324 Results For Hadith (Sahih Muslim) Book (The Book of Prayers)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 837

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ»
Ibn Umar reported: When the Muslims came to Medina, they gathered and sought to know the time of prayer but no one summoned them. One day they discussed the matter, and some of them said: Use something like the bell of the Christians and some of them said: Use horn like that of the Jews. Umar said: Why may not a be appointed who should call (people) to prayer? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O Bilal, get up and summon (the people) to prayer.
حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو جاتے اور نمازوں کے اوقات کا انتظار کرتے ، کوئی اس کا اعلان نہیں کرتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے اس کے بارے میں گفتگو کی تو بعض نے کہا : عیسائیوں کے گھنٹے کے مانند ایک گھنٹا لے لو اور بعض نے کہا : یہود کے قرنا جیسا قرنا ، البتہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تم ایک آدمی ہی کیوں نہیں بھیج دیتے جو نماز کا اعلان کرے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اے بلال! اٹھو اور نماز کا اعلان کرو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 838

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ» زَادَ يَحْيَى، فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ: إِلَّا الْإِقَامَةَ
Anas reported: Bilal was commanded (by the Messenger of Allah) to repeat (the phrases of) Adhan twice and once in Iqama. The narrator said: I made a mention of it before Ayyub who said: Except for saying: Qamat-is-Salat [the time for prayer has come].
خلف بن ہشام نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی ، ان دونوں ( حماد اور یحییٰ ) نے خالد حذاء سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہرائیں اور اقامت اکہری کہیں ۔ یحییٰ نے ابن علیہ سے ( بیان کردہ ) اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : میں ( اسماعیل ) نے یہ روایت ایوب کو سنائی تو انہوں نے کہا : ( اذان دہرائیں ) اقامت کے سوا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 839

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا «فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ
Anas b. Malik reported: They (the Companions) discussed that they should know the timings of prayer by means of something recognized by all. Some of them said that fire should be lighted or a bell should be rung. But Bilal was ordered to repeat the phrases twice in Adhan, and once in Iqama.
عبد الوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے ( صحابہ ) نے ( اس پر ) بات کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کی علامت مقرر کریں جس کو لوگ پہچان لیا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگ روشن کریں یا ناقوس ( گھنٹی ) بجائیں ، پھر ( آخر کار ) بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا گیا کہ وہ دہری اذان اور اکہری اقامت کہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 840

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَنْ يُورُوا نَارًا
This hadith is transmitted by Khalid Hadhdha with the same chain of transmitters (and the words are): When the majority of the people discussed they should know, like the hadith narrated by al-Thaqafi (mentioned above) except for the words: They (the people) should kindle fire.
۔ وہیب نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ جب لوگ زیادہ ہو گئے تو انہوں نے گفتگو کی کہ وہ علامت مقرر کریں .... آگے ( عبد الوہاب ) ثقفی کی حدیث کے مانند ہے ، فرق صرف اس قدر ہے کہ اس ( وہیب ) نے ( ينوروا نارا ’’آگ روشن کریں ‘ ‘ کی جگہ ) يوروا نارا ’’آگ جلائیں ‘ ‘ کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 841

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ»
Anas reported: Bilal was commanded (by the Holy Prophet) to repeat the phrases twice in Adhan, and once in lqama.
۔ ایوب نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا گیا کہ دہری اذان اور اکہری قامت کہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 842

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، وَقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ هَذَا الْأَذَانَ: «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ»، ثُمَّ يَعُودُ فَيَقُولُ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ» زَادَ إِسْحَاقُ: «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»
Abu Mahdhura said that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) taught him Adhan like this: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; I testify that there is no god but Allah, I testify that there is no god but Allah; I testify that Muhammad Is the Messenger of Allah, I testify that Muhammad is the Messenger of Allah, and it should be again repeated: I testify that there is no god but Allah, I testify that there is no god but Allah; I testify that Muhammad Is the Messenger of Allah, I testify that Muhammad is the Messenger of Allah. Come to the prayer (twice). Come to success (twice). Ishaq added: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; there Is no god but Allah.
۔ ابو غسان مسمعی اور اسحاق بن ابراہیم نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ابو غسان نے کہا : ہمیں معاذ نے حدیث سنائی اور اسحاق نے کہا : ہمیں دستوائی ( کپڑے ) والے ہشام کے بیٹے معاذ نے خبر دی ، انہوں ( معاذ ) نے کہا : مجھے میرے والد نے عامر احول سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت ابو محذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے انہیں یہ اذان سکھائی : الله أكبر الله أكبر ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، پھر دو بار کہے : أشهد أن لا إله إلا الله ، پھر دو بار ، أشهد أن محمدا رسول الله ، دو بار حی على الصلوٰة دو بار حي على الفلاح دوبار ۔ اسحاق نے یہ اضافہ کیا : الله أكبر الله أكبر ، لا إله إلا الله
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 843

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ، وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى»
Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had two Mu'adhdhins, Bilal and 'Abdullah b. Umm Maktum, who (latter) was blind.
حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کے دو مؤذن تھے ، بلال اور نابینا ابن ام مکتومؓ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 844

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha by another chain of transmitters.
حضرت عائشہؓ سے بھی اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی گئی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 845

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْمَى»
A'isha reported: Ibn Umm Maktum used to pronounce Adhan at the behest of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (despite the fact) that he was blind.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ابن ام مکتوم رسول اللہﷺ کے لیے اذان دیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ نابینا تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 846

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
A hadith like this has been transmitted by Hisham.
۔ یحییٰ بن عبد اللہ اور سعید بن عبد الرحمن نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اس ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند حدیث بیان کی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 847

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ الْأَذَانَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى الْفِطْرَةِ» ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ» فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى
Anas b. Malik reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to attack the enemy when it was dawn. He would listen to the Adhan; so if he heard an Adhan, he stopped, otherwise made an attack. Once on hearing a man say: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) remarked: He is following al-Fitra (al-Islam). Then hearing him say: I testify that there is no god but Allah. there is no god but Allah, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: You have come out of the Fire (of Hell). They looked at him and found that he was a goat herd.
حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ( دشمن پر ) طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے ، پھر اگر اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ، ( ایسا ہوا کہ ) آپ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا : الله أكبر الله أكبر تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’فطرت ( اسلام ) پر ہے ۔ ‘ ‘ پھر اس نے کہا : أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن لا إله إلا الله تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تو آگ سے نکل گیا ۔ ‘ ‘ اس پر صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 848

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ»
Abu Sa'id al-Khudri reported: When you hear the call (to prayer), repeat what the Mu'adhdhin pronounces.
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہتا ہے اسی کی طرح کہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 849

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، وَغَيْرِهِمَا عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ»
Abdullah b. Amr b. al-As reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When you hear the Mu'adhdhin, repeat what he says, then invoke a blessing on me, for everyone who invokes a blessing on me will receive ten blessings from Allah; then beg from Allah al-Wasila for me, which is a rank in Paradise fitting for only one of Allah's servants, and I hope that I may be that one. If anyone who asks that I be given the Wasila, he will be assured of my intercession.
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 850

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ أَحَدُكُمْ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، ثُمَّ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
Umar b. al-Khattab reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the Mu'adhdhin says: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, and one of you should make this response: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; (and when the Mu'adhdhin) says: I testify that there is no god but Allah, one should respond: I testify that there is no god but Allah, and when he says: I testify that Muhammad is the Messenger of Allah, one should make a response: I testify that Muhammad is Allah's Messenger. When he (the Mu'adhdhin) says: Come to prayer, one should make a response: There is no might and no power except with Allah. When he (the Mu'adhdhin) says: Come to salvation, one should respond: There is no might and no power except with Allah, and when he (the Mu'adhdhin) says: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, then make a response: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest. When he (the Mu'adhdhin) says: There is no god but Allah, and he who makes a re- sponse from the heart: There is no god but Allah, he will enter Paradise.
حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن الله أكبر ، الله أكبر کہے تو تم میں سے ( ہر ) ایک الله أكبر الله أكبر كہے ، پھر وہ ( مؤذن ) کہے أشهد أن لا إلا الله تو وہ بھی کہے : أشهد أن لا إله الله پھر ( مؤذن ) أشهد أن محمد رسول الله کہے تو وہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے ، پھر وہ ( مؤذن ) حي على الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر مؤذن حي على الفلاح کہے ، تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر ( مؤذن ) الله أكبر الله أكبر کہے ، پھر ( مؤذن ) لا إله إلا الله کہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 851

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ الْقُرَشِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ» قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ: وَأَنَا
Sa'd b. Abu Waqqas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If anyone says on hearing the Mu'adhdhin: I testify that there is no god but Allah alone. Who has no partner, and that Muhammad is His servant and His Messenger, (and that) I am satisfied with Allah as my Lord, with Muhammad as Messenger. and with Islam as din (code of life), his sins would be forgiven. In the narration transmitted by Ibn Rumh the words are: He who said on hearing the Mu'adhdhin and verity I testify. ' Qutaiba has not mentioned his words: And I.
۔ محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید کی دو الگ الگ سندوں سے حضرت سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ‘ ‘ وأن محمدا عبده ورسوله ’’اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘ رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا ’’ میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں ۔ ‘ ‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا : جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا : وأنا أشهد اور قتیبہ نے وأنا کا لفظ بیان نہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 852

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
Yahya narrated it on the authority of his uncle that he had been sitting in the company of Mu'awiya b. Abu Sufyan when the Mu'adhdhin called (Muslims) to prayer. Mu'awiya said: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying The Mu'adhdhins will have the longest necks on the Day of Resurrection.
عبدہ نے طلحہ بن یحییٰ ( بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے اور انہوں نے اپنے چچا ( عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس تھا ، ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا ۔ تو معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے : قیامت کے دن مؤذن ، لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 853

وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
Same as Hadees 852
سفیان نے طلحہ بن یحییٰ سے اور انہوں نے ( اپنے چچا ) عیسیٰ بن طلحہ سے روایت کی ، کہا : میں نے معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : .......... ( آگے ) سابقہ روایت کی مانند ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 854

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا»
Abu Sufyan reported it on the authority of Jabir that he had heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: When Satan hears the call to prayer, he runs away to a distance like that of Rauha. Sulaimin said: I asked him about Rauha. He replied: It is at a distance of thirty-six miles from Medina.
۔ جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب نماز کی پکار ( اذان ) سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘ ‘ سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 855

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
Abu Mu'awiya narrated it on the authority of A'mash with the same chain of transmitters.
۔ ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 856

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَحَالَ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ. فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ فَإِذَا سَمِعَ الْإِقَامَةَ ذَهَبَ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ»
Abu Huraira reported the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When Satan hears the call to prayer, he turns back and breaks the wind so as not to hear the call being made, but when the call is finished he turns round and distracts (the minds of those who pray), and when he hears the Iqama, he again runs away so as not to hear its voice and when it subsides, he comes back and distracts (the minds of those who stand for prayer).
۔ اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : شیطان جب نماز کے لیے پکار ( کی آواز ) سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ مؤذن کی آواز نہ سن سکے ، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ تا ہے اور ( نمازیوں کے دلوں میں ) وسوسہ پیدا ےکرتا ہے ، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سنے ، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور ( لوگوں کے دلوں میں ) وسوسہ ڈالتا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 857

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ حُصَاصٌ»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the Mu'adhdhin calls to prayer, Satan runs back vehemently.
خالد بن عبد اللہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح السمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 858

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى بَنِي حَارِثَةَ، قَالَ: وَمَعِي غُلَامٌ لَنَا - أَوْ صَاحِبٌ لَنَا - فَنَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ حَائِطٍ بِاسْمِهِ قَالَ: وَأَشْرَفَ الَّذِي مَعِي عَلَى الْحَائِطِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي فَقَالَ: لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ تَلْقَ هَذَا لَمْ أُرْسِلْكَ، وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ صَوْتًا فَنَادِ بِالصَّلَاةِ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ»
Suhail reported that his father sent him to Banu Haritha along with a boy or a man. Someone called him by his name from an enclosure. He (thenarrator) said: The person with me looked towards the enclosure, but saw nothing. I made a mention of that to my father. He said: If I knew that you would meet such a situation I would have never sent you (there), but (bear in wind) whenever you hear such a call (from the evil spirits) pronounce the Adhan. for I have heard Abu Huraira say that the Messenger of Allah (may peace be upbn him) said: Whenever Adhan is proclaimed, Satan runs back vehemently.
روح نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے ساتھ ہمارا ایک لڑکا ( خادم یا ہمارا ایک ساتھی بھی تھا ) اس کو کسی آواز دینے والے نے باغ سے اس کا نام لے کر آواز دی ۔ کہا : جو ( لڑکا ) میرے ساتھ تھا اس نے باغ کے اندر جھانکا تو اسے کچھ نظر نہ آیا ، چنانچہ میں نے یہ ( واقعہ ) اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے کہا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس واقعے سے دوچار ہو گے تو میں تمہیں نہ بھیجتا لیکن ( آئندہ ) تم اگر کوئی آواز سنو تو نماز کی اذان دو کیونکہ میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ رسول اللہﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے پکارا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 859

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا وَاذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى
Abu Huraira reported: The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said When the call to prayer is made, Satan runs back and breaks wind so as not to hear the call being made, and when the call is finished. he turns round. When Iqama is proclaimed he turns his back, and when it is finished he turns round to distract a man, saying: Re- member such and such; remember such and such, referring to something the man did not have in his mind, with the result that he does not know how much he has prayed.
اعرج نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ بلاشبہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیچھا بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سنے ، چنانچہ جب اذان پوری کر دی جاتی ہے تو آ جاتا ہے حتیٰ کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، یہاں تک کہ جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالے ۔ اسے کہتا ہے : فلاں چیز کو یاد کرو ، فلاں چیز کو یاد کرو ، وہ چیزیں جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتیں ، یہاں تک کہ آدمی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں چلتا اس نے کتنی نماز پڑھی ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 860

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى»
A hadith like it has been narrated by Abu Huraira but for these words: He (the man saying the prayer) does not know how much he has prayed.
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت کے مانند بیان کیا ، مگر انہوں نے ( ما يدري كم صلى کے بجائے ) إن يدري كيف صلى ’’وہ نہیں جانتا کیسے نماز پڑھی ‘ ‘ کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 861

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَقَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُهُمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ»
Salim narrated it on the authority of his father who reported: I saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) raising his hands apposite the shoulders at the time of beginning the prayer and before bowing down and after coming back to the position after bowing. but he did not raise them between two prostrations.
۔ سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمرؓ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا : جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے اور رکوع سے پہلے اور ( اس وقت بھی ) جب رکوع سے سر اٹھاتے ۔ آپ دو سجدوں کے درمیان انہیں نہ اٹھاتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 862

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ»
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), when he stood up for prayer, used to raise his hands apposite the shoulders and then recited takbir (Allah-o-Akbar), and when he was about to bow he again did like it and when he raised himself from the ruku' (bowing posture) he again did like it, but he did not do it at the time of raising his head from prostration.
ابن جریج نے ابن شہاب سے اور انہوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے سامنے آ جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو یہی کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا کرتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے توایسا نہ کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 863

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ كَمَا قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ»
This hadith has been transmitted with the same chain of transmitters by al. Zuhri as narrated by Ibn Juraij (who) said. When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up for prayer, he raised hands (to the height) apposite the shoulders and then recited takbir.
عقیل اور یونس دونوں نے اسی طرح روایت کی جس طرح ابن جریج نے کی کہ جب رسول اللہﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ، پھر تکبیر کرہے ۔ ( انہوں نے بحذو منكبيه کے بجائے حذو منكبيه کہا ، دونوں کا مفہوم ایک ہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 864

دَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ، «إِذَا صَلَّى كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ»، وَحَدَّثَ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ هَكَذَا»
Abu Qilaba reported that he saw Malik b. Huwairith raising his hands at the beginning of prayer and raising his hands before kneeling down, and raising his hands after lifting his head from the state of kneeling, and he narrated that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to do like this.
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو دیکھا ، جب وہ نماز پڑھتے تو اللہ اکبر کہت پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرنا چاہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 865

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ» فَقَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ
Malik b. Huwairith reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) raised his hands apposite his ears at the time of reciting the takbir (i. e. at the time of beginning the prayer) and then again raised his hands apposite the ears at the time of bowing and when he lifted his head after bowing he said: Allah listened to him who praised Him, and did like it (raised his hands up to the ears).
۔ ابوعوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے نصر بن عاصم سے اور انہوں نے حضرت مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ جب اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع کرتے تو ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے برابر لے جاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے اور ایسا ہی کرتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 866

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ رَأَى نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ
This hadith has been transmitted by Qatada with the same chain of transmitters that he saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) doing this (i.e. raising his hands) till they were opposite the lobes of ears.
قتادہ سے ( ابو عوانہ کے بجائے ) سعید نے باقی ماندہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے ( مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے اللہ کے نبیﷺ کو دیکھا اور ( سعید نے ) کہا : یہاں تک کہ دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے کناروں کے سامنے لے جاتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 867

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، «كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ، وَرَفَعَ» فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «وَاللهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Abu Salama reported: Abu Huraira led prayer for them and recited takbir when he bent and raised himself (in ruku' and sujud) and after completing (the prayer) he said: By Allah I say prayer which has the best resemblance with the prayer of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) amongst you.
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ انہیں نماز پڑھا رہے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور ( سر اور جسم کو اوپر ) اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب سلام پھیرا تو کہا : اللہ کی قسم! میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 868

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ» ثُمَّ يَقُولُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكُوعِ» ثُمَّ يَقُولُ: وَهُوَ قَائِمٌ «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْمَثْنَى بَعْدَ الْجُلُوسِ» ثُمَّ يَقُولُ: أَبُو هُرَيْرَةَ «إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Abu Huraira reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got up for prayer, he would say the takbir (Allah-o-Akbar) when standing, then say the takbir when bowing. then say: Allah listened to him who praised him, when coming to the erect position after bowing, then say while standing: To Thee, our Lord, be the praise , then recite the takbir when getting down for prostration, then say the takbir on raising his head, then say the takbir on prostrating himself, then say the takbir on raising his head. He would do that throughout the whole prayer till he would complete it, and he would say the takbir when he would get up at the end of two rak'as after adopting the sitting posture. Abu Huraira said: My prayer has the best resemblance amongst you with the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے ابن شہاب نے ابو بکر بن عبد الرحمن سے روایت بیان کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر جب رکوع سے کمر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہتے ، پھر قیام کی حالت میں ربنا ولك الحمد کہتے ، پھر جب سجدہ کرنے کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے ، پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، پھر ( دوسرا ) سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے ، پھر جب ( سجدے سے ) اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ، آپ پوری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اس کو مکمل کر لیتے اور جب دو رکعتوں سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو ( اس وقت بھی ) تکبیر کہے ۔ پھر ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کہتے : میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ کے ساتھ زیادہ مشابہ ہوں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 869

دَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنِّي أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Ibn al-Harith reported: He had heard Abu Huraira say: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited takbir on standing for prayer, and the rest of the hadith is like that transmitted by Ibn Juraij (recorded above), but he did not mention Abu Huraira as saying: My prayer has the best resemblance amongst you with the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے ...... آگے ابن جریج کی حدیث کی طرح ہے اور ( عقیل نے ) ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا یہ قول کہ میں نماز میں تم سب کی نسبت رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہ ہوں ، بیان نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 870

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ حِينَ يَسْتَخْلِفُهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَفِي حَدِيثِهِ فَإِذَا قَضَاهَا وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Abu Salama b. 'Abd al-Rahman reported.. When Marwan appointed Abu Huraira as his deputy in Medina, he recited takbir whenever he got up for obligatory prayer, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Ibn Juraij (but with the addition of these words): On completing the prayer with salutation, and he turned to the people in the mosque and said....
۔ یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو جب مروان مدینہ میں اپنا نائب بنا کر جاتا تو جب وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے ، تکبیر کہتے ....... اس کے بعد ( یونس نے ) ابن جریج کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ ان ( یونس ) کی حدیث میں ( یہ اضافہ ) ہے کہ جب وہ نماز پوری کر لیتے اور سلام پھیرتے تو مسجد والوں کی طرف منہ کرتے ( اور ) کہتے : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسو ل اللہﷺ کے مشابہ ہوں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 871

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، «كَانَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاةِ كُلَّمَا رَفَعَ وَوَضَعَ»، فَقُلْنَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا التَّكْبِيرُ؟ قَالَ: «إِنَّهَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Abu Salama reported that Abu Huraira recited takbir in prayer on all occasions of rising and kneeling. We said: O Abu Huraira, what is this takbir? He said: Verily it is the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نماز میں جب بھی ( سر ) اٹھاتے اور جھکاتے ، تکبیر کہتے ، اس پر ہم نے کہا : ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ! یہ تکبیر کیا ہے؟ انہوں نے کہا : یقیناً یہی رسول اللہﷺ کی نماز ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 872

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ»، وَيُحَدِّثُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ»
Suhail reported on the authority of his father that Abu Huraira used to recite takbir on all occasions of rising and bending (in prayer) and narrated that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to do like that.
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ وہ جب بھی ( نماز میں سر ) جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور بتاتے کہ رسول اللہﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 873

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَكَانَ «إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ»، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي. ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - أَوْ قَالَ: قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
Mutarrif reported: I and 'Imran b. Husain said prayer behind 'Ali b. Abu, Talib. He recited takbir when he prostrated, and he recited takbir when he raised his head and he recited takbir while rising up (from the sitting position at the end of two rak'ahs). When we had finished our prayer, 'Imran caught hold of my hand and said: He (Hadrat Ali) has led prayer like Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) or he said: He in fact recalled to my mind the prayer of Muhammad (may peace be upon him.)
۔ مطرف سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے اور عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا میں نماز پڑھی ۔ جب وہ سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے میرا ہاتھ پکڑا ، پھر کہا : انہوں نے ہمیں محمدﷺ کی نماز پڑھائی ہے یا کہا : انہوں نے مجھے محمدﷺ کی نماز یاد دلا دی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 874

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»
Ubada b. as-Samit reported from the Messenger of Allah (may peace be upon him ): He who does not recite Fatihat al-Kitab is not credited with having observed the prayer.
سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے ، انہوں نے محمود بن ربیع سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، وہ اس بات کی نسبت نبیﷺ کی طرف کرتے تھے ( کہ آپﷺ نے فرمایا : ) ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے فاتحہ الکتاب نہ پڑھی ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 875

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْتَرِئْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ
Ubada b. as-Samit reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who does not recite Umm al-Qur'an is not credited with having observed the prayer.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے ام القریٰ ( فاتحہ ) نہیں پڑھی ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 876

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ، الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ
Mahmud b. al-Rabi', on whose face the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) squirted water from the well, reported on the authority of 'Ubada b. as- Samit that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who does not recite Umm al-Qur'an is not credited with having observed prayer.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جن کے چہرے پر رسول اللہﷺ نے ان کے کنویں سے کلی کر کے پانی کا چھینٹا دیا تھا ، انہیں بتایا کہ حضرت عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ’’جس نے ام القریٰ کی قراءت نہ کی ، اس کی کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 877

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فَصَاعِدًا
This hadith has also been transmitted by Ma'mar from al-Zuhri with the same chain of transmitters with the addition of these words: and something more .
۔ زہری کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور یہ اضافہ کیا : ’’ ( فاتحہ ) اور اس کے بعد ( قرآن کا کچھ حصہ ۔ ) ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 878

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ» ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ. فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ: «اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ»؛ فإنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2]، قَالَ اللهُ تَعَالَى: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1]، قَالَ اللهُ تَعَالَى: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي - وَقَالَ مَرَّةً فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي - فَإِذَا قَالَ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: 5] قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7] قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ قَالَ: سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي بِهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ يَعْقُوبَ، دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فِي بَيْتِهِ. فَسَأَلْتُهُ أَنَا عَنْهُ
Abu Huraira reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If anyone observes prayer in which he does not recite Umm al-Qur'an, It is deficient [he said this three times] and not complete. It was said to Abu Huraira: At times we are behind the Imam. He said: Recite it inwardly, for he had heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) declare that Allah the Exalted had said: I have divided the prayer into two halves between Me and My servant, and My servant will receive what he asks. When the servant says: Praise be to Allah, the Lord of the universe, Allah the Most High says: My servant has praised Me. And when he (the servant) says: The Most Compassionate, the Merciful, Allah the Most High says: My servant has lauded Me. And when he (the servant) says: Master of the Day of judg- ment, He remarks: My servant has glorified Me. and sometimes He would say: My servant entrusted (his affairs) to Me. And when he (the worshipper) says: Thee do we worship and of Thee do we ask help, He (Allah) says: This is between Me and My servant, and My servant will receive what he asks for. Then, when he (the worshipper) says: Guide us to the straight path, the path of those to whom Thou hast been Gracious not of those who have incurred Thy displeasure, nor of those who have gone astray, He (Allah) says: This is for My servant, and My servant will receive what he asks for. Sufyan said: 'Ala b. 'Abd al-Rahman b. Ya'qub narrated it to me when I went to him and he was confined to his home on account of illness, and I asked him about it.
سفیان بن عیینہ نے علاء بن عبد الرحمن سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القریٰ کی قراءت نہ کی تو ناقص ہے ۔ ‘ ‘ تین مرتبہ فرمایا ، یعنی پوری ہی نہیں ۔ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کہا گیا : ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اس کو اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے جب بندہ ﴿الحمد لله رب العالمين﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے ۔ ‘ ‘ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف کی ۔ اور جب وہ کہتا ہے : ﴿الرحمن الرحيم﴾ ’’سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہمیشہ مہربانی کرنے والا ۔ ‘ ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿ مالك يوم الدين﴾ ’’جزا کے دن کا مالک ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ۔ اور ایک دفعہ فرمایا : میرے بندے نے ( اپنے معاملات ) میرے سپرد کر دیے ۔ پھر جب وہ کہتا ہے : ﴿إياك نعبد وإياك نستعين﴾ ’’ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ ( حصہ ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ، اس کا ہے اور جب وہ کہتا ہے : ﴿إهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ ’’ہمیں راہ راست دکھا ، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا ، نہ غضب کیے گئے لوگوں کی ہو اور نہ گمراہوں کی ۔ ‘ ‘ تو ( اللہ ) فرماتا ہے : یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کا ہے جو اس نے مانگا ۔ سفیان نے کہا : مجھے یہ روایت علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے سنائی ، میں ان کے پاس گیا ، وہ گھر میں بیمار تھے ۔ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا ( تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 879

حَدَّثَنَا قُتيْبةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Same as Hadees 878
مالک بن انس نے علاء بن عبد الرحمان سے روایت کی ، انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب سے سنا ، کہتے تھے : میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( جس طرح پچھلی روایت ہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 880

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُريْجٍ، أَخْبَرَنِي العلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى بَنِي عَبْدِ اللهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صلَّى صَلَاةً فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ» بِمِثْلِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى: «قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي»
It is naratted on the authority of Abu Huraira that he had heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: He who observed prayer but he did not recite the Umm al-Qur'an in it, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Sufyan, and in this hadith the words are: Allah the Most High said: the prayer is divided into two halves between Me and My servant. The half of it is for Me and the half of it is for My servant.
ابن جریج نے بتایا کہ ہمیں علاء بن عبد الرحمان نے خبر دی ، کہا : مجھے عبد اللہ بن ہشام بن زہرہ کے بیٹوں کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی ‘ ‘ ... آگے سفیان کی حدیث کے مانند ہے اور ( مالک بن انس اور ابن جریج ) دونوں کی روایت میں ہے : ’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے ، اس کا آدھا حصہ میرے لیے ہے اور آدھا میرے بندے کے لیے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 881

حَدَّثَنِي أَحْمدُ بْنُ جَعْفرٍ الْمَعْقِرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي، وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ، - وَكَانَا جَلِيسَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ -، قَالَا: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَهِيَ خِدَاجٌ» يَقُولُهَا ثَلَاثًا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who said his prayer, but did not recite the opening chapter of al-Kitab, his prayer is incomplete. He repeated it thrice.
و اویس نے کہا : مجھے علاء نے خبر دی ، کہا : میں نے اپنے والد سے اور ابو سائب سے سنا ، وہ دونوں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ہم نشیں تھے ، ان دونوں نے کہا کہ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی نماز ادا کی اور اس میں فاتحہ الکتاب نہ پڑھی تو وہ ( نماز ) ادھوری ہے ۔ ‘ ‘ آپ نے تین دفعہ یہ جملہ فرمایا .... آگے مذکورہ بالا اساتذہ ( مالک ، سفیان ، ابن جریج ) کی حدیث کی طرح ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 882

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَنَّاهُ لَكُمْ، وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَكُمْ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: One is not credited with having observed the prayer without the recitation (of al-Fatiha). So said Abu Huraira: (The prayer in which) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited in a loud voice, we also recited that loudly for you (and the prayer in which) he recited inwardly we also recited inwardly for you (to give you a practical example of the prayer of the Holy Prophet).
حبیب بن شہید سے روایت ہے ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ۔ ‘ ‘ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : جو ( نماز ) رسول اللہﷺ نے ہمارے لیے اونچی قراءت سے ادا کی ہم نے بھی تمہارے لیے وہ اونچی قراءت سے ادا کی اور جس ( نماز ) میں آپ نے ( قراءت کو ) مخفی رکھا ، ہم نے بھی اسے تمہارے لیے مخفی رکھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 883

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو -، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فِي كُلِّ الصَّلَاةِ يَقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا، أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: «إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْكَ»
Ata' narrated on the authority of Abu Huraira who said that one should recite (al-Fatiha) in every (rak'ah of) prayer. What we heard (i. e. recitation) from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), we made you listen to that. And that which he (recited) inwardly, we (recited) inwardly for you. A person said to him: If I add nothing to the (recitation) of the Umm al Qur'an (Surat al-Fatiha), would it make the prayer incomplete? He (AbuHuraira) said: If you add to that (if you recite some of verses of the Qur'an along with Surat at-Fatiha) that is better for you. But if you are contented with it (Surat al-Fatiha) only, it is sufficient for you.
۔ ابن جریج نے عطا سے خبر دی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ( نماز پڑھنے والا ) پوری نماز میں ( ہر رکعت میں ) قراءت کرے ۔ رسول اللہﷺ نے جو ( قراءت ) ہمیں ( بلند آواز سے ) سنائی ، ہم نے بھی تمہیں سنائی اور جو آ پ نے ہم سے ( آواز آہستہ کر کے ) مخفی رکھی ہم نے اسے تم سے مخفی رکھا ۔ ایک آدمی نے ان سے کہا : اگر میں ام القرآن سے زیادہ نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا : اگر اس سے زیادہ پڑھو تو بہتر ہے اور اگر اس ( فاتحہ ) پر رک جاؤ تو وہ تمہیں کفایت کرے گی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 884

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا، أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ، وَمَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ، وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَ
Ata' reported it on the authority of Abu Huraira who said: Recitation (of Surat al-Fatiha) in every (rak'ah) of prayer in essential. (The recitation) that we listened to from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) we made you listen to it. And that which he recited inwardly to us, we recited it inwardly for you. And he who recites Umm al-Qur'an, it is enough for him (to complete the prayer), and he who adds to it (recites some other verses of the Holy Qur'an along with Surat al-Fatiha), it is preferable for him.
۔ حبیب معلم سے روایت ہے ، انہوں نے عطاء سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہر نماز میں قراءت ہے ۔ تو جو ( قراءت ) نبی ﷺ نے ہمیں سنائی ہم نے تمہیں سنائی اور جو انہوں نے ہم سے پوشیدہ رکھی ، ہم نے وہ تم سے پوشیدہ رکھی اور جس نے ام الکتاب پڑھ لی تو اس کے لیے وہ کافی ہے اور جس نے ( اس سے ) زائد پڑھا تو وہ بہتر ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 885

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ قَالَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا عَلِّمْنِي، قَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) entered the mosque and a person also entered therein and offered prayer, and then came and paid salutation to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The Mes- senger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) returned his salutation and said: Go back and pray, for you have not offered the prayer. He again prayed as he had prayed before, and came to the Messenger of Allah (may peace be upon. him) and saluted him. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) returned the salutation and said: Go back and say prayer, for you have not offered the prayer. This (act of repeating the prayer) was done three times. Upon this the person said: By Him Who hast sent you with Truth, whatever better I can do than this, please teach me. He (the Holy Prophet) said: When you get up to pray, recite takbir, and then recite whatever you conveniently can from the Qur'an, then bow down and remain quietly in that position, then raise your- self and stand erect; then prostrate yourself and remain quietly in that attitude; then raise yourself and sit quietly; and do that throughout all your prayers.
سیدنا ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اتنے میں ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھنے کے بعد آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا : ’’ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پرھی ۔ “ تو اس نے واپس ہو کر پہلے کی طرح نماز پڑھی اور لوٹ کر آپ ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے وعلیکم السلام کہتے ہوئے فرمایا : ” جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز ادا نہیں کی ۔ “ چنانچہ اسی طرح وہ نماز پڑھتا اور لوٹ کر آپ ﷺ کو سلام کرتا ۔ اور آپ ﷺ یہی فرماتے : ” جاؤ نماز پڑھو تم نے ادا نہیں کی ۔ “ آخر اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو برحق بنایا ہے ، میں اس سے زیادہ اچھے طریقے کے علاوہ مزید کسی چیز سے ناوقف ہوں ۔ براہ کرم آپ ہی مجھے بتا دیجئے ؟ تو ارشاد ہوا : ” تم جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو پہلے اللہ اکبر کہو اور پھر جتنا قرآن کریم تم باآسانی پڑھ سکتے ہو وہ پڑھو اس کے بعد رکوع کرو اور پھر بہ آرام بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اس کے بعد بہ اطمینان سجدہ کرو اور پھر بہ اطمینان قعدہ میں بیٹھو اور اسی طرح اپنی پوری نماز میں کیا کرو ۔ “
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 886

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ، وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَزَادَا فِيهِ «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ»
Abu Huraira reported: A person entered the mosque and said prayer while the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was sitting in a nook (of the mosque), and the rest of the hadith is the same as mentioned above, but with this addition: When you get up to pray, perform the ablution completely, and then turn towards the Qibla and recite takbir (Allah o Akbar =Allah is the Most Great).
ابو اسامہ او رعبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی ، رسول اللہﷺ ایک جانب ( تشریف فرما ) تھے ...... پھر دونوں نے اسی واقعے کی مانند حدیث بیان کی اور ( حدیث کے حصے ) میں ان دونوں نے یہ اضافہ کیا : ’’ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو خوب اچھی طرح وضو کرو ، پھر قبلے کی طرف رخ کرو ، پھر تکبیر کہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 887

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ - أَوِ الْعَصْرِ - فَقَالَ: «أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا»
lmrin b. Husain reported: The Messenger of Allah (may peace beupon him) led us In Zuhr or 'Asr prayer (noon or the afternoon prayer). (On concluding it) he said: Who recited behind me (the verses): Sabbih Isma Rabbik al-a'la (Glorify the name of thy Lord, the Most High)? There upon a person said: It was I, but I in- tended nothing but goodness. I felt that some one of you was disputing with me in it (or he was taking out from my tongue what I was reciting), said the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ’’ تم میں سے کس نے میرے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی؟ ‘ ‘ تو ایک آدمی نے کہا : میں نے ، اور خیر کے سوا اس سے میں اورکچھ نہیں چاہتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’مجھے علم ہو گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس ( یعنی قراءت ) میں الجھا رہا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 888

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «أَيُّكُمْ قَرَأَ» - أَوْ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ - فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا، فَقَالَ: «قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا»
Imran b. Husain reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed the Zuhr prayer and a person recited Sabbih Isma Rabbik al-a'la (Glorify the name of thy Lord, the Most High) behind him. When he (the Holy Pro- phet) concluded the prayer he said: Who amongst you recited (the above-mentioned verse) or who amongst you was the reciter? A person said: It was I. Upon this he (the Holy Prophet) observed: I thought as if someone amongst you was disputing with me (in what I was reciting).
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے سنا ، وہ حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھی شروع کر دی ۔ جب آپﷺ نے اسلام پھیرا تو فرمایا : ’’تم میں سے کس نے پڑھا ‘ ‘ یا ( فرمایا : ) ’’تم میں سے پڑھنے والا کون ہے؟ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں سمجھا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 889

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ. وَقَالَ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا»
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed Zuhr prayer and said: I felt that someone amongst you was disputing with me (in what I was reciting).
۔ قتادہ کے ایک اور شاگرد ابن ابی عروبہ نے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا : ’’ میں جان گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 890

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، كِلَاهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
Anas reported: I observed prayer along with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and with Abu Bakr, Umar and Uthman (may Allah be pleased with all of them), but I never heard any one of them reciting Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim loudly.
ہم سے محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ ، ابو بکر ، عمر اور عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ نماز پڑھی ، میں نے ان میں سے کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے نہیں سنا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 891

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ: نَعَمْ نَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ
Shu'ba reported it with the same chain of transmitters. with she addition of these words: I said to Qatada: Did you hear it from Anas? He replied in the affir- mative and added: We had inquired of him about it.
محمد بن ( جعفر کے بجائے ) ابو داؤد نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی اور یہ اضافہ کیا کہ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے کہا : کیا آپ نے یہ روایت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ، کہا : ہاں ، ہم نے سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 892

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ‘وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلَفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا يَذْكُرُونَ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ وَلَا فِي آخِرِهَا
Abda reported: 'Umar b. al-Khattab used to recite loudly these words: Subhanak Allahumma wa bi hamdika wa tabarakasmuka wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuka [Glory to Thee,0 Allah, and Thine is the Praise, and Blessed is Thy Name. and Exalted is Thy Majesty. and there is no other object of worship beside Thee]. Qatada informed in writing that Anas b. Malik had narrated to him: I observed prayer behind the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and Abu Bakr and Umar and 'Uthman. They started (loud recitation) with: AI-hamdu lillahi Rabb al-'Alamin [All Praise is due to Allah, the Lord of the worlds] and did not recite Bismillah ir- Rahman-ir-Rahim (loudly) at the beginning of the recitation or at the end of it.
وزاعی نے عبدہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے : سبحانك اللهم! وبحمدك ، تبارك اسمك وتعالى جدك ، ولا إله غيرك ’’اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ۔ تیرا نام بڑا بابرکت ہے اور تیری عظمت وشان بڑی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ ‘ ‘ ( نیز اوزاعی ہی کی ) قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ( اپنی ) روایت کی خبر دیتے ہوئے ان ( اوزاعی ) کی طرف لکھ بھیجا کہ انہوں نے ( انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے قتادہ کو حدیث سنائی ، کہا : میں نے نبیﷺ ، ابو بکر ، عمر اورعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پیچھے نماز پڑھی ہے ، وہ ( نماز کا ) آغاز الحمد لله رب العالمين سے کرتے تھے ، وہ بسم الله الرحمن الرحيم ( بلند آواز سے ) نہیں کہتے تھے ، نہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ہی ( دوسری سورت کے آغاز پر
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 893

حَدَّثَنَا مُحمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، أَخْبَرَنِي، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَذْكُرُ ذَلِكَ
It is reported on the authority of Abu Talha that he had heard Anas b. Malik narrating this.
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے بتایا کہ انہوں نے انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سنا ، وہ یہی ( سابقہ ) حدیث بیان کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 894

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ» فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: 2] ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟» فَقُلْنَا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: رَبِّ، إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ: مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ، فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ. وَقَالَ: «مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ»
Anas reported: One day the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was sitting amongst us that he dozed off. He then raised his head smilingly. We said: What makes you smile. Messenger of Allah? He said: A Sura has just been revealed to me, and then recited: In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. Verily We have given thee Kauthar (fount of abundance). Therefore turn to thy Lord for prayer and offer sacrifice, and surely thy enemy is cut off (from the good). Then he (the Holy Prophet) said: Do you know what Kauthar is? We said: Allah and His Messenger know best. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It (Kauthar) is a canal which my Lord, the Exalted and Glorious has promised me, and there is an abundance of good in it. It is a cistern and my people would come to it on the Day of Resurrection, and tumblers there would be equal to the number of stars. A servant would be turned away from (among the people gathered there). Upon this I would say: My Lord, he is one of my people, and He (the Lord) would say: You do not know that he innovated new things (in Islam) after you. Ibn Hujr made this addition in the hadith: He (the Holy Prophet) was sitting amongst us in the mosque, and He (Allah) said: (You don't know) what he innovated after you
علی بن حجر سعدی اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ( الفاظ انہی کے ہیں ) علی بن مسہر سے روایت کی ، انہوں نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، پھر آپ مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا : اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا : ’’ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے پڑھا : ﴿ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ﴿﴾ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴿﴾ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴿﴾﴾ ’’بلاشبہ ہم آپ کو کوثر عطا کی ۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں ، یقیناً آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے کہا : ’’ کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے ، اس پر بہت بھلائی ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے کےلیے آئے گی ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں ۔ ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں عرض کروں گا : اے میرے رب! یہ میری امت سے ہے ۔ تو وہ فرمائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں ۔ ‘ ‘ ( علی ) ابن حجر نے اپنی حدیث میں ( یہ ) اضافہ کیا : آپ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اور ( أحدثوا بعدك کی جگہ ) أحدث بعدك ’’اس نے نئی بات نکالی ‘ ‘ کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 895

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: أَغْفَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ» وَلَمْ يَذْكُرْ «آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ»
Mukhtar b. Fulful reported that he had heard Anas b. Malik say that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) dozed off, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Mus-hir except for the words that he (the Holy Prophet) said: It (Kauthar) is a canal which my Lord the Exalted and the Glorious has promised me in Paradise. There is a tank over it, but he made no mention of the tumblers like the number of the stars.
ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے ، ( آگے ) جس طرح ابن مسہر کی حدیث ہے ، البتہ انہوں ( ابن فضیل ) نے یہ الفاظ کہے : ’’ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اور اس پر ایک حوض ہے ۔ ‘ ‘ اور یہ نہیں کہا : ’’ اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 896

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ، - وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ - ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا، سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ
Wa'il b. Hujr reported: He saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) raising his hands at the time of beginning the prayer and reciting takbir, and according to Hammam (the narrator), the hands were lifted opposite to ears. He (the Holy Prophet) then wrapped his hands in his cloth and placed his right hand over his left hand. And when he was about to bow down, he brought out his hands from the cloth, and then lifted them, and then recited takbir and bowed down, and when (he came back to the erect position) he recited: Allah listened to him who praised Him. And when he prostrated, he prostrated between his two palms.
ہمام نے کہا : ہمیں محمد بن جحادہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عبد الجبار بن وائل نے حدیث سنائی ، انہوں نے علقمہ بن وائل اور ان کے آزادہ کردہ غلام سے روایت کی کہ ان دونوں نے ان کے والد حضرت وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبیﷺ کو دیکھا ، آپ نے نماز میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، تکبیر کہی ( ہمام نے بیان کیا : کانوں کے برابر بلند کیے ) پھر اپنا کپڑا اوڑھ لیا ( دونوں ہاتھ کپڑے کے اندر لے گئے ) ، پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا ، پھر جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے سے نکالے ، پھر انہیں بلند کیا ، پھر تکبیر کہی اور رکوع کیا ، پھر جب سمع الله لمن حمده کہا تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، پھر جب سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 897

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّلَامُ عَلَى اللهِ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ. فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ
`Abdullah (b. Mas`ud) said: While observing prayer behind the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) we used to recite: Peace be upon Allah, peace be upon so and so. One day the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to us: Verily Allah is Himself Peace. When any one of you sits during the prayer, he should say: All services rendered by words, by acts of worship, and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allah's upright servants, for when he says this it reaches every upright servant in the heavens and the earth. (And say further): I testify that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. Then he may choose any supplication which pleases him and offer it.
۔ جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم نماز میں رسول اللہﷺ کے پیچھے کہتے تھے : اللہ پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ۔ ( بخاری کی روایت میں جبریل پر میکائیل پر سلام ہو ۔ ) تو ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ خود سلام ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت اللہ ہی کےلیے ہے ، اور ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں ( بھی اسی کےلیے ہیں ) ، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ جب کوئی شخص یہ ( دعائیہ ) کلمات کہے گا تو یہ آسمان و زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے تک پہنچیں گے ۔ ( پھر کہے : ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کےبندے اور رسول ہیں ، پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 898

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ: «ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ»
Shu'ba has narrated this on the authority of Mansur with the same chain of transmitters, but he made no mention of this: Then he may choose any supplication which pleases him.
( جریر کے بجائے ) شعبہ نے منصور سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور انہوں ( شعبہ ) نے ’’پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ‘ ‘ ( کے کلمات ) بیان نہیں کیے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 899

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ: «ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ - أَوْ مَا أَحَبَّ
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters and he made a mention of this: Then he may choose any supplication which pleases him or which he likes.
منصور کے ایک اور شاگرد زائدہ نے ان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں ( جریر اور شعبہ ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، لیکن آخری کلمات میں ماشاء ( جو چاہے ) کی جگہ ما أحب ( جو پسند کرے ) کے الفاظ کہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 900

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَقَالَ: «ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ»
Abdullah b. Mas'ud reported: We were sitting with the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in prayer, and the rest of the hadith is the same as narrated by Mansur He (also said): After (reciting tashahud) he may choose any prayer.
اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب ہم نماز میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھتے تھے .... ( آگے ) منصور کی حدیث کی طرح ( ہے ) اور کہا : ’’ اس کے بعد دعا کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 901

وَحَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعيْمٍ، حَدَّثَنَا سيْفُ بْنُ سُليْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَخْبَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشهُّدَ، كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَاقْتَصَّ التَّشَهُّدَ بِمِثْلِ مَا اقْتَصُّوا»
Ibn Mas'ud is reported to have said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) taught me tashahhud taking my hand within his palms, in the same way as he taught me a Sura of the Qur'an, and he narrated it as narrated above.
۔ عبد اللہ بن سخبرہ نے کہا : میں نے حضرت ابن مسعود سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے مجھے تشہد سکھایا ، میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی ، ( بالکل اسی طرح ) جیسے آپ مجھے قرآنی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اور انہوں نے ( ابن سخبرہ ) نے تشہد اسی طرح بیان کیا جس طرح سابقہ راویوں نے بیان کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 902

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ
Ibn `Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to teach us tashahhud just as he used to teach us a Surah of the Qur'an, and he would say: All services rendered by words, acts of worship, and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allah's upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is the Messenger of Allah. In the narration of Ibn Rumh (the words are): As he would teach us the Qur'an.
امام مسلم نے قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر کی سندوں سے لیث سے ، انہوں نے ابو زبیر سے ، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، چنانچہ آپ فرماتے تھے : ’’بقا وبادشاہت ، عظمت و اختیار اور کثرت خیر ، ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں اللہ ہی کےلیے ہیں ۔ آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 903

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، ٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ»
Tawus narrated it on the authority of Ibn 'Abbas that he said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to teach us tashahhud as he would teach us a Sura of the Qur'an.
عبد الرحمن بن حمید نے کہا : مجھے ابو زبیر نے طاؤس کے حوالے سے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 904

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ -، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ صَلَاةً فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ؟ قَالَ فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا؟ قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا. فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذْ قَالَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7]، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمُ اللهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ «
Hattan b. `Abdullah al-Raqashi reported: I observed prayer with Abu Musa al-Ash`ari and when he was in the qa`dah, one among the people said: The prayer has been made obligatory along with piety and Zakat. He (the narrator) said: When Abu Musa had finished the prayer after salutation he turned (towards the people) and said: Who amongst you said such and such a thing? A hush fell on the people. He again said: Who amongst you has said such and such a thing? A hush fell on the people. He (Abu Musa) said: Hattan, it is perhaps you that have uttered it. He (Hattan) said No. I have not uttered it. I was afraid that you might be annoyed with me on account of this. A person amongst the people said: It was I who said it, and in this I intended nothing but good. Abu Musa said: Don't you know what you have to recite in your prayers? Verily the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) addressed us and explained to us all its aspects and taught us how to observe prayer (properly). He (the Holy Prophet) said: When you pray make your rows straight and let anyone amongst you act as your Imam. Recite the takbir when he recites it and when he recites: Not of those with whom Thou art angry, nor of those who go astray, say: Amin. Allah would respond you. And when he (the Imam) recites the takbir, you may also recite the takbir, for the Imam bows before you and raises himself before you. Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The one is equivalent to the other. And when he says: Allah listens to him who praises Him, you should say: O Allah, our Lord, to Thee be the praise, for Allah, the Exalted and Glorious, has vouchsafed (us) through the tongue of His Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that Allah listens to him who praises Him. And when he (the Imam) recites the takbir and prostrates, you should also recite the takbir and prostrate, for the Imam prostrates before you and raises himself before you. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The one is equivalent to the other. And when he (the Imam) sits for Qa`da (for tashahhud) the first words of every one amongst you should be: All services rendered by words, acts of worship and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Apostle, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon the upright servants of Allah. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and His Messenger.
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے یونس بن جبیر سے اور انہوں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ایک نماز پڑھی ، جب وہ قعدہ ( نماز میں تشہد کے لیے بیٹھنے ) کے قریب تھے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : نماز کو نیکی اور زکاۃ کے ساتھ رکھا گیا ہے؟ جب ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے نماز پوری کر لی تو مڑے اور کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو سب لوگ مارے ہیبت کے چپ رہے ، انہوں نے پھر کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو لوگ ہیبت کے مارے پھر چپ رہے تو انہوں نے کہا : اے حطان! لگتا ہے تو نے یہ بات کہی؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں کہا ، البتہ مجھے ڈر تھا کہ آپ اس کے سبب میری سرزنش کریں گے ۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے یہ بات کہی تھی اور میں نے اس سے بھلائی کے سوا اور کچھ نہ چاہا تھا ۔ تو ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں اپنی نماز میں کیسے کہنا چاہیے؟ رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ، آپ نے ہمارے لیے ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو ، پھر تم میں سے ایک شخص تمہاری امامت کرائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو ، امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو ( مقتدی کی طرف سے رکوع میں جانےکی ) یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کا بدل ہو کی ( جو رکوع سے سر اٹھانے میں ہو گی ) اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لك الحمد کہو ، اللہ تمہاری ( بات ) سنے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اور جب امام تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم تکبیر کہو اور سجدہ کرو ، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کابدل ہو گی اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تمہارا پہلا بول ( یہ ) ہو : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت ، سب پاک چیزیں اور ساری دعائیں اللہ کےلیے ہیں ۔ اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 905

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَتَادَةَ مِنَ الزِّيَادَةِ» وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فَإِنَّ اللهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ، وَحْدَهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: قَالَ أَبُو بَكْرِ: ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. فَقَالَ مُسْلِمٌ: تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ فَقَالَ: هُوَ صَحِيحٌ يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا فَقَالَ: هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ فَقَالَ: لِمَ لِمَ تَضَعْهُ هَا هُنَا؟ قَالَ: لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ
Qatada has narrated a hadith like this with another chain of transmitters. In the hadith transmitted by Jarir on the authority of Sulaiman, Qatada's further words are: When (the Qur'an) is recited (in prayer), you should observe silence, and (the following words are) not found in the hadith narrated by anyone except by Abu Kamil who heard it from Abu 'Awina (and the words are): Verily Allah vouchsafed through the tongue of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) this: Allah listens to him who praises Him. Abu Ishaq (a student of Imam Muslim) said: Abu Bakr the son of Abu Nadr's sister has (critically) discussed this hadith. Imam Muslim said: Whom can you find a more authentic transmitter of hadith than Sulaiman? Abu Bakr said to him (Imam Muslim): What about the hadith narrated by Abu Huraira, i.e. the hadith that when the Qur'an is recited (in prayer) observe silence? He (Abu Bakr again) said: Then, why have you not included it (in your compilation)? He (Imam Muslim) said: I have not included in this every hadith which I deem authentic; I have recorded only such ahadith on which there is an agreement (amongst the Muhaddithin apart from their being authentic).
ابو اسامہ نے سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، نیز معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، اسی طرح جریر نے سلیمان تیمی سے خبر دی ، ان سب ( ابن ابی عروبہ ، ہشام اور سلیمان ) نے قتادہ سے اسی ( سابقہ ) حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ قتادہ سے سلیمان اور ان سے جریر کی بیان کردہ حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’ جب امام پڑھے تو تم غور سے سنو ۔ ‘ ‘ اور ابو عوانہ کے شاگرد کامل کی حدیث کے علاوہ ان میں سے کسی کی حدیث میں : ’’اللہ عزوجل نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : ’’ اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ۔ ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ ابو اسحاق نے کہا : ابو نضر کے بھانجے ابو بکر نے اس حدیث کے متعلق بات کی تو امام مسلم نے کہا : آپ کو سلیمان سے بڑا حافظ چاہیے؟ اس پر ابو بکر نے امام مسلم سے کہا : ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث؟ پھر ( ابو بکر نے ) کہا : وہ صحیح ہے ، یعنی ( یہ اضافہ کہ ) جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو ۔ امام مسلم نے ( جوابا ) کہا : وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے ۔ تو ابو بکر نے کہا : آپ نے اسے یہاں کیوں نہ رکھا ( درج کیا ) ؟ ( امام مسلم نے جواباً ) کہا : ہر وہ چیز جو میرے نزدیک صحیح ہے ، میں نے اسے یہاں نہیں رکھا ۔ یہاں میں نے صرف ان ( احادیث ) کو رکھا جن ( کی صحت ) پر انہوں ( محدثین ) نے اتفاق کیا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 906

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: «فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»
This hadith has been transmitted by Qatida with the same chain of transmitters (and the words are): Allah, the Exalted and the Glorious, commanded it through the tongue of His Apostle (may peace be upon-him): Allah listens to him who praises Him.
قتادہ کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث روایت کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : ’’چنانچہ اللہ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فیصلہ کر دیا : ( کہ ) اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ( قال کے بجائے قضى کالفظ روایت کیا ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 907

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ، هُوَ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ»
Abdullah b. Zaid-he who was shown the call (for prayer in a dream) narrated it on the authority of Abu Mas'ud al-Ansari who said: We were sitting in the company of Sa'id b. 'Ubida when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to us. Bashir b. S'ad said: Allah has commanded us to bless you. Messenger of Allah! But how should we bless you? He (the narrator) said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kept quiet (and we were so much perturbed over his silence) that we wished we had not asked him. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then said: (For blessing me) say: 0 Allah, bless Muhammad and the members of his household as Thou didst bless the mernbers of Ibrahim's household. Grant favours to Muhammad and the members of his household as Thou didst grant favours to the members of the household of Ibrahim in the world. Thou art indeed Praiseworthy and Glorious ; and salutation as you know.
نعیم بن عبد اللہ مجمر سے روایت ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن زید انصاری نے ( محمد کے والد عبد اللہ بن زید وہی ہیں جن کو نماز کے لیے اذان خواب میں دکھائی گئی تھی ) انہیں ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے متعلق بتایا کہ انہوں نے کہا : ہم سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی مجلس میں تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، چنانچہ بشیر بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ سے عرض کی : اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ انہوں نے کہا : اس پر رسول اللہﷺ خاموش ہوگئے حتیٰ کہ ہم نے تمنا کی کہ انہوں نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا ، پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے رحمت فرمائی ابراہیم کی آل پر اور برکت نازل فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے سب جہانوں میں برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے اور سلام اسی طرح ہے جیسے تم ( پہلے ) جان چکے ہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 908

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: «قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»
Ibn Abi Laila reported: Ka'b b. 'Ujra met me and said: Should I not offer you a present (and added): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to us and we said: We have learnt how to invoke peace upon you; (kindly tell us) how we should bless you. He (the Holy Prophet) said: Say: O Allah: bless Muhammad and his family as Thou didst bless the family of Ibrahim. Verily Thou art Praiseworthy and Glorious, O Allah.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حَکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ملے اور کہنے لگے : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ رسول اللہﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : ہم تو جان چکے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں ، ( یہ بتائیں ) ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : ’’کہو : اے اللہ! محمد اور محمد کی آل پر رحمت فرما ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی ، بلاشبہ تو سزاوار حمد ، عظمتوں والا ہے ۔ اے اللہ! محمد پر اور محمد کی آل پر برکت نازل فرما ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکت نازل فرمائی ، بلاشبہ تو سزاوار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 909

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَمِسْعَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ مِسْعَرٍ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً
A hadith like this has been narrated by Mis'ar on the authority of al-Hakam, but in the hadith transmitted by Mis'ar these words are not found: Should I not offer you a present?
۔ وکیع نے شعبہ اور مسعر سے اسی سند کے ساتھ حکم سے اسی کی مانند روایت کی اور مسعر کی حدیث میں یہ جملہ نہیں ہے : کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 910

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَعَنْ مِسْعَرٍ، وَعَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَكَمِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: «وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ» وَلَمْ يَقُلْ: اللهُمَّ
A hadith like this has been narrated by al-Hakam except that he said: Bless Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he did not say: O Allah I
اسماعیل بن زکریا نے اعمش ، مسعر اور مالک بن مغول سے روایت کی اور ان سب نے حکم سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند روایت کی ، البتہ اسماعیل نے کہا : وبارك على محمد اور ( اس سے پہلے ) اللهم نہیں کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 911

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: «قُولُوا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»
Abu Humaid as-Sa'idi reported: They (the Companions of the Holy Prophet) said: Apostle of Allah, how should we bless you? He (the Holy Prophet) observed: Say: O Allah! bless Muhammad, his wives and his offspring as Thou didst bless Ibrahim, and grant favours to Muhammad, and his wives and his offspring as Thou didst grant favours to the family of Ibrahim; Thou art Praiseworthy and Glorious.
عمرو بن سلیم نے کہا : مجھے حضرت ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ انہوں ( صحابہ ) نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : ’’کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد پر اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی اور برکت نازل فرما محمد پر اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر ، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 912

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، ٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى الله عَلَيْهِ عَشْرًا»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who blesses me once, Allah would bless him ten times.
۔ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا : جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 913

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the Imam says: Allah listens to him who praises Him. you should say: O Allah, our Lord for Thee is the praise. for if what anyone says synchronises with what the angels say, his past sins will be forgiven.
سمی نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب امام سمع الله لمن حمده ( اللہ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی ) کہے تو تم کہو : اللهم ، ربنا لك الحمد ( اے اللہ! ہمارے رب! سب تعریف تیرے لیے ہے ) کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 914

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُمَيٍّ
A hadith like this is narrated by Abu Huraira by another chain of transmitters.
۔ سہیل نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے ( مذکورہ بالا راوی ) سمی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 915

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «آمِينَ»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: SayAmin when the Imam says Amin, for it anyone's utterance of Amin synchronises with that of the angels, he will be forgiven his past sins.
مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی ، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 916

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ
Abu Huraira said: I heard from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the hadith like one transmitted by Malik, but he made no mention of the words of Shihab.
۔ ( مالک کے بجائے ) یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ... ( آگے ) مالک کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے ، البتہ یونس نے ابن شہاب کا قول بیان نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 917

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ: آمِينَ. وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ: آمِينَ. فَوَافَقَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى. غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When anyone amongst you utters Amin in prayer and the angels in the sky also utter Amin, and this (utterance of the one) synchronises with (that of) the other, all his previous sins are pardoned.
ابو یونس ( سلیم بن جبیر ) نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز میں آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور ایک آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 918

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ: آمِينَ. وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ: آمِينَ. فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى. غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
Abu Harare reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When anyone amongst you utters Amin and the angels In the heaven also utter Amin and (the Amin) of the one synchronises with (that of) the other, all his previous sins are pardoned.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ایک اور شاگرد اعرج کے حوالے سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے ایک شخص آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس شخص کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 919

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
A hadith like this is transmitted by Ma'mar from Hammam b. Munabbih on the authority of Abu Huraira who reported it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ہمام بن منبہ نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کی طرح حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 920

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الْقَارِئُ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7] فَقَالَ: مَنْ خَلْفَهُ: آمِينَ، فَوَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the reciter (Imam) utters: Not of those on whom (is Thine) wrath and not the erring ones, and (the person) behind him utters Amin and his utterance synchronises with that of the dwellers of heavens, all his previous sins would be pardoned.
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب قاری ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے اور جو اس کے پیچھے ہے وہ ( بھی ) آمین کہے اور اس کا کہنا آسمان والوں کی کہی ہوئی ( آمین ) کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 921

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ
Anas b. Malik reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell down from a horse and his right side was grazed. We went to him to inquire after his health when the time of prayer came. He led us in prayer in a sitting posture and we said prayer behind him sitting, and when he finished the prayer hesaid: The Imam is appointed only to be followed; so when he recites takbir, you should also recite that; when he prostrates, you should also prostrate; when he rises up, you should also rise up, and when he said God listens to him who praises Him, you should say: Our Lord, to Thee be the praise, and when he prays sitting, all of you should pray sitting.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر گئے تو آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ، ہم آپ کے ہاں آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، چنانچھ ہم نے ( آپ کے اشارے پر ، حدیث 926 ۔ 928 ) آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، پھر جب آپ نے نماز پوری کی تو فرمایا : ’’امام اسی لیے بنایا گیا کہ اس کی اقتدا کی جائے ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ، جب وہ ( سر ) اٹھائے تو تم ( سر ) اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده ( اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ) کہے تو تم ربنا لك الحمد ( اے ہمارے رب! تیری ہی لیے سب تعریف ہے ) کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 922

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ
Anas b. Malik reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell down from a horse and he was grazed and he led the prayer for us sitting, and the rest of the hadith is the same.
۔ ( سفیان کے بجائے ) لیث نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا ایک پہلو چھل گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی .... آگے سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 923

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَزَادَ» فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا «
Anas b. Malik reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell down from a horse and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same with the addition of these words: When he (the Imam) says prayer standing, you should also do so.
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... پھر ان دونوں حضرات ( سفیان اور لیث ) کی روایت کے مانند روایت کی ، البتہ یونس نے یہ اضافہ کیا : ’’ اور جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 924

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ، عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَفِيهِ» إِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا
Anas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) rode a horse and fell down from it and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same, and (these words) are found in it: When he (the Imam) says prayer in an erect posture, you should also say it in an erect posture.
مالک بن انس نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے ، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا .... آگے مذکورہ بالا تینوں راویوں کی طرح روایت کی اور اس میں ( بھی یہ ) ہے : ’’ جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 925

دَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ مِنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِيهِ زِيَادَةُ يُونُسَ، وَمَالِكٍ
Anas b. Malik reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell down from his horse and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same. In this hadith there are no additions (of words) as transmitted by Yunus and Malik.
معمر نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر پڑے جس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... آگے سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اس میں یونس اور مالک والا اضافہ نہیں ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 926

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ: أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا»
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell ill and some of his Companions came to inquire after his health. The Messenger of Allah (may peace he upon him) said prayer sitting, while (his Companions) said it (behind him) standing. He (the Holy Prophet) directed them by his gesture to sit down, and they sat down (in prayer). After finishing the (prayer) lie (the Holy Prophet) said: The Imam is appointed so that be should be followed, so bow down when lie bows down, and rise rip when he rises up and say (prayer) sitting when he (the Imam) says (it) sitting.
عبدہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے ، آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آپ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوئے ۔ رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو انہوں نے آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کی ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گئے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا : ’’ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ ( رکوع وسجود سے سر ) اٹھائے تو ( پھر ) تم ( بھی سر ) اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 927

دَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith is narrated with the same chain of transmitters by Hisham b. 'Urwa.
۔ حماد بن زید اور عبد اللہ بن نمیر نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 928

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا لَتَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ، وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا
Jabir reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was ill and we said prayer behind him and he was sitting. And Abu Bakr was making audible to the people his takbir. As he paid his attention towards us he saw us standing and (directed us to sit down) with a gesture. So we sat down and said our prayer with his prayer in a sitting posture. After uttering salutation he said: You were at this time about to do an act like that of the Persians and the Romans. They stand before their kings while they sit, so don't do that; follow your Imams. If they say prayer standing, you should also do so, and if they say prayer sitting, you should also say prayer sitting.
۔ لیث نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ كی ‌بیماری ‌میں ‌ہم ‌نے ‌آپ ‌كے ‌پیچھے ‌اس ‌طرح ‌نماز ‌پڑھی ‌كہ ‌آپ ‌نے ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھائی ‌اور ‌حضرت ‌صدیق ‌اكبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مكبر ‌كی ‌حیثیت ‌میں ‌تكبیرات ‌كہتے ‌تھے ‌. ‌نماز ‌میں ‌ہمیں ‌كھڑا ‌دیكھ ‌كر ‌آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌ہمیں ‌بیٹھنے ‌كا ‌حكم ‌دیا ‌تو ‌ہم ‌بیٹھ ‌گئے ‌پھر ‌بعد ‌فراغت ‌نماز ‌ارشاد ‌عالی ‌ہوا ‌تم ‌نے ‌اس ‌وقت ‌وہ ‌كام ‌كیا ‌جیسا ‌كہ ‌فارس ‌اور ‌روم ‌والے ‌اپنے ‌بادشاہ ‌كے ‌سامنے ‌كھڑے ‌رہتے ‌ہیں ‌اور ‌بادشاہ ‌بیٹھا ‌رہتا ‌ہے ‌. ‌اب ‌آئندہ ‌ایسا ‌نہ ‌كرنا ‌بلكہ ‌ہمیشہ ‌اپنے ‌امام ‌كی ‌پیروی ‌كرو ‌اگر ‌وہ ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھائے ‌تو ‌تم ‌بھی ‌بیٹھ ‌كر ‌نماز ‌پڑھو ‌.
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 929

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ لِيُسْمِعَنَا» ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ
Jabir said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) led the prayer and Abu Bakr was behind him. When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited the takbir, Abu Bakr also recited (it) in order to make it audible to us. And the rest of the hadith is like one transmitted by Laith.
۔ حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کے پیچھے تھاے ۔ جب رسول اللہﷺ تکبیر کہتے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنائیں .... پھر لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 930

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The Imam is appointed, so that he should be followed, so don't be at variance with him. Recite takbir when he recites it; bow down when he bows down and when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the Praise. And when he (the Imam) prostrates, you should also prostrate, and when he says prayer sitting, you should all observe prayer sitting.
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 931

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
A hadith like this has been transmitted by Hammam b. Munabbih from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the authority of Abu Huraira.
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 932

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ خَشْرَمٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا يَقُولُ: لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ: وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) while teaching us (the principles of faith), said: Do not try to go ahead of the Imam, recite takbir when he recites it. and when he says: Nor of those who err, you should say Amin, bow down when lie bows down, and when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the praise .
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، فرماتے تھے : ’’ امام سے آگے نہ بڑھو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 933

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ، وَزَادَ وَلَا تَرْفَعُوا قَبْلَهُ
Abu Huraira reported from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (a hadith) like it, except the words: Nor of those who err, say Amin and added: And don't rise up ahead of him.
۔ سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنیٰ روایت کی ، سوائے اس حصے کے : ’’ جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ‘ ‘ اور یہ حصہ بڑھایا : ’’ اور تم اس سے پہلے ( سر ) نہ اٹھاؤ ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 934

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبةُ، عَنْ يَعْلَى وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ، سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الْأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily the Imam is a shield, say prayer sitting when he says prayer sitting. And when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the praise. and when the utterance of the people of the earth synchronises with that of the beings of heaven (angels), all the previous sins would be pardoned.
ابو علقمہ نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ یقینا امام ایک ڈھال ہے ( تم اس کے پیچھے پیچھے رہو ) ، چنانچہ جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو کیونکہ جب زمین والے کا کہا ہوا آسمان والوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 935

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying: The Imam is appointed to be followed. So recite takbir when he recites it, and bow down when he bows down and when he utters: Allah listens to him who praises Him, say O Allah, our Lord, for Thee be the praise. And when he prays, standing, you should pray standing. And when he prays sitting, all of you should pray sitting.
( ابو علقمہ کے بجائے ) ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ، اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی سب کے سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 936

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا: لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» فَقُلْنَا لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، قَالَتْ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا: «أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ» فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَاتِ فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ: لَا. قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ
Ubaidullah b. Abdullah reported: I visited 'A'isha and asked her to tell about the illness of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She agreed and said: The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was seriously ill and he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: Put some water in the tub for me. We did accordingly and he (the Holy Prophet) took a bath;and, when he was about to move with difficulty, he fainted. When he came round, he again said: Have the people said prayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) again said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bag, but when he was about to move with difficultyhe fainted. When he came round, he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bath and he was about to move with difficulty when he fainted. When he came roundhe said: Have the people saidprayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. She ('A'isha) said: The people were staying in the mosque and waiting for the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to lead the last (night) prayer. She ('A'isha) said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent (instructions) to Abu Bakr to lead the people in prayer. When the messenger came, he told him (Abd Bakr): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has ordered you to lead the people in prayer. Abu Bakr who was a man of very tenderly feelings asked Umar to lead the prayer. 'Umar said: You are more entitled to that. Abu Bakr led the prayers during those days. Afterwards the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt some relief and he went out supported by two men, one of them was al-'Abbas, to the noon prayer. Abu Bakr was leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him. he began to withdraw, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) told him not to withdraw. He told his two (companions) to seat him down beside him (Abu Bakr). They seated him by the side of Abu Bakr. Abu Bakr said the prayer standing while following the prayer of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and the people Bald prayer (standing) while following the prayer of Abu Bakr. The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was seated. Ubaidullah said: I visited 'Abdullah b. 'Abbas, and said: Should I submit to you what 'A'isha had told about the illness of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? He said: Go ahead. I submitted to him what had been transmitted by her ('A'isha). He objected to none of it, only asking whether she had named to him the man who accompanied al-'Abbas. I said: No. He said: It was 'Ali.
موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! جب ( بیماری کے سبب ) نبی ( کے حرکات وسکنات ) بوجھل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! نہیں ، وہ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے پانی رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھی لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ اٹھنے لگے توآپ پر غشی طاری ہو کئی ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر اٹھنے لگے تو بے شہوش ہو گئے ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ رسول اللہﷺ کا انتظار کرر ہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لوگ مسجد میں اکٹھے بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر رسول اللہﷺ نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پیغام لانے والا ان کے پاس آیا اور بولا : رسول اللہﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا ، اور وہ بہت نرم دل انسان تھے : عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دنوں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر یہ ہوا کہ رسول اللہﷺ نے کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو مردوں کا سہارا لے کر ، جن میں سے ایک عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ، نماز ظہر کے لیے نکلے ، ( اس وقت ) ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ، اس پر نبیﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : ’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے آپ کو ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پہلو میں بٹھا دیا ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہو کر نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور نبیﷺ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے راوی ) عبید اللہ نے کہا : پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی : کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں ، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا : لاؤ ۔ تو میں نے ان کے سامنے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی ، انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا ، ہاں! اتنا کہا : کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : وہ حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 937

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ -، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ قَالَتْ: فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ، وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ»
A'isha reported: It was in the house ofMaimuna that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) first fell ill. He asked permission from his wives to stay in her ('A'isha's) house during his illness. They granted him permission. She ('A'isha) narrated: He (the Holy Prophet) went out (for prayer) with his hand over al-Fadl b. 'Abbas and on the other hand there was another person and (due to weakness) his feet dragged on the earth. 'Ubaidullah said: I narrated this hadith to the son of 'Abbas ('Abdullah b. 'Abbas) and he said: Do you know who the man was whose name 'A'isha did not mention? It was 'Ali.
معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر کہ رسول اللہﷺ کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا ، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے ، انہوں نے اجازت دے دی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( کے کندھے ) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور ( نقاہت کی وجہ سے ) آپ اپنے باؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو سنائی تو انہوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی ، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ، کون تھے؟ وہ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 938

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ، بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ» قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: «هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: «هُوَ عَلِيٌّ»
A'isha, the wife of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell ill and his illness became serious, he asked permission from his wives to stay in my house during his illness. They gave him permission to do so. He stepped out (of'A'isha's apartment for prayer) supported by two persons. (He was so much weak) that his feet dragged on the ground and he was being supported by 'Abbas b. 'Abd al-Muttalib and another person. 'Ubaidullah said: I informed 'Abdullah (b. 'Abbas) about that which 'A'isha had said. 'Abdullah b. 'Abbas said: Do you know the man whose name 'A'isha did not mention? He said: No. Ibn 'Abbas said: It was 'Ali.
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو ، انہوں نے اجازت دے دی ، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان ( ان کا سہارا لے کر ) نکلے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ( اور آپ ) عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے ۔ ( حدیث کے راوی ) عبید اللہ نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا ، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ ( بن عباس ) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : نہیں ۔ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : وہ حضرت علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 939

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلًا، قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَإِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ»
A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: I tried to dissuade the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) from it (i. e. from appointing Abu Bakr as the Imam.) and my insistence upon it was not due to the fact that I entertained any apprehension in my mind that the people would not love the man who would occupy his (Prophet's) place (i. e. who would be appointed as his caliph) and I feared that the people would be superstitious about one who would occupy his place. I, therefore, desired that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) should leave Abu Bakr aside in this matter.
۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ( حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو امام بنانے کے ) اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار بات کی ۔ میں نے اتنی بار آپ سے صرف اس لیے رجوع کیا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھتی نہ تھی کہ لوگ آپ کے بعد کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ کا قائم مقام ہو گا اور اس کے برعکس میرا خیال یہ تھا کہ آپ کی جگہ پر جو شخص بھی کھڑا ہو گا لوگ اسے برا ( برے شگون کا حامل ) سمجھیں گے ، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہﷺ امامت ( کی ذمہ داری ) ابو بکر سے ہٹا دیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 940

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي قَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: وَاللهِ، مَا بِي إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ، بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: «لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ»
A'isha reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to my house, he said: Ask Abu Bakr to lead people in prayer. 'A'isha narrated: I said, Messenger of Allah, Abu Bakr is a man of tenderly feelings; as he recites the Qur'an, he cannot help shedding tears: so better command anyone else to lead the prayer. By Allah, there is nothing disturbing in it for me but the idea that the people may not takeevil omen with regard to one who is the first to occupy the place of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). I tried to dissuade him (the Holy Prophet) twice or thrice (from appointing my father as an Imam in prayer), but he ordered Abu Bakr to lead the people in prayer and said: You women are like those (who had) surrounded Yusuf.
۔ ( عبید اللہ بن عبد اللہ کے بجائے ) حمزہ بن عبد اللہ بن عمر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہﷺ ( بیماری کے دوران میں ) میرے گھر تشریف لے آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر کو حکم پہنچاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ وہ کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر نرم دل انسان ہیں ، جب وہ قرآن پڑھیں گے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بجائے کسی اور کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اللہ کی قسم! میرے دل میں اس چیز کو ناپسند کرنے کی اس کے علاوہ اور کوئی بات نہ تھی کہ جو شخص سب سے پہلے آپ کی جگہ کھڑا ہو گا لوگ اسے برا سمجھیں گے ، اس لیے میں نے دو یا تین دفعہ اپنی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں ، بلاشبہ تم یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتیں ہی ہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 941

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ. فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَتْ لَهُ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ» مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُمْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ
A'isha reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was confined to bed, Bilal came to him to summon him to prayer. He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead the people in prayer. She ('A'isha) reported: I said: Messenger of Allah, Abu! Bakr is a tenderhearted man, go when ]be would stand at your place (he would be so overwhelmed by feelings) that he would not be able to make the people hear anything (his recitation would not be audible to the followers in prayer). You should better order Umar (to lead the prayer). He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead people in- prayer. She ('A'isha) said: I asked Hafsa to (convey) my impression to him (the Holy Prophet) that Abu Bakr was a tenderhearted man, so when he would stand at his place, he would not be able to make the people bear anything. He better order Umar. Hafsa conveyed this (message of Hadrat 'A'isha) to him (the Holy Prophet). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (You are behaving) as if you are the females who had gathered around Yusuf. Order Abd Bakr to lead the people in prayer. She ('A'isha) reported: So Abu Bakr was ordered to lead the people in prayer. As the prayer began, the Messenger of Allah (may peace he upon him) felt some relief; he got up and moved supported by two persons and his feet dragged on earth (due to excessive weakness). 'A'isha reported: As he (the Holy Prophet) entered the mosque. Abu Bakr perceived his (arrival). He was about to with. draw, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) by the gesture (of This hand) told him to keep standing at his place. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came and seated himself on the left side of Abu Bakr. She ('A'isha) reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was leading people in prayer sitting. Abu Bakr was following the prayer of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in a standing posture and the people were following the prayer of Abu Bakr.
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر جلد غم زدہ ہو جانے والے انسان ہیں اور وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت بھی ) نہیں سنا سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دے دیں ( تو بہتر بہتر ہو گا ۔ ) آپ ﷺ نے ( پھر ) فرمایا : ’’ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نم نبی اکرمﷺ سے کہو کہ ابو بکر جلد غمزدہ ہونے والے انسان ہیں ، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت ) نہ سنا سکیں ، چنانچہ اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہہ دیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتوں ہی طرح ہو ، ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم پہنچا دیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نماز شروع کر دی تو رسول اللہﷺ نے طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی ، آپ اٹھے ، دو آدمی آپ کو سہارا دیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے جا رہے تھے ۔ وہ فرماتی ہیں : جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کی آہٹ سن لی ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو ، پھر رسول اللہﷺ آگے بڑے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بائیں جانب بیٹھ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہو کر ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا کر رہے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 942

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُهُمُ التَّكْبِيرَ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ
A'mash reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) suffered from illness of which he died, and in the hadith transmitted by Ibn Mus-hir, the words are: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was brought till he was seated by his (Abu Bakr's) side and the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) led the people in prayer and Abu Bakr was making takbir audible to them, and in the hadith transmitted by 'Isa the (words are): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sat and led the people in prayer and Abu Bakr was by his side and he was making (takbir) audible to the people.
۔ علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہﷺ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ نے وفات پائی ۔ ابن مسہر کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ کو لایا گیا یہاں تک کہ انہیں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا ۔ رسول اللہﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے ۔ عیسیٰ کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ بیٹھ گئے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کے پہلو میں تھے اور لوگوں کو ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 943

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ«فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ»
`A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ordered Abu Bakr that he should lead people in prayer during his illness, and he led them in prayer. `Urwa said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt relief and went (to the mosque) and Abu Bakr was leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him he began to withdraw, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) signaled him to remain where he was. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sat opposite to Abu Bakr by his side. Abu Bakr said prayer following the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and the people said prayer following the prayer of Abu Bakr.
ایک اور سند کے ساتھ ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے ۔ عروہ نے کہا : پھر رسول اللہﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو آپ باہر تشریف لائے ، اس وقت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کی امت کر رہے تھے ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو ۔ رسول اللہﷺ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 944

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنِي، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ «كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سِتْرَ الْحُجْرَةِ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا، وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا» قَالَ: «فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ»، قَالَ: «ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْخَى السِّتْرَ» قَالَ: «فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ»
Anas b. Malik reported, Abu Bakr led them in prayer due to the illness of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) of which be died. It was a Monday and they stood in rows for prayer. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) drew aside the curtain of ('A'isha's) apartment and looked at us while he was standing, and his (Prophet's) face was (as bright) as the paper of the Holy Book. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt happy and smiled. And we were confounded with joy while in prayer due to the arrival (among our midst) of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), Abu Bakr stepped back upon his heels to say prayer in a row perceiving that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had come out for prayer. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with the help of his hand signed to them to complete their prayer. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went back (to his apartment) and drew the curtain. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) breathed his last on that very day.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی بیماری دوران ، جس میں آپ نے وفات پائی ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نماز میں صف بستہ تھے تو رسول اللہﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا ، اس وقت آپ کھڑے ہوئے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے ، پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا ۔ انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہﷺ کے باہر آنے سے ہوئی تھی مبہوت ہو کر رہ گئے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ الٹے پاؤں لوٹے تالکہ صف میں مل جائیں ، انہوں نے سمجھا کہ نبیﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں ۔ نبیﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو ، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا ۔ اسی دن رسول اللہﷺ وفات پا گئے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 945

وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَحَدِيثُ صَالِحٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ
Anas reported: The last glance that I have had of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (before his death) was that when he on Monday drew the curtain aside. The hadith transmitted by Salih is perfect and complete.
سفیان بن عیینہ نے ( ابن شہاب ) زہری سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہﷺ کی طرف میں نے جو آخری نظر ڈالی ( وہ اس طرح تھی کہ ) سوموار کے دن آپ نے ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا .... جس طرح اوپر واقعہ ( بیان ہوا ) ہے ۔ ( امام مسلم فرماتے ہیں : ) صالح کی حدیث کامل اور سیر حاصل ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 946

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا
This hadith is narrated on the authority of Anas b. Malik by another chain of transmitters.
معمر نے زہری کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ جب سوموار کا دن آیا .... اوپر والے دونوں راویوں کے مطابق ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 947

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ: نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ، كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا، قَالَ: «فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ
Anas reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not come to us for three days. When the prayer was about to start. Abu Bakr stepped forward (to lead the prayer), and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) lifted the curtain. When the face of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) became visible to us, we (found) that no sight was more endearing to us than the face of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as it appeared to us. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with the gesture of his hand directed Abu Bakr to step forward (and lead the prayer). The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then drew the curtain, and we could not see him till he died.
۔ عبد العزیز نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ نبیﷺ ( بیماری کے ایام میں ) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے ، ( انہی دنوں میں سے ) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آگے بڑھنے لگے تو نبیﷺ ( کمرے کے ) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا ، جب ہمارے سامنے نبیﷺ کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے ، نبیﷺ کے چہرہ مبارک کے نظارے سے ، جو ہمارے سامنے تھا ، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو ۔ وہ کہتے ہیں : پھر آپﷺ نے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا ، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 948

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ» قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Abu Musa reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) became ill and illness became serious he ordered Abu Bakr to lead the people in prayer. Upon this 'A'isha said: Messenger of Allah, Abd Bakr is a man of tenderly feelings: when he would stand in your place (he would be so much overwhelmed -by grief that) he would not be able to lead the people in prayer. He (the Holy Prophet) said: You order Abu Bakr to lead the people in prayer, and added: You are like the female companions of Yusuf. So Abu Bakr led the prayer (during this period of illness) in the life of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : وہ نرم دل آدمی ہیں ، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( اے عائشہ! ) ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تم تو یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والیوں کی طرح ہو ۔ ‘ ‘ انہوں ( ابو موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ ) نے کہا : اس طرح ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 949

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ
Sahl b. Sa'd al-Sa'idi reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went to the tribe of Bani Amr b. Auf in order to bring reconciliation amongst (its members), and It was a time of prayer. The Mu'adhdhin came to Abu Bakr and said: Would you lead the prayer in case I recite takbir (tahrima, with which the prayer begins)? He (Abu Bakr) said: Yes. He (the narrator) said: He (Abu Bakr) started (leading) the prayer. The people were engaged in observing prayer when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to come there and made his way (through the people) till he stood in a row. The people began to clap (their hands), but Abu Bakr paid no heed (to it) in prayer. When the people clapped more vigorously, he (Abu Bakr) then paid heed and saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) there. (He was about to withdraw when) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) signed to him to keep standing at his place. Abu Bakr lifted his hands and praised Allah for what the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had commanded him and then Abu Bakr withdrew himself till he stood in the midst of the row and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stepped forward and led the prayer. When (the prayer) was over, he (the Holy Prophet) said: 0 Abu Bakr, what prevented you from standing (at that place) as I ordered you to do? Abu Bakr said: It does not become the son of Abu Quhafa to lead prayer before the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said (to the people) around him: What is it that I saw you clapping so vigorously? (Behold) when anything happens in prayer, say: Subha Allah, for when you would utter it, it would attract the attention, while clapping of hands is meant for women.
امام مالک نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بنوعمرو بن عوف کے ہاں ، ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ۔ اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور کہا : کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تاکہ میں تکبیر کہوں؟ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہاں ۔ انہوں ( سہل بن سعد ) نے کہا : اس طرح ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نماز شروع کر دی ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جب کہ لوگ نماز میں تھے ، آپ بچ کر گزرتے ہوئے ( پہلی ) صف میں پہنچ کر کھڑے ہو گئے ۔ اس پر لوگوں نے ہاتھوں کو ہاتھوں پر مار کر آواز کرنی شروع کر دی ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اپنی نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے ۔ جب لوگوں نے مسلسل ہاتھوں سے آواز کی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہﷺ کو دیکھا تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں ، اس پر ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان کو اس بات کا حکم دیا ، پھر اس کے بعد ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ پیچھے ہٹ کر صف میں صحیح طرح کھڑے ہو گئے اور رسول اللہﷺ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا : ’’اے ابو بکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تو اپنی جگہ ٹکے رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟ ‘ ‘ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ابو قحافہ کے بیٹے کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہﷺ کے آگے ( کھڑے ہو کر ) جماعت کرائے ، پھر رسول اللہﷺ نے ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا : ’’ کیا ہوا؟ میں نے تم لوگوں کو دیکھا کہ تم بہت تالیاں بجا رہے تھے؟ جب نماز میں تمہیں کوئی ایسی بات پیش آ جائے ( جس پر توجہ دلانا ضروری ہو ) تو سبحان اللہ کہو ، جب کہو سبحان اللہ کہے گا تواس کی طرف توجہ کی جائے گی ، ہاتھ پر ہاتھ مارنا ، صرف عورتوں کےلیے ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 950

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَفِي حَدِيثِهِمَا فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ
This hadith is transmitted by Sahl b. Sa'd in the same way as narrated by Malik, with the exception of these words: Abu Bakr lifted his hands and praised Allah and retraced his (steps) till he stood in a row.
عبد العزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبد الرحمن القادری دونوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے امام مالک کی روایت کی طرح روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں یہ ہے کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور الٹے پاؤں واپس ہوئے حتیٰ کہ صف میں آ کھڑے ہوئے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 951

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: ذَهَبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجَعَ الْقَهْقَرَى
Sahl b. Sa'd al-Sa'idi reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went to Bani Amr b. 'Auf in order to bring about reconciliation amongst them. The rest of the hadith is the same but with (the addition of these words): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came and made his way through the rows till he came to the first row and Abu Bakr retraced his steps.
عبید اللہ نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبیﷺ قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے .... آگے مذکورہ بالا راویوں کے مانند ( حدیث بیان کی ) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہﷺ آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف کے قریب کھڑے ہو گئے ۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 952

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ «أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ» قَالَ: الْمُغِيرَةُ «فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ، حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ»، ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ: الْمُغِيرَةُ «فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى لَهُمْ فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ» ثُمَّ قَالَ: «أَحْسَنْتُمْ» أَوْ قَالَ: «قَدْ أَصَبْتُمْ» يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا
Mughira b. Shu'ba reported that he participated In the expedition of Tabuk along with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went out to answer the call of nature before the morning prayer. and I carried along with him a jar (full of water). When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came back to me (after relieving himself). I began to pour water upon his hands out of the jar and he washed his hands three times, then washed his face three times. He then tried to tuck up the sleeves of his cloak upon his forearms but since the sleeves were tight he inserted his hands in the cloak and then brought out his forearms up to the elbow below the cloak, and then wiped over his shoes and then moved on. Mughira said: I also moved along with him till he came to the people and (he found) that they had been saying their prayer under the Imamah of 'Abd al-Rahman b. 'Auf. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) could get one rak ah out of two and said (this) last rak'ah along with the people. When Abd al-Rahman b. 'Auf pronounced the salutation, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got up to complete the prayer. This made the Muslims terrified and most of them began to recite the glory of the Lord. When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) finished his prayer, he turned towards them and then said: You did well, or said with a sense of joy: You did the right thing that you said prayer at the appointed hour.
۔ عباد بن زیاد کو عروہ بن مغیرہ بن شعبہ خبر دی کہ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ غز وہ تبوک میں شریک ہوئے ۔ مغیرہ نے کہا : صبح کی نماز سے پہلے رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں نے آپ کے ہمراہ پانی کا ایک برتن اٹھا لیا ۔ جب رسو ل اللہﷺ میر ی طرف لوٹے تو میں برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے جبہ نکالنے لگے ، جبے کی دونوں آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ آپ نے اپنے بازور جبے کے نیچے سے نکال لیے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے ، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح ( کر کے ) وضو ( مکمل ) کیا ، پھر آپ آگے بڑھے ۔ مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھا یہاں تک کہ ہم لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو آگے کر چکے تھے ، انہوں نے نماز پڑھائی اور رسول اللہﷺ کو دو رکعتوں میں سے ایک ملی ۔ آپ نے آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی ، چنانچہ جب حضرت عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے سلام پھیرا تو رسول اللہﷺ اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے ، اس بات نے مسلمانوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے کثرت سے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا ، جب نبیﷺ نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’ تم نے اچھا کیا ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’تم نے ٹھیک کیا ۔ ‘ ‘ آپ نے ان کی تحسین فرمائی کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھ لی تھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 953

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَالْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «دَعْهُ»
This hadith is narrated by Hamza b. Mughira by another chain of trans- mitters (but with the addition of these words): I made up my mind to hold Abd al-Rahman b. 'Auf back, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Leave him.
اسماعیل بن محمد بن سعد نے حمزہ بن مغیرہ سے روایت کی جو عباد کی روایت کی طرح ہے ۔ ( اس میں یہ بھی ہے کہ ) مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن عوف کو پیچھے کرنا چاہا تو نبیﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( آگے ) رہنے دو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 954

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سعيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ» زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ.
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Glorification of Allah is for men and clapping of hands is meant for women (if something happens in prayer). Harmala added in his narration that Ibn Shihab told him: I saw some of the scholars glorifying Allah and making a gesture.
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو سلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی ، نیز ہارون بن معروف اور حرملہ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے بتایا ، انہوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ ( امام و متنبہ کرنے کا طریقہ ) مردوں کے لیے تسبیح ( سبحان اللہ کہنا ) ہے اور عورتوں کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہے ۔ ‘ ‘ حرملہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے علم والے لوگوں کو دیکھا ، وہ تسبیح کہتے تھے او ر اشارہ کرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 955

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
This hadith is narrated on the authority of Abu Huraira by another chain of transmitters.
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ روایت ) کے مانند روایت بیان کی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 956

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ «فِي الصَّلَاةِ
This hadith is transmitted by Muhammad b. Rafi', Abu'I-Razzaq. Ma'mar, Hammam on the authority of Abu Huraira with the addition of (the word) prayer .
ہمام نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند روایت بیان کی اور اس میں اضافہ کیا : ’’نماز میں ( متنبہ کرنے کے لیے ۔ ) ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 957

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: «يَا فُلَانُ، أَلَا تُحْسِنُ صَلَاتَكَ؟ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّى كَيْفَ يُصَلِّي؟ فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ، إِنِّي وَاللهِ لَأُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي كَمَا أُبْصِرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ
Abu Huraira reported: one day the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) led the prayer. Then turning (towards his Companions) he said: 0 you, the man, why don't you say your prayer well? Does the observer of prayer not see how he is performing the prayer for he performs it for himself? By Allah, I see behind me as I see In front of me.
سعید کے والد ابو سعید مقبری نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہﷺ نے ( ہمیں ) نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیرا اور فرمایا : ’’اے فلاں! تم اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھ سکتے؟ کیا نمازی نماز پڑھتے وقت یہ نہیں دیکھتا ( غور کرتا ) کہ وہ نماز کیسے پڑھتا ہے؟ وہ اپنے ہی لیے نماز پڑھتا ہے ( کسی دوسرے کےلیے نہیں ۔ ) اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہون جس طرح سامنے دیکھتا ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 958

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا؟ فَوَاللهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ رُكُوعُكُمْ، وَلَا سُجُودُكُمْ إِنِّي لَأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do you find me seeing towards the Qibla only? By Allah, your bowing and your prostrating are not hidden from my view. Verily I see them behind my back.
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا رخ ادھر ( سامنے ) ہی ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور نہ تمہارا سجدہ ، یقینا میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 959

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللهِ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ» وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ
Anas reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Complete the bowing and prostration well. By Allah, I see you behind my back as to how you bow and prostrate or when you bow and prostrate.
۔ شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کر رہے تھے کہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ پوری طرح کیا کرو ، اللہ کی قسم! میں تمہیں اپنے پیچھے ( بھی ) دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ ( بلکہ ) غالباً آپ نے اس طرح فرمایا : ’’ جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 960

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللهِ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ» وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ
Same as Hadees 959
قتادہ سے ( شعبہ کے بجائے دستوائی والے ) ہشام اور سعید نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ کو مکمل کرو ، اللہ کی قسم! جب بھی تم رکوع کرتے ہو اور جب بھی تم سجدہ کرتے ہو تو میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور سعید کی روایت میں ( إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم کے بجائے ) إذا ركعتم وسجدتم ’’جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو ۔ ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔ یعنی سعید کی روایت میں اذا کے بعد دونوں جگہ ما کا لفظ نہیں ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 961

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِمَامُكُمْ، فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي» ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا» قَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ
Anas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day led us in the prayer. and when he completed the Prayer he turned his face towards us and said: 0 People, I am your Imam, so do not precede me in bowing and prostration and in standing and turning (faces, i. e. In pronouncing salutation), for I see you in front of me and behind me, and then said: By Him in Whose hand Is the life of Muhammad, if you could see what I see, you would have laughed little and wept much more. They said: What did you see, Messenger of Allah? He replied: (I saw) Paradise and Hell.
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے فوراً ہی بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ اس لئے مجھ سے پہلے رکوع، سجدہ، قومہ اور سلام نہ پھیرو۔ میں آگے اور پیچھے سے تم کو دیکھتا ہوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چیزیں میں دیکھتا ہوں اگر تم انہیں دیکھ لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ ارشاد ہوا ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 962

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، جَمِيعًا عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ «وَلَا بِالِانْصِرَافِ»
This hadith is narrated by Anas with another chain of transmitters, and in the hadith transmitted by Jarir there is no mention of turning (faces) .
۔ ( علی بن مسہر کے بجائے ) جریر اور ابن فضیل دونوں نے اپنی اپنی سند سے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ، جریر کی حدیث میں ’’نہ سلام پھیرنے میں ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 963

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: خَلَفٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، أَنْ يُحَوِّلَ اللهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ؟»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Does the man who lifts his head ahead of the Imam (from prostration) not fear that Allah may change his head into the head of an ass?
۔ حماد بن زید نے محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی کہ محمدﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص امام سے پہلے ( رکوع وسجود سے ) سر اٹھاتا ہے کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سرکو گدھے کے سر جیسا بنا دے؟ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 964

دَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي صَلَاتِهِ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللهُ صُورَتَهُ فِي صُورَةِ حِمَارٍ»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Does the man who lifts his head before the Imam not fear that Allah may change his face into that of an ass?
۔ یونس نے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اپنی نماز میں امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے وہ اس بات سے محفوظ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی صورت گدھے کی صورت میں بدل دے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 965

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ، جَمِيعًا عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ، «أَنْ يَجْعَلَ اللهُ وَجْهَهُ وَجْهَ حِمَارٍ»
This hadith has been narrated by Abu Huraira by another chain of transmitters except for the words narrated by Rabi' b. Muslim: Allah may make his face like the face of an ass.
۔ ربیع بن مسلم ، شعبہ اور حماد بن سلمہ سب نے مختلف سندوں سے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی اور انہوں نے یہی روایت نبیﷺ سے بیان کی ۔ ( ان راویوں میں سے ) ربیع بن مسلم کی حدیث میں ( اس کی صورت بدل دے کے بجائے ) ’’اور اللہ اس کا چہرہ گدھے کا چہرہ بنا دے ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 966

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ، أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ»
Jabir b. Samura reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The people who lift their eyes towards the sky in Prayer should avoid it or they would lose their eyesight.
حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جو لوگ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں وہ ہر صورت ( اپنی اس حرکت سے ) باز آ جائیں ورنہ ( ہو سکتا ہے ان کی نظر ) ان کی طرف نہ لوٹے ( سلب کر لی جائے ۔ ) ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 967

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِهِمْ أَبْصَارَهُمْ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ»
Abu Huraira reported: People should avoid lifting their eyes towards the sky while supplicating in prayer, otherwise their eyes would be snatched away.
۔ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نظریں آسمان کی طرف بلند کرنے سے لازما باز آ جائیں یا ( پھر ایسا ہو سکتا ہے کہ ) ان کی نظریں اچک لی جائیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 968

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ
Jabir b. Samura reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to us and said: How is it that I see you lifting your hands like the tails of headstrong horses? Be calm in prayer. He (the narrator) said: He then again came to us and saw us (sitting) in circles; he said: How is it that I see you in separate groups? He (the narrator) said: He again came to us and said: Why don't you draw yourselves up in rows as angels do in the presence of their Lord? We said: Messenger of Allah, bow do the angels draw themselves up in rows in the presence of their Lord? He (the Holy Prophet) said: They make the first rows complete and keep close together in the row.
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسیب بن رافع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز میں اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ ( ہاتھ اٹھا کر دائیں بائیں گھوڑے کی دم کی طرح کیوں ہلاتے ہو ۔ دیکھیے ، حدیث : 970 ۔ 971 ) نماز میں پرسکون رہو ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے اور ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ تمہیں ٹولیوں میں ( بٹا ہوا ) دیکھ رہا ہوں؟ ‘ ‘ پھر ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے تو فرمایا : ’’ تم اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح بارگاہ الٰہی میں فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 969

وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: جَمِيعًا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters.
وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے ( اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے ) کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث بیان کی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 970

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَامَ تُومِئُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ، وَشِمَالِهِ»
Jabir b. Samura reported: When we said prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), we pronounced: Peace be upon you and Mercy of Allah, peace be upon you and Mercy of Allah, and made gesture with the hand on both the sides. Upon this the Messenger of Allah (may peace be upon him said: What do you point out with your hands as if they are the tails of headstrong horses? This is enough for you that one should place one's hand on one's thigh and then pronounce salutation upon one's brother on the right side and then on the left.
۔ مسعر نے کہا : مجھ سے عبید اللہ ابن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت بیان کی ، انہوں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے : السلام عليكم ورحمة الله ، السلام عليكم ورحمة الله اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں جانب اشارہ کیا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کیوں کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے ( ہر ) ایک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے ، پھر اپنے بھائی کو سلام کرے جو دائیں جانب ہے اور ( جو ) بائیں جانب ( ہے ۔ ) ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 971

وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُرَاتٍ يَعْنِي الْقَزَّازَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ، وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ»
Jabir b. Samura reported: We said our prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and, while pronouncing salutations, we made gestures with our hands (indicating) Peace be upon you, peace be upon you. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) looked towards us and said: Why is it that you make gestures with your hands like the tails of headstrong horses? When any one of you pro- nounces salutation (in prayer) he should only turn his face towards his companion and should not make a gesture with his hand.
۔ فرات قزاز نے عبید اللہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہم لوگ جب سلام پھیرتے تو ہاتھوں کے اشارے سے السلام عليكم ، السلام عليكم کہتے تھے ، رسول اللہﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا : ’’کیا وجہ ہے کہ تم ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تم میں سے کوئی جب سلام پھیرے تو اپنے ساتھی کی طرف رخ کرے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 972

122 - (432) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ، وَيَقُولُ: «اسْتَوُوا، وَلَا تَخْتَلِفُوا، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: «فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا»
Abu Mas'ud reported: The Messenger of Allah (may peace he upon him) used to touch our shoulders in prayer and say: Keep straight, don't be irregular, for there would be dissension in your hearts. Let those of you who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them, then those who are next to them. Abu Mas'ud said: Now-a-days there is much dissension amongst you.
عبد اللہ بن ادریس ، ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے روایت کی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر تیمی سے ، انہوں نے ابو معمر سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز میں ( ہمیں برابر کھڑا کرنے کے لیے ) ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے : ’’برابر ہو جاؤ اور جدا جدا کھڑے نہ ہو کہ اس سے تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں ، میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے دانش مند ( کھڑے ) ہوں ، ان کے بعد وہ جو ( دانش مندی میں ) ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ۔ ‘ ‘ ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : آج تم ایک دوسرے سے شدید ترین اختلاف رکھتے ہو ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 973

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنَ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith is narrated by Ibn Uyaina with the same chain of transmitters.
جریر ، عیسیٰ بن یونس اور سفیان بن عیینہ نے ( اعمش سے ) باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 974

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَلِنِي مِنْكُمْ، أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثَلَاثًا، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ»
Abdullah b. Mas'ud reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Let those who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them (saying it tliree tinies), and beware of the tumult of the markets.
حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے اور دانش مند کھڑے ہوں ، پھر وہ جو ( اس میں ) ان کے قریب ہوں ( پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ) تین بار فرمایا : اور تم بازاروں کے گڈ مڈ گروہ ( بننے ) سے بچو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 975

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ، مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ»
Anas b. Malik reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Straighten your rows. for the straightening of a row is a part of the perfection of prayer.
قتادہ نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اپنی صفوں کو برابر کیا کرو کیونکہ صفوں کا برابر کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے <ہیڈنگ 2>
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 976

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتِمُّوا الصُّفُوفَ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي
Anas b. Malik reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Complete the rows, for I can see you behind my back.
عبد العزیز نے ، جو صہیب کے بیٹے ہیں ، حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’صفیں پوری کرو ، میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 977

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ: «أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ»
Hammam b. Munabbih reported: This is what was transmitted to us by Abu Huraira from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and, while making a mention of a few ahadith, said: (The Messengerof Allah directed us thus): Establish rows in prayer, for the making of a row (straight) is one of the merits of prayer.
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ ہے جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیا ، پھر انہوں نے ان میں سے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : ’’نماز میں صف سیدھی رکھو کیونکہ صف کو سیدھا رکھنا نماز کے حسن ( ادائیگی ) کا حصہ ہے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 978

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ»
Nu'man b. Bashir reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: Straighten your rows, or Allah would create dissension amongst you.
سالم بن ابی جعد غطفانی نے کہا : میں ن ے حضرت نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’تم ہر صورت اپنی صفوں کو برابر رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ لازماً تمہارے رخ ایک دوسرے کی مخالف سمتوں میں کر دے گا ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 979

<ہیڈنگ 2> </ہیڈنگ 2> حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ، حَتَّى كَادَ يُكَبِّرُ فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ: «عِبَادَ اللهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ >
Nu'man b. Bashir reported: The Messenger of Allah (may peace-be upon him) used to straighten our rows as it lie were straightening an arrow with their help until be saw that we had learnt it from him. One day he came out, stood up (for prayer) and was about to say: Allah is the Greatest, when he saw a man, whose chest was bulging out from the row, so he said: Servants of Allah, you hint straighten your rows or Allah would create dissension amongst you.
ابو خیثمہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہﷺ ہماری صفوں کو ( اس قدر ) سیدھا اور برابر کراتے تھے ، گویا آپ ان کے ذریعے سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہیں ، حتیٰ کہ جب آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ سے ( اس بات کو ) اچھی طرح سمجھ لیا ہے تو اس کے بعد ایک دن آپ گھر سے نکل کر تشریف لائے اور ( نماز پڑھانے کی جگہ ) کھڑے ہو گئے اور قریب تھا کہ آپ تکبیر کہیں ( اور نماز شروع فرما دیں کہ ) آپ نے ایک آدمی کو دیکھا ، اس کا سینہ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے بندو! تم لازمی طور پر اپنی صفوں کو سیدھا کرو ورنہ اللہ تمہارے رخ ایک دوسرے کے خلاف مور دے گا ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 980

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
Abu 'Awana reported this hadith with the same chain of transmitters.
ابو احوص اورابو عوانہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ( سماک سے ) مذکورہ بالا روایت کے ہم معنیٰ روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 981

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ، لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
Nu'man b. Bashir reported: The Messenger of Allah (may peace-be upon him) used to straighten our rows as it lie were straightening an arrow with their help until be saw that we had learnt it from him. One day he came out, stood up (for prayer) and was about to say: Allah is the Greatest, when he saw a man, whose chest was bulging out from the row, so he said: Servants of Allah, you hint straighten your rows or Allah would create dissension amongst you.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اگر لوگ جان لیں کہ اذان ( کہنے ) اور پہلی صف ( کا حصہ بننے ) میں کیا ( خیر وبرکت ) ہے ، پھر وہ اس کی خاطر قرعہ اندازی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی ( بھی ) کریں اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر ( کی نماز ) جلدی ادا کرنے میں کتنا اجر وثواب ملتا ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا ثواب ہے تو ان دونوں نمازوں میں ( ہر صورت ) پہنچیں چاہے گھسٹ گھسٹ کر آنا پڑے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 982

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ لَهُمْ: «تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللهُ»
Abu Sa'id al-Khudri reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw (a tendency ) among his Companions to go to the back, so he said to them: Come forward and follow my lead, and let those who come after you follow your lead. People will continue to keep back till Allah will put them at the back.
ابو اشہب نے ابو نضرہ عبدی سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھیوں کو ( صف بندی میں ) پیچھے رہتے دیکھا تو ان سے کہا : ’’ آگے بڑھو اور ( براہ راست ) میری اقتدا کرو اور جو لوگ تمہارے بعد ہوں وہ تمہاری اقتدا کریں ، کچھ لوگ مسلسل پیچھے رہتے جائیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کو پیچھے کر دے گا ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 983

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
Abu Sa'id al-Khudri reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw people at the end of the mosque, and then the (above-mentioned hadith) was narrated.
۔ جریری نے ابو نضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو مسجد کے پچھلے حصے میں دیکھا ... آگے اسی طرح روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 984

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ - أَوْ يَعْلَمُونَ - مَا فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ لَكَانَتْ قُرْعَةً» وَقَالَ ابْنُ حَرْبٍ: «الصَّفِّ الْأَوَّلِ مَا كَانَتْ إِلَّا قُرْعَةً»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If you were to know, or if they were to know, what (excellence) lies in the first rows, there would have been drawing of lots (for filling them) ; and Ibn Harb said: For (occupying) the first row there would have been drawing of lots.
ابراہیم بن دینار اور محمد بن حرب واسطی نے کہا : ہمیں ابو قطن عمرو بن ہیثم نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے خلاس سے ، انہوں نے ابو رافع سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگر تم جان لو ، یا لوگ جان لیں کہ اگلی صف میں کیا ( فضیلت ) ہے تو اس پر قرعہ اندازی ہو ۔ ‘ ‘ ابن حرب نے ( في الصف المقدم لكانت قرعة کے بجائے ) في الصف الأول ما كانت إلا قرعة ’’پہلی صف میں کیا ہے تو قرعہ کے سوا کچھ نہ ہو ‘ ‘ کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 985

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا»
It was narrated from Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The best rows for men are the first rows, and the worst ones the last ones, and the best rows for women are the last ones and the worst ones for them are the first ones.
جریر نے سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابو ھریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’مردو کی بہترین صف پہلی اور بدترین صف آخری ہے جبکہ عورتوں کی بہترین صف آخری اور بدترین صف پہلی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 986

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith is narrated by Suhail with the same chain of transmitters.
عبد العزیز ، یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 987

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِثْلَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ قَائِلٌ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ»
Sahl b. Sa'd reported: I saw men having tied (the ends) of their lower garments around their necks, like children, due to shortage of cloth and offering their prayers behind the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). One of the proclaimers said: O womenfolk, do not lift your heads till men raise (them).
حضرت سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے مردوں کو دیکھا کہ چادریں تنگ ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کی طرح اپنی چادریں گردنوں میں باندھے ہوئے نبیﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، اس پر کسی کہنے والے نے کہا : اے عورتوں کی جماعت! تم اس وقت تک اپنے سروں کو ( سجدے سے ) نہ اٹھانا جب تک مرد ( سر نہ ) اٹھا لیں ۔ ( خدانخواستہ کسی مرد کے ستر کا کوئی حصہ کھلا ہوا نہ ہو ۔ یہ بات آپﷺ کی موجودگی میں کہی گئی اور آپ نے کہنے والے کو نہ ٹوکا ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 988

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَالِمًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا»
Salim narrated it from his father ('Abdullah b. Umar) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When women ask permission for going to the mosque, do not prevent them.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سالم سے سنا ، وہ اپنے والد سے روایت بیان کر رہے تھے اور وہ ( اس کی سند میں ) رسول اللہ ﷺ تک پہنچتے تھے ( کہ ) آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی سے اس کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 989

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ إِلَيْهَا» قَالَ: فَقَالَ بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ: فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ: أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ
Abdullah b. Umar reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: Don't prevent your women from going to the mosque when they seek your permission. Bilal b. 'Abdullah said: By Allah, we shall certainly prevent them. On this'Abdullah b. Umar turned towards him and reprimanded him to harshly as I had never heard him do before. He ('Abdullah b. Umar) said: I am narrating to you that which comes from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and you (have the audicity) to say: By Allah, we shall certainly prevent them.
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ اپنی عورتوں کو جب وہ تم سے مسجدوں میں جانے کی اجازت طلب کریں تو انہیں ( وہاں جانے سے ) نہ روکو ۔ ‘ ‘ ( سالم نے ) کہا : تو ( ابن عمر کے دوسرے بیٹے ) بلال بن عبد اللہ نے کہا : اللہ کی قسم! ہم تو ان کو ضرور روکیں گے ۔ اس پرحضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اس کی طرف رخ کیا اور اس کو سخت برا بھلا کہا ، میں نے انہیں کبھی ( کسی کو ) اتنا برا بھلا کہتے نہیں سنا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ کا فرمان بتا رہا ہوں اور تم کہتے ہو : اللہ کی قسم! ہم انہیں ضرور روکیں گے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 990

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللهِ مَسَاجِدَ اللهِ»
Ibn 'Umar reported: 'The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do not prevent the maid-servants of Allah from going to the mosque.
۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 991

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ
lbn Umar reported: I heard the Messeinger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: When your women seek your permission for going to the mosque, you grant them (permission).
۔ حنظہ نے کہا : میں نے سالم سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جب تمہاری عورتیں تم سے مساجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 992

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ مِنَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ» فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: لَا نَدَعُهُنَّ يَخْرُجْنَ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا. قَالَ فَزَبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ: أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَتَقُولُ: لَا نَدَعُهُنَّ
Ibn 'Umar reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do not prevent women from going to the mosque at night. A boy said to 'Abdullah b. Umar: We would never let them go out, that they may not be caught in evil. He (the narrator) said: Ibn Umar reprimanded him and said.. I am saying that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said this, but you say: We would not allow!
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’رات کو عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکو ۔ ‘ ‘ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے کہا : ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے کہ وہ جائیں اور اسے خرابی اور بگار ( کا ذریعہ ) بنا لیں ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے سخت ڈانٹا او ر کہا : میں کہتا ہوں رسول اللہﷺ نے فرمایا اور تو کہتا ہے ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 993

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
A hadith like this has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters.
دوسرے شاگرد ) عیسیٰ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 994

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ» فَقَالَ ابْنٌ لَهُ: يُقَالُ لَهُ وَاقِدٌ: إِذَنْ يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا. قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِهِ وَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: لَا
Ibn 'Umar reported: Grant permission to women for going to the mosque in the night. His son who was called Waqid said: Then they would make mischief. He (the narrator) said: He thumped his (son's) chest and said: I am narrating to you the hadith of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and you say: No!
( اعمش کے بجائے ) عمرو ( بن دینار جحمی ) نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں کی طرف نکلنے کی اجازت دو ۔ ‘ ‘ تو ان کے بیٹے نے ، جس کو واقد کہا جاتا تھا ، کہا : تب وہ اس کو خرابی و بگاڑ بنا لیں گی ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر مارا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو کہتا ہے : نہیں!
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 995

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِذَا اسْتَأْذَنُوكُمْ» فَقَالَ بِلَالٌ: وَاللهِ، لَنَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ أَنْتَ: لَنَمْنَعُهُنَّ
Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do not deprive women of their share of the mosques, when they seek permission from you. Bilal said: By Allah, we would certainly prevent them. 'Abdullah said: I say that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said it and you say: We would certainly prevent them!
( خود ) بلال بن عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ عورتوں کو ، جب وہ تم سے اجازت طلب کریں تو مسجدوں میں جو ان کے حصے ہیں ان ( کے حصول ) سے ( انہیں ) نہ روکو ۔ ‘ ‘ بلال نے کہا : اللہ کی قسم! ہم ان کو ضرور روکیں گے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اور تو کہتا ہے : ہم انہیں ضرور روکیں گے!
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 996

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةَ، كَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ فَلَا تَطَيَّبْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ»
Zainab Thaqafiya reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When any one of you (women) participates in the 'Isha' prayer, she should not perfume herself that night.
مخرمہ نے اپنے والد ( بکیر ) سے ، انہوں نے بسر بن سعید روایت کی کہ حضرت زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہما رسول اللہﷺ سے ( یہ ) حدیث بیان کرتی تھیں ، آپ نے فرمایا : ’’ جب تم عورتوں میں سے کوئی عشا کی نماز میں شامل ہو تو وہ اس رات خوشبو نہ لگائے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 997

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا»
Zainab, the wife of Abdullah (b. 'Umar), reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to us: When any one of you comes to the mosque, she should not apply perfume.
( مخرمہ کے بجائے ) محمد بن عجلان نے بکیر بن عبد اللہ بن اشج سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا : ’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو وہ خوشبو کو ہاتھ نہ لگائے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 998

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ
Abu Huraira said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Whoever (woman) fumigates herself with perfume should not join us in the 'Isha' prayer.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جس عورت کو ( بخور ) خوشبودار دھواں لگ جائے ، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 999

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: «لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ» قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ: أَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ؟ قَالَتْ: «نَعَمْ»
Amra, daughter of Abd al-Rahmin, reported: I heard 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). say: If the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had seen what new things the women have introduced (in their way of life) he would have definitely prevented them from going to the mosque, as the women of BaniIsra'il were prevented.
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمان سے روایت کی کہ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ فرماتی تھیں کہ عورتوں نے ( بناؤ سنگھار کے ) جو نئے انداز نکال لیے ہیں اگر رسول اللہﷺ دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے ، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ میں نے عمرہ سے پوچھا : کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1000

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated by Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters.
( سلیمان بن بلال کے بجائے ) عبد الوہاب ثقفی ، سفیان بن عیینہ ، ابو خالد احمر اورعیسیٰ بن یونس سبھی نے یحییٰ بن سعید سے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث روایت کی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1001

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: 110] «فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ قِرَاءَتَكَ» {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] «عَنْ أَصْحَابِكَ أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ وَلَا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ» {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: 110]، «يَقُولُ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ»
Ibn 'Abbas reported: The word of (Allah) Great and Glorious: 'And utter not thy prayer loudly, nor be low in it (xvii. 110) was revealed as the Messenger of Allah (may peace beupon him) was hiding himself in Mecca. When he led his Companions in prayer he raised his voice (while reciting the) Qur'an. And when the polytheists heard that, they reviled the Qur'an and Him Who revealed it and him who brought it. Upon this Allah, the Exalted, said to His Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Utter not thy prayer so loudly that the polytheists may hear thy recitation and (recite it) not so low that it may be inaudible to your Companions. Make them hear the Qur'an, but do not recite it loudly and seek a (middle) way between these. Recite between loud and low tone.
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) کے درمیان کی راہ اختیار کریں ۔ ‘ ‘ ( اللہ تعالیٰ ) فرماتا ہے : بلند اور آہستہ کے درمیان ( میں رہیں ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1002

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] قَالَتْ: أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ
A'isha reported that so far as these words of (Allah) Glorious and High are concerned: And utter not thy prayer loudly, not be low in it (xvii. 110) relate to supplication (du'a').
یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان : ’’ نہ اپنی نماز میں ( قراءت ) بلند کریں اور نہ آہستہ ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں اتری ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1003

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَوَكِيعٌ، ح قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
A hadith like this has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.
حماد بن زید ، ابو اسامہ ، وکیع اور ابو معاویہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ہشام سے اسی سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1004

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ} [القيامة: 16] قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ»، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: 16] أَخْذَهُ {إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: 17] وَقُرْآنَهُ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: 18] قَالَ: أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ {إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} [القيامة: 19] أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللهُ
Ibn 'Abbas reported with regard to the words of Allah, Great and Glorious: Move not thy tongue therewith (Ixxv. 16) that when Gabriel brought revelation to him (the Holy Prophet) he moved his tongue and lips (with a view to committing it to memory instantly). This was something hard for him and it was visible (from his face). Then Allah, the Exalted. revealed this a Move not thy tongue therewith to make haste (in memorising it). Surely on us rests the collecting of it and the reciting of it (ixxv. 16), i. e. Verily it rests with Us that We would preserve it in your heart and (enable you) to recite it You would recite it when We would recite it and so follow its recitation, and He (Allah) said: We revealed it, so listen to it attentively. Verily its exposition rests with Us. i. e. We would make it deliver by your tongue. So when Gabriel came to him (to the Holy Prophet), he kept silence, and when he went away he recited as Allah had promised him.
جریر بن عبد الحمید نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تحرك به لسانك لتعجل به﴾ ’’آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں ۔ ‘ ‘ کے بارے میں روایت بیان کی کہا : جب جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نبیﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ ( اس کو پڑھنے کے لیے ساتھ ساتھ ) اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے ، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ ( کے چہرے ) سے معلوم ہو جاتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ آپ اس ( وحی کے پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بے شک اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ہمارا ذمہ ہے ۔ ‘ ‘ یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کو سینۂ مبارک میں جمع کریں اور اس کی قراءت ( بھی ہمارے ذمے ہے ) تاکہ آپ قراءت کریں ۔ ’’پھر جب ہم اسے پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ فرمایا : یعنی ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں ۔ ’’ اس کا واضح کر دینا بھی یقیناً ہمارے ذمے ہے ‘ ‘ کہ آ پ کی زبان س ( لوگوں کے سامنے ) بیان کر دیں ، پھر جب جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کے پاس ( وحی لے کر ) آتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو اللہ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1005

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلهِ: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: 16]، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ»، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا» فَقَالَ سَعِيدٌ: «أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ» فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: 17] وَقُرْآنَهُ قَالَ: جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَؤُهُ {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: 18] قَالَ: فَاسْتَمِعْ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ قَالَ: «فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَقْرَأَهُ»
Ibn Abbas reported with regard to the words: Do not move thy tongue there with to make haste, that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt it hard and he moved his lips. Ibn 'Abbas said to me (Sa'id b. Jubair): I move them just as the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) moved them. Then said Sa'id: I move them just as Ibn 'Abbas moved them, and he moved his lips. Allah, the Exalted, revealed this: Do not move your tongue therewith to make haste. It is with US that its collection rests and its recital (al-Qur'an, ixxv. 16). He said: Its preservation in your heart and then your recital. So when We recite it, follow its recital. He said: Listen to it, and be silent and then it rests with Us that you recite it. So when Gabriel came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), he listened to him attentively, and when Gabriel went away, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited as he (Gabriel) had recited it.
۔ ( جریر بن عبد الحمید کے بجائے ) ابو عوانہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اللہ کے فرمان : ’’آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ نبی اکرمﷺ وحی کے نزول کی وجہ سے بہت مشقت برداشت کرتے ، آپ ( ساتھ ساتھ ) اپنے ہونٹ ہلاتے تھے ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں ، تو انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی اور سعید بن جبیر نے ( اپنے شاگرد سے ) کہا : میں اپنے ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ انہیں ہلاتے تھے ، پھر اپنے ہونٹ ہلائے ) اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری : ’’ آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بےشک ہمارا ذمہ ہے اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ کر رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ۔ ‘ ‘ کہا : آپ کے سینے میں اسے جمع کرنا ، پھر یہ کہ آپ اسے پڑھیں ۔ ’’ پھر جب ہم پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : یعنی اس کو غور سےسنیں اور خاموش رہیں ، پھر ہمارے ذمے ہے کہ آپ اس کی قراءت کریں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( وحی لے کر ) آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ چلے جاتے تواسے آپ اسی طرح پڑھتے جس طرح انہوں نے آپ کو پڑھایا ہوتا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1006

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَمَا رَآهُمُ انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ. وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ. فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا: مَا لَكُمْ. قَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ. قَالُوا: مَا ذَاكَ إِلَّا مِنْ شَيْءٍ حَدَثَ. فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا. فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا. فَمَرَّ النَّفَرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ - وَهُوَ بِنَخْلٍ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ - فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ. وَقَالُوا: هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ. فَقَالُوا: يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ»
Ibn 'Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) neither recited the Qur'an to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of 'Ukaz And there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out why is it that there have been created obstructions between us and the news from the Heaven. So they went forth and traversed the easts of the earth and its wests. Some of them proceeded towards Tihama and that is a nakhl towards the bazaar of 'Ukaz and he (the Holy Prophet) was leading his Companions in the morning prayer. So when they heard the Qur'an. they listened to it attentively and said: It is this which has caused obstruction between us and news from the Heaven. They went back to their people and said: O our people, we have heard a strange Qur'an which directs us to the right path; so we affirm our faith in it and we would never associate anyone with our Lord. And Allah, the Exalted and Glorious, revealed to His Apostle Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): It has been revealed to me that a party of Jinn listened to it (Qur'an, lxxii. 1).
سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب میں پھیل جاؤ اور دیکھو کہ ہمارے آسمانی خبر کے درمیان حائل ہونے والی چیز ( کی حقیقت ) کیا ہے؟ وہ نکل کر زمین کے مشرق اور مغرب میں پہنچے ۔ وہ نفری جس نے تہامہ کا رخ کیا تھا ، گزری ، تو آپ عکاظ کی طرف جاتے ہوئے کجھوروں ( والے مقام نخلہ ) میں تھے ، اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، جب جنوں نے قرآن سنا تو اس پر کان لگا دیے اور کہنے لگے : یہ ہے جو ہمارے اور آسمانوں کی خبر کے درمیان حائل ہو گیا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا : اے ہماری قوم! ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم اپنے رب کے ساتھ ہرگز کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمدﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی : ’’ کہہ دیجیئے : میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر سنا ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1007

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: فَقَالَ عَلْقَمَةُ، أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ. فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ. قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلَ حِرَاءٍ. قَالَ: فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ. فَقَالَ: «أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ» قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ: لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ»
Dawud reported from 'Amir who said: I asked 'Alqama if Ibn Mas'ud was present with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the night of the Jinn (the night when the Prophet met them). He (Ibn Mas'uad) said: No, but we were in the company of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one night and we missed him. We searched for him in the valleys and the hills and said. He has either been taken away (by jinn) or has been secretly killed. He (the narrator) said. We spent the worst night which people could ever spend. When it was dawn we saw him coming from the side of Hiri'. He (the narrator) reported. We said: Messenger of Allah, we missed you and searched for you, but we could not find you and we spent the worst night which people could ever spend. He (the Holy Prophet) said: There came to me an inviter on behalf of the Jinn and I went along with him and recited to them the Qur'an. He (the narrator) said: He then went along with us and showed us their traces and traces of their embers. They (the Jinn) asked him (the Holy Prophet) about their provision and he said: Every bone on which the name of Allah is recited is your provision. The time it will fall in your hand it would be covered with flesh, and the dung of (the camels) is fodder for your animals. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Don't perform istinja with these (things) for these are the food of your brothers (Jinn).
۔ عبد الاعلیٰ نے داؤد سے اور انہوں نے عامر ( بن شراحیل ) سے روایت کی ، کہا : میں نے علقمہ سے پوچھا : کیا جنوں ( سے ملاقات ) کی رات عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہ کے ساتھ تھے؟ کہا : علقمہ نے جواب دیا : میں نے خود ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا : کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا ، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، ( آپ نہ ملے ) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے ، کہا : ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے ( کبھی ) گزاری ہو گی ۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کوگم پایا تو آپ کی تلاش شروع کر دی لیکن آپ نہ ملے ، اس لیے ہم نے وہ بدترین رات گزاری جو کوئی قوم ( کبھی ) گزار سکتی ہے ۔ اس پر آپ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جنوں کی طرف سے دعوت دینے والا آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے ان کے سامنت قرآن کی قراءت کی ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ﷺ ) ہمیں لے کر گئے اور ہمیں ان کے نقوش قدم اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے ۔ جنوں نے آپ سے زاد ( خوراک ) کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے ہر وہ ہڈی ہے جس ( کے جانور ) پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور تمہارے ہاتھ لگ جائے ، ( اس پر لگا ہوا ) گوشت جتنا زیادہ سے زیادہ ہو اور ( ہر نرم قدموں والے اونٹ اور کٹے سموں والے ) جانور کی لید تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے ( انسانوں سے ) فرمایا : ’’ تم ان دونوں چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ دونوں ( دین میں ) تمہارے بھائیوں ( جنوں اور ان کے جانوروں ) کا کھانا ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1008

وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ. قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ. مُفَصَّلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ.
This hadith has been reported by Dawud with the same chain of transmitters up to the word (s): The traces of their embers. Sha'bi said: They (the Jinn) asked about their provision, and they were the Jinn of al-jazira, up to the end of the hadith, and the words of Sha'bi have been directly transmitted from the hadith of Abdullah.
۔ اسماعیل بن ابراہیم نے داؤد سے اسی سند کے ساتھ وآثار نيرانهم ( ان کی آگ کے نشانات ) تک بیان کیا ۔ شعبی نے کہا : جنوں نے آپ سے خوراک کا سوار کیا اور وہ جزیرہ کے جنوں میں سے تھے ... حدیث کے آخری حصے تک جو شعبی کا قول ہے ، عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث سے الگ ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1009

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ: «وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ» وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah from the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) up to the words: The traces of the embers, but he made no mention of what followed afterward.
عبد اللہ بن ادریس نے داؤد سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی ﷺسے وآثار نيرانهم تک روایت کیا اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1010

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُ
Abdullah (b. Mas'ud) said: I was not with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) but I wish I were with him.
شعبی کے بجائے ) ابراہیم ( نخعی ) نے علقمہ سے اور انہوں نے عبد اللہ سے روایت کی ، کہا : میں لیلۃ الجن کو رسول اللہﷺ کے ساتھ نہ تھا اور میری خواہش تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1011

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَعْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا: مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ آذَنَتْهُ بِهِمْ شَجَرَةٌ
Ma'n reported.. I heard it from my father who said: I asked Masruq who informed the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about the night when they heard the Qur'an. He said: Your father, Ibn Mas'ud, narrated it to me that a tree informed him about that.
معن ( بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود ہذلی ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا : میں نے مسروق سے پوچھا : جس رات جنوں نے کان لگا کر ( قرآن ) سنا ، اس کی اطلاع نبیﷺ کو کس نے دی؟ انہوں نے کہا : مجھے تمہارے والد ( ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے بتایا کہ آپ کو ان جنوں کی اطلاع ایک درخت نے دی تھی ۔ ( یہ آپﷺ کا معجزہ تھا ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1012

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ
Abu Qatada reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) led us in prayer and recited in the first two rak'ahs of the noon and afternoon prayers Surat al-Fitiha and two (other) surahs. And he would sometimes recite loud enough for us the verses. He would prolong the first rak'ah more than the second. And he acted similarly in the morning prayer.
حجاج صواف نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ اور ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں ( ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک سورت ) پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیتے ۔ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت مختصر کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1013

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»
Abu Qatada reported it on the authority of his father: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would recite in the first two rak'ahs of the noon and afternoon prayers the opening chapter of the Book and another surah. He would sometimes recite loud enough to make audible to us the verse and would recite in the last two rak'ahs Surat al-Faitiha (only).
حجاج کے بجائے ) ہمام اور ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبیﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ( سے ہر رکعت میں ) سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں بھی کوئی آیت سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1014

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ» وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: الم تَنْزِيلُ وَقَالَ: قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً
Abu Sa'id al-Khudri reported: We used to estimate how long Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood in the noon and afternoon prayers, and we estimated hat he stood in the first two rak'ahs of the noon prayer as long as it takes to recite Alif Lam Mim, Tanzil, i. e. as-Sajda. We estimated that he stood half that time in the last two rak'ahs; that he stood in the first two of the afternoon as long as he did in the last two at noon; and in the last two of the afternoon prayer about half that time. Abu Bakr in his narration has made no mention of Alif Lam Mim, Tanzil, but said: As long as it takes to recite thirty verses.
یحییٰ بن یحییٰ اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ولید بن مسلم سے ، انہوں نے ابو صدیق ( ناجی ) سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ر وایت کی ، انہوں نے کہا : ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( السجدہ ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا ۔ امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے استادہ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ، انہوں نے کہا : تیس آیات کےبقدر
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1015

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً أَوْ قَالَ نِصْفَ ذَلِكَ - وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ
Abu Sa'id al-Khudri reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite in every rak'ah of the first two rak'ahs of the noon prayer about thirty verses and in the last two about fifteen verses or half (of the first rak'ah) and in every rak'ah of the 'Asr prayer of the first two rak'ahs about fifteen verses and in the last two verses half (of the first ones).
۔ ابو عوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا : اس ( پہلی دو ) سے نصف ۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1016

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ. فَقَالَ: «إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا إِنِّي لَأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ
Jabir b. Samura reported: The people of Kufa complained to Umar b. Khattab about Sa'id and they made a mention of his prayer. 'Umar sent for him. He came to him. He ('Umar) totd him that the people had found fault with his prayer. He said: I lead them in prayer in accorance with the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). I make no decrease in it. I make them stand for a longer time in the first two (rak'ahs) and shorten it in the last two. Upon this 'Umar remarked: This is what I deemed of thee, O Abu Ishaq
ہشیم نے عبد الملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ کوفہ والوں نے حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حضرت حضرت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی شکایت کی اور ( اس میں ) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا ۔ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان کی طرف پیغام بھیجا ، وہ آئے تو حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان سے ، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا ، اس کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے کہا : یقیناً میں انہیں رسول اللہﷺ کی نماز کی طرف نماز پڑھاتا ہوں ، اس میں کمی نہیں کرتا ۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری میں دو تخفیف کرتا ہوں ۔ اس پر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : اے ابو اسحاق! آپ کے بارے میں گمان ( بھی ) یہی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1017

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith his been narrated by 'Abu al-Malik with the same chain of transmitters.
ہشیم کے بجائے ) جریر نے عبد الملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1018

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ. قَالَ: «أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ. وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ، أَوْ ذَاكَ ظَنِّي بِكَ،
Jabir b. Samura reported: 'Umar said to Sa'd: They complain against you in every matter, even in prayer. He (Sa'd) said: I prolong (standing) in the first two (rak'ahs) and shorten it in the last two, and I make no negligence in following the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He ('Umar) remarked: This is what is expected of you, or, that is what I deemed of you.
شعبہ نے ابوعون سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا کہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حضرت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کہا : لوگوں نے آپ کی ہر چیز حتیٰ کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے ۔ حضرت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں ( یہ کہتا ہوں کہ میں ) پہلی دو رکعتوں میں ( قیام کو ) طول دیتا ہوں اور آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں ، میں نے جس طرح رسول اللہﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی تھی ، اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا ۔ تو عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ کے بارے میں یہی گمان ہے یا آپ کے بارے میں میرا گمان یہی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1019

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَأَبِي عَوْنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَقَالَ: تُعَلِّمُنِي الْأَعْرَابُ بِالصَّلَاةِ
This hadith is narrated by Jabir b. Samura but with the addition of these words: (Sa'd said): These bedouins presume to teach me prayer.
۔ مسعر نے عبد الملک ( بن عمیر ) اور ابو عون سے روایت کی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ان کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : بدوی مجھے نماز سکھائیں گے؟ ( میں نے تو خود رسول اللہﷺ سے نماز سیکھی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1020

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ العَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: «لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ. ثُمَّ يَتَوَضَّأُ. ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِمَّا يُطَوِّلُهَا»
Abu Sa'id al-Khudri reported: The noon prayer would start and one would go to al-Baqi' and after having relieved himself he would perform ablution and then come, while the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would be in the first rak'ah, because he would prolong it so much.
۔ عطیہ بن قیس نے قزعہ سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ظہر کی نماز اقامت کہی جاتی اور کوئی جانے والا بقیع جاتا ، اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا ، پھر ( مسجد میں ) آتا اور رسول اللہﷺ اسے لمبا کرنے کی وجہ سے ابھی پہلی رکعت میں ہوتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1021

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزْعَةُ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ. فَقَالَ: «كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى»
Qaz'a reported: I came to Abu Sa'id al-Khudri and he was surrounded by people. When the people departed from him I said: I am not going to ask you what these people have been asking you. I want to ask you about the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He (Abu Sa'id) said: There is no good for you in this. He (Qaz'a), however, repeated (his demand). He then said: The noon prayer would start and one of us would go to Baqi' and, having relieved himself, would come to his home, then perform ablution and go to the mosque, and (he would find) The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in the first rak'ah.
ربیعہ نے کہا : قزعہ نے مجھے حدیث سنائی ، کہا : میں ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس ( استفادے کے لیے ) کثرت سے لوگ موجود تھے ۔ جب یہ لوگ ان سے ( رخصت ہو کر ) منتشر ہو گئے تو میں نے عرض کی : میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے ۔ میں نے کہا : میں آپ سے رسول اللہﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : اس سوال میں تیرے لیے بھلائی نہیں ہے ( کیونکہ تم نماز پڑھانے والے حکمرانوں کے پیچھے ایسے نماز نہیں پڑھ سکو گے ) انہوں نے ان کے سامنے دوبارہ اپنا مسئلہ پیش کیا تو ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا ، اپنی ضرورت پوری کرتا ، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا ، اس کے بعد واپس مسجد میں آتا تو رسول اللہﷺ ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1022

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْعَابِدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى - مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ - أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ السَّائِبِ، حَاضِرٌ ذَلِكَ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَحَذَفَ فَرَكَعَ وَفِي حَدِيثِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو وَلَمْ يَقُلِ ابْنَ الْعَاصِ
Abdullah b. Sa'id reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) led us in the morning prayer in Mecca and began Sarat al-Mu'minin (xxiii ) but when he came to the mention of Moses and Aaron (verse. 45) or to the mention of Jesus (verse 50), a cough got the better of him, and he bowed. 'Abdullah b. Sa'ib was present there, and in the hadith narrated by Abd al-Razzaq (the words are): He cut short (the recitation) and bowed.
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، نیز عبد الرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے ہمیں بتایا ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے ابو سلمہ بن سفیان ، عبد اللہ بن عمرو بن عاص اور عبد اللہ بن مسیب سے عابدی نے حضرت عبد اللہ بن سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انہوں نے کہا : نبیﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ مومنون کی قراءت شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا یا عیسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کا ذکر آیا ( محمد بن عبادہ کو شک ہے یا راویوں نے اس کے سامنے ( بیان کرتے ہوئے ) اختلاف کیا ہے ) ( اس وقت ) رسو ل اللہﷺ کو کھانسی آنے لگی تو آپ رکوع میں چلے گئے ۔ عبد اللہ بن سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی اس نماز میں موجود تھے ۔ عبد الرزاق کی روایت میں ہے : آپ نے قراءت قطع کر دی اور رکوع میں چلے گئے ۔ اور ان کی حدیث میں ( راوی کا نام ) عبد اللہ بن عمرو ہے ، آگے ابن عاص نہیں کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1023

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سَرِيعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ: «أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ»
Amr b. Huwairith reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recite in the morning prayer Wa'l-lail-i-idhd 'As'asa (ixxxi. 17).
حضرت عمرو بن حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فجر کی نماز میں ﴿واليل إذا عسعس﴾ ( قسم ہے رات کی! جب وہ جانے لگتی ہے ) پڑھتے ہوئے سنا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1024

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّيْتُ وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ: ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ. حَتَّى قَرَأَ: {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ} [ق: 10]. قَالَ: فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُهَا وَلَا أَدْرِي مَا قَالَ
Qutba b. Malik reported: I said prayer and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) led it and he recited Qaf. (I.). By the Glorious Qur'an, till he recited and the tall palm trees (l. 10). I wanted to repeat it but I could not follow its significance.
ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ نے مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے نماز پڑھی اور ہمیں رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی ، آپ ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھی حتی کہ آپ نے ﴿والنخل باسقت﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ) پڑھا تو میں اس آیت کو بار بار ( ذہن میں ) دہرانے لگا اور آپ نے جو کہا مجھے اس ( کے مفہوم ) کا پتہ نہ چلا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1025

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ
Qutba b. Malik reported that he had heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reciting in the morning prayer this: And the tall palm trees having flower spikes piled one above another (Al-Qur'an 50:10).
( ابو عوانہ کے بجائے ) شریک اور سفیان بن عیینہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں نے فجر کی نماز میں نبی اکرمﷺ کو ﴿والنخل باسقت لها طلع نضيد﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ( پیدا کیے ) جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں ) کی قراءت کرتے ہوئے سنا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1026

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ} [ق: 10] وَرُبَّمَا قَالَ: ق
Ziyad b. 'Ilaqa reported it on the authority of his uncle that he said the morning prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he recited in the first rak'ah: And the tall palm trees having flower spikes piled one above another (l. 10) or perhaps Surah Qaf.
( ابو عوانہ ، شریک اور ابن عیینہ کے بجائے ) شعبہ نے زیادہ بن علاقہ سے اور انہوں نے اپنے چچا ( حضرت قطبہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے پہلی رکعت میں ﴿والنخل باسقت طلع نضيد﴾ پڑھا اور بعض اوقات ( یہی بات سناتے ہوئے ) کہا : سورہ ق پڑھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1027

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا
Jabir b. Samura reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite in the morning prayer Qaf. By the Glorious Quran. and his prayer afterward shortened.
زائدہ نے کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ فجر کی نماز میں ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھا کرتے تھے ، اس کے باوجود آپ کی نماز ہلکی تھی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1028

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ. قَالَ: وَأَنْبَأَنِي: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِـ ق وَالْقُرْآنِ وَنَحْوِهَا
Simak asked Jabir b. Samura about the prayer of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said: He (the Holy Prophet) shortened the prayer and he did not pray like these people then, and he informed me that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite Qaf. By the (Glorious) Qur'an, and a passage of similar length.
( زائدہ کے بجائے ) زہیر نے سماک سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے نبی اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : آپ ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور ان لوگوں کی طرح نماز نہیں پڑھاتے تھے ۔ اور ( سماک نے ) کہا : مجھے انہوں ( جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے بتایا کہ رسو ل اللہﷺ کی صبح کی نماز میں ﴿ق والقرآن﴾ اور ( طوالت میں ) اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1029

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ. وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ
Jabir b. Samura reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite in the noon prayer: By the night when it envelopes (xcii.), and in the afternoon like this, but he prolonged the morning prayer as compared to that (noon and afternoon prayers).
عبد الرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿واليل اذا يغشى﴾ ( اور رات کی قسم جب چھا جائے ) پڑھتے ، عصر میں بھی ایسی ہی کوئی سورت پڑھتے اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی ( سورت پڑھتے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1030

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: 1] وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ
Jabir b. Samura reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite in the noon prayer: Glorify the name of thy Most High Lord in the morning prayer longer than this (lxxxvii.)
ابو داؤد طیالسی نے شعبہ سے ، انہوں نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ( اور اپنے پروردگار کے اونچے نام کی تسبیح کر ) پڑھتے اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1031

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
Abu Barza reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite in the morning prayer from sixty to one hundred verses.
سلیمان ) تیمی نے ابو منہال سے اور انہوں نے حضرت ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1032

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ آيَةً
Abu Barza Aslami reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite from sixty to one hundred verses in the morning prayer.
تیمی کے بجائے ) خالد حذاء نے ابو منہال سے ، انہوں نے حضرت ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1033

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ. إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
Ibn Abbas reported: Umm al-Fadl daughter of al-Harith heard him reciting: By those sent forth to spread goodness (lxxvii.). (Upon this) she remarked: O my son, you reminded me by the recitation of this surah (the fact) that it was the last surah that I heard from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he recited it in the evening prayer.
۔ مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے ﴿والمرسلات عرفا﴾ پڑھتے ہوئے سنا تو کہنے لگیں : بیٹا! تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاد کرا دیا کہ بے شک یہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہﷺ کو مغرب کی نماز میں تلاوت کرتے ہوئے سنی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1034

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ ثُمَّ مَا صَلَّى بَعْدُ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters but with this addition: And he did not lead the player after this till his death.
( امام مالک کے بجائے ) سفیان ( بن عیینہ ) ، یونس ، معمر اور صالح نے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی اور صالح کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : پھر آپ نے اس کے بعد نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1035

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ
Jubair b. Mut'im reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reciting Surat al-Tur (Mountain) (lii) in the evening prayer.
مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد ( جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب کی نماز میں رسول اللہﷺ کو سورہ طہ پڑھتے ہوئے سنا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1036

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح قَالَ: وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters.
سفیان ، یونس اور معمر نے اپنی اپنی سند سے زہری سے اسی سابقہ سند کے ساتھ اس جیسی روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1037

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِـ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ
Adi reported: I heard al-Bara' narrating it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that while in a journey he said the night prayer and recited in one of the two rak'ahs: By the Fig and the Olive (Su'rah xcv.).
۔ شعبہ نے عدی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو نبی اکرمﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپﷺ سفر میں تھے ، آپ نے عشاء کی پڑھائی تو اس کی ایک رکعت میں ﴿والتين والزيتون﴾ پڑھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1038

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ فَقَرَأَ بِـ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ
Al-Bara' b. 'Azib reported that he said prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he recited: By the Fig and the Olive.
( شعبہ کے بجائے ) یحییٰ بن سعید نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو آپ نے ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1039

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ بِـ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ
Al-Bara' b. 'Azib reported: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reciting in the night prayer: By the Fig and the Olive, and I have never heard anyone with a sweeter voice than he.
( شعبہ اور یحییٰ کے بجائے ) مسعر نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو عشاء کی نماز میں ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کرتے ہوئے سنا ، میں نے کسی کو نہیں سنا جس کی آواز آپ سے زیادہ اچھی ہو ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1040

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ، يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهُ: أَنَافَقْتَ؟ يَا فُلَانُ، قَالَ: لَا. وَاللهِ وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ. فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِكَذَا وَاقْرَأْ بِكَذَا» قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِعَمْرٍو، إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَقَالَ عَمْرٌو نَحْوَ هَذَا
Jabir reported that Mu'adh b. Jabal used to pray with the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), then came and led his people in prayer. One night he said the night prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He then came to his people and led them in prayer beginning with Surat al-Baqara. A man turned aside, pronounced the taslim (salutation for concluding the prayer), then prayed alone and departed. The people said to him: Have you become a hypocrite, so and so? He said: I swear by Allah that I have not, but I will certainly go to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and will inform (him) about this. He then came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Messenger of Allah, we look after camels used for watering and work by day. Mu'adh said the night prayer with you. He then came and began with Surat al-Baqara. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) then turned to Mu'adh and said: Are you there to (put the people) to trial? Recite such and recite such (and such a surah). It is transmitted on the authority of Jabir, as told by Sufyan, that he (the Holy Prophet) had said: By the sun and its morning brightness (Surah xci), By brightness (Surah xciii), By the night when it spreads (Surah xcii), and Glorify the name of thy most high Lord (Surah lxxxii).
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر آ کر اپنے قبیلے کی ( مسجد میں ) امامت کراتے ، ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہﷺ کے ساتھ پڑھی ، پھر اپنی قوم کے پاس آئے ، ان کی امامت اور ( سورۃ فاتحہ کے بعد ) سورۃ بقرہ پڑھنی شروع کر دی ۔ ایک شخص الگ ہو گیا ، ( نماز سے ، سلام پھیرا ، پھر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا تو لوگوں نے اس سے کہا : اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! نہیں ، میں ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس معاملے سے آگاہ کروں گا ، چنانچہ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم ان اونٹوں والے ہیں جو پانی ڈھوتے ہیں ، دن بھر کام کرتے ہیں اور معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عشاء کی نماز آپ کے ساتھ پڑھی ، پھر آ کر سورۃ بقرہ کے ساتھ نماز شروع کر دی ۔ رسول اللہﷺ نے ( یہ سن کر ) حضرت معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرف رخ کیا اور فرمایا : ’’اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو؟ فلاں سورت پڑھا کرو اور فلاں سورت پڑھا کرو ۔ ‘ ‘ سفیان نے کہا : میں نے عمرو سے کہا : ابو زبیر نے ہمیں جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا : ﴿والشمس وضحاها﴾ ﴿والضحى﴾ ، ﴿واليل إذا يغشى﴾ اور ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ پڑھا کرو ۔ اور عمرو نے کہا : اس جیسی ( سورتیں پڑھا کرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1041

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْأَنْصَارِيُّ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ. فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا. فَصَلَّى فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ مُعَاذٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ؟ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى»
Jabir reported: 'Mu'adh b. Jabal al-Ansari led his companions in the night prayer and prolonged it for them. A person amongst us said prayer (after having separated himself from the congregation). Mu'adh was informed of this, and he remarked that he was a hypocrite. When it (the remark) was conveyed to the man, he went to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and informed him of what Mu'adh had said. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Mu'adh, do you want to become a person putting (people) to trial? When you lead people in prayer, recite: By the Sun and its morning brightness (Surat ash-Shams), Glorify the name of thy most high Lord (Surat al-A`la) and Read in the name of Lord (Surat al-`Alaq), and By the night when it spreads (Surat al-Lail).
ابو زبیر نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ معاذ بن جبل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت کی ۔ ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور الگ نماز پڑھ لی ۔ معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا : وہ منافق ہے ۔ جب اس آدمی تک یہ بات پہنچی تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آ پ کو بتایا کہ معاذ نے کیا کہا ، اس پر رسول اللہﷺ نے معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے فرمایا : ’’اے معاذ! کیا تم فتنہ ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کی امامت کراؤ تو ﴿والشمس وضحها﴾ ، ﴿سبح اسم ربك الأعلى﴾ ، ﴿اقرأ باسم ربك الذي خلق﴾ اور ﴿واليل إذا يغشى﴾ پڑھا کرو ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1042

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: «أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ»
Jabir b. 'Abdullah reported: Mu'adh b. Jabal said the night prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and then returned to his people and then led them in this prayer.
منصور نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1043

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ «مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ»
Jabir b. Abdullah reported: Mu'adh said the night prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He then came to the mosque of his people and led them in prayer.
( منصور کے بجائے ) ایوب نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر اپنی قوم کی مسجد میں آ کر ان کو نماز پڑھاتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1044

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ، مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ فِي مَوْعِظَةٍ قَطُّ أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ أَمَّ النَّاسَ، فَلْيُوجِزْ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِ الْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ»
Abu Mas'ud al-Ainsari reported: A person came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I keep away from the morning prayer on account of such and such (a man), because; he keeps us so long. I never saw God's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) more angry when giving an exhortation than he was that day. He said: 0 people, some of you are scaring people away. So whoever of you leads the people in prayer he must be brief, for behind him are the weak, the aged, and the people who have (argent) business to attend.
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس سے اور انۂں نے حضرت ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور عرض کی : بے شک میں فلاں آدمی کی وجہ سے صبح کی نماز سے پیچھے رہتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ۔ ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ پند ونصیحت کرتے وقت ، آپ کبھی اس دن سے زیادہ غضب ناک ہوئے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! تم میں سے بعض ( دوسروں کو نماز سے ) متنفر کرنے والے ہیں ۔ تم میں سے جو بھی لوگوں کی امامت کرائے وہ اختصار سے کام لے کیونکہ اس کے پیچھے بوڑھے ، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1045

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، وَوَكِيعٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ
This hadith like one narrated by Hashalm has been narrated from Isma'il with the same chain of transmitters.
۔ ہشیم ، وکیع ، عبد اللہ بن نمیر اور سفیان نے اسماعیل ( بن ابی خالد ) سے اسی سند کے ساتھ ہشیم کی حدیث کی طرح روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1046

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ، فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الصَّغِيرَ، وَالْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ، وَالْمَرِيضَ، فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ»
Abu Huraira reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When any one of you leads the people in prayer, he should be brief for among them are the young and the aged, the weak and the sick. But when one of you prays by himself, he may (prolong) as he likes.
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی فرد لوگوں کی امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان ( نمازیوں ) میں بچے ، بوڑھے ، کمزور اور بیمار بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1047

حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا. وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفِ الصَّلَاةَ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَفِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ»
Hammam b. Munabbih reported: This is what Abu Huraira transmitted to us from Muhammad the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and he narrated (some) ahadith out of (these narrations and one of them is this): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When any one of you stands to lead people In prayer, he should shorten it, for amongst them are the aged, and amongst them are the weak, but when he prays by himself, he may prolong his prayer as he likes.
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ احادیث ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے محمد رسو اللہﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کا امام بنے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو اپنی نماز جتنی چاہے طویل کر لے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 1>
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1048

وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِي النَّاسِ الضَّعِيفَ، وَالسَّقِيمَ وَذَا الْحَاجَةِ»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When any one of you leads people in prayer, he must shorten it for among them are the weak, the infirm and those who have business to attend.
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے کیونکہ لوگوں میں کمزور ، بیمار اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1049

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: بَدَلَ السَّقِيمَ الْكَبِيرَ
Abu Bakr b. 'Abd al-Rahman reported that he had heard Abu Huraira say that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said like it, but he substituted the aged for 'the infirm .
ابو سلمہ کے بجائے ) ابو بکر بن عبد الرحمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : .... اسی کے مانند ، البتہ اس میں سقیم ( بیمار ) کی جگہ کبیر ( بوڑھا ) کہا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1050

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «أُمَّ قَوْمَكَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا قَالَ: «ادْنُهْ» فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ. ثُمَّ قَالَ: «تَحَوَّلْ» فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ، ثُمَّ قَالَ: «أُمَّ قَوْمَكَ. فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَإِنَّ فِيهِمْ ذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ
Uthman b. Abu'l-'As at-Thaqafi reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Lead your people in prayer. I said: Messenger of Allah. I perceive something (disturbing) in my soul. He (the Holy Prophet) asked me to draw near him and making me sit down in front of him he placed his hand on my breast between my nipples. and then, telling me to turn round, he placed it on my back between my shoulders. He then said: Act as an Imam for your people. He who acts as Imam of the people, he must be brief, for among them are the aged, among them are the sick, among them are the weak, and among them are the people who have business to attend. But when any of you prays alone, he may pray as he likes.
موسیٰ بن طلحہ نے کہا : مجھے حضرت عثمان بن ابو عاص ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث سنائی کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے قریب ہو جاؤ ۔ ‘ ‘ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر اپنی ہتھیلی میر ی دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی ، اس کے بعد فرمایا : ’’رخ پھیرو ۔ ‘ ‘ اس کے بعد آپ نے ہتھیلی میری پشت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی ، پھر فرمایا : ’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے ، وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں ، ان میں بیمار ہوتے ہیں ، ان میں کمزور ہوتے ہیں اور ان میں ضرورت مند ہوتے ہیں ، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1051

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: «آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا، فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ»
Uthman b. Abu'l-'As reported: The last thing which the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) instructed me was: When you lead the people in prayer, be brief.
سعید بن مسیب نے کہا : حضرت عثمان بن ابی عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے آخری بات جو میرے ذمے لگائی یہ تھی : ’’ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں نماز ہلکی پڑھاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1052

وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوجِزُ فِي الصَّلَاةِ وَيُتِمُّ
Anas reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to be brief and perfect in prayer.
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نماز میں تخفیف کرتے اور مکمل ادا کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1053

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا وَقَالَ قُتَيْبَةُ: - حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ»
Anas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was among those whose prayers was brief and perfect.
قتادہ نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ ( سب سے زیادہ ) مکمل صورت میں سب سے زیادہ تخفیف کے ساتھ نماز پڑھانے والے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1054

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً، وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Anas reported: I never prayed behind an Imam who was more brief and more perfect in prayer than the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
شریک بن عبد اللہ ابی نمر نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے کبھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ مکمل نماز پڑھانے والا ہو ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1055

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَنَسٌ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ، أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ»
Anas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would listen to the crying of a lad in the company of his mother, in prayer, and he would recite a short surah or a small surah.
۔ ثابت بنانی نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ماں کے ساتھ ( آئے ہوئے ) بچے کا رونا سنتے اور آپ نماز میں ہوتے تو ہلکی سورت یا ( کہا ) چھوٹی سورت پڑھ لیتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1056

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأُخَفِّفُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ
Anas b. Malik reported the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: When I begin the prayer I Intend to make it long, but I hear a boy cry. ing; I then shorten it because of his mother's feelings.
قتادہ نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میں نماز شروع کرتا ہوں ، میرا ارادہ لمبی نماز ( پڑھنے ) کا ہوتا ہے ، پھر بچے کا رونا سنتا ہوں تو بچے پر ماں کے غم کی شدت کی وجہ سے ( نماز میں ) تخفیف کر دیتا ہوں ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1057

وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ حَامِدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ فَرَكْعَتَهُ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ
Al-Bara' b. 'Azib reported: I noticed the prayer of Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and saw his Qiyam (standing), his bowing, and then going back to the standing posture after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between salutation and going away, all these were nearly equal to one another.
ہلال بن ابی حمید نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے محمدﷺ کی معیت میں ( پڑھی جانے والی ) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام ، رکوع ، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے ( بیٹھنا ) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریبا برابر پایا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1058

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: غَلَبَ عَلَى الْكُوفَةِ رَجُلٌ - قَدْ سَمَّاهُ - زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَكَانَ يُصَلِّيَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ. قَالَ الْحَكَمُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ: «كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَسُجُودُهُ، وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ» قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنَ مُرَّةَ فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَلَمْ تَكُنْ صَلَاتُهُ هَكَذَا.
Hakam reported: There dominated in Kufa a man whose name was men- tioned as Zaman b. al-Ash'ath, who ordered Abu 'Ubaidah b. 'Abdullah to lead people in prayer and he accordingly used to lead them. Whenever he raised his head after bowing, he stood up equal to the time that I can recite (this supplication): O Allah! our Lord! unto Thee be the praise which would fill the heavens and the earth, and that which will please Thee besides them I Worthy art Thou of all praise and glory. None can prevent that which Thou bestowest, and none can bestow that whichthou preventest. And the greatness of the great will not avail him against Thee. Hakam (the narrator) said: I made a mention of that to Abd al-Rahman ibn Abi Laila who reported: I heard al-Bara' b. 'Azib say that the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and his bowing, and when he lifted his head from bowing, and his prostration, and between the two prostrations (all these acts) were nearly proportionate. I made a mention of that to 'Ar b. Murrah and he said: I saw Ibn Abi Laili (saying the prayer), but his prayer was not like this.
۔ عبید اللہ کے والجد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص ( حکم نے اس کا نام لیا ) کوفہ ( کے اقتدار ) پر قابض ہو گیا ، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ ( بن مسعود ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، وہ نماز پڑھاتے تھے ، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا : ’’ اے اللہ! ہمارب ! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے ۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘ ( صرف تیری رحمت ہے جو فائدہ دے سکتی ہے ۔ ) حکم نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : میں نے براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ کی نماز ( قیام ) ، آپ کا رکوع اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے ، آپ کے سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان ( والا بیٹھنے ) کا وقفہ تقریباً برابر تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا : میں نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے ، ان کی نماز اس طرح نہیں ہوتی تھی ۔ ( وہ ثقہ تھے ۔ ان کی روایت قابل اعتماد ہے چاہے وہ اس پر پوری طرح عمل نہ کر سکتے ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1059

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنِ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى الْكُوفَةِ، أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ أَنَّ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
Hakam reported: When Matar b. Najiya dominated Kufa he ordered Abu Ubaida to lead people in prayer, and the rest of the hadith is the same.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی کہ جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر قابض ہو گیا تو اس نے ابو عبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ... اور ( پوری ) حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1060

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، قَالَ: فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ مَكَثَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ
Thabit reported it on the authority of Anas: While leading you in prayer I do not shorten anything in the prayer. I pray as I saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) leading us. He (Thabit) said: Anas used to do that which I do not see you doing; when he lifted his head from bowing he stood up (so long) that one would say: He has forgotten (to baw down in prostration). And when he lifted his head from prostration, he stayed in that position, till someone would say: He has forgotten (to bow down in prostration for the second sajda).
۔ خلف بن ہشام نے حماد بن زید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں تمہیں ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا ، جیسی میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ( کہ وہ ) ہمیں پڑھاتے تھے ۔ ثابت نے کہا : انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا ۔ جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں اور جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : وہ بھول گئے ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1061

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ، كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً، وَكَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ مُتَقَارِبَةً، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَدَّ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» قَامَ، حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ، ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ
Thabit reported it on the authority of Anas: I have never said such a light and perfect prayer as I said behind the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The prayer of the Messenger. of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was well balanced. And so too was the prayer of Abu Bakr well balanced. When it was the time of 'Umar b. al-Khattab he prolonged the morning prayer. When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah listened to him who praised Him, he stood erect till we said: He has forgotten. He then prostrated and sat between two prostration till we said: He has forgotten.
۔ بہز بن حماد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے کسی کے پیچھے نبی اکرمﷺ سے زیادہ ہلکی نماز نہیں پڑھی جو کامل ہو ۔ رسول اللہﷺ کی نماز ( میں ارکان کی طوالت ) قریب قریب تھی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی نماز بھی قریب قریب ہوتی تھی ۔ جب عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( امیر مقرر ) ہوئے تو انہوں نے نماز فجر ( میں قراءت ) لمبی کر دی ۔ اور رسول اللہﷺ جب سمع الله لمن حمده کہتے تو کھڑے رہتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ ( شاید سر اٹھانا ) بھول گئے ہیں ، پھر سجدہ کرتے اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھے رہتے حتیٰ کہ ہم سمجھتے ( کہ شاید ) آپ بھول گئے ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1062

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا «يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ أَرَ أَحَدًا يَحْنِي ظَهْرَهُ، حَتَّى يَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ يَخِرُّ مَنْ وَرَاءَهُ سُجَّدًا»
Al-Bara' (b. 'Azib), and he was no liar (but a truthful Companion of the Holy Prophet), reported: They used to say prayer behind the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). I never saw anyone bending his back at the time when he (the Holy Prophet) raised his head, till the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) placed his forehead on the ground. They then fell in prostration after him.
زہیر اور ابو خیثمہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ابو اسحاق سے اور انہوں نے عبد اللہ بن یزید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام ) رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھا لیتے تو میں کسی کو نہ دیکھتا کہ وہ اپنی پشت جھکاتا ہو یہاں تک کہ رسول اللہﷺ اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ، اس کے بعد آپ کے پیچھے والے سجدے میں گرتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1063

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهِ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ، حَتَّى يَقَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ» <ہیڈنگ 1> </ہیڈنگ 1>
Al-Bara' reported, and he was no liar: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah listened to him who praised Him, none of us bent his back till he (the Holy Prophet) prostrated; we then, afterwards, went down in prostration.
سفیان نے ابو اسحاق سے ، انہوں نے عبد اللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ بولنے والے نہ تھے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب سمع الله لمن حمدہ کہتے تو ہم میں سے کوئی ایک بھی اس وقت تک اپنی پشت نہ جھکاتا جب تک رسول اللہﷺ سجدے میں نہ چلے جاتے ، پھر ہم آپ کے بعد سجدے میں جاتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1064

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ: أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ نَزَلْ قِيَامًا، حَتَّى نَرَاهُ قَدْ وَضَعَ وَجْهَهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ نَتَّبِعُهُ
Al-Bara' reported: They (the Companions) said prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and they bowed when he (the Holy Prophet) bowed. and when he raised his head after bowing, he pronounced: Allah listened to him who praised Him, and we kept standing till we saw him placing his face on the ground and then we followed him.
محارب بن دثار نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن یزید کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں بتایا کہ وہ لوگ ( صحابہ کرام ) رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب آپ رکوع میں چلے جاتے تو وہ رکوع کرتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو آپ سمع الله لمن حمده کہتے ، ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ نے اپنا چہرہ مبارک زمین پر رکھ دیا ہے ، پھر ہم آپ کی پیروی کرتے ( سجدے میں جاتے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1065

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، وَغَيْرُهُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ، حَتَّى نَرَاهُ قَدْ سَجَدَ» فَقَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ: أَبَانُ وَغَيْرُهُ قَالَ حَتَّى نَرَاهُ يَسْجُدُ
Al-Bara' reported: When we were (in prayer) with the Messenger of Allah Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) none of us benfft his back till we saw he prostrated. Zuhair and others reported: till we saw him prostrating .
۔ زہیر بن حرب اور ابن نمیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابان وغیرہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم ( نماز میں ) نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہوتے ، ہم میں سے کوئی ایک بھی اپنی پشت نہ جھکاتا یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں جا چکے ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1066

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ الْأَشْجَعِيُّ أَبُو أَحْمَدَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ، مَوْلَى آلِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ {فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ} [التكوير: 16] الْجَوَارِ الْكُنَّسِ وَكَانَ لَا يَحْنِي رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْتَتِمَّ سَاجِدًا
Amr b. Huraith reported: I said the dawn prayer behind the Apostle of ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and heard him reciting: 'Nay. I call to witness the stars, running their courses and setting (al-Qur'an, lxxxi. 15-16) and Done of us bent his back till he completed prostration.
حضرت عمرو بن حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو میں نے آپ کو ﴿فلا أقسم بالخنس0 الجوار الكنس﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ، سیدھے چلنے ، دبک جانے والے ( ستاروں ) کی ‘ ‘ پڑھتے ہوئے سنا اور ہم میں سے کوئی آدمی اپنی پشت نہیں جھکاتا تھا حتیٰ کہ آپ پوری طرح سجدے میں چلے جاتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1067

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ»
('Abdullah b ) Ibn Abi Aufa reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) raised his back from the rukd' he pronounced: Allah listened to him who praised Him. O Allah! our Lord! unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides them.
اعمش نے عبید بن حسن سے اور انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺجب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو کہتے ، ’’ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد کی ، اے اللہ ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف وتوصیف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ‘ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1068

دَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ»
Abdullah b. Aufa reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite this supplication: O Allah! our Lord, unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides them.
شعبہ نے عبیدبن حسن سے انہوں نے عبد اللہ بن اوفیٰ سے روایت ےکی ہے انہوں نے کہا رسو ل اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کیا کرتے تھے’’اے اللہ ہمارے رب تیر ی ہی تعریف ہےآسمان اور زمین تک اور اس علاوہ جہاں تک تو چاہے اس چیز کی وسعت تک ۔