930 Results For Hadith (Musnad Ahmad ) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10651

۔ (۱۰۶۵۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بُعِثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ وَہُوَ ابْنُ أَرْبَعِینَ سَنَۃً، فَمَکَثَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرَ سِنِینَ، قَالََ: فَمَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّینَ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۰)
سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10652

۔ (۱۰۶۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِینَ، فَمَکَثَ بِمَکَّۃَ عَشْرًا وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرًا، وَقُبِضَ وَہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّینَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۷)
سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10653

۔ (۱۰۶۵۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَانِبَ الْحَرَّۃِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَاؤُوا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمُوا عَلَیْہِمَا وَقَالُوا: ارْکَبَا آمِنَیْنِ مُطْمَئِنَّیْنِ، قَالَ: فَرَکِبَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَحَفُّوا حَوْلَہُمَا بِالسِّلَاحِ، قَالَ: فَقِیلَ بِالْمَدِینَۃِ: جَائَ نَبِیُّ اللّٰہِ، فَاسْتَشْرَفُوا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْظُرُونَ إِلَیْہِ وَیَقُولُونَ: جَائَ نَبِیُّ اللّٰہِ، فَأَقْبَلَ یَسِیرُ حَتَّی جَائَ إِلَی جَانِبِ دَارِ أَبِی أَیُّوبَ، قَالُوا: فَإِنَّہُ لَیُحَدِّثُ أَہْلَہَا إِذْ سَمِعَ بِہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ، وَہُوَ فِی نَخْلٍ لِأَہْلِہِ یَخْتَرِفُ لَہُمْ مِنْہُ، فَعَجِلَ أَنْ یَضَعَ الَّذِییَخْتَرِفُ فِیہَا، فَجَائَ وَہِیَ مَعَہُ، فَسَمِعَ مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَجَعَ إِلٰی أَہْلِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَیُّ بُیُوتِ أَہْلِنَا أَقْرَبُ؟)) قَالَ: فَقَالَ أَبُو أَیُّوبَ: أَنَا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ہٰذِہِ دَارِی وَہٰذَا بَابِی، قَالَ: ((فَانْطَلِقْ فَہَیِّئْ لَنَا مَقِیلًا۔)) قَالَ: فَذَہَبَ فَہَیَّأَ لَہُمَا مَقِیلًا، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! قَدْ ہَیَّأْتُ لَکُمَا مَقِیلًا، فَقُومَا عَلٰی بَرَکَۃِ اللّٰہِ فَقِیلَا، فَلَمَّا جَاء َ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ حَقًّا، وَأَنَّکَ جِئْتَ بِحَقٍّ، وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْیَہُودُ أَنِّی سَیِّدُہُمْ وَابْنُ سَیِّدِہِمْ وَأَعْلَمُہُمْ وَابْنُ أَعْلَمِہِمْ، فَادْعُہُمْ فَاسْأَلْہُمْ، فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا مَعْشَرَ الْیَہُودِ! وَیْلَکُمْ اتَّقُوا اللّٰہَ، فَوَالَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، إِنَّکُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ حَقًّا وَأَنِّی جِئْتُکُمْ بِحَقٍّ، أَسْلِمُوا۔)) قَالُوا: مَا نَعْلَمُہُ ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۳۲۳۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو حرہ کی ایک جانب میں تشریف فرما ہوئے اور انصار کو اپنی آمد کی اطلاع بھجوائی۔ وہ لوگ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے آپ دونوں کو سلام کہا اور عرض کیا آپ امن اور اطمینان کے ساتھ سوار ہو کر شہر میں تشریف لائیں۔ چناں چہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدناابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی اپنی سواری پر سوار ہوئے اور لوگوں نے اسلحہ تان کر آپ کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ مدینہ منورہ میں خبر پھیل گئی کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ چناں چہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف امڈکر آئے، تاکہ آپ کی زیارت کرلیں، اور وہ خوشی سے کہتے جاتے اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں۔ آپ چلتے چلتے سیدناابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے قریب آپہنچے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اہلِ خانہ سے باتیں کرنے لگیں گے۔ تو عبداللہ بن سلام اپنے اہلِ خانہ کے نخلستان میں اہلِ خانہ کے لیے کھجوریں چن رہے تھے انہوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کی خبر سنی، وہ اس قدر تیزی اور جلدی سے آپ کی خدمت میں آئے کہ وہ کھجوریں اٹھائے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے آکر آپ کی گفتگو سنی۔اس کے بعد وہ اپنے گھر تشریف لے گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے رشتہ داروں کے گھروں میں سے کس کا گھر یہاں سے قریب ترین ہے۔ توسیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! یہ میرا گھر اور میرا دروازہ ہے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا آپ جا کر ہمارے لئے جگہ بنائیں۔سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیںیہ سن کرسیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جا کر آپ کے لئے اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے جگہ تیار کی۔ اور آ کر عرض کیا اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! میں آپ دونوں کے لئے جگہ تیار کر آیا ہوں۔ اللہ کے نام کی برکت سے اٹھ کر تشریف لائیں اور آرام فرمائیں۔ جب اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے گھر آئے تو عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے۔ اور کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور دعوتِ حق اور دینِ حق لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار اور ابنِ سراد ہوں، اور میں ان کا سب سے بڑا عالم اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں۔آپ ان یہودیوں کو بلوائیں۔ اور ان سے میری بابت دریافت فرمائیں۔ یہودی آئے تو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے یہودیو! اللہ سے ڈرو اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم یقینا جانتے ہو کہ میں واقعی اللہ کا رسول ہوں۔ اور میں تمہارے پاس دینِ حق اور دعوتِ حق لے کر آیا ہوں۔ تم اسلام قبول کر لو۔ تو وہ بولے، ہم اس بات کو نہیں جانتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10654

۔ (۱۰۶۵۴)۔ عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ فِی عُلُوِّ الْمَدِینَۃِ فِی حَیٍّ،یُقَالُ لَہُم: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِیہِمْ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً، ثُمَّ إِنَّہُ أَرْسَلَ إِلٰی مَلَإٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ، قَالَ: فَجَائُ وْا مُتَقَلِّدِینَ سُیُوفَہُمْ، قَالَ: فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رَاحِلَتِہِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفُہُ، وَمَلَأُ بَنِی النَّجَّارِ حَوْلَہُ، حَتّٰی أَلْقٰی بِفِنَائِ أَبِی أَیُّوبَ، قَالَ: فَکَانَ یُصَلِّی حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ، وَیُصَلِّی فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ إِنَّہُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلٰی مَلَإٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ فَجَائُ وْا، فَقَالَ: ((یَا بَنِی النَّجَّارِ! ثَامِنُونِی حَائِطَکُمْ ہٰذَا۔)) فَقَالُوا: وَاللّٰہِ! لا نَطْلُبُ ثَمَنَہُ إِلَّا إِلَی اللّٰہِ، قَالَ: وَکَانَ فِیہِ مَا أَقُولُ لَکُمْ کَانَتْ فِیہِ قُبُورُ الْمُشْرِکِینَ، وَکَانَ فِیہِ حَرْثٌ، وَکَانَ فِیہِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقُبُورِ الْمُشْرِکِینَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّیَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، قَالَ: ((فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلٰی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَیْہِ حِجَارَۃً، قَالَ: وَجَعَلُوا یَنْقُلُونَ ذٰلِکَ الصَّخْرَ، وَہُمْ یَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُمْ یَقُولُ: ((اللّٰہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُ الْآخِرَہ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۴۰)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ہجرت کر کے تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں بنو عمرو بن عوف کے قبیلہ میں چودہ راتیں قیام فرمایا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ماموں قبیلہ بنو نجار کے معززین کے ہاں پیغام بھجوایا، وہ ہتھیار سجا کر آگئے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:وہ منظر گویا اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے ہیں اور بنو نجار کے معززین کی جماعت آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے ہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے سامنے اپنا سامان رکھا، اس وقت تک چونکہ مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی اس لئے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہیں نماز ادا فرما لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تعمیر مسجد کا حکم دیا اور بنو نجار کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طلب فرمایا، وہ آگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو نجار! تم میرے ساتھ اپنے اس قطعہ ارضی کی قیمت طے کرو۔ لیکن انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہم اس کا معاوضہ صرف اللہ سے لیں گے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اس قطعہ میں مشرکین کی قبریں تھیں اور کچھ کھیتیاں(اور کھنڈرات) اور کھجوروں کے کچھ درخت تھے، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق حکم دیا کہ ان کو اکھیڑدیا جائے، پس ان کو اکھاڑ دیا گیا اور کھیتوں ( یا کھنڈرات) کے متعلق حکم دیا اور ان کو مسمار کر کے برابر کر دیا گیا اور کھجوروں کے درختوں کو کاٹ دینے کا حکم دیا اور انہیں کاٹ دیا گیا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: کھجوروں کے تنوں کو مسجد کے قبلہ کے رُخ ایک قطار میں کھڑا کر کے دیوار بنا دی گئی، اور دونوں پہلوں کی دیواروں کی جگہ پتھر چُن دئیے گئے، صحابہ کرام ان پتھروں کو اُٹھا اُٹھا کر لاتے اور یہ شعر پڑھتے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے ساتھ یہ کلمات فرما رہے تھے: اَللَّہُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُ الْآخِرَہ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ (یااللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرمایا۔)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10655

۔ (۱۰۶۵۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِینَۃَ، آخَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَہُ وَبَیْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ، فَقَالَ: أُقَاسِمُکَ مَالِی نِصْفَیْنِ، وَلِی امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاہُمَا، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا فَتَزَوَّجْہَا، فَقَالَ: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِی أَہْلِکَ وَمَالِکَ، دُلُّونِی عَلَی السُّوقِ،فَدَلُّوہُ، فَانْطَلَقَ فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَہُ شَیْئٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَہُ، فَرَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذٰلِکَ وَعَلَیْہِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَۃٍ، فَقَالَ: ((مَہْیَمْ؟)) قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: ((مَا أَصْدَقْتَہَا؟)) قَالَ: نَوَاۃً مِنْ ذَہَبٍ، قَالَ حُمَیْدٌ: أَوْ وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، فَقَالَ: ((أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین مواخات اور بھائی چارہ قائم کر دیا،سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اپنا سارا مال نصف نصف کرتا ہوں، میری دو بیویاں ہیں، میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، اس کی عدت پوری ہونے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں، سیدنا عبدالرحمان بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تمہارے اہل وعیال اور مال میں برکت فرمائے، لیکن مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، مجھے بازاراور منڈی کا راستہ بتلا دو۔ لوگوں نے ان کو منڈی کا راستہ بتلادیا، وہ اس میں چلے گئے اور جب واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور کچھ گھی تھا، جو وہ بطورِ منافع کما کر لائے تھے، اس کے بعد ایک موقعہ پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ لگاہواتھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیا؟ جواب دیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: تم نے اسے مہر کے طور پر کیا ادا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نواۃ کے برابر سونا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرو خواہ وہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10656

۔ (۱۰۶۵۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: وَحَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِی الَّتِی بِالْمَدِینَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۹)
سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات اور بھائی چارہ میرے اس گھر میں کرایا تھا، جو مدینہ منورہ میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10657

۔ (۱۰۶۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِنَا، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَقُولُ: آخَی۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۳)
۔(دوسری سند) سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ ہمارے گھر میں قائم کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10657

۔ (۱۰۶۵۷)۔ عََنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَل قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: بَلَغَکَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاحِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ۔)) قَالَ: فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ: بَلٰی بَلٰی، قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۱)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے کہا: کیا تم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام میں کوئی مؤاخات نہیں ہے۔ ؟یہ سن کر سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غضب ناک ہو گئے اور کہنے لگے، کیوں نہیں، کیوں نہیں، بلکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود قریش اور انصار کے مابین میرے گھر میں مواخات کرائی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10658

۔ (۱۰۶۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۲)
۔(دوسری سند) عاصم احول سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین مواخات سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں کرائی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10659

۔ (۱۰۶۵۹)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا حِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ، وَأَیُّمَا حِلْفٍ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ لَمْ یَزِدْہُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّۃً۔))۔ (مسند احمد: ۱۶۸۸۳)
سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں آپس کا عہدوپیمان نہیں ہے، البتہ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں جو عہد وپیمان ہو چکا ہے، اسلام اسے مزید مضبوط اور پختہ کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10660

۔ (۱۰۶۶۰)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ عَاصِمٍ اَنَّہُ سَألَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْحَلْفِ، فَقَالَ: ((مَا کَانَ مِنْ حَلْفٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَتَمَسَّکُوْا بِہِ وَلَا حِلْفَ فِی الْاِسْلَامِ۔))۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸۹)
قیس بن عاصم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عہدوپیمان کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عہد و پیمان دورِ جاہلیت میں کر چکے ہو، انہیں پورا کرو، البتہ اسلام میں از سرِ نو ایسے عہدو پیمان نہیں ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10661

۔ (۱۰۶۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((شَہِدْتُ حِلْفَ الْمُطَیَّبِینَ مَعَ عُمُومَتِی وَأَنَا غُلَامٌ، فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّی أَنْکُثُہُ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَمْ یُصِبِ الْإِسْلَامُ حِلْفًا إِلَّا زَادَہُ شِدَّۃً، وَلَا حِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ۔)) وَقَدْ أَلَّفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ قُرَیْشٍ وَالْأَنْصَارِ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۵)
سیدناعبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ابھی لڑکا ہی تھا کہ اپنے چچاؤں کے ساتھ مطیبین کے معاہدہ میں شامل ہوا تھا، اب بھی مجھے بیشِ قیمت سرخ اونٹ بھی مل جائیں تو تب بھی میں اس معاہدہ کو توڑنا پسند نہیں کروں گا۔ امام زہری کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام نے لوگوں کے کئے ہوئے جس معاہدہ کو پایا، اس نے اسے مزید پختہ کیا اور اب اسلام میں اس قسم کے عہدوپیمان اور معاہدوں کی گنجائش نہیں ہے۔ خود اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش اور انصار کے مابین مؤاخات قائم کی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10662

۔ (۱۰۶۶۲)۔ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ حِلْفٍ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، لَمْ یَزِدْہُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّۃً أَوْ حِدَّۃً۔))۔ (مسند احمد: ۲۹۰۹)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت میں جو معاہدے اور عہدوپیمان ہوئے، اسلام نے ان کو مزید پختہ اور مضبوط کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10663

۔ (۱۰۶۶۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَتِ الْمُہَاجِرُونَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَیْہِمْ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ کَثِیرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاۃً فِی قَلِیلٍ، قَدْ کَفَوْنَا الْمَئُونَۃَ وَأَشْرَکُونَا فِی الْمَہْنَإِ، فَقَدْ خَشِینَا أَنْ یَذْہَبُوا بِالْأَجْرِ کُلِّہِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((کَلَّا مَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِمْ بِہِ، وَدَعَوْتُمُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۱۵۳)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے کہا: ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان سے زیادہ خرچ کرنے والا اور قلت کے باوجود ان سے بڑھ کر ہمدردی کرنے والا کسی کو نہیں پایا، انہوں نے ہماری ہر ضرورت کو پورا کیا اور ہمیں اپنی ہر خوشی میں شریک رکھا، ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا ثواب یہ لوگ ہی لے جائیں گے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی بات نہیں ہے، جب تک تم ان کے حسنِ سلوک پر ان کی جو تعریف کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرتے ہو، (اللہ تمہیں بھی اس کا اجروثواب دے گا)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10664

۔ (۱۰۶۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أبَیِْہِ عَنْ جَدِّہِ، أنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ کِتَابًا بَیْنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ: ((اَنْ یَعْقِلُوْا مَعَاقِلَہُمْ وَاَنْ یَفْدُوْا عَانِیَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَالاِصْلَاحِ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابینیہ معاہدہ تحریر کیا تھا کہ یہ سب مل کر ایک دوسرے کے خون بہا ادا کریں گے،ایک دوسرے کے قیدیوں کو معروف طریقہ سے رہا کرائیں گے اور مسلمانوں کے مابین اصلاحِ احوال کریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10665

۔ (۱۰۶۶۵)۔ حَدَّثَنَاإِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَطِیَّۃَ الْأَنْصَارِیُّ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ عَطِیَّۃَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، جَمَعَ نِسَائَ الْأَنْصَارِ فِی بَیْتٍ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَیْہِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَامَ عَلَی الْبَابِ فَسَلَّمَ، فَرَدَدْنَ عَلَیْہِ السَّلَامَ، فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْکُنَّ، قُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللّٰہِ وَرَسُولِ رَسُولِ اللّٰہِ وَقَالَ: ((تُبَایِعْنَ عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَزْنِینَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَکُنَّ، وَلَا تَأْتِینَ بِبُہْتَانٍ تَفْتَرِینَہُ بَیْنَ أَیْدِیکُنَّ وَأَرْجُلِکُنَّ، وَلَا تَعْصِینَہُ فِی مَعْرُوفٍ۔)) قُلْنَا: نَعَمْ! فَمَدَدْنَا أَیْدِیَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَیْتِ، وَمَدَّ یَدَہُ مِنْ خَارِجِ الْبَیْتِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ! وَأَمَرَنَا بِالْعِیدَیْنِ أَنْ نُخْرِجَ الْعُتَّقَ وَالْحُیَّضَ، وَنَہٰی عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَا جُمُعَۃَ عَلَیْنَا، وَسَأَلْتُہَا عَنْ قَوْلِہِ: {وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} قَالَتْ: نُہِینَا عَنِ النِّیَاحَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۷۸)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع کیا اور سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی طرف بھیجا، وہ جا کر دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کہا، ان عورتوں نے سلام کا جواب دیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا: ہم اللہ کے رسول اور اللہ کے رسول کے قاصد کو مرحبا اور خوش آمدید کہتی ہیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم ان امور پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کرو گی،تم از خود کوئی بات بنا کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی اور نوحہ نہیں کرو گی۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر ہم نے گھر کے اندر سے اپنے ہاتھ آگے کو بڑھائے اور انھوں نے باہر ہی سے اپنا بڑھایا، ہاتھ ملائے بغیر ہی محض اشارے سے بیعت ہوئی۔ پھر انھوں نے فرمایا: یا اللہ! گواہ رہنا۔ انھوں نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم عیدین کے موقعہ پر نوجوان لڑکیوں کو اور حیض والی خواتین کو بھی باہر، عیدگاہ کی طرف عید کے لیے لے جایا کریں اور انھوں نے ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا، نیز فرمایا کہ ہمارے لیے جمعہ کی حاضری ضروری نہیں۔ اسمٰعیل بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے دریافت کیا کہ حدیث میں وارد لفظ {وَلَا یَعْصِینَکَ فِی مَعْرُوفٍ} سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس لفظ کے ذریعے ہمیںنوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10666

۔ (۱۰۶۶۶)۔ عَنْ أُمَیْمَۃَ بِنْتِ رُقَیْقَۃَ قَالَتْ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نِسَائٍ نُبَایِعُہُ فَأَخَذَ عَلَیْنَا مَا فِی الْقُرْآنِ أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئًا الْآیَۃَ قَالَ: ((فِیمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ۔)) قُلْنَا اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، قُلْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا تُصَافِحُنَا؟ قَالَ: ((إِنِّی لَا أُصَافِحُ النِّسَائَ إِنَّمَا قَوْلِی لِامْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ کَقَوْلِی لِمِائَۃِ امْرَأَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۴۹)
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عورتوں کے ساتھ مل کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئی، ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے قرآن پاک میں بیان کئے گئے اصولوں پر بیعت لی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں گی، (آیت آخر تک)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ان شقوں پر تم نے اتنا عمل کرنا ہے، جتنی تم میں طاقت اور قوت ہو گی۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تو ہمارے ساتھ ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والے ہیں، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ مصافحہ کیوں نہیں کرتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اجنبی عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو خواتین سے عہد لینا، ایسے ہی ہے جیسے ایک عورت سے عہد لیتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10667

۔ (۱۰۶۶۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: جَائَ تْ أُمَیْمَۃُ بِنْتُ رُقَیْقَۃَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُبَایِعُہُ عَلَی الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: ((أُبَایِعُکِ عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکِی بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَسْرِقِی، وَلَا تَزْنِی وَلَا تَقْتُلِی وَلَدَکِ، وَلَا تَأْتِی بِبُہْتَانٍ تَفْتَرِینَہُ بَیْنَیَدَیْکِ وَرِجْلَیْکِ، وَلَا تَنُوحِی، وَلَا تَبَرَّجِی تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولٰی۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اسلام کی بیعت کرنے کی غرض سے حاضر ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری اور زنانہیں کرو گی، اپنے بچوں کو قتل نہ کرو گی، اور از خود گھڑ کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کرو گی، نوحہ نہیں کرو گی اور پہلی جاہلیت کی طرح سرِ عام بے پردہ نہ گھومو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10668

۔ (۱۰۶۶۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، وَہِیَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاشْتَکٰی أَبُو بَکْرٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْہَا، وَبَارِکْ لَنَا فِی مُدِّہَا وَصَاعِہَا، وَانْقُلْ حُمَّاہَا فَاجْعَلْہَا فِی الْجُحْفَۃِ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۷۹۲)
سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہ شدید قسم کی وبائی زمین تھی، پھر سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی: یا اللہ ! ہمارے لئے مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے اور اس کی فضا کو صحت والا کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے جُحفہ کے علاقے میں منتقل کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10669

۔ (۱۰۶۶۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، اشْتَکٰی أَصْحَابُہُ، وَاشْتَکٰی أَبُو بَکْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ مَوْلٰی أَبِی بَکْرٍ وَبِلَالٌ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی عِیَادَتِہِمْ، فَأَذِنَ لَہَا، فَقَالَتْ لِأَبِی بَکْرٍ: کَیْفَ تَجِدُکَ؟ فَقَالَ: ((کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ، وَالْمَوْتُ أَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ، وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ: إِنِّی وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِہِ، إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُہُ مِنْ فَوْقِہِ،وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ: یَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِفَجٍّ، وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ، فَأَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَتْہُ بِقَوْلِہِمْ، فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ، کَمَا حَبَّبْتَ إِلَیْنَا مَکَّۃَ اَوْ أَشَدَّ، اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَفِی مُدِّہَا، وَانْقُلْ وَبَائَ ہَا إِلٰی مَہْیَعَۃَ۔)) وَہِیَ الْجُحْفَۃُ کَمَا زَعَمُوا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶۴)
سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر صدیق، ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا بلال سمیت کچھ صحابۂ کرام بیمار پڑ گئے۔ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کی عیادت کے لیے جانے کی خاطر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت چاہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں جانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ جب انھوں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کیسے ہیں؟ تو انہوں نے یہ شعر پڑھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا: ہر شخص کو اس کے اہلِ خانہ میں صبح بخیر کہا جاتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے قریب ہے۔ پھر جب انھوں نے سیدنا عامر بن فہیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں موت کے آنے سے پہلے ہی موت سے دو چار ہو گیا ہوں، موت ہر وقت بزدل آدمی کے سر پرکھڑی ہوتی ہے۔ جب سیدہ نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی فج (جو کہ مکہ کی ایک وادی ہے) میں گزار سکوں گا، جہاں میرے گرد اذخر گھاس اور جلیل نامی گھاس ہو۔ جب عیادت کے بعد سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں آئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان حضرات کی باتوں کے متعلق بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ ! ہمارے لیے مدینہ منورہ کے صاع اور مد میں برکت فرما اور اس کی وباء کو مہیعہیعنی حجفہ کی طرف منتقل کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10670

۔ (۱۰۶۷۰)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ وَہِیَ وَبِیئَۃٌ، ذُکِرَ أَنَّ الْحُمّٰی صَرَعَتْہُمْ فَمَرِضَ أَبُو بَکْرٍ، وَکَانَ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمَّییَقُولُ: کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ، وَالْمَوْتُ أَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ، قَالَتْ: وَکَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمّٰییَقُولُ: أَلَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ، وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ، وَہَلْ أَرِدْنَ یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ، وَہَلْیَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ، اللَّہُمَّ الْعَنْ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ وَشَیْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ وَأُمَیَّۃَ بْنَ خَلَفٍ، کَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَکَّۃَ، فَلَمَّا رَأٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَقُوا، قَالَ: ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ، اللَّہُمَّ صَحِّحْہَا، وَبَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَمُدِّہَا، وَانْقُلْ حُمَّاہَا إِلَی الْجُحْفَۃِ۔)) قَالَ: فَکَانَ الْمَوْلُودُ یُولَدُ بِالْجُحْفَۃِ، فَمَا یَبْلُغُ الْحُلُمَ حَتّٰی تَصْرَعَہُ الْحُمّٰی۔ (مسند احمد: ۲۶۷۷۰)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ وبا والا علاقہ اور لوگ بخار میں مبتلا تھے، سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار ہو گئے۔ انہیں جب شدت کا بخار ہوتا تو وہ یوں کہنے لگتے: ہر شخص اپنے اہلِ خانہ میں صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شدید بخار ہوتا تو وہ یوں کہتے: اے کاش میں جان سکوں کہ میں کوئی ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا، جہاں میرے اردگرد اذخر اور جلیل نامی گھاس ہو، اور میں کبھی مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور کیا شامہ اور جلیل نامی پہاڑ میرے لیے ظاہر ہوں گے، اے اللہ !عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت فرما کہ انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکال دیا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان صحابہ کییہ پریشانی دیکھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ ! ہمارے لئے مدینہ منورہ کو مکہ مکرمہ کی طرح یا اس سے بھی بڑھ کر محبوب بنا دے۔ اور اس کی فضا کو صحت والا بنا دے، اور ہمارے لئے یہاں کے صاع اور مد میں برکت فرما اور یہاں کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر دے عروہ کہتے ہیں آپ کی اس دعا کا نتیجہیہ ہوا کہ جحفہ کے علاقے میں جو بچہ بھی پیدا ہوتا وہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچتا تھا حتی کہ اسے بخار چت گرا دیتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10671

۔ (۱۰۶۷۱)۔ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّہَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْتُ بِقُبَائَ فَوَلَدْتُہُ بِقُبَائَ، ثُمَّ أَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعْتُہُ فِی حِجْرِہِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَۃٍ فَمَضَغَہَا ثُمَّ تَفَلَ فِی فِیہِ، فَکَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِی جَوْفِہِ رِیقُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: ثُمَّ حَنَّکَہُ بِتَمْرَۃٍ، ثُمَّ دَعَا لَہُ وَبَرَّکَ عَلَیْہِ، وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الْإِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۷۷)
سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مکہ میں حاملہ ہو گئی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں جب مکہ سے سفر ہجرت پر روانہ ہوئی تو ایام حمل پورے ہو چکے تھے، میں مدینہ منورہ آئی اور قباء میں قیام کیا، وہیں میں نے بچے کو جنم دیا، میں اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لائی اور میں نے اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گود میں رکھ دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور منگوا کر اسے چبایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال دیا، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لعاب مبارک داخل ہوا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے حق میں برکت کی دعا کی، اسلام کے دور میں یہ سب سے پہلا پیدا ہونے والا بچہ تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10672

۔ (۱۰۶۷۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ شَوَّالٍ وَبَنٰی بِیْ فِیْ شَوَّالٍ، فَأیُّ نِسَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اَحْظٰی عِنْدَہُ مِنِّیْ، وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ نِسَائُھَا فِیْ شَوَّالٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۳۵)
سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ( قبل از ہجرت) ماہِ شوال میں مجھ سے نکاح کیا تھا اور ( بعد ازہجرت) ماہ شوال میں میری رخصتی ہوئی، تو کونسی بیوی مجھ سے بڑھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی منظورِ نظر تھی، اور سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ اپنے خاندان کی عورتوں کی ماہِ شوال میں شادی کریں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10673

۔ (۱۰۶۷۳)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَتْ: کُنْتُ صَاحِبَۃَ عَائِشَۃَ الَّتِی ہَیَّأَتْہَا وَأَدْخَلَتْہَا عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعِیْ نِسْوَۃٌ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا وَجَدْنَا عِنْدَہُ قِرًی إِلَّا قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ، قَالَتْ: فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ نَاوَلَہُ عَائِشَۃَ، فَاسْتَحْیَتِ الْجَارِیَۃُ، فَقُلْنَا: لَا تَرُدِّییَدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُذِی مِنْہُ، فَأَخَذَتْہُ عَلَی حَیَائٍ، فَشَرِبَتْ مِنْہُ، ثُمَّ قَالَ: ((نَاوِلِی صَوَاحِبَکِ۔)) فَقُلْنَا: لَا نَشْتَہِہِ، فَقَالَ:((لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَکَذِبًا۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَیْئٍ تَشْتَہِیہِ: لَا أَشْتَہِیہِ،یُعَدُّ ذَلِکَ کَذِبًا، قَالَ: ((إِنَّ الْکَذِبَ یُکْتَبُ کَذِبًا حَتَّی تُکْتَبَ الْکُذَیْبَۃُ کُذَیْبَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۱۹)
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں روانہ کرتے وقت ان کو تیار کیا، چند دوسری خواتین بھی میرے ساتھ تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں دودھ کے ایک پیالے کے سوا مزید کوئی مہمانی نہ پائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے دودھ نوش فرمایا اور پھر وہ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو تھما دیا، انھوں نے دلہن ہونے کی وجہ سے دودھ نوش کرنے میں جھجک محسوس کی، لیکن ہم نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ یوں نہ واپس کرو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پیالہ پکڑ لو، انہوں نے جھجکتے ہوئے پیالہ لے کر اس سے نوش کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اپنی ان سہیلیوں کو دے دو، تو ہم نے عرض کیا، ہمیں اس کی حاجت نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ اور بھوک کو یکجا نہ کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کو کسی چیز کی حاجت تو ہو مگر وہ ویسے ہی کہہ دے کہ مجھے حاجت نہیں تو کیا یہ بھی جھوٹ لکھا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جھوٹ کو جھوٹ ہی لکھا جاتا ہے اور چھوٹا جھوٹ چھوٹا ہی لکھا جاتا ہے۔ شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ وہ ایک دن قبیلہ بنو عبد الاشھل کی ایک خاتون سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے اس کے سامنے کھانا پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے کھانے کی طلب نہیں،انہوں نے کہا: میں نے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ان کی شادی کی موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ کرتے وقت تیار کیا تھا، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئی اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ملوانے کے لئے بلایا، آپ آکر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے نوش فرمایا اور پھر آپ نے باقی ماندہ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو دیا، انہوں نے سر جھکا لیا اور شرما گئیں۔ سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو جھڑک دیا اور کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ سے پیالہ پکڑ لو، چنانچہ انہوں نے پیالہ لے کر اس سے کچھ پی لیا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: اپنی سہیلی کو دے دو۔ سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ لیں اور نوش فرمائیں، اس کے بعد مجھے عنایت فرمائیں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیالہ لے کر اس میں سے کچھ نوش کیا اور پھر وہ مجھے تھما دیا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے بیٹھ کر اسے اپنے گھٹنے پر رکھا اور اسے گھمانے لگی اور اپنے ہونٹ اس پر پھیرنے لگی تاکہ میرے ہونٹ اس مبارک مقام پر لگ جائیں، جہاں منہ رکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرمایا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں میرے پاس موجود خواتین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں بھی دو، تو انہوں نے کہا ہمیں حاجت نہیں ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ اور بھوک کو جمع نہ کرو، پس کیا تو اس بات سے باز نہیں آئے گی کہ مجھے حاجت نہیں ہے؟ میں نے کہا: اماں جان! میں آئندہ ایسے نہ کہوں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10674

۔ (۱۰۶۷۴)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ یَزِیدَ بْنِ السَّکَنِ، إِحْدٰی نِسَائِ بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ، دَخَلَ عَلَیْہَایَوْمًا، فَقَرَّبَتْ إِلَیْہِ طَعَامًا، فَقَالَ: لَا أَشْتَہِیہِ، فَقَالَتْ: إِنِّی قَیَّنْتُ عَائِشَۃَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جِئْتُہُ فَدَعَوْتُہُ لِجِلْوَتِہَا، فَجَائَ فَجَلَسَ إِلٰی جَنْبِہَا، فَأُتِیَ بِعُسِّ لَبَنٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَفَضَتْ رَأْسَہَا وَاسْتَحْیَا، قَالَتْ أَسْمَائُ: فَانْتَہَرْتُہَا، وَقُلْتُ لَہَا: خُذِی مِنْ یَدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ شَیْئًا، ثُمَّ قَالَ لَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَعْطِی تِرْبَکِ۔)) قَالَتْ أَسْمَائُ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَلْ خُذْہُ فَاشْرَبْ مِنْہُ، ثُمَّ نَاوِلْنِیہِ مِنْ یَدِکَ، فَأَخَذَہُ فَشَرِبَ مِنْہُ، ثُمَّ نَاوَلَنِیہِ، قَالَتْ: فَجَلَسْتُ ثُمَّ وَضَعْتُہُ عَلٰی رُکْبَتِی، ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِیرُہُ وَأَتْبَعُہُ بِشَفَتَیَّ لِأُصِیبَ مِنْہُ مَشْرَبَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَۃٍ عِنْدِی: ((نَاوِلِیہِنَّ۔)) فَقُلْنَ: لَا نَشْتَہِیہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَکَذِبًا، فَہَلْ أَنْتِ مُنْتَہِیَۃٌ أَنْ تَقُولِی لَا أَشْتَہِیہِ؟)) فَقُلْتُ: أَیْ أُمَّہْ! لَا أَعُودُ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۸۱۴۳)
امام نافع سے مروی ہے کہ سیدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت انتظار کیا کرتے تھے، اس وقت کوئی بھی اذان دینے والا نہیں ہوتا تھا، ایک دن صحابہ نے اس بارے میں گفتگو شروع کی، بعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس جیسا ناقوس بنا لو۔ بعض نے کہا کہ ناقوس تو نہیں ہونا چاہیے، البتہ یہودیوں کی طرح کا ایک سینگ مقرر کر لو۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم اس طرح کیوں نہیں کرتے کہ کسی کو بھیج دیا کرو جو نماز کا اعلان کر دیا کرے؟ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! اُٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10675

۔ (۱۰۶۷۵)۔ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ: کَانَ الْمُسْلِمُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ،یَجْتَمِعُونَ فَیَتَحَیَّنُونَ الصَّلَاۃَ، وَلَیْسَیُنَادِی بِہَا أَحَدٌ، فَتَکَلَّمُوا یَوْمًا فِی ذٰلِکَ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْیَہُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا یُنَادِی بِالصَّلَاۃِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاۃِ۔))۔ (مسند احمد: ۶۳۵۷)
پھر سیدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خواب میں اذان دیکھی اور آ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی، نماز کے ابواب میں اذان کی مکمل تفصیل گزر چکی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10676

۔ (۱۰۶۷۶)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ بِمَکَّۃَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، زَادَ مَعَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ، فَإِنَّہَا وِتْرُ النَّہَارِ، وَصَلَاۃَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاء َتِہِمَا، قَالَ: وَکَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّی الصَّلَاۃَ الْأُولٰی۔ (مسند احمد: ۲۶۵۷۰)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ مکہ میں نماز کی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہر دو رکعت کے ساتھ مزید دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا تھا، ما سوائے مغرب کے، کیونکہ وہ دن کی طاق نماز ہے اور ما سوائے نمازِ فجر کے، کیونکہ ان میں قراء ت طویل ہوتی ہے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر پر روانہ ہوتے تو پہلے کی طرح نماز ادا فرماتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10677

۔ (۱۰۶۷۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقْبَلَتْ یَہُودُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا أَبَا الْقَاسِمِ! إِنَّا نَسْأَلُکَ عَنْ خَمْسَۃِ أَشْیَائَ، فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِہِنَّ عَرَفْنَا أَنَّکَ نَبِیٌّ وَاتَّبَعْنَاکَ، فَأَخَذَ عَلَیْہِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی بَنِیہِ إِذْ قَالُوْا: {اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ} قَالَ: ((ہَاتُوْا۔)) قَالُوْا: أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَۃِ النَّبِیِّ، قَالَ: ((تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہُ۔))، قَالُوْا: أَخْبِرْنَا کَیْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَۃُ وَکَیْفَ تُذْکِرُ؟ قَالَ: ((یَلْتَقِی الْمَائَ انِِ فَإِذَا عَلَا مَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَۃِ أَذْکَرَتْ، وَإِذَا عَلَا مَائُ الْمَرْأَۃِ آنَثَتْ۔))، قَالُوْا: أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلٰی نَفْسِہِ، قَالَ: ((کَانَ یَشْتَکِی عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًایُلَائِمُہُ إِلَّا أَلْبَانَ کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْن أَحْمَد: قَالَ أَبِی: قَالَ بَعْضُہُمْ: یَعْنِی الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَہَا، قَالُوْا: صَدَقْتَ، قَالُوْا: أَخْبِرْنَا مَا ہٰذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ: ((مَلَکٌ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَکَّلٌ بِالسَّحَابِ بِیَدِہِ، أَوْ فِییَدِہِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ، یَزْجُرُ بِہِ السَّحَابَ، یَسُوقُہُ حَیْثُ أَمَرَ اللّٰہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا ہٰذَا الصَّوْتُ الَّذِییُسْمَعُ؟ قَالَ: ((صَوْتُہُ۔))، قَالُوْا: صَدَقْتَ، إِنَّمَا بَقِیَتْ وَاحِدَۃٌ وَہِیَ الَّتِی نُبَایِعُکَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا لَہُ مَلَکٌ یَأْتِیہِ بِالْخَبَرِ، فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُکَ؟ قَالَ: ((جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام۔)) قَالُوْا: جِبْرِیلُ؟ ذَاکَ الَّذِییَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا۔ لَوْ قُلْتَ: مِیکَائِیلَ الَّذِییَنْزِلُ بِالرَّحْمَۃِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَکَانَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ} إِلَی آخِرِ الْآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوزن کا آب جو ہر دونوں ملتے ہیں، جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا آب جو ہر غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتائو کہیعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نسا کی بیماری تھی، انہیں صرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ گرج کیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیں۔ اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ اس جگہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائییعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} … کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۹۷)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10678

۔ (۱۰۶۷۸)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ، أَہِیَ مِنْ نَسْلِ الْیَہُودِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ، فَمَسَخَہُمْ فَکَانَ لَہُمْ نَسْلٌ حِینَیُہْلِکُہُمْ،وَلٰکِنْ ہٰذَا خَلْقٌ کَانَ، فَلَمَّا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَی الْیَہُودِ، مَسَخَہُمْ فَجَعَلَہُمْ مِثْلَہُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۳۷۴۷)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بندروں اور خنزیروں کے متعلق دریافت کیا کہ کیایہیہودیوں کی مسخ شدہ نسل سے ہیں؟ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسا کبھی نہیں ہو اکہ کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پرلعنت کرتے ہوئے انہیں مسخ کر دے اور انہیں ہلاک کر دے اور پھر ان کی نسل چلے، در حقیقتیہ مخلوق ان کے مسخ کئے جانے سے پہلے کی ہے، اللہ تعالیٰ جب یہود پر غضب ناک ہوا تو اس نے ان کو ان مخلوقات کی مانند بنا دیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10679

۔ (۱۰۶۷۹)۔ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ أَخِی بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ سَلَامَۃَ بْنِ وَقْشٍ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، قَالَ: کَانَ لَنَا جَارٌ مِنْ یَہُودَ فِی بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَیْنَایَوْمًا مِنْ بَیْتِہِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَسِیرٍ، فَوَقَفَ عَلٰی مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْہَلِ، قَالَ سَلَمَۃُ: وَأَنَا یَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِیہِ سِنًّا، عَلَیَّ بُرْدَۃٌ مُضْطَجِعًا فِیہَا بِفِنَائِ أَہْلِی، فَذَکَرَ الْبَعْثَ وَالْقِیَامَۃَ وَالْحِسَابَ وَالْمِیزَانَ وَالْجَنَّۃَ وَالنَّارَ، فَقَالَ: ذٰلِکَ لِقَوْمٍ أَہْلِ شِرْکٍ أَصْحَابِ أَوْثَانٍ لَا یَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا کَائِنٌ بَعْدَ الْمَوْتِ، فَقَالُوا لَہُ: وَیْحَکَیَا فُلَانُ! تَرٰی ہٰذَا کَائِنًا، إِنَّ النَّاسَ یُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِہِمْ إِلٰی دَارٍ فِیہَا جَنَّۃٌ وَنَارٌ، یُجْزَوْنَ فِیہَا بِأَعْمَالِہِمْ، قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِییُحْلَفُ بِہِ! لَوَدَّ أَنَّ لَہُ بِحَظِّہِ مِنْ تِلْکَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِی الدُّنْیَایُحَمُّونَہُ، ثُمَّ یُدْخِلُونَہُ إِیَّاہُ، فَیُطْبَقُ بِہِ عَلَیْہِ، وَأَنْیَنْجُوَ مِنْ تِلْکَ النَّارِ غَدًا، قَالُوا لَہُ: وَیْحَکَ! وَمَا آیَۃُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: نَبِیٌّیُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ ہٰذِہِ الْبِلَادِ، وَأَشَارَ بِیَدِہِ نَحْوَ مَکَّۃَ وَالْیَمَنِ، قَالُوا: وَمَتٰی تَرَاہُ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَیَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِہِمْ سِنًّا، فَقَالَ: إِنْ یَسْتَنْفِدْ ہٰذَا الْغُلَامُ عُمُرَہُ یُدْرِکْہُ، قَالَ سَلَمَۃُ: فَوَاللّٰہِ! مَا ذَہَبَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتّٰی بَعَثَ اللّٰہُ تَعَالٰی رَسُولَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ حَیٌّ بَیْنَ أَظْہُرِنَا، فَآمَنَّا بِہِ وَکَفَرَ بِہِ بَغْیًا وَحَسَدًا، فَقُلْنَا: وَیْلَکَ،یَا فُلَانُ! أَلَسْتَ بِالَّذِی قُلْتَ لَنَا فِیہِ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: بَلٰی وَلَیْسَ بِہ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۳۵)
قبیلہ بنو عبدالاشہل کے سیدنا محمود بن لبید سلمہ بن سلامہ بن وقش سے روایت ہے، یہ اصحاب بدر میں سے تھے، کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عبدالا شھل کا ایکیہودی ہمارا ہمسایہ تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت سے کچھ دن پہلے ایک دن وہ اپنے گھر سے نکل کر قبیلہ عبدالاشھل کی ایک محفل میں آکھڑا ہوا، سلمہ کہتے ہیں کہ میں اس روز وہاں پر موجود سب سے کم سن تھا۔ میں ایک چادر اوڑھے اپنے گھر کے سامنے لیٹا ہوا تھا۔ اس یہودی نے مرنے کے بعد جی اُٹھنے قیامت، حساب وکتاب، میزان اور جنت وجہنم کا ذکر کیا۔ اس نے یہ باتیں ایسے لوگوں کے سامنے کی تھیں، جو مشرک اور بت پرست تھے، وہ مرنے کے بعد جی اُٹھنے پر ایمان واعتقاد نہ رکھتے تھے، انہوں نے اس سے کہا: ارے یہ کیا؟ تو بھی کہتا ہے کہ یہ کچھ ہو گا اور لوگ مرنے کے بعد ایک ایسے جہان میں اُٹھائے جائیں گے، جہاں جنت اور جہنم ہو گی اور لوگوں کو ان کے اعمال کی جزادی جائے گی؟ اس نے کہا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کی قسم اُٹھائی جاتی ہے! میں تو یہ بھی پسند کرتا ہوں کہ دنیا میں آگ کا ایک بہت بڑا تنور ہو اور لوگ اس میں داخل ہو جائیں اور پھر اسے اوپر سے بند کر دیا جائے اور میں کل کو جہنم کی آگ سے بچ جاؤں۔ لوگوں نے اس سے کہا: تجھ پر افسوس، اس کی علامت کیا ہے؟ تو اس نے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں سے ایک نبی مبعوث ہو گا لوگوں نے اس سے پوچھا ہم اس کو کب دیکھ سکیں گے؟ اس نے میری طرف دیکھا، میں ان میں سب سے کم سن تھا اور اس نے کہا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اپنی عمر تمام ہونے سے پہلے پہلے اسے دیکھلے گا۔ سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! کچھ دن رات ہی گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھیج دیا اور وہ ہمارے درمیان زندہ موجود تھے۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لے آئے اور اس نے بغض وحسد کی بنا پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کفر کیا، ہم نے اس سے کہا: اے فلاں! تجھ پر افسوس! کیا تو ہی وہ شخص نہیں، جس نے ہم سے اس نبی کے متعلق باتیں کی تھیں اور بتلایا تھا؟ اس نے کہا! ہاں، کیوں نہیں، لیکنیہ وہ نبی نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10680

۔ (۱۰۶۸۰)۔ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ الزُّہْرِیِّ قَالَ: مَرَّ بِیْیَہُوْدِیٌّ، وَأنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأ، قَالَ: فَقَالَ: اِرْفَعْ أوِ اکْشِفْ ثَوْبَہُ عَنْ ظَہْرِہِ؟ قال: فَذَھَبْتُ بِہِ اَرْفَعُہُ، قَالَ: فَنَضَحَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی وَجْہِیْ مِنَ الْمَائِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۱۵)
سیدنا مسور بن مخرمہ زہری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کر رہے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا تھا، ایکیہودی میرے پاس سے گزرا اور اس نے کہا ان کی پشت پر سے کپڑا اوپر اُٹھاؤ، تو میں آپ کا کپڑا اوپر کو اٹھانے لگا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے چہرے پر پانیکے چھینٹے مارے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10681

۔ (۱۰۶۸۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: جَائَ جُرْمُقَانِیٌّ إِلَی أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَیْنَ صَاحِبُکُمْ ہٰذَا الَّذِییَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ؟ لَئِنْ سَأَلْتُہُ لَأَعْلَمَنَّ أَنَّہُ نَبِیٌّ أَوْ غَیْرُ نَبِیٍّ، قَالَ: فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ الْجُرْمُقَانِیُّ: اِقْرَأْ عَلَیَّ أَوْ قُصَّ عَلَیَّ، فَتَلَا عَلَیْہِ آیَاتٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِیُّ: ہٰذَا، وَاللّٰہِ الَّذِی جَائَ بِہِ مُوسٰی عَلَیْہِ السَّلَام، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَحْمَد: ہٰذَا الْحَدِیثُ مُنْکَرٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۷۶)
سیدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک عجمی قوم جرامقہ کا ایک فرد صحابہ کرام کے پاس آیا اور اس نے کہا: تمہارے وہ صاحب کہاں ہیں جو نبی ہونے کے دعوے دار ہیں؟ میں ان سے کچھ دریافت کر نا چاہتا ہوں ، تاکہ جان لوں کہ وہ نبی ہیںیا نہیں ؟ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اس جرمقانی نے کہا: آپ میرے سامنے کچھ تلاوت کریںیا بیان کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سامنے کتاب اللہ کی چند آیات کی تلاوت کی، جرمقانی نے کہا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام بھی ایسی ہی تعلیم لے کر آئے تھے۔ عبداللہ بن احمد نے کہا کہ یہ حدیث منکر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10682

۔ (۱۰۶۸۲)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکِبَ حِمَارًا، عَلَیْہِ إِکَافٌ تَحْتَہُ قَطِیفَۃٌ فَدَکِیَّۃٌ، وَأَرْدَفَ وَرَائَہُ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ، وَہُوَ یَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ فِی بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَذٰلِکَ قَبْلَ وَقْعَۃِ بَدْرٍ، حَتّٰی مَرَّ بِمَجْلِسٍ، فِیہِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُشْرِکِینَ عَبَدَۃِ الْأَوْثَانِ وَالْیَہُودِ، فِیہِمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ، وَفِی الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ، فَلَمَّا غَشِیَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَۃُ الدَّابَّۃِ، خَمَّرَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ أَنْفَہُ بِرِدَائِہِ ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَیْنَا، فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاہُمْ إِلَی اللّٰہِ وَقَرَأَ عَلَیْہِمْ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ: أَیُّہَا الْمَرْئُ! لَا أَحْسَنَ مِنْ ہٰذَا إِنْ کَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَلَا تُؤْذِینَا فِی مَجَالِسِنَا، وَارْجِعْ إِلٰی رَحْلِکَ، فَمَنْ جَاء َکَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَیْہِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ: اغْشَنَا فِی مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذٰلِکَ، قَالَ: فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ وَالْیَہُودُ، حَتّٰی ہَمُّوا أَنْ یَتَوَاثَبُوا، فَلَمْ یَزَلِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُخَفِّضُہُمْ، ثُمَّ رَکِبَ دَابَّتَہُ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَقَالَ: ((أَیْ سَعْدُ! أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ؟ (یُرِیدُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أُبَیٍّ) قَالَ کَذَا وَکَذَا۔)) فَقَالَ: اعْفُ عَنْہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَاصْفَحْ، فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ أَعْطَاکَ اللّٰہُ الَّذِی أَعْطَاکَ، وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَہْلُ ہٰذِہِ الْبُحَیْرَۃِ، أَنْ یُتَوِّجُوہُ فَیُعَصِّبُونَہُ بِالْعِصَابَۃِ، فَلَمَّا رَدَّ اللّٰہُ ذٰلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِی أَعْطَاکَہُ شَرِقَ بِذٰلِکَ فَذَاکَ فَعَلَ بِہِ مَا رَأَیْتَ، فَعَفَا عَنْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۱۰)
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے، اس پر کاٹھی اور اس کے نیچے فد کی کپڑا یعنی فدک مقام کا تیار شدہ کپڑا رکھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو گدھے پر اپنے پیچھے سوار کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ غزوۂ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے چلتے ایک ایسی محفل کے پاس سے گذرے جس میں مسلمان، مشرکین، بتوں کے پجاری اور یہودی ملے جلے بیٹھے تھے۔ ان میں عبداللہ ابن ابی اور عبداللہ بن رواحہ بھی تھے، گدھے کے چلنے کی وجہ سے اڑنے والا غبار محفل پر پہنچا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر سے اپنی ناک کو ڈھانپ لیا اور بولا ہم پر غبار نہ اڑاؤ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کو سلام کہا اور رک کر نیچے اتر آئے اور ان لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، عبداللہ بن ابی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ کی بات سے بہتر کوئی بات نہیں، اگر آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری محافل میں آکر ہمیں تنگ نہ کیا کریں، آپ اپنے گھر جائیں ہم میں سے جو کوئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے سامنے یہ چیزیں بیان کیا کریں۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری محافل میں تشریف لایا کریں، ہم پسند کرتے ہیں۔ یا سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عبداللہ بن ابی سے مخاطب ہو کر کہا:تم اپنی محافل میں آنے سے ہمیں روک رہے ہو، تاہم ہم تمہیں اپنی محافل میں آنے کی دعوت دیتے ہیں، تم ہماری محافل میں آیا کر و ہم اسے پسند کرتے ہیں، ان باتوں سے مسلمانوں، مشرکین اور یہود میں تو تُکار شروع ہو گئی،یہاں تک کہ نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں خاموش کراتے رہے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر تشریف لے گئے اور سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں جا کر نزول فرما ہوئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم نے ابو حباب یعنی عبداللہ بن ابی کی بات سنی ہے؟ اس نے یوںیوں کہا ہے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے جانے دیں اور درگزر کریں، اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو عزت دینی تھی، وہ دے رکھی ہے اس بستییعنی مدینہ منورہ کے لوگ اس کی تاج پوشی اور دستار بندی کر کے اسے سردار بنانے والے تھے، جب اللہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عطا کئے ہوئے حق کے ذریعے اسے ناکام ونامراد کیا تو وہ آپ سے حسد کرنے لگا ہے۔ اس نے آپ کے ساتھ جو کچھ کیایہ اسی کا نتیجہ ہے،سو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے معاف کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10683

۔ (۱۰۶۸۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: غَزَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمْسَ عَشَرَۃَ غَزْوَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۸)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پندرہ غزوے کئے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10684

۔ (۱۰۶۸۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) ثَنَا إِسْرَائِیْلُ عَنْ أبِیْ اِسْحٰقَ عَنِ الْبَرَائِ ابْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمْسَ عَشْرَۃَ غَزْوَۃً، وَأنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ لِدَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۷)
۔( دوسری سند) سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پندرہ غزوات میں شرکت کی، میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم عمر ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10685

۔ (۱۰۶۸۵)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ کَمْ غَزَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تِسْعَ عَشْرَۃَ، وَغَزَوْتُ مَعَہُ سَبْعَ عَشْرَۃَ، وَسَبَقَنِی بِغَزَاتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۳۱)
ابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کل کتنے غزوے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انیس غزوے کیے اور میں نے آپ کے ساتھ سترہ غزوات میں شرکت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو غزووں میں مجھ سے سبقت لے گئے تھے، (سو میں ان میں شرکت نہ کر سکا تھا)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10686

۔ (۱۰۶۸۶)۔ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أبِیْہِ قَالَ: غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتَّ عَشَرَۃَ غَزْوَۃً۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۱)
سیدنا بریدہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10686

۔ (۱۰۶۸۶م)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْزُو فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ یُغْزٰی أَوْ یُغْزَوْا، فَإِذَا حَضَرَ ذٰلِکَ، أَقَامَ حَتّٰییَنْسَلِخَ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۳۷)
سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حرمت والے مہینوں میں قتال نہیں کیا کرتے تھے، سوائے اس صورت کے کہ دشمن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر چڑھائی کر دیتا، اگر کوئی ایسی صورت پیش آ جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حرمت والے مہینے کے گزرنے تک رک جاتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10687

۔ (۱۰۶۸۷)۔ عَنْ أنَسٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا غَزَا قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ أنْتَ عَضُدِیْ، وَأنْتَ نَصِیْرِیْ، وَبِکَ أُقَاتِلُ۔))۔ (مسند احمد: ۱۲۹۴۰)
سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب دشمن سے قتال کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ عَضُدِی وَاَنْتَ نصِیری وَبِکَ اُقَاتِلُ۔ (یا اللہ ! تو ہی میرا دست وبازو اور مدد گار ہے اور میں تیرے ہی سہارے دشمن سے قتال کرتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10688

۔ (۱۰۶۸۸)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَعَلِیٌّ رَفِیقَیْنِ فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الْعُشَیْرَۃِ، فَلَمَّا نَزَلَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَقَامَ بِہَا، رَأَیْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ یَعْمَلُونَ فِی عَیْنٍ لَہُمْ فِی نَخْلٍ، فَقَالَ لِی عَلِیٌّ: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! ہَلْ لَکَ أَنْ تَأْتِیَ ہٰؤُلَائِ، فَنَنْظُرَ کَیْفَیَعْمَلُونَ؟ فَجِئْنَاہُمْ فَنَظَرْنَا إِلٰی عَمَلِہِمْ سَاعَۃً، ثُمَّ غَشِیَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِیٌّ، فَاضْطَجَعْنَا فِی صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِی دَقْعَائَ مِنَ التُّرَابِ، فَنِمْنَا فَوَاللّٰہِ! مَا أَہَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَرِّکُنَا بِرِجْلِہِ، وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْکَ الدَّقْعَائِ، فَیَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِیٍّ: ((یَا أَبَا تُرَابٍ!)) لِمَا یُرَی عَلَیْہِ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ: ((أَلَا أُحَدِّثُکُمَا بِأَشْقَی النَّاسِ رَجُلَیْنِ؟)) قُلْنَا: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((أُحَیْمِرُ ثَمُودَ الَّذِی عَقَرَ النَّاقَۃَ، وَالَّذِییَضْرِبُکَیَا عَلِیُّ عَلٰی ہٰذِہِ، یَعْنِی قَرْنَہُ، حَتّٰی تُبَلَّ مِنْہُ ہٰذِہِ، یَعْنِی لِحْیَتَہُ۔))۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۱)
سیدناعمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۃ العشیرۃ میں میں اور علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اکٹھے تھے۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں نزول فرما ہوئے تو ہم نے وہاں بنو مدلج کے لوگوں کو ایک نخلستان میں ایک چشمے پر کام کرتے دیکھا تو علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا ابو الیقظان!کیا خیال ہے ہم ان کے پاس جا کر دیکھیںیہ کس طرح کام کرتے ہیں؟ ہم ان کے پاس گئے اور ہم نے کچھ دیر ان کا کام دیکھا۔ پھر ہمیں نیند نے آلیا۔ تو میں اور علی چل کر کھجوروں کے ایک جھنڈ میں مٹی پر ہی لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہی اپنے پاؤں سے حرکت دے کر ہمیں بیدار کیا۔ ہم دونوں مٹی کے ساتھ لتھڑے ہوئے تھے اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10689

۔ (۱۰۶۸۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، جَائَتْہُ جُہَیْنَۃُ، فَقَالُوا: إِنَّکَ قَدْ نَزَلْتَ بَیْنَ أَظْہُرِنَا، فَأَوْثِقْ لَنَا حَتّٰی نَأْتِیَکَ وَتُؤْمِنَّا، فَأَوْثَقَ لَہُمْ فَأَسْلَمُوا، قَالَ: فَبَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجَبٍ، وَلَا نَکُونُ مِائَۃً وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِیرَ عَلٰی حَیٍّ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ إِلٰی جَنْبِ جُہَیْنَۃَ، فَأَغَرْنَا عَلَیْہِمْ وَکَانُوا کَثِیرًا، فَلَجَأْنَا إِلٰی جُہَیْنَۃَ فَمَنَعُونَا، وَقَالُوا: لِمَ تُقَاتِلُونَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ؟ فَقُلْنَا: إِنَّمَا نُقَاتِلُ مَنْ أَخْرَجَنَا مِنَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: مَا تَرَوْنَ، فَقَالَ بَعْضُنَا: نَأْتِی نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُخْبِرُہُ، وَقَالَ قَوْمٌ: لَا، بَلْ نُقِیمُ ہَاہُنَا، وَقُلْتُ أَنَا فِی أُنَاسٍ مَعِی: لَا، بَلْ نَأْتِی عِیرَ قُرَیْشٍ فَنَقْتَطِعُہَا، فَانْطَلَقْنَا إِلَی الْعِیرِ، وَکَانَ الْفَیْئُ إِذْ ذَاکَ مَنْ أَخَذَ شَیْئًا فَہُوَ لَہُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَی الْعِیرِ، وَانْطَلَقَ أَصْحَابُنَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرُوہُ الْخَبَرَ، فَقَامَ غَضْبَانًا مُحْمَرَّ الْوَجْہِ، فَقَالَ: ((أَذَہَبْتُمْ مِنْ عِنْدِی جَمِیعًا وَجِئْتُمْ مُتَفَرِّقِینَ، إِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ الْفُرْقَۃُ، لَأَبْعَثَنَّ عَلَیْکُمْ رَجُلًا لَیْسَ بِخَیْرِکُمْ، أَصْبَرُکُمْ عَلَی الْجُوعِ وَالْعَطَشِ۔)) فَبَعَثَ عَلَیْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَحْشٍ الْأَسَدِیَّ، فَکَانَ أَوَّلَ أَمِیرٍ أُمِّرَ فِی الْإِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۹)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ جہینہ کے لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا آپ ہمارے درمیان تشریف لا چکے ہیں، آپ ہمارے ساتھ مضبوط تعلق قائم کریں تاکہ ہم آپ کی خدمت میں آئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری قیادت بھی فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پختہ عہدوپیمان کیا، وہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ماہ رجب میں روانہ کیا، ہماری تعداد ایک سو بھی نہ تھی، آپ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم قبیلہ جہینہ کے قریب آباد بنو کنانہ کی ایک شاخ پر حملہ کریں، ہم نے ان پر حملہ کر دیا، وہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ تھے، ہم قبیلہ جہینہ میں جا کر پناہ گزیں ہو گئے اورانہوں نے ہمیںپناہ دے دی اور یہ بھی کہا کہ آپ لوگ حرمت والے مہینے میں قتال کیوں کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہم ان لوگوں سے قتال کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں بلد حرامیعنی حرمت والے شہر سے حرمت والے مہینے میں نکال باہر کیا،یہ باتیں سن کر ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا: اب تمہارا کیا خیال ہے؟ بعض نے کہا:ہم اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر صورتِ حال کی خبر کریں، لیکن کچھ لوگوں نے کہا: نہیں نہیں، ہمیں یہیں ٹھہرنا چاہیے۔اور میں نے چند مزید لوگوں کو ساتھ ملا کر کہا کہ ہمیں قریش کے قافلہ کا رخ کر کے اس کو لوٹ لینا چاہیے، چنانچہ ہم قافلہ کی طرف چل پڑے، ان دنوں دستور تھا کہ مال پر جو آدمی قابض ہو جاتا وہ اسی کا ہوتا ،ہم قافلہ کی طرف چل دئیے، اور ہمارے کچھ ساتھیوں نے جا کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارے حالات کی اطلاع کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غضب ناک ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم میرے ہاں سے اکٹھے ہو کر گئے تھے اور تم الگ الگ ہو کر واپس آ رہے ہو، تم سے پہلے لوگوں کو بھی اسی اختلاف نے ہلاک کیا تھا، میں تمہارے اوپر ایک ایسے آدمی کو امیر بنا کر بھیجوں گا جو تم سے بہتر یا افضل نہیں، البتہ تمہاری نسبت وہ بھوک پیاس کو زیادہ برداشت کر سکتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن جحش اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ہمارے اوپر امیر بنا کر روانہ فرمایا،یہ پہلا شخص تھا جسے دورِ اسلام میں سب سے پہلے امیر بنایا گیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10690

۔ (۱۰۶۹۰)۔ عَنِ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، نَزَلَ عَلَی أَجْدَادِہِ اَوْ أَخْوَالِہِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّہُ صَلَّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّۃَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ تَکُونَ قِبْلَتُہُ قِبَلَ الْبَیْتِ، وَأَنَّہُ صَلّٰی أَوَّلَ صَلَاۃٍ صَلَّاہَا صَلَاۃَ الْعَصْرِ وَصَلّٰی مَعَہُ قَوْمٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلّٰی مَعَہُ، فَمَرَّ عَلٰی أَہْلِ مَسْجِدٍ وَہُمْ رَاکِعُونَ، فَقَالَ: أَشْہَدُ بِاللّٰہِ! لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِبَلَ مَکَّۃَ، قَالَ: فَدَارُوا کَمَا ہُمْ قِبَلَ الْبَیْتِ، وَکَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَیْتِ، وَکَانَ الْیَہُودُ قَدْ أَعْجَبَہُمْ إِذْ کَانَ یُصَلِّی قِبَلَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَأَہْلُ الْکِتَابِ فَلَمَّا وَلّٰی وَجْہَہُ قِبَلَ الْبَیْتِ أَنْکَرُوا ذٰلِکَِِِِ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹۰)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ابتدائی طور پر اپنے انصاری اجداد یا ماموؤں کے ہاں اترے اور وہیں قیام فرمایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہاں آکر سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا فرمائیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دلی پسند یہتھی کہ آپ کاقبلہ خانہ کعبہ ہو۔ (تحویل قبلہ کے بعد) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلی نماز عصر( خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے ) ادا فرمائی۔ لوگوں نے بھی آپ کی معیت میں نماز ادا کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدمی وہاں سے روانہ ہوا، تو اس کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا، جو مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے اور وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر شہادت دیتا ہوں کہ میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مکہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر کے آیا ہوں۔ وہ لوگ نماز کے دوران ہی کعبہ کی طرف مڑ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بھی دلی پسند یہی تھی کہ آپ کا رخ کعبہ (بیت اللہ) کی طرف کر دیا جائے اور یہودیوں کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ آپ بیت المقدس کی طرف اور اہل کتاب کے قبلہ کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا کیا کرتے تھے، جب آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف کر دیا گیا تو انہیںیہ بات اچھی نہ لگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10691

۔ (۱۰۶۹۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((إِنَّہُمْ (یَعْنِی الْیَہُوْدَ) لَا یَحْسُدُونَّا عَلٰی شَیْئٍ کَمَا یَحْسُدُونَّا عَلٰییَوْمِ الْجُمُعَۃِ، الَّتِی ہَدَانَا اللّٰہُ لَہَا وَضَلُّوا عَنْہَا، وَعَلَی الْقِبْلَۃِ الَّتِی ہَدَانَا اللّٰہُ لَہَا وَضَلُّوا عَنْہَا، وَعَلٰی قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِینَ۔))۔ (مسند احمد: ۲۵۵۴۳)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: یہودی ہمارے اوپر اور کسی چیز کا اتنا حسد نہیں کرتے جتنا وہ جمعہ کے دن پر حسد کرتے ہیں، جبکہ اللہ نے یہ دن ہمیں دیا اور وہ اس سے محروم رہے، وہ ہمارے قبلہ پر بھی حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں یہقبلہ دیا اور وہ اس سے محروم ہے اور وہ امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر بھی حسد کرتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10692

۔ (۱۰۶۹۲)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: اُحِیْلَتِ الصَّلَاۃُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ وَاُحِیْلَ الصِّیَامُ ثَلَاثَۃَ اَحْوَالٍ، فَاَمَّا اَحْوَالُ الصَّلَاۃِ فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ وَہُوَ یُصَلِّیْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ (الْحَدِیْثِ) قَالَ: وَاَمَا اَحْوَالُ الصِّیَامِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَل یَصُوْمُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَقَالَ یَزِیْدُ: فَصَامَ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا مِنْ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ إِلٰی رَمَضَانَ، مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، وَصَامَ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ، ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ عَلَیْہِ الصِّیَامَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (إِلٰی ھٰذِہِ الآیَۃِ) وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} قَالَ: فَکَانَ مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ اَطْعَمَ مِسْکِیْنًا فَاَجْزَأَ ذَالِکَ عَنْہُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ اْلآیَۃَ الْاُخْرٰی: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ (إِلٰی قَوْلِہِ) فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} فَاَثْبَتَ اللّٰہُ صِیَامَہُ عَلَی الْمُقِیْمِ الصَّحِیْحِ، وَرَخَّصَ فِیْہِ لِلْمَرِیْضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الإِطْعَامَ لِلْکَبِیْرِ الَّذِی لَایَسْتَطِیْعُ الصِّیَامَ فَھٰذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَکَانُوْا یَاْکُلُوْنَ وَیَشْرَبُوْنَ، وَیَاْتُوْنَ النِّسَائَ مَالَمْ یَنَامُوْا فَإِذَا نَامُوْا اِمْتَنَعُوْا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ صِرْمَۃُ، ظَلَّ یَعْمَلُ صَائِمًا حَتّٰی اَمْسٰی فَجَائَ إِلٰی اَہْلِہِ فَصَلَّی الْعِشَائَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ یَاْکُلْ، وَلَمْ یَشْرَبْ حَتّٰی اَصْبَحَ فَاَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَرَآہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ جَہِدَ جَہْدًا شَدِیْدًا، قَالَ: ((مَالِیْ اَرَاکَ قَدْ جَہِدْتَّ جَہْدًا شَدِیْدًا؟)) قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی عَمِلْتُ اَمْسِ فَجِئْتُ حِیْنَ جِئْتُ فَاَلْقَیْتُ نَفْسِی فَنِمْتُ وَاَصْبَحْتُ حِیْنَ اَصْبَحْتُ صَائِمًا، قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ قَدْ اَصَابَ مِنَ النِّسَائِ مِنْ جَارِیَۃٍ اَوْ مِنْ حُرْۃٍ بَعْدَ مَانَامَ، وَاَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ ذَالِکَ لَہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلٰی نِسَائِکُمْ (إِلٰی قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ) ثُمَّاَتِمُّوْاالصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (مسند احمد: ۲۲۴۷۵)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے،… (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔ )نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشا کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا( اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوییا لونڈی سے ہم بستریکر لی تھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلَی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوںمیں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10693

۔ (۱۰۶۹۳)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی بَدْرٍ، خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ، فَاَشَارَ عَلَیْہِ اَبُوْبَکَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، ثُمَّ اسْتَشَارَھُمْ فَاَشْارَ عَلَیْہِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَسَکَتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ: اِنّمَا یُرِیْدُکُمْفَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ لَانَکُوْنُ کَمَا قَالَتْ بَنُوْا اِسْرَئِیْلَ لِمُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ : {اذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ} وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ لَوْ ضَرَبَتَ اَکْبَادَ الْاِبِلِ حَتّٰی تَبْلُغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَکُنَّا مَعَکَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۵)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک رائے دی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، اتنے میں ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے کہا: انصاریو! حضور ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم سے مخاطب ہیں، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم اس طرح نہیں ہوں گے، جیسا کہ بنو اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہا تھا: تو جا اور تیرا ربّ جائے اور تم دونوں جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ہے، اے اللہ کے رسول! اگر آپ اونٹوں کے جگروں پر مارتے ہوئے سفر کرتے جائیں،یہاں تک کہ برک الغماد تک پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10694

۔ (۱۰۶۹۴)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُسَیْسَۃَ عَیْنًا،یَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِیرُ أَبِی سُفْیَانَ، فَجَائَ وَمَا فِی الْبَیْتِ أَحَدٌ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَا أَدْرِی مَا اسْتَثْنٰی بَعْضَ نِسَائِہِ فَحَدَّثَہُ الْحَدِیثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَکَلَّمَ، فَقَالَ: ((إِنَّ لَنَا طَلِبَۃً فَمَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا فَلْیَرْکَبْ مَعَنَا۔)) فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُونَہُ فِی ظَہْرٍ لَہُمْ فِی عُلُوِّ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: ((لَا إِلَّا مَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا۔)) فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ حَتّٰی سَبَقُوا الْمُشْرِکِینَ إِلٰی بَدْرٍ، وَجَائَ الْمُشْرِکُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلٰی شَیْئٍ حَتّٰی أَکُونَ أَنَا أُؤْذِنُہُ۔)) فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُومُوا إِلٰی جَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ۔)) قَالَ: یَقُولُ عُمَیْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِیُّ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! جَنَّۃٌ عَرْضُہَا السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَقَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِلَّا رَجَائَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِہَا، قَالَ: ((فَإِنَّکَ مِنْ أَہْلِہَا۔)) قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِہِ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَیِیتُ حَتّٰی آکُلَ تَمَرَاتِی ہٰذِہِ إِنَّہَا لَحَیَاۃٌ طَوِیلَۃٌ، قَالَ: ثُمَّ رَمٰی بِمَا کَانَ مَعَہُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَہُمْ حَتّٰی قُتِلَ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۲۵)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بسیسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جاسوس کی حیثیت سے روانہ فرمایا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے، ایک دفعہ جب کہ گھر میں میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سوا اور کوئی نہ تھا وہ آئے، ثابت راوی کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امہات المؤمنین میں سے کسی کا استثناء کیا تھا یا نہیں، اور سیدنا بسیسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک قافلے پر ہماری نظر ہے، جس آدمی کے پاس سواری ہو، وہ سوار ہو کر ہمارے ساتھ چلے۔ بعض لوگوں نے یہ اجازت چاہی کہ ان کی سواریاں مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں ہیں، وہ جا کر سواریاں لے آئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہ لوگ چلیں جن کی سواریاں اس وقت موجود ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے اصحاب روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے پہلے بدر کے مقام پر جا پہنچے، مشرکین بھی آگئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک میں اجازت نہ دوں کوئی آدمی پیش قدمی نہ کرے۔ جب مشرکین مسلمانوں کے قریب آپہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب بڑھو اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ عمیر بن نحام انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جنت کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں! تو وہ کہنے لگے: واہ، واہ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یہ واہ واہ کیوں کہہ رہے ہو؟ انہوں نے :کہا اللہ کے رسول! میں یہ الفاظ اس امید پر کہہ رہا ہوں کہ اللہ مجھے اہلِ جنت میں سے بنا دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جنتی ہو، اس کے بعد اس نے اپنی تھیلی سے کچھ کھجوریں نکالیں اور کھانے لگا ، اتنے میں اس نے کہا: اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہوں، تو یہ تو بڑی طویل زندگی ہے، چنانچہ اس کے پاس جو کھجوریں تھیں، اس نے ان کو پھینک دیا اور مشرکین سے قتال کیایہاں تک کہ شہید ہو گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10695

۔ (۱۰۶۹۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِہَا، فَاجْتَوَیْنَاہَا وَأَصَابَنَا بِہَا وَعْکٌ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ، فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِکِینَ قَدْ أَقْبَلُوا، سَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی بَدْرٍ، وَبَدْرٌ بِئْرٌ،فَسَبَقَنَا الْمُشْرِکُونَ إِلَیْہَا، فَوَجَدْنَا فِیہَا رَجُلَیْنِ مِنْہُمْ، رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ وَمَوْلًی لِعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ، فَأَمَّا الْقُرَشِیُّ فَانْفَلَتَ، وَأَمَّا مَوْلَی عُقْبَۃَ فَأَخَذْنَاہُ فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَہُ: کَمِ الْقَوْمُ؟ فَیَقُولُ: ہُمْ، وَاللّٰہِ! کَثِیرٌ عَدَدُہُمْ، شَدِیدٌ بَأْسُہُمْ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ، إِذْ قَالَ ذٰلِکَ، ضَرَبُوہُ حَتّٰی انْتَہَوْا بِہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ: ((کَمِ الْقَوْمُ؟)) قَالَ: ہُمْ، وَاللّٰہِ! کَثِیرٌ عَدَدُہُمْ، شَدِیدٌ بَأْسُہُمْ، فَجَہَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُخْبِرَہُ کَمْ ہُمْ فَأَبٰی، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَہُ: ((کَمْ یَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ۔)) فَقَالَ: عَشْرًا کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الْقَوْمُ أَلْفٌ کُلُّ جَزُورٍ لِمِائَۃٍ۔)) وَتَبِعَہَا ثُمَّ إِنَّہُ أَصَابَنَا مِنَ اللَّیْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ، فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَہَا مِنَ الْمَطَرِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْعُو رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَیَقُولُ: ((اللَّہُمَّ إِنَّکَ إِنْ تُہْلِکْ ہٰذِہِ الْفِئَۃَ لَا تُعْبَدْ۔)) قَالَ: فَلَمَّا أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَی الصَّلَاۃَ عِبَادَ اللّٰہِ، فَجَائَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ فَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحَرَّضَ عَلَی الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ جَمْعَ قُرَیْشٍ تَحْتَ ہٰذِہِ الضِّلَعِ الْحَمْرَائِ مِنَ الْجَبَلِ۔)) فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاہُمْ، إِذَا رَجُلٌ مِنْہُمْ عَلٰی جَمَلٍ لَہُ أَحْمَرَ یَسِیرُ فِی الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا عَلِیُّ! نَادِ لِی حَمْزَۃَ۔)) وَکَانَ أَقْرَبَہُمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، وَمَاذَا یَقُولُ لَہُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنْ یَکُنْ فِی الْقَوْمِ أَحَدٌ یَأْمُرُ بِخَیْرٍ فَعَسٰی أَنْ یَکُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ۔)) فَجَائَ حَمْزَۃُ، فَقَالَ: ہُوَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَہُوَ یَنْہٰی عَنِ الْقِتَالِ، وَیَقُولُ لَہُمْ: یَا قَوْمُ! إِنِّی أَرٰی قَوْمًا مُسْتَمِیتِینَ لَا تَصِلُونَ إِلَیْہِمْ وَفِیکُمْ خَیْرٌ،یَا قَوْمُ! اعْصِبُوہَا الْیَوْمَ بِرَأْسِی، وَقُولُوا: جَبُنَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّی لَسْتُ بِأَجْبَنِکُمْ، فَسَمِعَ ذٰلِکَ أَبُو جَہْلٍ فَقَالَ: أَنْتَ تَقُولُ ہٰذَا؟ وَاللّٰہِ! لَوْ غَیْرُکَیَقُولُ ہٰذَا، لَأَعْضَضْتُہُ قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُکَ جَوْفَکَ رُعْبًا، فَقَالَ عُتْبَۃُ: إِیَّایَ تُعَیِّرُیَا مُصَفِّرَ اسْتِہِ! سَتَعْلَمُ الْیَوْمَ أَیُّنَا الْجَبَانُ، قَالَ: فَبَرَزَ عُتْبَۃُ وَأَخُوہُ شَیْبَۃُ وَابْنُہُ الْوَلِیدُ حَمِیَّۃً، فَقَالُوا: مَنْ یُبَارِزُ؟ فَخَرَجَ فِتْیَۃٌ مِنْ الْأَنْصَارِ سِتَّۃٌ، فَقَالَ عُتْبَۃُ: لَا نُرِیدُ ہٰؤُلَائِ وَلٰکِنْ یُبَارِزُنَا مِنْ بَنِی عَمِّنَا مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُمْ یَا عَلِیُّ! وَقُمْ یَا حَمْزَۃُ! وَقُمْ یَا عُبَیْدَۃُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ!)) فَقَتَلَ اللّٰہُ تَعَالَی عُتْبَۃَ وَشَیْبَۃَ ابْنَیْ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدَ بْنَ عُتْبَۃَ وَجُرِحَ عُبَیْدَۃُ، فَقَتَلْنَا مِنْہُمْ سَبْعِینَ وَأَسَرْنَا سَبْعِینَ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِیرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِیرًا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ ہٰذَا وَاللّٰہِ مَا أَسَرَنِی، لَقَدْ أَسَرَنِی رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْہًا، عَلٰی فَرَسٍ أَبْلَقَ مَا أُرَاہُ فِی الْقَوْمِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ: أَنَا أَسَرْتُہُ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اسْکُتْ فَقَدْ أَیَّدَکَ اللّٰہُ تَعَالَی بِمَلَکٍ کَرِیمٍ۔)) فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسَ وعَقِیلًا وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ۔ (مسند احمد: ۹۴۸)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہاں کی آب وہوا ہمیں راس نہ آئی اور ہمیں شدید بخار نے آلیا۔ اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کے متعلق حالات و واقعات معلوم کرتے رہتے تھے، جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مشرکین مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے نکل پڑے ہیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے، بدر ایک کنوئیں کا نام ہے مشرکین ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے، ہمیں وہاں دو مشرک ملے، ان میں سے ایک قریشی تھا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام تھا، قریشی تو وہاں سے بھاگ نکلا البتہ عقبہ کے غلام کو ہم نے پکڑ لیا۔ہم اس سے پوچھنے لگے کہ قریشیوں کی تعداد کتنی ہے؟ وہ کہتا اللہ کی قسم وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور سازوسامان کے لحاظ سے بھی وہ مضبوط ہیں، اس نے جب یہ کہا تو مسلمانوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ آپ نے بھی اس سے دریافت کیا کہ ان کی تعداد کتنی ہے؟ تو اس نے پھر وہی کہا کہ اللہ کی قسم! ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور سازوسامان بھی ان کے پاس کافی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پورا زور لگایا تاکہ وہ بتلادئے کہ ان کی تعداد کس قدر ہے؟ مگر اس نے کچھ نہ بتلایا۔ بعدازاں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ وہ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ اس نے بتلایا کہ روزانہ دس اونٹ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی تعداد ایک ہزار ہے ایک سو کے لگ بھگ افراد کے لیے ایک اونٹ ہوتا ہے۔ بعدازاں رات کو بوندا باندی ہو گئی ہم نے بارش سے بچاؤ کے لیے درختوں اور ڈھالوں کی پناہ لی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساری رات اللہ سے دعائیں کرتے رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہہ رہے تھے یا اللہ ! اگر تو نے اس چھوٹی سی جماعت کوہلاک کر دیا تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ صبح صادق ہو ئی تو آپ نے آواز دی، لوگو! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ لوگ درختوں اور ڈھالوں کے نیچے سے نکل آئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دشمن کے خلاف لڑنے کی ترغیب دلائی، پھر آپ نے فرمایا کہ قریش کیجماعت اس ٹیڑھے سرخ پہاڑ کے نیچے ہو گی جب دشمن ہمارے قریب آئے اور ہم بھی ان کے بالمقابل صف آراء ہوئے تو ان میں سے ایک آدمی اپنے سرخ اونٹ پر سوار دشمن کی فوج میں چکر لگا رہا تھا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پکار کر فرمایا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کومیری طرف بلاؤ وہ مشرکین کا سب سے قریبی رشتہ دار تھا، آپ نے پوچھا یہ سرخ اونٹ والا آدمی کون ہے؟ اور وہ ان سے کیا کہہ رہا ہے؟ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اگر ان لوگوں میں کوئی بھلامانس ان کو اچھی بات کہنے والا ہوا تو وہ یہی سرخ اونٹ والا ہی ہو گا۔حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو انہوں نے بتلایا کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو انہیں قتال سے منع کر رہا ہے اور ان سے کہہ رہا ہے لوگو! میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو مرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور تم ان تک نہیں پہنچ سکو گے۔ اسی میں تمہاری خیر ہے، لوگو! تم لڑائی سے پیچھے ہٹنے کی عار میرے سر پر باندھو، اور کہہ دوکہ عتبہ بن ربیعہ نے بزدلی دکھائی، تم جانتے ہو کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں، ابو جہل نے اس کی باتیں سنیں تو کہا ارے تم ایسی باتیںکہہ رہے ہو؟ کوئی دوسرا کہتا تو میں اس سے کہتا جا کر اپنے باپ کی شرم گاہ کوکاٹ کھاؤ، تمہارے دل میں تو خوف بھر گیا ہے۔ تو عتبہ نے کہا ارے اپنی دبر کو زعفران سے رنگنے والے کیا تو مجھے عار دلاتا ہے ؟ آج تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے بزدل کون ہے؟ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فرماتے ہیں چنانچہ عتبہ اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید قومی حمیت وغیرت کے جذبہ سے مقابلے میں نکلے اور عتبہ نے پکارا، کون آئے گا ہمارے مقابلہ میں؟ تو چھ انصاری اس کے جواب میں سامنے آئے۔ تو عتبہ نے کہا ہم ان سے لڑنا نہیں چاہتے، ہم تو اپنے عم زاد بنو عبدالمطلب کو مقابلے کی دعوت دیتے ہیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ! تم اٹھو، حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھو اور عبیدہ بن حارث بن مطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تم اُٹھو، تو اللہ تعالیٰ نے ربیعہ کے دونوں بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو قتل کر دیا اور مسلمانوں میں سے عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ زخمی ہو گئے۔ مسلمانوں نے ستر کا فروں کو قید اور ستر کو قتل کیا، ایک پست قد انصاری صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عباس بن عبدالمطلب کو گرفتار کر لائے، تو عباس نے کہا اللہ کے رسول! ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کی قسم مجھے اس نے نہیں بلکہ مجھے ایک ایسے آدمی نے گرفتار کیا ہے جس کے سر کے دونوں پہلوؤں پربال نہیں تھے۔ جو انتہائی حسین وجمیل تھا اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں رانوں تک سفید تھیں۔ وہ آدمی مجھے آپ لوگوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ تو انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا اللہ کے رسول! اسے میں نے ہی گرفتار کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خاموش رہو، اس سلسلہ میں اللہ نے اپنے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری نصرت کی تھی۔ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے بہت سے کافروں کو اور بنو عبدالمطلب میں سے عباس، عقیل اور نوفل بن حارث کو گرفتار کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10696

۔ (۱۰۶۹۶)۔ عن ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَصْحَابِہِ، وَہُمْ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَنَیِّفٌ، وَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ فَإِذَا ہُمْ أَلْفٌ وَزِیَادَۃٌ، فَاسْتَقْبَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقِبْلَۃَ، ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ وَعَلَیْہِ رِدَاؤُہُ وَإِزَارُہُ ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ أَیْنَ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ أَنْجِزْ مَا وَعَدْتَنِی، اللّٰہُمَّ إِنَّکَ إِنْ تُہْلِکْ ہٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ أَہْلِ الْإِسْلَامِ، فَلَا تُعْبَدْ فِی الْأَرْضِ أَبَدًا۔)) قَالَ: فَمَا زَالَ یَسْتَغِیثُ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیَدْعُوہُ حَتّٰی سَقَطَ رِدَاؤُہُ، فَأَتَاہُ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخَذَ رِدَائَ ہُ فَرَدَّاہُ، ثُمَّ الْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ، ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! کَفَاکَ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ، فَإِنَّہُ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ، وَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ} فَلَمَّا کَانَ یَوْمُئِذٍ وَالْتَقَوْا، فَہَزَمَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُشْرِکِینَ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، وَأُسِرَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا، فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبَا بَکْرٍ وَعَلِیًّا وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ہٰؤُلَائِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیرَۃُ وَالْإِخْوَانُ، فَإِنِّی أَرٰی أَنْ تَأْخُذَ مِنْہُم الْفِدْیَۃَ، فَیَکُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْہُمْ قُوَّۃً لَنَا عَلَی الْکُفَّارِ، وَعَسَی اللّٰہُ أَنْ یَہْدِیَہُمْ، فَیَکُونُونَ لَنَا عَضُدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَرٰییَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا أَرٰی مَا رَأٰی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَلٰکِنِّی أَرٰی أَنْ تُمَکِّنَنِی مِنْ فُلَانٍ قَرِیبًا لِعُمَرَ، فَأَضْرِبَ عُنُقَہُ، وَتُمَکِّنَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ عَقِیلٍ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ، وَتُمَکِّنَ حَمْزَۃَ مِنْ فُلَانٍ أَخِیہِ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ حَتّٰییَعْلَمَ اللّٰہُ أَنَّہُ لَیْسَتْ فِی قُلُوبِنَا ہَوَادَۃٌ لِلْمُشْرِکِینَ، ہٰؤُلَائِ صَنَادِیدُہُمْ وَأَئِمَّتُہُمْ وَقَادَتُہُمْ، فَہَوِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ فَأَخَذَ مِنْہُمُ الْفِدَائَ، فَلَمَّا أَنْ کَانَ مِنْ الْغَدِ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: غَدَوْتُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ہُوَ قَاعِدٌ وَأَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَإِذَا ہُمَا یَبْکِیَانِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِی مَاذَا یُبْکِیکَ أَنْتَ وَصَاحِبَکَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُوَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُکَائً تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکَ مِنَ الْفِدَائِ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَدْنٰی مِنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ لِشَجَرَۃٍ قَرِیبَۃٍ۔)) وَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْأَرْضِ… إِلٰی قَوْلِہِ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ} مِنَ الْفِدَائِ ثُمَّ أُحِلَّ لَہُمُ الْغَنَائِمُ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا یَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِہِمُ الْفِدَائ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ، وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ وَہُشِمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلٰی رَأْسِہِ، وَسَالَ الدَّمُ عَلٰی وَجْہِہِ، وَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالَی: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْکُمْ مُصِیبَۃٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا} الْآیَۃَ بِأَخْذِکُمُ الْفِدَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸)
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا،جبکہ وہ تین سوسے کچھ زائد تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے زائد تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے، ہاتھوں کو لمبا کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چادر اور ایک ازار زیب ِ تن کیا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کو پورا کر دے، اے اللہ! اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ختم کر دیا تو زمین میں کبھی بھی تیریعبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ربّ سے مدد طلب کرتے رہے اور دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر گر گئی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر اٹھائی اور اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ڈال کر پیچھے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑ لیا اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے ربّ سے جو مطالبہ کر لیا ہے، یہ آپ کو کافی ہے، اس نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے، وہ عنقریب اس کو پورا کر دے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمایا: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔}… اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا، جو لگاتار چلے آئیں گے۔ (سورۂ انفال: ۹) پھر جب اس دن دونوں لشکروں کی ٹکر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو اس طرح شکست دی کہ ان کے ستر افراد مارے گئے اور ستر افراد قید کر لیے گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ لوگ ہمارے چچوں کے ہی بیٹے ہیں، اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں، میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں، اس مال سے کافروں کے مقابلے میں ہماری قوت میں اضافہ ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بعد میں ہدایت دے دے، اس طرح یہ ہمارا سہارا بن جائیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انھو ں نے کہا: اللہ کی قسم! میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، میرا خیال تو یہ ہے کہ فلاں آدمی، جو میرا رشتہ دار ہے، اس کو میرے حوالے کریں، میں اس کی گردن اڑاؤں گا، عقیل کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سپرد کریں، وہ اس کو قتل کریں گے، فلاں شخص کو سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے کریں، وہ اس کی گردن قلم کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو جائے کہ ہمارے دلوں کے اندر مشرکوں کے لیے کوئی رحم دلی نہیں ہے، یہ قیدی مشرکوں کے سردار، حکمران اور قائد ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے پسند کی اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب اگلے دن میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو آپ اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رُلا رہی ہے؟ اگر مجھے بھی رونا آ گیا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو تمہارے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت بنا لوں گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں جو رائے دی تھی، اس کی وجہ سے مجھ پر تمہارا عذاب پیش کیا گیا ہے، جو اس درخت سے قریب ہے۔ اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیمراد قریب والا ایک درخت تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓاَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْز’‘ حَکِیْم’‘۔ لَوْ لَا کِتٰب’‘ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} نبی کے ہاتھ قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔ (سورۂ انفال:۶۷) پھر ان کے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا، جب اگلے سال غزوۂ احد ہوا تو بدر والے دن فدیہ لینے کی سزا دی گئی اور ستر صحابہ شہید ہو گئے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بھاگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دانت شہید کر دئیے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر خود کو توڑ دیا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر خون بہنے لگا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃ’‘ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔} (کیا بات ہے کہ جب احد کے دن)تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۶۵) یعنی فدیہ لینے کی وجہ سے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10697

۔ (۱۰۶۹۷)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَاوَرَ النَّاسَ یَوْمَ بَدْرٍ، فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْہُ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِیَّانَا تُرِیدُ؟ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِیضَہَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاہَا، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَہَا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ فَعَلْنَا فَشَأْنَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَنَدَبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَصْحَابَہُ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی نَزَلَ بَدْرًا وَجَائَتْ رَوَایَا قُرَیْشٍ، وَفِیہِمْ غُلَامٌ لِبَنِی الْحَجَّاجِ أَسْوَدُ، فَأَخَذَہُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلُوہُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ وَأَصْحَابِہِ، فَقَالَ: أَمَّا أَبُو سُفْیَانَ فَلَیْسَ لِی بِہِ عِلْمٌ، وَلٰکِنْ ہٰذِہِ قُرَیْشٌ وَأَبُو جَہْلٍ وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ جَائَ تْ، فَیَضْرِبُونَہُ فَإِذَا ضَرَبُوہُ، قَالَ: نَعَمْ، ہَذَا أَبُو سُفْیَانَ، فَإِذَا تَرَکُوہُ فَسَأَلُوہُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ، قَالَ: مَا لِی بِأَبِی سُفْیَانَ مِنْ عِلْمٍ، وَلٰکِنْ ہٰذِہِ قُرَیْشٌ قَدْ جَائَتْ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فَانْصَرَفَ فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ لَتَضْرِبُونَہُ إِذَا صَدَقَکُمْ وَتَدَعُونَہُ إِذَا کَذَبَکُمْ۔)) وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ فَوَضَعَہَا، فَقَالَ: ((ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا، وَہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا، إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) فَالْتَقَوْا فَہَزَمَہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَاللّٰہِ! مَا أَمَاطَ رَجُلٌ مِنْہُمْ عَنْ مَوْضِعِ کَفَّیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَخَرَجَ إِلَیْہِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ وَقَدْ جَیَّفُوا، فَقَالَ: ((یَا أَبَا جَہْلٍ! یَا عُتْبَۃُ! یَا شَیْبَۃُ! یَا أُمَیَّۃُ! قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّی قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی رَبِّی حَقًّا۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! تَدْعُوہُمْ بَعْدَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ وَقَدْ جَیَّفُوا، فَقَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ غَیْرَ أَنَّہُمْ لَا یَسْتَطِیعُونَ جَوَابًا، فَأَمَرَ بِہِمْ فَجُرُّوا بِأَرْجُلِہِمْ فَأُلْقُوا فِی قَلِیبِ بَدْرٍ۔))۔ (مسند احمد: ۱۳۳۲۹)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بدر کے دن لوگوں سے مشاورت کی، ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی تو آپ نے منہ دوسری طرف موڑ لیا، پھر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف سے بھی منہ موڑ لیا، تو انصار نے کہا اللہ کے رسول! آپ ہماری بات کے منتظر ہیں؟ تو مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا( دوسری روایت میں سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام ہے) اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ اگر ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کود جائیں اور اگر آپ ہمیں برک الغماد تک اپنی سواریاں دوڑانے کا حکم دیں تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں۔ اللہ کے رسول! جو مقصد پیشِ نظر ہے اس کے لیے چلیں، چنانچہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کو روانگی کا حکم دیا۔ آپ روانہ ہو کر بدر کے مقام پر نزول فرما ہوئے، قریش کے پانی لانے والے اونٹ پر آدمی آئے۔ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پکڑ لیا۔ مسلمانوں نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا ابو سفیان کے متعلق تو میں کچھ نہیں جانتا۔ البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف وغیرہیہاں آئے ہوئے ہیں مسلمان اس کی بات سن کر اسے مارنے لگے مسلمانوں نے جب اسے مارا تو اس نے کہا ہاں ہاں ابو سفیان وہاں ہے، جب اسے مارنا چھوڑ کر اس سے ابو سفیان کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا مجھے تو ابوسفیان کے متعلق کچھ علم نہیں، البتہ قریشیہاں آئے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز ادا فرما رہے تھے۔ آپ نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا، وہ سچ کہتا ہے تو اسے مارتے ہو جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ جگہوں پر ہاتھ رکھ رکھ کر فرمایا، ان شاء اللہ کل فلاں آدمییہاں مر کر گرے گا اور فلاں آدمییہاں گرے گا۔ مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست دی، اللہ کی قسم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلیوں والی جگہوں سے کوئی بھی آدمی ادھر اُدھر نہ گرا۔ تین دن بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان مردہ کافروں کی طرف گئے۔ ان کی لاشوں میںبدبو پڑ چکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اے ابو جہل! اے عتبہ! اے شیبہ! اے امیہ! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا تم اسے سچ پا چکے ہو۔ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو مرے ہوئے تین دن گزر چکے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے ہم کلام ہو رہے ہیں؟ جب کہ ان کے لاشو میں بدبو پڑ چکی ہے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ یہ جواب دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، چنانچہ آپ نے ان مردوں کے متعلق حکم صادر فرمایا، انہیں ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر بدر کے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10698

۔ (۱۰۶۹۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَہُوَ فِی قُبَّۃٍیَوْمَ بَدْرٍ: ((اللَّہُمَّ إِنِّی أَنْشُدُکَ عَہْدَکَ وَوَعْدَکَ، اللَّہُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْیَوْمِ۔)) فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ بِیَدِہِ فَقَالَ: حَسْبُکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلٰی رَبِّکَ، وَہُوَ یَثِبُ فِی الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَہُوَ یَقُولُ: {سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ}۔ (مسند احمد: ۳۰۴۲)
سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے قبہ کے اندر تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! میں تجھے تیرا کیا ہوا وعدہ یا د دلاتا ہوں، یا اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے( تو ہمارے مخالفین کو ہم پر غلبہ دے اور ہمیں ان کے ہاتھوں قتل کرا دے۔) اتنے میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے رب سے خوب خوب دعائیں کر لی ہیں اور یہی کافی ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی قمیض میں خوشی سے اچھلتے ہوئے فرما رہے تھے {سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ} … عنقریب مسلمانوں کی دشمن جماعتیں ہزیمت سے دو چار ہوں گی، اور وہ پیٹھ دے کر بھاگ جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10699

۔ (۱۰۶۹۹)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: مَا کَانَ فِیْنَا فَارِسٌ یَوْمَ بَدْرٍ غَیْرَ الْمِقْدَادِ، وَلَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَا فِیْنَا اِلَّا نَائِمٌ إِلَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَحْتَ شَجَرَۃٍیُصَلِّیْ وَیَبْکِیْ حَتّٰی اَصْبَحَ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم مسلمانوں میں مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوا کوئی گھڑ سوار نہ تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سوا ہم میں سے ہر ایک کو نیند آگئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے تھے اور صبح تک اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ زاری کرتے رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10700

۔ (۱۰۷۰۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ لَمَّا حَضَرَ الْبَأسُ یَوْمَ بَدْرٍ، اِلْتَقَیْنَا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَکَانَ مِنْ اَشَدِّ النَّاسِ، مَا کَانَ اَوْ لَمْ یَکُنْ اَحَدٌ اَقْرَبَ اِلَی الْمُشْرِکِیْنَ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۲)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب لڑائی شروع ہوئی تو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جاملے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت بہادر تھے اور ہم میں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر مشرکین کے قریب تر اور کوئی نہ تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10701

۔ (۱۰۷۰۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَقَدْ رَاَیْتُنَایَوْمَ بَدْرٍ، وَنَحْنُ نَلُوْذُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَھُوَ اَقْرَبُنَا اِلَی الْعَدُوِّ، وَکَانَ مِنْ اَشَدِّ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ بَاْسًا۔ (مسند احمد: ۶۵۴)
۔( دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بدر کے دن دیکھا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پناہ ڈھونڈتے تھے اور ہم سب کی بہ نسبت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دشمن کے انتہائی قریب تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10702

۔ (۱۰۷۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ اَلْحَنْفِیِّ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ لِعَلِیٍّ وَلِاَبِیْ بَکْرٍ یَوْمَ بَدْرٍ: مَعَ اَحَدِکُمَا جِبْرِیْلُ وَ مَعَ الْآخَرِ مِیْکَائِیْلُ وَ اِسْرَافِیْلُ، مَلَکٌ عَظِیْمٌیَشْہَدُ الْقِتَالَ اَوْ قَالَ: یَشْہَدُ الصَّفَّ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۷)
ابو صالح حنفی سے مروی ہے کہ بدر کے دن سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا گیا کہ تم میں سے ایک کے ساتھ جبریل اور دوسرے کے ساتھ میکائل اور اسرافیل بھی،یہ بہت بڑا فرشتہ ہے، جو لڑائی میںیا لڑائی کے وقت صف میں حاضر ہوتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10703

۔ (۱۰۷۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ دَاوُدَ الْمَازِنِیِّ، وَکَانَ شَہِدَ بَدْرًا، قال: اِنِّیْ لَاَتْبَِعُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ لِاَضْرِبَہُ اِذَا وَقَعَ رَاْسَہُ قَبْلَ اَنْ یَصِلَ اِلَیْہِ سَیْفِیْ، فَعَرَفْتُ اَنَّہُ قَدْ قَتَلَہُ غَیْرِیْ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۶)
سیدنا ابو داؤد مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو غزوۂ بدر میں شریک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک مشرک کو قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اچانک میری تلوار اس تک نہ پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر کٹ کر دور جا گرا، میں جان گیا کہ اسے میرے سوا کسی دوسرے نے قتل کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10704

۔ (۱۰۷۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنِّی لَوَاقِفٌ یَوْمَ بَدْرٍ فِی الصَّفِّ، نَظَرْتُ عَنْ یَمِینِی وَعَنْ شِمَالِی، فَإِذَا أَنَا بَیْنَ غُلَامَیْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِیثَۃٍ أَسْنَانُہُمَا، تَمَنَّیْتُ لَوْ کُنْتُ بَیْنَ أَضْلَعَ مِنْہُمَا فَغَمَزَنِی أَحَدُہُمَا، فَقَالَ: یَا عَمِّ! ہَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَہْلٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُکَ؟ یَا ابْنَ أَخِی؟ قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّہُ سَبَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ رَأَیْتُہُ لَمْ یُفَارِقْ سَوَادِی سَوَادَہُ حَتَّییَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، قَالَ: فَغَمَزَنِی الْآخَرُ، فَقَالَ لِی مِثْلَہَا، قَالَ: فَتَعَجَّبْتُ لِذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلٰی أَبِی جَہْلٍ یَجُولُ فِی النَّاسِ، فَقُلْتُ لَہُمَا: أَلَا تَرَیَانِ ہٰذَا صَاحِبُکُمَا الَّذِی تَسْأَلَانِ عَنْہُ، فَابْتَدَرَاہُ فَاسْتَقْبَلَہُمَا فَضَرَبَاہُ حَتّٰی قَتَلَاہُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَاہُ، فَقَالَ: ((أَیُّکُمَا قَتَلَہُ؟)) فَقَالَ: کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا أَنَا قَتَلْتُہُ، قَالَ: ((ہَلْ مَسَحْتُمَا سَیْفَیْکُمَا؟)) قَالَا: لَا فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی السَّیْفَیْنِ، فَقَالَ: ((کِلَاکُمَا قَتَلَہُ۔)) وَقَضٰی بِسَلَبِہِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَہُمَا مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَائَ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۳)
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا، میں نے دائیں بائیں دیکھا تو میں نے اپنے آپ کو دو نو عمر انصاری بچوں کے درمیان کھڑا ہوا پایا، میں نے سو چا کہ کاش میرے قریب ان نو عمر بچوں کی بجائے کوئی طاقت ور آدمی ہوتا، اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے متوجہ کر کے پوچھا چچا جان!کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں! لیکن بھتیجے! یہ تو بتلاؤ تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ وہ بولا: میں نے سنا ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گالیاں دی ہوئی ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے اس وقت تک جدانہ ہوں گا، جب تک کہ ہم میں سے جس نے پہلے مرنا ہے وہ مرنہ جائے، اس کے ساتھ ہی دوسرے نوجوان لڑکے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، اس نے بھی مجھ سے ویسی ہی بات کی، مجھے ان دونوں کی باتوں پر تعجب ہوا۔ اتنے میں میں نے ابوجہل کو دیکھا، وہ کافر لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا، میں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ یہیوہ آدمی ہے جس کی بابت تم دریافت کر رہے ہو، وہ یہ سنتے ہی اس کی طرف لپکے، ابوجہل کا ان دونوں سے سامنا ہوا تو انہوں نے وار کر کے اسے قتل کر ڈالا، اور اس کے بعد وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، اور سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوش گزار کیا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ اسی نے قتل کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواروں کو صاف کر لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا تو فرمایا: تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوجہل کا حاصل شدہ سامان کا فیصلہ سیدنا معاذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں کیا، ان دونوں نوجوانوں کے نام سیدنا معاذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا معاذ بن عفراء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10705

۔ (۱۰۷۰۵)۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ بَدْرٍ: ((مَنْ یَنْظُرُ مَا فَعَلَ اَبُوْ جَہْلٍ؟)) فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَوَجَدَ اِبْنَیْ عَفْرَائَ قَدْ ضَرَبَاہُ حَتّٰی بَرَدَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی بَرَکَ) فَاَخَذَ بِلِحْیَتِہِ فَقَالَ: اَنْتَ اَبُوْ جَہْلٍ! فَقَالَ: وَھَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوْہُ اَوْ قَتَلَہُ اَھْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بدر کے دن فرمایا: کون ہے جو جا کر دیکھے کہ ابوجہل کیا کر رہا ہے؟ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دو بیٹوں نے ابوجہل کو مار گرایا ہوا ہے تاآنکہ وہ ٹھنڈا ہونے یعنی مرنے کے قریب تھا، تو ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے اس کی ڈاڑھی سے پکڑ کر کہا: تو ہی ابوجہل ہے؟ ابوجہل نے کہا: تم نے جن جن لوگوں کو قتل کیا، کیا مجھ سے بڑھ کر بھی ان میں سے کوئی ہے؟ یایوں کہا: کیا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی آدمی ایسا ہے، جسے اس کے خاندان والوں نے قتل کیا ہو؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10706

۔ (۱۰۷۰۶)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ یَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُہُ، وَہُوَ صَرِیعٌ وَہُوَ یَذُبُّ النَّاسَ عَنْہُ بِسَیْفٍ لَہُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَخْزَاکَ،یَا عَدُوَّ اللّٰہِ! فَقَالَ: ہَلْ ہُوَ إِلَّا رَجُلٌ قَتَلَہُ قَوْمُہُ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُہُ بِسَیْفٍ لِی غَیْرِ طَائِلٍ، فَأَصَبْتُ یَدَہُ فَنَدَرَ سَیْفُہُ فَأَخَذْتُہُ فَضَرَبْتُہُ بِہِ حَتّٰی قَتَلْتُہُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ حَتّٰی أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّمَا أُقَلُّ مِنَ الْأَرْضِ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((آللَّہِ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ۔)) قَالَ: فَرَدَّدَہَا ثَلَاثًا قَالَ: قُلْتُ: آللَّہِ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ، قَالَ فَخَرَجَ یَمْشِی مَعِی حَتّٰی قَامَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: ((الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیأَخْزَاکَ، یَا عَدُوَّ اللّٰہِ! ہٰذَا کَانَ فِرْعَوْنَ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) قَالَ: وَزَادَ فِیہِ أَبِی عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَنَفَّلَنِی سَیْفَہُ۔ (مسند احمد: ۴۲۴۶)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن میں ابوجہل کے پاس پہنچا، اس کی ٹانگ پر ضرب آئی ہوئی تھی اور وہ گرا پڑا تھا اور اس حال میں بھی اپنی تلوار سے لوگوں کو اپنے آپ سے دور بھگا رہا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! اُس اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے رسوا کیا، وہ بولا: میں وہی ہوں جسے اس کی اپنی قوم نے قتل کیا ہے۔سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ اس کی اس بات پر میں نے بلاتا خیر اپنی تلوار چلا کر اس کے ہاتھ پر ماری اور اس کی تلوار گر گئی۔ پھر میں نے اسے اچھی طرح پکڑ کر اسے مارا اور قتل کر ڈالا۔ پھر میں گرمی میں، خوشی خوشی چلتا ہوا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا، خوشی کے مارے میرے پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے تھے، میں نے آپ کو ساری بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیا واقعی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات کو تین بار دہرایا، میں نے عرض کیا: واقعی، اُس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے گئے یہاں تک کہ اس کی میت پر جا کھڑے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن! اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ذلیل ورسوا کیا،یہ اس امت کا فرعون تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوجہل کی تلوار مجھے عنایت فرمائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10707

۔ (۱۰۷۰۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ قَتَلَ اَبَا جَہْلٍ، فَقَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَصَرَ عَبْدَہُ وَاَعَزَّ دِیْنَہُ۔)) وَقَال مَرَّۃًیَعْنِیْ اُمَیَّۃَ: ((صَدَقَ عَبْدَہُ وَاَعَزَّ دِیْنَہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ آخَرَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۸۵۶)
۔(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کو ہلاک کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت دی۔ امیہ بن خالد راوی کے الفاظ یہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اپنے بندے کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو پورا کیا اور اپنے دین کو عزت دی۔ ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنا وعدہ پوراکیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کے تمام لشکروں کو شکست دی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10708

۔ (۱۰۷۰۸)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَہْلِ بَدْرٍ قَالَ: إِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُرِینَا مَصَارِعَہُمْ بِالْأَمْسِ، یَقُولُ: ((ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی، وَہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) قَالَ: فَجَعَلُوایُصْرَعُونَ عَلَیْہَا، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! مَا أَخْطَئُوا تِیکَ کَانُوا یُصْرَعُونَ عَلَیْہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِہِمْ فَطُرِحُوا فِی بِئْرٍ، فَانْطَلَقَ إِلَیْہِمْ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمُ اللّٰہُ حَقًّا؟ فَإِنِّی وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی اللّٰہُ حَقًّا۔)) قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُکَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَیَّفُوا؟ قَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ، وَلٰکِنْ لَا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یُجِیبُوا۔)) (مسند احمد: ۱۸۲)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اہلِ بدر کے متعلق مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ بدر سے ایک دن پہلے ہمیں سردارانِ قریش کے گرنے اور پچھڑنے کے مقامات دکھا رہے تھے، اور فرماتے تھے: کل ان شاء اللہ فلاں کافر یہاں قتل ہو کر گرے گا، اور فلاں آدمی قتل ہو کر یہاں گرے گا، ان شاء اللہ۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ واقعی وہ لوگ انہی جگہوں پر گرے۔ میں (عمر) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! وہ ان مقامات سے بالکل اِدھر اُدھر نہیں گرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی لاشوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں گھسیٹ کر کنوئیں میں پھینک دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کفار کی لاشوں کی طرف گئے اور فرمایا: اے فلاں! اے فلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے، میرے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے پورا پالیا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے، لیکن وہ ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10709

۔ (۱۰۷۰۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُنَادِی عَلٰی قَلِیبِ بَدْرٍ: ((یَا أَبَا جَہْلِ بْنَ ہِشَامٍ! یَا عُتْبَۃُ بْنَ رَبِیعَۃَ! یَا شَیْبَۃُ بْنَ رَبِیعَۃَ! یَا أُمَیَّۃُ بْنَ خَلَفٍ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا، فَإِنِّی وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی رَبِّی حَقًّا؟)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! تُنَادِی قَوْمًا قَدْ جَیَّفُوا، قَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ وَلٰکِنَّہُمْ لَا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یُجِیبُوا۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۴۳)
سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب صحابۂ کرام نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یوں کلام کرتے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو جہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اے امیہ بن خلف! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے پورا پا لیا ہے؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے ہو؟ لیکن وہ جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10710

۔ (۱۰۷۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْقَلِیْبِیَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ أَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّہُمُ الْآنَ لَیَسْمَعُوْنَ کَلاَمِیْ۔)) قَالَ یَحْیَی: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: غَفَرَاللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، اِنَّہُ وَہِلَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! إِنَّہُمْ لَیَعْلَمُوْنَ الْآنَ أَنَّ الَّذِی کُنْتُ أَقُوْلُ لَہُمْ حَقًّا۔)) وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُوْلُ: {إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی} {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ۔} (مسند احمد: ۴۸۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10711

۔ (۱۰۷۱۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: وَحُدِّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِبِضْعَۃٍ وَعِشْرِینَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِیدِ قُرَیْشٍ، فَأُلْقُوا فِی طُوًی مِنْ أَطْوَائِ بَدْرٍ خَبِیثٍ مُخْبِثٍ، قَالَ: وَکَانَ إِذَا ظَہَرَ عَلٰی قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَۃِ ثَلَاثَ لَیَالٍ، قَالَ: فَلَمَّا ظَہَرَ عَلٰی بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَیَالٍ، حَتّٰی إِذَا کَانَ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِہِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِہَا ثُمَّ مَشٰی، وَاتَّبَعَہُ أَصْحَابُہُ قَالُوا: فَمَا نَرَاہُ یَنْطَلِقُ إِلَّا لِیَقْضِیَ حَاجَتَہُ، قَالَ: حَتّٰی قَامَ عَلٰی شَفَۃِ الطُّوٰی، قَالَ: فَجَعَلَ یُنَادِیہِمْ بِأَسْمَائِہِمْ وَأَسْمَائِ آبَائِہِمْ: ((یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ! أَسَرَّکُمْ أَنَّکُمْ أَطَعْتُمُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ رَبُّکُمْ حَقًّا؟)) قَالَ عُمَرُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا تُکَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِیہَا؟ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: أَحْیَاہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ حَتّٰی سَمِعُوا قَوْلَہُ تَوْبِیخًا وَتَصْغِیرًا وَنِقْمَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کو بیان کیا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیس سے زائد قریشی سرداروں کے متعلق حکم دیا اور انہیں بدر کے کنوؤں میں سے ایک کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ وہ کنواں بڑا خبیث اور گندا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی قوم پر فتح پاتے تو وہاں تین رات قیام فرماتے، اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بدر میں فتح یاب ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی تین رات قیام فرمایا، جب تیسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی سواری کو تیار کرنے کا حکم فرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہو ئے، صحابہ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم سب نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ چلتے چلتے آپ اس کنوئیں کے کنارے پر جا رکے اور ان مقتول کفار قریش کو ان کے ناموں اور ان کے آباء کے ناموں کا ذکر کر کے ان کو پکارا اور یوں فرمایا: اے فلاں بن فلاں! کیا اب تمہیںیہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچا پالیا ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا آپ ایسے اجسام سے ہم کلام ہو رہے ہیں، جن میں روحیں ہی نہیں ہیں؟ قتادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ، رسوائی اور اظہار ناراضگی کے لیے ان کفار کو زندہ کر دیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10712

۔ (۱۰۷۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِکَ الرَّہْطِ، فَأُلْقُوا فِی الطُّوٰی عُتْبَۃُ وَأَبُو جَہْلٍ وَأَصْحَابُہُ، وَقَفَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((جَزَاکُمُ اللّٰہُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِیٍّ مَا کَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ وَأَشَدَّ التَّکْذِیبِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ تُکَلِّمُ قَوْمًا جَیَّفُوا؟ فَقَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَفْہَمَ لِقَوْلِی مِنْہُمْ أَوْ لَہُمْ أَفْہَمُ لِقَوْلِی مِنْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۸۶)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ بدر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ان مقتول سردارانِ قریش عتبہ، ابوجہل اور ان کے ساتھیوں کے پاس سے گزرے، جنہیں کنوئیں میں پھینک دیا گیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں رک گئے اور فرمایا: تم ایک نبی کی ایسی قوم ہو، جو اس کے شدید مخالف اور بہت زیادہ تکذیب کرنے والے تھے، اللہ نے تمہیں بہت بُرا بدلہ دیا، میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی نسبت میری بات کو زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تمہاری بہ نسبت میری بات کو زیادہ سمجھ رہے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10713

۔ (۱۰۷۱۳)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْقَتْلٰی أَنْ یُطْرَحُوا فِی الْقَلِیبِ، فَطُرِحُوا فِیہِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ فَإِنَّہُ انْتَفَخَ فِی دِرْعِہِ فَمَلَأَہَا، فَذَہَبُوا یُحَرِّکُوہُ فَتَزَایَلَ، فَأَقَرُّوہُ وَأَلْقَوْا عَلَیْہِ مَا غَیَّبَہُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَۃِ، فَلَمَّا أَلْقَاہُمْ فِی الْقَلِیبِ وَقَفَ عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَہْلَ الْقَلِیبِ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا، فَإِنِّی قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی رَبِّی حَقًّا۔)) فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُکَلِّمُ قَوْمًا مَوْتٰی؟ قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ: ((لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُہُمْ حَقٌّ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَالنَّاسُ یَقُولُونَ لَقَدْ سَمِعُوا، مَا قُلْتُ لَہُمْ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ عَلِمُوا۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۹۳)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مقتولینِ بدر کو کنوئیں میں پھینک دئیے جانے کا حکم صادر فرمایا، پس ان کو اس میں پھینک دیا گیا۔ البتہ امیہ بن خلف اپنی زرہ کے اندر اس قدر پھول چکا تھا اور اس کے اندر پھنس گیا، جب صحابہ کرام نے اسے کھینچا تو اس کے اعضاء الگ ہو گئے، سو انھوں نے اسے ویسے ہی رہنے دیا اور اس پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا، جب ان مقتولین کو کنوئیں میں ڈالا جا چکا تھا تو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے اوپر جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پا لیاہے؟ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے سچا پالیا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مردوں سے کلام کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے جو وعدہ کیا تھا یعنی ان سے جو کچھ کہا تھا وہ حق تھا۔ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ لوگ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان مقتولین نے آپ کی باتیں سن لی تھیں، میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا کہ یہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10714

۔ (۱۰۷۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا، فَنَزَلَ عَلٰی صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ، وَکَانَ أُمَیَّۃُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَی الشَّامِ فَمَرَّ بِالْمَدِینَۃِ نَزَلَ عَلٰی سَعْدٍ، فَقَالَ أُمَیَّۃُ لِسَعْدٍ: انْتَظِرْ حَتّٰی إِذَا انْتَصَفَ النَّہَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتَ فَطُفْتَ، فَبَیْنَمَا سَعْدٌ یَطُوفُ إِذْ أَتَاہُ أَبُو جَہْلٍ فَقَالَ: مَنْ ہٰذَا یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ آمِنًا، قَالَ سَعْدٌ: أَنَا سَعْدٌ، فَقَالَ أَبُو جَہْلٍ: تَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ آمِنًا: وَقَدْ آوَیْتُمْ مُحَمَّدًا عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَتَلَاحَیَا، فَقَالَ أُمَیَّۃُ لِسَعْدٍ: لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَکَ عَلٰی أَبِی الْحَکَمِ فَإِنَّہُ سَیِّدُ أَہْلِ الْوَادِی، فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ: وَاللّٰہِ! إِنْ مَنَعْتَنِی أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ لَأَقْطَعَنَّ إِلَیْکَ مَتْجَرَکَ إِلَی الشَّأْمِ، فَجَعَلَ أُمَیَّۃُیَقُولُ: لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَکَ عَلٰی أَبِی الْحَکَمِ، وَجَعَلَ یُمْسِکُہُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ فَقَالَ: دَعْنَا مِنْکَ، فَإِنِّی سَمِعْتُ مُحَمَّدًا یَزْعُمُ أَنَّہُ قَاتِلُکَ، قَالَ: إِیَّایَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا یَکْذِبُ مُحَمَّدٌ، فَلَمَّا خَرَجُوا رَجَعَ إِلَی امْرَأَتِہِ، فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتِ؟ مَا قَالَ لِیَ الْیَثْرِبِیُّ، فَأَخْبَرَہَا فَلَمَّا جَائَ الصَّرِیخُ، وَخَرَجُوا إِلٰی بَدْرٍ، قَالَتِ امْرَأَتُہُ: أَمَا تَذْکُرُ مَا قَالَ أَخُوکَ الْیَثْرِبِیُّ؟ فَأَرَادَ أَنْ لَا یَخْرُجَ، فَقَالَ لَہُ أَبُو جَہْلٍ: إِنَّکَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِی فَسِرْ مَعَنَا یَوْمًا أَوْ یَوْمَیْنِ، فَسَارَ مَعَہُمْ فَقَتَلَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۳۷۹۴)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عمرہ کی غرض سے تشریف لے گئے، صفوان بن امیہ بن خلف کے ہاں مہمان ٹھہرے، امیہ بھی مکہ سے شام کی طرف جاتے ہوئے مدینہ منورہ سے گزرتے ہوئے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں قیام کیا کرتا تھا، امیہ نے سعد سے کہا: تم ابھیانتظار کرو، جب دوپہر ہو گی اور لوگ تھک جائیں گے تب جا کر طواف کر لینا، سیدنا سعد طواف کر رہے تھے کہ ابو جہل ان کے پاس آگیا اور بولا یہ کون ہے، جو بڑے امن اور سکون کے ساتھ کعبہ کا طواف کر رہا ہے؟ سعد نے کہا: میں سعد ہوں۔ ابوجہل نے کہا: تو بڑے سکون سے طواف کر رہا ہے حالانکہ تم لوگوں نے محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو پناہ دے رکھی ہے۔ دونوں میں تو تکار ہو گئی، تو امیہ نے سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ ابو الحکم (یعنی ابوجہل) کے مقابلے میں آواز بلند نہ کریں،یہیہاں کا سردار ہے۔ لیکن سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تو نے مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے سے روکا تو میں شام کی طرف تمہارا تجارتی راستہ بند کر دوں گا۔ امیہ پھر سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہنے لگا اور اسے پکڑ کر روکنے لگا کہ ابو الحکم (یعنی ابوجہل) کے سامنے آواز بلند نہ کرو، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غصہ آ گیا، وہ بولے مجھے چھوڑ دو، میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سن چکا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ تجھے قتل کر کے رہیں گے، امیہ نے کہا: کیا مجھے؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہاں، ہاں، امیہ نے کہا: اللہ کی قسم! محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات غلط نہیں ہو سکتی، جب لوگ چلے گئے تو وہ اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا: کیا تیرے علم میں وہ بات آئی جو یثربی مہمان نے کہی ہے؟ اور پھر اسے ساری بات بتلائی، جب لڑائی کا اعلان ہوا اور لوگ بدر کی طرف جانے لگے تو امیہ کی بیوی نے اس سے کہا: کیا تمہیں وہ بات یاد نہیں ہے جو تمہارے یثربی بھائی نے کہی تھی؟ اس نے ایک دفعہ تو ارادہ کیا کہ لڑائی کے لیے نہ جائے، لیکن ابوجہل نے اس سے کہا تم یہاں کے سرداروں میں سے ہو، سو ہمارے ساتھ ایک دو دن کے لیے ضرور چلو، پس وہ ان کے ساتھ چل پڑا اور اللہ تعالیٰ نے اسے (بدر میں) ہلاکت سے دو چار کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10715

۔ (۱۰۷۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ أَہْلَ بَدْرٍ کَانُوا ثَلَاثَ مِائَۃٍ وَثَلَاثَۃَ عَشَرَ رَجُلًا، وَکَانَ الْمُہَاجِرُونَ سِتَّۃً وَسَبْعِینَ، وَکَانَ ہَزِیمَۃُ أَہْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَۃَ مَضَیْنَیَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۲)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل بدر کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں سے چھہتر(۷۶) مہاجرین تھے، کفار سترہ رمضان کو جمعہ کے دن ہزیمت سے دو چار ہو ئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10716

۔ (۱۰۷۱۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قِیلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ: عَلَیْکَ الْعِیرَ لَیْسَ دُونَہَا شَیْئٌ، قَالَ فَنَادَاہُ الْعَبَّاسُ وَہُوَ أَسِیرٌ فِی وَثَاقِہِ: لَا یَصْلُحُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لِمَ؟)) قَالَ: لِأَنَّ اللّٰہَ قَدْ وَعَدَکَ إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ، وَقَدْ أَعْطَاکَ مَا وَعَدَکَ۔ (مسند احمد: ۲۸۷۳)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لیں، اب کوئی آپ کی مزاحمت نہیں کر سکے گا ، لیکن عباس جو کہ اس وقت اسیر تھے اور بندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اب ابو سفیان کا پیچھا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کو ایک گروہ پر غلبہ دے دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10717

۔ (۱۰۷۱۷)۔ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا الْتَقَیْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ یَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ لَنَا: ((إِذَا أَکْثَبُوکُمْ (یَعْنِی غَشُوکُمْ) فَارْمُوہُمْ بِالنَّبْلِ۔)) وَأُرَاہُ قَالَ: ((وَاسْتَبْقُوا نَبْلَکُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۱۶۱۵۷)
سیدنا ابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب ہماری اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: جب دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے یعنی بالکل قریب آجائے تو تب تم ان پر تیر چلانا۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اندھا دھند تیر اندازی کرنے کی بجائے احتیاط سے تیر چلانا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10718

۔ (۱۰۷۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: صَفَفْنَا یَوْمَ بَدْرٍ فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَۃٌ) اَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَیْہِمْ فَقَالَ: ((مَعِیْ مَعِیْ۔))۔ (مسند احمد: ۲۳۹۶۵)
سیدناابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم نے صف بندی کی تو ہم میں سے بعض جلد بازوں نے جلدی کی اور صف سے آگے نکل گئے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ ساتھ رہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10719

۔ (۱۰۷۱۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ اَبَا طَلْحَۃَ قَالَ: غَشِیَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِیْ مَصَافِّنَا یَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: فَکُنْتُ فِیْمَنْ غَشِیَہُ النُّعَاسُ یَوْمَئِذٍ، فَجَعَلَ سَیْفِیْیَسْقُطُ مِنْ یَدِیْ وَآخُذُہُ، وَیَسْقُطُ وَآخُذُہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۷۰)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ بدر کے دن ہم میدان جنگ میں تھے کہ ہمیں اونگھ نے آلیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اس دن انہی لوگوں میں شامل تھا ،جن کو اونگھ آگئی تھی، میری تلوار بار بار میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جاتی تھی اور میں اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10720

۔ (۱۰۷۲۰)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اسْتَصْغَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَا وَابْنَ عُمْرَ، فَرُدِدْنَا یَوْمَ بَدْرٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۶)
سیدنابراء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اور ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کم عمر قرار دے کر ہمیں لڑائی سے واپس بھیج دیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10721

۔ (۱۰۷۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ اَنَّ اَبَا جَہْلٍ قَالَ حِیْنَ اِلْتَقَی الْقَوْمُ: اَللّٰھُمَّ اَقْطَعَنَا الرَّحِمَ، وَاَتَانَا بِمَا لَانَعْرِفُہُ، فَاَحِنْہُ الْغَدَاۃَ فَکَانَ الْمُسْتَفْتِحُ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۶۱)
سیدناعبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب کفار اور مسلمان ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئے تو ابو جہل نے کہا: یا اللہ! ہم میں سے جس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا جسے ہم پہنچانتے نہیں تو اسے کل صبح رسوا کر، چنانچہ اس کییہی دعا مسلمانوں کی فتح کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10722

۔ (۱۰۷۲۲)۔ (۶۹۳۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْنَتَہ، فَقُلْتُ: مَا لِیْ مِنْ شَیْئٍ فَکَیْفَ؟ ثُمَّ ذَکَرْتُ صِلَتَہ، وَعَائِدَتَہ، فَخَطَبْتُہَا اِلَیْہِ، فَقَالَ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَأَیْنَ دِرْعُکَ الْحَطْمِیَّۃُ الَّتِیْ أَعْطَیْتُکَیَوْمَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: ھِیَ عِنْدِیْ، قَالَ: ((فَأَعْطِہَا اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۰۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ارادہ کیا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی کے بارے میں پیغام بھیجوں، لیکن پھر میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے، سو میں کیا کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بار بار ہمارے گھر آتے جاتے رہتے ہیں، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ پیغام بھیج دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حطمی زرہ کہاں ہے، جو میں نے تجھے فلاں دن دی تھی؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی فاطمہ کو دے دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10723

۔ (۱۰۷۲۳)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا زَوَّجَہُ فَاطِمَۃَ، بَعَثَ مَعَہَ بِخَمِیْلَۃٍ وَوِسَادَۃٍ مِنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَیْفُ الْاِذْخَرِ) وَرَحْیَیْنِ وَسِقَائً وَ جَرَّتَیْنِ، فَقَالَ عَلِیٌّ لِفَاطِمَۃَ ذَاتَ یَوْمٍ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَنَوْتُ حَتّٰی لَقَدِ اشْتَکَیْتُ صَدْرِیْ، قَالَ: وَقَدْ جَائَ اللّٰہُ اَبَاکَ بِسَبْیٍ، فَاذْھَبِیْ فَاسْتَخْدِمِیْہِ، فَقَالَتْ: وَاَنَا وَاللّٰہِ! قَدْ طَحَنْتُ حَتّٰی مَجَلَتْ یَدِیْ، فَاَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا جَائَ بِکِ اَیْ بُنَیَّۃَ؟)) قَالَتْ: جِئْتُ لِاُسَلِّمَ عَلَیْکَ، وَاسْتَحْیَتْ اَنْ تَسْاَلَہُ وَرَجَعَتْ، فَقَالَ: مَا فَعَلْتِ؟ قَالَتْ: اسْتَحْیَیْتُ اَنْ اَسْاَلَہُ، فَاَتَیْنَا جَمِیْعاً، فَقَال عَلِیٌّ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّی اشْتَکَیْتُ صَدْرِیْ، وَقَالَتْ فَاطِمَۃُ: قَدْ طَحَنْتُ حَتّٰی مَجَلَتْ یَدَایَ وَقد جَائَکَ اللّٰہُ بِسَبْیٍ وَسِعَۃٍ فَاَخْدِمْنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ! لَا اُعْطِیْکُمَا وَاَدَعُ اَھْلَ الصُّفَّۃَ تَطْوِیْ بُطُوْنُہُمْ لَا اَجِدُ مَا اُنْفِقُ عَلَیْہِمْ، وَلٰکِنِّیْ اَبِیْعُہُمْ وَاُنْفِقُ عَلَیْہِمْ اَثْمَانَہُمْ۔)) فَرَجَعَا فَاَتَاھُمَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ دَخَلَا فِیْ قَطِیْفَتِہِمَا اِذَا غَطَّتْ رُئُ وْسَہُمَا تَکَشَّفَتْ اَقْدَامُھُمَا، وَإِذَا غَطَّیَا اَقْدَامَہَمَا تَکَشَّفَتْ رُئُ ْوسُہُمَا فَثَارَا، فَقَالَ: ((مَکَانَکُمَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُ کُمَا بِخَیْرِ مِمَّا سَاَلْتُمَانِیْ؟)) قَالَا: بَلٰی! فَقَالَ: ((کَلِمَاتٍ عَلَّمَنِیْہِنَّ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ، فَقَالَ: تُسَبِّحَانِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرًا، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا، وَتُکَبِّرَانِ عَشْرًا، وَإِذَا اٰوَیْتُمَا اِلٰی فِرَاشِکُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ، وَکَبِّرَا اَرْبَعًا وَثَلَاثِیْنَ۔)) قَال: فَوَ اللّٰہِ! مَا تَرَکْتُہُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِیْہِنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ ابْنُ الْکَوَائِ: وَلَا لَیْلَۃَ صِفِّیْنَ، فَقَالَ قَاتَلَکُمُ اللّٰہُ، یَا اَھْلَ الْعَرَاقِ! نَعَمْ، وَلَا لَیْلَۃَ صِفِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۸۳۸)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نکاح کیا تو آپ نے ان کے ہمراہ ایک اونی چادر، چمڑے کا ایک تکیہ، جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، ایک مشک اور دو مٹکے بھیجے، ایک دن سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیّدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کہ باہر سے پانی لالا کر اب تو میرا سینہ دکھنے لگا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد کے پاس کچھ قیدی بھیج دئیے ہیں، تم جا کر ان سے ایک خادم طلب کر لو، انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میرا بھی اب تو یہ حال ہو چکا ہے کہ آٹا پیسنے کے لیے چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں پر گٹے پڑ گئے ہیںیعنی ہاتھ بہت سخت ہو گئے ہیں۔ چنانچہ سیّدہ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت کیا: بیٹی! کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے کہا میں تو محض سلام کہنے کی غرض سے آئی ہوں، اور کوئی چیز طلب کرنے سے جھجک گئیں۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا کہ کیا بنا؟ انہوں نے بتلایا:میں تو شرم کے مارے آپ سے کچھ نہیں مانگ سکی، پھر ہم دونوں آپ کی خدمت میں گئے، اس بار سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! باہر سے پانی لالا کر میرا سینہ دکھنے لگا ہے، اور سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کہ چکی چلاچلا کر میرے ہاتھوں پر گٹے پڑ گئے ہیں، اب اللہ نے آپ کے پاس قیدی بھیجے ہیں اور آپ کو مالی طور پر خوش حال کر دیا ہے، پس آپ ہمیں ایک خادم عنایت کر دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں خادم نہیں دے سکتا، جب کہ اہلِ صفہ کا حال یہ ہے کہ بھوک کے مارے ان کے پیٹ بل کھاتے ہیں اور میرے پاس اس قدر گنجائش نہیں کہ ان پر کچھ خرچ کر سکوں، یہ جو قیدی آئے ہیں، میں انہیں فروخت کر کے ان سے حاصل ہونے والی رقم اصحاب صفہ پر خرچ کروں گا۔ یہ سن کر وہ دونوں لوٹ آئے، بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں ایسے وقت تشریف لے گئے، جب وہ اپنی چادر میں داخل ہو چکے تھے، اور اس چادر کا بھییہ حال تھا کہ وہ چادر ان کے سروں کو ڈھانپتی تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب وہ دونوں اپنے کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کے سر ننگے رہ جاتے، وہ اٹھ کر بیٹھنے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں، تم اپنی جگہ پرہی رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ لوگوں نے مجھ سے جو کچھ طلب کیا تھا، اب کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتلاؤں؟ دونوں نے کہا: ضرور، ضرور، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ چند کلمات ہیں جو جبریل علیہ السلام نے مجھے سکھائے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحانَ اللّٰہ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، اور دس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو اور جب تم سونے کے لیے بستر پر آؤ تو ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے ہیں، میں نے انہیں ترک نہیں کیا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کواء نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ نے جنگ صفین والی رات کو بھی انہیں ترک نہیں کیا تھا؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اہل ِ عراق! اللہ تمہیں ہلاک کرے، ہاں صفین کی شب کو بھی میںنے اس عمل کو ترک نہیں کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10724

۔ (۱۰۷۲۴)۔ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَغْنَمِ یَوْمَ بَدْرٍ، وَأَعْطَانِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَارِفًا أُخْرٰی، فَأَنَخْتُہُمَا یَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَیْہِمَا إِذْخِرًا لِأَبِیعَہُ وَمَعِی صَائِغٌ مِنْ بَنِی قَیْنُقَاعَ لِأَسْتَعِینَ بِہِ عَلٰی وَلِیمَۃِ فَاطِمَۃَ، وَحَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَشْرَبُ فِی ذٰلِکَ الْبَیْتِ، فَثَارَ إِلَیْہِمَا حَمْزَۃُ بِالسَّیْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَہُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَہُمَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَکْبَادِہِمَا، قُلْتُ لِابْنِ شِہَابٍ: وَمِنَ السَّنَامِ؟ قَالَ: جَبَّ أَسْنِمَتَہُمَا، فَذَہَبَ بِہَا، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلٰی مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِی، فَأَتَیْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہُ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ فَأَخْبَرْتُہُ الْخَبَرَ، فَخَرَجَ وَمَعَہُ زَیْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَہُ فَدَخَلَ عَلٰی حَمْزَۃَ فَتَغَیَّظَ عَلَیْہِ، فَرَفَعَ حَمْزَۃُ بَصَرَہُ فَقَالَ: ہَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِیدٌ لِأَبِی، فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَہْقِرُ حَتّٰی خَرَجَ عَنْہُمْ وَذٰلِکَ قَبْلَ تَحْرِیمِ الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۱)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میںمجھے مالِ غنیمت میں سے ایک اونٹ ملا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک اور اونٹ عطا فرمایا تھا، میں نے ایک دن دونوں اونٹوں کو ایک انصاری کے دروازے کے پاس بٹھایا۔ میں اذخرگھاس کاٹ کر ان پر لاد کر لے جا کر بیچنا چاہتا تھا۔ میرے ہمراہ بنو قینقاع کا ایک صراف شخص بھی تھا، میں اس سے حاصل ہونے والی رقم کو سیّدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ولیمہ پرخرچ کرنا چاہتا تھا۔ انصاری کے اس گھر میں سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے شراب نوشی کر رہے تھے کہ اچانک وہ تلوار لے کر اُٹھے اور اونٹوں کی طرف لپک کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں چاک کر دیں اور ان کے جگر نکال کر چلتے بنے۔ ابن جریج راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ زہری سے دریافت کیا کہ کوہانوں کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: انہیں بھی وہ کاٹ کر ساتھ لے گئے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا اور گھبرا گیا، میں اسی وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا، اس وقت سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوش گزار کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں سے روانہ ہو کر سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے اور ناراضگی کا اظہار فرمایا، سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی نظروں کو گھمایا اور کہنے لگے: تم لوگ تو میرے باپ کے غلام ہو۔ سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ بات سن کر رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ الٹے پاؤں واپس ہو کر واپس لوٹ آئے۔ یہ واقعہ شراب کی حرمت سے پہلے کاہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10725

۔ (۱۰۷۲۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَشٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ، ثُمَّ وَجَّہَہُمْ وَقَالَ: ((انْطَلِقُوْا عَلَی اسْمِ اللّٰہِ، وَقَالَ اَللّٰھُمَّ اَعِنْہُمْ۔)) (یَعْنِی النَّفَرَ الَّذِیْنَ وَجَّہَہُمْ اِلٰی کَعْبِ بْنِ الْاَشْرَفِ)۔ (مسند احمد: ۲۳۹۱)
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع الغرفد میں تشریف لے گئے اور صحابہ کرام کو ان کے مشن کے لیے روانہ کرتے ہوئے فرمایا: تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو۔ اور یہ دعا فرمائی: یا اللہ ان کی مدد فرمانا۔ (یہ وہ گروہ تھا، جس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کعب بن اشرف کی طرف روانہ کیا تھا۔)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10726

۔ (۱۰۷۲۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَیْفَہُ ذَا الْفَقَارِ یَوْمَ بَدْرٍ وَہُوَ الَّذِی رَأٰی فِیہِ الرُّؤْیَایَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَیْتُ فِی سَیْفِی ذِی الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُہُ فَلًّا یَکُونُ فِیکُمْ وَرَأَیْتُأَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا فَأَوَّلْتُہُ کَبْشَ الْکَتِیبَۃِ وَرَأَیْتُ أَنِّی فِی دِرْعٍ حَصِینَۃٍ فَأَوَّلْتُہَا الْمَدِینَۃَ وَرَأَیْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللّٰہِ خَیْرٌ فَبَقَرٌ وَاللّٰہِ خَیْرٌ فَکَانَ الَّذِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۵)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ذوالفقار تلوار جنگ بدر کے دن بطور نفل حاصل کییہ وہی تلوار ہے جس کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی اس تلوار ذوالفقار میں ایک دندانہ دیکھا ہے اس کی تعبیریہ ہے کہ تمہیں شکست ہوگی میں نے دیکھا ہے کہ میں نے مینڈھے کو پیچھے سوار کیا ہوا ہے میں نے تاویل کی ہے کہ لشکر کا بہادر شہید ہوگا میں نے دیکھا ہے کہ میں نے محفوظ زرہ پہنی ہوئی ہے میں نے اس کی تاویلیہ کی ہے کہ مدینہ محفوظ رہے گا میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم یہ بہتر ہے۔ وہی ہوا جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10727

۔ (۱۰۷۲۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَأَیْتُ کَأَنِّی فِی دِرْعٍ حَصِینَۃٍ، وَرَأَیْتُ بَقَرًا مُنَحَّرَۃً، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِینَۃَ الْمَدِینَۃُ، وَأَنَّ الْبَقَرَ ہُوَ وَاللّٰہِ خَیْرٌ۔)) قَالَ: فَقَالَ لِأَصْحَابِہِ: ((لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِینَۃِ فَإِنْ دَخَلُوا عَلَیْنَا فِیہَا قَاتَلْنَاہُمْ۔)) فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ، مَا دُخِلَ عَلَیْنَا فِیہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَکَیْفَیُدْخَلُ عَلَیْنَا فِیہَا فِی الْإِسْلَامِ؟ قَالَ عَفَّانُ فِی حَدِیثِہِ: فَقَالَ: ((شَأْنَکُمْ إِذًا۔)) قَالَ: فَلَبِسَ لَأْمَتَہُ، قَالَ: فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: رَدَدْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْیَہُ، فَجَائُ وْا فَقَالُوا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! شَأْنَکَ إِذًا، فَقَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ لِنَبِیٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَہُ أَنْ یَضَعَہَا حَتَّییُقَاتِلَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۴۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک محفوظ مضبوط قلعہ کے اندر ہوں، اور میں نے ایک ذبح شدہ گائے دیکھی، میں نے اس کی تعبیریہ کی کہ مضبوط ومحفوظ قلعہ سے مراد مدینہ منورہ ہے، اور اللہ کی قسم گائے کا دیکھنا بھی بہتر ہے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے مشورہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ہم مدینہ میں ٹھہریں، پھر اگر دشمن ہم پر حملہ آور ہو تو ہم ان سے قتال کریں، اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دشمن ہم پر ہمارے شہر میں اس وقت بھی نہیں آیا تھا، جب ہم کافر تھے، اب جب کہ ہم اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، وہ ہمارے اوپر ہمارے شہر میں کیونکر آسکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کی بات سن کر فرمایا: چلو ٹھیک ہے، جیسے چاہو کر لو۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہتھیار اپنے جسم پر سجالئے، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر انصاریوں نے آپس میں کہا کہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رائے کے برعکس عمل کیا ہے۔ (اللہ خیر کرے) چنانچہ انہوں نے آکر عرض کیا کہ اللہ کے نبی! آپ اپنی رائے پر ہی عمل کریں، لیکن اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی کے لیےیہ روا نہیں کہ جب وہ ہتھیاروں سے مسلح ہو جائے تو دشمن سے قتال کیے بغیر انہیں اتا دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10728

۔ (۱۰۷۲۸)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَأَیْتُ فِیمَایَرَی النَّائِمُ کَأَنِّی مُرْدِفٌ کَبْشًا، وَکَأَنَّ ظُبَۃَ سَیْفِی انْکَسَرَتْ، فَأَوَّلْتُ أَنِّی أَقْتُلُ صَاحِبَ الْکَتِیبَۃِ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ بَیْتِییُقْتَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۶۱)
انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے گویا کہ ایک مینڈھا میرے پیچھے ہے اور گویا میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے، تو میں نے ان خوابوں کی تعبیریہ کی کہ میں مشرکین کے جھنڈا بردار (طلحہ بن ابی طلحہ) کو قتل کروں گا اور میرےاہل بیت میں سے ایک آدمی قتل ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10729

۔ (۱۰۷۲۹)۔ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ الْبَرَاء َ بْنَ عَازِبٍ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرُّمَاۃِیَوْمَ أُحُدٍ وَکَانُوا خَمْسِینَ رَجُلًا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جُبَیْرٍ، قَالَ: وَوَضَعَہُمْ مَوْضِعًا، وَقَالَ: ((إِنْ رَأَیْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّیْرُ فَلَا تَبْرَحُوا حَتّٰی أُرْسِلَ إِلَیْکُمْ، وَإِنْ رَأَیْتُمُونَا ظَہَرْنَا عَلَی الْعَدُوِّ وَأَوْطَأْنَاہُمْ فَلَا تَبْرَحُوا حَتّٰی أُرْسِلَ إِلَیْکُمْ۔)) قَالَ: فَہَزَمُوہُمْ، قَالَ: فَأَنَا وَاللّٰہِ! رَأَیْتُ النِّسَائَ یَشْتَدِدْنَ عَلَی الْجَبَلِ، وَقَدْ بَدَتْ سُوْقُہُنَّ وَخَلَاخِلُہُنَّ رَافِعَاتٍ ثِیَابَہُنَّ، فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جُبَیْرٍ: الْغَنِیمَۃَ أَیْ قَوْمُ الْغَنِیمَۃَ، ظَہَرَ أَصْحَابُکُمْ فَمَا تَنْظُرُونَ؟ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جُبَیْرٍ: أَنَسِیتُمْ، مَا قَالَ لَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوا: إِنَّا وَاللّٰہِ لَنَأْتِیَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِیبَنَّ مِنَ الْغَنِیمَۃِ، فَلَمَّا أَتَوْہُمْ صُرِفَتْ وُجُوہُہُمْ، فَأَقْبَلُوا مُنْہَزِمِینَ، فَذٰلِکَ الَّذِییَدْعُوہُمُ الرَّسُولُ فِی أُخْرٰاہُمْ، فَلَمْ یَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرُ اثْنَیْ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِینَ رَجُلًا، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ أَصَابَ مِنْ الْمُشْرِکِینَیَوْمَ بَدرٍ أَرْبَعِینَ وَمِائَۃً، سَبْعِینَ أَسِیرًا وَسَبْعِینَ قَتِیلًا، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: أَفِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ أَ فِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ أَ فِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ ثَلَاثًا، فَنَہَاہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُجِیبُوہُ، ثُمَّ قَالَ: أَفِی الْقَوْمِ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ؟ أَ فِی الْقَوْمِ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ؟ أَ فِی الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ أَ فِی الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلٰی أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: أَمَّا ہٰؤُلَائِ فَقَدْ قُتِلُوا وَقَدْ کُفِیتُمُوہُمْ، فَمَا مَلَکَ عُمَرُ نَفْسَہُ أَنْ قَالَ: کَذَبْتَ وَاللّٰہِ، یَا عَدُوَّ اللّٰہِ! إِنَّ الَّذِینَ عَدَدْتَ لَأَحْیَائٌ کُلُّہُمْ، وَقَدْ بَقِیَ لَکَ مَا یَسُوئُکَ، فَقَالَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ، إِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃً لَمْ آمُرْ بِہَا وَلَمْ تَسُؤْنِی، ثُمَّ أَخَذَ یَرْتَجِزُ: اعْلُ ہُبَلُ، اعْلُ ہُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا تُجِیبُونَہُ؟)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: ((قُولُوا: اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ۔)) قَالَ: إِنَّ الْعُزّٰی لَنَا وَلَا عُزّٰی لَکُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا تُجِیبُونَہُ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا نَقُولُ؟ قَالَ: ((قُولُوا: اللّٰہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ۔))۔ (مسند احمد: ۱۸۷۹۴)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر عبداللہ بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں ایک مقام پر ٹھہرایا اور فرمایا: اگر تم دیکھو کہ پرندے ہماری لاشوں کو آکر کھا رہے ہیں تم تب بھییہاں سے نہ ہٹنا، تاآنکہ میں خود تمہارے پاس پیغام بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم دشمن پر غالب آ چکے اور اسے روند چکے ہیں تم تب بھییہاں سے اِدھر اُدھر نہ جانا، جب تک کہ میں خود تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:مسلمانوں نے کفار کو شکست سے دو چار کیا۔ اللہ کی قسم! میں نے عورتوں کو پہاڑ کے اوپر دوڑتے ہوئے یعنی گھبراہٹ میں تیز تیز چلتے دیکھا ان کی حالت یہ تھی کہ ان کی پنڈلیاں اور پازیبیں دکھائی دے رہی تھیں اور انہوں نے اپنے کپڑوں کو اٹھایا ہوا تھا۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا عبداللہ بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے تیر انداز ساتھیوں نے کہا: لوگو! چلو مالِ غنیمت اکٹھا کریں، مسلمانوں کو فتح حاصل ہو چکی ہے، اب تم کس چیز کے منتظر ہو؟ سیدنا عبداللہ بن جبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے بہت کہا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم سے جو فرمایا تھا، کیا تم اسے بھول گئے ہو؟ یہ لوگ جب میدان میں پہنچے، صورت حالات بدل گئی اور شکست خوردہ ہو کر واپس ہوئے۔ یہی وہ وقت تھا جب رسول ان کو ان کے پیچھے سے آوازیں دے دے کر بلا رہے تھے اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ محض بارہ آدمی رہ گئے تھے اور کفار نے ہمارے ستر آدمیوں کو قتل کیا تھا، جب کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام نے بدر کے دن ستر کافر وں کو قتل اور ستر کافروں کو قیدی بنایا تھا، لڑائی کے بعد ابو سفیان نے پکار کر دریافت کیا: کیا تمہارے اندر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود ہیں؟ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسلمانوں کو اس کی بات کا جواب دینے سے منع فرما دیا۔ اس کے بعد اس نے پکار کر پوچھا کیا تمہارے ابن ابی قحافہ یعنی ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر ابو قحافہ کے بیٹے موجود ہیں؟ کیا تمہارے اندر ابن خطاب ہیں؟ کیا تمہارے اندر خطاب کا بیٹا ہے؟ پھر اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر خوشی سے کہا یہ سب لوگ مارے جا چکے ہیں اور ان کی بابت تمہارا کام مکمل ہو چکا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کییہ باتیں سن کر کنٹرول نہ کر سکے اور فرمایا: اے اللہ کے دشمن! تو جھوٹ کہہ رہا ہے، تو نے جن جن لوگوں کے نام لیے ہیں وہ سب زندہ ہیں، اور تیرے لیے بری خبر باقی ہے۔ ابو سفیان نے کہا: آج کا دن، بدر کا بدلہ ہے، اور لڑائی میں ایسا ہوتا رہتا ہے، کبھی کوئی غالب اورکبھی کوئی، تم دیکھوگے کہ تمہارے مسلمانوں کے مقتولین کا مُثلہ کیا گیا ہے، مگر میں نے کسی کو ایسا کرنے کانہیں کہا۔ مگر مجھے یہ کام بُرا بھی نہیں لگا، پھر وہ خوشی سے اس قسم کے رجز یہ کلمات کہنے لگا۔ اے ہُبل! تو سر بلند ہو، اے ہبل! تو سربلند ہو، تب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کی باتوں کا جواب نہ دو گے؟ صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا، اللہ کے رسول! اس کے جواب میں ہم کیا کہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ (اللہ ہی بلند وبالا اور بزرگی والا ہے)۔ ابو سفیان نے کہا: ہمارے پاس تو ایک عُزی ہے، جب کہ تمہارا کوئی عزی نہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے اس کی بات کا جواب کیوں نہیں دیتے ہو؟ صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم یوں کہو: اَللّٰہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ (ہمارا مدد گار تو اللہ ہے، تمہارا کوئی مدد گار نہیں)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10730

۔ (۱۰۷۳۰)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: مَا نَصَرَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِی مَوْطِنٍ کَمَا نَصَرَ یَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: فَأَنْکَرْنَا ذٰلِکَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَیْنِی وَبَیْنَ مَنْ أَنْکَرَ ذٰلِکَ کِتَابُ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ فِییَوْمِ أُحُد: {وَلَقَدْ صَدَقَکُمْ اللّٰہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُمْ بِإِذْنِہِ } یَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَالْحَسُّ الْقَتْلُ، {حَتّٰی إِذَا فَشِلْتُمْ إِلٰی قَوْلِہِ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَاللّٰہُ ذُو فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ} وَإِنَّمَا عَنٰی بِہٰذَا الرُّمَاۃَ، وَذٰلِکَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقَامَہُمْ فِی مَوْضِعٍ، ثُمَّ قَالَ: ((احْمُوا ظُہُورَنَا فَإِنْ رَأَیْتُمُونَا نُقْتَلُ فَلَا تَنْصُرُونَا، وَإِنْ رَأَیْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا فَلَا تَشْرَکُونَا۔)) فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبَاحُوا عَسْکَرَ الْمُشْرِکِینَ أَکَبَّ الرُّمَاۃُ جَمِیعًا فَدَخَلُوا فِی الْعَسْکَرِ یَنْہَبُونَ، وَقَدِ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَہُمْ کَذَا وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدَیْہِ، وَالْتَبَسُوا فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاۃُ تِلْکَ الْخَلَّۃَ الَّتِی کَانُوا فِیہَا دَخَلَتِ الْخَیْلُ مِنْ ذٰلِکَ الْمَوْضِعِ عَلٰی أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ نَاسٌ کَثِیرٌ، وَقَدْ کَانَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ أَوَّلُ النَّہَارِ حَتّٰی قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَائِ الْمُشْرِکِینَ سَبْعَۃٌ أَوْ تِسْعَۃٌ، وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَۃً نَحْوَ الْجَبَلِ وَلَمْ یَبْلُغُوا حَیْثُیَقُولُ النَّاسُ الْغَارَ، إِنَّمَا کَانُوا تَحْتَ الْمِہْرَاسِ وَصَاحَ الشَّیْطَانُ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَلَمْ یُشَکَّ فِیہِ أَنَّہُ حَقٌّ، فَمَا زِلْنَا کَذٰلِکَ مَا نَشُکُّ أَنَّہُ قَدْ قُتِلَ حَتّٰی طَلَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ السَّعْدَیْنِ نَعْرِفُہُ بِتَکَفُّئِہِ إِذَا مَشٰی، قَالَ: فَفَرِحْنَا حَتّٰی کَأَنَّہُ لَمْ یُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا، قَالَ: فَرَقِیَ نَحْوَنَا وَہُوَ یَقُولُ: ((اشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْہَ رَسُولِہِ۔)) قَالَ: وَیَقُولُ مَرَّۃً أُخْرٰی: اللّٰہُمَّ إِنَّہُ لَیْسَ لَہُمْ أَنْ یَعْلُونَا حَتَّی انْتَہَی إِلَیْنَا، فَمَکَثَ سَاعَۃً فَإِذَا أَبُو سُفْیَانَیَصِیحُ فِی أَسْفَلِ الْجَبَلِ: اعْلُ ہُبَلُ، مَرَّتَیْنِیَعْنِی آلِہَتَہُ، أَیْنَ ابْنُ أَبِیکَبْشَۃَ؟ أَیْنَ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ؟ أَیْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا أُجِیبُہُ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) فَلَمَّا قَالَ: اعْلُ ہُبَلُ، قَالَ عُمَرُ: اللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلُّ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! إِنَّہُ قَدْ أَنْعَمَتْ عَیْنُہَا فَعَادِ عَنْہَا أَوْ فَعَالِ عَنْہَا، فَقَالَ أَیْنَ ابْنُ أَبِی کَبْشَۃَ؟ أَیْنَ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ؟ أَیْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: ہٰذَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہٰذَا أَبُوبَکْرٍ، وَہَا أَنَا ذَا عُمَرُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، الْأَیَّامُ دُوَلٌ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ:لَا سَوَائً قَتْلَانَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلَاکُمْ فِی النَّارِ، قَالَ: إِنَّکُمْ لَتَزْعُمُونَ ذٰلِکَ لَقَدْ خِبْنَا إِذَنْ وَخَسِرْنَا، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: أَمَا إِنَّکُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِی قَتْلَاکُمْ مُثْلًا، وَلَمْ یَکُنْ ذَاکَ عَنْ رَأْیِ سَرَاتِنَا، قَالَ: ثُمَّ أَدْرَکَتْہُ حَمِیَّۃُ الْجَاہِلِیَّۃِ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَا إِنَّہُ قَدْ کَانَ ذَاکَ وَلَمْ نَکْرَہُّ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جیسے احد کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کی، ایسی کسی بھی موقع پر نہیں کی، عبیداللہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ بات سن کر ہم سب کو تعجب ہوا۔ انھوں نے کہا: جو لوگ اس بات کے انکاری ہیں ان کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے احد والے دن کے متعلق فرمایا ہے:{وَلَقَدْ صَدَقَکُمْ اللّٰہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُمْ بِإِذْنِہِ} … اللہ نے تمہارے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کیا تم ان کافروں کو قتل کر رہے تھے۔ یہاں الحسّ سے مراد قتل کرنا ہے۔ مزید فرمایا: {حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرٰیکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْھُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَاللّٰہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ۔}… مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت اور دشمن کی شکست)تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے، اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ اس سے وہ تیر انداز مراد ہیں جنہیں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مقام پر متعین کیا تھا، اور فرمایا تھا کہ تم ادھر سے یعنی ہماری پشت کی جانب سے ہماری حفاظت کرنا، اگر تم دیکھو کہ ہم مارے جا رہے ہیں تب بھی تم ہماری مدد کو نہ آنا، اگر تم دیکھو کہ ہم غنیمتیں جمع کر رہے ہیں تب بھی تم ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غنیمتیں جمع کرنے لگے اور انہوں نے مشرکین کے لشکر کو شکست سے دو چار کیا تم تمام تیر انداز اُدھر امڈ آئے اور لشکر میں شامل ہو کر لوٹ مار کرنے لگے، اصحاب رسول کی صفیں آپس میں اس طرح گڈ مڈ ہو گئیں اور ساتھ ہی ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے دکھایا، جب ان تیر اندازوں نے اس مقررہ مقام کو غیر محفوظ چھوڑ دیا جہاں انہیں متعین کیا گیا تھا تو دشمنوں کا لشکر ادھر ہی سے اصحاب نبی پر حملہ آور ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو مارا اور گتھم گتھا ہو گئے اوربہت سے مسلمان شہید ہو گئے۔ دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کا پلہ بھاری رہا، یہاں تک کہ مشرکین کے سات یا نو جھنڈا بردار قتل ہوئے اور مسلمان پہاڑ کی جانب بڑھتے گئے، وہ اس غار تک نہیں پہنچے تھے جس کے متعلق لوگ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان غار تک پہنچ گئے تھے بلکہ وہ مہر اس نامی چشمہ تک پہنچے تھے جس کے قریب ہی سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دفن کیا گیا تھا۔اور شیطان نے زور دار آواز سے چیخ کر کہا تھا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قتل ہو گئے۔ اس بات کے حق ہونے میں کسی کو شک بھی نہ گزرا، ہمیں بھی اس بات کا پورا یقین ہو چکا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سعدین کے درمیان سے نظر آئے۔ ہم آپ کو آپ کے چلنے کے انداز سے پہچان لیتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے وقت سامنے کی طرف تھوڑا سا جھک کر چلتے تھے، صحابہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ کر ہمیں اس قدر خوشی ہوئی گویا کہ ہمیں کوئی دکھ پہنچا ہی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کے اوپر ہماری طرف چڑھ آئے اور اس وقت آپ یوں کہہ رہے تھے: ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب ہو، جنہوں نے اس کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا۔ اور کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں کہا: یہ لوگ کبھی بھی ہم پر غالب نہیں ہو سکتے۔ آپ اسی طرح کے کلمات کہتے کہتے ہمارے پاس آن پہنچے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ پہاڑ کے نیچے سے ابو سفیان نے زور سے چیخ کر دو مرتبہ کہا، اے ہُبُل، تو سربلند ہو۔ ابن ابی کبشہ کہاں ہے؟(اس سے اس کی مراد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے) ابو قحافہ کا بیٹا ابوبکر کہاں ہے؟ خطاب کا بیٹا عمر کہاں ہے؟ اس کی باتیں سن کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کی باتوں کا جواب نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور دو۔ ابو سفیان نے جب کہا کہ اے ہبل تو سر بلند ہو۔ تو اس کے جواب میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللّٰہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ (صرف اللہ ہی سب سے بلند اور بزرگ ترین ہے۔) ابو سفیان نے کہا: اے ابن خطاب! ہبل کی بات پوری ہو چکی ہے۔ اب تم اس کے ذکر کو چھوڑو، ابو سفیان نے کہا تھا: ابو کبشہ کا بیٹا محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہاں ہے؟ ابو قحافہ کا بیٹا کہاں ہے؟ اور خطاب کا بیٹا کہاں ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ ہیں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، یہ ہیں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور یہ میں ہوں عمر، ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، یہ ایام پانی کے ڈول کی مانند ہوتے ہیں کبھی کوئی غالب آتا ہے اور کوئی مغلوب اور لڑائی میں باریاں ہوتی ہیں، غالب ہونے والے کبھی مغلوب اور مغلوب ہونے والے کبھی غالب آجاتے ہیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، برابری نہیں ہے، ہمارے مقتول تو جنت میں جائیں گے اور تمہارے مقتول جہنمی ہیں۔ ابو سفیان بولا: یہ تو تمہارا خیال ہے، اگر بات ایسی ہی ہو تو ہم سراسر ناکام اور خسارہ پانے والے ہیں۔ پھر ابو سفیان نے کہا: اے عمر! تم دیکھو گے کہ تمہارے مقتولین کا مثلہ کیا گیا ہے۔ مگر یہ ہمارے لیڈروں کا فیصلہ قطعاً نہ تھا، یہ بات کرنے کے ساتھ ہی اسے جاہلی حمیتنے آن لیا اور کہنے لگا: اگر چہ بات ایسے ہی ہے کہ یہ ہمارے لیڈروں کا فیصلہ نہ تھا، تاہم ہم اس پر خوش ہیں اور اسے ناپسند نہیں کرتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10731

۔ (۱۰۷۳۱)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَائَ کُنَّ یَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِینَیُجْہِزْنَ عَلٰی جَرْحٰی الْمُشْرِکِینَ، فَلَوْ حَلَفْتُ یَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنَّا یُرِیدُ الدُّنْیَا، حَتَّی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ} فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِہِ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تِسْعَۃٍ سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ عَاشِرُہُمْ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ، قَالَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَۃً حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ أَیْضًا قَالَ: ((یَرْحَمُ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) فَلَمْ یَزَلْیَقُولُ ذَا حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَاحِبَیْہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔)) فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ: اعْلُ ہُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُولُوا: اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ۔)) فَقَالُوا: اللّٰہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: لَنَا عُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُولُوا: اللّٰہُ مَوْلَانَا وَالْکَافِرُونَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، یَوْمٌ لَنَا وَیَوْمٌ عَلَیْنَا، وَیَوْمٌ نُسَائُ وَیَوْمٌ نُسَرُّ، حَنْظَلَۃُ بِحَنْظَلَۃَ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا سَوَائً أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْیَائٌیُرْزَقُونَ، وَقَتْلَاکُمْ فِی النَّارِ یُعَذَّبُونَ۔)) قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: قَدْ کَانَتْ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃٌ، وَإِنْ کَانَتْ لَعَنْ غَیْرِ مَلَإٍ مِنَّا مَا أَمَرْتُ وَلَا نَہَیْتُ وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا کَرِہْتُ وَلَا سَائَ نِیْ وَلَا سَرَّنِی، قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَۃُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُہُ وَأَخَذَتْ ہِنْدُ کَبِدَہُ فَلَاکَتْہَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْکُلَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَأَکَلَتْ مِنْہُ شَیْئًا؟)) قَالُوا: لَا، قَالَ: ((مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُدْخِلَ شَیْئًا مِنْ حَمْزَۃَ النَّارَ۔)) فَوَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، وَجِیئَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَوُضِعَ إِلَی جَنْبِہِ،فَصَلَّی عَلَیْہِ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِیُّ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، ثُمَّ جِیء َ بِآخَرَ فَوَضَعَہُ إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِیَوْمَئِذٍ سَبْعِینَ صَلَاۃ۔ (مسند احمد: ۴۴۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ احد کے دن خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور وہ مشرکین کے زخمی لوگوں کی مرہم پٹی اور خدمت کر رہی تھیں، میں اس روز قسم اُٹھا کر کہہ سکتا تھا کہ ہم میں سے ایک بھی آدمی دنیا کا خواہش مند اور طالب نہ تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ}… اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ جب بعض صحابہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم عدولی کے مرتکب ہوئے اور حالات نے رخ بدلا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات انصار اور دو قریشیوں کے ایک گروپ میں علیحدہ ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں دسویں فرد تھے، جب کفار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر چڑھ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی پر اللہ کی رحمت ہو جو ان حملہ آوروں کو ہم سے ہٹائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم برابر یہ بات کہتے رہے تاآنکہ ان میں سے سات آدمی شہید ہو گئے اور صرف دو آدمی باقی بچے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ان دونوں ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا (یعنی قریشیوں نے انصاریوں سے انصاف نہیں کیا کہ انصاری ہییکے بعد دیگرے نکل نکل کر شہید ہوتے گئے یا ہمارے جو لوگ میدان سے راہِ فرار اختیار کر گئے ہیں انہوں نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا)۔ ابو سفیان نے آکر کہا: اے ہبل! تو سربلند ہو تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے جواب میں تم یوں کہو اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلُّ (اللہ ہی بلند شان والا اور بزرگی والا ہے۔) صحابہ نے بلند آواز سے کہا: اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلّ۔ُپھر ابو سفیان نے کہا: ہمارا تو ایک عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو اللہ ہمارا مدد گار ہے اور کافروں کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، آج ہمیں فتح ہوئی ہے، اس روز ہمیں شکست ہوئی تھی، ایک دن ہمیں برا لگا اور ایک دن ہمیں اچھا لگا، حنظلہ کے مقابلے میں حنظلہ، فلاں کے فلان مقابلے میں اور فلاں بالمقابل فلاں، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے تمہارے درمیان کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتولین زندہ ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں، انہیں عذاب سے دو چار کیا جاتا ہے۔ ابو سفیان نے کہا: تمہارے یعنی مسلمانوں کے مقتولین کا مثلہ کیا گیا ہے ،یہ کام ہماری رائے یا مشاورت کے بغیر ہوا ہے، میں نے نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے روکا۔ اور میں نے اسے پسند یا نا پسند بھی نہیں کیا، مجھے اس کا نہ غم ہوا ہے اور نہ خوشی۔ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب شہدائے کرام کو دیکھاتو سیّد نا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا پیٹ چاک کیا گیا تھا، ابو سفیان کی بیوی ہند نے ان کا جگر نکال کر اسے چبایا، مگر وہ اسے کھا نہ سکی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا: جی نہیں ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ حمزہ کے جسم کے کسی بھی حصہ یا اس کے جزء کو جہنم میں داخل کرنے والا نہیں ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ ادا کی، بعد ازاں ایک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو لایا گیا، اسے سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، انصاری کی میت کو اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو وہیں رہنے دیا گیا، پھر ایک اور شہید کو لایا گیا، اسے بھی سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، پھر اسے اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو وہیں رہنے دیا گیا،یہاں تک کہ اس روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ ستر بار ادا فرمائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10732

۔ (۱۰۷۳۲)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شُجَّ یَوْمَ أُحُدٍ وَکَسَرُوا رَبَاعِیَتَہُ، فَجَعَلَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْہِہِ وَہُوَ یَقُولُ: ((کَیْفَیُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَّبُوا وَجْہَ نَبِیِّہِمْ بِالدَّمِ، وَہُوَ یَدْعُوہُمْ إِلٰی رَبِّہِمْ عَزَّ وَجَلَّ۔)) فَأُنْزِلَتْ: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}۔ [آل عمران: ۱۲۸] (مسند احمد: ۱۱۹۷۸)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے والے دو دانتوں اور کچلیوں کے درمیان والا دانت شہید ہوگیا اور آپ کا رُخ انور اس قدر زخمی ہو گیا کہ خون آپ کے چہرے پر بہہ پڑا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی اثناء میں فرما رہے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو گی، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، حالانکہ وہ نبی تو انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}… آپ کو اس بارے میںکچھ بھی اختیار نہیں،یہ اللہ کی مرضی ہے کہ ان پر توجہ کرےیا انہیں عذاب سے دو چار کرے، بے شک وہ ظالم ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10733

۔ (۱۰۷۳۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: شُجَّ فِی وَجْہِہِ یَوْمَ أُحُدٍ، وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ، وَرُمِیَ رَمْیَۃً عَلٰی کَتِفَیْہِ، فَجَعَلَ الدَّمُ یَسِیلُ عَلٰی وَجْہِہِ، وَہُوَ یَمْسَحُہُ عَنْ وَجْہِہِ وَہُوَ یَقُولُ: ((کَیْفَتُفْلِحُ أُمَّۃٌ فَعَلُوا ہَذَا بِنَبِیِّہِمْ، وَہُوَ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) فَأَنْزَلَ: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ} [آل عمران: ۱۲۸] إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۱۴)
۔( دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: احد کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا، سامنے والے دانتوں اور کچلیوں کے درمیان والا دانت ٹوٹ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھے پر بھی ایک تیر آکر لگا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر بھی خون بہنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس عالم میں اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ وہ وہ امت کیسے فلاح یاب ہو سکتی ہے، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ}… تیرے اختیارمیں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10734

۔ (۱۰۷۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی قَوْمٍ فَعَلُوْا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) وَھُوَ حِیْنَئِذٍیُشِیْرُ اِلٰی رَبَاعِیَتِہِ وَقَالَ: ((اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی رَجُلٍ یَقْتُلُہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔))۔ (مسند احمد: ۸۱۹۸)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ٹوٹے رباعی دانت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب ہوا،جنہوں نے اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا سلوک کیاا ور اس آدمی پر بھی اللہ کا شدید غضب ہے، جسے اللہ کا رسول اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10735

۔ (۱۰۷۳۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: لَقَدْ رَاَیْتُ عَنْ یَمِیْنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَنْ یَسَارِہِیَوْمَ اُحُدٍ رَجُلَیْنِ، عَلَیْہِمَا ثِیَابٌ بِیْضٌیُقَاتِلَانِ عَنْہُ کَاَشَدِّ الْقِتَالِ، مَا رَاَیْتُہُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۸)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:احد کے دن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا، وہ سفید لباس میں ملبوس تھے، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بھر پور دفاع کر رہے تھے، ان دونوں کو میں نے اس سے پہلے یا بعد میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10736

۔ (۱۰۷۳۶)۔ عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخَذَ سَیْفًایَوْمَ اُحُدٍ فَقَالَ: ((مَنْ یَاْخُذُ ھٰذَا السَّیْفَ؟)) فَاَخَذَہُ قَوْمٌ فَجَعَلُوْا یَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ، فَقَالَ: ((مَنْ یَاْخُذُہُ بِحَقِّہِ؟)) فَاَحْجَمَ الْقَوْمُ، فَقَالَ اَبُوْ دُجَانَۃَ سِمَّاکٌ: اَنَا آخُذُہُ بِحَقِّہِ، فَفَلَقَ ھَامَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۶۰)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا: اس تلوار کو کون لے گا؟ لوگ اسے لے کر دیکھنے لگ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اسے لے کر اس کا حق بھی ادا کرے۔ تو لوگ پیچھے ہٹ گئے، سیدنا ابو دجانہ سماک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: میں اسے لے کر اس کا حق ادا کر وں گا، چنانچہ انہوں نے مشرکین کی کھوپڑیاں اتارنا شروع کر دیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10737

۔ (۱۰۷۳۷)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظَاھَرَ بَیْنَ دِرْعَیْنِیَوْمَ اُحُدٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۳)
سائب بن یزید سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احد کے دن دو زرہیں اوپر نیچے پہنی ہوئی تھیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10738

۔ (۱۰۷۳۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ إِذَ ذُکِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ: ((أَمَا وَاللّٰہِ! لَوَدِدْتُ أَنِّی غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصَ الْجَبَلِ۔)) یَعْنِی سَفْحَ الْجَبَلِ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۸۹)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب شہدائے احد کا تذکرہ ہوتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اللہ کی قسم! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ مجھے بھی ان کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں دفن کر دیا جاتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10739

۔ (۱۰۷۳۹)۔ وَعَنْہُ: اَنَّ قَتْلٰی اُحُدٍ حُمِلُوْا مِنْ مَکَانِہِمْ، فَنَادٰی مُنَادِیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ رُدُّوْا الْقَتْلٰی اِلٰی مَضَاجِعِہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۱۶)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ شہدائے احد کو وہاں سے اُٹھا کر مدینہ منورہ کی طرف لایا جانے لگا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ ان مقتولین کو ان کی جگہ پریعنی میدان احد میں واپس لے آؤ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10740

۔ (۱۰۷۴۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: اسْتُشْہِدَ اَبِیْ بِاُحُدٍ، فَاَرْسَلْنَنِیْ اَخَوَاتِیْ اِلَیْہِ بِنَاضِحٍ لَھُنَّ، فَقُلْنَ اذْھَبْ فَاحْتَمِلْ اَبَاکَ عَلٰی ھٰذَا الْجَمَلِ فَادْفُنْہُ فِیْ مَقْبَرَۃِ بَنِیْ سَلِمَۃَ، قَالَ فَجِئْتُہُ وَاَعْوَانٌ لِیْ فَبَلَغَ ذٰلِکَ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ جَالِسٌ بِاُحُدٍ فَدَعَانِیْ وَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَا یُدْفَنُ اِلَّا مَعَ اِخْوَتِہِ۔)) فَدُفِنَ مَعَ اَصْحَابِہِ بِاُحُدٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۳۱)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب احد کے دن میرے والد شہید ہو گئے، تو میری بہنوں نے اونٹ دے کر مجھے بھیجا اور کہا کہ جاؤ اور ابا جان کی میت کو اس پر لاد کر لے آؤ اور انہیں بنو سلمہ کے قبرستان میں دفن کرو، میں اور میرے معاونین وہا ں پہنچے، لیکن جب اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہمارے منصوبے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے مجھے بلوایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی وہیں احد کے مقام پر ہی تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسے اس کے باقی شہید بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا۔ پھر ایسے ہی ہوا کہ ان کو دیگر شہداء کے ساتھ ہی احد میں دفن کیا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10741

۔ (۱۰۷۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ اُحُدٍ بِالشُّہَدَائِ اَنْ یُنْزَعَ عَنْہُمُ الْحَدِیْدُ وَالْجُلُوْدُ وَقَالَ: ((اُدْفُنُوْھُمْ بِدِمَائِہِمْ وَثِیَابِہِمْ۔))۔ (مسند احمد: ۲۲۱۷)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احد کے دن شہداء کے بارے میں حکم دیا کہ ان کے اجساد سے لوہا اور چمڑے کا لباس الگ کر دیا جائے اور ان کو خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10742

۔ (۱۰۷۴۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِیَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِیِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ إِلَی الشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ، قَالَ لِی عُبَیْدُ اللّٰہِ: ہَلْ لَکَ فِی وَحْشِیٍّ، نَسْأَلُہُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَکَانَ وَحْشِیٌّیَسْکُنُ حِمْصَ، قَالَ: فَسَأَلْنَا عَنْہُ، فَقِیلَ لَنَا: ہُوَ ذَاکَ فِی ظِلِّ قَصْرِہِ کَأَنَّہُ حَمِیتٌ، قَالَ: فَجِئْنَا حَتّٰی وَقَفْنَا عَلَیْہِ فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ عَلَیْنَا السَّلَامَ، قَالَ: وَعُبَیْدُ اللّٰہِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِہِ مَا یَرٰی وَحْشِیٌّ إِلَّا عَیْنَیْہِ وَرِجْلَیْہِ، فَقَالَ عُبَیْدُ اللّٰہِ: یَا وَحْشِیُّ! أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: لَا وَاللّٰہِ! إِلَّا أَنِّی أَعْلَمُ أَنَّ عَدِیَّ بْنَ الْخِیَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً،یُقَالُ لَہَا: أُمُّ قِتَالٍ، ابْنَۃُ أَبِی الْعِیصِ، فَوَلَدَتْ لَہُ غُلَامًا بِمَکَّۃَ فَاسْتَرْضَعَہُ، فَحَمَلْتُ ذٰلِکَ الْغُلَامَ مَعَ أُمِّہِ فَنَاوَلْتُہَا إِیَّاہُ، فَلَکَأَنِّی نَظَرْتُ إِلٰی قَدَمَیْکَ، قَالَ: فَکَشَفَ عُبَیْدُ اللّٰہِ وَجْہَہُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَۃَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ حَمْزَۃَ قَتَلَ طُعَیْمَۃَ بْنَ عَدِیٍّ بِبَدْرٍ، فَقَالَ لِی مَوْلَایَ جُبَیْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَۃَ بِعَمِّی فَأَنْتَ حُرٌّ، فَلَمَّا خَرَجَ النَّاسُ یَوْمَ عَینِینَ، قَالَ: وَعَینِینُ جُبَیْلٌ تَحْتَ أُحُدٍ وَبَیْنَہُ وَادٍ، خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَی الْقِتَالِ، فَلَمَّا أَنِ اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ، قَالَ: خَرَجَ سِبَاعٌ: مَنْ مُبَارِزٌ؟ قَالَ: فَخَرَجَ إِلَیْہِ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: سِبَاعُ بْنُ أُمِّ أَنْمَارٍ؟ یَا ابْنَ مُقَطِّعَۃِ الْبُظُورِ! أَتُحَادُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ؟ ثُمَّ شَدَّ عَلَیْہِ فَکَانَ کَأَمْسِ الذَّاہِبِ، وَأَکْمَنْتُ لِحَمْزَۃَ تَحْتَ صَخْرَۃٍ حَتّٰی إِذَا مَرَّ عَلَیَّ، فَلَمَّا أَنْ دَنَا مِنِّی رَمَیْتُہُ بِحَرْبَتِی فَأَضَعُہَا فِی ثُنَّتِہِ حَتّٰی خَرَجَتْ مِنْ بَیْنِ وَرِکَیْہِ، قَالَ: فَکَانَ ذٰلِکَ الْعَہْدُ بِہِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَہُمْ، قَالَ: فَأَقَمْتُ بِمَکَّۃَ حَتّٰی فَشَا فِیہَا الْإِسْلَامُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَی الطَّائِفِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَقِیلَ لَہُ: إِنَّہُ لَایَہِیجُ لِلرُّسُلِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَہُمْ حَتّٰی قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَلَمَّا رَآنِی، قَالَ: ((أَنْتَ وَحْشِیٌّ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَۃَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: قَدْ کَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا بَلَغَکَیَا رَسُولَ اللّٰہِ إِذْ قَالَ: ((مَا تَسْتَطِیعُ أَنْ تُغَیِّبَ عَنِّی وَجْہَکَ؟)) قَالَ: فَرَجَعْتُ، فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَرَجَ مُسَیْلِمَۃُ الْکَذَّابُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَخْرُجَنَّ إِلٰی مُسَیْلِمَۃَ لَعَلِّی أَقْتُلُہُ فَأُکَافِئَ بِہِ حَمْزَۃَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ فَکَانَ مِنْ أَمْرِہِمْ مَا کَانَ، قَالَ: فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِی ثَلْمَۃِ جِدَارٍ کَأَنَّہُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرٌ رَأْسُہُ، قَالَ: فَأَرْمِیہِ بِحَرْبَتِی فَأَضَعُہَا بَیْنَ ثَدْیَیْہِ حَتّٰی خَرَجَتْ مِنْ بَیْنِ کَتِفَیْہِ، قَالَ: وَوَثَبَ إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَضَرَبَہُ بِالسَّیْفِ عَلٰی ہَامَتِہِ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْفَضْلِ: فَأَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَتْ جَارِیَۃٌ عَلٰی ظَہْرِ بَیْتٍ، وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ قَتَلَہُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۷۴)
جعفر بن عمرو ضمری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبید اللہ بن عدی بن خیار کی معیت میں شام کی طرف گیا، جب ہم حمص میں پہنچے تو عبید اللہ نے مجھ سے کہا: کیا تم سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل وحشی بن حرب کو دیکھنا چاہتے ہو؟ ہم اس سے سیّد نا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل کے متعلق دریافت کریں گے۔ میں نے کہا: جی ہاں ان دنوں وحشی حمص میں مقیم تھا۔ ہم نے اس کے متعلق لوگوں سے دریافت کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ سامنے اپنے محل کے سایہ میں ہے، اس کا جسم ایک مشک کی طرح (موٹا) تھا، جعفر کہتے ہیں: ہم اس کے قریب جا کر رک گئے اور ہم نے اسے سلام کہا، اس نے ہمیں سلام کا جواب دیا۔اس وقت عبید اللہ اپنے عمامہ کو اچھی طرح لپیٹا ہوا تھا، وحشی کو ان کی آنکھیں اور پاؤں ہی نظر آئے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: وحشی! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ اس نے اس کی طرف دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! نہیں، البتہ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن الخیار نے ابو العیص کی دختر ام قتال سے شادی کی تھی، اس کے بطن سے مکہ میں اس کا ایک بیٹا پیدا ہوا تھا، میں اس بچے کے لیے کسی عورت کی تلاش میں تھا، جو اسے دودھ پلائے، میں نے اس بچے کو اس کی ماں کے ہمراہ اٹھایا تھا اور اسے پکڑ کر اس عورت کو تھمایا تھا، مجھے تمہارے قدم اس بچے کے سے لگتے ہیں، اس کے بعد عبیداللہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: کیا آپ ہمیں سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل کا واقعہ سنائیں گے؟ اس نے کہا: ہاں، حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بدر میں طیمہ بن عدی کو قتل کیا تھا، میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم میرے چچا کے بدلے میں سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر دو تو تم آزاد ہو گے۔ جب لوگ عینین کے دن جنگ کے لیے روانہ ہوئے، احد کے قریب ہی ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے، جس کا نام عینین ہے۔ ان دونوں کے درمیان صرف ایک وادی ہے،لوگ قتال کے لیے نکلے اور قتال کے لیے صف آراء ہو گئے تو سباع بن عبدالعزی خزاعی سامنے نکلا اور اس نے للکارا کہ ہے کوئی میرے مدمقابل؟ سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے مقابلے میں نکلے اور کہا کیا تو سباع بن ام انمار ہے؟ اے اس عورت کے بیٹے جو بچیوں کے فرج کے ساتھ بڑھے ہوئے چمڑے کا ٹا کرتی تھی! کیا تو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں آیا ہے؟ اور یہ کہتے ہی اس پر حملہ کر دیا۔ میں سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے ارادے سے ایک چٹان کے پیچھے گھات میں تھا، تاکہ جب وہ میرے پاس سے گزریں تو حملہ کر سکوں۔ جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے ان کے مثانے پر وار کیا، جوان کے جسم سے پار ہو گیا۔ یہی وار ان کی موت کا سبب بنا، لوگ جب جنگ سے واپس ہوئے تو میں بھی واپس گیا اور میں مکہ میں مقیم رہا تاآ نکہ وہاں بھی اسلام پھیل گیا، میں وہاں سے طائف کو نکل گیا، اہل طائف نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اپنا ایک قاصد بھیجا، کہا گیا کہ آپ کسی کے قاصد کو کچھ نہیں کہتے، میں بھی لوگوں کے ہمراہ آپ کی خدمت میں جا پہنچا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: تم ہی وحشی ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہی نے حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! وہی ہوا تھا جس کی اطلاع آپ تک پہنچ چکی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنے آپ کو مجھ سے دور نہیں رکھ سکتے؟ چنانچہ میں وہاں سے چلا آیا، جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا اور مسیلمہ کذاب مدعی نبوت بن کر ظاہر ہوا تو میں نے سوچا کہ میں مسیلمہ کی طرف جا کر دیکھوں شاید میں اسے قتل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں اور اس طرح حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل کی تلافی کر سکوں، چنانچہ میں لوگوں کے ہمراہ مسیلمہ کے مقابلے کو نکلا، پس جو ہونا تھا وہی ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ایک دیوار کے شگاف میں کھڑا تھا یوں لگتا تھا، جیسے وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہو، اس کے سر کے بال پراگندہ تھے، میں نے اپنا نیزہ اس پر پھینکا، جو اس کے پستانوں کے درمیان جا کر لگا، اور کندھوں کے درمیان سے پار ہو گیا، پھر ایک انصاری اس کی طرف لپکا اور اس کے سر پر تلوار چلائی۔ عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ ایک گھر کی چھت پر سے ایک لڑکی نے کہا کہ ایک سیاہ فام غلام نے امیر المؤمنین مسیلمہ کو قتل کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10743

۔ (۱۰۷۴۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَۃَ رَہْطٍ عَیْنًا، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِی الْأَقْلَحِ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَانْطَلَقُوا حَتّٰی إِذَا کَانُوا بِالْہَدَّۃِ بَیْنَ عُسْفَانَ وَمَکَّۃَ ذُکِرُوا لِحَیٍّ مِنْ ہُذَیْلٍ،یُقَالُ لَہُمْ: بَنُو لِحْیَانَ، فَنَفَرُوا لَہُمْ بِقَرِیبٍ مِنْ مِائَۃِ رَجُلٍ رَامٍ، فَاقْتَصُّوا آثَارَہُمْ حَتَّی وَجَدُوا مَأْکَلَہُمْ التَّمْرَ فِی مَنْزِلٍ نَزَلُوہُ، قَالُوا: نَوَی تَمْرِ یَثْرِبَ فَاتَّبَعُوا آثَارَہُمْ، فَلَمَّا أُخْبِرَ بِہِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُہُ لَجَئُوا إِلٰی فَدْفَدٍ فَأَحَاطَ بِہِمُ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: لَہُمْ انْزِلُوا وَأَعْطُونَا بِأَیْدِیکُمْ وَلَکُمُ الْعَہْدُ وَالْمِیثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْکُمْ أَحَدًا، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِیرُ الْقَوْمِ: أَمَّا أَنَا وَاللّٰہِ! لَا أَنْزِلُ فِی ذِمَّۃِ کَافِرٍ، اللَّہُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِیَّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَمَوْہُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِی سَبْعَۃٍ، وَنَزَلَ إِلَیْہِمْ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ عَلَی الْعَہْدِ وَالْمِیثَاقِ، مِنْہُمْ خُبَیْبٌ الْأَنْصَارِیُّ وَزَیْدُ بْنُ الدَّثِنَۃِ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَلَمَّا تَمَکَّنُوا مِنْہُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِیِّہِمْ فَرَبَطُوہُمْ بِہَا، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ: ہٰذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ، وَاللّٰہِ! لَا أَصْحَبُکُمْ إِنَّ لِی بِہٰؤُلَائِ لَأُسْوَۃًیُرِیدُ الْقَتْلَ، فَجَرَّرُوہُ وَعَالَجُوہُ فَأَبٰی أَنْ یَصْحَبَہُمْ فَقَتَلُوہُ، فَانْطَلَقُوا بِخُبَیْبٍ وَزَیْدِ بْنِ الدَّثِنَۃِ حَتّٰی بَاعُوہُمَا بِمَکَّۃَ بَعْدَ وَقْعَۃِ بَدْرٍ، فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ خُبَیْبًا، وَکَانَ خُبَیْبٌ ہُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ یَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَیْبٌ عِنْدَہُمْ أَسِیرًا حَتّٰی أَجْمَعُوا قَتْلَہُ، فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسٰییَسْتَحِدُّ بِہَا لِلْقَتْلِ فَأَعَارَتْہُ إِیَّاہَا، فَدَرَجَ بُنَیٌّ لَہَا، قَالَتْ: وَأَنَا غَافِلَۃٌ حَتّٰی أَتَاہُ فَوَجَدْتُہُ یُجْلِسُہُ عَلٰی فَخِذِہِ وَالْمُوسٰی بِیَدِہِ، قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَۃً عَرَفَہَا خُبَیْبٌ، قَالَ: أَتَخْشَیْنَ أَنِّی أَقْتُلُہُ؟ مَا کُنْتُ لِأَفْعَلَ، فَقَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ أَسِیرًا قَطُّ خَیْرًا مِنْ خُبَیْبٍ، قَالَتْ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ وَجَدْتُہُ یَوْمًایَأْکُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِییَدِہِ، وَإِنَّہُ لَمُوثَقٌ فِی الْحَدِیدِ وَمَا بِمَکَّۃَ مِنْ ثَمَرَۃٍ، وَکَانَتْ تَقُولُ: إِنَّہُ لَرِزْقٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ خُبَیْبًا،فَلَمَّا خَرَجُوا بِہِ مِنَ الْحَرَمِ لِیَقْتُلُوہُ فِی الْحِلِّ، قَالَ لَہُمْ خُبَیْبٌ: دَعُونِی أَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ، فَتَرَکُوہُ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوا أَنَّ مَا بِی جَزَعًا مِنَ الْقَتْلِ لَزِدْتُ، اللَّہُمَّ أَحْصِہِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْہُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْہُمْ أَحَدًا، فَلَسْتُ أُبَالِی حِینَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا، عَلٰی أَیِّ جَنْبٍ کَانَ لِلَّہِ مَصْرَعِی، وَذٰلِکَ فِی ذَاتِ الْإِلٰہِ وَإِنْ یَشَأْیُبَارِکْ عَلٰی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ، ثُمَّ قَامَ إِلَیْہِ أَبُو سِرْوَعَۃَ عُقْبَۃُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَہُ، وَکَانَ خُبَیْبٌ ہُوَ سَنَّ لِکُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاۃَ، وَاسْتَجَابَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ یَوْمَ أُصِیبَ، فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَصْحَابَہُ یَوْمَ أُصِیبُواخَبَرَہُمْ، وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ قُرَیْشٍ إِلٰی عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ حِینَ حُدِّثُوا أَنَّہُ قُتِلَ لِیُؤْتٰی بِشَیْئٍ مِنْہُ یُعْرَفُ، وَکَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِہِمْ یَوْمَ بَدْرٍ، فَبَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی عَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّۃِ مِنَ الدَّبْرِ، فَحَمَتْہُ مِنْ رُسُلِہِمْ فَلَمْ یَقْدِرُوا عَلٰی أَنْ یَقْطَعُوا مِنْہُ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۸۰۸۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس آدمیوں کی ایک جماعت کو روانہ فرمایا تاکہ وہ قریش کے حالات کو معلوم کریں کہ وہ آج کل کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عاصم بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نانا عاصم بن ثابت بن ابی اقلح کو ان پر امیر مقرر فرمایا،یہلوگ اپنے مشن پر روانہ ہوئے جب عسفان اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک مقام الھدۃ پر پہنچے تو بنو ہذیل کے ایک قبیلے بنولحیان کے لیے ان کا ذکر کیا گیا۔ اس قبیلے کے ایک سو کے لگ بھگ تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا،یہ مسلمان ایک مقام پر ٹھہرے تھے، بنو لحیان کے لوگوں نے وہاں ان کے طعام میں دیکھا کہ انہوں نے وہاں کھجوریں کھائی ہیں، کہنے لگے یہ تو یثرب کی کھجوروں کی گٹھلیاں ہیں، وہ ان کے قدموں کے آثار پر ان کا پیچھا کرتے کرتے، ان تک جا پہنچے۔ جب عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اوران کے ساتھیوں کو ان کے بارے میں خبر دی گئی تو یہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ گئے۔ دشمن نے ان کا محاصرہ کر لیا اور کہا تم نیچے اتر آؤ تمہارے پاس جو کچھ ہے، ہمیں دے دو، ہم تمہارے ساتھ پختہ عہد کرتے ہیں کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے، تو عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ امیر قافلہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو کسی کافر کی امان میں نہیں جاتا، یا اللہ! ہمارے متعلق اپنے نبی کو مطلع کر دے، پھر کافروں نے ان مسلمانوں پر تیر برسانا شروع کر دیئے اور سات مسلمانوں کو شہید کر دیا، ان میں سے ایک سیدنا عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے۔ باقی تین آدمی سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا زید بن دثنہ اور ایک تیسرا آدمییہ ان کے عہدو پیمان کے نتیجے میں نیچے آگئے۔ کافروں نے جب ان تینوں کو قابو کر لیا تو ان کی کمانوں کی رسیاں کھول کر انہیں انہی سے باندھ دیا۔ ان تین میں سے تیسرے صحابی نے کافروں سے کہا: یہ تمہارا دھوکا ہے، اللہ کی قسم! میں تو تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میرے لیے ان شہیدوں میں بہترین نمونہ ہے۔ کافروں نے اسے گھسیٹا اور ساتھ لے جانے کی پوری کوشش کی، مگر اس نے ساتھ جانے سے صاف صاف انکار کر دیا، بالآخر انھوں نے اسے بھی قتل کر ڈالا اور سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا زید بن دثنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ساتھ لے گئے او رجا کر مکہ میں فروخت کر دیا،یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے، سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بدر کے دن حارث بن عامر بن نوفل کو قتل کیا تھا، اس کی اولاد نے سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خرید لیا، سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ہاں قیدی کی حیثیت سے رہے حتی کہ انہوں نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اپنے قتل سے قبل سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حارث کی کسی بیٹی سے استرا طلب کیا، اس نے انہیں استرا لا دیا، اس دوران اس عورت کا چھوٹا سا بیٹا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلا گیا، وہ کہتی ہے کہ میں بچے کی طرف سے غافل تھی، مجھے اس کا پتہ نہ چل سکا اور وہ خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جا پہنچا، جب میں نے خبیب کو دیکھا کہ انہوں نے بچے کو اپنی ران پر بٹھایا ہوا تھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا۔ وہ کہتی ہے: میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گئی، خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میری گھبراہٹ کو جان گئے۔ کہنے لگے: کیا تمہیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ میں اسے قتل کردوں گا؟ میں یہ کام نہیں کر سکتا، وہ کہتی ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ان کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے ان کو ایک دن انگور کھاتے دیکھا، جو ان کے ہاتھ میں تھے۔ حالانکہ وہ تو زنجیروں میںبندھے ہوئے تھے اور ان دنوں مکہ میں پھل تھے ہی نہیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خصوصی رزق عطا فرمایا تھا، وہ لوگ قتل کرنے کے لیے سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ساتھ لے کر حرم کی حدود سے باہر گئے تاکہ ان کو وہاں جا کر قتل کریں، سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: مجھے اجازت دو، تاکہ میں دو رکعت نماز ادا کروں۔ چنانچہ انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر کہا اللہ کی قسم! اگر یہ اندیشہ نہ ہو کہ تم سمجھو گے کہ میں قتل سے گھبرا رہا ہوں تو میں مزید نماز پڑھتا، یا اللہ ان میں سے ایک ایک کو شمار کر اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہلاک کر، اور ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑ، پھر انھوں نے یہ اشعار پڑھے: فَلَسْتُ أُبَالِی حِینَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا، عَلَی أَیِّ جَنْبٍ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِی، وَذٰلِکَ فِی ذَاتِ الْإِلٰہِ وَإِنْ یَشَأْیُبَارِکْ عَلٰی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ۔ (میں جب اسلام کی حالت میں قتل ہوںکر مر رہا ہوں تو مجھے اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ اللہ کی خاطر میں کس پہلو پر گرتا ہوں، میرے ساتھ یہ سلوک اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے ہو رہا ہے کہ میں اس پر اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں، اگر وہ چاہے گا تو میرے جسم کے کٹے ہوئے اعضاء کو برکتوں سے نواز دے گا۔) اس کے بعد ابو سروعہ عقبہ بن حارث نے آگے بڑھ کر ان کو شہید کر دیا۔ سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے باندھ کر قتل کئے جانے والے ہر مسلمان کے لیے قتل سے قبل نماز کا طریقہ جاری کیا اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن کی دعا کو قبول کیا اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی دن صحابہ کرام کو ان کے واقعہ کی خبر دی۔ قریش کو پتہ چلا کر عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قتل ہو گئے ہیں تو انہوں نے کچھ قریشی لوگوںکو بھیجا تاکہ وہ جا کر عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے جسم کے کچھ اعضاء کاٹ لائیں تاکہ انہیں مزیدیقین ہو جائے کہ وہ واقعی قتل ہو چکے ہیں۔ دراصل عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بدر کے دن قریش کے ایک سردار کو قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے بھڑ جیسے زہریلے جانوروں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دئیے، جنہوں نے عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اوپر چھتری کی مانند سایہ کر دیا اور قریش کے بھیجے ہوئے لوگوں کے برے ارادے سے ان کو بچا لیا، وہ ان کے جسم کے کسی بھی حصہ کو کاٹنے کی جرأت نہ کر سکے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10744

۔ (۱۰۷۴۴)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا خَالَہُ أَخَا أُمِّ سُلَیْمٍ فِی سَبْعِینَ رَجُلًا، فَقُتِلُوا یَوْمَ بِئْرِ مَعُونَۃَ، وَکَانَ رَئِیسُ الْمُشْرِکِینَیَوْمَئِذٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَیْلِ، وَکَانَ ہُوَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اخْتَرْ مِنِّی ثَلَاثَ خِصَالٍ یَکُونُ لَکَ أَہْلُ السَّہْلِ وَیَکُونُ لِی أَہْلُ الْوَبَرِ، أَوْ أَکُونُ خَلِیفَۃً مِنْ بَعْدِکَ أَوْ أَغْزُوکَ بِغَطَفَانَ أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَائ، قَالَ: فَطُعِنَ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی فُلَانٍ، فَقَالَ: غُدَّۃٌ کَغُدَّۃِ الْبَعِیرِ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی فُلَانٍ ائْتُونِی بِفَرَسِی، فَأُتِیَ بِہِ فَرَکِبَہُ فَمَاتَ وَہُوَ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَیْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی أُمَیَّۃَ، وَرَجُلٌ أَعْرَجُ، فَقَالَ لَہُمْ: کُونُوا قَرِیبًا مِنِّی حَتّٰی آتِیَہُمْ فَإِنْ آمَنُونِی وَإِلَّا کُنْتُمْ قَرِیبًا، فَإِنْ قَتَلُونِی أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَکُمْ، قَالَ: فَأَتَاہُمْ حَرَامٌ، فَقَالَ: أَتُؤْمِنُونِی أُبَلِّغْکُمْ رِسَالَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْکُمْ، قَالُوا: نَعَمْ، فَجَعَلَ یُحَدِّثُہُمْ وَأَوْمَئُوا إِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ مِنْ خَلْفِہِ فَطَعَنَہُ حَتّٰی أَنْفَذَہُ بِالرُّمْحِ، قَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، قَالَ: ثُمَّ قَتَلُوہُمْ کُلَّہُمْ غَیْرَ الْأَعْرَجِ، کَانَ فِی رَأْسِ جَبَلٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَأُنْزِلَ عَلَیْنَا وَکَانَ مِمَّا یُقْرَأُ فَنُسِخَ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، قَالَ: فَدَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیْہِمْ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا عَلٰی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَبَنِی لِحْیَانَ، وَعُصَیَّۃَ الَّذِینَ عَصَوُا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۲۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بھائی میرے ماموں حرام کو ستر افراد کے ایک دستہ کے ہمراہ بھیجا تھا اور یہ لوگ بئر معونہ کے دن قتل کر دئیے گئے تھے۔ ان دنوں مشرکین کا لیڈر عامر بن طفیل بن مالک عامری تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر پیش کش کی تھی کہ آپ میری طرف سے تین میں سے کوئی ایک بات قبول کر لیں: (۱) دیہاتی علاقے آپ کے اور شہری علاقے میرے ہوں، یا (۲) آپ کے بعد خلافت مجھے دی جائے، یا (۳)میں بنو غطفان کو ساتھ ملا کر ایک ہزار اونٹوں اور ایک ہزار اونٹنیوں کے ساتھ آپ سے لڑوں گا۔ ( اس موقعہ پر آپ نے دعا کی کہ یا اللہ عامر کے مقابلے میں میری مدد فرما) چنانچہ وہ بنو سلول کے ایک گھرانے میں تھا کہ اسے طاعون نے آلیا، وہ کہنے لگا: یہ تو بنو فلاں کی عورت کے گھر میں اونٹوں کی گلٹی جیسی گلٹی ہے، میرا گھوڑا میرے پاس لاؤ۔ اس کا گھوڑا اس کے پاس لایا گیا،یہ اس پر سوار ہو ا اور اس کی پشت پر ہی اسے موت آگئی۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بھائی سیدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور اس کے ساتھ دو آدمی ان میں سے ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور دوسرا اعرج یعنی لنگڑا تھا، کو ساتھ لئے چلا، اور اس نے ان تینوں سے کہا: تم میرے قریب قریب رہنا تاآنکہ میں ان کے پاس جا پہنچوں، انہوں نے اگر مجھے کچھ نہ کہا تو بہتر اور اگر کوئی دوسری صورت پیدا ہوئی تو تم میرے قریب ہی ہو گئے اور اگر انہوں نے مجھے قتل کر ڈالا تو تم پیچھے والے اپنے ساتھیوں کواطلاع تو دے سکو گے۔ چنانچہ حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے قریب پہنچے اور ان سے کہا: کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا سکوں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، یہ ان کے سامنے گفتگو کرنے لگے اور ان لوگوں نے حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے سے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا ور اس نے ان پر نیزے کا وار کیا، جوان کے جسم سے پار ہو گیا۔ سیدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس وقت کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔ پھر انہوں نے اعرج کے سوا باقی دو کو قتل کر دیا، وہ پہاڑ کی چوٹی پر تھا اس لئے بچ گیا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں اسی واقعہ کے سلسلہ میں ہم پر یہ آیت نازل ہوئی، اس کی باقاعدہ تلاوت کی جاتی تھی،یہ بعد میں منسوخ کر دی گئی: بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ (ہماری قوم تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے ہمیں بھی راضی کر دیا ہے۔)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان رِعل، ذکوان، بنو لحیان اور بنو عصیہ پر چالیس دن تک بددعا کی، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معصیت کی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10745

۔ (۱۰۷۴۵)۔ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَکَتَبَ کِتَابًا بَیْنَ أَہْلِہِ فَقَالَ: اشْہَدُوا، یَا مَعْشَرَ الْقُرَّائِ! قَالَ: ثَابِتٌ فَکَأَنِّی کَرِہْتُ ذَلِکَ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! لَوْ سَمَّیْتَہُمْ بِأَسْمَائِہِمْ، قَالَ: وَمَا بَأْسُ ذَلِکَ أَنْ أَقُلْ لَکُمْ قُرَّائُ، أَفَلَا أُحَدِّثُکُمْ عَنْ إِخْوَانِکُمْ الَّذِینَ کُنَّا نُسَمِّیہِمْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقُرَّائَ، فَذَکَرَ أَنَّہُمْ کَانُوا سَبْعِینَ فَکَانُوا إِذَا جَنَّہُمْ اللَّیْلُ انْطَلَقُوا إِلٰی مُعَلِّمٍ لَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ، فَیَدْرُسُونَ اللَّیْلَ حَتَّییُصْبِحُوا، فَإِذَا أَصْبَحُوا فَمَنْ کَانَتْ لَہُ قُوَّۃٌ اسْتَعْذَبَ مِنَ الْمَائِ وَأَصَابَ مِنَ الْحَطَبِ، وَمَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ سَعَۃٌ اجْتَمَعُوا فَاشْتَرَوُا الشَّاۃَ وَأَصْلَحُوہَا، فَیُصْبِحُ ذٰلِکَ مُعَلَّقًا بِحُجَرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا أُصِیبَ خُبَیْبٌ بَعَثَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَوْا عَلٰی حَیٍّ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ وَفِیہِمْ خَالِی حَرَامٌ، فَقَالَ حَرَامٌ لِأَمِیرِہِمْ: دَعْنِی فَلْأُخْبِرْ ہٰؤُلَائِ أَنَّا لَسْنَا إِیَّاہُمْ نُرِیدُ حَتّٰییُخْلُوا وَجْہَنَا، وَقَالَ عَفَّانُ: فَیُخْلُونَ وَجْہَنَا، فَقَالَ لَہُمْ حَرَامٌ: إِنَّا لَسْنَا إِیَّاکُمْ نُرِیدُ فَخَلُّوا وَجْہَنَا، فَاسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ بِالرُّمْحِ فَأَنْفَذَہُ مِنْہُ، فَلَمَّا وَجَدَ الرُّمْحَ فِی جَوْفِہِ، قَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، قَالَ: فَانْطَوَوْا عَلَیْہِمْ فَمَا بَقِیَ أَحَدٌ مِنْہُمْ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَدَ عَلٰی شَیْئٍ قَطُّ وَجْدَہُ عَلَیْہِمْ، فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلَاۃِالْغَدَاۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ فَدَعَا عَلَیْہِمْ، فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ إِذَا أَبُو طَلْحَۃَیَقُولُ لِی: ہَلْ لَکَ فِی قَاتِلِ حَرَامٍ؟ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: مَا لَہُ فَعَلَ اللّٰہُ بِہِ وَفَعَلَ، قَالَ: مَہْلًا فَإِنَّہُ قَدْ أَسْلَمَ، وَقَالَ عَفَّانُ: رَفَعَ یَدَیْہِیَدْعُو عَلَیْہِمْ و قَالَ أَبُو النَّضْرِ رَفَعَ یَدَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۲۹)
ثابت سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں تھے، انہوں نے اپنے اہل کے درمیان بیٹھ کر ایک مکتوب لکھا اور کہا: اے قراء کی جماعت! حاضر ہو جاؤ، ثابت کہتے ہیں:مجھے یہ لفظ کچھ اچھا نہ لگا، سو میں نے عرض کیا: اے ابو حمزہ! کیا ہی بہتر ہوتا کہ آپ ان لوگوں کو ان کے ناموں سے پکارتے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ میں تمہیں قراء کہوں، کیا میں تمہیں تمہارے ان بھائیوں کے متعلق نہ بتلاؤں، جنہیں ہم عہدِ رسالت میں قراء کہا کرتے تھے۔ پھر انہو ں نے بیان کیا کہ وہ ستر افراد تھے، ان کی حالت یہ تھی کہ جب رات ہوتی تو وہ مدینہ میں اپنے ایک استاد کی خدمت میں پہنچ جاتے اور وہاں ساری رات صبح تک قرآن کا سبق لیتے اور جب صبح ہوتی تو جس میں استطاعت ہوتی وہ شیریں پانی لاتا۔( اور اسے فروخت کرتا) اور کوئی ایندھن کی لکڑیاں لا کر بیچ لیتا اور جس میں استطاعت ہوتی وہ مل کر بکری خرید لیتے، اسے خوب بنا سنوار کر ذبح کر کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجروں کے پاس لٹکا دیتے، جب سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان قراء کو ایک مہم پر روانہ فرمایا،یہ بنو سلیم کے ایک قبیلے میں گئے، ان کے ہمراہ میرے ماموں سیدنا حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے۔ سیدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے امیرِ قافلہ سے گزارش کی کہ مجھے اجازت دیں تاکہ میں ان لوگوں کو بتا دوں کہ ہم ان سے لڑائی کرنے کے لیے نہیں آئے، تاکہ وہ ہمارا راستہ نہ روکیں، پس سیدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جا کر ان سے کہا: ہم تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے نہیں آئے، لہٰذا تم ہمارا راستہ نہ روکو۔ ایک آدمی نیزہ لے کر سیدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے آیا اور اس نے ان پر نیزے کا وار کر دیا، نیزہ ان کے جسم سے پار ہو گیا۔ انہوں نے جب اپنے پیٹ پر نیزے کا وار محسوس کیا تو زور سے کہا: اللہ اکبر، ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ پھر وہ لوگ باقی قافلہ والوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کسی موقع پر اس قدر غمگین نہیں دیکھا، جس قدر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس واقعہ سے غمگین ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر میں ہاتھ اُٹھا کر ان ظالموں پر بددعا کرتے تھے، سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھ سے کہا کرتے تھے: کیا میں تمہیں تمہارے ماموں سیدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل کے متعلق بتلاؤں؟ میں نے کہا: اللہ نے اس کے ساتھ جو کرنا تھا کر لیا،اس نے کہا وہ تو اسلام قبول کر چکا ہے۔ عفان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر ان پر بددعائیں کیں۔اور ابو النضر نے یوں کہا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10746

۔ (۱۰۷۴۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ وَقُرَیْظَۃَ حَارَبُوا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَجْلٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَنِی النَّضِیرِ وَأَقَرَّ قُرَیْظَۃَ، وَمَنَّ عَلَیْہِمْ حَتّٰی حَارَبَتْ قُرَیْظَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَقَتَلَ رِجَالَہُمْ وَقَسَمَ نِسَائَ ہُمْ وَأَوْلَادَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَّا بَعْضَہُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَّنَہُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَہُودَ الْمَدِینَۃِ کُلَّہُمْ، بَنِی قَیْنُقَاعَ وَہُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ، وَیَہُودَ بَنِی حَارِثَۃَ، وَکُلَّ یَہُودِیٍّ کَانَ بِالْمَدِینَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۳۶۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جنگ کی ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا اور بنو قریظہ کو وہیں رہنے کی اجازت دے دی اور ان پر احسان فرمایا، لیکن جب بنو قریظہ نے لڑائی کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کرو ادیا اوران کی عورتوں ، بچوں اور مالوں کومسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا، البتہ ان میں سے بعض آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل گئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں امان دے دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے سارے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، بنو قینقاع کو بھی،یہ سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قوم تھی اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو اور باقی تمام یہودی جو جو مدینہ میں موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب کو جلا وطن کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10747

۔ (۱۰۷۴۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیرِ وَقَطَّعَ وَہِیَ الْبُوَیْرَۃُ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَائِمَۃً عَلٰی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ}۔ (مسند احمد: ۶۰۵۴)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو نضیر کے بویرہ نخلستان کی کھجوروں کو جلایا اور کاٹ ڈالا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَائِمَۃً عَلٰی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ} … تم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جن کو تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا، یہ اس لیے ہوا کہ اللہ فاسقین کو رسوا کرنا چاہتا تھا۔ (سورۂ حشر: ۵)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10748

۔ (۱۰۷۴۸)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: أَتَانِی أَبُو سَلَمَۃَیَوْمًا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَوْلًا فَسُرِرْتُ بِہِ، قَالَ: ((لَا تُصِیبُ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِینَ مُصِیبَۃٌ فَیَسْتَرْجِعَ عِنْدَ مُصِیبَتِہِ، ثُمَّ یَقُولُ: اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا إِلَّا فُعِلَ ذٰلِکَ بِہِ۔)) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: فَحَفِظْتُ ذٰلِکَ مِنْہُ، فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُو سَلَمَۃَ اسْتَرْجَعْتُ وَقُلْتُ: اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَاخْلُفْنِی خَیْرًا مِنْہُ۔ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلٰی نَفْسِی قُلْتُ: مِنْ أَیْنَ لِی خَیْرٌ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ؟ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِی اسْتَأْذَنَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَدْبُغُ إِہَابًا لِی، فَغَسَلْتُ یَدَیَّ مِنَ الْقَرَظِ وَأَذِنْتُ لَہُ، فَوَضَعْتُ لَہُ وِسَادَۃَ أَدَمٍ حَشْوُہَا لِیفٌ، فَقَعَدَ عَلَیْہَا فَخَطَبَنِی إِلٰی نَفْسِی، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ مَقَالَتِہِ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا بِی أَنْ لَا تَکُونَ بِکَ الرَّغْبَۃُ فِیَّ، وَلٰکِنِّی امْرَأَۃٌ فِیَّ غَیْرَۃٌ شَدِیدَۃٌ، فَأَخَافُ أَنْ تَرٰی مِنِّی شَیْئًایُعَذِّبُنِی اللّٰہُ بِہِ، وَأَنَا امْرَأَۃٌ دَخَلْتُ فِی السِّنِّ، وَأَنَا ذَاتُ عِیَالٍ، فَقَالَ: ((أَمَّا مَا ذَکَرْتِ مِنَ الْغَیْرَۃِ فَسَوْفَ یُذْہِبُہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْکِ، وَأَمَّا مَا ذَکَرْتِ مِنَ السِّنِّ، فَقَدْ أَصَابَنِی مِثْلُ الَّذِی أَصَابَکِ، وَأَمَّا مَا ذَکَرْتِ مِنَ الْعِیَالِ فَإِنَّمَا عِیَالُکِ عِیَالِی۔)) قَالَتْ: فَقَدْ سَلَّمْتُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: فَقَدْ أَبْدَلَنِی اللّٰہُ بِأَبِی سَلَمَۃَ خَیْرًا مِنْہُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۵۵)
اُمّ المؤمنین سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرے شوہر ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے تشریف لائے اورکہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک ایسی بات کہتے سنا ہے کہ جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان کو کوئی مصیبت آئے اور وہ اس وقت (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) کہہ کہ یہ دعا پڑھے اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا (یا اللہ! مجھے اس مصیبت کا اجر دے اور اس کا نعم البدل عطا فرما) تو اللہ اسے یہ چیزیں عطا فرما دیتا ہے۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے ان کییہ بات یاد رکھی اور جب سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) کہہ کہ یہ دعا پڑھی اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا ۔ لیکن ساتھ ہی میرے دل میں خیال آیا کہ ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بہتر اور اچھا انسان کون ہو سکتا ہے؟ (بہرحال میں نے دعا جاری رکھی)، سو جب میری عدت پوری ہوئی تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہاں داخل ہو نے کی اجازت طلب کی، اس وقت میں چمڑا رنگ رہی تھی، میں نے جلدی سے ہاتھ دھوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اندر آنے کی اجازت دی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا، اس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر بیٹھ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنے ساتھ شادی کا پیغام دیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بات سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسی تو کوئی بات نہیں کہ مجھے آپ میں رغبت نہ ہو، درحقیقت بات یہ ہے کہ میرے اندر غیرت کا جذبہ بہت زیادہ ہے، مجھے ڈر ہے کہ مبادا آپ میرے اندر ایسی کوئی بات دیکھیں، جس کی وجہ سے اللہ مجھے عذاب سے دو چار کر دے، نیز میں اب کافی عمر رسیّدہ بھی ہو چکی ہوں اور میں اولاد والی بھی ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے جو غیرت کا ذکر کیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے عنقریب ختم کر دے گا، تم نے عمر رسیدہ ہونے کی جو بات کی ہے تو میرا حال بھی ایسا ہی ہے اور جو تم نے اولاد کی بات کی ہے تو وہ میری اپنی اولاد ہو گی۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات تسلیم کر لی اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے نکاح کر لیا، سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بدلے میں اس سے بہتر شوہر یعنی اللہ کے رسول عطا کر دئیے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10749

۔ (۱۰۷۴۹)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِذَا أَصَابَ أَحَدَکُمْ مُصِیبَۃٌ فَلْیَقُلْ: إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، عِنْدَکَ احْتَسَبْتُ مُصِیبَتِی وَأْجُرْنِی فِیہَا وَأَبْدِلْنِی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا۔))، فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَۃَ، قَالَ: اللَّہُمَّ اخْلُفْنِی فِی أَہْلِی بِخَیْرٍ، فَلَمَّا قُبِضَ قُلْتُ: إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیبَتِی فَأْجُرْنِی فِیہَا، قَالَتْ: وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ وَأَبْدِلْنِی خَیْرًا مِنْہَا، فَقُلْتُ: وَمَنْ خَیْرٌ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ؟ فَمَا زِلْتُ حَتّٰی قُلْتُہَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا، خَطَبَہَا أَبُو بَکْرٍ فَرَدَّتْہُ، ثُمَّ خَطَبَہَا عُمَرُ فَرَدَّتْہُ، فَبَعَثَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبِرَسُولِہِ، أَخْبِرْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنِّی امْرَأَۃٌ غَیْرٰیوَأَنِّی مُصْبِیَۃٌ وَأَنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِیَائِی شَاہِدًا، فَبَعَثَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمَّا قَوْلُکِ إِنِّی مُصْبِیَۃٌ فَإِنَّ اللّٰہَ سَیَکْفِیکِ صِبْیَانَکِ، وَأَمَّا قَوْلُکِ إِنِّی غَیْرٰی فَسَأَدْعُو اللّٰہَ أَنْ یُذْہِبَ غَیْرَتَکِ، وَأَمَّا الْأَوْلِیَائُ فَلَیْسَ أَحَدٌ مِنْہُمْ شَاہِدٌ وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَیَرْضَانِی۔)) قُلْتُ: یَا عُمَرُ! قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمَا إِنِّی لَا أَنْقُصُکِ شَیْئًا مِمَّا أَعْطَیْتُ أُخْتَکِ فُلَانَۃَ، رَحَیَیْنِ وَجَرَّتَیْنِ وَوِسَادَۃً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُہَا لِیفٌ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیہَا، فَإِذَا جَائَ أَخَذَتْ زَیْنَبَ فَوَضَعَتْہَا فِی حِجْرِہَا لِتُرْضِعَہَا، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیِیًّا کَرِیمًایَسْتَحْیِی، فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذٰلِکَ مِرَارًا فَفَطِنَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ لِمَا تَصْنَعُ، فَأَقْبَلَ ذَاتَ یَوْمٍ وَجَائَ عَمَّارٌ وَکَانَ أَخَاہَا لِأُمِّہَا، فَدَخَلَ عَلَیْہَا فَانْتَشَطَہَا مِنْ حِجْرِہَا وَقَالَ: دَعِی ہٰذِہِ الْمَقْبُوحَۃَ الْمَشْقُوحَۃَ الَّتِی آذَیْتِ بِہَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ فَجَعَلَ یُقَلِّبُ بَصَرَہُ فِی الْبَیْتِ، وَیَقُولُ: ((أَیْنَ زَنَابُ؟ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ؟)) قَالَتْ: جَائَ عَمَّارٌ فَذَہَبَ بِہَا، قَالَ: فَبَنٰی بِأَہْلِہِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَکِ سَبَّعْتُ لِلنِّسَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۰۴)
سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت آئے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے: إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، عِنْدَکَ اِحْتَسَبْتُ مُصِیبَتِی وَأْجُرْنِی فِیہَا وَأَبْدِلْنِی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم نے اسی کی طرف لوٹنا ہے، اے اللہ میں اپنی اس مصیبت کا تجھ سے اجر چاہتا ہوں، تو مجھے اس کا اجر اور اس کا نعم البدل عطا فرما)۔ جب میرے شوہر ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے کہا: یا اللہ! میرے بعد میرے اہل میں اچھا نائب بنانا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں نے کہا:إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، عِنْدَکَ اِحْتَسَبْتُ مُصِیبَتِی وَأْجُرْنِی فِیہَا وَأَبْدِلْنِی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا۔سیّدہ فرماتی ہیں: میں نے یوں کہنا چاہا کہ وَأَبْدِلْنِی مَا ہُوَ خَیْرٌ مِنْہَا ( اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما)، لیکن ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ میں یہ سوچتی رہی، آخر کا میں نے یہ لفظ بھی کہہ ہی دئیے، جب ان کی عدت پوری ہوئی تو سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے ان کو رد کر دیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے ان کو بھی رد کر دیا، پھر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کے قاصد کو خوش آمدید، لیکن تم جا کر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کرو کہ میں تو بہت زیادہ غیرت والی ہوں اور میں صاحبِ اولاد بھی ہوں اور میرے سر پر ستوں میں سے یہاں کوئی بھی موجود نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپسی جواب بھیجا کہ تمہارا یہ کہنا کہ تم صاحبِ اولاد ہو اس بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، بچوں کے بارے میں اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارا یہ کہنا کہ تم انتہائی غیرت مند ہو تو میں اللہ سے دعا کر وں گا کہ وہ تمہاری غیر ت کی اس شدت کو ختم کر دے اور تمہارا یہ کہنا کہ تمہارے سر پرستوں میں سے کوئی بھییہاں موجود نہیں، تو یاد رہے کہ تمہارا کوئی بھی سر پرست، وہ موجود ہو یا غائب، وہ میرے متعلق رضا مندی کا ہی اظہار کرے گا۔ یہ سن کر میں نے اپنے بیٹے عمر سے کہا کہ اٹھو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرا نکاح کر دو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہاری فلاں بہن کوجو کچھ دیا ہے، تمہیں اس سے کم نہ دوں گا، اسے دو چکیاں، دو مٹکے، اور چمڑے کا ایک تکیہ، جس میں کھجور کی چھال بھری تھی، دئیے تھے۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں آتے اور وہ اپنی دختر زینب کو گود میں اٹھائے دودھ پلا رہی ہوتی تو چوں کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی انتہائی حیا دار اور مہربان تھے، ان کو اس کیفیت میں دیکھتے تو واپس چلے جاتے، اس قسم کی صورت حال کئی مرتبہ پیش آئی، سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کا پتہ چل گیا وہ ان کا مادری بھائی تھا، تو ایک دن سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آکر زینب کو ان کی گود سے اٹھالے گئے اور کہا کہ تم اس بچی کو چھوڑو، جس کی وجہ سے تم اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پریشان کرتی ہو۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر تشریف لائے تو ادھر ادھر دیکھنے لگے اور فرمایا: زناب کہاں ہے؟ زناب کدھر گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد زینب تھی، سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بتلایا کہ عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تھے اور وہ اسے لے گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارا اور فرمایا: اگر تم چاہو تو تمہارے پاس سات دن قیام کروں گا، لیکنیاد رکھو پھر میں اپنی تمام ازواج کے ہاں سات سات دن قیام کرنے بعد میں تمہارے پاس آؤں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10750

۔ (۱۰۷۵۰)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ بِنْتِ امِّ سَلَمَۃَ عَنْ اّمِّ سَلَمَۃَ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ: قَالَ: فَتَزَوَّجَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَاَتَاھَا فَوَجَدَھَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ اَتَاھَا فَوَجَدَھَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ، قَالَ: فبَلَغَ ذٰلِکَ عَمَّارَ بْنَ یَاسرٍ اَتَاھَا، فَقَالَ: حَلَّتْ بَیْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَیْنَ حَاجَتِہِ ھَلُمَّ الصَّبِیَّۃَ، قَالَ: فَاخَذَھَا فَاسْتَرْضَعَ لَھَا، فَاتَاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَیْنَ زَنَابُ؟)) یَعْنِی زَیْنَبَ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخَذَھَا عَمَّارٌ، فَدَخَلَ بِہَا وَقَالَ: ((اِنَّ بِکِ عَلٰی اَھْلِکِ کَرَامَۃً۔)) قَالَ: فَاقَامَ عِنْدَھَا اِلَی الْعَشِیِّ ثُمَّ قَالَ: ((اِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ وَاِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِیْ؟ وَاِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَکِ؟)) قَالَتْ: لَا، بَلِ اقْسَمْ لِیْ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۵۷)
سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے گذشتہ حدیث کی مانند ہی مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے نکاح کر لیا،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں آئے تو دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دودھ پلا رہی ہیں، آپ واپس لوٹ گئے، اس کے بعد پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اورانہیں دیکھا کہ وہ اپنی بیٹی کو دودھ پلا رہی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر واپس چلے گئے۔ جب سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ ان کے ہاں آئے اور کہا: تم اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کی حاجت کے درمیان حائل ہو، تم یہ بچی مجھے دے دو، پس وہ اسے لے گئے اور اسے دودھ پلانے والی عورت کا بندوبست کر دیا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو دریافت فرمایا کہ زناب یعنی زینب کہاں ہے؟ سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے عمار لے گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف رکھی اور فرمایا: تم اپنے اہل خانہ کے ہاں معزز اور مکرم ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ہاں پچھلے پہر تک قیام کیا اورپھر فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن قیام کر سکتا ہوں، لیکن اگر میں تمہارے ہاں سات دن قیام کروں تو اپنی تمام ازواج کے ہاں سات سات دن گزاروں گا اور اگر چاہو تو تمہارے لیے باری مقرر کردوں؟ سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے باری ہی مقرر کر دیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10751

۔ (۱۰۷۵۱)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ یُخْبِرُ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخْبَرَتْہُ، أَنَّہا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ أَخْبَرَتْہُمْ، أَنَّہَا ابْنَۃُ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ فَکَذَّبُوہَا، وَیَقُولُونَ: مَا أَکْذَبَ الْغَرَائِبَ حَتّٰی أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْہُمْ إِلَی الْحَجِّ، فَقَالُوا: مَا تَکْتُبِینَ إِلٰی أَہْلِکِ، فَکَتَبَتْ مَعَہُمْ فَرَجَعُوا إِلَی الْمَدِینَۃِیُصَدِّقُونَہَا فَازْدَادَتْ عَلَیْہِمْ کَرَامَۃً، قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعْتُ زَیْنَبَ جَائَ نِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَبَنِی، فَقُلْتُ: مَا مِثْلِی نُکِحَ أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ فِیَّ وَأَنَا غَیُورٌ وَذَاتُ عِیَالٍ، فَقَالَ: ((أَنَا أَکْبَرُ مِنْکِ، وَأَمَّا الْغَیْرَۃُ فَیُذْہِبُہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا الْعِیَالُ فَإِلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ۔)) فَتَزَوَّجَہَا فَجَعَلَ یَأْتِیہَا فَیَقُولُ: ((أَیْنَ زُنَابُ؟)) حَتّٰی جَائَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍیَوْمًا فَاخْتَلَجَہَا، وَقَالَ: ہٰذِہِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَتْ تُرْضِعُہَا فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیْنَ زُنَابُ؟)) فَقَالَتْ قُرَیْبَۃُ ابْنَۃُ أَبِی أُمَیَّۃَ، وَوَافَقَہَا عِنْدَہَا أَخَذَہَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنِّی آتِیکُمُ اللَّیْلَۃَ۔)) قَالَتْ: فَقُمْتُ فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِیرٍ کَانَتْ فِی جَرٍّ، وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُہُ لَہُ، قَالَتْ: فَبَاتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ أَصْبَحَ، فَقَالَ حِینَ أَصْبَحَ: ((إِنَّ لَکِ عَلٰی أَہْلِکِ کَرَامَۃً، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ، فَإِنْ أُسَبِّعْ لَکِ أُسَبِّعْ لِنِسَائِی۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۵۴)
ابوبکر بن عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زوجہ سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کو بتلایا کہ وہ جب مدینہ منورہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتلایا: میں ابو امیہ بن مغیرہ کی دختر ہوں، لوگوں نے ان کو جھوٹا سمجھا اور انھوں نے کہا: یہ کیسی عجیب وغریب جھوٹی بات ہے، یہاں تک کہ وہاں سے کچھ لو گ حج کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے کہا: کیا آپ اپنے اہلِ خانہ کے نام خط نہیں لکھ دیتیں؟ سو انہوں نے انہیں خط لکھ دیا، پھر انہوں نے مدینہ واپس آکر ان کی باتوں کی تصدیق کی (کہ واقعی وہ ابو امیہ کی بیٹی ہیں)، پس لوگوں میں ان کا مقام مزید بڑھ گیا، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب میں نے اپنی بیٹی زینب کو جنم دیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہاں آکر مجھے نکاح کا پیغام دیا، میں نے عرض کیا: مجھ جیسی عورت سے نکاح نہیں کیا جاتا، اب مجھ سے اولاد ہونے کی امید نہیں اور پھر میں بہت زیادہ غیرت کھانے والی ہوں اور صاحبِ اولاد بھی ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے زیادہ عمر رسیّدہ ہوں، باقی رہی غیرت کی بات تو اللہ اسے ختم کر دے گا اور اولاد تو اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں آنے لگے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے کہ زناب کہاں ہے؟ یہاں تک کہ ایک دن سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور اس بچی کو لے گئے اور انہوں نے کہا:یہ بچی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اور اُمّ المؤمنین سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے درمیان حائل ہے، کیونکہ سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اسے دودھ پلا رہی ہوتی تھیں، اس کے بعد اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ زناب یعنی زینب کہاں ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے وقت آئے تھے کہ قُریبہ بنت ابی امیہ بھی اپنی بہن کے ہاں آئی ہوئی تھیں، انہوں نے کہا:بچی کو عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لے گئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ہاں رات کو آؤں گا۔ سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے میں اٹھی اور ایک مٹکے میں کچھ جو تھے، میں نے انہیں نکال کر ان کا مغز نکالا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات بسر کی، جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے اہل خانہ کے ہاں معزز اور مکرم ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن راتیں گزاروں گا، اور اگر تمہارے ہاں سات راتیں گزاریں تو اپنی تمام ازواج کے ہاں سات سات راتیں گزاروں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10752

۔ (۱۰۷۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُولُ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃٍ، قَالَ: یَرَوْنَ أَنَّہَا غَزْوَۃُ بَنِی الْمُصْطَلِقِ، فَکَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ: یَا لَلْأَنْصَارِ! وَقَالَ الْمُہَاجِرِیُّ: یَا لَلْمُہَاجِرِینَ! فَسَمِعَ ذٰلِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا بَالُ دَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ۔)) فَقِیلَ: رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ کَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((دَعُوہَا فَإِنَّہَا مُنْتِنَۃٌ۔)) قَالَ جَابِرٌ: وَکَانَ الْمُہَاجِرُونَ حِینَ قَدِمُوا الْمَدِینَۃَ أَقَلَّ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ إِنَّ الْمُہَاجِرِینَ کَثُرُوا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أُبَیٍّ، فَقَالَ: فَعَلُوہَا وَاللّٰہِ! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَلَّ، فَسَمِعَ ذٰلِکَ عُمَرُ فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْنِی أَضْرِبُ عُنُقَ ہٰذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا عُمَرُ! دَعْہُ لَا یَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ أَصْحَابَہُ۔))۔ (مسند احمد: ۱۵۲۹۳)
سیدنا جا بر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھے، لوگوں کا خیال ہے کہ یہ غزوہ بنی مصطلق تھا، اسی دوران ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کی دُبُر پر ہاتھ مار دیا تو انصاری نے دہائی دیتے ہوئے کہا: انصاریو! ذرا ادھر آنا اور مہاجر نے بھی مہاجرین کو اپنی مدد کے لیے پکارا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کییہ باتیں سنیں تو فرمایا: یہ جاہلیت والی پکاریں کس لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا گیا کہ مہاجرین میں سے کسی نے ایک انصاری کی دبرپر ہاتھ مار دیا ہے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسی باتوں کو دفع کرو، یہ بدبودار یعنی فتنہ انگیز اور شر انگیز باتیں ہیں۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:مہاجرین جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے تو ان کی تعداد انصار سے بہت تھوڑی تھی، بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ جب مہاجرین اور انصاریوں والی بات رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تک پہنچی تو وہ کہنے لگا: کیا مہاجرین اب اس حد تک آگے نکل گئے ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم معزز لوگ ان ذلیلوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔ سیّدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ سنا تو وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اتار دوں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! اسے چھوڑو، لوگ یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10753

۔ (۱۰۷۵۳)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَمِّی فِی غَزَاۃٍ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أُبَیٍّ ابْنَ سَلُولَ یَقُولُ لِأَصْحَابِہِ: لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ، وَلَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَلَّ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِعَمِّی فَذَکَرَہُ عَمِّی لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَرْسَلَ إِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثْتُہُ، فَأَرْسَلَ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُبَیِّ ابْنِ سَلُولَ وَأَصْحَابِہِ فَحَلَفُوْا مَا قَالُوْا، فَکَذَّبَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَدَّقَہُ، فَأَصَابَنِی ہَمٌّ لَمْ یُصِیبُنِی مِثْلُہُ قَطُّ، وَجَلَسْتُ فِی الْبَیْتِ فَقَالَ عَمِّی: مَا أَرَدْتَ إِلٰی أَنْ کَذَّبَکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَقَتَکَ، قَالَ: حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُونَ} [المنافقون: ۱] قَالَ: فَبَعَثَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَرَأَہَا ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَّقَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۴۸)
سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک غزوہ میں اپنے چچا کے ساتھ نکلا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو سنا،وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا: اس رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو اور اگر ہم مدینہ میں لوٹے تو ہم عزت والے اِن ذلیل لوگوں کو باہر نکال دیں گے۔ میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی اور میرے چچا نے اس کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی بات بتا دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے ساتھیوں کی طرف پیغام بھیجا، سو وہ آگئے، لیکن انہوں نے قسم اٹھائی کہ انہوں نے یہ بات کہی ہی نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جھوٹا اور عبداللہ بن ابی کو سچا قرار دیا، اس سے مجھے بہت پریشانی ہوئی، کبھی بھی اتنی پریشانی مجھے نہیں ہوئی تھی، پس میں گھر میں بیٹھ گیا، میرے چچا نے کہا: تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا کہ تو ایسی بات کہتا، اب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے جھوٹا قرار دے دیا ہے اور تجھ پر ناراض بھیہوئے ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتار دیں: {إِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُونَ …} … جب وہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں، …۔ اب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پر یہ آیات پڑھیں اور فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تجھے سچا قرار دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10754

۔ (۱۰۷۵۴)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ قَالَتْ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَایَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ، وَقَعَتْ جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِی السَّہْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَہُ وَکَاتَبَتْہُ عَلٰی نَفْسِہَا، وَکَانَتْ امْرَأَۃً حُلْوَۃً مُلَاحَۃً لَا یَرَاہَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِہِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَسْتَعِینُہُ فِی کِتَابَتِہَا، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا ہُوَ إِلَّا أَنْ رَأَیْتُہَا عَلٰی بَابِ حُجْرَتِی فَکَرِہْتُہَا، وَعَرَفْتُ أَنَّہُ سَیَرٰی مِنْہَا مَا رَأَیْتُ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنَا جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارٍ سَیِّدِ قَوْمِہِ، وَقَدْ أَصَابَنِی مِنَ الْبَلَائِ مَا لَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ، فَوَقَعْتُ فِی السَّہْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَہُ فَکَاتَبْتُہُ عَلٰی نَفْسِی، فَجِئْتُکَ أَسْتَعِینُکَ عَلٰی کِتَابَتِی، قَالَ: ((فَہَلْ لَکِ فِی خَیْرٍ مِنْ ذٰلِکَ؟)) قَالَتْ: وَمَا ہُوَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((أَقْضِی کِتَابَتَکِ وَأَتَزَوَّجُکِ۔)) قَالَتْ: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((قَدْ فَعَلْتُ۔)) قَالَتْ: وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَی النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ، فَقَالَ النَّاسُ: أَصْہَارُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَرْسَلُوْا مَا بِأَیْدِیہِمْ، قَالَتْ: فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِیجِہِ إِیَّاہَا مِائَۃَ أَہْلِ بَیْتٍ مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ، فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَۃً کَانَتْ أَعْظَمَ بَرَکَۃً عَلٰی قَوْمِہَا مِنْہَا۔ (مسند أحمد: ۲۶۸۹۷)
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو مصطلق کے قیدی تقسیم کیے تو جویریہ بنت حارث، سیدنا ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی اور پھر اس نے ان سے مکاتبت بھی کر لی،یہ بڑی ہی خوب رو خاتون تھی، جس نے اس کو دیکھنا تھا، اس نے اس کو اپنے لیے لے لینا تھا، پس وہ اپنی مکاتبت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مدد لینے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، اللہ کی قسم! جب میں (عائشہ) نے اس کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو میں نے اس کے آنے کو ناپسند کیا اور میں جان گئی کہ جو چیز میں دیکھ رہی ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نظر بھی اسی چیز پر پڑے گی، پس جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار ہوں، میرے باپ اپنی قوم کے سردار ہیں اور میں ایسی آزمائش میں پھنس گئی ہوں کہ اس کا معاملہ آپ پر بھی واضح ہے، میں سیدنا ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اب میں آپ کے پاس آئی ہوں، تاکہ آپ مکاتبت پر میرا تعاون کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تمہیں اس سے بہتر چیز کی رغبت ہے؟ اس نے کہا: جی وہ کیا؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مکاتبت کی قیمت ادا کر کے تم سے شادی کر لیتا ہوں۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق میں نے ایسے ہی کر دیا ہے۔ اتنے میں لوگوں تک یہ خبر پہنچ گئی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ جویریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کر لی ہے، لوگوں نے کہا: بنو مصطلق، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سسرال بن گئے ہیں، پس اس وجہ سے انھوں نے وہ غلام اور لونڈیاں آزاد کر دیں، جو ان کے ہاتھ میں تھے، سیدہ جویریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی اس شادی کی وجہ سے بنو مصطلق کے سو گھرانوں کے افراد کو آزاد کیا گیا، میں ایسی کوئی خاتون نہیں جانتی جو اپنی قوم کے لیےاس سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10755

۔ (۱۰۷۵۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِیْ حَدِیْثِ الْاِفِکِ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنْ یَنْزِلَ فِی شَأْنِی وَحْیٌیُتْلٰی وَلَشَأْنِی، کَانَ أَحْقَرَ فِی نَفْسِی مِنْ أَنْ یَتَکَلَّمَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیَّ بِأَمْرٍ یُتْلٰی، وَلٰکِنْ کُنْتُ أَرْجُو أَنْ یَرٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی النَّوْمِ رُؤْیَایُبَرِّئُنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا رَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَجْلِسِہِ، وَلَا خَرَجَ مِنْ أَہْلِ الْبَیْتِ أَحَدٌ، حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی نَبِیِّہِ، وَأَخَذَہُ مَا کَانَ یَأْخُذُہُ مِنَ الْبُرَحَائِ عِنْدَ الْوَحْیِ، حَتّٰی إِنَّہُ لَیَتَحَدَّرُ مِنْہُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِی الْیَوْمِ الشَّاتِی مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِی أُنْزِلَ عَلَیْہِ، قَالَتْ: فَلَمَّا سُرِّیَعَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَضْحَکُ، فَکَانَ أَوَّلُ کَلِمَۃٍ تَکَلَّمَ بِہَا أَنْ قَالَ: ((أَبْشِرِییَا عَائِشَۃُ! أَمَّا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ بَرَّأَکِ۔)) فَقَالَتْ لِی أُمِّی: قُومِی إِلَیْہِ، فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَقُومُ إِلَیْہِوَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ بَرَائَ تِی، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} [النور: ۱۱] عَشْرَ آیَاتٍ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذِہِ الْآیَاتِ بَرَائَ تِی قَالَتْ: فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَکَانَ یُنْفِقُ عَلٰی مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِہِ مِنْہُ وَفَقْرِہِ: وَاللّٰہِ! لَا أُنْفِقُ عَلَیْہِ شَیْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِی قَالَ لِعَائِشَۃَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ} إِلٰی قَوْلِہِ: {أَلَا تُحِبُّوْنَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ} [النور: ۲۲] فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأُحِبُّ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لِی، فَرَجَعَ إِلٰی مِسْطَحٍ النَّفَقَۃَ الَّتِی کَانَ یُنْفِقُ عَلَیْہِ، وَقَالَ: لَا أَنْزِعُہَا مِنْہُ أَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَمْرِی: ((وَمَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَیْتِ أَوْ مَا بَلَغَکِ؟)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَحْمِی سَمْعِی وَبَصَرِی وَأَنَا مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَیْرًا، قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَہِیَ الَّتِیکَانَتْ تُسَامِینِی مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَصَمَہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْوَرَعِ، وَطَفِقَتْ أُخْتُہَا حَمْنَۃُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَہَا فَہَلَکَتْ فِیمَنْ ہَلَکَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: فَہٰذَا مَا انْتَہٰی إِلَیْنَا مِنْ أَمْرِ ہٰؤُلَائِ الرَّہْطِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۴۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ حدیث الافک (یعنی بہتان والی بات) بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: اللہ کی قسم! یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میرے بارے میں وحی نازل ہو گی، میں اپنے اس معاملہ کو اس سے کم تر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ خود اس کے بارے میں کلام کریں گے اور پھر اس کلام کی تلاوت کی جائے گی، ہاں یہ مجھے امید تھی کہ میرے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خواب دیکھیں گے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے بری کر دیں گے، اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نشست گاہ سے حرکت نہ کی تھی اور نہ ہی گھروالوں میں سے ابھی کوئی باہر گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل کر دی اور وحی کے وقت سخت بوجھ کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسینہ آنا شروع ہو گیا، سردی کے سخت دن میں بھی وحی کے نازل ہوتے وقت آپ کی پیشانی سے پسینہ لؤلؤ موتیوں کی طرح گرتا تھا، اس وحی کے بوجھ کی وجہ سے، جو آپ پر نازل ہو رہی ہوتی تھی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وحی کے نازل ہونے کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا رہے تھے، سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وحیکے بعد جو بات کی، وہ یہ تھی: اے عائشہ! خوش ہوجائو، اللہ تعالیٰ نے تمہیں بری قرار دیا ہے۔ یہ سن کرمیری ماں نے کہا: عائشہ! کھڑی ہوجا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا شکریہ ادا کر۔ لیکن میں نے کہا:میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہیں ہوں گی، میں اپنے اس اللہ کی تعریف کروں گی، جس نے میری براء ت نازل کی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دیں: {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} [النور: ۱۱] یہ کل دس آیات تھیں۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسطح پر خرچ کیا کرتے تھے کیونکہ وہ فقیر تھااور ان کا رشتہ دار بھی تھا، اس نے بھی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بارے میں تہمت والی بات کر دی تھی، اس لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر آئندہ خرچ نہیں کروں گا، یہ اس حد تک چلا گیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھالیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ یہ آیت سن کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں پسند کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے، پس انہوں نے جو مسطح کا خرچہ لگا رکھا تھا وہ دوبارہ جاری کر دیااورکہا اب میں اسے کبھی نہیں روکوں گا۔سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ زینب بنت حجش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے میرے معاملہ کے بارے میں سوال کیا کہ تم اس بارے میں کیا جانتی ہو؟ یا کیا سمجھتی ہو؟ یا تم کو کون سی بات پہنچی ہے؟‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس بات سے اپنے کان اورآنکھ کو محفوظ رکھنا چاہتی ہوں! اللہ کی قسم، میری معلومات کے مطابق عائشہ میں خیر ہی خیر ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: یہ سیدہ زینب ہی امہات المومنین میں سے میرا مقابلہ کرتی تھیں،لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں تقویٰ کی بدولت اس معاملے میں پڑنے سے بچا لیا اور ان کی بہن سیدہ حمنہ بنت حجش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنی بہن کے ساتھ عصبیت اختیار کی اور ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس گرو ہ کے بارے میں ہمیں یہی کچھ معلوم ہو سکا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10756

۔ (۱۰۷۵۶)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ أُمِّ رُومَانَ، وَہِیَ أُمُّ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کُنْتُ أَنَا وَعَائِشَۃُ قَاعِدَۃً فَدَخَلَتْ امْرَأَۃٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: فَعَلَ اللّٰہُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ تَعْنِی ابْنَہَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہَا: وَمَا ذٰلِکَ؟ قَالَتْ: ابْنِی کَانَ فِیمَنْ حَدَّثَ الْحَدِیثَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہَا: وَمَا الْحَدِیثُ؟ قَالَتْ: کَذَا وَکَذَا، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: أَسَمِعَ بِذٰلِکَ أَبُو بَکْرٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: أَسَمِعَ بِذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: نَعَمْ، فَوَقَعَتْ أَوْ سَقَطَتْ مَغْشِیًّا عَلَیْہَا، فَأَفَاقَتْ حُمَّی بِنَافِضٍ فَأَلْقَیْتُ عَلَیْہَا الثِّیَابَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا لِہٰذِہِ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَخَذَتْہَا حُمّٰی بِنَافِضٍ، قَالَ: ((لَعَلَّہُ مِنَ الْحَدِیثِ الَّذِی تُحُدِّثَ بِہِ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَرَفَعَتْ عَائِشَۃُ رَأْسَہَا وَقَالَتْ: إِنْ قُلْتُ: لَمْ تَعْذِرُونِی، وَإِنْ حَلَفْتُ لَمْ تُصَدِّقُونِی، وَمَثَلِی وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ یَعْقُوبَ وَبَنِیہِ حِینَ قَالَ: {فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُونَ} فَلَمَّا نَزَلَ عُذْرُہَا أَتَاہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہَا بِذَلِکَ، فَقَالَتْ: بِحَمْدِ اللّٰہِ لَا بِحَمْدِکَ أَوْ قَالَتْ: وَلَا بِحَمْدِ أَحَدٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۱۰)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ماں سیدہ ام رومان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیٹھی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئی اور وہ اپنے بیٹے کے متعلق کہنے لگی کہ اللہ اسے ہلاک کرے، تباہ کرے، میں نے اس سے کہا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: وہ بات کرنے والوں میں میرا بیٹا بھی شامل ہے۔ ام رومان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: کونسی بات؟ اس نے کہا: فلاں بات، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے دریافت کیا کہ آیایہ بات ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی سنی ہے؟ اس عورت نے کہا: جی ہاں، انہوں نے پھر پوچھا: کیا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی اس کا علم ہو چکا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! یہ سنتے ہی وہ گر گئی اور وہ بے ہوش ہو گئی اسے شدت کا بخار ہو گیا، اور جسم کانپنے لگا، میں نے اس پر کپڑے ڈالے، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور پوچھا: اسے کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے شدید بخاری ہو گیا ہے اور اس کا جسم کانپ رہا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید اس کییہ کیفیت اس بات کی وجہ سے ہوئی ہے جو کہی جا رہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! یہ باتیں سن کر سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سر اُٹھایا اور کہا: اگر میں اپنے حق میں کچھ کہوں تو آپ میری معذرت قبول نہیں کریں گے اور اگر میں قسم اُٹھاؤں تب بھی آپ میری بات نہیں مانیں گے، میری اور آپ کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی سی ہے، جنہوں نے بیٹوں کی بات سن کر کہا تھا: {فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُونَ} … پس صبر کرنا ہی بہتر ہے، تم جو کچھ بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔ (سورۂ یوسف: ۱۸) پس جب اللہ کی طرف سے ان کی براء ت نازل ہوئی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں نزولِ براء ت کی اطلاع دی تو سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں اللہ کی حمد کرتی ہوں، آپ کی نہیں،یایوں کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی حمد نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10757

۔ (۱۰۷۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اُمِّ رُوْمَانٍ قَالَتْ: بَیْنَا اَنَا عِنْدَ عَائِشَۃَ اِذْ دَخَلَتْ عَلَیْنَا اِمْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ، فَذَکَرَتْ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدمِ وَفِیْہِ: قَالَتْ وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَأَنْزَلَ اللّٰہُ عُذْرَہَا فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُ أَبُو بَکْرٍ فَدَخَلَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَکِ۔)) قَالَتْ: بِحَمْدِ اللّٰہِ لَا بِحَمْدِکَ، قَالَتْ: قَالَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ: تَقُولِینَ ہٰذَا لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَکَانَ فِیمَنْ حَدَّثَ الْحَدِیثَ رَجُلٌ، کَانَ یَعُولُہُ أَبُو بَکْرٍ فَحَلَفَ أَبُو بَکْرٍ أَنْ لَا یَصِلَہُ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا یَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ} إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ: بَلٰی! فَوَصَلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۱۱)
۔(دوسری سند) سیدہ ام رومان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تھی کہ ایک انصاری خاتون ہمارے ہاں آئی، اس سے آگے ساری حدیث گزشتہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی براء ت نازل کر دی ہے۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں واپس اندر آئے اور فرمایا: عائشہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری براء ت نازل کی ہے۔ انھوں نے کہا:اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کییہ بات سن کر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: تم ایسی بات اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ام رومان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر الزام وتہمت لگانے والوں میں سے ایک شخص کی کفالت سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کرتے تھے، اس واقعہ کے بعد انہوں نے قسم اُٹھا لی کہ اب اس کے ساتھ پہلے والا برتاؤ نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔{وَلَا یَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ…} تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور مال دار ہیں وہ اس بات کی قسم نہ اُٹھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مساکین اور اللہ کی راہ میں ہجرت کر کے آنے والوں کو کچھ نہ دیں گے۔ انہیں چاہیے کہ معاف کر دیںا ور درگزر کریں، کیا تمہیںیہ پسند نہیں کہ اللہ تمہاری خطائیں معاف کر دے۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیوں نہیں، چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ حسن برتاؤ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10758

۔ (۱۰۷۵۸)۔ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ وَہُوَ یَمْزَحُ مَعَہُ: قَدْ فَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْتُمْ أَصْحَابُہُ؟ قَالَ الْبَرَائُ: إِنِّی لَأَشْہَدُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا فَرَّ یَوْمَئِذٍ، وَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ حُفِرَ الْخَنْدَقُ، وَہُوَ یَنْقُلُ مَعَ النَّاسِ التُّرَابَ، وَہُوَ یَتَمَثَّلُ کَلِمَۃَ ابْنِ رَوَاحَۃَ اَللّٰہُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا،وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا،فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا،وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا،فَإِنَّ الْأُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا،وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا۔ یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۷۸)
ابو اسحاق سے مروی ہے کہ ایک شخص نے (ازراہِ مذاق) سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ تم لوگ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی تھے اور تم ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس روز فرار نہیں ہوئے تھے۔ اور میں نے خندق والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے ساتھ مل کر مٹی اُٹھا رہے تھے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیںیہاں تک کہ مٹی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیٹ کی جلد کو چھپا دیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابن رواحہ کے یہ کلمات زبان سے ادا فرما رہے تھے: اَللّٰہُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا،وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا،فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا،وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا،فَإِنَّ الْأُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا،وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا (یا اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم راہِ ہدایت نہ پا سکتے اور ہم نہ صدقے کرتے اور نہ نمازیں پڑھتے، تو ہمارے اوپر سکون نازل فرما اور اگر ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا، ان کفار نے ہمارے اوپر سرکشی کی ہے اور دین کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے، اگر انہوں نے کسی فتنہ وفساد کا ارادہ کیا تو ہم اس سے انکار کر دیں گے۔) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کلمات کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کر کے ادا کر رہے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10759

۔ (۱۰۷۵۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَدَاۃٍ قَرَّۃٍ أَوْ بَارِدَۃٍ، فَإِذَا الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ یَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ إِنَّ الْخَیْرَ خَیْرُ الْآخِرَہْ،فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ۔)) فَأَجَابُوہُ: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا،عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۱۲۹۸۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سرد صبح کو باہر نکلے اور دیکھا کہ مہاجرین اورانصار خندق کھود رہے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ صحابہ نے جواباً کہا: ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10760

۔ (۱۰۷۶۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُہَاجِرُونَ یَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِی غَدَاۃٍ بَارِدَۃٍ، قَالَ أَنَسٌ: وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ خَدَمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ إِنَّمَا الْخَیْرُ خَیْرُ الْآخِرَہْ،فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ۔)) قَالَ: فَأَجَابُوہُ: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا،عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا، وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۵۸)
۔( دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر نکلے تو مہاجرین سخت سرد صبح کو خندق کھود رہے تھے، ان کے خادم نہیں تھے، (بلکہ وہ اپنا کام خود کیا کرتے تھے)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، اے اللہ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ صحابہ کرام نے جواباً کہا: ہم وہ لوگ ہیں، جنہوں نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے، اور ہم میدان سے نہیں بھاگیں گے، اور ہم نہیں بھاگیں گے اور ہم نہیں بھاگیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10761

۔ (۱۰۷۶۱)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالْخَنْدَقِ، وَہُمْ یَحْفِرُونَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ عَلٰی أَکْتَافِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ لَا عَیْشَ إِلَّا عَیْشُ الْآخِرَۃِ، فَاغْفِرْ لِلْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۰۳)
سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھے، صحابہ کرام خندق کھود رہے تھے اور ہم اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا اٹھا کر منتقل کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! نہیں ہے کوئی زندگی، مگرآخرت کی زندگی، پس تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10762

۔ (۱۰۷۶۲)۔ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: مَا نَسِیتُ قَوْلَہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَہُوَ یُعَاطِیہِمُ اللَّبَنَ، وَقَدْ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِہِ وَہُوَ یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ إِنَّ الْخَیْرَ خَیْرُ الْآخِرَہْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ۔))قَالَ: فَرَأٰی عَمَّارًا، فَقَالَ: وَیْحَہُ ابْنُ سُمَیَّۃَ تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ، قَالَ: فَذَکَرْتُہُ لِمُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ سِیرِینَ، فَقَالَ: عَنْ أُمِّہِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَمَا إِنَّہَا کَانَتْ تُخَالِطُہَا تَلِجُ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۰۱۵)
سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے خندق والے دن کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات نہیںبھولی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کرام کو اینٹیں پکڑا رہے تھے اور آپ کے سینہ مبارک کے بال غبار آلود ہو چکے تھے اور آپ یوں فرما رہے تھے: اے اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا تو فرمایا: سمیہ کے بیٹے پر افسوس ہے کہ اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ حسن ابن سیرین کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو محمد بن سیرین کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی والدہ کا نام لے کر فرمایا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ وہ( سمیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) سیّدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں آتی جاتی رہتی تھیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10763

۔ (۱۰۷۶۳)۔ عَنِ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ، قَالَ: وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَۃٌ فِی مَکَانٍ مِنَ الخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِیہَا الْمَعَاوِلُ، قَالَ: فَشَکَوْہَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عَوْفٌ: وَأَحْسِبُہُ قَالَ وَضَعَ ثَوْبَہُ، ثُمَّ ہَبَط إِلَی الصَّخْرَۃِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ، فَقَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ۔)) فَضَرَبَ ضَرْبَۃً فَکَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ، وَقَالَ: ((اللّٰہُ أَکْبَرُ! أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الشَّامِ، وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأُبْصِرُ قُصُورَہَا الْحُمْرَ مِنْ مَکَانِی ہٰذَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ۔)) وَضَرَبَ أُخْرٰی فَکَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ فَقَالَ: ((اللّٰہُ أَکْبَرُ! أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ فَارِسَ، وَاللّٰہِ! إِنِّیلَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ وَأُبْصِرُ قَصْرَہَا الْأَبْیَضَ مِنْ مَکَانِی ہٰذَا۔))، ثُمَّ قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ۔)) وَضَرَبَ ضَرْبَۃً أُخْرٰی فَقَلَعَ بَقِیَّۃَ الْحَجَرِ، فَقَالَ: ((اللّٰہُ أَکْبَرُ! أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الْیَمَنِ، وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَائَ مِنْ مَکَانِی ہٰذَا۔))۔ (مسند احمد: ۱۸۸۹۸)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا، کھدائی کے دوران ایک مقام پر چٹان آگئی، جہاں گینتیاں کام نہیں کرتی تھیں، صحابہ کرام نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، سیدنا عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آکر اپنا کپڑا ایک طرف رکھا اور چٹان کی طرف گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گینتی کو پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اسے زور سے مارا ،چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زور سے فرمایا: اللہ اکبر، مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں ہیں، اللہ کی قسم! میں اپنی اس جگہ سے اس وقت وہاں کے سرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ بسم اللہ پڑھ کر دوبارہ گنتی چلائی، چٹان کا دوسرا ایک تہائی ٹوٹ گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے ایران کیچابیاں دے دی گئی ہیں، اللہ کی قسم میں مدائن کو اور وہان کے سفید محل کو اپنی اس جگہ سے اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے بسم اللہ پڑھ کر تیسری مرتبہ گینتی چلائی تو باقی چٹان بھی ریزہ ریزہ ہوگئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے یمن کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں اس وقت اس جگہ سے صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10764

۔ (۱۰۷۶۴)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْخَنْدَقِ وَرَجُلٌ یَتَتَرَّسُ، جَعَلَ یَقُولُ بِالتُّرْسِ ہٰکَذَا، فَوَضَعَہُ فَوْقَ أَنْفِہِ ثُمَّ یَقُولُ: ہٰکَذَا، یُسَفِّلُہُ بَعْدُ، قَالَ: فَأَہْوَیْتُ إِلٰی کِنَانَتِی فَأَخْرَجْتُ مِنْہَا سَہْمًا مُدَمًّا، فَوَضَعْتُہُ فِی کَبِدِ الْقَوْسِ، فَلَمَّا قَالَ ہَکَذَا یُسَفِّلُ التُّرْسَ رَمَیْتُ، فَمَا نَسِیتُ وَقْعَ الْقِدْحِ عَلَی کَذَا وَکَذَا مِنَ التُّرْسِ، قَالَ: وَسَقَطَ، فَقَالَ بِرِجْلِہِ، فَضَحِکَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحْسِبُہُ قَالَ: حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ، قَالَ: قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: ((لِفِعْلِ الرَّجُلِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۰)
سیّدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جس روز خندق کی لڑائی کا موقع تھا اور کفار کے لوگ اپنی اپنی ڈھال کی اوٹ میں چھپ رہے تھے، ساتھ ہی سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی ڈھال کو اپنی ناک کے سامنے کر کے دکھایا کہ آدمی اپنی ڈھال کو یوں اپنے سامنے کرتا اور پھر کبھی اسے یوں نیچے کو کرتا تھا تاکہ مخالفین کی طرف دیکھ لے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ترکش کا قصد کر کے اس سے خون آلود تیرنکالا اور اسے کمان کی قوس پر رکھا، جب اس کا فر نے ڈھال کو ذرا نیچے کی طرف کیا تو میں نے فوراً تیر چلا دیا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تیر اس ڈھال کے فلاںفلاں حصے پر جا کر لگا اور وہ نیچے گر گیا اور اُس کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں،یہ منظر دیکھ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر زور سے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں، میں نے دریافت کیا: آپ کے ہنسنے کا سبب کیا تھا؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس آدمی کی حالت دیکھ کر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10765

۔ (۱۰۷۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ بْنَ صُرَدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْاَحْزَابِ: ((اَلْیَوْمَ نَغْزُوْھُمْ وَلَا یَغْزُوْنَّا۔))۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۸)
سیدنا سلیمان بن صرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا: آج کے بعد ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ اب ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10766

۔ (۱۰۷۶۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْاَحْزَابِ: ((شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ، مَلَاَ اللّٰہُ قُبُوْرَھُمْ وَبُیُوْتَہُمْ نَارًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احزاب کے دن فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، انہوں نے ہمیں نمازِ وسطییعنی نمازِ عصر سے مشغول کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10767

۔ (۱۰۷۶۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حُبِسْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَوَاتِ حَتّٰی کَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ہَوِیًّا، وَذٰلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ فِی الْقِتَالِ مَا نَزَلَ، فَلَمَّا کُفِینَا الْقِتَالَ وَذٰلِکَ قَوْلُہُ: {وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیزًا} أَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّہْرَ، فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیہَا فِی وَقْتِہَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیہَا فِی وَقْتِہَا، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاہَا کَمَا یُصَلِّیہَا فِی وَقْتِہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۲۱۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے دن ہمیں نماز سے روک دیا گیا،یہاں تک کہ مغرب کے بعد کا وقت ہو گیا، دوسری روایت میں ہے:یہاں تک کہ رات کا بھی کچھ حصہ بیت گیا،یہ اس وقت کی بات ہے جب قتال کے متعلق مفصل احکامات نازل نہیں ہوئے تھے، جب لڑائی میں اللہ کی طرف سے ہماری مدد کی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَکَفیٰ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا۔} … لڑائی میںمومنین کے لیے اللہ کافی رہا اور اللہ بہت ہی قوت والا سب پر غالب ہے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح نماز پڑھائی، جس طرح اس کے اصل وقت میں پڑھاتے تھے۔ پھر انھوں نے عصر کے لیے اقامت کہی تو آپ نے اسی طرح نماز پڑھائی جیسے وقت پر پڑھاتے تھے۔ پھر انھوں نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی جس طرح اس کے وقت میں پڑھاتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10768

۔ (۱۰۷۶۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتٰی إِلٰی مَسْجِدٍ یَعْنِی الْاَحْزَابَ، فَوَضَعَ رِدَائَہٗوَقَامَوَرَفَعَیَدَیْہِ مَدًّا، یَدْعُوْ عَلَیْہِمْ وَلَمْ یُصَلِّ، ثُمَّ جَائَ وَدَعَا عَلَیْہِمْ وَصَلّٰی۔ (مسند احمد: ۱۵۳۰۰)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ احزاب کے دن مسجد کی طرف آئے، اپنی چادر رکھ دی اور کھڑے ہو کر کفار پر بددعا کے لیے ہاتھ پھیلادئیے اور نماز ادا نہ کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ آئے اور ان پر بددعا کی اور نماز پڑھائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10769

۔ (۱۰۷۶۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی قَالَ: دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْاَحْزَابِ فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، سَرِیْعَ الْحِسَابِ، ھَازِمِ الْاحْزَابَ، اِھْزِمْہُمْ وَزَلْزِلْھُمُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۲۷)
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کفار کی جماعتو ں پر بددعا کی اور فرمایا: کتاب کو نازل کرنے والے، جلد حساب کرنے والے، لشکروں اور جماعتوں کو شکست دینے والے! تو انہیں شکست دے دے اور ان کے پاؤں اکھاڑ دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10770

۔ (۱۰۷۷۰)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ قَالَ: قَالَ فَتًی مِنَّا مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ لِحُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ: یَا أَبَا عَبْدِ اللّٰہِ! رَأَیْتُمْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَحِبْتُمُوہُ؟ قَالَ: نَعَمْ، یَا ابْنَ أَخِی، قَالَ: فَکَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ کُنَّا نَجْہَدُ، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَوْ أَدْرَکْنَاہُ مَا تَرَکْنَاہُ یَمْشِی عَلَی الْأَرْضِ وَلَجَعَلْنَاہُ عَلَی أَعْنَاقِنَا، قَالَ: فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: یَا ابْنَ أَخِی! وَاللّٰہِ، لَقَدْ رَأَیْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْخَنْدَقِ، وَصَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ ہَوِیًّا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا، فَقَالَ: ((مَنْ رَجُلٌ یَقُومُ فَیَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ، یَشْتَرِطُ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ یَرْجِعُ أَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) فَمَا قَامَ رَجُلٌ، ثُمَّ صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہَوِیًّا مِنَ اللَّیْلِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا، فَقَالَ: ((مَنْ رَجُلٌ یَقُومُ، فَیَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ، ثُمَّ یَرْجِعُیَشْرِطُ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرَّجْعَۃَ، أَسْأَلُ اللّٰہَ أَنْ یَکُونَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَمَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ مَعَ شِدَّۃِ الْخَوْفِ وَشِدَّۃِالْجُوعِ وَشِدَّۃِ الْبَرْدِ، فَلَمَّا لَمْ یَقُمْ أَحَدٌ دَعَانِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَکُنْ لِی بُدٌّ مِنَ الْقِیَامِ حِینَ دَعَانِی، فَقَالَ: ((یَا حُذَیْفَۃُ! فَاذْہَبْ فَادْخُلْ فِیْ الْقَوْمِ فَانْظُرْ مَا یَفْعَلُونَ، وَلَا تُحْدِثَنَّ شَیْئًاحَتّٰی تَأْتِیَنَا۔)) قَالَ: فَذَہَبْتُ فَدَخَلْتُ فِی الْقَوْمِ، وَالرِّیحُ وَجُنُودُ اللّٰہِ تَفْعَلُ مَا تَفْعَلُ، لَا تَقِرُّ لَہُمْ قِدْرٌ وَلَا نَارٌ وَلَا بِنَائٌ، فَقَامَ أَبُو سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! لِیَنْظُرْ امْرُؤٌ مَنْ جَلِیسُہُ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: فَأَخَذْتُ بِیَدِ الرَّجُلِ الَّذِی إِلٰی جَنْبِی، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنَّکُمْ وَاللّٰہِ! مَا أَصْبَحْتُمْ بِدَارِ مُقَامٍ، لَقَدْ ہَلَکَ الْکُرَاعُ وَأَخْلَفَتْنَا بَنُو قُرَیْظَۃَ، بَلَغَنَا مِنْہُمْ الَّذِی نَکْرَہُ، وَلَقِینَا مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ مَا تَرَوْنَ، وَاللّٰہِ! مَا تَطْمَئِنُّ لَنَا قِدْرٌ وَلَا تَقُومُ لَنَا نَارٌ وَلَا یَسْتَمْسِکُ لَنَا بِنَائٌ، فَارْتَحِلُوا فَإِنِّی مُرْتَحِلٌ، ثُمَّ قَامَ إِلٰی جَمَلِہِ وَہُوَ مَعْقُولٌ فَجَلَسَ عَلَیْہِ، ثُمَّ ضَرَبَہُ فَوَثَبَ عَلٰی ثَلَاثٍ فَمَا أَطْلَقَ عِقَالَہُ إِلَّا وَہُوَ قَائِمٌ، وَلَوْلَا عَہْدُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا تُحْدِثْ شَیْئًا حَتّٰی تَأْتِیَنِی وَلَوْ شِئْتُ لَقَتَلْتُہُ بِسَہْمٍ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فِی مِرْطٍ لِبَعْضِ نِسَائِہِ مُرَحَّلٍ، فَلَمَّا رَآنِی أَدْخَلَنِی إِلٰی رَحْلِہِ وَطَرَحَ عَلَیَّ طَرَفَ الْمِرْطِ، ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ وَإِنَّہُ لَفِیہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخْبَرْتُہُ الْخَبَرَ، وَسَمِعَتْ غَطَفَانُ بِمَا فَعَلَتْ قُرَیْشٌ، وَانْشَمَرُوا إِلٰی بِلَادِہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۲۳)
محمد بن کعب قرظی سے مروی ہے کہ کوفہ کے ہمارے ایک جوان نے سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا اور ان کی صحبت میں رہے؟ انہوں نے کہا: ہاں بھتیجے، اس نے پوچھا: تمہارا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کیا رویہ اور برتاؤ ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان دنون سخت مشقت میں تھے، تو اس جوان نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم آپ کے زمانہ کو پالیتے تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو زمین پر نہ چلنے دیتے اور ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے کندھوں پر اُٹھاتے تو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا اے بھتیجے میں نے ہم صحابہ کو خندق کے موقعہ پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو کافی دیر تک نماز پڑھی، بعدازاں ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کون ہے جو اُٹھ کر جا کر دیکھ کر آئے کہ اب دشمن کیا کر رہا ہے؟ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطور شرط (ضمانت) فرمایا کہ وہ واپس آئے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا، کوئی آدمی بھی کھڑا نہ ہوا۔ پھر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافی دیر تک نماز پڑھی، بعدازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کون ہے جو جا کر دشمن کو دیکھ کر آئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطور شرط، ضمانت فرمایا کہ وہ واپس آئے گا۔ میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ جنت میں میرا ساتھی ہو۔ لیکن دشمن کے خوف کی شدت، بھوک کی شدت اور سردی کی شدت کی وجہ سے کوئی بھی نہ اُٹھا، جب کوئی بھی نہ اُٹھا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا چوں کہ آپ نے مجھے ہی خاص طور پر بلایا تھا اس لیے میرے لیے اُٹھے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حذیفہ! تم جا کر دشمن کے افراد کے اندر گھس جاؤ۔ اور دیکھو کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ اور تم ہمارے پاس واپس آنے تک کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا، حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں میں جا کر ان میں شامل ہو گیا، تیز آندھی اور اللہ کے لشکران کی تباہی مچا رہے تھے، تیز آندھی کی وجہ سے نہ ان کی دیگیں ٹھہرتی تھیں نہ آگ نہ خیمے۔ اسی دوران ابو سفیان بن حرب نے کھڑے ہو کر کہا اے قریش! ہر آدمی دیکھے کہ اس کے ساتھ کون بیٹھا ہوا ہے؟ حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں میں نے جلدی سے اپنے قریب والے آدمی کا ہاتھ پکڑ لیا اور پوچھا تم کون ہو؟ اس نے بتایا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، پھر ابو سفیان نے کہا اے جماعت ِ قریش! اب تم اس مقام پر قرار نہیں کر سکتے۔ سارے گھوڑے ہلاک ہو گئے ہیں۔اور بنو قریظہ نے ہمارے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے انہوں نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا وہ ہمیں انتہائی ناگوار گزرا اور تیز آندھی کی صورت حال بھی تم دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی قسم! ہماری دیگیں کہیں ٹھہر نہیں رہیں۔ آگ جلتی نہیں اور خیمے بھی نہیں ٹھہر رہے۔ تم کوچ کی تیاری کرو۔ میں تو جا رہا ہوں۔ پھر وہ اپنے اونٹ کی طرف اُٹھ گیا جس کے پاؤں کو رسی سے باندھا ہوا تھا۔ وہ اس پر بیٹھا، اسے مارا اس نے اس کی رسی کو کھولا نہیں تھا، اس لیے اونٹ نے تین بار کود کر اُٹھنے کی کوشس کی، تاہم وہ اُٹھ کھڑا ہوا، اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ واپس آنے تک وہاں کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنے کا عہد نہ ہوتا تو میں چاہتا تو اسے ایک ہی تیر سے قتل کر سکتا تھا۔ حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں پھر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں واپس آیا، آپ اس وقت اپنی کسی اہلیہ کی منقش اونی چادر اوڑھے نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھے اپنے خیمے میںداخل کر کے چادر کا ایک پہلو میرے اوپر دے دیا۔ آپ چادر ہی میں تھے۔ آپ نے اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو میں نے ساری بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوش گزار کی اور جب بنو غطفان نے قریش کی ساری کار گزاری سنی تو انہوں نے اپنے اونٹوں کو اپنے وطن کی طرف موڑ لیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10771

۔ (۱۰۷۷۱)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: أَخْبَرَتْنِی عَائِشَۃُ قَالَتْ: خَرَجْتُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ وَئِیدَ الْأَرْضِ وَرَائِییَعْنِی حِسَّ الْأَرْضِ، قَالَتْ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَہُ ابْنُ أَخِیہِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ یَحْمِلُ مِجَنَّہُ، قَالَتْ: فَجَلَسْتُ إِلَی الْأَرْضِ فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَیْہِ دِرْعٌ مِنْ حَدِیدٍ، قَدْ خَرَجَتْ مِنْہَا أَطْرَافُہُ فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلٰی أَطْرَافِ سَعْدٍ، قَالَتْ: وَکَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِہِمْ، قَالَتْ: فَمَرَّ وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ: لَیْتَ قَلِیلًایُدْرِکُ الْہَیْجَاء جَمَلْ،مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ، قَالَتْ: فَقُمْتُ فَاقْتَحَمْتُ حَدِیقَۃً، فَإِذَا فِیہَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، وَإِذَا فِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَفِیہِمْ رَجُلٌ عَلَیْہِ سَبْغَۃٌ لَہُ یَعْنِی مِغْفَرًا، فَقَالَ عُمَرُ، مَا جَائَ بِکِ لَعَمْرِی وَاللّٰہِ! إِنَّکِ لَجَرِیئَۃٌ، وَمَا یُؤْمِنُکِ أَنْ یَکُونَ بَلَائٌ أَوْ یَکُونَ تَحَوُّزٌ، قَالَتْ، فَمَا زَالَ یَلُومُنِی حَتّٰی تَمَنَّیْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِی سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِیہَا، قَالَتْ: فَرَفَعَ الرَّجُلُ السَّبْغَۃَ عَنْ وَجْہِہِ فَإِذَا طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ، یَا عُمَرُ! وَیْحَکَ إِنَّکَ قَدْ أَکْثَرْتَ مُنْذُ الْیَوْمَ وَأَیْنَ التَّحَوُّزُ أَوْ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَتْ: وَیَرْمِی سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِنْ قُرَیْشٍ،یُقَالُ لَہُ: ابْنُ الْعَرِقَۃِ بِسَہْمٍ لَہُ، فَقَالَ لَہُ: خُذْہَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرَقَۃِ، فَأَصَابَ أَکْحَلَہُ فَقَطَعَہُ، فَدَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ سَعْدٌ فَقَالَ: اللَّہُمَّ لَا تُمِتْنِی حَتّٰی تُقِرَّ عَیْنِی مِنْ قُرَیْظَۃَ، قَالَتْ، وَکَانُوا حُلَفَائَہُ وَمَوَالِیَہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، قَالَتْ: فَرَقَیَٔ کَلْمُہُ وَبَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الرِّیحَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ، فَکَفَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ، وَکَانَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ قَوِیًّا عَزِیزًا، فَلَحِقَ أَبُو سُفْیَانَ وَمَنْ مَعَہُ بِتِہَامَۃَ، وَلَحِقَ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَہُ بِنَجْدٍ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَیْظَۃَ فَتَحَصَّنُوا فِی صَیَاصِیہِمْ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَوَضَعَ السِّلَاحَ وَأَمَرَ بِقُبَّۃٍ مِنْ أَدَمٍ، فَضُرِبَتْ عَلٰی سَعْدٍ فِی الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَجَائَ ہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام، وَإِنَّ عَلٰی ثَنَایَاہُ لَنَقْعَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللّٰہِ! مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِکَۃُ بَعْدُ السِّلَاحَ، اخْرُجْ إِلٰی بَنِی قُرَیْظَۃَ فَقَاتِلْہُمْ، قَالَتْ: فَلَبِسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَأْمَتَہُ، وَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالرَّحِیلِ أَنْ یَخْرُجُوا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَرَّ عَلٰی بَنِی غَنْمٍ، وَہُمْ جِیرَانُ الْمَسْجِدِ حَوْلَہُ، فَقَالَ: ((مَنْ مَرَّ بِکُمْ؟)) فَقَالُوا: مَرَّ بِنَا دِحْیَۃُ الْکَلْبِیُّ، وَکَانَ دِحْیَۃُ الْکَلْبِیُّ تُشْبِہُ لِحْیَتُہُ وَسِنُّہُ وَوَجْہُہُ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَام، فَقَالَتْ: فَأَتَاہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَاصَرَہُمْ خَمْسًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُہُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلَائُ، قِیلَ لَہُمْ، انْزِلُوا عَلٰی حُکْمِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ أَنَّہُ الذَّبْحُ، قَالُوا: نَنْزِلُ عَلٰی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((انْزِلُوا عَلٰی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔)) فَنَزَلُوا، وَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِیَ بِہِ عَلٰی حِمَارٍ، عَلَیْہِ إِکَافٌ مِنْ لِیفٍ قَدْ حُمِلَ عَلَیْہِ، وَحَفَّ بِہِ قَوْمُہُ، فَقَالُوا: یَا أَبَا عَمْرٍو! حُلَفَاؤُکَ وَمَوَالِیکَ وَأَہْلُ النِّکَایَۃِ، وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ، قَالَتْ: وَأَنَّی لَا یُرْجِعُ إِلَیْہِمْ شَیْئًا وَلَا یَلْتَفِتُ إِلَیْہِمْ، حَتّٰی إِذَا دَنَا مِنْ دُورِہِمْ الْتَفَتَ إِلٰی قَوْمِہِ، فَقَالَ: قَدْ آنَ لِی أَنْ لَا أُبَالِیَ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَلَمَّا طَلَعَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قُومُوا إِلٰی سَیِّدِکُمْ۔)) فَأَنْزَلُوہُ، فَقَالَ عُمَرُ: سَیِّدُنَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: أَنْزِلُوہُ فَأَنْزَلُوہُ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((احْکُمْ فِیہِمْ۔)) قَالَ سَعْدٌ: فَإِنِّی أَحْکُمُ فِیہِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ، وَتُسْبٰی ذَرَارِیُّہُمْ، وَتُقْسَمَ أَمْوَالُہُمْ، وَقَالَ یَزِیدُ بِبَغْدَادَ: وَیُقْسَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ حَکَمْتَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُکْمِ رَسُولِہِ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ: قَالَ: اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ أَبْقَیْتَ عَلٰی نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ حَرْبِ قُرَیْشٍ شَیْئًا فَأَبْقِنِی لَہَا، وَإِنْ کُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ، قَالَتْ: فَانْفَجَرَ کَلْمُہُ، وَکَانَ قَدْ بَرِئَ حَتّٰی مَا یُرٰی مِنْہُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ، وَرَجَعَ إِلٰی قُبَّتِہِ الَّتِی ضَرَبَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَحَضَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، إِنِّی لَأَعْرِفُ بُکَائَ عُمَرَ مِنْ بُکَائِ أَبِی بَکْرٍ، وَأَنَا فِی حُجْرَتِی، وَکَانُوا کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ} قَالَ عَلْقَمَۃُ: قُلْتُ: أَیْ أُمَّہْ! فَکَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ؟ قَالَتْ: کَانَتْ عَیْنُہُ لَا تَدْمَعُ عَلٰی أَحَدٍ وَلٰکِنَّہُ کَانَ إِذَا وَجِدَ فَإِنَّمَا ہُوَ آخِذٌ بِلِحْیَتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۰)
یزید نے ہمیں بتلایا کہ ہمیں محمد بن عمر و نے اپنے والد سے اور انہوں نے اسے اس کے دادا علقمہ بن وقاص سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ میں خندق والے دن لوگوں کے نقوش پا پر چلتی ہوئی روانہ ہوئی۔ مجھے اپنے پیچھے زمین پر کسیکے چلنے کی آہٹ سنائی دی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے اور ان کے ہمراہ ان کے برادر زادے سیدنا حارث بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ڈھال اُٹھائے ہوئے تھے۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:انہیں دیکھ کر میں زمین پر بیٹھ گئی۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قریب سے گزرے تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے لوہے کی ایک زرہ زیب تن کی ہوئی تھی۔ ان کے بازو اور ٹانگیں زرہ سے باہر تھیں مجھے سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ان اعضاء کے متعلق خدشہ ہوا کہ کہیں دشمن ان پر حملہ نہ کر دے۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب لوگوں سے طویل القامت تھے۔ وہ قریب سے گزرے تو یہ رجز پڑھتے جا رہے تھے: لَیتَ قَلیلًایُدْرِکُ الہَیْجَائَ جَمَلٌمَا اَحْسَنَ الموتَ اِذَا حَانَ الْاَجَلْ۔ …1 (کاش کہ اونٹ لڑائی میں اپنی قوت وبہادری کے کچھ جوہر دکھا ئے موت کتنی اچھی ہے جس کا وقت آجائے وہ تو آنی ہی ہے۔)اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں: ان کے گزر جانے کے بعد میں اُٹھ کر ایک باغ میں چلی گئی۔ وہاں کچھ مسلمان موجود تھے، انہی میں عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے۔ وہاں ایک آدمی تھا جس کے سر پر خود یعنی لوہے کی ٹوپی تھی ! شعر کے الفاظ کی تحقیق اور مفہوم کی وضاحت کے لیے دیکھیں مسند احمد محقق۔ ج: ۴۲، ص: ۲۷۔ ساتھ ہی اس نے لوہے کا حفاظتی سامان باندھا ہوا تھا جس سے گردن اور زرہ کے سامنے والے حصہ کو محفوظ کیا ہوا تھا۔مجھے دیکھ کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے آپ کیوں آئی ہیں؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم! اللہ کی قسم! آپ بڑی دلیر ہیں۔ کیا آپ اس بات سے نہیں ڈریں کہ کوئی پریشانی آسکتیہےیا شدید لڑائی ہو سکتی ہے یا دشمن گرفتار کر سکتا ہے؟ سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ وہ برابر مجھے سرزنش کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کا کاش اسی وقت میرے لیے زمین پھٹ جائے اور میں اس میں چلی جاؤں۔ اس مسلح آدمی نے اپنے چہرے سے اوزار ہٹائے تو دیکھا کہ وہ طلحہ بن عبیداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، وہ بولے عمر! بڑے افسوس کی بات ہے۔ آپ نے آج بہت زیادتی کر ڈالی۔ کہاں ہے لڑائی اور اللہ تعالیٰ کے سوا فرار کس کی طرف ہو سکتا ہے؟ سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں۔ وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ ایک مشرک قریشی نے جس کا نام ابن العرقۃ تھا، نشانہ لے کر ان پر تیرچلا دیا۔ اور ساتھ ہی کہا میں ابن عرقہ ہوں، لے میری طرف سے یہ تیر،وہ تیر ان کے بازو کے اکحل نامی رگ پر آکر لگا۔ اور اسے کاٹ ڈالا۔ حضرت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا یا اللہ تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک تو بنو قریظہ کے بارے میں میری آنکھوں کو ٹھندا نہ کر دے۔ سیّدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ بنو قریظہ جاہلیت کے دور میںیعنی قبل از اسلام ان کے حلیف اور ساتھی تھے، سیدہ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ ان کے زخم سے خون بہنے لگا، اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر تیز آندھی بھیج دی اور اس نے لڑائی میں اہل ایمان کیکفایت کی، اللہ تعالیٰ بڑا ہی صاحب قوت اور سب پر غالب ہے۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ کی طرف چلے گئے اور عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد کی طرف چلے گئے اور بنو قریظہ واپس آکر اپنے قلعوں میں بند ہو گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کی طرف واپس آئے، ہتھیار اُٹھا کر رکھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے مسجد میں چمڑے کا ایک خیمہ نصب کرنے کا حکم صادر فرمایا، اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ اسی دوران جبریل علیہ السلام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے ان کے دانتوں پر ابھی غبار کے آثار تھے۔ انہوں نے کہا ( اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہتھیار اتار کر رکھ دئیے؟ اللہ کی قسم! فرشتوں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے۔ آپ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور ان سے قتال کریں۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہتھیار سجا لئے اور لوگوں کو (بنو قریظہ کی طرف) روانگی کا حکم دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے تو آپ بنو غنم کے پاس سے گزرے، وہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: ابھی تمہارے پاس سے کون گزر کر گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سے دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزر کر گئے ہیں، دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی داڑھی، دانت اور چہرہ جبریل علیہ السلام سے مشابہت رکھتا تھا۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو قریظہ کی طرف تشریف لے گئے اور پچیس(۲۵) راتوں تک ان کا محاصرہ کیا۔ جب ان کا محاصرہ سخت اور ان کی مصیبت بھی فزوں ہوئی تو ان سے کہا گیا کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو جاؤ۔انہوں نے ابو لبابہ بن عبدالمندر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مشاورت کی تو انہوں نے اشارے سے ان کو بتلا دیا کہ وہ تو تمہیں ذبح، قتل، کریں گے بنو قریظہ نے کہا کہ ہم سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم انہی کے فیصلہ کو تسلیم کر لو۔ انہوں نے بھی اس پر رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغامبھیج کر بلوایا۔ ان کو لایا گیا تو وہ گدھے پر سوار تھے جس پر کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی کاٹھی تھی۔ انہیں گدھے پر سوار کیا گیا تھا اور ان کی قوم کے لوگ ان کے اردگرد تھے انہوں نے کہا اے بو عمرو ! وہ آپ کے حلیف اور دوست ہیں اور وہ بدعہدی بھی کر چکے ہیں ان کا مطلبیہ تھا کہ ذرا سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ ان کے سارے احوال سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ وہ ان کی باتیں خاموشی سے سنتے آئے اور ان کی کسی بات کا انہیں جواب نہ دیا۔ اور نہ ہی ان کی طرف انہوں نے دیکھا۔ جب وہ بنو قریظہ کے گھروں کے قریب پہنچے تو اپنی قوم کی طرف رخ کر کے کہا اب مجھ پر ایسا موقعہ آیا ہے کہ میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کروں۔ابو سعید ( راوی) کہتے ہیں کہ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے سیّدیعنی سردار کی طرف اُٹھ کر جاؤ اور پکڑ کر انہیں گدھے سے اتار و،یہ سن کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے کہ ہمارا سیّد ( مالک، آقا) تو اللہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو، انہیں اتارو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تم ان کی بابت فیصلہ کرو۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا میں ان کے متعلق یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان میں سے جن لوگوں نے مسلمانوں سے قتال کیا انہیں قتل کر دیا جائے۔ اور ان کی اولادوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال بطور مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔ ان کا فیصلہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم نے ان کے متعلق ایسا فیصلہ دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فیصلہ اور منشا کے عین مطابق ہے۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں پھر سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دعا کییا اللہ ! اگر تیرے نبی اور قریش کے درمیان کوئی لڑائی ہونی باقی ہے تو مجھے اس لڑائی میں شرکت کے لیے زندہ رکھ اور اگر تیرے نبی اور قریش کے درمیان کوئی لڑائی ہونے والی نہیں تو مجھے اپنی طرف اُٹھا لے۔ ان کا زخم پھٹ گیا۔ حالانکہ وہ تقریباً ٹھیک ہو چکا تھا اور اس میں سے صرف ایک بالی، کان کے زیور کے بقدر زخمی باقی تھا۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے اس خیمہ کی طرف لوٹ آئے جو ان کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نصب کرایا تھا۔ اُمّ المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ہاں گئے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنے کمرے میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں کے رونے کی آوازوں کو الگ الگ شناخت کر رہی تھی۔ ان صحابہ کی آپس میں محبت ایسی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ {رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ} کہ یہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے از حد شفیق ومہربان ہیں۔ علقمہ کہتے ہیں میں نے دریافت کیا اماں جان! ایسے مواقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس طرح کیا کرتے تھے؟ فرمایا ان کی آنکھیں کسی کی وفات پر آنسو نہیں بہاتی تھیں۔ لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک کو ہاتھ میں پکڑ لیتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10772

۔ (۱۰۷۷۲)۔ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ قَالَ: رُمِیَیَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَکْحَلَہُ، فَحَسَمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّارِ، فَانْتَفَخَتْ یَدُہُ فَحَسَمَہُ، فَانْتَفَخَتْ یَدُہُ فَحَسَمَہُ أُخْرٰی، فَانْتَفَخَتْ یَدُہُ فَنَزَفَہُ، فَلَمَّا رَأٰی ذٰلِکَ قَالَ: اللّٰہُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِی حَتّٰی تُقِرَّ عَیْنِی مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ، فَاسْتَمْسَکَ عِرْقُہُ فَمَا قَطَرَ قَطْرَۃً حَتّٰی نَزَلُوا عَلٰی حُکْمِ سَعْدٍ فَأُرْسِلَ إِلَیْہِ، فَحَکَمَ أَنْ تُقْتَلَ رِجَالُہُمْ وَیُسْتَحْیَا نِسَاؤُہُمْ وَذَرَارِیُّہُمْ لِیَسْتَعِینَ بِہِمُ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَصَبْتَ حُکْمَ اللّٰہِ فِیہِمْ۔)) وَکَانُوا أَرْبَعَ مِائَۃٍ، فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ قَتْلِہِمْ انْفَتَقَ عِرْقُہُ فَمَاتَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۱۴۸۳۲)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:غزوۂ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک تیر لگا اور دشمن نے ان کے بازو کی اکحل رگ کاٹ ڈالی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خون روکنے کے لیے اسے آگ سے داغ دیا، لیکن اس سے ان کا بازو پھول گیا، اسے دوبارہ داغا تو وہ دوبارہ پھول گیا۔ اسے تیسری دفعہ داغا تو تب بھی وہ پھول گیا اور اس سے بہت زیادہ خون بہنے لگا۔ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کیفیت دیکھی تو دعا کی: یا اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے، جب تک کہ بنو قریظہ کے بارے میں میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں، چنانچہ ان کی رگ کا خون بہنا بند ہو گیا اور اس سے اس وقت تک کوئی قطرۂ خون نہ نکلا، جب تک کہ وہ لوگ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلوایا تو انہوں نے فیصلہ دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ان کے ذریعے مسلمان مدد حاصل کریں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے بارے میں تم نے اللہ کی پسند کا فیصلہ کیا ہے۔ بنو قریظہ کی تعداد چار سو تھی، جب ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رگ پھوٹ پڑی اور اس کے نتیجہ میں ان کی موت واقع ہوئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10773

۔ (۱۰۷۷۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْخَنْدَقِ، کُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ فِی الْأُطُمِ الَّذِی فِیہِ نِسَائُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُطُمِ حَسَّانَ، فَکَانَ یَرْفَعُنِی وَأَرْفَعُہُ، فَإِذَا رَفَعَنِی عَرَفْتُ أَبِی حِینَیَمُرُّ إِلٰی بَنِی قُرَیْظَۃَ، وَکَانَ یُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: مَنْ یَأْتِیبَنِی قُرَیْظَۃَ فَیُقَاتِلَہُمْ، فَقُلْتُ لَہُ حِینَ رَجَعَ: یَا أَبَتِ تَاللّٰہِ! إِنْ کُنْتُ لَأَعْرِفُکَ حِینَ تَمُرُّ ذَاہِبًا إِلٰی بَنِی قُرَیْظَۃَ، فَقَالَ: یَا بُنَیَّ أَمَا وَاللّٰہِ! إِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیَجْمَعُ لِی أَبَوَیْہِ جَمِیعًایُفَدِّینِی بِہِمَا، یَقُولُ: ((فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّیِِ۔))۔ (مسند احمد: ۱۴۰۹)
سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ خندق کے موقع پر میں اور سیدنا عمر بن ابی سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حسان کے قلعوں میں سے اس قلعہ میں تھے، جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات تھیں، وہ مجھے اور میں انہیں اوپر اُٹھاتا اور ہم باہر کے مناظر دیکھتے، جب اس نے مجھے اٹھایا تو میں نے اپنے والد کو پہچان لیا، وہ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے اور وہ خندق والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو بنی قریظہ کی طرف جا کر ان سے قتال کرے؟ جب وہ واپس آئے تو میں نے عرض کیا: ابا جان اللہ کی قسم! جب آپ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے تو میں آپ کو پہچان چکا تھا۔ انھوں نے کہا: بیٹا! اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے داد اور دعا دیتے ہوئے یوں فرما رہے تھے کہ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہو ں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10774

۔ (۱۰۷۷۴)۔ عَن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ لَحَدَّثَنِی قَالَ: اشْتَدَّ الْأَمْرُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا رَجُلٌ یَأْتِینَا بِخَبَرِ بَنِی قُرَیْظَۃَ؟)) فَانْطَلَقَ الزُّبَیْرُ فَجَائَ بِخَبَرِہِمْ، ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَیْضًا فَذَکَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیًّا وَابْنُ الزُّبَیْرِ حَوَارِیَّ۔))۔ (مسند احمد: ۱۴۴۲۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے دن معاملہ سنگین ہو گیا اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: کوئی ایسا آدمی ہے، جو بنو قریظہ کی خبر لے کر آئے؟ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے اور ان کی خبریں لے کر آئے، پھر جب معاملہ سنگین ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا، چنانچہ تین مرتبہ ایسے ہی ہوا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک خاص آدمی ہوتا ہے اور زبیر میرا خاص آدمی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10775

۔ (۱۰۷۷۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْخَنْدَقِ، وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ، فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام وَعَلٰی رَأْسِہِ الْغُبَارُ، قَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ، فَوَاللّٰہِ! مَا وَضَعْتُہَا اخْرُجْ إِلَیْہِمْ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((فَأَیْنَ؟)) قَالَ: ہَاہُنَا فَأَشَارَ إِلٰی بَنِی قُرَیْظَۃَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِمْ، قَالَ ہِشَامٌ: فَأَخْبَرَنِی أَبِی: أَنَّہُمْ نَزَلُوا عَلٰی حُکْمِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَدَّ الْحُکْمَ فِیہِمْ إِلٰی سَعْدٍ، قَالَ: فَإِنِّی أَحْکُمُ أَنْ تُقَتَّلَ الْمُقَاتِلَۃُ وَتُسْبَی النِّسَائُ وَالذُّرِّیَّۃُ وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُہُمْ، قَالَ ہِشَامٌ: قَالَ أَبِی: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقَدْ حَکَمْتَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔))۔ (مسند احمد: ۲۴۷۹۹)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب غزوۂ خندق سے واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، ان کے سر پر غبار تھا، انہوں نے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہتھیار اتار دئیے؟ اللہ کی قسم میں نے تو ہتھیار نہیں اتارے ہیں، آپ بنو قریظہکی طرف روانہ ہوں۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ادھر روانہ ہو گئے۔ عروہ نے بیان کیا کہ بنو قریظہ کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فیصلہ پر راضی ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلے کا اختیار سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے دیا اور انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: ( اے سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) تو نے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ والا فیصلہ کیا ہے، یعنی ایسا فیصلہ کیا ہے جو اللہ کو بھی پسند اور منظور ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10776

۔ (۱۰۷۷۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَاَنَّیْ اَنْظُرُ إِلٰی غُبَارِ مَوْکِبِ جِبْرِیْلَ علیہ السلام سَاطِعًا فِیْ سِکَّۃِ بَنِیْ غَنَمٍ حِیْنَ سَارَ إِلٰی قُرَیْظَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۶۲)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں گویا کہ اس وقت بھی جبریل علیہ السلام کی سواری کا اُٹھنے والا غبار بنی غنم کی گلی میں آسمان کی طرف اُڑتا دیکھ رہا ہوں، جب وہ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10777

۔ (۱۰۷۷۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ قَالَتْ: لَمْ یَقْتُلْ مِنْ نِسَائِہِمْ إِلَّا امْرَأَۃً وَاحِدَۃً، قَالَتْ: وَاللّٰہِ! إِنَّہَا لَعِنْدِی تَحَدَّثُ مَعِی تَضْحَکُ ظَہْرًا وَبَطْنًا، وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْتُلُ رِجَالَہُمْ بِالسُّوقِ إِذْ ہَتَفَ ہَاتِفٌ بِاسْمِہَا: أَیْنَ فُلَانَۃُ؟ قَالَتْ: أَنَا وَاللّٰہِ! قَالَتْ: قُلْتُ: وَیْلَکِ وَمَا لَکِ؟ قَالَتْ: أُقْتَلُ، قَالَتْ: قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَتْ: حَدَثًا أَحْدَثْتُہُ، قَالَتْ: فَانْطُلِقَ بِہَا فَضُرِبَتْ عُنُقُہَا، وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُولُ: وَاللّٰہِ! مَا أَنْسٰی عَجَبِی مِنْ طِیبِ نَفْسِہَا وَکَثْرَۃِ ضِحْکِہَا، وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّہَا تُقْتَلُ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۹۶)
سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کی عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو قتل کیا گیا، اللہ کی قسم وہ میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بازار میں ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، اچانک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ تو میرے نام کی پکار ہے۔ میں نے کہا: تیرا بھلا ہو، تجھے کیا ہوا؟ وہ بولی: مجھے قتل کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: میں نے ایک جرم کیا تھا۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں: پس اسے لے جا کر اس کی گردن اُڑا دی گئی۔ سیّدہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ کی قسم! مجھے اس کی خوش طبعی اور کثرت سے ہنسنا نہیں بھولتا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اسے قتل کیا جانے والا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10778

۔ (۱۰۷۷۸)۔ حَدَّثَنَا بَہْزٌ وَحَدَّثَنَا ہَاشِمٌ قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنِ ثَابِتٍ عَنِ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّۃُ زَیْنَبَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِزَیْدٍ: ((اذْہَبْ فَاذْکُرْہَا عَلَیَّ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتّٰی أَتَاہَا، قَالَ: وَہِیَ تُخَمِّرُ عَجِینَہَا، فَلَمَّا رَأَیْتُہَا عَظُمَتْ فِی صَدْرِی حَتّٰی مَا أَسْتَطِیعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَیْہَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَہَا، فَوَلَّیْتُہَا ظَہْرِی وَرَکَضْتُ عَلٰی عَقِبَیَّ، فَقُلْتُ: یَا زَیْنَبُ! أَبْشِرِی أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُکِ، قَالَتْ: مَا أَنَا بِصَانِعَۃٍ شَیْئًا حَتّٰی أُؤَامِرَ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ، فَقَامَتْ إِلَی مَسْجِدِہَا، وَنَزَلَ یَعْنِی الْقُرْآنَ وَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلَیْہَا بِغَیْرِ إِذْنٍ، قَالَ: وَلَقَدْ رَأَیْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ، قَالَ ہَاشِمٌ: حِینَ عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَہَا، قَالَ ہَاشِمٌ فِی حَدِیثِہِ: لَقَدْ رَأَیْتُنَا حِینَ أُدْخِلَتْ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُطْعِمْنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْم،َ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِیَ رِجَالٌ یَتَحَدَّثُونَ فِی الْبَیْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاتَّبَعْتُہُ فَجَعَلَ یَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِہِ فَجَعَلَ یُسَلِّمُ عَلَیْہِنَّ، وَیَقُلْنَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ وَجَدْتَ أَہْلَکَ؟ قَالَ: فَمَا أَدْرِی أَنَا أَخْبَرْتُہُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أُخْبِرَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتّٰی دَخَلَ الْبَیْتَ، فَذَہَبْتُ أَدْخُلُ مَعَہُ فَأَلْقَی السِّتْرَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ، وَنَزَلَ الْحِجَابُ، قَالَ: وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِہِ، قَالَ ہَاشِمٌ فِی حَدِیثِہِ: {لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ … … وَلَا مُسْتَأْنِسِینَ لِحَدِیثٍ إِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیِی مِنْکُمْ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیِی مِنَ الْحَقِّ}۔ (مسند احمد: ۱۳۰۵۶)
انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیّدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم جا کر ان کو میری طرف سے نکاح کا پیغام دو۔ وہ ان کے ہاں گئے، وہ اس وقت آٹا گوندھ رہی تھیں۔ زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں میں نے ان کو دیکھا تو میرے سینے میں ان کا اس قدر عظیم مقام محسوس ہوا کہ مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی جرأت نہ ہو سکی، کیونکہ ان کو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زوجہ بنانے کے ارادہ سے یاد فرمایا تھا، سو میں نے اپنی پشت ان کی طرف پھیری اور اپنی ایڑیوں پر پیچھے کو مڑا اور میں نے کہا: زینب! تمہیں خوش خبری ہو کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا ہے، وہ تمہیں اپنی بیوی بنانے کے لیےیاد کرتے ہیں۔ وہ بولیں میں جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں، اس وقت تک میں کوئی بات نہیں کروں گی۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں نماز کے لیے مقرر کردہ جگہ پر کھڑی ہوئیں۔ اسی دوران قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں بلا اجازت ہی چلے آئے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں گوشت روٹی کھلائی۔ امام احمد کے شیخ ہاشم یوں بیان کرتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کھانا دیا، تب مجھے علم ہوا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو نکاح کا پیغام دیا ہے۔ ہاشم اپنی حدیث میںیوں بھی بیان کرتے ہیں کہ جب سیّدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھیجا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں گوشت روٹی کھلائی، لوگ کھانا کھا کر چلے گئے تو کچھ لوگ کھانے کے بعد وہیں گھر میں بیٹھے باتوں میں مصروف ہو گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر سے باہر جا کر اپنی ازواج کے حجروں میں چکر لگانے لگے، میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر حجرہ میں جا کر اپنی ازواج کو سلام کہتے اور وہ دریافت کرتیں: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ کو بتلایایا کسی نے آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی کہ لوگ چلے گئے ہیں، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں آئے، میں بھی اندر جانے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکا دیا اور حجاب کا حکم نازل ہوا۔ اور لوگوں کو خوب نصیحت کی گئی۔ امام احمد کے شیخ ہاشم نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ یہاں حجاب کے حکم سے یہ آیات مراد ہیں: {لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ … … وَلَا مُسْتَأْنِسِینَ لِحَدِیثٍ إِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیِی مِنْکُمْ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیِی مِنَ الْحَقِّ…}… ایمان والو! تم نبی کے گھروں میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو۔ الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لئے بلایا جائے تو ایسے وقت جایا کرو کہ تمہیں اس کے پکنے کی انتظار نہ کرنی پڑے۔لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب جاؤ اور کھانا کھا چکنے کے بعد وہاں سے آجاؤ اور وہاں بیٹھ کر باتوں میں مصروف نہ ہو جاؤ۔ بے شک تمہارایہ عمل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایذا دیتا ہے اور وہ تم سے جھجکتا ہے۔ اس لئے تمہیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اور اللہ تو حق بات کہنے سے نہیں جھجکتا۔ اور جب تم نبی کی ازواج سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ حکم تمہارے اور ان کے دلوں کو شیطانی وساوس سے پاک کرنے کے لیے ہے۔ اور تمہیںیہ زیبا نہیں کہ تم اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایذاء پہنچاؤ۔ اور نہ تم اس کے بعد اس کی ازواج سے کبھی نکاح کر سکتے ہو۔ اللہ کے نزدیکیہ بہت بڑا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۵۳)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10779

۔ (۱۰۷۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ صُہَیْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: مَا اَوْلَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی امْرَاَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ اَکْثَرَ وَاَفْضَلَ مِمَّا اَوْلَمَ عَلٰی زَیْنَبِ، فَقَالَ ثَابِتُ الْبَنَانِیُّ: فَمَا اَوْلَمَ؟ قَالَ: اَطْعَمَہُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتّٰی تَرَکُوْہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۲۷۸۹)
عبدالعزیز بن صہیب سے مروی ہے کہ میں نے انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جیسا ولیمہ اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نکاح کے بعد کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا ولیمہ دوسری کسی زوجہ کے موقع پر نہیں کیا۔ ثابت بنانی نے پوچھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس چیز کا ولیمہ کیاتھا؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو اس قدر روٹی گوشت کھلایا کہ لوگوں نے سیر ہو کر کھایا، تب بھی وہ باقی چھوڑآئے یعنی کھانا بچ گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10780

۔ (۱۰۷۸۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْلَمَ عَلَی امْرَاَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ مَا اَوْلَمَ عَلٰی زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَاَوْلَمَ بِشَاۃٍ اَوْ ذَبَحَ شَاۃً۔ (مسند احمد: ۱۳۴۱۱)
۔( دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس قدر ولیمہ سیّدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کرنے کے موقع پر کیا تھا، میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی دوسری زوجہ کے موقع پر ایسا ولیمہ کیا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بکری ذبح کر کے ولیمہ کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10781

۔ (۱۰۷۸۱)۔ عن حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَوْلَمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِزَیْنَبَ فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِینَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ خَرَجَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ، إِذَا تَزَوَّجَ فَیَأْتِی حُجَرَ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ فَیُسَلِّمُ عَلَیْہِنَّ وَیَدْعُو لَہُنَّ وَیُسَلِّمْنَ عَلَیْہِ وَیَدْعُونَ لَہُ، ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَہُ فَلَمَّا انْتَہٰی إِلَی الْبَابِ إِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرٰی بَیْنَہُمَا الْحَدِیثُ فِی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ، فَلَمَّا أَبْصَرَہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انْصَرَفَ، فَلَمَّا رَأَی الرَّجُلَانِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ رَجَعَ وَثَبَا فَزِعَیْنِ فَخَرَجَا، فَلَا أَدْرِی أَنَا أَخْبَرْتُہُ أَوْ مَنْ أَخْبَرَہُ، فَرَجَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۰۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تزویج کے موقع پر ولیمہ کیا اورمسلمانوں کو سیر کر کے روٹی گوشت کھلایا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے معمول کے مطابق باہر نکلے، جیسے آپ قبل ازیں شادی کر کے باہر جایا کرتے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم امہات المؤمنین کے حجروں میں جا کر انہیں سلام کہتے، ان کے حق میں دعا کرتے اور جواباً وہ بھی آپ کو سلام کہتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں دعا کرتیں، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لائے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے کے قریب پہنچے تو گھر کے اندر دو آدمی ابھی تک محوِ گفتگو تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو واپس لوٹ آئے، ان دونوں نے جب دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لے گئے ہیں۔ تو وہ جلدی سے گھبرا کر اُٹھے اور چلے گئے، مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایایا کسی دوسرے نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی (کہ وہ آدمی بھی چلے گئے ہیں)، تب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10782

۔ (۱۰۷۸۲)۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: کَانَتْ زَیْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلٰی نِسَائِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقُوْلُ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ اَنْکَحَنِیْ مِنَ السَّمَائِ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۹۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دیگر ازواج پر بطور فخر کہا کرتی تھیں:میرا نکاح آسمان سے اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10783

۔ (۱۰۷۸۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَائَ تْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ ثُمَامَۃُ بْنُ أُثَالٍ سَیِّدُ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ، فَرَبَطُوہُ بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ: ((مَاذَا عِنْدَکَ؟ یَا ثُمَامَۃُ!)) قَالَ: عِنْدِییَا مُحَمَّدُ! خَیْرٌ، إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاکِرٍ، وَإِنْ کُنْتَ تُرِیدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْہُ مَا شِئْتَ، فَتَرَکَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ الْغَدُ، قَالَ لَہُ: ((مَا عِنْدَکَ؟ یَا ثُمَامَۃُ!)) قَالَ: مَا قُلْتُ لَکَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاکِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ کُنْتَ تُرِیدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْہُ مَا شِئْتَ، فَتَرَکَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی کَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ: ((مَا عِنْدَکَ؟ یَا ثُمَامَۃُ!)) فَقَالَ: عِنْدِی مَا قُلْتُ لَکَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلٰی شَاکِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ کُنْتَ تُرِیدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْہُ مَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((انْطَلِقُوا بِثُمَامَۃَ۔)) فَانْطَلَقُوا بِہِ إِلَی نَخْلٍ قَرِیبٍ مِنْ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ، یَا مُحَمَّدُ! وَاللّٰہِ، مَا کَانَ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ وَجْہِکَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْہُکَ أَحَبَّ الْوُجُوہِ کُلِّہَا إِلَیَّ، وَاللّٰہِ! مَا کَانَ مِنْ دِینٍ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ دِینِکَ، فَأَصْبَحَ دِینُکَ أَحَبَّ الْأَدْیَانِ إِلَیَّ، وَاللّٰہِ! مَا کَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَیَّ مِنْ بَلَدِکَ فَأَصْبَحَ بَلَدُکَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَیَّ، وَإِنَّ خَیْلَکَ أَخَذَتْنِی وَإِنِّی أُرِیدُ الْعُمْرَۃَ فَمَاذَا تَرٰی؟ فَبَشَّرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَرَہُ أَنْ یَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّۃَ،قَالَ لَہُ قَائِلٌ: صَبَأْتَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلٰکِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا وَاللّٰہِ! لَا یَأْتِیکُمْ مِنَ الْیَمَامَۃِ حَبَّۃُ حِنْطَۃٍ حَتّٰییَأْذَنَ فِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۹۸۳۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نجد کی طرف ایک گھڑسوار لشکر روانہ کیا، وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر لائے، جو اہل ِ یمامہ کا سردار تھا۔ مسلمانوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے دریافت فرمایا: ثمامہ! کیا پروگرام ہے؟ اس نے کہا: اے محمد! اچھا پروگرام ہے، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے قتل کیا تو یہ نہ سمجھنا کہ میں معمولی آدمی ہوں، بلکہ میری قوم میرے خون کا بدلہ لے کر چھوڑے گی اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں اور چھوڑ دیں تو میں آپ کا شکر گزار ہوں گا، اگر آپ کو مال کی ضرورت ہو تو فرمائیں جو مانگیں گے آپ کو دے دیا جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے چھوڑ دیا، دوسرے دن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ثمامہ! کیا پروگرام ہے؟ اس نے کہا: وہی جو میں آپ سے قبل ازیں کہہ چکا ہوں، اگر آپ احسان کریں گے تو آپ ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو میرا خون معمولی نہیں، میری قوم بدلہ لے کر رہے گی اور اگر آپ کو مال کی ضرورت ہے تو مانگیں آپ جتنا مال چاہیں گے آپ کو دے دیا جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اس کے حال پر رہنے دیا۔ تیسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ثمامہ! کیا پروگرام ہے؟ اس نے کہا: میرا پروگرام وہی ہے، جو قبل ازیں آپ سے کہہ چکا ہوں۔ اگر آپ مجھ پر احسان کریں تو آپ ایک شکر گزار پر احسان کریں گے، یعنی میں آپ کا احسان مند اور شکر گزار رہوں گا۔اور اگر آپ نے مجھے قتل کر دیا تو آپ ایک معزز کو قتل کریں گے، جس کی قوم آپ سے بدلہ لے کر رہے گی اور اگر آپ کو مال ودولت چاہیے تو فرمائیں، آپ جو چاہیں گے آپ کو دے دیا جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ثمامہ کو لے جاؤ۔ صحابہ کرام ثمامہ کو مسجد کے قریب کھجوروں کے ایک باغ میں لے گئے، اس نے غسل کیا اور مسجد میں آکر کہنے لگا : أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہ۔ِ اے محمد! اللہ کی قسم! میرے نزدیک روئے زمین پر آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسند کوئی چہرہ نہ تھا، اب آپ کا چہرہ انور مجھے تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب وپسند ہے۔ اللہ کی قسم ! مجھے آپ کے دین سے زیادہ ناپسند دوسرا کوئی دین نہ تھا، اب آپ کا دین مجھے تمام ادیان سے بڑھ کر محبوب وپسند ہے۔ اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی شہر مجھے آپ کے شہر سے زیادہ ناپسند نہ تھا، اب آپ کا شہر مجھے تمام شہروں سے بڑھ کر محبوب وپسند ہے۔ آپ کے گھڑ سوار لشکر نے مجھے پکڑ لیا تھا۔میں تو عمرہ کے لیے جا رہا تھا، اب آپ کا کیا ارشاد ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے خوش خبری دی اور اسے حکم دیا کہ وہ عمرہ کرے، وہ جب مکہ پہنچا تو کسی کہنے والے نے اس سے کہا: کیا تم بے دین ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں میں بے دین نہیںہوا، بلکہ میں تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہوں۔ اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک بھی دانہ نہیں آئے گا، جب تک اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10784

۔ (۱۰۷۸۴)۔ عَنْ أَبِیْ عَیَّاشٍ الزُّرَقِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِکُوْنَ عَلَیْہٖمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ وَہُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فَقَالُوْا: قَدْ کَانُوْا عَلٰی حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَہُمْ، قَالُوْا: تَأْتِیْ عَلَیْہِمُ الْآنَ صَلَاۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ أَبْنَائِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرَئِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامِ بِہٰذِہِ الْآیَاتِ بَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلَاۃَ …} قَالَ: فَحَضَرَتْ فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأخَذُوْا السَّلَاحَ، قَالَ: فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ صَفَّیْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالصَّفِّ الَّذِیْیَلِیْہِ وَالآخَرُوْنَ قِیَامٌیحرُسُوْنَھُمْ فَلَمَّا سَجَدُو وَقَامُوْا جَلَسَ اْلآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْا فِی مَکَانِھِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ ھٰؤُلَائِ إِلٰی مَصَافِّ ھٰؤُلَائِ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعُوا جَمِیْعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوْا جَمِیْعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّفُّ الَّذِییَلِیْہِ، وَالآخَرُوْنََ قِیَامٌیَحْرُسُوْنَھُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الآخَرُوْنَ فَسَجَدُوْ فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ: فَصَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ، مَرَّۃً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّۃً بَأَرْضِ بَنِی سُلَیْم۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۶)
سیّدنا ابو عیاش زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ وَلْیَأْخُذُوْا اَسْلِحَتَہُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَائِکُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَۃٌ أُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ} … جب تم ان میں ہو اور ان کے لیے نماز کھڑی کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لیے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجدہ کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آ جائیں اور وہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آ جائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے۔ (النسائ: ۱۰۲)جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آگے آگئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10785

۔ (۱۰۷۸۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَْیرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌َٔنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَزَلَ بَیْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: إِنَّ لَہُمْ صَلَاۃً ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ آبَائِہِمْ وَاَبْنَائِہِمْ وَہِیَ الْعََصْرِ، فَأَجْمِعُوْا أَمْرَکُمْ فَمِیْلُوْا عَلَیْہِمْ مَیْلَۃً وَاحِدَۃً، وَأِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَہُ أَنْ یَقْسِمَ أَصْحَابَہٗشَطْرَیْنِ فَیُصَلِّیَ بِبَعْضِہِمْ، وَتَقُوْمُ الطَّائِفَۃُ اْلأُخْرٰی وَرَائَ ہُمْ، وَلْیَأْخُذُوا حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ، ثُمَّ تَأْتِیْ الأُخْرٰی فَیُصَلُّوْنَ مَعَہُ وَیَأْخُذُ ہٰؤُلَائِ حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ لِتَکُوْنَ لَہُمْ رَکْعَۃٌ رَکْعَۃٌ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۵)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10786

۔ (۱۰۷۸۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، فَأُصِیبَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَافِلًا، وَجَائَ زَوْجُہَا وَکَانَ غَائِبًا، فَحَلَفَ أَنْ لَایَنْتَہِیَ حَتّٰییُہْرِیقَ دَمًا فِی أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ یَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْزِلًا، فَقَالَ: ((مَنْ رَجُلٌ یَکْلَؤُنَا لَیْلَتَنَا ہٰذِہِ؟)) فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَا: نَحْنُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَکُونُوا بِفَمِ الشِّعْبِ۔)) قَالَ: وَکَانُوا نَزَلُوا إِلٰی شِعْبٍ مِنَ الْوَادِی، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَی فَمِ الشِّعْبِ، قَالَ الْأَنْصَارِیُّ لِلْمُہَاجِرِیِّ: أَیُّ اللَّیْلِ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أَکْفِیَکَہُ أَوَّلَہُ أَوْ آخِرَہُ؟ قَالَ: اکْفِنِی أَوَّلَہُ، فَاضْطَجَعَ الْمُہَاجِرِیُّ فَنَامَ، وَقَامَ الْأَنْصَارِیُّیُصَلِّی، وَأَتَی الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأٰی شَخْصَ الرَّجُلِ، عَرَفَ أَنَّہُ رَبِیئَۃُ الْقَوْمِ، فَرَمَاہُ بِسَہْمٍ فَوَضَعَہُ فِیہِ فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ وَثَبَتَ قَائِمًا، ثُمَّ رَمَاہُ بِسَہْمٍ آخَرَ فَوَضَعَہُ فِیہِ فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ وَثَبَتَ قَائِمًا، ثُمَّ عَادَ لَہُ بِثَالِثٍ فَوَضَعَہُ فِیہِ فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ أَہَبَّ صَاحِبَہُ، فَقَالَ: اجْلِسْ فَقَدْ أُتِیتَ، فَوَثَبَ فَلَمَّا رَآہُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِہِ فَہَرَبَ، فَلَمَّا رَأَی الْمُہَاجِرِیُّ مَا بِالْأَنْصَارِیِّ مِنَ الدِّمَائِ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! أَلَا أَہْبَبْتَنِی؟ قَالَ: کُنْتُ فِی سُورَۃٍ أَقْرَؤُہَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَہَا حَتّٰی أُنْفِذَہَا، فَلَمَّا تَابَعَ الرَّمْیَ رَکَعْتُ فَأُرِیتُکَ، وَایْمُ اللّٰہِ! لَوْلَا أَنْ أُضَیِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحِفْظِہِ، لَقَطَعَ نَفْسِی قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَہَا أَوْ أُنْفِذَہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۷۶۰)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم غزوۂ ذاتِ رقاع میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، اس دوران مشرکین کی ایک عورت مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئی، جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹے تو اس عورت کا شوہر جو اس وقت موجود نہ تھا، وہ آچکا تھا، اس نے قسم اُٹھائی کہ وہ اپنی کارروائی سے اس وقت تک باز نہ آئے گا جب تک کہ اصحابِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں قتل وغارت نہ کر دے، چنانچہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیچھا کرنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو ہمارا پہرہ دے گا؟ ایک مہاجر اور ایک انصاری کا نام لیا گیا،ان دونوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم پہرہ دیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم گھاٹی کے سامنے رہنا۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: صحابہ کرام نے وادی کی ایک جانب میں نزول کیا تھا، جب یہ دونوں آدمی گھاٹی کی طرف گئے تو انصاری نے مہاجر ساتھی سے کہا: تمہیں رات کا اول حصہ پسند ہے یا آخری، تاکہ میں اس حصے میں تمہاری طرف سے پہرہ دوں اور تم آرام کر لو۔ اس نے کہا: تم رات کے اول حصہ میں ڈیوٹی دو، چنانچہ مہاجر لیٹ گیا اور اسے نیند آگئی اور انصاری کھڑا ہو کر نماز میں مشغول ہو گیا، وہ دشمن آیا اس نے دور سے ایک آدمی کا وجود دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ ضرور ان کا نگران ہے، اس نے تیر مارا تیر آکر انصاری کو لگا۔ اس نے ( نماز کے دوران ہی) تیر کو نکال کر رکھ دیا اور کھڑا نماز پڑھتا رہا، دشمن نے دوسرا تیر مارا، وہ بھی آ کر لگا، اس نے اسے نکال کر رکھ دیا اور نماز میں مشغول رہا، دشمن نے اسے تیسرا تیر مارا، وہ بھی آ لگا، اس نے اسے بھی نکال کر رکھ دیا۔ اس کے بعد رکوع اور سجدے کئے اور ( نماز سے فارغ ہو کر) اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا اُٹھ کر بیٹھو دشمن آگیا ہے۔ وہ جلدی سے اُٹھا دشمن نے ان دو آدمیوں کو دیکھا تو جان گیا کہ وہ سنبھل گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ بھاگ گیا، مہاجر نے انصاری کو لہولہان دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! تم نے مجھے شروع ہی میں بیدار کیوں نہ کر دیا؟ انصاری نے کہا: میں ایک سورت شروع کر چکا تھا، میں نے اسے ادھورا چھوڑنا مناسب نہ سمجھا، جب پے در پے تیر آئے، تب میں نے جلدی سے رکوع کیا۔ ( اور نماز مکمل کی) اور تمہیں آگاہ کیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ذمہ جو اس طرف سے پہرہ کی ذمہ داری لگائی تھی اس میں کوتاہی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میرے اس سورت کو مکمل کرنے سے پہلے میری جان چلی جاتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10787

۔ (۱۰۷۸۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحَارِبَ خَصَفَۃَ بِنَخْلٍ فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِینَ غِرَّۃً، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتّٰی قَامَ عَلٰی رَأْسِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالسَّیْفِ، فَقَالَ: مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟ قَالَ: ((اَللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) فَسَقَطَ السَّیْفُ مِنْ یَدِہِ، فَأَخَذَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟)) قَالَ: کُنْ کَخَیْرِ آخِذٍ، قَالَ: ((أَتَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ؟)) قَالَ: لَا وَلٰکِنِّی أُعَاہِدُکَ أَنْ لَا أُقَاتِلَکَ وَلَا أَکُونَ مَعَ قَوْمٍ یُقَاتِلُونَکَ، فَخَلّٰی سَبِیلَہُ، قَالَ: فَذَہَبَ إِلٰی أَصْحَابِہِ، قَالَ: قَدْ جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ خَیْرِ النَّاسِ، فَلَمَّا کَانَ الظُّہْرُ أَوْ الْعَصْرُ صَلَّی بِہِمْ صَلَاۃَ الْخَوْفِ، فَکَانَ النَّاسُ طَائِفَتَیْنِ طَائِفَۃً بِإِزَائِ عَدُوِّہِمْ وَطَائِفَۃً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِالطَّائِفَۃِ الَّذِینَکَانُوا مَعَہُ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَکَانُوا مَکَانَ أُولٰئِکَ الَّذِینَ کَانُوا بِإِزَائِ عَدُوِّہِمْ، وَجَائَ أُولَئِکَ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَکَانَ لِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ، وَلِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۱)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خصفہ بن قیس بن عیلان بن الیاس بن مضر کے ساتھ نخل کے مقام پر لڑائی ہوئی، وہ لوگ مسلمانوں سے بدلہ لینے کی تاک میں رہتے تھے، اس قبیلہ کا غورث بن حارث نامی ایک شخص تھا، وہ تلوار لئے اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب پہنچ گیا اور کہنے لگا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بچائے گا۔ پس تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلوار اُٹھالی اور فرمایا: اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: آپ اس آدمی کا ساسلوک کریں، جو غالب آکر اچھا سلوک کرتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، البتہ میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں نہ تو خود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قتال کروں گا اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے چھوڑ دیا، وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان سے کہامیں تمہارے پاس ایک ایسے آدمی کے پاس سے آ رہا ہوں ،جو لوگوں میں سب سے اچھا ہے، چنانچہ جب ظہر یا عصر کی نماز کا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو نمازِ خوف پڑھائی، صحابۂ کرام کے دو حصے ہو گئے، ایک گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا اور ایک گروہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، جو لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دو رکعات پڑھائیں، وہ لوگ دو رکعات پڑھ کر ان لوگوں کی جگہ چلے گئے، جو دشمن کے سامنے تھے اور وہ لوگ آئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بھی دو رکعات پڑھائیں، اس طرح لوگوں کی دو دو رکعات اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار رکعات ہوئیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10788

۔ (۱۰۷۸۸)۔ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَیْرِ عَمَّنْ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاۃَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَۃً صَفَّتْ مَعَہُ وَطَائِفَۃً وِجَاہَ الْعَدُوِّ فَصَلّٰی بِالَّتِی مَعَہُ رَکْعَۃً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوالِأَنْفُسِہِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوْا فَصَفُّوْا وِجَاہَ الْعَدُوِّ وَجَائَ تِ الطَّائِفَۃُ اْلأُخْرٰی فَصَلّٰی بِہِمُ الرَّکْعَۃَ الَّتِی بَقِیَتْ مِنْ صَلَاتِہِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَاتَٔمُّوْا لِأَنْفُسِہِمْ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ مَالِکٌ وَہٰذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَیَّ فِی صَلَاۃِ الْخَوْفِ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۲۴)
صالح بن خوات ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جس نے ذات الرقاع والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی تھی، اس نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صف بنالی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ جو لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر کھڑے رہے کہ ان لوگوں نے خود دوسری رکعت ادا کر لی اور پھر چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، دوسرا گروہ آیا اور انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باقی ماندہ رکعت پڑھی، پھر آپ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ یہ لوگ دوسری رکعت ادا کرکے (تشہد میں بیٹھ گئے) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالک ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌کہتے ہیں:نماز خوف کییہ صورت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10789

۔ (۱۰۷۸۹)۔ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّہْرِیُّ: أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، یُصَدِّقُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا حَدِیثَ صَاحِبِہِ، قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمَانَ الْحُدَیْبِیَۃِ فِی بِضْعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً مِنْ أَصْحَابِہِ حَتّٰی إِذَا کَانُوا بِذِی الْحُلَیْفَۃِ قَلَّدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْہَدْیَ وَأَشْعَرَہُ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَۃِ وَبَعَثَ بَیْنَیَدَیْہِ عَیْنًا لَہُ مِنْ خُزَاعَۃَیُخْبِرُہُ عَنْ قُرَیْشٍ، وَسَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ بِغَدِیرِ الْأَشْطَاطِ قَرِیبٌ مِنْ عُسْفَانَ أَتَاہُ عَیْنُہُ الْخُزَاعِیُّ، فَقَالَ: إِنِّی قَدْ تَرَکْتُ کَعْبَ بْنَ لُؤَیٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَیٍّ قَدْ جَمَعُوا لَکَ الْأَحَابِشَ، وَجَمَعُوا لَکَ جُمُوعًا، وَہُمْ مُقَاتِلُوکَ وَصَادُّوکَ عَنِ الْبَیْتِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَشِیرُوا عَلَیَّ أَتَرَوْنَ أَنْ نَمِیلَ إِلٰی ذَرَارِیِّ ہٰؤُلَائِ الَّذِینَ أَعَانُوہُمْ فَنُصِیبَہُمْ، فَإِنْ قَعَدُوا قَعَدُوا مَوْتُورِینَ مَحْرُوبِینَ وَإِنْ نَجَوْا، وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: مَحْزُونِینَ وَإِنْ یَحْنُونَ، تَکُنْ عُنُقًا قَطَعَہَا اللَّہُ، أَوْ تَرَوْنَ أَنْ نَؤُمَّ الْبَیْتَ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْہُ قَاتَلْنَاہُ۔)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: اَللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِینَ وَلَمْ نَجِئْ نُقَاتِلُ أَحَدًا، وَلٰکِنْ مَنْ حَالَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْبَیْتِ قَاتَلْنَاہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((فَرُوحُوا إِذًا۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا قَطُّ کَانَ أَکْثَرَ مَشُورَۃً لِأَصْحَابِہِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ الزُّہْرِیُّ فِی حَدِیثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ: فَرَاحُوا حَتّٰی إِذَا کَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بِالْغَمِیمِ فِی خَیْلٍ لِقُرَیْشٍ طَلِیعَۃً، فَخُذُوا ذَاتَ الْیَمِینِ۔)) فَوَاللّٰہِ! مَا شَعَرَ بِہِمْ خَالِدٌ حَتّٰی إِذَا ہُوَ بِقَتَرَۃِ الْجَیْشِ فَانْطَلَقَ یَرْکُضُ نَذِیرًا لِقُرَیْشٍ، وَسَارَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ بِالثَّنِیَّۃِ الَّتِییَہْبِطُ عَلَیْہِمْ مِنْہَا بَرَکَتْ بِہِ رَاحِلَتُہُ، وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: بَرَکَتْ بِہَا رَاحِلَتُہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((حَلْ حَلْ۔)) فَأَلَحَّتْ فَقَالُوا: خَلَأَتِ الْقَصْوَائُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَائُ وَمَا ذَاکَ لَہَا بِخُلُقٍ وَلٰکِنْ حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیلِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَا یَسْأَلُونِّی خُطَّۃًیُعَظِّمُونَ فِیہَا حُرُمَاتِ اللّٰہِ إِلَّا أَعْطَیْتُہُمْ إِیَّاہَا۔)) ثُمَّ زَجَرَہَا فَوَثَبَتْ بِہِ، قَالَ: فَعَدَلَ عَنْہَا حَتّٰی نَزَلَ بِأَقْصَی الْحُدَیْبِیَۃِ عَلٰی ثَمَدٍ قَلِیلِ الْمَائِ، إِنَّمَا یَتَبَرَّضُہُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ یَلْبَثْہُ النَّاسُ أَنْ نَزَحُوہُ، فَشُکِیَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَطَشُ فَانْتَزَعَ سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِہِ، ثُمَّ أَمَرَہُمْ أَنْ یَجْعَلُوہُ فِیہِ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا زَالَ یَجِیشُ لَہُمْ بِالرِّیِّ حَتّٰی صَدَرُوا عَنْہُ، قَالَ: فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إِذْ جَائَ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ الْخُزَاعِیُّ فِی نَفَرٍ مِنْ قَوْمِہِ، وَکَانُوا عَیْبَۃَ نُصْحٍ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَہْلِ تِہَامَۃَ، وَقَالَ: إِنِّی تَرَکْتُ کَعْبَ بْنَ لُؤَیٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَیٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِیَاہِ الْحُدَیْبِیَۃِ مَعَہُمْ الْعُوذُ الْمَطَافِیلُ وَہُمْ مُقَاتِلُوکَ وَصَادُّوکَ عَنِ الْبَیْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلٰکِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِینَ، وَإِنَّ قُرَیْشًا قَدْ نَہَکَتْہُمُ الْحَرْبُ فَأَضَرَّتْ بِہِمْ، فَإِنْ شَائُ وا مَادَدْتُہُمْ مُدَّۃً وَیُخَلُّوا بَیْنِی وَبَیْنَ النَّاسِ، فَإِنْ أَظْہَرْ فَإِنْ شَائُ وْا أَنْ یَدْخُلُوا فِیمَا دَخَلَ فِیہِ النَّاسُ فَعَلُوا وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوْ وَإِنْ ہُمْ أَبَوْا، وَإِلَّا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَأُقَاتِلَنَّہُمْ عَلٰی أَمْرِی ہٰذَا حَتّٰی تَنْفَرِدَ سَالِفَتِی، أَوْ لَیُنْفِذَنَّ اللّٰہُ أَمْرَہُ۔)) قَالَ یَحْیٰی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: ((حَتّٰی تَنْفَرِدَ، قَالَ: فَإِنْ شَائُ وْا مَادَدْنَاہُمْ مُدَّۃً۔))، قَالَ بُدَیْلٌ: سَأُبَلِّغُہُمْ مَا تَقُولُ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی أَتٰی قُرَیْشًا فَقَالَ، إِنَّا قَدْ جِئْنَاکُمْ مِنْ عِنْدِ ہٰذَا الرَّجُلِ وَسَمِعْنَاہُ یَقُولُ قَوْلًا فَإِنْ شِئْتُمْ نَعْرِضُہُ عَلَیْکُمْ، فَقَالَ سُفَہَاؤُہُمْ: لَا حَاجَۃَ لَنَا فِی أَنْ تُحَدِّثَنَا عَنْہُ بِشَیْئٍ،وَقَالَ ذُو الرَّأْیِ مِنْہُمْ: ہَاتِ مَا سَمِعْتَہُ یَقُولُ، قَالَ: قَدْ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: کَذَا وَکَذَا، فَحَدَّثَہُمْ بِمَا قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیُّ فَقَالَ: أَیْ قَوْمُ! أَلَسْتُمْ بِالْوَلَدِ؟ قَالُوا: بَلٰی! قَالَ: أَوَلَسْتُ بِالْوَالِدِ؟ قَالُوا: بَلٰی! قَالَ: فَہَلْ تَتَّہِمُونِی، قَالُوْا: لَا، قَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّی اسْتَنْفَرْتُ أَہْلَ عُکَاظٍ فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَیَّ جِئْتُکُمْ بِأَہْلِی وَمَنْ أَطَاعَنِی؟ قَالُوا: بَلٰی! فَقَالَ: إِنَّ ہٰذَا قَدْ عَرَضَ عَلَیْکُمْ خُطَّۃَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوہَا وَدَعُونِی آتِہِ، فَقَالُوْا: ائْتِہِ فَأَتَاہُ، قَالَ: فَجَعَلَ یُکَلِّمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ نَحْوًا مِنْ قَوْلِہِ لِبُدَیْلٍ، فَقَالَ عُرْوَۃُ عِنْدَ ذٰلِکَ: أَیْ مُحَمَّدُ! أَرَأَیْتَ إِنْ اسْتَأْصَلْتَ قَوْمَکَ، ہَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَہْلَہُ قَبْلَکَ، وَإِنْ تَکُنِ الْأُخْرٰی فَوَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَرٰی وُجُوہًا وَأَرٰی أَوْبَاشًا مِنَ النَّاسِ خُلُقًا أَنْ یَفِرُّوا وَیَدَعُوکَ، فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ، نَحْنُ نَفِرُّ عَنْہُ وَنَدَعُہُ فَقَالَ: مَنْ ذَا؟ قَالُوا: أَبُو بَکْرٍ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلَا یَدٌ کَانَتْ لَکَ عِنْدِی، لَمْ أَجْزِکَ بِہَا لَأَجَبْتُکَ، وَجَعَلَ یُکَلِّمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُلَّمَا کَلَّمَہُ أَخَذَ بِلِحْیَتِہِ، وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ قَائِمٌ عَلٰی رَأْسِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ السَّیْفُ وَعَلَیْہِ الْمِغْفَرُ، وَکُلَّمَا أَہْوٰی عُرْوَۃُ بِیَدِہِ إِلَی لِحْیَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَرَبَ یَدَہُ بِنَصْلِ السَّیْفِ، وَقَالَ: أَخِّرْ یَدَکَ عَنْ لِحْیَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَفَعَ عُرْوَۃُیَدَہُ فَقَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالُوا: الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ، قَالَ: أَیْ غُدَرُ أَوَلَسْتُ أَسْعٰی فِی غَدْرَتِکَ؟ وَکَانَ الْمُغِیرَۃُ صَحِبَ قَوْمًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَتَلَہُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَہُمْ ثُمَّ جَائَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمَّا الْإِسْلَامُ فَأَقْبَلُ وَأَمَّا الْمَالُ فَلَسْتُ مِنْہُ فِی شَیْئٍ۔)) ثُمَّ إِنَّ عُرْوَۃَ جَعَلَ یَرْمُقُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَیْنِہِ قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُخَامَۃً إِلَّا وَقَعَتْ فِی کَفِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ فَدَلَکَ بِہَا وَجْہَہُ وَجِلْدَہُ، وَإِذَا أَمَرَہُمْ ابْتَدَرُوْا أَمْرَہُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوا یَقْتَتِلُونَ عَلٰی وَضُوئِہِ، وَإِذَا تَکَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَہُمْ عِنْدَہُ، وَمَا یُحِدُّونَ إِلَیْہِ النَّظَرَ تَعْظِیمًا لَہُ، فَرَجَعَ إِلٰی أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: أَیْ قَوْمِ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَی الْمُلُوکِ، وَوَفَدْتُ عَلٰی قَیْصَرَ وَکِسْرٰی وَالنَّجَاشِیِّ، وَاللّٰہِ! إِنْ رَأَیْتُ مَلِکًا قَطُّ یُعَظِّمُہُ أَصْحَابُہُ مَا یُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاللّٰہِ! إِنْ یَتَنَخَّمُ نُخَامَۃً إِلَّا وَقَعَتْ فِی کَفِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ فَدَلَکَ بِہَا وَجْہَہُ وَجِلْدَہُ، وَإِذَا أَمَرَہُمْ ابْتَدَرُوْا أَمْرَہُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوا یَقْتَتِلُونَ عَلٰی وَضُوئِہِ، وَإِذَا تَکَلَّمُوا خَفَضُوا أَصْوَاتَہُمْ عِنْدَہُ، وَمَا یُحِدُّونَ إِلَیْہِ النَّظَرَ تَعْظِیمًا لَہُ، وَإِنَّہُ قَدْ عَرَضَ عَلَیْکُمْ خُطَّۃَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوہَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ: دَعُونِی آتِہِ، فَقَالُوْا: ائْتِہِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ہٰذَا فُلَانٌ وَہُوَ مِنْ قَوْمٍ یُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ فَابْعَثُوْہَا لَہُ۔)) فَبُعِثَتْ لَہُ وَاسْتَقْبَلَہُ الْقَوْمُ یُلَبُّونَ، فَلَمَّا رَأٰی ذٰلِکَ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! مَا یَنْبَغِی لِہٰؤُلَائِ أَنْ یُصَدُّوْا عَنِ الْبَیْتِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلٰی أَصْحَابِہِ، قَالَ: رَأَیْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ، فَلَمْ أَرَ أَنْ یُصَدُّوا عَنِ الْبَیْتِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ: مِکْرَزُ بْنُ حَفْصٍ، فَقَالَ: دَعُونِی آتِہِ، فَقَالُوْا: ائْتِہِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَیْہِمْ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ہٰذَا مِکْرَزٌ وَہُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ۔)) فَجَعَلَ یُکَلِّمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَیْنَا ہُوَ یُکَلِّمُہُ إِذْ جَائَہُ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِیأَیُّوبُ عَنْ عِکْرِمَۃَ: أَنَّہُ لَمَّا جَائَ سُہَیْلٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((سَہُلَ مِنْ أَمْرِکُمْ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ فِی حَدِیثِہِ: فَجَائَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ: ہَاتِ اکْتُبْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابًا، فَدَعَا الْکَاتِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلٌ: أَمَّا الرَّحْمَنُ، فَوَاللّٰہِ! مَا أَدْرِی مَا ہُوَ؟ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ: مَا ہُوَ؟ وَلَکِنْ اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ کَمَا کُنْتَ تَکْتُبُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: وَاللّٰہِ! مَا نَکْتُبُہَا إِلَّا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ۔)) ثُمَّ قَالَ: ہٰذَا مَا قَاضٰی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ سُہَیْلٌ: وَاللّٰہِ! لَوْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ مَا صَدَدْنَاکَ عَنِ الْبَیْتِ وَلَا قَاتَلْنَاکَ، وَلٰکِنْ اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَاللّٰہِ! إِنِّی لَرَسُولُ اللّٰہِ وَإِنْ کَذَّبْتُمُونِی، اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَذٰلِکَ لِقَوْلِہِ لَایَسْأَلُونِّی خُطَّۃًیُعَظِّمُونَ فِیہَا حُرُمَاتِ اللّٰہِ إِلَّا أَعْطَیْتُہُمْ إِیَّاہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((عَلٰی أَنْ تُخَلُّوا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَنَطُوفَ بِہِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلٌ: وَاللّٰہِ! لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّا أُخِذْنَا ضُغْطَۃً وَلٰکِنْ لَکَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَکَتَبَ، فَقَالَ سُہَیْلٌ: عَلٰی أَنَّہُ لَا یَأْتِیکَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ کَانَ عَلٰی دِینِکَ إِلَّا رَدَدْتَہُ إِلَیْنَا، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! کَیْفَیُرَدُّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ وَقَدْ جَائَ مُسْلِمًا؟ فَبَیْنَا ہُمْ کَذٰلِکَ إِذْ جَائَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو یَرْسُفُ وَقَالَ یَحْیٰی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: یَرْصُفُ فِی قُیُودِہِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ حَتّٰی رَمٰی بِنَفْسِہِ بَیْنَ أَظْہُرِ الْمُسْلِمِینَ، فَقَالَ سُہَیْلٌ: ہٰذَا یَا مُحَمَّدُ! أَوَّلُ مَا أُقَاضِیکَ عَلَیْہِ أَنْ تَرُدَّہُ إِلَیَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْکِتَابَ بَعْدُ۔)) قَالَ: فَوَاللّٰہِ! إِذًا لَا نُصَالِحُکَ عَلٰی شَیْئٍ أَبَدًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((فَأَجِزْہُ لِی۔)) قَالَ: مَا أَنَا بِمُجِیرِہِ لَکَ قَالَ: بَلَی، فَافْعَلْ، قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ مِکْرَزٌ: بَلٰی، قَدْ أَجَزْنَاہُ لَکَ، فَقَالَ أَبُو جَنْدَلٍ: أَیْ مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِینَ أُرَدُّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ، وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِیتُ، وَکَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِیدًا فِی اللّٰہِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ أَلَسْتَ نَبِیَّ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قُلْتُ: أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ؟ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا إِذًا؟ قَالَ: ((إِنِّی رَسُولُ اللّٰہِ وَلَسْتُ أَعْصِیہِ وَہُوَ نَاصِرِی۔)) قُلْتُ: أَوَلَسْتَ کُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِی الْبَیْتَ فَنَطُوفُ بِہِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قَالَ: ((أَفَأَخْبَرْتُکَ أَنَّکَ تَأْتِیہِ الْعَامَ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَإِنَّکَ آتِیہِ وَمُتَطَوِّفٌ بِہِ۔)) قَالَ: فَأَتَیْتُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا بَکْرٍ! أَلَیْسَ ہٰذَا نَبِیُّ اللّٰہِ حَقًّا؟ قَالَ: بَلٰی، قُلْتُ: أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ: بَلٰی، قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا إِذًا؟ قَالَ: أَیُّہَا الرَّجُلُ! إِنَّہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَیَعْصِیرَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ نَاصِرُہُ فَاسْتَمْسِکْ، وَقَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ: بِغَرْزِہِ، وَقَالَ: تَطَوَّفْ بِغَرْزِہِ حَتّٰی تَمُوتَ فَوَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَعَلَی الْحَقِّ، قُلْتُ: أَوَلَیْسَ کَانَ یُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِی الْبَیْتَ وَنَطُوفُ بِہِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قَالَ: أَفَأَخْبَرَکَ أَنَّہُ یَأْتِیہِ الْعَامَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ فَإِنَّکَ آتِیہِ وَمُتَطَوِّفٌ بِہِ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: قَالَ عُمَرُ: فَعَمِلْتُ لِذَلِکَ أَعْمَالًا، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِیَّۃِ الْکِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((قُومُوْا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا۔)) قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا قَامَ مِنْہُمْ رَجُلٌ حَتّٰی قَالَ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ یَقُمْ مِنْہُمْ أَحَدٌ قَامَ فَدَخَلَ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ فَذَکَرَ لَہَا مَا لَقِیَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُحِبُّ ذٰلِکَ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْہُمْ کَلِمَۃً حَتّٰی تَنْحَرَ بُدْنَکَ وَتَدْعُوَ حَالِقَکَ فَیَحْلِقَکَ، فَقَامَ فَخَرَجَ فَلَمْ یُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْہُمْ حَتّٰی فَعَلَ ذٰلِکَ نَحَرَ ہَدْیَہُ وَدَعَا حَالِقَہُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذٰلِکَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُہُمْ یَحْلِقُ بَعْضًا، حَتّٰی کَادَ بَعْضُہُمْ یَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا، ثُمَّ جَائَہُ نِسْوَۃٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا جَاء َکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ حَتّٰی بَلَغَ بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ} قَالَ: فَطَلَّقَ عُمَرُ یَوْمَئِذٍ امْرَأَتَیْنِ کَانَتَا لَہُ فِی الشِّرْکِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاہُمَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ، وَالْأُخْرٰی صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَجَائَہُ أَبُو بَصِیرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ مُسْلِمٌ، وَقَالَ یَحْیٰی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ: فَقَدِمَ عَلَیْہِ أَبُو بَصِیرِ بْنُ أُسَیْدٍ الثَّقَفِیُّ مُسْلِمًا مُہَاجِرًا، فَاسْتَأْجَرَ الْأَخْنَسُ بْنُ شَرِیقٍ رَجُلًا کَافِرًا مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، وَمَوْلًی مَعَہُ وَکَتَبَ مَعَہُمَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُہُ الْوَفَائَ فَأَرْسَلُوْا فِی طَلَبِہِ رَجُلَیْنِ، فَقَالُوْا: الْعَہْدَ الَّذِی جَعَلْتَ لَنَا فِیہِ، فَدَفَعَہُ إِلَی الرَّجُلَیْنِ فَخَرَجَا بِہِ حَتَّی بَلَغَا بِہِ ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَنَزَلُوْا یَأْکُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَہُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِیرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَیْنِ: وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَرٰی سَیْفَکَیَا فُلَانُ ہٰذَا جَیِّدًا، فَاسْتَلَّہُ الْآخَرُ، فَقَالَ: أَجَلْ وَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَجَیِّدٌ لَقَدْ جَرَّبْتُ بِہِ ثُمَّ جَرَّبْتُ، فَقَالَ أَبُو بَصِیرٍ: أَرِنِی أَنْظُرْ إِلَیْہِ، فَأَمْکَنَہُ مِنْہُ فَضَرَبَہُ حَتّٰی بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتّٰی أَتَی الْمَدِینَۃَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ یَعْدُو، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ رَأٰی ہٰذَا ذُعْرًا۔)) فَلَمَّا انْتَہٰی إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُتِلَ وَاللّٰہِ! صَاحِبِی وَإِنِّی لَمَقْتُولٌ، فَجَائَ أَبُو بَصِیرٍ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! قَدْ وَاللّٰہِ! أَوْفَی اللّٰہُ ذِمَّتَکَ قَدْ رَدَدْتَنِی إِلَیْہِمْ ثُمَّ أَنْجَانِی اللّٰہُ مِنْہُمْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَیْلُ أُمِّہِ مِسْعَرُ حَرْبٍ لَوْ کَانَ لَہُ أَحَدٌ۔)) فَلَمَّا سَمِعَ ذٰلِکَ عَرَفَ أَنَّہُ سَیَرُدُّہُ إِلَیْہِمْ فَخَرَجَ حَتّٰی أَتٰی سِیفَ الْبَحْرِ، قَالَ: وَیَتَفَلَّتُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِی بَصِیرٍ، فَجَعَلَ لَا یَخْرُجُ مِنْ قُرَیْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِی بَصِیرٍ حَتَّی اجْتَمَعَتْ مِنْہُمْ عِصَابَۃٌ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا یَسْمَعُونَ بِعِیرٍ خَرَجَتْ لِقُرَیْشٍ إِلَی الشَّامِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَہَا فَقَتَلُوہُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَہُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَیْشٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُنَاشِدُہُ اللّٰہَ وَالرَّحِمَ، لَمَّا أَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَمَنْ أَتَاہُ فَہُوَ آمِنٌ، فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ حَتّٰی بَلَغَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ} وَکَانَتْ حَمِیَّتُہُمْ أَنَّہُمْ لَمْ یُقِرُّوا أَنَّہُ نَبِیُّ اللّٰہِ، وَلَمْ یُقِرُّوا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، وَحَالُوا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۳۶)
"سیدنا مسور بن مخرمۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا مروان بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے بیان کی تصدیق کرتا ہے، ان دونوں کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حدیبیہ کے دنوں میں چودہ پندرہ سو صحابہ کی معیت میں روانہ ہوئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذوالحلیفہ کے مقام پرپہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے جانوروں کے گلوں میں بطور علامت قلادے ڈالے اور ان کے پہلو کو چیرا دیا اور عمرہ کا احرام باندھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے آگے آگے بنو خزاعہ کے ایک شخص کو بطور جاسوس بھیجا تاکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قریش کے ارادوں اور پروگرام سے آگاہ کرتا رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ جب آپ مقامِ عسفان کے قریب غدیرِ اشطاط پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خزاعی جاسوس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی کہ میں کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو دیکھ کر آیا ہوں، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مدمقابل آنے کے لیے بہت سے قبائل کو جمع کر چکے ہیں۔ وہ آپ سے قتال کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ آپ کوبیت اللہ کی طرف جانے سے روکنے کے درپے ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا خیال ہے کہ جن لوگوں نے ان قریش کی مدد کی ہے، ہم ان کی عورتوں اور بچوں کی طرف چل پڑیں، اگر یہ لوگ وہیں قریش کے پاس ہی بیٹھے رہے تو ہم ان کے اموال حاصل کر لیں گے اور ان کے اہل وعیال کو گرفتار کر لیں گے اور اگر یہ کفار کا ساتھ چھوڑ کر اپنے اموال اور اہل وعیال کو بچانے کی خاطر ادھر سے واپس آگئے تو اس طرح اللہ تعالیٰ کفار کی معاون ایک جماعت کو ان سے الگ کر دے گا یا تم کیا مشورہ دیتے ہو کہ کیا ہم بیت اللہ کی طرف روا دواں رہیں، اور جس نے ہمیں اُدھر جانے سے روکا، ہم اس سے لڑ پڑیں گے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:اے اللہ کے نبی! اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، بہرحال ہم تو عمرہ کے ارادہ سے آئے ہیں، ہم کسی سے قتال کرنے کے لیے تو نہیں آئے، البتہ جو شخص ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا اس سے ہم قتال کر یں گے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا پھر چلو۔ راویِ حدیث امام زہری کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر اپنے ساتھیوں سے اس قدر مشورے کرتا ہو، چنانچہ لوگ چل پڑے حتیٰ کہ جب راستے کے درمیان میں ہی تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خالد بن ولید قریش کے ایک چھوٹے سے گھڑ سوار لشکر کے ہمراہ( رابغ اور جحفہ کے درمیان) غمیم کے مقام پر موجود ہے، پس تم دائیں طرف والے راستے سے چلو۔ اللہ کی قسم! خالد کو ان کا پتہ بھی نہ چل سکا، یہاں تک کہ اس نے اچانک لشکر کے چلنے کی وجہ سے اڑتا غبار دیکھا وہ تو اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر قریش کوخبردار کرنے کے لیے دوڑنکلااور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رواں دواں رہے، تاآنکہ اس گھاٹی پر پہنچ گئے جہاں سے اہلِ مکہ کی طرف اترتے ہیں، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی،تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چل چل۔ مگر وہ بیٹھی رہی اور کھڑی نہ ہوئی، صحابہ کہنے لگے کہ قصوا ضد کر گئی،قصواء اڑی کر گئی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قصواء نے ضدنہیں کی اور نہ ہییہ اس کی عادت ہے، دراصل اسے اس اللہ نے آگے جانے سے روکا ہے، جس نے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم! یہ کافر مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں، جس سے وہ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرتے ہوں تو میں ان کی ایسی ہر بات تسلیم کر لوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹنی کو کھڑا کرنے کے لیے ہانکا تو وہ کود کر اُٹھ کھڑی ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس راستے سے دوسرے راستے پر چل دئیے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حدیبیہ کے قریب ایک ایسی جگہ جا کر رکے جہاں قلیل مقدار میں پانی تھا، لوگ اسے چلووں سے تھوڑا تھوڑا جمع کر سکتے تھے، لوگوں نے اسے کچھ ہی دیر میں ختم کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور انہیں حکم دیا کہ اسے اس چشمے یا گڑھے میں گاڑ دیں۔اللہ کی قسم! صحابہ کی وہاں سے روانگیتک وہاں سے پانی جوش مار مار کر ابلتا رہا اور لوگوں کو سیراب کرتا رہا، صحابہ کرام وہیں اسی حال میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم کے افراد کے ہمراہ وہاں آگیا۔ اہلِ تہامہ میں سے یہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاص راز دار تھے۔ اس نے کہا میں نے کعب بن لوی اور عامر بن لوی کو حدیبیہ کے ختم نہ ہونے والے ذخیروں کے پاس چھوڑا ہے۔ ان کے پاس تازہ بچے دینے والی شیردار اونٹنیاں ہیں، جن کے بچے بھی ہم راہ ہیں، وہ آپ سے قتال کرنے اور آپ کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روکنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم تو کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے، ہم تو عمرہ کے ارادہ سے آئے ہیں، قریش کو لڑائیاں کم زور کر چکی ہیں اور ان کو شدید نقصان پہنچا چکی ہیں۔ وہ چاہیں گے تو میں انہیں ( جنگ نہ کرنے کے لیے) ایک لمبی مدت دے سکتا ہوں، بشرطیکہ وہ میرے اور لوگوں کے درمیان حائل نہ ہوں، اگر میں غالب رہوں تو ان کی مرضی ہے کہ یہ بھی اس دین میں آجائیں، جس میں دوسرے لوگ داخل ہو رہے ہیں، اگر وہ اسلام نہ بھی قبول کریں تب بھی جنگ کے سلسلہ میں تو مطمئن رہیں گے اور اگر ان سب باتوں کو ماننے سے انکار کریں تو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اس دین کے بارے میں ان لوگوں سے قتال کروں گایہاں تک کہ یا تو اس راہ میں میری گردن کٹ جائے یا اللہ اپنے دین کو غالب کر دے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر قریش چاہیں تو ہم انہیں جنگ نہ کرنے کی ایک طویل مدت دے سکتے ہیں۔ بدیل نے کہا: میں آپ کی باتیں قریش تک پہنچا دوں گا، وہ قریش کے ہاں گیا اور کہا کہ ہم تمہارے پاس اس آدمی کے ہاں سے آئے ہیں، ہم نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے، اگر تم چاہو تو ہم اس کی بات تمہارے سامنے پیش کریں، ان قریش کے بعض کم عقل لوگوںنے کہا: ہمیں اس بات کی قطعاً ضرورت نہیں کہ تم ہمیں ان کی کوئی بات سناؤ۔ لیکن ان میں سے اصحابِ رائے نے کہا: ہاں ہاں بتاؤ وہ کیا کہتا ہے؟ بدیل نے کہا: میں نے اسے یہ کہتے سنا ہے اور اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ساری بات ان کو بتا دی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن کر عروہ بن مسعود ثقفی اُٹھا اور اس نے کہا: لوگو! کیا تم اولاد1 کی طرح نہیں ہو؟ اس نے کہا کیا میں باپ کی طرح نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا ہاں وہ بولا تو کیا تم میرے متعلق کوئی بدگمانی کرتے ہو؟ وہ بولے کہ نہیں۔ اس نے کہا تم جانتے ہو کہ میں نے اہلِ عکاظ کو تمہارے حق میں لڑائی کے لیے پکارا تھا۔ ان میں سے کسی نے میری پکار کا اثبات میں جواب نہیں دیا تھا تو میں اپنے اہل وعیال کو اور اپنی بات ماننے والے سب لوگوں کو لے آیا تھا۔ سب نے کہا ہاں درست ہے۔ وہ بولا بے شک اس محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہارے سامنے بہترین تجویز رکھی ہے۔ تم اسے قبول کر لو۔ اور مجھے اجازت دو تاکہ میں بات چیت کرنے کے لیے اس کے پاس چلوں انہوں نے کہا تم جا سکتے ہو۔ وہ عروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا۔ اور آپ سے گفت وشنید کرنے لگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بھی ویسی ! جس طرح صحیح بخاری میں الفاظ ہیں، عربی بھی اسی انداز میں اور ترجمہ بھی اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے اسل کی طرف رجوع بہتر رہے گا۔ (عبداللہ رفیق) ہی بات کی جیسی بدیل سے کی تھی۔ تب اس موقعہ پر عروہ نے کہا اے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! کیا خیال ہے اگر آپ اپنی قوم کی جڑیں کاٹ ڈالیں گے تو کیا آپ نے سنا کہ آپ سے پہلے بھی کسی نے اپنی قوم کے ساتھ یہ سلوک کیاہو؟ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو یعنی آپ کی قوم قریش غالب آجائے تو اللہ کی قسم میں آپ کے ساتھیوں میں ایسے چہرے اور ایسے مختلف اقوام وملل کے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو وقت آنے پر آپ کو بے یارو مدد گار چھوڑ کر فرار ہو جائیں گے۔ یہ سن کر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے غصے سے کہا جا جا تو لات کی شرم گاہ کو بوسے دے، کیایہ ہو سکتا ہے کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یونہی بے یارومددگار چھور کر بھاگ جائیں۔ عروہ نے پوچھا۔ یہ بولنے والے کون ہیں؟لوگوں نے بتایایہ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں تو عروہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تمہارا مجھ پر ایک احسان ہے میں اس کا بدلہ نہیں چکا سکا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں تمہاری بات کا جواب دیتا۔ اور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محوِ گفتگو ہو گیا۔ وہ جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہم کلام ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگا تا۔ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تلوار ہاتھ میں لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب کھڑے تھے۔ ان کے سر پر خود تھی۔ جب عروہ اپنا ہاتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک کی طرف بڑھانا تو مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تلوار کی نوک اس کے ہاتھ پر رکھتا اور فرماتا تم اپنا ہاتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی سے دور رکھو۔ عروہ نے اپنا ہاتھ تو اُٹھالیا اور پوچھا یہ کون ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ یہ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے۔ وہ بولا ارے بے وفا؟ کیا میں تیری بے وفائی میں تیری معاونت نہیں کرتا رہا؟ دراصل مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قبل از اسلام کچھ لوگوں سے تعلق رکھا۔ پھر انہیں قتل کر کے اور ان کے اموال چھین کر آکر مسلمان ہو گیا تھا۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا تمہارا اسلام تو قبول ہے البتہ اس مال سے میرا کچھ تعلق اور واسطہ نہیں۔ اس دوران عروہ صحابہ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رویہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔وہ کہتا ہے اللہ کی قسم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی بلغم پھینکی تو ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر جا گری اور اس نے اسے اپنے چہرے یا جلد پر مل لیا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی انہیں کوئی حکم دیا تو سب اس کیتعمیل میں لپکے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب وضوء کیا تو وضوء سے نیچے گرنے والے پانی کو حاصل کرنے کی خاطر وہ یوں جھپٹتے گویا کہ وہ لڑ پڑیں گے۔ وہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب کوئی بات کرتے تو احتراماً اپنی آوازوں کو انتہائی پست کر لیتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تکریم کرتے ہوئے آپ کی طرف نظریں نہیں اُٹھاتے وہ اپنے ساتھیوں کی طرف واپس گیا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی قسم! میں بڑے بڑے بادشاہوں قیصروکسریٰ اور نجاشی جیسے لوگوں کے پاس گیا ہوں اللہ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے درباری اس کا اتنا احترام کرتے ہوں جتنا احترام اصحاب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ اگر بلغم پھینکے تو وہ ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر گرتی ہے اور وہ اسے اپنے چہرے اور جلد پر مل لیتا ہے۔ وہ جب انہیں کوئی حکم دیتا ہے تو اس کی تعمیل میں سب لوگ لپک لپک جاتے ہیں۔ وہ جب وضو کرتا ہے تو وہ اس کے وضوء سے نیچے گرنے والے پانی کو حاصل کرنے کے لیےیوں جھپٹتے ہیں کہ شاید لڑ پڑیں گے۔ وہ جب بولتے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب اپنی آوازوں کو انتہائی پست کر لیتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا احترام کرتے ہوئے وہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نظریں اُٹھا کر نہیں دیکھتے اس نے آپ لوگوں کے سامنے بہترین تجویز رکھی ہے تم لوگ اسے قبول کر لو۔ اس کی باتیں سن کر بنو کنانہ کا ایک آدمی بولا مجھے اجازت دو۔ اس ( محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس میں جاتا ہوں۔ لوگوں نے کہا تم ہو آؤ۔ وہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب کے سامنے آیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ فلان شخص ہے یہ لوگ قربانی کے اونٹوں کی خوب تعظیم کرتے ہیں۔ اس کے آنے پر تم اپنے قربانی کے ان اونٹوں کو کھڑا کر دو۔ چنانچہ اونٹوں کو کھڑا کر دیا گیا۔ اور صحابہ نے تلبیہ پڑھتے ہوئے اسکا استقبال کیا۔ وہ بولا سبحان اللہ ان جیسے لوگوں کو تو بیت اللہ کی طرف جانے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ وہ جب اپنے ساتھیوں کی طرف واپس ہوا تو اس نے کہا میں دیکھ آیا ہوں کہ قربانی کے اونٹوں کے گلوں میں بطور علامات ہار ڈالے گئے ہیں۔ اور ان کے دائیں پہلو پر چیرے دئیے گئے ہیں۔ ان کو بیت اللہ کی طرف آنے سے روکے جانے کو میں پسند نہیں کرتا۔ یہ سن کر ان میں سے مکرز بن حفص نامی ایک شخص اُٹھا اور بولا مجھے اجازت دو اس یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس میں جاتا ہوں۔ اس کے ساتھیوں نے کہا تم ہو آؤ وہ جب مسلمانوں کے سامنے پہنچا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایایہ مکرز آرہا ہے یہ شریر آدمی ہے اور وہ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلام کرنے لگا۔ وہ ابھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محوِ گفتگو ہی تھا کہ سہیل بن عمرو آگیا۔عکرمہ کہتے ہیں کہ جب سہیل آیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اب تمہارا کام آسان ہو گیا۔ زہری کی روایتمیں ہے کہ سہیل بن عمرو نے آکر کہا کوئی کاغذ لاؤ۔ میں اپنے اور آپ کے مابین ایک تحریر لکھ دیتا ہوں۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کاتب ( سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کو بلایا۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم، سہیل نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ رحمان کون ہے؟ البتہ آپ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ لکھیں جیسا کہ اس سے پہلے آپ لکھا کرتے تھے، تو مسلمانوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم تو بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ ہی لکھو۔ پھر فرمایایہ وہ تحریر ہے جس پر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معاہدہ کرتے ہیں۔ تب بھی سہیل نے کہا اللہ کی قسم اگر ہم یہ مانتے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واقعی اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ کی طرف آنے سے نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑائیاں کرتے۔ آپ لکھیں محمد بن عبداللہ زہری کہتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبل ازیں فرما چکے تھے کہ یہ لوگ مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی حرمات یعنی شعائر کی تعظیم کریں تو میں ان کی ایسی ہر بات تسلیم کر وں گا۔ اس لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا( لکھو) یہ معاہدہ ہے بشرطیکہ تم ہمارے بیت اللہ تک جانے سے رکاوٹ نہ ڈالو۔ تاکہ ہم وہاں جا کر طواف کر سکیں۔ تو سہیل نے کہا اللہ کی قسم! عرب یوں نہ کہیں کہ ہم پرزبردستی کی گئی ہے۔ لیکن آپ امسال کی بجائے اگلے سال تشریف لے آئیں۔ چنانچہ معاہدہ لکھا گیا۔ سہیل نے کہا یہ معاہدہ ہے کہ ہمارے ہاں سے( یعنی مکہ سے) کوئی آدمی اگر آپ کے ہاں( مدینہ) گیا تو آپ اسے واپس کریں گے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ سن کر مسلمانوں نے کہا سبحان اللہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمان ہو کر آئے اور اسے مشرکین کے حوالے کر دیا جائے۔ وہ ابھی لکھ ہی رہے تھے کہ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن سہیل بن عمرو اپنی بیڑیوں میں مقید آہستہ آہستہ چلتا ہوا وہاں پہنچ گئے۔ وہ مکہ کے نشیبی حصہ کی طرف سے نکل آئے تھے۔ وہ آکر مسلمانوں کے درمیان گر گئے۔ یہ دیکھ کر سہیل نے کہا اے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! معاہدہ کے مطابق میں پہلا مطالبہ یہ کرتا ہوں کہ آپ اسے میرے حوالے کریں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابھی تک تو ہم معاہدہ کی تحریر لکھ کر فارغ ہی نہیں ہوئے یعنی معاہدہ مکمل ہی نہیں ہوا۔ وہ بولا اللہ کی قسم! اگر یہ بات ہے تو ہم آپ کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ نہیں کرتے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔ اسے نافذ ہونے دو وہ بولا میں اس معاہدہ کو آپ کے حق میں نافذ نہ ہونے دوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، بہتر ہے کہ مان جاؤ۔ وہ بولا میں بالکل نہیں مان سکتا۔ تو مکرز نے کہا ٹھیک ہے ہم اس معاہدہ کو نافذ کرتے ہیں ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگے مسلمانو! میں مسلمان ہوں کیا مجھے مشرکین کے حوالے کر دیا جائے گا؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں کس قدر مصائب اور ظلم وستم جھیل رہا ہوں؟ اسے اللہ کی راہ میں بہت زیادہ ایذائیں دی گئی تھیں۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیںیہ مناظر دیکھ کر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے نبی نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کیوں نہیں؟ میں نے عرض کیا، کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کمزوری کیوں دکھائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔میں اس کی نافرمانی اور حکم عدولی نہیں کر سکتا۔ وہی میرا ناصر اور مددگار ہے۔ میں نے عرض کیا، کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے یوں نہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ جا کر اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا ہان لیکن کیا میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ اسی سال؟ میں نے عرض کیا، نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا پس تم وہاں جاؤ گے اور طواف کرو گے۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلا گیا۔ اور عرض کیا اے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے سچے نبی نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے عرض کیا کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ انہوں نے کہا بالکل۔ میں نے کہا پھر ہم اپنے دین کے متعلق کمزوری کیوں دکھائیں؟ وہ بولے ارے وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہ اپنے رب کی نافرمانییا حکم عدولی نہیں کرتے، اللہ ہی ان کی مدد کرے گا۔ تم ان کی بات کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور مرتے دم تک اسی پر ثابت قدم رہو۔ اللہ کی قسم وہ (رسول) حق پر ہی ہیں۔ میں نے کہا کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے یوں نہ کہا کرتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ جا کر اس کا طواف کریں گے؟ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا، ہاں، لیکن کیا انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال؟ میں نے کہا کہ یہ تو نہیں کہا تھا۔ وہ بولے پس تم بیت اللہ جاؤ گے اور طواف کرو گے۔ زہری کی روایت میں ہے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنی اس جسارت کی تلافی کے لیے ( نمازیں، روزے اور صدقات وغیرہ) بہت سے اعمال کئے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم معاہدہ کی تحریر کے معاملہ سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے فرمایا اُٹھ کر اونٹوں کو نحر کرو اور اس کے بعدسر منڈوا دو۔ اللہ کی قسم! آپ نے اپنییہ بات تین دفعہ کہی لیکن اس کام کے لیے ایک بھی آدمی کھڑا نہ ہوا۔ جب کوئی بھی آدمی نہ اُٹھا تو آپ اُمّ المؤمنین سیّدہ ام سلمہ c کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے لوگوں کی حالت کا ذکر کیا۔ تو انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! کیا آپ واقعییہ کام کرنا چاہتے ہیں؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی سے کچھ نہ کہیں اور جا کر اپنا اونٹ نحر کر دیں۔ اور بال مونڈنے والے کو بلا کر بال منڈا لیں۔ چنانچہ آپ اُٹھ کر باہر تشریف لائے۔ اور آپ نے کسی سے کچھ نہ کہا۔ آپ نے اپنے اونٹ کو نحرکیا۔ اور بال مونڈنے والے کو بلوایا۔ جب صحابہ نے یہ منظر دیکھا تو انہوں نے بھی اُٹھ کر اپنے اپنے اونٹوں کو نحر کیا اور وہ ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے غم کی شدت اس قدر تھی کہ قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بال مونڈتے مونڈتے کہیں ایک دوسرے کو قتل نہ کردیں۔ پھر اہل ایمان خواتین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا جَائَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ حَتّٰی بَلَغَ بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ…} … ایمان والو! جب مسلمان خواتین ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو پہلے ان کو آزمالو، ان کے ایمان کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پس اگر تم ان کو ایمان سے پختہ پاؤ تو انہیں کفار کی طرف واپس مت کرو۔ یہ اُن کے لیے اور وہ ان کے لیے حلال نہیں۔ اور ان کا فروں نے ان پر جو کچھ خرچ کیا ہو تو ان کو ادا کردو۔ اور اگر تم ان خواتین کو مہر ادا کر دو تو ان سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ اور تم کافر عورتوں کو اپنے عقد میں مت رکھو۔ ان دنوں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زوجیت میں دو مشرک بیویاں تھیں، چنانچہ انہوں نے ان دونوں کو طلاق دے دی۔ تو ان میں سے ایک کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا تھا۔ پھر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ آئے۔ تو ایک قریشی مسلمان ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن اسید ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگیا۔ اخنس بن شریق نے بنو عامر بن لؤی کے ایک کافر شخص کو اجرت پر تیار کیا اور اپنا ایک غلام اس کے ساتھ روانہ کیا اور اس نے ان دونوں کے ذریعے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے معاہدہ کو پورا کرنے کا لکھا۔ مشرکین مکہ نے ابو بصیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طلب میں ان دونوں کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کے پیش ِنظر اسے ہمارے حوالے کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے