198 Results For Hadith (Musnad Ahmad ) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9660

۔ (۹۶۶۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَا تَغَارُ؟ قَالَ: ((وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَغَارُ، وَاللّٰہُ اَغْیَرُ مِنِّیْ، وَمِنْ غَیْرَتِہِ نَھٰی عَنِ الْفَوَاحِشِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۰۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: کیا آپ غیرت نہیں کرتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک میں غیرت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور یہ اس کی غیرت کا ہی تقاضا ہے کہ اس نے گندے کاموں اور بدکاریوں سے منع کر دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9661

۔ (۹۶۶۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ )۔ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُ یَغَارُ، وَاللّٰہُ یَغَارُ، وَمِنْ غَیْرَۃِ اللّٰہِ اَنْ یَاْتِیَ الْمُؤْمِنُ شَیْئًا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی غیرت کرتاہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا ہے کہ مؤمن وہ کام نہ کرے،جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9662

۔ (۹۶۶۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُ الْمُؤْمِنُ، مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، یَغَارُیَغَارُ، وَاللّٰہُ اَشَدُّ غَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۷۹۸۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن، مؤمن، غیرت کرتاہے، غیرت کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت کرتاہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9663

۔ (۹۶۶۳)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ: لَوْ رَاَیْتُ رَجُلًا مَعَ اِمْرَاَتِیْ لَضَرَبْتُہُ بِالسَّیْفِ غَیْرَ مُصْفَحٍ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَتَعْجَبُوْنَ مِنْ غَیْرَۃِ سَعْدٍ، وَاللّٰہِ! لَاَنَا اَغْیَرُ مِنْہُ، وَاللّٰہُ اَغْیَرُ مِنِّیْ، وَمِنْ اَجْلِ غَیْرَۃِ اللّٰہِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا شَخْصَ اَغْیَرُ مِنَ اللّٰہِ، وَلَا شَخْصَ اَحَبُّ اِلَیْہِ الْعُذْرُ مِنَ اللّٰہِ، مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ بَعَثَ اللّٰہُ الْمُرْسَلِیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وُمُنْذِرِیْنَ، وَلَا شَخْصَ اَحَبُّ اِلَیْہِ مِدْحَۃٌ مِنَ اللّٰہِ مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ وَعَدَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۵۱)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے اپنی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی دیکھ لیا تو میں اس پر سیدھی تلوار چلاؤں گا، جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں سعد کی غیرت سے تعجب ہو رہا ہے، اللہ کی قسم! میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے ظاہری اور باطنی گندے کاموں اور بدکاریوں کو حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو عذر زیادہ پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰنے رسولوں کو خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9664

۔ (۹۶۶۴)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ الْقَوَارِیْرِیُّ،لَیْسَ ثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ بِاِسْنَادِہِ مِثْلُہُ سَوَائٌ، قَالَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ الْقَوَارِیْرِیُّ: لَیْسَ حَدِیْثٌ اَشَدَّ عَلَی الْجَھْمِیَّۃِ مِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ قَوْلُہُ: ((لَا شَخْصَ اَحَبُّ اِلَیْہِ مِدْحَۃً مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۵۳)
۔ (دوسری سند) عبید اللہ قواریری کہتے ہیں: یہ حدیث جہمیہ پر سب سے زیادہ سخت ہے: اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت کوئی ایسا نہیں ہے، جس کو تعریف زیادہ پسند ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9665

۔ (۹۶۶۵)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ : ((لَا شَیْئَ اَغْیَرُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۸۲)
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9666

۔ (۹۶۶۶)۔ عَنْ زَیْنَبَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: اِسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ نَوْمٍ وَھُوَ مُحْمَرٌّ وَجْھُہُ وَھُوَ یَقُوْلُ : ((لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَیْلٌ لِلْعَرْبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مِثْلُ ھٰذِہِ۔)) وَحَلَّقَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللہِ! اَنَھْلِکُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ اِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۵۸)
۔ سیدہ زینب بن جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیند سے بیدار ہوئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے، جو قریب آ گئی ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار سے اتنا حصہ کھول دیا گیا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حلقہ بنا کر دکھایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے، جب کہ ہمارے اندر نیک لوگ بھی ہو ں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں جب برائی عام ہو جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9667

۔ (۹۶۶۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، تَبْلُغُ بِہٖ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِذَا ظَھَرَ السُّوْئُ فِیْ الْاَرْضِ، اَنْزَلَ اللّٰہُ بِاَھْلِ الْاَرْضِ بَاْسَہَ۔)) قَالَتْ: وَفِیْھِمْ اَھْلُ طَاعَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، ثُمَّ یَصِیْرُوْنَ اِلٰی رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب زمیں میں برائی ظاہر ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اپنا عذاب زمین والوں پر نازل کر دے گا۔ سیدہ نے کہا: اور ان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، لیکن پھر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9668

۔ (۹۶۶۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آکِلَ الرِّبَا، وَمُوْکِلَہُ، وَشَاھِدَیْہِ، وَکَاتِبَہُ، وَالْوَاشِمَۃَ، وَالْمُسْتَوْشِمَۃَ، وَالْمُحَلِّلَ، وَالْمُحَلَّلَ لَہُ ،وَمَانِعَ الصَّدَقَۃِ، وَکَانَ یَنْھٰی عَنِ النَّوْحِ۔ (مسند احمد: ۸۴۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سود کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کے دونوں گواہوں پر، اس کو لکھنے والے پر، تل بھرنے والی پر، تل بھروانے والی پر، حلالہ کرنے والے پر، جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر اور صدقہ یا زکوۃ روکنے والے پر لعنت کی ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نوحہ سے بھی منع کیا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9669

۔ (۹۶۶۹)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مِمَّا یَقُوْلُ لِاَصْحَابِہٖ: ((ھَلْرَاٰی اَحَدٌ مِنْکُمْ رُؤْیًا؟)) قَالَ: فَیَقُصُّ عَلَیْہِ مَنْ شَائَ اللّٰہُ اَنْ یَقُصَّ، قَالَ: وَاِنَّہُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاۃٍ: ((اِنَّہُ آتَانِی اللَّیْلَۃَ آتِیَانِ،وَاِنَّھُمَا ابْتَعَثَانِیْ، وَاِنَّھُمَا قَالَا لِیْ: اِنْطَلِقْ، وَاِنِّیْ اِنْطَلَقْتُ مَعَھُمَا، وَاِنَّا اَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ، اِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَیْہِ بِصَخْرَۃٍ، وَاِذَا ھُوَ یَھْوِیْ بِالصَّخْرَۃِ لِرَاْسِہِ فَیَثْلَغُ بِھَا رَاْسَہُ، فَیَتَدَھْدَہُ الْحَجَرُ ھٰھُنَا، فَیَتْبَعُ الْحَجَرَ یَاْخُذُہُ، فَمَا یَرْجِعُ اِلَیْہِ حَتّٰییَصِحَّ رَاْسُہُ کَمَا کَانَ، ثُمَّ یَعُوْدُ عَلَیْہِ فَیَفْعَلُ بِہٖمِثْلَ مَافَعَلَ الْمَرَّۃَ الْاُوْلٰی، قَالَ: قُلْتُ: سَبْحَانَ اللّٰہِ، مَاھٰذَانِ؟ قَالَ: قَالَالِیْ: اِنْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، فَانْطَلَقْتُ مَعَھُمَا، فَاَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاہُ، وَاِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَیْہِ بِکَلُّوْبٍ مِنْ حَدِیْدٍ فَاِذَا ھُوَ یَاْتِیْ اَحَدَ شِقَّیْ وَجْھِہِ، فَیُشَرْشِرُ شِدْقَہُ اِلٰی قَفَاہُ وَمَنْخِرَاہُ اِلٰی قَفَاہُ وَعَیْنَاہُ اِلٰی قَفَاہُ، قَالَ: ثُمَّ یَتَحَوَّلَ اِلَی الْجَانِبِ الْآخَرِ فَیَفْعَلُ بِہٖمِثْلَمَافَعَلَبِالْجَانِبِالْاَوَّلِ،حَتّٰییَصِحَّ الْاَوَّلُ کَمَا کَانَ ثُمَّ یَعُوْدُہُ فَیَفْعَلُ بِہٖمِثْلَمَافَعَلَبِہٖالْمَرَّۃَ الْاُوْلٰی، قَالَ: قُلْتُ: سَبْحَانَ اللّٰہِ، مَاھٰذَانِ؟ قَالَ: قَالَا لِیْ: اِنْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَاَتَیْنَا عَلٰی مِثْلِ بَنَائِ التَّنُّوْرِ قَالَ عَوْفٌ: وَاَحْسَبُ اَنَّہُ قَالَ: وَاِذَا فِیْہِ لَغَطٌ وَاَصْوَاتٌ، قَالَ: فَاطَّلَعْتُ، فَاِذَا فِیْہِ رِجَالٌ وَنِسَائٌ عُرَاۃٌ، وَاِذَا ھُمْ یَاتِیْھِمْ لَھِیْبٌ مِنْ اَسْفَلَ مِنْھُمْ، فَاِذَا اَتَاھُمْ ذٰلِکَ اللَّھَبُ ضَوْضَوْا ، قَالَ: قُلْتُ: مَاھٰؤُلَائِ؟ قَالَ: قَالَالِیْ: انْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلَی نَھْرٍ حَسِبْتُ اَنَّہُ اَحْمَرُ مِثْلُ الدَّمِ، وَاِذَا فِیْ النَّھْرِ رَجُلٌ یَسْبَحُ، ثُمَّ یَاْتِیْ ذٰلِکَ الرَّجُلُ الَّذِیْ قَدْ جَمَعَ الْحِجَارَۃَ، فَیَفْغَرُ لَہُ فَاہُ فَیُلْقِمُہُ حَجَرًا حَجَرًا، قَالَ: فَیَنْطَلِقُ فَیَسْبَحُ مَایَسْبَحُ، ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَیْہِ، کُلَّمَا رَجَعَ اِلَیْہِ فَغَرَ لَہُ فَاہَ وَاَلْقَمَہُ حَجَرًا،قَالَ: قُلْتُ: مَاھٰذَا؟ قَالَ: قَالَا لِیْ: اِنْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا: فَاَتَیْنَا عَلَی رَجُلٍ کَرِیْہِ الْمَرْآۃِ کَاَکْرَہِ مَااَنْتَ رَائٍ رَجُلًا مَرْآۃً، فَاِذَا ھُوَ عِنْدَ نَارٍ لَہُ یَحُشُّھَا وَیَسْعٰی حَوْلَھَا، قَالَ: قُلْتُ: لَھُمَا مَاھٰذَا؟ قَالَ: قَالَا لِیْ: اِنْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فَاَتَیْنَا عَلٰی رَوْضَۃٍ مُعْشِبَۃٍ فِیْھَا مِنْ کُلِّ نَوْرِ الرَّبِیْعِ، قَالَ: وَاِذَا بَیْنَ ظَھْرَانَیِ الرَّوْضَۃِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِیْلٌ لَا اَکَادُ اَنْ اَرٰی رَاْسَہُ طُوْلًا فِیْ السَّمَائِ، وَاِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ اَکْثَرِ وِلْدَانٍ رَاَیْتُھُمْ قَطُّ وَاَحْسَنِہِ، قَالَ: قُلْتُ: لَھُمَا مَاھٰذَا وَمَا ھٰؤُلَائِ؟ قَالَ: فَقَالَا لِیْ: انْطَلِقْ، اِنْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَانْتَھَیْنَا اِلٰی دَوْحَۃٍ عَظِیْمَۃٍ لَمْ اَرَ دَوْحَۃً قَطُّ اَعْظَمَ مِنْھَا وَلَا اَحْسَنَ، فَقَالَا لِیْ: اِرْقَ فِیْھَا، فَارْتَقَیْنَا فِیْھَا، فَانْتَھَیْنَا اِلٰی مَدِیْنَۃٍ مَبْنِیَّۃٍ بِلَبِنِ ذَھَبٍ وَلَبِنِ فِضَّۃٍ، فَاَتَیْنَا بَابَ الْمَدِیْنَۃِ، فَاسْتَفْتَحْنَا، فَفُتِحَ لَنَا، فَدَخَلْنَا، فَلَقِیْنَا فِیْھَا رِجَالًا شَطْرٌ مِنْ خَلْقِھِمْ کَاَحْسَنِ مَااَنْتَ رَائٍ، وَشَطْرٌ کَاَقْبَحِ مَااَنْتَ رَائٍ، قَالَ: فَقَالَا لَھُمْ: اِذْھَبُوْا فَقَعُوْا فِیْ ذٰلِکَ النَّھْرِ، فَاِذَا نَھْرٌ صَغِیْرٌ مُعْتَرِضٌ یَجْرِیْ کَاَنّمَا ھُوَ الْمَحْضُ فِیْ الْبَیَاضِ، قَالَ: فَذَھَبُوْا فَوَقَعُوْا فِیْہِ، ثُمَّ رَجَعُوْا اِلَیْنَا وَقَدْ ذَھَبَ ذٰلِکَ السُّوْئُ عَنْھُمْ وَصَارُوْا فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ، قَالَ: فَقَالَا لِیْ: ھٰذِہِ جَنَّۃُ عَدْنٍ وَھٰذَاکَ مَنْزِلُکُ، قَالَ: فَبَیْنَمَا بَصْرِیْ صُعُدًا فَاِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَۃِ الْبَیْضَائِ، قَالَا لِیْ: ھٰذَاکَ مَنْزِلُکُ، قَالَ: قُلْتُ لَھُمَا: بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکُمَا، ذَرَانِیْ فَلَاَدْخُلُہُ، قَالَ: قَالَالِیْ: اَمَّا الْآنَ فَلَا، وَاَنْتَ دَاخِلُہُ، قَالَ: فَاِنِّیْ رَاَیْتُ مُنْذُ اللَّیْلَۃِ عَجَبًا، فَمَا ھٰذَا الَّذِیْ رَاَیْتُ؟ قَالَ: قَالَا لِیْ: اَمَا اِنَّا سَنُخْبِرُکَ، (اَمَّا) الرَّجُلُ الْاَوَّلُ الَّذِیْ اَتَیْتَ عَلَیْہِیُثْلَغُ رَاْسُہُ بِالْحَجَرِ فَاِنَّہُ رَجُلٌ یَاْخُذُ الْقُرْآنَ فَیَرْفُضُہُ، وَیَنَامُ عَنِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَۃِ، (وَاَمَّا) الرَّجُلُ الَّذِیْ اَتَیْتَیُشَرْشَرُ شِدْقُہُ اِلٰی قَفَاہُ وَعَیْنَاہُ اِلٰی قَفَاہُ وَمَنْخَرَاہُ اِلٰی قَفَاہُ فَاِنَّہُ الرَّجُلُ یَغْدُوْ مِنْ بَیْتِہِ فَیَکْذِبُ الْکَذِبَۃَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ، (وَاَمَّا) الرِّجَالْ وَالنِّسَائُ الْعُرَاۃُ الّذِیْنَ فِیْ بَنَائٍ مِثْلِ بَنَائِ التَّنُّوْرِ فَاِنَّھُمُ الزُّنَاۃُ وَالزَّوَانِیْ، (وَاَمَّا) الرَّجُلُ الَّذِیْیَسْبَحُ فِیْ النَّھْرِ وَیُلْقَمُ الْحِجَارَۃَ فَاِنَّہُ آکِلُ الرِّبَا (وَاَمَّا) الرَّجُلُ کَرِیْہُ الْمَرْآۃِ الّذِیْ عِنْدَ النَّارِیَحُشُّھَا فَاِنَّہُ مَالِکٌ خَازِنُ جَھَنَّمَ، (وَاَمَّا) الرَّجُلُ الطَّوِیْلُ الّذِیْ رَاَیْتَ فِیْ الرَّوْضَۃ فَاِنّہُ اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ،(وَاَمَّا) الْوِلْدَانُ الّذِیْنَ حَوْلَہُ فَکُلُّ مَوْلُوْدٍ مَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ؟ قَالَ: فَقَالَ: بَعْضُ الْمُسْلِمِیْنَیَارَسُوْلُ اللّٰہِ! وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاَوْلَادُ الْمُشْرِکِیْنَ۔)) (وَاَمَّا) الْقَوْمُ الّذِیْنَ کَانَ شَطَرٌ مِنْھُمْ حَسَنًا وَشَطَرٌ قَبِیْحٌ فَاِنَّھُمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا فَتَجَاوَزَ اللّٰہُ عَنْھُمْ، قَالَ اَبُوْعَبْدِالرَّحْمٰنِ: قَالَ: اَبِیْ سَمِعْتُ مِنْ عَبَّادٍ یُخْبِرُ بِہٖعَنْعَوْفٍ،عَنْاَبِی رَجَائٍ، عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَیَتَدَھْدَہُ الْحَجَرُ ھٰھُنَا۔)) قَالَ اَبِیْ: فَجَعَلْتُ اَتَعَجَّبُ مِنْ فَصَاحَۃِ عَبَّادٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۵۴)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب فزاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ سے جو باتیں ارشاد فرماتے تھے، ان میں ایک بات یہ ہوتی تھی: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ جواباً اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق بیان کرنے والے بیان کرتے، ایک صبح کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے کہا: گزشتہ رات کو میرے پاس دو فرشتے آئے، انھوں نے مجھے اٹھایا اور کہا: چلو، میں ان کے ساتھ چل پڑا، ہم ایک ایسے آدمی کے پاس گئے، جو لیٹا ہوا تھا، ایک دوسرا آدمی بڑا پتھر لے کر اس کے پاس کھڑا تھا، وہ اس کو یہ بڑا پتھر مارتا تھا اور اس کا سر کچل دیتا تھا، پتھر لڑھک جاتا تھا، جب وہ اس کو اٹھانے کے لیے جاتا اور واپس آتا تو اس آدمی کا سر پہلے کی طرح صحیح ہو چکا ہو تا تھا، پھر وہ اس کے ساتھ وہی کچھ کرتا، جو پہلی دفعہ کیا، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دو کون ہیں؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس میں ان کے ساتھ چل پڑا، پھر ہم ایک ایسے آدمی کے پاس گئے، جو اپنی گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا، ایک دوسرا شخص لوہے کا کنڈا لے کر کھڑا تھا، وہ اس کے چہرے کی ایک طرف آتا اور اس کی باچھ، نتھنوں اور آنکھوں کو گدی تک چیر دیتا، پھر وہ چہرے کی دوسری جانب جاتا اور یہی کاروائی کرتا، اتنے میں پہلی جانب صحیح ہو جاتی، پھر وہ اس کی طرف لوٹ آتا اور پہلی بار کی طرح ان کو پھر پھاڑ دیتا، میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ دو کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس میں چل پڑا، پھر ایک تنور جیسی چیز کے پاس پہنچے، اس میں شور و غل اور آوازیں تھیں، پس میں نے اس میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں مرد اور عورتیں ننگے تھے، ان کے نیچے سے آگ کا شعلہ اٹھتا تھا، تو وہ چیخ و پکار کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: یہکون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایک نہر کے پاس پہنچے، خون کی طرح اس کا رنگ سرخ تھا، اس میں ایک آدمی تیر رہا تھا، وہ تیرتا تیرتا ایسے آدمی کے پاس آتا، جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے، جب وہ اس کے پاس پہنچتا تو اپنا منہ کھولتا اور وہ اس کے منہ پر پتھر مارتا تھا، پھر وہ تیرنا شروع کر دیتا اور پھر لوٹ آتا اور جب بھی وہ لوٹ کر آتا تو اپنا منہ کھولتا اور وہ اس کے منہ میں پتھر ٹھونس دیتا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایسے آدمی کے پاس پہنچے جو بدترین شکل کا تھا، یوں سمجھیں کہ اگر تو دیکھتا تو اس کو سب سے مکروہ شکل والا پاتا، اس کے پاس آگ تھی، وہ آگ کو سلگا رہا تھا اور اس کے ارد گرد دوڑ رہا تھا، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے مجھے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم آگے چلے اور سبز گھاس والے ایک خوبصورت باغ میں پہنچے، اس میں موسم بہار کا ہر رنگ کا پھول تھا، اس باغ کے درمیان میں ایک اتنا دراز قد آدمی کھڑا تھا کہ قریب تھا کہ اس کے لمبے قد کی وجہ سے میں اس کا سر نہ دیکھ سکوں، اس کے ارد گرد بہت خوبصورت اور حسین بچے تھے، میں نے ان سے کہا: یہ کون ہے اور یہ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آپ آگے چلیں، آگے چلیں، پس ہم چل پڑے اور ایک بڑے اور پھیلے ہوئے درخت کے پاس پہنچے، وہ بہت بڑا اور خوبصورت درخت تھا، انھوں نے مجھے کہا: اس پر چڑھو، پس ہم اس میں چڑھے اور ایک ایسے شہر کے پاس پہنچے، جس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک چاندی کی، ہم شہر کے دروازے پر گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پس ہمارے لیے وہ دروازہ کھولا گیا، ہم اس میں داخل ہوئے، اس میں جو لوگ تھے، ان کا کچھ حصہ بڑا خوبصورت تھا اور کچھ حصہ بدصورت، پھر ان دونوں نے ان سے کہا: چلو اور اس نہر میں گر پڑو، ایک چھوٹی سی رواں انتہائی سفید نہر تھی، پس وہ گئے، اس نہر میں داخل ہوئے اور جب لوٹے تو ان کی بد صورتی ختم ہو چکی تھی اور وہ مکمل طور پر بہت خوبصورت بن چکے تھے، پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا: یہ عدن جنت ہے اور یہ آپ کا مقام ہے، پھر میری نگاہ اوپر کو اٹھی، وہ سفید بادل کی طرح کا محل تھا، انھوں نے مجھے کہا: یہ آپ کا مقام ہے، میں نے ان سے کہا: اللہ تمہیں برکت دے، مجھے چھوڑو، تاکہ میں اس میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: اب نہیں، بہرحال آپ نے ہی اس میں داخل ہونا ہے۔پھر میں نے ان سے کہا: آج رات سے تو میں نے بڑی عجیب چیزیں دیکھیں، اب یہ تو بتلاؤ کہ یہ چیزیں کیا تھیں؟ انھوں نے کہا: اب ہم آپ کو بتلانے لگے ہیں، جس آدمی کا سر کچلا جا رہا تھا، وہ ایسا شخص تھا، جس نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اور پھر اس کو چھوڑ دیا اور فرضی نمازوں سے بھی سویا رہا، جس آدمی کی باچھ، آنکھوںاور نتھنوں کو گدی تک چیرا جا رہا تھا، وہ اپنے گھر میں جھوٹ بولتا اور وہ دنیا کے اطراف و اکناف تک پہنچ جاتا، جو ننگے مرد و زن کنویں جیسیچیز میں نظر آ رہے تھے، وہ زناکار تھے، جو آدمی نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر ٹھونسا جا رہا تھا، وہ سود خور تھا، آگ کے پاس جو مکروہ شکل والا آگ کو سلگا رہا تھا، وہ جہنم کا منتظم داروغہ تھا، اس کا نام مالک ہے، باغ میں دراز قد آدمی ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد جو بچے نظر آ رہے تھے، وہ وہ تھے، جو فطرت پر فوت ہوئے تھے۔ اس وقت بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں مشرکوں کے بچے بھی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی، مشرکوں کے بچے بھی تھے، وہ لوگ جن کا کچھ حصہ خوبصورت تھا اور کچھ حصہ بدصورت، وہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے نیک عمل بھی کیے تھے اور برے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9670

۔ (۹۶۷۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ )۔ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَلّٰی صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہِ فَقَالَ: ((ھَلْ رَاٰی اَحَدٌ مِنْکُمُ اللَّیْلَۃَ رَُْٔیًا؟ فَاِنْ کَانَ اَحَدٌ رَاٰی تِلْکَ اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا قَصَّھَا عَلَیْہِ فَیَقُوْلُ: فِیْھَا مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَقُوْلَ۔)) فَسَاَلَنَا یَوْمًا فَقَالَ: ((ھَلْ رَاٰی اَحَدٌ مِنْکُمُ اللَّیْلَۃَ رُؤْیًا؟)) فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: ((لٰکِنْ اَنَا رَاَیْتُ رَجُلَیْنِ اَتَیَانِیْ، فَاَخَذَا بِیَدِیْ، فَاَخْرَجَانِیْ اِلٰی اَرْضٍ فَضَائٍ اَوْ اَرْضٍ مُسْتَوِیَۃٍ، فَمَرَّا بِیْ عَلٰی رَجُلٍ)) فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ: ((فَانْطَلَقْتُ مَعَھُمَا، فَاِذَا بَیْتٌ مَبْنِیٌّ عَلٰی بِنَائِ التَّنُّوْرِ، اَعْلَاہُ ضَیِّقٌ وَاَسْفَلُہُ وَاسِعٌ، یُوْقَدُ تَحْتَہُ نَارٌ، فَاِذَا فِیْہِ رِجَالٌ وَنِسَائٌ عُرَاۃٌ، فَاِذَا اُوْقِدَتِ ارْتَفَعُوْا حَتّٰییَکَادُوْا اَنْ یَخْرُجُوْا، فَاِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوْا فِیْھَا)) وَفِیْہِ: ((فَانْطَلَقْتُ، فَاِذَا نَھَرٌ مِنْ دَمٍّ فِیْہِ رَجُلٌ، وَعَلٰی شَطِّ النَّھَرِ رَجُلٌ بَیْنَیَدَیْہِ حِجَارَۃٌ، فَیُقْبِلُ الرَّجُلُ الّذِیْ فِیْ النَّھَرِ، فَاِذَا دَنَا لِیَخْرُجَ رَمٰی فِیْ فِیْہِ حَجَرًا، فَرَجَعَ اِلٰی مَکَانِہِ)) وَفِیْہِ: ((فَانْطَلَقْتُ، فَاِذَا رَوْضَۃٌ خَضَرَائُ فَاِذَا فِیْھَا شَجَرَۃٌ عَظِیْمَۃٌ وَاِذَا شَیْخٌ فِیْ اَصْلِھَا حَوْلَہُ صِبْیَانٌ وَاِذَا رَجُلٌ قَرِیْبٌ مِنْہُ بَیْنَیَدَیْہِ نَارٌ یَحُشُّھَا وَیُوْقِدُھَا فَصِعَدَا بِیْ فِی الشَّجَرَۃِ، فَاَدْخَلانِیْ دَارًا لَمْ اَرَ دَارًا اَحْسَنَ مِنْھَا، فَاِذَا فِیْھَا رِجَالٌ شُیُوْخٌ وَشَبَابٌ وَفِیْھَا نِسَائٌ وَصِبْیَانٌ، فَاَخْرَجَانِیْ مِنْھَا فَصِعَدَا بِیْ فِی الشَّجَرَۃِ، فَاَدْخَلَانِیْ دَارًا ھِیَ اَحْسَنُ وَاَفْضَلُ مِنْھَا، فِیْھَا شُیُوْخٌ وَشَبَابٌ)) وَفِیْہِ: ((وَاَمَّا الدَّارُ الَّتِیْ دَخَلْتَ اَوَّلًا فَدَارُ عَامَۃِ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَاَمَّا الدَّارُ الْاُخْرٰی فَدَارُ الشُّھَدَائِ، وَاَنَا جِبْرِیْلُ وَھٰذَا مِیْکَائِیْلُ، ثُمَّ قَالَا لِیْ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ، فَرَفَعْتُ رَاْسِیْ، فَاِذَا ھِیَ کَھَیْئَۃِ السَّحَابِ، فَقَالَا لِیْ: وَتِلْکَ دَارُکَ، فَقُلْتُ لَھُمَا: دَعَانِیْ اَدْخُلْ دَارِیْ فَقَالَا: اِنَّہُ قَدْ بَقِیَ لَکَ عَمَلٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْہُ فَلَوِ اسْتَکْمَلْتَہُ دَخَلْتَ دَارَکََ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۲۷)
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر ادا کرتے اور اپنے چہرے کے ساتھ ہمارے طرف متوجہ ہوتے تو فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا، اس دن ہم نے کہا: جی ہم نے کوئی خواب نہیں دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے، دو آدمی میرے پاس آئے، انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک کھلی اور ہموار زمین کی طرف لے گئے، پھر مجھے ایک آدمی کے پاس سے گزارا، …۔ راوی نے سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ہے: پس میں ان کے ساتھ چلا اور دیکھا کہ تنور کے ڈیزائن پر بنا ہوا ایک گھر تھا، اس کا اوپر والا حصہ تنگ اور نیچے والا حصہ کھلا تھا، اس کے نیچے آگ جلائی جا رہی تھی، اس میں ننگے مرد اور عورتیں تھے، جب ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی تو وہ اتنے بلند ہوتے تھے کہ قریب ہوتا کہ وہ باہر نکل آئیں گے، لیکن جب وہ آگ بجھتی تو وہ نیچے پہنچ جاتے۔ مزید اس روایت میں ہے: پس میں چلا، خون کی ایک نہر تھی، اس میں ایک آدمی تھی اور نہر کے کنارے پر ایک شخص تھا اور اس کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے، پس نہر والا آدمی جب متوجہ ہوتا اور نکلنے کے قریب ہو جاتا تو وہ آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا، جس کی وجہ سے وہ واپس اپنی جگہ پر لوٹ جاتا۔ مزید اس میں ہے: پس میں آگے چلا اور دیکھا کہ سرسبز باغ تھا، اس میں ایک بڑا درخت تھا، اس کے تنے کے پاس ایک بزرگ اور اس کے ارد گرد بچے تھے اور ان کے قریب ایک آدمی تھا، اس کے سامنے آگ تھی، وہ اس کو سلگا رہا تھا، وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا، وہ بہت خوبصورت گھر تھا، اس میںبزرگ، نوجوان، خواتین اور بچے تھے، پھر انھوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور درخت پر چڑھا کر آگے لے گئے اور ایک ایسے گھر میں داخل کر دیا، جو پہلے گھر کی بہ نسبت زیادہ خوبصورت اور بہتر تھا، اس میں بھی بزرگ اور بچے تھے۔ پھر مجھے کہا: جس گھر میں آپ پہلے داخل ہوئے، وہ عام مؤمنوں کا گھر تھا اور دوسرا شہداء کا گھر تھا اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: اپنے سر کو بلند کرو، پس میں نے اپنا سر بلند کیا، بادلوں کی طرح کی چیز نظر آئی، پھر انھوں نے مجھے کہا: اور وہ آپ کا گھر ہے، میں نے ان سے کہا: تو پھر مجھے چھوڑو، تاکہ میں اپنے گھر میں داخل ہو سکوں، لیکن انھوں نے کہا: جی ابھی تک آپ کے ذمے کچھ عمل باقی ہیں، آپ نے ان کو پورا نہیں کیا، اگر آپ ان کو پورا کر چکے ہوتے تو اپنے گھر میں داخل ہو جاتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9671

۔ (۹۶۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ یَعْمَلُ فِیْ صَخْرَۃٍ صَمَّائَ لَیْسَ لَھَا بَابٌ وَلَا کُوَّۃٌ، لَخَرَجَ عَمَلُہُ لِلنَّاسِ کَائِنًا مَا کَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی ایسی سخت چٹان میں عمل کرے، جس کا دروازہ ہو نہ روشندان، تو پھر بھی اس کا عمل لوگوں کے لیے نکل آئے، وہ جس قسم کا بھی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9672

۔ (۹۶۷۲)۔ (عَنْ عَلِیٍّ بْنِ خَالِدٍ) اَنَّ اَبَا اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ مَرَّ عَلٰی خَالِدِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، فَسَاَلَہُ عَنْ اَلْیَنِ کَلِمَۃٍ سَمِعَھَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلا کُلُّکُمْ یَدْخُلُ الْجَنّۃَ اِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَی اللّٰہِ شِرَادَ الْبَعِیْرِ عَلٰی اَھْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۷۹)
۔ علی بن خالد کہتے ہیں کہ ابوامامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے گزرے، اس نے ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے ہوئے انتہائی نرم کلمے کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر کوئی جنت میں داخل ہو گا، ما سوائے اس کے جس نے اللہ تعالیٰ پر اس طرح بغاوت کی، جس طرح اونٹ اپنے مالک پر بدک جاتاہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9673

۔ (۹۶۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ اِلَّا شَقِیٌّ)) قِیْلَ: وَمَنِ الشَّقِیُّ؟ قَالَ: ((الّذِیْ لَا یَعْمَلُ بِطَاعَۃٍ وَلَا یَتْرُکُ لِلّٰہِ مَعْصِیَۃً۔)) (مسند احمد: ۸۵۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدبخت جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ کسی نے کہا: بدبخت کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نہ کوئی اطاعت کا کام کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نافرمانی کو ترک کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9674

۔ (۹۶۷۴)۔ حَدَّثَنَا بَھْزٌوَعَفَّانُ، قَالَا: ثَنَا ھَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَطَائٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْرِقُ حَیْنَیَسْرِقُ وَھُوَ مُؤُمِنٌ، وَلَا یَزْنِیْ حِیْنَیَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَایَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَیَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا یَغُلُّ حِیْنَیَغُلُّ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا یَنْتَھِبُ حِیْنَ یَنْتَھِبُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ۔)) وَقَالَ عَطَائٌ: ((وَلَا یَنْتَھِبُ نُھْبَۃً ذَاتَ شَرَفٍ وَھُوَ مُؤْمِنٌ۔)) قَالَ بَھْزٌ: فَقِیْلَ لَہُ: قَالَ: اِنَّہُ یُنْتَزَعُ مِنْہُ الْاِیْمَانُ فَاِنْ تَابَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۸۹۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تووہ مؤمن نہیں ہوتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، خیانت کرنے والا جب خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا اور لوٹ مارکرنے والا جب لوٹ مار کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ عطاء راوی کے الفاظ یہ ہیں: جو لوگوں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے، وہ مؤمن نہیں ہوتا۔ جب بہز راوی سے اس حدیث کا مفہوم پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ایمان ایسے شخص سے چھین لیا جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9675

۔ (۹۶۷۵)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکَبَائِرَ اَوْ سُئِلَ عَنِ الکَبَائِرِ فَقَالَ: ((اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔))، وَقَالَ: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟ قَالَ: ((قَوْلُ الزُّوْرِ۔))، اَوْ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))، قَالَ شُعْبَۃُ: اَکْبَرُ ظَنِّیْ اَنَّہٗقَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))(مسند احمد: ۱۲۳۶۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیایا ان کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ پھر فرمایا: وہ جھوٹی بات ہے۔ یا فرمایا: وہ جھوٹی گواہی ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: زیادہ گمان یہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھوٹی گواہی کا ذکر کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9676

۔ (۹۶۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ثَلَاثًا، اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: وَذُکِرَ الْکَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ: ((وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔)) فَمَازَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَہُ سَکَتَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۵۶)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتلاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ راوی کہتا ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر بیٹھ گئے اور یہ فرمانے لگ گئے: اور جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی،یا فرمایا: جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتنی بار یہ جملہ دوہرایا کہ ہم نے کہا: کاش اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9677

۔ (۹۶۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ اُنَیْسٍ اَلْجُھَنِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَکْبَرِ الْکَبَائِرِ الشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، والْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ، وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللّٰہِ یَمِیْنًا صَبْرًا فَاَدْخَلَ فِیْھَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ، اِلَّاجَعَلَہُ اللّٰہُ نُکْتَۃً فِیْ قَلْبِہٖاِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم سب سے بڑے گناہوں میں سے ہیں، جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹی قسم اٹھائی اور مچھر کے پر کے برابر اس میں (جھوٹ) داخل کیا، مگر اللہ تعالیٰ اس برائی کو قیامت کے دن تک اس کے دل پر نکتہ بنا دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9678

۔ (۹۶۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ جَائَ یَعْبُُدُ اللّٰہَ لَایُشْرِکُ بِہْ شَیْئًا ، وَیُقِیْمُ الصَّلَاۃَ، وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ، وَیَصُوْمُ رَمَضَانَ، وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ، فَاِنَّ لَہُ الْجَنَّۃَ۔)) وَسَاَلُوْہُ مَا الْکَبَائِرَ؟ قَالَ: ((اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَۃِ، وَفِرَارٌ یَوْمَ الزَّحْفِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۹۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، نماز قائم کی، زکوۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرے تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ پھر لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان جان کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن فرار اختیار کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9679

۔ (۹۶۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَیُّ الذَّنْبِ اَکْبَرُ؟ قَالَ: ((اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا، وَھُوَ خَلَقَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مِنْ اَجْلِ اَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیْلَۃِ جَارِکَ۔)) قَالَ: فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ تَصْدِیْقَ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِہٖ {وَالّذِیْنَ لَایَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہً آخَرَ… اِلٰی قَوْلِہِ … وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا} [الفرقان: ۶۸] (مسند احمد: ۴۱۰۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، جبکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے بچے کو اس وجہ سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی اہلیہ سے زنا کرے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تصدیق اپنی کتاب میں ان الفاظ میں نازل فرما دی: اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئییہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔ (سورۂ فرقان: ۶۸)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9680

۔ (۹۶۸۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلْکَبَائِرُ، اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ، اَوْ قَتْلُ النَّفْسِ۔))، شُعْبَۃُ الشَّاکُ: ((الْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ۔)) (مسند احمد: ۶۸۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا یا جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم۔ امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9681

۔ (۹۶۸۱)۔ عَنْ سَلَمۃَ بْنِ قَیْسٍ الْاَشْجَعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوِدَاعِِ: ((اَلَا اِنّمَا ھُنَّ اَرْبَعٌ، اَنْ لَّا تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیئاً ، وَلَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوْا، وَلَا تَسْرِقُوْا۔)) قَالَ: فَمَا اَنَا بِاَشَحَّ عَلَیْھِنَّ مِنِّیْ اِذَا سَمِعْتُھُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔(مسند احمد: ۱۹۱۹۹)
۔ سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبر دار! صرف چار چیزیں ہیں: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ، زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو۔ پھر سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ہی ان کا سب سے بڑا حریص ہوں، کیونکہ میں نے خود ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9682

۔ (۹۶۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروِ بْنِ وَالْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلظُّلْمُ ظُلْمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاِیَّاکُمْ الْفُحْشَ، فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ، وَاِیَّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّ الشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، اَمَرَھُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجَرُوْا۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلُ اللہ! اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اَنْ یَسْلَمَ الْمُسْْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِکَ وَیَدِکَ۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۴۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اِس نے ان کو بخل پر آمادہ کیا، پس انھوں نے بخل کیا اور اس نے ان کو برائیوں کا حکم دیا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہ دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9683

۔ (۹۶۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، رَفَعَہُ سُفْیَانُ، وَوَقَفَہُ مِسْعَرٌ، قَالَ: ((مِنَ الْکَبَائِرِ اَنْ یَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَیَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ: ((یَسُبُّ اَبَا الرَّجُلِ، فَیَسُبُّ اَبَاہُ، وَیَسُبُّ اُمَّہُ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ لوگوں نے کہا: بھلا آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دیتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کسی کے باپ کو برا بھلا کہتا ہے، وہ جواباً اس کے باپ کو برا بھلا کہتاہے، یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔سفیان راوی نے اس حدیث کو مرفوعاً اور مسعر نے موقوفاً بیان کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9684

۔ (۹۶۸۴)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ )۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَکْبَرَ الْکَبَائِرِ، عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) قَالَ: قِیْلَ مَاعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ؟ قَالَ: ((یَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَیَسُبُّ اَبَاہُ، وَیَسُبُّ اُمَّہُ، فَیَسُبُّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۰۰۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک والدین کی نافرمانی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ کسی نے کہا: والدین کی نافرمانی سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو برا بھلا کہے اور وہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے اس کے باپ کو برا بھلا کہے، اور یہ اُس کی ماں کو گالی دے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9685

۔ (۹۶۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَلْعُوْنٌ مَنْ سَبَّ اَبَاہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْْ سَبَّ اُمَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کو گالی دی، وہ ملعون ہے، جس نے اپنی ماں کو برا بھلا کہا، اس پر لعنت کی گئی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9686

۔ (۹۶۸۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَلِجُ حَائِطَ الْقُدُسِ مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا الْعَاقُّ لِوَالِدَیْہِ، وَلَا الْمَنَّانُ عَطَائَ ہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۹۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شراب پینے پر ہمیشگی کرنے والا، والدین کی نافرمانی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا پاکیزہ باغ یعنی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9687

۔ (۹۶۸۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌ، وَلَامُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مُکَذِّبٌ بِقَدَرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۲)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین کی نافرمانی کرنے والی، شراب پر ہمشیگی اختیار کرنے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9688

۔ (۹۶۸۸)۔ عَنْ مُعَاذِ ابْنِ اَنَسٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عِبَادًا لَایُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ۔)) قِیْلَ لَہُ: مَنْ اُوْلٰئِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَیْہِ، رَاغِبٌ عَنْھُمَا، وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِہِ، وَرَجُلٌ اَنْعَمَ عَلَیْہِ قَوْمٌ فَکَفَرَ نِعْمَتَھُمْ وَتَبَّرَاَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۲۱)
۔ سیدنا معاذبن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: والدین سے براء ت کا اظہار کرنے والا، ان سے بے رغبتی کرنے والا، اپنی اولاد سے اظہارِ براء ت کرنے والا اور وہ آدمی جس پر کسی قوم نے انعام کیا، لیکن وہ ان کے انعام کی ناشکری کرے اور ان سے براء ت کا اظہار کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9689

۔ (۹۶۸۹)۔ عَنْ سَعیْدٍ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مِنْ اَرْبَی الرِّبَا الْاِسْتَطَالَۃُ فِیْ عِرْضِ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ، وَاِنَّ ھٰذِہِ الرَّحِمَ شِجْنَۃٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ، فَمَنْ قَطَعَھَا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۱)
۔ قطع رحمی، صلہ رحمی کی ضد ہے اور صلہ رحمی کا مفہوم یہ ہے کہ تمام رشتہ داروں کو خیر پہنچانے کے لیے اور ان سے شرّ کو رفع کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی جائے، یہ عمل جتنا اہم اور ضروری تھا، عصر حاضر میں اس سے اتنی ہی غفلت برتی گئی، حدیث نمبر (۹۰۴۹) والے باب میںصلہ رحمی کی فضیلت پر مشتمل احادیث ِ مبارکہ گزر چکی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9690

۔ (۹۶۹۰)۔ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَارِظٍ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ اَنَّہُ دَخَلَ عَلَی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَھُوَ مَرِیْضٌ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: وَصَلَتْکَ رَحِمٌ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا الرَّحْمٰنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَشَقَّقْتُ لَھَا مِنْ اِسْمِیْ، فَمَنْ یَصِلْھَا اَصِلْہُ، وَمَنْ یَقْطَعْھَا اَقْطَعْہُ فَاَبُتَّہُ اَوْ قَالَ: مَنْ یَبُتَّھَا اَبُتَّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹)
۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی زیادتییہ ہے کہ آدمی کسی حق کے بغیر اپنے بھائی کی عزت پر دست درازی کرے، اور بے شک یہ صلہ رحمی رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو کاٹے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9691

۔ (۹۶۹۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُوْضَعُ الرَّحِمُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَھَا حُجْنَۃٌ کَحُجْنَۃِ الْمِعْزَلِ،تَتَکَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ،فَتَصِلُ مَنْ وَصَلَھَا، وَتَقْطَعُ مَنْ قَطَعَھَا۔)) وَقَالَ عَفَّانُ: الْمِعْزَلُ وَقَالَ: بِاَلْسِنَۃٍ لَھَا۔ (مسند احمد: ۶۷۷۴)
۔ عبداللہ بن قارظ ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ مریض تھے، انھوں نے آگے سے اس کو کہا:صلہ رحمی تجھ تک پہنچ گئی ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں۔ میں نے رحم (یعنی قرابتداری) کو پیدا کیااور اپنے نام سے اُس کا اشتقاق کیا، جس نے اُس کو ملایا میں اُس کو ملاؤں گااورجس نے اُس کو کاٹا میں اُس کو کاٹ دوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9692

۔ (۹۶۹۲)۔ عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ ذَنْبٍ اَحْرٰی اَنْ یُّعَجِّلَ اللّٰہُ بِصَاحِبَہِ الْعُقُوْبَۃَ مَعَ مَایُؤَخِّرُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَعَ مَایُدَّخَرُ ) لَہُ فِیْ الْاٰخِرَۃِ مِنْ بَغْیٍ اَوْ قَطِیْعَۃِ رَحِمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۴۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کو روزِ قیامت اس طرح رکھا جائے گا کہ کاتنے کی مشین کے تکلے کے سر پر لگی ہوئی ٹیڑھی کی طرح اس کی ایک چیز ہو گی، وہ جلدی اور فصاحت کے ساتھ باتیں کرے گی اور اس چیز کے ساتھ صلہ رحمی کرنے والے کو ملا لے گی اور اس کو نہ ملانے والے کو کاٹ دے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9693

۔ (۹۶۹۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ّّّ((دَنْبَانِ مُعَجَّلَانِ لَایُؤَخَّرَانِ: اَلْبَغْیُ وَقَطِیْعَۃُ الرَّحِمِ)) (مسند احمد: ۲۰۶۵۱)
۔ ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بغاوت (وظلم) اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں کہ جس کے بارے میں زیادہ مناسب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرے اور آخرت میں بھی (عذاب دینے کے لیے) اس (گناہ) کو ذخیرہ کر لے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9694

۔ (۹۶۹۴)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ قَامَتِ الرَّحِمُ، فَاَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمٰنِ قَالَتْ: ھٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِیْعَۃِ، قَالَ: اَمَا تَرْضٰی اَنْ اَصِلَ مَنْ وَصَلَکِ وَاَقْطَعُ مَنْ قَطَعَکِ، اِقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ، {فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتَقْطَعُوْا اَرْحَامَکُمْ اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمٰی اَبْصَارَھُمْ اَفَـلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا} (مسند احمد: ۸۳۴۹)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو گناہوں کی سزا جلدی دی جاتی ہے، اس میں تاخیر نہیں کی جاتی: بغاوت (وظلم) اور قطع رحمی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9695

۔ (۹۶۹۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَعْمَالَ بَنِیْ آدَمَ تُعْرَضُ کُلَّ خَمِیْسٍ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ، فَـلَا یُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۷)
۔ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو صلہ رحمی اللہ کی کمر پکڑکر کھڑی ہو گئی اور کہا : قطع رحمی سے پناہ طلب کرنے والے کا یہ مقام ہے، اللہ نے فرمایا: ہاں۔کیا تو (اس منقبت پر)راضی نہیں ہو گی کہ جس نے تجھے ملایا میں بھی اُس کو ملائوںگا اور جس نے تجھے کاٹا میں بھی اُسے کاٹ دوں گا؟ اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کییہ آیت پڑھ لو: اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی بصارت اللہ تعالیٰ نے چھین لی ہے۔ کیایہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9696

۔ (۹۶۹۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((الرَّحِمُ شُجْنَۃٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، تَجِیْئُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، تَقُوْلُ: یَا رَبِّ قُطِعْتُ یَارَبِّ ظُلِمْتُ یَارَبِّ اُسِیئَ اِلَیَّ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: ) فَیُجِیْبُھَا الرَّبُّ اَمَا تَرْضِیْنَ اَنْ اَصِلَ مَنْ وَصَلَکَ،وَاَقْطَعَ مَنْ قَطَعَکِ۔))(مسند احمد: ۹۸۷۱)
۔ ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہرجمعرات یعنی جمعہ والی رات کو بنو آدم کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، قطع رحمی کرنے والے کا عمل قبول نہیں ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9697

۔ (۹۶۹۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلرَّحِمُ مَنْ وَصَلَھَا وَصَلَہُ اللّٰہُ، وَمَنْ قَطَعَھَا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۴۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رشتہ داری، رحمن کی ایک شاخ ہے، یہ قیامت کے دن آ کر کہے گی: اے میرے ربّ! مجھے کاٹ دیا گیا، اے میرے ربّ! مجھ پر ظلم کیا گیا، اے میرے ربّ ! میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا، پس اللہ تعالیٰ اس کو جواب دے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہو جائے گی کہ جس نے تجھے ملایا، میں بھی اس کو ملا لوں اور جس نے تجھے کاٹا، میں بھی اس کو کاٹ دوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9698

۔ (۹۶۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، فَـلَا یُؤْذِیَنَّ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہَ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَسْکُتْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) اَوْ لِیَصْمُتْ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رشتہ داری کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو ملا لے گا اور جو رشتہ داری کو کاٹے گا، اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9699

۔ (۹۶۹۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ فُلَانَۃَیُذْکَرُ مِنْ کَثْرَۃِ صَلَاتِھَا وَصِیَامِھَا وَصَدَقَتِھَا، غَیْرَ اَنَّھَا تُؤْذِیْ جِیْرَانَھَا بِلِسَانِھَا، قَالَ: ((ھِیَ فِیْ النَّارِ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنَّ فُلَانَۃَیُذْکَرُ مِنْ قِلَّۃِ صِیَامِھَا وَصَدَقَتِھَا وَصَلَاتِھَا، وَاِنَّھَا تَصَدَّقُ بِالْاَثْوَارِ مِنَ الْاَقِطِ، وَلَا تُؤْذِیْ جِیْرَانَھَا قَالَ: ((ھِیْ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ ہر گز اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرےیا پھر خاموش رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9700

۔ (۹۷۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوَّلُ خَصْمَیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ جَارَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! فلاں عورت کی نماز، روزے اور صدقے کی تو بڑی مشہوری ہے، لیکن وہ زبان سے اپنے ہمسائیوں کو تکلیف دیتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کے بارے یہ بات تو کہی جاتی ہے کہ اس کے روزوں، صدقے اور نماز کی مقدار کم ہے، وہ صرف پنیر کے ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے، البتہ وہ ہمسائیوں کو تکلیف نہیں دیتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9701

۔ (۹۷۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ، فَاِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ اِذَا شَائَ اَنْ یُزَالَ زَالَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۳۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن سب سے پہلے دو جھگڑا کرنے والے دو ہمسائے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9702

۔ (۹۷۰۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ۔)) قَالُوْا: وَمَاذَاکَ یارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلْجَارُ لَایَاْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا بَوَائِقُہُ؟ قَالَ: ((شَرُّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۸۶۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اپنی مستقل) قیام گاہ کے پڑوسی کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ اگر آدمی مسافر ہو تو وہ (برے پڑوسی) سے جب چاہے جدا ہو سکتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9703

۔ (۹۷۰۳)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَبْدٌ، لَایَاْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۸۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ آدمی مؤمن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ آدمی صاحب ِ ایمان نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہمسایہ کہ جس کے شرور سے اس کے ہمسائے امن میں نہ ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا شر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9704

۔ (۹۷۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کَیْفَ لِیْ؟ اَنْ اَعْلَمَ اِذَا اَحْسَنْتُ، وَاِذَا اَسَاْتُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سَمِعْتَ جِیْرَانَکَیَقُوْلُوْنَ: قَدْ اَحْسَنْتَ، فَقَدْ اَحْسَنْتَ، وَاِذَا سَمِعْتُمْ یَقُوْلُوْنَ: قَدْ اَسَاْتَ، فَقَدْ اَسَاْتَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ بندہ جنت میں نہیں جائے گا، جس کے ہمسائے اس کے شرّ سے محفوظ نہ ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9705

۔ (۹۷۰۵)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ سَدُوْسٍ، یُقَالُ لَہُ: دَیْسَمٌ، قَالَ: قُلْنَا: لِبَشِیْرِ بْنِ الْخَصَاصِیَۃِ، قَالَ: وَمَاکَانَ اِسْمُہُ بَشِیْرًا، فَسَمَّاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَشِیْرًا، اِنَّ لَنَا جِیْرَۃً مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ لَاتَشُذُّ لَنَا قَاصِیَۃٌ اِلَّا ذَھَبُوْا بِھَا، وَاِنَّھَا تُخَالِفُنَا مِنْ اَمْوَالِھِمْ اَشْیَائُ اَفَنَاْخُذُ؟ قَالَ: لَا ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۶)
۔ حضرت عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب میں نیکی کروں اور جب میں برائی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ میں نے نیکییا برائی کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے پڑوسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی ہے، تو تونے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9706

۔ (۹۷۰۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ بَکٰی، فَقِیْلَ لَہُ: مَایُبْکِیْکَ؟ قَالَ: شَیْئًا سَمِعْتُہُ ِمنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُہُ فَذَکَرْتُہُ فَاَبْکَانِیْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَتَخَوَّفُ عَلٰی اُمَّتِی الشِّرْکَ وَ الشَّھْوَۃَ الْخَفِیَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتُشْرِکُ اُمَّتُکَ مِنْ بَعْدِکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، اَمَا اِنَّھُمْ لَایَعْبُدُوْنَ شَمْسًا، وَلَا قَمَرًا، وَلَا حَجَرًا، وَلَا وَثَنًا، وَلٰکِنْ یُرَائُوْنَ بِاَعْمَالِھِمْ، وَالشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ اَنْ یُصْبِحَ اَحَدُھُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَہُ شَھْوَۃٌ مِنْ شَھَوَاتِہِ فَیَتْرُکُ صَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۵۰)
۔ عبادہ بن نُسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے، کسی نے ان سے کہا: تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ یاد آ گئی تھی، اس لیے رونے لگ گیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میں اپنی امت پر شرک اور مخفی شہوت کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خبردار! وہ سورج، چاند، پتھراور بت کی عبادت نہیں کرے گی، وہ اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کریں گے اور مخفی شہوت یہ ہے کہ بندہ صبح کو روزہ رکھے، پھر اس کی کوئی شہوت اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ روزہ توڑ دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9707

۔ (۹۷۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدِ بْنِ اَبِیْ فَضَالَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، وَکَانَ مِنَ الصَّحَابَۃِ اَنَّہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِذَا جَمَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ لِیَوْمٍ لَارَیْبَ فِیْہِ،یُنَادِیْ مُنَادٍ: مَنْ کَانَ اَشْرَکَ فِیْ عَمَلٍ عَمَلَہُ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَحَدًا فَلْیَطْلُبْ ثَوَابَہُ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَغْنَی الشُّرَکَائِ عَنِ الشِّرْکِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۴۷)
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابی سعید بن ابو فضالہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: جس بندے نے اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا، لیکن اس نے اس میں کسی اور کو بھی شریک کر دیا تھا تو وہ اُسی غیر اللہ کے پاس اس کا ثواب تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: میں شریکوں میں شرک سے سب سے بڑھ کر غنی ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9708

۔ (۹۷۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا خَیْرُ الشُّرَکَائِ مَنْ عَمِلَ لِیْ عَمَلًا فَاَشْرَکَ غَیْرِیْ، فَاَنَا مِنْہُ بَرِیْئٌ وَھُوَ لِلَّذِیْ اَشْرَکَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں شرکاء میں بہترین شریک ہوں، جو میرے لیے عمل کرتا ہے اور پھر اس میں میرے غیر کو بھی شریک کر لیتا ہے تو میں اس سے بری ہو جاتا ہوں اور وہ اسی کے لیے ہو جاتا ہے، جس کو وہ شریک کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9709

۔ (۹۷۰۹)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ النَّضْرِ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیْدِ،یَعْنِی ابْنَ بَھْرَامَ، قَالَ: قَالَ شَھْرُ بْنُ حَوْشَبٍ: قَالَ ابْنُ غَنَمٍ: لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِیَۃِ اَنَا وَاَبُوْالدَّرْدَائِ لَقِیْنَا عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ، فَاَخَذَیَمِیْنِیْ بِشِمَالِہِ وَشِمَالَ اَبِی الدَّرْدَائِ بِیَمِیْنِہِ فَخَرَجَ یَمْشِیْ بَیْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِیْ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ فِیْمَا نَتَنَاجٰی وَذٰلِکَ قَوْلُہُ: فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ: لَئِنْ طَالَ بِکُمَا عُمْرُ اَحَدِ کُمَا اَوْ کِلَا کُمَا لَتُوْشِکَانِّ اَنْ تَرَیَا الرَّجُلَ مِنْ ثَبَجِ الْمُسْلِمِیْنَ،یَعْنِیْ مِنْ وَسْطٍ، قَرَئَ الْقُرْآنَ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَلٰی لِسَانِ اَخِیْہِ قِرَائَۃً عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَاَعَادَہُ وَاَبْدَاہُ وَاَحَلَّ حَلَالَہُ وَحَرَّمَ حَرَامَہُ وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِہِ لَایَحُوْرُ فِیْکُمْ اِلَّا کَمَا یَحُوْرُ رَاْسُ الْحِمَارِ الْمَیِّتِ، قَالَ: فَبَیْنَا نَحْنُ کَذٰلِکَ، اِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ اَوْسٍ وَعَوْفُ بْنُ مَالِکٍ فَجَلَسَا اِلَیْنَا، فَقَالَ شَدَّادٌ : اِنَّ اَخْوَفَ مَااَخَافُ عَلَیْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مِنَ الشَّھْوَۃِ الْخَفِیَّۃِ وَالشِّرْکِ۔)) فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ وَاَبُوْ الدَّرْدَائِ: اَللّٰھُمَّ غَفْرًا، اَوَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ حَدَّثَنَا اَنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ یَئِسَ اَنْ یُعْبَدَ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرْبِ؟ فَاَمَّا الشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ فَقَدْ عَرَفْنَاھَا ھِیَ شَھَوَاتُ الدُّنْیَا مِنْ نِسَائِھَا وَشَھَوَاتِھَا، فَمَا ھٰذَا الشِّرْکُ الَّذِیْ تُخَوِّفُنَا بِہٖیَا شَدَّادُ؟ فَقَالَ شَدَّادٌ: اَرَاَیْتُکُمْ لَوْ رَاَیْتُمْ رَجُلًا یُصَلِّیْ لِرَجُلٍ، اَوْ یَصُوْمُ لَہُ، اَوْ یَتَصَدَّقُ لَہُ، اَتَرَوْنَ اَنَّہُ قَدْ اَشْرَکَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ! وَاللّٰہِ اِنَّ مَنْ صَلَّی لِرَجُلٍ اَوْ صَامَ لَہُ، اَوْ تَصَدَّقَ لَہُ، فَقَدْ اَشْرَکَ، فَقَالَ شَدَّادٌ: فَاِنِّیْ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ صَلّٰییُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، فَقَالَ عَوْفُ بْنِ مَالِکٍ عِنْدَ ذٰلِکَ: اَفَـلَا یَعْمِدُ اِلٰی مَاابْتُغِیَ فِیْہِ وَجْھُہُ مِنْ ذٰلِکَ الْعَمَلِ کُلِّہِ فَیَقْبَلَ مَاخَلَصَ لَہُ وَیَدَعَ مَایُشْرِکُ بِہٖ؟فَقَالَشَدَّادٌعِنْدَذٰلِکَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَنَا خَیْرُ قَسِیْمٍ لِمَنْ اَشْرَکَ بِیْ، مَنْ اَشْرَکَ بِیْ شَیْئًا فَاِنَّ حَشْدَہُ عَمَلَہُ قَلِیْلَہُ وَکَثِیْرَہُ لِشَرِیْکِہِ الَّذِیْ اَشْرَکَ بِہٖ،وَاَنَاعَنْہُغَنِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷۰)
۔ ابن غنم کہتے ہیں: جب میں اور سیدنا ابو درداء جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے، انھوں نے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم سرگوشی کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم کس چیز میں سرگوشی کر رہے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم میں سے ایک کییا دونوں کی عمر لمبی ہو گئی تو ممکن ہے کہ تم یہ دیکھو کہ درمیانے قسم کے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک آدمی ہو گا، وہ محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان کے مطابق قرآن مجید پڑھے گا، پھر وہ اس کو بار بار پڑھے گا اور اس کو ظاہر کرے گا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے گا اور اس کے احکام کا پابند رہے گا، لیکن پھر بھی وہ تمہارے پاس اتنی خیر لائے گا، جتنی کہ مردار گدھے کا سر لاتا ہے، (یعنی وہ آدمی ذرا برابر خیر و بھلائی لے کر نہیں آئے گا)۔ ہم اسی اثنا میں تھے کہ سیدنا شداد بن اوس اور سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے، سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس چیز کا ہے، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مخفی شہوت اور شرک ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اے اللہ! بخشنا، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ شیطان اس چیز سے ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں اس کی عبادت کی جائے؟ البتہ مخفی شہوت کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی شہوات ہوتی ہیں، ان کا تعلق عورتوں سے اور ان کی شہوات سے ہوتا ہے، لیکن شداد! یہ شرک کیا چیز ہے، جس کے بارے میں تم ہمیں ڈرا رہے ہو؟ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اچھا اس کے بارے میں تم مجھے بتلاؤ کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھ رہا ہو، یا روزہ رکھ رہا ہو، یا صدقہ کر رہا ہو، کیا اس کے بارے میںتمہاری رائے یہی ہے کہ اس نے شرک کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! جس آدمی نے کسی آدمی کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی،یا روزہ رکھا، یا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے صدقہ کیا، اس نے شرک کیا۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیااس طرح نہیں ہو گا کہ اس کے وہ اعمال دیکھے جائیں جو اس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے کیے ہوں اور ان کو قبول کر لیا جائے اور شرکیہ اعمال کو چھوڑ دیا جائے؟ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے میرے ساتھ شرک کیا، میں اس کا سب سے بہترین قسیم اور حصہ دار ہوں، جس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرایا تو اس آدمی کے اعمال کی ساری جمع پونجی، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اس کے اس ساجھی کے لیے ہو جائے گی، جس کے ساتھ وہ شرک کرے گا اور میں (اللہ) اس سے غنی ہوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9710

۔ (۹۷۱۰)۔ عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَمَّعَ، سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖ،وَمَنْرَاآرَاآاللّٰہُبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۷۳۰)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مشہور کر دے گا اور جس نے (خلافِ حقیقت) نیکی کا اظہار کرنا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار کروا دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9711

۔ (۹۷۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھِنْدٍ الدَّارِیِّ، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ قَامَ مَقَامَ رِیَائٍ وَسُمْعَۃٍ رَاآ اللّٰہُ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَسَمَّعَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۸)
۔ سیدنا ابوہند داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ریاکای اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا اظہار کروا دے گا اور اس کو مشہور کر دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9712

۔ (۹۷۱۲)۔ عَنْ عبد اللّٰہِ بْنِ عَوْفٍ الْکِنَانِیِّ، وَکَانَ عَامِلًا لِعُمَرَبْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ عَلَی الرَّمْلَۃِ اَنَّہُ شَھِدَ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِبَشِیْرِ بْنِ عَقْرَبَۃَ الْجُھَنِیِّیَوْمَ قُتِلَ عَمْرُوبْنُ سَعیْدِ بْنِ الْعَاصِ: یَا اَبَا الْیَمَانِ! قَدِ احْتَجْتُ الْیَوْمَ اِلٰی کَلَامِکَ، فَقُمْ فَتَکَلَّمْ قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ قَامَ بِخُطْبَۃٍ لَا یَلْتَمِسُ بِھَا اِلَّا رِیَائً وَسُمْعَۃً، اَوْقَفَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَوْقِفَ رِیَائٍ، وَسُمْعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۰)
۔ عبد اللہ بن عوف کنانی، جو کہ عمر بن عبد العزیزi کی طرف سے رملہ پر عامل تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبد الملک بن مروان کے پاس موجود تھا، اس نے عمرو بن سعید بن عاص کے قتل والے دن بشیر بن عقربہ جہنی سے کہا: اے ابو الیمان! آج مجھے تیرے کلام کی ضرورت پڑ گئی ہے، لہٰذا اٹھو اور کوئی بات کرو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو خطاب کرنے کے لیے کھڑا ہوا، جبکہ کا اس کا مقصد صرف ریاکاری اور شہرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ریاکاری اور شہرت والے مقام پر کھڑا کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9713

۔ (۹۷۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِہِ، سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖسَامِعَخَلْقِہِوَصَغَّرَہُوَحَقَّرَہُ۔)) قَالَ: فَذَرَفَتْعَیْنَا عَبْدِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۶۵۰۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کے سامنے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کے سامنے مشہور کر دے گا، لیکن پھر اس کو گھٹیا اور حقیر کر دے گا۔ پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9714

۔ (۹۷۱۴)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، قَالَ: تَفَّرَجَ النَّاسُ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ لَہُ نَاتِلٌ الشَّامِیُّ: اَیُّھَا الشَّیْخُ! حَدِّثْنَا حَدِیْثًا سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ یُقْضٰی فِیْہِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثَلَاثَۃٌ، رَجُلٌ اسْتُشْھِدَ فَاُتِیَ بِہٖفَعَرَّفَہُنِعَمَہُفَعَرَفَھَافَقَالَ: وَمَاعَمِلْتَفِیْھَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِیْکَ حَتّٰی قُتِلْتُ، قَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِیُقَالَ ھُوَ جَرِیئٌ، فَقَدْ قِیْلَ، ثُمَّ اُمِرِ بِہٖفَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ، حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَہُ، وَقَرَاَ الْقُرْآنَ، فَاُتِیَ بِہٖلِیُعَرِّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا، فَقَالَ: مَاعَمِلْتَ فِیْھَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ مِنْکَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُہُ وَقَرَاْتُ فِیْکَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ لِیُقَالَ : ھُوَ عَالِمٌ فَقَدْ قِیْلَ، وَقَرَاْتَ الْقُرْآنَ، لِیُقَالَ: ھُوَ قَارِیٌ، فَقَدْ قِیْلَ، ثُمَّ اُمِرِ بِہٖفَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ، ورَجُلٌ وَسَّعَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَاَعْطَاہُ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّہِ، فَاُتِیَ بِہٖفَعَرَّفَہُنِعَمَہُفَعَرَفَھَا،فَقَالَ: مَاعَمِلْتَفِیْھَا؟ قَالَ: مَاتَرَکْتُ مِنْ سَبیْلِ تُحِبُّ اَنْ یُنْفَقَ فِیْھَا اِلَّا انْفَقْتُ فِیْھَا لَکَ، قَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ فَعَلْتَ ذٰلِکَ لِیُقَالَ: ھُوَ جَوَّادٌ، فَقَدْ قِیْلَ: ثُمَّ اُمِرِ بِہٖفَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ، حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد:۸۲۶۰)
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: جب لوگ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ارد گرد سے بکھر گئے تو اہل شام کے ایک ناتل نامی آدمی نے کہا: محترم! ہمیں کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے روز سب سے پہلے ان (تین قسم کے) افراد کا فیصلہ کیا جائے گا: (۱)جس آدمی کو شہید کیا گیا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو کیا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا،حتی کہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھو ٹ بول رہا ہے، تو نے تو اس لئے جہاد کیا تھا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے اور ایسے (دنیا میں) کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۲) علم سیکھنے سکھانے اور قرآن مجید پڑھنے والا آدمی، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیری خاطر علم سیکھا سکھایا اور تیرے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، حصولِ علم سے تیرا مقصدیہ تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا کہ قاری کہا جائے، سو ایسے تو کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۳)وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے خوشحال و مالدار بنایا اور اسے مال کی تمام اقسام عطا کیں، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کروائے گا ، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: جن مصارف میں خرچ کرنا تجھے پسند تھا، میں نے ان تمام مصارف میں تیرے لئے خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تیرا خرچ کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے او روہ تو کہہ دیا گیا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا، جس کے مطابق اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9715

۔ (۹۷۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَبِیْتُ عِنْدَہُ، تَکُوْنُ لَہُ الْحَاجَۃُ، وَیَطْرُقُہُ اَمْرٌ مِنَ اللَّیْلِ فَیَبْعَثُنَا فَیَکْثُرُ الْمُحْتَسِبُوْنَ وَاَھْلُ النُّوْبِ، فَکُنَّـا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ: ((مَاھٰذِہِ النَّجْوٰی؟ اَلَمْ اَنْھَکُمْ عَنِ النَّجْوٰی؟)) قَالَ: قُلْنَا نَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنّمَا کَانَ فِیْ ذِکْرِ الْمَسِیْحِ فَرَقًا مِنْہُ، فَقَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا ھُوَ اَخْوَفُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْمَسِیْحِ عِنْدِیْ؟)) قَالَ: قُلْنَا بَلٰی! قَالَ: ((الشِّرْکُ الْخَفِیُّ، اَنْ یَقُوْمَ الرَّجُلُ یَعْمَلُ لِمَکَانِ رَجُلٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۷۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جانے کی باریاں مقرر کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رات گزارتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی ضرورت پڑتی تھی اور رات کو کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو ہمیں اٹھا دیتے تھے، اس طرح ثواب کی خاطر آنے والوں اور باری والوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی، ایک رات ہم گفتگو کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ سرگوشی ہو رہی ہے؟ میں نے تم کو سرگوشی سے منع نہیں کیا تھا؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور دجال سے ڈرتے ہوئے اس کی بات کر رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دے دوں، جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف والی ہے؟ ہم نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی،یعنی کسی آدمی کے مرتبے کی خاطر عمل کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9716

۔ (۹۷۱۶)۔ عَنِ ابْنِ الْاَدْرَعٍِ، قَالَ: کُنْتُ اَحْرُسُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَـْیلَۃٍ، فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ، قَالَ: فَرَآنِیْ فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلٰی رَجُلٍ یُصَلِّیْیَجْھَرُ بِالْقُرَآنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَسٰی اَنْیَکُوْنَ مُرَائِیًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! یُصَلِّیْیَجْھَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ: فَرَفَضَ یَدِیْ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّکُمْ لَنْ تَنَالُوْا ھٰذَا الْاَمْرَ بِالْمُغَالَبَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَـْیلَۃٍ وَ اَنَا اَحْرُسُہُ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَمَرَرْنَا عَلٰی رَجُلٍ یُصَلِّیْ بِالْقُرآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ: عَسٰی اَنْ یَکُوْنَ مُرَائِیًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَلَّا اِنَّہُ اَوَّابٌ۔)) قَالَ: فَنَظَرْتُ فَاِذَا ھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ ذُوْالْبِجَادَیْنِ ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۰)
۔ سیدنا ابن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کے لیے نکلے، جب مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ لیا، پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند تلاوت کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ یہ ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ قرآن کی بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے، (بھلا اس میں کیا حرج ہے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا: تم اس دین کو غلبے کے ساتھ نہیں پا سکتے۔ وہ کہتے ہیں: پھر ایکرات کو ایسے ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی ضرورت کے لیے نکلے، جبکہ میں ہی پہرہ دے رہا تھا، (اسی طرح) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (اور ہم چل پڑے) اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ اب کی بار میں نے کہا: قریب ہے کہ یہ شخص ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (میرا ردّ کرتے ہوئے) فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو بہت توبہ کرنے والا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبد اللہ ذو االبجادین تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9717

۔ (۹۷۱۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ اِیْمَانٍ، وَلَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثَقَالُحَبَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَیُعْجِبُنِیْ اَنْ یَکُوْنَ ثَوْبِیْ غَسِیْلًا، وَرَاْسِیْ دَھِیْنًا، وَشِرَاکُ نَعْلِیْ جَدِیْدًا، وَذَکَرَ اَشْیَائً، حَتّٰی ذَکَرَ عِلَاقَۃَ سَوْطِہِ،اَفَمِنَ الْکِبْرِ ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((لَا، ذَاکَ الْجَمَالُ، اِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، وَلٰکِنَّ الْکِبْرَ، مَنْ سَفِہَ الْحَقَّ، وَازْدَرَی النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۳۷۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں ، سر پر تیل لگا ہوا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیاہو، پھر اس نے مزید کچھ اشیا کا ذکر بھی کیا،یہاں تک کہ کوڑا لٹکانے کے حلقے کی بات کی، تو کیایہ چیزیں تکبر سے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو جمال ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظر حقارت دیکھا جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9718

۔ (۹۷۱۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَمُوْتُ حِیْنَیَمُوْتُ وَفِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ تَحِلُّ لَہُ الْجَنَّۃُ، اَنْ یَرِیْـحَ رِیْـحَھَا وَلَا یَرَاھَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍیُقَالُ لَہُ اَبُوْ رَیْحَانَۃَ: وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُحِبُّ الْجَمَالَ، وَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۰۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو تو جنت اس کے لیے اس قدر بھی حلال نہیں ہو گی کہ وہ اس کی خوشبو پا سکے یا اس کو دیکھ سکے۔ قریش کے ابو ریحانہ نامی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں تو حسن و جمال کو پسند کرتا ہوں، …۔ پھر سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9719

۔ (۹۷۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ رَیْحَانَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَدْخُلُ شَیْئٌ مِنَ الْکِبْرِ الْجَنَّۃَ۔)) فَقَالَ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَتَجَمَّلَ بِحَبْلَانِ سَوْطِیْ وَشِسْعِ نَعْلِیْ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ ذٰلِکَ لَیْسَ بِالْکِبْرِ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، اِنّمَا الْکِبْرُ مَنْ سَفَہَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَیْنَیْہِ۔)) یَعْنِیْ بِالْحَبْلَانِ سَیْرَ السَّوْطِ وَشِسْعَ النَّعْلِ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۳۹)
۔ سیدنا ابو ریحانہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی۔ ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اپنے کوڑے کے دھاگے یا چمڑے اور اپنے جوتے کے تسمے کے ساتھ جمال حاصل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظرِ حقارت دیکھا جائے۔ حَبْلَان سے مراد کوڑے کا چمڑا یا دھاگہ ہے اور جوتے کا تسمہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9720

۔ (۹۷۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُوْحًا لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ لِاِبْنِہِ: اِنِّیْ قَاصٌّ عَلَیْکَ الْوَصِیَّۃَ، آمُرُکَ بِاثْنَتَیْنِ، وَاَنْھَاکَ عَنِ اثْنَیْنِ، آمُرُکَ بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ (فَذَکَرَ فَضْلَھَا) وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ (فَذَکَرَ فَضْلَھَا) ثُمَّ قَالَ: وَاَنْھَاکَ عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ۔)) قَالَ: قُلْتُ اَوْ قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا الشِّرْکُ قَدْ عَرَفْنَاہُ، فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: اَنْیَکُوْنَ لِاَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَھُمَا شِرَاکَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: ھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا حُلَّۃٌیَلْبَسُھَا؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ:الْکِبْرُ ھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا دَابَّۃٌیَرْکَبُھَا؟ قَالَ: ((لا۔)) قَالَ: اَفَھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا اَصْحَابٌ یَجْلِسُوْنَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قِیَلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: ((سَفْہُ الْحَقِّ، وَغَمْصُ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: بیشک میں تجھے ایک وصیت کرنے لگا ہوں، میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے منع کرتا ہوں، میں تجھے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، پھر اس کلمہ کی فضیلت بیان کی اور میں تجھے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ کی وصیت کرتا ہوں، پھر اس کی فضیلت کا ذکر کیا اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچانتے ہیں،یہ تکبر کیا ہے؟ کیایہ ہے کہ بندے کے اچھے جوتے ہوں اور ان کے اچھے تسمے ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیایہ ہے کہ بندے کی پوشاک ہو، جس کو وہ زیب ِ تن کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا تکبر یہ ہے کہ بندے کے پاس چوپایہ ہو، جس پر سوار ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: کیا پھر تکبر یہ ہے کہ بندے کے ساتھی ہوں، جو اس کے ساتھ بیٹھا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9721

۔ (۹۷۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ حَیَّان،عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اِلْتَقَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْروٍ (یَعْنِی ابْنَ الْعَاصِ) وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ اَقْبَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَھُوَ یَبْکِیْ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَایُبْکِیْکَیَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: الّذِیْ حَدَّثَنِیْ ھٰذَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ اِنْسَانٌ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) (مسند احمد: ۶۵۲۶)
۔ ابو حیان کے باپ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی ملاقات ہوئی، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما متوجہ ہوئے اور رونے لگ گئے، لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: اس چیز کی وجہ سے، جو انھوں نے مجھے بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9722

۔ (۹۷۲۲)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اِلْتَقٰی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْروٍ بْنِ الْعَاصِ عَلَی المَرْوَۃِ، فَتَحَدَّثَا، ثُمَّ مَضٰی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، وَبَقِیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَبْکِیٰ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: مَا یُبْکِیْکَیَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: ھٰذَا، یَعْنِیْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، زَعَمَ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ، اَکَبَّہُ اللّٰہُ عَلٰی وَجْھِہِ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۱۵)
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروہ پر سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی ملاقات ہوئی، ان دونوں نے باتیں کیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چلے گئے اور پیچھے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگ گئے، ایک بندے نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ کہہ گئے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو چہرے کے بل جہنم میں گرائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9723

۔ (۹۷۲۳)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: کُنْتُ لَا اُحْجَبُ عَنِ النَّجْوٰی، وَلَا عَنْ کَذَا، وَلَا عَنْ کَذَا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَنَسِیَ وَاحِدَۃً، وَنَسِیْتُ اَنَا وَاحِدَۃً، قَالَ: فَاَتَیْتُہُ وَعِنْدَہُ مَالِکُ بْنُ مُرَارَۃَ الرَّھَاوِیُّ، فَاَدْرَکْتُ مِنْ آخِرِ حَدِیْثِہِ، وَھُوَ یَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ قُسِمَ لِیْ مِنَ الْجَمَالِ مَاتَرٰی، فَمَا اُحِبُّ اَنَّ اَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِیْ بِشِرَاکَیْنِ فَمَا فَوْقَھَا، اَفَلَیْسَ ذٰلِکَ ھُوَ الْبَغِیُ؟ قَالَ: ((لا، لَیْسَ ذٰلِکَ الْبَغْیَ، لَکِنَّ الْبَغْیَ مَنْ بَطَرَ (قَالَ: اَوْ قَالَ: سَفِہَ) الْحَقَّ، وَغَمَطَ النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہ سرگوشی سے منع کیا جاتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، ابن عون کہتے ہیں: ایک چیز وہ بھول گئے اور ایک مجھے یاد نہ رہی، پھر میں ان کے پاس آیا، جبکہ ان کے پاس مالک بن مرارہ رہاوی بیٹھے ہوئے تھے اور وہ کوئی حدیث بیان کر رہے تھے، اس حدیث کا آخری حصہ، جو میں نے پایا، وہ یہ تھا: انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے حسن و جمال میں سے خاصا حصہ دیا گیا ہے، آپ کو معلوم ہی ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ کوئی آدمی دو تسموں کے معاملے میں بھی مجھ سے برتری نہ لے جائے، کیایہ سرکشی تو نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: نہیں،یہ سرکشی نہیں ہے، سرکشی تو یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9724

۔ (۹۷۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ تَعَظَّمَ فِیْ نَفْسِہِ، اَوِ اخْتَالَ فِیْ مِشْیَتِہِ، لَقِیَ اللّٰہَ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۵۹۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص بڑا بنایا اکڑ کر چلا، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9725

۔ (۹۷۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ الْجَوَّاظُ، وَالْجَعْظَرِیُّ، وَالْعُتُلُّ، وَالزَّنِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۶)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن غنم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں یہ افراد داخل نہیں ہوں گے: اکڑ کر چلنے والا، بدمزاج و بدخلق، روکھا اکھڑ مزاج آدمی، کمینہ جو دناء ت و بدی میں مشہور ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9726

۔ (۹۷۲۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَمْثَالَ الذَرِّ فِیْ صُوَرِ النَّاسِ، یَعْلُوْھُمْ کُلُّ شَیْئٍ مِنَ الصِّغَارِ، حَتّٰییَدْخُلُوْا سِجْنًا فِیْ جَھَّنَمَ، یُقَالَ لَہُ: بُوْلَسُ، فَتَعْلُوَھُمْ نَارُالْاَنْیَارِ،یُسْقَوْنَ مِنْ طِیْنَۃِ الْخَیَالِ، عِصَارَۃِ اَھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تکبر کرنے والوں کو لوگوں کی صورت میں چھوٹی چیونٹیوں کی طرح جمع کیا جائے گا، ذلت و حقارت ان پر ہر طرف سے چھا رہی ہو گی،یہاں تک کہ وہ جہنم کے بولس نامی قیدخانے میں داخل ہو جائیں گے، وہاں ان پر آگوں کی آگ چڑھ آئے گی اور ان کو طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9727

۔ (۹۷۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَمَا رَجُلٌ یَتَبَخْتَرُ فِیْ حُلَّۃٍ، اِذْ اَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہٖالْاَرْضَفَاَخَذْتُہُ،وَھُوَیَتَجَلْجَلُ فِیْھَا، اَوْ یَتَجَرْجَرُ فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۷۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک پوشاک میں اترا کر چل رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں زمین کو حکم دیا، زمین نے اس کو پکڑ لیا، وہ قیامت کے دن تک اسی میں دھنستا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9728

۔ (۹۷۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا رَجُلٌ شَابٌّ یَمْشِیْ فِیْ حُلَّۃٍیَتَبَخْتَرُ فِیْھَا مُسْبِلًا اِزَارَہُ اِذْ بَلَعَتْہُ الْاَرْضُ، فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۸۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ کی بات ہے کہ ایک نوجوان ایک پوشاک پہنے ہوئے اترا کر چل رہا تھا اور اس نے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے تک لٹکا رکھا تھا، اتنے میں زمین اس کو نگل گئی اور وہ روزِقیامت تک اس میں دھنستا چلا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9729

۔ (۹۷۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَفْتَخِرُوْا بِآبَائِکُمُ الَّذِیْنَ مَاتُوْا فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ، لَمَا یُدَھْدِہُ الْجُعَلُ بِمَنْخِرَیْہِ، خَیْرٌ مِنْ آبَائِکُمُ الَّذِیْنَ مَاتُوْا فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں مر جانے والے آباء و اجداد پر فخر مت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بھونرا (کالا کیڑا) اپنے نتھنوں سے جس چیز کو لڑھکاتا ہے، وہ تمہارے ان آباء سے بہتر ہے، جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9730

۔ (۹۷۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَدَعُنَّ رِجَالٌ فَخْرَھُمْ بِاَقْوَامٍ اِنّمَا ھُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَھَنَّمَ، اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَھْوَنَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِیْ تَدْفَعُ بِاَنْفِھَا النَّتِنَ، وَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عُبِّیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ، وَفَخْرَھَا بِالْآبَائِ، مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ، النَّاسُ بَنُوْ آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۹۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور یا تو لوگ قوموں کی بنا پر فخر کرنے کو ترک کر دیں گے، یہ قومیں تو جہنم کا کوئلہ تھیں،یا پھر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے بدبودار چیزوں کو دھکیلتا ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے غرورو نخوت اور آباء و اجداد کی بنا پر فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے، اب دو ہی قسمیں رہ گئی ہیں: متقی مؤمن اور بد کردار، بد بخت سارے لوگ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9731

۔ (۹۷۳۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَدَعَنَّ النَّاسُ فَخْرَھُمْ فِیْ الْجَاھِلیَّۃ، اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَبْغَضَ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْخَنَافِِسِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ جاہلیت کے فخر کو چھوڑ دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9732

۔ (۹۷۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ خُطْبَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسْطَ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَقَالَ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ! اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَاِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ، اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیٍّ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ، وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، اِلَّا بِالتَّقْوٰی، اَبَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: بَلَّغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸۵)
۔ ابو نضرہ سے مروی ہے کہ ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ سننے والے صحابی نے اس کو بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! بیشک تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو سرخ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، مگر تقوی کی بنیاد پر، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9733

۔ (۹۷۳۳)۔ عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائیِْلَ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی علیہ السلام اَحَدُھُمَا مُسْلِمٌ، وَالْآخَرُ مُشْرِکٌ، فَانْتَسَبَ الْمُشْرِکُ، قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، حَتّٰی بَلَغَ تِسْعَۃَ آبَائٍ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِہٖ: انْتَسِبْلَااُمَّلَکَ،قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَاَنَا بَرِیْیئٌ مِمَّا وَرَائَ ذٰلِکَ، فَنَادٰی مُوْسٰی علیہ السلام النَّاسَ، فَجَمَعَھُمْ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ قُضِیَ بَیْنَکُمَا، اَمَّا الَّذِیْ انْتَسَبَ اِلٰی تِسْعَۃِ آبَائٍ فاَنْتَ فَوْقَھُمُ الْعَاشِرُ فِی النَّارِ، وَاَمَّا الَّذِی انْتَسَبَ اِلَی اَبَوَیْہِ فَاَنْتَ اِمْرَؤٌ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۳۹)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ موسی علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، ( نو پشتیں ذکر کردیں)، پھر اس نے اپنے مقابل سے کہا: تیری ماں نہ رہے، تو اپنا نسب بیان کر؟ میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس کے بعد والے آباء سے بری ہوں، اُدھر موسی علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا: تم دو کے درمیان فیصلہ کر دیا گیا ہے، جس نے نو آباء تک نسب ذکر کیا ہے، تو ان کا دسواں ہے اور تم سب کے سب آگ میںہو اور جس آدمی نے اپنے والدین تک نسب ذکر کیا، تو اسلام والوں میںایک ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9734

۔ (۹۷۳۴)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَحَدُھُمَا اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۱۴۹۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تو کون ہے، تیری ماں نہ رہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا تھا۔ پھر سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9735

۔ (۹۷۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: افْتَخَرَ اَھْلُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْفَخْرُ، وَالْخُیَلَائُ فِیْ اَھْلِ الْاِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ اَھْلِ الْغَنَمِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی اَھْلِہِ، وَبُعِثْتُ اَنَا وَاَنَا اَرْعٰی غَنَمًا لِاَھْلِیْ بِجِیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اونٹوں اور بکریوں کے ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے مالکوں میں فخر اور تکبر ہے اور بکریوں کے مالکوں میں سکینت اور وقار ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا جبکہ وہ بکریاں چرانے والے تھے اور جب مجھے بعثت عطا کی گئی تو میں بھی مقامِ جیاد میں بکریاں چرانے والا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9736

۔ (۹۷۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اُنْظُرْ فَاِنَّک لَیْسَ بِخَیْرٍ مِنْ اَحْمَرَ وَلَا اَسْوَدَ اِلَّا اَنْ تَفْضُلَہُ بِتَقْوٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۳۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غور کر، تو کسی سرخ یا سیاہ فام سے بہتر نہیں ہے، الا یہ کہ تو اس پر تقوی کی برتری رکھتا ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9737

۔ (۹۷۳۷)۔ عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَۃَ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، اَنَّ رَجُلًا اِعْتَزٰی بِعَزَائِ الْجَاھِلیَّۃِ فَاَعَضَّہُ وَلَمْ یَکْـنِـہِ، فَنَظَرَ الْقُوْمُ اِلَیْہِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: اِنِّیْ قَدْ اَرٰی الَّذِیْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ، اِنِّیْ لَمْ اَسْتَطِعْ اِلَّا اَنْ اَقُوْلَ ھٰذَا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَنَا: ((اِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ یَعْتَزِیْ بِعَزَائِ الْجَاھِلیَّۃِ، فَاَعِضُّوْہُ وَلَا تَکْنُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۵۳)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے اور انھوں نے بات کنایۃً نہیں کی، لوگوں نے (اس گالی کی وجہ سے) تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے کہا: جو چیز تم اپنے نفس میں محسوس کر رہے ہو، میں اس کو جانتا ہوں، جبکہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کیے بغیر اس کو کہو: تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9738

۔ (۹۷۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، اَنَّ رَجُلًا اعْتَزٰی فَاَعَضَّہُ اُبَیٌّ بِھَنِ اَبِیْہِ، فَقَالُوْا: مَاکُنْتَ فَحَّاشًا؟ قَالَ: اِنَّا اُمِرْنَا بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۳۷)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی (جاہلیت کی نسبت کے ساتھ) منسوب ہوا، انھوں نے اس کے باپ کی شرمگاہ کی گالی دے کر اس کی بات کو کاٹا، لوگوں نے کہا: اے ابی! تم تو بد گو نہیں تھے؟ انھوں نے کہا: بیشک ہمیں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9739

۔ (۹۷۳۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَنْسَابَکُمْ ھٰذِہِ لَیْسَتْ بِسِبَابٍ عَلٰی اَحَدٍ، وَاِنّمَا اَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَأُوْہُ، لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ اِلَّا بِالدِّیْنِ، اَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ، حَسْبُ الرَّجُلِ اَنْ یَکُوْنَ فَاحِشًا بَذِیًّا بَخِیْلًا جَبَانًا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۶)
۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے یہ نسب کسی کے لیے کوئی عار و شنار والے نہیں ہیں، کیونکہ تم سارے آدم کی اولاد ہو، اور بھرے ماپ سے کم ہو (یعنی کوئی بھی تم میں پورا اور کامل نہیں، ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نقص ہے) اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر دین اور عملِ صالح کی بنا پر۔ آدمی کے (برا ہونے کے لیے) یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو ، بدکلام ، بد اخلاق، بخیل اور بزدل ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9740

۔ (۹۷۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْـَد النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ، وَالْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعَلْقَمَۃُ بْنُ عُلَاثَۃَ، فَذَکَرُوْا الْجُدُوْدَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ شِئْتُمْ اَخْبَرْتُکُمْ، جَدُّ بَنِیْ عَامِرٍ جَمَلٌ اَحْمَرُ، اَوْ آدَمُ یَاْکُلُ مِنْ اَطْرَافِ الشَّجَرِ، قَالَ: وَاَحْسِبُہُ قَالَ: فِیْ رَوْضَۃٍ، وَغَطَفَانُ اَکَمَۃٌ خَشَّائُ تَنْفِی النَّاسَ عَنْھَا۔)) قَالَ: فَقَالَ الْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: فَاَیْنَ جَدُّ بَنِیْ تَمِیْمٍ؟ قَالَ: ((لَوْ سَکَتَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۳)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوئے اور آباء و اجداد کا تذکرہ کیا (کہ فلاں کا دادا قوی تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو بتلا دیتا ہوں، بنی عامر کا دادا تو سرخ یا گندمی رنگ کا اونٹ تھا، جو ایک باغیچے میں درخت کے پتے کھاتا تھا، غطفان کا دادا تو ایک خوفناک ٹیلہ تھا، جو لوگوں کو وہاں سے دھتکارتا تھا۔ اقرع بن حابس نے کہا: اور بنو تمیم کا دادا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ خاموش رہتا تو اچھی بات تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9741

۔ (۹۷۴۱)۔ عَنْ یَزِیْدَیَعْنِی ابْنَ الْھَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، اَنَّہُ حَدَّثَہُ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ لَقِیَ نَاسًا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ، فَقَالَ: مِنْ اَیْنَ جَائَ ھٰؤُلَائِ؟ فقَالُوْا: خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الْاَمِیْرِ مَرْوَانَ، قَالَ: وَکُلُّ حَقٍّ رَاَیْتُمُوْہُ تَکَلَّمْتُمْ بِہٖوَاَعَنْتُمْعَلَیْہِ؟ وَکُلُّ مُنْکَرٍ رَاَیْتُمُوْہُ اَنْکَرْتُمُوْہُ، وَرَدَدْتُمُوْہُ عَلَیْہِ ؟ قَالُوْا: لَا وَاللّٰہِ! بَلْ یَقُوْلُ مَا یُنْکَرُ، فَنَقُوْلُ: قَدْ اَصَبْتَ، اَصْلَحَکَ اللّٰہُ، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ قُلْنَا: قَاتَلَہُ اللّٰہُ، مَا اَظْلَمَہُ وَاَفْجَرَہُ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: کُنَّا بِعَھْدِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَعُدُّ ھٰذَا نِفَاقًا لِمَنْ کَانَ ھٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۵۳۷۳)
۔ محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ لوگوں کو ملے، وہ مروان کو مل کر باہر آ رہے تھے، انھوں نے کہا: یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم مروان امیر کے پاس سے آئے ہیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اور تم نے وہاں جو حق دیکھا، اس کے بارے میں بات کی اور مروان کی مدد کی اور تم نے وہاں جو برائی دیکھی، اس کا انکار کیا اور مروان پر اس کا ردّ کیا؟ انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بلکہ مروان کی قابل انکار باتوں کے بارے میں بھی ہم نے کہا: تو نے درست کیا ہے، اللہ تیری اصلاح کرے، پس جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو آپس میں کہا: اللہ اس مروان کو ہلاک کرے، یہ کتنا ظالم اور برا آدمی ہے، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں اس قسم کی کاروائی کو نفاق شمار کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9742

۔ (۹۷۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَائِرَۃِ بَیْنَ الغَنَمَیْنِ، تَعِیْرُ اِلٰی ھٰذِہِ مَرَّۃً، وَاِلٰی ھٰذِہِ مَرَّۃً، لَاتَدْرِیْ اَھٰذِہِ تَتْبَعُ، اَمْ ھٰذِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۰۷۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق بیچارے کی مثال اس بکری کی طرح ہے، جو دو ریوڑوں کے درمیان کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے میں متردد ہو، شش و پنج کے ساتھ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی اُس ریوڑ کے ساتھ، وہ یہ نہیں جانتی کہ اس کے پیچھے چلے گییا اُس کے پیچھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9743

۔ (۹۷۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ جَلَسَ ذَاتَ یَوْمٍ بِمَکَّۃَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مَعَہُ، فَقَالَ اَبِیْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالشَّاۃِ بَیْنَ الرَّبِیْضَیْنِ مِنَ الْغَنَمِ، اِنْ اَتَتْ ھٰؤُلَائِ نَطَحَتْھَا، وَاِنْ اَتَتْ ھٰؤُلَائِ نَطَحَتْھَا، فَقَالَ لَہُ: ابْنُ عُمَرَ کَذَبْتَ فَاَثْنَی الْقَوْمُ عَلٰی اَبِیْ خَیْرًا اَوْ مَعْرُوْفًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا اَظُنُّ صَاحِبَکُمْ اِلَّا کَمَا تَقُوْلُوْنَ وَلٰکِنِّیْ شَاھِدٌ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ قَالَ: ((کَالشَّاۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ)) فَقَالَ: ھُوَ سَوَائٌ، فَقَالَ: ھٰکَذَا سَمِعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۵۵۴۶)
۔ عبید کہتے ہیں: میں ایک دن مکہ مکرمہ میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہو گی، جو بکریوں کے دو باڑوں کے درمیان ہو، اگر اس باڑے میںجائے تو وہ بکریاںاس کو مارتی ہیں اور اگر اُس میں جائے تو اس والی مارتی ہیں۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو غلط کہہ رہا ہے، لیکن لوگوں نے میرے باپ کی تعریف کی، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی تمہارے ساتھی کو خیر والا سمجھتا ہوں، جیسے تم سمجھ رہے ہو، لیکن میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حدیث بیان کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کَالشَّاۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ کے الفاظ فرمائے تھے۔ انھوں نے کہا: معنیتو ایک ہی ہے، لیکن سیدنا ابن عمر نے کہا: میں نے تو یہی الفاظ سنے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9744

۔ (۹۷۴۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَصِیْرُ بِھَا مُنَافِقًا۔ وَاِنِّیْ لَاَسْمَعُھَا مِنْ اَحَدِکُمُ الْیَوْمَ فِی الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں اگر کوئی آدمی اس قسم کی بات کرتا تو وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، اور اب میں تم سے اس قسم کی باتیں ایک ایک مجلس میں دس دس دفعہ سنتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9745

۔ (۹۷۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَبَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَۃً فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ فِیْکُمْ مُنَافِقِیْنَ، فَمَنْ سَمَیَّتُ فَلْیَقُمْ ۔))ثُمَّ قَالَ: ((قُمْ یَا فُلَانُ، قُمْ یَا فُلَانُ)) حَتّٰی سَمّٰیسِتَّۃً وَّثِلَاثِیْنَ رَجُلًا، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ فِیْکُمْ اَوْ مِنْکُمْ فَاتَّقُوْا اللّٰہَ)) قَالَ: فَمَرَّ عُمَرُ عَلٰی رَجُلٍ مِمَّنْ سَمّٰی مُقَنَّعٍ قَدْ کَانَ یَعْرِفُہُ، قَالَ: مَالَکَ؟ قَالَ: فَحَدَّثَہُ بِمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: بُعْدًا لَکَ سَائِرَ الْیَوْمِ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۰۵)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک تم میں منافق موجود ہیں، میں جس جس کا نام لیتا جاؤں، وہ کھڑا ہو تا جائے، او فلاں! تو کھڑا ہو جا، او فلاں! تو بھی کھڑا ہو جا۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھتیس مردوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: تم میں منافق ہیں، پس اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ۔ سیدنا عمر ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کانام لیا گیا تھا، اس نے کپڑا اوڑھا ہوا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو پہچانتے تھے، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: دوری ہو تیرے لیے باقی دن۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9746

۔ (۹۷۴۶)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَقُوْلُوْا لِلْمُنَافِقِ سَیِّدَنَا، فَاِنَّہُ اِنْ یَکُ سَیِّدَکُمْ فَقَدْ اَسْخَطْتُمْ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۷)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق کو اپنا سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوا تو تم اپنے ربّ کو ناراض کر دو گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9747

۔ (۹۷۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِلْمُنَافِقِیْنَ عَلَامَاتٍ یُعْرَفُوْنَ بِھَا، تَحِیَّتُھُمْ لَعْنَۃٌ، وَطَعَامُھُمْ نُھْبَۃٌ، وَغَنِیْمَتُھُمْ غُلُوْلٌ، وَلَا یَقْرَبُوْنَ الْمَسَاجِدَ اِلَّا ھَجْرًا، وَلَا یَاْتُوْنَ الصَّلَاۃَ اِلَّا دُبُرًا، مُسْتَکْبِرِیْنَ، لَا یَاْلَفُوْنَ، وَلَا یُؤْلَفُوْنَ، خُشُبٌ بِاللَّیْلِ صُخُبٌ بِالنَّھَارِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) سُخُبٌ بِالنَّھَارِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک منافقوں کی کچھ علامتیں ہیں، ان کے ذریعے ان کو پہچانا جاتا ہے، ان کا سلام لعنت ہوتا ہے، ان کا کھانا غصب شدہ ہوتا ہے، ان کی غنیمت چوری کی ہوئی ہوتی ہے، وہ مسجدوں کے قریب نہیں آتے، مگر ان کو چھوڑنے کے لیے، نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد نماز کے لیے آتے ہیں، وہ تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، وہ انس کرتے ہیں نہ ان سے مانوس ہوا جاتا ہے، وہ رات کو لکڑیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور دن کو شور و غل کرنے والے اور جھگڑا کرنے والے ہوتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9748

۔ (۹۷۴۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، اِذَاحَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ، وَاِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۷۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں: جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کو امین بنایا جاتا ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9749

۔ (۹۷۴۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا،یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْھَیْنِ الَّذِیْیَاْتِیْ ھٰؤُلَائِ بِوَجْہٍ، وَھٰؤُلَائِ بِوَجْہٍ۔)) (مسند احمد: ۷۳۳۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا، جو ایک رخ کے ساتھ اِن کے پاس آتا ہے اور ایک رخ کے ساتھ اُن کے پاس جاتا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9750

۔ (۹۷۵۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِدُ شَرَّ النَّاسِ (وَقَالَ یَعْلٰی: تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ) عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ذَا الْوَجْھَیْنِ۔)) قَالَ ابْنُ نُمَیْرِ: الَّذِیْیَاْتِیْ ھٰؤُلَائِ بِحَدِیْثِ ھٰؤُلَائِ، وَھٰؤُلَائِ بِحَدِیْثِ ھٰؤُلَائِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۳۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو قیامت کے دن لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا۔ ابن نمیر نے کہا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اِن کے پاس اُن کی بات کرتا ہے اور اُن کے پاس اِن کی بات کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9751

۔ (۹۷۵۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَنْبَغِیْ لِذِی الْوَجْھَیْنِ اَنْ یَکُوْنَ اَمِیْنًا۔)) (مسند احمد: ۷۸۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو رخے بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ امین بھی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9752

۔ (۹۷۵۲)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اِنَّھُمْ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُ لَیْسَ لَنَا اَجْرٌ بِمَکَّۃَ؟ قَالَ: ((لَتَاْتِیَنَّکُمْ اُجُوْرُکُمْ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ جُحْرِ ثَعْلَبٍ۔)) قَالَ: فَاَصْغٰی اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَاْسِہِ فَقَالَ: ((اِنَّ فِیْ اَصْحَابِیْ مُنْافِقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۸۶)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچے گا، اگرچہ تم لومڑ کے بل میں ہوئے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میںمنافق بھی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9753

۔ (۹۷۵۳)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ النَّھْدِیِّ قَالَ: اِنِّیْ لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ، وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ عَلٰی ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ: عَلٰیاُمَّتِیْ) کُلُّ مُنَافِقٍ عَلِیْمِ اللِّسَانِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۰)
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے منبر کے پاس تھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر اس منافق کا ہے، جوزبان آور ہوتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9754

۔ (۹۷۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلَانٍ۔ (مسند احمد: ۴۲۰۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت ہر دھوکے باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے: اور یہ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9755

۔ (۹۷۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْغَادِرُ یُرْفَعُ لَہُ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلانِ بْنِ فُلَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۴۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دھوکے باز کا جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9756

۔ (۹۷۵۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یَقُوْلُ : ((یُنْصَبُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا غَدْرَۃَ اَعْظَمُ مِنْ غَدْرَۃِ اِمَامِ عَامَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا، بڑے امام کے ساتھ کیے گئے دھوکے سے بڑھ کر کوئی دھوکہ نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9757

۔ (۹۷۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌیَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، وَالْمَلَائِکَۃِ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا، وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، ادنی مسلمان بھییہ ضمانت دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9758

۔ (۹۷۵۸)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاخَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا قَالَ: ((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ، وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۱۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ،وہ کہتے ہیں: نبی کریم جب بھی ہم سے خطاب کرتے تھے تو اس میں یہ فرماتے تھے: اس آدمی کا ایمان نہیں، جس کی امانت نہیں اور اس آدمی کا دین نہیں، جس کا عہد وپیمان کوئی نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9759

۔ (۹۷۵۹)۔ عَنْ عَمْروِ بْنِ عَبْسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ فَـلَا یَشُدُّ عُقْدَۃً، وَلَا یَحُلُّ حَتّٰییَمْضِیَ اَمَدُھَا، اَوْ یَنْبِذَ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوْائٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۵۶)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلم قوم اور کسی دوسری قوم کے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو نہ وہ اس کو مزید لمبا کر کے مضبوط کرے اور نہ اس کو توڑے، یہاں تک کہ اس کی مدت ختم ہو جائے یا دونوں برابر برابر کا توڑ دیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9760

۔ (۹۷۶۰)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ شَرَطَ لِاَخِیْہِ شَرْطًا لَا یُرِیْدُ اَنْ یَفِيَ لَہُ بِہٖ، فَھُوَ کَالْمُدْلِیْ جَارَہُ اِلٰی غَیْرِ مَنَعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۳۱)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی سے کوئی شرط لگائی، جبکہ اس کا اس کو پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے بھائی کو ایسی ہمسایہ (قوم) کے سپرد کر رہا ہے، جن کے پاس (دشمن سے بچنے کی) کوئی قوت نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9761

۔ (۹۷۶۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اَقْتُلُ لَکَ عَلِیًّا؟ قَالَ: وَکَیْفَ تَقْتُلُہُ وَمَعَہُ الْجُنُوْدُ؟ قَالَ: اَلْحَقُ بِہٖفَاَفْتِکُبِہٖقَالَ: لَا،اَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْاِیْمَانَ قَیْدُ الْفَتْکِ، لَا یَفْتِکُ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۶)
۔ حسن سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا میں تیرے لیے علی ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کو قتل کر دوں؟ انھوں نے کہا: تو اس کو کیسے قتل کرے گا، جبکہ اس کے ساتھ تو لشکر ہیں؟ اس نے کہا: میں بظاہر اس کے ساتھ مل جاؤں گا اور پھر اس کو غافل پا کر قتل کر دوں گا، انھوں نے کہا: نہیں، ایسے نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان امان دینے کے بعد قتل کرنے سے روکتا ہے، مؤمن امان دینے کے بعد قتل نہیں کرتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9762

۔ (۹۷۶۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلْاِیْمَانُ قَیَّدَ الْفَتْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۵۷)
۔ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان امان دینے کے بعد قتل کرنے سے روکتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9763

۔ (۹۷۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ رَفَاعَۃَ الْبَجَلِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ بْنِ اَبِیْ عُبَیْدٍ قَصْرَہُ، فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: مَا قَامَ جِبْرِیْلُ اِلَّا مِنْ عِنْدِیْ قَبْلُ، قَالَ: فَھَمَمْتُ اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ : ((اِذَا اَمَّنَکَ الرَّجُلُ عَلٰی دَمِہِ، فَـلَا تَقْتُلْہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ قَدْ اَمَّنَنِیْ عَلٰی دَمِہِ فَکَرِھْتُ دَمَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۹)
۔ ابورفاعہ بجلی کہتے ہیں: میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں گیا، میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا: اس سے پہلے جبریل کھڑا نہیں ہوا، مگر میرے پاس سے، یہ بات سن کر میں نے اس کی گردن اڑا دینے کا ارادہ کیا، لیکن مجھے ایک حدیثیاد آ گئی، سیدنا سلیمان بن صرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تجھے اپنے خون پر امین بنائے تو تو نے اس کو قتل نہیں کرنا۔ مختار نے مجھے بھی اپنے خون پر امین بنایا تھا، اس میں نے اس کے قتل مکروہ سمجھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9764

۔ (۹۷۶۴)۔ عَنْ رِفَاعَۃَ الْقِتْبَانِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ، فَاَلْقٰی لِیْ وِسَادَۃً، وَقَالَ: لَوْ لَا اَنَّ اَخِیْ جِبْرِیْلَ قَامَ عَنْ ھٰذِہِ لَاَلْقَیْتُھَا لَکَ، قَالَ: فَاَرَدْتُ اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنِیْہِ اَخِیْ عَمْروُ بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّمَا مُؤْمِنٍ اَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلٰی دَمِہِ فَقَتَلَہُ فَاَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۰۲)
۔ رفاعہ قتبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا،اس نے میرے لیے تکیہ رکھا اور کہا: اگر میرا بھائی جبریل اس سے کھڑا نہ ہوا ہوتا تو میں نے اس کو تیرے لیے رکھنا تھا، یہ بات سن کر میں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن پھر مجھے ایک حدیثیاد آ گئی، میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی مؤمن کو اپنے خون پر امین بنائے اور پھر وہ اس کو قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9765

۔ (۹۷۶۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: کُنْتُ اَقُوْمُ عَلٰی رَاْسِ الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا عَرَفْتُ کَذِبَہُ ھَمَمْتُ اَنْ اَسُلَّ سَیْـفِیْ فَاَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنَاہُ عَمْروُ بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ اَمَّنَ رَجُلًا عَلٰی نَفْسِہِ، فَقَتَلَہُ اُعْطِیَ لِوَائَ الْغَدْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۴)
۔ (دوسری سند) میں مختارکا پہرہ دیتا تھا، جب میں نے پہچان لیا کہ یہ جھوٹا ہے تو میں نے ارادہ کیا کہ اپنی تلوار سونتوں اور اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیثیاد آ گئی، سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی کو اپنی جان پر امن والا بنایا، لیکن اس نے اس کو قتل کر دیا تو قیامت والے دن اس کو دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9766

۔ (۹۷۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِیَّاکُمْ وَالظُّلْمَ، فَاِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاِیَّاکُمْ وَالْفُحْشَ، فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَاِیَّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّہُ دَعَا مَنْ قَبْلَکُمْ فَاسْتَحَلُّوْا مَحَارِمَھُمْ، وَسَفَکُوْا دِمَائَھُمْ، وَقَطَعُوْا اَرْحَامَھُمْ)) (مسند احمد: ۹۵۶۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں اس طرح برانگیختہ کیا کہ انھوں محرمات کو حلال سمجھ لیا، خون بہائے اور قطع رحمی کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9767

۔ (۹۷۶۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: …پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اَلْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9768

۔ (۹۷۶۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا الظُّلْمَ، فَاِنَّہُ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ )) (مسند احمد: ۵۶۶۲)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9769

۔ (۹۷۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا یَبِعْ اَحَدُکُمْ عَلٰی بَیْعِ اَخِیْہِ، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ، لَایَظْلِمُہُ ، وَلَا یََخْذُلُہُ، وَلَا یَحْقِرُہُ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا، وَاَشَارَ بِیَدِہِ اِلٰی صَدْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، حَسْبُ امْرِیئٍ مِنَ الشَّرِّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنَ الشِّرْکِ) اَنْ یَحْقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہُ، وَمَالُہُ، وَعِرْضُہُ۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو رسوا کرتا ہے اور نہ اس کو حقیر سمجھتا ہے، تقوییہاں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا اور تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، آدمی کو یہی شرّ (یا شرک) کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے ہر مسلمان پر حرام ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9770

۔ (۹۷۷۰)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ مِنْ قَوْلِہِ: ((الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ…الخ الحدیث)) (مسند احمد: ۱۶۱۱۵)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: … پھر مذکورہ حدیث کے الفاظ اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ سے لے کر آخر تک بیان کیے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9771

۔ (۹۷۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ یَعْنِیْ عِنْدَہُ مَظْلِمَۃٌ لِاَخِیْہِ فِیْ مَالِہِ، اَوْ عِرْضِہِ، فَلْیَاْتِہِ فَلْیَسْتَحِلَّھَا مِنْہُ، قَبْلَ اَنْ یُؤْخَذَ اَوْ تُؤْخَذَ، لَیْسَ عِنْدَہُ دِیْنَارٌ، وَلَا دِرْھَمٌ، فَاِنْ کَانَتْ لَہُ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِہِ فَاُعْطِیَھَا ھٰذَا، وَاِلَّا اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ ھٰذَا فَاُلْقِیَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۱۳)
۔ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال یا عزت پر ظلم کر رکھا ہو تو وہ اس کے پاس جا کر تصفیہ کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آجائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9772

۔ (۹۷۷۲)۔ عَنْ عَبَّادِ بْنِ کَثِیْرٍ الشَّامِیِّ، مِنْ اَھْلِ فِلَسْطِیْنَ عَنِ امْرَاَۃٍ مِنْھُمْ یُقَالُ لَھَا: فَسِیْلَۃُ، اَنَّھَا قَالَتْ: سَمِعْتُ اَبِی (وَاثِلَۃَ بْنَ الْاَسْقَعِِ) یَقُوْلُ : سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَمِنَ الْعَصَبِیَّۃِ اَنْ یُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَہُ؟ قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ مِنَ الْعَصَبِیَّۃِ اَنْ یَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَہُ عَلَی الظُّلْمِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۱۴)
۔ عباد بن کثیر شامی، جو کہ فلسطین کا ایک باشندہ تھا، اپنے خاندان کی فسیلہ نامی ایک خاتون سے روایت کرتا ہے، اس نے اپنے باپ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدمی کا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت میں سے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، عصبیت تو یہ ہے کہ بندہ ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9773

۔ (۹۷۷۳)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رَفَعَہُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْیُعِیْنُ عَشِیْرَتَہُ عَلٰی غَیْرِ الْحَقِّ، مَثَلُ الْبَعِیْرِ رُدِّیَ فِیْ بِئْرٍ فَھُوَ یُمَدُّ بِذَنَبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۳۷۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے رشتہ داروں کا ناحق چیز پر تعاون کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے، جس کو کنویں میں گرا دیا جائے اور پھر اس کو اس کی دم سے کھینچا جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9774

۔ (۹۷۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ابْنَ آدَمَ! اعْمَلْ کَاَنَّکَ تَرٰی، وَعُدَّ نَفْسَکَ مَعَ الْمَوْتٰی، وَاِیَّاکَ وَدَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! تو عمل کر، گویا کہ تو دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مردوں کے ساتھ شمار کر اور مظلوم کی بد دعا سے بچ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9775

۔ (۹۷۷۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ مُسْتَجَابَۃٌ، وَاِنْ کَانَ فَاجِرًا، فَفُجُوْرُہُ عَلٰی نَفْسِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مظلوم کی دعا قبول کی جاتی ہے، اگرچہ وہ برا ہی کیوں نہ ہو، اس کی برائی اس کے نفس پر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9776

۔ (۹۷۷۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُھُمْ، اَلْاِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتّٰییُفْطِرَ، وَدَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ تُحْمَلُ عَلَی الْغَمَامِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ، وَتُفْتَحُ لَہُ اَبْوَابُ الْسَمَائِ، وَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ: وَعِزَّتِیْ، لَاَنْصُرَنَّکَ وَلَوْ بَعْدَ حِیْنٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان تین افراد کی دعا ردّ نہیں جاتی: عادل حکمران، روزے دار جب افطاری کرے اور مظلوم کی دعا تو بادلوں پر اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم! میں ضرور ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9777

۔ (۹۷۷۷)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَبَّ اِلَیْکُمْ دَائُ الْاُمَمِ قَبْلَکُمْ، اَلْحَسَدُ وَالْبَغْضَائُ، ھِیَ الْحَالِقَۃُ حَالِقَۃُ الدِّیْنِ، لَا حَالِقَۃُ الشَّعَرِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا، اَفَـلَا اُنَبِّئُکُمْ بِشَیْئٍ، اِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ، اَفْشُوْا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۲)
۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلے والی امتوں کی بیماری تمہارے اندر بھی سرایت کر گئی ہے، یعنی حسد اور بغض، یہ بیماری مونڈ دینے والی ہے، دین کو، سر کو نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! تم اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گے، جب تک آپس میں محبت نہیں کرو گے، کیا میں تمہیں ایسی چیز بتا دوں کہ اگر اس پر عمل کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جائو گے، آپس میں سلام کو عام کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9778

۔ (۹۷۷۸)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بھائو چڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9779

۔ (۹۷۷۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَطْلُعُ عَلَیْکُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ تَنْطِفُ لِحْیَتُہُ مِنْ وُضُوْئِہِ، قَدْ تَعَلَّقَ نعَلَیْہِ فِیْیَدِہِ الشِّمَالِ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ ذٰلِکَ، فَطَلَعَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ عَلٰی مِثْلِ الْمَرَّۃِ الْاُوْلٰی، فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ الثَّالِثُ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ مَقَالَتِہِ اَیْضًا، فَطَلَعَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ عَلٰی مِثْلِ حَالِہِ الْاُوْلٰی، فَلَمَّا قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَبِعَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ فَقَالَ: اِنِّیْ لَاحَیْتُ اَبِیْ فَاَقْسَمْتُ اَنْ لَا اَدْخُلَ عَلَیْہِ ثَلَاثًا، فَاِنْ رَاَیْتَ اَنْ تُؤْوِیَنِیْ اِلَیْکَ حَتّٰی تَمْضِیَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ اَنَسٌ: وکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یُحَدِّثُ اَنَّہُ بَاتَ مَعَہُ تِلْکَ اللَّیَالِیَ الثَّلَاثَ، فَلَمْ یَرَہُیَقُوْمُ مِنَ اللَّیْلِ شَیْئًا غَیْرَ اَنَّہُ اِذَا تَعَارَّ وَتَقَلَّبَ عَلَی فِرَاشِہِ ذَکَرَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، وَکَبَّرَ حَتّٰییَقُوْمَ لِصَلَاۃِ الْفَجْرِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: غَیْرَ اَنِّیْ لَمْ اَسْمَعْہُ یَقُوْلُ اِلَّا خَیْرًا، فَلَمَّا مَضَتِ الثَّلَاثُ لَیَالٍ، وَکِدْتُ اَنْ اَحْتَقِرَ عَمَلَہُ، قُلْتُ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اَبِیْ غَضَبٌ وَلَا ھَجْرٌ ثَمَّ،وَلٰکِنْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لَکَ ثَلَاثَ مِرَارٍ: ((یَطْلُعُ عَلَیْکُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَطَلَعْتَ اَنْتَ الثَّلَاثَ مِرَارٍ، فَاَرَدْتُ اَنْ آوِیَ اِلَیْکَ لِاَنْظُرَ مَاعَمَلُکَ فَاَقْتَدِیَ بِہٖ،فَلَمْاَرَکَتَعْمَلُکَثِیْرَ عَمَلٍ، فَمَا الَّذِیْ بَلَغَ بِکَ، مَاقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: مَاھُوَ اِلَّا مَارَاَیْتَ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّیْتُ دَعَانِیْ، فَقَالَ: مَاھُوَ اِلَّا مَارَاَیْتَ غَیْرَ اَنِّیْ لَا اَجِدُ فِیْ نَفْسِیْ لِاَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ غِشًّا وَلَا اَحْسُدُ عَلٰی خَیْرٍ اَعْطَاہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ھٰذِہِ الَّتِیْ بَلَغَتْ بِکَ وَھِیَ الَّتِیْ لَانُطِیْقُ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۲۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تمہارے پاس جنتی آدمی آنے والا ہے۔ پس ایک انصاری آدمی آیا، وضو کی وجہ سے اس کی داڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا اور اس نے اپنے بائیں ہاتھ میں اپنے جوتے لٹکائے ہوئے تھے، اگلے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرمائی اور وہی آدمی اسی پہلے والی کیفیت کے ساتھ آیا، جب تیسرا دن تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرما دی کہ تمہارے پاس جنتی آدمی آنے والا ہے ۔ اور (اللہ کا کرنا کہ) وہی بندہ اپنی سابقہ حالت کے ساتھ آ گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس آدمی کے پیچھے چل پڑے اور اس سے کہا: میرا ابو جان سے جھگڑا ہو گیا ہے اور میں نے ان کے پاس تین دن نہ جانے کی قسم اٹھا لی ہے، اگر تم مجھے اپنے پاس جگہ دے دو، یہاں کہ یہ مدت پوری ہو جائے، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ اس نے کہا: جی ہاں، تشریف لائیے۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ اس نے اس آدمی کے ساتھ تین راتیں گزاریں، وہ رات کو بالکل قیام نہیںکرتا تھا، البتہ جب بھی وہ جاگتا اور اپنے بستر پر پہلو بدلتا تو وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا اور تکبیرات پڑھتا، یہاں تک کہ نمازِ فجر کے لیے اٹھتا، علاوہ ازیں اس کا یہ وصف بھی تھا کہ وہ صرف خیر و بھلائی والی بات کرتا تھا، جب تین راتیں گزر گئیں اور قریب تھا کہ میں اس کے عمل کو حقیر سمجھوں، تو میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرے اور میرے ابو جان کے مابین نہ کوئی غصے والی بات ہوئی اور نہ قطع تعلقی، تیرے پاس میرے ٹھہرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تین بار یہ فرماتے ہوئے سنا: ابھی ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اور تین بار تو ہی آیا، پس میں نے ارادہ کیا کہ تیرا عمل دیکھنے کے لیے تیرے گھر میں رہوں اور پھر میں بھی تیرے عمل کی اقتدا کروں، لیکن میں نے تجھے دیکھا کہ تو تو زیادہ عمل ہی نہیں کرتا، اب یہ بتلا کہ تیرے اندر وہ کون سی صفت ہے کہ جس کی بنا پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیث بیان کی (اور اس کا مصداق بنا)؟ اس نے کہا: میرا عمل تو وہی ہے جو تو نے دیکھ لیا ہے، پھر جب میں جانے لگا تو اس نے مجھے دوبارہ بلایا اور کہا: میرا عمل تو وہی ہے، جو تو نے دیکھ لیا ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ میرے نفس میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی دھوکہ نہیں ہے اور جس مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے جو خیر عطا کی ہے، میں اس پر اس سے حسد نہیں کرتا، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بس یہی چیز ہے، جس نے تجھے اس مقام پر پہنچا دیا ہے اور یہ وہ عمل ہے کہ جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9780

۔ (۹۷۸۰)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۹)
۔ سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں تک چھوڑ دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9781

۔ (۹۷۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ھِجْرَۃَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَنْ ھَجَرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سے زائد دنوں تک کی قطع تعلقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جس نے اپنے بھائی سے تین سے زائد دنوں تک قطع تعلقی کیے رکھی، پھر وہ مر گیا تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9782

۔ (۹۷۸۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُفْتَحُ اَبْوَابُ الْجَنّۃِ فِیْ کُلِّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ۔)) قَالَ مَعْمَرٌ: وَقَالَ غَیْرُ سُھَیْلٍ: ((وَتُعْرَضُ الْاَعْمَالُ فِیْ کُلِّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ فَیَغْفِرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِکُلِّ عَبْدٍ لَا یُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، اِلَّا الْمُتَشَاحِنَیْنِ،یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِلْمَلَائِکَۃِ: ذَرُوْھُمَا حَتّٰییَصْطَلِحَا۔)) (مسند احمد: ۷۶۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ سہیل کے علاوہ باقی راویوں کے الفاظ یہ ہیں: ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا، ما سوائے باہم بغض و عداوت رکھنے والے دو افراد کے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے: ان دو کو رہنے دو، جب تک یہ صلح نہ کرلیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9783

۔ (۹۷۸۳)۔ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لِیَالٍ، فَاِنْ کَانَ تَصَادُرًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاِنَّھُمَا نَاکِبَانِ عَنِ الْحَقِّ، مَادَامَا عَلٰی صُرَامِھِمَا، وَاَوَلُّھُمَا فَیْئًا، فَسَبْقُہُ بِالْفَیْئِ کَفَّارَتُہُ، فَاِنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ وَرَدَّ عَلَیْہِ سَلَامَہُ، رَدَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ وَرَدَّ عَلَی الْآخَرِ الشَّیْطَانُ، فَاِنْ مَاتَا عَلَی صِرَامِھِمَا لَمْ یَجْتَمِعَا فِیْ الْجَنّۃِ اَبَدًا (وَلَہُ فِیْ رِوَایَۃٍ اُخْرٰی) لَمْ یَدْخُلَا الْجَنّۃَ جَمِیْعًا اَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۶۵)
۔ سیدنا ہشام بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد راتوں تک چھوڑے رکھے، اگر وہ تین سے تجاوز کر جائیں تو جب تک قطع تعلقی پر اڑے رہیں گے، وہ حق سے منحرف رہیں گے، اور ان میں سے جو پہلے لوٹے گا تو اس کا لوٹنا اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گا، پس اگر وہ سلام کہتا، لیکن وہ جواب نہیں دیتا اور اس کے سلام کو ردّ کر دیتا ہے، تو فرشتے اس کو جواب دیں گے اور دوسرے کا جواب شیطان دے گا۔ اگر ایسے دو افراد اپنی قطع تعلقی پر ہی مر جائیں تو وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جمع نہیں ہوں گے، ایک روایت میں ہے: وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9784

۔ (۹۷۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ خِرَاشٍ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ ھَجَرَ اَخَاہُ سَنَۃً فَھُوَ کَسَفْکِ دَمِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۰۰)
۔ سیدنا ابو خراش سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا، وہ اس کا خون بہا دینے کی طرح ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9785

۔ (۹۷۸۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا، وَلَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَیَالٍ،یَلْتَقِیَانِ فَیَصُدُّ ھٰذَا وَیَصُدُّ ھٰذَا، وَخَیْرُھُمَا الَّذِیْیَبْدَاُ بِالسَّلَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۸۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض اور حسد نہ رکھو،باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد دنوں تک چھوڑے رکھے، جب وہ دونوں ملتے ہیں تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9786

۔ (۹۷۸۶)۔ عَنْ عَطائِ بْنِ یَزِیَدَ، عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَیَذْکُرُ فِیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، یَلْتَقِیَانِ فَیَصُدُّ ھٰذَا، وَیَصُدُّ ھٰذَا، وَخَیْرُ ھُمَا الَّذِیْیَبْدَاُ بِالسَّلَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۲۵)
۔ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں کے لیے چھوڑے رکھے، جب دونوں ملتے ہیں، تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9787

۔ (۹۷۸۷)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، وَھُوَ ابْنُ اَخِیْ عَائِشَۃَ لِاُمِّھَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، حَدَّثَتْہُ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ فِیْ بَیْعٍ اَوْ عَطَائٍ اَعْطَتْہُ: وَاللّٰہ!ِ لَتَنْتَھِیَنَّ عَائِشَۃُ اَوْ لَاَحْجُرَنَّ عَلَیْھَا، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: اَوَ قَالَ ھٰذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: ھُوَ لِلّٰہِ عَلَیَّ نَذَرٌ اَنْ لَّا اُکَلِّمَ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَلِمَۃً اَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ،وَعَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْاَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ یَغُوْثَ، وَھُمَا مِنْ بَنِیْ زُھْرَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ یُنَاشِدَانِ عَائِشَۃَ اِلَّا کَلَّمَتْہُ وَقَبِلَتْ مِنْہُ، وَیَقُوْلَانِ لَھَا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ نَھٰی عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْھَجْرِ، اَنْ لَا یَحِلَّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَیَالٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۲۹)
۔ عوف بن حارث، جو کہ سیدہ عائشہ کا اخیافی بھتیجا تھا، سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کسی سودے یا عطیے کے بارے میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بارے میں کہا: اللہ کی قسم! یا تو عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا با ز آ جائے گی،یا میں اس پر پابندی لگا دوں گا، سیدہ نے پوچھا: کیا واقعی اس نےیہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدہ نے کہا: میں اللہ کے لیے نذر مانتی ہوں کہ میں ابن زبیر سے کبھی بھی کلام نہیں کروں گی، پھر سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد ِ یغوث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے حق میں سیدہ سے سفارش کریں،یہ دونوں آدمی بنو زہرہ قبیلے کے تھے، … …، پھر مسور اور عبد الرحمن نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو واسطے دینا شروع کیے، کہ وہ لازمی طور پر اس کے ساتھ کلام کرے اور اس سے معذرت قبول کرے اور انھوں نے سیدہ کو یہ بات بھی کہی تھی کہ تم جانتی ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قطع تعلقی سے روکا ہے، اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دنوں سے زیادہ عرصے تک قطعی تعلقی کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9788

۔ (۹۷۸۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَبْغَضُ الرِّجَالِ الْاَلَدُّ الْخَصِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۸۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے، جو سخت جھگڑالو ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9789

۔ (۹۷۸۹)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ بَشِیْرٍ، مَوْلٰی بَنِیْ مُغَالَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَاَبَاطَلْحَۃَ بْنَ سَھْلٍ الْاَنْصَارِیَّیْنِیَقُوْلَانِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ اِمْرِیئٍیَخْذُلُ اِمْرَاً مُسْلِمًا عِنْدَ مَوْطِنٍ تُنْتَھَکُ فِیْہِ حُرْمَتُہُ، وَیُنْتَقَصُ فِیْہِ مِنْ عِرْضِہِ، اِلَّا خَذَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ مَوْطِنٍ یُحِبُّ فِیْہِ نُصْرَتَہُ، وَمَا مِنْ اِمْرِیئٍیَنْصُرُ اِمْرَاً مُسْلِمًا فِیْ مَوْطِنٍ یُنْتَقَصُ فِیْہِ مِنْ عِرْضِہِ، وَیُنْتَھَکُ فِیْہِ مِنْ حُرْمَتِہِ، اِلَّا نَصَرَہُ اللّٰہُ فِیْ مَوْطِنٍ یُحِبُّ فِیْہِ نُصْرَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو طلحہ بن سہل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو اس مقام پر ذلیل کرتا ہے، جہاں اس کی حرمت پامال ہو جاتی ہے اور اس کی عزت میں کمی آجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس مقام پر ذلیل کرتاہے، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرتاہے، جو آدمی ایسے مقام پر اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے، جہاں اس کی عزت کم ہو رہی ہوتی ہے اور اس کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کی اس مقام پر مدد کرے گا، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9790

۔ (۹۷۹۰)۔ عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، اَنَّ الْمُسْتَوْرِدِ حَدَّثَھُمْ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَکَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ اَکْلَۃً۔ وَقَالَ مَرَّۃً: اُکْلَۃً، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُطْعِمُہُ مِثْلَھَا مِنْ جَھَنَّمَ، وَمَنِ اکْتَسٰی بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَکْسُوْہُ مِثْلَہُ مِنْ جَھَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَۃٍ، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْمُ بِہٖمَقَامَسُمْعَۃٍیَّوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۸۱۷۴)
۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان (کی غیبتیا اس کی توہینیا اس کو اذیت پہنچا کر) کوئی لقمہ کھایا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی طرح کا لقمہ جہنم سے کھلائے گا، جس نے کسی مسلمان (کی اہانت کرنے کا) لباس پہنا، اللہ تعالیٰاس کو اسی کی مثل کا لباس جہنم سے پہنائے گا اور جو آدمی کسی آدمی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت والے دن شہرت کے مقام پر کھڑا کریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9791

۔ (۹۷۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ صِرْمَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ ضَارَّ اَضَرَّ اللّٰہُ بِہٖوَمَنْشَاقَّشَقَّاللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۴۷)
۔ سیدنا ابو صرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو نقصان پہنچایا، اللہ تعالیٰ اس کو نقصان پہنچائے گا اور جس نے کسی پر مشقت ڈالی، اللہ تعالیٰ اس پر مشقت ڈالے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9792

۔ (۹۷۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ یَتَعَاطَوْنَ سَیْفًا مَسْلُوْلًا، فَقَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ فَعَلَ ھٰذَا، اَوَ لَیْسَ قَدْ نَھَیْتُ عَنْ ھٰذَا؟)) ثُمَّ قَالَ: ((اِذَا سَلَّ اَحَدُکُمْ سَیْفَہُ فَنَظَرَاِلَیْہِ، فَاَرَادَ اَنْ یُنَاوِلَہُ اَخَاہُ فَلْیُغَمِّدْہُ ثُمَّ یُنَاوِلَہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۰)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایسی قوم کے پاس آئے جو ننگی تلوار لے دے رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر لعنت کرے جو اس طرح کرتا ہے، کیا میں نے تم کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تلوار ننگی کر کے اس کو دیکھے اور پھر وہ دوسرے کو پکڑانا چاہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو کسی چیز میں ڈھانک کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9793

۔ (۹۷۹۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی لَیْلٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَنَّھُمْ کَانُوْا یَسِیْرُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَسِیْرٍ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْھُمْ، فَانْطَلَقَ َبعْضُھُمْ اِلٰی نَبْلٍ مَعَہُ فَاَخَذَھَا، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ الرَّجُلُ فَزِعَ، فَضَحِکَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((مَا یُضْحِکُکُمْ؟)) فَقَالُوْا: لَا، اِلَّا اَنَّا اَخَذْنَا نَبْلَ ھٰذَا فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یُرَوِّعَ مُسْلِمًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۲)
۔ عبد الرحمن بن لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابۂ کرام نے ہم کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، ایک آدمی سو گیا، کچھ ساتھی اس کی طرف گئے اور اس کے تیر پکڑ لیے، جب وہ بیدار ہوا تو گھبرا گیا، لوگ ہنس پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیوں ہنس رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی کوئی بات نہیں ہے، بس ہم نے اس کے تیر پکڑ لیے تو وہ گھبرا گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مسلمان کو گھبرا دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9794

۔ (۹۷۹۴)۔ عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُؤْذُوْا عِبَادَ اللّٰہِ، وَلَا تُعَیِّرُوْھُمْ، وَلَا تَطْلُبُوْا عَوْرَاتِھِمْ، فَاِنَّہُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَۃَ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ، طَلَبَ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ، حَتّٰییَفْضَحَہُ فِیْ بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۶۵)
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں کو نہ تکلیف دو، نہ ان کو عار دلاؤ اور نہ ان کے عیوب تلاش کرو، کیونکہ جس نے اپنے بھائی کا عیب تلاش کیا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑ جائے گا حتی کہ وہ اس کو اس کے گھر کے اندر ذلیل کر دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9795

۔ (۹۷۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ اَنَّ رَجُلًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِمْرَاً) اِطَّلَعَ بِغَیْرِ اِذْنِکَ، فَخَذَفْتَہُ بِحَصَاۃٍ، فَفَقَاْتَ عَیْنَہُ،مَاکَانَ عَلَیْکَ جُنَاحٌ۔)) (مسند احمد: ۷۳۱۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی تیری اجازت کے بغیر تجھ پر جھانکتا ہے اور تو اس کو کنکری مار کر اس کی آنکھ کو پھوڑ دیتا ہے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9796

۔ (۹۷۹۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اطَّلَعَ فِیْ بَیْتِ قَوْمٍ بِغَیْرِ اِذْنِھِمْ فَفَقَئُوْا عَیْنَہُ، فَـلَا دِیَۃَ لَہُ وَلَا قِصَاصَ۔)) (مسند احمد: ۸۹۸۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کے لیے دیت ہو گی نہ قصاص۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9797

۔ (۹۷۹۷)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہِ فَاطَّلَعَ اِلَیْہِ رَجُلٌ، فَاَھْوٰی اِلَیْہِ بِمِشْقَصٍ مَعَہُ، فَتَاَخَّرَ الرَّجُلُ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف جھانکنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھلکا لے کر اس کی طرف جھکے، لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9798

۔ (۹۷۹۸)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فِاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ وَلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا تَحَسَّسُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَلَا تَنَافَسُوْا وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۰۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو، پس بیشک بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ میں نہ لگ جاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، مقابلہ بازی میں نہ پڑو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائیبن جاؤ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9799

۔ (۹۷۹۹)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ حُسْنَ الـظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَــادَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۴۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اچھا گمان رکھنا حسنِ عبادت میں سے ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9800

۔ (۹۸۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا رَاَیْتَ اللّٰہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلٰی مَعَاصِیْہِ مَا یُحِبُّ فَاِنّمَا ھُوَ اسْتِدْرَاجٌ، ثُمَّ تَلَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ، حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوتُوْا اَخَذْنَاھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاھُمْ مُبْلِسُوْنَ۔} (مسند احمد: ۱۷۴۴۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آپ دیکھیںکہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لیں کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جارہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے،یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ (سورۂ انعام: ۴۴)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9801

۔ (۹۸۰۱)۔ عَنِ ابْنِ حَصْبَۃَ اَوْ اَبِی حَصْبَۃَ، عَنْ رَجُلٍ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَقَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاالصُّعْلُوْکُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مَالٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الصُّعْلُوْکُ الّذِیْ لَہُ مَالٌ فَمَاتَ، وَلَمْ یُقَدِّمُ مِنْہُ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۳)
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9802

۔ (۹۸۰۲)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَّخِذُ اَحَدُکُمُ السَّائِمَۃَ، فَیَشْھَدُ الصَّلَاۃَ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَتَتَعَذَرُّ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ، فَیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ وَلَا یَشْھَدُ اِلَّا الْجُمُعَۃَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ فیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا فَیَتَحَوَّلُ فَـلَا یَشْھَدُ الْجُمُعَۃَ وَلَا الْجَمَاعَۃَ، فَیُطْبَعُ عَلٰی قَلْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۰۷۸)
۔ سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے مویشی پالتاہے اور نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے مویشی اس کے لیے مشکل پیدا کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے مویشیوں کے لیے زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور دور ہو جانے کی وجہ سے صرف نمازِ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے، لیکن اس مقام پر بھی اس کے مویشی اس کے لیے مشقت پیدا کر دیتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے: اگر میں اس مقام کی بہ نسبت زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے بھی منتقل ہو جاتا اور اتنا دور ہو جاتا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے نہیں آتا اور نہ جماعت میں حاضر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9803

۔ (۹۸۰۳)۔ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یُوْشِکُ اَنْ یَغْلِبَ عَلَی الدُّنْیَا لُکْعُ بْنُ لُکَعٍ، وَاَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَیْنَ کَرِیْمَتَیْنِ، وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۵۱)
۔ ایک صحابی ٔرسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ دنیا پر کوئی انتہائی کمینہ بن کمینہ آدمی غالب آجائے، اور اس وقت لوگوں میں افضل وہ مومن ہو گا، جو دو کریموں کے درمیان ہو گا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9804

۔ (۹۸۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَنَّ مُوْسٰی قَالَ: اَیْ رَبِّ! عَبْدُکَ الْکَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا، قَالَ: فَیُفْتَحُ لَہُ بَابٌ مِنَ النَّارِ، فَیُقَالُ: یَا مُوْسٰی ھٰذَا مَا اَعْدَدْتُ لَہُ، فَقَالَ مُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! وَعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ! لَوْ کَانَتْ لَہُ الدُّنْیَا مُنْذُ خَلَقْتَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَکَانَ ھٰذَا مَصِیْرَہُ کَأَنْ لَّمْ یَرَ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ کافر ہے، لیکن تو دنیا میں اس کو وسعت عطا کر رہا ہے، اتنے میں جہنم سے ایک دروازہ کھولا گیا اور کہا گیا: اے موسی! یہ ٹھکانہ ہے، جو میں نے اس کے لیے تیارکر رکھا ہے، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم اور تیرے جلال کی قسم! جب سے تو نے اس بندے کو پیدا کیا، اگر اس وقت سے قیامت کے دن تک ساری دنیا اس بندے کو مل جائے اور پھر اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو گویا کہ اس بندے نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9805

۔ (۹۸۰۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلَکَ المُثْرُوْنَ۔))، قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: ((ھَلَکَ الْمُثْرُوْنَ۔)) قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: ((ھَلَکَ الْمُثْرُوْنَ۔)) قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: حَتّٰی خِفْنَا اَنْ یَکُوْنَ قَدْ وَجَبَتْ، فَقَالَ: اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَقَلِیْلٌ مَا ھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۱۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مالدار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ بالآخر ہم ڈر گئے کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ چیز تو واجب ہو چکی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مگر وہ جس نے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کیا، جبکہ ایسا کرنے والے کم ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9806

۔ (۹۸۰۶)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُکَثِّرِیْنَ ھُمُ الْاَرْزَلُوْنَ (وَفِیْ لَفْظٍ: ھُمُ الْاَقَلُّوْنَ) اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقِیْلَ مَاھُمْ) قَالَ: کَامِلٌ بِیَـدِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ۔ (مسند احمد: ۸۳۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے سب سے زیادہ ذلیل ہوں گے (یا ایک روایت کے مطابق) کم عمل والے ہوں گے، مگر وہ جو اس طرح، اس طرح اور اس طرح کرتا ہے۔ کسی نے کہا: وہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کامل راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا کہ وہ مال دائیں طرف، بائیں طرف اور اپنے سامنے ڈالتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9807

۔ (۹۸۰۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَااَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْفَقْرَ، وَلَکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ التَّکَاثُرَ، وَمَا اَخْشٰی الْخَطَاَ، وَلَکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمَـدَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر فقیری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ کثرت کی طلب کا ڈر ہے، اور مجھے بغیر ارادے کے غلطی کر جانے کا ڈر نہیں ہے، بلکہ تمہارے بارے میں جان بوجھ کر نافرمانی کرنے کا ڈر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9808

۔ (۹۸۰۸)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْاَخْرَمِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَتَّخِذُوْا الضَّیْعَۃَ فَتَرْغَبُوْا فِیْ الدُّنْیَا۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَبِرَاذَانَ مَابِرَاذَانَ! وَبِالْمَدِیْنَۃِ مَابِالْمَدِیْنَۃِ! (مسند احمد: ۴۰۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاگیر بنانے کا اہتمام نہ کرو، وگرنہ دنیا کی رغبت میں پڑ جاؤ گے۔ پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: براذان، کیا ہے براذان؟ مدینہ، کیا ہے مدینہ؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9809

۔ (۹۸۰۹)۔ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَیْئٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّبَقُّرِ فِیْ الْاَھْلِ وَالْمَالِ، فَقَالَ اَبُوْحَمْزۃَ وَکَانَ جَالِسًا عِنْدَہُ: نَعَمْ، حَدَّثَنِیْ اَخْرَمُ الطَّائِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ،عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَکَیْفَ بِاَھْلِ بَرَاذَانَ، وَاَھْلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، وَاَھْلٍ بِکَذَا قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ لِاَبِی التَّیَّاحِ، مَاالتَّبَقُّرُ؟ قَالَ: الْـکَـْثرَۃُ۔ (مسند احمد: ۴۱۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو اہل و مال میں کثرت سے منع فرمایا۔ ابو حمزہ، جو کہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نے کہا: جی ہاں اوراخرم طائی اپنے باپ سے،انھوں نے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا، پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خود کہا: کیا بنے گا اہل براذان کا اور اہل مدینہ کا! امام شعبہ نے کہا: میں نے ابو تیاح سے کہا: تَبَقّر سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے کہا: کثرت۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9810

۔ (۹۸۱۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، اَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ اَخْبَرَہُ، اَنَّ عَمْرَوبْنَ عَوْفٍ، وَھُوَ حلِیْفُ بَنِیْ عَامِرٍ بْنِ لُؤَیٍّ، وَکَانَ شَھِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْبَرَہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ اَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ اِلَی اْلبَحْرَیْنِ،یَاْتِیْ بِجِزْیَتِھَا، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ صَالَحَ اَھْلَ الْبَحْرَیْنِوَاَمَّرَ عَلَیْھِمُ الْعَلائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ، فَقَدِمَ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَیْنِ، فَسَمِعَتِ الْاَنْصَارُ بِقُدُوْمِہِ، فَوَافَتْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوْا لَہُ، فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَآھُمْ، فَقَالَ: ((اَظُنُّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ اَنَّ اَبَا عُبَیْدَۃَ قَدْ جَائَ، وَجَائَ بِشْیْئٍ؟)) قَالُوْا :اَجَلْ یَارَسُوْلُ اللہ! قَالَ: ((فَاَبْشِرُوْا، وَاَمِّلُوْا مَایَسُرُّکُمْ، فَوَاللّٰہِ! مَا الْفَقْرَ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ، وَلٰکِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ تُبْسَطَ الدُّنْیَا عَلَیْکُمْ کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، فَتَافَسُوْھَا کَمَا تَنَافَسُوْھَا، وَتُلْھِیْکُمْ کَمَا اَلْھَتْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۶۶)
۔ بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے سیدنا عمرو بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف جزیہ لینے کے لیے بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل بحرین سے مصالحت کر لی تھی اور سیدنا علاء بن حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کا امیر بنایا تھا، جب سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مال لے کر بحرین سے واپس آئے اور انصار کو ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نمازِ فجر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے تو انصار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درپے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم کو پتہ چل گیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر واپس آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جائے اور اس چیز کی امید رکھو جو تم کو خوش کرنے والے والی ہے، اللہ قسم کی ہے، مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا کوئی ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے خوف یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کو تم پر فراخ کر دیا جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کی گئی اور پھر تم اس میں اس طرح پڑ جاؤ، جیسے وہ لوگ پڑ گئے تھے اور پھر وہ تم کو اس طرح غافل کر دے، جیسے ان لوگوں کو غافل کر دیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9811

۔ (۹۸۱۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَسْاَلُہُ، فَجَعَلَ یَنْظُرُ اِلٰی رَاْسِہِ مَرَّۃً وَاِلٰی رِجْلَیْہِ اُخْرٰی، ھَلْ یَرٰی عَلَیْہِ مِنَ الْبُؤْسِ شَیْئًا ، ثُمَّ قَالَ لَہُ عُمَرُ:کَمْ مَالُکَ؟ قَالَ: اَرْبَعُوْنَ مِنَ الْاِبِلِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، لَوْکَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَھَبٍ لَابْتَغِیَ الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ، فَقَالَ عُمَرَ: مَاھٰذَا؟ فَقُلْتُ: ھٰکَذَا اَقْرَاَنِیْھَا اُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ، قَالَ: فَمُرْ بِنَا اِلَیْہِ قَالَ: فَجَائَ اِلٰی اُبَيٍّ، فَقَالَ: مایَقُوْلُ ھٰذَا؟ قَالَ اُبَيٌّ: ھٰکَذَا اَقْرَاَنِیْھَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَفَاُثْبِتُھَا؟ قَالَ: فَاَثْبِتْھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۲۸)
۔ عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی سوال کرنے کے لیے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، آپ کبھی اس کے سر کی طرف دیکھتے اور کبھی پاؤں کی طرف، آپ اس پر غربت کی کوئی علامت دیکھنا چاہتے تھے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس آدمی سے کہا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: جی چالیس اونٹ ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا اور مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کے پیٹ کو بھر دیتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تم کیا بیان کر رہے ہو؟ میں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ایسے ہی پڑھایا ہے، انھوں نے کہا: اس کو ہمارے پاس آنے کا حکم دو، پس سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: تمہارے حوالے سے یہ کیا کہتے ہیں؟ سیدناابی نے کہا: جی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایسے ہی پڑھایا تھا، انھوں نے کہا: تو کیا میں ان الفاظ کو ثابت کر دوں؟ انھوںنے کہا: جی کر دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9812

۔ (۹۸۱۲)۔ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَائً یَقُوْلُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیًا مَالًا، لَاَحَبَّ اَنَّ لَہُ اِلَیْہِ مِثْلَہُ، وَلَا یَمْلَاُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، وَاللّٰہُ یَتُوْبُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَـلَا اَدْرِیْ اَمِنَ الْقُرْآنِ ھُوَ اَمْ لَا؟ (مسند احمد: ۳۵۰۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کو اس طرح کی ایک اور وادی مل جائے اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کے نفس کو بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ آیایہ قرآن مجید کا حصہ ہے یا نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9813

۔ (۹۸۱۳)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ شَیْئًا اِذَا دَخَلَ الْبَیْتَ؟ قَالَتْ: کَانَ اِذَا دَخَلَ الْبَیْتَ، تَمَثَّلَ ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ، لََابْتَغٰی وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَایَمْلَاُ فَمَہُ اِلَّا التُّرْابُ، وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ اِلَّا لِاِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ، وَیَتُوْبُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۸۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گھر تشریف لاتے تو یہ بات بیان فرماتے: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، مٹی ہی ہے، جو اس کے منہ کو بھر سکتی ہے، اور ہم نے مال تو اس لیے بنایا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے کی توبہ کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9814

۔ (۹۸۱۴)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فَـلَا اَدْرِیْ اَشَیْئٌ نَزَلَ عَلَیْہِ اَمْ شَیْئٌیَقُوْلُہ؟ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لَوْکَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغٰی لَھُمَا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَائُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۵۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنتا تھا، لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آیایہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی ہے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی طرف کہہ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا، اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والی کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9815

۔ (۹۸۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنّٰی مِثْلَہُ، ثُمَّ تَمَنّٰی مِثْلَہُ حَتّٰییَتَمَنّٰی اَوْدِیَۃً، وَلَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۲۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس کھجور کے درختوں کی ایک وادی ہو تو وہ اس طرح کی ایک اور وادی کی تمنا کرے گا، پھر ایک اور وادی کی خواہش کرنے لگے گا، یہاں تک کہ اس میں کئی وادیوں کی خواہش پیدا ہو جائے گی، بس مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9816

۔ (۹۸۱۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَقَدْ کُنَّا نَقْرَاُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَھَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی اِلَیْھِمَا آخَرَ، وَلَا یَمْلَاُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، ویَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۹۵)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں اس چیز کی بھی تلاوت کرتے تھے: اگر ابن آدم کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش شروع کر دے گا، بس مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9817

۔ (۹۸۱۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْشَیْخُیَکْبَرُ، وَیَضْعَفُ جِسْمُہُ، وَقَلْبُہُ شَابٌّ عَلَی حُبِّ اثْنَیْنِ، طُوْلِ العُمُرِ وَالْمَالِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بزرگ عمر رسیدہ ہو رہا ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو رہا ہوتا ہے، لیکن ابھی تک اس کا دل دو چیزوں کی محبت کے سلسلے میں جوان ہوتا ہے، لمبی عمر اور مال۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9818

۔ (۹۸۱۸)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَھْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقٰی مِنْہُ اثْنَتَانِ، اَلْحِرْصُ، وَالْاَمَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۶۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم ادھیڑ عمری میں پہنچ جاتا ہے اور ابھی تک اس کی دو چیزیں باقی ہوتی ہیں، حرص اور امید۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9819

۔ (۹۸۱۹)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَاذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِیْ غَنَمٍ اَفَسَدَلَھَا، مِنْ حِرْصِ الْمَرْئِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِیْنِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۶)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر دو بھیڑیئے بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ ان کا اتنا نقصان نہیں کرتے، جتنا بندے کے مال اور شرف پر حریص ہونے سے اس کے دین کا نقصان ہو جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9820

۔ (۹۸۲۰)۔ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ اَصْرَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ، فَقِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَرَکَ دِیْنَارًا اَوْ دِرْھَمًا، فَقَالَ: ((کَیَّتَانِ، صَلُّوْا عَلَی صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو ایک دیناریا ایک درہم چھوڑ کر فوت ہوا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9821

۔ (۹۸۲۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ جَسَدِیْ، فَقَالَ: ((یَاعَبْدَ اللّٰہِ! کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ، وَاعْدُدْ نَفْسَکَ فِیْ الْمَوْتٰی۔)) (مسند احمد: ۴۷۶۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے جسم کے ایک حصے کو پکڑا اور فرمایا: اے عبدا للہ! دنیا میں ایسے ہو جا، جیسے تو اجنبییا مسافر ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9822

۔ (۹۸۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اَعْرَابِیًّا غَزَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْبَرَ فَاَصَابَہُ مِنْ سَھْمِہِ دِیْنَارَانِ، فاَخَذَھُمَا الْاَعْرِابِیُّ فَجَعَلَھُمَا فِیْ عَبَائَ تِہِ وَخَیَّطَ عَلَیْھِمَا وَلَفَّ عَلَیْھِمَا، فَمَاتَ الْاَعْرَابِیُّ، فَوَجََدُوْا الدِّیْنَارَیْنِ، فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((کَیَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میںجہاد کیا، جب اس کو اپنے حصے کے دو دینار ملے تو اس نے ان کو اپنی چادر میں رکھا اور سلائی کر کے لپیٹ دیا اور پھر وہ بدّو فوت ہو گیا، جب لوگوں کو اس کے دینار ملے اور انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9823

۔ (۹۸۲۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَحِقَ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدٌ اَسْوَدُ فَمَاتَ فَاُوْذِنَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُنْظُرُوْا ھَلَ تَرَکَ شَیْئًا؟)) فَقَالُوْا: تَرَکَ دِیْنَارَیْنِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا اور پھر فوت ہو گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھو، کیا وہ کوئی چیز چھوڑ کر فوت ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی اس نے دو دینار چھوڑے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9824

۔ (۹۸۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا وَسْطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخُطُوْطًا اِلٰی جَنْبِ الْخَطِّ الّذِیْ وَسْطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاھٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ھٰذَا الْاِنْسَانُ، الْخَطُّ الْاَوْسَطُ، وَھٰذِہِ الْخُطُوْطُ الَّتِیْ جَنْبَہُ الْاَعْرَاضُ تَنْھَشُہُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ، اِنْ اَخْطَاَ ھٰذَا، اَصَابَہُ ھٰذَا، وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ، الْاَجَلُ الْمُحِیْطُ بِہٖ،وَالْخَطُّالْخَارِجُالْاَمَلُ۔)) (مسنداحمد: ۳۶۵۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لکیریں لگا کر ایک مربع شکل بنائی، اس شکل کے درمیان میں ایک خط لگایا اور پھر اس کے ساتھ اور شکل کے اندر ہی کئی لکیریں لگائی اور ایک لکیر اس مربع کے باہر لگائی اور پھر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درمیان میں لگی ہوئییہ لکیر انسان ہے، اس کے ساتھ لگی ہوئییہ لکیریںبیماریاں ہیں، جو اس کو ہر مقام پر نوچنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر ایک اپنے نشانے سے گھس جاتی ہے تو دوسری لگ جاتی ہے،یہ مربع شکل میں لگے ہوئے خطوط انسان کی موت ہے، جو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس شکل سے باہر لگی ہوئی لکیر انسان کی امید ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9825

۔ (۹۸۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَرَزَ بَیْنَیَدَیْہِ غَرْزًا، ثُمَّ غَرَزَ اِلٰی جَنْبِہٖآخَرَ،ثُمَّغَرَزَالثَّالِثَفَاَبْعَدَہُ،ثُمَّقَالَ: ((ھَلْتَدْرُوْنَمَاھٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُوَرَسُوْلُہُاَعْلَمُ،قَالَ: ((ھٰذَا الْاِنْسَانُ، وَھٰذَا اَجَلُہُ، وَھٰذَا اَمَلُہُ، یَتَعَاطَی الْاَمَلَ، یَخْتَلِجُہُ الْاَجَلُ دَوْنَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سامنے ایک چیز گاڑھی، پھر اس کے پہلو میں ایک دوسری چیز گاڑھ دی اور اس سے ذرا دو ر کر کے تیسری چیز گاڑھ دی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ انسان ہے، اس کے ساتھ گڑھی ہوئییہ چیز اس کی موت ہے اور وہ دور گڑھی ہوئی اس کی امید ہے، ابھی تک وہ اپنی امید کے درپے ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی موت اس کو اچک لیتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9826

۔ (۹۸۲۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ اَصَابَہُ فَوَضَعَھَا عَلَی الْاَرْضِ فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ۔)) ثُمَّ رَفَعَھَا خَلْفَ ذٰلِکَ قَلِیْلًا، وَقَالَ: ((ھٰذَا اَجَلُہُ۔)) ثُمَّ رَمٰی بِیَدِہِ اَمَامَہُ قَالَ: ((وَثَمَّ اَمَلُہُ)) (مسند احمد: ۱۲۲۶۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں جمع کیں اور ان کو زمین پر رکھا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اپنی انگلیوں کو تھوڑا سا اٹھایا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ اور پھر اپنے ہاتھ کو اپنے سامنے پھینک کر فرمایا: اور یہاں اس کی امیدیں ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9827

۔ (۹۸۲۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَامِلَہُ فَنَکَتَھُنَّ فِیْ الْاَرْضِ فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ۔)) وَقَالَ: بِیَدِہِ خَلْفَ ذٰلِکَ وقَالَ: ((ھٰذَا اَجَلُہُ۔)) قَالَ: وَ اَوْمَاَ بَیْنَیَدَیْہِ قَالَ: ((وَثَمَّ اَمَلُہُ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۱۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پوروں کو جمع کیا اور ان سے زمین میں کریدا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اس سے ذرا پیچھے ہاتھ رکھا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ پھر اپنے سامنے اشارہ کیا اور فرمایا: اور وہاں تک اس کی امیدیں ہیں۔ تین دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9828

۔ (۹۸۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخَذَ ثَلَاثَ حَصَیَاتٍ فَوَضَعَ وَاحِدَۃً، ثُمَّ وَضَعَ اُخْرٰی بَیْنَیَدَیْہِ وَرَمٰی بِالثَّالِثَــۃِ، فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ وَھٰذَا اَجَلُہُ، وَذٰلِکَ اَمَلُہُ الَّتِیْ رَمٰی بِھَا۔))(مسند احمد: ۱۳۸۳۱)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین کنکریاں لیں، ان میں ایک کو نیچے رکھا، دوسری کو اپنے سامنے رکھا اور تیسری کو پھینک دیا اور پھر فرمایا: یہ ابن آدم ہے اور اس کے ساتھ ہییہ اس کی موت پڑی ہوئی ہے اور جس کنکری کو پھینک دیا گیا ہے، وہ اس کی امیدیں ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9829

۔ (۹۸۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَجَلُـکُمْ فِیْ اَجَلِ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ اِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔)) (مسند احمد: ۵۹۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم سے پہلے والے لوگوں کی عمروں کو دیکھا جائے تو تمہاری عمر نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9830

۔ (۹۸۳۰)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَیْضًا، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالشَّمْسُ عَلٰی قُعَـْیقِعَانَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: ((مَااَعْمَارُکُمْ فِیْ اَعْمَارِ مَنْ مَضٰی، اِلَّا کَمَا بَقِیَ مِنَ النَّھَارِ فِیْمَا مَضٰی مِنْہِ۔)) (مسند احمد: ۵۹۶۶)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ سورج عصر کے بعد قعیقعان پہاڑ پر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلے گزر جانے والے لوگوں کی عمروں کی بہ نسبت تمہاری عمر اتنی ہے، جتنا دن کا حصہ باقی ہے، گزر جانے والے حصے کی بہ نسبت۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9831

۔ (۹۸۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقَدْ اَعْذَرَ اللّٰہُ اِلٰی عَبْدٍ اَحْیَاہُ حَتَّی بَلَغَ سِتِّیْنَ، اَوْ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، لَقَدْ اَعَذَرَ اللّٰہُ لَقَدْ اَعذَرَ اللّٰہُ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا عذر ختم کر دیا، جس کو اتنی دیر تک زندہ رکھا کہ وہ ساٹھ یا ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے، بس اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9832

۔ (۹۸۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَمَّرَ سِتِّیْنَ اَوْ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، فَقَدْ اَعْذَرَ اِلَیْہِ فِیْ الْعُمُرِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۴۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ یا ستر سال تک زندہ رہا، پس اللہ تعالیٰ نے عمر کے سلسلے میں اس کا عذر ختم کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9833

۔ (۹۸۳۳)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَامِنْ مُعَمَّرٍ یُعَمَّرُ فِیْ الْاِسْلَامِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، اِلَّا صَرَفَ اللّٰہُ عَنْہُ ثَلَاثَۃَ اَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَائِ، اَلْجُنُوْنُ، وَالْجُذَامُ، وَالْبَرَصُ، فَاِذَا بَلَغَ خَمْسِیْنَ سَنَۃً لَیَّنَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْحِسَابَ، فَاِذَا بَلَغَ سِتِّیْنَ رَزَقَہُ اللّٰہُ الِْانَابَۃَ اِلَیْہِ بِمَا یُحِبُّ، فَاِذَا بَلَغَ سَبْعِیْنَ سَنَۃً اَحَبَّہُ اللّٰہُ وَاَحَبَّہُ اَھْلُ السَّمَائِ، فَاِذَا بَلَغَ الثَّمَانِیْنَ قَبِلَ اللّٰہُ حَسَنَاتِہِ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَیِّئَاتِہِ، فَاِذَا بَلَغَ تِسْعِیْنَ غَفَرَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖوَمَاتَاَخَّرَ،وَسُمِّیَ اَسِیْرَ اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہِ وَشُفِّعَ لاَھْلِ بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۲۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اسلام کی چالیس سال عمر دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی بیماریاں دور کر دیتا ہے، جنون، کوڑھ اور پھلبہری، جب آدمی پچاس سال تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر حساب کو آسان کر دیتا ہے، جب اس کی عمر ساٹھ برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پسند کے مطابق اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق دیتا ہے، پھر جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کر لیتا ہے اور اس کی برائیوں سے تجاوز کر دیتا ہے، پھر جب اس کی عمر نوے برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کا یہ نام رکھ دیا ہے کہ فلاں آدمی زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہے اور اس کے گھر والوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9834

۔ (۹۸۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِیِّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّ الشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، اَمَرَھُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لالچ سے بچو، بیشک اس لالچ نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اس نے ان کو بخیلی کا حکم دیا، پس انھوں نے بخیلی کی اور اس نے ان کو برائیوں پر اکسایا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9835

۔ (۹۸۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْتَمِعُ شُحٌّ وَاِیْمَانٌ فِیْ قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لالچ اور ایمان، دونوں مسلمان آدمی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9836

۔ (۹۸۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، اَنَّہُ کَانَ مَعَ اَبِیْ ذَرٍّ، فَخَرَجَ عَطَاؤُہُ وَمَعَہُ جَارِیَۃٌ لَہُ فَجَعَلَتْ تَقْضِیْ حَوَائِجَہُ، قَالَ: فَفَضَلَ مَعَھَا سَبْعَۃٌ، قَالَ: فَاَمَرَھَا اَنْ تَشْتَرِیَ بِھَا فُلُوْسًا، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: لَوِ ادَّخَرْتَہُ لِلْحَاجَۃِ تَنُوْبُکَ، اَوْ لِلضَّیْفِیَنْزِلُ بِکَ؟ قَالَ: اِنَّ خَلِیْلِیْ عَھِدَ اِلَیَّ اَنْ اَیُّمَا ذَھَبٍ اَوْفِضَّۃٍ اُوْکِیَ عَلَیْہِ فَھُوَ جَمْرٌ عَلٰی صَاحِبِہٖحَتّٰییُفْرِغَہُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۱۲)
۔ عبد اللہ بن صامت سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، ان کا کوئی مال نکل آیا، ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی، اس نے ان کی ضروریات پوری کرنا شروع کیں، جب اس مال سے سات بچ گئے تو انھوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ وہ ان کے عوض قدیم سکے خرید لے، میں (عبد اللہ بن صامت) نے کہا: اگر تم ان کو پیش آنے والی ضرورت یا اپنے پاس آنے والے مہمان کے لیے ذخیرہ کر لو تو بہتر ہو گا۔ انھوں نے کہا: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس سونے اور چاندی کو بند کر کے رکھ دیا جائے تو وہ اس مالک کے لیے انگارے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9837

۔ (۹۸۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْبَخِیْلِ وَالْمُنْفِقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ، مِن لَدُنْ ثُدِیِّھِمَا اِلٰی تَرَاقِیْھِمَا، (فَاَمَّا الْمُنْفِقُ) فَـلَا یُنْفِقُ مِنْھَا اِلَّا اتَّسَعَتْ حَلْقَۃٌ مَکَانَھَا، فَھُوَ یُوَسِّعُھَا عَلَیْہِ، (وَاَمَّا الْبَخِیْلُ) فَاِنَّھَا لَا تَزْدَادُ عَلَیْہِ اِلَّا اسْتِحْکَامًا۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے کہ جن پر ان کے سینے والی جگہ سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک دو زرہیں ہوں، پس خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو اس کا حلقہ اپنی جگہ پر کھل جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ساری کھلی ہو جاتی ہے اور رہا مسئلہ بخیل کا تو اس کی زرہ کی مضبوطی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9838

۔ (۹۸۳۸)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ لِفُلَانٍ فِیْ حَائِطِیْ عَذْقًا، وَاَنَّہُ قَدْ اٰذَانِیْ وَشَقَّ عَلَیَّ مَکَانُ عَذْقِہِ، فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((بِعْنِیْ عَذْقَکَ الَّذِیْ فِیْ حَائِطِ فُلَانٍ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَھَبْہُ لِیْ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَبِعْنِیْہِ بِعَذْقٍ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَارَاَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ اَبْخَلُ مِنْکَ، اِلَّا الَّذِیْیَبْخَلُ بِالسَّلَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۷۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے باغ میں فلاں آدمی کا کھجور کا درخت ہے، پس تحقیق اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے درخت کی جگہ میرے لیے باعث ِ مشقت ثابت ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ فلاں آدمی کے باغ میں موجود اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دے۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جنت کے کھجور کے درخت کے عوض مجھے بیچ دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا، جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو، سوائے اس کے جو سلام کہنے میں بخل کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9839

۔ (۹۸۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِیْلَ، وَکَانَ مِنَّا مِنْ بَنِیْ غُبَرَ قَالَ: اَصَابَتْنَا سَنَۃٌ، فَاَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِیْطَانِھَا، فَاَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَکْتُہُ وَاَکَلْتُ مِنْہُ وَحَمَلْتُ فِیْ ثَوْبِیْ، فَجَائَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِیْ وَاَخَذَ ثَوْبِیْ، فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاعَلَّمْتَہُ اِذْ کَانَ جَاھِلًا، وَلَا اَطْعَمْتَہُ اِذْ کَانَ سَاغِبًا، اَوْ جَائِعًا۔)) فَرَدَّ عَلَیَّ الثَّوْبَ، وَاَمَرَ لِیْ بِنِصْفِ وَسْقٍ، اَوْ وَسْقٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۶۲)
۔ سیدنا عباد بن شرحبیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو بنو غبر میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، میں مدینہ میں آیا اور اس کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں داخل ہوا، ایک سٹّے کو ملا اور اس سے دانے نکالے۔ کچھ دانے کھا لیے اور کچھ کپڑے میں اٹھا لیے، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا۔ میں (شکایت لے کر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا (اور ساری بات بتائی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (باغ کے اس مالک) سے فرمایا: وہ جاہل تھا تو نے اسے تعلیم نہیں دی اور وہ بھوکا تھا تو نے اسے کھلایا نہیں۔ تو اس نے میرا کپڑا مجھے لوٹا دیا اور مجھے ایکیا نصف وسق کھانے کا بھی دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9840

۔ (۹۸۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ الْعَبْدُ: مَالِیْ وَ مَالِیْ، وَ اِنَّ مَالَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ، مَااَکَلَ فَاَفْنٰی، اَوْ لَبِسَ فَاَبْلیٰ، اَوْاَعْطٰی فَاَقْنٰی، مَاسِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ ذَاھِبٌ وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، جبکہ اس کے مال میں سے اس کے صرف تین حصے ہیں، (۱) جو اس نے کھا کر فنا کر دیا، (۲) جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا اور (۳) جو اس نے کسی کو مال دے کر خوش کر دیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، وہ اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9841

۔ (۹۸۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِیِّاکُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ، فَاِنَّھُنَّ یَجْتَمِعْنَ عَلَی الرَّجُلِ، حَتّٰییُھْلِکْنَہُ، وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَرَبَ لَھُنَّ مَثَلًا کَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوْا اَرْضَ فَلَاۃٍ، فَحَضَرَ صَنِیْعُ الْقَوْمِ، (اَیْ طَعَامُھُمْ) فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَنْطَلِقُ، فَیَجِیْئُ بِالْعُوْدِ وَالرَّجُلُ یَجِیْئُ بِالْعُوْدِ، حَتّٰی جَمَعُوْا سَوَادًا، فَاَجَّجُوْا نَارًا، وَاَنْضَجُوْا مَاقَذَفُوْا فِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۳۸۱۸)
۔ صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان وہ آدمی پر اس قدر جمع ہو جائیں کہ اس کو ہلاک کر دیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان گناہوں کی ایک مثال بیان کی کہ ان کی مثال اس قوم کی طرح ہے جو کسی صحراء میں اترے اور جب ان کے کھانے کا وقت ہوا تو ایک آدمی گیا اور ایک لکڑی لے آیا، دوسرا ایک لکڑی لے آیا،یہاں تک کہ گزارے کے لائق لکڑیاں جمع ہو گئیں، پھر انھوں نے آگ جلائی اور وہ کچھ پکا لیا، جو انھوں نے پکانا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9842

۔ (۹۸۴۲)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِیِّاکُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ، کَقَوْمٍ نَزَلُوْا فِیْ بَطْنِ وَادٍ فَجَائَ ذَا بِعُوْدٍ وَجَائَ ذَا بِعُوْدٍ حَتّٰی اَنْضَجُوْا خُبْزَتَھُمْ، وَاِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ مَتٰییَاْخُذُ بِھَا صَاحِبُھَا تُھْلِکُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۹۴)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صغیرہ گناہوں سے گریز کرو۔ (اور ان کو حقیر مت سمجھو، غور فرماؤ کہ) کچھ لوگ ایک وادی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں، ایک آدمی ایک لکڑی لاتا ہے اور دوسرا ایک لاتا ہے … (ایک ایک کر کے اتنی لکڑیاں جمع ہو جاتیہیں کہ) وہ آگ جلا کر روٹیاں وغیرہ پکا لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر صغیرہ گناہوں کی بنا پر مؤاخذہ ہوا تو وہ بھی ہلاک کر سکتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9843

۔ (۹۸۴۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! اِیَّاکِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ، فَاِنَّ لَھَا مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ طَالِبًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے بچتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کرنے والا (فرشتہ) ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9844

۔ (۹۸۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالاً ھِیَ اَدَقُّ فِیْ عَیْنِکُمْ مِنَ الشَّعْرِ، کُنَّا نَعُدُّھَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمُوْبِقَاتِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۰۸)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ تم ایسے اعمال بھی سرانجام دے رہے ہوجو تمہارے نزدیک بال سے بھی زیادہ باریک ہیں(یعنی تم ان کو نہایت معمولی سمجھتے ہو) حالانکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم ان کو ہلاک کردینے والے امور میں شمار کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9845

۔ (۹۸۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالًا، فَذَکَرَ مِثَلَ الْاَثْرِ الْمُتَقَدِّمِ بِلَفْظِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۳۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک تم لوگ ایسے ایسے کام کرتے ہو، …۔ پھر سابقہ قول کی طرح کے الفاظ نقل کیے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9846

۔ (۹۸۴۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ قُرْطٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ الْیَوْمَ اَعْمَالًا، فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۳۲)
۔ سیدنا عبادہ بن قرط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: بیشک تم لوگ آج ایسے ایسے افعال کر جاتے ہو کہ ……۔ پھر سابقہ قول کی طرح بیان کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9847

۔ (۹۸۴۷)۔ عَنْ عَمْروِ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِرَجُلٍ اَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَ اثْنَیْنِ اِلَّا بِاِذْنِھِمَا۔)) (مسند احمد: ۶۹۹۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ دو افراد میں ان کی اجازت کے بغیر جدائی ڈالے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9848

۔ (۹۸۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلٰی اَھْلِھَا فلَیْسَ مِنَّا، وَمَنْ اَفْسَدَ امْرَاَۃً عَلٰی زَوْجِھَا فلَیْسَ ھُوَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی خادم کو اس کے مالکوں کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے کسی خاوند کے حق میں اس کی بیوی کو بگاڑا، وہ بھی ہم سے نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9849

۔ (۹۸۴۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسْاَلِ الْمَرْاَۃُ طَلَاقَ اُخْتِھَا، لِتَکْتَفِیئَ مَافِیْ اِنَائِھَا فَاِنَّ رِزْقَھَا عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۹۱۰۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ اس چیز کو انڈیل دے جو کچھ اس کے برتن میں ہے، پس بیشک اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9850

۔ (۹۸۵۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَفَ بِالْاَمَانَۃِ، وَمَنْ خَبَّبَ عَلَی امْرَئٍ زَوْجَتَہُ، اَوْ مَمْلُوْکَہُ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۶۸)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے امانت کی قسم اٹھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے، اسی طرح جس نے کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف اور کسی غلام کواس کے آقا کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9851

۔ (۹۸۵۱)۔ عَنِ الشَّعَبِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُنْتُ اِذَا سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَصْغَیْتُ وَتَقَرَّبْتُ وَخَشِیْتُ اَنْ لَا اَسْمَعَ اَحَدًا یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((حَلَالٌ بَیِّنٌ وَحَرَامُ بَیِّنٌ، وَشُبُھَاتٌ بَیْنَ ذٰلِکَ، مَنْ تَرَکَ مَا اشْتَبَہَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ کَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَہُ اَتْرَکَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلٰی مَا شَکَّ فِیْہِ اَوْشَکَ اَنْ یُوَاقِعَ الْحَرَامَ، وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی، وَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ الْاَرْضِ مَعَاصِیْہِ، اَوْ قَالَ: مَحَارِمُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۷۴)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، امام شعبی کہتے ہیں: جب میں ان کو یہ کہتے ہوئے سنتا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تو میں اپنا کان لگاتا اور قریب ہو جاتااور ڈرتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی اور سے یہ الفاظ نہ سن سکوں کہ وہ کہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، البتہ ان کے بیچ میں مشتبہ امور ضرور ہیں، جس نے گناہ سے بچنے کے لیے مشتبہ چیز کو چھوڑ دیا، تو وہ واضح ہونے والے گناہ کو زیادہ چھوڑنے والا ہو گا اور جس نے مشکوک چیز پر جرأت کر دی تو قریب ہے کہ وہ حرام میں پڑ جائے، بیشک ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ جگہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ جگہ اس کی نافرمانیاںیا حرام کردہ امور ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9852

۔ (۹۸۵۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا مَرَّ برَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ بَعْضُ اَزْوَاجِہِ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُیُعْلِمُہُ اَنَّھَا زَوْجَتُہُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَظُنُّ بِیْ؟ فَقَالَ: ((اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ یَدْخُلَ عَلَیْکَ الشَّیْطَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۸۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی آپ کے پاس کھڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو آواز دی: اے فلاں، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ یہ عورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی ہے، اس نے آگے سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میرے بارے میں کوئی بدگمانی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تیرے اندر گھس جائے (اور کوئی وسوسہ پیدا کر دے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9853

۔ (۹۸۵۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ اِمْرَاَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! ھٰذِہِ امْرَاَتِیْ)) فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ کُنْتُ اَظُنُّ بِہٖ،فَاِنِّیْ لَمْ اَکُنْ اَظُنُّ بِکَ، قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَی الدَّمِ۔))(مسند احمد: ۱۲۶۲۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری بیوی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی کے بارے میں تو گمان ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے بارے میں تو میں کسی بد گمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9854

۔ (۹۸۵۴)۔ عَنْ عَلَیٍّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَِيٍّ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعْتَکِفًا، فَاَتَیْتُہُ اَزُوْرُہُ لَیْلًا، فَحَدَّثْتُہُ ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِیَیَقْلِبُنِیْ، وَکَانَ مَسْکَنُھَا فِیْ دَارِ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْاَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکُمَا، اِنَّھَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ۔)) فَقَالَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَاِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ یَقْذِفَ فِیْ قُلُوْبِکُمَا شَرًّا، اَوْ قَالَ: شَیْئًا ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۰۰)
۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آئی، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے باتیں کیں اور جب اٹھ کر جانے لگی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی مجھے واپس چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے، میرا گھر سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس تھا، ہمارے پاس سے دو انصاریوں کا گزر ہوا، جب انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو انھوں نے جلدی سے آگے سے گزرنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو کہ میری اپنی بیوی ہے)۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شرّ والی بات ڈال دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9855

۔ (۹۸۵۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتَ {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((یَافَاطِمَۃُ! یَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ،یَا صَفِیَّۃُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ،یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ، لَااَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلُوْنِیْ مِنْ مَالِیْ مَاشِئْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۵۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9856

۔ (۹۸۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ،یَا بَنِیْ ھَاشِم، اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا،یَا اُمَّ الزُّبَیْرِ عَمَّۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،یَا فَاطَمَۃُ بِنَتَ مُحَمَّدٍ، اشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلَانِیْ مِنْ مَّالِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد المطلب! اے بنی ہاشم! اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا، اے نبی کی پھوپھی ام زبیر! اے فاطمہ بنت محمد! اپنے نفسوں کو خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا، البتہ میرے مال سے سوال کر سکتی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 9857

۔ (۹۸۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلٰی ھٰذَا الْمِنْبَرِ: ((مَابَالُ رِجَالٍ، یَقُوْلُوْنَ : اِنَّ رَحِمَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَاتَنْفَعُ قَوْمَہُ، بَلیٰ! وَاللّٰہِ، اِنَّ رَحِمِیْ مَوْصُوْلَۃٌ فِیْ الدُّنْیَاوَالْآخِرَۃِ، وَاِنِّیْ اَیُّھَا النَّاسُ فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ، فَاِذَا جِئْتُمْ)) قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَا فُلَانٌ، وَقَالَ اَخُوْہُ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ لَھْمُ: ((اَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُہُ، وَلٰکِنَّکُمْ اَحْدَثْتُمْ بَعْدِیْ وَارْتَدَدْتُمُ الْقَھْقَرٰی۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۵۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رشتہ داری آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ کیوں نہیں، اللہ کی قسم ہے، میری رشتہ داری دنیا و آخرت میں ملی ہوئی ہو گی، لوگو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، پس جب تم وہاں آؤ گے۔ اتنے میں ایک آدمی کہے گا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں ہوں، اور اس کا بھائی کہے گا: میں فلاں بن فلاں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمائیں: نسب کو تو میں نے پہچان لیا ہے، لیکن تم نے میرے بعد نئے امور ایجاد کر لیے اور پچھلے پاؤں پلٹ گئے۔
video

Icon this is notification panel