418 Results For Hadith (Musnad Ahmad ) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8485

۔ (۸۴۸۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَ نَّہُ سَمِعَ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ آدَمَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا أَ ہْبَطَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِلَی الْأَ رْضِ قَالَتْ الْمَلَائِکَۃُ: أَ یْ رَبِّ! {أَ تَجْعَلُ فِیہَا مَنْ یُفْسِدُ فِیہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّی أَ عْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} قَالُوْا: رَبَّنَا نَحْنُ أَ طْوَعُ لَکَ مِنْ بَنِی آدَمَ، قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی لِلْمَلَائِکَۃِ: ہَلُمُّوا مَلَکَیْنِ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ حَتّٰییُہْبَطَ بِہِمَا إِلَی الْأَرْضِ فَنَنْظُرَ کَیْفَیَعْمَلَانِ، قَالُوا رَبَّنَا: ہَارُوتُ وَمَارُوتُ، فَأُہْبِطَا إِلَی الْأَرْضِ وَمُثِّلَتْ لَہُمَا الزُّہَرَۃُ امْرَأَ ۃً مِنْ أَ حْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَائَ تْہُمَا فَسَأَ لَاہَا نَفْسَہَا فَقَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَکَلَّمَا بِہٰذِہِ الْکَلِمَۃِ مِنْ الْإِشْرَاکِ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نُشْرِکُ بِاللّٰہِ أَ بَدًا، فَذَہَبَتْ عَنْہُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِیٍّ تَحْمِلُہُ، فَسَأَ لَاہَا نَفْسَہَا، فَقَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَقْتُلَا ہٰذَا الصَّبِیَّ، فَقَالَا: وَاللّٰہِ! لَا نَقْتُلُہُ أَ بَدًا، فَذَہَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُہُ، فَسَأَ لَاہَا نَفْسَہَا قَالَتْ: لَا، وَاللّٰہِ! حَتّٰی تَشْرَبَا ہٰذَا الْخَمْرَ، فَشَرِبَا فَسَکِرَا فَوَقَعَا عَلَیْہَا، وَقَتَلَا الصَّبِیَّ، فَلَمَّا أَ فَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَ ۃُ: وَاللّٰہِ! مَا تَرَکْتُمَا شَیْئًا مِمَّا أَ بَیْتُمَاہُ عَلَیَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِینَ سَکِرْتُمَا، فَخُیِّرَا بَیْنَ عَذَابِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۶۱۷۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو فرشتوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! {أَ تَجْعَلُ فِیہَا مَنْ یُفْسِدُ فِیہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَائَ، وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّی أَ عْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} … کیا تو اس زمین میں اس بشر کو آباد کرنے والا ہے، جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اللہ نے کہا:میں و ہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ لیکن فرشتوں نے کہا: ہم آدم کی اولاد کی بہ نسبت تیرے زیادہ مطیع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: اچھا پھر دو فرشتے لائو تا کہ ہم انہیں زمین پر اتاریں اور دیکھیں کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں، انہوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار! یہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں، پس انہیں زمین پر اتارا گیا اور ان کے سامنے ایک حسین ترین عورت پیش کی گئی،یہ دونوں اس کے پاس آئے اور اس سے اس کے نفس کا یعنی بدکاری کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم: نہیں، اس وقت تک تم قریب نہیں آ سکتے، جب تک تم اللہ تعالیٰ سے شرک والا کلمہ نہیں کہو گے، انہوں نے کہا: ہم تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کر سکتے۔ سو وہ چلی گئی اور پھر ایک بچہ لے کر دوبارہ آ گئی، انہوں نے پھراس عورت سے بدکاری کا مطالبہ کیا، لیکن اس نے کہا:جب تک تم اس بچے کوقتل نہیں کرتے، میرے قریب نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اسے تو قتل نہیں کر سکتے، وہ چلی گئی اور اگلی بار شراب کا پیالہ لے کر آئی، جب انہوں نے پھر اس سے اس کے نفس کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں قریب نہیں آنے دوں گی،یہاں تک کہ تم یہ شراب پی لو، جب انہوں نے شراب پی لی تو(نشے میں آ کر)اس عورت سے بدکاری بھی کر لی اور بچے کو قتل بھی کر دیا، جب ان کو ہوش آئی تو اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم! ہر جس جس چیز کے انکاری تھی، تم نے نشہ کی حالت میں اس کا ارتکاب کر لیا ہے، (اس جرم کی پاداش میں) انہیں دنیا اور آخرت کے عذاب میں سے ایک کو منتخب کرنے کا کہا گیا، انہوں نے دنیا کا عذاب اختیار کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8486

۔ (۸۴۸۶)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} قَالَ: ((دَخَلُوْا زَحْفًا۔)) {وَقُوْلُوا حِطَّۃٌ} قَالَ: ((بَدَّلُوْا، فَقَالُوْا: حِنْطَۃٌ فِی شَعَرَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا}… (سجدہ کرتے ہوئے دروازے سے داخل ہو جاؤ) لیکن وہ لوگ اس کے برعکس گھسٹ کر داخل ہوئے اور ان سے کہا گیا کہ {وَقُوْلُوا حِطَّۃٌ} … (اور کہو بخش دے) لیکن انھوں نے حکم کو بدل دیا اور کہا: بالی میں گندم کا دانہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8487

۔ (۸۴۸۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَ قْبَلَتْ یَہُودُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا أَ بَا الْقَاسِمِ! إِنَّا نَسْأَ لُکَ عَنْ خَمْسَۃِ أَ شْیَائَ، فَإِنْ أَ نْبَأْتَنَا بِہِنَّ عَرَفْنَا أَ نَّکَ نَبِیٌّ وَاتَّبَعْنَاکَ، فَأَ خَذَ عَلَیْہِمْ مَا أَ خَذَ إِسْرَائِیلُ عَلَی بَنِیہِ إِذْ قَالُوْا: {اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ} قَالَ: ((ہَاتُوْا۔)) قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا عَنْ عَلَامَۃِ النَّبِیِّ، قَالَ: ((تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ۔))، قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا کَیْفَ تُؤْنِثُ الْمَرْأَ ۃُ وَکَیْفَ تُذْکِرُ؟ قَالَ: ((یَلْتَقِی الْمَائَ انِِ فَإِذَا عَلَامَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَ ۃِ أَ ذْکَرَتْ، وَإِذَا عَلَامَائُ الْمَرْأَۃِ آنَثَتْ۔))، قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ، قَالَ: ((کَانَ یَشْتَکِی عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًایُـلَائِمُہُ إِلَّا أَ لْبَانَ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَحْمَد: قَالَ أَبِی: قَالَ بَعْضُہُمْ: یَعْنِی الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَہَا، قَالُوْا: صَدَقْتَ، قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا مَا ہٰذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ: ((مَلَکٌ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَکَّلٌ بِالسَّحَابِ بِیَدِہِ، أَ وْ فِییَدِہِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ، یَزْجُرُ بِہِ السَّحَابَ،یَسُوقُہُ حَیْثُ أَ مَرَ اللّٰہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا ہٰذَا الصَّوْتُ الَّذِییُسْمَعُ؟ قَالَ: ((صَوْتُہُ۔))، قَالُوْا: صَدَقْتَ، إِنَّمَا بَقِیَتْ وَاحِدَۃٌ وَہِیَ الَّتِی نُبَایِعُکَ إِنْ أَ خْبَرْتَنَا بِہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا لَہُ مَلَکٌ یَأْتِیہِ بِالْخَبَرِ، فَأَ خْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُکَ؟ قَالَ: ((جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالُوْا: جِبْرِیلُ؟ ذَاکَ الَّذِییَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا۔ لَوْ قُلْتَ: مِیکَائِیلَ الَّذِییَنْزِلُ بِالرَّحْمَۃِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَکَانَ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوزن کا آب جو ہر دونوں ملتے ہیں،جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا آب جو ہر غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتائو کہ یعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نساء کی بیماری تھی، انہیںصرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ رسد کیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیںیا اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائییعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہُ عَلٰیقَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8487

۔ (۸۴۸۷م)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا من طریق ثان) حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِنْ الْیَہُودِ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَقَالُوا: یَا أَ بَا الْقَاسِمِ! حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَ لُکَ عَنْہُنَّ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: ((سَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ، وَلٰکِنْ اجْعَلُوا لِی ذِمَّۃَ اللّٰہِ، وَمَا أَ خَذَ یَعْقُوبُ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلٰی بَنِیہِ، لَئِنْ حَدَّثْتُکُمْ شَیْئًا فَعَرَفْتُمُوہُ لَتُتَابِعُنِّی عَلَی الْإِسْلَامِ۔)) قَالُوْا: فَذٰلِکَ لَکَ، قَالَ: ((فَسَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ۔)) قَالُوْا: أَ خْبِرْنَا عَنْ أَ رْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَ لُکَ عَنْہُنَّ، أَ خْبِرْنَا أَ یُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلَی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ أَ نْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ مَائُ الْمَرْأَ ۃِ وَمَائُ الرَّجُلِ، کَیْفَیَکُونُ الذَّکَرُ مِنْہُ؟ وَأَخْبِرْنَا کَیْفَ ہٰذَا النَّبِیُّ الْأُمِّیُّ فِی النَّوْمِ؟ وَمَنْ وَلِیُّہُ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ؟ قَالَ: ((فَعَلَیْکُمْ عَہْدُ اللّٰہِ وَمِیثَاقُہُ، لَئِنْ أَ نَا أَخْبَرْتُکُمْ لَتُتَابِعُنِّی۔)) قَالَ: فَأَ عْطَوْہُ مَا شَائَ مِنْ عَہْدٍ وَمِیثَاقٍ، قَالَ: ((فَأَ نْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی علیہ السلام ، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَ نَّ إِسْرَائِیلَیَعْقُوبَ علیہ السلام مَرِضَ مَرَضًا شَدِیدًا، وَطَالَ سَقَمُہُ، فَنَذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا، لَئِنْ شَفَاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ سَقَمِہِ لَیُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ، وَکَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَ حَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ أَ لْبَانُہَا؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَ نْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَ نَّ مَائَ الرَّجُلِ أَبْیَضُ غَلِیظٌ، وَأَ نَّ مَائَ الْمَرْأَ ۃِ أَ صْفَرُ رَقِیقٌ، فَأَ یُّہُمَا عَلَا کَانَ لَہُ الْوَلَدُ وَالشَّبَہُ بِإِذْنِ اللّٰہِ، إِنْ عَلَا مَائُ الرَّجُلِ عَلٰی مَائِ الْمَرْأَۃِ کَانَ ذَکَرًا بِإِذْنِ اللّٰہِ، وَإِنْ عَلَا مَائُ الْمَرْأَۃِ عَلٰی مَائِ الرَّجُلِ کَانَ أُنْثٰی بِإِذْنِ اللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ عَلَیْہِمْ، فَأَ نْشُدُکُمْ بِالَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰیمُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَ نَّ ہٰذَا النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) قَالُوْا: وَأَ نْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِیُّکَ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ فَعِنْدَہَا نُجَامِعُکَ أَ وْ نُفَارِقُکَ، قَالَ: ((فَإِنَّ وَلِیِّیْ جِبْرِیلُ علیہ السلام ، وَلَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیًّا قَطُّ إِلَّا وَہُوَ وَلِیُّہُ۔)) قَالُوْا: فَعِنْدَہَا نُفَارِقُکَ، لَوْ کَانَ وَلِیُّکَ سِوَاہُ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ لَتَابَعْنَاکَ وَصَدَّقْنَاکَ، قَالَ: ((فَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ أَ نْ تُصَدِّقُوہُ؟)) قَالُوْا: إِنَّہُ عَدُوُّنَا، قَالَ: فَعِنْدَ ذٰلِکَ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلٰی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللّٰہِ} إِلَی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَ نَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} فَعِنْدَ ذٰلِکَ {بَائُ وْا بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ} الآیۃ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴)
۔ (دوسری سند) یہودیوں کی ایک جماعت ایک دن اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اورکہا: اے ابو القاسم! ہمیں چند باتیں بتائو، انہیں صرف نبی جانتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مرضی ہے پوچھو، لیکن اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو مدنظررکھنا اور اسے بھی مدنظر رکھنا جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے ذمہ داری لی تھی کہ اگر میں تمہیں تمہارے سوالوں کے درست جوابات دے دوں تو پھر اسلام کے مطابق میری پیروی کرنا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، یہ تمہارا حق ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب جو مرضی سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہمیں چار باتوں کے بارے میںبتاؤ،یعقوب علیہ السلام نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر کونسا کھانا حرام کیا تھا، آدمی کا آب جوہر عورت کے آب جوہر پر غالب آ جائے تو مذکرکیسے بنتا ہے اور یہ اُمّی نبی نیند میں کیسے ہوتا ہے اورفرشتوں میں سے اس کا دوست کون ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا عہد و میثاق دیتا ہوںہے کہ اگر میں نے تمہیں جواب دیدیے تو تم میری اتباع کرو گے۔ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہر پختہ عہد دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ یعقوب علیہ السلام سخت بیمار پڑ گئے تھے اوران کی بیماری لمبی ہو گئی تھی، بالآخر انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیاد ہ پسندیدہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھانا حرام قرار دیں گے، اورانہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹوں کا گوشت اور سب سے زیادہ پسندیدہ مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیںاور جس نے موسیٰ علیہ السلام پرتورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو آدمی کا آب جوہر سفید اور گاڑھا ہوتاہے اور عورت کا پانی زرد اور باریک ہوتا ہے، ان میں سے جو بھی غالب آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس سے مشابہت ہو جاتی ہے، اگر آدمی کا آب جوہر عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مذکر بن جاتا ہے اوراگر عورت کا آب جوہر آدمی کے مادۂ منویہ پرغالب آ جائے تو مؤنث پیدا ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہےیہی بات ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! ان پرگواہ رہنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو اس اُمّی نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا؟ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ یہی بات ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! گواہ رہنا۔ انہوں نے کہا: آپ بھی اب اسی طرح ہیں، ہمیں بتائو فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون ہے؟ یہ بتانے کے بعد یا تو ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا دوست جبریل علیہ السلام ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے، یہی جبریل علیہ السلام اس کے دوست رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: تب تو ہم آپ سے علیحدہ ہوتے ہیں، اگر اس کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی ا تباع کرتے اور تصدیق کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں جبریل کی تصدیق میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ اس وقت اللہ تعالی نے فرمایا : {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗنَزَّلَہٗعَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔ … … کِتَابَ اللّٰہِ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ کَأَ نَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ … اللہ تعالی کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا کہ وہ نہیں جانتے تھے۔ پس اس وقت یہ لوگ دوہرے غضب کے ساتھ لوٹے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8488

۔ (۸۴۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلٰی رَاحِلَتِہٖمُقْبِلًامِنْمَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ حَیْثُ تَوَجَّہَتْ بِہٖ،وَفِیْہِ نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ: {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ}۔ (مسند احمد: ۵۴۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف جا رہے تھے، سواری جدھر چاہتی متوجہ ہو جاتی، اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ} … جس طرف بھی تم پھرو، وہیں اللہ تعالیٰ کا چہر ہ ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۱۵)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8489

۔ (۸۴۸۹)۔ عَنْ أَ نَسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: وَافَقْتُ رَبِّی فِی ثَلَاثٍ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَوِاتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی، فَنَزَلَتْ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} وَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ نِسَائَ کَ یَدْخُلُ عَلَیْہِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَہُنَّ أَ نْ یَحْتَجِبْنَ، فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ، وَاجْتَمَعَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَاؤُہُ فِی الْغَیْرَۃِ، فَقُلْتُ لَہُنَّ: عَسٰی رَبُّہُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَ نْ یُبْدِلَہُ أَ زْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ۔ قَالَ: فَنَزَلَتْ کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اپنے رب سے تین کاموں میں موافقت کی ہے، میں نے کہا: اگر ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالیں تو یہ آیت نازل ہوئی {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی}… تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی عورتوں پر نیک اور بد سب داخل ہوتے ہیں، اگر آپ انہیں پردہ کرنے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے، پس پردہ والی آیت نازل ہوئی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں غیرت کے معاملے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوئیں تو میں نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم کو طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوبہتر عورتیں دے دے، تو اسی طرح آیت نازل ہوئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8490

۔ (۸۴۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ: {وَکَذٰلِکَجَعَلْنَاکُمْاُمَّۃً وَّسَطًا} قَالَ: ((عَدَلًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۹۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالی کے فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} میں وَسَطًا کا معنی عادل بیان کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8491

۔ (۸۴۹۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُدْعٰی نُوحٌ علیہ السلام یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُ: ہَلْ بَلَّغْتَ؟ فَیَقُولُ: نَعَمْ، فَیُدْعٰی قَوْمُہُ فَیُقَالُ لَہُمْ: ہَلْ بَلَّغَکُمْ؟ فَیَقُولُونَ: مَا أَ تَانَا مِنْ نَذِیرٍ أَ وْ مَا أَ تَانَا مِنْ أَ حَدٍ، قَالَ: فَیُقَالُ لِنُوحٍ: مَنْ یَشْہَدُ لَکَ؟ فَیَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہُ: قَالَ: فَذٰلِکَ قَوْلُہُ: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا} قَالَ: الْوَسَطُ الْعَدْلُ، قَالَ: ((فَیُدْعَوْنَ فَیَشْہَدُونَ لَہُ بِالْبَلَاغِ۔))، قَالَ: ((ثُمَّ أَشْہَدُ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلایا جائے گا اور ان سے کہاجائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: اب کون آپ کے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اوران کی امت، یہی صورت اللہ تعالی کے اس فرمان کی مصداق ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا}… ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے۔ وَسَط کا معنی عادل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میرے امت کے لوگوں کو بلایا جائے گا اور یہ نوح علیہ السلام کے حق میں گواہی دیں گے اور پھر میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8492

۔ (۸۴۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا حُوِّلَتِ الْقِبْلَۃُ، قَالَ اُنَاسٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَصْحَابُنَا الَّذِیْنَ مَاتُوْا وَھُمْ یُصَلُّوْنَ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَاَنْزَلَ اللّٰہُ: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ}۔ (مسند احمد: ۲۷۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں جب قبلہ تبدیل ہوا تو بعض لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور پھر اسی حالت میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ} … اللہ تعالیٰ تمہاری نمازیں ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8493

۔ (۸۴۹۳)۔ عَنْ أَ نَسٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَنَزَلَتْ: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ، وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ، وَقَدْ صَلَّوْا رَکْعَۃً، فَنَادٰی أَ لَا إِنَّ الْقِبْلَۃَ قَدْ حُوِّلَتْ، أَ لَا إِنَّ الْقِبْلَۃَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَی الْکَعْبَۃِ، قَالَ: فَمَالُوْا کَمَا ہُمْ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۷۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتا ہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ تو ایک آدمی بنو سلمہ کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ لوگ فجر کی نماز میں حالت رکوع میں تھے اور ایک رکعت انہوں نے پڑھ لی تھی، اس گزرنے والے نے آواز دی: خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکا ہے، خبردار! قبلہ تبدیل ہو چکاہے اور اب کعبہ قبلہ ہے، تو وہ اسی حالت میں قبلہ کی طرف مڑ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8494

۔ (۸۴۹۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ شَہْرًا أَ وْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا ثُمَّ وُجِّہَ إِلَی الْکَعْبَۃِ، وَکَانَ یُحِبُّ ذٰلِکَ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} الْآیَۃَ، قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ عَلٰی قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلَاۃِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ہُوَ یَشْہَدُ أَ نَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّہُ قَدْ وُجِّہَ إِلَی الْکَعْبَۃِ، قَالَ: فَانْحَرَفُوْا وَہُمْ رُکُوعٌ فِی صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۱۴)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سولہ سترہ ماہ بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کعبہ کی جانب متوجہ کر دیا گیا اور آپ کی پسند بھییہی قبلہ تھا، پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:{قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَائِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} … تحقیق ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی جانب پلٹتا ہوا دیکھتے ہیں، ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی جانب پھیریں گے جسے تو پسند کرتاہے، پس اپنے چہرے کو مسجد حرام کی جانب پھیر لو۔ ایک آدمی،جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ عصر ادا کی تھی، انصاری قوم کے پاس سے گزرا، جبکہ وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کعبہ کی جانب منہ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، وہ لوگ اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے، جبکہ وہ رکوع کی حالت تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8495

۔ (۸۴۹۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ: قُلْتُ: أَ رَأَ یْتِ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} قَالَ: فَقُلْتُ: فَوَاللّٰہِ! مَا عَلَی أَ حَدٍ جُنَاحٌ أَ نْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ أُخْتِی! إِنَّہَا لَوْ کَانَتْ عَلَی مَا أَ وَّلْتَہَا کَانَتْ {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا} وَلَکِنَّہَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَ نَّ الْأَ نْصَارَ کَانُوْا قَبْلَ أَ نْ یُسْلِمُوْایُہِلُّونَ لِمَنَاۃَ الطَّاغِیَۃِ، الَّتِی کَانُوا یَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَکَانَ مَنْ أَ ہَلَّ لَہَا تَحَرَّجَ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَ لُوْا عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا کُنَّا نَتَحَرَّجُ أَ نْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} إِلٰی قَوْلِہِ: {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} قَالَتْ عَائِشَۃُ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الطَّوَافَ بِہِمَا فَلَیْسَیَنْبَغِی لِأَ حَدٍ أَ نْ یَدَعَ الطَّوَافَ بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۲۵۶۲۵)
۔ عروہ سے مروی ہے، انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے (سورۂ بقرہ:۱۵۸) میں نے کہا:اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا طواف نہ بھی کیاجائے تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سیدہ نے کہا: اے بھانجے! یہ تونے درست نہیں سمجھا، اگر یہ مطلب ہوتا جو تو بیان کر رہا ہے تو پھر قرآن کے الفاظ اس طرح ہوتے: {فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … پس اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصاری لوگ منات بت کے لئے احرام باندھتے تھے اور جس کی وہ عبادت کرتے تھے، وہ مشلل مقام میں تھا اور جو اس بت کے لئے احرام باندھتا تھا، وہ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج سمجھتا تھا، جب انہوں نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت میں صفا و مروہ کی سعی میں حرج محسوس کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے۔ پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی سعی کو مشروع قرار دیا ہے، لہٰذا کسی کے لائق نہیں ہے کہ وہ ان کا طواف چھوڑے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8496

۔ (۸۴۹۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ عَائِشَۃَ فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} قَالَتْ: کَانَ رِجَالٌ مِنْ الْأَ نْصَارِ مِمَّنْ یُہِلُّ لِمَنَاۃَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَمَنَاۃُ صَنَمٌ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ، قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّا کُنَّا نَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ تَعْظِیمًا لِمَنَاۃَ، فَہَلْ عَلَیْنَا مِنْ حَرَجٍ أَ نْ نَطُوفَ بِہِمَا؟ فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا}۔ (مسند احمد: ۲۵۸۱۲)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، انھوں نے اللہ تعالی کے فرمان { إِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِـنْ شَعَائِـرِ اللّٰہِ} کے بارے میں کہا: جو انصاری لوگ دورِ جاہلیت میں منات کے لیے احرام باندھتے تھے، مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت کا نام مناۃ تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم صفااور مروہ کے درمیان منات کی تعظیم کے لئے سعی کیا کرتے تھے، کیا اب ان کی سعی کرنے میں ہم پرکوئی حرج تو نہیں ہے،پس اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَ وِ اعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَ نْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} … بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، تو جو کوئی اس گھر کا حج کرے، یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں کا خوب طواف کرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8497

۔ (۸۴۹۷)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: اُحِیْلَتِ الصَّلَاۃُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ وَاُحِیْلَ الصِّیَامُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ، فَاَمَّا اَحْوَالُ الصَّلَاۃِ فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ وَہُوَ یُصَلِّیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ (الْحَدِیْثَ) قَالَ: وَاَمَا اَحْوَالُ الصِّیَامِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَل یَصُوْمُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَقَالَ یَزِیْدُ: فَصَامَ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا مِنْ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ إِلٰی رَمَضَانَ، مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَصَامَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ عَلَیْہِ الصِّیَامَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (إِلٰی ھٰذِہِ الآیَۃِ) وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} قَالَ: فَکَانَ مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ اَطْعَمَ مِسْکِیْنًا فَاَجْزَأَ ذَالِکَ عَنْہُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ اْلآیَۃَ الْاُخْرٰی: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ (إِلٰی قَوْلِہِ) فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} فَاَثْبَتَ اللّٰہُ صِیَامَہُ عَلَی الْمُقِیْمِ الصَّحِیْحِ، وَرَخَّصَ فِیْہِ لِلْمَرِیْضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الإِطْعَامَ لِلْکَبِیْرِ الَّذِی لَایَسْتَطِیْعُ الصِّیَامَ فَھٰذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَکَانُوْا یَاْکُلُوْنَ وَیَشْرَبُوْنَ، وَیَاْتُوْنَ النِّسَائَ مَالَمْ یَنَامُوْا فَإِذَا نَامُوْا اِمْتَنَعُوْا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ صِرْمَۃُ، ظَلَّ یَعْمَلُ صَائِمًا حَتّٰی اَمْسٰی فَجَائَ إِلٰی اَہْلِہِ فَصَلَّی الْعِشَائَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ یَاْکُلْ، وَلَمْ یَشْرَبْ حَتَّی اَصْبَحَ فَاَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَرَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ جَہِدَ جَہْدًا شَدِیْدًا، قَالَ: ((مَالِیْ اَرَاکَ قَدْ جَہِدْتَّ جَہْدًا شَدِیْدًا؟۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی عَمِلْتُ اَمْسِ فَجِئْتُ حِیْنَ جِئْتُ فَاَلْقَیْتُ نَفْسِی فَنِمْتُ وَاَصْبَحْتُ حِیْنَ اَصْبَحْتُ صَائِمًا، قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ قَدْ اَصَابَ مِنَ النِّسَائِ مِنْ جَارِیَۃٍ اَوْ مِنْ حُرْۃٍ بَعْدَ مَانَامَ، وَاَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَذَکَرَذَالِکَلَہُفَاَنْزَلَاللّٰہُ عَزَّوَجَّلَ: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلٰی نِسَائِکُمْ (إِلٰی قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ) ثُمَّاَتِمُّوْاالصِّیامَ إِلٰی الَّیْلِ۔} (مسند احمد: ۲۲۴۷۵)
۔ سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، …… (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔ )نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزے کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا( اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوییا لونڈی سے ہم بستری کر لی تھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالی نےیہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلٰی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیَامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوںمیں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیاگیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالی کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالی کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8498

۔ (۸۴۹۸)۔ عَن الْبَرَائِ قَالَ: کَانَ أَ صْحَابُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا کَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَ نْ یُفْطِرَ، لَمْ یَأْکُلْ لَیْلَتَہُ وَلَا یَوْمَہُ حَتّٰییُمْسِیَ، وَإِنَّ فُلَانًا الْأَنْصَارِیَّ کَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَہُ الْإِفْطَارُ، أَ تَی امْرَأَ تَہُ،فَقَالَ: ہَلْ عِنْدَکِ مِنْ طَعَامٍ؟ قَالَتْ: لَا، وَلٰکِنْ أَنْطَلِقُ فَأَ طْلُبُ لَکَ، فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہُ وَجَائَ تِ امْرَأَ تُہُ فَلَمَّا رَأَتْہُ قَالَتْ: خَیْبَۃٌ لَکَ فَأَ صْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّہَارُ غُشِیَ عَلَیْہِ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلٰی نِسَائِکُمْ} إِلٰی قَوْلِہِ: {حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَ بْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ} قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَإِنَّ قَیْسَ بْنَ صِرْمَۃَ الْأَ نْصَارِیَّ جَائَ فَنَامَ فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۱۲)
۔ سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام میں سے جب کوئی آدمی روزے دار ہوتا اور افطارکا وقت ہو جانے کے بعد افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا تو وہ نہ اس رات کو کچھ کھا سکتا اور نہ اگلے دن کو، یہاں تک کہ اگلے دن کی شام ہو جاتی، ایک انصارییعنی سیدنا صرمہ بن قیسروزے دار تھے، جب افطاری کاوقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا: کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور تمہارے لئے کچھ تلاش کر کے لاتی ہوں، اتنی دیر میں اس کی آنکھ لگ گئی، جب بیوی نے واپس آ کر دیکھا تو وہ کہنے لگی:ہائے ناکامی ہو تیرے لیے (اب کیا بنے گا)، پس اس نے اسی حالت میں صبح کی اور جب نصف دن گزر گیا تو وہ بیہوش ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری صورتحال بتلائی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ}… تمھارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بے شک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمھیں معاف کر دیا، تو اب ان سے مباشرت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمھارے لیے لکھا ہے اور کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہو جائے (سورۂ بقرہ: ۱۸۷)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8499

۔ (۸۴۹۹)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَ خْبَرَنَا عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَ سْوَدِ} [البقرۃ: ۱۸۷] قَالَ: عَمَدْتُ إِلٰی عِقَالَیْنِ أَ حَدُہُمَا أَ سْوَدُ وَالْآخَرُ أَ بْیَضُ، فَجَعَلْتُہُمَا تَحْتَ وِسَادِی، قَالَ: ثُمَّ جَعَلْتُ أَ نْظُرُ إِلَیْہِمَا فَلَا تَبِینُ لِی الْأَسْوَدُ مِنْ الْأَبْیَضِ، وَلَا الْأَبْیَضُ مِنْ الْأَ سْوَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرْتُہُ بِالَّذِی صَنَعْتُ، فَقَالَ: ((إِنْ کَانَ وِسَادُکَ إِذًا لَعَرِیضٌ، إِنَّمَا ذٰلِکَ بَیَاضُ النَّہَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۸۷)
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ}… اور کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہو جائے (سورۂ بقرہ: ۱۸۷) تو میں عدی نے دو دھاگے لئے، ان میں سے ایک سیاہ تھا اور دوسرا سفید، میں نے انہیں اپنے تکیہ کے نیچے رکھ دیا، پھر میں نے انہیں دیکھنا شروع کردیا، لیکن میرے لئے نہ تو سیا ہ دھاگہ ظاہر ہوتاتھا اور نہ ہی سفید دھاگہ، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور میں نے جو کچھ کیا تھا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا تکیہ تو بہت لمبا چوڑا ہے، اس سے یہ مراد تو دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8500

۔ (۸۵۰۰)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ وَالصِّیَامَ، قَالَ: ((صَلِّ کَذَا وَکَذَا، وَصُمْ فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَکُلْ وَاشْرَبْ حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکَ الْخَیْطُ الْأَ بْیَضُ مِنْ الْخَیْطِ الْأَ سْوَدِ، وَصُمْ ثَلَاثِینَیَوْمًا إِلَّا أَ نْ تَرَی الْہِلَالَ قَبْلَ ذٰلِکَ۔))، فَأَ خَذْتُ خَیْطَیْنِ مِنْ شَعْرٍ أَ سْوَدَ وَأَ بْیَضَ، فَکُنْتُ أَ نْظُرُ فِیہِمَا، فَلَا یَتَبَیَّنُ لِی، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَحِکَ، وَقَالَ: ((یَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَاکَ بَیَاضُ النَّہَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۳)
۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نماز اور روزہ کی تعلیم دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فلاں وقت میں فلاں نماز پڑھو اور روزہ رکھو، جب سورج غروب ہوجائے تو پھرکھائو اور پیو،یہاں تک کہ سیاہ دھاگے سے سفید دھاگہ ظاہرہو جائے اور تیس دن روزے رکھو، الا یہ کہ چاند پہلے نظر آ جائے۔ میں نے سیاہ اور سفید بالوں سے دو دھاگے لیے اور ان کو دیکھنا شروع کردیا، لیکن وہ میرے لیے ظاہر نہیں ہوئے، جب میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تو آپ مسکرائے اور فرمایا: اے ابن حاتم! اس سے دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی مراد ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8501

۔ (۸۵۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَ بِیہِ قَالَ: کَانَ النَّاسُ فِی رَمَضَانَ، إِذَا صَامَ الرَّجُلُ فَأَ مْسٰی فَنَامَ حَرُمَ عَلَیْہِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَائُ حَتّٰییُفْطِرَ مِنْ الْغَدِ، فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَقَدْ سَہِرَ عِنْدَہُ، فَوَجَدَ امْرَأَ تَہُ قَدْ نَامَتْ، فَأَ رَادَہَا فَقَالَتْ: إِنِّی قَدْ نِمْتُ، قَالَ: مَا نِمْتِ ثُمَّ وَقَعَ بِہَا، وَصَنَعَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَغَدَا عُمَرُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرَہُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {عَلِمَ اللّٰہُ أَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَ نْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ} [البقرۃ: ۱۸۷]۔ (مسند احمد: ۱۵۸۸۸)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ (شروع شروع میں) جب لوگ رمضان میں روزہ رکھتے اورآدمی شام ہو جانے یعنی غروب ِ آفتاب کے بعد سوجاتا تو اس پر کھانااور پینا اور بیویاں حرام ہو جاتیں،یہاں تک کہ وہ دوسرے دن افطار کرتا۔ ایک رات سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جاگتے رہے اور (دیر سے) اپنے گھر کو لوٹے، جب وہ پہنچے تو بیوی کو دیکھا کہ وہ سوگئی ہے، جب انھوں نے اس سے صحبت کرنا چاہی تو اس نے کہا: میں تو سو گئی تھی (لہٰذا اب صحبت جائز نہیں رہی)، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نہیں سوئی تھی، پھر انھوں نے حق زوجیت ادا کر لیا، اُدھر سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی ایسے ہی کیا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے فعل سے مطلع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {عَلِمَ اللّٰہُ أَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَ نْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ}
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8502

۔ (۸۵۰۲)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَ بِی لَیْلٰی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحُدَیْبِیَۃِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِکُوْنَ وَکَانَتْ لِی وَفْرَۃٌ فَجَعَلَتِ الْہَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلٰی وَجْہِی، فَمَرَّ بِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیُؤْذِیْکَ ہَوَامُّ رَأْسِکَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَہُ أَ نْ یَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَ وْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} [البقرۃ: ۱۹۶]۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۰)
۔ سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَ وْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَ وْ صَدَقَۃٍ أَ وْ نُسُکٍ} (تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوا لے اور روزوں کا، یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8502

۔ (۸۵۰۲م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِّیِّ قَالَ: قَعَدْتُّ إِلٰی کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ وَہُوَ فِیْ الْمَسْجِدِ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَعْنِی مَسْجِدَ الْکُوْفَۃِ) فَسَأَ لْتُہُ عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} قَالَ: فَقَالَ کَعْبٌ: نَزَلَتْ فِیَّ، کَانَ بِیْ أَ ذًی مِنْ رَأْسِیْ فَحُمِلْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْقَمْلُ یَتَنَاثَرُ عَلٰی وَجْہِیِ، فَقَالَ: ((مَا کُنْتُ أَرٰی أَنَّ الْجَہْدَ بَلَغَ مِنْکَ مَا أَرٰی، أَتَجِدُ شَاۃً؟)) فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍِ} قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَۃِ أَ یَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامٍ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِیَّ خَاصَّۃً وَہِیَ لَکُمْ عَامَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۹)
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں: میں کوفہ کی مسجد میں سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے ان سے اس آیت {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَ وْ صَدَقَۃٍ أَ وْ نُسُکٍ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) کی بابت پوچھا، انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، میرے سر میں جوئیں تھیں، جب مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا تو جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا خیالیہ تو نہیں تھا کہ تجھے اس قدر تکلیف اور مشقت ہو گی، کیا تم بکری ذبح کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَ وْ صَدَقَۃٍ أَ وْ نُسُکٍ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) (روزوں یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ دینا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دنوں کے روزے ہیںیا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اور ہر مسکین کے لیے نصف صاع کھانا ہے۔ یہ آیت خاص طور پر میرے لیے نازل ہوئی، لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8503

۔ (۸۵۰۳)۔ عَنْ أَ بِی أُمَامَۃَ التَّیْمِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نُکْرِی، فَہَلْ لَنَا مِنْ حَجٍّ؟ قَالَ: أَ لَیْسَ تَطُوفُونَ بِالْبَیْتِ، وَتَأْتُونَ الْمُعَرَّفَ، وَتَرْمُونَ الْجِمَارَ، وَتَحْلِقُونَ رُئُ وْسَکُمْ؟ قَالَ: قُلْنَا: بَلٰی، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنْ الَّذِی سَأَلْتَنِی، فَلَمْ یُجِبْہُ حَتّٰی نَزَلَ عَلَیْہِ جِبْرِیلُ علیہ السلام بِہٰذِہِ الْآیَۃِ: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَ نْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ} فَدَعَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَ نْتُمْ حُجَّاجٌ۔)) (مسند احمد: ۶۴۳۴)
۔ ابو امامہ تیمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ہم جانور کرائے پر دیتے ہیں، کیا ہمارا حج ہو جاتاہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے، کیا تم عرفات میں نہیں جاتے، کیا جمروں کو کنکریاں نہیں مارتے اور کیا اپنے سرنہیں منڈواتے؟ ہم نے کہا:جی کیوں نہیں،یہ سب کچھ کرتے ہیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہی سوال کیا، جو تم نے مجھ سے پوچھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا،یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام اس آیت کے ساتھ نازل ہوئے: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَ نْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ} … تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا کوئی فضل تلاش کرو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو بلایا اور فرمایا: تم حج کرنے والے ہی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8504

۔ (۸۵۰۴)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، وَہُمْ یَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَیَأْکُلُونَ الْمَیْسِرَ، فَسَأَ لُوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہُمَا، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَ کْبَرُ مِنْ نَفْعِہِمَا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ، فَقَالَ النَّاسُ: مَا حَرَّمَ عَلَیْنَا إِنَّمَا قَالَ: {فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ} وَکَانُوا یَشْرَبُونَ الْخَمْرَ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمٌ مِنْ الْأَ یَّامِ، صَلَّی رَجُلٌ مِنْ الْمُہَاجِرِینَ أَ مَّ أَ صْحَابَہُ فِی الْمَغْرِبِ، خَلَطَ فِی قِرَاء َتِہِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ فِیہَا آیَۃً أَ غْلَظَ مِنْہَا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاۃَ وَأَ نْتُمْ سُکَارٰی حَتّٰی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} وَکَانَ النَّاسُ یَشْرَبُونَ حَتّٰییَأْتِیَ أَ حَدُہُمْ الصَّلَاۃَ وَہُوَ مُفِیقٌ، ثُمَّ أُنْزِلَتْ آیَۃٌ أَ غْلَظُ مِنْ ذٰلِکَ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَ نْصَابُ وَالْأَ زْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ} فَقَالُوْا: انْتَہَیْنَا رَبَّنَا! فَقَالَ النَّاسُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَاسٌ قُتِلُوْا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَ وْ مَاتُوا عَلٰی فُرُشِہِمْ کَانُوا یَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَیَأْکُلُونَ الْمَیْسِرَ، وَقَدْ جَعَلَہُ اللّٰہُ رِجْسًا وَمِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ: {لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوْا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا} إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ حُرِّمَتْ عَلَیْہِمْ لَتَرَکُوہَا کَمَا تَرَکْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ شراب تین مرحلوں میں حرام کی گئی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ شراب پیتے تھے اور جوا کی کمائی کھاتے تھے، جب انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھاکہ شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے، تواللہ تعالی نے یہ حکم نازل کیا: {یَسْئَـلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ْ وَاِثْـمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا وَیَسْئَـلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ کَذٰلِکَ یُـبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ۔} … تجھ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے ہیں اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے۔ اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں، کہہ دے جو بہترین ہو۔ اس طرح اللہ تمھارے لیےکھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم غور و فکر کرو۔ (سورۂ بقرہ: ۲۱۹) لوگوں نے کہا:ابھی تک یہ ہم پر حرام نہیں کئے گئے، صرف اللہ تعالی نے یہ کہا ہے کہ ان میں بڑا گناہ ہے، اس لئے انہوں نے شراب نوشی جاری رکھی،یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی،یہ مغرب کی نماز تھی، اس نے قراء ت کو خلط ملط کردیا، تواللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں اس سے ذرا سخت حکم نازل کر دیااور فرمایا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاۃَ وَأَ نْتُمْ سُکَارٰی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ}… اے ایماندارو! جب تم نشے میں مست ہو تو نماز کے قریب نہ آیا کرو، جب تک تمہیںیہ معلوم نہ ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ پھر بھی لوگوں نے شراب نوشی جاری رکھی، لیکن اس انداز سے پیتے تھے کہ نماز تک ہوش میں آ جاتے تھے، بالآخر اس کے بارے میں سخت ترین ممانعت کا حکم نازل ہوا، سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَ نْصَابُ وَالْأَ زْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (سورۂ مائدہ: ۹۰) تب لوگوں نے کہا: اب ہم باز آگئے ہیں، پھر کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوچکے ہیںیا طبعی موت فوت ہوئے ہیں، جبکہ وہ شراب پیتے تھے اورجوے کی کمائی کھاتے تھے اور اب اسے اللہ تعالیٰ نے اس کو پلید اور شیطانی عمل قراردیا ہے، تو اس وقت اللہ تعالییہ حکم نازل فرمایا: {لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔}… ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، پھر وہ متقی بنے اور ایمان لائے، پھر وہ متقی بنے اور انھوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۳) پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ ان کی زندگی میں حرام ہوتے تو وہ بھی انہیں اسی طرح چھوڑ دیتے، جس طرح تم نے چھوڑ دی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8505

۔ (۸۵۰۵)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ تَحْرِیمُ الْخَمْرِ، قَالَ: اللّٰہُمَّ بَیِّنْ لَنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانًا شَافِیًا، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ الَّتِی فِی سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ: {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ} قَالَ: فَدُعِیَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُرِئَتْ عَلَیْہِ فَقَالَ: اللّٰہُمَّ بَیِّنْ لَنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانًا شَافِیًا، فَنَزَلَتْ الْآیَۃُ الَّتِی فِی سُورَۃِ النِّسَائِ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاۃَ وَأَ نْتُمْ سُکَارٰی} فَکَانَ مُنَادِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَ قَامَ الصَّلَاۃَ نَادٰی أَ نْ لَا یَقْرَبَنَّ الصَّلَاۃَ سَکْرَانُ، فَدُعِیَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُرِئَتْ عَلَیْہِ فَقَالَ: اَللَّہُمَّ بَیِّنْ لَنَا فِی الْخَمْرِ بَیَانًا شَافِیًا، فَنَزَلَتْ الْآیَۃُ الَّتِی فِی الْمَائِدَۃِ، فَدُعِیَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُرِئَتْ عَلَیْہِ فَلَمَّا بَلَغَ: {فَہَلْ أَنْتُمْ مُنْتَہُونَ} قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: انْتَہَیْنَا انْتَہَیْنَا۔ (مسند احمد: ۳۷۸)
۔ ابو میسرہ کہتے ہیں: جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے میرے اللہ! ہمارے لئے شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم بیان فرما، پس سورۂ بقرہ کییہ آیت نازل ہوئی: {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ} … لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، ان سے کہہ دو ان میں بڑا گناہ ہے۔ سیدنا عمرکو بلایا گیا اور انپر یہ آیت پڑھی گئی، لیکن انھوں نے کہا: اے میرے اللہ ! ہمارے لئے شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم نازل فرما۔ پس سورۂ نساء والی آیت نازل ہوئی {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّـلَاۃَ وَ أَ نْتُمْ سُکَارٰی}… اے ایماندارو! جب نشہ میں مست ہو تو نماز کے قریب نہ آیا کرو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مؤذن جب نماز کے لیے اقامت کہنے لگتا تو وہ یہ آواز دیتا کہ کوئی نشے والا آدمی نماز کے قریب نہ آئے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا گیا اور یہ آیت ان پر پڑھی گئی۔ لیکن اب کی بار بھی انھوں نے کہا: اے میرے اللہ! شراب کے بارے میں واضح اور تسلی بخش حکم فرما۔ بالآخر جب سورۂ مائدہ والی آیت نازل ہوئی اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی اور جب پڑھنے والا ان الفاظ {فَہَلْ أَ نْتُمْ مُنْتَہُونَ} پر پہنچا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پکار اٹھے: اے ہمارے ربّ! ہم باز آ گئے ہم باز آ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8506

۔ (۸۵۰۶)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَ حْسَنُ} عَزَلُوْا أَمْوَالَ الْیَتَامٰی حَتّٰی جَعَلَ الطَّعَامُ یَفْسُدُ وَاللَّحْمُ یُنْتِنُ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ: {وَإِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ} قَالَ: فَخَالَطُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۳۰۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نال ہوئی:{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَ حْسَنُ}… یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو۔ تولوگوں نے یتیموں کے مال علیحدہ کردئیے، جب علیحدہ کئے توان کا کھانا خراب ہونے لگا اورگوشت بدبودار ہونے لگا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کا ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَإِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ}… اگر تم یتیموں کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالی فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ اس حکم کے بعد صحابہ نے ان سے کھانا ملا لیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8507

۔ (۸۵۰۷)۔ عَنْ أَ نَسٍ أَ نَّ الْیَہُودَ کَانُوْا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَ ۃُ مِنْہُمْ لَمْ یُؤَاکِلُوْہُنَّ وَلَمْ یُجَامِعُوہُنَّ فِی الْبُیُوتِ، فَسَأَ لَ أَ صْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْمَحِیضِ قُلْ ہُوَ أَ ذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِی الْمَحِیضِ وَلَا تَقْرَبُوہُنَّ حَتّٰییَطْہُرْنَ} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِصْنَعُوْا کُلَّ شَیْئٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔)) فَبَلَغَ ذٰلِکَ الْیَہُودَ فَقَالُوْا: مَا یُرِیدُ ہٰذَا الرَّجُلُ أَ نْ یَدَعَ مِنْ أَ مْرِنَا شَیْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِیہِ، فَجَائَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ الْیَہُودَ قَالَتْ: کَذَا وَکَذَا أَفَلَا نُجَامِعُہُنَّ؟ فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ظَنَنَّا أَ نَّہُ قَدْ وَجَدَ عَلَیْہِمَا فَخَرَجَا، فَاسْتَقْبَلَتْہُمَا ہَدِیَّۃٌ مِنْ لَبَنٍ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَ رْسَلَ فِی آثَارِہِمَا فَسَقَاہُمَا فَعَرَفَا أَنَّہُ لَمْ یَجِدْ عَلَیْہِمَا، (حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: سَمِعْت أَبِییَقُولُ: کَانَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ لَا یَمْدَحُ أَوْ یُثْنِی عَلٰی شَیْئٍ مِنْ حَدِیثِہِ إِلَّا ہٰذَا الْحَدِیثَ مِنْ جَوْدَتِہِ)۔ (مسند احمد: ۱۲۳۷۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب عورت حیض والی ہوتی تو یہودی نہ ان کے ساتھ کھاتے تھے اور نہ ان کے ساتھ اکٹھے گھروں میں رہتے تھے، جب صحابہ کرام نے اس بارے میں سوال کیا تواللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَیَسْئَـلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًیفَاعْتَزِلُوا النِّسَاء َ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰییَـطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّـوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ۔}… اور وہ تجھ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے، سو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ غسل کرلیں تو ان کے پاس آؤ جہاں سے تمھیں اللہ نے حکم دیا ہے۔ بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرنے والے ہیں اور ان سے محبت کرتا ہے جو بہت پاک رہنے والے ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۲) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ماسوائے جماع کے ہر چیز کر سکتے ہو۔ جب یہ بات یہودیوں تک پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ آدمی تو ہر وقت یہی ارادہ رکھتا ہے کہ ہر معاملہ میں ہماری مخالفت کرے۔ سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہودیوں نے آپ کے فرمان کے مقابلے میں یہ کہا ہے۔ کیا ہم اس حالت میں جماع بھی نہ کر لیا کریں (تاکہ یہودیوں کی اور زیادہ مخالفت ہو)؟ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ تبدیل ہو گیا، ہم نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دو صحابہ پر غصہ میں آ گئے ہیں، وہ دونوں ڈرتے ہوئے چلے گئے، بعد میں جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ لایا گیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو پیغام بھیجا اور ان کو یہ دودھ پلا دیا، اس سے انھوں نے پہنچان لیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے ناراض نہیں ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8508

۔ (۸۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ: إِنِّی سَائِلُکِ عَنْ أَ مْرٍ وَأَ نَا أَ سْتَحْیِی أَ نْ أَ سْأَ لَکِ عَنْہُ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْیِییَا ابْنَ أَ خِی، قَالَ: عَنْ إِتْیَانِ النِّسَائِ فِی أَدْبَارِہِنَّ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِی أُمُّ سَلَمَۃَ أَ نَّ الْأَ نْصَارَ کَانُوْا لَا یُجِبُّونَ النِّسَائَ، وَکَانَتِ الْیَہُودُ تَقُولُ: إِنَّہُ مَنْ جَبَّی امْرَأَ تَہُ کَانَ وَلَدُہُ أَ حْوَلَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُونَ الْمَدِینَۃَ، نَکَحُوْا فِی نِسَائِ الْأَ نْصَارِ فَجَبُّوہُنَّ فَأَ بَتْ امْرَأَۃٌ أَ نْ تُطِیعَ زَوْجَہَا، فَقَالَتْ لِزَوْجِہَا: لَنْ تَفْعَلَ ذٰلِکَ حَتّٰی آتِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَدَخَلَتْ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہَا، فَقَالَتْ: اِجْلِسِی حَتّٰییَأْتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَحْیَتِ الْأَ نْصَارِیَّۃُ أَ نْ تَسْأَ لَہُ فَخَرَجَتْ، فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُدْعِی الْأَ نْصَارِیَّۃَ۔)) فَدُعِیَتْ فَتَلَا عَلَیْہَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَنّٰی شِئْتُمْ} صِمَامًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۳۶)
۔ عبدالرحمن بن سابط کہتے ہیں: میں سیدنا حفصہ بنت عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، لیکن حیاء مانع ہے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے شرم مت کیجئے، میں نے کہا، عورتوں کے ساتھ ان کی دبر کی طرف سے جماع کرنے کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا:سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بیان کیا کہ انصاری لوگ جماع کے دوران عورتوں کو اوندھے منہ نہیں لٹاتے تھے، کیونکہیہودیوں کا کہنا تھا کہ عورت کو اوندھا کر کے جماع کیا جائے تو اس سے بھینگا بچہ پیدا ہوتا ہے، جب مہاجرین مدینہ میں آئے اور انہوں نے انصار کی عورتوں سے شادیاں کیں اوران کو اوندھا کر کے جماع کرنا چاہا تو آگے سے ایک انصاری عورت نے اپنے خاوند کییہ بات ماننے سے انکار کر ددیا اور کہا:تم ایسا ہر گز نہ کر سکو گے، جب تک کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھ نہ لوں۔ پس وہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس بات کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: بیٹھ جائو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تشریف آوری تک اِدھر ہی ٹھہرو، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو انصاری عورت آپ سے پوچھنے سے شرما گئی اور باہر نکل گئی، جب سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس انصاری خاتون کو بلائو۔ پس جب اس کو بلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر یہ آیت تلاوت کی : {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}(سورۂ بقرہ: ۲۲۳) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8509

۔ (۸۵۰۹)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُونَ الْمَدِینَۃَ عَلَی الْأَ نْصَارِ تَزَوَّجُوا مِنْ نِسَائِہِمْ، وَکَانَ الْمُہَاجِرُونَ یُجِبُّونَ، وَکَانَتْ الْأَ نْصَارُ لَا تُجَبِّی، فَأَرَادَ رَجُلٌ مِنْ الْمُہَاجِرِینَ امْرَأَتَہُ عَلٰی ذٰلِکَ فَأَبَتْ عَلَیْہِ حَتّٰی تَسْأَ لَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَأَ تَتْہُ فَاسْتَحْیَتْ أَ نْ تَسْأَ لَہُ فَسَأَ لَتْہُ أُمُّ سَلَمَۃَ فَنَزَلَتْ: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَ نّٰی شِئْتُمْ} وَقَالَ: ((لَا إِلَّا فِی صِمَامٍ وَاحِدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۳۳)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب مہاجرین مدینہ میں آئے تو انصاری خواتین سے شادیاں کیں، اب یہ مسئلہ پیدا ہوا مہاجر بیویوں کو اوندھا کر کے جماع کرتے تھے، جبکہ انصار اوندھا نہیں کرتے تھے، جب ایک مہاجر نے اپنی بیوی کو اوندھا کرکے جماع کرنا چاہا تو اس نے انکاور کر دیا اور کہا: جب تک میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھ نہیں لیتی، ایسا نہیں کرنے دوں گی، پس وہ آئی، لیکنیہ مسئلہ پوچھنے سے شرما گئی، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}(سورۂ بقرہ: ۲۲۳) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماع نہ کرو، مگر ایک ہی سوراخ میں (جو مباشرت کے لیے ہے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8510

۔ (۸۵۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ: {نِسَائُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ} فِیْ اُنَاسٍ مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَوُا النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلُوْہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِئْتِہَا عَلٰی کُلِّ حَالٍ اِذَا کَانَ فِی الْفَرْجِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصاری لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}(سورۂ بقرہ: ۲۲۳) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔ جب وہ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور اس بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہر کیفیت کے ساتھ اپنی بیوی کے ساتھ جماع کر سکتے ہو، بشرطیکہ مباشرت والی شرمگاہ ہی استعمال کی جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8511

۔ (۸۵۱۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَلَکْتُ، قَالَ: ((وَمَا الَّذِی أَ ہْلَکَکَ؟)) قَالَ: حَوَّلْتُ رَحْلِیَ الْبَارِحَۃَ، قَالَ: فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًا، قَالَ: فَأَ وْحَی اللّٰہُ إِلٰی رَسُولِہِ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَ نّٰی شِئْتُمْ} ((أَ قْبِلْ وَأَ دْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِیْضَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے گزشتہ رات کو اپنی بیوی سے پچھلی طرف سے اگلی شرمگاہ میں جماع کر لیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب یہ آیت وحی کی: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ} … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۳) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اگلی طرف سے آ، یا پچھلی طرف سے، بہرحال دبر اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8512

۔ (۸۵۱۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ، وَلَمْ یَکُنْیُصَلِّی صَلَاۃً أَ شَدَّ عَلٰی أَصْحَابِ النَّبِیِِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی} وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَہَا صَلَاتَیْنِ وَبَعْدَہَا صَلَاتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۳۱)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھاتے تھے اور یہی نماز صحابہ کرام پر سب سے زیادہ سخت تھی، پس یہ آیت نازل ہوئی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰاۃِ الْوُسْطٰی} … نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر افضل نماز کی۔ پھر سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیونکہ دو نمازیں اس سے پہلے ہیں اور دو نمازیں اس کے بعد ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8513

۔ (۸۵۱۳)۔ عَنِ الزِّبْرِقَانِ أَ نَّ رَہْطًا مِنْ قُرَیْشٍ مَرَّ بِہِمْ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَہُمْ مُجْتَمِعُونَ، فَأَ رْسَلُوا إِلَیْہِ غُلَامَیْنِ لَہُمْ یَسْأَ لَانِہِ عَنْ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی، فَقَالَ: ہِیَ الْعَصْرُ، فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلَانِ مِنْہُمْ فَسَأَ لَاہُ، فَقَالَ: ہِیَ الظُّہْرُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلٰی أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ فَسَأَ لَاہُ، فَقَالَ: ہِیَ الظُّہْرُ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَجِیرِ، وَلَا یَکُونُ وَرَائَہُ إِلَّا الصَّفُّ وَالصَّفَّانِ مِنْ النَّاسِ فِی قَائِلَتِہِمْ وَفِی تِجَارَتِہِمْ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَقُومُوْا لِلّٰہِ قَانِتِینَ} قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَنْتَہِیَنَّ رِجَالٌ أَ وْ لَأُحَرِّقَنَّ بُیُوتَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۳۵)
۔ زبرقان سے مروی ہے کہ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قریش کے ایک گروہ کے قریب سے گزرے، وہ ایک جگہ پر جمع تھے، انہوں نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس دو غلام بھیجے، انھوں نے ان سے وسطی نماز کے بارے دریافت کیا، انہوں نے جواباً کہا: یہ عصر کی نماز ہے، لیکن ان میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور کہاکہ یہ نمازِ ظہر ہے، پھر وہ دونوں سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ان سے یہ سوال کیا، انہوں نے بھی کہا یہ نماز ظہر ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوپہر کے وقت نماز ظہر ادا کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نمازیوں کی ایک دو صفیں ہوتی تھیں،کوئی قیلولہ کر رہا ہوتا اور کوئی تجارت میں مصروف ہوتا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی وَقُومُوْا لِلَّہِ قَانِتِینَ}… نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر نمازِ وسطیٰ کی اور اللہ تعالی کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ نماز چھوڑنے سے باز آ جائیں گے یا پھر میں ان کے گھر جلا دوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8514

۔ (۸۵۱۴)۔ عَن الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: نَزَلَتْ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ} فَقَرَأْنَاہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا شَائَ اللّٰہُ أَ نْ نَقْرَأَ ہَا لَمْ یَنْسَخْہَا اللّٰہُ، فَأَ نْزَلَ: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: کَانَ مَعَ شَقِیقٍیُقَالُ لَہُ: أَ زْہَرُ، وَہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ، قَالَ: قَدْ أَ خْبَرْتُکَ کَیْفَ نَزَلَتْ وَکَیْفَ نَسَخَہَا اللّٰہُ تَعَالی، وَاللّٰہُ أَ عْلَمُ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۷۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت اتری {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ}تو جب تک اللہ تعالی نے چاہا، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں اس کی تلاوت کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ نہیں کیا، پھر اللہ تعالی نے اس طرح نازل کر دی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی}۔ شقیق راوی کے ساتھ ایک آدمی تھا، اس کا نام ازہر تھا، اس نے سیدنا براء سے دریافت کیا: نمازِ وسطیٰ سے مراد نمازِعصر ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ آیت کس طرح نازل ہوئی اور کس طرح منسوخ ہوئی، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8515

۔ (۸۵۱۵)۔ عَنْ أَ بِییُونُسَ مَوْلٰی عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہُ قَالَ: أَ مَرَتْنِی عَائِشَۃُ أَ نْ أَ کْتُبَ لَہَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ فَآذِنِّی {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُہَا آذَنْتُہَا فَأَ مْلَتْ عَلَیَّ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلّٰہِ قَانِتِینَ} ثُمَّ قَالَتْ: سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۶۴)
۔ مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لئے ایک مصحف لکھوں، اور کہا کہ جب میں اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی} پر پہنچوں تو مجھے بتانا،پس جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، انھوں نے اس آیت کییوں املاء کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطَی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ} پھر انھوں نے کہا:میں نے یہ آیت اس طرح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8516

۔ (۸۵۱۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ یُکَلِّمُ صَاحِبَہٗعَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَاجَۃِ فِی الصَّلَاۃِ حَتّٰی نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} فَاُمِرْنَا بِالسُّکُوْتِ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۳)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں نماز کے دوران اپنی ضرورت کی بات کر سکتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} … اور اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو کر کھڑے ہو جائو۔ پس ہمیںنماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8517

۔ (۸۵۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْاٰنِ یُذْکَرُ فِیْہِ الْقُنُوْتُ فَہُوَ الطَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید میں جہاں بھی قنوت کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس سے مراد اطاعت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8518

۔ (۸۵۱۸)۔ عَنْ أَ سْمَاء َ بِنْتِ یَزِیدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فِی ہَذَیْنِ الْآیَتَیْنِ: {اَللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} وَ {الٓمٓ اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} إِنَّ فِیہِمَا اسْمَ اللّٰہِ الْأَ عْظَمَ)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۳)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دو آیتوں میںاللہ تعالی کا اسم اعظم ہے:{اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8519

۔ (۸۵۱۹)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِیَاثٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَ بَا السَّلِیلِ: قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنْ أَ صْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ النَّاسَ حَتّٰییُکْثَرَ عَلَیْہِ، فَیَصْعَدَ عَلٰی ظَہْرِ بَیْتٍ فَیُحَدِّثَ النَّاسَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ یُّ آیَۃٍ فِی الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ، قَالَ: فَوَجَدْتُ بَرْدَہَا بَیْنَ ثَدْیَیَّ، أَ وْ قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ بَیْنَ ثَدْیَیَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَہَا بَیْنَ کَتِفَیَّ، قَالَ: ((یَہْنِکَیَا أَ بَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمَ الْعِلْمَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۴)
۔ ابو سلیل سے مروی ہے کہ ایک صحابی لوگوں کو احادیث بیان کرتا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو وہ گھر کی چھت پر چڑھ کر لوگوں کو احادیث سنانے لگا، ایک حدیثیہ تھی: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: قرآن مجید میں کونسی آیت سب سے عظمت والی ہے؟ ایک آدمی نے جواب دیا اور کہا: {اَللَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} یعنی آیۃ الکرسی،یہ جواب سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھا، اس نے کہا:میں نے اپنے سینے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کی،یا اس صحابی نے یوں کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا اور میں نے اپنے کندھوں کے مابین اس کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے یہ علم مبارک ہو، یہ واقعی علم ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8520

۔ (۸۵۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أُبَیٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَ لَہُ ((أَ یُّ آیَۃٍ فِی کِتَابِ اللّٰہِ أَعْظَمُ؟)) قَالَ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَ عْلَمُ، فَرَدَّدَہَا مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ أُبَیٌّ: آیَۃُ الْکُرْسِیِّ، قَالَ: ((لِیَہْنِکَ الْعِلْمُ أَ بَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ لَہَا لِسَانًا وَشَفَتَیْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِکَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۲)
۔ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے سوال کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سے سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟ میں نے کہا:اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں،لیکن آپ نے یہ سوال کئی بار دہرایا، بالآخر میں نے کہا: وہ آیۃ الکرسیہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو منذر! تجھے تیرا علم مبارک ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں،یہ عرش کے پائے کے پاس اللہ بادشاہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8521

۔ (۸۵۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَ بِی لَیْلٰی، عَنْ أَ بِی أَ یُّوبَ أَ نَّہُ کَانَ فِی سَہْوَۃٍ لَہُ فَکَانَتِ الْغُولُ تَجِیْئُ، فَتَأْخُذُ فَشَکَاہَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِذَا رَأَ یْتَہَا فَقُلْ بِسْمِ اللّٰہِ أَ جِیبِی رَسُولَ اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَجَائَ تْ، فَقَالَ لَہَا: فَأَ خَذَہَا، فَقَالَتْ لَہُ: إِنِّی لَا أَعُودُ فَأَ رْسَلَہَا، فَجَائَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا فَعَلَ أَ سِیرُکَ؟)) قَالَ: أَ خَذْتُہَا، فَقَالَتْ لِی: إِنِّی لَا أَ عُودُ فَأَ رْسَلْتُہَا، فَقَالَ: ((إِنَّہَا عَائِدَۃٌ۔)) فَأَ خَذْتُہَا مَرَّتَیْنِ أَ وْ ثَلَاثًا، کُلَّ ذَلِکَ یَقُولُ: لَا أَ عُودُ وَیَجِیئُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَقُولُ: ((مَا فَعَلَ أَ سِیرُکَ؟)) فَیَقُولُ: أَ خَذْتُہَا، فَیَقُولُ: لَا أَ عُودُ، فَیَقُولُ: ((إِنَّہَا عَائِدَۃٌ۔)) فَأَ خَذَہَا فَقَالَتْ: أَرْسِلْنِی وَأُعَلِّمُکَ شَیْئًا تَقُولُ فَلَا یَقْرَبُکَ شَیْئٌ آیَۃَ الْکُرْسِیِّ، فَأَ تَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ: ((صَدَقَتْ وَہِیَ کَذُوبٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۹۰)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے گھر میں چبوترے پر تھا، ایک جن بھوت آتا اور (مال وغیرہ) لے جاتا۔ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جب اسے دیکھے تو کہنا بسم اللہ ! تو اللہ کے رسول کی بات قبول کر۔ جب وہ آیا تو میں نے اس سے یہی بات کہی اور اس کو پکڑ لیا، اس نے کہا: اب نہیں لوٹوں گا۔ پس میں نے اسے چھوڑ دیا،میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: قیدی کا کیا بنا۔ میں نے کہا: جی میں نے اسے پکڑ لیا تھا، جب اس نے دوبارہ نہ آنے کا وعدہ کیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ پھر لوٹے گا۔ جب وہ پھر آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور دو تین مرتبہ پکڑ کر چھوڑ دیا، وہ ہر دفعہ یہی کہتا تھا کہ وہ نہیں لوٹے گا اور میں جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا:جی میں اسے پکڑتا ہوں تو وہ یہ کہتا ہے کہ وہ نہیںلوٹے گا، سو میں اسے چھوڑ دیتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: دیکھنا، وہ لوٹے گا۔ وہ تو واقعی آیا اور میں نے اس کو پکڑ لیا، اب کی بار اس نے کہا: مجھے جھوڑ دو، میں تمہیں ایسی چیز کی تعلیم دیتا ہوں کہ اس کی وجہ سے کوئی چیز تیرے قریب نہیں آئے گی، وہ آیۃ الکرسی ہے، جب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا تو بہت ہے، لیکن تجھ سے اس نے سچ بولا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8522

۔ (۸۵۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَحْنُ اَحَقُّ بِالشَّکِّ مِنْ اِبْرَاھِیْمَ علیہ السلام اِذْ قَالَ: {رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ} (مسند احمد: ۸۳۱۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب انھوں نے کہا: {رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَ لَکِنْ لِیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ} اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ فرمایا اور کیا تونے یقین نہیں کیا ؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8523

۔ (۸۵۲۳)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {لِلَّہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ، فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ} فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی صَحَابَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ تَوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جَثَوْا عَلَی الرُّکَبِ، فَقَالُوْا: یَارَسُولَ اللّٰہِ! کُلِّفْنَا مِنْ الْأَ عْمَالِ مَا نُطِیقُ الصَّلَاۃَ وَالصِّیَامَ وَالْجِہَادَ وَالصَّدَقَۃَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَیْکَ ہٰذِہِ الْآیَۃُ وَلَا نُطِیقُہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ تُرِیدُونَ أَ نْ تَقُولُوْا کَمَا قَالَ أَ ہْلُ الْکِتَابَیْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا، بَلْ قُولُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ۔)) فَقَالُوْا: سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ، فَلَمَّا أَ قَرَّ بِہَا الْقَوْمُ وَذَلَّتْ بِہَا أَ لْسِنَتُہُمْ أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی إِثْرِہَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ، کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہِ} قَالَ عَفَّانُ: قَرَأَ ہَا سَلَّامٌ أَ بُو الْمُنْذِرِ یُفَرِّقُ {وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ} فَلَمَّا فَعَلُوْا ذَلِکَ نَسَخَہَا اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِقَوْلِہِ: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} فَصَارَ لَہُ مَا کَسَبَتْ مِنْ خَیْرٍ وَعَلَیْہِ مَا اکْتَسَبَتْ مِنْ شَرٍّ، فَسَّرَ الْعَلَائُ ہٰذَا { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ} قَالَ: نَعَمْ، {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ۔} (مسند احمد: ۹۳۳۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی {لِلَّہِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ، فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے گابخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یہ آیت صحابہ کرام پر بہت گراں گزری، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس آیت میں ان اعمال کا مکلف بنایا گیا ہے، جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، نماز ہے، روزہ ہے، جہاد ہے، صدقہ ہے،(ہم ان اعمال کو سرانجام دے سکتے ہیں)، لیکن اب آپ پر جو آیت نازل ہوئی ہے، اس کی ہم میں طاقت نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم بھی وہی بات دہرانا چاہتے ہو، جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی، بلکہ یہ کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطااعت کی، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے، جب لوگوں نے اس کا اقرار کیا اور ان کی زبانیں اس حکم کے سامنے پست ہوئیں تو اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ، کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہِ} عفان نے کہا: ابو منذر سلام نے یُفَرِّقُ پڑھا ہے، {وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ} جب صحابہ کرام نے ایسے ہی کیا تو اللہ تعالی اس آیت کے حکم کو اس فرمان کے ساتھ منسوخ کر دیا: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} نفس کے حق میں وہ خیر ہے، جو وہ کمائے اور اسی پر وہ شرّ ہے، جس کا وہ ارتکاب کرے۔ { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا} اللہ تعالی نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا} اللہ تعالی نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ} اللہ تعالی نے کہا: ہاں،{وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ۔}
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8524

۔ (۸۵۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَہُمْ مِنْہَا شَیْئٌ لَمْ یَدْخُلْ قُلُوبَہُمْ مِنْ شَیْئٍ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُوْلُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا وَسَلَّمْنَا۔))، فَأَ لْقَی اللّٰہُ الْإِیمَانَ فِی قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہٖ،وَقَالُوْاسَمِعْنَاوَأَطَعْنَاغُفْرَانَکَرَبَّنَاوَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ، لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ، رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا، رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا، رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ} (قَالَ اَبُوْعَبْدِ الرَّحْمٰنِ (یَعْنِیْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ): آدَمُ ھٰذَا ھُوَ اَبُوْ یَحْیَی بْنُ آدَمَ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ…}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ تو صحابہ کے دلوں میں ایک خیال گھس گیا اور وہ غمگین ہو گئے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کییا ہم نے تسلیم کیا، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا اور اتنے میں یہ آیات نازل کر دیں: {اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖوَالْمُؤْمِنُوْنَکُلٌّاٰمَنَبِاللّٰہِوَمَلٰیِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖوَرُسُلِہٖلَانُفَرِّقُبَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖوَقَالُوْاسَمِعْنَاوَاَطَعْنَاغُفْرَانَکَرَبَّنَاوَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖوَاعْفُعَنَّاوَاغْفِرْلَنَاوَارْحَمْنَااَنْتَمَوْلٰینَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔}
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8525

۔ (۸۵۲۵)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: یَا أَ بَا عَبَّاسٍ کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَقَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ فَبَکٰی، قَالَ: أَ یَّۃُ آیَۃٍ قُلْتُ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ حِینَ أُنْزِلَتْ غَمَّتْ أَ صْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَمًّا شَدِیدًا، وَغَاظَتْہُمْ غَیْظًا شَدِیدًا،یَعْنِی وَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَلَکْنَا إِنْ کُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَکَلَّمْنَا وَبِمَا نَعْمَلُ، فَأَ مَّا قُلُوبُنَا فَلَیْسَتْ بِأَ یْدِینَا، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُولُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔)) قَالَ: فَنَسَخَتْہَا ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ} إِلٰی {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} فَتُجُوِّزَ لَہُمْ عَنْ حَدِیثِ النَّفْسِ وَأُخِذُوا بِالْأَ عْمَالِ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۰)
۔ مجاہد کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابو عباس! میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس تھا، انھوں نے یہ آیت پڑھی اور رو پڑے، انھوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: یہ آیت{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ…}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سخت غمزہ ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ہلاک ہو گئے ہیں، اگرہماری باتوں اور اعمال کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ کیا جائے (تو یہ تو ٹھیک ہے)، اب ہمارے دل تو ہمارے قابو میں نہیں ہے۔ آگے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر اس آیت نے اس آیت کے حکم کو منسوخ کر دیا{آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ … … لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} پس نفس کے خیالات کو معاف کر دیا گیا اور اعمال کا مؤاخذہ کیا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8526

۔ (۸۵۲۶)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أُمَیَّۃَ أَ نَّہَا سَأَ لَتْ عَائِشَۃَ عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} وَعَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} فَقَالَتْ: مَا سَأَ لَنِی عَنْہُمَا أَ حَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہُمَا، فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! ہٰذِہِ مُتَابَعَۃُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا یُصِیبُہُ مِنْ الْحُمّٰی وَالنَّکْبَۃِ وَالشَّوْکَۃِ حَتَّی الْبِضَاعَۃُیَضَعُہَا فِی کُمِّہِ، فَیَفْقِدُہَا فَیَفْزَعُ لَہَا، فَیَجِدُہَا فِی ضِبْنِہِ، حَتّٰی إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِہِ کَمَا یَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَ حْمَرُ مِنْ الْکِیرِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۵۹)
۔ امیہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ان آیات کے بارے میں سوال کیا: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} اور {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا عمل کرے گا، اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا) سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جب سے میں نے ان کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تھا، اس وقت سے اب تک کسی نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایاتھا: اے عائشہ! یہ اللہ تعالیٰ بندے کا مؤاخذہ کرتے رہتے ہیں، ان عوارض کے ذریعے جو بندے کو لاحق ہوتے رہتے ہیں، مثلاً: بخار ہو گیا، مصیبت آ گئی، کانٹا چبھ گیا،یہاں تک کہ وہ سامان، جو بندہ اپنی آستیں میں رکھتا ہے، پھر اس کو گم پانے کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے، اتنے میں اسی اپنی پہلو یا بغل میں پا لیتا ہے،(بیماریوں اور پریشانیوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے، جس طرح سونے کی سرخ ڈلی صاف ہو کر بھٹھی سے نکلتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8527

۔ (۸۵۲۷)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ أَ نْ یَخْلُقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَ رْضَ بِأَ لْفَیْ عَامٍ فَأَ نْزَلَ مِنْہُ آیَتَیْنِ، فَخَتَمَ بِہِمَا سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ، وَلَا یُقْرَئَانِِ فِی دَارٍ ثَلَاثَ لَیَالٍ، فَیَقْرَبَہَا الشَّیْطَانُ۔))، قَالَ عَفَّانُ: فَلَا تُقْرَبَنَّ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۰۴)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل ایک دستاویز تحریر فرمائی، اس سے دو آیتیں اتاریں اور ان کے ذریعے سورۂ بقرہ کو مکمل کیا، جس گھر میں تین راتیںیہ دو آیتیں پڑھی جائیںگی، شیطان اس کے قریب نہیں پھٹک سکے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8528

۔ (۸۵۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَرَاَ الْاٰیَتَیْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ فِیْ لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۲۴)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا جو رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے گا تو یہ اسے کفایت کریں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8529

۔ (۸۵۲۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اقْرَئُوْا ہَاتَیْنِ الْآیَتَیْنِ اللَّتَیْنِ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ، فَإِنَّ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَ عْطَاہُنَّ أَوْ أَعْطَانِیہِنَّ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۲)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر براجمان ہو کر فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ میرے رب نے مجھے عرش کے نیچے سے یہ عطاء کی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8529

۔ (۸۵۲۹م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَإِ الْاٰیَتَیْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ، فَاِنِّی اُعْطِیْتُہُمَا مِنْ تَحْتَ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۵۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کر، یہ مجھے عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8530

۔ (۸۵۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُعْطِیْتُ خَوَاتِیْمَ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ مِنْ بَیْتِ کَنَزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَہُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۷۲)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے سورۂ بقرہ کی آخری آیتیںعرش کے نیچے خزانے والے گھر سے عطا کی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ عطا نہیں کی گئیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8531

۔ (۸۵۳۱)۔ عَنْ أَ سْمَاء َ بِنْتِ یَزِیدَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فِی ہٰذَیْنِ الْآیَتَیْنِ: {اَللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} وَ{الٓمٓ اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} إِنَّ فِیہِمَا اسْمَ اللّٰہِ الْأَ عْظَمَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۳)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دو آیتوں میںاللہ تعالی کا اسم اعظم ہے:{اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8532

۔ (۸۵۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({ہُوَ الَّذِی أَ نْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ، مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ، فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ، فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء َ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ، یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَ لْبَابِ} [آل عمران: ۷] فَإِذَا رَأَ یْتُمُ الَّذِینَیُجَادِلُونَ فِیہِ، فَہُمْ الَّذِینَ عَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۴)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان سے بچو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8533

۔ (۸۵۳۳)۔ عَنْ أَ بِی غَالِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَیُحَدِّثُ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَوْلِہِ عَزَّوَجَلَّ: {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ} قَالَ: ((ہُمْ الْخَوَارِجُ۔)) وَفِی قَوْلِہِ: {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} قَالَ: ((ہُمْ الْخَوَارِجُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۱۴)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ} … پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ خوارج ہیں۔ اسی طرح {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوہٌ}… اس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ سیاہ کے بارے میں بھی فرمایا کہ ان سے مراد بھی خارجی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8534

۔ (۸۵۳۴)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ بِعَرَفَۃَیَقْرَأُ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {شَہِدَ اللّٰہُ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَالْمَلَائِکَۃُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} [آل عمران: ۱۸] وَأَ نَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَیَا رَبِّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۱)
۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفات میں یہ آیت پڑھ رہے تھے: {شَہِدَ اللّٰہُ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَالْمَلَائِکَۃُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقتیہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے ربّ! میں بھی اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8535

۔ (۸۵۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ اِلَّا نَخَسَہُ الشَّیْطَانُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَۃِ الشَّیْطَانِ اِلَّا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہُ۔)) قَالَ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} (مسند احمد: ۷۱۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ سیدنا ابو ہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کایہ حصہ پڑھ لو: {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8536

۔ (۸۵۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰییَمِینٍ ہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لِیَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) فَقَالَ الْأَ شْعَثُ: فِیَّ کَانَ وَاللّٰہِ ذٰلِکَ، کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ رَجُلٍ مِنْ الْیَہُودِ أَ رْضٌ، فَجَحَدَنِی فَقَدَّمْتُہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ لَکَ بَیِّنَۃٌ؟۔)) قُلْتُ: لَا، فَقَالَ لِلْیَہُودِیِّ: ((احْلِفْ!۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِذَنْ یَحْلِفَ فَذَہَبَ بِمَالِی، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {إِنَّ الَّذِینَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَ یْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم اٹھائی تا کہ مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا، اشعت بن قیس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے اور ایکیہودی کے درمیان زمین کا جھگڑا ہوا، اس نے میرے خلاف انکار کردیا اور دعویٰ کیایہ زمین میری ہے۔ میں نے اس مقدمہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی سے فرمایا: تو قسم اٹھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قسم اٹھا کر میرا مال لے جائے گا۔ پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۷۷)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8537

۔ (۸۵۳۷)۔ عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔))، قَالَ: فَجَائَ الْأَ شْعَثُ بْنُ قَیْسٍ فَقَالَ: مَا یُحَدِّثُکُمْ أَ بُو عَبْدِالرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَحَدَّثْنَاہُ، قَالَ: فِیَّ کَانَ ہٰذَا الْحَدِیثُ، خَاصَمْتُ ابْنَ عَمٍّ لِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بِئْرٍ کَانَتْ لِی فِییَدِہِ فَجَحَدَنِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیِّنَتُکَ أَ نَّہَا بِئْرُکَ وَإِلَّا فَیَمِینُہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا لِی بِیَمِینِہِ وَإِنْ تَجْعَلْہَا بِیَمِینِہِ تَذْہَبْ بِئْرِی، إِنَّ خَصْمِی امْرُؤٌ فَاجِرٌ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) قَالَ: وَقَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {إِنَّ الَّذِینَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ} الْآیَۃَ [آل عمران: ۷۷]۔ (مسند احمد: ۲۲۱۹۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا حق ناجائز طریقہ سے مارتا ہے، وہ جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو وہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ اتنے میں سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انھوں نے لوگوں سے پوچھا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو کیا بیان کیا ہے؟ لوگوں نے ان کی بیان کی ہوئی بات بیان کی۔ سیدنا اشعث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ واقعہ میرے ساتھ پیش آیا تھا، مجھے اپنے ایک چچا زادسے کنوئیں کا مقدمہ پیش آیا، کنواں میرا تھا، لیکن اس نے مجھے دینے سے انکار کر دیا، اُدھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اشعث تمہارے پاس دلیل ہے کہ یہ کنواں تمہاراہے، وگرنہ آپ کا مد مقابل قسم اٹھا لے گا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی قسم کو کیا کروں،اگر آپ نے اس کی قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تو وہ تو کنواں لے جائے گا کیونکہ میرا مد مقابل فاجر آدمی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال ناحق ہتھیا لے گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:{اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَـہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران: ۷۷)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8537

۔ (۸۵۳۷م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلٰییَمِینِ صَبْرٍ یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالًا، وَہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ، لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ، وَإِنَّ تَصْدِیقَہَا لَفِی الْقُرْآنِ: {إِنَّ الَّذِینَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَ یْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ، قَالَ: فَخَرَجَ الْأَ شْعَثُ وَہُوَ یَقْرَؤُہَا قَالَ: فِیَّ أُنْزِلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ، إِنَّ رَجُلًا ادَّعٰی رَکِیًّا لِی فَاخْتَصَمْنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((شَاہِدَاکَ أَ وْ یَمِینُہُ۔)) فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّہُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلَییَمِیْنِ صَبْرٍ، یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالًا، لَقِیَ اللّٰہَ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۸۴)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اور اس کے ذریعے مال کا حق دار بن گیا، جبکہ وہ اس میں فاجر ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا، یہ آیت اس واقعہ کی تصدیق کرتی ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران: ۷۷) جب سیدنا اشعث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو وہ یہ آیت پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، ایک آدمی نے میرے ایک کنوئیں کے بارے میں یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ اس کا ہے، پس ہم دونوں جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: دو گواہ ہیں؟ وگرنہ اس کی قسم معتبر ہو گی۔ میں نے کہا: اس کی قسم تو فاجر کی قسم ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو جھوٹی قسم اٹھائے اور مال ہتھیائے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8538

۔ (۸۵۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ اِرْتَدَّ عَنِ الْاِسْلَامِ، وَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِیْنَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ} اِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [آل عمران: ۸۶]، فَبَعَثَ بِہَا قَوْمُہٗفَرَجَعَتَائِبًا،فَقَبِلَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذٰلِکَ مِنْہُ وَخَلّٰی عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مرتد ہوا اور مشرکوں کے ساتھ مل گیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {کَیْفَیَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاء َھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔}… اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یقینایہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۶)۔ جب اس کی قوم نے اس تک یہ آیت پہنچائی تو وہ تائب ہو کر واپس آ گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے یہ چیز قبول کر لی اور اس کو آزاد چھوڑ دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8539

۔ (۸۵۳۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَ نَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَ نَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُجَائُ بِالْکَافِرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیُقَالُ لَہُ: أَ رَأَ یْتَ لَوْ کَانَ لَکَ مِلْئُ الْأَ رْضِ ذَہَبًا، أَ کُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہِ؟ فَیَقُولُ: نَعَمْ، یَا رَبِّ!)) قَالَ: ((فَیُقَالُ: لَقَدْ سُئِلْتَ أَ یْسَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔)) فَذٰلِکَ قَوْلُہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ أَ حَدِہِمْ مِلْئُ الْأَ رْضِ ذَہَبًا وَلَوِ افْتَدٰی بِہِ} [آل عمران: ۹۱]۔ (مسند احمد: ۱۳۳۲۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت کافر کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: اچھا یہ بتا کہ اگر تجھے زمین بھر سونا دے دیا جائے تو کیا اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اس کا فدیہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: (دنیا میں) تجھ سے اس سے آسان تر مطالبہ کیا گیا تھا (لیکن تو نے اس کو بھی پورا نہ کیا)۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے: {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ أَ حَدِہِمْ مِلْئُ الْأَ رْضِ ذَہَبًا وَلَوِ افْتَدٰی بِہِ}… یقینا وہ لوگ جو کفر کی حالت میں مر گئے، اگر یہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8540

۔ (۸۵۴۰)۔ عَنْ أَ نَسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} [آل عمران: ۹۲] وَ {مَنْ ذَا الَّذِییُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا} [البقرۃ: ۲۴۵] قَالَ أَ بُو طَلْحَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَحَائِطِی الَّذِی کَانَ بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا وَاللّٰہِ! لَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّہَا لَمْ أُعْلِنْہَا، قَالَ: ((اِجْعَلْہُ فِی فُقَرَائِ أَہْلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۶۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّوْنَ}… تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے، تاآنکہ تم اپنی پسندیدہ چیزیں خرچ کرو اور {مَنْ ذَا الَّذِییُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا} … کون ہے جو اللہ تعالی کو قرضِ حسن دے۔ تو سیدنا ابوطلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا فلاں فلاں جگہ والا باغ (مجھے سب سے زیادہ پسند ہے)، اگر ہمت ہوتی تو میں اس کو مخفی طور پر ہی صدقہ کرنا، کسی کو پتا نہ چلنے دینا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنے رشتہ دار فقراء میں تقسیم کر دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8541

۔ (۸۵۴۱)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ: حَضَرَتْ عِصَابَۃٌ مِنْ الْیَہُودِ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا أَ بَا الْقَاسِمِ! حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَ لُکَ عَنْہُنَّ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، فَکَانَ فِیمَا سَأَ لُوہُ أَ یُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ قَبْلَ أَ نْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ، قَالَ: ((فَأَ نْشُدُکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی، ہَلْ تَعْلَمُونَ أَ نَّ إِسْرَائِیلَیَعْقُوبَ علیہ السلام مَرِضَ مَرَضًا شَدِیدًا، فَطَالَ سَقَمُہُ فَنَذَرَ لِلّٰہِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاہُ اللّٰہُ مِنْ سَقَمِہِ لَیُحَرِّمَنَّ أَ حَبَّ الشَّرَابِ إِلَیْہِ وَأَ حَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ، فَکَانَ أَ حَبَّ الطَّعَامِ إِلَیْہِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَ حَبَّ الشَّرَابِ اِلَیْہِ اَلْبَانُہَا۔))، فَقَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے چند باتیں پوچھتے ہیں، صرف نبی ان کا جواب دے سکتاہے، پھر انہوں نے جو سوال کئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا: یعقوب علیہ السلام نے تو رات اترنے سے پہلے کونسا کھانا اپنے اوپر حرام کیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کے نام کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام سخت بیمار ہوئے تھے، ان کی بیماری لمبی ہو گئی، بالآخر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بیماری سے شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیادہ پیارا کھانا خود پر حرام کر دیں گے؟ جبکہ انہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹ کا گوشت تھا اور سب سے زیادہ پسند مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا، انہوں نے اس چیز کو حرام کردیا۔ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم! درست ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8542

۔ (۸۵۴۲)۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ: { وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} [آل عمران: ۹۷] قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ فِی کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، فَقَالُوْا: أَفِی کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوْا: أَ فِی کُلِّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ((لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ۔)) فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَ شْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [المائدۃ: ۱۰۱]۔ (مسند احمد: ۹۰۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} … لوگوں پر اللہ کے لیے حج فرض ہے جو اس کی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہے۔ تو لوگوں نے کہا: ا ے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہرسال فرض ہو جاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئــَـلُوْا عَنْ اَشْیَاء َ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئــَـلُوْا عَنْہَا حِیْنَیُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہوگا تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8543

۔ (۸۵۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: ۱۱۰] قَالَ: ھُمُ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۹۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرمان: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}… تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو۔ سے مراد وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8543

۔ (۸۵۴۳م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہٖوَفِیْہٖ: قَالَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مَعَہٗاِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۹۸۷)
۔ (دوسری سند) ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اس سے مراد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ ہیں جنھوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8544

۔ (۸۵۴۴)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَ خَّرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعِشَائِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ یَنْتَظِرُونَ الصَّلَاۃَ، قَالَ: ((أَ مَا إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَ ہْلِ ہٰذِہِ الْأَ دْیَانِ أَ حَدٌ یَذْکُرُ اللّٰہَ ہٰذِہِ السَّاعَۃَ غَیْرُکُمْ۔)) قَالَ: وَأَ نْزَلَ ہٰؤُلَائِ الْآیَاتِ: {لَیْسُوا سَوَائً مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ} حَتّٰی بَلَغَ {وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ تُکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ} [آل عمران: ۱۱۳۔ ۱۱۵] (مسند احمد: ۳۷۶۰)
۔ سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کیا، پھر مسجد میں تشریف لائے، جبکہ لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! اس وقت ان ادیان والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جو اس وقت اللہ تعالی کا ذکر کر رہا ہو، ما سوائے تمہارے۔ اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کی ہیں: {لَیْسُوْا سَوَاء ً مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌیَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاء َ الَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰیِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌبِالْمُتَّقِیْنَ۔}… وہ سب برابر نہیں۔ اہل کتاب میں سے ایک جماعت قیام کرنے والی ہے، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ صالحین سے ہیں۔ اور وہ جو نیکی بھی کریں اس میں ان کی بے قدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۱۳۔ ۱۱۵)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8545

۔ (۸۵۴۵)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَ بِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اللّٰہُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، اللّٰہُمَّ الْعَنُ الْحَارِثَ بْنَ ہِشَامٍ، اللّٰہُمَّ الْعَنْ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو، اللّٰہُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ۔))، قَالَ: فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸] قَالَ: فَتِیبَ عَلَیْہِمْ کُلِّہِمْ۔ (مسند احمد: ۵۶۷۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں بد دعا کی: اے اللہ! حارث بن ہشام پر لعنت کر، اے اللہ! سہیل بن عمرو پر لعنت کر، اے اللہ! صفوان بن امیہ پر لعنت کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}… تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ پس ان سب افراد کی توبہ قبول کر لی گئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8546

۔ (۸۵۴۶)۔ عَنْ أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ أَ نَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُسِرَتْ رَبَاعِیَّتُہُیَوْمَ أُحُدٍ، وَشُجَّ فِی جَبْہَتِہِ حَتَّی سَالَ الدَّمُ عَلٰی وَجْہِہِ، فَقَالَ: ((کَیْفَیُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا ہٰذَا بِنَبِیِّہِمْ، وَہُوَ یَدْعُوہُمْ إِلٰی رَبِّہِمْ۔)) فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸]۔ (مسند احمد: ۱۱۹۷۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ احد والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے والے دانت توڑ دیے گئے اور آپ کی پیشانی مبارک زخمی کی گئی،یہاں تک کہ آپ کے چہرئہ انور پر خون بہہ پڑا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، جبکہ نبی ان کو ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}… تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8547

۔ (۸۵۴۷)۔ عَن الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرُّمَاۃِ، وَکَانُوا خَمْسِینَ رَجُلًا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جُبَیْرٍیَوْمَ أُحُدٍ، وَقَالَ: ((إِنْ رَأَ یْتُمُ الْعَدُوَّ وَرَأَ یْتُمُ الطَّیْرَ تَخْطَفُنَا فَلَا تَبْرَحُوْا۔))، فَلَمَّا رَأَ وُا الْغَنَائِمَ قَالُوْا: عَلَیْکُمُ الْغَنَائِمَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَ لَمْ یَقُلْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَبْرَحُوْا۔)) قَالَ: غَیْرُہُ فَنَزَلَتْ: {وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَ رَاکُمْ مَا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ۱۵۲] یَقُولُ: عَصَیْتُمُ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا اَرَاکُمُ الْغَنَائِمَ وَھَزِیْمَۃَ الْعَدُوِّ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۰۱)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ احد والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر سیدنا عبداللہ بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور ان سے فرمایا: اگر تم دیکھو کہ دشمن نے ہمیں ماردیا ہے اور پرندے ہمارا گوشت نوچ رہے ہیں، پھر بھی تم نے اس مقام کو نہیںچھوڑنا۔ لیکن جب انہوں نے مالِ غنیمت کو دیکھا توکہنے لگے: تم بھی غنیمتیں جمع کرو، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم لوگوں نے اسی درے پر رہنا ہے۔ ؟ (لیکن وہ نہ مانے) اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَ رَاکُمْ مَا تُحِبُّونَ}… اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت اور دشمن کی شکست)تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے راوی کہتا ہے: تم غنمتوں اور دشمنوں کی شکست دیکھنے کے بعد اپنے رسول کی نافرمانی کردی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8548

۔ (۸۵۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا أُصِیبَ إِخْوَانُکُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ أَ رْوَاحَہُمْ فِی أَ جْوَافِ طَیْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَ نْہَارَ الْجَنَّۃِ، تَأْکُلُ مِنْ ثِمَارِہَا، وَتَأْوِی إِلٰی قَنَادِیلَ مِنْ ذَہَبٍ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِیبَ مَشْرَبِہِمْ وَمَأْکَلِہِمْ وَحُسْنَ مُنْقَلَبِہِمْ، قَالُوْا: یَا لَیْتَ إِخْوَانَنَا یَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللّٰہُ لَنَا، لِئَلَّا یَزْہَدُوا فِی الْجِہَادِ وَلَا یَنْکُلُوا عَنْ الْحَرْبِ، فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: أَ نَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْکُمْ۔)) فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ہٰؤُلَائِ الْآیَاتِ عَلٰی رَسُولِہِ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَ مْوَاتًا بَلْ أَ حْیَائٌ} [آل عمران: ۱۶۹]۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب احد میں تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندں میں ڈال دیں، وہ جنت کی نہروں پر جاتے ہیں، جنت کے پھل کھاتے ہیں اور عرش الٰہی کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں جگہ پکڑ تے ہیں، جب انہوں نے کھانے پینے کییہ عمدگی اور اپنے ٹھکانے کی خوبصورتی دیکھی تو انھوں نے کہا: کاش ہمارے دنیا والے بھائیوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالی نے ہمارے ساتھ کس قدر اچھا سلوک کیا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے روگردانی نہ کریں، اللہ تعالی نے فرمایا :میں تمہارا یہ پیغام تمہاری طرف سے تمہارے بھائیوں تک پہنچاتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ۔}… اور تو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے، ہرگز مردہ گمان نہ کر، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8549

۔ (۸۵۴۹)۔ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: أَ خْبَرَنِی ابْنُ أَ بِی مُلَیْکَۃَ: أَ نَّ حُمَیْدَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَ خْبَرَہُ: أَ نَّ مَرْوَانَ قَالَ: اذْہَبْ یَا رَافِعُ لِبَوَّابِہِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ: لَئِنْ کَانَ کُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِیَ، وَأَ حَبَّ أَ نْ یُحْمَدَ بِمَا لَمْ یَفْعَلْ، لَنُعَذَّبَنَّ أَ جْمَعُونَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَا لَکُمْ؟ وَہٰذِہِ إِنَّمَا نَزَلَتْ ہٰذِہِ فِی أَ ہْلِ الْکِتَابِ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: {وَإِذْ أَ خَذَ اللّٰہُ مِیثَاقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ} ہٰذِہِ الْآیَۃَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَیَفْرَحُوْنَ بِمَا أَتَوْا وَیُحِبُّونَ أَ نْ یُحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا} [آل عمران: ۱۸۷۔۱۸۸] وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَأَ لَہُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ فَکَتَمُوہُ إِیَّاہُ وَأَ خْبَرُوہُ بِغَیْرِہِ فَخَرَجُوا، قَدْ أَ رَوْہُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوہُ بِمَا سَأَلَہُمْ عَنْہُ، وَاسْتَحْمَدُوا بِذٰلِکَ إِلَیْہِ، وَفَرِحُوا بِمَا أَ تَوْا مِنْ کِتْمَانِہِمْ إِیَّاہُ مَا سَأَ لَہُمْ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۲)
۔ حمید بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا: اے رافع! تم سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤ اوران سے کہو: اگر ہم میں سے ہر کوئی اس چیز پر خوش ہو، جو اس کو دی گئی ہے اور یہ پسند کرے کہ ایسے کام پر بھی اس کی تعریف کی جائے، جو اس نے کیا نہ ہو، تو پھرتو ہم سب کو عذاب ہوگا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا:تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تمہارا س آیت سے کیا تعلق ہے؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہ لِلنَّاسِ وَلَاتَکْتُمُوْنَہ ْ فَنَبَذُوْہُ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖثَمَـــنًاقَلِیْلًا فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ۔} … اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے تو انھوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی۔ سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ آیت بھی پڑھی: {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَیَفْرَحُوْنَ بِمَا أَ تَوْا وَیُحِبُّونَ أَ نْ یُحْمَدُوْا بِمَا لَمْیَفْعَلُوا} … ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان اہل کتاب سے ایک سوال کیا، انہوں نے اس کو چھپایا اورغلط بتایا اور تمنا یہ کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی اس بناء پر تعریف بھی کریں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے جو کچھ پوچھا ہے، انہوں نے وہ بتا دیا اور یہیہودی اس صحیح بات کو چھپا لینے پر بہت خوش تھے کہ انھوں نے اصل بات بھی چھپا لی ہے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جواب بھی دے دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8550

۔ (۸۵۵۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ تِ امْرَأَ ۃُ سَعْدِ بْنِ الرَبِیْعِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنَتَیْہَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَبَیْعِ، قُتِلَ أَ بُوْھُمَا مَعَکَ فِیْ اُحُدٍ شَہِیْدًا، وَاِنَّ عَمَّہُمَا أَ خَذَ مَالَھُمَا فَلَمْ یَدَعْ لَھُمَا مَالًا، وَلَا یُنْکَحَانِ اِلَّا وَلَھُمَا مَالٌ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَقْضِی اللّٰہُ فِیْ ذٰلِکَ۔)) فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْمِیْرَاثِ، فَأَ رْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عَمِّہِمَا، فَقَالَ: ((أَ عْطِ ابْنَتَیْ سَعْدِنِالثُّلُثَیْنِ وَأُمَّہُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِیَ فَہُوَ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۵۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیاں لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! یہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو بیٹیاں ہیں، ان کا باپ آپ کے ساتھ جنگ احد میں شہید ہو چکا ہے اوران کے چچے نے ان کا سارا مال سمیٹ لیا ہے، ظاہر ہے اگر ان بیٹیوں کے پاس مال نہ ہوا تو ان کی شادی نہیں ہو گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔ پس میراث والی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان بچیوں کے چچے کو بلایا اور اس سے فرمایا: سعد کی بیٹیوں کو دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصے دو، پھر جو کچھ بچ جائے (وہ بطورِ عصبہ) تیرا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8551

۔ (۸۵۵۱)۔ عَنْ عُبَادَۃُ بْنِ الصَّامِتِ، نَزَلَ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {وَاللَّاتِییَأْتِینَ الْفَاحِشَۃَ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [النسائ: ۱۵]، قَالَ: فَفَعَلَ ذٰلِکَ بِہِنَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَبَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَہُ، وَکَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ أَ عْرَضَ عَنَّا وَأَ عْرَضْنَا عَنْہُ وَتَرَبَّدَ وَجْہُہُ وَکَرَبَ لِذَلِکَ، فَلَمَّا رُفِعَ عَنْہُ الْوَحْیُ، قَالَ: ((خُذُوا عَنِّیْ۔)) قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیلًا، الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ، وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ ثُمَّ الرَّجْمُ۔))، قَالَ الْحَسَنُ: فَلَا أَ دْرِی أَ مِنَ الْحَدِیثِ ہُوَ أَ مْ لَا، قَالَ: ((فَإِنْ شَہِدُوْا أَنَّہُمَا وُجِدَا فِی لِحَافٍ لَا یَشْہَدُونَ عَلٰی جِمَاعٍ خَالَطَہَا بِہِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَجُزَّتْ رُئُ وْسُہُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۶۱)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَالّٰتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَایِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰییَتَوَفّٰیھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا۔} … اور تمھاری عورتوں میں سے جو بد کاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب کرو، پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو انھیں گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یااللہ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے۔ (سورۂ نسائ:۱۵) پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین کے ساتھ اسی طرح کیا، پھر ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گرد جمع تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے رخ پھیر لیا کرتے تھے، اب کی بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے رخ پھیر لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رخ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تکلیف ہوئی۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے حکم وصول کرو۔ ہم نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے بار ے میں یہ راستہ بتایا ہے کہ جب کنوارا، کنواری کے ساتھ زناکرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور جب شادی شدہ، شادی شدہ سے زنا کا ارتکاب کرتے تو سو کوڑے اور پھر رجم۔ حسن راوی کہتے ہیں: میں یہ نہ جان سکا کہ یہ اگلا حصہ حدیث کا حصہ ہے یا نہیں ہے: اگر لوگ گواہیدیں کہ یہ مرد اور عورت ایک لحاف میں پائے گئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ جماع کی گواہی نہ دیں تو انہیں سو کوڑے مارے جائیں گے اور ان کے سر مونڈ دیئے جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8552

۔ (۸۵۵۲)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أَصَبْنَا نِسَائً مِنْ سَبْیِ أَ وْطَاسٍ وَلَہُنَّ أَزْوَاجٌ، فَکَرِہْنَا أَ نْ نَقَعَ عَلَیْہِنَّ وَلَہُنَّ أَزْوَاجٌ، فَسَأَ لْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَ یْمَانُکُمْ} [النسائ: ۲۴] قَالَ: فَاسْتَحْلَلْنَا بِہَا فُرُوجَہُنَّ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۱۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ہم نے بنو اوطاس قبیلہ کی خواتین لونڈیوں کے طور پرحاصل کیں، جبکہ ان کے خاوند موجود تھے (یعنی وہ پہلے شادی شدہ تھیں اور ان کے خاوند زندہ تھے)، اس لیے ہم نے ان سے جماع کو ناپسند کیا، کیونکہ ان کے خاوند موجود ہیں، پھر جب ہم نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ}… اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں۔ تو ملک یمین کی وجہ سے ہم نے ان سے صحبت کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8553

۔ (۸۵۵۳)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَنَا نِصْفُ الْمِیرَاثِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} [النسائ: ۳۲]۔ (مسند احمد: ۲۷۲۷۲)
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں جہاد میں شرکت نہیں کرتیں اور ہماری وراثت کا حصہ بھی مردوں سے آدھا ہے؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖبَعْضَکُمْعَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبُوْا وَلِلنِّسَاء ِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبْنَ وَسْـَـلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖاِنَّاللّٰہَکَانَبِکُلِّشَیْء ٍ عَلِـیْمًا}… اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8554

۔ (۸۵۵۴)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَرَاْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَائِ فَلَمَّا بَلَغْتُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَہِیْدًا} [النسائ: ۴۱] قَالَ: فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۵۵۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورۂ نساء تلاوت کی، جب میں اس آیت پر پہنچا: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَہِیْدًا} … وہ کیفیت کیسی ہو گی، جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان سب پرگواہ لائیں گے۔ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8555

۔ (۸۵۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہُ قَالَ: نَزَلَتْ: {یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ} فِیْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَدِیِّ نِ السَّہَمِیِّ اِذْبَعَثَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی السَّرِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۳۱۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تھا، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ} … اے ایماندارو! تم اللہ تعالیٰ کی ااطاعت کرو اور رسول اور صاحب ِ امر لوگوں کی اطاعت کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8556

۔ (۸۵۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَ نْصَارِ الزُّبَیْرَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِیْیَسْقُوْنَ بِہَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَ نْصَارِیُّ لِلزُّبَیْرِ: سَرِّحِ الْمَائَ، فَاَبٰی فَکَلَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْقِ یَا زُبَیْرُ! ثُمَّ ارْسِلْ إِلٰی جَارِکَ۔)) فَغَضِبَ الْأَ نْصَارِیُّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ نْ کَانَ ابنَ عَمَّتِکَ، فَتَلَوَّنَ وَجْہُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((احْبِسِ الْمَائَ حَتّٰییَبْلُغَ إِلَی الْجُدُرِ۔)) قَالَ الزُّبَیْرُ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَأَ حْسِبُ ھٰذِہٖالْاٰیَۃَ نَزَلَتْ فِیْ ذٰلِکَ: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ…} إِلٰی قَوْلِہِ: {وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} (مسند احمد: ۱۶۲۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کے ایک نالے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، اس نالے سے کھجوروں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میری کھجوروں کے لئے پانی چھوڑدو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، انصاری وہ مقدمہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زبیر! تم پہلے سیراب کر کے پانی کواپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ لیکن اس فیصلے سے انصاری کو غصہ آ گیا اور اس نے کہا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زبیر! اب اتنی دیر پانی روک کر رکھنا کہ دیوار تک پہنچ جائے، پھر آگے چھوڑنا۔ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں ہی نازل ہوئی تھی: {فَلَاوَرَبِّکَ لَایُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ (سورۂ نسائ: ۶۵)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8557

۔ (۸۵۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَ نَّ قَوْمًا مِنْ الْعَرَبِ، أَ تَوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، فَأَ سْلَمُوْا وَأَ صَابَہُمْ وَبَائُ الْمَدِینَۃِ حُمَّاہَا فَأُرْکِسُوا فَخَرَجُوا مِنْ الْمَدِینَۃِ، فَاسْتَقْبَلَہُمْ نَفَرٌ مِنْ أَ صْحَابِہِ یَعْنِی أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لَہُمْ: مَا لَکُمْ رَجَعْتُمْ؟ قَالُوْا: أَ صَابَنَا وَبَائُ الْمَدِینَۃِ فَاجْتَوَیْنَا الْمَدِینَۃَ فَقَالُوْا: أَ مَا لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ؟ فَقَالَ بَعْضُہُمْ: نَافَقُوْا وَقَالَ بَعْضُہُمْ لَمْ یُنَافِقُوا ہُمْ مُسْلِمُونَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللّٰہُ أَ رْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا۔} الْآیَۃَ [النسائ: ۸۸]۔ (مسند احمد: ۱۶۶۷)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرب کے کچھ لوگ مدینہ منورہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور مسلمان ہو گئے،لیکن جب وہ مدینہ کی وبایعنی بخار میں مبتلا ہوئے تو ان کو پلٹا دیا گیا اور وہ مدینہ سے نکل گئے، ان کو آگے سے صحابۂ کرام کا ایک گروہ ملا اور اس نے ان سے پوچھا: کیا ہوا ہے تم کو،واپس جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہمیں مدینہ کی وبا لگ گئی ہے اور اس شہر کی آب و فضا موافق نہ آنے کی وجہ سے پیٹ میں بیماری پیدا ہو گئی ہے۔ مسلمانوں نے کہا:کیا تمہارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذات میں نمونہ نہیں ہے؟ اب بعض مسلمانوں نے کہا: وہ منافق ہو گئے ہیں اور بعض نے کہا: وہ منافق نہیں ہوئے، بلکہ مسلمان ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللّٰہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا۔} … پھر تمھیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، حالانکہ اللہ نے انھیں اس کی وجہ سے الٹا کر دیا جو انھوں نے کمایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8558

۔ (۸۵۵۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ إِلٰی أُحُدٍ، فَرَجَعَ أُنَاسٌ خَرَجُوْا مَعَہُ، فَکَانَ أَ صْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِرْقَتَیْنِ، فِرْقَۃٌ تَقُولُ بِقِتْلَتِہِمْ، وَفِرْقَۃٌ تَقُولُ: لَا، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ :{فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ} [النسائ: ۸۸] فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا طَیْبَۃُ وَإِنَّہَا تَنْفِی الْخَبَثَ کَمَا تَنْفِی النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۳۵)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احد کی طرف نکلے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (نکلنے والے منافق راستے سے) واپس لوٹ آئے، ان کی وجہ سے صحابہ کرام کے دو فریق بن گئے، ایک فریق کا خیال تھا کہ ہم لوگ ان منافقوں سے لڑیں، جبکہ دوسرے فریق کی رائے یہ تھی کہ ان سے نہیں لڑنا چاہیے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللّٰہُ أَ رْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا۔} … پھر تمھیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، حالانکہ اللہ نے انھیں اس کی وجہ سے الٹا کر دیا جو انھوں نے کمایا۔ پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ طیبہ ہے، یہ گناہوں کی ایسی صفائی کرتا ہے، جیسے آگ چاندی کی میل کچیل کو ختم کر دیتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8559

۔ (۸۵۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَ نَّ رَجُلًا أَ تَاہُ فَقَالَ: أَ رَأَ یْتَ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا؟ قَالَ: {جَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَ عَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیمًا} [النسائ: ۹۳] قَالَ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِی آخِرِ مَا نَزَلَ، مَا نَسَخَہَا شَیْئٌ حَتّٰی قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَمَا نَزَلَ وَحْیٌ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَ رَأَ یْتَ إِنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰی؟ قَالَ: وَأَ نّٰی لَہُ بِالتَّوْبَۃِ؟ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((ثَکِلَتْہُ أُمُّہُ، رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا یَجِیئُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ آخِذًا قَاتِلَہُ بِیَمِینِہِ أَ وْ بِیَسَارِہِ، وَآخِذًا رَأْسَہُ بِیَمِینِہِ أَ وْ شِمَالِہِ، تَشْخَبُ اَوْدَاجُہُ دَمًا قِبَلَ الْعَرْشِ، یَقُوْلُ: یَا رَبِّ سَلْ عَبْدَکَ فِیْمَ قَتَلَنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اس بارے میں بتائیں ایک آدمی دوسرے آدمی کو جان بوجھ کو قتل کر دیتا ہے (اس کی کیا سزا ہے)؟ انھوں نے کہا: {جَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَ عَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیمًا} … اس کا بدلہ جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا، اللہ تعالی نے اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ یہ آیت سب سے آخر میں اتری ہے، کسی آیت نے اس کو منسوخ نہیں کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک یہی حکم باقی رہا، اس کے بعد اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ اس آدمی نے کہا: اگر وہ توبہ کر لے، ایمان مضبوط کر لے اورنیک عمل کرے اور ہدایتیافتہ ہو جائے تو؟ انھوں نے کہا:اس کی توبہ کیسے قبول ہوگی، جبکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اس کی ماں اسے گم پائے، ایک آدمی دوسرے آدمی کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے، وہ مقتول روزِ قیامت اس حال میں آئے گا کہ اس نے دائیںیا بائیں ہاتھ سے اپنے قاتل کو پکڑا ہوگا اور اسے سر سے بھی پکڑ رکھا ہوگا، اس وقت مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ اس کو عرش کے سامنے لے آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اپنے اس بندے سے پوچھو اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8560

۔ (۸۵۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَ صْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رَجُلٍ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ مَعَہُ غَنَمٌ لَہُ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَقَالُوْا: مَا سَلَّمَ عَلَیْکُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْکُمْ، فَعَمَدُوْا إِلَیْہِ فَقَتَلُوہُ وَأَ خَذُوا غَنَمَہُ فَأَ تَوْا بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃ [النسائ: ۹۴]۔ (مسند احمد: ۲۹۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت بنو سلیم کے ایک آدمی کے پاس سے گزری، اس کے پاس بکریاں تھیں، اس نے ان صحابہ کرام کو سلام کہا، لیکن صحابہ نے کہا: یہ صرف تم سے پناہ لینے کے لیے سلام کہہ رہا ہے، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریوں پر قبضہ کر لیا، جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ان بکریوں کو لائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا}… اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8561

۔ (۸۵۶۱)۔ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ، عَنْ أَ بِیہِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَ بِی حَدْرَدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی إِضَمَ، فَخَرَجْتُ فِی نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِیہِمْ أَ بُو قَتَادَۃَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِیٍّ وَمُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ بْنِ قَیْسٍ، فَخَرَجْنَا حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِبَطْنِ إِضَمَ مَرَّ بِنَا عَامِرٌ الْأَشْجَعِیُّ عَلَی قَعُودٍ لَہُ مُتَیْعٌ وَوَطْبٌ مِنْ لَبَنٍ، فَلَمَّا مَرَّ بِنَا سَلَّمَ عَلَیْنَا، فَأَ مْسَکْنَا عَنْہُ وَحَمَلَ عَلَیْہِ مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ، فَقَتَلَہُ بِشَیْئٍ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ، وَأَ خَذَ بَعِیرَہُ وَمُتَیْعَہُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَ خْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، نَزَلَ فِینَا الْقُرْآنُ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوا وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا، تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا، فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیرَۃٌ، کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ، فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرًا} [النسائ: ۹۴]۔ (مسند احمد: ۲۴۳۷۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی حدرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اِضَم پہاڑ یا مقام کی جانب بھیجا، پس میں مسلمانوں کے ایک لشکر میں نکلا، سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی اور سیدنا مُحَلّم بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی اس لشکر میں شامل تھے، پس ہم نکل پڑے اور جب اضم کی ہموار جگہ پر پہنچے تو ہمارے پاس سے عامر اشجعی گزرا،یہ نوجوان اونٹ پر سوار تھا اور اس کے ساتھ کچھ سامان بھی اور دودھ اور گھی کا مشکیزہ بھی تھا، اس نے ہمیں سلام کہا، سو ہم نے اس پر حملہ نہ کیا، لیکن مُحَلّم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کے پاس جو آلہ تھا، اس نے اس کے ذریعے اس کو قتل کر دیا اور اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کر لیا، جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ واقعہ بیان کیا تو ہمارے بارے میں یہ قرآن نازل ہوا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوا وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ أَ لْقٰی إِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ، فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرًا}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو خوب تحقیق کر لو اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں، اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے تو اللہ نے تم پر احسان فرمایا۔ پس خوب تحقیق کر لو، بے شک اللہ ہمیشہ سے اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8562

۔ (۸۵۶۲)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: کُنْتُ إِلٰی جَنْبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَغَشِیَتْہُ السَّکِینَۃُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فَخِذِی، فَمَا وَجَدْتُ ثِقْلَ شَیْئٍ أَ ثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ، فَقَالَ: ((اکْتُبْ۔)) فَکَتَبْتُ فِی کَتِفٍ {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [النسائ: ۹۵]، فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلًا أَ عْمٰی لَمَّا سَمِعَ فَضِیلَۃَ الْمُجَاہِدِینَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ لَا یَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ؟ فَلَمَّا قَضٰی کَلَامَہُ غَشِیَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السَّکِینَۃُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُہُ عَلٰی فَخِذِی وَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا فِی الْمَرَّۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا وَجَدْتُ فِی الْمَرَّۃِ الْأُولٰی، ثُمَّ سُرِّیَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اقْرَأْ یَا زَیْدُ!)) فَقَرَأْتُ: {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ} فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} الْآیَۃَ کُلَّہَا قَالَ زَیْدٌ: فَأَ نْزَلَہَا اللّٰہُ وَحْدَہَا فَأَ لْحَقْتُہَا، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَکَأَ نِّی أَ نْظُرُ إِلٰی مُلْحَقِہَا عِنْدَ صَدْعٍ فِی کَتِفٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۰۴)
۔ سیدنا زید بن ثابت سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ پر سکینت (نزول وحی کے وقت کی ایک کیفیت) طاری ہوگئی، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران میری ران پرتھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران کے وزن سے زیادہ کسی چیز کا وزن محسوس نہیں کیا، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لکھو۔ پس میں نے شانے کی ایک ہڈی پر لکھا : {لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … ایمان والوں میں سے بیٹھ رہنے والے اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں، اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے اور ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ مجاہدین کییہ فضیلت سن کر سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو نابینا تھے،کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا حال ہوگا، جو کسی عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہیں ہو سکتا؟ جب وہ اپنی بات کہہ چکے تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزول وحی کی مخصوص کیفیت طاری ہوگئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران میری ران پر تھی اور اس پر دوسری مرتبہ میں بھی میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ران کا اتنا ہی وزن محسوس کیا جتنا کہ پہلی مرتبہ میں نے کیا تھا، کچھ دیر کے بعد جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے زید! آیت پڑھو۔ پس میں نے پڑھی: {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ}، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} بھی لکھو۔ پھر سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس جملہ کو الگ نازل فرمایا، اس کے بعد میں نے اس کو اس کی اپنی جگہ پر لگا دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس وقت بھی ہڈی کے شگاف کے پاس اس مقام کو دیکھ رہا ہوں، جہاں میں نے اس کو لکھا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8563

۔ (۸۵۶۳)۔ عَنْ أَ بِی إِسْحَاقَ أَ نَّہُ سَمِعَ الْبَرَائَ یَقُولُ فِی ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ} قَالَ: فَأَ مَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْدًا، فَجَائَ بِکَتِفٍ فَکَتَبَہَا، قَالَ: فَشَکَا إِلَیْہِ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ضَرَارَتَہٗفَنَزَلَتْ: {لَایَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُوْلِی الضَّرَرِ} [النسائ: ۹۵]۔ (مسند احمد: ۱۸۶۷۷)
۔ ابو اسحق سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا براء کو اس آیت {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ}کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا زید کو حکم دیا، پس وہ آئے اور انھوں نے شانے کی ہڈی پر اس آیت کو لکھ لیا، جب سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے نابینا پن کا ذکر کیا تو یہ آیتیوں نازل ہوئی: {لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُوْلِی الضَّرَرِ}۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8563

۔ (۸۵۶۳م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ أَ جْرًا عَظِیمًا} أَ تَاہُ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا تَأْمُرُنِی إِنِّی ضَرِیرُ الْبَصَرِ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ} (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَبْلَ اَنْ یَبْرَحَ) قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ائْتُونِی بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاۃِ أَ وِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۰۲، ۱۸۷۵۵)
۔ (دوسری سند)سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی {وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ أَ جْرًا عَظِیمًا} توسیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو نابینا ہوں، اب میرے لیے کیاحکم ہے؟ اتنے میں یہ الفاظ نازل ہو گئے: {غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ}، ایک روایت میں ہے:ابھی تک آپ اسی جگہ پر تھے کہ یہ آیت نازل ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شانے کی ہڈی اور دوات یا تختی اور دوات میرے پاس لاؤ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8564

۔ (۸۵۶۴)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ اِنْ خِفْتُمْ أَ نْ یَفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْہُ، فَسَأَ لْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِھَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوْا صَدَقَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴)
۔ یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالی نے تو یہ کہا کہ اگر کفار کے فتنے سے تم ڈرو تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کییہ رخصت قبول کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8565

۔ (۸۵۶۵)۔ عَنْ أَ بِیْ عَیَّاشٍ الزُّرْقِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِکُوْنَ عَلَیْہٖمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَہُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَقَالُوْا: قَدْ کَانُوْا عَلٰی حَالٍ لَوْ أَ صَبْنَا غِرَّتَہُمْ، قَالُوْا: تَأْتِیْ عَلَیْہِمُ الْآنَ صَلَاۃٌ ہِیَ أَ حَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ أَ بْنَائِہِمْ وَأَ نْفُسِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرَئیِْلُ علیہ السلام بِہٰذِہِ الْآیَاتِ بَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَ قَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ…} قَالَ: فَحَضَرَتْ فَأَ مَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأخَذُوْا السَّلَاحَ، قَالَ: فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ صَفَّیْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّفِّ الَّذِیْیَلِیْہِ وَالآخَرُوْنَ قِیَامٌیحرُسُوْنَھُمْ فَلَمَّا سَجَدُو وَقَامُوْا جَلَسَ اْلآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْا فِی مَکَانِھِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعُوا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّفُّ الَّذِییَلِیْہِ، وَالآخَرُوْنََ قِیَامٌیَحْرُسُوْنَھُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْ فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ: فَصَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ، مَرَّۃً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّۃً بَأَرْضِ بَنِی سُلَیْم۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۶)
۔ سیّدنا ابو عیاش زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَ قَمْتَ لَہُمُ الـصَّـلٰـوۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِّـنْـہُمْ مَّعَکَ وَ لْیَأْخُذُوْا اَسْلِحَتَہُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَائِکُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَۃٌ أُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ}… جب تم ان میں ہو اور ان کے لیے نماز کھڑی کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لیے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجدہ کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آ جائیں اور وہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آ جائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے۔ (النسائ: ۱۰۲)جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8566

۔ (۸۵۶۶)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ: {اِنْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖاِلَّااِنَاثًا} قَالَ: مَعَکُلِّصَنَمٍجَنِیَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۵۱)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کے فرمان {اَنْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖاِلَّااِنَاثًا} (وہمشرکنہیں پکارتے مگر اناث کو) میں اِنَاثًا سے مراد یہ ہے کہ ہر بُت کے ساتھ ایک جننی ہوتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8567

۔ (۸۵۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {لَیْسَ بِأَ مَانِیِّکُمْ وَلَا أَ مَانِیِّ أَ ہْلِ الْکِتَابِ مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} [النسائ:۱۲۳] فَکُلَّ سُوئٍ عَمِلْنَا جُزِینَا بِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ، یَا أَ بَا بَکْرٍ! أَلَسْتَ تَمْرَضُ؟ أَ لَسْتَ تَنْصَبُ؟ أَ لَسْتَ تَحْزَنُ؟ أَ لَسْتَ تُصِیبُکَ اللَّأْوَائُ؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((فَہُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِہِ، وَفِیْ لَفْظٍ: قَالَ: ((فَاِنْ ذَاکَ بِذَاکَ۔)) (مسند احمد: ۶۸)
۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب اس آیت کے نزول کے بعد کیسے ممکن ہے کہ آدمی نیکی اور راست روی سے متصف ہو: {لَیْسَ بِأَ مَانِیِّکُمْ وَلَا أَ مَانِیِّ أَ ہْلِ الْکِتَابِ مَنْ یَعْمَلْ سُوئًا یُجْزَ بِہِ}… دین نہ تمھاری آرزوئیں ہیں اور نہ اہل کتاب کی آرزوئیں،جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ ہم جو برا عمل بھی کرتے ہیں، اس کا ہمیں بدلہ دیا جائے گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تم کو معاف کرے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تمہیں تھکاوٹ نہیں ہوتی؟ کیا تم غمگین نہیں ہوتے؟ کیا تم شدت اور تنگی میں مبتلا نہیں ہوتے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ہوتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی وہ چیز ہے، جو تمہیں بدلہ دیا جا رہا ہے۔ ایک روایت میں ہے: یہ اسی کے عوض میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8568

۔ (۸۵۶۸)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} [النسائ:۱۲۳] شَقَّتْ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، وَبَلَغَتْ مِنْہُمْ مَا شَاء َ اللّٰہُ أَ نْ تَبْلُغَ، فَشَکَوْا ذٰلِکَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا فَکُلُّ مَا یُصَابُ بِہِ الْمُسْلِمُ کَفَّارَۃٌ حَتَّی النَّکْبَۃِیُنْکَبُہَا، وَالشَّوْکَۃِیُشَاکُھَا۔)) (مسند احمد: ۷۳۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ}… جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ تو یہ مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور بہت زیادہ غمگین ہو گئے اور انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر چلتے رہو، مسلمان کو جو تکلیف بھی پہنچتی ہے، وہ اس کے لیے کفارہ بنتی ہے، یہاں تک کہ وہ مصیبت جو اسے لاحق ہوتی ہے اور وہ کانٹا جو اس کو چبھتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8569

۔ (۸۵۶۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَ نَّ رَجُلًا تَـلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئًا یُجْزَ بِہِ} [النسائ:۱۲۳] قَالَ: إِنَّا لَنُجْزٰی بِکُلِّ عَمَلِنَا ہَلَکْنَا إِذًا، فَبَلَغَ ذَاکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((نَعَمْ، یُجْزٰی بِہِ الْمُؤْمِنُونَ فِی الدُّنْیَا فِی مُصِیبَۃٍ فِی جَسَدِہِ فِیمَایُؤْذِیہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ}… جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی۔ اور پھر کہا: اگر ہمیں ہر برے عمل کا بدلہ ملا تو ہم تو مارے جائیں گے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں! (بدلہ تو ہر برے عمل کا ملتا ہے) لیکن ایمانداروں کو دنیا میں تکلیف دینے والی جو مصیبت لاحق ہوتی ہے، یہ ان (کے گناہوں کا) بدلہ ہوتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8570

۔ (۸۵۷۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ فِیْ قَوْلِہٖ: {وَاتَّخَذَاللّٰہُاِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلًا} [النسائ:۱۲۵] قَالَ: اَخْبَرَنِیْ عَبْدُالْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِیٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّہٗقَالَ: اِنَّاللّٰہَ اتَّخَذَ صَاحِبَکُمْ خَلِیْلًایَعْنِیْ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۷۴۹)
۔ معمر نے اللہ تعالی کے اس فرمان {وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلًا}… اور اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست بنا لیا۔ کو سامنے رکھ کر روایت کی کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھییعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خلیل بنایا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8571

۔ (۸۵۷۱)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۳۸۹۲)
۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھی کو اپنا خلیل بنایا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8572

۔ (۸۵۷۲)۔ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ أَ نَّہُ سَمِعَ جَابِرًا یَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَ تَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُودُنِی ہُوَ وَأَ بُو بَکْرٍ مَاشِیَیْنِ، وَقَدْ أُغْمِیَ عَلَیَّ فَلَمْ أُکَلِّمْہُ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّہُ عَلَیَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَ صْنَعُ فِی مَالِی وَلِی أَ خَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْمِیرَاثِ {یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} کَانَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أَ خَوَاتٌ، {إِنْ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ} [النسائ:۱۷۶]۔ (مسند احمد: ۱۴۳۴۹)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیدل چل کر میری تیمار داری کے لئے تشریف لائے، میں بیہوش تھا، سو آپ سے کوئی بات نہ کر سکا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور مجھ پر پانی ڈالا، اس سے مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں وارث ہیں؟ پس میراث سے متعلقہ یہ آیت نازل ہوئی {یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} … لوگ آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالی تم کو کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اولاد نہیں تھی، صرف بہنیں تھیں، {إِنْ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ} … اگر مرد فوت ہو جائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8572

۔ (۸۵۷۲م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا وَجِعٌ لَا اَعْقِلُ، قَالَ: فَتَوَضَّاَ ثُمَّ صَبَّ عَلَیَّ، اَوْ قَالَ: صُبُّوْا عَلَیْہِ، فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ: اَنَّہُ لَا یَرِثُنِیْ اِلَّا کَلَالَۃٌ فَکَیْفَ الْمِیْرَاثُ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْفَرْضِ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۳۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ مجھے تکلیف تھی اور میں بیہوش تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور مجھ پر پانی ڈالا، یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی ڈال دو۔ پس میں ہوش میں آ گیا، میں نے کہا: میرا وارث صرف کلالہ ہیں،ایسی صورت میں میراث کی تقسیم کیسے ہو گی؟ پس وراثت والی آیت نازل ہوئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8573

۔ (۸۵۷۳)۔ عَنْ أَ بِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: اشْتَکَیْتُ وَعِنْدِی سَبْعُ أَ خَوَاتٍ لِی، فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَضَحَ فِی وَجْہِی، فَأَ فَقْتُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أُوصِی لِأَ خَوَاتِی بِالثُّلُثَیْنِ، قَالَ: ((أَحْسِنْ۔)) قُلْتُ: بِالشَّطْرِ، قَالَ: ((أَحْسِنْ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَکَنِی ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: ((یَا جَابِرُ إِنِّی لَا أَ رَاکَ مَیِّتًا مِنْ وَجَعِکَ ہٰذَا، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فَبَیَّنَ الَّذِی لِأَخَوَاتِکَ، فَجَعَلَ لَہُنَّ الثُّلُثَیْنِ۔))، فَکَانَ جَابِرٌ یَقُولُ: نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ فِیَّ: {یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} [النسائ:۱۷۶]۔ (مسند احمد: ۱۵۰۶۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار پڑ گیا، جبکہ میری سات بہنیں تھیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے چہرے پر پانی چھڑکا، میں ہوش میں آ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لئے اپنے دو تہائی مال کی وصیت کردوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ کرو۔ میں نے کہا: نصف مال کی وصیت کردوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور زیادہ کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے اور پھر واپس آئے اورفرمایا: اے جابر! میرا خیال ہے کہ تم اس تکلیف کیوجہ سے فوت ہونے والے نہیں ہو، بہرحال اللہ تعالی نے قرآن نازل کر کے تیری بہنوں کا حصہ واضح کر دیا ہے اور ان کو دو تہائی دیا ہے۔ سیدنا جابر کہا کرتے تھے: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے: {یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ}۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8574

۔ (۸۵۷۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلَہٗعَنِالْکَلَالَۃِ، فَقَالَ: ((تَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ۔))(مسند احمد: ۱۸۷۹۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلالہ کے بارے میں دریافت کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے گرمیوں میں نازل ہونے والی آیت ہی کافی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8575

۔ (۸۵۷۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: اُنْزِلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُوْرَۃُ الْمَائِدَۃِ، وَھُوَ رَاکِبٌ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ،فَلَمْ تَسْتَطِعْ اَنْ تَحْمِلَہٗفَنَزَلَعَنْہَا۔ (مسنداحمد: ۶۶۴۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سورۂ مائدہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزول ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، سواری میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس کیفیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اٹھا سکے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے اتر آئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8576

۔ (۸۵۷۶)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ قَالَت: اِنِّیْ لَآخِذَۃٌ بِزَمَامِ الْعَضْبَائِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ اُنْزِلَتْ عَلَیْہِ الْمَائِدَۃُ کُلُّہَا، فَکَادَتْ مِنْ ثَقْلِہَا تَدُقُّ بِعَضُدِ النَّاقَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۲۷)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عضباء اونٹنی کی لگام تھامے ہوئے تھی کہ آپ پر سورۂ مائدہ نازل ہوئی، اس وحی کے بوجھ سے قریب تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جاتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8577

۔ (۸۵۷۷)۔ عَنْ أَ بِی الزَّاہِرِیَّۃِ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: ہَلْ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْمَائِدَۃِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَإِنَّہَا آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوہُ وَمَا وَجَدْتُّمْ فِیہَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوہُ، وَسَأَ لْتُہَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ: الْقُرْآنُ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۶۳)
۔ حبیر بن نفیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم سورۂ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: یہ آخری سورت ہے، جو نازل ہوئی، اس لیے اس میں جو چیز حلال پائو،اس کو حلال سمجھو اور جو چیز اس میں حرام پائو، اسے حرام سمجھو۔ پھر جب میں نے سیدہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق قرآن تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8578

۔ (۸۵۷۸)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ مِنْ الْیَہُودِ إِلَی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! إِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ آیَۃً فِی کِتَابِکُمْ، لَوْ عَلَیْنَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْیَوْمَ عِیدًا، قَالَ: وَأَ یُّ آیَۃٍ ہِیَ؟ قَالَ: قَوْلُہُ عَزَّ وَجَلَّ: {الْیَوْمَ أَ کْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی} [المائدۃ: ۳] قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَاللّٰہِ! إِنَّنِی لَأَ عْلَمُ الْیَوْمَ الَّذِی نَزَلَتْ فِیہِ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَالسَّاعَۃَ الَّتِی نَزَلَتْ فِیہَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ فِییَوْمِ الْجُمُعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۸)
۔ طارق بن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایکیہودی،سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیر المومنین ! تم اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہو کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم نے (تعظیم کرتے ہوئے) اس دن کو عید بنا لینا تھا، انہوں نے کہا: وہ کونسی آیت ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالی کا یہ فرمان کہ {الْیَوْمَ أَ کْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی}… آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:اللہ کی قسم! میں وہ دن جانتا ہوں، جس میں یہ آیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی تھی، بلکہ اس گھڑی کا بھی علم ہے، جس میں یہ نازل ہوئی تھی، جمعہ کا دن تھا اور عرفہ کی شام تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8579

۔ (۸۵۷۹)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عن أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَ نَّہَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَائَ قِلَادَۃً فَہَلَکَتْ، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رِجَالًا فِیْ طَلْبِہَا فَوَجَدُوْہَا، فَأَ دْرَکَتْہُمُ الصَّلَاۃُ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ فَصَلَّوْا بِغَیْرِ وُضُوْئٍ فَشَکَوْا ذٰلِکَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ التَّیَمُّمَ، فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ لِعَائِشَۃَ: جَزَاکِ اللّٰہُ خَیْرًا، فَوَاللّٰہِ! مَا نَزَلَ بِکِ أَ مْرٌ تَکْرَہِیْنَہُ اِلَّا جَعَلَ اللّٰہُ لَکِ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ فِیْہِ خَیْرًا۔ (مسند أحمد: ۲۴۸۰۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ایک ہار بطورِ استعارہ لیا تھا، لیکن وہ گم ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ افراد کو اس کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، ان کو وہ مل گیا، لیکن نماز نے ان کو اس حال میں پا لیا کہ ان کے ساتھ پانی نہیںتھا، پس انھوں نے بغیروضو کے نماز پڑھی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف یہ شکایت کی، پس اللہ تعالی نے تیمم کی رخصت نازل کر دی، سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: اللہ تعالی تم کو جزائے خیر دے، جب بھی تمہارا کوئی ایسا معاملہ بنتا ہے، جس کو تم ناپسند کرتی ہے، اللہ تعالی اس میں تمہارے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی بنا دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8579

۔ (۸۵۷۹م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْضِ أَ سْفَارِنَا حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِالْبَیْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَیْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِی، فَأَ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْتِمَاسِہِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ، وَلَیْسُوا عَلٰی مَائٍ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ، فَأَ تَی النَّاسُ إِلٰی أَ بِی بَکْرٍ فَقَالُوْا: أَ لَا تَرٰی مَا صَنَعَتْ عَائِشَۃُ؟ أَ قَامَتْ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِالنَّاسِ، وَلَیْسُوا عَلٰی مَائٍ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ، فَجَائَ أَ بُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاضِعٌ رَأْسَہُ عَلٰی فَخِذِی، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالنَّاسَ، وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ، قَالَتْ: فَعَاتَبَنِی أَ بُو بَکْرٍ وَقَالَ مَا شَائَ اللّٰہُ أَ نْ یَقُولَ، وَجَعَلَ یَطْعَنُ بِیَدِہِ فِی خَاصِرَتِی، وَلَا یَمْنَعُنِی مِنْ التَّحَرُّکِ إِلَّا مَکَانُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فَخِذِی، فَنَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَ صْبَحَ النَّاسُ عَلٰی غَیْرِ مَائٍ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ آیَۃَ التَّیَمُّمِ فَتَیَمَّمُوا، فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ الْحَضِیرِ: مَا ہِیَ بِأَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا آلَ أَبِی بَکْرٍ! قَالَتْ: فَبَعَثْنَا الْبَعِیرَ الَّذِی کُنْتُ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۶۹)
۔ (دوسری سند) عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم بیداءیا ذات الجیش جگہ پر پہنچے تو میرا ایک ہار گم ہوگیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی تلاش کے لئے ٹھہر گئے لوگ بھی ٹھہر گئے نہ وہ پانی پر تھے اور نہ ہی ان کے پاس پانی تھا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے سو رہے تھ۔ ابوبکر کہنے لگے تو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک رکھا ہے اور لوگوں کو بھی نہ وہ پانی کے پاس ہیں اور نہ ہی ان کے پاس پانی ہے۔ کہا مجھے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بہت سرزنش کی اور جو چاہا کہا اور میری کوکھ میں مارنا شروع ہوئے۔ مجھے حرکت میں یہ چیز رکاوٹ تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری ران پر سر رکھے ہوئے تھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے صبح تک لوگوں کے پاس پانی نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی لوگوں نے تیمم کیا سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فرماتے ہیں اے ابوبکر کی اولاد! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں تم ہمیشہ باعث برکت ثابت ہوئے ہو۔ تو بعد میں ہم نے اونٹ اٹھایا جس پر میں تھی تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8580

۔ (۸۵۸۰)۔ عَنْ أَ نَسٍ أَ نَّ نَفَرًا مِنْ عُکْلٍ وَعُرَیْنَۃَ تَکَلَّمُوْا بِالْإِسْلَامِ، فَأَ تَوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرُوْہُ أَ نَّہُمْ أَ ہْلُ ضَرْعٍ، وَلَمْ یَکُونُوا أَ ہْلَ رِیفٍ، وَشَکَوْا حُمَّی الْمَدِینَۃِ، فَأَ مَرَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذَوْدٍ، وَأَ مَرَہُمْ أَ نْ یَخْرُجُوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ فَیَشْرَبُوْا مِنْ أَلْبَانِہَا وَأَ بْوَالِہَا، فَانْطَلَقُوْا فَکَانُوْا فِی نَاحِیَۃِ الْحَرَّۃِ، فَکَفَرُوْا بَعْدَ إِسْلَامِہِمْ، وَقَتَلُوْا رَاعِیَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِی آثَارِہِمْ، فَأُتِیَ بِہِمْ فَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ وَقَطَّعَ أَ یْدِیَہُمْ وَأَ رْجُلَہُمْ، وَتُرِکُوْا بِنَاحِیَۃِ الْحَرَّۃِ،یَقْضَمُونَ حِجَارَتَہَا حَتَّی مَاتُوا، قَالَ قَتَادَۃُ: فَبَلَغَنَا أَ نَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِیہِمْ {إِنَّمَا جَزَائُ الَّذِینَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ} [المائدۃ: ۳۳]۔ (مسند احمد: ۱۲۶۹۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عکل اور عرینہ قبیلہ کے کچھ افراد نے اسلام قبول کیااور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا کہ وہ مویشیوں والے لوگ ہیں، کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، نیز انہوں نے مدینہ کے بخار کی بھی شکایت کی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیےاونٹوں کا حکم دیا اور ان سے فرمایا کہ وہ مدینہ سے باہر چلے جائیں اور اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پئیں، ایسے ہی ہوا اور وہ مدینہ سے باہر حرّہ کی ایک طرف چلے گئے، لیکن انھوں نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا پتہ چلا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے تعاقب میں بندے بھیجے، جو ان کو پکڑ کر لے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں، ان کے ہاتھ پائوں کاٹ ڈالے اور حرہ کی ایک جانب انہیں پھینک دیا، وہ پتھروں کو منہ میں کاٹے تھے اور اسی حالت میں مر گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی: { اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَیُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗوَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْی’‘ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} … جو لوگ اللہ تعالی اوراس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیںیا سولی چڑھا دیئے جائیںیا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں،یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۳۳)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8581

۔ (۸۵۸۱)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مُرَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَہُوْدِیٍّ مُحَمَّمٍ مَجْلُودٍ فَدَعَاہُمْ فَقَالَ: ((أَ ہٰکَذَا تَجِدُوْنَ حَدَّ الزَّانِی فِی کِتَابِکُمْ؟۔)) فَقَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِہِمْ فَقَالَ: ((أَنْشُدُکَ بِاللّٰہِ الَّذِی أَ نْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلٰی مُوسٰی أَ ہٰکَذَا تَجِدُوْنَ حَدَّ الزَّانِی فِی کِتَابِکُمْ۔)) فَقَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! وَلَوْلَا أَ نَّکَ أَنْشَدْتَنِی بِہٰذَا لَمْ أُخْبِرْکَ نَجِدُ حَدَّ الزَّانِی فِی کِتَابِنَا الرَّجْمَ، وَلٰکِنَّہُ کَثُرَ فِی أَ شْرَافِنَا فَکُنَّا إِذَا أَ خَذْنَا الشَّرِیفَ تَرَکْنَاہُ وَإِذَا أَ خَذْنَا الضَّعِیفَ أَ قَمْنَا عَلَیْہِ الْحَدَّ، فَقُلْنَا: تَعَالَوْا حَتّٰی نَجْعَلَ شَیْئًا نُقِیمُہُ عَلَی الشَّرِیفِ وَالْوَضِیعِ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَی التَّحْمِیمِ وَالْجَلْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اللّٰہُمَّ إِنِّی أَ وَّلُ مَنْ أَ حْیَا أَ مْرَکَ إِذْ أَ مَاتُوہُ۔)) قَالَ: فَأَ مَرَ بِہِ فَرُجِمَ فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَا أَ یُّہَا الرَّسُولُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِینَیُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ} إِلٰی قَوْلِہِ: {یَقُولُونَ إِنْ أُوتِیتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ} یَقُولُونَ: ائْتُوْا مُحَمَّدًا فَإِنْ أَ فْتَاکُمْ بِالتَّحْمِیمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوہُ، وَإِنْ أَ فْتَاکُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا إِلَی قَوْلِہِ: {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ} قَالَ فِی الْیَہُودِ إِلٰی قَوْلِہِ: {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ} {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدۃ: ۴۴، ۴۵، ۴۷] قَالَ: ہِیَ فِی الْکُفَّارِ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۲۴)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایکیہودی کو گزارا گیا، جس کا چہرہ کالا کیا گیا تھا اور اسے کوڑے لگائے گئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کییہی حد پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور اس سے فرمایا: میں تجھے اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی، کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اور اگر آپ نے مجھے یہ واسطہ نہ دیا ہوتا تو میں آپ کو نہ بتلاتا، ہم اپنی کتاب میں زنا کی حد رجم ہی پاتے ہیں، لیکن جب ہمارے اونچے طبقے والے لوگوں میں زنا عام ہو گیا تھا، تو جب ہم کسی اونچے آدمی کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ہم کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر یہی حد قائم کردیتے، پھر ہم نے اجلاس کیا اور یہ قانون پاس کیا کہ ہم ایسی حد تجویز کر لیں جو ہم بلند مرتبہ اور کم مرتبہ دونوں قسم کے لوگوں پر نافذ کر سکیں، پس ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ کوڑے مار دئیے جائیں اور منہ کالا کر دیا جائے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیرا وہ بندہ ہوں، جس نے سب سے پہلے تیرے حکم کو زندہ کیا ہے، جبکہ یہودیوں نے اس کو چھوڑ رکھا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَیُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لَمْ یَاْتُوْکَیُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖیَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا۔}… اے رسول! تجھے وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں دوڑ کر جاتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے مونہوں سے کہا ہم ایمان لائے، حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی بنے۔ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کو، بہت سننے والے ہیں دوسرے لوگوں کے لیے جو تیرے پاس نہیںآئے، وہ کلام کو اس کی جگہوں کے بعد پھیر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر تمھیںیہ دیا جائے تو لے لو اور اگر تمھیںیہ نہ دیا جائے تو بچ جاؤ۔ یہیہودی آپس میں کہتے ہیں:تم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس جاؤ،اگر وہ تمہیںیہ فتویٰ دیں کہ زانی کا منہ کالا کرو اور اسے کوڑے لگائو تو پھر ان کی بات مان لینا اور اگر و ہ رجم کا فتویٰ دیں تو پھر بچ کر رہنا، اللہ تعالی کے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ} یہیہودیوں کے بارے میں ہے اور {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ} اور {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ} یہ دو آیتیں کافروں کے بارے میں ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8582

۔ (۸۵۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ عَزَّوَجَلَّ: {فَإِنْ جَائُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَ وْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ، وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَضُرُّوکَ شَیْئًا، وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ، إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ} [المائدۃ: ۴۲] قَالَ: کَانَ بَنُو النَّضِیرِ إِذَا قَتَلُوا قَتِیلًا مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ أَ دَّوْا إِلَیْہِمْ نِصْفَ الدِّیَۃِ، وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَیْظَۃَ مِنْ بَنِی النَّضِیرِ قَتِیلًا أَ دَّوْا إِلَیْہِمْ الدِّیَۃَ کَامِلَۃً، فَسَوّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنہُمْ الدِّیَۃَ۔ (مسند احمد: ۳۴۳۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالی نے فرمایا: {فَإِنْ جَائُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ أَ وْ أَ عْرِضْ عَنْہُمْ، وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَضُرُّوکَ شَیْئًا، وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ، إِنَّ اللّٰہَیُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ}… پھر اگر وہ تیرے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کر، یا ان سے منہ پھیر لے اور اگر تو ان سے منہ پھیر لے تو ہرگز تجھے کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ تفصیلیہ ہے کہ جب بنو نضیر، بنو قریظہ کا بندہ قتل کر دیتے تو وہ نصف دیت دیتے اور جب بنو قریظہ، بنو نضیر میں سے کسی کو قتل کر دیتے تو یہ پوری دیت دیتے تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیت کے معاملے میں ان کے مابین برابری کر دی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8583

۔ (۸۵۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قاَلَ: إِنَّ اللَّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَ نْزَلَ: {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ فَأُوْلٰئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ} وَ {أُوْلٰئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ} وَ{أُوْلٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَ نْزَلَھَا اللّٰہُ فِی الطَّائِفَتَیْنِ مِنَ الْیَھُوْدِ، وَکَانَتْ إِحْدَاھُمَا قَدْ قَھَرَتِ اْلأُخْرٰی فِی الْجَاھِلِیَّۃِ حَتّٰی ارْتَضَوْا وَاصْطَلَحُوْا عَلٰی أَ نَّ کُلَّ قَتِیْلٍ قَتَلَہُ (الْعَزِیْزَۃُ) مِنَ الذَّلِیْلَۃِ فَدِیَتُہٗ خَمْسُوْنَ وَسْقاً، وَکُلُّ قَتِیْلٍ قَتَلَہُ (الذَّلِیْلَۃُ) مِنَ (الْعَزِیْزَۃِ) فَدِیَتُہُ مِئَۃُ وَسْقٍ، فَکَانُوْا عَلٰی ذٰلِکَ حَتّٰی قَدِمَ النَّبِیُّ الْمَدِیْنَۃَ، فَذَلَّتِ الطَّائِفَتَانِ کِلْتَاھُمَا لِمَقْدَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَوْمَئِذٍ لَّمْ یَظْھَرْ وَلَمْ یُوَطِّئْھُمَا عَلَیْہِ وَھُوَ فِی الصُّلْحِ، فَقَتَلَتِ (الذَّلِیْلَۃُ) مِنَ (الْعَزِیْزَۃِ) قَتِیْلاً فَأَ رْسَلَتِ (الْعَزِیْزَۃُ) إِلٰی (الذَّلِیْلَۃِ) أَ نِ ابْعَثُوْا إِلَیْنَا بِمِئَۃِ وَسْقٍ، فَقَالَتِ( الذَّلِیْلَۃُ) وَھَلْ کَانَ ھٰذَا فِی حَیَّیْنِ قَطُّ دِ یْنُھُمَا وَاحِدٌ، وَنَسَبُھُمَا وَاحِدٌ، وَبَلَدُھُمَا وَاحِدٌ، دِیَۃُ بَعْضِھِمْ نِصْفُ دِیَۃِ بَعْضٍ؟ إِنَّا إِنَّمَا أَ عْطَیْنَاکُمْ ھٰذَا ضَیْماً مِنْکُمْ لَنَا، وَفَرَقًا مِنْکُمْ فَأَ مَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِیْکُمْ ذٰلِکَ، فَکَادَتِ الْحَرْبُ تَھِیْجُ بَیْنَھُمَا، ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلٰی أَ ن یَّجْعَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَھُمْ، ثُمَّ ذَکَرَتِ (الْعَزِیْزَۃُ) فَقَالَتْ: وَاللّٰہِ مَامُحَمَّدٌ بِمُعْطِیْکُمْ مِنْھُمْ ضِعْفَ مَایُعْطِیْھِمْ مِنْکُمْ، وَلَقَدْ صَدَقُوْا، مَا أَ عْطَوْنَا ھٰذَا إِلاَّ ضَیْمًا مِنَّا، وَقَھْراً لَّھُمْ، فَدُسُّوْا إِلٰی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ یُخْبِرُ لَکُمْ رَأْیَہُ، إِنْ أَ عْطَاکُمْ مَاتُرِیْدُوْنَ حَکَّمْتُوْہُ، وَاِنْ لَّمْ یُعْطِکُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَکِّمُوْہُ، فَدَسُّوْا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَاساً مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ لِیُخْبِرُوْا لَھُمْ رَأْیَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَلَمَّا جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرَ اللّٰہُ رَسُوْلَہٗبِأَمْرِھِمْکُلِّہٖوَمَاأَرَادُوْا،فَأَنْزَلَاللّٰہُعَزَّوَجَلَّ: {یَأَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَایَحْزُنْکَ الَّذِیْیُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوَا آمَنَّا} إلی قولہ: {وَمَنْ لَّمْ یَحْکُم بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ۔} ثُمَّ قَالَ: فِیْھِمَا وَاللّٰہِ نَزَلَتْ، وَإِیَّاھُمَا عَنَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کیں: اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں اور وہ لوگ ظالم ہیں اور وہ لوگ فاسق ہیں انھوں نے کہا: اللہ تعالی نے یہ آیاتیہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل کیں، ان میں سے ایک نے دورِ جاہلیت میں دوسرے کو زیر کر لیا تھا، حتی کہ وہ راضی ہو گئے اور اس بات پر صلح کر لی کہ عزیزہ قبیلے نے ذلیلہ قبیلے کا جو آدمی قتل کیا، اس کی دیت پچاس وسق ہو گی اور ذلیلہ نے عزیزہ کا جو آدمی قتل کیا اس کی دیت سو (۱۰۰) وسق ہو گی، وہ اسی معاہدے پر برقرار تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنے سے وہ دونوں قبیلے بے وقعت ہو گئے، حالانکہ ابھی تک آپ ان پر غالب نہیں آئے تھے اور نہ آپ نے ان کی موافقت کی تھی اور ان کے ساتھ صلح و صفائی کا زمانہ تھا۔ اُدھر ذلیلہ نے عزیزہ کا بندہ قتل کر دیا، عزیزہ نے ذلیلہ کی طرف پیغام بھیجا کہ سو وسق ادا کرو۔ ذلیلہ والوں نے کہا: جن قبائل کا دین ایک ہو، نسب ایک ہو اور شہر ایک ہو، تو کیایہ ہو سکتا ہے کہ ایک کی دیت دوسرے کی بہ نسبت نصف ہو؟ ہم تمھارے ظلم و ستم کی وجہ سے تمھیں (سو وسق) دیتے رہے، اب جبکہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) آ چکے ہیں، ہم تمھیں نہیں دیں گے۔ ان کے مابین جنگ کے شعلے بھڑکنے والے ہی تھے کہ وہ آپس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بحیثیت ِ فیصل راضی ہو گئے۔ عزیزہ کے ورثاء آپس میں کہنے لگے: اللہ کی قسم! محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) تمھارے حق میں دو گنا کا فیصلہ نہیں کرے گا، ذلیلہ والے ہیں بھی سچے کہ وہ ہمارے ظلم و ستم اور قہر و جبر کی وجہ سے دو گناہ دیتے رہے، اب محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس کسی آدمی کو بطورِ جاسوس بھیجو جو تمھیں اس کے فیصلے سے آگاہ کر سکے، اگر وہ تمھارے ارادے کے مطابق فیصلہ کر دے تو تم اسے حاکم تسلیم کر لینا اور اگر اس نے ایسے نہ کیا تو محتاط رہنا اور اسے فیصل تسلیم نہ کرنا۔ سو انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ منافق لوگوں کو بطورِ جاسوس بھیجا، جب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے تو اللہ تعالی نے اپنے رسول کو ان کی تمام سازشوں اور ارادوں سے آگاہ کر دیا اور یہ آیات نازل فرمائیں: اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں خواہ وہ ان میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعوی کرتے لیکن حقیقت میں ان کے دل باایمان نہیں … … اور جو اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۴۱۔ ۴۴) پھر کہا: اللہ کی قسم! یہ آیتیں انہی دونوں کے بارے میں نازل ہوئیں اور اللہ تعالی کی مراد یہی لوگ تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8584

۔ (۸۵۸۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَھَا: {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنُ بِالْعَیْنِ} نَصَبَ النَّفْسَ وَرَفَعَ الْعَیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۸۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنُ بِالْعَیْنِ} [المائدۃ: ۴۵] … ہم نے ان پر فرض کیا کہ قصاص میں جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہو گی۔ نفس پر زبر پڑھی اور العین پر پیش پڑھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8585

۔ (۸۵۸۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنْ الْأَ نْصَارِ طَعَامًا فَأَ کَلُوا وَشَرِبُوا وَانْتَشَوْا مِنْ الْخَمْرِ، وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَہُ، فَتَفَاخَرُوْا وَقَالَتِ الْأَ نْصَارُ: الْأَ نْصَارُ خَیْرٌ، وَقَالَتِ الْمُہَاجِرُونَ: الْمُہَاجِرُونَ خَیْرٌ، فَأَہْوٰی لَہُ رَجُلٌ بِلَحْیَیْ جَزُورٍ فَفَزَرَ أَنْفَہُ فَکَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا، فَنَزَلَتْ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ} إِلٰی قَوْلِہِ: {فَہَلْ أَ نْتُمْ مُنْتَہُونَ} [المائدۃ: ۹۰۔۹۱]۔ (مسند احمد: ۱۵۶۷)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے کھانا تیار کیا اور ساتھیوں کو دعوت دی، انہوں نے کھانا کھایا اور شراب پی اور نشہ میں مست ہو گئے، یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے، ہم بھی ان کے پاس جمع تھے، انہوں نے آپس میں فخر کا اظہار کرنا شروع کر دیا، انصار نے کہا: انصار بہتر ہیں، مہاجرین نے کہا کہ مہاجر بہتر ہیں، ایک آدمی نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھائی اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ناک کو پھاڑ دیا، اس طرح ان کی ناک پھاڑی ہوئی تھی،پھریہ آیات نازل ہوئیں: {یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء َ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گندے ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آنے والے ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8586

۔ (۸۵۸۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ تَحْرِیمُ الْخَمْرِ، قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِینَ مَاتُوا وَہُمْ یَشْرَبُونَہَا؟ فَنَزَلَتْ: {لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُووَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ بَعْضُہُمْ: قَدْ قُتِلَ سُہَیْلُ بْنُ بَیْضَائَ وَہِیَ فِی بَطْنِہِ قَالَ: فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [المائدۃ: ۹۳]۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا، جو اس حال میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیتے تھے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔}… ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، پھر وہ متقی بنے اور ایمان لائے، پھر وہ متقی بنے اور انھوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۳) ایک روایت میں ہے: کسی نے کہا: سیدنا سہیل بن بیضائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے، جبکہ ان کے پیٹ میں شراب تھی (یعنی وہ اس وقت پیتے تھے) پس اللہ تعالی نے یہ حکم اتار دیا: {لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا}۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8587

۔ (۸۵۸۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: { وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} [آل عمران: ۹۷] قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ فِی کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، فَقَالُوْا: أَ فِی کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوْا: أَ فِی کُلِّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ((لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ۔)) فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَسْأَ لُوْا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ} إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ [المائدۃ: ۱۰۱]۔ (مسند احمد: ۹۰۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} … لوگوں پر اللہ کے لیے حج فرض ہے جو اس کی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہے۔ تو لوگوں نے کہا: ا ے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہرسال فرض ہو جاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئــَـلُوْا عَنْ اَشْیَاء َ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئــَـلُوْا عَنْہَا حِیْنَیُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8588

۔ (۸۵۸۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَنْ أَ بِی؟ قَالَ: ((أَ بُوکَ فُلَانٌ۔)) فَنَزَلَتْ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَسْأَ لُوْا عَنْ أَ شْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ} [المائدۃ: ۱۰۱] إِلٰی تَمَامِ الْآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۷۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا باپ فلاں ہے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَـلُوْا عَنْ اَشْیَائَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئَـلُوْا عَنْہَا حِیْنَیُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8589

۔ (۸۵۸۹)۔ عَنْ أَ بِی عَامِرٍ الْأَ شْعَرِیِّ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْہُمْ بِأَ وْطَاسٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَ بَا عَامِرٍ! أَ لَا غَیَّرْتَ۔)) فَتَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} [المائدۃ: ۱۰۵] فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((أَ یْنَ ذَہَبْتُمْ؟ إِنَّمَا ہِیَ: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْکُفَّارِ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۹۷)
۔ سیدنا ابو عامر اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک آدمی اوطاس کی جنگ میں شہید ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اے ابو عامر! تو نے اس برائی کو کیوں نہیں بدلا (یعنی اس سے روکا کیوں نہیں)؟ آگے سے اس نے یہ آیت پڑھی: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہاں چلے گئے ہو، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے ایماندارو! جب تم ہدایتیافتہ ہو جاؤ تو گمراہ ہونے والے کافر تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8590

۔ (۸۵۹۰)۔ عَنْ قَیْسٍ قَالَ: قَامَ أَ بُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَ ثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَا أَ یُّہَا النَّاسُ! إِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} [المائدۃ: ۱۰۵] وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَ وُا الْمُنْکَرَ فَلَمْ یُنْکِرُوہُ، أَوْشَکَ أَ نْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہِ۔))، قَالَ: وَسَمِعْتُ اَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: اِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَاِنَّ الْکَذِبَ مُجَانِبٌ لِلْاِیْمَانِ۔ (مسند احمد: ۱)
۔ قیس سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ جبکہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہفرماتے ہوئے سنا کہ جب لوگ جب برائی کو دیکھیں اور اسے تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام عذاب میں مبتلا کر دے۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ ایمان سے مختلف چیز ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8591

۔ (۸۵۹۱)۔ حَدَّثَتْنِی جَسْرَۃُ بِنْتُ دَجَاجَۃَ: أَنَّہَا انْطَلَقَتْ مُعْتَمِرَۃً فَانْتَہَتْ إِلَی الرَّبَذَۃِ فَسَمِعَتْ أَ بَا ذَرٍّ یَقُولُ: قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً مِنْ اللَّیَالِی فِی صَلَاۃِ الْعِشَائِ فَصَلّٰی بِالْقَوْمِ ثُمَّ تَخَلَّفَ أَ صْحَابٌ لَہُ یُصَلُّونَ، فَلَمَّا رَأٰی قِیَامَہُمْ وَتَخَلُّفَہُمْ انْصَرَفَ إِلٰی رَحْلِہِ، فَلَمَّا رَأَ ی الْقَوْمَ قَدْ أَ خْلَوُا الْمَکَانَ رَجَعَ إِلٰی مَکَانِہِ فَصَلّٰی، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَہُ، فَأَ وْمَأَ إِلَیَّ بِیَمِینِہِ فَقُمْتُ عَنْ یَمِینِہِ، ثُمَّ جَائَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفِی وَخَلْفَہُ، فَأَ وْمَأَ إِلَیْہِ بِشِمَالِہِ فَقَامَ عَنْ شِمَالِہِ، فَقُمْنَا ثَلَاثَتُنَا، یُصَلِّی کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا بِنَفْسِہِ وَیَتْلُو مِنَ الْقُرْآنِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَ نْ یَتْلُوَ، فَقَامَ بِآیَۃٍ مِنْ الْقُرْآنِ یُرَدِّدُہَا حَتّٰی صَلَّی الْغَدَاۃَ، فَبَعْدَ أَ نْ أَ صْبَحْنَا أَ وْمَأْتُ إِلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَ نْ سَلْہُ مَا أَ رَادَ إِلٰی مَا صَنَعَ الْبَارِحَۃَ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِیَدِہِ لَا أَ سْأَ لُہُ عَنْ شَیْئٍ حَتّٰییُحَدِّثَ إِلَیَّ، فَقُلْتُ: بِأَ بِی أَ نْتَ وَأُمِّی قُمْتَ بِآیَۃٍ مِنْ الْقُرْآنِ وَمَعَکَ الْقُرْآنُ لَوْ فَعَلَ ہٰذَا بَعْضُنَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ، قَالَ: ((دَعَوْتُ لِأُمَّتِی۔)) قَالَ: فَمَاذَا أُجِبْتَ أَ وْ مَاذَا رُدَّ عَلَیْکَ؟ قَالَ: ((أُجِبْتُ بِالَّذِی لَوِ اطَّلَعَ عَلَیْہِ کَثِیرٌ مِنْہُمْ طَلْعَۃً تَرَکُوا الصَّلَاۃَ۔)) قَالَ: أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((بَلٰی)) فَانْطَلَقْتُ مُعْنِقًا قَرِیبًا مِنْ قَذْفَۃٍ بِحَجَرٍ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَی النَّاسِ بِہٰذَا نَکَلُوا عَنِ الْعِبَادَۃِ، فَنَادٰی أَ نْ ارْجِعْ فَرَجَعَ وَتِلْکَ الْآیَۃُ: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْلَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} [المائدۃ: ۱۱۸]۔ (مسند احمد: ۲۱۸۲۷)
۔ جسرہ بنت دجاجہ سے مروی ہے کہ وہ عمرہ کے لئے گئی، جب راستے میں ربذہ مقام پر پہنچی، تو سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا: انہوں نے کہا: ایک رات عشاء کی نماز میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیام کیا اور لوگوں کو یہ نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو صحابہ کرام پیچھے ہٹ کر نماز پڑھنے لگے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھنے کے لئے پیچھے ہٹ گئے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر چلے گئے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ جگہ لوگوں سے خالی ہو گئی ہے تو آپ اپنی جگہ پر پھر لوٹ آئے اور نماز پڑھنا شروع کر دی۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دائیں جانب کھڑا ہونے کا اشارہ کیا، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دائیں جانب کھڑا ہو گیا، اتنے میں سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے اور وہ ہم دونوں کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بائیں جانب کھڑا ہونے کا اشارہ کیا، سو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہوگئے، ہم تینوں اس انداز پر نماز پڑھتے رہے کہ ہر کوئی اپنی اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور قرآن مجید میں سے حسب منشا تلاوت کرتا رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قرآن مجید کی صرف ایک آیت کے ساتھ قیام کیا، صبح کی نماز تک اسے ہی دہراتے رہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر سے فارغ ہو گئے تو میں (ابو ذر) نے سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اشارۃً کہا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گزشتہ رات کے عمل کی بابت پوچھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کیا مقصد تھا کہ ایک آیت ہی دوہراتے رہے، لیکن انہوں نے کہا: میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں پوچھوں گا، الا یہ کہ آپ مجھ سے گفتگو کریں، پھر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے ایک ہی آیت میں ساری رات گزار دی، جبکہ سارا قرآن مجید آپ کو یاد ہے، اگر ہم سے کوئی ایسا کرتا تو ہم اس سے تو ناراض ہو جاتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے لئے دعا کی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کو اس دعا کا کیا جواب دیاگیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس کا ایسا جواب دیا گیا ہے کہ اگر زیادہ تر لوگوں کو اس کا پتہ چل جائے تو وہ اس پر تکیہ کر کے نماز بھی چھوڑ دیں گے۔ میں نے کہا: کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ضرور دو۔ میں تیز چلا اور ابھی تک ایک پتھر کی پھینک پر تھا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ابوذر کو لوگوں کی طرف بھیج دیا ہے کہ وہ ان کو خوشخبری دیں، اس سے یہ لوگ عبادت میں سست روی اختیار کریں گے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے آواز دی کہ ابو ذر واپس آ جائو، سو میں واپس آ گیا۔ وہ آیتیہ تھی: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ}…
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8592

۔ (۸۵۹۲)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ، عَنِ ابْنَیْ بُسْرٍ السُّلَمِیَّیْنِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَیْہِمَا فَقُلْتُ: یَرْحَمُکُمَا اللّٰہُ، الرَّجُلُ مِنَّا یَرْکَبُ دَابَّتَہُ فَیَضْرِبُہَا بِالسَّوْطِ، وَیَکْفَحُہَا بِاللِّجَامِ، ہَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ذٰلِکَ شَیْئًا؟ قَالَا: لَا، مَا سَمِعْنَا مِنْہُ فِی ذٰلِکَ شَیْئًا، فَإِذَا امْرَأَ ۃٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَیْتِ أَ یُّہَا السَّائِلُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُولُ: {وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلَّا أُمَمٌ أَ مْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْئٍ} [الأنعام: ۳۸] فَقَالَا: ہٰذِہِ أُخْتُنَا وَھِیَ اَکْبَرُ مِنَّا، وَقَدْ اَدْرَکَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۳۷)
۔ عبید اللہ بن زیاد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بسر کے دو بیٹوں کے پاس گیا اور ان سے کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، اس بارے میں بتائیں کہ آدمی اپنی سواری پر سوار ہوتا ہے، کوڑے کے ساتھ اسے مارتا ہے، اس کی لگام کھینچتا ہے، کیا تم نے اس کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، ہم نے اس بارے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ نہیں سنا، اچانک گھر کے اندر سے ایک خاتون نے آواز دی اور کہا: اے سوال کرنے والے! بیشک اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْأَ رْضِ وَلَا طَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلَّا أُمَمٌ أَ مْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْئٍ} … اور زمین میں نہ کوئی چلنے والا ہے اور نہ کوئی اڑنے والا، جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر تمھاری طرح امتیں ہیں۔ ان دو بھائیوں نے کہا: یہ ہماری بہن ہے، ہم سے بڑی ہے، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8593

۔ (۸۵۹۳)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: مَرَّ الْمَلَاُ مِنْ قُرَیْشٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہٗخَبَّابٌوَصُہَیْبٌ وَبِلَالٌ وَعَمَّارٌ، فَقَالُوْا: یَامَحُمَّدُ! اَرَضِیْتَ بِہٰؤُلَائِ فَنَزَلَ فِیْہِمُ الْقُرْآنُ: {وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْ یُحْشَرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ… اِلٰی قَوْلِہٖ…وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ} [الأنعام: ۵۱۔ ۵۸]۔ (مسند احمد: ۳۹۸۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قریش کی ایک جماعت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزری، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سیدنا خباب، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا عمار موجود تھے، ان قریشیوں نے کہا: اے محمد! کیا آپ ان فقراء پر راضی ہو گئے ہیں (اور ان کو اپنی مجلس میں بٹھایا ہوا ہے)، اس پر ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْ یُحْشَرُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ… اِلٰی قَوْلِہٖ…وَاللّٰہُاَعْلَمُبِالظَّالِمِیْنَ۔}
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8594

۔ (۸۵۹۴)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَ بِی وَقَّاصٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} [الأنعام: ۶۵] فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ مَا إِنَّہَا کَائِنَۃٌ وَلَمْ یَأْتِ تَأْوِیلُہَا بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۶)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار یہ ہونے والا ہے، لیکن ابھی تک اس کی تاویل پوری نہیں ہوئی (یعنی اس کی مصداق صورت سامنے نہیں آئی)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8595

۔ (۸۵۹۵)۔ عَنِ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ لَمَّا نَزَلَتْ: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ} قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ عُوذُ بِوَجْہِکَ۔)) فَلَمَّا نَزَلَتْ: {أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ عُوذُ بِوَجْہِکَ۔)) فَلَمَّا نَزَلَتْ: {أَ وْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} [الأنعام: ۶۵] قَالَ: ((ہٰذِہِ أَ ہْوَنُ وَأَ یْسَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۶۷)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری چہرے کیپناہ میں آتا ہوں۔ جب یہ حصہ نازل ہوا: {أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} … یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیرے چہرے کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ اور جب یہ حصہ نازل ہوا: {أَ وْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} … یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ زیادہ ہلکا اور زیادہ آسان عذاب ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8596

۔ (۸۵۹۶)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فِی قَوْلِہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ} الْآیَۃَ [الأنعام: ۶۵]، قَالَ: ہُنَّ أَ رْبَعٌ وَکُلُّہُنَّ عَذَابٌ وَکُلُّہُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَۃَ، فَمَضَتْ اثْنَتَانِ بَعْدَ وَفَاۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِخَمْسٍ وَعِشْرِینَ سَنَۃً، فَأُلْبِسُوْا شِیَعًا وَذَاقَ بَعْضُہُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، وَثِنْتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَۃَ الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۴۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ۔} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے، یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے، دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ سمجھیں۔ پھر سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ چار امور ہیں، چاروں عذاب کی صورتیں ہیں، سب نے لامحالہ طور پر واقع ہونا ہے، بلکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے سے پچیس برس بعد واقع ہو چکی ہیں، ایکیہ کہ لوگ فرقوں میں بٹ گئے اور دوسرا پھر انہوں نے ایکدوسرے کو عذاب بھی چکھایا، باقی دو نے بھی لا محالہ طورپر ہو کر رہنا ہے، اور وہ ہیں: زمین میں دھنسنا اور پتھروں کا برسنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8597

۔ (۸۵۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {الَّذِینَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ} [الأنعام: ۸۲] شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی النَّاسِ وَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَأَ یُّنَا لَا یَظْلِمُ نَفْسَہُ؟ قَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ الَّذِی تَعْنُونَ، أَ لَمْ تَسْمَعُوْا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ؟ {یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ} [لقمان: ۱۳] إِنَّمَا ہُوَ الشِّرْکُ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ:) ((لَمْ تَسْمَعُوْا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِاِبْنِہٖ: {لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ}۔)) (مسند احمد: ۴۰۳۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے جب یہ آیت نازل ہوئی: {الَّذِینَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ}… جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی آمیزش نہیں ہونے دی تو یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کون ہے جس نے خود پر ظلم نہ کیا ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا مطلب وہ نہیں، جو تم سمجھ رہے ہو، کیا تم نے نیک بندے کی بات نہیں سنی؟ جب اس نے کہا تھا: {یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ} … اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو لقمان نے اپنے بیٹے سے کہی تھی: {لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ} … اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8598

۔ (۸۵۹۸)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیمِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَ حْسَنُ} عَزَلُوْا أَ مْوَالَ الْیَتَامٰی حَتّٰی جَعَلَ الطَّعَامُ یَفْسُدُ وَاللَّحْمُ یُنْتِنُ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ: {وَإِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ} قَالَ: فَخَالَطُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۳۰۰۰)
۔ {وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} کی تفسیر
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8599

۔ (۸۵۹۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطًّا ثُمَّ قَالَ: ((ہٰذَا سَبِیلُ اللّٰہِ۔)) ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔ ثُمَّ قَالَ: ((ہٰذِہِ سُبُلٌ، قَالَ یَزِیدُ: مُتَفَرِّقَۃٌ عَلٰی کُلِّ سَبِیلٍ مِنْہَا شَیْطَانٌیَدْعُو إِلَیْہِ ثُمَّ قَرَأَ : {واَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ} [الأنعام: ۱۵۳]۔ (مسند احمد: ۴۱۴۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لئے ایک خط کھینچا اور ساتھ ہی فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں کئی خطوط کھینچے اور فرمایا۔ یہ جدا جدا راستے ہیں، ان میں سے ہر راستے پر شیطان ہے، جو اپنی طرف بلاتا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی: {واَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ}… اور یہ کہ بے شک یہی میرا راستہ ہے سیدھا، پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8600

۔ (۸۶۰۰)۔ عَنْ أَ بِی ذَرٍّ أَ نَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَغِیبُ الشَّمْسُ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَیُؤْذَنُ لَہَا فَتَرْجِعُ، فَإِذَا کَانَتْ تِلْکَ اللَّیْلَۃُ الَّتِی تَطْلُعُ صَبِیحَتَہَا مِنْ الْمَغْرِبِ لَمْ یُؤْذَنْ لَہَا، فَإِذَا أَ صْبَحَتْ قِیلَ لَہَا: اطْلُعِی مِنْ مَکَانِکِ ثُمَّ قَرَأَ : {ہَلْ یَنْظُرُونَ إِلَّا أَ نْ تَأْتِیَہُمُ الْمَلَائِکَۃُ أَ وْ یَأْتِیَ رَبُّکَ أَ وْ یَأْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ} [الأنعام: ۱۵۸]۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۵)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج عرش کے نیچے غروب ہوتا ہے، پھر اسے اجازت دی جاتی ہے، تب یہ واپس لوٹتا ہے، جب وہ رات آئے گی، جس کی صبح کو اس نے مغرب سے طلوع ہونا ہوگا، تو اسے لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جب صبح ہو گی تو سورج سے کہا جائے گا:جہاں سے تو آیا ہے، وہیں سے طلوع ہو (یعنی مغرب سے)، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی: {ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلٰیِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِہَا خَیْرًا قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ۔} … وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں،یا تیرا رب آئے، یا تیرے رب کی کوئی نشانیآئے، جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ کہہ دے انتظار کرو، بے شک ہم (بھی) منتظر ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8601

۔ (۸۶۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} [الأنعام: ۱۵۸] قَالَ: ((طَلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرَبِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۸۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {یَوْمَیَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آ جائے گی تو کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا پھر فرمایا: یہ نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8602

۔ (۸۶۰۲)۔ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَ بِی عَرُوبَۃَ فِی ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ} [الأعراف: ۴۳] قَالَ: ثَنَا قَتَادَۃُ: أَ نَّ أَبَا الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیَّ حَدَّثَہُمْ: أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ حَدَّثَہُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَیُحْبَسُونَ عَلٰی قَنْطَرَۃٍ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ، فَیُقْتَصُّ لِبَعْضِہِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ کَانَتْ بَیْنَہُمْ فِی الدُّنْیَا حَتّٰی إِذَا ہُذِّبُوْا وَنُقُّوْا أُذِنَ لَہُمْ فِی دُخُولِ الْجَنَّۃِ))، قَالَ: ((فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَأَحَدُہُمْ أَہْدٰی لِمَنْزِلِہِ فِی الْجَنَّۃِ مِنْہُ لِمَنْزِلِہِ کَانَ فِی الدُّنْیَا)) قَالَ قَتَادَۃُ: وَقَالَ بَعْضُہُمْ: مَا یُشْبِہُ لَہُمْ إِلَّا أَہْلُ جُمُعَۃٍ حِینَ انْصَرَفُوْا مِنْ جُمُعَتِہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۲۹)
۔ سعید بن ابی عروبہ نے اس آیت {وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ}کے بارے میں کہا: ہمیں قتادہ نے بیان کیا کہ ان کو ابو متوکل ناجی نے بیانکیا کہ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ایمانداروں کو دوزخ سے رہائی ملے گی تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روکا جائے گا، آپس میں ظلموں کا قصاص دلایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ ان سے پاک و صاف کردئیے جائیں گے، تو تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ جنت میں اپنے مقام کو اس سے زیادہ پہچانتے ہوں گے، جتنا دنیا میں وہ اپنے گھر کے راستے کو پہچانتے ہیں۔ قتادہ نے کہا: بعض راویوں نے کہا: جیسے وہ دنیا میں جمعہ پڑھنے کے بعد سیدھے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8603

۔ (۸۶۰۳)۔ عَنْ أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَوْلِہِ تَعَالٰی: {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ} [الاعراف: ۱۴۳] قَالَ: قَالَ: ہٰکَذَا یَعْنِی أَ نَّہُ أَ خْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ، قَالَ أَ بِی: أَ رَانَا مُعَاذٌ قَالَ: فَقَالَ لَہُ حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ: مَا تُرِیدُ إِلٰی ہٰذَا؟ یَا أَ بَا مُحَمَّدٍ! قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَہُ ضَرْبَۃً شَدِیدَۃً، وَقَالَ: مَنْ أَ نْتَ یَا حُمَیْدُ؟ وَمَا أَ نْتَ یَا حُمَیْدُ؟یُحَدِّثُنِی بِہِ أَ نَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَقُولُ: أَ نْتَ مَا تُرِیدُ إِلَیْہِ؟(مسند احمد: ۱۲۲۸۵)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗدَکًّا}… تو جب اس کا رب پہاڑ کے سامنے ظاہر ہوا تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ کے بارے میں فرمایا: بس اس طرح ہوا تھا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھنگلیانگلی کا ایک کنارہ نکالا، جب معاذ نے ہمیں یہ کیفیت دکھائی تو حمید طویل نے کہا: اے ابو محمد! اس مثال سے تیری مراد کیا ہے؟ لیکن ابو محمد نے حمید کے سینے پر سخت ضرب لگائی اور کہا: حمید! تو کون ہے؟ تو کیا چیز ہے، حمید! مجھے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا تھا اور تو کہتا ہے کہ اس مثال سے تیری مراد کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8603

۔ (۸۶۰۳م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَوْلِہِ تَعَالٰی: {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ} قَالَ: فَاَوْمَأَ بِخِنْصَرِہٖ،قَالَ: فَسَاخَ۔ (مسنداحمد: ۱۳۲۱۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالی کے اس فرمان{فَلَمَّا تَجَلَّی رَبُّہُ لِلْجَبَلِ} کی وضاحت کرتے ہوئے چھنگلی انگلی سے اشارہ کیا، لیکن (اتنی سی تجلّی سے پہاڑ زمین میں دھنسگیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8604

۔ (۸۶۰۴)۔ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ الْجُھَنِیِّ، اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سُئِلَ عَنْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ {وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ} فَقَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنْھَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَھْرَہُ بِیَمِیْنِہِ وَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّۃً فَقَالَ: خَلَقْتُ ھٰؤُلَائِ لِلْجَنَّۃِ وَ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِیَعْمَلُوْنَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَھْرَہُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّۃً فَقَالَ: خَلَقْتُ ھٰؤُلَائِ لِلنَّارِ، وَ بِعَمَلِ اَھْـلِ النَّارِ یَعْمَلُوْنَ)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَفِیْمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّۃِ اسْتَعْمَلَہُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتَّییَمُوْتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ اَعْمَالِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیُدْخِلَہُ بِہٖالْجَنَّۃَ، وَ اِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَہُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ حَتَّییَمُوْتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ اَعْمَالِ اَھْلِ النَّارِ فَیُدْخِلَہُ بِہٖالنَّارَ۔)) (مسنداحمد: ۳۱۱)
۔ مسلم بن یسار جہنی سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا: {وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}، انھوں نے کہا: میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، اس کی کمر کو دائیں ہاتھ سے چھوا اور اس سے اس کی اولاد نکالی اور کہا: میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور اہل جنت کے عمل ہی وہ کریں گے، پھر اس کی کمر کو چھوا اور اس نے مزید اولاد نکال کر کہا: میں نے ان کو آگ کے لیے پیدا کیا ہے اور اہل جہنم کے عمل ہی وہ کریں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کی کیا حیثیت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالی بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کواہل جنت کے ہی اعمال کرنے کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتیلوگوں کے عمل پر مرتا ہے اور اس طرح وہ اس کوجنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب اللہ تعالی کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کو جہنمی لوگوں کے عمل کرنے کی ہی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اہل جہنم کے اعمال پر مرتا ہے اور وہ اس کو جہنم میں داخل کر دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8605

۔ (۸۶۰۵)۔ عَنْ رُفَیْعٍٍ اَبِیْ الْعَالِیَۃِ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلّ:َ {وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ} قَالَ: جَمَعَھُمْ فَجَعَلَھُمْ اَرْوَاحًا ثُمَّ صَوَّرَھُمْ فَاسْتَنْطَقَھُمْ فَتَکَلَّمُوْا، ثُمَّ اَخَذَ عَلَیْھِمُ الْعَھْدَ وَالْمِیْثَاقَ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ قَالَ: فَاِنِّیْ اُشْھِدُ عَلَیْکُمُ السَّمٰوٰتِ السَّبْعَ وَالْاَرْضِیْنَ السَّبْعَ، وَاُشْھِدُ عَلَیْکُمْ اَبَاکُمْ آدَمَ علیہ السلام ، اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَمْ نَعْلَمْ بِھٰذَا، اِعْلَمُوْا اَنَّہُ لَا اِلٰہَ غَیْرِیْ وَلَا رَبَّ غَیْرِیْ، فَلَا تُشْرِکُوْا بِیْ شَیْئًا، اِنِّیْ سَاُرْسِلُ اِلَیْکُمْ رُسُلِیْیُذَکِّرُوْنَکُمْ عَھْدِیْ وَمِیْثَاقِیْ، وَاُنْزِلُ عَلَیْکُمْ کُتُبِیْ، قَالُوْا: شَھِدْنَا بِاَنَّکَ رَبُّنَا وَ اِلٰھُنَا لَا رَبَّ لَنَا غَیْرُکَ، فَاَقَرُّوْا بِذٰلِکَ، وَ رَفَعَ اِلَیْھِمْ آدَمُ یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ فَرَاٰی الْغَنِیَّ وَالْفَقِیْرَ وَحَسَنَ الصُّوْرَۃِ وَدُوْنَ ذٰلِکَ، فَقَالَ: رَبِّ! لَوْ لَا سَوَّیْتَ بَیْنَ عِبَادِکَ؟ قَالَ: اِنِّیْ اَحْبَبْتُ اَنْ اُشْکَرَ، وَرَاٰی الْاِنْبِیَائَ فِیْھِمْ مِثْلَ السُّرُجِ عَلَیْھِمُ النُّوْرُ، خُصُّوْا بِمِیْثَاقٍ آخَرَ فِیْ الرِّسَالَۃِ وَالنَّبُوَّۃِ، وَھُوَ قَوْلُہُ تَعَالٰی: {وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّیْنَ مِیْثَاقَھُمْ} اِلٰی قَوْلِہِ {عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ} کَانَ فِیْ تِلْکَ الْاَرْوَاحِ فَاَرْسَلَہُ اِلٰی مَرْیَمَ، فَحَدَّثَ عَنْ اُبَیٍّ اَنَّہُ دَخَلَ مِنْ فِیْھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۵۵۲)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: اور جب تیرے پروردگار نے بنوآدم کی پشتوں یعنی ان کی اولاد سے پختہ عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا اس کی تفصیلیہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو جمع کیا، ان کو روحیں بنایا، پھر ان کی تصویریں بنائیں اور ان کو بولنے کی طاقت دی، پس انھوں نے کلام کیا، پھر اللہ تعالی نے ان سے پختہ عہد لیا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بناتے ہوئے کہا: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ میں ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ کو تم پر گواہ بناتا ہوں، تاکہ تم قیام کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہمیں اس چیز کا کوئی علم نہ تھا، تم اچھی طرح جان لو کہ میرے علاوہ نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی ربّ، پس میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، میں عنقریب تمہاری طرف اپنے رسول بھیجوں گا، وہ تم کو میرا عہد یاد کرائیں گے، نیز میںتم پر اپنی کتابیں بھی نازل کروں گا، انھوں نے کہا: ہمیہ شہادت دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا ربّ اور معبود ہے، تیرے علاوہ ہمارا کوئی ربّ نہیں ہے، پس ان سب نے اقرار کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان پر بلند کیا، انھوں نے ان میں غنی، فقیر، حسین اور کم خوبصورت افراد دیکھے اور کہا: اے میرے ربّ! تو نے ان کے درمیان برابری کیوں نہیں کی؟ اللہ تعالی نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے، نیز انھوں نے ان میں انبیاء دیکھے، وہ چراغوں کی طرح نظر آ رہے تھے اور ان پر نور تھا، ان کو رسالت اور نبوت کے عہد و میثاق کے ساتھ خاص کیا گیا، اللہ تعالی کے اس فرمان میں اسیچیز کا ذکر ہے: اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا … عیسیٰ بن مریم۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی ان ہی ارواح میں تھے، پھر اللہ تعالی اس روح کو سیدہ مریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف بھیجا اور وہ ان کے منہ سے ان میں داخل ہو گئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8606

۔ (۸۶۰۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَشَہِدْتُ مَعَہُ بَدْرًا، فَالْتَقَی النَّاسُ، فَہَزَمَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَتْ طَائِفَۃٌ فِی آثَارِہِمْ یَہْزِمُونَوَیَقْتُلُونَ، فَأَکَبَّتْ طَائِفَۃٌ عَلَی الْعَسْکَرِ یَحْوُونَہُ وَیَجْمَعُونَہُ، وَأَ حْدَقَتْ طَائِفَۃٌ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُصِیبُ الْعَدُوُّ مِنْہُ غِرَّۃً حَتّٰی إِذَا کَانَ اللَّیْلُ وَفَائَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ، قَالَ الَّذِینَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ: نَحْنُ حَوَیْنَاہَا وَجَمَعْنَاہَا فَلَیْسَ لِأَ حَدٍ فِیہَا نَصِیبٌ، وَقَالَ الَّذِینَ خَرَجُوا فِی طَلَبِ الْعَدُوِّ: لَسْتُمْ بِأَ حَقَّ بِہَا مِنَّا نَحْنُ نَفَیْنَا عَنْہَا الْعَدُوَّ وَہَزَمْنَاہُمْ، وَقَالَ الَّذِینَ أَ حْدَقُوا بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَسْتُمْ بِأَ حَقَّ بِہَا مِنَّا نَحْنُ أَ حْدَقْنَا بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخِفْنَا أَ نْ یُصِیبَ الْعَدُوُّ مِنْہُ غِرَّۃً وَاشْتَغَلْنَا بِہِ، فَنَزَلَتْ: {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْأَ نْفَالِ، قُلْ الْأَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ، فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَأَ صْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ} فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فَوَاقٍ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ، قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَ غَارَ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبُعَ، وَإِذَا أَ قْبَلَ رَاجِعًا وَکُلَّ النَّاسِ نَفَلَ الثُّلُثَ، وَکَانَ یَکْرَہُ الْأَ نْفَالَ، وَیَقُولُ: ((لِیَرُدَّ قَوِیُّ الْمُؤْمِنِینَ عَلٰی ضَعِیفِہِم۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۴۲)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلے، میں غزوۂ بدر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، جب لوگوں کا مقابلہ ہوا تو اللہ تعالی نے دشمنوں کو شکست دی، لشکرِ اسلام میں سے کچھ لوگ دشمنوں کو شکست دیتے ہوئے اور ان کو قتل کرتے ہوئے ان کاپیچھا کرنے لگ گے اور ایک حصہ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑا اور اس کو جمع کرنے لگا اور ایک حصے نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیرے میں لے لیا، تاکہ دشمن غفلت سے فائدہ اٹھا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے، یہاں تک کہ رات ہو گئی اور سارے لوگ لوٹ آئے، غنیمتیں جمع کرنے والوں نے کہا: ہم نے یہ مال جمع کیا ہے، کسی اور کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، دشمن کا پیچھا کرنے والے گروہ نے کہا: تم لوگ ہم سے زیادہ اس مال کے مستحق نہیں ہو، ہم نے اس مال سے دشمن کو ہٹایا اور اس کو شکست دی، اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنے والوں نے کہا: تم لوگ ہم سے زیادہ اس مال کا حق نہیں رکھتے، ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیرے رکھا اور ہم ڈر گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن غفلت سے فائدہ اٹھا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نقصان پہنچا دے اور اس طرح ہم اُدھر مصروف رہے، پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {یَسْأَ لُونَکَ عَنْ الْأَ نْفَالِ، قُلْ الْأَ نْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ، فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَأَ صْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ} … وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹنی کے فَوَاق کی مقدار کے برابر وقت میں اس مال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دشمن کی سرزمین میں حملہ کرتے تھے تو ایک چوتھائی حصہ زائد دیتے تھے اور اگر واپسی پر ایسا ہوتا ہے تو مجاہدین کی تھکاوٹ کی وجہ سے ایک تہائی حصہ زائد دیتے تھے، ویسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ لوگ زائد حصے کی حرص رکھیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: قوی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کمزوروں کو زائد حصوں میں شریک کریں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8606

۔ (۸۶۰۶م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاھَلِیِّ قَالَ: سَأَ لْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ عَنْ الْأَ نْفَالِ فَقَالَ: فِینَا مَعْشَرَ أَ صْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِینَ اخْتَلَفْنَا فِی النَّفْلِ، وَسَائَ تْ فِیہِ أَ خْلَاقُنَا، فَانْتَزَعَہُ اللّٰہُ مِنْ أَ یْدِینَا، وَجَعَلَہُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ عَنْ بَوَائٍ، یَقُولُ: عَلَی السَّوَائِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۳۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبادہ بن صامت سے انفال والی آیت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم بدر والوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، جب ہم نے مالِ غنیمت میں اختلاف کیا اور اس بارے میں ہم سے بداخلاقی ہونے لگی تو اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھوں سے یہ چیز چھین لی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سپرد کر دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8607

۔ (۸۶۰۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَ بِی وَقَّاصٍ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ قُتِلَ أَ خِی عُمَیْرٌ، وَقَتَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ، وَأَ خَذْتُ سَیْفَہُ، وَکَانَ یُسَمَّی ذَا الْکَتِیفَۃِ، فَأَ تَیْتُ بِہِ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اذْہَبْ فَاطْرَحْہُ فِی الْقَبَضِ۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ وَبِی مَا لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا اللّٰہُ مِنْ قَتْلِ أَخِی وَأَ خْذِ سَلَبِی، قَالَ: فَمَا جَاوَزْتُ إِلَّا یَسِیرًا حَتّٰی نَزَلَتْ سُورَۃُ الْأَ نْفَالِ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْہَبْ فَخُذْ سَیْفَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۶)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب میرا بھائی عمیر قتل ہوا اور میں نے سعید بن عاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار پکڑ لی، اس تلوار کا نام ذُوْ الْکَتِیفَۃِ تھا۔ میں وہ تلوار لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس کو مال غنیمت میں رکھ دو۔ پس میں لوٹا، لیکن میرے بھائی کے قتل کی وجہ سے مجھے صدمہ تھا، وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا تھا اور میرا مخالف سے چھینا ہوا مال بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لے لیا، بس میں تھوڑی دیر ہی آگے چلا تھا کہ سورۂ انفال نازل ہو گئی اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: سعد جائو اپنی تلوار لے لو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8607

۔ (۸۶۰۷م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ شَفَانِی اللّٰہُ مِنْ الْمُشْرِکِینَ فَہَبْ لِی ہٰذَا السَّیْفَ، قَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا السَّیْفَ لَیْسَ لَکَ وَلَا لِی ضَعْہُ۔)) قَالَ: فَوَضَعْتُہُ ثُمَّ رَجَعْتُ قُلْتُ: عَسَی أَنْ یُعْطٰی ہٰذَا السَّیْفُ الْیَوْمَ مَنْ لَمْ یُبْلِ بَلَائِی، قَالَ: إِذَا رَجُلٌ یَدْعُونِی مِنْ وَرَائِی، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ أُنْزِلَ فِیَّ شَیْئٌ، قَالَ: کُنْتَ سَأَ لْتَنِی السَّیْفَ وَلَیْسَ ہُوَ لِی وَإِنَّہُ قَدْ وُہِبَ لِی فَہُوَ لَکَ۔)) قَالَ: وَأُنْزِلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {یَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَ نْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ۱] (مسند احمد: ۱۵۳۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی جانب سے شفا دے دی ہے، پس آپ یہ تلوار مجھے عطا کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تلوار تمہاری ہے نہ میری،یہ مال غنیمت ہے، لہٰذا اس کو رکھ دو۔ میں نے اس رکھ دیا اور پھر واپس آ گیا، لیکنیہ خیال آ رہا تھا کہ ممکن ہے کہ یہ تلوار ایسے شخص کو دے دی جائے، جو میری طرح کے جوہر نہ دکھا سکے، اتنے میں مجھے میرے پیچھے سے کوئی آدمی بلا رہا تھا، میں نے سوچھا کہ میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہوئی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے تلوار کا سوال کیا تھا، لیکن وہ میری نہیں تھی، اب وہ مجھے بطورِ ہبہ دی جا چکی ہے، لہٰذا اب یہ تیری ہے۔ یہ آیت نازل ہوئی تھی: {یَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَ نْفَالِ قُلْ الْأَ نْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ}
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8608

۔ (۸۶۰۸)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ قَالَ: نَظَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَصْحَابِہِ وَہُمْ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَنَیِّفٌ، وَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ فَإِذَا ہُمْ أَ لْفٌ وَزِیَادَۃٌ، فَاسْتَقْبَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَۃَ ثُمَّ مَدَّ یَدَہُ وَعَلَیْہِ رِدَاؤُہُ وَإِزَارُہُ ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَ یْنَ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ أَ نْجِزْ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ إِنْ تُہْلِکْ ہٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ أَ ہْلِ الْإِسْلَامِ، فَلَا تُعْبَدْ فِی الْأَ رْضِ أَ بَدًا۔)) قَالَ: فَمَا زَالَ یَسْتَغِیثُ رَبَّہُ وَیَدْعُوہُ حَتّٰی سَقَطَ رِدَاؤُہُ فَأَ تَاہُ أَ بُو بَکْرٍ فَأَ خَذَ رِدَائَ ہُ فَرَدَّاہُ، ثُمَّ الْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَفَاکَ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ، فَإِنَّہُ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ وَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {إِذْ تَسْتَغِیثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَ نِّی مُمِدُّکُمْ بِأَ لْفٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔} [الأنفال: ۹] فَلَمَّا کَانَ یَوْمَئِذٍ وَالْتَقَوْا فَہَزَمَ اللّٰہُ الْمُشْرِکِینَ فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا وَأُسِرَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا۔ الحدیث۔ (مسند احمد: ۲۰۸)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے بدر کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کی جانب دیکھا، وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے، پھرمشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے کچھ زیادہ تھے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ رخ ہوگئے اور ہاتھ اٹھا لئے، آپ نے تہبند باندھا ہوا تھا اور چادر اوڑھی ہوئیتھی، پھر یہ دعا کی: میرے اللہ! جو تو نے مجھ سے مدد کا وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے میرے اللہ! جو تونے مجھ سے وعدہ کیا ہے، وہ پورا کردے، اے میرے اللہ! اگر اسلام والوں کییہ جماعت تو نے ہلاک کر دی تو زمین میں کبھی بھی تیری عبادت نہیں کی جائے گا۔آپ اپنے رب سے مدد طلب کرتے رہے اور اسے پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی چادر گر پڑی۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر پکڑ کر اوپر اوڑھائی اورکمر کی جانب سے ساتھ چمٹ گئے اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! اپنے رب سے جو آپ نے التجاء کی ہے، یہ کافی ہے، اللہ تعالی نے آپ سے جو وعدہ کیا ہوا ہے، وہ اسے پورا کرے گا، اس وقت اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری: {إِذْ تَسْتَغِیثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَ نِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔} … جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، پس اس نے تمہاری دعا قبول فرمائی اور کہا: میںتمہارے لئے پے در پے ایک ہزار فرشتے نازل کرنے والا ہوں۔ پھر جب اس دن جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی، ان میں سے ستر (۷۰) آدمی مارے گئے اور ستر (۷۰) ہی قیدی بن گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8609

۔ (۸۶۰۹)۔ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قُلْنَا لِلزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَا أَ بَا عَبْدِاللّٰہِ! مَا جَائَ بِکُمْ ضَیَّعْتُمْ الْخَلِیفَۃَ حَتّٰی قُتِلَ ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِہِ؟ قَالَ الزُّبَیْرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّا قَرَأْنَاہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَ بِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} [الأنفال: ۲۵] لَمْ نَکُنْ نَحْسَبُ أَ نَّا أَ ہْلُہَا حَتّٰی وَقَعَتْ مِنَّا حَیْثُ وَقَعَتْ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۴)
۔ مطرف کہتے ہیں: ہم نے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! کون سی چیز تم کو یہاں لائی ہے، تم نے خلیفہ راشد کو ضائع کر دیا ہے، حتیٰ کہ انہیں مظلوم شہید کردیا گیا ہے۔ اور پھر تم ان کے خون کا مطالبہ کرنے بیٹھ گئے ہو؟ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم نے عہد ِ نبوی، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کی خلافتوں میں یہ آیت پڑھی تھی: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً}… اس فتنہ سے ڈرو جو خاص طور پر صرف انہی لوگوں کو ہی نہیں پہنچے گا جو تم میں سے ظالم ہیں۔ یہ خیال تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم اس کی زد میں آ جائیں گے، بہرحال یہ واقع ہوا اور ہم پر واقع ہوا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8609

۔ (۸۶۰۹م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ: قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ: قَالَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} [الأنفال: ۲۵] فَجَعَلْنَا: نَقُولُ: مَا ہٰذِہِ الْفِتْنَۃُ؟ وَمَا نَشْعُرُ أَ نَّہَا تَقَعُ حَیْثُ وَقَعَتْ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸)
۔ (دوسری سند) حسن بصری کہتے ہیں:سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاصی تعدادمیں موجود تھے: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو لازماً ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا۔ اس وقت ہم نے کہا: یہ فتنہ کیا ہوتا ہے،پھر ہمیںپتہ بھی نہ چلا، لیکنیہ فتنہ واقع ہو گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8610

۔ (۸۶۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہِ تَعَالٰی: {وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ} قَالَ: تَشَاوَرَتْ قُرَیْشٌ لَیْلَۃً بِمَکَّۃَ فَقَالَ بَعْضُھُمْ: اِذَا أَ صْبَحَ فَأَ ثْبِتُوْہُ بِالْوَثَاقِ یُرِیْدُوْنَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: بَلِ اقْتُلُوْہُ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: بَلْ أَ خْرِجُوْہُ، فَأَطْلَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ نَبِیَّہُ عَلٰی ذٰلِکَ فَبَاتَ عَلِیٌّ عَلٰی فِرَاشِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِلْکَ اللَّیْلَۃَ، وَخَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِکُوْنَ یَحْرُسُوْنَ عَلِیًّایَحْسِبُوْنَہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا أَ صْبَحُوْا ثَارُوْا اِلَیْہِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِیًّا رَدَّ اللّٰہُ مَکْرَھُمْ، فَقَالُوْا: أَ یْنَ صَاحِبُکَ ھٰذَا؟ قَالَ: لَا أَ دْرِیْ، فَاقْتَصُّوْا اَثَرَہُ، فَلَمَّا بَلَغُوْا الْجَبَلَ خَلَطَ عَلَیْھِمْ، فَصََعِدُوْا فِی الْجَبَلِ فَمَرُّوْا بِالْغَارِ فَرَأَ وْا عَلٰی بَابِہٖنَسْجَالْعَنْکَبُوْتِ،فَقَالُوْا: لَوْدَخَلَ ھَاھُنَا لَمْ یَکُنْ نَسْجُ الْعَنْکَبُوْتِ عَلٰی بَابِہٖفَمَکَثَفِیْہِ ثَـلَاثَ لَیَالٍ۔ (مسند احمد: ۳۲۵۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس آیت {وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ}کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں نے مکہ میں ایک رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا، کسی نے کہا: جب صبح ہو تو اس (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو بیڑیوں سے باندھ دو، کسی نے کہا: نہیں، بلکہ اس کو قتل کردو، کسی نے کہا: بلکہ اس کو نکال دو، اُدھر اللہ تعالی نے اپنے نبی کو ان باتوں پر مطلع کر دیا، پس سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بستر پر وہ رات گزاری اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے نکل کر غارِ ثور میں پناہ گزیں ہوگئے، مشرکوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری، ان کا خیال تھا کہ وہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پہرہ دے رہے ہیں، جب صبح ہوئی تو وہ ٹوٹ پڑے، لیکن انھوں نے دیکھا کہ یہ تو علی ہیں، اس طرح اللہ تعالی نے ان کا مکر ردّ کر دیا، انھوں نے کہا: علی! تیرا ساتھی کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدموں کے نشانات کی تلاش میں چل پڑے، جب اُس پہاڑ تک پہنچے تو معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا، پس یہ پہاڑ پر چڑھے اور غارِ ثور کے پاس سے گزرے، لیکن جب انھوں نے اس کے دروازے پر مکڑی کا جالہ دیکھا تو انھوں نے کہا: اگر وہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس غار میں داخل ہوا ہوتا تو مکڑی کا یہ جالہ تو نہ ہوتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی غار میں تین دن تک ٹھہرے رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8611

۔ (۸۶۱۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: (({وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} [الأنفال: ۶۰] اَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرّمْیُ، اَلا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۶۸)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ منبر پر تھے: {وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} … اور دشمن کے لئے جتنی طاقت ہو تیار رکھو۔ خبر دار! طاقت سے مراد تیر اندازی ہے، خبردار! قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8612

۔ (۸۶۱۲)۔ عَنْ أَ نَسٍ وَذَکَرَ رَجُلًا عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اسْتَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّاسَ فِی الْأُسَارٰییَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ:((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَ مْکَنَکُمْ مِنْہُمْ۔)) قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اضْرِبْ أَ عْنَاقَہُمْ، قَالَ: فَأَ عْرَضَ عَنْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَ یُّہَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَ مْکَنَکُمْ مِنْہُمْ وَإِنَّمَا ہُمْ إِخْوَانُکُمْ بِالْأَ مْسِ۔)) قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اضْرِبْ أَعْنَاقَہُمْ، فَأَ عْرَضَ عَنْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ تَرٰی أَ نْ تَعْفُوَ عَنْہُمْ وَتَقْبَلَ مِنْہُمُ الْفِدَائَ، قَالَ: فَذَہَبَ عَنْ وَجْہِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا کَانَ فِیہِ مِنْ الْغَمِّ، قَالَ: فَعَفَا عَنْہُمْ وَقَبِلَ مِنْہُمْ الْفِدَائَ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنْ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ [الأنفال: ۶۸]۔ (مسند احمد: ۱۳۵۹۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنگ بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیںان پر قدرت دی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول!ان کی گردنیںاڑا دیتے ہیں، آپ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ مشورہ طلب کیا اور فرمایا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالی نے یہ تمہارے قابو میں دے دئیے ہیں اور یہ کل تمہارے بھائی بننے والے ہیں۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی گردنیں اڑا دیں۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے کی طرح اعراض کیا اور پھر لوگوں سے وہی بات ارشاد فرما کر مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا :اے اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ آپ انہیں معاف کر دیں اور ان سے فدیہ قبول کر لیں۔ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ مبارک سے غم چھٹ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فدیہ لے کر ان کو معاف کر دیا، لیکن اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کردی: {لَوْلَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔} … اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی، جو پہلے طے ہو چکی تو تمھیں اس کی وجہ سے جو تم نے لیا بہت بڑا عذاب پہنچتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8613

۔ (۸۶۱۳)۔ عن ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَ صْحَابِہِ، وَہُمْ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَنَیِّفٌ، وَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ فَإِذَا ہُمْ أَ لْفٌ وَزِیَادَۃٌ، فَاسْتَقْبَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَۃَ، ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ وَعَلَیْہِ رِدَاؤُہُ وَإِزَارُہُ ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَ یْنَ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ أَ نْجِزْ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ إِنَّکَ إِنْ تُہْلِکْ ہَذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ أَ ہْلِ الْإِسْلَامِ، فَلَا تُعْبَدْ فِی الْأَ رْضِ أَ بَدًا۔)) قَالَ: فَمَا زَالَ یَسْتَغِیثُ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیَدْعُوہُ حَتّٰی سَقَطَ رِدَاؤُہُ، فَأَ تَاہُ أَ بُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخَذَ رِدَائَ ہُ فَرَدَّاہُ، ثُمَّ الْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ، ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَفَاکَ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ، فَإِنَّہُ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ، وَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَ نِّی مُمِدُّکُمْ بِأَ لْفٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ} فَلَمَّا کَانَ یَوْمُئِذٍ وَالْتَقَوْا، فَہَزَمَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُشْرِکِینَ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، وَأُسِرَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبَابَکْرٍ وَعَلِیًّا وَعُمَرَ ، فَقَالَ أَبُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَانَبِیَّ اللّٰہِ ہٰؤُلَائِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیرَۃُ وَالْإِخْوَانُ، فَإِنِّی أَرٰی أَ نْ تَأْخُذَ مِنْہُمْ الْفِدْیَۃَ، فَیَکُونُ مَا أَ خَذْنَا مِنْہُمْ قُوَّۃً لَنَا عَلَی الْکُفَّارِ، وَعَسَی اللّٰہُ أَ نْ یَہْدِیَہُمْ، فَیَکُونُونَ لَنَا عَضُدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا تَرٰییَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا أَ رٰی مَا رَأٰ ی أَبُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلٰکِنِّی أَرٰی أَ نْ تُمَکِّنَنِی مِنْ فُلَانٍ قَرِیبًا لِعُمَرَ، فَأَ ضْرِبَ عُنُقَہُ، وَتُمَکِّنَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ عَقِیلٍ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ، وَتُمَکِّنَ حَمْزَۃَ مِنْ فُلَانٍ أَ خِیہِ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ حَتّٰییَعْلَمَ اللّٰہُ أَ نَّہُ لَیْسَتْ فِی قُلُوبِنَا ہَوَادَۃٌ لِلْمُشْرِکِینَ، ہَؤُلَائِ صَنَادِیدُہُمْ وَأَ ئِمَّتُہُمْ وَقَادَتُہُمْ، فَہَوِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ فَأَ خَذَ مِنْہُمْ الْفِدَائَ، فَلَمَّا أَ نْ کَانَ مِنْ الْغَدِ قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: غَدَوْتُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ہُوَ قَاعِدٌ وَأَ بُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَإِذَا ہُمَا یَبْکِیَانِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ خْبِرْنِی مَاذَا یُبْکِیکَ أَ نْتَ وَصَاحِبَکَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُ وَإِنْ لَمْ أَ جِدْ بُکَائً تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکَ مِنْ الْفِدَائِ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَ دْنٰی مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ لِشَجَرَۃٍ قَرِیبَۃٍ۔)) وَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَ نْ یَکُونَ لَہُ أَ سْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْأَ رْضِ… إِلٰی قَوْلِہِ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنْ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَ خَذْتُمْ} مِنْ الْفِدَائِ ثُمَّ أُحِلَّ لَہُمُ الْغَنَائِمُ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا یَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَ خْذِہِمْ الْفِدَائ، َ فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ، وَفَرَّ أَ صْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَّتُہُ وَہُشِمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلٰی رَأْسِہِ، وَسَالَ الدَّمُ عَلٰی وَجْہِہِ، وَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {أَ وَلَمَّا أَ صَابَتْکُمْ مُصِیبَۃٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا} الْآیَۃَ بِأَخْذِکُمُ الْفِدَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا،جبکہ وہ تین سوسے کچھ زائد تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے زائد تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو لمبا کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چادر اور ایک ازار زیب ِ تن کیا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کو پورا کر دے، اے اللہ! اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ختم کر دیا تو زمین میں کبھی بھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ربّ سے مدد طلب کرتے رہے اور دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر گر گئی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر اٹھائی اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ڈال کر پیچھے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑ لیا اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے ربّ سے جو مطالبہ کر لیا ہے، یہ آپ کو کافی ہے، اس نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے، وہ عنقریب اس کو پورا کر دے گا، اس وقت اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَ نِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔}… اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالی نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا، جو لگاتار چلے آئیں گے۔ (سورۂ انفال: ۹) پھر جب اس دن دونوں لشکروں کی ٹکر ہوئی اور اللہ تعالی نے مشرکوں کو اس طرح شکست دی کہ ان کے ستر افراد مارے گئے اور ستر افراد قید کر لیے گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ لوگ ہمارے چچوں کے ہی بیٹے ہیں، اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں، میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے ہیں، اس مال سے کافروں کے مقابلے میں ہماری قوت میں اضافہ ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالی ان کو بعد میں ہدایت دے دے، اس طرح یہ ہمارا سہارا بن جائیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انھو ں نے کہا: اللہ کی قسم! میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، میرا خیال تو یہ ہے کہ فلاں آدمی، جو میرا رشتہ دار ہے، اس کو میرے حوالے کریں، میں اس کی گردن اڑاؤں گا، عقیل کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سپرد کریں، وہ اس کو قتل کریں گے، فلاں شخص کو سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے کریں، وہ اس کی گردن قلم کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالی کو علم ہو جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکوں کے لیے کوئی رحم دلی نہیں ہے، یہ قیدی مشرکوں کے سردار، حکمران اور قائد ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے پسند کی اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب اگلے دن میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو آپ اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رُلا رہی ہے؟ اگر مجھے بھی رونا آ گیا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو تمہارے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت بنا لوں گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں جو رائے دی تھی، اس کی وجہ سے مجھ پر تمہارا عذاب پیش کیا گیا ہے، جو اس درخت سے قریب ہے۔ اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد قریب والا ایک درخت تھا، اس وقت اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کیں: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْز’‘ حَکِیْم’‘۔ لَوْ لَا کِتٰب’‘ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} نبی کے ہاتھ قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ زمین میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔ (سورۂ انفال:۶۷) پھر ان کے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا، جب اگلے سال غزوۂ احد ہوا تو بدر والے دن فدیہ لینے کی سزا دی گئی اور ستر صحابہ شہید ہو گئے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بھاگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دانت شہید کر دئے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر خود کو توڑ دیا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر خون بہنے لگا، پس اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: {اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃ’‘ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔} (کیا بات ہے کہ جب احد کے دن)تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تم یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۶۵) یعنی فدیہ لینے کی وجہ سے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8614

۔ (۸۶۱۴)۔ عَنْ یَزِیدَ قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَی الْأَنْفَالِ، وَہِیَ مِنَ الْمَثَانِی وَإِلٰی بَرَائَ ۃٌ، وَہِیَ مِنْ الْمِئِینَ فَقَرَنْتُمْ بَیْنَہُمَا وَلَمْ تَکْتُبُوْا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: بَیْنَہُمَا سَطْرًا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ وَوَضَعْتُمُوہَا فِی السَّبْعِ الطِّوَالِ، مَا حَمَلَکُمْ عَلَیذَلِکَ؟ قَالَ عُثْمَانُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ مِمَّا یَأْتِی عَلَیْہِ الزَّمَانُ، یُنْزَلُ عَلَیْہِ مِنْ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ، وَکَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ الشَّیْئُ،یَدْعُو بَعْضَ مَنْ یَکْتُبُ عِنْدَہُ یَقُولُ: ((ضَعُوْا ہٰذَا فِی السُّورَۃِ الَّتِییُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا۔))، وَیُنْزَلُ عَلَیْہِ الْآیَاتُ فَیَقُولُ: ((ضَعُوْا ہٰذِہِ الْآیَاتِ فِی السُّورَۃِ الَّتِییُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا۔))، وَیُنْزَلُ عَلَیْہِ الْآیَۃُ فَیَقُولُ: ((ضَعُوْا ہٰذِہِ الْآیَۃَ فِی السُّورَۃِ الَّتِییُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا۔)) وَکَانَتْ الْأَ نْفَالُ مِنْ أَ وَائِلِ مَا أُنْزِلَ بِالْمَدِینَۃِ وَبَرَائَ ۃٌ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ، فَکَانَتْ قِصَّتُہَا شَبِیہًا بِقِصَّتِہَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یُبَیِّنْ لَنَا أَ نَّہَا مِنْہَا، وَظَنَنْتُ أَنَّہَا مِنْہَا، فَمِنْ ثَمَّ قَرَنْتُ بَیْنَہُمَا وَلَمْ أَکْتُبْ بَیْنَہُمَا سَطْرًا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: وَوَضَعْتُہَا فِی السَّبْعِ الطِّوَالِ۔ (مسند احمد: ۳۹۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم اس پرکیوں آمادہ ہوئے کہ سورۂ انفال جو کہ مَثَانِی سورتوں میں سے ہے اور سورۂ توبہ، جو کہ مِئِیْن سورتوں میں سے ہے، تم نے ان دونوں کو آپس میں ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر بھی نہیں لکھی اور تم نے اس کو سات لمبی سورتوں میں شامل کر دیا، کیا وجہ ہے؟سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بسا اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ کافی عرصے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہی نہ ہوتی اور کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ کئی سورتوں نازل ہو جاتیں، بہرحال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول ہوتا تو کاتب کو بلاتے اور اس سے فرماتے: یہ آیات اس سورت میں لکھو،جس میں ایسے ایسے امور کا ذکر موجود ہے، اگر پھر کوئی آیت اترتی تو پھر فرماتے: یہ آیت اس سورت میں لکھ دو، جس میں ایسا ایسا ذکر کیا گیا ہے۔ اب سورۂ انفال وہ سورت ہے، جو مدینہ میں شروع شروع میں نازل ہوئی اور سورۂ توبہ قرآن مجید کی آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے،جبکہ ان کا واقعہ آپس میں ملتا جلتا ہے، اور اُدھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے سامنے (ان دو سورتوں کے) بارے میں وضاحت نہیں فرمائی تھی، اس لیے میں نے خیال کیا کہ سورۂ انفال، سورۂ توبہ کا حصہ ہے، اس لئے میں نے دونوں کو آپس میں ملا دیا اور درمیان میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر نہیں لکھی اور اس کو سات لمبی سورتوں میں رکھ دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8615

۔ (۸۶۱۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ عَنْ أَ بِی بَکْرٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ بِبَرَائَ ۃٍ لِأَ ہْلِ مَکَّۃَ لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ وَلَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُدَّۃٌ فَأَ جَلُہُ إِلَی مُدَّتِہِ، وَاللّٰہُ بَرِیئٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُہُ، قَالَ: فَسَارَ بِہَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: ((اِلْحَقْہُ، فَرُدَّ عَلَیَّ أَ بَا بَکْرٍ وَبَلِّغْہَا أَ نْتَ۔)) قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ بُو بَکْرٍ بَکٰی قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ حَدَثَ فِیَّ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((مَا حَدَثَ فِیْکَ اِلَّا خَیْرٌ، اُمِرْتُ اَنْ لَا یُبَلِّغَہٗ اِلَّا اَنَا اَوْ رَجُلٌ مِنِّیْ۔)) (مسند احمد: ۴)
۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں امیر حج بنا کر بھیجا اوراہل مکہ سے اس براء ت کا اعلان کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا، کوئی آدمی برہنہ ہو کر طواف نہیں کرے گا، جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا، جو مسلمان ہو گا، جس شخص کا پیغمبراسلام ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کسی خاص مدت تک کوئی معاہدہ پہلے سے ہوا ہو، وہ اپنی مدت کے اختتام تک برقرار رہے گا اور یہ کہ اللہ اور اس کا پیغمبر مشرکین سے بری ہیں۔ جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس پیغام کو لے کر روانہ ہوگئے اور تین دن کی مسافت طے کرچکے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: ابوبکر کو پیچھے سے جا ملو، انہیں میری طرف واپس کر دو اور یہ اعلان تم نے کرنا ہے۔ سو انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول!کیا میرے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے کہ (مجھے واپس بلا لیا)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے بارے صرف خیر ہی پیش آسکتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ پیغام خود مجھے پہنچانا چاہیےیا میرے خاندان کے کسی آدمی کو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8616

۔ (۸۶۱۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آیَاتٍ مِنْ بَرَائَ ۃٍ عَلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، دَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ بَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَبَعَثَہُ بِہَا لِیَقْرَأَ ہَا عَلَی أَ ہْلِ مَکَّۃَ، ثُمَّ دَعَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی: ((أَ دْرِکْ أَ بَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَیْثُمَا لَحِقْتَہُ فَخُذِ الْکِتَابَ مِنْہُ، فَاذْہَبْ بِہِ إِلٰی أَ ہْلِ مَکَّۃَ فَاقْرَأْہُ عَلَیْہِمْ۔)) فَلَحِقْتُہُ بِالْجُحْفَۃِ فَأَخَذْتُ الْکِتَابَ مِنْہُ، وَرَجَعَ أَ بُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَزَلَ فِیَّشَیْئٌ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّ جِبْرِیلَ جَائَ نِیْ فَقَالَ: لَنْ یُؤَدِّیَ عَنْکَ إِلَّا أَ نْتَ أَ وْ رَجُلٌ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۷)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سورۂ براء ت کی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا کہ وہ مکہ والوں کے سامنے ان کی تلاوت کریں، پھر مجھے (علی کو) کو بلایا اور فرمایا: ابو بکر کو جا ملو، جہاں بھی تم ان کو ملو، ان سے یہ پیغام لے لینا اور پھر اہل مکہ کے سامنے جا کر پڑھ دینا۔ پس میں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حجفہ میں جا ملا اور ان سے خط لے لیا۔ پھر جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹے تو پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، کوئی حکم نہیں ہے، بس جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ پیغامیا تو آپ خود پہنچائیںیا آپ کے خاندان کا کوئی آدمی پہنچائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8617

۔ (۸۶۱۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ بَعَثَہٗبِبَرَائَۃٍ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَسْتُ بِاللَّسِنِ وَلَا بِالْخَطِیبِ، قَالَ: ((مَا بُدٌّ أَ نْ أَ ذْہَبَ بِہَا أَ نَا أَ وْ تَذْہَبَ بِہَا أَ نْتَ۔)) قَالَ: فَإِنْ کَانَ وَلَا بُدَّ فَسَأَ ذْہَبُ أَ نَا، قَالَ: ((فَانْطَلِقْ فَإِنَّ اللّٰہَ یُثَبِّتُ لِسَانَکَ وَیَہْدِی قَلْبَکَ۔))، قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی فَمِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو سورۂ براء ت کا اعلان دے کر بھیجا تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نہ زیادہ زبان دان ہوں اور نہ ہی خطیب ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بغیر کوئی چارئہ کار نہیں ہے کہ میں خود جاؤں، یا پھر تم جاؤ۔ انھوں نے کہا: اگر کوئی چارۂ کار نہیں ہے تو پھر میں ہی چلا جاتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم چلے جائو،اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثابت قدم رکھے گا اور تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے منہ پر رکھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8618

۔ (۸۶۱۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أُثَیْعٍ رَجُلٍ مِنْ ہَمْدَانَ، سَأَ لْنَا عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِأَ یِّ شَیْئٍ بُعِثْتَ یَعْنِییَوْمَ بَعَثَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ أَ بِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی الْحَجَّۃِ؟ قَالَ: بُعِثْتُ بِأَ رْبَعٍ: لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَۃٌ، وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ، وَمَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَہْدٌ فَعَہْدُہُ إِلٰی مُدَّتِہِ، وَلَا یَحُجُّ الْمُشْرِکُونَ وَالْمُسْلِمُونَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا۔(مسند احمد: ۵۹۴)
۔ ہمدان کا باشندہ زید بن اثیع سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ ان کو کس چیز کے ساتھ بھیجا گیا تھا، جس دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حج کے لیے بھیجا تھا؟ انھوں نے کہا: مجھے چار چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا تھا:(۱) جنت میں صرف مومن آدمی داخل ہوگا، (۲) کوئی برہنہ آدمی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، (۳) جس کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی معاہدہ ہے،تو وہ عہد اپنی مدت تک قائم رہے گا اور (۴) اس سال کے بعد مشرک اور مسلمان ایک ساتھ حج نہیں کریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8619

۔ (۸۶۱۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: کُنْتُ إِلٰی جَانِبِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَجُلٌ: مَا أُبَالِیْ أَ نْ لَا أَ عْمَلَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَ نْ أَ سْقِیَ الْحَاجَّ، وَقَالَ آخَرُ: مَا أُبَالِیْ أَ نْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَ نْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَقَالَ آخَرُ: الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَ فْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ، فَزَجَرَہُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فَقَالَ: لَا تَرْفَعُوْا أَ صْوَاتَکُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، وَلٰکِنْ إِذَا صَلَّیْتُ الْجُمُعَۃَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَیْتُہُ فِیمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ: {أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِکُلِّہَا [التوبۃ: ۱۹]۔ (مسند احمد: ۱۸۵۵۷)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی ایک جانب بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے کہا، اسلام کے بعد مجھے کوئی عمل کرنے کی پرواہ نہیں ہے، الا یہ کہ حاجیوں کو پانی پلائوں گا۔ دوسرے نے کہا: مجھے اسلام کے بعد مسجد حرام آباد کرنے کے علاوہ کوئی عمل کرنے کی پرواہ نہیں ہے، ایک اور بولا اور اس نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو، اس سے افضل اور بہتر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: منبر رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو، یہ جمعہ کا دن تھا، جب میں نے جمعہ ادا کر لیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور ان لوگوں کے اختلاف کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {اَجَعَلْتُمْ سِقَا یَـۃَ الْحَاجِّ وَ عِـمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ ِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔} (سورۂ توبہ: ۱۹) کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنا دیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8620

۔ (۸۶۲۰)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ قَالَ بَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ جَائَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ ذِی الْخُوَیْصِرَۃِ التَّمِیمِیُّ فَقَالَ: ((اعْدِلْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((وَیْلَکَ وَمَنْ یَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟)) قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِی أَ ضْرِبْ عُنُقَہُ، قَالَ: ((دَعْہُ فَإِنَّ لَہُ أَ صْحَابًا یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَہُ مَعَ صَلَاتِہِ وَصِیَامَہُ مَعَ صِیَامِہِ،یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ،یُنْظَرُ فِی قُذَذِہِ فَلَا یُوجَدُ فِیہِ شَیْئٌ، ثُمَّ یُنْظَرُ فِی نَصْلِہِ، فَلَا یُوجَدُ فِیہِ شَیْئٌ ثُمَّ یُنْظَرُ فِی رِصَافِہِ، فَلَا یُوجَدُ فِیہِ شَیْئٌ ثُمَّ یُنْظَرُ فِی نَضِیِّہِ فَلَا یُوجَدُفِیہِ شَیْئٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آیَتُہُمْ رَجُلٌ إِحْدٰییَدَیْہِ أَ وْ قَالَ ثَدْیَیْہِ مِثْلُ ثَدْیِ الْمَرْأَ ۃِ أَ وْ قَالَ مِثْلُ الْبَضْعَۃِ تَدَرْدَرُ یَخْرُجُونَ عَلٰی حِینِ فُرْقَۃٍ مِنْ النَّاسِ۔)) قَالَ أَ بُو سَعِیدٍ أَ شْہَدُ سَمِعْتُ مِنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَ شْہَدُ أَ نَّ عَلِیًّا قَتَلَہُمْ وَأَ نَا مَعَہُ جِیئَ بِالرَّجُلِ عَلَی النَّعْتِ الَّذِی نَعَتَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فَنَزَلَتْ فِیہِ: {وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ۔} (مسند احمد: ۱۱۵۵۸)
۔ سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی خویصرہ تمیمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ذرا انصاف کرنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے،اگر میں بھی عدل نہ کروں تو اور کون عدل کرے گا؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑادیتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، اس کے ایسے ساتھی ہوں گے کہ تم میں سے ایک شخص ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو حقیر سمجھے گا اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا، یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اس کے پروں میں دیکھا جائے تو معلوم کچھ نہیں ہوتا، پھر اس کے پھل میں دیکھا جائے تو معلوم کچھ نہیں ہوتا، پھر اس کی تانت اور اس کے بعد پیکان اور پر کے درمیان کے حصے کو دیکھتا ہے، تو کچھ معلوم نہیں ہوتا، حالانکہ وہ خون اور گوبر سے ہو کر گزرا ہوتا ہے، ان کی نشانییہ ہوگی کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہوگا جس کا ایک ہاتھ یا ایک چھاتی عورت کی ایک چھاتی کی طرح ہوگی،یا فرمایا کہ گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگی اور ہلتی ہوگی، لوگوں کے تفرقہ کے وقت نکلیں گے۔ ابوسعید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی نے ان لوگوں کو قتل کیا، میں ان کے ساتھ تھا، اس وقت ان میں سے ایک شخص کو لایا گیا، وہ اسیصورت کے مطابق نکلا جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کی تھی، ان ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْہَآ اِذَا ہُمْ یَسْخَطُوْنَ۔} (توبہ: ۵۸) اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8621

۔ (۸۶۲۱)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: کَانَ الْمُؤَلَّفَۃُ قُلُوبُہُمْ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ رْبَعَۃً، عَلْقَمَۃَ بْنَ عُلَاثَۃَ الْجَعْفَرِیَّ وَالْأَ قْرَعَ بْنَ حَابِسٍ الْحَنْظَلِیَّ وَزَیْدَ الْخَیْلِ الطَّائِیَّ وَعُیَیْنَۃَ بْنَ بَدْرٍ الْفَزَارِیَّ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلِیٌّ بِذَہَبَۃٍ مِنْ الْیَمَنِ بِتُرْبَتِہَا فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَہُمْ۔ (احمد: ۱۱۲۸۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں جن لوگوں کو ان کی تالیف ِ قلبی کی خاطر مال دیا گیا تھا، وہ چار افراد تھے: علقمہ بن علاثہ جعفری، اقرع بن حالبس حنظلی، زید خیل طائی اور عیینہ بن بدر فزاری، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے کچھ سونا لے کر آئے تھے جو ابھی مٹی میں تھا،(یعنی صاف نہیں کیا گیا تھا) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ ان میں تقسیم کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8622

۔ (۸۶۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ دُعِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلصَّلَاۃِ عَلَیْہِ فَقَامَ إِلَیْہِ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَیْہِیُرِیدُالصَّلَاۃَ تَحَوَّلْتُ حَتّٰی قُمْتُ فِی صَدْرِہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَعَلٰی عَدُوِّ اللّٰہِ؟ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُبَیٍّ الْقَائِلِ یَوْمَ کَذَا کَذَا وَکَذَا؟ یُعَدِّدُ أَ یَّامَہُ، قَالَ: وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَبَسَّمُ حَتّٰی إِذَا أَ کْثَرْتُ عَلَیْہِ، قَالَ: ((أَ خِّرْ عَنِّییَا عُمَرُ! إِنِّی خُیِّرْتُ فَاخْتَرْتُ وَقَدْ قِیلَ: {اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَ وْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِینَ مَرَّۃً فَلَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ} [التوبۃ: ۸۰] لَوْ أَ عْلَمُ أَ نِّی إِنْ زِدْتُ عَلَی السَّبْعِینَ غُفِرَ لَہُ لَزِدْتُ۔)) قَالَ: ثُمَّ صَلّٰی عَلَیْہِ وَمَشَی مَعَہُ فَقَامَ عَلٰی قَبْرِہِ حَتّٰی فُرِغَ مِنْہُ، قَالَ: فَعَجَبٌ لِی وَجَرَائَ تِی عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَاللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَ عْلَمُ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا کَانَ إِلَّا یَسِیرًا حَتّٰی نَزَلَتْ ہَاتَانِ الْآیَتَانِ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَ بَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُوْا وَہُمْ فَاسِقُونَ} فَمَا صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَہُ عَلٰی مُنَافِقٍ وَلَا قَامَ عَلٰی قَبْرِہِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۹۵)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی منافق مرا تو اس کی نماز جنازہ کے لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور جب اس کی نماز کا ارادہ کیا تو میں پلٹ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ گیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے دشمن پر؟ کیا آپ عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ اس نے فلاں فلاں دن یہیہ کہا تھا، ساتھ ہی میں اس کے ہر دن کو شمار کرنے لگا، جس میں اس نے اسلام کے خلاف سازش کی تھی، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا رہے تھے، جب میں نے زیادہ اصرار کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: اے عمر! پیچھے ہٹ جائو، مجھے نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے پڑھنے کو اختیار کیا ہے، مجھ سے تو یہ کہا گیا ہے کہ {اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَ وْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِینَ مَرَّۃً فَلَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ}… (آپ ان کے لئے بخشش طلب کریںیا نہ کریں، اگر آپ ان کے لئے ستر (۷۰) بار بخشش طلب کریں تو تب بھی اللہ تعالیٰ ہر گز ان کو معاف نہ کرے گا۔) اور اگر مجھے علم ہو جائے کہ اگر میں ستر بار سے زیادہ استغفار کروں تو اسے بخش دیا جائے گا تو میں اتنی مرتبہ بھی اس کے لئے استغفار کر دوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور اس کی قبر تک بھی چل کر تشریف لے گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کی گئی جرأت پر بڑا تعجب ہوا، بہرحال اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم! تھوڑ ا ہی وقت گزرا تھا کہ یہ دو آیتیں نازل ہو گئیں: {وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَ حَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَ بَدًا وَلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُوْا وَہُمْ فَاسِقُونَ} … اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8623

۔ (۸۶۲۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ جَائَ ابْنُہُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ عْطِنِی قَمِیصَکَ حَتّٰی أُکَفِّنَہُ فِیہِ وَصَلِّ عَلَیْہِ وَاسْتَغْفِرْ لَہُ، فَأَ عْطَاہُ قَمِیصَہُ وَقَالَ: ((آذِنِّی بِہِ۔)) فَلَمَّا ذَہَبَ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ، قَالَ یَعْنِی عُمَرَ: قَدْ نَہَاکَ اللّٰہُ أَ نْ تُصَلِّیَ عَلَی الْمُنَافِقِینَ، فَقَالَ: ((أَ نَا بَیْنَ خِیَرَتَیْنِ {اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَ وْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ} [التوبۃ: ۸۰])) فَصَلّٰی عَلَیْہِ فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {وَلَا تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَ بَدًا} [التوبۃ: ۸۴] قَالَ: فَتُرِکَتْ الصَّلَاۃُ عَلَیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۴۶۸۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی منافق مرا تو اس کا بیٹا سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو مسلمان تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قمیص عنایت فرمائیں تا کہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں اور آپ اس کی نماز جنازہ بھیپڑھائیں اوراس کے لئے استغفار کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے قمیص عطا کر دی اور فرمایا: مجھے وقت پر اطلاع دینا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لئے آگے ہوئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ کو اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے دواختیار ملے ہیں، اللہ تعالی نے فرمایا: آپ ان کے لیے استغفار کریںیا نہ کریں۔ سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی، اور پھر اللہ تعالی نے یہ حکم نازل کر دیا: {وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَ حَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَ بَدًا} … اور آپ ان میں سے کسی کیکبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8624

۔ (۸۶۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَکَانَ أَحَدَ الرَّہْطِ الَّذِینَ نَزَلَتْ فِیہِمْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَلَا عَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا أَ تَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ} [التوبۃ: ۹۲] إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ قَالَ: إِنِّی لَآخِذٌ بِغُصْنٍ مِنْ أَ غْصَانِ الشَّجَرَۃِ، أُظِلُّ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُمْ یُبَایِعُونَہُ، فَقَالُوْا: نُبَایِعُکَ عَلَی الْمَوْتِ، قَالَ: ((لَا وَلٰکِنْ لَا تَفِرُّوْا۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۲۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یہ صحابی اس گروہ میں شامل تھا، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے{ وَّلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ۔} … اور نہ ان لوگوں پر کہ جب بھی وہ تیرے پاس آئے ہیں، تاکہ تو انھیں سواری دے تو تو نے کہا میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمھیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ رہی تھیں، اس غم سے کہ وہ نہیں پاتے جو خرچ کریں۔ تو سیدنا عبداللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے درخت کی ٹہنیاں پکڑ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سایہ کیا ہوا تھا، جبکہ لوگ بیعت کر رہے تھے اور انھوں نے کہا: ہم موت پر آپ کی بیعت کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس چیز پر بیعت کرو کہ فرار اختیار نہ کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8625

۔ (۸۶۲۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا یَسْتَغْفِرُ لِأَ بَوَیْہِ وَہُمَا مُشْرِکَانِ، فَقُلْتُ: تَسْتَغْفِرُ لِأَ بَوَیْکَ وَہُمَا مُشْرِکَانِ؟ فَقَالَ: أَ لَیْسَ قَدْ اسْتَغْفَرَ إِبْرَاہِیمُ لِأَ بِیہِ وَہُوَ مُشْرِکٌ، قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ: {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَ نْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ} إِلَی آخِرِ الْآیَتَیْنِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ {وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاہِیمَ لِأَ بِیہِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَۃٍوَعَدَہَا إِیَّاہُ} [التوبۃ: ۱۱۴]۔ (مسند احمد: ۱۰۸۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیںـ: میں نے ایک آدمی کو سنا،وہ اپنے مشر ک ماں باپ کے لئے بخشش طلب کر رہا تھا، میں نے کہا: تم اپنے مشرک والدین کے لئے استغفار کر رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ کے لئے استغفار نہیں کیا تھا؟ جب میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں: {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۔ وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَـبَیَّنَ لَہٓ اَنَّہ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ۔ } … اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔ اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا، پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بے شک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا۔ بے شک ابراہیمیقینا بہت نرم دل، بڑا بردبار تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8626

۔ (۸۶۲۶)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَ بِیہِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَ بَا طَالِبٍ الْوَفَاۃُ، دَخَلَ عَلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہُ أَ بُو جَہْلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ، فَقَالَ: ((أَ یْ عَمِّ! قُلْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کَلِمَۃً أُحَاجُّ بِہَا لَکَ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) فَقَالَ أَ بُو جَہْلٍ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ: یَا أَ بَا طَالِبٍ! أَ تَرْغَبُ عَنْ مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ قَالَ: فَلَمْ یَزَالَایُکَلِّمَانِہِ حَتّٰی قَالَ آخِرَ شَیْئٍ کَلَّمَہُمْ بِہِ: عَلٰی مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَأَ سْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْہَ عَنْکَ۔)) فَنَزَلَتْ: {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَ نْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ، وَلَوْ کَانُوْا أُولِی قُرْبٰی، مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ أَ نَّہُمْ أَ صْحَابُ الْجَحِیمِ} [التوبۃ: ۱۱۳] قَالَ: فَنَزَلَتْ فِیہِ {إِنَّکَ لَا تَہْدِی مَنْ أَ حْبَبْتَ} [القصص: ۵۶]۔ (مسند احمد: ۲۴۰۷۴)
۔ مسیب سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت ہوا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس داخل ہوئے، جبکہ اس کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے چچا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، یہ ایسا کلمہ ہے کہ میں اس کے ذریعہ آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بحث مباحثہ کروں گا۔ ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا: اے ابو طالب! کیا عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کر جاؤ گے، وہ یہی بات دوہراتے رہے اور ورغلاتے رہے حتیٰ کہ ابو طالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر (مر رہا) ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے استغفار کرتا رہوں گا تا وقتیکہ مجھے منع کر دیا جائے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۔} … اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ۔} … بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو پسند کرے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8627

۔ (۸۶۲۷)۔ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ: أَ نَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، وَکَانَ قَائِدَ کَعْبٍ مِنْ بَنِیہِ حِینَ عَمِیَ، قَالَ: سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَقَالَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ: لَمْ أَ تَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃٍ غَیْرِہَا قَطُّ إِلَّا فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، غَیْرَ أَ نِّی کُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِی غَزْوَۃِبَدْرٍ وَلَمْ یُعَاتِبْ أَ حَدًا تَخَلَّفَ عَنْہَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیدُ عِیرَ قُرَیْشٍ حَتّٰی جَمَعَ اللّٰہُ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ عَدُوِّہِمْ عَلٰی غَیْرِ مِیعَادٍ، وَلَقَدْ شَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ حِینَ تَوَافَقْنَا عَلَی الْإِسْلَامِ، مَا أُحِبُّ أَ نَّ لِی بِہَا مَشْہَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ کَانَتْ بَدْرٌ أَ ذْکَرَ فِی النَّاسِ مِنْہَا وَأَ شْہَرَ، وَکَانَ مِنْ خَبَرِی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ أَ نِّی لَمْ أَ کُنْ قَطُّ أَقْوٰی وَلَا أَ یْسَرَ مِنِّی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْہُ فِی تِلْکَ الْغَزَاۃِ، وَاللّٰہِ مَا جَمَعْتُ قَبْلَہَا رَاحِلَتَیْنِ قَطُّ حَتّٰی جَمَعْتُہَا فِی تِلْکَ الْغَزَاۃِ، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَلَّمَا یُرِیدُ غَزَاۃًیَغْزُوہَا إِلَّا وَرّٰی بِغَیْرِہَا حَتّٰی کَانَتْ تِلْکَ الْغَزَاۃُ فَغَزَاہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَرٍّ شَدِیدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِیدًا وَمَفَازًا، وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا کَثِیرًا، فَجَلَا لِلْمُسْلِمِینَ أَمْرَہُ لِیَتَأَ ہَّبُوا أُہْبَۃَ عَدُوِّہِمْ، فَأَ خْبَرَہُمْ بِوَجْہِہِ الَّذِییُرِیدُ، وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَثِیرٌ، لَا یَجْمَعُہُمْ کِتَابُ حَافِظٍ یُرِیدُ الدِّیوَانَ، فَقَالَ کَعْبٌ: فَقَلَّ رَجُلٌ یُرِیدُیَتَغَیَّبُ إِلَّا ظَنَّ أَ نَّ ذٰلِکَ سَیُخْفٰی لَہُ مَا لَمْ یَنْزِلْ فِیہِ وَحْیٌ مِنْ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَغَزَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِلْکَ الْغَزْوَۃَ حِینَ طَابَتْ الثِّمَارُ وَالظِّلُّ، وَأَ نَا إِلَیْہَا أَ صْعَرُ، فَتَجَہَّزَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَہُ، وَطَفِقْتُ أَ غْدُو لِکَیْ أَتَجَہَّزَ مَعَہُ فَأَ رْجِعَ وَلَمْ أَ قْضِ شَیْئًا، فَأَقُولُ فِی نَفْسِی أَ نَا قَادِرٌ عَلٰی ذٰلِکَ، إِذَا أَرَدْتُ فَلَمْ یَزَلْ کَذٰلِکَ یَتَمَادٰی بِی حَتّٰی شَمَّرَ بِالنَّاسِ الْجِدُّ، فَأَ صْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَادِیًا وَالْمُسْلِمُونَ مَعَہُ، وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَہَازِی شَیْئًا، فَقُلْتُ: الْجَہَازُ بَعْدَ یَوْمٍ أَ وْ یَوْمَیْنِ، ثُمَّ أَ لْحَقُہُمْ، فَغَدَوْتُ بَعْدَ مَا فَصَلُوْا لِأَ تَجَہَّزَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا مِنْ جَہَازِی، ثُمَّ غَدَوْتُ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَ قْضِ شَیْئًا، فَلَمْ یَزَلْ ذٰلِکَ یَتَمَادٰی بِی حَتّٰی أَ سْرَعُوْا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ، فَہَمَمْتُ أَ نْ أَ رْتَحِلَ فَأُدْرِکَہُمْ وَلَیْتَ أَ نِّی فَعَلْتُ، ثُمَّ لَمْ یُقَدَّرْ ذَلِکَ لِی، فَطَفِقْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِی النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطُفْتُ فِیہِمْیَحْزُنُنِی أَ نْ لَا أَ رٰی إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَیْہِ فِی النِّفَاقِ أَ وْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَہُ اللّٰہُ وَلَمْ یَذْکُرْنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی بَلَغَ تَبُوکَ، فَقَالَ وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْقَوْمِ بِتَبُوکَ: ((مَا فَعَلَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ؟۔)) قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ: حَبَسَہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بُرْدَاہُ وَالنَّظَرُ فِی عِطْفَیْہِ، فَقَالَ لَہُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: بِئْسَمَا قُلْتَ، وَاللّٰہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا عَلَیْہِ إِلَّا خَیْرًا، فَسَکَتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍٔٔ: فَلَمَّا بَلَغَنِی أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ تَوَجَّہَ قَافِلًا مِنْ تَبُوکَ حَضَرَنِی بَثِّی فَطَفِقْتُ أَ تَفَکَّرُ الْکَذِبَ، وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِہِ غَدًا أَسْتَعِینُ عَلٰی ذٰلِکَ کُلَّ ذِی رَأْیٍ مِنْ أَہْلِی، فَلَمَّا قِیلَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّی الْبَاطِلُ وَعَرَفْتُ أَ نِّی لَنْ أَ نْجُوَ مِنْہُ بِشَیْئٍ أَبَدًا فَأَ جْمَعْتُ صِدْقَہُ، وَصَبَّحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَکَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَکَعَ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذٰلِکَ جَائَ ہُ الْمُتَخَلِّفُونَ فَطَفِقُوْا یَعْتَذِرُوْنَ إِلَیْہِ وَیَحْلِفُونَ لَہُ وَکَانُوا بِضْعَۃً وَثَمَانِینَ رَجُلًا، فَقَبِلَ مِنْہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَانِیَتَہُمْ، وَیَسْتَغْفِرُ لَہُمْ، وَیَکِلُ سَرَائِرَہُمْ إِلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حَتّٰی جِئْتُ، فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ لِی: ((تَعَالَ۔)) فَجِئْتُ أَ مْشِی حَتّٰی جَلَسْتُ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ لِی: ((مَا خَلَّفَکَ؟ أَ لَمْ تَکُنْ قَدْ اسْتَمَرَّ ظَہْرُکَ؟۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَیْرِکَ مِنْ أَ ہْلِ الدُّنْیَا لَرَأَیْتُ أَ نِّی أَ خْرُجُ مِنْ سَخْطَتِہِ بِعُذْرٍ، لَقَدْ أُعْطِیتُ جَدَلًا وَلٰکِنَّہُ وَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُکَ الْیَوْمَ حَدِیثَ کَذِبٍ تَرْضٰی عَنِّی بِہِ لَیُوشِکَنَّ اللّٰہُ تَعَالٰییُسْخِطُکَ عَلَیَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُکَ الْیَوْمَ بِصِدْقٍ تَجِدُ عَلَیَّ فِیہِ إِنِّی لَأَ رْجُو قُرَّۃَ عَیْنِی عَفْوًا مِنَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَاللّٰہِ مَا کَانَ لِی عُذْرٌ، وَاللّٰہِ مَا کُنْتُ قَطُّ أَ فْرَغَ وَلَا أَ یْسَرَ مِنِّی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْکَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ مَّا ہٰذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّییَقْضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی فِیکَ۔)) فَقُمْتُ وَبَادَرَتْ رِجَالٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ فَاتَّبَعُونِی فَقَالُوْا لِی: وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَاکَ کُنْتَ أَ ذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ ہٰذَا، وَلَقَدْ عَجَزْتَ أَ نْ لَا تَکُونَ اعْتَذَرْتَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا اعْتَذَرَ بِہِ الْمُتَخَلِّفُونَ، لَقَدْ کَانَ کَافِیَکَ مِنْ ذَنْبِکَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَکَ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا زَالُوْا یُؤَنِّبُونِی حَتّٰی أَ رَدْتُ أَ نْ أَ رْجِعَ فَأُکَذِّبَ نَفْسِی، قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ لَہُمْ: ہَلْ لَقِیَ ہٰذَا مَعِیَ أَحَدٌ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، لَقِیَہُ مَعَکَ رَجُلَانِ قَالَا مَا قُلْتَ، فَقِیلَ لَہُمَا مِثْلُ مَا قِیلَ لَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُمْ: مَنْ ہُمَا؟ قَالُوْا: مُرَارَۃُ بْنُ الرَّبِیعِ الْعَامِرِیُّ وَہِلَالُ بْنُ أُمَیَّۃَ الْوَاقِفِیُّ، قَالَ: فَذَکَرُوْا لِیرَجُلَیْنِ صَالِحَیْنِ قَدْ شَہِدَا بَدْرًا لِی فِیہِمَا أُسْوَۃٌ، قَالَ: فَمَضَیْتُ حِینَ ذَکَرُوْہُمَا لِی، قَالَ: وَنَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُسْلِمِینَ عَنْ کَلَامِنَا أَ یُّہَا الثَّلَاثَۃُ مِنْ بَیْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْہُ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ، قَالَ: وَتَغَیَّرُوا لَنَا حَتّٰی تَنَکَّرَتْ لِی مِنْ نَفْسِی الْأَرْضُ فَمَا ہِیَ بِالْأَرْضِ الَّتِی کُنْتُ أَعْرِفُ، فَلَبِثْنَا عَلٰی ذٰلِکَ خَمْسِینَ لَیْلَۃً، فَأَمَّا صَاحِبَایَ فَاسْتَکَانَا وَقَعَدَا فِی بُیُوتِہِمَایَبْکِیَانِ، وَأَ مَّا أَ نَا فَکُنْتُ أَ شَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَہُمْ فَکُنْتُ أَ شْہَدُ الصَّلَاۃَ مَعَ الْمُسْلِمِینَ وَأَ طُوفُ بِالْأَ سْوَاقِ وَلَا یُکَلِّمُنِی أَ حَدٌ، وَآتِی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ فِی مَجْلِسِہِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، فَأُسَلِّمُ عَلَیْہِ فَأَقُولُ فِی نَفْسِی حَرَّکَ شَفَتَیْہِ بِرَدِّ السَّلَامِ أَمْ لَا؟ ثُمَّ أُصَلِّی قَرِیبًا مِنْہُ وَأُسَارِقُہُ النَّظَرَ، فَإِذَا أَ قْبَلْتُ عَلٰی صَلَاتِی نَظَرَ إِلَیَّ، فَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَہُ أَ عْرَضَ حَتّٰی إِذَا طَالَ عَلَیَّ ذٰلِکَ مِنْ ہَجْرِ الْمُسْلِمِینَ، مَشَیْتُ حَتّٰی تَسَوَّرْتُ حَائِطَ أَ بِی قَتَادَۃَ، وَہُوَ ابْنُ عَمِّی، وَأَ حَبُّ النَّاسِ إِلَیَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَوَاللّٰہِ مَا رَدَّ عَلَیَّ السَّلَامَ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَ بَا قَتَادَۃَ! أَ نْشُدُکَ اللّٰہَ ہَلْ تَعْلَمُ أَ نِّی أُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ؟ قَالَ: فَسَکَتَ، قَالَ: فَعُدْتُ فَنَشَدْتُہُ فَسَکَتَ فَعُدْتُ فَنَشَدْتُہُ، فَقَالَ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَ عْلَمُ، فَفَاضَتْ عَیْنَایَ وَتَوَلَّیْتُ حَتّٰی تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ، فَبَیْنَمَا أَنَا أَمْشِی بِسُوقِ الْمَدِینَۃِ إِذَا نَبَطِیٌّ مِنْ أَ نْبَاطِ أَہْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِطَعَامٍ یَبِیعُہُ بِالْمَدِینَۃِیَقُولُ: مَنْ یَدُلُّنِی عَلٰی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ؟ قَالَ: فَطَفِقَ النَّاسُ یُشِیرُونَ لَہُ إِلَیَّ حَتّٰی جَائَ، فَدَفَعَ إِلَیَّ کِتَابًا مِنْ مَلِکِ غَسَّانَ، وَکُنْتُ کَاتِبًا فَإِذَا فِیہِ: أَ مَّا بَعْدُ! فَقَدْ بَلَغَنَا أَ نَّ صَاحِبَکَ قَدْ جَفَاکَ، وَلَمْ یَجْعَلْکَ اللّٰہُ بِدَارِ ہَوَانٍ وَلَا مَضْیَعَۃٍ، فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: حِینَ قَرَأْتُہَا وَہٰذَا أَیْضًا مِنْ الْبَلَائِ، قَالَ: فَتَیَمَّمْتُ بِہَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُہُ بِہَا حَتّٰی إِذَا مَضَتْ أَ رْبَعُونَ لَیْلَۃً مِنَ الْخَمْسِینَ إِذَا بِرَسُولِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِینِی فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُکَ أَ نْ تَعْتَزِلَ امْرَأَ تَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أُطَلِّقُہَا أَ مْ مَاذَا أَ فْعَلُ؟ قَالَ: بَلْ اعْتَزِلْہَا فَلَا تَقْرَبْہَا، قَالَ: وَأَ رْسَلَ إِلٰی صَاحِبَیَّ بِمِثْلِ ذَلِکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِامْرَأَ تِی: الْحَقِی بِأَ ہْلِکِ فَکُونِی عِنْدَہُمْ حَتّٰییَقْضِیَ اللّٰہُ فِی ہٰذَا الْأَ مْرِ، قَالَ: فَجَاء َتِ امْرَأَ ۃُ ہِلَالِ بْنِ أُمَیَّۃَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ ہِلَالًا شَیْخٌ ضَائِعٌ لَیْسَ لَہُ خَادِمٌ فَہَلْ تَکْرَہُ أَ نْ أَ خْدُمَہُ، قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ لَا یَقْرَبَنَّکِ۔)) قَالَتْ: فَإِنَّہُ وَاللّٰہِ مَا بِہِ حَرَکَۃٌ إِلٰی شَیْئٍ، وَاللّٰہِ، مَا یَزَالُیَبْکِی مِنْ لَدُنْ أَنْ کَانَ مِنْ أَ مْرِکَ مَا کَانَ إِلٰییَوْمِہِ ہٰذَا، قَالَ: فَقَالَ لِی بَعْضُ أَ ہْلِی: لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی امْرَأَ تِکَ، فَقَدْ أَ ذِنَ لِامْرَأَ ۃِ ہِلَالِ بْنِ أُمَیَّۃَ أَ نْ تَخْدُمَہُ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ لَا اَسْتَأْذِنُ فِیْھَا …… صَبَاحَ خَمْسِیْن لَیْلَۃً عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِنَا فَبَیْنَمَا أَ نَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِی ذَکَرَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مِنَّا، قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِی، وَضَاقَتْ عَلَیَّ الْأَ رْضُ بِمَا رَحُبَتْ، سَمِعْتُ صَارِخًا أَوْفٰی عَلٰی جَبَلِ سَلْعٍ یَقُولُ بِأَ عْلٰی صَوْتِہِ: یَا کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ! أَ بْشِرْ، قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا، وَعَرَفْتُ أَ نْ قَدْ جَائَ فَرَجٌ، وَآذَنَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتَوْبَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْنَا، حِینَ صَلّٰی صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَذَہَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُونَنَا، وَذَہَبَ قِبَلَ صَاحِبَیَّیُبَشِّرُونَ وَرَکَضَ إِلَیَّ رَجُلٌ فَرَسًا وَسَعٰی سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ، وَأَ وْفَی الْجَبَلَ، فَکَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنْ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَائَ نِی الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ یُبَشِّرُنِی، نَزَعْتُ لَہُ ثَوْبَیَّ فَکَسَوْتُہُمَا إِیَّاہُ بِبَشَارَتِہِ، وَاللّٰہِ! مَا أَ مْلِکُ غَیْرَہُمَایَوْمَئِذٍ فَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ فَلَبِسْتُہُمَا، فَانْطَلَقْتُ أَ تَأَ مَّمُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَلْقَانِی النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا یُہَنِّئُونِی بِالتَّوْبَۃِیَقُوْلُوْنَ: لِیَہْنِکَ تَوْبَۃُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ، حَتّٰی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ حَوْلَہُ النَّاسُ، فَقَامَ اِلَیَّ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ یُہَرْوِلُ حَتّٰی صَافَحَنِیْ وَہَنَّأَ نِی وَاللّٰہِ مَا قَامَ إِلَیَّ رَجُلٌ مِنْ الْمُہَاجِرِینَ غَیْرُہُ، قَالَ: فَکَانَ کَعْبٌ لَا یَنْسَاہَا لِطَلْحَۃَ، قَالَ کَعْبٌ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَہُوَ یَبْرُقُ وَجْہُہُ مِنْ السُّرُورِ: ((أَ بْشِرْ بِخَیْرِیَوْمٍ مَرَّ عَلَیْکَ مُنْذُ وَلَدَتْکَ أُمُّکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: أَ مِنْ عِنْدِکَ! یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَ مْ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْہُہُ کَأَ نَّہُ قِطْعَۃُ قَمَرٍ حَتّٰییُعْرَفَ ذٰلِکَ مِنْہُ، قَالَ: فَلَمَّا جَلَسْتُ بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَ نْ أَ نْخَلِعَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی وَإِلٰی رَسُولِہِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ مْسِکْ بَعْضَ مَالِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّی أُمْسِکُ سَہْمِی الَّذِی بِخَیْبَرَ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا اللّٰہُ تَعَالٰی نَجَّانِی بِالصِّدْقِ،ٔ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَ نْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِیتُ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِینَ أَ بْلَاہُ اللّٰہُ مِنْ الصِّدْقِ فِیالْحَدِیثِ مُذْ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ حْسَنَ مِمَّا أَ بْلَانِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَاللّٰہِ! مَا تَعَمَّدْتُ کَذِبَۃً مُذْ قُلْتُ ذٰلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰییَوْمِی ہٰذَا، وَإِنِّی لَأَ رْجُو أَ نْ یَحْفَظَنِی فِیمَا بَقِیَ، قَالَ: وَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {لَقَدْ تَابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالْأَ نْصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَئُ وْفٌ رَحِیمٌ وَعَلَی الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا حَتّٰی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْأَ رْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ أَ نْفُسُہُمْ وَظَنُّوا أَ نْ لَا مَلْجَأَ مِنْ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوبُوْا إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ،یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِینَ} [التوبۃ: ۱۱۷۔۱۱۹] قَالَ کَعْبٌ: فَوَاللّٰہِ! مَا أَ نْعَمَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَلَیَّ مِنْ نِعْمَۃٍ قَطُّ بَعْدَ أَ نْ ہَدَانِی أَ عْظَمَ فِی نَفْسِی مِنْ صِدْقِی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ، أَ نْ لَا أَ کُونَ کَذَبْتُہُ فَأَ ہْلِکَ کَمَا ہَلَکَ الَّذِینَ کَذَبُوْہُ حِینَ کَذَبُوہُ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَالَ لِلَّذِینَ کَذَبُوہُ حِینَ کَذَبُوہُ شَرَّ مَا یُقَالُ لِأَ حَدٍ فَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {سَیَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَیْہِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْہُمْ فَأَ عْرِضُوا عَنْہُمْ إِنَّہُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ جَزَائً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُونَیَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ} [التوبۃ: ۹۵۔ ۹۶] قَالَ: وَکُنَّا خُلِّفْنَا أَ یُّہَا الثَّلَاثَۃُ عَنْ أَ مْرِ أُولَئِکَ الَّذِینَ قَبِلَ مِنْہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ حَلَفُوْا، فَبَایَعَہُمْ وَاسْتَغْفَرَلَہُمْ فَأَ رْجَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ مْرَنَا حَتّٰی قَضَی اللّٰہُ تَعَالٰی، فَبِذٰلِکَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالَی: {وَعَلَی الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوْا} وَلَیْسَ تَخْلِیفُہُ إِیَّانَا وَإِرْجَاؤُہُ أَ مْرَنَا الَّذِی ذَکَرَ مِمَّا خُلِّفْنَا بِتَخَلُّفِنَا عَنْ الْغَزْوِ، وَإِنَّمَا ہُوَ عَمَّنْ حَلَفَ لَہُ وَاعْتَذَرَ إِلَیْہِ فَقَبِلَ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۸۲)
۔ عبد الرحمن بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عبداللہ بن کعب، جو اپنے باپ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نابینا ہو جانے کی وجہ سے ان کے قائد تھے، وہ کہتے ہیں: سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنا واقعہ بیان کیا جب وہ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انھوں نے کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تمام لڑائیوں میں شریک ہوا تھا، ما سوائے تبوک اور بدرکے، میں ان میں پیچھے رہ گیا تھا، مگر بدر میں پیچھے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عتاب نہیں ہوا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس جنگ میں غرض یہ تھی کہ قافلہ قریش کا تعاقب کیا جائے، دشمنوں کو اللہ تعالیٰ نے اچانک حائل کردیا اور جنگ ہوگئی، میں عقبہ والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے اسلام پر قائم رہنے کا عہد لیا تھااور مجھے تو عقبہ والی وہ رات غزوۂ بدر کے مقابلہ میں عزیز ہے، اگرچہ جنگ بدر کو لوگوں میں زیادہ شہرت اور فضیلت حاصل ہے اور جنگ تبوک کا واقعہ یہ ہے کہ اس جنگ سے پہلے کبھی بھی میرے پاس دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں، اس غزوہ کے وقت میں دو سواریوں کا مالک تھا، اس کے علاوہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ دستور تھا کہ جب کہیں جنگ کا خیال کرتے تو صاف صاف پتہ نشان اور جگہ نہیں بتاتے تھے، بلکہ کچھ گول مول الفاظ میں بات ظاہر کرتے تھے تاکہ لوگ دوسرا مقام سمجھتے رہیں، غرض جب لڑائی کا وقت آیا تو گرمیبہت شدید تھی، راستہ طویل تھا اور بے آب و گیاہ تھا، دشمن کی تعداد زیادہ تھی، لہٰذا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں کو پورے طور پر آگاہ کردیا کہ ہم تبوک جا رہے ہیں تاکہ تیار کرلیں، اس وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کثیر تعداد میں مسلمان موجود تھے، مگر کوئی ایسی کتاب وغیرہ نہیں تھی کہ اس میں سب کے نام لکھے ہوئے ہوں، کوئی مسلمان ایسا نہیں تھا کہ جو اس لڑائی میں شریک ہونا نہ چاہتا ہو، مگر وہ یہ خیالکرتا تھا کہ کسی کی غیر حاضری نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وحی نہ آئے، غرض نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لڑائی کی تیاریاں شروع کردیں اور یہ وہ وقت تھا کہ میوہ پک رہا تھا اور سایہ میں بیٹھنا اچھا معلوم ہوتا تھا، سب تیاریاں کر رہے تھے، مگر میں ہر صبح کو یہی سوچتا تھا کہ میں تیاری کرلوں گا، کیا جلدی ہے، میں تو ہر وقت تیاری کر سکتا ہوں، اسی طرح دن گزرتے رہے، ایک روز صبح کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہو گئے، میں نے سوچا ان کو جانے دو، میں ایک دو دن میں تیاری کرکے راستہ میں ان میں شامل ہو جاؤں گا، دوسری صبح کو میں نے تیاری کرنا چاہی، مگر نہ ہو سکی اور میںیوں ہی رہ گیا تیسرے روز بھییہی ہوا اور پھر برابر میرایہی حال ہوتا رہا، اب سب لوگ بہت دور نکل چکے تھے، میں نے کئی مرتبہ قصد کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جا ملوں، مگر تقدیر میں نہ تھا، کاش! میں ایسا کرلیتا چنانچہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چلے جانے کے بعد میں جب مدینہ میں چلتا پھرتا تو مجھ کو یا تو منافق نظر آتے یا وہ جو کمزور ضعیف اور بیمار تھے، مجھے بہت افسوس ہوتا تھا، (جب میں نے بعد میں معلومات لی تھیں تو ان سے پتہ چلا تھا کہ) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے راستے میں مجھے کہیں بھییاد نہیں کیا تھا، البتہ تبوک پہنچ کر جب سب لوگوں میں تشریف فرما ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کعب بن مالک کہاں ہے؟ بنو سلمہ کے ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو اپنے حسن و جمال پر ناز کرنے کی وجہ سے رہ گئے ہیں، لیکن سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم نے اچھی بات نہیں کی، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! ہم تو انہیں اچھا آدمی ہی سمجھتے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ سن کر خاموش ہوگئے، جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آ رہے ہیں تو میں سوچنے لگا کہ کوئی ایسا حیلہ بہانہ ہاتھ آ جائے جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غصہ سے مجھے بچا سکے، پھر میں اپنے گھر کے سمجھدار لوگوں سے مشورہ کرنے لگا کہ اس سلسلہ میں کچھ تم بھی سوچو، مگر جب یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ کے بالکل قریب آ گئے ہیں تو میرے دل سے اس حیلہ کا خیال دور ہوگیا اور میں نے یقین کرلیا کہ جھوٹ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غصہ سے نہیں بچا سکے گا، صبح کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں پہنچ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طریقہیہ تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعت نفل ادا فرماتے، اس بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا اور مسجد میں بیٹھ گئے، اب جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے آنا شروع کیا اور اپنے اپنے عذر بیان کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے یہ کل اسی (۸۰) افراد یا اس سے کچھ زیادہ تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے ان کے عذر قبول کر لئے اور ان سے دوبارہ بیعت لی اور ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی اور ان کے دلوں کے خیالات کو اللہ تعالی کے سپرد کردیا۔ جب میں آیا تو السلام علیکم کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غصے والی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا اور فرمایا: آؤ۔ پس میں سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: کعب تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ حالانکہ تم نے تو سواری کا بھی انتظام کرلیا تھا؟ میں نے عرض کیا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان درست ہے، میں اگر کسی اور کے سامنے ہوتا تو ممکن تھا کہ بہانے وغیرہ کر کے اس سے نجات پا جاتا، کیونکہ میں خوب بول سکتا ہوں، مگر اللہ گواہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اگر آج میں نے جھوٹ بول کر آپ کو راضی کرلیا تو کل اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کردے گا، اس لئے میں سچ ہی بولوں گا، چاہے آپ مجھ پر غصہ ہی کیوں نہ فرمائیں، آئندہ کو تو اللہ کی مغفرت اور بخشش کی امید رہے گی، اللہ کی قسم! میں قصور وار ہوں، حالانکہ مال و دولت میں کوئی بھی میرے برابر نہیں ہے، مگر میں یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی شریک نہ ہو سکا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا۔ کعب نے درست بات بیان کردی، اچھا چلے جاؤ اور اپنے حق میں اللہ تعالی کے حکم کا انتظار کرو۔ میں اٹھ کر چلا گیا، بنی سلمہ کے آدمی بھی میرے ساتھ ہو لئے اور کہنے لگے: ہم نے تو اب تک تمہارا کوئی گناہ نہیں دیکھا، تم نے بھی دوسرے لوگوں کی طرح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کوئی بہانہ پیش کردیا ہوتا، حضور کی دعائے مغفرت تیرے کے لئے کافی ہو جاتی، وہ مجھے برابر یہی سمجھاتے رہے، یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خیال آنے لگا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس چلا جاؤں اور پہلے والی بات کو غلط ثابت کرکے کوئی بہانہ پیش کردوں، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی اور شخص بھی ہے، جس نے میری طرح اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں دو آدمی اور بھی ہیں، جنہوں نے اقرار کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے بھی وہی کچھ فرمایا ہے جو تم سے ارشاد فرمایا ہے، میں نے ان کے نام پوچھے تو انھوں نے کہاؒایک مرارہ بن ربیع عامری اور دوسرے ہلال بن امیہ واقفی ہیں،یہ دونوں نیک آدمی تھے اور جنگ بدر میں شریک ہو چکے تھے، مجھے ان سے ملنا اچھا معلوم ہوتا تھا، ان دو آدمیوں کا نام سن کر مجھے بھی اطمینان سا ہوگیا اور میں چلا گیا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمام مسلمانوں کو منع فرمادیا تھا کہ کوئی شخص ان تین آدمیوں سے کلام نہ کرے، دوسرے پیچھے رہ جانے والے اور جھوٹے بہانے کرنے والوں کے لئے یہ حکم نہیں دیا تھا، اب ہوا کیا کہ لوگوں نے ہم سے الگ رہنا شروع کردیا اور ہم ایسے ہو گئے، جیسے ہمیں کوئی جانتا ہی نہیں ہے، بس گویا ہمارے لیے زمین تبدیل ہو گئی ہے، پچاس راتیں اسی حال میں گزر گئیں، میرے دونوں ساتھی تو گھر میں بیٹھ گئے، میں ہمت والا تھا، نکلتا، باجماعت نماز میں شریک ہوتا، بازار وغیرہ جاتا، مگر کوئی میرےساتھ بات نہیں کرتا تھا، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھی آتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جائے نماز پر جلوہ افروز ہوتے، میں سلام کہتا اور مجھے ایسا شبہ ہوتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہونٹ ہل رہے ہیں، شاید سلام کا جواب دے رہے ہیں، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہی نماز پڑھنے لگتا، اور آنکھ چرا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی دیکھتا رہتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دوران کیا کرتے ہیں، چنانچہ میں جب نماز میں ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے دیکھتے رہتے اور جب میری نظر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ سے اعراض کر لیتے، اس حال میں یہ مدت گزر گئی اور میں لوگوں کی خاموشی سے عاجز آ گیا، ایک دن اپنے چچا زاد بھائی سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس باغ میں آیا اور سلام کہا اور اس سے مجھے بہت محبت تھی، مگر اللہ کی قسم! اس نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، میں نے کہا: اے ابوقتادہ! تو مجھے اللہ اور اس کے رسول کا طرفدار جانتا ہے یا نہیں؟ اس نے اس سوال کا جواب بھی نہیں دیا، پھر میں نے قسم کھا کر یہی بات کہی مگر جواب ندارد، میں نے تیسری مرتبہ یہی کہا تو ابوقتادہ نے صرف اتنا جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، پھر مجھ سے ضبط نہ ہو سکا، میں نے رونا شروع کر دیا اور واپس چل دیا، میں ایک دن بازار میں جا رہا تھا کہ ایک نصرانی کسان، جو ملک شام کا رہنے والا تھا اور اناج فروخت کرنے آیا تھا، وہ لوگوں سے میرا پتہ معلوم کر رہا تھا، لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا کہ یہ کعب بن مالک ہے، وہ میرے پاس آیا اور غسان کے نصرانی بادشاہ کا ایک خط مجھے دیا، اس میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے رسول تم پر بہت زیادتی کر رہے ہیں، حالانکہ اللہ نے تم کو ذلیل اور بے عزت نہیں بنایا ہے، تم بہت کام کے آدمی ہو، تم میرے پاس آجاؤ، ہم تم کو بہت آرام سے رکھیں گے۔ میں نے سوچا کہ یہ تو دوہری آزمائش ہے اور پھر اس خط کو آگ کے تنور میں ڈال دیا، ابھی تک چالیس دن گزرے تھے،دس باقی تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قاصد سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے آکر کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ، میں نے کہا: کیا مطلب ہے؟ طلاق دے دوں یا کچھ اور؟ انھوں نے کہا: بس الگ رہو اور مباشرت وغیرہ مت کرو، میرے دونوں ساتھیوں کو بھییہی حکم دیا گیا، پس میں نے بیوی سے کہا کہ تم اس وقت تک اپنے رشتہ داروں میں جا کر رہو، جب تک اللہ تعالیٰمیرا فیصلہ نہ فرما دے۔ اُدھر سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول !ہلال بن امیہ میرا خاوند بہت بوڑھا ہے، اگر میں اس کا کام کردیا کروں تو کوئی برائی تو نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، بس وہ صحبت نہ کرنے پائے، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس میں تو ایسی خواہش ہی نہیں ہے اور جب سے یہ بات ہوئی ہے، وہ مسلسل رو رہا ہے، جب اس کے بارے میں یہ بات سامنے آئی تو میرے عزیزوں نے مجھ سے کہا: تم بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا کر اپنی بیوی کے بارے میں ایسی ہی اجازت حاصل کرلو، تاکہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے، جس طرح سیدنا ہلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی کو اجازت مل گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتا، معلوم نہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا فرمائیں گے، میں نوجوان آدمی ہوں، ہلال کی مانند ضعیف نہیں ہوں، اس کے بعد وہ دس راتیں بھیگزر گئیں اور میں پچاسویں رات کو صبح کی نماز کے بعد اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور زمین میرے لئے باوجود اپنی وسعت کے تنگ ہو چکی ہے، اتنے میں کوہ سلع پر سے کسی پکارنے والے نے پکار کر کہا: اے کعب بن مالک! تم کو بشارت دی جاتی ہے۔ یہ آواز کے سنتے ہی میں خوشی سے سجدہ میں گر پڑا اور یقین کرلیا کہ اب یہ مشکل آسان ہوگئی، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کا قصور معاف کردیا ہے۔ اب تو لوگ میرے پاس اور میرے ان ساتھیوںکے پاس خوشخبری اور مبارکباد کے لئے جانے لگے اور ایک آدمی زبیر بن عوام اپنے گھوڑے کو بھگاتے میرے پاس آیا اور ایک دوسرا بنو سلمہ کے آدمی نے سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی، اس کی آواز جلدی میرے کانوں تک پہنچ گئی، اس وقت میں اس قدر خوش ہوا کہ اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو دے دیئے، جبکہ میرے پاس ان کے سوائی کوئی دوسرے کپڑے نہیں تھے، میں نے ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دو کپڑے لے کر زیب ِ تن کیے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جانے لگا، راستہ میں لوگوں کا ایک ہجوم تھا، وہ مجھے مبارکباد دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تمہیں مبارک ہو۔ پھر جب میں مسجد میں گیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے اور دوسرے لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، طلحہ بن عبیداللہ مجھے دیکھ کر دوڑے، میرے ساتھ مصافحہ کیا اورمبارک باد دی، مہاجرین میں سے یہ کام صرف طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کیا، اللہ گواہ ہے کہ میں ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا، پھر جب میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے کعب!یہ دن تمہیں مبارک ہو، جو سب ان دنوں سے اچھا ہے، جو تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک ہیں۔ میں نے عرض کیا: حضور! یہ معافی اللہ تعالیٰ کیطرف سے ہوئی ہے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاف کیا گیا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب خوش ہوتے تھے تو چہرہ مبارک چاند کی طرح چمکنے لگتا تھا اور ہم آپ کی خوشی کو پہچان جاتے تھے، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ کر کہا: اے اللہ کے رسول!میںاپنی اس نجات اور معافی کے شکریہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے خیرات نہ کردوں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تھوڑا کرو اور کچھ اپنے لئے رکھ لو، کیونکہیہ تمہارے لئے فائدہ مند ہو گا۔ میں نے عرض کیا: جی ٹھیک ہے، میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے سچ بولنے کی وجہ سے نجات پائی ہے، اب میں تمام زندگی سچ ہی بولوں گا، اللہ کی قسم! میں نہیں کہہ سکتا کہ سچ بولنے کی وجہ سے اللہ نے کسی پر ایسی مہربانی فرمائی ہو، جو مجھ پر کی ہے، اس وقت سے آج تلک میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں امید کرتا ہوں کہ زندگی بھر اللہ مجھے جھوٹ سے بچائے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی: {لَقَدْ تَابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالْأَ نْصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَیَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَئُ وْفٌ رَحِیمٌ۔ وَعَلَی الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا حَتّٰی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمْ الْأَ رْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ أَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوا أَ نْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوبُوْا إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِینَ} … بلاشبہ یقینا اللہ نے نبی پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی، جو تنگ دستی کی گھڑی میں اس کے ساتھ رہے، اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہو جائیں، پھر وہ ان پر دوبارہ مہربان ہوگیا۔ یقینا وہ ان پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے، یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کر لیا کہ بے شک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں، پھر اس نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی، تاکہ وہ توبہ کریں۔ یقینا اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ (سورۂ توبہ: ۱۱۷۔ ۱۱۹) سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس سے بڑھ کر میں نے کوئی انعام اور احسان نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے مجھے سچ بولنے کی توفیق دے کر ہلاک ہونے سے بچا لیا، ورنہ ان لوگوں کی طرح میں بھی تباہ اور ہلاک ہوجاتا، جنہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جھوٹ بولا، جھوٹے حلف اٹھائے، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {سَیَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَیْہِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْہُمْ فَأَ عْرِضُوا عَنْہُمْ إِنَّہُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ جَزَائً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُونَ۔ یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ۔} … عنقریب وہ تمھارے لیے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے، تاکہ تم ان سے توجہ ہٹا لو۔ سو ان سے بے توجہی کرو، بے شک وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کماتے رہے ہیں۔تمھارے لیے قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، پس اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ تو بے شک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔ (سورۂ توبہ: ۹۵،۹۶) سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم تینوں ان منافقوں سے علیحدہ ہیں، جنہوں نے نہ جانے کتنے بہانے بنائے اور جھوٹے حلف اٹھائے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی بات کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لے لی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرما دی، مگر ہمارا معاملہ چھوڑ ے رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّآ اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ }… اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے، یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کر لیا کہ بے شک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں، پھر اس نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی، تاکہ وہ توبہ کریں۔ یقینا اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۱۸) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہم کو پیچھے کرنا اور ہمارے معاملے کو مؤخر کرنا، جس کا ذکر کیا گیا ہے، یہ ہمارا غزوے سے پیچھے رہ جانا نہیں تھا، بلکہ یہ تو ان لوگوں سے پیچھے اور الگ کرنا تھا، جنھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے حلف اٹھائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے عذر پیش کیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے عذر قبول کر لیے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8628

۔ (۸۶۲۸)۔ عن عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: أَ تَی الْحَارِثُ بْنُ خَزَمَۃَ بِہَاتَیْنِ الْآیَتَیْنِ مِنْ آخِرِ بَرَائَ ۃَ: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ} إِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: مَنْ مَعَکَ عَلٰی ہٰذَا؟ قَالَ: لَا أَ دْرِی وَاللّٰہِ، إِلَّا أَنِّی أَ شْہَدُ لَسَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوَعَیْتُہَا وَحَفِظْتُہَا، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَ نَا أَشْہَدُ لَسَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: لَوْ کَانَتْ ثَلَاثَ آیَاتٍ لَجَعَلْتُہَا سُورَۃً عَلٰی حِدَۃٍ، فَانْظُرُوا سُورَۃً مِنْ الْقُرْآنِ فَضَعُوہَا فِیہَا فَوَضَعْتُہَا فِی آخِرِ بَرَائَـۃَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۵)
۔ عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حارث بن خزمہ، سورۂ توبہ کییہ آخری دو آیتیں سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لائے، انہوں نے کہا: ان پر تمہارے ساتھ گواہ کون گواہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیںہے، ہاں میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی تھیں اور میں نے ان کو یاد کیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھیں، اگر یہ تین آیاتہوتیں تو میں ان کو علیحدہ سورت بنا دیتا، اب تم دیکھو کہ کون سی سورت ان آیات کے لیے زیادہ مناسب ہے، پس اس میں ان کو لکھ دو، پس میں نے ان کو سورۂ توبہ کے آخر میں لکھ دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8629

۔ (۸۶۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ اُبَیٍّ قَالَ: آخِرُ آیَۃٍ نَزَلَتْ: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ} الآیۃ [التوبۃ: ۱۲۸]۔ (مسند احمد: ۲۱۴۳۰)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سب سے آخر میں نازل ہونی والی آیتیہ تھی: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَ نْفُسِکُمْ}۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8630

۔ (۸۶۳۰)۔ عَنْ صُہَیْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا دَخَلَ أَ ہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ نُودُوْا یَا أَ ہْلَ الْجَنَّۃِ! إِنَّ لَکُمْ مَوْعِدًا عِنْدَ اللّٰہِ لَمْ تَرَوْہُ، فَقَالُوْا: وَمَا ہُوَ أَ لَمْ تُبَیِّضْ وُجُوہَنَا وَتُزَحْزِحْنَا عَنِ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ؟ قَالَ: فَیُکْشَفُ الْحِجَابُ فَیَنْظُرُونَ إِلَیْہِ فَوَاللّٰہِ! مَا أَ عْطَاہُمْ اللّٰہُ شَیْئًا أَ حَبَّ إِلَیْہِمْ مِنْہُ۔)) ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {لِلَّذِینَ أَ حْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ} [یونس: ۲۶]۔ (مسند احمد: ۱۹۱۴۳)
۔ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جنت والے جنت میں داخل ہوجائیں گے تو انہیں آواز دی جائے گی: اے جنت والو! اللہ تعالیٰ نے تم سے ایک وعدہ فرمایا تھا، جو ابھی تک پورا نہیں ہوا، وہ حیران ہو کر کہیں گے:وہ کیا وعدہ ہے، اے اللہ! کیا تو ہمارے چہرے سفید نہیں کئے، کیا ہمیں دوزخ سے نہیں بچایا ہے اور کیا ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا (ابھی تک کون سی چیز باقی ہے)؟ اتنے میں پردہ ہٹ جائے گا اور جنتی اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھنا شروع کر دیں گے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے ان کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی ہو گی، جو اس دیدار سے پیاری اور محبوب ہو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {لِلَّذِینَ أَ حْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ} … جن لوگوں نے نیکی کی، انہیں اس کا صلہ ملے گا اورمزید بھی دیا جائے گا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8631

۔ (۸۶۳۱)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ: أَ نَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ قَوْلَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {لَہُمْ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} [یونس: ۶۴] فَقَالَ: ((لَقَدْ سَأَ لْتَنِی عَنْ شَیْئٍ مَا سَأَ لَنِی عَنْہُ أَ حَدٌ مِنْ أُمَّتِی، أَ وْ أَ حَدٌ قَبْلَکَ۔)) قَالَ: ((تِلْکَ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُیَرَاہَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَ وْ تُرَی لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۶۴)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے : {لَہُمْ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} … ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا، اس سے مراد نیک خواب ہے، جو نیک بندہ دیکھتا ہے یا اس کے لیے کسی کو دکھایا جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8632

۔ (۸۶۳۲)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَ ہْلِ مِصْرَ، عَنْ أَ بِی الدَّرْدَائِ، قَالَ: أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِی قَوْلِ اللّٰہِ: {لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} قَالَ: لَقَدْ سَأَ لْتَ عَنْ شَیْئٍ مَا سَمِعْتُ أَ حَدًا سَأَ لَ عَنْہُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَ لَ عَنْہُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((بُشْرَاہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ،یَرَاہَا الْمُسْلِمُ أَ وْ تُرٰی لَہُ، وَبُشْرَاہُمْ فِی الْآخِرَۃِ الْجَنَّۃُ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۷۶)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: تم اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں کیا کہتے ہو: {لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} … ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ انھوں نے کہا: تو نے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میں نے اس آدمی کے بعد کسی کو یہ سوال کرتے ہوئے نہیں سنا، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: دنیوی زندگی میں ایسے لوگوں کی خوشخبری نیک خواب ہے، جو مسلمان دیکھتا ہے، یا اس کے لیے کسی کو دکھایا جاتا ہے، اور آخرت میں ان کی خوشخبری جنت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8633

۔ (۸۶۳۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ: {آمَنْتُ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا الَّذِی آمَنَتْ بِہِ بَنُو إِسْرَائِیلَ} قَالَ: قَالَ لِی جِبْرِیلُ: یَا مُحَمَّدُ! لَوْ رَأَ یْتَنِی وَقَدْ أَ خَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ، فَدَسَّیْتُہُ فِی فِیہِ مَخَافَۃَ أَ نْ تَنَالَہُ الرَّحْمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب فرعون نے کہا: {آمَنْتُ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا الَّذِی آمَنَتْ بِہِ بَنُو إِسْرَائِیلَ} … میں ایمان لایا ہوں کہ وہی معبود برحق ہے، جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ تو جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: اے محمد! کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں (اللہ کی) رحمت اس کو پا نہ لے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8633

۔ (۸۶۳۳م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ جِبْرِیْلَ کَانَ یَدُسُّ فِیْ فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّیْنَ مَخَافَۃَ اَنْ یَقُوْلَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۴)
۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام اس ڈر سے فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8634

۔ (۸۶۳۴)۔ عَنِ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَرَّہُ أَ نْ یَنْظُرَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، کَأَ نَّہُ رَأْیُ عَیْنٍ فَلْیَقْرَأْ: {إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَإِذَا السَّمَاء ُ انْفَطَرَتْ وَإِذَا السَّمَاء ُ انْشَقَّتْ} وَأَ حْسَبُہُ أَ نَّہُ قَالَ: سُورَۃَ ہُودٍ۔ (مسند احمد: ۴۸۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قیامت کے دن کو بالکل آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہے، وہ ان سورتوں کی تلاوت کرے: سورۂ تکویر، سورۂ انفطار اور سورۂ انشقاق۔ راوی کہتے ہیں: میں گمان ہے کہ سورۂ ہود کا بھی ذکر کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8635

۔ (۸۶۳۵)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَاَھَا: {اِنَّہُ عَمِلَ غَیْرَ صَالِحٍ} [ھود: ۴۶]۔ (مسند احمد: ۲۷۰۵۳)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: {اِنَّہُ عَمِلَ غَیْرَ صَالِحٍ}۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8636

۔ (۸۶۳۶)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَوْلِ لُوطٍ:{لَوْ أَ نَّ لِی بِکُمْ قُوَّۃً أَ وْ آوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ} [یونس: ۸۰] قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ یَأْوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ إِلٰی رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَمَا بُعِثَ بَعْدَہُ نَبِیٌّ إِلَّا فِی ثَرْوَۃٍ مِنْ قَوْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۷۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوط علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {لَوْ أَ نَّ لِی بِکُمْ قُوَّۃً أَوْ آوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ}… کاش کہ مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی قوت ہوتییا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔ (سورۂ ہود: ۸۰) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ (لوط علیہ السلام ) ایک مضبوط سہارے اپنے رب کی طرف آسرا پکڑتے تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے بعد اللہ تعالی نے جو نبی بھی بھیجا، اس کو اس کی قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 8636

۔ (۸۶۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہٖ قَالَ: ((قَدْ کَانَ یَأْوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ وَلٰکِنَّہُ عَنٰی عَشِیرَتَہُ فَمَا بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بَعْدَہُ نَبِیًّا إِلَّا بَعَثَہُ فِی ذُرْوَۃِ قَوْمِہِ۔)) قَالَ أَبُو عُمَرَ: ((فَمَا بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِیًّا بَعْدُ اِلَّا فِیْ مَنْعَۃٍ مِنْ قَوْمِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۹۰۳)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے : لوط علیہ السلام مضبوط قلعہ کی جانب جگہ پکڑتے تھے، ان کی مراد رشتہ دار تھے، پس اللہ نے اس کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا، مگر اس کی قوم کے اعلی نسب سے۔ ابو عمر راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالی نے ان کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا، مگر اس کو اپنی قوم میں محفوظ کر کے۔