Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

16)

16) حدود کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2169

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ قَالَ فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَال:َ جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقِيل: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَيِ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَيَحْيَى بْنِ زَكَرِيا صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمَا فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ علیہ السلام فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ، وَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَّ رَفَعۡنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا (۵۷) (مريم) ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ علیہ السلام فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى علیہ السلام فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ قَالَ: فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا فَأَوْحَى اللهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى علیہ السلام فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَقُلْتُ: يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَبَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً قَالَ فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى علیہ السلام فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا، یہ ایک سفید لمبا جانور تھا۔ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، جہاں اس کی نگاہ ختم ہوتی وہاں اس کا قدم پڑتا، میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس میں آیا، اور اسے اس ستون سے باندھ دیا جس سے انبیاء سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں باہر نکلا، جبریل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن لائے جس میں شراب تھی، اور دوسرا برتن لائے جس میں دودھ تھا، میں نے دودھ کو پسند کیا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔ پھر مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا گیا: کون ہو؟ کہا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا: کیا انہیں پیغام ملا ہے؟ کہنے لگے: انہیں حکم ملا ہے، پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ آدم علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے جایا گیا، جبریل نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا گیا کون ہو؟ کہنے لگے:جبریل ہوں، پوچھا گیا،آپ کے ساتھ کون ہے۔ کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھاگیا :کیا انہیں پیغام ملا ہے؟ فرمایا: انہیں حکم ملا ہے، پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے خالہ کے بیٹے عیسیٰ بن مریم اور یحیی بن زکریا  کھڑے ہیں، ان دونوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر مجھے تیسرے آسمان کی طرف چڑھا ياگیا، جبریل نے دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا گیا کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل، پوچھا گیا :تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھا گیا: کیا انہیں پیغام ملا ہے؟ کہنے لگے:انہیں پیغام ملا ہے۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے یوسف علیہ السلام کھڑے ہیں جنہیں حسن کا نصف حصہ عطا کیا گیا ہے انہوں نے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، پھر مجھے چوتھے آسمان کی طرف لےجایا گیا، جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ پوچھا گیا: کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ کہنے لگے: محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھا گیا: کیا انہیں پیغام ملا ہے؟ کہنے لگے: انہیں پیغام ملا ہے۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ادریس علیہ السلام میرے سامنے کھڑے ہیں، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، اللہ عزوجل نے (انہی کے بارے میں فرمایا ہے) فرمایا:﴿مریم:۵۷﴾ ہم نے انہیں بلند مقام پر فائز کیا۔ پھر مجھے پانچویں آسمان کی طرف لے جایا گیا۔جبریل  نے دروازہ کھٹکھٹا یا۔پوچھا گیا :کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل ۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے :محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )پوچھا گیا : کیاان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ کہنے لگے :ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے۔ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ہارون کھڑے ہیں۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی، پھر مجھے چھٹے آسمان کی طرف لے جایاگیا۔ جبریل نے دروازہ کھٹکھٹا یا پوچھا گیا :کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل ۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے :محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھا گیا :کیاان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ کہنے لگے :ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے۔ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے موسیٰ کھڑے ہیں، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ جبریل نے دروازہ کھٹکھٹا یا۔پوچھا گیا :کون ہو؟ کہنے لگے: جبریل۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہنے لگے :محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )،پوچھا گیا :کیاان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ کہنے لگے :ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے۔ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ابراہیم بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور ہر روز ستر ہزار فرشتے اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جو دوبارہ اس میں نہیں آتے۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہی تک لے گئے ۔ اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کا پھل مٹکے کی طرح تھا ۔جب اللہ کے حکم نے اسے ڈھانپ لیا، تو وہ درخت بدل گیا، پھر اللہ کی کوئی مخلوق اس کے حسن کی تعریف بیان نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی اور مجھ پر ہر دن اور رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں موسیٰ کی طرف آیا تو کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ کہنے لگے: اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جاؤ اور اللہ سے تخفیف کا سوال کرو، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی کیوں کہ میں نے بنی اسرائیل کو آزما لیا ہے اور ان کا امتحان لے لیا ہے۔ میں اللہ کی طرف واپس گیا اور دعا کی: اے اللہ! میری امت پرتخفیف کر دیجئے، اللہ نے مجھ پر پانچ نمازیں کم کر دیں۔ میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس آیا،انہوں نےفرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جائیے اور ان سے تخفیف کا سوال کیئےس ۔میں اللہ تبارک وتعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے محمد ! ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں، ہر نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب ملے گا، اس طرح پچاس نمازوں کا ثواب ہو جائے گا۔ اور جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور نیکی نہیں کر سکا، اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جائے گی۔ اور اگر عمل کر لیا تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور جس شخص نے برائی کا ارادہ کیا لیکن کر نہ سکا، اس کے لئے کچھ نہ لکھا جائے گا، اور اگر اس نے برائی کر لی تو ایک برائی لکھی جائے گی۔ میں موسیٰ کی طرف آیا اور انہیں بتایا توانہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جاؤ اور تخفر کا سوال کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اتنی مرتبہ واپس جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2170

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ وَرَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ. فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ يُمْضِهِ
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھلائی گئی ہو، ایک آدمی تمہیں ریشم کی چادرمیں اٹھائے ہوئے تھا اور کہہ رہا تھا، یہ تمہاری بیوی ہے، اور میں کہتا: اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو یہ ہو جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2171

عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّامِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ثُمَّ دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانُ: فَقُلْتُ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا فَقَالَ: أَدْنُوهُ مِنِّي وَقَرِّبُوا أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا الرَّجُلٌ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ فَوَاللهِ! لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَنْهُ ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَنْ قَالَ: كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا قَالَ: وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرُ هَذِهِ الْكَلِمَةِ قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟! قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُـكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلـتُ: الْحَـرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ قَالَ: مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: اعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِـهِ شَـيْئًا وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ: فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ أَحَدٌ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ لَقُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَسِي بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا قُلْتُ: فَلَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ أَبِيهِ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ وَسَأَلْتُكَ: أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمُ اتَّبَعُوهُ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُكَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ أَمْرُ الْإِيمَانِ، حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ: أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَغْدِرُ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ: بِمَا يَأْمُرُكُمْ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمِهِ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الَّذِي بَعَثَ بِهِ دِحْيَةُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ.. بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ (۶۴) (آل عمران) قَالَ أَبُو سُفْيَانُ فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ، كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ وَكَانَ ابْنُ النَّاظُورِ صَاحِبُ إِيلِيَاءَ وَهِرَقْلَ سُقُفًّا عَلَى نَصَارَى الشَّامِ يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حَيْث قَدِمَ إِيلِيَاءَ أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ: قَدِ اسْتَنْكَرْنَا هَيْئَتَكَ قَالَ ابْنُ النَّاظُورِ: وَكَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ قَالُوا لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا الْيَهُودُ فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ وَاكْتُبْ إِلَى مَدَايِنِ مُلْكِكَ فَيَقْتُلُوا مَنْ فِيهِمْ مِنَ الْيَهُودِ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى أَمْرِهِمْ أُتِيَ هِرَقْلُ بِرَجُلٍ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ خَبَرِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا اسْتَخْبَرَهُ هِرَقْلُ قَالَ: اذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ وَسَأَلَهُ عَنِ الْعَرَبِ فَقَالَ: هُمْ يَخْتَتِنُونَ فَقَالَ هِرَقْلُ: هَذَا مُلْكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَدْ ظَهَرَ ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَةَ وَكَانَ نَظِيرَهُ فِي الْعِلْمِ وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ كِتَابٌ مِنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَنَّهُ نَبِيٌّ فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ ثُمَّ أَمَرَ بِأَبْوَابِهَا فَغُلِّقَتْ ثُمَّ اطَّلَعَ: فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الرُّومِ! هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرُّشْدِ: وَأَنْ يَثْبُتَ مُلْكُكُمْ: فَتُبَايِعُوا هَذَا النَّبِيَّ؟ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ نَفْرَتَهُمْ وَأَيِسَ مِنَ الْإِيمَانِ قَالَ: رُدُّوهُمْ عَلَيَّ وَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ مَقَالَتِي آنِفًا أَخْتَبِرُ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے خبر دی کہ ابو سفیان بن حرب‌رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہرقل نے اس کی طرف پیغام بھیجا وہ قریش کے ایک قافلے میں تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے مابین صلح حدیبیہ کے دوران شام میں تجارت کی غرض سے آیا تھا، وہ لوگ ہر قل کے پاس آئے۔ وہ اس وقت ایلیاء میں تھے۔ اس نے انہیں اپنے دربار میں بلایا، اس کے ارد گرد روم کے سردار بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر انہیں بلایا اور اپنے ترجمان کو بھی بلایا، ہر قل کہنے لگا: تم میں اس شخص کا قریبی کون ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابو سفیان نے کہا: میں نسبی لحاظ سے اس کا قریبی ہوں۔ ہرقل نے کہا: اسے میرے قریب کر دو، اور اس کے ساتھیوں کو بھی قریب کر کے اس کے پیچھے کھڑا کر دو، پھر اپنے ترجمان سے کہا: ان سے کہو: میں اس شخص سے سوال کروں گا، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو اسے جھٹلا دینا۔ واللہ اگر مجھے اس بات کی حیا نہ ہوتی کہ یہ میرے بارے میں جھوٹ کا عیب نقل کریں گے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ بولتا، پھر سب سے پہلا سوال اس نے یہ کیا کہ :تم میں اس کا نسب کیسا ہے؟ابوسفیان: وہ ہم میں اچھے نسب والا ہے۔ ہرقل : کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہے؟ ابوسفیان: نہیں ۔ہر قل: کیا اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ ابوسفیان: نہیں ۔ہرقل: امیر لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے یا(غریب) کمزور لوگوں نے؟ ابو سفیان:کمزور لوگوں نے ۔ہر قل: وہ لوگ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم؟ ابو سفیان: وہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ ہر قل: کیا ان میں سے کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس کے دین کو نا پسند کرتے ہوئے مرتد ہوا ہے، ؟ابو سفیان: نہیں۔ ہر قل: وعدہ خلافی کرتا ہے؟ ابو سفیان: نہیں، ابھی ہمارے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کیا کرے گا؟ ابو سفیان نے کہا کہ: مجھے اس بات کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں ملی جو میں آپ کی شان میں تنقیص کےلئےکہتا۔ ہر قل: کیا تم نے اس سے لڑائی کی ہے؟ ابو سفیان: جی ہاں۔ ہر قل:تمہاری اس سے لڑائی کا کیا نتیجہ نکلا؟ ابو سفیان: ہمارے درمیان جنگ برابر ہی رہی،کبھی انہوں نے نقصان پہنچایا،کبھی ہم نے۔ ہر قل: وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ابو سفیان: وہ کہتا ہے کہ : اللہ وحدہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تمہارے باپ دادا جو کہتے ہیں اسے چھوڑ دو، وہ ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ ہر قل نے ترجمان سے کہا: اس سے کہو: میں نے تم سے اس کے نسب کے بارے میں سوال کیا،تو تم نے کہا کہ: وہ ہم میں اچھے نسب والا ہے، رسول اسی طرح ہوتے ہیں، اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں مبعوث کئے جاتے ہیں۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا یہ بات تم میں سے کسی نے پہلے بھی کہی ہے؟ تو تم نے کہا کہ نہیں، میں نے سوچا اگر اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا یہ شخص ایسے قول کی پیروی کر رہا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ تم نے کہا: نہیں میں نے سوچا اگر اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں کہتا :ایسا شخص ہے جو اپنے بزرگوں کی بادشاہت کا متلاشی ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا یہ بات کہنے سے پہلے تم اس پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ تم نے کہا: نہیں، مجھے معلوم ہوگیا کہ جو شخص لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کس طرح جھوٹ بول سکتا ہے۔ میں نے تم سے سوال کیا: طاقتور لوگوں نے اس کی پیروی کی یا کمزور لوگوں نے ؟تو تم نے کہا: کہ کمزور لوگوں نے اس کی پیروی کی اور یہی لوگ رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں۔ میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا یہ زیادہ ہو رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے کہا :کہ یہ زیادہ ہورہے ہیں۔ ایمان کا معاملہ اسی طرح رہتا ہے جب تک مکمل نہ ہو جائے۔ میں نے تم سے سوال کیا: کیا کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد ناراض ہو کر مرتد ہوا ہے؟ تو تم نے کہا کہ : نہیں۔ ایمان کا معاملہ اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ دلوں کے میں رچ بس جاتا ہے، میں نے تم سے سوال کیا: کیا وہ وعدہ خلافی کرتا ہے؟تو تم نے کہا کہ: نہیں، رسول وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ میں نے تم سے سوال کیا: وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے ؟ تو تم نے کہا کہ: وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ: تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تمہیں بتوں کی عبادت سے منع کرتا ہے، تمہیں نماز، سچائی، پاکدامنی کا حکم دیتا ہے۔ اگر جو تم نے کہا ہے سچ ہے تو عنقریب وہ میرے قدموں کے نیچے والی جگہ( تخت) کا مالک ہوگا۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ وہ آنے والا ہے لیکن یہ گمان نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں اس کے پاس پہنچ جاؤں گا تو میں اس کی ملاقات کی کوشش و جستجو کرتا۔ اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم دھوتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جسے دحیہ کلبی‌رضی اللہ عنہ نے والیٔ بصریٰ کی طرف بھیجا تھا۔ اس نے وہ خط ہر قل کے حوالے کیا، ہر قل نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا:بسم اللہ الرحمن الرحیم،محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے، ہر قل شاہ روم کی طرف۔ اس شخص پر سلام ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی، اما بعد !میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں دو گنا اجر دے گا، اگر تم نے منہ موڑ لیا تو تم پر رعایہ کا گناہ بھی ہوگا،﴿آل عمران:۶۴﴾ ”اے اہل کتاب ایسے کلمے کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابرہے کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ پس اگر وہ پھر جائیں تو تم کہو کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں“۔ ابو سفیان نے کہا: جب اس نے یہ بات کہی اور خط سے فارغ ہوا تو اس کے پاس شور ہونے لگا اور آوازیں بلند ہونے لگیں۔ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا، جب ہم باہر آگئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ۔بنو اصفر کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے، مجھے اس وقت یقین ہوگیا کہ وہ غالب ہو کر رہے گا۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام میں داخل کر دیا۔ ابن ناظور- والیٔ ایلیا- اور ہر قل کا مصاحب شام کے عیسائیوں کا پادری بیان کرتا ہے کہ: ہر قل جب ایلیا پہنچا تو ایک صبح بوجھل طبیعت کے ساتھ اٹھا، اس کے درباریوں نے کہا: ہمیں آپ کی طبیعت ناساز لگتی ہے۔ ابن ناظور نے کہا: ہر قل ایک ماہر علم نجوم تھا، جب لوگوں نے اس سے سوال کیا تو اس نے کہا: آج رات میں نے ستاروں کی چال دیکھی تو میں نے دیکھا کہ ختنہ کرنے والوں کا بادشاہ غالب ہو گیا ہے، اس امت میں کون ختنہ کرتا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہودیوں کے علاوہ تو کوئی ختنہ نہیں کرتا۔ آپ کو ان کے ماملہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، ملک کے بڑے شہروں کے حکام کو لکھ لکھئے کہ جو یہودی وہاں ہیں انہیں قتل کر دیں، ابھی وہ اسی کشمکش میں تھے کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا جسے غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اطلاع دے رہا تھا۔ جب ہرقل نے اس سے پوچھا تو ہر قل نے کہا: اسے لے جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کا ختنہ ہو چکا ہے یا نہیں؟ اس کے سپاہیوں نے اسے دیکھا تو آکر بتایا کہ اس کا ختنہ ہو چکا ہے۔ ہر قل نے اس سے عرب کے لوگوں کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا: وہ لوگ ختنہ کرتے ہیں۔ ہر قل نے کہا: یہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )اس امت کا بادشاہ ہے جو ظاہر ہو چکا ہے۔ پھر ہر قل نے اپنے ایک دوست جو رومیہ میں تھا کی طرف لکھا وہ بھی علم نجوم میں ہر قل جیسا تھا اور ہر قل حمص کی طرف چلا گیا۔ ابھی ہر قل حمص نہیں پہنچا تھا کہ اس کے پاس اس کے دوست کا خط آیا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق ہر قل کی رائے کی موافقت کی گئی تھی۔ ہر قل نے حمص میں ایک بڑے ہال میں روم کے سرداروں کو بلایا، دروازے بند کرنے کا حکم دیا، پھر سامنے آکر کہنے لگا: اے روم کے لوگو! کیا تم بھلائی اور کامیابی چاہتے ہو اور یہ چاہتے ہو کہ تمہاری بادشاہت قائم ر ہے؟تو تم اس نبی کی پیروی کر لو۔ وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے، تو دیکھا کہ دروازے بند کئے جا چکے ہیں۔ جب ہر قل ان کی اس درجہ نفرت دیکھی اور ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو کہنے لگا: انہیں میری طرف واپس لاؤ اور کہنے لگا: ابھی میں نے یہ بات تمہارے امتحان کے لئے کہی تھی تاکہ میں تمہارے دین کی شدت کا اندازہ لگا سکوں۔ وہ میں نے دیکھ لی۔ وہ سب اس کے لئے سجدے میں گر پڑے اور اس سے خوش ہوگئے۔ یہ ہر قل کا آخر ی معاملہ تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2172

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَكْتُوب فِي الْإِنْجِيْل: لَا فَظٌّ وَلَا غَلِيظٌ وَلَا سَخَّابٌ بِالْأَسْوَاق، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَة مِثْلَهَا بَل يَعْفُو وَيَصْفَح
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انجیل میں لکھا ہوا تھا :نہ بدزبان ،نہ سخت، نہ بازاروں میں شور کرنے والے، نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے بلکہ وہ معاف کرتے ہیں اور درگزرکرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2173

عَنْ عُمَر بْن عَبْدِ اللهِ بن يَعْلَي بن مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَلاثَةَ أَشْيَاءَ مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبْلِي:أ- كُنْتُ مَعَهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى ابْنَة مَعَهَا ابْنٌ لَهَا بِهِ لَمَمٌ مَا رَأَيْتُ لَمَمًا أَشَدُّ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! ابْنِي هَذَا كَمَا تَرَى؟ قَالَ: إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ لَهُ؟ فَدَعَا لَهُ ثُمَّ مَضَى، ب - فَمَرَّ عَلَيْهِ بَعِيرٌ مَادٍ جَرَانُهُ يَرْغُو، فَقَالَ: عَلَيَّ بِصَاحِبِ هَذَا، فَقَالَ: هَذَا يَقُولُ: نُتِجْتُ عِنْدَهُمْ وَاسْتَعْمَلُونِي حَتَّى إِذَا كَبُرْتُ أَرَادُوا أَنْ يَنْحَرُونِي ثُمَّ مَضَى. ج - فَرَأَى شَجَرَتَيْنِ مُتَفَرِّقَتَيْنِ، فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَمُرْهُمَا فَلْتَجْتَمِعَافَاجْتَمَعَتَا فَقَضَى حَاجَتَهُ وَقَالَ: اذْهَبْ فَقُلْ لَهُمَا يَتَفَرَّقَا، ثُمَّ مَضَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ مَرَّ عَلَى صَبِيٍّ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، وَقَدْ هَيَّأَتْ أُمُّهُ سِتَّةَ أَكْبُشٍ فَأَهْدَتْ لَهُ كَبْشَيْنِ، وَقَالَتْ مَا عَادَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ اللَّمَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ شَئٍ إِلا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلا كَفَرَةٌ أَوْ فَسَقَةُ الْجِنِّ وَالاِنْسِ
عمر بن عبداللہ بن یعلی بن مرہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں تین چیزیں ایسی دیکھیں، جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھیں۔ ۱۔میں آپ کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا، آپ ایک لڑکی کے پاس سے گزرے اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا، جسے دیوانہ پن تھا میں نےاس سے زیادہ سخت دیوانہ پن نہیں دیکھا تھا وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میرا یہ بیٹا اس طرح ہے جیسا آپ دیکھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اس کے لئے دعا کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی پھر چل پڑے۔ ۲۔آپ کے پاس سے ایک اونٹ گزرا جس کی گردن جھکی ہوئی تھی اور وہ بلبلا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس اس کے مالک کو لاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ کہہ رہا ہےکہ میں ان کےپاس پیداہوا،پھرانہوں نےمجھ سےکام لیا،اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو یہ مجھے نحر کرنا چاہتے ہیں۔ پھر آپ چل پڑے۔۳۔آپ نے دو جدا جدا درخت دیکھے، آپ نے مجھ سے کہا: جاؤ انہیں حکم دو کہ جمع ہو جائیں، وہ دونوں جمع ہوگئے۔ آپ نے اپنی حاجت پوری کی پھر فرمایا: جاؤ ان دونوں سے کہو: الگ ہو جائیں، پھر آپ چل پڑے۔ جب واپس آئے تو اس بچے کے پاس سے گزرے وہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اس کی ماں نے اس کے لیے چھ مینڈھے پال رکھے تھے، اس نے دو مینڈھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے اور کہنے لگی: اسے پھر دیوانہ پن نہیں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوائے جن و انس کے کافروں یا فاسقوں کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2174

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا .
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چیز کھاتے یا پیتے تو کہتے: اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًاتمام تعریفات اس اللہ کے لئے جس نے کھلایا اور پلایا، اسے حلق سے نیچے سہولت کے ساتھ اتارا اور اس کے لئے باہر نکلنے کا راستہ بنایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2175

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا جَلَسَ احْتَبَى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیٹھتے تو اپنے گرد کپڑا لپیٹ لیتے۔(یعنی گوٹھ مار کر بیٹھتے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2176

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا غَضِبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب غصے میں ہوتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جایا کرتی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2177

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی چیز کو نا پسند کرتے تو ہم آپ کے چہرے سے پہچان جاتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2178

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا مَشَى كَأَنَّهُ يَتَوَكَّأُ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو ایسا لگتا جیسے وہ ٹیک لگا رہے ہوں (یعنی تھوڑا سا آگے کی طرف جھک کر چلتے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2179

عَنْ جَابِر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: « كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا مَشَى لَم يَلْتَفِت »
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2180

عَنْ سَهلِ بْنِ سَعدٍ قَالَ : سَمِعتُ زَيْد بْن ثَابِت يَقُول: كَان إِذَا نَزَل الوَحْي عَلَيْهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَقُلَ لِذَلِك وَتَحَدَّر جَبِيْنُه عَرقاً كَأَنَّه الجُمَانُ وَإِنْ كَانَ فِي البَرْد
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زید بن ثابت‌رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجھ محسوس کرتے،آپ کی پیشانی سے اس طرح پسینہ بہتا گویا کہ موتی ہوں اگرچہ آپ سردی میں ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2181

) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلْتُ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ بَشَرًا مِّنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ مجھ سے سوال کیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا عمل کیا کرتے تھے؟ کہنے لگی: آپ بھی ایک بشر تھے، کپڑے کو پیوند لگاتے، بکری کا دودھ دوہتے، اور اپنا کام خود کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2182

عَنْ أَبِي نَضْرَة العَوفِي قَالَ : سَأَلتُ أَبَا سَعِيْد الخُدْرِيِّ عَنْ خَاتِم رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: « كَانَ خَاتَم النَبُوَة فِي ظَهْرِه بِضْعَةٌ نَاشِزَةٌ » .
ابو نضرہ عوفی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے بارے میں سوال کیا تو کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت آپ کی پشت پر ابھرے ہوئے گوشت کی شکل میں تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2183

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة : «كَانَ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَبْيَض كَأَنَّمَا صِيْغ مِن فِضَة، رَجُل الشَّعْر »
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ کے تھے، گویا چاندی سے بنائے گئے ہیں اور آپ گھنے بالوں والے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2184

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ يُقْبِلُ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ جَمِيعًا لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائیاں چوڑی تھیں اور آنکھوں کے کشادہ کناروں والے تھے، کاندھوں کے درمیان فاصلہ تھا، پوری توجہ سے آگے چل کر آتے اور پوری توجہ سے واپس جاتے، بدگو، بدزبان اور بازاروں میں شور کرنے والے نہیں تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2185

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَهُ حِمَارٌ يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گدھا تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2186

عن زَيْادِ بْنِ سَعدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَان لَا يُرَاجِع بَعد ثَلَاث
زیاد بن سعد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ کے بعد مراجعت نہیں کیا کرتے تھے(بات کو نہیں دہرایا کرتے تھے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2187

عَنْ أَبِي أُمَامَة الحَارِثِي، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَجْلِسُ الْقُرْفُصَاءَ . ( )
ابو مامہ حارثی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُکڑُوں ہوکر بیٹھتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2188

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ﴿۶۷﴾ (المائدة) فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ فَقَالَ لَهُمْ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِيَ اللهُ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دیا جاتا تھا جب یہ آیت نازل ہو گئی وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ﴿۶۷﴾ اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائے گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمے سے باہر نکالا اور ان سے فرمایا: لوگو! واپس چلے جاؤ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2189

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَمْشِي مَشياً يُعْرَف فِيْه أَنَّه لَيْس بِعَاجِزٍ وَلَا كَسْلَانَ
عبداللہ بن عباس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی چال چلا کرتے تھے جس سے پہچانا جاتا کہ نہ تو آپ عاجز ہیں نہ سست۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2190

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: كَانَتْ أَكْثَرُ أَيْمَانِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اٹھانے کااکثراندازیہ تھا:” نہیں!دلوں کو پھیرنے والی ذات کی قسم“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2191

عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ جِبْرِيلُ بِإِصْبَعِهِ فَخَرَقَ بِهِ الْحَجَرَ وَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ
ابن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبریل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے پتھر میں سوراخ کیا اور براق کو اس کے ساتھ باندھ دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2192

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظِعْتُ بِأَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ فَقَعَدَ مُعْتَزِلًا حَزِينًا قَالَ فَمَرَّ عَدُوُّ اللهِ أَبُو جَهْلٍ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ: هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : نَعَمْ قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّهُ أُسْرِيَ بِيَ اللَّيْلَةَ قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ فَلَمْ يُرِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : نَعَمْ فَقَالَ: هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ! فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا قَالَ: حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي أُسْرِيَ بِيَ اللَّيْلَةَ قَالُوا: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالُوا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ! قَالُوا: وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ؟ وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ.فَقَـالَ رَسُـولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ قَالَ: فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عِقَالٍ - أَوْ عُقَيْلٍ- فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ – قَالَ: وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللهِ! لَقَدْ أَصَابَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس رات مجھے معراج کروائی گئی، اور صبح مکے میں کی تو میں اپنے معاملے سے پریشان ہو گیا اور مجھے معلوم ہو گیا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے، آپ غمگین ہو کر علیحدہ بیٹھ گئے۔ اللہ کا دشمن ابو جہل گزرا اور آکر آپ کے پاس بیٹھ گیا، اور استہزاء کرتے ہوئے آپ سے کہنے لگا: کیا کوئی نئی بات ہو گئی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ ابو جہل نے کہا: وہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے سیر کروائی گئی۔ ابو جہل نے کہا :کس طرف؟ آپ نے فرمایا: بیت المقدس کی طرف ابو جہل کہنے لگا: پھر آپ نے صبح یہاں ہمارے درمیان کی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ابو جہل نے آپ کی تکذیب اس ڈر سے مناسب نہ سمجھی کہ جب وہ اپنی قوم کو بلائے گا تو کہیں آپ اس بات کا انکار نہ کر دیں۔ کہنے لگا :آپ کے خیال میں اگر میں آپ کی قوم کو بلاؤں تو کیا آپ انہیں بھی وہی بات بتائیں گے جو مجھے بتائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ ابو جہل پکارنے لگا: بنی کعب بن لوئی کے لوگو! آؤ، لوگ آپ کی طرف آنے لگے اور آکر ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ ابو جہل کہنے لگا: اپنی قوم کو بھی وہی بیان کیجئے جو مجھے بتایا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آج رات مجھے سیر کروائی گئی ہے ۔ لوگوں نے کہا:کس طرف؟آپ نے فرمایا: بیت المقدس کی طرف۔ لوگ کہنے لگے: پھر آپ ہمارے درمیان کھڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، کچھ لوگ تالیاں بجانے لگے،اور کچھ لوگوں نے آپ کے گمان کے مطابق جھوٹ پر تعجب کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سروں پر رکھ لئے۔ لوگوں نے کہا: کیا آپ ہمیں اس مسجد کی صفات بیان کر یں گے؟ کچھ لوگ ایسے بھی تھےجنہوں نے اس علاقے کا سفر کیا تھا اور مسجد دیکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انہیں بتانے لگا۔ میں انہیں بتارہا تھا کہ کوئی وصف مجھ پر خلط ملط ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مسجد کو (میرے سامنے)لایا گیا، میں دیکھ رہا تھا حتی کہ عقال یا عقیل کے دروازے کے پاس رکھ دی گئی میں اس کا وصف بیان کرنے لگا اور میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ عبداللہ بن عباس نے کہا کہ: اس حدیث میں رسول اللہ کا بیان کردہ بیت المقدس کا وصف بھی تھا لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ لوگوں نے کہا: یہ وصف واللہ درست بتایا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2193

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ كُلُّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا عَلَى بَعِيرٍ كَانَ عَلِيٌّ وَأَبُو لُبَابَةَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِذَا كَانَ عُقْبَةُ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَا: ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللهِ! حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ فَيَقُولُ: مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى عَلَى الْمَشْيِ مِنِّي وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم غزوہ بدر میں تھے، ہم میں سے تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر (باری بار سوار ہوتے)تھے، علی اور ابو لبابہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھی تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آئی تو دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول سوار ہو جائیے، ہم پیدل چلتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں مجھ سے زیادہ پیدل چلنے پر قادر نہیں ہو، اور نہ میں ثواب میں تم سے کم محتاج ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2194

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أُوتِيكُمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا أَمْنَعكُمُوهُ إِنْ أَنَا إِلَّا خَازِنٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہ میں تمہیں کوئی چیز دیتا ہوں، نہ کوئی چیز روکتا ہوں۔ میں تو اللہ کی طرف مامور خازن ہوں، جیساحکم دیا جاتا ہے ویسا ہی کرتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2195

عَنِ ابن بُرَيْدَة عَنْ أَبِيْه رَفَعَه: مَا أُوْذِي أَحْدٌ مَا أُوْذِيْتُ فِي اللهِ عَزَّ وَجَل
ابن بریدہ اپنے والد سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ : اللہ کے لئے جتنی تکلیف مجھےدی گئی کسی اور شخص کو نہیں دی گئی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2196

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا تُوُفِّىَ حَتَّى أَحَلَّ اللهُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ :آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک فوت نہیں ہوئے جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال نہیں کر دیا کہ جس عورت سے چاہیں شادی کر لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2197

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا ضَرَبَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِيَدِهِ خَادِمًا قَطُّ وَلَا امْرَأَةً وَلَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا كَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ أَيْسَرُهُمَا حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ الْإِثْمِ وَلَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَكُونَ هُوَ يَنْتَقِمُ لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ
عائشہ رضی اللہ عنہا سےمروی ہےکہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی خادم یا عورت کو نہیں مارا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو کبھی مارا، صرف اس وقت جب آپ اللہ کے راستے میں جااد کر رہے ہوتے، اور جب بھی آپ کو دو معاملوں کے درمیان اختیار دیا گیا آپ نے آسان معاملہ کو پسند کیا۔ جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو جب کوئی گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب سے زیادہ دور ہوتے۔ آپ نے اپنے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا سوائے اس کے کہ اللہ کی حرمات کی نا فرمانی کی جاتی۔ اس صورت میں آپ اللہ عزوجل کے لئے انتقام لیتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2198

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن مَسْعَود قَالَ: مَرَّ الْمَلَأ من قُرَيش عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وَعِنْدَه صُهَيْب، وَبِلاَل، وَعَمَّار، وَخبَّابٌ وَنَحْوِهِم مِنْ ضُعَفَاء الْمُسْلِمِيْن، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّد! اُطْرُدْهُمْ، أَرَضِيتَ هَؤُلَاء مِنْ قومِكَ، أَفَنَحْنُ نَكُون تُبَّعًا لِهَؤُلَاء؟! أَهوُلَاءِ مَنَّ الله عَلَيْهِم مِنْ بَيْنِنِا؟! فَلَعَلَّكَ إِنْ طردتهم أَنْ نَأْتِيْك!، قَالَ: فَنَزَلَتْ: وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ ؕ مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ مَا مِنۡ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَتَطۡرُدَہُمۡ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ (۵۲) الأنعام. ( )
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ قریش کے کچھ سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، آپ کے پاس صہیب، بلال، عمار، خباب رضی اللہ عنہم اور ان جیسے کمزور مسلمان بیٹھے تھے۔ کہنے لگے:اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )!انہیں دھتکار دیجئے، کیا آپ نے اپنی قوم میں سے انہیں پسند کیا ہے؟ کیا ہم ان کے پیچھے لگیں؟ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا؟ ممکن ہے اگر آپ انہیں دھتکار دیں تو ہم آپ کے پاس آجائیں۔تب یہ آیت نازل ہوئی:(الانعام:۵۲)ترجمہ:اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع ہوگا، اس امید پر کہ وہ ڈر جائیں۔ اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح وشام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، خاص اسی کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں۔ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں۔ورنہ آپ ظلم کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2199

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَضَى رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بن حُصَيْنٍ الْغِفَارِيَّ، وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ، فَصَامَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِـ(الْكَدِيدِ) مَا بَيْنَ (عُسْفَانَ) وَ(أَمَجَ) أَفْطَرَ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ (مَرَّ الظَّهْرَانِ) فِي عَشَرَةِ آلافٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ مُزَيْنَةَ وَسُلَيْمٍ، وَفِي كُلِّ الْقَبَائِلِ عَدَدٌ وَإِسْلامٌ، وَأَوْعَبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ، فَلَمْ يَتَخَلَّفْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِـ(مَرِّ الظَّهْرَانِ)، وَقَدْ عَمِيَتِ الأَخْبَارُ عَنْ قُرَيْشٍ، فَلَمْ يَأْتِهِمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَبَرٌ، وَلا يَدْرُونَ مَا هُوَ فَاعِلٌ؟ خَرَجَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ أَبُو سُفْيَان بن حَرْبٍ، وَحَكِيمُ بن حِزَامٍ، وَبُدَيْلُ بن وَرْقَاءَ يَتَحَسَّسُونَ وَيَنْتَظِرُونَ هَلْ يَجِدُونَ خَبَرًا، أَوْ يَسْمَعُونَ بِهِ؟ وَقَدْ كَانَ الْعَبَّاسُ بن عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، وَقَدْ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بن الْحَارِثِ بن عَبْدِالْمُطَّلِبِ، وَعَبْدُ اللهِ بن أَبِي أُمَيَّةَ بن الْمُغِيرَةِ، قَدْ لَقِيَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌[-أَيْضاً-] فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَالْتَمَسَا الدُّخُولَ عَلَيْهِ، فَكَلَّمَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فِيهِمَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! ابْنُ عَمِّكَ وَابْنُ عَمَّتِكَ وَصِهْرُكَ، قَالَ: لا حَاجَةَ لِي بِهِمَا، أَمَّا ابْنُ عَمِّي فَهَتَكَ عِرْضِي، وَأَمَّا ابْنُ عَمَّتِي وَصِهْرِي، فَهُوَ الَّذِي قَالَ لِي بِمَكَّةَ مَا قَالَ ، فَلَمَّا أُخْرجَ إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ، وَمَعَ أَبِي سُفْيَانَ بنيٌّ لَهُ، فَقَالَ: وَاللهِ لَيَأْذَنَنَّ لِي أَوْ لآخُذَنَّ بِيَدِ ابْنِيْ هَذَا، ثُمَّ لَنَذْهَبَنَّ فِي الأَرْضِ حَتَّى نَمُوتَ عَطَشًا وَجُوعًا، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَقَّ لَهُمَا، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْا فَدَخَلا وَأَسْلَمَا، فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِـ(مَرِّ الظَّهْرَانِ)، قَالَ الْعَبَّاسُ: وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ! وَاللهِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَكَّةَ عُنْوَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْمِنُوهُ، إِنَّهُ لَهَلاكُ قُرَيْشٍ إِلَى آخِرِ الدَّهْرِ، قَالَ: فَجَلَسْتُ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْبَيْضَاءِ، فَخَرَجْتُ عَلَيْهَا حَتَّى جِئْتُ (الأَرَاكَ) فَقُلْتُ: لَعَلِّي أَلْقَى بَعْضَ الْحَطَّابَةِ، أَوْ صَاحِبَ لَبِنٍ، أَوْ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي مَكَّةَ لِيُخْبِرَهُمْ بِمَكَانِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِيَخْرُجُوا إِلَيْهِ، فَيَسْتَأْمِنُوهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا عَلَيْهِمْ عُنْوَةً، قَالَ: فَوَاللهِ، إِنِّي لأَسِيرُ عَلَيْهَا، وأَلْتَمِسُ مَا خَرَجْتُ لَهُ إِذْ سَمِعْتُ كَلامَ أَبِي سُفْيَانَ، وَبُدَيْلِ بن وَرْقَاءَ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ، وَأَبُو سُفْيَانَ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ نِيرَانًا وَلا عَسْكَرًا، قَالَ: يَقُولُ بُدَيْلٌ: هَذِهِ وَاللهِ نِيرَانُ خُزَاعَةَ حَمَشَتْهَا الْحَرْبُ، قَالَ: يَقُولُ أَبُو سُفْيَانَ: خُزَاعَةُ، وَاللهِ أَذَلُّ وأَلأَمُ مِنْ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ نِيرَانُهَا وَعَسْكَرُهَا، قَالَ: فَعَرَفْتُ صَوْتَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَنْظَلَةَ!فَعَرَفَ صَوْتِي، فَقَالَ أَبُو الْفَضْلِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَالَكَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ فَقُلْتُ: وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ! هَذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي النَّاسِ وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ وَاللهِ! قَالَ: فَمَا الْحِيلَةُ؟ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: قُلْتُ: وَاللهِ لَئِنْ ظَفَرَ بِكَ لَيَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ، فَارْكَبْ مَعِي هَذِهِ الْبَغْلَةَ حَتَّى آتِيَ بِكَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَسْتَأْمِنَهُ لَكَ، قَالَ: فَرَكِبَ خَلْفِي وَرَجَعَ صَاحِبَاهُ، فَحَرَّكْتُ بِهِ كُلَّمَا مَرَرْتُ بنارٍ مِنْ نِيرَانِ الْمُسْلِمِينَ، قَالُوا: مَنْ هَذَا؟ فَإِذَا رَأَوْا بَغْلَةَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالُوا: عَمُّ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى مَرَرْتُ بنارِ عُمَرَ بن الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ وَقَامَ إِلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى أَبَا سُفْيَانَ عَلَى عَجُزِ النَّاقَة، قَالَ: أَبُو سُفْيَانَ؟ عَدُوُّ اللهِ؟ الْحَمْدُ لِله الَّذِي أَمْكَنَ مِنْكَ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلا عَهْدٍ، ثُمَّ خَرَجَ يَشْتَدُّ نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَرَكَضتُ الْبَغْلَةُ،فَسَبَقَتْهُ بِمَا تَسْبِقُ الدَّابَّةُ الْبَطِيئَة الرَّجُلَ الْبَطِيءَ، فَاقْتَحَمْتُ عَنِ الْبَغْلَةِ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَدَخَلَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! هَذَا أَبُو سُفْيَانَ قَدْ أَمْكَنَ اللهُ مِنْهُ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلا عَهْدٍ، فَدَعْنِي فَلأَضْرِبَ عُنُقَهُ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي [قَدْ] أَجَرْتُهُ، ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ، فَقُلْتُ: لا وَاللهِ، لا يُنَاجِيهِ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ دُونِي، فَلَمَّا أَكْثَرَ عُمَرُ فِي شَأْنِهِ، قُلْتُ: مَهْلاً يَا عُمَرُ! أَمَا وَاللهِ لَوْ كَانَ مِنْ رِجَالِ بني عَدِيِّ بن كَعْبٍ مَا قُلْتَ هَذَا، وَلَكِنَّكَ عَرَفْتَ أَنَّهُ رَجُلٌ مِنْ رِجَالِ بني عَبْدِ مَنَافٍ فَقَالَ: مَهْلا يَا عَبَّاسُ! فَوَاللهِ لإِسِلامُكَ يَوْمَ أَسْلَمْتَ كَانَ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ إِسْلامِ الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ، وَمَا بِي إِلا أَنِّي قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ إِسْلامَكَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ إِسْلامِ الْخَطَّابِ [لَوْ أَسْلَم]، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اذْهَبْ بِهِ إِلَى رَحْلِكَ يَا عَبَّاسُ! فَإِذَا أَصْبَحَ فَأْتِنِي بِهِ ، فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَحْلِي فَبَاتَ عِنْدِي، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَوْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ! أَلَمْ يَأْنِ لَكَ أَنْ تَعْلَمَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللهُ؟ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا أَكْرَمَكَ [وَأَحْلَمَكَ] وَأَوْصَلَكَ! وَاللهِ لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنْ لَوْ كَانَ مَعَ اللهِ غَيْرُهُ لَقَدْ أَغْنَى عَنِّي شَيْئًا[بعدُ]، قَالَ: وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ! أَلَمْ يَأْنِ لَكَ أَنْ تَعْلَمَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ؟! قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا أحْلَمَكَ وَأَكْرَمَكَ وَأَوْصَلَكَ! هَذِهِ، وَاللهِ كَانَ فِي نَفْسِي مِنْهَا شَيْءُ حَتَّى الآنَ، قَالَ الْعَبَّاسُ: وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ! أَسْلِمْ، وَاشْهَدْ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ قَبْلَ أَنْ يًضْرَبَ عُنُقُكَ، قَالَ: فَشَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ وَأَسْلَمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ هَذَا الْفَخْرَ، فَاجْعَلْ لَهُ شَيْئًا، قَالَ: نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ . فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَنْصَرِفَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا عَبَّاسُ! احْبِسْهُ بِمَضِيقِ الْوَادِي عِنْدَ خَطْمِ الْجَبَلِ، حَتَّى تَمُرَّ بِهِ جُنُودُ اللهِ فَيَرَاهَا ، قَالَ: فَخَرَجْتُ بِهِ حَتَّى حَبَسْتُهُ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ أَحْبِسَهُ قَالَ: وَمَرَّتْ بِهِ الْقَبَائِلُ عَلَى رَايَاتِهَا، كُلَّمَا مَرَّتْ قَبِيلَةٌ، قَالَ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَأَقُولُ: (سُلَيْمٌ)، فَيَقُولُ: مَالِي وَلِـ(سُلَيْمٍ)؟ قَالَ: ثُمَّ تَمُرُّ الْقَبِيلَةُ، قَالَ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَأَقُولُ: (مُزَيْنَةُ)، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلِـ(مُزَيْن‍َةَ)؟ حَتَّى نَفَذَتِ الْقَبَائِلُ لا تَمُرُّ قَبِيلَةٌ إِلا، قَالَ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَأَقُولُ: بنو فُلانٍ، فَيَقُولُ: مَالِي وَلِبَنِي فُلانٍ؟ حَتَّى مَرَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْخَضْرَاءِ كَتِيبَةٌ فِيهَا الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُلا يُرَى مِنْهُمْ إِلا الْحَدَقَ، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ! مَنْ هَؤُلاءِ يَا عَبَّاسُ؟! قُلْتُ: هَذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ، قَالَ: مَا لأَحَدٍ بِهَؤُلاءِ قِبَلٌ وَلا طَاقَةٌ، وَاللهِ يَا أَبَا الْفَضْلِ! لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ الْغَدَاةَ عَظِيمًا، قُلْتُ: يَا أَبَا سُفْيَانَ! إِنَّهَا النُّبُوَّةُ، قَالَ: فَنَعَمْ إِذًا، قُلْتُ: النَّجَاءُ إِلَى قَوْمِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَهُمْ صَرَخَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! هَذَا مُحَمَّدٌ قَدْ جَاءَكُمْ بِمَا لا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ، فَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ امْرَأَتُهُ هِنْدُ بنتُ عُتْبَةَ، فَأَخَذَتْ بِشَارِبِهِ، فَقَالَتْ: اقْتُلُوا الدَّسَمَ الأَحْمَسَ، فَبِئْسَ مِنْ طَلِيعَةِ قَوْمٍ! قَالَ: وَيْحَكُمْ، لا تَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ مِنْ أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَ مَا لا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ، فَهُوَ آمِنٌ، قَالُوا: وَيْلَكَ وَمَا تُغْنِي دَارُكَ؟! قَالَ: وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَى دُورِهِمْ، وَإِلَى الْمَسْجِدِ . ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکے کی طرف )چلے تو مدینے پر ابو رہم کلثوم بن حسین غفاری رضی اللہ عنہ کو نگران مقرر کیا۔ دس رمضان کو سفر پر نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ جب (کدید )میں پہنچے جو عسفان اور( امج) کے درمیان ہے۔تو آپ نےافطار کر لیا، پھر چل پڑے جب دس ہزار کے لشکر کے ساتھ جس میں مزینہ سلیم اور ہر قبیلے سے مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ (مرالظہران) میں پڑاؤ ڈالا، مہاجرین و انصار سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، کوئی بھی شخص آپ سے پیچھے نہیں رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرالظہران) میں پڑاؤ ڈالا، قریش سے خبروں کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا، اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ نہ یہ جانتے تھے کہ آپ کیا کرنے والے ہیں؟ اس رات ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء یہ دیکھنے کے لئےباہر نکلے کہ کیا انہیں کوئی خبر یا کوئی سن گن ملتی ہے؟ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں آملے تھے۔ اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ بھی مکہ اور مدینہ کے درمیان آئے اور آپ سے ملنے کی خواہش کی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کے بارے میں بات چیت کی ۔کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! آپ کے چچا کا بیٹا اور پھوپھی کا بیٹا اور داماد۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان دونوں سے کوئی غرض نہیں۔ میرے چچا کے بیٹے نے میری عزت خراب کی ہے، اور میری پھوپھی کےاس بیٹے نے مکے میں کیا کچھ نہیں کہا۔ جب ان کی طرف یہ پیغام پہنچا تو ابو سفیان کے ساتھ اس کا چھوٹا بیٹا بھی تھا، کہنے لگا:واللہ یا توآپ مجھے اجازت دے دیں یا میں اپنے اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر بیابان میں نکل جاؤں گا۔ یہاں تک کہ ہم بھوک اور پیاس سے مر جائیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ کا دل نرم ہوگیا۔ پھر ان دونوں کو اجازت دے دی، وہ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران میں پڑاؤ ڈالا تو عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے قریش کی صبح بری حالت ہوگی۔ واللہ! اگر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌قریش کے امان طلب کرنے سے پہلے جنگ کرتے ہوئے مکے میں داخل ہوگئے تو یہ ہمیشہ کے لئے قریش کی ہلاکت ہے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر بیٹھا اور اس پر بیٹھ کر اراک تک آگیا۔ میں نےسوچا: شاید میں کسی لکڑہارے، دودھ والے یا کسی ضرورتمند سے ملوں تاکہ وہ مکہ والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کی خبر دے اور مکے والے مکے میں جنگی حالت میں داخل ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ سے امان طلب کریں ۔ واللہ! میں اس پر سوار کسی شخص کو تلاش کرتا رہا کہ میں نے ابو سفیان اور بدیل بن ورقاء کی بات سنی وہ دونوں آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ابو سفیان کہہ رہا تھا: آج کے دن جیسی آگ اور لشکر میں نے نہیں دیکھا۔ بدیل کہہ رہا تھا: یہ واللہ خزاعہ کی آگ ہے جنہیں جنگ نے برانگیختہ کردیا ہے۔ ابو سفیان کہہ رہا تھا: خزاعہ کی واللہ اتنی حیثیت کہاں کہ وہ اتنی آگ جلائے اور اتنا بڑا لشکر لائے۔ میں نے اس کی آواز پہچان لی۔ میں نے کہا: ابو حنظلہ؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہنے لگے: ابو الفضل ہو؟ میں نے کہا: ہاں، کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کو کیا ہوا؟ میں نے کہا: ابو سفیان! افسوس یہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌لوگوں کے ساتھ ہیں اور قریش کی باری آگئی واللہ۔ کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا: واللہ اگر وہ تم پر حاوی ہوگئے تو تمہاری گردن اڑادیں گے۔ میرے ساتھ اس خچر پر سوار ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے لئے امان طلب کروں۔ وہ میرے پیچھے سوار ہوگئے، اور ان کے دونوں ساتھی واپس لوٹ گئے۔ میں نے سواری چلائی، میں جب بھی مسلمانوں کی کسی آگ کے پاس سے گزرتا تو کہتے: یہ کون ہے؟ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر دیکھتے تو کہتے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا آپ کے خچر پر سوار ہیں۔ جب میں عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ کی آگ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: یہ کون ہے؟ اور میری طرف آنے لگے: جب انہوں نے ابو سفیان کو خچر کے پیچھے دیکھا تو کہنے لگے: ابو سفیان! اللہ کا دشمن؟ الحمدللہ! جس نے بغیر کسی عہدو پیماں کے تم پر غالب کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑنے لگے۔ میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی تو میں ان سے پہلے پہنچ گیا جیسا کہ سست جانور بھی سست آدمی سے سبقت لے جاتا ہے۔ میں نے خچر سے چھلانگ لگا دی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو اوپر سے عمر‌رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! یہ ابو سفیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عہدو پیمان کے اس پر غلبہ دے دیا ہے۔مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن اڑاؤں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے پناہ دی ہے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور آپ کا سر پکڑ لیا میں نے کہا: نہیں واللہ! آج کی رات میرے علاوہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہیں کریگا ۔ جب عمر‌رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں زیادہ کہا تو میں نے کہا: عمر! بس کرو، واللہ اگر یہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم اس کے بارے میں اتنا نہ کہتے، لیکن تمہیں معلوم ہے کہ یہ بنی عبد مناف کا ایک شخص ہے۔ عمر‌رضی اللہ عنہ کہنے لگے: عباس چھوڑو، واللہ جس دن تم اسلام لائے تمہارا اسلام لانا مجھے (میرے باپ) خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب ہے اگر وہ یہ اس لئے کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کا اسلام لانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (میرے باپ) خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عباس اسے خیمے میں لے جاؤ، جب صبح ہوجائے تو اسے میرے پاس لے آنا۔ میں ابو سفیان کو اپنے خیمے میں لے گیا۔ انہوں نے رات میرے خیمے میں گزاری، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ابو سفیان! افسوس ہے، کیا تمہیں ابھی بھی معلوم نہیں ہوا کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کتنے معزز(بردبار) اور تعلق داری والے ہیں، واللہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور ہوتا (اس صورتحال کے بعد )ضرور میری مدد کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو سفیان !افسوس! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تمہیں معلوم ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کتنے :بردبار معزز اور تعلق داری والے ہیں، اس بارے میں میرے دل میں ابھی کچھ شک شبہہ ہے۔ عباس‌رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو سفیان افسوس! اس سے پہلے کہ تمہاری گردن ماردی جائےاسلام لے آؤ اور لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دو۔ تب ابو سفیان نے حق کی گواہی دی اور مسلمان ہوگئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان ایسا شخص ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے، اس کے لئے کوئی خاص بات فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا وہ امن میں ہے۔ جس شخص نے اپنا دروازہ بند کر لیا، وہ امن میں ہے اور جو مسجد میں داخل ہو گیا وہ امن میں ہے۔جب وہ جانے کے لئے مڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عباس !پہاڑ کے سرے کے پاس تنگ گھاٹی میں اسے روک لو، تاکہ اللہ کے لشکر گزریں تو یہ دیکھ سکے۔ کہا: میں ابو سفیان کو لے کر باہر نکلا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابو سفیان کو روکنے کا حکم دیا تھا میں نے اسے روک لیا۔ قبائل اپنے جھنڈوں کے ساتھ گزرنے لگے۔ جب کبھی کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان کہتے: یہ کون ہیں؟ میں کہتا (سلیم) وہ کہتے مجھے( سلیم) سے کیا واسطہ؟ پھر ایک قبیلہ گزرا تو انہوں نے کہا: یہ کون ہیں؟ میں نے : (مزینہ) وہ کہنے گلے:(مزینہ) سے میرا کیا تعلق۔ حتی کہ کئی قبائل گزر گئے، جب کوئی قبیلہ گزرتا تو کہتے یہ کون ہیں؟ میں کہتا: فلاں وہ کہتے: مجھے فلاں سے کیا واسطہ؟ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑے لشکر کے ساتھ گزرے جس میں مہاجرین اور انصار تھے ۔جن پر لوہے کی زر ہیں تھی اور صرف ان کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ ابو سفیان نے کہا: سبحان اللہ !عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا: ان کے مقابلے میں تو کسی کی قوت و طاقت نہیں۔ ابو الفضل! واللہ! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت عظیم ہوگئی۔ میں نے کہا: ابو سفیان یہ نبوت ہے(بادشاہت نہیں) ابو سفیان نے کہا: تب تو یہ بہت اچھی ہے۔ میں نے کہا: اپنی قوم کی نجات کا اعلان کرو۔ وہ وہاں سے چل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور بلند آوازسے کہنے لگے: اے قریش کی جماعت! یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تمہارے پاس ایسا لشکر لائےہیں جس کا کوئی مدمقابل نہیں، جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا وہ امن میں ہے۔ اس کی بیوی ہند بنت عتبہ اس کے پاس آئی اور اس کی مونچھوں سے پکڑ کر کہا: اسع چربی سے بھرے ہوئے پتلی پنڈلیوں والے کو قتل کردو، یہ قوم کا بری خبر کا اطلاع دہندہ ہے۔ ابو سفیان کہنے لگے: تم پر افسوس! یہ عورت تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا لشکر لائے ہیں جس کا کوئی مقابل نہیں، جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگیا وہ امن میں ہے ۔لوگ کہنے لگے: تو برباد ہو، تیرا گھر کتنے لوگوں کو کافی ہوگا؟ ابو سفیان نے کہا: جس شخص نے اپنا دروازہ بند کر لیا وہ امن میں ہے۔ جو مسجد میں داخل ہو گیا وہ امن میں ہے۔ تب لوگ اپنے گھروں اور مسجد کی طرف چلے گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2200

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاتَ يَوْمٍ يَقْسِمُ مَالًا إِذْ أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! اِعْدِلْ فَوَاللهِ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ! فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : وَاللهِ! لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَتَأْذَنُ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ؟ فَقَالَ: لَا إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ . . . الحديث
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ کے پاس ذوالخویصرہ۔بنی تمیم کا ایک فرد۔ آیا اور کہنے لگا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )انصاف کیجئے۔ اللہ کی قسم! آج کے دن آپ نے انصاف نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد کوئی ایسا شخص نہیں دیکھو گے جو مجھ سے زیادہ عدل کرنے والا ہو۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: عمر‌رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن اڑادوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اس کے ایسے ساتھی ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز ان کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا۔۔۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2201

وُلِدَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَامَ الْفِيلِ . روی من حدیث عبداللہ بن عباس، و قیس بن محزمہ رضی اللہ عنہم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے۔یہ حدیث عبداللہ بن عباس اور قیس بن محزمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2202

عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا. قَالَتْ: فَجَاءَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: يَا أُمَّ هَانِئٍ! قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر میں نے اپنے دو دیوروں کو پنا ہ دی، اور ان دونوں کو گھر میں لا کر دروازہ بند کر دیا۔ میرا ماں زاد(اخیافی) بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے اور ان دونوں پر تلوار سونت لی۔ کہتی ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ مجھے نہیں ملے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا مل گئی وہ اپنے شوہر سے بھی زیادہ مجھ پر دباؤ ڈالنے لگیں۔ کہتی ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے آپ پر گردو غبار پڑا ہوا تھا میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی ہم نے بھی اسے پناہ دی، اور جسے تم نے امان دی ہم نے بھی اسے امان دی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2203

(2203) عَنْ رَبِيعَةَ الأَسْلَمِيِّ قَالَ : كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَأَعْطَانِي أَرْضًا، وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، وَجَاءَتِ الدُّنْيَا، فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: هِي فِي حَدِّ أَرْضِي، وَقُلْتُ أَنَا : هِي فِي حَدِّي، وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلامٌ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةًكَرِهْتُهَا، وَنَدِمَ، فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ! رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا، قُلْتُ: لاَ أَفْعَلُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَتَقُولَنَّ أَوْ لأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قُلْتُ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ: وَرَفَضَ الأَرْضَ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَانْطَلَقْتُ أَتْلُوَهُ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ، فَقَالُوا : رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللهِ وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ ؟ فَقُلْتُ : أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا ؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَهُوَ ثَانِي اثْنَيْنِ، هُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِيَّاكُمْ، يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ، فَيَغْضَبُ فَيَأْتِي رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَيَغْضَبُ لِغَضَبِهِ، فَيَغْضَبُ اللهُ لِغَضَبِهِمَا، فَيَهْلِكُ رَبِيعَةُ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ: ارْجِعُوا، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَتَبِعْتُهُ وَحْدِي، وَجَعَلْتُ أَتْلُوه حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ، فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ، فَقَالَ : يَا رَبِيعَةُ! مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ ؟ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ كَذَا وَكَانَ كَذَا : فَقَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهْتُهَا، فَقَالَ لِي: قُلْ كَمَا قُلْتُ لَكَ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا. [فَأَبَيْتُ]؟! فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: أَجَلْ فَلا تَرُدَّ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ قُلْ: غَفَرَاللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ! وَزَادَ: [فَقُلْتُ: غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ!] قَالَ: فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَحْمَه اللهِ وَهُوَ يَبْكِي
ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ آپ نےمجھے زمین کا ایک ٹکڑا دیا، اور ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کو بھی زمین کا ایک ٹکڑا دیا۔ دنیا کی لالچ آ گئی کہ ہم کھجور کے ایک درخت میں جھگڑنے لگے۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میری زمین کی حد میں ہے اور میں نے کہا: یہ میری زمین کی حد میں ہے۔ میرے اور ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کے درمیان تلخ کلامی ہونے لگی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسی بات کہی جو مجھے نا پسند لگی۔ وہ شرمندہ ہوگئے ۔اور مجھ سے کہنے لگے: ربیعہ! مجھے بھی ایسی بات کہو تاکہ بدلہ ہو جائے۔ میں نے کہا: میں ایسا کام نہیں کروں گا۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسا ضرور کہو گے وگرنہ میں تمہارے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےمدد طلب کروں گا، میں نے کہا :میں ایسا نہیں کروں گا۔ اور زمین چھوڑ دی، ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چلا بنو اسلم کے کچھ آدمی آئے اور کہنے لگے: اللہ تعالیٰ ابو بکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے! کس بارے میں یہ تمہارے خلاف رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سےمدد مانگ رہے ہیں حالانکہ اس نے تم سے ایسی بات کہی ہے؟ میں نے کہا: کیا تم جانتے ہو؟ یہ کون ہے؟یہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ ثانی اثنین (دونوں میں سے دوسرے) مسلمانوں میں بزرگی والے، تم اس بات سے بچو کہ وہ تمہیں دیکھ لے کہ تم اس کے خلاف میری مدد کر رہے ہو۔ وہ غصے ہو جائیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ ان کے غصے کی وجہ سے غصے ہو جائیں او اللہ تعالیٰ ان دونوں کے غصے کی وجہ سے غصے ہو جائیں اور ربیعہ ہلاک ہو جائے۔ وہ کہنے لگے: پھر اب تم ہمیں کیا کہتے ہو؟ تم واپس چلے جاؤ، ابو بکر‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ میں اکیلا ان کے پیچھے گیا اور ان کے پیچھے پیچھے رہا حتی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور جس طرح بات ہوئی بیان کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سر اٹھا کر کہا: ربیعہ تمہارا اور صدیق کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس طرح بات ہوئی تھی، پھر انہوں نے مجھ سے ایک بات کہی جو مجھے نا پسند لگی تو انہوں نے مجھ سے کہا: جس طرح میں نے تم سے کہا ہے اس طرح تم بھی کہو تاکہ بدلہ ہو جائے (لیکن میں نے انکار کر دیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم اس کی بات کا جواب نہ دو، لیکن تم کہو: ابو بکر! اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ ابو بکر! اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے پس میں نے کہا ابوبکر اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے، کہتے ہیں پھر تو ابو بکر رضی اللہ عنہ اللہ ان پر رحم کرے۔ روتے ہوئے واپس چلے گئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2204

عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ أَنَّ مُعَاذًا لَمَّا بَعَثَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُوصِيهِ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَا مُعَاذُ! إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا [أ] وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي [هَذاَ أ] وَقَبْرِي فَبَكَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَبْكِ يَا مُعَاذُ! لَلْبُكَاءُ أَوْ إِنَّ الْبُكَاءَ مِنَ الشَّيْطَانِ
عاصم بن حمید سکونی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ معاذ‌رضی اللہ عنہ کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وصیت کرنے باہر تک آئے معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ جب فارغ ہوگئے تو کہنے لگے :معاذ! ممکن ہے تم مجھ سے اس سال کے بعد ملاقات نہ کر سکو، اور ممکن ہے تم میری (اس)مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو، معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! رو مت، یقیناًرونا شیطان کی طرف سے ہے۔

آیت نمبر