AL SILSILA SAHIHA

Search Result (73)

20)

20) علم، سنت اور حدیث نبوی کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2434

عَنْ حُسَيْنِ بن عَلِيٍّ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَبَّأَ لابْنِ صَيادٍ (دُخَانًا)، فَسَأَلَهُ عَمَّا خَبَّأَ لَهُ؟ فَقَالَ: دُخٌ فَقَالَ: اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا قَالَ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: دُخٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَالَ: زُخٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، وَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلافًا.
حسین بن علی بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابن صیاد کے لئے اپنے دل میں(دھواں)کا تصور کیا اور اس سے سوال کیا کہ دل میں کس چیں کا ارادہ کیا ہے؟ اس نے کہا : دخ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چل دور ہو، تو اپنی بساط سے آگے کبھی نہ بڑھ سکے گا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو پوچھا کہ اس نے کیا کہا: کسی نے کہا کہ اس نے دخ کہا تھا، اور کسی نے کہا کہ اس نے رخ کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ہوتے ہوئے تم اختلاف میں پڑگئے ہو، اور میرے بعد تو تم شدید ترین اختلاف میں مبتلا ہو جاؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2435

عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا فَلَا تَزِيدَنَّ عَلَيّ وَقَالَ: أَرْبَعٌ مِّنْ أَطْيَبِ الْكَلَامِ وَهُنَّ مِنَ الْقُرْآنِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِهِي وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ: لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ أَفْلَح وَلَا نَجِيحًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا (فَإِنَّكَ تَقُوْلُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَلَا يَكُوْنُ، فَيَقُوْلُ: لَا).
سمرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں تمہیں کوئی حدیث بیان کروں تو اس میں اضافہ مت کیا کرو اور فرمایا: چار عمدہ کلمات ہیں،اور یہ قرآن سے ہیں،جس سے بھی شروع کرو تمہیں نقصان نہیں دیں گے۔ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِهِع وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، پھر فرمایا:اپنے بچے کا نام افلح (کامیاب ترین)نجیح( کامیاب)،رباح(نفع مند)اور یسار(آسان )نہ رکھو۔ (کیوں کہ تم کہو گے کیا (افلح یا نجیح) وہاں موجود ہے؟ اگر وہاں موجود نہیں ہوگا تو (جواب دینے والا) کہے گا: نہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2436

عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا سَمِعْتُمْ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ وَتَنْفِرُ مِنْه أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ.
ابو حمیداورابو اسید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے بارے میں کوئی بات سنو جس سے تمہارے دل مانوس ہو ں اور تمہارے رونگٹے اور جسم ڈھیلے پڑ جائیں (یعنی تمہیں اطمینان ہو جائے)اور تم سمجھو کہ یہ بات تم سے قریب ہے تو میں تم سے زیادہ اس کے قریب ہوں، اور جب تم میرے بارے میں کوئی بات سنو، جس سے تمہارے دل ناما نوس ہوں،تمہارے رونگٹے اور جسم تن جائیں اور تم سمجھو کہ یہ تم سے بعید ہے تو میں تم سے زیادہ اس سے دور ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2437

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الجهني قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: مَتَى أَوْلَجْتَ خُفَّيْكَ فِى رِجْلَيْكَ؟ قُلْتُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ: فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا؟ قُلْتُ: لاَ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن شام سے مدینے کی طرف نکلا، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: تم نے اپنے موزےپاؤں میں کب داخل کئے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے دن، انہوں نے کہا: کیا تم نے انہیں اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: تم نے سنت پر عمل کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2438

عَن ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطُفُ بِالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِّنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَه رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ثُمَّ أَخَذَه رَجُلٌ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ! بِأَبِي أَنْتَ وَاللهِ لَتَدَعَنِّي فَأَعْبُرَهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : اعْبُرْهَا. قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطُفُ مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ تَنْطُفُ فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللهُ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِه رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللهِ! بِأَبِي أَنْتَ! أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ: فَوَاللهِ لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ: لَا تُقْسِمْ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہےکہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بادل ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ہاتھوں میں اسے بھر رہے ہیں کچھ زیادہ لینے والے تھے اور کچھ کم، اچانک آسمان سے زمین تک ایک سیڑھی نظر آئی، میں نے آپ کو دیکھا آپ نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ پھر ایک دوسرے شخص نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے اسےپکڑا اور اوپر چڑھ گیا، پھر ایک اور شخص نے پکڑا لیکن وہ سیڑھی ٹوٹ گئی، پھر وہ جوڑی گئی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! واللہ آپ مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے تعبیر بیان کرو) ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بادل کا ٹکڑا اسلام ہے، اور اس سے جو گھی اور شہد ٹپک رہا ہے وہ قرآن اور اس کی مٹھاس ہے، کوئی قرآن سے زیادہ حاصل کر رہا ہے اور کوئی کم، آسمان سے زمین کی طرف معلق سیڑھی حق ہے جس پر آپ ہیں آپ اسے پکڑے رہیں گے،اور اللہ تعالیٰ آپ کو اٹھالے گا، پرک ایک اور شخص پکڑے گا اور اوپر چڑھ جائے گا، پھر ایک اور شخص اس حق کو تھامے گا اور اوپر چڑھ جائے گا، پھر ایک اور شخص پکڑے گا تو سیڑھی ٹوٹ جائے گی، پھر سیڑھی جو ڑ دی جائے گی اور وہ اوپر چڑھ جائے گا۔ اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! مجھے بتائیے کیا میں نے درست تعبیر بیان کی ہے یا غلط؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ صحیح کچھ غلط۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کونسی غلطی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم مت کھاؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2439

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا. ورد من حدیث عبیداللہ بن عمرو و عقبة بن عامر و عبداللہ بن عباس و عصمة بن مالک رضی اللہ عنھم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر منافق قراء(قاری) ہوں گے۔ یہ حدیث عبداللہ بن عمرو، عقبۃ بن عامر، عبداللہ بن عباس اور عصمۃ بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2440

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِّنَ الْأَعْمَالِ مَا يُطِيقُونَ قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟! فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللهِ أَنَا.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو حکم دیتے تو ان اعمال کا حکم دیتے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمادیئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوجاتے حتی کہ غصے کی علامات آپ کے چہرے پر نظر آنے لگتیں، پھر فرماتے: میں تم سے زیادہ متقی اور اللہ کے بارے میں جاننے والا ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2441

عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ، فَذَكَرَهُ مَرْفُوْعاً: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى اُمَّتِيْ كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ.
ابو عثمان نہدی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجودتھا وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے انہوں نے اپنے خطبے میں مرفوعاً ذکر کیا: مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ خوف ،ہر چرب زبان منافق کا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2442

عَنْ طَلْحَة بن مصرِّفٍ، رَفعَه: إِن أَخْوف مَا أتخوُّفه عَلَى أُمَتِي في آخِرِ الزَّمَان ثلاثا: إِيمَانًا بالنجوم، وتكذيبا بِالْقَدَر، وَحَيْفَ السُّلْطَان.
طلحہ بن مصرف سے مرفوعاً مروی ہے کہ :میں آخری زمانے میں اپنی امت کے بارے تین چیزوں سے ڈرتا ہوں، ستاروں پر ایمان لانے سے، تقدیر جھٹلانے سے اور بادشاہ کے ظلم و ستم سے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2443

عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ (فِي الْمُسْلِمِيْنَ) جُرْمًا: مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ (وَنَقَّرَ عَنْهُ) فَحُرِّمَ (عَلَى النَّاسِ) مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(مسلمانوں میں) سب سے عظیم مجرم وہ ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جو حرام نہیں تھی(اس نے اس میں چھان بین شروع کردی)اورپھر اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2444

عَنِ ابْنِ عُمَر أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے جھوٹ منسوب کرتا ہے اس کے لئے جہنم میں ایک گھر بنایا جائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2445

عَنْ أَنسٍ مَرفُوعاً: إِن الله احتجز التَّوْبَة عن صَاحب كُلِّ بِدْعَة .
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی کی توبہ سے پردہ کیا ہوا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2446

عن ابن عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِنَّ أَمْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ لا يَزَالُ مُقَارِبًا أَوْ مُوَاتِيًا حَتَّى يَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: اس امت کا معاملہ اس وقت تک درست رہے گا جب تک یہ اولاد اور تقدیر کے بارے میں شک کرنے سے بچے رہیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2447

عَنْ خَبَّابٍ، عَنِ ِالنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِنَّ بني إِسْرَائِيلَ لَمَّا هَلَكُوا قَصُّوا
خباب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل جب ہلاک ہوئےتو قے بیان کرنے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2448

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرفُوعاً: إِنّ لِلْإِسْلَام شِرَّةً، وَإِن لِكُلّ شِرَّة فترةً، فَإِن (كَان) صَاحِبهُمَا سَدَّد وَقَارَب فارجوه، وَإِن أُشِير إِلَيْه بِالْأَصَابِع فَلَا تَرْجُوه
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:اسلام کے لئے ایک حرص ہوتی ہے اور ہر حرص کے لئے ایک وقفہ ہوتا ہےاگر اس دور کا حکمران سیدھا رہے اور درست رہے تو اس سے(خیر کی)امید رکھو،اور اگر اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں تو اس سے(خیر کی)امید مت رکھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2449

عَنْ حِرَامِ بن حَكِيمِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِاللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: (إِنَّكُمْ) أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ كَثِيرٍ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيلٍ خُطَبَاؤُهُ، قَلِيلٍ سُؤَّالُهُ، كَثِيرٍ مُعْطُوهُ، الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ، كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ.
حرام بن حکیم اپنے چچا عبداللہ بن سعد سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(تم )ایسے زمانے میں ہو جس میں فقہاء زیادہ ہیں، خطباء کم ہیں، سوال کرنے والےکم دینے والے زیادہ ہیں، اس وقت عمل علم سے بہتر ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جس میں فقہاء کم ہوں گے، خطباء زیادہ ہوں گے،سوال کرنے والے زیادہ ہوں گے دینے والے کم ہوں گے،اس وقت علم عمل سے بہتر ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2450

عَنْ أَبِي هُرَيرة مرفوعا: إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ، مَنْ يَتَحَرَّ الْخَيْرَ يُعْطَهُ، وَمَنْ يَتَّوَقَّ الشَّرَّ يُوقَهُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: علم سیکھنے سے ہے اور حلم بردباری کوشش کرنے سے ہے، اور جو شخص خیر کی کوشش کرتا ہے اسے خیر دے دی جاتی ہے اور جو شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچالیا جاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2451

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ: كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: صاحب قرآن کی مثال بندے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے اگر اس کا خیال رکھے گا تو اسے قابو میں رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2452

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ:هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمًا قَالَ:فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ:إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ:بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا، آپ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ،آپ کے چہرے سےغصہ جھلک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ اپنی کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2453

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ :هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ. وَزَادَفِی آخِرِہ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ اللهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللهُ يَقُولُ: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا (۲۹) (النساء) قَالَ: فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ
عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا، کیا دیکھتا ہوں کہ عبداللہ بن عمر و بن عاص کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہیں اور لوگ آپ کے گرد جمع ہیں۔ میں ان کے پاس آیا اور عبداللہ بن عمرو کے قریب بیٹھ گیا انہوں نے کہا: ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نےایک جگہ پڑاؤ ڈالاتو کوئی اپنا خیمہ درست کرنے لگا کوئی تیر اندازی کرنے لگااور کوئی جانوروں میں مشغول ہوگیا اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: الصلاۃ جامعۃ(نماز کے لئے جمع ہو جاؤ)ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے جو نبی بھی گذرا اس کی ذمہ داری تھی کہ اپنی امت کے لئے جو بات بہتر ہوتی اس کی طرف راہنمائی کرے اور جو ان کے لئے نقصان دہ شر ہوتا اس سے ان کو ڈرائے، تمہاری اس امت کی عافیت ابتدائی لوگوں میں ہے۔ اور بعد میں آنے والے آزمائش اور ایسے معاملات میں پھنس جائیں گے جنہیں تم عجیب سمجھو گے ایک فتنہ آئے گا اس کے مراحل ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوں گے پھر ایک اور فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا: یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے۔پھر وہ ختم ہو جائے گا اس کے بعد ایک اور فتنہ آئے گا،مومن کہے گا: یہی ہے یہی ہے۔ جو شخص پسند کرتا ہو کہ آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے تو اس کی موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھنے والا ہواور لوگوں سے وہی طرز عمل اپنائے جو وہ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے، اور جس شخص نے کسی امیر کی بیعت کی اسے اپنا ہاتھ اور دل کی فرمانبرداری دے دی تو جتنی اس میں استطاعت ہو اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا امیر آکر اس سے امارت چھیننے کی کوشش کرے تو دوسرے کی گردن اڑادو۔ اور اس حدیث کے آخر میں ابن عبدرب الکعبہ نے اضافہ کیا: کہ میں ان کے قریب ہوا اور ان سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور اپنےدل پر دونوں ہاتھ رکھے اور کہنے لگے: میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کیا، میں نے ان سے کہا: یہ آپ کے چچا کا بیٹا معاویہ‌رضی اللہ عنہ ہے ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے کھائیں، اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(النساء:۲۹) ترجمہ:اے ایمان والو! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ، سوائے آپس میں رضامندی سے تجارت کے ذریعے اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرنے والا ہے۔وہ ایک لمحہ خاموش رہے، پھر کہنے لگے: اللہ کی فرمانبرداری والے کام میں اس کی(یعنی معاویہ‌رضی اللہ عنہ کی )اطاعت کرو اور اللہ کے نافرمانی والے کام میں اس کی(یعنی معاویہ‌رضی اللہ عنہ کی )نافرمانی کرو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2454

عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّیْیثِیِّ، قَالَ:إِنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ:وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُول الله؟! قَالَ: فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ وَأَمْسَكَ بِهِ، فَقَالَ: تَفْعَلُونَ هَكَذَا، وَذَكَرَ لَهُمْ يَوماً: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ مُعَاذُ بن جَبَلٍ:أَلا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ الهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟!فَقَالُوا: مَا قَالَ؟! قَالَ:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، فَقَالُوا:كَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَوْ كَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: تَرْجِعُونَ إِلَى أَمْرِكُمُ الأَوَّلِ.
ابو واقد لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس طرح کا معاملہ اختیار کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ چٹائی کی طرف لائے اور اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمایا: تم اس طرح کرنا۔ اور ایک دن ان سے ذکر کیا، عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا۔ اکثر لوگوں نے آپ کی بات نہیں سنی ۔معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سن نہیں رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟صحابہ نے کہا:آپ نے کیا فرمایا؟ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا،صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول!اس وقت ہمارے لئے کیا حکم ہے یا ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اپنے پہلے معاملے(دین،یا امیر)کی طرف لوٹ آنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2455

عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّیْیثِیِّ، قَالَ:إِنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ:وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُول الله؟! قَالَ: فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ وَأَمْسَكَ بِهِ، فَقَالَ: تَفْعَلُونَ هَكَذَا، وَذَكَرَ لَهُمْ يَوماً: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ مُعَاذُ بن جَبَلٍ:أَلا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ الهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟!فَقَالُوا: مَا قَالَ؟! قَالَ:إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، فَقَالُوا:كَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَوْ كَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: تَرْجِعُونَ إِلَى أَمْرِكُمُ الأَوَّلِ.
ابو واقد لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس طرح کا معاملہ اختیار کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ چٹائی کی طرف لائے اور اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمایا: تم اس طرح کرنا۔ اور ایک دن ان سے ذکر کیا، عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا۔ اکثر لوگوں نے آپ کی بات نہیں سنی ۔معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سن نہیں رہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟صحابہ نے کہا:آپ نے کیا فرمایا؟ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: عنقریب ایک فتنہ اٹھے گا،صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول!اس وقت ہمارے لئے کیا حکم ہے یا ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم اپنے پہلے معاملے(دین،یا امیر)کی طرف لوٹ آنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2456

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً! فَأُلْقِيهَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے پاس جاتا ہوں اور اپنے بستر پر ایک کھجور دیکھتا ہوں، اسے کھانے کے لئے اٹھانےلگتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں کہ کہیں یہ صدقے کی نہ ہو، تو اسے چھوڑ دیتا ہوں یا رکھ دیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2457

عَنِ الْمِقْدَامِ بن مَعْدِي كَرِبٍ الكندي مَرْفُوْعاً: أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ، (يعني: وَمِثْلَه) يُوشِكُ شَبْعَانٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ هَذَا الْكِتَابُ، فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلالٍ أَحْلَلْنَاهُ، وَمَا كَانَ (فِيهِ) مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلا وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ اَلَا! لا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلا الْحِمَارُ الأَهْلِي، وَلا اللُّقَطَةُ مِنَ مَالِ مُعَاهِدٍ إِلا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَضَافَ قَوْمًا وَلَمْ يُقْروه فَإِنَّ لَه أَنْ يُعَقِّبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ.
مقدام بن معدی کرب کندی سے مرفوعاً مروی ہے کہ: مجھے کتاب اور اس کے برابر (یعنی حدیث)دی گئی ہے۔ عنقریب کوئی پیٹ بھرا ہوا شخص اپنے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے ہو اورکہے :ہمارے مابین یہ کتاب ہے، اس میں جو حلال ہوگا اسے حلال سمجھیں گے اور(اس میں)جو حرام ہوگا اسے حرام سمجھیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ خبردار درندوں میں ہر کچلی والا حرام ہے،گھریلو گدھا،ذمی کا گرا ہوا مال، سوائے اس صورت میں کہ وہ اس سے بے پرواہ ہو، حرام ہے،اور جو آدمی کسی قوم کا مہمان بنا اور انہوں نے اس کی ضیافت نہیں کی تو اس کا حق ہے کہ اپنی ضیافت کے برابر ان سے بدلہ لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2458

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي مَنْ قَالَ عَلَيَّ فَلَا يَقُولَنَّ إِلَّا حَقًّا أَوْ صِدْقًا فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ابو قتادہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے بچو، جو شخص میرے بارے میں بات کرے تو وہ صرف حق یا سچ کہے۔ جس شخص نے میرے بارے میں ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنالے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2459

عَنْ جَابِرِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ فَمَكَثَ مَلِيًّا ثُمَّ أَقبَل فَوَجَدَ الرَّجُلَ عَلَى حَالِهِ يُصَلِّي فَجَمَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک کونے کی طرف آئے، کچھ دیر ٹھہرے رہے، پھر واپس آئے تو اسی شخص کو دیکھا تو وہ اسی حالت میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ کھڑے ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھ جمع کئے پھر فرمایا: لوگو! میانہ روی اختیار کرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ (اجر دینے سے) نہیں اکتائے گا تم (عمل سے) اکتا جاؤ گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2460

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ لَكُمْ سِيَمًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرَكُمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ فَلَا يَصِلُونَ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! هَؤُلَاءِ مِنْ أَصْحَابِي؟! فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ فَيَقُولُ: وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟!.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ میری امت میرے پاس حوضِ کوثر پر آئے گی میں لوگوں کو اس طرح ہٹاؤں گا جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹوں سےکسی دوسرے شخص کے اونٹوں کو ہٹاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا:ہاں تمہاری ایک خاص نشانی ہوگی جو کسی دوسرے میں نہیں ہوگی۔ تم وضو کے نشانات کی وجہ سے چمکتے ہوئےاعضاء کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ میرے پاس آنے سے روک لیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی(پیروکار) ہیں۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیسے کیسے نئے کام ایجاد کئے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2461

عَنْ خَارِجَة بْنِ زَيْد عَنْ أَبِيْه قَالَ: لَمَا قَدِم النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم الْمَدِينَة أُتى بي إِلَيْه فَقَرَأْت عليه فَقَال لى: تَعَلَّم كِتَاب الْيَهُود فَإِنّى لَا آمنهم عَلَى كِتَابِنَا قَالَ: فَمَا مرَّ بى خَمْس عَشَرة حَتَّى تَعَلَّمْتُه فَكُنْت أَكْتُب لِلنَّبِى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَقْرَأ كُتُبَهُم إِلَيْه.
خارجہ بن زید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو مجھے آپ کے پاس لایا گیا۔ میں نے آپ کے سامنے کچھ پڑھا۔ آپ نے مجھے فرمایا: یہودیوں کی کتاب(خط و کتابت) سیکھو، کیوں کہ مجھے ان کی طرف سے اپنی کتاب کے بارے میں اطمینان نہیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ابھی پندرہ دن ہی گزرے تھے کہ میں نے ان کی کتاب (خط و کتابت) سیکھ لی۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لکھا کرتا،اور آپ کی طرف آنے والے ان کے خطوط پڑھا کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2462

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اپنے نسب میں سے ایسی باتیں سیکھو جن کے ذریعے تم صلہ رحمی کر سکو، کیوں کہ صلہ رحمی گھر والوں میں محبت کا باعث ہے مال میں اضافے اور عمر میں برکت کا سبب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2463

عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الخُدْرِي أَنَّه سَمِع النَّبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: تَعَلّموا القُرآن وَسَلوا اللهَ بِه الجَنَّة قَبْل أَنْ يَتعلَمه قَومٌ يَسألُون بِه الدُنْيَا، فَإِنَّ القُرآن يَتعلَّمه ثَلَاثَة: رَجلٌ يباهِي بِه، وَرَجُل يَستَأكِل بِه، وَرَجُل يقرأ لله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سیکھو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے ذریعے جنت کا سوال کرو، اس سے قبل کہ اس قرآن کو ایسے لوگ سیکھیں جو اس کے ذریعے دنیا طلب کریں۔ کیوں کہ قرآن کو تین قسم کے لوگ سیکھتے ہیں۔ وہ شخص جو اس کے ذریعے فخر کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جو اس کے ذریعے (لوگوں کے اموال ناحق) کھاتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جو اسے اللہ کے لئے پڑھتا ہے (اورپڑھاتا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2464

عَن جَابِر بْنِ عَبداللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : حَدِثُوا عن بَنِي إسرائيل، وَلَا حَرج فَإِنَّه كَانَت فِيهِم الأَعَاجِيْب، ثُم أَنْشَأ يُحَدِّث قال: خَرَجَت طَائِفَة مِنْ بَنِي إسرائيل حَتى أَتَوْا مَقْبَرَة من مقابرهم، فَقَالُوا: لَو صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْن وَدَعونا الله عَزّ وَجَل أَن يَخْرُج لَنا رَجُلاً مِمن قَد مَات نَسَأله عَن المَوتِ قال: فَفَعَلُوا فَبَيْنَا هُم كَذَلِك إِذ اطْلَع رَجَلٌ رَأَسَه من قبر من تِلْك المقابر، خَلاسيّ، بَيْن عَيْنَيْه أَثَر السجود، فقال: يَا هَؤُلَاء ما أَرَدْتُم إلي؟ فَقَد مُتّ مُنْذ مِئَة سَنَة فَمَا سَكَنَت عَنِّي حَرَارَة الْمَوْت حَتَّى كَان الْآن فَادْعُوا الله عزوجل لِي يُعِيدَنِي كَمَا كَنَت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ ع نہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے (روایتیں) بیان کرو کوئی حرج نہیں کیوں کہ ان میں عجائبات گزرے ہیں۔ پھر آپ بیان کرنے لگے: بنی اسرائیل کا ایک گروہ باہر نکلا اور کسی قبر کے پاس آئےاور کہنے لگے: اگر ہم دو رکعت نماز پڑھیں اور اللہ عزوجل سے دعا کریں کہ وہ مرنے والے لوگوں میں سے کسی کو قبر سے باہر نکالے تاکہ ہم اس سے موت کے بارے میں پوچھ سکیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، وہ ابھی اسی کیفیت میں تھے کہ اچانک ایک آدمی کا سر قبر سے نمودار ہوا۔کالا وگورا،اس کی آنکھوں کے درمیان سجدوں کا نشان تھا۔ اس نے کہا: اے لوگو! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں سو سال پہلے مر چکا ہوں، لیکن موت کی حرارت اب بھی محسوس کر رہا ہوں۔ اللہ عزوجل سے دعا کرو کہ مجھے اسی حالت میں لوٹا دے جس میں پہلے تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2465

عن أبي هُرَيْرَة قال: أَتَى نَفَر من أَهَل الْبَادِيَة إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُول الله! إِن أَهَل قُرَان زَعَمُوا أَنَّه لَا يَنْفَع عَمَل دُون الْهِجْرَة وَالْجِهَاد في سَبِيل الله؟ فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : حَيْث ما كُنْتُم فأحسنتم عَبَادَة الله فَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّة.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ :گاؤں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اہل قرآن کا خیال ہے کہ ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے بغیر عمل کافائدہ نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جہاں کہیں بھی ہو اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کرو اور جنت سے خوش ہوجاؤ (یعنی جنت کی خوشخبری ہو)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2466

عَنْ عَائِشَة، مَرفُوعاً: الْخَلْق كُلَّهُم يُصَلُّون عَلَى مُعَلِّمِ الْخَيْر حَتَّى نِينَان الْبَحْر.(
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: تمام مخلوق، معلم خیر کیلئے بخشش کی دعا کرتی ہیں، حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2467

) عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْخَيْرُ عَادَةٌ وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ وَمَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
یونس بن میسرہ بن حلبس نے کہا کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ:خیر عادت ہے اورشر لجاجت(دل میں کھٹکتا)ہے اور اللہ تعالیٰ جس شخص سے بھلائی کا ارادہ فرمالیتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2468

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ. ورد من حدیث ابی مسعود
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر کی طرف راہنمائی کرنے والا ،عمل کرنے والے کی طرح ہے۔ یہ حدیث ....... سے روی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2469

عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوْعاً: سَلُوا اللهَ عِلْمًا نَافِعًا وَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نفع مند علم کا سوال کرو اور ایسے علم سے اللہ کی پناہ مانگو جو نفع نہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2470

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُبَيَّ بن كَعْبٍ وَنَبِيُّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ، عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، قَالَ: إِنَّكَ لَمْ تُجَمِّعْ، فَسَأَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ: صَدَقَ أُبَيٌّ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھےانہوں نے أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں سوال کیا۔ أبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اعراض کیا اور انہیں جواب نہیں دیا۔ جب أبی رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کر لی تو کہا: تمہارا جمعہ نہیں ہوا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أبی رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2471

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ جُلُوس: طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ قِيلَ ومَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: نَاسٌ صَالِحُونَ قَلِيل فِي نَاسٍ سُوءٍ كَثِيرٍ مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھےکہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: غرباء (اجنبی لوگوں کے لئے) خوشخبری ہے۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول؟ غرباء کون لوگ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کثیر برائی والے لوگوں میں بہت تھوڑے نیک لوگ، ان کی بات رد کرنے والے ماننے والوں سے زیادہ ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2472

عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ: كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ: فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ: فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ لَنْ تَنَــالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي بِالْقُرْآنِ قَالَ: فَقُلْتُ: عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : كَلَّا إِنَّهُ أَوَّابٌ قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ ذُو الْنَجَادَيْنِ.
ابن الادرع سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ کسی ضرورت سے باہر نکلے۔ آپ نے مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑلیا۔ ہم چلتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے یہ ریا کاری کر رہا ہو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول !یہ تو صرف بلند آواز سے قرآن پڑھ ر ہا ہے۔ آپ نے میرا ہاتھ جھٹک دیا پھر فرمایا: تم اپنے آپ پر غلبہ پا کر اس معاملے کی حقیقت تک ہر گز نہیں پہنچ سکتے۔ پھر ایک رات آپ اپنی کسی ضرورت سے نکلے، میں آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو نماز میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ میں نے کہا: ممکن ہے یہ ریا کاری کر رہا ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، یہ تو مناجات کرنے والا ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ عبداللہ ذوالجنادین رضی اللہ عنہ (منتظم اور مشکلات سر کرنے والا)تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2473

عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ مَرفُوعاً: عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَإِذاَ غَضِبَ أَحَدُكُمْ فلْيَسْكُتْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: (دین) سکھاؤ، آسانی کرو، تنگی نہ کرو۔ خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ، اور جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے تو چپ ہو جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2474

عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنَ سَارِيَةَ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ: قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، وَمَنْ يَّعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ. ( )
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ ہماری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور دل ڈر گئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول !گویا یہ تو الوداعی نصیحت کی طرح ہے۔ آپ ہم سے کیا عہد لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں روشن راستے پر چھوڑا ہے ،اس کی رات اس کے دن کی طرح ہے،جو شخص اس راستے سے ہٹ جائے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔ اور جو تم میں سے زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ تمہیں میری جس سنت کا پتہ چل جائے اسے مضبوطی سے تھام لو۔ اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو، تم پر اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے اگرچہ کوئی حبشی غلام تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے، کیوں کہ مومن نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جہاں اسے چلنے کا اشارہ کیا جائے چل پڑتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2475

قال صلی اللہ علیہ وسلم : قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ. روی من حدیث انس بن مالک و عبداللہ بن عمرو و عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھم
ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: علم کو لکھ کر قید کر لو۔ یہ حدیث انس بن مالک، عبید اللہ بن عمرو بن العاص اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2476

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ فِيهِ بِبَيْتِ طَرَفَةَ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ.(
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خبر پہنچنے میں دیر ہوجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شعر پڑھتے جس کا ایک مصرع یہ ہے :آپ کے پاس وہ خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہیں دیا ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2477

عَنْ مُطِيْع الغَزَال عَنْ أَبِيْه عَنْ جَدِه: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَعِدَ المنْبَر ؛ أَقْبَلنَا بِوجُوهِنا إِلِيه.
مطیع غزال اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو ہم اپنے چہروں کا رخ کر کے آپ کی طرف متوجہ ہو جاتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2478

عَنْ جَابِرِ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ سَلَّمَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو سلام کہتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2479

عَنْ أَبِي سَعِيْد الخُدْرِي، أَنَّه قَالَ: « مَرْحباً بِوَصِية رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَان رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُوصِيْنَا بِكُم». يعني: طَلبَة الحَدِيث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ کے وصیت شدگان کو خوش آمدید۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمہارے بارے میں وصیت کیا کرتے تھےیعنی حدیث کے طلباء کے بارے میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2480

عَنْ عَائِشَةَ: كَانَ كَلَامُہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَلَامًا فَصْلًا يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ سَمِعَهُ
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر (آہستگی سے) بات کیا کرتے جسے ہر سننے والا سمجھ جاتا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2481

عَنْ أَنَسِ : كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ کو اچھاخواب پسند تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2482

عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كاَنَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَارْزُقْنِي عِلْماً تَنْفَعُنِي بِهِ
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: اے اللہ آپ نے مجھے جو علم دیا ہے اس سے مجھے نفع دے ، اور مجھے ایسا علم عطا کر جس کے ذریعے تو مجھے نفع دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2483

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات( بغیر تحقیق) بیان کر دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2484

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا: وَمَنْ يَأْبَى؟! قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی مگر جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے کہا: کون شخص انکار کر سکتاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جس شخص نے میری نا فرمانی کی اس نے انکار کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2485

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(وَفِي رِوَايَةٍ: يَحْضُرُ حَدِيْثَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمَجْلِسَهُ) وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم (فَقاَلَ: يَارَسُوْلَ اللهِ ! (إِنَّ هَذا) أَخِي لَا يُعِيْنُنِي بِشَيْءٍ)، فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا،( اور ایک روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سننے کے لیے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتا) دوسرا بھائی محنت مزدوری یا کاروبار کرتا، محنت مزدوری یا کاروبار کرنے والے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی( اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! (یہ) میرا بھائی کسی کام میں میری مدد نہیں کرتا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے تمہیں اس کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2486

) عَنْ أُبَيٍّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ أَعْظَمُ؟ فَقَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! يُكَرِّرُهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسَانِ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت بڑی ہے؟ ابی بن کعب نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے کئی مرتبہ یہ بات دہرائی۔ پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: آیۃ الکرسی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو المنذر تمہیں علم مبارک ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں جو عرش کے پائے کے نیچے اللہ کی تقدیس بیان کررہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2487

) عَنْ أَبِي هُريْرَة مَوقُوفاً: اللَّبنُ فِي المَنَام فِطرةٌ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے کہ خواب میں دودھ دیکھنا فطرت ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2488

عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: تَرَكْنَا رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَا طَائِرٌ يُقَلِّبُ جَنَاحَيْهِ فِي الْهَوَاءِ، إِلا وَهُوَ يُذَكِّرُنَا مِنْهُ عِلْمًا، قَالَ: فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ، ويُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ، إِلا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہیںا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں چھوڑا کہ اگر کوئی پرندہ بھی ہو ا میں اپنے پروں کو حرکت دیتا تو آپ ہمیں اس سے علم کی بات بتاتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی چیز ایسی باقی نہیں بچی جو جنت سے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے مگر میں نے تمہارے سامنے اسے بیان کر دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2489

عَنِ ابْنِ أَبِى نَمْلَة عَنْ أَبِيْه قَالَ: كُنْتُ عِنْد النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذ دَخَل عَلَيه رَجُل مِنَ الْيَهُود فَقَال: يَا مُحَمَد أَتُكلَّم هَذِه الْجَنَازَة؟ فَقَال النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اللهُ أَعْلَم فَقَال الْيَهُودِيّ: أَنَا أَشْهَد أَنهَا تُكَلَّم فَقَال النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا حَدَّثَكُم أَهل الْكِتَاب فَلَا تُصَدِّقُوهُم وَلَا تُكَذِّبُوهُم وَقُولُوا: آمِنًا بِالهِ وَكُتُبِه وَرُسُلِه فَإِنْ كَان حَقًا لَم تُكَذِّبُوهُم وإِن كَان بَاطِلًا لَم تُصَدِّقُوهُم
)ابن ابی نملہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ایک یہودی شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس جنازے سے بات کی جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس یہودی نے کہا: میں گواہی دیا ہوں کہ اس سے بات کی جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اہل کتاب تمہیں جو بیان کریں اس کی نہ تصدیق کرو، نہ ہی تکذیب کرواور تم کہو :ہم اللہ، اس کی کتب اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اگر ان کی بات سچ ہوگی تو تم اس کی تکذیب نہیں کرو گے اور اگر ان کی بات جھوٹی ہوگی تو تم اس کی تصدیق نہیں کرو گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2490

عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: أَصَابَتْنِي سَنَةٌ، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ المدينة، فَفَرَكْتُ سُنْبُلَةً فَأَكَلْتُ، وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُهُ، فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ لَه: مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا أَوْ جَائِعًا. وَأَمَرَه فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي، وَأَعْطاَنِي وَسْقاً أَوْنِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طعَامٍ
عبادہ بن شرحبیل کہتے ہیں کہ: مجھے سخت بھوک لگی،میں مدینے کے ایک باغ میں داخل ہوا، میں نے ایک خوشہ توڑا اور کھالیا اور کچھ کھجوریں کپڑے میں رکھ لیں، باغ کا مالک آیا مجھے مارا اور میرا کپڑا لےلیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاس آیا تو آپ نے اس سے کہا: گر یہ انجان تھا تو تم نے اسے بتایا کیوں نہیں۔ اور اگر یہ بھوکا تھا تو تم نے اسے کھلایا کیوں نہیں؟ آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے مجھے میرا کپڑا واپس کردیا اور مجھے غلے سے ایک وسق یا نصف وسق دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2491

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَصْوَاتًا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ: لَوْ تَرَكُوهُ فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ لَصَلُحَ فَتَرَكُوهُ فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ فَخَرَجَ شِيصًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا لَكُمْ؟ قَالُوا تَرَكُوهُ لِمَا قُلْتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ فَإِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ.
انس رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکچھ آوازیں سنیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ آوازیں کیسی ہیں؟ یہ کیاہے؟صحابہ نے کہا: لوگ کھجوروں کی پیوند کاری کر رہے ہیں (نر اور مادہ شگوفوں کو ملانا) آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر یہ اسے چھوڑ دیں اور پیوند نہ لگائیں تو بہتر رہے گا، لوگوں نے پیوند نہ لگائے اس کے بعد جب ردی کھجور ہوئی تو نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ (یہ کیسی کھجوریں ہیں؟) صحابہ نے کہا: لوگوں نے آپ کی بات پر عمل کرتے ہوئے پیوند کاری نہ کی، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تمہاری دنیا کا معاملہ ہو تو تم بہتر جانتے ہو اور اگر تمہارے دین کا معاملہ ہو تو میرے پاس لے آؤ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2492

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ، ثُمَّ لا يُحَدِّثُ بِهِ،كَمَثَلِ الَّذِي يَكْنِزُ الْكَنْزَ، فَلا يُنْفِقُ مِنْهُ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو علم حاصل کرتا ہے اور اسے بیان نہیں کرتا اس شخص کی طرح ہے جو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن اس سے خرچ نہیں کرتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2493

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: حَدَّثَ صَفْوَانُ بن عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بُرْدٍ لَهُ (أَحْمَر)، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بطالبِ الْعِلْمِ، (إِنَّ) طَالِبَ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلائِكَةُ وَتُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُم بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا مِنْ حُبِّهِمْ لِمَا يَطْلُبُ، قَالَ: قَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ! لا نَزَالُ نُسَافِرُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَأَفْتِنَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟! فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتےہیں کہ صفوان بن عسال مرادی نے بیان کیا، کہتے ہیں کہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،آپ مسجد میں اپنی(سرخ) چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نےآپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں علم حاصل کرنے آیا ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طالب علم کو خوش آمدید،طالب علم کو فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں ،اور اپنے پروں سے اس پر سایہ کرتے ہیں،پھر ایک دوسرے پر کھڑے ہو کر آسمان تک پہنچ جاتے ہیں ۔ طلبِ علم سےان کی محبت کی وجہ سے۔ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے رہتےہیں، ہمیں موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں بتایئے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2494

عَنْ جَابِرٍقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَىْءٍ حَتَّى الْحِيْتاَنِ فِى الْبَحاَر.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر کی تعلیم دینے والے کے لئے ہر چیز بخشش کی دعا کرتی ہے حتی کہ سمندر کے اندر مچھلیاں بھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2495

) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ: أَنَّ فُقَيْمًا اللَّخْمِيَّ قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْغَرَضَيْنِ وَأَنْتَ كَبِيرٌ يَشُقُّ عَلَيْكَ؟! قَالَ عُقْبَةُ: لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَمْ أُعَانِ قَالَ الْحَارِثُ: فَقُلْتُ لِابْنِ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ: مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى.
عبدالرحمن بن شماسہ سے مروی ہےکہ فُقَيْم اللخْمِينے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا:آپ ان دونوں اہداف کے درمیان چلتے رہتے ہیں آپ بوڑھے ہیں یہ آپ پر گراں ہوگا۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہ سنی ہوتی تو میں اپنے آپ کو نہ تھکاتا، حارث نے کہا: میں نے ابن شماسہ سے کہا: وہ کونسی حدیث ہے؟ ابن شماسہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نشانہ بازی سیکھ کر چھوڑ دی وہ ہم میں سے نہیں،یا فرمایا: کہ اس نے نا فرمانی کی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2496

) عَنْ عَلِيٍّ بْنِ أَبِي طَالِبْ مَرْفُوْعاً: مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدَ شَعِيرَةٍ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جس شخص نے اپنے خواب کے بارے میں جھوٹ بولا(یعنی جھوٹا خواب بیان کیا )، اسے قیامت کے دن اس بات کا مکلف بنایا جائے کہ جَو کے دانے میں گرہ لگائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2497

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتاہے اسےدین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2498

عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَان خَطِيبًا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَنْ يُرِدْ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ
حمید سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو خطبہ دیتےہوئے سنا کہہ رہے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں جب کہ اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہےاوریہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی، جو ان کی مخالفت کرے گا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ کا حکم (قیامت)آجائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2499

عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: كَانَ مُعَاوِيَةُ قَلَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئًا وَيَقُولُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ قَلَّمَا يَدَعُهُنَّ أَوْ يُحَدِّثُ بِهِنَّ فِي الْجُمَعِ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَنْ يُرِدْ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ فَمَنْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ.
معبد جہنی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کریں اور وہ یہ کلمات کہا کرتے تھے کم ہی ان کلمات کو چھوڑتے ،یا انہیں جمعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ اور یہ مال میٹھا اور سر سبز ہے،جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اس کے لئے اس میں برکت دے دی جائے گی۔ خوشامد سے بچو کیوں کہ یہ ذبح کرنا (ہلاکت) ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2500

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ. قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ! مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ؟ قَالَ: يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ
عقبہ بن عامر جہنی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: میری امت کی ہلاکت کتاب اور دودھ میں ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب اور اور دودھ کی وضاحت فرمائیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سیکھیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ بیان سے ہٹ کر اس کی تشریح کریں گے اور دودھ کو پسند کریں گے جماعت اور جمعے چھوڑ دیں گے اور دودھ کی تلاش میں دیہاتوں کا رخ کریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2501

عَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَان، عَنِ النّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: « لَا تُجَادِلُوا بِالْقُرْآن وَلَا تُكَذِّبُوا كِتَاب الله بَعْضَه بِبَعْض، فَوَالله! إِن الْمُؤْمِن ليجادل بِالْقُرْآن فَيُغلَب، وَإِن الْمُنَافِق ليجادل بِالْقُرْآن فَيَغلِب».
نواس بن سمعان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کے ذریعے جھگڑا مت کرو، اور اللہ کی کتاب کی آیات کو دوسری آیات سے مت جھٹلاؤ، مومن قرآن کے ساتھ جھگڑا کرے گا تو مغلوب ہو جائے گا، اور منافق قرٓان کے ساتھ جھگڑا کرے گا تو غالب آجائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2502

عَنْ سَهْلِ بن أَبِي أُمَامَةَ بن سَهْلِ بن حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: لا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ بِتَشْدِيدهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، وَسَتَجِدُونَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارَاتِ .
سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ ان کے دادا سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ پر سختی مت کرو کیوں کہ تم سے پہلے لوگ خود پر سختی کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، اور تم ان کی باقیات کو گرجا گھروں اور کوٹھڑیوں میں دیکھو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2503

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: كَان أَهل الْكِتَاب يَقْرَؤُون التَّوْرَاة بِالْعِبْرَانِيَّة وَيفسرونها بِالْعَرَبِيَّة لِأهل الإِسْلَام فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تُصدِّقُوا أَهَل الْكِتَاب وَلَا تُكَذِّبُوهُم وَقُولُوا: آمنا بِاللهِ وَمَا أنزل إِلَيْكُم.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی زبان میں پڑھا کرتے اور اہل اسلام کے لئے اس کی تفسیر عربی زبان میں کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب کی نہ تو تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو اور کہو: ہم اللہ پر اور جوتم نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2504

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حج کے موقع پر عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر بیٹھے خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے جسے تم پکڑ لو گے تو گمراہ نہیں ہوگے وہ ہے اللہ کی کتاب اور میرے گھر والے میرے اہل بیت۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2505

قَال حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَان رضی اللہ عنہ : كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللهُ بِهَذَا الْخَيْرِ (فَنَحْنُ فِيْهِ)، (وَجَاءَ بِكَ)، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ (كَمَا كَانَ قَبْلَهُ؟). (قَالَ: يَا حُذَيْفَةُ تَعَلَّمْ كِتَابَ اللهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ، (ثَلَاثَ مِرَّاتٍ). قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَبَعْدَ هَذَا الشَّرِّ مِنْ خَيْر؟) قَالَ: نَعَمْ (قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟ قَالَ: السَّيْفُ). قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ (وَفِي طَرِيْقٍ: قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟) قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ (وَفِي طَرِيْقٍ: تَكُونَ إِمَارَةٌ (وَفِي لَفْظٍ: جَمَاعَةٌ) عَلَى أَقْذَاءٍ، وَهُدْنَةٌ عَلَى) دَخَنٍ . قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: قَوْمٌ (وَفِي طَرِيْقٍ أُخْرَى: يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ (يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِيْ، وَ) يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ (وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ) . (وفي أخرى: الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ: لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ). قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ، (فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا) دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! صِفْهُمْ لَنَا. قَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا. قُلْتُ: (يَا رَسُولَ اللهِ!) فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: تَلْتَزمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، (تَسْمَعُ وَتُطِيعُ الأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ). قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ. (وَفِي طَرِيْقٍ): فَإِنْ تَمُتْ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ. (وَفِي أُخْرَى): فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ اللهِ- عَزَّوَجَلَّ- فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةَ، فَالْزَمْهُ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَإِنْ لَمْ تَرَ خَلِيْفَةَ فَاهْرَبْ (فِي الْأَرْضِ) حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْت وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلِ شَجَرَةٍ. (قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ. قَالَ: قُلْتُ: فَبِمَ يَجِيءُ؟ قَالَ: بِنَهَرٍ-أَوْ قَالَ: مَاءٍ وَنَارٍ- فَمَنْ دَخَلَ نَهْرَهُ حُطَّ أَجْرُهُ وَوَجَبَ وِزْرُهُ وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ. (قُلْتُ يَا رَسُول الله! فَمَا بَعَدَ الدَّجَّال؟ قَالَ: عِيْسَى ابْنُ مَرْيَم). قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: لَوْ أَنْتَجْتَ فَرَسًا لَمْ تَرْكَبْ فُلُوَّهَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ).
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں یہ مجھے اپنی گرفت میں نہ لے لے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ اس خیر کو لے آیا( جس میں ہم داخل ہوئے)(اور اللہ تعالیٰ آپ کو لایا) کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے(جس طرح پہلے تھا؟)(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کرو( تین مرتبہ فرمایا)میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہے؟ )آپ نے فرمایا: ہاں( میں نے کہا: اس سے بچاؤ کیا ہے؟، آپ نے فرمایا: تلوار) میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہے؟( اور ایک روایت میں ہے: میں نے کہا: کیا تلوار کے بعد بھی کچھ باقی رہے گا؟ )آپ نے فرمایا: ہاں اوراس میں دَخَنٌ ہوگا۔ (اور ایک روایت میں ہے: امارت ہوگی، ( اور ایک روایت میں ہے :جماعت ہوگی) ۔میں نے کہا : یہ دَخَنٌکیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے ( اور دوسری روایت میں ہے: میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے( جو میرے طریقے کے علاوہ طریقہ اختیار کریں گے اور) میری راہنمائی کے خلاف چلیں گے ، ان میں اچھے عمل بھی ہوں گے اور برے عمل بھی (اور ان میں ایسے آدمی بھی ہوں گے جن کے دل انسان کے جسموں میں شیطان کے دل ہوں گے)، (اور دوسری روایت میں ہے: دَخَنٌ پر صلح کے کیا معنی ہیں؟ آپ نے فرمایا: لوگوں کے دل اس بات پر نہیں لوٹیں گے جس پر وہ تھے) میں نے کہا: کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں(اندھا، بہرا فتنہ ہوگا، اس میں) جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان کاحلیہ بیان کیجئےآپ نے فرمایا: وہ ہم جیسے ہوں گے اور ہماری زبان بولتے ہوں گے ۔میں نے کہا: (اے اللہ کے رسول !اگر مجھے ایسے لوگ ملیں تو مجھے کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے چمٹ جاؤ(سنو اور حکم کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا مال لے لے پھر بھی اس کی بات سنو اور اطاعت کرو) میں نے کہا: اگر ان کی کوئی جماعت اور امام(حاکم) نہ ہوتو؟آپ نے فرمایا: تب تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کر لو، اگرچہ تمہیں درختوں کی جڑیں کھا کر گزارہ کرنا پڑے اور تمہیں اسی حال میں موت آجائے(اور ایک روایت میں ہے: )حذیفہ اگر تمہیں موت آئے تو اس حال میں کہ کسی درخت کی جڑیں پکڑے ہوئے ہو اور یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان میں سے کسی شخص کی پیروی کرو، ( اور دوسری روایت میں ہے): اگر تم روئے زمین پر اللہ کا کوئی خلیفہ دیکھو تو اس سے چمٹ جاؤ، اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے برسائے اور تمہارا مال لے لے۔ اگر تمہیں خلیفہ نہ ملے تو(زمین میں ) بھاگ جاؤ حتی کہ تمہیں موت آئے تو تم کسی درخت کی جڑیں منہ میں پکڑے ہوئے ہو۔ (میں نے کہا: پھر کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: پھر دجال نکلے گا، میں نے کہا: وہ کیا چیز لائے گا؟ آپ نے فرمایا: نہر، یا فرمایا :پانی اور آگ ،جو اس کی نہر میں داخل ہو گیا اس کا اجر ضائع ہو گیا اور اس کا گناہ ثابت ہوگیا، اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوا اس کا اجر واجب ہوگیا اور اس کا گناہ ختم ہوگیا(میں نے کہا:ے اللہ کےر سول !دجال کے بعد کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا:عیسیٰ بن مریم ) میں نے کہا:پھر کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا:اگر کوئی بچھیرا(گھوڑے کا بچہ)پیدا ہوگا وہ ابھی سواری کے قابل نہیں ہوگا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2506

عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور معاذ‌رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: آسانی کرنا ،تنگی نہ کرنا، خوشخبری دینا، نفرت نہ دلانا، ہنسی خوشی رہنا، اختلاف نہ کرنا۔

آیت نمبر