197 Results For Hadith (Musnad Ahmad ) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10454

۔ (۱۰۴۵۴)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ اِصْطَفٰی مِنْ وَلَدِ إِبْرَاھِیْمَ إِسْمَاعِیْلَ وَاِصْطَفٰی مِنْ بَنِیْ إِسْمَاعِیْلَ کِنَانَۃَ وَ اصْطَفٰی مِنْ بَنِیْ کِنَانَۃَ قُرَیْشًا وَاصْطَفٰی مِنْ قُرَیْشٍ بِنَی ھَاشِمٍ وَاصْطَفَانِیْ مِنْ بَنِیْ ھَاشِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۱۲)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اولادِ ابراہیم سے اسماعیل کو، بنو اسماعیل سے کنانہ کو، بنو کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10455

۔ (۱۰۴۵۵)۔ عَنْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قَالَ: أَتَی نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْ قَوْمِکَ حَتّٰییَقُوْلَ الْقَائِلُ مِنْھُمْ: إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَۃٍ نَبَتَتْ فِیْ کِبَائٍ، قَالَ حُسَیْنٌ: اَلْکِبَائُ اَلْکِنَاسَۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ مَنْ أَنَا؟)) قَالُوْا: أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔)) قَالَ: فَمَا سَمِعْنَا ہُ قَطُّ یَنْتَمِیْ قَبْلَھَا ((أَلَا اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَہُ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ خَلْقِہِ، ثُمَّّ فَرَّقَھُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ الْفِرْقَتَیْنِ ثُمَّّ جَعَلَھُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِیْمِنْ خَیْرِھِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّّ جَعَلَھُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِھِمْ بَیْتًا وَأَنَا خَیْرُکُمْ بَیْتًا وَخَیْرُکُمْ نَفْسًا))۔ (مسند احمد: ۱۷۶۵۸)
۔ سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہم آپ کی قوم کی باتیں سنتے ہیں، وہ تو آپ کے بارے میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی مثال شہد کی مکھی کی سی ہے، جو جھاڑو سے اکٹھا ہونے والے کوڑے سے پیداہوتی ہے، حسین راوی نے کہا: کِبَائ سے مراد جھاڑو سے اکٹھا ہونے والا کوڑا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میں کون ہوں؟ انھوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اس سے پہلے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنا نسب بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (جن و انس) کو پیدا کیا اور مجھے بہترین مخلوق (یعنی انسانوں) میں سے بنایا، پھر انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین حصے میں رکھا، پھر اس کو قبیلوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اس کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا قرار دیا، پس میں تم میں گھر کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور نفس کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10456

۔ (۱۰۴۵۶)۔ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ھَیْضَمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَفْدٍ لَا یَرَوْنَ أَنِّیْ أَفْضَلُھُمْ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّنَا نَزْعُمُ أَنَّکُمْ مِنَّا، قال: ((نَحْنُ بَنُوْ النَّضْرِ بْنِ کِنَانَۃَ لَا نَقْفُوْا أُمَّنَا وَلَانَنْتَفِیْ مِنْ أَبِیْنَا۔)) قَالَ: فَکَانَ الْأَشْعَثُ یَقُوْلُ: لَا أُوْتٰی بِرَجُلٍ نَفٰی قُرَیْشًا مِنَ النَّضْرِ بْنِ کِنَانَۃَ اِلاَّ جَلَدْتُہُ الْحَدَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۸۲)
۔ سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اس وفد کے لوگوں کا خیال نہ تھا کہ میں ان میں افضل ہوں، اس لیے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ خیال ہے کہ آپ لوگ ہم میں سے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بنو نضر بن کنانہ ہیں،ہم نہ اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ اپنے باپ کی نفی کرتے ہے۔ اشعث کہتے تھے: اگر میرے پاس کوئی ایسا بندہ لایا گیا جس نے قریش کی نضر بن کنانہ سے نفی کی تو میں اس کو حد لگانے کے لیے کوڑے لگائوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10457

۔ (۱۰۴۵۷)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ((اِنِّیْ عِبْدُ اللّٰہِ فِیْ أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَاِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَتِہِ وَسَأُنَبِّئُکُمْ بِتَأْوِیْلِ ذٰلِکَ، دَعْوَۃِ أَبِیْ إِبْرَاھِیْمَ وَبَشَارَۃِ عِیْسٰی قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّیْ اَلَّتِیْ رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْھَا نُوْرٌ أَضَائَ تْ لَہُ قُصُوْرُ الشَّامِ، وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّھَاتُ النَّبِیِّیْنَ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۹۵)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے، اور میں عنقریب تم کو اس کی تأویل کے بارے میں بتلاؤں گا، میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں، میری ماں نے خواب دیکھا تھا کہ اس سے ایک ایسا نور نکلا، جس نے اس کے لیے شام کے محلات روشن کر دیئے اور نبیوں کی مائیں اسی طرح کے خواب دیکھتی رہی ہیں، اللہ تعالیٰ کی ان پررحمتیں ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10458

۔ (۱۰۴۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ عَنْ مَیْسَرَۃَ الْفَجْرِ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَتّٰی کُنْتَ (وَفِیْ لَفْظٍ: جَعَلْتَ) نَبِیًّا؟ قَالَ: ((وَآدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۷۲)
۔ سیدنا میسرہ فجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کب نبی بنایا گیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس وقت نبی بنا دیا گیا تھا کہ ابھی تک آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10459

۔ (۱۰۴۵۹)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہٖوَسَلَّمَقَالَ: ((فِیْ أُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ وَدَجَّالُوْنَ سَبْعَۃٌ وَّعِشْرُوْنَ مِنْھُمْ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ وَاِنِّیْ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۵۰)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں ستائیس کذاب اور جھوٹے ہوں گے، ان میں سے چار خواتین ہوں گی، جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10460

۔ (۱۰۴۶۰)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الَقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِوَلَا فَخْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، میں وہ پہلا شخص ہوں گا کہ جس سے قیامت کے روزے زمین پھٹے گی اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے اور میں بروز قیامت سب سے پہلا سفارشی ہوں گا اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10461

۔ (۱۰۴۶۱)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ کُنْتُ اِمَامَ النَّبِیِّیْنَ وَخَطِیْبَھُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِھِمْ وَلَا فَخْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷۶)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں انبیاء کا امام اور خطیب ہوں گا اور میں سفارش کرنے والا ہوں گا، جبکہ مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10462

۔ (۱۰۴۶۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِیْ أَسْمَائً، أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْیُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِیْ، وَأَنَا الْمَاحِی الَّذِیْیُمْحَی بِیَ الْکُفْرُ، وَأَنَا الَعَاقِبُ وَالَعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہُ نَبِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۵۴)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، لوگوں کا میرے قدم پر حشر ہو گا، میں ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعے کفر کو مٹایا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10463

۔ (۱۰۴۶۳)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: سَمّٰی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفْسَہُ اَسْمَائً، مِنْھَا مَا حَفِظْنَا، فَقَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفّٰی وَالَحْاشِرُ وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ (وَقَالَ یَزِیْدُ: وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَنَبِیُّ الْمَلْحَمَۃِ)۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۰)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے اپنے کچھ نام بیان کیے، ان میں سے بعض ہم نے یاد کر لیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں محمد، احمد، مقَفّی، حاشر اور نبی رحمت ہوں، یزید راوی نے کہا: اور میں نبی توبہ اور نبی ملحمہ ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10464

۔ (۱۰۴۶۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ بَیْنَمَا أَنَا أَمْشِیْ فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ اِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِیْ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((أَنَا مُحَمَّدُ وَأَنَا أَحْمَدُ وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَالَحَاشِرُ وَالْمُقَفّٰی وَنَبِیُّ الْمَلَاحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۳۸)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے کسی راستے پر چل رہا تھا، اتفاق سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی وہاں چل رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبی رحمت ، نبی توبہ، حاشر، مُقَفّی اور نبی ملاحم ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10465

۔ (۱۰۴۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وُلِدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ وَاسْتُنْبِیئَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَتُوُفِّیَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَخَرَجَ مُھَاجِرًا مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے، سوموار کے دن نبوت ملی اور سوموار کو ہی وفات پائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سوموار کو نکلے اور سوموار کو ہی مدینہ منورہ پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سوموار کے دن ہیحجرِ اسود کو اٹھایا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10466

۔ (۱۰۴۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! مَا کَانَ أَوَّلُ بَدْئِ أَمْرِکَ؟ قَالَ: ((دَعْوَۃُ أَبِیْ إِبْرَاھِیْمَ،وَبُشْرٰی عِیْسٰی، وَرَأَتْ أُمِّیْ نُورًا أَضَائَ تْ مِنْھَا قُصُوْرُ الشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۱۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے معاملے کی ابتدا کیا تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں نے ایک نور دیکھا، جس نے شام کے محلات روشن کر دیئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10467

۔ (۱۰۴۶۷)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، قَالَ: وُلِدْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفِیْلِ فَنَحْنُ لِدَانِ وُلِدْنَا مَوْلِدًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۱۸۰۵۰)
۔ سیدنا قیس بن مخرمہ بن مطلب بن عبد ِ مناف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عام الفیل کو پیدا ہوئے، ہماری ولادت کا زمانہ ایک ہی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10468

۔ (۱۰۴۶۸)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلْمَۃَ قَالَتْ: جَائَ تْ أُمُّ حَبِیْبَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لَکَ فِیْ أُخْتِیْ؟ قَالَ: ((فَاَصْنَعُ بِھَا مَاذَا؟)) قَالَتْ: تَزَوَّجْھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَتُحِبِّیْنَ ذٰلِکِ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ، وَاَحَقُّ مَنْ شَرِکَنِیْ فِیْ خَیْرٍ أُخْتِیْ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّھَا لَاتَحِلُّ لِیْ)) فَقَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ بَلَغَنِیْ اَنَّکَ تَخْطُبُ دُرَّۃَ ابْنۃَ أُمِّ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَتْ تَحِلُّ لِیْ لَمَا تَزَوَّجْتُھَا قَدْ أَرْضَعَتْنِیْ وَاِبَاھَا ثَوَیْبَۃُ مَوْلَاۃُ بَنِیْ ھَاشِمٍ فَـلَا تَعْرِضْنَ عَلَیَّ أَخَوَاتِکُنَّ وَلَا بَنَاتِکُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۲۶)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری بہن کی رغبت رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟ انھوں نے کہا: آپ ان سے شادی کر لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پہلے میں کون سی اکیلی ہوں اور اس خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے درّہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں نے اس سے شادی نہیں کرنی تھی، کیونکہ مجھے اور اس کو بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا اپنی بہنیں اور بیٹیاں مجھ پر پیش نہ کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10469

۔ (۱۰۴۶۹)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَیْفَ کَانَ أَوَّلُ شَأْنِکَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((کَانَتْ حَاضِنَتِیْ مِنْ بَنِیْ سَعْدِ بْنِ کَعْبٍ فَأنْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَھَا فِیْبَھْمٍ لَنَا وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا، فَقُلْتُ: یَا أَخِیْ! اذْھَبْ فَأْتِنَا بِزَادٍ مِنْ عِنْدِ أُمِّنَا، فَانْطَلَقَ اَخِیْ وَمَکَثْتُ عِنْدَ الْبُھْمِ فَاَقْبَلَ طَیْرَانِ أَبْیَضَانِ کَأَنَّھُمَا نَسْرَانِ، فَقَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: أَھُوَھُوَ؟قَالَ: فَأَقْبَلَایَبْتَدِرَانِیْ فَأَخَذَانِیْ فَبَطَحَانِیْ اِلَی الْقَفَا فَشَقَّا بَطْنِیْ ثُمَّّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِیْ، فَشَقَّاہُ، فَأَخْرَجَا مِنْہُ عَلَقَتَیْنِ سَوْدَاوَیْنِ، فَقَالَ أَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: اِئْتِنِیْ بِمَائِ ثَلْجٍ فَغَسَلَا بِہٖجَوْفِیْ، ثُمَّّ قَالَ: اِئْتِنِیْ بِمَائِ بَرَدٍ فَغَسَلَا بِہٖقَلْبِیْ، ثُمَّّ قَالَ: ائْتِنِیْ بِالسَّکِیْنَۃِفَذَرَّاھَا فِیْ قَلْبِیْ، ثُمَّّ قَالَ أَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: حُصْہُ،فَحَاصَہُوَخَتَمَعَلَیِْہِ بِخَاتَمِ النَّبُوَّۃِ، (وَقَالَ حَیْوَۃُ فِیْ حَدِیْثِہِ: حِصْہُ، فَحَاصَہُ وَاخْتِمْ عَلَیْہِ بِخَاتَمِ النَّبُوَّۃِ) فَقَالَ اَحَدُھُمَا لِصَاحِبِہٖ: اجْعَلْہُ فِیْ کِفَّۃٍ وَاجْعَلْ اَلْفًا مِنْ أُمَّتِہِ فِیْ کِفَّۃٍ، فَاِذَا أَنَا أَنْظُرُ اِلَی الْاَلْفِ فَوْقِیْ أُشْفِقُ أَنْ یَخِرَّ عَلَیَّ بَعْضُھُمْ فَقَالَ: لَوْ اَنَّ أُمَّتَہُ وُزِنَتْ بِہٖلَمَالَبِھِمْ،ثُمَّّانْطَلَقَاوَتَرَکَانِیْ، وَفَرِقْتُ فَرْقًا شَدِیْدًا، ثُمَّّ انْطَلَقْتُ اِلَی أُمِّیْ اَخْبَرْتُھَا بِالَّذِیْ لَقِیْتُہُ فَاشْفَقَتْ عَلَیَّ اَنْ یَّکُوْنَ اُلْبِسَ بِیْ قَالَتْ: اُعِیْذُکَ بِاللّٰہِ فَرَحَلَتْ بَعِیْرًا لَھَا فَجَعَلَتْنِیْ (وَقَالَ یَزِیْدُ: فَحَمَلَتْنِیْ) عَلَی الرَّحْلِ وَرَکِبَتْ خَلْفِیْ حَتّٰی بَلَغْنَا اِلٰی أُمِّیْ، فَقَالَتْ: أَوَ أَدَّیْتُ أَمَانَتِیْ وَذِمَّتِیْ؟ وَحَدَّثَتْھَا بِالَّذِیْ لَقِیْتُ فَلَمْ یَرُعْھَا ذٰلِکَ فَقَالَتْ: إِنِّیْ رَأَیْتُ خَرَجَ مِنِّی نُوْرٌ أَضَاعَتْ مِنْہُ قُصُوْرُ الشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۹۸)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے معاملے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری دائی کا تعلق بنو سعد بن کعب سے تھا، میں اور اس کا بیٹا بکریاں چرانے کے لیے باہر گئے اور اپنے ساتھ زاد لے کر نہیں گئے، میں نے کہا: اے میرے بھائی! تو جا اور ہماری ماں سے زاد لے آ، پس وہ چلا گیا اور میں بکریوں کے پاس ٹھہر گیا، میں نے دیکھا کہ گدھ کی طرح کے سفید رنگ کے دو پرندے آئے، (دراصل وہ دو فرشتے تھے)، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیایہ وہی ہے؟ پھر وہ میری طرف لپکے، مجھے پکڑا اور گدی کے بل مجھ کو لٹا دیا، پھر انھوں نے میرا پیٹ چاک کیا، اس میں سے میرا دل نکالا، پھر اس کو چیرا دیا اور اس میں سے کالے رنگ کے خون کے دو لوتھڑے نکال دیئے، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: برف کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا پیٹ دھویا، پھر ایک نے کہا: اولوں کا پانی لے آ، پس انھوں نے میرا دل دھویا، پھر ایک نے کہا: اب سکینت لے آیا، پس انھوں نے اس کو میرے دل میں چھڑک دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اب اس کو سلائی کر دے، پس اس نے اس کو سلائی کر دیا اور اس پر نبوت کی مہر لگا دی، ایک روایت میں ہے: ایک فرشتے نے کہا: تو اس کو سلائی کر دے، پس اس نے سلائی کر دیا، پھر اس نے کہا: اب اس پر نبوت کی مہر لگا دے، اس کے بعد ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک پلڑے میں رکھ اور دوسرے پلڑے اس کی امت کے ایک ہزار آدمی رکھ، (میں اتنا بھاری ثابت ہوا کہ) میں نے ان ہزار افراد کو اپنے اوپر اس طرح دیکھا کہ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کوئی مجھ پر گر نہ جائے، پھر ایک فرشتے نے کہا: اگر اس ہستی کا اس کی پوری امت کے ساتھ وزن کیا جائے تو یہ بھاری ثابت ہو گی، پھر وہ دونوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے، میں بہت زیادہ ڈرا اور گھبرا گیا، پھر میں اپنی ماں کی طرف گیا اور جو کچھ دیکھا، اس کو بتلایا، وہ بھی میرے بارے میں ڈرنے لگی کہ مجھ پر کوئی معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے، اس نے کہا: میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اس نے اونٹ تیار کیا، مجھے پالان پر سوار کیا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئی،یہاں کہ ہم میری ماں کے پاس پہنچ گئے، اس دائی نے کہا: میں نے اپنی امانت اور ذمہ داری ادا کر دی ہے ، پھر جب میری ماں کو سارا واقعہ بیان کیا تو ان کو کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی، بلکہ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل روشن ہو گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10470

۔ (۱۰۴۷۰)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَلْعَبُ مَعَ الْصِبْیَانِ فَأَتَاہُ آتٍ فَأَخَذَہُ فَشَقَّ بَطَنَہُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ عَلَقَۃً فَرَمٰی بِھَا وَقَالَ: ھٰذِہِ نَصِیْبُ الشَّیْطَانِ مِنْکَ، ثُمَّّ غَسَلَہُ فِیْ طَشْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ ثُمَّّ لَأمَہُ، فَاَقْبَلَ الصِّبْیَانُ اِلٰی ظِئْرِہِ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَدِ انْتَقَعَ لَوْنُہُ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ کُنَّا نَرٰی أَثْرَ الْمَخِیْطِ فِیْ صَدْرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۴۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بچوںکے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیٹ مبارک چاک کیا اور اس سے خون کا لوتھڑا نکال کر پھینک دیا اور کہا: یہ آپ سے شیطان کا حصہ تھا،پھر اس نے اس کو سونے کے تھال میں موجود زمزم کے پانی سے دوھویا، بچے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دایہ کے پاس گئے اور کہا: محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، پس جب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لینے آئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینے میں سلائی کا نشان دیکھتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10471

۔ (۱۰۴۷۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجْتَنِی الْکَبَاثَ فَقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْہُ فَاِنَّہُ أَطْیَبُہُ)) قَالَ: قُلْنَا: وَکُنْتَ تَرْعَی الْغَنَمَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((نَعَمْ وَھَلْ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا قَدْ رَعَا ھَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اراک پودے کا پھل چن رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:کالے رنگ والا چنو، پس بیشک وہ بڑا اچھا ہوتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھی بکریاں چراتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، بلکہ ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10472

۔ (۱۰۴۷۲)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: إِفْتَخَرَ أَھْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلْفَخْرُ وَالْخُیَلَائُ فِیْ أَھْلِ الْإِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ أَھْلِ الْغَنَمِ، وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ، وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِأَھْلِیْ بِجَیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹوں اور بکریوں کے مالکوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دوسرے پر فخر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکوںمیں ہے اور سکینت اور وقار بکریوں کے مالکوں میں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب موسی علیہ السلام کو مبعوث کیاگیا تو وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو جیاد مقام پر اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10473

۔ (۱۰۴۷۳)۔ عَنْ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کَانَ جَرِیْئًا عَلَی أَنْ یَّسْأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَْشْیَائٍ لَا یَسْأَلُہُ عَنْھَا غَیْرُہُ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا أَوَّلُ مَا رَأَیْتَ فِی أَمْرِالنَّبُوَّۃِ؟ فَاسْتَوٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا وَقَالَ: ((لَقَدْ سَأَلْتَ، أَبَا ھُرَیْرَۃَ! اِنِّیْ لَفِیْ صَحْرَائَ ابْنُ عَشَرَ سِنِیْنَ وَأَشْھُرٍ وَاِذَا بِکَلَامٍ فَوْقَ رَأَسِیْ وَإِذَا رَجُلٌ یَقُوْلُ لِرَجُلٍ: أَھُوَ ھُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاسْتَقْبَلَانِیْ بِوُجُوْہٍ لَمْ أَرْھَا لِخَلْقٍ قَطُّ وَأَرْوَاحٍ لَمْ أَجِدْھَا مِنْ خَلْقٍ قَطُّ، وَثِیَابٍ لَمْ أَرَھَا عَلٰی أَحَدٍ قَطُّ، فَأَقْبَلَا اِلَیَّیَمْشِیَانِ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا بِعَضُدِیْ لَا أَجِدُ لِأَحَدِ ھِمَا مَسًّا، فَقَالَ أَحَدُ ھُمَا لِصَاحِبِہٖ: أَضْجِعْہُ فَأَضْجَعَانِیْ بِلَا قَصْرٍ وَلَا ھَصْرٍ وَقَالَ أَحَدُ ھُمَا لِصَاحِبِہٖ: افْلِقْصَدْرَہُفَھَوٰی أَحَدُ ھُمَا اِلَی صَدْرِیْ فَفَلَقَھَا فِیْمَا أَرٰی بِلَا دَمٍ وَلَا وَجْعٍ، فَقَالَ لَہُ: وأَخْرِجِ الْغِلَّ وَالْحَسَدَ، فَأَخْرَجَ شَیْئًا کَھَیْئَۃِ الْعَلَقَۃِ ثُمَّّ نَبَذَھَا فَطَرَحَھَا، فَقَالَ لَہُ: أَدْخَلِ الرَّأْفَۃَ وَالرَّحْمَۃَ، فَإِذَا مِثْلُ الَّذِیْ أَخْرَجَ یُشْبِہُ الْفِضَّۃَ، ثُمَّّ ھَزَّ إِبْھَامَ رِجْلِی الْیُمْنٰی، فَقَالَ: أغْدُ وَاسْلَمْ، فَرَجَعْتُ بِھِمَا أغْدُوْ رِقَّۃً عَلَی الصَّغِیْرِ وَرَحْمَۃً لِلْکَبِیْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، جبکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسے امور کے بارے میں سوالا ت کرنے میں دلیر تھے، کہ کوئی اور اتنے سوالات نہیں کرتا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نبوت کے معاملے میںسب سے پہلی کون سی چیز دیکھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم برابر ہو کر بیٹھے اور پھر فرمایا: ابو ہریرہ! تو نے سوال کیا ہے، میں صحراء میں تھا، میری عمر دس برس اور کچھ ماہ تھی، میں نے اپنے سر کے اوپر سے کلام سنا، پس وہ ایک آدمی تھا، جو دوسرے آدمی سے یہ کہہ رہا تھا؟ کیایہ وہی ہے؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اپنے چہروں کے ساتھ میرے سامنے آئے، میں نے اس قسم کی مخلوق نہیں دیکھی تھی، وہ ایسی روحیں تھیں کہ میں نے کبھی بھی ایسی روحیں نہیں دیکھی تھیں، ان پر ایسے کپڑے تھے کہ میں نے ان کی طرح کے کپڑے نہیں دیکھے، وہ چل کر میری طرف متوجہ ہوئے، یہاں تک کہ ہر ایک نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے ان کا چھونا تک محسوس نہیںکیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو لٹا دے، پس انھوں نے کسی قسم کے قہر اور زبردستی کے بغیر مجھے لٹا دیا، پھر ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے سینے کو چاک کرو، پس ایک میرے سینے کی طرف جھکا اور میرے خیال کے مطابق اس کو چاک کر دیا، نہ خون نکلا اور نہ کوئی تکلیف ہوئی، پھر دوسرے فرشتے نے کہا: کینہ اور حسد نکال دے، پس اس نے خون کا لوتھڑا سا نکالا اور اس کو پھینک دیا، پھر اس نے کہا: دل میں رأفت و رحمت ڈال دے، جو چیز انھوں نے نکالی تھی، وہ چاندی کے مشابہ تھی، پھر اس نے میرے دائیں پائوں کا انگوٹھا ہلایا اور کہا: چلو اور سلامت رہو، پس میں ان دونوں کے ساتھ اس حال میں لوٹا کہ چھوٹے پر نرمی کر رہا تھا اور بڑے پررحمت۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10474

۔ (۱۰۴۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ خَدِیْجَۃَ وَکَانَ أَبُوْھَا یَرْغَبُ عَنْ أَنْ یُّزَوِّجَہُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاھَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَیْشٍ فَطَعِمُوْا وَشَرِبُوْا حَتّٰی ثَمَلُوْا، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ لِأَبِیْھَا: اِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَخْطُبُنِیْ فَزَوِّجْنِیْ إِیَّاہُ، فَزَوَّجَھَا إِیَّاہُ، فَخَلَّقَتْہُ وَأَلْبَسَتْہُ حُلَّۃً وَکَذٰلِکَ کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ بِالْآبَائِ، فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ سُکْرُہُ نَظَرَ فَإِذَا ھُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ، فَقَالَ: مَا شَأْنِیْ! مَا ھٰذَا؟ قَالَتْ: زَوَّجْتَنِیْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: أُزَوِّجُ یَتِیْمَ أَبِیْ طَالِبٍ! لَا، لَعَمْرِیْ! فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَمَا تَسْتَحِْیْ؟ تُرِیْدُ أْنْ تُسَفِّہَ نَفْسَکَ عِنْدَ قُرَیْشٍ! تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّکَ کُنْتَ سَکْرَانَ؟ فَلَمْ تَزَلْ بِہٖحَتّٰی رَضِیَ۔ (مسند احمد: ۲۸۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ذکر کیا، ان کا باپ ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کرنے کی رغبت نہیں کرتا تھا، پس سیدہ نے کھانا پینا تیار کیا اور اپنے باپ اور قریشیوںکے ایک گروہ کو دعوت دی، پس انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا،یہاںتک کہ ان کو نشہ آ گیا، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے باپ سے کہا: بیشک محمد بن عبداللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منگنی کا پیغام بھیجا ہے، لہٰذا آپ ان سے میری شادی کر دیں، پس اس نے نشے کی حالت میں شادی کر دی، سیدہ نے اپنے باپ کو خلوق خوشبو لگائی اور اس کو ایک پوشاک بھی پہنا دی، وہ لوگ جاہلیت میں دلہن کے باپ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے، جب اس کانشہ ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی ہے اور ایک پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی ہے، اس نے کہا: میری کیا صورتحال ہے، یہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: آپ نے محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شادی کر دی ہے، اس نے کہا: میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں، نہیں، میری عمر کی قسم! نہیں، سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ اب قریشیوں کے ہاں اپنے آپ کو بیوقوف ثابت کرنا چاہتے ہو، تم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے ہو کہ تم نشے کی حالت میں تھے؟ پس وہ اس کے ساتھ چمٹی رہیں،یہاں تک کہ وہ راضی ہوگیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10475

۔ (۱۰۴۷۵)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ وَذَکَرَ بِنَائَ الْکَعْبَۃِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ قَالَ: فَھَدَمَتْھَا قُرَیْشٌ وَجَعَلُوْا یَبْنُوْنَھَا بِحِجَارَۃِ الْوَادِی تَحْمِلُھَا قُرَیْشٌ عَلٰی رِقَابِھَا فَرَفَعُوْھَا فِی السَّمَائِ عِشْرِیْنَ ذِرَاعًا، فَبَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ حِجَارَۃً مِنْ أَجْیَادٍ وَعَلَیْہِ نَمِرَۃٌ فََضَاقَتْ عَلَیْہِ النَّمِرَۃُ فَذَھَبَ یَضَعُ النَّمِرَۃَ عَلٰی عَاتِقِہِ فَیُرٰی عَوْرَتُہُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَۃِ ، فَنُوْدِیَیَا مُحَمَّدُ! خَمِّرْ عَوْرَتَکَ، (وَفِیْ رِاوَیَۃٍ: فَنُوْدِیَ لَاتَکْشِفْ عَوْرَتَکَ فَأَلْقَی الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَہُ) فَلَمْ یُرَ عُرْیَانًا بَعْدَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۱۰)
۔ سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ جاہلیت میں کعبہ کی تعمیر کا ذکر کر رہے تھے، انھوں نے کہا: قریش نے کعبہ کو گرایا اور پھر اس کو وادی کے پتھروں سے بنانا شروع کیا، وہ اپنی گردنوں پر پتھر اٹھا کر لاتے، انھوں نے عمارت کو بیس ہاتھ بلند کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اجیاد سے پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دھاری دار چادر باندھی ہوئی تھی، وہ چادر تنگ تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے کندھے پر رکھنا چاہا تو اس کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پردے کے مقامات نظر آنے لگے، کسی نے آواز دی: اے محمد! اپنی شرمگاہ پر پردہ کرو، ایک روایت میں ہے: پس آپ کو آواز دی گئی: اپنی شرمگاہ کو ننگا نہ کرو، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پتھر پھینک دیا اور چادر باندھ لی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگی حالت میں نہیں دیکھا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10476

۔ (۱۰۴۷۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْقِلُ مَعَھُمْ حِجَارَۃً الْکَعْبَۃِ وَعَلَیْہِ إِزَارٌ، فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ عَمُّہُ: یَا ابْنَ أَخِیْ لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَکَ فَجَعَلْتَہُ عَلٰی مَنْکِبَیْکَ دُوْنَ الحِجَارَۃِ، قَالَ: فَحَلَّہُ فَجَعَلَہُ عَلَی مَنْکِبَیْہِ فَسَقَطَ مَغْشِیًّا عَلَیْہِ فَمَا رُؤِیَ بَعْدَ ذٰلِکَ الْیَوْمِ عُرْیَانًا۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۴)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے ساتھ کعبہ کے پتھر اٹھا کر لا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تہبند باندھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بھتیجے! اگر تم اپنا ازار کھول کر اس کو اپنے کندھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو تو اچھا ہو گا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جونہی ازار کھول کراپنے کندھے پر رکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10477

۔ (۱۰۴۷۷)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ مُوْلَاہُ یَعْنِی السَّائِبَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ حَدَّثُہُ أَنَّہُ کَانَ فِیْمَنْیَبْنِی الْکَعْبَۃَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، قَالَ: وَ لِی حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّہُ بِیَدَیَّ أَعْبُدُہُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ، فَاَجِیْئُ بِاللَّبَنِ الْخَائِرِ الَّذِیْ اَنْفِسُہُ عَلَی نَفْسِیْ فَأَصُبُّہُ عَلَیْہِ فَیَجِیْئُ الْکَلْبُ فَیَلْحَسُہُ ثُمَّّ یَشْغَرُ فَیَبُوْلُ، فَبَنَیْنَا حَتّٰی بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ وَمَا یَرَی الْحَجَرَ أَحَدٌ، فَاِذَا ھُوَ وَسْطَ حِجَارَتِنَا مِثْلَ رَأْسِ الرَّجُلِ یَکَادُیَتَرَائٰی مِنْہُ وَجْہُ الرَّجُلِ فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَیْشٍ: نَحْنُ نَضَعُہُ، وَقَالَ آخَرُوْنَ: نَحْنُ نَضَعُہُ، فَقَالُوْا: اجْعَلُوْا بَیْنَکُمْ حَکَمًا، فَقَالُوْا: اَوَّلُ رَجُلٍ یَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ، فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: أَتَاکُمُ الْأَمِیْنُ، فَقَالُوْا لَہُ: فَوَضَعَہُ فِیْ ثَوْبٍ ثُمَّّ دَعَا بُطُوْنَھُمْ فَأَخَذُوْا بِنَوْاحِیْہِ مَعَہُ فَوَضَعَہُ ھُوَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۸۹)
۔ سیدنا سائب بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی دورِ جاہلیت میں کعبہ کو تعمیر کرنے والوں میں تھے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک پتھر تھا، میں اپنے ہاتھوں سے اس کو تراشتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا، میں اپنے نفس پر جس جمے ہوئے دودھ کا بخل کرتا تھا، وہ لا کر اس بت پر بہا دیتا تھا، پھر کتا آ کر اس کو چاٹتا اور پھر ایک ٹانگ اٹھا کر اس پر پیشاب کر دیتا۔ پس جب ہم بیت اللہ کی تعمیر کے دوران حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے اور کوئی آدمی حجرِ اسود کو نہیں دیکھ رہا تھا، جبکہ وہ پتھروں کے درمیان میںآدمی کے سر کی طرح پڑا ہوا تھا اور (اتنا چمکدار تھا کہ) اس میں آدمی کا چہرہ نظر آ جاتا تھا، قریش کے ایک بطن (چھوٹے قبیلے) نے کہا: ہم اس پتھر کو اپنی جگہ پر نصب کریں گے، دوسرے لوگوں نے کہا: ہم رکھیں گے، پھر انھوں نے کہا: تم آپس میں ایک آدمی کو بطورِ فیصل منتخب کر لو، پھر انھوں نے کہا: جو پہلا اس کھلے راستے کی طرف سے آئے گا، وہ فیصلہ کرے گا، اتنے میں وہاں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمودار ہوئے، سب نے کہا: امین آ گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تفصیل بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پتھر کو ایک کپڑے میں رکھا اور پھر ان کے قبیلوں کو بلایا، انھوں نے اس کپڑے کے کونے پکڑ کر اس کو اٹھایا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10478

۔ (۱۰۴۷۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مِیْنَائَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: حَدَّثَتْنِیْ خَالَتِیْ عَائِشَۃُ (أُمُّ الْمُؤُمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیْثُ عَھْدٍ بِشِرْکٍ أَوْ بِجَاھِلِیَّۃٍ لَھَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ فَأَلْزَقْتُھَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَھَا بَابَیْنِ، بَابًا شَرْقِیًّا وَبَابًا غَرْبِیًّا، وَزِدْتُ فِیْھَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّۃَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرَیْشًا اِقْتَصَرَتْھَا حِیْنَ بَنَتِ الْکَعْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا شرک یا جاہلیت کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیتا، دروازے کو زمین سے ملا دیتا اور دو دروازے بناتا، ایک مشرقی اور ایک مغربی اور حطیم کی طرف سے چھ ہاتھ اس میں اضافہ کر دیتا، کیونکہ قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10479

۔ (۱۰۴۷۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا حَدَاثَۃُ عَھْدِ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَۃَ ثُمَّّ جَعَلْتُھَا عَلٰی اُسِّ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَإِنَّ قُرَیْشًایَوْمَ بَنَتْھَا اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَھَا خَلْفًا، وَقَالَ اَبُوْ اُسَامَۃَ: خِلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۰۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا اور میں اس کا پیچھے سے بھی ایک دروازہ رکھ دیتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10480

۔ (۱۰۴۸۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّی لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَکَّۃَ کَانَ یُسَلِّمُ عَلَیَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیَالِیَ بُعِثْتُ) اِنِّی لَأَعِرُفُہُ الْآنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۱۳)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں، وہ بعثت سے پہلے یا بعثت والی راتوں کو مجھ کو سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10481

۔ (۱۰۴۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ صَخْرٍ الْعُقَیْلِیِّ حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنَ الَأَعْرَابِ قَالَ: جَلَبْتُ جَلُوْبَۃً اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَیْعَتِیْ قُلْتُ: لَأَلْقَیَنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْہُ، قَالَ: فَتَلَقَّانِیْ بَیْنَ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ یَمْشُوْنَ فَتَبِعْتُھُمْ فِیْ أَفْقَائِھِمْ حَتّٰی أَتَوْا عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْیَھُوْدِ نَاشِرًا التَّوْارَۃِیَقْرَؤُھَا،یُعَزِّیْ بِھَا نَفْسَہُ عَلَی ابْنٍ لَہُ فِی الْمَوْتِ کَأَحْسَنِ الْفِتْیَانِ وَأَجْمَلِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُنْشِدُکَ بِالَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ ھَلْ تَجِدُ فِیْ کِتَابِکَ ذَا صِفَتِیْ وَمَخْرَجِیْ؟)) فَقَالَ بِرَأْسِہِ ھٰکَذَا أَیْ لَا، فَقَالَ ابْنُہُ: اِنِّیْ وَالَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ أَنَا لَنَجِدُ فِیْ کِتَابِنَا صِفَتَکَ وَمَخْرَجَکَ وَأَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَقِیْمُوا الْیَھُوْدَ عَنْ أَخِیْکُمْ۔)) ثُمَّّ وَلِیَ کَفْنَہُ وَحَنَّطَہُ وَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸۸)
۔ ایک بدّو سے مروی ہے ، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حیات ِ مبارکہ میں کچھ سامانِ تجارت مدینہ منورہ میں لے کر آیا، جب میں اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: میں اس آدمی کو ضرور ملوں گا اور اس کی باتیں سنوں گا، پس جب وہ (نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) مجھے ملے تو وہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے درمیان چل رہے تھے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ وہ ایکیہودی آدمی کے پاس پہنچ گئے، وہ تورات کھول کر پڑھ رہا تھا اور اپنے نفس کو تسلی دے رہا تھا، کیونکہ اس کا انتہائی خوبصورت نوجوان بیٹا قریب المرگ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: میں تجھ کو تورات کو نازل کرنے والی ذات کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تو اپنی کتاب میں میری صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتا ہے؟ اس نے سر سے نہیں کا اشارہ کیا، لیکن اس کے نوجوان بیٹے نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا، ہم اپنی کتاب میں آپ کی صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب ان یہودیوں کواپنے بھائی کے پاس سے کھڑا کر دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے کفن کاانتظام و انصرام کیا اور اس کو خوشبو لگائی اور اس نماز جنازہ ادا کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10482

۔ (۱۰۴۸۲)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: لَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِیْ عَنْ صِفَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی التَّوْرَاۃِ، فَقَالَ: أَجَلْ، وَاللّٰہِ! اِنِّہُ لَمَوْصُوْفٌ فِی التَّوْرَاۃِ بِصِفَتِہِ فِی الْقُرْآنِیَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاھِدًا وَمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّیِّیْنَ وَأَنْتَ عَبْدِیْ وَرَسُوْلِیْ سَمَیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ لَسْتَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِیْظٍ وَلَاسَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ، قَالَ یُوْنس: وَلَا صَخَّابٍ فِی الْأَسْوَاقِ، وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّئَۃَ بِالسَّیِّئَۃِ، وَلٰکِنْ یَعْفُوْ وَیَغْفِرُ، وَلَنْ یَّقْبِضَہُ حَتّٰییُقِیْمَ بِہٖالْمِلَّۃَ الَعَوْجَائَ بِأَنْ یَّقُوْلُوْا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَیَفْتَحُ بِھَا أَعْیُنًا عُمْیًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوْبًا غُلْفًا، قَالَ یُوْنُسُ: غُلْفٰی۔ (مسند احمد: ۶۶۲۲)
۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں:میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے کہا: تم مجھے تورات میں بیان شدہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صفات بتلاؤ، انھوں نے کہا:جی ٹھیک ہے، اللہ کی قسم! جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صفات قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں، ایسے ہیتورات میں بیان کی گئیں ہیں، جیسا کہ تورات میں ہے: اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا اور اُمی لوگوں کے لیے ذریعۂ حفاظت بنا کر بھیجا، تو میرا بندہ اور رسول ہے، میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے، نہ تو بد خلق ہے، نہ سخت مزاج ہے، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی کی صورت میں دیتا ہے، بلکہ معاف کر دیتا ہے اور بخش دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس نبی کو اس وقت تک فوت نہیں کرے گا، جب تلک اس کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہیں کر دے گا اور وہ اس طرح کہ لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دیں، پس وہ اس کے ذریعے اندھی آنکھوں کو، بہرے کانوں کو اور بند دلوں کو کھول دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10483

۔ (۱۰۴۸۳)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَیْخٌ أَدْرَکَ الْجَاھِلِیَّۃَ وَنَحْنُ فِیْ غَزْوَۃِ رُوْدِسَ یُقَالُ لَہُ:اِبْنُ عَبْسٍ، قَالَ: کُنْتُ أَسُوْقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَۃً، قَالَ: فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِھَا یَا آلَ ذَرِیْحٍٍ، قَوْلٌ فَصِیْحٌ، رَجُلٌیَصِیْحُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: فَقَدِمْنَا مَکَّۃَ فَوَجَدْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ بِمَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۱۵)
۔ مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت کو پانے والے ایک شیخ نے ہم کو بیان کیا، جبکہ ہم غزوۂ رودِس میں تھے، اس شیخ کو ابن عبس کہتے تھے، اس نے کہا: میں اپنی آل کی ایک گائے کو ہانک رہا تھا کہ میں نے اس کے پیٹیہ آواز سنی: اے آل ذریح! فصاحت والا کلام ہے، ایک آدمی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز لگا رہا ہے، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ مکہ میں نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10484

۔ (۱۰۴۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قاَلَ: عَدَا الذِّئْبُ عَلٰی شَاۃٍ فَأَخَذَھَا فَطَلَبَہُ الرَّاعِیْ فَانْتَزَعَھَا مِنْہُ فَأَقْعَی الذِّئْبُ عَلٰی ذَنَبِہٖقَالَ: أَلَاتَتْقِی اللّٰہَ! تَنْزِعُ عَنِّیْ رِزْقًا سَاقَہُ اللّٰہُ اِلَیَّ؟ فَقَالَ: یَا عَجَبِیْ! ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلٰی ذَنَبِہٖیُکَلِّمُنِیْ کَلَامَ الْإِنْسِ، فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَثْرِبَیُخْبِرُ النَّاسَ بِاَنْبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِیْیَسُوْقُ غَنَمَہُ حَتّٰی دَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ فَزَوَاھَا اِلٰی زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاھَا، ثُمَّّ أَتَی رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، ثُمَّّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِیْ: ((أَخْبِرْھُمْ)) فَأَخْبَرَھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُکَلِّمَ السِّبَاعُ الْاِنْسَ، وَیُکَلِّمَ الرَجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَشِرَاکُ نَعْلِہِ وَیُخْبِرُُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۱۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیاں اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کیخبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنی بکریوں کو ہانکنا شروع کیا،یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خبر دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌکی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10485

۔ (۱۰۴۸۵)۔ عَنْہ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَا اَعْرَابِیٌّ فِیْ بَعْضِ نَوَاحِی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ غَنَمٍ لَہُ عَدَا عَلَیْہِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ (فَذَکَرَ نَحْوَ الْطَرِیْقِ الْأُوْلٰی وَفِیْہِ: أَنَّ الذِّئْبَ قَالَ لِلْأَعْرَابِیِّ) رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْنَخْلَتَیْنِ بَیْنَ الْحَرَّتَیْنِیُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ نَبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا یَکُوْنُ بَعْدَ ذٰلِکَ قَالَ: فَنَعَقَ الْأَعْرَابِیُّ بِغَنَمِہِ حَتّٰی اَلْجَأَھَا اِلٰی بَعْضِ الْمَدِیْنَۃِ ثُمَّّ مَشٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ضَرَبَ عَلَیْہِ بَابَہُ فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیْنَ الْأَعْرَابِیُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ؟)) فَقَامَ الْأَعْرَابِیُّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَدِّثِ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَیْتَ …۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۳)
۔ (دوسری سند) ایک بدّو مدینہ منورہ کے کسی کونے میں اپنی بکریاں چرارہا تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا، ……، اس بھیڑیئے نے اس بدّو سے کہا: کھجوروں کے مابین اور دو حرّوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، وہ لوگوں کو گزر جانے والیاور اگلے زمانے کی باتیں بتلاتا ہے، پس بدّو نے اپنی بکریوں کو آواز دی اور مدینہ میں کسی مقام پر ان کو چھوڑا اور خود نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر دستک دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: وہ بکریوں والا بدّو کہاں ہے؟ وہ بدّو کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: جو کچھ تو نے سنا ہے اور دیکھا ہے، وہ لوگوں کو بیان کر، ……۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10486

۔ (۱۰۴۸۶)۔ (عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: بَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِیْ غُنَیمَۃٍ لَہُ یَھُشُّ عَلَیْھَا فِیْ بَیْدَائِ ذِی الْحُلَیْفَۃِ اِذْ عَدَا عَلَیْہِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ فَجَھْجَأَہُ الرَجُلُ فَرَمَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتّٰی اسْتَنْقَذَ مِنْہُ شَاتَہُ، ثُمَّّ اِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتّٰی أَقْعٰی مُسَتَذْفِرًا بِذَنَبِہٖمُقَابِلَالرَّجُلِ،فَذَکَرَنَحْوَحَدِیْثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِیْ حَمْزَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۶)
۔ (تیسری سند) بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی ذو الحلیفہ میں بیداء مقام پر اپنی بکریوں کو ہانک رہا تھا، اچانک ایک بھیرئیے نے حملہ کیا اور ایک بکری لے گیا، لیکن اس بندے نے اس کو ڈانٹا، چلّایا اور اس کو پتھر مارا اور اس سے اپنی بکری بچا لی، پھر وہ بھیڑیا اپنی دم کو ٹانگوں کے درمیان کر کے اس آدمی کے سامنے بیٹھ گیا، ……۔ آگے وہی روایت ذکر کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10487

۔ (۱۰۴۸۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنَّ أَوَّلَ خَبْرٍ قَدِمَ عَلَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ امْرَأَۃً کَانَ لَھَا تَابِعٌ قَالَ: فَأَتَاھَا فِیْ صُوْرَۃِ طَیْرٍ فَوَقَعَ عَلَی جِذْعٍ لَّھُمْ، قَالَ: فَقَالَتْ: أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرُکَ وَتُخْبِرُنَا؟ قَالَ: اِنَّہُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَکَّۃَ حَرَّمَ عَلَیْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ مِنِ الْفِرَارِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۹۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک پہلی خبر جو ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں موصول ہوئی، وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا پیروکار جن تھا، ایک دن وہ پرندے کی صورت میں آیا اور ان کے تنے پر بیٹھ گیا، اس خاتون نے کہا: کیا تونیچے نہیں آتا، تاکہ ہم تجھے باتیں بتلائیں اور تو ہمیں بتلائے؟ لیکن اس نے کہا: مکہ مکرمہ میں ایک آدمی ظاہر ہو چکا ہے، اس نے ہم پر زنا کو حرام قرار دیا ہے اور جہادمیں لڑائی کے وقت بھاگ جانے سے بھی روک دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10488

۔ (۱۰۴۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِخَدِیْجَۃَ: إِنِّیْ أَرٰی ضَوْئً ا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَإِنِّیْ أَخْشٰی أَنْ یَّکُوْنَ بِیْ جُتُنٌ، قَالَتْ: لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَفْعَلَ ذٰلِکَ بِکَ یَاابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ! ثُمَّّ أَتَتْ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: إِنْ یَکُ صَادِقًا فَإِنَّ ھٰذَا نَامُوْسٌ مِثْلُ نَامُوْسِ مُوْسٰی، فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَیٌّ فَسَأُعَزِّزُہُ وَأَنْصُرُہُ وَأُومِنُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۸۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: بیشک میں روشنی دیکھتا ہوں، آواز سنتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ مجھے کوئی جنون لاحق ہو گیا ہے۔ آگے سے سیدہ نے کہا: اے عبد اللہ کے بیٹے! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ اس طرح نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور اس کو ساری بات بتلائی، اس نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو یہ موسی علیہ السلام کے ناموس کی طرح کا ناموس ہے، اگر آپ کو میری زندگی میں مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو تقویت پہنچاؤں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تائید کروں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لاؤں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10489

۔ (۱۰۴۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِیئَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ فِی النَوْمِ، وَکَانَ لَا َیرٰی رُؤْیًا إِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلَائُ فَکَانَ یَأْتِیْ غَارَ حِرَائَ فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ وَھُوَ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَیَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ ثُمَّّ یَرْجِعُ لِخَدِیْجَۃَ فَتُزَوِّدُہُ لِمِثْلِھَا حَتّٰی فَجِأَہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حِرَائَ فَجَائَہُ الْمَلَکُ فِیْہِ فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ، ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْد، ثُمَّّ أَرْسَلَنِی فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ} حَتّٰی بَلَغَ {مَا لَمْ یَعْلَمْ} قَالَ: فَرَجَعَ بِھَا تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ، فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ ، فَقَالَ: یَا خَدِیْجَۃُ! مَا لِیْ؟ فَأَخْبَرَھَا الْخَبْرَ، قَالَ: وَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ، فَقَالَتْ لَہُ: کَلَّا اَبْشِرْ، فَوَاللّٰہِ! لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَبْدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّّ انْطَلَقَتْ بِہٖخَدِیْجَۃُ حَتّٰی أَتَتْ بِہٖوَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِالْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ، وَھُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیْجَۃَ أَخِیْ أَبِیْھَا وَکَانَ اِمْرَئً تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیِّ، فَکَتَبَ بِالْعَرَبِیَّۃِ مِنَ الْإِنْجِیْلِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَکْتُبَ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَیِ ابْنَ عَمِّ! اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِیْکَ، فَقَالَ وَرَقَۃُ: ابْنَ أَخِیْ مَا تَرٰی؟ فَأَخْبَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا رَأٰی، فَقَالَ رَوَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ أُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ، یَالَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعًا أَکُوْنَ حَیًّا حِیْنَیُخْرِجُکَ قَوْمُکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوَ مُخْرِجِیَّ ھُمْ؟ )) فَقَالَ وَرَقَۃُ: نَعَمْ، لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِہٖإِلاَّعُوْدِیَ، وَإِنْ یُدْرِکْنِییَوْمُکَ اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ أَنْ تُوُفِّیَ، وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مِرَارًا کَیْیَتَرَدّٰی مِنْ رُؤُوْسِ شَوَاھِقِ الْجِبَالِ، فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْیُلْقِیَ نَفْسَہُ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا فَیُسْکِنُ ذٰلِکَ جَأْشَہُ وَتَقَرُّ نَفْسُہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَیَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَیِْہِ وَفَتَرَ الْوَحْیُ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِکَ، فَإِذَا أَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہے، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … …مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسی علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل کا اضطراب کم ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10490

۔ (۱۰۴۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعِیْنَ، وَکَانَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرًا، فَمَاتَ وَھُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تی، پھر مکہ مکرمہ میں تیرہ برس اور مدینہ منورہ میں دس برس ٹھہرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10491

۔ (۱۰۴۹۱)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: أَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، سَبْعَ سِنِیْنَیَرَی الضَّوْئَ وَیَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِیَ سِنِیْنَیُوْحٰی اِلِیْہِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرَ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۳)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں پندرہ برس ٹھہرے، ان میں سات سال تک تو روشنی دیکھتے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سالوں میں وحی نازل ہوتی رہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں دس سال تک مقیم رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10492

۔ (۱۰۴۹۲)۔ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلٰی بَنِیْ ھَاشِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمْ اَتٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ مَاتَ؟ قَالَ: مَا کُنْتُ أُرٰی مِثْلَکَ فِیْ قَوْمِہِ یَخْفٰی عَلَیْکَ ذٰلِکَ، قَالَ: قُلْتُ: اِنِّی سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَیَّ، فَاَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَکَ فِیْہِ، قَالَ: اَ تَحْسِبُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمْسِکْ أَرْبَعِیْنَ بُعِثَ لَھَا، وَخَمْسَ عَشْرَۃَ، أَقَامَ بِمَکَّۃَیَأْمَنُ وَیَخَافُ، وَعَشْرًا مُھَاجِرًا بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۰)
۔ مولائے بنی ہاشم عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے وقت کتنی عمر تھی؟ انھوں نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ تیرے جیسا آدمی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قوم میں رہا اور تجھ پر یہ چیز مخفی ہے، میں نے کہا: میں نے پوچھا تو ہے، لیکن مجھ پر اختلاف کیا گیا ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بارے میں تیرے قول کا علم ہو جائے، انھوں نے کہا: کیا تو شمار کر سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جمع کر، چالیس برس کی عمر میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا، پھر آپ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے، اس دور میں امن بھی تھا اور خوف بھی، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے تو وہاں دس سال قیام کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10493

۔ (۱۰۴۹۳)۔ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ زِیَادٍ الْعَدَوِیِّ أَنَّہُ قَالَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ سِنَّ أَیِّ الرِّجَالِ کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ بُعِثَ؟ قَالَ: ابْنُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، قَالَ: ثُمَّّ کَانَ مَاذَا؟ قَالَ: کَانَ بِمَکَّۃَعَشْرَ سِنِیْنَ، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ، فَتَمَّتْ لَہُ سِتُّوْنَ سَنَۃً ثُمَّّ قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیْہِ، قَالَ: سِنُّ أَیِّ الرِّجَالِ ھُوَ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: کَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِہِ وَأَجْمَلِہِ وَأَلْحَمِہِ، قَالَ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! ھَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَہُ یَوْمَ حُنَیْنٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۵۷)
۔ علاء بن زیاد عدوی سے مروی ہے کہ اس نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: چالیس برس، اس نے کہا: پھر کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں بھی دس برس ٹھہرے اور مدینہ میں بھی دس سال، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ساٹھ برس عمر پوری ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات دے دی، اس نے کہا: ان دنوںمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسی عمر کے آدمی لگتے تھے؟ انھوں نے کہا: جیسے سب سے بھرپور نوجوان ہوں، سب سے زیادہ حسین و جمیل اور پرگوشت۔ اس نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں غزوۂ حنین کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10494

۔ (۱۰۴۹۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَاوَرْتُ بِحِرَائَ شَھْرَا فَلَمَّا قَضَیْتُ جِوَارِیْ نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِیْ فَنُوْدِیْتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِیْ وَخَلْفِیْ وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّّ نُوْدِیْتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّّ نُوْدِیْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا ھُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِی الْھَوَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا ھُوَ قَاعِدٌ عَلَی عَرْشٍ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ) فَأَخَذَتْنِیْ وَجْفَۃٌ شَدِیْدَۃٌ فَأَتَیْتُ خَدِیْجَۃَ فَقُلْتُ: دَثِّرُوْنِیْ، فَدَثَّرُوْنِیْ وَصَبُّوْا عَلَیَّ مَائً ا فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ} (مسند احمد: ۱۴۳۳۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10495

۔ (۱۰۴۹۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بِرْذُوْنٍ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ طَرَفُھَا بَیْنَ کَتِفَیْہِ، فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((رَأَیْتِہِ؟ ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۶۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر نبی کریم کے پاس آئے، انھوں نے پگڑی باندھی ہوئی تھی اور اس کا کنارہ ان کے کندھوں کے درمیان تھا، جب میں نے ان کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے دیکھ لیا ہے اس کو؟ یہ جبریل علیہ السلام تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10496

۔ (۱۰۴۹۶)۔ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبُوْ سَلَمَۃَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِیْ مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُنَاجِیْ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَزَعَمَ اَبُوْسَلَمَۃَ أَنَّہُ تَجَنَّبَ أَنْ یَدْنُوَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَخَوُّفًا أَنْ یَسْمَعَ حَدِیْثَہُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُسَلِّمَ اِذْ مَرَرَتَ بِی الْبَارِحَۃَ؟)) قَالَ: رَأَیْتُکَ تُنَاجِیْ رَجُلًا فَخَشِیْتُ أَنْ تَکْرَہَ اَنْ أَدْنُوَ مِنْکُمَا، قَالَ: ((وَھَلْ تَدْرِیْ مَنِ الرَّجُلُ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَذٰلِکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ)) وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَیْرِ أَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّہُ حَارِثَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۲۰)
۔ سیدنا ابو سلمہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام سے سرگوشی کر رہے تھے، اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہونے سے اجتناب کیا ، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن لے، جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: جب تو گزشتہ رات ہمارے پاس سے گزرا تھا تو تجھے کس چیز نے سلام کرنے سے روک دیا تھا؟ اس نے کہا: جی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ایک آدمی سے سرگوشی کر رہے تھے، اس لیے میں اس چیز سے ڈر گیا کہ ممکن ہے کہ آپ میرے قریب آنے کو ناپسند کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ آدمی کون تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے، اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔ راوی کہتا ہے: میں نے غیر ابو سلمہ سے سنا کہ وہ سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10497

۔ (۱۰۴۹۷)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْیِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، أَسْمَعُ صَلَاصِلَ، ثُمَّّ اَسْکُتُ عِنْدَ ذٰلِکَ، فَمَا مِنْ مَرَّۃٍیُوْحٰی اِلَیَّ اِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِیْ تَفِیْضُ۔)) (مسند احمد: ۷۰۷۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وحی کو محسوس کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، جب میں گونج دار آوازیں سنتا ہوں، تو اسی وقت خاموش ہو جاتا ہوں، جب بھی میری طرف وحی کی جاتی ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ میرا نفس نکلنے والا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10498

۔ (۱۰۴۹۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُنَا فَیُذَکِّرُنَا بِأَیَّامِ اللّٰہِ حَتّٰی نَعْرِفَ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ وَکَأَنَّہُ نَذِیْرُ قَوْمٍ یُصَبِّحُھُمُ الْأَمْرُ غُدْوَۃً، وَکَانَ اِذَا کَانَ حَدِیْثَ عَھْدٍ بِجِبْرِیْلَ لَمْ یَتَبَسَّمْ ضَاحِکًا حَتّٰییَرْتَفِعَ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۷)
۔ سیدنا علییا سیدنازبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے مخاطب ہوتے اور (سابقہ امتوں پر) اللہ تعالیٰ کے انعامات اور واقعات کے ساتھ نصیحت کرتے، تو ہم اس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے (خوف سے بدلے ہوئے) چہرے سے پہنچان لیتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرا رہے ہیںاور بس اگلے روز کی صبح کو عذاب آ جائے گا، اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات کرتے تھے تو اس وقت تک نہیں مسکراتے تھے، جب تک وہ چلے نہیں جاتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10499

۔ (۱۰۴۹۹)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: کَانَ اِذَا نَزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ الْوَحْیُیُسْمَعُ عِنْدَ وَجْھِہِ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳)
۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کے قریب شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی سی آواز سنائی دیتی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10500

۔ (۱۰۵۰۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِنْ کَانَ لَیَنْزِلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْغَدَاۃِ الْبَارِدَۃِ ثُمَّّ تَفِیْضُ جَبْھَتُہُ عَرَقًا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سردی والی صبح کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، لیکن پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10501

۔ (۱۰۵۰۱)۔ عَنْھَا اَیْضًا أَنَّھَا قَالَتْ: اِنْ کَانْ لَیُوْحٰی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ فَتَضْرِبُ بِجِرَانِھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ اپنی سواری پر ہوتے تو وہ اپنی گردن کوزمین پر پھیلا دیتی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10502

۔ (۱۰۵۰۲)۔ عَنْھا اَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِذَا کَانَ حَدِیْثَ عَھْدٍ بِجِبْرِیْلَیُدَارِسُہُ کَانَ أَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۹۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات ہوتی اور وہ آپ سے قرآن مجید کا دور کرتے تو آپ چھوڑی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ مال کی سخاوت کرنے والے ہوتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10503

۔ (۱۰۵۰۳)۔ عَنْھَا اَیْضًا اِنَّ الْحٰرِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَیَأْتِیْکَ الْوَحْیُ؟ قَالَ: ((أَحْیَانًایَأْتِیْنِیْ مَلَکٌ مِثْلَ صَلْصَلَۃِ الْجَرْسِ وَھُوَ أَشَدُّ عَلَیَّ، ثُمَّّ یُفْصَمُ عَنِّیْ وَقَدْ وَعَیْتُ، وَأَحْیَانًایَأْتِیْنِیْ مَلَکٌ فِیْ مِثْلِ صُوْرَۃِ الرَّجُلِ فَأَعِیْ مَا یَقُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کبھی کھبی تو فرشتہ اس طرح آتا ہے کہ گھنٹی کی گونج کی سی آواز آتی ہے، یہ کیفیت مجھ پر بڑی گراں گزرتی ہے، لیکن جب وہ مجھ سے جدا ہوتا ہے تو میں اس وحی کو یاد کر چکا ہوتا ہوں اور بسا اوقات فرشتہ مرد کی صورت میں آتا ہے، پھر جو کچھ وہ کہتا ہے، میں اس کو یاد کر لیتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10504

۔ (۱۰۵۰۴)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھٰرُوْنَ، أَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَیُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّی (وَفِیْ لَفْظٍ) أَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیٌ، قَالَ عَمْرٌو: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِإِبْرَاھِیْمَ فَأَنْکَرَ ذٰلِکَ وَقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (زَادَ فِیْ رِاوَیَۃٍ) وَقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۹)
۔ سیدنایزید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،انھوں نے کہا: سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھییا اسلام قبول کیا، وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، عمرو راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات ابراہیم راوی کو بتلائی تو انھوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سب سے پہلے مسلمان ہونے والے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10505

۔ (۱۰۵۰۵)۔ عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَیَاسِ بْنِ عَفِیْفِ الْکِنْدِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کُنْتُ اِمْرَئً ا تَاجِرًا فَقَدِمْتُ الْحَجَّ فَأَتَیْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْہُ بَعْضَ التِّجَارَۃِ، وَکَانَ اِمْرَئً ا تَاجِرًا، فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَعِنْدَہُ بِمِنًی اِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَائٍ قَرِیْبٍ مِنْہُ فَنَظَرَ اِلَی الشَّمْسِ فَلَمَّا رَآھَا مَالَتْ یَعْنِیْ قَامَ یُصَلِّیْ۔ قَالَ: ثُمَّّ خَرَجَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ ذٰلِکَ الْخَبَائِ الَّذِیْ خَرَجَ مِنْہُ ذٰلِکَ الرَّجُلُ فَقَامَتْ خَلْفَہُ تُصَلِّیْ، ثُمَّّ خَرَجَ غُلَامٌ حِیْنَ رَاھَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذٰلِکَ الْخِبَائِ فَقَامَ مَعَہُ یُصَلِّیْ، قَالَ:فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: مَنْ ھٰذَا یَا عَبَّاسُ؟ قَالَ: ھٰذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنِ أَخِیْ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذِہِ الْمَرْأَۃُ؟ قَالَ: ھٰذَا إِمْرَأَتُہُ خَدِیْجَۃُ ابْنَۃُ خُوَیْلِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الْفَتٰی؟ قَالَ: ھٰذَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبِ بْنِ عَمِّہِ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَا ھٰذَا الَّذِیْیَصْنَعُ؟ قَالَ: یُصَلِّیْ وَھُوَ یَزْعَمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ وَلَمْ یَتْبَعْہُ عَلَی اَمْرِہِ اِلَّا امْرَأَتُہُ وَابْنُ عَمِّہِ ھٰذَا الْفَتٰی، وَھُوَ یَزْعُمُ أَنَّہُ یُفْتَحُ عَلَیْہِ کُنُوْزُ کِسْرٰی وَقَیْصَرَ، قَالَ: فَکَانَ عَفِیْفٌ (وَھُوْ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ) یَقُوْلُ: (وَأَسْلَمَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَحَسُنَ اِسْلَامُہُ) لَوْ کَانْ اللّٰہُ رَزَقَنِیَ الْاِسْلَامَ یَوْمَئِذٍ فَاَکُوْنُ ثَالِثًا مَعَ ابْنِ أَبِیْ طَالِبٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۷)
۔ سیدنا عفیف کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تاجر تھا، میں حج کے موقع پر آیا اور کچھ سامانِ تجارت خریدنے کے لیے سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا، وہ بھی تاجر تھے، اللہ کی قسم ہے، میں اس کے پاس مِنٰی میں تھا کہ ایک آدمی قریبی خیمہ سے نکلا اور اس نے سورج کودیکھا، جب اس نے خیال کیا کہ سورج ڈھل چکا ہے تو وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، پھر اسی خیمے سے ایک خاتون نکلی اور وہ اس مرد کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی، پھر اسی خیمہ سے قریب البلوغت ایک لڑکا نکلا اور نماز ادا کرنے کے لیے اس مرد کے ساتھ کھڑا ہو گیا،میں نے عباس سے کہا: اے عباس! یہ کون آدمی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہے، میں نے کہا: یہ خاتون کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے، میں نے کہا: یہ لڑکا کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا زاد علی بن ابی طالب ہے۔ میں نے کہا: یہ کر کیا رہا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ نماز پڑھ کر رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ یہ نبی ہے، لیکن ابھی تک اس معاملے میں اس کی پیروی کرنے والے اس کی بیوی اور اس کا یہ چچا زاد لڑکا ہے، اس کا خیال ہے کہ وہ کسری اور قیصر کے خزانوں کو فتح کرے گا۔ یہ عفیف، اشعث بن قیس کا چچا زاد تھا، بعد ازاں یہ مسلمان ہو گئے تھے اور ان کے اسلام میں حسن پیدا ہو گیا تھا، بعد میں وہ کہا کرتے تھے: کاش اللہ تعالیٰ نے اس وقت مجھے اسلام عنایت کیا ہوتا اور میں ابن ابی طالب کے ساتھ تیسرا بندہ مسلمان ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10506

۔
۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10507

۔ (۱۰۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ خَدِیْجَۃَ عَلِیٌّ، وَقَالَ مَرَّۃً: أَسْلَمَ۔ (مسند احمد: ۳۵۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سب سے پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھییا اسلام قبول کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10508

۔ (۱۰۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَظْھَرَ اِسْلَامَہُ سَبْعَۃٌ، رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ وَصُھَیْبٌ وَبِلَالٌ وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِعَمِّہِ أَبِیْ طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُوْبَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِقَوْمِہِ، وَأَمَّا سَائِرُھُمْ فَأَخَذَھُمُ الْمُشْرِکُوْنَ فَأَلْبَسُوْھُمْ اَدْرَاعَ الْحَدِیْدِ وَصَھَرُوْ ھُمْ فِی الشَّمْسِ فَمَا مِنْھُمْ اِنْسَانٌ اِلَّا وَقَدْ وَاتَاھُمْ عَلٰی مَا اَرَادُوْا اِلَّا بِلَالٌ فِاِنَّہُ ھَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللّٰہِ، وَھَانَ عَلٰی قَوْمِہِ فَأَعْطَوْہُ الْوِلْدَانَ، وَأَخَذُوْا یَطُوْفُوْنَ بِہٖشِعَابَمَکَّۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ: أَحَدٌ أَحَدٌ۔ (مسند احمد: ۳۸۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمار بن یاسر، ان کی ماں سیدہ سمیہ، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا مقدادf، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی قوم کے ذریعے تحفظ دیا، باقی سارے افراد کو مشرکوں نے پکڑ لیا اور ان کو آہنی لباس پہنا دیئے اور دھوپ میں کھڑا کر کے ان کو عذاب دیا، ہر آدمی ان کے ارادے کے مطابق ان کی موافقت کر جاتا، ما سوائے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کو حقیر سمجھ لیا تھا، اُدھر ان کی قوم نے بھی ان کو کم اہمیت سمجھ کر بچوں کو پکڑا یا وہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں چکر لگاتے، لیکن سیدنا بلال یہ کہہ رہے ہوتے: اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10509

۔ (۱۰۵۰۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ مَعَکَ عَلٰی ھٰذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: ((حُرٌّ وَعَبْدٌ)) وَمَعَہُ اَبُوْبَکْرٍ وَبِلَالٌ، ثُمَّّ قَالَ لَہُ: ((اِرْجِعْ اِلٰی قَوْمِکَ حَتّٰییُمَکِّنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِرَسُوْلِہِ۔)) قَالَ: وَکاَنَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَیَقُوْلُ: لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ وَاِنِّیْ لَرُبُعُ الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۵۳)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس دین پر آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ اس وقت سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرو بن عبسہ سے فرمایا: تم اپنیقوم کی طرف لوٹ جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو قوی کر دے۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے: میں نے اپنے آپ کو اسلام کا چوتھائی حصہ دیکھا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10510

۔ (۱۰۵۱۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقْرَأُ وَھُوَ یُصَلِّیْ نَحْوَ الرُّکْنِ قَبْلَ أَنْ یَصْدَعَ بِمَا یُؤْمَرُ وَالْمُشْرِکُوْنَ یَسْتَمِعُوْنَ: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ} (مسند احمد: ۲۷۴۹۵)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کر رہے ہوتے اور حجراسود کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا اعلان نہیں کیا تھا، جس کا آپ کو حکم دیا جاتا تھا، اور مشرک یہ آیت سنتے تھے: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ}۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10511

۔ (۱۰۵۱۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ} دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُرَیْشًا فَعَمَّ وَخَصَّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: جَعَلَ یَدْعُوْ بُطُوْنَ قُرَیْشٍ بَطْنًا بَطْنًا) فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! أَنْقِذُوْ أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِی کَعْبِ بْنِ لُؤَیٍّ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِیْ ھَاشِمٍ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ! أَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ، فَاِنِّیْ وَاللّٰہِ! مَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، اِلَّا اَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّھَا بِبِلَالِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش کو بلایا، عام آواز بھی دی اور خاص ندا بھی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش کے ایک ایک خاندان کو خاص کر کے پکارا اور فرمایا: اے قریش کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، ایک بنو کعب بن لؤی کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد مناف کی جماعت! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے بنو ہاشم کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد المطلب! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفس کو آگ سے بچا لے، پس اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ما سوائے اس کے کہ تمہاری قرابتداری ہے، اس کو میں تر رکھوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10512

۔ (۱۰۵۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزّ َوَجَلَّ {وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ} قَالَ: أَتَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَیْہِ ثُمَّّ نَادٰییَا صَبَاحَاہْ! فَاجْتَمَعَ النَّاسُ اِلَیْہِ بَیْنَ رَجُلٍ یَجِیْئُوَبَیْنَ رَجُلٍ یَبْعَثُ رَسُوْلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَابَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! یَابِنِیْ فِھْرٍ!، یَابَنِیْ لُؤَیٍّ! أَرَأَیْتُمْ لَوْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِسَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ صَدَّقْتُمُوْنِیْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّی نَذِیْرٌ لَکُمْ بَیْنَیَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ، فَقَالَ اَبُوْ لَھَبٍ: تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْم!ِ اَمَا دَعَوْتَنَا اِلَّا لِھٰذَا؟ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَتَبَّ}۔ (مسند احمد: ۲۸۰۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا پہاڑی پر تشریف لائے اور اس پر چڑھ کر یہ آواز دی: یَا صَبَاحَاہْ! پس لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہو گئے، کوئی خود آ گیا اور کسی نے اپنا قاصد بھیج دیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک لشکر ہے، وہ تم پر شبخون مارنا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میں تم کو سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا: بقیہ دن تجھ پر ہلاکت پڑتی رہے، کیا تو نے ہمیں اس مقصد کے لیے بلایا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10513

۔ (۱۰۵۱۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! اشْتَرُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ، یَاصَفِیَّۃُ عَمَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ! وَ یَافَاطِمَۃُ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہ! اشْتَرِیَا أَنْفُسَکُمَا مِنَ اللّٰہِ، لَااُغْنِیْ عَنْکُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلَانِیْ مِنْ مَالِیْ مَاشِئْتُمَا۔)) (مسند احمد: ۹۷۹۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، اے صفیہ! اللہ کے رسول کی پھوپھی! اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ سے آزاد کروا لو، میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تم سے کچھ بھی کفایتنہیں کر سکوں گا، البتہ میرے مال سے جو چاہو سوال کر سکتی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10514

۔ (۱۰۵۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ الزِّنَادِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّیَلِیِّ وَکَانَ جَاھِلِیًّا أَسْلَمَ فَقَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَصُرَ عَیْنِیْ بِسُوْقِ ذِی الْمَجَازِ یَقُوْلُ: ((أَیُّھَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا۔)) وَیَدْخُلُ فِیْ فِجَاجِھَا وَالنَّاسُ مُتَقَصِّفُوْنَ عَلَیْہِ، فَمَا رَأَیْتُ أَحَدًا یَقُوْلُ شَیْئًا وَھُوَ لَایَسْکُتُ،یَقُوْلُ: ((أَیُّھَا النَّاسُ! قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا۔)) اِلَّا أَنَّ وَرَائَہ رَجُلًا أَحْوَلَ وَضِیئَ الْوَجْہِ ذَا غَدِیْرَتَیْنِیَقُوْلُ: أَنَّہُ صَابِیئٌ کَاذِبٌ، فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَھُوَ یَذْکُرُ النَّبُوَّۃَ، قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الَّذِیْیُکَذِّبُہُ؟ قَالُوْا: عَمُّہُ اَبُوْ لَھَبٍ، قُلْتُ: اِنَّکَ کُنْتَ یَوْمَئِذٍ صَغِیْرًا؟ قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! اِنِّیْیَوْمَئِذٍ لَأَعْقِلُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۱۹)
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا تعلق دورِ جاہلیت سے تھا، پھر یہ مسلمان ہو گئے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، میری آنکھ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ذو مجاز کے بازار میں دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما تے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔پھر آپ اس بازار کی گلیوں میں داخل ہو جاتے، جبکہ لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا، میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ کچھ کہہ رہا ہو، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش نہیں ہو رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہتے جا رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ بھینگی آنکھ والا، خوبصورت چہرے والا اور دو چٹیوں والا تھا، وہ یہ کہہ رہا تھا: یہ بے دین اور جھوٹا شخص ہے، میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں اور یہ نبوت کا اعلان کر رہے ہیں، میں نے کہا: یہ ان کو جھٹلانے والا کون ہے؟ میں نے کہا: یہ ان کا چچا ابو لہب ہے، میں نے کہا: تو ان دنوں کم سن تھا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بیشک میں اس دن عقل والا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10515

۔ (۱۰۵۱۵)۔ (عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: اِنِّیْ لَمَعَ أَبِیْ رَجُلٌ شَابٌّ اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتْبَعُ الْقَبَائِلَ، وَوَرَائَہُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِیْیئٌ ذُوْجُمَّۃٍ،یَقِفُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقَبِیْلَۃِ وَیَقُوْلُ: ((یَا بَنِیْ فُلَانٍ! اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ آمُرُکُمْ أَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا وَأَنْ تُصَدِّقُوْنِیْ حَتّٰی أُنْفِذَ عَنِ اللّٰہِ مَا بَعَثَنِیْ بِہٖ۔)) فَاِذَافَرَغَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَقَالَتِہِ قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفِہِ: یَا بَنِیْ فُلَانٍ! اِنَّ ھٰذَا یُرِیْدُکُمْ أَنْ تَسْلُخُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی وَحُلَفَائَ کُمْ مِنَ الْحَیِّ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ اُقَیْشِ اِلٰی مَا جَائَ بِہٖمِنَالْبِدْعَۃِ وَالضَّلَالَۃِ فَـلَا تَسْمَعُوْا لَہُ وَلَا تَتِّبِعُوْہُ، فَقُلْتُ لِأَبِیْ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: عَمُّہُ أَبُوْ لَھَبٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نوجوان آدمی تھا اور اپنے باپ کے ساتھ چلتے ہوئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبیلوں کے پاس جاتے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بھینگی آنکھ والا خوبصورت آدمی تھا، اس کی مونڈھوں تک لٹکی ہوئی زلفیں تھیں، اللہ کے رسول ہر قبیلہ کے پاس رک کر فرماتے: اے بنی فلاں! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میری تصدیق کرو تاکہ میں اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام پہنچا دوں، جس کے ساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بات سے فارغ ہوتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے والا بندہ یہ کہنا شروع کر دیتا: اے بنو فلاں! اس شخص کا ارادہ یہ ہے کہ تم لات و عزی اور اپنے حلیفوں بنو مالک بن اُقیش کو چھوڑ کر اس بدعت و ضلالت کو اپنا لو، جو یہ لے کر آیا ہے، لہٰذا نہ اس کی بات سنو اور نہ اس کی پیروی کرو، میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10516

۔ (۱۰۵۱۶)۔ (عَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَطُوْفُ عَلَی النَّاسِ بِمِنًی فِیْ مَنَازِلِھِمْ قَبْلَ أَنْ یُھَاجِرَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِیَقُوْلُ: یَأَیُّھَا النَّاسُ۔ الخ الحدیث، کَمَا تَقَدَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۰)
۔ (تیسری سند) سیدنا ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، آپ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مِنٰی میں لوگوں کے پاس ان کی رہائش گاہوں میں جاتے اور کہتے: اے لوگو! ……۔ پھر سابقہ روایت ذکر کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10517

۔ (۱۰۵۱۷)۔ (عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ أَبَا لَھَبٍ بِعُکَاظٍ وَھُوَ یَتْبَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: یَا أَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ ھٰذَا قَدْ غَوٰی، فَـلَا یُغْوِیَنَّکُمْ عَنْ آلِھَۃِ آبَائِکُمْ، وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفِرُّ مِنْہُ وَھُوَ عَلٰی أَثَرِہِ وَنَحْنُ نَتْبَعُہُ وَنَحْنُ غِلْمَانُ کَأَنِّیْ أَنْظُرُ اِلَیْہِ أَحْوَلَ ذَا غَدِیْرَتَیْنِ أَبْیَضَ النَّاسِ وَأَجْمَلَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۱۶)
۔ (چوتھی سند) سیدنا ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے ابو لہب کو عکاظ میں دیکھا، جبکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیچھا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ شخص خود بھی گمراہ ہو گیا ہے اور تم کو بھی اپنے آباء کے معبودوں سے گمراہ کرنا چاہتا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے آگے کو بھاگ جاتے، لیکن وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پہنچ جاتا، ہم لڑکے بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتے، گویا کہ میں اب بھی ابو لہب کی طرف دیکھا رہا ہوں، وہ بھینگی آنکھ اور دو چٹیوں والا تھا اور لوگوں سے سب سے زیادہ سفید رنگ والا اور سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10518

۔ (۱۰۵۱۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُوْجَھْلٍ: لَئِنْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ لَآتِیَنَّہُ حَتّٰی أَطَأَ عَلٰی عُنُقِہِ، قَالَ: فَقَالَ: ((لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ عِیَانًا، وَلَوْأَنَّ الْیَھُوْدَ تَمَنَّوُا الْمَوْتَ لَمَاتُوْا وَرَأَوْا مَقَاعِدَھُمْ فِی النَّارِ وَلَوْ خَرَجَ الَّذِیْنَیُبَاھِلُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَرَجَعُوْا لَایَجِدُوْنَ مَالًا وَلَا أَھْلًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۵)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ابو جہل نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن کو روند دوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی اس بات پر فرمایا: اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اس کو لوگوں کے سامنے پکڑ لیتے، اگر یہودیوں نے موت کی تمنا کی ہوتی تو وہ واقعی مر جاتے اور جہنم میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتے اور اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مباہلہ کرنے والے نکلتے تو وہ اس حال میںلوٹتے کہ ان کا مال ہوتا اور نہ اہل و عیال۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10519

۔ (۱۰۵۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ أَبُوْجَھْلٍ: ھَلْ یُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْھَہُ بَیْنَ أَظْھُرِکُمْ؟ قَالَ: فَقِیْلَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزّٰییَمِیْنًایَحْلِفُ بِھَا لَئِنْ رَأَیْتُہُیَفْعَلُ ذٰلِکَ لَأَطَأَنَّ عَلٰی رَقَبَتِہِ أَوْ لَاُعَفِّرَنَّ وَجْھَہُ فِی التُّرَابِ، قَالَ: فَاَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ زَعَمَ لَیَطَأُ عَلٰی رَقَبَتِہِ، قَالَ: فَمَا فَجَأَھُمْ مِنْہُ اِلَّا وَھُوَ یَنْکُصُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَیَتَّقِیْ بِیَدَیْہِ، قَالَ: قَالُوْا لَہُ: مَا لَکَ؟ قَالَ: اِنَّ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَھَوْلًا وَأَجْنِحَۃً، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ دَنَا مِنِّیْ لَخَطَفَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ عُضْوًا عُضْوًا۔)) قَالَ فَأُنْزِلَ لَا أَدْرِی فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَوْ شَیْء ٍ بَلَغَہُ {إِنَّ الْإِنْسَانَ لَیَطْغَی أَنَّ رَآہُ اسْتَغْنَی} {أَرَأَیْتَ الَّذِییَنْہٰی عَبْدًا إِذَا صَلّٰی أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ عَلَی الْہُدٰی أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوٰی أَرَأَیْتَ إِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی} یَعْنِی أَبَا جَہْلٍ {أَلَمْ یَعْلَمْ بِأَنَّ اللّٰہَ یَرٰی کَلَّا لَئِنْ لَمْ یَنْتَہِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِیَۃِ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ} قَالَ یَدْعُو قَوْمَہُ {سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ} قَالَ یَعْنِی الْمَلَائِکَۃَ {کَلَّا لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ}(مسند احمد: ۸۸۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا: کیا تمہارے مابین محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سجدہ کرتا ہے؟ کسی نے کہا: ہاں، اس نے کہا: لات اور عزی کی قسم! اب اگر میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن روند دوں گا یا اس کے چہرے کو مٹی میں لت پت کر دوں گا، پس اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے آئے، اِدھر سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گردن کو روندنے کے لیے ابوجہل بھی چل پڑا، لیکن اچانک اس نے ایڑھیوںکے بل ہٹنا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنا بچاؤ کر رہا تھا، لوگوں نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میرے اور آپ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ہولناکی اور پَر تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگروہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے۔ پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ بھلا تو نے اسے بھی دیکھا جو بندے کو روکتا ہے، جبکہ وہ نماز ادا کرتا ہے، بھلا بتلا تو سہی اگر وہ ہدایت پر ہو، یا پرہیز گاری کا حکم دیتا ہو، بھلا دیکھو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو۔ اس سے ابو جہل مراد ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے، یقینا اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے، ایسی پیشانی جو جھوٹی خطاکار ہے، یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے۔ یعنی وہ اپنیقوم کو بلائے، ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے۔ یعنی فرشتوں کو، خبردار! اس کا کہنا نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ ان آیات کا ذکر سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں تھا، یا کسی اور سند سے اس کا علم ہوا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10520

۔ (۱۰۵۲۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10521

۔ (۱۰۵۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاجِدٌ وَحَوْلُہُ نَاسٌ مِنْ قُرَیْشٍ اِذْ جَائَ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِیْ مُعَیْطٍ بِسَلَا جَزُوْرٍ فَقَذَفَہُ عَلٰی ظَھْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَرْفَعْ رَأْسَہُ، فَجَائَ تْ فَاطِمَۃُ فَأَخَذَتْہُ مِنْ ظَھْرِہِ وَدَعَتْ عَلٰی مَنْ صَنَعَ ذٰلِکَ، قَالَ: فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَیْشٍ، أَبَاجَھْلِ بْنَ ھِشَامٍ وَعُتْبَۃَ بْنَ رَبِیْعَۃَ وَشَیْبَۃَ بْنَ رَبِیْعَۃَ وَعُقْبَۃَ بْنَ أَبِیْ مُعِیْطٍ وَأُمَیَّۃَ بْنَ خَلْفٍ (أَوْ أُبَیَّ بْنَ خَلْفٍ شُعْبَۃُ الشَّاکُّ) قَالَ: فَلَقَدْ رَأَیْتُھُمْ قُتِلُوْا یَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوْا فِیْ بِئْرٍ غَیْرَ أَنَّ أُمَیَّۃَ (أَوْ أُبَیًّا) اِنْقَطَعَتْ أَوْصَالُہُ فَلَمْ یُلْقَ فِی الْبِئْرِ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے کی حالت میں تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد قریشی لوگ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی معیط ذبح شدہ اونٹنی کی بچہ دانی لے کر آیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر پر پھینک دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر نہ اٹھایا، اتنے میں سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تشریف لائیں اور ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر سے ہٹایا اور یہ کام کرنے والوں کے لیے بد دعا کی، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان الفاظ میں اِن پر دعا کی: اے اللہ! قریشیوں کے سرداروں ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابو معیط اور امیہ بن خلف (یا ابی بن خلف) کی گرفت فرما۔ پس میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ بدر والے دن ان کو قتل کیا گیا اور پھر کنویں میں ڈال دیا گیا، ما سوائے امیہیا ابی کے، اس کے جوڑ اکھڑ گئے تھے، اس لیے اس کو کنویںمیں نہیں ڈالا گیا۔ حدیث میں اس جگہ سَلَاجزور کے الفاظ ہیں نسلا کا معنی وہ جھلی (بچہ دانی) ہے جس کے اندر بچہ لیٹا ہوتا ہے اور مادہ کے رحم سے بچے کی ولادت کے بعد باہر آتی ہے۔ جزور: مادہ اور نر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ بلکہ ہر ذبح کیے جانے والے جانور پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بخاری کی ایک روایت (۵۲۰) میں یہ الفاظ ہیںیعمرانی مرثھا ودمھا وسلاھا یعنی اس کے گوبر، خون اور بچہ دانی کو لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوجھڑی بھی ساتھ لاکر آپ پر پھینکی گئی۔ (عبداللہ رفیق)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10522

۔ (۱۰۵۲۲)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَان)ٍ قَالَ: ثَنَا خَلَفٌ ثَنَا اِسْرَائِیْلُ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ اِلَّا اَنَّہُ قَالَ: عَمْرَو بْنَ ھِشَامٍ وَأُمَیَّۃَ بْنَ خَلَفٍ وَزَادَ: وَعُمَارَۃَ بْنَ الْوَلِیْدِ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۳)
۔ (دوسری سند) اس طریق میں راوی نے کہا: عمرو بن ہشام اور امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید کا نام زائد ذکر کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10523

۔ (۱۰۵۲۳)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَیْتَ فَدَعَا عَلٰی نَفَرٍ مِنْ قُرَیْشٍ سَبْعَۃٍ فِیْھِمْ أَبُوْجَھْلٍ وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ وَشَیْبَۃُ بْنُ رَبِیْعَۃَ وَعُقْبَۃُ بْنُ اَبِیْ مُعَیْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللّٰہِ لَقَدْ رَأَیْتُھُمْ صَرْعٰی عَلٰی بَدْرٍ وَقَدْ غَیَّرَتْھُمُ الشَّمْسُ وَکَانَ یَوْمًا حَارًّا۔ (مسند احمد: ۳۷۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور قریش کے سات افراد پر بد دعا کی، ان میں ابو جہل، امیہ بن خلف، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط شامل تھے، پس تحقیق میں نے ان سب افراد کو دیکھا کہ ان کو بدر کے کنویں میں پچھاڑ دیا گیا، چونکہ وہ سخت گرمی والا دن تھا، اس لیے سورج کی وجہ سے بھی ان میں کچھ تبدیلی پیدا ہو گئی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10524

۔ (۱۰۵۲۴)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَخْبِرْنِیْ بِاَشَدَّ شَیْئًا صَنَعَہُ الْمُشْرِکُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بِفَنَائِ الْکَعْبَۃِ اِذْ أَقْبَلَ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِیْ مُعَیْطٍ فَأَخَذَ بِمَنْکِبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوّٰی ثَوْبَہُ فِیْ عُنُقِہِ فَخَنَقَہُ بِہٖخَنْقًاشَدِیْدًا، فَأَقْبَلَ أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخَذَ بِمَنْکِبِہٖوَدَفَعَہُعَنْرَسُوْلِاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: {أَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا أَنْ یَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَقَدْ جَائَ کُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَبِّکُمْ} [غافر: ۲۸] (مسند احمد: ۶۹۰۸)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم مجھے یہ بتلاؤ کہ سب سے بڑی ایذا کون سی ہے، جو مشرکوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچائی؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے صحن میں نماز ادا کر رہے تھے، عقبہ بن ابی معیط وہاں آیا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے کو پکڑا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گردن میں کپڑا ڈال کر اس کوبل دیئے اور سختی سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کاگلا دبایا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متوجہ ہوئے، انھوں نے اس بد بخت کا کندھا پکڑا اور اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہٹایا اور کہا: کیا تم اس شخص کو قتل کرتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے اور وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس واضح نشانیاں لایا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10525

۔ (۱۰۵۲۵)۔ عَنْ ((یَحْیَیَ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: مَا اَکْثَرَ مَا رَأَیْتَ قُرَیْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُوْلِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا کَانَتْ تُظْھِرُ مِنْ عَدَاوَتِہِ؟ قَالَ حَضَرْتُھُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُھُمْ یَوْمًا فِی الْحِجْرِ، فَذَکَرُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: مَارَأَیْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَیْہِ مِنْ ھٰذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّہَ أَحْلَامَنَا وَشَتَمَ آبَائَنَا وَعَابَ دِیْنَنَا وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَسَبَّ آلِھَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْہُ عَلَی أَمْرٍ عَظِیْمٍ أَوْ کَمَا قَالُوْا، قَالَ: فَبَیْنَمَا ھُمْ کَذٰلِکَ اِذْ طَلَعَ عَلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْبَلَ یَمْشِیْ حَتَّی اسْتَلَمَ الرُّکْنَ ثُمَّّ مَرَّ بِھِمْ طَائِفًا بِالْبَیْتِ، فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِھِمْ غَمَزُوْہُ بِبَعْضِ مَا یَقُوْلُ، قَالَ: فَعَرَفْتُ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ ثُمَّّ مَضٰی فَلَمَّا مَرَّ بِھِمُ الثَّانِیَۃَ غَمَزُوْہُ بِمِثْلِھَا فَعَرَفْتُ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ، ثُمَّّ مَضٰی ثُمَّّ مَرَّ بِھِمُ الثَّالِثَۃَ فَغَمَزُوْہُ بِمِثْلِھَا، فَقَالَ: ((تَسْمَعُوْنَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! أَمَا وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِالذَّبْحِ)) فَاَخَذَتِ الْقَوْمَ کَلِمَتُہُ حَتّٰی مَا مِنْھُمْ رَجُلٌ اِلَّا کَأَنَّمَا عَلٰی رَأْسِہِ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتّٰی اِنَّ أَشَدَّھُمْ فِیْہِ وَصَاۃً قَبْلَ ذٰلِکَ لَیَرْفَؤُہُ بِاَحْسَنِ مَایَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ حَتّٰی اِنَّہُ لَیَقُوْلُ: انْصَرِفْ یَا أَبَا الْقَاسِمِ! انْصَرِفْ رَاشِدًا، فَوَاللّٰہِ! مَا کُنْتَ جَھُوْلًا، قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوْا فِی الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَھُمْ فَقَالَ بَعْضُھْمُ لِبَعْضٍ: ذَکَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْکُمْ وَمَا بَلَغَکُمْ عَنْہُ، حَتّٰی اِذَا بَادَئَ کُمْ بِمَا تَکْرَھُوْنَ تَرَکْتُمُوْہُ فَبَیْنَمَا ھُمْ فِیْ ذٰلِکَ اِذْ طَلَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَثَبُوْا اِلَیْہِ وَثْبَۃَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَأَحَاطُوْا بِہٖیَقُوْلُوْنَ لَہُ: أَنْتَ الَّذِیْ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا کَمَا کَانَ یَبْلُغُھُمْ عَنْہُ مِنْ عَیْبِ آلِھَتِھِمْ وَدِیْنِھِمْ، قَالَ: فَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ أَنَا الَّذِیْ أَقُوْلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَجُلًا مِنْھُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِہِ، قَالَ: وَقَامَ أَبُوْبَکْرٍ الصِّدِیْقُ دُوْنَہُ، یَقُوْلُ وَھُوَ یَبْکِیْ: {أَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا أَنْ یَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ} ثُمَّ انْصَرَفُوْا عَنْہُ، فَاِنَّ ذٰلِکَ لَأَشَدُّ مَارَأَیْتُ قُرَیْشًا بَلَغَتْ مِنْہُ قَطُّ۔ (مسند احمد: ۷۰۳۶)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: وہ کون سی سخت تکلیف ہے، جو قریشیوں نے اپنی دشمنی کی وجہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچائی ہو؟ انھوں نے کہا: میں خود ایک دفعہ موجود تھا، اشرافِ قریش حطیم میںجمع تھے، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تذکرہ کیا اور کہا: ہم نے اس شخص (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر جتنا صبر کر لیا ہے، اتنا صبر تو کبھی بھی نہیںکیا تھا، اس نے ہمارے عقلاء کو بیوقوف بنادیا ہے، ہمارے آباء کو گالیاں دی ہیں، ہمارے دین کو معیوب قرار دیا ہے، ہماری جماعت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے معبودوںکو برا بھلا کہا ہے، بس ہم نے بہت بڑی چیز پر صبر کیا ہوا ہے، وہ یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے ہوئے آگے بڑھے، حجرِ اسود کا استلام کیا اور پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انھوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعض باتوں کی وجہ سے (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کااستہزاء کرتے ہوئے) آپس میں آنکھوں اور ابروؤں سے اشارے کیے، میں نے اس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے میں محسوس کیا (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی ان باتوں کو بھانپ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آنے لگے) ، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے چلے گئے، جب دوسری بار گزرے تو پھر انھوں نے آنکھوں سے اشارے کیے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کو دیکھ کر اس چیزکو پہنچان لیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیسری دفعہ گزرے اور انھوں نے آنکھوں سے اشارے کیے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریشیوں کی جماعت! سن لو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں ہلاکت کو لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ اس کلمے نے ان لوگوں پر اس قدر اثر کیا کہ ان میں سے ہر بندہ یوں خاموش ہو گیا، جیسے کے اس کے سرپر پرندہ بیٹھ گیا ہو، یہاں تک کہ ان میں جو آدمی اس سے پہلے وصیت کرنے میں سب سے سخت تھا، وہ بہترین الفاظ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدح کرنے لگا اور کہنے لگا: اے ابو القاسم! آپ آگے چلیں، آپ آگے چلیں، اس حال میں کہ آپ ہدایتیافتہ ہیں، اللہ کی قسم! آپ جاہل نہیں ہیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آگے چل دیئے، جب اگلا دن آیا اور یہ لوگ حطیم میں جمع ہوئے، جبکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا، تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: تم نے پہلے تو ان امور کا ذکرکیا جو تم کو اس (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے اور اس کو تم سے پہنچے ہیں، پھر جب اس نے تمہارے سامنے آکر ان ہی چیزوں کا تذکرہ کیا، جن کو تم ناپسند کر رہے تھے تو تم نے اس کو چھوڑ دیا، پس وہ اسی قسم کی باتوں میں مگن تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی وہاں پہنچ گئے، اب کی بار تو وہ یک مشت ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کود پڑے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھیر لیا اور کہا: تو وہی ہے جو ہمارے معبودوں اور دین کے معیوب ہونے کی اس قسم کی باتیں کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، میں ہی ہوں ایسی باتیں کرنے والا۔ پھر میں نے ان میں سے ایک آدمی کودیکھا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر کو پکڑا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روتے ہوئے آئے اور انھوں نے کہا: کیا تم ایسے شخص کوقتل کرتے ہو، جو یہ کہتاہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے۔ پھر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے، یہ سب سے سخت ایذا تھی، جو قریشیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچائی، میں نے اس قسم کی تکلیف کبھی نہیںدیکھی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10526

۔ (۱۰۵۲۶)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدٍ قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْھِمْ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ (فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ) ثُمَّّ قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُکُمَا عَنْہُ یَعْنِیْ عَمَّارًا، أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخِذًا بِیَدِیْ نَتَمَشّٰی فِی الْبَطْحَائِ حَتّٰی أَتٰی عَلٰی أَبِیْہِ وَأُمِّہِ وَعَلَیْہِیُعَذَّبُوْنَ، فَقَالَ أَبُوْ عَمَّارٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلدَّھْرُ ھٰکَذَا؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اصْبِرْ۔)) ثُمَّّ قَالَ: ((اِغْفِرْ لِآلِ یَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ۔)) (مسند احمد: ۴۳۹)
۔ سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض صحابہ کو بلایا، ان میں سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، … …، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تم کو عمار کے بارے میں بتلاؤں، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں چلتے ہوئے آ رہا تھا، جبکہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ (سیدنایاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) اور ماں (سیدہ سمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کو عذاب دیا جا رہا تھا، تو سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمانہ اس طرح بھی ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: صبر کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آلِ یاسر کو بخش دے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10527

۔ (۱۰۵۲۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا تَعْجَبُوْنَ کَیْفَیُصْرَفُ عَنْہُ شَتْمُ قُرَیْشٍ، کَیْفَیَلْعَنُوْنَ مُذَمَّمًا وَیَشْتُمُوْنَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ۔)) (مسند احمد: ۷۳۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ قریش کے گالی گلوچ کو مجھ سے کیسے دفع کر دیا جاتا ہے، وہ مُذَمّم پر لعنت کرتے ہیں، وہ تو مُذَمَّم کو برا بھلا کہتے ہیں، میں تو محمد ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10528

۔ (۱۰۵۲۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: جَائَ جِبْرِیْلُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَھُوَ جَالِسٌ حَزِیْنًا قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَائِ ضَرَبَہُ بَعْضُ أَھْلِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَقَالَ لَہْ: مَا لَکَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَہْ: ((فَعَلَ بِیْ ھٰؤُلَائِ وَفَعَلُوْا)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ جِبْرِیْلُ: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِیَکَ آیَۃً؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَنَظَرَ اِلٰی شَجَرَۃٍ مِنْ وَرَائِ الْوَادِیْ فَقَالَ: ادْعُ بِتِلْکَ الشَّجَرَۃِ، فَدَعَاھَا فَجَائَ تْ تَمْشِیْ حَتّٰی قَامَتْ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: مُرْھَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَھَا فَرَجَعَتْ اِلٰی مَکَانِھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَسْبِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمزدہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر خون لگا ہوا تھا، کیونکہ بعض اہل مکہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مارا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ کاراوئی کی ہے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے وادی سے پرے ایک درخت کو دیکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اس درخت کو بلاؤ، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوبلایا اور وہ چلتا ہوا آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: اب اس کو حکم دیں کہ یہ لوٹ جائے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا اور وہ اپنی جگہ لوٹ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے کافی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10529

۔ (۱۰۵۲۹)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ زِیَادٍ الْحَضْرَمِیِّ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحٰرِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیَّ حَدَّثَہُ: أَنَّہُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَہُ بِأَیْمَنَ وَفِئِۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ قَدْ حَلُّوْا أُزُرَھُمْ فَجَعَلُوْھَا مَخَارِیْقَیَجْتَلِدُوْنَ بِھَا وَھُمْ عُرَاۃٌ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَلَمَّا مَرَرْنَا بِھِمْ قَالُوْا اِنَّ ھٰؤُلَائِ قِسِّیْسُوْنَ فَدَعُوْھُمْ ، ثُمَّّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْھِمْ فَلَمَّا أَبْصَرُوْہُ تَبَدَّدُوْا فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضِبًا حَتّٰی دَخَلَ، وَکُنْتُ أَنَا وَرَائَ الْحُجْرَۃِ، فَسَمِعْتُہُ فَیَقُوْلُ: ((سَبْحَانَ اللّٰہِ، لَا مِنَ اللّٰہِ اسْتَحْیَوْا وَلَا مِن رَسُوْلِہِ اسْتَتَرُوْا۔)) وَأُمُّ أَیْمَنَ عِنْدَہُ تَقُوْلُ: اسْتَغْفِرْ لَھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَبِلَاْیٍ مَا اسْتَغْفَرَ لَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا ایک دوست سیدنا ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے اور وہاں قریشیوںکے چند لوگوں نے اپنے ازار اتارے ہوئے تھے اور ان کو بٹ کر وہ ایک دوسرے کو مار رہے تھے، جبکہ وہ ننگے تھے، جب ہم لوگ اُن کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ہمارے بارے میںکہا: یہ پادری لوگ ہیں، چھوڑو ان کو، پھر اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں تشریف لے آئے، جب انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو وہ تتر بتر ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں واپس آ گئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا، جبکہ میں حجرے کے پیچھے سے سن رہا تھا: سبحان اللہ! نہ ان لوگوں کو اللہ سے شرم آئی اور نہ ان لوگوں نے اس کے رسول سے پردہ کیا۔ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھیں، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے لیے بخشش طلب کرو، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشقت اور تاخیر کے بعد ان کے لیے مغفرت طلب کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10530

۔ (۱۰۵۳۰)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ: قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ: کُنْتُ قَیْنًا بِمَکَّۃَ فَکُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، فَاجْتَمَعَتْ لِیْ عَلَیْہِ دَرَاھِمُ، فَجِئْتُ اَتَقَاضَاہُ، فَقَالَ: لَا أَقْضِیَنَّکَ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَکْفُرُ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَمُوْتَ ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: فَاِذَا بُعِثْتُ کَانَ لِیْ مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنِّی اِذَا مِتُّ ثُمَّّ بُعِثْتُ وَ لِیَ ثَمَّ مَالٌ وَ وَلَدٌ فَأُعْطِیْکَ) قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی {أَفَرَأَیْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَأُوْتَیَنَّ مَالًا وَ وَلَدًا} حَتّٰی بَلَغَ {فَرْدًا} [مریم: ۷۷۔ ۸۰] (مسند احمد: ۲۱۳۸۲)
۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کفر نہیںکروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایکروایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب میں نے اس کییہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔(سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10531

۔ (۱۰۵۳۱)۔ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ أَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَۃً لَہُ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَنَا وَاسْتَنْصِرْہُ، قَالَ: فَاحْمَرَّ لَوْنُہُ أَوْتَغَیَّرَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ کَانَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ حُفْرَۃٌ وَیُجَائُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہِ فَیُشَقُّ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَیُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْعَصَبٍ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَلَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ھٰذَا الْأَمْرَ حَتّٰییَسِیْرَ الرَّاکِبُ مَا بَیْنَ صُنْعَائَ اِلٰی حَضَرَمَوْتَ لَایَخْشٰی اِلَّا اللّٰہَ تَعَالٰی وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ وَلٰکِنَّکُمْ تَعْجَلُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۷۱)
۔ سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ بات سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ سرخ ہوگیایا بدل گیا (راوی کو الفاظ کے متعلق شک ہے) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ تم سے پہلے تھے، ان کو گڑھے میں دبایا جاتا، پھر آری لا کر ان کے سر کو چیر دیا جاتا تھا،لیکنیہ تکلیف بھی ان کو اللہ تعالیٰ کے دین سے دور نہ کر سکی اور اسی طرح لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں سے گوشت اور پٹھوں کو نوچ لیا جاتا تھا،لیکنیہ آزمائش بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، سنو، اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک چلے گا اور وہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور اپنی بکریوں کے بارے میں بھیڑئیے سے ڈرے گا ، لیکن تم جلدی کرتے ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10532

۔ (۱۰۵۳۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَأَلَ أَھْلُ مَکَّۃَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آیَۃً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَکَّۃَ مَرَّتَیْنِ فَقَالَ: {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَاِنْ یَرَوْا آیَۃًیُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرِّ} (مسند احمد:۱۲۷۱۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک نشانی کا سوال کیا، جواباً چاند پھٹ گیا،یہ واقعہ مکہ میں دو بار پیش آیا، پس اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا،یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آ رہا جادو ہے۔ (سورۂ قمر: ۱ ، ۲)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10533

۔ (۱۰۵۳۳)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَارَ فِرْقَتَیْنِ فِرْقَۃً عَلٰی ھٰذَا الْجَبَلِ وَفِرْقَۃً عَلٰی ھٰذَا الْجَبَلِ، فَقَالُوْا: سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ، فَقَالُوْا: اِنْ کَانَ سَحَرَنَا فَاِنَّہُ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یَسْحَرَ النَّاسَ کُلَّھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۷۱)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوی میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر نظر آ رہا تھا، کافروں نے کہا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا، لیکن بعض لوگوں نے کہا: اگر ہم پر جادو کر دیا ہے تو اس کو اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ سب لوگوں پر جادو کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10534

۔ (۱۰۵۳۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَیْشٌ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أدْعُ لَنَا رَبَّکَ أَنْ یَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَھَبًا وَنُؤْمِنُ بِکَ، قَالَ: ((وَتَفْعَلُوْنَ)) قَالُوْا نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا فَأَتَاہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: اِنَّ رَبَّکَ عَزَّ وَجَلَّیَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلَامَ وَیَقُوْلُ: اِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَھُمُ الصَّفَا ذَھَبًا فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْھُمْ عَذَّبْتُہُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُہُ اَحَدًا مِنَ الْعَالَمِیْنَ، وَاِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَھُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَۃِ وَالرَّحْمَۃِ، قَالَ: ((بَلِ التَّوْبَۃُ وَالرَّحْمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ قریشیوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ اپنے ربّ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑی کو سونا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم واقعی ایسے کرو گے؟ انھوں نے کہا: ہاں، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: بیشک آپ کے ربّ نے آپ کو سلام کہا اور فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو صفا پہاڑی ان کے لیے سونا بن جائے گی، لیکن جس نے اس علامت کے بعد کفر کیا، اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ ویسا عذاب جہانوں میں کسی کو نہیں دیا اور اگر تم چاہتے ہو تو ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھلے رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: توبہ اور رحمت کا دروازہ ٹھیک ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10535

۔ (۱۰۵۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَیْشٍ اجْتَمَعُوْا فِی الْحِجْرِ فَتَعَاقَدُوْا بِاللَّاتِ وَالْعُزّٰی وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃِ الْأُخْرٰی وَنَائِلَۃَ وَاِسَافٍ، لَوْ قَدْ رَأَیْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا اِلَیْہِ قِیَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْہُ حَتّٰی نَقْتُلَہُ، فَاَقْبَلَتِ ابْنَتُہُ فَاطِمَۃُ تَبْکِیْ حَتّٰی دَخَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: ھٰؤُلَائِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَیْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوْا عَلَیْکَ لَوْ قَدْ رَأَوْکَ لَقَدْ قَامُوْا اِلَیْکَ فَقَتَلُوْکَ فَلَیْسَ مِنْھُمْ رَجُلٌ اِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِیْبَہُ مِنْ دَمِکَ، فَقَالَ: ((یَا بُنَیَّۃُ! أَرِیْنِیْ وَضُوْئً)) فَتَوَضَّأَ ثُمَّّ دَخَلَ عَلَیْھِمُ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْہُ قَالُوْا: ھَا ھُوَ ذَا، وَخَفَضُوْا أَبْصَارَھُمْ وَسَقَطَتْ أَذْقَانُھُمْ فِیْ صُدُوْرِھِمْ، وَعَقَرُوْا فِیْ مَجَالِسِھِمْ فَلَمْ یَرْفَعُوْا اِلَیْہِ بَصَرًا، وَلَمْ یَقُمْ اِلَیْہِ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَامَ عَلٰی رُئُ وْسِھِمْ فَأَخَذَ قَبْضَۃً مِنَ التُّرَابِ، فَقَالَ: ((شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔)) ثُمَّّ حَصَبَھُمْ بِھَا فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْھُمْ مِنْ ذٰلِکَ الْحَصٰی حَصَاۃٌ اِلَّا قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ کَافِرًا۔ (مسند احمد: ۲۷۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ قریشی سردار حطیم میں جمع ہوئے اور اپنے بتوں لات، عزی، مناۃ، نائلہ اور اساف کی قسمیں اٹھا کر آپس میں معاہدہ کیا کہ اگر انھوں نے محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو دیکھا تو وہ آپ پر یکبارگی حملہ کر دیں گے اور آپ کو قتل کیے بغیر آپ سے جدا نہیں ہوں گے، جب سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو اس چیز کا علم ہوا تو وہ روتی ہوئی آئیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا کر کہا: یہ سردارانِ قریشیہ معاہدہ کر چکے ہیں کہ اگر انھوں نے آپ کو دیکھا تو آپ پر حملہ کر دیں گے اور آپ کو قتل کر دیں گے، ان میں سے ہر آدمی آپ کے خون میں سے اپنے حصے کو پہچان چکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری پیاری بیٹی! وضو کا پانی لاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا، پھر مسجد ِ حرام میں ان کے پاس گئے، جب انھوں نے آپ کو دیکھا تو کہا: اوہ، یہ وہ آ گیا ہے، پھر انھوں نے اپنی نگاہیں پست کر لیں، ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں سے جا لگیں اور وہ دہشت زدہ ہوکر بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے، نہ ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف دیکھنے کی جرأت ہوئی اور نہ کوئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اٹھ سکا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مٹی کی مٹھی بھری اور فرمایا: چہرے قبیح ہو گئے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ مٹھی ان کی طرف پھینک دی، پس جس آدمی کو ان کنکریوں میں سے کوئی کنکری لگی، وہ بدر کے دن کفر کی حالت میں قتل ہو گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10536

۔ (۱۰۵۳۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فِیْھِمْ رَھْطٌ کُلُّھُمْ یَأْکُلُ الْجَذْعَۃَ وَیَشْرَبُ الْفَرَقَ، قَالَ: فَصَنَعَ لَھُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ فَأَکَلُوْا حَتّٰی شَبِعُوْا، قَالَ: وَبَقِیَ الطَّعَامُ کَمَا ھُوَ کَأَنَّہُ لَمْ یُمَسّ،َ ثُمَّّ دَعَا بِغُمَرٍ فَشَرِبُوْا حَتّٰی رَوُوْا وَبَقِیَ الشَّرَابُ کَأَنَّہُ لَمْ یُمَسَّ أَوْ لَمْ یُشْرَبْ، فَقَالَ: ((یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! اِنِّیْ بُعِثْتُ لَکُمْ خَاصَّۃً، وَاِلَی النَّاسِ بِعَامَّۃٍ، وَقَدْ رَأَیْتُمْ مِنْ ھٰذِہِ الْأَیَۃِ مَارَأَیْتُمْ فَأَیُّکُمْیُبَایِعُنِیْ عَلٰی أَنْ یَکُوْنَ أَخِیْ وَصَاحِبِیْ؟)) قَالَ: فَلَمْ یَقُمْ اِلَیْہِ أَحَدٌ، قَالَ: فَقُمْتُ اِلَیْہِ وَکُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، قَالَ: فَقَالَ: ((اجْلِسْ)) قَالَ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ کُلَّ ذٰلِکَ أَقُوْمُ اِلَیْہِ، فَیَقُوْلُ لِیْ: ((اجْلِسْ)) حَتّٰی کَانَ فِیْ الثَّالِثَۃِ ضَرَبَ بِیَدِہِ عَلٰییَدِیْ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۱)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو عبد المطلب کو جمع کیایا ان کو دعوت دی، ان میں ایسے افراد بھی تھے کہ وہ (بسیار خوری کی وجہ سے) اچھا خاصہ جانور کھا جا تے تھے اور ایک فَرَق پانی پی جاتے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیے صرف ایک مُد کا کھانا تیار کیا،پس انھوں نے کھایا،یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے، لیکن کھانا اُسی طرح باقی بچا پڑا تھا، یوں لگتا تھا کہ کسی نے اس کو چھوا تک نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چھوٹا پیالہ منگوایا اور سب نے اتنا مشروب پیا کہ وہ سیراب ہو گئے، لیکن وہ مشروب اس طرح باقی بچا پڑا تھا کہ گویا کہ اس کو چھوا ہی نہیں گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! مجھے تمہاری طرف خاص طور پر اور لوگوں کی طرف عام طور پر مبعوث کیا گیا ہے اور تم نے یہ نشانی بھی دیکھ لی ہے، اب تم میں سے کون ہے جو میرا بھائی اور ساتھی بننے کے لیے میری بیعت کرے؟ جواباً کوئی بھی کھڑا نہ ہوا، صرف میں (علی) کھڑا ہوا، جبکہ میں لوگوں سے سب سے کم سن تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ دعوت پیش کی، لیکن صرف میں ہی کھڑا ہوتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما دیتے کہ تو بیٹھ جا۔ تیسری بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مار کر مجھ سے بیعت لی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10537

۔ (۱۰۵۳۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَیْنَا الْکَعْبَۃَ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْلِسْ)) وَصَعِدَ عَلٰی مَنْکِبَیَّ فَذَھَبْتُ لِأَنْھَضَ بِہٖفَرَأٰی مِنِّی ضَعْفًا فَنَزَلَ وَجَلَسَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((اِصْعَدْ عَلٰی مَنْکِبَیَّ)) قَالَ: فَصَعِدْتُّ عَلٰی مَنْکِبِہٖ،قَال: فَنَھَضَبِیْ، قَالَ: فَاِنَّہُ یُخَیَّلُ اِلَیَّ أَنِّی لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَائِ حَتّٰی صَعِدْتُ عَلَی الْبَیْتِ وَعَلَیْہِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْنُحَاسٍ، فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُہُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ حَتّٰی اِذَا اسْتَمْکَنْتُ مِنْہُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْذِفْ بِہٖ۔)) فَقَذَفْتُبِہٖ،فَتَکَسَّرَکَمَاتَتَکَسَّرُالْقَوَارِیْرُ، ثُمَّّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَسْتَبِقُ حَتّٰی تَوَارَیْنَا بِالْبُیُوْتِ خَشْیَۃَ أَنْ یَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۶۴۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے، یہاں تک کہ ہم کعبہ کے پاس پہنچے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹھ جا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے کندھے پر چڑھے، پھر میں نے اٹھنا چاہا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ میں کمزور ہوں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے کندھے سے نیچے اتر گئے اور خود بیٹھ کر فرمانے لگے: علی! میرے کندھے پر چڑھ جا۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے پر چڑھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، مجھے یوں لگا کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کے افق کو چھو لیتا، پس میں بیت اللہ کی عمارت پر چڑھ گیا، اس پر پیتلیا تانبے کا بنا ہوا مجسمہ تھا، میں نے اس کے دائیں، بائیں، سامنے اور پیچھے سے کوشش کی،یہاں تک کہ میں نے اس کو گرانے کی قدرت پا لی، اُدھر سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھینک دے اس کو۔ پس میں نے اس کو پھینکا اور وہ اس طرح ٹوٹا جیسے شیشے ٹوٹتے ہیں، پھر میں وہاں سے اترا اور میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز تیز چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم گھروں کے ساتھ چپ گئے، ہمیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی بندے سے ملاقات ہو جائے (اور ہمارا یہ راز فاش ہو جائے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10538

۔ (۱۰۵۳۸)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: کَانَ عَلَی الْکَعْبَۃِ أَصْنَامٌ فَذَھَبْتُ لِأَحْمِلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ اَسْتَطِعْ، فَحَمَلَنِیْ فَجَعَلْتُ أَقْطَعُھَا وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَائَ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کعبہ پر بت تھے، پہلے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اٹھانا چاہا تو مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اٹھایا اور میں نے ان کو توڑ دیا، اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10539

۔ (۱۰۵۳۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی النَّجَاشِیْ وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِیْنَ رَجُلًا، فِیْھِمْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَجَعْفَرٌ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُرْفُطَۃَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ، وَأَبُوْ مُوْسٰی فَأَتَوُا النَّجَاشِیَّ، وَبَعَثَتْ قُرَیْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعُمَارَۃَ بْنَ الْوَلِیْدِ بِھَدِیَّۃٍ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَی النَّجَاشِیِّ سَجَدَا لَہُ، ثُمَّّ ابْتَدَرَاہُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، ثُمَّّ قَالَا لَہُ: اِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِیْ عَمِّنَا نَزَلُوْا أَرْضَکَ وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا، قَالَ: فَأَیْنَ ھُمْ؟ قَالُوْا: ھُمْ فِیْ أَرْضِکَ فابْعَثْ اِلَیْھِمْ، فَبَعَثَ اِلَیْھِمْ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا خَطِیْبُکُمُ الْیَوْمَ، فَاتَّبَعُوْہُ، فَسَلَّمَ وَلَمْ یَسْجُدْ، فَقَالُوْا لَہُ: مَا لَکَ؟ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِکِ! قَالَ: إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: وَمَا ذٰلِکَ؟ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَ اِلَیْنَا رَسُوْلَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ اِلَّا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَأَمَرَناَ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَاِنَّھُمْ یُخَالِفُوْنَکَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ، قَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ وَأُمِّہِ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، ھُوَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ وَرُوْحُہُ، اَلْقَاھَا اِلَی الْعَذْرَائِ الْبَتُوْلِ الَّتِیْ لَمْ یَمَسَّھَا بَشَرٌ وَلَمْ یَفْرِضْھَا وَلَدٌ، قَالَ: فَرَفَعَ عُوْدًا مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّّ قَالَ: یَا مَعْشَرَ الْحَبَشَۃِ وَالْقِسِّیْسِیْنَ وَالرُّھْبَانِ، وَاللّٰہِ! مَا یَزِیْدُوْنَ عَلَی الَّذِیْ نَقُوْلُ فِیْہِ مَا یَسْوِیْ ھٰذَا، مَرْحَبًا بِکُمْ وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِہِ، اَشْھَدُ اَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِنَّہُ الَّذِیْ نَجِدُ فِی الْاِنْجِیْلِ، وَاِنَّہُ الرَّسُوْلُ الَّذِیْ بَشَّرَ بِہٖعِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ، اَنْزِلُوْا حَیْثُ شِئْتُمْ، وَاللّٰہِ! لَوْ لَا مَا أَنَا فِیْہِ مِنَ الْمُلْکِ لَأَتَیْتُہُ حَتَّی أَکُوْنَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَیْہِ وَأُوَضِّئُہُ، وَأَمَرَ بِھَدِیَّۃِ الْآخَرِیْنَ فَرُدَّتْ اِلَیْھِمَا، ثُمَّّ تَعَجَّلَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ حَتّٰی أَدْرَکَ بِدْرًا،وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَغْفَرَ لَہُ حِیْنَ بَلَغَہُ مَوْتُہُ ۔ (مسند احمد: ۴۴۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو نجاشی کی طرف بھیج دیا، ہم تقریباً اسی افراد تھے، ان میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا جعفر، سیدنا عبد اللہ بن عرفطہ، سیدنا عثمان بن مظعون اور سیدنا ابو موسیf شامل تھے، پس یہ لوگ نجاشیکی مملکت میں پہنچ گئے، اُدھر قریش نے عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف کے ساتھ روانہ کر دیا، جب یہ دوافراد نجاشی کے پاس پہنچے تو انھوں نے اس کو سجدہ کیا اور پھر جلدی جلدی ایک اس کی دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھ گیا، پھر ان دونوں نے کہا: ہمارے چچے کے بیٹوں کا ایک گروہ آپ کے علاقے میں آیا ہوا ہے، انھوں نے ہم سے اور ہمارے دین سے بے رغبتی اختیار کر رکھی ہے۔ بادشاہ نے کہا: وہ اس وقت کہاں ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آپ کے علاقے میں ہیں، آپ ان کو پیغام بھیجیں، پس اس نے ان کی طرف پیغام بھیجا، سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: آج میں تمہاری طرف سے خطاب کروں گا، سب نے ان کی بات مان لی، پس انھوں نے نجاشی کو سلام کہا اور سجدہ نہیں کیا، لوگوں نے کہا: تجھے کیا ہو گیا ہے، تو بادشاہ کو سجدہ نہیں کر رہا؟ انھوں نے کہا: ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں، اس نے کہا: کیا معاملہ ہے؟ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا ایک رسول بھیجا ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں، نیز ہمیں نماز اور زکوۃ کا بھی حکم دیا ہے، عمرو بن عاص نے کہا: بادشاہ سلامت! یہ لوگ عیسی بن مریم کے معاملے میں آپ کے مخالف ہیں، پس بادشاہ نے کہا: تم لوگ عیسی بن مریم اور ان کی ماں کے بارے میںکیا نظریہ رکھتے ہو؟ صحابہ نے کہا: ہم ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اس نے ان کو کنواری بتول کی طرف ڈالا، جس کنواری کو نہ کسی بشر نے چھوا اور جس پر (عیسی علیہ السلام سے پہلے) کسی بچے کا نشان نہیں تھا۔ یہ تبصرہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا: اے حبشیو! پادریو اور راہبو! اللہ کی قسم ہے، جو کچھ ہم کہتے ہیں، ان مسلمانوں نے اس سے اس لکڑی کے برابر بھی ہمارے نظریے سے زیادہ بات نہیں کی ہے، اے مسلمانو! خوش آمدید تم کو اور اس کو جس کے پاس سے تم آئے ہو، میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ واقعی اللہ کا رسول ہے، بلکہ یہ وہی ہے، جس کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور یہ وہی رسول ہے کہ جس کی بشارت عیسی بن مریم علیہ السلام نے دی تھی، میرے ملک میں جہاں چاہو، رہ سکتے ہو، اللہ کی قسم! اگر میں اس بادشاہت میں مبتلا نہ ہوتا تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جوتے اٹھاتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کرواتا، پھر نجاشی نے حکم دیا کہ قریشیوں کے تحائف ان کو واپس کر دیئے جائیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حبشہ سے مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئے اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے، نیز انھوں نے کہا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نجاشی کی وفات کا علم ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے بخشش طلب کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10540

۔ (۱۰۵۴۰)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحٰرِثِ بْنِ ھِشَامٍ الْمَخْزُوْمِیِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ابْنَۃِ أَبِیْ أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمَّا نَزَلْنَا أَرْضَ الْحَبَشَۃَ جَاوَرْنَا بِھَا خَیْرَ جَارِ النَّجَاشِیِّ، أَمِنَّا عَلٰی دِیْنِنَا وَعَبَدْنَا اللّٰہَ لَا نُؤْذَیٰ وَلَا نَسْمَعُ شَیْئًا نَکْرَھُہُ، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِکَ قُرَیْشًا،اِئْتَمَرُوْا أَنْ یَبْعَثُوْا اِلَی الْنَّجَاشِیِّ فِیْنَا رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ، وَاَنْ یُھْدُوْا لِلنَّجَاشِیِّ ھَدَایَا مِمَّا یُسْتَطْرَفُ مِنْ مَتَاعِ مَکَّۃَ، وَکَانَ مِنْ أَعْجَبِ مَا یَأْتِیْہِ مِنْھَا اِلَیْہِ الْأَدَمُ، فَجَمَعُوْا لَہُ اَدَمًا کَثِیْرًا، وَلَمْ یَتْرُکُوْا مِنْ بَطَارِقَتِہِ بِطْرِیْقًا اِلَّا أَھْدَوْا لَہُ ھَدِیَّۃً، ثُمَّّ بَعَثُوْا بِذٰلِکَ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْمَخْزُوْمِیِّ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّھَمِیَّ، وَاَمَرُوْھُمَا أَمْرَھُمْ، وَقَالُوْا لَھُمَا: ادْفَعُوْا اِلَی کُلِّ بِطْرِیْقٍ ھَدِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ تُکَلِّمُوْا النَّجَاشِیَّ فِیْھِمْ، ثُمَّّ قَدِّمُوْا لِلنَّجَاشِیِّ ھَدَایَاہُ، ثُمَّّ سَلُوْہُ أَنْ یُسْلِمَھُمْ اِلَیْکُمْ قَبْلَ أَنْ یُکَلِّمَھُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَقَدِمْنَا عَلَی النَّجَاشِیِّ، وَنَحْنُ عِنْدَہُ بِخَیْرِ دَارٍ وَعِنْدَ خَیْرِ جَارٍ، فَلَمْ یَبْقَ مِنْ بَطَارِقَتِہِ بِطْرِیْقٌ اِلَّا دَفْعَا اِلَیْہِ ھَدِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ یُکَلِّمَا النَّجَاشِیَّ، ثُمَّّ قَالَا لِکُلِّ بِطْرِیْقٍ مِنْھُمْ: إِنَّہُ قَدَ صَبَأَ اِلَی بَلَدِ الْمَلَکِ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَھَائُ، وَفَارَقُوْا دِیْنَ قَوْمِھِمْ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَجَاؤُا بِدِیْنٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُہُ نَحْنُ وَلَا أَنْتُمْ، وَقَدْ بَعَثَنَا اِلَی الْمَلِکِ فِیْھِمْ أَشْرَافُ قَوْمِھِمْ لِیَرُدَّھُمْ اِلَیْھِمْ، فَاِذَا کَلَّمْنَا الْمَلِکَ فِیْھِمْ فَتُشِیْرُوْا عَلَیْہِ بِأَنْ یُسْلِمَھُمْ اِلَیْنَا وَلَا یُکَلِّمُھُمْ، فَاِنَّ قَوْمَھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ، فَقَالُوْا لَھُمَا: نَعَمْ، ثُمَّّ اِنَّھُمَا قَرَّبَا ھَدَایَا ھُمْ اِلَی النَّجَاشِیِّ فَقَبِلَھَا مِنْھُمَا، ثُمَّّ کَلَّمَاہُ فَقَالَا لَہُ: أَیُّھَا الْمَلِکُ! اِنَّہُ قَدْ صَبَأَ اِلٰی بَلَدِکَ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفْھَائُ، فَارَقُوْا دِیْنَ قَوْمِھِمْ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِکَ وَجَائُ وْا بِدِیْنٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُہُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ، وَقَدَ بَعَثَنَا اِلَیْکَ فِیْھِمْ أَشْرَافُ قَوْمِھِمْ حَتّٰی آبَاؤِھِمْ وَأَعْمَامِھِمْ وَعَشَائِرِھِمْ لِتَرُدَّھُمْ اِلَیْھِمْ فَھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ وَعَاتَبُوْھُمْ فِیْہِ، قَالَتْ: وَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ أَبْغَضَ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ أَنْ یَسْمَعَ النَّجَاشِیُّ کَلَامَھُمْ، فَقَالَتْ بَطَارِقَتُہُ حَوْلَہُ: صَدَقُوْا أَیُّھَا الْمَلِکُ! قَوْمُھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ، فَأَسْلِمْھُمْ اِلَیْھِمَا فَلْیَرُدَّاھُمْ اِلٰی بِلَادِھِمْ وَقَوْمِھِمْ، قَالَ: فَغَضِبَ النَّجَاشِیّ،ُ ثُمَّّ قَالَ: لَاھَا اللّٰہِ! اَیْمُ اللّٰہِ! اِذًا لَا أُسْلِمُھُمْ اِلَیْھِمَا وَلَا أَکَادُ قَوْمًا جَاوَرُوْنِیْ وَنَزَلُوْا بِلَادِیْ، اِخْتَارُوْنِیْ عَلٰی مَنْ سِوَایَ حَتّٰی أَدْعُوَھُمْ فَأَسْئَلَھُمْ مَایَقُوْلُ ھٰذَانِ فِیْ أَمْرِھِمْ، فَاِنْ کَانُوْا کَمَا یَقُوْلُوْنَ أَسْلَمْتُھُمْ اِلَیْھِمَا وَرَدَدْتُھُمْ اِلٰی قَوْمِھِمْ، وَاِنْ کَانُوْا عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ مَنَعْتُھُمْ مِنْھُمَا وَأَحْسَنْتُ جِوَارَھُمْ مَا جَاوَرُوْنِیْ، قَالَتْ: ثُمَّّ أَرْسَلَ اِلَی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَاھُمْ، فَلَمَّا جَائَ ھُمْ رَسُوْلُہُ اجْتَمَعُوْا، ثُمَّّ قَالَ بَعْضُھْمُ لِبَعْضٍ: مَاتَقُوْلُوْنَ لِلرَجُلٍ اِذَا جِئْتُمُوْہُ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا، وَمَا أَمَرَنَا بِہٖنَبِیُّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَائِنٌ فِیْ ذٰلِکَ مَاھُوْ کَائِنٌ، فَلَمَّا جَائُ وْہُ وَقَدْ دَعَا النَّجَاشِیُّ اَسَاقِفَتَہُ فَنَشَرُوْا مَصَاحِفَھُمْ حَوْلَہُ سَأَلَھُمْ فَقَالَ: مَا ھٰذَا الدِّیْنُ الَّذِیْ فَارَقْتُمْ فِیْہِ قَوْمَکُمْ وَلَمْ تَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِیْ وَلَا فِیْ دِیْنِ أَحَدٍ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمُمِ؟ قَالَتْ: فَکَانَ الَّذِیْ کَلَّمَہُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ فَقَالَ لَہُ: أَیُّھَا الْمَلِکُ! کُنَّا قَوْمًا أَھْلَ جَاھِلِیَّۃٍ، نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ، وَنَأکُلُ الْمَیْتَۃَ، وَنَأْتِی الْفَوَاحِشَ، وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ، وَنُسِیْیئُ الْجِوَارَ، یَأْکُلُ الْقَوِیُّ مِنَّا الضَّعِیْفَ، فَکُنَّا عَلٰی ذٰلِکَ حَتّٰی بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْنَا رَسُوْلًا مِنَّا، نَعْرِفُ نَسَبَہُ وَصِدْقَہُ، وَأَمَانَتَہُ وَعِفَافَہُ، فَدَعَانَا اِلَی اللّٰہِ لِنُوَحِّدَہُ وَنَعْبُدَہُ وَنَخْلَعَ مَا کُنَّا نَحْنُ نَعْبُدُ وَأَبَاؤُنَا مِنْ دَوْنِہِ مِنَ الْحِجَارَۃِ وَالْأَوْثَانِ، وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدَیْثِ وَأَدَائِ الْأَمَانَۃِ وَصِلَۃِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْکَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَائِ، وَنَھَانَا عَنِ الْفَوَاحِشِ وَقَوْلِ الزُّوْرِ وَأَکْلِ مَالِ الْیَتِیْمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَۃِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَانُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَالصِّیَامِ، قَالَ: فَعَدَّدَ عَلَیْہِ أُمُوْرَ الْاِسْلَامِ، فَصَدَّقْنَاہُ وَآمَنَّا بِہٖوَاَتْبَعْنَاہُعَلٰی مَا جَائَ بِہٖوَعَبَدْنَااللّٰہَوَحْدَہُفَلَمْنُشْرِکْبِہٖشَیْئًا، وَحَرَّمْنَا مَا حَرَّمَ عَلَیْنَا وَأَحْلَلْنَا مَا أَحَلَّ لَنَا، فَعَدَا عَلَیْنَا قَوْمَنَا فَعَذَّبُوْنَا وَفَتَنُوْنَا عَنْ دِیْنِنَا لِیَرُدُّوْنَا اِلٰی عِبَادَۃِ الْأَوْثَانِ مِنْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَأَنْ نَسْتَحِلَّ مَا کُنَّا نَسْتَحِلُّ مِنَ الْخَبَائِثِ، فَلَمَّا قَھَرُوْنَا وَظَلَمُوْنَا وَشَقُّوْا عَلَیْنَا وََحَالُوْا بَیْنَنَا وَبَیْنَ دِیْنِنَا خَرَجْنَا اِلٰی بَلَدِکَ وَاخْتَرْنَاکَ عَلَی مَنْ سِوَاکَ وَرَغِبْنَا فِیْ جِوَارِکَ وَرَجَوْنَا أَنْ لَا نُظْلَمَ عِنْدَکَ أَیُّھَا الْمَلِکُ!، قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ النَّجَاشِیُّ: ھَلْ مَعَکَ مِمَّا جَائَ بِہٖعَنِاللّٰہِشَیْئٌ؟ قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ: جَعْفَرٌ: نَعَمْ، فَقَالَ لَہُ النَّجَاشِیُّ: فَاقْرَأْہُ عَلَیَّ! فَقَرَأَ عَلَیْہِ صَدْرًا مِنْ {کٓھٰیٰعٓصٓ} قَالَتْ: فَبَکٰی وَاللّٰہِ! النَّجَاشِیُّ حَتّٰی أَخْضَلَ لِحْیَتَہُ، وَبَکَتْ اَسَاقِفَتُہُ حَتّٰی اَخْضَلُوْا مَصَاحِفَھُمْ حِیْنَ سَمِعُوْا مَا تَلَاہُ عَلَیْھِمْ، ثُمَّّ قَالَ النَّجَاشِیُّ: اِنَّ ھٰذَا وَاللّٰہِ! وَالَّذِیْ جَائَ بِہٖمُوْسٰی لَیَخْرُجُ مِنْ مِشْکَاۃٍ وَاحِدَۃٍ، اِنْطَلِقَا فَوَاللّٰہِ! لَا اُسْلِمُھُمْ اِلَیْکُمْ أَبَدًا وَلَا أَکَادُ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: وَاللّٰہِ! لَأُنَبِّئَنَّھُمْ غَدًا عَیْبَھُمْ عِنْدَھُمْ، ثُمَّّ أَسْتَأْصِلُ بِہٖخَضْرَائَھُمْ،قَالَتْ: فَقَالَلَہُعَبْدُاللّٰہِبْنُأَبِیْ رَبِیْعَۃَ: وَکَانَ أَتْقَی الرَّجُلَیْنِ فِیْنَا: لَا تَفْعَلْ فِاِنَّ لَھُمْ أَرْحَامًا وَاِنْ کَانُوْا قَدْ خَالَفُوْنَا، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَأُخْبِرَنَّہُ أَنَّھُمْ یَزْعُمُوْنُ أَنَّ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَبْدٌ، قَالَتْ: غَدَا عَلَیْہِ الْغَدَ، فَقَالَ: أَیُّھَا الْمَلِکُ: اِنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ قَوْلًا عَظِیْمًا فَأَرْسَلَ اِلَیْھِمْ فَاسْأَلْھُمْ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ فِیْہِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ اِلَیْھِمْیَسْأَلُھُمْ عَنْہُ، قَالَتْ: وَلَمْ یَنْزِلْ بِنَا مِثْلُہُ، فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: مَاذَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسٰی اِذَا سَأَلَکُمْ عَنْہُ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ وَاللّٰہِ! فِیْہِ مَا قَالَ اللّٰہُ وَمَا جَائَ بِہٖنَبِیُّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَائِنًا فِیْ ذٰلِکَ مَا ھُوَ کَائِنٌ، فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہِ قَالَ لَھُمْ: مَاتَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ؟ فَقَالَ لَہُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ: نَقُوْلُ فِیْہِ الَّذِیْ جَائَ بِہٖنَبِیُّنُا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ وَرُوْحُہُ وَکَلِمَتُہُ اَلْقَاھَا اِلَی مَرْیَمَ الْعَذْرَائِ الْبَتُوْلِ، قَالَتْ: فَضَرَبَ النَّجَاشِیُّ بِیَدِہِ اِلَی الْأَرْضِ فَاَخَذَ مِنْھَا عُوْدًا ثُمَّّ قَالَ: مَا عَدَا عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ مَا قُلْتَ ھٰذَا الْعُوْدَ، فَتَنَاخَرَتْ بَطَارِقَتُہُ حَوْلَہُ حِیْنَ قَالَ مَا قَالَ، فَقَالَ: وَاِنْ نَخَرْتُمْ وَاللّٰہِ! اذْھَبُوْا فَأَنْتُمْ سَیُوْمٌ بِاَرْضِیْ وَالسَّیُوْمُ الْآمِنُوْنَ) مَنْ سَبَّکُمْ غُرِّمَ ثُمَّّ مَنْ سَبَّکُمْ غُرِّمَ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِیْ دَبْرًا ذَھَبًا وَأَنَّیْ أَذَیْتُ رَجُلًا مِنْکُمْ، (وَالدَّبَرُ بِلِسَانِ الْحَبْشَۃِ: اَلْجَبَلُ) رُدُّوْا عَلَیْھِمَا ھَدَایَا ھُمَا فَـلَا حَاجَۃَ لَنَا بِھَا، فَوَاللّٰہِ! مَا أَخَذَ اللّٰہُ مِنِّی الرِّشْوَۃَ حِیْنَ رَدَّ عَلَیَّ مُلْکِیْ فَآخُذُ الرِّشْوَۃَ فِیْہِ، وَمَا أَطَاعَ النَّاسَ فِیَّ فَأُطِیْعَھُمْ فِیْہِ، قَالَتْ: فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِہِ مَقْبُوْحَیْنِ مَرْدُوْدًا عَلَیْھِمَا مَا جَائَ ا بِہٖ،وَأَقَمْنَاعِنْدَہُبِخَیْرِ دَارٍ مَعَ خَیْرِ جَارٍ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! اَنَا عَلٰی ذٰلِکَ اِذْ نَزَلَ بِہٖیَعْنِیْ مَنْ یُنَازِعُہُ فِیْ مُلْکِہِ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا حُزْنًا قَطُّ کَانَ أَشَدَّ مِنْ حُزْنٍ حَزِنَّاہُ عِنْدَ ذٰلِکَ تَخَوُّفًا أَنْ یَظْھَرَ ذٰلِکَ عَلَی النَّجَاشِیِّ فَیَأْتِیَ رَجُلٌ لَا یَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا کَانَ النَّجَاشِیُّیَعْرِفُ مِنْہُ، قَالَتْ: وَسَارَ النَّجَاشِیُّ وَبَیْنَھُمَا عُرْضُ النِّیْلِ، قَالَتْ: فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ رَجُلٌ یَخْرُجُ حَتّٰییَحْضُرَ وَقْعَۃَ الْقَوْمِ، یَأْتِیَنَا بِالْخَبْرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: أَنَا، قَالَتْ: وَکَانَ مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَتْ: فَنَفَخُوْا لَہُ قِرْبَۃًفَجَعَلَھَا فِیْ صَدْرِہِ ثُمَّّ سَبَحَ عَلَیْھَا حَتّٰی خَرَجَ اِلٰی نَاحِیَۃِ النِّیْلِ الَّتِیْ بِھَا مُلْتَقَی الْقَوْمِ، ثُمَّّ انْطَلَقَ حَتّٰی حَضَرَھُمْ، قَالَتْ: وَدَعَوْنَا اللّٰہَ لِلنَّجَاشِیِّ بِالظُّھُوْرِ عَلٰی عَدُوِّہِ وَالتَّمْکِیْنِ لَہُ فِیْ بِلَادِہِ، وَاسْتَوْسَقَ عَلَیْہِ أَمْرُ الْحَبَشَۃِ، فَکُنَّا عِنْدَہُ فِیْ خَیْرِ مَنْزِلٍ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَھُوَ بِمَکَّۃَ۔(مسند احمد: ۱۷۴۰)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حبشہ کی سرزمین میں اترے اور نجاشی کو بہترین پڑوسی پایا، ہم اپنے دین پر پر امن ہو گئے اور ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، ہمیں نہ کوئی تکلیف دی جاتی تھی اور نہ ہم کوئی ناپسند بات سنتے تھے، جب قریشیوں کو اس چیز کا علم ہوا تو انھوں نے مشورہ کیا اور یہ طے پایا کہ دو قوی افراد کو نجاشی کے پاس بھیجا جائے اور نجاشی کے لیے ایسے تحائف کا انتخاب کیا جائے، جن کو مکہ کا عمدہ مال سمجھا جاتا ہے اور مکہ سے سب سے پسندیدہ چیز سالن تھی، لہٰذا انھوں بڑی مقدار میں سالن جمع کیا اور انھوں نے حبشہ کے ہر بڑے پادری کے لیے تحفہ ارسال کرنے کا فیصلہ کیا، پھر انھوں عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومی اور عمرو بن عاص بن وائل سہمی کو تحائف دے کر بھیجا اور ان کو ساری باتیں سمجھا دیں، انھوں نے اِن دو افراد سے کہا: نجاشی سے بات کرنے سے پہلے ہر بڑے پادری کو اس کا حصہ دو اور پھر نجاشی کے سامنے اس کے تحائف پیش کر دو اور اس سے مطالبہ کرو کہ وہ ان افراد کو تمہارے سپرد کر دے اور اس کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہ دو۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم لوگ نکلے، نجاشی کے پاس پہنچے اور ہم اس کے پاس بہترین گھر میں اور بہترین پڑوسی کے پڑوس میں تھے۔ اتنے میں اِدھر سے قریشیوں کا وفد پہنچ گیا، انھوں نے نجاشی سے بات کرنے سے پہلے کوئی بڑا پادری نہیں چھوڑا ، مگر اس کو اس کا تحفہ پیش کیا، پھر انھوں نے ہر بڑے پادری سے کہا: ہماری قوم کے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر نجاشی بادشاہ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور وہ تمہارے دین میں داخل نہیں ہوئے، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین گھڑ لیا ہے، اس دین کو ہم جانتے ہیں نہ تم جانتے ہو، ہماری قوم کے اشراف نے ہمیں اس بادشاہ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ وہ ان کو واپس کر دے، لہٰذا جب ہم بادشاہ سے بات کریں تو تم نے یہی مشورہ دینا ہے کہ وہ ان کو ہمارے سپرد کر دیں اور بادشاہ کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دینا، پس بیشک ان لوگوں کی قوم کے لوگ ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، پادریوں نے کہا: بالکل ٹھیک ہے، بعد ازاں قریشیوں کے ان دو قاصدوں نے نجاشی کو تحائف پیش کیے اور اس نے ان سے قبول کیے، پھر انھوں نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہمارے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر آپ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور انھوں نے تم لوگوں کا دین بھی اختیار نہیں کیا ، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین ایجاد کر لیا ہے، نہ ہم اس کو جانتے ہیں اور نہ تم، ان کی قوم کے اشراف،یہاں تک کہ ان کے آبائ، چچوں اور قبیلوں کے دوسرے افراد نے ہمیں آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ ان کو ہماری طرف لوٹا دیں، ہم ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں اور کس چیز کی وجہ سے ان کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، عبد اللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ بات یہ تھی کہ نجاشی اُن صحابہ کی بات سنے، اتنے میں اس کے ارد گرد والے پادریوں نے کہا: اے بادشاہ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں، ان کی ہی بہتر انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتی ہے اور جان سکتی ہے کہ یہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، لہٰذا آپ اِن لوگوں کو ان کے سپرد کر دیں تاکہ یہ دو افراد اِن کو اپنے وطن اور قوم کی طرف واپس لے جائیں،یہ بات سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا اور اس نے کہا: مخلوق کے خالق کی قسم! اللہ کی قسم! میں اِن کو اُن کے سپرد نہیں کروں گا اور قریب نہیں ہے کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے، اِن لوگوں نے میرا پڑوس اختیار کیا ہے، میرے ملک میں آئے ہیں اور مجھے دوسرے بادشاہوں پر ترجیح دی ہے، لہٰذا میں ان کو بلا کر اس بارے میں ان سے پوچھوں گا کہ یہ دو آدمی کیا کہتے ہیں، اگر تو معاملہ ایسے ہی ہوا، جیسےیہ کہہ رہے ہیں تو میں اِن کے سپرد کر دوں گا اور اُن کو اُن کی قوم کی طرف لوٹا دوں گا، لیکن اگر کوئی اور معاملہ ہوا تو اُن کو روک لوں گا اور انھوں نے جو پڑوس اختیار کیا ہے، میں اس کو اچھا ثابت کروں گا۔ پھر نجاشی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلایا، جب اس کا قاصد آیا تو وہ جمع ہو گئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: جب تم اس آدمی کے پاس جاؤ گے تو کیا کہو گے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے جو ہمیں علم ہے اور جو کچھ ہمارے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے، اس کی وجہ سے جو کچھ ہونا ہے، وہ ہو جائے (ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں)، جب وہ صحابہ اس کے پاس پہنچ گئے اور اس نجاشی نے پادریوں کو بلایا، وہ اس کے ارد گرد مصاحف کھول کر بیٹھ گئے، نجاشی نے کہا: اس دین کی کیا حقیقت ہے کہ جس کی بنا پر تم اپنی قوم سے الگ ہو گئے ہو اور میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے، بلکہ تم نے موجودہ امتوں میں سے کسی امت کے دین کو نہیں اپنایا؟ سیدنا جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہم جاہل قوم تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، برے کام کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے اور ہمارا قوی آدمی ضعیف کو کھا رہا تھا، ہمارے یہی حالات تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، ہم اس کے نسب، صدق، امانت اور پاکدامنی کو جانتے تھے، اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی کہ اس کو ایک تسلیم کریں، اس کی عبادت کریں اور ان پتھروں اور بتوں سے باز آ جائیں کہ جن کی ہم اور ہمارے آباء عبادت کرتے تھے، نیز اس نبی نے ہمیں سچی بات، ادائے امانت، صلہ رحمی اور بہترین پڑوس اختیار کرنے کا اور حرام کاموں سے اور قتل سے رکنے کا حکم دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں برے امور، جھوٹ بات، یتیم کا مال کھانے سے اور پاکدامن خاتون پر تہمت لگانے سے منع کیا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نماز اور زکاۃ ادا کریں اور روزے رکھیں، اس طرح سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نجاشی کے سامنے امورِ اسلام کا ذکر کیا اور پھر کہا: پس ہم نے اس رسول کی تصدیق کی، اس کے ساتھ ایمان لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، جس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم پر حرام قرار دیا، ہم نے اس کو حرام سمجھا اور جس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے حلال قرار دیا، ہم نے اس کو حلال سمجھا۔ ان وجوہات کی بنا پر ہماری قوم نے ہم پر زیادتی کی، ہمیں ایذا پہنچائی، ہمارے دین کے بارے میں ہمیں فتنے میں ڈالا تاکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی بجائے بتوں کی عبادت کی طرف لے جائیں اور ان خبیث چیزوں کو حلال سمجھیں، جن کو ہم جاہلیت میں حلال سمجھتے تھے، پھر جب ان لوگوں نے ہم پر سختی کی، ہم پر ظلم کیا، ہمیں مشقت میں ڈالا اور ہمارے اور ہمارے دین کے مابین حائل ہونا چاہا تو ہم آپ کے ملک کی طرف آ گئے، آپ کو دوسروں پر ترجیح دی، ہمیں آپ کے پڑوس میں رہنے کی ترغیب ہوئی اور ہمیں امید تھی کہ اے بادشاہ سلامت! آپ کے ہاں ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا: تمہارے نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیز لائے ہیں، کیا اس کا کوئی حصہ تیرے پاس ہے؟ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، نجاشی نے کہا: تو پھر اس کی تلاوت کر کے مجھے سناؤ، سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ مریم کے ابتدائی حصے کی تلاوت کی، اللہ کی قسم! نجاشی نے رونا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور پادریوں نے بھییہ تلاوت سن کر رونا شروع کر دیا، حتی کہ ان کے سامنے پڑے ہوئے مصاحف تر ہو گئے، پھر نجاشی نے کہا: اللہ کی قسم! بیشک اس کلام کا اور موسی علیہ السلام کے لائے ہوئے کلام کا سرچشمہ ایک ہے، تم دونوں چلے جاؤ یہاں سے، اللہ کی قسم! میں ان لوگوں کو کبھی بھی تمہارے سپرد نہیں کروں گا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! کل میں نجاشی اور اس کے ماتحت لوگوں کو اِن کا ایک عیب بتاؤں گا اور اس کے ذریعے ان کی اصل کو جڑ سے مٹا دوں گا۔ عبد اللہ بن ابی ربیعہ، جو کہ ان دو افراد میں اچھا تھا، نے اس سے کہا: اس طرح نہ کر، آخر یہ ہمارے ہی رشتہ دار ہیں، اگرچہ ہماری مخالفت کر رہے ہیں، لیکن عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کو ضرور ضرور بتاؤں گا کہ یہ لوگ عیسی بن مریم کو بندہ کہتے ہیں، پس وہ دوسرے دن بادشاہ کے پاس گیا اور کہا: اے بادشاہ سلامت! یہ لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں بڑی عجیب بات کرتے ہیں، پس آپ ان کو دوبارہ بلائیں اور اس بارے میں ان سے پوچھیں، پس اس نے اس بات کی تحقیق کرنے کے لیے ان کو بلا بھیجا،یہ ہمارے حق میں سب سے بڑی مصیبت تھی، پس صحابہ جمع ہو گئے اورایک دوسرے سے کہنے لگے: جب وہ تم سے سوال کرے گا تو تم حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا کہو گے؟ بعض نے جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے، جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اور ہمارے نبی کی لائی ہوئی شریعت نے کہا ہے، جس چیز نے ہونا ہے، وہ ہوجائے، جب وہ داخل ہوئے تو نجاشی نے کہا: تم لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ سیدنا جعفر بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں، جو ہمارے نبی نے ہمیں تعلیم دی ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے، رسول، روح اور کلمہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کنواری مریم بتول کی طرف ڈالا،یہ سن کر نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، وہاں سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا: تو نے عیسی بن مریم کے بارے میں جو کچھ کہا، ان کی حیثیت اس لکڑی کے بقدر بھی اس سے زیادہ نہیں ہے، نجاشی کا یہ تبصرہ سن کر پادریوں نے (غصے کے ساتھ) باتیں کی، لیکن نجاشی نے کہا: بیشک تم غصے سے باتیں کرو، اللہ کی قسم! صحابہ! تم جاؤ، تم میری زمین میں امن والے ہو، جس نے تم کو برا بھلا کہا، اس کو چٹی پڑے گی، پھر جس نے تم کو گالی گلوچ کیا، اس کو چٹی پڑے گی، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم میں سے کسی بندے کو تکلیف دوں اور مجھے پہاڑ کے برابر سونا دیا جائے، حبشہ کی زبان میں پہاڑ کو دَبَر کہتے ہیں، پھر نجاشی نے کہا: قریش کے ان دو افراد کے تحائف ان کو واپس کر دو، ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے میری بادشاہت مجھے عطا کی تھی تو اس نے مجھ سے رشوت نہیں لی تھی، تو پھر میں اس معاملے میں رشوت کیوں لوں، لوگوں نے جب تک میری اطاعت کی، میں بھی ان کی اطاعت کروں گا۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: اب یہ دو قریشی بدنما اور معیوب ہو کر وہاں سے نکلے، ان کے لائے ہوئے ہدیے ان کو واپس کر دیئے گئے اور ہم نجاشی کے علاقے میں اس طرح رہے، جیسے ہم بہترین پڑوسی کے پاس بہترین گھر میں ہیں۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم وہیں مقیم تھے کہ نجاشی سے ایسے لوگوں نے مقابلہ کرنا شروع کر دیا جو اس سے یہ بادشاہت چھیننا چاہتے تھے، اللہ کی قسم! اس وقت جو شدید غم ہمیں لاحق ہوا تھا، ہم نہیں جانتے کہ اس سے بڑا بھی غم ہوتا ہے، ہمیںیہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نجاشی پر ایسا بادشاہ غالب آ جائے کہ جس کو ہمارے حق کی اس طرح معرفت نہ ہو، جیسے نجاشی کو تھی، نجاشی بھی مقابلے کے لیے چل پڑا، جبکہ دونوں کے درمیان نیل حائل تھا، یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے کہا: کون آدمی ہے، جو لوگوں کے میدان جنگ کی طرف جائے اور ہمیں صورتحال سے آگاہ کرے؟ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جاتا ہوں، اس جماعت میں نئی عمر والے یہی تھے، بہرحال لوگوں نے ایک مشکیزے میں ہوا بھر کر اس کو ان کے سینے میں ڈالا اور انھوں نے اس پر تیرنا شروع کر دیا،یہاںتک کہ نیل کی اس طرف نکل گئے، جہاں دونوںلشکروں کا مقابلہ ہونا تھا، پس وہ چلتے گئے، یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گئے۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ نجاشی اپنے دشمن پر غالب آجائے اور اللہ تعالیٰ اسی کو اس کے علاقے میں برقرار رکھے اور یوں ہی ہوا کہ حبشیوںکا معاملہ نجاشی سے متفق ہو گیا، اس طرح ہم اس کے پاس بہترین انداز میں رہے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10541

۔ (۱۰۵۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِأَبِیْ جَھْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔)) فَکَانَ أَحَبُّھُمَا اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔ (مسند احمد: ۵۶۹۶)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ پس سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10542

۔ (۱۰۵۴۲)۔ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: خَرَجْتُ أَتَعَرَّضُ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ، فَوَجَدْتُہُ قَدْ سَبَقَنِیْ اِلَی الْمَسْجِدِ، فَقُمْتُ خَلْفَہُ فَاسْتَفْتَحَ سُوْرَۃَ الْحَاقَّۃِ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ تَأْلِیْفِ الْقُرْآنِ قاَلَ: فَقُلْتُ: ھٰذَا وَاللّٰہِ! شَاعِرٌ کَمَا قَالَتْ قُرَیْشٌ، قَالَ: فَقَرَأَ {اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیْلًا مَاتُؤْمِنُوْنَ} قَالَ: قُلْتُ: کَاھِنٌ، قَالَ: {وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ قَلَیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ، تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ، فَمَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنِ} الخ السورۃ، قَالَ: فَوَقَعَ الْإِسْلَامُ فِیْ قَلْبِیْ کُلَّ مَوْقِعٍ۔ (مسند احمد: ۱۰۷)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قبولیت ِ اسلام سے قبل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درپے ہوتا تھا، ایک دن میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میںپایا کہ آپ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچ گئے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ حاقہ کیتلاوت شروع کی، مجھے قرآن مجید کی تالیف و ترتیب سے بڑا تعجب ہونے لگا، میںنے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو قریش کے کہنے کے مطابق شاعر لگتا ہے، میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کر دی: {اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیْلًا مَاتُؤْمِنُوْنَ} … بیشکیہ عزت والے قاصد کی بات ہے، یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، مگر کم ہی تم ایمان لاتے ہو۔ میں نے کہا: یہ نبی تو نجومی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: {وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ قَلَیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ، تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ، فَمَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنِ} … اور نہ یہ قرآن کسی کاہن اور نجومی کا قول ہے، افسوس بہت کم نصیحت لے رہے ہو، یہ تو رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا تو البتہ ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے، پھر تم میں سے کوئی بھی اس سے روکنے والے نہ ہوتے، یقینایہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے، ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں، بیشکیہ جھٹلانا کافروں پر حسرت ہے، اور بے شک و شبہ یہیقینی حق ہے، پس تو اپنے ربّ عظیم کی پاکی بیان کر۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (پس قرآن کا یہ حصہ سننا تھا کہ) اسلام میرے دل میں گھر کر گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10543

۔ (۱۰۵۴۳)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَحْنُ نَازِلُوْنَ غَدًا اِنْ شَائَ اللّٰہُ بِخَیْفِ بَنِیْ کِنَانَۃَیَعْنِیْ الْمُحَصَّبَ حَیْثُ قَاسَمَتْ قُرَیْشٌ عَلَی الْکُفْرِ، وَذٰلِکَ أَنَّ بَنِیْ کِنَانَۃَ حَالَفَتْ قُرَیْشًا عَلٰی بَنِیْ ھَاشِمٍ اَنْ لَّا یُنَاکِحُوْھُمْ وَلَا یُبَایِعُوْھُمْ وَلَا یُؤْوُوْھُمْ۔)) ثُمَّّ قَالَ عِنْدَ ذٰلِکَ: ((لَا یَرِثُ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ وَلَا الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ)) قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَالْخَیْفُ الْوَادِیْ ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۰۹)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (حجۃ الوداع) کے موقع پر فرمایا: ہم کل ان شاء اللہ بنوکنانہ کی وادییعنی وادیٔ محصب میں اتریں گے، یہاں قریش نے کفر پر قسم اٹھائی تھی اور اس مقام پر بنو کنانہ نے قریش کے ساتھ مل کر بنو ہاشم کی مخالفت میں یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان سے نکاح والا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت والا اور نہ ان کوجگہ دیں گے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا۔ امام زہری کہتے ہیں: خیف وادی کو کہتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10544

۔ (۱۰۵۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرِضَ أَبُوْ طَالِبٍ فَأَتَتْہُ قُرَیْشٌ وَأَتَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُوْدُہُ وَعِنْدَ رَأْسِہِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُوْ جَھْلٍ فَقَعَدَ فِیْہِ فَقَالُوْا: اِنَّ ابْنَ أَخِیْکَیَقَعُ فِیْ آلِھَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِکَ یَشْکُوْنَکَ! قَالَ: ((یَاعَمِّ! أُرِیْدُھُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ، تَدِیْنُ لَھُمْ بِھَا الْعَرْبُ وَتُؤَدِّی الْعَجَمُ اِلَیْھِمُ الْجِزْیَۃَ۔)) قَالَ: مَاھِیَ؟ قَالَ: ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔)) فَقَامُوْا فَقَالُوْا: أَجَعَلَ الْآلِھَۃَ اِلٰھًا وَاحِدًا، قَالَ وَنَزَلَ {صَ وَالْقُرْآنِ ذِی الذِّکْرِ} فَقَرَأَ حَتّٰی بَلَغَ {اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ أَبِیْ: وَحَدَّثَنَا أَبُوْ أُسَامَۃَ وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ثَنَا عِبَادٌ فَذَکَرَ نَحْوَہُ، وَقَالَ أَبِیْ: قَالَ الْأَشْجَعِیُّ: یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابو طالب بیمار ہو گیا اور قریشی اس کے پاس آئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس کی تیمار داری کرنے کے لیے پہنچ گئے، اس کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، اتنے میں ابو جہل کھڑا ہو اور اس جگہ پر بیٹھ گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا شکوہ کرتے ہوئے کہا: ابو طالب! تیرایہ بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے، ابو طالب نے کہا: آپ کی قوم آپ کی شکایت کر رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے چچا جان! میں ان سے ایسا کلمہ پڑھوانا چاہتا ہوں کہ جس کے ذریعے عرب ان کے ماتحت ہو جائیں گے اور عجم ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ اس نے کہا: وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ یہ سن کر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: کیا اس نے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے؟ پھر یہ قرآن نازل ہوا: ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم! بلکہ کفار غرور و مخالفت میںپڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انھوں نے ہر چند چیخ و پکار کی، لیکن وہ وقت چھٹکارے کا نہ تھا، اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آ گیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادو گر بہت جھوٹا ہے، کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا ہے، واقعییہ بہت ہی عجیب بات ہے۔(سورۂ ص: ۱ تا ۵)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10545

۔ (۱۰۵۴۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَمِّہِ: ((قُلْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ أَشْھَدُکَ بِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَیِّرَنِیْ قُرَیْشٌیَقُوْلُوْنَ: اِنَّمَا حَمَلَہُ عَلٰی ذٰلِکَ الْجَزْعُ، لَأَقْرَرْتُ بِھَا عَیْنَکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ} الْآیَۃ۔ (مسند احمد: ۹۶۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچے سے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، میں قیامت کے روز اس کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ انھوں نے کہا: اگر قریشی مجھے عار دلاتے ہوئے یہ نہ کہتے کہ بے صبری نے ابو طالب کو یہ کلمہ پڑھنے پر آمادہ کیا ہے تو میں یہ کلمہ ادا کر کے تیری آنکھ کو ٹھنڈا کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی اتاری: بیشک تو اس کو ہدایت نہیں دیتا، جس کو تو پسند کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10546

۔ (۱۰۵۴۶)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ طَالِبٍ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنَّ عَمَّکَ الشَّیْخَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: ((اِذْھَبْ فَوَارِہِ، ثُمَّّ لَا تُحْدِثْ شَیْئًا حَتّٰی تَأْتِیَنِیْ۔)) قَالَ: فَوَارَیْتُہُ ثُمَّّ اَتَیْتُہُ، قَالَ: ((اذْھَبْ فَاغْتَسِلْ، ثُمَّّ لَا تُحْدِثْ شَیْئًا حَتّٰی تَأْتِیَنِیْ۔)) قَال: فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّّ آتَیْتُہُ، قَالَ: فَدَعَا لِیْ بِدَعْوَاتٍ مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ لِیْ بِھَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُوْدَھَا، قَالَ: وَکَانَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِذَا اِغْتَسَلَ مَیِّتًا اِغْتَسَلَ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: جب ابو طالب فوت ہوا تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جا کر اس کو دفنا دے اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس آجانا۔ پس میں نے اس کو دفن کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جا اور غسل کر اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس پہنچ جا۔ پس میں غسل کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے حق میں ایسی ایسی دعائیں کیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ ان کی بجائے مجھے سرخ اور سیاہ اونٹ مل جائیں، اس کے بعد جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میت کو غسل دیتے تو اس سے خود غسل کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10547

۔ (۱۰۵۴۷)۔ (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نَاجِیَۃَ بْنِ کَعْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَلَیٍّ اَنَّہُ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْھَبْ فَوَارِہِ۔)) فَقَالَ: اِنَّہُ مَاتَ مُشْرِکًا، فَقَالَ: ((اذْھَبْ فَوَارِہِ۔)) فَلَمَّا وَارَیْتُہُ رَجَعْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِیْ: ((اغْتَسِلْ۔)) (مسند احمد: ۷۵۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: ابو طالب مر گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اس کو دفن کرو۔ انھوں نے کہا: وہ تو شرک کی حالت میں مرا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اس کو دفن کرو۔ پس میں نے اس کو دفن کیا، پھر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غسل کر لو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10548

۔ (۱۰۵۴۸)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذُکِرَ عِنْدَہُ عَمُّہُ أَبُوْطَالِبٍ فَقَالَ: ((لَعَلَّہُ تَنْفَعُہُ شَفَاعَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیُجْعَلُ فِیْ ضَحْضَاحِ مِنْ نَارٍ یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ یَغْلِیْ مِنْہُ دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۹۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ابو طالب کا ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ بروز قیامت ابو طالب کو میری سفارش سے فائدہ ہو اور اس کو جہنم کی ٹخنوں تک آنے والی آگ میں ڈالا جائے، جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10549

۔ (۱۰۵۴۹)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَمُّکَ أَبُوْطَالِبٍ کَانَ یَحُوْطُکَ وَیَنْفَعُکَ؟ قَالَ: ((إِنَّہُ فِیْ ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ لَوْلَا أَنَا کَانَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۳)
۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا چچا ابو طالب آپ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ کو فائدہ پہنچاتا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے وہ ٹخنوں تک پہنچنے والی آگ میں ہو گا، اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے سب سے نچلے طبقے میںہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10550

۔ (۱۰۵۵۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُوْطَالِبٍ وَھُوَ مُتَنَعَّلٌ نَعْلَیْنِ مِنْ نَارٍ یَغْلِیْ مِنْھُمَا دِمَاغُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنمی لوگوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا، اس کو آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10551

۔ (۱۰۵۵۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَوَفَّی خَدِیْجَۃَ، قَبْلَ مَخْرِجِہِ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ بِسَنَتَیْنِ أَوْ ثَلَاثٍ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۲۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے دو یا تین سال پہلے مجھ سے نکاح کیا تھا، اس وقت میری عمر سات برس تھی،یہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وفات کے دنوں کی بات ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10552

۔ (۱۰۵۵۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُوْ سَلَمَۃَ وَیَحْیٰی قَالَ: لَمَّا ھَلَکَتْ خَدِیْجَۃُ جَائَ تْ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ، اِمَرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: ((مَنْ؟)) قَالَتْ: اِنْ شِئْتَ بِکْرًا وَاِنْ شِئْتَ ثَیِّبًا، قَالَ: ((فَمَنِ الْبِکْرُ؟)) قَالَتْ: اِبْنَۃُ أَحَبِّ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیْکَ عَائِشَۃُ بِنْتُ أَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ: ((وَمَنْ ثَیِّبٌ؟)) قَالَتْ: سَوْدَۃُ ابْنَۃُ زَمْعَۃَ، قَدْ آمَنَتْ بِکَ وَاتْبَعَتْکَ عَلٰی مَا تَقُوْلُ، قَالَ: ((اذْھَبِیْ فَاذْکُرِیْھِمَا عَلَیَّ۔)) فَدَخَلَتْ بَیْتَ أَبِیْ بَکْرٍ فَقَالَتْ: یَا أُمَّ رُوْمَانَ! مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ، قَالَتْ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْطُبُ عَلَیْہِ عَائِشَۃَ، قَالَتِ: انْتَظِرِیْ أَبَابَکْرٍ حَتّٰییَأْتِیَ فَجَائَ أَبُوْبَکْرٍ فَقَالَتْ: یَا أَبَابَکْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْطُبُ عَلَیْہِ عَائِشَۃَ، قَالَ: وَھَلْ تَصْلُحُ لَہُ اِنَّمَا ھِیْ ابْنَۃُ أَخِیْہِ، فَرَجَعْتْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ، قَالَ: ((ارْجَعِیْ اِلَیْہِفَقُوْلِیْ لَہُ: أَنَا أَخُوْکَ وَأَنْتَ أَخِیْ فِی الْاِسْلَامِ، وَابْنَتُکَ تَصْلُحُ لِیْ۔)) فَرَجَعَتْ فَذَکَرَتْ لَہُ ذٰلِکَ لَہُ، قَالَ: انْتَظِرِیْ وَخَرَجَ، قَالَتْ أُمُّ رُوْمَانَ: اِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِیٍ قَدْ کَانَ ذَکَرَھَا عَلَی اِبْنِہِ فَوَاللّٰہِ! مَا وَعَدَ وَعْدًا قُطُّ فَأَخْلَفَہُ لِأَبِیْ بَکْرٍ، فَدَخَل أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی مُطْعِمِ بْنِ عَدِیٍّ وَعِنْدَہُ امْرَأَتُہُ أُمُّ الْفَتٰی، فَقَالَتْ: یَاابْنَ أَبِیْ قُحَافَۃَ! لَعَلَّکَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُہُ فِیْ دِیْنِکَ الَّذِیْ أَنْتَ عَلَیْہِ اِنْ تَزَوَّجَ اِلَیْکَ؟ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ لِلْمُطْعِمِ بْنِ عَدِیٍّ: اَقَوْلَ ھٰذِہِ تَقُوْلُ، قَالَ: اِنَّھَا تَقُوْلُ ذٰلِکَ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ وَقَدْ اَذْھَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ فِیْ نَفْسِہِ مِنْ عِدَتِہِ الَّتِیْ وَعَدَہُ فَرَجَعَ، فَقَالَ: اِدَعِیْ لِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَتْہُ فَزَوَّجَھَا اِیَّاہُ، وَعَائِشَۃُیَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِیْنَ، ثُمَّّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَی سَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ فَقَالَتْ: مَاذَا أَدْخَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْکَ مِنَ الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ! قَالَتْ: وَمَا ذَاکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْطُبُکَ عَلَیْہِ، قَالَتْ: قَالَتْ: وَدِدْتُ، ادْخُلِیْ اِلٰی أَبِیْ فَاذْکُرِیْ ذَاکِ لَہُ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ اَدْرَکَہُ السِّنُّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ فَحَیَّتْہُ بِتَحِیَّۃِ الْجَاھِلِیَّۃِ، فَقَالَ: مَنْ ھٰذِہِ؟ فَقَالَتْ: خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ، قَالَ: فَمَا شَأْنُکِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْطُبُ عَلَیْہِ سَوْدَۃَ، قَالَ: کُفْئٌ کَرِیْمٌ، مَاذَا تَقُوْلُ صَاحِبَتُکِ؟ قَالَتْ: تُحِبُّ ذَاکَ، قَالَ: ادْعُھَا اِلَیَّ فَدَعَیْتُھَا قَالَ: أَیْ بُنَیَّۃُ! اِنَّ ھٰذِہِ تَزْعَمُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ یَخْطُبُکِ، وَھُوَ کُفْئٌ کَرِیْمٌ، أَ تُحِبِّیْنَ أَنْ أُزَوِّجَکِ بِہٖ؟قَالَتْ: نَعَمْ،قَالَ: ادْعِیْہِ لِیْ، فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیْہِ فَزَوَّجَھَا اِیَّاہُ، فَجَائَ ھَا أَخُوْھَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ مِنَ الْحَجِّ فَجَعَلَ یَحْثِیْ فِیْ رَأْسِہِ التُّرَابَ، فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ: لَعَمْرُکَ! اِنِّیْ لَسَفِیْہٌیَوْمَ أَحْثِیْ فِیْ رَأْسِیَ التُّرَابَ اَنْ تَزَوَّجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَنَزَلْنَا فِیْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الخَزْرَجِ فِی السُّنْحِ، قَالَتْ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ بَیْتَنَا وَاجْتَمَعَ اِلَیْہِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَنِسَائٌ، فَجَائَ تْنِیْ أُمِّیْ وَاِنِّیْ لَفِیْ اَُرْجُوْحَۃٍ بَیْنَ عَذْقَیْنِ تَرْجَحُ بِیْ، فَاَنْزَلَتْنِیْ مِنَ الْأُرْجُوْحَۃِ وَلِیَ جُمَیْمََۃٌ فَفَرَقَتْھَا وَمَسَحَتْ وَجْھِیْ بِشَیْئٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّّ أَقْبَلَتْ تَقُوْدُنِیْحَتّٰی وَقَفَتْ بِیْ عِنْدَ الْبَابِ وَاِنِّیْ لَاَنْھَجُ حَتّٰی سَکَنَ مِنْ نَفْسِیْ، ثُمَّّ دَخَلَتْ بِیْ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ جَالِسٌ عِنْدَ سَرِیْرٍ فِیْ بَیْتِنَا، وَعِنْدَہُ رِجَالٌ وَنِسَائٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاَجْلَسَتْنِیْ فِیْ حِجْرِہِ، ثُمَّّ قَالَتْ: ھٰؤُلَائِ أَھْلُکَ فَبَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْھِمْ وَبَارَکَ لَھُمْ فِیْکَ، فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ فَخَرَجُوْا، وَبَنٰی بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِنَا مَا نُحِرَتْ عَلَیَّ جَزُوْرٌ وَلَاذُبِحَتْ عَلَیَّ شَاۃٌ حَتّٰی أَرْسَلَ اِلَیْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ بِجَفْنَۃٍ کَانَ یُرْسِلُ بِھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اِذَا دَارَ اِلٰی نِسَائِہِ، وَأَنَا یَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۸۸)
۔ ابو سلمہ اور یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وفات پا گئیں تو سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت ِ حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ شادی نہیںکریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کس سے؟ انھوں نے کہا: اگر آپ کنواری کو چاہتے ہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے اور اگربیوہ چاہتے ہے تو وہ بھی مل سکتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کنواری کون ہے؟ انھوں نے کہا: آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص کی بیٹی ہے، عائشہ بنت ابی بکر ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: بیوہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: سودہ بنت زمعہ، وہ آپ کے ساتھ ایمان لائی ہے اور آپ کے فرمان کے مطابق آپ کی پیروی کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم جاؤ اور دونوں کو میرے بارے میں یہ پیغام دو۔ پس سیدہ خولہ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں داخل ہوئی اور کہا: اے ام رومان! اللہ تعالیٰ نے کیا خیر و برکت تمہارے گھر میں داخل کر دی ہے! اس نے کہا: وہ کیا، سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں عائشہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، اس نے کہا: ابو بکر کے آنے کا انتظار کر، اتنے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، سیدہ خولہ نے کہا: اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں پر کیا خیر و برکت نازل کر دی ہے! انھوں نے کہا: وہ کیا، اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں عائشہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عائشہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جائز ہے، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بھتیجی ہے، پس وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور ان کو کہہ: میں تیرا اور تو میرا اسلامی بھائی ہے اور تیری بیٹی میرے لیے جائز ہے۔ پس وہ لوٹی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات بتلائی، اب کی بار انھوں نے کہا: تو پھر تو انتظار کر، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکل پڑے، اُدھر سیدہ ام رومان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ تفصیل بتائی کہ مطعم بن عدی نے عائشہ کے لیے اپنے بیٹے کا ذکر کیا تھا، پس اللہ کی قسم ہے کہ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ وہ وعدہ کرے اور پھر ابو بکر کے لیے اس کی پاسداری نہ کرے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مطعم بن عدی کے پاس پہنچ گئے، اس کی بیوی ام الفتی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی، اس کی بیوی نے کہا: اے ابن ابی قحافہ! اگر ہمارا بندہ تیری طرف شادی کر لے تو ممکن ہو گا کہ تو اس کو بے دین بنا کر اپنے دین میں داخل کردے، یہ سن کر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مطعم بن عدی سے کہا: کیایہی بات ہے جو یہ کر رہی ہے؟ اس نے کہا: بس یہ تو یہی بات کہتی ہے، (سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سمجھا کہ مطعم اپنی بیوی سے اتفاق کر رہا ہے) لہٰذا وہ اس کے پاس سے نکل پڑے اور ان کے دل میں اس شخص کے وعدے کے بارے میں جو بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو ختم کر دیا، پس ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس لوٹ آئے اور خولہ سے کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلا، پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نکاح کر دیا، اس وقت سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی عمر چھ برس تھی، پھر سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وہاں سے نکلی اور سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیا خیر و برکت نازل کر دی ہے! اس نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے منگنی کا پیغام دینے کے لیے مجھے بھیجا ہے، انھوں نے کہا: میں تو یہ چاہتی ہوں، لیکن تو میرے ابو کے پاس جا اور ان سے اس چیز کا ذکر وہ عمر رسیدہ بزرگ تھے اور ادھیڑ عمری کی وجہ سے حج سے پیچھے رہ گئے تھے، پس وہ ان کے پاس گئی اور ان کو جاہلیت والا سلام کہا، اس نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں خولہ بنت حکیم ہوں، اس نے کہا: توکیسے آئی ہے؟ اس نے کہا: محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں سودہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، اس نے کہا: یہ تو بڑا بہترین کفو ہے، لیکن تیری سہیلی سودہ خود کیا چاہتی ہے؟ اس نے کہا: وہ تو اس چیز کو پسند کر رہی ہے، اس نے کہا: اس کو میری طرف بلا، پس میں اس کو بلا لائی، اس نے کہا: اے میری پیاری بیٹی! یہ خولہ بتا رہی ہے کہ محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منگنی کے لیے تجھے پیغام بھیجا ہے، یہ بڑا بہترین کفو ہے، تو کیا تو یہ پسند کرے گی کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تیری شادی کر دوں؟ سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: خولہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلا کر لے آ، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور اس نے سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر دی، جب سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا اور اسے اس شادی کا علم ہوا تو اس نے اپنے سر پر مٹی پھینکنا شروع کر دی، لیکن اس نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد کہا تھا: تیری عمر کی قسم! جس دن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی شادی کی وجہ سے اپنے سر پر مٹی ڈالی تھی، اس دن میں بیوقوف تھا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: پس ہم لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے اور سُنْح مقام پر بنو حارث بن خزرج کے ہاں اترے، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور انصاریوں کے خواتین و حضرات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہو گئے، میری ماںمیرے پاس آئی، جبکہ میں کھجور کے دو درختوں کے درمیان بندھے ہوئے پنگھوڑے میں تھی، انھوں نے مجھے پنگھوڑے سے اتارا، میرے سر کے بال کندھوں تک تھے، انھوں نے ان میں کنگھی کی اور میرےچہرے کو پانی سے دھویا اور پھروہ مجھے چلاتی ہوئی آگے بڑھیں،یہاں تک کہ دروازے پر کھڑی ہو گئیں، مجھے سانس چڑھا ہوا تھا، پھر جب میرا سانس تھما تو وہ مجھے لے کر گھر میں داخل ہوئیں وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چارپائی پر تشریف فرما تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس انصاری خواتین و حضرات بھی موجود تھے، میری ماں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بٹھا کر کہا: یہ تیرے اہل ہیں، اللہ تعالیٰ ان میں تیری لیے اور تجھ میں ان کے لیے برکت نازل فرمائے، پھر خواتین و حضرات اٹھے اور گھر سے باہر چلے گئے، وہیں ہمارے گھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ خلوت اختیار کی، میری شادی پر نہ اونٹ ذبح کیے گئے اور نہ بکریاں، سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہماری طرف کھانے کا ایک برتن بھیجا تھا، عام طور پر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شادی کے موقع پر اپنی بیوی سے خلوت اختیار کرتے تھے تو وہ یہ کھانا بھیجا کرتے تھے، اس وقت میری عمر نو برس تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10553

۔ (۱۰۵۵۳)۔ عَنْ أَبِیْ زُرْعَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَاھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: اَتٰی جِبْرِیْلُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذِہِ خَدِیْجَۃُ قَدْ أَتَتْکَ بِاِنَائٍ مَعَھَا فِیْہِ اِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَاِذَا أَتَتْکَ فَاقْرَأْ عَلَیْھَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّھَا وَمِنِّی، وَبَشِّرْھَا بِبَیْتٍ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ۔ (مسند احمد: ۷۱۵۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ایک برتن میں سالن یا کھانا یا مشروب لے کر آ رہی ہیں، جب وہ آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو ان کے ربّ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہنا اور ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے ایسے گھر کی خوشخبری سنانا کہ اس میں شور و غل ہو گا نہ تعب و تکان۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10554

۔ (۱۰۵۵۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ اُبَشِّرَ خَدِیْجَۃَ بِبَیْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی خوشخبری سناؤں جو یاقوت والے موتیوں سے بنا ہوا ہے اور اس میں شور وغل ہے نہ تعب و تکان۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10555

۔ (۱۰۵۵۵)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَیَعْنِیْ اِبْنَ أَبِیْ خَالِدٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفٰی صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَشَّرَ خَدِیْجَۃَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَشَّرَھَا بِبَیْتٍ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ، قَالَ یَعْلٰی: وَقَالَ مَرَّۃً: لَاصَخَبَ أَوْ لَالَغْوَ فِیْہِ وَلَا نَصَبَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۵۶)
۔ اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے صحابی ٔ رسول سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو خوشخبری دی تھی؟ انھوں نے کہا: ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جنت میںیاقوت کے موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی خوشخبری دی تھی، اس گھر میں شور ہو گا نہ تھکاوٹ، ایک روایت میں ہے: اس میں شور یا لغو بات نہیں ہو گی اور نہ تھکاوٹ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10556

۔ (۱۰۵۵۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَی اِمْرَأَۃٍ مَا غِرْتُ عَلٰی خَدِیْجَۃَ، وَلَقَدْ ھَلَکَتْ قَبْلَ أَنْ یَتَزَوَّجَنِیْ بِثَلَاثِ سِنِیْنَ، لِمَا کُنْتُ أَسْمَعُہُ یَذْکُرُھَا وَلَقَدْ أَمَرَہُ رَبُّہُ أَنْ یُبَشِّرَھَا بِبَیْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِی الْجَنَّۃِ، وَاِنْ کَانَ لَیَذْبَحُ الشَّاۃَ، ثُمَّّ یُھْدِیْ فِیْ خُلَّتِھَا مِنْھَا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کسی عورت پر اتنی غیرت نہیں کی، جتنی مجھے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر غیرت آئی، حالانکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میرے ساتھ شادی کرنے سے تین سال پہلے وفات پا گئی تھیں، اس غیرت کی وجہ یہ تھی کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی اور ربّ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے گھر کی خوشخبری دیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بکری ذبح کرتے تھے تو اس میں کچھ حصہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی سہیلیوں کو ارسال کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10557

۔ (۱۰۵۵۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْأَرْضِ أَرْبَعَۃَ خُطُوْطٍ، قَالَ: تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا؟ فَقَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْضَلُ نِسَائِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ، وَفَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَآسِیَۃُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَF۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۸)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10558

۔ (۱۰۵۵۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۱۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10559

۔ (۱۰۵۵۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((خَیْرُ نِسَائِھَا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرانَ وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10560

۔ (۱۰۵۶۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا ذَکَرَ خَدِیْجَۃَ اَثْنٰی عَلَیْھَا فَاَحْسَنَ الثَّنَائَ، قَالَتْ: فَغِرْتُ یَوْمًا فَقُلْتُ: مَا اَکْثَرَ مَا تَذْکُرُھَا حَمْرَائَ الشِّدْقِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِھَا خَیْرًا مِنْھَا، قَالَ: ((مَا أَبْدَلَنِیَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ خَیْرًا مِنْھَا، قَدْ آمَنَتْ بِیْ اِذْ کَفَرَ بِیَ النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِیْ اِذْ کَذَّبَنِی النَّاسُ، وَوَاسَتْنِیْ بِمَالِھَا اِذْ حَرَمَنِیَ النَّاسُ، وَرَزَقَنِیَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَھَا اِذْ حَرَمَنِیْ أَوْلَادَ النِّسَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۷۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ذکر کرتے تو ان کی تعریف کرتے اور بہت اچھی تعریف کرتے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی اور میں نے کہا: آپ اس سرخ باچھ والی بڑھیا کا اس قدر زیادہ تذکرہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا بہترین متبادل عطا کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر متبادل نہیں دیا، خدیجہ تو وہ تھی جو اس وقت ایمان لائی، جو لوگ میرے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس نے اس وقت میری تصدیق کی، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، اس نے اپنے مال کے ساتھ اس وقت میری ہمدردی کی، جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اس وقت اولاد عطا کی، جب وہ مجھے عورتوں کی اولاد سے محروم کر رہا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10561

۔ (۱۰۵۶۱)۔ (عَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمًا خَدَیْجَۃَ فَأَطْنَبَ فِی الثَّنَائِ عَلَیْھَا، فَأَدْرَکَنِیْ مَا یُدْرِکُ النِّسَائَ مِنَ الْغَیْرَۃِ، فَقُلْتُ: لَقَدْ أَعْقَبَکَ اللّٰہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مِنْ عَجُوْزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَیْشٍ حمرائَ الشَّدْقَیْنِ، قَالَتْ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَغَیُّرًا لَمْ أَرَہُ تَغَیَّرَ عِنْدَ شَیْئٍ قَطُّ اِلَّا عِنْدَ نَزُوْلِ الْوَحْیِ وَعِنْدَ الْمَخِیْلَۃِ حَتّٰییَعْلَمَ رَحْمَۃٌ أَوْ عَذَابٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۲۵)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ کیا اور کافی دیر تک ان کی تعریف کی، مجھ پر وہی غیرت غالب آ گئی، جو عورتوں پر غالب آ جاتی ہے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریش کی اس سرخ باچھوں والی بڑھیا کا متبادل تو دے دیا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ اس قدر بدلا کہ میں نے کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس انداز میں نہیں دیکھا تھا، ما سوائے نزولِ وحی کے وقت یا بادل کے نمودار ہوتے وقت، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چل جاتا کہ وہ رحمت ہے یا عذاب۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10562

۔ (۱۰۵۶۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَالِدٍ الْعَدْوَانِیِّ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ أَبْصَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَشْرِق ثَقِیْفٍ وَھُوَ قَائِمٌ عَلٰی قَوْسٍ أَوْ عَصًا حِیْنَ أَتَاھُمْ یَبْتَغِیْ عِنْدَھُمُ النَّصْرَ، قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقْرَأُ {وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ} حَتّٰی خَتَمَھَا، قَالَ: فَوَعَیْتُھَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَأَنَا مُشْرِکٌ، ثُمَّّ قَرَأْتُھَا فِی الْاِسْلَامِ، قَالَ: فَدَعَتْنِیْ ثَقِیْفٌ فَقَالُوْا: مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ ھٰذَا الرَّجُلِ؟ فَقَرَأْتُھَا عَلَیْھِمْ، فَقَالَ مَنْ مَعَھُمْ مِنْ قُرَیْشٍ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِصَاحِبِنَا، لَوْ کُنَّا نَعْلَمُ مَا یَقُوْلُ حَقًّا لَتَبِعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۶)
۔ سیدنا خالد عدوانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بنو ثقیف کی مشرقی جانب میں دیکھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے تھے اور ان سے مدد طلب کرنے کے لیے آئے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو {وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ} والی سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سورت کو مکمل کیا، میں نے دورِ جاہلیت میں شرک کی حالت میں بھییہ سورت یاد کی تھی، اور پھر مشرف باسلام ہو کر بھی اس کی تعلیم حاصل کی تھی، بنو ثقیف نے مجھے بلایا اور کہا: تو نے اس آدمی کو کیا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے جواباً ان کو سورۂ طارق سنائی، لیکن ان کے پاس موجود قریشی لوگوں نے کہا: ہم اپنے صاحب (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو زیادہ جانتے ہیں، اگر ہمیں یہ علم ہو جاتا کہ اس کی بات حق ہے تو ہم ضرور اس کی پیروی کرتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10563

۔ (۱۰۵۶۳)۔ عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِیِّ قَالَ: أَصَابَ اِصْبَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَیْئٍ (وَقَالَ جَعْفَرٌ اَحَدُ الرُّوَاۃِ: حَجَرٌ) فَدَمِیَتْ فَقَالَ: ((ھَلْ أَنْتِ اِلَّا اِصْبَعٌ دِمِیْتِ، وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَا لَقِیْتِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۰۴)
۔ سیدنا جندب بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلی کسی چیز اور ایک راوی کی روایت کے مطابق پتھر لگنے سے خون آلود ہو گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس انگلی سے فرمایا: تو ایک انگلی ہی ہے جو خون آلود ہوئی ہے اور اللہ کے راستے میں اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10564

۔ (۱۰۵۶۴)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا ھَمَّامُ بْنُ یَحْیٰی قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَۃَیُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ مَالِکَ بْنَ صَعْصَعَۃَ، أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَھُمْ عَنْ لَیْلَۃٍ أُسْرِیَ بِہٖقَالَ: ((بَیْنَا أَنَا فِی الْحَطِیْمِ (وَرُبَمَا قَالَ قَتَادَۃُ: فِی الْحِجْرِ) مُضْطَجِعٌ اِذْ أَتَانِیْ آتٍ فَجَعَلَ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ: الْأَوْسَطُبَیْنَ الثَّلَاثَۃِ، قَالَ: فَأَتَانِیْ فَقَدَّ (وَسِمْعُت قَتَادَۃَیَقُوْلُ: فَشَقَّ) مَا بَیْنَ ھٰذِہِ اِلٰی ھٰذِہِ، (قَالَ قَتَادَۃُ: فَقُلْتُ لِلْجَارُوْدِ وَھُوَ اِلٰی جَنْبِیْ: مَا یَعْنِیْ؟ قَالَ: مِنْ ثُغْرِۃِ نَحْرِہِ اِلٰی شِعْرَتِہِ، وَقَدْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: مِنْ قُصَّتِہِ اِلٰی شِعَرَتِہِ) قَالَ: فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِیْ فَأُتِیْتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مَمَلُوْئَۃٍ اِیْمَانًا وَحِکْمَۃً فَغُسِلَ قَلْبِیْ، ثُمَّّ حُشِیَ ثُمَّّ أُعِیْدَ، ثُمَّّ أُتِیْتُ بِدَابَّۃٍ دُوْنَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْیَضَ (قَالَ: فَقَالَ الْجَارُوْدُ: ھُوَ الْبُرَاقُ؟ یَا أَبَا حَمْزَۃَ! قَالَ: نَعَمْ) یَقَعُ خَطْوُہُ عِنْدَ اَقْصٰی طَرْفِہِ، قَالَ: فَحُمِلْتُ عَلَیْہِ، فَانْطَلَقَ بِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّٰی أَتٰی بِیَ السَّمَائَ الدُّنْیَا فَاسْتَفْتَحَ فَقِیْلَ مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ، قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، فَقَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا فِیْھَا آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ: ھٰذَا أَبُوْکَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ! فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتٰی اِلَی السَّمَائِ الثَّانِیَّۃِ فَاسْتَفْتَحَ، فَقِیْلَ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَ مَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا یَحْیٰی وَعِیْسٰی وَھُمَا اِبْنَا الْخَالَۃِ، فَقَالَ: ھٰذَا یَحْیٰی وَعِیْسٰی، فَسَلِّمْ عَلَیْھِمَا، قَالَ: فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا السَّلَامَ، ثُمَّّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّمَائَ الثَّالِثَۃِ فَاسْتَفْتَحِ، فَقِیْلَ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا یُوْسُفُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: ھٰذَا یُوْسُفُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السَّلَامَ وَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّمَائَ الرَّابِعَۃَ فَاسْتَفْتَحَ، فَقِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ، قَالَ: نَعَمْ، فَقِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ قَالَ: فَاِذَا اِدْرِیْسُ عَلَیْہِ السِّلَامُ، قَالَ: ھٰذَا اِدْرِیْسُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ! قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، قَالَ: ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّّمَائَ الْخَامِسَۃَ فَاسْتَفْتَحَ، فَقِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا ھٰرُوْنُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: ھٰذَا ھٰرُوْنُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ! قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، قَالَ: فَرَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، قَالَ: ثُمَّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّمَائَ السَّّادِسَۃَ فَاسْتَفْتَحَ، قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا أَنَا بِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: ھٰذَا مُوْسٰی فَسَلِّمْ عَلَیْہِ! فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السِّلَامَ ثُمّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، قَالَ: فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَکٰی، قِیْلَ لَہُ: مَا یُبْکِیْکَ؟ قَالَ: أَبْکِیْ لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِیْ ثُمَّّ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِہِ أَکْثَرُ مِمَّا یَدْخُلُھَا مِنْ أُمَّتِیْ، قَالَ: ثُمّّ صَعِدَ حَتّٰی أَتَی السَّمَائَ السَّابِعَۃَ فَاسْتَفْتَحَ، قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدُ، قِیْلَ: أَوَ قَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، قَالَ: فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَاِذَا اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَقَالَ: ھٰذَا اِبْرَاھِیْمُ فَسَلِّمَ عَلَیْہِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَرَدَّ السَّلَامَ، ثُمَّّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْإِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ، قَالَ: ثُمَّّ رُفِعَتْ اِلَیَّ سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی، فَاِذَا نَبْقُھَا مِثْلُ قِلَالِ ھَجَرَ، وَاِذَا وَرَقُھَا مِثْلُ آذَانِ الْفِیَلَۃِ، فقَالَ: ھٰذِہِ سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی، قَالَ: وَاِذَا أَرْبَعَۃُ أَنْھَارٍ، نَھْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَھْرَانِ ظَاھِرَانِ، فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا یَاجِبْرِیْلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَھْرَانِ فِیْ الْجَنَّۃِ وَأَمَّا الظَّاھِرَانِ فَالنِّیْلُ وَالْفُرَاتُ، قَالَ: ثُمَّّ رُفِعَ اِلٰی الْبَیْتُ الْمَعْمُوْرُ، (قَالَ قَتَادَۃُ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ رَأَی الْبَیْتَ الْمَعْمُوْرَ یَدْخُلُہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَک ثُمَّّ لَا یَعُوْدُوْنَ اِلَیْہِ، ثُمَّّ رَجَعَ اِلٰی حَدِیْثِ أَنَسٍ) قَالَ: ثُمَّّ أُتِیْتُ بِاِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَاِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ وَاِنَائٍ مِنْ عَسَلٍ، قَالَ: فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، قَالَ: ھٰذِہِ الْفِطْرَۃُ، أَنْتَ عَلَیْھَا وَأُمَّتُکَ، قَالَ: ثُمَّّ فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: فَرَجَعْتُ عَلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السِّلَامُ، فَقَالَ: بِمَاِذَا أُمِرْتَ؟ قِیْلَ: أُمِرْتُ بِخَمْسِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: اِنَّ اُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً، وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ، وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ، فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّیْ عَشْرًا، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: بِأَرْبَعِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: اِنَّ اُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ أَرْبَعِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ، وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّیْ عَشْرًا أَخَرَ، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ لِیْ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: اُمِرْتُ بِثَلَاثِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: اِنَّ اُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ لِثَلَاثِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمَعَالَجَۃِ، فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَوضَعَ عَنِّیْ عَشْرًا أَخَرَ، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ لِیْ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: بِعِشْرِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ: اِنَّ أُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ الْعِشْرِیْنَ صَلَاۃً کُلَّ یَوْمٍ، وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ، فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ: اِنَّ أُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ لِعَشْرِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ فَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ، وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسَ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، فَرَجَعْتُ اِلٰیمُوْسٰی فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ: اِنَّ أُمَّتَکَ لَا تَسْتَطِیْعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ، وَاِنِّیْ قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَکَ وَعَالَجْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَۃِ فَارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ لِأُمَّتِکَ، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ سَأَلْتُ رَبِّیْ حَتَّی اسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ وَلٰکِنْ اَرْضٰی وَاُسَلِّمُ، فَلَمَّا نَفَذْتُ نَادٰی مُنَادٍ قَدْ اَمْضَیْتُ فَرِیْضَتِیْ وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۸۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا مالک بن صعصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اسراء والی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا، میرے پاس ایک آنے والا یعنی جبریل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آیا اور اس نے اپنے ساتھی سے کہا: ان تینوں میں درمیان میں لیٹے ہوئے (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں، پس وہ میرے پاس آیا اور اس جگہ سے اس جگہ تک لمبائی میں چاک کردیا، قتادہ کہتے ہیں: میں نے اپنے پہلو میں بیٹھنے والے جارود سے پوچھا: اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد کیا تھی؟ انھوں نے کہا: ہنسلی کیہڈیوں کے درمیان والی پست جگہ سے لے کر شرمگاہ کے بال اگنے والی جگہ تک پیٹ کو چاک کر دیا، پھر میرا دل نکالا گیا، ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا سونے کا تھال میرے پاس لایا گیا، پھر میرے دل کو دھو کر ایمان اور حکمت سے بھر دیا گیا اور پھر اصل حالت میںلوٹا دیا گیا، بعد ازاں میرے پاس ایک سفید رنگ کا جانور لایا گیا، وہ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا لگ رہا تھا۔ جارود راوی نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ جانور براق تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس جانور کا قدم اس کی منتہائے نگاہ تک جاتا تھا، میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو اس پر سوار کر لیا گیا اور حضرت جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چل پڑے، یہاں تک کہ مجھے آسمانِ دنیا تک لے آئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: آپ کو مرحبا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آنا بہترین آمد ہے، پس آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آدم علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہ آپ کے باپ آدم ہیں، ان کو سلام کہو، میں نے ان پر سلام کہا، انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بیٹے اور صالح نبی کو مرحبا،پھر جبریل آگے بڑھے اور دوسرے آسمان تک پہنچ گئے، وہاں دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: اور تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا:جی ہاں، کہا گیا: مرحبا، یہ بہترین آمد ہے، پھر دروازہ کھول دیا گیا اور جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو خالہ زاد یحییٰ اور عیسیm تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہیحییٰ اور عیسی ہیں، ان کو سلام کہو، پس میں سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید، پھر وہ مجھے لے کر تیسرے آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس کہا گیا: آپ کو مرحبا، آپ کا آنا بہترین آمد ہے، پھر دروازہ کھول دیا گیا اور جب میں اس سے گزرا تو کیا دیکھا وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تشریف فرما تھے، جبریل نے کہا: یہ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں، آپ ان کو سلام کریں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید، پھر وہ آگے کو بڑھے، یہاں تک کہ چوتھے آسمان تک پہنچ گئے اور کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس کہا گیا: مرحبا، ان کاآنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا گیا، پھر جب میں داخل ہوا تو کیا دیکھا کہ ادریس علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ ادریس ہیں، آپ ان کو سلام کریں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر کہا: صالح بھائی اورصالح نبی کو مرحبا۔بعد ازاں جبریل علیہ السلام پانچویں آسمان کی طرف چڑھے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے، اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا، جب میں اس سے آگے گزرا تو دیکھا کہ ہارون علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل نے کہا: یہ ہارون ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انھوں نے کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا، پھر انھوں نے چڑھنا شروع کیا،یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچ گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، پس دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے داخل ہوا تو دیکھا موسی علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ موسی ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور پھر کہا: صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا، جب میں ان سے آگے بڑھا تو انھوں نے رونا شروع کر دیا، ان سے کہا گیا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں اس لیے رو رہا ہوں کہ ایک آدمی میرے بعد مبعوث کیا گیا، لیکن میری امت کی بہ نسبت اس کی امت کی اکثریت جنت میں داخل ہو گی، پھر وہ آگے کو بڑھے اور ساتویں آسمان تک پہنچ گئے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل، کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: مرحبا، یہ بہترین آنا آئے، پس دروازہ کھول دیا گیا، جب میں اس سے آگے گزرا تو دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام تشریف فرما ہیں، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں، آپ ان کو سلام کہیں، پس میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: صالح بیٹے اور صالح نبی کو مرحبا، پھر میرے لیے سدرۃالمنتہی کو بلند کیا گیا، اس کا پھل ہجر کے مٹکوںکی طرح اور اس کے پتے ہاتھوں کے کانوں کی طرح تھے، جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ سدرۃ المنتہی ہے، وہاں چار نہریں تھیں، دو نہریں مخفی تھیں اور دو ظاہری، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ دو باطنی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں، پھر میرے لیے بیت ِ معمور کو بلند کیا گیا۔ امام حسن بصری نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت ِ معمور کو دیکھا، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور پھر وہ دوبارہ نہیں آ سکتے، پھر راوی سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کی طرف لوٹے اور کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر میرے پاس ایک برتن شراب کا، ایک دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا، میں نے دودھ پکڑ لیا، اس نے کہا: یہ فطرت ہے، آپ اور آپ کی امت فطرت پر ہیں، پھر مجھ پر ایک دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، لیکن جب میں لوٹا اور موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں پچاس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا: بیشک تیری امت پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں بنی بنو اسرائیل کے ساتھ بڑی سخت مشق کی ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں، پھر جب میں لوٹا اور موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں چالیس نمازیں ادا کرنے کا حکم ملا ہے، انھوں نے کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں چالیس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنی اسرائیل کے ساتھ معاملات کو بڑی سختی سے نمٹایا ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، سو میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مزید دس نمازیں کم کر دیں، پھر میں موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے کہا: آپ کو کس عمل کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ایک دن میں تیس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں تیس نمازیں ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، میں آپ سے پہلے لوگوں کو پرکھ چکا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ بڑی سختی سے معاملات انجام دیئے ہیں، لہٰذا آپ لوٹ جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، پس میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مزید دس نمازیں کم کر دیں، لیکن پھر جب میں موسی علیہ السلام کے پاس لوٹا تو انھوں نے وہی سوال کیا کہ آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے، میں نے کہا: جی ایک دن میں بیس نمازوں کا، انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ آپ کی امت ایک دن میں بیس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنواسرائیل کے ساتھ بڑی سخت مشق کی ہے، لہٰذا اپنے ربّ کی طرف لو جاؤ اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کرو، پس میں لوٹ گیا اور مجھے ایک دن میں دس نمازوں کا حکم دیا گیا، لیکن جب میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے تو میں نے کہا: جی ایک دن میں دس نمازوں کا، انھوں نے اب کی بار پھر کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میں دس نمازیں ادا نہیں کر سکتی، جبکہ میں آپ سے پہلے لوگوں کی جانچ پڑتال کر چکا ہوں اور میں نے بنو اسرائیل بڑی سختی کے ساتھ آزمایا ہے، لہٰذا تو اپنے ربّ کی طرف لوٹ جا اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کر، پس میں پھر لوٹ گیا اور مجھے ایک دن میں پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا، میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھوں نے پوچھا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا؟ میں نے کہا: مجھے ایک دن میں پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے پھر کہا: بیشک آپ کی امت ایک دن میںپانچ نمازیں ادا نہیں کر سکتی اور میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور میں نے بنو اسرائیل کے ساتھ بڑی سختی کے ساتھ مشق کی ہے، لہٰذا آپ اپنے ربّ کی طرف لوٹیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں، اب کی بار میں نے کہا: میں نے اپنے ربّ سے اتنی بار سوال کر لیا ہے کہ میں اس سے شرماتا ہوں، اب میں اسی پر راضی ہوتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں، پس جب میں آگے کو گزرا تو آواز دینے والے نے آواز لگائی: تحقیق میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں پر تخفیف بھی کی ہے۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10565

۔ (۱۰۵۶۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ عَنْ قِتَادَۃَ بْنِ دِعَامَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْکَعْبَۃِ بَیْنَ النَّائِمِ وَالْیَقْضَانِ فَسَمِعْتُ قَائِلًا یَقُوْلُ أَحَدُ الثَّلَاثَۃِ: (فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔) قَالَ: ثُمَّّ رُفِعَ لَنَا الْبَیْتُ الْمَعْمُوْرُ یَدْخُلُہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ اِذَا خَرَجُوْا مِنْہُ لَمْ یَعُوْدُوْا فِیْہِ آخِرَ مَا عَلَیْھِمْ، قَالَ: ثُمَّّ رُفِعَتْ اِلٰی سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی، فَاِذَا وَرَقُھَا مِثْلُ آذَانِ الْفِیَلَۃِ( فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ) قَالَ: فَقُلْتُ: لَقَدِ اخْتَلَفْتُ اِلٰی رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّی اسْتَحْیَیْتُ، لَا، وَلٰکِنْ أَرْضٰی وَأُسَلِّمُ، قَالَ: فَلَمَّا جَاوَزْتُہُ نُوْدِیْتُ: اَنَّیْ قَدْ خَفَّفْتُ عَلٰی عِبَادِیْ وَأَمْضَیْتُ فَرَائِضِیْ وَجَعَلْتُ لِکُلِّ حَسَنَۃٍ عَشْرَ أَمْثَالِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۹۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا مالک بن صعصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس سونے اور بیدار ہونے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ کسی بات کرنے والے کییہ آواز سنی: ان تینوں میں سے ایک ہے، … …، پھر میرے لیے بیت ِ معمور کو بلند کیا گیا، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشے داخل ہوتے ہیں اور جب وہ نکل جاتے ہیں تو آخرتک دوبارہ نہیں آ سکتے، پھر میرے لیے سدرۃ المنتہی کو بلند کیا گیا، اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے، … …، میں نے کہا: میں اپنے ربّ کے پاس اتنی بار جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے، اب میں نہیںجاؤں گا، بلکہ میں راضی ہوتا ہے اور تسلیم کرتا ہوں، پھر جب میں موسی علیہ السلام سے آگے کو گزرا تو مجھے یہ آواز دی گئی: بیشک میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی ہے اور اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے اور ہر نیکی کا دس گناہ اجر وثواب کر دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10566

۔ (۱۰۵۶۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ: ثَنَا ھِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ، قَالَ: ثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ مَالِکٍ بْنِ صَعْصَعَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَا أَنَا عِنْدَ البَیْتِ بَیْنَ النَّائِمِ وَالْیَقْضَانِ اِذْ اَقْبَلَ أَحَدُ الثَّلَاثَۃِ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ، فَأُتِیْتُ بِطِسْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مَلَأُہُ حِکْمَۃً وَاِیْمَانًا، فَشَقَّ مِنَ النَّحْرِ اِلَی مَرَاقِی الْبَطْنِ، فَغُسِلَ الْقَلْبُ بِمَائِ زَمْزَمَ، ثُمَّّ مُلِیئَ حِکْمَۃً وَاِیْمَانًا، ثُمَّّ اُتِیْتُ بِدَابَّۃٍ دُوْنَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ، ثُمَّّ انْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السِّلَامُ فَأَتَیْنَا السَّمَائَ الدُّنْیَا، فَقِیْلَ: مَنْ ھَذَا؟ قِیْلَ: جِبْرِیْلُ، قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدُ، قِیْلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ: مَرْحَبًا بِہٖوَنِعْمَالْمَجِیْئُ جَائَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ)) (مسند احمد: ۱۷۹۸۷)
۔ (تیسری سند) سیدنا مالک بن صعصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بیت اللہ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ تین میں ایک آدمی دو افراد کے درمیان متوجہ ہوا، پھر میرے پاس سونے کا ایک تھال لایا گیا، وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پس اس فرشتے نے میرے گلے سے پیٹ کے نیچے والے نرم مقام تک کے حصے کو چاک کر دیا، میرے دل کو زمزم کے پانی کے ساتھ دھو کر اس میں حکمت اور ایمان کو بھر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا، وہ خچر سے چھوٹا تھا اور گدھے سے بڑا تھا، پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چل پڑے، ہم آسمانِ دنیاتک جا پہنچے، کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، کہاگیا: تیری ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا گیا: ان کو خوش آمدید، ان کا آنا بہترین آمد ہے، … …۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10567

۔ (۱۰۵۶۷)۔ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: کَانَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فُرِجَ سَقْفُ بَیْتِیْ وَأَنَا بِمَکَّۃَ فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ فَفَرَجَ صَدْرِیْ ثُمَّّ غَسَلَہُ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ، ثُمَّّ جَائَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَھَبٍ مُمْتَلِیئٍ حِکْمَۃً وَاِیْمَانًا، فَأَفْرَغَھَا فِیْ صَدْرِیْ ثُمَّّ أَطْبَقَہُ ثُمّّ أَخَذَ بِیَدِیْ فَعَرَجَ بِیْ اِلَی السَّمَائِ، فَلَمَّا جَائَ السَّمَائَ الدُّنْیَا فَافْتَتَحَ، فَقَالَ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ، قَالَ: ھَلْ مَعَکَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَعِیْ مُحَمَّدٌ، قَالَ: أُرْسِلَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفُتِحَ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَائَ الدُّنْیَا، اِذَا رَجُلٌ عَنْ یَمِیْنِہِ أَسْوِدَۃٌ وَعَنْ یَسَارِہِ أَسْوِدَۃٌ، وَاِذَا نَظَرَ قِبْلَ یَمِیْنِہِ تَبَسَّمَ، وَاِذَا نَظَرَ قِبْلَ یَسَارِہِ بَکٰی، قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاِبْنِ الصَّالِحِ، قَالَ: قُلْتُ لِجِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: ھٰذَا آدَمُ وَھٰذِہِ الْأَسْوِدَۃُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَشِمَالِہِ نَسَمُ بَنِیْہِ، فَأَھْلُ الْیَمِیْنِ ھُمْ أَھْلُ الْجَنَّۃِ، وَالْأَسْوِدَۃُ الَّتِیْ عَنْ شِمَالِہِ أَھْلُ النَّارِ، فَاِذَا نَظَرَ قِبَلَ یَمِیْنِہِ ضَحِکَ، وَاِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِہِ بَکٰی، قَالَ: ثُمَّّ عَرَجَ بِیْ جِبْرِیْلُ حَتّٰی جَاوَزَ السَّمَائَ الثَّانِیَّۃَ فَقَالَ لِخَازِنِھَا: افْتَحْ، فَقَالَ لَہُ خَازِنُھَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَائِ الدُّنْیَا فَفَتَحَ لَہُ، (قَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: فَذَکَرَ اَنَّہُ وَجَدَ فِیْ السَّمٰوَاتِ آدَمَ وَاِدْرِیْسَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی وَاِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھِمُ الصَّلَاۃُ وَالسِّلَامُ، وَلَمْ یَثْبُتْ لِیْ کَیْفُ مَنَازِلُھُمْ غَیْرَ أَنَّہُ ذَکَرَ أَنَّہُ وَجَدَ آدَمَ فِیْ السَّمَائِ الدُّنْیَا وَاِبْرَاھِیْمَ فِیْ السَّمَائِ السَّادِسَۃِ، قَالَ أَنَسٌ:) فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السِّلَامُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِدْرِیْسَ قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: ھٰذَا اِدْرِیْسُ، قَالَ: ثُمّّ مررت بموسی، فقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: ھٰذَا مُوْسٰی، ثُمّّ مَرَرْتُ بِعِیْسٰی، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: ھٰذَا عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ، قَالَ: ثُمَّّ مَرَرْتُ بِاِبْرَاھِیْمَ، فقَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْاِبْنِ الصَّالِحِ، قُلْتُ: مَنْ ھَذَا؟ قَالَ: ھٰذَا اِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، (قَالَ ابْنُ شِھَابٍ: وَأَخْبَرَنِیْ اِبْنُ حَزْمٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّۃَ الْأَنْصَارِیَّیَقُوْلَانِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّّ عَرَجَ بِیْ حَتَّی ظَھَرْتُ بِمُسْتَوی أَسْمَعُ صَرِیْفَ الْاَقْلَامِ، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فَرَضَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَلٰی اُمَّتِیْ خَمْسِیْنَ صَلاۃً، قَالَ: فَرَجَعْتُ بِذٰلِکَ حَتّٰی أَمُرَّ عَلَی مُوْسٰی عَلَیْہِ السِّلَامُ، فقَالَ: مَاذَا فَرَضَ رَبُّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی أُمَّتِکَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً، فَقَالَ لِیْ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ: رَاجِعْ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَاِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَھَا، فَرَجَعْتُ اِلٰی مُوْسٰی فَاَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّکَ فَاِنَّ أُمَّتَکَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِکَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: ھِیَ خَمْسٌ وَھِیَ خَمْسُوْنَ لَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ، قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلَی مُوْسٰی عَلَیْہِ السِّلَامُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّکَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْیَیْتُ مِنْ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، قَالَ: ثُمَّّ انْطَلَقَ بِیْ حَتّٰی أَتٰی بِیْ سِدْرَۃَ الْمُنْتَھٰی، قَالَ: فَغَشّٰھَا اَلْوَانٌ مَا أَدْرِیْ مَاھِیَ، قَالَ: ثُمَّّ اُدْخِلْتُ الْجَنَّۃَ فَاِذَا فِیْھَا جَنَابِذُ الْلُؤْلُؤِ وَاِذَا تُرَابُھَا الْمِسْکُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۱۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے گھر کی چھت کو کھولا گیا، جبکہ میں مکہ میں تھا، جبریل اترے، انھوں نے میرا سینہ چاک کیا، اس کو زمزم کے پانی سے دھویا، پھر سونے کا ایک تھال لے کر آئے، وہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اس کو میرے سینے میں بہا دیا اور پھر اس کو بند کر دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر آسمان کی طرف چڑھ گئے، جب آسمانِ دنیا کے پاس پہنچے تو دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پہرے دار نے کہا: یہ کون آیا ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں، اس نے کہا: کیا تیرے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں،میرے ساتھ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، اس نے کہا: کیا ان کو پیغام بھیجا گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، جب ہم آسمان دنیا سے اوپر کو چڑھے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے، اس کے دائیں طرف بھی کچھ وجود ہیں اور بائیں طرف بھی، وہ دائیں طرف دیکھ کر مسکراتا ہے اور بائیں طرف دیکھ کر روتا ہے، اس نے مجھے کہا: صالح نبی اور صالح بیٹے کو مرحبا، میں نے جبریل سے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کے دائیں بائیں جو وجود نظر آ رہے ہیں،یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں، دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں، اسی وجہ سے یہ دائیں طرف والوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں اور بائیں طرف والوں کو دیکھ کر روتے ہیں، پھر جبریل مجھے لے کر آگے کو بڑھے اور دوسرے آسمان تک جا پہنچے اور پہرے دار سے کہا: دروازہ کھولو، اس نے آگے سے وہی باتیں کیں، جو آسمان دنیا والے پہرے دار نے کہی تھیں۔ انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر انھوں نے بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمانوں میں آدم، ادریس، موسی، عیسی اور ابراہیمh کو پایا، لیکنیہ بات مجھے یاد نہ رہ سکی کہ ان کی منزلیں کیسی تھیں، (یعنی کون کس آسمان میں تھا) البتہ اتنا یاد ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آدم علیہ السلام کو آسمانِ دنیا میں اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان میں پایا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب جبریل علیہ السلام اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، حضرت ادریس کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو مرحبا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے ہیں: میں نے کہا: یہ کون ہے؟ جبریل نے کہا:یہ ادریس علیہ السلام ہیں، پھر میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انھوں نے مجھے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا:یہ موسی علیہ السلام ہیں پھر میں عیسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انھوں نے کہا: صالح نبی اور صالح بھائی کو مرحبا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا:یہ عیسی بن مریم علیہ السلام ہیں، پھر میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انھوں ے کہا: صالح نبی اور صالح بیٹے کو خوش آمدید، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن حزم نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن عباس اور سیدنا ابو حبہ انصاریfنے روایت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر وہ مجھے لے کر آگے کو بڑھے، یہاں تک کہ میں ایسی سطح پر چڑھ گیا کہ مجھے قلمیں چلنے کی آواز سنائی دی۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، پس میں ان کے ساتھ واپس آیا اور موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا، انھوں نے مجھ سے پوچھا: آپ کے ربّ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، موسی علیہ السلام نے مجھ سے کہا: آپ اپنے ربّ سے رجوع کریں، کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کی ادائیگی کی طاقت نہیں رکھی، پس میں نے اپنے ربّ سے مراجعہ کیا اور اس نے نصف نمازیں کم کر دیں، میں دوبارہ موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا اور ان کو صورتحال سے آگاہ کیا، انھوں نے کہا: آپ اپنے ربّ کے پاس واپس جائیں، آپ کی امت یہ عمل نہیں کر سکتی، پس میں پھر اپنے ربّ کے پاس گیا، اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ پانچ ہیں اور یہ پچاس ہیں، میرے ہاں قول تبدیل نہیں ہوتا، پس میں موسی علیہ السلام کے طرف لوٹا، انھوں نے پھر کہا کہ آپ ابھی تک اپنے ربّ سے مراجعہ کریں، لیکن میں نے کہا: اب تو میں اپنے ربّ تعالیٰ سے شرماتا ہوں، پھر جبریل مجھے لے کر سدرۃ المنتہی کی طرف گیا، اس پر کئی رنگ تھے اور میں نہیں جانتا کہ وہ کون کون سے تھے، پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا، اس میں دیکھا کہ لؤلؤ موتیوں کے قبے تھے اور اس کی مٹی کستوری تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10568

۔ (۱۰۵۶۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُتیْتُ بِالْبُرَاقِ، وَھُوَ دَابَّۃٌ أَبْیَضُ طَوِیْلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُوْنَ الْبَغْلِ، یَضَعُ حَافِرَہُ عِنْدَ مُنْتَھٰی طَرْفِہِ، قَالَ: فَرَکِبْتُہُ حَتّٰی أَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ: فَرَبَطْتُّہُ بِالْحَلْقَۃِ الَّتِییَرْبِطُ بِھَا الْأَنْبِیَائُ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّیْتُ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَائَ نِی جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِأِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِیْلُعَلَیْہِ السَّلَامُ: اِخْتَرْتَ الْفِطْرَۃَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ۔ فَقِیْلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ، فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الثَّانِیَۃِ۔ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ فَقِیْلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ۔ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِاِبْنَیِ الْخَالَۃِ: عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَیَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمَا، فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِی بِخَیْرٍ۔ ثُمَّ عُرِجَ بِیْ إِلَی السَّمَائِ الثَّالِثَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ فَقِیْلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ:مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ۔ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِیُوْسُفَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إِذَا ھُوَ قَدْ أُعْطِیَ شَطْرَ الْحُسْنِ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الرَّابِعَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ۔ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِیْسَ، فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ، وَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا}ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الْخَامِسَۃِ۔ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ فَقَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ۔ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِھَارُوْنَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَرَحَّبَ وَدَعَالِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قاَلَ: مُحَمَّدٌ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ۔ فَقِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاھِیْمَ مُسْنِداً ظَھْرَہُ إِلَی الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ، وَإِذَا ھُوَیَدْخُلُہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ لَایَعُوْدُوْنَ إِلَیْہِ۔ ثُمَّ ذَھَبَ بِی إِلَی السِّدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی، وَإِذَا وَرَقُھَا کَآذَانِ الْفِیَلَۃِ، وَإِذَا ثَمَرُھَا کَالْقِلَالِ، قَالَ:فَلَمَّا غَشِیَھَا مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ مَاغَشِیَ، تَغَیَّرَتْ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ یَسْتَطِیْعُ أَن یَّنْعَتَھَا مِنْ حُسْنِھَا، فَأَوْحٰی اللّٰہُ إِلَیَّ مَا أَوْحٰی، فَفَرَضَ عَلَیَّ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، فَنَزَلْتُ إِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ:مَافَرَضَ رَبُّک عَلٰی اُمَّتِکَ؟ قُلْتُ: خَمْسِیْنَ صَلَاۃً۔ قَالَ: اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لَایُطِیْقُوْنَ ذٰلِکَ، فَإِنِّی قَدْ بَلَوْتُ بَنِی إِسْرَائِیْلَ وَخَبَرْتُھُمْ۔ قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلٰی رَبِّیْ۔ فَقُلْتُ: یَارَبِّ! خَفِّفْ عَلٰی أُمَّتِی، فَحَطَّ عَنِّی خَمْساً فَرَجَعْتُ إِلٰی مُوْسٰی، فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّی خَمْساً۔ قَالَ: إِنَّ أُمَّتَکَ لَایُطِیْقُوْنَ ذٰلِکَ فَارْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ۔ قاَلَ: فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَیْنَ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَبَیْنَ مُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّٰی قَالَ: یَامُحَمَّدُ! إِنَّھُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، لِکُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرٌ، فَذٰلِکَ خَمْسُوْنَ صَلَاۃً، وَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا،کُتِبَتْ لَہٗحَسَنَۃٌ، فَإِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہُ عَشْراً، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، لَمْ یُکْتَبْ شَیْئاً، فَإِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ سَیَّئَۃً وَاحِدَۃً۔ قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتّٰی انْتَھَیْتُ إِلٰی مُوْسٰی فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: اِرْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلٰی رَبِّی حَتّٰی اسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۳)
۔ انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق لایاگیا، وہ گدھے سے بڑا اور خچرسے چھوٹاسفید رنگ کا لمبا جانور تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی۔ میں اُس پر سوار ہوا،(اور چل پڑا) حتیٰ کہ بیت المقدس میں پہنچ گیا، میں نے اُس کو اُس کڑے کے ساتھ باندھ دیا جس کے ساتھ دوسرے انبیاء بھی باندھتے تھے،پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ جب میں وہاں سے نکلا تو حضرت جبریل علیہ السلام شراب کا اور دودھ کا ایک ایک برتن لائے، میں نے دودھ کا انتخاب کیا۔ جبریل نے کہا: آپ نے فطرت کو پسند کیاہے۔ پھر ہمیں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ (جب ہم وہاں پہنچے تو) جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ پھر کہاگیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ کہاگیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ اُس نے کہا: (جی ہاں) انہیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا ، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعا کی۔پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف اٹھایاگیا۔ جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پوچھا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ فرشتوں نے پوچھا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا: (جی ہاں!ان کو بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیاگیا۔ میں نے خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ بن مریم اوریحییٰ بن زکریا کو دیکھا، اُن دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی۔پھرہمیں تیسرے آسمان کی طرف اٹھایاگیا، جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا ۔فرشتوں نے پوچھا: کون؟اس نے کہا: جبریل۔ فرشتوں نے پوچھا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ کہاگیا: کیا ان کو بلایا گیا ہے؟جبریل نے کہا :جی ہاں! انہیںبلایا گیا ہے۔سو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، وہاں میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا،(ان کی خوبصورتی سے معلوم ہوتا تھا کہ) نصف حسن ان کو عطا کیا گیا ہے۔اُنہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔پھرہمیں چوتھے آسمان کی طرف اٹھایا گیا، جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ پوچھا گیا: کون؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ پھر پوچھا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ کہاگیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ اُس نے کہا: جی ہاں! اُن کو بلایا گیا ہے، پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انہوںنے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہم نے ادریس کا مقام و مرتبہ بلند کیا۔پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا، اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ کہا گیا: کون ؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں۔ کہاگیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ پوچھاگیا: کیا انہیںبلایا گیا ہے؟ جبریل نے جواب دیا: جی ہاں! انہیں بلایا گیا ہے،پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں حضرت ہارون ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی۔پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور چھٹے آسمان پر دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ کہا گیا: کون؟اس نے کہا: جبریل ہوں۔ کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ پھر پوچھا گیا: کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں! پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے وہاں موسیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ۔اُنہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھرہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور دروازہ کھولنے کے لیے کہا گیا۔ پوچھا گیا: کون؟ اس نے کہا:جبریل ہوں۔ کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ کہا گیا:کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا : ہاں! ان کو بلایا گیا ہے۔ سو دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے ابراہیم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ۔وہ بیتِ معمور کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ (بیتِ معمور کی کیفیتیہ ہے کہ) ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیںاور پھردوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔ پھر جبریل مجھے سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی کے پاس لے گئے، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اُس کا پھل مٹکوں کی مانند ۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی چیز سے اسے ڈھانکا گیا تو (اس کی کیفیتیوں) بدل گئی کہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی اس کا حسن بیان نہیں کر سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی اور ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں اُتر کر موسیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا،انہوں نے پوچھا: تیرے رب نے تیری امت پر کیا کچھ فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اپنے ربّ کے پاس جاؤ اور تخفیف کا سوال کرو، تیری امت (کے افراد) میں اتنی استطاعت نہیں ہے، میں نے بنی اسرائیل کو آزما لیاہے اور اُن کا تجربہ کر چکا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا:پس میں اپنے پروردگار کی طرف واپس چلا گیا اور کہا: اے میرے ربّ! میری امت کے لیے (نمازوں والے حکم میں) تخفیف کیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردی۔ پھر میں موسیٰ کی طرف لوٹا اور ان کو بتلایا کہ مجھ سے پانچ نمازیں کم کردی گئی ہیں، انہوں نے کہا: تیری امت کو اتنی طاقت بھی نہیں ہو گی، اس لیے اپنے رب کے پاس جاؤ اور اس سے (مزید) کمی کا سوال کرو۔ آپ نے فرمایا: میں اسی طرح اپنے پروردگار اور موسیٰ کے درمیان آتا جاتا رہا،حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد ! ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، ہر نماز (کے عوض) دس نمازوں کا ثواب ہے،(اس طریقے سے یہ) پچاس نمازیں ہوں گئیں اور (مزید سنو کہ) جس نے نیکی کا قصد کیا اور (عملًا) نہیں کی تو اُس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے گی اور اگر اُس نے وہ نیکی عملًا کرلی تو اُس کے لیے دس گنا ثواب لکھ دیاجائے گا اور جس نے برائی کا ارادہ کیا اور عملًا اُس کا ارتکاب نہیں کیا،تو اُس (کے حق میں کوئی گناہ) نہیں لکھا جائے گا، اور اگر اُس نے عملًا برائی کا ارتکاب کر لیا تو (پھر) اُس کے لیے ایک برائی لکھ دی جائے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نیچے اترا اور موسیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا اور اُن کو (ساری صورتحال کی) خبر دی۔انہوں نے پھر کہا: اپنے پرودگار کی طرف لوٹ جائو اور اُس سے مزید تخفیف کا سوال کرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف (بار بار) لوٹ چکا ہوں۔ اب تو میں اپنے ربّ سے شرماتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10569

۔ (۱۰۵۶۹)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: أَتَیْتُ عَلٰی حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ وَھُوَ یُحَدِّثُ عَنْ لَیْلَۃٍ أُسْرِیَ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: ((فَانْطَلَقْتُ أَوِ انْطَلَقْنَا فَلَقِیْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا عَلَی بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) فَلَمْ یَدْخُلَاہُ، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ دَخَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَتَئِذٍ وَصَلّٰی فِیْہِ، قَالَ: مَا اسْمُکَ؟یا اَصْلَعُ! فَاِنَّیْ أَعْرِفُ وَجْھَکَ وَلَا أَدْرِیْ مَااسْمُکَ، قَالَ: قُلْتُ: أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَیْشٍ، قَالَ: فَمَا عِلْمُکَ بِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ لَیْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: اَلْقُرْآنُیُخْبِرُنِیْ بِذٰلِکَ، قَالَ: مَنْ تَکَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فَلَجَ اقْرَأْ! قَالَ: فَقَرَأْتُ {سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} قَالَ: فَلَمْ أَجِدْہُ صَلّٰی فِیْہِ، قَالَ: یَا اَصْلَعُ! ھَلْ تَجِدُ صَلّٰی فِیْہِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَتَئِذٍ، لَوْ صَلَّی فِیْہِ لَکُتِبَ عَلَیْکُمْ صَلَاۃٌ فِیْہِ کَمَا کُتِبَ عَلَیْکُمْ صَلَاۃٌ فِیْ الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ، وَاللّٰہِ! مَا زَایَلَا الْبُرَاقَ حَتّٰی فُتِحَتْ لَھُمَا أَبْوَابُ السَّمَائِ فَرَأَیَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الْآخِرَۃِ اَجْمَعَ، ثُمّّ عَادَا عَوْدَھُمَا عَلٰی بَدْئِھِمَا، قَالَ: ثُمَّ ضَحِکَ حَتّٰی رَأَیْتُ نَوَاجِذَہُ، قَالَ: وَیُحَدِّثُوْنَ أَنَّہُ رَبَطَہُ لِئَلَّا یَفِرَّ مِنْہُ، وَاِنَّمَا سَخَّرَہُ لَہُ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ، قَالَ: قُلْتُ: اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ ! أَیُّ دَابَّۃٍ البُرَاقُ؟ قَالَ: دَابَّۃٌ اَبْیَضُ طَوِیْلٌ ھٰکَذَا خَطْوُہُ مَدُّ الْبَصَرِ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۷۴)
۔ سیدنا زِرّ بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ اسراء والی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میں چلا یا ہم چلے، اور اسی طرح چلنے پر بر قرار رہے، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس کے پاس پہنچ گئے۔ پھر نبیکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور جبریل علیہ السلام اس میں داخل نہیں ہوئے، میں (زِرّ) نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس رات بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے اور اس میں نماز بھی پڑھی تھی، انھوں نے کہا:او گنجے! تیرا نام کیا ہے؟ میں تجھے چہرے سے تو پہچانتا ہوں، لیکن تیرے نام کو نہیں جانتا۔ میں نے کہا: میں زِرّ بن حبیش ہوں، انھوں نے کہا: تجھے کیسے علم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رات کو وہاں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا: قرآن مجید نے مجھے یہ خبر دی ہے، انھوں نے کہا: جس نے قرآن کے ساتھ بات کرے وہ تو غالب آ جاتا ہے، اچھا دلیل کی تلاوت کرو، میں نے یہ آیت تلاوت کی: {سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ…} انھوں نے کہا: اس آیت میں تو اس قسم کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہے، او گنجے! کیا اس آیت میں تجھے ایسی کوئی چیز نظر آتی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہو؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ دونوں ہستیاں براق سے ہٹی ہی نہیں کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ان دونوں نے جنت، جہنم اور آخرت کے تمام وعدے دیکھے، اور پھر وہ وہاں لوٹ آئے، جہاں سے انھوں نے سفر شروع کیا تھا، پھر سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اتنے ہنسے کہ میں نے ان کی داڑھیں دیکھ لیں۔ پھر انھوں نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے براق کو اس لیے باندھا تھا کہ وہ بھاگ نہ جائے، حالانکہ مخفی اور ظاہری چیزوں کو جاننے والی ذات نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس براق کو مسخر کیا تھا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد اللہ! کون سا جانور براق ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس طرح کا سفید رنگ کا لمبا سا جانور ہوتا ہے اور اس کاقدم منتہائے نگاہ تک جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10570

۔ (۱۰۵۷۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَھْدَلَۃَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُتِیْتُ بِالْبُرَاقِ وَھُوَ دَابَّۃٌ أَبْیَضُ طَوِیْلٌیَضَعُ حَافِرَہُ مُنْتَھٰی طَرَفِہِ، فَلَمْ نُزَایِلُ ظَھْرَہُ أَنَا وَجِبْرِیْلُ حَتّٰی أَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدَسِ فَفُتِحَتْ لَنَا أَبْوَابُ السَّمَائِ وَرَأَیْتُ الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ، (قَالَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ: وَلَمْ یُصِلِّ فِیْ بَیْتِ الْمَقْدَسِ، قَالَ زِرٌّ: فَقُلْتُ لَہُ: بَلٰی قَدْ صَلَّی، قَالَ حُذَیْفَۃُ: مَااسْمُکَ؟ یَا أَصْلَعُ! فَاِنِّیْ اَعْرِفُ وَجْھَکَ وَلَا أَعْرِفُ اِسْمَکَ، فَقُلْتُ: أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَیْشٍ، قَالَ: وَمَا یُدْرِیْکَ أَنَّہُ قَدْ صَلّٰی؟ قَالَ: فَقَالَ: یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا اِنَّہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ} قَالَ: فَھَلْ تَجِدُہُ صَلّٰی؟ لَوْ صَلّٰی لَصَلَّیْتُمْ فِیْہِ کَمَا تُصَلُّوْنَ فِیْ الْمَسْجِدِ الحَرَامِ، قَالَ زِرٌّ: وَرَبَطَ الدَابَّۃَ بِالْحَلْقَۃِ الَّتِیْیَرْبِطُ بِھَا الْأَنْبِیَائُ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: اَوَکَانَ یَخَافُ أَنْ تَذْھَبَ مِنْہُ وَقَدْ آتَاہُ اللّٰہُ بِھَا۔ (مسند احمد: ۲۳۷۲۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا زِرّ بن حبیش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق کو لایا گیا،یہ سفید رنگ کا لمبا سا جانور تھا، اپنے منتہائے نگاہ تک اپنا قدم رکھتا تھا، میں اور جبریل اس کی کمر سے جدا نہ ہوئے، یہاں تک کہ میں بیت المقدس آیا اور پھر ہمارے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ہم نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی، جبکہ سیدنا زِرّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی ہے، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: او گنجے! تیرا نام کیا ہے، میں تجھے چہرے سے تو پہچانتا ہوں، البتہ تیرے نام کی پہچان نہیں ہے، میں نے کہا: میں زِرّ بن حبیش ہوں، انھوں نے کہا: تجھے کیسے پتہ چلا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا اِنَّہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ} انھوں نے کہا: تو اس آیت میں کوئی ایسی چیز پاتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی ہے؟ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہوتی تو تم کو بھی وہاں نماز ادا کرنا پڑتی، جیسا کہ تم مسجد ِ حرام میں نماز پڑھتے ہو، سیدنا زِرّ نے کہا: اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری کو اس کنڈے کے ساتھ باندھا تھا، جس کے ساتھ انبیائے کرامR باندھتے تھے، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ڈر تھا کہ وہ بھاگ جائے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10571

۔ (۱۰۵۷۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَیْلَۃً أُسْرِیَ بِنَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدَخَلَ الْجَنَّۃَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِھَا وَجْسًا قَالَ: ((یَاجِبْرِیْلُ! مَاھٰذَا؟)) قَالَ: ھٰذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ جَائَ اِلَی النَّاسِ: ((قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ، رَأَیْتُ لَہُ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: فَلَقِیَہُ مُوسٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَحَّبَ بِہٖوَقَالَ: مَرْحَبًابِالنَّبِیِّ الْأُمِّیِّ، قَالَ: فَقَالَ: وَھُوَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِیْلٌ سَبْطٌ شَعَرُہُ مَعَ أُذُنَیْہِ أَوَ فَوْقَھُمَا، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟یَاجِبْرِیْلُ!)) قَالَ: ھٰذَا مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: فَمَضٰی فَلَقِیَہُ عِیْسٰی فَرَحَّبَ بِہٖوَقَالَ: ((مَنْھٰذَا؟یَاجِبْرِیْلُ!)) قَالَ: ھٰذَا عِیْسٰی، قَالَ: فَمَضٰی فَلَقِیَہُ شَیْخٌ جَلِیْلٌ مَھِیْبٌ فَرَحَّبَ بِہٖوَسَلَّمَعَلَیْہِ وَکُلُّھُمْ یُسَلِّمُ عَلَیْہِ، قَالَ: ((مَنْ ھٰذَا یَا جِبْرِیْلُ؟)) قَالَ: ھٰذَا أَبُوْکَ اِبْرَاھِیْمُ، قَالَ: فَنَظَرَ فِیْ النَّارِ فَاِذَا قَوْمٌ یَأْکُلُوْنَ الْجِیَفَ، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰؤُلَائِ یَا جِبْرِیْل؟)) قَالَ: ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَیَأْکُلُوْنَ لُحُوْمَ النَّاسِ، وَرَاٰی رَجُلًا اَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا شَعِثًا اِذَا رَأَیْتَہُ، قَالَ: ((مَنْ ھٰذَا یَا جِبْرِیْلُ؟)) قَالَ: ھٰذَا عَاقِرُ النَّاقِۃِ، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ الْأَقْصٰی قَامَ یُصَلِّیْ، فَالْتَفَتَ ثُمَّّ الْتَفَتَ فَاِذَا النَّبِیُّوْنَأَجْمَعُوْنَ یُصَلُّوْنَ مَعَہُ فَلَمَّا انْصَرَفَ جِیْئَ بِقَدَحَیْنِ اَحْدُھُمَا عَنِ الْیَمِیْنِ وَالْآخَرُ عَنِ الشِّمَالِ فِیْ اَحَدِھِمَا لَبَنٌ وَفِیْ الْآخَرِ عَسَلٌ، فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْہُ، فَقَالَ الَّذِیْ کَانَ مَعَہُ الْقَدَحُ: اَصَبْتَ الْفِطْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔ اُدھر سفرِ معراج میں موسی علیہ السلام آپ کو ملے اور اُمّی نبی کو مرحبا کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمیتھے، ان کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا کانوں سے اوپر تک آ رہے تھے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ حضرت موسی علیہ السلام ہیں، پھر آپ آگے چلے اور عیسی علیہ السلام آپ کو ملے اور مرحبا کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عیسی علیہ السلام ہیں، پھر آگے چلے اور ایک بزرگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملے، وہ بڑے جلال اور ہیبت والے تھے، انھوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مرحبا کہا اور آپ کو سلام کہا، بلکہ تمام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آگ میں دیکھا تو کچھ لوگوں کو مردہ لاشیں کھاتے ہوئے پایا اور پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ وہ لو ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے، یعنی ان کی غیبت کرتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایکاور شخص دیکھا، وہ سرخ رنگ کا تھا، اس کی آنکھیں نیلی تھیں، وہ کوتاہ قد تھا اور اس کے بال پراگندہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا : جبریل! یہ کو ن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا ہے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد ِ اقصی میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، پس جب متوجہ ہوئے اور پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ سارے کے سارے انبیائے کرام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دودھ لے کر اس کو پی لیا، جس فرشتے کے پاس پیالہ تھا، اس نے کہا: تو نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10572

۔ (۱۰۵۷۲)۔ عَنْ أبِیْ الْعَالِیَۃِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ حَدَّثَنِیْ حَجَّاجٌ حَدَّثَنِیْ شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أبِیْ الْعَالِیَۃِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِبْنُ عَمِّ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (یَعْنِیْ ابْنَ عَبَّاسٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا یَنْبَغِیْ لِعَبْدٍ أَنْ یَقُوْلَ: أَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی۔)) وَنَسَبَہُ اِلٰی أَبِیْہِ قَالَ: وَذَکَرَ أَنَّہُ أُسْرِیَ بِہٖوَأَنَّہُرَأٰی مُوسٰی عَلَیْہِ السِّلَامُ آدَمَ طُوْالًا کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَۃَ، وَذَکَرَ أَنَّہُ رَأٰی عِیْسٰی مَرْبُوْعًا اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ جَعْدًا وَذَکَرَ أَنَّہُ رَأَی الدَّجَّالَ وَمَالِکًا خَازِنَ النَّارِ۔ (مسند احمد: ۳۱۷۹)
۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچا زاد (سیدنا عبد اللہ بن عباس f) نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ وہ یونس بن متی سے بہتر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا ذکر کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا کہ وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کا جسم بھرا ہوا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال اور جہنم کے داروغے مالک کو دیکھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10573

۔ (۱۰۵۷۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ رَأَیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ مُوسَی بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا، کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، وَرَأَیْتُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَلَیْھِمَا السَّلَامُ مَرْبُوْعَ الْخَلْقِ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، سَبْطَ الرَّأْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے موسی بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ان کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، اورمیں نے عیسی بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کے بال سیدھے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10574

۔ (۱۰۵۷۴)۔ عَنْہ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَأَیْتُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ وَمُوسٰی وَاِبْرَاھِیْمَ، فَاَمَّا عِیْسٰی فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِیْضُ الصَّدْرِ، وَأَمَّا مُوسٰی فَاِنَّہُ جَسِیْمٌ)) قَالُوْا لَہُ: فِاِبْرَاھِیْمُ؟ قَالَ: ((اُنْظُرُوْا اِلٰی صَاحِبِکُمْ)) یَعْنِیْ نَفْسَہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں عیسی علیہ السلام ، موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، عیسی علیہ السلام کا رنگ سرخ اور بال گھنگریالے تھے اور وہ چوڑے سینے والے تھے، موسی علیہ السلام دراز قد تھے۔ لوگوں نے کہا: اور ابراہیم علیہ السلام ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ساتھی کو دیکھ لو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد آپ کا اپنا نفس تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10575

۔ (۱۰۵۷۵)۔ عَنْ أبِیْ ھُرَیرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ وَصَعَدْتُ قَدَمِیْ (وَفِیْ نُسْخَۃٍ: وَضَعْتُ قَدَمِیْ) حَیْثُ تُوْضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِیَائِ مِنْ بَیْتِ الْمَقْدَسِ فَعُرِضَ عَلَیَّ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ، قَالَ: فَاِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِہٖشَبَھًاعُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَعُرِضَ عَلَیَّ مُوسٰی، فَاِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، وَعُرِضَ عَلَیَّ اِبْرَاھِیْمُ، قَالَ: فَاِذَا ھُوَ أَقْرَبُ النَّاسِ شَبَھًا بِصَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۴۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے بیت المقدس میں اپنا قدم وہاں رکھا، جہاں انبیاء کے قدم رکھے جاتے تھے، پس مجھ پر عیسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، پھر مجھ پر موسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ معتدل وجود کے آدمی تھے اور وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، بعد ازاں ابراہیم علیہ السلام کو مجھ پر پیش کیا گیا، وہ لوگوں میں تمہارے اپنے ساتھی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10576

۔ (۱۰۵۷۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا أُسْرِیَ بِیْ مَرَرْتُ عَلٰی مُوسٰی وَھُوَ قَائِمٌ یُصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہِ عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْأَحْمَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے، یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10577

۔ (۱۰۵۷۷)۔ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنّہُ قَالَ: عُرِضَ عَلَیَّ الْأَنْبِیَائُ، فَاِذَا مُوسٰی رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ کَأَنّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، فَرَأَیْتُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَلَیْھِمَا السَّلَامُ، فَاِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖشَبَھًاعُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَرَأَیْتُ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَاِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖشَبَھًاصَاحِبُکُمْ (یَعْنِیْ نَفْسَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) وَرَأَیْتُ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَاِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖشَبَھًادِحْیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۳)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10578

۔ (۱۰۵۷۸)۔ عَنْ أبِیْ ھُرَیرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ لَمَّا انْتَھَیْنَا اِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ، (قَالَ عُثْمَانُ: فَوْقِیْ) فَاِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ، قَالَ: فَأَتَیْتُ عَلٰی قَوْمٍ، بُطُوْنُھُمْ کَالْبُیُوْتِ فِیْھَا الْحَیَّاتُ تُرَی مِنْ خَارِجِ بُطُوْنِھِمْ، قُلْتُ: مَنْ ھٰؤُلَائِ؟ یَاجِبْرِیْلُ! قَالَ: ھٰؤُلَائِ اَکَلَۃُ الرِّبَا، فَلَمَّا نَزَلْتُ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ فَاِذَا أَنَا بِرَھْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ، فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ یَاجِبْرِیْلُ! قَالَ: ھٰذِہِ الشَّیَاطِیْنُیَحُوْمُوْنَ عَلٰی أَعْیُنِ بَنِیْ آدَمَ أَنْ لَّا یَتَفَکَّرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوَاتِ وْالْأَرْضِ، وَلَوْ لَا ذٰلِکَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۲۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کو جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر والی سمت میں دیکھا، وہاں مجھے گرج، کڑک، چمک، کڑک دار بجلی نظر آئی، پھر میں کچھ لوگوں کے پاس آیا، ان کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے بڑے تھے، ان میں ایسے سانپ تھے، جو پیٹوں کے باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ سود خور ہیں، پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10579

۔ (۱۰۵۷۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَرَرْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ عَلٰی قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاھُھُمْ بِمَقَارِیْضَ مِنْ نَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ھٰؤُلَائِ؟ قَالُوْا: خُطَبَائُ مِنْ أھْلِ الدُّنْیَا، کَانُوْا یَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَیَنْسَوْنَ أَنْفُسَھُمْ وَھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتَابَ أَفَـلَا یَعْقِلُوْنَ؟)) (مسند احمد: ۱۲۲۳۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ جن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا، میں نے کہا: یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ دنیا والوں کے خطیب ہیں، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ وہ اللہ کی کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10580

۔ (۱۰۵۸۰)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا عَرَجَ بِیْ ربِیْ عَزَّوَجَلَّ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَھُمْ اَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ یَخْمُشُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَصُدُوْرَھُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ یَاجِبْرِیْلُ! قَالَ: ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَیَأْکُلُوْنَ لُحُوْمَ النَّاسِ وَیَقَعُوْنَ فِیْ أَعْرَاضِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میرے ربّ نے مجھے معراج کرائی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے تانبے کے ناخن تھے اور وہ ان کے ذریعے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کاگوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو متأثر کرتے تھے (یعنی چغلی اور غیبت کرتے ہیں)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10581

۔ (۱۰۵۸۱)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِالْبُرَاقِ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہٖمُسَرَّجًامُلَجَّمًالِیَرْکَبَہُ فَاسْتَصْعَبَ عَلَیْہ،ِ وَقَالَ لَہُ جِبْرِیْلُ: مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی ھٰذَا؟ فَوَاللّٰہِ! مَا رَکِبَکَ أَحَدٌ قَطُّ أَکْرَمُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْہُ قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا۔ (مسند احمد: ۱۲۷۰۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اسراء والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ایسا براق لایا گیا، جس پر زین کسی ہوئی تھی اور اس کو لگام ڈالی ہوئی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر سوار ہونے لگے تو وہ براق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مشکل ہو گیا، جبریل علیہ السلام نے اس سے کہا: کون سی چیز تجھے ایسا بننے پر آمادہ کر رہی ہے؟ اللہ کی قسم ہے، تجھ پر کبھی بھی ایسی ہستی سوار نہیں ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے زیادہ عزت والی ہو، پھر شرمندگی کی وجہ سے اس کا پسینہ بہہ پڑا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10582

۔ (۱۰۵۸۲)۔ عَنْ أبِیْ ھُرَیرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ أُتِیْتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَقَدَحِ خَمْرٍ فَنَظَرْتُ اِلَیْھِمَا فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدَاکَ لِلْفِطْرَۃِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات میرے پاس دودھ کا پیالہ اور شراب کا پیالہ لایا گیا، میں نے ان دونوںکو دیکھا اور پھر دودھ کو پکڑ لیا، جبریل علیہ السلام نے کہا: ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی، اگر آپ شراب پکڑ لیتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت گمراہ ہو جاتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10583

۔ (۱۰۵۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: لَمَّا أُسْرِیَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انْتُھِیَ بِہٖاِلٰی سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی وَھِیَ فِی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ، اِلَیْھَایَنْتَھِی مَا یُعْرَجُ بِہٖمِنَ الْأَرْضِ فَیُقْبَضُ مِنْھَا، وَاِلَیْھَایَنْتَھِیْ مَا یُھْبَطُ بِہٖمِنْفَوْقِھَافَیُقْبَضُ مِنْھَا، قَالَ: {اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی} قَالَ: فَرَاشٌ مِنْ ذَھَبٍ، قَالَ: فَاُعْطِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثًا، أُعْطِیَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِیَ خَوَاتِیْمَ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ مِنْ أُمَّتِہِ شَیْئًا الْمُقْحِمَاتُ۔ (مسند احمد: ۴۰۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء پر لے جایا گیا تو سدرۃ المنتہی پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سفر کی انتہا ہو گئی،یہ سدرۃ چھٹے آسمان میں ہے، جو کچھ زمین کی طرف سے چڑھتا ہے، اسی بیری پر اس کی انتہاء ہوتی ہے اور جو کچھ اوپر سے اترتا ہے، اس کی انتہاء بھی اسی درخت پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی۔(سورۂ نجم: ۱۶) اس سے مراد سونے کے پتنگے ہیں، وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں، پانچ نمازیں،سورۂ بقرہ کا آخری حصہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت میں سے اس شخص کے کبیرہ گناہ بخش دیئے گئے، جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10584

۔ (۱۰۵۸۴)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رُفِعَتْ لِیْ سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی فِیْ السَّمَائِ السَّابِعَۃِ، نَبْقُھَا مِثْلُ قِلَالِ ھَجَرَ وَوَرَقُھَا مِثْلُ آذَانِ الْفِیَلَۃِ،یَخْرُجُ مِنْ سَاقِھَا نَھْرَانِ ظَاھِرَانِ وَلَھْرَانِ بَاطِنَانِ، فَقُلْتُ: یَاجِبْرِیْلُ! مَا ھٰذَانِ؟ قَالَ: اَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِی الْجَنَّۃِ وَاَمَّا الظَّاھِرَانِ فَالنِّیْلُ وَالْفُرَاتُ))۔ (مسند احمد: ۱۲۷۰۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہی کو بلند کیا گیا، اس کا پھل ہجر کے مٹکوںکی طرح اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے، اس کے تنے سے دو نہریں ظاہری اور دو نہریں مخفی نکل رہی تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ دو چیزیںکیا ہیں؟ اس نے کہا: دو باطنی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10585

۔ (۱۰۵۸۵)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْتَھَیْتُ اِلَی السِّدْرَۃِ فَاِذَا نَبْقُھَا مِثْلُ الْجِرَارِ، وَاِذَا وَرَقُھَا مِثْلُ آذَانِ الْفِیَلَۃِ، فَلَمَّا غَشِیَھَا مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ مَا غَشِیَھَا تَحَوَّلَتْ یَا قُوْتًا أَوَ زُمُرُّدًا اَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۲۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میں سدرہ تک پہنچا تو دیکھا کہ اس کا پھل مٹکوں کی طرح کا تھا اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح کے تھے، جب اللہ تعالیٰ کے حکم نے اس کو ڈھانپا تو وہ یاقوتیا زمرد یا اس قسم کے موتیوں میں تبدیل ہو گئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10586

۔ (۱۰۵۸۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَأَیْتُ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی)) (قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) وَقَدْ سَمِعْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ أبِیْ، اَمْلٰیْ عَلَیَّ فِیْ مَوْضِعٍ آخَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے یہ حدیث سنی تھی، انھوں نے کسی اور مقام پر یہ حدیث مجھے لکھوائی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10587

۔ (۱۰۵۸۷)۔ حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ ذَرٍّ: لَوْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلْتُہُ، قَالَ: وَمَا کُنْتَ تَسْأَلُہُ؟ قَالَ: کُنْتُ اَسْأَلُہُ ھَلْ رَأٰی رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: فَاِنَّیْ قَدْ سَأَلْتُہُ، فَقَالَ: ((قَدْ رَأَیْتُہُ نَوْرًا، أَنَّیْ أَرَاہٗ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۶۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک سوال کرتا، انھوں نے کہا: تو کون سا سوال کرتا؟ میں نے کہا: میں نے یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا ، جس کے جواب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو نور پایا ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10588

۔ (۱۰۵۸۸)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ وَبَھْزٌ قَالَا: ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ قَتَادَۃَ، قَالَ بَھْزٌ: ثَنَا قَتَادَۃُ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ) قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ ذَرٍّ: لَوْ اَدْرَکْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَسَأَلْتُہُ، قَالَ: عَنْ أَیِّ شَیْئٍ؟ قُلْتُ: ھَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ؟ قَالَ: قَدْ سَأَلْتُہُ فَقَالَ: ((نُوْرٌ، أَنّٰی اَرَاہٗ۔))یَعْنِیْ: عَلٰی طَرِیْقِ الْأِیْجَابِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۲۰)
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایا ہوتا تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک سوال کرنا تھا، انھوں نے کہا: کس چیز کے بارے میں؟ میں نے کہا: یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: وہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔یعنی مثبت جواب دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10589

۔ (۱۰۵۸۹)۔ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ اِسْمَاعِیْلَ ثَنَّا عَامِرٌ قَالَ: اَتٰی مَسْرُوْقٌ عَائِشَۃَ فَقَالَ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! ھَلْ رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ؟ قَالَتْ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! لَقَدْ قَفَّ شَعْرِیْ لِمَا قُلْتَ، أَیْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَکَھُنَّ فَقَدْ کَذَبَ، مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَبَّہُ فَقَدْ کَذَبَ، ثُمَّّ قَرَأَتْ {لَاتُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ} {وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ} وَمَنْ أَخْبَرَکَ بِمَا فِیْ غَدٍ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّّ قَرَأَتْ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْأَرْحَامِ} وَمَنْ اَخْبَرَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَمَ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّّ قَرَأَتْ {یَا اَیُّھَا الرُّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ} وَلٰکِنَّہُ رَأٰی جِبْرِیْلُ فِیْ صُوْرَتِہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۱)
۔ عامر بیان کرتے ہیں کہ مسروق، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے ام المؤمنین! کیا محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، تیری بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، تجھے کوئی پتہ نہیں ان تین چیزوں کا کہ جو آدمی ان کو بیانکرے گا، وہ جھوٹا ہو گا، (۱)جو آدمی تجھے یہ بیان کرے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا، پس اس نے جھوٹ بولا، پھر سیدہ نے یہ آیات پڑھیں: اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی، اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے۔ (سورہ انعام: ۱۰۳) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ناممکن ہے کہ کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہیا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے، بیشک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (سورۂ زخرف: ۵۱) (۲) جو آدمی تجھے کل کی بات بتلائے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر سیدہ نے یہ آیت پڑھی: بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہ بارش نازل کرتا ہے اور اس چیز کو جانتا ہے، جو رحموں کے اندر ہوتی ہے۔ اور (۳) جو آدمی تجھے یہ بات بتلائے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شریعت کا کوئی حصہ چھپا لیا ہے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: اے رسول! جو کچھ تیرے ربّ کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے، اس کو آگے پہنچا دے۔ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل کو اس کی اصل صورت میں دوبار دیکھا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10590

۔ (۱۰۵۹۰)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ مَسْرُوْقٍ اَیْضًا قَالَ: کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَۃَ، فَقَالَتْ: یَا أَبَا عَائِشَۃَ! أَنَا اَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ھٰذِہِ، قَالَ: ((ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ لَمْ اَرَہُ فِیْ صُوْرَتِہِ الَّتِیْ خُلِقَ فِیْھَا اِلَّا مَرَّتَیْنِ، رَأَیْتُہُ مُنْھَبِطًا مِنَ السَّمَائِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِہِ مَابَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۲۶۵۲۱)
۔ (دوسری سند) مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، سیدہ نے کہا: اے ابو عائشہ! میں وہ پہلا فرد ہوں، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل تھے، میں نے صرف دو بار اس کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، جب میں نے اس کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو اس کے بڑے وجود نے آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10591

۔ (۱۰۵۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَأَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیْلَ أَنْ یَرَاہُ فِیْ صُوْرَتِہِ، فقَالَ: أُدْعُ رَبَّکَ، قَالَ: فَدَعَا رَبَّہُ فَطَلَعَ عَلَیْہِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، قَالَ: فَجَعَلَ یَرْتَفِعُ وَیَنْتَشِرُ، قَالَ: فَلَمَّا رَآہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَعِقَ، فَأَتَاہُ فَنَعَشَہُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۹۶۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ ان کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا: اپنے ربّ سے دعا کرو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے دعا کی، پس مشرق کی طرف سے سیاہ رنگ کا ایک وجود اٹھا، پھر وہ بلند ہونے اور پھیلنے لگا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیہوش ہو گئے، جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھڑا کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوشۂ دہن سے لعاب کو صاف کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10592

۔ (۱۰۵۹۲)۔ عَنْ أبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی (یَعْنِیْ الْأَشْعَرِیَّ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہُ أَنْ یَنَامَ،یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَیَرْفَعُہُ، حِجَابُہُ النَّارُ لَوْ کَشَفَھَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ کُلَّ شَیْئٍ أَدْرَکَہُ بَصَرُہُ، ثُمَّّ قَرَأَ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ {نُوْدِیَ أَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِیْ النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} (مسند احمد: ۱۹۸۱۶)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نہ اللہ تعالیٰ سوتا ہے اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ کسی کے حق میں ترازوں کو جھکاتا ہے اور کسی کے حق میں اٹھا دیتا ہے، اس کا پردہ آگ کا ہے، اگر وہ اس پردے کو چاک کر دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ہر اس چیز کو جلا دیں گے، جہاں تک اس کی نگاہ کا ادراک ہے۔ پھر ابو عبیدہ راوی نے اس آیت کی تلاوت کی: جب موسی وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے، وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10593

۔ (۱۰۵۹۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ أُسْرِیَ بِیْ، وَأَصْبَحْتُ بِمَکَّۃَ فَظِعْتُ بِأَمْرِی وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُکَذِّبِیَّ۔)) فَقَعَدَ مُعْتَزِلاً حَزِیْناً قَالَ: فَمَرَّ عَدَوُّ اللّٰہِ أَبُوْ جَھْلٍ، فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ إِلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ۔ کَالْمُسْتَھْزِیِٔ۔ ھَلْ کَانَ مِنْ شَیْئٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((نَعَمْ))قَالَ: مَاھُوَ؟ قَالَ: ((إِنَّہٗاُسْرِیَ بِیَ اللَّیْلَۃَ۔)) قَالَ: إِلٰی أَیْنَ؟ قَالَ: ((إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَصْبَحْتَ بَیْنَ ظَھْرَانَیْنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَلَمْ یَرَ أَنَّہُ یُکَذِّبُہُ مَخَافَۃَ أَن یَّجْحَدَہُ الْحَدِیْثَ إِذَا دَعَا قَوْمَہُ إِلَیْہِ، قَالَ: أَرَأَیْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَکَ تُحَدِّثُھُمْ مَاحَدَّثْتَنِی؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ)) فَقَالَ: ھَیَّا مَعْشَرَبَنِی کَعْبِ بْنِ لُؤَیٍّ! فَانَتَفَضَتْ إِلَیْہِ الْمَجَالِسُ، وَجَائُ وْا حَتّٰی جَلَسُوْا إِلَیْھَا، قَالَ: حَدِّثْ قَوْمَکَ بِمَا حَدَّثْتَنِی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّیْ أُسْرِیَ بِیَ اللَّیْلَۃَ۔)) قَالُوْا: إِلٰی أَیْنَ؟ قَالَ: ((إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَیْنَ ظَھْرَانَیْنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَمِنْ بَیْنَ مُصْفِقٍ، وَمِنْ بَیْنِ وَاضِعٍ یَدَہُ عَلٰی رَأْسِہِ مُتَعَجِّباً لِلْکِذْبِ۔ زَعَمَ! قَالُوْا: وَھَلْ تَسْتَطِیْعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ، وَفِی الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلٰی ذٰلِکَ الْبَلَدِ وَرَأَی الْمَسْجِدَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَذَھَبْتُ أَنْعَتُ، فَمَازِلْتُ أَنْعَتُ حَتّٰی الْتَبَسَ عَلَیَّ بَعْضُ النَّعْتِ۔ قَالَ: فَجِیَٔ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتّٰی وُضِعَِ دُوْنَ دَارِ عِقَالٍ۔ أَوْ عَقِیْلٍ۔ فَنَعَتُّہُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَیْہ۔)) قَالَ: وَکاَنَ مَعَ ھٰذَا نَعَتٌ لَمْ أَحْفَظْہُ۔ قاَلَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ، فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ أَصَابَ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مجھے اسرا کرایا گیا اور میں صبح کو مکہ میں پہنچ گیا، میں گھبرا گیا اور مجھے علم ہو گیا کہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے، سو آپ خلوت میں غمزدہ ہو کر بیٹھ گئے۔ اللہ کا دشمن ابوجہل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، وہ آیا اور آپ کے پاس بیٹھ گیا اور مذاق کرتے ہوئے کہا: کیا کچھ ہوا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے اسرا کرایا گیا ہے۔ اس نے کہا: کہاں تک؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت المقدس تک۔ اس نے کہا: پھر صبح کو آپ ہمارے پاس بھی پہنچ گئے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ ابوجہل نے سوچا کہ ابھی اس کو نہیں جھٹلاتا، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنی قوم کو بلاؤں اور یہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اپنی بات بیان کرنے سے انکا ردے۔ اس لئے ابوجہل نے کہا: اگر میں تیری قوم کو بلاؤں تو تو ان کے سامنے یہی گفتگو بیان کرے گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: بنو کعب بن لؤی کی جماعت ادھر آؤ۔ ساری کی ساری مجلسیں اس کی طرف ٹوٹ پڑیں، وہ سب کے سب آ گئے اور ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے کہا: (اے محمد!) جو بات مجھے بیان کی تھی، ان کوبھی بیان کرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے اِسراء کرایا گیا۔ انھوںنے کہا: کہاں تک؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت المقدس تک۔ انھوں نے کہا: پھر صبح کو یہاں بھی پہنچ گئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (یہ سن کر) کوئی تالی بجانے لگ گیا اور کوئی (بزعمِ خود) اس جھوٹ پرمتعجب ہو کر اپنے سر کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔ پھر انھوں نے کہا: کیا مسجد اقصی کی علامات بیان کرسکتے ہو؟ ان میں سے بعض لوگوں نے اس علاقے کا سفر بھی کیا ہوا تھا اور مسجد اقصی دیکھی ہوئی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کی علامتیں بیان کرنا شروع کر دیں، لیکن بعض نشانیوں کے بارے میں اشتباہ و التباس سا ہونے لگا۔ آپ نے فرمایا: مسجد اقصی کی (تمثیل کو) کو لایا گیا اور عقال یا عقیل کے گھر سے بھی قریب رکھ دیا گیا، میں نے اسے دیکھ کر نشانیاں بیان کر دیں، اس کے باوجود مجھے کچھ نشانیاںیاد نہ رہیں۔ لوگوں نے کہا: رہا مسئلہ علامات کا، تو وہ تو اللہ کی قسم! آپ نے درست بیان کر دیں ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10594

۔ (۱۰۵۹۴)۔ عَنْہ اَیْضًا قَالَ: أُسْرِیَ بِالنَّبِیِّ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ ثُمَّّ جَائَ مِنْ لَیْلَتِہِ فَحَدَّثَھُمْ بِمَسِیْرِہِ وَبِعَلَامَۃِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِیْرِھِمْ، فَقَالَ نَاسٌ: نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا یَقُوْلُ فَارْتَدُّوْا کُفَّارًا، فَضَرَبَ اللّٰہُ أَعْنَاقَھُمْ مَعَ أبِیْ جَھْلٍ وَقَالَ اَبْوُ جَھْلٍ: یُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ ھَاتُوْا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوْا، وَرَأَی الدَّجَّالَ فِیْ صُوْرَتِہِ رُؤْیَا عَیْنٍ لَیْسَ رُؤْیَا مَنَامٍ، وَعِیْسٰی وَمُوسٰی وَاِبْرَاھِیْمَ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ، فَسُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الدَّجَّالِ فقَالَ: اَقْمَرُ ھِجَانًا، قَالَ حَسَنٌ: قَالَ: رَأَیْتُہُ فَیْلَمَانِیًا اَقْمَرُ ھِجَانًا اِحْدَی عَیْنَیْہِ قَائِمَۃٌ کَأَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ، کَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِہِ أَغْصَانُ شَجَرَۃٍ، وَرَأَیْتُ عِیْسٰی شَابًّا أَبْیَضَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، حَدِیْدَ الْبَصَرِ، مُبَطَّنَ الْخَلْقِ، وَرَأَیْتُ مُوسٰی أَسْحَمَ آدَمَ کَثِیْرَ الشَّعْرِ، (قَالَ حَسَنٌ: اَلشَّعَرَۃِ) شَدِیْدَ الْخَلْقِ، وَنَظَرْتُ اِلٰی اِبْرَاھِیْمَ فَـلَا أَنْظُرُ اِلَی اِرْبٍ مِنْ آرَابِہٖاِلَّانَظَرْتُاِلَیْہِ مِنِّیْ کَأَنَّہُ صَاحِبُکُمْ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ: سَلِّمْ عَلٰی مَالِکٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۳۵۴۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت المقدس کی طرف اسراء کرایا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی رات کو ہی واپس آ گئے اور لوگوں کو اپنے سفر ، بیت المقدس کی علامت اور ان کے قافلے کے بارے میں بتایا، لوگوں نے کہا: کیا ہم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی باتوںکی تصدیق کریں؟ پھر وہ کفر پر ڈٹ گئے، پس اللہ تعالیٰ (غزوۂ بدر کے موقع پر) ان کی گردنوں کو ابو جہل کے ساتھ ٹکرا دیا، ابو جہل نے (استہزاء کرتے ہوئے) کہا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہمیں زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے، لے آؤ اور کھجور اور مکھن اور کھاؤ (افریقی زبان میں کھجور اور مکھن کو زقوم کہتے تھے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواب میں نہیں، بلکہ اپنی آنکھوں سے دجال کو اس کی اصلی شکل میں دیکھا،نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیسی، موسی اور ابراہیمR کو دیکھا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بڑے جسم والا اور انتہائی سفید رنگ کا تھا، اس کیایک آنکھ اس طرح ابھری ہوئی تھی کہ گویا کہ وہ روشن ستارہ تھی، اس کے سر کے بال (اس قدر زیادہ تھے کہ) وہ درخت کی شاخوں کی طرح لگ رہا تھا، میں نے عیسی علیہ السلام کودیکھا، وہ سفیدرنگ کے نوجوان تھے، سر کے بال گھنگریالے تھے، وہ تیز نگاہ والے اور پتلے دبلے پیٹ والے تھے، میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا ، وہ سیاہی مائل گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں نے ان کا جو عضو دیکھا، ایسے لگا کہ میں اپنا عضو دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ تمہارے ساتھی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرح ہی ہیں،پھر جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: (جہنم کے داروغے) مالک کو سلام کہو، پس میں نے اس کو سلام کہا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10595

۔ (۱۰۵۹۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَمَّا کَذَّبَتْنِیْ قُرَیْشٌ حِیْنَ أُسْرِیَ بِیْ اِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ قُمْتُ فِیْ الْحِجْرِ فَجَلَا اللّٰہُ لِیْ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُھُمْ عَنْ آیَاتِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۹۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قریش نے بیت المقدس کی طرف اسراء کے سلسلے میں مجھے جھٹلا دیا تو میں حطیم میں کھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو واضح کر دیا، پس میں نے اس کو دیکھ کر قریشیوں کو اس کی نشانیوں کے بارے میں بتلانا شروع کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10596

۔ (۱۰۵۹۶)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ أَنّہُ سَمِعَ رَبِیْعَۃَ بْنَ عِبَادٍ الدِّیْلِیَّیَقُوْلُ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَطُوْفُ عَلَی النَّاسِ بِمِنًی فِیْ مَنَازِلِھِمْ قَبْلَ أَنْ یُھَاجِرَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِیَقُوْلُ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَعْبُدُوْہُ وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا)) قَالَ: وَوَرَائُ ہٗرَجُلٌیَقُوْلُ: ھٰذَا یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَدَعُوْا دِیْنَ أَبَائِکُمْ، فَسَأَلْتُ مَنْ ھٰذَا الرَّجُلُ؟ فَقِیْلَ: ھٰذَا أَبُوْ لَھَبٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۰)
۔ سیدنا ربیعہ بن عباد دیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کے موسم میں مِنٰی میں لوگوں کی رہائش گاہوں میں ان کے پاس جاتے اور فرماتے: لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ایک آدمی ہوتا، وہ کہتا: یہ شخص تم کو حکم دے رہا ہے کہ تم اپنے آباء کا دین چھوڑ دو، میں نے پوچھا کہ پیچھے والا آدمی کون ہے؟ جواب دیا گیا کہ یہ ابو لہب ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10597

۔ (۱۰۵۹۷)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنَ عَبَّادٍ اَیْضًا قَالَ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَأَذْکُرُہُ (یَعْنِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) یَطُوْفُ عَلَی الْمَنَازِلِ بِمِنًی، وَأَنَا مَعَ أَبِیْ غَلَامٌ شَابٌّ، وَوَرَائَ ہٗرَجُلٌحَسَنُالْوَجْہِأَحْوَلُذُوْغَدِیْرَتَیْنِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ قَالَ: ((أَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَعْبدُوْہُ، وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا۔)) وَیَقُوْلُ الَّذِیْ خَلْفَہُ: اِنَّ ھٰذَا یَدْعُوْکُمْ اِلٰی أَنْ تُفَارِقُوْا دِیْنَ آبَائِکُمْ وَأَنْ تَسْلُخُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی وَحُلَفَائَکُمْ مِنْ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ اُقَیْشٍ اِلَی مَا جَائَ بِہٖمِنَالْبِدْعَۃِ وَالضَّلَالِ قَالَ: فَقُلْتُ لِاَبِیْ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: عَمُّہُ أَبُوْلَھَبٍ عَبْدُ الْعُزَّی بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۲۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا ربیعہ بن عباد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچھی طرح یاد ہیں کہ آپ مِنٰی میں لوگوں کے پاس جاتے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا اور اپنے باپ کے ساتھ ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے ایک آدمی تھا، وہ خوبصورت چہرے والا، بھینگی آنکھ والا اور دو چٹیوں والا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی قوم کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے: میں اللہ کا رسول ہوں، وہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور پیچھے والا آدمی کہتا: یہ تمہیں اس چیز کی دعوت دیتا ہے کہ تم اپنے آباء کے دین سے باز آ جاؤ، لات و عزی کو اور بنو مالک بن اُقیش میں سے اپنے حلیفوں کو چھوڑ دو اور اس کی لائی ہوئی بدعت و ضلالت کو اختیار کر لو۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: یہ شخص کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب عبد العزی بن عبد المطلب ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10598

۔ (۱۰۵۹۸)۔ عَنْ أَشْعَثَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ شَیْخٌ مِنْ بَنِیْ مَالِکِ بْنِ کِنَانَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسُوْقِ ذِی الْمَجَازِ یَتَخَلَّلُھَایَقُوْلُ: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ! قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا)) قَالَ: وَأَبُوْجَھْلٍیَحْثِیْ عَلَیْہِ التُّرَابَ وَیَقُوْلُ: یَا أَیُّھَا النَّاسُ! لَا یَغُرَّنَّکُمْ ھٰذَا عَنْ دِیْنِکُمْ، فَاِنَّمَا یُرِیْدُ لِتَتْرُکُوْا اٰلِھَتَکُمْ وَتَتْرُکُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، قَالَ: وَمَا یَلْتَفِتُ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْنَا: انْعَتْ لَنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: بَیْنَ بُرْدَیْنِ اَحْمَرَیْنِ مَرْبُوْعٌ کَثِیْرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْہِ شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ اَبْیَضُ شَدِیْدُ الْبَیَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۲۰)
۔ اشعث کہتے ہیں: بنو مالک بن کنانہ کے ایک بزرگ نے مجھے بیان کیا کہ اس نے ذو مجاز بازار میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں گھستے جا رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے لوگو! لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، کامیاب ہو جاؤ گے۔ اُدھر ابوجہل اپنے آپ پر مٹی ڈالتے ہوئے کہہ رہا تھا، لوگو! یہ تم کو تمہارے دین کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے، یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں اور لات و عزی کو چھوڑ دو، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے، ہم نے اس بزرگ سے کہا: تم ہمارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرو، اس نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرخ رنگ کی دو چادریں زیب ِ تن کر رکھی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قد معتدل تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گوشت تھے، خوبصورت چہرے والے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال سخت سیاہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ بہت سفید تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال بھرپور تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10599

۔ (۱۰۵۹۹)۔ عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ أَخِی بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْھَلِ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ أَبُوْ الْجُلَیْسِ أَنَسُ بْنُ رَافِعٍ مَکَّۃَ وَمَعَہُ فِتْیَۃٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْأَشْھَلِ فِیْھِمْ اِیَاسُ بْنُ مُعَاذٍ یَلْتَمِسُوْنَ الْحِلْفَ مِنْ قُرَیْشٍ عَلٰی قَوْمِھِمْ مِنَ الْخَزْرَجِ، سَمِعَ بِھِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاھُمْ فَجَلَسَ اِلَیْھِمْ، فَقَالَ لَھُمْ: ((ھَلْ لَکُمْ اِلٰی خَیْرٍ مِمَّاجِئْتُمْ لَہُ؟)) قَالُوْا: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: ((أَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ بَعَثَنِیْ اِلَی الْعِبَادِ، اَدْعُوھُمْ اِلٰی أَنْ یَعْبُدُوْا اللّٰہَ لَایُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، وَأَنْزَلَ عَلَیَّ کِتَابًا۔)) ثُمَّّ ذَکَرَ الْاِسْلَامَ وَتَلَا عَلَیْھِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ اِیَاسُ بْنُ مُعَاذٍ وَکَانَ غُلَامًا حَدَثًا: أَیْ قَوْمِ! ھٰذَا وَاللّٰہِ! خَیْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ لَہُ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُوْ جُلَیْسٍ أَنَسُ بْنُ رَافِعٍ حَفْنَۃً مِنَ الْبَطْحَائَ فَضَرَبَ بِھَا فِیْ وَجْہِ اِیَاسِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْھُمْ وَانْصَرَفُوْا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَکَانَتْ وَقْعَۃُ بُعَاثٍ بَیْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، قَالَ: ثُمَّّ لَمْ یَلْبَثْ اِیَاسُ بْنُ مُعَاذٍ اَنْ ھَلَکَ، قَالَ مَحْمُوْدٌ بْنُ لَبِیْدٍ: فَأَخْبَرَنِیْ مَنْ حَضَرَہُ مِنْ قَوْمِیْ عِنْدَ مَوْتِہِ اَنَّھُمْ لَمْ یَزَالُوْایَسْمَعُوْنَہُیُھَلِّلُ اللّٰہَ وَیُکَبِّرُہُ وَیَحْمَدُہُ وَیُسَبِّحُہُ حَتّٰی مَاتَ فَمَا کَانُوْا یَشُکُّوْنَ اَنْ قَدْ مَاتَ مُسْلِمًا، لَقَدْ کَانَ اسْتَشْعَرَ الْاِسْلَامَ فِیْ ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ حِیْنَ سَمِعَ مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا سَمِعَ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۱۸)
۔ بنو عبد الاشہل کے بھائی سیدنا محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو جلیس انس بن رافع مکہ مکرمہ میں آیا، اس کے ساتھ سیدنا ایاس بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، وہ اپنی قوم خزرج کی مخالفت میں قریش کو اپنا حلیف بنانا چاہتے تھے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کا پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس آ کر بیٹھے اور ان سے فرمایا: جس مقصد کے لیے تم آئے ہو، کیا تم کو اس سے بہتر چیز کی رغبت ہے؟ انھوں نے کہا: وہ کون سی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے بندوں کی طرف بھیجا ہے ، میں لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس نے مجھ پر کتاب بھی نازل کی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے سامنے اسلام کا ذکر کیا اور قرآن مجید کی تلاوت بھی کی۔ یہ سن کر نو عمر لڑکے ایاس بن معاذ نے کہا: اے میری قوم! جس مقصد کے لیے تم آئے ہو، اللہ کی قسم ہے، یہ چیز اس سے بہتر ہے، یہ تبصرہ سن کر ابو جلیس انس نے وادیٔ بطحاء سے ایک چلو بھرا اور ایاس بن معاذ کے چہرے پر دے مارا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس سے کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ مدینہ کو واپس چلے گئے، جب اوس اور خزرج میں بعاث کی لڑائی واقع ہوئی تو سیدنا ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جلد ہی اس میں فوت ہو گئے۔ سیدنا محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری قوم کے جو لوگ ایاس کی موت کے وقت اس کے پاس موجود تھے، انھوں نے مجھے بتلایا کہ وہ ایاسکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتے ہوئے سنتے رہے، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، ان لوگوں کو یقین تھا کہ وہ اسلام کی حالت میں فوت ہوئے ہیں، انھوں نے مکہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجلس سے ہی اسلام کو سمجھ لیاتھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10600

۔ (۱۰۶۰۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ یَوْمُ بُعَاثٍ یَوْمًا قَدَّمَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُھُمْ وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُھُمْ وَرَفَقُوْا للّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَلِرَسُوْلِہِ فِیْ دُخُوْلِھِمْ فِیْ الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۲۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے واقعۂ بعاث کے دن کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد سے پہلے بنا دیا تھا، اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان کی جماعت تتر بتر ہو چکی تھے، اس کے سردار قتل ہو چکے تھے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے نرمی برتی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10601

۔ (۱۰۶۰۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْرِضُ نَفْسَہُ عَلَی النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ فَیَقُوْلُ: ((ھَلْ مِنْ رَجُلٍ یَحْمِلُنِیْ اِلٰی قَوْمِہِ فَاِنَّ قُرَیْشًا قَدْ مَنَعُوْنِیْ أَنْ اُبَلِّغَ کَلَامَ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ۔)) فَاَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ ھَمْدَانَ، فَقَالَ: ((مِمَّنْ أَنْتَ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: مِنْ ھَمْدَانَ، قَالَ: ((فَھَلْ عِنْدَ قَوْمِکَ مِنْ مَنَعَۃٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّّ اِنَّ الرَّجُلَ خَشِیَ أَنْ یَحْقِرَہُ قَوْمُہُ، فأَتَی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: آتِیْھِمْ فَأُخْبِرُھُمُ ثُمَّّ آتِیْکَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَانْطَلَقَ وَجَائَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِیْ رَجَبٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۶۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (عرفات کے) موقف میں اپنے آپ کو لوگوں پر پیش کرتے اور فرماتے: کیا کوئی ایسا آدمی ہے، جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام لوگوں تک پہنچا سکوں، کیونکہ قریش نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا ہے؟ ہمدان سے ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہمدان سے ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیری قوم کے پاس طاقت و عزت ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر وہ آدمی ڈر گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی قوم اس کو حقیر قرار دے، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں اپنی قوم کے پاس جا رہا ہوں، ان کو یہ تفصیل بتاؤں گا اور پھر اگلے سال آپ کے پاس آؤں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پس وہ چلا گیا اور پھر رجب میں انصاریوں کا وفد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10602

۔ (۱۰۶۰۲)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: کُنْتُ فِیْمَنْ حَضَرَ الْعَقَبَۃَ الْأُوُلٰی وَکُنَّا اِثْنَیْ عَشَرَ رَجُلًا فَبَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَیْعَۃِ النِّسَائِ وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یُفْتَرَضَ الْحَرْبُ، عَلٰی أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِیَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِیَ بِبُھْتَانٍ نَفْتَرِیْہِ بَیْنَ أَیْدِیْنَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِیْہِ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَاِنْ وَفَیْتُمْ فَلَکُمُ الْجَنَّۃُ، وَاِنْ غَشِیْتُمْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَأَمْرُکُمْ اِلَی اللّٰہِ اِنْ شَائَ عَذَّبَکُمْ وَاِنْ شَائَ غَفَرَ لَکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۳۴)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیعت ِ عقبہ اولی میں موجود تھا، ہم کل بارہ مرد تھے، ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان امور پر بیعت کی، جن امور کا ذکر عورتوں کی بیعت میں ہے، یہ بیعت لڑائی اور جہاد فرض ہونے سے پہلے ہوئی تھی، ہم نے اس بات پر بیعت کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، بہتان گھڑ کر نہیں لگائیں گے اور نیکی کے سلسلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے، اگر تم نے یہ بیعت پوری کر دی تو تمہارے لیے جنت ہو گی اور اگر تم نے کسی چیز میںمخالفت کر دی تو تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گا، وہ چاہے تو تم کو عذاب دے اور چاہے تو تم کو بخش دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10603

۔ (۱۰۶۰۳)۔ (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِیْہِ الْوَلِیْدِ عَنْ جَدِّہِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَکَانَ أَحَدَ النُّقَبَائِ، قَالَ: بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ بَیْعَۃَ الْحَرْبِ، وَکَانَ عُبَادَۃُ مِنَ الْاِثْنَیْ عَشَرَ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا فِی الْعَقَبَۃِ الْأُوْلٰی عَلٰی بَیْعَۃِ النِّسَائِ فِی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِیْ عُسْرِنَا وَیُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَکْرَھِنَا وَلَا نُنَازِعُ فِی الْأَمْرِ أَھْلَہُ وَأَنْ نَقُوْلَ الْحَقَّ حَیْثُمَا کَانَ لَا نَخَافُ فِیْ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۷۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لڑائی کرنے پر بیعت کی، سیدنا عبادہ بن صامت بارہ افراد میں سے تھے، جنہوں نے عقبۂ اولی میں ان امور پر بیعت کی تھی، جن امور پر عورتوں کی بیعت ہوتی تھی، بیعتیہ تھی کہ بدحالی میں، خوشحالی میں، خوشی میں اور ناخوشی میں خلیفہ کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، امارت کے اہل لوگوں سے امارت نہیں چھینیں گے، حق کہیں گے، وہ جہاں بھی ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10604

۔ (۱۰۶۰۴)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَکَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَ سِنِیْنَیَتْبَعُ النَّاسَ فِیْ مَنَازِلِھِمْ بِعُکَاظٍ وَمَجَنَّۃَ، وَ فِیْ الْمَوَاسِمِ بِمِنًییَقُوْلُ: ((مَنْ یُؤْوِیْنِیْ؟ مَنْ یَنْصُرُنِیْ؟ حَتّٰی أُبَلِّغَ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَلَہُ الْجَنَّۃُ۔)) حَتّٰی اِنَّ الرَجُلَ لَیَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ فَیَأْتِیْہِ قَوْمُہُ فَیَقُوْلُوْنَ: احْذِرْ مِنْ غُلَامِ قُرَیْشٍ لَا یَفْتِنُکَ، وَیَمْشِیْ بَیْنَ رِحَالِھِمْ وَھُمْ یُشِیْرُوْنَ اِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ حَتّٰی بَعَثَنَا اللّٰہُ اِلَیْہِ مِنْ یَثْرِبَ فَآوَیْنَاہُ وَصَدَّقْنَاہُ، فَیَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَیُؤْمِنُ بِہٖیُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ، فَیَنْقَلِبُ اِلٰی أَھْلِہِ فَیُسْلِمُوْنَ بِاِسْلَامِہِ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ دَارٌ مِنْ دُوْرِ الْأَنْصَارِ اِلَّا وَفِیْھَا رَھْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَیُظْھِرُوْنَ الْاِسْلَامَ، ثُمَّّ ائْتَمَرُوْا جَمِیْعًا، فَقُلْنَا حَتّٰی مَتٰی نَتْرُکُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُطْرَدُ فِیْ جِبَالِ مَکَّۃَ وَیَخَافُ؟ فَرَحَلَ اِلَیْہِ مِنَّا سَبْعُوْنَ رَجُلًا حَتّٰی قَدِمُوْا عَلَیْہِ فِی الْمَوْسَمِ فَوَاعَدْنَاہُ شِعْبَ الْعَقَبَۃَ فَاجْتَمَعْنَا عَلَیْہِ مِنْ رَجُلٍ ورَجُلَیْنِ حَتّٰی تَوَافَیْنَا، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُبَایِعُکَ؟ قَالَ: ((تُبَایِعُوْنِیْ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِیْ النَّشَاطِ وَالْکَسْلِ وَالنَّفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَعَلَی الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ، وأَنْ تَقُوْلُوْا فِیْ اللّٰہِ لَاتَخَافُوْنَ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَعَلٰی أَنْ تَنْصُرُوْنِیْ فَتَمْنَعُوْنِیْ اِذَا قَدِمْتُ عَلَیْکُمْ مِمَّا تَمْنَعُوْنَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَزْوَاجَکُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ وَلَکُمُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ وَأَخَذَ بِیَدِہِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ وَھُوَ مِنْ أَصْغَرِھِمْ، فَقَالَ: رُوَیْدًایَاأھَلَیَثْرِبِ! فَاِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَکْبَادَ الْاِبِلِ اِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنَّ اِخْرَاجَہُ الْیَوْمَ مُفَارِقَۃُ الْعَرْبِ کَافَّۃً وَقَتْلُ خِیَارِکُمْ، وَاَنْ تَعَضَّکُمُ السُّیُوْفُ، فَاِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُوْنَ عَلٰی ذٰلِکَ وَأَجْرُکُمْ عَلَیاللّٰہِ، وَاِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُوْنَ مِنْ أَنْفُسِکُمْ جَبِنَۃً فَبَیِّنُوْا ذٰلِکَ فَھُوَ عُذْرٌ لَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ، قَالُوْا: أَمِطْ عَنَّا یَااَسْعَدُ، فَوَاللّٰہِ! لَا نَدَعُ ھٰذِہِ الْبَیْعَۃَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُھَا أَبَدًا، قَالَ: فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ فَأَخَذَ عَلَیْنَا وَشَرَطَ یُعْطِیْنَا عَلَی ذٰلِکَ الْجَنَّۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ أَجْمَعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دس برس تک مکہ میں رہے، عکاظ اور مجنہ میں لوگوں کے ڈیروں پر جاتے اور مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں جاتے اور فرماتے: کون مجھے جگہ فراہم کرے گا؟ کون میری مدد کرے گا؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچاؤں اور اس شخص کو جنت ملے گی۔ حتی کہ ایک آدمییمن سے یا مضر سے مکہ کے لیے نکلتا اور اس کی قوم اس کے پاس آتی اور کہتی: قریشی آدمی سے بچ کر رہنا، کہیں وہ تجھے فتنے میں نہ ڈال دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے گھروں کے درمیان چلتے اور وہ انگلیوں سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اشارہ کرتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیںیثرت سے بھیجا، پس ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جگہ دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی، پس ہم میں سے آدمی نکلتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے، پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتا اور وہ بھی اس کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہو جاتے، یہاں تک کہ انصاری محلوں میں سے کوئی محلہ نہ بچا، مگر اس میں مسلمانوں کی ایک جماعت نے وجود پکڑ لیا، جو اسلام کا اظہار کرتے تھے، پھر اِن سب لوگوں نے اکٹھا ہو کر مشورہ کیا اور ہم نے کہا: ہم کب تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چھوڑے رکھیں گے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں جگہ نہ دی جائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں ڈرتے رہیں، پس ہم میں سے ستر افراد روانہ ہوئے، یہاں تک کہ حج کے موسم کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے، پہلے ہی ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عقبہ گھاٹی میں ملاقات کرنے کا طے کر لیا تھا، پس ہم ایک دو دو افراد کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچتے گئے، یہاں تک کہ ہم سارے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جمع ہو گئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میری بات کرو، اس بات پر کہ سنو گے اور اطاعت کرو گے، مستعدی میں اور سستیمیں (یعنی ہر حال میں)، بدحالی اور خوشحالی میں خرچ کرو گے، نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے منع کرو گے، اللہ تعالیٰ کے حق میں بات کرو گے اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے اور اس چیز پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے پاس آ جاؤں تو مجھے بھی ان (مکروہات سے) بچاؤ گے، جن سے تم اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنے بیٹوں کو بچاتے ہو، ان امور کے عوض تم کو جنت ملے گی۔ پس ہم کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی اور سیدنا اسعد بن زرارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جوکہ سب سے کم سن تھے، نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے یثرب والو! ذرا ٹھیرو، ہم اسی لیے دور دراز کا سفر کرکے آئے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، لیکنیاد رکھو کہ آج آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہاں سے لے جانا سارے عربوں کی دشمنی مول لینے کے، اپنے پسندیدہ افراد کو قتل کروانے اور تلواروں سے کٹنے کے مترادف ہے، اب یا تو تم ان آزمائشوں پر صبر کرو اور تمہارا اجر اللہ تعالیٰ پر ہو گا اور اگر تمہیں بزدلی کا ڈر ہو تو ابھی وضاحت کر دو، یہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے ہاں عذر ہو گا۔ باقی انصاریوں نے سیدنا اسعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے اسعد! ہٹ جاہمارے سامنے سے،اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی اس بیعت کو نہیں چھوڑیں گے اور نہ اس کو واپس لیں گے، پھر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے بیعت لی اور ہم پر شرطیں لگائیں اور اس عمل کے عوض اللہ تعالیٰ ہم کو جنت دے گا، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10605

۔ (۱۰۶۰۵)۔ حَدَّثَنَا أَبُوْ سَعِیْدٍ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا رَبِیْعَۃُ بْنُ کَلْثُوْمٍ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا غَادِیَۃَیَقُوْلُ: بَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (قَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ: فَقُلْتُ: بِیَمِیْنِکَ؟، قَالَ: نَعَمْ) قَالَا جَمِیْعًا فِی الْحَدِیْثِ: وَخَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْعَقَبَۃِ فقَالَ: ((یَاأَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ اِلٰییَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ عَزَّ وَجَلَّ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ۔)) ثُمَّّ قَالَ: ((أَلَا لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۴۲)
۔ سیدنا ابو غادیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، ابو سعید نے کہا: دائیں ہاتھ سے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عقبہ والے دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ سے ملاقات والے دن تک تمہارے خون اور اموال تم پر اس طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے، کیا میں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا ہے؟ سب سے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10606

۔ (۱۰۶۰۶)۔ حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ قَالَ: ثَنَا أبِیْ عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ مَعْبَدُ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکِ بْنِ أَبِیْ کَعْبِ بْنِ الْقَیْنِ أَخُوْ بَنِیْ سَلِمَۃَ اَنَّ أَخَاہُ عُبَیْدَاللّٰہِ بْنَ کَعْبٍ وَکَانَ مِنْ أَعْلَمِ الْأَنْصَارِ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ وَکَانَ کَعْبٌ مِمَّنْ شَھِدَ الْعَقَبَۃَ وَبَایَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِھَا ، قَالَ: خَرَجْنَا فِیْ حُجَّاجِ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَقَدْ صَلَّیْنَا وَفَقِھْنَا وَمَعَنَا الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ کَبِیْرُنَا وَسَیِّدُنَا، فَلَمَّا تَوَاجَھْنَا لِسَفَرِنَا وَخَرَجْنَا مِنَ الْمَدَیِنْۃِ قَالَ الْبَرَائُ لَنَا: یَاھٰؤُلَائِ اِنِّیْ قَدْ رَأَیْتُ وَاللّٰہِ! رَأْیًا وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ! مَا أَدْرِیْ تُوَافِقُوْنِیْ عَلَیْہِ اَمْ لَا؟ قَالَ: قُلْنَالَہُ: وَمَاذَاکَ؟ قَالَ: قَدْ رَأَیْتُ اَنْ لَا أَدَعَ ھٰذِہِ الْبَنِیَّۃَ مِنِّیْ بِظَھْرٍ، یَعْنِی الْکَعْبَۃَ وَاَنْ أُصَلِّیَ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقُلْنَا: وَاللّٰہِ! مَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِیَّنَایُصَلِّیْ اِلَّا اِلَی الشَّامِ وَمَا نُرِیْدُ أَنْ نُخَالِفَہَ، فَقَالَ: اِنِّیْ أُصَلِّیْ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: لٰکِنَّا لَانَفْعَلُ، فَکُنَّا اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ صَلَّیْنَا اِلَی الشَّامِ وَصَلّٰی اِلَی الْکَعْبَۃِ حَتّٰی قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ أَخِیْ: وَقَدْ کُنَّا عِبْنَا عَلَیْہِ مَا صَنَعَ وَأبِیْ اِلَّا الْاِقَامَۃَ عَلَیْہِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ! اِنْطَلِقْ اِلٰی رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْأَلْہُ عَمَّا صَنَعْتُ فِیْ سَفَرِیْ ھٰذَا فَاِنَّہُ وَاللّٰہِ! قَدْ وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ مِنْہُ شَیْئٌ لَمَّا رَأَیْتُ مِنْ خِلَافِکُمْ اِیَّایَ فِیْہِ، قَالَ: فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُنَّا لَا نَعْرِفُہُ لَمْ نَرَہُ قَبْلَ ذٰلِکَ، فَلَقِیَنَا رَجُلٌ مِنْ أھَلِ مَکَّۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ھَلْ تَعْرِفَانِہِ؟ قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ: فَھَلْ تَعْرِفَانِ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّہُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: وَکُنَّا نَعْرِفُ الْعَبَّاسَ، کَانَ لَا یَزَالُیَقْدِمُ عَلَیْنَا تَاجِرًا، قَالَ: فَاِذَا دَخَلْتُمَا الْمَسْجِدَ فَھُوَ الرَجُلُ الْجَالِسُ مَعَ الْعَبَّاسِ، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَاِذَا الْعَبَّاسُ جَالِسٌ وَرَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُ جَالِسٌ فَسَلَّمْنَا ثُمَّّ جَلَسْنَا اِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعَبَّاسِ: ((ھَلْ تَعْرِفُ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِیَا أَبَا الْفَضْلِ!)) قَالَ: نَعَمْ، ھٰذَا الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ سَیِّدُ قَوْمِہِ وَھٰذَا کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ، قَالَ: واللّٰہِ! مَا اَنْسٰی قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشَّاعِرُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ: یَانَبِیَّاللّٰہِ! اِنِّیْ خَرَجْتُ مِنْ سَفَرِیْ ھٰذَا وَھَدَانِیَ اللّٰہُ لِلْاِسْلَامِ فَرَأَیْتُ أَنْ لَا أَجْعَلَ الْبَنِیَّۃَ مِنِّیْ بِظَھْرٍ فَصَلَّیْتُ اِلَیْھَا وَقَدْ خَالَفَنِیْ أَصْحَابِیْ فِیْ ذٰلِکَ حَتّٰی وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ فَمَاذَا تَرٰییَارَسُوْلَ اللہ؟ قَالَ: ((لَقَدْ کَنْتَ عَلٰی قِبْلَۃٍ لَوْ صَبَرْتَ عَلَیْھَا)) فَقَالَ: فَرَجَعَ الْبَرَائُ اِلٰی قِبْلَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی مَعَنَا اِلَی الشَّامِ، قَالَ: وَأَھْلُہُ یَزْعُمُوْنَ أَنّہُ صَلّٰی اِلَی الْکَعْبَۃِحَتّٰی مَاتَ وَلَیْسَ ذٰلِکَ کَمَا قَالُوْا، نَحْنُ أَعْلَمُ بِہٖمِنْھُمْ،قَالَ: وَخَرَجْنَااِلَی الْحَجِّ فَوَاعَدْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَقَبَۃَ مِنْ أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ الْحَجِّ وَکَانَتِ اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ وَعَدْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ أَبُوْ جَابِرٍ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا وَکُنَّا نَکْتُمُ مَنْ مَعَنَا مِنْ قَوْمِنَا مِنْ الْمُشْرِکِیْنَ أَمْرَنَا فَکَلَّمْنَاہُ وَقُلْنَا لَہُ: یَا اَبَاجَابِرٍ! اِنَّکَ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا وَشَرِیْفٌ مِنْ أَشْرَافِنَا، وَاِنَّا نَرْغَبُ بِکَ عَمَّا أَنْتَ فِیْہِ اَنْ تَکُوْنَ حَطَبًا لِلنَّارِ غَدًا، ثُمَّّ دَعَوْتُہُ اِلَی الْاِسْلَامِ وَأَخْبَرْتُہُ بِمِیْعَادِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْلَمَ وَشَھِدَ مَعَنَا الْعَقَبَۃَ وَکَانَ نَقِیْبًا، قَالَ: فَنِمْنَا تِلْکَ اللَّیْلَۃَ مَعَ قَوْمِنَا فِیْ رِحَالِنَا حَتّٰی اِذَا مَضٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ خَرَجْنَا مِنْ رِحَالِنَا لِمِیْعَادِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَتَسَلَّلُ مُسْتَخْفِیْنَ تَسَلُّلَ الْقَطَا حَتَّی اجْتَمَعْنَا فِی الشِّعْبِ عِنْدَ الْعَقَبَۃِ وَنَحْنُ سَبْعُوْنَ رَجُلًا وَمَعَنَا امْرَأَتَانِ مِنْ نِسَائِھِمْ، نَسِیْبَۃُ بِنْتُ کَعْبٍ اُمُّ عُمَارَۃَ اِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ، وَ اَسْمَائُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ اِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ سَلِمَۃَ وَھِیَ اُمُّ مَنِیْعٍ، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا بِالشعب نَنْتَظِرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَائَ نَا وَمَعَہُ یَوْمَئِذٍ عَمُّہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ عَلَی دِیْنِ قَوْمِہِ اِلَّا أَنَّہُ اَحَبَّ اَنْ یَحْضُرَ اَمْرَ ابْنِ أَخِیْہِ وَیَتَوَثَّقَ لَہُ، فَلَمَّا جَلَسْنَا کَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوَّلَ مُتَکَلِّمٍ، فَقَالَ: یَامَعْشَرَ الْخَزْرَجِ! قَالَ: وَکَانَتِ الْعَرَبُ مِمَّا یُسَمُّوْنَ ھٰذَا الْحَیَّ مِنَ الْاَنْصَارِ الْخَزْرَجَ أَوْسَھَا وَخَزْرَجَھَا، اِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا حَیْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ وَقَدْ مَنَعْنَاہُ مِنْ قَوْمِنَا مِمَّنْ ھُوَ عَلَی مِثْلِ رَأْیِنَا فِیْہِ وَھُوَ فِیْ عِزٍّ مِنْ قَوْمِہِ وَمَنَعَۃٍ فِیْ بَلَدِہِ، قَالَ: فَقُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا مَا قُلْتَ فَتَکَلَّمْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَخُذْ لِنَفْسِکَ وَلِرَبِّکَ مَا أَحْبَبْتَ، قَالَ: فَتَکَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَلَا وَدَعَا اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغَّبَ فِی الْاِسْلَامِ، قَالَ: ((أُبَایِعُکُمْ عَلٰی أَنْ تَمْنَعُوْنِیْ مِمَّا تَمْنَعُوْنَ مِنْہُ نِسَائَکُمْ وَأَبْنَائَکُمْ)) قَالَ: فَأَخَذَ الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ بِیَدِہِ ثُمَّّ قَالَ: نَعَمْ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! لَنَمْنَعُکَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ أُزُرَنَا فَبَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَحْنُ أَھْلُ الْحُرُوْبِ وَأَھْلُ الْحَلْقَۃِ وَرِثْنَاھَا کَابِرًا عَنْ کَابِرٍ، قَالَ: فَاعْتَرَضَ الْقَوْلَ وَالْبَرَائُ یُکَلِّمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبُو الْھَیْثَمِ بْنُ التَّیِّھَانِ حَلِیْفُ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْھَلِ فقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اِنَّ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الرِّجَالِ حِبَالًا وَاِنَّا قَاطِعُوْھَا یَعْنِی الْعُھُوْدَ، فَھَلْ عَسَیْتَ اِنْ نَحْنُ فَعَلْنَا ذٰلِکَ ثُمَّّ أَظْھَرَکَ اللّٰہُ اَنْ تَرْجِعَ اِلٰی قَوْمِکَ وَتَدَعَنَا؟ قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمّّ قَالَ: ((بَلِ الدَّمَ الدَّمَ وَالْھَدَمَ الْھَدَمَ اَنَا مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ مِنِّیْ، أُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُمْ وَأُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُمْ۔)) وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَخْرِجُوْا اِلَیَّ مِنْکُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًایَکُوْنُوْنَ عَلٰی قَوْمِھِمْ۔)) فَأَخْرَجُوْا مِنْھُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا، مِنْھُمْ تِسْعَۃٌ مِنَ الْخَزْرَجِ وَثَلَاثَۃٌمِنَ الْأَوْسِ، وَأَمَّا مَعْبَدُ بْنُ کَعْبٍ فَحَدَّثَنِیْ فِیْ حَدِیْثِہِ عَنْ أَخَیْہِ عَنْ أَبِیْہِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَ عَلٰییَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ ثُمّّ تَتَابَعَ الْقَوْمُ، فَلَمَّا بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَرَخَ الشَّیْطَانُ مِنْ رَأْسِ الْعَقَبَۃِ بِأَبْعَدِ صَوْتٍ سَمِعْتُہُ قَطُّ، یَا أَھْلَ الْجُبَاجِبِ! وَالْجُبَاجِبُ الْمَنَازِلُ، ھَلْ لَکُمْ فِیْ مُذَمَّمٍ وَالصُّبَاۃُ مَعَہُ قَدْ أَجْمَعُوْا عَلٰی حَرْبِکُمْ، قَالَ عَلِیٌّیَعْنِیْ ابْنَ اِسْحَاقَ مَا یَقُوْلُ عَدُوُّ اللّٰہِ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا أَزَبُّ الْعَقَبَۃِ ھٰذَا ابْنُ اَزْیَبَ اسْمَعْ اَیْ عَدُوَّ اللّٰہِ أَمَا وَاللّٰہِ! لَاَ فْرُغَنَّ لَکَ۔)) ثُمّّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجَعُوْا اِلٰی رِحَالِکُمْ)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَادَۃَ بْنِ نَضْلَۃَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَئِنْ شِئْتَ لَنَمِیْلَنَّ عَلٰی أَھْلِ مِنًی غَدًا بِأَسْیَافِنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ أُوْمَرْ بِذٰلِکَ)) قَالَ: فَرَجَعْنَا فَنِمْنَا حَتّٰی اَصْبَحْنَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَتْ عَلَیْنَا جُلَّۃُ قُرَیْشٍ حَتّٰی جَائُ وْنَا فِیْ مَنَازِلِنَا فَقَالُوْا: یَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ! اِنَّہُ قَدْ بَلَغَنَا اَنَّکُمْ قَدْ جِئْتُمْ اِلٰی صَاحِبِنَا ھٰذَا تَسْتَخْرِجُوْنَہُ مِنْ بَیْنِ أَظْھُرِنَا وَتُبَایِعُوْنَہُ عَلٰی حَرْبِنَا، وَاللّٰہِ! اِنَّہُ مَا مِن الْعَرَبِ أَحَدٌ أَبْغَضَ اِلَیْنَا اَنْ تَنْشَبَ الْحَرَبُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ مِنْکُمْ، قَالَ فَانْبَعَثَ مِنْ ھُنَالِکَ مِنْ مُشْرِکِیْ قَوْمِنَا یَحْلِفُوْنَ لَھُمْ بِاللّٰہِ مَا کَانَ مِنْ ھٰذَا شَیْئٌ وَمَا عَلِمْنَاہُ، وَقَدْ صَدَقُوْا لَمْ یَعْلَمُوْا مَا کَانَ مِنَّا، قَالَ: فَبَعْضُنَا یَنْظُرُ اِلٰی بَعْضٍ، قَالَ: وَقَامَ الْقَوْمُ فِیْھِمُ الْحَارِثُ بْنُ ھِشَامِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْمَخْزُوْمِیُّ وَعَلَیْہِ نَعْلَانِ جَدِیْدَانِ قَالَ: فَقُلْتُ: کَلِمَۃً کَأَنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُشْرِکَ الْقَوْمَ بِھَا فِیْمَا قَالُوْا، مَاتَسْتَطِیْعُیَا أَبَا جَابِرٍ وَأَنْتَ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا أَنْ تَتَّخِذَ نَعْلَیْنِ مِثْلَ نَعْلَیْ ھٰذَا، ھٰذَا الْفَتٰی مِنْ قُرَیْشٍ؟ فَسَمِعَھَا الْحَارِثُ فَخَلَعَھُمَا ثُمّّ رَمٰی بِھِمَا اِلَیَّ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَتَنْتَعِلَنَّھُمَا، قَالَ: یَقُوْلُ أَبُوْ جَابِرٍ: أَحْفَظْتَ وَاللّٰہِ! الْفَتٰی فَارْدُدْ عَلَیْہِ نَعْلَیْہِ، قَالَ: فقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَرُدَّھُمَا، قَالَ وَاللّٰہِ! صَالِحٌ لَئِنْ صَدَقَ الْفَأْلُ لَاَسْلُبَنَّہُ، فَھٰذَا حَدِیْثُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ مِنَ الْعَقَبَۃِ وَمَا حَضَرَ مِنْھَا۔ (مسند احمد: ۱۵۸۹۱)
۔ عبید اللہ بن کعب، جو کہ انصاریوں میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو عقبہ میں حاضر ہوئے تھے اور وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنی قوم کے مشرک لوگوںکے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ہم نماز بھی پڑھتے تھے اور ہمیں دین کی سمجھ بھی تھی، ہمارے ساتھ ہمارے بڑے اور ہمارے سردار سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، جب ہم نے رخت ِ سفر باندھا اور مدینہ منورہ سے نکل پڑے تو سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، لیکنیہ میں نہیں جانتا کہ تم میری موافقت کرو گے یا نہیں؟ ہم نے کہا: وہ ہے کون سا؟ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ میں کعبہ کی عمارت کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا اور میں اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں تو یہی بات پہنچی ہے کہ ہمارے نبی شام کی طرف نماز پڑھتے ہیں، لہٰذا ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت تو نہیں کر سکتے، لیکن انھوں نے کہا: میں تو کعبہ کی طرف منہ کر کے ہی نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: لیکن ہم اس طرح نہیں کریں گے، اب صورتحال یہ تھی کہ جب نماز کا وقت ہو جاتا تو ہم شام کی طرف رخ کر کے اور سیدنا براء کعبہ کیطرف منہ کر کے نماز ادا کرتے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے، میرے بھائی نے کہا: ہم نے اس کے کیے کو معیوب تو سمجھا ہے، میرے باپ کی قسم! البتہ اس سے مخالفت نہیں کی، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! چلو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کر کے لاؤ، جو میں نے اس سفر میں کی ہے، جب سے میں نے دیکھا کہ تم لوگ میری مخالفت کر رہے ہو تو میرے نفس میں اس کے بارے میں شبہ پڑ گیا ہے، وہ کہتے ہیں: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرنے کے لیے نکلے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچانتے نہیں تھے، کیونکہ ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا نہیں تھا، جب مکہ مکرمہ کے ایک باشندے سے ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے اس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں دریافت کیا، اس نے کہا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: کیا تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا عباس بن عبد المطلب کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، چونکہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بطورِ تاجر ہمارے پاس آتے رہتے تھے، اس لیے ہم ان کو پہچانتے تھے، بہرحال اس نے کہا: جب تم مسجد میں داخل ہو تو جو آدمی عباس کے ساتھ بیٹھا ہو گا، وہی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہوں گے، پس ہم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے، ہم نے ان کو سلام کہا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے ابو الفضل! کیا آپ ان دو افراد کو جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ اپنی قوم کا سردار براء بن معرور ہے اور یہ کعب بن مالک، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات نہیں بھولا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: جو شاعر ہے، وہ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اب سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اس سفر میں نکلا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے لیے ہدایت دی ہوئی ہے، میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں کعبہ کی عمارت کو پشت پر نہیں رکھوں گا، بلکہ میں اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھوں گا، لیکن میرے ساتھیوں نے میرے ساتھ اتفاق نہیں کیا،یہاں تک کہ میرے نفس میں تردّد پیدا ہو گیا۔ اے اللہ کے رسول! اب آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو صبر کرتا تو تو قبلے پر ہی تھا۔ پس سیدنا براء نے فوراً رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قبلہ اختیار کر لیا اور ہمارے ساتھ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ سیدنا براء کے گھر والے تو یہ گمان کرتے تھے کہ وہ مرتے دم تک کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، لیکنیہ دعوی درست نہیں ہے، ہم اس کے اہل کی بہ نسبت اس کو زیادہ جانتے ہیں، پھر ہم حج کے لیے نکلے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایام تشریق کے وسط میں عقبہ کے مقام پر ملنے کا وعدہ کیا، پس جب ہم حج سے فارغ ہوئے اور وہ رات آ گئی، جس کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وعدہ کیا تھا، اُدھر ہمارے ساتھ ابو جابر عبد اللہ بن عمرو بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ہم اپنی قوم کے مشرک افراد سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات کو چھپانا چاہتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو جابر! تم سرداروں اور اشراف میں سے ایک سردار اور شریف ہو، لیکن جس دین پر تم ہو، ہم اس سے بے رغبت ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کل آگ کا ایندھن بن جاؤ، پھر میںنے ان کو اسلام کی دعوت دی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیے گئے وعدے کی خبر دی، پس وہ بھی مسلمان ہو گئے اور ہمارے ساتھ عقبہ میں شریک ہوئے، بلکہ ان کا نقیب بھی بنایا گیا، پس ہم اس رات کو اپنی قوم کے ساتھ اپنی رہائش گاہوں میں سو گئے، جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنی رہائش گاہوں سے نکل پڑے اور چھپتے ہوئے قطا پرندے کی طرح سرکنے لگے، یہاں تک کہ ہم عقبہ کے پاس گھاٹی میں جمع ہو گئے، ہم کل ستر مرد تھے اور ہمارے ساتھ دو عورتیں تھیں، ایک خاتون ام عمارہ نسیبہ بنت کعب تھیں، ان کا تعلق بنو مازن بن نجار سے تھا اور دوسری خاتون ام منیع اسماء بنت عمرو بن عدی تھیں، ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، ہم لوگ گھاٹی میں جمع ہو کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کرنے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، آپ کے چچا سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، وہ اس وقت اپنی قوم کے دین پر تھے، البتہ وہ چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کا معاملہ دیکھیں اور اعتماد حاصل کر لیں، جب وہاں بیٹھ گئے تو سب سے پہلے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی اور کہا: اے خزرج کی جماعت! بیشک تم جانتے ہو کہ محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہم میں سے ہیں، ہم نے اپنی قوم سے ان کی حفاظت کی ہوئی ہے، یہاں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اپنے قوم میں عزت کے ساتھ اور اپنے شہر میں قوت کے ساتھ ہیں۔ عرب لوگ انصاریوں کے اس قبیلے کو خزرج کہتے تھے، ہم نے کہا: ہم نے تمہاری بات سن لی ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ بات کریں اور اپنی پسند کے مطابق اپنی ذات کے لیے اور اپنے ربّ کے لیے جو معاہدے لینے ہیں، وہ لے لیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گفتگو کی، قرآن مجید کا کچھ حصہ تلاوت کیا، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، ان کو اسلام کی رغبت دلائی اور فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم ہر اس چیز سے مجھے تحفظ فراہم کرو گے، جس سے اپنی عورتوں اور بیٹوں کی حفاظت کرتے ہو۔ سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! ہم آپ کو اس چیز سے بچائیں گے، جس سے اپنی خواتین کو بچاتے ہیں، پس ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، ہم لڑائیوں والے اور اسلحہ والے تھے، یہ چیز ہم کو نسل در نسل ورثے میںملی تھی، ابھی تک سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہم کلام تھے کہ بیچ میں بنو عبد الاشہل کے حلیف سیدنا ابو الہیثم بن تیہان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بول پڑے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارے اور یہودیوں کے مابین معاہدے ہیں اور آپ کی وجہ سے ہم ان کو توڑ دینے والے ہیں، لیکن کیایہ ممکن ہے کہ جب ہم یہ سب کچھ کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کر دے تو آپ اپنی قوم کی طرف واپس آ جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں؟یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: نہیں، بلکہ اب تو جہاں تمہارا خون طلب کیا جائے گا، وہاں میرا خون بھی طلب کیا جائے گا اور جہاں تمہارے خون کو رائیگاں قرار دیا جائے گا، وہاں میرے خون کو بھی رائیگاں قرار دیا جائے گا، اب میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، جن سے تم لڑو گے، میں بھی ان سے لڑوں گا اور جن سے تم صلح کرو گے، میں بھی ان سے صلح کروں گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اپنے بارہ نقیب میری طرف نکالو، جو اپنی اپنی قوم کے ذمہ دار ہوں گے۔ پس انھوں نے بارہ نقیب منتخب کیے، نو خزرج سے تھے اور تین اوس سے، معبد بن کعب کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: پہلا شخص جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، پھر باقی لوگ پے در پے بیعت کرنے لگے، جب ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کر لی تو گھاٹی کی چوٹی سے شیطان بہت بلند آواز میں بولا، میں نے ایسی اونچی آواز کبھی نہیں سنی تھی، اور اس نے کہا: اے ان رہائش گاہوں والو! کیا تمہیں مذمَّم کی فکر ہے، بے دین لوگ تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے اس کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔ اس اللہ کے دشمن شیطان نے محمد نہیں کہا، بلکہ مذمّم کہا، یہ آواز سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس گھاٹی کا اَزَبّ شیطان ہے، یہ ابن اَزْیَب ہے، سن اے اللہ کے دشمن! خبردار! اللہ کی قسم ہے، میں تیرے لیے ضرور ضرور فارغ ہونے والا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹ جاؤ۔ سیدنا عباس بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم کل اپنی تلواریں لے کر اہلِ مِنٰی پر حملہ کر دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابھی تک مجھے اس چیز کا حکم نہیں دیا گیا۔ پس ہم لوٹ آئے اور اپنے اپنے مقام پر سو گئے، جب صبح ہوئی تو سردارانِ قریش ہمارے پاس ہماری رہائش گاہوں میں پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: اے خزرج کی جماعت! ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ تم ہمارے اس صاحب کے پاس گئے ہو اور اب اس کو ہمارے درمیان سے نکالنا چاہتے ہو اور ہمارے ساتھ لڑائی کرنے پر اس کی بیعت کر رہے ہو، اللہ کی قسم! ہر عرب کو یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ ہمارے اور تمہارے ما بینلڑائی بھڑک اٹھے، اب بتاؤ کہ کیا معاملہ ایسے ہی ہے؟ ہماری قوم کے مشرک لوگ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ان کے لیے اللہ کی قسمیں اٹھائیں کہ اس قسم کی کوئی چیز واقع نہیں ہوئی، بلکہ ہمیں تو ایسے معاملے کا علم ہی نہیں ہے، وہ لوگ سچ بول رہے تھے، کیونکہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ہم (ستر افراد) رات کو کیا کر کے آئے ہیں، البتہ ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر وہ لوگ اٹھ پڑے، ان میں حارث بن ہشام بن مغیرہ مخزومی بھی تھے، (یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے) انھوں نے دو نئے جوتے پہنے ہوئے تھے، سیدنا ابو جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے بھی ایک بات کہی ہے، گویا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں بھی لوگوں کے منفی جواب میں شریک ہو جاؤں، ہم نے کہا: اے ابو جابر! کیا آپ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ کے بھیاس قریشی نوجوان کے جوتوں کی طرح جوتے ہوں، جبکہ آپ ہمارے سردار ہیں؟ جب حارث نے یہ بات سنی تو اس نے وہ جوتے اتار دیئے اور ان کو میری طرف پھینک دیا اور کہا: اللہ کی قسم! تو ضرور ضرور ان کو پہنے گا، اس نے کہا: تو نے نوجوان کو ناراض کر دیا ہے، اب یہ جوتے اس کو واپس کر دے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میںیہ واپس نہیں کروں گا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہٹھیک ہیں، اگر یہ فال سچی ہے تو میں اس سے بطورِ سلب لوں گا۔ یہ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عقبہ کے بارے میں اور جو کچھ انھوں نے وہاں دیکھا تھا، اس کے بارے میں حدیث ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10607

۔ (۱۰۶۰۷)۔ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِیُّّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ الْعَبَّاسُ عَمُّہُ اِلَی السَّبْعِیْنَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَۃِ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ، فَقَالَ: ((لِیَتَّکَلِّمْ مُتَکَلِّمُکُمْ وَلَا یُطِیْلُ الْخُطْبَۃَ فَاِنَّ عَلَیْکُمْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ عَیْنًا، وَاِنْ یَعْلَمُوْا بِکُمْ یَفْضَحُوْکُمْ۔)) فَقَالَ قَائِلُھُمْ وَھُوَ أَبُوْ اُمَامَۃَ: سَلْ یَا مُحَمَّدُ! لِرَبِّکَ مَاشِئْتَ، ثُمَّّ سَلْ لِنَفْسِکَ وَلِأَصْحَابِکَ مَا شِئْتَ، ثُمَّّ أَخْبِرْنَا مَالَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَیْکُمْ اِذَا فَعَلْنَا ذٰلِکَ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَسْأَلُکُمْ لِرَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوْہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، وَأَسْأَلُکُمْ لِنَفْسِیْ وَلِأَصْحَابِیْ أَنْ تُؤْوُوْنَا وَتَنْصُرُوْنَا وَتَمْنَعُوْنَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ)) قَالُوْا: فَمَا لَنَا اِذَا فَعَلْنَا ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((لَکُمُ الْجَنَّۃُ)) قَالُوْا: فَلَکَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۰۶)
۔ سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ عقبہ کے پاس درخت کے نیچے ستر انصاریوں کے پاس تشریف لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں جس بندے نے بات کرنی ہے، وہ بات کرے اور خطاب کو لمبا نہ کرے، کیونکہ مشرکوں کا جاسوس تمہاری تاڑ میں ہے اور اگر ان کو تمہاری اس کاروائی کا پتہ چل گیا تو وہ تمہیں رسوا کر دیں گے۔ پس ان کے بات کرنے والے سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے محمد! اپنے ربّ کے لیے جو مطالبہ کرنا ہے کرو، اور پھر اپنے نفس اور اپنے صحابہ کے لیے جو چاہتے ہو، ہم سے سوال کرو، پھر ہمیں بتاؤ کہ اگر ہمیہ ذمہ داریاں نبھا دیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارا اجر و ثواب کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے اپنے ربّ کے لیےیہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے اور اپنے صحابہ کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوںکہ تم لوگ ہمیں جگہ فراہم کرو، ہماری مدد کرو اور ان امور سے ہماری بھی حفاظت کرو، جن سے تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کو جنت ملے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو آپ نے مطالبہ کیا ہے، وہ پورا کیا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10608

۔ (۱۰۶۰۸)۔ عَنْہٗمِنْطَرِیْقٍ ثَانٍٍ عَنْ أبِیْ مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ نَحْوُ ھٰذَا قَالَ: وَکَانَ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ أَصْغَرَھُمْ سِنًّا۔ (مسند احمد: ۱۷۲۰۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے اور وہ ابو مسعود عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10609

۔ (۱۰۶۰۹)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاء َ بْنَ عَازِبٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَیْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ قَالَ فَجَعَلَا یُقْرِئَانِ النَّاسَ الْقُرْآنَ ثُمَّ جَاء َ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ قَالَ ثُمَّ جَاء َ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِی عِشْرِینَ ثُمَّ جَاء َ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا رَأَیْتُ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَرِحُوا بِشَیْء ٍ قَطُّ فَرْحَہُمْ بِہٖحَتّٰی رَأَیْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْیَانَیَقُولُونَ ہٰذَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ جَاء َ قَالَ فَمَا قَدِمَ حَتّٰی قَرَأْتُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} فِیْ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۰۶)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے ہمارے پاس آنے والے صحابہ یہ تھے: سیدنا مصعب بن عمیر اور سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، یہ دونوں لوگوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے، پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال اور سعدfبھی پہنچ گئے، ان کے بعد بیس افراد سمیت سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آ گئے، بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی اہل مدینہ اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد سے خوش ہوئے، یہاں تک کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ کہہ رہے تھے: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے سورۂ اعلی سمیت بعض مفصل سورتوں کی تعلیم حاصل کر لی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10610

۔ (۱۰۶۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہِ تَعَالَی: {وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ} قَالَ: تَشَاوَرَتْ قُرَیْشٌ لَیْلَۃً بِمَکَّۃَ فَقَالَ بَعْضُھُمْ: اِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوْہُ بِالْوَثَاقِ یُرِیْدُوْنَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: بَلِ اقْتُلُوْہُ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: بَلْ أَخْرِجُوْہُ، فَأَطْلَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِیَّہُ عَلٰی ذٰلِکَ فَبَاتَ عَلِیٌّ عَلٰی فِرَاشِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِلْکَ اللَّیْلَۃَ، وَخَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِکُوْنَیَحْرُسُوْنَ عَلِیًّایَحْسِبُوْنَہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا أَصْبَحُوْا ثَارُوْا اِلَیْہِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِیًّا رَدَّ اللّٰہُ مَکْرَھُمْ، فَقَالُوْا: أَیْنَ صَاحِبُکَ ھٰذَا؟ قَالَ: لَا أَدْرِیْ، فَاقْتَصُّوْا اَثَرَہُ، فَلَمَّا بَلَغُوْا الْجَبَلَ خَلَطَ عَلَیْھِمْ، فَصََعَدُوْا فِی الْجَبَلِ فَمَرُّوْا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَی بَابِہٖنَسْجَالْعَنْکَبُوْتِ،فَقَالُوْا: لَوْدَخَلَھَاھُنَالَمْیَکُنْ نَسْجُ الْعَنْکَبُوْتِ عَلٰی بَابِہٖفَمَکَثَفِیْہِ ثَلَاثَ لَیَالٍ۔ (مسند احمد: ۳۲۵۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس آیت {وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ}کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں نے مکہ میں ایک رات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا، کسی نے کہا: جب صبح ہو تو اس (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو بیڑیوں سے باندھ دو، کسی نے کہا: نہیں، بلکہ اس کو قتل کردو، کسی نے کہا: بلکہ اس کو نکال دو، اُدھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان باتوں پر مطلع کر دیا، پس سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بستر پر وہ رات گزاری اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے نکل کر غارِ ثور میں پناہ گزیں ہوگئے، مشرکوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری، ان کا خیال تھا کہ وہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پہرہ دے رہے ہیں، جب صبح ہوئی تو وہ ٹوٹ پڑے، لیکن انھوں نے دیکھا کہ یہ تو علی ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا مکر ردّ کر دیا، انھوں نے کہا: علی! تیرا ساتھی کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدموں کے نشانات کی تلاش میں چل پڑے، جب اُس پہاڑ تک پہنچے تو معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا، پس یہ پہاڑ پر چڑھے اور غارِ ثور کے پاس سے گزرے، لیکن جب انھوں نے اس کے دروازے پر مکڑی کا جالہ دیکھا تو انھوں نے کہا: اگر وہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس غار میں داخل ہوا ہوتا تو مکڑی کا یہ جالہ تو نہ ہوتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی غار میں تین دنوں تک ٹھہرے رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10611

۔ (۱۰۶۱۱)۔ عَنْہٗاَیْضًا قَالَ: لَبِسَ عَلِیٌّ ثَوْبَ النَّبِیِّ ثُمَّّ نَامَ مَکَانَہُ، قَالَ: وَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَرْمُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ أَبُوْ بَکْرٍ وَعَلِیٌّ نَائِمٌ، قَالَ: وَأَبُوْ بَکْرٍ یَحْسَبُ أَنَّہُ نَبِیُّ اللّٰہِ، قَالَ: فَقَالَ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! قَالَ لَہُ عَلِیٌّ: اِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَیْمُوْنٍ فَأَدْرِکْہُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُوْ بَکْرٍ فَدَخَلَ مَعَہُ الْغَارَ، قَالَ: وَجَعَلَ عَلِیٌّیُرْمٰی بِالْحِجَارَۃِ کَمَا کَانَ یُرْمٰی نَبِیُّ اللّٰہِ وَھُوَ یَتَضَوَّرُ، قَدْ لَفَّ رَأْسَہُ فِی الثَّوْبِ لَا یَخْرُجُہُ حَتّٰی أَصْبَحَ ثُمَّّ کَشَفَ عَنْ رَأْسِہِ فَقَالُوْا: اِنَّکَ لَلَئِیْمٌ، کَانَ صَاحِبُکَ نَرْمِیْہِ فَـلَا یَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ وَقَدِ اسْتَنْکَرْنَا ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۳۰۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کپڑے پہنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جگہ پر سو گئے، مشرک لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے، اُدھر سے جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سوئے ہوئے تھے، جبکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آگے سے کہا: نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو بئر میمون کی طرف نکل گئے ہیں، تم ان کو جا ملو، پس سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اُدھر چل پڑے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے۔ جیسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتھر مارے جاتے تھے، اسی طرح سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پتھر مارے جانے لگے، لیکن وہ تکلیف سے تڑپ اٹھتے تھے اور انھوں نے اپنے سر پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا، انھوں نے سر کو باہر نہ نکالا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پھر جب انھوں نے سر سے کپڑا اتارا تو مشرکوں نے کہا: بیشک تو گھٹیا درجے کا ہے، جب ہم تیرے ساتھی کو مارتے تھے تو وہ نہیں تڑپتے تھے اور تو تڑپ اٹھتا تھا، ہم پہلے سے اس چیز کا انکار کر چکے ہیں (یعنی ہمیں پتہ چل گیا تھا کہ یہ سونے والا آدمی محمد نہیں ہے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10612

۔ (۱۰۶۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ ثُمَّّ أُمِرَ بِالْھِجْرَۃِ، وَأُنْزِلَ عَلَیْہِ {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَّصِیْرًا} (مسند احمد: ۱۹۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ میں تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور یہ آیت آپ پر اتاری گئی: اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما۔ (سورۂ بنو اسرائیل: ۸۰)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10613

۔ (۱۰۶۱۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّھْرِیُّ وَأَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ اَبَوَایَ قَطُّ اِلَّا وَھُمَا یَدِیْنَانِ الدِّیْنَ وَلَمْ یَمُرَّ عَلَیْنَایَوْمٌ اِلَّا یَأْتِیْنَا فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَرَفَیِ النَّھَارِ بُکْرَۃً وَعَشِیَّۃً، فَلَمَّا ابْتُلِیَ الْمُسْلِمُوْنَ خَرَجَ أَبُوْ بَکْرٍ مُھَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ حَتّٰی اِذَا بَلَغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَقِیَہُ ابْنُ الدَّغِنَۃِ وَھُوَ سَیِّدُ الْقَارَۃِفَقَالَ ابْنُ الدَّغِنَۃِ: أَیْنَیَا أَبَا بَکْرٍ؟ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: أَخْرَجَنِیْ قَوْمِیْ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْمُسْلِمِیْنَ: ((قَدْ رَأَیْتُ دَارَ ھِجْرَتِکُمْ رَأَیْتُ سَبْخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ بَیْنَ لَا بَتَیْنِ وَھُمَا حَرَّتَانِ۔)) فَخَرَجَ مَنْ کَانَ مُھَاجِرًا قِبَلَ الْمَدِیْنَۃِ حِیْنَ ذَکَرَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ بَعْضُ مَنْ کَانَ ھَاجَرَ اِلٰی اللّٰہِ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَتَجَھَّزَ أَبُوْ بَکْرٍ مُھَاجِرًا فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکَ فَاِنَّیْ اَرْجُوْ اَنْ یُؤْذَنَ لِیْ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: وَتَرْجُوْ ذٰلِکَ بِأَبِیْ أَنْتَ وَأُمِّیْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) فَحَبَسَ أَبُوْ بَکْرٍ نَفْسَہَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصُحْبَۃٍ وَعَلَفَ رَاحِلَتَیْنِ کَانَتَا عِنْدَہُ مِنْ وَرَقِ السَّمَرِ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ قَالَ الزُّھْرِیُّ: قَالَ عُرْوَۃُ: قَالَتْ: عَائِشَۃُ: فَبَیْنَا نَحْنُ یَوْمًا جُلُوْسًا فِیْ بَیْتِنَا فِیْ نَحْرِ الظَّھِیْرَۃِ قَالَ قَائِلٌ لِأَبِیْ بَکْرٍ: ھٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِیْ سَاعَۃٍ لَمْ یَکُنْیَأْتِیْنَا فِیْھَا، فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: فِدَائٌ لَہُ أبِیْ وَأُمِّیْ، اِنْ جَائَ بِہٖفِیْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ اِلَّا أَمْرٌ؟ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَہُ فَدَخَلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ دَخَلَ لِأَبِیْ بَکْرٍ: ((أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَکَ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: اِنَّمَا ھُمْ أَھْلُکَ بِأَبِیْ أَنْتَ وَأُمِّیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّہُ قَدْ أُذِنَ لِیْ فِی الْخُرُوْجِ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: فَالصَّحَابَۃَ بِأَبِیْ أَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ۔)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: فَخُذْ بِأَبِیْ أَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِحْدٰی رَاحِلَتَیَّ ھَاتَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِالثَّمَنِ)) قَالَتْ: فَجَھَّزْنَا ھُمَا أَحَبَّ الْجِھَازِ وَصَنَعْنَا لَھُمَا سُفْرَۃً فِیْ جِرَابٍ فَقَطَعَتْ اَسْمَائُ بِنْتُ أبِیْ بَکْرٍ مِنْ نِطَاقِھَا فَأَوْکَتِ الْجِرَابَ فَلِذٰلِکَ کَانَتْ تُسَمَّی ذَاتَ النِّطَاقَیْنِ، ثُمَّّ لَحِقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ وَأَبُوْ بَکْرٍ بِغَارٍ فِیْ جَبَلٍ یُقَالُ لَہُ: ثَوْرٌ، فَمَکَثَا فِیْہِ ثَلَاثَ لَیَالٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۴۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالی، اس وقت سے میں نے اپنے والدین کو دینِ اسلام پر پایا، کوئی دن نہیں گزرتا تھا، مگر اس کے صبح و شام کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس آتے تھے، جب اسلام کی وجہ سے مسلمانوں پر مصائب ڈھائے گئے تو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکل پڑے، جب (مکہ سے پانچ دنوں کی مسافت پر واقع) برک الغماد مقام پر پہنچے تو ابن دَغِنّہ ان کو ملے، جو کہ قارہ قبیلے کے سردار تھے، ابن دغنہ نے کہا: ابوبکر! کہاں جا رہے ہو، انھوں نے کہا: میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، … … باقی حدیث ذکر کی، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: تمہاری ہجرت گاہ مجھے دکھائی جا چکی ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کھجوروں والی شور والی زمین ہے اور دو حرّوں کے درمیان واقع ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے لوگ نکل پڑے، اور جو لوگ اللہ تعالیٰکے لیے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر گئے تھے، وہ مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی ہجرت کی تیاری شروع کر دی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ذرا ٹھیر جاؤ، مجھے امید ہے کہ مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ بھی اس چیز کی امید رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو روک لیا اور چارماہ تک اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے درخت کے پتوں کا چارہ دیتے رہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک دن ہم ابتدائے زوال کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر ڈھانپا ہوا ہے اور ایسے گھڑی میں تشریف لا رہے کہ پہلے اس وقت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نہیں آیا کرتے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قربان ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی خاص معاملے کی وجہ سے اس وقت میں تشریف لا رہے ہیں، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اجازت دے دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں داخل ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے داخل ہوتے ہی سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اپنے پاس والے افراد کو باہر نکال دو۔ انھوں نے کہا: حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ آپ کے اہل ہی ہیں، (ایک آپ کی بیوی عائشہ ہے اور ایک آپ کی سالی اسماء ہے)۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں بھی آپ کی صحبت کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، ان دو اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیمت سے لوں گا۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے بہت خوبصورت انداز میں ان دو اونٹنیوں کو تیار کیا، چمڑے کے تھیلے میں زادِ راہ رکھا، پھر سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنیپیٹی سے ایک ٹکڑا کاٹ کر اس تھیلے کو باندھا، اسی وجہ سے ان کو ذَاتُ النِّطَاقَیْنِ کہتے ہیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ثور پہاڑ کی ایک غار میں پہنچ گئے اور اس میں تین دنوں تک ٹھہرے رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10614

۔ (۱۰۶۱۴)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حَدَّثَہُ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِی الْغَارِ وَقَالَ مَرَّۃً: وَنَحْنُ فِی الْغَارِ، لَوْ اَنَّ اَحَدَھُمْ نَظَرَ اِلٰی قَدَمَیْہِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَا أَبَا بَکْرٍ! مَا ظَنُّکَ بِاثْنَیْنِ اللّٰہُ ثَالِثُھُمَا؟))۔ (مسند احمد: ۱۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا، جبکہ ہم غار میں تھے، کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا تو وہ اپنے پاؤں کے نیچے سے ہم کو دیکھ لے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! ان دو ہستیوں کے بارے میں تیرا کیاگمان ہے، جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10615

۔ (۱۰۶۱۵)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ عَنْ جَدَّتِہِ أَسْمَائَ بِنْتِ أبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ: لَمَّا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَخَرَجَ مَعَہُ أَبُوْ بَکْرٍ اِحْتَمَلَ أَبُوْ بَکْرٍ مَالَہُ کُلَّہُ، مَعَہُ خَمْسَۃُ آلافِ دِرْھَمٍ أَوْ سِتَّۃُ آلافِ دِرْھَمٍ، قَالَتْ: وَانْطَلَقَ بِھَا مَعَہُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَیْنَا جَدِیِّ أَبُوْ قُحَافَۃَ وَقَدْ ذَھَبَ بَصَرُہُ فقَالَ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَأَرَاہُ قَدْ فَجَعَکُمْ بِمَالِہِ مَعْ نَفْسِہِ، قَالَتْ: قُلْتُ: کَلَّا یَا أَبَتِ! اِنَّہُ قَدْ تَرَکَ لَنَا خَیْرًا کَثِیْرًا، قَالَتْ: فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَتَرَکْتُھَا فَوَضَعْتُھَا فِیْ کَوَّۃٍ بِبَیْتٍ کَانَ أبِیْیَضَعُ فِیْھَا مَالَہُ، ثُمَّّ وَضَعْتُ عَلَیْھَا ثَوْبًا ثُمَّّ أَخَذْتُ بِیَدِہِ فَقُلْتُ: یَا أَبَتِ! ضَعْ یَدَکَ عَلٰی ھٰذَا الْمَالِ، قَالَتْ: فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہِ فَقَالَ: لَا بَأَسَ اِنْ کَانَ قَدْ تَرَکَ لَکُمْ ھٰذَا فَقَدْ أَحْسَنَ، وَفِیْ ھٰذَا لَکُمْ بَلَاغٌ، قَالَتْ: لَا وَاللّٰہِ! مَا تَرَکَ لَنَا شَیْئًا وَلٰکِنِّیْ قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْکِنَ الشَّیْخَ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۹۷)
۔ سیدہ اسماء بنت بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے ساتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکل پڑے تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنا سارا مال اپنے ساتھ اٹھا لیا، وہ پانچ چھ ہزار درہم تھا، وہ اپنا سارا مال اپنے ساتھ لے گئے، اُدھر جب ہمارا دادا ابو قحافہ ہمارے پاس آیا، وہ نابینا ہو چکا تھا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اس آدمی نے تم کو اپنے مال و جان کے ذریعے تم کو تکلیف دی ہے، میں نے کہا: ہر گزنہیں، اے ابو جان! وہ ہمارے لیے بہت مال چھوڑ گئے ہیں، پھر میں نے پتھر پکڑے اور ان کو گھر کے اس روشندان میں رکھا، جہاں میرے باپ اپنا مال رکھتے تھے، پھر میں نے ان پر کپڑا رکھا اور پھر اپنے دادے کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابو جان! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھو، پس انھوں نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ اتنا مال چھوڑ گئے ہیں تو انھوں نے بہت اچھا کیا ہے، اس سے تمہاری گزر بسر ہوتی رہے گی۔سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: نہیں،اللہ کی قسم! سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا،اس کاروائی سے میرا ارادہ یہ تھا کہ اس بزرگ کو اطمینان ہو جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10616

۔ (۱۰۶۱۶)۔ عَنْ أبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اشْتَرٰی أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ عَازِبٍ سَرْجًا بِثَلَاثَۃَ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَائَ فَلْیَحْمِلْہُ اِلٰی مَنْزِلِیْ، فَقَالَ: لَا، حَتّٰی تُحَدِّثَنَا کَیْفَ صَنَعْتَ حِیْنَ خرَجَ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْتَ مَعَہُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: خَرَجْنَا فَأَدْلَجَنَا فَأَحْثَثْنَا یَوْمَنَا وَلَیْلَتَنَا حَتّٰی أَظْھَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّھِیْرَۃِ فَضَرَبْتُ بِبَصَرِیْ ھَلْ أَرٰی ظِلًّا نَأْوِیْ اِلَیْہِ فَاِذَا أَنَا بِصَخْرَۃٍ فَاَھْوَیْتُ اِلَیْھَا فَاِذَا بَقِیَّۃُ ظِلِّھَا فَسَوَّیْتُہُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفَرَشْتُ لَہُ فَرْوَۃً وَقُلْتُ: اضْطَجِعْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاضْطَجَعَ ثُمَّّ خَرَجْتُ أَنْظُرُ ھَلْ أَرٰی أَحَدًا مِنَ الطَّلَبِ فَاِذَا أَنَا بِرَاعِیْ غَنَمٍ۔ فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ یَا غُلَامُ؟ فَقَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَسَمَّاہُ فَعَرَفْتُہُ فَقُلْتُ: ھَلْ فِیْ غَنَمِکَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: ھَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُہُ فَاعْتَقَلَ شَاۃً مِنْھَا ثُمَّّ أَمَرْتُہُ فَنَفَضَ ضَرْعَھَا مِنَ الْغُبَارِ ثُمَّّ أَمَرْتُہُ فَنَفَضَ کَفَّیْہِ مِنَ الْغُبَارِ وَمَعِیَ اِدَاوَۃٌ، عَلٰی فَمِھَا خِرْقَۃٌ فَحَلَبَ لِیْ کُثْبَۃً مِنَ اللَّبَنِ فَصَبَبْتُ یَعْنِی الْمَائَ عَلَی الْقَدَحِ حَتّٰی بَرَدَ أَسْفَلُہُ ثُمَّّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَافَیْتُہُ وَقَدِ اسْتَیْقَظَ فَقُلْتُ: اشْرَبْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَشَرِبَ حَتّٰی رَضِیْتُ ثُمَّّ قُلْتُ: أَنَی الرَّحِیْلُ؟ قَالَ: فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ یَطْلُبُوْنَا فَلَمْ یُدْرِکْنَا أَحَدٌ مِنْھُمْ اِلَّا سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھٰذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا فَقَالَ: ((لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا)) حَتّٰی اِذَا دَنَا مِنَّا فَکَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ قَدْرُ رُمْحٍ أَوَ رُمْحَیْنِ أَوَ ثَلَاثَۃٍ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ھٰذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا وَبَکَیْتُ، قَالَ: ((لِمَ تَبْکِیْ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا عَلٰی نَفْسِیْ أَبْکِیْ وَلٰکِنْ أَبْکِیْ عَلَیْکَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اللّٰھُمَّ اکْفِنَاہُ بِمَا شِئْتَ)) فَسَاخَتْ قَوَائِمُ فَرَسِہِ اِلٰی بَطْنِھَا فِیْ أَرْضٍ صَلْدٍ وَوَثَبَ عَنْھَا وَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ھٰذَا عَمَلُکَ فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یُنْجِیَنِیْ مِمَّا أَنَا فِیْہِ، فَوَاللّٰہِ! لَأُعَمِّیَنَّ عَلٰی مَنْ وَرَائِیْ مِنَ الطَّلَبِ وَھٰذِہِ کِنَانَتِیْ فَخُذْ مِنْھَا سَھْمًا فَاِنَّکَ سَتَمُرُّ بِاِبِلِیْ وَغَنَمِیْ فِیْ مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا فَخُذْ مِنْھَا حَاجَتَکَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْھَا، قَالَ: وَدَعَا لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُطْلِقَ فَرَجَعَ اِلٰی اَصْحَابِہٖوَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ حَتّٰی قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَتَلَقَّاہُ النَّاسُ فَخَرَجُوْا فِی الطَّرِیْقِ وَ عَلَی الْاَجَاجِیْرِ فَاشْتَدَّ الْخَدَمُ وَالصِّبْیَانُ فِی الطَّرِیْقِیَقُوْلُوْنَ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، جَائَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَتَنَازَعَ الْقَوْمُ أَیُّھُمْیَنْزِلُ عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزِلُ اللَّیْلَۃَ عَلٰی بَنِی النَّجَّارِ اَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِاُکْرِمَھُمْ بِذٰلِکَ۔)) فَلَمَّا اَصْبَحَ غَدَا حَیْثُ أُمِرَ، قَالَ الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ: اَوَّلُ مَنْ کَانَ قَدِمَ عَلَیْنَا مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ أَخُوْ بَنِیْ عَبْدِ الدَّارِ ثُمَّّ قَدِمَ عَلَیْنَا ابْنُ آَمِّ مَکْتُوْمٍ الْأَعْمٰی أَخُوْ بَنِیْ فِھْرٍ ثُمَّّ قَدِمَ عَلَیْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِیْ عِشْرِیْنَ رَاکِبًا فَقُلْنَا مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ھُوَ عَلٰی أَثَرِیْ ثُمَّّ قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ مَعَہُ قَالَ الْبَرَائُ: وَلَمْ یَقْدَمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، قَالَ اِسْرائِیْلُ: وَکَانَ الْبَرَائُ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِیْ حَارِثَۃَ۔ (مسند احمد: ۳)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرے باپ سیدنا عازب سے تیرہ درہم کی ایک زین خریدی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرے باپ سے کہا: براء کو کہہ دینا کہ میرے گھر چھوڑ آئے، انھوں نے کہا: جی نہیں، جب تک تم مجھے یہ بیان نہیں کرو گے کہ تم نے اس وقت کیا کیا تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ سے نکلے تھے اور تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے؟ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم (غار سے) نکلے اور رات کے پہلے حصے میںچلتے رہے، ہم اس رات اور دن کو تیزی سے چلتے رہے، یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا، میں نے دور دور تک دیکھا کہ آیا کوئی سائے والی جگہ ہے، جس میں سستا سکیں، پس اچانک مجھے ایک چٹان نظر آئی، میں اس کی طرف جھکا، اس کا جو سایہ باقی تھا، اس جگہ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے برابر کیا اور اس پر چمڑا بچھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لیٹ جائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹ گئے اور میں وہاں سے نکل پڑا تاکہ دیکھ سکوں کہ آیا کوئی تلاش کرنے والا پہنچ تو نہیں گیا، اچانک میری نظر بکریوں کے ایک چرواہے پر پڑی، میں نے اس سے پوچھا: او لڑکے! تو کس کا چرواہا ہے؟ اس نے کہا: فلاں قریشی کا، اس نے اس کا نام لیا اور میں نے اس کو پہچان لیا، پھر میں نے کہا: کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: کیا تو مجھے دوہ کر دے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس میں نے اس کو حکم دیا، اس نے بکری کی ٹانگوں کو باندھا، پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ تھنوں سے گرد و غبار کو صاف کر دے، پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے بھی غبار کو صاف کر دے، میرے پاس ایک برتن تھا، اس پر منہ پر ایک چیتھڑا تھا، پس اس نے میرے لیے تھوڑی مقدار میں دودھ دوہا، پھر میں نے پیالے پر پانی بہایا،یہاں تک کہ اس کے نیچے والا حصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس حال میںپایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ دودھ نوش فرمائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیا،یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا، پھر میں نے کہا: کوچ کرنے کا وقت ہو چکا ہے، پس ہم وہاں سے چل پڑے، اُدھر لوگوں نے ہم کو تلاش تو کیا، لیکن صرف سراقہ بن مالک بن جعشم ہم تک پہنچ سکا، وہ گھوڑے پر سوار تھا، جب میں نے اس کو دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تلاش کرنے والا ہم تک پہنچ چکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پریشان نہ ہو، بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ جب وہ اس قدر ہمارے قریب ہو گیا کہ ایکیا دو یا تین نیزوں کے فاصلے پر تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ متلاشی بالکل ہمارے پاس پہنچ چکا ہے ، ساتھ ہی میں رونے لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے لیے نہیں، آپ کی ذات کے لیے رو رہا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر بد دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! اپنی چاہت کے مطابق کسی چیز کے ساتھ اس سے کفایت کر۔ پس اس کے گھوڑے کی ٹانگیں سخت زمین میں پیٹ تک گھس گئیں اور وہ کود کر اس سے پرے ہٹ گیا اور اس نے کہا: اے محمد! میں جانتا ہوں کہ تمہاری کاروائی ہے، اب اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دلا دے، اللہ کی قسم ہے، میں اپنے پیچھے آنے والے متلاشیوں کو تم لوگوں سے اندھا بنا دوں گا، یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر آپ لے لیں، کیونکہ آپ عنقریب فلاں جگہ سے گزرنے والے ہیں، وہاں میرے اونٹ اور بکریاں ہیں، (میرے چرواہے کو یہ تیر دکھا کر) وہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق جو چاہیں لے لینا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے دعا کی، پس اس کو آزاد کر دیا گیا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے چل دیئے، جبکہ میں (ابو بکر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، پس لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملے اور لوگ راستوں پر اور چھتوں پر موجود تھے اور راستے میں خادموں اور بچوں نے ہجوم کیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ اکبر، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ گئے ہیں، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ گئے ہیں، اب لوگوں میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس کے گھر اتریں گے، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں آج رات عبد المطلب کے ماموؤں بنو نجار کے پاس اتروں گا، میں ان کو یہ شرف دینا چاہتا ہوں۔ جب صبح ہوئی تو جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم ہوا، اس کے مطابق چل پڑے۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارے پاس سب سے پہلے آنے والے مہاجر بنو عبد الدار کے بھائی سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ان کے بعد بنو فہر کے بھائی سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے، پھر بیس افراد سمیت سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، ہم نے ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: وہ میرے پیچھے تشریف لا رہے ہیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگئے، جبکہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ساتھ تھے۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ابھی تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے بعض مفصل سورتوں کی تعلیم حاصل کر لی تھی، اسرائیل راوی نے کہا: سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، بنو حارثہ کے انصار میں سے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10617

۔ (۱۰۶۱۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ معْمَرٍ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَأَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَالِکٍ الْمُدْلَجِیُّ وَھُوَ ابْنُ أَخِیْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ اَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ أَنّہُ سَمِعَ سُرَاقَۃَیَقُوْلُ جَائَ نَا رُسُلُ کُفَّارِ قُرَیْشٍیَجْعَلُوْنَ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْ أبِیْ بَکْرٍ دِیَّۃَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا لِمَنْ قَتَلَھُمَا أَوَ أَسَرَ ھُمَا فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ فِیْ مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِیْ بَنِیْ مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْھُمْ حَتّٰی قَامَ عَلَیْنَا فَقَالَ: یَا سُرَاقَۃُ! اِنِّیْ رَأَیْتُ آنِفًا اَسْوِدَۃً بِالسَّاحِلِ اِنِّیْ أَرَاھَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ، قَالَ سُرَاقَۃُ: فَعَرَفْتُ أَنَّھُمْ ھُمْ، فَقُلْتُ: أَنَّھُمْ لَیْسُوْا بِھِمْ وَلٰکِنْ رَأَیْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا، اِنْطَلَقَ آنِفًا قَالَ: ثُمَّّ لَبِثْتُ فِی الْمَجْلِسِ سَاعَۃً حَتّٰی قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَیْتِیْ فَأَمَرْتُ جَارِیَتِیْ أَنْ تُخْرِجَ لِیْ فَرَسِیْ وَھِیَ مِنْ وَرَائِ أَکَمَۃٍ فَتَحْبِسَھَا عَلَیَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِیْ فَخَرَجْتُ بِہٖمِنْظَھْرِالبَیْتِ فَخَطَطْتُ بِرُمْحِی الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِیَۃَ الرُّمْحِ حَتّٰی أَتَیْتُ فَرَسِیْ فَرَکِبْتُھَا فَرَفَعْتُھَا تَقَرَّبُ بِیْ حَتّٰی رَأَیْتُ أَسْوِدَتَھُمَا فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْھُمْ حَیْثُیُسْمِعُھُمُ الصَّوْتُ عَثَرَتْ بِیْ فَرَسِیْ فَخَرَرْتُ عَنْھَا فَقُمْتُ فَأَھْوَیْتُ بِیَدَیَّ اِلَی کِنَانَتِیْ فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْھَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِھَا اَضُرُّھُمْ اَمْ لَا، فَخَرَجَ الَّذِیْ اَکْرَہُ أَنْ لَا أَضُرَّھُمْ فَرَکِبْتُ فَرَسِیْ وَعَصَیْتُ الْأَزْلَامَ فَرَفَعْتُھَا تَقَرَّبُ بِیْ اِذَا دَنَوْتُ مِنْھُمْ عَثْرَتْ بِیْفَرَسِیْ فَخَرَرْتُ عَنْھَا فَقُمْتُ فَأَھْوَیْتُ بَیَدَیَّ اِلَی کِنَانَتِیْ فَأَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِھَا فَخَرَجَ الَّذِیْ أَکْرَہُ اَنْ لَا أَضُرَّھُمْ، فَعَصَیْتُ الْأَزْلَامَ وَرَکِبْتُ فَرَسِیْ فَرَفَعْتُھَا تَقَرَّبُ بِیْ حَتّٰی اِذَا سَمِعْتُ قِرَائَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ لَا یَلْتَفِتُ وَأَبُوْبَکْرٍ یُکْثِرُ الْاِلْتِفَاتَ سَاخَتْ یَدَا فَرَسِیْ فِی الْأَرْضِ حَتّٰی بَلَغَتِ الرُّکْبَتَیْنِ فَخَرَرْتُ عَنْھَا فَزَجَرْتُھَا فَنَھَضَتْ فَلَمْ تَکَدْ تُخْرِجُ یَدَیْھَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَۃً اِذْ لَا أَثَرَ بِھَا عُثَانٌٍ سَاطِعٌ فِی السَّمَائِ مِثْلُ الدُّخَانِ، قُلْتُ لِأَبِیْ عَمْرِو بْنِ الْعَلَائِ مَا الْعُثَانُ؟ فَسَکَتَ سَاعَۃً ثُمَّّ قَالَ: ھُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَیْرِ نَارٍ، قَالَ الزُّھْرِیُّ فِیْ حَدِیْثِہِ: فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْاِزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِیْ اَکْرَہُ اَنْ لَا أَضُرَّھُمْ فَنَادَیْتُھُمَا بِالْأَمَانِ فَوَقَفُوْا فَرَکِبْتُ فَرَسِیْ حَتّٰی جِئْتُھُمْ فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ حِیْنَ لَقِیْتُ مَالَقِیْتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْھُمْ أَنّہُ سَیَظْھَرُأَمْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ لَہُ: اِنَّ قَوْمَکَ قَدْ جَعَلُوْا فِیْکَ الدِّیَّۃَ وَأَخْبَرْتُھُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِھِمْ وَمَا یُرِیْدُ النَّاسُ بِھِمْ وَعَرَضْتُ عَلَیْھِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ یَرْزِئُ وْنِیْ شَیْئًا وَلَمْ یَسْأَلُوْنِیْ اِلَّا أَنْ أَخْفِ عَنَّا فَسَأَلْتُہُ اَنْ یَکْتُبَ لِیْ کِتَابَ مُوَادَعَۃٍ آمَنُ بِہٖ،فَأَمَرَعَامِرَ بْنَ فُھَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَکَتَبَ لِیْ فِیْ رُقْعَۃٍ مِنْ اَدِیْمٍ ثُمَّّ مَضٰی۔ (مسند احمد: ۱۷۷۳۴)
۔ سراقہ بن مالک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: (جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہجرت کر کے نکل گئے تو) کافروں کے قاصد ہمارے پاس آئے اور انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں ہر ایک کی دیت (سو اونٹ) کے بارے میں بتایا کہ جو ان کو قتل کر کے یا قید کر کے لائے گا، اس کویہ دیت ملے گی، میں اپنی قوم بنو مدلج کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آ کر ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل کے پاس کچھ افراد دیکھے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور اس کے ساتھ ہیں، سراقہ نے کہا: میں پہچان تو گیا کہ یہ وہی ہیں، لیکن میں نے ظاہر یہ کیا کہ یہ افراد وہ لوگ نہیں ہیں، تو نے تو فلاں فلاں کو دیکھا ہے، وہ تھوڑی دیر پہلے جا رہے تھے، میں کچھ دیر تک اسی مجلس میں بیٹھا رہا، پھر وہاں سے کھڑا ہوا، اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ وہ میرا گھوڑا نکالے، وہ ٹیلے کے پیچھے تھا، اور میرے آنے تک اس کو روک کر رکھے، اُدھر میں نے اپنے نیزے نکالے اور گھر کے پچھلی طرف سے نکل گیا، میں نے اپنے نیزے سے زمین پر لکیر لگائی اور ان کے اوپر والے حصے زمین کی طرف کر دیئے (تاکہ دور سے دیکھنے والا ان کی چمک کو دیکھ کر معاملے کو تاڑ نہ جائے)، پھر میں گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کو دوڑایا،یہاں تک کہ مجھے وہ وجود نظر آنے لگے، جب میں ان کے اتنے قریب پہنچا کہ میری آواز ان تک پہنچ سکتی تھی تو میرا گھوڑا پھسلا اور میں گر پڑا، میں نے اپنے ہاتھ ترکش میں ڈالے، تیر نکالے اورقسمت آزمائی کی کہ میں ان کو نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں، وہ تیر نکلا کہ جس کو میں ناپسند کرتا تھا، یعنی میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، لیکن میں گھوڑے پر سوار ہوا اور تیروں کی نافرمانی کی، میں نے پھر گھوڑے کو دوڑایا، جب میں ان کے قریب ہوا تو میرا گھوڑا پھر پھسل پڑا اور میں گر گیا، میں کھڑا ہوا، اپنا ہاتھ ترکش میں ڈالا اور تیر نکال کر قسمت آزمائی کی، پھر وہی تیر نکلا، جس کو میں ناپسند کرتا تھا کہ میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکوں گا، لیکن میں نے پھر تیروں کی نافرمانی کی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کو دوڑایا اور ان کے اتنے قریب ہو گیا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلاوت کی آواز سننے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف کوئی توجہ نہ کی، البتہ ابو بکر بار بار میری طرف دیکھتے تھے، جب میں ان کے قریب ہوا تو میرے گھوڑے کی اگلی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں،یہاں تک کہ اس کے گھٹنوں تک پہنچ گئیں، میں پھر گر پڑا اور گھوڑے کو ڈانٹ ڈپٹ کی، پس وہ کھڑا ہو گیا، لیکن لگتا ایسے تھا وہ اپنی ٹانگیںنہیں نکال سکے گا، جب وہ کھڑا ہو گیا تو اس پر کوئی اثر نہیں تھا، لیکن آگ والے دھویں کی طرح آسمان میں بلند ہونے والا آگ کے بغیر دھواں تھا۔ میں نے ابو عمرو سے پوچھا: عُثَان سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا: اس سے مراد آگے کے بغیر دھواں ہے، امام زہری نے اپنی حدیث میں کہا: سراقہ نے کہا: پس جب میں نے تیروں کے ساتھ قسمت آزمائی کی تو وہ تیر نکلا جس کو میں ناپسند کرتا تھا، یعنی میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکوں گا، پس میں نے ان کو امان کے ساتھ آواز دی، وہ رک گئے، میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان کے پاس پہنچ گیا، جس انداز میں مجھے رکنا پڑا، اس سے میرے نفس میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ عنقریب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معاملہ غالب آ جائے گا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: بیشک آپ کی قوم نے آپ کی دیت مقرر کر رکھی ہے، پھر میں نے ان کو سفر کے سارے واقعات بیان کیے اور یہ بھی بتلایا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا چاہتے ہیں، پھر میں نے ان پر زادِ راہ اور سامان پیش کیا، لیکن انھوں نے میری کسی چیز میں کمی نہیں کی اور مجھ سے کسی قسم کا سوال نہیں کیا، البتہ اتنا کہا کہ تو نے ہمارے معاملے کو مخفی رکھنا ہے، پھر میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھے مصالحت کا پیغام لکھ کر دیں، جس کے ذریعے مجھے امن ملے گا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عامر بن فہیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ میرے لیے چمڑے کے ایک ٹکڑے میں یہ امان لکھ دیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے چل پڑے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10618

۔ (۱۰۶۱۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَقْبَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَدِیْنَۃِ وَھُوَ مُرْدِفٌ أَبَابَکْرٍ وَأَبُوْبَکْرٍ شَیْخٌیُعْرَفُ وَنَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَابٌّ لَایُعْرَفُ، قَالَ: فَیَلْقَی الرَّجُلُ أَبَا بَکْرٍ فَیَقُوْلُ: یَا أَبَابَکْرٍ! مَنْ ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بَیْنَیَدَیْکَ؟ فَیَقُوْلُ: ھٰذَا الرَّجُلُ یَھْدِیْنِیْ اِلَی السَّبِیْلِ فَیَحْسَبُ الْحَاسِبُ أَنّہُ أَنَّمَا یَھْدِیْہِ اِلَی الطَّرِیْقِ وَاِنَّمَا یَعْنِیْ سَبِیْلَ الْخَیْرِ فَالْتَفَتَ أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاِذَا ھُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَھُمْ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا قَالَ: فَالْتَفَتَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اصْرَعْہُ۔)) فَصَرَعَتْہُ فَرَسُہُ ثُمَّّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ قَالَ: ثُمَّّ قَالَ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! مُرْنِیْ بِمَا شِئْتَ، قَالَ: ((قِفْ مَکَانَکَ، لَاتَتْرُکَنَّ اَحَدًا یَلْحَقُ بِنَا۔)) قَالَ: فکَانَ أَوَّلُ النَّھَارِ جَاھِدًا عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ وَکَانَ آخِرَ النَّھَارِ مَسْلَحَۃً لَہُ قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ جَانِبَ الْحَرَّۃِ ثُمَّّ بَعَثَ اِلَی الْأَنْصَارِ فَجَائُ وْا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمُوْا عَلَیْھِمَا وَقَالُوْا ارْکَبَا آمِنَیْنِ مُطْمَئِنَّیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۳۷)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، سیدنا ابو بکر بڑی عمر کے تھے، انکو پہنچان لیا جاتا تھا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نوجوان لگتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں پہچانا جاتا تھا، اس لیے لوگ سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملتے اور کہتے: یہ آپ کے آگے بیٹھا ہوا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ راستے کی طرف میری رہنمائی کرنے والا آدمی ہے، سائل یہ خیال کرتا کہ وہ ان کا راستہ بتلانے والا ہے، جبکہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مراد خیر و بھلائی والا راستہ تھی، جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیچھے کو متوجہ ہوئے تو کیا دیکھا کہ ایک گھوڑ سوار ان کو آ ملا ہے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ ایک گھوڑ سوار ہم تک پہنچ گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! اس کو گرا دے۔ پس اس کے گھوڑے نے اس کو گرا دیا، پھر وہ گھوڑا کھڑا ہو کر ہنہنانے لگا، اس گھوڑ سوار نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہتے ہیں، مجھے حکم دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی کھڑا ہو جا اور کسی کو نہ چھوڑ کہ وہ ہمیں پا سکے۔ یہ شخص دن کے شروع میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے لڑنے والا تھا، لیکن دن کے آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرنے والا بن گیا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حرّہ کی ایک جانب اترے اور انصاریوں کو بلا بھیجا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان دونوں ہستیوں کو سلام کیا اور پھر کہا: امن اور اطمینانکے ساتھ سوار ہو جاؤ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10619

۔ (۱۰۶۱۹)۔ عَنْ فَائِدٍ مَوْلٰی عَبَادِلَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ فَأَرْسَلَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اِلَی ابْنِ سَعْدٍ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِالْعَرَجِ أَتَانَا ابْنُ سَعْدٍ وَسَعْدٌ الَّذِیْ دَلَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی طَرِیْقِ رَکُوْبَۃِ فَقَالَ اِبْرَاھِیْمُ: اَخْبِرْنِیْ مَا حَدَّثَکَ أَبُوْکَ؟ قَالَ ابْنُُ سَعْدٍ: حَدَّثَنِیْ أبِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاھُمْ وَمَعَہُ أَبُوْ بَکْرٍ وَکَانَ لِأَبِیْ بَکْرٍ عِنْدَنَا بِنْتٌ مُسْتَرْضَعَۃٌ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَادَ الْاِخْتِصَارَ فِیْ الطَّرِیْقِ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ: ھٰذَا الْغَائِرُ مِنْ رَکُوْبَۃَ وَبِہٖلِصَّانِمِنْ اَسْلَمَیُقَالُ لَھُمَا: الْمُھَانَانِ فَاِنْ شِئْتَ أَخَذْنَا عَلَیْھِمَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذْبِنَا عَلَیْھِمَا)) قَالَ سَعْدٌ: فَخَرَجْنَا حَتّٰی أَشْرَفْنَا اِذَا أَحَدُھُمَا یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ: ھٰذَاالْیَمَانِیُّ فَدَعَاھُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَضَ عَلَیْھِمَا الْاِسْلَامَ فَاَسْلَمَا ثُمَّّ سَأَلَھُمَا عَنْ أَسْمَائِھِمَا فَقَالَا: نَحْنُ الْمُھَانَانِ، فَقَالَ: ((بَلْ اَنْتُمَا الْمُکْرَمَانِ)) وَأَمَرَھُمَا أَنْ یَقْدَمَا عَلَیْہِ الْمَدِیْنَۃَ فَخَرَجْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا ظَاھِرَ قُبَائَ فَتَلَقَّاہُ بَنُوْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیْنَ أَبُوْ اُسَامَۃَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ؟)) فَقَالَ سَعْدُ بْنُ خَیْثَمَۃَ: أَنّہُ أَصَابَ قَبْلِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَـلَا أُخْبِرُہُ ذٰلِکَ؟ ثُمَّّ مَضَی حَتَّی اِذَ اطَلَعَ عَلَی النَّخْلِ فَاِذَا الشَّرَبُ مَمْلُوْئٌ، فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی أَبِیْ بَکْرٍ فَقَالَ: ((یَا أَبَا بَکْرٍ ھٰذَا الْمَنْزِلُ رَأَیْتُنِیْ أَنْزِلُ عَلَی حَیَاضٍ کَحَیَاضِ بَنِیْ مُدْلِجٍ))۔ (مسند احمد: ۱۶۸۱۱)
۔ فائد کہتے ہیں: میں ابراہیم بن عبد الرحمن کے ساتھ نکلا، انھوں نے ابن سعد کی طرف پیغام بھیجا، جب ہم عرج مقام پر پہنچے تو ہمارے پاس ابن سعد آیا،یہ اس سعد کا بیٹا تھا کہ جس نے رکوبہ ٹیلے کے راستے سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رہنمائی کی تھی، ابراہیم نے کہا: اے سعد کے بیٹے! ہمیں وہ چیز بتلا جو تجھے تیرے باپ نے بیان کی تھی، ابن سعد نے کہا: میرے باپ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے اور اس وقت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک بیٹیہمارے ہاں دودھ پی رہی تھی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ کی طرف مختصر راستے کے خواہاں تھے، اس لیے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: یہ رکوبہ ٹیلے سے ہوتا ہوا غائر پہاڑ کا راستہ ہے، لیکن اس راستے پر بنو اسلم قبیلے کے دو چور ہیں، لوگ ان کو مُھَانَان کہتے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں تو یہی راستہ اختیار کر لیتے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم کو اسی راستے پر لے کر چل۔ پس ہم روانہ ہو گئے اور جب آگے بڑھے تو وہ دو چور آ گئے، ان میں سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا: یہیمانی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں کو بلایا اور ان پر اسلام پیش کیا، پس وہ مسلمان ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے ان کے نام دریافت کیے، انھوں نے کہا: ہم مُھَانَان ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلکہ تم مُکْرَمَان ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ تم مدینہ آ جانا، ہم وہاں سے آگے کو چل پڑے، یہاں تک کہ قبا کی پچھلی سائیڈ تک پہنچ گئے، بنو عمرو بن عوف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آ کر ملے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ابو اسامہ اسعد بن زرارہ کہاں ہے؟ سعد بن خیثمہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو قبلی طرف سے آ رہا تھا، کیا میں اس کو اس چیز کی خبر دے دوں؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے کو بڑھے، یہاں تک کہ کھجوروں کے پاس پہنچ گئے، وہاں کھجور کے پاس والا حوض بھرا ہوا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے ابو بکر! یہ منزل ہے، میں نے اپنے آپ کو دیکھا تھا کہ میں بنومدلج کے حوضوں کی طرح کے حوضوں پر اتر رہا ہوں۔ مسند محقق میں علامہ سندھی کے حوالہ سے اس کا مفہوم یہ بیان ہوا ہے وہ مجھ سے پہلے خیر حاصل کر چکا (یعنی مسلمان ہو چکا ہے) سعد بن خیثمہ نے یہ بات اس سے تعجب کے طور پر کی کہ اسعد بن زرارہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہونے میں دیر کر دی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10620

۔ (۱۰۶۲۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ فِیْ عُلُوِّ الْمَدِیْنَۃِ فِیْ حَیٍّییُقَالُ لَھُمْ: بَنُوْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِیْھِمْ أَرْبَعَ عَشَرَۃَ لَیْلَۃً۔ (مسند احمد: ۱۳۲۴۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس کے بالائی حصے میں ایک قبیلے کے پاس اترے، اس قبیلے کو بنو عمرو بن عوف کہا جاتا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں چودہ دن قیام کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10621

۔ (۱۰۶۲۱)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا ھَاجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْکَبُ وَأَبُوْ بَکْرٍ رَدِیْفُہُ وَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍ یُعْرَفُ فِی الطَّرِیْقِ لِاِخْتِلَافِہِ اِلَی الشَّامِ وَکَانَ یَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَیَقُوْلُوْنَ: مَنْ ھٰذَا بَیْنَیَدَیْکَیَا أَبَا بَکْرٍ؟ فَیَقُوْلُ: ھَادٍ یَھْدِیْنِیْ فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ بَعَثَ اِلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا مِنَ الْأَنْصَارِ اِلَی أَبِیْ اُمَامَۃَ وَأَصْحَابِہٖفَخَرَجُوْااِلَیْھِمَا فَقَالُوْا: ادْخُلَا آمِنَیْنِ مُطَاعَیْنِ فَدَخَلَا، قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَیْتُیَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ وَلَا اَحْسَنَ مِنْ یَوْمٍ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ الْمَدِیْنَۃَ، وَشَھِدْتُ وَفَاتَہُ فَمَا رَأَیْتُیَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ وَلَا اَقْبَحَ مِنَ الْیَوْمِ الَّذِیْ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۵۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجرت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار تھے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے ردیف تھے، راستے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پہچان لیا جاتا تھا، کیونکہ وہ شام آتے جاتے وقت اس راستے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے رہتے تھے، اس لیے لوگوں نے پوچھا: اے ابو بکر! یہ آپ کے آگے والا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ میری رہنمائی کرنے والا رہبر ہے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصاری قبیلے کے مسلمان ہونے والے لوگوں کو اور ابو امامہ اور اس کے ساتھیوں کو پیغام بھیجا، وہ لوگ آ گئے اور انھوں نے کہا: آپ دونوں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہوں، پس وہ داخل ہوئے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ نور اور حسن والا ہو، اس دن کی بہ نسبت، جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے، اور چونکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے موقع پر بھی مدینہ میں موجود تھا، اس لیے میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ اندھیرے اور قباحت والا ہو، اس دن سے جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10622

۔ (۱۰۶۲۲)۔ عَنْہ اَیْضًا قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ لَعَبَتِ الْحَبَشَۃُ لِقُدُوْمِہِ بِحِرَا بِھِمْ فَرْحًا بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۷۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے حبشی لوگ جنگی آلات کے ساتھ کھیلے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10623

۔ (۱۰۶۲۳)۔ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ نَحَرُوْا جَزُوْرًا أَوَ بَقَرَۃً وَقَالَ مَرَّۃً: نَحَرْتُ جَزُوْرًا أَوَ بَقَرَۃً۔ (مسند احمد: ۱۴۲۶۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں نے اونٹ یا گائے ذبح کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10624

۔ (۱۰۶۲۴)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: اِنِّیْ لَاَسْعٰی فِی الْغِلْمَانِ یَقُوْلُوْنَ: جَائَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعٰی فَـلَا أَرٰی شَیْئًا، ثُمَّّ یَقُوْلُوْنَ: جَائَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعٰی فَـلَا أَرٰی شَیْئًا ، قَالَ: حَتّٰی جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَاحِبُہُ أَبُوْ بَکْرٍ فَکُنَّا فِیْ بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِیْنَۃِ ثُمَّّ بَعَثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لِیُؤَذِّنَ بِھِمَا الْاَنْصَارَ فَاسْتَقْبَلَھُمَا زُھَائَ خَمْسِمِائَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّی اِنْتَھُوْ اِلَیْھِمَا فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: اِنْطَلِقَا آمِنَیْنِ مُطَاعَیْنِ، فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَاحِبُہُ بَیْنَ أَظْھُرِھِمْ فَخَرَجَ أَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ حَتّٰی اِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُیُوْتِیَتَرَائَیْنَہُیَقُلْنَ: اَیُّھُمْ ھُوَ؟ اَیُّھُمْ ھُوَ؟ قَالَ: رَأَیْنَا مَنْظَرًا مُشْبِھًا بِہٖیَوْمَئِذٍ، قَالَ أَنَسٌ: وَلَقَدْ رَأَیْتُہُیَوْمَ دَخَلَ عَلَیْنَا وَیَوْمَ قُبِضَ فَلَمْ اَرَ یَوْمَیْنِ مُشْبِھًا بِھِمَا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۵۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں میں دوڑ کر آتا اور ہم یہ کہہ رہے ہوتے: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) آ گئے ہیں، پس میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی شخص نظر نہ آتا، پھر جب بچوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) آ گئے ہیں تو میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی چیز نظر نہ آتی، بالآخر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، ہم اس وقت مدینہ کے بعض حرّوں میں تھے، پھر ایک آدمی نے ہمیں بھیجا تاکہ انصاریوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آمد کا بتایا جائے، پس تقریباً پانچ سو انصاری آئے اور ان دو ہستیوںکے پاس پہنچ گئے اور کہا: تم دونوں امن و اطمینان کے ساتھ آگے بڑھو، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی دونوں مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہوئے، اُدھر سے اہل مدینہ نکل پڑے، یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں گھروں کے چھتوں پر چڑھ گئیں اور کہنے لگیں: ان میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کون ہیں؟ ان میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کون ہیں؟ ہم نے اس دن ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (مسرت و شادمانی میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تھے، میں نے وہ دن بھی دیکھا تھا، اور جس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تھی، پس اس دن بھی میں نے ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (غم و حزن میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10625

۔ (۱۰۶۲۵)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ اِقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ أَیُّھُمْیَأْوِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَرَعَھُمْ أَبُوْ أَیُّوْبَ فَآوٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ اِذَا اُھْدِیَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَعَامٌ اُھْدِیَ لِأَبِیْ اَیُّوْبَ قَالَ: فَدَخَلَ أَبُوْ أَیُّوْبَیَوْمًا فَاِذَا قَصْعَۃٌ فِیْھَا بَصَلٌ فَقَالَ: مَا ھٰذَا؟ فَقَالُوْا: أَرْسَلَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَاطَّلَعَ أَبُوْ أَیُّوْبَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مَنَعَکَ مِنْ ھٰذِہِ الْقَصْعَۃِ قَالَ: ((رَأَیْتُ فِیْھَا بَصَلًا۔)) قَالَ: وَلَا یَحِلُّ لَنَا الْبَصَلُ؟ قَالَ: ((بَلٰی فَکُلُوْہُ وَلٰکِنْ یَغْشَانِیْ مَا لَایَغْشَاکُمْ)) وَقَالَ حَیْوَۃُ: ((اِنَّہُیَغْشَانِیْ مَا لَایَغْشَا کُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۰۳)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصاریوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ کون رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے پہلے جگہ دے گا، قرعہ میں سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام نکلا، پس انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے ہاں ٹھہرایا، پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھانے کا ہدیہ پیش کیا جاتا تھا تو سیدنا ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی ہدیہ دیا جاتا تھا، ایک دن جب سیدنا ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اندر داخل ہوئے تو ایک پیالے میں پیاز ڈالا ہوا تھا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھیجا ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس پیالے سے کیوں نہیں کھایا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس میں پیاز دیکھا ہے۔ میں نے کہا: کیایہ ہمارے لیے حلال نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تم اس کو کھا سکتے ہو، بس میرے پاس (وحی اور فرشتوں کی صورت میں) وہ کچھ آتا ہے، جو تمہارے پاس نہیں آتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10626

۔ (۱۰۶۲۶)۔ عَنْ أَفْلَحَ مَوْلٰی أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ عَلَیْہِ فَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْفَلَ وَأَبُوْ أَیُّوْبَ فِی الْعُلُوِّ، فَانْتَبَہَ أَبُوْ أَیُّوْبَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَالَ: نَمْشِیْ فَوْقَ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَحََوَّلَ فَبَاتُوْا فِیْ جَانِبٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسُّفْلُ أَرْفَقُ بِیْ۔)) فَقَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: لَا أَعْلُو سَقِیْفَۃً أَنْتَ تَحْتَھَا فَتَحَوَّلَ أَبُوْ اَیُّوْبَ فِیْ السُّفْلِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعُلُوِّ، فَکَانَ یَصْنَعُ طَعَامَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَبْعَثُ اِلَیْہِ فَاِذَا رُدَّ اِلَیْہِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَتْبَعُ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَأْکُلُ مِنْ حَیْثُ أَثَرَ أَصَابِعُہُ، نَصْنَعُ ذَاتَ یَوْمٍ طَعَاماً فِیِْہِ ثَوْمٌ فَأَرْسَلَ بِہٖاِلَیْہِ فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقِیْلَ لَمْ یَأْکُلْ فَصَعِدَ اِلَیْہِ فَقَالَ: أَ حَرَامٌ ھُوَ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَکْرَھُہُ۔)) قَالَ: اِنِّیْ أَکْرَہُ مَا تَکَرَہُ أَوْ مَاکَرِھْتَہُ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْتٰی۔ (مسند احمد: ۲۳۹۱۴)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس اترے تو گھر کے زیریں مقام میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے اور بالائی مقام میں سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود، ایک رات کو جب سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے اوپر چل رہے ہیں، پس انھوں نے اپنی جگہ بدل لی اور کسی ایک جانب رات گزار دی، جب صبح ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیریں منزل میرے لیے زیادہ سہولیت آمیز ہے۔ لیکن سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس چھت پر نہیں چڑھوں گا، جس کے نیچے اللہ کے رسول ہوں، پس سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نچلی منزل میں آ گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اوپر والی منزل میں تشریف لے گئے، چونکہ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، اس لیے جب وہ کھانا بھیجتے اور کھانا بچ کر واپس آ جاتا تو وہ کھانے کے اس مقام کے بارے میں سوال کرتے، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیاں لگی ہوتیں، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے نشان کو تلاش کرتے اور وہاں سے کھاتے، روٹین کے مطابق ایک دن ہم نے کھانا تیار کیا، اس میں لہسن بھی تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھائے بغیر وہ کھانا واپس بھیج دیا، سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے مقام کے بارے میں سوال کیا، لیکن جب ان کو یہ بتلایا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو کھایا ہی نہیں ہے، تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ حرام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کو ناپسند کرتاہوں۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ ناپسند کرتے ہیں، میں بھی اس کو ناپسند کروں گا، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (وحی اور فرشتے) آتے تھے، (اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکروہ بو والا کھانا نہیں کھاتے تھے، جیسے پیاز، لہسن وغیرہ)۔