TRUTH Exposing Interview of Sayyid Ali-ul-Ahsan Naqwi about Sheikh Zubair Ali Zai r.a and other ULMA

  • Playit.pk
  • Tune.pk
  • Youtube
  • Download


Downloads are not yet ready.

Untitledmp41
Untitledmp41
Untitledmp41
Note: Please do not play video tabs simultaneously.

Check Also

110-i-Mas’alah : (Part-9) Open Q & A Session (AUDIO) with Engineer Muhammad Ali Mirza (08-Oct-2016)

24 comments

  1. اس کا مطلب ہے کہ دو سال پہلے میں نے علی صاحب کو جو کچھ کہا تھا کہ آپ کی کچھ باتوں سے امّت میں فتنہ پھیل سکتا ہے وہ سب صحیح ثابت ہوا اور زبیر علی زئی مرحوم نے بھی اس کا اظہار کیا . اب بھی اگر علی صاحب کو سمجھ نہ آے تو ان کے لئے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے –

    علی صاحب کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بھی حدیث ہے کہ اگر کسی چیز سے امّت میں فتنہ پھیلنے کا خدشہ ہو تو اس سے اجتنناب کرنا چاہیے – روافض کو خوش کرنے کے لئے اہل سنّت میں لڑائی نہ دلوائیں –

    میں زبیر علی زئی مرحوم سے متفق ہوں کہ آپ ڈاکٹر ذاکر نائیک بن سکتے ہیں – لیکن اس کے لئے صلی صاحب کو اپنی ہٹ دھرمی چھوڑنی ہو گی – اس کے بعد بھی کہ جب زبیر علی زئی مرحوم بھی اس کا اظھار کر چکے –

    دوسرا یہ کہ لوگوں کو محمدی بنائیں نہ کہ اہل بیت یا کسی دوسرے امتی کا پیروکار بنائیں –

    ایک طرف علی صاحب درس دیتے ہیں کہ قرآن کہ مطابق لوگوں کو احسن طریقے سے سمجھائیں لیکن خود وہی طریقہ استعمال کرتے ہیں جن سے ان کو شدید اختلاف ہے – یہ دوغلا پین ہے –

    علی صاحب کہ لیکچرز بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن اچانک ہی پٹری سے اتر جاتے ہیں – شائد کم عمری کی وجہ سے – الله ہدایت دے اور علی صاحب کی چند باتوں سے پھیلنے والے فتنے سے امّت کو بچائے- امین

    • janab, 1300+ saal se jo sabse bara fitna ummat main phala howa hana, wo firqa parasti hai, ali bhai k lectures se aj jo rowafiz hen wo ahle sunnat ho rahy hen, ap ka wo hisab hai k na khud parho na dosry ko parhny do, ap ne apni qabar main jana hai, dosry ne apni, lakin kisi ki qabar agar bahtar ban sakti hai kuch haqiqi baton se accept karny se, wo na ki jay…

      Bhai jan ap jaha hen waha hi rahen, or humy dawat ka kaam ker lany dein, jis se 1 rafzi ahle sunnat tk pohnch sakta hai, sunniyon main larai nahi hoi, bas sunniyon k pait pe laat par gai hai asal main, or sunni bhi wo hen jo molvi hen, aam public ko to farq hi nahi para, balky ab hum rowafiz ko jawab dy sakty hen un k mu band kerny k liye, ap k sunni hun gay sirf molvi hazrat, hum pori ummat ko ahle sunnat wal jamat main anay ki dawat dy rahy hen haq k sath. agar koi ilmi bat kerni hai to welcome, warna ap dobara comment na hi kijiye ga please.

      • اصل میں آپ لوگ صرف علی صاحب کی تعریف کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ تنقید نہ آپ سن سکتے ہیں اور نہ آپ کے بھائی۔ میرا خیال تھا کہ آپ کوئ مناسب جواب دیں گے۔ لیکن آپ بھی مقلد ہی نکلے۔ میں پورے 6 ماہ علی صاحب سے ای میلز کے ذریعے سوالات پوچھتا رہا لیکن روافض اور اہل حدیث کے بارے میں ہمیشہ ہٹ دھرمی اور غصہ کیا۔ میرا خیال تھا 2 سال میں فرق پڑھ گیا ہو گا لیکن شائد میں نے اپنا اور آپ کا ٹائم خراب کیا۔ معذرت خواہ ہوں۔
        جزاک اللہ
        • janab, ap jitny marzi saal lagy rahen, hum haq bat ko to chor sakty hen, apko os waqt samaj aye gi jab k ap k apny bachy ahle sunnat se ahle tashai hun gay. os waqt samaj aye ga k ye baten kitni zarori hen.

        • farhan bhai ap to nabil manzoor sb ki baat ka gusa kr gay,,,piyaar sy smjhay.Quran pak ki ayt ka b mafhoom hy k ay Nabi saw agr tm sakhat dil hoty to sahaba es trah tmhary gird akathy na hoty…piaar sy baat smjhani chahiy

      • آپ کے علی بھائی کا علم اس ویڈیو میں نظر آ جاتا ہے جس میں وہ غامدی کی تعریف کر رہے ہیں – اہل حدیثوں اور ابن تیمیہ کا ذکر کرتے ہوے علی صاحب کی آنکھوں میں خون اتر جاتا ہے لیکن غامدی اور طاہر ال قادری کے لئے اتنی محبت ؟

        https://www.youtube.com/watch?v=WfK0mffs2aw

        ذرا غامدی صاحب کی ان باتوں کا بھی جواب دے دیں-

        http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=273057

        اگر علمی جواب ہے تو رپلائی کیجئے گا ورنہ اپنا اور میرا وقت مت برباد کیجے گا – شکریہ

        • janab, apka masla asal main 124-a hai, wo sun lo yar, main khud ahle hadith tha, ab alhumdolilah muslim hun, lakin main ap jasa ahle hadith nahi tha, main real ahle hadith, Quran or sahih ahadith ko mannay wala ahle hadith tha, ap log to fake ho.
          or jaha tk ghamidi sahab ki bat hai, to ali bhai ko unse ikhtilaf hai, lakin achi bat kisi ki bhi ho ly li jati hai, ab ibne tammiya k tamam aqaid ly liye jayn to bhai hum to ho gay mushriq, haha…. baki tahir ul qadri ki bat kerty hen ap to bhai namaz-e-muhammadi (alaihimussalam) wala lecture dakh lijiye 70-a, wo lecture bhi ali bhai ne hi record kia hai, or tahir ul qadri ki haqiqat btai hai.
          baki main ali bhai ko defend kerny k liye nahi hun yaha, main wo hi kerta hun jo muj tk satisfied pohncha hai, or haq hai. ali bhai se bhi galti hoti hai, or kuch lectures asay hen Quranic lecture jin main ali bhai ne apni galtiyon per ruju bhi kia hai.

  2. Copied as I have read somewhere:

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    مرزا علی انجینیئر صاحب کے ایک ریسرچ پبپر بنام “واقعہ کربلا کے پس منظر کا تحقیقی جائزہ” پر ایک نظر :
    سلسلہ نمبر: 1
    شیخ زبیر رحمہ اللہ سے سوال ھوا:
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ایک روایت میں آیا ہے کہ ’’قاتل عمار و سالبه فی النار‘‘ عمار (رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے۔
    (اس روایت کو مرزا صاحب نے روایت کو 18 مر نقل کیا ھے)
    شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے السلسلۃ الصحیحۃ (۵؍۱۸۔ ۲۰ ح۲۰۰۸)
    یہ بھی ثابت ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو جنگِ صفین میں ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ نے شہید کیا تھا۔ دیکھئے مسند احمد (۴؍۷۶ ح ۶۶۹۸ وسندہ حسن)
    کیا یہ صحیح ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ دوزخی ہیں؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
    الحمدللہ رب العالمین والصلوٰة والسلام علی رسوله الامین، امابعد: جس روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے، اس کی تخریج و تحقیق درج ذیل ہے:
    (۱)لیث بن ابی سلیم عن مجاہد عن عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ۔۔۔ الخ (ثلاثۃ مجالس من الامالی لابی محمد المخلدی ۷۵؍۱۔ ۲، السلسلۃ الصحیحۃ ۵؍۱۸، الآحادوالمثانی لابن ابی عاصم ۲؍۱۰۲ ح۸۰۳)
    یہ سند ضعیف ہے۔ لیث بن ابی سلیم جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے، بوصیری نے کہا: ’’ضعفہ الجمھور‘‘ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (زوائد ابن ماجہ: ۲۰۸، ۲۳۰)
    ابن الملقن نے کہا: ’’وھو ضعیف عند المجمہور‘‘ وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔؛ (خلاصۃ البدر المنیر: ۷۸، البدر المنیر ۲؍۱۰۴)
    امام نسائی نے فرمایا: ’’ضعیف کوفی‘‘ (کتاب الضعفاء : ۵۱۱)
    (۲)المحمر بن سلیمان التیمی عن ابیه عن مجاهد عن عبدالله بن عمرو رضی الله عنه ۔۔۔ الخ (المستدرک للحاکم ۳؍۳۸۷ ح۵۶۶۱ وقال الذہبی فی التلخیص: علی شرط البخاری ومسلم)
    یہ سند سلیمان بن طرخان التیمی کے ’’عن‘‘ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ سلیمان التیمی مدلس تھے، دیکھئے جامع التحصیل (ص۱۰۶) کتاب المدلسین لابی زرعۃ ابن العراقی (۲۴) اسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی (۲۰) التبیین لاسماء المدلسین للحلبی (ص۲۹) قصیدۃ المقدسی وطبقات المدلسین للعسقلانی (۵۲؍۲) امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: ’’کان سلیمان التیمی یدلس‘‘ سلیمان التیمی تدلیس کرتے تھے۔ (تاریخ ابن معین، راویۃ الدوری: ۳۶۰۰)
    امام ابن معین کی اس تصریح کے بعد سلیمان التیمی کو طبقۂ ثانیہ یا اولیٰ میں ذکر کرنا غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ وہ طبقۂ ثالثہ کے مدلس ہیں لہٰذا اس روایت کو ’’صحیح علی شرط الشیخین‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔
    (۳)’’ابوحفص وکلثوم عن ابی غادیة قال۔۔ فقیل قتلت عمار بن یاسر واخبر عمرو بن العاص فقال: سمعت رسول اللہ صلی الله علیه وسلم یقول: ان قاتله وسالبه فی النار‘‘ الخ (طبقات ابن سعد۳؍۲۶۰۔ ۲۶۱ واللفظ لہ، مسند احمد ۴؍۱۹۸، الصحیحۃ۵؍۱۹)
    اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا: ’’وھذا اسناد صحیح، رجالہ لقات رجال مسلم۔۔۔‘‘
    عرض ہے کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ’’قاتله وسالبه فی النار‘‘ والی روایت بھی صحیح ہے۔
    ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’فقیل۔۔۔‘‘ الخ پس کہا گیا تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا ہے اور عمروبن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک اس (عمار) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے۔
    اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی ’’فقیل‘‘ کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہٰذا یہ ’’فی النار‘‘ والی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے۔ ’’اسنادہ صحیح‘‘ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت دوراوی بیان کررہے ہیں: (۱)ابوحفص: مجہول (۲)کلثوم بن جبر:ثقہ
    امام حمد بن سلمہ رحمہ اللہ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انھوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کیے ہیں؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من وعن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔
    خلاصۃ التحقیق: یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے۔
    تنبیہ: ابوالغادیہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو جنگِ صفین میں شہید کرنا ان کی اجتہادی خطا ہے جس کی طرف حافظ ابن حجر العسقلانی نے اشارہ کیا ہے۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)
    ج2ص477
    اس روایت کو مذکورہ بالا حوالہ میں شیخ زبیر رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ھے جبکہ موصوف دعوی یہ کرتے ھیں کہ شیخ رحمہ اللہ نے انکے اس ریسرچ پیپر کی پروف ریڈنگ کی اور احادیث کی صحت میں ان سے اتفاق بھی کیا۔۔۔!!!
    (نوٹ: اس سند میں صیغہ مجھول یعنی “اُخبِرَ” کے ساتھ عمرو رضی اللہ عنہ کو خبر دیئے جانے کا ذکر ھے اور خبر کس نے دی یہ وضاحت نھیں ھیں اور غالبا اسی بنیاد پر امام ذھبی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا ھیں کے اسناد فیہ انقطاع یعنی اس سند میں انقطاع ھیں دیکہئے السير 2/544)

    —————————————————————————————————————————————————-

    مرزا علی انجینیئر صاحب کے ایک ریسرچ پبپر بنام “واقعہ کربلا کے پس منظر کا تحقیقی جائزہ” پر ایک نظر :
    الفاظ حدیث
    امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
    حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ” دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَسْوَاتُهَا تَنْطُفُ، قُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ، فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ، فَقَالَتْ: الحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ، فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ قَالَ: مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ، فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ، قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ: فَهَلَّا أَجَبْتَهُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي، وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ: أَحَقُّ بِهَذَا الأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الجَمْعِ، وَتَسْفِكُ الدَّمَ، وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الجِنَانِ، قَالَ حَبِيبٌ: حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ
    عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور اس معاملہ میں میرے لئے کچھ نہیں رکھا گیا ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ اس معاملہ میں جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے۔یقیناً ہم اس معاملہ میں اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ حقدار ہیں ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی (جواب دینے کو تیار ہوا) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ اس معاملہ کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے (صبر کرنے والوں کے لیے) جنت میں تیار کر رکھی ہیں۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے ‘ آفت میں نہیں پڑے۔ [صحيح البخاري 5/ 110 رقم 4108 ]
    اس حدیث کے بعض جملوں کا صحیح مفہوم سمجھ لیا جائے تو ان شاء اللہ کوئی اشکال نہیں ہوگا ۔ذیل میں ہم دیگر روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حدیث کے بعض ان جملوں کی تشریح پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے غلط فہمیاں پیداہوتی ہیں۔
    کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت وامارت نہ پانے پر شکوہ کیا؟
    پیش کردہ حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
    فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ
    اس کا ترجمہ بعض نے یوں کیا ہے:
    مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی
    حالانکہ اس کا مناسب ترجمہ یہ ہونا چاہئے:
    اور اس معاملہ میں میرے لئے کچھ نہیں رکھا گیا ہے۔
    یادرہے کہ یہاں اصل عربی الفاظ میں خلافت وامارت کا لفظ موجود نہیں ہے اس لئے الامر سے حکومت ہی مراد ہے اس کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔لہٰذا اس سے مسلمانوں کے معاملات بھی مراد ہوسکتے ہیں ۔
    یہ جملہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بطور شکوہ نہیں بلکہ بطور حکایت کہا ہے ۔یعنی آپ مذکورہ اجتماع میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتارہے تھے کہ مسلمانوں کے معاملات سے متعلق انہیں کوئی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے اس لئے ان کا اس اجتماع میں شریک ہونا ضروری نہیں ہے۔
    بعض حضرات اس جملہ کا یہ مفہوم مراد لیتے ہیں کہ ابن عمررضی اللہ عنہ اس بات کا شکوہ کررہے تھے کہ انہیں خلافت وامارت کی کوئی ذمہ داری کیوں نہیں دی گئی ۔
    لیکن ہماری نظر میں ان الفاظ کا یہ مفہوم درست نہیں ہے کیونکہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے پوری زندگی میں کبھی بھی خلافت وامارت کی خواہش کی ہی نہیں ۔لہٰذا خلافت وامارت نہ پانے پر وہ شکوہ کیونکر کرسکتے ہیں ۔
    علاوہ بریں خود ان کے والد خلیفہ دوم عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا بھی یہی اشارہ تھا کہ ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے لئے خلافت امارت مناسب نہیں ۔ لہٰذا یہ کیسے مان لیا جائے کہ اپنے والد محترم کی منشاء کے خلاف بلکہ اپنے معروف مزاج کے خلاف عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ خلافت وامارت نہ ملنے پر شکوہ کریں۔
    اور بعض روایات میں تو آتا ہے کہ لوگوں نے خود عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنی چاہئے لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا [الطبقات الكبرى ط دار صادر 4/ 151 واسنادہ صحیح ]
    بلکہ بعض روایات کے مطابق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بننے کے لئے پیسے کا لالچ دیا گیا اس پر بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننا منظور نہیں کیا [الطبقات الكبرى ط دار صادر 4/ 164 واسنادہ صحیح ]
    حتی کی حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد لوگ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہی کو خلیفہ بنارہے تھے لیکن انہوں نے انکار کردیا ۔ اس کے بعد لوگوں نے آپ کو لالچ دی ، اور دھمکایا بھی لیکن کسی بھی صورت میں آپ خلیفہ بننے پر راضی نہ ہوئے۔ [الطبقات الكبرى ط دار صادر 4/ 151 واسنادہ صحیح ]
    غور کریں کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ کو بغیر مانگے خلافت دی جارہی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا ، اس پر انہیں راضی کرنے کے لئے مال ودولت کی لالچ دی گئی اس پر آپ نے ٹھکرادیا ۔ پھر آپ کو دھمکی دی گئی اور جبرا خلیفہ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے باوجود بھی آپ تیار نہ ہوئے۔ ایسے جلیل القدر صحابی کے بارے میں بغیر کسی واضح اور صریح دلیل کے ہم کیسے مان لیں کہ وہ خلافت وامارت نہ پانے پر شکوہ کررہے تھے ؟؟؟
    لہٰذا ہماری نظر میں مناسب توجیہ ہے کہ مذکورہ بات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بطور شکوہ نہیں بلکہ بطور حکایت کہی تھی ۔
    دراصل مذکورہ اجتماع میں علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے بیچ اختلاف کو ختم کرنے کے لئے صحابہ وتابعین اکٹھا ہو نے والے تھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس اجتماع میں شرکت نہیں کرنا چاہتے کیونکہ مسلمانوں کے معاملات سے متعلق ان پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی تھی ۔
    اسی لئے انہوں نے اپنی بہن رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے اس لئے مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر ان کی بہن رضی اللہ عنہا نے انہیں سمجھا یا کہ آپ اس اجتماع میں ضرورت شرکت کریں ، لوگوں کے لئے آپ کی رائے بہت اہمیت رکھے گی ۔ممکن ہے آپ کے ذریعہ لوگوں میں صلح ہوجائے اس لئے آپ ضرور جائیں ۔ یہ سن کر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی اس اجتماع میں شریک ہوگئے ۔
    مذکورہ اجتماع کب ہوا؟
    پیش کردہ روایت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جس اجتماع کا ذکر ہے اس سے کون سا اجتماع مراد ہے اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ۔کل تین اقوال ملتے ہیں ، ملاحظہ ہو:
    پہلا قول:
    بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ معاملہ صلح حسن کے وقت کا ہے یہ امام ہیثمی رحمہ اللہ کا قول ہے۔[مجمع الزوائد للهيثمي: 4/ 242]
    لیکن یہ درست نہیں اس پر کوئی دلیل موجود نہیں اسی لئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے غلط قرار دیا ہے۔ [فتح الباري لابن حجر 7/ 403]
    دوسراقول:
    بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یزید کے لئے بیعت لیتے وقت کا یہ معاملہ ہے۔ یہ ابن الجوزی کا قول ہے [كشف المشكل من حديث الصحيحين 2/ 576]
    لیکن یہ بے دلیل ہونے کے ساتھ انتہائی بعید اور نامعقول ہے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن الجوزی کے اس رائے کی سختی سے تردید کی ہے۔[فتح الباري لابن حجر 7/ 403]
    تیسراقول:
    بعض اہل علم کا خیا ل ہے کہ اس سے تحکیم کے وقت کا واقعہ مرا د ہے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے اور یہی درست ہے کیونکہ اس کی تائیددیگر صحیح روایت سے ہوتی ہے چناں چہ مصنف عبدالرزاق میں یہی روایت اسی سند سے مروی ہے اور اس میں واقعہ تحکیم کی صراحت ہے۔دیکھئے[مصنف عبد الرزاق: 5/ 483 رقم9779 واسنادہ صحیح ]
    اس سے معلوم ہوا کہ حدیث مذکور میں جس اجتماع کا ذکر ہے اس سے مراد امیر معاویہ وعلی رضی اللہ عنہما کے مابین تحکیم کا واقعہ ہے جو صفین کے موقع پر ہوا ۔
    کیا معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے زیادہ خلافت کا حقدار سمجھتے تھے۔
    اس حدیث میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ہیں:
    فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ
    یقیناً ہم اس معاملہ میں اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ حقدار ہیں ۔
    اس جملہ سے متعلق در ج ذیل تین چیزیں سمجھنے کی ہیں:
    اس جملے سے امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے کس کو مراد لیا ہے؟
    اس جملہ میں جسے مراد لیا گیا ہے اس کے باپ کا حوالہ کس معنی میں ہے؟
    اس جملہ میں جس معاملہ سے متعلق بات کہی گی ہے وہ معاملہ کون سا ہے؟
    امیر معاویہ کی مراد
    امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس جملہ سے کون مراد ہے اس بارے میں اختلاف ہے بعض کے بقول حسن اور ان کے والد رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور بعض کے بقول ابن عمر اور ان کے والد رضی اللہ عنہما مراد ہیں ۔ لیکن یہ دونوں باتیں بے دلیل ہیں ۔اور صحیح بات یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی تخصیص کے عمومی طور پر یہ بات کہی ہے کیونکہ اول تو امیر معاویہ رضی اللہ کے الفاظ عام ہیں دوسرے کہ حسن یا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اختلاف کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں کیوں مراد لے سکتے ہیں ۔
    اورمصنف عبدالرزاق کی ایک روایت میں جو یہ صراحت ہے کہ اس سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا [مصنف عبد الرزاق: 5/ 465]
    تو یہ وضاحت صحابی ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ نیچے کے کسی راوی نے اپنی طرف سے یہ وضاحت کی ہے ۔لہٰذا یہ معتبر نہیں ہے۔
    بالخصوص جبکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پروپیگنڈے سے کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ان کے کلام کا ایسا مطلب لے لیا گیا جو ان کی مراد تھی ہی نہیں مثلا ایک موقع پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے متعلق امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک بات کہی ہے جس کا مطلب بعض حضرات نے یہ سمجھ لیا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یزید کی بیعت نہ کرنے پر قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ لیکن جب دیگر حضرات نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں وضاحت طلب کی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس افواہ پر حیرانی ظاہر کی اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ میں نے ایسا کوئی ارادہ نہیں کیا ہے میں ایسا ہرگز نہیں کرسکتا
    لہٰذا جب تک امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ میں صراحت نہ ملے ہم دوسری کی وضاحت پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کوئی الزام قطعا نہیں لگاسکتے ۔
    رہی بات یہ کہ پھر حبیب بن مسلمہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے جواب نہ دینے کہ وجہ کیوں پوچھی جب کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ ان کی طرف نہیں تھا ؟ تو ممکن ہے کہ ابن عمر رضی اللہ کے بیان کے لہجہ میں عدم اتفاق ظاہر ہوا ہو اس لئے ان سے جواب نہ دینے کی وجہ پوچھی گئی ۔لہذا ان سے یہ سوال بھی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ انہیں کی طرف تھا ۔
    رہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا عدم اتفاق تو اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔
    خلاصہ یہ کہ اصل روایت کے اندر کسی بھی معین شخص کی طرف اشارہ کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔لہٰذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس جملہ میں بغیر کسی شخص کی تعین کی عمومی طور پر اپنی بات کہی ہے۔
    باپ کے حوالہ کامفہوم
    امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے جملہ میں عام شخص کی بات کرتے ہوئے اس کے باپ کا بھی ذکر کیا ہے اسے عام طور سے حقیقت پر محمول کیا گیا ہے لیکن یہاں سیاق سے یہی ظاہر ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے باپ کے حوالہ میں حقیقت مراد نہیں لی ہے بلکہ بطور مبالغہ یہ بات کہی ہے ۔چناں چہ اہل عرب کبھی کبھی بات میں تاکید پیدا کرنے کے لئے بطور مبالغہ کسی شخص کا تذکرہ اس کے باپ کے ساتھ بھی کردیتے تھے مثلا کہتے : فلاں افضل منک ومن ابیک۔یعنی فلاں تم سے اور تمہارے باپ سے بھی افضل ہے۔اوریہاں باپ سے موازنہ مقصود نہیں ہوتا تھا۔
    چنانچہ ایک بار عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا آپ فقیہ نہیں ہیں تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:
    والله لأنا أفقه منك ومن أبيك
    اللہ کی قسم ! میں تم سے اور تمہارے باپ سے بھی زیادہ فقیہ ہوں [أنساب الأشراف للبلاذري، ط، دار الفكر: 4/ 54 واسنادہ صحیح ]
    یہاں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے باپ کے حوالے میں حقیقت مراد نہیں لی ہے بلکہ بطور مبالغہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے والد کا نام لے لیا ہے ورنہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ ہرگز نہیں سوچا جاسکتا کہ وہ خود کو مبشربالجنہ اور جلیل القدر صحابی زبیررضی اللہ عنہ سے بھی بڑا فقیہ بتلائیں ۔
    اسی طرح کی ایک اور مثال کے لئے دیکھئے : [المعجم الكبير للطبراني 20/ 403 واسنادہ صحیح]
    خلاصہ یہ کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہاں پر بطور مبالغہ باپ کا نام لے لیا ہے حقیقت مراد نہیں ہے ۔
    متعلقہ معاملہ کی نوعیت
    امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جس معاملہ سے متعلق کہی ہے وہ معاملہ کیا ہے یہ بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔
    عام طور سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہاں خلافت کے معاملہ میں بات چل رہی ہے، حالانکہ یہ بات قطعا درست نہیں۔اس سے انکار نہیں کہ روایات میں ”الأَمْرِ“ خلافت کے لئے بھی بولا گیا ہے لیکن ہرجگہ اس لفظ سے خلافت ہی مراد نہیں ہوتی ہے اوریہاں بھی یہی بات ہے کہ یہ خلافت کے معنی میں نہیں کیونکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مشن خود کو خلیفہ بنانا نہیں تھا بلکہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینا ۔لہٰذا یہاں پر معاملہ سے مراد وہ معاملہ ہے جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مشن تھا اور وہ ہے ، قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص ۔اسی معاملہ کے بارے میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بات کہی ہے کہ میں ہر بولنے سے والے اور اس کے باپ سے اس معاملے میں زیادہ حقدار ہوں ۔یعنی خون عثمان کے مطالبہ کے بارے میں ۔
    اور یہ بات درست ہے کہ اس معاملے میں سب سے زیادہ حق دار امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی تھے ۔علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    فإنه ولي عثمان بن عفان والمطالب بدمه وهو أحق الناس
    امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ولی تھے اور ان کے خون کے طالب تھے اور اس بابت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ حقدار وہی تھے[عمدة القاري شرح صحيح البخاري 17/ 185]
    اوربالکل صحیح روایت سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ اعتراف و اقرار ثابت ہے کہ وہ علی رضی اللہ سےافضل نہیں ، نہ ہی خلافت میں علی رضی اللہ عنہ کے مخالف ہیں اورنہ ہی علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں بلکہ ان کا مقصد صرف قاتلین عثمان سے قصاص لینا ہے۔چناں چہ:
    يحيى بن سليمان الجعفى رحمہ اللہ (المتوفی238) نے کہا:
    حدثنا يعلى بن عبيد، عن أبيه، قال: جاء أبو مسلم الخولاني وأناس إلى معاوية، وقالوا: أنت تنازع عليا، أم أنت مثله؟ فقال: لا والله، إني لأعلم أنه أفضل مني، وأحق بالأمر مني، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، والطالب بدمه، فائتوه، فقولوا له، فليدفع إلي قتلة عثمان، وأسلم له. فأتوا عليا، فكلموه، فلم يدفعهم إليه .
    ابومسلم الخولانی اور کئی حضرات امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں یا خود کو ان کی طرح سمجھتے ہیں ؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ! اللہ کی قسم ! مجھے پتہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں ، اور خلافت کے مجھ سے زیادہ حقدار ہیں ، لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ عثمان رضی اللہ عنہ مظلومانہ قتل کئے گئے ، اور میں ان کا چچازاد بھائی ہوں اور ان کے خون کا طالب ہوں ، لہٰذا تم لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ قاتلین عثمان کو میرے حوالے کردیں میں ان کی خلافت تسلیم کرلیتاہوں ۔ پھر یہ حضرات علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اوران سے بات کی لیکن علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان کو امیر معاویہ کے حوالے نہیں کیا۔[ كتاب صفين للجعفی بحوالہ سير أعلام النبلاء للذهبي: 3/ 140 واسنادہ صحیح]
    اس صحیح روایت میں غور کریں کس طرح امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صاف لفظوں میں کہہ رہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ سے افضل نہیں ہے اور نہ خلافت میں ان سے زیادہ حقدار ہیں بلکہ وہ صرف قاتلین عثمان سے قصاص چاہتے ہیں ۔
    اس صاف اور صریح بیان کے ہوتے ہے کیسے ممکن ہے کہ امیر معاویہ خود کو خلافت کا سب سے زیادہ حقدار سمجھیں ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ بخاری کی روایت میں انہوں نے جس معاملہ میں خود کو زیادہ حقدار کہا ہے وہ خلافت کا معاملہ نہیں بلکہ خون عثمان کے مطالبہ کا معاملہ ہے اور بے شک اس میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ حقدار ہیں ۔
    اور جو لوگ امیر معاویہ کے جملے میں مستعمل لفظ ”اب“ (باپ) کو حقیقی معنی میں لیتے اور معاملہ کو خلافت کا معاملہ مانتے ہیں اور اس جملہ کا روئے سخن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سمجھتے ہیں ۔ وہ غور کریں کہ جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو علی رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ خلافت کا حقدار نہیں سمجھتے جو چوتھے خلیفہ ہیں تو بھلا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود کو عبداللہ بن عمر کے والد عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ خلافت کا حقدار کیسے سمجھ سکتے ہیں جو بالاتفاق دوسرے خلیفہ ہیں ؟؟؟
    رہی بات یہ کہ پھر حبیب بن سلمہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے جواب نہ دینے کہ وجہ کیوں پوچھی جب کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ ان کی طرف نہیں تھا ؟ تو جیساکہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ ممکن ہے کہ ابن عمر رضی اللہ کے بیان کے لہجہ میں عدم اتفاق ظاہر ہوا ہو اس لئے ان سے جواب نہ دینے کی وجہ پوچھی گئی ۔لہذا ان سے یہ سوال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ انہیں کی طرف تھا ۔
    اور رہا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عدم اتفاق تو ممکن ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اس معاملے میں بھی انہیں حضرات کو زیادہ حقدار سمجھتے ہوں جو اسلام لانے کے اعتبار سے پہلے ہوں ۔ لیکن جس انداز سے جواب ان کے ذہن میں آیا تھا اس سے لوگوں کو غلط فہمی ہوسکتی تھی اور لوگ کچھ ان کی منشا کے خلاف کچھ اورہی مطلب اخذ کرسکتے تھے اس لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کی جیساکہ خود انہوں نے خاموشی اختیار کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا:
    وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ،
    اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔
    افسوس کہ جس غلط فہمی سے لوگوں کو بچانے کے لئے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب نہیں دیا آج لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہورہے ہیں ۔اور اتنا بھی نہیں سوچتے کہ بھلا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو امیر معاویہ کے سامنے اپنے والد کو ان سے زیادہ خلافت کا حقدار ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ کبھی بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ابن عمر رضی اللہ عنہ کے والد سے اختلاف رہا ہی نہیں ہے۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بھی اس کج فہمی پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    وقيل أراد عمر وعرض بابنه عبد الله وفيه بعد لأن معاوية كان يبالغ في تعظيم عمر
    اور کہا گیا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو مراد لیا اور ان کے بیٹے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا ۔ اوریہ بہت بعید ہے کیونکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔[فتح الباري لابن حجر 7/ 404]
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ کو مراد لینے اور ان کے بیٹے کی طرف اشارہ کا انکار نہیں کیا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں ہے کیونکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ، علی رضی اللہ عنہ کا بھی احترام کرتے تھے اور انہیں خود سے افضل اور خلافت کے زیادہ حقدار سمجھتے تھے۔ جیساکہ صحیح روایت سے ثبوت پیش کیا گیا ہے ۔اس لئے درست بات یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہ عمر رضی اللہ عنہ کو مراد لیا ہے نہ علی رضی اللہ عنہ کو، بلکہ سرے سے حق خلافت ہی کی بات نہیں کی ہے۔ بلکہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کے مطالبہ کی بات کی ہے اور اس معاملہ میں بغیر کسی کی تعین کے خود کو سب سے زیادہ حقدار کہا ہے ۔ واللہ اعلم۔
    محمد شاہ رخ بهائی

    • bhai malom hai humy ye kis ne share kia hai.

      • کچھ لوگ امیر معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں ایک انتہا پر ہیں اور کچھ دوسری انتہا پر- کیا الله ہم سے آخرت میں پوچھے گا کہ تم نے امیر معاویہ رضی الله عنہ کو برا بھلا کھا تھا کہ نہیں یا اس کے بغیر بھی حساب کتاب مکمل ہو جاے گا؟
        آپکے علی صاحب نے ہی ایک لیکچر میں حدیث سنائی (مفہوم) کہ ایک صحابی نے کھا کہ ان کی اچھی باتوں کی پیروی کرو غلط کی نہیں تو علی صاحب کو کیا تکلیف ہے کہ ہر دوسرے تیسرے لیکچر میں ان کا ذکر بڑے طنز اور غصے سے کرتے ہیں؟
        اس طرح کا طنز اور غصہ کبھی غامدی اور طاہر ال قادری کے لئے نظر نہیں آیا؟
        کیا ان کا ذکر برے الفاظ سے کیے بغیر شیعہ حضرات کو سنی نہیں کیا جا سکتا؟
        • bhai g masla ali bhai ka nahi, ap ka hai,
          ap ne lectures hi wo sunnay hen jin main ye ahadith ( main phir repeat karonga “AHADITH” ) byan ki gai hen, ali bhai k 200 lectures hen almost, un main se sirf 11 lectures in topics par hen, janab ilzaam laganay se pahly lecture v vekhlo, hadith hai k kisi k jhota hony k liye itna hi kafi hai wo koi bhi sunni sunnai bat ko bagair tahqiq k agay pohncha dy, ab ap ne kya jhot bola wo main btata hun,

          ap ne bola k ali bhai tahir ul qadri ko kuch nahi kahty, janab namaz wala 70-a masla kholo or dakho, tahir ul qadri ki book or un ki khyanat k bary main ali bhai ne kya bola hai, rahi bat ghamdi sahab ki, to un k baray main bhi ali bhai k bohat se lectures main mujud hai.

          janab khoway se niklen ap bahir, phir bat kijiye ga.

          • جناب میں نے تو آپ سے سادہ سا سوال پوچھا تھا لیکن آپ نے میرے پر ہی جھوٹا الزام لگا دیا. بہرحال اس میں آپ کا قصور نہیں، علی صاحب نے آپ کی تربیت ہی ایسی کی ہو گی- علی صاحب نے یقینی طور پر یہ لیکچر دیے ہوں گے- مجھے انکار نہیں- کیونکے میں آپ کی طرح علی صاحب کی اندھی تقلید نہیں کرتا- الحمدلللہ
            اصل سوال صرف اس لہجے، غصے اور طنز کا تھا نہ کہ وہ جو آپ نے میرے پر الزام میں لگایا
            میں اب اس بحث کو یہیں پر ختم کر رہا ہوں اور اس لنک کا بک مارک بھی ختم کر رہا ہوں-
            اب ان شاہ الله قیامت والے دن فیصلہ ہو گا کہ امیر معاویہ رضی الله عنہ اور ابن تیمیہ رحمت الله کا رتبہ زیادہ بلند ہے یا آپ کے علی صاحب کے اساتذہ کرائم یعنی غامدی, مودودی اور طاہر ال قادری کا- اپنی اس ویب سائٹ کے علاوہ مندرجہ زیل سائٹس کو بھی دیکھ لیں کہ شائد آپ کا دماغ کھل جاۓ

            http://www.ircpk.com/
            http://islamhouse.com/ur/main/
            http://www.lightofimaan.com/

          • janab, na ap ny mari bat pori parhi, or na hi samjhi, iska result ye nikla k ap ny bola k tahir ul qadri, gamdi, ali bhai k teachers hen, dosri bat, ap par jhoot to saaf ho gya hai, ap ne khud maan liya hai k ap ne ali bhai k lectures nahi dakhy, janab Quran ka hi hukam hai k agar koi fasik koi khabar lay to tahqiq kar li jay, ap ny to tahqiq kiye bagar bat kerna start kerdi to many to jhoot ka ilzaam lagana hi tha, or ap ny tasdeek bhi kerdi ALHUMDOLILAH.

  3. انعام الرحمن
    السلام و علیکم ویسے تو علی بھائی اپنے قول و فعل کو خود جسٹیفائی کرے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن یہاں چونکہ ایک بھائی نے شیخ کفایت الله صاحب کی ایک تحقیق نقل کی ہے سو ہم نے سوچا کہ آ بھائیوں کو بھی اس پر ہمارے نقد سے آگاہ کر دیا جائے، میں ویب ایڈمن کی جانب سے اجازت کی خصوصی درخواست کروں گا میری عادت نہیں کہ میں یہاں ہونے والی ہر بحث پر علم رجال کی بحث شروع کر کے بیٹھ جاؤں ،
    _______________________
    یہ روایت دوراوی بیان کررہے ہیں: (۱)ابوحفص: مجہول (۲)کلثوم بن جبر:ثقہ
    امام حمد بن سلمہ رحمہ اللہ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انھوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کیے ہیں؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من وعن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے ،،،
    ابو حفص ہرگز مجہول نہیں ہیں بلکہ حماد بن سلمہ رح سے دو ابو حفص کی کنیت والے راوی روایت کرتے ہیں عبد الحميد بن جعفر بن عبد الله بن الحكم بن رافع بن سنان أبو حفص, أبو الفضل ،، سعيد بن جمهان أبو حفص پہلا راوی ثقہ صدوق شیخ حیثیت کا ہے جبکہ دوسرے راوی سے حدیث سفینہ مروی ہے اور الحمد و للہ حسن درجہ کا راوی ہے ، لیکن میں یہاں عرض کرتا چلوں کہ ہمارا اس روایت پر کوئی زیادہ احتجاج نہیں ہے کیونکہ بندہ علی سے اس معاملے میں اختلاف رکھتا ہے کہ روایات کی بنا پر کسی کے کفر یا جہنمی ہونے پر عقیدہ بنایا جائے اور وہ ہزار سال پہلے فوت ہو گیا ہو
    _______________________________________________________
    9779 – عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ” دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطِفُ، فَقُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمَرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ، وَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ ” قَالَتْ: فَالْحَقْ بِهِمْ، فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، وَالَّذِي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ. فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى يَذْهَبَ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ الْحَكَمَانِ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: مَنْ كَانَ مُتَكَلِّمًا فَلْيُطْلِعْ قَرْنَهُ ”

    مصنف عبدلرزاق کی اس روایت کے متن و سند پر ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں مگر کس اصول سے یہاں شیخ صاحب زہری کے عن کو قبول کر رہے ہیں جبکہ خود ثقہ کی زیادتی تک کے قائل نہیں ہیں ؟
    _______________________________________________________

    چنانچہ ایک بار عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا آپ فقیہ نہیں ہیں تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:
    والله لأنا أفقه منك ومن أبيك
    اللہ کی قسم ! میں تم سے اور تمہارے باپ سے بھی زیادہ فقیہ ہوں [أنساب الأشراف للبلاذري، ط، دار الفكر: 4/ 54 واسنادہ صحیح ]

    یہ کتاب فلحال ہماری تحقیق میں ثابت نہیں جب کتاب ثابت ہوگی تب سند پر بھی کلام کیا جائے گا
    _________________________________________________________
    سی طرح کی ایک اور مثال کے لئے دیکھئے : [المعجم الكبير للطبراني 20/ 403 واسنادہ صحیح]

    جی ہاں اور مکمل روایت اگر دیکھیں تو یہ الفاظ وہاں ایک شخص حضرت ابو بکر رض عنہ کے سامنے یہ الفاظ کہتا ہے اور آگے حدیث میں آتا ہے کہ وہ جناب غضبناک ہو جاتے ہیں پھر یہ کلام کرتے ہیں اور مکمل کلام دل کو تھام کر پڑھنے والا ہے مکمل روایت ملاحضہ ہو جو شیخ کی تدلیس کی قلعی کھول رہی ہے اور ہمارے مدعا کو بیان کر رہی ہے

    963 – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَعَرَضَ عَلَيَّ فَرَسٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: احْمِلْنِي عَلَى هَذَا، فَقَالَ: لَأَنْ أَحْمِلَ غُلَامًا قَدْ رَكِبَ الْخَيْلَ عَلَى عُزْلَتِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَكَ عَلَيْهِ،
    فَغَضِبَ الرَّجُلُ فَقَالَ: أَنَا وَاللهِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَبِيكَ فَارِسًا، فَغَضِبَتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِخَلِيفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ وَسَحَبْتُهُ عَلَى أَنْفِهِ، فَكَأَنَّمَا كَانَ أَنْفُهُ عَزْلَاءَ مَزَادَةٍ، فَأَرَادَ الْأَنْصَارُ أَنْ يَسْتَقِيدُوا مِنِّي، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنِّي مُقِيدُهُمْ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَلَأَنْ أُخْرِجَهُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ أَقْرَبُ مِنْ أَنْ أُقِيدَهُمْ مِنْ وَزَعَةِ اللهِ الَّذِينَ يَزَعُونَ عِبَادَهُ»

    _________________________________________________

    يحيى بن سليمان الجعفى رحمہ اللہ (المتوفی238) نے کہا:
    حدثنا يعلى بن عبيد، عن أبيه، قال: جاء أبو مسلم الخولاني وأناس إلى معاوية، وقالوا: أنت تنازع عليا، أم أنت مثله؟ فقال: لا والله، إني لأعلم أنه أفضل مني، وأحق بالأمر مني، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، والطالب بدمه، فائتوه، فقولوا له، فليدفع إلي قتلة عثمان، وأسلم له. فأتوا عليا، فكلموه، فلم يدفعهم إليه .
    ابومسلم الخولانی اور کئی حضرات امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں یا خود کو ان کی طرح سمجھتے ہیں ؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ! اللہ کی قسم ! مجھے پتہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں ، اور خلافت کے مجھ سے زیادہ حقدار ہیں ، لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ عثمان رضی اللہ عنہ مظلومانہ قتل کئے گئے ، اور میں ان کا چچازاد بھائی ہوں اور ان کے خون کا طالب ہوں ، لہٰذا تم لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ قاتلین عثمان کو میرے حوالے کردیں میں ان کی خلافت تسلیم کرلیتاہوں ۔ پھر یہ حضرات علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اوران سے بات کی لیکن علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان کو امیر معاویہ کے حوالے نہیں کیا۔[ كتاب صفين للجعفی بحوالہ سير أعلام النبلاء للذهبي: 3/ 140 واسنادہ صحیح]

    جی جناب اس روایت کے بنیادی راوی یعنی عبید کا صفین کے وقت بالغ عاقل بلکہ زندہ ہونا ہی ثابت نہیں ہے ہماری تحقیق میں ، اور دوسری بات یہ کہ محترم کے بیٹے یعلی بن عبید کی پیدائش ہے ١١٧ ہجری آگے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر ساتھ سال کی عمر میں بھی یہ ولد ہوۓ ہوں تب بھی عبید کی پیدائش ساتھ ہجری کے لگ بھگ بنتی ہے ، لیکن ہم کسی بھی قیاس سے قبل دلیل کے طالب ہیں جو اس کی سند کو متصل بنائے
    _______________________________________________________
    محترم سنابلی صاحب اب تو کھل کر کہتے ہیں کہ شیخ زبیر رح کو عربی عبارتوں کا علم نہ تھا اور وہ اپنے اصولوں کو ہی جمہور کا اصول بنا دیتے تھے اور اصل کتابوں میں ایسا کچھ ہوتا ہی نہ تھا ، میری گزارش ہے کہ شیخ سنابلی کے مقلدین برائے مہربانی شیخ کے اسوہ پر چلتے ہوۓ اصل کتاب کھول کر ساری کتاب پڑھ لیا کریں … جزاک الله و اسلام و علیکم

    • Walaikum assalam,

      bhai jan ya to ap roman main likhty ho easy tha parhna, lakin ab ap ne mahnat ki hai please ye comment ap ali bhai ko email ker dijiye yaha se hi copy kar k.