158 Results For Hadith (Sahih Muslim) Book (The Book of Menstruation)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 679

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأْتَزِرُ بِإِزَارٍ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا»
A'isha reported: When anyone amongst us (amongst the wives of the Holy Prophet) menstruated, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked her to tie a waist-wrapper over her (body) and then embraced her.
ابراہیم نے اسو د سے انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : ہم ( ازواد نبی ﷺ ) میں سے کسی ایک کے خصوصی ایام ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ چادر باندھنے کا حکم دیتے ، وہ چادر باندھ لیتی تو پھر آپ اس کےساتھ لیٹ جاتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 680

وَحَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عليُّ بْنُ مُسْهرٍ، عَنِ الشَّيْبانيِّ ح، وَحَدَّثَنِي عليُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْديُّ، - واللَّفْظُ لهُ - أَخْبَرَنَا عليُّ بْنُ مُسْهرٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ الْأَسْودِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْتَزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِها، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا» قَالَتْ: «وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ»
A'isha reported: When anyone amongst us was menstruating the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked her to tie waist-wrapper daring the time when the menstrual blood profusely flowed and then embraced her; and she ('A'isha) observed: And who amongst you can have control over his desires as the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had over his desires.
عبد الرحمان بن اسود نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : ہم میں سے کسی کے خصوصی ایام ہوتے توآپﷺ اس کے جوش و کثرت کےدنوں میں اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے ، پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے ۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : تم میں سے کون ہے جو اپنی خواہش پر اس قدر ضبط رکھتا ہو جس قدر رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش پر قابو رکھتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 681

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ نِسَاءَهُ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهُنَّ حُيَّضٌ»
Maimuna (the wife of the Holy Prophet) reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) contacted and embraced his wives over the waist-wrapper when they were menstruating.
حضرت میمونہؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے مخصوص ایام میں کپڑے کے اوپر ان کے ساتھ لگ کر لیٹ جاتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 682

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْطَجِعُ مَعِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ»
Kuraibthe freed slave of Ibn Abbas, reported: I heard it from Maimuna, the wife of the Messenger of Allah (way peace be upon him): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to lie with me when I menstruated, and there was a cloth between me and him.
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کر دہ غلام ابو کریب نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ ؓ سے سنا ، کہا : جب میرے مخصوص ایام ہوتے تو رسول اللہ ﷺ میرے ساتھ لیٹ جاتے ( اس وقت ) میرے اور آپ کے درمیان کپڑا حائل ہوتا تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 683

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ، إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيْضَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ. قَالَتْ: «وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ، مِنَ الْجَنَابَةِ»
Umm Salama reported: While I was lying with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in a bed cover I menstruated, so I slipped away and I took up the clothes (which I wore) in menses. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Have you menstruated? I said: Yes. He called me and I lay down
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے انہیں بتایا ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رؤئیں دار چادر میں لیٹی ہوئی تھی ، اس اثنا میں میرے ایام کا آغاز ہو گیا اور میں کھسک گئی اور ان ایام کے کپڑے لے لیے تو رسو ل اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا : ’’کیا تمہارے ایام شروع ہو گئے ؟ ‘ ‘ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو آپ نےمجھے پاس بلا لیا اور میں آپ کے ساتھ اوڑھنے کی ایک ہی روئیں دار چادر میں لیٹ گئی ۔ ام سلمہ نے بتایاکہ وہ اور رسول اللہﷺ اکٹھے ایک برتن میں غسل جنابت کر لیتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 684

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اعْتَكَفَ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ»
It is reported from 'A'isha that she observed: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in I'tikaf, he inclined his head towards me and I combedhis hair, and he did not enter the house but for the natural calls (for relieving himself).
مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف کرتے تو اپنا سر ( گھر کے دروازے سے ) میرے قریب کر دیتے ، میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ انسانی ضرورت کے بغیر گھر میں تشریف نہ لاتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 685

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا» وقَالَ ابْنُ رُمْحٍ: إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ
Amra daughter of 'Abd al-Rahman reported: 'A'isha, wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: When I was (in I'tikaf), I entered the house for the call of nature, and while passing I inquired after the health of the sick (in the. family), and when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was (in I'tikaf), he put out his head towards me, while he himself was in the mosque, and I combed his hair; and he did not enter the house except for the call of nature so long as he was In I'tikaf; and Ibn Rumh stated: As long as they (the Prophet and his wives) were among the observers of I'tikaf.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ اور عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت کی کہ رسول اللہﷺکی زوجہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ( جب میں اعتکاف میں ہوتی تو ) قضائے حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتی ، اس میں کوئی بیمارہوتا تو میں بس گزرتے گزرتے ہی اس سے ( حال ) پوچھ لیتی اوراگر رسول اللہ ﷺ مسجدسے میرے پاس ( حجرے میں ) سر داخل فرماتے تو میں اس میں کنگھی کر دیتی ، جب آپ اعتکاف میں ہوتے تو گھر میں کسی ( حقیقی ) ضرورت کے بغیر داخل نہ ہوتے ۔ ابن رمح نے ( ’’جب آپ ﷺ معتکف ہوتے ‘ ‘ کے بجائے ) ’’جب سب لوگ اعتکاف میں ہوتے ‘ ‘ کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 686

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَهُوَ مُجَاوِرٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ»
A'isha, the wife of the Apostle (may peace he upon him), reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) put out from the mosque his head for me as he was in I'tikaf, and I washed it in the state that I was menstruating.
محمدبن عبد الرحمن بن نوفل نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں مسجد سے میری طرف سر نکالتے تو میں ایام خصوصی میں ہوتے ہوئے اس کو دھو دیتی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 687

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، فَأُرَجِّلُ رَأْسَهُ وَأَنَا حَائِضٌ»
Urwa reported it from 'A'isha that she observed: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) inclined his head towards me (from the mosque) while I was in my apartment and I combed it in a state of menstruation.
ہشام نے کہا : عروہ بن ہمیں حضرت عائشہ ؓ سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ( اعتکاف کی حالت میں ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے جبکہ میں اپنے حجرے میں ہوتی اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 688

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ»
Al-Aswad narrated it from 'A'isha that she observed: I used to wash the head of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), while I was in a state of menstruation.
اسود نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں ایام مخصوصہ میں رسول اللہ ﷺ کاسر دھودیتی تھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 689

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، - قَالَ: يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ»، قَالَتْ فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ»
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me: Get me the mat from the mosque. I said: I am menstruating. Upon this he remarked: Your menstruation is not in your hand.
اعمش نے ثابت بن عبید سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : رسول ا للہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’مجھے مسجد میں سے جائے نماز پکڑا دو ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہار ا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 690

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «تَنَاوَلِيهَا فَإِنَّ الْحَيْضَةَ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ»
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ordered me that I should get him the mat from the mosque. I said: I am menstruating. He (the Holy Prophet) said: Do get me that, for menstruation is not in your hand.
حجاج اور ابن ابی غنیہ نے ثابت سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجدسے آپ کو جائے نماز پکڑا دوں ، میں نےعرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’حیض تمہارےہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 691

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: نَاوِلِينِي الثَّوْبَ فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ» فَنَاوَلَتْهُ
Abu Huraira reported: While the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in the mosque, he said: O 'A'isha, get me that garment. She said: I am menstruating. Upon this he remarked: Your menstruation is not in your hand, and she, therefore, got him that.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھ کو کپڑا اٹھا دے“، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“ پھر انہوں نے کپڑا اٹھا دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 692

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ، فَيَشْرَبُ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ» وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فَيَشْرَبُ
A'isha reported: I would drink when I was menstruating, then I would hand it (the vessel) to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he would put his mouth where mine had been, and drink, and I would eat flesh from a bone when I was menstruating, then hand it over to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he would put his mouth where mine had been. Zuhair made no mention of (the Holy Prophet's) drinking.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے مسعر اور سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مقدام بن شریح سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں ایام مخصوصہ کے دوران میں پانی پی کر نبی اکرمﷺ کو پکڑا دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھ کر پانی پی لیتے ، اور میں دانتوں کےساتھ ہڈی سےگوشت نوچتی جبکہ میرے مخصوص ایام ہوتے ، پھر وہ ( ہڈی ) نبی ﷺ کو دیتی تو آپ میرے منہ والی جگہ پر اپنا منہ رکھتے ( اور بوٹی توڑتے ۔ ) زہیر نے فیشرب ( پانی پینے ) کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 693

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ»
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would recline in my lap when I was menstruating, and recite the Qur'an.
صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں حیض کی حالت میں ہوتی تو رسول اللہ ﷺ میری گود کو تکیہ بناتے اور قرآن پڑھتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 694

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} [البقرة: 222] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ» فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ، فَقَالُوا: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، فَلَا نُجَامِعُهُنَّ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا، فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا
Thabit narrated it from Anas: Among the Jews, when a woman menstruated, they did not dine with her, nor did they live with them in their houses; so the Companions of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and Allah, the Exalted revealed: And they ask you about menstruation; say it is a pollution, so keep away from woman during menstruation to the end (Qur'an, ii. 222). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do everything except intercourse. The Jews heard of that and said: This man does not want to leave anything we do without opposing us in it. Usaid b. Hudair and Abbad b. Bishr came and said: Messenger of Allah, the Jews say such and such thing. We should not have, therefore, any contactwith them (as the Jews do). The face of the Messenger of Allah (way peace be upon him) underwent such a change that we thought he was angry with them, but when they went out, they happened to receive a gift of milk which was sent to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He (the Holy Prophet) called for them and gave them drink, whereby they knew that he was not angry with them.
حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے کہ یہودی ، جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تو نہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر ہی میں اکٹھے رہتے ۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ کے صحابہ نے آپ سے اس بارے میں پوچھا ، اس پر اللہ تعالیٰ نےآیت تاری : ’’یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ فرما دیجیے ، یہ اذیت ( کاوقت ) ہے ، اس لیے محیض ( مقام حیض ) میں عورتوں ( کے ساتھ مجامعت ) سے دور ہو ‘ ‘ آخر تک ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جماع کے سوا سب کچھ کرو ۔ ‘ ‘ یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو کہنے لگے : یہ آدمی ہمارے دین کی ہر بات کی مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے ۔ ( یہ سن کر ) اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! یہود اس اس طرح کہتے ہیں تو یکا ہم ان ( عورتوں ) سے جماع بھی نہ کر لیا کریں ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا حتی کہ ہم نے سمجھا کہ آپ دونوں سے ناراض ہو گئے ہیں ۔ وہ دونوں نکل گئے ، آگے سے رسول اللہ ﷺ کے لیے دودھ کا ہدیہ آرہا تھا ، آپ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیجا اور ان کو ( بلواکر ) دودھ پلایا ، وہ سمجھ گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 695

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهُشَيْمٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى، - وَيُكْنَى أَبَا يَعْلَى - عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ»
Ali reported: I was one whose prostatic fluid flowed readily and I was ashamed to ask the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about it, because of the position of his daughter. I, therefore, asked Miqdad. b. al-Asad and he inquired of him (the Holy Prophet). He (the Holy Prophet) said: He should wash his male organ and perform ablution.
وکیع ، ابو معاویہ اور ہشیم نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منذر بن یعلیٰ سے ( جن کی کنیت ابو یعلیٰ ہے ) انہوں نے ابن حنفیہ سے ، انہوں نے ( اپنے والد ) حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : مجھے مذی ( منی سے مختلف رطوبت جو اسی راستے سے خارج ہوتی ہے ) زیادہ آتی تھی اور میں آپ کی بیٹی کے ( ساتھ ) رشتے کی وجہ سے براہ راست نبی کریم ﷺ سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتا تھا ۔ میں نے مقداد بن اسود سے کہا ، انہوں نےآپ سے پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’ ( اس میں متبلا آدمی ) اپنا عضو مخصوص دھوئے اور وضو کر لے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 696

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «مِنْهُ الْوُضُو
Ali reported: I felt shy of asking about prostatic fluid from the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) because of Fatimah. I, therefore, asked al-Miqdad (to ask on my behalf) and he asked. He (the Holy Prophet) said: Ablution is obligatory in such a case.
شعبہ نے سلیمان اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں نے حضرت فاطمہ ؓ ( کے ساتھ رشتے ) کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ سے مذی کےبارے میں پوچھنے میں شرم محسوس کی تو میں نے مقداد کو کہا ، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’اس سے وضو ( کرنا پڑتا ) ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 697

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَرْسَلْنَا الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنَ الْإِنْسَانِ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ
Ibn 'Abbas reported it from 'Ali: We sent al-Miqdad b. al-Aswad to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to ask him what must be done about prostatic fluid which flows from (the private part of) a person. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Perform ablution and wash your sexual organ.
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : ہم نے مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، انہوں نے آپ سے مذی کے بارے میں پوچھا جو انسان ( کے عضو مخصوص ) سے خارج ہوتی ہے کہ وہ اس کا کیا کرے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’وضو کرو اور شرم گاہ کو دھو لو ۔ ‘ ‘ ( ترتیب میں پہلے دھونا ، پھر وضو کرنا ہے جس طرح حدیث : 695میں ہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 698

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ»
Ibn 'Abbas reported: The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) woke up at night; relieved himself, and then washed his face and hands and then again slept.
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ رات کو اٹھے ، قضائے حاجت کی ، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سو گئے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 699

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ، وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، قَبْلَ أَنْ يَنَامَ»
A'isha reported: Whenever the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) intended to sleep after having sexual intercourse, he performed ablution as for the prayer before going to sleep.
ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ رسول اللہﷺ جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے توسونے سے پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 700

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَوَكِيعٌ، وَغُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا، فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
A'isha reported: Whenever the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had sexual intercourse and intended to eat or sleep, he performed the ablution of prayer.
ابن علیہ ، وکیع اور عندر نے شعبہ سے ، انہوں نے حکم سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی : انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب حالت جنابت میں ہوتے او رکھانا یا سونا چاہتے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 701

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ
This hadith has been transmitted by Shu'ba with the same chain of transmitters. Ibn at-Muthanna said in his narration: AI-Hakam narrated to us who heard from Ibrahim narrating that.
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، اسی طرح عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث سنائی ۔ ان دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ۔ ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے ، حکم نے کہا : میں نے ابراہیم کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔ ( آگے وہی حدیث ہے جو اوپر بیان ہو ئی ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 702

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ
Ibn 'Umar reported: Umar said: Is one amongst us permitted to sleep in a state of impurity (i. e. after having sexual intercourse)? He (the Holy Prophet) said: Yes, after performing ablution.
عبید اللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےر وایت کی کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں ہو تو کیا وہ ( اسی طرح ) سو سکتا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، جب وضو کر لے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 703

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، لِيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيَنَمْ، حَتَّى يَغْتَسِلَ إِذَا شَاءَ»
Ibn 'Umar said: 'Umar asked the verdict of the Shari'ah from the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) thus: Is it permissible for any one of us to sleep in a state of impurity? He (the Prophet said: Yes, he must perform ablution and then sleep and take a bath when he desires.
ابن جریج سے روایت ہے ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا اور کہا : کیا ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، وضو کر لے پھر ( اس وقت تک کے لیے ) سو جائے جب وہ غسل کرنا چاہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 704

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ»
Ibn Umar reported: Umar b. al-Khattab said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), that he became Junbi during the night. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Perform ablution, wash your sexual organ and then go to sleep.
عبداللہ بن دینار سے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسو ل اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کیا کہ رات کے وقت وہ جنابت سے دو چار ہو جاتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺنے ان سے کہا : ’’وضو کر اور ( اس سے پہلے ) اپناعضو مخصوص دھولو ، پھر سو جاؤ ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 705

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ؟ أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ؟ أَمْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً
Abdullah b. Abu'l-Qais reported: I asked 'A'isha about the Witr (prayer) of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and made mention of a hadith, then I said: What did he do after having sexual intercourse? Did he take a bath before going to sleep or did he sleep before taking a bath? She said: He did all these. Some- times he took a bath and then slept, and sometimes he performed ablution only and went to sleep. I (the narrator) said: Praise be to Allah Who has made things easy (for human beings).
لیث نے معاویہ بن صالح سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قیس سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا ..... پھر آگے حدیث بیان کی کہ میں نے پوچھا : آپ ﷺ جنابت کی صورت میں کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سوجاتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ یہ سب کر لیتے تھے ، بسااوقات نہا کرسوتےاور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے ۔ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ( دین کے ) معاملے میں وسعت رکھی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 706

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح، وَحَدَّثَنِيهِ هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been transmitted with the same chain of transmitters from Mu'awyia b. Salih by Zuhair b. Harb, 'Abd al-Rahman b. Mahdi, Harun b. Sa'id al-'Aili and Ibn Wahb.
عبدالرحمن بن مہدی اور ابن وہب دونوں نے معاویہ بن صالح سے سابقہ سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 707

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح، وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ، فَلْيَتَوَضَّأْ» زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَهُمَا وُضُوءًا، وَقَالَ: ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُعَاوِدَ
Abu Sa'id al-Khudri reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When anyone amongst you has sexual intercourse with his wife and then he intends to repeat it, he should perform ablution. In the hadith transmitted by Abu Bakr. (the words are): Between the two (acts) there should be an ablution, or he (the narrator) said: Then he intended that it should be repeated.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث سنائی ، نیز ابو کریب نے کہا : ہمیں ابن ابی زائدہ نے خبر دی ، نیز عمرو ناقد اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی ، ان سب ( حفص ، ابن ابی زائدہ اور مروان ) نے عاصم سے ، انہوں نے ابومتوکل سے اور انہو ں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی نے اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ، پھر سے کرنا چاہے تو وہ وضو کر لے ۔ ‘ ‘ ( حفص بن غیاث سے روایت کرنے والے ) ابو بکر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : دونوں بار کے درمیان وضو کر لے ، نیز أن يعود ( پھر سے ) کے بجائےأن يعاود ( دوبارہ ) کے الفاظ استعمال کیے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 708

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ الْحَذَّاءَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ»
Anas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to have sexual intercourse with his wives with a single bath.
حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ ایک ہی غسل سے اپنی ( ایک سے زیادہ ) بیویوں کے پاس جاتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 709

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، - وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاقَ -، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ، وَعَائِشَةُ عِنْدَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ، فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: «بَلْ أَنْتِ، فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ، نَعَمْ، فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِذَا رَأَتْ ذَاكَ»
Anas b. Malik reported: Umm Sulaim who was the grandmother of Ishaq came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in the presence of 'A'isha and said to him: Messenger of Allah, in case or woman sees what a man sees in dream and she experiences in dream what a man experiences (i. e. experiences orgasm)? Upon this 'A'isha remarked: O Umm Sulaim, you brought humiliation to women;may your right hand be covered with dust. He (the Holy Prophet) said to 'A'isha: Let your hand be covered with dust, and (addressing Umm Sulaim) said: Well, O Umm Sulaim, she should take a bath if she sees that (i. e. she experiences orgasm in dream).
اسحاق بن ابی طلحہ نےکہاکہ مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے یہ حدیث سنائی کہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ جو ( حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی والدہ اور ) اسحاق کی دادی تھیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھیں ، اے اللہ کے رسول ! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے ، وہ اپنے آپ سے وہی چیز ( نکلتی ہوئی ) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے ( تو وہ کیا کرے ؟ ) حضرت عائشہ ؓ کہنے لگیں : ام سلیم ! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ( ان کا یہ کہا کہ تیرادایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی ) تو آپﷺ نے عائشہ ؓ سےفرمایا : ’’بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۔ ہاں ام سلیم!جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 710

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، حَدَّثَتْ أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ» فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: وَهَلْ يَكُونُ هَذَا؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أَوْ سَبَقَ، يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ»
Anas b. Malik reported that Umm Sulaim narrated it that she asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about a woman who sees in a dream what a man sees (sexual dream). The Messenger of Allah (may peace be upon bi m) said: In case a woman sees that, she must take a bath. Umm Sulaim said: I was bashful on account of that and said: Does it happen? Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Yes (it does happen), otherwise how can (a child) resemble her? Man's discharge (i. e. sperm) is thick and white and the discharge of woman is thin and yellow; so the resemblance comes from the one whose genes prevail or dominate.
قتادہ سےروایت ہے کہ حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم ؓ نے ( انہیں ) بتایا کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جونیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا : میں اس بات پر شرما گئی ۔ ( پھر ) آپ بولیں : کیا ایسا بھی ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں ، ( ورنہ ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے ؟مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس ( کے حصے ) کو غلبہ مل جائے یا ( نئی تشکیل میں ) سبقت لے جائے تو اسی سے ( بچے کی ) مشابہت ہوتی ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 711

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ، فَقَالَ: «إِذَا كَانَ مِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ
Anas b. Malik reported: A woman asked the Messenger of Allah (way peace be upon him) about a woman who sees in her dream what a man sees in his dream (sexual dream). He (the Holy Prophet) said: If she experiences what a man experiences, she should take a bath.
ابو مالک اشجعی نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کےبارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ نے فرمایا : ’’ جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 712

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ أَمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهِ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ» فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ: «تَرِبَتْ يَدَاكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا
Umm Salama reported: Umm Sulaim went to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Apostle of Allah, Allah is not ashamed of the truth. Is bathing necessary for a woman when she has a sexual dream? Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Yes, when she sees the liquid (vaginal secretion). Umm Salama said: Messenger of Allah, does a woman have sexual dream? He (the Holy Prophet) said: Let your hand be covered with dust, in what way does her child resemble her?
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے اور انہوں نے ( اپنی والدہ ) حضرت ام سلمہ ؓسے روایت کی کہ ام سلیم ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ حق سے حیا محسوس نہیں کرتا تو کیا عورت کو احتلام ہو جائے تو اس پر غسل ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہاں ، جب ( منی کا ) پانی دیکھے ۔ ‘ ‘ ام سلمہؓ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟آپ نے فرمایا : ’’تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے ! ‘ ‘ ( یعنی نطفے کی تشکیل میں دونوں کے مادے کا حصہ ہوتا ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 713

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ مَعْنَاهُ وَزَادَ قَالَتْ: قُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ.
This hadith with the same sense (as narrated above) bus been transmitted from Hisham b. 'Urwa with the same chain of narrators but with this addition that she (Umm Salama) said: You humiliated the women.
ہشام کے دو شاگردوں وکیع اور سفیان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی لیکن انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے : ام سلمہ ؓ نے بتایا کہ میں نے کہا : تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ ؓ دونوں موجود تھیں ، تعجب کی بنا پر دونوں کے منہ سے یہی بات نکلی ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 714

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقُلْتُ لَهَا أُفٍّ لَكِ أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ
A'isha the wife of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) narrated: Umm Sulaim, the mother of Bani Abu Talha, came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and a hadith (like that) narrated by Hisham was narrated but for these words. A'isha said: I expressed disapproval to her, saying: Does a woman see a sexual dream?
ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ ام سلیم ؓ جو ابو طلحہ کےبیٹوں کی ماں ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں .... آگے ہشام کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں ( عروہ ) نے کہا : حضرت عائشہ ؓ نے کہا : میں نے اس سے کہا : تجھ پر افسوس ! کیا عورت کو بھی ایسا نظر آتا ہے ؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 715

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالَ سَهْلٌ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ - أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: تَرِبَتْ يَدَاكِ وَأُلَّتْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعِيهَا. وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكِ، إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ، أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ»
It is reported on the authority of 'A'isha that a woman came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and inquired: Should a woman wash herself when she sees a sexual dream and sees (the marks) of liquid? He (the Holy Prophet) said: Yes. 'A'isha said to her: May your hand be covered with dust and injured. She narrated: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Leave her alone. In what way does the child resemble her but for the fact that when the genes contributed by woman prevail upon those of man, the child resembles the maternal family, and when the genes of man prevail upon those of woman the child resembles the paternal family.
مسافع بن عبد اللہ نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کیا جب عورت کواحتلام ہو جائے اور وہ پانی دیکھے توغسل کرے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے اس عورت سےکہا : تیرے ہاتھ خاک آلود اور زخمی ہوں ۔ انہوں ( عائشہ ؓ ) نے کہا : تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : ’’اسے کچھ نہ کہو ، کیا ( بچے کی ) مشابہت اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوتی ہے ! جب ( نطفے کی تشکیل کے مرحلے میں ) اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کاپانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کےمشابہ ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 716

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، يَعْنِي أَخَاهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حِبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا فَقَالَ: لِمَ تَدْفَعُنِي؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي»، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟» قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ، فَنَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مَعَهُ، فَقَالَ: «سَلْ» فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ» قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً؟ قَالَ: «فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ» قَالَ الْيَهُودِيُّ: فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «زِيَادَةُ كَبِدِ النُّونِ»، قَالَ: فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا؟ قَالَ: «يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا» قَالَ: فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا» قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ. قَالَ: «يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟» قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ. قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ؟ قَالَ: «مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ، فَإِذَا اجْتَمَعَا، فَعَلَا مَنِيُّ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ، أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللهِ، وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ، آنَثَا بِإِذْنِ اللهِ». قَالَ الْيَهُودِيُّ: لَقَدْ صَدَقْتَ، وَإِنَّكَ لَنَبِيٌّ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَذَهَبَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْهُ، وَمَا لِي عِلْمٌ بِشَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى أَتَانِيَ اللهُ بِهِ»
Thauban, the freed slave of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: While I was standing beside the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one of the rabbis of the Jews came and said: Peace be upon you, O Muhammad. I pushed him backwith a push that he was going to fall. Upon this he said: Why do you push me? I said: Why don't you say: O Messenger of Allah? The Jew said: We call him by the name by which he was named by his family. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: My name is Muhammad with which I was named by my family. The Jew said: I have come to ask you (something). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Should that thing be of any benefit to you, if I tell you that? He (the Jew) said: I will lend my ears to it. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) drew a line with the help of the stick that he had with him and then said: Ask (whatever you like). Thereupon the Jew said: Where would the human beings be on the Daywhen the earth would change into another earth and the heavens too (would change into other heavens)? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: They would be in darkness beside the Bridge. He (the Jew) again said: Who amongst people would be the first to cross (this bridge).? He said: They would be the poor amongst the refugees. The Jew said: What would constitute their breakfast when they would enter Paradise? He (the Holy Prophet) replied: A caul of the fish-liver. He (the Jew) said. What would be their food alter this? He (the Holy Prophet) said: A bullockwhich was fed in the different quarters of Paradise would be slaughtered for them. He (the Jew) said: What would be their drink? He (the Holy Prophet) said: They would be given drink from the fountain which is named Salsabil . He (the Jew) said: I have come to ask you about a thing which no one amongst the people on the earth knows except an apostle or one or two men besides him. He (the Holy Prophet) said: Would it benefit you if I tell you that? He (the Jew) said: I would lend ears to that. He then said: I have come to ask you about the child. He (the Holy Prophet) said: The reproductive substance of man is white and that of woman (i. e. ovum central portion) yellow, and when they have sexual intercourse and the male's substance (chromosomes and genes) prevails upon the female's substance (chromosomes and genes), it is the male child that is created by Allah's Decree, and when the substance of the female prevails upon the substance contributed by the male, a female child is formed by the Decree of Allah. The Jew said: What you have said is true; verily you are an Apostle. He then returned and went away. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He asked me about such and such things of which I have had no knowledge till Allah gave me that.
ابو توبہ نے ، جو ربیع بن نافع ہیں ، ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : معاویہ بن سلام نے ہمیں اپنےبھائی زید سے حدیث سنائی ، کہا : انہوں نے ابوسلام سے سنا ، کہا : مجھ سے ابو اسماء رحبی نے بیان کیا کہ نبی اکرمﷺ کے آزادکردہ غلام ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں یہ حدیث سنائی ، کہا : میں رسول ا للہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا ایک یہودی عالم ( حبر ) آپ کے پاس آیا اورکہا : اے محمد! آپ پر سلام ہو ، میں نے اس کو اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا ۔ اس نے کہا : مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا : تم یا رسول اللہ ! نہیں کہہ سکتے ؟ یہودی نے کہا : ہم تو آپ کو اسی نام سے پکارتے ہیں جو آپ کے گھر والوں نے آپ کا رکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقیناً میرا نام محمد ( ﷺ ) ہے جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے ۔ ‘ ‘ یہودی بولا : میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : ’’اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں گا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں اپنے دونوں کانو ں سے توجہ سے سنوں گا ۔ تورسول اللہ ﷺ نے ایک چھڑی ، جو آپ کے پاس تھی ، زمین پر آہستہ آہستہ ماری اور فرمایا : ’’پوچھو ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : جس دن زمین دوسری زمین سے بدلے گی اور آسمان ( بھی ) بدلے جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ پل ( صراط ) سے ( ذرا ) پہلے اندھیرے میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’فقرائے مہاجرین ۔ ‘ ‘ یہودی نے پوچھا : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو کیا پیش کیا جائےگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’مچھلی کےجگر کا زائد حصہ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس کے بعد ان کا کھانا کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا : ’’ان کے لیے جنت میں بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے اطراف میں چرتا پھرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس ( کھانے ) پر ان مشروب کیا ہو گا؟آپ نے فرمایا : ’’اس ( جنت ) کے سلسبیل نامی چشمے سے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ کہا ، پھر کہا : میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے اہل زمین سے محض ایک بنی جانتا ہے یاایک دو اور انسان ۔ آپ نےفرمایا : ’’اگر میں تمہیں بتا دیا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہوگا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں کان لگا کر سنوں گا ۔ اس نے کہا : میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں ۔ آپ نےفرمایا : ’’ مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ، جب دونوں ملتے ہیں اور مرد کا مادہ منویہ عورت کی منی سے غالب آ جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے دونوں کےہاں بیٹی پیدا ہوتی ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : آپ نے واقعی صحیح فرمایا اور آپ یقیناً نبی ہیں ، پھر وہ پلٹ کر چلا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا اس وقت تک مجھے اس میں سے کسی چیز کا کچھ علم نہ تھاحتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا علم عطا کر دیا ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 717

وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ، وَقَالَ: أَذْكَرَ وَآنَثَ وَلَمْ يَقُلْ أَذْكَرَا وَآنَثَا
This tradition has been narrated by Mu'awyia b. Salim with the same chain of transmitters except for the words: I was sitting beside the Messenger of Allah and some other minor alterations.
یحییٰ بن حسان نے ہمیں خبر دی کہ ہمیں معاویہ بن سلام نے اسی اسناد کے ساتھ اسی طرح حدیث سنائی ، سوائے اس کے کہ ( یحییٰ نے ) قائما ( کھڑا تھا ) کے بجائے قاعداً ( بیٹھاتھا ) کہا اور ( زیادۃ کبد النون کے بجائے ) زائدۃ کبدالنون کہا ( معنی ایک ہی ہے ) اور انہوں نے اذکر و آنت ( اس کے ہاں بیٹا اور بیٹی کی ولادت ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ، اور اذکر و آنثا ( ان دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہےاور ان دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے ) کے الفاظ نہیں کہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 718

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ. ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ. ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ. ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَاءَ فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ. حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ. ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ. ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ»
A'isha reported: When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) bathed because of sexual intercourse, he first washed his hands: he then poured water with his right hand on his left hand and washed his private parts. He then performed ablution as is done for prayer'. He then took some water and put his fingers and moved them through the roots of his hair. And when he found that these had been properly mois- tened, then poured three handfuls on his head and then poured water over his body and subsequently washed his feet.
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ر وایت کی کہ جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے تو پہلے اپنے ہاتھ دھوتے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرم گاہ دھوتے ، پھر نماز کے وضو کی مانند وضو فرماتے ، پھر پانی لے کر انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے ، جب آپ سمجھتے کہ آپ نے اچھی طرح جڑوں میں پانی پہنچا دیا ہے ۔ تواپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین چلو ڈالتے ۔ پھر سارے جسم پر پانی ڈالتے ( اور جسم دھوتے ) پھر ( آخر میں ) اپنے دونوں پاؤں دھو لیتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 719

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ. ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ. ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ. ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَاءَ فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ. حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ. ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ. ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ»
This hadith is narrated by Abu Kuraib. Ibn Numair and others, all on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but in their narration these words are not there: washed his feet.
جریر ، علی بن مسہر اور ابن نمیر نے ہشام کی اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث روایت کی لیکن ان ( تینوں ) کی حدیث میں پاؤں دھونے کا ذکر نہیں ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 720

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ
Hisham narrated it from his father, who narrated it on the authority of 'A'isha that when the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath because of sexual inter-course, he first washed the palms of his hands three times, and then the whole hadith was transmitted like that based on the authority of Abu Mu'awyia, but no mention is made of the washing of feet.
وکیع نے ہشام کی اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے حدیث بیان کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے جنابت سےغسل فرمایا ، آغاز کرتے ہوئے تین بار ہتھلیاں دھوئیں ..... پھر ابو معاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، تاہم پاؤں دھونے کا ذکر نہ کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 721

وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ. ثُمَّ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِهِ لِلصَّلَاةِ»
Urwa has narrated it on the authority of 'A'isha that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath because of sexual intercourse, he first washed his hands before dipping one of them into the basin, and then performed ablu- tion as is done for prayer.
زائدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے ( تو ) اس طرح آغاز کرتے کہ برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر نماز کے لیے اپنے وضو کی طرح وضو فرماتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 722

وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قَالَتْ: «أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ أَفْرَغَ بِهِ عَلَى فَرْجِهِ، وَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ، فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ، فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ»
Ibn 'Abbas reported it on the authority of Maimuna, his mother's sister, that she said: I placed water near the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to take a bath because of sexual intercourse. He washed the palms of his bands twice or thrice and then put his hand In the basin and poured water over his private parts and washed them with his left hand. He then struck his hand against the earth and rubbed it with force and then performed ablution for the prayer and then poured three handfuls of water on his head and then washed his whole body after which he moved aside from that place and washed his feet, and then I brought a towel (so that he may wipe his body). but he returned it.
عیسیٰ بن یونس نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے کریب سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : مجھے میری خالہ میمونہ ؓ نے بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے آپ کے قریب پانی رکھا ، آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دو یا تین دفعہ دھویا ، پھر اپنا ( دایاں ) ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا ، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مار کر اچھی طرح رگڑ اور اپنا نماز جیسا وضو فرمایا ، پھر ہتھیلی بھر کر تین لپ پانی اپنے سر پر ڈالا ، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا ، پھر اپنی اس جگہ سے دور ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر میں تولیہ آپ کے پاس لائی تو آپ نے اسے واپس کر دیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 723

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَالْأَشَجُّ، وَإِسْحَاقُ، كُلُّهُمْ عَنْ وَكِيعٍ ح، وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا إِفْرَاغُ ثَلَاثِ حَفَنَاتٍ عَلَى الرَّأْسِ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَصْفُ الْوُضُوءِ كُلِّهِ يَذْكُرُ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ فِيهِ. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ذِكْرُ الْمِنْدِيلِ
This hadith is narrated by A'mash with the same chain of transmitters, but in the hadith narrated by Yahya b. Yahya and Abu Kuraib there is no mention of: Pouring of three handfuls of water on the head. and in the hadith narrated by Waki' all the features of ablution have been recorded: rinsing (of mouth), snuffing of water (in the nostrils) ; and in the hadith transmitted by Abu Mu'awyia, there is no mention of a towel.
وکیع اور ابو معاویہ نے اعمش کی سابقہ سندکے ساتھ یہ روایت بیان کی لیکن ان دونوں کی حدیث میں سر پر تین لپ ڈالنے کا ذکر نہیں ہے ۔ وکیع کی حدیث میں پورے وضو کی کیفیت کا بیان ہے ۔ اس میں ( انہوں نے ) کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر کیا ، اور ابو معاویہ کی حدیث میں تولیے کا ذکر نہیں ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 724

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فَلَمْ يَمَسَّهُ وَجَعَلَ يَقُولُ: بِالْمَاءِ هَكَذَا يَعْنِي يَنْفُضُهُ
Ibn Abbas narrated It on the authority of Maimuna that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was given a towel, but he did not rub (his body) with it, but he did like this with water, i. e. he shook it off.
عبد اللہ بن ادریس نے اعمش کی سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حضرت میمونہ ؓ کی روایت بیان کی کہ نبی اکرمﷺ کے پاس تولیہ لایا گیا توآپ نے اسے ہاتھ نہ لگایا اور پانی کے ساتھ اس طرح کرنے لگے ، یعنی جھاڑنے لگے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 725

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوَ الْحِلَابِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ، بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ
A'isha reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath because of sexual intercourse, he called for a vessel and took a handful of water from it and first (washed) the right side of his head, then left, and then took a handful (of water) and poured it on his head.
قاسم ( بن محمدبن ابی بکر ) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے تو تقریباً اتنا بڑا برتن منگواتے جتنا اونٹنی کا دودھ دھونے کا ہوتا ہے ۔ اور چلو سے پانی لیتے اور سر کے دائیں حصے سےآغاز فرماتے ، پھر بائیں طرف ( پانی ڈالتے ) ، پھر دونوں ہاتھوں ( کا لپ بنا کر اس ) سے ( پانی ) لیتے اور ان سے سر پر ( پانی ) ڈالتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 726

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ هُوَ الْفَرَقُ، مِنَ الْجَنَابَةِ
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) washed himself with water from a vessel (measuring seven to eight seers) because of sexual intercourse.
امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نےحضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے ، جو ایک فرق ( تین صاع یا ساڑھےتیرہ لٹر ) کا تھا ، غسل جنابت فرمایا کرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 727

حَدَّثَنَا قُتيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتيْبةُ بْنُ سَعِيدٍ، وأَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيانُ كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ» وَفِي حَدِيثِ سُفْيانَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، قَالَ قُتيْبةُ: قَالَ سُفْيانُ: «وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ»
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath from the vessel (which contained seven to eight seers, i. e. fifteen to sixteen pounds) of water And I and he (the Holy Prophet) took a bath from the same vessel. And in the hadith narrated by Sufyan the words are: from one vessel . Qutaiba said: Al-Faraq is three Sa' (a cubic measuring of varying magnitude).
قتیبہ بن سعید اور ابن رمح نے لیث سے ، اسی طرح قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اورزہیر بن حرب نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( لیث اور سفیان ) نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک بڑے پیالے سے ، جو ایک فرق کی مقدارجتنا تھا ، غسل فرماتے ۔ میں اور آپ ایک برتن میں ( سے ) غسل کرتے تھے ۔ سفیان کی حدیث میں ( في الإنا ء الواحدکے بجائے ) من إناء واحد ( ایک برتن سے ) ہے ۔ قتیبہ نے کہا ، سفیان نے کہا : فرق تین صاع کا ہوتا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 728

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ العَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ. فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ «فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ قَدْرِ الصَّاعِ فَاغْتَسَلَتْ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا سِتْرٌ وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثلَاثًا» قَالَ: «وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذْنَ مِنْ رُءُوسِهِنَّ حَتَّى تَكُونَ كَالْوَفْرَةِ»
Abu Salamab. 'Abd al-Rahman reported: I along with the foster brother of 'A'isha went to her and he asked about the bath of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) because of sexual intercourse. She called for a vessel equal to a Sa' and she took a bath. and there was a curtain between us and her. She poured water on her head thrice and he (Abu Salama) said: The wives of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) collectedhair on their heads and these lopped up to ears (and did rot go beyond that).
ابو بکر بن حفص نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن ( بن عوف جوحضرت عائشہ کے رضاعی بھانجے تھے ) سےر وایت کی ، انہوں نے کہا : میں اور حضرت عائشہ ؓ کا رضاعی بھائی ( عبد اللہ بن یزید ) ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے ان سے نبی اکرمﷺ کے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا ، چنانچہ انہوں نے ایک صاع کے بقدربرتن منگوایا او راس سے غسل کیا ، ہمارے اور ان کے درمیان ( دیوار وغیرہ کا ) پردہ حائل تھا ، اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا ۔ ابو سلمہ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات اپنے سر ( کے بالوں ) کو کاٹ لیتی تھیں یہاں تک کہ وہ وفرہ ( کانوں کے نچلے حصے کی لمبائی کے بال ) کی طرح ہو جاتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 729

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ بَدَأَ بِيَمِينِهِ، فَصَبَّ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَغَسَلَهَا، ثُمَّ صَبَّ الْمَاءَ عَلَى الْأَذَى الَّذِي بِهِ بِيَمِينِهِ، وَغَسَلَ عَنْهُ بِشِمَالِهِ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ ذَلِكَ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ»
Salama b. Abd al-Rahman narrated it on the authority of A'isha that when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath, he started from the right hand and poured water over it and washed it, and then poured water on the impurity with the right band and washed it away with the help of the left hand. and after having removed it, he poured water on his head. A'isha said: I and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath from the same vessel, after sexual intercourse.
بکیر بن عبداللہ نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : جب رسول اللہ ﷺ غسل فرماتے تودائیں ہاتھ سے آغاز فرماتے ، اس پر پانی ڈال کر اسے دھوتے ، پھر جہاں ناپسندیدہ چیز لگی ہوتی اسے دائیں ہاتھ سے پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے دھوتے ، جب اس سے فارغ ہو جاتے تو سر پر پانی ڈالتے ۔ حضرت عائشہ ؓ نے بتایا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے نہاتے جب کہ دونوں جنابت کی حالت میں ہوتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 730

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عِرَاكٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، - وَكَانَتْ تَحْتَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ - أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا: «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ، يَسَعُ ثَلَاثَةَ أَمْدَادٍ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ»
Hafsa, daughter of 'Abd al-Rahman b. Abu Bakr, reported that 'A'isha narrated to her that she and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath from the same vessel which contained water equal to three Mudds or thereabout.
حفصہ بنت عبد الرحمن بن ابی بکر سے ( جو منذر بن زبیر کی اہلیہ تھیں ) روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ وہ ( خود ) اور نبی اکرمﷺ ایک برتن میں غسل کرتے جس میں تین مد ( مد ایک صاع کا چوتھاحصہ ہوتا ہے ) یا اس کے قریب پانی آتا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 731

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ»
A'isha reported: I and the Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath from the same vessel and our hands alternated into it in the state that we had had sexual intercourse.
قاسم بن محمد ( بن ابی بکر ) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، فرمایا : میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل جنابت کرتے اور ہمارے ہاتھ باری باری اس میں جاتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 732

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَاحِدٍ، فَيُبَادِرُنِي حَتَّى أَقُولَ: دَعْ لِي، دَعْ لِي. قَالَتْ: وَهُمَا جُنُبَانِ
A'isha reported: I and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath from one vessel which was placed between me and him and he would get ahead of me, so that I would say: Spare (some water for) me, spare (some water for) me; and she said that they had had sexual intercourse.
( حضرت عائشہ کی شاگرد ) معاذہ بنت عبد اللہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے ، جو میرے اور آپ کے درمیان ہوتا ، غسل کرتے ۔ آپ میری نسبت جلد پانی لیتے حتی کہ میں کہتی : میرے لیے چھوڑیے ، میرے لیے چھوڑیے ۔ وہ ( معاذہ ) کہتی ہے اوروہ دونوں جنبی ہوتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 733

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ: «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ»
Ibn Abbas said: Maimuna (the wife of the Holy Prophet) reported to me that she and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath from one vessel.
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے ابو شعثاء سے ، انہوں نے ابن عباسؓ سے روایت کی ، کہا ، مجھے حضرت میمونہ ؓ نے خبر دی کہ وہ اور نبی اکرمﷺ ایک ( ہی ) برتن میں ( سے ) غسل کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 734

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - قَالَ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ -، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَكْبَرُ عِلْمِي، وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ، أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِفَضْلِ مَيْمُونَةَ»
Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath with the water left over by Maimuna.
ابن جریج نے عمرو بن دینار سے روایت کی ، کہا : مجھے جتنا زیادہ ( سےزیادہ ) علم ہے اور جو میرے ذہن میں آتا ہے اس کے مطابق مجھے ابو شعثاء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایاکہ رسول اللہ ﷺ میمونہ ؓ کے بچے ہوئے پانی سے نہالیتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 735

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: «كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنَ الْجَنَابَةِ»
Zainab bint Umm Salama (the wife of the Holy Prophet) reported that Umm Salama and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath from the same vessel.
حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن میں ( سے ) غسل جنابت کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 736

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيكَ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ» وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ، وَقَالَ ابْنُ مُعَاذٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ جَبْرٍ
Anas reported that the Messenger of Allah (may peace he upon him) took a bath with five Makkuks of water and performed ablution with one Makkuk. Ibn Muthanna has used the words five Makakiyya, and Ibn Mu'adh narrated it from 'Abdullah b. 'Abdullah and he made no mention of Ibn Jabr.
عبید اللہ بن معاذ نے بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث سنائی اور ابن مثنی نے عبد الرحمان ، یعنی ابن مہدی سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبد اللہ بن عبداللہ بن جبر سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسو ل اللہ ﷺ پانچ مکوک سے غسل فرماتے اورایک مکوک سے وضو فرماتے ۔ ( ایک مکوک سوا صاع کے برابر ہوتا ہے ۔ ) ابن مثنی نے مکاییک کی جگہ مکاکی ( تخفیف کے ساتھ وہی ) لفظ بولا ۔ عبید اللہ بن معاذ نے عبد اللہ بن عبد اللہ کہا اور ابن جبر کا ذکر نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 737

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ ابْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ»
Anas said: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) performed ablution with one Mudd and took bath with a Sa' up to five Mudds.
مسعر نے ابن جبر سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک مد سے وضو فرماتے اور ایک صاع سے پانچ مد تک ( کے پانی ) سے غسل کرتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 738

وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، كِلَاهُمَا عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغَسِّلُهُ الصَّاعُ مِنَ الْمَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيُوَضِّئُهُ الْمُدُّ»
Safina reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath with one Sa` of water because of sexual intercourse and performed ablution with one Mudd.
بشر نے کہا : ہمیں ابو ریحانہ نے حضرت سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل جنابت فرماتے اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 739

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ» وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حُجْرٍ، أَوْ قَالَ: وَيُطَهِّرُهُ الْمُدُّ، وَقَالَ: وَقَدْ كَانَ كَبِرَ وَمَا كُنْتُ أَثِقُ بِحَدِيثِهِ
Safina reported that Abu Bakr, the Companion of the Messenger of Allah (way peace be upon him), observed: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath with one Sa' of water and performed ablution with one Mudd (of water) ; and in the hadith narrated by Ibn Hujr the words are: One Mudd sufficed for his (Holy Prophet's) ablution. And Ibn Hujr said that (his Shaikh) Isma'il was much advanced in age, and it was because of this that he could not fully rely on him for this tradition.
ابو بکر بن ابی شیبہ اورعلی بن حجر نے اسماعیل بن علیہ سے ، انہوں نے ابو ریحانہ سے ، انہوں نےحضرت سفینہؓ سے ( ابو بکر نےکہا : ) رسول اللہ ﷺ کے صحابی ( حضرت سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، انہوں نےکہا : رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل فرماتے اور ایک مد پانی سے وضو فرمالیتے ۔ ( علی ) ابن حجر کی روایت میں ہے کہ یا ( ابو ریحانہ نے ایک مد سے وضو فرما لیتے تھے کے بجائے ) ’’ایک مدپانی سے آپ کا وضو ہو جاتاتھا ‘ ‘ کہا ۔ ابو ریحانہ نے کہا : سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ عمر رسیدہ ہو گئے تھے ، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 740

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - قَالَ: يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أَغْسِلُ رَأْسِي كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَنَا فَإِنِّي أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ»
Jubair b. Mut'im reported: The people contended amongst themselves in the presence of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with regard to bathing. Some of them said: We wash our heads like this and this. Upon this the Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: As for me I pour three handfuls of water upon my head.
ابو احوص نے ابو اسحاق سے ، انہو ں نے سلیمان بن صرد سے ، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل کےمتعلق ایک دوسرے سے تکرار کی ، چنانچہ بعضوں نے کہا : لیکن میں ، میں تو سر کو اتنا اور اتنا دھو تا ہوں ۔ تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’لیکن میں تو اپنے سر پر تین ہتھلیاں بھر کر ( پانی ) ڈالتاہوں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 741

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ: «أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا»
Jubair b. Mut'im reported it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that a mention was made before him about bathing because of sexual intercourse and he said: I pour water over my head thrice.
شعبہ نے ابو ا سحاق سے ، انہوں نے سلیمان بن صرد سے ، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’ لیکن میں ، میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 742

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ بِالْغُسْلِ؟ فَقَالَ: «أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا» قَالَ ابْنُ سَالِمٍ: فِي رِوَايَتِهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ وَقَالَ: إِنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ
Jabir b. Abdullah reported: A delegation of the Thaqif said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Our land is cold; what about our bathing then? He (the Holy Prophet) said: I pour water thrice over my head. Ibn Salim in his narration reported: The delegation of the Thaqif said: Messenger of Allah.
یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل بن سالم نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی ، انہوں نے ابو بشر سے ، انہوں نے ابو سفیان سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ ثقیف کے وفد نے بنی ﷺ سے پوچھا ، او رکہا : ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے تو غسل کیسے ہو؟ آپ نے فرمایا : ’’لیکن میں ، میں تو اپنے سر پر تین بارپانی بہاتا ہوں ۔ ‘ ‘ ابن سالم نے اپنی روایت میں کہا : ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہوں ابو بشر نے بتایااور کہا : بلاشبہ ثقیف کے وفد نے ( سوال پوچھتے ہوئے آپﷺ کو مخاطب کر کے ) کہا : اے اللہ کے رسول !
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 743

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ لَهُ: الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ. قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي «كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ»
Jabir b. 'Abdullah reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a bath because of sexual intercourse, he poured three handfuls of water upon his head. Hasan b. Muhammad said to him (the narrator): My hair is thick. Upon this Jabir observed. I said to him: O son of my brother, the hair of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was thicker than your hair and these were more fine (than yours).
امام جعفر کےوالد امام محمد باقر بن علی بن حسین پ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو سر پر پانی کی تین لپیں ڈالتے ، چنانچہ حسن بن محمد نے ان سے کہا : میرے بال تو زیادہ ہیں ۔ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو میں نے اس سے کہا : اے بھتیجے! رسول اللہ ﷺ کے بال تمہارے بالوں سےزیادہ اور عمدہ تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 744

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ - عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: «لَا. إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ».
Umm Salama reported: I said: Messenger of Allah, I am a woman who has closely plaited hair on my head; should I undo it for taking a bath, because of sexual intercourse? He (the Holy Prophet) said: No, it is enough for you to throw three handfuls of water on your head and then pour water over yourself, and you shall be purified.
سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبیری سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ کے مولیٰ عبداللہ بن ابی رافع سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤں گی ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 745

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَأَنْقُضُهُ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ، فَقَالَ: «لَا.» ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
This hadith has been narrated by Amr al-Naqid, Yazid b. Harun, 'Abd b. Humaid, Abd al-Razzaq, Thauri, Ayyub b. Musa, with the same chain of transmitters. In hadith narrated by Abd al-Razzaq there is a mention of the menstruation and of the sexual intercourse. The rest of the hadith has been transmitted like that of Ibn 'Uyaina.
یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے کہا : ہمیں اسی سند کے ساتھ سفیان ثوری نے ایوب بن موسیٰ کے حوالے سے خبر دی ۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : کیا میں حیض اور جنابت ( کے غسل ) کے لیے اس کو کھولوں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی ( روایت ) بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 746

وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَقَالَ: أَفَأَحُلُّهُ فَأَغْسِلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَيْضَةَ
This hadith is narrated by the same chain of transmitters by Ahmad al. Darimi, Zakariya b. 'Adi, Yazid, i. e. ' Ibn Zurai', Rauh b. al-Qasim, Ayyub b. Musa with the same chain of transmitters, and there is a mention of these words: Should I undo the plait and wash it, because of sexual intercourse? and there is no mention of menstruation.
ایوب بن موسیٰ سے ( سفیان ثوری کے بجائے ) روح بن قاسم نے اسی ( سابقہ سند ) کے ساتھ روایت کی کہ انہوں ( ام سلمہ ؓ ) نے کہا : کیا میں چوٹی کو کھول کر غسل جنابت کروں؟ ...... انہوں ( روح بن قاسم ) نے حیض کا تذکرہ نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 747

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ. فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ. أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ، «لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ. وَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ»
Ubaid b. Umair reported: It was conveyed to 'A'isha that 'Abdullah b. 'Amr ordered the women to undo the (plaits) of hair on their heads. She said: How strange it is for Ibn 'Amr that he orders the women to undo the plaits of their head while taking a bath; why does he not order them to shave their beads? I and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took bath from one vessel. I did no more than this that I poured three handfuls of water over my head.
عبید اللہ بن عمیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمروؓ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت سر کے بال کھولا کرین ۔ تو انہوں نے کہا : اس ابن عمرو پر تعجب ہے ، عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ جب غسل کریں تو سر کے بال کھولیں ، وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے سر کے بال مونڈ لیں ، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اس سے زائد کچھ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 748

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْ حَيْضَتِهَا؟ قَالَ: فَذَكَرَتْ أَنَّهُ عَلَّمَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ. ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرُ بِهَا. قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: «تَطَهَّرِي بِهَا سُبْحَانَ اللهِ» وَاسْتَتَرَ - وَأَشَارَ لَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ - قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ
A'isha reported: A woman asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) how to wash herself after menstruation. She mentioned that he taught her how to take bath and then told her to take a piece of cotton with musk and purify herself. She said: How should I purify myself with that? He (the Holy Prophet) said: Praise be to Allah, purify yourself with it, and covered his face, Sufyan b. 'Uyaina gave a demonstration by covering his face (as the Prophet had done). 'A'isha reported: I dragged her to my side for I had understood what the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) intended and, therefore, said: Apply this cotton with musk to the trace of blood. Ibn 'Umar in his hadith (has mentioned the words of 'A'isha thus): Apply it to the marks of blood.
عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، عمرو نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے ، انہوں نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انۂں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نبی ﷺ سے پوچھا : وہ غسل حیض کیسے کرے ؟ کہا : پھر عائشہ ؓ نےبتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا ( اور فرمایا ) پھر وہ کستوری سے ( معطر ) کپڑے کا ایک ٹکڑالے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ عورت نے کہا : میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’ سبحان اللہ ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ اور آپ نے ( حیا سے ) چہرہ چھپا کر دکھایا ۔ صفیہ نےکہا : عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کیا ( کہنا ) چاہتے ہیں تو میں نےکہا : اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو ۔ ابن ابی عمرو نے اپنی روایت میں کہا : اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 749

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ؟ فَقَالَ: خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ
A'isha reported: A woman asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) how he should wash herself after the menstrual period. He (the Holy Prophet) said: Take a cotton with musk and purity yourself, and the rest of the hadith was narrated like that of Sufyan.
وہیب نے کہا : ہمیں منصور نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں پاکیزگی ( کے حصول ) کے لیے کیسے غسل کروں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’کستوری سے معطر کپڑے کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ پھر سفیان کی طرح حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 750

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ، تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ: «تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا، فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا» فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، تَطَهَّرِينَ بِهَا» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: «تَأْخُذُ مَاءً فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.
A'isha reported: Asma (daughter of Shakal) asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about washing after menstruation. He said: Everyone amongst you should use water (mixed with the leaves of) the lote-tree and cleanse herself well, and then pour water on her head and rub it vigorously till it reaches the roots of the hair. Then she should pour water on it. Afterwards she should take a piece of cotton smeared with musk and cleanse herself with it. Asma' said: How should she cleanse herself with the help of that? Upon this he (the Messenger of Allah) observed: Praise be to Allah, she should cleanse herself. 'A'isha said in a subdued tone that she should apply it to the trace of blood. She (Asma) then further asked about bathing after sexual intercourse. He (the Holy Prophet) said: She should take water and cleanse herself well or complete the ablution and then (pour water) on her head and rub it till it reaches the roots of the hair (of her) head and then pour water on her. 'A'isha said: How good are the women of Ansar (helpers) that their shyness does not prevent them from learning religion.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہؓ سے بیان کرتی تھیں کہ اسما ( بنت کشل انصاریہ ) ؓ نے نبی ﷺ سے غسل حیض کےبارے میں سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’ایک عورت اپنا پانی او ربیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے ، پھر کستوری لگا کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ ‘ ‘ ‘ تو اسماء نے کہا : اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ ! اسے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہؓ نے کہا : ( جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں ) ’’خون کے نشان پر لگا کر ۔ ‘ ‘ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( غسل کرنے والی ) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتی کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں ، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم ا نہیں نہیں روکتی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 751

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: قَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتَرَ».
This hadith is narrated by 'Ubaidullah b. Mu'adh with the same chain of transmitters (but for the words) that he (the Holy Prophet) said: Cleanse yourself with it, and he covered (his face on account of shyness).
شعبہ کے ایک دوسرے شاگرد عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی ( مذکورہ ) سند سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا : آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ !اس سے پاکیزگی حاصل کرو ‘ ‘ اور آپ نے اپنا چہرہ چھپا لیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 752

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ شَكَلٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ
A'isha reported: Asma' b. Shakal came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Messenger of Allah, how one amongst us should take a bath after the menstruation, and the rest of the hadith is the same and there is no mention of bathing because of sexual intercourse.
( شعبہ کے استاد ) ابراہیم بن مہاجر سے ( شعبہ کے بجائے ) ابو احوص کی سند سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سےحضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : اسماءبنت شکل ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے تو کیسے نہائے؟ اور ( اسی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 753

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ. أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: «لَا. إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي».
A'isha reported: Fatimah b. Abu Hubaish came to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I am a woman whose blood keeps flowing (even after the menstruation period). I am never purified; should I, therefore, abandon prayer? He (the Holy Prophet) said: Not at all, for that is only a vein, and is not a menstruation, so when menstruation comes, abandon prayer, and when it ends wash the blood from yourself and then pray.
وکیع نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : فاطمہ بنت ابی حبیش نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ ہوتا ہے ، اس لیے میں پاک نہیں ہو سکتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، یہ تو بس ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے ، لہٰذا جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض بند ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لیا کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 754

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَإِسْنَادِهِ. وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنَّا، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ زِيَادَةُ حَرْفٍ تَرَكْنَا ذِكْرَهُ
The hadith narrated by Waki' and with its chain of narrators has been transmitted on the authority of Hisham b. 'Urwa, but in the hadith narrated by Qutaiba on the authority of Jarir, the words are: There came Fatimah b. Abu Hubaish, b. 'Abd al-Muttalib b. Asad, and she was a woman amongst us, and in the hadith of Hammid b. Zaid there is an addition of these words: We abandoned mentioning him.
ہشام نے عروہ کے ( شاگرد وکیع کے بجائے ) دوسرے شاگرد وں ابو معاویہ ، جریر ، نمیر اور حماد بن زید کی سندوں سے بھی جو وکیع کی حدیث کی طرح اسی سندسے مروی ہے ، البتہ قتیبہ سے جریر کی روایت کے الفاظ یوں ہیں : فاطمہ بنت ابی حبیش بن عبدالمطلب بن اسد آئیں جو ہمارے خاندان کی ایک خاتون ہیں ۔ امام مسلم نے کہا : حماد بن زید کی حدیث میں ایک حرف زائد ہے جسے ہم نے ذکر نہیں کیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 755

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَقَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي» فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ: «لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ هِيَ»، وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ ابْنَةُ جَحْشٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أُمَّ حَبِيبَةَ
A'isha reported: Umm Habiba b. Jahsh thus asked for a verdict from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): I am a woman whose blood keeps flowing (after the menstrual period). He (the Holy Prophet) said: That is only a vein, so take a bath and offer prayer; and she took a bath at the time of every prayer. Laith b. Sa'd said: Ibn Shihab made no mention that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had ordered her to take a bath at the time of every prayer, but she did it of her own accord. And in the tradition transmitted by Ibn Rumh there is no mention of Umm Habiba (and there is mention of the daughter of Jahsh only.)
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ سے اورانہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا او رکہا : مجھے استحاضہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ۔ تم غسل کرو ، پھر ( حیض کے ایام کے خاتمے پر ) نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ تو وہ ہر نماز کےوقت غسل کرتی تھیں ۔ ( امام ) لیث بن سعد نے کہا : ابن شہاب نے یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ بنت جحش کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ یہ ایسا کام تھا جو وہ خود کرتی تھیں ۔ لیث کے شاگردوں میں سے ابن رمح نے ابنة جحش کے الفاظ استعمال کیے اور ام احبیبہ نہیں کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 756

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، - خَتَنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ. فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَقَالَ: «يَرْحَمُ اللهُ هِنْدًا لَوْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا وَاللهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي لِأَنَّهَا كَانَتْ لَا تُصَلِّي».
A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reported: Umm Habiba b. Jahsh who was the sister-in-law of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and the wife of 'Abd al-Rahman b. Auf, remained mustahada for seven years, and she, therefore, asked for the verdict of Shari'ah from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about it The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: This is not menstruation, but (blood from) a vein: so bathe yourself and offer prayer. 'A'isha said: She took a bath in the wash-tub placed in the apartment of her sister Zainab b. Jahsh, till the redness of the blood came over the water. Ibn Shihab said: I narrated it to Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman b. al-Harith b. Hisham about it who observed: May Allah have mercy on Hinda! would that she listened to this verdict. By Lord, she wept for not offering prayer.
( لیث کے بجائے ) عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر اورعمرہ بنت عبدالرحمن سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت جحش رسول اللہ ﷺ کی خواہر نسبتی کو ، جو ( ام المومنین زینب بن جحش کی بہن اور ) عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیوی تھیں ، سات سال تک استحاضہ کا عارضہ لاحق رہا ۔ انہو ں نے ا س کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ حیض ( کا خون ) نہیں بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، لہٰذا تم غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے کہا : وہ اپنی بہن زینب بن جحش ؓ کے حجرے میں ایک بڑے تشت ( ٹب ) میں غسل کرتیں تو پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی ۔ ابن شہاب نے کہا : میں یہ حدیث ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث کوسنائی تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے! کاش وہ بھی یہ فتویٰ سن لیتیں ۔ اللہ کی قسم ! وہ اس بات پر روتی رہتی تھیں کہ استحاضے کی وجہ سے وہ نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 757

وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِى ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتِ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ. بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ إِلَى قَوْلِهِ: تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
This hadith has been thus reported by another chain of transmitters: Umm Habiba b. Jahsh came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and she had been a mustahada for seven years, and the rest of the hadith was narrated like that of 'Amr b. al-Harith up to the words: There came the redness of the blood over water. and nothing was narrated beyond it.
ابراہیم ، یعنی ابن سعد نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نےفرمایا : ام حبیبہ بنت جحش ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور وہ سات سال تک استحاضے کے عارضے میں مبتلا رہیں ۔ ابراہیم بن سعد کی باقی حدیث’’پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی تھی ‘ ‘ تک عمرو بن حارث کی سابقہ روایت کی طرح ہے ، اس کے بعد کا حصہ انہوں نے ذکر نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 758

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ. بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
The hadith has been narrated by 'A'isha through another chain of transmitters (in these words): I The daughter of jahsh had been mustabida for seven years, and the rest of the hadith is the same (as mentioned above).
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ بنت جحش سات سال تک استحاضے میں مبتلا رہیں ( آگے باقی ) دوسرے راویوں کی حدیث کی طرح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 759

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَمَّ حَبِيبَةَ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي»
On the authority of 'A'isha: Umm Habiba asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about the blood (which flows beyond the period of menstruation). 'A'isha said: I saw her wash-tub full of blood. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Remain away (from prayer) equal (to the length of time) that your menses prevented you. After this (after the period of usual courses) bathe yourself and offer prayer.
یزید بن ابی حبیب نے جعفر سے ، انہوں نے عراک سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی ، کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے خون کے بارے میں سوال کیا ۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا : میں نے اس کا ٹب خون سے بھرادیکھا تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺنے اس سے فرمایا : ’’تمہیں پہلے جتنا وقت حیض ( نماز سے ) روکتا تھا اتنا عرصہ رکی رہو ، پھر نہالو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 760

حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّمَ. فَقَالَ لَهَا: «امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي» فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ
A'isha, the wife of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: Umm Habiba b. Jahsh who was the spouse of Abd al- Rahman b. Auf made a complaint to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about blood (which flows beyond the menstrual period). He said to her: Remain away (from prayer) equal (to the length of time) that your menstruation holds you back. After this, bathe yourself. And she washed herself before every prayer.
اسحاق کے والد بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے ، جو عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیوی تھیں ، رسول اللہ ﷺ سے خون ( استحاضہ ) کی شکایت کی تو آپ نے ان سے فرمایا : ’’جتنے دن تمہیں حیض روکتا تھا اتنے دن توقف کرو ، پھر نہالو ۔ ‘ ‘ تو وہ ہر نماز کے لیے نہایا کرتی تھیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 761

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ ح، وَحَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: أَتَقْضِي إِحْدَانَا الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ «كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ»
Mu'adha reported: A woman asked 'A'isha: Should one amongst us complete prayers abandoned during the period of menses? 'A'isha said: Are you a Haruriya? When any one of us during the time of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in her menses (and abandoned prayer) she was not required to complete them.
نے یزید رشک سے ، انہوں نے معاذہ سے روایت کی کہ ایک عورت نےحضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا ایک عورت ایام حیض کی نمازوں کی قضادے کی ؟ تو عائشہ ؓ نے پوچھا : کیا توحروریہ ( خوارج میں سے ) ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا تو اسے ( نمازوں کی ) قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 762

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: عَائِشَةُ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ «قَدْ كُنَّ نِسَاءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحِضْنَ أَفَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَجْزِينَ؟» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: «تَعْنِي يَقْضِينَ»
It is reported from Mu'adha that she asked 'A'isha: Should a menstruating woman complete the prayer (abandoned during the menstrual period)? 'A'isha said: Are you a Hurariya? The wives of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) have had their monthly courses, (but) did he order them to make compensation (for the abandoned prayers)? Muhammad b. Ja'far said: (Compensation) denotes their completion.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے معاذہ سے سنا کہ انہوں نےحضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا : کیا حائضہ نماز کی قضادے؟ عائشہ ؓ نے کہا : کیا تو حروریہ ( خوارج میں سے ) ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کی ازواج کو حیض آتا تھا تو کیاآپ نے انہیں ( فوت شدہ نمازوں کے ) بدلے میں ادا کرنے کاحکم دیا؟ محمد بن جعفرنے کہا : ان کا مطلب قضا دینے سے تھا ۔ <عربی>
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 763

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ، وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ. فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ، وَلَكِنِّي أَسْأَلُ. قَالَتْ: «كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ، فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ»
Mu'adha said: I asked 'A'isha: What is the reason that a menstruating woman completes the fasts (that she abandons during her monthly course). but she does not complete the prayers? She (Hadrat 'A'isha) said: Are you a Haruriya? I said: I am not a Haruriya, but I simply want to inquire. She said: We passed through this (period of menstruation), and we were ordered to complete the fasts, but were not ordered to complete the prayers.
عاصم نے معاذہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا ، میں نے کہا : حائضہ عورت کا یہ حال کیوں ہے کہ وہ روزوں کی قضا دیتی ہے نماز کی نہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کیا تم حروریہ ہو ؟ میں نے عرض کی : میں حروریہ نہیں ، ( صرف ) پوچھنا چاہتی ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : ہمیں بھی حیض آتا تھا تو ہمیں روزوں کی قضا دینے کا حکم دیا جاتا تھا ، نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 764

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ: «ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ»
Umm Hani b. Abu Talib reported: I went to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the day of the conquest (of Mecca) and found him take a bath. while his daughter Fatimah was holding a curtain around him.
ابونضر سے روایت ہے کہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی ؓ سے سنا ، وہ کہتی تھی کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی ، میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا ، آپ کی بیٹی فاطمہ ؓ نے ایک کپڑے کے ذریعے سے آپ ( کے آگے ) پردہ بنایا ہوا تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 765

دَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ. أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ «قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ، فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَى»
Umm Hani b. Abu Talib reported: It was the day of the conquest (of Mecca) that she went to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he was staying at a higher part (of that city). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got up for his bath. Fatimah held a curtain around him (in order to provide him privacy). He then put on his garments and wrapped himself with that and then offered eight rak'ahs of the forenoon prayer.
یزید بن ابی حبیب نے سعید بن ابی ہند سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ ام ہانی بنت ابی طالبؓ نے انہیں بتایا کہ جس سال مکہ فتح ہوا وہ ےپ کے پاس حاضر ہوئیں ، آپ مکہ کے بالائی حصے میں تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نہانے کےلیے اٹھے تو فاطمہ ؓ نےآپ کے آگے پردہ تان دیا ، پھر ( غسل کے بعد ) آپ نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا ، پھر آٹھ رکعتیں چاشت کی نفل پڑھیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 766

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَسَتَرَتْهُ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ سَجَدَاتٍ، وَذَلِكَ ضُحًى
This hadith is narrated by Sa'id b. Abu Hind with the same chain of transmitters and said: His (the Holy Prophet's) daughter Fatimah provided him privacy with the help of his cloth, and when he had taken a bath he took it up and wrapped it around him and then stood and offered eight rak'ahs of the forenoon prayer.
سعید بن ابی ہند کے ایک اور شاگرد ولید بن کثیر نے اسی سند سےحدیث بیان کی اور یہ الفاظ کہے : تو آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ نے آپ کے کپڑے کے ذریعے سے آپ کے لیے اوٹ بنا دی ۔ آپ جب غسل کے چکے تو وہی کپڑا لیا ، اسے اپنے گرد لپیٹا ، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعات نماز ادا کی ، یہ چاشت کا وقت تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 767

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُوسَى الْقَارِئُ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً، وَسَتَرْتُهُ فَاغْتَسَلَ»
Maimuna reported: I placed water for the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and provided privacy for him, and he took a bath.
ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت میمونہ ؓ سے روایت کی ، انۂں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ ( کے غسل ) کے لیے پانی رکھا اور آپ کو پردہ مہیاکیا تو آپ نے غسل فرمایا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 768

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ»
Abd al-Rahman, the son of Abu Sa'id al-Khudri, reported from his father: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: A man should not see the private parts of another man, and a woman should not see the private parts of another woman, and a man should not lie with another man under one covering, and a woman should not lie with another woman under one covering.
زید نےحباب نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مرد ، مردکا ستر نہ دیکھے اور عورت ، عورت کا ستر نہ دیکھے ۔ مرد ، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو اور عورت ، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 769

وَحَدَّثَنِيهِ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: - مَكَانَ عَوْرَةِ - عُرْيَةِ الرَّجُلِ، وَعُرْيَةِ الْمَرْأَةِ
This hadith has been narrated by Ibn Abu Fudaik and Dabbik b. 'Uthman with the same chain of transmitters and they observed: Private parts of man are the nakedness (which is concealed).
مذکورہ روایت کو امام مسلم کو دور اور اساتذہ ہارون بن عبداللہ اور محمد بن رافع دونوں نے ابن ابی فدیک سے اور ابن ابی فدیک نے اسے ضحاک بن عثمان کی مذکورہ سند کے ساتھ بیان کیا ۔ ان دونوں ( ہارون ومحمد ) نے عورۃ کی جگہ عرية الرجل اور عرية المرأة کے الفاظ روایت کیے ۔ ( معنی ایک ہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 770

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا. وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ. وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ. قَالَ: فَجَمَحَ مُوسَى بِإِثْرِهِ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى قَالُوا: وَاللهِ، مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «وَاللهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ، أَوْ سَبْعَةٌ، ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ»
Amongst the traditions narrated from Muhammad, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the authority of Abu Huraira, the one is that Banu Isra'il used to take a bath naked, and they looked at the private parts of one another. Moses (peace be upon him), however, took a bath alone (in privacy) ; and they said (tauntingly): By Allah, nothing prohibits Moses to take a bath along with us, but sacrotal hernia. He (Moses) once went for a bath and placed his clothes on a stone and the stone moved on with his clothes. Moses ran after it saying: 0 stone, my clothes,0 stone, my clothes, and Banu Isra'il had the chance to see the private parts of Moses, and said: By Allah, Moses does not suffer from any ailment. The stone then stopped, till Moses had been seen by them, and he then took hold of his clothes and struck the stone. Abu Huraira said: By Allah, there are the marks of six or seven strokes made by Moses on the stone.
ہمام بن منبہ سے روایت ہے : کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے ( نقل کرتے ہوئے سنائیں ، انہوں نےمتعدد احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ ہے : رسول اللہﷺنے فرمایا : ’’نبی اسرائیل بے لباس ہوکر ، اس طرح نہاتے تھے کہ ایک دوسرے کا ستر دیکھ رہے ہوتے اورموسیٰ علیہ السلام اکیلے نہایا کرتے تھے ۔ بنواسرائیل کہنے لگے : اللہ کی قسم !موسیٰ علیہ السلام ہمارے محض اس لیے نہیں نہاتے کہ ان کے خصیتیں پھولے ہوئےہیں ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ ایک دفعہ نہانے کے لیے گئے تو اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے ، پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا ، موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے سر پٹ دوڑ پڑے : او پتھر !میرے کپڑے ، اوپتھر ! میرے کپڑے ، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کے ستر کو دیکھ لیا اورکہنے لگے : اللہ کی قسم ! موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کو تو کوئی بیماری نہیں ہے ، جب موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کو دیکھ لیا گیا تو پتھر ٹھہر گیا ، موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ نے اپنے کپڑے پہنے اور پتھر کو مارنے لگے ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اللہ کی قسم ! پتھر پر چھ یا سات نشان تھے ، یہ پتھر کو موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کی مار تھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 771

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح، وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ: إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ: ابْنُ رَافِعٍ -، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً. فَقَالَ الْعَبَّاسُ، لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: «إِزَارِي إِزَارِي» فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَلَى رَقَبَتِكَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَلَى عَاتِقِكَ
Jabir b. 'Abdullah reported: When the Ka'ba was constructed the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and Abbas went and lifted stones. Abbas said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Place your lower garment on your shoulder (so that you may protect yourself from the roughness and hardness of stones). He (the Holy Prophet) did this, but fell down upon the ground in a state of unconciousness and his eyes were turned towards the sky. He then stood up and said: My lower garment, my lower garment; and this wrapper was tied around him. In the hadith transmitted by Ibn Rafi', there is the word: On his neck and he did not say: Upon his shoulder.
اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور محمد بن حاتم نے محمد بن بکر سے روایت کی ، دونوں نےکہا : ہمیں ابن جریج نےخبر دی ، نیز اسحاق بن منصور اور محمد بن رافع نے ( اور یہ الفاظ ان دونوں کے ہیں ) عبد الرزاق کے حوالے سے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں ( ابن جریج ) نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب کعبہ تعمیر کیا گیا توعبا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور نبی ﷺ پتھر ڈھونے لگے ، حضرت عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نبی ﷺ سے کہا : پتھروں سے حفاظت کے لیے اپنا تہبند اٹھا کر کندھے پر رکھ لیجیے ۔ آپ نے ایسا کیا تو آپ زمین پر گر گئے اورآنکھیں ( اوپر ہو کر ) آسمان پر ٹک گئیں ، پھر آپ اٹھے اور کہا : ’’میرا تہبند ، میرا تہبند ۔ ‘ ‘ تو آپ کا تہبند آپ کو کس کر باندھ دیا گیا ۔ ابن رافع کی روایت میں على رقبتك ( اپنی گردن پر ) کے الفاظ ہیں ، انہوں علی عاتقک ( اپنے کندھے پر ) نہیں کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 772

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ. فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبِكَ دُونَ الْحِجَارَةِ. قَالَ: «فَحَلَّهُ. فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ»، قَالَ: «فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا»
Jabir b. 'Abdullah reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was carrying along with them (his people) stones for the Ka'ba and there was a waist wrapper around him. His uncle, Abbas, said to him: 0 son of my brother! if you take off the lower garment and place it on the shoulders underneath the stones, it would be better. He (the Holy Prophet) took it off and placed it on his shoulder and fell down unconscious. He (the narrator) said: Never was he seen naked after that day.
زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، حدیث بیان کر رہ تھے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ کعبے کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے اور آپ کا تہبند جسم پر تھا ، اس موقع پر آپ کے چچا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ سے کہا : اے بھتیجے ! بہتر ہو گا کہ تم اپنا تہبند کھول دور اور اسے اپنے مونڈھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو ۔ جابر نےکہا : آپ نے اسے کھول کر اپنے مونڈھے پر رکھ لیا تو آپ کو غش کھا کر گر گئے ۔ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس دن کے بعد آپ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا گیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 773

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: أَقْبَلْتُ بِحَجَرٍ أَحْمِلُهُ ثَقِيلٍ وَعَلَيَّ إِزَارٌ خَفِيفٌ، قَالَ: فَانْحَلَّ إِزَارِي وَمَعِيَ الْحَجَرُ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَضَعَهُ حَتَّى بَلَغْتُ بِهِ إِلَى مَوْضِعِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى ثَوْبِكَ فَخُذْهُ، وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً
Al-Miswar b. Makhrama reported: I was carrying a heavy stone and my lower garment was loose, and it, therefore, slipped off (so soon) that I could not place the stone (on the ground) and carry to its proper place. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Return to your cloth (lower garment), take it (and tie it around your waist) and do not walk naked.
حضرت مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : میں ایک بھاری پتھر اٹھانے ہوئے آیا اور میں نے ایک ہلکا سے تہبند باندھا ہوا تھا ، کہا : تو میرا تہبند کھل گیا اور پتھر میرے پاس تھا ۔ میں اس ( پتھر ) کے نیچے نہ رکھ سکا حتی کہ اسے اس کی جگہ پہنچا دیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’واپس جا کر اپنا کپڑا پہنو اور ننگے نہ چلا کرو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 774

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ. فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ «وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ» قَالَ ابْنُ أَسْمَاءَ فِي حَدِيثِهِ: «يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ»
Abdullah b. Ja'far reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day made me mount behind him and he confided to me something secret which I would not disclose to anybody; and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) liked the concealment provided by a lofty place or cluster of dates (while answering the call of nature), Ibn Asma' said in his narration: It implied an enclosure of the date-trees.
شیبان بن فروخ اور عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے کہا : ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب نے حسن بن علی کے آزاد کر دہ غلام حسن بن سعد کے حوالےسے حضرت عبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ، پھر مجھے ایک راز کی بات بتائی جو میں کسی شخص کو نہیں بتاؤں گا ، قضائے حاجت کے لیے آپ کی محبوب ترین اوٹ ٹیلایا کھجور کا جھنڈ تھا ۔ ( حدیث کے ایک راوی محمد ) ابن اسماء نے اپنی حدیث میں کہا : حائش نخل سے مراد حائط نخل ’’کھجور کا باغ یا جھنڈ ‘ ‘ ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 775

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءَ حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ. وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ عِتْبَانَ فَصَرَخَ بِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ» فَقَالَ عِتْبَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عَنِ امْرَأَتِهِ وَلَمْ يُمْنِ، مَاذَا عَلَيْهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ»
Sa'id al-Khudri narrated it from his father: I went to Quba' with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on Monday till we reached (the habitation) of Banu Salim. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood at the door of 'Itban and called him loudly. So he came out dragging his lower garnment. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: We have made this man to make haste 'Itban said: Messenger of Allah, if a man parts with his wife suddenly without seminal emission, what is he required to do (with regard to bath)? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It is with the seminal emission that bath becomes obligatory.
عبد الرحمن بن ابی سعید خدری نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ میں سوموار کے دن رسول اللہ ﷺ کےساتھ قباء گیا ، جب ہم بنو سالم کے محلے میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے دروازے پر رک گئے اور اسے آواز دی تو وہ اپنا تہبند گھسیٹتےہوئے نکلے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہم نے اس آدمی کو جلدی میں ڈال دیا ۔ ‘ ‘ عتبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے ، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پانی ، صرف پانی سے ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 776

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ»
Abu Sa'id al-Khudri reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Bathing is obligatory in case of seminal emission.
ابو سلمہ بن عبد الرحمان نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’پانی ، بس پانی سے ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 777

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا، كَمَا يَنْسَخُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا»
Abu al. 'Ala' b. al-Shikhkhir said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) abrogated some of his commands by others, just as the Qur'an abrogates some part with the other.
ابو علاء بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث دوسری کو منسوخ کر دیتی ہے ، جیسے قرآن کی ایک آیت دوسری آیت کو منسوخ کر دیتی ہے ۔ ( یعنی اس مفہوم کی احادیث ، آپ ہی کے اس فرمان کے ذریعے سے منسوخ ہو چکی ہیں جو بعد میں آئے گا ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 778

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ. فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ: «لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ؟» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أَقْحَطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ» وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ
Abu Sa'id al-Khudri reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by (the house) of a man amongst the Ansar, and he sent for him. He came out and water was trickling down from his head. Upon this he (the Holy Prophet) said: Perhaps we put you to haste. He said: Yes. Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: When you made haste or semen is not emitted, bathing is not obligatory for you, but ablution is binding. Ibn Bashshir has narrated it with a minor alteration.
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنی اور ابن بشار نےمحمد بن جعفر غندر سے ، انہوں نے شعبہ سے ، انہوں نے حکم کے حوالے سے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری آدمی کے ( مکان کے ) پاس سے گزرے تو سے بلوایا ، وہ اس حال میں نکلا کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’ شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈالا ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تم انزال نہ کر سکو تو تم پر غسل لازم نہیں ہے ، البتہ وضو ضروری ہے ۔ ‘ ‘ ابن بشار نے کہا : جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تجھے ( انزال سے ) روک دیا جائے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 779

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يُكْسِلُ؟ فَقَالَ: «يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، وَيُصَلِّي»
Ubayy Ibn Ka'b reported: I arked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about a man who has sexual intercourse with his wife, but leaves her before orgasm. Upon this he (the Holy Prophet) said: He should wash the secretion of his wife, and then perform ablution and ofier prayer.
حماد اور ابو معاویہ نےہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے ابو ایوب سے ، انہوں نے حضرت ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے ، پھر اسے انزال نہیں ہوتا ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ بیوی سے اسے جو کچھ لگ جائے اس کو دھو ڈالے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 780

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ - الْمَلِيِّ عَنِ الْمَلِيِّ يَعْنِي بِقَوْلِهِ الْمَلِيِّ عَنِ الْمَلِيِّ - أَبُو أَيُّوبَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي الرَّجُلِ يَأْتِي أَهْلَهُ ثُمَّ لَا يُنْزِلُ قَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ، وَيَتَوَضَّأُ»
Ubayy ibn Ka'b narrated it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he said: If a person has sexual intercourse with his wife, but does not experience orgasm, he should wash his organ and perform an ablution.
شعبہ نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی کہ آپ نے اس مرد کے بارے میں جواپنی بیوی کے پاس جاتا ہے پھر اسے انزال نہیں ہوتا ، فرمایا : ’’ وہ اپنے عضو کو دھو لے اور وضو کرے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 781

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، وَلَمْ يُمْنِ؟ قَالَ عُثْمَانُ: «يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ» قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Zaid b. Khalid al-Jubani reported that he askad Uthman b. 'Affan: What is your opinion about the man who has sexual intercourse with his wife, but does not experience orgasm? Uthman said: He should perform ablution as he does for prayer, and wash his organ. 'Uthmin also said: I have heard it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ابو سلمہ نے عطاء بن یسار سے خبر دی کہ انہیں حضرت زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےبیان کیا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےپوچھا : آپ کی کیا رائے ہے ، جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے مجامعت کی اور اس نے منی خارج نہ کی ؟ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( جواب میں ) کہا : نماز کے وضو کی طرح وضو کرے اور اپنےعضو کو دھولے ۔ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 782

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ يَحْيَى: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Abu Ayyub reported that he had heard like this from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ابوسلمہ نے عطاء بن یسار کےبجائے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نےابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 783

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَطَرٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ» وَفِي حَدِيثِ مَطَرٍ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ قَالَ زُهَيْرٌ: مِنْ بَيْنِهِمْ بَيْنَ أَشْعُبِهَا الْأَرْبَعِ.
Abu Huraira reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When a man has sexual intercourse, bathing becomes obligatory (both for the male and the female). In the hadith of Matar the words are: Even if there is no orgasm. Zuhair has narrated it with a minor alteration of words.
زہیر بن حرب ، ابو غسان مسمعی ، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہم سے معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے قتادہ اور مطر نے حسن سے ، انہوں نے ابو رافع سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا : ’’ جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر اس سے مجامعت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ مطر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’اگرچہ انزال نہ ہو ۔ ‘ ‘ اور امام مسلم کے اساتذہ میں سے ( صرف ) زہیر نے شعبہا کی جگہ أشعبها کہا ۔ ( دونوں ایک ہی لفظ شعبہ ( شاخ ) کی جمع ہیں ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 784

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ثُمَّ اجْتَهَدَ وَلَمْ يَقُلْ «وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ»
This hadith is narrated by Qatida with the same chain of transmitters, but with minor alterations. Here instead of the word - (jahada, (ijtahada) has been used, and the words; Even if there is no orgasm have been omitted.
شعبہ نے قتادہ سے باقی ماندہ اسی سند سے روایت کی ۔ فرق یہ ہے کہ شعبہ کی اس روایت میں ثم جهدها کی جگہ ثم اجتهد ( پھر سعی کی ) ہےت اور و إن لم ينزل ( اگرچہ انزال نہ ہو ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 785

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: - وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: اخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ رَهْطٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّونَ: لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنَ الدَّفْقِ أَوْ مِنَ الْمَاءِ. وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: بَلْ إِذَا خَالَطَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: فَأَنَا أَشْفِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأُذِنَ لِي، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّاهْ - أَوْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَسْأَلَنِي عَمَّا كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ، قُلْتُ: فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ»
Abu Musa reported: There cropped up a difference of opinion between a group of Muhajirs (Emigrants and a group of Ansar (Helpers) (and the point of dispute was) that the Ansar said: The bath (because of sexual intercourse) becomes obligatory only-when the semen spurts out or ejaculates. But the Muhajirs said: When a man has sexual intercourse (with the woman), a bath becomes obligatory (no matter whether or not there is seminal emission or ejaculation). Abu Musa said: Well, I satisfy you on this (issue). He (Abu Musa, the narrator) said: I got up (and went) to 'A'isha and sought her permission and it was granted, and I said to her: 0 Mother, or Mother of the Faithful, I want to ask you about a matter on which I feel shy. She said: Don't feel shy of asking me about a thing which you can ask your mother, who gave you birth, for I am too your mother. Upon this I said: What makes a bath obligatory for a person? She replied: You have come across one well informed! The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When anyone sits amidst four parts (of the woman) and the circumcised parts touch each other a bath becomes obligatory.
دو مختلف سندوں کے ساتھ ابو بردہ کے حوالے سے ( ان کے والد ) حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ نے اختلاف کیا ۔ انصار نے کہا : غسل صرف ( منی کے ) زور سے نکلنے یا پانی ( کے انزال ) سے فرض ہوتا ہے او رمہاجرین نے کہا : بلکہ جب اختلاط ہو تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ( ابو بردہ نے ) کہا : حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں تمہیں اس مسئلے سے چھٹکارا دلاتا ہوں ، میں اٹھا اور حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی ، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا : میری ماں ، یا کہا : ام المؤمنین! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ھوں او رمجھے آپ سے شرم ( بھی ) آر ہی ہے ۔ تو انہوں نے کہا : جو بات تم اپنی اس ماں سے جس نے ( اپنے پیٹ سے ) تمہیں جنم دیا ، پوچھ سکتے تھے ، وہ مجھ سے پوچھناے میں شرم نہ کرو کیونکہ میں بھی تمہاری ماں ہوں ۔ میں نے کہا : تو کون سا ( کام ) غسل کو واجب کرتا ہے؟ انہوں نے کہا : تم ( اس مسئلے کے متعلق ) اس سے ملے ہو جو ( اس سے ) اچھی طرح باخبر ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا رشاخوں کے درمیان بیٹھا اور ختنے کی جگہ ختنے کی جگہ سے مَس ہوئی تمو غسل واجب ہو گیا ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 786

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُكْسِلُ هَلْ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ؟ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ، أَنَا وَهَذِهِ، ثُمَّ نَغْتَسِلُ»
A'isha the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reported. A person asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about one who has sexual intercourse with his wife and parts away (without orgasm) whether bathing is obligatory for him. 'A'isha was sitting by him. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I and she (the Mother of the Faithful) do it and then take a bath.
ام کلثوم نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ سے ایسے مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے ، پھر انزال نہیں ہوتا ، کیا ان ( دونوں ) پر غسل ہے؟ اور ( اندر ) حضرت عائشہؓ بھی بیٹھی ہوئی تھیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’میں اور یہ ( ہم دونوں میاں بیوی ) یہ کرتے ہیں ، پھر ہم ( دونوں ) نہاتے ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 787

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»
Zaid b Thabit reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say this: Ablution is obligatory (for one who takes anything) touched by fire.
حضرت زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ایسی چیز ( کے کھانے ) س وضو ( لازم ہو جاتا ) ہے جسے آگ نے چھوا ہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 788

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؟ فَقَالَ: عُرْوَةُ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»
Abdullah b. Ibrahim b. Qariz reported that he found Abu Huraira performing ablution in the mosque, who said: I am performing ablution because of having eaten pieces of cheese, for I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: Perform ablution (after eating anything) touched by fire.
۔ عبد اللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو مسجد میں وضو کرتے ہوئے پایا تو ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں تو پنیر کے ٹکڑوں کی بنا پر وضو کر رہا ہوں جنہیں میں نے کھایا ہے کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ایسی چیز سے وضو کرو جسے آگ نے چھوا ہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 789

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؟ فَقَالَ: عُرْوَةُ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»
Urwa reported on the authority of'A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), saying this: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said. Perform ablution (after eating) anything touched by fire.
۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن خالد بن عمرو بن عثمان نے ، جب میں اسے ( سابقہ سند سے ) یہ حدیث سنا رہا تھا ، بتایا کہ اس نے عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ایسی چیز ( کھانے ) سے وضو کے بارے میں پوچھا جسے آگ نے چھوا ہے ، تو عروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے نبیﷺ کی اہلیہ حضرت عائشہؓ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ایسی چیز سے وضو کرو جسے آگ نے چھوا ہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 790

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Ibn 'Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took (meat of) goat's shoulder and offered prayer and did not perform ablution.
عطاء بن یسار نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے بکری کا شانہ تناول فرمایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 791

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح، وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَرْقًا، أَوْ لَحْمًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً»
Ibn 'Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took flesh from the bone or meat, and then offered prayer and did not perform ablution, and (in fact) he did not touch water.
۔ محمد بن عمرو بن عطاء اور علی بن عبد اللہ بن عباس نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے گوشت والی ہڈی یا کچھ گوشت کھایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا یا پانی کو نہیں چھوا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 792

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفٍ يَأْكُلُ مِنْهَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
Ja'far b. Amr b. Umayya al-Damari reported on the authority of his father who said: I saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) take slices from goat's shoulder, and then eat them, and then offer prayer without having performed ablution.
ابراہیم بن سعد نے کہا : ہمیں زہری نے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمیری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ایک شانے سے ( گوشت ) کاٹ کر کھاتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 793

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَامَ وَطَرَحَ السِّكِّينَ، وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
Ja'far b. 'Amr b. Umayya al-Damari reported on the authority of his father who said: I saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) take slices from goat's shoulder and then eat them. He was called for prayer and he got'up, leaving aside the knife, and offered prayer but did not perform ablution. Ibn 'Abbas reported it on the authority of Maimuana, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took (a piece of goat's) shoulder at her place, and then offered prayer but did not perform ablution.
ابن شہاب زہری کے دوسر شاگرد عمرو بن حارث نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ عمرو بن امیہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو بکری کے ایک شانے سے ( گوشت ) کاٹتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ نے اس میں سے کھایا ، پھر آپ کو نماز کی طرف بلایا گیا تو آپ کھڑے ہوئے اور چھری پھینک دی ، آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 794

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Same as Hadees 793
۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے علی بن عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے اور انہوں نے رسول اللہﷺ سے یہی حدیث بیان کی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 795

قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: «أَشْهَدُ لَكُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
Ibn 'Abbas reported it on the authority of Maimuana, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took (a piece of goat's) shoulder at her place, and then offered prayer but did not perform ablution.
بکیر بن اشج نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے مولیٰ کریب سے ، انہوں نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے ان کے ہاں شانے کا گوشت کھایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 796

قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ
This hadith has been narrated by Ibn 'Abbas on the authority of Maimuna. the wife of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), by another chain of transmitters.
یعقوب بن اشج نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام کریب سے ، انہوں نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ سے یہی حدیث بیان کی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 797

قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: «أَشْهَدُ لَكُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
Abu Rafi' reported: I testify that I used to roast the liver of the goat for the Messenger of Allah (may peace be tipcn him) and then he offered praver but did not perform ablution.
حضرت ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہﷺ کے لیے بکری کے پیٹ ( کا گوشت ، جگر ، گردے وغیرہ ) بھونتا تھا ( آپ اسے کھاتے ) ، اس کے بعد آپﷺ نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 798

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ»، وَقَالَ: «إِنَّ لَهُ دَسَمًا»
Ibn Abbas reported: The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took milk and then called for water and rinsed (his mouth) and said: It contains greasiness.
۔ عقیل نے زہری سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے دودھ نوش فرمایا : پھر پانی طلب کیا ، کلی کی اور فرمایا : یقیناً اس میں کچھ چکناہٹ ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 799

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح، وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ح، وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated by another chain of transmitters.
عمرو ، اوزاعی اور یونس سب نے عقیل والی سندکے ساتھ زہری سے اسی طرح روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 800

وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأُتِيَ بِهَدِيَّةٍ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَأَكَلَ ثَلَاثَ لُقَمٍ، ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَمَا مَسَّ مَاءً»
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) dressed himself, and then went out for prayer, when he was presented with bread and meat. He took three morsels out of that, and then offered prayer along with other people and did not touch water.
محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے کپڑے زیب تن فرمائے ، پھر نماز کے لیے نکلے تو آپ کو روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا ، آپ نے تین لقمے تناول فرمائے ، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو نہیں چھوا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 801

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ حَلْحَلَةَ، وَفِيهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، شَهِدَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَلَّى وَلَمْ يَقُلْ بِالنَّاسِ
This hadith is narrated by Muhammad b. 'Amr b. Ata' with these words: I was with Ibn 'Abbas, and Ibn 'Abbas saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) doing like this, and it is also said that the words are: He (the Holy Prophet) offered prayer; and the word people is not mentioned.
امام مسلم نے ایک دوسری سند سے ولید بن کثیر کے واسطے سے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ تھا .... اس کے بعد انہوں نے ابن حلحلہ کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عباس ؓ موجود تھے اور یہ کہ انہوں نے ( ابن عباس ) نے صلى بالناس ( آپﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ) کے بجائے صلى ( آپﷺ نے نماز پڑھی ) کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 802

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَوَضَّأْ» قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «لَا»
Jabir b. Samura reported: A man asked the Messenger of Allah (may peace he upon him) whether he should perform ablution after (eating) mutton. He (the Messenger of Allah) said: Perform ablution it you so desire, and if you do not wish, do not perform it. He (again) asked: Should I perform ablution (after eating) camel's flesh? He said: Yes, perform ablution (after eating) camel's flesh. He (again) said: May I say prayer in the sheepfolds? He (the Messenger of Allah) said: Yes. He (the narrator) again said: May I say prayer where camels lie down? He (the Holy Prophet) said: No.
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے عثمان بن عبد اللہ بن موہب سے حدیث سنائی ، انہوں نے جعفر بن ابی ثور سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : کیا میں بکری کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : چاہو تو وضو کر لو اور چاہو تو نہ کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹ کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، اونٹ کے گوشت سے وضو کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹوں کے بٹھانے ک جگہ میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 803

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، كُلُّهُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ
This hadith is also narrated by another chain of transmitters.
سماک ، عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور اشعث بن ابی شعثاء سب نے جعفر بن ابی ثور سے ، انہوں نے جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابو عوانہ سے ابو کامل نے روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 804

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ، يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: «لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ
Abbad b. Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he entertained (doubt) as it something had happened to him breaking his ablution. He (the Holy Prophet) said: He should not return (from prayer) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind). Abu Bakr and Zuhair b. Harb have pointed out in their narrations that it was 'Abdullah b. Zaid.
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) اور عباد بن تمیم سے اور انہوں نے ان ( عباد ) کے چچا سے روایت کی کہ نبیﷺ سے ایک آدمی کے حوالے سے شکایت کی گئی کہ اسے یہ خیال آتا رہتا ہے کہ وہ نماز کے دوران میں کوئی چیز محسوس کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( وہ نماز سے ) نہ ہٹے یہاں تک کہ کوئی آواز سنے یا کوئی بو محسوس کرے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور زہیر بن حرب نے اپنی روایت میں ( عباد بن تمیم کے چچا کے بارے میں ) بتایا کہ وہ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 805

) وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا، فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If any one of you has pain in his abdomen, but is doubtful whether or not anything has issued from him, be should not leave the mosque unless he hears a sound or perceives a smell.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں تو ہر گز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 806

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ؟» فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
The freed slave-girl of Maimuna was given a goat in charity but it died. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by that (carcass). Upon this be said: Why did you not take off its skin? You could put it to use, after tanning it. They (the Companions) said: It was dead. Upon, this he (the Messenger of Allah) said: Only its eating is prohibited. Abu bakr and Ibn Umar in their narrations said: It is narrated from Maimuna (may Allah be pleased with her).
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 807

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا» قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ: «إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا»
Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw a dead goat, which had been given in charity to the freed slave-girl of Maimuna. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Why don't you make use of its skin? They (the Companions around the Holy Prophet) said: It is dead. Upon this he said: It is the eating (of the dead animal) which is prohibited.
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 808

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ رِوَايَةِ يُونُسَ
This hadith is narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters as transmitted by Yunus.
۔ ابن شہاب کے ایک اور شاگرد صالح نے بھی اسی سند سے یونس کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔ 809 ۔ سفیان نے عمرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 809

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ -، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَطْرُوحَةٍ أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ؟»
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by a goat thrown (away) which had been in fact given to the freed slave-girl of Maimuna as charity. Upon this the Messenger of Allah (way peace he upon him) said: Why did they not get its skin? They had better tan it and make use of it.
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو میمونہؓ کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہ اتارا ، وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 810

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، مُنْذُ حِينٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ دَاجِنَةً كَانَتْ لِبَعْضِ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَاتَتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ؟»
Ibn'Abbas reported on the authority of Maimuna that someone amongst the wives of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had a domestic animal and it died. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Why did you not take off its skin and make use of that?
ابن جریج نے عمرو بن دینار سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ حضرت میمونہؓ نے انہیں بتایا کہ ایک بکری ، جو رسول اللہﷺ کی ایک بیوی کی تھی ، مر گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم نے اس کا چمڑا اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا! ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 811

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ. فَقَالَ: «أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟»
Ibn 'Abbas reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by (the dead body) of the goat which belonged to the freed slave-girl of Maimuna and said: Why did you not make use of its skin?
عبد الملک بن ابی سلیمان نے عطاء کے حوالے سے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ سیدہ میمونہؓ کی باندی کی ( مردہ ) بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا! ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 812

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ وَعْلَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ»
Abdullah b. Abbas said: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: When the skin is tanned it becomes purified.
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن وعلہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حوالے سے خبر دی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ نے فرمایا : ’’جب چمڑے کو رنگ لیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 813

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Abbas by another chain of transmitters.
سفیان بن عیینہ ، عبد العزیز بن محمد اور سفیان ثوری نے مختلف سندوں کے ساتھ زید بن اسلم کی سابقہ سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ، یعنی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کی طرح ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 814

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، - قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ: - أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيِّ، فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ. وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ، وَيَأْتُونَا بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ، قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ
Abu al-Khair reported: I saw Ibn Wa'la al-Saba'i wear a fur. I touched it. He said: Why do you touch it? I asked Ibn 'Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions, and there (live) with us Berbers and Magians. They bring with them rams and slaughter them, but we do not eat (the meat of the animals) slaughtered by them, and they come with skins full of fat. Upon this Ibn 'Abbas said: We asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about this and he said: Its tanning makes it pure.
۔ یزید بن ابی حبیب نے ابو خیر سے روایت کی کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی کو ایک پوستین ( چمڑے کا کوٹ ) پہنے ہوئے دیکھا ، میں نے اسے چھوا تو اس نے کہا : اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا تھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی ہوتے ہیں ، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبح کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے ، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں ۔ تو ابن عباسؓ نے جواب دیا : ہم نے رسول اللہﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 815

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَإِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ فَيَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالْأَسْقِيَةِ فِيهَا الْمَاءُ وَالْوَدَكُ، فَقَالَ: اشْرَبْ. فَقُلْتُ: أَرَأْيٌ تَرَاهُ؟ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ»
Ibn Wa'la al-Saba'i reported: I asked 'Abdullah b. 'Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions. The Magians come to us with skins full of water and fat. He said: Drink. I said to him: Is it your own opinion? Ibn Abbas said: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: Tanning purifies it (the skin).
۔ جعفر بن ربیعہ نے ابو خیر سے روایت کی ، کہا : مجھ سے ابن وعلہ سبائی نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو مجوسی ہمارے پاس پانی اور چربی کے مشکیزے لاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : پی لیا کرو ۔ میں نے پوچھا : کیا آپ اپنی رائےبتا رہے ہیں؟ ابن عباسؓ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناے : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 816

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ - انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، «فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ»، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا: أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ «أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ»، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ «، قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي،» فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ: - وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ - «مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ»
A'isha reported: We went with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on one of his journeys and when we reached the place Baida' or Dhat al-jaish, my necklace was broken (and fell somewhere). The Messenger of Allah (way peace be upon him) along with other people stayed there for searching it. There was neither any water at that place nor was there any water with them (the Companions of the Holy Prophet). Some persons came to my father Abu Bakr and said: Do you see what 'A'isha has done? She has detained the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and persons accompanying him, and there is neither any water here or with them. So Abu Bakr came there and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was sleeping with his head on my thigh. He (Abu Bakr) said: You have detained the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and other persons and there is neither water here nor with them. She ('A'isha) said: Abu Bakr scolded me and uttered what Allah wanted him to utter and nudged my hips with his hand. And there was nothing to prevent me from stirring but for the fact that the messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was lying upon my thigh. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) slept till it was dawn at a waterless place. So Allah revealed the verses pertaining to tayammum and they (the Prophet and his Companions) performed tayammum. Usaid b. al-Hudair who was one of the leaders said: This is not the first of your blessings,0 Family to Abu Bakr. 'A'isha said: We made the came) stand which was my mount and found the necklace under it.
۔ عبد الرحمان بن قاسم ( بن محمد ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہﷺ کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے ، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول اللہﷺ اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے ، صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی ( بچا ہوا ) تھا ۔ لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں ، عائشہؓ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ ( دوسرے ) لوگوں کو روک رکھا ہے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تشریف لائے ( اس وقت ) رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا : تم نے رسول اللہﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ عائشہؓ نے فرمایا : حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور رتھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسو ل اللہﷺ کا سر میری ران پر تھا ، رسول اللہﷺ سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے تیمم کیا ۔ اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جو نقباء میں سے تھے ، کہا : اے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا : ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 817

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، «فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ» فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: «جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا، فَوَاللهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلَّا جَعَلَ اللهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً»
A'isha reported she had borrowed from Asma' (her sister) a necklace and it was lost. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent men to search for it. As it was the time for prayer, they offered prayer without ablution (as water was not available there). When they came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), they made a complaint about it, and the verses pertaining to tayammum were revealed. Upon this Usaid b. Hadair said (to 'A'isha): May Allah grant you a good reward! Never has been there an occasion when you were beset with difficulty and Allah did not make you come out of that and made it an occasion of blessing for the Muslims.
ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے عاریتاً ہار لیا ، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا ۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی ، ( اس پر ) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( حضرت عائشہؓ سے ) کہا : اللہ آپ کو بہترین جزا دے ، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ کر دی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 818

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا يَتَيَمَّمُ وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا. فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: 43]. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى، لِعَبْدِ اللهِ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ، وَوَجْهَهُ فَقَالَ: عَبْدُ اللهِ أَوَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ؟
Shaqiq reported: I was sitting in the company of Abdullah and Abu Musa when Abu Musa said: 0 'Abd al-Rahman (kunya of 'Abdullah b. Mas'ud), what would you like a man to do about the prayer if he experiences a seminal emission or has sexual intercourse but does not find water for a month? 'Abdullah said: He should not perform tayammum even if he does not find water for a month. 'Abdullah said: Then what about the verse in Sura Ma'ida: If you do not find water, betake yourself to clean dust ? 'Abdullah said: If they were granted concession on the basis of this verse, there is a possibility that they would perform tayammum with dust on finding water very cold for themselves. Abu Musa said to Abdullah: You have not heard the words of 'Ammar: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent me on an errand and I had a seminal emission, but could find no water, and rolled myself in dust just as a beast rolls itself. I came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then and made a mention of that to him and he (the Holy Prophet) said: It would have been enough for you to do thus. Then he struck the ground with his hands once and wiped his right hand with the help of his left hand and the exterior of his palms and his face. 'Abdullah said: Didn't you see that Umar was not fully satisfied with the words of 'Ammar only?
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) اور ابو موسیٰ ؓ کے بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا : ابو عبد الرحمن! بتائیےاگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے جواب دیا : وہ تیمم نہ کرے ، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے ۔ اس پر ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے : ’’تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟ ‘ ‘ اس پر عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے ۔ ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کہا : کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا ، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ( اور نماز پڑھ لی ) ، پھر میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا ۔ ‘ ‘ پھر آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے ، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا ۔ تو عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے جواب دیا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ ( تفصیل آگے حدیث : 820 میں ہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 819

وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى، لِعَبْدِ اللهِ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا» وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ فَنَفَضَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ
This hadith is narrated by Shaqiq with the same chain of transmitters but with the alteration of these words: He (the Holy Prophet) struck hands upon the earth, and then shook them and then wiped his face and palm.
عبد الواحد نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، کہا : ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا ... پھر ابو معاویہ کی ( سابقہ ) حدیث پورے واقعے سمیت بیان کی ، مگر یہ کہ انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ۔ ‘ ‘ اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے ، ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 820

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً فَقَالَ: لَا تُصَلِّ. فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الْأَرْضَ، ثُمَّ تَنْفُخَ، ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ، وَكَفَّيْكَ» فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللهَ يَا عَمَّارُ قَالَ: إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ قَالَ الْحَكَمُ: وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ
Abd al-Rabmin b. Abza narrated It on the authority of his father that a man came to 'Umar and said: I am (at times) affected by seminal emission but find no water. He ('Umar) told him not to say prayer. 'Ammar then said. Do you remember,0 Commander of the Faithful, when I and you were in a military detachment and we had had a seminal emission and did not find water (for taking bath) and you did not say prayer, but as for myself I rolled in dust and said prayer, and (when it was mentioned before) the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It was enough for you to strike the ground with your hands and then blow (the dust) and then wipe your face and palms. Umar said: 'Ammar, fear Allah. He said: If you so like, I would not narrate it. A hadith like this has been transmitted with the same chain of transmitters but for the words: 'Umar said: We hold you responsible for what you claim.
۔ یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے حکم نے ذر ( بن عبد اللہ بن زرارہ ) سے ، انہوں نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ تو انہوں نے جواب دیا : نماز نہ پڑھ ۔ اس پر حضرت عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ، جب میں اور آپ ایک فوجی دستے میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے ۔ ‘ ‘ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے عمار! اللہ سے ڈرو ۔ ( عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) جواب دیا : اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا ۔ حکم نے کہا : یہی روایت مجھے ( ذر کے واسطے کے بغیر ) ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے براہ راست بھی سنائی جو بعینہ ذر کی حدیث کی طرح تھی ۔ کہا : مجھے سلمہ نے ذر کے حوالے سے حکم کی بیان کردہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ نے جس چیز ( کی ذمہ داری ) کو اٹھا لیا ہے ہم اسے آپ ہی پر ڈالتے ہیں ( آپ اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہیں ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 821

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: قَالَ الْحَكَمُ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً. وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ شِئْتَ لِمَا جَعَلَ اللهُ عَلَيَّ مِنْ حَقِّكَ لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ
Abd al-Rahman b. Abza mnated it on the authority of his father that a man came to Umar and said: I have had a seminal emission but I found no water, and the rest of the hadith is the same but with this addition: 'Amr said: 0 Commander of the Faithful, because of the right given to you by Allah over me, if you desire, I would not narrate this hadith to anyone.
نضر بن شمیل نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ اس کے بعد ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو آپ کے اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رکھا ہے ، میں یہ حدیث کسی کو نہ سناؤں گا ۔ اور ( شعبہ نے یہاں ) مجھے سلمہ نے ذر حدیث بیان کی ( کے الفاظ ) کا ذکر نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 822

قَالَ مُسْلِمٌ، وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجَهْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجَهْمِ: «أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
Umair, the freed slave of Ibn 'Abbas, reported: I and 'Abd al-Rahmin b. Yasir, the freed slave of Maimuna, the wife of the Apostle (way peace be upon him). came to the house of Abu'l-Jahm b. al-Harith al-Simma Ansari and he said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came from the direction of Bi'r Jamal and a man met him; he saluted him but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made no response, till he (the Holy Prophet) came to the wall, wiped his face and hands and then returned his salutations.
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبد الرحمن بن یسار ، جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ کے آزاد کردہ غلام تھے ، ابو جہم بن حارث بن صمہ انصاری کے پاس پہنچے تو ابو جہم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ بئر جمل ( نامی جگہ ) سے تشریف لائے تو آپ کو ایک آدمی ملا ، اس نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف بڑھے اور آپ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا ، پھر اس کے سلام کا جواب دیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 823

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَجُلًا مَرَّ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ»
Ibn Umar reported: A person happened to pass by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) when he was making water and saluted him, but he did not respond to his salutation.
حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، ایک آدمی گزرا جبکہ رسول اللہﷺ پیشاب کر رہے تھے ، تو اس نے سلام کہا ، آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہ دیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 824

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ. ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: كُنْتُ جُنُبًا. قَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ
Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to meet him and he was (sexually) defiled, and he slipped away and took a bath and then came and said: I was (sexually) defiled. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: A Muslim is never defiled.
حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں تھے کہ رسول اللہﷺ مدینہ کے راستوں میں میں سے کسی راستے پر انہیں ملے تو وہ کھسک گئے اور جا کر غسل کیا ۔ نبیﷺ نے انہیں تلاش کروایا ۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی! اے اللہ کے رسولﷺ! جب آپ مجھے ملے تو میں جنابت کی حالت میں تھا ، میں نے غسل کیے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ! مومن ناپاک ( نجس ) نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ ( یعنی اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ اسے کوئی چھو جائے ، قریب بیٹھے یا اس سے ہاتھ ملائے تو وہ بھی ناپاک ہو جائے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 825

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ. ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: كُنْتُ جُنُبًا. قَالَ: «إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ»
Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to meet him and he was (sexually) defiled, and he slipped away and took a bath and then came and said: I was (sexually) defiled. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: A Muslim is never defiled.
حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ انہیں ملے جبکہ وہ جنبی تھے تو وہ آپﷺ سے دور ہٹ گئے اور غسل کیا ، پھر آ کر عرض کی کہ میں جنبی تھا ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 826

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ»
A'isha said: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to remember Allah at all moments.
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 827

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، - قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ»، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ فَقَالَ: «أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَتَوَضَّأَ؟»
Ibn 'Abbas reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out of the privy, and he was presented with some food, and the people reminded him about ablution, but he said: Am I to say prayer that I should perform ablution?
۔ حماد نے عمرو بن سے ، انہوں نے سعید بن حویرث سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ نبی اکرمﷺ ( ہاتھ دھو کر ) بیت الخلا سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( کیا ) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 828

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ، وَأُتِيَ بِطَعَامٍ» فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «لِمَ؟ أَأُصَلِّي فَأَتَوَضَّأَ؟
Ibn 'Abbas reported: We were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he had come out of the privy. Food was presented to him. It was said to him (by the Companions around him): Wouldn't you perform ablution? Upon this he said: Why, am I to say prayer that I should perform ablution?
سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہتے تھے کہ ہم نبی اکرمﷺ کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے ( ہاتھ دھو کر ) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا : کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 829

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، مَوْلَى آلِ السَّائِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: «ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا جَاءَ قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ: «لِمَ؟ أَلِلصَّلَاةِ؟»
Ibn 'Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went to the privy and when he came back, he was presented with food. It was said to him; Messenger of Allah, wouldn't you perform ablution. He said: Why, am I to say prayer?
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ( یہ ) کہتے ہوئے سنا : اللہ کے رسولﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گئے؟ آپ نے جواب دیا : ’’کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 830

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً»، قَالَ: وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ؟ قَالَ: «مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ» وَزَعَمَ عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
Ibn Abbas, reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out of the privy after relieving himself, and food was brought to him and he took it, and did not touch water. In another narration transmitted by Sa'id b. al-Huwairith it is like this: It was said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) You have not performed ablution. He said: I do not intend to say prayer that I should perform ablution.
اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 831

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ يَحْيَى: أَيْضًا أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، - فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ، - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَنِيفَ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»
Anas reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered the privy, and in the hadith transmitted by Hushaim (the words are): When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered the lavatory, be used to say: O Allah, I seek refuge in Thee from wicked and noxious things.
یحییٰ بن یحییٰ نے حماد بن زید اور ہشیم سے ، ان دونوں نے عبد العزیز بن صہیب سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( حماد کی حدیث میں ہے : رسول اللہﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور ہشیم کے الفاظ ہیں : جب کسی اوٹ والی جگہ میں داخل ہوتے ) تو فرماتے : ’’اے اللہ! میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 832

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»
This hadith is also transmitted by 'Abd al-'Aziz with the same chain of transmitters, and the words are: I seek refuge with Allah from the wicked and noxious things.
اسماعیل بن علیہ نے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ عبد العزیز سے روایت بیان کی اور ( دعا کے ) یہ الفاظ بیان کیے : أعوذ بالله من الخبث والخبائث ’’میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 833

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح، وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ - وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ: وَنَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي الرَّجُلَ - فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ
Anas reported: (The people) stood up for prayer and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was whispering to a man, and in the narration of 'Abd al-Warith (the words are): The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was having a private conversation with a man, and did not start the prayer till the people dozed off.
اسماعیل بن علیہ اور عبد الوارث دونوں نے عبد العزیز سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی اور رسول اللہﷺ ایک آدمی سے بہت قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے ۔ ( عبد الوارث کی روایت میں ورسول الله ﷺ نجي لرجل کے بجائے ونبی اللہ ﷺ یناجی الرجل آپ ایک آدمی سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ہے ۔ مفہوم ایک ہے ) تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ ( بیٹھےبیٹھے ) سو گئے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 834

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا فَلَمْ يَزَلْ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِهِمْ»
Anas b. Malik reported: (The people) stood up for prayer and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was talking in whispers with a man, and he did not discontinue the conversation till his Companions dozed off; he then came and led the prayer.
شعبہ نے عبد العزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی جبکہ رسول اللہﷺ ایک آدمی سے شرگوشی فرما رہے تھے ۔ آپ اس سے سرگوشی فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ساتھی ( بیٹھے بیٹھے ) سو گئے ، اس کےبعد آپ آئے اور انہیں نماز پڑھائی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 835

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ» قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ: إِي وَاللهِ
Qatida reported: I heard Anas as saying that the Companion of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) dozed off and then offered prayer and did not perform ablution. He (the narrator) said: I asked him if he had actually heard it from Anas. He said: By Allah. yes.
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ ( بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے تھے ، پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے ۔ ( شعبہ کہتے ہیں : ) میں نے ( قتادہ سے ) پوچھا : آپ نے یہ حدیث انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں! اللہ کی قسم!
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 836

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ: لِي حَاجَةٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ - أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ - ثُمَّ صَلَّوْا
Anas reported: (The people) stood up for the night prayer when a man spoke forth: I need to say something. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered into secret conversation with him, till the people dozed off or some of the people (dozed off), and then they said the prayer.
ثابت نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی تو ایک آدمی نے ( رسول اللہ سے ) کہا : میرا ایک کام ہے ، چنانچہ آپﷺ کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرنے لگے حتیٰ کہ لوگ یا کچھ لوگ ( بیٹھے بیٹھے ) سو گئے ، پھر سب نے نماز پڑھی ۔
video

Icon this is notification panel