AL SILSILA SAHIHA

Search Result (128)

24)

24) ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3084

عَنِ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّرُّ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس سبز چادر میں آئے جس میں موتی جڑے ہوئے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3085

عَنْ حَكِيمِ بن حِزَامٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي أَصْحَابِهِ ، إِذْ قَالَ لَهُمْ : أَتَسْمَعُونَ مَا أَسْمَعُ ؟ قَالُوا : مَا نَسْمَعُ مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : إِنِّي لأَسْمَعُ أَطِيطَ السَّمَاءِ ، وَمَا تُلامُ أَنْ تَئِطَّ ، وَمَا فِيهَا مَوْضِعُ شِبْرٍ إِلا وَعَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ أَوْ قَائِمٌ .
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے کہا: کیا تم سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم تو کوئی آواز نہیں سن رہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں آسمان کے چرچرانے کی آواز سن رہا ہوں، اور اس کے چرچرانے پر اسے ملامت نہیں کی جا سکتی ،آسمان میں بالشت بھر بھی جگہ خالی نہیں جہاں کوئی فرشتہ سجدے کی حالت میں یا قیام کی حالت میں نہ ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3086

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ فَلَمْ نُزَايِلْ ظَهْرَهُ أَنَا وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَفُتِحَتْ لَنَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَرَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: وَلَمْ يُصَلِّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ زِرٌّ: فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى قَدْ صَلَّى قَالَ حُذَيْفَةُ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ! فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ وَلَا أَعْرِفُ اسْمَكَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ (۱) الإسراء قَالَ: فَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى؟ لَوْ صَلَّى لَصَلَّيْتُمْ فِيهِ كَمَا تُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ زِرٌّ: وَرَبَطَ الدَّابَّةَ بِالْحَلَقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمْ السَّلَام قَالَ حُذَيْفَةُ: أَوَكَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَبَ مِنْهُ وَقَدْ أتَاهُ اللهُ بِهَا؟
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا یہ ایک لمبا سفید جانور ہے، انتہائے نظر پر اس کا قدم پڑتا ہے۔ میں اور جبریل علیہ السلام اس کی پیٹھ پر بیٹھے رہے حتی کہ ہم بیت المقدس آگئے۔ ہمارے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔ میں نے جنت اور جہنم دیکھی۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی، زر بن بن حبیش‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے کہا: کیوں نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے نماز پڑھی تھی ،حذیفہ نے کہا: تمہارا کیا نام ہے؟گنجے انسان! میں تمہارا چہرہ پہچانتا ہوں ، لیکن نام نہیں جانتا۔میں نے کہا: میں زر بن جیش ہوں۔ انہوں نے کہا: تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (الاسراء:۱)کہنے لگے: کیا تمہیں اس میں نماز کا ذکر ملتا ہے؟ اگر وہ نماز پڑھتے تو تم بھی اس میں اسی طرح نماز پڑھتے جس طرح مسجد حرام میں پڑھتے ہو ۔ زر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کڑے کے ساتھ اپنی سواری باندھی جس کڑے کے ساتھ دوسرے انبیاء علیہما السلام اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو اس بات کا خوف تھا کہ وہ بھاگ جائے گی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے بھیجا تھا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3087

عَنْ أَنسِ عَنْ جُندبِ أَو غَيرِه مِن الصَحَابَة عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ جندب یا ان کے علاوہ کسی دوسرےصحابی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آدم اور موسیٰ علیہم السلام میں جھگڑا ہوا تو آدم علیہ السلام ،موسیٰ علیہ السلام سے جیت گئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3088

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ثُمَّ يَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُهُ وَأَحْيَانًا مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ فَأَعِي مَا يَقُولُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ حارث بن ہشام نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال کیا: آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹیوں کی آواز کی صورت میں آتی ہے ،اور یہ مجھ پر سب سے سخت مرحلہ ہوتا ہے، جب یہ کیفیت مجھ سے ختم کی جاتی ہے تو مجھے یاد ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں آتا ہے ،جو وہ کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3089

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَخَذَ اللهُ- تَبَاركَ وَتَعَالَى- الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بـ(بِنَعْمَانَ) يَعْنِي عَرَفَةَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قُبُلًا قَالَ: اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰیۚ ۛ شَہِدۡنَا ۚ ۛ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ (۱۷۲)ۙ اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۚ اَفَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ (۱۷۳) الأعراف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے (نعمان) یعنی عرفہ میں عہد لیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت سے ہر انسان کو نکالا جو پیدا ہونے والا تھا، اور گرد و غبار کے ذرات کی طرح ان کے سامنے بکھیر دیا، پھر ان سے متوجہ ہو کر بات کی فرمایا: (الاعراف:۱۷۲،۱۷۳)کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ کہنے لگے :کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں(یہ اس وجہ سے) کہ کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم اس بارے میں لاعلم تھے یا تم کہو کہ ہمارے باپ دادا نے اس سے پہلے شرک کیا اور ہم تو ان کے بعد ان کی اولاد تھے کیا تو ہمیں باطل لوگوں کے فعل کی وجہ سے ہلاک کر ے گا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3090

عَنْ جَابِرِ مَرفُوعاً: أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِّنْ مَلَائِكَةِ اللهِ تَعَالَى مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْع مِئَةِ سَنَةٍ .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مجھے اجازت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والےفرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بتاؤں ،اس کے کان سے لے کر کاندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3091

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُل إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقَال : يَا مُحَمَّد! وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ (آل عمران: ١٣٣) فَأَيْن النَّار ؟ قَالَ : « أَرَأَيْتَ هَذَا اللَّيْل الَّذِي قَدْ كَانَ أَلبسَ عَلَيْكَ كُل شَيْءٍ ، أَيْنَ جُعِلَ؟ » فَقَالَ : اللهُ أَعْلَم ، قَالَ : « فَإِنَّ اللهَ يَفْعَلُ مَا يَشاَء
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ (اسی آیت کہ) جنت کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ تو جہنم کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا اس رات کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے تم سے ہر چیز کو چھپا دیا کہ وہ کہاں رکھی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3092

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اِشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا وَقَالَتْ: أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ: نَفَسًا فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسًا فِي الصَّيْفِ، فَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الشِّتَاءِ فَزَمْهَرِيرٌ، وَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الصَّيْفِ فَسَمُومٌ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہنے لگی: میرے بعض حصے نے دوسرے کو کھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردی میں اور دوسرا گرمی میں، اس کا سردی کا سانس سردی کی شدت اور گرمی کا سانس گرمی شدت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3093

عَنْ عُبَيْدِاللهِ بْن أَنَس (مُرْسَلاً): أَشْقَى الأَوَّلِين عَاقِرُ النَّاقَة ، وَأَشْقَى الآخَرِين الَّذِي يَطْعَنُك يَا عَلِيُّ. وَأَشاَر إِلَى حَيْث يَطْعَنُ
عبیداللہ بن انس سے(مرسلا) مروی ہے کہ: دو میں سے پہلا بد بخت وہ شخص ہے جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اوربعد والے لوگوں میں دوسرا بد بخت وہ شخص ہے جو تجھے نیزہ مارے گا اے علی !اور آپ نے نیزا مارے جانے والی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3094

عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَعْرَابِيا فَأَكْرَمه ، فَقَالَ لَه: « ائْتِنَا » فَأَتَاه ، فَقَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: (وَفِي رِوَايَةٍ: نَزَلَ رُسولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأَعْرَابِي فَأَكْرَمه فَقَال لَه رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « تَعهَدْنَا ائْتِنَا » فَأَتَاهُ الأَعْرَابِي فَقَالَ لَه رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌:) « سَلْ حَاجَتَك » ، فَقَالَ : نَاقَةٌ بِرَحْلِهَا ، وَأَعْنَزًا يَحْلِبُهَا أَهْلِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوْزِ بَنِي إِسْرَائِيْل ؟ » ، (فَقَالَ أَصْحَابه : يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا عَجُوز بَنِي إِسْرائِيْل؟) قَالَ : « إِنَّ مُوسَى لمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرائِيْل مِنْ مِصْرَ ضَلُّوا الطَّرِيْق؟ ، فَقَالَ : مَا هَذاَ ؟ فَقَالَ عُلَمَاؤُهم : (نَحْنُ نُحَدِّثُكَ:) إِنَّ يُوْسُفَ لماَ حَضَرَه المَوْت أَخذَ عَلَيْنَا مَوْثِقاً مِّنَ اللهِ أَنْ لَّا نَخْرُج مِنْ مِّصْر حَتَّى نَنْقُل عِظَامَه مَعَناَ ، قَالَ: فَمَنْ يَّعْلَم مَوْضِعُ قَبْرِه ؟ (قَالُوا: مَا نَدْرِي أَيْن قَبْر يُوسُف إِلَّا) عَجُوزٌ مِّنْ بَنِي إِسْرائِيْل ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا فَأَتَتْهُ ، فَقَالَ : دُلُّوْنِي عَلىَ قَبْرِ يُوْسف ، قَالَتْ : (لَا وَاللهِ لاَ أَفْعَل) حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي، قَالَ : وَمَا حُكْمُكَ ؟ قَالَتْ : أَكُوْنُ مَعَك فِي الْجَنَّة ، فَكَرِه أَنْ يُعْطِيَهَا ذَلِك ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْه : أَنْ أَعْطهَا حُكْمهاَ ، فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَة : مَوْضِعَ مُسْتَنْقِع مَاءٍ ، فَقَالَتْ : أَنْضِبُوا هَذَا الماَء ، فَأَنْضَبُّوا ، قَالَتْ : اِحْفِرُوا وَاسْتَخْرِجُوا عِظَامَ يُوْسُف ، فَلَمَّا أَقَلُّوهاَ إِلَى الأَرْضِ إِذَا الطَّرِيْق مِثْل ضَوْءِ النَّهَار ».
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک اعرابی کے پاس آئے ،اس نے آپ کی مہمانی کی آپ نے اس سے کہا: ہمارے پاس آنا، وہ آ پ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (اور ایک روایت میں ہے) رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک اعرابی کے مکان پر اترے تو اس نے آپ کی مہمانی کی) تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے کہا: ہم سے وعدہ کرو کہ ہمارے پاس آؤ گے ،وہ اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے کہا: اپنی ضرورت بیان کرو، اس نے کہا: ایک اونٹنی کجاوے کے ساتھ اورکچھ بکریاں جن کا میری گھر والے دودھ نکالیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تم اس بات سے عاجز آگئے ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسے بن جاؤ؟( آپ کے صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بنی اسرائیل کی بڑھیا کون تھی؟)آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو کرلے کر مصر سے نکلے تو راستہ بھٹک گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:یہ کیا ہے؟ ان کے علماء نے کہا:( ہم آپ کو بتاتے ہیں) جب یوسف علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے اللہ کی طرف سے ہم سے پختہ عہد لیا تھا کہ جب تک ہم ان کی ہڈیوں کو اپنے ساتھ منتقل نہیں کریں گے مصر سے نہیں نکلیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ان کی قبر کی جگہ کے بارے میں کون جانتاہے؟ کہنے لگے:(ہمیں نہیں معلوم کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟) ہاں، بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے، موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف پیغام بھیجا وہ آئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر بتاؤ۔ اس نے کہا:(نہیں ،واللہ میں ایسا نہیں کروں گی)جب تک تم میرا فیصلہ قبول نہیں کرو گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمہارا فیصلہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگی: میں آپ کے ساتھ جنت میں رہوں گی، موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات نا گوار لگی کہ اس کا فیصلہ قبول کریں ۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ اس کا فیصلہ قبول کر لو، وہ انہیں لے کر ایک تالاب کی طرف گئی جو پانی سے بھرا ہوا تھا لیکن نکاس نہ تھا، کہنے لگی: یہ پانی نکالو، تو انہوں نے پانی نکالا تو بڑھیا کہنے لگی: گڑھا کھودو اور یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکال لو۔ جب انہوں نے گڑھا کھودواتو راستہ دن کی روشنی کی طرف واضح ہوگیا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3095

عَنْ أَنَسِ مَرفُوعاً: أُعْطِيَ يُوسُفُ علیہ السلام شَطْرَ الْحُسْنِ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یوسف علیہ السلام کو حسن کا نصف (یا وافر)حصہ دیا گیا تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3096

) عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثِنيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَالَّذِي نَفْسي بِيَدِهِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَنْ هُمْ؟ قَالَ: الْجَمَاعَةُ.
عوف بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یہودی اکہتر(۷۱) فرقوں میں تقسیم ہوئے، ایک جنت میں اور ستر جہنم میں، عیسائی بہتر(۷۲) فرقوں میں تقسیم ہوئے ایک جنت میں اور اکہتر(۷۱) جہنم میں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری امت تہتر(۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوگی، ایک جنت میں اور بہتر(۷۲) جہنم میں جائیں گے۔ پوچھا گیا کہ: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جماعت والے ہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3097

عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ: إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: كَافِرٌ. قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ: ذَاكَ وَلَكِنَّهُ قَالَ: أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي.
مجاہد سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے ۔لوگوں نے دجال کا ذکر چھیڑاتو کسی نے کہا: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کا فر لکھا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ لیکن آپ نے فرمایا: رہی بات ابراہیم علیہ السلام کی تو اپنے ساتھی کی طرف دیکھ لو، اور موسیٰ علیہ السلام تو وہ سخت گھنگھریالے بالوں والے گندمی رنگ کے کھجور کے درخت کی چھال سے بٹی ہوئی رسی کی نکیل ڈالے ہوئے سرخ اونٹ پر سوار ہیں۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں جب وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے وادی میں اترے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3098

عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَرْفُوْعاً: إِنَّ آدَم خُلِقَ مِنْ ثَلَاث تُرُبَات : سَوْدَاء وَبَيْضَاء وَخَضْرَاء.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ آدم علیہ السلام تین رنگ کی مٹی سے پیدا ہوئے۔ سیا ہ سفید اور سبز۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3099

عن عبدالرحمن بن حسنۃ قال: کنت مع رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌في سفر فأصبنا ضبانا، فکانت القدور تغلي، فقال رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إن أمۃ من بني إسرائیل مسخت وأنا أخشی أن تکون ھذہ یعني الضباب۔ قال: فأکفاناھا وإنا لجیاع۔
عبدالرحمن بن حسنہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ تھے۔ ہمیں کئی سانڈے (گوہ) ملے، ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں، رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت کے چہرے تبدیل کردیے گئے تھے مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ ہی نہ ہو۔ یعنی سانڈہ۔ عبدالرحمن رضی اﷲ عنہ نے کہا: ہم نے بھوکے ہونے کے باوجود وہ ہانڈیاں الٹ دیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3100

عن نافع عن سائبۃ مولاۃ الفاکہ بن المغیرۃ: أنھا دخلت علی عائشۃ فرأت في بیتھا رمحا موضوعا فقالت: یا أم المؤمنین! ما تصنعین بھذا الرمح؟ قالت نقتل بہ الأوزاغ فإن نبي اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أخبرنا: أن إبراھیم علیہ السلام حین نلقي في النار لم تکن دابۃ إلا تظفي عنہ غیر الوزغ فإنّہ کانت ینفخ علیہ۔ فأمر رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بقتلہ۔
نافع، سائبہ (فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا۔ کہنے لگی: ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ عائشہ رضی اﷲ عنہا نے کہا: ہم اس کے ساتھ چھپکلیوں کو قتل کرتے ہیں، کیونکہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں بتایا کہ: ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو زمین کا ہر جانور ان کی آگ بجھا رہا تھا سوائے چھپکلی کے۔ یہ اس آگ میں پھونک مار رہی تھی، اس لیے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے قتل کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3101

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ دِيكٍ قَدْ مَرَقَتْ رِجْلاهُ الأَرْضَ، وعُنُقُهُ مُنْثَنِ تَحْتَ الْعَرْشِ، وَهُوَ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَكَ رَبُّنَا ! فَرَدَّ عَلَيْهِ: مَا يَعْلَمُ ذَلِكَ مَنْ حَلَفَ بِي كَاذِبًا .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں ایسے مرغ کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں زمین میں ہیں اور اس کی گردن عرش کے نیچےجھکی ہوئی ہے اور وہ کہہ رہا ہے: تو پاک ہے اے ہمارے رب! تو کتنا عظیم ہے۔ تو اسے جواب دیا جاتا ہے یہ بات وہ شخص نہیں جانتا جو میری جھوٹی قسم کھاتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3102

عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ مِّنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَبَكَى فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللهِ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَّكَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خُذْ مِنْ شَارِبِكَ، ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ تبارك وتعالى قَبَضَ قَبْضَةً بِيَمِينِهِ فَقَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي وَقَبَضَ قَبْضَةً أُخْرَى يعني بِيَدِهِ الْأُخْرَى فَقَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي. فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا.
ابو نضرہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کا ایک صحابی بیمار ہوگیا ،اس کے ساتھی اس کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لئے آئے ،وہ رونے لگا۔کسی نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! کیوں رو رہے ہو؟ کیا تمہیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ بات نہیں کہی کہ اپنی مونچھیں کاٹتے رہو حتی کہ مجھ سےملاقات کرلو؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ میں ایک مٹھی بھری اور فرمایا: یہ اس (جنت)کے لئے ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، اور دوسری مٹھی بھری ، یعنی دوسرے ہاتھ میں۔ اور فرمایا: یہ اس(جہنم) کے لئے ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کونسی مٹھی میں ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3103

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ حِينَ خَلَقَ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اپنے ہاتھ سے اپنے بارے میں لکھا کہ: میری رحمت میرے غصے پر غالب رہے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3104

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا اور ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3105

) عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ مَرفُوعاً: إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ.
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ایک مٹھی سے جو اس نے پوری زمین سے لی تھی، پیدا فرمایا اس لئے آدم علیہ السلام کی اولاد زمین کے رنگ پر پیدا ہوتی ہے ان میں سرخ بھی ہیں سفید بھی اور سیاہ بھی اور ان رنگوں کے درمیان بھی ، نرم بھی سخت بھی ،خبیث بھی اور پاکیزہ بھی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3106

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ مَرفُوعاً: إِنَّ اللهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِّنْ نُّوْرِهِ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ. قَالَ عَبْد الله بْنِ عَمْرِو: فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُو كَائِن.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اندھیرے میں پیدا فرمایا: اور ان پر اپنا نورڈالا تو جس شخص تک یہ نور پہنچ گیا وہ ہدایت پاگیا اور جس تک نہیں پہنچا وہ گمراہ ہوگیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی لئے میں کہتا ہوں کہ: جو ہونے والا ہے اسے لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3107

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ مَرفُوعاً: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ وَقَالَ: هَؤُلَاءِ إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَؤُلَاءِ إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ؟ قَالَ عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ.
عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، پھر ان کی پشت سے مخلوق لی اور فرمایا: یہ جنت کی طرف جائیں گے مجھے ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں، اور یہ جہنم کی طرف جائیں گے مجھے ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں۔ کسی شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کس بنا پر عمل کریں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تقدیر کے مواقع پر
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3108

عَنْ أَنْسٍ ، مَرْفُوْعاً : « إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ قَبْضَةً فَقَالَ: فِي الجَنَّة بِرَحْمَتِي ، وَقَبَضَ قَبْضَةً فَقَالَ: فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي »
(۳۱۰۸)انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک مٹھی بھری اور فرمایا: جنت میں میری رحمت کے ساتھ اور ایک دوسری مٹھی بھری ،فرمایا: جہنم میں ، مجھے ذرا بھی پرواہ نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3109

عَنْ إِبْرَاهِيم بْن سَعْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ شَيْخٌ جَمِيلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَفِي أُذُنَيْهِ صَمَمٌ أَوْ قَالَ: وَقْرٌ فأَرْسَلَ إِلَيْهِ حُمَيْدٌ فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي! أَوْسِعْ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ: هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ الشَّيْخُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ الْمَنْطِقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضَّحِكِ.
ابراہیم بن سعد رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: مجھے میرے والد نے بتایا، انہوں نے کہا: میں مسجد میں حمید بن عبدالرحمن کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا ،بنی غفار کا ایک باوقار بزرگ گزرا، ان کے کانوں میں بہراپن یااونچا سننے کی بیماری تھی ،حمید نے اس کی طرف کسی کو بھیجا۔ جب وہ آگیا تو حمید نے کہا: بھتیجے درمیان میں جگہ بناؤ، کیوں کہ یہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کا صحابی ہے۔ وہ آئے اور ہمارے درمیان آکر بیٹھ گئے۔حمید نے اس سے کہا: وہ حدیث تو بیان کیجئے جو آپ نے مجھے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان کی تھی۔ اس بزرگ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، فرما رہے تھے: اللہ عزوجل بادل کرتا ہے۔وہ خوبصورت انداز میں بات کرتا ہے اور بہترین انداز میں ہنستا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3110

عَنِ ابْنِ عَبَّاس مَرْفُوْعاً: إِنَّ أَوَّل شَيْءٍ خَلَقَهُ اللهُ تَعَالَى القَلَم وَأَمَرَه أَنْ يَّكْتُب كُلَّ شَيْءٍ يَّكُون.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی، قلم تھا اسے ہر وہ کام جو ہونے والا تھا لکھنے کا حکم دیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3111

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ أَبُو خُزَاعَةَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ فِي النَّارِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:پہلا شخص جس نے سوائب(سائبہ وہ اونٹنی جو بتوں کے نام پر چھوڑ دی جاتی تھی) کا رواج ڈالا اور بتوں کی عبادت کی، ابو خزاعہ عمرو بن عامر تھا۔ اور میں نے اسے دیکھا کہ وہ آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3112

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ، عَنِ النِّبيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ:إِنَّ بني إِسْرَائِيلَ اسْتَخْلَفُوا خَلِيفَةً عَلَيْهِمُ ، بَعدَ مُوسَي عَلَيْهِ السَّلَام فَقَامَ يُصَلِّي لَيلَةً فَوْقَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي الْقَمَرِ ، فَذَكَرَ أُمُورًا صَنَعَهَا، فَتَدَلَّى بِسَبَبٍ، فَأَصْبَحَ السَّبَبُ مُعَلِّقًا فِي الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قَوْمًا عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ، فَوَجَدَهُمْ يَضْرِبُون لَبِنًا أَوْ يَصْنَعُونَ لَبِنًا، فَسَأَلَهُمْ: كَيْفَ تَأْخُذُونَ عَلَى هَذَا اللَّبِنِ؟ قَالَ: فَأَخْبَرُوهُ، فَلَبَّنَ مَعَهُمْ، فَكَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ فَإذَاكَانَ حِيْنَ الصَّلاةُ قَامَ يُصَلِّى، فَرَفَعَ ذَلِكَ الْعُمَّالُ إِلَى دِهْقَانِهِمْ، إِنَّ فِينَا رَجُلاً يَفْعَل كَذَا وَكَذَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأَبَى أَنْ يَّأْتِيَهُ، ثَلَاثَ مَرَاتٍ ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ يَسِيرُ عَلَى دَابَّتِهِ، فَلَمَّا رَآهُ فَرَّ، فَاتَّبَعَهُ فَسَبَقَهُ، فَقَالَ: أَنْظِرْنِي أُكَلِّمْكَ، قَالَ: فَقَامَ حَتَّى كَلَّمَهُ، فَأَخْبَرَهُ خَبرَه أَنَّهُ كَانَ مَلِكًا، وَأَنَّهُ فَرَّ مِنْ رَهْبَةِ رَبِّهِ، قَالَ: إِنِّي لأَظنني لاحِقٌ بِكَ ، قَالَ: فَاتَّبَعَهُ فَعَبَدَا اللهَ، حَتَى مَاتَا، بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ قَالَ عَبْدُ الله: لَو أَنِي كُنت ثَمَّ لَاهتَدَيت إِلَى قَبَرِهِمَا بِصِفَة رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْتَي وَصَف لَنَا .
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنایا، ایک مرتبہ وہ بیت المقدس کے اوپر چاندنی رات میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے کچھ معاملات کا ذکر کیا جو وہ کیا کرتا تھا۔وہ اسی کے ذریعے نیچے اترے اور اسی مسجد کےساتھ لگی رہی اور اور وہ چلے گئے۔ پھر فرمایا : وہ چلتے رہے حتی کہ سمندرکے کنارے ایک قوم کے پاس آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ اینٹیں بنا رہے ہیں ، ان سے پوچھا: تم یہ اینٹیں بنانے کی کیا اجرت لیتے ہو؟ ان لوگوں نے اسے بتایا تو وہ بھی ان کے ساتھ اینٹیں بنانے لگے۔ اور اپنے ہاتھ کی کمائی کھانے لگے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگےا۔ مزدوروں نے یہ بات اپنے مالک تک پہنچائی کہ ہم میں ایک شخص اس طرح کا کام کر رہا ہے ۔اس مالک نے ان کی طرف بلاوا بھیجا لیکن انہوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ تین مرتبہ ایسا ہوا۔ پھر وہ اپنی سواری پر بیٹھ کر آیا جب انہوں نے اسے دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے وہ اس کے پیچھےبھاگنے لگا اور اس سے آگے بڑھ گیا۔ وہ کہنے لگا: مجھے مہلت دو میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔وہ کھڑےہوئے اس سے بات کرنے لگےاور اپنے متعلق بتایا جب اس نےاسے بتایا کہ وہ بادشاہ تھا اور اپنے رب کے ڈر سے بھاگا ۔اس نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے کہ میں تم سے مل جاؤں گا، پھر وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا: وہ دونوں اللہ کی عبادت کرتے رہے حتی کہ مصر کےصحرامیں فوت ہوئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر میں وہاں ہوتا تو جس طرح رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے ان دونوں کی قبر کی نشانی بتائی ہے میں تمہیں ان دونوں کی قبریں دکھاتا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3113

عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِيه (أَبِى مُوسَى الأَشعَرِي) مَرفُوعاً: أَنَّ بَنِى إِسْرَائِيلَ كَتَبُوا كِتَاباً فَاتَّبَعُوهُ وَتَرَكُوا لتَّوْرَاةَ.
ابو بردہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ:بنی اسرائیل نے ایک کتاب لکھی اور اس کی پیروی کرنے لگے۔ جب کہ تورات کو چھوڑ دیا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3114

) عَنْ رَبِيْعَة بْن عمَيْلَة قَالَ : ثَناَ عَبْدُاللهِ مَا سَمِعْنَا حَدِيْثاً هُوَ أَحْسَن مِنْه إِلاَّ كِتَابَ اللهِ عَزَّوَجَلَّ وَرِوَايَة عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْل لمَا طَالَ الأَمَد وَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ اخْتَرَعُوا كِتَاباً مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ، اسْتَهْوَتْه قُلُوْبُهُمْ وَاسْتَحَلَّته أَلْسِنَتَهُمْ وَكَانَ الحَقُّ يَحُوْلُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَثِيْر مِّنْ شَهَوَاتِهِمْ حَتَّى نَبذُوا كِتَابَ اللهِ وَرَاءَ ظُهُوْرِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْن فَقَالُوا : (الأَصْل: فَقَالَ) اعرِضُوا هَذاَ الْكِتَاب عَلى بَنِي إِسْرائِيْل فَإِنْ تَابعُوْكُمْ عَلَيْهِ فَاتْرُكُوْهُمْ وَإِنْ خَالَفُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ . قَالَ : لَا بَلِ ابْعَثُوا إِلَى فُلَانٍ - رَجُل مِنْ عُلَمَائِهِمْ - فَإِنْ تَابَعَكُمْ فَلَنْ يَّخْتَلِفَ عَلَيْكُمْ بَعْدَه أَحَدٌ . فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَدَعَوْهُ فَأَخَذَ وَرَقَة فَكَتَبَ فِيْهَا كِتَابَ اللهِ ثُمَّ أَدْخَلهَا فِي قَرْنٍ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِه ثُمَّ لَبِسَ عَلَيْهَا الثِّيَاب ثُمَّ أَتَاهُمْ فَعَرَضُوْا عَلَيْهِ الكِتَاب فَقَالُوا : تُؤْمِن بِهَذَا ؟ فَأَشاَرَ إِلَى صَدْرِهِ - يَعْنِي الكِتَابَ الَّذِي فِي القَرْن - فَقَالَ : آمَنْتُ بِهَذَا وَمَا لِي لَا أُوْمِنُ بِهَذَا ؟ فَخَلُّوا سَبِيْلَهُ . قَالَ : وَكَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَّغْشَوْنَهُ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الوَفَاة أَتَوْه فَلَمَّا نَزَعُوا ثِيَابَهُ وَجَدُوا القَرْنَ فِي جَوْفِهِ الكِتَاب فَقَالُوا : أَلَا تَرَوْنَ إِلَى قَوْلِهِ : آمَنْتُ بِهَذَا وَمَا لِي لَا أُوْمِنُ بِهَذاَ؟ فَإِنَّماَ عَنَّى بِـ ( هَذاَ) هَذَا الْكِتَاب الَّذِي فِي الْقَرنِ قَالَ : فَاخْتَلَفَ بَنُو إِسْرائِيْل عَلَى بِضْعٍ وَسَبْعِيْن فِرْقَة خَيْر مِلَلهم أَصْحَابُ أَبِي القَرْن
ربیعہ بن عميلة رحمۃ اللہ علیہ سےمروی ہے کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے ایک روایت بیان کی، ہم نے اللہ کی کتاب اور نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی روایت کے علاوہ اس سے اچھی حد یث کوئی نہیں سنی۔ آپ نے فرمایا: بنو اسرائیل پر جب لمبا عرصہ بیت گیا اور ان کے دل سخت ہو گئے تو انہوں نے اپنی طرف سے ایک کتاب لکھی، ان کے دلوں نے اس کام کو ہلکا سمجھا اور ان کی زبانوں کو میٹھی لگی ۔ حق ان کے اور ان کی اکثر خواہشات کے درمیان حائل رہتا تھا۔ حتی کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو اس طرح بھلا دیا گویا وہ جانتے ہی نہ ہوں۔ پھر وہ کہنے لگے: یہ کتاب بنی اسرائیل کے سامنے پیش کرو، اگر وہ اس کتاب پر تمہاری پیروی کریں تو انہیں چھوڑ دو، اور اگر تمہاری مخالفت کریں تو انہیں قتل کر دو، وہ کہنے لگا نہیں بلکہ اسے فلاں ۔ان کا کوئی عالم۔ کی طرف بھیجو اگر وہ تمہاری پیروی کر لے تو اس کے بعد کوئی شخص تمہاری مخالفت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس عالم کی طرف پیغام بھیج کر اسے بلایا ،اس نے ایک ورق لیا اور اس میں کتاب اللہ (اللہ کی کتاب) لکھی پھر اسے سینگ میں ڈال کر اپنی گردن میں لٹکا لیا۔ پھر اس پر کپڑے پہن لئے ،اور ان کے پاس آگیا۔ ان لوگوں نے وہ کتاب اس کے سامنے پیش کی اور کہنے لگے: کیا تم اس پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔ یعنی اس کتاب کی طرف جو سینگ میں رکھی تھی، اور کہا: میں اس پر ایمان لاتا ہو اور مجھے کیا تکلیف ہے کہ میں اس پر ایمان نہ لاؤں؟ انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ اس کے کچھ ساتھی تھے جو اس سے ملنے آیا کرتے تھے ۔جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس کے پاس آئے ۔ جب اس کے کپڑے اتارے تو وہ سینگ دیکھا جس میں کتاب تھی، کہنے لگے: تمہیں اس کی اس بات کا خیال نہیں کہ اس نے کہا تھا: میں اس پر ایمان لایا، اور مجھے کیا تکلیف ہے کہ میں اس پر ایمان نہ لاؤں؟ اس کا مقصد یہ کتاب تھی جو اس سینگ میں ہے ،اس وقت سے بنو اسرائیل کی قوم ستر سے زائد فرقوں میں تقسیم ہوگئی، ان کا بہترین فرقہ وہ ہے جو سینگ والے کے ساتھی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3115

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى فَأَرَادَ اللهُ أَنْ يَّبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ. قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: الْإِبِلُ: أَوْ قَالَ الْبَقَرُ شَكَّ إِسْحَاقُ إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُهُمَا: الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ: الْبَقَرُ قَالَ: فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ فَقَالَ: بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا قَالَ: فَأَتَى الْأَقْرَعَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: شَعَرٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَذِرَنِي النَّاسُ قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْبَقَرُ فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا فَقَالَ: بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا قَالَ: فَأَتَى الْأَعْمَى فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: أَنْ يَرُدَّ اللهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ قَالَ: فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْغَنَمُ فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا فَأُنْتِجَ هَذَانِ وَوَلَّدَ هَذَا قَالَ: فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْإِبِلِ وَلِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْبَقَرِ وَلِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْغَنَمِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ، بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي فَقَالَ: الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ فَقَالَ: لَهُ كَأَنِّي أَعْرِفُكَ أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا؟ فَأَعْطَاكَ اللهُ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللهُ إِلَى مَا كُنْتَ قَالَ: وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ: لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ: لِهَذَا وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هَذَا فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللهُ إِلَى مَا كُنْتَ قَالَ: وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ فَوَاللهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلهِ فَقَالَ: أَمْسِكْ مَالَكَ فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رضِيَ (اللهُ) عَنْكَ وَسخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے۔ کوڑھی، گنجا اور نابینا، اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمانے کا ارادہ کیا اور ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ،فرشتہ کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں کون سی چیز سب سے پیاری ہے؟ وہ کہنے لگا: اچھا رنگ اور اچھی کھال اور مجھ سے یہ بیماری ختم ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہیں۔ فرشتے نے اسے چھواتو اس کی تکلیف دور ہو گئی اور اسے اچھی جلد مل گئی ۔فرشتہ کہنے لگا: تمہیں کونسا مال پسند ہے ؟وہ کہنے لگا: اونٹ ۔یا اس نے گائے کہی۔ اسحاق کو شک ہے۔ لیکن کوڑھی یا گنجے میں سے کسی ایک نے اونٹ اور دوسرے نے گائے کہا تھا۔ اس فرشتے نے اسے حاملہ اونٹنی دے دی اور دعا کی کہ: اللہ تمہارے لئے اس میں برکت کردے۔ پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں کونسی چیز پیاری ہے؟ وہ کہنے لگا: اچھے بال اور مجھ سے یہ تکلیف دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے حقیر سمجھتے ہیں۔ فرشتے نے اسے چھوا تو اس کی تکلیف دور ہو گئی اور اسے خوب صورت بال مل گئے، پھر فرشتے نے کہا: تمہیں کونسا مال پسند ہے ؟اس نے کہا: گائے ، اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور اس کے لئے دعا کی: اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت دے۔ پھر وہ نابینا کے پاس آیا اور کہنے لگا: تمہیں کونسی چیز سب سے پیاری ہے؟وہ کہنے لگا: اللہ مجھے میری بصارت واپس لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں، فرشتے نے اسے چھوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی، پھر فرشتے نے کہا: کونسا مال تمہیں زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: بکری، اسے ایک حاملہ بکری دے دی گئی، اونٹنی اور گائے نے بھی بچے دئے اور اس بکری نے بھی ۔ایک کی اونٹوں کی وادی ہوگئی، دوسرے کی گائے بیل کی وادی ہوگئی اور تیسرے کی بکریوں کی وادی ہوگئی۔ پھر وہ کوڑھی کے پاس اس کی صورت اور حالت میں آیا اور کہنے لگا: میں ایک مسکین آدمی ہوں ،سفر میں میرا سامان ختم ہوگیا ہے،آج میں اپنی منزل پر سوائے اللہ، پھر تمہاری مدد کے نہیں پہنچ سکتا۔ میں تمہیں اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اچھی جلد اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس پر بیٹھ کر میں اپنا سفر مکمل کر سکوں۔ وہ کہنے لگا: حقوق بہت زیادہ ہیں۔ فرشتہ اس سے کہنے لگا: شاید میں تمہیں جانتا ہوں، کیا تم کوڑھی نہیں تھے جس سے لوگ گھن کیا کرتے تھے ؟محتاج ،پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا؟ وہ کہنے لگا: نہیں مجھے تو یہ مال باپ دادا سے ورثے میں ملا ہے ۔فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی صورت میں لوٹا دے جس میں تم تھے ۔پھر وہ گنجے کے پاس اسی کی صورت میں آیا اور اسے بھی وہی بات کہی۔ گنجے نے بھی وہی بات کہی جو کوڑھی نے کہی تھی۔ فرشتہ کہنے لگا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اسی حالت کی طرف لوٹا دے۔ پھر وہ نابینا کے پاس اس کی صورت اور حالت میں آیا،کہنے لگا: ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں ،سفر میں میرا سامان ختم ہوگیا ہے، اللہ، پھر تمہاری مدد کے بغیر میں اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ میں اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں بینائی لوٹائی ، ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعے میں اپنا سفر مکمل کر سکوں ،وہ کہنے لگا: میں نابینا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے میری بینائی لوٹائی ،جو چاہو لے لو، جسے چاہو چھوڑ دو، واللہ! آج تم جو بھی اللہ کے لئے لو گے میں تمہیں منع نہیں کروں گا۔ فرشتہ کہنے لگا: اپنا مال سنبھال کر رکھو، کیوں کہ تمہاری آزمائش کی گئی تھی( اللہ تعالی) تم سے خوش ہوگیا جب کہ تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3116

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ جِبْرِيلَحِينَ رَكَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِهِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : رَحِمَ اللهُ هَاجَرَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ مَاءً مَعِينًا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے جب ایڑی پر زور دیا چنانچہ ایڑی کے نیچے سے آب زمزم جاری ہوگیا تو ام اسماعیل اس کے گرد مٹی ڈالنے لگیں۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل ہاجرہ علیہما السلام پر رحم فرمائے اگر وہ اسے چھوڑ دیتیں تو وہ ایک جاری چشمہ بن جاتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3117

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ رَجُلًا مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ رَجُلاً أَنْ يُّسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَ لَهُ: ائْتِنِي بِشُهَدَاءَ أُشْهِدُهُمْ عَلَيْكَ فَقَالَ: كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا قَالَ: فَائْتِنِي بِكَفِيلٍ قَالَ: كَفَى بِاللهِ كَفِيلًا قَالَ: صَدَقْتَ قَالَ: فَدَفَعَ إِلَيْهِ أَلفَ دِيْنَار إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ وَقَضَى حَاجَتَهُ فَجَاءَ الْأَجَلُ الَّذِي أَجَّلَ لَهُ فَطَلَبَ مَرْكَبًا فَلَمْ يَجِده فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ وَكَتَب صَحِيفَةً إِلَى صَاحِبِهَا ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَهَا ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي اسْتَلَفْتُ مِنْ فُلَانٍ أَلْفَ دِينَارٍ فَسَأَلَنِي شُهُودًا وَسَأَلَنِي كَفِيلًا فَقُلْتُ كَفَى بِالهِم كَفِيلًا فَرَضِيَ بِكَ وَجَهِدْتُّ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ بِحَقِّه فَلَمْ أَجِدْ وَإِنِّي اسْتَوْدَعْتُكَهَا فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا يُقَدِمُ بِمَالِهِ فَإِذَا هُوَ بِالْخَشَبَةِ الَّتِي فِيهَا الْمَالُ فَأَخَذَهَا حَطَبًا فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ فَأَخذَهَا فَلمَّا قَدمَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ: إِنِّي لَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا يَّخرُج، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ بِهِ فِي الْخَشَبَةِ فَانْصَرَفَ بِالأَلْفِ رَاشِدًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے دوسرے سے ایک ہزار دینار قرض کا مطالبہ کیا وہ کہنے لگا: گواہ لاؤ جنہیں میں گواہ بنا سکوں، وہ کہنے لگا: اللہ ہی گواہی کے لئے کافی ہے ،وہ کہنے لگا: پھر کوئی ضامن ہی لے آؤ، اس نے کہا: اللہ ہی ضمانت کے لئے کافی ہے۔ اس آدمی نے کہا: تم سچ بولتے ہو، اور اسے ایک مقررہ مدت تک ایک ہزار دینار دے دیئے۔ وہ سمندر میں نکلا، اپنی ضرورت پوری کی، جب مقررہ مدت آگئی تو اس نے سواری تلاش کی لیکن سواری نہیں ملی، اس نے ایک لکڑی لی، اسے کھرچ کر اس میں سوراخ کیا، اور ہزار دینار اس میں رکھ دیئے۔ اور اس کے مالک کی طرف ایک خط رکھ دیا پھر اس خالی جگہ کو بھر دیا اور اسے سمندر پر لے آیا کہنے لگا: اے اللہ! تجھے معلوم ہے کہ میں نے فلاں سے ایک ہزار دینار قرض لیا تھا، اس نے مجھ سے گواہوں اور ضامن کا مطالبہ کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اللہ ہی ضمانت کے لئے کافی ہے وہ تیری ضمانت پر راضی ہوگیا، میں نے سواری تلاش کرنے کی بہت کوشش کی، تاکہ اس کا حق اسے ادا کر دوں، لیکن مجھے سواری نہیں ملی، میں اسے تیری امان میں دیتا ہوں ،پھر اس لکڑی کو سمندر میں پھینک دیا۔ وہ آدمی بھی دیکھنے نکلا جس نے قرض دیا تھا کہ شاید کوئی سواری اس کا مال لے آئے۔ کیا دیکھتا ہے کہ وہ لکڑی ہے جس میں اس کا مال تھا، وہ اسے جلانے کے لئے پکڑلیتا ہے ،جب اسے پھاڑ تا ہے تو اس میں مال اورخط دیکھتا ہے وہ اسے لے لیتا ہے جب وہ آدمی آتا ہے تو اس سے کہتا ہے مجھے کوئی سواری نہیں ملی تھی۔ اس قرض دار نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے وہ مال ادا کر دیا ہے جو تم نے لکڑی میں بھیجا تھا۔ تب وہ شخص ہزار دینار لے کر واپس پلٹ گیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3118

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلَى بَشَرٍ إِلَّا لِيُوشَعَ لَيَالِيَ سَارَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ (وَفِي رِوَايَة: غَزَا نَبِيٌّ مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ: لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَّكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ (بِهَا) وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَادَهَا) قَالَ فَغَزَا فَأَدْنَى لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِّنْ ذَلِكَ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَلَقِي العَدُّو عِنْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ) فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَّأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ (فَغَنمُوا الغَنَائم) قَالَ فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ (وَكَانُوا إِذَا غَنَمُوا الغَنِيْمَة بَعَثَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهَا النَّار فَأَكَلَتْهَا) فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ: فِيكُمْ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ فَبَايَعَتْهُ قَالَ فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ (يَدَه) فَقَالَ: فِيكُمْ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ (قَالَ : أَجَلٌ قَدْ غَلَلْنَا صُوْرَة وَجْه بَقَرَةٍ مِّنْ ذَهَبٍ) قَالَ: فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِّنْ ذَهَبٍ قَالَ: فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِّنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا (وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عِنْدَ ذَلِكَ: إِنَّ اللهَ أَطْعَمْنَا الغَنَائِمَ رَحْمَةً بِنَا وَتَخْفِيْفاً لِّمَا عَلِمَ مِنْ ضُعْفِنَا) .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یوشع علیہ السلام کے علاوہ سورج کسی بھی بشر کے لئے نہیں ٹھہرایا گیا ان دنوں جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے(اور ایک روایت میں ہے کہ: انبیاء میں سے کسی نبی نے جہاد کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا: میرے پیچھے وہ شخص نہ آئے جس نے شادی کی ہے اور وہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے ،جو اس نے ابھی تک قائم نہیں کئے ، دوسرا وہ شخص جس نے مکان بنایا ہے لیکن ابھی تک اس کی چھت نہیں ڈالی ، نہ وہ شخص جس نے بکری یا بھیڑیں خریدی ہیں اور ان کی ولادت کا منتظر ہے )۔ پھر وہ جہاد کے لئے نکلے۔ نماز عصر یا اس کے قریب کا وقت تھا کہ وہ اس بستی میں پہنےل (اور ایک روایت میں ہے :سورج غروب ہونے کے وقت وہ دشمن سے ملے اس نے سورج سے کہا: تم بھی مامور ہو اور میں بھی مامور ہوں، اے اللہ ! اسے کچھ دیر میرے لئے روک دے، سورج اس کے لئے روک دیا گیا، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فتح دے دی(انہوں نے غنیمتیں حاصل کیں )پھر سب غنیمتیں جمع کیں ،آگ انہیں کھانے آئی تو آگ نے کھانے سے انکار کر دیا۔ (وہ لوگ جب کوئی غنیمت حاصل کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ایک آگ بھیجتا جو غنیمت کھا لیا کرتی ) نبی علیہ السلام نے کہا: تم میں خیانت ہے، ہر قبیلے کا ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے ،لوگ بیعت کرنے لگے تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، نبی علیہ السلام نے کہا: تم میں خائن موجوہے ،تمہارا قبیلہ مجھ سے بیعت کرے، اس قبیلے نے نبی علیہ السلام کی بیعت کی دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ (ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، انہوں نے کہا: تم نے خیانت کی ہے ،انہوں نے کہا: (ہاں ،گائے کے سر کے مشابہہ سونے کی موتی چھپائی ہے۔) انہوں نے ان کے سامنے گائے کے سونے کے سر کی طرح کوئی چیز پیش کی اور اسے اس مال میں ڈال دیا ،جو کھلے میدان میں پڑا تھا۔ آگ آئی اور وہ سامان کھا لیا، ہم سے پہلے کسی کے لئے غنیمتیں حلال نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری عاجزی اور کمزوری دیکھی تو ہمارے لئے انہیں حلال کر دیا، (اور ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحمت کرتے ہوئے اور ہماری کمزوری کی وجہ سے ہم پر تخفیف کرتے ہوئے ہمیں یہ غنیمتیں کھلائیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3119

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ! لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ فَقَالَ: الرَّبُّ تَبَارَك وَتعَالَى وَعِزَّتِي وَجَلَالِي! لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَّا اسْتَغْفَرُونِي.
ابو سعید‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان نے کہا: تیری عزت کی قسم! جب تک ان کے جسموں میں روح ہوگی میں تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: مجھے میری عزت و جلال کی قسم! جب تک یہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3120

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُّعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان اس بات سے نا امید ہوگیا ہے کہ تمہاری اس سر زمین پر اس کی عبادت کی جائے لیکن اس بات پر راضی ہوگیا ہے کہ تم (لوگوں کو )حقیر سمجھتے ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3121

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَمْشِي فِي النِّعَلِ الوَاحِدَةَ .
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بائیں بازو والا فرشتہ چھ گھڑیاں مسلمان خطاکار یا گناہ گار بندے سے قلم اٹھائے رکھتا ہے، اگر وہ شر مسار ہو جائے، اور توبہ کرلے تو قلم رکھ دیتا ہے، وگرنہ ایک برائی لکھ دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3122

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، مَرْفُوْعاً: إِنَّ صَاحِبَ الشِّمَالِ ليَرْفَعُ الْقَلَمَ سِتَّ سَاعَاتٍ عَنِ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ الْمُخْطِئِ أَوِ الْمُسِيءِ، فَإِنْ نَّدِمَ وَاسْتَغْفَرَ اللهَ مِنْهَا أَلْقَاهَا، وَإِلا كَتَبَ وَاحِدَة .
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بائیں بازو والا فرشتہ چھ گھڑیاں مسلمان خطاکار یا گناہ گار بندے سے قلم اٹھائے رکھتا ہے، اگر وہ شر مسار ہو جائے، اور توبہ کرلے تو قلم رکھ دیتا ہے، وگرنہ ایک برائی لکھ دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3123

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِنَّ طَرْف صَاحِبَ الصُّوْرِ مُذْ وُكِّلَ بِهِ مُسْتَعِدٌّ يَّنْظُر نَحْوَ العَرْشِ مَخَافَة أَنْ يُّؤْمَر قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْهِ طَرْفُه ، كَأَنَّ عَيْنَيْه كَوْكَبَانِ دُرِّيَانِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا:صاحب صور(اسرافیل)کو جب سے ذمہ داری دی گئی ہے وہ تیار حالت میں عرش کی طرف دیکھ رہا ہے اس ڈر سے کہ کہیں اسے آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی حکم نہ دے دیا جائے گویا کہ اس کی آنکھیں چمکدار ستارے ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3124

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَّسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي إِنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَةً وَّتِسْعِينَ نَفْسًا ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: رَاهِبٍ) فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَّتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لِّي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: بَعْدَ قَتْلِ تِسْعَةٍ وَّتِسْعِينَ نَفْسًا؟ قَالَ: فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ بِهِ فَأَكْمَلَ بِهِ مِائَةً. ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ؟ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ (عالم) فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لِّي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: وَمَنْ يَّحُوْلُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ؟ اخْرُجْ مِنَ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا (فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَّعْبُدُونَ اللهَ) فَاعْبُدْ رَبَّكَ (مَعَهُمْ) فِيهَا (وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْءٍ) قَالَ: فَخَرَجَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ فَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ فِي (بَعْضَ الطَّرِيقِ) (فَنَاءَ بِصَدْرِهِ نَحْوَهَا) قَالَ: فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ قَالَ: فَقَالَ إِبْلِيسُ: أَنَا أَوْلَى بِهِ إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطٌّ قَالَ: فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ: إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا (مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللهِ وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ: إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ) فَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَلَكًا (فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ) فَاخْتَصَمُوا إِلَيْهِ قَالَ: فَقَالَ: انْظُرُوا أَيُّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيْهِ فَأَلْحِقُوهُ بِأَهْلِهَا (فَأَوْحَى الهُ( إِلَى هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي وَأَوْحَى اللهُ إِلَى هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي) (فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ (بِشِبْرٍ) فَقَبَضَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ) (فَغفِرَلَه) قَالَ الْحَسَنُ: لَمَّا عَرَفَ الْمَوْتَ احْتَفَزَ بِنَفْسِهِ (وَفِي رواية: نَاءَ بِصَدْرِهِ) فَقَرَّبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ وَبَاعَدَ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِ الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں تمہیں وہی حدیث سناؤں گا جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے۔ میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کر لیا۔ ایک بندے نے ننانوے قتل کئے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے زمین پر موجود سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک آدمی کا پتہ دیا گیا( اور ایک روایت میں ہے: ایک راہب کا) وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے ننانوے قتل کئے ہیں، کیا میرے لئے توبہ کی کوئی گنجائش ہے ؟وہ کہنے لگا: کیا ننانوے قتل کرنے کے بعد بھی توبہ کی گنجائش ہے؟ اس نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور اسے بھی قتل کر دیا، اور سو کی تعداد مکمل کر لی۔ پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے زمین میں موجود سے سب بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا؟ تو اسے ایک( عالم) آدمی کا پتہ بتایا گیا، وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے سو آدمی قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ اس عالم نے کہا: تمہارے اور توبہ کے درمیان کونسی رکاوٹ ہے؟ جس خبیث بستی میں تم ہو اس سے نکل کر فلاں نیک بستی کی طرف چلے جاؤ(اس بستی میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں) ان کے ساتھ مل کر اپنے رب کی عبادت کرو (اور اپنے علاقے میں واپس نہ آنا کیوں کہ یہ برا علاقہ ہے) وہ شخص نیک بستی کی طرف چل پڑا۔ (راستے میں) اسےموت نے آلیا، (وہ سینے کے بل گھسٹا ہوا نیک بستی کی طرف بڑھنے کی کوشش کرنے لگا) اس کے بارے میں رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ ابلیس نے کہا: میں اس کا وارث ہوں کیوں کہ اس نے ایک لمحہ بھی میری نا فرمانی نہیں کی ،جب کہ رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ اپنے دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر توبہ کی غرض سے نکلا تھا۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی، تب اللہ عزوجل نے ایک فرشتہ(آدمی کی صورت میں) بھیجا وہ اس کے پاس جھگڑالے کر گئے، وہ کہنے لگا: دیکھو یہ کس بستی کے زیادہ قریب ہے ؟ اسے اس بستی والوں سے ملا دو( اللہ تعالیٰ نے اس بستی کی طرف وحی کی کہ قریب ہو جاؤ، اور اس بستی کی طرف وحی کی کہ دور ہو جاؤ، )(انہوں نے پیمائش کی تو جس بستی کی طرف جا رہا تھا اس سے(ایک بالشت)نزدیک تھا، اس لئے اسے رحمت کے فرشتوں نے لے لیا(اور اللہ نے اس کی بخشش کردی۔ حسن کہتے ہیں کہ جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ مرنے والا ہے تو اس نے اپنے آپ کو گھسیٹنے کی کوشش کی(اور ایک روایت میں ہے کہ: سینے کے بل کوشش کی) تو اللہ تعالیٰ نے اسے نیک بستی کے قریب کر دیا، اور بری بستی کو اس سے دور کر دیا، اس لئے فرشتوں نے اسے نیک بستی والوں سے ملادیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3125

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، مَوْقُوْفاً: « إِنَّ فِرْعَوْن ، أَوْتَدَ لِإْمْرَأَتِه أَرْبَعَة أَوْتَادٍ فِي يَدَيْهَا وَرِجْلَيْهَا ، فَكَانَ إِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْهَا ظَلَّلَتْها المَلَائِكَة ، فَقَالَتْ :رَبِّ ابۡنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الۡجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ ، فَكَشَفَ لَهَا عَنْ بَيْتِهَا فِي الْجَنَّة ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے کہ: فرعون نے اپنی بیوی کے ہاتھوں اور پاؤں میں چار کیلیں ٹھونک دیں ، جب وہ لوگ اس کے پاس سے چلے جاتے تو فرشتے اس پر سایہ کردیتے۔ وہ کہنے لگی: رَبِّ ابۡنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الۡجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ اے میرے رب! اپنے پاس جنت میں میرے لئے ایک گھر بنا ،مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے۔ اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے ،تب اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں اس کا گھر دکھادیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3126

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرحمن تَبَارَك وَتعَالَى، لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ جَاءَنِي الدَاعِي لَأَجبْتُ إِذ جَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ (يوسف: ٥٠) وَرَحْمَةُ اللهِ عَلَى لُوطٍ إِنْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِذْ قَالَ لِقَومِه: لَوۡ اَنَّ لِیۡ بِکُمۡ قُوَّۃً اَوۡ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکۡنٍ شَدِیۡدٍ (۸۰) (هود: ٨٠) فَمَا بَعَثَ اللهُ مِنْ بَعْدِهِ نَبِيًّا إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کریم(معزز) بن کریم بن کریم بن کریم ،یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل الرحمن تبارک وتعالیٰ ہیں۔جتنا عرصہ وہ جیل میں رہے، اگر میں رہتا اور میرے پاس کوئی آتا تو میں اس کی بات قبول کرلیتا۔جب ان کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا: ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے؟ اور اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کاش میرے پاس قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط ستون کی پناہ لیتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا وہ اس قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3127

عَنْ سَالِمِ بن عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بن الْخَطَّابِ، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، جَلَسُوا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ الهِأ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَذَكَرُوا أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ فِيهَا عِلْمٌ، (يَنْتَهُون إِلَيْه) فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بن عَمْرِو بن الْعَاصِ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبَ الْخَمْرِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ وَوَثَبُوا إِلَيْهِ جَمِيعًا، (حَتَّى أَتَوْهُ فِي دَارِهِ) فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مَلِكًا مِّنْ بني إِسْرَائِيلَ أَخَذَ رَجُلا فَخَيَّرَهُ بَيْنَ أَنْ يَّشْرَبَ الْخَمْرَ، أَوْ يَقْتُلَ صَبِيًّا، أَوْ يَزْنِيَ، أَوْ يَأْكُلَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ، أَوْ يَقْتُلُوهُ إِنْ أَبَى، فَاخْتَارَ أَنَّهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَأَنَّهُ لَمَّا شَرِبَهَا لَمْ يَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أرادوهُ مِنْهُ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَنَا حِينَئِذٍ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَّشْرَبُهَا فَتُقْبَلُ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَلا يَمُوتُ وَفِي مَثَانَتِهِ مِنْهَا شَيْءٌ إِلا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ مَّاتَ فِي الأَرْبَعِينَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً .
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے کچھ صحابہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی وفات کے بعد بیٹھے سب سے بڑے کبیرہ گناہ کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ان کے پاس اس بارے میں کوئی حتمی علم نہیں تھا۔ (جس پر وہ سب متفق ہوسکیں) انہوں نے مجھے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں، انہوں نے مجھے بتایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ شراب پینا ہے۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے اس بات کا انکار کر دیا اور سب کے سب ان کی طرف چل پڑے۔ (اور ان کے گھر آگئے) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ نے ایک آدمی کو پکڑااور اسے اختیار دیا کہ وہ شراب پئے یا بچے کو قتل کر دے۔ یا زنا کرے یا خنزیر کا گوشت کھائے۔ اگر اس نے انکار کیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔اس نے شراب کو اختیار کیا، جب اس نے شراب پی لی ،تو جن کاموں کا اس سے مطالبہ ہوا تھا کسی سے بھی باز نہیں رہا، اس وقت رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہم سے فرمایا: جو شخص شراب پیتا ہے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اور جو شخص مرجائے اور اس کے مثانے میں کچھ(تھوڑی سی ہی ) شراب ہو تو اس پر جنت حرام ہے ،اور اگر وہ چالیس دن کے اندر مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3128

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مُوسَى قَالَ: يَا رَبِّ أَرِنِي آدَمَ الَّذِي أَخْرَجَنَا وَنَفْسَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَأَرَاهُ اللهُ آدَمَ فَقَالَ: أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: نَعَمْ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَفَخَ اللهُ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَعَلَّمَكَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ أَخْرَجْتَنَا وَنَفْسَكَ مِنَ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى قَالَ: أَنْتَ نَبِيُّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللهُ مِنْ وَّرَاءِ الْحِجَابِ لَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ رَسُولًا مِنْ خَلْقِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَفَمَا وَجَدْتَّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي كِتَابِ اللهِ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فِيمَ تَلُومُنِي فِي شَيْءٍ سَبَقَ مِنْ اللهِ تَعَالَى فِيهِ الْقَضَاءُ قَبْلِي؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عِنْدَ ذَلِكَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! مجھے آدم علیہ السلام تو دکھاجس نے ہمیں اور خود اپنے آپ کو جنت سے نکلوا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آدم دکھلا دئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے والد آدم ہیں؟ آدم علیہ السلام نے ان سےکہا: ہاں،موسیٰ علیہ السلام نے کہا:آپ ہی وہ شخص ہیں جس میں اللہ تعالی نے اپنی روح پھونکی ، تمام نام سکھائے اور فرشتوں کوآپ کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیا ؟آدم علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ موسیٰ نے کہا: آپ کو کس بات نے اس کام پر مائل کیا کہ آپ نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوا دیا ؟آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں موسیٰ ہوں۔ آدم علیہ السلام نے کہا: تم ہی بنی اسرائیل کے وہ نبی ہو جس سے اللہ تعالیٰ نے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی ؟ اپنی مخلوق میں سے اپنے اورتمہارے درمیان کسی کو قاصد نہیں بنایا؟موسیٰ علیہ السلام نے کہا:جی ہاں۔ آدم علیہ السلام نے کہا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ یہ اللہ کی کتاب میں میرے پیدا ہونے سے پہلے لکھا جا چکا تھا؟انہوں نے کہا: ہاں۔ آدم علیہ السلام نے کہا: تب تم مجھے اس کام پر کیوں ملامت کر رہے ہو جس کے بارے میں مجھ سے پہلے اللہ کی تقدیر کا فیصلہ ہو چکا تھا؟ اس وقت رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پس آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3129

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً : « إِنَّ أَيُّوبَ نَبِيَّ اللهِ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُه ثَمَان عَشَرَة سَنَة فَرَفَضَهُ القَرِيْبُ وَالبَعِيْد إِلاَّ رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوْحَان، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِه ذَاتَ يَوْمٍ : تَعْلَم وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوْبَ ذَنْباً مَا أَذْنَبه أَحَدٌ مِّنَ العَالَمِيْنَ؟ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُه : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مُنْذُ ثَمَانِي عَشَرَة سَنَة لَمْ يَرْحَمُه الله فَيكْشِف مَا بِه فَلَمَّا رَاحَا إِلَى أَيُّوبٍ لَمْ يَصْبِرالرَّجُل حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَه ، فَقَالَ أَيُّوب : لاَ أَدْرِي مَا تَقُولَانِ، غَيْرَ أَنَّ الله يَعْلَم أَنِّي كُنْتُ أَمُر بِالرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيذكَرَانِ اللهَ فَأَرْجِع إِلَى بَيْتِي ، فَأُكَفِّرُ عَنْهُماَ كَرَاهِيَّة أَنْ يَّذْكُرَ الله إِلَّا فِي حَقٍّ ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسكَتهُ امْرَأَتَه بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا وَأَوْحَى إِلَى أَيُّوْبٍ أَنْ اُرۡکُضۡ بِرِجۡلِکَ ۚ ہٰذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ ﴿۴۲﴾ (ص: ٤٢) ، فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلقته تَنْظُر وَقَدْ أَقْبَل عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ البَلَاءِ وَهُوَ أَحْسَنُ مَا كَانَ ، فَلَمَّا رَأَتْه قَالَتْ : أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ! هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا المبتلى؟ وَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ (أَحَدا) رَجُلا أَشْبَه (بِهِ) مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيْحاً فَقَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ ، وَكَانَ لَه أَنْدران (أَىْ: بيدران) أَنَدُرٌ لِّلْقَمْح وَأَنْدَرٌ لِّلشَّعِيْر ، فَبَعَثَ اللهُ سَحَابَتَيْنِ ، فَلَمًّا كَانَتْ أَحَدُهَمَا عَلَى أَنْدَر القَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيْهِ الذَّهَبُ حَتَّى فَاضَ وَأَفْرَغَتِ الأُخْرَى فيِ أَنْدَرِ الشَّعِيْر الوَرَق حَتَّى فَاضَ ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کی آزمائش اٹھارہ سال تک رہی ،قریب و دور کے سب عزیزوں نے انہیں چھوڑ دیا ،سوائے ان کے دو بھائیوں کے۔ وہ صبح و شام ان کے پاس آتے ،ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: واللہ! تمہیں معلوم ہے کہ ایوب نے ایسا گناہ کیا ہے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: وہ کیا؟ کہنے لگا: اٹھارہ سال ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم نہیں کیا اور ان کی تکلیف دور نہیں کی، جب شام کو وہ دونوں ایوبکے پاس آئے تو جس شخص سے یہ بات کہی گئی تھی اس سے صبر نہ ہو سکا یہاں تک کہ اس نے ان سے اس بات کا ذکر کردیا، ایوب علیہ السلام نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ تم کیا کہہ رہے ہو سوائے اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں جب بھی دو جھگڑا کرنے والوں کے پاس سے گزرتا تھا جو (اپنے جھگڑے میں) اللہ کا ذکر کرنے (یعنی قسم اٹھاتے) تو میں گھر جا کر ان کی طرف سے کفارہ ادا کردیتا اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے کہ اللہ کا ذکر نا حق کام میں کیا گیا۔ ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے باہر نکلا کرتے تھے ،جب وہ قضائے حاجت کر لیتے تو ان کی بیوی گھر آنے تک ان کا ہاتھ پکڑے رکھتی ،ایک دن انہوں نے دیر کر دی اور ان کی طرف وحی کی گئی کہ (سورۃ ص: ٤٢) اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے ،ان کی بیوی کو ان کی تاخیر کا احساس ہوا تو وہ انہیں دیکھنے نکل پڑیں، ایوب علیہ السلام ان کی طرف آرہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کر دی تھی، اور پہلے سے زیادہ اچھے ہو گئے تھے ۔جب ان کی بیوی نے انہیں دیکھا تو کہنے لگیں:اللہ تمہیں برکت دے! کیا تم نے مصیبت زدہ اللہ کا نبی دیکھا ہے ؟واللہ وہ اسی راستے پر گیا تھا۔ جب وہ صحیح تھا تو میں نے تم سے زیادہ اس کے مشابہہ(کسی کو) نہیں دیکھا، ایوب علیہ السلام نے کہا: میں ہی وہ ہوں۔ان کےلئے دو ڈھیرتھے۔ ایک گندم کا ،دوسرا جو کا۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ،جب ایک گندم کےڈھیرپر پہنچا تو اس نے سونا برسانا شروع کر دیا حتی کہ سونا بہنے لگا اور دوسرے نے جو کے ڈھیر پر چاندی برسانا شروع کر دی حتی کہ چاندی بہنے لگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3130

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانٍ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَ: أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ قَالَ: يُرِيدُ أَنْ يَّضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعِ ابْنِ رَاعٍ قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ: أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَّا يَعْقِلُ؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ نُوحًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ: إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ آمُرُكَ بِـ(لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ) فَإِنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ وَّوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فِي كِفَّةٍ رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَلَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ كُنَّ حَلْقَةً مُّبْهَمَةً قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَسُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ قَالَ: قُلْتُ: أَوْ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: أَنْ يَّكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: هُوَ أَنْ يَّكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: لَا. قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ گاؤں کا ایک دیہاتی شخص آیا ،اس نے ریشمی بٹنوں والا ایک سیجانی جبہ پہنا ہوا تھا ۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خبردار !تمہارے اس ساتھی نے ہر شہ سوار ابن شہ سوار کو مات دے دی ہے۔ اور یہ چاہتا ہے کہ ہر شہ سوار کو مات دے دے۔اور ہر چرواہےابن چرواہے کو بلند کر دے، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کواس کے جبے سے پکڑا اور فرمایا: میں تم پر کسی بے وقوف کا لباس دیکھ رہا ہوں۔ پھر فرمایا:اللہ کے نبی نوح علیہ السلام!جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تمہیں وصیت بتاتا ہوں، میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا اور دو باتوں سے منع کرتا ہوں۔ میں تمہیں(لا الہ الا اللہ) کا حکم دیتا ہوں کیوں کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھے جائیں ،اور لا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں تو لا الہ الا اللہ کا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور اگر ساتوں زمین اور ساتوں آسمان ایک مضبوط دائرہ بن جائیں تو لا الہ الا اللہ انہیں توڑ دے گا، اور میں تمہیں سبحان اللہ وبحمدہ کا حکم دیتا ہوں کیوں کہ یہ ہر مخلوق کی دعا ہے اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔ میں تمہیں شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں، میں نے کہا: یا کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شرک تو ہمیں معلوم ہے، یہ تکبر کیا ہے؟ کیا ہم میں کسی شخص کے خوب صورت جوتے اور خوب صورت تسمے ہوں ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں ۔ کیا ہم میں سے کسی شخص کے دوست ہوں جو اس کے پاس بیٹھیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں۔ اے اللہ کے رسول! پھر تکبر کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3131

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا أَفَآمُرُهُ أَنْ يَّتَخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ: فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ،ایک انصاری عورت نے جس کا غلام بڑھئی تھا: نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا غلام بڑھئی ہے، کیا میں اسے کہوں کہ وہ آپ کے لئے منبر بنادے؟ جس پر کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں تو اس نے آپ کے لئے منبر بنا دیا۔ جب جمعہ کا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ وہ تناجس سے ٹیک لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے بچے کی طرح رونے لگا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ اس وجہ سے رو رہا ہے کہ یہ ذکر سے محروم ہو گیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3132

عَنْ أَبِي الدَردَاء ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَا حَظُّكُمْ مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُم حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں انبیاء میں سے تمہارا بہترین منتخب (حصہ) نبی ہوں اور تم امتوں میں سے میرے لئے بہترین منتخب(حصہ) امت ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3133

) عَنْ عَطَاء عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّا مَعْشَر الأَنْبِيَاء تَناَمُ أَعْيُنُنَا وَلَا تَنَامُ قُلُوبُنَا.
عطاء سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، ہماری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3134

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ حَتّٰی عَدَّ تِسْعَہً، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمّٰ لَکَ؟ قَالَ اَنا فلان بْنُ فُلَان ابْنِ الْإِسْلَامِ قَالَ: فَأَوْحَى اللهُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ قُل لِّهَذَيْنِ الْمُنْتَسِبَيْنِ: أَمَّا أَنْتَ أَيُّهَا الْمُنْتَمِي أَوِ الْمُنْتَسِبُ إِلَى تِسْعَةٍ! فِي النَّارِ فَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ وَأَمَّا أَنْتَ يَا هَذَا الْمُنْتَسِبُ إِلَى اثْنَيْنِ! فِي الْجَنَّةِ فَأَنْتَ ثَالِثُهُمَا فِي الْجَنَّةِ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے زمانے میں دو آدمی نسب پر فخر کرنے لگے۔ ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تم کون ہو، تمہاری ماں مرے؟ تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمی نسب پر فخر کرنے لگے۔ ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں حتی کہ نو نام گنوادیئے ۔تم کون ہو تمہاری ماں مرے؟ اس نے کہا: میں فلان بن فلاں ابن الاسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ ان دونوں فخر کرنے والوں سے کہو: تم جو نو(۹) کی طرف نسبت کرنے والے نو(۹) آگ میں ہیں تم دسویں ہو اور تم دو کی طرف نسبت کرنے والے ہو،دونوں جنت میں ہیں اور تم تیسرے بھی جنت میں ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3135

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَائِشَةَ! ثَلَاثٌ مَّنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ (قُلْتُ مَا هُنَّ؟ قَالَتْ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ) قَالَ: وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي أَلَمْ يَقُلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ (۲۳) التكوير . وَ لَقَدۡ رَاٰہُ نَزۡلَۃً اُخۡرٰی (۱۳) النجم فَقَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِّنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَتْ: أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللهَ يَقُولُ: لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ (۱۰۳) الأنعام أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللهَ يَقُولُ: وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ (۵۱) الشورى قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَتَمَ شَيْئًا مِّنْ كِتَابِ اللهِ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ وَاللهُ يَقُولُ: یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ المائدة: ٦٧ قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ وَاللهُ يَقُولُ: قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ النمل: ٦٥.
مسروق سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تکئے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، وہ کہنے لگیں: اے ابو عائشہ! تین باتیں ہیں، جس نے بھی ان میں سے کوئی بات کہی ،اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا(میں نے کہا: وہ کون سی باتیں ہیں؟ کہنے لگیں: جس شخص کا خیال ہے کہ محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔)مسروق کہتے ہیں: میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا، سیدھا ہو کر بیٹھ گیا،میں نے کہا: ام المومنین! مجھے مہلت دیں، جلدی نہ کریں، کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا: (النجم:۱۳) کہنے لگیں: میں اس امت میں سے پہلی عورت ہوں جس نے اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال کیا: آپ نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے ،وہ پیدا کئے گئے ہیں ان دو موقعوں کے علاوہ انہیں اصل صورت جس پر نہیں دیکھا ،میں نے انہیں آسمان سے اترتا ہوا ایک بہت بڑی صورت میں دیکھا جس کی جسامت نے آسمان سے زمین تک فضا کو بھر دیا تھا۔ پھر کہنے لگیں: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا اللہ فرماتا ہے:(الانعام:۱۰۳)کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا اللہ فرماتا ہے: (الشوری:۵۱)پھر کہنے لگیں: جس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اللہ کی کتاب سے کوئی چیز چھپائی ہے اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتا ن باندھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ( المائدہ:۶۷) پھر کہنے لگیں: جس شخص کا دعویٰ ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کل کی خبریں بتایا کرتے ہیں تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ( النمل:۶۵)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3136

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: وَهُوَ صَحِيحٌ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ! الرَّفِيقَ الْأَعْلَى فَقُلْتُ: إِذن لَا يَخْتَارُنَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ قَالَتْ: فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا: اللَّهُمَّ! الرَّفِيقَ الْأَعْلَى.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہتی ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے: کوئی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک جنت میں اس کا ٹھکانہ اسے نہ دکھا دیا جائے، پھر اسے اختیار دے دیا جاتا ہے ۔جب آپ کی موت کا وقت آیا ،آپ کا سر میری ران پر تھا، آپ پر غشی طاری ہو گئی ،پھر کچھ افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے گھر کی چھت کی طرف نظریں اٹھالیں پھر فرمایا: اے اللہ !مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے ، میں نے کہا: تب تو آپ ہمیں نہیں چنیں گے ،(یعنی ہم میں نہیں رہیں گے) اور مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ وہی بات ہے جو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمیں تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے۔کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو آپ نے کہا: ’’اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى‘‘تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3137

عن ابن عباس ، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : « أُوْتي موسى عليه السلام الألواح ، وأُوتيتُ المثاني ».( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو تختیاں دی گئیں اور مجھے مثانی (بار بار پڑھی جانے والی آیات )دی گئیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3138

عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، قَالَ : « أَوَّل نَبِيٍّ أُرْسِلَ نُوْح »
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پہلاشخص جسے نبی بنا کر بھیجا گیا وہ نوح علیہ السلام تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3139

عَنْ أَنْسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : أَيّ الْخَلْق أَعْجَب إِيمَانًا؟ قَالُوا: الْمَلائِكَةُ . قَالَ: الْمَلائِكَةُ كَيْفَ لا يُؤْمِنُونَ؟ قَالُوا: النَّبِيُّونَ قَالَ: النَّبِيُّونَ يُوحٰي إِلَيْهِمْ فَكَيْفَ لاَ يُؤْمِنُون؟ قَالُوا: الصَحَابَة. قَالَ الصَّحَابَةُ مَعَ الأَنْبِيَاء فَكَيْفَ لا يُؤْمِنُون؟ وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا , قَوْمٌ يَّجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُم فَيَجِدُونَ كِتَاباً مِّنَ الوَحي فَيُؤْمِنُون بِه وَيتبعونه فَهُمْ أَعْجَب النَّاس إِيْمَاناً - أَوِ الخَلْقِ إِيْمَاناً.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کونسی مخلوق ایمان کے لحاظ سے سب سے پسندیدہ ہے ؟ صحابہ نے کہا: فرشتے ۔ آپ نے فرمایا: فرشتے کس طرح ایمان نہ لائیں ؟ صحابہ نے کہا: انبیاء۔ آپ نے فرمایا: انبیاء کی طرف وحی کی جاتی ہے وہ کس طرح ایمان نہ لائیں ؟ صحابہ نے کہا: صحابہ ۔ آپ نے فرمایا: صحابہ انبیاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو وہ کس طرح ایمان نہ لائیں ؟ لیکن ایمان کے لحاظ سے سب سے پسندیدہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے ،تو وحی کو کتاب کی صورت میں دیکھیں گے ،اس پر ایمان لائیں گے ،اور اس کی پیروی کریں گے ، یہ(اللہ کے ہاں) ایمان کے لحاظ سے لوگوں میں یا مخلوق میں سب سے پسندیدہ ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3140

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً:(الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ) لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَّرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُهْلِكُ اللهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ الله الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ (وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْأُسُودُ مَعَ الْإِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ) فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے:(انبیاء علاتی (باپ کی طرف سے) بھائی ہیں۔ ان کی مائیں الگ الگ ہیں لیکن ان کا دین ایک ہے اور میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے زیادہ قریب ہوں )کیوں کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ آسمان سے اتریں گے جب تم انہیں دیکھو گے تو انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے ہوں گے ان کا رنگ سرخ سفیدی مائل ہے، زردی مائل دو چادروں میں ملبوس ہوں گے، گویا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا ،اگرچہ ان کے سر میں پانی نہیں ہوگا۔ وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے ،صلیب کو توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ،اور جزیہ ختم کر دیں گے ۔اللہ تعالیٰ اس زمانے میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کو ختم کر دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا(زمین میں امن قائم ہو جائے گا، حتی کہ شیر اونٹوں کے ساتھ ،چیتے گایوں کے ساتھ، اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرا کریں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے،لیکن وہ انہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے )وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے ،پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3141

عَنْ أَنَس مَرْفُوعا: « الأَنْبِيَاء –صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِم- أَحيَاءٌ فِي قُبُورِهم يُصَلُّوْن »
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3142

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میں بنی آدم کی درجہ بدرجہ بہترین صدی میں مبعوث کیا گیا ،حتی کہ جس صدی میں میں ہوں اس میں مجھے مبعوث کر دیا گیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3143

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِّنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْتَثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى وَعِزَّتِكَ! وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ ان پر سونے کی ایک ٹڈی گری، ایوب علیہ السلام اسے اپنے کپڑے میں لپیٹنے لگے، تو ان کے رب نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس سے بے پرواہ نہیں کر دیا ہے؟ ایوب علیہ السلام نے کہا: کیوں نہیں تیری عزت کی قسم! لیکن میرے لئے تیری برکت سے بے پرواہی نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3144

عَنْ أَنَسِ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: برکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3145

عَنْ أَنَسِ مَرفُوعاً: الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ مَلَكٍ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ حَتَى تَقُوْم السَّاعَة.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بیت المعمور ساتویں آسمان پر ہے، ہر دن اس میں ایک ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک اس میں دوبارہ داخل نہیں ہو سکیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3146

عَنْ طَاؤُوسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: تلَقَّى عِيسَى حُجَّتَهُ فَلَقَّاهُ اللهُ فِي قَوْلِهِ: ثُم رَفع البَاقِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : فَلَقَّاهُ اللهُ: الْآيَةَ كُلَّهَا.
طاؤس رحمۃ اللہ علیہ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ : عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی حجت اللہ تعالیٰ سے سیکھی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اس قول میں حجت سکھا دی:جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے عیسیٰ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے علاوہ معبود بنالو؟ پھر باقی حدیث مرفوعا بیان کی، ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو سکھائے گا : تو پاک ہے، میرے لئے جائز ہی نہیں کہ جس بات کا مجھے حق نہیں میں وہ بات کہوں اگر میں نے کہا ہے تو تو اسے جانتا ہے۔ تو میرے دل کی بات بھی جانتا ہے اور تیرے نفس میں جو کچھ ہے میں اسے نہیں جانتا۔ بے شک تو تمام غیبوں کا جاننے والا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3147

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌, فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ! نَسْأَلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ أَجَبْتَنَا فِيهَا اتَّبَعْنَاكَ ، وَصَدَّقْنَاكَ وَآمَنَّا بِكَ ، قَالَ: فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ ، قَالُوا: اللهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ، قَالُوا: أَخْبِرْنَا عَنْ عَلامَةِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ:تَنَامُ عَيْنَاهُ ، وَلا يَنَامُ قَلْبُهُ. قَالُوا: أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكِرُ؟ قَالَ: يَلْتَقِي الْمَاءَانِ ، فَإِنْ عَلا مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ آنَثَتْ ، وَإِنْ عَلا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ، قَالُوا: صَدَقْتَ ، قَالُوا: فَأَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا هُوَ؟ قَالَ: الرَّعْدُ مَلَكٌ مِّنَ الْمَلائِكَةِ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ، (بِيَدَیْهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِّنْ نَّارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ) وَالصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ مِنْه زَجْرُہُ السَّحَابَ إِذَا زَجَرَهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى حَيْثُ أَمَرَهُ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ یہودی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے ابو القاسم! ہم آپ سے کچھ سوالات پوچھیں گے ،اگر آپ نے ہمیں جواب دے دیا تو ہم آپ کی پیروی کریں گے آپ کی تصدیق کریں گے ،اور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔آپ نے ان سے وہی وعدہ کیا جو اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) نے خود سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا:(جو ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس کا نگران ہے) یہودیوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتایئے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔ انہوں نے کہا: ہمیں بتایئے کہ بچہ کس طرح مؤنث بنتا ہے اور کس طرح مذکر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں پانی ملتے ہیں اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ مونث ہوتا ہے اور اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ مذکر بنتا ہے۔ یہودیوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ ہمیں رعد کے بارے میں بتایئے کہ وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: رعد ایک فرشتہ ہے جو بادلوں کا نگران ہے( اس کے ہاتھوں میں یا اس کے ہاتھ میں آگ کا ایک کوڑاہے، جس سے وہ بادلوں کو جھڑکتا ہے) اور وہ آواز جو سنی جاتی ہے وہ اس کا بادلوں کو ڈانٹنا ہے حتی کہ وہ بادل کو ڈانٹتا ہوا مقررہ جگہ پر لے جاتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3148

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3149

عَنْ جَابِر بْن عَبْد الله قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرائِيْل وَلاَ حَرَج ؛ فَإِنَّهُ كَانَتْ فِيْهِمُ الأَعاَجِيْب » ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّث؛ قَالَ : خَرَجُتْ طَائِفَة مِّنْ بَنِي إِسْرائِيْل حَتَّى أَتَوا مَقْبَرَة لَّهُمْ مِّنْ مَّقَابِرهم، فَقَالُوا: لَوْ صَلِّيْنَا رَكْعَتَيْن وَدَعَوْنَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَّخْرُجَ لَنَا رَجُلاً مِّمَّنْ قَدْ مَات؛ نَسْأَلَه عَن الَمْوت؟ قَالَ: فَفَعَلُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَطْلَع رَجُل رَأَسُه مِنْ قَبْر مِّنْ تِلْكَ المَقَابِرْ ، خَلَاسِي بَيْنَ عَيْنَيْه أَثَر السُّجْود ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ! مَا أَرَدْتُمْ إِلَيَّ؟ فَقَدْ مُتُّ مُنْذُ مِئَة سَنَة ، فَمَا سَكَنَتْ عَنِّي حَرَارَة الَمْوت ، حَتَّى كَانَ الآن، فَادْعُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي يُعِيْدُنِي كَمَا كُنْت .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل سے (روایات) بیان کرو اور کوئی حرج نہیں ،کیوں کہ ان میں عجیب واقعات ہوا کرتے تھے۔ پھر واقعہ بیان کرنے لگے: بنی اسرائیل کا ایک گروہ باہر نکلا اور اپنے کسی قبرستان میں آگئے۔ کہنے لگے: اگر ہم دو رکعت نماز پڑھیں اور اللہ عزوجل سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے کوئی مردہ باہر نکالے جس سے ہم موت کے بارے میں سوال کر سکیں ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا وہ اسی کیفیت میں تھے، اچانک ایک قبر سے آدمی نے اپنا سر نکالا، سر مئی سے رنگ کا تھا۔ پیشانی پر سجدوں کا نشان تھا، کہنے لگا: اے لوگو! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ مجھے مرے ہوئے سو سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک موت کی حرارت ختم نہیں ہوئی حتی کہ یہ وقت آگیا ہے۔ اللہ سے دعا کرو کہ میں جس حال میں تھا، مجھے اسی میں واپس لوٹا دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3150

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ، وَالْخَنَازِيرُ مِنْ بني إِسْرَائِيلَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سانپ جنوں کی مسخ شدہ صورتیں ہیں، جس طرح بنی اسرائیل کو بندروں اور خنزیروں کی صورت میں تبدیل کیا گیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3151

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْحَيَّةُ فَاسِقَةٌ وَالْعَقْرَبُ فَاسِقَةٌ وَالْفَأْرَةُ فَاسِقَةٌ وَالْغُرَابُ فَاسِقٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سانپ فاسق ہے ،بچھو فاسق ہے ،چوہیا فاسق ہے اور کوا فاسق ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3152

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مَرفُوعاً: خَلَقَ اللهُ آدَمَ حِينَ خَلَقَهُ فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ كَأَنَّهُمْ الذَّرُّ وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمْ الْحُمَمُ فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ: إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَقَالَ لِلَّذِي فِي كَفِّهِ الْيُسْرَى: إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو ان کے دائیں کاندھے پر ضرب لگائی اور سفید اولاد نکالی جو کہ چھوٹی چیونٹیوں کی مانند تھے۔ اور بائیں کاندھے پر ضرب لگائی تو اس سے سیاہ اولاد نکالی گویا کہ کوئلے ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے دائیں طرف والوں کے لئےکہا: جنت کی طرف اور مجھے ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں، اور بائیں طرف والوں کے لئے کہا: جہنم کی طرف اور مجھے ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3153

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: خَلَقَ اللهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ: اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللهِ فَكُلُّ مَنْ يَّدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّى الْآنَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ جب انہیں پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کہو جو بیٹھے ہوئے ہیں اور غور سے سننا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔کیوں کہ یہ تمہارا سلام اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم ، فرشتوں نے کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ ۔انہوں نے ورحمۃ اللہ زیادہ کیا۔ جو شخص جنت میں داخل ہوگا آدم کی صورت پر ہوگا اس وقت سے اب تک مخلوق (قد میں) کم ہوتی آرہی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3154

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِيَدِي فَقَالَ: خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے میر ا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے دن مٹی پیدا کی، اتوار کے دن اس میں پہاڑ گاڑے، پیر کے دن درخت اگائے ،کام کاج کی چیزیں (لوہا وغیرہ) منگل کے دن پیدا کی، روشنی بدھ کے دن پیدا کی، اور جمعرات کے دن اس میں جانور پھیلا دیئے اور آدم علیہ السلام کو عصر کے بعد جمعے کے دن مخلوقات کے آخر میں پیدا کیا، عصر سے لے کر رات کے درمیان والی جمعے کی آخری گھڑی میں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3155

عَنْ عَائِشَةَ مَرفُوعاً: خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُّورٍ وَخُلِقَ إِبلِيس مِنْ نَّارٍ السَمُوم وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا قَدْ وُصِفَ لَكُمْ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے اور ابلیس سموم(گرم ہوا ) کی آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم علیہ السلام اس چیز سے جو تمہیں بتا دی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3156

) عَنِ ابْن عُمَر أَنَّ حَبْشِيًّا دُفِنَ بِالْمَدِيْنَة فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: دُفِنَ فِي الطِّيْنَة التِّي خُلِقَ مِنْهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک حبشی مدینے میں دفن کیا گیا تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ اس مٹی میں دفن کیا گیا ہے جس سے پیدا کیا گیا تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3157

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ! فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے مخلوق میں سب سے بہتر انسان !تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ے فرمایا: وہ ابراہیم علیہ السلام تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3158

عَنْ أَنَسٍ مَرفُوعاً: رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَّارٍ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: خُطَبَاءُ مِّنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ؟.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میں نے معراج کی رات کچھ آدمی دیکھے جن کی باچھیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ کی امت کے خطیب، لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے لیکن خود کو بھول جاتے حالانکہ یہ کتاب اللہ پڑھتے تھے کیا یہ عقل نہیں رکھتے تھے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3159

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوعاً: رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَانِ؟ قَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میرے لئے ساتویں آسمان میں سدرة المنتہی کو بلند کیا گیا اس کا بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح تھا اور اس کا پتہ ہاتھی کے کان کی طرح۔ اس کے تنے سے دو ظاہر اور دو باطن نہریں نکلتی ہیں میں نے جبریل سے پوچھا: اے جبریل !یہ دونوں کس طرح کی ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: باطن تو جنت میں ہیں جب کہ ظاہر نیل اور فرات ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3160

عَنْ عُمَر بْن الخَطَّاب مَرْفُوعاً . الرِّيْح تُبْعَثُ عَذَاباً لِّقَوْم وَرَحْمَة لِآخَرِيْن.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:ہوا کسی قوم کے لئے عذاب بنا کر بھیجی جاتی ہے اور کسی قوم کے لئے رحمت۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3161

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سَأَلْتُ جِبْرِيلَ عَلَيه السّلَام : « أَىَّ الأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى عَلَيه السّلَام ؟ فَقَالَ : أَكْمَلَهُمَا وَ أَتَمَّهُمَا ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نےجبریل علیہ السلام سے سوال کیا: موسیٰ علیہ السلام نے دونوں میں سے کونسی مدت پوری کی؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: اکمل اور اتم مدت
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3162

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: سیحان ،جیحان ،فرات اور نیل تمام کی تمام جنت کی نہریں ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3163

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَرْفُوْعاً:عَجِبْتُ لصبرِ أَخِي يُوسُفَ وكَرَمِهِ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ حَيْثُ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ليُسْتَفْتَى فِي الرُّؤْيَا، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ حَتَّى أَخْرُجَ، وعَجِبْتُ لصَبْرِهِ وكَرَمِهِ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ أُتِي لِيَخْرُجَ فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى أَخْبَرَهُمْ بِعُذْرِهِ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لبادرتُ الْبَابَ، وَلَوْلا الْكَلِمَةُ لَمَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ حَيْثُ يَبْتَغِي الْفَرَجَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ قَوْلُهُ: اذۡکُرۡنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ يوسف: ٤٢
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: میں اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کے صبر اور کرم کو دیکھ کر بہت متعجب ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔ جب ان کی طرف خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے دو آدمی بھیجے گئے اگر میں ہوتا تو اس وقت تک نہ بتاتا جب تک مجھے باہر نہ نکال دیا جاتا۔ اور مجھے ان کے صبر اور کرم کی وجہ سے پھر تعجب ہوا اللہ انہیں معاف فرمائے۔ انہیں باہر نکالا جانے لگا تو اس وقت تک نہ نکلے جب تک انہیں اپنا عذر نہ بتادیا ۔اگر میں ہوتا تو میں دروازے کی طرف جلدی کرتا ۔اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی مدد سے جیل سے باہر آنا چاہ رہے تھے جبکہ انہوں نے کہا کہ: ‘‘اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا۔’’ تو وہ جیل میں (اتنی دیر) نہ رہتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3164

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: فُجِّرَتْ أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ مِّنْ الْجَنَّةِ الْفُرَاتُ وَالنِّيلُ وَسَيْحَانُ وَجَيْحَانُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جنت سے چار نہریں نکالی گئیں ،فرات، نیل ، سیحان اور جیحان
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3165

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مَا لِي لَمْ أَرَ مِيكَائِيلَ ضَاحِكًا قَطُّ؟ قَالَ مَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے جبریل سے فرمایا: میں نے کبھی بھی میکائیل کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، جبریل نے کہا: جب سے جہنم پیدا کی گئی ہے میکائیل ہنسے نہیں ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3166

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: كَانَ أَوَلُ مَنْ ضَيَّفَ الضَّیْفَ إِبرَاهِيم، وَهُو أَوَّل مَنِ أخْتَتَنَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِينَ سَنَةً وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: سب سے پہلا شخص جس نے مہمانوں کی ضیافت کی ابراہیم علیہ السلام تھے، وہی پہلے شخص تھے جنہوں نے اسی (۸۰) سال کی عمر میں (بڑھئی کے) تیشے سے یا قدوم مقام پر سے ختنہ کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3167

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ دَاوُد أَعْبدَ الْبَشَرِ.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: داؤد علیہ السلام سب سے زیادہ عبادت گزار تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3168

عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُّكْثِهِ عِنْدَنَا وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِّنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتَ عِنْدَهَا وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُّفَارِقَهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُولَ اللهِ! يَوْمِي لِعَائِشَةَ فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْهَا ، وَفِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا أُرَاهُ قَالَ: وَ اِنِ امۡرَاَۃٌ خَافَتۡ مِنۡۢ بَعۡلِہَا نُشُوۡزًا النساء: ١٢٨.
عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بھانجے! رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہم میں سے کسی بیوی کو دوسری بیوی پر ہمارے پاس ٹھہرنے میں فضیلت (ترجیح) نہیں دیتے تھے۔ کم ہی کوئی دن ہوتا کہ وہ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں۔ وہ ہر بیوی کے قریب ہوتے حتی کہ اس تک پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے پاس رات گزارتے ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا جب بوڑھی ہوگئیں اور اس بات سے ڈرنے لگیں کہ کہیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌انہیں چھوڑ نہ دیں تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا دن عائشہ کے لئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان کی یہ بات قبول کر لی، اسی بارے میں اور ان جیسی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ،میرے خیال میں فرمایا: (النساء:۱۲۸) ترجمہ:اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بے پرواہی یا بے رغبتی کا خوف ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3169

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَةٌ قَصِيرَةٌ فَصَنَعَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ فَكَانَتْ تَسِيرُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ قَصِيرَتَيْنِ وَاتَّخَذَتْ خَاتَمًا مِّنْ ذَهَبٍ وَحَشَتْ تَحْتَ فَصِّهِ أَطْيَبَ الطِّيبِ الْمِسْكَ فَكَانَتْ إِذَا مَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ حَرَّكَتْهُ فَنَفَخَ رِيُحَهُ. وفِي روَاية: وَجَعَلَتْ لَهُ غَلَقًا فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَإِ أَوْ بِالْمَجْلِسِ قَالَتْ بِهِ فَفَتَحَتْهُ فَفَاحَ رِيحُهُ.
ابو سعیدخدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک چھوٹے قد کی عورت تھی، اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں بنائیں ،پھر وہ دو چھوٹے قد کی عورتوں کے درمیان چلتی تھی اس نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اس کے نگینے کے نیچے بہترین خوشبو کستوری رکھی۔ پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو انگوٹھی کو حرکت دیتی جس سے خوشبو پھوٹتی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے نگینے کا ڈھکن تھا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو اسے کھول دیتی جس سے خوشبو پھوٹ پڑتی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3170

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فَجَزِعَ فَأَخَذَ سِكِّينًا فَحَزَّ بِهَا يَدَهُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ قَالَ اللهُ تَعَالَى: بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ.
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی زخمی ہوگیا اور زخم کی تکلیف سے پریشان ہو کر اس نے چھری لی اور اپنا بازو کاٹ دیا اس کا خون بند نہیں ہوا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے متعلق مجھ سے پہلے فیصلہ کر لیا اس لئے میں نے اس پر جنت حرام کر دی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3171

عَنْ ذِي مَخْبَرٍ مَرفُوعاً: كَانَ هَذَا الأَمْرُ فِي حِمْيَرَ ، فَنَزَعَهُ اللهُ مِنْهُمْ فَصَيَّرَهُ فِي قُرَيْشٍ
ذی مخبر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ یہ حکومت(امارت )حمیر میں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے چھین کر قریش میں رکھ دی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3172

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ وَكَان مِن أَصحَاب رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ رَجُل: كَيْفَ كَانَ أَوَّلُ شَأْنِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: كَانَتْ حَاضِنَتِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَهَا فِي بَهْمٍ لَنَا، وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا فَقُلْتُ: يَا أَخِي! اذْهَبْ فَأْتِنَا بِزَادٍ مِّنْ عِنْدِ أُمِّنَا فَانْطَلَقَ أَخِي وَمَكَثْتُ عِنْدَ الْبَهْمِ فَأَقْبَلَ طَيْرَانِ أَبْيَضَانِ كَأَنَّهُمَا نَسْرَانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَهُوَ هُوَ؟ قَالَ الآخر: نَعَمْ فَأَقْبَلَا يَبْتَدِرَانِي فَأَخَذَانِي فَبَطَحَانِي لِلْقَفَا فَشَقَّا بَطْنِي ثُمَّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِي فَشَقَّاهُ فَأَخْرَجَا مِنْهُ عَلَقَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: ائْتِنِي بِمَاءِ ثَلْجٍ فَغَسَلَ بِهِ جَوْفِي ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِمَاءِ بَرَدٍ فَغَسَلَ بِهِ قَلْبِي ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِالسَّكِينَةِ فَذَرَه فِي قَلْبِي ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: حِصْهُ فَحَاصَهُ وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ أَلْفًا مِّنْ أُمَّتِهِ فِي كِفَّةٍ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَإِذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْأَلْفِ فَوْقِي أُشْفِقُ أَنْ يَخِرَّ عَلَيَّ بَعْضُهُمْ فَقَالَ: لَوْ أَنَّ أُمَّتَهُ وُزِنَتْ بِهِ لَمَالَ بِهِمْ ثُمَّ انْطَلَقَا وَتَرَكَانِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَفَرِقْتُ فَرَقًا شَدِيدًا ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُ فَأَشْفَقَتْ عَلَيَّ أَنْ يَّكُونَ قَد ألْتبِسَ بِي، فَقَالَتْ: أُعِيذُكَ بِاللهِ فَرَحَلَتْ بَعِيرًا لَهَا فَجَعَلَتْنِي عَلَى الرَّحْلِ وَرَكِبَتْ خَلْفِي حَتَّى بَلَغْنَا إِلَى أُمِّي فَقَالَتْ: أَوَأَدَّيْتُ أَمَانَتِي وَذِمَّتِي؟ وَحَدَّثَتْهَا بِالَّذِي لَقِيتُ فَلَمْ يَرُعْهَا ذَلِكَ وَقَالَتْ: إِنِّي رَأَيْتُ خَرَجَ مِنِّي - يعني- نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ.
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا ابتدائی معاملہ کیا تھا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری رضاعی والدہ بنی سعد بن بکر سے تھی، میں اور اس کا بیٹا ریوڑ چراتے ہوئے نکلے، ہم نے اپنے ساتھ کھانا نہیں لیا تھا۔ میں نے کہا: بھائی جان! جاؤ،امی جان سے کھانا لے آؤ۔ میرا بھائی چلا گیا اور میں ریوڑ کے پاس ٹھہر گیا دو سفید پرندے اڑتے ہوئے آئے گویا کہ وہ ستارے ہوں، ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا یہی وہ بچہ ہے؟ دوسرے نے کہا: ہاں، وہ دونوں جلدی جلدی میری طرف آئےاور مجھے پکڑ لیا، اور گدی کے بل زمین پر لٹا دیا۔ دونوں نے میرا پیٹ چیر کر میرا دل نکال لیا ،پھر دل کو چیرا اور اس سے دو سیاہ ٹکڑے نکالے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی دو۔ پھر اس نے میرا پیٹ دھویا، پھر کہا: مجھے اولوں کا پانی دو۔ پھر اس سے میرا دل دھویا، پھر کہا: میرے پاس سکینت لاؤ۔پھر اسے میرے دل میں اتارا اور ایک نے دوسرے ساتھی سے کہا۔ اسے سی دو (ٹانکے لگادو)اس نے سی دیا اور نبوت کی مہر لگا دی۔پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اسے ایک پڑیے میں رکھو ، اور اس کی امت کے ایک ہزار لوگ دوسرے پلڑے میں رکھو، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں اپنے اوپر ایک ہزار آدمی دیکھنے لگا اور ڈر رہا تھا کہ ان میں سے کوئی میرے اوپر نہ گر جائے ۔اس نے کہا؛ اگر اس کی تمام امت کا وزن اس سے کیا جائے تب بھی یہ ان پر بھاری رہے گا۔ پھر وہ دونوں چلے گئے اور مجھے چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں بری طرح ڈر گیا، پھر اپنی ماں کے پاس آیا۔ اور جو میرے ساتھ ہوا تھا انہیں بتایا۔ انہیں ڈر ہوا کہ کہیں میری عقل میں کچھ خلل نہ آگیا ہو۔ کہنے لگیں: میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں۔ پھر اپنے اونٹ پر کجاوہ کسا اور مجھے کجاوے پر بٹھا کر میرے پیچھے سوار ہو گئیں حتی کہ ہم امی جان کے پاس آگئے ۔کہنے لگیں:کیا میں نے اپنی امانت اور اپنا ذمہ ادا کردیا ہے ، اور انہیں میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا۔ وہ اس بات سے خوفزدہ نہیں ہوئیں اور کہنے لگیں: (حمل کے دوران) میں نے ایک نور (روشنی) دیکھا جو میرے اندر سے نکل رہا تھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3173

عَنْ عَبْد اللهِ مَرْفُوْعاً: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ في هَذَا الْوَادِي مُحْرِماً بَيْنَ قَطْوَانِيَّتَيْن
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ:گویا میں اس وادی میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں، دو سفید چھوٹی چادروں سے احرام باندھے ہوئے ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3174

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : « كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى بْن عِمْرَان مُنْهَبِطًا مِّنْ ثَنِيَّة هَرشِى مَاشِياً ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: گویا میں موسیٰ بن عمران کی طرف دیکھ رہا ہوں بھا ری چال چلتے ہوئے گھاٹی سے اتر رہے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3175

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: كُلُّ ابْنِ آدَمَ أَصَابَ مِنَ الزِّنَا لَا مَحَالَةَ فَالْعَيْنُ زِنَاهَا النَّظَرُ وَالْيَدُ زِنَاهَا اللَّمْسُ وَالنَّفْسُ تَهْوِى وَتُحَدِّثُ وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَو يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ہر بنی آدم کسی قدر لا محالہ زنا کا ارتکاب کرتا ہے۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھ کا زنا چھونا ہے، دل کا زنا مائل ہونا اور سوچنا ہے، اور اس زنا کی تصدیق یا تکذیب شرمگاہ کرتی ہے۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3176

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ : دَخَلْتْ أُمُّ بِشُر بْنُ البَرَّاء ابْن مَعْرُوْر عَلَى رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي مَرْضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ وَهُوَ مَحْمُوم فَمَسِّتْه ، فَقَالَتْ : مَا وَجَدْتُ مِثل وَعَكٍ عَلَيْكَ عَلَى أَحَدٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: كَمَا يُضَاعَفُ لَنَا الأَجْرَ ، كَذَلِكَ يُضَاعَفُ عَلَيْنَا البَلاَء .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ ام بشر بنت براء بن معرور رضی اللہ عنہا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے مرض الموت میں آپ کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا ،انہوں نے آپ کو چھوا تو کہنے لگیں: میں نے آپ جیسا بخار کسی شخص پر نہیں دیکھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس طرح ہمارے لئے اجر دو گنا ہے اسی طرح ہمارے لئے آزمائش بھی دوگنی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3177

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَمْ يَبْعَثِ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا بِلُغَةِ قَوْمِهِ.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3178

عَنْ أَنَسٍ مَرفُوعاً: لَمَّا صَوَّرَ اللهُ -تَبَارَكَ وَتعَالَى- آدَمَ -عَليهِ السَلام- تَرَكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يَطُوفُ بِه يَنْظُر إِلَيهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ قال : ظفرت به خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی صورت بنائی تو انہیں چھوڑ دیا۔ ابلیس آکر اسے دیکھنا لگا۔ جب اس نے آدم کو اندر سے خالی دیکھا تو کہنے لگا: ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3179

عَنْ أُبَي بْن كَعب ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : « لَمَّا لَقِيّ مُوسَى الخِضْر عَلَيْهِمَا السَّلاَم جَاءَ طَيْرٌ فَأَلْقَى مِنْقَارُه فِي الماَءِ، فَقَالَ الخِضْر لِمُوْسَى: تَدْرِي مَا يَقُولُ هَذَا الطُّيْر؟ قَالَ: وَمَا يَقُوْلُ؟ قَالَ: يَقُوْلُ: مَا عِلْمُك وَعِلْم مُوسَى فِي عِلْمِ اللهِ إِلَّا كَمَا أَخَذَ مِنْقَارِي مِنَ المَاءَ .
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب موسیٰ علیہ السلام خضر علیہ السلام سے ملے تو ایک پرندہ آیا اور اپنی چونچ پانی میں ڈال دی۔ خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جانتے ہو یہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے ؟موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہ کیا کہہ رہا ہے؟ خضر علیہ السلام نے کہا: یہ کہہ رہا ہے کہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا علم اللہ کے مقابلے میں اتنا ہے جتنا میری چونچ نے اس سمندر سے پانی لیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3180

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعاً: لَمِّا نَفَخَ اللهُ فِي آدَم الرُّوْح ، فَبَلَغَ الرُّوح رَأْسَه عَطَسَ ، فَقَالَ : الحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن . فَقَالَ لَه تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَرْحَمُكَ الله
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام میں روح پھونکی اور روح سر میں پہنچی تو انہیں چھینک آئی ،انہوں نے کہا: الحمد للہ رب العالمین ،اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان سے کہا: یرحمک اللہ (اللہ تم پر رحم فرمائے)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3181

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « لَوْ أَنَّ اللهَ يُؤَاخِذُنيِ وَعِيْسَى بِذُنُوبِنَا (وَفِي رِوَايَةٍ: بِمَا جَنَتْ هَاتَانِ يَعْنِي الإِبْهَام وَالَّتِي تَلِيْهَا) لَعَذَّبَنَا وَلَا (وَفِي الأُخْرَى: وَلَمْ) يَظْلِمُنَا شَيْئاً »
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لے (اور ایک روایت میں ہے :جو گناہ ان دونوں یعنی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی نے کئے ہیں)تو ہمیں عذاب دے دے اور ہم پرظلم بھی نہیں کرے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3182

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ جَاءَنِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ إِذْ جَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ ﴿۵۰﴾ وَرَحْمَةُ اللهِ عَلَى لُوطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ: لَوۡ اَنَّ لِیۡ بِکُمۡ قُوَّۃً اَوۡ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکۡنٍ شَدِیۡدٍ ﴿۸۰﴾ وَمَا بَعَثَ اللهُ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِّنْ قَوْمِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جتنا یوسف علیہ السلام جیل میں ٹھہرے ہیں، اتنا عرصہ اگر میں ٹھہرتا، پھر بلانے والا آتا تومیں باہر آجاتا ۔جب یوسف علیہ السلام کے پاس قاصد آیا تو یوسف علیہ السلام نے کہا: (یوسف:۵۰) اپنے مالک کی طرف جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ۔یقیناً میرا رب ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔اور اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر، کیوں کہ وہ مضبوط آسرے کا سہارا لینا چاہتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: (ھود:۸۰) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اس کی قوم کے معزز گھرانے انبوہ کثیر میں پیدا کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3183

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَن أَنَسٍ قَالَا: أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَحَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ: لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما اور انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ،جب آپ نے منبر بنوا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف جانے لگے تو تنا رونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اسےتھپکی دی تو وہ چپ ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے تھپکی (دلاسہ) نہ دیتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔