Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

19)

19) شکار اور حلال جانوروں کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2353

عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: أَتاَهُ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَام- فِي أَوَّلِ مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوءِ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَ بِهَا فَرْجَهُ.
زید بن حارثہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وحی کی وبتدا ہوئی تو شروع میں ہی جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے اور آپ کو وضوء اور نماز كا طریقہ سكھایا ، جب وضو سے فارغ ہوئے تو انہوں نے پانی كا ایك چلو بھرا اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2354

عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَيَزِيدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ كُلُّ هَؤُلَاءِ سَمِعُوا مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَتِمُّوا الْوُضُوْءَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ.
خالد بن ولید ،یزید بن ابی سفیان ،شرحبیل بن حسنہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضومكمل كرو، ایڑی (خشك رہنے) والوں كے لئے آگ كا عذاب ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2355

عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أدْخَلَ أَحَدُكُم رِجْلَيْه في خُفَّيْه وَهُمَا طَاهِرَتَان فَلْيَمْسَح عَلَيْهِمَا ثَلَاثٌ لِّلْمُسَافِرِ یَوْمٌ وَّلَیْلہٌ لِّلْمُقِیْمِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنے دونوں پاؤں پاكیزگی كی حالت میں اپنے موزوں میں داخل کرے تو ان پر مسح كرے، مسافر كے لئے تین دن اور مقیم كے لئے ایك دن اور ایك رات۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2356

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: « إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَنْثَرَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وِتْرًا.
) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب تم میں سے كوئی شخص ڈھیلوں سے استنجا کرے تو طاق عدد میں استنجا کرے اور جب ناك سے پانی جھاڑے تو طاق مرتبہ(ایک یا تین مرتبہ) جھاڑے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2357

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النِّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنی نیند سے جاگے پھر وضو كرے تو تین مرتبہ ناك جھاڑے كیوں كہ شیطان اس كے نتھنوں میں رات گزارتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2358

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَت سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ فيه؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَصَابَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضِة فَلْتَقْرُصْهُ ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِالْمَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ اقْرِصِيْهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ انْضَحِي فِي سَائِرِهِ) ثُمَّ لِتُصَلِّي فِيْه.
اسماء بنت ابی بكر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا: آپ كے خیال میں جس عورت كے كپڑوں كو حیض كا خون لگ جائے تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كسی عورت كے كپڑے میں حیض كا خون لگ جائے تو وہ اسے ملے، پھر اسے پانی سے دھولے (اور ایك روایت میں ہے كہ اسے پانی سے ملے پھر سارے کپڑے پر پانی ڈال لے) پھر اس میں نماز پڑھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2359

عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ.
بسرہ بنت صفوان سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كسی شخص كا ہاتھ اپنی شرمگاہ پر لگ جائے تو وہ دوبارہ وضو كرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2360

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ. ورد ؟؟؟ للفظ ......... وغیرھم۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔( ) یہ حدیث ام المؤمنین عائشہ عمرو بن عاص، ابوھریرہ عبداللہ بن اور دیگر صحابہ کرام سے انہی الفاظ سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2361

) قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسَحْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ (وَفِي رِوَايَةٍ): فَلْيَتَمَسَّحْ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ. ورد من حدیث جابر و السائب بن خلد د وابی ایوب الانصاری رضی اللہ عنہم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:جب تم میں سے كوئی شخص استنجا كرے تو تین مرتبہ پتھر سے صاف كرے۔(ایک روایت میں ہے:تین پتھروں سے صاف کرے)۔( ) یہ حدیث سیدنا جابر، سائب بن خلدد اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2362

) عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إذا تغوَّط الرَّجُلانِ، فليَتَوارَ كلُّ واحدٍ منهما عن صاحبِهِ، ولا يتحدَّثان على طوفِهِما، فإن الله يَمقُتُ على ذلك.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب دو شخص قضائے حاجت كا ارادہ كریں تو ایك دوسرےسےچھپ جائیں اور آپس میں بات چیت نہ كریں ، كیوں كہ اللہ عزوجل اس بات پر ناراض ہوتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2363

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الوضوهُ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لا يَنْزِعُهُ إِلا الصَّلاةُ ، لَمْ تَزَلْ رِجْلُهُ الْيُسْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً ، وَتَكْتُبُ الأُخْرَى حَسَنَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص وضو ءكرے اور وہ اچھی طرح وضوكرے پھر مسجد كی طرف چلے، صرف نماز ہی اسے گھر سے نكالے تو بایاں پاؤں گناہ مٹاتا رہے گا اور دایاں پاؤں نیكی لكھتا رہے گا، حتی كہ مسجد میں داخل ہو جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2364

عن أبي هُرَيْرَة أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذَا تَوَضَّأ أَحَدُكُم لِلصّلاةِ ، فَلَا يُشَبِّك بَيْن أَصَابِعِه.
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز كے لئے وضو ءكرے تو ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل نہ كرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2365

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الأَشْجَعِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَثِرْ وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ. (2365) سلمہ بن قیس اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وضو ءكرو توناك جھاڑو اور جب پتھر استعمال كرو تو طاق عدد میں استعمال كرو۔
سلمہ بن قیس اشجعی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وضو ءكرو توناك جھاڑو اور جب استنجاء کے لیے پتھر استعمال كرو تو طاق عدد میں استعمال كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2366

عن ابن عَبَاس أَن رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، قال: إِذًا تَوَضَّأَتَ فَخَلَّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو كرو تو اپنے ہاتھوں اور پاؤں كی انگلیوں كا خلال كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2367

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ عَلَى حَاجَتِهِ فَلَا يَسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمرفوعامروی ہےكہ جب تم میں سےكوئی شخص قضائےحاجت كےلئےبیٹھےتونہ قبلےكی طرف رخ كرےنہ پیٹھ كرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2368

عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : «إِذا خَفَضْتِ فَأَشْمِي وَلَا تُنْهِكِي، فَإِنَّه أَسْرَى لِلْوَجْه، وأَحْظَى عِنْد الزَّوْج.
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچیوں کا ختنہ کرنے والی عورت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا:جب تم (کسی بچی) کاختنہ کرو توکھال کوہلکا سا کاٹو، یہ اس کے چہرے کی رونق/ خوبصورتی اور شوہر کے لئے عزت کا باعث ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2369

عن سُرَاقَة بن مَالَك بن جُعْشَم ، أَنَّه كَان إِذا جَاءَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَ قَوْمَه وَعَلَّمَهُم ، فَقَال لَه رَجُلٌ يَوْمًا ، وَهو كَأَنَّه يَلْعَب: ما بَقِي لسراقة إِلَا أَن يُعَلِّمَكُم كَيْفَ التَّغَوُّطُ؟ ، فَقَال سُرَاقَة: إِذَا ذَهَبْتُم إلى الْغَائِط فَاتَّقُوا الْمَجَالِس عَلَى الظِّلّ وَالطَّرِيق ، خُذُوا النَّبْل ، واستنشبوا عَلَى سُوقِكُم ، واستجمروا وِتْرًا.
سراقہ بن مالك بن جعشم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس سے آتے تو اپنی قوم كو حدیث بیان كرتے اور تعلیم دیتے۔ ایك دن ایك آدمی نے ان سے (طنز كرتے ہوئے)كہا:سراقہ كے پاس اس كےعلاوہ كوئی بات باقی نہیں بچی كہ وہ تمہیں یہ بات سكھائے كہ پاخانہ كیسے كیا جاتا ہے؟ سراقہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جب تم پاخانے كے لئے جاؤ تو سائے میں اور راستے میں بیٹھنے سے بچو، چھوٹے چھوٹےپتھر لو اور اپنی پنڈلیاں ملالو اور طاق پتھر استعمال كرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2370

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَتْ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَيَكُونُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت كے بارے میں سوال كیا جو خواب میں وہی کام دیكھتی ہے جو مرد دیكھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب وہ ایسا كام دیكھے اور اسے انزال ہو جائے تو اس پر غسل لازم ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس طرح ممكن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:ہاں، مرد كا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت كا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، ان میں سے جو سبقت لے گیا بچہ اسی كے مشابہ ہو گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2371

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس سے گزرا آپ پیشاب كر رہے تھے۔ اس نے آپ كوسلام كیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فارغ ہوکر) فرمایا: جب تم مجھے ایسی حالت میں دیكھو تو مجھے سلام مت كہو، كیوں كہ جب تم ایسا كرو گے تو میں تمہیں جواب نہیں دوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2372

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَأَحْدَثَ فَلْيُمْسِكْ عَلَى أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ.
عائشہ rسے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور وہ بے وضو ہو جائے تو اپنی ناك پر ہاتھ ركھ كر نكل جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2373

عن عُقَبَة بن عَامَر الْجُهَنِيّ، قَالَ: خَرَجَتُ مِنَ الشَّام إلى الْمَدِيْنَة يَوْمَ الْجُمُعَة ، فَدَخَلَتُ الْمَدِيْنَة يَوْمَ الْجُمُعَة ، فَدَخَلْتُ عَلَى عمر بن الْخِطَاب ، فَقَال: مَتَى أَوْلجْتَ خُفَّيْكَ في رِجْلَيْك؟ قُلْتُ: يَوْمَ الْجُمُعَة، قَالَ: فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا ؟ قُلْتُ: لَا، قَال: أَصَبْتَ السَّنَة
) عقبہ بن عامر جہنی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ كہتے ہیں كہ میں جمعہ كے دن شام سے مدینے كی طرف نکلا اور جمعے کے دن مدینے میں (واپس) داخل ہوا ،میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ كے پاس آیا تو انہوں نے كہا: تم اپنے پاؤں میں موزے کب پہنے تھے؟ میں نے كہا: جمعہ كے دن۔ انہوں نے كہا: كیا تم نے انہیں اتارا تھا؟ میں نے كہا: نہیں۔ انہوں نے كہا: تم نے سنت پر عمل كیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2374

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ.
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے مسواك كے بارے میں تمہیں بہت زیادہ تاكید كی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2375

عن صَفْوَان بن أُمِّيَّة ، قال: جَاء رَجُلٌ إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُتَضَمِّخ بالخَلُوقِ ، عَلَيْه مُقَطَّعَاتٌ ، قَدْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ ، فَقَال: كَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا رَسُول الله في عُمْرَتِي ؟ فَأَنْزَل الله عَزّ وَجَل: وَ اَتِمُّوا الۡحَجَّ وَ الۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ (البقرة:۱۹۶ ١٩٦) ، فَقَال رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أين السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَة ؟ فَقَال:(ها) أَنا (ذا). فَقَال: أَلْق (عنك) ثِيَابَك ، وَاغْتَسِلْ ، وَاسْتَنْقِ مَا اسْتَطَعْتَ ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا في حَجَّتِكَ فَاصْنَعْه في عُمْرَتِكَ
) صفوان بن امیہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس خلوق(خوشبو)لگائے ہوئے آیا، اور اس پر خلوق كے ٹكڑے پڑے ہوئے تھے، اور اس نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا۔ اس نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے میرے عمرے كے بارے میں کیا حكم دیتے ہیں؟ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل كی(البقرۃ:۱۹۶)” اور حج اور عمرہ اللہ كے لئے پورا كرو“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرے كے بارے میں سوال كرنے والا كہاں ہے؟ اس نے كہا: میں( یہاں ہوں)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے كپڑے اتار كر غسل كرو اورجتنی تم میں طاقت ہو (اس خوشبو کو) صاف کرو،اور جو تم حج میں کرتے ہو اپنے عمرے میں بھی اسی طرح كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2376

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ (الجهني) عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ جَاءَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمْتُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ يَقُولُ: احْلِقْ قَالَ: وأَخْبَرَنِي آخَرُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لِآخَرَ: أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ.
ابن جریج سے مروی ہے كہتے ہیں كہ مجھے عثیم بن كلیب سے معلوم ہوا وہ اپنے والد وہ ان كے دادا سے بیان كرتے ہیں كہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے اور كہا: میں مسلمان ہو چكا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: خود سے كفر كےبال اتار پھینكو، آپ كہہ رہے تھے كہ انہیں مونڈ دو۔ اور ایك دوسرے راوی سے بیان كیا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے فرمایا: خود سے كفر كے بال اتار پھینكو اور ختنہ كرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2377

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خِفْتُ عَلَى أَسْنَانِي.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسواك كا اتنا زیادہ حكم دیا گیا ہے كہ مجھے اپنے دانتوں كے بارے میں خدشہ لاحق ہوگیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2378

عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: امْسَحُوا عَلَى الْخِفَافِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَوِ اسْتَزَدْنَاهُ لَزَادَنَا.
) خزیمہ بن ثابت انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موزوں پر(سفر میں) تین دن مسح كرو، اگر ہم آپ سے زیادہ دن كا مطالبہ كرتے تو آپ زیادہ دن كردیتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2379

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَاٰنِیَتُہ اَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُوْمِ وَلَھُوْ اَشَدُّ بَیَاضًا مِنَ ؟؟؟ وَ اَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ. وَالذی نَفْسِی بِیَدِہ إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوضو لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض ایلہ سے لے كر عدن تك كے علاقے سے بھی بڑا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اس كے برتن ستاروں كی تعداد سے بھی بڑھ كرہیں۔ وہ دودھ سے زیادہ سفید ہے، شہد سے زیادہ میٹھاہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے لوگوں كو اس طرح ہٹاؤں گاجس طرح آدمی اجنبی اونٹوں كو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے۔ پوچھا گیا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں تم میرے پاس چمك دار اعضا ء كے ساتھ آؤ گے جو وضو كی وجہ سے چمك رہے ہوں گے۔ یہ خوبی تمہارے علاوہ كسی اور میں نہیں ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2380

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ مَرْفُوْعاً: إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ
زید بن ارقم‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:قضاء حاجت کی جگہوں پر جنات آتے ہیں اس لئے جب تم میں سے كوئی شخص قضائے حاجت كے لئے جائے تو وہ كہے:أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.”اے اللہ میں خبیث جنوں اور خبیث جننیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں“۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2381

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهَا فِي الحَيْض: انْقُضِي شَعْرَكِ وَاغْتَسِلِي.
عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حیض كے دنوں میں فرمایا: اپنے بال کھول دو اور غسل كر لو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2382

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْت أَبِي حُبَيْشٍ جَاءَتْ رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ (ثُمَّ تَوَضِّئِیْ لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيء ذَلِكَ الْوَقْت)ثُمَّ صَلِّي.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئںَ اور كہا:مںف استحاضہ كی بماحری مں مبتلا ہوں، پاك نہں ہوتی، كا مںی نماز چھوڑ سكتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایك رگ ہے، حضر نہں ہے، جب حضُ آئے تو نماز چھوڑ دیا كرو،اور جب حضت ختم ہو جائے تو خون صاف كر لاں كرو( پھر ہر نماز كے لئے جب اس نماز كا وقت آجائے وضو كاس كرو) پھر نماز پڑھا كرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2383

عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ أَوْ قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ
مہاجر بن قنفذ سے مروی ہے كہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے آپ پیشاب كر رہے تھے۔ انہوں نے آپ كو سلام كہا:آپ نے وضوكرنے تك اسے جواب نہیں دیا، پھر اس كے سامنے عذر پیش كرتے ہوئے كہا: مجھے پاكیزگی كے علاوہ اللہ كا ذكر كرنا پسند نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2384

عن أبي هُرَيْرَة قال: بَعَثَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْثًا فأعظموا الْغَنِيمَة ، وَأَسْرَعُوا الْكَرَّة ، فَقَال رَجَلٌ: يَا رَسُولَ الله، ما رَأَيْنَا بَعْثًا قَطُّ أَسْرَع كَرَّة ، وَلَا أَعْظَمَ مِنْه غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ ، فَقَال: أَلَا أُخْبِرُكُم بِأَسْرَع كَرَّة مِنْه ، وَأَعْظَمَ غَنِيمَةٍ ؟ رَجَلٌ تَوَضَّأَ في بَيْتِه فَأَحْسَنَ وُضُوْئَهُ ، ثُمَّ تَحْمَّلَ إلى الْمَسْجِد فَصَلَّى فِيه الْغَدَاةَ ، ثُمَّ عَقِبَ بِصَلَاةِ الضُّحٰی ، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّةَ ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ.
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك لشكر بھیجا، جنہوں نے بہت بڑی تعداد میں مال غنیمت حاصل كیا اور جلدی واپس آگئے ، ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ایسے لوگ نہیں دیكھے جو اس لشكر سے زیادہ غنیمت حاصل کر نےوالے اور جلدی واپس آنے والے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس لشكر سے بھی زیادہ جلدی اور بڑی غنیمت حاصل كرنے والےكے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ شخص جس نے اپنے گھر میں وضو ءكیا اور اچھی طرح وضو كیا، پھر مسجد كی طرف گیا اور مسجدمیں صبح كی نماز پڑھی، پھر اس كے بعد چاشت كی نماز پڑھی ، تو وہ بہت جلد اور بہت بڑی غنیمت سمیٹ کر پلٹا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2385

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : الْأُذُنَانِ مِنْ الرَّأْسِ. روی من حدیث...... عبداللہ بن زید۔
) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كان سر كا حصہ ہیں۔( ) یہ حدیث سیدنا ابو امامہ، ابوھریرہ، ابن عمرو، ابن عباس، عائشہ صدیقہ، ابو موسیٰ، انس، سمرۃ بن جندب، اور عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2386

عن أبي حَازِمٍ قال كُنْتُ خَلْفَ أبي هُرَيْرَة وَهو يَتَوَضَّأ لِلصّلاة فَكَان يَمُدّ يَدَه حَتَّى يَبْلُغ إِبِطَه فَقُلْتُ له: يَا أباهريرة مَا هَذا الْوُضُوء ؟ فَقَالَ: يَا بَنِي فَرُّوخَ! أَنْتُم هَا هُنَا ؟! لَو عَلِمْتُ أَنَّكُم هَا هُنَا ما تَوَضَّأَتُ هذا الوضوء سَمِعْتُ خَلِيلِي يَقول تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمَن حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ.
ابو حازم كہتے ہیں كہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كے پیچھےکھڑا ہوا تھا وہ نماز كے لئے وضو كر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنا ہاتھ لمبا كیا حتی كہ وہ بغل تك لے آئے، میں نے ان سے كہا: ابو ہریرہ یہ كیسا وضو ہے؟ انہوں نے كہا: اے بنی فروخ ! تم یہاں ہو؟ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں یہ وضونہ كرتا، میں نے اپنےخلیل( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سنا آپ فرما رہے تھے: جہاں تك مومن کے وضوکا پانی پہنچتا ہے وہاں تك مومن كی سجاوٹ(زیور)پہنچے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2387

عن سَلْمَان مرفوعا: تَمَسَّحُوا بِالْأَرْض ؛ فَإِنَّهَا بِکُم برة.
) سلمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ زمین کو چھوا کرو (تیمم کیا کرو ،بعض نے سجدہ بھی مراد لیا ہے )کیونکہ یہ تمہارے لئے شفقت کرنے والی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2388

عن عبد الرَحَّمَن بن جُبَير بن نُفَيْر ، عن أَبِيه ، أَن أبا جُبَير قَدِم عَلَى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بابنتِه الَّتِى كَانَ تَزَوَّجَهَا رَسُوْل اللهِ ، فَأَمَر لَه النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِوُضُوْء، فَقَالَ: تَوَضَّأ يَا أَباَ جُبَيْر ، فَبَدَأ أَبُوْ جُبَيْر بِفِيه ، فَقَال لَه رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَبْدَأ بِفِيْك ، فَإِنَّ الْكَافِر يَبْدَأ بِنِیْہِ، ثم دَعَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بالوضوء ، فَغَسَل كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ، ثم تَمَضْمَض وَاسْتَنْشق ثلاثا، وَغَسل وَجهَه ثَلَاثًا ، وغَسَلَ يَدَه الْيُمْنَى إلى الْمَرْفِق ثَلَاثًا ، والْيُسْرَى ثَلَاثًا ، ومسح بِرَأْسِه وَغَسل رِجْلَيْهِ
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ ابو جبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس اپنی بیٹی كو لائے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی كی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جبیر‌رضی اللہ عنہ كو وضو كرنے كا حكم دیا، اور فرمایا: ابو جبیر وضو كرو، ابو جبیر نے منہ سے ابتداء كی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جبیر سے كہا: اپنے منہ سے ابتداء نہ كرو، كیوں كہ كافر منہ سے شروع كرتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو كا پانی منگوایا، اپنے دونوں ہاتھ دھو كر صاف كئے، پھر كلی كی، اور تین مرتبہ ناك میں پانی چڑھایا، اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور (تین مرتبہ) اپنا دایاں ہاتھ كہنی تك دھویا، اور بایاں ہاتھ تین مرتبہ دھویا، اپنے سر كا مسح كیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2389

عن أَنس بن مَالَك مَرْفوْعاً: حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُون من أَمَتِي .
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میری امت میں سے خلال كرنے والےلوگ كتنے اچھے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2390

عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ؟ قَالَ حُكِّيهِ بِضِلْعٍ وَاغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ میں نے كپڑے میں لگے حیض كے خون كے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: اسے لکڑی سےكھرچ دو(جس سے اثر زائل ہوسکے)، اور اسے پانی اور بیری سے دھوڈالو۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2391

عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوضوء وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ: إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز كے كسی معاملے میں سوال كیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں كی انگلیو ں كا خلال كرو، یعنی اچھی طرح وضو ءكرو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے جو بات كہی اس میں یہ بھی تھا كہ: جب تم ركوع كرو تو اپنی ہتھیلیوں كو اپنے گھٹنوں پر ركھو حتی كہ تمہیں اطمینان ہو جائے، اور جب تم سجدہ كرو تو اپنی پیشانی اچھی طرح زمین پر ركھو حتی كہ تمہیں زمین کاحجم محسوس ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2392

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً - إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ- أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا.
عبدالرحمن بن ابی بكرہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر كے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم كے لئے ایك دن اور ایك رات رخصت دی كہ جب وہ باوضو ءہو كر موزے پہنے تو وہ موزوں پر مسح كر سكتاہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2393

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَاعْمَلُوا وَخَيِّرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوضوء إِلَّا مُؤْمِنٌ.
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدھے ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ، عمل كرو،اختیار دواور جان لو كہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے،اور صرف مومن ہی وضوء پر ہمیشگی کرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2394

عن أبي هُرَيْرَة قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : الصَّلَاةُ ثَلَاثَةُ أَثْلَاثٍ: الطَّهُور ثُلُثٌ و الرُّكُوعُ ثُلُثٌ و السُّجُودُ ثُلُثٌ ، فَمَن أَدَّاهَا بِحَقِّهَا قُبِلَتْ مِنْهُ و قُبِلَ مِنْهُ سَائِرُ عَمَله ومَنْ رُدَّتْ عَلَيْهِ صَلَاتُه رُدَّ عَلَيْهِ سَآئِرُ عَمَله.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تین حصوں میں تقسیم ہے، وضو ایك حصہ ہے ،ركوع ایك حصہ ہے، اور سجدہ ایك حصہ ہے۔ جس شخص نے کماحقہ انہیں ادا كیا اس كی نماز قبول كر لی گئی اور اس كے باقی عمل بھی قبول كر لئے گئے اور جس شخص كی نماز رد كر دی گئی اس كے باقی عمل بھی رد كر دیئے گئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2395

عَنْ عَمَّارِ بْنَ يَاسِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ في التَّيَمُّمِ: ضَرَبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْن
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم كے بارے میں فرمایا: چہرے اور ہتھیلیوں كے لئے ایك ہی ضرب کافی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2396

عن ابن عمر مرفوعا: الْغُسْلُ صَاعٌ وَالْوُضُوْءُ مُدٌّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ غسل كے لئے ایك صاع کافی ہے اور وضو كے لئے ایك مد۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2397

عَنْ ابْنِ عُمَرَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَرَادَ حَاجَةً لَا يَرْفَعُ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےمروی ہےكہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت كا ارادہ كرتے تو زمین كے قریب ہونے سے پہلے اپنا كپڑا نہ اٹھاتے۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2398

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ تَوَضَّأَ.
عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے نكلتے تو وضو ءكرتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2399

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَة مَرْفُوْعاً: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت كے لئے جاتے تو بہت دور نكل جاتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2400

عَنْ عَائِشَةَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ اغْتَسَلَ.
عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمبستری کرتے(جب شرمگاہ دوسری شرمگاہ سے مل جاتی)تو غسل كرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2401

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا تَوَضَّأَ أَدَارَ الْمَاءَ عَلَى مِرْفَقَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو كرتے تو اپنی كہنیوں پر پانی گھماتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2402

عَنْ إِبْرَاهِيمَ مرسلا: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُعْرَفُ بِرِيحِ الطِّيبِ إِذاَ أَقْبَلَ.
ابراہیم سے مرسلا ً مروی ہے كہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے تو نہایت عمدہ خوشبو سے پہچانے جاتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2403

عن عُرْوَة: كَان لَه صلی اللہ علیہ وسلم خِرْقَةٌ يَتنَشَّفُ بِهَا بَعَدَ الْوُضُوء.
عروہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے لئے كپڑے كا ایك ٹكڑا تھا، جس سے وہ وضو كے بعد پانی خشك كیا كرتے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2404

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو نئے، ڈھانپے ہوئے مٹکے سے وضوء کرنا زیادہ پسند ہے یا وضوء کی جگہ سے (یعنی حوض وغیرہ)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضوء کی جگہ سے (یعنی حوض وغیرہ)،اللہ كا دین آسان ہے،یكسو اور نرم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌(کوئیں وغیرہ کی طرف) پانی لانے کے لئے بھیجتے اور تو آپ مسلمانوں كے ہاتھوں كی بركت كی امید ركھتے ہوئے اسے پی لیتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2405

عن ابن عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله! الْوُضُوءُ من جَرّ جَدِيد مُخَمَّرٍ أَحَبُّ إِلَيْك أَم مِّنَ الْمَطَاهِر ؟ فَقَال: لَا، بَل مِنَ الْمَطَاهِر، إِنَّ دِيْنَ الله يُسْرٌ الْحَنِيفِيَّة السَّمْحَة. قال: وكان يَبْعَث إلى الْمَطَاهِر ، فَيُؤْتَى بِالْمَاء ، فَيَشْرَبُه ، يَرْجُو بَرَكَةُ أَيْدِي الْمُسْلِمَيْن
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو نئے، ڈھانپے ہوئے مٹکے سے وضوء کرنا زیادہ پسند ہے یا وضوء کی جگہ سے (یعنی حوض وغیرہ)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضوء کی جگہ سے (یعنی حوض وغیرہ)،اللہ كا دین آسان ہے،یكسو اور نرم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌(کوئیں وغیرہ کی طرف) پانی لانے کے لئے بھیجتے اور تو آپ مسلمانوں كے ہاتھوں كی بركت كی امید ركھتے ہوئے اسے پی لیتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2406

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ طَحْلَاءَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ: إِنَّ ظِئْرَكَ سُلَيْمًا لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ وَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْهَا كَانَتْ تَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
محمود بن طحلاء سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے ابو سلمہ سے كہا: تمہارا رضاعی یا سوتیلا والا سلیم اس چیز سے وضو نہیں كرتا جسے آگ نے چھوا ہو۔ ابو سلمہ نےسلیم كے سینے پر ہاتھ مارا اور كہا: میں ام سلمہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی گواہی پیش كرتا ہوں كہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی گواہی دیتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس چیز سے وضو كیا كرتے تھے جسے آگ نے چھوا ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2407

عن مَعَاذ بن جبل: كَان يَتَوَضَّأُ وَاحِدَة وَاحِدَة و ثِنْتَيْن ثِنْتَيْن و ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، كُل ذَلِك يَفْعَل.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایك ایك مرتبہ، دو دو مرتبہ اور تین تین مرتبہ(اعضاء دھو كر)وضوكرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان تمام طریقوں سے وضو ءكرتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2408

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْرُجُ يُهْرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَيَقُولُ وَمَا يُدْرِينِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (بیت الخلاء) سے باہر نکلتے تو اپنے ہاتھ پر پانی ڈالتے اور مٹی سے پاکیزگی حاصل کرتے۔ میں كہتا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یقینا پانی آپ كے قریب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرماتے: مجھے نہیں معلوم كہ میں اس تك پہنچ پاؤں گا یا نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2409

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَذْهَبُ لِحَاجَتِهِ إِلَى الْمُغَمَّسِ، قَالَ نَافِعٌ: (المُغَمَّسُ) مِيلَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةٌ مِنْ مَكَّةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغمس كی طرف قضائے حاجت كیلئے جاتے تھے۔ نافع نے كہا(مغمس) مكہ سے دو یا تین میل كے فاصلے پر ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2410

) عن عبدالله بن مَسْعود قال: قال رَسُول صلی اللہ علیہ وسلم : لَتُنْهِكُنَّ الأَصَابعَ بِالطَّهُورِ ؛ أَوْ لَتُنْهِكُنَّهَا النّارُ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم انگلیوں کو وضوکے پانی سے اچھی طرح دھولو وگرنہ آگ ان پر غلبہ پالے گی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2411

عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَفَعَهُ قَالَ لَولَا أَنْ أشُقَّ عَلَى أُمَّتي؛ لَفَرَضْتُ على أُمَّتِي السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الوُضُوءَ.
عبدالرحمن بن ا بی لیلی سے مروی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے كسی صحابی سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو اپنی امت پر مسواك فرض كر دیتا جس طرح ان پر وضو فرض كیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2412

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَةٍ فَفَضَـلَتْ فَضْـلَةٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِيَغْتَسِلَ مِنْهَا فَقُلْتُ إِنِّي قَدِ اغْتَسَلْتُ مِنْهَا فَقَالَ: لَيْسَ عَلَى الْمَاءِ جَنَابَةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، میمونہ رضی اللہ عنہا سے بیان كرتے ہیں ،كہتی ہیں كہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوگئے، میں نے ایك ٹب سے غسل كیا۔ میں نے كچھ پانی بچا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اس پانی سے غسل کریں، میں نے كہا: میں نے اس سے غسل كیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پر كوئی جنابت نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2413

عن خولۃ بنت حکیم أنھا سألت رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عن المرأۃ تری في منامھا ما یری الرجل فقال لیس علیھا غسل حتی تنزل کما أنہ لیس علی الرجل غسل حتی ینزل۔
خولہ بنت حکیم رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو خواب میں وہی عمل دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں جس طرح مرد پر اس وقت تک غسل نہیں جب تک انزال نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2414

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوِ امْرَأَةُ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِأَبِي رَافِعٍ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟ قَالَ: تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : بِمَ آذَيْتِيهِ يَا سَلْمَى؟ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا آذَيْتُهُ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمُ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ (وَقاَلَ الطَّبْرَانِي: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قاَلَ: مَنْ خَرَجَ مِنْهُ رِيْحٌ فَلْيُعِدِ الوُضُوءَ) فَقَامَ فَضَرَبَنِي فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَضْحَكُ وَيَقُولُ: يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے كہتی ہیں كہ سلمٰی رضی اللہ عنہا (رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی آزاد کردہ لونڈی)یا ابو رافع‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے آزاد کردہ غلام كی بیوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئیں اور ابو رافع كے خلاف شكایت كی جس نے اسے مارا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع سے كہا: ابو رافع تمہارا اور اس كا كیا معاملہ ہے؟ ابو رافع نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ مجھے تكلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمی! تم نے اسے كس طرح تكلیف دی ہے؟ سلمیٰ نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو اسے كوئی تكلیف نہیں دی، یہ نماز پڑھتے ہوئے بے وضو ہوگئے تھے، میں نے ان سے كہا: ابو رافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں كو حكم دیا ہے كہ جب كسی کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ وضو ء كرے( اور طبرانی كے الفاظ ہیں كہ رسول اللہ نے فرمایا: جس کا وضو ٹوٹ جائے وہ دوبارہ وضو كرے) یہ كھڑے ہو كر مجھے مارنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے اور فرمانے لگے: اے ابو رافع ! یہ تو تمہیں خیر كا مشورہ دے رہی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2415

عن ابن عمر رَفَعَه إلى النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : مِن اسْتَجْمَر فَلْيَسْتَجْمِر ثَلَاثًا .
) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پتھر استعمال كرنا چاہے وہ تین پتھر(طاق عدد میں) استعمال كرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2416

عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَـالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَرَأَيْتُ أُنَاسًا مُجْتَمِعِينَ وَشَيْخًا يُحَدِّثُهُمْ قُلْـتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَنْ أَكَلَ لَحْمًا فَلْيَتَوَضَّأْ.
قاسم مولی معاویہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں دمشق كی مسجد میں داخل ہوا، میں نے كچھ لوگوں كا مجمع دیكھا اور ایك بوڑھا انہیں حدیث بیان کررہا تھا۔ میں نے كہا: یہ كون ہے؟ لوگوں نے كہا: سہل بن حنظلیہ۔ میں نے ان سے سنا كہہ رہے تھے: كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: جس شخص نے گوشت كھایا وہ وضو كرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2417

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: من بَات طَاهِرًا بَاتَ فِي شِعَارِهِ مَلَكٌ لاَ يَسْتَيْقِظُ سَاعَةً مِّنَ اللَّيْل إِلَّا قَالَ الْمَلَك: اللهمّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ فُلَانٍ، فَإِنَّه بَاتَ طَاهِرًا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے پاكیزگی كی حالت میں (باوضو ہو كر) رات گزاری اس کے بستر میں ایك فرشتہ رات گزارتا ہے۔ رات كی جس گھڑی وہ بیدار ہوتا ہے تو وہ فرشتہ كہتا ہے: اے اللہ اپنے فلاں بندے كو بخش دو، كیوں كہ اس نے باوضوہو كر رات گزاری
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2418

عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ تَوَضَّأَ وَجاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَهُوَ زَائِرُ اللهِ، وَحَقٌّ عَلَى الْمَزُورِ أَنْ يُكْرِمَ الزَّائِرَ .
سلمان سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے وضو كیا اور مسجد میں آیا وہ اللہ سے ملاقات كرنے آرہا ہے، اورمیزبان كا حق ہے كہ مہمان كی تكریم كرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2419

) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقُوهُ مَا كَانَ يَبُولُ إِلَّا قَاعِدًا.
عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے كہتی ہیں كہ جو شخص تمہیں كہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو كر پیشاب كیا كرتے تھے تو اس كی تصدیق نہ كرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌صرف بیٹھ کر پیشاب كیا كرتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2420

عن أبي هُرَيْرَة قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : من لَم يَسْتَقْبِل الْقِبْلَةَ ، وَلَم يَسْتَدْبِرَهَا في الْغَائِطِ كُتِبَ لَه حَسَنَةٌ وَمُحِيَ عَنْه سَيِّئَةٌ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بیت الخلاءمیں نہ قبلے كی طرف پیٹھ كی نہ اس كی طرف رخ كیا اس كے لئے ایك نیكی لكھ دی جاتی ہے اور گناہ مٹادیا جاتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2421

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ؟ قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ كے پاس سے گزرے وہ وضو كر رہے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد ! یہ كیسا اسراف ہے؟ سعد‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ تم كسی چلتی ہوئی نہر كے كنارے ہی كیوں نہ ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2422

عن أَنس بن مَالِكٍ قَالَ: دَعَا رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِوَضوءٍ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ مَرَّةً و يَدَيْه مَرَّةً ،و رِجْلَيْه مَرَّةً مَرَّةً و قال: هذا وُضُوْءٌ لَا يَقْبَلُ الله - عَزّ و جَلّ- الصَّلَاةَ إِلَا بِه ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوْءٍ فَتَوَضَّأ مَرَّتَيْن مَرَّتَيْن ، وقال: هذا وُضُوء من تَوَضَّأ ضاعف الله لَه الْأَجْر مَرَّتَيْن ثم دَعَا بِوضوء فَتَوَضَّأ ثَلَاثًا وقال: هَكَذَا وضوء نَبِيِّكُم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌و النَّبِيِّين قَبْلَه ، أَو قَالَ: هَذَا وُضُوئِي و وُضوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو كا پانی منگوایا، اپنا چہرہ ایك مرتبہ دھویا، اپنے دونوں ہاتھ ایك مرتبہ دھوئے اور اپنے پاؤں ایك ایك مرتبہ دھوئے اورفرمایا:یہ وہ وضو ءہے جس كے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں كرتا۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو كا پانی منگوایا اور اپنے اعضاء دو دو مرتبہ دھوئے اور فرمایا: یہ وہ وضو ءہے جس نے ایسا وضو كیا اللہ تعالیٰ اسے دو گنا اجر دے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو كا پانی منگوایا اور تین تین مرتبہ اعضاء دھوئے اور فرمایا:اس طرح تمہارے نبی اوراس سے پہلے كے انبیاء كا وضو ءہے، یا فرمایا: یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیاء كا وضو ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2423

) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (عبدالله بن عمرو) قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْأَلُهُ عَنِ الْوضوءِ فَأَرَاهُ الْوضوء ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا الْوضوء فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان كے دادا سے بیان كرتے ہیں كہ ایك اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور آپ سے وضو كے بارے میں سوال كیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ اعضاء دھو كر وضو ءكر كے دكھایا پھر فرمایا: وضو اس طرح ہے، جس شخص نے اس سے زیادتی كی اس نے برا كیا، حد سے تجاوز كیا اور ظلم كیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2424

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سمندرمیں سفر كرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں ، اگر ہم اس سے وضو كریں تو ہمیں بعد میں پیاس تنگ كرتی ہے، كیا ہم سمندر كے پانی سے وضو ءكر سكتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر كا پانی پاك ہے اور اس كا مردارحلال ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2425

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا صَنَعَتْ لرسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جُبَّةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَخَلَعَهَا وَكَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ.
عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے كہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے لئے سیاہ اون كا جبہ بنایا، آپ نے اسے پہنا ۔جب پسینہ آیاتواون كی بو محسوس كی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو اچھی خوشبو پسند تھی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2426

) عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِيَ عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہتی ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر كے بال سختی سے باندھتی ہوں پھر غسل كے لئے انہیں کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارے لئے یہی كافی ہے كہ تم اپنے سر پر تین چلو بھر كر ڈالو، پھر اپنے اوپر پانی بہالو، تم پاك ہو جاؤ گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2427

عن أبي هُرَيْرَة ، أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سُئِل ، فَقِيل: يَا رَسُول الله ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُحْدِثُ فَيَتَوَضَّأ ، وَيَمْسَح عَلَى خُفَّيْه ، أَيُصَلِّي ؟ قال: لَا بَأْس بِذَلِك.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا گیا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جو بے وضو ہو جاتا ہے، پھر وضو كرتا ہے اور اپنے موزوں پر مسح كرتا ہے كیا وہ نماز پڑھ سكتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں كوئی حرج نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2428

) عن عبد الله بن عُكَيْم ، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَسْتَمْتِعُوا منَ الْمَيْتَة بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ.
عبداللہ بن عكیم سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردار كے چمڑے اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2429

عن عبد الله بن يَزيد يُحَدِّثُ ، عن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يُنْقَعَ بَوْلٌ في طَسْتٍ في الْبَيْتِ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيه بَوْلٌ ، وَلَا تبولن في مغتسل.
عبداللہ بن یزید سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سنے فرمایا:گھر کے اندر ہاتھ دھونے کے برتن میں پیشاب جمع نہ کرو، كیو ں كہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں پیشا ب ہو، اور كوئی شخص غسل كرنے كی جگہ میں ہر گز پیشاب نہ كرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2430

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : يُجْزِئُ مِنَ الْوضوء مُدٌّ وَمِنَ الْغُسْلِ صَاعٌ. روی من حدیث عقیل ...... و عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو ءكے لئے ایك مد كافی ہے اور غسل كےلئے ایك صاع۔( ) یہ حدیث عقیل بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ، انس بن مالک اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2431

عن أبي هُرَيْرَة قال: كَان أبو ذَر في غُنَيْمَة لَّہ بـ(الربذة) ، فَلَمَا جَاء قال لَه النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أبا ذَر! فَسَكَتَ ، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ ، فَسَكَت ، فَقَال: يَا أبا ذَر! ثَكِلَتْك أُمَّكَ قال: إِنِّي جُنُبٌ ، فَدَعَا لَه الْجَارِيَة بِمَاءٍ ، فَجَاءَتْه ، فَاسْتَتَر بِرَاحِلَتِه وَاغْتَسَل ثم أَتَى النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقَال لَه النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : يُجْزِئُكَ الصَّعِيدُ وَلَو لَم تَجِد الْمَاء عِشْرِين سَنَة (وَفِي روايةٍ: عَشَر سِنِين) ، فَإِذَا وَجَدْتَه فَأَمِسَّه جِلْدَك.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ابو ذر رضی اللہ عنہ (ربذہ میں)اپنے مدینے والی بکریوں(یا اونٹوں) کے ریوڑمیں تھے جب وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا: ابو ذر! ابوذر‌رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ آپ نے دوبارہ كہا: وہ پھر خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر! تمہاری ماں تمہیں گم پائے، انہوں نے كہا: میں جنبی ہوں۔ آپ نے ایك لونڈی سے ان كے لئے پانی منگوایا وہ پانی لائی تو انہوں نے اپنی سواری كی اوٹ میں غسل كیا ،پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا: اگر تمہیں بیس سال بھی پانی نہ ملےتو تمہیں مٹی ہی كافی ہے(اور ایك روایت میں ہے دس سال ) جب تمہیں پانی مل جائے تو اپنے جسم كو دھولو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2432

عن ابن عمر مَرْفُوْعاً: يَجِيءُ صَاحِبُ النُّخَامَة في الْقِبْلَة يَوِم الْقِيَامَة وَهِي في وَجْهِه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: قیامت كے دن قبلہ رخ بلغم پھینكنے والا آئے گا توبلغم اس كے چہرے پر لگا ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2433

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتِ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّهُ لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِيهِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ فَقَالَتْ: فَإِنْ لَمْ يَخْرُجِ الدَّمُ؟ قَالَ يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئیں اور كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایك ہی كپڑا ہے، میں اسی میں حیض كے ایام گذارتی ہوں میں كس طرح كروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم پاك ہو جاؤ تو اسے دھولو اور اس میں نماز پڑھو، اس نے كہا:اگر(كپڑے میں سے) خون(یا خون کا نشان) نہ نكلے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں پانی كافی ہے، اس كا نشان تمہیں كوئی نقصان نہیں دے گا

آیت نمبر