AL SILSILA SAHIHA

Search Results(1)

26)

26) خوبیوں اور خامیوں کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3330

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت كے دن میں جنت كے دروازے پر آكر دروازہ كھٹكھٹاؤں گا۔ پہرے دار كہے گا: آپ كون ہیں؟ میں كہوں گا: محمد۔ وہ كہے گا: مجھے آپ كے بارے میں كہا گیا تھا كہ میں آپ سے پہلے كسی كے لئے دروازہ نہ كھولوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3331

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَّهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْيَتِيمَةَ فَقَالَ: آنْتِ هِيَهْ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكِ فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ قَالَتِ الْجَارِيَةُ: دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ لَّا يَكْبَرَ سِنِّي أَوْ قَالَتْ: قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لَهَا: رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي؟ قَالَ: وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَّا يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُّ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَّيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَّجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَّزَكَاةً وَّقُرْبَةً يُّقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، كہتے ہیں كہ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا كے پاس ایك یتیم لڑكی تھی ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ نے اس یتیم لڑكی كو دیكھا تو فرمایا: كیا تم وہی ہو؟ تم تو بڑی ہو گئی ہو۔ تمہاری عمر لمبی نہ ہو۔ وہ یتیم لڑكی ام سلیم رضی اللہ عنہا كی طرف روتی ہوئی آئی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہانے كہا: بیٹی كیا ہوا؟ اس بچی نے كہا: اللہ كے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے بددعا دی ہے كہ میری عمر یا کہا کہ: میرا زمانہ لمبا نہ ہو۔ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنی چادر كو اپنے سر پر ڈالتے ہوئے جلدی جلدی نكلی، جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس پہنچی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا:ام سلیم تمہیں كیا ہوا؟ اس نے كہا: اے الہل كے نبی! كیا آپ نے میری یتیم بچی كے لئے بددعا كی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ام سلیم كونسی بددعا؟ ام سلیم نے كہا:اس كا خیال ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا كی ہے كہ اس كی عمر لمبی نہ ہو؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے پھر فرمایا:ام سلیم! كیا تم نہیں جانتی كہ میرے رب سے میری ایك شرط ہے جو میں نے اپنے رب پر لگائی ہے كہ: میں بشر ہوں، میں اسی طرح خوش ہوتا ہوں جس طرح بشر خوش ہوتا ، اور اسی طرح غصے ہوتا ہوں جس طرح بشر(انسان)غصے ہوتا ہے۔ تو میں اپنی امت میں سے جس شخص كے خلاف كوئی بددعا كروں اور وہ اس كا اہل نہ ہو تو وہ اسے اس كے لئے پاكیزگی اور گناہوں سے صفائی كا ذریعہ بنا دے اور قربت كا ذریعہ بنا دے جس كے ذریعے وہ قیامت كے دن اس كو اپنے قریب كر لے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3332

َنْ أَنَسٍ مَرْفُوعاً: آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: انصار كی محبت ایمان كی نشانی ہے اور انصار سے بغض منافقت كی نشانی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3333

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ قَالَ: أَبَى الهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُّخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی بیماری بڑھ گئی اور آپ نڈھال ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بكر رضی اللہ عنہ سے كہا: میرے پاس كاندھے كی ہڈی یا تختی لاؤ، تاكہ میں ابو بكر كے لئے وصیت لكھ دوں كہ اس پر(ابو بکر رضی اللہ عنہ پر) اختلاف نہ كیا جائے۔ ابھی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ جانے كے لئے كھڑے ہی ہوئے تھے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے ابو بكر! اللہ تعالیٰ اور مومنوں نے آپ پر اختلاف كو رد كر دیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3334

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ابْتَاعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ رَجُلٍ مِّنْ الْأَعْرَابِ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِّنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ (وَتَمْرُ الذَّخِرَةِ: الْعَجْوَةُ) فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى بَيْتِهِ وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ! إِنَّا قَدْ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا -أَوْ جَزَائِرَ- بِوَسْقٍ مِّنْ تَمْرِ الذَّخْرَةِ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قَالَ: فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَا غَدْرَاهُ! قَالَتْ: فَهمّ النَّاسُ وَقَالُوا: قَاتَلَكَ اللهُ! أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا عَبْدَ الله! إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَا غَدْرَاهُ! فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا: قَاتَلَكَ اللهُ! أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، فَرَدَّدَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِهِ: اذْهَبْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ فَقُلْ لَهَا: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ لَكِ: إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِّنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللهُ فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللهِ! فَابْعَثْ مَنْ يَّقْبِضُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلرَّجُلِ: اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ قَالَ: فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ قَالَتْ: فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللهِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایك بدو سے عجوہ كھجور كے ایك وسق كے بدلے ایك اونٹنی خریدی یا كچھ اونٹنیاں خریدیں ۔ رسول اللہ اسے لے کر گھر تشریف لائے اور اسے دینے کے لئے کھجوریں تلاش کیں تو کھجوریں نہ ملیں۔ آپ باہر تشریف لائے اور اسے فرمایا: ہم نے گھر میں عجوہ كھجور تلاش كی تو ہمیں نہ ملی۔ بدو نے كہا: ہائے عہد شکنی؟ لوگ اس كی طرف بڑھے اور كہنے لگے: اللہ تجھے برباد كرے! كیا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عہد شکنی كریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، كیوں كہ حق والے كو بات كرنے كا اختیار ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌واپس پلٹ آئےاور كہا: اے اللہ كے بندے! ہم نے تجھ سے كچھ اونٹنیاں خریدی تھیں، ہمارا خیال تھا كہ ہم نے جو مقرر كیا ہے وہ ہمارے پاس ہوگا۔ ہم نے تلاش كیا تو ہمیں نہ ملا، بدو نے پھر كہا: كتنا بڑا دھوكہ ہوا ہے۔ لوگ اس پر چلانے لگےاور كہنے لگے: اللہ تجھے برباد كرے! كیا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌دھوكہ كریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے چھوڑ دو كیوں كہ حق والے كو بات كرنے كا اختیار ہے۔ یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دو یا تین مرتبہ كہی، جب آپ نے دیكھا كہ یہ بدو بات ہی نہیں سمجھ رہا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے ایك صحابی سے كہا: خولہ بنت حكیم بن امیہ رضی اللہ عنہا كی طرف جاؤ اور اس سے كہو كہ: اللہ كے رسول تم سے كہہ رہے ہیں کہ اگر تمہارے پاس عجوہ كھجوروں كا ایك وسق ہو تو ہمیں ادھار دے دو، ان شاءاللہ ہم اسے ادا كردیں گے۔ وہ صحابی خولہ رضی اللہ عنہا كی طرف گیا، پھر واپس لوٹ آیا اور كہا: كہ خولہ رضی اللہ عنہا كہہ رہی ہیں: ٹھیك ہے كھجوریں میرے پاس ہیں آپ کسی کو بھیج دیں جو آکر لے جائے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس آدمی سے كہا: اسے لے جاؤ اور اس كا حق پورا كر كے دے دو۔ وہ صحابی اسے لے گیا اور اس كا جو حق تھا اسے پورا كر كے دے دیا، وہ بدو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے گزرا ، آپ اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے كہا: جزاك اللہ خیراً۔ آپ نے عمدہ طریقے سے پورا كر كے دیا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہی لوگ قیامت كے دن اللہ كے ہاں بہترین ہونگے جو عمدہ طریقے سے ماپ تول پورا كر كے دینے والے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3335

عَنْ مُحَمَّد بْن عُمَر الْأَسْلَمِيّ بِأَسَانِيد لَه عَنْ جَمْع مِّنَ الصَّحَابَة ، قَالَ : دَخَل حَدِيْث بَعْضِهُم فِي حَدِيث بَعْض قَالُوا : وَبَعَث رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَبْدَ اللهِ بْن حُذَافَة السَّهْمِيّ وَهُوَ أَحَد السِّتَّة إِلَى كِسْرَى يَدَعُوه إِلَى الْإِسْلَام وَكَتَب مَعَه كِتَابًا : قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَدَفَعْتُ إِلَيْه كِتَابَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقُرِئ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَه فَمَزَّقَه، فَلَمَّا بَلَغ ذَلِك رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : اللَّهُمَّ مَزِّقْ مَلَكَه . وَكَتَب كِسْرَى إِلَى بَاذَان عَامِلِه عَلَى الْيَمَن أَنِ ابعَث مِنْ عِنْدِك رَجُلَيْن جَلْدَيْن إِلَى هَذَا الرَّجُل الَّذِي بِالْحِجَاز فَلْيَأتِيَانِي بِخَبَرِه ، فَبَعَث بَاذَان قَهْرَمَان و رَجُلًا آخَر و كَتَب مَعَهُمَا كِتَابًا، فَقَدِمَا الْمَدِيَنَة، فَدَفَعَا كِتَاب بَاذَان إِلَى النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَتَبَسَّم رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَدَعَاهُمَا إِلَى الْإِسْلَام وَفَرَائِصُهُمَا تَرْعَد، وَقَالَ: ارْجِعَا عَنِّي يَوْمِكُمَا هَذَا حَتَّى تَأْتِيَانِي الْغَد فَأُخْبِرَكُمَا بِمَا أُرِيْد، فَجَاءَاه مِنَ الْغَد فَقَالَ لَهُمَا: أَبْلِغَا صَاحِبكُمَا أَنَّ رَبِّي قَدْ قَتَل رَبَّه كِسْرَى فِي هَذِه اللَّيْلَة.
محمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہےمحمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہےمحمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3336

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رفعه: ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ: هِشَامٌ وَ عَمْرٌو.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : عاص كے دو بیٹے، مومن ہیں ۔ ہشام اور عمرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3337

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ. عن جمع من الصحابہ ...... روی
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابو بكر و عمر پہلے اور بعد والے ادھیڑ عمر جنتی لوگوں كے سردار ہونگے۔( ) یہ حدیث ...... سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3338

عَن جَابِر بن عَبدِ اللهِ قَال : قَال رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: أَبُو بَكر وَ عُمر مِن هَذا الدَِّيْن كَمَنْزِلَة السَّمْع و الْبَصَر من الرَّأْس.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابو بكرو عمر اس دین میں اس درجے پر ہیں جس طرح سر میں كان اور آنكھیں ہوتی ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3339

عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبُو سُفْيَانَ بن الْحَارِثِ خَيْرُ أَهْلِي.
) ابو حبہ البدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ابو سفیان بن حارث میرے گھر والوں میں سب سے بہترین ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3340

) عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيى قَالَ: لَمَا قُتِل عُثْمَان رضی اللہ عنہ أُتِي حُذَيْفَة، فَقِيْل: يَا أَبَا عَبْد الله! قُتِل هَذا الرَجُل؛ وَقَد اختَلفَ النَّاس؛ فَمَا تَقُوْلُ؟ فَقَال: أَسْنِدُونِي ؛ فَأَسْنِدُوه إِلَى صَدْرِ رَجُل فَقَال: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: أَبُو اليَقْظَان عَلى الفِطْرَة، لَا يدَعُها حَتَى يَمُوت، أَوْ يَمسَّهُ الهَرم.
) بلال بن یحییٰ سے مروی ہے كہ جب عثمان‌رضی اللہ عنہ كو شہید كیا گیا تو لوگ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كے پاس آئے اور ان سے پوچھا۔ ابو عبداللہ! اس شخص كو شہید كر دیا گیا ہے اور لوگوں كی مختلف رائے ہے۔ آپ كیا كہتے ہیں؟ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: مجھے ٹیك دو، ایك آدمی نے اپنے سینے كی ٹیك لگا كر انہیں بٹھایا تو انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ابو الیقظان فطرت پر ہے، یہ مرنے تك فطرت كو نہیں چھوڑے گا۔ یا یہ انتہائی لاغر ہو جائے (تب بھی فطرت كو نہیں چھوڑے گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3341

عَنْ مَعَاذ بن رِفَاعَة بن رَافِع الزُّرَقِيّ عَن أَبِيه - وَ كَان أَبُوه مِن أَهلِ بَدر و جَدُّه مِن أَهل الَعَقَبَة- قَالَ : أَتَى جِبْرِيل النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال : مَا تَعُدُّون أَهل بَدر فِيْكُم؟ قَال : مِنْ أَفْضَل الْمُسْلِمَيْن . قَال : وَ كَذَلِك مَن شَهِد فِينَا مِن الْمَلَائِكَة.
معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی اپنے والد سے روایت كرتے ہیں ان كے والد اہل بدر میں سے تھے ۔ اور ان کے دادا اہل عقبہ میں میں س تھے۔ كہتے ہیں كہ جبریل علیہ السلام نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: تم بدر والوں كو اپنے اندر كس طرح شمار كرتے ہو؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: افضل مسلمان ۔ جبریل علیہ السلام نے كہا: جو فرشتے بدر میں حاضر ہوئے ہم بھی انہیں اسی طرح شمار كرتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3342

عَنْ أَنْسٍ: أَن أُكَيْدِر الدّومة بَعَث إِلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جُبَّة سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَتَعَجَّب النَّاس مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِه ؟ فَوَ الَّذِي نَفَسِي بِيَدِه، لَمَنَادِيل سَعْد ابْن مَعَاذ فِي الْجَنَّة خَيْر مِّنْهَا ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَر، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! تُكْرِهُهَا وَألْبِسُهَا ؟ قَالَ: يَا عُمَر! إِنَّمَا أَرْسَلْت بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَث بِهَا وَجْهاً، فَتُصِيْب بِهَا مَالاً؛ وَذَلِكَ قَبْل أَنْ يُّنْهَى عَنِ الْحَرِيْر.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اكیدر دومہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے لئے ریشم كا ایك جبہ بھیجا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے پہنا تو لوگوں كو اس بات سے تعجب ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا: كیا تم اس كی وجہ سے تعجب كر رہے ہو؟ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! سعد بن معاذ كے رومال جنت میں اس سے بہتر ہیں، پھر وہ جبہ عمر‌رضی اللہ عنہ كو تحفے میں دے دیا۔ انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ اسے نا پسند كرتے ہیں، تو میں اسے كس طرح پہن لوں؟ آپ نے فرمایا: عمر ! میں نے یہ جبہ تمہاری طرف اس لئے بھیجا ہے تاكہ آپ اسے کسی کو بیچ کر اس كے ذریعے مال حاصل كریں۔ یہ واقعہ ریشم سے منع سے پہلے كا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3343

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: حُرٌّ وَّعَبْدٌ قُلْتُ: مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، قُلْتُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ...
عمرو بن عبسہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! اس دین پر كس شخص نے آپ كی پیروی كی ہے؟ آپ نے فرمایا: آزاد اور غلام نے ۔ میں نے كہا: اسلام كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: عمدہ بات کرنا اور كھانا كھلانا۔ میں نے پوچھا ایمان كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: صبر اور درگزر ۔ میں نے پوچھا كو نسا اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ میں نے كہا كونسا ایمان افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھا اخلاق ۔ میں نے كہا: كونسی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ میں نے كہا: كونسی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس چیز كو تیرے رب نے نا پسند كیا ہے اسے چھوڑ دینا۔ میں نے كہا: كونسا جہاد افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے گھوڑے كی كونچیں كاٹ دی جائیں اور اس كا خون بہا دیا جائے۔ میں نے كہا: كون سی گھڑی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: رات کا آخری حصہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3344

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ. ورد من حدیث ......
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (حرا ثابت کرو) حرا، رُک جا! كیوں كہ تم پر نبی، صدیق (سچے) یا شہید كے علاوہ كوئی نہیں۔( ) یہ حدیث ..... سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3345

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(زَادَ مُسْلِم وَغَيْره: وَعُثْمَانَ) حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِّرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ: اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَالِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَّإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَّا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ.
سعید بن عاص سے مروی ہے كہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اور عثمان رضی اللہ عنہ ، دونوں نے بیان كیا كہ ابو بكر صدیق‌رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اجازت طلب، كی آپ اپنے بستر پر عائشہ رضی اللہ عنہا كی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ كو اجازت دے دی۔ اور آپ اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر چلے گئے۔ پھر عمر‌رضی اللہ عنہ نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ نے انہیں بھی اجازت دے دی، اور اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے بھی اپنا مقصد پورا كیا، پھر واپس چلے گئے۔ عثمان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: پھر میں نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ بیٹھ گئے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے كہا: اپنے كپڑے سمیٹ لو، میں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر واپس پلٹ آیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اے اللہ كے رسول! یہ میں كیا دیكھ رہی ہوں كہ آپ نے ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہ كے لئے گھبراہٹ ظاہر نہیں كی، جب كہ آپ عثمان‌رضی اللہ عنہ كے لئے اٹھ كر بیٹھ گئے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: عثمان ایك با حیا شخص ہے، مجھے خدشہ تھا كہ اسے اس حالت میں اجازت دوں تو ممکن ہے وہ اپنی ضرورت مجھ تك نہ پہنچا سكے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3346

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِـ(الْجَابِيَةِ) فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ فِينَا مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ: احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ: عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ نے (جابیہ) میں ہم سے خطاب كیا تو كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بھی ہم میں اس طرح كھڑے ہوئے تھے جس طرح میں تم میں كھڑا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے صحابہ كے بارے میں میری حفاظت كرو۔ پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں، پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں۔ پھر جھوٹ پھیل جائے گا، حتی كہ آدمی سے گواہی نہیں مانگی جائے گی وہ گواہی دے گا اور قسم نہیں اٹھوائی جائے گی لیكن وہ قسم كھائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3347

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ دُعِيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَعَلَى عَدُوِّ اللهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ يَعُدُّ أَيَّامَهُ قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَتَبَسَّمُ حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ قَالَ: أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ قَدْ قِيلَ (لِي) اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ (التوبة: ٨٠) لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ قَالَ: ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ: فَعُجِبَ لِي وَجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَوَاللهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ (۸۴) (التوبة: ٨٤) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہماسے سنا، كہہ رہے تھے: جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا تو اس كی نماز جنازہ پڑھنے كے لئے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو بلایا گیا۔ آپ كھڑے ہوئے اور نماز پڑھانا چاہی تو میں گھوم كر آپ كے سامنے آگیا اور كہا: اے اللہ كے رسول! كیا اللہ كے دشمن عبداللہ بن ابی كی نماز جنازہ پڑھائیں گے؟ جس نے فلاں فلاں یہ دن یہ بات كہی تھی، اور دن شمار كرنے لاا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكراتے رہے،حتی كہ جب میں نے زیادہ كہنا شروع كر دیا تو آپ نے فرمایا: عمر! ہٹ جا ؤ، مجھے اختیار دیا گیا ہے، میں نے اس بات كو اختیار كیا ہے۔ مجھے كہا گیا ہے:( التوبہ: 80) ( آپ ان كے لئے بخشش طلب كریں یا نہ كریں، اگر ان كے لئے ستر مرتبہ بھی مغفرت طلب كریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا)۔ اگر مجھے معلوم ہوتا كہ اگر میں ستر مرتبہ سے زیادہ مغفرت مانگوں اور اسے بخش دیا جائے تو میں ایسا كرتا۔ پھر آپ نے اس كی نماز پڑھی اور اس كے جنازے كے ساتھ گئے۔ اس کی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ دفن سے فارغ ہوگئے۔ (بعد میں) مجھے رسول اللہ پر جرأت اور اصرار پر بڑا تعجب ہوا حالانکہ اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں، واللہ! ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا كہ یہ دو آیتیں نازل ہوئیں وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ( التوبہ84)( ان میں سے جو مرجائے اس كی نماز جنازہ كبھی بھی نہ پڑھو، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہو، كیوں كہ انہوں نے اللہ اور اس كے رسول كے ساتھ كفر كیا ہے۔ اور فسق كی حالت میں مرے ہیں۔) اس كے بعد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كسی منافق كی نماز نہیں پڑھی، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ اللہ تعالیٰ نے آپ كی روح قبض كر لی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3348

عَنْ كَعْبِ بن مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا فَتَحْتُمْ مِّصْرَ، فَاسْتَوْصُوا بِالْقِبْطِ خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا.
كعب بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم مصر كو فتح كر لو تو قبط (مصر میں عیسائیوں کا فرقہ)كے ساتھ اچھا برتاؤ كرنا، كیوں كہ ان كے لئے ذمہ اور صلہ رحمی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3349

قال صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي العَاص ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا دِينَ اللهِ دَخَلًا وَّعِبَادَ اللهِ خَوَلًا وَمَالَ اللهِ عَزَّ وَجَل دُوَلًا
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بنو ابی العاص تیس(آدمی) ہو جائیں گے تو وہ اللہ كے دین میں دخل اندازی كریں گے۔ اللہ كے بندوں کو غلام بنائیں گے (یعنی ان کا انتظام سنبھال لیں گے) اور اللہ عزوجل كے مال میں ہیرا پھیری كریں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3350

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب میرے صحابہ كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ، جب ستاروں كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ، اور جب تقدیر كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3351

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوْعاً: إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ لَا تزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَّنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے مرفوعا بیان كرتے ہیں: جب شام والے خراب ہو جائیں گے تو تم میں كوئی بھلائی باقی نہیں رہے گی۔ میری امت كا ایك گروہ مدد یافتہ رہے گا جو انہیں چھوڑ دے گا وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سكے گا۔ حتی كہ قیامت قائم ہو جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3352

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُّرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہمارے ہاں داخل ہونے کے لئے تمہارے لئے اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور تم پوشیدہ (آہستہ) گفتگو سن لو جب تک میں تمہیں منع نہ کردوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3353

عَنْ أَنَسٍ قَال: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ الله أُبَيّ بن كَعَبٍ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِيناً، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ رحمدل ابو بكر رضی اللہ عنہ ہیں، اور اللہ كے معاملے میں سب سے سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔سب سے زیادہ با حیا عثمان رضی اللہ عنہ ، سب سے زیادہ قاری ا بی بن كعب رضی اللہ عنہ ، فرائض كو جاننے والا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، اور حلال و حرام كا زیادہ علم ركھنے والا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہے۔ خبردار ہر امت كا ایك امین ہے اور میری امت كا امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3354

عَنْ أُمِّ حَبِيبَة ، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : أُريْتُ مَا تلَقَّى أُمَّتِي بَعْدِي ، وَسَفَك بَعْضَهُم دِمَاء بَعْض ، وَكَانَ ذَلِكَ سَابِقاً مِّنَ اللهِ كَمَا سَبَقَ فِي الْأُمَم قَبْلَهُم ، فَسَأَلَتُه أَنْ يُّوَلِّيَنِي شَفَاعَة فِيهِم يَوْم الْقِيَامَة فَفَعَل .
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے دكھایا گیا كہ میری امت میرے بعد كیا كرے گی۔ یہ ایك دوسرے كا خون بہائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ كی طرف سے پہلے ہی لكھا جا چكا ہے جس طرح كہ پہلی امتوں كے بارے میں لكھ دیا گیا تھا۔ میں نے اللہ سے درخواست كی كہ مجھے قیامت كے دن ان كی شفاعت كا حق دے، تو اللہ تعالیٰ نے میری درخواست قبول كر لی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3355

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ مَا حَاشَا فَاطِمَةَ وَلَا غَيْرَهَا .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے پیارا ہےصرف فاطمہ کے علاوہ کسی اور شخص کے علاوہ نہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3356

عَنْ حَبَّان بْن وَاسِع بن حَبَّان، عَنْ أَشْيَاخ مِّنْ قَوْمِه أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَدل صُفُوف أَصْحَابه يَوْم بَدر، وَفِي يَدِه قَدْحٌ يَعْدِلُ بِهِ الْقَوْم، فَمَرَّ بِسَوَاد بْن غَزِيَّة حَلِيْف بَنِي عَدِيِ بن النَّجَّار : وَهُوَ مُسْتَنْتِل مِّنَ الصَّفِّ ، فَطَعَنَ فِي بَطْنِه بِالْقَدْح ، وَقَالَ: اسْتَو يَا سَوَاد فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله! أَوْجَعَتْنِي وَقَد بَعَثَكَ الله بِالْعَدْل ، فَأَقدنِي قَالَ : فَكَشَفَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ بَطْنِه ، وَقَال: استَقِدْ قَالَ: فَاعْتَنَقَه ، وَقَبَّل بَطْنَه ، فَقَالَ: مَا حَمَلَك عَلَى هَذَا يَا سَوَاد؟ قَالَ : يَا رَسُولَ الله! حَضَرَنِي مَا تَرَى ، فَأَرَدْتُّ أَنْ يَّكُون آخِر الْعَهْد بِكَ أَنْ يَّمس جِلْدِي جِلْدَك ، فَدَعَا لَه رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِخَيْر ، وَقَالَ لَه: اسْتَو يَا سَوَاد .
حبان بن واسع اپنی قوم كے بزرگوں سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے بدر كے دن اپنے صحابہ كی صفیں درست كیں، آپ كے ہاتھ میں ایك تیر تھا جس كے ذریعے لوگوں كو سیدھا كر رہے تھے۔ جب سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ بنو عدی بن نجار كے حلیف كے پاس سے گزرے جو صف سے آگے نکلے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان كے پیٹ میں تیر چبھو دیا اور فرمایا: سواد سیدھے ہو جاؤ، انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ نے مجھے تكلیف دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ كو حق و انصاف دے كر بھیجا ہے، مجھے بھی بدلہ دیجئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے پیٹ مبارك سے كپڑا اٹھایا اور فرمایا: بدلہ لے لو ۔ وہ آپ سے چمٹ گیا اور آپ كے پیٹ كا بوسہ لے لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سواد! تمہیں یہ كام كرنے پر كس بات نے مجبور كیا؟ سواد نے كہا: اے اللہ كے رسول آپ دیكھ رہے ہیں كہ موت سامنے ہے، میں نے چاہا كہ آپ كے ساتھ میرا آخری معاملہ یہ ہو كہ میرا جسم آپ كے جسم سے مل جائے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس كے لئے خیر كی دعا كی اور اس سے كہا: سواد سیدھے ہو جاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3357

عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا - أَوْ قَالَ: مَعْرُوفًا - اقْبَلُوا مِنْ مُّحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُّسِيئِهِمْ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَّفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ: أَمْرُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ
علی بن زید سے مروی ہے كہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ گو انصار کے ایک سردار کی طرف سے کوئی (قابل اعتراض) بات پہنچی تو انہوں نے بدلہ لینےکا ارادہ کیا۔ انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے كہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، فرما رہے تھے: انصار كے ساتھ اچھا برتاؤ كرو، ان كے نیكی كرنے والے سے قبول كرو، اور ان كے برے شخص سے درگزر كرو، مصعب‌رضی اللہ عنہ نے خود كو چار پائی سے گرالیا اور اپنا رخسار چٹائی سے چمٹا لیا اور كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا حكم سر آنكھوں پر اور اسے چھوڑدیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3358

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ وَيُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ فَتَقُولَ إِنَّ هَذَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: عرب قبائل میں ہلاکت و فنا سے تیز ترین قریش ہیں۔ قریب ہے كہ كوئی عورت جوتی میں چلے تو كہا جائے یہ قریشی جوتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3359

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْهَا وَلَكِنْ قَالَهَا اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قبیلہ اسلم، اللہ انہیں سلامتی دے، قبیلہ غفار، اللہ انہیں بخشے، یہ بات میں نے نہیں كہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات كہی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3360

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَسْلَمُ النَّاسِ وَآمَنُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ.
) عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: لوگوں میں سب سے زیادہ سلامتی اور امن والا عمرو بن عاص ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3361

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَأَشْجَعَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ وَاللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ .
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسلم، غفار، اشجع ،مزینہ، جہنیہ اور جو بنی كعب سے تعلق ركھتے ہیں، دوسرے لوگوں سے ہٹ كر میرے خاص دوست ہیں اور اللہ اور اس كا رسول انكے دوست ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3362

عَنِ ابْن شِهَاب مُرْسَلاً: أَشَبَه مَا رَأَيْتُ بِجِبْرائِيْل دِحْيَة الْكَلْبِيّ .
ابن شہاب سے مرسلا مروی ہے: جبرائیل كے سب سے زیادہ مشابہہ جو شخص میں نے دیكھا ہے وہ دحیہ كلبی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3363

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَّكُونُونَ أَوْ يَخْرُجُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ رَآنِي .
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں مجھ سے شدید ترین محبت كرنے والے ایسے ہونگے جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں سے ہر شخص چاہے گا كہ وہ اپنا گھر بار اور مال دے دے اور مجھے دیكھ لے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3364

عَنْ عَبْدِ الله بْن عُمَر رضی اللہ عنہ قَالَ : أَتَى النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كِتَاب رَجُل ، فَقَال لَعَبْد الله بن الْأَرْقَم : أَجِب عَنِّي فَكَتَب جَوَابَه ، ثُمَّ قَرَأَه عَلَيْهِ ، فَقَال : أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، اللَّهُمّ وَفِّقْه . فلما وُلِّي عُمَر كَانَ يُشَاوِره
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس ایك آدمی كا خط آیا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عبداللہ بن ارقم‌رضی اللہ عنہ سے كہا: میری طرف سے جواب لكھو۔ انہوں نے لكھا اور آپ كو پڑھ كر سنایا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم نے درست لكھا اوراچھا كیا۔ اے اللہ! اسے توفیق دے۔ پھر جب عمر‌رضی اللہ عنہ كو خلافت دی گئی تو وہ ان سے مشورہ كیا كرتے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3365

عَنْ أَنَس بن مالكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ نَخْلِي بِهَا فَمُرْهُ أَنْ يُّعْطِيَنِي (إِيَّاهَا) (حَتَّى) أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ . فَأَبَى وَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ: بِعْنِي نَخْلَكَ بِحَائِطِي قَالَ: فَفَعَلَ . قال: فَأَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ! فلاں شخص كی ایك كھجور ہے، میں بھی وہاں كھجور لگا رہا ہوں، آپ اسے حكم دیجئے كہ وہ كھجور مجھے دے دے تاكہ میں وہاں اپنا باغ بنالوں۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا: جنت میں ایك كھجور كے بدلے اسے وہ درخت دے دو، اس نے انكار كر دیا۔ ابو دحداح‌رضی اللہ عنہ اس كے پاس آئے اور كہا : مجھے اپنی كھجور میرے باغ كے بدلے بیچ دو۔ اس نے كھجور بیچ دی، ابو دحداح‌رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: اے اللہ كے رسول! میں نے وہ كھجور اپنے باغ كے بدلے خریدلی ہے۔ یہ كھجور آپ اس كو دے دیجئے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كئی مرتبہ فرمایا: ابو داحداح كے لئے كتنی ہی كھجوریں جنت میں ہیں یہ جملہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کئی بار دہرایا۔ وہ اپنی بیوی كے پاس آئے اور كہا: ام داحداح باغ سے نكل آؤ، میں نے اسے جنت میں ایك كھجور كے درخت كے بدلے بیچ دیا ہے۔ اس نے كہا: تم نے نہایت نفع بخش تجارت كی ہے۔یااس طرح كی كوئی بات كہی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3366

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَّدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ فَاسْتَزَدْتُّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ آتٍ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى وَمُصِيبٌ مِّنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِي
ابو بكر صدیق‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے ستر ہزار ایسے امتی دیئے گئے جو بغیر حساب كے جنت میں داخل ہونگے۔ ان كے چہرے چودھویں رات كے چاند كی طرح روشن ہونگے۔ ان كے دل یكجان ہونگے۔ میں نے اپنے رب سے زیادہ كا مطالبہ كیا تو اس نے ہر شخص كے ساتھ ستر ہزار كا اضافہ كر دیا۔ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میرا خیال ہے كہ یہ لوگ بستی مكہ والوں كے پاس آنے والے اور دیہاتوں كی دیہاتوں کے اطراف میں آنے والے لوگ ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3367

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: أُعْطِيْتُ فَوَاتِح الْكَلِم وَخَوَاتِمَه ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ الله ، عَلَّمْنَا مِمَّا عَلَّمَك الله عَزَّ وَجَلَّ ، فَعَلَّمَنَا التَّشْهُد .
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے كلمات كی ابتداءو انتہا دی گئی ہے۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول جو اللہ تعالیٰ نے آپ كو سكھلایا ہے ہمیں بھی سكھلایئے۔ آپ نے ہمیں تشہد سكھایا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3368

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا هُوَ؟ قَالَ: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ .
) علی بن ابی طالب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو انبیاءمیں سے كسی كو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: رعب كے ساتھ میری مدد كی گئی ہے۔ مجھے زمین كی چابیاں دی گئیں۔ میرا نام احمد ركھا گیا، مٹی كو میرے لئے پاكیزگی كا ذریعہ بنایا گیا اور میری امت كو بہترین امت بنایا گیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3369

عَنْ وَاثِلَة بْن الْأَسْقَع، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَعْطِيْتُ مَكَان التَّوْرَاةِ السَّبْع الطِوال وَمَكَان الزَّبُور الْمَئِين وَمَكَان الْإِنْجِيل الْمَثَانِي وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّل
واثلہ بن اسقع سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے تورات كی جگہ سبع طوال(سات طویل سورتیں)،زبوركی جگہ مئین(ایک سو آیت پر مشتمل سورتیں) اور انجیل كی جگہ مثانی(بار بار پڑھی جانے والی) دی گئیں اور مجھے مفصل(جن میں جلدی جلدی بسم اللہ سے فصل آتی ہے) كے ساتھ فضیلت دی گئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3370

) عَنْ حُذَيْفَةَ مَرْفُوْعاً: أُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي (وَلاَ يُعْطَى مِنْهُ أَحَدٌ بَعْدِي) .
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : مجھے بقرہ كی یہ آخری آیات عرش كے نیچے خزانے سے دی گئیں ہیں۔ مجھ سے پہلے كسی نبی كو نہیں دی گئیں (اور نہ میرے بعد كسی كو دی جائیں گی)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3371

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَفْضَل الْأَيَّام عِنْد اللّه يَوْم الْجُمُعَة .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كے ہاں سب سے افضل دن جمعہ كا دن ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3372

قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: اقْتَدُوْا بِاللَّذَيْن مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَكْر وَعُمَر ، وَاهْتَدُوا بِهَدْي عَمَّار، وَتَمَسَّكُوا بِعَهْد ابْن مَسْعَود . روی من حدیث .......
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے بعد میرے صحابہ ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہما كی پیروی كرو۔ عمار‌رضی اللہ عنہ كے طریقے كو اختیار كرو، اور عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ كے عہد كو مضبوطی سے پكڑ لو۔( ) یہ حدیث ........... سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3373

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا: أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ؟ وَّرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا. فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَوْمَأَ بِأَصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ فَقَالَ: اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، كہتے ہیں كہ: میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے جو بات سنتا اسے یاد كرنے كے لئے لكھ لیتا، میں اسے یاد کرنا چاہتا تھا۔ قریش نے مجھے منع كیا، اور كہنے لگے: كیا تم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی ہر بات لكھتے ہو؟ حالانكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بشر ہیں، غصے اور خوشی میں بھی بات كرتے ہیں ۔ میں لكھنے سےرك گیا اور رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ذكر كیا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنی انگلی سے اپنے منہ مبارك كی طرف اشارہ كیا اور فرمایا: لكھو، اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اس منہ سے حق كے علاوہ كچھ نہیں نكلتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3374

قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ - أَوْ بِخَيْرِ الْأَنْصَارِ-؟ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدَيْهِ قَالَ: وَفِي دُورِ الْأَنْصَارِ كُلِّهَا خَيْرٌ . جآء من حدیث ............
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا میں تمہیں انصار كے بہترین گھروں یا انصار میں سے بہترین لوگوں كے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! كیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: بنو نجار ، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں، بنو عبدالاشھل ، پھر وہ لوگ جو ا ن سے متصل ہیں، بنو الحارث بن خزرج، پھر وہ لوگ جو ان سےمتصل بنو ساعدہ، پھر اپنے ہاتھ كو حركت دی اور اپنی انگلیاں بند كر لیں۔ پھر انہیں كھول لیا ، جس طرح کوئی چیز پھینکنے والا کرتا ہے، پھرفرمایا: انصار كے ہر گھر میں بھلائی ہے یہ حدیث ........... سے مروی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3375

عن أنس بن مالک قال: خرج علینا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال: ألا إن لکل شيئٍ ترکۃ وضیعۃ، وإن ترکتي وضیعتي الأنصار، فاحفظوني فیھم۔
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ہر چیز کا ترکہ اور سامان ہوتا ہے، میرا ترکہ اور سامان انصار ہیں، ان کے بارے میں میرا خیال رکھو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3376

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ: أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبَةً، لَاتَّبَعْتُ شِعْبَةَ الْأَنْصَارِ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ فَمَنْ وَّلِيَ اَمْرَ الْأَنْصَارِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَاتَيْنِ وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌
ابو قتادہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌منبر پر كھڑے انصار كے لئے فرمارہے تھے: خبردار! لوگ لوگ اوپر کے کپڑوں کی طرح ہیں اور انصار جسم سے ملے ہوئے تحتانی لباس کی طرح ہیں، اگر لوگ ایك وادی میں چلیں اور انصار ایك گھاٹی میں چلیں تو میں انصار كے پیچھے چلوں گا۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار كا ایك فرد ہوتا، جو شخص انصار كے معاملے كا نگران بنے وہ ان كے نیك آدمی سے اچھا سلوك كرے اور برے آدمی سے در گزر كرے، اور جس شخص نے انہیں گھبراہٹ میں مبتلا كیا تو اس نے اس شخص كو گھبراہٹ میں مبتلا كیا جو ان دونوں پہلوؤں كے درمیان ہے اور اپنی طرف اشارہ كیا(یعنی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بذات خود)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3377

) قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خِلٍّ مِّنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَّاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللهِ . جآء من حدیث ........
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خبردار میں ہر دوست كی دوستی سے بری ہوں، اگر میں كوئی دوست بناتا تو ابو بكر كو دوست بناتا ۔ یقینا تمہارا ساتھی اللہ كا دوست ہے۔ یہ حدیث ......... سے مروی ہے۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3378

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوْصَى عِنْدَ وَفَاتِهِ، فَقَالَ: اللهَ اللهَ فِي قِبْطِ مِصْرَ، فَإِنَّكُمْ سَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَيَكُونُ لَكُمْ عِدَّةً، وَأَعْوَانًا فِي سَبِيلِ اللهِ .
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنی وفات كے وقت وصیت كی، فرمایا: اللہ اللہ، مصر كے قبط(عیسائیوں کا ایک فرقہ) عنقریب تم ان پر غالب آؤ گے۔ وہ اللہ كے راستے میں تمہارے لئے تیاری اور مددگار ہونگے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3379

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ مكے میں تونے جو بركت دی ہے اس سے دوگنی مدینے میں ركھ دے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3380

عن عبد الرَحَّمَن بن أبي عُمَيرَة الْمُزَنِيّ عن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قال فِي مُعَاوِيَةَ: اللهُمّ اجْعَلْه هَادِيًا مَهْدِيًّا و اهْدِه و اهْد بِه .
عبدالرحمن بن ابی عمیرہ مزنی سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے معاویہ كے بارے میں فرمایا: اے اللہ ! اسے ہدایت ہافتہ اور ہدایت دینے والا بنا۔ اسے بھی ہدایت دےاور اس كے ذریعے دوسروں کو بھی ہدایت دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3381

عن عَائَشَة ، أَنَّ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَام بِعُمَر بن الْخِطَاب خَاصَّة .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ اسلام كو خاص طور پر عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ كے ذریعے عزت دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3382

عَنْ حُذَيْفَة قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَصَلَّيْتُ مَعَه الْمَغْرِب ، فَلَمَا فَرَغَ صَلَّى، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاء ثُمَّ خَرَج ، فَتَبِعْتُه ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ : حُذَيْفَة ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِر لِحُذَيْفَة و لِأُمِّه .
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور ان كے ساتھ مغرب كی نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌فارغ ہوئے تو نماز پڑھنے لگے، اور عشاءتك نماز پڑھتے رہے۔ پھر باہر نكل گئے۔ میں آپ كے پیچھے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كون ہو؟ میں نے كہا: حذیفہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ حذیفہ اور اس كی ماں كی مغفرت فرما
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3383

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: لَمَا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌طِيب النَفْس ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ! ادْعُ اللهَ لِي . قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَة مَا تَقَدَّم مِنْ ذَنْبِهَا وَمَا تَأَخَّر وَمَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ فَضَحِكَتْ عَائَشَة حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْر رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الضِّحْك ، فَقَالَ: أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَال: وَاللهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاة . فِي حِجْر رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الضِّحْك ، فَقَالَ: أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَال: وَاللهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاة . فِي حِجْر رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الضِّحْك ، فَقَالَ: أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَال: وَاللهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاة .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ جب میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو خوش دیكھا تو كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے میرے لئے دعا كیجئے۔ آپ نے فرمایا: اے اللہ ! عائشہ كے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرما، جو چھپ كر كئے اور جو ظاہراً كئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا مسكرادیں حتی كہ ان كا سر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی گود میں آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تمہیں میری دعا اچھی لگی؟ انہوں نے كہا: مجھے كیا ہوا كہ آپ كی دعا مجھے اچھی نہ لگے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ہر نماز میں اپنی امت کے لئے یہ دعا کرتا ہوں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3384

عن أنس بن مالک قال: انطلقت بي أي إلی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ، فقالت: یا رسول اﷲ، خویدمک فادع اﷲ لہ، فقال: اللھم أکثر مالہ وولدہ، وأطل عمرہ، واغفرلہ، قال: فکثر مالي، وطال عمري حتی قد استحییت من أھلي، وأینعت ثماري، وأما الرّابعۃ، یعني المغفرۃ۔
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میری والدہ مجھے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس لے گئیں او رکہا: اے اﷲ کے رسول آپ کا یہ چھوٹا سا خادم ہے۔ اس کے لیے دعا کیجیے۔ آپ نے دعا فرمائی۔ اے اﷲ اس کا مال او راس کی اولاد زیادہ کر، اس کی عمر لمبی اور اس کی بخشش فرما۔ انس کہتے ہیں کہ میرا مال زیادہ ہوگیا۔ اور میری عمر اتنی لمبی ہوئی ہے کہ میں اپنے گھر والوں سے شرم محسوس کرتا ہوں۔ میرے پھل خوب اچھے ہوتے ہیں۔ اب صرف چوتھی دعا باقی رہ گئی ہے یعنی مغفرت۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3385

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ ! اس كا مال اور اس كی اولاد زیادہ كر، اور جو تو اسے دے اس میں بركت فرما
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3386

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ : مَا رَأَيْتُ حَسَنًا قَطٌ إِلَّا فَاضَت عَيْنَاي دُمُوعًا ، وَذَلِك أَنَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَج يَوْمًا، فَوَجَدَنِي فيِ الْمَسْجِد ، فَأَخَذ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَتُ مَعَه ، فَمَا كَلَّمَنِي حَتَّى جِئْنَا سُوْق بَنِي قَيْنُقَاع، فَطَاف فِيْه وَنَظَر، ثُمَّ انْصَرَف وَأَنَا مَعَه، حَتَّى جِئْنَا الْمَسْجِد، فَجَلَس فَاحْتَبَى ثُمَّ قَالَ: أَيْن لُكَاع ؟ ادْعُ لِي لُكَاعًا، فَجَاء حَسن يَّشْتَدُّ فَوَقَع فِي حِجْرِه ، ثُمَّ أَدَخَل يَدَه فِي لِحْيَتِه ، ثُمَّ جَعَل النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَفْتَح فَاه فَيَدْخُل فَاه فِي فِيْه ، ثُمَّ قَالَ:اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّه ، فَأَحْببْه ، وَأَحِبَّ مَنْ يُّحِبُّه .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے جب بھی حسن‌رضی اللہ عنہ كو دیكھا تو میرے آنسو نكل پڑے، اور یہ اس وجہ سے كہ ایك دن نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہر نكلے۔ مجھے مسجد میں دیكھا تو میرا ہاتھ پكڑا، میں آپ كے ساتھ چل پڑا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی حتی کہ ہم بنی قینقاع کے بازار میں آگئے۔ آپ نے بازار كا جائزہ لیا ۔ پھر واپس لوٹ آئے۔ میں آپ كے ساتھ ہی تھا، جب ہم مسجد میں پہنچے تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا:چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ چھوٹے بچے کو بلاؤ۔حسن‌رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی گود میں بیٹھ گئے ، پھر اپنا ہاتھ آپ كی داڑھی مبارك میں داخل كر دیا۔ جب كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنا منہ كھولتے اور حسن كا منہ اپنے منہ میں ڈالتے ،پھر فرمایا:اے اللہ میں اس سے محبت كرتا ہوں تو بھی اس سے محبت كر، اور جو اس سے محبت كرے اس سے بھی محبت كر۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3387

عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ وَيَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ .
براء ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، كہتے ہیں كہ میں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیكھا كہ حسن بن علی رضی اللہ عنہا آپ كے كاندھوں پر ہیں اور آپ فرما رہے ہیں: اے اللہ ! میں اس سے محبت كرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت كر۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3388

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَّبِلَالٌ. قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ!كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلَالُ! كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ وَيَقُولُ: وفي رواية لأحمد: تغني فقال: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَّحَوْلِي إِذْخِرٌ وَّجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنَّ يَوْمًا مِّيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنَّ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: اللهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ . (زَادَ أَحْمَد فِي رِوَايَة: قَالَ: فَكاَنَ الْمَوْلُوْد يُوْلَد بِالْجُحْفَة، فَمَا يَبْلُغُ الْحُلُم حَتَّى تَصْرَعُهُ الحُمَّى) .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ: جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینے آئے تو ابو بكر اور بلال رضی اللہ عنہما كو بخار ہوگیا۔ میں ان دونوں كے پاس آئی اور كہا: ابا جان! آپ كی طبیعت كیسی ہے؟ اور اے بلال! آپ كی طبیعت كیسی ہے؟ كہتی ہیں كہ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ كو جب بخار ہوا وہ یہ شعر تو كہہ رہے تھے: ہر وہ شخص جو اپنے گھر والوں میں صبح كرتا ہے، موت اس كے جوتے كے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔اور بلال‌رضی اللہ عنہ كو جب بخار کی شدت کم محسوس ہوتی تو اونچی آواز میں یہ اشعار کہتے: اے کاش کیا میں کوئی رات ایسی وادی میں گزاردوں گا کہ میرے ارد گرد اذخر اور جلیل ہوں اور کیا کسی دن میں مجنہ کے چشمے پر آؤں گا اور میں شامہ اور طفیل پہاڑ دیکھوں گا؟عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ: میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئی اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دعا فرمائی: اے اللہ! جس طرح ہمیں مكہ سے محبت تھی مدینہ بھی اسی طرح محبوب بنا دے یا اس سے بھی زیادہ اور اسے صحیح كر دے۔ اس كے صاع اور مد میں بركت دے اور اس كے بخار كو منتقل كر كے جحفہ میں ڈال دے۔ احمد نے اپنی روایت میں زیادہ كیا: پھر جحفہ میں جو بچہ پیدا ہوتا ابھی وہ بلوغت تك نہ پہنچتا كہ بخار اسے پچھاڑ دیتا( لاغر كر دیتا)۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3389

عَنْ عَائِشَة بِنْت سَعْد عَنْ أَبِيْهَا: أَنِّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ بَيْنَ يَدَيْه طَعَام، فَقَالَ:اللهمّ ! سُقْ إِلَى هَذَا الطَّعَام عَبْدًا تُحِبُّه وَيُحِبُّك، فَطَلَع سَعَد (بن أَبِي وَقَاص) .
عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت كرتی ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے سامنے كھانا ركھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس كھانے كی طرف اس شخص كو لا جس سے تو محبت كرتا ہے اور وہ تجھ سے محبت كرتا ہے۔ اتنے میں سعد(بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3390

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ. روی من حدیث .......( )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! معاویہ کو حساب و کتاب سکھا، اور اسے عذاب سے بچا۔ یہ حدیث ......... رایت کی گئی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3391

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: اَنَّهُ سَكَبَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَضُوءًا عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ , فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ:مَنْ وَّضَعَ لِي وَضُوئِي؟ قَالَتْ: ابْنُ أُخْتِي يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ:اللهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ , وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھا، جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہرآئے تو فرمایا: میرے لئے کس نے وضو کا پانی رکھا ہے؟ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھانجے نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے دین میں سمجھ اور تفسیر کا علم دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3392

عَنْ عُبَادَة بْن صَامِت مَرْفُوعاً: اللهم مَنْ ظَلَمَ أَهْل الْمَدِينَةِ وَأَخَافَهُمْ فَأَخِفْهُ، وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اهَِد، وَالْمَلائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اے اللہ! جس نے اہل مدینہ پر ظلم کیا اور انہیں ڈرایا تو بھی اسے ڈرا ، اور اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس سے فرض و نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3393

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ وَّعَلِيٌّ وَّزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى نَسْأَلَهُ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ فَقَالَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقُلْتُ: هَذَا جَعْفَرٌ وَّعَلِيٌّ وَّزَيْدٌ مَا أَقُولُ أَبِي قَالَ: ائْذَنْ لَهُمْ وَدَخَلُوا فَقَالُوا: مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: فَاطِمَةُ قَالُوا: نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ قَالَ: أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ! فَأَشْبَهَ خَلْقُكَ خَلْقِي وَأَشْبَهَ خُلُقِي خُلُقَكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ! فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي وَإِلَيَّ وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ
محمد بن اسامہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ: جعفر، علی اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ جعفر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیارا ہوں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارا ہوں۔ انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو تاکہ ہم آپ سے پوچھ لیں۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دیکھو یہ کون لوگ ہیں؟ میں نے کہا: یہ جعفر ،علی اور زید رضی اللہ عنہم ہیں۔ میں نے اپنے والدزید کا نہیں بتایا ؟ آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو، وہ اندر آئے اور کہنے لگے: آپ کو سب سے زیادہ پیارا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: فاطمہ، انہوں نے کہا: ہم آپ سے مردوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جعفر! تمہاری عادت میری عادت سے مشابہہ ہے اور میری صورت تمہاری صورت سے مشابہہ ہے تم مجھ سےاور میرے نسب سے ہو اور اے علی! تم میرے داماد اور میرے بیٹے کے والد ہو، میری بیٹی کے نگران ہو، میں تم سے ہوں۔ اور تم مجھ سے ہو ، اور اے زید ! تم میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہو اور میری طرف منسوب ہو اور لوگوں میں سب سےزیادہ محبوب ہو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3394

عَنْ عَائِشَة، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَكَرَ فَاطِمَة ، قَالَتْ : فَتَكلَمْتُ أَنَا ، فَقَالَ : « أَمَا تَرْضِيْن أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَة ؟ » ، قُلْتُ: بَلَى وَاللهِ ، قَالَ : « فَأَنْتَ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَة » .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی رہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ،اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3395

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : أُتِي النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقِيْلَ لَهُ : هَذِه ِالْأَنْصَار رِجَالهُاَ وَنِسَاؤُهَا فِي الْمَسْجِد يَبْكُوْن ! قَالَ: وَمَا يَبْكِيْهَا ؟. قَالَ : يَخَافُوْنَ أَنْ تَمُوْتَ ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُّتَعَطِّفًا بِهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ(وكان آخر مجلس جلسه) فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَّلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا(من أمة محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاستطاع أن) يَّضُرَّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَهُ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُّحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُّسِيئِهِمْ . ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو بتایا گیا: یہ انصار ہیں ،ان کے مرد اور عورتیں مسجد میں رو رہے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کس بات نے رلایا ہے؟ اس نے کہا: یہ ڈرتے ہیں کہ آپ فوت ہو جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے آپ پر ایک چادر تھی جسے آپ نے اپنے کاندھوں پر ڈالا ہوا تھا، اور آپ نے سیاہی مائل عمامہ باندھا ہوا تھا۔ آپ آکر منبر پر بیٹھ گئے( یہ آپ کی آخری مجلس تھی جو آپ نے کی۔) اللہ کی حمدو ثنا کی پھر فرمایا: اما بعد! اے لوگو! لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور انصار کم ہو جائیں گے حتی کہ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہو جائیں گے۔ تم میں سے جو شخص (امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کسی معاملے کا نگران بنے( اور وہ اپنی طاقت کے مطابق) کسی کو نقصان پہنچائے یا نفع، تو وہ انصار کے نیک شخص سے قبول کرے اور خطار کار سے در گزر کرے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3396

عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَّقُولُ: مَرَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِرَجُلٍ يُّقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ؟ فَقَالُوا: صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللهِ. فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُّفْطِرَ فَقَالَ: أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى تَصُومَ؟( )
ابو زبیر سے مروی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو دوہرا ہوا جا رہا تھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کے بارےمیں پوچھا تو لوگوں نے کہا: روزے دار ہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے روزہ کھولنے کا حکم دیا اور فرمایا: کیا تمہیں کافی نہیں کہ تم اللہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو؟ اور تمہیں روزہ رکھنے کی نوبت آگئی ہے؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3397

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّة مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . ورد من حدیث .........
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں خدیجہ کو(جنت میں) یاقوت کے ایک گھر کی بشارت دوں جس میں نہ شور ہو اور نہ تھکاوٹ۔ یہ حدیث ........ سے مروی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3398

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُوْل: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ: يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ . وَفِي رِوَايَة مِنْ طَرِيْقٍ أُخْرى عَنْهُ مَرْفُوْعًا بِلَفْظٍ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ فِيهَا خَيْرًا مِّنْهُ أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے جو بستیوں کو کھا جائے گی (حاوی ہوجائے گی)۔لوگ اسے یثرب کہتے ہیں ،اور یہ مدینہ ہے۔ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔ اور ایک دوسری روایت ان سے مرفوعا ان الفاظ کے ساتھ ہے: لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے چچازاد اور قریبی کو بلائے گا، آؤخوشحالی کی طرف، آؤ خوشحالی کی طرف، حالانکہ(اس وقت) مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر انہیں علم ہو تو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو شخص اس سے بے رغبت ہو کر نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے بہتر اس میں لے آئے گا، خبردار مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو بے کار لوگوں کو نکال دے گا، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مدینہ اپنے شریر لوگوں کو اس طرح نہ نکال دے جس طرح بھٹی لوہے کا زنگ نکالتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3399

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمن حَدَّثَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَة فَقَالَتْ لِي: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ لِي: أَمْرُكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ . ثُمَّ قَالَتْ: فَسَقَى اللهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِوَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَدْ وَصَلَهُنَّ بِمَالٍ فَبِيْعَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے مجھے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہا کرتے تھے: میرے بعد تمہارا معاملہ مجھے پریشان کئے ہوئے ہے اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کر سکتے ہیں۔ پھر کہنے لگیں: اللہ تعالیٰ تمہارے والد کو جنت کی نہر سے سیراب کرے،عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں مال (مویشی ) دیا تو وہ چالیس ہزار (درہم یا دینار )کا بیچا گیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3400

عَنْ جَابِر قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِأَصْحَابِه : « امْشُوا أَمَامِي وَخَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَة ».( )
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو اپنے صحابہ سے کہا: میرے آگے آگے چلو ،میرے پیچھے فرشتوں کے لئے جگہ چھوڑ دو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3401

عَنْ عَبْدِالمَلك بْن عُمَيْر قَالَ: اسْتَعْمَل عُمَر بْن الخَطَّاب أَبَا عُبَيْدَة بْن الجَرَّاح عَلَى الشَّام، وَعَزَلَ خَالِد بْن الوَلِيْد ، فَقَالَ : خَالِدُ بْن الوَلِيْد : بُعِثَ عَلَيْكُم أَمِيْنُ هَذِهِ الْأُمَّة ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: أَمِيْن هَذِهِ الأُمَّة أَبُو عُبَيْدَة بْن الجَرَّاح فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَة : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: خَالِد سَيْف مِّنْ سُيُوفِ اللهِ نِعْمَ فَتَى الْعَشِيْرَة
عبدالملک بن عمیر سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا نگران بنایا، اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: تم پر اس امت کے امین کو نگران بنا کر بھیجا گیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نےکہا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہےاور قبیلے کا بہترین جوان ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3402

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا وَ حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ و دَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَ صَاعِهَا فِي مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ .
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کےلئے دعا کی اور میں نے مدینے کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے صاع اور مد میں برکت کے لئے دعا کی ہے جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لئے دعا کی تھی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3403

أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَا تُخْبِرْ نِسَاءَكَ أَنِّي اخْتَرْتُكَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا وَّلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنِّتًا
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اپنی بیویوں کو مت بتائیں کہ میں نے آپ کو پسند کر لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ بنا کر بھیجا ہے مجھے مشقت میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3404

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ .
واثلہ بن اسقع‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اولاد اسماعیل میں سے کنانہ کو چنا، کنانہ سے قریش کو چنا، قریش سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم سے مجھے چنا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3405

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا: إِنَّ اللهَ -عَزَّوَجَلَّ- (وفي لفظ: لَعَلَّ اللهَ) اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:یقینا اللہ عزوجل نے (اور ایک روایت میں ہے : شاید اللہ تعالیٰ نے) اہل بدر کو دیکھا تو فرمایا: جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3406

عَنْ كَعْب بْن عَاصِم الأَشْعَرِيِّ ، سَمِعَ النِّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل : « إِنَّ اللهَ قَدْ أَجَارَ أُمَّتِي مِنْ أَنْ تَجْتَمِعَ عَلَى ضَلَالَة »
کعب بن عاصم اشعری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے بچا لیا ہے کہ وہ گمراہی پر جمع ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3407

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات دنیا والوں کی طرف جھانکتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے، سوائے مشرک اور بغض وعداوت اور کینہ رکھنے والے کے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3408

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا يُّفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوْ قَالَ : يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا نَافَحَ أَوْ فَاخَرَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں حسان رضی اللہ عنہ کے لئے منبر رکھواتے، جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فخریہ کلمات کہتے، یارسول اللہ کی مدافعت کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : اللہ تعالیٰ روح قدس کے ذریعے حسان کی مدد کرے جب تک وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فخریہ کلمات کہتا ہے۔یارسول اللہ کی مدافعت کرتا ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3409

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِنَّ أُنَاساً مِّنْ أُمَّتِي يَأْتُوْنَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُم لَوِ اشْتَرَى رَؤْيَتِي بِأَهْلِهِ وَمَالِه »
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو چاہیں گے کہ اپنا مال اور گھر بار دے کر میری ایک جھلک دیکھ لیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3410

عَنْ أَنَس بْن ماَلِك : أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَجَ يَوْماً عَاصِباً رَأْسُهُ ، فَتَلَقَّاهُ ذِرَارِي الأَنْصَار وَخَدمُهُم ذَخْرَةالأَنْصَار يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : « وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأُحِبُّكُمْ » مَرَّتَيْن أَوْ ثَلاَثاً ، ثُمَّ قَالَ : « إِنَّ الأَنْصَارَ قَدْ قَضَوُا الذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِي الَّذِي عَلَيْكُمْ ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُّسِيْئِهِمْ » . ( )
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر نکلے تواس دن انصار کے بچوں اور خدمتگاروں کےچہروں پر پریشانی کے آثار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم سے محبت کرتا ہوں( دو یا تین مرتبہ فرمایا) پھر فرمایا: انصار نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور تمہاری ذمہ داری باقی ہے۔ ان کے نیک شخص سے اچھا سلوک کرو اور ان کے خطاکار شخص سے در گزر کرو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3411

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ قال: أن رَجُلا سأل ابْنَ عُمَرَ (وَأَنَا جَالِسٌ) عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ لَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فقَالَ ابن عمر: (هَا) انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا.( )
عبدالرحمن بن ابی نعم سے مروی ہے کہ: ایک آدمی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا جو کپڑے میں لگ جاتا ہے؟(میں بیٹھا ہوا تھا) (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟ اس نے کہا: اہل عراق سے ہوں۔) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:اوہ! (کلمہ تعجب) اس شخص کی طرف دیکھو، یہ مچھر کے خون کے بارے میں سوال کر رہا ہے؟ حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: حسن اور حسین دنیا میں میری خوشبو ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3412

عَنْ أَبي مَالِكْ الْأَشْعَرِي مَرْفُوْعاً: إِنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللهُ وَإنَّ شِرَارَ عِبَادِ اللهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ للبرَآءَ الْعَنَتَ
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اس امت میں سے اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب ان پر نظر پڑے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائے اور اس امت کے بدترین لوگ وہ ہیں کہ جو چغل خوری کرتے ہیں، پیاروں کے مابین تفریق ڈالتے ہیں، اورپاکدامن لوگوں پر تہمت لگاتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3413

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِّنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَاقَةً مِّنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِـ(الْغَابَةِ) فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ فَتَسَخَّطَهُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ رِجَالًا مِّنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمْ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ عَلَيَّ وَايْمُ اللهِ! لَا أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِّنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ان اونٹوں میں سے دی جو انہوں نے( غابہ) میں حاصل کی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے کچھ دیا، جس پر وہ غصے ہوگیا، میں نے اس منبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:عرب کا کوئی شخص مجھے تحفہ دیتا ہے تو میرے پاس جتنی استطاعت ہوتی ہے اس کے بدلے میں دےدیتاہوں وہ ناراض ہو جاتا ہے اور مجھ پر غصے رہتا ہے۔ اللہ کی قسم! آج کے بعد میں کسی عرب سے تحفہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی ، انصاری ، ثقفی یا دوسی کے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3414

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ امْرَأَةً مِّنْ قَوْمِ يُّقَالُ لَهَا سَوْدَةُ وَكَانَتْ مُصْبِيَةً كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟ قَالَتْ وَاللهِ! يَا نَبِيَّ اللهِ! مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَّا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَّضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةُ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَّعَشِيَّةً قَالَ: فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا وَاللهِ! قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَرْحَمُكِ اللهُ إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَخشاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےقوم (قریش) کی ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا جسے سودہ کہا جاتا تھا، اس کی ایک پریشانی تھی کہ اس کے پہلے شوہر سے جو مر چکا تھا پانچ یا چھ بچے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تمہیں مجھ سے کونسی بات روک رہی ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے آپ سے کوئی بات منع نہیں کر رہی کہ آپ ساری مخلوق سے زیادہ مجھے پسند ہیں، لیکن میں آپ کی عزت کرتی ہوں اور یہ بچے رات دن آپ کے سر پر کھڑے ہو کر شور مچائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ کوئی اور بات تمہیں روکتی ہے؟ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: واللہ! نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے، بہترین عورتیں جو اونٹوں کی سواری کرتی ہیں قریش کی نیک عورتیں ہیں، بچپن میں بچے کے بارے میں خوفزدہ رہتی ہیں اور اپنے شوہر مال و منال اور آرام کا خیال رکھتی ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3415

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اهْجُوا قُرَيْشًا فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ فَقَالَ: اهْجُهُمْ فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ فَأَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ حَسَّانُ: قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَى هَذَا الْأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِهِ ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يُحَرِّكُهُ فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الْأَدِيمِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَعْجَلْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا وَإِنَّ لِي فِيهِمْ نَسَبًا حَتَّى يُلَخِّصَ لَكَ نَسَبِي فَأَتَاهُ حَسَّانُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! قَدْ لَخَّصَ لِي نَسَبَكَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ لِحَسَّانَ: إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى قَالَ حَسَّانُ : هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ وَعِنْدَ اللهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا حَنِيفًا رَسُولَ اللهِ شِيمَتُهُ الْوَفَاءُ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ ثَكِلْتُ بُنَيَّتِي إِنْ لَمْ تَرَوْهَا تُثِيرُ النَّقْعَ مِنْ كَنَفَيْ كَدَاءِ يُبَارِينَ الْأَعِنَّةَ مُصْعِدَاتٍ عَلَى أَكْتَافِهَا الْأَسَلُ الظِّمَاءُ تَظَلُّ جِيَادُنَا مُتَمَطِّرَاتٍ تُلَطِّمُهُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَاءُ فَإِنْ أَعْرَضْتُمُو عَنَّا اعْتَمَرْنَا وَكَانَ الْفَتْحُ وَانْكَشَفَ الْغِطَاءُ وَإِلَّا فَاصْبِرُوا لِضِرَابِ يَوْمٍ يُعِزُّ اللهُ فِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَقَالَ اللهُ قَدْ أَرْسَلْتُ عَبْدًا يَقُولُ الْحَقَّ لَيْسَ بِهِ خَفَاءُ وَقَالَ اللهُ قَدْ يَسَّرْتُ جُنْدًا هُمُ الْأَنْصَارُ عُرْضَتُهَا اللِّقَاءُ لَنَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مِّنْ مَّعَدٍّ سِبَابٌ أَوْ قِتَالٌ أَوْ هِجَاءُ فَمَنْ يَّهْجُو رَسُولَ اللهِ مِنْكُمْ وَيَمْدَحُهُ وَيَنْصُرُهُ سَوَاءُ وَجِبْرِيلٌ رَسُولُ اللهِ فِينَا وَرُوحُ الْقُدُسِ لَيْسَ لَهُ كِفَاءُ . ( )
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش کی ہجو کرو کیوں کہ یہ ان پر تیر سے زیادہ تیز لگتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ان کی ہجو کرو، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ہجو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا، پھر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا۔ جب حسان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس شیر کی طرف پیغام بھیجیں جو اپنی دم مارتا ہے پھر اپنی زبان کو حرکت دی اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں اپنی زبان سے ان کو چمڑے کی طرح چاک کردوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی مت کرو، کیوں کہ ابو بکر قریش کے نسب کو زیادہ جانتے ہیں، اور ان میں میرا نسب بھی ہے۔ انتظار کرو تاکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ میرا نسب الگ کر دیں۔ حسان رضی اللہ عنہ ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے پھر واپس آکر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ کانسب الگ کر کے بتادیا گیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں آپ کو ایسے نکال لوں گا جس طرح آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حسان رضی اللہ عنہ کے لئے فرما رہے تھے: روح القدس تمہاری مدد کرتا رہے گا جب تک تم اللہ اور اس کے رسولکا دفاع کرتے رہو گے اور کہتی ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے:حسان نے ان کی ایسی ہجو کی ہے کہ اللہ کے رسول کا دل ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا:تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہجو کی ہے اور میں اس کا جواب دے رہا ہوں اور اس کام کی اللہ کے پاس جزاء ہے۔ تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی جو یکسو اور نیکوکار ہیں، اللہ کے رسول ہیں، وفا ان کی عادت ہے۔میرے ماں باپ اور میری عزت ، محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی عزت بچانے کیلئے تمہارے سامنے رکاوٹ ہیں۔ دفاع کرنے والے ہیں۔ میری بچے گم ہوجائیں اگر تم انہیں نہ دیکھو کہ وہ کداء کے دونوں جانب گرد و غبار اڑائے ہوئے آرہے ہیں۔ وہ ایسے گھوڑوں یا اونٹنیوں پر اس جن کی باگیں کھچی ہوئی ہیں۔ ہمارے گھوڑے گرد وغبار اڑا رہے ہیں، جن کی پیشانیاں عورتیں اپنے دوپٹوں سے صاف کرتی ہیں۔ اگر تم ہم سے اعراض کرو تو ہم عمرہ کرلیں، اور یوں فتح ہوجائے اور پردہ ہٹ جائے۔ وگر نہ صبر کرو، اس دن کی جنگ کیلئے جس دن اللہ تعالی جسے چاہے عزت دے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے ایک بندہ بھیجا ہے جو حق بات کہتا ہے، اس میں کوئی اخفا یا شک شبہ نہیں ہے۔اور اللہ تعالی فرماتا ہے: میں نے اس کے لئے لشکر میسر کردئے ہیں، وہ انصار ہیں، یہ میری ملاقات کے خواہشمند ہیں۔ ہر دن معد کی طرف سےگالی، یا قتال یا ہجو در پیش ہے۔ تم میں سے جو شخص اللہ کے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی ہجو کرتا ہے یا اس کی مدح کرتا یا اس کی نفرت کرتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جبریل ہم میں اللہ کا قاصد ہے اور روح القدس ہے اس کے برابر کوئی نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3416

عَنْ يَحْيَى بْن عُبَاد بْن عَبْد الله (بْن زُبيَرْ) ، عَنْ أَبِيْه ، عَنْ جَدِّه رضی اللہ عنہ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول عِنْد قَتْلِ حَنْظَلَة بْن أَبِي عَامِر بَعْدَ أَنِ التقى هُوَ وَأَبُو سُفْيَان بْن الحَارِث حِيْنَ عَلَاه شَدَّاد بن الأَسْوَد بِالسَّيْف فَقَتَلَه ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِنَّ صَاحِبَكُمْ تغْسِلُه المَلَائِكَة » فَسَأَلوُا صَاحِبَتَهُ فَقَالَتْ : إِنَّه خَرَجَ لَمَّا سَمِعَ الهَائِعَة وَهُوَ جُنبٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « لِذَلِكَ غَسَلَتْهُ المَلَائِكَة »
یحیی بن عباد بن عبداللہ( بن زیبر) اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت فرما رہے تھے: جب حنظلہ اور ابو سفیان بن حارث کا مقابلہ ہوا اور شداد بن اسود تلوار لے کر حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سینے پر چڑھ گیا اور انہیں شہید کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کو فرشتے غسل دے رہے تھے۔ لوگوں نے اس کی بیوی سے پوچھا تو اس نے کہا: جب اس نے اعلان سنا تو یہ جنبی حالت میں باہر چلا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے فرشتے اسےغسل دے رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3417

قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِنَّ العُلَمَاءَ إِذَا حَضَرُوا رَبَّهُم -عَزَّوَجَلَّ- كَانَ مُعَاذ بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ رَتْوَة بِحَجَرٍ » .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علماء جب اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے، تو معاذ ان کے سامنے پتھر پر کھڑا ہو گا یا پتھر رکھ رہا ہوگا (یعنی ان کے علم کی فضیلت کی وجہ سے وہ آگے ہونگے )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3418

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ . . ورد من حدیث ..........
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اس طرح ہے جس طرح باقی کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔ یہ حدیث ...... سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3419

عَنْ زَيْد بْن عَبْدِ الرَّحمَن بْن سَعِيْد بْن عَمْرو بْن نُفَيل مِنْ بَنِي عَدِي عَنْ أَبِيْه قَالَ : جِئْتُ جَابِر بْن عَبْدِ الله الأَنْصَارِيّ فِي فِتْيَانٍ مِّنْ قُرَيْش ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ أَنْ كفَّ بَصَرُه ، فَوَجَدْنَا حَبْلاً مُّعَلَّقاً فِي السَّقْفِ وَ أَقْرَاصًا مَّطْرُوْحَة بَيْنَ يَدَيْه أَوْ خُبْزًا ، فَكُلَّمَا اسِتَطْعَمَ مِسْكِيْن قَامَ جَابِر إِلَى قَرْص مِّنْهَا وَأَخَذَ الحَبْل حَتَّى يَأْتِيَ المِسْكِيْن فَيُعْطِيَه ، ثُمَّ يَرْجِع بِالحَبَل حَتَّى يَقْعُد ، فَقُلْتُ لَه : عَافَاكَ الله نَحْنُ إِذَا جَاءَ المِسْكِيْن أَعْطَيْنَا، فَقَالَ : إِنِّي أَحْتَسِبُ المَشْيَ فِي هَذاَ . ثُمَّ قَالَ : أَلاَ أُخْبِرُكُمْ شَيْئاً سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌؟ قَالُوا: بَلَى ، قَالَ: سَمِعْتُه يَقُولُ : إِنَّ قُرَيْشاً أَهْل أَمَانَة ، لاَ يَبْغِيْهِمُ العثرات أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْخِرِيْه .
زید بن عبدالرحمن بن سعید بن عمرو بن نفیل اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں قریش کے کچھ نو جوانوں کے ساتھ جا بر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ نابینا ہوگئے تھے۔ ہم نے چھت میں ایک رسی لٹکتی دیکھی، کچھ ٹکیاں یا روٹیاں ان کے سامنے رکھی ہوئی تھیں، جب کوئی مسکین ان سے کھانا مانگتا تو جابر رضی اللہ عنہ ایک ٹکیہ اٹھا کر کھڑے ہو جاتے اور رسی پکڑ کر اس مسکین کے پاس آتے اور اسے وہ ٹکیہ دے دیتے۔ پھر رسی کے ذریعے واپس آکر بیٹھ جاتے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کو عافیت دے، ہمارے پاس کوئی مسکین آتا ہے تو ہم( بیٹھے بیٹھے) اسے دے دیتے ہیں۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس طرح چلنے میں ثواب کی امید رکھتا ہوں۔ پھر کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ سب نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قریش اہل امانت ہیں، جو شخص ان کے خلاف ان کی لغزشیں تلاش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل بچھاڑ دے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3420

عَنْ عَمْرو بن سَلمَة الهَمْدَانِي قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ عَلَى بَابِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَبْلَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ ، فَإِذَا خَرَجَ مَشَيْنَا مَعَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِىُّ فَقَالَ : أَخَرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَعْدُ؟ قُلْنَا : لَا، فَجَلَسَ مَعَنَا حَتَّى خَرَجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ قُمْنَا إِلَيْهِ جَمِيعاً ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! إِنِّى رَأَيْتُ فِى الْمَسْجِدِ آنِفاً أَمْراً أَنْكَرْتُهُ ، وَلَمْ أَرَ وَالْحَمْدُ لِلهِ إِلاَّ خَيْرًا. قَالَ : فَمَا هُوَ؟ فَقَالَ : إِنْ عِشْتَ فَسَتَرَاهُ - قَالَ - رَأَيْتُ فِى الْمَسْجِدِ قَوْماً حِلَقاً جُلُوساً يَّنْتَظِرُونَ الصَّلاَةَ ، فِى كُلِّ حَلْقَةٍ رَجُلٌ ، وَفِى أَيْدِيهِمْ حَصًى فَيَقُولُ : كَبِّرُوا مِائَةً ، فَيُكَبِّرُونَ مِائَةً ، فَيَقُولُ : هَلِّلُوا مِائَةً ، فَيُهَلِّلُونَ مِائَةً ، وَيَقُولُ : سَبِّحُوا مِائَةً فَيُسَبِّحُونَ مِائَةً. قَالَ : فَمَاذَا قُلْتَ لَهُمْ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَهُمْ شَيْئاً انْتِظَارَ رَأْيِكَ. قَالَ : أَفَلاَ أَمَرْتَهُمْ أَنْ يَّعُدُّوا سَيِّئَاتِهِمْ وَضَمِنْتَ لَهُمْ أَنْ لَّا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِهِمْ شَيْئاً؟ ثُمَّ مَضَى وَمَضَيْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى حَلْقَةً مِّنْ تِلْكَ الْحِلَقِ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : مَا هَذَا الَّذِى أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! حَصًى نَّعُدُّ بِها التَّكْبِيرَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّسْبِيحَ. قَالَ : فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَّا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَىْءٌ ، وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ ، هَؤُلاَءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صلی اللہ علیہ وسلم مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبُلْ وَآنِيَتُهُ لَمْ تَكْسُرْ ، وَالَّذِى نَفْسِى فِى يَدِهِ! إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِىَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ ، أَوْ مُفْتَتِحوا بَابَ ضَلاَلَةٍ. قَالُوا : وَاللهِ! يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا أَرَدْنَا إِلاَّ الْخَيْرَ. قَالَ: وَكَمْ مِّنْ مُّرِيدٍ لِّلْخَيْرِ لَنْ يُّصِيبَهُ ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَنَا إنَّ قَوْماً يَّقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُوْنَ مِنَ الْإِسْلاَم كَمَا يَمْرقُ السَّهمُ مِنَ الرَّمِيَّة، وَأيْمُ اللهِ! مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِّنْكُمْ! ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَلِمَةَ : فرَأَيْنَا عَامَّةَ أُولَئِكَ الْحِلَقِ يُطَاعِنُونَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ الْخَوَارِجِ . ( )
عمرو بن سلمہ ہمدانی سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: ہم صبح کی نماز سے قبل عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھ جاتے تھے، جب وہ باہر نکلتے تو ہم مسجد کی طرف ان کے ساتھ چلتے۔ (ایک دن) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا ابھی تک ابو عبدالرحمن تمہارے پاس نہیں آئے؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ ان کے نکلنے تک ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ جب وہ نکلے تو ہم سب کھڑے ہو کر ان کی طرف گئے، ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابو عبدالرحمن! میں نے ابھی مسجد میں ایسا معاملہ دیکھا ہے جو میری نظر میں عجیب ہے، الحمدللہ! میں نے نیکی کا کام ہی دیکھا ہے، انہوں نے کہا: وہ کیا کام ہے؟ ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ زندہ رہے تو جلدہی دیکھ لیں گے۔ میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو حلقہ بنائے بیٹھے دیکھا، جو نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر حلقے میں ایک آدمی ہے اور سب لوگوں کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں وہ آدمی کہتا ہے: سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، وہ لوگ سو مرتبہ اللہ اکبر کہتےہیں، وہ کہتا ہے: سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو وہ سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ وہ کہتا ہے: سو مرتبہ سبحان اللہ کہو، وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہتے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ان سے کیا کہا؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ کی رائے کے انتظار میں ان سے کچھ بھی نہ کہا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں، اور تم نے انہیں ضمانت کیوں نہیں دی کہ ان کی کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی؟ پھر وہ چلے تو ہم بھی ان کے ساتھ چلے وہ ایک حلقے کے پاس پہنچے اور ان کے سروں پر کھڑے ہو گئے، کہنے لگے: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: ابو عبدالرحمن! یہ کنکریاں ہیں، ہم ان کے ساتھ تکبیر تہلیل اور تسبیح کررہے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے گناہ شمار کرو، میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی۔افسوس! اےامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم کتنی جلدی ہلاکت میں پڑ گئے۔ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار صحابہ موجود ہیں، یہ آپ کے کپڑے ہیں جو بوسیدہ نہیں ہوئے، یہ آپ کے برتن ہیں جو ابھی ٹوٹے نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کیا تم ایسی ملت پر ہو جو ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا تم گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! واللہ! ہم نے تو نیکی کا ارادہ کیا تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کتنے ہی بھلائی کا ارادہ کرنے والے بھلائی تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کیا کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ شاید اکثر تم میں سے اس حدیث کا مصداق ہوں گے، پھر ان سے منہ موڑ لیا، عمرو بن سلمہ نے کہا: ہم نے ان حلقوں کے اکثر لوگوں کو دیکھا کہ نہروان کے دن خوارج کے ساتھ مل کر ہم سے مقابلہ کر رہے تھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3421

عَنْ عَبْد اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَرَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَكَ بِالدُّفِّ قَالَ: إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِي وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي فَلَا تَفْعَلِي فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَّهِيَ تَضْرِبُ وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ أَنَا جَالِسٌ هَاهُنَا وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ: ایک کالی لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے سے واپس آئے تھے، کہنے لگی: میں نے نذر مانی تھی کہ: اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آئے تو میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم نے یہ نذرمانی ہے تو کرلو، اور اگر نہیں تو نہ کرو، وہ دف بجانے لگی، ابو بکر رضی اللہ عنہ اندر آئے وہ دف بجاتی رہی، پھر کوئی اور آیا وہ دف بجاتی رہی، پھر عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو اس نے دف کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے، میں یہاں بیٹھا ہوں، یہ لوگ داخل ہوئے تو یہ دف بجاتی رہی جب تم داخل ہوئے تو دیکھ رہے ہو اس نےکیسا کام کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3422

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قال: قال رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌:إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ: بِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: بِنَبْلِ الرَّأْيِ .
جبیر بن مطعم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قریشی کی غیر قریشی کے مقابلے میں دوگنی قوت ہے، زہری سے پوچھا گیا: کس نسبت سے؟ زہری نے کہا: عمدہ رائے کی وجہ سے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3423

عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا وَإِنَّهُمْ يَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً وَإِنِّي أَرْجُو اللهَ أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً
سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا حوض ہوگا او ر وہ ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے پاس زیادہ پیرو کار آتے ہیں، اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ میرے پاس سب سے زیادہ پیرو کار آئیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3424

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ مَرْفوعا: إِنَّ لِلهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گھومتے پھرتے ہیں اور میری امت کی طرف سے بھیجا جانے والا سلام مجھے پہنچاتے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3425

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَنَائِلَةَ وَإِسَافٍ لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَّاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا تَبْكِي حَتّٰی دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ! أَرِينِي وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا: هَا هُوَ ذَا وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ وَعَقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَأَخَذَ قَبْضَةً مِّنَ التُّرَابِ فَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِّنْهُمْ مِّنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: قریش کے سردار حجر اسود کے پاس جمع ہوئے اور لات، عزی، مناة، نائلہ اور اساف کے نام پر عہد کیا کہ اگر ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں گے تو ہم سب یکبار گی آپ پر حملہ کریں گے اور جب تک آپ کو قتل نہ کر دیں چھوڑیں گے نہیں۔ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگیں: قریش کے ان سرداروں نے آپ کے خلاف عہد کیا ہے کہ اگر آپ کو دیکھیں گے تو یکبارگی حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں گے، اس طرح ان میں سےہر شخص آپ کے خون سے اپنے حصے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی وضو کا برتن لاؤ، آپ نے وضو کیا، پھر ان کے پاس مسجد میں گئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: یہ آگیا، ان کی نظریں جھک گئیں اور ٹھوڑیاں سینے سے آلگیں اوراپنی جگہوں پر دہشت زدہ ہوگئے، کسی نےآپ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا نہ کوئی آپ کی طرف کھڑا ہوا۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان کے سروں پر کھڑے ہوگئے ،مٹی کی ایک مٹھی بھری اور فرمایا :چہرے برباد ہوجائیں ۔پھر ان کی طرف پھینک دی ،ان میں سے جس شخص تک اس کے ذرات پہنچے وہ بدر کے دن کفر کی حالت میں مرا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3426

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: يَا أُمَّهْ! قَدْ خِفْتُ أَنْ يُّهْلِكَنِي كَثْرَةُ مَالِي أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا قَالَتْ: يَا بُنَيَّ! فَأَنْفِقْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَّا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ فَخَرَجَ فَلَقِيَ عُمَرَ فَجَاءَ عُمَرُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: بِاللهِ! مِنْهُمْ أَنَا قَالَتْ: لَا وَلَنْ أُبْلِيَ أَحَدًا بَعْدَكَ .
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے پاس عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اماں!(ام المومنین ) مجھے خدشہ ہے کہ کہیں مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کر دے، میں قریش میں سب سے زیادہ مال والا ہوں؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! اسے خرچ کرو کیوں کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میرےکچھ صحابہ ایسے ہوں گے کہ جب میں ان سے جدا ہو جاؤں گا تو وہ مجھے دیکھ نہ سکیں گے۔ وہ باہر نکلے تو عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی،اور عمر‌رضی اللہ عنہ کو بتایا تو عمر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! ان میں سے میں بھی ہوں؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں میں تمہارے بعد کسی کو بھی ہر گزعذر پیش نہیں کروں گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3427

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُّعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ ، يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ
عبدالرحمن بن حضرمی سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا یہ لوگ برائی کا انکار کریں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3428

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَّا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتہ نہیں گرتا وہ مسلمان کی طرح ہے، مجھے بتاؤ وہ کونسا درخت ہے؟ لوگ پہاڑوں کے درختوں کے بارے میں بتانے لگے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن میں بتانے میں شرم محسوس کر رہا تھا، پھر صحابہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں بتایئے وہ کونسا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3429

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ: فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا فَمَضَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمَضَيْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ: إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُّقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَّعُمَرُ فَقَالَ: لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ قَالَ: فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ: وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ . ( )
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ ہم بیٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ اپنی کسی بیوی کے گھر سے نکلے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، آپ کی چپل ٹوٹ گئی، علی‌رضی اللہ عنہ اسے گانٹھنے کے لئے پیچھے رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چل پڑے ہم بھی آپ کے ساتھ چلنے لگے، پھر آپ کھڑے ہو کر علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تاویل(تفسیر) کے تحفظ کے لئے قتال کرے گا جس طرح میں نے اس کے نزول پر قتال کیا۔ ہم نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو ہم میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں لیکن چپل گانٹھنے والا ہے۔ ہم علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دینے گئے لیکن ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے سن لیا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3430

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ صُلَيْعٍ حَتَّى أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُّضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ عَبْدًا صَالِحًا إِلَّا فَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ حَتَّى يُدْرِكَهَا اللهُ بِجُنُودٍ مِنْ عِبَادِهِ فَيُذِلَّهَا حَتَّى لَا تَمْنَعَ ذَنَبَ تَلْعَةٍ .
ابو طفیل سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں اور عمرو بن صلیع حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مضر کا یہ قبیلہ روئے زمین پر اللہ کے کسی نیک بندے کو نہیں چھوڑےگا کہ اسے فتنے میں مبتلا نہ کر دے، اور ہلاک نہ کردے،جب تک ان کے پاس اللہ کے بندوں کا لشکر نہ پہنچ جائے جو انہیں ذلیل کرے حتی کہ یہ کسی پست زمین کے عام لوگوں کو بھی کچھ نہیں کہیں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3431