Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

8)

8) فضائل قرآن کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1312

قال صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَال: يَا مُحَمَد! عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُجْزِيٌ بِه، وَاعْلَمْ أَنَّ شَرَفَ الْمُؤْمِنِ قِيَامُه باللَّيْل، وعِزَّهُ اِسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور كہنے لگے: اے محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب تك چاہو زندہ رہو، بالآخر آپ نے مرنا ہے۔ جسے چاہیں پسند كر لیں بالآخر اس سے جدا ہونا ہے، جو چاہو عمل كرو كیوں كہ تمہیں اس كا بدلہ دیا جانا ہے۔ جان لیجئے كہ مومن كا شرف اس كا رات كا قیام ہے، اور اس كی عزت لوگوں سے مستغنی ہونے میں ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1313

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جانتے ہو مفلس كون ہے؟ صحابہ نے كہا: ہم میں مفلس وہ ہےجس كے پاس نہ درہم ہے نہ دینار نہ كوئی سازو سامان ۔ آ پ نے فرمایا: میری امت كا مفلس شخص وہ ہے جو قیامت كے دن نماز، روزہ اور زكاۃ لے كر آئے گا ۔ ایک شخص آئے گا جسے اس نے گالی دی ہوگی، كسی پر تہمت لگائی ہو گی، كسی كا مال كھایا ہوگا، كسی كا خون بہایا ہوگا، كسی كو مارا ہوگا، اس شخص كی نیكیوں میں سے اُسے بھی دے دیا جائے گا اور اِسے بھی دے دیا جائے گا۔ اگر اس کے ذمہ لوگوں کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اس كی نیكیاں ختم ہو گئیں تو ان كے گناہ اٹھا كر اس شخص پر لاد دیئے جائیں گے، پھر اسے آگ میں پھینك دیا جائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1314

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اتْرُكُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فَخُذُوا عَنِّي فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تك میں تمہیں كچھ نہ بتاؤں مجھے چھوڑےركھو اور جب تمہیں كوئی بات بتاؤں تو اسے اچھی طرح یاد كر لو، كیوں كہ تم سے پہلے لوگ كثرتِ سوال اور اپنے انبیاءسے اختلاف كی بناءپر ہلاك ہوئے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1315

عَن ابن طاؤس عن أَبِيه قال: اسْتَعْمَلَ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عبَادَةَ بن الصَّامِت عَلَى الصَدَقَةِ، ثُمَّ قال لَه: اتَّق يَا أبا الْوَلِيد أَن تَأتِي يَوم الْقِيَامَة بِبَعِير تَحْمِله عَلَى رقبتك لَه رغَاءٌ، أَو بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَو شَاةٌ لَهَا ثؤاجٌ .
ابن طاؤس اپنے والد سے بیان كرتے ہیں ۔انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عبادہ بن صامت كو زكاۃ كا نگران بنایا، پھران سے كہا: ابوولید! اللہ سےڈرتےرہوكہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت كےدن كوئی اونٹ اپنی گردن پراٹھاكرلاؤجوبلبلارہاہواوركوئی گائےاٹھاكرلاؤ جوڈکاررہی ہویا كوئی بكری اٹھا كر لاؤ جو منمنا رہی ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1316

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَّوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ظلم سے بچو ،كیوں كہ ظلم قیامت كے دن اندھیروں كا سبب ہوگا، اور بخیلی سے بچو كیوں كہ بخیلی نے تم سے پہلے لوگوں كو ہلاك كر دیا، بخیلی نے انہیں اس بات پر ابھارا كہ وہ لوگوں كا خون بہائیں اور ان كی حرام چیزوں کو حلال سمجھ لیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1317

عَنْ سَهْلِ بن أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ السَّبْعَ، فَسَكَتَ النَّاسُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، فَقَالَ: أَلا تَسْأَلُونِي عَنْهُنَّ؟ الشِّرْكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَأَكَلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكَلُ الرِّبَا، وَقَذْفُ الْمُحْصِنَةِ، وَالتَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ.
سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا آپ منبر پر فرما رہے تھے : سات كبیرہ گناہوں سےبچو، لوگ خاموش رہے كوئی شخص نہ بولا۔ آپ نے فرمایا: كیا تم مجھ سے ان كے بارے سوال نہیں كرو گے؟ اللہ كے ساتھ شرك کرنا،كسی جان كو قتل كرنا، مقابلے سے فرارہونا، یتیم كا مال كھانا، سود كھانا، پاكدامن عورت پر تہمت لگانا اور ہجرت كے بعد واپس چلے جانا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1318

عَن النُّعْمَان بن بَشِير قال: سَمِعتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ: اجْعَلُوا بَيْنَكُم و بَيْن الْحَرَام سترةٌ من الْحَلَال من فَعَل ذَلِك اسْتَبْرَأ لِديْنِه وعرضه ومن أَرْتَع فِيه كَان كالمرتع إلى جنب الْحِمَى.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: اپنے اور حرام كےدرمیان حلال كا پردہ حائل كر لو، جس شخص نے ایسا كام كیا اس نے اپنا دین اور اپنی عزت بچالی، اور جو شخص حرام میں پڑ گیا تو گویا تو وہ گویا اس شخص کی مانند ہے (جو اپنے جانوروں کو کسی ممنوعہ) چراگاہ کے قریب چلا رہا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1319

عَنْ فَضَالَةَ بن عُبَيْدٍ مرفوعا: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ النَّارِ حِجَابًا وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ.
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ مرفوعا بیان كرتے ہیں: اپنے اور آگ كے درمیان پردہ حائل كر دو اگر چہ ایك كھجور كے ٹكڑے كے ساتھ ہی كیوں نہ ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1320

عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيّ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي: يَا أَبَا أُمَامَةَ! إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَّلِينُ لِي قَلْبُهُ. ( )
) ابو راشد حبرانی سے مروی ہے انہوں نے كہا: ابو امامہ باہلی نے میرا ہاتھ پكڑا اور كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پكڑا اور مجھ سےكہا: ابو امامہ مومنین میں سے ایسے بھی ہیں جس كا دل میرے لئے نرم ہو تا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1321

عَنْ أَنَسٍ مَرفُوعاً: إِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدٍ خَيْراً عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيهِ ذُنوبَهُ حَتَّى يُوَافِيَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب اللہ تعالیٰ كسی بندے سے بھلائی كا ارادہ كرتا ہے تو دنیا میں اسے جلدی سزا دے دیتا ہے۔ اورجب اللہ تعالیٰ كسی بندے سے برائی كا ارادہ كرتا ہے تو اس كے گناہ اس پر روك كر ركھتا ہے حتی كہ قیامت كے دن اسے پوری سزا دےگا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1322

عَنْ عَمرِو بْنِ الحمق الخزاعي مَرفوعًا: إِذَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَلَه فَقِيلَ: وَمَا عَسَّلُهُ؟ قَالَ: يَفْتَحُ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا بَين يَدي مَوْتِهِ حَتى يَرضَى عَنه مِن حَوله.
عمرو بن حمق خزاعی سے مرفوعا مروی ہے : جب اللہ تعالیٰ كسی بندے سے بھلائی كا ارادہ كرتا ہے تو اسے محبوب بنا دیتا ہے۔ پوچھا گیا : یہ عسل سے كیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس كی موت سے پہلے اس كے لئے نیك اعمال كا دروازہ كھول دیا جاتا ہے ۔ حتی كہ اس كے ارد گرد كے لوگ اس سے راضی ہو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1323

) عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: كَان مِنَّا رَجُلٌ يُقَالُ لَه أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ: وَكَانَ مُؤَاخِيًا لِعَبْد الله –يَعْني: ابن مَسعَود- فَكَانَ عَبْدُ الله يَأْتِيهِ فِي مَنْزِله، فَأَتَاه مَرَّةً، فَلَمْ يُوَافِقْه في الْمَنْزِلِ، فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَبَيْنَا هُو عِنْدَهَا إِذْ أَرْسَلَتْ خَادِمَها في حَاجَةٍ، فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهَا فَقَالَت: قَد أَبْطَأتْ، لَعَنَهَا الله! قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ الله فَجَلَسَ عَلَى الْبَاب قَال: فَجَاء أبو عُمَيْر، فَقَال لِعَبْد الله: أَلَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيْكَ؟ قَالَ: فَقَال: قَد فَعَلْتُ ولَكِنَّهَا أَرْسَلَتْ الخَادِمةَ فِي حَاجَة، فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهَا فَلَعَنَتْهَا و إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا خَرَجَتِ اللَّعْنَةُ مِن فِي صَاحِبهَا نَظَرَتْ، فَإِنْ وَجَدَتْ مَسْلَكًا في الَّذِي وُجِّهَتْ إِلَيْه و إِلَا عَادَتْ إلى الَّذِي خَرَجَتْ مِنْهُ و إِنِّي كَرِهتُ أَنْ أَكُونَ لِسَبِيْلِ اللَّعْنَة.
عیزار بن جرول حضرمی سے مروی ہے انہوں نے كہا: ہم میں ایك آدمی تھا جسے ابو عمیر كہا جاتا تھا، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ كا بھائی بنا ہوا تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ اس كے پاس اس كے گھر میں آتے، ایك مرتبہ وہ آئے تو وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ ان كی بیوی كے پاس آئے۔ وہ ان كے پاس بیٹھے تھے كہ اس نے اپنی لونڈی كو كسی كام سے بھیجا ۔ اس نے دیر كر دی تو وہ كہنے لگیں: اس نے دیر كر دی اللہ اس پر لعنت كرے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ كر دروازے كے پاس بیٹھ گئے۔ كچھ دیر بعد ابو عمیر آئے تو انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے كہا: كیا آپ بھائی كے گھر والوں کے پاس نہیں گئے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے ایسا كیا تھا، لیكن اس نے اپنی لونڈی كو كسی كام سے بھیجا، اس نے دیر كر دی تو اس نے اس پر لعنت بھیجی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جب لعنت كسی كے منہ سے نكلتی ہے تو وہ دیكھتی رہتی ہے، تو جس پر لعنت کی گئی ہے وہ اس کا مستحق ہو تو وگرنہ اس شخص کی طرف لوٹ آتی ہے جس كے منہ سے نكلی ہوتی ہے اور مجھے یہ بات نا پسند لگی كہ میں لعنت كا راستہ بنوں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1324

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مرفوعا: إِذَا رَأَيْتَ اللهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَـلَا: الأنعام.فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ (۴۴)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم اللہ كو دیكھو كہ وہ بندے كو اس كے گناہوں كے باوجود دنیا سے دے رہا ہے تو سمجھ لو كہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت نہیں كرتا، كیوں كہ یہ اس كے لئے ڈھیل ہے، پھر یہ آیت تلاوت كی: ﴿الانعام:۴۴﴾ ترجمہ: پھر جو لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کردیئے یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملیں تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہوگئے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1325

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَمْرِو قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذْ ذَكَرَ ذَکَرُوْا الْفِتْنَةَ أَوْ ذُكِرَتْ عِنْدَهُ قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا: وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ الراوي: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ له: كَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: اِلْزَمْ بَيْتَكَ وَأَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے ،اچانك لوگ فتنے كا ذكركرنے لگے۔ یا آپ كے پاس فتنے كا ذكر ہوا تو آپ نے فرمایا: جب تم لوگوں كو دیكھو كہ وہ اپنے وعدوں كی پاسداری نہیں كر رہے، اور امانتوں كے بوجھ كو ہلكا سمجھا جانے لگا ہے، اور وہ اس طرح ہوں : آپ نے انگلیاں ایك دوسرے میں داخل كیں، میں آپ كی طرف آیا اور آپ سے كہا: اس وقت میں كیا كروں؟ اللہ مجھے آپ پر قربان كرے۔ آپ نے فرمایا: اپنے گھر كو لازم كرلو، اپنی زبان روكے ركھو، نیكی كو اختیار كرو اور برائی كو چھوڑ دو، اپنا خاص معاملہ (ضروری)سمجھو اور عام لوگوں کے معاملات چھوڑدو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1326

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَوْصِنِي قَالَ: إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَمِنَ الْحَسَنَاتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ قَالَ هِيَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ.
) ابو ذر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول مجھے نصیحت كیجئے ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم سے كوئی برائی ہوجائے تواس كے بعد كوئی نیكی كرو جو اسے مٹا دے۔میں نے كہا:اے اللہ كے رسول ! كیا”لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ“ كہنا بھی نیكی ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:یہ تو افضل نیكی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1327

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو بنِ العَاص مَرفُوعا: أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا: حِفْظُ أَمَانَةٍ، وَصِدْقُ حَدِيثٍ، وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ، وَعِفَّةٌ طُعمةٍ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر چار عادتیں تم میں موجود ہیں تو دنیا سے اگر تمہیں كچھ بھی نہ ملے تو كوئی حرج نہیں۔امانت كی حفاظت، سچ بولنا، اچھا اخلاق اور پاكیزہ حلال لقمہ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1328

عَنْ أَنَسِ مرفوعا: افْعَلُوا الْخَيْرَ دَهْرَكُمْ ، وَتَعَرَّضُوا لِنَفَحَاتِ رَحْمَةِ اللهِ ، فَإِنَّ لِلهِ نَفَحَاتٍ مِّنْ رَّحْمَتِهِ يُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ، وَسَلُوا اللهَ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَاتِكُمْ ، وَأَنْ يُّؤَمِّنَ رَوْعَاتِكُمْ.
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ ساری عمر نیكی كرتے رہو، اور اللہ كی رحمت کی عطیوں کے منتظر رہو كیونكہ اللہ اپنی رحمت کے عطیات اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ سے سوال كرو كہ وہ تمہارے عیوب پر پردہ ڈالے اور تمہاری گھبراہٹوں میں تمہیں امن دے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1329

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ البَاهلي، قَالَ: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: اكْفُلُوا لِي بِسِتٍّ أَكْفُلْ لَكُمِ الْجَنَّةَ: إِذَا حَدَّثَ أَحَدُكُمْ فَلا يَكْذِبْ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ فَلا يَخُنْ، وَإِذَا وَعَدَ فَلا يُخْلِفْ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ.
) ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے چھ چیزوں كی ضمانت دو میں تمہیں جنت كی ضمانت دیتا ہوں۔جب تم میں سے كوئی شخص بات كرے تو جھوٹ مت بولے، اور جب اس كے پاس امانت ركھی جائے تو خیانت نہ كرے، اور جب وعدہ كرے تو وعدہ خلافی نہ كرے، اپنی نگاہیں نیچی ركھو، اپنے ہاتھ روكے ركھو، اور اپنی شرمگاہوں كی حفاظت كرو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1330

عن أَنسٍ قال، قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا أُنَبِّئُكُم بِخِيَارِكُم؟ خِيَارُكُم أَطْوُلَكُم أَعْمَارًا إِذَا سَدَّدُوا
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں كے بارے میں نہ بتاؤں ؟،(وہ لوگ بہترین ہیں) جن كی عمریں طویل ہوں اور سیدھے راستے پر ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1331

عَنْ أَبِي سَعِيد مرفوعا: اللهمّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِين .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی): اللهمّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحشرنِي فِي زَمْرَة الْمَسَاكِين، اے اللہ مجھے مسكینی كی حالت میں زندہ ركھ ، اور مسكینی كی حالت میں فوت كر ، اور مجھےمساكین كے گروہ میں جمع كر۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1332

عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ: إِنَّ آلَ أَبِي فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ .
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو آہستہ نہیں بلند آواز سے فرماتے سنا کہ: ابو فلاں كی آل والے میرے دوست نہیں،میرا دوست تو اللہ اور نیك مومنین ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1333

عن عَائَشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله، إِنَّ الله إِذَا أَنْزَلَ سطْوَتَه بِأَهْلِ الْأَرْضِ وَفِيهِمُ الصَّالِحُون فَيَهْلكُون بِهَلاَكِهِمْ ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ إِذَا أَنْزَلَ سطْوَتهُ بِأَهْلِ نَقْمَتِه وَفِيهِمُ الصَّالِحُون ، فَيُصَابُوْنَ مَعَهُمْ ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِم .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول اللہ تعالیٰ جب كسی علاقے والوں پر اپنا عذاب نازل كرتا ہے اور ان میں نیك لوگ بھی ہوں تو كیا انہیں بھی ان كے ساتھ ہلاك كر دیا جاتا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب اپنے دشمنوں پر عذاب نازل كرتا ہے اور ان میں نیك لوگ بھی ہوں تو انہیں بھی ان كے ساتھ ہلاك كر دیا جاتا ہے۔ پھر انہیں ان كی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1334

عَنْ أَحَدِ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَبْتَلِي عَبْدَهُ بِمَا أَعْطَاهُ فَمَنْ رَضِيَ بِمَا قَسَمَ الله عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَارَكَ اللهُ لَهُ فِيهِ وَوَسَّعَهُ وَمَنْ لَّمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارِكْ لَهُ .
بنو سلیم كے ایك شخص سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے كو مال دےکر آزماتا ہے۔ جو شخص اپنے لئے اللہ كی تقسیم پر راضی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس كے لئے اس مال میں بركت فرمادیتا ہے اور كشادگی كردیتا ہے اور جو شخص راضی نہیں ہوتا اس كے لئے اس كے مال میں بركت نہیں دی جاتی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1335

) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَالَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا شَيْءَ لَهُ . فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ لَهُ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا شَيْءَ لَهُ . ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الله عَزَّوَجَلَّ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ .
) ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جو اجر اور شہرت كی نیت سے جہاد كرتا ہے، اس كے لئے كیااجر ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس كے لئے كوئی اجرنہیں۔ اس شخص نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس سے كہتے رہے اس كے لئے كوئی چیز نہیں۔ پھر فرمایا: اللہ عزوجل ایسا عمل قبول كرتاہے جو صرف اس كے لئے خالص ہوتا ہے اور جس كے ذریعے اس كی خوشنودی تلاش كی جائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1336

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الله يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم میری عبادت كے لئے فارغ ہو جا، میں تیرے دل كو غنیٰ سے بھر دوں گا، تیری محتاجی دور كر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ كیا تو تجھے مصروفیت میں پھنسا دوں گا اور تیری محتاجی بھی دور نہیں كروں گا ۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1337

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مَـرْفُوْعاً: أَوَّلُ مَـا يُحَـاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَنْ يُقَالَ لَهُ: أَلَمْ أُصِـحَّ لَكَ جِسْمَـكَ؟ وأُرْوِكَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِد ؟ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ :قیامت كے دن بندے كا سب سے پہلے یہ حساب ہو گا كہ اس سے كہا جائے گا ،كیا میں نےتمہیں تندرستی عطا نہیں كی تھی، اور تمہیں ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں كیا تھا؟( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1338

عن أبي هُرَيْرَة ،مَرْفُوْعاً: إِن أَوْلِيَائِي يَوِم الْقِيَامَة الْمُتَّقُون، وَإِن كَان نَسَبٌ أَقْرَبَ مِنْ نَسـَبٍ ، فَـلَا يَأْتِيَنِي النَّاس بِالْأَعْمَال وَتَأْتُونِي بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا عَلَى رِقَابِكُم، فَتَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدْ! فَأَقُولُ هَكَذَا وَهَكَذَا: لَا. وَأَعْرَضَ فِي كلَا عِطْفَيْه .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: قیامت كے دن میرے دوست متقی لوگ ہوں گے ۔ اگرچہ نسب کے اعتبار سے کوئی میرے زیادہ قریب ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ میرے پاس (نیک) اعمال لے کر آئیں اور تم میرے پاس اپنی گردنوں پر دنیا اٹھائے ہوئے آؤ۔ اور كہہ رہے ہو گے: اے محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ اور میں اس طرح اس طرح كروں كہ نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے كاندھے دونوں طرف موڑیے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1339

عن أبي الدَّرْدَاء قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن بَيْن أَيْدِيْكُم عَقَبَة كُؤُودا , لَا يَنْجُو مِنها إِلَا كُل مُخف.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے سامنے ایك گہری كھائی ہے، اس سے وہی بچ سکتا ہے جس کے گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1340

عن أَنس: ذكر لَنا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال: إِن فِيكُم قَوْمًا يَّتَعَبَّدُون حَتَّى يُعْجِبُوا النَّاس وَيُعْجِبَهُم أَنْفُسَهُم ، يَمْرُقُون مِنَ الدِّيْنِ كَمَا يَمْرُق السَّهْم مِنَ الرَّمْيَة .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (کچھ لوگوں کا) ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اتنی عبادت کریں گے کہ لوگ اور وہ خود بھی اپنی عبادت سے متعجب ہوں گے۔ (لیکن) وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسا تیر شکار کے (جسم سے پار) نکل جاتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1341

) عن عَائَشَة ، أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : إِن كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْب فَاسْتَغْفِرِي الله وَتُوبِي إِلَيْه ، فَإِن التَّوْبَة من الذَّنَب: النَّدَمُ وَالِاسْتِغْفَارُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم نے كوئی گناہ كیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اور اس سے توبہ كرو، كیونكہ گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1342

عَنِ ابْن عُمَرَ مَرْفُوْعا: إِنَّ لِلهِ أَقْواَماً يَخْتَصُّهُمْ بِالنِّعَم لمناَفِع الْعِبَاد ، وَيُقِرُّهُم فِيهَا مَا بَذَلُوهَا، فَإِذَا مَنَعُوهَا نَزَعَهَا مِنْهم، فحوَّلها إِلَى غَيْرِهِمْ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: اللہ كے كچھ بندے ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بندوں كو فائدہ دینے كے لئے نعمتوں سے نوازتا ہے۔ جو وہ خرچ كرتے ہیں ان كے لئے برقرار ركھتا ہے ،جب وہ روك لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے چھین لیتا ہے اور دوسروں كو عطا كر دیتاہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1343

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: إِن لِلهِ عِبَادًا يَعْرِفُون النَّاس بِالتَّوَسُّمْ . ( )
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كے كچھ بندے ایسے ہیں جو لوگوں کو نشانوں سے پہچانتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1344

) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ يُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخُوَّنَ الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ وَسُوءُ الْجِوَارِ ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَخَ فِيْهاَ صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ، أَكَلَتْ طَيِّبًا، وَوَضَعَتْ طَيِّبًا، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تُكْسَرْ، وَلَمْ تَفْسُدْ .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدگوئی اور فحش گوئی كو نا پسند كرتا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تك امین کو خائن نہ سمجھا جائے اور خائن کو امین نہ سمجھا جانے لگے،اورفحش گوئی،بدگوئی، قطع رحمی اور برے پڑوسیوں كی اكثریت نہ ہو جائے۔ مومن كی مثال سونے كے ٹكڑے كی طر ح ہےكہ اس كے مالك نے اس میں پھونك ماری نہ تو یہ تبدیل ہو ااورنہ كم ہوا۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی جان ہے! مومن كی مثال كھجور كے درخت كی طرح ہے جو صاف خوراك حاصل كرتا ہے اور پاكیزہ پھل دیتا ہے۔ اگر زمین پر گر بھی جائے تو خراب نہیں ہوتا نہ ہی ٹوٹتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1345

عَنْ أُبَيِّ بن كَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ قَدْ ضُرِبَ لِلدُّنْيَا مَثَلا ، فَانْظُرْ مَا يَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ وَإِنْ قَزَّحَهُ وَمَلَّحَهُ قَدْ عَلِمَ إِلَى مَا يَصِيرُ.
ا بی بن كعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن ِ آدم كی خوراك كو دنیا كے لئے مثال بنا دیا گیا ہے۔ اس لئے وہ دیكھے كہ ابن آدم سے كیاخارج ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ کتنا ہی مصالحے دار اور چٹ پٹا ہو، وہ جان لے گا كہ كس طرف جارہا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1346

عَنْ فَاطِمَة قَالَتْ: أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : إِنَّ مِنْ شِرَارِ أُمَّتِي الَّذِيْنَ غُذُّوا بِالنَّعِيْمِ , الَّذِين يَطْلُبُونَ أَلْوَانَ الطَّعاَم وَأَلوَانَ الثِّياَبِ , يَتَشَدَّقُونَ بِالْكَلَامِ .
فاطمہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت كے بدترین لوگ وہ ہیں جنہیں نعمتیں دی گئیں ، وہ لوگ جو رنگا رنگ كپڑے اور قسم قسم کے كھانے طلب كرتے ہیں اور باچھیں كھول كر گفتگو كرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1347

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ، مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ الله مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کچھ لوگ خیر كی كنجیاں اور شر كے تالے ہیں اور كچھ لوگ شر كی كنجیاں اور خیر كے تالےہوتے ہیں۔ ان لوگوں كے لئے خوشخبری ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خیر كی كنجیاں بنا دیا اور ہلاكت ہے ان لوگوں كے لئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے شر كی كنجیاں بنا دیا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1348

عن أَنس بن مَالَك : أَنَّ أَصَحَاب النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانُوا يَقُولُون وَهُم يَحْفِرُون الْخَنْدَق : نَحْن الَّذِين بَايَعُوا مُحَمَدا عَلَى الْجِهَاد ما بَقِينَا أَبَدًا والنَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول : اللهمّ إِن الْخَيْر خَيْرَ الْآخِرَة فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ و الْمُهَاجِرَة . وَأُتِىَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِخُبْزِ شَعِيرٍ عَلَيه إِهَالَة سَنِخَة , فَأَكَلُوا مِنها . وَقَالَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِنَّمَا الْخَيْر خَيْر الْآخِرَة .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ خندق كھو درہے تھے اور كہہ رہے تھے:ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی بیعت جہاد پر كی ہے، جب تك ہم باقی ہیں۔ اور نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرما رہے تھے: اے اللہ بھلائی تو آخرت كی بھلائی ہے، انصار اور مہاجرین كو معاف كر دے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس جَو كی روٹی لائی گئی جس پر بو دار چربی لگی ہوئی تھی۔ صحابہ نے اس میں سے كھایا اور نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرما رہے تھے: بھلائی تو صرف آخرت كی بھلائی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1349

وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ . روی من حدیث عائشة رضی اللہ عنہا و بلال الحبشی و محمد بن عروة مرسلاً.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص كے گناہ معاف كر دیئے گئے وہی راحت پائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1350

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : (ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا) (الإنسان) حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ قَدْرِ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا مَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلهِ، وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ .
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ آیت پڑھی :(ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا) آپ نے یہ آیت ختم كی پھر فرمایا: میں ایسا منظر دیكھ رہا ہوں جو تم نہیں دیكھ رہے اور ایسی باتیں سن رہا ہوں جو تم نہیں سن ر ہے، آسمان چرچرا رہا ہے ، اور اس كا حق ہے كہ وہ چراچرائے ، آسمان میں چار انگلیوں كی جگہ بھی نہیں جہاں فرشتے اللہ كوسجدہ كرتے ہوئے اپنی پیشانی ركھے ہوئے نہ ہوں۔ اللہ كی قسم ! اگر تمہیں معلوم ہو جائے جو مجھے معلوم ہے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور بہت زیادہ روتے، اور بستروں پر تم بیویوں سے لذت حاصل نہیں كرتے تم گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاتے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1351

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: أَوْصِنِي فَقَالَ: سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ قَبْلِكَ، فَقَالَ: أُوصِيكَ بِتَقْوَى الله فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ الله وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی ان كے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے نصیحت كیجئے، انہوں نے كہا: تم نے مجھ سے وہی سوال كیاہے جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كیا تھا: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں اللہ كے تقویٰ كی نصیحت كرتا ہوں، كیوں كہ یہ ہر معاملے كی ابتداءہے، اور تم پر جہاد كرنا فرض ہے کیونکہ یہ اسلام كی رہبانیت ہے، اور اللہ كے ذكر اور قرآن كی تلاوت كو لازم كر لو كیوں کہ یہ آسمان میں تمہارے لئے باعث رحمت اور زمین میں تمہارے لئے ذکر خیر کا باعث ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1352

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذْ بَصرَ بِجَمَاعَةٍ فَقَالَ: عَلَامَ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: عَلَى قَبْرٍ يَحْفِرُونَهُ قَالَ: فَفَزِعَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَبَدَرَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ مُسْرِعًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْقَبْرِ فَجَثَا عَلَيْهِ قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ لِأَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى مِنْ دُمُوعِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا قَالَ: أَيْ إِخْوَانِي! لِمِثْلِ الْيَوْمِ فَأَعِدُّوا .
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانك آپ نے ایك مجمع دیكھا، تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ كس لئے جمع ہوئے ہیں ؟ آپ كو بتایا گیا كہ یہ لوگ ایك كھودی جانے والی قبر كے پاس جمع ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌گھبراہٹ میں اپنے صحابہ كے آگے آگے تیز تیز چلتے ہوئے قبر تك پہنچے اور گھٹنوں كے بل بیٹھ گئے ، میں آپ كے سامنے آگیا تاكہ میں دیكھوں كہ آپ كیا كرتےہیں۔ آپ رونے لگے، حتی كہ آپ كے آنسوؤں سے مٹی تر ہو گئی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے بھائیو! اس دن كے لئے تیاری كرو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1353

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَقَوْمٍ نَزَلُوا فِي بَطْنِ وَادٍ فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكُهُ .
) سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچو،جس کی مثال اس طرح ہے کہ كچھ لوگوں نے ایك وادی میں پڑاؤ ڈالااورچھوٹی چھوٹی لكڑیاں اكھٹی كیں اور روٹیاں پكالیں۔ اسی طرح جب گناہ كرنے والا چھوٹے چھوٹے گناہ كرتا ہے تو وہ گناہ اسے ہلاك كر دیتے ہیں۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1354

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ. قَالَ: اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ مَا لُكَ مَا قَدَّمْتَ وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند كرتا ہے؟ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم میں سے كوئی بھی اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث كا مال پسند نہیں كرتا۔ آپ نے فرمایا: جان لو كہ تم میں سے كوئی بھی شخص ایسا نہیں جسے اپنے مال سے اپنے وارث کا مال زیادہ پسند نہ ہو۔ تمہارا مال وہ ہے جو تم نے آگے بھیج دیا، اور تمہارے وارث كا مال وہ ہے جوتم نے تركہ چھوڑا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1355

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلَاثٌ مُهْلِكاَتٌ، وَثَلَاثٌ مُنَجِّيَاتٌ، فَقَالَ: ثَلَاثٌ مُهْلِكاَتٌ : شُحٌّ مُطَاعٌ وَهَوًى مُتَّبِعٍ وَ إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِه.وَثَلَاثٌ مُنَجِّيَاتٌ: خَشْيَةُ اللهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تین عادتیں ہلاك كرنے والی ہیں اورتین عادتیں نجات دلانے والی ہیں! انتہائی بخل، خواہش پرستی، اور خود پسندی تین عادتیں ہلاک کرنے والی یہ ہیں۔ اور تین عادتین نجات دلانے والی یہ ہیں: ظاہر اور پوشیدہ میں اللہ كی خشیت، محتاجی اور غنی میں میانہ روی، غصے اور خوشی میں انصاف کرنا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1356

عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَتْ: جَاءَنَا رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا... فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ بُرْمَةً فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيرَةٌ فَوَضَعَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَاحْتَرَقَتْ أَصَابِعُهُ فَقَالَ: حَسِّ ثُمَّ قَالَ: ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ: حَسِّ، وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ: حَسِّ .
خولہ بنت قیس بن قہد انصاریہ سے مروی ہے كہ: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك دن ہمارے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ كے سامنے ہانڈی پیش كی،اس میں روٹی یا کھچڑی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنا ہاتھ كھانے كے لئےہانڈی میں ڈالاتو آپ كی انگلیاں جل گئیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كہا: اُف( تکلیف كے وقت كلمہ) ۔پھر فرمایا: ابن آدم كو ٹھنڈك پہنچے تو اُف كہتا ہے اور اگراسےتپش پہنچے توبھی اُف كہتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1357

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : الْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ .
نعمان بن بشیر كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جماعت رحمت ہے اور تنہائی (علیحدگی )عذاب ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1358

عَنْ أَبِي عُبَيْدِ الْحَضْرَمِيِّ - يَعْنِي: شُرَيحاً - أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِ .
ابو عبید حضر می سے مروی ہے كہ ابو مالك اشعری‌رضی اللہ عنہ كی وفات كا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے كہا: اے اشعریوں كی جماعت تم میں موجودلوگ، غیر موجود لوگوں تك یہ بات پہنچا دیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، فرما رہے تھے: دنیا كی مٹھا س آخرت كی كڑواہٹ ہے اور دنیا كی كڑواہٹ آخرت كی مٹھاس ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1359

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ قُمْ إِلَيَّ أَمْشِ إِلَيْكَ وَامْشِ إِلَيَّ أُهَرْوِلْ إِلَيْكَ .
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم، میری طرف رخ كرو، میں تمہاری طرف چل كر آؤں گا، میری طرف چل كر آؤ میں تیری طرف دوڑ كر آؤں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1360

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ قُمْ إِلَيَّ أَمْشِ إِلَيْكَ وَامْشِ إِلَيَّ أُهَرْوِلْ إِلَيْكَ .
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم، میری طرف رخ كرو، میں تمہاری طرف چل كر آؤں گا، میری طرف چل كر آؤ میں تیری طرف دوڑ كر آؤں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1361

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالَكٍ مَرْفُوْعاً: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي أَناَ عِنْدَ ظَنِّكَ بِي ، وَأَنَا مَعَكَ إِذَا ذَكَرْتَنِي .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ عزوجل نے فرمایا: میرے بندے! میں تمہارے گمان كے مطابق ہوں اور میں تمہارے ساتھ ہوں جب تم مجھے یاد كرتے ہو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1362

عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ رَجُلٌ: وَاللهِ لا يَغْفِرُ اللهُ لِفُلاَنٍ، فَقَالَ اللهُ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لا أَغْفِرَ لِفُلانٍ؟! فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ .
جندب‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایاكہ: ایك آدمی نے كہا: اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ فلاں كو معاف نہیں كرے گا۔ اللہ عزوجل نےفرمایا: یہ كون ہوتا ہے جو جو مجھ پر قسم اٹھاتا ہے كہ میں فلاں كو نہیں بخشوں گا؟ میں نے فلاں كو بخش دیا اور تیرے عمل ضائع كر دئے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1363

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ لِي جِبْرِيلُ: لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذٌ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأَدُسُّهُ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جبریل نے مجھ سے كہا: اگر آپ مجھےاس وقت دیكھتے جب میں سمندركی كالی مٹی لے كر فرعون كے منہ میں اس ڈر سے بھر رہا تھا كہ كہیں اسے اللہ كی رحمت آغوش میں نہ لے لے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1364

عَنْ عَائَشَة قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: قَتْلُ الصَّبْرِ لَا يَمُرَّ بِذَنْبٍ إِلَّامَحَاہ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: باندھ کر قتل کئے گئے آدمی کے سابقہ گناہ معاف کردئے جا ئیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1365

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ بْن حَنِيْف ، عَنْ أَبِيْه مَرْفُوْعاً: كَانَ يَأْتِي ضُعَفَاءَ الْمُسْلِمَيْن ، وَيَزُوْرُهُمْ وَيَعُودُ مَرْضَاهُم ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُم .
ابو امامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كمزور مسلمانوں كے پاس آتے ،انہیں دیكھتے، ان كے مریضوں كی عیادت كرتے اور ان كے جنازوں میں شریك ہوتے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1366

) عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا الله هَبَاءً مَنْثُورًا قَالَ ثَوْبَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللهِ انْتَهَكُوهَا .
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں اپنی امت كے ایسے لوگوں كو جانتا ہوں جو قیامت كے دن تہامہ كےپہاڑوں كے برابر نیكیاں لے كر آئیں گے، جو چمك رہی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں ریت كے بكھرے ہوئے ذرات كی طرح كر دے گا۔ ثوبان رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمیں ان كے بارے میں بتایئے، اور ان كی وضاحت كیجئے؟ كہیں ہم لاعلمی میں ان جیسے نہ ہو جائیں ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ تمہارے بھائی ہیں ، اور تم جیسے ہیں رات كو وہ بھی وہی عبادت كرتے ہیں جو تم كرتے ہو لیكن یہ ایسے لوگ ہیں كہ جب علیحدہ ہوتے ہیں تو اللہ كی حرمات كا ارتكاب كرتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1367

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُم شِبْرًا بِشِبْرٍ و ذِرَاعًا بِذِرَاعٍ و بَاعًا بِبَاعٍ حَتَّى لَو أَنَّ أَحَدَهُمْ دَخَلَ جُحْرَ ضَبٍّ دَخَلْتُمْ و حَتَّى لَو أَنَّ أَحَدَهُم ضَاجِعٌ أَمَّهُ فِي الطَّرِيْقِ لَفَعَلْتُمْ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ تم اپنے سے پہلے لوگوں (یہودونصاریٰ) كی بالشت برابر بالشت ، ہاتھ برابر ہاتھ اوربازو برابر بازو پیروی كرو گے(یعنی مکمل پیروی کرو گے)۔ حتی كہ اگر ان میں سے كوئی شخص سانڈے (گوہ) كے بل میں گھسے گا تو تم بھی اس میں گھسو گے اور اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ بدکاری کی ہوگی تو تم بھی کرو گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1368

) عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ فَانْطَلَقَ وَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا وَمَرَّتْ بِعِصَابَةٍ مِّنَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَتَوْهَا فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا. . . فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ لِيُرْجَمَ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ الله أَنَا صَاحِبُهَا. فَقَالَ لَهَا اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ الله لَكِ. وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: ارْجُمُوهُ. وَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ .
علقمہ بن وائل كندی اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ: ایك عورت رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے زمانے میں نماز كے ارادے سے نكلی ، توراستے میں ایك آدمی اسے ملا اور اس نے اپنا کپڑا اس پر ڈالا اور اپنی حاجت پوری کی۔ وہ چیخنے لگی تو وہ چلا گیا۔ ایك آدمی اس كے پاس سے گزرا تو اس نے كہا: اس شخص نے میرے ساتھ بد کاری كی ہے۔ پھر وہ مہاجرین كی ایك جماعت كے پاس سے گزری تو كہنے لگی: اس آدمی نے میرے ساتھ بد حركت كی ہے۔ لوگ اس كے پیچھے دوڑے اور اس آدمی كو پكڑ لیا۔ جس كے بارے میں عورت كا گمان تھا كہ اس نے عورت سے زنا كیا ہے۔ وہ عورت كے پاس آئے تو عورت كہنے لگی: ہاں یہی وہ مرد ہے ۔ لوگ اسے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس لائے، جب آپ نے اس شخص کو رجم كرنے كا حكم دیا تو اس عورت كا جس سے اس نے زنا كیا تھا تو اس عورت کے ساتھ زیادتی کرنے والا آدمی کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا کہ: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے ساتھ زیادتی مجھ سے ہوئی ہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عورت سے فرمایا کہ: تم جاؤ، اللہ نے تمہیں بخش دیا (بدکاری کے جرم میں پکڑے جانے والے) آدمی سے بھی آپ نے اچھی بات کہی۔ اور (بدکاری) کرنے والے آدمی کے بارے میں حکم دیا کہ: اس کو رجم کردو اور فرمایا کہ: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ بھی ایسی توبہ کرتے تو قبول کی جاتی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1369

عَنْ سُرَاقَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالْجِعْرَّانَةِ فَلَمْ أَدْرِ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّى أَمْلأُ حَوْضِى ، أَنْتَظِرُ ظَهْرِى يُرَدُّ عَلَىَّ فَتَجِىءُ الْبَهِيمَةُ فَتَشْرَبُ ، فَهَلْ لِى فِى ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَكَ فِى كُلِّ كَبِدٍ حَرًّى أَجْرٌ .
سراقہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ: میں جعرانہ، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا مجھےسمجھ نہیں آیا كہ میں آپ سے كیا پوچھوں ؟ میں نے كہا:اےاللہ كے رسول میں اپنا حوض بھر كر اپنی سواری كا انتظار كرتا ہوں تاکہ حوض پر آكر پانی پئے، كوئی دوسرا جانور آكر پانی پی لیتا ہے ، كیا اس میں كوئی اجر ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے لئے ہرتر جگہ (ذی روح جو اس میں سے پانی پئے)میں اجر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1370

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمْ السَّمَاءَ ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اگر تم خطائیں كرتے رہو حتی كہ تمہاری خطائیں آسمان تك پہنچ جائیں پھر تم توبہ كرو تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1371

عَنْ جَابَرٍ مَرْفُوعًا: لَو أَنَّ ابْن آدَم هَرَبَ مِنْ رِزْقِهِ كَمَا يَهْرُبُ مِنَ الْمَوْتِ لَأَدْرَكَهُ رِزْقُه كَمَا يُدْرِكُه الْمَوْتُ .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر ابن آدم اپنے رزق سے اس طرح بھاگے جس طرح موت سے بھاگتا ہے تب بھی اس كارزق اس تك پالے گا جیسے اسے موت پالیتی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1372

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا يُجَرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي مَرْضَاةِ الله عَزَّ وَجَلَّ لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
عتبہ بن عبد كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر كوئی آدمی اپنی پیدائش كے دن سے لے كر انتہائی کمزوری ارو بڑھاپے میں مرنے تك اللہ كی رضا میں منہ كے بل گھسیٹا جائے تب بھی وہ قیامت كے دن اس عمل كو كم تر سمجھے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1373

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ،مَرْفُوْعاً: لَوْ أَنَّ الْعِبَاد لَمْ يُذْنِبُوا لَخَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقاً يُذْنِبُونَ ثُمَّ يَغْفِرُ لَهم وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيْم .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مرفوعا مروی ہے كہ اگر یہ بندے گناہ نہ كریں تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا كریں گے جو گناہ كریں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا، اور وہ معاف كرنے والا، رحم كرنے والا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1374

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْلُ: لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا .
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ كرو جس طرح بھروسہ كرنے كا حق ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح رزق دے گا جس طرح پرندوں كو رزق دیتا ہے۔ جو صبح كے وقت بھوكے پیٹ جاتے ہیں اور شام كے وقت پیٹ بھرے ہوئے آتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1375

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ مَرْفُوْعاً: لَوْ أَنَّكُمْ لَمْ تَكُنْ لَكُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا الله لَكُمْ لَجَاءَ الله بِقَوْمٍ لَهُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا لَهُمْ .
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اگر تمہاری صورتحال ایسی ہوتی كہ تمہارے گناہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آتا جن كے گناہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ انہیں بخش دیتا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1376

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، مَرْفُوْعاً: لَو أَنَّكُم لَا تُخْطِئُون لَأَتَى اللهُ بِقَوْمٍ يُخْطِئُون يَغْفِرُ لَهُمْ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر تم گناہ نہ كرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لےآتا جوگناہ كرتے اور اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرماتا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1377

عَنْ أَنَسٍ: قَالَ أَصَحَابُ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَكَ رَأَيْنَا فِي أَنْفُسِنَا ماَ نُحِبُّ ، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِيْنَا فَخَالَطْنَاهُمْ أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا ، فَقَال النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: لَوْ تَدُومُون عَلَى ما تَكُونُونَ عِنْدِي فِي الْخَلَاءِ لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُظِلَّكُم بِأَجْنِحَتِهَا عِيَانًا ، وَلَكِنْ سَاعَةً وَسَاعَةً .
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم آپ كے پاس ہوتے ہیں تو اپنے آپ میں ایسی كیفیت محسوس كرتے ہیں جو ہمیں پسند ہوتی ہے اور جب ہم اپنے گھر والوں كے پاس جاتے ہیں اور ان سے ملتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر كی كیفیت عجیب محسوس ہوتی ہے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میرے پاس ہوتے ہو یہی كیفیت اگر تمہاری تنہائی میں بھی رہے تو فرشتے تم سے مصافحہ كریں اور لوگ دیكھیں كہ انہوں نے اپنے پروں سے تمہیں ڈھانپا ہوا ہے۔ لیكن لمحہ بہ لمحہ كیفیت بدلتی رہتی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1378

قاَلَ الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ: كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم َ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فِي الصُّفَّةِ وَعَلَيْنَا الْحَوْتَكِيَّةُ فَيَقُولُ: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَكُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْكُمْ وَلَيُفْتَحَنَّ لَكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ .
عرباض بن ساریہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌صفہ میں ہمارے پاس آیا كرتے تھے اور ہم پرمختصر اور معمولی کپڑے ہوتے تھے۔ توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایا كرتے تھے: اگر تمہیں معلوم ہو جائے كہ تمہارے لئے كیا كچھ(جنت میں) جمع كیا گیا ہے توجو تم سے روک دیا گیا ہے اس پرغمگین نہ ہوتے ۔اور فارس و روم تمہارے لئے فتح كر دیئے جائیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1379

عن حَنْظَلَةَ الْأُسَيْدِيّ ، مَرْفُوْعاً: لَو تَكُونُونَ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَأَظَلَّتْكُم الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا .
حنظلہ اسیدی سے مرفوعا مروی ہے: جس طرح تمہاری كیفیت میرے پاس ہوتی ہے اگر یہی كیفیت بعد میں بھی رہے تو فرشتے تمہیں اپنے پروں سے ڈھانپ لیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1380

عَنْ أَبِي أَيُّوب أَنَّهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ: كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ
جب ابو ایوب‌رضی اللہ عنہ كی وفات كا وقت قریب آیا تو كہنے لگے: میں نے تم سے ایك بات چھپائی تھی جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی آپ فرما رہے تھے: اگر تم گناہ نہ كرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا فرماتا جو گناہ كرتے پھر اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرماتا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1381

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر تم گناہ نہ كرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آتا جو گناہ كرتے تاكہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1382

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ لَمْ تَكُونُوا تُذْنِبُون خَشِيْتُ عَلَيْكُم أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، اَلْعُجْبَ .
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ كرتے تو مجھے ڈر تھا كہ كہیں تم خود پسندی كا شكار نہ ہو جاؤ۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1383

عَنْ ثَوْبَانَ مَرْفُوْعاً: لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُهُ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ .
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم میں سے كوئی بھی شخص شكر گزار دل، ذكر كرنے والی زبان اور نیك بیوی جو آخرت كے معاملے میں اس كی مدد كرے، پسند كرے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1384

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ أَصَبْح الْيَوْمَ مِنْكُمْ صَائِمًا؟قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ : أَناَ ، قَالَ: مَنْ عَادَ مِنْكُم الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَناَ، قَالَ : مَنْ شَهِدَ مِنْكُم الْيَوْم جَنَازَة؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَناَ، قَالَ: مَنْ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنا . قَالَ مَرْوَان: بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَا اجْتَمَعَ هَذِهِ الْخِصَالُ فِي رَجُلٍ فِي يَوِمٍ ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّة .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے آج كس كا روزہ ہے؟ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں روزے سےہوں۔ آپ نے فرمایا: آج كے دن تم میں سے كس نے مریض كی عیادت كی ہے؟ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے ۔ آپ نے فرمایا: آج كے دن جنازے میں كون حاضر ہوا ہے؟ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں۔ آپ نے فرمایا: آج كے دن كس نے مسكین كو كھانا كھلایا ہے؟ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے ۔ مروان نے كہا: مجھےیہ خبر پہنچی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كسی بھی دن جس شخص میں یہ عادتیں جمع ہوں گی تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1385

عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ:مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فِي اللهِ عَزَّوَجَلَّ أَوْ فِي الْإِسْلَامِ،فَيُفَرَّق بَيْنَهُمَا إِلَا ذَنْبٌ يُحْدِثُه أَحَدُهُمَا .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:جو بھی دو شخص اللہ کے لئے یا اسلام کے لئے محبت کرتے ہیں پھران دونوں میں جدائی ہوجاتی ہےتو اس کی وجہ کوئی گناہ ہوتا ہے جو ان میں سے کوئی ایک کرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1386

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا: مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرُ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو كم ہو اور كفایت كر جائے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ تو ہو لیكن غفلت میں ڈال دے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1387

قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ: اضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى حَصِيرٍ فَأَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ جَعَلْتُ أَمْسَحُ جَنْبَهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: أَلَا آذَنْتَنَا حَتَّى نَبْسُطَ لَكَ عَلَى الْحَصِيرِ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟! مَا أَنَا وَالدُّنْيَا؟! إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا كَرَاكِبٍ ظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا .
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك چٹائی پر سوئے تو آپ كے پہلو میں نشان پڑ گیا۔ جب آپ جاگےتو میں آپ کا پہلو سہلانے لگا۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ! آپ نے ہمیں بتایا كیوں نہیں ہم آپ كی چٹائی پر كوئی چیز بچھا دیتے۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے دنیا سے كیا مطلب ؟ اور دنیا كا كیا تعلق؟ میری مثال تو اس سوار كی طرح ہے جو ایك درخت كے نیچے سایہ حاصل كرنے كے لئے بیٹھا، پھر وہاں سے كوچ كر گیا اور درخت كو چھوڑ دیا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1388

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَر فِي جَنْبِه فَقَال: يَا نَبِيَّ الله، لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَر مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ: مَالِي وَلِلدُّنْيَا؟! ما مَثلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ عمر‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے،جس نے آپ كے پہلو میں نشان ڈال دیئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ اس سے اچھا بستر لے لیےت توبہتر ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے كیا مطلب؟ میری اور دنیا كی مثال تو اس سوار كی طرح ہے جو ایك گرم دن میں سفر كرتا رہا، اور دن كی ایك گھڑی كسی درخت كے نیچے سایہ حاصل كرنے كے لئے بیٹھ گیا۔ پھر وہاں سے كوچ كر گیا اور درخت كو چھوڑ دیا۔ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1389

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوْعاً: مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ صِيْتٌ فِي السَّمَاء , فَإِذَا كَانَ صِيْتُه فِي السَّمَاء حَسَنًا وُضِعَ فِي الْأَرَضِ حَسَنًا , وَإِذَا كَانَ صِيْتُه فِي السَّمَاء سَيِّئًا وُضِعَ فِي الْأَرْضِ سَيِّئًا .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: ہر بندے كے لئے آسمان میں ایك شہرت ہے۔ جب آسمان میں شہرت اچھی ہو تو زمین میں بھی اچھی شہرت ہوتی ہےاور جب آسمان میں شہرت بری ہو تو زمین میں بھی بری ہو تی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1390

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَرْفُوْعاً: مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلا وَلَهُ ذَنْبٌ يَعْتَادُهُ: الْفَيْنَةَ بَعْدَ الْفَيْنَةِ، أَوْ ذَنْبٌ هُوَ مُقِيمٌ عَلَيْهِ لا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُفَارِقَ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ مُفْتَنًا تَوَّابًا نَسَّاءً إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : ہر مومن آدمی (بھی) کسی گناہ کا وقتا فوقتا ارتكاب كرتا رہتا ہے۔ یاایسا گناہ ہوتا ہے جس پر وہ دوام ركھتا ہے جب تك فوت نہ ہو جائے وہ گناہ نہیں چھوڑ تا ۔ مومن كو آزمائش میں مبتلا، توبہ كرنے والا، بھولنے والا،پیدا كیا گیا ہے۔ جب اسے یاد دہانی كرائی جائے تو نصیحت حاصل كرتا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1391

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِب مَرْفُوْعاً: مَا مِنَ الْقُلُوب قَلْبٌ إِلَّا وَلَهُ سَحَابَةٌ كَسَحَابَةِ الْقَمَر، بَيْنَا الْقَمَرِ مضيءٌ إِذْ عَلَتْه سَحَابَة فَأَظْلَمَ , إِذْ تَجَلَّتْ عَنْه فَأَضَاءَ .
علی بن ابی طالب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: ہر دل كے لئےچاندكے بادل كی طرح (گناہ کا) ایك بادل ہوتا ہے۔ چاند روشن ہوتا ہے كہ اچانك وہ بادل اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اندھیرا ہو جاتا ہے۔ جب وہ بادل اس سے ہٹ جاتا ہے تو روشنی ہو جاتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1392

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَل الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ؟ . روی من حدیث انس و عمار بن یاسر و عبداللہ بن عمر و علی بن ابی طالب و عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت كی مثال بارش كی طرح ہے، معلوم نہیں كہ پہلے والے لوگ بہتر ہیں یا آخر والے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1393

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُمِيْلُهَا الرِّيحُ مَرَّةً هَكَذاَ وَمَرَّةً هَكَذَا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرُزَّةِ الْمُجْذِيةِ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى يَكُونَ انْجِفَافُهَا مَرَّةً .
كعب بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مومن كی مثال اس نرم تر و تازہ پودے كی طرح ہے جسے سخت ہوا كبھی ادھر اور كبھی ادھر کرتی رہتی ہے اور منافق كی مثال سیدھے کھڑے رہنے والی صنوبر کے درخت كی طرح ہے كہ جسے ہوا ایك مرتبہ ہی زمین سے اكھاڑ كر پھینك دیتی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1394

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَثَل الْمُؤْمِن مَثَل السُّنْبُلَة تَمِيل أَحْيَانًا وَتَقُوْمُ أَحْيَانًا . ورد من حدیث انس و ابی ھریرة رضی اللہ عنہما
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مومن كی مثال (گندم) كی بالی کی طرح ہےكبھی جھك جاتی ہے كبھی سیدھی كھڑی ہو جاتی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1395

عَنِ ابْنِ عُمَرَ , مَرْفُوْعاً: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ مَا أَخَذْتَ مِنْهَا مِنْ شَيْءٍ نَفَعَكَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ مومن كی مثال كھجور كے درخت كی طرح ہے، اس میں سے جو كچھ بھی لے لو تمہیں نفع دے گا۔(یعنی کھجور،پتے یا تناوغیرہ)۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1396

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءَ مَرْفُوْعاً: مَنْ أَخَرَج مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمَيْن شَيْئًا يُؤْذِيهِم، كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهِ حَسَنَةً ، وَمَنْ كُتِبَ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ أَدْخَلَهُ اللهُ بِهَا الْجَنَّة .
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص نے مسلمانوں كے راستے سے كوئی تكلیف دہ چیز ہٹائی اللہ تعالیٰ اس كے لئے ایك نیكی لكھ دےگا اور جس شخص كے لئے اللہ تعالیٰ اپنے پاس كوئی نیكی لكھ دے، اسے اس نیكی كے بدلے جنت میں داخل كرے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1397

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْلَمَ مَا لَهُ عِنْدَ اللهِ جَلَّ ذِكْرُهُ , فَلْيَنْظُرْ مَا لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ . روی من حدیث انس و ابی ھریرة سمرة بن جندب رضی اللہ عنہم.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جوشخص یہ جاننا چاہتاہےكہ اس كےلئےاللہ عزوجل كےپاس كیاہےتو وہ یہ دیكھےكہ اللہ كےلئےاس كے پاس كیا ہے؟ ( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1398

عَنْ عَائِشَة مَرْفُوْعاً:مَنْ أَرْضَى اللهَ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللهُ وَمَنْ أَسْخَطَ اللهَ بِرِضَى النَّاسِ وَكَّلَهُ اللهُ إِلَى النَّاس.
عائشہ رضی اللہ عنہا سےمرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے لوگوں كو ناراض كر كے اللہ كو راضی كیا، اللہ تعالیٰ لوگوں سے اس كے لئے كافی ہوجائے گا اور جس شخص نے لوگوں كو راضی كر كے اللہ كو ناراض كیا، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں كے سپرد كر ے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1399

عَنِ الزُّبَيْرِبْنِ الْعَوَامّ مَرْفُوْعاً: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُم أَنْ يَكُونَ لَهُ خَبْئٌ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ فَلْيَفْعَلْ .
زبیر بن عوام‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم میں سے جو شخص یہ استطاعت ركھتا ہو كہ اس كا كوئی نیك عمل پوشیدہ رہے تو وہ ایسا كرلے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1400

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم :مَنْ أَصْبَحَ آمِنًا فِي سِرْبِه، مُعَافًى فِي جَسَدِه، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَاحِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِيْرِهاَ. روی من حدیث عبیداللہ بن محصن الانصاری وابی الدردآء و ابن عمر و علی رضی اللہ عنہم.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے صحت مند جسم كے ساتھ صبح كی اور اس كے پاس اس دن كی خوراك بھی ہو تو گویا اس كے لئے دنیا تمام تر سامان كے ساتھ جمع كر دی گئی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1401

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: مَنْ بَدَا جَفَا وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ الله بُعْدًا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو بیابا نوں میں رہائش اختیار کرے گا تو وہ سنگ دل ہو جائے گا ، اور جو شخص شكار كے پیچھے لگا وہ غافل ہو جائے گا، اور جو شخص بادشاہ كے دروازے پر آیا وہ فتنے میں گرفتار ہو جائے گا، اور جو شخص جتنا بادشاہ كے قریب ہوگا وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1402

) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصِلَ صِدِيْقَ أَبِيْكَ .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم اپنے والد كے دوست سے صلہ رحمی كرو تو یہ بھی نیكی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1403

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: مَنْ خَافَ أَدْلَجَ وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ أَلاَ إِنَّ سِلْعَةَ الله غَالِيَةٌ أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللهِ الْجَنَّةُ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ :جو شخص (رات کے آخری حصے میں دشمن کے حملے سے) ڈرا اور رات کے ابتدائی حصے میں چل پڑا تو وہ منزل تك پہنچ جائے گا، خبردار اللہ كا سامان مہنگا ہے۔ خبردار اللہ كا سامان جنت ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1404

عَنْ أُبَي بنْ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ خَافَ أَدْلَجَ وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللهِ تَعاَلىَ غَالِيَةٌ أَلَا إِنَّ سِلْعَة اللهِ الْجَنَّة، جَاءَت الرَّاجِفَة تَتْبَعُهَا الرَّادِفَة جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيْهِ . ( )
ا بی بن كعب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو شخص (رات کے آخری حصے میں دشمن کے حملے سے) ڈرا اور رات کے ابتدائی حصے میں چل پڑا تو وہ منزل تك پہنچ جائے گا خبردار اللہ كا سامان مہنگا ہے۔ خبردار اللہ كا سامان جنت ہے۔کانپنے والی (یعنی قیامت) آپہنچی ہے اور اس کے پیچھے آنے والی (دسرا صور جس سے مُردے قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے) آرہی ہے۔ موت تمام تر سامان كے ساتھ آگئی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1405

عَنْ هُبَيْبٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ بَلَغَ رَجُلًا مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ. فَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بِمِصْرَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ: فَقَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَّسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌.
هُبَيْب اپنے چچا سے بیان كرتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی کو یہ بات پہنچی کہ فلاں صحابی یہ حدیث بیان کرتا ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں اپنے مسلمان بھائی كی پردہ پوشی كی اللہ تعالیٰ قیامت كے دن اس كی پردہ پوشی كرے گا، وہ مصر میں ان كے پاس گئے اور اس حدیث كے متعلق پوچھا تو انہوں نے كہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی كی دنیا میں پردہ پوشی كی اللہ تعالیٰ قیامت كے دن اس كی پردہ پوشی كرے گا انہوں نے کہا کہ: میں نے بھی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے یہ سنا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1406

عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَرْفُوْعاً: مَنْ كَانَ لَهُ وَجْهَانِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ . ( )
عماربن یاسر رضی اللہ عنہما سےمرفوعامروی ہےكہ دنیا میں جس شخص كےدوچہرےہوئےقیامت كےدن اس كےلئےآگ كی دوزبانیں ہوں گی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1407

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً: مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ جَعَلَ الله غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ الدُّنْيَا هَمَّهُ جَعَلَ الله فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهُ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص كا مقصد آخرت كی بہتری ہو اللہ تعالیٰ اس كے دل میں غنا ركھ دیتا ہے، اس كےبكھرے ہوئے كام سمیٹ دیتا ہے ، اور دنیا ذلیل ہو كر اس كے پاس آتی ہے۔ اور جس شخص كا مقصد صرف دنیا كمانا ہو اللہ تعالیٰ اس كی آنكھوں كے درمیان محتاجی ركھ دیتا ہے، اس كے كام بكھیر دیتا ہے ، اور دنیا سے اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنا اس كا مقدر ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1408

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوْعاً: مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ فَرَّقَ اللهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ وَمَنْ كَانَتْ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ جَمَعَ اللهُ لَهُ أَمْرَهُ وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ .
زید بن ثابت‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص كا مقصد دنیاحاصل کرنا ہو اللہ تعالیٰ اس كے كام بكھیر دیتا ہے ، اور اس كی آنكھوں كےدرمیان محتاجی ركھ دیتا ہے اور دنیا سے اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس كا مقدر ہو۔ اور جس شخص كا مقصد آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس كے كام جمع كر دیتا ہے، اس كے دل میں غنا ركھ دیتاہے اور دنیا ذلیل ہو كر اس كے پاس آتی ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1409

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً: مَنْ وَعَدَهُ اللهُ عَلَى عَمَلٍ ثَوَابًا فَهُوَ مُنْجِزُهُ لَهُ وَمَنْ وَعَدَه عَلَى عَمَلٍ عِقَابًا فَهُوَ فِيْهِ بِالْخِيَار
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے اللہ تعالیٰ نے جس عمل پر ثواب دینے كا وعدہ كیا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا كرے گا اورجس عمل پرسزا دینے كا وعدہ كیا ہے اس میں اللہ كو اختیار ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1410

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا: مَنْ يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّ خَمْسًا فَقَالَ: اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ الله لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): مجھ سے كون شخص یہ كلمات سیكھ كر ان پر عمل كرے گا،یا اس شخص كو سكھائے گا جو ان پر عمل كرے ؟ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پكڑا اور پانچ چیزیں گنوائیں ، فرمایا: محارم(حرام كاموں)سے بچوتم انتہائی عبادت گزار بن جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو مقدركر دیا اس پر راضی ہو جاؤتم سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے نیكی كرو تم مومن بن جاؤ گے۔ جو اپنے لئے پسند كرتے ہو لوگوں كے لئے بھی وہی پسند كرو مسلمان بن جاؤ گے۔ زیادہ مت ہنسو كیوں كہ زیادہ ہنسنا دلوں كو مردہ كر دیتا ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1411

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوْعاً: النَّاسُ وَلَدُ آدَم , وَآدَمُ مِنْ تُرَاب .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: لوگ آدم علیہ السلام كی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی كے بنے ہوئے تھے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1412

عَنْ رِفَاعَةَ بن عِمْرَانَ الْجُهَنِيِّ مَرْفُوْعاً: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّاسُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ وَأَرْجُو أَلَّا تَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ ذُرِّيَاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابِ . ( )
رفاعہ بن عمران جہنی سے مرفوعا مروی ہے كہ: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) كی جان ہے، جو بندہ ایمان لاتاہے ، پھر سیدھا رہتا ہے ، اسے جنت میں چلایا جائے گا، اور مجھے امید ہے كہ تم اس وقت تك جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تك تم اور تمہاری نیك اولاد جنت میں جگہ نہ بنالیں اورمجھ سے میرے رب نے وعدہ كیا ہے كہ میری امت میں سے ستر ہزار بندے بغیر حساب كے جنت میں داخل کرےگا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1413

عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيْدِيِّ وَكَانَ مِنْ كُتَّابِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قَالَ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ! قَالَ: سُبْحَانَ الله! مَا تَقُولُ؟ قَالَ قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ فَنَسِينَا كَثِيرًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَالله إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ الله فَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا. فَقَـالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : وَالَّذِي نَفْسـِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
حنظلہ اسیدی‌رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے کاتبوں میں سے تھے، سے مروی ہے كہتے ہیں كہ مجھے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ ملے اور كہنے لگے: حنظلہ كیسے ہو؟ میں نے كہا: حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ ابو بكرنے كہا: سبحان اللہ تم كیا كہہ رہے ہو؟ میں نے كہا: جب ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہمیں جنت و جہنم كی یاد دہانی كرواتے رہتے ہیں، جیسا كہ ہم انہیں آنكھوں سے دیكھ رہے ہوں، جب ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سےچلے جاتےہیں تو ہم بیوی بچوں اوركام میں مصروف ہوجاتےہیں اوربہت كچھ بھول جاتے ہیں، ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نےکہا اللہ كی قسم ہماری بھی یہی صورتحال ہے۔ پھر میں اور ابو بكر‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے ۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حنظلہ منافق ہو گیاہے، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ كس طرح (یہ كیا معاملہ ہے؟) میں نے كہا: ہم آپ كے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہمیں جنت اور جہنم كی یاد دلاتے رہتے ہیں گویا كہ ہم انہیں آنكھوں سے دیكھ رہے ہیں ، لیكن جب ہم آپ كے پاس سے اٹھ كر باہر جاتے ہیں تو بیوی بچوں اور كام كاج میں مصروف ہو جاتے ہیں اور بہت سی چیزیں بھول جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم اسی حالت میں جس میں میرے پاس ہوتے ہو اور ذكرکی کیفیت میں رہوتو فرشتے تمہارے بستروں اور راستوں پر تم سے مصافحہ کریں۔ لیكن اے حنظلہ لمحہ بہ لمحہ كیفیت بدلتی رہتی ہے۔ تین مرتبہ یہی فرمایا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1414

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِشَاةٍ مَيْتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى الله مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ: رسو ل اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك مردہ بكری كے پاس سے گزرے جسے اس كے مالكوں نےپھینك دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! دنیا اللہ كے نزدیك اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنی یہ بكری اپنے مالكوں كے پاس حقیر ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1415

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ الله بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ الله فَيَغْفِرُ لَهُمْ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ كرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ختم كردے اور ایسی قوم لے آئے جو گناہ كر كے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1416

عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الله بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ (يَسَارِ بْنِ عَبْداللهِ الْجُهْنِي) قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا نَرَاكَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقَالَ: أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلهِ ثُمَّ أَفَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِّنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ.( )
معاذ بن عبداللہ بن خبیب اپنے والد سے وہ ان كے چچا سے بیان كرتے ہیں كہ انہوں نے كہا: ہم ایك مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے تو آپ كے سر پر پانی كا نشان تھا۔ ہم میں سے كسی نے كہا: آج ہم آپ كو تروتازہ دیكھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں ، الحمدللہ ، پھر لوگ دولت كے تذكرے میں مشغول ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا: جو شخص متقی ہے اس كے لئے دولت میں كوئی حرج نہیں، اور متقی شخص كے لئے صحت دولت سے بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی نعمتوں میں سے ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1417

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَهُمْ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ: لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ (وَتَقّنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحِل) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌حجر كے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے كہا:ان عذاب شدہ لوگوں کی بستی، كے پاس سے روتے ہوئے گزرو، اگر تم رو نہیں سكتے تو ان كے پاس مت جاؤ، كہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائےجو ان پر آیا تھا(آپ سواری پر بیٹھے تھے، آپ نے اپنی چادر سے منہ ڈھانپ لیا)۔