254 Results For Hadith (Mishkat-ul-Masabeh) Book (كتاب الْمَنَاسِك)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2505

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا» فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْء فدَعُوه . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا :’’ لوگو ! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے لہذا تم حج کرو ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے ، حتیٰ کہ اس نے تین مرتبہ کہا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (پھر ہر سال) واجب ہو جاتا ، اور تم استطاعت نہ رکھتے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ جب تک میں تمہیں کوئی مسئلہ نہ بتاؤں تو مجھے چھوڑے رکھو ، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیا سے زیادہ سوال کرنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ، جب میں کسی چیز کے بارے میں تمہیں حکم دوں تو مقدور بھر اس پر عمل کرو اور جب میں کسی چیز سے تمہیں منع کروں تو اسے چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2506

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ» قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مبرورٌ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا ، کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، پھر کون سا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، پھر کون سا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حج مقبول ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2507

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أمه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے لئے حج کرے ، پھر وہ گناہ کا کام کرے نہ فحش گوئی کرے تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) اس روز کی طرح لوٹتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2508

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزاءٌ إِلا الجنَّةُ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عمرہ دوسرے عمرہ تک کے درمیانی وقفہ میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے ، اور حج مقبول کی جزا جنت ہی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2509

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن عمْرَة فِي رَمَضَان تعدل حجَّة»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رمضان میں عمرہ کرنا (ثواب کے لحاظ سے) حج کے برابر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2510

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «رَسُولُ اللَّهِ» فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَلَكِ أَجَرٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روحاء کے مقام پر ایک قافلے سے ملے تو آپ نے پوچھا :’’ کون ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، مسلمان ۔ پھر انہوں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا رسول ۔‘‘ ایک عورت نے ایک بچہ اٹھا کر عرض کیا : کیا اس کا حج ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، اور تمہارے لئے اس کا اجر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2511

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ: يَا رَسُول الله إِن فَرِيضَة الله عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نعم» ذَلِك حجَّة الْوَدَاع
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بندوں پر جو حج کا فریضہ ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو اس حال میں پایا کہ وہ سواری پر صحیح طرح بیٹھ نہیں سکتے ، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اور یہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2512

وَعَنْهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكَنْتَ قَاضِيَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَاقْضِ دَيْنَ اللَّهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میری بہن نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن وہ فوت ہو چکی ہیں ، تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو ، وہ تو ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2513

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ» . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَخَرَجَتِ امْرَأَتِي حَاجَّةً قَالَ: «اذهبْ فاحجُجْ مَعَ امرأتِكَ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرے نہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر کرے ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فلاں فلاں غزوہ میں میرا نام لکھ لیا گیا ہے جبکہ میری اہلیہ حج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جاؤ اور اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2514

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ. فَقَالَ: «جهادكن الْحَج»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا جہاد حج ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2515

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو محرم»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کوئی عورت محرم کے بغیر ایک دن اور ایک رات کا سفر نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2516

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ: ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ: الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ: قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ: يَلَمْلَمَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ وَكَذَاكَ وَكَذَاكَ حَتَّى أهل مَكَّة يهلون مِنْهَا
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لئے جحفہ ، اہل نجد کے لئے قرن منازل اور اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر کیا ، وہ ان کے لئے ہیں اور ان کے علاوہ ان راستوں سے آنے والوں کے لئے ہیں جبکہ وہ حج اور عمرہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں ، اور جو ان مواقیت کے اندر کی جانب رہتا ہے تو وہ اپنے گھر سے احرام باندھے گا ، اور اس طرح اور اس طرح حتیٰ کہ مکہ والے مکہ سے احرام باندھیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2517

وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اور اہل مدینہ ذوالحلیفہ کے مقام پر احرام باندھیں گے ، جبکہ دوسرے راستوں والے جحفہ سے ، اہل عراق ذات عرق سے ، اہل نجد قرن سے اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2518

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے ہیں وہ سب ذوالقعدہ میں کیے ، بجز اس عمرہ کے جو آپ نے حج کے ساتھ کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عمرہ حدیبیہ سے ذوالقعدہ میں کیا ، ایک عمرہ اگلے سال ذوالقعدہ میں کیا ، ایک عمرہ جعرانہ سے جہاں آپ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا وہ بھی ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2519

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ مَرَّتَيْنِ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کرنے سے پہلے ذوالقعدہ میں دو عمرے کیے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2520

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ» . فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لَوْ قُلْتُهَا: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا وَالْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگو ! اللہ نے تم پر حج کرنا فرض قرار دیا ہے ۔‘‘ تو اقرع بن حابس ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہو جاتا ، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم عمل کرتے نہ تم استطاعت رکھتے ، اور حج کرنا ایک مرتبہ فرض ہے ، اور جو شخص زیادہ مرتبہ کرے تو وہ نفلی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2521

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حَجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِليهِ سَبِيلا) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ والْحَارث يضعف فِي الحَدِيث
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس بیت اللہ تک پہنچنے کے لئے زادراہ اور سواری ہو وہ پھر بھی حج نہ کرے تو پھر اس پر کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر فوت ہو یا نصرانی ، اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :’’ اور جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس پر بیت اللہ کا حج کرنا واجب ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد پر کلام کیا گیا ہے ، جبکہ ہلال بن عبداللہ مجہول ہے اور حارث کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2522

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَرُورَةَ فِي الإِسلامِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسلام میں ’’ صرورہ ‘‘ (گوشہ نشینی اختیار کرنا ، شادی نہ کرنا ، استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا وغیرہ) نہیں ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2523

وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيُعَجِّلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ جلدی کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2524

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حج اور عمرہ پے در پے (ایک کے بعد دوسرا) کرو ، کیونکہ وہ فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے ، سونے اور چاندی کی میل دور کر دیتی ہے ۔ اور حج مقبول کی جزا صرف جنت ہی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2525

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ عُمَرَ إِلَى قَوْله: «خبث الْحَدِيد»
امام احمد اور ابن ماجہ نے عمر ؓ سے ((خبث الحدید)) تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2526

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟ قَالَ: «الزَّادُ وَالرَّاحِلَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وجوبِ حج کی شرط کیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زادراہ اور سواری ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2527

وَعَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الْحَاج؟ فَقَالَ: «الشعث النَّفْل» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْعَجُّ وَالثَّجُّ» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: «زَادٌ وَرَاحِلَةٌ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ. وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ فِي سُنَنِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يذكر الْفَصْل الْأَخير
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا : حاجی کی صفت کیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پراگندہ ، بکھرے ہوئے بال اور میل کچیل ۔‘‘ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سا حج افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلند آواز سے تکبیریں کہنا اور قربانی کا خون بہانا ۔‘‘ پھر ایک اور کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا ، راستے سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زادراہ اور سواری ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا لیکن انہوں نے آخری بات (راستے سے کیا مراد ہے ؟) ذکر نہیں کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی شرح السنہ و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2528

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ: «حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابورزین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں ، وہ حج و عمرے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ سواری کر سکتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کر ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2529

مَرْفُوع وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ قَالَ: «مَنْ شُبْرُمَةُ» قَالَ: أَخٌ لِي أَوْ قَرِيبٌ لِي قَالَ: «أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی آدمی کو شُبرمہ کی طرف سے تلبیہ (لبیک) کہتے ہوئے سنا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شبرمہ کون ہے ؟‘‘ اس نے کہا : میرا بھائی ہے یا میرا کوئی قریبی ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے خود حج کیا ہوا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پہلے اپنی طرف سے حج کرو ، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا ۔‘‘ حسن ، رواہ الشافعی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2530

وَعَنْهُ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات قرار دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2531

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات قرار دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2532

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ أَوْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کے لیے حج یا عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں یا اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2533

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ فَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وتزَوَّدُوا فإِنَّ خيرَ الزَّادِ التَّقوى) رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اہل یمن حج کرتے تو وہ زادراہ ساتھ نہیں لیتے تھے اور وہ کہتے تھے ہم توکل کرنے والے ہیں ۔ لیکن جب وہ مکہ پہنچ جاتے تو پھر لوگوں سے سوال کرتے ، تب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی :’’ زادراہ لے لیا کرو ، اور بہترین زادراہ تقویٰ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2534

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟ قَالَ: نَعَمْ عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ہاں ، ان پر جہاد فرض ہے لیکن ان میں قتال نہیں ، اور وہ جہاد حج و عمرہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2535

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو کوئی ظاہری حاجت (زادِراہ اور سواری کی عدم دستیابی) یا ظالم بادشاہ یا (سفر سے) روکنے والا مرض ، حج سے نہ روکے اور وہ پھر بھی حج کیے بغیر فوت ہو جائے تو پھر اگر وہ چاہے تو یہودی ہو کر مرے اور اگر چاہے تو نصرانی ہو کر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2536

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللَّهِ إِنْ دَعَوْهُ أجابَهمْ وإِنِ استَغفروهُ غَفرَ لهمْ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حج اور عمرہ کرنے والے ، اللہ کے تقرب کا قصد کرنے والے ہیں ۔ اگر وہ اس سے دعا کریں تو وہ ان کی دعا قبول فرمائے اور اگر وہ اس سے مغفرت طلب کریں تو وہ انہیں بخش دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2537

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تین قسم کے لوگ ، مجاہد ، حاجی اور عمرہ کرنے والے ، اللہ کے تقرب کا قصد کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و البیھقی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2538

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمد
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو ، اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کے وہ اپنے گھر میں داخل ہو ۔ اس سے درخواست کرو کہ وہ تمہارے لیے مغفرت طلب کرے ، کیونکہ اس کی مغفرت ہو چکی ہے (اور ایسے شخص کی دعا قبول ہوتی ہے) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2539

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ غَازِيًا ثُمَّ مَاتَ فِي طَرِيقِهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ الْغَازِي وَالْحَاجِّ والمعتمِرِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کرنے کے لیے روانہ ہو ، پھر وہ اس کے راستے میں (عمل کرنے سے پہلے) فوت ہو جائے تو اللہ اس کے لیے جہاد کرنے والے ، حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے کا اجر عطا فرماتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2540

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ، آپ کے احرام باندھنے سے پہلے ، خوشبو لگایا کرتی تھی ، اور اسی طرح جب طواف (افاضہ) سے پہلے احرام کھول دیتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کستوری کی خوشبو لگایا کرتی تھی گویا میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مانگ میں جبکہ آپ حالت احرام میں تھے ، خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2541

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تلبیہ کہتے ہوئے سنا ، جبکہ آپ بال جمائے ہوئے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، آپ کا کوئی شریک نہیں ، بے شک ہر قسم کی تعریف ، تمام نعمتیں اور بادشاہت تیرے ہی لیے ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کلمات میں کوئی اضافہ نہیں کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2542

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ منَ عندِ مسجدِ ذِي الحليفة
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنا پاؤں رکاب میں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس تلبیہ پکارتے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2543

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صراخا. رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) روانہ ہوئے تو ہم بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکارتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2544

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بهِما جَمِيعًا: الْحَج وَالْعمْرَة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ابوطلحہ ؓ کے پیچھے سواری پر سوار تھا اور وہ (صحابہ کرام) حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہہ رہے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2545

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ ہم میں سے کسی نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ، کسی نے حج اور عمرہ کا اور کسی نے حج کا تلبیہ پکارا ، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا ۔ جس نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا اس نے احرام کھول دیا ، اور جنہوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا تو انہوں نے دس ذوالحجہ تک احرام نہ کھولا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2546

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ بدأَ فأهلَّ بالعمْرةِ ثمَّ أهلَّ بالحجّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ ملایا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے عمرے کے لیے تلبیہ کہا اور پھر حج کے لیے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2547

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِإِهْلَالِهِ وَاغْتَسَلَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے کے لیے اپنا لباس اتارا اور غسل کیا (پھر احرام باندھا) ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2548

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّدَ رَأْسَهُ بِالْغِسْلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کی چیزوں (خطمی اور گوند وغیرہ) سے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2549

وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يرفَعوا أصواتَهم بالإِهْلالِ أَو التَّلبيَةِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
خلاد بن صائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے مجھے فرمایا کہ میں اپنے صحابہ کو بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2550

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ: مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتَّى تنقطِعَ الأرضُ منْ ههُنا وههُنا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
سہل بن سعد بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان تلبیہ پکارتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں زمین کے آخری کناروں تک تمام پتھر ، تمام درخت اور مٹی کے تمام ڈھیلے تلبیہ پکارتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2551

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَل» . مُتَّفق عَلَيْهِ وَلَفظه لمُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحلیفہ کے مقام پر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ان کلمات کے ساتھ تلبیہ پکارتے :’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تمام سعادتیں اور بھلائیاں تیرے ہاتھوں میں ہیں ، میں حاضر ہوں ، رغبت اور طلب خیر تیری ہی طرف ہے اور عمل تیرے ہی لیے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور الفاظ حدیث مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2552

وَعَنْ عِمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ تَلْبِيَتِهِ سَأَلَ اللَّهَ رِضْوَانَهُ وَالْجَنَّةَ وَاسْتَعْفَاهُ بِرَحْمَتِهِ مِنَ النَّارِ. رَوَاهُ الشَّافِعِي
عُمارہ بن خزیمہ بن ثابت اپنے والد سے اور وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ سے اس کی رضا مندی اور جنت کا سوال کرتے اور اس کی رحمت کے ذریعے جہنم سے بچاؤ کی درخواست کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الشافعی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2553

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کرنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں میں اعلان کیا ، وہ اکٹھے ہو گئے ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ’’ بَیْدَاء ‘‘ کے مقام پر تشریف لائے تو احرام باندھا ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2554

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ» إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ. يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، مشرک کہا کرتے تھے : ہم حاضر ہیں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ تم پر افسوس ہے ، بس بس اتنا ہی کہو ۔‘‘ (پھر وہ مشرک کہتے) مگر تیرا وہ شریک ہے جس کا تو مالک ہے اور (اس چیز کا بھی تو مالک ہے) جس کا وہ مالک ہے ۔ اور وہ بیت اللہ کا طواف کرتے وقت یہ کہا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2555

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بالحجِّ فِي الْعَاشِرَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أصنعُ؟ قَالَ: «اغتسِلي واستثقري بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي» فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَطَافَ سَبْعًا فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَرَأَ: (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبراهيمَ مُصَلَّى) فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ: (قُلْ هوَ اللَّهُ أَحَدٌ و (قُلْ يَا أيُّها الكافِرونَ) ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شعائِرِ اللَّهِ) أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» . ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ وَمَشَى إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ نَادَى وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ وَالنَّاسُ تَحْتَهُ فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أسق الهَدْيَ وجعلتُها عُمْرةً فمنْ كانَ مِنْكُم لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً» . فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَى وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ» . وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أهلَّ بهِ رسولُكَ قَالَ: «فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ فَلَا تَحِلَّ» . قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم وَمن كَانَ مَعَه من هدي فَمَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأجَاز رَسُول الله صلى حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ مِنْ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ [ص:786] تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ. فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَدَفَعَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَتَّى أَتَى بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ فَأَتَى عَلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ فَقَالَ: «انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ» . فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ میں نو سال قیام فرمایا اور اس دوران حج نہ کیا ، پھر دسویں سال آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کرایا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کا ارادہ رکھتے ہیں ، بہت سے لوگ مدینہ پہنچ گئے ، ہم آپ کے ساتھ روانہ ہوئے حتی کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس ؓ نے محمد بن ابی بکر ؓ کو جنم دیا ، انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیغام بھیجا کہ اب میں کیا کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ غسل کر ، کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر احرام باندھ لے ۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ذوالحلیفہ) مسجد میں نماز پڑھی پھر (اونٹنی) قصواء پر سوار ہوئے حتی کہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیداء پر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توحیدی تلبیہ پکارا :’’ میں حاضر ہوں ، ہر قسم کی حمد ، تمام نعمتیں اور بادشاہت تیری ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ جابر ؓ بیان کرتے ہیں ہم نے تو صرف حج کی نیت کی تھی ، ہمیں عمرہ کا پتہ نہیں تھا ، حتی کہ ہم آپ کے ساتھ بیت اللہ میں پہنچے ، تو آپ نے حجر اسود کو چوما ، سات چکر لگائے ، تین میں رمل کیا (ذرا اکڑ کر دوڑے) اور چار میں چلے ، پھر آپ مقام ابراہیم پر آئے تو یہ آیت پڑھی :’’ مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ ۔‘‘ آپ نے وہاں دو رکعتیں پڑھیں اور مقام ابراہیم ؑ کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلی رکعت میں سورۂ کافرون اور دوسری میں سورۂ اخلاص پڑھی ۔ پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوم کر دروازے سے نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے ، جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ‘‘ میں وہیں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ، پس آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا سے شروع کیا اور اس پر چڑھ گئے حتی کہ آپ نے بیت اللہ دیکھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ رخ ہوئے تو اللہ کی توحید اور کبریائی بیان کی اور فرمایا :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی حمد سزاوار ہے ۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا ، اپنے بندے کی نصرت فرمائی ، اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دی ۔‘‘ پھر آپ نے اس دوران دعا فرمائی ، آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ فرمائے ۔ پھر آپ نیچے اترے اور مروہ کی طرف گئے حتی کہ جب آپ وادی کے نشیب میں تیزی سے اترنے لگے تو آپ دوڑنے لگے حتی کہ جب آپ چڑھنے لگے تو آپ معمول کے مطابق چلتے گئے حتی کہ آپ مروہ پر پہنچ گئے اور آپ نے وہاں بھی ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا ، حتی کہ جب آپ آخری چکر میں پہنچے تو آپ مروہ پر تھے اور صحابہ آپ کے نیچے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں سے آواز دیتے ہوئے فرمایا :’’ جس چیز کا مجھے اب پتہ چلا ہے اگر اس کا مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور میں اس (حج) کو عمرہ میں تبدیل کر لیتا ، جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہیں وہ احرام کھول دے ، اور اسے عمرہ میں بدل ڈالے ۔‘‘ سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ اس سال کے لیے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیں اور دو مرتبہ فرمایا :’’ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ، اور یہ صرف ہمارے اسی سال کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔‘‘ علی ؓ یمن سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قربانی کے لیے اونٹ لے کر تشریف لائے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سےپوچھا :’’ جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے کہا تھا : اے اللہ ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تیرے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلبیہ پکارا ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ میرے ساتھ قربانی کا جانور ہے لہذا تم احرام نہ کھولو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، قربانیوں کے جانوروں کی وہ جماعت جو علی ؓ یمن سے لائے تھے اور وہ جنہیں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساتھ لے کر آئے تھے (یہ سب) ایک سو تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان صحابہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے ، کے سوا سب لوگوں نے احرام کھول دیے اوربال کتر لیے ، جب ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا دن ہوا تو انہوں نے منیٰ کا ارادہ کیا اور حج کے لیے احرام باندھا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے ، آپ نے وہاں (منیٰ میں) ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں ، پھر تھوڑی دیر قیام فرمایا حتی کہ سورج طلوع ہو گیا ، آپ نے نمرہ میں بالوں کا بنا ہوا خیمہ لگانے کا حکم فرمایا ، پس رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے ، قریش کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ قریش کے دستورِ جاہلیت کے مطابق مشعرِ حرام (مزولفہ) میں وقوف فرمائیں گے ، لیکن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے گزر کر میدانِ عرفات میں تشریف لے گئے آپ نے دیکھا کہ نمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے ، آپ وہاں اترے حتی کہ سورج ڈھل گیا تو آپ نے (اپنی اونٹنی) قصواء کے بارے میں حکم فرمایا تو اس پر پالان رکھ دیا گیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے نشیب (وادی عُرنہ) میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’ بے شک تمہارا خون ، تمہارا مال تم (ایک دوسرے) پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی ، اس مہینے کی اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے ۔ سن لو ! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ہے ، جاہلیت کے خون (یعنی قتل) بھی ختم کر دیے گئے اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے ، اور وہ بنو سعد قبیلے میں دودھ پی رہا تھا کہ قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کر دیا ، اور جاہلیت کا سود ختم کر دیا گیا ، اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) کا ہے ، وہ مکمل طور پر ختم ہے ، عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، تم نے انہیں اللہ کی امان و عہد کے ساتھ حاصل کیا ہے ، اور اللہ کے کلمے کے ذریعے انہیں حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر (مسکن) پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں ، جسے تم ناپسند کرتے ہو ، لیکن اگر وہ ایسے کریں تو پھر تم انہیں ہلکی سی ضرب مار سکتے ہو ، اور میں تم میں ایک ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا تو پھر تم گمراہ نہیں ہونگے ، اور وہ ہے اللہ کی کتاب ۔ اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پہنچا دیا ، حق ادا کر دیا اور خیر خواہی فرمائی ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور اسے لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا :’’ اے اللہ ! گواہ رہنا ، اے اللہ ! گواہ رہنا ۔‘‘ پھر بلال ؓ نے اذان دی اور پھر اقامت کہی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر پڑھائی ، پھر اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھائی ، اور آپ نے ان دونوں (نمازوں) کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی ، پھر آپ سواری پر سوار ہوئے حتی کہ وقوف کی جگہ پر تشریف لے گئے ، آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں کی جانب کیا ، اور جبل المشاۃ (پیدل چلنے والوں کی راہ میں واقع ریتلے تودے) کو اپنے سامنے کیا ، اور قبلہ رخ مسلسل وقوف فرمایا حتی کہ سورج غروب ہونے لگا ، تھوڑی سی زردی رہ گئی حتی کہ سورج کی ٹکیہ غائب ہو گئی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسامہ ؓ کو پیچھے بٹھایا اور وہاں سے چلے حتی کہ مزدلفہ تشریف لے آئے ، آپ نے وہاں ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھیں اوران دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی ، پھر آپ لیٹ گئے حتی کہ فجر پڑھی ، پھر قصواء پر سوار ہوئے اور مشعرِ حرام تشریف لائے ، قبلہ رخ ہو کر اس (اللہ) سے دعا کی اس کی تکبیر و تہلیل اور توحید بیان کی ، آپ مسلسل کھڑے رہے حتی کہ خوب اجالا ہو گیا ، آپ طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل دیے ، آپ نے فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا اور آپ وادی محسر پہنچے تو سواری کو تھوڑا سا تیز کیا ، پھر درمیانی راستے پر ہو لیے جو کہ جمرہ عقبی پر نکلتا تھا ، حتی کہ آپ اس جمرہ کے پاس پہنچے جس کے پاس درخت تھا ، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ، آپ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ، ان میں سے ہر کنکری ایسی تھی جسے چٹکی میں لے کر چلایا جا سکتا تھا ، آپ نے یہ کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں ، پھر آپ قربان گاہ تشریف لے گئے ، آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کیے ، پھر آپ نے یہ فریضہ علی ؓ کو سونپ دیا تو باقی اونٹ انہوں نے ذبح کیے ، اور آپ نے انہیں بھی اپنی قربانی میں شریک کیا ، پھر آپ نے حکم فرمایا اور ہر اونٹ سے ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا ، آپ دونوں (رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور حضرت علی ؓ) نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اس کا شوربا پیا ۔ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر سوار ہوئے اور طواف افاضہ کیا ، نماز ظہر مکہ میں پڑھی ، پھر آپ بنو عبدالمطلب کے پاس تشریف لے گئے جو زم زم پلا رہے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عبدالمطلب کی اولاد ، پانی نکالو ، اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمہارے پانی پلانے کے اس کام میں لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا ۔‘‘ انہوں نے آپ کو ایک ڈول پانی دیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سے نوش فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2556

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ العُمرةِ ثمَّ لَا يحل حَتَّى يحل مِنْهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ» . قَالَتْ: فَحِضْتُ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِالْحَجِّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّي بَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثمَّ طافوا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، حجۃ الوداع کے موقع پر ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، ہم میں ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کے لیے احرام باندھا ، اور ہم میں بعض نے حج کے لیے احرام باندھا ، جب ہم مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے عمرہ کے لیے احرام باندھا اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تو وہ احرام کھول دے اور جس شخص نے عمرہ کے لیے احرام باندھا اور وہ قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے تو وہ عمرے کے ساتھ حج کے احرام کی نیت کر لیں ، پھر وہ احرام نہ کھولے حتی کہ وہ ان دونوں سے فارغ ہو جائے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ احرام نہ کھولے حتی کہ اپنی قربانی سے فارغ ہو جائے ، اور جس شخص نے حج کا احرام باندھا تھا تو وہ اپنا حج مکمل کرے ۔‘‘ وہ فرماتی ہیں ، مجھے حیض آ گیا لہذا میں نے بیت اللہ کا طواف کیا نہ صفا مروہ کی سعی کی ، اور میں عرفہ کے دن (نو ذوالحجہ) تک حالت حیض میں رہی ، میں نے تو عمرہ کے لیے احرام باندھا تھا ، لیکن نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں اپنے سر کے بال کھول کر کنگھی کروں اور حج کے لیے احرام باندھوں ، اور میں عمرہ ترک کر دوں ۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا حتی کہ میں نے اپنا حج پورا کیا ، پھر آپ نے (میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کو میرے ساتھ بھیجا اور مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے عمرے کی جگہ تنعیم سے عمرہ کروں ۔ آپ ؓ بیان کرتی ہیں ، جن لوگوں نے عمرہ کے لیے احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر انہوں نے احرام کھول دیا ، پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد ایک طواف کیا ، رہے وہ لوگ جنہوں نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2557

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وليُهد فمنْ لم يجدْ هَديا فيلصم ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ» فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعًا فَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَاقَ الْهَدْي من النَّاس
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ ملایا تھا ، آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے گئے تھے ، آپ نے پہلے عمرہ کا احرام باندھا ، پھر حج کا احرام باندھا ، تو صحابہ کرام ؓ نے بھی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کو عمرے کے ساتھ ملا کر فائدہ حاصل کیا ، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو قربانی کے جانور اپنے ساتھ لے کر گئے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو قربانی کے جانور ساتھ نہیں لائے تھے ، جب نبی مکہ پہنچے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے تو اس کے لیے کوئی چیز حلال نہیں جو اس پر حرام تھی حتی کہ وہ اپنا حج پورا کر لے ، اور جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے ، صفا مروہ کی سعی کرے ، بال کٹوا کر احرام کھول دے ، پھر (حج کے موقع پر) حج کے لیے احرام باندھے ، اور قربانی کرے ، تو جو شخص قربانی کا جانور نہ پائے تو وہ تین روزے ایام حج میں اور سات روزے اپنے گھر پہنچ کر رکھے ۔‘‘ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ پہنچے تو آپ نے طواف کیا اور سب سے پہلے حجر اسود کو چوما ، پھر آپ نے تین چکر دوڑ کر لگائے اور چار چکر معمول کی چال چل کر لگائے ، جب آپ طواف مکمل کر چکے تو آپ نے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگائے ، پھر آپ پر ان چیزوں میں سے کوئی بھی چیز حلال نہیں ہوئی تھی جو آپ پر حرام تھی حتی کہ آپ نے اپنا حج مکمل کیا اور قربانی کے دن قربانی کی اور بیت اللہ شریف پہنچ کر طوافِ افاضہ کیا ، پھر آپ کے لیے وہ تما م چیزیں حلال ہو گئیں جو آپ پر حرام ہوئیں تھیں ، اور جو لوگ قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2558

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ، اور جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو اس کے لیے تمام چیزیں حلال ہوں گی ، کیونکہ عمرہ روز قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2559

عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّد بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ: «حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ» . قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلَى نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَنِيَّ. قَالَ: «قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ فَحِلُّوا» فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ: بِمَ أَهْلَلْتَ؟ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا» قَالَ: وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ألعامنا هَذَا أم لأبد؟ قَالَ: «لأبد» . رَوَاهُ مُسلم
عطاء ؒ بیان کرتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو اپنے ساتھ بہت سے لوگوں میں سنا ، انہوں نے فرمایا : ہم محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے صرف اکیلے حج ہی کا احرام باندھا تھا ، عطاء بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ نے فرمایا : نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ تشریف لائے تو آپ نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم فرمایا : عطاء بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ احرام کھول دو اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ ۔‘‘ عطاء ؒ بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات (عورتوں کے پاس جانے) کو ان پر واجب قرار نہیں دیا تھا ، بلکہ ان (عورتوں) کو ان کے لیے مباح قرار دیا تھا ۔ ہم نے عرض کیا ، ہمارے میدانِ عرفات میں جانے میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ، تو آپ نے ہمیں اپنی بیویوں کے پاس جانے (یعنی جماع کرنے) کا حکم فرمایا ، اور جب ہم میدانِ عرفات پہنچیں تو (گویا کہ) ہماری شرم گاہیں منی گرا رہی ہوں ۔ عطاء ؒ بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے گویا میں اِن کے ہاتھ کے اشارے کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسے حرکت دے رہے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم میں کھڑے ہوئے تو فرمایا :’’ تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں ، تم سب سے زیادہ سچا اور تم سب سے زیادہ نیکوکار ہوں ، اگر میرے ساتھ میری قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی تمہاری طرح احرام کھول دیتا ، اگر وہ بات جو مجھے اب معلوم ہوئی ہے وہ پہلے معلوم ہو جاتی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا ، تم احرام کھول دو ۔‘‘ تو ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے سمع و اطاعت اختیار کی ، عطاء بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ نے فرمایا : علی ؓ صدقات کی وصولی کے بعد وہاں (مکہ) پہنچے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے کس نیت سے احرام باندھا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جس نیت سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام باندھا تھا ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا :’’ قربانی کرنا اور حالت احرام میں رہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، علی ؓ اپنے لیے قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے ۔ سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ اسی سال کے لیے ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہمیشہ کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2560

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ. قَالَ: «أَو مَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ ثمَّ أُحلُّ كَمَا حلُّوا» . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار یا پانچ ذوالحجہ کو مکہ پہنچے تھے ، آپ میرے پاس تشریف لائے تو آپ غصہ کی حالت میں تھے ۔ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کو کس نے ناراض کیا ہے ؟ اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک کام کا حکم دیا ہے جبکہ وہ تردد کا شکار ہیں ۔ جس چیز کا مجھے اب پتہ چلا ہے اگر اس کا مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا حتی کہ میں اسے یہاں سے خرید لیتا ، پھر میں بھی احرام کھول دیتا جیسے انہوں نے احرام کھولا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2561

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ وَيُصَلِّيَ فَيَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا وَإِذَا نَفَرَ مِنْهَا مَرَّ بِذِي طُوًى وَبَاتَ بِهَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر ؓ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے وادی ذی طویٰ میں رات بسر کرتے ، صبح کو غسل کرتے اور نماز پڑھ کر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے ، اور جب آپ وہاں سے نکلتے تو بھی وادی ذی طویٰ کے پاس سے گزرتے ، وہاں رات بسر کرتے اور بیان کرتے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2562

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ دَخَلَهَا مِنْ أَعْلَاهَا وخرجَ منْ أسفلِها
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ اس کے بالائی حصے کی طرف سے داخل ہوئے اور اس کے نشیبی حصے کی طرف سے نکلے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2563

وَعَن عُروةَ بنِ الزُّبيرِ قَالَ: قَدْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ حجَّ أَبُو بكرٍ فكانَ أوَّلَ شيءٍ بدَأَ بِهِ الطوَّافَ بالبيتِ ثمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ مثلُ ذَلِك
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کیا تو عائشہ ؓ نے مجھے بتایا کہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے وضو کیا ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر اسے عمرہ (کا طواف) نہ بنایا ، پھر ابوبکر ؓ نے حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا ، پھر انہوں نے بھی اسے عمرہ نہ بنایا ، پھر عمر ؓ اور پھر عثمان ؓ نے بھی اسی طرح کیا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2564

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعمرَة مَا يَقْدَمُ سَعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا والمروة
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو آپ سب سے پہلے تین چکر دوڑ کر لگاتے اور چار چکر چل کر لگاتے تھے ، پھر آپ دو رکعتیں پڑھتے اور صفا اور مروہ کی سعی فرماتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2565

وَعَنْهُ قَالَ: رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکر تیز چل کر لگائے اور چار چکر عام رفتار سے چل کر لگائے ، اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تو آپ سیلاب کے بہاؤ والی جگہ پر تیز چلتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2566

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشى أَرْبعا. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ حجر اسود کے پاس آئے تو اسے بوسہ دیا ، پھر آپ اپنی دائیں جانب پر چلے تو تین چکر تیز چل کر چار چکر عام رفتار سے چل کر لگائے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2567

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابنَ عمرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
زبیر بن عربی ؒ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے حجر اسود کو بوسہ دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسے ہاتھ لگاتے اور بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2568

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ من الْبَيْت إِلَّا الرُّكْنَيْنِ اليمانيين
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صرف دو رکن یمانی (حجر اسود اور رکنِ یمانی) کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2569

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: طَافَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بعير يسْتَلم الرُّكْن بمحجن
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ چھڑی کے ساتھ حجر اسود کو چھوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2570

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يدِه وكبَّرَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا جب آپ حجر اسود کے پاس آتے تو آپ اپنے ہاتھ میں موجود کسی چیز کے ساتھ اشارہ کرتے اور اللہ اکبر کہتے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2571

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ ويقبِّلُ المحجن. رَوَاهُ مُسلم
ابوطفیل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ کا طواف کرتے اور آپ کے پاس جو چھڑی تھی اس کے ساتھ حجر اسود کو چھوتے ہوئے دیکھا اور آپ چھڑی کو بوسہ دیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2572

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صرف حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ، جب آپ مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شاید کہ تمہیں حیض آ گیا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں پر مقدر کر دیا ہے ، تم جب تک حیض سے پاک نہیں ہو جاتیں ، بیت اللہ کے طواف کے سوا دیگر حاجیوں کی طرح امور بجا لاتی رہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2573

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ أَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ: «أَلَا لَا يَحُجُّ بَعْدَ العامِ مشرِكٌ وَلَا يطوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَان»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے اس حج میں ، جس میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حجۃ الوداع سے پہلے امیر حج بنا کر بھیجا تھا ، مجھے ایک جماعت کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ ’’ لوگوں میں اعلان کر دیا جائے کہ سن لو ! اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج کرے نہ کوئی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2574

عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: سُئِلَ جَابِرٌ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مہاجر مکی ؒ بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہے ، انہوں نے فرمایا : ہم نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کیا تو ہم اس طرح نہیں کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2575

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ فَأَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ وَيَدْعُو. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مدینہ سے) روانہ ہوئے ، جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجر اسود کی طرف آئے اسے بوسہ دیا ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر صفا پر آئے تو اس کے اوپر چڑھ گئے حتی کہ بیت اللہ نظر آنے لگا تو آپ ہاتھ اٹھا کر جس قدر چاہا ، اللہ کا ذکر اور دعائیں کرتے رہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2576

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَذَكَرَ التِّرْمِذِيُّ جَمَاعَةً وَقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عباسٍ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے ، البتہ تم اس میں بات وغیرہ کر لیتے ہو ، جو شخص اس دوران بات کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی کی بات کرے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ، دارمی ۔ امام ترمذی ؒ نے محدثین کی ایک جماعت کا ذکر کیا ہے ، جنہوں نے اسے ابن عباس ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2577

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حجر اسود جنت سے نازل ہوا تھا تو وہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا لیکن اولادِ آدم کی خطاؤں نے اسے سیاہ کر دیا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2578

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ: «وَاللَّهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا :’’ اللہ روز قیامت اسے اٹھائے گا تو اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا ، اور جس نے حق کے ساتھ اس کو بوسہ دیا ہو گا اس کے حق میں گواہی دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2579

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّكْنَ وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ طَمَسَ اللَّهُ نورَهما وَلَو لم يطمِسْ نورَهما لأضاءا مَا بينَ المشرقِ والمغربِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حجر اسود اور مقام ابراہیم (وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر آپ نے بیت اللہ کی تعمیر کی) جنت کے دو یاقوت ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے نور کو ختم کر دیا ، اور اگر وہ ان کے نور کو ختم نہ کرتا تو وہ دونوں مشرق و مغرب کے مابین کو روشن کر دیتے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2580

وَعَن عُبيدِ بنِ عُمَيرٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ» . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلا حطَّ اللَّهُ عنهُ بهَا خَطِيئَة وكتبَ لهُ بهَا حَسَنَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ حجر اسود اور رکن یمانی پر بہت زیادہ غلبہ (رش) کرتے تھے ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی ایک صحابی کو ان پر غلبہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، انہوں نے فرمایا : میں اس لیے ایسے کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ان دونوں کو ہاتھ لگانا گناہوں کا کفارہ ہے ۔‘‘ اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ہر ہفتے بیت اللہ کا طواف کرے اور اس کی حفاظت کرے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے غلام آزاد کیا ہو ۔‘‘ اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب وہ (طواف میں) ایک قدم رکھتا ہے اور دوسرا اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2581

وَعَن عبد الله بن السَّائِب قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَاب النَّار) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن سائب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان یہ دعا کرتے ہوئے سنا :’’ ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2582

وَعَن صفيةَ بنتِ شيبةَ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي بِنْتُ أَبِي تُجْرَاةَ قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ دَارَ آلِ أَبِي حُسَيْنٍ نَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَرَأَيْتُهُ يَسْعَى وَإِنَّ مِئْزَرَهُ لَيَدُورُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اسْعَوْا فَإِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَاهُ أَحْمد مَعَ اخْتِلَاف
صفیہ بنت شیبہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابوتجراہ کی بیٹی (حبیبہ ؓ) نے مجھے بتایا کہ میں قریش کی بعض عورتوں کے ساتھ خاندانِ ابوحسین کے گھر گئی تاکہ ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا مروہ کے مابین سعی کرتے ہوئے دیکھیں ، میں نے آپ کو سعی کرتے ہوئے دیکھا اور سعی کی شدت کی وجہ سے آپ کا ازار بکھر رہا تھا ، اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سعی کرنا تم پر فرض کر دیا ہے ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام احمد نے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ و احمد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2583

وَعَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ لَا ضرب وَلَا طرد وَلَا إِلَيْك. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
قدامہ بن عبداللہ بن عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا مروہ کے درمیان اونٹ پر سعی کرتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کو مارتے نہ ہٹاتے اور نہ کہتے کہ ہٹ جاؤ ، راستہ چھوڑ دو ۔ حسن یاتی ، رواہ شرح السنہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2584

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَجعا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سبز رنگ کی چادر سے اضطباع (یعنی دایاں کندھا ننگا) کر کے بیت اللہ کا طواف کیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2585

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم وأصحابَه اعتمروا من الجعْرانة فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ ثُمَّ قَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ نے جِعرانہ سے عمرہ کیا تو انہوں نے تین چکر تیز تیز چل کر پورے کئے اور انہوں نے اپنی (احرام کی) چادروں کو (داہنی) بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں کے اوپر ڈال رکھا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2586

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا تَرَكْنَا اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ: الْيَمَانِي وَالْحَجَرِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رخاء مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يستلمهما
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجر اسود اور رکنِ یمانی کا استلام (چھونا) کرتے ہوئے دیکھا ہے تب سے ہم نے تنگی یا آسانی کسی بھی حال میں اِن کا استلام کرنا نہیں چھوڑا ۔ متفق علیہ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2587

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: قَالَ نَافِعٌ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَله
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : نافع بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو چھوتے پھر ہاتھ چومتے ، اور انہوں نے فرمایا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے تب سے میں نے اسے ترک نہیں کیا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2588

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ: «طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ» فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ ب (الطُّورِ وكِتَابٍ مسطور)
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے اپنی بیماری کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرو ۔‘‘ میں نے طواف کیا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کی ایک جانب (بیت اللہ کی دیوار کے ساتھ) نماز پڑھ رہے تھے اور آپ سورۂ طور کی تلاوت فرما رہے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2589

وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْت عمر يقبل الْحجر وَيَقُول: وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقبل مَا قبلتك
عابس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عمر ؓ کو دیکھا کہ آپ ؓ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں : میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، تو نفع و نقصان کا مالک نہیں ۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2590

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا» يَعْنِي الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ فَمَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالُوا: آمين . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس رکنِ یمانی پر ستر فرشتے مامور ہیں ، جو شخص کہتا ہے : اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کی درخواست کرتا ہوں ، ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ، ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔ تو وہ فرشتے آمین کہتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2591

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ. وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ كَخَائِضِ الماءِ برجليه . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور اس دوران سبحان اللہ ........ الا باللہ ’’ اللہ پاک ہے ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ سب سے بڑا ہے ، گناہ سے بچنا اور نیک عمل کرنا محض اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ ہے ۔‘‘ کے سوا کوئی بات نہ کرے تو اس کے دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں ۔ اور جو شخص طواف کرے اور اس دوران باتیں کرے تو وہ اس حال میں ایسے ہے کہ اس کے پاؤں تو رحمت میں ہیں (لیکن اوپر کا حصہ رحمت میں نہیں) جیسے کسی نے اپنے پاؤں پانی میں ڈبو رکھے ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2592

عَن محمدِ بن أبي بكرٍ الثَقَفيُّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنكَرُ عَلَيْهِ
محمد بن ابوبکر ؒ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا ، جبکہ وہ دونوں منی سے عرفات جا رہے تھے ، آپ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس روز کیسے (تکبیر و تہلیل) کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہم میں سے کوئی تلبیہ پڑھتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2593

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نحرتُ هَهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ. وَوَقَفْتُ هَهُنَا وعرفةُ كلُّها موقفٌ. ووقفتُ هَهُنَا وجَمْعٌ كلُّها موقفٌ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے (منی میں) اس جگہ قربانی ذبح کی ہے جبکہ منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ میدانِ عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2594

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ باقی ایام کی نسبت عرفہ کے دن ، سب سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔ اور وہ قریب ہوتا ہے ، پھر ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2595

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ: «قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثِ من إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
عمرو بن عبداللہ بن صفوان اپنے ماموں یزید بن شیبان سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نے میدان عرفات میں ایسی جگہ وقوف کیا جو کہ بقول ان کے امام کے وقوف کی جگہ سے بہت دور تھا ، ابن مربع انصاری ؓ ہمارے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تمہاری طرف قاصد بنا کر بھیجا ہے ، وہ تمہیں فرماتے ہیں :’’ تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو ، کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم ؑ کی میراث پر ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2596

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میدان عرفات پورے کا پورا وقوف کی جگہ ہے ، پورا منی قربان گاہ ہے ، پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے ، اور مکہ کے تمام راستے ، راستے اور قربان گاہ ہیں ۔‘‘ (یعنی مکہ آنے والے کے لیے کسی بھی راستے سے مکہ میں داخل ہونا جائز ہے) اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2597

وَعَن خالدِ بنَ هَوْذَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمًا فِي الركابين. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
خالد بن ہوذہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن اونٹ کی دونوں رکابوں میں پاؤں رکھ کر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2598

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْء قدير . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عرفہ کے دن کی دعا بہترین دعا ہے اور میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء ؑ نے جو بہترین دعا کی ہے وہ یہ ہے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کے لیے بادشاہت ہے اور اس کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2599

وروى مالكٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ: «لَا شريك لَهُ»
امام مالک ؒ نے طلحہ بن عبیداللہ سے ((لا شریک لہ)) تک روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2600

لإرساله وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلَا أَدْحَرُ وَلَا أَحْقَرُ وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ» . فَقِيلَ: مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: «فَإِنَّهُ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ
طلحہ بن عبیداللہ بن کریز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شیطان عرفہ کے دن سب سے زیادہ حقیر ، سب سے زیادہ راندہ ہوا ، سب سے زیادہ ذلیل اور سب سے زیادہ غصے میں ہوتا ہے اور وہ ایسی حالت میں اس لیے ہوتا ہے کہ وہ نزولِ رحمت اور کبیرہ گناہوں کی مغفرت ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا ہے ، البتہ غزوہ بدر کے موقع پر بھی اسے اس کیفیت میں دیکھا گیا ۔‘‘ کہا گیا بدر کے دن اس نے کیا دیکھا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ اس نے جبریل ؑ کو فرشتوں کی صف بندی کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔‘‘ امام مالک نے مرسل روایت کیا ہے ، اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ میں مروی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک و شرح السنہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2601

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاجِّينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ فُلَانٌ كَانَ يُرَهَّقُ وَفُلَانٌ وَفُلَانَةُ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اِن (عرفات میں وقوف کرنے والوں) کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: میرے بندوں کو دیکھو کس طرح بکھرے بالوں ، غبار آلود پاؤں اور بلند آواز سے پکارتے ہوئے دور دراز سے آئے ہیں ۔ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ۔ تو فرشتے عرض کرتے ہیں ، رب جی ! فلاں بندہ تو برے کام کیا کرتا تھا ، اور فلاں مرد اور فلاں عورت بھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ میں نے انہیں بخش دیا ہے ۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عرفہ کے دن کے سوا کوئی ایسا دن نہیں جس میں عرفہ کے دن سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزادی ملتی ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2602

عَن عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بالمزْدَلفَةِ وَكَانُوا يُسمَّوْنَ الحُمْسَ فكانَ سَائِرَ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفُ بِهَا ثُمَّ يَفِيضُ مِنْهَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: (ثُمَّ أفِيضُوا من حَيْثُ أَفَاضَ النَّاس)
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، قریش اور ان کے ہم دین لوگ مزدلفہ میں قیام کیا کرتے تھے ، اور انہیں حمس کہا جاتا تھا ، جبکہ باقی سب عرب عرفہ میں وقوف کیا کرتے تھے ، جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ عرفات آئیں اور وہاں وقوف کریں اور پھر وہاں سے واپس آئیں ۔ اسی طرح اللہ عزوجل کا فرمان ہے :’’ پھر تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے عام لوگ لوٹتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2603

وَعَن عبَّاسِ بنِ مِرْداسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأمَّتي أخذَ الترابَ فَجعل يحشوه عَلَى رَأْسِهِ وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى البيهقيُّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور نحوَه
عباس بن مرداس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وقوفِ عرفات میں اپنی امت کی مغفرت کے لیے دعا فرمائی تو قبولیت کا جواب آیا کہ ’’ میں نے حقوق العباد کے سوا باقی سب گناہ معاف کر دیے ، کیونکہ میں اس سے مظلوم کا حق لوں گا ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرض کیا :’’ رب جی ! اگر آپ چاہیں تو مظلوم کو جنت عطا کر دیں اور ظالم کو بخش دیں ۔‘‘ لیکن اس قیام میں آپ کی دعا قبول نہ ہوئی ، تو جب مزدلفہ میں صبح کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا دہرائی تو آپ کی دعا قبول کر لی گئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسے یا تبسم فرمایا تو ابوبکر ؓ اور عمر ؓ نے عرض کیا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں یہ تو ایسا وقت ہے کہ اس وقت آپ ہنسا نہیں کرتے تھے ، آپ کو کس چیز نے ہنسایا ، اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اللہ کے دشمن ابلیس کو جب پتہ چلا کہ اللہ عزوجل نے میری دعا قبول فرما کر میری امت کو بخش دیا ہے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا اور تباہی و ہلاکت کو پکارنے لگا ، جب میں نے اس کی بے صبری دیکھی تو مجھے ہنسی آ گئی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2604

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعُنُق فَإِذا وجد فجوة نَص
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : اسامہ بن زید ؓ سے دریافت کیا گیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر واپسی کے وقت رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس طرح چلتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ اوسط رفتار سے چلتے تھے اور جب کشادہ جگہ آ جاتی تو پھر تیز ہو جاتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2605

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ واپس آ رہے تھے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پیچھے اونٹوں کو بہت مارنے اور ڈانٹنے کی آوازیں سنیں تو آپ نے اپنے کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :’’ لوگو ! سکینت اختیار کرو کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2606

وَعَنْهُ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زِيدٍ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى فَكِلَاهُمَا قَالَ: لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَة الْعقبَة
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عرفات سے مزدلفہ تک اسامہ بن زید ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے ، پھر آپ نے مزدلفہ سے منیٰ تک فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا ، ان دونوں نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرہ عقبی کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2607

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مغرب و عشا کی نمازیں مزدلفہ میں اکٹھی پڑھیں اور ہر نماز کے لیے اقامت کہی ، آپ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نفل نماز پڑھی نہ ان میں سے کسی کے بعد ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2608

وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ: صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يومئِذٍ قبلَ ميقاتها
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ، مزدلفہ میں دو نمازوں ، نمازِ مغرب اور عشا کو جمع کرنے اور اسی روز نمازِ فجر کو اس کے وقت سے پہلے پڑھنے کے سوا ، ہمیشہ نمازوں کو ان کے اوقات میں پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2609

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَة الْمزْدَلِفَة فِي ضعفة أَهله
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ کی رات اپنے اہل خانہ کے ضعیف افراد کے ساتھ پہلے (منیٰ) روانہ کر دیا تھا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2610

وَعَن الفضلِ بن عبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا: «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةَ» . وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ. رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ ، فضل بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں سے ، جبکہ وہ واپس آ رہے تھے ، فرمایا :’’ آرام سے آؤ ۔‘‘ جبکہ آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روک رہے تھے ، حتی کہ آپ وادی محسر میں داخل ہو گئے جو کہ منیٰ کے قریب ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’جمرہ کی رمی کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی کنکریاں لے لو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2611

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَقَالَ: «لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا» . لَمْ أَجِدْ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الصَّحِيحَيْنِ إِلَّا فِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ مَعَ تقديمٍ وَتَأْخِير
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سکینت و اطمینان تھا ، اور آپ نے صحابہ کو بھی آرام سے چلنے کا حکم فرمایا ، جبکہ وادی محسر میں آپ تیز چلے اور انہیں حکم فرمایا کہ انگلی پر رکھ کر ماری جانے والی کنکری کے برابر کنکریاں مارو ، اور فرمایا :’’ شاید اس سال کے بعد میں تمہیں نہ دیکھ سکوں ۔‘‘ میں نے یہ حدیث تقدیم و تاخیر کے ساتھ جامع ترمذی کے علاوہ صحیحین میں نہیں پائی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2612

وَعَن محمّدِ بنِ قيسِ بن مَخْرمةَ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ عَرَفَةَ حِينَ تَكُونُ الشَّمْسُ كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بَعْدَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ حِينَ تَكُونُ كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ. وَإِنَّا لَا نَدْفَعُ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَنَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ هَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالشِّرْكِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان وَقَالَ فِيهِ: خَطَبنَا وَسَاقه بِنَحْوِهِ
محمد بن قیس بن مخرمہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا :’’ اہل جاہلیت عرفات سے اس وقت لوٹا کرتے تھے جب سورج غروب ہونے سے پہلے اس طرح ہو جیسے آدمیوں کی پگڑیاں ان کے چہروں پر ہوں ، اور مزدلفہ سے طلوعِ آفتاب کے بعد جیسے آدمیوں کی پگڑیاں ان کے چہروں پر ہوں ۔ جبکہ ہم غروب آفتاب کے بعد عرفات سے لوٹتے ہیں اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے واپس آتے ہیں ، ہمارا طریقہ ، بتوں کے پجاریوں اور مشرکوں کے طریقے سے مختلف ہے ۔‘‘ بیہقی ۔ اور فرمایا : ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا ، اور باقی حدیث ویسے ہی بیان کی ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی سنن الکبریٰ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2613

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: «أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مزدلفہ کی رات بنو عبدالمطلب کے بچوں کے ہمراہ گدھوں پر بٹھا کر پہلے ہی روانہ کر دیا تھا ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیار سے ہماری رانوں پر مار رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ میرے پیارے بچو ! جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2614

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بأُمِّ سَلَمَةَ ليلةَ النَّحْر فرمت الجمرةَ قبلَ الْفَجْرِ ثُمَّ مَضَتْ فَأَفَاضَتْ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الْيَوْمَ الَّذِي يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام سلمہ ؓ کو قربانی کی رات ہی بھیج دیا تھا ، انہوں نے فجر سے پہلے ہی جمرہ کو کنکریاں مار لی تھیں ، پھر وہ (منیٰ سے) چلی گئیں اور طواف افاضہ کیا ، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2615

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ، قَالَ: يُلَبِّي المقيمُ أَوِ المعتَمِرُ حَتَّى يستلمَ الْحَجَرَ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: وَرُوِيَ مَوْقُوفًا على ابنِ عبَّاس.
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، مقیم (مکے کا رہنے والا) یا عمرہ کرنے والا حجر اسود کے استلام تک تلبیہ پکارتا رہتا تھا ۔ ابوداؤد ۔ اور فرمایا : اور یہ عبداللہ بن عباس ؓ پر موقوف روایت کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2616

عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سمع الشَّريدَ يَقُولُ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جمْعاً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
یعقوب بن عاصم بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شرید ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں عرفات سے مزدلفہ تک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ واپس آیا تو مزدلفہ پہنچنے تک آپ کے قدم مبارک زمین پر نہیں لگے ۔ (یعنی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر آئے) اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2617

وَعَن ابنِ شهابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ: كَيْفَ نَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: وَهل يتَّبعونَ فِي ذلكَ إِلا سنَّتَه؟ رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں ، سالم نے مجھے بتایا کہ جس سال حجاج بن یوسف ، ابن زبیر کے مدمقابل آیا تو اس نے عبداللہ بن عمر ؓ سے مسئلہ دریافت کیا ، ہم عرفہ کے دن وقوف میں (نمازوں کا) کیا کریں ؟ سالم نے کہا : اگر تم سنت کی اتباع کرنا چاہتے ہو تو پھر عرفہ کے دن نماز کو جلدی پڑھو ، عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے ، وہ ظہر و عصر کو سنت کے مطابق ہی جمع کیا کرتے تھے ۔ میں نے سالم سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا ؟ تو سالم نے کہا : وہ (صحابہ ؓ) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہی کی اتباع کرتے ہیں ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2618

عَن جَابر قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بعد حجتي هَذِه» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے قربانی کے دن نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ، اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے کنکریاں مارتے دیکھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ شاید میں اپنے اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2619

وَعَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چٹکی میں لے کر چلائی جانے والی کنکری کے برابر کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2620

وَعَنْهُ قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت کنکریاں ماریں ، جبکہ اس کے بعد سورج ڈھل جانے کے بعد ماریں ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2621

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ وہ جمرہ کبری (بڑے شیطان) کے پاس پہنچے ، بیت اللہ کو اپنی دائیں جانب اور منیٰ کو اپنی بائیں جانب رکھا اور سات کنکریاں ماریں ، وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ، پھر انہوں نے فرمایا : جس ذاتِ اقدس پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی ، انہوں نے بھی اسی طرح کنکریاں ماریں تھیں ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2622

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ وَرَمْيُ الْجِمَارِ توٌّ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ وَالطَّوَافُ تَوٌّ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرنے کی تعداد طاق ہے ، کنکریاں مارنا طاق ہے ، صفا مروہ کے درمیان سعی طاق ہے اور طواف طاق ہے ، جب تم میں سے کوئی استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرے تو وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2623

عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ لَيْسَ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَيْسَ قِيلُ: إِلَيْكَ إِليك. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
قدامہ بن عبداللہ بن عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قربانی کے دن اپنی سرخی مائل سفید اونٹنی پر بیٹھ کر کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ، وہاں کسی کو روکا جا رہا تھا نہ ہٹایا جا رہا تھا اور نہ ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ ہٹ جاو ٔ ! ہٹ جاؤ ! حسن ، رواہ الشافعی و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2624

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عائشہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کنکریاں مارنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2625

وَعَنْهَا قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ألَا نَبْنِي لَكَ بِنَاءً يُظِلُّكَ بِمِنًى؟ قَالَ: «لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدارمي
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم (صحابہ کی جماعت) آپ کے سایہ کے لیے منی میں کوئی کمرہ (سائبان) نہ بنا دیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، منیٰ پہلے پہنچ جانے والے کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2626

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيُسَبِّحُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو اللَّهَ وَلَا يَقِفُ عنْدَ جمرَةِ العقبةِ. رَوَاهُ مَالك
نافع ؒ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ پہلے دو جمروں کے پاس بہت دیر تک ٹھہرتے ، اللہ کی کبریائی بیان کرتے ، اس کی تسبیح و تحمید بیان کرتے اور اللہ سے دعائیں کرتے ، لیکن وہ جمرہ عقبی (بڑے شیطان) کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2627

عَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا فِي صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ وَسَلَّتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ على الْبَيْدَاء أهل بِالْحَجِّ. رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز ظہر ذوالحلیفہ کے مقام پر ادا کی ، پھر آپ نے اپنی اونٹنی منگوائی ، آپ نے اس کی کوہان کے دائیں پہلو پر ہلکا سا زخم لگایا ، وہاں سے خون بہنے لگا ، آپ نے وہ خون صاف کر دیا اور اس کی گردن میں دو جوتے ڈال دیے ، پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہو گئے ، جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے حج کے لیے تلبیہ پکارا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2628

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْدَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مرّة إِلَى الْبَيْت غنما فقلدها
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مرتبہ چند بکریاں بطور قربانی ، بیت اللہ بھجوائیں تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں قلادہ (ہار وغیرہ) پہنایا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2629

وَعَن جَابر قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عائشہ ؓ کی طرف سے قربانی کے روز ایک گائے ذبح کی ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2630

وَعنهُ قَالَ: نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حج کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے ذبح کی ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2631

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا فَمَا حَرُم عَلَيْهِ كانَ أُحِلَّ لَهُ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قربانی کے اونٹوں کے قلادے خود اپنے ہاتھوں سے بٹے ، پھر آپ نے انہیں قلادے پہنائے ، ان کا شعار کیا اور انہیں قربانی کے لیے بھیجا ، اور جو چیز آپ کے لیے حلال کی گئی وہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر حرام نہیں ہوئی تھی ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2632

وَعَنْهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدِي ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ان کے قلادے ، اون سے تیار کیے جو کہ میرے پاس موجود تھی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں میرے والد کے ساتھ (بیت اللہ) روانہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2633

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ: «ارْكَبْهَا» . فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ: «ارْكَبْهَا» . فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ: «ارْكَبْهَا وَيلك» فِي الثَّانِيَة أَو الثَّالِثَة
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو قربانی کا اونٹ ہانکتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس پر سوار ہو جا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس پر سوار ہو جا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہو ! اس پر سوارہو جا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2634

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عبدِ اللَّه سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا» . رَوَاهُ مُسلم
ابوزبیر بیان کرتے ہیں ، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا ، ان سے قربانی کے اونٹ پر سواری کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تو اس پر سواری کرنے پر مجبور ہو جائے تو پھر سواری ملنے تک بھلے طریقے سے اس پر سواری کر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2635

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةٌ عَشَرَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: «انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أهل رفقتك» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ قربانی کے سولہ اونٹ بھیجے اور اسے ان پر امیر مقرر کیا ، تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کوئی چلنے سے عاجز آ جائے تو پھر میں کیا کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے نحر کر دینا اور اس (کےقلادے) کے جوتے اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر نشان لگا دینا اور اس میں سے تم اور تمہارے ساتھی نہ کھائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2636

وَعَن جابرٍ قَالَ: نحَرْنا مَعَ رَسولِ اللَّهِ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَة. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اونٹ اور گائے کو سات سات آدمیوں کی طرف سے (بطور قربانی) نحر کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2637

وَعَن ابنِ عمَرَ: أَنَّهُ أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بِدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا قَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس آئے جو اپنے قربانی کے اونٹ کو بٹھا کر نحرکر رہا تھا ، تو انہوں نے اسے فرمایا :’’ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کے مطابق اسے کھڑا کرو اور اس کی ٹانگ کو باندھو (پھر نحر کرو) ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2638

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا قَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور ان کی لگاموں ، چمڑوں اور پالانوں کو صدقہ کر دوں اور قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دوں ، فرمایا :’’ ہم اسے اپنے پاس سے دیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2639

وَعَن جابرٍ قَالَ: كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كُلُوا وَتَزَوَّدُوا» . فَأَكَلْنَا وتزودنا
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم اپنے قربانی کے اونٹوں کا گوشت تین دن سے زائد نہیں کھایا کرتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں رخصت دی تو فرمایا :’’ کھاؤ اور زادِراہ کے طور پر ساتھ بھی لے جاؤ ۔‘‘ پس ہم نے کھایا اور زادِراہ کے طورپر ساتھ بھی لائے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2640

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ ذَهَبٍ يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْركين. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے سال قربانی کے جانور بھیجے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قربانی کے جانوروں میں ابوجہل کا اونٹ بھی تھا جس کی ناک میں چاندی کا اورایک دوسری روایت میں ہے کہ سونے کا ایک کڑا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے مشرکین کو غصہ دلانا چاہتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2641

وَعَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟ قَالَ: «انْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهَا فَيَأْكُلُونَهَا» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ناجیہ خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قربانی کے اونٹوں میں سے کوئی چلنے سے عاجز آ جائے تو کیا کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے نحر کر دینا پھر اس (کے قلادے) کے جوتے اس کے خون میں ڈبو دینا (اور اس کے پہلو پر نشان لگا دینا) پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑدینا تاکہ وہ اسے کھا لیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2642

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي عَن نَاجِية الْأَسْلَمِيّ
ابوداؤد اور دارمی نے اسے ناجیہ اسلمی سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2643

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ» . قَالَ ثَوْرٌ: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي. قَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فطفِقْن يَزْدَلفْنَ إِليهِ بأيتهِنَّ يبدأُ قَالَ: فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا. قَالَ فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ: مَا قَالَ؟ قَالَ: «مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَا ابنِ عبَّاسٍ وجابرٍ فِي بَاب الْأُضْحِية
عبداللہ بن قرط ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے ، پھر (منیٰ میں) قرار پکڑنے (گیارہ ذوالحجہ) کا دن ہے ۔‘‘ ثور ؒ نے فرمایا : اس سے قربانی کا دوسرا دن مراد ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ پیش کیے گئے ، وہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہونے لگے کہ آپ کس سے ابتدا فرمائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ پہلوں کے بل گر پڑیں تو آپ نے کوئی ہلکی سی بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا ، تو میں نے (اپنے پاس والے شخص سے) کہا : آپ نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے کہا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے :’’ جو شخص چاہے اس سے گوشت کاٹ کر لے جائے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ عبداللہ بن عباس ؓ اور جابر ؓ سے مروی حدیث باب الاضحیۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2644

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ» . فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا الْعَامَ الْمَاضِي؟ قَالَ: «كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهِمْ»
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جس نے قربانی کی ہے ۔ تیسرے دن کے بعد (یعنی چوتھے روز) اس کے گھر میں قربانی کا گوشت نہیں ہونا چاہیے ۔‘‘ جب آئندہ سال آیا تو صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جس طرح ہم نے پچھلے سال کیا تھا کیا اس سال بھی ہم ویسے ہی کریں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کھاؤ ، کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کرو ، کیونکہ گزشتہ سال لوگ قحط سالی کی وجہ سے تکلیف میں تھے ، اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ تم ان کی اعانت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2645

وَعَنْ نُبَيْشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِن كُنَّا نهينَا عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تسَعْكم. جاءَ اللَّهُ بالسَّعَةِ فكُلوا وادَّخِرُوا وأْتَجِروا. أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وذِكْرِ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
نُبیشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ہم نے تمہیں منع کیا تھا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زائد نہیں کھانا تاکہ تمہیں کشائش اور خوشحالی مل جائے ، اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوشحالی عطا کر دی ہے تو کھاؤ ، ذخیرہ کرو اور (صدقہ کر کے) اجر پاؤ ۔ اور سن لو ! یہ ایام کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2646

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض صحابہ نے بھی سر منڈایا اور ان میں سے بعض نے بال کترائے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2647

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: إِنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ النَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عِنْد الْمَرْوَة بمشقص
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، معاویہ ؓ نے مجھے بتایا کہ میں نے مَروہ کے پاس تیر کے بھال سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے بال کترے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2648

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» . قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا :’’ اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور بال کترانے والوں پر بھی ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بال کترانے والوں پر بھی ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بال کترانے والوں پر بھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2649

وَعَن يحيى بن الْحصين عَن جدته أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مرّة وَاحِدَة. رَوَاهُ مُسلم
یحیی بن حصین ؒ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سر منڈوانے والوں کے لیے تین بار اور بال کترانے والوں کے لیے ایک بار دعا کرتے ہوئے سنا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2650

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ نُسُكَهُ ثُمَّ دَعَا بِالْحَلَّاقِ وَنَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ فَقَالَ «احْلِقْ» فَحَلَقَهُ فَأعْطَاهُ طَلْحَةَ فَقَالَ: «اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ»
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منیٰ تشریف لائے تو جمرہ پر آئے اور اسے کنکریاں ماریں ، پھر منیٰ میں اپنی رہائش گاہ پر آئے اور قربانی کی پھر آپ نے حجام کو منگایا اور آپ نے اپنے سر کی دائیں طرف حجام کی طرف کی تو اس نے اسے مونڈ دیا پھر آپ نے ابوطلحہ انصاری ؓ کو بلایا اور وہ بال انہیں دے دیے ، پھر آپ نے بائیں جانب اس کی طرف کی اور فرمایا :’’ مونڈ دو ۔‘‘ تو اس نے اسے مونڈ دیا تو آپ نے وہ بال بھی ابوطلحہ کو دے دیے اور فرمایا :’’ انہیں لوگوں میں تقسیم کر دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2651

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے کستوری کی ملاوٹ والی خوشبو لگایا کرتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2652

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رجعَ فصلّى الظهْرَ بمنى. رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا ، پھر واپس تشریف لائے اور ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2653

عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن تحلق الْمَرْأَة رَأسهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
علی ؓ اور عائشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کو سر منڈانے سے منع فرمایا ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2654

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ الْحَلْقُ إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ مِنَ الْفَصْلِ الثَّالِثِ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عورتوں پر سر منڈانا واجب نہیں ، ان پر بال کترانا واجب ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2655

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ. فَقَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. فَقَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» . فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: «افْعَلْ وَلَا حرج» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وأتاهُ آخرُ فَقَالَ: أفَضتُ إِلى البيتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ»
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کی خاطر منیٰ میں وقوف فرمایا ، لوگ آپ کے پاس آتے اور مسائل دریافت کرتے ، ایک آدمی آپ کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا : میں نے لاعلمی میں قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قربانی کر لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ پھر ایک اور آدمی آیا تو اس نے عرض کیا : میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے لا علمی میں قربانی کر لی ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (اب) کنکریاں مار لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جس چیز کی بھی تقدیم و تاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی فرمایا :’’ اب کر لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : ایک آدمی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا ، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر مونڈ لیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اب کنکریاں مار لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ پھر ایک اور آدمی آیا ، اس نے عرض کیا ، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اب کنکریاں مار لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2656

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى فَيَقُولُ: «لَا حرَجَ» فَسَأَلَهُ رجل فَقَالَ: رميت بعد مَا أمسَيتُ. فَقَالَ: «لَا حرَجَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، قربانی کے دن منیٰ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسائل دریافت کیے گئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی فرما رہے تھے :’’ کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ایک آدمی نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو اس نے عرض کیا : میں نے غروبِ آفتاب کے بعد کنکریاں ماری ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کوئی حرج نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2657

عَن عَليّ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ فَقَالَ: «احْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ» . وَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ: «ارْمِ وَلَا حرج» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا :’’ اللہ کے رسول ! میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اب سر منڈا لو یا بال کترا لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ پھر ایک دوسرا آدمی آیا تو اس نے عرض کیا ، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اب کنکریاں مار لو ، کوئی حرج نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2658

عَن أُسامةَ بنِ شرِيكٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمِنْ قَائِلٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا فَكَانَ يَقُولُ: «لَا حَرَجَ إِلَّا عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وهَلِك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں حج کرنے کے لیے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوا ، لوگ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتے اور مسائل دریافت کرتے تھے ، کسی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے طواف کرنے سے پہلے سعی کر لی ، یا میں نے ایک چیز کو مؤخر کر لیا یا میں نے کوئی چیز مقدم کر لی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے :’’ اس شخص کے سوا جس نے کسی مسلمان کی عزت کو خراب کیا ، کوئی حرج نہیں ، ایسا شخص ظالم ہے اور ایسا شخص ہی حرج ، گناہ اور ہلاکت کا شکار ہوا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2659

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ: «إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ» وَقَالَ: «أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ: «أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟» قُلْنَا: بَلَى قَالَ «فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بِعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطاب فرمایا تو فرمایا :’’ زمانہ (سال) گھوم گھما کر اسی صورت پر آ گیا ہے جیسے اس دن تھا ، جس روز اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان تخلیق فرمائے تھے ، سال بارہ ماہ کا ہے ، ان میں سے چار حرمت والے ہیں ، تین ، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم تو متواتر ہیں اور رجب مضر جو کہ جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کون سا مہینہ ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ نے خاموشی اختیار کر لی حتی کہ ہم نے خیال کیا آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا یہ ذوالحجہ نہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کون سا شہر ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ خاموش رہے حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا یہ بلدہ (یعنی مکہ) نہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ، ایسے ہی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کون سا دن ہے ؟’’ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا یہ قربانی کا دن نہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ، ایسے ہی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے خون ، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر اس ماہ میں ، اس شہر میں اور اس دن کی حرمت کی طرح تم پر حرام ہیں ، تم عنقریب اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہو ، وہ تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے سوال کرے گا ، سن لو ! تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو ، سن لو ! کیا میں نے تم تک (دین) پہنچا دیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! گواہ رہنا ، جو یہاں موجود ہیں وہ غیر موجود تک پہنچا دیں ، بسا اوقات جس کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2660

وَعَن وَبرةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِهِ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ. فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَيَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رمينَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
وبرہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ سے دریافت کیا : میں کس وقت کنکریاں ماروں ؟ انہوں نے فرمایا : جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی کنکریاں مارو ۔ میں نے دوبارہ ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : ہم انتظار کرتے رہتے تھے ، جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2661

وَعَن سالمٍ عَن ابنِ عمر: أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي جَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكبِّرُ على إِثْرَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يُسْهِلَ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَأْخُذُ بِذَاتِ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَله. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سالم ؒ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جمرہ دنیا (مسجد خفیف کے قریب والے جمرہ کو) سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے بعد اللہ اکبر کہتے تھے ، پھر آگے بڑھتے حتی کہ نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے ، پھر بائیں جانب ہو کر نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعائیں کرتے رہتے ، پھر درمیان والے جمرے کو سات کنکریاں مارتے جب کنکری مارتے تو اللہ اکبر کہتے تھے پھر وادی کے نشیب سے جمرہ عقبی کو سات کنکریاں مارتے ، آپ ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہتے ، آپ اس کے پاس نہ ٹھہرتے پھر واپس آ جاتے اور فرماتے : میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2662

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ منى من أجلِ سِقايتِهِ فَأذن لَهُ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، عباس بن عبدالمطلب ؓ نے پانی پلانے کی وجہ سے ، منیٰ کی راتیں مکہ میں گزارنے کے لیے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2663

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ قَالَ: «اسْقِنِي» . فَشرب مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا. فَقَالَ: «اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ» . ثُمَّ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ» . وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پانی پینے کی جگہ پر تشریف لائے تو آپ نے پانی طلب کیا تو عباس ؓ نے فرمایا : فضل ! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان کے پاس سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے پانی لے کر آؤ ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے (یہیں سے) پلاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! لوگ اپنے ہاتھ اس میں ڈالتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے (یہیں سے) پلاؤ ۔‘‘ آپ نے اسی میں سے نوش فرمایا ، پھر آپ زم زم پر تشریف لائے تو لوگ وہاں پانی پلا رہے تھے اور خوب محنت کر رہے تھے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کام کرتے رہو ، کیونکہ تم ایک نیک کام میں مشغول ہو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اگر لوگ تم پر غالب نہ آ جائیں تو میں بھی اپنی سواری سے اتر آتا حتی کہ میں رسی اس پر رکھ لیتا ۔‘‘ آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2664

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھیں ، پھر آپ وادی محصب میں تھوڑی دیر سوئے ، پھر آپ سواری پر بیت اللہ تشریف لائے اور اس کا طواف (وداع) کیا ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2665

وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سألتُ أنسَ بنَ مالكٍ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يومَ الترويةِ؟ قَالَ: بمنى. قلت: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ
عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ بن مالک ؓ سے دریافت کیا ، میں نے کہا : اگر آپ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی بات یاد کی ہو تو مجھے بتائیں کہ آپ نے ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : منیٰ میں ، پھر پوچھا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منیٰ سے واپس آتے ہوئے عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ فرمایا : وادی ابطح میں ، پھر فرمایا : جیسے تمہارے امرا کریں ویسے تم کرو ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2666

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أسمح لِخُرُوجِهِ إِذا خرج
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابطح میں قیام کرنا سنت نہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو وہاں اس لیے قیام فرمایا تھا کہ وہاں سے (مدینہ کے لیے) روانہ ہونا زیادہ آسان تھا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2667

وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم بالأبطحِ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هَذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهُ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَاف يسير فِي آخِره
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے مقام نتعیم سے عمرہ کے لیے احرام باندھا ، میں (مکہ میں) داخل ہوئی اور اپنا عمرہ ادا کیا ، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابطح کے مقام پر میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں عمرہ سے فارغ ہو گئی تو آپ نے لوگوں کو کوچ کا حکم فرمایا ۔ آپ وہاں سے نکلے اور بیت اللہ کا طواف صبح کی نماز سے پہلے کیا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ کےلیے روانہ ہوئے ۔ میں نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے حوالے سے یہ حدیث نہیں پائی ، بلکہ آخر پر تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت میں پایا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2668

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگ (منیٰ سے فارغ ہو کر) کسی بھی طریق سے واپس چلے جاتے تھے ، (یہ صورتحال دیکھ کر) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص مکہ سے نہ جائے حتی کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس ہو ، (طواف وداع کرے) البتہ حیض والی عورت کو مستثنیٰ قرار دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2669

وَعَن عائشةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قيل: نعم. قَالَ: «فانفري»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کوچ (کے دن) کی رات صفیہ ؓ کو حیض آ گیا ، تو انہوں نے عرض کیا ، میرا خیال ہے کہ (طوافِ وداع کی وجہ سے) میں نے تمہیں روک دیا ہے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (عرب کے محاورے کے مطابق) بے اولاد ، سر مُنڈی یا حلق میں بیماری والی ، (اس سے بددعا مراد نہیں ، بلکہ جیسے کہا جاتا ہے : تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ویسے ہی یہ الفاظ ہیں) کیا اس نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟‘‘ آپ کو بتایا گیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر (مدینہ کی طرف) کوچ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2670

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ النَّحْر الْأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلا لَا يجني جانٍ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا وَلَكِنْ ستكونُ لهُ طاعةٌ فِيمَا تحتقرونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ
عمرو بن احوص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا :’’ آج کون سا دن ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : حج اکبر کا دن ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس شہر میں ، تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی جان پر ظلم نہ کرے ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے نہ بچہ اپنے والد پر ظلم کرے ، سن لو ! شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی تمہارے اس شہر میں عبادت ہو ، لیکن تمہارے ایسے امور میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو ، اس کی اطاعت ہو گی تو وہ اس پر ہی راضی ہو جائے گا ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ۔ اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسناد حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2671

وَعَن رافعِ بنِ عمروٍ والمُزَني قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَين قَائِم وقاعد. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
رافع بن عمرو مزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منیٰ میں چاشت کے بعد سیاہی مائل سفید خچر پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا ، جبکہ علی ؓ آپ کی طرف سے لوگوں تک بات پہنچا رہے تھے جبکہ لوگ کچھ کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2672

وَعَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
عائشہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے دن طواف زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2673

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف افاضہ کے ساتوں چکروں میں رمل نہیں فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2674

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة وَقَالَ: إِسْنَاده ضَعِيف
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جمرہ عقبی کو کنکریاں مار لے تو بیویوں کے (ساتھ جماع کے) سوا اس کے لیے ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ۔‘‘ شرح السنہ ۔ اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2675

وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كلُّ شيءٍ إِلا النساءَ»
احمد اور نسائی کی ابن عباس سے مروی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب وہ کنکریاں مار لے تو بیویوں کے علاوہ ہر چیز اس پر حلال ہو جاتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2676

وَعَنْهَا قَالَتْ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ فَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دن کے پچھلے پہر جب آپ نے نماز ظہر ادا کی تو طواف افاضہ کیا ، پھر آپ منیٰ واپس تشریف لے آئے ، آپ نے ایام تشریق کی راتیں وہاں گزاریں ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہوتے ، لمبا قیام فرماتے اور تضرع و عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے ، اور آپ تیسرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2677

وَعَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَن أَبِيه قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لرعاء الْإِبِل فِي البيتوتة: أَن يرملوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ فَيَرْمُوهُ فِي أَحَدِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ
ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو رات بسر کرنے کی رخصت دے دی کہ وہ یوم النحر کو کنکریاں ماریں پھر یوم نحر کے بعد وہ دو دن کی رمی کو جمع کر لیں اور ایک دن میں ہی کنکریاں مار لیں ۔ مالک ، ترمذی نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2678

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يلبس مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: «لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَيَلْبَسُ خُفَّيْنِ وليقطعهما أَسْفَل الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: «وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تلبس القفازين»
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا کہ احرام والا کون سے کپڑے پہن سکتا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قمیض ، عمامے ، شلواریں ، جبے ، اور موزے نہ پہنو ، البتہ اگر کوئی شخص جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے اور ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو جسے زعفران اور ورس کی خوشبو لگی ہو ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور امام بخاری نے ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ احرام والی عورت نقاب پہنے نہ دستانے ۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2679

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ نَعْلَيْنِ لَبَسَ خُفَّيْنِ وَإِذَا لَمْ يَجِدْ إِزَارًا لَبَسَ سَرَاوِيل»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطاب کرتے ہوئے سنا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ جب محرِم جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور جب وہ تہبند نہ پائے تو شلوار پہن لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2680

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالجعرانة إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَهَذِهِ عَلَيَّ. فَقَالَ: «أَمَا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ»
یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم جعرانہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے جب ایک اعرابی آپ کے پاس آیا اس نے جبہ پہن رکھا تھا اور اس نے زعفران کی بنی ہوئی خوشبو بھی خوب لگا رکھی تھی ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور میں نے یہ (جبہ) پہن رکھا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رہی خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو دو ، اور رہا جبہ تو اسے اتار دو ، اور پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کر جیسے تو اپنے حج میں کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2681

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنكِحُ وَلَا يَخْطُبُ» . رَوَاهُ مُسلم
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ محرم اپنا نکاح کرے نہ کسی کا نکاح کرائے اور نہ ہی پیغامِ نکاح بھیجے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2682

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ محرم
ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حالت احرام میں میمونہ ؓ سے نکاح کیا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2683

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشيخُ الإِمَام يحيى السّنة: وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا وَظَهَرَ أَمْرُ تَزْوِيجِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَال بسرف فِي طَرِيق مَكَّة
میمونہ ؓ کے بھانجے یزید بن الاصم ، میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے شادی کی تو آپ محرم نہیں تھے ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ بیان کرتے ہیں ، اکثر محدثین کا یہ مؤقف ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے شادی کی تو آپ محرم نہیں تھے جبکہ آپ نے حالت احرام میں اس معاملے کو ظاہر فرمایا ۔ پھر آپ نے مکہ کے راستے میں مقام سرف پر ان سے خلوت اختیار کی ، جبکہ آپ حالت احرام میں نہیں تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2684

وَعَن أَبِي أَيُّوبَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ
ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حالت احرام میں اپنا سر دھو لیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2685

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ محرم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حالت احرام میں پچھنے لگوائے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2686

وَعَن عُثْمَان حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ محرمٌ ضمدهما بِالصبرِ. رَوَاهُ مُسلم
عثمان ؓ نے اس آدمی کے بارے میں جس کی حالت احرام میں آنکھیں دکھتی ہوں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حدیث بیان کی کہ وہ اپنی آنکھوں پر مصبر کا لیپ کر سکتا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2687

وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ من الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ام الحصین ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے اسامہ ؓ اور بلال ؓ کو دیکھا کہ ان میں سے ایک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے تھا جبکہ دوسرا (چھتری کی طرح) اپنا کپڑا بلند کیے ، آپ کو گرمی سے بچانے کے لیے ، آپ پر سایہ کیے ہوئے تھا حتی کہ آپ نے جمرہ عقبی کو کنکریاں مار لیں ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2688

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ تهافت عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ» . وَالْفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ: «أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّام أوانسك نسيكة»
کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں حدیبیہ کے مقام پر تھا کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں نے احرام باندھ رکھا تھا اور ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا جبکہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنا سر منڈا لو اور چھ مساکین کو ایک فرق (تقریباً سات کلو) اناج دو یا تین روزے رکھو یا ایک بکری ذبح کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2689

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنِ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أحبَّتْ من ألوانِ الثيابِ معصفر أوخز أَو حلي أَو سروايل أَو قميصٍ أَو خُفٍّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے ، نقاب کرنے اور ورس و زعفران سے رنگ کیے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرماتے ہوئے سنا ، اس کے علاوہ ، وہ زرد رنگ کے یا ریشم کے بنے ہوئے جو کپڑے چاہیں پہن لیں ، یا زیور ، شلوار ، قمیض اور موزے پہن سکتی ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2690

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا جَاوَزُوا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وجهِها فإِذا جاوزونا كشفناهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَلابْن مَاجَه مَعْنَاهُ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے ، سوار ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنی چادریں سر سے چہرے پر لٹکا لیتیں اور جب وہ ہمارے پاس سے گزر جاتے تو ہم چہروں سے چادریں اٹھا لیتیں تھیں ۔ ابوداؤد ۔ اور ابن ماجہ میں اس معنی کی روایت ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2691

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بالزيت وَهُوَ محرمٌ غيرَ المقنّتِ يَعني غيرَ المطيَّبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حالت احرام میں اپنے سر پر ایسا تیل لگا لیا کرتے تھے جس میں خوشبو نہیں ہوتی تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2692

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ الْقُرَّ فَقَالَ: ألق عَليّ ثوبا نَافِعُ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ؟ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد؟
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے ٹھنڈک محسوس کی تو فرمایا : نافع ! مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو ، میں نے ایک جبہ ان پر ڈال دیا تو انہوں نے فرمایا : تم مجھ پر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محرِم کو اسے پہننے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2693

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ بن بُحَيْنَةَ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طريقِ مكةَ فِي وسط رَأسه
عبداللہ بن مالک بن بحینہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حالت احرام میں لحی جمل کے مقام (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) پر اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2694

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حالت احرام میں پاؤں کی پشت پر تکلیف کی وجہ سے پچھنے لگوائے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2695

وَعَن أبي رافعٍ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میمونہ ؓ سے شادی کی تو آپ حالت احرام میں نہیں تھے ، اور جب آپ نے ان سے خلوت کی تب بھی آپ حالت احرام میں نہیں تھے ، اور میں دونوں کے درمیان قاصد و واسطہ تھا ۔ احمد ، ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2696

عَن الصعب بن جثامة أَنه أهْدى رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رأى مَا فِي وَجْهَهُ قَالَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أنَّا حُرُمٌ»
صعب بن جثامہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مقام ابواء یا مقام ودان پر ایک جنگلی گدھا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا آپ نے اسے قبول نہ فرمایا ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے پر افسردگی کے آثار دیکھے تو فرمایا :’’ ہم نے اس لیے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2697

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفَ مَعَ بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَوْا حِمَارًا وَحْشِيًّا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ فَلَمَّا رَأَوْهُ تَرَكُوهُ حَتَّى رَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَتَنَاوَلَهُ فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ ثُمَّ أَكَلَ فَأَكَلُوا فَنَدِمُوا فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ. قَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟» قَالُوا: مَعَنَا رِجْلُهُ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَأكلهَا وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا؟ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحمهَا»
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ (حدیبیہ کے سال) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے تو وہ اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے ، وہ حالت احرام میں تھے جبکہ وہ خود حالت احرام میں نہیں تھے ، انہوں نے میرے دیکھنے سے پہلے ایک جنگلی گدھا دیکھا ، جب انہوں نے اسے دیکھا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا حتی کہ ابوقتادہ نے اسے دیکھ لیا ، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان (اپنے ساتھیوں) سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے اس کا کوڑا پکڑا دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، انہوں نے خود اسے لیا اور اس پر حملہ کر دیا اور اسے زخمی کر دیا ، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اسے کھایا ، لیکن انہیں ندامت و پریشانی ہوئی ، جب وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس کا کوئی حصہ تمہارے پاس ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اس کا ایک پاؤں ہمارے پاس ہے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے لیا اور اسے کھایا ۔ اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ہے : جب وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کسی نے اسے کہا تھا کہ اس پر حملہ کرو ؟ یا اس کی طرف اشارہ کیا ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کا جو گوشت باقی بچا ہے اسے کھاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2698

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى من قتلَهُنّ فِي الْحل وَالْإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ
ابن عمر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں حرم میں حالت احرام میں قتل کر دینے پر کوئی گناہ نہیں : چوہیا ، کوّا ، چیل ، بچھو اور کاٹنے والا کتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2699

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا
عائشہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانچ قسم کے جانور فاسق (نقصان دہ) ہیں ، انہیں حل و حرم ہر حالت میں قتل کیا جائے گا ، سانپ ، کوّا جو سیاہ و سفید ہو ، چوہیا ، کاٹنے والا کتا اور چیل ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2700

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَحْمُ الصَّيْدِ لَكُمْ فِي الْإِحْرَامِ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادُ لَكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
جابر ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس شکار کا گوشت تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جسے تم نے شکار کیا ہو نہ وہ تمہاری خاطر شکار کیا گیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2701

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ٹڈی (مکڑی) سمندری شکار کے زمرے میں ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2702

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ السَّبُعَ الْعَادِيَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوسعید خدری ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مُحرِم چیر پھاڑ کرنے والے درندے کو مار سکتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2703

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِيِ عَمَّارٍ قَالَ: سَأَلت جابرَ بنَ عبدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ هِيَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: أَيُؤْكَلُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حديثٌ حسنٌ صَحِيح
عبدالرحمن بن ابی عمار بیان کرتے ہیں ، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے بجو کے بارے میں سوال کیا وہ شکار ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں نے کہا : کیا وہ کھایا جاتا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں نے کہا : آپ نے اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ترمذی ، نسائی ، شافعی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2704

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبُعِ؟ قَالَ: «هُوَ صَيْدٌ وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه والدارمي
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے بجو کھانے کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ شکار ہے ، اور جب مُحرِم اس کا شکار کرے تو اس کے بدلے اس پر ایک مینڈھا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2705

وَعَن خُزَيمةَ بنَ جَزَيّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ. قَالَ: أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ؟ . وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الذِّئْبِ. قَالَ: «أوَ يَأَكلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ
خزیمہ بن جزی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے بجو کھانے کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا کوئی بجو بھی کھاتا ہے ؟‘‘ میں نے آپ سے بھیڑیا کھانے کے بارے میں سوال کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا کوئی صاحب ایمان بھیڑیا بھی کھاتا ہے ؟‘‘ ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : اس کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2706

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كنَّا مَعَ طَلحةَ بنِ عُبيدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافَقَ مَنْ أَكَلَهُ قَالَ: فَأَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم
عبدالرحمن بن عثمان تیمی بیان کرتے ہیں ، ہم طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے ساتھ تھے اور ہم حالت احرام میں تھے ، ان (طلحہ ؓ) کو ایک (بھنا ہوا) پرندہ بطور ہدیہ بھیجا گیا جبکہ طلحہ سو رہے تھے ۔ ہم میں سے کچھ نے کھا لیا اور کچھ نے پرہیز کیا ، تو جب طلحہ ؓ بیدار ہوئے تو انہوں نے اسے کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھایا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2707

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأَسَهُ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابلا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، (صلح حدیبیہ کے سال) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (عمرہ کرنے سے) روک دیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر منڈایا ، اپنی ازواج مطہرات سے جماع کیا اور قربانی کی ، اور پھر اگلے سال عمرہ کیا ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2708

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كَفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) روانہ ہوئے تو قریش بیت اللہ پہنچنے سے پہلے حائل ہو گئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قربانیاں ذبح کیں ، اور آپ نے اپنا سر منڈایا جبکہ آپ کے بعض صحابہ نے سر کے بال کترائے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2709

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کی اور آپ نے اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2710

وَعَن ابنِ عمَرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا فَيَهْدِيَ أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَديا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کافی نہیں ! اگر تم میں سے کسی کو حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کی سعی کرے ، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے (احرام کی پابندی ختم ہو جائے) حتی کہ اگلے سال حج کرے اور قربانی کرے ، اگر قربانی میسر نہ ہو تو پھر روزے رکھے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2711

وَعَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا: «لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ؟» قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً. فَقَالَ لَهَا: حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حبستني
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضباعہ بنت زبیر ؓ کے پاس گئے تو ان سے فرمایا :’’ شاید کہ آپ نے حج کا ارادہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! مجھے کچھ تکلیف ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ حج کریں اور شرط قائم کر لیں ، اس طرح کہیں : اے اللہ ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہو گی جہاں تو مجھے (تکلیف کی وجہ سے آگے جانے سے) روک لے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2712

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِيهِ قِصَّةٌ وَفِي سَنَدِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم فرمایا کہ انہوں نے حدیبیہ کے سال جو قربانی کی تھی اس کے بدلے میں اب عمرۃ القضاء میں قربانی کریں ۔ ابوداؤد ۔ اس میں قصہ ہے اور اس کی سند میں محمد بن اسحاق (مدلس) ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2713

وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ من قَابل» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دواد وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «أَوْ مَرِضَ» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن. وَفِي المصابيح: ضَعِيف
حجاج بن عمرو انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا اور وہ اگلے سال حج کرے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور ابوداؤد نے ایک دوسری روایت میں اضافہ نقل کیا ہے :’’ یا وہ بیمار ہو جائے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اور مصابیح میں ضعیف ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی وابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2714

وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ يَعمُرَ الدَّيْلي قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أيَّامُ مِنىً ثلاثةَ أيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ
عبدالرحمن بن یعمر دیلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حج وقوفِ عرفات ہی ہے ، جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے عرفہ میں قیام کر لے تو اس نے حج پا لیا ، اور منیٰ کے ایام تین ہیں ، جو شخص دو دن میں جلدی کر کے فارغ ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2715

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا هِجرةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا» . وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهُ لَمْ يحِلَّ القتالُ فيهِ لأحدٍ قبْلي وَلم يحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا» . فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ؟ فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا :’’ (اب) ہجرت باقی نہیں رہی ، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے ، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو نکلو ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا :’’ اللہ نے اس شہر کو زمین و آسمان کی تخلیق کے روز ہی حرام قرار دے دیا تھا ، وہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے روز قیامت تک حرام ہے اور محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) سے پہلے اس میں قتال کرنا حلال نہیں کیا گیا ، اور میرے لیے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے حلال کیا گیا ، وہ اللہ کی حرمت کے باعث روز قیامت تک کے لیے حرام ہے ۔ اس کا کانٹا کاٹا جائے نہ اس کا شکار بھگایا جائے ، اور نہ ہی اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے ، اور نہ ہی اس کی گھاس کاٹی جائے ۔‘‘ عباس ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بجز اذخر (گھاس) کے ، کیونکہ وہ لوہاروں اور ان کے گھروں کے استعمال کی چیز ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بجز اذخر (گھاس) کے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2716

وَفِي رِوَايَة لأبي هريرةَ: «لَا يُعضدُ شجرُها وَلَا يلتَقطُ ساقطتَها إِلاَّ مُنشِدٌ»
اور ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے :’’ اس کا درخت کاٹا جائے نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس چیز کا اعلان کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2717

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بمكةَ السِّلَاح» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مکہ میں اسلحہ اٹھا کر چلنا کسی کے لیے بھی حلال نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2718

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: «اقتله»
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا ، جب آپ نے اسے اتارا تو کسی آدمی نے آ کر بتایا کہ ابن خطل غلافِ کعبہ کے ساتھ چمٹا ہوا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2719

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عمامةٌ سوْداءُ بِغَيْر إِحْرَام. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے روز (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا اور آپ حالت احرام میں نہیں تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2720

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَفِيهِمْ أسواقُهم وَمن لَيْسَ مِنْهُم؟ قَالَ: «يخسف وَآخِرِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک لشکر کعبہ پر حملہ کرنے کا قصد کرے گا ۔ جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کے اول و آخر تمام فوجیوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کے اول و آخر کو کیسے دھنسا دیا جائے گا ، جبکہ ان میں ان کی رعایا بھی ہو گی ، اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان کے اول و آخر سب کو دھنسا دیا جائے گا اور پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2721

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُخَرِّبُ الْكَعْبَة ذُو السويقتين من الْحَبَشَة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ باریک پنڈلیوں والا ایک حبشی شخص کعبہ کو برباد کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2722

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَأَنِّي بِهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يقْلعُها حجَراً حجَراً» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ گویا میں اس سیاہ فام شخص کو دیکھ رہا ہوں جو کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھاڑ پھینکے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2723

عَن يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حرم میں ذخیرہ اندوزی کرنا الحاد ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2724

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: «مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب إِسْنَادًا
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ سے فرمایا :’’ میرے نزدیک تو سب سے اچھا اور سب سے پسندیدہ شہر ہے ، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور نہ رہتا ۔‘‘ ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس کی اسناد غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2725

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ فَقَالَ: «وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خرجْتُ» . رَوَاهُ الترمذيُّ وَابْن مَاجَه
عبداللہ بن عدی بن حمراء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حزورہ کے مقام پر کھڑے ہوئے دیکھا اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ اللہ کی قسم ! تو اللہ کی زمین کا سب سے بہترین ٹکڑا اور اللہ کی ساری زمین سے اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ، اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2726

عَن أبي شُريَحٍ العَدوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ: حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لرَسُوله وَلم يَأْذَن لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أُذِنَ لِي فِيهَا سَاعَة نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ . فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالُ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ أَنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي الْبُخَارِيِّ: الْخَرْبَةُ: الْجِنَايَة
ابوشریح عدوی ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے ، جب کہ وہ مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا ، کہا : جناب امیر ! اگر تم مجھے اجازت دو تو میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے اگلے روز بیان فرمائی تھی ، جسے میرے کانوں نے سنا ، میرے دل نے اسے یاد کیا اور میری آنکھوں نے اسے دیکھا ، جب آپ نے وہ حدیث بیان کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ بے شک مکہ ایسی جگہ ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے ، اور اسے کوئی لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا ، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس میں خون ریزی کرے اور اس کے درخت کاٹے ، ہاں اگر کوئی شخص اس میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قتال کرنے سے قتال کی اجازت و رخصت لے تو اسے کہو : بے شک اللہ نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی ایک دن کے کچھ حصے کے لیے اجازت دی گئی تھی اور اس کی حرمت آج بھی ویسے ہی ہے جیسے کل تھی ، اور چاہیے کہ جو یہاں موجود ہے وہ غیر موجود تک یہ باتیں پہنچا دے ۔‘‘ ابوشریح ؓ سے پوچھا گیا کہ عمرو نے تمہیں کیا جواب دیا ؟ انہوں نے کہا : اس نے مجھے کہا : ابوشریح ! میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں بے شک حرم کسی گناہ گار کو پناہ دیتا ہے نہ کسی مفرور قاتل کو اور نہ ہی کسی مفرور چور کو پناہ دیتا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیح بخاری میں ہے کہ الخربۃ کا معنی الجنایہ (قصور) ہے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2727

وَعَن عيَّاشِ بنِ أبي ربيعةَ المَخْزُومِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوا هَذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيمِهَا فَإِذَا ضَيَّعُوا ذلكَ هلَكُوا» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عیاش بن ابی ربیعہ المخزومی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ اُمت خیر و بھلائی پر قائم رہے گی جب تک یہ اس حرمت (مکہ مکرمہ) کی اس کی تعظیم کے مطابق اس کی تعظیم کرتی رہے گی ، جب وہ اس کو ضائع کریں گے تو ہلاک ہو جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2728

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فمنْ أحدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذمَّةُ المسلمينَ واحدةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عدل» وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صرف وَلَا عدل»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صرف قرآن اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے وہ لکھا ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے ، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ ، تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کی نفل عبادت قبول ہو گی نہ فرض ۔ مسلمانوں کی امان ایک ہی ہے ، اور اس میں ادنی مسلمان کی امان کی بھی برابر حیثیت ہے ، جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض ، اور جو شخص اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اور اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض ۔‘‘ اور صحیحین ہی کی روایت میں ہے :’’ جو شخص اپنے آپ کو باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کر لے یا اپنے مالکوں کے علاوہ کسی اور سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس سے نفل قبول ہو گا نہ فرض ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2729

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ: أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا وَقَالَ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلَمونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَو شَهِيدا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں مدینہ کے دونوں پتھریلے مقاموں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں ، اور اس علاقے کا درخت کاٹنا یا اس کا شکار قتل کرنا حرام ہے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے ، اگر کوئی شخص اس سے عدم رغبت کی وجہ سے اسے چھوڑ جائے گا تو اللہ اس میں اس کے بدلہ میں ایسے شخص کو آباد کرے گا ، جو اس سے بہتر ہو گا ، اور جو شخص اس کی بھوک اور تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا یا میں اس کے حق میں گواہی دوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2730

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری اُمت میں سے جو شخص مدینہ کی بھوک اور اس کی تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2731

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرَةِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَأَنَا أدعوكَ للمدينةِ بمثلِ مَا دعَاكَ لمكةَ ومِثْلِهِ مَعَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فيعطيهِ ذَلِك الثَّمر. رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب لوگ پہلا پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے پکڑلیتے تو دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ہمارے لیے پھلوں میں برکت فرما ، اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے مدینے میں برکت فرما ، ہمارے صاع اور ہمارے مد (ناپ تول کے پیمانے) میں برکت فرما ، اے اللہ ! بے شک ابراہیم ؑ تیرے بندے ، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے ، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ، بے شک انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا فرمائی اور میں تجھ سے اسی مثل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں اور اس کی مثل اس کے ساتھ مزید دعا کرتا ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے کسی سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور وہ پھل اسے دے دیتے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2732

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَامًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سلاحٌ لقتالٍ وَلَا تُخبَطَ فِيهَا شجرةٌ إِلَّا لعلف» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کی حرمت کو ثابت کیا ، اور میں مدینہ کو ، اس کے دو پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو ، حرام قرار دیتا ہوں کہ اس میں خون ریزی کی جائے نہ قتال کے لیے اس میں اسلحہ اٹھایا جائے اور نہ ہی چارے کے علاوہ اس کے درختوں کے پتے جھاڑے جائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2733

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أَنْ يرد عَلَيْهِم. رَوَاهُ مُسلم
عامر بن سعد ؒ سے روایت ہے کہ سعد (بن ابی وقاص ؓ) موضع عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جا رہے تھے کہ انہوں نے کسی غلام کو درخت کاٹتے ہوئے یا اس کے پتے جھاڑتے ہوئے پایا تو انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا ، جب سعد ؓ واپس (مدینہ) آئے تو غلام کے مالک ان کے پاس آئے اور ان سے بات کی کہ انہوں نے غلام سے جو کچھ لیا ہے وہ اسے ان کے غلام کو یا ہمیں واپس لٹا دیں ، اس پر انہوں (سعد ؓ) نے فرمایا : اللہ کی پناہ کہ میں اس چیز کو واپس کر دوں جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بطور غنیمت عطا فرمائی ہے ، اور انہوں نے انہیں وہ کپڑا واپس کرنے سے انکار کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2734

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بِالْجُحْفَةِ»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر ؓ اور بلال ؓ بخار میں مبتلا ہو گئے ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! جس طرح ہمیں مکہ محبوب ہے اس طرح یا اس سے بھی زیادہ مدینہ ہمیں محبوب بنا دے اور اسے صحت افزا بنا دے ، اس کے صاع و مد میں ہمارے لیے برکت فرما دے اور اس کے بخار کو منتقل فرما اور اسے جحفہ بھیج دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2735

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ: رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى نَزَلَتْ مَهْيَعَةَ فَتَأَوَّلْتُهَا: أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن عمر ؓ سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مدینہ کے بارے میں خواب کے متعلق روایت ہے ، (آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا) :’’ میں نے ایک سیاہ فام پراگندہ بالوں والی عورت کو مدینہ سے نکل کر ’’ مھیعہ ‘‘ پر قیام کرتے ہوئے دیکھا ، میں نے اس کی تاویل کی کہ مدینہ کی وبا ’’ مھیعہ ‘‘ منتقل کر دی گئی ہے ، اور ’’ مھیعہ ‘‘ جحفہ کا ہی نام ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2736

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قومٌ يبُسُّونَ فيَتَحمَّلونَ بأهليهم وَمن أطاعهم وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلمُونَ»
سفیان بن ابی زہیر ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ یمن فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اپنے اونٹوں کو تیز چلاتے ہوئے آئیں گے تو وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش کہ وہ جانتے ، اور شام فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو تیز چلاتے ہوئے آئیں گے تو وہ اپنے اہل خانہ اور جو ان کی اطاعت اختیار کر لیں گے اُن کو سوار کر کے لے جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش وہ جان لیتے ، اور عراق فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو تیز دوڑاتے ہوئے آئیں گے اور وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے ، جبکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش کہ وہ جان لیتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2737

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى. يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے ایک ایسی بستی میں قیام کرنے کا حکم دیا گیا جو دوسری بستیوں پر غالب آ جائے گی ، وہ اسے یثرب کہتے ہیں ، جبکہ وہ مدینہ ہے ، وہ لوگوں کو ایسے نکال باہر کرتی ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال باہر کرتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2738

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الله سمى الْمَدِينَة طابة» . رَوَاهُ مُسلم
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2739

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خبثها وتنصع طيبها»
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تو اس اعرابی کو مدینہ میں بخار ہو گیا ، وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا : محمد ! (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) میری بیعت واپس کر دیں ، لیکن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کر دیا ، وہ پھر آیا اور کہا : میری بیعت واپس کر دیں ، لیکن آپ نے انکار فرمایا ، وہ پھر آپ کے پاس آیا تو اس نے کہا : میری بیعت توڑ دیں ، لیکن آپ نے انکار فرمایا ، وہ اعرابی (مدینہ) سے چلا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مدینہ بھٹی کی طرح ہے کہ وہ بُری چیز کو نکال دیتا ہے جبکہ اچھی چیز کو وہ خالص بنا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2740

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ مدینہ بُرے لوگوں کو نکال باہر کرے گا جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال باہر کرتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2741

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مدینہ کے داخلی راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں ، اس میں طاعون داخل ہو گا نہ دجال ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2742

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بلدٍ إِلا سَيَطَؤهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنِقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا فَيَنْزِلُ السَّبِخَةَ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال ہر شہر کو خراب کر ڈالے گا ، ان دونوں شہروں کے تمام داخلی راستوں پر فرشتے صفیں باندھیں ان کی حفاظت کر رہے ہیں ، وہ (دجال) شور والی زمین پر اترے گا ، پھر مدینہ اپنے رہنے والوں کو تین بار خوب جھٹکا دے گا تو ہر کافر و منافق اس (دجال) کی طرف نکل جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2743

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْملح فِي المَاء»
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اہل مدینہ سے دھوکہ کرے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2744

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلى جُدُراتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حركها من حبها. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو آپ مدینہ سے محبت کی وجہ سے اپنی اونٹنی کو ، اور اگر کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے تیز دوڑاتے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2745

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أحرم مَا بَين لابتيها»
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اُحد پہاڑ نظر آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، اے اللہ ! بے شک ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا ، اور میں مدینہ کے دونوں پتھریلی جگہ کے درمیانی علاقے کو حرام قرار دیتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2746

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا ونحبُّه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2747

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ» . فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دفعتُ إِليكم ثمنَه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سلیمان بن ابی عبداللہ بیان کرتے ہیں ، میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں ، جس کو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا ہے ، شکار کر رہا تھا ، انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا ، تو اس کے مالک آپ کے پاس آئے اور آپ سے اس بارے میں بات چیت کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حرم کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے فرمایا :’’ جو شخص کسی کو اس میں شکار کرتا ہوا پائے تو وہ اس کا کپڑا سلب کر لے ۔‘‘ لہذا میں یہ رزق تمہیں واپس نہیں دوں گا جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عطا کیا ہے ، لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت تمہیں ادا کر دیتا ہوں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2748

وَعَنْ صَالِحٍ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا وَجَدَ عَبِيدًا مِنْ عَبِيدِ الْمَدِينَةِ يَقْطَعُونَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ وَقَالَ يَعْنِي لِمَوَالِيهِمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينْهَى أَنْ يُقْطَعَ مِنْ شَجَرِ الْمَدِينَةِ شَيْءٌ وَقَالَ: «مَنْ قَطَعَ مِنْهُ شَيْئًا فَلِمَنْ أَخَذَهُ سَلَبُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سعد ؓ کے آزاد کردہ غلام صالح سے روایت ہے کہ سعد ؓ نے مدینہ کے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے ہوئے پایا تو انہوں نے ان کا سامان لے لیا ، اور ان کے مالکوں سے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مدینہ کے درخت سے کوئی چیز کاٹنے سے منع کرتے ہوئے سنا ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس کی کوئی چیز کاٹے تو جو شخص اسے پکڑے تو اس کا سامان اسی (پکڑنے والے) کو ملے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2749

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حِرْمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: «وَجٌّ» ذَكَرُوا أَنَّهَا مِنْ نَاحِيَةِ الطَّائِف وَقَالَ الْخطابِيّ: «إِنَّه» بدل «إِنَّهَا»
زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وج (طائف طائف کا کچھ علاقہ) کا شکار کرنا اور اس کے خاردار درختوں کا کاٹنا حرام ہے ، اللہ کے لیے حرام کیا گیا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور امام محی السنہ نے بیان کیا :’’وج‘‘ کے بارے میں علما نے فرمایا ہے کہ وہ طائف کا ایک علاقہ ہے ، اور خطابی ؒ نے : اَنَّھَا کی جگہ اَنَّہ کہا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2750

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوت بالمدية فليمت لَهَا فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح غَرِيب إِسْنَادًا