959 Results For Hadith (Mishkat-ul-Masabeh) Book (كتاب الصَّلَاة)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 564

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لَمَّا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِر» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کبیرہ گناہوں سے بچا جائے تو پانچ نمازیں ، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک ہونے والے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 565

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ؟ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ. قَالَ: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ اگر تم میں سے کسی شخص کے گھر کے سامنے نہر ہو اور وہ ہر روز اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہوتو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گی ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گی ، آپ نے فرمایا :’’ یہی پانچ نماز وں کی مثال ہے ، اللہ ان کے ذریعے خطائیں مٹا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 566

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْل إِن الْحَسَنَات يذْهبن السَّيِّئَات) فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذَا؟ قَالَ: «لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا پھر اس نے آ کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ دن کے دونوں اطراف اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کریں ، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ میرے لیے خاص ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری ساری امت کے لیے ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جس نے میری امت میں سے اس پر عمل کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 567

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فأقمه عَليّ قَالَ وَلم يسْأَله عَنهُ قَالَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاة قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فأقم فِي كتاب الله قَالَ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ أَو قَالَ حدك
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آیا ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں موجب حد والا عمل کر بیٹھا ہوں ، لہذا آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس (عمل) کے متعلق کچھ دریافت نہ کیا ، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا ، تو اس نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز ادا کر چکے تو وہ آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں (نے ایسا کام کیا ہے کہ) حد کو پہنچ چکا ہوں ، لہذا آپ میرے متعلق اللہ کا حکم نافذ فرمائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نےتمہارے گناہ یا تمہاری حد کو معاف فرما دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 568

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَي الْأَعْمَال أحب إِلَى الله قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ استزدته لزادني
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وقت پر نماز ادا کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، پھر کون سا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ والدین سے اچھا سلوک کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، پھر کون سا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں ، اگر میں مزید دریافت کرتا تو آپ مجھے اور زیادہ بتاتے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 569

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ ترك الصَّلَاة» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (مومن) بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز کا ترک کرنا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 570

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لوقتهن وَأتم ركوعهن خشوعهن كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى مَالك وَالنَّسَائِيّ نَحوه
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، جس شخص نے ان کے لیے اچھی طرح وضو کیا ، انہیں ان کے وقت پر ادا کیا ، اور ان کے رکوع و خشوع کو مکمل کیا تو اللہ کا اس کے لیے عہد ہے کہ وہ اسے معاف فرما دے گا اور جس نے ایسے نہ کیا تو اس سے اللہ کا کوئی عہد نہیں ، اگر وہ چاہے تو اسے معاف فرما دے ، اور اگر چاہے تو اسے سزا دے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ۔ جبکہ مالک اور امام نسائی نے بھی اس کی مانند روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 571

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تدْخلُوا جنَّة ربكُم» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی پانچ (فرض) نمازیں پڑھو ، اپنے ماہ (رمضان) کے روزے رکھو ، اپنے اموال کی زکو ۃ دو ، اور امیر کی اطاعت کرو تو اس طرح تم اپنے رب کی جت میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 572

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ سِنِين وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ فِي شرح السّنة عَنهُ
عمرو بن شعیب ؒ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تمہارے بچے سات برس کے ہو جائیں تو انہیں نماز کے متعلق حکم دو ، اور جب وہ دس برس کے ہو جائیں (اور وہ اس میں کوتاہی کریں) تو انہیں اس پر سزا دو ، اور ان کے بستر الگ کر دو ۔‘‘ ابوداؤد ، اور شرح السنہ میں بھی اس طرح روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 573

وَفِي المصابيح عَن سُبْرَة بن معبد
مصابیح میں سبرہ بن معبد ؓ سے مروی ہے ۔ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 574

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہمارے اور ان (منافقین) کے مابین نماز عہد ہے پس جس نے اسے ترک کیا تو اس نے کفر کیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 575

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ. فَقَالَ عُمَرَ لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَو سترت نَفْسِكَ. قَالَ وَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ شَيْئًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَدَعَاهُ وتلا عَلَيْهِ هَذِه الْآيَة (أقِم الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَات يذْهبن السَّيِّئَات ذَلِك ذكرى لِلذَّاكِرِينَ) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لَهُ خَاصَّة قَالَ: «بل للنَّاس كَافَّة» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے مدینہ کے دوسرے کنارے ایک عورت سے طبع آزمائی کی ، میں نے جماع کے علاوہ اس کے ساتھ سب کچھ کیا ، چنانچہ میں حاضر ہوں ، آپ میرے متعلق جو چاہیں فیصلہ فرمائیں ، عمر ؓ نے اسے کہا ، اللہ نے تمہاری پردہ پوشی کی تھی کاش کہ تم بھی اپنی پردہ پوشی کرتے ، راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ، اور وہ آدمی کھڑا ہوا اور چلا گیا ، چنانچہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی آدمی کو اس کے پیچھے بھیجا تو اسے بلا کر یہ آیت سنائی :’’ دن کے دونوں اطراف اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کریں ، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں اور یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے ۔‘‘ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! یہ اس کے لیے خاص ہے ؟ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 576

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ قَالَ فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ قَالَ فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّ العَبْد الْمُسلم ليصل الصَّلَاة يُرِيد بهَا وَجه الله فتهافت عَنهُ ذنُوبه كَمَا يتهافت هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موسم خزاں میں باہر تشریف لائے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو شاخوں کو پکڑا ، راوی نے بیان کیا کہ پتے گرنے لگے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمؑ نے فرمایا :’’ اے ابوذر ! میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! حاضر ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک مسلمان بندہ اللہ کی رضا کے لیے نماز پڑھتا ہے تو اس سے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے اس درخت سے پتے گرتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 577

وَعَن زيد بن خَالِد الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
زید بن خالد الجہنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص حضور قلب سے دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 578

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ: «مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمن لم يحافظ عَلَيْهَا لم يكن لَهُ نور وَلَا برهَان وَلَا نجاة وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک روز نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :’’ جس نے نماز کی حفاظت و پابندی کی تو وہ اس شخص کے لیے روز قیامت نور ، دلیل اور نجات ہو گی ، اور جس نے اس کی حفاظت و پابندی نہ کی تو روز قیامت اس کے لیے نور ، دلیل اور نجات نہیں ہو گی اور وہ قارون ، فرعون ، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 579

وَعَن عبد الله بن شَقِيق قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَركه كفر غير الصَّلَاة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ اعمال میں صرف ترک نماز کو کفر تصور کیا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 580

وَعَن أبي الدَّرْدَاء قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَنْ لَا تُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مَكْتُوبَة مُتَعَمدا فَمن تَركهَا مُتَعَمدا فقد بَرِئت مِنْهُ الذِّمَّةُ وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كل شَرّ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے خلیل (نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) نے مجھے وصیت فرمائی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا خواہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور خواہ تمہیں جلا دیا جائے ، اور جان بوجھ کر فرض نماز ترک نہ کرنا ، جس نے عمداً اسے ترک کر دیا تو اس سے ذمہ اٹھ گیا ، اور شراب نہ پینا کیونکہ وہ تمام برائیوں کی چابی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 581

عَن عبد اللَّهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاة فَإِنَّهَا تطلع بَين قَرْني شَيْطَان» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نماز ظہر کا وقت ، زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے اور عصر کا وقت نہ ہونے تک رہتا ہے ، اور عصر کا وقت سورج کے زرد ہو جانے سے پہلے تک رہتا ہے ، اور مغرب کا وقت شفق (غروب آفتاب کے بعد افق پر جو سرخی ہوتی ہے) کے رہنے تک رہتا ہے ، اور عشاء کا وقت نصف شب تک رہتا ہے جبکہ نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب سے پہلے تک رہتا ہے ، اور جب سورج طلوع ہونے لگے تو پھر نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 582

وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ: «صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ» يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «وَقْتُ صَلَاتكُمْ بَين مَا رَأَيْتُمْ» . رَوَاهُ مُسلم
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ تم دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو ۔‘‘ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے اذان دی ، پھر آپ نے حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی ، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جبکہ سورج بلند صاف چمک دار تھا ، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے سورج غروب ہو جانے پر مغرب کے لیے اقامت کہی ، اور پھر جب شفق غائب ہو گئی تو آپ نے انہیں نماز عشاء کے لیے اقامت کہنے کا حکم فرمایا ، پھر جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ نے انہیں نماز فجر کے لیے اقامت کہنے کا حکم فرمایا ، دوسرے روز آپ نے انہیں ظہر کو ٹھنڈا کرنے کا حکم فرمایا تو انہوں نے اسے خوب مؤخر کیا ، آپ نے عصر پڑھی جبکہ سورج بلند تھا ، آپ نے گزشتہ روز سے اسے مؤخر کیا ، آپ نے شفق غائب ہو جانے سے پہلے مغرب پڑھی اور تہائی رات گزر جانے کے بعد عشاء پڑھی ، اور فجر ، طلوع فجر کے روشن ہو جانے پر پڑھی ، پھر فرمایا :’’ نمازوں کے اوقات معلوم کرنے والا شخص کہاں ہے ؟‘‘ تو اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری نمازوں کا وقت ان اوقات کے مابین ہے جس کا تم ملاحظہ کر چکے ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 583

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِين كَانَ ظلّ كل شَيْء مثله وَصلى بِي يَعْنِي الْمغرب حِين أفطر الصَّائِم وَصلى بِي الْعشَاء حِينَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ صَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَيْهِ وَصَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسَفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جبریل ؑ نے بیت اللہ کے قریب مجھے دو مرتبہ نماز پڑھائی (ایک مرتبہ) جب سورج تسمہ کے برابر ڈھل گیا تو انہوں نے مجھے ظہر پڑھائی ، اور جب ہر چیز کا سایہ اس (چیز) کے مثل ہو گیا تو انہوں نے مجھے عصر پڑھائی ، جس وقت روزہ دار افطار کرتا ہے اس وقت مجھے مغرب پڑھائی ، اور شفق ختم ہو جانے پر مجھے عشاء پڑھائی ، اور جس وقت روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے اس وقت مجھے فجر پڑھائی ۔ پس اگلا روز ہوا تو انہوں نے مجھے ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس (چیز) کے مثل ہو گیا ، اور جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا تو مجھے عصر پڑھائی ، اور جس وقت روزہ دار افطار کرتا ہے اس وقت مجھے مغرب پڑھائی ، اور تہائی رات گزرنے پر مجھے عشاء پڑھائی ، اور صبح روشن ہو جانے پر نماز فجر پڑھائی ، پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : محمد ! صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ آپ سے پہلے انبیا علیہم السلام کا وقت ہے اور نمازوں کا وقت انہی دو اوقات کے مابین ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 584

وَعَن ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ» يحْسب بأصابعه خمس صلوَات
ابن شہاب (زہریؒ) سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے نماز عصر میں کچھ تاخیر کی تو عروہ (بن زبیر ؒ) نے انہیں کہا : آگاہ رہو کہ جبریل ؑ تشریف لائے تو انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے نماز پڑھی ، تو عمر ؒ نے فرمایا : عروہ ! تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ تم کیا کر رہے ہو ، انہوں نے کہا : میں نے بشیر بن ابی مسعود ؒ کو بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا میں نے ابومسعود ؓ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جبریل ؑ تشریف لائے تو انہوں نے میری امامت کرائی ، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ (دوسری) نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ۔‘‘ یوں پانچ دفعہ اپنی انگلیوں پر شمار کیا ۔ متفق علیہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 585

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ إِنَّ أَهَمَّ أُمُورِكُمْ عِنْدِي الصَّلَاة فَمن حَفِظَهَا وَحَافَظَ عَلَيْهَا حَفِظَ دِينَهُ وَمَنْ ضَيَّعَهَا فَهُوَ لِمَا سِوَاهَا أَضْيَعُ ثُمَّ كَتَبَ أَنْ صلوا الظّهْر إِذا كَانَ الْفَيْءُ ذِرَاعًا إِلَى أَنْ يَكُونَ ظِلُّ أَحَدِكُمْ مِثْلَهُ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ فَرْسَخَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً قبل مغيب الشَّمْس وَالْمغْرب إِذا غربت الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ وَالصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ. رَوَاهُ مَالك
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے امراء کے نام خط لکھا کہ میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم کام نماز ہے ، جس نے اس کی حفاظت و پابندی کی اس نے اپنے دین کی حفاظت کی ، اور جس نے اسے ضائع کیا تو پھر وہ اس کے علاوہ دیگر امور دین کو زیادہ ضائع کرنے والا ہے ، پھر آپ نے لکھا کہ نماز ظہر کا وقت یہ ہے کہ سایہ ایک ہاتھ ہو اور یہ اس وقت تک رہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا سایہ اس (آدمی) کے سائے کے برابر ہو جائے ، اور نماز عصر کا وقت یہ ہے کہ سورج بلند ، سفید اور چمک دار ہو اور اتنا وقت ہو کہ سوار غروب آفتاب سے پہلے دو یا تین فرسخ (تقریباً دس یا پندرہ کلو میٹر) کا فاصلہ طے کر سکے ، اور نماز مغرب کا وقت وہ ہے جب سورج غروب ہو جائے ، اور نماز عشاء کا وقت شفق ختم ہونے سے شروع ہوتا ہے اور تہائی رات تک رہتا ہے ، پس جو شخص سو جائے تو (اللہ کرے) اس کی آنکھ کو آرام حاصل نہ ہو ، جو شخص سو جائے تو اس کی آنکھ کو آرام حاصل نہ ہو ، جو سو جائے تو (اللہ کرے) اس کی آنکھ کو آرام حاصل نہ ہو اور صبح کا وقت وہ ہے کہ جب صبح صادق ہو جائے لیکن ستارے ابھی نمایاں ہوں ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 586

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ قَدْرُ صَلَاةِ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم الظّهْر فِي الصَّيْفِ ثَلَاثَةَ أَقْدَامٍ إِلَى خَمْسَةِ أَقْدَامٍ وَفِي الشِّتَاءِ خَمْسَةَ أَقْدَامٍ إِلَى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موسم گرما میں نماز ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب آدمی کا سایہ تین قدم سے پانچ قدم تک ہوتا جبکہ موسم سرما میں سایہ پانچ سے سات قدم تک ہوتا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 587

عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصلي الْعَصْر ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمغرب وَكَانَ يسْتَحبّ أَن يُؤَخر الْعشَاء الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا والْحَدِيث بعْدهَا وَكَانَ يَنْفَتِل مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ بِالسِتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا
سیار بن سلامہ ؒ بیان کرتے ہیں، میں اور میرے والد ابوبرزہ اسلمی ؓ کے پاس گئے تو میرے والد نے ان سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فرض نماز کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : آپ نماز ظہر ، جسے تم پہلی نماز کہتے ہو ، اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا ، آپ نماز عصر پڑھتے تو پھر ہم میں سے کوئی مدینہ کے آخری کنارے واقع اپنی رہائش گاہ پر واپس جاتا تو سورج بالکل سفید اور چمک دار ہوتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں مغرب کے بارے میں بھول گیا کہ انہوں نے کیا کہا تھا ، اور جب آپ نماز عشاء جسے تم ((عَتَمَہ)) کہتے ہو ، کو تاخیر سے پڑھنا پسند فرماتے تھے ، آپ اس (نماز عشاء) سے پہلے سو جانا اور اس کے بعد باتیں کرنا ، نا پسند فرماتے تھے ، اور آپ نماز فجر میں سلام پھیر کر نمازیوں کی طرف رخ فرماتے تو اس وقت ہر نمازی اپنے ساتھ والے نمازی کو پہچان لیتا تھا ، اور آپ ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ اور ایک روایت میں ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمؑ نماز عشاء کو تہائی رات تک بغیر کسی پرواہ کے مؤخر کر دیا کرتے تھے ۔ اور آپ نماز عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنے کو نا پسند کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 588

وَعَن مُحَمَّد بن عَمْرو هُوَ ابْن الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ وَالصُّبْح بِغَلَس
محمد بن عمرو بن حسن بن علی ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم نے جابر ؓ سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : آپ نماز ظہر زوال آفتاب کے فوراً بعد جبکہ عصر اس وقت پڑھتے جب سورج خوب روشن اور چمک دار ہوتا ، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا ، جبکہ عشاء کے بارے میں ایسے تھا کہ جب لوگ زیادہ اکٹھے ہو جاتے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی پڑھ لیتے اور جب نمازی کم ہوتے تو اسے تاخیر سے پڑھتے اور فجر کی نماز تاریکی میں پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 589

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا على ثيابنا اتقاء الْحر
انسؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز ظہر پڑھا کرتے تھے تو ہم گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر (سر رکھ کر) سجدہ کیا کرتے تھے ۔ بخاری ، مسلم ، اور مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 590

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب گرمی شدید ہو تو پھر نماز (ظہر) پڑھنے میں تاخیر کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 591

وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: بِالظُّهْرِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحر وَأَشد مَا تَجِدُونَ من الزَّمْهَرِير . وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: «فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ فَمِنْ سَمُومِهَا وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبرد فَمن زمهريرها»
ابوسعید ؓ سے ظہر کے متعلق بخاری کی روایت میں ہے :’’ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ کی وجہ سے ہے ، جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے عرض کیا ، میرے رب ! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس ، ایک سانس موسم سرما میں اور ایک سانس موسم گرما میں ، لینے کی اجازت فرمائی ، تم جو زیادہ گرمی اور زیادہ سردی پاتے ہو وہ اسی وجہ سے ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور بخاری کی روایت میں ہے ،’’ پس تم جو گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ اس کی گرم ہوا کی وجہ سے ہے ، اور تم جو زیادہ سردی پاتے ہو تو وہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے ہے ۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 592

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ على أَرْبَعَة أَمْيَال أَو نَحوه
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر پڑھا کرتے تھے جبکہ سورج بلند چمک دار ہوتا تھا ، جانے والا شخص (نماز عصر مسجد نبوی میں ادا کرنے کے بعد)’’ عوالی ‘‘ (مدینہ کی ملحقہ بستیوں میں) جاتا تو سورج بلند ہوتا ، اور بعض بستیاں مدینہ سے تقریباً چار میل کی مسافت پر تھیں ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 593

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ: يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلا . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ منافق شخص کی نماز ہے جو بیٹھ کر سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب وہ زرد اور شیطان کے سینگوں کے مابین پہنچنے کے قریب ہو جاتا ہے تو وہ کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور ان میں اللہ تعالیٰ کا بہت کم ذکر کرتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 594

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کی نماز عصر فوت ہو گئی تو گویا اس کا گھر بار لٹ گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 595

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فقد حَبط عمله. رَوَاهُ البُخَارِيّ
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے نماز عصر ترک کر دی تو اس کا عمل ضائع ہو گیا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 596

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِف أَحَدنَا وَإنَّهُ ليبصر مواقع نبله
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مغرب پڑھا کرتے تھے ، تو ہم میں سے کوئی واپس جاتا تو وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ لیتا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 597

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانُوا يُصَلُّونَ الْعَتَمَةَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يغيب لاشفق إِلَى ثلث اللَّيْل الأول
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، صحابہ کرام غروب شفق اور رات کے تہائی اول کے مابین نماز عشاء پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 598

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَتَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٌ بمروطهن مَا يعرفن من الْغَلَس
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر پڑھتے تو خواتین اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس جاتیں اور وہ تاریکی کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 599

وَعَن قَتَادَة وَعَن أَنَسٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُورِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى. قُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاة؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً. رَوَاهُ البُخَارِيّ
قتادہ ؒ انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور زید بن ثابت نے سحری کھائی ، پس جب وہ اپنی سحری کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے نماز پڑھائی ، ہم نے انس ؓ سے پوچھا : ان کے سحری کھا کر نماز شروع کرنے کے مابین کتنے وقت کا وقفہ تھا ؟ انہوں نے فرمایا : جتنے وقت میں آدمی پچاس آیات کی تلاوت کر لیتا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 600

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ أَوْ قَالَ: يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَك نَافِلَة. رَوَاهُ مُسلم
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم پر ایسے امراء ہوں گے جو نمازیں ضائع کریں گے یا فرمایا : وہ نمازوں کو ان وقت سے مؤخر کریں گے تو اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہو گی ؟‘‘ میں نے عرض کیا : آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ، اور اگر تم ان کے ساتھ بھی پا لو تو پھر (نماز) پڑھ لو ، تو وہ تمہارے لیے بطور نفل ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 601

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ. وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تغرب الشَّمْس فقد أدْرك الْعَصْر»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے نماز فجر پا لی ، اور جس نے غروب آفتاب سے پہلے ، نماز عصر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے نماز عصر پا لی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 602

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ وَإِذَا أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی غروب آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت پا لے تو وہ اپنی نماز مکمل کرے ، اور جب وہ طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پا لے تو وہ اپنی نماز مکمل کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 603

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا كَفَّارَة لَهَا إِلَّا ذَلِك»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کوئی نماز پڑھنا بھول جائے یا وہ اس وقت سو جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے اسے پڑھ لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اس (نماز پڑھ لینے) کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں ۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 604

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ. فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لذكري) رَوَاهُ مُسلم
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حالت نیند میں (نماز میں تاخیر ہو جانے پر) کوئی تقصیر و گناہ نہیں ، تقصیر تو محض حالت بیداری میں (نماز مؤخر کرنے میں) ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا وہ اس وقت سو جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے ۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھا کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 605

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ وَالْجِنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفُؤًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علی ! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا ، ایک نماز جب اس کا وقت آ جائے ، جنازہ جب تیار ہو جائے اور بیوہ ، مطلقہ اور کنواری خاتون (کے نکاح میں) جب تمہیں اس کا کفو مل جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 606

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَقْتُ الْأَوَّلُ مِنَ الصَّلَاةِ رِضْوَانُ اللَّهِ وَالْوَقْتُ الْآخَرُ عَفْوُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اول وقت نماز پڑھنا اللہ کی رضا مندی اور آخر وقت اللہ کے عفو درگزر کا باعث ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 607

وَعَن أم فَرْوَة قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يُرْوَى الْحَدِيثُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ وَهُوَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْد أهل الحَدِيث
ام فروہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے افضل عمل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اول وقت میں نماز ادا کرنا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ۔ صحیح ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث صرف عبداللہ (بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب مدنی) سے مروی ہے ، اور وہ محدثین کے ہاں قوی نہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 608

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لِوَقْتِهَا الْآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی پوری زندگی میں صرف دو مرتبہ نماز کو آخر وقت میں پڑھا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 609

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی پر رہے گی ۔‘‘ یا فرمایا :’’ فطرت پر رہے گی ، جب تک وہ ستارے ظاہر ہونے سے پہلے نماز مغرب پڑھتی رہے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 610

وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن الْعَبَّاس
دارمی نے اسے عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 611

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَن أشق على أمتِي لأمرتهم أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نصفه» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ، نماز عشاءکو تہائی رات یا نصف شب تک مؤخر کرنے کا حکم فرماتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 612

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ تُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس نماز (یعنی عشاء ) کو دیر سے پڑھو ، کیونکہ اس کی وجہ سے تمہیں دیگر امتوں پر فضیلت دی گئی ہے ، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 613

وَعَن النُّعْمَان بن بشير قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اس نماز یعنی نماز عشاءکے وقت کے بارے میں خوب جانتا ہوں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیسری رات کے چاند کے غروب ہونے کے وقت اسے پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 614

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَلَيْسَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ: «فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ»
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نماز فجر ، روشن ہو جانے پر پڑھو کیونکہ وہ زیادہ باعث اجر ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، نسائی میں یہ الفاظ نہیں :’’ کہ وہ زیادہ باعث اجر ہے ۔‘‘ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 615

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْس»
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز عصر ادا کرتے ، پھر اونٹ نحر کیا جاتا ، اس کے دس حصے کیے جاتے ، پھر اسے پکایا جاتا تو ہم غروب آفتاب سے پہلے پکا ہوا گوشت کھا لیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 616

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: «إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونِ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ» ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاة وَصلى. رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کر رہے تھے ، پس آپ تہائی رات گزر جانے یا اس کے بعد تشریف لائے ، ہم نہیں جانتے کہ کسی کام نے آپ کو اپنے اہل خانہ میں مصروف رکھا یا اس کے علاوہ کوئی کام تھا ، پس جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اپنے حجرہ سے) باہر تشریف لائے تو فرمایا :’’ تم نماز کا انتظار کر رہے ہو ، تمہارے علاوہ کوئی اہل دین اس کا انتظار نہیں کر رہا ، اگر امت کے لیے گراں نہ ہوتا میں انہیں اسی وقت پڑھاتا ۔‘‘ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 617

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتكُمْ شَيْئا وَكَانَ يخف الصَّلَاة. رَوَاهُ مُسلم
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہاری نمازوں کے اوقات کے مطابق ہی نمازیں پڑھا کرتے تھے ، لیکن آپ نماز عشاء تمہاری نماز سے کچھ تاخیر سے پڑھا کرتے تھے ، اور آپ نماز ہلکی پڑھایا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 618

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَتَمَة فَلم يخرج إِلَيْنَا حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَقَالَ: «خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ» فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قد صلوا وَأخذُوا مضاجعهم وَإِنَّكُمْ لم تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھنے کا ارادہ کیا ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تقریباً نصف شب گزر جانے کے بعد تشریف لائے تو فرمایا :’’ اپنی جگہ پر بیٹھے رہو ۔‘‘ چنانچہ ہم اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ، اور جب کہ تم اس وقت تک نماز ہی میں رہو گے جب تک تم نماز کے انتظار میں رہو گے اور اگر ضعیف کے ضعف ، بیمار کی بیماری کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف شب تک مؤخر کرتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 619

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نماز ظہر جلد پڑھنے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم سے زیادہ سخت تھے اور نماز عصر جلدی پڑھنے میں تم ان سے زیادہ سخت ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 620

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ معمول تھا کہ گرمی ہوتی تو آپ نماز (ظہر) دیر سے پڑھتے اور جب سردی ہوتی تو جلدی فرماتے تھے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 621

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُهَا فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا» . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُصَلِّي مَعَهم؟ قَالَ: «نعم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ میرے بعد تمہارے کچھ ایسے امراء ہوں گے کہ چند چیزیں انہیں وقت پر نماز پڑھنے سے غافل کر دیں گی حتیٰ کہ اس کا وقت گزر جائے گا چنانچہ (جب یہ صورت حال ہو تو) تم نمازیں وقت پر ادا کرنا ۔‘‘ کسی شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں ان کے ساتھ بھی پڑھ لوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 622

وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ فَهِيَ لَكُمْ وَهِيَ عَلَيْهِمْ فَصَلُّوا مَعَهُمْ مَا صَلَّوُا الْقِبْلَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
قبیصہ بن وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے بعد تمہارے کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو نمازیں دیر سے پڑھیں گے ، چنانچہ وہ تمہارے لیے باعث ثواب اور ان کے لیے موجب گناہ ہونگی ، پس جب تک وہ قبلہ رخ نمازیں پڑھتے رہیں تو تم ان کے ساتھ نماز پڑھو ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 623

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ وَنَزَلَ بِكَ مَا تَرَى وَيُصلي لنا إِمَام فتْنَة وننحرج. فَقَالَ: الصَّلَاة أحسن مَا يعْمل النَّاس فَإِذا أحسن النَّاس فَأحْسن مَعَهم وَإِذا أساؤوا فاجتنب إساءتهم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبیداللہ بن عدی بن خیار ؓ سے روایت ہے کہ وہ عثمان ؓ کے پاس گئے جبکہ وہ محصور تھے ، تو انہوں نے کہا : آپ امیر المومنین ہیں اور آپ پریشانی میں مبتلا ہیں ، جبکہ فتنے کا سرغنہ ہمیں نماز پڑھاتا ہے ، اور ہم اسے گناہ سمجھتے ہیں ، انہوں (عثمان ؓ) نے فرمایا : نماز مسلمانوں کا بہترین عمل ہے ، جب لوگ اچھا کام کریں ، تو تم بھی ان کے ساتھ مل کر اچھا کرو ، اور جب وہ برا کریں تو تم ان کی برائی سے دور رہو ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 624

عَن عمَارَة بن روبية قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعصر. (رَوَاهُ مُسلم)
عمارہ بن رویبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے یعنی فجر اور نماز عصر پڑھے تو وہ جہنم میں نہیں جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 625

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ»
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر) پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 626

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يصلونَ وأتيناهم وهم يصلونَ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رات اور دن کے وقت فرشتے یکے بعد دیگرے تمہارے پاس آتے رہتے ہیں اور وہ نماز فجر اور نماز عصر میں اکٹھے ہوتے ہیں ، پھر وہ فرشتے ، جنہوں نے تمہارے ہاں رات بسر کی ہوتی ہے ، اوپر چڑھتے ہیں ، ان کا رب ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان کے متعلق بہتر جانتا ہے ، تم نے میرے بندوں کو کس حال (یعنی آخری عمل) پر چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، اور جب ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 627

وَعَن جُنْدُب الْقَسرِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبُّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ الْمَصَابِيحِ الْقشيرِي بدل الْقَسرِي
جندب قسری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص نماز فجر پڑھ لیتا ہے تو وہ اللہ کے عہدو امان میں آجاتا ہے ، چنانچہ تم ایسا کوئی کام نہ کرنا جس کی وجہ سے اللہ اپنے عہدو امان کے بارے میں تمہارا مؤاخذہ کرے ، کیونکہ وہ اپنے عہدو امان کے بارے میں جس شخص سے مؤاخذہ کرے گا تو وہ اسے پکڑ کر اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔ متفق علیہ ۔ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں القسری کے بجائے القشیری مذکور ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 628

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأتوهما وَلَو حبوا»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر لوگ اذان اور صف اول کی فضیلت کے بارے میں جان لیں پھر اگر انہیں اس کے حصول کے لیے قرعہ اندازی کرنی پڑے تو وہ ضرور قرعہ اندازی کریں ، اور اگر وہ نماز کے لیے جلدی آنے کی فضیلت کے بارے میں جان لیں تو وہ اس کی طرف ضرور سبقت حاصل کریں ، اور اگر انہیں نماز عشاء اور نماز فجر کی اہمیت کاپتہ چل جائے تو وہ انہیں پڑھنے کے لیے ضرور (مسجد میں) آئیں خواہ انہیں سرین یا پاؤں اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 629

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ صَلَاةً أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِق مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأتوهما وَلَو حبوا»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نماز فجر اور نماز عشاء منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری نمازیں ہیں ، لیکن اگر انہیں ان کے اجر و ثواب کا پتہ چل جائے تو وہ انہیں پڑھنے کے لیے ضرور (مسجد میں) آئیں ، خواہ انہیں سرین یا پاؤں اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 630

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْل كُله» . رَوَاهُ مُسلم
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے نماز عشاء با جماعت ادا کی تو گویا اس نے نصف شب کا قیام کیا اور جس نے نماز صبح با جماعت ادا کی تو گویا اس نے پوری رات کا قیام کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 631

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ على اسْم صَلَاتكُمْ الْمغرب» . قَالَ: «وَتقول الْأَعْرَاب هِيَ الْعشَاء»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دیہاتی لوگ ، تمہاری نماز مغرب کے نام کے بارے میں ، تم پر غالب نہ آ جائیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : دیہاتی اسے عشاء کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 632

وَقَالَ: لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ فَإِنَّهَا تعتم بحلاب الْإِبِل. رَوَاهُ مُسلم
اور فرمایا :’’ دیہاتی لوگ ، تمہاری عشاء کے نام کے بارے میں تم پر غالب نہ آ جائیں ، کیونکہ اس کا نام تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں عشاء ہے ، کیونکہ وہ اونٹوں کا دودھ دھونے کی وجہ سے اسے عتمہ کہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 633

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى: صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا :’’ انہوں نے ہمیں نماز عصر سے روک دیا ، اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 634

عَن ابْن مَسْعُود وَسمرَة بن جُنْدُب قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن مسعود اور سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ درمیانی نماز سے مراد نماز عصر ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 635

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: (إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا) قَالَ: «تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ ، اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ بے شک نماز فجر کا پڑھنا (فرشتوں کی) حاضری کا وقت ہے ۔‘‘ کے بارے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ رات اور دن کے فرشتوں کی حاضری کا وقت ہے ۔‘‘ صحیح رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 636

عَن زيد بن ثَابت وَعَائِشَة قَالَا: الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ رَوَاهُ مَالِكٌ عَن زيد وَالتِّرْمِذِيّ عَنْهُمَا تَعْلِيقا
زید بن ثابت اور عائشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، درمیان والی نماز سے مراد نماز ظہر ہے ۔ امام مالک ؒ نے زید ؓ سے اور امام ترمذی ؒ نے ان دونوں سے معلق روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 637

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَنَزَلَتْ (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى) وَقَالَ إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز ظہر بہت جلد پڑھا کرتے تھے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ پر سب سے زیادہ پر مشقت نماز یہی تھی ، پس یہ آیت نازل ہوئی ،’’ نمازوں کی پابندی و حفاظت کرو اور بالخصوص نماز وسطیٰ کی ۔‘‘ راوی نے کہا : کیونکہ اس سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں ، اور اس کے بعد بھی دو نمازیں ہیں ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 638

وَعَن مَالك بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ كَانَا يَقُولَانِ: الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاة الصُّبْح. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
امام مالک ؒ سے روایت ہے کہ انہیں علی بن ابی طالب ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کے متعلق پتہ چلا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ درمیان والی نماز سے مراد نماز فجر ہے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 639

وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَن ابْن عَبَّاس وَابْن عمر تَعْلِيقا
امام ترمذی ؒ نے ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ سے اسے معلق روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 640

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الْإِيمَانِ وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص نماز فجر کے لیے جاتا ہے تو وہ ایمان کا پرچم اٹھا کر جاتا ہے ، اور جو شخص بازار کی طرف جاتا ہے ، تو وہ ابلیس کا پرچم اٹھا کر جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 641

عَن أنس قَالَ: ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ فَذَكَرُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ. قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَذَكَرْتُهُ لِأَيُّوبَ. فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَة
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، بعض صحابہ ؓ نے (اعلان نماز کے لیے) آگ جلانے اور ناقوس بجانے کا ذکر کیا اور بعض صحابہ ؓ نے یہودونصاریٰ (سے مشابہت ) کا ذکر کیا ، تو بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ کلمات اذان دو دو مرتبہ اور کلمات اقامت ایک ایک مرتبہ کہیں ۔ متفق علیہ ۔ اسماعیل بیان کرتے ہیں ، میں نے ایوب سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : مگر ((قد قامت الصلٰوۃ)) کے الفاظ دو مرتبہ کہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 642

وَعَن أبي مَحْذُورَة قَالَ: أَلْقَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ فَقَالَ: قُلِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. ثُمَّ تَعُودَ فَتَقُولَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابومحذورہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنفس نفیس مجھے اذان سکھائی چنانچہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کہو : اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، پھر تم دوبارہ کہو : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، نماز کی طرف آؤ نماز کی طرف آؤ ، فلاح و کامیابی کی طرف آؤ ، فلاح و کامیابی کی طرف آؤ ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 643

عَن ابْن عمر قَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ’’ قد قامت الصلوۃ ، قد قامت الصلوۃ کے سوا ایک ایک مرتبہ تھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 644

وَعَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ابومحذورہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 645

وَعَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي سنة الْأَذَان قَالَ: فَمسح مقدم رَأسه. وَقَالَ: وَتقول اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ ثُمَّ تَقُولَ: أَشْهَدُ أَن لَا إِلَه إِلَّا الله أشهد أَن لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَن لَا إِلَه إِلَّا الله أشهد أَن مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابومحذورہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے اذان کا طریقہ سکھا دیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیر کر فرمایا :’’ کہو : اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اپنی آواز بلند کرو ، پھر کہو : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، یہ کلمات کہتے ہوئے آواز پست رکھو ، پھر یہ کہتے ہوئے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اپنی آواز بلند کرو ، نماز کی طرف آؤ ، نماز کی طرف آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ ، کامیابی کی طرف آؤ ، اگر نماز فجر ہو تو کہو : نماز نیند سے بہتر ہے ، نماز نیند سے بہتر ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 646

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُثَوِّبَنَّ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: أَبُو إِسْرَائِيلَ الرَّاوِي لَيْسَ هُوَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَ أهل الحَدِيث
بلال ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ نماز فجر (کی اذان ) کے علاوہ کسی نماز (کی اذان) میں ((الصلوٰۃ خیر من النوم)) نہ کہنا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : ابواسرائیل راوی محدثین کے نزدیک قوی نہیں ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 647

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ: «إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ وَإِذا أَقمت فاحدر وَاجعَل بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ وَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: لَا نعرفه إِلَّا ن حَدِيث عبد الْمُنعم وَهُوَ إِسْنَاد مَجْهُول
جابر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلال ؓ سے فرمایا :’’ جب تم اذان کہو تو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ کہو ، اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو ، اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ رکھو کہ کھانا کھانے والا شخص اپنے کھانے سے ، پینے والا شخص اپنے مشروب سے جبکہ قضائے حاجت کے لیے جانے والا شخص اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے ، اور جب تک مجھے دیکھ نہ لو نماز کے لیے کھڑے نہ ہوا کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : ہم اسے صرف عبدالمنعم کی حدیث سے پہچانتے ہیں ، اور اس کی اسناد مجہول ہے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 648

وَعَن زِيَاد بن الْحَارِث الصدائي قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن أؤذن فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ» فَأَذَّنْتُ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن أَخا صداء قد أذن وَمن أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
زیاد بن حارث صُدائی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اذان دینے کا حکم فرمایا تو میں نے اذان دی ، تو بلال ؓ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ صُداء قبیلے کے شخص نے اذان دی ہے ، اور جو اذان دے وہی اقامت کہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 649

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قدمُوا الْمَدِينَة يَجْتَمعُونَ فيتحينون الصَّلَاة لَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ قُم فَنَادِ بِالصَّلَاةِ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب مسلمان مدینہ تشریف لائے تو وہ اکٹھے جاتے اور نماز کے وقت کا اندازہ لگاتے جبکہ نماز کے لیے کوئی منادی نہیں کرتا تھا ، ایک روز انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، تو ان میں سے کسی نے کہا : نصاریٰ جیسا ناقوس بنا لو اور کسی نے کہا کہ یہود کے سینگ جیسا کوئی سینگ بنا لو ، عمر ؓ نے فرمایا : تم کسی آدمی کو کیوں نہیں بھیج دیتے کہ وہ نماز کے لیے منادی کرے ، چنانچہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلال ! اٹھو اور نماز کے لیے آواز دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 650

وَعَن عبد الله بن زيد بن عبد ربه قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ فَقلت نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لَهُ بَلَى قَالَ فَقَالَ تَقُولَ اللَّهُ أَكْبَرُ إِلَى آخِرِهِ وَكَذَا الْإِقَامَةُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ فَقَالَ: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْك» فَقُمْت مَعَ بِلَال فَجعلت ألقيه عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ قَالَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَيَقُول وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا أَرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْإِقَامَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَكِنَّهُ لَمْ يُصَرح قصَّة الناقوس
عبداللہ بن زید بن عبدربہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نماز کے لیے جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم فرمایا تو میں نے خواب میں ایک شخص کو ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے دیکھا ، میں نے کہا : اللہ کے بندے ! کیا تم ناقوس بیچتے ہو ؟ اس نے کہا تم اسے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : ہم اس کے ذریعے نماز کے لیے بلائیں گے ، اس نے کہا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور بتاؤ ، راوی بیان کرتے ہیں ، اس نے کہا : تم اللہ اکبر سے آخر اذان تک کہو ، اور اسی طرح اقامت ، پس جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں اپنا خواب سنایا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ان شاءاللہ یہ سچا خواب ہے ، آپ بلال کے ساتھ کھڑے ہوں اور آپ نے جو دیکھا ہے وہ بلال کو سکھا دو ، وہ ان کلمات کے ساتھ اذان دے ، کیونکہ اس کی آواز آپ سے زیادہ بلند ہے ۔‘‘ چنانچہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو کر انہیں اذان کے کلمات سکھاتا رہا اور وہ ان کے ساتھ اذان دیتے رہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے اپنے گھر میں اذان کی آواز سنی تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، جو کچھ انہیں دکھایا گیا ہے بالکل وہی کچھ میں نے دیکھا ہے ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا شکر ہے ۔‘‘ حسن ۔ ابوداؤد ، دارمی ، ابن ماجہ ، البتہ انہوں نے اقامت کا ذکر نہیں کیا ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ، لیکن انہوں نے واقعہ ناقوس کی صراحت نہیں کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 651

وَعَن أبي بكرَة قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نماز فجر کے لیے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوا تو آپ جس آدمی کے پاس سے گزرتے تو اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا اپنے پاؤں کے ساتھ اسے ہلا دیتے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 652

وَعَن مَالك بَلَغَهُ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ جَاءَ عُمَرَ يُؤْذِنُهُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَوَجَدَهُ نَائِمًا فَقَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَجْعَلَهَا فِي نِدَاءِ الصُّبْح. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
مالک ؒ سے روایت ہے کہ انہیں پتہ چلا کہ مؤذن عمر ؓ کو نماز فجر کی اطلاع کرنے آیا تو اس نے انہیں سویا ہوا دیکھ کر کہا :’’ نماز نیند سے بہتر ہے ۔‘‘ عمر ؓ نے اسے حکم فرمایا کہ ان کلمات کو صبح کی اذان میں شامل کر لو ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 653

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ: «إِنَّه أرفع لصوتك» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عبدالرحمن بن سعد بن عمار بن سعد ؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اپنے والد سے اور اس نے سعد بن عمار کے دادا سعد بن عائذ جو کہ مؤذن رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے کے حوالے سے حدیث بیان کی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلال ؓ کو کانوں میں انگلیاں داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :’’ اس سے تمہاری آواز زیادہ بلند ہو جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 654

عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أعناقا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قیامت کے دن ، مؤذن حضرات کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 655

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «إِذا نُودي للصَّلَاة أدبر الشَّيْطَان وَله ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قَضَى النِّدَاءَ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قَضَى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرجل لَا يدْرِي كم صلى»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اذان کی آواز نہیں سنتا ، پس جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو وہ واپس آ جاتا ہے ، اور پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، اور پھر جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو وہ واپس آ جاتا ہے ، اور وہ آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے ، اور کہتا ہے : فلاں چیز یاد کر ، فلاں چیز یاد کر ، ایسی باتیں یاد کراتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں حتیٰ کہ آدمی کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 656

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مؤذن کی آواز کو جن و انس اور جو دوسری چیزیں سنتی ہیں وہ (سب) قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دیں گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 657

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ. رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود پڑھو ، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر تم اللہ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو ، کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے ، جو اللہ کے صرف ایک بندے کے شایان شان ہے ، میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 658

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ أَحَدُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دخل الْجنَّة» . رَوَاهُ مُسلم
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب مؤذن کہتا ہے ، اللہ اکبر ’’اللہ سب سے بڑا ہے‘‘، اور تم میں سے بھی کوئی خلوص قلب سے اللہ اکبر کہتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور وہ شخص بھی یہی کلمات کہتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور وہ شخص بھی یہی کلمات کہتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : نماز کی طرف آؤ ، تو وہ شخص کہتا ہے: ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ))’’ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی تو فیق سے ہے ‘‘۔ پھر وہ کہتا ہے : کامیابی کی طرف آؤ ، تو وہ شخص کہتا ہے : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ))، پھر وہ کہتا ہے ، اللہ اکبر ، تو وہ شخص بھی اللہ اکبر کہتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : لا الہ الا اللہ ، تو وہ شخص بھی کہتا ہے : ((لا الہ الا اللہ)) اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ‘‘۔ تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 659

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اذان سن کر یہ دعا پڑھے : اے اللہ ! اس دعوت کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب ! محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وسیلہ و فضیلت عطا فرما ، اور انہیں مقام محمود پر فائز فرمایا ، جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے ، تو اس کے لیے روز قیامت میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 660

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَكَانَ يَسْتَمِعُ الْأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى الْفِطْرَةِ» ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَرَجْتَ من النَّار» فنظروا فَإِذا هُوَ راعي معزى. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب فجر طلوع ہو جاتی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حملہ کیا کرتے تھے ، اور آپ بڑے غور سے اذان سننے کی کوشش کرتے ، اگر آپ اذان سن لیتے تو حملہ نہ کرتے ورنہ حملہ کر دیتے ، ایک مرتبہ آپ نے کسی شخص کو ’’ اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، کہتے ہوئے سنا ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ شخص فطرت (دین) پر ہے ۔‘‘ پھر اس شخص نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم جہنم سے آزاد ہو گئے ۔‘‘ پس صحابہ نے اسے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 661

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ذَنبه» . رَوَاهُ مُسلم
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اذان سن کر یہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور یہ کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں اللہ کے رب ہونے ، محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رسول اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں ، تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 662

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ» ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ «لِمَنْ شَاءَ»
عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان (نفل) نماز ہے ، ہر دو اذانوں کے مابین نماز ہے ، پھر تیسری مرتبہ فرمایا :’’ اس شخص کے لیے جو پڑھنا چاہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 663

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مؤتمن الله أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَفِي أُخْرَى لَهُ بِلَفْظِ المصابيح
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ امام (نماز کا) نگہبان ہے جبکہ مؤذن (اوقات نماز کا) امانت دار ہے ، اے اللہ ! اماموں کی راہنمائی فرما اور اذان دینے والوں کی مغفرت فرما ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، شافعی ، اور امام شافعی کی دوسری روایت مصابیح کے الفاظ سے مروی ہے ۔ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 664

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من أذن سبع سِنِين محتسبا كتبت لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه.
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ثواب کی نیت سے سات برس اذان دیتا ہے تو اس کے لیے جہنم سے خلاصی لکھ دی جاتی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 665

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تیرا رب پہاڑ کی چوٹی پر بکریاں چرانے والے اس شخص سے خوش ہوتا ہے جو نماز کے لیے اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے ، چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے اس بندے کو دیکھو ، وہ اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے ، وہ مجھ سے ڈرتا ہے ، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل فرما دیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 666

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبَدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوْلَاهُ وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ راضون وَرجل يُنَادي بالصلوات الْخمس فِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین اشخاص روز قیامت کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے ، وہ غلام جس نے اللہ اور اپنے مالک کا حق ادا کیا ، وہ امام جس سے اس کے مقتدی خوش ہوں اور وہ شخص جو روزانہ پانچوں نمازوں کے لیے اذان دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 667

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مد صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَشَاهِدُ الصَّلَاة يكْتب لَهُ خمس وَعِشْرُونَ حَسَنَة وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى النَّسَائِيُّ إِلَى قَوْلِهِ: «كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ» . وَقَالَ: «وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ من صلى»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مؤذن کو اس کی آواز کے مطابق مغفرت سے نوازا جاتا ہے ، ہر خشک و تر اس کے حق میں گواہی دیتی ہے ، اور نماز کے لیے آنے والے شخص کے لیے پچیس نمازوں کا ثواب لکھا جاتا ہے ، اور اس سے دو نمازوں کے مابین ہونے والے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اسنادہ حسن ۔ امام نسائی نے ’’ہر خشک و تر‘‘ کے الفاظ تک روایت کیا ہے ، اور فرمایا :’’ نماز پڑھنے والے کی مثل اسے بھی اجر ملتا ہے ۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 668

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُول الله اجْعَلنِي إِمَام قومِي فَقَالَ: «أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عثمان بن ابی العاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم ان کے امام ہو ، ان کے کمزور لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے امامت کرنا ، اور کسی ایسے شخص کو مؤذن بنانا جو اذان دینے پر اجرت وصول نہ کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 669

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن أَقُول عِنْد أَذَان الْمغرب: «اللَّهُمَّ إِن هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تعلیم دی کہ میں مغرب کی اذان کے وقت یہ دعا پڑھوں :’’ اے اللہ ! یہ (یعنی اذان مغرب) تیری رات آنے ، تیرے دن کے جانے اور مؤذن کی آواز کا وقت ہے ، مجھے بخش دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 670

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَوْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَلَمَّا أَنْ قَالَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا» وَقَالَ فِي سَائِر الْإِقَامَة: كنحو حَدِيث عمر رَضِي الله عَنهُ فِي الْأَذَان. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ یا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کوئی دوسرے صحابی بیان کرتے ہیں کہ بلال ؓ نے اقامت شروع کی ، پس جب انہوں نے کہا :’’ نماز کھڑی ہو چکی ‘‘ تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اسے قائم و دائم رکھے ۔‘‘ اور باقی اقامت میں اذان کے متعلق عمر ؓ سے مروی حدیث کی طرح کلمات کہے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 671

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَان وَالْإِقَامَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اذان و اقامت کے مابین دعا رد نہیں کی جاتی ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 672

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا» وَفِي رِوَايَةٍ: «وَتَحْتَ الْمَطَرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ «وَتَحْت الْمَطَر»
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں یا فرمایا : کم ہی رد کی جاتی ہیں ، اذان کے وقت کی جانے والی دعا اور گھمسان کی لڑائی کے وقت کی جانے والی دعا ، اور ایک روایت میں ہے ، بارش کے وقت (کی جانے والی دعا)۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی ، لیکن دارمی نے ’’بارش کے وقت‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 673

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ كَمَا يَقُولُونَ فَإِذَا انْتَهَيْتَ فسل تعط» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مؤذن تو ہم پر فضیلت لے گئے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جیسے وہ کہیں ویسے ہی تم کہو ، پس جب تم (جواب دینے سے) فارغ ہو جاؤ تو (اللہ سے) مانگو ، تمہیں عطا کیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 674

عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب شیطان نماز کے لیے اذان سنتا ہے تو وہ مقام روحاء تک بھاگ جاتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، روحاء مدینہ سے چھتیس میل کی مسافت پر ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 675

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: (إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ مُؤَذِّنُهُ حَتَّى إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ: قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ ذَلِك. رَوَاهُ أَحْمد
علقمہ بن وقاص ؒ بیان کرتے ہیں ، میں معاویہ ؓ کے پاس تھا ، جب ان کے مؤذن نے اذان کہی تو معاویہ ؓ نے بھی اپنے مؤذن کے کلمات کہے حتیٰ کہ جب اس نے کہا : اؤ نماز کی طرف ، تو انہوں نے کہا : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ))’’ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ممکن ہے ۔‘‘ پس جب اس نے کہا : ((حی علی الفلاح)) تو انہوں نے کہا : ((لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم)) اور اس کے بعد جیسے مؤذن نے کہا ، ویسے ہی انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی فرمایا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 676

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي فَلَمَّا سَكَتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينا دخل الْجنَّة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے ۔ بلال ؓ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے ، چنانچہ جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص خلوص دل سے یہ کلمات کہے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 677

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ قَالَ: «وَأَنَا وَأَنَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مؤذن کو اللہ کے معبود ہونے اور محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہوئے سنتے تو فرماتے :’’ اور میں بھی ، اور میں بھی (گواہی دیتا ہوں)۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 678

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَلِكُلِّ إِقَامَة ثَلَاثُونَ حَسَنَة» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابن عمر ؓ سے سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بارہ سال اذان دے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ، اور اس کی اذان کی وجہ سے اس کے حق میں یومیہ ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت کے بدلے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 679

وَعَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِالدُّعَاءِ عِنْدَ أَذَانِ الْمغرب. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، اذان مغرب کے وقت ہمیں دعا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 680

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن بِلَالًا يُؤذن بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُوم» ثمَّ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ: أَصبَحت أَصبَحت
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلال (طلوع فجر سے پہلے) رات کے وقت اذان دیتے ہیں ، پس جب تک ام مکتوم اذان نہ دیں تم (سحری) کھاتے رہو ۔‘‘ روای بیان کرتے ہیں ، ابن مکتوم ؓ نابینا شخص تھے ، اور جب تک انہیں یہ نہ کہا جاتا کہ صبح ہو گئی ، وہ اذان نہیں دیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 681

وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ وَلَكِنِ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفق» رَوَاهُ مُسلم وَلَفظه لِلتِّرْمِذِي
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اذان بلال اور فجر کاذب تمہیں سحری کھانے پینے سے نہ روکے ، لیکن افق میں پھیل جانے والی صبح (صبح صادق ہونے پر کھانے پینے سے رک جاؤ)۔‘‘ مسلم ، اور یہ الفاظ ترمذی کے ہیں ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 682

وَعَن مَالك بن الْحُوَيْرِث قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فَقَالَ: «إِذَا سَافَرْتُمَا فأذنا وأقيما وليؤمكما أكبركما» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور میرا چچا زاد ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم سفر کرو تو تم اذان دو (ایک اذان دے دوسرا جواب دے) اور اقامت کہو اور تم سے جو بڑا ہے وہ تمہاری امامت کرائے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 683

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي فَإِذا حضرت الصَّلَاة فليؤذن لكم أحدكُم وليؤمكم أكبركم»
مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا :’’ تم ویسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان دے ، پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 684

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ: اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ. فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَال إِلَى رَاحِلَته موجه الْفَجْرِ فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيْ بِلَالُ» فَقَالَ بِلَالٌ أَخَذَ بِنَفْسَيِ الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ قَالَ: «اقْتَادُوا» فَاقْتَادَوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذكرهَا فَإِن الله قَالَ (أقِم الصَّلَاة لذكري)
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوہ خیبر سے واپس تشریف لائے تو آپ نے رات بھر سفر جاری رکھا ، حتیٰ کہ آپ کو اونگھ آنے لگی تو آپ نے رات کے آخری حصے میں نیند کی غرض سے پڑاؤ ڈالا اور بلال ؓ سے فرمایا :’’ آپ رات کے وقت پہرہ دیں ۔‘‘ چنانچہ بلال ؓ نے اس قدر نوافل پڑھے جس قدر ان کے مقدر میں تھے جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم او ر آپ کے صحابہ سو گئے ، جب فجر کا وقت قریب آ پہنچا تو بلال ؓ نے فجر (مشرق) کی طرف رخ کر کے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا لی تو بلال ؓ پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے سو گئے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے نہ بلال ؓ اور نہ ہی آپ کا کوئی اور صحابی ، حتیٰ کہ ان پر دھوپ آ گئی ، تو ان میں سے سب سے پہلے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھبرا کر فرمایا :’’ بلال ! بلال ؓ نے عرض کیا : (اللہ کے رسول !) جو چیز آپ پر غالب آئی وہی چیز مجھ پر غالب آ گئی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (یہاں سے) اپنے جانوروں کو چلاؤ ۔‘‘ انہوں نے تھوڑی دور تک اپنے جانوروں کو ہانکا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا ، اور بلال ؓ کو حکم فرمایا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی ، اور آپ نے انہیں نماز پڑھائی ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا :’’ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو وہ اس کے یاد آنے پر اسے پڑھ لے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 685

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خرجت
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو تم کھڑے نہ ہوا کرو حتیٰ کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں (حجرہ شریف سے) باہر آ چکا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 686

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَت الصَّلَاة فَلَا تأتوها تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فاتكم فَأتمُّوا» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ» وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو پھر نماز کی طرف دوڑتے ہوئے مت آؤ بلکہ اطمینان و سکون اور وقار کے ساتھ آؤ ، پس تم جو پا لو پڑھ لو ، اور جو تم سے رہ جائے اسے پورا کر لو ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے :’’ کیونکہ جب تم میں سے کوئی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 687

عَن زيد بن أسلم أَنه قَالَ: عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَوَكَّلَ بِلَالًا أَنْ يُوقِظَهُمْ لِلصَّلَاةِ فَرَقَدَ بِلَالٌ وَرَقَدُوا حَتَّى اسْتَيْقَظُوا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَيْهِمُ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ الْقَوْمُ وَقَدْ فَزِعُوا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْكَبُوا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي وَقَالَ: «إِنَّ هَذَا وَادٍ بِهِ شَيْطَانٌ» . فَرَكِبُوا حَتَّى خَرَجُوا مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي ثُمَّ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْزِلُوا وَأَنْ يَتَوَضَّئُوا وَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ لِلصَّلَاةِ أَوْ يُقِيمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِم وَقَدْ رَأَى مِنْ فَزَعِهِمْ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَنَا وَلَوْ شَاءَ لَرَدَّهَا إِلَيْنَا فِي حِينٍ غَيْرِ هَذَا فَإِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ نَسِيَهَا ثُمَّ فَزِعَ إِلَيْهَا فَلْيُصَلِّهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا» ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ أَتَى بِلَالًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فأضجعه فَلم يَزَلْ يُهَدِّئُهُ كَمَا يُهَدَّأُ الصَّبِيُّ حَتَّى نَامَ» ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَخْبَرَ بِلَالٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. رَوَاهُ مَالك مُرْسلا
زید بن اسلم ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات طریق مکہ میں رات کے آخری حصے میں پڑاؤ ڈالا ، اور بلال ؓ کو حکم فرمایا کہ وہ انہیں نماز کے لیے بیدار کرے ، پس بلال ؓ اور وہ سب سو گئے حتیٰ کہ وہ سب بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا ، جب وہ بیدار ہوئے تو گھبرا گئے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اس وادی سے نکل جانے کا حکم فرمایا ، اور فرمایا : اس وادی میں شیطان ہے ، پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سوار ہوئے حتیٰ کہ وہ اس وادی سے نکل گئے ، پھر رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ پڑاؤ ڈالیں اور وضو کریں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلال ؓ کو نماز کے لیے اذان یا اقامت کہنے کا حکم فرمایا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو ان کی بے چینی دیکھ کر فرمایا :’’ لوگو ! بے شک اللہ نے ہماری روحیں قبض کیں ، اگر وہ چاہتا تو انہیں اس وقت کے علاوہ کسی اور وقت (طلوع آفتاب سے پہلے) ہماری طرف لوٹا دیتا ، جب تم میں سے کوئی نماز کے وقت سو جائے یا وہ اسے بھول جائے پھر اسے اس کے متعلق آگاہی ہو جائے تو وہ اسے ویسے ہی پڑھے جیسے وہ اسے اس کے وقت میں پڑھا کرتا تھا ‘‘، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر صدیق ؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ شیطان ، بلال کے پاس آیا جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اس نے انہیں لٹا دیا ، پھر وہ انہیں تھپکی دیتا رہا ، جیسے بچے کو تھپکی دی جاتی ہے ، حتیٰ کہ وہ سو گئے َ‘‘ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلال ؓ کو بلایا تو بلال ؓ نے رسول للہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ویسے ہی بتایا جیسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر ؓ کو بتایا تھا ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ امام مالک ؒ نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 688

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَصْلَتَانِ مُعَلَّقَتَانِ فِي أَعْنَاقِ الْمُؤَذِّنِينَ لِلْمُسْلِمِينَ: صِيَامُهُمْ وَصَلَاتُهُمْ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسلمانوں کے دو امور کی ذمہ داری و حفاظت مؤذنوں کی گردنوں میں معلق ہے ، ان کے روزے اور ان کی نمازیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 689

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ وَقَالَ: «هَذِه الْقبْلَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے تو آپ نے اس کے تمام اطراف میں دعا فرمائی لیکن آپ نے نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ آپ وہاں سے باہر تشریف لے آئے ، پس جب باہر تشریف لائے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا :’’ یہ (کعبہ) قبلہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 690

وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
امام مسلم نے اسے ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 691

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دخل الْكَعْبَة وَأُسَامَة بن زيد وبلال وَعُثْمَان بن طَلْحَة الحَجبي فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: جعل عمودا عَن يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةِ ثُمَّ صلى
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو عثمان نے بیت اللہ کا دروازہ بند کر دیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑی دیر کے لیے وہاں ٹھہرے ، اور جب باہر تشریف لائے تو میں نے بلال ؓ سے پوچھا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (اندر) کیا کیا ؟ انہوں نے فرمایا : آپ نے ایک ستون اپنے بائیں ، دو ستون اپنے دائیں اور تین ستون اپنے پیچھے کر لیے ، ان دنوں بیت اللہ چھ ستونوں پر تھا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 692

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَام»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری اس مسجد (مسجد نبوی) میں ایک نماز ، مسجد حرام کے علاوہ ، دیگر مساجد کی ہزار نماز سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 693

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین مساجد ، مسجد حرام ، مسجد اقصیٰ اور میری اس مسجد ، کے سوا کسی اور مسجد کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 694

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ومنبري على حَوْضِي
ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کا باغیچہ ہے ، اور میرا منبر میرے حوض (کوثر) پر ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 695

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قبَاء كل سبت مَا شيا وراكبا فَيصَلي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ہفتے ، کبھی پیدل اور کبھی سواری پر مسجد قبا تشریف لے جایا کرتے تھے ، اور وہاں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 696

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلَاد إِلَى الله أسواقها» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 697

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ»
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر مسجد بناتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 698

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’جو شخص صبح و شام جتنی مرتبہ مسجد میں جاتا ہے ، اللہ اس کے لیے اتنی مرتبہ ہی جنت میں ضیافت کا اہتمام فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 699

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أجرا من الَّذِي يُصَلِّي ثمَّ ينَام»
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جتنی دور سے چل کر نماز پڑھنے آتا ہے تو وہ اسی قدر زیادہ اجر حاصل کرتا ہے ، اور جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو وہ اس شخص سے زیادہ اجر حاصل کرتا ہے جو اکیلا نماز پڑھ کر سو جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 700

وَعَن جَابر قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ: «بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ» . قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ. فَقَالَ: «يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَاركُم دِيَاركُمْ تكْتب آثَاركُم» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، مسجد (نبوی) کے آس پاس کچھ اراضی خالی ہوئی تو بنوسلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا تو آپ نے انہیں فرمایا :’’ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم مسجد کے قریب آنا چاہتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! ہمارا ارادہ تو یہی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بنوسلمہ ! اپنے گھروں ہی میں رہو ، تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں ، اپنے گھروں ہی میں رہو ، تمہارے (مسجد کی طرف اٹھنے والے) قدم لکھے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 701

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَبْعَة يظلهم الله تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ إِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ وَرجل قلبه مُعَلّق بِالْمَسْجِدِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ وَرجل دَعَتْهُ امْرَأَة ذَات منصب وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سات خوش نصیب ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنا سایہ نصیب فرمائے گا جس روز اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا : عادل حکمران ، وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ، وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ معلق ہے ، جب مسجد سے نکلتا ہے (تو وہ مسجد سے لاتعلق نہیں رہتا) حتیٰ کہ وہ وہاں لوٹ جاتا ہے ، وہ دو آدمی جو اللہ کی رضا کی خاطر باہم محبت کرتے ہیں ، اسی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں ، اور اگر جدا ہوتے ہیں تو بھی اس محبت پر قائم رہتے ہیں ، وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ، وہ آدمی جسے حسب و جمال والی دوشیزہ نے (برائی کی) دعوت دی تو اس نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں ! اور وہ آدمی جس نے جو صدقہ کیا ، اس نے اسے اس قدر مخفی رکھا حتیٰ کہ اس کا بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 702

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَفِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ فَإِذَا صَلَّى لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ الله ارْحَمْهُ وَلَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ» . وَزَادَ فِي دُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ. مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی جو نماز با جماعت ادا کرتا ہے ، اس کی وہ نماز اس کے گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے ، پچیس گنا زیادہ اجر و ثواب رکھتی ہے ، وہ اس لیے کہ جب وہ وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پھر وہ محض نماز ادا کرنے کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کے ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ، پس جب وہ نماز پڑھ کر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں : اے اللہ ! اس پر رحمتیں نازل فرما ، اے اللہ ! اس پر رحم فرما ، اور جب کوئی شخص نماز کے انتظار میں رہتا ہے تو وہ (حکم و ثواب کے لحاظ سے) نماز میں ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ایک روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب وہ مسجد میں آئے اور نماز اسے (مسجد میں) روکے رکھے ۔‘‘ امام مسلم ؒ نے فرشتوں کی دعا میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اے اللہ ! اسے بخش دے ، اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما ، اور جب تک وہ کسی کو تکلیف پہنچائے نہ اس کا وضو ٹوٹے تو فرشتوں کی دعا کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 703

وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ. وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ: الله إِنِّي أَسأَلك من فضلك . رَوَاهُ مُسلم
ابواسید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے :’’ اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب وہ مسجد سے باہر آئے تو یہ دعا پڑھے :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 704

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يجلس»
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 705

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ جلس فِيهِ
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کے وقت سفر سے (مدینہ) واپس آیا کرتے تھے ، جب آپ واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے پھر وہاں بیٹھ جاتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 706

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِد لم تبن لهَذَا . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ، کسی آدمی کو گمشدہ جانور (یا کوئی بھی چیز ) کے متعلق مسجد میں اعلان کرتے سنے ، تو وہ شخص کہے : اللہ تمہاری وہ چیز تمہیں واپس نہ لوٹائے ، کیونکہ مسجدیں اس لیے تو نہیں بنائی گئیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 707

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس بدبودار پودے (پیاز ، لہسن وغیرہ) سے کچھ کھا لے تو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے ، کیونکہ فرشتے اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں ، جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 708

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِد خَطِيئَة وكفارتها دَفنهَا»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے ، اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 709

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا فَوَجَدْتُ فِي محَاسِن أَعمالهَا الْأَذَى يماط عَن الطَّرِيق وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ تَكُونُ فِي الْمَسْجِد لَا تدفن» . رَوَاهُ مُسلم
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کے اچھے برے تمام اعمال مجھ پر پیش کیے گئے ، میں نے ، راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا ، اس کے محاسن اعمال میں پایا ، اور وہ تھوک جو مسجد میں ہو اور اسے صاف نہ کیا جائے تو میں نے اسے اس کے برے اعمال میں پایا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 710

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ فَإِنَّمَا يُنَاجِي اللَّهَ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَيَدْفِنُهَا»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکے ، کیونکہ وہ جب تک نماز میں ہوتا ہے اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ، اور وہ اپنی دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کے دائیں جانب فرشتہ ہے ، اور (اگر ضرورت ہو تو ) اپنی بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے اور اسے دفن کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 711

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: «تَحْتَ قدمه الْيُسْرَى»
اور ابوسعید ؓ کی روایت میں ہے :’’ اپنے بائیں پاؤں کے نیچے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 712

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِد»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اس مرض کے دوران ، جس سے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحت یاب نہ ہو سکے ، فرمایا :’’ اللہ یہودو نصاریٰ پر لعنت فرمائے ، انہوں نے اپنے انبیا علیم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 713

وَعَن جُنْدُب قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ» . رَوَاهُ مُسلم
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سن لو ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیا علیہم السلام اور اپنے صالح افراد کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا ، بے شک میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 714

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی (نفل) نماز اپنے گھروں میں پڑھا کرو ، انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 715

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قبلہ مشرق و مغرب کے مابین ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 716

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ. فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأ وتمضمض ثمَّ صبه فِي إِدَاوَةٍ وَأَمَرَنَا فَقَالَ: «اخْرُجُوا فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا» قُلْنَا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يُنْشَفُ فَقَالَ: «مُدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے تو ہم نے آپ کی بیعت کی ، آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ کو بتایا ہمارے ملک میں ہمارا ایک گرجا ہے ، آپ ہمیں اپنے وضو سے بچا ہوا پانی عنایت فرما دیں ، چنانچہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی منگایا ، وضو کیا اور کلی کی ، پھر اسے ہمارے لیے ایک برتن میں ڈال دیا ، اور ہمیں جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا :’’ جب تم اپنی سر زمین پر پہنچو تو اپنے گرجے کو توڑ دو ، اس جگہ پر یہ پانی چھڑکو اور وہاں مسجد بناؤ ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : ہمارا ملک دور ہے جبکہ گرمی شدید ہے ، اس لیے یہ پانی تو خشک ہو جائے گا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس میں اور پانی ملا لینا کیونکہ اس سے اس کی برکت مزید بڑھ جائے گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 717

وَعَن عَائِشَة قَالَت: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ يُنَظَّفَ وَيَطَيَّبَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محلوں میں مسجد بنانے اور انہیں پاک صاف رکھنے کا حکم فرمایا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 718

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَمَرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُود وَالنَّصَارَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے مساجد کو چونا گچ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : تم انہیں اس طرح مزین کرو گے جیسے یہودو نصاریٰ نے مزین کیا ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 719

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علامات قیامت میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ لوگ مساجد کے بارے میں باہم فخر کریں گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 720

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کے اعمال کا ثواب مجھ پر پیش کیا گیا ، حتیٰ کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے (اس کا ثواب بھی لکھا ہوا تھا) ، اور میری امت کے گناہ بھی مجھ پر پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی آدمی کو قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت عطا کی گئی اور اس نے (یاد کرنے کے بعد) اسے بھلا دیا ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 721

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اندھیرے میں چل کر مسجد کی طرف آنے والوں کو روز قیامت مکمل نور کی خوشخبری سنا دو ۔‘‘ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 722

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأنس
امام ابن ماجہ نے سہل بن سعد ؓ اور انس ؓ سے اسے روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 723

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَتَعَاهَدُ الْمَسْجِد فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَان فَإِن الله تَعَالَى يَقُولُ (إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّه وَالْيَوْم الآخر وَأقَام الصَّلَاة وَآتى الزَّكَاة) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس آدمی کو مسجد کی آبادی کے لیے کوشاں دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ اللہ کی مسجدوں کو صرف وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 724

وَعَن عُثْمَان بن مَظْعُون قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لَنَا فِي الِاخْتِصَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَصَى وَلَا اخْتَصَى إِنَّ خِصَاءَ أُمَّتِي الصِّيَامُ» . فَقَالَ ائْذَنْ لَنَا فِي السِّيَاحَةِ. فَقَالَ: «إِنْ سِيَاحَةَ أُمَّتَيِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . فَقَالَ: ائْذَنْ لَنَا فِي التَّرَهُّبِ. فَقَالَ: «إِن ترهب أمتِي الْجُلُوس فِي الْمَسَاجِد انتظارا للصَّلَاة» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
عثمان بن مظعون ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمیں خصی ہونے کی اجازت عطا فرمائیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے کسی کو خصی کیا یا اپنے آپ کو خصی کیا تو وہ ہم میں سے نہیں ، کیونکہ میری امت کا خصی ہونا ، روزہ رکھنا ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہمیں سیاحت کی اجازت مرحمت فرمائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کی سیاحت ، جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نماز کے انتظار میں مساجد میں بیٹھنا میری امت کی رہبانیت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 725

وَعَن عبد الرَّحْمَن بن عائش قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ رَبِّيَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ: فَبِمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ قَالَ: فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفِيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَتَلَا: (وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ من الموقنين) رَوَاهُ الدَّارمِيّ مُرْسلا وللترمذي نَحوه عَنهُ
عبدالرحمن بن عائش ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے (خواب میں) اپنے رب عزوجل کو بہترین صورت میں دیکھا ، اس نے فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : تو بہتر جانتا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی ، اور میں نے زمین و آسمان کی ہر چیز جان لی ۔‘‘ اور پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہت دکھائی تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں سے ہو جائیں ۔‘‘ دارمی نے مرسل روایت کیا ، اور ترمذی میں بھی انہیں سے اسی کی مثل ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 726

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاذِ بْنِ جبل وَزَادَ فِيهِ: قَالَ: يَا مُحَمَّدُ {هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: نَعَمْ فِي الْكَفَّارَاتِ. وَالْكَفَّارَاتُ: الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَالْمَشْيِ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَإِبْلَاغِ الْوَضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ} إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ. قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ: إِفْشَاءُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. وَلَفْظُ هَذَا الْحَدِيثِ كَمَا فِي الْمَصَابِيحِ لَمْ أَجِدْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَن إِلَّا فِي شرح السّنة.
ابن عباس ؓ اور معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے :’’ اللہ نے فرمایا : محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! کیا آپ جانتے ہیں کہ مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں گناہ ختم کرنے والے اعمال کے بارے میں (بحث کر رہے ہیں) اور گناہ ختم کرنے والے اعمال یہ ہیں : نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھے رہنا ، با جماعت نماز پڑھنے کے لیے پیدل چل کر جانا ، اور ناگواری کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کرنا ، پس جو یہ کرے گا وہ بہتر زندگی بسر کرے گا اور اس کی موت بھی اچھی ہو گی ، اور وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہو ، اور فرمایا : محمد ! جب آپ نماز سے فارغ ہو جائیں تو یہ دعا کیا کرو : اے اللہ ! میں تجھ سے نیک کام بجا لانے ، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش و فتنے سے دوچار کرنے کا ارادہ فرمائے تو مجھے اس سے دو چار کیے بغیر اپنی طرف اٹھا لینا ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلندی درجات والے اعمال یہ ہیں : سلام عام کرنا ، کھانا کھلانا اور جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز تہجد پڑھنا ۔‘‘ اور اس حدیث کے الفاظ جیسا کہ مصابیح میں ہیں ، میں نے عبدالرحمن کی سند سے شرح السنہ میں پائے ہیں ۔ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 727

وَعَن أبي أُمَامَة الْبَاهِلِيّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَة كلهم ضَامِن على الله عز وَجل رَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِن على الله حَتَّى يتوفاه فيدخله الْجنَّة أَو يردهُ بِمَا نَالَ من أجرأوغنيمة وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى الله حَتَّى يتوفاه فيدخله الْجنَّة أَو يردهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین آدمیوں کی مکمل حفاظت کرنا اللہ کے ذمہ ہے ، وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے روانہ ہو تو وہ اللہ کی حفاظت میں ہے حتیٰ کہ اللہ اسے فوت کر کے جنت میں داخل فرما دے ، یا اسے حاصل ہونے والے اجر یا مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹا دے ۔ وہ آدمی جو مسجد کی طرف جائے تو وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہے اور وہ آدمی جو اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرتا ہے وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 728

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَة فَأَجره كَأَجر الْحَاج الْمُحْرِمِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لَا يُنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ وَصَلَاةٌ عَلَى إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عليين» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص با وضو ہو کر فرض نماز کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوتا ہے تو اس کا اجر احرام باندھ کر حج کے لیے روانہ ہونے والے کے اجر کی طرح ہے ، اور جو شخص صرف نماز چاشت کے لیے روانہ ہوتا ہے اس کے لیے عمرہ کرنے والے کی مثل اجر ہے ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح پڑھنا کہ ان کے درمیان کوئی لغو بات نہ ہو اس کا عمل علیین میں لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 729

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «الْمَسَاجِدُ» . قُلْتُ: وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَالله أكبر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزرو تو کچھ کھا پی لیا کرو ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! جنت کے باغات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ مساجد ۔‘‘ پوچھا گیا اللہ کے رسول ! خوردو نوش سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ((سبحان اللہ ، و الحمدللہ ، ولا الہ الا اللہ ، و اللہ اکبر))’’ اللہ پاک ہے ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 730

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جس چیز کے لیے مسجد میں جاتا ہے وہی اس کا نصیب ہو گی ، (جو اسے آخرت میں ملے گی) ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 731

وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَتِهِمَا قَالَتْ: إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَكَذَا إِذَا خَرَجَ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ» بَدَلَ: صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تدْرك فَاطِمَة الْكُبْرَى
فاطمہ بنت حسین ؒ اپنی دادی فاطمہ کبریٰ ؓ سے روایت کرتی ہیں ، انہوں نے فرمایا : جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر صلاۃ و سلام ہو ، اور فرماتے : میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب آپ مسجد سے باہر نکلتے تو فرماتے : محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر صلاۃ و سلام ہو ۔ اور فرماتے :’’ میرے رب ! میرے گناہ بخش دے ، اور میرے لیے فضل کے دروازے کھول دے ۔ ترمذی ، احمد ، ابن ماجہ اور ان دونوں کی روایت میں ہے ، انہوں نے فرمایا : جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوتے اور اسی طرح جب آپ باہر تشریف لاتے تو ’’ محمد پر صلاۃ وسلام ہو ‘‘ کے بجائے :’’ اللہ کے نام سے ، اور رسول اللہ پر سلام ہو ۔‘‘ کے الفاظ پڑھتے تھے ۔ امام ترمذی نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، فاطمہ بنت حسین ؒ کی فاطمہ کبریٰ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 732

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَنِ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ فِيهِ وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں شعر گوئی ، خرید و فروخت اور جمعہ کے روز نماز سے پہلے مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 733

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ. وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا: لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو : اللہ تیری تجارت کو نفع مند نہ بنائے ، اور جب تم کسی شخص کو اس میں گم شدہ جانور کا اعلان کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو : اللہ کرے وہ چیز تمہیں نہ ملے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 734

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ وَأَنْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ وَصَاحِبُ جَامِعِ الْأُصُولِ فِيهِ عَنْ حَكِيمٍ
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں قصاص کا مطالبہ کرنے ، اشعار پڑھنے اور حدود قائم کرنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 735

وَفِي المصابيح عَن جَابر
مصابیح میں جابر ؓ سے مروی ہے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 736

وَعَن مُعَاوِيَة بن قُرَّة عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ يَعْنِي الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَقَالَ: «مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدنَا» . وَقَالَ: «إِن كُنْتُم لابد آكليهما فأميتوهما طبخا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
معاویہ بن قرہ ؒ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دو پودوں یعنی پیاز اور لہسن سے منع کیا اور فرمایا :’’ جو انہیں کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ اگر تم نے انہیں ضروری کھانا ہے تو پھر پکا کر ان کی بو زائل کر دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 737

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ والدارمي
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قبرستان اور حمام کے علاوہ ساری زمین مسجد ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 738

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ: فِي الْمَزْبَلَةِ وَالْمَجْزَرَةِ وَالْمَقْبَرَةِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَفِي الْحَمَّامِ وَفِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات جگہوں ، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ، ذبح خانہ ، قبرستان ، شارع عام ، حمام ، اونٹوں کے باڑے اور بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 739

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 740

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 741

وَعَن أبي أُمَامَة قَالَ: إِنَّ حَبْرًا مِنَ الْيَهُودِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ وَقَالَ: «أَسْكُتُ حَتَّى يَجِيءَ جِبْرِيلُ» فَسَكَتَ وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَأَلَ فَقَالَ: مَا المسؤول عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلَكِنْ أَسْأَلُ رَبِّيَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى. ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي دَنَوْتُ مِنَ اللَّهِ دُنُوًّا مَا دَنَوْتُ مِنْهُ قطّ. قَالَ: وَكَيف كَانَ ياجبريل؟ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُورٍ. فَقَالَ: شَرُّ الْبِقَاعِ أَسْوَاقُهَا وَخَيْرُ الْبِقَاع مساجدها
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی یہودی عالم نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا : کون سا قطعہ زمین بہتر ہے ؟ آپ خاموش ہو گئے اور فرمایا :’’ میں جبریل ؑ کے آنے تک خاموش رہوں گا ۔‘‘ آپ خاموش رہے اور جبریل ؑ آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : اس بارے میں مسٔول ، سائل سے زیادہ نہیں جانتا ، لیکن میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے دریافت کروں گا ، پھر جبریل ؑ نے فرمایا : محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! میں اللہ کے اتنا قریب ہوا کہ میں اس سے پہلے کبھی اتنا قریب نہیں ہوا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا :’’ جبریل ! وہ (قریب ہونا) کیسے تھا ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : میرے اور اس کے مابین نور کے ستر ہزار پردے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بدترین مقامات بازار اور بہترین مقامات مساجد ہیں ۔‘‘ لا اصل لہ بھذا اللفظ ، لم اجدہ عن ابی امامہ ؓ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 742

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَاءَ مَسْجِدي هَذَا لم يَأْته إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میری اس مسجد میں محض کوئی خیرو بھلائی سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے آئے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مقام و مرتبہ پر ہے ، اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور غرض سے آئے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی کے مال پر نظر رکھتا ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 743

وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ فِي أَمْرِ دُنْيَاهُمْ. فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ ان کی مساجد میں ان کی گفتگو کا موضوع ان کے دنیوی امور ہوں گے ۔ پس تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو ، اللہ کو ان کی کوئی حاجت نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 744

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِد فحصبني رجل فَنَظَرت فَإِذا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ. قَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَأَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد میں سویا ہوا تھا تو کسی آدمی نے مجھے کنکری ماری ، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب ؓ تھے ۔ انہوں نے فرمایا : جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ ، میں انہیں ان کے پاس لے آیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم کس قبیلے سے ہو اور کہاں سے ہو ؟ انہوں نے کہا : اہل طائف سے ، عمر ؓ نے فرمایا : اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا ، تم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 745

وَعَن مَالك قَالَ: بَنَى عُمَرُ رَحَبَةً فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّى الْبُطَيْحَاءَ وَقَالَ مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنَّ يَلْغَطَ أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا أَوْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ فَلْيَخْرُجْ إِلَى هَذِهِ الرَّحَبَةِ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأِ
امام مالک ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مسجد کے کونے میں بطیحاء نامی ایک صحن تیار کیا اور فرمایا : جو شخص فضول باتیں کرنا چاہے ، یا شعر پڑھنا چاہے یا اپنی آواز بلند کرنا چاہے تو وہ اس صحن کی طرف چلا جائے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 746

وَعَن أنس: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجهه فَقَامَ فحكه بِيَدِهِ فَقَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صلَاته فَإِنَّمَا يُنَاجِي ربه أَو إِن رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ» ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَقَالَ: «أَوْ يفعل هَكَذَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبلہ (کی طرف دیوار ) میں تھوک دیکھا تو یہ آپ پر اس قدر شاق گزرا کہ اس کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہو گئے ۔ پس آپ کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اسے صاف کیا ، پھر فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ، کیونکہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے مابین ہوتا ہے ، پس تم میں سے کوئی اپنے قبلہ کی طرف نہ تھوکے ، بلکہ اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا پھر اس میں تھوکا اور اس (کپڑے) کو ایک دوسرے کے ساتھ مل دیا اور فرمایا :’’ یا پھر وہ اس طرح کر لے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 747

وَعَن السَّائِب بن خَلاد - وَهُوَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: «لَا يُصَلِّي لَكُمْ» . فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِك أَن يُصَلِّي لَهُم فمنعوه وَأَخْبرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: نَعَمْ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّكَ آذيت الله وَرَسُوله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سائب بن خلاد ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : کسی آدمی نے کچھ لوگوں کی امامت کرائی تو اس نے قبلہ رخ تھوک دیا ، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے دیکھ رہے تھے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی قوم سے فرمایا :’’ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے ۔‘‘ پھر اس کے بعد اس نے نماز پڑھانا چاہی تو انہوں نے اسے روک دیا اور اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان سے آگاہ کیا اس شخص نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں (میں نے روکا ہے) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 748

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: احْتَبَسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاة عَن صَلَاة الصُّبْح حَتَّى كدنا نتراءى عين الشَّمْس فَخرج سَرِيعا فثوب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهِ فَقَالَ لَنَا عَلَى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيمَ يخْتَصم الْمَلأ الْأَعْلَى قلت لَا أَدْرِي رب قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأ الْأَعْلَى قلت فِي الْكَفَّارَات قَالَ مَا هُنَّ قُلْتُ مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِد بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوَضُوءِ حِينَ الْكَرِيهَاتِ قَالَ ثُمَّ فِيمَ؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ. قَالَ: وَمَا هن؟ إطْعَام الطَّعَام ولين الْكَلَام وَالصَّلَاة وَالنَّاس نيام. ثمَّ قَالَ: سل قل اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً قوم فتوفني غير مفتون أَسأَلك حَبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَحْبُكُ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حبك . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَسَأَلْتُ مُحَمَّد ابْن إِسْمَاعِيل عَن هَذَا الحَدِيث فَقَالَ: هَذَا حَدِيث صَحِيح
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز فجر پڑھانے کے لیے تشریف نہ لائے ، قریب تھا کہ ہم سورج طلوع ہونے کا مشاہدہ کر لیتے ، پھر آپ بہت تیزی سے تشریف لائے چنانچہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھائی ، پس جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو با آواز بلند فرمایا :’’ اپنی جگہوں پر ایسے ہی بیٹھے رہو ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ میں ابھی تمہیں بتاتا ہوں کہ میں تمہیں نماز پڑھانے کے لیے کیوں نہیں آیا ، میں رات کو بیدار ہوا ، وضو کیا اور جس قدر مقدر میں تھا میں نے نماز پڑھی ، مجھے نماز میں اونگھ آنے لگی حتیٰ کہ وہ مجھ پر غالب آ گئی ، تب میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو بہترین صورت میں دیکھا چنانچہ اس نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا : میرے رب ! حاضر ہوں ، فرمایا : فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کی انگلیوں کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی ، اور میرے سامنے ہر چیز واضح ہو گئی اور میں نے پہچان لی ، پھر رب تعالیٰ نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا ، میرے رب ! میں حاضر ہوں ، فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، گناہ مٹا دینے والے اعمال کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : با جماعت نماز پڑھنے لے لیے چل کر جانا ، نماز کے بعد مساجد میں بیٹھے رہنا ، ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا ، فرمایا : پھر وہ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : درجات کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : کھانا کھلانا ، نرمی سے بات کرنا اور جب لوگ سو رہے ہوں نماز (تہجد) پڑھنا ۔ فرمایا : کچھ مانگ لیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے عرض کیا : اے اللہ ! تجھ سے نیک اعمال بجا لانے ، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں ، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، اور جب تو کسی قوم کو فتنے سے دوچار کرنا چاہے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا ، میں تجھ سے ، تیری محبت ، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ (خواب) حق ہے ، پس اسے یاد کرو اور پھر اسے دوسروں کو بتاؤ ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاریؒ) سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 749

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذا دخل الْمَسْجِد قَالَ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» قَالَ: «فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْطَان حفظ مني سَائِر الْيَوْم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا کیا کرتے :’’ میں شیطان مردود سے اللہ عظیم ، اس کی ذات کریم اور اس کی قدیم بادشاہت و قدرت کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پس جب کوئی شخص یہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے ، یہ اب سارا دن مجھ سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ صحیح ، ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 750

وَعَن عَطاء بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اللَّهُمَّ لَا تجْعَل قَبْرِي وثنا يعبد اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائهمْ مَسَاجِد» . رَوَاهُ مَالك مُرْسلا
عطا بن یسار ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے ، اللہ ان لوگوں پر سخت ناراض ہو جنہوں نے انبیا علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔‘‘ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 751

(وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ فِي الْحِيطَانِ. قَالَ بَعْضُ رُوَاتِهِ يَعْنِي الْبَسَاتِينَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بن أبي جَعْفَر وَقد ضعفه يحيى ابْن سعيد وَغَيره
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باغات میں (نفل) نماز پڑھنا پسند فرمایا کرتے تھے ۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف حسن بن ابی جعفر کے واسطہ سے جانتے ہیں ، جبکہ یحیی بن سعید وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 752

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يجمع فِيهِ بخسمائة صَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ وَصلَاته فِي الْمَسْجِد الْحَرَام بِمِائَة ألف صَلَاة» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کی اپنے گھر میں پڑھی ہوئی نماز (ثواب کے لحاظ سے) ایک نماز ہے ، اس کی اس مسجد میں نماز ، جس میں مختلف قبیلے نماز پڑھتے ہیں ، پچیس نمازوں کی طرح ہے ، اور جس مسجد میں جمعہ ہوتا ہو ، اس میں اس کی نماز پانچ سو نمازوں کی طرح ہے ، مسجد اقصیٰ میں اس کی نماز پچاس ہزار نمازوں کی طرح ہے ، اس کی میری مسجد میں پڑھی گئی نماز پچاس ہزار نمازوں کی طرح ہے اور مسجد حرام میں اس کی نماز ایک لاکھ نمازوں کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 753

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيْ؟ قَالَ: «ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى» . قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ عَامًا ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فصل»
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسجد حرام ۔‘‘ راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، پھر کون سی مسجد ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسجد اقصیٰ ۔‘‘ میں نے عرض کیا : ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا وقفہ ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ چالیس سال ، پھر ساری زمین تیرے لیے مسجد ہے ، جہاں نماز کا وقت ہو جائے نماز پڑھ لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 754

عَن عمر بن أبي سَلمَة قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقيهِ
عمر بن ابی سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ام سلمہ ؓ کے گھر ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ، آپ نے اس کپڑے کے دو کنارے اپنے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 755

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا يصلين أحدكُم فِي الثَّوْب الْوَاحِد لَيْسَ على عَاتِقيهِ مِنْهُ شَيْء»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کوئی چیز نہ ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 756

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فليخالف بَين طَرفَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کے دونوں کناروں کو ایک دوسرے کے مخالف سمت کر لے (دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر)۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 757

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا نَظْرَةً فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأَتُوْنِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جهم فَإِنَّهَا ألهتني آنِفا عَن صَلَاتي» وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى علمهَا وَأَنا فِي الصَّلَاة فَأَخَاف أَن يفتنني
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ نے ایک منقش چادر میں نماز پڑھی ، آپ نے اس کے نقش و نگار کو دیکھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ میری یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور ابو جہم کی نقش و نگار کے بغیر چادر لے آؤ ، اس نے تو میری نماز میں خلل ڈال دیا تھا ۔‘‘ بخاری ، مسلم اور بخاری کی ایک روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں اس کے نقش و نگار دیکھ رہا تھا جبکہ میں نماز میں تھا ، مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ مجھے کسی فتنے کا شکار نہ کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 758

وَعَن أنس قَالَ: كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں، عائشہ ؓ کے پاس ایک پردہ تھا جس کے ساتھ انہوں نے اپنے گھر کی ایک جانب کو ڈھانپ رکھا تھا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ اپنے اس پردے کو ہم سے دور کر دیں ، کیونکہ اس کی تصاویر میری نماز میں مسلسل میرے سامنے آتی رہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 759

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجَ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ثمَّ قَالَ: لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتقين
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک ریشمی کوٹ تحفہ میں دیا گیا تو آپ نے اسے پہن کر نماز پڑھی ، پھر نماز سے فارغ ہو کر سخت نا پسندیدگی کے عالم میں اسے اتار دیا اور فرمایا :’’ یہ متقی لوگوں کے شایان شان نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 760

عَن سَلمَة بن الْأَكْوَع قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى النَّسَائِيّ نَحوه
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں شکاری آدمی ہوں ، کیا میں ایک قمیض میں نماز پڑھ لیا کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، بٹن بند کر کے ، خواہ کانٹوں کو ہی بطور بٹن استعمال کر لو ۔‘‘ ابوداؤد ۔ امام نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 761

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مسبلا إِزَارِهِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَتَوَضَّأ» فَذهب وَتَوَضَّأ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اپنا تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ جاؤ وضو کرو ۔‘‘ وہ گیا اور وضو کر کے پھر حاضر ہوا تو کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں فرمایا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ اپنا تہبند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا ، جبکہ اللہ تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 762

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی بالغہ عورت کی ننگے سر نماز قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 763

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي درع وخمار لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ؟ قَالَ: «إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ جمَاعَة وَقَفُوهُ على أم سَلمَة
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا ، کیا عورت تہبند کے بغیر صرف قمیض اور دوپٹے میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، جب قمیض اس قدر کامل اور کشادہ ہو کہ وہ اس کے پاؤں ڈھانپتی ہو ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے راویوں کی ایک جماعت کا ذکر کیا جنہوں نے اس حدیث کو ام سلمہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 764

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوران نماز گلے میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 765

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہودیوں کی مخالفت کرو کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے ۔‘‘ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 766

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خلع نَعْلَيْه فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «مَا حَمَلَكُمْ على إلقائكم نعالكم؟» قَالُوا: رَأَيْنَاك ألقيت نعليك فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فيهمَا قذرا إِذا جَاءَ أحدكُم إِلَى الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَو أَذَى فَلْيَمْسَحْهُ وَلِيُصَلِّ فِيهِمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، اس دوران کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اچانک اپنے جوتے اتار کر اپنے بائیں طرف رکھ دیے ، جب صحابہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا :’’ تمہیں کس چیز نے جوتے اتارنے پر آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جبریل میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں نجاست ہے ، جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ دیکھے اگر وہ اپنے جوتوں میں نجاست دیکھے تو وہ اسے صاف کرے پھر ان میں نماز پڑھ لے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 767

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا عَنْ يَسَارِهِ فَتَكُونَ عَنْ يَمِينِ غَيْرِهِ إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ عَنْ يسَاره أحد وليضعهما بَيْنَ رِجْلَيْهِ» . وَفَّى رِوَايَةٍ: «أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنے جوتے اپنی دائیں طرف نہ رکھے نہ بائیں طرف کیونکہ اس کی بائیں جانب کسی دوسرے شخص کی دائیں جانب ہو گی ہاں اگر اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو تو پھر بائیں طرف رکھ لے ورنہ انہیں اپنے پاؤں کے درمیان رکھے ۔‘‘ ابوداؤد ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 768

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ. قَالَ: وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو چٹائی پر نماز پڑھتے اور اس پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ، اور انہوں نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے اپنے جسم کو ایک کپڑے میں ڈھانپ رکھا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 769

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حافيا ومتنعلا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمرو بن شعیب ؒ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی ننگے پاؤں اور کبھی جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 770

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: صَلَّى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ وثيابه مَوْضُوعَة على المشجب قَالَ لَهُ قَائِلٌ تُصَلِّي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ فَقَالَ إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِيَ أَحْمَقُ مِثْلُكَ وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
محمد بن منکدر ؒ بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ نے ایک تہبند میں اس طرح نماز پڑھی کہ انہوں نے اسے گردن کی طرف باندھا ہوا تھا ، جبکہ ان کے کپڑے مشجب (گھڑونچی) پر رکھے ہوئے تھے ، کسی نے ان سے کہا : آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے یہ محض اس لیے کیا ہے تاکہ آپ جیسا احمق شخص مجھے دیکھ لے ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ہم میں سے کون شخص تھا جس کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے ؟ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 771

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ كُنَّا نَفْعَلُهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا. فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ إِذْ كَانَ فِي الثِّيَاب قلَّة فَأَما إِذْ وَسَّعَ اللَّهُ فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكَى. رَوَاهُ أَحْمد
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت ہے ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ایسا کیا کرتے تھے اور ہمیں منع نہیں کیا جاتا تھا ۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا : یہ تب تھا جب کپڑوں کی قلت تھی ، پس جب اللہ فراخی عطا فرما دے تو پھر دو کپڑوں میں نماز پڑھنا بہتر و افضل ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 772

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى وَالْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ تُحْمَلُ وَتُنْصَبُ بِالْمُصَلَّى بَيْنَ يَدَيْهِ فَيصَلي إِلَيْهَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کے وقت عید گاہ کی طرف جاتے ایک چھوٹا نیزہ آپ کے آگے آگے اٹھا کر لے جایا جاتا اور اسے عید گاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا ، پھر آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 773

وَعَن أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّهٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ النَّاسَ يبتدرون ذَاك الْوَضُوءَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمن لم يصب مِنْهُ شَيْئا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْت النَّاس وَالدَّوَاب يَمرونَ من بَين يَدي العنزة
ابوجحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ میں دیکھا ، جبکہ آپ وادی بطحاء میں چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں تھے ، اور میں نے بلال ؓ کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وضو کا پانی لیے کھڑے ہیں ، اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کے اس پانی کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ، چنانچہ جسے تو اس میں سے کچھ مل جاتا ہے اسے اپنے جسم پر مل لیتا ہے ، اور جسے اس میں سے کچھ نہ ملتا تو وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی نمی حاصل کر لیتا ، پھر میں نے بلال ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے چھوٹا نیزہ لے کر گاڑ دیا ، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سرخ جوڑا زیب تن کیے ہوئے تیزی سے تشریف لائے ، آپ نے چھوٹے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں اور میں نے لوگوں اور چوپاؤں کو آپ کے آگے سے گزرتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 774

وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيصَلي إِلَيْهَا. وَزَادَ الْبُخَارِيُّ قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ. قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخرته
نافع ، ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری بٹھا دیا کرتے اور پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ۔ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور امام بخاری نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : روای بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا ، جب اونٹ چرنے کے لیے جاتے تھے (تو پھر کیا کرتے تھے ؟) انہوں نے کہا : وہ پالان و کجاوہ پکڑتے اور اسے سامنے رکھ کر اس کے آخری حصہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 775

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ فَليصل وَلَا يبال من مر وَرَاء ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم
طلحہ بن عبید اللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اپنے آگے رکھ لے تو وہ نماز پڑھے اور جو اس سے پرے گزرے اس کی کوئی پرواہ نہ کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 776

وَعَن أبي جهيم قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ» . قَالَ أَبُو النَّضر: لَا أَدْرِي قَالَ: «أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَو سنة»
ابوجہیم بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کو پتہ چل جائے کہ اسے کتنا گناہ یا نقصان ہو گا تو اس کے لیے ، اس کے آگے سے گزرنے سے چالیس تک کھڑے رہنا ، بہتر ہوتا ۔‘‘ ابونضر نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چالیس دن یا ماہ یا چالیس سال فرمائے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 777

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلمُسلم مَعْنَاهُ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے چھپا رہی ہو (یعنی کسی چیز کو سترہ بنا کر نماز پڑھے) اور پھر بھی کوئی شخص اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے روکے ، لیکن اگر وہ باز نہ آئے تو پھر وہ اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ اور مسلم کے الفاظ بھی اسی معنی میں ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 778

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ. وَيَقِي ذَلِك مثل مؤخرة الرحل» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عورت ، گدھا اور کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتے ہیں ، جبکہ پالان کی آخری لکڑی کی مثل کوئی چیز اس سے بچاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 779

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز تہجد پڑھا کرتے تھے جبکہ میں ، آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی تھی جس طرح (امام کے آگے) جنازہ رکھا ہوتا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 780

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَين يَدي الصَّفّ فَنزلت فَأرْسلت الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِك عَليّ أحد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک دن گدھی پر سوار ہو کر آیا ، میں ان دنوں قریب البلوغ تھا ، جبکہ رسول اللہ اس وقت کسی دیوار کی اوٹ لیے بغیر منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے ، پس میں ایک صف کے آگے سے گزرا ، پھر میں گدھی سے اترا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا ، اور خود صف میں شامل ہو گیا ، اور کسی نے بھی مجھ پر اعتراض نہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 781

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصَاهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصَى فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے ، اگر کوئی چیز نہ پائے تو پھر اپنی لاٹھی گاڑ لے ، اور اگر اس کے پاس لاٹھی بھی نہ ہو تو پھر ایک لکیر کھینچ لے ، پھر اس کے آگے سے جو بھی گزر جائے وہ اس کے لیے مضر نہیں ہو گا ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 782

وَعَن سهل بن أبي حثْمَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سہل بن ابی حشمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہو جائے ، تاکہ شیطان اس کی نماز قطع نہ کر سکے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 783

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى عُودٍ وَلَا عَمُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يصمد لَهُ صمدا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جب بھی کسی لکڑی ، ستون اور درخت کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ اسے اپنی دائیں یا بائیں ابرو کے سامنے کرتے تھے ، اور آپ اس کے بالکل سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 784

وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تعبثان بَين يَدَيْهِ فَمَا بالى ذَلِك. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وللنسائي نَحوه
فضل بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم جنگل میں تھے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عباس ؓ کی معیت میں ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے سترہ کے بغیر صحرا میں نماز ادا کی ، جبکہ ہماری گدھی اور کتیا آپ کے آگے کھیل رہی تھیں ، آپ نے اسے کوئی اہمیت نہ دی ۔ ابوداؤد ، نسائی کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 785

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْء وادرؤوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کوئی چیز نماز کو نہیں توڑتی ، پس مقدور بھر اسے روکو ، کیونکہ وہ (گزرنے والا) شیطان ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 786

عَن عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلِيَ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے سو جایا کرتی تھی ، جبکہ میرے پاؤں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سجدہ کی جگہ پر ہوتے تھے ، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ مجھے ہاتھ سے دبا دیتے تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا دیتی ، انہوں نے بتایا : ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 787

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخُطْوَةِ الَّتِي خَطَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم میں کسی کو ، نماز میں مشغول اپنے بھائی کے آگے سے گزرنے کا گناہ معلوم ہو تو اس کے لیے سو برس کھڑے رہنا ایک قدم اٹھانے سے بہتر ہوتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 788

وَعَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَهْوَنَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ
کعب احبار ؒ بیان کرتے ہیں ، اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جاتا کہ اسے اس پر کتنا گناہ ملے گا تو وہ سمجھتا کہ اسے دھنسا دیا جائے تو یہ اس کے لیے ، اس کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہوتا ۔ اور ایک روایت میں ہے : اس پر آسان ہوتا ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 789

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ السُّتْرَةِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ وَتُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کے بغیر نماز پڑھے تو گدھا ، خنزیر ، یہودی ، مجوسی اور عورت گزر کر اس کی نماز توڑ دیتے ہیں ، اور اگر وہ پتھر پھینکنے کے فاصلے کے برابر اس کے آگے سے گزر جائیں تو پھر اس کی نماز ہو جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 790

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «وَعَلَيْك السَّلَام ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَرَجَعَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِّيَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ثمَّ افْعَل ذَلِك فِي صَلَاتك كلهَا»
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں آیا ، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کہ ایک جانب تشریف فرما تھے ، پس اس نے نماز پڑھی ، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے سلام کا جواب دے کر فرمایا :’’ واپس جا کر نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، پس وہ گیا اور نماز دھرائی ، پھر آ کر سلام عرض کیا ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا :’’ واپس جا کر نماز پڑھ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ پس تیسری یا چوتھی مرتبہ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مجھے سکھا دیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو تو خوب اچھی طرح وضو کرو ، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہو ، پھر جس قدر قرآن تمہیں یاد ہو پڑھو ، پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کرو ، پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو ، پھر اٹھو حتیٰ کہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ ، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو ، پھر اٹھو حتیٰ کہ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاؤ ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ پھر اٹھو حتیٰ کہ تم اطمینان کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ ، پھر اپنی تمام (فرض و نفل) نمازوں میں ایسے ہی کیا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 791

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يخْتم الصَّلَاة بِالتَّسْلِيمِ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز اللہ اکبر سے اور قراءت ((الحمدللہ رب العالمین)) سے شروع کیا کرتے تھے ، جب آپ رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک اوپر اٹھاتے تھے نہ نیچے جھکاتے تھے ، بلکہ ان دونوں صورتوں کے درمیان (برابر) رکھتے تھے ، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بالکل سیدھا کھڑے ہوتے اور پھر سجدہ کرتے ، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پھر اطمینان سے بیٹھ جاتے اور پھر دوسرا سجدہ کرتے ، آپ ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے ۔ آپ بائیں پاؤں کو بچھا دیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے ، آپ شیطان کی طرح بیٹھنے (سرین کے بل بیٹھ کر ٹانگیں کھڑی کر لینا اور ہاتھ زمین پر لگا دینا) سے اور درندوں کی طرح بازو بچھا کر سجدہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ’’ السلام علیکم و رحمۃ اللہ ‘‘ پر نماز ختم کیا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 792

وَعَن أبي حميد السَّاعِدِيّ قَالَ: فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَحْفَظُكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ على رجله الْيُسْرَى وَنصب الْيُمْنَى وَإِذا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوحمید ساعدی ؓ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں ، میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر لیے ، جب آپ نے رکوع کیا تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے ، پھر اپنی کمر کو جھکایا ، جب رکوع سے سر اٹھایا تو بالکل سیدھے کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی ، جب سجدہ کیا تو آپ نے ہاتھ رکھے جو کہ بچھے ہوئے تھے نہ سمٹے ہوئے تھے اور آپ نے پاؤں کی انگلیوں کے کناروں کو قبلہ کی طرف کیا تھا ، جب آپ دو رکعتوں میں بیٹھے تو آپ اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا ، اور جب آخری رکعت میں بیٹھے تو بائیں پاؤں کو آگے بڑھا کر سرین پر بیٹھ گئے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 793

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز شروع کرتے ، رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کیا کرتے تھے ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (رکوع سے اٹھتے وقت) فرماتے :’’ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی ، ہمارے رب تمام حمدو ستائش تیرے ہی لیے ہے ۔‘‘ اور آپ سجدوں کے مابین یہ (رفع الیدین) نہیں کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 794

وَعَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
نافع ؒ سے روایت ہے کہ جب ابن عمر ؓ نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے اور ہاتھ اٹھاتے تھے ، جب رکوع کرتے تو ہاتھ اٹھاتے ، جب ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو ہاتھ اٹھاتے تھے ۔ جبکہ ابن عمر ؓ نے اس حدیث کو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرفوع روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 795

وَعَن مَالك بن الْحُوَيْرِث قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِك. وَفِي رِوَايَة: حَتَّى يُحَاذِي بهما فروع أُذُنَيْهِ
مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ اکبر کہتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ وہ انہیں کانوں کے برابر لے آتے ، جب رکوع سے سر اٹھاتے اور ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ، اور ایک دوسری روایت میں : حتیٰ کہ وہ انہیں کانوں کی لو کے برابر کر لیتے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 796

وَعَنْهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، جب آپ نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اطمینان سے بیٹھ جاتے اور پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 797

وَعَن وَائِل بن حجرأنه رأى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم رفع يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ من الثَّوْب ثمَّ رفعهما ثمَّ كبر فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ. رَوَاهُ مُسلم
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز شروع کی تو ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہا ، پھر اپنا کپڑا لپیٹ لیا ، پھر دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو کپڑے سے ہاتھ نکالے ، رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا ، پھر رکوع کیا ، جب ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہا تو رفع الیدین کیا ، اور جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 798

وَعَن سهل بن سعد قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ ہر آدمی دوران نماز اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 799

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يسْجد ثمَّ يكبر حِين يرفع رَأسه يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ فرماتے ، پھر آپ حالت قیام میں ’’ ربنا لک الحمد ‘‘ پڑھتے ، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر نماز مکمل ہونے تک اسی طرح کرتے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 800

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لمبے قیام والی نماز سب سے افضل ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 801

عَن أبي حميد السَّاعِدِيّ قَالَ فِي عشرَة مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَاعْرِضْ. قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاة يرفع يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يُصَبِّي رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ» ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَن جَنْبَيْهِ وَيفتح أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيُثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتَّى يَرْجِعَ كل عظم إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ» وَيَرْفَعُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَنْهَضُ ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ثُمَّ سَلَّمَ. قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ وَقَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ الْأَرْضَ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ. وَفِي أُخْرَى لَهُ: وَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى وَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَة
ابوحمید ساعدی ؓ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دس صحابہ کی موجودگی میں فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : بیان کرو ! انہوں نے فرمایا : جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کا ارادہ فرماتے تو کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر قراءت کرتے ، پھر اللہ اکبر کہہ کر کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے ، پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ دیتے ، پھر برابر ہو جاتے ، آپ سر کو جھکاتے نہ بلند کرتے ، پھر سر اٹھاتے تو ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتے ، پھر کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے اور اطمینان کے ساتھ برابر کھڑے ہو جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کے لیے زمین کی طرف جھک جاتے ، آپ اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے ، پاؤں کی انگلیاں کھولتے ، پھر سر اٹھاتے ، بائیں پاؤں کو موڑتے اور اس پر بیٹھ جاتے ، اور اس قدر اطمینان سے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی ، اور اطمینان سے بیٹھے رہتے ، پھر سجدہ کرتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے اٹھتے ، بایاں پاؤں موڑتے اور اس پر بیٹھ جاتے ، اور اس قدر اطمینان سے بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی ، پھر کھڑے ہوتے ، پھر دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے ، پھر جب دوسری رکعت کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ، حتیٰ کہ جب آخری سجدہ ہوتا جس کے بعد سلام پھیرنا ہوتا تو آپ اپنا بایاں پاؤں باہر نکال لیا کرتے اور بائیں سرین پر بیٹھ جاتے ، اور پھر سلام پھیرتے ، انہوں (دس صحابہ کرام ؓ) نے فرمایا : آپ نے درست کہا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی نماز پڑھا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، دارمی ، جبکہ ترمذی ، اور ابن ماجہ نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ابوداؤد میں ابوحمید سے مروی حدیث میں ہے : پھر آپ نے رکوع کیا تو ہاتھ گھٹنوں پر رکھے گویا آپ نے انہیں پکڑا ہوا ہے ، آپ نے ہاتھوں کو کمان کے چلّے کی طرح کر دیا اور انہیں پہلوؤں سے دور رکھا ، اور انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر سجدہ کیا تو ناک اور پیشانی کو زمین پر رکھا ، ہاتھوں کو پہلوؤں سے دور رکھا ، اور ہتھیلیوں کو کندھوں کے برابر رکھا ، اور رانوں کو کشادہ رکھا اور پیٹ کا کوئی حصہ ان کے ساتھ لگنے نہ دیا ، حتیٰ کہ (سجدہ سے) فارغ ہو گئے ، پھر بیٹھ گئے تو بائیں پاؤں کوبچھا دیا اور دائیں پاؤں کے پنجے کو قبلہ رخ کر لیا ، دائیں ہاتھ کو دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ دیا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔ ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے : جب آپ دو رکعتوں کے بعد بیٹھے تو آپ بائیں پاؤں پر بیٹھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کیا ، اور جب چوتھی رکعت کے بعد بیٹھے تو آپ نے بائیں سرین کو زمین کے ساتھ ملا دیا (یعنی بائیں سرین پر بیٹھے) اور دونوں پاؤں ایک ہی طرف نکال دیے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 802

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وحاذى بإبهاميه أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا اور انگوٹھوں کو کانوں کے برابر کیا پھر اللہ اکبر کہا ۔ اور ابودؤد ہی کی روایت میں ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انگوٹھوں کو کانوں کی لو تک اٹھایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 803

وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
قبیصہ بن ہلب ؒ اپنے والد (ھُلب ؓ) سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو آپ دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑ لیتے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 804

وَعَن رِفَاعَة بن رَافع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَقَالَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُصَلِّي؟ قَالَ: «إِذَا تَوَجَّهَتْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ فَإِذَا رَكَعَتْ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَمَكِّنْ رُكُوعَكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا فَإِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنِ السُّجُودَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ حَتَّى تَطْمَئِنَّ. هَذَا لَفَظُ» الْمَصَابِيحِ . وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ قَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلله ثمَّ اركع»
رفاعہ بن رافع بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آیا ، اس نے مسجد میں نماز پڑھی ، پھر بنی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نماز دوبارہ پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز پڑھوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم قبلہ رخ ہو جاؤ تو اللہ اکبر کہو ، پھر سورۂ فاتحہ اور جو چاہو سورت پڑھو ، جب (رکوع سے) اٹھو تو کمر سیدھی کرو اور سر اٹھاؤ حتیٰ کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں میں واپس آ جائیں ، جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح سجدہ کرو ، جب (سجدہ سے) اٹھو تو بائیں ران پر بیٹھو ، پھر ہر رکوع و سجود میں ایسے ہی کرو حتیٰ کہ اطمینان ہو جائے ۔‘‘ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں ، امام ابوداؤد نے کچھ تبدیلی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے ، امام ترمذی اور امام نسائی نے اسی معنی میں روایت کیا ہے ، اور ترمذی کی روایت میں ہے : فرمایا :’’ جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اللہ کی تعلیم و حکم کے مطابق وضو کرو پھر کلمہ شہادت پڑھو ، (بعض نے کہا : اذان دو) پھر اقامت کہو ، اگر تمہیں قرآن یاد ہو تو قرآن پڑھو ، ورنہ الحمد للہ ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھو اور پھر رکوع کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 805

وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّلَاةُ مَثْنَى مثنى تشهد فِي كل رَكْعَتَيْنِ وَتَخَشُّعٌ وَتَضَرُّعٌ وَتَمَسْكُنٌ ثُمَّ تُقْنِعُ يَدَيْكَ يَقُول ك تَرْفَعُهُمَا إِلَى رَبِّكَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ وَتَقُولُ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهُوَ كَذَا وَكَذَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَهُوَ خداج» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
فضل بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نماز دو رکعت ہے ، ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھ ، خشوع و خضوع اور ہماری عاجزی و بے چارگی کا اظہار کر ، پھر ہاتھ بلند کر کے اپنے رب سے دعا کر ، اور جس نے ایسے نہ کیا تو وہ اس طرح ، اس طرح ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ تو وہ ناقص ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 806

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: صَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
سعید بن حارث بن معلّی ؒ بیان کرتے ہیں ، ابوسعید خدری ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے جب سجدوں سے سر اٹھایا ، جب سجدہ کیا اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تو بلند آواز سے اللہ اکبر کہا ، اور فرمایا : میں نے نبیصلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 807

وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ أَحْمَقُ فَقَالَ: ثَكَلَتْكَ أُمُّكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
عکرمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے مکہ میں ایک بزرگ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بائیس مرتبہ اللہ اکبر کہا ، تو میں نے ابن عباس ؓ سے کہا : یہ تو احمق ہے ، انہوں نے کہا : تیری ماں تجھے گم پائے ، یہ تو ابوالقاسم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 808

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ مُرْسَلًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاة كلما خفض وَرفع فَلم تزل صلَاته حَتَّى لَقِي الله تَعَالَى. رَوَاهُ مَالك
علی بن حسین ؒ سے مرسل روایت ہے انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں جب جھکتے اور جب اٹھتے تو اللہ اکبر کہا کرتے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوری زندگی اسی طرح نماز پڑھتے رہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 809

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلا أُصَلِّي بكم صَلَاة رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً مَعَ تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ هُوَ بِصَحِيح على هَذَا الْمَعْنى
علقمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ابن مسعود ؓ نے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں ، چنانچہ انہوں نے صرف نماز کے آغاز پر اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھائے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، اور ابوداؤد نے فرمایا : اس معنی میں یہ حدیث صحیح نہیں ۔ ضعیف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 810

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: الله أكبر. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوحمید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھاتے اور ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہتے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 811

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظّهْر وَفِي مُؤخر الصُّفُوف رجل فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي؟ إِنَّكُمْ تُرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى من بَين يَدي» رَوَاهُ أَحْمد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی ، پچھلی صفوں میں کسی آدمی نے نماز میں خرابی کی ، جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا :’’ فلاں شخص ! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کیسی نماز پڑھتے ہو ، کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کرتے ہو وہ مجھ پر مخفی رہتا ہے ، اللہ کی قسم ! میں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں ویسے ہی اپنے پیچھے دیکھتا ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 812

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يسكت بَين التَّكْبِير وَبَين الْقِرَاءَة إسكاتة قَالَ أَحْسبهُ قَالَ هنيَّة فَقلت بِأبي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَة مَا تَقُولُ قَالَ: «أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ والثلج وَالْبرد»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان کچھ دیر سکوت فرمایا کرتے تھے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قربان ہوں ، آپ تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں اس میں کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں یہ دعا پڑھتا ہوں : اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ایسے دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے مابین دوری ڈالی ہے ، اے للہ ! مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 813

وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَفِي رِوَايَةً: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وبصري ومخي وعظمي وعصبي» فَإِذا رفع قَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وملء الأَرْض وملء مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصُوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لِلشَّافِعِيِّ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْك لَا مَنْجَى مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کا ارادہ فرماتے ، اور ایک روایت میں ہے : جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز شروع کیا کرتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھا کرتے :’’ میں نے یکسو ہو کر اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو عدم سے تخلیق فرمایا ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ، بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا دونوں جہاں کے رب ، اللہ کے لیے ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں ، اے اللہ ! تو مالک ہے ، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ، میں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ، پس تو میرے سارے گناہ معاف کر دے ، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ بخش نہیں سکتا ، بہترین اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما ، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے ، برے اخلاق مجھ سے دور کر دے ، کیونکہ صرف تو ہی برے اخلاق مجھ سے دور کر سکتا ہے ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں اور یہ میرے لیے باعث سعادت ہے ، تمام خیرو بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، جبکہ برائی تیری طرف منسوب نہیں کی جا سکتی ، میں تیرے حکم و توفیق سے ہوں اور لوٹ کر تیری ہی طرف آنا ہے ، تو برکت والا بلند شان والا ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کرتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا ، تجھ پر ایمان لایا ، تیری اطاعت اختیار کی ، میرے کان ، میری آنکھیں ، میرا دماغ ، میری ہڈیوں اور میرے اعصاب نے تیرے لیے ہی تواضع اختیار کی ۔‘‘ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (رکوع سے) سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ اے اللہ ! ہمارے رب ! ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین اور جو اس کے درمیان ہے بھر جائے ، اور اس کے بعد اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے ۔‘‘ اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ کرتے تو یہ دعا کرتے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا ، تجھ پر ایمان لایا ، تیری اطاعت اختیار کی ، میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا ، اس کی تصویر و صورت بنائی ، اس کو سمع و بصر سے نوازا ، برکت والا اللہ بہترین تخلیق کرنے والا ہے ۔‘‘ پھر آخر پر تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان یہ دعا کرتے :’’ اے اللہ ! تو میرے اگلے پچھلے ، پوشیدہ اور ظاہر گناہ اور جو میں نے زیادتی کی اور وہ گناہ جن کے متعلق تو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے ، سب معاف فرما ، تو ہی ترقی دینے والا اور تو ہی تنزلی کی جانب لے جانے والا ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اور شافعی ؒ کی روایت میں ہے :’’ اور برائی تیری طرف منسوب نہیں کی جا سکتی ، ہدایت والا وہ ہے جسے تو ہدایت عطا فرمائے ، میں تیری توفیق سے ہوں اور میرا لوٹنا بھی تیری ہی طرف ہے ، نجات و پناہ صرف تجھ سے مل سکتی ہے ، تو برکت والا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 814

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقد حفزه النَّفس فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا» فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفْسُ فَقَلْتُهَا. فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يرفعها» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آ کر صف میں شامل ہو گیا اس کی سانس پھولی ہوئی تھی ، اس نے کہا : اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے لیے حمد ہے ، حمد بہت زیادہ ، پاکیزہ اور با برکت ۔ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو فرمایا :’’ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟‘‘ تمام صحابہ کرام ؓ خاموش رہے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟‘‘ وہ پھر خاموش رہے ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کلمات کس نے کہے تھے ، اس نے کوئی قابل مؤاخذہ بات نہیں کی ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا : میں آیا تو میری سانس پھول چکی تھی ، چنانچہ وہ کلمات میں نے کہے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے بارہ فرشتوں کو ان کلمات کی طرف سبقت کرتے ہوئے دیکھا کہ ان میں سے کون انہیں اوپر لے کر جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 815

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز شروع کرتے تو یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! تو پاک ہے ، تیری تعریف کے ساتھ (ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں) تیرا نام با برکت ہے ، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 816

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَارِثَةَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حفظه
ابن ماجہ نے اسے ابوسعید ؓ سے روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : ہم اس حدیث کو صرف حارثہ کے واسطہ سے جانتے ہیں ۔ جبکہ اس کی کمزور قوت یادداشت کی وجہ سے اس پر کلام کیا گیا ہے ۔ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 817

وَعَن جُبَير بن مطعم: أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَان الله بكرَة وَأَصِيلا» ثَلَاثًا «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثَهِ وَهَمْزَهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» . وَذَكَرَ فِي آخِرِهِ: «مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَفْخُهُ الْكِبْرُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وهمزه الموتة
جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو (اس وقت) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ پڑھ رہے تھے فرمایا :’’ اللہ بہت ہی بڑا ہے ، اللہ بہت ہی بڑا ہے ، اللہ بہت ہی بڑا ہے ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے ، تین مرتبہ فرمایا : اللہ کے لیے صبح و شام پاکیزگی ہے ، میں شیطان سے اس کی پھونک ، اس کے وسوسے اور اس کے خطرے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ، البتہ ابن ماجہ نے ((والحمدللہ کثیرا)) کا ذکر نہیں کیا ، اور انہوں نے آخر پر :((من الشیطان الرجیم)) کا ذکر کیا ، اور عمر ؓ نے فرمایا : اس کی پھونک سے مراد کبر ، اس کے وسوسے سے مراد شعر اور اس کے خطرے سے جنون مراد ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 818

وَعَن سَمُرَة بن جُنْدُب: أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالّين) فَصَدَّقَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وروى التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي نَحوه
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دو سکتے یاد کیے ، ایک سکتہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تکبیر تحریمہ کہتے اور ایک سکتہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) کی قراءت سے فارغ ہوتے ، ابی بن کعب ؓ نے ان کی تصدیق کی ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور دارمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 819

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَة الثَّانِيَة استفتح الْقِرَاءَة ب «الْحَمد لله رب الْعَالمين» وَلَمْ يَسْكُتْ. هَكَذَا فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ. وَذَكَرَهُ الْحُمَيْدِيُّ فِي أَفْرَادِهِ وَكَذَا صَاحِبُ الْجَامِعِ عَنْ مُسلم وَحده
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو (الحمدللہ رب العلمین) سے قراءت شروع کرتے تھے ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سکتہ نہیں فرماتے تھے ۔ صحیح مسلم میں اسی طرح ہے ، حمیدی نے اسے امام مسلم کے مفردات میں ذکر کیا ، اور اسی طرح صاحب الجامع نے اسے صرف مسلم سے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 820

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسلمين اللَّهُمَّ اهدني لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز شروع کرتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ، دونوں جہانوں کے رب کے لیے ہے ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اطاعت گزار ہوں ، اے اللہ ! بہترین اعمال و اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما ، ان بہترین اعمال و اخلاق کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے ، برے اعمال اور برے اخلاق سے مجھے بچا ، ان برے اعمال و اخلاق سے صرف تو ہی بچا سکتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 821

وَعَن مُحَمَّد بن مسلمة قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْض حَنِيفا مُسلما وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» . ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ» ثُمَّ يَقْرَأُ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
محمد بن مسلمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نفل نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا فرماتے :’’ میں نے یکسو ہو کر اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا جس نے عدم سے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔‘‘ اور انہوں (محمد بن مسلمہ) نے جابر ؓ سے مروی حدیث کے مثل ذکر کیا ، البتہ انہوں نے ((وانا من المسلمین))’’ میں مسلمان ہوں ‘‘ ذکر کیا ہے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور ہم تیری حمد کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قراءت فرماتے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 822

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ لمن لم يقْرَأ بِفَاتِحَة الْكتاب» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآن فَصَاعِدا»
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے (نماز میں) سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ (اس کی نماز نہیں ہوتی) جو سورۂ فاتحہ اور کچھ زائد نہ پڑھے ۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 823

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ» فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُون وَرَاء الإِمَام فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ (الْحَمد لله رب الْعَالمين) قَالَ اللَّهُ تَعَالَى حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ (الرَّحْمَن الرَّحِيم) قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي وَإِذَا قَالَ (مَالك يَوْم الدّين) قَالَ مجدني عَبدِي وَقَالَ مرّة فوض إِلَيّ عَبدِي فَإِذا قَالَ (إياك نعْبد وَإِيَّاك نستعين) قَالَ هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالّين) قَالَ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے نماز پڑھی لیکن اس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ (نماز) ناقص ہے ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا :’’ مکمل نہیں ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : اسے اپنے دل میں پڑھو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا ، اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے مل گیا ، چنانچہ جب بندہ کہتا ہے :’’ ہر قسم کی حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد بیان کی ، اور جب بندہ کہتا ہے :’’ جو بہت مہربان ، نہایت رحم والا ہے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ، جب کہتا ہے :’’ یوم جزا کا مالک ہے ۔‘‘ اللہ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری شان و شوکت بیان کی ، جب بندہ کہتا ہے :’’ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔‘‘ اللہ فرماتا ہے : یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ، اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو اس نے سوال کیا ، اور جب بندہ کہتا ہے :’’ ہمیں سیدھی راہ دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ، ان کی نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کی راہ جو گمراہ ہوئے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جس کا اس نے سوال کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 824

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبا بكر وَعمر رَضِي الله عَنْهُمَا كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ بِ «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالمين» ) رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابوبکر و عمر ؓ (الحمدللہ رب العلمین) سے نماز شروع کیا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 825

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تقدم من ذَنبه) وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: (غَيْرِ المغضوب عَلَيْهِم وَلَا الضَّالّين) فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ وَفِي أُخْرَى لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: «إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غفر لَهُ مَا تقدم من ذَنبه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو ، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق (ساتھ) ہو گئی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ جب امام (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) کہے تو تم آمین کہو ، کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا ، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ متفق علیہ ۔ اور بخاری کی دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب قاری (امام) آمین کہے تو تم آمین کہو ، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ، جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 826

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فكبروا وَإِذ قَالَ (غير المغضوب عَلَيْهِم وَلَا الضَّالّين) فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قبلكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتِلْكَ بِتِلْكَ» قَالَ: «وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يسمع الله لكم» . رَوَاهُ مُسلم
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو صفیں درست کرو ، پھر تم میں سے تمہیں کوئی نماز پڑھائے ، پس جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو ، اور جب وہ (غیر المغضوب علیھم ولا الضالین) کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ، جب وہ اللہ اکبر کہے اور رکوع کرے تو تم اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو ، کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے (رکوع سے) اٹھتا ہے ۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ (پہلے سر اٹھانا) اس کے (پہلے رکوع جانے) کا بدلہ ہے ، اور جب وہ کہے : ((سمع اللہ لمن حمدہ))’’ اللہ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی ‘‘، تو تم کہو : اے اللہ ! ہر قسم کی حمد تیرے ہی لیے ہے ، اللہ تمہاری دعا سنتا اور قبول فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 827

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَتَادَةَ: «وَإِذا قَرَأَ فأنصتوا»
اور مسلم کی ابوہریرہ ؓ اور ابوقتادہ ؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 828

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ فِي الظُّهْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيطول فِي الرَّكْعَة الأولى مَا لَا يطول فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَهَكَذَا فِي الْعَصْرِ وَهَكَذَا فِي الصُّبْح
ابوقتادہ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں جبکہ دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھا کرتے تھے اور کبھی کبھار آپ ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ، آپ جس قدر پہلی رکعت میں قراءت لمبی کیا کرتے تھے اس قدر دوسری میں لمبی نہیں کیا کرتے تھے ، اور آپ اسی طرح عصر میں اور اسی طرح فجر میں کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 829

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ (الم تَنْزِيلُ) السَّجْدَةِ - وَفِي رِوَايَةٍ: فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً - وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النّصْف من ذَلِك وحزرنا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نماز ظہر و عصر میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے ، پس ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کا اندازہ سورۂ سجدہ کی قراءت کے برابر لگایا ، اور ایک دوسری روایت میں ہے ہر رکعت میں تیس آیات کے برابر تھا ، اور ہم نے آخری دو رکعتوں میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا تو وہ اس سے نصف تھا ، ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کا اندازہ لگایا تو وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے قیام کے برابر تھا جبکہ عصر کی آخری دو رکعتیں اس کی (پہلی دو رکعتوں) سے نصف تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 830

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ ب (اللَّيْل إِذا يغشى) وَفِي رِوَايَةٍ بِ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ من ذَلِك. رَوَاهُ مُسلم
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز ظہر میں (واللیل اذا یغشیٰ ،،،،) اور ایک دوسری روایت میں ہے ، (سبح اسم ربک الاعلٰی ،،،،) اور عصر میں اسی طرح ، جبکہ نماز فجر میں اس سے زیادہ لمبی قراءت کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 831

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ «الطُّورِ»
جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز مغرب میں سورۂ طور پڑھتے ہوئے سنا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 832

وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يقْرَأ فِي الْمغرب ب (المرسلات عرفا)
ام فضل بن حارث ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز مغرب میں (والمرسلات عرفاً ،،،،) پڑھتے ہوئے سنا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 833

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهُ أَنَافَقَتْ يَا فُلَانُ قَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فلأخبرنه فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَأَقْبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ: يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ؟ أَنْتَ اقْرَأ: (الشَّمْس وَضُحَاهَا (وَالضُّحَى) (وَاللَّيْل إِذا يغشى) و (وَسبح اسْم رَبك الْأَعْلَى)
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، معاذ بن جبل ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز (عشاء) پڑھا کرتے تھے ، پھر جا کر اپنی قوم کی امامت کراتے تھے ، ایک رات انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھی ، پھر اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں نماز پڑھائی تو انہوں نے سورۂ بقرہ شروع کر دی ، ایک آدمی نے الگ ہو کر سلام پھیر دیا ، پھر اکیلے ہی نماز پڑھ کر چلا گیا تو صحابہ نے اسے کہا : اے فلاں ! کیا تو منافق ہو گیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے شکایت کروں گا ، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم اونٹوں پر پانی لا کر کھیتوں اور باغات کو سیراب کرنے والے لوگ ہیں ، دن بھر کام کاج کرتے ہیں ، اور یہ معاذ ہیں کہ انہوں نے آپ کے ساتھ نماز عشاء ادا کی ، پھر اپنی قوم کے پاس آئے تو انہوں نے سورۂ بقرہ شروع کر دی ، پس (یہ سن کر) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معاذ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :’’ معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو ؟ تم (والشمس وضحھا ،،،،) ، (واللیل اذا یغشیٰ ،،،،) اور (سبح اسم ربک الاعلیٰ ،،،،) پڑھا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 834

وَعَن الْبَراء قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ فِي الْعشَاء: (والتين وَالزَّيْتُون) وَمَا سَمِعت أحدا أحسن صَوتا مِنْهُ
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز عشاء میں (والتین والزیتون ) پڑھتے ہوئے سنا ، اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ خوش الحان کوئی اور نہیں سنا ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 835

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ب (ق وَالْقُرْآن الْمجِيد) وَنَحْوِهَا وَكَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر میں (ق والقرآن المجید ،،،،،) اور اس طرح کی سورتیں پڑھا کرتے تھے ، اور اس (یعنی نماز فجر) کے بعد آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باقی نمازیں مختصر ہوتی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 836

وَعَن عَمْرو بن حُرَيْث: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ فِي الْفجْر (وَاللَّيْل إِذا عسعس) رَوَاهُ مُسلم
عمرو بن حریث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز فجر میں (واللیل اذا عسعس ،،،،) پڑھتے ہوئے سنا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 837

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ (الْمُؤْمِنِينَ) حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ. رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن سائب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مکہ میں نماز فجر پڑھائی تو آپ نے سورۂ مومنون شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ و ہارون علیہم السلام کا ذکر آیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رونے کی وجہ سے کھانسی آنے لگی جس پر آپ نے رکوع کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 838

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ فِي الْفجْر يَوْم الْجُمُعَة ب (الم تَنْزِيلُ) فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَفِي الثَّانِيَةِ (هَل أَتَى على الْإِنْسَان)
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز نماز فجر کی پہلی رکعت میں سورۂ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورۂ دہر پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 839

وَعَن عبيد الله بن أبي رَافع قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ سُورَةَ (الْجُمُعَةِ) فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى وَفِي الْآخِرَة: (إِذا جَاءَك المُنَافِقُونَ) فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ بهما يَوْم الْجُمُعَة. رَوَاهُ مُسلم
عبیداللہ بن ابی رافع بیان کرتے ہیں ، مروان ابوہریرہ ؓ کو مدینہ کا خلیفہ مقرر کر کے خود مکہ تشریف لے گئے ، چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی تو انہوں نے پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں سورۃ المنافقون پڑھی تو پھر انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جمعہ کے روز یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 840

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) و (هَل أَتَاك حَدِيث الغاشية) قَالَ: وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ قَرَأَ بِهِمَا فِي الصَّلَاتَيْنِ. رَوَاهُ مُسلم
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز عیدین اور نماز جمعہ میں سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ پڑھا کرتے تھے ، اور انہوں نے فرمایا : اگر عید جمعہ کے روز آ جاتی تو پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دونوں نمازوں میں یہی دونوں سورتیں تلاوت فرماتے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 841

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ: (مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ: كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا: ب (ق وَالْقُرْآن الْمجِيد) و (اقْتَرَبت السَّاعَة) رَوَاهُ مُسلم
عبیداللہ ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابوواقدلیشی ؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورتیں تلاوت کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں میں سورۂ ق اور سورۃ القمر تلاوت کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 842

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: (قُلْ يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ) و (قل هُوَ الله أحد) رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فجر کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص تلاوت فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 843

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يقْرَأ فِي رَكْعَتي الْفَجْرِ: (قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا) وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ (قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ) رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی رکعتوں میں سورۃ البقرہ کی آیات (قولو امنا باللہ وما انزل الینا ،،،،) اور سورۂ آل عمران سے (قل یا اھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا وبینکم ،،،،) پڑھا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 844

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ بِ (بِسم الله الرَّحْمَن الرَّحِيم) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سے شروع کیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس حدیث کی سند قوی نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 845

وَعَن وَائِل بن حجر قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه