Al Silsila Sahiha

Search Results(1)

9)

9) دعاؤں کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1429

عَنْ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً وَيَكْبُو مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ لَقَدْ أَعْطَانِي اللهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَآئِهَا فَيَقُولُ الله عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ! لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ وَ يُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَآئِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَآئِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَآئِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُوُلَيَيْنِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَآئِهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟ أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ قَالَ: يَا رَبِّ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حِينَ قَالَ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ . - وَفِي رِوَايَةٍ: قَدِيْرٌ-.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ نے فرمایا: جنت میں آخر میں داخل ہونے والا جو شخص ہو گا ،كبھی وہ اٹھ كرچلنے لگے گا ، كبھی وہ منہ كے بل گرے گا، كبھی اسے آگ لپیٹ لے گی۔ پھر جب وہ آگ سے نكل آئے گا تو اس كی طرف دیكھے گا اور كہے گا : بابركت ہے وہ ذات جس نے مجھے تم سے نجات دی ، اللہ تعالی نے مجھے ایسی چیز (نعمت) عطا كی ہے جو اول و آخر كسی كو نہیں دی ہوگی۔ اس كےلئے ایك درخت دکھائی دے گا وہ كہے گا : اے میرے رب ! مجھے اس درخت كے نزدیك كردے ، میں اس كا سایہ حاصل كر سكوں اور اس كے پانی میں سے چند گھونٹ پی لوں، اللہ عزوجل فرمائے گا : اے ابن آدم! ممكن ہے میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کر دوں تو تم اس كے علاوہ كسی اور چیز كا مطالبہ كر دو ؟ وہ كہے گا : نہیں اے رب اور عہد كرے گا كہ اس كے علاوہ كوئی اور مطالبہ نہیں كروں گا ، اور اس كا رب اس كا عذر قبول كر لے گا كیونكہ وہ دیكھے گا كہ اس سے صبر نہیں ہو رہا ، اللہ اسے اس درخت كے قریب كردے گا ، وہ اس كا سایہ حاصل كرے گا اور اس كا پانی پیئے گا ، پھر اسے ایك دوسرا درخت دکھائی دے گا جو اس سے بھی بہتر ہوگا ، وہ كہے گا : اے میرے رب مجھے اس كے قریب كردے تاكہ میں اس كا پانی پی سكوں اور اس كے سائے سے لطف اندوز ہو سكوں ، میں اس كے علاوہ تجھ سے كوئی اورمطالبہ نہیں كروں گا، اللہ تعالی فرمائے گا: اے ابن آدم كیا تم نے مجھ سے عہد نہیں كیا تھا كہ تم اس كے علاوہ كوئی اورمطالبہ نہیں كروگے ؟ ممكن ہے اگر میں تمھیں اس درخت كے قریب كردوں تو تم كوئی اور مطالبہ كردو؟ وہ عہدكرے گا كہ اس كے علاوہ كوئی اور مطالبہ نہیں كرے گا ، اور اس كا رب اس كا عذر قبول كرلے گا ، كیونكہ اللہ تعالی دیكھے گا كہ اسے صبر نہیں آرہا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اس درخت كے قریب كردے گا ، وہ اس كے سائے سے لطف اندوزہوگا ، اور اس كا پانی پیئے گا ،پھر جنت كے دروازے كے پاس ایك اور درخت دکھائی دے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوب صورت ہوگا، وہ كہے گا : اے میرے رب مجھے اس درخت كے قریب كردے تاكہ میں اس كے سائے سے لطف اندوز ہو سكوں اور اس كا پانی پی سکوں ، اس كے علاوہ تجھ سے كوئی اور سوال نہیں كروں گا۔ اللہ تعالی فرمائیں گے : اے ابن آدم كیا تم نے مجھ سے معاہدہ نہیں كیا تھا كہ تم اس كے علاوہ كوئی اورمطالبہ نہیں كرو گے ؟ وہ كہے گا كیوں نہیں اے میرے رب ! بس یہ، اس كے علاوہ كوئی اورسوال نہیں كروں گا،اور اس كا رب اس كا عذر قبول كر لے گا، كیوں كہ اللہ تعالیٰ دیكھے گاكہ اسے صبر نہیں آ رہا ۔ اللہ تعالیٰ اسے اس كے قریب كر دے گا(جب اللہ تعالیٰ اسے اس درخت كے قریب كر دے گا)تو وہ جنت والوں كی آوازیں سنے گا، كہے گا: اے میرے رب مجھے اس میں داخل كر دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابن آدم ! میری طرف سے کون سی چیز تجھے خوش کردے گی کہ (ترے سوال کا سلسلہ منقطع ہوجائے) كیا تمہیں ایك دنیا اور اس كے ساتھ اس جتنی دوسری دنیا دے دوں تو كیا راضی ہو جاؤ گے؟ وہ كہے گا: اے میرے رب ! آپ رب العالمین ہو كر مجھ سے مذاق كر رہے ہیں؟ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ ہنس پڑے ،كہنے لگے :كیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں كہ میں كیوں ہنسا ؟ لوگوں نے پوچھا: آپ كیوں ہنسے؟ (عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بھی اسی طرح ہنسے تھے، لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ آپ كیوں ہنسے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ رب العالمین كے ہنسنے كی وجہ سے جب اس نے كہا: كیا آپ رب العالمین ہو كر مذاق كر رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تم سے مذاق نہیں كر رہا،لیكن جو میں چاہتا ہوں اس پر قادر ہوں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1430

عَنْ أَبِي أُمَامَة الْبَاهِلِيّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُوْل: أَتَانِي رَجُلَانِ ، فَأَخَذَا بِضَبْعِي ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعُدْ. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيْقُهُ . فَقاَلاَ: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ. فَصَعَدْتُّ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاء الْجَبَل، إِذَا أَنا بِأَصْواَتٍ شَدِيْدَةٍ ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَات ؟ قَالُوا: هَذاَ عَوَاءُ أَهْلِ النَّار ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلِّقِيْنَ بِعَرَاْقِيْبِهِمْ مُشَقَّقَة أَشْدَاقُهُمْ تَسِيْلُ أَشْدَاْقُهُمْ دَمًا ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاء الَّذِين يُفْطِرُوْنَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِم ،فَقَالَ: خَابَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ سُلَيْمَانِ: مَا أَدْرِي أَسِمعَهُ أَبُو أُمَامَةَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِہ؟! ثُمَّ انْطَلَقَا بِي ، فَإِذَا بِقَوْم أَشَدّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيْحًا ، وَأَسْوَئِهِ مَنْظَرًا ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلاَءِ قَتْلَى الكُفَّارِ .ثُمَّ انْطَلَقَا بِي فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، كَأَنَّ رِيْحَهُمْ المَرَاحِيْضُ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاء؟ قَالَ: هَؤُلاَءِ الزّانُوْنَ وَالزَّوَانِي ، ثُمَّ انْطَلَقَا بِي ، فَإِذَا انا بِنَسَاءٍ تَنْهَشُ ثُدِيَّهُنّ الْحَيَّاتُ ، قُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ قِيْل : هَؤُلَاء اللَّاتِي يَمْنَعْنَ أَوْلَادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي ، فَإِذَا أَناَ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْن نَهْرَيْنِ ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالاَ : هَؤُلَاءِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِيْن ، ثُمَّ أشَرَفَا بِي شَرَفًا ، فَإِذَا أَناَ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ يَشْرَبُون مِنْ خَمرٍ لَهُمْ ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوْا: هَؤُلَاءِ جَعْفَرُ وَزَيْدُ وَابْنُ رَوَاحَةَ . ثُمَّ أشْرَفَا بِي شَرَفًا آخَر، فَإِذَا أَناَ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذاَ إِبْرَاهِيْم ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى وَهَم يَنْتَظِرُونَكَ .
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ كہتےہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے میرے بازؤوں سے مجھے پكڑا اورایك خوفناک پہاڑ كے پاس لے آئے۔ كہنے لگے: اس پر چڑھئے، میں نے كہا: مجھ میں اتنی طاقت نہیں۔ انہوں نے كہا: ہم آپ كی مدد كرتے ہیں۔ میں اوپر چڑھ گیا اور پہاڑ كی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اچانك میں نے شدید چیخ و پكار سنی ، میں نے كہا: یہ كیسی آواز یں ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ جہنمیوں كی آہ و بكا ہے، پھر وہ مجھے لے كر چل پڑے، میرے سامنے كچھ لوگ آئےجو الٹے لٹکے ہوئے تھے ، ان كی باچھیں چیری ہوئی تھیں، ان كی باچھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا : یہ كون لوگ ہیں؟انہوں نے کہا : یہ روزے كا وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار كر لیا كرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: یہودونصاریٰ ہلاك ہو گئے۔ سلیمان نے كہا: مجھے نہیں معلوم كہ یہ جملہ ابو امامہ نے آپ سے سنا ہے یا ان كی اپنی رائے ہے۔ پھر وہ( مجھے) لے كر ایسی قوم كے پاس گئے جن كے پیٹ پھولے ہوئے تھے، انتہائی بدبو اٹھ رہی تھی اور سیاہ ہو چكے تھے۔ میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ كفار كے مقتولین ہیں، پھر وہ مجھے لے كر ایسی قوم كے پاس گئے، جو پھولے ہوئے تھے ، گویا ان كی بدبو پاخانے كی طرح تھی، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا كہ زانی مرد اور عورتیں ہیں۔ پھر مجھے لے كر ایسی عورتوں كے پاس گئے جن كے پستانوں كو سانپ ڈس رہے تھے۔ میں نے پوچھا : ان كا كیا معاملہ ہے؟ اس نے كہا : یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں كو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر مجھے لے كرایسے بچوں كے پاس گئے جو دو نہروں كے درمیان كھیل رہے تھے ، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ مومنین کی (بچپن میں فوت ہوجانے والی) اولاد ہیں۔ پھر مجھے ایك اونچی جگہ لے گئے۔ میں نے تین آدمیوں كی ٹولی دیكھی جو شراب سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا : یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا: جعفر، زیداورابنِ رواحہ رضی اللہ عنہم ہیں پھر مجھے ایك دوسرے ٹیلے پر لے گئے۔ میں نے تین آدمی دیكھے، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا: یہ ابراہیم،موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ہیں جو آپ كے منتظر ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1431

عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ، فَقَالَ: أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ؟ فَقُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى: هَذَا كِتَابٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْملَ عَلَى آخِرِهِمْ فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي شِمَالِه:ِ هَذَا كِتَابٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاءُ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْملَ عَلَى آخِرِهِمْ فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ. فَقَالَ أَصْحَابُهُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ الله إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ فَقَالَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا ثُمَّ قَالَ: فَرَغَ رَبُّكُمْ مِّنْ الْعِبَادِ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ .
عبداللہ بن عمرو كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے آپ كے ہاتھ میں دو كتابیں تھیں۔ آپ نے فرمایا: كیا تم جانتے ہو یہ دو كتابیں كیسی ہیں؟ ہم نے كہا: نہیں اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ہاں! اگر آپ بتادیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا۔آپ نے اس كتاب كے بارے میں كہا جو آپ كے دائیں ہاتھ میں تھی: یہ كتاب رب العالمین كی طرف سے ہے، اس میں اہل جنت كے نام ہیں، ان كے والدین اور قبائل كے نام ہیں۔آخری شخص تك سب ہیں، نہ ان میں زیادتی كی جائے گی نہ كمی۔ پھر اس كتاب كے بارے میں بتایا جو آپ كے بائیں ہاتھ میں تھی، یہ كتاب رب العالمین كی طرف سے ہے اس میں اہل دوزخ كے نام ان كے آباء اور قبائل كے نام ہیں۔ آخری شخص تك سب ہیں نہ ان میں زیادتی كی جائے گی نہ كمی ۔ آپ كے صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ پھر عمل کس وجہ سے؟ اگر اس معاملے كو مكمل كر دیا گیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سیدھے راستے پر چلتے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، جاؤ جنت والے كا عمل اہل جنت كے عمل پر ختم ہوگا، اگرچہ وہ كوئی بھی عمل كر لے اور جہنمی كا عمل اہل جہنم كےعمل پرختم ہوگا اگرچہ وہ كوئی بھی عمل كر لے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے دونوں ہاتھوں كو جھٹكا دے كر دونوں كتابیں پھینك دیں،پھر فرمایا: تمہارا رب بندوں سے فارغ ہو گیا ایك گروہ جنت میں اور دوسرا آگ میں ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1432

عَنْ عَبْدِ الله قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي قُبَّةٍ فَقَالَ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ.
عبداللہ كہتے ہیں كہ ہم نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ ایك خیمے میں تھے آپ نے فرمایا: كیا تم اس بات پر راضی ہو كہ تم اہل جنت كا چوتھائی ہو؟ ہم نے كہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تم اس بات پر راضی ہو كہ تم اہل جنت كا تہائی ہو؟ ہم نے كہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تم اس بات پر راضی ہوكہ تم اہل جنت كا نصف ہو؟ ہم نے كہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) كی جان ہے ! مجھے امید ہے كہ تم اہل جنت كا نصف ہو گے۔ یہ اس وجہ سے كہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو سكتا ہے اور تم اہل شرك میں سیاہ بیل پر ایك سفید بال كی طرح ہو ، یا فرمایا: سر خ بیل پر سیاہ بال كی طرح ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1433

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَمَرٍو رضی اللہ عنہما، قال: قال لِي رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَعْلَمُ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُل الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي؟ قَالَ: اللهُ وَرَسُولُه أَعْلَمْ فَقَالَ: الْمُهَاجِرُون يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلىَ بَابِ الْجَنَّةِ وَيَسْتَفْتَحُوْنَ ، فَيَقُوْلُ لَهُمُ الْخَزَنَةُ ، أَوَ قَدْ حُوْسِبْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ بِأَيِّ شَيْءٍ نُحَاسَبُ ؟ وَإِنَّمَا كَانَتْ أَسْيَافُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا فِي سَبِيْلِ اللهِ ، حَتَّى مِتْنَا عَلَى ذَلِك، قَالَ: فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، فَيَقِيْلُوْنَ فِيْه أَرْبَعِيْن عَامًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا النَّاسُ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم میری امت میں سے جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کے بارے میں جانتے ہو؟میں نے كہا: اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین، قیامت كے دن جنت كے دروازے پر آئیں گے اور دروازہ كھٹكھٹائیں گے۔پہرےدار ان سے كہیں گے: كیا تمہارا حساب ہوگیا؟ وہ كہیں گے: ہمارا كونسا حساب؟ ہماری تلواریں تو ہماری گردنوں میں لٹكی ہوئی تھیں حتی كہ اسی حالت میں ہمیں موت آگئی، ان كے لئے دروازہ كھول دیا جائے گا۔ وہ لوگوں كے داخل ہونے سے چالیس سال پہلے اس میں آرام كریں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1434

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : إِذاَ أَشَارَ الرَّجُلَ عَلَى أَخِيْهِ بِالسِّلَاحِ فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّم فَإِذَا قَتَلَهُ وَقَعَا فِيْهِ جَمِيْعًا
ابو بكرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب كوئی شخص اپنے بھائی كی طرف اسلحےسے اشارہ كرے تو وہ دونوں جہنم كے كنارے ہوں گے، جب وہ اسے قتل كر دے گا تو دونوں اس میں اكٹھے داخل ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1435

عَنْ أَبِي سَعِيدِالْخُذْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَلَّصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَمِنُوا فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ. قَالَ: يَقُولُونَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمْ النَّارَ؟ قَالَ فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ. فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِّنَ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا (۴۰) (النساء) قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ الله: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِّنَ النَّارِ أَوْ قَالَ قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَمْ يَعْمَلُوا لِلهِ خَيْرًا قَطُّ قَدِ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ: فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْخَاتَمُ: عُتَقَاءُ الله. قَالَ: فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا. قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا! وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَائِي عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت كے دن جب مومن لوگ آگ سے آزادی پائیں گے اور امن میں آجائیں گے تو دنیا میں جو جھگڑا حق کے بارے میں کرتے تھے اس سے زیادہ سخت جھگڑا وہ اپنے رب سے مومنوں میں سے ان بھائیوں کے بارے میں کریں گے جو جہنم میں داخل کردیے گئے ہوں گے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے،ہمارے ساتھ روزہ ركھتے اور ہمارے ساتھ حج كرتے تھے، پھر بھی تو نے انہیں آگ میں داخل كر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جاؤ جنہیں پہچانتے ہو انہیں آگ سے نكال لو۔ وہ ان كے پاس آئیں گے اور ان كے چہروں سے انہیں پہچانیں گے جنہیں آگ نے نہیں جلایا ہوگا۔ ان میں سے كچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ نے نصف پنڈلیوں تك كھایا ہوگا، كسی كو ٹخنوں تك جلایا ہوگا، وہ انہیں نكال لیں گے ،پھر كہیں گے: اے ہمارے رب جن کے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا وہ ہم نے نكال لئے۔ اللہ فرمائے گا: جس كے دل میں ایك دینار وزن كے برابر بھی ایمان ہے اسے نكال لو، پھر جس كے دل میں نصف دینار كے وزن كے برابر بھی ایمان ہے اسے نكال لو، حتی كہ جس كے دل میں ایك ذرے كے برابر بھی ایمان ہو گا اس كے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ حكم دے دے گا۔ ابو سعید‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جو شخص اس بات كی تصدیق نہ كرے وہ یہ آیت پڑھے: (النساء:۴۰) یقینا اللہ تعالیٰ ایك ذرے كے وزن كے برابر بھی ظلم نہیں كرتا اور اگر(اتنے وزن كی) نیكی ہو تو اسے دوگنا كر دیتا ہے، اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كا تونے ہمیں حكم دیا وہ ہم نے نكال لئے، اب آگ میں كوئی بھی ایسا نہیں بچا جس میں كوئی بھلائی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش كر دی، انبیاء نے سفارش كر دی، مومنین نے سفارش كر دی اب ارحم الراحمین بچا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ آگ سے ایسے لوگوں کی ایک یا دو مٹھیاں بھر دیں گے جنہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ہوگا۔ وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے۔ ان کو ‘‘آب حیات’’ نامی پانی کے پاس لایا جائے گا اور یہ پانی ان پر الا جائے تو وہ اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے پانی کے بہاؤ میں کوئی دانا اگتا ہے۔ ان کے جسم موتی کی طرح چمکیں گے۔ ان کی گردنوں میں ‘‘عتقاء اللہ’’یعنی اللہ کے آزاد کردہ کی مہر ہوگی۔ فرمایا: ان سے کہا جائے گا کہ: جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جس چیز کی تم تمنا کرو گے یا جو چیز تم دیکھو گے وہ تمہیں دے دی جائے گی۔ اور تمہارے لئے میرے پاس اس سے بھی بڑھ کر ایک اور چیز ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے پروردگار اس سے افضل اور بہتر اور کیا ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ: میری رضا مندی، اب میں کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1436

عَنْ جَابِرِ بنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا دَخَلَ أَهَلُ الْجَنَّة الْجَنَّةَ، يَقُوْلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَلْ تَشْتَهُوْنَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُم؟ فَيَقُوْلُوْنَ: رَبَّنَا وَمَا فَوْقَ مَا أَعْطَيْتَنَا؟ قَالَ: فَيَقُوْلُ: رِضْوَانِي أَكْبَرْ
جابر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ عزوجل فرمائے گا: كیا تمہیں كسی اور چیز كی طلب ہے کہ میں تمہیں مزید عطا كروں؟ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جو تو نے ہمیں دیا ہے اس سے بڑھ كر كیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میری رضا مندی سب سے بڑھ كرہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1437

عَنِ الْعِرْبَاضِ بن سَارِيَةَ، مَرْفُوْعاً: إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ سِرُّ الْجَنَّةِ .
عرباض بن ساریہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب تم اللہ سے سوال كرو تو فردوس كا سوال كرو كیوں كہ یہ جنت كا بالائی حصہ ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1438

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ(بْنِ مَسْعُوْد) عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا؟ قَالُوا: أَيَّ شَيْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا؟ فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا: يَا رَبِّ! نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا
مسروق كہتے ہیں كہ ہم نے عبدالہھ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت كے بارے میں سوال كیا :وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ۙ جو لوگ اللہ كے راستے میں قتل كر دیئے گئے انہیں مردہ مت سمجھو بلكہ وہ زندہ ہیں، اور اپنے رب كے پاس رزق دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے كہا: ہم نے بھی اس آیت كے بارے میں سوال كیا تھا، تو آپ نے فرمایا: شہداء كی روحیں سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں، ان كے لئے عرش كے ساتھ لٹكی ہوئی قندیلیں ہیں، جہاں چاہتی ہیں جنت میں سیر كرتی ہیں، پھر اپنی قندیلوں میں واپس آجاتی ہیں۔ ان كا رب ان كی طرف جھانكے گا اور فرمائے گا: كیا تمہاری كوئی خواہش ہے؟ وہ كہیں گے: ہمیں اور كیا چاہیئے؟ جنت میں جہاں چاہتے ہیں سیر كرتے ہیں، اللہ تعالیٰ تین مرتبہ ان كے ساتھ ایسا كرے گا۔ جب وہ دیكھیں گے كہ ان كے پاس كوئی چارہ نہیں تو وہ كہیں گے: اے ہمارے رب ! ہم چاہتے ہیں تو ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دے کہ ہم دوبارہ تیرے راستے میں قتال كر یں۔ جب اللہ تعالیٰ دیكھے گا كہ ان کی کوئی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1439

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوْعاً: أَطْفَالُ الْمُسْلِمِيْن فِي جَبَلٍ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُم إِبْرَاهِيمُ وَسَارَةُ حَتَّى يَدْفَعُوْنَهُمْ إِلَى آبَائِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَة
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مسلمانوں كے بچے جنت كے ایك پہاڑ میں ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہا السلام ان كی كفالت كر رہے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ انہیں ان کے ماں باپ کو واپس کردیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1440

عَنْ أَبِي مَالِكٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكَيْن: قَالَ: هُمْ خَدَمُ أَهَل الْجَنَّة
ابومالك‌رضی اللہ عنہ كہتےہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےمشركین(فوت ہوجانے والے نابالغ) بچوں كےبارے میں سوال كیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: وہ جنتیوں/ اہل جنت كے خادم ہوں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1441

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَة: قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ فَإِذَا هُوَ نَهَرٌ يَجْرِي (كَذَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْض) وَلَمْ يُشَقَّ شَقًّا فَإِذَا حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى تُرْبَتِهِ فَإِذَا هُوَ مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ہم نے آپ كو خیر كثیر عطا كیا۔ تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے كوثر عطا كی گئی۔ یہ ایک چلتی ہوئی نہر ہے(جس طرح زمین پر ہوتی ہے) لیكن اس كے لئے گڑھا نہیں كھودا گیا، اس كے دونوں كنارے یا قوت كے ہیں میں نے اس كی مٹی میں اپنا ہاتھ مارا تو وہ مہکتی ہوئی کستوری کی طرح تھی،اور اس كی كنكریاں موتیوں كی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1442

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَة: قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ فَإِذَا هُوَ نَهَرٌ يَجْرِي (كَذَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْض) وَلَمْ يُشَقَّ شَقًّا فَإِذَا حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى تُرْبَتِهِ فَإِذَا هُوَ مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ہم نے آپ كو خیر كثیر عطا كیا۔ تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے كوثر عطا كی گئی۔ یہ چلتی ہوئی نہر ہے(جس طرح زمین پر ہوتی ہے) لیكن اس كے لئے گڑھا نہیں كھودا گیا، اس كے دونوں كنارے یا قوت كے ہیں میں نے اس كی مٹی میں اپنا ہاتھ مارا تو وہ مہکتی ہوئی کستوری کی طرح تھی،اور اس كی كنكریاں موتیوں كی تھیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1443

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ هُمُ الضُّعَفَاءُ وَالْمَظْلُومُونَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ .
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعامروی ہے كہ: كیا میں تمہیں اہل جنت كے بارے میں نہ بتاؤں ؟كمزور مظلوم لوگ، كیا میں تمہیں اہل جہنم كے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر تكبر كرنے والا سر كش
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1444

عَنْ سُرَاقَة بنِ مَالِكٍ ، مَرْفُوْعاً: أَلَا أُنَبِّئُكُم بِأَهْلِ الْجَنَّة؟ الْمَغْلُوبُون الضُّعَفَاء، وَأَهْلُ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ .
سراقہ بن مالك سے مرفوعا مروی ہے كہ: كیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ كمزور دبے ہوئے لوگ اور اہل جہنم كے بارےمیں نہ بتلاؤں ؟ ہر متكبر مال جمع کرنے اور روک کر رکھنے والا اور سر كش
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1445

عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُذْرِيِّ مَرْفُوْعاً: أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا(وَفِي رِوَايَةٍ: الذِينَ لاَ يُرِيدُاللهُ -عَزَّوَجَلَّ- إِخْرَاجُهُمْ) فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَكِنْ نَّاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ (يريد الله -عَزَّوَجَلَّ- إِخْرَاجَهُمْ) فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ثُمَّ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: وہ جہنمی جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے (اور ایك روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ جن كو اس میں سے نہیں نكالنا چاہے گا) وہ ایسے ہوں گے جو نہ اس میں مریں گے نہ زندہ ہوں گے، اور اور وہ لوگ جو گناہوں کی پاداش میں جہنم میں جائیں گے، جن کو اللہ تعالیٰ وہاں سے نکالنا چاہے گا تو ان کو ایک دفعہ موت دے دے گا، وہ جہنم کی آگ میں جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے تو پھر ان کی سفارش کی اجازت دی جائے گی۔ پھر ان کو گروہ در گروہ جنت کی نہروں میں ڈالا جائے گا وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگتا ہے۔ تو ان كی سفارش كا حكم دیا جائےگا۔ انہیں ٹولیوں کی صورت میں لایا جائے گا ، اور جنت كی نہروں كے پاس ڈال دیا جائے گا، پھر حكم دیا جائے گا: اےاہل جنت ان پر پانی ڈالو، پھر جس طرح كوئی دانہ سیلاب میں اُگ آتا ہے اس طرح اگ آئیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1446

عَنْ أَبِي أَيُّوبٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله! إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ أَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ أُدْخِلْتَ الْجَنَّةَ أُتِيتَ بِفَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ لَهُ جَنَاحَانِ فَحُمِلْتَ عَلَيْهِ ثُمَّ طَارَ بِكَ حَيْثُ شِئْتَ.
) ابو ایوب‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك اعرابی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اورکہنے لگا : اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ میں گھوڑوں كو پسند كرتا ہوں كیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم جنت میں داخل كر دیئے گئے تو تمہارے پاس یاقوت كا ایك گھوڑا لایا جائے گا جس كے دو پر ہوں گے، تمہیں اس پر سوار كیا جائے گا۔ پھر جہاں چاہو گے وہ تمہیں لے كر اڑتا رہے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1447

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ صَرَفَ الله وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَكُونَ فِي ظِلِّهَا فَقَالَ اللهُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: لَا وَعِزَّتِكَ! فَقَدَّمَهُ الله إِلَيْهَا وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ وَثَمَرٍ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ! قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا فَقَالَ الله لَهُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ فَيُقَدِّمُهُ الله إِلَيْهَا فَتُمَثَّلُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى ذَاتُ ظِلٍّ وَثَمَرٍ وَمَاءٍ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ فَيُقَدِّمُهُ اللهُ إِلَيْهَا فَيَبْرُزُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَأَكُونَ تَحْتَ نِجَافِ الْجَنَّةِ وَأَنْظُرَ إِلَى أَهْلِهَا فَيُقَدِّمُهُ الله إِلَيْهَا فَيَرَى أَهْلَ الْجَنَّةِ وَمَا فِيهَا فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُدْخِلُهُ الله الْجَنَّةَ قَالَ: فَإِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ: هَذَا لِي؟! قَالَ: فَيَقُولُ الله عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى وَيُذَكِّرُهُ الله سَلْ مِنْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ الله عَزَّ وَجَلَّ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُولَانِ لَهُ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ قَالَ: وَأَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يُنْعَلُ مِنَ نَّارٍ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ .
) ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: درجے كے اعتبار سے سب سے كم درجے والا جنتی وہ آدمی ہو گا جس كا چہرہ اللہ تعالیٰ آگ سے ہٹا كر جنت كی طرف موڑ دیں گے اور اس كے لئے ایك سایہ دار درخت اگا دیں گے۔ وہ كہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت كے قریب كر دے تاكہ اس كے سائے كے نیچے بیٹھ سكوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائےگا: ممكن ہے اگر میں ایسا كر دوں تو تم اس كے علاوہ كوئی اور سوال كرو ؟ وہ كہے گا: نہیں تیری عزت كی قسم ، اللہ تعالیٰ اسے اس درخت كے قریب كر دے گا۔ پھر اس كے لئے ایك سایہ دار پھل دار درخت بنا دیا جائے گا۔ وہ كہے گا: اے میرے رب! مجھے اس كے قریب كر دے، میں اس كا سایہ حاصل كر سكوں اور اس كا پھل كھا سكوں۔ اللہ تعالیٰ كہے گا: ممكن ہے میں تمہیں یہ درخت دوں تو تم اس كے علاوہ كوئی اور سوال كرو گے؟ وہ كہے گا: نہیں تیری عزت كی قسم ۔ اللہ تعالیٰ اسے اس درخت كے قریب كر دے گا۔ اور اس كے لئے ایك اور پھل دار، سایہ دار اور پانی والا درخت بنا دیا جائے گا۔ وہ كہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت كے قریب كر دے کہ میں اس كا سایہ حاصل كر سكوں، اس كا پھل كھاؤں اور پانی پیوں۔ اللہ تعالیٰ اس سے كہے گا: ممكن ہے اگر میں ایسا كر دوں تو تم اس كے علاوہ كوئی اور مطالبہ كرو ؟ وہ كہے گا: نہیں تیری عزت كی قسم ، میں تجھ سے كوئی اور سوال نہیں كروں گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس درخت كے قریب كر دے گا اور جنت كا دروازہ اس كے سامنے ظاہر كر دیا جائے گا۔ وہ كہے گا: اے میرے رب مجھے اس دروازے كے قریب كر دے۔ میں جنت کے شیڈ کے نیچے بیٹھ جاؤں ، اور اہل جنت كی طرف دیكھتا رہوں۔ اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت كے قریب كر دے گا، وہ انہیں اور جنت میں موجود نعمتوں كو دیكھے گا تو كہے گا: اے میرے رب ! مجھے جنت میں داخل كر دے۔ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل كر دے گا، جب وہ جنت میں داخل ہو جائے گا تو كہے گا: كیا یہ میرے لئے ہے؟ اللہ عزوجل اس سے فرمائے گا: تمنا كرو، وہ خواہش كا اظہار كرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے یاد كرواتا رہے گا کہ فلاں چیز مانگو، فلاں چیزمانگو، حتی كہ جب اس كی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تمہارے لئے ہیں اور دس گنا مزید۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل كر دے گا، اور حور عین سے اس كی دو بیویاں اس كے پاس بھیج دے گا۔ وہ دونوں اس سے كہیں گی: تمام تعریفات اس اللہ كے لئے جس نے تمہیں ہمارے لئے زندہ كیا اور ہمیں تمہارے لئے بنایا، وہ كہے گا: كسی بھی شخص كو اتنا نہیں دیا گیاجتنا مجھے دیا گیا ہے، اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے كم تر عذاب والا وہ جہنمی ہوگا جسے آگ كے جوتے پہنائے جائیں گے اور جوتوں كی حرارت سے اس كا دماغ كھول رہاہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1448

عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ .
) ابو موسیٰ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ عزوجل اپنے بندوں میں سے جب كسی امت پر رحمت كرنا چاہتا ہے تو اس كےنبی كو اس امت سے پہلے فوت كر دیتاہے، اور اس نبی كو اس امت كے لئےمیزبان (استقبال كرنے والا) اور پیش رو بنا دیتا ہے، اور جب كسی امت كو عذاب دینا چاہتا ہے تو اس امت كو نبی كے زندہ ہوتے ہوئے عذاب دیتا ہے، انہیں ہلاك كرتا ہے اور نبی دیكھ رہا ہوتا ہے، اور انہیں ہلاك كر كے نبی كی آنكھوں كو ٹھنڈا كرتاہے۔ كیوں كہ انہوں نے اس كی نا فرمانی كی ہوتی ہے اور اسے جھٹلایا ہوتاہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1449

عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُذْرِيِّ مَرْفُوْعاً: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا لَا يَبْقَى مِنْهُمْ فِيهَا إِلَا الْوُجُوهُ , فَيُدْخِلُهُمُ اللهُ الْجَنَّةَ .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ عزوجل ایك قوم كو آگ سے نكالے گا ،جب چہروں كے سوا ان كا كوئی حصہ باقی نہیں بچا ہوگا، پھر انہیں جنت میں داخل كرے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1450

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ لَيَرْفَعُ ذُرِّيَّةَ الْمُؤْمِنِ إِلَيْهِ فِي دَرَجَتِهِ وَإِِنْ كَانُوا دُونَهُ فِي الْعَمَل، لِتُقِرَّ بِهِمْ عَيْنُه، ثُمَّ قَرَأ : وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ (الطور: ٢١), ثُمَّ قَالَ: وَماَ نَقَصْنَا الْآبَاءَ بِمَا أَعْطَيْنَا الْبَنِين.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے مرفوعا بیان كیا كہ: اللہ تعالیٰ مومن كی اولاد كو اس كے درجے میں پہنچائے گااگرچہ اس كی اولاد عمل میں اس سے كم رہی ہو، تاكہ انہیں دیكھ كر اس كی آنكھیں ٹھنڈی ہوں۔ پھر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ آیت پڑھی: (الطور: ٢١ ) وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان كی اولاد نے ایمان لا كر ان كی پیروی كی۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے اولاد كو جو دیا اس كی وجہ سے والدین كے حصے كو كم نہیں كیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1451

عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ قَالُوا: فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟ قَالَ: جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اہل جنت وہاں كھائیں گے اور پئیں گے لیکن نہ تھوكیں گے نہ پیشاب كریں گے، قضاء حاجت کریں گے، نہ ہی رینٹ آئے گی۔ صحابہ نے كہا: كھانا کس طرح ہضم ہو گا ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایك ڈكار آئے گی اور كستوری كی خوشبو جیسا پسینہ آئے گا جس طرح سانس چلتی ہے اس طرح تسبیح و تحمید جاری ہوگی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1452

عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ قَيْسِ ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِنَّ أَهَل النَّارِ لَيَبْكُوْنَ حَتَّى لَوْ أُجْرِيَتِ السُّفُنُ فِي دُمُوْعِهِمْ لَجَرَتْ ، وَإِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ الدَّمَ يَعْنِي مَكَانَ الدَّمْعِ .
عبداللہ بن قیس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اہل جہنم اتنا رؤیں گے کہ اگر ان کے آنسوؤں میں کشتیاں چلائی جائیں تو وہ بھی چل پڑیں وہ پانی كی جگہ خون كے آنسو روئیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1453

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ يُحْذٰي لَهُ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ يَوْمَ الْقِيَامَة .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت كے دن سب سے ہلكا عذاب اس شخص كو دیا جائے گا جسے آگ كے جوتے پہنائے جائیں گے، جن كی وجہ سے قیامت كے دن اس كا دماغ كھول رہا ہوگا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1454

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ: عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفِلُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمْ الْحُورُ الْعِينُ، أَخْلاَقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ چودہویں كے چاند كی مانند چمکدار صورتوں والا ہوگا۔ پھر ان كے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان میں انتہائی روشن ستارے كی مانند ہوگا۔ نہ وہ پیشاب كریں گے نہ قضاء حاجت کریں گے نہ رینٹ آئے گی، اورنہ تھوكیں گے،ان كی كنگھیاں سونے كی ہوں گی، ان كے پسینے سےكستوری كی خوشبو آئے گی،ان کی انگیٹھیاں اَگَر(ایک قسم کی لکڑی جو جلنے سے خوشبو دیتی ہے) کی لکڑی کی ہوں گی، ان كی بیویاں حور عین ہوں گی، ان كے اخلاق ایك شخص كی مانند ہوں گے، اپنے باپ آدم علیہ السلام كی صورت پر ہوں گے۔ لمبائی میں ساٹھ(60) ہاتھ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1455

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَيَنْفُذُ الْحَمِيمُ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ فَيَسْلِتُ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ وَهُوَ الصَّهْرُ ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:كھولتا ہواپانی جہنمیوں كے سروں پر ڈالا جائے گا، تو یہ کھولتا ہوا پانی ان کے جسم کو کاٹتے ہوئے پیٹ تك چلا جائے گا، پیٹ میں جو كچھ ہوگا پاخانے كے راستے قدموں میں گر جائے گا۔ یہی پگھلاناہے۔ پھر دوبارہ اسی طرح كر دیا جائے گا جس طرح پہلے تھا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1456

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : إِنَّ الْحُوْرَ فِي الْجَنَّةِ يَتَغَنِّيْنَ يَقُلْنَ: نَحـــْن الْحَـــــوْر الْحِسَـــــان هُـدِينــــَا لِأَزْوَاج كِــــــــرَام .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: حورعین جنت میں نغمہ گنگناتے ہوئے كہیں گی: ہم خوب صورت حوریں ہیں، ہم معزز شوہروں كی بیویاں بنائی گئی ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1457

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! هَلْ نَصِلُ إِلَى نِسَائِنَا فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَصِلُ فِي الْيَوْمِ إِلَى مِائَةِ عَذْرَاءَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ پوچھا گیا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ كیا ہم جنت میں اپنی بیویوں سے مل سكیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی ایك دن میں سو کنواری عورتوں سے مل سكے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1458

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَيَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ الضِّرْسُ مِنْ أَضْرَاسِهِ كَأُحُدٍ .
زید بن ارقم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ: جہنمی كو آگ كے لئے بڑا كر دیا جائے گا حتی كہ اس كی ایك داڑھ احد پہاڑ كے برابر ہوگی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1459

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي تُجَاهَ الْعَدُوِّ يَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ السُّيُوفَ مَفَاتِيحَ الْجَنَّة ، فَقَالَ لَه رَجَلٌ رَثّ الْهَيْئَة : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ: نَعَم! فَسَلَّ سَيْفَه وَكَسَر غَمْدَهُ وَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَقَالَ: أَقَرَأ عَلَيْكُم السَّلَام ، ثُمَّ تَقَدَّم إِلَى الْعَدُوِّ فَقَاتَل حَتَّى قُتِلَ.
ابو بكر بن ابی موسیٰ اشعری كہتے ہیں كہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ دشمن كے سامنے كھڑے كہہ رہے تھے كہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرما رہے تھے: تلواریں جنت كی كنجیاں ہیں۔ ایك پراگندہ حالت والے شخص نے ان سے كہا: كیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے؟ انہوں نے كہا: جی ہاں، اس آدمی نے اپنی تلوار سونتی،اپنی میان توڑی اور اپنے ساتھیوں كی طرف دیكھا اور كہا: میں تمہیں سلام كہتا ہوں۔ پھر دشمن كی طرف بڑھا اور شہید ہونے تك لڑتا رہا حتی کہ شہید ہوگیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1460

عَنْ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الصَّخْرَةَ الْعَظِيمَةَ لَتُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَتَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا وَمَا تُفْضِي إِلَى قَرَارِهَا .
عتبہ بن غزوان سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایك بھاری چٹان جہنم كے كنارے سے پھینکی جائے تو وہ ستر سال تك بھی گرتی رہے تو اس كی تہہ میں نہیں پہنچے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1461

) عَنْ عَبْدِالرَّحمنِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ قِيْلَ يَا رَسُولَ الله! وَمَنْ الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: النِّسَاءُ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَأَزْوَاجِناَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ .
عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ پوچھاگیا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ یہ فاسق كون ہیں؟ آپ نے فرمایا: عورتیں ۔ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ كیا یہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیوں نہیں، لیكن جب انہیں دیا جائے تو یہ شكر نہیں كرتیں اور جب آزمائش آئے تو صبر نہیں كرتیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1462

عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: قُلْنَا لِعَمَّارٍ: أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ فِي أُمَّتِي اثْنَيْ عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنْ نَّارٍ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ
قیس بن عباد سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم نے عمار‌رضی اللہ عنہ سے كہا: تم اپنے قتال (لڑائی) كے بارے میں كیا سمجھتے ہو؟ یہ تمہاری اپنی رائے سےہے؟ رائے تو درست بھی ہوتی ہے اور غلط بھی، یا كوئی وعدہ ہے جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے آپ سے كیا ہے؟ انہوں نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے جو عہد لوگوں سے نہیں لیا وہ ہم سے بھی نہیں لیا، اور رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں بارہ منافق ہوں گے، جو نہ تو جنت میں داخل ہوں گے نہ ہی جنت كی خوشبو سونگھ سكیں گے جب تك اونٹ سوئی كے سوراخ میں سے نہ گذر جائے۔ ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جنہیں ایک پھوڑا ہی کافی ہوگا۔ آگ کا ایک شعلہ جو ان کے کاندھوں میں نکلے گا اور آخر کار ان کے سینوں میں ظاہر ہوجائے گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1463

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا. جآء من حدیث ابی سعید و ابی ھریرة، و سھل بن سعد، و انس بن مالک رضی اللہ عنہم.
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت میں ایك درخت ہے،کہ ایک گھڑ سوار عمدہ نسل کے تعمیر شدہ تیز رفتار گھوڑے پر سو سال تك سفر كرتا رہے تب بھی اسےپار نہیں كر سكتا۔( ) یہ حدیث سیدنا ابوسعید خدری، سیدنا ابوہریرہ، سھل بن سعد اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1464

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ (فِيْهِ كُثْبَانُ الْمِسْكِ)فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ (المِسْك) فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ: وَالله لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُونَ: وَأَنْتُمْ وَاللهِ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت میں ایك بازار ہے جس میں جنتی جمعہ كے دن آئیں گے(اس میں كستوری كے ٹیلے ہوں گے)شمال سے ایك ہوا چلے گی اوران كےچہروں اوركڑووں پر(كستوری)ڈالے گی، وہ حسن و جمال میں دو چند ہو جائیں گے۔ اپنے گھر والوں كی طرف واپس جائیں گےتو وہ حسن و جمال میں بڑھ چکے ہوں گے۔ ان كے گھر والے ان سے كہیں گے۔ واللہ! تم حسن و جمال میں زیادہ ہو گئے ہو، وہ بھی كہیں گے، اور تم بھی واللہ! ہمارے بعد حسن و جمال میں بڑھ گئے ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1465

عَنِ عَبِدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بِنِ جزْء الزَّبِيدِيّ ، صَاحِبِ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، يَقُوْل عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٌ أَمْثَالَ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ يَلْسَعَنَّ اللَّسْعَة فَيَجِدُ حُمُوَّ تَهَا أَرْبَعِين خَرِيفًا . وَإِنَّ فِيْهَا لَعَقَارِبَ كاَلْبِغَالِ المُوْكِفَةِ يَلْسَعَنَّ اللَّسْعَة فَيَجِد حُمُوَّ تَهَا أَرْبَعِين خَرِيفًا.
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:آگ میں بختی اونٹوں جیسے سانپ ہیں، وہ ایك مرتبہ ڈسیں گے تو جہنمی چالیس سال تك اس كے زہر كی کاٹ محسوس كریں گے، اور خچر جیسے بچھو ہیں جو ایك مرتبہ ڈسیں گے تو ان كے زہر كی کاٹ چالیس سال تك محسوس كریں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1466

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم َ إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كچھ لوگ ایسے ہوں گے جو آگ میں سے نكالے جائیں گے، چہروں كے علاوہ سب كچھ جل چكا ہوگا، اور جنت میں داخل ہو جائیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1467

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى بْنِ قَيْسٍ عَنِ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا لِلْمُؤْمِنِ فِيهَا أَهْلُونَ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ الْمُؤْمِنُ فَلَا يَرَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا. ( )
ابو بكر بن ابو موسیٰ بن قیس اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت میں مومن كے لئے ایك جوف دار موتی كا خیمہ بنایا جائے گا، جس كی لمبائی ساٹھ میل ہوگی۔ اس میں مومن كی بیویاں ہوں گی۔ وہ ان كے پاس جائے گا تووہ ایك دوسرے كو دیكھ نہیں سكیں گی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1468

) قال صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْن فِي الْجَنَّة مَسِيرَة أَرْبَعِين سَنَة .
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت كے دو كواڑوں كا فاصلہ چالیس سال كی مسافت ہے۔( ) یہ حدیث سیدنا ابوسعید خدری، معاویہ بن ؟؟؟، عتبہ بن غزوان اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1469

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدبٍ أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ(وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ) وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى عُنُقِهِ .
سمرہ بن جندب ةسے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ان میں سے كچھ لوگ ایسے ہوں گےجنہیں ٹخنوں تك آگ جلائےگی(ان میں سے كچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ گھٹنوں تك جلائےگی)اور ان میں سے كچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں آگ کمر (یا نیفہ باندھنے کی جگہ) اور كچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ گردن تك جلائے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1470

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلْيَهُودِ: إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ فَسَأَلَهُمْ؟ فَقَالُوا: هِيَ خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم الْخُبْزَةُ مِنَ الدَّرْمَكِ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہودیوں سے فرمایا: میں ان سے جنت كی مٹی كے بارے میں سوال كرتا ہوں، جو کہ میدے کی طرح سفید، نرم و ملائم ہے ، آپ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے كہا: ابو القاسم! یہ ایك روٹی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: روٹی نرم و ملائم مٹی سے ہوگی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1471

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً:« أَهْلُ الْجَنَّةِ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اہل جنت كی كنگھیاں سونے كی ہوں گی اورانگیٹھیاں اَگَر کی لکڑی کی ہوں گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1472

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: أَوَّلَ ثُلَّةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْفُقَرَاء الْمُهَاجِرُون ، الَّذِين تُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِه ، إِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا ، وَإِن كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إلى السُّلْطَان ، لَم تقْض لَه حَتَّى يَمُوت وَهِي في صَدْرِه ، وَإِن الله عَزَّوَجَلَّ لَيَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّة، فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا زِيْنَتِهَا فَيَقُول: أَيْن عِبَادِيَ الَّذِين قَاتَلُوا في سَبِيْلِي ، وَقُتِلُوا ، وَأُوذُوا في سَبِيلِي؟ وَجَاهَدُوا في سَبِيلِي ، ادْخُلُوا الْجَنَّة فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْر حِسَابٍ ، وَتَأْتِي الْمَلَائِكَة فَيَسْجُدُوْنَ فَيَقُولُون: رَبَّنَا نَحْن نُسَبِّح بِحَمْدِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، وَنُقَدِّس لَكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الَّذِيْن آثَرْتَهُمْ عَلَيْنَا؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ -عَزَّوَجَلَّ- : هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِمْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ (۲۴) (الرعد) .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پہلاگروہ جو جنت میں داخل ہوگا،وہ فقراءاورمہاجرین كا ہوگا جن كے سبب سے مشكل حالات سے بچا جاتا رہا ہوگا، جب انہیں حكم دیا جاتا سنتے اور اطاعت كرتے، اگر ان میں سے بادشاہ وقت كے پاس كسی كا كام ہوتا تو مرنے تك اس كا كام نہ ہوتا اور یہ حسرت اس كے دل میں ہی رہ جاتی ۔اللہ عزوجل قیامت كے دن جنت كو بلائے گا تو وہ پوری سج دھج كے ساتھ آئے گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے وہ بندے كہاں ہیں جنہوں نے میرے راستے میں قتال كیا؟ شہید كر دیئے گئے میرے راستے میں انہیں تكالیف دی گئیں، اور میرے راستے میں جہادكیا؟ (آؤ) جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت میں بغیر حساب کےداخل ہو جائیں گے۔ فرشتے آئیں گےاور سجدہ كریں گے اور كہیں گے: اے ہمارے رب ہم رات اور دن تیری تسبیح ،تحمید اور تقدیس بیان كر تے ہیں، یہ كون لوگ ہیں جنہیں آپ نے ہم پر ترجیح دی؟ رب عزوجل فرمائے گا: یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میرے راستے میں قتال كیا اور میرے راستے میں انہیں تكلیف دی گئی۔ فرشتے ہر دروازے سے ان كے پاس آئیں گے، (الرعد:۲۴) تمہارے صبر كی وجہ سے تم پر سلام ہو، آخری انجام بہت اچھا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1473

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالثَّانِيَةُ عَلَى لَوْنِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يَبْدُو مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَائِهَا .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودہویں كے چاند كی طرح (روشن اور چمکدار) ہوں گے اور دوسرا گروہ آسمان میں سب سے خوبصورت روشن ستارے كی مانند ہوگا۔ ان میں سے ہر شخص كے لئے دو بیویاں ہوں گی۔ ہر بیوی پر ستر لباس ہوں گے، پھر بھی ان كی ہڈیوں كا گودا نظر آئے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1474

عَنْ عَائَشَةَ مَرْفُوْعاً: بُطْحَان عَلَى تُرْعَة مِنْ تُرَعِ الْجَنَّة .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ بطحان جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1475

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِذْ عُرِضَ لِي نَهْرٌ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ قُلْتُ لِلْمَلَكِ: مَا هَذَا(يَا جِبْرِيْل)؟ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللهُ قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى طِينَةٍ فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا ثُمَّ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَرَأَيْتُ عِنْدَهَا نُورًا عَظِيمًا .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں جنت كی سیر كر رہا تھا، اچانك میرے سامنے ایك نہر آئی جس كےكنارے یاقوت كےتھے، میں نے فرشتے سے كہا:(اے جبریل علیہ السلام)یہ كیا ہے؟ جبریل علیہ السلام نے كہا: یہ كوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ كو دی ہے۔ پھر آپ نے اس كی مٹی میں ہاتھ مارا تو وہ كستوری کی تھی،پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ کردی گئی، میں نے وہاں ایك عظیم روشنی دیكھی۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1476

عَنْ عَمْروٍ بن مَيْمُونَ الْأَوْدِيّ ، قَالَ: قَامَ فِيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَقَالَ: يَا بَنِي أَوْد! إِنِّي رَسُول رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم :تَعْلَمُون الْمعَاد إِلَى اللهِ ، ثُمَّ إِلىَ الْجَنَّة أَوْ إِلىَ النَّار ، وَإِقَامَةً لَا ظَعْنَ فِيه وَخُلُودٌ لَا مَوْتَ في أَجْسَادٍ لَا تَمُوتُ.
عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے كہ : معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان كھڑے ہوئے اور كہا: اے بنی اود! میں اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا قاصد ہوں ،جان لو اللہ كی طرف واپس لوٹنا ہے، پھر جنت یا جہنم كی طرف، جہاں ایسا قیام ہے جس كے بعد سفر كوئی نہیں اور ایسی زندگی ہے جس میں موت نہیں اور ایسے جسموں میں ہوں گے جو مریں گے نہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1477

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلاثَةٌ لاَ تَرَى أَعْيُنُهُمُ النَّارَ يَوْمَ الْقِياَمَة :عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ الله، وَعَيْنٌ حَرَسَتْ فِي سَبِيلِ الله، وَعَيْنٌ غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ الله .
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں جن كی آنكھیں قیامت كے دن آگ نہیں دیكھیں گی، وہ آنكھ جو اللہ كے ڈر سے روئی، وہ آنكھ جس نے اللہ كے راستے میں پہرہ دیا، اور وہ آنكھ جس نے اللہ كی حرام كردہ چیزوں كو نہیں دیكھا۔( ) یہ حدیث سدنا معاویہ بن حیرہ، عبداللہ بن عباس، ابو ریحانہ، ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1478

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُوْلُ: الجَنَّةُ لَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَالنَّارُ لَهاَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ.
عتبہ بن عبد سلمی كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم كے سات دروازے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1479

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مَسِيْرَةُ مِئَةِ عَامٍ وَقَالَ عَفَّان: كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً وَمِنْهَا تَخُرُجُ الأَنْهَارُ الْأَرْبَعَةُ وَالْعَرْشُ مِنْ فَوْقِهَا وَإِذَا سَأَلْتُمُ الله –تَبَارَكَ وَتَعَالَى- فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ
عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت كے سو درجے ہیں ،ہر درجے كے درمیان سو سال كی مسافت ہے اور عفان نے كہا: آسمان و زمین کے درمیان جتنا فاصلہ ہے۔ فردوس جنت كا بلند ترین درجہ ہے ، اس سے چار نہریں بہہ رہی ہیں، عرش اس كے اوپر ہے اور جب تم اللہ تبارك و تعالیٰ سے سوال كرو تو فردوس كا سوال كرو۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1480

عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ مَوْقُوْفاً وَمَرْفُوْعاً: خَلَق الله تَبَارَك وتَعَالَى الْجَنَّة لَبِنَةَ مِنْ ذَهَبٍ ولَبِنَةَ من فِضَّةٍ ومِلَاطُهَا الْمِسْكُ فقال لَهَا: تَكَلَّمِي فَقَالَت: فَقَالَت الْمَلَائِكَةُ: طُوبَى لَك مَنْزَلَ الْمُلُوك
ابو سعید رضی اللہ عنہ سےموقوفا و مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ تعالیٰ نے جنت كو بنایا، ایك اینٹ سونے كی ایك چاندی كی، اس كا گارا كستوری كا ، پھر جنت سے كہا: بات كرو جنت نے کہا: یقینا ایمان والے كامیاب ہوگئےفرشتوں نے كہا: تمہارے لئے خوشخبری ہو، بادشاہوں کے ٹھہرنے کی جگہ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1481

) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ، فَرَأَى عَلَى بَابِهَا مَكْتُوبًا: الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةِ عَشْرٍ .
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایك آدمی جنت میں داخل ہوا تو جنت كے دروازے پر لكھا ہوا تھا،صدقہ دس گنا اور قرض اٹھا رہ گنا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1482

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِشَابٍّ مِّنْ قُرَيْشٍ. فَظَنَنْتُ أَنِّي أَناَ هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (قَالَ: فَلَوْلَا مَا عَلِمْتُ مِنْ غَيْرَتِكَ لَدَخَلْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ: عَلَيْكَ يَا رَسُولَ الله أَغَارُ؟) .
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے سونے كا ایك محل دیكھا ،میں نے كہا: یہ كس كا محل ہے؟ فرشتوں نے كہا: قریش كے ایك نو جوان كا، میں سمجھا كہ وہ میں ہوں۔میں نے پوچھا وہ کون ہے؟ فرشتوں نے كہا: عمر بن خطاب كے لئے۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تمہاری غیرت عمر! كی غیرت كا علم نہ ہوتا تو میں اس میں داخل ہو جاتا ، عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ كیا میں آپ پر غیرت كرو ں گا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1483

عَنْ عَائَشَة مَرْفُوْعاً: دَخَلَتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ لِزَيْدِ بن عَمَرٍو بن نُفَيْلٍ دَرَجَتَيْن .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ میں جنت میں داخل ہوا تو زید بن عمرو بن نفیل کے دو درجے دیکھے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1484

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا الْكَوْثَرُ؟ قَالَ: ذَاكَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ الله يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ أَشَدُّ بَيَاضًا مِّنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ فِيهِ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ. قَالَ عُمَرُ: إِنَّ هَذِهِ لَنَاعِمَةٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَكْلَتُهَا أَنْعَمَ مِنْهَا .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے پوچھا گیا : كوثر كیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ ایك نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا كی ہے (یعنی جنت میں )دودھ سے زیادہ سفید ہے، شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ اس میں ایسے پرندے ہیں جن كی گردنیں اونٹنیوں کی طرح ہوں گی ۔عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: یہ تو بہت عمدہ ہوں گے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ان كا کھانا بہت لذید ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1485

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: ذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيَمُ عَلَيْهِ السَّلَام .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مسلمانوں كی (نابالغ فوت ہونے والی) اولاد جنت میں ہے اور ابراہیم علیہ السلام ان كی دیكھ بھال كر رہے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1486

عَنْ عَبْدِ الْعَزِيز بن الْمُخْتَار، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاج : شَهِدَتُ أَبَا سَلْمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَحْمَن جَلَس فِي مَسْجِدٍ فِي زَمَن خَالِد بن عَبْد الله بن خَالد بن أَسِيد قَالَ : فَجَاء الحَسَنُ فَجَلَس إِلَيْهِ فَتَحَدَّثَنَا فَقَالَ أبو سَلْمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُوْ هُرَيْرَة عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ثَوْرَان مُكَوَّرَان فِی النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَة فَقَالَ الْحَسنُ : مَا ذَنْبُهُمَا ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُك عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَكَت الْحَسَنُ .
عبدالعزیز بن مختار بن عبداللہ دناج سے مروی ہے كہ میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن كے پاس موجود تھا جو ایك مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ خالد بن عبداللہ بن خالد بن اسید كا دور تھا، حسن آئے اور ان كے پاس بیٹھ گئے اور ہم سے گفتگو کرنے لگے۔ ابو سلمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سورج اور چاند كو لیٹے ہوئے بیل كی صور ت میں قیامت كے دن آگ میں پھینك دیا جائے گا۔حسن نے كہا: ان كی دمیں كتنی لمبی ہوں گی؟ ابو سلمہ نے كہا: میں نے تمہیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی حدیث بیان كی ہے ۔تب حسن خاموش ہوگئے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1487

عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِيَ ابْنَانِ فَمَا أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: قَالَ: نَعَمْ صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَتَلَقَّى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ: أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ أَوْ قَالَ بِيَدِهِ كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يَتَنَاهَى أَوْ قَالَ فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يُدْخِلَهُ الله وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ .
ابو حسان سے مروی ہے كہ میں نے ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے كہا: میرے دو بیٹے مر چكے ہیں، آپ ہمیں كون سی حدیث سنائیں گے، جسےسن كر ہمارے فوت شدگان کے حوالے سے ہمارے دلوں كو تسلی ہو؟ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جی ہاں،مومنین كےچھوٹے بچے جنت کے چھوٹے باسی ہوں گے جو ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ان میں سے كوئی بچہ اپنے والد(یا والدین) سے ملے گا، اس كا كپڑا( یا اس كے ہاتھ سے پكڑے گا) جس طرح میں تمہارے اس كپڑے كا كنارہ پكڑ رہا ہوں، وہ اس وقت تك نہیں چھوڑے گا جب تك اللہ تعالیٰ اسے اور اس كے والد كو جنت میں داخل نہ كر د
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1488

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَرِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اصل جہنم میں سے دو قسم کے لوگ میں نے نہیں دیكھے۔ ایك وہ لوگ جن كے پاس گائے كی دموں جیسے كوڑےہیں اور ان سے لوگوں كو مارتے ہیں، اور وہ عورتیں جو كپڑا پہننے كے باوجود ننگی ہیں۔ مائل كرنے والی، مائل ہونے والی ہیں، ان كے سر بختی اونٹوں كی كوہان جیسے ہیں۔ (ایسی عورتیں) نہ جنت میں داخل ہوں گے نہ جنت كی خوشبو پائیں گی اور جنت كی خوشبو بہت دور كی مسافت سے محسوس كی جاتی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1489

عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : طُوبَى شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّة , مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ , ثِيَابُ أَهَلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: طوبی، جنت میں ایك درخت ہے۔ سو سال كی مسافت میں اس كا پھیلاؤ ہے، جنتیوں كا لباس اس کے غلاف سے نکلے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1490

عَنْ عُتَبَة بن عَبْدِ السَّلَمِيّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَاءَ أَعْرَابِيّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَسْمعُك تَذْكُر شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ لَا أَعْلَمُ فِي الدُّنْيَا أُكْثَر شَوْكاً مِنْهَا، يَعْنِي الطَّلْح، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَإِنَّ اللهَ يَجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَة ( يَعْني مِنْ شَجَرَة الطَّلْح فِي الْجَنَّة ) مِثْلَ خَصْيَةِ التَّيْس الملبود – يَعْني: المخصي - فِيْهَا سَبْعُون لَوْنًا من الطَّعَام لَا يُشْبِه لَوْنَه لَوْن الْآخَر
عتبہ بن عبد سلمی كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ بیٹھا تھا ایك بدو آیا اور کہنے لگا : اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ میں آپ سے جنت میں ایك درخت كے بارے میں سنتا ہوں دنیا میں مجھے اس سے زیادہ كانٹے دار درخت كے بارے میں علم نہیں یعنی(شگوفے کا درخت) ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ رب العزت ہر كانٹے كی جگہ خصی بکرے كے خصیہ جیسی چیز بنا دے گا، اس میں ستر مختلف رنگوں كے كھانے ہوں گے، اور وہ رنگ آپس میں ایك دوسرے میں خلط ملط نہیں ہو سكیں گے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1491

عَنْ سَمُرَةَ مَرْفُوْعاً: الْفِرْدَوْس رَبْوَةُ الْجَنَّة، وَهِي أَوْسَطُهَا وَأَحْسَنُهَا
سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: فردوس جنت كا بلند حصہ ہے ، اور یہ جنت كا وسطی اور خوب صورت ترین حصہ ہے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1492

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : قَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:میرے منبر کے پائے جنت میں قائم ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1493

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَوْ أَنَّ الله هَدَانِي فَيَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً قَالَ وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ لَوْلَا أَنَّ الله هَدَانِي قَالَ فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ (الزمر: ٥٦)
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر جہنمی جنت میں اپنا ٹھكانہ دیكھے گا اور كہے گا: كاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت دے دیتا، تب یہ ان كی حسرت رہے گی اور ہر جنتی جہنم میں اپنا ٹھكانہ دیكھے گا اور كہے گا، اگر اللہ مجھے ہدایت نہ دیتا تو(یہ میرا ٹھكانہ ہوتا)یہ بات ان كے لئے باعث شكر ہوگی۔پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ آیت تلاوت كی: (زمر: ٥٦) جہنمی كہے گا ہائے حسرت ،جو ہم نے اللہ كے احكامات میں كوتا ہی کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1494

عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى الله شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ.
علی بن خالد كہتے ہیں كہ ابو امامہ باہلی‌رضی اللہ عنہ خالد بن یزید بن معاویہ كے پاس سے گزرے تو ان سے كسی نرم /آسانی کی بات سنانے كا كہا جو انہوں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہو۔ انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرما رہے تھے : تم میں سے ہر شخص جنت میں داخل ہوگا سوائے اس شخص كے جس نے اللہ كے خلاف اس طرح سر كشی كی جس طرح اونٹ اپنے مالكوں كے خلاف كرتا ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1495

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ عَنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِلشَّهِيدِ عِنْدَ الله خِصَالٌ 1-يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ 2- وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ 3-وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ 4-وَيُزَوَّجُ (اثنَيْنِ وَسَبْعِيْنَ زَوْجَةً)مِنْ الْحُورِ الْعِينِ. 5-وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ 6-وَيَأْمَنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ. 7-وَيُوْضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، الياَقُوتُة مِنْهُ خَيْرُ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا. 8-وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ .
مقدام بن معدیكرب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كے ہاں شہید كے لئے كچھ انعامات ہیں: ١۔خون كا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے معاف كر دیا جاتا ہے۔٢۔ وہ جنت میں اپنا ٹھكانہ دیكھ لیتا ہے۔٣۔ اسے ایمان كا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔٤۔ (بہتر 72)حوروں سے اس كی شادی كر دی جاتی ہے۔ ٥۔ عذابِ قبر سے بچا لیا جاتاہے۔٦۔ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتا ہے۔٧۔ اس كے سر پر وقار كا تاج ركھ دیا جاتاہے جس كا ایك یاقوت دنیا اور جو كچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔٨۔ اپنے ستر(70) گھر والوں كی سفارش كرے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1496

عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ مَرْفُوْعاً: لَو أَنَّ حَجَرًا يُقْذَفُ بِهِ فِي جَهَنَّم هَوًى سَبْعِيْن خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهَا
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر كوئی پتھر جہنم میں پھینك دیا جائے تو وہ گہرائی میں پہنچنے سے پہلے ستر سال تك گرتا رہے گا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1497

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: لَوْ أَنَّ مَا يَقِلُّ ظُفُرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ .
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہےكہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اگر جنت كا ناخن سےبھی كم حصہ ظاہر ہو جائے تو آسمان و زمین كے كونے روشن ہو جائیں اوراگر كوئی جنتی دنیا میں جھانك لے، اور اس كےکنگن ظاہر ہو جائیں تو وہ سورج كی روشنی كو اس طرح ختم كر دیں گے جس طرح سورج كی روشنی ستاروں كی روشنی کو ختم كر دیتی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1498

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: لَو كَانَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ مِائَةُ (أَلْفٍ) أَوْ يَزِيدُوْنَ ، وَفِيْهِ رَجُلٌ مِّنَ النَّار فَتَنَفَّسَ فَأَصَابَهُمْ نَفسُهُ لَاَحْتَرَقَ الْمَسْجِدُ وَمَن فِيْهِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر اس مسجد میں ایك لاكھ یا اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں ، اور ایك جہنمی سانس لے اور اس كی سانس ان سب تك پہنچے تو مسجد اور مسجد میں موجود سب كچھ جل جائے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1499

قَالَ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ: مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ وَعَلَيْهَا عَبْدُ الله بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ فَلَمْ يَعُدْهُ فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ: أَتَكْتُبُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقَالَ: اُكْتُبْ فَكَتَبَ لِلْأَمِينِ عَبْدِ الله بْنِ قُرْطٍ: مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى علیھما السلام مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتَهُ ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ وَقَالَ لَهُ: أَتُبَلِّغُهُ إِيَّاهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا فَقَالَ النَّاسُ: مَا شَأْنُهُ؟ أَحَدَثَ أَمْرٌ؟ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ: اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا .
شریح بن عبید نے كہا: ثوبان‌رضی اللہ عنہ ،حمص میں بیمار ہو گئے ۔ عبداللہ بن قرط ازدی حمص كے نگران تھے۔ انہوں نے ثوبان‌رضی اللہ عنہ كی عیادت نہیں كی، ایك كلاعی شخص عیادت کے لئے ثوبان رضی اللہ عنہ كے پاس آیا تو ثوبان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تم لكھ سكتے ہو؟ اس نے كہا: جی ہاں، ثوبان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: لكھو، اس نے امیر عبداللہ بن قرط كے لئےپیغام لكھا: ثوبان مولی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی طرف سے اما بعد: اگر تمہاری موجودگی میں موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام كا كوئی مولیٰ(دوست ،آزاد كردہ غلام)ہوتا تو آپ اس كی عیادت كرتے، پھر خط لپیٹ كركہا: كیاتم یہ خط عبداللہ كو پہنچا سكتے ہو؟ اس نے كہا: جی ہاں، وہ آدمی خط لے كر ابن قرط كے پاس گیا اور اسے خط دے دیا۔ جب انہوں نے خط پڑھا تو گھبرا كر كھڑےہو گئے۔ لوگوں نے كہا: انہیں كیا ہوگیا؟ كیا كوئی نیا معاملہ ہو گیا ہے؟ عبداللہ ثوبان‌رضی اللہ عنہ كے پاس آئے اور ان كی عیادت كی ،كچھ دیر ان كے پاس بیٹھے رہے، پھر كھڑے ہوگئے۔ ثوبان نے ان كی چادر پكڑ كر كہا: بیٹھ جاؤ میں تمہیں ایك حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار لوگ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے اور ہر ہزار كے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1500

عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَیْسَ فِي الْأَرْضِ مِنَ الْجَنَّۃِ إلَّا ثَلَاثَۃُ أَشْیَائٍ: غرْسُ الْعَجْوَۃ، وَأَواَقٍ تَنْزِلُ فِي الْفُرَاتِ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ بَرَکَۃِ الْجَنَّۃِ وَالْحَجَرُ۔
ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زمین میں جنت کی تین چیزوں کے علاوہ او رکچھ نہیں، عجوہ کا درخت، جنت کی برکت سے ہر دن فرات میں اُترنے والاچوتھائی چھٹانک، اور حجر (اسود)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1501

عن ابن عَبَاس مَوْقُوفًا: لَيْس في الْجَنَّة شَيْءٌ يُشبهُ (مَا) في الدُّنْيَا إِلَا الْأَسْمَاء.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفا مروی ہے كہ: جنت کی جن چیزوں کی دنیوی چیزوں سے مشابہت ہے تو وہ مشابہت صرف نام کی حد تک ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1502

عن أبي هُرَيْرَة قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ما اسْتَجَار عَبدٌ من النَّار سَبعَ مَرَّاتٍ في يَوم إِلَا قَالَت النَّار: يَا رَبّ! إِن عَبدَك فُلَانًا قَد اسْتَجَارَك مِنِّي فَأَجِرْه، وَلَا يسْأَل الله عَبْدٌ الْجَنَّة في يَوم سَبع مَرَّات إِلَا قَالَت الْجَنَّة: يَا رَبّ! إِن عَبْدَك فُلَانًا سَأَلَنِي فَأَدْخلْه الجَنَة
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی انسان ایك دن میں سات مرتبہ آگ سے پناہ مانگتا ہے توآگ كہتی ہے: اے میرے رب تیرے فلاں بندے نے مجھ سے پناہ مانگی ہے، اسے پناہ دے دے، اور كوئی بندہ ایك دن میں سات مرتبہ اللہ تعالیٰ سے جنت كا سوال كرتا ہے تو جنت كہتی ہے ،اے میرے رب تیرے فلاں بندے نے تجھ سے میرا سوال كیا ہے، اسے جنت میں داخل كر دے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1503

عن زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِّنْ مِئَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: سَبْعَ مِئَةٍ أَوْ ثَمَانِ مِئَةٍ.
زید بن ارقم كہتے ہیں كہ ہم ایك سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے۔آپ ایك جگہ اترے تو میں نے سنا آپ فرما رہے تھے: میری امت میں سے جو لوگ میرے پاس حوضِ كوثر پر آئیں گے تم ان كا ایك لاكھواں حصہ بھی نہیں ہو۔(زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ) اس دن تم کتنے تھے؟ زید نے كہا:سات یا آٹھ سو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1504

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے نہیں دیكھا كہ آگ سے بھاگنے والا اور جنت كا طالب سو گیا ہو۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1505

عن الْمِقْدَام مرفوعا: مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ سِقْطًا وَلا هَرمًا وَإِنَّمَا النَّاسُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ إِلا بُعِثَ ابْنَ ثَلاثِينَ سَنَةً، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ كَانَ عَلَى نسخةِ آدَمَ، وصُورَةِ يُوسُفَ، وَقَلَبِ أَيُّوبَ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عُظِّمُوا وَفُخِّمُوا كَالْجِبَالِ.
مقدام‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ كوئی بھی انسان دوران پیدائش یا بوڑھا ہو كر مرا اور لوگ ان عمروں كے درمیانی عمر میں ہی ہوتے ہیں، تو وہ قیامت كے دن تیس سال كا اٹھایا جائے گا ، اگر وہ جنتی ہوگا توآدم علیہ السلام كی بناوٹ اور یوسف علیہ السلام كی صورت اور ایوب علیہ السلام کے دل پر بنا دیا جائے گا اور اگر وہ جہنمی ہو ں گے تو ان كے جسم بڑے كر دیئے جائیں گے اور پھلا دیئے جائیں گے جس طرح پہاڑ ہوتے ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1506

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَهُ مَنْزِلَانِ: مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْزِلٌ فِي النَّارِ فَإِذَا مَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ، وَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْزِلَهُ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ (ۙ۱۰) المؤمنون.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص كے دو ٹھكانے ہیں۔ ایك ٹھكانہ جنت میں اور ایك ٹھكانہ جہنم میں، جب وہ مرجاتا ہے اور آگ میں داخل ہوتا ہے تو اہل جنت اس كے علاقے كے وارث بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی معنیٰ ہے: (المومنون:۱۰) یہی لوگ وارث ہیں۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1507

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میرا یہ منبرجنت کی نہر یا ایک باغیچہ پر واقع ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1508

عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا ، وَعَقَدَ تِسْعِينَ.
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ساری عمر روزے ركھے اس پر جہنم اس طرح تنگ كر دی جائے گی اور آپ نے نوے كی گرہ لگائی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1509

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ مرفوعا: « مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لاَ يَبْأَسُ لاَ تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلاَ يَفْنَى شَبَابُهُ ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو جنت میں داخل ہوگیا وہ آرام پاگیا، وہ کبھی بدحال نہ ہوگا۔ نہ اس كے كپڑے بوسیدہ ہوں گے اورنہ اس كی جوانی ختم ہوگی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1510

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَوْضِعَ سَوْط أَحَدِكُم في الْجَنَّة خَيْرٌ من الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَقَرَأ:3 ﮊ آل عمران.185
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایك چابک ركھےك كی جگہ دنیا اور جو كچھ اس میں ہے، اس سب سے بہتر ہے۔ اور یہ آیت پڑھی: 3 آل عمران.185”جو شخص آگ سے بچا كر جنت میں داخل كر دیا گیا وہ كامیاب ہو گیا، اور دنیا كی زندگی تو دھوكے كا سامان ہے“
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1511

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَّه قِيْل لَه: أنَطأ في الْجَنَّة؟ قال: نَعَم -وَالَّذِي نَفَسِي بِيَده- دحْماً دحْماً فَإِذَا قَام عَنْهَا رَجَعَتْ مَطْهَرَةً بِكْرًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: كیا ہم جنت میں ہم بستری كر سكیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے۔تم پرجوش طریقے سے یہ کام کروگےپھر جب وہ اس سے فارغ ہوگا تو وہ اسی طرح كنواری اور پاك ہوگی۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1512

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : النَّوْمُ أَخُو الْمَوْتِ وَلَا يَنَامُ أَهَلُ الْجَنَّةِ.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند موت كی طرح ہے اور اہل جنت سوتے نہیں۔( ) یہ حدیث سیدنا جابر اور عبداللہ بن ابی ؟؟؟ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1513

عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: أَجَلْ وَاللهِ مَا تَدْرِي أَنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا تَجْرِي فِيهَا أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ وَالدَّمِ قُلْتُ أَنْهَارًا؟ قَالَ: لَا بَلْ أَوْدِيَةً ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ أَجَلْ وَاللهِ مَا تَدْرِي حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ قَوْلِهِ: وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ (الزمر:۶۷)، فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ هُمْ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ.
مجاہد سے مروی ہے كہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: كیا تمہیں معلوم ہے كہ جہنم كی وسعت كتنی ہے؟ میں نے كہا: نہیں، انہوں نےكہا: ہاں واللہ تمہیں معلوم بھی نہیں ہو سكتا۔ایك جہنمی كے كان كی لو اور كاندھے كے درمیان ستر سال كی مسافت كا فاصلہ ہوگا۔ اس میں پیپ اور خون كی وادیاں بہہ رہی ہوں گی۔ میں نے كہا: كیا نہریں؟ انہوں نے كہا: نہیں بلكہ وادیاں، پھر كہا: كیا تمہیں معلوم ہے جہنم كی وسعت كتنی ہے؟ میں نے كہا: نہیں، انہوں نے كہا: ہاں واللہ تمہیں معلوم بھی نہیں ہو سكتا۔ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان كیا كہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ كے اس فرمان كے بارے میں سوال كیا: (الزمر:۶۷) ” اور زمین تمام كی تمام اس كی ایك مٹھی میں ہوگی، اور آسمان اس كے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے“۔اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس دن لوگ كہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: وہ جہنم كے پل پر ہوں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1514

عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قال: قال رَسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : والَّذِي نَفْسِي بِيَده لَتَدْخُلُنّ الْجَنَّة كُلَّكُم إِلَا من أَبَى وشَرَد عَلَى الله كشرود الْبَعِير، قَالُوا: ومن يَأْبَى أَن يَدْخُل الْجَنَّة؟ فَقَال: من أَطَاعَنِي دَخَل الجنة ومن عَصَانِي فَقَد أَبَى.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے تم سب كےسب جنت میں داخل ہوگے، مگر جس نے انكار كیا اور اونٹوں كی سر كشی كی طرح اللہ كے خلاف سر كشی كی۔ لوگوں نے كہا: جنت میں داخل ہونے سے كون انكار كر سكتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت كی وہ جنت میں داخل ہو گیا، اور جس نے میری نا فرمانی كی اس نے انكار كیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1515

عن أبي هُرَيْرَة قال: افْتَخَرَت الرِّجَال والنّسَاء، فَقَال أبو هُرَيْرَة: النّسَاء أكثر من الرِّجَال في الْجَنَّة، فَنَظَر عمر بن الْخِطَاب إلى الْقَوْم فَقَال: أَلَا تَسْمَعُون ما يَقول أبو هُرَيْرَة؟ فَقَال أبو هُرَيْرَة: سَمعتُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول في أَوَّل زُمْرَة تدخل الجنة: وُجُوهُهُم كَالْقَمَر لَيْلَة الْبَدْر والثَّانِيَة كأضوء كَوْكَب في السَّمَاء ولِكُلّ وَاحِد مِنْهم زَوْجَتَان يَرَى مُخّ سُوقِهِمَا من وَرَاء اللَّحْم ، و لَيْس في الْجَنَّة عَزبٌ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: مرد اور عورتیں آپس میں فخر كرنے لگے، ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جنت میں مردوں سے زیادہ عورتیں ہوں گی، عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ نے لوگوں كی طرف دیكھا، اور كہا: كیا تم سن نہیں رہے ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كیا كہہ رہے ہیں؟ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ جنت میں جانے والے سب سے پہلے گروہ کے بارے میں فرما رہے تھے کہ: ان کے چہرے چودہویں كے چاند كی طرح ہوں گے ، اور دوسرا گروہ آسمان میں روشن ترین ستارے كی طرح ہوگا، ہر شخص كے لئے دو بیویاں ہوں گی۔ گوشت كے اندر سے ان كی ہڈیوں كا گودا نظر آئے گا اور جنت میں كوئی كنوارا شخص نہیں ہوگا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1516

عن حُذَيْفَة بن الْيَمَان قال: قال أَصَحَابُ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : إِبْرَاهِيم خَلِيل الله وعَيْسَى كَلمة الله ورُوحه ومَوسَى كَلَّمَه الله تَكْلِيمًا فَمَاذَا أعْطِيْتَ يَا رَسُولَ الله؟ قال: وَلَد آدَم كُلُّهُم تَحْت لِوَائِي يَوم الْقِيَامَة وأَنا أَوَّل من تُفَتَّح لَه أَبْوَاب الْجَنَّة.
حذیفہ بن یمان كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ نے كہا: ابراہیم علیہ السلام اللہ كے دوست، عیسیٰ علیہ السلام اللہ كے كلمے ہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے گفتگو كی ہے۔ اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آپ كو كیا دیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت كے دن آدم كی تمام اولاد میرے جھنڈے كے نیچے ہوگی، اور میں پہلا شخص ہوں گا جس كے لئے جنت كے دروازے كھولے جائیں گے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1517

عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ (فَإِذَا نَحْن بِامْرَأَة عَلَيْهَا حبائر لَهَا، وخَوَاتِيم، وقَد بَسَطَتْ يَدَهَا عَلَى الْهَوْدَج) فَقَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي هَذَا الشِّعْبِ إِذْ قَالَ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ شَيْئًا؟ فَقُلْنَا نَرَى غِرْبَانًا فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْهُنَّ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فِي الْغِرْبَانِ.
عمارہ بن خزیمہ سے مروی ہے كہ ہم حج یا عمرے میں عمرو بن عاص‌رضی اللہ عنہ كے ساتھ تھے( اچانك ہم ایك عورت كے پاس سے گزرےجس نے منقش چادر اور انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں اور اپنا ہاتھ ہودج پر ڈالا ہواتھا) عمرو نے كہا: اس گھاٹی میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے اچانك آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےكہا: دیكھو! كیا تمہیں كوئی چیز نظر آ رہی ہے؟ ہم نے كہا: ہم کوّے دیکھ رہے ہیں، ان میں ایک کوّا سرخ چونچ اور ٹانگوں والا ہے۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت میں اتنی عورتیں جائیں گی جیسے ان کوّوں میں یہ ایک کوّا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1518

عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُول (الله) لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ! كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ! خَيْرُ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّ فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى؟ إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ (وفي طريق بلفظ: من الكرامة).وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ (الله) لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ! كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! شَرُّ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ (الربُّ عز وجل) لَهُ: أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! نَعَمْ فَيَقُولُ: كَذَبْتَ قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَيْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایك جنتی كو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اے ابن آدم تمہیں اپنا ٹھكانہ كیسالگا؟ وہ كہے گا: اے میرے رب بہترین ٹھكانہ ہے۔ اللہ تعالی فرمائے گا: مانگو اور تمنا كرو، وہ كہے گا: اے میرے رب میں كیا مانگوں اور كس چیز كی خواہش كروں؟ سوائے اس خواہش كے كہ تو مجھے دنیا میں واپس بھیج دے اور میں دس مرتبہ تیرے راستے میں قتال كرتا ہوا شہید ہوجاؤں۔ كیوں كہ وہ شہادت كی فضیلت دیكھ چكا ہوگا، اور ایك روایت میں ہے: شہادت كی تکریم دیكھ چكا ہوگا اور ایك جہنمی كو لایا جائے گا(اللہ تعالیٰ) اس سے كہے گا: اے ابن آدم تم نے اپنا ٹھكانہ كیسا پایا؟ وہ كہے گا: اے میرے رب بدترین ٹھكانہ ہے۔(رب عزوجل) اس سے فرمائے گا: كیا تم اس سے چھٹكارا پانے كے لئے زمین بھر سونا بدلے میں دے دو گے؟ وہ كہے گا: جی ہاں اے میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے میں نے تم سے اس سے بھی كم اور آسان بات كا مطالبہ كیا تھا لیكن تو نے وہ مطالبہ پورا نہیں كیا پھر اسے آگ میں واپس ڈال دیا جائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1519

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ حَارِثَةَ بن سراقة خَرَجَ نَظَّارًا فَأَتَاهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَتْ أُمُّهُ: يَـا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَرَفْتَ مَوْضِعَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِلَّا رَأَيْتَ مَا أَصْنَعُ! قَالَ: يَا أُمَّ حَارِثَةَ! إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ لَفِي أَفْضَلِهَا أَوْ قَالَ: فِي أَعَلَى الْفِرْدَوْسِ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ باہر كا نظارہ كر نے نكلے، ایك تیرآیا اورانہیں قتل كرگیا۔ ان كی والدہ نے كہا: اےاللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ حارثہ سے میری محبت جانتے ہیں، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر كروں وگرنہ آپ دیكھیں گے كہ میں كیا كرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے امِ حارثہ ! وہاں ایك جنت نہیں، وہاں بہت ساری جنتیں ہیں،اور حارثہ سب سے افضل جنت میں ہے یا فرمایا: فردوس میں ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1520

عن الحسن قال: أَتَت عَجُوز إلى النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَت: يَا رَسُول الله! ادْع الله أَن يُدْخِلنِي الجنة. فَقَال: يَا أَم فُلَان! إِن الْجَنَّة لَا تَدْخُلَهَا عَجُوز. قال: فَوَلَّت تَبْكِي. فَقَال: أخبروها أَنَّها لَا تَدْخُلَهَا و هِي عَجُوز إِن الله تَعَالَى يَقول: اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵﴾ فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا (ۙ۳۶) عُرُبًا اَتۡرَابًا (ۙ۳۷) (الواقعة).
حسن‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك بوڑھی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئی اور كہنے لگی: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اللہ سے دعاكیجئے كہ مجھے جنت میں داخل كر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں جنت میں بوڑھی عورت داخل نہیں ہو سكتی۔ وہ روتی ہوئی واپس جانے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بتاؤ كہ یہ بڑھاپے كی حالت میں جنت میں داخل نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:﴿الواقعۃ:۳۵،۳۶،۳۷﴾ ’’ہم انہیں پیدا كر دیں گے اور انہیں باكرہ بنائیں گے ابھرے ہوئے سینوں والی جنتیوں کی ہم عمر۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1521

عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قِيلَ لِأُسَامَةَ: لَوْ أَتَيْتَ فُلَانًا -وفي رواية أخري: عثمان- فَكَلَّمْتَهُ –زاد في الأخري: فما يصنع؟- قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ؟! إِنِّي أُكَلِّمُهُ فِي السِّرِّ دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا لَا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ وَلَا أَقُولُ لِرَجُلٍ أَنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا: إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالُوا: وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ (وفي رواية: أقتاب بطنه) فِي النَّارِ فَيَدُورُ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ: يَا فُلَانُ! مَا شَأْنُكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ.
ابو وائل كہتے ہیں كہ اسامہ‌رضی اللہ عنہ سے كہا گیا: اگرآپ فلاں شخص كے پاس جائیں اور ایك روایت میں ہے عثمان‌رضی اللہ عنہ كے پاس جائیں اور ان سے بات كریں كہ وہ كیا كر رہے ہیں؟ اسامہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: تمہارا خیال ہے کہ میں ان سے بات کرتے ہوئے تمہیں بھی سناؤں گا؟ ۔ میں اس سے دروازہ كھولے بغیر آہستگی سے بات كروں گا ،میں دروازہ کھولنے والاپہلا شخص نہیں ہونا چاہتا نہ ہی میں كسی شخص كے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث سننے كے بعدیہ كہوں گاكہ وہ بہترین شخص ہےاگر چہ وہ مجھ پر امیر ہی كیوں نہ مقرر ہو۔ لوگوں نے كہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے كیا سنا؟ انہوں نے كہا: میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: قیامت كے دن ایک آدمی كو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینك دیا جائے گا،اس كی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی ( اور ایك روایت میں ہے اس كے پیٹ كی انتڑیاں) وہ ان كے گرد اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چكی كے گرد گھومتا ہے ۔اہل درزخ اس كے گرد جمع ہو جائیں گے اور كہیں گے: اے فلاں تمہارا كیا معاملہ ہے؟ كیا تم ہمیں نیكی كا حكم نہیں كرتے تھے اور برائی سے نہیں روكتے تھے؟ وہ كہے گا: میں تمہیں نیكی كا حكم كرتا تھا لیكن خود نیكی نہیں كرتا تھا ، اور برائی سے منع كرتا تھا لیكن خود برائی كرتا تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1522

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مرفوعاً: يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّنَ الْإِيمَانِ.
) ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص كے دل میں ایك ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا اسے آگ سے نكال لیا جائے گا۔( )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1523

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مرفوعاً: يَخْرُجُ عُنُقٌ مِّنَ النَّارِ يتكلم يَقُول: وُكِّلْتُ اليوم بِثَلَاثَةٍ: بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وبِمَنْ جعل مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَبمَن قَتَل نَفسًا بِغَيْر نَفس فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ فيقذفهم في غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ.
) ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جہنم کیسے آگ کا ایک شعلہ نکلے گا۔ جو كہہ رہی ہوگی:آج مجھے تین آدمیوں پر مقرركیا گیاہے: ہر سر كش جابر پر، اس شخص پرجس نے اللہ كے ساتھ دوسرا معبود بنایا، اور جس شخص نے كسی كو ناحق قتل كیا۔ وہ شعلہ یا لپیٹ ان كے گرد لپٹ جائے گی اور جہنم كی گہرائیوں میں انہیں غوطے دے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1524

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ فَيَبْقَى مِنْهَا مَا شَاءَ الله عَزَّ وَجَلَّ فَيُنْشِئُ الله تَعَالَى لَهَا يَعْنِي خَلْقًا حَتَّى يَمْلَأَهَا.
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت جنت میں داخل ہوجائیں گے، جنت كا كچھ علاقہ باقی بچ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس كے لئے نئی مخلوق پیدا كر كے اسے بھر دے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1525

عَنِ السُّدِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ عن رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قال: يَرِدُ النَّاسُ (كلهم) النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ (مِنْهَا) بِأَعْمَالِهِمْ (فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْعِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَمر الرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ ثُمَّ كَشَدِّ الرّجالِ ثُمَّ كَمَشْيِهِم).
) سدی كہتے ہیں كہ میں نے ہمدانی سے اللہ عزوجل كے اس فرمان كے بارے میں سوال کیا: اور تم میں سے ہر شخص اس پر ضرور واردہونےوالاہے،یہ آپ کے پروردگار کے ذمے قطعی فیصل شدہ امر ہے“،تو انہوں نے مجھے بتایا كہ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے انہیں بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمام) لوگ جہنم كے پاس آئیں گے ،پھر اپنے اعمال كے مطابق اس سے گزریں گے( پہلا گروہ بجلی كی چمك كی طرح، پھر دوسرا تیز ہوا كی طرح، پھر تیسرا تیز گھوڑے كی طرح ،پھر چوتھا عام سوار كی طرح ،پھر پانچواں تیز دوڑنے والے آدمی كی طرح، پھر چھٹا پیدل چلنے والے كی طرح گزرے گا)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1526

عن أنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: يَقول الله لِأَهْوَن أَهل النَّار عَذَابًا يَوِم الْقِيَامَة: (يَا ابن آدَم! كَيْف وَجَدَت مَضْجَعَك؟ فَيَقُول: شَرّ مضجع، فَيُقَال لَه:) لَو كَانَت لَك الدُّنْيَا وما فِيهَا أَكُنْت مُفْتَدِيًا بِهَا؟ فَيَقُول: نَعَم فَيَقُول: (كَذَبت) قَد أَرَدْت مِنْك أَهْوَن من هذا وأَنت في صلب و في رِوَايَة: ظَهْر آدَم: أَن لَا تُشْرِك (بِي شَيْئًا) (ولَا أَدْخلَك النَّار) فَأَبَيْت إِلَا الشِّرْك فَيُؤْمَر به إلى النَّار.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن سب سے كم عذاب والے جہنمی سے فرمائےگا:(اے ابن آدم تمہارا ٹھكانہ كیسا رہا؟ وہ كہے گا: یہ بدترین ٹھكانہ ہے۔ اس سے كہا جائے گا:)اگر تمہیں دنیا اور جو كچھ اس میں ہے سب مل جائے تو كیا تم اسے بدلے میں دے دو گے؟ وہ كہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائےگا:(تو جھوٹ بولتا ہے) میں نے تجھ سے اس سے بھی آسان بات كا مطالبہ كیا تھاجب تم اپنے باپ كی پشت میں تھے، اور ایك روایت میں ہے: آدم كی پشت میں تھے: كہ تو میرے ساتھ( كسی كو) شریك نہ كرنا( میں تجھے آگ میں داخل نہیں كروں گا) تم نے شرك پر ہی اصرار كیا ،پھر اسے جہنم میں ڈالنے كا حكم دے دیا جائے گا۔