AL SILSILA SAHIHA

Search Results(1)

22)

22) فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2733

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أنه قَالَ: أَتُحِبُّونَ أَنْ تَجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ؟ قُولُوا: اللهُمَّ أَعِنَّا عَلَى شُكْرِكَ وَذِكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم دعا میں زیادہ کوشش کرو؟ تم کوَ: اللهُمَّ أَعِنَّا عَلَى شُكْرِكَ وَذِكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، اے اللہ اپنے شکر، ذکر اور اچھی عبادت کے لئے ہماری مدد کر
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2734

عَنْ خُزَيْمَةَ بن ثَابِتٍ، مَرفُوعاً: اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ ، يَقُولُ اللهُ جَلَّ جَلالُهُ: وَعِزَّتِي وَجَلالِي لأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مظلوم کی بددعا سے بچو، کیوں کہ یہ بادلوں پر اٹھالی جاتی ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میری عزت اور جلال کی قسم! میں اس کی ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد ہی کیوں نہ ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2735

عَنِ ابْنِ عُمرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: «اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تَصْعَدُ إِلَى السَمَاءِ كَأَنّهَا شِرَارٌ ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: مظلوم کی بددعا سے بچو،کیوں کہ یہ آسمان کی طرف چنگاری کی صورت میں جاتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2736

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا فَإِنَّهُ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: مظلوم کی بددعا سے بچو،اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں اس کے درمیان کوئی رکاوٹ پردہ نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2737

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَرَأَ: قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ: بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ: لَكُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:جمع ہو جاؤکیوں کہ میں جلد ہی تمہارے سامنے ایک تہائی قرآن کی تلاوت کروں گا۔ جمع ہونے والے جمع ہوگئے۔ پھر اللہ کے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہر آئے اور قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ پڑھی، پھر اندر چلے گئے ،پھر اللہ کے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہر نکلے اور فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تمہارے سامنے قرآن کا ایک تہائی تلاوت کروں گا۔ غور سے سن لو! یہ سورت قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2738

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: ادْعُوا اللهَ تَعَالَى وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا کرو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ لا پرواہ و غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2739

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا اشْتَكَيْتَ فَضَعْ يَدَكَ حَيْثُ تَشْتَكِي وَقُلْ: بِسْمِ اللهِ (وَبِاللهِ) أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا ثُمَّ ارْفَعْ يَدَكَ ثُمَّ أَعِدْ ذَلِكَ وِتْرًا.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تمہیں درد محسوس ہو تو درد والی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھو اور کہو: بِسْمِ اللهِ (وَبِاللهِ) أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا ،پھر اپنا ہاتھ اٹھا لو۔ پھر طاق مرتبہ یہ کام کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2740

عَنْ عَائِشَة ، أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَجْمَعُ أَهْلَ بَيْتِهِ ، فَقَالَ: «إِذَا أَصَاب أَحَدَكُم غَمٌّ أَو كَرْبٌ، فَلْيَقُلْ: اللهَ الله رَبِّي ، لَا أُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے گھر والوں کو جمع کرتے اور کہتے : جب تم میں سے کسی کو کوئی غم یا تکلیف پہنچے تو وہ کہے: الله الله رَبِّي ، لَا أُشْرَك بَه شَيْئًا، اللہ اللہ میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2741

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَصْبَحْتُمْ فَقُولُوا: اللهُمَّ! بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ (وَإِلَيْكَ النُشُوْر) وَإِذَا أَمْسَيْتُمْ فَقُولُوا: اللهُمَّ! بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم صبح کرو تو کہو: اے اللہ! تیرےنام سے، ہم نےصبح کی اور تیرے نام سے ہم شام کرتے ہیں۔ تیرے لئے زندہ ہیں تیرے لئے ہی مرتے ہیں(اور تیری طرف اٹھ کر جانا ہے)۔ اور جب تم شام کرو تو کہو:اے اللہ! تیرےنام سے ہم نے شام کی اورتیرےنام سے ہم نے صبح کی ،تیرے لئے زندہ ہیں ،تیرے لئے ہی مرتے ہیں اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2742

عن محمد بن المنكدر قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم فَشَكا إِلَيْهِ أَهَاويل يرَاهَا فِي المَنَام، فَقَال: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشكَ فَقُلْ:أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِه وَعِقَابِه، وَمِنْ شَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِين وَأَنْ يَحْضُرُون.
محمد بن منکدر سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور نیند میں برے( ڈراؤنے) خواب دیکھنے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو کہو: میں اللہ کے تمام مکمل کلمات کے ساتھ اس کے غصے، اس کی سزا، اس کے بندوں کے شر اور شیاطین کےوسوسوں اور ان کی آمد سے(اللہ کی) پناہ میں آتا ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2743

عَنْ عَائِشَة  قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :إِذَا تَمَنَّى أَحَدَكُم فَلْيَسْتَكْثِرْ فَإِنَّمَا يَسْأَلُ رَبَّه عَزّوَجَل.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی شخص تمنا کرے تو وہ بہت زیادہ کرے ،کیوں کہ وہ اپنے رب (عزوجل)سے سوال کر رہا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2744

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « إِذَا دَعَا الغَائِبُ لِلغَائِبِ قَالَ لَه الْمَلَكُ: وَلَكَ بِمِثْلٍ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی کی عدم موجودگی میں اس کے لئے دعا مانگتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے :اور تمہارے لئے بھی اسی طرح
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2745

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رَفَعَه: إِذَا ذُكِّرْتُمْ بِاللهِ فَانْتَهُوا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جب تمہیں اللہ کی یاد دلائی جائے تو باز آجاؤ(رک جاؤ)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2746

عَنْ عَائِشَة، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « إِذَا سَأَلَ أَحدُكُم فَلْيُكْثِرْ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ رَبَّه ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سوال کرے تو وہ زیادہ کرے ۔کیوں کہ وہ اپنے رب سے سوال کر رہا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2747

عَنِ عِرْبَاضِ بن سَارِيَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّه قَالَ: إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ سِرُّ الْجَنَّةِ، يَقُولُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ لِرَاعِيهِ: عَلَيْكَ بِسِرِّ الْوَادِي، فَإِنَّهُ أَمْرَعُهُ وَأَعْشَبُهُ.
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو۔کیوں کہ وہ جنت کا سب سے افضل و اعلیٰ حصہ ہے ۔تم میں سے کوئی شخص اپنے چرواہے سے کہتا ہےکہ: وادی کے پوشیدہ سب سے اعلیٰ حصے میں جانا کیوں کہ وہ چارے اور گھاس سے بھر پور ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2748

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيْكَةِ (بِاللَّيلِ) فَاسْأَلُوا اللهَ مِنْ فَضْلِهِ (وَرَاغِبُوا إِلِيه) فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ (بِاللَّيلِ) فَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب (رات کےوقت )تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، (اور اس کی طرف رغبت کرو) کیوں کہ اس نے فرشتہ دیکھا ہے اور جب تم (رات کے وقت) گدھے کی آواز سنو تو شیطان (کے شر) سے اللہ کی پناہ طلب کرو،کیوں کہ اس نے شیطان دیکھا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2749

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا قَالَ الْعَبْدُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ قَالَ اهُْ عَزَّ وَجَلَّ: صَدَقَ عَبْدِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِي وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَا شَرِيكَ لَهُ قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَلَا شَرِيكَ لِي وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي مَنْ رُزِقَهُنَّ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دونوں نے اس بات کی گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُکہتا ہے ،تو اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا ۔ میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں۔ اور جب بندہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں میں اکیلا ہوں۔ اور جب لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَا شَرِيكَ لَهُکہتا ہے،تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور میرا کوئی شریک نہیں۔ اور جب بندہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُکہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے :میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، میرے لئے ہی بادشاہت ہے ،اور میرے لئے ہی تمام تعریفات ہیں۔اور جب بندہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِکہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میرے بندے نے سچ کہا :میرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت میری توفیق کے ساتھ ہے۔ جس بندے کو موت کے وقت یہ کلمات کہنے کی توفیق مل گئی اسے آگ نہیں چھوئے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2750

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «إِذَا قَرَأْتُمَ (اَلْحَمْدُ لِلهِ) فَاقْرَءُوا (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) إِنَّهَا أُمُّ الْقُرْآنِ وَأُمُّ الْكِتَابِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِى وَ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) إِحْدَاهَا».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم سورۃ الفاتحہ پڑھو تو”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھ لیا کرو۔ کیوں کہ یہ ام القرآن اور ام الکتاب اور السبع المثانی ہے اور ” بسم اللہ الرحمن الرحیم“ ان ساتوں میں سے ایک ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2751

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا قَال: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ حِلَقُ الذِّكْرِ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم جنت کے باغ میں سے گزرا کرو تو کچھ کھا لیا کرو۔ صحابہ نے کہا کہ یہ جنت کا باغ کیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ذکر کی مجالس
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2752

عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلًا فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ.
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی جگہ اترے تو وہ یہ کلمات کہے: میں ہر اس چیز کے شر سے جو اللہ نے پیدا کی اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں۔ جب تک وہ وہاں سے کوچ نہیں کرے گا اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2753

عَنْ أَبِي بَكر بن سُلَيْمَان بن أبي حَثْمَة الْقُرَشِيّ، أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْأَنَصَارِ خَرَجَتْ بِه نَمْلَةٌ فَدَلَّ عَلَى أَن الشِّفَاء بِنْتِ عبد الله تَرْقِي من النَّمْلَة، فَجَاءَهَا فَسَأَلَهَا أَنْ تَرْقِيَهُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ مَا رَقَيْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَذَهَبَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَه بِالَّذِي قَالَتِ الشِّفَاء، فَدَعَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الشِفَاء فَقَال: «اعرضي علي» فَعَرضتها عَلَيه، فَقَال: « أَرْقِيه وعَلِّمِيْهَا حَفْصَة كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَ وَفِي رواية: الْكِتَابَة ».
ابو بکر بن سلیمان بن ابی حثمہ قرشی سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی کو پھنسی نکل آئی،اسے بتایا گیا کہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا پھنسی کا دم کرتی ہیں۔ وہ ان کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ وہ اسے دم کردیں، شفاء رضی اللہ عنہا نے کہا: واللہ جب سے میں مسلمان ہوئی ہوں میں نے دم نہیں کیا۔ وہ انصاری رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس گیا، اور شفاء نے جو بات کہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے شفاء رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: میرے سامنے دم کے الفاظ پڑھو، انہوں نے وہ الفاظ پڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دم کرو اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھی اسی طرح یہ دم سکھاؤ، جس طرح تم نے اسے کتاب سکھائی ہے ۔اور ایک روایت میں ہے لکھنا سکھایا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2754

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: كَانَ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ:استَعِيْذُوا بِاللهِ مِن شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ، فَإِن جَارَ الْمُسَافِر إِذَا شَاء أَن يُزَايل زايل.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایا کرتے تھے: (مقیم) پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو، کیوں کہ مسافر پڑوسی کو سے جب دور ہونا چاہے تو دور ہوسکتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2755

عَنْ عَائِشَةَ مَرفُوعاً: اسْتَعِيذُوا بِاللهِ تَعَالَى مِن العَيْنِ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہےکہ: نظر لگنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو کیوں کہ نظر لگنا حق ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2756

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم أَخَذَ بِيَدِهَا فَأَشَارَبِهَا إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ: اسْتَعِيذِي بِالهِ مِنْ هَذَا فَإِنَّهُ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان کے ہاتھ سے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس سے اللہ کی پناہ طلب کرو کیوں کہ یہی اندھیری رات ہے یا اندھیرا کرنے والا ہے جب چھپ جائے یعنی گرہن زدہ ہوجائے۔ جب یہ چھا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2757

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، مَرفُوعاً: اسْمُ اللهِ الأَعْظَمُ فِي سُوَرٍ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلاث: فِي الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ، وَطه .( )
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم قرآن کی تین سورتوں میں ہے:(سورۂ) بقرة، آل عمران اور طہ میں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2758

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم زمانۂ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ،ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے اپنے دم سناؤ، دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2759

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَفْضَلُ الشُكْرِ اَلْحَمْدُ لِلهِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: افضل ذکر لا الہ الا اللہ ،اور افضل شکر الحمدللہ ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2760

عَنْ عِمْرَانَ بن حُصَيْنٍ، مَرفُوعاً: أَفْضَلُ عِبَادِ اللهِ تعالى يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْحَمَّادُونَ
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعامروی ہےکہ:قیامت کےدن اللہ کےافضل بندے(اللہ کی)بہت زیادہ تعریف کرنےوالےہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2761

عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ مَرْفُوعاً: « أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ الدُعَاء ».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہےکہ: افضل عبادت دعا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2762

عَنْ عَلِي مَرفُوعاً: «أَفْضَلُ ما قُلْتُ أَنا وَالنَّبِيُّون عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لَا إِلَه إِلَا الله وَحْدَه، لَا شَرِيْكَ لَه، لَه الْمَلَك وَلَه الْحَمْد، وَهو عَلَى كُل شَيْء قَدِير».
علی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: سب سے افضل کلمہ جو میں نے اور انبیاعلیہم السلام نے عرفہ کی رات کہا (وہ یہ ہے): لا الٰہ الا اللہ وحدہ، لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علٰی کل شیء قدیر۔ ’’اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف، اور وہ ہر چیں پر قادر ہے۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2763

عَنِ ابن أَبْزَى، عَنْ أَبِيْه أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أغفل آيَة، فَلَمَا صَلَّى قال: أَفِي الْقَوْم أُبي؟ فَقَال أُبيّ: آيَةَ كَذَا نُسِخَتْ أَم نَسِيتَهَا ؟ قال : بَل أُنْسِيتُهَا
ابن ابزی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک آیت بھول گئے جب آپ نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: کیا لوگوں میں ابی (یعنی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ )موجود ہیں ؟ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں آیت منسوخ ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں وہ آیت بھول گیا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2764

عَنِ الْبَرَاء قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ سُورَةَ (الْكَهْفِ) وَلَهُ دَابَّةٌ مَرْبُوطَةٌ فَجَعَلَتِ الدَّابَّةُ تَنْفِرُ فَنَظَرَ الرَّجُلُ إِلَى سَحَابَةٍ قَدْ غَشِيَتْهُ أَوْ ضَبَابَةٍ فَفَزِعَ فَذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قُلْتُ: سَمَّى النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاكَ الرَّجُلَ؟ قَالَ: نَعَمْ (قَال: فَذكر ذلِك للنبِي صلی اللہ علیہ وسلم ) فَقَالَ: اقْرَأْ فُلَانُ! فَإِنَّهَا السَّكِينَةَ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ أَوْ عِنْدَ الْقُرْآنِ.
براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کفَ پڑھی، اس کی سواری بندھی ہوئی تھی۔اس نے بدکنا شروع کر دیا۔ اس آدمی نے دیکھا تو ایک بادل اسے ڈھانپے ہوئے تھا۔تو وہ گھبرا کرآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس چلا آیا۔ میں نے کہا: کیا نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس آدمی کا نام لیا تھا؟ براء رضی اللہ عنہ نے کہا:ہاں(اس نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا)اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: فلاں پڑھو(یعنی سورۂ کہف)، یہ وہ سکینت تھی جو قرآن کے لئےنازل ہوئی یا قرآن پڑھتے وقت نازل ہوتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2765

عَنْ أَنَسٍ مَرفُوعاً: اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : قرآن سات حروف (سات انداز سے قراءت )پر پڑھو ،ہر انداز شافی کافی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2766

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ: اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ (ثُمَّ فِي شَهْرٍ ثُمَّ فِي عِشْرِينَ ثُمَّ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثُمَّ فِي عَشْرٍ ثُمَّ فِي سَبْعٍ قَالَ: انْتَهى إِلَى سَبعٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے فرمایا :قرآن کو چالیس دن میں پڑھو، ورنہ ایک مہینے میں یا پھر بیس دنوں میں ،یا پھر پندرہ دنوں میں یا پھر دس دنوں میں یا پھر سات دنوں میں ،عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےسات پر جا کر بات ختم کر دی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2767

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: اقْرَأْهُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ... اقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ... اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ... اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ، لَا يَفْقَهُهُ مَنْ يَقْرَؤُهُ فِي أَقَلِّ مِنْ ثَلَاثٍ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اےاللہ کےرسول!میں کتنےدنوں میں قرآن پڑھوں؟(ختم کروں؟)آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اسے ایک مہینے میں پڑھو۔ میں نے کہا:میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے پچیس دنوں میں پڑھو۔۔۔ اسے بیس دنوں میں پڑھو۔۔۔ اسے پندرہ دنوں میں پڑھو۔۔۔ اسےسات دنوں میں پڑھو ۔ جواسےتین سےکم دنوں میں پڑھتاہےاسےسمجھ نہیں سکتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2768

عن مُوسَى بن يَزِيْدَ الكِنْدِي، قَالَ:كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُقْرِأ رَجُلاً، فَقَرَأ الرَجُلُ.ﮋﮡﮢﮣ ﮤﮊ (التوبة: ٦٠) مُرْسَلَةً، فقال ابن مسعود: ما هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: وكيف أَقْرَأَكَهَا يا أبا عبد الرحمن؟ قال: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَ الۡمَسٰکِیۡنِ (۶۰) فمدَّها .
موسیٰ بن یزید کندی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک آدمی کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ اس آدمی نے ارسال کرتے ہوئے(جلدی جلدی)پڑھا:(التوبة: ٦٠)۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےہمیں اس طرح نہیں پڑھا یا۔ اس آدمی نے کہا: ابو عبدالرحمن! آپ کو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کس طرح پڑھایا؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں اس طرح پڑھایا:(التوبة: ٦٠)،آیت کو کھینچ کر پڑھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2769

عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اِقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَدْخُلُ بَيْتًا يُّقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:اپنے گھروں میں سورة البقرہ پڑھا کرو کیوں کہ شیطان اس گھرمیں داخل نہیں ہوتا جس میں سورة البقرہ پڑھی جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2770

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْعَجمِيُّ فَقَالَ: اِقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ۔ہم قرآن پڑھ رہے تھے، ہم میں اعرابی اور عجمی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو ،ہر ایک (طریقہ)اچھا ہے، عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو ادائیگی کے اعتبار سے ایسے درست کریں گے جیسے تیسر کو سیدھا اور درست کیا جاتا ہے۔ وہ اس کے ذریعے دنیاوی مال و متاع حاصل کریں گے ؟؟؟ اجر و ثواب حاصل نہیں کریں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2771

عَنْ عَبدِ اللهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِقرَءُوا الْقُرآن ، فَإِنَّكُمْ تُؤْجَرُونَ عليه أَمَا إِنِّي لا أَقُولُ: (الم) حَرفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ عشر، وَلامٌ عشر، وَمِيمٌ عشر، فَتِلك ثَلاثُونَ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قرآن پڑھا کرو، کیوں کہ تمہیں اس پر اجر دیا جاتا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ ”الم“ ایک حرف ہے، لیکن الف کی دس نیکیاں ہیں ،لام کی دس نیکیاں ہیں اور میم کی دس نیکیاں ہیں ۔اس طرح یہ کل تیس نیکیاں ہوئیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2772

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: اِقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اِقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اِقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے:قرآن پڑھا کرو کیوں کہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا۔کھلتے ہوئے پھولوں کی مانند دو سورتیں سورة البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو، کیوں کہ یہ دونوں قیامت کے دن بدلیوں کی صورت میں یایہ دونوں پرندوں کی صورت میں یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو غولوں میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔ سورة البقرة پڑھا کرو کیوں کہ اس کا پڑھنا باعث برکت اور اس کا چھوڑ نا باعث حسرت ہےاور باطل لوگ اسے پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2773

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اقْرَؤوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَليه قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ.
جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تک تمہارا دل پر سکون ہو قرآن پڑھو، اور جب بے سکونی ہونے لگے تو کھڑے ہو جاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2774

) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لَهُ: إِذَا أَتَيْتَ فُسْطَاطِي فَقُمْ فَأَخْبِرْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: اِقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِه وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ.
(۲۷۷۴)عبدالرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جب تم میرے خیمے میں آؤتو کھڑے ہو جانا اور جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا ہے وہ بیان کرنا ۔عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: قرآن پڑھو۔ اسے کھانے کا ذریعہ مت بناؤ۔ نہ اس کے ذریعے مال نہ سمیٹو، نہ اسے چھوڑ دو۔ نہ اس میں غلو کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2775

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: اِقْرَؤوا الْقُرْآنَ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ.
عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قرآن پڑھو اس میں غلو نہ کرو، اسے چھوڑ نہ دو، اور نہ اس کے ذریعے مال سمیٹو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2776

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِقْرَؤوا الْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ.
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر نماز کے بعد معوذات (آخری تین سورتیں) پڑھا کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2777

عَنْ أَنسِ مَرفُوعاً: أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ فَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جمعے کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر کثرت سے درود پڑھو، کیوں کہ جس شخص نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2778

عَنْ أَبِي بَكْر الصَّدِيق مَرفُوعاً: أَكْثِرُوا الصّلاة علي، فَإِن الله وَكَّل بِي مَلَكًا عِنْدَ قَبْرِي، فَإِذَا صَلَّى علي رَجُلٌ مِنْ أَمَّتِي قال لِي ذَلِك الْمَلَك: يَا مُحَمَّدُ! إِن فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ صَلَّى عَلَيْكَ السَّاعَةَ
ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:مجھ پر کثرت سے درود پڑھو کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری قبر کے پاس ایک فرشتہ کھڑا کر دیا ہے، جب میری امت کا کوئی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے تو وہ فرشتہ مجھ سے کہتا ہے :اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !فلاں بن فلاں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود پڑھا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2779

) عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ مَرفُوعاً: أَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ قَالُوا: كَيْفَ تُعْرَضُ عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: إِنَّ اللهَ تعالى حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جمعے کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھو، کیوں کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کس طرح درود پیش کیا جائے گا، حالانکہ آپ مٹی ہو چکے ہوں گے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے اجسام کھانا حرام کر دیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2780

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ فَإِنَّهُ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّابِاللهِ،کثرت سے پڑھا کرو، کیوں کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2781

أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأمرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِه أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ؟ تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُكَبِّرُونَ خَلْفَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَا وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ يَحُجُّونَ بِهَا وَيَعْتَمِرُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ؟ قَالَ:... فذكره. فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا فَقَالَ: بَعْضُنَا نُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: تَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَاللهُ أَكْبَرُ حَتَّى يَكُونَ مِنْهُنَّ كُلِّهِنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ.
کیا میں تمہیں ایسے معاملے کے بارے میں نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے اپنا لو گے تو تم ان سے جاملو گے جوتم سے سبقت لے گئے ہیں اور تمہارے بعد کوئی تم سے نہیں مل سکے گا۔ اور تم اپنے ساتھیوں کے درمیان بہترین درجے پر فائز ہو جاؤ گے۔ سوائے اس شخص کے جس نے ایسا عمل کیا ، تم ہر نماز کے بعد تینتیس (۳۳) مرتبہ سبحان اللہ ،الحمدللہ اور اللہ اکبر کہو۔اور ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ کچھ محتاج لوگ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آئے۔ اور کہنے لگے: کہ مال والے لوگ بلند درجات اور ہمیشہ کی نعمتیں حاصل کرگئے۔ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں ،جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی روزہ رکھتے ہیں ،لیکن ان کے پا س زائد مال ہے جس کے ذریعے وہ حج کرتے ہیں ،عمرہ کرتے ہیں ،جہاد کرتے ہیں اور صدقہ بھی کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ پھر حدیث ذکر کی۔ ہم آپس میں اختلاف کرنے لگے، کوئی کہنے لگا:ہم تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ ،اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تم سبحان اللہ ،الحمدللہ اور اللہ اکبر سب تینتیس مرتبہ کہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2782

) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الباهلي صَدِي بن عَجلَان مَرفُوْعاً: أَلا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَل أَوْ أَكْثَر مِنْ ذِكْرِكَ اللَّيْلَ مَعَ النَّهَارِ والنَّهَار مَعَ اللَّيْل؟ أن تقول: سُبْحَانَ اللهِ عَدََدَ مَا خَلَقَ، سُبْحَانَ اللهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ، سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا فِي الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ ، سُبْحَانَ اللهِ مِلْءَ مَا فِي السَّمَاء وَالْأَرْض، سُبْحَانَ اللهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ، سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابَهُ، و سُبْحَانَ اللهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ، وتقول: الْحَمْدُ لِلهِ مثل ذلك
ابو امامہ باہلی صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: کیا میں تمہیں رات اور دن کے افضل یااکثر ذکر کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تم کہو : ”اللہ کی مخلوق کے برابر سبحان اللہ ،جو اس نے پیدا کیا اس سے بھر پورسبحان اللہ ،جو زمین و آسمان میں ہے اس کے برابر سبحان اللہ ، جو آسمان و زمین میں ہے اس سے بھر پور سبحان اللہ ،جو اس نے پیدا کیا اس سے بھر پور سبحان اللہ ،ان چیزوں کی گنتی کے بقدر جنہیں اس نے اپنی کتاب میں شمار کیا۔ اس کے برابر سبحان اللہ ،اور ہر چیز سے بھر پور سبحان اللہ“ ،اور تم الحمدللہ بھی اسی طرح کہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2783

عَنْ أَنس، قَالَ: كَان النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَيْرِهِ فَنَزَلَ وَنَزَلَ رَجُلٌ إِلَى جَانِبه، قَال: فَالتَفَتَ النَبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال: أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفضَل القُرآن؟ قَالَ : فَتَلا عَلَيه اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک سفر میں تھے ،آپ سواری سے نیچے اترے تو ایک آدمی آپ کے پہلو میں اترا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا:کیا میں تمہیں قرآن کے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اور یہ سورت پڑھی: اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2784

عن سَعد قال:كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال: أَلَا أَخْبَرَكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا نَزَلَ بِرَجُلٍ مِنْكُم كَرْبٌ، أَو بَلَاءٌ منْ بلَايَا الدُّنْيَا دَعَا بِه يُفْرَجُ عَنْه؟ فَقِيل لَه: بَلَى، فَقَال: دُعَاءُ ذِي النُّون: (لا الٰہ الاّ أنت سبحٰنک انی کنت من الظلمین) الأنبياء: ٨٧ .
سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ بتاؤں کہ جب تم میں سے کسی شخص کو کوئی تکلیف یا دنیا کی کوئی آزمائش پہنچے اور وہ یہ دعا کرے تو اس کی پریشانی دور ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے عرض کیا گیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کی دعا ہے: (لا الٰہ الاّ أنت سبحٰنک انی کنت من الظلمین) اے اللہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،تو پاک ہے ،میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2785

عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْدُمُهُ قَالَ: فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَدْ صَلَّيْتُ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ.
قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی خدمت کے لئے بھیجا قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میرے پاس سے گزرے ،میں نماز پڑھ چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے پاؤں سے مجھے ضرب لگائی ،اور فرمایا: کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2786

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى سَيِّدِ الِاسْتِغْفَارِ؟ اللهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ (وَاْبْنُ عَبْدِكَ) وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ حِينَ يُمْسِي إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا میں تمہیں سید الاستغفار کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اے اللہ تو ہی میرا رب ہے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ تو نےہی مجھے پیدا کیا ہے ،میں تیرا بندہ ،اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں،جتنی مجھ میں طاقت ہے، میں تیرے عہداور وعدےپرقائم ہوں۔ جو میں نے کام کئے ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔میں خود پر تیری عطا کردہ نعمت کا اقرار کرتا ہوں ۔اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں ۔میرے گناہ بخش دے ،کیوں کہ کوئی گناہ نہیں بخش سکتا سوائے تیرے۔جو کوئی بھی شخص شام کے وقت یہ کلمات کہے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2787

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَكَتِ الْعَمَلَ فَقَالَ: مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا! قَالَ: أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ؟! تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَكِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ایک خادم مانگنے آئیں اور کام کی (مشقت کی)شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے پاس کوئی خادم نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے کسی خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر آجاؤتو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو، تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہو، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2788

) عَنْ خَالَدِ بْنِ الْوَلِيد قَالَ:كُنْتُ أَفْزَع بِاللَّيْل، فَأَتَيْتُ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَفْزَع بِاللَّيْل فَآخُذ سَيْفِي فَلَا أَلْقَى شَيْئًا إِلَا ضَربْتُه بِسَيْفِي، فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِي الرُّوْحُ الْأَمِين؟ قالَ: قُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ!.
خالد بن ولید‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں رات کو گھبرا ہٹ محسوس کرتا تھا میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا، اور کہا: میں رات کو گھبراہٹ محسوس کرتا ہوں۔ اور اپنی تلوار پکڑ کر باہر نکل جاتا ہوں۔ اور مجھے جو چیز بھی نظر آجائے اسے تلوار ماردیتا ہوں ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو مجھے روح الامین نے سکھائے ؟تم کہو:”میں اللہ کے ایسے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں ،جن سے نہ کوئی نیکو کار اور نہ کوئی فاجر تجاوز کر سکتا ہے ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے یا آسمان میں چڑھتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں سے اور رات کو آنے والے سے سوائے وہ جو رات کو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمٰن
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2789

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً:الْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ بَعْدَالْعَصْرِ إِلَى غَيْبُوبَةِالشَّمْسِ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جمعہ کے دن جس گھڑی میں (قبولیت دعا) کی امید کی جاتی ہے، کو عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2790

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلِظُّوا بِـ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. روی من حدیث......
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (یا ذالجلال والاکرام)کو لازم پکڑو۔ ( ) یہ حدیث سیدنا ربیعہ بن عامر، ابوھریرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2791

عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ فِي دُبرِ الصَّلَاة: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ (مِائَةَ مَرَّةٍ).
عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ،” اے اللہ مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر ،یقیناً تو ہی توبہ قبول کرنے والا بخشنے والا ہے“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2792

عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: انطَلقتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فقالت: يَا رَسُول الله! خُوَيْدِمُك فَادْع الله له، فَقَال: «اللهم أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَاغْفِرْ لَه » ، قَالَ : فَكَثُر مَالِي وَطَالَ عُمُرِي حَتَّى قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ أَهْلِي ، (وَأَيْنَعت ثِمَارِي)، وَأَمَّا الرَّابِعَة ، يَعْني الْمَغْفِرَة.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مجھے میری والدہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس لے کر گئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسولٍ! اپنے اس چھوٹے سے خادم کے لئے دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ اس کا مال، اس کی اولاد زیادہ کر، اس کی عمر لمبی کر اور اس کی بخشش کر ۔انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا مال زیادہ ہوگیا، میری عمر اتنی لمبی ہوئی کہ میں اپنے گھر والوں میں شرم محسوس کرتا۔ میرے پھل خوب پکے ہوئےہو تے ہیں ، اور چوتھی دعا یعنی مغفرت رہ گئی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2793

عَنْ أَنس، قَالَ: قَالَت أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُول اللهِ! اُدْعُ الله لَه تَعْنِي أَنَسًا قال: «اللهم أَكْثِرْ مَالَه وَوَلدَه، وَبَارِكْ لَه فِيْمَا رَزقتَه»
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے لئے دعا کیجئے۔ ان کی مراد انس رضی اللہ عنہ سے تھی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ اس کا مال اور اولاد زیادہ کر، اور جواسے عطا کرے اس میں برکت دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2794

عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: أَتَى عَلِيًّا رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي فَقَالَ عَلِيٌّؓ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صَيرٍ دَنَانِيرَ لَأَدَّاهُ اللهُ عَنْكَ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: قُلْ: اللهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ.
ابو وائل سے مروی ہے کہتے ہیں کہ علی‌رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا، اور کہنے لگا: اے امیر المومنین! میں اپنی مکاتبت ادا کرنے سے قاصر ہوں، آپ میری مدد کیجئے۔ علی‌رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو مجھے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے سکھائے تھے؟ اگر تم پر ایک بڑے پہاڑ کے برابر بھی دینار(قرض) ہوں تو اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے ادا کردے گا۔ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو، اے اللہ مجھے حرام سے بچاتے ہوئے حلال سے کافی ہو جا، اور مجھے اپنے فضل سے دوسروں سے بے پرواہ کر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2795

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ اللهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ اللهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ فَفَتَحَ اللهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بدر کے موقع پر تین سو پندرہ کا لشکر لے کر نکلے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! یہ پیدل ہیں ،انہیں سواری عطا کر، اے اللہ! یہ چیتھڑےپہنے ہوئے ہیں ،انہیں لباس عطا کر، اے اللہ یہ بھوکے ہیں انہیں سیر کردے۔ اللہ تعالیٰ نے بدر کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو فتح دی ،جب وہ واپس پلٹے تو ہر شخص کے پاس ایک یا دو اونٹ تھے ،وہ کپڑے پہنے ہوئے اور سیر تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2796

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں یہ دعا سکھائی: اے اللہ! میں تجھ سے ہر قسم کے خیر کا سوال کرتا ہوں ۔جلدی آنے والا اور دیر سے آنے والا ،جو مجھے معلوم ہے اور جو مجھے نہیں معلوم اور میں تجھ سے ہر قسم کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ،جلدی آنے والے اور دیر سے آنے والے سے، جو مجھے معلوم ہے اور جو مجھے نہیں معلوم۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس خیر کا سوال کرتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا اور میں اس شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس شر سے تیرے بندے اور تیرے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے پناہ مانگی ۔اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے عمل یا قول کا سوال کرتا ہوں اور میں آگ اور اس کے قریب کر دینے والے عمل یا قول سے تیری پناہ میں آتا ہوں،اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو بھی فیصلہ کرے خیر کا فیصلہ کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2797

) عَنْ مُرَّةَ، بن عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَصَابَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ضَيفاً، فَأَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِهِ يَبْتَغِي عِنْدَهُنَّ طَعَامًا، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ، فَإِنَّهُ لا يَمْلِكُهَا إِلا أَنْتَ، فَأُهْدِيَتْ إِلَيْهِ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَقَالَ: هَذِهِ مِنْ فَضْلِ اللهِ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ
مرہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس مہمان آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس کھانا لانے کے لئے کسی کو بھیجا تو ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز نہ ملی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ، فَإِنَّهُ لا يَمْلِكُهَا إِلا أَنْتَ، ”اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل اور رحمت کا سوال کرتا ہوں کیوں کہ تو ہی اس کا مالک ہے“ ۔ آپ کو ایک بھنی ہوئی بکری تحفے میں دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ اللہ کے فضل سے ہے اور ہم اس کی رحمت کے منتظر ہیں“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2798

عَنْ مُصْعَبٍ كَانَ سَعْدٌ يَأْمُرُ بِخَمْسٍ وَيَذْكُرُهُنَّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهِنَّ: اللهُمَّ! إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
مصعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ پانچ باتوں کا حکم دیتے اور انہیں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان کلمات کو پڑھنے کا حکم دیتے تھے: ” اے اللہ میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ،اور ادھیڑ/ رذیل عمر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ،اور دنیا کے فتنے اورعذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2799

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ: كَان مِن دُعَائِه صلی اللہ علیہ وسلم : اللهم! إِنَّي أَعُوذُ بِك مِن جَارِ السُوء ، وَمِن زَوْجٍ تُشَيِّبني قَبْلَ الْمَشِيْبِ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَي رَبَا، وَمِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ عَذَابًا، وَمِنْ خَلِيلٍ مَاكِرٍ عَيْنُهُ تَرَانِي وَقَلْبُه يرعاني إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا ، وَإِذَا رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی دعا میں یہ الفاظ تھے: اے اللہ میں برے پڑوسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بیوی سے پناہ چاہتا ہوں جو بڑھاپے سے پہلے مجھے بوڑھا کر دے اور اس اولاد سے جو میری مالک بن جائے اس مال سے جو میرے لئے عذاب بن جائے ۔اور اس دھوکے باز دوست سے جس کی آنکھ مجھے دیکھے اور اس کا دل میری نگرانی کرے ،اگر کوئی نیکی دیکھے تو چھپالے اور اگر کوئی برائی دیکھے تو اسے پھیلا دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2800

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: كَانَ يَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللهُمَّ! إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں تم سے وہی بات کہوں گا جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کہا کرتے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایا کرتے تھے: اے اللہ میں عاجزی ،سستی، بزدلی، بخیلی ،بڑھاپے اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کا تزکیہ فرما تو ہی بہترین تزکیہ کرنے والا ہے۔ تو ہی اس کا نگران اور مالک ہے۔ اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو نفع نہ دے، اور ایسے دل سے جوڈرتا نہ ہو ۔اور ایسے نفس سے جس کی خواہشات پوری نہ ہوں۔ اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2801

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اَللهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اے اللہ! جبرائیل علیہ السلام کے رب، میکائیل علیہ السلام کے رب، اسرافیل علیہ السلام کے رب، میں آگ کی تپش اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2802

كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ:اللهُمَّ! مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلمنِي وَخُذْ مِنْهُ بِثَأْرِي. روی عن جمع من الصحابہ؟؟؟ ........ و عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہم.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌رب تعالیٰ سے دعا مانگتے تو کہتے :اے اللہ میری سماعت اور بصارت سے مجھے نفع دے، اور ان دونوں کو میرا وارث بنا دے۔ جو مجھ پر ظلم کرے اس کے خلاف میری مدد فرما اور اس سے میرا بدلہ لے۔( ) یہ حدیث بہت سے صحابہ کرام سے مروی ہے جس میں ...... عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2803

عَنْ فَضَالَةَ بن عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: اَللهُمَّ مَنْ آمَنَ بِكَ، وَشَهِدَ أَنِّي رَسُولُكَ فَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ، وَسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ، وَأَقْلِلْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكَ وَيَشْهَدْ أَنِّي رَسُولُكَ، فَلا تُحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ، وَلا تُسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ، وَأَكْثِرْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ جو شخص تجھ پر ایمان لایا اور اس نے گواہی دی کہ میں تیرا رسول ہوں، تو اسے اپنی ملاقات محبوب کر دے۔ اس پر اپنا فیصلہ آسان فرما، اور دنیا سےاسے تھوڑا دے، اور جو شخص تجھ پر ایمان نہ لائے اور گواہی نہ دے کہ میں تیرا رسول ہوں تو اسے اپنی ملاقات محبوب نہ کر ،اس پر اپنا فیصلہ آسان نہ کر اور دنیا سےاسے زیادہ حصہ دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2804

عَنْ أَنسٍ أَن رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: اَللهم لَاسَهَل إِلَا مَا جَعَلَتْه سَهْلًا، وَأَنْت تَجْعَل الْحَزَن إِذَا شِئْت سَهْلًا.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اے اللہ جسے تو آسان بنا دے اس کے علاوہ کوئی آسانی نہیں اور جب تو چاہتا ہے سختی کو آسان کر دیتاہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2805

) قَالَ مُعَاوِيَةُ عَلَى الْمِنْبَرِ: اَللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، مَنْ يُّرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ. سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ.
معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پرارشادفرمایا:”اے اللہ جو تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روک لے کوئی عطا کرنے والا نہیں ، اور کسی شان والےکواس کی شان تجھ سے نہیں بچا سکتی“۔ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے یہ کلمات میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس منبر پر سنے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2806

) عَنِ الأَسْوَدِ بن سَرِيعٍ، قَالَ: كُنْتُ شَاعِرًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! اِمْتَدَحْتُ رَبِّي فَقَالَ: أَمَا إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْمَحَامِدَ وَمَا اسْتَزَادَنِي عَلَى ذَلِكَ.
اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک شاعر تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنے رب کی مدح بیان کی ہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقیناً تمہارا رب مدح پسند کرتا ہے اور اس سے زیادہ بات نہیں کہی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2807

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمَرَنَا أَنْ نَّقُوْلَ إِذَا أَصْبَحْنَا وَإِذَا أَمْسَيْنَا وَإِذَا اضْطَجَعْنا عَلَى فُرُشِنَا: اَللهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ فَإِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ أَنْفُسِنَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَشِرْكِهِ وَأَنْ نَقْتَرِفَ سُوءًا عَلَى أَنْفُسِنَا سُوءًا أَوْ نَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ.
ابو مالک اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم صبح کریں اور جب شام کریں اور جب اپنے بستروں پر لیٹیں تو کہیں:” اے اللہ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے، تو ہر چیز کا رب ہے، اور فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ اس لئے ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ شیطان مردود اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ خود پر کسی برائی کا ارتکاب کریں یا کسی مسلمان کو برائی میں مبتلا کریں“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2808

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَرْقِي يَقُولُ:اِمْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَايَكْشِفُ الْكَرْبَ إِلَّا أَنْتَ. ( )
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌دم کرتے ہوئے فرماتے :” اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے ،تیرے ہاتھ میں شفاء ہے، تیرے سوا کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا“۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2809

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إنَّ أَحَبَّ الْكَلامِ إِلَى اللهِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالٰی جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ، وإن أبغضَ الْكَلَامِ إِلَى اللهِ أَنْ يَقُولَ الرَجُل لِلرَجُل: اتَّقِ الله فَيَقُول: عَلَيْكَ بنَفْسِكَ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب کلام یہ ہے کہ بندہ کہے: اے اللہ تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سےنا پسندیدہ بات یہ لگتی ہے ۔کہ کوئی شخص کسی دوسرے سے کہے: اللہ سے ڈر جا ، تو وہ کہے: خود کو دیکھ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2810

عن عائشة مرفوعاً: «إِن أَحْسَنَ النَّاسِ قِرَاءَة الَّذِي إِذَا قَرَأَ رَأَيْتَ أَنَّه يَخْشَى اللهَ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ :لوگوں میں سب سے اچھی قراءت کرنے والا وہ شخص ہے کہ جب وہ قراءت کرے تو اس پر اللہ کی خشیت نظر آئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2811

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ قَالَ لَهُ: إِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ. فَقَرَأَ عَلَيْهِ:لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡاۙ﴿۱﴾ وَقَرَأَ فِيهَا: إِنَّ ذَاتَ الدِّينِ عِنْدَ اللهِ الْحَنِيفِيَّةُ الْمُسْلِمَةُ لَا الْيَهُودِيَّةُ وَلَا النَّصْرَانِيَّةُ وَلَا الْمَجُوسِيَّةُ مَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ وَقَرَأَ عَلَيْهِ: لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا وَلَوْ كَانَ لَهُ ثَانِيًا لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا...ألخ (قَالَ: ثُمَّ خَتَمَهَا بِمَا بَقِيَ مِنْهَا).
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تما رے سامنےقرآن پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کےسامنےقرآن پڑھا: لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡاۙ﴿۱﴾ اور اس میں پڑھا :یقیناً اللہ کے یہاں دین حنیف ملت اسلام ہے، نہ کہ یہود،نصرانیت اور مجوسیت۔جوشخص کوئی خیر کا عمل کرے گا اس کی نا قدری نہیں کی جائے گی، اور ان سے فرمایا :اگر ابن آدم کے لئے مال کی ایک وادی ہو تو یہ دوسری وادی تلاش کرے گا، اور اسے دوسری وادی بھی مل جائے تو وہ تیسری وادی کی تلاش کر ے گا۔۔۔ الخ(کہتے ہیں پھر باقی سورت جو بچی تھی اسے پڑھ کر ختم کیا)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2812

عَنْ عَلي بن رَبِيْعَة، أَنَّه كَان رَدِفًا لِعَلي رضی اللہ عنہ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَه في الرِّكَابِ، قال: بِسْمِ اللهِ. فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِ الدَّابَّةِ، قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلهِ ثَلَاثًا، وَاللهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقۡرِنِیۡنَ (ۙ۱۳) (الزخرف) الآية. ثم قال: لَا إِلَه إِلَا أَنَت سُبْحَانَك، إِنِّي قَد ظَلَمْتُ نَفَسِي، فَاغْفِر لِي ذُنُوبِي، إِنَّه لَا يَغْفِرُ الذَّنُوب إِلَا أَنَت، ثُمَّ مَالَ إِلَى أَحَدِ شَقِّيْهِ فَضَحِكَ فَقُلْت: يَا أَمِير الْمُؤْمِنِين! ما يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: إِنِّي كْنْتُ رَدِف النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَصَنع رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَمَا صَنَعْتُ فَسَأَلْتُهُ كَمَا سَأَلتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِنَّ اللهَ لَيَعْجَبُ إلَى الْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَه إِلَا أَنْتَ، إِنِّي قَد ظَلَمْتُ نَفَسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّه لَا يَغْفِرُ الذَّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، قَالَ: عَبْدِي عَرَفَ أَنَّ لَه رَبًّا يَغْفِر وَيُعَاقِبُ».
. علی بن ربیعہ سے مروی ہے کہ وہ علی‌رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھے، جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں ڈالا تو کہا:بسم اللہ، جب پشت پر بیٹھ گئےتوکہا:الحمدللہ،(تین مرتبہ)واللہ اکبر(تین مرتبہ) (الزخرف:۱۳)”پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کیا ،جب کہ ہم اسے مسخر نہیں کر سکتے تھے“۔ پھر کہا: ”تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں،یقیناً میں نے خود پر ظلم کیا، مجھے بخش دے کیوں کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا“ پھر ایک طرف تھوڑا سا جھک کر ہنسنے لگے۔ میں نے کہا: امیر المومنین! آپ کس وجہ سے ہنسے؟ کہنے لگے: میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پیچھے سوار تھا تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے بھی اسی طرح کیا جس طرح میں نے کیا تو میں نے بھی آپ سے اسی طرح سوال کیا جس طرح تم نے سوال کیا ہے تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ یہ کلمات کہتا ہے: ”تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ۔یقیناً میں نے خود پر ظلم کیا، میرے گناہوں کو معاف کر دے، کیوں کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی معاف نہیں کر سکتا“۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میرے بندے کو معلوم ہوگیا کہ اس کا ایک رب ہے جو معاف بھی کر سکتا ہے اور سزا بھی دے سکتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2813

عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بِـ(عُسْفَانَ) وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ: مَنِ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ فَقَالَ: ابْنَ أَبْزَى قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ مَوْلًى مِّنْ مَّوَالِينَا قَالَ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَّوْلًى؟ قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِض. قَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ
عامر بن واثلہ سے مروی ہے کہ نافع بن عبدالحارث (عسفان میں) عمر‌رضی اللہ عنہ سے ملے۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے انہیں مکہ کا نگران بنایا تھا۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے اہل وادی پر کس کو نگران بنایا ہے؟ نافع نے کہا: ابن ابزی کو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟نافع نے کہا: ہمارا ایک مولی (آزاد کردہ غلام )ہے۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایک مولیٰ(آزاد کردہ غلام)کو نگران بنایا ہے؟ نافع کہنے لگے: وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے ،اور فرائض کا علم رکھنے والا ہے۔عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ کچھ قوموں کو بلند کر دیتا ہےاورکچھ قوموں کو اس کتاب کے ذریعہ ذلیل کر دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2814

عَنْ عَبدِ اللهِ بن عَمْرِو بْنِ العَاص، قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «إِن الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ في جَوْفِ أَحَدِكُم كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبَ الْخَلق ، فَاسْأَلُوا الله أَن يُجَدِّد الْإِيمَانَ في قُلُوبِكُم » .
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقیناً ایمان تمہارے اندر اس طرح بوسیدہ ہو جاتا ہے جس طرح کپڑا بوسیدہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کرتا رہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2815

عَنْ عَائِشَةَ عَنْ فَاطِمَةَمَرفُوعاً:إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَنِيَ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لِحَاقًا بِي (فَاتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ).
عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ: جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک مرتبہ میرے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دو مرتبہ میرے ساتھ قرآن کا دور کیا ہے، اور میرے خیال میں میری موت کا وقت آگیا ہے، اور تم (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھے ملوگی، (اللہ سے ڈرتی رہنااور صبر کرنا ،کیوں کہ میں) تمہارے لئے اچھا پیش رو(میزبان) بنوں گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2816

عَنِ ابن أبي أوفى، قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : «إِن خِيَارَ عبَادِ الله الَّذِين يُرَاعُوْنَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ والأَظِلَّةَ لِذِكْر الهی عزوجل»
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ کے بہترین بندے وہ لوگ ہیں جو اللہ عزوجل کے ذکر کے لئے سورج، چاند ،ستاروں اور سایوں کا خیال کرتے ہیں،یعنی ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2817

عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنْ الأَسَدِي، قَالَ: دَخلَ عَبْدُ اللهِ بْنِ مَسعُودِ رضی اللہ عنہ عَلَى امْرَأَتِهِ فَرَأَى عَلَيْهَا حِرْزًا مِّنَ الْحُمْرَةِ فَقَطَعَهُ قَطْعاً عَنِيْفاً ثُمَّ قَالَ: إِنَّ آلَ عَبْدِ اللهِ عَنِ الشِّرْكِ أَغْنِيَاءُ وَقَالَ: كَانَ مِمَّا حَفِظْنَا عَنِ النّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌« إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ»
قیس بن سکن اسدی سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے کسی بیماری(ایک قسم کی وبائی بیماری جس میں سرخ دانوں کے ساتھ بخار آجاتا ہے) کی وجہ سے دھاگہ باندھا ہوا تھا۔ انہوں نے سختی سے اسے کاٹ دیا۔ پھر کہنے لگے: عبداللہ کی آل شرک سے بری ہے۔اور کہنے لگے: نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی جو باتیں مجھے یاد ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ :(شرکیہ )دم،تعویز اور دھاگہ شرک ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2818

) عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ.
عبدالہة‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(شرکیہ)دم،تعویز اور دھاگہ شرک ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2819

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: إِنَّ فَتًى شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! اِئْذَنْ لِي بِالزِّنَى فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَزَجَرُوهُ وَقَالُوا: مَهْ مَهْ! فَقَالَ: ادْنُهْ فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا. قَالَ: فَجَلَسَ قَالَ: أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ! جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ! جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ! جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ! جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ قَالَ: أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ! جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ: وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ: اَللهُمَّ! اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرْ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَهُ فَلَمْ يَكُنْ بَعْدُ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک نوجوان نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے زنا کی اجازت دیجئے، لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے برا بھلا کہنے لگے اور کہنے لگے: چپ ہو جاؤ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے میرے قریب کر دو۔ وہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا اور بیٹھ گیا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تم اپنی ماں کے لئے اسے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لوگ بھی اپنی ماؤں کے لئے اسے پسند نہیں کرتے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنی بیٹی کے لئے اسے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں واللہ! اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لئے اسے پسند نہیں کرتے۔ پھر فرمایا: کیا تم اپنی بہن کے لئے اسے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے اس کام کو پسند نہیں کرتے۔ پھر فرمایا: کیا اپنی پھوپھی کے لئے اس کام کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لئے اس کام کو پسند نہیں کرتے۔ کیا تم اپنی خالہ کے لئے اس کام کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اس کام کو اپنی خالاؤں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: اے اللہ اس کے گناہ بخش دے، اس کا دل پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔ اس کی بعد وہ نوجوان کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2820

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة:أَنَّ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَأُوا وَلَا حَرَجَ وَلَكِنْ لَا تَخْتِمُوا ذِكْرَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ وَلَا ذِكْرَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ قرآن سات حروف (انداز) پر نازل ہو اہے۔ (ان لہجوں پر) پڑھو کوئی حرج نہیں۔ لیکن رحمت کے ذکر کو عذاب پر ختم نہ کرو اور عذاب کے ذکر کو رحمت پر ختم نہ کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2821

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالك قَالَ: أَخَذَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌غُصْنًا فَنَفَضَهُ، فَلَمْ يَنْتَفِضْ، ثُمَّ نَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ، ثُمَّ نَفَضَهُ فَانْتَفَضَ، فَقَالَ: إِنَّ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ تَنْفُضُ الْخَطَايَا كَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایک ٹہنی پکڑ کر جھاڑی ،لیکن وہ نہیں جھڑی،آپ نے پھر جھاڑی لیکن وہ نہیں جھڑی آپ نے پھر جھاڑی تو وہ جھڑ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر۔ خطاؤں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جس طرح یہ درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2822

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ أَوِ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: عبداللہ بن قیس کو آل داؤد کی طرز دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2823

عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ:رَبِّ!اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ مِئَةَ مَرَّةٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: ہم ایک ہی مجلس میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے یہ کلمات:اے میرے رب مجھے بخش دے میری توبہ قبول کر یقیناً تو توبہ قبول کرنے والا معاف کرنے والاہے ،سو مرتبہ گنتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2824

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسعُودٍ مَوقُوفاً وَمَرفُوعاً: إِنَّ لِكُلِّ شَىْءٍ سَنَاماً وَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَإِنَّ الشَيْطَان إِذَا سَمِعَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ خَرَجَ مِنَ الْبَيْتِ الْذِي يُقرَأُ فِيْه سُوْرَةُ البَقرَة.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے موقوفا اور مرفوعا مروی ہے کہ: ہر چیز کی ایک کوہان (چوٹی، بلندی) ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورة البقرة ہے۔ شیطان جب سورة البقرة سنتا ہے تو اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورة البقرة پڑھی جاتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2825

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ لِلهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ (يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ) فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ فَيَجِيئُونَ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ اللهُ: أَيَّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ فَيَقُولُونَ:تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيَذْكُرُونَكَ فَيَقُولُ:هَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ:لَافَيَقُولُ:فَكَيْفَ (لَوْ رَأَوْنِي)؟فَيَقُولُونَ:لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا وَذِكْرًا فَيَقُولُ:فَأَيَّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ:وَهَلْ رَأَوْهَا؟ قَالَ:فَيَقُولُونَ: لَا فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا قَالَ: فَيَقُولُ: وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ؟ فَيَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا قَالَ: فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا هَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا قَالَ: فَيَقُولُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ: فَيَقُولُونَ: فَإِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ؟ فَيَقُولُ: هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گھومتے پھرتے ہیں ۔لوگوں کا حساب لکھنے والوں کے علاوہ(اور اہل ذکر کو تلاش کرتےہیں) جب وہ ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں :آؤ اپنے مطلوب کی طرف ،وہ ان کے پاس آتے ہیں اور انہیں آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں (پھر اختتام ؟؟؟ پر واپس جاتے ہیں تو) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟وہ فرشتے کہتے ہیں :ہم نے انہیں تیری تحمید، تمجید اور ذکر کرتے ہوئے چھوڑا ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اگر وہ مجھے دیکھ لیں) تو ان کی کیفیت کس طرح ہوگی؟ وہ کہتے ہیں: اگر وہ آپ کو دیکھ لیں تو اور بھی زیادہ تحمید، تمجید اور ذکر کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ کون سی چیز مانگ رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں: نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیں تو اس کی اور زیادہ حرص کریں، اور اسے اور زیادہ شدت سے طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں: آگ سے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے آگ (جہنم) کو دیکھا ہے ؟فرشتے کہتے ہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر وہ آگ کو دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہوگی؟فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ آگ دیکھ لیں تو اس سے بھی زیادہ بچنے کی کوشش کریں اور اس سے بھی زیادہ خوف کھائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا۔ فرشتے کہتے ہیں: ان میں فلاں گناہ گار بھی بیٹھا ہوا تھا ،جو ویسے ہی وہاں موجود تھا، اور اپنے کسی کام سے آیا تھا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جن کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2826

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللهِ: التَّسْبِيحَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّحْمِيدَ يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَوْ لَا يَزَالَ لَهُ مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ؟
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ کے جلال میں سے جو تم ذکر کرتے ہو ، تسبیح، تحمید اور تہلیل بھی ہے۔ عرش کے گرد گھومتی رہتی ہیں شہد کی مکھی کی طرح بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ اور اپنے کہنے والے کا تذکرہ کرتی ہیں۔ کیا تم میں سے کسی کو پسند نہیں کہ جس کا ہمیشہ کا تذکرہ کیا جائے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2827

عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِّنَ الْقُرْآنِ فَقَالَ: مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟ قَالَ: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى غَيْرِ هَذَا فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ! آيَةُ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَرَأَهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ! فَقَرَأَهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيَّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ أَحْسَنْتُمْ (وفي رواية:أصبتم)وَلَا تَمَارَوْا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ.
ابو قیس مولیٰ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عمرو بن عاص‌رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو قرآن کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا۔ تو انہوں نے کہا: یہ آیت تمہیں کس نے پڑھائی؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے اس سے مختلف انداز میں پڑھائی ہے۔ دونوں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس گئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں فلاں آیت ،پھر وہ آیت پڑھی، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے سامنے آیت پڑھی اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول کیا یہ آیت اس طرح نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ قرآن سات حروف (انداز) پر نازل ہوا، جو انداز اپناؤ اچھا ہے(اور ایک روایت میں ہے:درست ہے)اور اس بارے میں جھگڑا مت کرو، کیوں کہ اس میں جھگڑنا کفر ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2828

عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قال: رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِم كَأَنِّي تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَكَأَنَّ الشَّجَرَة تَقْرَأُ: (ص)، فَلَمَّا أَتَتْ عَلَى السَّجْدَة سَجَدَتْ، فَقَالَتْ في سُجُودِهَا: اللَّهُمَّ اُكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا، وَحطّ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَأَحْدِثْ لِي بِهَا شُكْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاؤدَ سَجْدَتَه، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَأَخْبَرْتُه بِذَلِك، فَقَالَ: سَجَدْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعيدٍ؟ فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: أَنْتَ كُنْتَ أَحَقُّ بِالسُّجُود مِنَ الشَّجَرَة، فَقَرَأ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَوْرَة (ص) حَتَّى أَتَى عَلَى السَّجْدَة، فَقَال في سُجُوده ما قَالَتِ الشَّجَرَة في سُجُوْدِهَا.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک درخت کے نیچے ہوں۔ لگ رہا تھا کہ درخت سورة ص پڑھ رہا ہے۔ جب وہ سجدے پر پہنچا اور سجدہ کیا تو اپنے سجدے میں کہا: اے اللہ میرے لئے اس کے بدلے اجر لکھ دے، اس کے ذریعے میری خطائیں دور فرما، اور میرے لئے اس کے بدلے شکر قبول کر، اور مجھ سے اس طرح قبول کر جس طرح اپنے بندے داؤد سے اس کا سجدہ قبول کیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں خبر دی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوسعید! کیا تم نے بھی سجدہ کیا تھا؟ میں نے کہا کہ: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سجدہ کرنے کا درخت سے زیادہ حق دار تھا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے سورة ص پڑھی، جب سجدہ پر پہنچے تو سجدے میں وہی کلمات کہے جو درخت نے اپنے سجدے میں کہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2829

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ﴿۱﴾ إِلَىآخِرِ السُّورَةِ وَ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جن کی مثل(کبھی)نہیں دیکھی گئی۔ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ﴿۱﴾ ، آخر سورت تک۔ اور ، قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾ آخر سورت تک
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2830

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّكُمْ لَا تَرْجِعُون إِلَى الهِا أَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ يَعْنِي الْقُرْآنَ.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقیناً تم اللہ کو اس سے بہترین کوئی چیز نہیں لوٹا سکتے جو اس سے نکلی ہے ۔یعنی قرآن۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2831

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّا لَنَرَى السُّرُورَ فِي وَجْهِكَ فَقَالَ: إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟ قَالَ بَلَى.
عبداللہ بن ابی طلحہ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک دن آئے ،آپ کے چہرے سے شادمانی جھلک رہی تھی۔صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ آپ کا رب عزوجل فرماتا ہے: تمہاری امت میں سے کوئی شخص جو تم پر ایک مرتبہ درودبھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہوں، اور تمہاری امت کا جو شخص تم پر ایک مرتبہ سلام بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجتا ہوں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیوں نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2832

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ -أَوْ قَالَ: الْعَدُوَّ- قَالَ لَهُمْ: إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ.
ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں اشعری دوستوں کی آواز پہچانتا ہوں جب وہ رات کو قرآن پڑھتے ہوئے آتے ہیں اور رات کو قرآن پڑھنے کی وجہ سے ان کی آوازوں کی منازل (گھر، پڑاؤ کی جگہ)پہچان لیتا ہوں اگرچہ میں نے دن میں ان کے پڑاؤ نہیں دیکھتے ہوتے۔ اگرچہ میں نے ان کی منازل نہیں دیکھی، میرے ان ہی اشعری احباب میں ایک مرد دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈبھیڑ ہوجاتی ہے یا فرمایا کہ: دشمن سے، تو ان سے کہتا ہے کہ: میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لئے ان کا انتظار کرلو۔ ہیں کہ تم انہیں مہلت دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2833

عَنْ سُلَيْمَان بْن صُرَدٍ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. قَالَ: فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌آنِفًا؟ قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَمَجْنُونًا تَرَانِي؟
سلیمان بن صرد سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس دو آدمی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے۔ ایک غصے میں آگیا اور اس کا چہرہ سرخ ہوگیا، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کی طرف دیکھا تو فرمایا: میں ایک کلمہ جانتا ہوں جسے یہ کہہ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ایک شخص جس نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی بات سنی تھی اٹھ کر اس آدمی کی طرف گیا،اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابھی کیا فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہ مجھے ایسا کلمہ معلوم ہے جسے اگر یہ کہہ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے۔ وہ کلمہ : أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ہے۔ اس آدمی نے اس سے کہا: کیا تم مجھے پاگل سمجھتے ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2834

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: أَوْصِنِي فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ قَبْلِكَ فَقَال: أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے نصیحت کیجئے۔ ابو سعید نے کہا: تم نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہے جو میں نے تم سے پہلے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کیوں کہ یہ ہر عمل کی انتہا ہے اور تمہیں جہاد کی نصیحت کرتا ہوں کیوں کہ یہ اسلام کی رہبانیت ہے ۔اور اللہ کے ذکر اور تلاوت کو لازم کر لو کیوں کہ یہ آسمان میں تمہاری روح اور زمین میں تمہارا ذکر ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2835

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُرِيدُ سَفَرًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَوْصِنِي قَالَ: أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی جو سفر پر جا رہا تھا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا۔ اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے تقویٰ اور ہر چڑھائی پر اللہ اکبر کہنے کی نصیحت کرتا ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2836

) عن ابن عباس مرفوعا: أَوْليَاءُ الله الَّذِين إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللهُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے اولیاء وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2837

عَنْ أَبِي ذَرٍّ: أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُولَ اللهِ! ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِيُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ. قَالَ: أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ؟ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ مُّنْكَرٍ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ قَالُوا: أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرًا.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے کچھ صحابہ نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مال والے اجر لے گئے، جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی روزہ رکھتے ہیں جب کہ وہ اپنا زائد مال صدقہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایسا کچھ نہیں بنایا جو تم صدقہ کر سکو؟ ہر تسبیح کے بدلے صدقہ ہے، ہر تکبیر کے بدلے صدقہ ہے، ہر تحمید کے بدلے صدقہ ہے، ہر تہلیل کے بدلے صدقہ ہے ،امر بالمعروف صدقہ ہے ،نہی عن المنکر صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے خواہش پوری کرنا صدقہ ہے۔ صحابہ نے کہا: کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اس میں بھی اجر ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر وہ حرام کاری کرتا تو کیا اس پر گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ حلال طریقے سے خواہش پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اس میں اجر ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2838

عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ.
مصعب بن سعد سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مجھے اباجان نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس تھے،آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمائے؟ ایک شخص نے پوچھا: ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہے تو اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا اس کی ایک ہزار خطائیں معاف کی جاتی ہیں