216 Results For Hadith (Sahih Muslim) Book (The Book of Greetings)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5646

حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The rider should first greet the pedestrian, and the pedestrian the one who is seated and a small group should greet a larger group (with as-Salam-u-'Alaikum).
عبد الرحمٰن بن زید کے آزاد کردہ غلام ثابت نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سوار پید ل کو سلام کرے ، چلنے والا بیٹھے ہو ئے کو سلام کرے اور کم لو گ زیادہ لوگوں کو سلام کریں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5647

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ فَقُلْنَا إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ قَالَ إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ
Abu Talha reported: While we were sitting in front of the houses and talking amongst ourselves, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to come there. He stood by us and said: What about you and your meetings on the paths? Avoid these meetings on the paths. We said: We were sitting here without (any intention of doing harm to the passers-by) ; we are sitting to discuss matters and to hold conversation amongst ourselves. Thereupon he said: If there is no help (for you but to sit on these paths), then give the paths their rights and these are lowering of the gaze, exchanging of greetings and good conversation.
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم مکانوں کے سامنے کی کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے ۔ آپ نے فر ما یا : " تمھا را راستوں کی خالی جگہوں پر مجلسوں سے کیا سروکار؟ راستوں کی مجا لس سے اجتناب کرو ۔ " ہم ایسی باتوں کے لیے بیٹھے ہیں جن میں کسی قسم کی کو ئی قباحت نہیں ، ہم ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت کے لیے بیٹھے ہیں ، آپ نے فر ما یا : " اگر نہیں ( رہ سکتے ) تو ان ( جگہوں ) کے حق ادا کرو ( جو یہ ہیں ) : آنکھ نیچی رکھنا ، سلام کا جواب دینا اور اچھی گفتگو کرنا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5648

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Avoid sitting on the paths. They (the Companions) said: Allah's Messenger, we cannot help but holding our meetings (in these paths) and discuss matters (there). Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If you insist on holding meetings, then give the path its due right. They said: What are its due rights? Upon this he said: Lowering the gaze, refraining from doing harm, exchanging of greetings. commanding of good and forbidding from evil.
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " راستوں میں بیٹھنے سے اجتنا ب کرو ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے ( را ستے کی ) مجلسوں کے بغیر جن میں ( بیٹھ کر ) ہم باتیں کرتے ہیں ، کو ئی چارہ نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر تم مجا لس کے بغیر نہیں رہ ہو سکتے تو را ستے کا حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے کہا : اس کا حق کیا ہے ؟آپ نے فر ما یا : " نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزوں کو ( را ستے سے ) ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھا ئی کی تلقین کرنا اور بر ائی سے روکنا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5649

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters.
عبد العزیزبن محمد مدنی اور ہشام بن سعد دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5650

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Five are the rights of a Muslim over his brother: responding to salutation, saying Yarhamuk Allah when anybody sneezes and says al-Hamdulillah, visiting the sick. following the bier. ' Abd al-Razzaq said that this hadith has been transmitted as mursal hadith from Zuhri and he then substantiated it on the authority of Ibn Musayyib.
یو نس نے ابن شہاب ( زہری ) سے انھوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : مسلمان کے مسلمان پر پا نچ حق ہیں ۔ "" نیز عبد الرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ( ابن شہاب ) زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" ایک مسلمان کے لیے اس کے بھا ئی پر پانچ چیزیں واجب ہیں : سلام کا جواب دینا چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا دعوت قبول کرنا ، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جا نا ۔ "" عبدالرزاق نے کہا : معمر اس حدیث ( کی سند ) میں ارسال کرتے تھے ( تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے ) اور کبھی اسے ( سعید ) بن مسیب اور آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند سے ( متصل مرفوع ) روایت کرتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5651

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Six are the rights of a Muslim over another Muslim. It was said to him: Allah's Messenger, what are these? Thereupon he said: When you meet him, offer him greetings;when he invites you to a feast accept it. when he seeks your council give him, and when he sneezes and says: All praise is due to Allah, you say Yarhamuk Allah (may Allah show mercy to you) ; and when he fails ill visit him; and when he dies follow his bier.
اسماعیل بن جعفر نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کو ن سے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو ، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعاکرو ۔ جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے ( جنازے میں ) جاؤ ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5652

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
Anas b. Malik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When the People of the Book offer you salutations, you should say: The same to you.
عبید اللہ بن ابی بکر نے اپنے داداحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب اہل کتاب تم کوسلام کریں تو تم ان کے جواب میں " وعلیکم " ( اورتم پر ) کہو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5653

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ
Anas reported that the Companions of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: The People. of the Book offer us salutations (by saying as-Salamu- 'Alaikum). How should we reciprocate them? Thereupon he said: Say: Wa 'Alaikum (and upon you too).
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتےہو ئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں ، آپ نے فر ما یا : " تم لوگ " وعلیکم " ( اور تم پر ) کہو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5654

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-'Alaikum (death be upon you). You should say (in response to it): Let it be upon you.
اسماعیل بن جعفر نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کو ئی شخص ( اَلسَامُ عَلَيكُم ) ( تم پر موت نازل ہو ) کہتا ہے ۔ " ( اس پر ) تم ( عَلَيكُم ) ( تجھ پر ہو ) کہو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5655

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقُولُوا وَعَلَيْكَ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters with a slight variation of wording.
سفیان نے عبد اللہ بن دینار سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے ۔ " تو تم پر کہو : " وعلیکم " ( تم پرہو ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5656

و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ بَلْ عَلَيْكُمْ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ قَالَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ
A'isha reported that a group of Jews came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and sought his audience and said: As-Sam-u-'Alaikum. A'isha said in response: As-Sam-u-'Alaikum (death be upon you) and curse also, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: 'A'isha, verily Allah loves kindness in every matter. She said: Did you bear what they said? Thereupon he said: Did you not hear that I said (to them): Wa 'Alaikum.
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انھوں نے کہا ( اَلسَامُ عَلَيكُم ) ( آپ پر مو ت ہو! ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : عائشہ !اللہ تعا لیٰ ہر معا ملے میں نرمی پسند فر ما تا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : کیا آپ نے سنانہیں کہ انھوں نے کیا کہا تھا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : میں نے ( وَ عَلَيكُم ) ( اور تم پرہو ) کہہ دیاتھا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5657

و حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I said 'Alaikum, and the transmitter did not make mention of the word and .
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، دونوں کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے علیکم کہہ دیا تھا ۔ " اور انھوں نے اس کے ساتھ واؤ ( اور ) نہیں لگا یا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5658

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ وَعَلَيْكُمْ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَا تَكُونِي فَاحِشَةً فَقَالَتْ مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ
A'isha reported that some Jews came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and they said: Abu'l-Qasim (the Kunya of the Holy Prophet), as-Sam-u-'Alaikum, whereupon he (the Holy Prophet) said: Wa 'Alaikum. A'isha reported: In response to these words of theirs, I said: But let there be death upon you and disgrace also, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: 'A'isha, do not use harsh words. She said: Did you hear what they said? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Did I not respond to them when they said that; I said to them: Wa 'Alaikum (let it be upon you).
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم سے انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لو گ آئے ، انھوں نے آکر کہا : ( السام عليك يا أبا القاسم ) ( ابو القاسم !آپ پر موت ہو ) کہا آپ نے فر ما یا : " وَ عَلَيكُم ( تم لوگوں پر ہو! ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : " بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !زبان بری نہ کرو ۔ انھوں ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : آپ نے نہیں سنا ، انھوں نے کیا کہا تھا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انھوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا ، میں نے کہا : تم پر ہو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5659

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ فَسَبَّتْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ (المجادلة:8)إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
This hadith has been reported on the authority of A'znash with a slight variation of wording. 'A'isha understood their meaning and cursed them and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: 'A'isha. (do not do that) for Allah does not like the use of harsh words, and it was at this stage that this verse of Allah. the Exalt. ed and Glorious. was revealed: And when they come to thee, they greet thee with a greeting with which Allah greets thee not (Iviii. 8) to the end of the verse.
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی ( انھوں نے سلام کے بجا ئے سام کا لفظ بولا تھا ) اور انھیں برا بھلا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! بس کرو ، اللہ تعا لیٰ برا ئی اور اسے اپنالینے کو پسند نہیں فرماتا ۔ " اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے ( وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ ) نازل فر ما ئی : " اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے ۔ " آیت کے آخر تک ( اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ان کے لیے دوزخ کا فی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکا ناہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5660

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا
Jabir b. Abdullah reported that some people from amongst the Jews said to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) Abu'l-Qasim. as-Sam-u-'Alaikum, whereupon he said: Wa 'Alaikum, A'isha was enraged and asked him (Allah's Apostle) whether he had not heard what they had said. He said, I did hear and I retorted to them (and the curse that I invoked upon them would receive response from Allah), but (the curse that they invoked upon us) would not be responded.
ابوزبیر نے کہا : انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہا ( السام عليك يا أبا القاسم ) ( ابو القاسم ) آپ پر مو ت ہو!اس پر آپ نے فر ما یا : " تم پرہو ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں ۔ کیا آپ نے نہیں سنا ، جو انھوں نے کہا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " کیوں نہیں !میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہےاور ان کے خلاف ہماری دعاقبول ہو تی ہے اور ہمارے خلا ف ان کی دعا قبول نہیں ہو تی ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5661

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not greet the Jews and the Christians before they greet you and when you meet any one of them on the roads force him to go to the narrowest part of it.
عبد العزیز دراوردی نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " یہود نصاری ٰکو سلام کہنے میں ابتدانہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو ( تو بجا ئے اس کے وہ یہ کام کرے ) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جا نے پر مجبورکردو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5662

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ إِذَا لَقِيتُمْ الْيَهُودَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording. The hadith transmitted on the authority of Waki', the words are 'When you meet the Jews. And in the hadith transmitted on the authority of Shu'ba, the words are: 'When you meet the People of the Book. And in the hadith transmitted on the authority of Jarir the words are: When you meet them, but none amongst the polytheists has been mentioned explicitly by name.
محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی ، زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے حدیث بیان کی ، ان سب ( شعبہ سفیان اور جریر ) نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ وکیع کی حدیث میں ہے ، " جب تم یہود سے ملو ۔ " شعبہ سے ابن جعفر کی روایت کردہ حدیث میں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کے بارے میں فر ما یا ۔ اور جریر کی روایت میں ہے : " جب تم ان لوگوں سے ملو ، " اور مشرکوں میں سے کسی ایک ( گروہ ) کا نام نہیں لیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5663

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
Anas b. Malik reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by young boys he would great them.
۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ہشیم نے سیارے سے خبر دی ، انھوں نے ثابت بنا نی سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( انصار ) کے لڑکوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5664

و حَدَّثَنِيهِ إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of Sayyar with the same chain of transmitters.
اسماعیل بن سالم نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی کہا : ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ خبر دی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5665

و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
Sayyar reported: I was walking with Thibit al-Bunani that he happened to pass by children and he greeted them. And Thibit reported that he walked with Anas and he happened to pass by children and he greeted them. and Anas reported that he walked with Allah's Apostle (may peace be upon. him) and he happened, to pass by children and he greeted them.
شعبہ نے سیار سے روایت کی ، کہا : میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھیں سلام کیا ، پھر ثابت نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ان کو سلام کیا ۔ اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا ،
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5666

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ
Ibn Mas'ud reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me: The sign that you have been permitted to come in is that the curtain is raised or that you hear me speaking quietly until I forbid you.
عبد الوحد بن زیاد نے کہا : ہمیں حسن بن عبید اللہ نے حدیث بیان کی ۔ کہا : ہمیں ابرا ہیم بن سوید نے حدیث سنائی کہا : میں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " تمھا رے لیے میرے پاس آنے کی یہی اجازت ہے کہ حجاب اٹھا دیا جا ئے اور تم میرے راز کی بات سن لو ، ( یہ اجازت اس وقت تک ہے ) حتی کہ میں تمھیں روک دوں "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5667

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters.
عبد اللہ بن ادریس نے حسن بن عبد اللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5668

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا سَوْدَةُ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَتْ فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَرُ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ
A'isha reported that Sauda (Allah he pleated with her) went out (in the fields) in order to answer the call of nature even after the time when veil had been prescribed for women. She had been a bulky lady, significant in height amongst the women, and she could not conceal herself from him who had known her. 'Umar b. Khattab saw her and said: Sauda, by Allah, you cannot conceal from us. Therefore, be careful when you go out. She ('A'isha) said: She turned back. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was at that time in my house having his evening meal and there was a bone in his hand. She (Sauda) cline and said: Allah's Messenger. I went out and 'Umar said to me so and so. She ('A'isha) reported: There came the revelation to him and then it was over; the bone was then in his hand and he had not thrown it and he said: Permission has been granted to you that you may go out for your needs.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : پردہ ہم پرلاگو ہوجانےکےبعد حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں ، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جسامت میں بڑی تھیں ، جسمانی طور پر عورتوں سے اونچی ( نظر آتی ) تھیں ۔ جوشخص انہیں جانتا ہو ( پردے کے باوجود ) اس کے لیے مخفی نہیں رہتی تھی ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھ کر کہا : سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !اللہ کی قسم!آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لیے دیکھ لیجئے آپ کیسے باہر نکلا کریں گی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( یہ سنتے ہی ) الٹے پاؤں لوٹ آئیں اور ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ آپ کے دست مبارک میں گوشت والی ایک ہڈی تھی وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں باہر نکلی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس اس طرح کہا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اسی وقت اللہ تعا لیٰ نے آپ پر وحی نازل فر ما ئی ، پھر آپ سے وحی کی کیفیت زائل ہو گئی ، ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی ، آپ نے اسے رکھا نہیں تھا ، آپ نے فر ما یا : تم سب ( امہات المومنین ) کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم ضرورت کے لیے باہر جا سکتی ہو ۔ "" ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) کی روایت میں ہے : "" ان کا جسم عورتوں سے اونچاتھا "" ابو بکر نے اپنی حدیث ( کی سند ) میں یہ اضافہ کیا : تو ہشام نے کہا : آپ کا مقصود قضائے حاجت کے لیے جا نے سے تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5669

و حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ وَكَانَتْ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا قَالَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, and the words are: She (Sauda) was a woman who looked to be significant amongst the people (so far as the bulk of her) body was concerned. The rest of the hadith is the same.
ابن نمیر نے کہا : ہشام نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : وہ ایسی خاتون تھیں کہ ان کاجسم لوگوں سے اونچا ( نظر آتا ) تھا ۔ ( یہ بھی ) کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرمارہے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5670

و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
Same as Hadees 5669
علی بن مسہر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5671

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْجُبْ نِسَاءَكَ فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي عِشَاءً وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ
A'isha reported that the wives of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to go out in the cover of night when they went to open fields (in the outskirts of Medina) for easing themselves. 'Umar b Khattab used to say: Allah's Messenger, ask your ladies to observe veil, but Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not do that. So there went out Sauda, daughter of Zarn'a, the wife of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), during one of the nights when it was dark. She was a tall statured lady. 'Umar called her saying: Sauda, we recognise you. (He did this with the hope that the verses pertaining to veil would be revealed.) 'A'isha said: Allah, the Exalted and Glorious, then revealed the verses pertaining to veil.
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج جب رات کو قضائے حاجت کے لئے باہر نکلتیں تو "" المناصع "" کی طرف جاتی تھیں ، وہ دور ایک کھلی ، بڑی جگہ ہے ۔ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی حکمت کی بنا پر ) ایسا نہیں کرتے تھے ، پھر ایک رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عشاء کے وقت ( قضائے حاجت کے لئے ) باہرنکلیں ، وہ دراز قدخاتون تھیں ، تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حرص میں کہ حجاب نازل ہوجائے ، پکار کر ان سے کہا : سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے حجاب نازل فرمادیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5672

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5673

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ
Jabir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Behold, no person should spend the night with a married woman, but only in case he is married to her or he is her Mahram.
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سنو! کوئی شخص کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات کو نہ رہے ، الا یہ کہ اس کا خاوند ہو یا محرم ( غیر شادی شدہ عورت کے پاس رہنا اورزیادہ سختی سے ممنوع ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5674

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ
`Uqba b. `Amir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Beware of getting, into the houses and meeting women (in seclusion). A person from the Ansar said: Allah's Messenger, what about husband's brother, whereupon he ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Husband's brother is like death.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم ( اجنبی ) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو ۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دیور/جیٹھ کے متعلق آپ کا کیاخیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دیور/جیٹھ تو موت ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5675

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Yazid b. Abu Habib with the same chain of transmitters.
عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث ، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انھیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5676

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ
Ibn Wahb reported: I heard Laith b. Said as saying: Al-Hamv means the brother of husband or like it from amongst the relatives of the husband, for example, cousin, etc.
ابن وہب نے کہا : میں نے لیث بن سعد سے سنا ، کہہ رہے تھے : حمو ( دیور/جیٹھ ) خاوند کابھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا ، مثلاً : اس کا چچا زاد وغیرہ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5677

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوْ اثْنَانِ
Abdullah b. 'Amr. b. al-'As reported that some persons from Banu Hisham entered the house of Asma' daughter of 'Umais when Abu Bakr also entered (and she was at that time his wife). He (Abu Bakr) saw it and disapproved of it and he made a mention of that to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I did not see but good only (in my wife). Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily Allah has made her immune from all this. Then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood on the pulpit and said: After this day no man should enter the house of another person in his absence, but only when he is accompanied by one person or two persons.
عبدالرحمان بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آگئے ، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں ۔ انھوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انھیں ناگوارگزرا ۔ انھوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، ساتھ ہی کہا : میں نے خیر کے سواکچھ نہیں دیکھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے ( بھی ) انھیں ( حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) اس سے بری قرار دیا ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ " آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پا س نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو ، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5678

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ فَجَاءَ فَقَالَ يَا فُلَانُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلَانَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ
Anas reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in the company of one of his wives a person happened to pass by them. He called him and when he came, he said to him: 0 so and so, she was my such and such wife. Thereupon he said, Allah's Messenger, if I were to doubt at all, I would have entertained no doubt about you at least. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily Satan circulates in the body like blood.
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( گھرسے باہر ) اپنی ایک اہلیہ کے ساتھ تھے ، آپ کے پا س سے ایک شخص گزرا تو آپ نے اسے بلالیا ، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا؛ " اے فلاں!یہ میری فلاں بیوی ہے ۔ " اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کسی کے بارے میں گمان کرتا بھی تو آپ کے بارے میں تو نہیں کرسکتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5679

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا أَوْ قَالَ شَيْئًا
Safiyya daughter of Huyyay (the wife of Allah's Apostle) reported that while Allah's Messenger (may peace be. upon him) had been observing I'tikaf, I came to visit him one night and talked with him for some time. Then I stood up to go back and he (Allah's Apostle) also stood up with me in order to bid me good-bye. She was at that time residing in the house of Usama b. Zaid. The two persons from the Ansar happened to pass by him. When they saw Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). they began to walk swiftly, thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to them: Walk calmy, she is Safiyya daughter of Huyyay... Both of them said: Messenger, hallowed be Allah, (we cannot conceive of ab., ug doubtful even in the remotest corners of our minds), whereupon he said: Satan circulates in the body of man like the circulation of blood and I was afraid lest it should instill any evil in your heart or anything.
معمر نے زہری سے ، انھوں نے علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت صفیہ بنت حی ( ام الومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے روایت کی ، کہا : ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے ، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں ، پھر میں لوٹ جانے کو کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے پہنچا دینے کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میرا گھر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی مکان میں تھا ۔ راہ میں انصار کے دو آدمی ملے جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی جلدی چلنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو ، یہ صفیہ بنت حیی ہے ۔ وہ دونوں بولے کہ سبحان اللہ یا رسول اللہ! ( یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی بدگمانی کر سکتے ہیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے ( اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو ) ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5680

و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنْ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ وَلَمْ يَقُلْ يَجْرِي
This hadith has been reported on the authority of Safiyya, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), through another chain of transmitters (and the words) are: She went to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to visit him as he was observing I'tikaf in the mosque during Ramadan. She talked with him for some time and then stood up to go back and Allikh's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up in order to bid her good-bye. The rest of the hadith is the same except with the variation of the words that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Satan penetrates in man like the penetration of blood (in every part of body).
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے علی بن حسین نے بتایا کہ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے دوران مسجد میں آپ سے ملنے آئیں ، انھوں نے گھڑی بھر آپ سے بات کی ، پھر واپسی کے لئے کھڑی ہوگئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کےلیے کھڑی ہوگئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ اس کے بعد ( شعیب نے ) معمر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شیطان انسان کے اندر وہاں پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتاہے ۔ انھوں نے " دوڑتا ہوا " نہیں کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5681

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ قَالَ فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ
Abu Waqid al-Laith reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was sitting in the mosque along wish tome people when there came to him three persons; two of them stepped forward to the direction of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and one of them went away. The two stood by the side of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and one of them found a space in his circle and he sat in that; and the other one sat behind him and the third one went away. When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had finished his work, he said. Should I not inform you about these three persons? One of them sought refuge with Allah and Allah gave him refuge and the second one felt shy and Allah showed kindness to has shyness (and so he was accommodated in that meeting), and the last one reverted and Allah turned away His attention from him.
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سےروایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آذاد کردہ غلام ابو مرہ نے انھیں حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اتنے میں تین آدمی آئے ، دو تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا ۔ وہ دو جو آئے ان میں سے ایک نے مجلس میں جگہ خالی پائی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھا اور تیسرا تو پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں تم سے تین آدمیوں کا حال نہ کہوں؟ ایک نے تو اللہ کے پاس ٹھکانہ لیا تو اللہ نے اس کو جگہ دی اور دوسرے نے ( لوگوں میں گھسنے کی ) شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5682

و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ إِسْحَقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى
This hadith has been reported on the authority of Ishaq b. 'Abdullah b. Talha with the same chain of transmitters.
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے انھیں اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5683

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: None of you should make another one stand in the meeting and then occupy his place.
لیث نے نا فع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا ئے کہ پھر وہاں ( خود ) بیٹھ جائے "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5684

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: No person should ask another person to stand at his place and then he should himself sit there, but he should simply say: Make room and accommodate.
عبید اللہ نے نا فع سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : کو ئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا ئے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے " ، بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5685

و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي الْحَدِيثِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ قُلْتُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا
This hadith has been reported on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters. but with a slight variation of wording.
ابو ربیع اور الکامل نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ایوب نے حدیث سنائی ۔ یحییٰ بن حبیب نے کہا : ہمیں روح نے حدیث سنائی ، محمد را فع نے کہا : ہمیں عبد الرزاق نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( روح اور عبدالرزاق ) نے ابن جریج سے روایت کی ، محمد بن رافع نے کہا : ہمیں ابن ابی فدیک نے حدیث بیان کی ، کہا : ضحاک بن عثمان نے خبر دی ، ان سب ( ایوب ابن جریج اور ضحاک بن عثمان ) نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی ، انھوں نے اس حدیث میں : " بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو " کے الفاظ بیان نہیں کیے اور ( ابن رافع نے ) ابن جریج کی حدیث میں یہ اضا فہ کیا : میں نے ان ( ابن بن جریج ) سے پو چھا : جمعہ کے دن ؟ " انھوں نے کہا : جمعہ میں اس اور اس کے علاوہ بھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5686

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: None should make one'& brother stand and then sit at his place (and it was common with) Ibn Umar that when any person stood in the company (with a view to making room for him) he did not sit there.
عبد الا علیٰ نے معمر سے ، انھوں نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص اپنے بھا ئی کو اس جگہ سے نہ اٹھا ئےکہ پھر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے ۔ " ( سالم نے کہا ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ طریق تھا کہ کو ئی شخص ان کے لیے ( خود بھی ) اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5687

و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith hilt been reported on the authority of Ma'mar with the same chain of transmitters.
عبد الرزاق نے کہا : معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5688

و حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ قَالَ لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لْيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا
Jabir reported Allah's Apostle (may peace he upon him) as saying: None amongst you should make his brother stand on Friday (during the congregational prayer) and then occupy his-place. but he should only say to him (Accommodate me).
ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص جمعے کے دن اپنے بھا ئی کو کھڑا نہ کرے کہ پھر دوسری طرف سے آکر اس کی جگہ پر خود بیٹھ جائے ، بلکہ ( جوآئے وہ ) کہے " جگہ کشادہ کردو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5689

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ كِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When anyone amongst you stands up, and in the badltb transmitted on the authority of Abu 'Awina, the words are: He who stands in his place and (goes away) and then comes back to it, he his the greatest right (to occupy that).
ابو عوانہ اور عبد العزیز بن محمد دونوں نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی شخص کھڑا ہو " اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے " جب تم میں سے کو ئی شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہو ۔ پھر اس جگہ لوٹ آئے تو وہی اس ( جگہ ) کا زیادہ حقدارہے ۔ ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5690

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ أَيْضًا وَاللَّفْظُ هَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ
Umm Salama reported that she had a eunuch (as a slave) in her house. Allah's Messenger imay peace be upon him) was once in the house that he (the eunuch) said to the brother of Umm Salama: Abdullahb. Aba Umayya. if Allah grants you victory in Ta'if on the next day, I will show you the daughter of Ghailan for she has four folds (upon her body) on the front side of her stomach and eight folds on the back. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) heard this and he said: Such (people) should not visit you.
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں مو جو دتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھا ئی سے کہنے لگا : عبد اللہ بن ابی امیہ! اگر کل ( کلاں کو ) اللہ تعا لیٰ تم لو گوں کو طا ئف پر فتح عطا فر ما ئے تو میں تمھیں غیلا ن کی بیٹی ( بادیہ بنت غیلا ن ) کا پتہ بتا ؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے ( سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں ) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جا تی ہے ۔ ۔ ( انتہائی فربہ جسم کی ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فر ما یا : " یہ ( مخنث ) تمھا رے ہاں داخل نہ ہو ا کریں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5691

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ قَالَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ قَالَتْ فَحَجَبُوهُ
A'isha reported that a eunuch used to come to the wives of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and they did not And anything objectionable in his visit considering him to be a male without any sexual desire. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day came as he was sitting with some of his wives and he was busy in describing the bodily characteristics of a lady and saying: As the comes in front tour folds appear on her front side and as she turns her back eight folds appear on the back side. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I me that he knows these things; do not, therefore. allow him to cater. She ( A'isha) said: Then they began to observe veil from him.
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسے جنسی معاملا ت سے بے بہر ہ سمجھا کرتی تھیں ۔ فرما یا : " ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کررہا تھا وہ کہنے لگا : جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے ۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے ، یہ لوگ تمھا رے پاس نہ آیا کریں ۔ " " تو انھوں ( امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے اس سے پردہ کر لیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5692

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ قَالَتْ فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ وَأَعْلِفُهُ وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ وَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ قَالَتْ وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ قَالَتْ فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ قَالَتْ فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ قَالَتْ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي
Asma' daughter of Abu Bakr reported that the was married to Zubair. He had neither land nor wealth nor slave nor anything else like it except a bom. She further said: I grazed his horse. provided fodder to it and looked after it, and ground dates for his camel. Besides this, I grazed the camel, made arrangements for providing it with water and patched up the leather bucket and kneaded the flour. But I was not proficient in baking the bread, so my female neighbours used to bake bread for me and they were sincere women. She further said: I was carrying on my head the stones of the dates from the land of Zubair which Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had endowed him and it was at a distance of two miles (from Medina). She add: As I was one day carrying the atones of dates upon my head I happened to meet Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) along with a group of his Companions. He called me and said (to the camel) to sit down so that he should make cite ride behind hirn. (I told my husband: ) I felt shy and remembered your jealousy, whereupon he said: By Allah. the carrying of the stone dates upon your bead is more severe a burden than riding with him. She said: (I led the life of hardship) until Abu Bakr sent afterwards a female servant who took upon herself the responsibility of looking after the horse and I felt as it she had emancipated me.
ہشام کے والد ( عروہ ) نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے ( حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے نکا ح کیا تو ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوانہ کچھ مال تھا ، نہ غلام تھا ، نہ کو ئی اور چیز تھی ۔ ان کے گھوڑے کو میں ہی چارا ڈالتی تھی ان کی طرف سے اس کی ساری ذمہ داری میں سنبھا لتی ۔ اس کی نگہداشت کرتی ان کے پانی لا نے والے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں توڑتی اور اسے کھلا تی میں ہی ( اس پر ) پانی لا تی میں ہی ان کا پانی کا ڈول سیتی آٹا گوندھتی ، میں اچھی طرح روٹی نہیں بنا سکتی تھی تو انصار کی خواتین میں سے میری ہمسائیاں میرے لیے روٹی بنا دیتیں ، وہ سچی ( دوستی والی ) عورتیں تھیں ، انھوں نے ( اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زمین کا جو ٹکڑا عطا فرما یا تھا وہاں سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لا تی یہ ( زمین ) تقریباً دو تہائی فرسخ ( تقریباً 3.35کلو میٹر ) کی مسافت پر تھی ۔ کہا : ایک دن میں آرہی تھی گٹھلیاں میرے سر پر تھیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کچھ لو گ آپ کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا یا ، پھر آواز سے اونٹ کو بٹھا نے لگے تا کہ ( گٹھلیوں کا بوجھ درمیان میں رکھتے ہو ئے ) مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں ۔ انھوں نے ( حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کرتے ہو ئے ) کہا : مجھے شرم آئی مجھے تمھا ری غیرت بھی معلوم تھی تو انھوں ( زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ جا نتا ہے کہ تمھارا اپنے سر پر گٹھلیوں کا بوجھ اٹھا نا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے ۔ کہا : ( یہی کیفیت رہی ) یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرے پاس ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ حدیث : 5693 ۔ ) ایک کنیز بھجوادی اور اس نے مجھ سے گھوڑے کی ذمہ داری لے لی ۔ ( مجھے ایسے لگا ) جیسے انھوں نے مجھے ( غلا می سے ) آزاد کرا دیا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5693

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ قَالَتْ كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ فَلَمْ يَكُنْ مِنْ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ قَالَ ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا قَالَتْ كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَاءَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ قَالَتْ إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ فَجَاءَ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ فَقَالَتْ مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي فَقَالَ هَبِيهَا لِي قَالَتْ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا
Asma' reported: I performed the household duties of Zubair and he had a horse; I used to look after it. Nothing was more burdensome for me than looking after the horse I used to bring grass for it and looked after it, then I got a servant as Allah's Apustle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had some prisoners of war in his possession. He gave me a female servant. She (the female servant) then began to look after the horse and thus relieved me of this burden. A person came and he said: Mother of 'Abdullah, I am a destitute person and I intend that I should start business under the shadow of your house. I (Asma') said: If I grant you permission, Zubair may not agree to that, so you come and make a demand of it when Zubair is also present there. He came accordingly find said: Mother of 'Abdullah. I am a destitute person. I intend to start t mall business in the shadow of your house. I said: Is there not in Medina (any place for starting the business) except my house? Zubair said: Why is it that you prohibit the destitute man to start business here? So he started business and he (earned so much) that we sold our slave-girl to him There came Zubair to me while the money was in my lap. He said: Give this to me. I said: (I intend) to spend it as charity.
ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں گھر کی خدمات سر انجام دےکر حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت کرتی تھی ، ان کا ایک گھوڑاتھا ، میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی ، میرے لیے گھر کی خدمات میں سے گھوڑے کی نگہداشت سے بڑھ کر کوئی اورخدمت زیادہ سخت نہ تھی ۔ میں اس کے لئے چارہ لاتی ، اس کی ہرضرورت کا خیال رکھتی اور اس کی نگہداشت کرتی ، کہا : پھر انھیں ایک خادمہ مل گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ نے ان کے لئے ایک خادمہ عطا کردی ۔ کہا : اس نے مجھ سے گھوڑے کی نگہداشت ( کی ذمہ داری ) سنبھال لی اور مجھ سے بہت بڑا بوجھ ہٹا لیا ۔ میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہا : ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں : میرا دل چاہتاہے ہے کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں ( بیٹھ کرسودا ) بیچ لیاکروں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں نے تمھیں اجازت دے دی تو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انکار کردیں گے ۔ جب زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود ہوں تو ( اس وقت ) آکر مجھ سے اجازت مانگنا ، پھر وہ شخص ( حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں ) آیا اور کہا : ام عبداللہ! میں ایک فقیرآدمی ہوں اور چاہتاہوں کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں ( بیٹھ کر کچھ ) بیچ لیاکروں ، انھوں ( حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے جواب دیا : مدینے میں تمھارے لئے میرے گھر کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے ؟تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : تمھیں کیا ہوا ہے ، ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے روک رہی ہو؟وہ بیچنے لگا ، یہاں تک کہ اس نے کافی کمائی کرلی ، میں نے وہ خادمہ اسے بیچ دی ۔ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اند رآئے تو اس خادمہ کی قیمت میری گود میں پڑی تھی ، انھوں نے کہا ، یہ مجھے ہبہ کردو ۔ تو انھوں نے کہا : میں اس کو صدقہ کرچکی ہوں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5694

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ
Ibn Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When there are three (persons), two should not converse secretly between themselves to the exclusion of the (third) one.
مالک نےنافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تین شخص ( موجود ) ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آ پس میں سرگوشی نہ کریں ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5695

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ
This hadith has been reported on the authority of lbn 'Umar through two different chains of transmitters.
عبیداللہ ، لیث بن اسعد ، ایوب ( سختیانی ) اور ایوب بن موسیٰ ان سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5696

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ
Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If you are three, two amongst you should not converse secretly between yourselves to the exclusion of the other (third one), unti some other people join him (and dispel his loneliness), for it may hurt his feelings.
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم تین لوگ ( ایک ساتھ ) ہوتو ایک کو چھوڑ کردو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں ، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ ، کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ ( دوکی سرگوشی ) اسے غمزدہ کردے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5697

و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ
Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If you are three, two should not converse secretly to the exclusion of your companion for that hurts his feelings.
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم تین لوگ ہوتو اپنے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ چیز اس کو غم زدہ کردے گی ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5698

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters.
عیسیٰ بن یونس اورسفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ( حدیث بیان کی ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5699

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ
A'isha (the wife of Allah's Apostle) said: When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell ill, Gabriel used to recite this: In the name of Allah, may He cure you from all kinds of illnesses and safeguard you from the evil of a jealous one when he feels jealous and from the evil influence of eye.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ کو دم کرتے ، وہ کہتے : " اللہ کے نام سے ، وہ آپ کو بچائے اور ہر بیماری سے شفا دے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اورنظر لگانے والی ہر آنکھ کے شرسے ( آپ کومحفوظ رکھے ۔ ) "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5700

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ
Abu Sa'id reported that Gabriel came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Muhammad, have you fallen ill? Thereupon he said: Yes. He (Gabriel) said: In the name of Allah I exorcise you from everything and safeguard you from every evil that may harm you and from the eye of a jealous one. Allah would cure you and I invoke the name of Allah for you.
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اے محمد!کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات کہے : " میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتاہوں ، ہر چیز سے ( حفاظت کے لئے ) جو آپ کو تکلیف دے ، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے ، اللہ آپ کو شفا دے ، میں اللہ کے نام سے آ پ کو دم کر تا ہوں ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5701

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ
Abu Huraira reported so many abidith from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The influence of an evil eye is a fact.
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کیں ، انھوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نظر حق ( ثابت شدہ بات ) ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5702

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا
Ibn 'Abbas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The influence of an evil eye is a fact; if anything would precede the destiny it would be the influence of an evil eye, and when you are asked to take bath (as a cure) from the influence of an evil eye, you should take bath.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آ پ نے فرمایا : " نظر حق ( ثابت شدہ بات ) ہے ، اگر کوئی ایسی چیز ہوتی جو تقدیر پر سبقت لے جاسکتی تو نظرسبقت ہے جاتی ۔ اور جب ( نظر بد کے علاج کےلیے ) تم سے غسل کرنے کے لئے کہا جائے تو غسل کرلو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5703

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَتْ حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ جَاءَنِي رَجُلَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ أَوْ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ قَالَ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ قَالَتْ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ قَالَ لَا أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ
A'isha reported: that a Jew from among the Jews of Banu Zuraiq who was called Labid b. al-A'sam cast a spell upon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with the result that he (under the influence of the spell) felt that he had been doing something whereas in fact he had not been doing that. (This state of affairs lasted) until one day or during one night Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made supplication (to dispel its effects). He again made a supplication and he again did this and said to 'A'isha: Do you know that Allah has told me what I had asked Him? There came to me two men and one amongst them sat near my head and the other one near my feet and he who sat near my head said to one who sat near my feet or one who sat near my feet said to one who sat near my head: What is the trouble with the man? He said: The spell has affected him. He said: Who has cast that? He (the other one) said: It was Labid b. A'sam (who has done it). He said: What is the thing by which he transmitted its effect? He said: By the comb and by the hair stuck to the comb and the spathe of the date-palm. He said: Where is that? He replied: In the well of Dhi Arwan. She said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent some of the persons from among his Companions there and then said: 'A'isha, by Allah, its water was yellow like henna and its trees were like heads of the devils. She said that she asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as to why he did not burn that. He said: No, Allah has cured me and I do not like that I should induce people to commit any high-handedness in regard (to one another), but I only commanded that it should be buried.
ابن نمیر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بنی زریق کے ایک یہودی لبید بن اعصم نے جادو کیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں حالانکہ وہ کام کرتے نہ تھے ۔ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، پھر دعا کی ، پھر فرمایا کہ اے عائشہ! تجھے معلوم ہوا کہ اللہ جل جلالہ نے مجھے وہ بتلا دیا جو میں نے اس سے پوچھا؟ ۔ میرے پاس دو آدمی آئے ، ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا پاؤں کے پاس ( وہ دونوں فرشتے تھے ) جو سر کے پاس بیٹھا تھا ، اس نے دوسرے سے کہا جو پاؤں کے پاس بیٹھا تھا اس نے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ وہ بولا کہ اس پر جادو ہوا ہے ۔ اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ لبید بن اعصم نے ۔ پھر اس نے کہا کہ کس میں جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی سے جھڑے اور نر کھجور کے گابھے کے ریشے میں ۔ اس نے کہا کہ یہ کہاں رکھا ہے؟ وہ بولا کہ ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اللہ کی قسم اس کنوئیں کا پانی ایسا تھا جیسے مہندی کا زلال اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے شیطانوں کے سر ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جلا کیوں نہیں دیا؟ ( یعنی وہ جو بال وغیرہ نکلے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو اللہ نے ٹھیک کر دیا ، اب مجھے لوگوں میں فساد بھڑکانا برا معلوم ہوا ، پس میں نے حکم دیا اور وہ دفن کر دیا گیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5704

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَقَالَ فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ وَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرِجْهُ وَلَمْ يَقُلْ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ
A'isha reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was affected with a spell, the rest of the hadith is the same but with this variation of wording: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went to the well and looked towards it and there were trees of date-palm near it. I ('A'isha) said: I asked Allah'& Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to bring it out, and 1 did not say: Why did not you burn it? And there is no mention of these words: I commanded (to bury them and they buried.
ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا ، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا ۔ اسکے بعد ابو کریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف تشریف لئے گئے ، اسے دیکھا ، اس کنویں پر کھجور کے درخت تھے ( جنھیں کسی زمانے میں کنویں کے پانی سےسیراب کیاجاتا ہوگا ) انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اسے نکالیں ( اور جلادیں ) ابو کریب نے : " آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟ " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ ( بھی ) بیان نہیں کیے؛ " میں نے اس کے بار ے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیاگیا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5705

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ قَالَ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَاكِ قَالَ أَوْ قَالَ عَلَيَّ قَالَ قَالُوا أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا قَالَ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Anas reported that a Jewess came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with poisoned mutton and he took of that what had been brought to him (Allah's Messenger). (When the effect of this poison were felt by him) he called for her and asked her about that, whereupon she said: I had determined to kill you. Thereupon he said: Allah will never give you the power to do it. He (the narrator) said that they (the Companion's of the Holy Prophet) said: Should we not kill her? Thereupon he said: No. He (Anas) said: I felt (the affects of this poison) on the uvula of Allah's Messenger.
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود ( پکی ہوئی ) بکری لے کر آئی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ ( گوشت کھایا ) ( آپ کو اس کے زہر آلود ہونے کاپتہ چل گیا ) تو اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایاگیا ، آپ نے اس عورت سے اس ( زہر ) کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : ( نعوذ باللہ! ) میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ تمھیں اس بات پر تسلط ( اختیار ) دے دے ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نےکہا : یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( تمھیں ) مجھ پر ( تسلط دے دے ۔ ) " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " نہیں ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےدہن مبارک کے اندرونی حصے میں اسکے اثرات کو پہچانتاہوں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5706

و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سَمًّا فِي لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ خَالِدٍ
Anas b. Malik reported that a Jewess brought poisoned meat and then served it to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )
روح بن عبادہ نےکہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ہشام بن زید سے سنا ، انھوں نےکہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ ایک یہودی عورت نے گوشت میں زہرملادیا اور پھر اس ( گوشت ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س لے آئی ، جس طرح خالد ( بن حارث ) کی حدیث ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5707

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى
A'isha reported: When any person amongst us fell ill, Allah's Messenger (may peace he upon him) used to rub him with his right band and then say: O Lord of the people, grant him health, heal him, for Thou art a Greet Healer. There is no healere, but with Thy healing Power one is healed and illness is removed. She further added: When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell ill, and his illness took a serious turn I took hold of hie hand to that I should do with it what he ward to do with that (i. e. I would rub his body with his sacred hand). But he withdrew his hand from my hand and then said: O Allah, pardon me and make me join the companion. ship on She said. I was gazing at him constantly whereas he had passed away.
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابوضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( کےمتاثرہ حصے ) پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے ، پھر فرماتے : "" تکلیف کو دور کردے ، اے تمام انسانوں کے پالنے والے!شفا دے ، تو ہی شفا دینے والا ہے ، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا جو بیماری کو ( ذرہ برابر باقی ) نہیں چھوڑتی ۔ "" پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اورآپ کے لیے اعضاء کو حرکت دینا مشکل ہوگیا تو میں نے آپ کا دست مبارک تھاماتاکہ جس طرح خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیاکرتے تھے ، میں بھی اسی طرح کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا ، پھر فرمایا : "" اے میرے اللہ!مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ کی معیت عطا کردے ۔ "" انھوں نے کہا : پھر میں دیکھنے لگی تو آپ رحلت فرماچکے تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5708

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَشُعْبَةَ مَسَحَهُ بِيَدِهِ قَالَ وَفِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ و قَالَ فِي عَقِبِ حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ
This. hadith has been reported on the authority of Shu'ba through another chain of transmitters (and the words are): He rubbed him with his hand and (in) the hadith transmitted on the authority of Thauri (the words are). He used to rub with his right hand. This hadith has been reported through another chain of transmitters.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی ، ابو بکر بن خلاد اور بو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ، بشر بن خالد نےکہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ۔ ابن بشار نے کہا؛ "" ہمیں ابن عدی نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی ) نے شعبہ سے روایت کی ۔ ( اسی طرح ) ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو بکر بن خلاد نے بھی ہمیں یہ حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان سب نے جریرکی سند کےساتھ اعمش سے روایت کی ۔ ہشیم اورشعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس ( متاثرہ حصے ) پر پھیرتے اور ( سفیان ) ثوری کی حدیث میں ہے : آپ اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے ۔ اوراعمش سےسفیان اور ان سے یحییٰ کی روایت کردہ حدیث کے آخر میں ہے ، کہا : میں نے منصور کو یہ حدیث سنائی تو انھوں نے اسی کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مسروق اور ان سے ابراہیم کی روایت کردہ حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5709

و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا يَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
A'isha reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited the sick he would say: Lord of the people. remove the disease, cure him, for Thou art the great Curer, there is no cure but through Thine healing Power, which leaves nothing of the disease.
ابوعوانہ نے منصور سے ، انھوں نےابراہیم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ بلا شبہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرتے تھے تو فرماتے : " تکلیف دور کردے ، اے سب لوگوں کے پالنے والے!اس کو شفا عطا کر ، تو شفا دینے والا ہے ، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا ( دے ) جو ( ذرہ برابر ) بیماری کو نہ چھوڑے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5710

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ فَدَعَا لَهُ وَقَالَ وَأَنْتَ الشَّافِي
A'isha reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to visit any sick he supplicated for him and said: Lord of the people, remove the malady, cure him for Thou art a great Curer. There is no cure but through Thine healing Power which leaves no trouble, and in the narration transmitted on the authority of Abu Bakr there is a slight variation of wording.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لاتے تواس کے لئے دعا فرماتے ہوئے کہتے : " تکلیف دور کردے ، اے سب انسانوں کے پالنے والے! اور شفا عطا کرتو ہی شفا دینے والا ہے ، شفا عطا کر ، تیری شفا کے سوا ( کہیں ) کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا سے جو بیماری کو ( باقی ) نہ چھوڑے ۔ " ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) کی روایت میں ہے : آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور کہتے : " اور تو ہی شفا دینے والا ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5711

و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَجَرِيرٍ
This hadith has been reported on the authority of 'A'isha through another chain of transmitters with a slight variation of wording.
اسرائیل نےمنصور سے ، انھوں نے ابراہیم اور مسلم بن صبیح سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( جب کسی مریض کی عیادت کرتے ) تھے ( آگے ) جس طرح ابوعوانہ اور جریر کی حدیث میں ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5712

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي بِهَذِهِ الرُّقْيَةِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
A'isha reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to recite (this supplication) as the words of incantation: Lord of the people, remove the trouble for in Thine Hand is the cure; none is there to relieve him (the burden of disease) but only Thou.
ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے : " تکلیف دور فرمادے ، اے سب انسانوں کے پالنے والے!شفا تیرے ہی ہاتھ میں ہے ، تیرے سوا اس تکلیف کو دور کرنے والا اور کوئی نہیں ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5713

و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been reported on the authority of Hisham with the same chain of transmitted.
ابواسامہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ہشام سے اسی سند کےساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5714

حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ بِمُعَوِّذَاتٍ
A'isha reported that when any of the members of the household fell ill Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to blow over him by reciting Mu'awwidhatan, and when he suffered from illness of which he died I used to blow over him and rubbed his body with his hand for his hand had greater healing power than my hand.
سریج بن یونس اور یحییٰ بن ایوب نے کہا : ہمیں عباد بن عبادنے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروالوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ پناہ دلوانے والے کلمات اس پر پھونکتے ۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی ر حلت ہوئی تو میں نے آپ پر پھونکنا اور آپ کا اپنا ہاتھ آپ کے جسم اطہر پر پھیرنا شروع کردیا کیونکہ آ پ کا ہاتھ میرے ہاتھ سےزیادہ بابرکت تھا ۔ یحییٰ بن ایوب کی روایت میں ( بِالْمَعَوِّذَاتِ ، کے بجائے ) " بمَعَوِّذَاتِ " ( پناہ دلوانے والے کچھ کلمات ) ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5715

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا
A'isha reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell ill, he recited over his body Mu'awwidhatan and blew over him and when his sickness was aggravated I used to recite over him and rub him with his band with the hope that it was more blessed.
مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیما ر ہو تے تو آپ خود پر معواذات ( معواذتین اور دیگر پناہ دلوانے والی دعائیں اور آیات ) پڑھتے اور پھونک مارتے ۔ جب آپ کی تکلیف شدید ہو گئی تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ کی طرف سے میں آپ کا اپنا ہاتھ اس کی برکت کی امید کے ساتھ ( آپ کے جسم اطہر پر ) پھیرتی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5716

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا إِلَّا فِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَزِيَادٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ
This hadith has been narrated through some other chains of transmitters but with a slight variation of wording. In the hadith transmitted on the authority of Yanus and Ziyari (the words are): When Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell ill, he blew over his body by reciting Mu'awwidhatan and rubbed him with his hand.
یو نس معمر اور زیاد سب نے ابن شہاب سے ، امام مالک کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، مالک کے علاوہ اور کسی کی سند میں " آپ کے ہاتھ کی برکت کی امید سے " کے الفا ظ نہیں ۔ اور یو نس اور زیاد کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہو تے تو آپ خود اپنے آپ پر کلمات ( پڑھ کر ) پھونکتے اور اپنے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5717

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرُّقْيَةِ فَقَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
Abd al-Rahman b. al-Aswad reported on the authority of his father: I asked 'A'isha about incantation. She said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had granted its sanction to the members of a family of the Ansar for incantation in curing every type of poison.
عبد الرحمٰن بن اسود نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دم کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے بتا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھر کے لو گوں کو ہر زہریلے جا نور کے ڈنک سے ( شفا کے لیے ) دم کرنے کی اجازت عطا فر ما ئی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5718

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْحُمَةِ
A'isha reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) granted sanction to the members of a family of the Ansar for incantation (for removing the effects) of the poison of the scorpion.
ابرا ہیم نے سود سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھر کے لو گوں کو ہر زہریلے ڈنک کے علاج کے لیے دم کرنے کی اجازت دی تھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5719

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى الْإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ أَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ أَوْ جُرْحٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا وَوَضَعَ سُفْيَانُ سَبَّابَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَهَا بِاسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ يُشْفَى و قَالَ زُهَيْرٌ لِيُشْفَى سَقِيمُنَا
A'isha reported that when any person fell ill with a disease or he had any ailment or he had any injury, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) placed his forefinger upon the ground and then lifted it by reciting the name of Allah. (and said): The dust of our ground with the saliva of any one of us would serve as a means whereby our illness would be cured with the sanction of Allah. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abu Shaiba and Zubair with a slight variation of wording.
ابو بکر بن ابی شیبہ زہیر بن حرب اور ابن ابی عمرنے ۔ الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں ۔ کہا : ہمیں سفیان نے عبد ربہ بن سعیدسے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ جب کسی انسان کو اپنے جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تی یا اسے کوئی پھوڑا نکلتا یا زخم لگتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشت مبارک سے اس طرح ( کرتے ) فر ما تے : ( یہ بیان کرتے ہو ئے ) سفیان نے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر لگائی ، پھر اسے اٹھا یا : " اللہ کے نام کے ساتھ ہماری زمین کی مٹی سے ہم میں سے ایک کے لعاب دہن کے ساتھ ہمارے رب کے اذن سے ہمارا بیمار شفایاب ہو ۔ " ابن ابی شیبہ نے " ہمارا بیمار شفایاب ہو " کے الفا ظ اور زہیر نے " تا کہ " ہمارا بیمار شفایاب ہو " کے الفاظ کہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5720

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنْ الْعَيْنِ
A'isha reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded the use of incantation for curing the influence of an evil eye.
محمد بن بشر نے مسعر سے روایت کی ، کہا : ہمیں معبد بن خالد نے ابن شداد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں حکم دیتے تھے کہ وہ نظر بد سے ( شفا کے لیے دم کرالیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5721

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Mis'ar with the same chain of transmitters.
عبید اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں مسعر نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5722

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْتَرْقِيَ مِنْ الْعَيْنِ
A'isha reported: Allah's Messenger (may peace he upon him) commanded me that I should make use of incantation for curing the influence of an evil eye.
سفیان نے معبد بن خالد سے ، انھوں نے عبد اللہ بن شداد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تھے کہ وہ نظر بد سے دم کرالوں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5723

و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي الرُّقَى قَالَ رُخِّصَ فِي الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَالْعَيْنِ
Anas b. Malik reported in connection with incantation that he had been granted sanction (to use incantation as a remedy) for the sting of the scorpion and for curing small pustules and dispelling the influence of an evil eye.
ابو خیثمہ نے عاصم احول سے ، انھوں نے یو سف بن عبد اللہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دم جھا ڑ کے بارے میں روایت بیان کی ، کہا : زہریلے ڈنگ جلد نکلنے والے دانوں اور نظر بد ( کے عوارض ) میں دم کرانے کی اجا زت دی گئی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5724

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) granted him sanction to use incantation (as a cure) for the, influence of an evil eye, the sting of the scorpion and small pustules.
سفیان اور حسن بن صالح دونوں نے عاصم انھوں نے یوسف بن عبد اللہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد زہریلے ڈنگ جلد نکلنے والے دانوں میں دم کرنے کی اجا زت دی ۔ اور سفیا ن کی روایت میں یو سف بن عبد اللہ کے بجائے ) یو سف بن عبد اللہ بن حارث ( سے مروی ) ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5725

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بِوَجْهِهَا سَفْعَةً فَقَالَ بِهَا نَظْرَةٌ فَاسْتَرْقُوا لَهَا يَعْنِي بِوَجْهِهَا صُفْرَةً
Umm Salama, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to a small girl in the house of Umm Salama that he had been seeing on her face black stains and told her that that was due to the infiluence of an evil eye, and he asked that she should be cured with the help of incantation (hoping) that her face should become spotles.
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ایک لڑکی کے بارے میں جس کے چہرے ( کے ایک حصے ) کا رنگ بدلا ہوا دیکھا فرما یا : " اس کو نظر لگ گئی ہے اس کو دم کراؤ ۔ " آپ کی مراد اس کے چہرے کی پیلا ہٹ سے تھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5726

حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَقَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمْ الْحَاجَةُ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ قَالَ ارْقِيهِمْ قَالَتْ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ارْقِيهِمْ
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) granted sanction to the family of Hazm for incantation (in mitigating the effect of the poison of) the snake, and, he said -to Asma' daughter of 'Umais: What is this that I see the children of my brother lean? Are they not fed properly? She said: No, but they fall under the influence of an evil eve. He said: Use incantation She recited (the words of incantation before him), whereupon he (by approving them) said: Yes, use this incantation for them.
ابوعاصم نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آل ( بنو عمروبن ) حزم کو سانپ ( کے کا ٹے ) کا دم کرنے کی اجازت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر ما یا : " کیا ہوا ہے میں نے اپنے بھا ئی ( حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے بچوں کے جسم لا غر دیکھ رہا ہوں ، کیا انھیں بھوکا رہنا پڑتا ہے؟ " انھوں نے کہا : نہیں لیکن انھیں نظر بد جلدی لگ جاتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " انھیں دم کرو ۔ " انھوں ( اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : تومیں نے ( دم کے الفاظ کو ) آپ کے سامنے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " ( ان الفاظ سے ) ان کو دم کردو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5727

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِي قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
Jabir b. 'Abdullah reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) granted a special sanction for incantation in case of the snake poison to a tribe of 'Amr. Abu Zubair said: I heard Jabir b. 'Abdullah as saying that the scorpion stung one of us as we were sitting with Allah's Messenger (may peace upon him). A person said: Allah's Messenger, I use incantation (for curing the effect. of sting), whereupon he said: He who is competent amongst you to benefit his brother should do so.
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو ( بن حزم ) کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں دم کرنے کی اجا زت دی ۔ ابو زبیر نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( یہ بھی ) سنا ، وہ کہتے تھے : ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے ڈنگ مار دیا ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہو ئے تھے ۔ کہ ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں دم کردوں؟آپ نے فرما یا : " تم میں سے جو شخص اپنے بھا ئی کو فا ئدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے ایسا کرنا چا ہیے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5728

و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَرْقِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ أَرْقِي
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
سعید بن یحییٰ اموی کے والد نے کہا : ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کی مثل روایت بیان کی مگر انھوں نے کہا : لو گوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں اس کو دم کردوں؟اور ( صرف ) : " دم کردوں " نہیں کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5729

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَى قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقَى وَأَنَا أَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَقَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
Jabir b. 'Abdullah reported I had a maternal uncle who treated the sting of the scorpion with the help of incantation. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade incantation. He came to him and said: Allah's Messenger, you forbade to practise incantation, whereas I employ it for curing the sting of the scorpion, whereupon he said: He who amongst you is capable of employing it as a means to do good should do that.
وکیع نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میرے ایک ماموں تھے وہ بچھوکے کا ٹے پردم کرتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عمومی طور ہر طرح کے ) دم کرنے سے منع فر ما یا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو ئے اور کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے دم کرنے سے منع فرما دیا ہے ۔ میں بچھو کے کاٹے سے دم کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو کو ئی اپنے بھا ئی کو فا ئدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5730

و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters.
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5731

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَى فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنْ الْعَقْرَبِ وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقَى قَالَ فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ مَا أَرَى بَأْسًا مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ
Jabir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) prohibited incantation. Then the people of Amr b. Hazm came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: We know an incantation which we use for curing the sting of the scorpion but you have prohibited it. They recited (the words of incantation) before him, whereupon he said: I do not see any harm (in it), so he who amongst you is competent to do good to his brother should do that.
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے سفیان سے ، انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع فرما دیا تو عمرو بن حزم کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا اور عرض کی ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس دم ( کرنے کا ایک کلمہ ) تھا ۔ ہم اس سے بچھو کے ڈسے ہو ئے کو دم کرتے تھے اور آپ نے دم کرنے سے منع فر ما دیا ۔ انھوں ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو انھوں نے وہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں ( اس میں کو ئی ) حرج نہیں سمجھتا ۔ تم میں سے جو کوئی اپنے بھا ئی کو فائدہ پہنچاسکتا ہو تو وہ ضرور اسے فائدہ پہنچائے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5732

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ
Auf b. Malik Ashja'i reported We practised incantation in the pre-Islamic days and we said: Allah's Messenger. what is your opinion about it? He said: Let me know your incantation and said: There is no harm in the incantation which does not smack of polytheism.
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کو ئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5733

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ فَقَالُوا لَهُمْ هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ لَدِيغٌ أَوْ مُصَابٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعَمْ فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا وَقَالَ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَتَبَسَّمَ وَقَالَ وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ خُذُوا مِنْهُمْ وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ
Abu Sa'id Khudri reported that some persons amongst the Companions of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) set out on a journey and they happened to pass by a tribe from the tribes of Arabia. They demanded hospitality from the members of that tribe, but they did not extend any hospitality to them. They said to them: Is there any incantator amongst you, at the chief of the tribe has bgen stung by a scorpion? A person amongst us said: 'Yes. So he came to him and he practised incan- tation with the help of Sura al-Fatiha and the person became all right. He was given a flock of sheep (as recompense), but he refused to accept that, saying: I shall make a mention of it to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and if he approves of it. then I shall accept it. So we came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and made a mention of that to him and he (that person) said: Allah's Messenger by Allah, I did not practice incantation but with the help of Sura al-Fatiha of the Holy Book. He (the Holy Prophet) smiled and said: How did you come to know that it can be used (as incactation)? - and then said: Take out of that and allocate a share for me along with your share.
ہشیم نے ابو بشر سے ، انھوں نے ابو متوکل سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کے چند صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سفر میں تھے عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے سامنے سے ان کا گزر ہوا انھوں نے ان ( قبیلے والے ) لوگوں سے چاہا کہ وہ انھیں اپنا مہمان بنائیں ۔ انھوں نے مہمان بنانے سے انکا ر کر دیا ، پھر انھوں نے کہا : کیا تم میں کو ئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قوم کے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے یا اسے کو ئی بیماری لا حق ہو گئی ہے ۔ ان ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے ایک آدمی نے کہا : ہاں پھر وہ اس کے قریب آئے اور اسے فاتحہ الکتاب سے دم کر دیا ۔ وہ آدمی ٹھیک ہو گیا تو اس ( دم کرنے والے ) کو بکریوں کاا یک ریوڑ ( تیس بکریاں ) پیش کی گئیں ۔ اس نے انھیں ( فوری طور پر ) قبول کرنے ( کا م میں لا نے ) سے انکا ر کر دیا اور کہا : یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کو ماجرا سنادوں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کی خدمت میں حا ضر ہوا اور سارا ماجرا آپ کو سنایا اور کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !!میں فاتحہ الکتاب کے علاوہ اور کو ئی دم نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرما یا : " تمھیں کیسے پتہ چلا کہ وہ دم ( بھی ) ہے؟ " پھر انھیں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5734

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ كِلَاهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ
This hadith has been reported on the authority of Abu Bishr with the same the same chain of transmitters (with these words): That he recited Umm-ul-Qur'an (Sura Fatiha), and he collected his spittle and he applied that and the person became all right.
شعبہ نے ابو بشر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور حدیث میں یہ کہا : اس نے ام القرآن ( سورۃفاتحہ ) پڑھنی شروع کی اور اپنا تھوک جمع کرتا اور اس پر پھینکتا جاتا تو وہ آدمی تندرست ہوگیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5735

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ لُدِغَ فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا وَسَقَوْنَا لَبَنًا فَقُلْنَا أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً فَقَالَ مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ فَقُلْتُ لَا تُحَرِّكُوهَا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ
Abu Sa'id al-Khudri reported: We landed at a place where a woman came to us and said: A scorpion has bitten the chief of the tribe. Is there any incantator amongst you? A person amongst us stood up (and went with her). We had no idea that he had been a good incantator but he practiced incantation with the help of Sura al-Fatiha and the (the chief) was all right. They gave him a flock of sheep and served us milk. We said (to him): Are you a good incantator. Thereupon he said: I did not do it but by the help of Sura al-Fatiha. He said: Do not drive (these goats) until we go to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and find out (whether it is permissible to accept (this reward of incantation). So we came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and made a mention of that to him, whereupon he said: How did you come to know that this (Sura al-Fatiha) could be used as an incantation? So distribute them (amongst those who had been present there with him) and allocate a share of mine also.
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سےخبر دی ، انھوں نے ا پنے بھائی معبد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، روایت کی ، کہا : ہم نے ایک مقام پر پڑاؤکیا ، ایک عورت ہمارے پاس آئی اور کہا : قبیلے کےسردار کو ڈنک لگا ہے ، ( اسے بچھو نے ڈنک ماراہے ) کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ ( جانے کےلئے ) کھڑا ہوگیا ، اس کے بارے میں ہمارا خیال نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح دم کرسکتا ہے ۔ اس نے اس ( ڈسے ہوئے ) کو فاتحہ سے دم کیاتو وہ ٹھیک ہوگیا ، تو انھوں نے اسے بکریوں کا ایک ریوڑ دیا اور ہم سب کو دودھ پلایا ۔ ہم نے ( اس سے ) پوچھا : کیا تم اچھی طرح دم کرنا جانتے تھے؟اس نے کہا : میں نے اسے صرف فاتحۃ الکتاب سے دم کیا ہے ۔ کہا : میں نے ( ساتھیوں سے ) کہا : ان بکریوں کو کچھ نہ کہو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجائیں ۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ کو یہ بات بتائی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے کس ذریعے سے پتہ چلا کہ یہ ( فاتحہ ) دم ( کا کلمہ بھی ) ہے؟ان ( بکریوں ) کو بانٹ لو اور اپنے داتھ میرا بھی حصہ رکھو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5736

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَأْبِنُهُ بِرُقْيَةٍ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and he said: There stood up with her a person amongst us whom we did not know before as an incantator.
ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ ، اسی طرح حدیث بیان کی ، مگر اس نے کہا : ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ ( جانے کے لئے کھڑا ہوگیا ) ہم نے کبھی گمان نہیں کیاتھا کہ وہ دم کرسکتاہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5737

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ
Uthman b. Abu al-'As Al-Thaqafi reported that he made a complaint of pain to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he felt in his body at the time he had become Muslim. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Place your hand at the place where you feel pain in your body and say Bismillah (in the name of Allah) three times and seven times A'udhu billahi wa qudratihi min sharri ma ajidu wa uhadhiru (I seek refuge with Allah and with His Power from the evil that I find and that I fear).
سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ایک درد کی شکایت کی ، جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار ( ( بسم اللہ ) ) کہو ، اس کے بعد سات بار یہ کہو کہأَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ”میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5738

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَقِرَاءَتِي يَلْبِسُهَا عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خَنْزَبٌ فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثَلَاثًا قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي
Uthman b. Abu al-'As reported that he came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, the Satan intervenes between me and my prayer and my reciting of the Qur'an and he confounds me. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said:, That is (the doing of a) Satan (devil) who is known as Khinzab, and when you perceive its effect, seek refuge with Allah from it and spit three times to your left. I did that and Allah dispelled that from me.
عبدالاعلیٰ نے سعید جریری سے ، انھوں نے ابو علاء سے روایت کی کہ سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! شیطان میری نماز میں حائل ہو جاتا ہے اور مجھے قرآن بھلا دیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شیطان کا نام خنزب ہے ، جب تجھے اس شیطان کا اثر معلوم ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ اور ( نماز کے اندر ہی ) بائیں طرف تین بار تھوک لے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو مجھ سے دور کر دیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5739

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ نُوحٍ ثَلَاثًا
Uthman b. Abu al-'As reported that he came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he narrated like this. In the hadith transmitted on the authority of Salam b. Nuh there is no mention of three times,
سالم بن نوح اور ابو اسامہ ، دونوں نےجریری سے ، انھوں نے ابو علااء سے ، انھوں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ، پھر اس طرح بیا ن کیا اور سالم بن نوح کی حدیث میں " تین بار " کا لفظ نہیں ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5740

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ
This hadith has been transmitted on the authority of 'Uthman b. Abu al-'As with a slight variation of wording.
سفیان نے سعید جریری سے روایت کی ، کہا : ہمیں یزید بن عبداللہ بن شخیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !پھر ان کی حدیث کی مانند بیان کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5741

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
Jabir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is a remedy for every malady, and when the remedy is applied to the disease it is cured with the permission of Allah, the Exalted and Glorious.
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر بیماری کی دوا ہے ، جب کوئی دوا بیماری پر ٹھیک بٹھا دی جاتی ہے تو مریض اللہ تعالیٰ کےحکم سے تندرست ہوجاتاہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5742

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِيهِ شِفَاءً
Jabir reported that he visited Muqanna' and then said: I will not go away unless you get yourself cupped, for I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: It is a remedy.
بکیر نے کہا کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے انھیں حدیث سنائی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقنع ( بن سنان تابعی ) کی عیادت کی ، پھر فرمایا : میں ( اس وقت تک ) یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم پچھنے نہ لگوالو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرماتے ہیں؛ " یقیناً اس میں شفاہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5743

حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا فَقَالَ مَا تَشْتَكِي قَالَ خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ فَقَالَ يَا غُلَامُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ فَقَالَ لَهُ مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ قَالَ فَجَاءَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ
Asim b. 'Umar b. Qatada reported: There came to our house 'Abdullah and another person from amongst the members of the household who complained of a wound. Jabir said: What ails you? He said: There is a wound which is very painful for me, whereupon he said: Boy, bring to me a cupper. He said: 'Abdullah, what do you intend to do with the cupper? I said: I would get this wound cupped. He said: By Allah. oven the touch of fly or cloth causes me pain (and cupping) would thus cause me (unbearable) pain. And when he saw him feeling pain (at the idea of cupping), he said: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If there is any effective remedy amongst your remedies, these are (three): Cupping, drinking of honey and cauterisation with the help of fire. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: As for myself I do not like cauterisation. The cupper was called and he cupped him and he was all right.
عبدالرحمان بن سلیمان نے حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کی ، کہا : کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے گھر میں آئے اور ایک شخص کو زخم کی تکلیف تھی ( یعنی قرحہ پڑ گیا تھا ) ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تجھے کیا تکلیف ہے؟ وہ بولا کہ ایک قرحہ ہو گیا ہے جو کہ مجھ پر نہایت سخت ہے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے غلام! ایک پچھنے لگانے والے کو لے کر آ ۔ وہ بولا کہ پچھنے لگانے والے کا کیا کام ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں ، وہ بولا کہ اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی اور کپڑا لگے گا تو مجھے تکلیف ہو گی اور مجھ پر بہت سخت ( وقت ) گزرے گا ۔ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اس کو پچھنے لگانے سے رنج ہوتا ہے تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر تمہاری دواؤں میں بہتر کوئی دوا ہے تو تین ہی دوائیں ہیں ، ایک تو پچھنا ، دوسرے شہد کا ایک گھونٹ اور تیسرے انگارے سے جلانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں داغ لینا بہتر نہیں جانتا ۔ راوی نے کہا کہ پھر پچھنے لگانے والا آیا اور اس نے اس کو پچھنے لگائے اور اس کی بیماری جاتی رہی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5744

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَخَاهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ
Jabir reported that Umm Salama sought permission from Allah's messenger (may Allah's peace upon him) tor getting herself cupped. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked Abu Taiba to cup her. He (Jabir) said: I think he (Abu Taiba) was her faster brother or a young boy before entering upon the adolescent period.
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کے متعلق اجازت طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ انھیں پچھنے لگائیں ۔ انھوں نے ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : حضرت ابو طیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے ۔ ( اور انھوں نے ہاتھ یا پاؤں ایسی جگہ پچھنے لگائےجنھیں دیکھنا محرم یا بچے کے لئے جائز ہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5745

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ
Jabir reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent a phystian to Ubayy b. Ka'b. He cut the vein and then cauterised it.
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب ) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کو جنگ خندق کے موقع پر ہاتھ کی بڑی رگ پر زخم لگاتو ان ) کے پاس ا یک طبیب بھیجا ، اس نے ان کی ( زخمی ) رگ ( کی خراب ہوجانے والی جگہ ) کاٹی ، پھر اس پرداغ لگایا ( تاکہ خون رک جائے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5746

و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرَا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا
A'mash reported this with the same chain of transmitters and he made no mention of the fact that he cut one of his veins.
جریر اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ بیان کیا اور " تو ان کی رگ کاٹی " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5747

و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رُمِيَ أُبَيٌّ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Jabir b. 'Abdillah reported that on the day of Ahzab Ubayy received the wound of an arrow in his medial arm vein. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) cauterised it.
سلیمان نے کہا : میں نے ابو سفیان کو سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : غزوہ احزاب میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا ۔ کہا : تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں داغ لگوایا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5748

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ قَالَ فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ
Jabir reported that Sa'd b. Mu'adh received a wound of the arrow in his vein. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) cauterised it with a rod and it was swollen, to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did it for the second time.
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا ، کہا : تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سےتیر کے پھل کے ساتھ اس ( جگہ ) کو داغ لگایا ، ان کا ہاتھ دوبارہ سوج گیا تو آپ نے دوبارہ اس پر داغ لگایا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5749

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ
Ibn 'Abbas reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got himself cupped and gave to the cupper his wages and he put the medicine in the nostril.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوانے اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور آپ نے ناک کے ذریعے دوائی لی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5750

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ و قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got himself cupped and never withheld the wages of anyone.
عمر و بن عامر انصاری نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، آپ کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے بھی لگوائے ، آپ کسی کی اجرت کےمعاملے میں کسی پر زرہ برابر ظلم نہیں کرتے تھے ( بلکہ زیادہ عطافرماتے تھے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5751

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
Ibn Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The fever from the vehement raging of the (heat of Hell), so cool it with the help of water
یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے روایت کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5752

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
Ibn Umar reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Fever is due to vehemence of the heat of Hell, so cool it with water.
عبداللہ بن نمیر اور محمد بن بشر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " بخار کی شدت جہنم کی لپٹوں سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5753

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ
Ibn Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Fever is from the vehement raging of the fire of Hell, so extinguish it with water.
امام مالک اورضحاک بن عثمان ، دونوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بخار جہنم کی لپٹوں میں سے ہے ، اس کو پانی سے بجھاؤ ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5754

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Fever is from the vehement Paging of the Hell-fire, so cool it with water.
محمد بن زید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے ، اس کو پانی سے بجھاؤ ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5755

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
A'isha reported Allah's messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Fever is from the vehement raging of the Hell-fire, so cool it with water.
ابن نمیر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5756

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
خالد بن حارث اور عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5757

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا وَتَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ وَقَالَ إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
Asma' reported that a woman running high fever was brought to her. She asked water to be brought and then sprinkled it in the opening of a shirt at the uppermost part of the chest and said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: Cool (the fever) with water. for it is because of the vehemence of the beat of Hell.
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے ، انھوں نے فاطمہ سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ بخار میں مبتلا عورت کو ان کے پاس لایاجاتا تو وہ پانی منگواتیں اور اسے عورت کے گریبان میں انڈیلتیں اور کہتیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( بخار ) کو پانی سے ٹھنڈاکرو ۔ " اور کہا ( وہ کہتیں : ) " یہ جہنم کی لپٹوں سے ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5758

و حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ صَبَّتْ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
Hisham reported this hadith with the same chain of transmitters. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Numair (the words are): She poured water on her sides and in the opening of the shirt at the uppermost part of the chest. There is no mention of these words: It is from the vehemence of the heat of the Hell. This hadith has been narrated on the authority of Abu Usama with the same chain of transmitters.
ابن نمیر اور ابو اسامہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے : وہ اس کے اور اسکی قمیص کے گریبان کے درمیان پانی ڈالتیں ۔ ابواسامہ کی حدیث میں انھوں نے "" یہ جہنم کی لپٹوں میں سے ہے "" کا ذکر نہیں کیا ۔ ابوا حمد نے کہا : ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن شر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو اسامہ نے اسی سند کےساتھ حدیث بیا ن کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5759

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحُمَّى فَوْرٌ مِنْ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
Rafi' b. Khadij reported: I heard Allah's messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The fever is due to the intense heat of the Hell, so cool it with water.
سعید بن مسروق نے عبایہ بن رفاعہ سے ، انھوں نے اپنے دادا سے ، انھوں نےحضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " بخار جہنم کے جوش سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈاکرو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5760

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ عَنْكُمْ وَقَالَ قَالَ أَخْبَرَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ
Rafi' b. Khadij reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The fever is due to the intense heat of Hell, so cool it down in your (bodies) with water. Aba Bakr has made no mention of the word from you ('ankum), but he said that Rafi' b. Khadij had informed him of it.
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ ، محمد بن حاتم اور ابو بکر بن نافع نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ سے رویت کی ، کہا : مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " بخار جہنم کے جوش سے ہے ، اسے خود سے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو ۔ " ( ابو بکر ) کی روایت میں " خود سے " کے الفاظ نہیں ہیں ۔ نیز ابو بکر نے کہا کہ عبایہ بن رفاعہ نے ( حدثنی کے بجائے ) اخبرني رافع بن خديج کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5761

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي فَقُلْنَا كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ
A'isha reported: we (intended to pour) medicine in the mouth of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in his illness, but he pointed out (with the gesture of his hand) that it should not be poured into the mouth against his will. We said: (It was perhaps due to the natural) aversion of the patient against medicine. When he recovered, he said: Medicine should be poured into the mouth of every one of you except Ibn 'Abbas, for he was not present amongst you.
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےمرض میں ہم نے آپ کی مرضی کے بغیر منہ کے کونے سے آپ کے دہن مبارک میں دوائی ڈالی ، آپ نے اشارے سے روکا بھی کہ مجھے زبردستی دوائی نہ پلاؤ ، ہم نے ( آپس میں ) کہا : یہ مریض کی طبعی طور پر دوائی کی ناپسندیدگی ( کی وجہ سے ) ہے ۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی نہ بچے ، سب کو زبردستی ( ہی ) دوائی پلائی جائے ، سوائے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کیونکہ وہ تمھارے ساتھ موجود نہیں تھے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5762

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ
Umm Qais, daughter of Mihsan, the sister of 'Ukasha b. Mihsan said: I visited Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) along with my son who had not, by that time, been weaned and he urinated over his (clothes). He ordered water to be brought and sprinkled (it) over them. She (further) said: I visited him (Allah's Apostle) along with my son and I had squeezed the swelling in the uvula, whereupon he said: Why do you afflict your children by compressing like this? Use this Indian aloeswood, for it contains seven types of remedies, one among them being a remedy for pleurisy. It is applied through the nose for a swelling of the uvula and poured into the side of the mouth for pleurisy.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انھوں نے عکا شہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہا : میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئی جس نے ( ابھی تک ) کھا نا شروع نہیں کیا تھا ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پاٖنی منگا کر اس پر بہا دیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5763

قَالَتْ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْعُذْرَةِ فَقَالَ عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنْ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ
Same as Hadees 5763
انھوں نے ( ام قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : میں اپنے ایک بچے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہو ئی ، میں نے اس کے گلے میں سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے اوپر کی طرف دبایا تھا ( تا کہ سوزش کی وجہ سے لٹکا ہوا حصہ اوپر ہو جا ئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " تم انگلیوں کے دباؤ کے ذریعے سے اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ ( آپ نے بچوں کے لیے اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ناپسند فرما یا ۔ ) تم عودہندی کا استعمال لا زم کر لو ۔ اس میں ساتھ اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا حلق کی سوزش کے لیے اس کو ناک کے راستے استعمال کیا جا تا ہے ۔ اور نمونیے کے لیے اسے منہ میں انڈیلا جا تا ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5764

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدِ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنْ الْعُذْرَةِ قَالَ يُونُسُ أَعْلَقَتْ غَمَزَتْ فَهِيَ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ عُذْرَةٌ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ
Umm Qais, daughter of Mihsan, was one of the earlier female emigrants who had pledged allegiance to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She was the sister of Ukasha b. Mihsan, one of the posterity of Asad b. Khuzaima. She reported that she came to Allah's messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) along with her son who had not attained the age of weaning and she had compressed the swelling of his uvula. (Yunus said: She compressed the uvula because she was afraid that there might be swelling of uvula.) Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Why do you afflict your children by compressing in this way? You should use Indian aloeswood, for it has seven remedies in it, one of them being the remedy for pleurisy.
یونس بن یزید نے کہا کہ ابن شہاب نے انھیں بتا یا کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ پہلے پہل ہجرت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی تھی ۔ یہ بنوا سد بن خزیمہ کے فرد حضرت عکا شہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔ کہا : انھوں نے مجھے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا ، انھوں نے گلے کی سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے دبایا تھا ۔ یونس نے کہا حلق دبایا تھا ۔ یعنی انگلی چبھو ئی تھی ( تا کہ فاصد خون نکل جا ئے ) انھیں یہ خوف تھا کہ اس گلے کے میں سوزش ہے ۔ انھوں ( ام قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس انگلی چبھونے والے طریقے سے تم اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ اس عودہندی یعنی کُست کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات اقسام کی کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5765

قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا
Ubaidullah reported that she had told that that was the child who had urinated in the lap of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called for water and sprinkled it on his urine, but he did not wash it well.
عبید اللہ نے کہا : انھوں ( ام قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے اسی بچے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گو د میں پیشاب کر دیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا تھا اور اس کو زیادہ رگڑ کر نہیں دھویا تھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5766

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ وَالسَّامُ الْمَوْتُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ
Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Nigella seed is a remedy for every disease except death.
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن اور سعید بن مسیب نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کو خبرد ی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " شونیز سام ( موت ) کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے ۔ " " سام : موت ہے اور حبہ سودا ( سے مراد ) شونیز ( زیرسیاہ ) ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5767

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَيُونُسَ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَلَمْ يَقُلْ الشُّونِيزُ
This hadith has been narrated through other chains of transmitters but with a slight variation of wording.
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، سفیان بن عیینہ معمر اور شعیب سب نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیل کی حدیث کے مانند روایت کی ۔ سفیان اور یونس کی حدیث میں " الحبۃ السوداء " کے الفا ظ ہیں انھوں نے ( آگے ) شونیز نہیں کہا :
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5768

و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ إِلَّا السَّامَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no disease for which Nigella seed does not provide remedy.
اعلاء ( بن الرحمٰن ) کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " موت کے سوا کو ئی بیماری نہیں جس کی شونیز کے زریعےسے شفا نہ ہو تی ہو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5769

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتْ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ
A'isha the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When there was any bereavement in her family the women gathered there for condolence and they departed except the members of the family and some selected persons. She asked to prepare talbina in a small couldron and it was cooked and then tharid was prepared and it was poured over talbina, then she said: Eat it, for I heard Allah's Messenger (may peade be upon him) as saying: Talbina gives comfort to the aggrieved heart and it lessens grief.
عروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ جب ان کے خاندان میں سے کسی فرد کا انتقال ہو تا تو عورتیں ( اس کی تعزیت کے لیے ) جمع ہو جا تیں ، پھر ان کے گھر والے اور خواص رہ جاتے اور باقی لو گ چلے جاتے ، اس وقت وہ تلبینے کی ایک ہانڈی ( دیگچی ) پکا نے کو کہتیں تلبینہ پکایا جا تا ، پھر ثرید بنایا جا تا اور اس پر تلبینہ ڈالا جا تا ، پھر وہ کہتیں : یہ کھا ؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ، تلبینہ بیمار کے دل کو راحت بخشتا ہےاور غم کو ہلکا کرتا ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5770

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِهِ عَسَلًا فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ إِنِّي سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا فَقَالَ لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ
Abu Sa'id Khudri reported that a person came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and told him that his brother's bowels were loose. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Give him honey. So he gave him that and then came and said: I gave him honey but it has only made his bowels more loose. He said this three times; and then he came the fourth time, and he (the Holy Prophet) said: Give him honey. He said: I did give him, but it has only made his bowels more loose, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah has spoken the truth and your brother's bowels are in the wrong. So he made him drink (honey) and he was recovered.
شعبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو متوکل سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی : میرے بھا ئی کا پیٹ چل پڑا ہے ( دست لگ گئے ۔ ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کو شہد پلا ؤ ۔ اس نے اسے شہد پلا یا ، وہ پھر آیا اور کہا : میں نے اسے شہد پلا یاہے ، اس سے ( دستوں کی تیزی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اس سے وہی فرما یا ( شہد پلاؤ ) جب وہ چوتھی بار آیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے شہد پلاؤ ۔ " اس نے کہا : میں نے اسے شہد پلا یا ہے اس سے دستوں میں اضافے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " اللہ نے سچ فر مایا ہے ( کہ شہد میں شفا ہے ) اور تمھا رے بھا ئی کا پیٹ جھوٹ بول رہا ہے ۔ " اس نے اسے ( اور ) شہد پلا یا وہ تندرست ہو گیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5771

و حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَخِي عَرِبَ بَطْنُهُ فَقَالَ لَهُ اسْقِهِ عَسَلًا بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
سعید نے قتادہ سے انھوں نے ابو متوکل ناجی سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے بھا ئی کا پیٹ خراب ہو گیا ہے ، آپ نے فر ما یا : " اس کو شہد پلا ؤ ۔ " ( آگے ) شعبہ کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5772

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ
Amir b. Sa'd b. Abu Waqqas reported on the authority of his father that he asked Usama b. Zaid: What have you heard from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about plague? Thereupon Usama said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Plague is a calamity which was sent to Bani Isra'il or upon those who were before you. So when you hear that it has broken out in a land, don't go to it, and when it has broken out in the land where you are, don't run out of it. In the narration transmitted on the authority of Abu Nadr there is a slight variation of wording.
امام مالک نے محمد بن منکدر اور عمربن عبید اللہ کے آزاد کردہ غلام ابو نضر سے ، انھوں نے عامر بن ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ انھوں نے سنا کہ وہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھ رہے تھے ۔ آپ نے طاعون کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ، ؟اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" طاعون ( اللہ کی بھیجی ہو ئی ) آفت یا عذاب ہے جو بنی اسرا ئیل پر بھیجا گیا یا ( فرما یا ) تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا جب تم سنو کہ وہ کسی سر زمین میں ہے تو اس سر زمین پر نہ جاؤ اور اگر وہ ایسی سر زمین میں واقع ہو جا ئے جس میں تم لو گ ( مو جو د ) ہو تو تم اس سے بھا گ کر وہاں سے نکلو ۔ "" ابو نضر نے ( یہ جملہ ) کہا : "" تمھیں اس ( طاعون ) سے فرار کے علاوہ کو ئی اور بات ( اس سر زمین سے ) نہ نکا ل رہی ہو ۔ ""
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5773

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ ابْتَلَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ وَقُتَيْبَةَ نَحْوُهُ
Usama b. Zaid reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: Plague is the sign of a calamity with which Allah, the Exalted and Glorious, affects people from His servants. So when you hear about it, don't enter there (where it has broken out), and when it has broken out in a land and you are there, then don't run away from it.
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اورقتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں مغیرہ بن عبدالرحمان قرشی نے ابو نضرسے حدیث بیان کی ، انھوں نےعامر بن سعد بن ابی وقاص سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" طاعون عذاب کی علامت ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں کچھ لوگوں کو طاعون میں مبتلاکیا ، جب تم طاعون کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب اس سرزمین میں طاعون واقع ہوجائے جہاں تم ہوتو وہاں سے مت بھاگو ۔ "" یہ قعنبی کی حدیث ہے ، قتیبہ نے بھی اس طرح بیا ن کیاہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5774

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أُسَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَوْ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا
Usama reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Plague is a calamity which was inflicted on those who were before you, or upon Bani Isra'il. So when it has broken out in a land, don't run out of it, and when it has spread in a land, then don't enter it.
سفیان نے محمد بن منکدرسے ، انھوں نے عامر بن سعد سے ، انھوں نے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ طاعون ایک عذاب ہے جوتم سے پہلے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا ، یا ( فرمایا : ) بنی اسرائیل پر مسلط کیاگیا تھا ، اگر یہ کسی علاقےمیں ہوتو تم اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلنا اور اگر کسی ( دوسری ) سر زمین میں ( طاعون ) موجود ہوتو تم اس میں داخل نہ ہونا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5775

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ نَاسٍ كَانُوا قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْكُمْ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا
Amir b. Sa'd reported that a person asked Sa'd b. Abu Waqqas about the plague, whereupon Usama b. Zaid said: I would inform you about it. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It is a calamity or a disease which Allah sent to a group of Bani Isra'il, or to the people who were before you; so when you hear of it in land, don't enter it and when it has broken out in your land, don't run away from it.
ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ عامر بن سعد نے انھیں خبر دی کہ کسی شخص نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے طاعون کے بارے میں سوال کیا تو ( وہاں موجود ) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں تمھیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ ایک عذاب یاسزا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا ، یا ( فرمایا : ) ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے ، لہذا تم جب کسی سرزمین میں اس کے ( پھیلنے کے ) متعلق سنو تو اس میں اس کے ہوتے ہوئے داخل نہ ہونا اور جب یہ تم پر وار د ہوجائے تو اس سےبھاگ کروہاں سے نہ نکلنا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5776

و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِإِسْنَادِ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij through another chain of transmitters.
حماد بن زید اور سفیان بن عینیہ دونوں نے عمرو بن دینار سے ابن جریج کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کےمانند حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5777

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوْ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ
Usama b. Zaid reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said this: This calamity or illness was a punishment with which were punished some of the nations before you. Then it was left upon the earth. It goes away once and comes back again. He who heard of its presence in a land should not go towards it, and he who happened to be in a land where it had broken out should not fly from it.
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عامر بن سعد سے خبر دی ، انھوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ بیماری ( طاعون ایک ) عذاب ہے جو تم سے پہلے ایک امت کو ہوا تھا ۔ پھر وہ زمین میں رہ گیا ۔ کبھی چلا جاتا ہے ، کبھی پھر آتا ہے ۔ لہٰذا جو کوئی کسی ملک میں سنے کہ وہاں طاعون ہے ، تو وہ وہاں نہ جائے اور جب اس کے ملک میں طاعون نمودار ہو تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5778

و حَدَّثَنَاه أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chain of transmitters.
معمر نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اسی ( یونس ) کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5779

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ فَقَالَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلْهَا قَالَ قُلْتُ عَمَّنْ قَالُوا عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالُوا غَائِبٌ قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِكُمْ فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَكُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا قَالَ حَبِيبٌ فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لَا يُنْكِرُ قَالَ نَعَمْ
Shu'ba reported from Habib: While we were in Medina we heard of plague having broken out in Kufa. 'Ata b. Yasir and others said to me that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said. If you are in a land where it (this scourge) has broken out, don't get out of it, and if you were to know that it had broken (in another land, then don't enter it. I said to him: From whom (did you hear it)? They said: 'Amir b. Sa'd has narrated it. So I came to him. They said that he was not present there. So I met his brother Ibrahim b. Sa'd and asked him. He said: I bear testimony to the fact that Usama narrated it to Sa'd saying: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying that it is a God-sent punishment from the calamity or from the remnant of the calamity with which people were afflicted before you. So when it is in a land and you are there, don't get out of it, and if (this news reaches you) that it has broken out in a land, then don't enter therein. Habib said: I said to Ibrahim: Did you hear Usama narrating it to Sa'd and he was not denying it. He said: Yes.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے انھوں نے حبیب ( بن ابی ثابت اسدی ) سے روایت کی ، کہا : ہم مدینہ میں تھے تو مجھے خبر پہنچی کہ کو فہ میں طاعون پھیل گیا ہے تو عطاء بن یسار اور دوسرے لو گوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا تھا : جب تم کسی سر زمین میں ہوا ور وہاں طاعون پھیل جا ئے تو تم اس سر زمین سے مت نکلواور جب تم کو یہ خبر پہنچے کہ وہ کسی سر زمین میں پھیل گیا ہے تو تم اس میں مت جاؤ ۔ "" کہا : میں نے پو چھا : ( حدیث ) کس سے روایت کی گئی ؟ ان سب نے کہا : عامر بن سعد سے وہی یہ حدیث بیان کرتے تھے ۔ کیا : تو میں ان کے ہاں پہنچا ، ان کے ( گھر کے ) لوگوں نے کہا : وہ موجود نہیں ، تو میں ان کے بھا ئی ابرا ہیم بن سعد سے ملا اور ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا : میں اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مو جو د تھا جب وہ ( میرے والد ) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کررہے تھے ۔ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : "" یہ بیماری سزا اور عذاب ہے یاعذاب کا بقیہ حصہ ہے جس میں تم سے پہلے کے لو گوں کو مبتلا کیا گیا تھا ۔ تو جب یہ کسی سر زمین میں پھیل جائے اور تم وہیں ہو تو وہاں سے باہر مت نکلواور جب تمھیں خبر پہنچے کہ یہ کسی سر زمین میں ہے تو اس میں مت جاؤ ۔ "" حبیب نے کہا : میں نے ابرا ہیم ( بن سعد ) سے کہا : کیا آپ نے ( خود ) اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا وہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حدیث سنا رہے تھے اور وہ اس کا انکا ر نہیں کر رہے تھے؟انھوں نے کہا : ہاں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5780

و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters except for the fact that no mention has been made of the account of 'Ata b. Yasir as in the previous hadith.
عبید اللہ بن معاذ کے والد نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث سنا ئی مگر انھوں نے حدیث کے آغاز میں عطاء بن یسار کا واقعہ بیان نہیں کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5781

و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ
This hadith has been transmitted on the authority of Sa'd b. Malik, Khuzaima b. Thabit and Usama b. Zaid.
سفیان نے حبیب سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن سعد سے ، انھوں نے حضرت سعد بن مالک ، حضرت حزیمہ بن ثابت اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " آگے شعبہ کی حدیث کے ہم معنی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5782

و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعْدٌ جَالِسَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
Ibrahim b. Sa'd b. Abu Waqqas reported: Usama b. Zaid and Sa'd had been sitting and they had been conversing and they said this hadith.
اعمش نے حبیب سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ، کہا : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہو ئے احادیث بیان کررہے تھے ۔ تو ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ، جس طرح ان سب کی حدیث ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5783

و حَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
This hadith has been transmitted by Ibrahim b. Sa'd b. Malik on the authority of his father.
شیبانی نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن سعد بن مالک سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی بیان کردہ حدیث کے مطا بق روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5784

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ فَقَالُوا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلَافَهُ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ
Abdullah b. 'Abbas reported: Umar b. Khattab set out for Syria. As he came at Sargh (a town by the side of Hijaz on the way to Syria), there met him the commander of the forces, Abu Ubaida b. Jandb, and his companions. They informed him that a scourge had broken out in Syria. Ibn 'Abbas further reported that 'Umar said: Call to me tile earliest emigrants. So I called them. He (Hadrat 'Umar) sought their advice, and they told him that the scourge had broker, out in Syria. There was a difference of opinion (whether they should proceed further or go back to their homes in such a situation). Some of them said: You ('Umar) have set forth for a task, and, therefore, we would not advise you to go back, whereas some of them said: You have along with you the remnants (of the sacred galaxy) of men and (the blessed) Companions of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), so we would not advise you to go forth towards this calamity (with such eminent persons and thus expose them deliberately to a danger). He (Hadrat 'Umar) said: You can now go away. He said: Call to me the Ansar. So I called them to him, and he consulted them, and they trod the same path as was trodden by the Muhajirin, and they differed in their opinions as they had differed. He said: Now, you can go. He again said: Call to me the old persons of the Quraish who had migrated before the Victory (that is the Victory of Mecca), so I called them (and Hadrat 'Umar consulted them) and not even two persons differed (from the opinion held by the earlier delegates). They said: Our opinion is that you better go back along with the people and do not make them go to this scourge, So 'Umar made announcement to the people: In the morning I would be on the back of my side. So they (set forth in the morning), whereupon Abu 'Ubaida b. Jarrah said: Are you going to run away from the Divine Decree? Thereupon 'Umar said: Had it been someone else to say this besides you! 'Umar (in fact) did not approve of his opposing (this decision) and he said: Yes, we are running from the Divine Decree (to the) Divine Decree. You should think if there had been camels for you and you happened to get down in a valley having two sides, one of them covered with verdure and the other being barren, would you not (be doing) according to the Divine Decree if you graze them in verdure? And in case you graze them in the barren land (even then you would be grazing them) according to the Divine Decree. There happened to come 'Abd al-Rahman b. 'Auf and he had been absent in connection with some of his needs. He said: I have with me a knowledge of it, that I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If you hear of its presence (the presence of plague) in a land, don't enter it, but if it spreads in the land where you are, don't fly from it. Thereupon 'Umar b. Khattab praised Allah and then went back?
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبدالحمید بن عبدالرحمان بن زید بن خطاب سے ، انھوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے ۔ جب ( تبوک کے مقام ) سرغ پر پہنچے تو لشکر گاہوں کے امراء میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے آپ سے ملاقات کی ۔ اور یہ بتایا کہ شام میں وبا پھیل گئی ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے سامنے مہاجرین اوّلین کو بلاؤ ۔ ( مہاجرین اوّلین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہو ) میں نے ان کو بلایا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ لیا اور ان سے بیان کیا کہ شام کے ملک میں وبا پھیلی ہوئی ہے ۔ انہوں نے اختلاف کیا ۔ بعض نے کہا کہ آپ ایک اہم کام کے لئے نکلے ہوئے ہیں اس لئے ہم آپ کا لوٹنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ بعض نے کہا کہ تمہارے ساتھ وہ لوگ ہیں جو اگلوں میں باقی رہ گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور ہم ان کو وبائی ملک میں لے جانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب تم لوگ جاؤ ۔ پھر کہا کہ انصار کے لوگوں کو بلاؤ ۔ میں نے ان کو بلایا تو انہوں نے ان سے مشورہ لیا ۔ انصار بھی مہاجرین کی چال چلے اور انہی کی طرح اختلاف کیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جاؤ ۔ پھر کہا کہ اب قریش کے بوڑھوں کو بلاؤ جو فتح مکہ سے پہلے یا ( فتح کے ساتھ ہی ) مسلمان ہوئے ہیں ۔ میں نے ان کو بلایا اور ان میں سے دو نے بھی اختلاف نہیں کیا ، سب نے یہی کہا کہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کو لے کر لوٹ جائیے اور ان کو وبا کے سامنے نہ کیجئے ۔ آخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں منادی کرا دی کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہوں گا ( اور مدینہ لوٹوں گا ) تم بھی سوار ہو جاؤ ۔ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تقدیر سے بھاگتے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کاش یہ بات کوئی اور کہتا ( یا اگر اور کوئی کہتا تو میں اس کو سزا دیتا ) { اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ برا جانتے تھے ان کا خلاف کرنے کو } ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں ۔ کیا اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سرسبز اور شاداب ہو اور دوسرا خشک اور خراب ہو اور تم اپنے اونٹوں کو سرسبز اور شاداب کنارے میں چراؤ تو اللہ کی تقدیر سے چرایا اور جو خشک اور خراب میں چراؤ تب بھی اللہ کی تقدیر سے چرایا ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس چرواہے پر کوئی الزام نہیں ہے بلکہ اس کا فعل قابل تعریف ہے کہ جانوروں کو آرام دیا ایسا ہی میں بھی اپنی رعیت کا چرانے والا ہوں تو جو ملک اچھا معلوم ہوتا ہے ادھر لے جاتا ہوں اور یہ کام تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ عین تقدیر الٰہی ہے ) ؟ اتنے میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور وہ کسی کام کو گئے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو اس مسئلہ کی دلیل موجود ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی ملک میں وبا پھیلی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر تمہارے ملک میں وبا پھیلے تو بھاگو بھی نہیں ۔ کہا : اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ پھر ( اگلےدن ) روانہ ہوگئے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5785

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ وَقَالَ لَهُ أَيْضًا أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَسِرْ إِذًا قَالَ فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَحِلُّ أَوْ قَالَ هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
This hadith has been reported on the authority of Ma'mar with the same chain of transmitters but with this addition: Do you think that he would graze in the barren land but would abandon the green land? Would you not attribute it to be a failing on his part? He said: Yes. He said: Then proceed. And he moved on until he came to Medina. And he said to me: This is the right place, or he said: That is the destination if Allah so wills.
معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور معمر کی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے ، کہا : اور انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان ( ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے یہ بھی کہا : آپ کا کیا حال ہے کہ اگر وہ ( اونٹ ) بنجر کنارے پر چرے اور سرسبز کنارے کو چھوڑ دے تو کیا آپ اسے اس کے عجز اور غلطی پر محمول کریں گے؟انھوں نے کہا : ہاں ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو پھر چلیں ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : وہ چل کر مدینہ آئے اور کہا : ان شاء اللہ! یہی ( کجاوے ) کھولنے کی ، یاکہا : یہی اترنے کی جگہ ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5786

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ وَلَمْ يَقُلْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
This hadith has been transmitted on the authority of 'Abdullah b. Harith with a slight variation of wording.
یونس نے اسی سند کے ساتھ ابن شہاب سے خبر دی ، مگر انھوں نے کہا : بلاشبہ عبداللہ بن حارث نے انھیں حدیث سنائی اور " عبداللہ بن عبداللہ " نہیں کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5787

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ فَقَالُوا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلَافَهُ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ وَقَالَ لَهُ أَيْضًا أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَسِرْ إِذًا قَالَ فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَحِلُّ أَوْ قَالَ هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ وَلَمْ يَقُلْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
Amir b. Rabi'ah reported: 'Umar went to Syria and as he came to Sargh, information was given to him that an epidemic had broken out in Syria. 'Abd al-Rahman b. 'Auf narrated to him that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: When you hear of its presence in a land, don't move towards it, and when it breaks out in a land and you are therein, then don't run away from it. So 'Umar b. Khattab came back from Sargh. Salim b. 'Abdullah reported that 'Umar went back, along with people on hearing the hadith reported on the authority of 'Abd al-Rahman b. 'Auf.
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے ، روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی طرف روانہ ہو ئے ، جب سرغ پہنچے تو ان کو یہ اطلا ع ملی کہ شام میں وبا نمودار ہو گئی ہے ۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : "" جب تم کسی علاقے میں اس ( وبا ) کی خبر سنو تو وہاں نہ جا ؤ اور جب تم کسی علاقے میں ہواور وہاں وبا نمودار ہو جا ئے تو اس وبا سے بھا گنے کے لیے وہاں سے نہ نکلو ۔ "" اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرغ سے لوٹ آئے ۔ اور ابن شہاب سے روایت ہے ، انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو لے کر لوٹ آئے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5788

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ - قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا؟ قَالَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no infection, no safar, no hama. A desert Arab said: Allah's Messenger, how is it that when the camel is in the sand it is like a deer-then a camel afflicted with scab mixes with it and it is affected by sub? He (the Holy Prophet) said: Who infected the first one?
یونس نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مرض کا کسی دوسرے کو چمٹنا ماہ صفر کی نحوست اور مقتول کی کھوپڑی سے الوکا نکلنا سب بے اصل ہیں تو ایک اعرا بی ( بدو ) نے کہا : تو پھر اونٹوں کا یہ حال کیوں ہو تا ہے کہ وہ صحرامیں ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے ہرن ( صحت مند چاق چوبند ) ، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے ، ان میں شامل ہو تا ہے ، اور ان سب کو خارش لگا دیتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگا ئی تھی ۔ ؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5789

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no evil omen, no safar, no hama. A desert Arab said: Allah's, Messenger.... The rest of the hadith is the same.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا ، نہ بد فالی کی کو ئی حقیقت ہے نہ صفر کی نحوست کی اور نہ کھوپڑی سے الونکلنے کی ۔ " تو ایک اعرابی کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( آگے ) یو نس کی حدیث کی مانند ( ہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5790

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى» فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَصَالِحٍ، وَعَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no trahsitive disease. Thereupon a desert Arab stood up. The rest of the hadith is the same and in the hadith transmitted on the authority of Zuhri' the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) is reported to have said: There is no transitive disease, no safar, no hama.
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : کو ئی مرض کسی دوسرے کو خود بخود نہیں چمٹتا ۔ " تو ایک اعرابی کھڑا ہو گیا ، پھر یونس اور صالح کی حدیث کی مانند بیان کیا اور شعیب سے روایت ہے ، انھوں نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سائب بن یزید بن اخت نمر نے حدیث سنا ئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " نہ کسی سے خود بخود مرض چمٹتا ہے نہ صفر کی نحوست کو ئی چیز ہے اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5791

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى» وَيُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ» قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا كِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ «لَا عَدْوَى» وَأَقَامَ عَلَى أَنْ «لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ» قَالَ: فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُكَ، يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ، قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ، كُنْتَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى» فَأَبَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ، وَقَالَ: «لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ» فَمَا رَآهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِكَ حَتَّى غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، فَقَالَ لِلْحَارِثِ: أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ أَبَيْتُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُنَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى» فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الْآخَرَ؟
Abu Salama h. 'Abd al-Rahman b. 'Auf reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, but he is also reported to have said: A sick person should not be taken to one who is healthy. Abu Salama said that Abu Huraira used to narrate these two (different ahadith) from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), but afterwards Abu Huraira became silent on these words: There is no transitive disease, but he stuck to this that the sick person should not be taken to one who is healthy. Harith b. Abu Dhubab (and he was the first cousin of Abu Huraira) said: Abu Huraira, I used to hear from you that you narrated to us along with this hadith and the other one also (there is no transitive disease), but now you observe silence about it. You used to say that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is no transitive disease. Abu Huraira denied having any knowledge of that, but he said that the sick camel should not be taken to the healthy one. Harith, however, did not agree with him, which irritated Abu Huraira and he said to him some words in the Abyssinian language. He said to Harith: Do you know what I said to you? He said: No. Abu Huraira said: I simply denied having said it. Abu Salama sad: By my life, Abu Huraira in fact used to report Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: There is no transitive disease. I do not know whether Abu Huraira has forgotten it or he deemed it an abrogated statement in the light of the other one.
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہ ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتااور وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے ( چرواہے ) کے پاس اونٹ نہ لے جا ئے ۔ "" ابو سلمہ نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے ، پھر ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ "" لاعدوي "" والی حدیث بیان کرنے سے رک گئے اور "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس ( اونٹ ) نہ لا ئے ۔ "" والی حدیث پر قائم رہے ۔ تو حارث بن ابی ذباب نے ۔ وہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا کے بیٹے تھے ۔ ۔ کہا : ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں تم سے سنا کرتا تھا ، تم اس کے ساتھ ایک اور حدیث بیان کرتے تھے جسے بیان کرنے سے اب تم خاموش ہو گئے ۔ ہو ۔ تم کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کسی سے مرض خود بخود نہیں چمٹتا "" تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کو پہناننے سے انکا ر کر دیا اور یہ حدیث بیان کی ۔ "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس ( اونٹ ) نہ لا ئے ۔ "" اس پر حارث نے اس معاملے میں ان کے ساتھ تکرار کی حتی کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں ان کو نہ سمجھ میں آنے والی کو ئی بات کہی ، پھر حارث سے کہا : تمھیں پتہ چلا ہے کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے؟ انھوں نے کہا : نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا : میں ( اس سے ) انکا ر کرتا ہوں ۔ ابو سلمہ نے کہا : مجھے اپنی زند گی کی قسم!ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں یہ حدیث سنایا کرتے تھے ۔ "" لاعدوي ( کسی سے خود بخود کو ئی بیماری نہیں لگتی ) مجھے معلوم نہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھول گئے ہیں یا ایک بات نے دوسری کو منسوخ کردیا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5792

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى» وَيُحَدِّثُ مَعَ ذَلِكَ «لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ» بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease and he also reported along with it: The ill should not be taken to the healthy.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا : انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی مرض خود بخود دوسرے کو نہیں لگ جا تا ۔ اور اس کے ساتھ یہ بیان کرتے " بیمار اونٹوں والا ( اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے کے پاس نہ لا ئے ۔ " یو نس کی حدیث کے مانند ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5793

حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5794

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no huma, no star promising rain, no safar.
علاء کے والد ( عبد الرحمٰن ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا کھوپڑی سے الوکانکلنا ، ستارے کے غائب ہو نے اور طلوع ہو نے سے بارش برسنا اور صفر ( کی نحوست ) کی کو ئی حقیقت نہیں ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5795

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا غُولَ»
Jabir reported Allal's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no ill omen, no ghoul.
ابو خیثمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی سے کو ئی مرض لا زمی طور پر نہیں چمٹ جا تا ۔ نہ بد شگونی کو ئی چیز ہے ، نہ چھلا وے ( غول بیا بانی ) کی کو ئی حقیقت ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5796

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا غُولَ، وَلَا صَفَرَ»
Jabir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no ghoul, no safar.
یزید تستری نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا ، نہ چھلا وا کوئی چیز ہے ، نہ صفر کی ( نحوست ) کو ئی حقیقت ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5797

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، وَلَا غُولَ» وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ، أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ: «وَلَا صَفَرَ»، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: الصَّفَرُ: الْبَطْنُ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: كَيْفَ؟ قَالَ: كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ، قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: هَذِهِ الْغُولُ: الَّتِي تَغَوَّلُ
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no safar, no ghoul. He (the narrator) said: I heard Abu Zubair say: Jabir explained for them the word safar. Abu Zubair said: safar means belly. It was said to Jabir: Why is it so? He said that it was held that safar implied the worms of the belly, but he gave no explanation of ghoul. Abu Zubair said: Ghoul is that which kills the travellers.
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں لگ جا تا ، نہ صفر ( کی نحوست ) اور چھلاوا کو ئی چیز ہے ۔ ( ابن جریج نے کہا : ) میں نے ابو زبیر کو یہ ذکر کرتے ہو ئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان " ( وَلَا صَفَر ) کی وضاحت کی ، ابو زبیر نے کہا : صفر پیٹ ( کی بیماری ) ہے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : کیسے ؟انھوں نے کہا : کہا جا تا تھا کہ اس سے پیٹ کے اندربننے والے جانور مراد ہیں ۔ کہا : انھوں نے غول کی تشریح نہیں کی ، البتہ ابو زبیر نے کہا : یہ غول ( وہی ہے جس کے بارے میں کہا جا تا ہے ) جو رنگ بدلتا ہے ( اور مسافروں کو راستے سے بھٹکا کر مارڈالتا ہے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5798

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ»
Abu Huraira reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no divination but the best type is the good omen. It was said to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): What is good omen? Thereupon he said: A good word which one of you hears.
معمر نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا : " بد شگونی کی کو ئی حقیقت نہیں اور شگون میں سے اچھی نیک فال ہے ۔ " عرض کی گئی ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فال کیا ہے ؟ ( وہ شگون سے کس طرح مختلف ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( فال ) نیک کلمہ ہے تو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہےَ ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5799

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، ح وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ. وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعْتُ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ: قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ: مَعْمَرٌ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
عقیل بن خالد اور شعیب دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔ عقیل کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ، انھوں نے " میں نے سنا " کے الفا ظ نہیں کہے اور شعیب کی حدیث میں ہے ۔ انھوں نے کہا : " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ " جس طرح معمر نے کہا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5800

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ: الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ، الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ
Anas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no divination, but good omen pleases me, i. e. the good word or a good word.
ہمام بن یحییٰ نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں لگتا برے شگون کی کو ئی حقیقت نہیں اور ( اس کے بالمقابل ) نیک فال یعنی حوصلہ افزائی کا اچھا کلمہ پاکیزہ بات مجھے اچھی لگتی ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5801

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ» قَالَ قِيلَ: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ»
Anas b. Malik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no divination, but good omen pleases me. It was said: What is good omen? He said: Sacred words.
شعبہ نے کہا : میں قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں لگتا براشگون کی کو ئی چیز نہیں اور مجھے نیک فال اچھی لگتی ہے ۔ " کہا آپ سے عرض کی گئی : نیک فال کیا ہے ؟فر ما یا : " پاکیزہ کلمہ ( دعایا حوصلہ افزائی یا دا نا ئی پر مبنی کو ئی جملہ ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5802

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no divination, but I like good words.
یحییٰ بن عتیق نے کہا : ہمیں محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی پر لازمی طور پر بیمار ی لگ جا نے کی کو ئی حقیقت نہیں بد شگونی کو ئی شے نہیں اور میں اچھی فال کو پسند کرتا ہوں ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5803

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no hama, no divination, but I like good omen.
ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " لا زمی طور پر خود بخود کسی سے بیمار ی لگ جا نے کی کو ئی حقیقت نہیں ، کھوپڑی سے الونکلنا کو ئی چیز نہیں ، بد شگونی کچھ نہیں اور میں نیک فا ل کو پسند کرتا ہوں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5804

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ»
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If there be bad luck, it is in the house, and the wife, and the horse.
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : عدم موافقت ( ناسزاداری ) گھری ، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5805

وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ: الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ، وَالدَّارِ
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying. There is no transitive disease, no ill omen, and bad luck is lound in the house, or wife or horse.
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوبیٹوں حمزہ اور سالم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی سے خود بخود مرض کا لگ جا نا اور بد شگونی کی کو ئی حقیقت نہیں ۔ ناموافقت تین چیزوں میں ہو تی ہے ۔ عورت گھوڑے اور گھر میں ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5806

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الشُّؤْمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ لَا يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَى وَالطِّيَرَةَ، غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with other chains of transmitters but with slight variations of wording.
سفیان ، صالح ، عقیل ، بن خا لد ، عبد الرحمٰن بن اسحٰق اور شعیب ، ان سب نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( ابن معر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے انھوں نے ناموافقت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا ، یو نس بن یزید کے علاوہ ان میں سے کسی نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں "" کسی بیماری کے خو د بخود کسی دوسرے کو لگ جا نے اور بد شگونی "" کا ذکر نہیں کیا ۔ حدیث نمبر 5807 ۔ محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہو نا بر حق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے عورت اور مکان میں ہے ۔ ""
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5807

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ، فَفِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ»
Umar b. Muhammad b. Zaid reported that he heard his father narrating from Ibn 'Umar that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said. If bad luck is a fact, then it is in the horse, the woman and the house.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہو نا بر حق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے عورت اور مکان میں ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5808

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: حَقٌّ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but there is no mention of the word Haqq (fact).
روح بن عبادہ نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی لیکن انوھں نے " برحق " نہیں کہا : ( امکان یہی ہے کہ وہ حدیث روایت بالمعنی ہے ، )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5809

وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ، وَالْمَسْكَنِ، وَالْمَرْأَةِ»
Abdullah b. 'Umar reported on the authority of his father that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If there is bad luck in anything, it is the horse, the abode and the woman.
حمزہ بن عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر کسی چیز میں عدم موافقت ہو تو گھوڑے ، مکان اور عورت میں ہو گی ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5810

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ، فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ» - يَعْنِي الشُّؤْمَ
Sahl b. Sa'd reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If bad luck were to be in anything, it is found in the woman, the horse and the abode.
امام مالک نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر یہ بات ہو تو عورت ، گھوڑے اور گھر میں ہو گی ۔ " آپ کی مراد عدم موافقت سے تھی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5811

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd with a different chain of transmitters.
ہشام بن سعد نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند حدیث روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5812

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ فَفِي الرَّبْعِ، وَالْخَادِمِ، وَالْفَرَسِ»
Jabir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If bad luck were to be in anything, it is found in the land, in the servant and in the horse.
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبردے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر کسی چیز میں یہ بات ہو گی تو گھر ، کادم اور گھوڑےمیں ہو گی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5813

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ: «فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ» قَالَ قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ»
Mu'awiya b. al-Hakam as-Sulami reported: I said: Messenger of Allah, there were things we used to do in the pre-Islamic days. We used to visit Kahins, whereupon he said: Don't visit Kahins. I said: We used to take omens. He said: That is a sort of personal whim of yours, so let it not prevent you (from doing a thing).
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف سے ، انھوں نے حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کچھ کا م ایسے تھے جو ہم زمانے جاہلیت میں کیا کرتے تھے ہم کا ہنوں کے پاس جا تے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " تم کا ہنوں کے پاس نہ جا یا کرو ۔ " میں نے عرض کی : ہم بد شگونی لیتے تھے ، آپ نے فر ما یا : " یہ ( بدشگونی ) محض ایک خیال ہے جو کو ئی انسان اپنے دل میں محسوس کرتا ہے ، یہ تمھیں ( کسی کام سے ) نہ روکے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5814

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا فِي حَدِيثِهِ ذَكَرَ الطِّيَرَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْكُهَّانِ.
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording.
عقیل معمر ، ابن ابی ذئب اور مالک ، ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یو نس کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، مگر مالک نے اپنی حدیث میں بدشگونی کا نام لیا ہے ، اس میں کا ہنوں کا ذکر نہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5815

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ»
This hadith has been narrated on the authority of Mu'awiya b. Hakam as-Sulami through another chain of transmitters. The hadith transmitted on the authority of Yahya b. Abu Kathir (there is an addition of these words): I said: Among us there are men who draw lines and thus make divination. What about this? Thereupon he (the Holy Prophet) said: There was a Prophet who drew lines, so whose lines agree with his line for him it is allowable.
حجاج صواف اور اوزاعی ، دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے ، انھوں نے عطا ء بن یسار سے ، انھوں نے معاویہ بن حکم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زہری کی ابو سلمہ سے اور ان کی معاویہ سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی ، اور یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں یہ الفا ظ زائد بیان کیے ، کہا : میں نے عرض کی : ہم میں ایسے لو گ ہیں جو ( مستقبل کا حال بتا نے کے لیے ) لکیریں کھینچتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچتے تھے ، جو ان کی لکیروں سے موافقت کرگیا تو وہ ٹھیک ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5816

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْكُهَّانَ كَانُوا يُحَدِّثُونَنَا بِالشَّيْءِ فَنَجِدُهُ حَقًّا قَالَ: «تِلْكَ الْكَلِمَةُ الْحَقُّ، يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ، وَيَزِيدُ فِيهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ»
A'isha reported: I said: Allah's Messenger, the kahins used to tell us about things (unseen) and we found them to be true. Thereupon he said: That is a word pertaining to truth which a jinn snatches and throws into the ear of his friend, and makes an addition of one hundred lies to it.
معمر نے زہر ی سے ، انھوں نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کا ہن کسی چیز کے بارے میں جو ہمیں بتا یا کرتے تھے ( ان میں سےکچھ ) ہم درست پاتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ سچی بات ہو تی ہے جسے کو ئی جن اچک لیتا ہے اور وہ اس کو اپنے دوست ( کا ہن ) کے کا ن میں پھونک دیتا ہے اور اس ایک سچ میں سوجھوٹ ملا دیتا ہے ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5817

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسُوا بِشَيْءٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّيْءَ يَكُونُ حَقًّا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ»
Urwa reported from 'A'isha that she said that people asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about the kahins. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to them: It is nothing (i. e. it is a mere superstition). They said: Allah's Messenger, they at times narrate to us things which we find true. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: That is a word pertaining to truth which a jinn snatches away and then cackles into the ear of his friend as the hen does. And then they mix in it more than one hundred lies.
معقل بن عبید اللہ نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے یحییٰ بن عروہ نے بتا یا کہ انھوں نے عروہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : لو گوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کا ہنوں کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" وہ کچھ نہیں ہیں ۔ "" صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ لو گ بعض اوقات ایسی چیز بتاتے ہیں جو سچ نکلتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : وہ جنوں کی بات ہو تی ہے ، ایک جن اسے ( آسمان کے نیچے سے ) اچک لیتا تھا پھر وہ اسے اپنے دوست ( کا ہن ) کے کان میں مرغی کی کٹ کٹ کی طرح کٹکٹاتا رہتا ہے ۔ اور وہ اس ( ایک ) بات میں سو زیادہ جھوٹ ملا دیتا ہے ۔ ""
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5818

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْقِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
ابن جریج نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ معقل کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5819

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، وَقَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ، إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا» ثُمَّ قَالَ: الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ: قَالَ فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيُرْمَوْنَ بِهِ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ
Abdullah. Ibn 'Abbas reported: A person from the Ansar who was amongst the Companions of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reported to me: As we were sitting during the night with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), a meteor shot gave a dazzling light. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What did you say in the pre-Islamic days when there was such a shot (of meteor)? They said: Allah and His Messenger know best (the actual position), but we, however, used to say that that very night a great man had been born and a great man had died, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (These meteors) are shot neither at the death of anyone nor on the birth of anyone. Allah, the Exalted and Glorious, issues Command when He decides to do a thing. Then (the Angels) supporting the Throne sing His glory, then sing the dwellers of heaven who are near to them until this glory of God reaches them who are in the heaven of this world. Then those who are near the supporters of the Throne ask these supporters of the Throne: What your Lord has said? And they accordingly inform them what He says. Then the dwellers of heaven seek information from them until this information reaches the heaven of the world. In this process of transmission (the jinn snatches) what he manages to overhear and he carries it to his friends. And when the Angels see the jinn they attack them with meteors. If they narrate only which they manage to snatch that is correct but they alloy it with lies and make additions to it.
صالح نے ابن شہا ب سے ، روایت کی : کہا مجھے علی بن حسین ( زین العابدین ) نے حدیث سنا ئی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک انصاری نے مجھے بتا یا کہ ایک بار وہ لو گ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہو ئے تھے ۔ کہ ایک ستا رے سے کسی چیز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ روشن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " جب جاہلیت میں اس طرح ستارے سے نشانہ لگا یا جا تا تھا ۔ تو تم لوگ کیا کہا کرتے تھے؟لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جا ننے والے ہیں ہم یہی کہا : کرتے تھے ۔ کہ آج رات کسی عظیم انسان کی ولادت ہو ئی ہے اور کو ئی عظیم انسان فوت ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے کسی کی زندگی یا موت کی بنا پر نشانے کی طرف نہیں چھوڑا جا تا ، بلکہ ہمارا رب ، اس کا نام برکت والا اور اونچا ہے ، جب کسی کام کا فیصلہ فر ما تا ہے تو حاملین عرش ( زورسے ) تسبیح کرتے ہیں ، پھر ان سے نیچے والے آسمان کے فرشتے تسبیح کا ورد کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ تسبیح کا ورد ( دنیا کے ) اس آسمان تک پہنچ جا تا ہے ، پھر حاملین عرش کے قریب کے فرشتے حاملین عرش سے پو چھتے ہیں تمھا رے پروردیگا ر نے کیا فرمایا؟وہ انھیں بتا تے ہیں کہ اس نے کیا فر ما یا پھر ( مختلف ) آسمانوں والے ایک دوسرے سے پو چھتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ خبر دنیا کے اس آسمان تک پہنچ جا تی ہے تو جن بھی جلدی سے اس کی کچھ سماعت اچکتے ہیں اور اپنے دوستوں ( کا ہنوں ) تک دے چھینکتے ہیں ( اس خبر کو پہنچادیتے ہیں ) خبروہ صحیح طور پر لا تے ہیں وہ سچ تو ہو تی ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا تے اور اضافہ کردیتے ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5820

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللهِ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ «وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ» وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ «وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ» وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ وَقَالَ اللهُ: {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ} [سبأ: 23] وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ
The hadith has been narrated on the authority of Zuhri through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
اوزاعی ، یونس اور معقل بن عبید اللہ سب نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر یونس نے کہا : عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : مجھے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے خبر دی اور اوزاعی کی حدیث میں ہے ۔ لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا تے ہیں اور بڑھا تے ہیں ۔ " اور یونس کی حدیث میں ہے : " لیکن وہ اونچا لے جا تے ہیں ( مبا لغہ کرتے ہیں ) اور بڑھاتے ہیں ۔ " یونس کی حدیث میں مزید یہ ہے : اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے ہیبت اور ڈر کو ہٹا لیا جا تا ہے تو وہ کہتے ہیں ۔ تمھا رے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں ۔ حق کہا ۔ اور معقل کی حدیث میں اسی کی طرح ہے جس طرح اوزاعی نے کہا : " لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا تے ہیں ۔ اور اضافہ کرتے ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5821

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً»
Safiyya reported from some of the wives of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: He who visits a diviner ('Arraf) and asks him about anything, his prayers extending to forty nights will not be accepted.
۔ ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ ) صفیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فرما یا : " جو شخص کسی غیب کی خبر یں سنا نے والے کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو چالیس راتوں تک اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5822

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ»
Amr b. Sharid reported on the authority of his father that there was in the delegation of Thaqif a leper. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent a message to him: We have accepted your allegiance, so you may go.
عمرو بن شرید نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ثقیف کے وفد میں کو ڑھ کا یک مریض بھی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا : " ہم نے ( بالواسطہ ) تمھا ری بیعت لے لی ہے ، اس لیے تم ( اپنے گھر ) لوٹ جاؤ ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5823

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ، فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ»
A'isha reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded the killing of a snake having stripes over it, for it affects eyesight and miscarries pregnancy.
عبد ہ بن سلیمان اور ابن نمیر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ پر دوسفید لکیروں والے سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ، کیونکہ وہ بصارت چھین لیتا ہے ۔ اور حمل کو نقصان پہنچاتا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5824

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: الْأَبْتَرُ وَذُو الطُّفْيَتَيْنِ
This hadith has been transmitted on the authority of Hisham. He said: The short-tailed snake and the snake having stripes over it should be killed.
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اس سند کے ساتھ حدیث سنا ئی اور کہا : بے دم کا سانپ اور پشت پر دو سفیدلکیروں والا سانپ ( ماردیا جا ئے ۔ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5825

وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ» قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: «يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا» فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ»
Salim, on the authority of his father. reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Kill the snakes having stripes over them and short-tailed snakes, for these two types cause miscarriage (of a pregnant woman) and they affect the eyesight adversely. So Ibn 'Umar used to kill every snake that he found. Abu Lubaba b. 'Abd al-Mundhir and Zaid b. Khattab saw him pursuing a snake, whereupon he said: They were forbidden (to kill) those snakes who live in houses.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : "" سانپوں کو قتل کردو اور ( خصوصاً ) دو سفید لکیروں والے اور دم بریدہ کو ، کیونکہ یہ حمل گرا دیتے ہیں اور بصارت زائل کردیتے ہیں ۔ "" ( سالم نے ) کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار ڈالتے ، ایک بارابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انھوں نے کہا : لمبی مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو ( فوری طور پر ) ماردینے سے منع کیا گیا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5826

وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ يَقُولُ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلَابَ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى» قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَنُرَى ذَلِكَ مِنْ سُمَّيْهِمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ» قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: «فَلَبِثْتُ لَا أَتْرُكُ حَيَّةً أَرَاهَا إِلَّا قَتَلْتُهَا»، فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً يَوْمًا، مِنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ، مَرَّ بِي زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ، وَأَنَا أُطَارِدُهَا، فَقَالَ: مَهْلًا، يَا عَبْدَ اللهِ فَقُلْتُ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ»، قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ»
Ibn 'Umar reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanding the killing of dogs and the killing of the striped and the short-tailed snakes, for both of them affect the eyesight adversely and cause miscarriage. Zuhri said: We thought of their poison (the pernicious effects of these two). Allah, however, knows best. 'Abdullah b. 'Umar said: I did not spare any snake. I rather killed everyone that I saw. One day as I was pursuing a snake from amongst the snakes of the house, Zaid b. Khattab or Abu Lubaba happened to pass by me and found me pursuing it. He said: 'Abdullah, wait. I said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded (us) to kill them, whereupon he said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the killing of the snakes of the houses.
زبیدی نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ ( آوارہ کتوں کو مار دینے کا حکم دیتے تھے ، آپ نے فر ما تے تھے : "" سانپوں اور کتوں کو ماردو اور سفید دھاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو ( ضرور ) مارو ، وہ دونوں بصارت زائل کر دیتے ہیں اور ھاملہ عورتوں کا اسقاط کرادیتے ہیں ۔ "" زہری نے کہا : ہمارا خیال ہے یہ ان دونوں کے زہرکی بنا پر ہوتا ہے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے اور ان سے تابعین اور محدثین نے یہی مفہوم اخذ کیا ۔ یہی حقیقت ہے ) واللہ اعلم ۔ سالم نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرما یا : میں ایک عرصہ تک کسی بھی سانپ کو دیکھتا تو نہ چھوڑتا ۔ اسے مار دیتا ۔ ایک روز میں مدت سے گھر میں رہنے والے ایک سانپ کا پیچھا کررہا تھا کہ زید بن خطاب یا ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس سے گزرے تو کہنے لگے : عبداللہ !رک جاؤ ۔ میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ماردینے کا حکم دیا ہے ، انھوں نے کہا : بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں ( کے قتل ) سے روکا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5827

وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ صَالِحًا قَالَ: حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَا: «إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ» وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ» وَلَمْ يَقُلْ «ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ»
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
یونس معمر اور صالح سب نے ہمیں زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، البتہ صالح نے کہا : یہاں تک کہ ابو لبابہ بن عبد المنذر اور زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے س ( سانپ کا پیچھا کرتے ہو ئے ) دیکھا تودونوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں سے روکا ہے ۔ اور یونس کی حدیث میں ہے : " سانپوں کو قتل کرو " انھوں نے " دوسفید دھاریوں والے اور دم کٹے " کے الفا ظ نہیں کہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5828

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ، كَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ، يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ: لَا تَقْتُلُوهُ، «فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ»
Nafi' reported that Abu Lubaba talked to Ibn 'Umar to open a door in his house which would bring them nearer to the mosque and they found a fresh slough of the snake, whereupon 'Abdullah said: Find it out and kill it. Abu Lubaba said: Don't kill them, for Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the killing of the snakes found in houses.
لیث ( بن سعد ) نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کی کہ وہ ان کے لیے اپنے گھر ( کے احاطے ) میں ایک دروازہ کھول دیں جس سے وہ مسجد کے قریب آجا ئیں تو لڑکوں کو سانپ کی ایک کینچلی ملی ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس کو قتل مت کرو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چھپے ہو ئے سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا : ہے جو گھر وں کے اندر ہو تے ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5829

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ حَتَّى حَدَّثَنَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْبَدْرِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ، فَأَمْسَكَ»
Nafi' reported that Ibn 'Urnar used to kill all types of snakes until Abu Lubaba b. 'Abd al-Mundhir Badri reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had forbidden the killing of the snakes of the houses, and so he abstained from it.
جریر بن حازم نے کہا : ہمیں نافع نے حدیث سنا ئی کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سانپوں کو مار ڈالتے تھے ، حتی کہ حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذربدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم لوگوں کو یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدت سے ) گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فر ما یا ہے ۔ پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رک گئے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5830

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ، يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ»
Nafi' reported that he heard Abu Lubaba informing Ibn 'Umar that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had forbidden the killing of domestic snakes.
عبید اللہ نے کہا : مجھے نافع نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( گھریلو ) سانپوں کے مارنے سے منع فر ما یا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5831

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ»
Abdullah reported that Abu Lubaba had informed him that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had forbidden the killing of the snakes found in the house.
نافع سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع فر ما یا : جو گھروں میں رہتے ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5832

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ مَسْكَنُهُ بِقُبَاءٍ فَانْتَقَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسًا مَعَهُ يَفْتَحُ خَوْخَةً لَهُ، إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ مِنْ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ، فَأَرَادُوا قَتْلَهَا، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ: إِنَّهُ قَدْ «نُهِيَ عَنْهُنَّ يُرِيدُ عَوَامِرَ الْبُيُوتِ، وَأُمِرَ بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَقِيلَ هُمَا اللَّذَانِ يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ، وَيَطْرَحَانِ أَوْلَادَ النِّسَاءِ»
Nafi' reported that Abu Lubaba b. 'Abd al-Mundhir al-Ansari (first) lived in Quba. He then shifted to Medina and as he was in the company of 'Abdullah b. 'Umar opening a window for him, he suddenly saw a snake in the house. They (the inmates of the house) attempted to kill that. Thereupon Abu Lubaba said: They had been forbidden to make an attempt to kill house snakes and they had been commanded to kill the snakes having small tails, small snakes and those having streaks over them, and it was said: Both of them affect the eyes and cause miscarriage to women.
یحییٰ بن سعید کہہ رہے تھے : مجھے نافع نے خبر دی کہ حضرت ابولبابہ بن عبدا لمنذرانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ اور ان کا گھر قبا ء میں تھا وہ مدینہ منورہ منتقل ہو گئے ۔ ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ بیٹھے ہو ئے ( ان کی خاطر ) اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انھوں نے ایک سانپ دیکھا جو گھر آباد کرنے والے ( مدت سے گھروں میں رہنے والے ) سانپوں میں سے تھا ۔ گھروالوں نے اس کو قتل کرنا چا ہا تو حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کو ۔ ان کی مراد گھروں میں رہنے والے سانپوں سے تھے ۔ مارنے سے منع کیا گیا تھا ۔ اور دم کٹے اور دوسفید دھاریوں والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ کہا گیا : یہی دو سانپ ہیں جو نظر چھین لیتے ہیں اور عورتوں کے ( پیٹ کے ) بچوں کو گرا دیتے ہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5833

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمًا عِنْدَ هَدْمٍ لَهُ، فَرَأَى وَبِيصَ جَانٍّ فَقَالَ: اتَّبِعُوا هَذَا الْجَانَّ فَاقْتُلُوهُ، قَالَ أَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ، إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ، فَإِنَّهُمَا اللَّذَانِ يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ، وَيَتَتَبَّعَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ»
Nafi' reported on the authority of his father that as 'Abdullah b. 'Umar saw one day (standing) near the ruin (of his house) the slough of a snake and said (to the people around him): Pursue this snake and kill it. Abu Lubaba Ansari said: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He forbade the killing of snakes found in the houses except the short-tailed snakes and those having streaks upon them, for both of them obliterate eyesight and affect that which is in the wombs of (pregnant) women.
عمر بن نافع نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کے گرے ہو ئے حصے کے قریب مو جو د تھے کہ انھوں نے اچانک سانپ کی ایک کینچلی دیکھی ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : اس سانپ کو تلا ش کر کے قتل کردو ۔ حضرت ابو لبابہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے ان سانپوں کو ، جو گھروں میں رہتے ہیں قتل کرنےسے منع فر ما یا ، سوا ئے دم کٹے اور دو سفید دھاریوں والے سانپوں کے کیونکہ یہی دوسانپ ہیں جو نظر کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے حمل کو نقصان پہنچاتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5834

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ، مَرَّ بِابْنِ عُمَرَ وَهُوَ عِنْدَ الْأُطُمِ الَّذِي عِنْدَ دَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، يَرْصُدُ حَيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ
Nafi' reported that Abu Lubaba happened to pass by Ibn 'Umar who lived in the fortified place near the house of 'Umar b. Khattab and was busy in keeping his eyes upon a snake and killing it, the rest of the hadith is the same.
اسامہ کو نافع نے حدیث سنا ئی کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرے ، وہ اس قلعے نما حصے کے پاس تھا جووہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رہائش گا ہ کے قریب تھا ، وہ اس میں ایک سانپ کی تاک میں تھے ، جس طرح لیث بن سعد کی ( حدیث : 5828 ) ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5835

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى: وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً، إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ: «اقْتُلُوهَا» فَابْتَدَرْنَاهَا، لِنَقْتُلَهَا، فَسَبَقَتْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَقَاهَا اللهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا»
Abdullah reported: We were with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in a cave when there was revealed to him (the Sura al-Mursalat, i. e. Sura lxxvii.: By those sent forth to spread goodness ) and we had just heard (it) from his lips that there appeared before us a snake. He said: Kill it. We hastened to kill it, but it slipped away from us, thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah saved it from your harm just as he saved you from its evil.
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ( سورۃ ) ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾نازل ہو ئی ، ہم اس سورت کو تازہ بہ تازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے حاصل کر ( سیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ نکلا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس کو مار دو ۔ " ہم اس کو مارنے کے لیے جھپٹےتو وہ ہم سے آگے بھا گ گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعالیٰ نے اس کو تمھا رے ( ہاتھوں ) نقصان پہنچنےسے بچا لیا جس طرح تمھیں اس کے نقصان سے بچا لیا ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5836

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of al-A'mash with the same chain of transmitters.
جریر اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5837

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى»
Abdullah reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded a Muhrim (one who is in the state of pilgrimage) to kill the snake at Mina.
ابو کریب نے کہا : ہمیں حفص نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے ابرا ہم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں احرام والے ایک شخص کو سانپ مارنے کا حکم دیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5838

وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ
Abdullah reported: While we were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in the cave, the rest of the hadith is the same as the one narrated above.
عمر بن حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابرا ہیم نے اسود سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غار میں تھےجس طرح جریر اور ابو معاویہ کی حدیث ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5839

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ - وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ - أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى، قَالَ: فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ وَقُلْنَا ادْعُ اللهَ يُحْيِيهِ لَنَا فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا، فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَاقْتُلُوهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ»
Abu as-Sa'ib, the freed slaved of Hisham b. Zuhra, said that he visited Abu Sa'id Khudri in his house, (and he further) said: I found him saying his prayer, so I sat down waiting for him to finish his prayer when I heard a stir in the bundles (of wood) lying in a comer of the house. I looked towards it and found a snake. I jumped up in order to kill it, but he (Abu Sa'id Khudri) made a gesture that I should sit down. So I sat down and as he finished (the prayer) he pointed to a room in the house and said: Do you see this room? I said: Yes. He said: There was a young man amongst us who had been newly wedded. We went with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (to participate in the Battle) of Trench when a young man in the midday used to seek permission from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to return to his family. One day he sought permission from him and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (after granting him the permission) said to him: Carry your weapons with you for I fear the tribe of Quraiza (may harm you). The man carried the weapons and then came back and found his wife standing between the two doors. He bent towards her smitten by jealousy and made a dash towards her with a spear in order to stab her. She said: Keep your spear away and enter the house until you see that which has made me come out. He entered and found a big snake coiled on the bedding. He darted with the spear and pierced it and then went out having fixed it in the house, but the snake quivered and attacked him and no one knew which of them died first, the snake or the young man. We came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and made a mention to him and said: Supplicate to Allah that that (man) may be brought back to life. Thereupon he said: Ask forgiveness for your companion and then said: There are in Medina jinns who have accepted Islam, so when you see any one of them, pronounce a warning to it for three days, and if they appear before you after that, then kill it for that is a devil.
امام مالک بن انس نے ، ابن افلح کے آزاد کردہ غلام صیفی سے روایت کی ، کہا : مجھے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گئے ۔ ابوسائب نے کہا کہ میں نے ان کو نماز میں پایا تو بیٹھ گیا ۔ میں نماز پڑھ چکنے کا منتظر تھا کہ اتنے میں ان لکڑیوں میں کچھ حرکت کی آواز آئی جو گھر کے کونے میں رکھی تھیں ۔ میں نے ادھر دیکھا تو ایک سانپ تھا ۔ میں اس کے مارنے کو دوڑا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جا ۔ میں بیٹھ گیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے ایک کوٹھری دکھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ کوٹھڑی دیکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں ، انہوں نے کہا کہ اس میں ہم لوگوں میں سے ایک جوان رہتا تھا ، جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف نکلے ۔ وہ جوان دوپہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر گھر آیا کرتا تھا ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریظہ کا ڈر ہے ( جنہوں نے دغابازی کی تھی اور موقع دیکھ کر مشرکوں کی طرف ہو گئے تھے ) ۔ اس شخص نے اپنے ہتھیار لے لئے ۔ جب اپنے گھر پر پہنچا تو اس نے اپنی بیوی کو دیکھا کہ دروازے کے دونوں پٹوں کے درمیان کھڑی ہے ۔ اس نے غیرت سے اپنا نیزہ اسے مارنے کو اٹھایا تو عورت نے کہا کہ اپنا نیزہ سنبھال اور اندر جا کر دیکھ تو معلوم ہو گا کہ میں کیوں نکلی ہوں ۔ وہ جوان اندر گیا تو دیکھا کہ ایک بڑا سانپ کنڈلی مارے ہوئے بچھونے پر بیٹھا ہے ۔ جوان نے اس پر نیزہ اٹھایا اور اسے نیزہ میں پرو لیا ، پھر نکلا اور نیزہ گھر میں گاڑ دیا ۔ وہ سانپ اس پر لوٹا اس کے بعد ہم نہیں جانتے کہ سانپ پہلے مرا یا جوان پہلے شہید ہوا ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا قصہ بیان کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس جوان کو پھر جلا دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھی کے لئے بخشش کی دعا کرو ۔ پھر فرمایا کہ مدینہ میں جن رہتے ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں ، پھر اگر تم سانپوں کو دیکھو تو تین دن تک ان کو خبردار کرو ، اگر تین دن کے بعد بھی نہ نکلیں تو ان کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہیں ( یعنی کافر جن ہیں یا شریر سانپ ہیں ) ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5840

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً، فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ صَيْفِيٍّ، وَقَالَ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا، فَإِنْ ذَهَبَ، وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ، فَإِنَّهُ كَافِرٌ» وَقَالَ لَهُمْ: «اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ»
Asma' b. 'Ubaid reported about a person who was called as-Sa'ib having said: We visited Abu Sa'id Khudri. When we had been sitting (with him) we heard a stir under his bed. When we looked we found a big snake, the rest of the hadith is the same. And in this Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) is reported to have said: Verily in these houses there live aged (snakes), so when you see one of them, make life hard for it for three days, and if it goes away (well and good), otherwise kill it for (in that case) it would be a nonbeliever. And he (the Holy Prophet) said (to his Companions): Go and bury your companion (who had died by the snake bite).
جریر بن حا زم نے کہا : میں نے اسماء بن عبید کو ایک آدمی سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، جسے سائب کہا جا تا تھا ۔ وہ ہمارے نزدیک ابو سائب ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہو ئے ، ہم بیٹھے ہو ئے تھے جب ہم نے ان کی چار پا ئی کے نیچے ( کسی چیز کی ) حرکت کی آواز سنی ۔ ہم نے دیکھا تو وہ ایک سانپ تھا ، پھر انھوں نے پو رے واقعے سمیت صیفی سے امام مالک کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اور اس میں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ان گھروں میں کچھ مخلوق آباد ہے ۔ جب تم ان میں سے کو ئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی کرو ( تا کہ وہ خود وہاں سے کہیں اور چلے جا ئیں ) اگر وہ پہلے جا ئیں ( تو ٹھیک ) ورنہ ان کو مار دوکیونکہ پھر وہ ( نہ جا نے والا ) کا فر ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " جاؤاور اپنے ساتھی کو دفن کردو ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5841

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْعَوَامِرِ فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا، فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ»
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Messenger having said: There is a group of jinns in Medina who accepted Islam, so he who would see anything from these occupants should warn him three times; and if he appears after that, he should kill him for he is a satan.
ابن عجلا ن نے کہا : مجھے صیفی نے ابو سائب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا ؛ میں نے ان ( حضرت ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مدینہ میں جنوں کی کچھ نفری رہتی ہے جو مسلمان ہو گئے ہیں جو شخص ان ( پرانے ) رہائشیوں میں سے کسی کو دیکھتے تو تین دن تک اسے ( جا نےکو ) کہتا رہے ۔ اس کے بعد اگر وہ اس کے سامنے نمودار ہو تو اسے قتل کر دے ، کیونکہ وہ شیطان ( ایمان نہ لا نے والا جن ) ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5842

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ» وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ
Umm Sharik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded her to kill geckos. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Shaiba with a slight variation of wording.
ابو بکر بن ابی شیبہ عمر وناقد اسحٰق بن ابرا ہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، اسحٰق نے کہا : ہمیں خبر دی جبکہ دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ، سفیان بن عیینہ نے عبد الحمید بن جبیربن شیبہ سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چھپکلیوں کو مارڈالنے کا حکم دیا ۔ ابن شعبہ کی روایت میں "" ( ان کا حکم دیا "" کے بجا ئے صرف ) "" حکم دیا "" ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5843

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَتْلِ الْوِزْغَانِ «فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا» وَأُمُّ شَرِيكٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ قَرِيبٌ مِنْهُ
Umm Sharik reported that she consulted Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in regard to killing of geckos, and he commanded to kill them and Umm Sharik is one of the women of Bani 'Amir b. Luwayy. This hadith has been reported through another chain of transmitters with the same meaning.
ابوطاہر نے کہا : ہمیں ابن وہب نے بتا یا کہا ، مجھے ابن جریج نے خبرد ۔ اور محمد بن احمد بن ابی خلف نے کہا : ہمیں روح نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی ۔ اور عبد بن حمید نے کہا : ہمیں محمد بن بکر نے بتا یا ، کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے عبد الحمید بن ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتا یا کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپکلی کو مارنے کے متعلق آپ کا حکم پو چھا تو آپ نے اسے ماردینے کا حکم دیا ۔ ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنو عامر بن لؤی کی ایک خاتون تھیں ( محمد بن احمد ) بن ابی خلف اور عبد بن حمید کی حدیث کے الفا ظ ایک ہیں اور ابن وہب کی حدیث اس سے قریب ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5844

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا»
Amir b. Sa'd reported on the authority of his father that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded the killing of geckos, and he called them little noxious creatures.
عامر بن سعد نے اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام چھوٹی فاسق رکھا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5845

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ» زَادَ حَرْمَلَةُ: قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ
A'isha reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said about the gecko as a noxious creature . Harmala made this addition that she said: I did not hear that he had commanded to kill them.
ابو طا ہر اور حرملہ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یو نس نے زہری سے ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو فویسق ( چھوٹی فاسق ) کہا حرملہ نے ( اپنی ) روایت میں یہ اضافہ کیا : ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو قتل کرنے کا حکم نہیں سنا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5846

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الثَّانِيَةِ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who killed a gecko with the first stroke for him is such and such a reward, and he who killed it with a second stroke for him is such and such reward less than the first one, and he who killed it with the third stroke for him is such and such a reward less than the second one.
خالد بن عبد اللہ نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کر دیا اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں مارااس کے لیے اتنی اتنی پہلی سے کم نیکیاں ہیں اور اگر تیسری ضرب سے ماراتو اتنی اتنی نیکیاں ہیں دوسری سے کم ( بتا ئیں ۔ ) "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5847

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاءَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ خَالِدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ إِلَّا جَرِيرًا وَحْدَهُ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ «مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ، وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِكَ»
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters (and the words are): - He who killed a gecko with the first stroke for him are ordained one hundred virtues, and with the second one less than that and with the third one less than that.
ابو عوانہ جریر ، اسماعیل بن زکریا اور سفیان سب نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جس طرح سہیل سے خالد کی روایت ہے سوائے اکیلے جریر کے انھوں نے اپنی روایت کردہ حدیث میں کہا : " جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی گئیں ۔ دوسری ضرب میں اس سے کم اور تیسری ضرب میں اس سے کم ، "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5848

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلٍ، حَدَّثَتْنِي أُخْتِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying (that he who kills a gecko) with the first stroke there are seventy rewards for him.
محمد بن صباح نے کہا : ہمیں اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : مجھے میری بہن ( سودہ بنت ابو صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پہلی ضرب میں سترنیکیاں ہیں ۔ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5849

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: An ant had bitten a Prophet (one amongst the earlier Prophets) and he ordered that the colony of the ants should be burnt. And Allah revealed to him: Because of an ant's bite you have burnt a community from amongst the communities which sings My glory.
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کا ٹ لیا ، انھوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کے بارے میں حکم دیا تو وہ جلا دی گئی ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ان کے طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے آپ نے امتوں میں سے ایک ایسی امت ( بڑی آبادی ) کو ہلا ک کر دیا ۔ جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی؟ "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5850

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ، فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: An Apostle from amongst the Apostles of Allah encamped under a tree, and an ant bit him, and he commanded his belongings to be removed from underneath the tree. He then commanded and it was burnt, and Allah revealed to bin): Why one ant (which had bitten you) was not killed?
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ( آرام ) کرنے کے لیے سواری سے ) اترے تو ایک چیونٹی نے ان کو کا ٹ لیا ۔ انھوں نے اس کے پورے بل کے بارے میں حکم دیا ، اسے نیچے سے نکل دیا گیا پھر حکم دیا ان کو جلا دیا گیا ۔ اللہ تعا لیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں ( سزا ) نہ ( دی ؟ )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5851

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ، قَالَ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً
Abu Huraira reported so many ahadith and one of them was this that Allah' Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When an Apostle from amongst the Apostles of Allah came to sit under a tree an ant bit him. He commanded his luggage to be removed from under the tree and he commanded it to be burnt in the fire and Allah revealed to him: Why one ant (which had bitten you) was not killed (and why did you burn the others)?
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی ایک درخت نیچے فروکش ہو ئے انھیں ایک چیونٹی نے کا ٹ لیا ، انھوں نے ان کی پوری آبادی کے بارے میں حکم دیا ، اسے نیچے سے ( کھودکر ) نکا ل لیا گیا ، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اس ( پوریآبادی ) کو آگ سے جلا دیا گیا ۔ تو اللہ تعا لیٰ نے ان کی طرف وحی کی ، ( اس ایک ہی کو کیوں ( سزا ) نہ ( دی؟ ) "
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5852

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ»
Nafi' reported from 'Abdullah that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: A woman was punished because she had kept a cat tied until it died, and (as a punishment of this offence) she was thrown into the Hell. She had not provided it with food, or drink, and had not freed her so that she could eat the insects of the earth.
جویریہ بن اسماءنے نافع سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک عورت کو بلی کے سبب سے عذاب دیا گیا ، اس نے بلی کو قید کر کے رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ وہ عورت اس کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی ، اس عورت نے جب بلی کو قید کیا تو نہ اس کو کھلا یا پلا یا اور نہ اس کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے اندر اور اوپر رہنے والے چھوٹے چھوٹے جانور کھا لیتی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5853

وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
Th