Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

25)

25) دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3212

عَنِ ابنِ عَبّاس: أَن الْجَنَازَة الَّتِي قَام لَهَا النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم كَانَت جَنَازَة يَهُودِيّ، وَأَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: آذَانِي ريحُها فَقُمتُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ: وہ جنازہ جس كے لئے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كھڑے ہوئے ایك یہودی كا جنازہ تھا۔ اور نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس كی بدبو نے مجھے تكلیف دی تو میں كھڑا ہو گیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3213

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ فَقَالَ لَه رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبْشِرْ إِنَّ اللهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِيَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك مریض كی عیادت كیم آپ كے ساتھ ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ تھے۔ اس مریض كو بخار تھا، تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے(اس سے) كہا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یہ میری آگ ہے جو میں دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط كرتا ہوں تاكہ آخرت میں ملنے والے عذاب کا بدل بن جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3214

عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ قَالَتْ: عَادَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَنَا مَرِيضَةٌ فَقَالَ: أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ! فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللهُ بِهِ خَطَايَاهُ كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ.
) ام العلاء رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے میری عیادت كی، میں بیمار تھی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، ام العلاء،كیوں كہ مومن كی بیماری كی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس كی خطائیں معاف كر دیتاہے جس طرح آگ سونے اور چاندی كا میل صاف كر دیتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3215

عَنْ أَبِي عَسِيبٍ مَّوْلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مرفوعا: أَتَانِي جِبْرِيلُ بِالْحُمَّى وَالطَّاعُونِ فَأَمْسَكْتُ الْحُمَّى بِالْمَدِينَةِ وَأَرْسَلْتُ الطَّاعُونَ إِلَى الشَّامِ فَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِأُمَّتِي وَرَحْمَةٌ لَهُمْ وَرِجْسٌ عَلَى الْكَافِرِينَ .
ابو عسیب مولی رسو ل اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے مرفوعا مروی ہے كہ: جبریل علیہ السلام میرے پاس بخار اور طاعون لے كر آئے۔ بخار میں نے مدینے میں روك لیا اور طاعون كو شام كی طرف بھیج دیا۔ طاعون میری امت كے لئے شہادت اور رحمت ہے جب كہ كافروں كے لئے عذاب ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3216

) عَنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلًا أَنْ يَّأْتِيَهُ بِحَجَرٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ قَالَ كَثِيرٌ: قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَقَالَ: أَتَعَلَّمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَّاتَ مِنْ أَهْلِي.
مطلب رحمہ اللہ كہتے ہیں كہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان كا جنازہ باہر نكالا گیا اور انہیں دفن كر دیا گیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایك آدمی كو حكم دیا كہ وہ ایك پتھر اٹھا كر لائے، وہ اس پتھر كو نہ اٹھا سكا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اٹھ كر اس پتھر كی طرف گئے، اپنے بازو اوپر چڑھائے، صحابی كہتا ہے كہ گویا میں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے بازؤوں كی سفیدی دیكھ رہا ہوں جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے بازو چڑھائے تھے۔ پھر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس پتھر كو اٹھا یا اور اسے اس قبر كے سرہانے ركھ دیا۔ اور فرمایا: اس سے مجھے اپنے بھائی كی قبر كا پتہ چل جائے گا۔ میرے گھر والوں میں سے جو فوت ہو گا اسے یہیں دفن كروں گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3217

عَنْ عَطَاءِ بن أبي رباح مرفوعاً مرسلًا. إِذَا أُصِيبَ أَحَدُكُمْ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتذَكر مُصِيبَتَهُ بِي، فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْمَصَائِبِ.
عطاءبن ابی رباح رحمہ اللہ سے مرفوعا مرسلا مروی ہے كہ: جب تم میں سے كسی شخص كو كوئی مصیبت پہنچے تو وہ میری مصیبت یاد كر لے، كیوں كہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3218

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ مرفوعا: إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ (قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ). (وفي رواية أخرى): الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ (ابراہیم :۷۲)
براءبن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب مومن كو اس كی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس كے پاس فرشتے آتے ہیں ، پھر وہ گواہی دیتا ہے كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اللہ كے رسول ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ كا وہی فرمان ہے: یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ (اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو قولِ ثابت كے ساتھ ثابت قدم ركھتا ہے) (فرمایا: یہ عذاب قبر كے بارے میں نازل ہوئی)( اور ایك دوسری روایت میں ہے كہ:) مسلمان سے جب اس كی قبر میں سوال كیا جاتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اللہ كے رسول ہیں، یہ اللہ تعالیٰ كا وہی فرمان ہے:یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ (ابراہیم :۷۲) اللہ تعالیٰ ان لوگوں كو جو ایمان لائے دنیا كی زندگی اور آخرت میں قولِ ثابت كے ساتھ ثابت قدم ركھتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3219

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا اتَّبَعْتُمْ جَنَازَةً فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ (في الأَرضِ).
) ابو سعید رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم جنازے كے ساتھ چلو تو اس وقت تك نہ بیٹھو جب تك جنازہ( زمین پر )نہ ركھ دیا جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3220

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَـرِيـرَةٍ بَيْضَـاءَ فَيَقُولُـونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَّرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللهِ وَرَيْحَانٍ وَّرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ؟ فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدَمُ عَلَيْهِ فَيَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا فَإِذَا قَالَ: أَمَا أَتَاكُمْ؟ قَالُوا: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَّسْخُوطًا عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحُ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّار.
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب مومن كی موت كا وقت آتا ہے تو رحمت كے فرشتے اس كے پاس سفید ریشمی کپڑا لے كر آتے ہیں، اور كہتے ہیں (اے نیک روح) باہر نكلو، تم اس سے راضی ہو اور وہ تم سے راضی ہو چكا ہے۔ اللہ كی مہربانی، خوشبو اور راضی رب كی طرف، روح اس طرح نكلتی ہے جس طرح كستوری كی نرم و ملائم خوشبو ہوتی ہے۔ حتی كہ فرشتے اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور اسے آسمان كے دروازے تك لے آتے ہیں۔ فرشتے كہتے ہیں: كتنی عمدہ خوشبو ہے جو زمین سے آرہی ہے۔ پھر اسے مومنین كی روحوں میں لے آتے ہیں۔ تم اپنے مسافر دوست کی آمد سےجتناخوش ہوتے ہو وہ اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ اور اس سے سوال كرتے ہیں: فلاں كا كیا حال ہے؟ فلاں كا كیا بنا؟ وہ کہتے ہیں:اُسے چھوڑ دو كیوں كہ وہ دنیا كی پریشانی میں تھا۔ جب وہ یہ كہتا ہے كہ كیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ تو وہ كہتے ہیں اسے اس كی ماں(جائے پناہ) ہاویہ كی طرف لے جایا گیا ہے، اور جب كافر كی موت كا وقت آتا ہے تو عذاب كے فرشتے ٹاٹ لے کر اس كے پاس آتے ہیں، اور كہتے ہیں: یہ تیرے لئے بھی ناتواری کا باعث ہے اور تجھ پر اللہ تعالیٰ کا غصہ ہے۔ اللہ عزوجل كے عذاب كی طرف نكل وہ اس طرح نكلتی ہے جس طرح كسی مردار كی انتہائی بد بو دار لاش ہو۔ حتی كہ اسے زمین كے دروازے تك لاتے ہیں تو وہ كہتے ہیں یہ بو كتنی بدبودار ہے حتی كہ اسے كفار كی روحوں میں لے آتے ہیں۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3221

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا حَضَرْتُمْ مَّوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ وَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ.
) شداد بن اوس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم اپنے مردوں كے پاس آؤ تو ان كی آنكھیں بند كر دو، كیوں كہ نگاہیں روح كا پیچھا كرتی ہیں اور اچھی بات كہو۔ كیوں كہ فرشتے اس بات پر آمین كہتے ہیں جو بات گھر والے كہتے ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3222

عَنْ جَابِرٍ عَن النّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا رَأَى (المؤمن) مَا فُسِحَ لَهُ فِي قَبْرِهِ يَقُولُ: دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب(مومن) دیكھتا ہے كہ اس كی قبر میں اس كے لئے كتنی زیادہ كشادگی كر دی گئی ہے تو وہ كہتا ہے: مجھے چھوڑ دو میں اپنے گھر والوں كو اطلاع كر دوں، تب اس سے كہا جاتا ہے یہیں ٹرہ ے رہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3223

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا عَادَ أَحدكُم مَّرِيْضًا فَلْيَقُل :اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا وَّيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص كسی مریض كی عیادت كرے تو كہے:اے اللہ اپنے بندے كو شفا دے ، تاكہ تیرے دشمن زخمی کرکے مار دے۔ یا تیرے لئے نماز كی طرف جائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3224

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ : أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ شَامِتًا؟ قَالَ: لَا بَلْ عَائِدًا قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ : إِنْ كُنْتَ جِئْتَ عَائِدًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مَشَى فِي خِرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ.
عبدالرحمن بن ابی لییہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ ابو موسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہم كی عیادت كرنے آئے تو علی‌رضی اللہ عنہ نے ان سے كہا: تم عیادت كرنے كی غرض سے آئے ہو یا خوش ہوکرآئے ہو؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ كہنے لگے: نہیں میں عیادت كرنے كی غرض سے آیا ہوں۔ علی‌رضی اللہ عنہ نے ان سے كہا: اگر تم عیادت كرنے كی غرض سے آئے ہو تو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جب آدمی اپنے مسلمان بھائی كی عیادت کرنے کے لئے آتا ہے تو وہ جنت كے باغیچے میں چلتا رہتا ہے حتی كہ آكر بیٹھ جائے، جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ۔ اگر صبح كے وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے شام ہونے تك اس كے لئے دعا كرتے رہتے ہیں اور اگر شام كے وقت میں ہو تو صبح تك ستر ہزار فرشتے اس كے لئے دعا كرتے رہتے ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3225

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ أَوْ قَالَ: أَحَدُكُمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا الْمُنْكَرُ وَالْآخَرُ النَّكِيرُ فَيَقُولَانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: مَا كَانَ يَقُولُ: هُوَ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولَانِ: قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ هَذَا ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِينَ ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: نَمْ فَيَقُولُ: أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ؟ فَيَقُولَانِ: نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللهُ مِنْ مَّضْجَعِهِ ذَلِكَ. وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا قَالَ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ فَقُلْتُ مِثْلَهُ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ: قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ: الْتَئِمِي عَلَيْهِ فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ فَتَخْتَلِفُ أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ فِيهَا مُعَذَّبًا حَتَّى يَبْعَثَهُ اللهُ مِنْ مَّضْجَعِهِ ذَلِكَ
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب میت كو قبرمیں دفن كیا جاتا ہے ،یا فرمایا: تم میں سے كسی شخص كو تودو فرشتے اس كے پاس آتے ہیں، سیاہ رنگ كے ،نیلی آنكھوں والے، ایك كو منكر، دوسرے كو نكیر كہا جاتا ہے ۔ دونوں كہتے ہیں: تم اس شخص كے بارے میں كہا كہتے ہو؟ وہ كہتا ہے جو وہ(دنیا میں) كہا كرتا تھا كہ وہ اللہ كے بندے اور اس كے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس كے بندے اور رسول ہیں۔ وہ دونوں فرشتے كہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا كہ تم یہی كہوگے ۔ پھر اس كی قبر ستر ہاتھ لمبی اور ستر ہاتھ چوڑی كشادہ كر دی جاتی ہے ۔پھر اس كے لئے اس میں روشنی كر دی جاتی ہے۔ پھر اس سے كہا جاتا ہے : سوجاؤ، وہ كہتا ہے: میں اپنے گھر والوں كی طرف واپس جانا چاہتا ہوں اور انہیں بتانا چاہتا ہوں۔ دونوں فرشتے كہتے ہیں: دلہن كی طرح سو جاؤ جسے اس كا محبوب ہی اٹھاتا ہے ۔ حتی كہ اللہ تعالیٰ اسے اس كی آرامگاہ سے اٹھا لیتا ہے اور اگر وہ منافق ہو تو كہتا ہے كہ میں نے لوگوں سے سنا كہہ رہے تھے ، میں نے بھی اسی طرح كہا، مجھے معلوم نہیں۔ وہ دونوں كہیں گے: ہمیں معلوم تھا كہ تم اسی طرح كہو گے ، زمین سے كہا جائے گا: اس پر تنگ ہو جاؤ ، تو زمین اس پر اس طرح سمٹ جائے گی کہ اس كی پسلیاں آپس میں مل جائیں گی، اسے اس قبر میں عذاب دیا جاتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اسے اس كی اس جگہ سے اٹھائے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3226

عَن أبِي أَيُوب موقوفا: إِذَا قُبضت نَفْس الْعَبْد تَلْقَاه أَهل الرَّحْمَة من عبَاد الله كَمَا يَلْقَوْن الْبَشِير في الدُّنْيَا، فيقبلون عليه ليسألوه، فَيَقُول بَعْضهُم لِبَعْض: أنْظرُوا أَخَاكُم حَتَّى يَسْتَرِيح، فَإِنَّه كَان في كَرَب، فيقبلون عليه، فَيَسْأَلُونَه: ما فَعَل فُلَان؟ ما فَعَلَت فُلَانَة؟ هَل تَزَوَّجَت؟ فَإِذَا سَأَلُوا عن الرجل قَد مَات قَبلَه قال لَهم : إِنَّه قَد هَلَك، فَيَقُولُون: إِنَّا لِلهِ و إِنَّا إِلَيْه رَاجِعُون، ذَهَب بِه إلى أُمِّه الْهَاوِيَة، فَبِئْسَت الْأُمّ و بِئْسَت المربية. قال: فَيُعرض عَلَيْهِم أَعْمَالَهُم، فَإِذَا رَأَوْا حَسَنًا فَرِحُوا و اسْتَبْشَرُوا و قَالُوا : هَذِه نِعْمَتُك عَلَى عَبَدك فَأَتَمَّهَا، و إِذَا رَأَوْا سُوءًا قَالُوا: اللهم رَاجع بِعبدِك
ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے كہ:جب بندے كی روح قبض كی جاتی ہے تو اللہ كے بندوں میں سے اہل رحمت اسے ملتے ہیں جس طرح وہ دنیا میں اس سے ملتے تھے، وہ اس سے سوالات كرنے اس كے پاس آتے ہیں، اور ایك دوسرے سےکہتے ہیں: اپنے بھائی كا خیال کرو، جب تك یہ آرام كر لے، كیوں كہ یہ تكلیف میں تھا۔ پھر وہ اس كی طرف آتے ہیں اور اس سے سوالات کرتے ہیں: فلاں كا كیا بنا؟ فلاں عورت كا كیا ہوا؟كیا اس نے شادی كر لی؟ جب وہ اس سے اس آدمی كے متعلق پوچھیں گے جو اس سے پہلے مر چكا ہو گا تو وہ ان سے كہے گا:وہ تو مرچكا، وہ كہیں گے:” إِنَّا لِلهِ و إِنَّا إِلَيْه رَاجِعُون “(ہم اللہ كے لئے ہیں اور ہمیں اسی كی طرف لوٹ كر جانا ہے)وہ اپنے مسكن ہاویہ كیطرف گیا۔ بری جائے پناہ ہے، اور بری پرورش کرنے والی ہے،ان كے اعمال ان پر پیش كئے جائیں گے، جب وہ اعمال اچھے دیكھیں گے تو خوش ہو جائیں گے اور كہیں گے ، یہ تیرے بندے پر تیری نعمت ہے، اسے مكمل كر دے، اور جب اعمال برے دیكھیں گے تو كہیں گے:اے اللہ اپنے بندے پر رجوع کر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3227

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ أَثبَت الله لَه إِلَيْهَا حَاجَة فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ تَوفَاه فَتَقُولُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا رَبِّ! هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان كرتے ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كسی بھی شخص كی موت كسی علاقے میں لكھی گئی ہو تو اللہ تعالیٰ اس كے لئے اس علاقے كی طرف كوئی كام پیدا كر دیتا ہے، جب وہ اپنے مقام كی انتہا تك پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے فوت كر دیتا ہے ۔ قیامت كے دن زمین كہے گی: اے رب یہ وہ بندہ ہے جو تو نے میرے پاس امانت ركھا تھا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3228

عَنْ أَبِي موسَى الْأَشْعَرِيّ مرفوعا: إِذَا مَات وَلَد الرجل يَقول الله تَعَالَى لِمَلَائِكَتِه: أقبضتم وَلَد عَبْدِي؟ فَيَقُولُون: نَعَم. فَيَقُول: أقبضتم ثَمَرَة فُؤَادِه؟ فَيَقُولُون: نَعَم. فَيَقُول: فَمَاذَا قال عَبْدِي؟ قال: حَمِدَك واسترجع. فَيَقُول: ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا في الْجَنَّة وسَمُّوه بَيْت الْحَمْد
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جب كسی آدمی كا بچہ مر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے كا بچہ فوت كر دیا؟ وہ کہتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ فرمائے گا: تم نے اس كے دل كا ٹكڑا قبض كر لیا؟ فرشتےکہتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تب میرے بندے نے كیا كہا: فرشتے کہتے ہیں: اس نے تیری حمد بیان كی اور انا للہ پڑھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے كے لئے جنت میں ایك گھر بنا دو اور اس كا نام”بیت الحمد“(تعریف والا گھر)ركھ دو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3229

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ أَلَمًا فَلْيَضَعْ يَـدَهُ حَيْثُ يَجِدُ أَلَمَهُ ثُمَّ لِيَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِّنْ شَرِّ مَا أَجِدُ.
كعب بن مالك رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كسی شخص كو تكلیف ہو تو وہ تكلیف والی جگہ پر اپنا ہاتھ ركھے۔ پھر سات مرتبہ كہے: میں اللہ كی عزت اور قدرت كی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز كے شر سے جو مجھے محسوس ہو رہی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3230

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ: لَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا وَلَا تَتْبَعُونِي بِمِجْمَرٍ وَأَسْرِعُوا بِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السُّوءُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: يَا وَيْلَهُ! أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي؟.
عبدالرحمن بن مہران رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ: جب ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كی وفات كاوقت قریب آیا تو انہوں نے كہا: میرے اوپر خیمہ مت لگانا، نہ ہی انگیٹھی (خوشبودار لکڑی وغیرہ کی)جلانا اور مجھے جلدی لے جانا۔ كیوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جب نیك بندے كو اس كی چار پائی پر ركھا جاتا ہے تو وہ كہتا ہے: مجھے آگے لے جاؤ، مجھے لے جاؤ مجھے آگے (جلدی) لے جاؤ۔ اور جب برے آدمی كو اس كی چار پائی پر ركھا جاتا ہے تو وہ كہتا ہے: ہائے ہلاكت! تم مجھے كہاں لے جا رہے ہو؟۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3231

عَنْ أَنسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِذَا ولي أَحدكُم أَخَاه فَلْيُحسِن كَفَنَه ، فَإِنَّهُم يُبْعَثُون فِي أَكفَانِهم و يَتَزَاوَرُون فِي أَكفَانِهم.
) انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنے بھائی كا ذمہ دار بنے تو وہ اس كا كفن اچھا دے۔ كیوں كہ وہ اپنے كفن میں اٹھائے جائیں گے، اور اپنے كفن میں ایك دوسرے سے ملیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3232

عَنْ أَنسٍ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اذْكُر الْمَوْت في صَلَاتِك، فَإِن الرجل إِذَا ذكر الْمَوْت في صَلَاته لحريٌ أَن يُّحْسن صَلَاتَه، و صلِّ صَلَاة رَجل لَا يَظُن أَنَّه يُصَلِّي صَلَاة غَيْرَهَا، و إِيَّاك و كُل أَمر يُّعْتَذَر منه.
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نماز میں اپنی موت كو یاد كرو، كیوں كہ جب آدمی اپنی نماز میں اپنی موت كو یاد كرتا ہے تو وہ بہتر انداز میں اپنی نماز ادا كرتا ہے۔ اور اس شخص كی طرح نماز پڑھو جسے یقین ہو كہ وہ اس كے علاوہ كوئی اور نماز ادا نہیں كر سكے گا۔ اور ہر اس معاملے سے بچو جس سے معذرت کرنا پڑے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3233

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ (فَمَنْ يُّوَارِيهِ؟) قَالَ: اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ قَالَ: (لا أُواريه) (إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا) (فَقَالَ: اذْهَبْ فواره) ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ (حَدثاً) حَتَّى تَأْتِيَنِي فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُه (وعلي أثرُ الترابِ والغُبار) فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي (بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَن لِي بِهِنَّ مَا عَلى الأرضِ مِن شيء).
علی‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كہا:آپ كا بوڑھا گمراہ چچا فوت ہوگیا ہے (كون اسے دفنائے گا؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جاؤاور اپنے والد كو دفنا دو ۔ علی رضی اللہ عنہ نے كہا: (میں تو اسے دفن نہیں کروں گا کیونکہ)(وہ شرك كی حالت میں فوت ہوا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اپنے والد كو دفنا دو پھر (كوئی نیا كام) مت كرنا جب تك میرے پاس نہ آجاؤ۔ میں گیا اور انہیں دفنا دیا، میں واپس آیا تو (مجھ پر مٹی اور گردو غبار كا نشان تھا) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے غسل كرنے كا حكم دیا۔ اور میرے لئے ایسی(دعائیں كیں كہ ان کے مقابلےمیں روئے زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی مجھے پسند نہیں)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3234

عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَرْبَعٌ مِّنْ عَمَلِ الأَحْيَاءِ يَجْرِي لِلأَمْوَاتِ: رَجُلٌ تَرَكَ عَقِبًا صَالِحًا فَيَدْعُو فَيُبغلهُ دُعَاؤُهُمْ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ جَارِيَةٍ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَجْرُهَا مَا جَرَتْ، وَرَجُلٌ عَلَّمَ عِلْمًا يُعملَ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتقصَ مِنْ (أَجْرِ) عَمَلهِ شَيئاً. وَرَجُل مُرَابِطُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْحِساب.
سلمان رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو فرماتے ہوئے سنا کہ: زندگی كے چار عمل موت كے بعد بھی جاری رہتے ہیں۔ وہ شخص جس كی نیك اولاد ہے اور وہ اس كے لئے دعا كرتی ہے، ان كی دعائیں اس تك پہنچا دی جاتی ہیں۔ وہ شخص جس نے صدقہ جاریہ كیا، اس كے لئے اس كے باقی رہنے تك اجر چلتا رہے گا۔وہ شخص جس نے علم سكھایا جس پر اس كے مرنے كے بعد بھی عمل كیا جاتا رہا، اس كے لئے بھی اتنا ہی اجر ہوگا جتنا اجر عمل كرنے والے كے لئے ہے۔ اس كے اجر میں سے كچھ بھی كم نہ ہوگا، اور وہ شخص جو پہرہ دیتے ہوئے فوت ہو گیا۔ قیامت تك اس كا اجر جاری رہے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3235

عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِّنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ فِيهِ قُبُورٌ مِّنْهُمْ قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يُعَذَّبُونَ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: اسْتَعِيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ.
ام مبشر رضی اللہ عنہ كہتی ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میرے پاس آئے میں بنو نجار كے كسی باغ میں تھی، اس باغ میں ان كی كچھ قبریں تھیں جو جاہلیت میں مر چكے تھے۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں عذاب دیئے جانے كی آوازیں سنیں۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌یہ كہتے ہوئے وہاں سے نكلے:عذابِ قبر سے اللہ كی پناہ مانگو، میں نے كہا:اے اللہ كے رسول ! كیا انہیں ان كی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ہاں ایسا عذاب ہے جسے جانور سن رہے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3236

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَعْذَرَ اللهُ إِلَى امْرئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كے ہاں اس شخص كا كوئی قابل قبول عذر نہیں جس كی عمر كو ا للہ تعالیٰ نےساٹھ سال تك دراز كیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3237

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ وَأَقَلُّهُمْ مَّنْ يَّجُوزُ ذَلِكَ.
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میری امت كی عمریں ساٹھ سے ستر سال كے درمیان ہوں گی۔ اور تھوڑے لوگ اس حد سے آگے بڑھیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3238

عَنْ عَبْدِ الرَحمَن بن جَابر، عَن أَبِيه، أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَكثر مَن يَّمُوت مِن أُمَتِي بَعَد كِتَاب الله و قَضَائِه و قَدرِه بِالأَنفُس. (يَعْني بِالْعَيْن).
عبدالرحمن بن جابر اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت کے اکثر لوگ جو اللہ کی کتاب اس کے فیصلے اوراس کی تقدیر کے بعد فوت ہونگے وہ نظر لگنے سے ہونگے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3239

عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ للنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا وَأَحْسَنُهُمْ لَه اسْتِعْدَادًا أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كہا: كونسا مومن افضل ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: اچھے اخلاق والا۔ اس آدمی نے كہا: كونسا مومن دانشمند ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو موت كو بہت زیادہ یاد كرتا ہے۔ اور اس كے لئے اچھے طریقے سے تیاری كرتا ہے، یہی لوگ دانشمند ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3240

عَنْ أَنْسٍ أَنَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرَّ بِقَوْم مُّبْتَلِيْن، فَقَالَ: اَمَا كَان هَؤلَاءِ يسأَلُون العَافِيَة
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك ایسی قوم كے پاس سے گزرے جو كسی مصیبت میں مبتلا تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا یہ لوگ عافیت نہیں مانگتے؟۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3241

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ -وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا- فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ (قَالَ عَمْرٌو ): فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَتهُ فِي الْجَنَّةِ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے زیادہ میں نے بچوں پر رحم كرنے والا كوئی نہیں دیكھا۔ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینے کی ایک بستی میں دودھ پلانے کے لئے ایک دایہ کے پاس تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌وہاں جایا كرتے تھے۔ ہم بھی آپ كے ساتھ ہوتے ، آپ گھر میں داخل ہوتے حالانکہ گھر میں سے دھواں اٹھ رہا ہوتا۔ابراہیم رضی اللہ عنہ کا پرورش کنندہ رضاعی باپ لوہار تھا۔آپ اسے(ابراہیم) پكڑتے ،بوسہ لیتے اور واپس لوٹ آتے۔ (عمرو نے كہا) جب ابراہیم فوت ہو گئے تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹاشیرخوارگی میں فوت ہوا، اور جنت میں اس كے لئے دودائیاں ہیں جو اس كے دودھ كی مدت پوری كریں گی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3242

عَنْ حُصَيْنٍ بن عبد الرحمن قال: سمعت أَبا عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ يحدث عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ قَالَتْ: عدت رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي نِسوة وَإِذَا سِقَاءٌ مُّعَلَّقٌ وَمَاؤُهُ يَقْطُرُ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! لَوْ دَعَوْتَ اللهَ فَأذهب عنك هذا فَقَالَ: إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ
حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبیدہ بن حذیفہ کو سنا، وہ اپنی پھوپھی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بیان كرتے تھے، انہوں نے كہا كہ میں كچھ عورتوں كے ساتھ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی عیادت كرنے گئی۔ دیکھا کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا ہے اور اس کا قطرہ قطرہ پانی آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر گر رہا ہے کیونکہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو بہت تیز بخار تھا۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! اگر آپ اللہ سے دعا كریں تو اللہ تعالیٰ آپ كا بخار ختم كر دے گا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء علیہم السلام پر آتی ہیں۔ پھر ان لوگوں پر جو ان كے قریب ہوتے ہیں، پھر ان لوگوں پر جو ان كے قریب ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3243

عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ: أَنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَهَجَّرَ بِالرَّوَاحِ فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ وَالصُّنَابِحِيُّ مَعَهُ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدَانِ رَحمَكُما اللهُ؟ فَقَالَا: نُرِيدُ هَاهُنَا إِلَى أَخٍ لَّنَا مَرِيضٍ نَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى دَخلَنا عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَا لَهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ قَالَ أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةِ اللهِ وَفَضْلهِ فَقَالَ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ -تعالى- يَقُولُ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي وَصبَر عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ مِنْ مَّضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَّلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا وَيَقُولُ الرَّبُّ لِلحَفظة: إِنِّي أَنَا قَيَّدْتُّ عَبْدِي هَذا وَابْتَلَيْتُهُ فَأَجْرُوْا (لَهُ) مِن الأجْر مَا كُنْتُمْ تُجْرونَ لَهُ قَبل ذَلِك وَهُوَ صَحِيحٌ.
ابو الاشعث صنعانی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ وہ صبح صبح دمشق كی مسجد كی طرف گئے ، شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ملے ان كے ساتھ صنابحی بھی تھے۔ میں نے كہا: اللہ آپ دونوں پر رحم فرمائے، آپ كہاں جا رہے ہیں؟ كہنے لگے: ہم وہاں اپنے ایك بیمار بھائی كی عیادت كرنے جا رہے ہیں ۔ میں بھی ان كے ساتھ چل پڑا، اس آدمی كے پاس آئے تو دونوں نے اس سے كہا: صبح كیسی گزری؟ اس نے كہا: اللہ كی نعمت اور فضل میں صبح کی۔ شداد رضی اللہ عنہ نے كہا: خوش ہو جاؤ، كیوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے كسی مومن بندے كو آزماتا ہوں، پھر وہ میری تعریف كرتا ہے اور میری دی ہوئی آزمائش پر صبر كرتا ہے تو وہ اپنی اس جگہ سے اس طرح اٹھے گا جس طرح اس كی ماں نے اسے خطاؤں سے پاك جنا تھا۔ اوراللہ تعالیٰ فرشتوں سےفرماتا ہے : میں نے اپنے اس بندے كو قید كر دیا اور اسے آزمائش میں مبتلا كر دیا، اس لئے جو اجر اس كی تندرستی كی حالت میں لكھتے تھے وہی اجر اب بھی لكھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3244

َنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: إنّ اللهَ ليبتَلي عبدَه بالسَّقمِ، حتّى يُكفِّر ذلكَ عنه كلَّ ذَنبٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنےبندےكوبیماری دےكرآزماتاہےحتی كہ اس کے ذریعے اس كےہرگناہ مٹادیتاہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3245

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَرُّوا عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ: وَجَبَتْ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا شَرًّا فَقَالَ: وَجَبَتْ. إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاءُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ لوگ ایك جنازہ لے كر نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے گزرے تو لوگ اس كی تعریف كر رہے تھے۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: واجب ہوگئی ،پھر ایك دوسرا جنازہ لے كر گزرے تو اس كی برائی كر رہے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:واجب ہوگئی ۔تم ایك دوسرے كے گواہ ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3246

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَتى رَجُلٌ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي أُحِبُّكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ البَلاَيَا أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُّحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اللہ كی قسم! اے اللہ كے رسول! میں آپ سے محبت كرتا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا: جو شخص مجھ سے محبت كرتا ہے مصیبت اس كی طرف اتنی تیزی سے آتی ہے كہ سیلاب بھی اتنی تیزی سے آخری جگہ تك نہیں پہنچتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3247

عَنْ يَزِيد بن شَجَرَة ، قَالَ: خَرَج رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي جَنَازَة، فَقَال النَّاس خَيْرًا، وَأَثْنَوْا عَلَيه خَيْرًا، فَجَاء جِبْرائيل فَقَال: إِن الرجل لَيْس كَمَا ذَكَرُوا، وَلَكَن أَنْتُم شُهَدَاء الله في الْأَرض وَقَد غُفِرَ لَه مَا لَا يعلَمُون.
یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك جنازے میں نكلے تو لوگوں نے اس كے بارے میں تعریفی كلمات كہے، اور اس كی تعریف كی۔ جبریل علیہ السلام آئے اور كہا:یہ آدمی ایسا نہیں تھا جیسا ذكر كر رہے ہیں ، لیكن تم لوگ روئے زمین پر اللہ كے گواہ ہو ، اللہ تعالیٰ نے اس كے وہ گناہ معاف كر دیئےجن كے بارے میں یہ لوگ لا علم ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3248

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الرَجُل لَيَكُون لَه عِنْد الله الْمَنْزِلَة، فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَل فَمَا يَزَال الله يَبْتَلِيه بِمَا يَكْرَه، حَتَّى يَبْلُغَه إِيَّاهَا.
ابو ہریر‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كے ہاں آدمی كا ایك مرتبہ ہوتا ہے۔ وہ آدمی اس مرتبے تك كسی عمل سے نہیں پہنچتا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائشیں دیتا ہے جو اسے نا پسند ہوتی ہیں حتی كہ اللہ تعالیٰ اسے اس مرتبے تك پہنچا دیتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3249

عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِنَّ الرَجُل يَشْفع لِلرَجُلَيْن وَ لِلثَلَاثَة وَ الرَجُل لِلرَجُل.
) انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایك آدمی دو كی سفارش كرے گا، تین كی سفارش كرے گا اور كوئی آدمی ایك كی سفارش كرے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3250

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَبِهَا لَمَمٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! ادْعُ اللهَ أَنْ يَّشْفِيَنِي قَالَ: إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللهَ لَك فَشفَاك وَإِنْ شِئْتِ صَبَرت وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك عورت رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئی اسے كوئی بیماری (جنون یا مرگی وغیرہ)تھی۔ اس نے كہا: اے اللہ كے رسول! اللہ سے دعا كیجئے كہ مجھے شفا دے دے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے دعا كروں اور اللہ تعالیٰ تمہیں شفا دے دے، اور اگر چاہو تو صبر كر لو، تم سے حساب و كتاب نہیں ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3251

) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ الشُّهَدَاءُ فَذَكَرُوا الْمَبْطُونَ وَالْمَطْعُونَ وَالنُّفَسَاءَ فَغَضِبَ أَبُو عِنَبَةَ وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ نَبِيِّنَا عَنْ نَّبِيِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ شُهَدَاءَ اللهِ فِي الْأَرْضِ أُمَنَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ فِي خَلْقِهِ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا
محمد بن زیادہ الہانی رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ ابو عنبہ خولانی كے پاس شہداءكا ذكر كیا گیا، تو انہوں نے پیٹ كی بیماری والے ،طاعون والے اور زچگی كے دوران فوت ہونے والی عورت كا تذكرہ كیا۔ ابو عنبہ غصے ہو گئے اور كہنے لگے، ہمارے نبی كے صحابہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كیا كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زمین میں اللہ كے شہداءاس كی مخلوق میں سے امین لوگ ہیں۔ قتل كر دیئے جائیں یا مر جائیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3252

عَنْ عَائِشَةَ قَالَت: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجَدْتَّ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا حُطَّتْ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةٌ وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو رات كے وقت كوئی تكلیف ہوئی ۔ آپ کراہنے لگے اور اپنے بستر پر كروٹیں لینے لگے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اگر ہم میں سے كوئی ایسا كام كرتا تو اس پرآپ ناراض ہوتے ۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: صالحین پر سختی كی جاتی ہے۔ اور مومن كو كوئی كانٹا بھی چبھتا ہے یا اس سے كم تر درجے كی كوئی تكلیف آتی ہے تو اس كی كوئی خطا معاف كر دی جاتی ہے یا اس كا درجہ بلند كر دیا جاتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3253

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ العَبد إِذَا مَرِضَ أَوْحَى اللهُ إِلَى مَلائِكَتهِ: يَا مَلائِكَتِي أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي بِقَيْدٍ مِّنْ قُيُودِي، فَإِنْ أَقبِضهُ، أَغْفِرَ لَهُ، وَإِنْ أُعَافِه فَحِينَئذٍ يَقعُد وَلا ذَنْبَ لَهُ
ابو امامہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بندہ جب بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں كی طرف وحی كرتا ہے: اے میرے فرشتو ! میں نے اپنے بندے كو اپنی ایك قید میں جكڑ دیا ہے۔ اگر میں اسے قبض كر لوں(موت دے دوں) تو میں اسے معاف كر دوں گا، اور اگر اسے صحت دے دوں تو یہ اٹھ كر بیٹھ جائے گا اور اس كا كوئی گناہ باقی نہیں رہے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3254

عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِّنْ قَوْمِهِ قَالَ: طَلَبْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا نَفَرٌ هُوَ فِيهِمْ وَلَا أَعْرِفُهُ وَهُوَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ مَعَهُ بَعْضُهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ (ثَلَاثًا) إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَلْيَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ.
ابو تميمة هجيمیاپنی قوم كے ایك آدمی سے بیان كرتے ہیں كہ اس نے كہا: میں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو تلاش كیا، لیكن آپ مجھے نہیں ملے۔ میں بیٹھ گیا، اچانك میں نے ایك جماعت دیكھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں تھے، لیکن میں آپ كو نہیں پہچانتا تھا۔ آپ ان میں صلح كر وا رہے تھے۔ جب آپ فارغ ہو گئے تو كچھ لوگ آپ كے ساتھ كھڑے ہوئے اور كہنے لگے: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جب میں نے یہ سنا تو كہا: اے اللہ كے رسول ! آپ پر سلام ہو، اے اللہ كے رسول ! آپ پر سلام ہو، اے اللہ كے رسول ! آپ پر سلام ہو، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بے شک (علیک السلام) مردوں کا سلام ہے۔ بے شک (علیک السلام) مردوں کا سلام ہے۔ تین دفعہ فرمایا۔ جب آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو كہے” السلام علیكم ورحمۃ اللہ“ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے اس كا جواب دیا”وعلیك ورحمۃ اللہ ،وعلیك ورحمۃ اللہ و علیک و رحمۃ اللہ“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3255

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ وَإِنَّ اللهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَى وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بڑا اجر ، بڑی مصیبت كے ساتھ ہے، اور اللہ تعالیٰ جب كسی قوم سے محبت كرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا كر دیتا ہے، جو راضی ہوا اس كے لئے اللہ كی رضا ہے، اور جو ناراض ہوا اس كے لئے اللہ كی ناراضگی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3256

عَنْ عَائِشَةَ مرفوعا: إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً فَلَوْ نَجَا أَو سَلم أَحْدٌ مِّنْهَا لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ:قبر ایك مرتبہ سكڑتی ہے، اگر كوئی شخص اس سے سلامت رہتا یا نجات پاتا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہوتے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3257

عَنِ الْعَلَاء بنِ عَبْدِ الرَحمَن، عَن أَبِيه، أَنَّه شَهِد جَنَازَة صَلَّى عَلَيْهَا مَرْوَان بن الْحَكَم، فَذَهَب أبو هُرَيْرَة مَع مَرْوَان حَتَّى جَلَسَا فِي الْمَقْبَرَة فَجَاء أبو سعيد الْخُدْرِيّ، فَقَال لِمَرْوَان: أَرِنِي يَدَك فَأَعْطَاه يَدَه فَقَال: قُم، فَقَام، ثُم قَال مَرْوَان لِأَبِي سَعِيد: لِمَ أَقمتني؟ قَال: كَان رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَأَى جَنَازَة قَام حَتَّى يَمُرّ بِهَا وَقَال: إِن لِلْمَوْت فَزَعًا. فَقَال مَرْوَان: أَصَدق يَا أبا هُرَيْرَة ؟ قال: نَعَم. قال: فَقَال: مَا مَنَعَك أَن تُحَدِّثَنِي؟ قال: كُنت إِمَامًا فَجَلستَ فَجَلستُ.
علاءبن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ وہ ایك جنازے میں شریك ہوئے جس كی نماز مروان بن حكم نے پڑھائی، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مروان كے ساتھ گئے،اور قبرستان میں جا كر بیٹھ گئے۔ ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ آئے اور مروان سے كہا: مجھے اپنا ہاتھ دو، مروان نے اپنا ہاتھ دیا، تو ابو سعید رضی اللہ عنہ نے كہا: كھڑے ہو جایئے۔ مروان كھڑا ہوگیا۔ مروان نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے كہا: تم نے مجھے كیوں اٹھایا؟ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب كوئی جنازہ دیكھتے تو اس وقت تك كھڑے رہتے جب تك وہ گزر نہ جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا موت كی ایك گھبراہٹ ہوتی ہے۔ مروان نے كہا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كیا اس نے سچ كہا؟ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جی ہاں۔ مروان نے كہا: پھر كس بات نے تمہیں روكے ركھا كہ مجھے بتاؤ؟ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: آپ حاكم ہیں، آپ بیٹھ گئے تو میں بھی بیٹھ گیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3258

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنّ الْمُؤْمِن يَنْزِلُ بِه الْمَوْت وَ يعاين مَا يُعاين ، فودَّ لَو خَرجَت-يَعْني نَفسَه- وَ الله يحِبّ لِقَاءَه، و إِن الْمُؤْمِن يُصْعَد بِرُوحِه إلى السَّمَاء، فَتَأتِيه أَرْوَاح الْمُؤْمِنِين فيستخبرونه عن مَّعَارِفِهِم مِّن أَهل الْأَرض، فَإِذَا قال: تَركت فُلَانًا في الدُّنْيَا أَعْجَبَهُم ذَلِك، و إِذَا قال: إِن فُلَانًا قَد مَات، قالوا: ما جِيء بِه إِلَيْنَا. و إِن الْمُؤْمِن يُجْلَس فِي قَبْره فيسأل: مَن ربه؟ فيقول: رَبِّي الله. فَيُقَال: مَنْ نَّبِيّك؟ فيقول: نَبِيِّي مُحَمَد صلی اللہ علیہ وسلم . قَال: فَمَا دِينُك؟ قَال: دِيْنِيَ الْإِسْلَام. فَيفْتَح لَه باب في قَبْره فَيَقُول أَو يُقَال: انْظُر إِلَى مجلسك. ثم يَرَى الْقَبْر، فَكَأَنَّمَا كَانَت رقدة. فَإِذَا كَان عَدُّوا لِلهِ نَزَل بِه الْمَوْت و عَايَن ما عَايَن، فَإِنَّه لَا يحِبّ أَن تَخْرُج رُوحَه أَبَدًا، و الله يَبْغَض لِقَاءَه، فَإِذَا جَلَس في قَبْره أَو أُجْلِس، فَيُقَال لَه: مَن رَبُك؟ فيقول: لَا أدري! فَيُقال: لَا دَرَيْت. فَيُفْتَح لَه بَاب من جَهَنَّم، ثم يُضْرَب ضَرَبَہ تَسْمَع كُل دَابَّة إِلَا الثَّقَلَيْن، ثم يُقَال له: نَم كَمَا يَنَام المنهوش - فَقُلْت لِأَبِي هريرة: مَا المَنْهُوش؟ قال: الَّذِي يَنْهَشُه الدَّوَابُّ وَ الْحَيَاة - ثم يُضيَّق عليه قَبْرُه.
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مومن پر موت اترتی ہے اور وہ (اپنی آخرت کی بہتری کا) مشاہدہ کرتا ہے جو کرتا ہے تو وہ چاہتا ہے كہ اس كی روح نكل جائے اور اللہ تعالیٰ كی ملاقات كو پسند كرتا ہے۔ مومن كی روح کوآسمان پر لے جایا جاتا ہے۔ مومنین كی روحیں اس كے پاس آتی ہیں، اور زمین پر بسنے والے لوگوں كے بارے میں اس سے پوچھتی ہیں۔ جب وہ روح كہتی ہے كہ فلاں كو زمین پر چھوڑ آیا ہوں، تو یہ بات انہیں اچھی لگتی ہے۔ اور جب وہ کہتا ہے کہ: فلاں مر گیا ہے ، تو وہ کہتے ہیں: اسے ہمارے پاس تو نہیں لایا گیا اور مومن كو اس كی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے:اس كا رب كون ہے؟ وہ كہتا ہے:میرا رب اللہ ہے۔اس سے كہا جاتا ہے:تمہارا نبی كون ہے؟ وہ كہتا ہے:میرے نبی محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہیں۔ وہ فرشتہ كہتا ہے: تمہارا دین كونسا ہے؟ وہ كہتا ہے:میرا دین اسلام ہے۔ تب اس كے لئے قبر میں ایك دروازہ كھول دیا جاتا ہے، یا كہا جاتا ہے :اپنے ٹھکانے كی طرف دیكھو وہ قبر دیكھتا ہے تو گویا وہ ایك آرام دہ بستر كی طرح ہوتی ہے۔ لیكن اگر اللہ كا كوئی دشمن ہو اور اس پر موت اترے اور وہ (اپنا برا انجام) دیکھ لیتا ہے تو وہ پسند نہیں كرتا كہ اس كی روح كبھی بھی نكلے ۔ اللہ تعالیٰ بھی اس كی ملاقات كو نا پسند كرتا ہے۔ جب وہ اپنی قبر میں بیٹھتا ہے یا اسے بٹھایا جاتا ہے، تو اس سے كہا جاتا ہے:تیرا رب كون ہے؟ وہ كہتا ہے:مجھے نہیں معلوم اس سے كہا جاتا ہے:تمہیں نہیں معلوم۔ پھر اس كے لئے جہنم كا ایك دروازہ كھول دیا جاتا ہے، پھر اسے ایك ضرب لگائی جاتی ہے،جو جن و انس كے علاوہ ہر جانور كو سنائی دیتی ہے۔ پھر اس سے كہا جاتا ہے:اس طرح سو، جس طرح منهوش سوتا ہے۔ میں نے ابو ہریرہ سے كہا:یہ منهوش كون ہوتا ہے؟ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا:جسے كیڑے مكوڑے اور سانپ ڈسیں ۔ پھر اس كی قبر تنگ كر دی جاتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3259

عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَعُودُهُ فِي نِسَائِه فَإِذَا سِقَاءٌ مُّعَلَّقٌ نَحْوَهُ يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! لَوْ دَعَوْتَ اللهَ فَشَفَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ
ابو عبیدہ بن حذیفہ اپنی پھوپھی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بیان كرتی ہیں كہ انہوں نے كہا: ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آپ كی عیادت كرنے آئے۔ ایك مشكیزہ لٹكا ہوا تھا۔ بخار كی شدت كی وجہ سے آپ پر مشكیزے كا پانی ٹپکایا رہا تھا۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! اگر آپ اللہ سے دعا كرتے تو اللہ تعالیٰ آپ كو شفا دے دیتا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے سخت ترین آزمائش انبیاء علیہم السلام پر آتی ہے۔ پھر ان لوگوں پر جو ان كے قریب ہوتے ہیں، پھر ان لوگوں پر جوان كے قریب ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3260

عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ خَيْر مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ الْحَجْمَ.
) سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لوگ جو بہترین علاج كرتے ہیں وہ سینگی( پچھنے ) لگوانا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3261

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ ابْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدُهُ قَالَ: فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي وَكُنْتُ بَيْنَهُمَا فَإِذَا صَوْتٌ مِّنَ الدَّارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللهِ مُرْسَلَةً قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ فَاعْلَمْ مَّنْ ذَاكَ؟ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَاكَ؟ وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ فَقَالَ: مُرُوهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا فَقُلْتُ إِنَّ مَعَهُ أَهْلُهُ قَالَ: وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ: مَرَّةً فَلْيَلْحَقْ بِنَا فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ فَجَاءَ صُهَيْبٌ فَقَالَ: وَا أَخَاهُ! وَا صَاحِبَاهُ! فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؟ فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً وَأَمَّا عُمَرُ فَقَالَ: بِبَعْضِ بُكَاءِ...فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ عُمَرَ؟ فَقَالَتْ: لَا وَاللهِ! مَا قَالَهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ! وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الْكَافِرَ لَيَزِيدُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا (قَالَت:) وَإِنَّ اللهَ لَهُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى (وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی) (فاطر: ١٨) قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ: إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ.
عبداللہ بن ابی مليكة سےمروی ہے، كہتے ہیں كہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كےپاس تھا۔ہم ام ابان بنت عثمان بن عفان كےجنازے كا انتظاركررہے تھے۔ ان كے پاس عمرو بن عثمان بھی تھے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آئے، انہیں ایک شخص پکڑ کر لا رہا تھا۔ میرے خیال میں اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كی جگہ كے بارے میں بتایا ۔ وہ آئے اور میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ میں ان دونوں كے درمیان بیٹھا تھا اچانك گھر میں سے ایك آواز آئی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے كہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ نے فرمایا: میت كو اس كے گھر والوں كے رونے كی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ (عبداللہ نے ایك قاصد عورت كو بھیجا )،عبداللہ نے یہ حدیث مرسل بیان کی ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: ہم امیر المومنین عمر‌رضی اللہ عنہ كے پاس تھے، جب ہم بیداءمیں پہنچے تو اچانك ایك شخص نمودار ہوا جو درخت كے سائے میں آرام كی غرض سے آیا تھا۔ آپ نے مجھ سے كہا: جاؤ، معلوم كرو یہ كون ہے؟ میں گیا تو دیكھا كہ صہیب‌رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں واپس آیا اور كہا: آپ نے مجھے حكم دیا تھا كہ معلوم كر كے آؤ یہ كون ہے؟ وہ صہیب تھے۔ عمر نے كہا: اس سے كہو ہمارے ساتھ شامل ہو جائے۔ میں نے كہا: اس كے ساتھ اس كے گھر والے ہوں تب بھی ۔ عمر نے كہا: اگرچہ اس كے ساتھ اس كے گھر والے ہیں۔ جب ہم مدینے پہنچے تو كچھ ہی دن گزرے تھے كہ امیر المومنین كو پر قاتلانہ حملہ کردیا گیا۔ صہیب آئے اور كہنے لگے: ہائے میرا بھائی ،ہائے میرا دوست ۔ عمر نے كہا: كیا تمہیں نہیں معلوم؟ یا تم نے نہیں سنا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میت كو اس كے گھر والوں كے رونے كی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے؟ عبداللہ نے ایك قاصد عورت بھیجی جب كہ عمر‌رضی اللہ عنہ نےیہ اضافہ کیا كہ(بعض کے رونے کی وجہ سے)میں عائشہ رضی اللہ عنہا كے پاس آیا اور ان كے سامنے عمر‌رضی اللہ عنہ كا قول ذكر كیا تو كہنے لگیں: نہیں، اللہ كی قسم ! اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے تو یہ نہیں كہا، كہ میت كو كسی كے رونے كی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ لیكن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كافر كو اللہ عزوجل اس كے گھر والوں كے رونے كی وجہ سے عذاب میں زیادہ كرتا ہے(اور كہتی ہیں كہ) اللہ ہی ہے جو ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔ (وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی) اور كوئی بوجھ اٹھانے والا كسی دوسرے كا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔(فاطر:٨١) جب عائشہ رضی اللہ عنہا تك عمر اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كی یہ بات پہنچی تو كہنے لگیں، تم كوئی جھوٹے لوگوں سے بیان نہیں كررہے، لیكن سماعت خطا كرتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3262

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِىَّ صلی اللہ علیہ وسلم : صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ بَعْدَ مَوْتِهِ بِثَلاَثٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے میت كے مرنے كے تین دن بعد اس پر نمازہ جنازہ پڑھی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3263

عَنْ زَيْدِ بْن ثَابِتٍ قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ شَك الْجُرَيْرِيُّ فَقَالَ: مَنْ يَّعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُّسْمِعَكُمْ مِّنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ قَالَ زَيد: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ فَقَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُـوا: نَعُـوذُ بِاللهِ مِـنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ: تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا: نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ.
زید بن ثا بت رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے خچر پر بنی نجار كے ایك باغ میں تھے۔ ہم بھی آپ كے ساتھ تھے۔ اچانك خچر بدك گیا، قریب تھا كہ آپ كو گرا دیتا ۔ چھ پانچ یا چار قبریں تھیں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ان قبر والوں كو كون جانتا ہے؟ ایك آدمی نے كہا: میں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ كب فوت ہوئے؟ اس نے كہا: زمانہ شرك میں۔ آپ نے فرمایا: یہ امت اپنی قبروں میں آزمائی جائے گی، اگرمجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مردے دفن نہ كروگے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا كرتا كہ تمہیں بھی وہ عذاب قبر سنائے جو میں سن رہا ہوں۔ زید نے كہا: پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہو گئے اور كہنے لگے: آگ كے عذاب سے اللہ كی پناہ مانگو۔ صحابہ كہنے لگے: ہم آگ كے عذاب سے اللہ كی پناہ میں آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: قبر كے عذاب سے اللہ كی پناہ مانگو،صحابہ نے كہا: ہم قبر كے عذاب سے اللہ كی پناہ میں آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ كی پناہ مانگو۔صحابہ نے كہا:ہم ظاہر ی اور باطنی فتنوں سے اللہ كی پناہ میں آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال كے فتنے سے اللہ كی پناہ مانگو۔ صحابہ نے كہا: ہم دجال كے فتنے سے اللہ كی پناہ میں آتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3264

عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِّنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: یہ سیاہ دانہ(كلونجی) موت كے سوا ہر بیماری سے شفا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3265

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ يُوعَكُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَوَجَدْتُّ حَرَّهُ بَيْنَ يَدَيَّ فَوْقَ اللِّحَافِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا أَشَدَّهَا عَلَيْكَ قَالَ: إِنَّا كَذَلِكَ يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلَاءُ وَيُضَعَّفُ لَنَا الْأَجْرُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ إِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُهُمْ إِلَّا الْعَبَاءَةَ التِي يُحَوِّيهَا وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيَفْرَحُ بِالْبَلَاءِ كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالرَّخَاء
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا۔ آپ بخار میں تپ رہے تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ پر ركھا،تو لحاف كے اوپر سے بخار كی حرارت محسوس كی۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ! یہ كتنا شدید ہے۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہمیں تكلیف بھی دو گنی دی جاتی ہے اور اجر بھی دوگنا دیا جاتا ہے۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائشیں كس پر آتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام پر، پھر نیك لوگوں پر، كسی كو محتاجی میں آزمایا جاتا ہے حتی كہ اس كے پاس صرف وہ چادر بچتی ہے جو اسے ڈھانپتی ہے، اور وہ آزمائش میں اتنا خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے كوئی بھی شخص خوشحالی میں مسرور ہوتاہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3266

عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: انْزِلْ عَنِ الْقَبْرِ لَا تُؤْذِ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ.
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے ایك قبر پر دیكھا تو فرمایا: قبر سے اتر جاؤ، اس قبر والے كو اذیت نہ دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3267

عَنْ مَحْمُودِ بن لَبِيد قَالَ: انْكَسَفَت الشَّمْس يَوم مَات إِبْرَاهِيم ابن رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ... ودمعت عَيْنَاه فقالوا: يَا رَسُول الله تَبْكِي وأَنَت رَسُول الله؟ قَال: إِنَّمَا أَنا بَشَر، تَدْمَع الْعَيْن ويَخْشَع الْقَلْب ولَا نَقُول ما يَسْخَط الرَّبّ، وَالله يَا إِبْرَاهِيم إِنَّا بِك لَمَحْزُونُون.
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ جب ابراہیم بن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فوت ہوئے تو سورج گرہن ہو گیا۔۔۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی آنكھیں بہنے لگیں۔ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ! آپ رو رہے ہیں، حالانكہ آپ اللہ كے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بشر ہوں، آنكھ روتی ہے، دل ڈرتا ہے ہم وہ بات نہیں كہیں گے كہ ہمارا رب ناراض ہو جائے۔ اللہ كی قسم اے ابراہیم ہم تمہاری وجہ سے غمگین ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3268

عَنْ عَبدِ الرحمن بن أَزْهَر، أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّمَا مثل الْعَبْد الْمُؤْمِن حِين يُصِيبَه الْوَعَك، أَو الْحُمَّى كَمثل حَدِيدَة تُدْخل النَّار فَيَذْهَب خَبَثُهَا وَيَبْقَى طَيِّبُهَا.
عبدالرحمن بن ازھر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مومن بندے كی مثال جب اسے بخار ہوتا ہے، اس لوہے كی طرح ہے جو آگ میں ڈالا جاتا ہے تو اس كا میل ختم ہو جاتا ہے اور صاف ستھرا باقی رہتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3269

عَنْ أَبِي بُردَة عَن بَعْض أَزْوَاج النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَيحسبها عَائِشَة قَالَت: مَرِض رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرَضًا اشْتَدّ مِنْه ضجره أَو وَجَعَه ، قَالَت: فَقُلْت: يَا رَسُول الله إِنَّك لتجزع أَوتضجر، لَو فَعَلته امْرَأَة منا عَجبت مِنها، قال: أَومَا عَلِمْتِ أَن الْمُؤْمِن يُشَدَّد عليه ليَكُون كَفَّارَة لخطاياه.
ابو بردہ رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی كسی بیوی غالبا عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیمار ہو گئے حتی كہ جب آپ كی بیماری بڑھ گئی اور شدید مضطرب ہوگئے تو میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ! آپ گھبراہٹ کا شکار اور بے چین ہیں۔ اگر ہم میں سے كوئی عورت اس طرح كرتی تو آپ اس پر تعجب كرتے۔ آپ نے فرمایا: كیا تمہیں نہیں معلوم كہ مومن پر اس لئے سختی كی جاتی ہے تاكہ یہ اس كی خطاؤں كا كفارہ بن جائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3270

عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: لرَسُول اللهِ! أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ:فَقَال: الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ (وفي رواية: قدر) دِينِهِ فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ.
مصعب بن سعد اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كہا: لوگوں میں كس شخص پر سب سے زیادہ سختی آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: انبیاءپر ،پھر ان كے قریب ،پھر ان كے قریب آدمی كو اس كے دین كے بقدرآزمایا جاتا ہے۔ اگر اس كا دین مضبوط ہو تو اس كی آزمائش بھی شدید ہوگی۔ اگر اس كے دین میں كوئی نرمی ہو تو اسے اپنے دین كے بقدر آزمائش دی جائے گی۔ بندے پر ہمیشہ كوئی نہ كوئی آزمائش رہتی ہے حتی كہ اسے اس حال میں چھوڑتی ہے كہ وہ زمین پر چلتا ہے لیكن اس كا كوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3271

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَرْسَلْتُ بَرِيرَةَ فِي أَثَرِهِ لِتَنْظُرَ أَيْنَ ذَهَبَ قَالَتْ: فَسَلَكَ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَوَقَفَ فِي أَدْنَى الْبَقِيعِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَرَجَعَتْ إِلَيَّ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي فَلَمَّا أَصْبَحْتُ سَأَلْتُهُ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَيْنَ خَرَجْتَ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ ایك رات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہر نكلے، میں نے بریرہ كو آپ كے پیچھے بھیجا تاكہ دیكھے کہ آپ كہاں جا رہےہیں۔ آپ بقیع الغرقد كی طرف گئے، اور بقیع كے ایك طرف كھڑے ہوگئے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر واپس لوٹ آئے۔ بریرہ میرے پاس آئی اور مجھے بتایا جب صبح ہوئی تو میں نے آپ سے پوچھا۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول آج رات آپ كہاں گئے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: مجھے اہل بقیع كی طرف بھیجا گیا تھا تاكہ میں ان كے لئے دعا كروں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3272

عَنْ عَامِرِ بن سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ، فَأَيْنَ هُوَ؟، قَالَ: فِي النَّارِ، فَكَأنَّ الأَعْرَابِيَّ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! فَأَيْنَ أَبُوكَ؟، قَالَ: حَيْثُ مَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ، قَالَ: فَأَسْلَمَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، فَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ.
عامر بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں، كہتے ہیں كہ ایك بدو نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: میرا والد صلہ رحمی كرتا تھا، اور یہ كرتا تھا، وہ كرتا تھا۔ وہ كہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ میں۔ اعرابی كو غصہ آگیا۔ اس نے كہا: آپ كا باپ كہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم كسی كافر كی قبر كے پاس سے گزرو تو اسے آگ كی خوشخبری دو، وہ اعرابی اس كے بعد مسلمان ہو گیا، اور كہتا تھا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایك مشكل كام مجھے سونپ دیا ہے۔ میں جس كافر كی قبر كے پاس سے گزرتا ہوں اسے آگ كی خوشخبری دیتا ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3273

عَنْ عُثْمَان بْن عَفَان مَرفُوعاً: الحُمَّى حَظّ الْمُؤْمِن مِن النَّار يَوم القِيَامَة. ( )
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مؤمن کے لئے بخار قیامت کے دن آگ کے حصے کا بدلہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3274

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مرفوعا: الْحُمَّى كِيرٌ مِّنْ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ. ( )
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:بخار جہنم كی بھٹی ہے اس میں سے مومن كو جتنا بخار ہوتا ہے وہ آگ میں سے اس كا حصہ ہے(جو اسے دنیا میں مل جاتا ہے اور آخرت میں وہ محفوظ ہوجاتا ہے)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3275

عن أبي سعيد الخدري مرفوعا: خَمْس من عملهن في يَوم كَتَبَه الله مِن أَهل الْجَنَّة: مَن عَاد مَرِيضًا، وَشَهِد جَنَازَة ، وَصَام يَوْمًا ، وَرَاح يَوم الْجُمعَة ، وَأَعْتَق رَقَبَة.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: پانچ اعمال ایسے ہیں جس شخص نے یہ اعمال ایك دن میں كئے اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت میں سے لكھ دیں گے۔ جس شخص نے مریض كی عیادت كی، جنازے میں شریك ہوا، اس دن روزہ ركھا ،جمعہ کے دن خوشی خوشی نماز کے لئے گیااور ایك غلام آزادكیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3276

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَخْلًا لِّبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رِجَالٍ مِّنْ بَنِي النَّجَّارِ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَزِعًا فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ تَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
جابر بن عبدالل رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بنو نجار كے كھجور كے باغ میں داخل ہوئے، تو بنی نجار كے ان آدمیوں كی آوازیں سنیں جوجاہلیت میں مر گئے تھے۔ انہیں ان كی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌گھبرا كر باہر نكل آئے۔ اور اپنے صحابہ كو حكم دیا كہ وہ عذاب قبر سے پناہ مانگیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3277

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ قَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا؟ فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: دَعُوا لِي أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِّثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا مَّا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ:خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما كے درمیان تلخ كلامی ہوگئی۔خالد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے كہا: تم اپنےسبقت والے دنوں كی وجہ سے ہمارے بڑے بن رہے ہو؟ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بات كا تذكرہ كیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خاطر میرے صحابہ کو اور مجھے (ہمارے حال پر) چھوڑ دو اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد كے برابر یا پہاڑوں كے برابر سونا خرچ كرو تب بھی تم ان كے اعمال تك نہیں پہنچ سكتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3278

عن عبدالله بن محمد -يعني ابن عمر- عن أبيه مرسلاً: رَشَّ على قَبْرِ ابنِهِ إبراهيمَ (الماء).
عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب اپنے والد سے مرسلاً بیان كرتے ہیں كہ: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے بیٹے ابراہیم كی قبر پر( پانی) چھڑ كا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3279

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعا:الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْشَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْكَيَّةٍ بِنَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: تین چیزوں میں شفا ہے۔ سینگی لگانے والے كی سینگی میں، یا شہد كے گھونٹ میں یاآگ سے داغنے میں اور میں اپنی امت كو داغنے سے منع كرتا ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3280

عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: صَوتَانِ مَلْعُونَان ، صَوْتُ مِزْمَار عِنْد نِعمَةٍ ، وَ صَوت وَيْلٍ عِنْد مُصِيْبَة. ( )
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: دو آوازیں ملعون ہیں۔ خوشی كے وقت ساز كی آواز اور مصیبت كے وقت نوحے كی آواز۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3281

عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَاعِدٌ مَّعَ أَصْحَابِهِ إِذْ ضَحِكَ فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: عَجِبْتُ لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ إِنْ أَصَابَهُ مَا يُحِبُّ حَمِدَ اللهَ وَكَانَ لَهُ خَيْرٌ وَإِنْ أَصَابَهُ مَا يَكْرَهُ فَصَبَرَ كَانَ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ أَمْرُهُ كُلُّهُ لَهُ خَيْرٌ إِلَّا الْمُؤْمِنُ.
صہیب رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے صحابہ كے ساتھ بیٹھے تھے۔ اچانك مسكرا دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تم پوچھو گے نہیں كہ میں كیوں مسكرایا؟ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ كس وجہ سے مسكرائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مومن كے معاملے سے خوش ہوا۔ اس كا سارے كا سارا معاملہ بھلائی ہے۔ اس كی پسندیدہ چیز اسے مل جائے تو اللہ كا شكر كرتا ہے، اور یہ اس كے لئے بہتر ہے۔ اگر نا پسندیدہ چیز سے اس كا سامنا ہو جائے تو صبر كرتاہے، اور یہ اس كے لئے بہتر ہے۔ مومن كے علاوہ كوئی بھی شخص ایسا نہیں جس كا سارے كا سارا معاملہ بھلائی ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3282

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : عَجَبًا لِّلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللهُ لَهُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَّهُ. ( )
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مومن (کا معاملہ) عجیب ہے ، اللہ تعالیٰ اس كے لئے جس چیز كا فیصلہ كرتا ہے اس كے لئے وہ بہتر معاملہ ہوتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3283

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ تَعَالَى: إِذَا ابْتَلَيْت عَبْدِي الْمُؤْمِن، وَلَم يشكني إلى عوَّاده أَطلقته من أساري، ثم أبدلته لَحْمًا خَيْرًا من لَحْمه، وَدَمًا خَيْرًا من دَمه، ثم يَسْتَأْنِف الْعَمَل.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے مومن بندے كو آزماتا ہوں اپنی عبادت کرنے والوں سے میرا شکوہ نہیں كرتا تو میں اسے اپنے قیدیوں سے آزاد كردیتا ہوں۔ پھر اس كے گوشت كو بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں، اس كے خون كو بہتر خون سے بدل دیتا ہوں، پھر وہ نئے سرے سے عمل كرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3284

عَن العِربَاضِ بن سَارِيَة مَرفُوعاً: قَالَ اللهُ تَعَالَى: إِذَا قَبَضْتُ مِنْ عَبْدِي كَرِيْمَتَه -وَهُوَ بِهَا ضَنِين - لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ ، إِذَا حَمِدَنِي عَلَيْهَا
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے سے اس كی دو محبوب چیزیں چھین لیتا ہوں حالانكہ وہ اسے انتہائی پسند كرتا ہے اور وہ اس معاملے پر میری تعریف كرتا ہے تو میں اس کے لئے جنت كے علاوہ كسی اور ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3285

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة عَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ تَبَارَك وَ تَعَالَى لِلنَّفْسِ: اخْرُجِي، قَالَت: لَا أَخْرج إِلَا وأَنا كَارِهَة، (قال: اخْرُجِي و إِن كَرِهتِ).
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ:نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ تبارك وتعالیٰ روح كے لئے فرماتا ہے: نكل، روح كہتی ہے: میں اس معاملے كو نا پسند كرتے ہوئے ہی نكلوں گی(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نكل، اگرچہ تجھے نا پسند ہی كیوں نہ ہو۔)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3286

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِجَنَازَةٍ فَقَامَ وَقَالَ: قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے ایك جنازہ گزرا تو آپ كھڑے ہو گئے اور فرمایا: كھڑے ہو جاؤ، كیوں كہ موت كے لئے ایك گھبراہٹ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3287

عَنْ سَلْمَى امْرَأة أَبِي رَافِعٍ:كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ رَأْسَهُ، قَالَ: اذْهَبْ فَاحْتَجِمْ ، وَإِذَا اشْتَكَى رِجْلَهُ، قَالَ: اذْهَبْ فَاخْضِبْهَا بِالْحِنَّاءِ
سلمی رضی اللہ عنہا ابو رافع رضی اللہ عنہ كی بیوی سے مروی ہے كہ: جب كسی كے سر میں درد ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس سے كہتے: جا ؤ اور سینگی لگواؤ، اور جب کسی كی ٹانگ میں درد ہوتا تو اس سے كہتے: جاؤ اور اسے مہندی سے رنگ دو(مہندی لگاؤ)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3288

عَنْ عَائِشَةَ مرفوعا: كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: بِاسْمِ اللهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ كو (ان الفاظ سے) دم كرتے: اللہ كے نام كےساتھ، جو آپ كو ہر بیماری سے شفا دے، ہر حسد كرنے والے كے شر سے ،جب وہ حسد كرے اور ہر نظر لگانے والے كے شر سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3289

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ (اللهم رَبَّ النَّاسِ) أَذْهِبِ الْبَاسَ وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَلَمَّا ثَقُلَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ (بِهَا) وَأَقُولُهَا فَنَزَعَ يَدَهُ مِن يَدِي وَقَالَ: اللهم اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعلَى. قَالَتْ: فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
ائشہكہتی ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان كلمات كے ساتھ پناہ مانگا كرتے تھے:( اے اللہ! لوگوں كے رب!) بیماری كو دور كردے، اور شفا دے دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا كے علاوہ كوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری نہ چھوڑے، جب آپ اپنے مرض الموت میں بوجھل ہوگئے۔ تو میں نے آپ كا ہاتھ پكڑ كر آپ كے جسم پر پھیرا ، اور یہی كلمات كہے،آپ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا كر كہا: اے اللہ مجھے بخش دے ، اور مجھے رفیق اعلیٰ سے ملادے، عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ یہ آخری كلام تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3290

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ (علاقة بن صَحَّار) أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَارْقِ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ فَأَتَوْهُ بِرَجُلٍ مَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَرَقَاهُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا فَأَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرَهُ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ.
خارجہ بن صلت رحمۃ اللہ علیہ اپنے چچا(علاقہ بن صحار)سے بیان كرتے ہیں كہ وہ ایك قوم كے پاس سے گزرے، تو وہ ان كے پاس آئے اور كہنے لگے: تم اس آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) كے پاس سے خیر لے كر آئے ہو۔ اس آدمی کو دم کرو، وہ اس آدمی كو لے كر آئے۔ جو بیڑیوں میں جكڑا ہوا تھا۔ علاقہ بن صحار نے اس آدمی كو تین دن صبح وشام دم كیا۔ جب بھی وہ دم ختم كرتے تو تھوك جمع كرتے، پھر اس پر تھوك پھینكتے۔ اس طرح محسوس ہوتا گویا وہ رسیوں میں سے كھل رہا ہے۔ انہوں نے اسے كچھ دیا، وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور آپ سے اس كا تذكرہ كیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كھاؤ كتنے ہی لوگ جھوٹے دم كے ذریعے كھاتے ہیں، تم تو سچے دم كے ساتھ كھا رہے ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3291

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِنتاً لَهُ تَقْضِي فَاحْتَضَنَهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ فَمَاتَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقِيلَ: أَتَبْكِي عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَتْ: أَلَسْتُ أَرَاكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: لَسْتُ أَبْكِي إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ: نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان كی بیٹی كو لیا جو موت كے قریب تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گود میں لیااور آپ نے اسےاپنے سینے سے لگایا، وہ آپ كی گود میں ہی فوت ہوگئی، ام ایمن رضی اللہ عنہا كی چیخ نكل گئی، ان سے كہا گیا: كیا تم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس رو رہی ہو؟ وہ كہنے لگی:اے اللہ كے رسول ! كیا میں آپ كو روتا نہیں دیكھ رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے، مومن تو ہر حال میں بھلائی میں ہوتا ہے، روح پہلو میں سے نكلتی ہے تب بھی وہ اللہ كی حمد كرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3292

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے چہرہ نوچنے والی پر لعنت كی، گریبان پھاڑنے والی پر، اور ہلاكت كی دعا كرنےوالی پر لعنت كی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3293

عَنْ عَائِشَة أَنَّ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَعَنَ الْمُخْتَفِيَ وَالْمُخْتَفِيَةَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےکفن چور مرد اور عورت پر لعنت فرمائی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3294

عَنْ عَبْدِ اللهِ، رَفَعَهُ، قَالَ:لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لا إِلَهَ إِلا اللهُ، فَإِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَنَفَسَ الْكَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ شِدْقِهِ، كَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں كو”لااله الااللہ“كی تلقین كرو، كیوں كہ مومن كی روح پسینے کاقطرہ ٹپکنے کی طرح نرمی سے نكل جاتی ہے۔ جب كہ كافر كا سانس اس كی باچھوں سے نكلتا ہے۔ جس طرح گدھے كا سانس نكلتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3295

عَنِ الْبَرَاءِ بن عَازِبٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رضی اللہ عنہما ، أَنَّ صَبِيًّا دُفِنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ أَفْلَتَ أَحَدٌ مِّنْ ضَمَّةِ الْقَبْرِ لأَفْلَتَ هَذَا الصَّبِيُّ.
براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں كہ ایك بچہ دفن كیا گیا تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر قبر كے دباؤ سےكوئی بچتا تو یہ بچہ بچتا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3296

عَنْ أَنسٍ عَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حَدِيث الرَّهْط الْعُرَنِيِّين الَّذِين قَدَمُوا عليه الْمَدِينَة فَاجْتَوَوْهَا، فقال: لَو خَرَجْتُم إلى إِبِلِنَا فأصبتم مِّن أَبْوَالهَا وأَلْبَانهَا فَفَعَلُوا فَصَحوا فَمَالُوا عَلَى الرِّعَاء فَقَتَلُوهُم واسْتَاقُوا الْإِبِل وارْتَدُّوا عن الْإِسْلَام، فَأَرْسَل النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم فِي آثَارهُم، فَأُتِي بِهم، فَقَطَّع أَيْدِيَهُم وأَرْجُلَهُم وسَمَل أَعْيُنَهُم وتَرَكُوا بِالْحَرَّة حَتَّى مَاتُوا.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے عرنیین (قبیلہ عرینہ کے لوگ) لوگوں كے قصے كے بارے میں بیان کر رہے تھے، جو مدینے آئے تو انہیں مدینے كی ہواموافق نہ آئی۔ اور ان كے پیٹ پھول گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں كی طرف چلے جاؤ اور ان كا دودھ اور پیشاب پیو تو تم ٹھیك ہو جاؤ گے۔ انہوں نے ایسا ہی كیا اور صحیح ہو گئے، اس كے بعد چرواہوں پر حملہ كر كے انہیں قتل كر دیا، اونٹ ہانك كر لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہو گئے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان كے پیچھے لوگ بھیجے، انہیں پکڑ کرلایا گیا، آپ نے ان كے ہاتھ پاؤں كاٹ دیئے اور ان كی آنكھوں میں گرم سلائیاں پھیریں اور مرنے تك حرہ(سخت پتھریلی آتش فشانی زمین) میں چھوڑ دیا۔(
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3297

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرَّ بِنَخْلٍ لِّبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: قَبْرُ رَجُلٍ دُفِنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَوْلَا أَنْ لَّا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُّسْمِعَكُمْ (مِّن) عَذَاب الْقَبْرِ مَا أَسْمَعَنِي. ( )
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بنو نجار كے ایك باغ كے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك آواز سنی تو فرمایا: یہ كیاہے؟ لوگوں نے كہا: ایك آدمی كی قبر ہے جسے جاہلیت میں دفن كیا گیا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر مجھے ڈر نہ ہوتا كہ تم مردوں كو دفن كرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا كرتا كہ تمہیں قبر كا عذاب سنائےجو اللہ تعالیٰ نے مجھے سنایا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3298

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمرٍو يَرْفَعُه: لَو لَا مَا مَسّهُ مِن أَنْجَاسِ الجَاهِليَة ؛ مَا مَسّه ذُو عَاهَة إِلَا شُفي، وَمَا عَلى الأَرْضِ شيء مِّن الجَنّة غيره.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر اس (حجر اسود) کو جاہلیت کی نجاستوں نے نہ چھوا ہوتا تو كوئی بھی بیماری والا اسے چھوتا تو شفایاب ہو جاتا، اور روئے زمین پر اس پتھر كے علاوہ جنت کی كوئی چیز نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3299

عَنْ عُقْبَةَ بْن عَامِرٍ الجُهنِي مَرفُوعاً: لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبَّنَا! عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ حَبَسْتَهُ فَيَقُولُ الرَّبُّ: اخْتِمُوا لَهُ عَلَى مِثْلِ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: دن كا جو بھی عمل ہوگا، اس پر خاتمہ ہوگا جب مومن بیمار ہوجاتا ہے تو فرشتے كہتے ہیں: اےہمارے رب ! تیرا فلاں بندہ، تو نے اسے روك لیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس كے عمل پر اس كا خاتمہ كرو، جب تك یہ تندرست نہ ہوجائے یا مرنہ جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3300

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مرفوعا: ليَودّن أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ جُلُودَهُمْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِمّا يَرون مِن ثَوَاب أَهْلِ الْبَلَاءِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: عافیت والے قیامت كے دن جب وہ آزمائش والوں كا ثواب دیكھیں گے تویہ خواہش كریں گے كہ ان كی كھال قینچیوں سے كاٹ دی جاتی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3301

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: دَخلتُ عَلَى أُم عبد الله بنت أَبِي ذُبَاب عَائِدًا لَهَا من شَكْوٰى فَقَالَت: يَا أبا هُرَيْرَة ! إِنِّي دَخَلتُ عَلَى أَم سَلمْة أعودها من شَكْوًى، فَنَظَرَت إلى قَرْحَة في يَدِي فَقَالَت: سَمِعت رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول: مَا ابْتَلَى الله عَبْدًا بِبَلَاء وَّهُو عَلَى طَرِيقَة يَكْرَهُهَا، إِلَا جَعَل الله ذَلِك الْبَلَاء لَه كَفَّارَة وطَهُورًا، ما لَم يَنزل ما أَصَابَه من الْبَلَاء بِغَيْر الله، أَو يَدْعُو غَيْر الله في كَشَفِه.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں ام عبداللہ بنت ا بی ذباب كے پاس ان كی بیماری میں عیادت كرنے آیا، انہوں نے كہا: ابو ہریرہ! میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا كے پاس ان كی بیماری میں عیادت كرنے گئی، انہوں نے میرے ہاتھ میں زخم یا پھوڑا دیکھا، كہنے لگیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ كسی بندے كو اس كی نا پسندیدہ آزمائش میں مبتلا كرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس آزمائش كو اس كے لئے كفارہ اور پاكیزگی كا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ جب تك وہ اپنی اس آزمائش میں اللہ كے علاوہ كسی كے پاس نہیں جاتا یا اسے ٹھیك كرنے میں اللہ كے علاوہ كسی اور كو نہیں پكارتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3302

عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: هَلَكَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لِي: يَا كُرَيْبُ! قُمْ فَانْظُرْ هَلِ اجْتَمَعَ لِابْنِي أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ: وَيْحَكَ كَمْ تَرَاهُمْ... أَرْبَعِينَ؟ قُلْتُ: لَا بَلْ أَكْثَرُ قَالَ: فَاخْرُجُوا بِابْنِي فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنْ أَرْبَعِينَ مِنْ مُّؤْمِنٍ يَّشْفَعُونَ لِمُؤْمِنٍ إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيْه.
كریب مولیٰ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: انہوں نے كہا كہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كا ایك بیٹا فوت ہوگیا، تو انہوں نے مجھ سے كہا:اےكریب كھڑے ہو كر دیكھو كیا میرے بیٹے كے لئے كوئی جمع ہوا ہے؟ میں نے كہا: جی ہاں، انہوں نے كہا: تو برباد ہو، كتنے لوگ ہیں۔۔۔ كیا چالیس ہیں؟ میں نے كہا: نہیں زیادہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: میرے بیٹے كو باہر نكالو، میں گواہی دیتا ہوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: چالیس مومن اگر كسی مومن كی سفارش كریں تو اللہ تعالیٰ ان كی سفارش قبول كرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3303

عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنْ شَيْءٍ يُّصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ.
معاویہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: مومن كو اس كے جسم میں تكلیف دینے والی كوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس كے بدلے اس كے گناہ مٹا دیتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3304

عن أبي أمامۃ مرفوعا: ما من عبد یصرع صرعۃ من مرض إلا بعثہ اﷲ منھا طاھرًا۔
ابو امامہ رضی اﷲ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اگر کوئی بندہ کسی مرض میں مر جاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اسے اس سے تندرست حالت میں اٹھائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3305

عن محمد بن عمرو بن حزم عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أنّہ قال: ما من مؤمن یعزي أخاہ بمصیبۃ إلا کساہ اللہ سبحانہ من حلل الکرامۃ یوم القیامۃ۔
محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو كوئی مومن كسی مصیبت میں اپنے مومن بھائی كو تسلی(مدد) دیتا ہے اس سے تعزیت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت كے دن اسے عزت كا لباس پہنائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3306

عَنْ أَبِي ذَرٍّ مرفوعا: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِّنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ وَمَا مِنْ مُّسْلِمٍ يُّنْفِقُ مِنْ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا ابْتَدَرَهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ (كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا قِبَله).
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس مسلمان والدین كے تین بچے فوت ہو گئے جو بلوغت كو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اپنی رحمت كی وجہ سے انہیں جنت میں داخل كرے گا، اور جو مسلمان اللہ كے راستے میں اپنے مال كی دو عمدہ چیزیں(جوڑی) خرچ كرتا ہے تو جنت كے داروغے اسے اپنی طرف جلدی جلدی بلاتے ہیں( ہر ایك اسے اپنے سامنے کی نعمتوں کی طرف بلائے گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3307

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّى يَلْقَى اللهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : مومن مرد اور مومن عورت كے جسم، اولاد، اور مال میں آزمائش ہوتی رہتی ہے، حتی كہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات كرے گا تو اس پر كوئی گناہ نہیں ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3308

عن النّعْمَان بن بَشِير قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : مَثل الْمُؤْمِن ومَثل الْمَوْت، كَمَثل رَجُل لَه ثَلَاثَة أَخِلَّاء، أَحدهُم مَالُه، قال: خُذ مَا شِئْت، وَقَال الْآخَر: أَنا مَعَك فَإِذَا مُتّ أنزلتك. وَقَال الْآخَر: أَنا مَعَك وأَخرج مَعَك، فأحدهم مَالَه والْآخَر أَهله ووَلَدَه والْآخَر عَمَله.
نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مومن اور موت كی مثال اس آدمی كی طرح ہے جس كے تین دوست ہیں، ایك مال ہے، اس نے كہا: جتنا چاہو لے لو، دوسرے نے كہا: میں تمہارے ساتھ ہوں جب تم مر جاؤ گے تو قبر میں اتار دوں گا۔ اور تیسرے نے كہا: میں تمہارے ساتھ ہوں، اور تمہارے ساتھ ہی نکلوں گا۔ پہلا دوست مال ہے ، دوسرا دوست اس كے بیوی بچے ہیں، اور تیسرا دوست اس كا عمل ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3309

عَنْ عُقْبَةَ بْن عَامِرٍ الجُهنِي مرفوعا: مَنْ أَثْكَلَ ثَلَاثَةً مِّنْ صُلْبِهِ فَاحْتَسَبَهُمْ عَلَى اللهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص کے تین بیٹے فوت ہوگئے اور اس نے نے اپنے تین بچوں كے مرنے پر اللہ سے ثواب كی امید ركھی، اس كے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3310

عَنْ أَنَسٍ مرفوعا: مَنِ احْتَسَبَ ثَلَاثَةً مِّنْ صُلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَوِ اثْنَانِ؟ قَالَ: أَوِ اثْنَانِ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے اپنے تین بچوں كے مرنے پر ثواب كی امید ركھی ، وہ جنت میں داخل ہوگا، ایك عورت نے كہا: اگر دو ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تب بھی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3311

عن ابن عباس مرفوعا : مَن بَات وَفِي يَده غَمَر، فَأَصَابَه شَيْء فَلَا يَلُومَنَّ إِلَا نَفسَه .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ : جس اس طرح رات گزاری کہ اس کے ہاتھ میں گوشت یا چکناہٹ کی بو تھی، پھر اسے كسی جانور نےكاٹ لیا تو وہ اپنے آپ كو ملامت كرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3312

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: مَنْ صَلَّى عَلَى جنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص نے مسجد میں كسی جنازے كی نماز پڑھی، اس کے لئے کو (اجر) نہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3313

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مرفوعا: مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا، فَسَتَرَهُ سَتَرَهُ اللهُ مِنَ الذُّنُوبِ، وَمَنْ كَفَّنَ مُسْلِماً كَسَاهُ اللهُ مِنَ السُّنْدُسِ.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص نے میت كو غسل دیا اور اس کی پردہ پوشی کی تو، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں پر پردہ ڈالے گا۔ اور جس شخص نے كسی مسلمان كو كفن دیا اللہ تعالیٰ اسے ( قیامت كے دن) سندس(ریشم) پہنائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3314

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ مَّاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللهُ عَلَيْهِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو شخص كسی عمل پر مرا اسی عمل پر اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3315