AL SILSILA SAHIHA

Search Results(1)

2)

2) ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 205

عن أبي هريرة ، عن رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، أنه قال : « آمركُم بثلاث ، وأنهاكُم عن ثَلاث آمُركُم : أن تعبدُوا الله ، ولا تشركُوا به شَيئًا ، وتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا ولا تفْرقُوا ، وتُطيعُوا لمن ولَّاهُ الله عَليكُم أَمركُم ، وأَنهاكُم عن : قِيلَ وَقالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور تین باتوں سے منع کرتا ہوں، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ مت بنو، اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملات کا نگران بنایا ہے اس کی اطاعت کرو اور میں تمہیں فضول گفتگو ، کثرت سوال اور مال ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 206

) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَلِيْمٍ أَوْ سُلَيْمٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ مَّعَ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ أَيُّكُمْ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ فَإِمَّا أَنْ يَّكُونَ أَوْمَأَ إِلَى نَفْسِهِ وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ أَشَارَ إِلَيْهِ الْقَوْمُ قَالَ فَإِذَا هُوَ مُحْتَبٍ بِبُرْدَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَجْفُو عَنْ أَشْيَاءَ فَعَلِّمْنِي قَالَ اتَّقِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَإِيَّاكَ وَالْمَخِيلَةَ فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِأَمْرٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِأَمْرٍ تَعْلَمُهُ فِيهِ فَيَكُونَ لَكَ أَجْرُهُ وَعَلَيْهِ إِثْمُهُ وَلَا تَشْتُمَنَّ أَحَدًا
جابر بن سَلیم یا سُلیم سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: تم میں نبی کون ہے؟ یا تو آپ نے خود اپنی طرف اشارہ کیا یا لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا ، آپ کپڑا کمر سے ڈال کر گھٹنے کھڑے کرکے کمر والے کپڑے سے باندھ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ کپڑے کا کنارہ آپ کے قدموں پر گرا ہوا تھا میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میں کچھ چیزیں جنہیں میں پختہ یاد نہیں رکھ سکتا(بھول جاتا ہوں)آپ مجھے سکھلائیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل سے ڈرو اور نیکی کے کسی کام کو حقیر مت سمجھو، اگرچہ تم اپنےڈول سے پانی لینے والے کے برتن میں پانی ہی کیوں نہ ڈالو۔ تکبر سے بچو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص تم میں موجود کسی خامی کو دیکھ کر تم پر ہنسے اور عار دلائے تو تم اس میں موجود کسی خامی کو دیکھ کر اسے عار نہ دلاؤ۔ اس بات کا تمہیں اجر ملے گا اور اس پر گناہ ہوگا اور کسی کو گالی مت دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 207

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ اتقُوا اللهَ فِي الصَّلَاةِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَجَعلَ يُكَرِّرُهَا.
ام سلمہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں فرمایا:نماز اور غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ آپ بار بار اسی بات کو دہراتے رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 208

عن جابر رضی اللہ عنہ مرفوعاً: « أَحبُ الطَعَام إلَى الله مَا كَثُرَتْ عَلَيه الأَيدي ».
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے اللہ کو سب سے پیارا کھانا وہ لگتا ہے جس میں کھانے والے ہاتھ زیادہ ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 209

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ وَأَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللهِ تَعَالَى أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ وَأَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللهِ عَزوَجَل سُرُورٌ يُّدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ أَوْ يَكَشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً أَوْ يَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا أَوْ يَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا وَلأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخِ فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ شَهْرًا وَمَنَ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ مَلأَ اللهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَّوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَّشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى تَتَهَيَّأَ لَهُ أَثْبَتَ اللهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الأَقْدَامُ. (وَإنَّ سوءَ الْخُلُقِ يُفْسِدُ الْعَمَلَ كَمَا يُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ).
عبداللہ بن عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول! کونسا شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے اور کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے ہاں وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع دینے والا ہے ۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ خوشی ہے جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دے، یا اس سے مصیبت دور کرے ،یا اس کا قرض ادا کرے یا اس کی بھوک ختم کرے، اور اگر میں کسی بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے چلوں تو یہ مجھے اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں ایک ماہ اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جس شخص نے اپنا غصہ روکا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا، جو شخص اپنے غصے کے مطابق عمل کرنے کی طاقت کے باوجود اپنے غصے کو پی گیا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید سے بھر دے گا۔ اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری ہونے تک اس کے ساتھ چلا تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدم رکھیں گے جس دن قدم ڈگمگا رہے ہوں گے (اور یقیناً بد اخلاقی عمل کو خراب کر دیتی ہے جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 210

عَنْ يَزِيدَ بْنِ أسيدٍ أنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ: أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ.
(۲۱۰) یزید بن اسید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 211

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَقَالَ أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فَيكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ سنا تو آپ کو بہت اچھا لگا آپ نے فرمایا : ہم نے نیک شگون تمہارے منہ سے لےلیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 212

عَنْ رَجُلٌ مِّنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ أَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِّمْهُ الِاسْتِئْذَانَ فَقُلْ لَهُ قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَخَلَ.
بنو عامر کے ایک شخص سے مروی ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی آپ اپنے گھر میں تھے اس نے (کہا) داخل ہوجاؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (خادم سے) فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھلاؤ۔ اور اس سے کہو کہ اس طرح کہے السلام علیکم کیا میں اندر آجاؤں؟ اس شخص نے یہ بات سن لی اس نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آجاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازدت دے دی تو وہ اندر آگیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 213

عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِخَادِمِهِ اخْرُجِي إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ فَقُولِي: فَلْيَقُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ؟
بنو عامر کے ایک شخص سے مروی ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو اس نے کہا : کیا میں اندر آجاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لونڈی سے کہا: اس کے پاس جاؤ وہ عمدہ طریقے سے اجازت نہیں مانگ رہا ، اس سے کہو کہ اس طرح کہے: السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 214

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللهِ يَومَ القِيَامةِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے برا نام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنا نام شہنشاہ رکھا ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 215

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إذا أبردتم إلي بَريدًا فابْعَثُوهُ حَسَنَ الْوَجْهِ، حَسَنَ الاسْمِ .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے پاس کسی ایلچی (پیغامبر)کو بھیجو تو اچھی صورت اور اچھے نام والے کو بھجو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 216

عَنْ أَبِي سَعيدِ الضحَّاكِ بن قَيْسٍ، الفَهرِي یقول سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا، فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا لَه: قَحْطًا، فَقَحْطًا لَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو سعید ضحاک بن قیس فہری سے مروی ہے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے خوش آمدید کہیں تو جس دن وہ اپنے رب سے ملے گا اس دن بھی اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ اور جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے برا بھلاکہیں تو قیامت کے دن بھی اس کے لئے برائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 217

عَنْ أَبِي سَعيدِ الضحَّاكِ بن قَيْسٍ، الفَهرِي یقول سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا، فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا لَه: قَحْطًا، فَقَحْطًا لَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو سعید ضحاک بن قیس فہری سے مروی ہے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے خوش آمدید کہیں تو جس دن وہ اپنے رب سے ملے گا اس دن بھی اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ اور جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے برا بھلاکہیں تو قیامت کے دن ان کے لئے بھی برائی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 218

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ. روی من حدیث عبداللہ بن عمر و جریر عبداللہ و جابر بن عبداللہ و ابی ھریرۃ و عبداللہ بن عباس و معاذ بن جبل وعدی بن حاتم وابی راشد عبدالرحمن بن عبد و انس بن مالک رضی اللہ عنھم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 219

عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ مَرفُوعاً: إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ أَنَّه يُحِبُّهُ.
مقدام بن معدی کرب سے مرفوعا مروی ہے جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 220

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ بِأَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلهِ عَزّوجل.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جب تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی سے محبت کرے تو وہ اس کے پاس اس کے گھر آئے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ عزوجل کے لئے محبت کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 221

عن مُجَاهِد قال : لَقِينِي رَجل مِّن أَصحَاب النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخَذ بِمنْكبِي من وَّرَائِي ، قال : أَمَا إِنِّي أحبك ، قُلْت : أحبك الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَه ، فَقَال : لَوْلَا أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : إِذَا أحب الرَجل الرجل فَلْيُخْبِرْه أَنَّه أحبه لما أَخْبَرتك ، قال : ثُم أَخذ يعرض علي الْخُطْبَة قال : أمَا إِن عِنْدَنَا جَارِيَة ، أَمَا إِنَّهَا عَوْرَاء
مجاہد سے مروی ہے اس نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی مجھ سے ملا اور میرے پیچھے سے میرے کاندھے پکڑ کر کہنے لگا: میں تم سے محبت کرتا ہوں، میں نے کہا جس کے لئے تم نے مجھ سے محبت کی وہ تم سے محبت کرے۔ اس صحابی نے کہا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے محبت کرے تو اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے تو میں تمہیں نہ بتاتا ،پھر وہ مجھے نکاح کا پیغام دینے لگا کہنے لگا ہمارے پاس ایک بچی ہے لیکن وہ بھینگی ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 222

عَن عَبْدِ اللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَّسْأَلَ، فَلْيَبْدَأْ بِالْمِدْحَةِ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ لْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، ثُمَّ لِيَسْأَلْ بَعْدُ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يََّْجَحَ . موقوف في حكم المرفوع.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: جب تم میں سے کوئی شخص مانگنا چاہے تو اللہ کی حمدوثنا سے ابتداء کرے ،پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے پھر اس کے بعد مانگے ،یہ کامیابی کے لئے زیادہ مناسب ہے ،(یہ حدیث) مرفوع کے حکم میں موقوف ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 223

) عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِّنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ فَقَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ؟ قُلْتُ اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ وَاللهِ لَتُقِيمَنَّ عَلَيْهِ بَيِّنَةً أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَاللهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ ذَلِكَ.
ابو سعید نے کہا میں انصاریوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ابو موسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا : میں نے عمر‌رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انہوں نے مجھے اجازت نہیں دی میں واپس آنے لگا تو عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کس وجہ سے واپس جارہے ہو؟ ابو موسیٰ نے کہا: میں نے تین مرتبہ اجازت مانگی مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس جانے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس لوٹ جائے ۔عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ تم اس کا ثبوت لاؤ گے ، کیا تم میں سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہارے ساتھ سب سے کم عمر شخص جائے گا،میں (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) سب سے کم عمر تھا میں ان کے ساتھ گیا اور عمر‌رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 224

عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَا يَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کمر کے بل چت لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 225

عَنْ أَبِي الدَرْدَاء ، مرفوعا: إِذَا اصطحَبَ رَجُلَان مُسْلِمَان فَحَال بَيْنَهُمَا شَجَرٌ أَو حَجرٌ أَو مَدرٌ فَلْيسلم أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخر ، وَيتبَادلَان السَّلَام
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب دو مسلمان ساتھ ساتھ چل رہے ہوں اور ان دونوں کے درمیان کوئی درخت، پتھر یا دیوار(چٹان) آجائے(جب اس سے گذر ہو جائےپھر ملیں) تو ایک دوسرے کو سلام کہیں اور سلام کا تبادلہ کریں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 226

عَنْ مُصْعَبِ بن شَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، مَرفُوعاً: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَإِنْ وُسِّعَ لَهُ فَلْيَجْلِسْ، وَإِلا فَلْيَنْظُرْ أَوْسَع مَكَانٍ يَّرَاهُ فَلْيَجْلِسْ فِيهِ .
مصعب بن شیبہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں : جب تم میں سے کوئی شخص مجلس میں آئے اور اسے جگہ دے دی جائے تو وہ بیٹھ جائے ۔وگرنہ وہ کوئی کھلی جگہ دیکھے تو وہاں بیٹھ جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 227

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعاً: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَّقُومَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتْ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنْ الْآخِرَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کوئی شخص مجلس میں آئے تو سلام کہے اور جب کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو سلام کہے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ افضل نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 228

عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُّحَدِّثُهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُمَـا فَضَرَبَ بِيَدِهِ صَـدْرِي وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا.
سعید مقبری سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا کوئی بات کر رہا تھا میں ان دونوں کے پاس آیا تو ابن عمر نے میرے سینے پر تھپڑ مارا اور کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو آدمی سر گوشی کر رہے ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر ان کے پاس نہ بیٹھو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 229

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا ثُم قَالَ إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر کھنگار دیکھا تو ایک پتھر لے کر اسے کھرچ دیا، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھنگارے تو وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے یا اپنے بائیں قدم کے نیچے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 230

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرفُوعاً: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ.
جابر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جب کوئی آدمی بات کرے اور آس پاس جھانکے تو اس کی وہ بات امانت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 231

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِذَا رَأَى أَحدكُم الرُّؤْيَا تُعْجِبُه فليذكرها وليفسرها و إِذَا رَأَى أَحدكُم الرُّؤْيَا تسوءه، فَلَا يَذْكُرهَا وَ لَا يُفَسِّرْهَا .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے پسند ہو تو وہ اس کا ذکر کرے اور اس کی تعبیر بتائے اور جب کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو نہ تو اس کا ذکر کرے اور نہ اس کی تعبیر بیان کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 232

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَتَحَوَّلْ وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَّسَارِهِ ثَلَاثًا وَّلْيَسْأَلِ اللهَ مِنْ خَيْرِهَا وَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایساخواب دیکھے جو اسے برالگے تو وہ اپنا پہلو بدل لے اور اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکے، اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرے اور اس کے شر سے پناہ مانگے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 233

عَن ابن عُمر قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَجَلسَ عِندَه فَلَا يَقُومَن حَتى يَستَأَذنَه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے اور اس کے پاس بیٹھے تو اجازت لینے سے پہلے وہاں سے کھڑا نہ ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 234

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ مِنْ طَعَامِهِ فَلْيَأْكُلْ، وَلا يَسْأَلْه عَنْهُ، وَإِنْ سَقَاهُ مِنْ شَرَابِهِ فَلْيَشْرَبْ وَلا يَسْأَلْه عَنْهُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ مسلمان اپنے کھانے میں سے اسے کھلائے تو وہ کھالے اور اس سے اس کھانے کے متعلق سوال نہ کرے، اور اگر وہ اسے کوئی مشروب پلائے تو پی لے اور اس سے اس کے متعلق سوال نہ کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 235

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ. ورد من حدیث المقداد بن الاسود و عبداللہ بن عمرو ابی ھریرۃ و عبادۃ بن الثابت رضی اللہ عنھم۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم خوشامد کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 236

عَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارِ السَّكُونِيِّ ثُمَّ الْعَوْفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا
مالک بن یسار سکونی عوفی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی ہتھیلیوں کا رخ آسمان کی طرف کر کے مانگو اور اس سے ہتھیلیوں کی پشت کے رخ پر نہ مانگو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 237

عن جابر بن عبد الله قال : سمعت رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يقول : « إِذَا سَمِعْتُم نُبَاح الْكَلب بِاللَّيْل أَو نُهَاق الْحَمِير فَتَعَوَّذُوا بِالله ؛ فَإِنَّهُم يَرَوْن مَا لَا تَرَوْن . وَأقِلُّوا الْخُرُوج إِذَا هَدَأت الرِّجُلُ ؛ فَإِن الله يَبُثُّ فِي لَيْلَه مِن خَلقِه مَا يَشَاء . وَأَجِيفُوا الْأَبْوَاب وَاذْكُرُوا اسْمَ الله عَلَيْهَا ؛ فَإِن الشَّيْطَان لَا يَفْتَح بَابًا أجِيف وَذُكرَ اسْمُ الله عَليه . وَغَطُّوا الْجِرَارَ واكفئُوا الْآنِيَة وَأَوْكُوا الْقُرُب».
جابر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب تم رات کے وقت کتے بھونکنے یا گدھے کے ہنہنانے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی مخلوق دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے اور جب پاؤں پرسکون ہوجائیں تو باہر کم ہی نلوَ کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے۔ بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کر دو، کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا جسے بسم اللہ پڑھ کر بند کیاگیا ہو، مٹکے اور برتن ڈھانپ دیا کرو اور مشکیزوں کے منہ بند کردیا کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 238

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِذَا صَنَعَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ طَعَامًا فَوَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ لَمْ يَدْعُهُ فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا بنائے جس کی گرمی اور مشقت اس نے برداشت کی ہے تو وہ اسے بلائے اور اپنے ساتھ کھانا کھلائے اور اگر نہ بلائے تو اسے اس کھانے میں سے کچھ نہ کچھ دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 239

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ فَإِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کوئی شخص مارے تو چہرے پر مارنے سے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 240

عَن أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ فَعَطَسْتُ وَلَمْ يُشَمِّتْنِي وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا قَالَتْ: عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا فَقَالَ: إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدْ اللهَ تَعَالَى فَلَمْ أُشَمِّتْهُ وَإِنَّهَا عَطَسَتْ فَحَمَدَتْ اللهَ تَعَالَى فَشَمَّتُّهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تُشَمِّتُوهُ فَقَالَتْ: أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ.
ابو بردہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں ابو موسیٰ کے پاس ام فضل کی بیٹی کے گھر آیا، مجھے چھینک آئی تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔ جب اسے (ام فضل کو)چھینک آئی تو اسے جواب دےدیا۔ میں اپنی والدہ کے پاس آیااور انہیں بتایا، پھر جب ابو موسیٰ آئے تو میری والدہ نے کہا : تمہارے پاس میرے بیٹے نے چھینک ماری تو تم نے اسے جواب نہیں دیا جبکہ اس نے (ام فضل کی بیٹی نے) چھینک ماری تو اسے جواب دے دیا؟ ابو موسیٰ نے کہا: تمہارے بیٹے نے چھینک ماری لیکن الحمد اللہ نہیں کہا تو میں نے اسے جواب نہیں دیا، اور اس نے چھینک ماری تو اس نے الحمدللہ کہا اس لئے میں نے اسے جواب دے دیا۔ اور میں نےر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : جب تم میں سے کوئی شخص چھینک مار کر الحمدللہ کہے تو اسے جواب دو اور اگر الحمدللہ نہ کہے تو اسے جواب نہ دو۔ میری والدہ نے کہا: تم نے اچھا کیا، تم نے اچھا کیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 241

عن أبي هريرة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مرفوعا: إِذَا عَطس أَحدكُم فليُشمته جَلِيسَه ، وَإِن زَاد عَلَى ثَلَاث فَهُو مَزْكُوم ، وَلَا يُشَمَّت بَعَد ذَلِك.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : تم میں سے کوئی شخص چھینک مارے تو اس کے پاس بیٹھنے والا اسے جواب دے (یرحمک اللہ کہے) اگر وہ تین مرتبہ سے زیادہ چھینک مارے تو اسے زکام ہے اس کے بعد اسے جواب نہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 242

عَن عبد الله بن بُرَيْدَة ، عن أَبِيه مرفوعا: إِذَا قَالَ الرَجُل لِلْمُنَافِق يَا سَيِّد فَقَد أَغْضَب رَبَّه تَبَارَك وتعالى.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں : جب کوئی آدمی کسی منافق سے کہتا ہے اے سردار( یا اے محترم) تو وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 243

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَّجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 244

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ أَنْصِتُوا وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ فَقَدْ أَلْغَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ (يعني يوم الجمعة).
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب (دوران خطبہ) لوگ باتیں کر رہے ہوں اور تم ان سے کہو خاموش ہو جاؤ، تو تم نے بھی لغو کام کیا (یعنی جمعے کے دن)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 245

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ وَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ فَلْيَقُمْ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں کوئی شخص سائے میں ہو پھر سایہ اس سے سمٹ جائے اور اس کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ حصہ سائے میں ہو تو وہاں سے اٹھ جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 246

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ جَمِيعًا فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین شخص اکٹھے ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سر گوشی نہ کریں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 247

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِّنَ العِشَاءِ فَخَلُّوهُمْ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب شام کا وقت ہوجائے تو اپنے بچوں کو روک لو، کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ،پھر جب عشاء کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 248

أَبُو سُفْيَانَ (عَنْ جَابِرٍ) قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلٌ وَّهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا رَأَى النَّائِمُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ وَسَقَطَ رَأْسِي (فَتدحرج) فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ (فَضَحِك النَبِي صلی اللہ علیہ وسلم ) فَقَالَ: إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ فَلَا يُحَدِّث بِهِ النَّاسَ.
ابو سفیان (جابر سے)بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا:ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ خطبہ دے رہے تھے، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! میں نے رات ایک خواب دیکھا کہ میری گردن کاٹ دی گئی اور میرا سرگرگیا ہے(اور لڑھک گیا ہے)میں اس کے پیچھے گیا اور اسے پکڑ کر واپس لگا لیا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے)اورفرمانے لگے، جب شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ نیند میں کھیلے تو وہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 249

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ أَيْضًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کہے اگر ان کے درمیان کوئی درخت ،دیوار، یا پتھر حائل ہو جائے پھر اس سے ملے تو اسی طرح سلا م کہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 250

عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِّنْ قَوْمِهِ قَالَ: طَلَبْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا نَفَرٌ هُوَ فِيهِمْ وَلَا أَعْرِفُهُ وَهُوَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ مَعَهُ بَعْضُهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَلْيَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ و برکاتہ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ.
ابو تمیمہ ہجیمی اپنی قوم کے ایک فرد سے روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا لیکن آپ نہ ملے میں بیٹھ گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جماعت آرہی ہے ۔آپ بھی انہی میں ہیں، میں آپ کو پہچانتا نہیں تھا، آپ ان کے درمیان صلح کروارہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ کے ساتھ بعض لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں نے اتنی بات ہی سنی تھی کہ میں کہنے لگا : اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو ، اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو ، اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو! آپ نے فرمایا: ‘‘علیک السلام’’ مُردوں پر سلام کرنے کا طریقہ ہے۔ یا ‘‘علیک السلام’’ کے الفاظ کے ذریعے مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو کہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو، تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو، تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 251

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا لَقِيتُمُ الْمُشْرِكِينَ (وَفِي رواية: أَهْل الْكِتَاب) فَلَا تَبْدَؤُهُمْ بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم مشرکین سے ملو(اور ایک روایت میں ہےکہ اہل کتاب سے ملو) تو انہیں سلام میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں کسی راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 252

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «إِذَا مَرَّ رِجَالٌ بِقَومٍ فَسَلَّمَ رَجُلٌ عَنِ الَّذِينَ مَرُّوا عَلَى الْجَالِسِينَ ، وَرَدَّ مِنْ هَؤُلاَءِ وَاحِدٌ أَجْزَأَ عَنْ هَؤُلاَءِ وَعَنْ هَؤُلاَءِ».
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کچھ آدمی کسی قوم کے پاس سے گزریں تو گزرنے والوں میں سے ایک آدمی بیٹھے ہوئے لوگوں پر سلام کہے اور ان میں سے ایک شخص جواب دے دے، ان سے بھی کفایت کر جائے گا اور ان سے بھی کفایت کر جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 253

عن أبي بصرة الغفاري قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا مَرَرْتُم بِالْيَهُود فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِم فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُم فَقُولُوا : وَعَلَيْكُم.
ابی ابو بصرہ غفاری سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم یہودیوں .....کے پاس سے گزروتو انہیں سلام مت کہو اور جب وہ تمہیں سلام کہیں تو تم صرف ‘‘وعلیکم’’ کہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 254

عن ابن عباس ، قال : جَاءَت فَأْرَة ، فَأَخَذَت تَجر الفتيلة، فَذَهَبَت الْجَارِيَة تزجرها، فَقَال نَبِي الله صلی اللہ علیہ وسلم : « دعيها » فَجَاءَت بِهَا فَأَلْقَتْهَا بَيْن يَدَي رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى الْخُمْرَةِ الَّتِي كَان عَلَيْهَا قَاعِدًا، فَأَحْرَقَت مِنها مثل مَوْضِع دِرْهَم ، فَقَال ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِذَا نِمْتُم فَأَطْفِئُوا سُرجَكم، فَإِن الشَّيْطَان يَدُلّ مَثل هَذِه عَلَى هذا فَيُحرِقَكُم ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ایک چوہیا آئی اور بتی کھینچنے لگی۔ ایک بچی اسے بھگانے کے لئے گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دووہ چوہیا اس بتی کو کھینچ کر لائی اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چٹائی پر ڈال دیا، جس پر آپ بیٹھے ہوئے تھے اس چٹائی کا ایک درہم کے برا بر حصہ جلا دیا ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان اس جیسے جانور کو ایسے کام کی طرف راہنمائی کرتا ہے، پس وہ تمہیں جلا دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 255

عن سعيد بن زيد ، مرفوعا: « أَرْبَى الرِّبَا شَتَم الْأَعْرَاض».
سعید بن زید‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : سب سے بڑا گناہ عزتوں کا خراب کرنا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 256

عَنْ كَلَدَةَ بْنَ حنبل قَالَ: إِنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ بِلَبَنٍ وَّلِبَإٍ وَّضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأَعْلَى الْوَادِي قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : ارْجِعْ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟
کلدہ بن حنبل سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: صفوان بن امیہ نے دودھ پہلے قت کا گاڑھا دودھ اور ایک قسم کی گھاس، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکے کے بالائی حصے میں تھے ،میں آپ کے پاس آیا نہ تو سلام کیا اورنہ اجازت طلب کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس لوٹ جاؤ اور کہو: السلام علیکم کیا میں آسکتا ہوں؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 257

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اسْتَعِينُوا عَلَى إِنْجَاحِ الْحَوَائِجِ بِالْكِتْمَانِ، فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُودٌ .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے رازداری کے ساتھ کام لیا کرو کیونکہ ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 258

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے میں فرما رہے تھے : جوتے زیادہ پہنا کرو، کیونکہ آدمی اس وقت تک سوار ہے جب تک وہ جوتا پہنے رہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 259

عَنْ عَلِيٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَّكَّـةَ اتَّبَعَتْنَا ابْنَـةُ حَمْـزَةَ فَنَادت يَا عَـمِّ! يَا عَـمِّ! فَأخذتُ بِيَـدِهَـا فَتَنَاوَلْتُهَا فَاطِمَةَ رضی اللہ عنہا قُلْتُ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اخْتَصَمْنَا فِيهَا أَنَا وَزَيْدٌ وَّجَعْفَرٌ فَقُلْتُ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي وَقَالَ: زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي وَقَالَ: جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لِجَعْفَر أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ: أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا وَقَال لِي أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ادفعوها إلى خَالَتِهَا فَإِنَّ الْخَالَةَ أُمّ فُقُلْتُ أَلَا تَزَوَّجُهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چلی آئی اور آواز دینے لگی: چچا جان ،چچاجان! میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑا دیا، میں نے کہا: اپنے چچا کی بیٹی کو پکڑو جب ہم مدینے آئے تو میں زید اور جعفر اس کے بارے میں جھگڑنے لگے، میں نے کہا: میں اسے لوں گا، یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، زید نے کہا: میرے بھائی کی بیٹی ہے، جعفرنے کہا : میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ (میرے نکاح میں ہے)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے کہا: تم خلقت میں اور اخلاق میں میرے مشابہ ہو ،زید سے کہا: تم ہمارے بھائی اور دوست ہو اور مجھ سے کہا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، اسے اس کی خالہ کے سپرد کر دو، کیونکہ خالہ ماں کی مانندہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول کیا آپ اس سے شادی نہ کر لںں ؟ آپ نے فرمایا: یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 260

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا فَإِنِّي لَأُرِيدُ الْأَمْرَ فَأُؤَخِّرُهُ كَيْمَا تَشْفَعُوا فَتُؤْجَرُوا
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفارش کیا کرو تمہیں اجر دیا جائے گا ۔ میں کسی معاملے کا ارادہ کرتا ہوں، پھر اسے موخر کر دیتا ہوں تاکہ تم سفارش کرو تو تمہیں اجر دیا جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 261

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ، سلام کو عام کرو، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 262

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ ، مَرفُوعاَ: أَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعَاءِ، وَأَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلامِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: لوگوں میں سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو دعا کرنے سے عاجز ہواور سلام میں بخل کرنے والا سب سے بڑا بخیل ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 263

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِيْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَدِيثَهُ مِنْ فِيهِ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا فَارِسِيًّا مِنْ أَهْلِ أَصْبَهَانَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ مِّنْهَا يُقَالُ لَهَا (جَيٌّ) وَكَانَ أَبِي دِهْقَانُ قَرْيَتِهِ وَكُنْتُ أَحَبَّ خَلْقِ اللهِ إِلَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ حُبُّهُ إِيَّايَ حَتَّى حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ أَيْ مُلَازِمَ النَّارِ كَمَا تُحْبَسُ الْجَارِيَةُ وَأَجْهَدْتُّ فِي الْمَجُوسِيَّةِ حَتَّى كُنْتُ قَاطنَ النَّارِ الَّذِي يُوقِدُهَا لَا يَتْرُكُهَا تَخْبُو سَاعَةً قَالَ: وَكَانَتْ لِأَبِي ضَيْعَةٌ عَظِيمَةٌ قَالَ: فَشُغِلَ فِي بُنْيَانٍ لَّهُ يَوْمًا فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ! إِنِّي شُغِلْتُ فِي بُنْيَانٍ هَذَا الْيَوْمَ عَنْ ضَيْعَتِي فَاذْهَبْ فَاطَّلِعْهَا وَأَمَرَنِي فِيهَا بِبَعْضِ مَا يُرِيدُ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ ضَيْعَتَهُ فَمَرَرْتُ بِكَنِيسَةٍ مِّنْ كَنَائِسِ النَّصَارَى فَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ فِيهَا وَهُمْ يُصَلُّونَ وَكُنْتُ لَا أَدْرِي مَا أَمْرُ النَّاسِ لِحَبْسِ أَبِي إِيَّايَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا مَرَرْتُ بِهِمْ وَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ أَنْظُرُ مَا يَصْنَعُونَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبَتنِي صَلَاتُهُمْ وَرَغِبْتُ فِي أَمْرِهِمْ وَقُلْتُ: هَذَا وَاللهِ خَيْرٌ مِّنَ الدِّينِ الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ فَوَاللهِ مَا تَرَكْتُهُمْ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَرَكْتُ ضَيْعَةَ أَبِي وَلَمْ آتِهَا فَقُلْتُ: لَهُمْ أَيْنَ أَصْلُ هَذَا الدِّينِ؟ قَالُوا: بِالشَّامِ قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي وَقَدْ بَعَثَ فِي طَلَبِي وَشَغَلْتُهُ عَنْ عَمَلِهِ كُلِّهِ قَالَ: فَلَمَّا جِئْتُهُ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! أَيْنَ كُنْتَ؟ أَلَمْ أَكُنْ عَهِدْتُ إِلَيْكَ مَا عَهِدْتُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتِ! مَرَرْتُ بِنَاسٍ يُّصَلُّونَ فِي كَنِيسَةٍ لَّهُمْ فَأَعْجَبَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ دِينِهِمْ فَوَاللهِ مَازِلْتُ عِنْدَهُمْ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! لَيْسَ فِي ذَلِكَ الدِّينِ خَيْرٌ دِينُكَ وَدِينُ آبَائِكَ خَيْرٌ مِّنْهُ قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا وَاللهِ إِنَّهُ خَيْرٌ مِّنْ دِينِنَا قَالَ: فَخَافَنِي فَجَعَلَ فِي رِجْلَيَّ قَيْدًا ثُمَّ حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ قَالَ: وَبَعَثَتْ إِلَيَّ النَّصَارَى فَقُلْتُ لَهُمْ: إِذَا قَدِمَ عَلَيْكُمْ رَكْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنَ النَّصَارَى فَأَخْبِرُونِي بِهِمْ قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ رَكْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنَ النَّصَارَى قَالَ: فَأَخْبَرُونِي بِهِمْ قَالَ: فَقُلْتُ: لَهُمْ إِذَا قَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَأَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ فَآذِنُونِي بِهِمْ، فَلَمَّا أَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ أَخْبَرُونِي بِهِمْ فَأَلْقَيْتُ الْحَدِيدَ مِنْ رِجْلَيَّ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَمَّا قَدِمْتُهَا قُلْتُ: مَنْ أَفْضَلُ أَهْلِ هَذَا الدِّينِ قَالُوا: الْأَسْقُفُّ فِي الْكَنِيسَةِ قَالَ: فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ رَغِبْتُ فِي هَذَا الدِّينِ وَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ أَخْدُمُكَ فِي كَنِيسَتِكَ وَأَتَعَلَّمُ مِنْكَ وَأُصَلِّي مَعَكَ قَالَ: فَادْخُلْ فَدَخَلْتُ مَعَهُ قَالَ: فَكَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُهُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُهُمْ فِيهَا فَإِذَا جَمَعُوا إِلَيْهِ مِنْهَا أَشْيَاءَ اكْتَنَزَهُ لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ الْمَسَاكِينَ حَتَّى جَمَعَ سَبْعَ قِلَالٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّوَرِقٍ قَالَ وَأَبْغَضْتُهُ بُغْضًا شَدِيدًا لِّمَا رَأَيْتُهُ يَصْنَعُ ثُمَّ مَاتَ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ النَّصَارَى لِيَدْفِنُوهُ فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّ هَذَا كَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُكُمْ فِيهَا فَإِذَا جِئْتُمُوهُ بِهَا اكْتَنَزَهَا لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِ الْمَسَاكِينَ مِنْهَا شَيْئًا قَالُوا: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ؟ قَالَ قُلْتُ: أَنَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِهِ قَالُوا: فَدُلَّنَا عَلَيْهِ قَالَ: فَأَرَيْتُهُمْ مَّوْضِعَهُ قَالَ: فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ سَبْعَ قِلَالٍ مَّمْلُوءَةٍ ذَهَبًا وَّوَرِقًا قَالَ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا: وَاللهِ لَا نَدْفِنُهُ أَبَدًا فَصَلَبُوهُ ثُمَّ رَجَمُوهُ بِالْحِجَارَةِ ثُمَّ جَاءُوا بِرَجُلٍ آخَرَ فَجَعَلُوهُ بِمَكَانِهِ قَالَ: يَقُولُ سَلْمَانُ فَمَا رَأَيْتُ رَجُلًا لَا يُصَلِّي الْخَمْسَ أَرَى أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْهُ أَزْهَدُ فِي الدُّنْيَا وَلَا أَرْغَبُ فِي الْآخِرَةِ وَلَا أَدْأَبُ لَيْلًا وَنَهَارًا مِّنْهُ قَالَ: فَأَحْبَبْتُهُ حُبًّا لَّمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَهُ وَأَقَمْتُ مَعَهُ زَمَانًا ثُمَّ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنِّي كُنْتُ مَعَكَ وَأَحْبَبْتُكَ حُبًّا لَّمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَكَ وَقَدْ حَضَرَكَ مَا تَرَى مِنْ أَمْرِ اللهِ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! وَاللهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا الْيَوْمَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ لَقَدْ هَلَكَ النَّاسُ وَبَدَّلُوا وَتَرَكُوا أَكْثَرَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلًا ‘‘الرمل’’ وَهُوَ فُلَانٌ فَهُوَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ فَالْحَقْ بِهِ قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ الْمَوْصِلِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا أَوْصَانِي عِنْدَ مَوْتِهِ أَنْ أَلْحَقَ بِكَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّكَ عَلَى أَمْرِهِ قَالَ: فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَوَجَدْتُهُ خَيْرَ رَجُلٍ عَلَى أَمْرِ صَاحِبِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَّاتَ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا أَوْصَى بِي إِلَيْكَ وَأَمَرَنِي بِاللُّحُوقِ بِكَ وَقَدْ حَضَرَكَ مِنْ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا تَرَى فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ أَيْ بُنَيَّ! وَاللهِ مَا أَعْلَمُ رَجُلًا عَلَى مِثْلِ مَا كُنَّا عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلاً بِنَصِيبِينَ وَهُوَ فُلَانٌ فَالْحَقْ بِهِ وَقَالَ فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ نَصِيبِينَ فَجِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِي وَمَا أَمَرَنِي بِهِ صَاحِبِي قَالَ: فَأَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى أَمْرِ صَاحِبَيْهِ فَأَقَمْتُ مَعَ خَيْرِ رَجُلٍ فَوَاللهِ مَا لَبِثَ أَنْ نَّزَلَ بِهِ الْمَوْتُ فَلَمَّا حُضرَ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا كَانَ أَوْصَى بِي إِلَى فُلَانٍ ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ فَإِلَى مَنْ تُوصِي؟ بِي وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ أَيْ بُنَيَّ وَاللهِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا بَقِيَ عَلَى أَمْرِنَا آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ إِلَّا رَجُلًا بِعَمُّورِيَّةَ فَإِنَّهُ بِمِثْلِ مَا نَحْنُ عَلَيْهِ فَإِنْ أَحْبَبْتَ فَأْتِهِ قَالَ: فَإِنَّهُ عَلَى أَمْرِنَا قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ عَمُّورِيَّةَ وَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ: أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ مَعَ رَجُلٍ عَلَى هَدْيِ أَصْحَابِهِ وَأَمْرِهِمْ قَالَ وَاكْتَسَبْتُ حَتَّى كَانَ لِي بَقَرَاتٌ وَّغُنَيْمَةٌ قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ بِهِ أَمْرُ اللهِ فَلَمَّا حُضِرَ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ إِنِّي كُنْتُ مَعَ فُلَانٍ فَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ وَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! مَا أَعْلَمُهُ أَصْبَحَ عَلَى مَا كُنَّا عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ وَلَكِنَّهُ قَدْ أَظَلَّكَ زَمَانُ نَبِيٍّ هُوَ مَبْعُوثٌ بِدِينِ إِبْرَاهِيمَ يَخْرُجُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ مُهَاجِرًا إِلَى أَرْضٍ بَيْنَ حَرَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا نَخْلٌ بِهِ عَلَامَاتٌ لَا تَخْفَى يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَلْحَقَ بِتِلْكَ الْبِلَادِ فَافْعَلْ قَالَ: ثُمَّ مَاتَ وَغُيِّبَ فَمَكَثْتُ فِي عَمُّورِيَّةَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَمْكُثَ ثُمَّ مَرَّ بِي نَفَرٌ مِنْ كَلْبٍ تُجَّارًا فَقُلْتُ لَهُمْ: تَحْمِلُونِي إِلَى أَرْضِ الْعَرَبِ وَأُعْطِيكُمْ بَقَرَاتِي هَذِهِ وَغُنَيْمَتِي هَذِهِ قَالُوا: نَعَمْ فَأَعْطَيْتُهُمُوهَا وَحَمَلُونِي حَتَّى إِذَا قَدِمُوا بِي وَادِي الْقُرَى ظَلَمُونِي فَبَاعُونِي مِنْ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَبْدًا فَكُنْتُ عِنْدَهُ وَرَأَيْتُ النَّخْلَ وَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ الْبَلَدَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي وَلَمْ يَحِقَّ لِي فِي نَفْسِي فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ قَدِمَ عَلَيْهِ ابْنُ عَمٍّ لَّهُ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَابْتَاعَنِي مِنْهُ فَاحْتَمَلَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا فَعَرَفْتُهَا بِصِفَةِ صَاحِبِي فَأَقَمْتُ بِهَا وَبَعَثَ اللهُ رَسُولَهُ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ مَا أَقَامَ لَا أَسْمَعُ لَهُ بِذِكْرٍ مَّعَ مَا أَنَا فِيهِ مِنْ شُغْلِ الرِّقِّ ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللهِ إِنِّي لَفِي رَأْسِ عَذْقٍ لِسَيِّدِي أَعْمَلُ فِيهِ بَعْضَ الْعَمَلِ وَسَيِّدِي جَالِسٌ إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ عَمٍّ لَّهُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: فُلَانُ قَاتَلَ اللهُ! بَنِي قَيْلَةَ وَاللهِ إِنَّهُمْ الْآنَ لَمُجْتَمِعُونَ بِقُبَاءَ عَلَى رَجُلٍ قَدِمَ عَلَيْهِمْ مِنْ مَّكَّةَ الْيَوْمَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَخَذَتْنِي الْعُرَوَاءُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَني سَأَسْقُطُ عَلَى سَيِّدِي قَالَ: وَنَزَلْتُ عَنِ النَّخْلَةِ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِابْنِ عَمِّهِ: ذَلِكَ مَاذَا تَقُولُ؟ مَاذَا تَقُولُ؟ قَالَ: فَغَضِبَ سَيِّدِي فَلَكَمَنِي لَكْمَةً شَدِيدَةً ثُمَّ قَالَ مَا لَكَ وَلِهَذَا؟ أَقْبِلْ عَلَى عَمَلِكَ قَالَ: قُلْتُ: لَا شَيْءَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَثْبِتَ عَمَّا قَالَ: وَقَدْ كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ قَدْ جَمَعْتُهُ فَلَمَّا أَمْسَيْتُ أَخَذْتُهُ ثُمَّ ذَهَبْتُ بِه إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ وَهُوَ بِقُبَاءَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ وَّمَعَكَ أَصْحَابٌ لَّكَ غُرَبَاءُ ذَوُو حَاجَةٍ وَّهَذَا شَيْءٌ كَانَ عِنْدِي لِلصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُكُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالَ: فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا وَأَمْسَكَ يَدَهُ فَلَمْ يَأْكُلْ قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذِهِ وَاحِدَةٌ ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْهُ فَجَمَعْتُ شَيْئًا وَّتَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أَكْرَمْتُكَ بِهَا قَالَ: فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا مَعَهُ قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَاتَانِ اثْنَتَانِ ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ وَهُوَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ: وَقَدْ تَبِعَ جَنَازَةً مِّنْ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ شَمْلَتَانِ لَهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَدَرْتُ أَنْظُرُ إِلَى ظَهْرِهِ هَلْ أَرَى الْخَاتَمَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي؟ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ اسْتَدَرْتُهُ عَرَفَ أَنِّي أَسْتَثْبِتُ فِي شَيْءٍ وُّصِفَ لِي قَالَ: فَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ فَعَرَفْتُهُ فَانْكَبَبْتُ عَلَيْهِ أُقَبِّلُهُ وَأَبْكِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: تَحَوَّلْ فَتَحَوَّلْتُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ حَدِيثِي كَمَا حَدَّثْتُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَنْ يَسْمَعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ شَغَلَ سَلْمَانَ الرِّقُّ حَتَّى فَاتَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ بَدْرٌ وَّأُحُدٌ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ فَكَاتَبْتُ صَاحِبِي عَلَى ثَلَاثِ مِائَةِ نَخْلَةٍ أُحْيِيهَا لَهُ بِالْفَقِيرِ وَبِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَعِينُوا أَخَاكُمْ فَأَعَانُونِي بِالنَّخْلِ الرَّجُلُ بِثَلَاثِينَ وَدِيَّةً وَالرَّجُلُ بِعِشْرِينَ وَالرَّجُلُ بِخَمْسَ عَشْرَةَ وَالرَّجُلُ بِعَشْرٍ يَعْنِي الرَّجُلُ بِقَدْرِ مَا عِنْدَهُ حَتَّى اجْتَمَعَتْ لِي ثَلَاثُ مِائَةِ وَدِيَّةٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: اذْهَبْ يَا سَلْمَانُ! فَفَقِّرْ لَهَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَأْتِنِي أَكُونُ أَنَا أَضَعُهَا بِيَدَيَّ فَفَقَّرْتُ لَهَا وَأَعَانَنِي أَصْحَابِي حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْهَا جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَعِي إِلَيْهَا فَجَعَلْنَا نُقَرِّبُ لَهُ الْوَدِيَّ وَيَضَعُهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِيَدِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ مَا مَاتَتْ مِنْهَا وَدِيَّةٌ وَّاحِدَةٌ فَأَدَّيْتُ النَّخْلَ وَبَقِيَ عَلَيَّ الْمَالُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِمِثْلِ بَيْضَةِ الدَّجَاجَةِ مِنْ ذَهَبٍ مِّنْ بَعْضِ الْمَغَازِي فَقَالَ مَا فَعَلَ الْفَارِسِيُّ الْمُكَاتَبُ؟ قَالَ: فَدُعِيتُ لَهُ فَقَالَ: خُذْ هَذِهِ فَأَدِّ بِهَا مَا عَلَيْكَ يَا سَلْمَانُ فَقُلْتُ: وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّا عَلَيَّ؟ قَالَ: خُذْهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُؤَدِّي بِهَا عَنْكَ قَالَ: فَأَخَذْتُهَا فَوَزَنْتُ لَهُمْ مِّنْهَا وَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَأَوْفَيْتُهُمْ حَقَّهُمْ وَعُتِقْتُ فَشَهِدْتُّ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ الْخَنْدَقَ ثُمَّ لَمْ يَفُتْنِي مَعَهُ مَشْهَدٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سےمروی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنی آپ بیتی خود سنائی کہنے لگے : میں اصبہان کی ایک بستی میں جسے ‘‘جئی’’ کہا جاتا تھا کا رہنے والا ایک فارسی شخص تھا، میرے والد اپنی بستی کے کسان تھے ، میں انہیں سب سے زیادہ محبوب تھا، وہ مجھ سے اسی طرح محبت کرتے رہے حتی کہ انہوں نے مجھے اس طرح اپنے گھر میں روک لیا یعنی آگ کا رکھوالا بنا کر جس طرح لڑکی کو روکا جاتا ہے۔ میں نے مجوسیت میں بہت محنت کی حتی کہ میں آگ کا مستقل نگران بن گیا جو آگ کو ایک گھڑی بجھنے نہیں دیتا تھا، میرے والدکی بہت بڑی جاگیر تھی ایک دن وہ گھر کے کام کاج میں مصروف تھے، مجھ سے کہنے لگے بیٹے آج میں گھر میں کام میں مصروف ہوں آپ جاگیر کا چکر لگا آؤ اور کچھ باتوں کا کہا، میں ان کے کام سے نکلا ،میں عیسائیوں کے ایک کلیسے کے پاس سے گزرا میں نے ان کی آواز سنی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں لوگوں کے معاملات کو نہیں جانتا تھا کیونکہ میرے والد نے مجھے گھر تک محدود رکھا تھا۔جب میں ان کے پاس سے گذرا اور ان کی آوازیں سنیں تو ان کے پاس چلا گیا، تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھے ان کی نماز اچھی لگی، اور ان کے معاملےمیں دلچسپی ہونے لگی، میں کہنے لگا واللہ! یہ اس دین سے بہتر ہے جس پر ہم ہیں، واللہ! میں نے غروب آفتاب تک انہیں نہیں چھوڑا اور والد کے کہنے کے مطابق جاگیر پر بھی نہیں گیا۔ میں نے ان سے کہا: اس دین کی اصل کہاں ہے؟ وہ کہنے لگے شام میں ،پھر میں اپنے والد کے پاس آنے لگا جو میری تلاش میں چند لوگ بھیج چکے تھے۔ میں نے ان کو ان کے کام سے بھی مصروف کردیا تھا۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا بیٹے کہاں تھے؟ ، کیا میں نے تمہیں کام سے نہیں بھیجا تھا ؟ میں نے کہا: ابا جان! میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو اپنے کلیسےمیں نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان کا طریقہ دیکھا تو مجھے بہت اچھا لگا ،میں سورج غروب ہونے تک انکے پاس ہی تھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے ! اس دین میں کوئی خیر نہیں ،تمہارا اور تمہارے آباء کا دین اس سے بہتر ہے ، میں نے کہا : ہر گز نہیں اللہ کی قسم! وہ ہمارے دین سے بہتر ہے۔ وہ میرے بارے میں خوف زدہ ہو گیا (کہ کہیں میں ان کا دین نہ قبول کرلوں) اور میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں پھر مجھے اپنے گھر میں قید کر دیا۔ عیسائیوں نے میرے پاس پیغام بھیجا تو میں نے کہا کہ جب تمہارے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب ان کے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آیا تو انہوں نے مجھےاطلاع دی ،میں نے کہا جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر جانے لگیں تب مجھے خبر دینا پھر جب وہ واپس جانے لگے تو انہوں نے مجھے بتایا میں نے اپنے پاؤں سے بیڑیاں نکالیں اور ان کے ساتھ شام آگیا جب میں شام پہنچا تو میں نے کہا: اس دین کے ماننے والوں میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا کنیسا کا پادری۔ میں اس کے پاس آیا اور کہا: مجھے اس دین کا شوق ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کنیسا مین آپ کے ساتھ رہوں کنیسا میں آپ کی خدمت کروں۔ آپ سے تعلیم حاصل کروں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھو ں اس نے کہا: آجاؤ، میں اس کے ساتھ اندر چلاگیا ، وہ ایک برا آدمی تھا۔ لوگوں کو صدقے کی ترغیب دیتا تھا جب لوگ صدقے کی چیزیں جمع کر کے اس کے پاس لاتے تو اپنے پاس محفوظ کر لیتا اور مسکینوں کو اس میں سے کوئی چیز نہ دیتا۔ حتی کہ اس نے سونے چاندی کے سات مٹکے بھر لئے ۔ اسے ایسا کرتے دیکھ کر مجھے اس پر سخت غصہ آیا۔ پھر وہ مرگیا ، عیسائی اسے دفنانے کے لئے جمع ہو ئے میں نے ان سے کہا: یہ ایک برا آدمی تھا، یہ تمہیں صدقے کا حکم اور ترغیب دیتا تھا جب تم صدقہ اس کے پاس لاتے تو اپنے لئے رکھ لیتا اور مساکین کو اس میں سے کوئی چیز نہ دیتا۔ لوگوں نے کہا: یہ بات تمہیں کس نے بتائی؟ میں نے کہا: میں تمہیں اس کے خزانے تک لے چلتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم اس کا خزانہ ہمیں دکھاؤ، میں نے اس کے خزانے کی جگہ انہیں دکھائی انہوں نے وہاں سے سونے چاندی کے بھرے ہوئے سات مٹکے نکالے۔ جب انہوں نے وہ مٹکے دیکھے تو کہا: واللہ ہم تو اسے کبھی بھی دفن نہیں کریں گے۔ لوگوں نے اسے سولی پرچڑھا دیا۔ پھر اسے پتھروں سے رجم کر دیا۔ پھر ایک دوسرے آدمی کو لا کر اس کی جگہ مقرر کر دیا۔ میں نےپانچ نمازیں نہ پڑھنے والوں میں سے (یعنی مسلمانوں کے علاوہ) ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا، دنیا میں انتہائی بے رغبت ،آخرت کی طرف رغبت رکھنے والا، دن اوررات عبادت میں انتہائی محنت کرنے والا۔میں اس سے اتنی محبت کرنے لگا کہ اس سے پہلے کسی سے نہ کی تھی، میں کافی عرصہ اس کے ساتھ رہا، جب وہ فوت ہونے لگا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! میں تمہارے ساتھ رہا اور تم سے اتنی محبت کی جتنی پہلے کسی سے نہ کی تھی۔ اور اب آپ کے لئے اللہ کا حکم آپہنچا ہے۔ اب کس شخص کی طرف جانے کا مجھے حکم دیتے ہیں؟ اور میرے لئے اب کیا حکم ہے؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ آج کے دن میں کسی کو اس دین پر نہیں دیکھتا جس پر میں ہوں، لوگ ہلاک ہوگئے اور انہوں نے دین میں تبدیلیاں کرلیں اور ان اکثر چیزوں کو چھوڑ دیا جن پر اسلاف تھے، سوائے ایک شخص کے جو(موصل)میں ہے۔ اس کا خاص نام بتایا، وہ اسی دین پر ہے جس پر میں ہوں اس سے جا کر موا۔ جب وہ مر گیا اوراسے دفنا دیا گیا تو میں(موصل) والے شخص کے پاس پہنچ گیا۔ اور اس سے کہا: اے فلاں ،فلاں شخص نے اپنی موت کے وقت مجھے وصیت کی تھی کہ میں تم سے ملوں اور اس نے مجھے بتایا تھا کہ تم اس کے دین پر ہو۔ اس نے مجھے کہا: ٹھیک ہے میرے پاس قیام کرو، میں اس کے پاس ٹھہرا رہا میں نے اسے بھی اپنے ساتھی کے دین پر عمل کرنے والا بہترین آدمی پایا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت آگیا جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے مجھے تمہاری طرف بھیجا تھا اور اب تمہارے پاس بھی اللہ کا حکم آگیا ہے، آپ مجھے کس شخص کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہیں اور مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس دین پر ہو جس پر ہم تھے سوائے ایک شخص کے جو(نصیبین) میں ہے۔ فلاں نام ہے اس سے جا ملو۔ جب وہ مرگیا اور اسے دفنا دیا گیا تو میں(نصیبین ) والے سے جا ملا۔ میں اس کے پاس آیا اور اپنا واقعہ بتایا اور میرے ساتھی نے مجھے جو حکم دیا تھا۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے میرے پاس ٹھہرو ۔ میں نے اس کے پاس قیام کیا اور اسے بھی اپنے دونوں ساتھیوں کے دین پر پایا۔ میں نے ایک بہتر شخص کے ساتھ قیام کیا واللہ ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت بھی آگیا ۔جب اس کی موت کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے مجھے فلاں کی طرف وصیت کی، پھر اس نے مجھے تمہاری طرف وصیت کی تم کس شخص کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہو؟ اور مجھے کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ میرے علم میں نہیں کہ ہمارے دین پر کوئی شخص باقی ہے جس کے بارے میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ سوائے ایک آدمی کے جو عموریہ میں ہے، وہ شخص ہمارے دین پر ہے۔ اگر تمہیں پسند ہو تو اس کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ ہمارے دین پر ہے۔ جب وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا تو میں عموریہ والے کے پاس چلا گیا اور اپنا واقعہ بتلایا۔ اس نے کہا: میرے پاس قیام کر لو، میں اس شخص کے پاس ٹھہرا رہا جو اپنے ساتھیوں کے دین اور طریقے پر تھا۔ میں نے کمائی بھی کی حتی کہ میری کچھ گائیں اور مال ہو گیا۔ پھر اس پر بھی اللہ کا حکم نازل ہو گیا، جب اس کی موت کا وقت آگیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں میں فلاں کے پاس تھا ،اس نے مجھے فلاں کے پاس جانے کی وصیت کی ،اس نے مجھے کسی اور کے پاس جانے کی وصیت کی، پھر اس نے مجھے تمہاری طرف جانے کی وصیت کی ۔تم مجھے کس کی طرف آنے کی وصیت کرتے ہو؟ اور مجھے کیا حکم دیتےہو؟ اس نے کہا: بیٹے! اب ایسا وقت آگیا ہے کہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو ہمارے دین پر ہو جس کے بارے میں میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ، لیکن اب ایک نبی کے مبعوث ہونے کا وقت قریب ہے، جو دین ابراہیم کے ساتھ مبعوث ہوگا، عرب کی سر زمین میں اس کا ظہور ہوگا، دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کی طرف ہجرت کرے گا، جس میں کھجوریں ہیں، اس میں ایسی علامات ہیں جو مخفی نہیں،تحفہ قبول کرے گا، صدقہ نہیں کھائے گا، اس کے کاندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی، اگر تم میں اتنی طاقت ہے کہ اس سے جا ملو تو ایسا کر گزرو۔ پھر وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا جب تک اللہ نے چاہا میں (عموریہ) میں ٹھہرا رہا، پھر بنو کلب کا ایک تجارتی قافلہ میرے پاس سے گزراتو میں نے ان سے کہا: تم مجھے سر زمین عرب تک لے چلو ، میں اپنی ساری گائیں اور بکریاں تمہیں دے دوں گا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں نے انہیں ساری گائیں اور بکریاں دے دیں اور انہوں نے مجھے سوار کر لیا ،حتی کہ جب وادی قریٰ میں پہنچے تو مجھ پر ظلم کرتے ہوئے ایک یہودی شخص کے ہاتھ غلام بنا کر بیچ دیا ،میں اس کے پاس ٹھہرا رہا ، میں نے کھجوریں دیکھیں، مجھے امید تھی کہ یہ وہی شہر ہے جس کے بارے میں مجھے میرے ساتھی نے بتایا تھا ، لیکن ابھی مجھے پختہ یقین نہیں تھا، میں اس یہودی کے پاس ہی تھا کہ بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا اس کے چچا کا بیٹا مدینے سے اس کے پاس آیا اور اس سے مجھے خرید لیا ، اور مدینے لے آیا ۔ واللہ جب میں نے وہ علاقہ دیکھا تو اپنے ساتھی کے بتائے ہوئے وصف کی بنا پر اسے پہچان لیا۔ میں وہیں ٹھہرا رہا ، اللہ نے اپنے رسول کو مکہ میں مبعوث کر دیا ، اور وہ مکہ میں قیام پذیر رہا جب تک اللہ نے چاہا میں غلامی کی مصیبت میں ہونے کی وجہ سے اس کا تذکرہ نہیں سن سکا۔ پھر اس نے مدینے کی طرف ہجرت کی ۔ واللہ میں ایک کھجور کی چوٹی پر چڑھا کوئی کام کر رہا تھا، میرا مالک نیچے بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس کے چچا کا بیٹا اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گاو اور کہنے لگا: اللہ بنی قیلہ کو برباد کرے وہ اس وقت(قباء) میں اس شخص کے پاس جمع ہو رہے ہیں جو آج مکہ سے آیا ہے، ان کا خیال ہے کہ وہ نبی ہے۔جب میں نے یہ بات سنی تو مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی ،حتی کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر جاؤں گا۔ میں نیچے اترا اور اس کے چچا کے بیٹے سے پوچھنے لگا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ تم کیا کہہ رہےتھے؟ میرا مالک غصے ہوگیا اورایک شدید قسم کا گھونسہ رسید کردیا پھر کہنے لگا:تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اپنے کا م پر توجہ دو، میں نے کہا: کچھ نہیں میں تو ویسے ہی یہ بات پوچھ رہا تھا۔ میرے پاس کچھ سامان تھا جو میں نے جمع کیا تھا ، شام ہوئی تو میں وہ سامان لے کر رسول اللہ ﷺکے پاس پہنچا آپ قبا میں تھے ، میں آپ کے پاس آیا تو کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے غریب حاجتمند ساتھی ہیں، میرے پاس یہ کچھ سامان صدقے کے لئے ہے، تو میرے خیال میں آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؟ میں نےوہ سامان آپ کی طرف بڑھا دیا۔ رسول اللہ ﷺنے اپنے صحابہ سے کہا: کھاؤاور اپنا ہاتھ روک لیا، آپ نے اس میں سے نہیں کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا : یہ پہلی نشانی ہے۔ پھر میں واپس لوٹ آیا اور کچھ چیزیں جمع کیں رسول اللہ ﷺمدینے آگئے میں آپ کے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے ، یہ آپ کے لئے تحفہ ہے، رسول اللہ ﷺنے اس میں سے کھا لیا اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تو انہوں نے بھی اس میں سے کھا لیا ،میں نے اپنے دل میں کہا: یہ دوسری نشانی ہے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺکے پاس آیا آپ بقیع الغرقد میں تھے اور اپنے کسی صحابی کے جنازے میں شریک تھے ۔آپ کے اوپر دو چادریں تھیں اورآپ صحابہ میں بیٹھےتھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا، پھر میں گھوما، آپ کی پشت کی طرف آکر دیکھا کہ کیا میں وہ مہر دیکھ سکتا ہوں جو میرے ساتھی نے مجھے بتائی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺنے مجھے اس طرح گھومتے دیکھا تو جان گئے کہ میں ایسی چیز کا ثبوت تلاش کر رہا ہوں جو مجھے بیان کی گئی ہے۔ آپ نے اپنی کمر سے چادر گرادی میں نے اس مہر کی طرف دیکھا تو پہچان گیا، میں اس سے چمٹ گیا اسے بوسہ دینے لگا اور ساتھ ساتھ رونے لگا۔ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا کہ پیچھے ہو جاؤ۔ میں اس سے ہٹ گیا اور آپ کو اپنی داستان سنائی جس طرح اے ابن عباس: میں نے آپ کو سنائی ہے رسول اللہ ﷺکو یہ بات پسند آئی کہ میں اپنی داستان آپ کے صحابہ کو سناؤں، اس کے بعد سلمان غلام ہی رہے ،غلامی کی وجہ سے غزوہ بدر و احد میں شریک نہ ہو سکے ، پھر رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا: سلمان! مکاتبت کر لو۔ میں نے اپنے مالک سے پانی کے راستے پر تین سو کھجور کے درخت لگانے اور چالیس اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کرو، لوگوں نے کھجور کے درختوں کے پنیری کے ساتھ میری مدد کی، کوئی آدمی تیس کھجوریں ، کوئی آدمی بیس، کوئی پندرہ ، کوئی دس لے آیا یعنی جس آدمی کی جتنی استطاعت تھی اس نے میری مدد کی ،حتی کہ میرے لئے تین سو کھجور کی پنیری گئی۔ جمع ہوگئیں، رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا: سلمان جاؤ ان کے لئے گڑھے کھودو، جب گڑھے کھود کر فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس آجانا ،میں انہیں اپنے ہاتھ سے رکھوں گا۔ میں نے ان کے لئے گڑھے کھودے، میرے ساتھیوں نے میری مدد کی ،جب میں ان سے فارغ ہو گیا تو آپ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺمیرے ساتھ نکل پڑے۔ ہم کھجور کے پودے آپ کے قریب کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺانہیں اپنے ہاتھ سے رکھنے لگے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے، ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مر جھایا، میں نے وہ کھویریں اسے دے دیں باقی مال میرے ذمے رہا۔ رسول اللہ ﷺکے پاس مرغی کے انڈے کے برابر سونے کی ڈلی کسی معرکے میں سے آئی تو آپ نے فرمایا: فارسی کا کیا حال ہے؟ مجھے بلایا گیا، آپ نے فرمایا: یہ پکڑو اور تم پر جو ہے اسے ادا کردو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول !مجھ پر جو رقم ہے یہ اس کے برابر کہاں پہنچ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسے لے لو اللہ عزوجل اس کے ذریعے تمہاری رقم ادا کردے گا۔ میں نے وہ ڈلی لے لی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے، اس ڈل سے میں نے ان کو چالیس اوقیے وزن کرکے دئیے۔ میں نے ان کا حق انہیں ادا کیا ، مجھے آزاد کر دیا گیا پھر میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ خندق میں حاضر ہوا اس کے بعد پھر کسی معرکہ میں بھی پیچھے نہیں رہا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 264

عَنِ الْبَرَاءِ مَرفُوعاً: أَفْشُوا السَّلَامَ تسلموا.
براء‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : سلام کو عام کرو ، تم سلامت رہو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 265

عَنِ ابْن عُمَرَ مَرفُوعاً: أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللهُ عَزَّ وَجَلّ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے :سلام کو عام کرو،کھانا کھلاؤاورجس طرح اللہ نےتمہیں حکم دیاہےاس طرح بھائی بھائی ہوجاؤ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 266

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم :اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلَابَ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى. ورد من حدیث ابن عمر و عائشہ رضی اللہ عنھم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں اور کتوں کو قتل کرو اور ذَا الطُّفْيَتَيْنِ (دو دھاری سانپ) وَالْأَبْتَرَ (چھوٹا دم کٹا سانپ)کو قتل کرو، کیونکہ یہ نظروں کو اچک لیتے ہیں اور اور حاملہ عورتوں کے حمل گرادیتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 267

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرفُوعاً: أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ فَإِنَّ لِلهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ فِي الْأَرْضِ فِي تِلْكَ السَّاعَة.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : رات ہونے کے بعد باہر نکلنا کم کر دو کیونکہ اللہ کے کچھ جانور ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اسی گھڑی میں زمین کے اندر پھیلا دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 268

عَنْ هِشَامِ بن عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : يا رَسول الله! كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي، فَقَالَ لَهَا رَسُول صلی اللہ علیہ وسلم :اكْتَنِي (بِابْنِكِ عَبْدِ اللهِ يعني: ابْنَ الزُّبَيْرِ) أَنتِ أُمُّ عَبْدِ اللهِ، قَالَ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَبْدِ اللهِ، حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی تمام بیویوں کی کنیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا:(اپنے بیٹے عبداللہ، یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما)کے نام پر کنیت رکھ لو، تم ام عبداللہ ہو، انہیں ام عبداللہ کہا جاتا رہا حتی کہ فوت ہو گئیں ۔لیکن ان کی کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 269

عن شقيق ، قال : لَبّٰى عَبْدُ اللهِ رضی اللہ عنہ ، على الصَّفَا ثُم قَالَ: يَا لِسَانُ، قُلْ خَيْرًا تَغْنَمْ، اُسْكُتْ تَسْلَمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدَمَ، قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَحْمَن! هَذَا شَيْءٌ أنت تَقُولُه أَوْ سَمِعتَه؟ قَالَ: لَا، بَل، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ:أَكْثَرُ خَطَايَا ابنِ آدَمَ فِي لِسَانِهِ.
شقیق سے مروی ہے کہ عبداﷲ رضی اللہ عنہ نے صفا پر تلبیہ کہا پھر کہا: اے زبان اچھی بات کہو انعام حاصل کروگی، خاموش رہو شرمندہ ہونے سے سلامت رہوگی۔ لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن یہ بات تم خود کہہ رہے ہو یا تم نے کسی سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ میں نے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرمارہے تھے۔ ابن آدم کی اکثر خطائیں اس کی زبان میں پوشیدہ ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 270

عَنْ فُضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ.
فضالہ بن عبید‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: کیا میں تمہیں مومن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جس سے لوگوں کے اموال اور جانیں محفوظ رہیں (وہ مؤمن ہے)، اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مجاہدوہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے اور مہاجر وہ ہے جو خطائیں اور گناہ چھوڑ دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 271

عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ :« أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً ؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ :« رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ ». أَوْ قَالَ :« فَرَسٍ فِى سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ ». قَالَ :« فَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِى يَلِيهِ؟ ». قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ :« امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِى شِعْبٍ يُّقِيمُ الصَّلاَةَ وَيُؤْتِى الزَّكَاةَ ، وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ قَالَ:« فَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً؟ ». قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ :« الَّذِى يُسْأَلُ بِاللهِ العَظِيم وَلاَ يُعْطِى بِهِ ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں درجات کے لحاظ سے بہترین شخص کے بارےمیں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ وہ آدمی جو اللہ کے راستے میں گھوڑے کا سر یا گھوڑا تھامے ہوئے ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس کے قریب ترین ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص جو کسی گھاٹی میں تنہا ہے ، نماز قائم کرتا ہے ، زکاۃ ادا کرتا ہے اور لوگوں سے علیحدہ رہتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں درجات کے لحاظ سے بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر مانگا جاتا ہے لیکن وہ دیتا نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 272

عَن ابْنِ عَبَاسٍ مَرْفُوعاً: أَلا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِّنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُوْرُه إِلَّا لِلهِ عَزَّوَجَلَّ۔ وَنِسَاؤُكُمُ مِّنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ الْـوَدُودُ الْوَلُـوْدُ العَؤُوْدُ عَلىٰ زَوْجِهَـا الَّتِيْ إِذَا غَضِبَ جَآءَتْ حـَتّٰى تَضَعَ يَدَهَا فِيْ يَدِ زَوْجِهَا وَتَقُوْلُ لَا أَذُوْقُ غَمْضًا حَتَّى تَرْضَى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ نبی جنت میں ہوگا، سچ بولنے والا جنت میں ہوگا، شہید جنت میں ہوگا، بچہ جنت میں ہوگا، وہ شخص جنت میں ہوگا جو شہر کے کسی کونے میں اپنے بھائی سے ملاقات صرف اللہ کے لئے کرتا ہے ۔ تمہاری بیویاں بھی جنت میں ہونگی جو اپنے شوہروں سے بہت زیادہ محبت کرنے والی ، زیادہ بچے جننے والی اور بار بار شوہر کی طرف آنے والی ہوں گی۔ وہ بیوی جب ان کا شوہر ناراض ہو جائے تو آکر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھےاورکہےجب تک تم راضی نہیں ہوگے میں ایک لقمہ بھی نہیں چکھوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 273

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَّكُوْنَ نَاكِحًا أَوْ مَحْرَمٍ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار کوئی شخص کسی بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کے پاس تنہائی میں رات نہ گزارے ،یا تو وہ خاوند ہو یا پھر اس کا محرم ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 274

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَّنْ تُخْلِفَنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُّهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَّزَكَاةً وَّقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں جس کے خلاف نہ کرنا، کیونکہ میں بشر ہوں، جس مومن کو میں نے تکلیف دی ہو،برا بھلا کہاہو،لعنت کی ہو، یا مارا ہو تو یہ اس کے لئے رحمت پاکیزگی اور قربت کا ذریعہ بناد ے، جس کے ذریعے تو قیامت کے دن اسے قریب کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 275

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا) فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَّفَرَّقَ شَعْرُهُ فَقَالَ: أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ؟ وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ وَعَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ: أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَّغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے(ہمارے گھر ملاقات کرنے کے لئے آئے) آپ نے ایک پراگندہ حال بکھرے بالوں والا آدمی دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا اسے کوئی ایسی چیز میسر نہیں جو اس کے بالوں کو بٹھادے؟ ایک آدمی کو دیکھا جس نے گندے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا اسے پانی میسر نہیں جس کے ذریعے یہ اپنے کپڑے دھو سکے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 276

عن ابن عمر ، مرفوعا: « أَمَرَنِي جِبْرِيل أَن أُقَدِّمَ الْأَكَابِر »
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ : جبرئیل علیہ السلام نے مجھے حکم دیا کہ میں بزرگوں کو مقدم رکھوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 277

عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأسلَمي قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ قَالَ أَمِطِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ فَإِنَّهُ لَكَ صَدَقَة.
ابو برزہ اسلمی سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے کسی عمل کے بارے میں حکم دیجئے جو میں کر سکوں؟ آپ نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو کیونکہ یہ تمہارے لئے صدقہ ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 278

عَنْ عُقْبَةَ بْن عَامِرٍ الجُهني قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ
عقبہ بن عامر جہنی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نجات کن اعمال کے کرنے میں ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنی زبان روک کر رکھو، اپنے آپ کو گھر تک محدود رکھو (بغیر ضرورت گھر سے مت نکلو)، اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 279

) عن أسود بن أصرم المحاربي قال : قلت : يَا رَسُـول الله ، أَوْصِـنِي . قال : « املك يَـدَك » وفي روايـة: لَا تَبْسُطْ يَدَك إِلَا إلى خَيْر.
اسود بن اصرم محاربی سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا: اپنے ہاتھ پر قابو رکھو اور دوسری روایت میں ہے کہ اپنے ہاتھ کو نیکی کے علاوہ نہ کھولنا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 280

عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى مَجْلِسٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَجْلِسُوا فَاهْدُوا السَّبِيلَ وَرُدُّوا السَّلَامَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ
براء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اگر تم راستے میں بیٹھنے پر بضد ہو تو (مسافروں کو) راستے کی رہنمائی کرو، سلام کا جواب دو اور مظلوم کی مدد کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 281

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ لَهُ: إِنْ أَرَدْتَّ تَلْيِيْنَ قَلْبِكَ فَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس کا دل بہت سخت ہے۔ آپ نے اس سے کہا: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے تو مسکین کو کھانا کھلاؤ، اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 282

عن عائشة رضی اللہ عنہا مرفوعا: إِن أُعَظم النَّاس جُرْمًا إِنْسَان شَاعِر يَّهْجُو الْقَبِيلَة من أَسرهَا وَرَجُل تَنَفِّى من أَبِيه
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ : جرم کے لحاظ سے سب سےبڑا شخص وہ شاعر ہے جوپورے قبیلے کی ہجو کرتا ہے اور وہ شخص ہے جو اپنے باپ کا انکار کرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 283

عَنْ عَائِشَةَ أنها قَالَـتْ: قَالَ رَسُـولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَعْظَـمَ النَّـاسِ فِرْيَـةً لَّرَجُلٌ هَجَا رَجُلًا فَهَجَا الْقَبِيلَةَ بِأَسْرِهَا وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ وَزَنَّي أُمَّهُ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ(جھوٹ)کے لحاظ سے سب سے بڑا مجرم وہ آدمی ہے کہ کسی نے اس کی ہجو کی تو اس نے اس کے پورے قبیلے کی ہجو کردی۔ اور وہ آدمی جو اپنے باپ کا انکار کرکے اپنی ماں کو زانیہ قرار دے دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 284

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مرفوعاً: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ تَخَلُّلَ الْبَاقِرَةِ بِلِسَانِهَا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یقیناً اللہ عزوجل چرب زبان سے بغض رکھتا ہے۔ وہ شخص جو اپنی زبان کو اس طرح گھماتا ہے جس طرح گائے (جگالی کرتے ہوئے) اپنی زبان گھماتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 285

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ الْعَقِيْقَةِ؟ فَقَالَ: إن الله لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الْاِسْمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا نَسْأَلُكَ أَحَدُنَا يُولَدُ لَهُ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُم أَنْ يَّنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ عَنِِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نا فرمانی کو پسند نہیں کرتا گویا کہ آپ نے اس نام کو نا پسند کیا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ہم اپنے کسی شخص کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس کے ہاں کو ئی بچہ پیدا ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: جو شخص پسند کرے کہ اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرے تو وہ کر لے لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 286

عَنْ حُسَيْنِ بن عَلِيٍّ ، مَرفوعاً: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الأُمُورِ وأَشْرَافَهَا ، وَيَكْرَهُ سَفَسَافِهَا .
حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ رفعت و عزو شرف والے معاملات کو پسند کرتا ہےاور برے معاملات کو نا پسند کرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 287

عن أنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال : قال رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِن الرُّؤْيَا تَقَع عَلَى ما تُعْبَرُ، وَمَثَلُ ذَلِك مَثَلُ رَجَلٍ رَفَع رِجُلَه فَهُو يَنْتَظِر مَتًى يَضَعَهَا ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُم رُؤْيَا فَلَا يحدث بِهَا إِلَا نَاصِحًا أَو عَالِمًا ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب اسی طرح واقع ہو جاتا ہے جس طرح اس کی تعبیر بیان کی جائے ۔ اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے اپنی ایک ٹانگ اٹھا رکھی ہے اور وہ منتظر ہے کہ کب اسے رکھے۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص خواب دیکھے تو کسی خیر خواہ یا عالم کے علاوہ کسی کو نہ بیان کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 288

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَّهُ فِي قَرْيَةٍ فَأَرْصَدَ اللهُ تعالى عَلى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ المَلَكُ قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ أُزُور أَخًا لِّي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ: هَلْ لَّكَ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ (تَرُبُّهَا)؟ قَالَ: لَا إلَا أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكَ أَنَّ اللهَ عزوجل قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ لَه.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ایک آدمی کسی بستی میں اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کے لئے چلا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتہ بٹھا دیا، وہ اس کے پاس سے گزرا تو فرشتے نے پوچھا تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا: اس بستی میں میرا بھائی ہے اس سے ملنے جا رہا ہوں، فرشتے نے کہا: کیا تم نے اس پر کوئی احسان کیا تھا(جس کا بدلہ لینے جا رہے ہو)؟ اس نے کہا:نہیں بس میں اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا:میں تمہاری طرف اللہ کا پیغامبر بن کر آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے اسی طرح محبت کرتا ہے جس طرح تونے اللہ کے لئے اس سے محبت کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 289

عَنْ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللهِ لَا يَغْفِرُ اللهُ لِفُلَانٍ وَإِنَّ اللهَ قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ؟ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُّ عَمَلَكَ أَوْ كَمَا قَالَ
جندب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ کون ہوتا ہے جو میرے بارے میں بات کر تا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے فلاں کو بخش دیا اور اس شخص کے عمل ضائع کر دیئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 290

عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ
بلال بن حارث‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: کبھی آدمی اللہ کی خوشنودی کی ایسی بات زبان سے نکال دیتاہے جس کے بارے میں اسے گمان تک نہیں ہوتا کہ بلنددرجے تک پہنچ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت کے دن اپنی خوشنودی لکھ دیتے ہیں۔ اور کبھی آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایسی بات زبان سے نکال دیتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان تک نہیں ہوتا کہ یہ انتہائی نچلے درجے کیہوگی۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لئے اس بات کی وجہ سے ناراضگی لکھ دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 291

عَنْ أنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :إِنَّ السَّلامَ اِسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَضَعَهُ فِي الأَرْضِ فَأَفْشُوا السَّلامَ بَينَكُمْ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اس نے دنیا میں رکھ دیا ہے اس لئے آپس میں سلام کو عام کیا کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 292

عَنْ عَبْدِ اللهِ، مرفوعا: إِنَّ السَّلامَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَضَعَهُ الله فِي الأَرْضِ، فَأَفْشُوهُ فِيكُمْ، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ فَرَدُّوا عَلَيْهِ، كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ فَضْلُ دَرَجَةٍ، لأَنَّهُ ذَكَّرَهُمْ، فَإِنْ لَّمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِّنْهُمْ وَأَطْيَبُ
سیدنا عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رکھ دیا ہے ۔ اس لئے آپس میں سلام کو عام کرو، کیونکہ جب آدمی کسی قوم پر سلام بھیجتا ہے اور وہ اس کا جواب دیتے ہیں تو اس کے لئے ان پر فضیلت ہوتی ہے کیونکہ اس نے انہیں یاد دہانی کروائی۔ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو جو ان سے بہتر اور پاکیزہ ہے وہ اس کا جواب دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 293

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الْعَبْدَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيْهَا يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ کبھی ایسی بات کرتا ہےجسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس بات کی وجہ سے وہ مشرق و مغرب میں دوری سے بھی زیادہ جہنم کی گہرائی میں گرجاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 294

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَيِّدًا، وَّإِنَّ سَيِّدَ الْمَجَالِسِ قُبَالَةَ الْقِبْلَةِ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً ہر چیز کا سردار ہوتا ہےاور مجالس کا سرداروہ ہے جو جس کی طرف رخ کرکے شرکائے مجلس بیٹھے ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 295

عن حذيفة بن اليمان ، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: « إِن الْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِي الْمُؤْمِنَ فَسَلَّم عليه ، وَأَخَذ بِيَده ، فَصَافَحَه ، تناثرت خطاياهما ، كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَق الشَّجَر ».
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب مومن سے ملتا ہے اور اسے سلام کہتا ہے ، اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو ان دونوں کی خطائیں اس طرح جھڑجاتی ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 296

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ مَرفُوعاً: إِنَّ مَسَابّٰكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَابٍ عَلَى أَحَدٍ وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤُوهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَّكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّـا بَخِيلًا جَبَانًا.
عقبہ بن عامر جہنی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ تمہارا ایک دوسرے کے نسب میں عیب جوئی کرنا کسی کے حق میں عیب کی بات نہیں ہے، تم تو آدم کی اولاد ہو جوایک دوسرے کے برابرہیں،کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے دین یا نیک عمل کے،آدمی کے تباہ ہونےکےلئے یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو بدگو، بخیل اور بزدل ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 297

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَآءَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ (وفي رواية لأحمد: فَجَعَلَ يُثْنِي عَلَيْهِ) فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو(دیا تی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ایک واضح بات کرنا شروع کی(اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آپ کی تعریف کرنے لگا) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں ارو بعض اشعار پُرحکمت ہوتےہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 298

عَنْ أُبَيّ بْنَ كَعْبٍ مَرفُوعاً: إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حِكْمَةً.
ابی بن کعب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : بعض اشعار پرحکمت ہوتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 299

عَنْ هَانِئِ بن يَزِيدَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ!، دُلَّنِي عَلَى عَمِلٍ يُّدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ مِنْ مّوجِبَاتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ السَّلامِ، وَحُسْنُ الْكَلامِ.
ہانی بن یزید سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کی راہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔آپ نے فر مایا: یقینا مغفرت کو واجب کرنے والی چیزوں میں سے سلام پھیلانا اور اچھی بات کرنا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 300

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يهودي على رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ يا محمد! فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : وَعَلَيْكَ فَقَالَتْ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فعلمت كراهية النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لذلك فسكتُّ ، ثم دخل آخر فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ: عَلَيْكَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فعلمت كراهية النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لذلك ثم دخل الثالث فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ فلم أصبر حتى قلت : وعليك السام وَغَضَبُ اللهِ وَلَعْنَتُه إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَتَحَيُّونَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللهُ؟ فَقَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا: قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ إِن الْيَهُود قَوْم حُسُّدٌ ، وَإِنَّهُم لَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى شَيْء كَمَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى السَّلَام ، وَعَلَى آمين ».
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: السام علیک یا محمد(اے محمد آپ پر ہلاکت ہو) ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلیک(اور تجھ پربھی) ۔عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بولنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آئے۔ میں خاموش رہی۔ پھر دوسرا یہودی داخل ہوا اس نے بھی یہی کہا: السام علیک، میں نےبولنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پھر ناپسندیدگی کے آثار نظر آئے۔ پھر تیسرا یہودی داخل ہوا اور کہا: السام علیک، مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں نے کہہ دیا : وعليك السام وغضب اللہ ولعنته، اخوان القردة والخنازیر(تم پر بھی ہلاکت ہو اور اللہ کا غضب اور اس کی لعنت بندروں اور خنزیر کے بھائیو)تم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو ایسا سلام کہہ رہے ہو جو اللہ تعالیٰ نے انہیں نہیں کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ فحش کو پسند نہیں کرتا نہ ہی تکلف سے فحش کہنے کو پسند کرتا ہے انہوں نے ایسی بات کہی تو ہم نے بھی انہیں جواب دے دیا۔ یقیناً یہودی حاسد قوم ہےکسی چیز پر یہ ہم سے اتا حسد نہیں کرتے جتنا حسد یہ ہم سے”سلام “اور”آمین“ پر کرتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 301

عن أَنس قال : لَمَا حَضَرَت أبا سَلمْة الْوَفَاة قَالَت أَم سَلمْة : إلى من تَكِلنِي ؟ فَقَال : اللَّهُمّ إِنَّك لَأم سَلمْة خَيْر من أبي سَلمْة ، فَلَمَا تُوَفِّي خَطَبَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقَالَت : إِنِّي كَبِيرَة السِّنّ ، قال : أَنا أكبر مِنْك سنا ، وَالْعِيَال عَلَى الله وَرَسُوله ، وَأَمَّا الْغَيْرَة فَأَرْجُو الله أَن يُذْهِبهَا ، فَتَزَوَّجَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَأَرْسَل إِلَيْهَا برحايَيَنِ ، وَجَرَۃً للماء.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ہیںس کس کے سپرد کر کے جار ہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ ! ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے لئے تو ابو سلمہ رضی اللہ عنہا سے بہتر ہے۔ جب وہ فوت ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بڑی عمر کی ہوں آپ نے فرمایا: میں عمر میں تم سے بڑا ہوں۔ اور بچوں کی کفالت اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہے، رہی بات غیرت کی تو میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ اللہ اسے لے جائیگا ،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی اور ان کی طرف دو چکیاں اور پانی کا ایک مٹکا بھیجا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 302

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرفُوعاً: أَنَا زَعِيمُ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ببیت فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ببیت فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ.
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میں اس شخص کے لئے جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ حق پر بھی ہو اور اس شخص کے لئے جنت کے وسط میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہ بولےاور جو اپنے اخلاق کو اچھا کرلے اس کے لئے جنت کے اعلےٰ درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 303

عن جابر بن صخر ، قال : سمعتُ النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يقول : « إِنَّا نُهِينَا أَن تُرَى عَوْرَاتُنَا ».
جابر بن صخر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہمارے ستَر(شرمگاہ) دیکھے جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 304

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ مَرفُوعاً: أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَلِيلًا
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ آپ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں میں تھوڑا سا فرق رکھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 305

) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ أَنْتِ جَمِيلَةُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ(نا فرمانی کرنے والی)نام تبدیل کیا اور فرمایا: تم جمیلہ ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 306

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ: مَا اسْمُكَ قَالَ: حَزْنٌ قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ قَالَ: لَا السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ.
سعید بن مسیب اپنے والد سےوہ ان کےدادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا حزن غم آپ نے فرمایا تم سہل(نرمی) ہو۔ انہوں نے کہا نہیں، نرمی روند دی جاتی ہے اور اسے حقیر و معمولی سمجھا جاتا ہے۔ سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں سختیوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 307

عن جَابَر مرفوعا: انْطَلقُوا بِنَا إلى الْبَصِير الذى في بَنِى وَاقِف نَعُودُه قال وكان رَجُلًا اعمى.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہمارے ساتھ بصیر کی طرف چلو جو بنو واقف میں ہے کہ ہم اس کی عیادت کریں وہ ایک نابینا آدمی تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 308

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلٌ يُّقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَامِسَ خَمْسَةٍ فَدَعَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَّهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ قَالَ: بَلْ أَذِنْتُ لَهُ.
ابو مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری شخص تھا اسے ابو شعب کہا جاتا تھا۔ اس کا ایک غلام قصاب تھا ۔ اس نے کہا میرے لئے کھانا بناؤ، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں گا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کی آپ کے پیچھے ایک اور آدمی چلنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ہم پانچ آدمیوں کی دعوت کی تھی اور یہ آدمی ہمارے پیچھے پیچھے آرہا ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اور اگر چاہو تو نہ دو۔ اس نے کہا نہیں میں نے اسے اجازت دے دی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 309

إِنَّهُ اتَّبَعَنَا رَجُلٌ لَّمْ يَكُنْ مَعَنَا حِينَ دَعَوْتَنَا فَإِنْ أَذِنْتَ لَهُ دَخَلَ جَاءَ من حديث أَبِي مَسْعُودٍ البَدري، وجابر بن عبدالله. هذا لفظ حديث أَبِي مَسْعُود البدري قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُّقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ إِلَى غُلَامٍ لَّهُ لَحَّام فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَّكْفِي خَمْسَةً فَإِنِّي رَأَيْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌و