AL SILSILA SAHIHA

Search Result (226)

21)

21) ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2507

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبْشِرْ عَمَّارُ! تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ. (
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار! خوش ہو جاؤ،تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2508

) عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنت الحَارث: أَنَّهَا دَخلت عَلَى رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا الليلَة. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: إِنَّهُ شَدِيدٌ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قطعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ، وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي. قَالَ: رَأَيْتِي خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللهُ غُلامًا فَيَكُونُ فِي حِجْرِكِ. فَوَلَدَت فَاطِمَة الْحُسَين فَكَان في حِجْرِي كَمَا قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَدَخَلت يَوْمًا إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَوَضَعْتُه في حِجره، ثم حَانَت مِنِّي التفاتة، فَإِذَا عَيْنَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تهريقان من الدموع، قالت: فقلت: يَا نَبِي الله! بِأَبِي أَنَت وَأُمِّي ما لك؟ فَقال: «أَتَانِي جِبْرِيل عليه الصّلاة والسلام، فَأَخْبَرَنِي أَن أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هذا» فَقُلْتُ: هَذَا؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَأَتَانِي بِتُرْبَة من تُرْبَتِه حَمْرَاء ».
ام الفضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آج رات میں نے ایک برا خواب دیکھا ہے؟ آپ نے پوچھا: وہ کیا ؟کہنے لگیں: وہ بہت شدید قسم کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ کیا تھا؟ کہنے لگیں: میں نے دیکھا گویا کہ آپ کے جسم کا کوئی ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے بہترین خواب دیکھا ہے،ان شاء اللہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بچہ ہوگا تو وہ تمہاری گود میں آئے گا۔فاطمہ نے حسین‌رضی اللہ عنہ کو جنم دیا۔ تو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اسی طرح وہ میری گود میں آگیا۔ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور حسنا رضی اللہ عنہ کو آپ کی گود میں رکھ دیا ،پھر میں تھوڑی سی غیر متوجہ ہوئی توکیا دیکھتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: میرے پاس جبریل  آئے اور مجھے بتایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی۔ میں نے کہا: اس کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں،اور میرے پاس اس (کے خون سے رنگی)سرخ مٹی لائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2509

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍوعَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشی لوگ جب تک تم سے کنارہ کش رہیں تم بھی انہیں مت چھیڑو، کیوں کہ کعبہ کا خزانہ حبشیوں میں سے ہی کوئی چھوٹی پنڈلیوں والا (بدبخت) نکالے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2510

) عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَتَزْعُمُونَ أَنِّي من آخِـرِكُمْ وَفَاة؟ أَلَا إِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا يُهْلِكُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں تم میں سب سے آخر میں فوت ہوں گا؟ خبردار !میں تم سے پہلے فوت ہوں گا، اور تم ٹولیوں کی صورت میں میری پیروی کرو گے، اور ایک دوسرے کو مارو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2511

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا جَمَع الله الْأُولَى والأخرى، يَوم القِيَامَة، جَاء الرَّبّ تَبَارَك وَتَعَالَى إِلَى المُؤمِنِيْن، فَوَقَف عَلَيْهِم وَالْمُؤْمِنُون عَلَى كَوْمٍ، فَقَالُوا: لِعُقْبَةَ مَا الْكَومُ؟ قال: مَكَان مرتفع، فَيَقُول: هَل تَعْرِفُون رَبَّكُم؟ فيقولون: إِن عَرَّفَنَا نَفْسَه عرفناه، ثم يَقول لَهم الثانية، فَيَضْحَكُ في وُجُوهِهِم فَيَخرِّون لَه سُجَّدًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اگلے پچھلے تمام لوگوں کو جمع کرے گا تو اللہ تعالیٰ مومنین کی طرف آئے گا اور کھڑا ہو جائے گا۔ مومنین ایک ”كَوْم“ پر ہوں گے۔لوگوں نے عقبہ سے پوچھا: ”كَوْم“ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: بلند جگہ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم اپنے رب کو پہچانتے ہو؟ مومنین کہیں گے: اگر وہ خود ہمیں اپنی پہچان کروادے تو ہم اسے پہچان لیں گے،پھر اللہ تعالیٰ دو بارہ ان سے کہےگا اور ان کے سامنے مسکرائےگا تو وہ اللہ تعالیٰ کے لےک سجدے میں گر جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2512

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا جَمَعَ اللهُ الْعِبَادَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ نَادَى مُنَادٍ: يَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ. فَيَلْحَقُ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَيَبْقَى النَّاسُ عَلَى حَالِهِمْ فَيَأْتِيهِمْ فَيَقُولُ: مَا بَالُ النَّاسِ ذَهَبُوا وَأَنْتُمْ هَا هُنَا؟ فَيَقُولُونَ: نَنْتَظِرُ إِلَهَنَا فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَهُ؟ فَيَقُولُونَ: إِذَا تَعَرَّفَ إِلَيْنَا عَرَفْنَاهُ. فَيَكْشِفُ لَهُمْ عَنْ سَاقِهِ فَيَقَعُونَ سُجُوداً وَذَلِكَ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى: یَوۡمَ یُکۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ (ۙ۴۲) (القلم) وَيَبْقَى كُلُّ مُنَافِقٍ فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْجُدَ ثُمَّ يَقُودُهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرے گا تو ایک پکارنے والا پکارلگائے گا، ہر قوم اس کے پاس چلی جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی،تو ہرقوم اس کے پاس چلی جائے گی جس کی وہ عبادت کرتی تھی۔ اور کچھ لوگ وہیں کھڑے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئےگااور پوچھےگا: سب لوگ چلے گئے اور تم یہیں ہو؟ وہ کہیں گے: ہم اپنے معبود کا انتظار کررہے ہیں ۔اللہ تعالی فرمائے گا:کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟وہ کہیں گے: اگر وہ ہمیں اپنی پہچان کروائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ ان کے لئے اپنی پنڈلی ظاہر کرےگاتو وہ لوگ سجدے میں گر جائیں گے، اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (القلم:۲۴)”جس دن پنڈلی ظاہر کر دی جائے گی اور انہیں سجدے کے لئے کہا جائے گا تو وہ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے“اورسب منافق سجدہ کرنےکی طاقت نہیں رکھیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں(مومنین کو ) جنت کی طرف لے جائے گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2513

) عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَجْلِسًا لَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! حَدِّثْنِي مَا الْإِسْلَامُ؟ (قلت: فذكر الحديث بطوله، وفيه) قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سُبْحَانَ اللهِ! فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ: اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ (لقمان: ٣٤) وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ! فَحَدِّثْنِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا أَوْ رَبَّهَا وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الشَّاءِ يتطَاوَلُون بِالْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ؟ قَالَ: الْعَرَبُ. ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک مجلس میں بیٹھے تھے، جبریل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور اپنے ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول!مجھے بتائیے اسلام کیا ہے؟ (لمبی حدیث ذکر کی اس میں ہے کہ) جبریل علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جو غیب سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا: (لقمان: ٣٤) اللہ ہی کو غیب کا علم ہے۔ لیکن اگر تم چاہو تو میں قیامت سے پہلے قیامت کی نشانیاں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ جبریل uنے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے ،مجھے بتائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ لونڈی مالکن یا مالک کو جنم دے رہی ہے، اور تم دیکھو کہ بکریوں والے گھر بنا کر ایک دوسرے پر فخر کر رہے ہیں اور ننگے پاؤں، بھوکے،فقیرلوگوں کو دیکھو کہ وہ لوگوں کے سربراہ بن جائیں تو یہ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ جبریل uنے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بکریوں والے، محتاج فقیر اور بھوکے اور ننگے پاؤں کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرب لوگ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2514

عَن سَعيْد ابنِ أَبي سَعيد مَرفُوعاً(مرسلا): إِذاَ زَوَّقْتُمْ مسَاجدَكُمْ وَحَلَّيْتُم مصَاحفَكُم فاَلدِّمَار عَلَيْكُم. ( )
سعید بن ابی سعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (مرسلا) مروی ہے کہ: جب تم مساجد کومزین اور اپنے مصاحف کو خوب صورت بناؤ گے تو پھر تم پر بربادی مسلط ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2515

عَنْ بُقَيْرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأسلمي قالت: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: ياهؤلاء! إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتْ السَّاعَةُ
بقیرہ رضی اللہ عنہا قعقاع بن ابی حدرد اسلمی کی بیوی کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ منبر پر فرما رہے تھے:اے لوگو!جب تم کسی لشکر کے بارے میں سنو کہ وہ نزدیک ہی زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھو قیامت قریب آگئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2516

عَنْ عَائِشَةَ تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللهُ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ قَالَتْ (عَائِشة): وَفِيهِمْ أَهْلُ طَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کسی علاقے میں برائی عام ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس علاقے میں اپنا عذاب بھیج دیتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اس علاقے میں اللہ کے فرمانبرداربھی ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں پھر وہ اللہ کی رحمت کی طرف چلے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2517

عَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوْعاً: إِذَا ظَهَرَ السوء فِي الأَرْضِ أَنْزَلَ اللهُ عَزوجل بَأْسَهُ بِأَهْلِ الأَرْضِ، وَإِنْ كَانَ فِيهِمْ قَوْمٌ صَالِحُونَ يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللهِ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: جب کسی علاقے میں برائی عام ہو جائے تو اللہ عزوجل اس علاقے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔ اگر اس میں نیک لوگ ہوں تو وہ عذاب انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جو برے لوگوں کو پہنچتا ہے،پھر نیک لوگ اللہ کی رحمت کی طرف لوٹتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2518

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کہے کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو سب سے زیادہ برباد ہونے والا وہ خود ہی ہوتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2519

عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيْهِ (أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِي) عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُعِثَ إِلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ بِمَلَكٍ مَعَهُ كَافِرٌ فَيَقُولُ الْمَلَكُ لِلْمُؤْمِن: يَا مُؤْمِن! هَاكَ هَذَا الْكَافِرَ، فَهَذَا فِدَاؤُكَ مِنَ النَّار
ابو بردہ اپنے والد(ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ )سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر مومن کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جائے گا جس کے ساتھ ایک کافر ہوگا۔ وہ فرشتہ اس مومن سے کہے گا۔ اے مومن! اس کافر کو پکڑو، یہ تمہارے بدلے آگ میں جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2520

عَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُدْنِيَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قِيدَ مِيلٍ أَوِ اثْنَيْنِ فَتَصْهَرُهُمُ الشَّمْسُ فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ بِقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حِقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ أَيْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا.
مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو سورج کو بندوں کے قریب کر دیا جائے گا حتی کہ وہ ایک یا دو میل کے فاصلے پر رہ جائے گا۔ تو سورج انہیں جلائے گا،اس وقت وہ اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں غرق ہوں گے، کسی کو ایڑیوں تک،پسینہ آرہا ہوگا، کسی کو گھٹنوں تک،کسی کو کمر تک اور کسی کو منہ تک۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا، یعنی اسے پسینے کی لگام پہنائی جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2521

عَنْ عُدَيْسَة بِنْتِ أُهْبَانَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ هَاهُنَا (الْبَصْرَةَ) دَخَلَ عَلَى أَبِي فَقَالَ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَلَا تُعِينُنِي عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ؟ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَدَعَى جَارِيَةً لَهُ فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ! أَخْرِجِي سَيْفِي قَالَ فَأَخْرَجَتْهُ فَسَلَّ مِنْهُ قَدْرَ شِبْرٍ فَإِذَا هُوَ خَشَبٌ! فَقَالَ: إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا كَانَتْ الْفِتْنَةُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَتَّخِذُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ مَعَكَ قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيكَ وَلَا فِي سَيْفِكَ.
عدیسہ بنت اھبان سے مروی ہے کہ کہتی ہیں کہ جب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہاں (بصرہ میں)آئے تو میرے والد کے پاس آئے اور کہنے لگے: ابو مسلم! کیا تم اس قوم کے خلاف میری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے ایک لونڈی کو بلایا اور کہا: میری تلوار نکال کر لاؤ،وہ تلوار نکال کر لائی تو انہوں نے بالشت بھر باہر نکالی تو وہ لکڑی کی بنی ہوئی تھی کہنے لگے: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں کے درمیان فتنہ برپاہو جائے تو لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ اب اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ساتھ چلوں، علی‌رضی اللہ عنہ کہنے لگے:مجھے تم سے اور تمہاری تلوار سے کوئی غرض نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2522

) عَنْ عَبْدِاللهِ بن عُمر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا مَشَتْ أُمَتِي المَطِيْطَاء وخَدمتها أَبْنَاء الْمُلُوك أَبْنَاء فَارِس وَالرُّوم سُلِّط شرارُها عَلَى خِيَارِهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت مغرورانہ چال چلے گی اور بادشاہوں کے بیٹے فارس (ایران)اورروم (یورپ)کے لوگ، ان کی خدمت کریں گے تب بدترین لوگ بہترین لوگوں پر مسلط کر دیئے جائیں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2523

) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً مُتَّكِئًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْكَعبَةِ فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قِيلَ: هَذا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُم إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ لِي: هَذا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات میں نے خواب میں خود کو خانہ ٔ کعبہ کے پاس دیکھا،میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا۔ اتنا حسین کہ تم نے کوئی شخص نہیں دیکھا ہوگا۔ اس کی ایسی چمک تھی کہ تم نے اتنی حسین زلفیں کسی کی نہیں دیکھی ہوں گی کہ خوب صورت ترین چمک جو تم د یکھ سکو۔ اس کی زلفیں انتہائی خوبصورت تھیں جن میں اس نے کنگھی کی ہوئی تھی۔ اس کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا، دو آمیوں پر ٹیک لگائے یا ان کے کاندھوں پر ٹیک لگائے ہوئے۔ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: یہ مسیح ابن مریم ہیں۔ پھر اچانک میں نے سخت گھنگریالے بالوں والا ایک شخص دیکھا،دائیں آنکھ سے کانا، گویا وہ پھولا ہوا انگور ہو،میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا: یہ مسیح دجال ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2524

عَنِ النَضر بنِ أَنَسِ بنِ مَالك عَنْ أبِيه قَالَ: سَأَلْتُ النَبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ يَشْفَعَ فِيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ: أَنَا فَاعِلٌ قَالَ: قُلتُ: يَا رَسُول اللهِ! فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ؟ قَالَ: اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ: فَإِن لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ؟ قَالَ: اطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ؟ قَالَ فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ المَوَاطِنَ
نضر بن انس بن مالک اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کہ آپ قیامت کے دن میری سفارش کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ضرور کروں گا ۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌قیامت کے دن میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے تم مجھے پل صراط پر تلاش کرنا، میں نے کہا: اگر میں آپ سے پل صراط پر نہ مل سکوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب میزان کے پاس مجھ سے ملنا، میں نے کہا: اگر میں آپ کو میزان کے پاس نہ پاؤں تو؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:تو حوض پر پاؤ گے،ان تین مقامات میں سے کہیں نہ کہیں ضرور پاؤ گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2525

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَالَ: سَمِعتُ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: «أَظَلَّتْكُمْ فِتَنٌ، كَقِطَعِ اللَّيْل الْمُظْلِم، أَنْجَى النَّاس مِنها صَاحِب شَاهِقَةٍ يَأْكُلُ مِنْ رَسْلِ غَنَمِهِ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ الدروب آخِذٌ بِعِنَان فَرَسه يَأْكُل مِنْ فَيْء سَيْفه».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہیں فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ڈھانپ لیں گے،نجات پانے والا وہ شخص ہوگا، پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہنے والا جو بکریوں کے ریوڑ سے کھائے گا۔ یا وہ شخص جوجہاد کے راستے تلاش کرتا ہو گااپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہو اور اپنے غنیمت کے مال میں سے کھاتا ہو۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2526

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوِ اثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوِ اثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یہودی اکہتر(۷۱) فرقوں میں تقسیم ہوئے، عیسائی بہتّر(۷۲)فرقوں میں تقسیم ہوئےاور میری امت تہترّ(۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2527

) عَنِ ابنِ مَسْعُوْدٍ مَرْفُوعاً: «اقْتَرَبَت السَّاعَة وَلَا يَزْدَاد النَّاس عَلَى الدُّنْيَا إِلَا حِرْصًا وَلَا يزدادون من الله إِلَا بُعْدًا».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: قیامت قریب آ گئی، لوگ دنیا کی حرص میں زیادہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے دور ہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2528

عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ:كَسِّرُوا قَسِيَّكُمْ - يعني فِي الْفِتْنَةِ- وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وَالْزَمُوا أَجْوَافَ البُيُوتِ وَكُونُوا فِيهَا كَالخيرِ من ابْنِي آدَمَ
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنی کمانیں تو ڑ دو،یعنی فتنے کے دوران، ان کی تاریں کاٹ دو، اور گھروں میں بند ہو جاؤ،اور فتنوں میں بنی آدم کے بہترین شخص کی طرح رہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2529

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: أَلا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا، أَلا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا (قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا)، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ (يُشِيرُ (بِيَده) إِلَى الْمَشْرِقِ، وَفي رواية: العِرَاقِ).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: خبردار فتنہ یہاں ہے، خبردار !فتنہ یہاں ہے۔(آپ نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی) جہاں سے شیطان کے سینگ نمودار ہوتے ہیں(اور اپنے ہاتھ سے)مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ اور ایک روایت میں ہے عراق کی طرف
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2530

قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ. جَآءَ مِنْ حَدِیْثِ ابن عمر وَاَبِیْ مَسْعُوْدِ الْاَنصَارِیِّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَاَبِیْ ھُرَیْرَہَ رَضی اللہ عنہم
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خبردار فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ یہ حدیث سیدنا ابن عمر، ابومسعود انصاری، ابن عباس اور ابوھریرہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2531

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ قَامَ فِينَا فَقَالَ: أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ فِينَا فَقَالَ: أَلَا إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ: ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ.
معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما ہمارے درمیان کھڑے ہو کر کہنے لگے: خبردار !رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: خبردار! تم سے پہلے اہل کتاب بہتّر (۷۲) فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور یہ امت تہتّر(۷۳) فرقوں میں تقسیم ہو گی۔ بہتّر (۷۲) آگ میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہ (حق پر قائم) جماعت ہوگی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2532

عَنِ ابْنِ عُمر أَنَّ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اِسْتَعمَل رَجُلاً عَلَى عَملٍ فَقَال: يَا رَسُول الله: خِرْ لِي فَقَال: اِلْزَم بَيْتَكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایک آدمی کو کسی کام پر مقرر کیا، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرے لئےبہترین کام پسند کیجئے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنے گھر میں ٹھہرے رہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2533

عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دَعَا فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَكَّتِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِيْنَتِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا فَقَال رَجَلٌ: يَا رَسُول الله! وَفِي عراقنا، فَأَعْرَض عَنْه فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا كل ذَلِك يَقول الرجل: وَفِي عِرَاقِنَا، فَيَعْرِضُ عَنْه، فَقَال:«بِهَا الزَّلَازِل وَالْفِتَنُ وَفِيهَا يَطَّلِعُ قَرْنُ الشَّيْطَان.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! ہمارے مکہ میں ہمارے لئے برکت عطا کر، اے اللہ! ہمارے مدینہ میں ہمارے لئے برکت عطا کر، اے اللہ! ہمارے شام میں ہمارے لئے برکت عطا کر، ہمارے صاع میں برکت عطا کر، ہمارے مُد میں ہمارے لئے برکت عطا کر، ایک آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمارے عراق میں بھی۔ آپ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تین مرتبہ یہ دعا دہرائی۔ ہر مرتبہ وہ آدمی کہتا: ہمارے عراق میں بھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ پھیر لیتے۔ (پھر) آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہاں پر زلزلے اور فتنے برپا ہوں گے اور وہیں شیطان کا سینگ طلوع ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2534

عَنْ قَتَادَةَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ قَتَادَةُ: بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا.
قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہمیں انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! قیامت کے دن کافر اپنے چہرے کے بل چلایا جائے گا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:کیا وہ ذات جس نے دنیا میں اسے ٹانگوں کے بل چلایا اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے اس کے چہرے کے بل چلائے؟ قتادہ کہنے لگے: ہمارے رب کی عزت کی قسم! کیوں نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2535

عَنْ أَنْسٍ، قَالَ: أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرَّ بِقَوْمٍ مبتلين، فَقَال: أَمَا كَان هَؤُلَاء يَسْأَلُون الْعَافِيَة ؟.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک مصیبت زدہ قوم کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا یہ لوگ عافیت کا سوال نہیں کرتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2536

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالبَراكِين.
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت پر رحم کیا گیا ہے، آخرت میں اس پر عذاب نہیں، اس کا عذاب دنیا میں فتنوں، زلزلوں اور آتش فشاں کی صورت میں ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2537

عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : « إِنَّ الرَجُل يَشْفَع لِلرَّجُلَيْن وَالثَّلَاثَة وَالرَّجُل لِلرَّجُل ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کوئی شخص دو آدمیوں کی سفارش کر سکے گا، کوئی تین کی اور کوئی شخص ایک آدمی کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2538

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ مَرفُوعاً: إِنَّ اللهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا.
شداد بن اوس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یقیناً اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین سکیڑدی، میں نے اس کے مشرق ومغرب دیکھے اور میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لئے زمین سکیڑ دی گئی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2539

عَنْ عَبْد اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعتُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ! فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ فَيَقُولُ: بَلَى إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً فَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ فَيَقُولُ: مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كَفَّةٍ فَطَاشَتْ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللهِ شَيْءٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن سب لوگوں کے سامنے کھڑا کردے گا اور اس شخص کے سامنے ننانوے(۹۹)رجسٹر کھولے گا (جن میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوں گے) ،ہر رجسٹر تاحد نگاہ پھیلا ہوا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا میرے فرشتوں نے تم پر کوئی ظلم کیا؟ وہ کہے گا:نہیں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارا کوئی عذر ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب!اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں میرے پاس تمہاری ایک نیکی ہے اور آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ ایک پر چی نکالی جائے گی اس میں لکھا ہوگا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،اللہ تعالیٰ فرمائے گا: (اپنے اعمال کے) وزن ہونے کی جگہ پہنچ کر وہ کہے گا: ا تنے رجسٹروں کے مقابلے میں اس پرچی کی کیا حیثیت ؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا:تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ رجسٹروں کو ایک پلڑےمیں رکھا جائے گا اور اس پرچی کو دوسرے پلڑے میں،رجسٹر اوپر اٹھ جائیں گے اور پرچی بھاری ہو جائے گی، اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2540

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: إِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا (وفي رواية: يُثَابُ عَلَيْهَا بِهَا للهِ فِي الدُّنْيَا) وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ مومن پر اس کی کسی نیکی کے بارے میں ظلم نہیں کرے گا(ایک روایت میں ہے: دنیا میں اس نیکی کی وجہ سے اسے ثواب دیا جائے گا) اجر دیا جائے گا۔ اور آخرت میں بھی اس کی وجہ سے بدلہ دیا جائے گا۔جب کہ کافر کو اللہ کے لئے کی جانے والی نیکیوں کی وجہ سے دنیا میں کھلایا جائے گا لیکن آخرت میں اس کے لئے کچھ نہیں ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2541

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ رِيحًا مِّنْ الْيَمَنِ أَلْيَنَ مِنَ الْحَرِيرِ فَلَا تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا بھیجے گاجو ریشم سے زیادہ نرم ہوگی، جس شخص کے دل میں (رائی کے) دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کر لے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2542

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى لَيَقُولَ: فَمَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ أَنْ تُنْكِرَهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ قَالَ: أَي رَبِّ! وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے یہاں تک سوال کرے گا کہ: جب تم نے برائی دیکھی تو تمہیں کس چیز نے منع کیا تھا کہ اس کا انکار نہ کرو؟ جب اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی حجت سکھا دے گا۔ تو وہ بندہ کہے گا:اے میرے پروردگار! میں نے تجھ پر بھروسا کیا تھا اور لوگوں سے ڈر گیا تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2543

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ». يَعْنِى الإِسْلاَمَ: «كَمَا يُكْفَأُ، يَعني الْخَمْر». فَقِيلَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ! وَقَدْ بَيَّنَ اللهُ فِيهَا مَا بَيَّنَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :«يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جو الٹ دی جائے گی یعنی اسلام میں سے جیسے برتن کو الٹ دیا جاتا ہے۔ یعنی شراب ہے۔ پوچھا گیا کہ: اے اللہ کے رسول یہ کیسے ہوگا جبکہ اس کے بارے یں تو اللہ تعالیٰ نے پوری وضاحت فرمادی ہے؟ کہا گیا: اے اللہ کے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌!اللہ تعالیٰ نے تو اس میں واضح طور پر بیان کر دیا ہے ؟رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ اس کا نام بدل لیں گے۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2544

عَنِ ابْنِ عُمَر أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے جھوٹ منسوب کرتا ہے اس کے لئے جہنم میں ایک گھر بنایا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2545

) عَنْ أَنسٍ مَرفُوعاً: إِن الله احتجز التَّوْبَة عن صَاحب كُلِّ بِدْعَة .
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی کی توبہ سے پردہ کیا ہوا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2546

عن ابن عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِنَّ أَمْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ لا يَزَالُ مُقَارِبًا أَوْ مُوَاتِيًا حَتَّى يَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: اس امت کا معاملہ اس وقت تک درست رہے گا جب تک یہ اولاد اور تقدیر کے بارے میں شک کرنے سے بچے رہیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2547

عَنْ خَبَّابٍ، عَنِ ِالنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِنَّ بني إِسْرَائِيلَ لَمَّا هَلَكُوا قَصُّوا.
خباب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل جب ہلاک ہوئےتو قے بیان کرنے لگے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2548

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرفُوعاً: إِنّ لِلْإِسْلَام شِرَّةً، وَإِن لِكُلّ شِرَّة فترةً، فَإِن (كَان) صَاحِبهُمَا سَدَّد وَقَارَب فارجوه، وَإِن أُشِير إِلَيْه بِالْأَصَابِع فَلَا تَرْجُوه.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ:اسلام کے لئے ایک حرص ہوتی ہے اور ہر حرص کے لئے ایک وقفہ ہوتا ہےاگر اس دور کا حکمران سیدھا رہے اور درست رہے تو اس سے(خیر کی)امید رکھو،اور اگر اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں تو اس سے(خیر کی)امید مت رکھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2549

عَنْ حِرَامِ بن حَكِيمِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِاللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: (إِنَّكُمْ) أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ كَثِيرٍ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيلٍ خُطَبَاؤُهُ، قَلِيلٍ سُؤَّالُهُ، كَثِيرٍ مُعْطُوهُ، الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ، كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ.
حرام بن حکیم اپنے چچا عبداللہ بن سعد سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(تم )ایسے زمانے میں ہو جس میں فقہاء زیادہ ہیں، خطباء کم ہیں، سوال کرنے والےکم دینے والے زیادہ ہیں، اس وقت عمل علم سے بہتر ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جس میں فقہاء کم ہوں گے، خطباء زیادہ ہوں گے،سوال کرنے والے زیادہ ہوں گے دینے والے کم ہوں گے،اس وقت علم عمل سے بہتر ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2550

عَنْ أَبِي هُرَيرة مرفوعا: إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ، مَنْ يَتَحَرَّ الْخَيْرَ يُعْطَهُ، وَمَنْ يَتَّوَقَّ الشَّرَّ يُوقَهُ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: علم سیکھنے سے ہے اور حلم بردباری کوشش کرنے سے ہے، اور جو شخص خیر کی کوشش کرتا ہے اسے خیر دے دی جاتی ہے اور جو شر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے شر سے بچالیا جاتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2551

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ: كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: صاحب قرآن کی مثال بندے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے اگر اس کا خیال رکھے گا تو اسے قابو میں رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2552

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ:هَجَّرْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمًا قَالَ:فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ:إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ:بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْكِتَابِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا، آپ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت کے بارے میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ،آپ کے چہرے سےغصہ جھلک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ اپنی کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2553

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ :هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ. وَزَادَفِی آخِرِہ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ اللهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللهُ يَقُولُ: ﮋ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷﭸ ﭹ ﭺ ﭻﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮊ (النساء) قَالَ: فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ. ( )
کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سےسنا فرما رہے تھے:یقیناً ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2554

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : «إن لِلهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ، قَسَمَ رَحْمَةً (وَاحِدَةً) بَيْنَ أَهْلِ الدنيا وَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ وأخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ وَإِن اللهُ قَابِضُ تِلْكَ الرَّحْمَةِ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الدنيا إِلَى التِّسْع وَالتِّسْعِينَ فَيُكَمِّلُهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو (100)رحمتیں ہیں اللہ نے اہل دنیا پر ان کی موت تک ایک رحمت تقسیم کر دی ہے،اور ننانوے رحمتیں اپنے اولیاء کے لئے بچا کر رکھیں ہیں۔ اور اہل دنیا پر تقسیم کی جانے والی رحمت بھی قبضے میں لے لے گا اور ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا کر قیامت کے دن اپنے اولیاء کے لئے سو رحمتیں پوری کردے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2555

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَرفُوعاً: إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ أَبْيَضَ مِثْلَ اللَّبَنِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میراحوض خانۂ کعبہ اور بیت المقدس کے درمیانی علاقے جتنا بڑا ہوگا۔ دودھ کی طرح سفید ہوگا اور اس کے جام ستاروں کی تعداد جتنے ہوں گے اور قیامت کے دن انبیاء میں سب سے زیادہ پیروکارمیرے ہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2556

عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ: أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ فَمَاءٌ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهَا نَارٌ فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌ فَقَالَ عُقْبَةُ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ.
ربعی بن حراش رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عقبہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم ہمیں وہ حدیث نہیں سناؤ گے جو تم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے؟ وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: دجال جب ظاہر ہو گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی ہوگا،جس کو لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا پانی ہوگا، اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔ تم میں سے جس شخص کو ملے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2557

عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ فَجِئْنَا نَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا رَكَعَ النَّاسُ رَكَعَ عَبْدُ اللهِ وَرَكَعْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ نَمْشِي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! فَقَالَ عَبْدُ اللهِ وَهُوَ رَاكِعٌ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ. فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: لِمَ قُلْتَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ الرَّجُلُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ إِذَا كَانَتِ التَّحِيَّةُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ. وفي رواية: أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ.
اسود بن یزید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مسجد میں نماز کی اقامت کہی گئی، ہم عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے آئے، جب لوگوں نے رکوع کیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بھی رکوع کیا اور ہم نے بھی چلتے چلتے ہی ان کے ساتھ رکوع کرلیا۔ ایک آدمی ان کے سامنے سے گذرا اور کہنے لگا: ابو عبدالرحمن السلام علیکم ۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رکوع کی حالت میں کہا: اللہ اور اس کے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے سچ کہا۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو کسی شخص نے کہا: جب اس آدمی نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے ایسا کیوں کہاکہ: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: قیامت کی نشانی ہے کہ لوگ پہنچاننے والوں کو سلام کریں گے،اور ایک روایت میں ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو صرف اس وجہ سے سلام کہے گا کہ اسے پہچانتا ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2558

عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَفِيْضَ الْمَالُ وَيَكْثُرَ الجَهَلُ وتَظْهَرَ الفِتَنُ وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ (وَيَظْهَرَ الْعِلْمُ).
بن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کی نشانیاں یہ بھی ہیں کہ مال عام ہو جائے گا، جہالت زیادہ ہوجائے گی، فتنے ظاہر ہو جائیں گے،تجارت پھیل جائے گی(اور علم (پڑھائی لکھائی) عام ہو جائے گا)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2559

عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الجمحي أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُلْتَمَسَ الْعِلْمُ عِنْدَ الأَصَاغِرِ
ابو امیہ جمحی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم نااہل لوگوں کے پاس تلاش کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2560

) عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَرفُوعاً: إِنّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَمُرَّ الرَّجُلُ فِي الْمَسْجِدِ لا يُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ قیامت کی نشانی ہے کہ آدمی مسجد میں سے گزرے گا لیکن اس میں دو رکعت (تحیۃ المسجد) بھی ادا نہیں کرے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2561

عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: إِنّ مِن أَشْرَاط السَّاعَة الْفُحْش وَالتَّفَحُّش، وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَام، وائْتِمَان الْخَائِن أَحْسَبُه قَالَ: وَتَخْوِيْنُ الْأَمِين».
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ فحاشی، فحش گوئی اور قطع رحمی عام ہو جائے گی اور خائن کو امین سمجھا جانے لگے گا اور امین کو خائن سمجھا جانے لگے گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2562

عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ طَافَ النَّاسُ بِهِ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ مِنْ بَعْدِكُمُ الْكَذَّابُ الْمُضِلَّ وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ بَعْدِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَإِنَّهُ سَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ: لَسْتَ رَبَّنَا لَكِنَّ رَبَّنَا اللهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبْنَا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّكَ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ.
ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے مدینے میں ایک آدمی دیکھا لوگ اس کی زیارت کے لئے آرہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا،کیا دیکھتا ہوں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کا ایک صحابی ہے میں نے اسے کہتے ہوئے سنا: تمہارے بعد گمراہ کرنے والا کذاب آئے گا۔سخت گھنگھریالے بالوں والا تین دفعہ فرمایا اور وہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں،جو آدمی اسے یہ کہے گا کہ: تو ہمارا رب نہیں، لیکن ہمارا رب اللہ ہے، اسی پر ہم نے توکل کیا، اسی کی طرف ہم لوٹ کر جائیں گے تو وہ اس پر غالب نہیں ہو سکے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2563

عَنْ عُتْبَةَ بن غَزْوَانَ أَخِي بني مَازِنِ بن صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، لِلْمُتَمَسِّكِ فِيهِنَّ يَوْمَئِذٍ بِمَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ. قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَوَ مِنْهُمْ؟ قَالَ:بَلْ مِنْكُمْ.
عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے بعد صبر کے دن آئیں گے،جو اس دن حق کو تھامے رکھے گا گا اس کے لئے تمہارے پچاس آدمیوں کا ثواب ہوگا، صحابہ نے کہا:اے اللہ کے نبی! کیا وہ پچاس آدمی ان میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم میں سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2564

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے، پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:میت جن کپڑوں میں فوت ہوتی ہے انہی کپڑوں میں اٹھائی جائے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2565

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ يَحْفِرُونَ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَنَحْفِرُهُ غَدًا فَيُعِيدُهُ اللهُ أَشَدَّ مَا كَانَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ حَفَرُوا، حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَنَحْفِرُهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى وَاسْتَثْنَوْا فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيُنْشِفُونَ الْمَاءَ وَيَتَحَصَّنُ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ عَلَيْهَا الدَّمُ الَّذِي اجْفَظَّ فَيَقُولُونَ: قَهَرْنَا أَهْلَ الْأَرْضِ وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ فَيَبْعَثُ اللهُ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُون بِهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ دَوَابَّ الْأَرْضِ لَتَسْمَنُ وَتَشْكُرُ شُكْرًا مِنْ لُحُومِهِمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یا جوج اور ماجو ج ہر دن دیوار کھرچتے ہیں، یہاں تک کہ جب اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ سورج کی شعاع دیکھ سکیں تو ان کا نگران کہتا ہے: واپس چلو، باقی کل کھرچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس دیوار کو اس سے زیادہ موٹا کر دیتا ہے، حتی کہ جب ان کے نکلنے کا وقت آجائے گا اور اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں میں بھیجنا چاہےگا تو دیوار کھرچیں گے حتی کہ سورج کی کرن دیکھنے کے قریب پہنچ جائیں گے تو ان کا نگران کہے گا: واپس چلو باقی ان شاء اللہ کل کھرچیں گے ، جب وہ اس طرح کہیں گے اور دوسرے دن واپس آئیں گے تو دیوار اسی طرح ہوگی جس طرح چھوڑ کر گئے ہوں گے۔ وہ اسے کھرچ کر لوگوں میں آجائیں گے،پانی ختم کردیں گےاورلوگ قلعوں( گھروں) میں بند ہو جائیں گے۔ وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے، جب واپس آئیں گے تو ان پر خون لگا ہوا ہوگا۔ وہ کہیں گے:ہم زمین اور آسمان والوں پر غالب ہوگئے، تب اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے وہ مر جائیں گے،رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،زمین کے کیڑے مکوڑے ان کا گوشت کھا کر موٹے ہو جائیں گے اور خوب شکر ادا کریں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2566

عَنْ أَنَسٍ بن مَالك: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدٌ. فَقَالَ لَه رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال کیا: قیامت کب آئے گی؟ آپ کے پاس انصار کا ایک محمد نامی بچہ بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے کہا: اگر یہ بچہ زندہ رہا تو ممکن ہے یہ بوڑھا بھی نہ ہو اور قیامت آجائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2567

عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الدَوسِي قَالَ: دَخلتُ أَنَا وَصَاحِب لِي عَلى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ وَإِنْ كَانَ عندنا مُصَدَّقًا قَالَ: نَعم، قَامَ فِيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاتَ يَومِ فَقَالَ: أُنْذِركُم الدَجَّال، أُنْذِركُم الدَجَّال، أُنْذِركُم الدَجَّال، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، وإن مَعَهُ جَنَّةً وَّنَارًا فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ، وَإِن مَعه نَهرَ مَاءٍ وَجبَلَ خُبْزٍ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا ثُم يُحيِيهَا، لَا يُسَلَّطُ عَلى غَيرِهَا، وَإِنَه يُمطِر السَّماء وَلَا تَنبُتُ الأَرض، وَإِنه يَلبَثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا حتى يَبْلُغُ منها كُلَّ مَنْهَلٍ، وإنه لا يَقْرُبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسجِدَ الرسُول وَمَسجِدَ المَقْدَسِ والطُّورَ، وَمَا شبه عَلَيْكُمْ من الاشياء فَإِنَّ الله لَيْسَ بِأَعْوَرَ (مرتين).
جنادہ بن ابی امیہ دوسی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ایک صحابی کے پاس آئے،ہم نے کہا:آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے جو سنا ہے وہ ہمیں بیان کیجئے،اس کے علاوہ کسی اور سے بیان نہ کیجئے اگرچہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے،ایک دن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے:میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں۔ کیوں کہ جو نبی بھی آیا ہے اس نے دجال سے اپنی امت کو ڈرایا ہے اور اے میری امت! وہ تم میں ظاہر ہوگا، وہ گندمی رنگ کا سخت گھنگریالے بالوں والا ہوگا، بائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہوگی، اس کی جہنم جنت ہے اور اس کی جنت جہنم ہے اور اس کے ساتھ پانی کی ایک نہر اور روٹی کا پہاڑ ہوگا۔ وہ ایک شخص پر غلبہ پائے گا تو اسے قتل کر کے زندہ کر دے گا۔ اس کے علاوہ کسی اور پر غلبہ نہیں پا سکے گا۔ وہ آسمان سے بارش برسائے گا لیکن زمین میں کھیتی نہیں اگے گی، وہ زمین میں چالیس دن رہے گا، اور زمین کے کونے کونے تک جائے گا، وہ چار مسجدوں کے قریب نہیں جاسکےگا۔مسجدحرام،مسجدنبوی،مسجداقصی اور طور۔تم اس کےبارےمیں شبہ میں نہ پڑجاناکیوں کہ تمہارارب کانا نہیں(دومرتبہ فرمایا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2568

عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ: أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟! قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ.
موسیٰ بن عقبہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مجھے میرے نانا ابو حبیبہ نے بیان کیا کہ وہ اس گھر میں داخل ہوئے جس میں عثمان‌رضی اللہ عنہ محصور تھے،انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بات چیت کرنے کے لئے عثمان‌رضی اللہ عنہ سے اجازت لے رہے تھے۔ عثمان‌رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدو ثنا بیان کی، پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:تم میرے بعد فتنے اور اختلاف میں پڑ جاؤ گے۔ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:اے اللہ کے رسول!ہماری رہنمائی کرنے والا کون ہوگا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم اس امین(امانتدار)اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل جانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2569

عَنْ بَهْزِ بن حَكِيمٍ بن معاوية عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، (معاوية بن حيدة) مرفوعاً: إِنَّكُمْ مَدْعُوُّونَ (يَوْمَ الْقِيَامَةِ) مُفَدَّمَةً أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ ثُمَّ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبِينُ (وقال مرة: يُتَرْجِمُ، وفي رواية: يُعْرِبُ) عَنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ.
بہز بن حکیم بن معاویہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا (معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ )سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ تم قیامت کے دن بلائے جاؤ گے تمہارے منہ بند ہوں گے، پھر سب سے پہلے جو عضو بات کرےگا وہ تمہاری ران اور ہتھیلی ہو گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2570

عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَرفُوعاً: إِنَّكُمْ اليَوم فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ عُلَمَاؤُهُ، قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ مَنْ تَرَكَ عُشر مَا يعْرف فَقَد هَوَى وَيَأتِي مِنْ بَعدُ زَمَانٌ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ عُلَمَاؤُهُ مَنِ اسْتَمْسَكَ بِعُشْرٍ مَا يَعْرِفُ فَقَد نَجَا.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: تم آج اس دور میں ہو جس میں علما ء زیادہ ہیں اور خطباءکم،جس شخص نے اپنے علم کے مطابق دسواں حصہ بھی عمل چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوگا، اور اس کے بعد ایسا دور آئے گا جس میں خطباء زیادہ ہوں گے اور علما ءکم،جس شخص نے اپنے علم کے مطابق دسواں حصہ بھی عمل کیا وہ نجات پا جائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2571

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَقَالَ اقْرَءُوا فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَزۡنًا (۱۰۵) (الكهف).
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بھاری بھرکم آدمی آئے گا لیکن اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھے گا۔ اور فرمایا: یہ آیت پڑھو:(الكهف:۱۰۵)۔’’پس ہم ان کے (اعمال کے وزن کے) لیے قیامت کے دن ترازو قائم کریں گے ‘‘۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2572

) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ! فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي قَالَتْ: إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ! فَقُلْتُ: إِنِّي مِنَ النَّاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ فَإِيَّايَ! لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ فَأَقُولُ: فِيمَ هَذَا؟ فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟ فَأَقُولُ: سُحْقًا.
عبداللہ بن رافع ام سلمہ زوجہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے آزادکردہ غلام سے مروی ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں لوگوں سے حوض (کوثر)کا ذکر سنا کرتی تھی لیکن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے نہیں سنا تھا، ایک دن ایسا ہوا کہ لونڈی میری کنگھی کر رہی تھی،میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، فرما رہے تھے:لوگو!میں نے لونڈی سے کہا: پیچھے ہٹو، وہ کہنے لگی: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے تو مردوں کو بلایا ہے،عورتوں کو نہیں،میں نے کہا: میں بھی لوگوں میں سے ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا منتظر ہوں گا۔ اس بات سے بچنا کہ کوئی شخص میرے پاس آئے اور مجھ سے اس طرح دور کر دیا جائے جس طرح گمراہ(بھٹکا ہوا) اونٹ دور بھگا دیا جاتا ہے، اور میں کہوں، یہ کس وجہ سے ؟ تو مجھے بتایا جائے کہ:آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا نئے کام ایجاد کر لئے تھے ؟اور میں کہوں انہیں دور کردو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2573

عَن ابن عَباسٍ، عَن عُمر بنِ الخَطَاب رضوان الله عليهم، قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : «إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُم عن النَّار وتَقَاحمُون فِيهَا تَقَاحُمَ الْفَرَاش والجَنَادِبَ، وَيُوشِكُ أَن أُرْسِلَ حُجَزَكُمْ وَأَنَا فَرَطٌ لَكُم عَلَى الْحَوْض فَتَرِدُوْنَ علي مَعًا وأشتاتاً فأَعْرِفُكُمْ بِأَسْمَائِكُم وبسيمَاكُمْ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ الْغَرِيبَةَ مِنَ الْإِبِل في إبله، فَيَذْهَبُ بِكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، وَأُنَاشِدُ فِيكُم رَبَّ الْعَالَمِين فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي، فيقال: إِنَّك لَا تَدْرِي ما أَحْدَثُوا بعدك، إِنَّهُم كَانُوا يَمْشُون القهقرى بَعْدَك، فَلَا أعرفن أَحَدَكُم يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَة يَحْمِل شَاةً لَهَا ثُغَاءٌ ينَادِي: يَا مُحَمِّدُ! يَا مُحَمَّدُ! فَأَقُوْلُ: لَا أَمْلِكُ لَك من الله شيئًا، قَد بَلّغْتُ وَلَا أَعْرِفَنّ أَحَدكُم يَأْتِي يَوِم الْقِيَامَة يَحْمِل بَعِيرًا لَه رُغَاءٌ ينادي: يَا محمد! يَا محمد! فأقول: لَا أَمْلِكُ لَك من الله شيئا، قَد بلغت، وَلَا أَعرفن أَحَدَكُم يَأْتِي يَوِم الْقِيَامَة يَحْمِل فَرَسًا لَه حَمْحَمَةٌ ينادي: يَا محمد! يَا محمد! فأقول: لَا أَمْلِكُ لَك من الله شيئا، قَد بلغت، وَلَا أعرفن أَحَدَكُم يَأْتِي يَوِم الْقِيَامَة يَحْمِل قِشْعاً مِنْ أَدَمٍ يُنَادِي: يَا محمد! يَا محمد! فأقول: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ الله شَيْئًا قَد بَلَّغْتُ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ،عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں پیچھے سے پکڑ کر آگ سے بچا رہا ہوں اور تم کیڑے مکوڑوں (پروانوں) اور ٹڈیوں کی طرح اس میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔ قریب ہے کہ میں تمہیں پیچھے سے چھوڑ دوں،اور میں حوض پر تمہارا منتظر رہوں گا،تم ٹولیوں کی صورت میں اور الگ الگ میرے پاس آؤ گے،میں تمہیں تمہارے ناموں اور تمہارے نشانوں کے ساتھ اس طرح پہچانوں گا جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹوں میں اجنبی اونٹ پہچانتا ہے ۔پھر تم میں سے (بعض کو) بائیں طرف لے جایا جائے گا، میں رب العالمین سے تمہارے بارے میں التجا کروں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! یہ میری امت ہے،مجھے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا نئے کام ایجاد کر لئے، یہ آپ کے بعد الٹے قدموں پھر گئے۔میں تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے کاندھوں پر کوئی بکری ہو جو منمنارہی ہو اور وہ شخص پکار رہا ہو: یا محمد! یا محمد! (میری مدد کرو) اور میں کہوں میں اللہ سے تمہیں نہیں چھڑا سکتا میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔ اور تم میں سے کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کے کاندھوں پر کوئی اونٹ ہو جو بلبلا رہا ہو، وہ شخص (مدد کے لئے) پکار رہا ہو یا محمد! یا محمد! اور میں کہوں: میں اللہ سے تمہیں نہیں چھڑا سکتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔اور کسی شخص کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اپنے کاندھوں پر گھوڑا اٹھائے ہوئے آئے جو ہنہنا رہا ہو اور وہ شخص پکار رہا ہو یا محمد! یا محمد! اور میں کہوں میں اللہ سے تمہیں نہیں چھڑا سکتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا۔اور نہ کسی شخص کو اس حال میں پاؤں کہ اس نے چمڑے کا ایک ٹکڑا اٹھا رکھا ہو اور وہ پکار رہا ہو یا محمد! یا محمد! اور میں کہوں میں اللہ سے تمہیں نہیں بچا سکتا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2574

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَوَّلُ الآيَاتِ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِهَا .
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کی پہلی بڑی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2575

عَنْ خَالِدِ بن مَعْدَانَ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيّٰ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُ أَتَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَهُوَ نَازِلٌ فِي سَاحِلِ حِمْصٍ فِي بِنَاءٍ لَهُ، وَمَعَهُ أُمُّ حَرَامٍ، قَالَ عُمَيْرٌ: فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا. قَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: قُلتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَنَا فِيهِمْ؟ فَقَالَ:أَنْتِ فِيهِمْ. ثُمَّ قَالَ: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ. فَقُلتْ: أَنَا فِيهِمْ يَا رَسُولَ، اللهِ؟ قَالَ: لا.
خالد بن معدان رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ عمیر بن اسود عنسی نے بیان کیا کہ وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو حمص کے ساحل پر اترے تھے اور اپنے خیمے میں تھے ان کے ساتھ ام حرام رضی اللہ عنہا بھی تھیں،عمیر نے کہا کہ: ام حرام رضی اللہ عنہا نے ہمیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: میری امت کا پہلا گروہ جو سمندری جہاد کرے گا انہوں نے اپنے اوپر جنت واجب کرلی ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا کہ: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں ہوں گی ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم ان میں ہوگی۔ پھر فرمایا: میری امت کا پہلا لشکر قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) سے جہاد کرے گا ان کی بخشش کر دی گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں سے ہوں گی ؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2576

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ آدَمُ فَتَرَاءَى ذُرِّيَّتُهُ فَيُقَالُ: هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ! فَيَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! كَمْ أُخْرِجُ؟ فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا؟ قَالَ: إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو بلایا جائے گا،ان کی اولاد (نسل انسانی) ان کو دیکھے گی۔ کہا جائے گا: یہ تمہارے والد آدم علیہ السلام ہیں۔ وہ کہیں گے: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ۔اللہ تعالیٰ فرمائےگا :اپنی اولاد سے جہنم کا حصہ نکالو۔ وہ کہیں گے: اے میرے رب! کتنا حصہ نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائےگا:ہر سو میں سے ننانوے، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تب تو ہم میں سے ہر سو میں سے ننانوے شخص پکڑ لئے جائیں گے تو ہم میں سے کتنے بچیں گے ؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کالے بیل میں سفید بال کی طرح ہوگی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2577

عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّه قَالَ لِيَزِيْد بْنِ أَبِي سُفيَان: سَمِعْتُ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :أَوَّلُ مَنْ يُغَيِّر سُنَّتِي رَجلٌ من بَنِي أُميَّة.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یزید بن ابی سفیان سے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: پہلا شخص جو میری سنت(طریقے)کو تبدیل کرے گا بنو امیہ میں سے ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2578

عَنْ عَائِشَة مَرفُوعاً: أَوَّل من يُكْسَى خَلِيل اللهِ إِبْرَاهِيم عليه الصّلاة وَالسَّلَام.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ: سب سے پہلے جس شخص کو کپڑے پہنائے جائیں گے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہوں گے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2579

عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ: أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَنَا: أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ؟ عَسَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ.
قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب وہ حوأب (چشمے کا نام)کی طرف آئیں تو انہوں نے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنیں، کہنے لگیں: میرے خیال میں مجھے واپس جانا چاہیئے کیوں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہم سے فرمایا تھا: تم میں سے کون ہے جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے؟زبیر‌رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ واپس جاتی ہیں؟ ممکن ہے اللہ عزوجل آپ کی وجہ سے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2580

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ فَإِنْ يُقْطَع السِّلْكُ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (قيامت كی)نشانیاں،لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں، اگر لڑی کاٹ دی جائے تو موتی ایک دوسرے کے پیچھے گرتے چلے جاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2581

عَنْ عَلِيمٍ، قَال: كُنْتُ مَعَ عَابِس الغفَارِي عَلى سَطْحٍ فَرَأى قَوْمًا يَتحَمَّلُون مِن الطَاعُون فَقَالَ: مَا لِهؤلَاء يَتحَمَّلُون مِن الطَاعُون؟! يَا طَاعُونُ! خُذْنِي إِلَيْكَ (مَرَّتَيْن). فَقَالَ لَه ابْن عَمٍ ذُو صَحبَة: لِمَ تَتمَنَّى المَوت؟ وَقَد سَمِعتُ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ، (وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبَ) فَقَالَ: بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ خِصَالاً سِتاً: إِمرةُ السُّفَهَاءِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَبَيْعُ الْحُكْمِ، واسْتِخْفَافَاً بِالدَّمِ، وَنَشوًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ، يُقَدِّمُونَ الرجل لَيس بِأَفقهم وَلَا أَعلمهم مَا يُقَدِّمُونَهُ إلا لِيُغَنِّيَهُمْ.
علیم رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں عابس غفاری کے ساتھ چھت پر موجود تھا،انہوں نے لوگ دیکھے جو طاعون کی وجہ سےکوچ کرکے جارہے تھے ۔کہنے لگے: انہیں کیا ہوا جو طاعون کی وجہ سےکوچ کر کے جا رہے ہیں ؟اے طاعون مجھے پکڑ لو(دو مرتبہ کہا) ان کے چچازاد جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، نے ان سے کہا: تم موت کی تمنا کیوں کرتے ہو؟ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے، کیوں کہ موت اس کے اعمال کے ختم ہونے پر آئے گی(کہیں ایسا نہ ہو اس کی دعا قبول ہو جائے اوراسے توبہ کا موقعہ نہ ملے سکے۔) اور فرمایا: چھ چیزوں سے پہلے اعمال میں جلدی کرو، بےوقوفوں کی حکومت سے پہلے،سپاہیوں کی کثرت،قطع رحمی،فیصلہ بیچ دینے کے وقت سے،خون کو ہلکا سمجھا جانے کے وقت سے پہلے ۔کیف و سرور میں مست لوگ جو قرآن کو گانا بجانا بنالیں گے، لوگ ایسے شخص کو آگے کریں گے جو نہ تو فقیہہ ہوگا اور نہ عالم وہ صرف اس لئے اسے آگے کریں گے تاکہ وہ انہیں (قرآن مجید) گا کر سنائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2582

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قَالَ: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالَ وَالدُّخَانَ وَدَابَّةَ الْأَرْضِ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ وَأَمْرَ الْعَامَّةِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: چھ چیزوں سے پہلے اعمال میں جلدی کرو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے، دجال، دھویں،دابۃ الارض اور کمینے لوگوں کا اکرام اور قیامت سے پہلے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2583

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعرضٍ مِنْ الدُّنْيَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:اندھیری رات کی طرح چھا جانے والے فتنوں کے ظہور سے پہلے اعمال میں جلدی کرو، آدمی صبح مومن ہوگا لیکن شام کو کافر ہو جائے گا، یا شام کو مومن ہوگا تو صبح کافر ہو جائے گا۔ دنیا کے مال کے بدلے اپنا دین بیچ دے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2584

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ (بن أشيم) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ.
ابو مالک اشجعی سعد بن طارق (بن اشیم) اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:میرے صحابہ کےلئے قتل کا فتنہ کافی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2585

عَنْ أَبِي جُبَيْرة مَرفُوعاً: «بُعثت فِي نَسْمِ السَاعة».
ابو جبیرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مجھے قیامت کی قریبی گھڑی میں بھیجا گیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2586

عَنْ سَهَل بْنِ سَعد السَاعدِي: أَنَّ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: بُعِثْتُ أَنا وَالسَّاعَةُ كهاتين، وَضَمَّ إِصْبَعَيْه الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَام وقال: ما مَثَلِي وَمثل السَّاعَة إِلَا كَفَرَسَيْ رِهَانٍ. ثم قال: ما مَثَلِي وَمثل السَّاعَة إِلَا كَمَثَل رَجُلٍ بَعَثَه قَوْمٌ طَلِيْعَة، فَلَمَّا خَشِي أَن يَسْبِق أَلَاحَ بِثَوْبِهِ: أَتَيْتُم أتيتم، أَنا ذاك، أَنا ذَاك
سہل بن سعد ساعدی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے، آپ نے شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا اور فرمایا: میری اور قیامت کی مثال دو دوڑنے والے گھوڑوں کی طرح ہے،پھر فرمایا: میری اور قیامت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جسے اس کی قوم نے جاسوس بنا کر بھیجا،جب اسے ڈر ہوا کہ دشمن مجھ سے پہلے پہنچ جائے گا۔ تو اس نے اپنا کپڑاہلاکر اشارہ کیا اور شور مچانے لگا: تم دشمن کے سامنے آگئے، تم دشمن کے سامنے آگئے۔ میں وہی ہوں میں وہی ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2587

قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ وَهُوَ هَذَا الْبَارِزُ وَقَالَ: سُفْيَانُ مَرَّةً وَهُمْ أَهْلُ الْبَازِرِ.
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے تم ایسی قوم سے قتال کرو گے جن کے جوتے بالوں کے بنے ہوں گے،اور وہ اہل بارز (مقابلے والے)ہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2588

عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:قیامت سے پہلے چہروں کا مسخ ہونا،زمین میں دھنسنا اور پتھروں کی بارش ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2589

عَنِ ابن مَسعود، عَن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: «بَيْن يَدَي السَّاعَة يَظْهَر الرِّبَا، وَالزِّنَا، وَالْخَمْر».
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے سود،زنااور شراب عام ہو جائے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2590

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي يَدِي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي، فَاُوْحِىَ إِلَيَّ: أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا: الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا: صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کڑے رکھے گئے۔ وہ مجھ پر بھاری ہو گئے اور مجھے پریشان کر دیا۔ میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں پر پھونک ماروں، میں نے ان دونوں پر پھونک ماری تو وہ دونوں ختم ہو گئے۔ میں نے ان دونوں کی تعبیر ان دو جھوٹے(نبوت کے دعویدار)آدمیوں سے کی جن کے درمیان میں میں ہوں۔ یعنی صاحب صنعاء اور صاحب یمامہ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2591

عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: تَخْرُجُ رِيحٌ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقْبَضُ فِيهَا أَرْوَاحُ كُلِّ مُؤْمِنٍ
عیاش بن ابی ربیعہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایک ہو اآئے گی جو ہر مومن کی روح قبض کر لے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2592

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ يَرْفَع إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : تَخْرُجُ الدَّابَّةُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلَى خَرَاطِيمِهِمْ ثُمَّ يُعمَّرونَ فِيكُمْ حَتَّى يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ فَيَقُولُ: مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهُ؟ فَيَقُولُ: اشْتَرَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِينَ
ابی امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:دابۃ (جانور)نکلے گااور لوگوں کی ناک پر نشان لگا دے گا،پھر وہ لوگ لمبی عمر پائیں گے۔جب کوئی شخص اونٹ خریدےگا تو دوسراآدمی پوچھےگاتم نےیہ اونٹ کس سےخریدا؟وہ کہےگا: ناک پرنشان والےآدمی سے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2593

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَرفُوعاً: تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ بَعدَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا قُلْتُ: (وفي رواية: قَالَ عُمَر: يَا نَبِي الله!) مِمَّا بَقِيَ أَوْ مِمَّا مَضَى؟ قَالَ مِمَّا مَضَى.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اسلام کی چکی (اسلام کا مدار) پینتیس،چھتیس یا سینتیس (۳۵، ۳۶، ۳۷)سال کے بعد گھومے گی، اگر وہ ہلاک ہونا چاہیں تو اس شخص کے راستے پر چلیں گے جو ہلاکت کی طرف جا رہا ہے، اور اگر وہ ان کے لئے ا ن کا دین قائم کرتا ہے تو ان کے لئے ستر سال تک دین قائم رہے گا۔ میں نے کہا: (اور ایک روایت میں ہے کہ عمر نے کہا: اے اللہ کے نبی!) جو باقی ہیں یا جو گزر گئے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو گزر گئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2594

عَنْ رُوَيْفِعِ بن ثَابِتٍ الأَنْصَارِي رضی اللہ عنہ : أَنّهُ قُرِّبَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَمْرٌ أَو رُطَبٌ، فَأَكَلُوا مِنْهُ حَتَّى لَمْ يُبْقُوا شَيْئًا إِلا نَوَاةً وَمَا لا خَيْرَ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ تُذْهِبُونَ الْخَيْرُ فَالْخَيرُ حَتَّى لا يَبْقَى مِنْكُمْ مِثْلُ هَذَا –وَأَشَارَ إِلَى نَوَاة- وَمَا لَا خَيْر فِيْه
رویفع بن ثابت انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے سامنے خشک یا تر کھجوریں پیش کی گئیں۔ صحابہ نے کھائیں اور سوائے گٹھلیوں اور بے کار کھجوروں کے کچھ نہیں بچایا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ تم میں سے بہترین آدمی ایک ایک کر کے چلے جائیں گے حتی کہ تم میں سے اس گٹھلی اور بے کار کھجور کی طرح بچیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2595

عَنْ عُمَر بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ يُحَذِّرُهُمْ فِتْنَتَهُ (يعني: الدجال) تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ حَتَّى يَمُوتَ وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ (ك ف ر) يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ.
عمر بن ثابت انصاری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے کسی صحابی نے خبر دی کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایک دن فرمایا(آپ انہیں فتنے یعنی دجال سے ڈرا رہے تھے): جان لو کہ جب تک تم میں سے کوئی بھی شخص مر نہیں جاتا وہ اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتا اور اس(دجال) کی آنکھوں کے درمیان (ک ف ر)لکھا ہوگا، جو اس کے عمل کو نا پسند کرے گا وہ اسے پڑھ سکے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2596

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ستر(70)کی ابتداء سے(یعنی ہلاک کرنے والےبڑھاپےسے)اور بچوں کی امارت سےاللہ کی پناہ مانگو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2597

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنْ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَتَلْتُ وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ: فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زمین سونے اور چاندی کو زمین اپنے جگر کےٹکڑوں سونے چاندی کو اگل دے گی اور وہ ستونوں کی مانند پڑے ہوں گے، قاتل آئے گا اور کہے گا: اس کے لئے میں نے قتل کیا، قطع رحمی کرنے والا آئے گا اور کہے گا: اس کے لئے میں نے قطع رحمی کی، اور چور آئے گا اور کہے گا کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا، پھر وہ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کوئی چیز نہ لیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2598

عن أنس بن مالك مرفوعاً: تَكون بَيْن يَدَي السَّاعَة فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْل الْمُظْلِم، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِح كَافِرًا، يَبِيع أَقْوَامٌ دِينَهُم بِعرَض الدُّنْيَا.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ قیامت سے پہلے فتنے اس طرح آئیں گے جس طرح اندھیری رات کے ٹکڑے آتے ہیں،آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اورکفر کی حالت میں شام،اور اگر شام ایمان کی حالت میں کرے گا تو صبح کفر کی حالت میں، قومیں اپنا دین دنیا کے مال کے بدلے بیچ دیں گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2599

عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنِّي لَبِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَلِجُ؟ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ السَّلَامُ، فَلْجُ. فَلَمَّا دَخَلَ إِذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ؟ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ فَتَذَكَّرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ؟ قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأُحَدِّثُهُ. قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: تَكُونُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِّنَ الْمُضْطَجِعِ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِّنَ الْقَاعِدِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِّنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِّنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِّنَ الرَّاكِبِ، وَالرَّاكِبُ خَيْرٌ مِّنَ الْمُجْرِي، قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ. قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ: حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ. قَالَ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَمان؟ قَالَ: اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ، وَادْخُلْ دَارَكَ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ: فَادْخُلْ بَيْتَكَ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ، وَاصْنَعْ هَكَذَا-وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ- وَقُلْ: رَبِّيَ اللهُ، حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ.
عمرو بن وابصۃ اسدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والدسے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ: میں کوفے میں اپنے گھر میں تھا، اچانک میں نے دروازے پر دستک کی آواز سنی،السلام علیکم،کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ میں نے کہا: وعلیکم السلام،آجاؤ۔ جب وہ اندر آئے تو کیا دیکھتا ہوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، میں نے کہا:ابو عبدالرحمن !یہ ملاقات کا کون سا وقت ہے؟ یہ دو پہر کا وقت تھا، کہنے لگے: دن لمبا ہوگیا تو میں یاد کرنے لگا کہ کس سے بات چیت کروں؟ پھر وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے حدیث بیان کرنے لگے اور میں بھی حدیث بیان کرنے لگا۔ پھر انہوں نے مجھے ایک حدیث بیان کی، کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:ایک فتنہ اٹھے گا، سونے والا اس فتنے میں لیٹے ہوئے شخص سے بہتر ہوگا، لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے سے بہتر ہوگا، بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہو اچلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا، سوار دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، اس فتنے کے سب مقتولین آگ میں جائیں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قتل کے ایام میں ہوگا۔ میں نے کہا: قتل کے ایام کب ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے ساتھی سے امن میں نہ ہو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! اگر میں اس زمانے میں ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود کو اور اپنے ہاتھ کو روک کر رکھو اور خود کو گھر میں قید کر لو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ میرے گھر میں داخل ہو جائے تو مجھے کیا کرنا چاہیئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے کمرے میں چلے جاؤ۔ میں نے کہا: اگر وہ میرے کمرے میں داخل ہو جائے تو پھرآپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تب اپنی مسجد میں داخل ہو جاؤ اور اس طرح کرو،( آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے انگوٹھے کی جانب کلائی پکڑی)اور کہو: میرا رب اللہ ہے حتی کہ تم اسی پر مرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2600

) عَنْ سُبَيِّعٍ، قَالَ: أَرْسَلُونِي مِنْ مَاءٍ إِلَى الْكُوفَةِ أَشْتَرِي الدَّوَابَّ فَأَتَيْنَا الْكُنَاسَةَ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ جَمْعٌ قَالَ: فَأَمَّا صَاحِبِي فَانْطَلَقَ إِلَى الدَّوَابِّ وَأَمَّا أَنَا فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ حُذَيْفَةُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟ قَالَ: السَّيْفُ أَحْسِبُ قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ تَكُونُ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ ثُمَّ تَكُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ قَالَ: فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمْهُ وَإِنْ نَهَكَ جِسْمَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَاهْرَبْ فِي الْأَرْضِ وَلَوْ أَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ بِجَذْلِ شَجَرَةٍ قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ...الحديث
سُبَيِّعِ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ: لوگوں نے مجھے چشمے سے کوفے کی طرف جانور خریدنے کے لئے بھیجا، ہم کناسہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہے جس کے گرد لوگ جمع ہیں،میرا ساتھی جانوروں کی طرف چلا گیا جب کہ میں اس کی طرف چلا آیا۔ وہ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے کہ: لوگ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے خیر کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے،جب کہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے، جس طرح اس سے پہلے شر تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں، میں نے کہا: اس سے بچاؤ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:تلوار، میرے خیال میں میں نے کہا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پھرفساد پر صلح ہو گی،پھر گمرا ہی کی دعوت دینے والے ہوں گے۔اگر تم اس دن زمین میں کوئی خلیفہ دیکھو تو اس سے مل جانا اگرچہ وہ تمہارے جسم پر تشدد کرے اور تمہارا مال ہتھیا لے،اگر تمہیں خلیفہ نظر نہ آئے تو زمین میں بھاگ جانا ۔ اگرچہ تمہیں اس حال میں موت آئے کہ تم درخت کی جڑیں دانتوں میں دبائے ہوئے ہو۔ میں نے کہا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پھر دجال نکلے گا۔۔۔ الحدیث
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2601

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا یَنۡفَعُ نَفۡسًا اِیۡمَانُہَا لَمۡ تَکُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ اَوۡ کَسَبَتۡ فِیۡۤ اِیۡمَانِہَا خَیۡرًا (۱۵۸) (الأنعام: ١٥٨) طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:تین نشانیاں جب ظاہر ہو جائیں ”تو کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہیں کی ہوگی“ (الانعام:۱۵۸)سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال اور دابۃالارض کا نکلنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2602

عَنْ عَدِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: حَمَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كُلَّ نَاحِيَةٍ مِّنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدًا بَرِيدًا لَا يُخْبَطُ شَجَرُهُ وَلَا يُعْضَدُ إِلَّا مَا يُسَاقُ بِهِ الْجَمَلُ.
عدی بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مدینے کی چاروں طرف ایک ایک ٹکڑے کو محفوظ کر دیا کہ اس کا درخت نہ اکھاڑا جائے نہ کاٹا جائے سوائے اونٹ چلانے کے لئے (چھڑی کی) میں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2603

عَنْ ثَوْبَانَ مَرفُوعاً: حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدْنٍ إِلَى عُمَانَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكْثَرُ النَاس وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدَّنَسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِمَاتِ، وَلا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبوَابُ السُّدَدِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلا یُنْطَوْنَ الَّذِي لَهُمْ.
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میرا حوض عدن سے لے کر عمان تک ہوگا، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہوگا،شہد سے زیادہ میٹھاہوگا۔ اکثر آنے والے لوگ فقراء مہاجرین ہیں،پراگندہ بالوں والے، میلے کچیلے کپڑوں والے جو نازو نعم والی عورتوں سے شادی نہیں کرسکتے، ان کے لئے راستے نہیں کھولے جاتے،جو لوگ اپنے ذمے حق ادا کرتے ہیں لیکن ان کا حق انہیں نہیں دیا جاتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2604

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: خُرُوجُ الآيَاتِ بَعْضهَا عَلَى إِثْرِ بَعْضٍ، يَتَتَابَعْنَ كَمَا تَتَابَعُ الْخَرَزُ فِي النِّظَامِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(قیامت کی) نشانیوں کا ظہور ایک دوسرے کے بعد ہوگا،وہ نشانیاں پے درپے اس طرح آئیں گی جس طرح لڑی کے موتی گرتے ہی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2605

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرفُوعاً: الدَّجَّال أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ (وفي رواية: أقمر) كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ:دجال کانا ہوگا۔نہایت واضح اور صاف،گویا کہ اس کا سرسانپ کی ماند)ہو گا،عبد العز ی بن قطن کے زیادہ مشابہہ ہوگا۔ ہلاک ہونے والے ہلاک ہو جائیں گے، کیوں کہ تمہارا رب اعور نہیں(یعنی کانے پن سے پاک ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2606

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مَرفُوعاً: الدَّجَّالَ عَيْنُهُ خَضْرَاءُ كَالزُّجَاجَةِ وَنَعوذُ بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ابی بن کعب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: دجال کی آنکھ شیشے کی طرح سبز ہوگی اور ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2607

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَرفُوعاً: سِتٌّ مِّنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: مَوْتِي وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرُّهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطُهَا وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ فَيَسِيرُونَ فِي ثَمَانِينَ بَندًا تَحْتَ كُلِّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا.
معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: چھ چیزیں قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ میری موت، بیت المقدس کی فتح، اور پھر موت تم میں ایسے شدت سے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیلتا ہے۔ ایسا فتنہ جس کی گرمی ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہو جائے گی، اور آدمی کو ایک ہزار دینار دیئے جائیں تب بھی ناراض ہوگا، اور رومی لوگ دھوکہ کریں گے اور اسی(۸۰) جھنڈوں کے نیچے چلے جائیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) لوگ ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2608

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سَتَخْرُجُ نَارٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے حضر موت کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو جمع کرے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شام کو لازم کر پکڑنا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2609

عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا حَتَّى تُنَجَّدُ الْكَعْبَةُ، قُلْنَا: وَنَحْنُ عَلَى دِينِنَا اليوم؟ قَالَ وَأَنْتُم عَلَى دِيْنِكُم اليَوم، قُلْنَا: فَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ أم الْيَوْمَ؟ قَالَ:بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ.
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:عنقریب تم پر دنیاکی دولت کے خزانے کھول دیئے جائیں گےحتی کہ کعبہ کو آراستہ و مزین کیا جائے گا۔ہم نے کہا: کیا ہم اس دن اپنے دین پر ہوں گے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم اس دن اپنے دین پر ہو گے۔ ہم نے کہا: ہم آج کے دن بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج بہتر ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2610

عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِفِضَّةٍ قَالَ: هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : سَتَكُونُ مَعَادِنُ يُحْضِرُهَا شِرَارُ النَّاسِ.
بنی سلیم کے ایک فرد سے مروی ہے وہ اپنے دادا سے کہ وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا لائے انہوں نے کہا: یہ ہماری کان کا ہے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: عنقریب ایسی کانیں ہوں گی جن پر بد بخت ترین لوگ جمع ہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2611

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرفُوعاً: سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ أهل الْأَرْضِ ألزمهم مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ، وَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا، تَلْفِظُهُمْ أَرضوهم، تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللهِ، وَتَحْشُرُهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی ۔اہل زمین کے بہترین لوگ ابراہیم علیہ السلام کی جائے ہجرت کی طرف آئیں گے،اور زمین پربدترین لوگ باقی رہ جائیں گے۔ ان کی زمین انہیں اگل دے گی۔ اللہ کی ذات انہیں پرا گندہ سمجھے گی، اور آگ انہیں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرے گی