّ يَا أبا طُلِيق وكان لَه جَمَلٌ وَنَاقَةٌ يَحُجّ عَلَى النَّاقَةِ وَيَغْزُو عَلَى الْجَمَل فَسَأَلَتْه أَن يُعْطِيَهَا الْجَمَلَ تَحُجُّ عليه؟ فقال: أَلَم تَعْلَمِي أَنِّي حَبَسْتُه في سَبِيلِ الله؟ قَالَتْ: إِنَّ الْحَجّ مِنْ سَبيلِ الله فَأَعْطِنِيه يَرْحَمُك الله. قال: ما أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكِ. قَالَتْ: فَأَعْطِنِي نَاقَتَك وَحُجَّ أَنْتَ عَلَى الجَمَلِ. قَالَ: لَا أُوْثِرُكَ بِهَا عَلَى نفسي. قالتْ: فَأَعْطِنِي مِنْ نَّفَقَتِكَ، قَالَ: ما عِنْدِي فَضْلٌ عَنِّي وَعَنْ عِيَالِي ما أَخْرُجُ بِهِ وَمَا أترك (الأصل أُنزل) لَكُمْ، وقَالَتْ: إِنَّك لَو أَعْطَيْتَنِي أَخْلَفَكَهَا الله. قال: فَلَمَا أَبَيْتُ عَلَيْهَا قالت: فَإِذَا أَتَيْتَ رسولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَقْرِئْه مِنِّي السَّلَام وَأَخْبِرْه بِالَّذِي قُلْتُ لَكَ. قَال: فَأَتَيْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فأَقْرَأْتُه مِنها السَّلَام وَأَخْبَرْتُه بِالَّذِي قَالَتْ أَمُّ طُلِيقٍ قَالَ: صَدَّقَتْ أَم طُلِيق لَو أَعْطَيْتَهَا الْجَمَل كَان في سَبِيل الله، وَلَو أَعْطَيْتَهَا نَاقَتَك كَانَت وَكُنْتُ في سَبِيل الله، وَلَو أَعْطَيْتَهَا من نَفَقَتِكَ أَخْلَفَكَهَا الله. قال: وَإِنَّهَا تسألكَ يَا رَسُولَ الله ما يَعْدِلُ الحَجَّ (معك)؟ قَالَ: عُمْرَةٌ في رَمَضَان
طلق بن حبیب بصری سے مروی ہے کہ ابوطليق رضی اللہ عنہ نے انہیں بیان کیا کہ اس کی بیوی ام طلیق اس کے پاس آئی اور اس سے کہا: ابو طليق حج کا موسم آگیا، ابو طليق کی ایک اونٹنی اور ایک اونٹ تھا۔ اونٹنی پر حج کرتا اور اونٹ پر جہاد کرتا، امطليقنے اس سے کہا کہ اسے اونٹ دے دے جس پر وہ حج کر سکے؟ابوطليقنے کہا:کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اسے اللہ کے راستے میں روکا ہوا ہے؟ اس نے کہا:حج بھی اللہ کے راستے میں ہے۔ مجھے اونٹ دے دو اللہ تم پر رحم کرے، ابوطليقنے کہا:میں تمہیں اونٹ نہیں دیناچاہتا، اس نے کہا:اونٹنی مجھے دے دو اور تم اونٹ پر حج کرو۔ ابوطليق نے کہا:میں خود پر تمہیں ترجیح نہیں دوں گا، وہ کہنے لگی :تو مجھے خرچہ دے دو، اس نے کہا:میرے پاس اپنے اور بال بچوں کے خرچ سے زیادہ نہیں جو میں تمہارے لئے نکالوں ۔کہنے لگی: اگر تم مجھے دے دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بدلہ عطا فرمائے گا، جب میں نے انکار کیا تو کہنے لگی: جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ تو انہیں میرا سلام کہنا اور جو میں نے تم سے کہا ہے انہیں بتانا۔ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا میں نے ام طليقکا سلام آپ کو کہا اور جو ام طلیق نے کہا تھا انہیں بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امطليق نے سچ کہا:اگر تم اسے اونٹ دے دیتے تو وہ اللہ کے راستے میں تھا، اگر تم اپنی اونٹنی اسے دے دیتے تو وہ اور تم اللہ کے راستے میں تھے، اگر تم اسے خرچہ دے دیتے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بدلہ عطا کرتا۔ ابوطليقنے کہا: اے اللہ کے رسول!وہ آپ سے پوچھ رہی تھی کہ حج کے برابر کونسا عمل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2094

) عَنْ عُثْمَانَ بن الأَرْقَمِ بن أَبِي الأَرْقَم عَنْ أَبِيْهِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمَ بَدْرٍ: ضَعُوا مَا كَانَ مَعَكُمْ مِّنَ الأَنْفَالِ فَرَفَعَ أَبُو أُسَيْد السَّاعدي سَيْفَ ابنِ عَائِذَ المَرْزَباَن فَعَرَفَهُ الأَرْقَم بْن أَبِي الأَرْقَم فَقَالَ: هَبِّهُ لِي يَا رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَأَعْطَاهُ إِياَه
عثمان بن ارقم بن ابی الارقم اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: تمہارے پاس جو غنیمتیں ہیں وہ رکھ دو، ابو اسید ساعدی نے ابن عائذ مرزبان کی تلوار بلند کی تو ارقم بن ابی ارقم نے پہچان لی، کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے دے دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اسے دے دی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2095

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعًا: عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےمرفوعامروی ہےکہ:ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ۔اس عورت نے اس بلی کو قید کر لیا،حتی کہ وہ مر گئی اس وجہ سے عورت آگ میں داخل ہوگئی۔جب قیدکیا تھانہ اس نےاسےکھاناکھلایانہ پانی پلایانہ اسےآزادچھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2096

عن عبد الله بن عباس، قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : عُرِضَ عَلَيّ مَا هُو مَفْتُوحٌ لأُمَّتِي بَعْدِي، فَسَرَّنِي. فأنزل الله تعالى: وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ(۴) (الضحى) إلى قوله : فَتَرۡضٰی ؕ(۵) ، أَعْطَاهُ اللهُ فِي الجَنَّةِ أَلْفَ قَصْرٍ مِّنْ لُؤلُؤ، تُرَابُها المِسْكُ، فِي كُلِّ قَصْرٍ مَا يَنْبَغِي لَه.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے وہ چیزیں پیش کی گئیں جو میرے بعد میری امت کے لئے کھول دی جائیں گی۔ یہ بات مجھے اچھی لگی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں (الضحیٰ:۴،۵)آخرت آپ کے لئے دنیا سے بہتر ہے تک، اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت میں یاقوت کے بنے ایک ہزار محلات دیئے جن کی مٹی کستوری کی اور ہر محل میں ہر وہ چیز و اس کے لئے مناسب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2097

عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ قَالَ: قَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لا مِثْلَ لَهَا، عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لا مِثْلَ لَهُ، عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنَّكَ لا تَسْجُدُ لِلهِ سَجْدَةً إِلا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً
ابو فاطمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر ہجرت لازم ہے کیوں کہ اس جیسا کوئی عمل نہیں تم پر روزہ لازم ہے کیوں کہ اس جیسا کوئی عمل نہیں، تم پر سجدے لازم ہیں کیوں کہ جب تم اللہ کے لئے کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا درجہ بلند کرے گا اور تم سے ایک غلطی ختم کرےگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2098

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ مَرفُوعاً: عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کو لازم پکڑو، کیوں کہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے پریشانی او رغم دور کر دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2099

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: رات کو سفر کیاکرو۔ کیوں کہ رات کے وقت زمین لپیٹی جاتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2100

عَنْ مُصْعَب بْنِ سَعَد (بْنِ أَبِي وَقَاص)، عَنْ أَبِيْه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «عَلَيْكُم بِالرَمي، فَإِنَّه خَيْر لُعَبِكُمْ»
مصعب بن سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ )اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ: تیر اندازی کیا کرو کیوں کہ یہ تمہارا بہترین کھیل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2101

عَنْ جَابِرٍ قَال: شَكَا نَاسٌ إِلَى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَشْىَ فَدَعَا بِهِمْ فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالنَّسَلاَنِ فَنَسَلْنَا فَوَجَدْنَاهُ أَخَفَّ عَلَيْنَا».
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدل چلنے میں تھکاوٹ کی شکایت کی ۔آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا: تیز چلا کرو۔ ہم نے تیز چلنا شروع کردیا تو وہ ہم نے آسان پایا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2102

عَنِ الْبَرَاء رضی اللہ عنہ قَال: أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلٌ (من الأنصار) مُقَنَّعٌ بِالْحَدِيدِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ قَالَ (لا، بل) أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ، فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَمِلَ هَذا قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا.
براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ(ایک انصاری)آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا، جس نے زرہ پہنی ہوئی تھی ۔کہنے لگا:اے اللہ کے رسول! میں قتال کروں یا اسلام لاؤں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(نہیں، بلکہ)پہلے اسلام لاؤ پھر قتال کرو، وہ مسلمان ہوگیا، پھر لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اس نے عمل تھوڑا کیا لیکن اجر بہت زیادہ لے گیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2103

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوعاً: العَرَّافَة أَوَّلُهَا مَلامَةٌ، وَآخِرُهَا نَدَامَةٌ، وَالْعَذَاب يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:عرافہ(علم ِنجوم)کی ابتدا ملامت ہے، انجام ندامت ہے، اور قیامت کے دن عذاب ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2104

قَالَ أَسْلَمَ أَبو عِمْرَانَ: غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ (وَعَلى أَهل مصر عُقبة بن عامر) وَعَلَى الْجَمَاعَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَالرُّومُ مُلْصِقُو ظُهُورِهِمْ بِحَائِطِ الْمَدِينَةِ فَحَمَلَ رَجُلٌ (منا) عَلَى الْعَدُوِّ فَقَالَ النَّاسُ: مَهْ مَهْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُلْقِي بِيَدَيْهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ الأَنصَارِي: (إِنمَا تَأولُون هَذِه الآيَة هَكذا إِن حمل رَجل يقاتل يَلتَمِس الشَهَادَة أَو يبلى مِن نَفسه)، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ لَمَّا نَصَرَ اللهُ نَبِيَّهُ وَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ قُلْنَا (بَينَنا خفياً مِن رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ) هَلُمَّ نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُهَا فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ فَالْإِلْقَاءُ بِالْأَيْدِي إِلَى التَّهْلُكَةِ أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحَهَا وَنَدَعَ الْجِهَادَ قَالَ أَبُو عِمْرَانَ فَلَمْ يَزَلْ أَبُو أَيُّوبَ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ.
اسلم ابو عمران رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ہم مدینے سے جہاد کے ارادے سے نکلے،قسطنطنیہ کا ارادہ تھا(اہل مصر پر عقبہ بن عامر نگران تھے)اور لشکر کے نگران عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ رومی مدینے سے پشت لگائے بیٹھے تھے۔ ہم میں سے ایک شخص نے دشمن پر حملہ کیا، لوگوں نے کہا: رکو، رکو، لا الہ الا اللہ، یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔ ابو ایوب انصاری نے کہا:(تم اس آیت کی تشریح اس انداز میں کر رہے ہو کہ ایک شخص نے حملہ کیا جو شہادت کا متلاشی ہے یا اپنے آپ کو خطرے میں ڈال رہا ہے؟)یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد کی، اور اسلام کو غلبہ دے د یا، تو ہم کہنے لگے:(ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے پوشیدہ یہ بات کر رہے تھے)۔آؤ اپنے مال مویشیوں کی دیکھ بھال کریں ۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ (البقرة: ١٩٥)”اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو“۔ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مال کی دیکھ بھال کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔ابو عمران کہتے ہیں: ابو ایوب رضی اللہ عنہ ہمیشہ جہاد کرتے رہے حتی کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2105

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَرْفُوعًا: الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللهِ وَأَطَاعَ الْإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَتَنَبُّهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ.
معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:جہاد دو طرح کا ہے جس شخص نے اللہ کی رضا کے لئے جہاد کیا، امیر کی اطاعت کی، اور فساد سے بچا تو اس کا سونا، جاگنا، سب کاسب اجر کا باعث ہے۔ اور جس شخص نے فخر، ریا کاری، اور شہرت کے لئے جہاد کیا، امیر کی نافرمانی کی ،زمین میں فساد کیا تو وہ برابر ؟؟؟ نہیں لوٹے گا۔ (یعنی اجر کی بجائے گناہ کا بوجھ لے کر لوٹے گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2106

عَنْ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِى غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَىْءٍ فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ: «انْظُرْ علام اجْتَمَعَ هَؤُلاَءِ؟». فَجَاءَ فَقَالَ : عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ؟». قَالَ وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ: «قُلْ لِخَالِدٍ لاَ تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلاَ عَسِيفًا».
رباح بن ربیع‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے آپ نے کچھ لوگوں کو ایک چیز کے گرد جمع دیکھا تو ایک آدمی کو بھیجا کہ دیکھو یہ کس چیز پر جمع ہیں؟ وہ واپس آکر کہنے لگا:ایک مقتولہ عورت ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ تو لڑ نہیں سکتی تھی، مقدمۃ الجیش پر خالد بن ولید‌رضی اللہ عنہ مقرر تھے آپ نے ایک آدمی بھیجا اور فرمایا کہ :خالد سے کہو:کسی عورت اور مزدورکو قتل نہ کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2107

عن أَنس بن مَالَك قال: كَان النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذا صَلَّى الْغَدَاة في سَفَر مَشَى عن رَاحِلَتِه قَلِيلًا.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں صبح کی نماز پڑھتے تو اپنی سواری کے آگے سے چند قدم (پیدل) چلتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2108

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ
جندب بن سفیان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے میں تھے کہ آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا(انگلی زخمی ہوگئی)آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: تم تو ایک انگلی ہو جس سے خون بہہ رہا ہے۔تمہیں جو بھی تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کے راستے میں ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2109

عن ابن عَبَاس رضی اللہ عنہ مَرْفُوعًا : كَان لِوَاء رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَبْيَض و رَايَتُه سوداء.
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کا جھنڈا سفید اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سپاہ )کا عَلَم سیاہ تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2110

عن عبد الله بن أبي أَوْفَى قال : كَان يحِبّ أن يَنْهَض إلى عَدُوِّه عنْد زَوَال الشَّمْس.
عبداللہ بن ابی اوفی‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ سورج کے زوال کے وقت دشمن کے مدِمقابل ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2111

عن عُقبَة بن الْمُغِيَرة عن جَدِّ أَبِيه الْمُخَارِق قال: لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَل وَهو يَبُول في قَرَن فَقُلْت أُقَاتِل مَعَك فاكون مَعَك قال قَاتِل تَحْت رَايَة قَوْمَك فان رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم كَان يَسْتَحِبّ لِلرَّجُل أَن يُقَاتِلَ تَحْت رَايَة قَوْمِه.
عقبہ بن مغیرہ، اپنے والد کے دادا اسحاق سے بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ: جنگ جمل کے موقع پر میں عمار‌رضی اللہ عنہ سے ملا وہ سینگ (یا ترکش) میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر لڑ رہا ہوں تو میں آپ کے ساتھ ہی جاؤں؟ انہوں نے کہا: اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے لڑو، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی آدمی کے لےک اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وہ اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے لڑے ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2112

عن أَم سَلمة مَرْفُوعًا : كَان النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْتَحِبّ يَوم الْخَمِيس أَن يُسَافر.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے دن سفر کرنا پسند کرتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2113

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا :كَانَ يُضَمِّرُ الْخَيْلَ يُسَابِقُ بِهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں کی تربیت کرتے اور ان کا مقابلہ کرواتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2114

عَنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَرْفُوعًا :« لَئِنْ عِشْتُ لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لاَ أَدَعَ إِلاَّ مُسْلِمًا ».
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہےکہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اگر میں زندہ رہا تو یہودو نصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکال دوں گا اور اس میں صرف مسلمانوں کو باقی رکھوں گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2115

عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال: لمَّا حَكَمَ سَعَدُ بن مُعَاذ في بني قُريظةَ أَنْ تُقْتَلَ من جَرَتْ عَلَيْهِ المُوس وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالهُم وذَرَارِيهِمْ قَالَ رَسُولُ الله، صلی اللہ علیہ وسلم : لَقَدْ حَكَمَ فِيْهِمْ بِحُكْمِ الله الَّذِي حَكَمَ بِهِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ.
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد‌رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ‌رضی اللہ عنہ نے بنی قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ جن لوگوں کے زیرِ ناف بال اُگ آئے ہیں، انہیں قتل کردیا جائے، ان کے اموال اوراولاد تقسیم کر دی جائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(آج) سعد بن معاذ‌رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں وہی فیصلہ کیا ہے جو سات آسمانوں سے اوپر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2116

عن هُبَيْرَة بن يَرِيم قال: سَمِعْتُ الحَسَن بْن عَلِي قَامَ فَخَطَبَ النَّاس فَقَال: يَا أَيُّهَا النَّاس! لَقَد فَارَقَكُم أَمْسُ رَجُلٌ مَا سَبَقَه الاوّلون وَلَا يُدْرِكُه الْآخِرُون لَقَدْ كَانَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَبْعَثُ البَعْثَ فَيُعْطِيْهِ الرَّايَةَ. فَمَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ الله عَلَيْه جِبْرِيل عن يَمِينِه و مِيكَائِيل عن يَسارِه يَعنِي: عَلياً ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ما تَرَك بَيْضَاء وَلَا صَفْرَاء إِلَا سَبْعَ مئة دِرْهَم فَضلَتْ مِنْ عَطَائِه أَرَاد أَن يَشْتَرِي بِهَا خَادِمًا.
هُبَيْرَة بن يَرِيم سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سنا، لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے:اے لوگو! کل تم سے ایک ایسا شخص جدا ہوا ہے کہ پہلے لوگ اس سے سبقت نہ لے جا سکے، اور بعد والے لوگ اس کے مقام تک نہ پہنچ سکیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی لشکر بھیجتے تو اسے جھنڈا تھما دیتے، اور جب تک فتح نہ ہو جاتی وہ واپس نہ لوٹتا، جبریل علیہ السلام ان کے دائیں طرف اور میکائیل علیہ السلام ان کے بائیں طرف ہوتے تھے۔ یعنی علی‌رضی اللہ عنہ ،انہوں نے درہم و دینار نہ چھوڑے سوائے سات سو درہم کے جن سے وہ غلام خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2117

عَنْ عِمْرَانَ بن حُصَيْنٍ مَرْفُوعًا: قِيَامُ رَجُلٍ فِي صَفٍّ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةٍ .( )
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہےکہ کسی آدمی کا اللہ کے راستے میں(ایک گھڑی )قیام کرنا ساٹھ(۶۰)سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2118

عَنِ ابن مَسْعُودٍ: جَاء رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ يَا رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : هَذِه النَّاقَة فِي سَبِيلِ اللهِ قال: لَك بِهَا سَبْعُ مِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ في الْجَنَّة.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نکیل ڈالی ہوئی ایک اونٹنی لایا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹنی اللہ کے راستے میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے اس کے بدلے جنت میں سات سو نکیل ڈالی ہوئی اونٹیا.ں ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2119

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو بنِ عَاصٍ مَرْفُوعًا: «لِلْغَازِى أَجْرُهُ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ وَأَجْرُ الْغَازِى».
عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: غازی کے لئے ایک اجر اور اسے تیار کرنے والے کے لئے اس کا اپنا اجر اور غازی کا (دوگنا) اجر ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2120

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا: لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدِ سُودِ الرُّءُوسِ مِنْ قَبْلِكُمْ، كَانَتْ تَنْزِلُ نَارٌ مِّنْ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَقَعُوا فِي الْغَنَائِمِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللهُ: لَوۡ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمۡ فِیۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ (۶۸) الأنفال
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: تم سے پہلے لوگوں کے لئے غنیمتیں حلال نہیں ہوئیں، آسمان سے آگ اترتی اور غنیمت کو کھا جاتی، جب بدر کا معرکہ پیش آیا اور لوگ غنیمت حلال ہونے سے پہلے ہی مال سمیٹنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:(الانفال: ۶۸)اگر اللہ کی طرف سے پہلے ہی نہ لکھا جا چکا ہوتا تو تم نے جو مال سمیٹا ہے اس وجہ سے بڑے عذاب میں مبتلا ہوجاتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2121

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عن رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ لِمَنْ كَانَ قَبْلَنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم سے پہلے لوگوں کے لئے غنیمتیں حلال نہیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو انہیں ہمارے لئے حلال کر دیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2122

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَكَتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ فَقَالُوا: (تستشيرنا) يَا رَسُولَ اللهِ؟! وَاللهِ لَا نَقول كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَﮊ (المائدة) وَلَكِنْ وَاللهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف چلے تو لوگوں سے مشورہ کیا، ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مشورہ طلب کیا، تو عمر‌رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ایک انصاری نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود تم لوگ ہو،انصار کہنے لگے: اے اللہ کے رسول(کیا آپ ہم سے مشورہ طلب کر رہے ہیں)؟اللہ کی قسم ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہاتھاکہ: (المائدہ:۲۴)تم اور تمہارا رب جا کر لڑائی کرو ہم یہیں بیٹھے ہیں، لیکن اللہ کی قسم اگر آپ اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے برک الغماد(علاقے کا نام) تک بھی پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2123

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ لَغُفِرَ لَكُمْ كَثِيرًا.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے لئے جانوروں سے تمہارے سلوک کی بخشش کر دی گئی ہو تو تمہارے لئے بہت زیادہ بخشش کر دی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2124

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ (أبدًا).
عبداللہ بن عمر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اگر لوگ جان لیں کہ تنہائی میں کیا (نقصان) ہے جو میں جانتا ہوں تو (کبھی بھی )کوئی سوار رات کو اکیلا سفر نہ کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2125