Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

18)

18) جہاد کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2283

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي حَصِينٍ نَعُودُهُ وَمَعَنَا عَاصِمٌ قَالَ: قَالَ أَبُو حَصِينٍ لِعَاصِمٍ: تَذْكُرُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ؟ قَالَ: قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ حَدَّثَنَا يَوْمًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا اشْتَكَى الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ قَالَ اللهُ - تَعاَلىَ- لِلَّذِي يَكْتُبُوْن: اكْتُبُوا لَهُ أَفْضَلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ إِذْ كَانَ طَلقًا حَتَّى أُطْلِقَهُ.
ابو بكربن عیاش كہتے ہیں كہ ہم ابو حصین كے پاس ا ن كی عیادت كرنے آئے۔ ہمارے ساتھ عاصم بھی تھے۔ ابو حصین نے عاصم سے كہا: كیاآپ كو وہ حدیث یاد ہے جو ہمیں قاسم بن مخیمرہ نے بیان كی تھی؟ عاصم نے كہا: جی ہاں۔ انہوں نے ایك دن ہمیں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے (عمل كے لئے فرشتہ سے )كہتا ہے:جب تك میں اسے تندرست نہ كردوں اس كے لئے صحتمندی کی حالت میں اس کے افضل عمل کے مطابق عمل لکھتے جاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2284

عَنْ عَائَشَة، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِن أَخْلَصَهُ اللهُ كَمَا يَخْلُصُ الْكِيْر خَبَث الْحَدِيد.
عائشہ rسے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن بیمار ہوتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے(گناہوں سے) اس طرح صاف كردیتا ہےجس طرح بھٹی لوہے كا میل صاف كر دیتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2285

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًافَلْيَقُلْ: اللهم اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَفِي رِوَايَةٍ: إِلَى جَناَزَةٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب كوئی شخص مریض كی عیادت كرنے آتا ہے تواسے یہ كہاْ چاہئے: اللهم اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ،” اے اللہ اپنے بندے كو شفا دےتاکہ یہ تیرے راستے میں دشمن كے سامنے ڈٹ جائے، یا تیرے راستے میں نماز كے لئے چلے“، اور ایك روایت میں ہے: جنازے كی طرف۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2286

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا حُمَّ أَحَدُكُم فَلْيسُنَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ الْبَارِدَ ثَلَاثَ لَيَالٍ مِنَ السَّحَر.
) انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب كسی شخص كو بخار ہو جائے تو اس پر سحری کے وقت تین دن ٹھنڈا پانی ڈالا جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2287

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ انْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يُرِيدَانِ الْغُسْلَ قَالَ فَانْطَلَقَا يَلْتَمِسَانِ الْخُمُرَ قَالَ فَوَضَعَ عَامِرٌ (كَذاَ فِي الْمُسْنَد وَفِي الْمُستَدْرَك: سَهْلٌ وَهُوَ الصَّوَاب) جُبَّةً كَانَتْ عَلَـيْهِ مِـنْ صُوفٍ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي فَنَزَلَ الْمَاءَ يَغْتَسِلُ قَالَ فَسَمِعْتُ لَهُ فِي الْمَاءِ قَرْقَعَةً فَأَتَيْتُهُ فَنَادَيْتُهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجِبْنِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرْتُهُ فَجَاءَ يَمْشِي فَخَاضَ الْمَاءَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: اللهم أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا قَالَ فَقَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ وَمِنْ نَفْسِهِ وَمِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيُبَرِّكْهُ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ.
عبداللہ بن عمر wسے مروی ہے كہ عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف غسل كے ارادے سے جارہے تھےاور جھاڑیوں کی اوٹ تلاش کررہےتھے،عامر نے (مسندمیں اسی طرح ہے اور المستدرك میں سھل ہے اور یہی درست ہے) اپنا اون كا جبہ اتار كر ایك طرف ركھا، میں نے ان كی طرف دیكھا تو انہیں میری نظرلگ گئی۔ وہ پانی میں غسل كرنے كے لئے داخل ہوئے تو میں نے پانی میں ایک دھماکہ (گونج)سنامیں ان كے پاس آیا اور انہیں تین مرتبہ آوازدی، انہوں نے مجھے جواب نہیں دیا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور آپ كو اطلاع دی۔ آپ چلتے ہوئے آئے اور پانی میں داخل ہوگئے۔ گویا میں آپ كی پنڈلیوں كی سفیدی اب بھی دیكھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اللهمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا،” اے اللہ اس سے اس كی گرمی ، اس كی سردی اور اس کی بیماری ختم كر دے“۔تو وہ كھڑے ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنے بھائی میں ، اس كے جسم میں اور اس كے مال میں كوئی ایسی چیز دیكھے جو اسے پسند ہو تو وہ اس كے لئے بركت كی دعا كرے۔ كیوں كہ نظر لگنا حق ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2288

) قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا (فَرارًا مِنْهُ). وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، (أَوْ طاَئِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيل) ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ. جآء من حدیث اساقہ بن زید و سعد بن ابی وقاص و عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم كسی علاقے میں طاعون كے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ، اور جب كسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اور تم اس علاقے میں ہو تو (اس سے فرار ہوتے ہوئے)وہاں سے نہ نكلو، اور ایك روایت میں ہے، یہ تكلیف یا بیماری عذاب ہے جو تم سے پہلے كسی امت كو دیا گیا(یا بنی اسرائیل كے كسی گروہ كو دیا گیا) پھر اس كے بعد یہ بیماری زمین میں باقی رہی۔ كبھی چلی جاتی ہے، كبھی آجاتی ہے، جو شخص كسی علاقے میں اس كے پھیلنے كی خبر سنے وہ وہاں نہ جائے اور جو شخص كسی علاقے میں ہو اور یہ بیماری وہاں پھیل جائے تو وہاں سے فرار نہ ہو۔ یہ حدیث سیدنا اسامہ بن زید، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2289

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا هَاجَّ بِأَحَدِكُم الدَّمَ فَلْيَحْتَجِمْ ، فَإِنَّ الدَّم إِذَا تَبَيَّغَ بِصَاحِبِه يَقْتُلَه.
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی شخص کا خون جوش مارے تو وہ سینگی لگوائے،کیونکہ جب خون جوش مار تا ہے تو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2290

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ فَقَالَ: اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كے گھر میں ایك بچی دیكھی جس کا چہرہ سرخی مائل سیاہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اس پر دم كرو كیوں كہ اسے نظر لگ گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2291

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الطِّيَرَةُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَسْكَنِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ؟ قَالَ: إِذًا أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(مَا لَمْ يَقُلْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ) يَقُولُ: أَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ وَالْعَيْنُ حَقٌّ.
) محمد بن قیس كہتے ہیں كہ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے سوال كیا گیا كہ كیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں گھر، گھوڑے اور عورت كے بارے میں نحوست كا سنا ہے؟ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: تب تو میں ایسی بات كہوں گا(جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں كہی) لیكن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا) فرما رہے تھے: سچا شگون نیك فال ہے اور نظر لگنا برحق (یعنی ممکن ہے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2292

) عَنْ جَابِر بِنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ عَادَ مَرِيضًا فَقَالَ: أَلَا تَدْعُو لَه طَبِيبًا ؟. قَالُوا: يَا رَسُولَ الله وَأَنْتَ تَأْمُرَنَا بِهَذَا؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلَّا أُنْزِلَ مَعَهُ دَوَاءٌ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك مریض كی عیادت كی تو فرمایا: كیا تم اس كے لئے طبیب كونہیں بلاؤگے؟ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ ہمیں یہ حكم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے جو بیماری بھی نازل كی ہے اس كے ساتھ اس كی دوا بھی نازل كی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2293

عَنْ زُهَيْر ( يَعْنِي: ابن مُعَاوِية ) عَن امْرَأَتِه، أَنَّها سَمِعَتْ مُلَيْكَة بَنْتِ عُمَر - وَذَكَرَ أَنَّها رَدَّتِ الْغَنَم عَلَى أَهْلِهَا فِي إِمْرَةِ عُمَر بن الْخِطَاب رَضِي الله عَنْه - أَنَّهَا وَضَعَتْ لَهَا مِنْ وَجَعٍ بِهَا سَمْنُ بَقَرِ ، وَقَالَت: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَلْبَانُهَا شِفَاءٌ وَسَمَنُهَا دَوَاءٌ وَ لُحُومُهَا دَاءٌ. يَعْني الْبَقَر.
زھیر(بن معاویہ)اپنی بیوی سے بیان كرتے ہیں انہوں نے ملیكہ بنت عمر سے سنا اور عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ كے دورِ خلافت میں بكریاں لوٹانے كا بھی تذكرہ كیا، كہ انہوں (ملیکۃ بنت عمر) نے ان (زہیر بن معاویہ کی بیوی) کے لئے ایک بیماری میں گائے کا گھی تجویز کیا تھا۔ اور كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كا دودھ شفا ہے اس كا گھی دوا ہے اور اس كا گوشت بیماری ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2294

عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ... قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ قَالَ: اللهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا.
ابو رمثہ سے مروی ہے كہ میں اپنے والد كے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس گیا۔ میرے والد نے آپ سے عرض كیا: جوچیزآپ كی پشت میں ہے مجھے دكھایئے ، كیوں كہ میں طبیب ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی طبیب ہے، تم تو ایك دوست آدمی ہو، اس بیماری كا طبیب وہ ہے جس نے یہ بیماری پیدا كی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2295

عن أبي الدَّرْدَاء مَرْفُوْعاً: إِن الله خَلَقَ الدَّاءَ والدَّوَاءَ ، فَتَدَاوَوْا ، ولَا تَتَدَاوَوْا بِحَرَامٍ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: یقینا اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا(دونوں) نازل كیں ہیں۔ علاج كیا كرو اور حرام كے ساتھ علاج نہ كرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2296

عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ - عَزَّوَجَلَّ- لَمْ يُنْزِلِ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً إِلا الْهَرَمَ، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ شَجَر.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ عزوجل نے جو بھی بیماری نازل كی اس كے ساتھ شفا بھی نازل كی سوائے بڑھاپے کے ۔ گائے كا دودھ لازم كرو كیوں كہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2297

عَنْ أَبِي سعيد الْخُدْرِيّ مَرْفُوْعاً: إِن الله لَم يُنَزِّل دَاءً - أَو لَم يَخْلُقْ دَاءً - إِلَا أَنَزَلَ - أَو خَلَقَ - لَه دَوَاءً عَلِمَه مَنْ عَلِمَه ، وَجَهِلَه مَنْ جَهِلَه إِلَا السَّام قَالُوا: يَا رَسُول الله وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ: الْمَوْت.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ تعالیٰ نےجو بیماری بھی نازل كی یا پیدا كی تو اس كے لئے دوا بھی نازل كی یا پیدا كی۔ كچھ لوگوں كو معلوم ہو گیا اور كچھ لوگ لا علم رہے سوائے سام(موت )كے۔لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سام كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: موت
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2298

) عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ.
عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالائی عجوہ میں شفا ءہے یا یہ کہ اس کا نہار منہ کھانا كا تریاق ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2299

عَنْ بُكَيْرٍ أَنَّ عَاصِم بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ فِيهِ شِفَاءٌ.
بكیر سے مروی ہے كہ عاصم بن قتادہ نے انہیں بیان كیا، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مقنع(بن سنان رحمۃ اللہ علیہ ) كی عیادت كی تو كہا: جب تك تم سینگی نہ لگواؤ گے میں یہیں رہوں گا۔ كیوں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے كہ اس میں شفاء ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2300

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ وَلَا أُحِبُّهُ.
عقبہ بن عامر جہنی سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر كسی چیز میں شفا ہے تو سینگی لگانے میں ۔ شہد كے گھونٹ میں، یا كسی تكلیف سے داغنے میں ہے اور میں داغنے كو نا پسند كرتا ہوں ۔ اس سے دل چسپی نہیں ركھتا(اسے پسند نہیں کرتا)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2301

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو علاج تم كرتے ہو اگر كسی میں خیر ہے تو سینگی میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2302

) أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ.
جابر بن عبداللہ نے مقنع(بن سنان رحمۃ اللہ علیہ )كی عیادت كی پھر كہا: جب تك تم سینگی نہیں لگواؤ گے میں یہیں رہوں گا۔ كیوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا آپ فرما رہے تھے: اگر تمہاری كسی دوا میں خیر ہے تو وہ سینگی میں ہے یا شہد كے گھونٹ میں ہے یا پھر آگ كے داغ میں ہے اور مجھے داغ لگانا پسند نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2303

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: إِنْ يَكُ مِنْ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّار.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اگر كسی چیز میں واقعی نحوست ہوتی تو عورت ،گھوڑے اور گھر میں ہوتی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2304

عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَرْفُوْعاً: إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامٌ طُعْمٍ. يَعْنِي: زَمْزَمْ
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: یہ بابركت ہے، اور یہ ذائقے دار كھانا ہے یعنی زم زم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2305

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُوْل: تَفَل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي رِجْلِ عَمْروِ بن مُعَاذِ حِين قُطِعَتْ رِجْلُه فَبَرَأتْ
عبداللہ بن بریدہ كہتے ہیں كہ میں نے اپنے والد سے سنا كہہ رہے تھے: جب عمرو بن معاذ کی ٹانگ كاٹی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس پر اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ صحیح ہوگئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2306

) عَنْ أُسَامَةَ بن شَرِيكٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : الْحَبَّةُ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ.
اسامہ بن شریك كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كالا دانہ( كلونجی) موت كے علاوہ ہر بیماری سے شفا ءہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2307

) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ يَا نَافِعُ قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلَا صَبِيًّا صَغِيرًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ تَحَرِّيًا وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلَاءِ وَضَرَبَهُ بِالْبَلَاءِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ إِلَّا يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ انہوں نے نافع سے کہا: میرا خون جوش ماررہا ہے، میرے لئے سینگی لگانے والا تلاش كرو اور كوشش كرنا كہ نرم ہاتھ والا ہو۔ كوئی بوڑھا یا بچہ نہ لے آنا۔ كیوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سناآپ فرما رہے تھے:نہار منہ سینگی لگوانا زیادہ فائدہ ہے۔ اس میں شفا اور بركت ہے، عقل اور حفظ كو زیادہ كرتی ہے، جمعرات كے دن اللہ كی بركت پر سینگی لگواؤ، بدھ كے دن سینگی لگوانے سے بچو۔ جمعہ ،ہفتہ اور اتوار كے دن سے بھی، جبكہ پیر اور منگل كو سینگی لگواؤ۔ كیوں كہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام كو آزمائش سے عافیت دی تھی، اور بدھ كے دن انہیں آزمائش میں مبتلا كیا تھا۔ كوڑھ اور برص بدھ كے دن یا بدھ كی رات ہی ظاہرہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2308

عن سَمُرَة ، مَرْفُوْعاً: خَيْرَ ما تَدَاوَيْتُم بَه الْحِجَامَة .
سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: بہترین علاج سینگی لگوانا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2309

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً: خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ تمہارا بہترین علاج سینگی اورقسطِ بحری ہیں۔ اور اپنے بچوں کو (حلق کی بیماری میں تالو) دبا کر تکلیف نہ دیا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2310

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: خَيْرُ يَوْمٍ تَحْتَجِمُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَالَ وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَإٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَّا قَالُوا: عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ!.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: بہترین دن جس میں تم سینگی لگواتے ہو سترہ(17) ،انیس(19)، اور اكیس(21) تاریخ كے دن ہیں اور معراج كی رات میں فرشتوں کی جس جماعت كے پاس سے گزرا انہوں نے یہی كہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سینگی لازم کرلو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2311

عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلًا بِهِ جُرْحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ادْعُوا لَهُ طَبِيبَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ: فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَقَالُ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا! فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ! وَهَلْ أَنْزَلَ اللهُ مِنْ دَآءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَآءً.
ایك انصاری سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك زخمی شخص كی عیادت كی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كے لئے بنی فلاں کے طبیب کو بلاؤ۔ لوگوں نے اسے بلایا ، وہ آگیا اور كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كیا دوا بھی كسی مرض كے كام آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو بیماری بھی نازل كی ہے تو اس كے لئے شفا بھی بنائی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2312

عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: شِفَاءُ عِرْقِ النَّسَا ألْيَةُ شَاةٍ أَعْرَابِيَّةٍ تُذَابُ ثُمَّ تُقْسَمُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ يُشْرَبُ عَلَى الرِّيقِ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءً.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: عرق النساء كا علاج جنگلی بكری كی سرین ہے۔ اسے گلایا جائے (خوب پکایاجائے)،پھر تین حصوں میں تقسیم كیا جائے اور مریض تین دن تك نہار منہ ہر روز ایك حصہ پئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2313

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2314

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَـالَ: إِنَّ أَخِي اسْتَـطْلَقَ بَطْنُـهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اسْقِهِ عَسَلًا فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: إِنِّي سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا فَقَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : صَدَقَ اللهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: میرے بھائی كو دست ہو گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ، اس نے اپنے بھائی كو شہد پلایا، پھر آپ كے پاس آیا اور كہا: میں نے اسے شہد پلایا تھا، لیكن اس كے دست بڑھ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین مرتبہ فرمایا پھر وہ چوتھی مرتبہ آپ كے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس نے كہا: میں نے اسے شہد پلایا تھا لیكن اس كے دست بڑھ گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا، تیرے بھائی كا پیٹ جھوٹا ہے، اس نے پھر اپنے بھائی كو شہد پلایا تو وہ ٹھیك ہوگیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2315

عَنْ عَائِشَة مَرْفُوْعاً: الطَّاعُون شَهَادَةٌ لِّاُمَّتِيْ ، وَخْزُّ أَعْدَائِكُم مِّنَ الْجِنّ ، غُدَّةٌ كَغُدَّة الْإِبِل ، تَخْرُج بالآباط و المراق ، مَنْ مَات فِيه مَاتَ شَهِيدًا وَمَنْ أَقَام فِيه ( كَان ) كاَلْمُرَابِطِ فِي سَبِيْلِ الله وَمَنْ فَرَّ مِنْه كَانَ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: طاعون میری امت كی شہادت ہے اور تمہارے دشمنوں میں سے جنات کے لئے نیزہ مارنے کی طرح چوکا ہےاونٹ کے غدود کی طرح جو بغل میں اور پہلو میں نکلتا ہے،جو شخص اس میں فوت ہوا وہ شہادت کے درجے پر فائز ہو گا اور جوشخص طاعون زدہ علاقے میں ٹھہرا رہاوہ گو یا اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والے کی طرح ہے،اورجو شخص اس علاقے سے فرار ہواتو گویا کہ وہ مقابلے کے دشمن کے سامنے سے فرار ہوا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2316

عَنْ عبدِ الرَحَّمَن بن عوف مرفوعا: عَائِدُ الْمَرِيض في مَخْرَفَة الْجَنَّة فَإِذَا جَلَس عِنْدَه غَمَرَتْه الرَّحْمَة.
عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مریض كی عیادت كرنے والا جنت كے باغ میں ہوتا ہے، جب وہ مریض كے پاس بیٹھتا ہے تواللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2317

عَنْ عَائَشَة ، أَنَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دَخَلَ عَلَيْهَا وَامْرَأَةٌ تُعَالِجُهَا أَو تَرْقِيهَا ، فَقَال: عَالِجِيْها بِكِتَاب الله.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان كے پاس آئے تو ایك عورت ان كا علاج كر رہی تھی یا انہیں دم كر رہی تھی۔ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كا علاج اللہ كی كتاب كے ذریعے كرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2318

عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ:عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمَدِ عِنْدَ النَّوْمِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَر.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے: رات كو سوتے وقت اثمدسرمہ كو استعمال كرو كیوں كہ یہ نظر تیز كرتا ہے اور پلكیں اگاتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2319

عَنْ عَلِيِّ بن أَبِي طَالِبٍ مَرْفُوْعاً: عَلَيْكُمْ بِالإِثْمَدِ فَإِنَّهُ مُنْبِتَةٌ للشِّعْرِ مُذْهِبَةٌ لِلْقِذَا ، مُصْفَاةٌ لِلْبَصَرِ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اثمدسرمہ كو لازم كر لو كیوں كہ یہ پلكیں اگاتا ہے، میل كو ختم كرتا ہے اور نظر یں صاف كرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2320

عن عبد الله بن مَسْعَود مَرْفُوْعاً: عَلَيْكُم بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ شَجَرٍ ، وَهُوَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ.
) عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: گائے كا دودھ لازم كر لو كیوں كہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے اور یہ دودھ ہر بیماری سے شفا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2321

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اس كالے دانے (كلونجی)كو لازم كر لو كیوں كہ اس میں موت كے علاوہ ہر بیماری كی شفا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2322

عَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ وَهِيَ الشُّونِيزُ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً.
بریدہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كالے دانے كو جو كلونجی ہے لازم كرو ، كیوں كہ اس میں شفاء ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2323

عَنْ أَبِي أُبَيِّ بْنَ أُمِّ حَرَامٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِالسَّنَى وَالسَّنُّوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا السَّامُ؟ قَالَ الْمَوْتُ.
ابو ا بی بن ام حرام سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے:سنا اور شہد کو لازم کرلو، كیوں كہ ان دونوں میں سام كے علاوہ ہر بیماری سے شفاء ہے۔ كہا گیا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سام كیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2324

عَنْ أَبِي سَعِيْد الْخُدْرِيّ، مَرْفُوْعاً: عُودُوا الْمَرْضَى ، وَاتَّبِعُوا الْجَنَائِزَ تُذَكِّرُكُم الْآخِرَة
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مریضوں كی عیادت كرو، جنازوں كے ساتھ چلو یہ تمہیں آخرت كی یاد دلاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2325

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : الْعَيْنُ تُدْخِلُ الرَّجُلَ الْقَبْر وَالْجَمَلَ الْقِدْرَ . روی من حدیث جابر و ابی ذر رضی اللہ عنہما
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نظر آدمی كو قبر میں داخل كر دیتی ہے اور اونٹ كو ہانڈی میں۔ یہ حدیث سیدنا جابر اور ابوذر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2326

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: الْعَيْنُ حَقٌّ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: نظر لگنا حق ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2327

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: الْعَيْنُ حَقٌّ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: نظر لگنا حق ہے،یہ بلندی والے کو نیچے اتار دیتی ہے (یعنی کسی عہدے وغیرہ کی بلندی یا آدمی کا صحت میں اچھا ہو نا )۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2328

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: اَلْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: نظر لگنا حق ہے، اگر تقدیر سے كوئی چیز سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی، اور جب تم سے غسل كرنے كا كہا جائے تو غسل كرکے (ان کو پانی دے دو)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2329

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ: شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلا السَّامَ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كالا دانہ (كلونجی) موت كے علاوہ ہر بیماری سے شفاءہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2330

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ عَلَى رِيقِ النَّفْسِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سِحْرٍ أَوْ سُمٍّ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کے اول وقت نہار منہ عجوہ كھانا ہر جادو یا زہر سے شفاء ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2331

عن عَمْرَة بِنْت قيس الْعَدَوِيَّة قَالَت: دَخَلْتُ عَلَى عَائَشَة فَسَأَلَتْهَا عَنِ الْفِرَارِ مِنَ الطَّاعُون فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ الْفِرَارُ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفِرَاْرِ مِنَ الزَّحْف.
عمرہ بنت قیس عدویہ سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ میںعائشہ رضی اللہ عنہاكے پاس آئی اور ان سے طاعون سے فرار كے بارے میں سوال كیا۔ انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاعون سے بھاگنا گویا مقابلے كے دن دشمن سے بھاگنا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2332

عَنْ أَنَسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعِ عَشْرَةَ وَتِسْعِ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دو پوشیدہ رگوں اور گردن کے قریب بالائی حصے میں سینگی لگوایا کرتے اور آپ سترہ (17)،انیس(19)،اکیس(21)تاریخ کو سینگی لگواتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2333

عَن ابن عُمَر: كَان يَحْتَجِمُ فِي رَأْسِه ، و يُسَمِّيه أُمُّ مُغِيْث.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر میں سینگی لگوائی اوراسے ام مغیث كا نام دیتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2334

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَأْمُرُهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حكم دیتے كہ نظر كا دم كروائیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2335

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْمُرُ الْعَائِنَ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ الْمَعِينُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظر لگانے والے كو وضو كرنے كا حكم دیتے، پھر جس شخص كو نظر لگی ہوتی تھی وہ اس سے غسل كرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2336

عن عَائَشَة قالتْ:كانتْ تَأْخُذُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الخاصرة، فَاشْتَدَّت بِه جِداً؛ وَأَخَذَتْه يوماً، فَأُغْمِي عَلَى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، حَتَّى ظَنَّنَا أَنَّه قَدْ هَلَكَ عَلَى الْفِرَاش ، فَلَدَدْنَاه ، فَلَمَّا أَفَاقَ عَرَفَ أنّا قَدْ لَدَدْنَاه ، فَقَال: كُنْتُم تَرَوْن أَن الله كَان يسلّطُ عليَّ ذَات الْجَنْب ؟ ما كَان الله لِيَجْعَل لَهَا عليَّ سُلطاناً، وَالله لَا يَبْقَى في الْبَيْت أَحَدٌ إِلَا لدَدْتُمُوْهُ إِلَا عَمِّي العباس. قالتْ: فَمَا بَقِيَ في الْبَيْت أَحَدٌ إِلَا لُدَّ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ بَعْضِ نِسَائِه تَقُولُ: أَنَا صَائِمَةٌ! قَالُوْا: تَرَيْن أنّا نَدَعُك؟ وَقَد قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يَبْقَى أَحَدٌ في الْبَيْتِ إِلَا لُدَّ فَلَدَدْنَاهَا وَهِي صَائِمَةٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو پہلو میں تكلیف ہوئی، تكلیف بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اک دن آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی، حتی كہ ہم سمجھے كہ آپ بستر پر ہی فوت ہوگئے ہیں۔ ہم نے(آپ کے منہ کے ایک گوشے سے آپ کو دواپلائی ) جب آپ كو افاقہ ہوا تو آپ كو معلوم ہو گیا كہ ہم نے آپ کو دوا پلائی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ذات الجنب(عرق النساء) كو مسلط كر دیا ہے؟ اللہ تعالیٰ اسے مجھ پر غالب نہیں كرے گا، واللہ! گھر میں موجود ہر شخص کودوا پلاؤسوائے میرے چچا عباس‌رضی اللہ عنہ كے عائشہ کہتی ہیں کہ گھر میں موجود ہر شخص کو دوا پلائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کہنے لگیں كہ میں روزے سے ہوں۔ وہاں موجود لوگوں نے كہا: تمہارے خیال میں ہم تمہیں چھوڑ دیں گے حالانكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا ہے كہ گھر میں موجود ہر شخص کودوا پلاؤ ؟ ہم نے اسے بھی روزے كی حالت میں دوا پلادی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2337

عن علي قال: لَدَغَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَقْرَبٌ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَمَا فَرَغَ قَالَ: لَعَنَ اللهُ الْعَقْرَبَ ، لَا تَدَعُ مُصَلِّيًا ، وَلَا غَيْره ، ثم دَعَا بِمَاءٍ وَمِلْحٍ ، وَجَعَل يَمْسَحُ عَلَيْهَا ، وَيَقْرَأُ: قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ(۱) قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ(۱) قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ(۱).
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو نماز كی حالت میں ایك بچھو نے ڈنگ ماردیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت كرے، نمازی اور غیر نمازی كا لحاظ ہی نہیں كرتا۔ پھر پانی اور نمك منگوایا اور زخم پر ملنا شروع كر دیا اور (سورۃ الکافرون، الفلق اور الاخلاص) پڑھنے لگے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2338

عن عبيدالله بن عَمْرٍو يَرْفَعُه: لَوْلَا مَا مَسَّه مِنْ اَنْجَاسِ الْجَاهِلِيَّة مَا مَسَّهُ ذُوْ عَاهَةٍ اِلَّاشُفِىَ وَمَا عَلَى الارضِ شَئٌ مِنَ الْجَنَّة غَيْره
عبداللہ بن عمرو مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ: اگر اسے(حجر اسود كو)جاہلیت كی نجاستیں نہ چھوتیں تو جو بھی مریض اسے چھوتا تو شفاءپاجاتا، اور زمین پر اس كے علاوہ جنت كی اور كوئی چیز نہیں ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2339

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ مَسْعُود يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أَنْزَلَ اللهُ دَاءً إِلَّا قَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ:اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بھی نازل كی ہے اس كے لئے شفاءنازل كی ہے، كچھ لوگوں كو معلوم ہو گیا اور كچھ لوگ اس سے لاعلم رہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2340

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ يَبْكِي فَقَالَ: مَا لِصَبِيِّكُمْ هَذَا يَبْكِي؟ فَهَلَّا اسْتَرْقَيْتُمْ لَهُ مِنْ الْعَيْنِ؟
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اند داخل ہوئے تو ایك بچے كے رونے كی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے كو كیا ہوا جو یہ رو رہا ہے؟ تم اس كے لئے نظر كا دم كیوں نہیں كروایا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2341

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّى الْهَمِّ يَهُمُّهُ إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ.
ابو سعیداورابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: مومن كو جوتھكاوٹ، بیماری، غم حتی كہ كوئی پریشانی بھی پہنچتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کی برائیاں ختم کردی جاتی ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2342

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعِ عَشْرَةَ وَتِسْعِ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ كَانَ شِفَاءً مِّنْ كُلِّ دَاءٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے سترہ ، انیس اور اكیس(۱۷، ۱۹، ۲۱)تاریخ كو سینگی لگوائی تویہ ہر بیماری سے شفاء ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2343

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : من تَدَاوَى بِحَرَامٍ لَم يَجْعَل اللهُ لَهُ فِيه شِفَاءٌ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے كسی حرام چیز سے علاج كیا اللہ تعالیٰ اس كے لئے اس میں شفا نہیں ركھے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2344

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَنْ تَطَبَّبَ وَلَا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے علاج كیا اور اسے علاج كے بارے میں معلوم نہ تھا تو وہ ضامن ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2345

) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ اغْتَمَسَ فِيهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مریض كی عیادت كی جب تك وہ بیٹھ نہ جائے رحمت میں ڈوبا رہے گا ۔ جب وہ بیٹھ جائے گا تو رحمت میں غوطہ لگائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2346

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ كوڑھی لوگوں كی طرف مسلسل نہ دیكھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2347

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ؟ قَالَتْ: الْحُمَّى لَا بَارَكَ الله فِيهَا فَقَالَ: لَا تَسُبِّي الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب كے پاس آئے تو فرمایا: ام سائب یا ام مسیب تمہیں كیا ہو گیا ہے کہ تم کانپ رہی ہو؟ اس نے كہا: بخار ہے، اللہ اس میں بركت نہ دےیا اللہ اسے ہلاک کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار كو برا مت كہو كیوں كہ یہ ابن آدم كی خطائیں اس طرح ختم كر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے كا زنگ ختم كر دیتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2348

عَنْ مِخْمَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ لَا شُؤْمَ وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ.
مخمر بن معاویہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كوئی نحوست نہیں ، اور تین چیزوں میں برکت ہوتی ہےعورت ،گھوڑے، اور گھر میں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2349

عَنْ حَيَّةِ بْنِ حَابِس التَّیْمِیِّ حَدَّثَنِي أَبِي مَرْفُوْعاً: لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ وَأَصْدَقُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ.
حیہ بن حابس تمیمی كہتے ہیں كہ میرے والد نے مجھے مرفوعا بیان كیا كہ: الو كے بارے میں كوئی حقیقی بات(بدشگونی) نہیں، نظر لگنا حق ہے اور سچا شگون نیك فال ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2350

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: لَا يُوْرَدُ الْمُمَرَّضُ عَلَى الْمُصِحِّ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مریض كو تندرست كے پاس مت لاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2351

عَنْ عُثْمَان بن أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نِسْيَانَ الْقُرْآنِ، فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ، فَقَالَ: يَا شَيْطَانُ! اُخْرُجْ مِنْ صَدْرِ عُثْمَانَ ، (فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ) قَالَ عُثْمَانُ: فَمَا نَسِيتُ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدُ أَحْبَبْتُ أَنْ أَذْكُرَهُ.
عثمان بن ابی العاص سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن بھول جانے كی شكایت كی، آپ نے میرےسینے پر اپنا ہاتھ مار كر فرمایا: اے شیطان عثمان كے سینے سے نكل جا(آپ نے تین مرتبہ ایسا فرمایا)،عثمان كہتے ہیں كہ اس كے بعد میں جس سورت كو یاد كرنا چاہتا اسے کبھی نہ بھولا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2352

عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمَعَهُ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ وَلَـنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ لِعَلِيٍّ: مَهْ إِنَّكَ نَاقِهٌ حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا فَجِئْتُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَا عَلِيُّ! أَصِبْ مِنْ هَذَا فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ.
ام المنذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہما كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، آپ كے ساتھ علی‌رضی اللہ عنہ تھے۔علی‌رضی اللہ عنہ بیماری سے صحت یاب ہوئے تھے اور نقاہت محسوس کررہے تھے ۔ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹکے ہوئےتھے،رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان خوشوں سے كھانے لگے۔ علی رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوگئے تاکہ وہ بھی کھائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے كہا: رك جاؤ، تم ابھی بیماری سے اٹھے ہواور ابھی کمزوری محسوس کررہے ہو، علی‌رضی اللہ عنہ رك گئے، فرماتی ہیں: میں نے جَو اورچقندر کا پکوان بنایا میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس لائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! اس سے لے لو، یہ تمہارے لئے فائدہ مند ہے

آیت نمبر