497 Results For Hadith (Musnad Ahmad ) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11522

۔ (۱۱۵۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِیَۃِ، فَقَالَ: قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ مَقَامِی فِیکُمْ، فَقَالَ: ((اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِیْ خَیْرًا، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ حَتّٰی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَبْتَدِئُ بِالشَّہَادَۃِ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلَہَا، فَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ بَحْبَحَۃَ الْجَنَّۃِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَۃَ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَہُوَ مِنَ الِاثْنَیْنِ أَبْعَدُ، لَا یَخْلُوَنَّ أَحَدُکُمْ بِامْرَأَۃٍ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ ثَالِثُہُمَا، وَمَنْ سَرَّتْہُ حَسَنَتُہُ وَسَاء َتْہُ سَیِّئَتُہُ فَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: ایک دفعہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں،اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو ان کے بعد ہوں گے اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو (تابعین) کے بعد ہوں گے، (ان سے حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں)، اس کے بعد جھوٹ اس قدر عام ہو جائے گا کہ ایک آدمی گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دینے لگے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت میںداخل ہونا چاہتا ہے وہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے کا التزام کرے، کیونکہ شیطان ہر اس آدمی کے ساتھ رہتا ہے جو اکیلا ہو اور وہ شیطان دو آدمیوں سے ذرا دور ہو جاتا ہے، تم میں سے کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرے، کیونکہ ایسے دو افراد کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس آدمی کو نیکی کرکے خوشی اور گناہ کرکے ناخوشی ہو وہ مومن ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11523

۔ (۱۱۵۲۳)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَبَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ کَلَامٌ، فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ: تَسْتَطِیلُونَ عَلَیْنَا بِأَیَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِہَا، فَبَلَغَنَا أَنَّ ذٰلِکَ ذُکِرَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((دَعُوا لِی أَصْحَابِی، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَہَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۴۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ما بین کچھ تلخ کلامی سی ہوگئی، سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم ہمارے اوپر محض اس لیے زبان درازی کرتے ہو کہ تم ہم سے کچھ دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ جب اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے ہی میرے صحابہ کو کچھ نہ کہا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ یا کئی پہاڑوں کے برابر سونا بھی خرچ کردو تم ان کے اعمال یعنی درجوں تک نہیں پہنچ سکتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11524

۔ (۱۱۵۲۴)۔ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسٰی قَالَ: صَلَّیْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتّٰی نُصَلِّیَ مَعَہُ الْعِشَائَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَیْنَا، فَقَالَ: مَا زِلْتُمْ ہَاہُنَا، قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُلْنَا: نُصَلِّی مَعَکَ الْعِشَائَ، قَالَ: ((أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ۔)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ قَالَ: وَکَانَ کَثِیرًا مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ، فَقَالَ: ((النُّجُومُ أَمَنَۃٌ لِلسَّمَائِ فَإِذَا ذَہَبَتِ النُّجُومُ أَتَی السَّمَائَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَۃٌ لِأَصْحَابِی فَإِذَا ذَہَبْتُ أَتٰی أَصْحَابِی مَا یُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِی أَمَنَۃٌ لِأُمَّتِی فَإِذَا ذَہَبَتْ أَصْحَابِی أَتٰی أُمَّتِیْ مَا یُوعَدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۵)
سیدنا ابو موسیٰ اشعر ی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہم نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ہم کچھ انتظار کر لیں اور آپ کی معیت میں عشاء کی نماز ادا کرکے جائیں۔ چنانچہ ہم انتظار کرنے لگے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم یہیں ٹھہرے رہے ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! بس ہم نے سوچا کہ ہم عشاء کی نماز بھی آپ کی معیت میں ادا کرلیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول بھی تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اکثر آسمان کیطرف سر اٹھایا کرتے تھے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ ستارے آسمان کے امین (نگران و محافظ)ہیں،جبیہ تارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ کیفیت طاری ہو جائے گی، جس کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، یعنی آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ میں بھی اپنے صحابہ کے لیے اسی طرح امین ہوں، جب میں دنیا سے چلا جائوں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے اور آزمائشیں آجائیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ بھی میری امت کے لیے امین اور محافظ ہیں، جب میرے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو میری امت پر ان فتنوں کا دور شروع ہو جائے گا، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11525

۔ (۱۱۵۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ أَصْحَابِیْ، اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِیْ أَصْحَابِیْ لَا تَتَخِذُوْھُمْ غَرَضًا بَعْدِیْ، فَمَنْ أَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّیْ أَحَبَّہُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِیْ أَبْغَضَہُمْ، وَمَنْ أَذَاھُمْ فَقَدْ آذَانِیْ، وَمَنْ آذَانِیْ فَقَدْ آذَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَمَنْ آذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ أَنْ یَأْخُذَہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۵۴)
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے بعد انہیں سب وشتم اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، پس جس نے ان سے محبت کی، تو دراصل اس نے میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو درحقیقت اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء دی، اس نے دراصل مجھے ایذاء پہنچائی، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو دکھ پہنچایا تو اللہ عنقریب اس کا مؤاخذہ کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11526

۔ (۱۱۵۲۶)۔ عَنْ یُوْسُفَ بَنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّہٗ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَحْنُ خَیْرٌ اَمْ مَنْ بَعْدَنَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُھُمْ أُحُدًا ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِکُمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۳۶)
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا: ہم صحابہ افضل ہیںیا ہم سے بعد میں آنے والے لوگ؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بعد والوں میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ تمہارے ایک مد یا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11527

۔ (۱۱۵۲۷)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِیْ فَاِنَّ أَحَدَکُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۹۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11528

۔ (۱۱۵۲۸)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ اَشْیَمَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بِحَسْبِ أَصْحَابِی الْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۷۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11529

۔ (۱۱۵۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ فِی قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاہُ لِنَفْسِہِ فَابْتَعَثَہُ بِرِسَالَتِہِ، ثُمَّ نَظَرَ فِی قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِہِ خَیْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَہُمْ وُزَرَائَ نَبِیِّہِ یُقَاتِلُونَ عَلٰی دِینِہِ، فَمَا رَأَی الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْا سَیِّئًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ سَیِّئٌ۔ (مسند احمد: ۳۶۰۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو اس نے قلب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تمام انسانوں کے قلوب میں بہتر پایا، اس لیے اس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور ان کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا۔ پھر اس نے اس دل کے انتخاب کے بعدباقی بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی اوراصحاب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قلوب کو تمام انسانوں کے قلوب سے بہتر پایا، اس لیے اس نے انہیں اپنے نبی کے وزراء ( اورساتھی) بنا دیا،جو اس کے دین کے لیے قتال کرتے ہیں۔ پس مسلمان جس بات کو بہتر سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بہتر ہی ہوتی ہے اور مسلمان جس بات کو برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہی ہوتی ہے۔ 1
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11530

۔ (۱۱۵۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ: ((أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِی وَالْأَنْصَارَ شِعَارِی، لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا وَسَلَکَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبَۃً لَاتَّبَعْتُ شِعْبَۃَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَنْ وَلِیَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلْیُحْسِنْ إِلٰی مُحْسِنِہِمْ وَلْیَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِیئِہِمْ، وَمَنْ أَفْزَعَہُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ ہٰذَا الَّذِی بَیْنَ ہَاتَیْنِ)) وَأَشَارَ إِلٰی نَفْسِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۸۹)
سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصار کے حق میں فرمایا: عام لوگوں کے میرے ساتھ تعلق کی مثال ایسے ہے جیسے اوپر اوڑھا ہوا کپڑا ہو اور انصار کا میرے ساتھ یوں تعلق ہے جیسے کوئی کپڑا جسم کے ساتھ متصل ہو (یعنی انصاری آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاص لوگ ہیں)۔ اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری پہاڑی گھاٹی میں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا اور اگر ہجرت والی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ کسی کو انصار پر امارت و حکومت حاصل ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں کے ساتھ حسن سلوک کا برتائو کرے، اور اگر ان میں سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو وہ اس سے در گزر کرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جس کسی نے ان کو خوف زدہ کیا تو گویا اس نے مجھے خوف زدہ کیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11531

۔ (۱۱۵۳۱)۔ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ قَالَ: بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ عَرِیفِ الْأَنْصَارِ شَیْئٌ فَہَمَّ بِہِ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَقَالَ لَہُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اسْتَوْصُوْا بِالْأَنْصَارِ خَیْرًا (أَوْ قَالَ: مَعْرُوفًا) اقْبَلُوْا مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) فَأَلْقٰی مُصْعَبٌ نَفْسَہُ عَنْ سَرِیرِہِ وَأَلْزَقَ خَدَّہُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ: أَمْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرَّأْسِ وَالْعَیْنِ فَتَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۶۲)
علی بن زید سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن زبیر تک انصار کے ایک نمائندے کی کوئی شکایت پہنچی تو انہوںنے اس کے متعلق (برا بھلا یا سزا دینے کا) ارادہ کیا، سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مصعب کے ہاں جا کر ان سے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں تمہیں انصار کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، ان میں سے جو آدمی نیکوکار ہو تم اس کی بات کو قبول کرو اور جس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تم اس سے در گزر کرو۔ یہ سن کر سیدنا مصعب نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنا رخسار چٹائی پر رکھ کر کہا:اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، پھر اس انصاری کو چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11532

۔ (۱۱۵۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ النَّاسَ لَیَکْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ یَقِلُّونَ، فَمَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ أَمْرًا یَنْفَعُ فِیہِ أَحَدًا، فَلْیَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَیَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۹)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مرض الموت کے دنوں میں) سر اور منہ پر کپڑا لپیٹے باہر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! عام لوگ تعداد میںبڑھتے جا رہے ہیں اور انصار کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، پس تم میں سے جو آدمی امور خلافت پر متمکن ہو اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ انصار کے نیکوکاروں کی بات کو قبول کر لے اور ان میں سے کسی سے کوئی کوتاہی ہو تو اس سے در گزر کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11533

۔ (۱۱۵۳۳)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِیَادٍ السَّاعِدِیِّ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُوَ یُبَایِعُ النَّاسَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَایِعْ ہٰذَا، قَالَ: ((وَمَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ ابْنُ عَمِّی حَوْطُ بْنُ یَزِیدَ أَوْ یَزِیدُ بْنُ حَوْطٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا أُبَایِعُکَ، إِنَّ النَّاسَ یُہَاجِرُونَ إِلَیْکُمْ وَلَا تُہَاجِرُونَ إِلَیْہِمْ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ لَا یُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یُحِبُّہُ، وَلَا یَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یَبْغُضُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۵)
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جائو گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11534

۔ (۱۱۵۳۴)۔ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَۃَ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: أَتَتِ الْأَنْصَارُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجَمَاعَتِہِمْ فَقَالُوْا إِلٰی مَتٰی نَنْزَعُ مِنْ ہٰذِہِ الْآبَارِ، فَلَوْ أَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا اللّٰہَ لَنَا فَفَجَّرَ لَنَا مِنْ ہٰذِہِ الْجِبَالِ عُیُونًا، فَجَائُ وْا بِجَمَاعَتِہِمْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَآہُمْ قَالَ: ((مَرْحَبًا وَأَہْلًا لَقَدْ جَائَ بِکُمْ إِلَیْنَا حَاجَۃٌ)) قَالُوْا: إِی وَاللّٰہِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ لَنْ تَسْأَلُونِی الْیَوْمَ شَیْئًا إِلَّا أُوتِیتُمُوہُ، وَلَا أَسْأَلُ اللّٰہَ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَانِیہِ۔)) فَأَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ فَقَالُوْا: الدُّنْیَا تُرِیدُونَ فَاطْلُبُوا الْآخِرَۃَ، فَقَالُوْا بِجَمَاعَتِہِمْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَنَا أَنْ یَغْفِرَ لَنَا، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَوْلَادِنَا مِنْ غَیْرِنَا، قَالَ: ((وَأَوْلَادِ الْأَنْصَارِ)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَوَالِینَا؟ قَالَ: ((وَمَوَالِی الْأَنْصَارِ)) قَالَ: وَحَدَّثَتْنِی أُمِّی عَنْ أُمِّ الْحَکَمِ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ صُہْبَانَ: أَنَّہَا سَمِعَتْ أَنَسًا یَقُولُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ ہٰذَا غَیْرَ أَنَّہُ زَادَ فِیہِ: ((وَکَنَائِنِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۰۱)
عبید اللہ بن ابی بکر اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ انصار نے اکٹھے ہو کر شکوہ کیا کہ ہم کب تک ان کنوؤں سے پانی کھینچتے رہیں گے۔ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر گزارش کریں اور آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ وہ ان پہاڑوں سے ہمارے لیے چشمے جاری کر دے۔ پس وہ سب اکٹھے ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئے، آپ نے ان کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: تمہیں کوئی خاص ضرورت ہی ہماری طرف لائی ہے۔ انہوںنے کہا: اے اللہ کے رسول! واقعی بات ایسے ہی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج تم جو بھی مانگو گے، وہ تمہیں دے دیا جائے گا اور میں بھی اللہ سے جو کچھ مانگوں گا وہ مجھے عنایت کر دے گا۔ یہ سن کر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے: کیا تم دنیا طلب کرنے آئے ہو؟آخرت کی کامیابی مانگ لو۔ ان سب نے بیک زبان عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ وہ ہماری مغفرت فرما دے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کی، ان کے بیٹوں کی اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما دے۔ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور غیر انصار سے ہونے والی ہماری اولاد کے حق میں بھی دعا فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار کی سب اولاد کو بخش دے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کے حق میں بھی دعا فرما دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! انصار کے غلاموں اور لونڈیوں کی بھی مغفرت فرما دے۔ عبید اللہ بن ابی بکر کا بیان ہے کہ مجھ سے میری والدہ نے ام حکم بنت نعما ن بن صہباء کی روایت سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میںنے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ انصار نے مزید درخواست کی کہ اللہ کے رسول ہمارے بیٹوں کی بیویوں اور ہمارے بھائیوں کی بیویوں کے حق میں بھی دعائے مغفرت کر دیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11535

۔ (۱۱۵۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: شَقَّ عَلَی الْأَنْصَارِ النَّوَاضِحُ فَاجْتَمَعُوْا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْأَلُونَہُ أَنْ یُجْرِیَ لَہُمْ نَہْرًا سَیْحًا، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَرْحَبًا بِالْأَنْصَارِ وَاللّٰہِ لَا تَسْأَلُونِی الْیَوْمَ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَیْتُکُمُوہُ، وَلَا أَسْأَلُ اللّٰہَ لَکُمْ شَیْئًا إِلَّا أَعْطَانِیہِ۔)) فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: اغْتَنِمُوہَا وَاطْلُبُوا الْمَغْفِرَۃَ، فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ لَنَا بِالْمَغْفِرَۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۴۱)
۔ (دوسری سند) جب انصار کے لیے اونٹوں پر پانی لاد لاد کر لانا اور کھیتوں کو سیرات کرنا شاق گزرنے لگا تو وہ اکٹھے ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میںگئے، تاکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے درخواست کریں کہ آپ انہیں ایک بہتی نہر کھودنے کی اجازت فرمائیں۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: انصار کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! آج تم مجھ سے جو بھی طلب کرو گے، میں تمہیں عنایت کردوں گا اور میں بھی اللہ سے تمہارے لیے جو کچھ مانگوں گا، وہ مجھے دے دے گا۔ انہوںنے ایک دوسرے سے کہا: اس وقت کو غنیمت سمجھو اور مغفرت کی درخواست کرو۔ ان سب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ہمارے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! انصار کی، ان کی اولادوں کی اور ان کی اولادوں کی اولادوں کی مغفرت فرما دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11536

۔ (۱۱۵۳۶)۔ اِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ الْأَنْصَارَ عَیْبَتِی الَّتِی أَوَیْتُ إِلَیْہَا، فَاقْبَلُوْا مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِیئِہِمْ، فَإِنَّہُمْ قَدْ أَدَّوْا الَّذِی عَلَیْہِمْ وَبَقِیَ الَّذِی لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۷۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک انصار میرے انتہائی خاص، راز دان اور امین لوگ ہیں، ان کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے نیکو کاروں کی بات کو قبول کرو اور ان میں سے کسی سے کوتاہی ہو تو اس سے درگزر کرو، انہوںنے اپنے عہد و پیمان کو تو پورا کر دیا ہے، لیکن ان کے حقوق کی ادائیگی باقی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11537

۔ (۱۱۵۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ صُہَیْبٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأَی الصِّبْیَانَ وَالنِّسَائَ مُقْبِلِینَ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ: حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُمْثِلًا فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ یَعْنِی الْأَنْصَارَ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدَہِ اِنَّکُمْ لَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۲۸)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئی دیکھاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11538

۔ (۱۱۵۳۸)۔ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ کَتَبَ إِلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ زَمَنَ الْحَرَّۃِ یُعَزِّیہِ فِیمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِہِ وَقَوْمِہِ، وَقَالَ أُبَشِّرُکَ بِبُشْرٰی مِنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَاغْفِرْ لِنِسَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَائِ أَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۱۴)
نضر بن انس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو واقعۂ حرہ کے دنوں میں ان کی اولاد اور ان کی قوم کے افراد کے قتل کی تعزیت کے سلسلہ میں لکھا اور کہا: میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک خوش خبری سنانا چاہتا ہوں ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: یا اللہ! انصارکو، ان کے بیٹوں کو اور ان کے پوتوں کو بخش دے، انصار کی خواتین کو، انصار کے بیٹوں کی بیویوں کو اور انصار کے پوتوں کی خواتین کو بخش دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11539

۔ (۱۱۵۳۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ أَتْبَاعًا، وَإِنَّا قَدْ تَبِعْنَاکَ فَادْعُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا، قَالَ: فَدَعَا لَہُمْ أَنْ یَجْعَلَ أَتْبَاعَہُمْ مِنْہُمْ، قَالَ: فَنَمَّیْتُ ذٰلِکَ إِلَی ابْنِ أَبِی لَیْلٰی، فَقَالَ: زَعَمَ ذٰلِکَ زَیْدٌ یَعْنِی ابْنَ أَرْقَمَ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۵۱)
عمر و بن مرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو حمزہ طلحہ بن یزید سے سنا، انھوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہر نبی کے کچھ پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی ہے۔ اب آپ دعا فرمائیںکہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار ہم میں سے بنائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیرو انہی میں سے بنائے۔ میں نے اس حدیث کا ابن ابی لیلی سے ذکر کیا، تو انہوںنے کہا کہ زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11540

۔ (۱۱۵۴۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اٰیَۃُ الْاِیْمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآیَۃُ النِّفَاقِ بُغْضُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۹۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار سے محبت کرنا ایمان کی اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11541

۔ (۱۱۵۴۱)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا الْحَیُّ مِنَ الْاَنْصَارِ مِحْنَۃٌ حُبُّہُمْ اِیْمَانٌ وَبُغْضُہُمْ نِفَاقٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۲۹)
سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصار کا یہ قبیلہ لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، ان سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11542

۔ (۱۱۵۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبْغِضُ الْاَنْصَارَ رَجُلٌ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ أَوْ إِلّّا أَبْغَضَہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۸)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہو وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا کہ جو آدمی انصار سے بغض رکھتا ہو، اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11543

۔ (۱۱۵۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَایَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، وَرَایَۃَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، وَکَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ، کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّا یَکُونَ تَحْتَ رَایَۃِ الْأَنْصَارِ۔ (مسند احمد: ۳۴۸۶)
ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ہوتا اور انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ میں ہوتا، جب شدیدجنگ چھڑتی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصار کے جھنڈے کے نیچے چلے جاتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11544

۔ (۱۱۵۴۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ یَنْدَفِعُ النَّاسُ فِی شُعْبَۃٍ أَوْ فِی وَادٍ وَالْأَنْصَارُ فِی شُعْبَۃٍ لَانْدَفَعْتُ فِی شِعْبِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۸۱۵۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک گھاٹییا وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11545

۔ (۱۱۵۴۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: اِجْتَمَعَ أُنَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوْا آثَرَ عَلَیْنَا غَیْرَنَا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَمَعَہُمْ، ثُمَّ خَطَبَہُمْ فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! أَلَمْ تَکُونُوا أَذِلَّۃً فَأَعَزَّکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: ((أَلَمْ تَکُونُوْا ضُلَّالًا فَہَدَاکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: ((أَلَمْ تَکُونُوْا فُقَرَائَ فَأَغْنَاکُمُ اللّٰہُ؟)) قَالُوْا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا تُجِیبُونَنِی، أَلَا تَقُولُونَ!! أَتَیْتَنَا طَرِیدًا فَآوَیْنَاکَ، وَأَتَیْتَنَا خَائِفًا فَآمَنَّاکَ، أَلَا تَرْضَوْنَ! أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبُقْرَانِ (یَعْنِی الْبَقَرَ) وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتُدْخِلُونَہُ بُیُوتَکُمْ؟ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَکُوْا وَادِیًا أَوْ شُعْبَۃً وَسَلَکْتُمْ وَادِیًا أَوْ شُعْبَۃً سَلَکْتُ وَادِیَکُمْ أَوْ شُعْبَتَکُمْ، لَوْلَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَإِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً فَاصْبِرُوا حَتّٰی تَلْقَوْنِی عَلَی الْحَوْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۶۸)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے جمع ہو کر آپس میں کچھ ایسی باتیں کیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسروں کوہمارے اوپر ترجیح دی ہے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو جمع کرکے ان سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیایہ حقیقت نہیں کہ تم لوگ ذلیل اور رسورا تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت سے نوازا؟ انھوں نے کہا؛ اللہ اور اس کے رسول کی بات درست ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ تم لوگ گمراہ تھے اور اللہ نے تمہیںہدایت سے نوازا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ بات بھی صحیح نہیں کہ تم لوگ غریب تھے اور اللہ نے تمہیں غنی اور خوشحال کیا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی بات صحیح ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مجھے جوابا ً یوں کیوں نہیں کہتے کہ اے رسول! آپ کے شہر والوں نے آپ کو شہر بدر کر دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خوف زدہ ہو کر ہمار ے پاس پہنچے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو امن دیا؟اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور گائیں لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ہمراہ لے کر جائو اور تم اس رسول کو اپنے گھروں میں داخل کرو، حقیقتیہ ہے کہ اگر لوگ کسی ایک وادییا گھاٹی میں چلیں تو میں اس گھاٹییا وادی میں چلوں گا، جس میں تم چلو گے، اگر ہجرت والی سعادت نہ ہوتی تو میں انصاری فرد ہوتا، تم عنقریب میرے بعد اس سے بھی بڑھ کر ترجیح و تفریق ملاحظہ کر و گے، مگر تم ایسی صورت میں بھی صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے حوض کوثر پر آ ملو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11546

۔ (۱۱۵۴۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ وَفِیْہ: فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِی أَثَرَۃً شَدِیدَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، فَإِنِّی فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔)) قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۲۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، پھر گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میرے بعد بڑی ترجیح و تفریق ملاحظہ کرو گے، لیکن تم ایسی صورت حال میں صبر سے کام لینا،یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے جا ملو، میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: لیکن ہم نے صبر نہیں کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11547

۔ (۱۱۵۴۷)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یُحَدِّثُ: أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ فِی الْأَنْصَارِ: ((لَا یُحِبُّہُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا یُبْغِضُہُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّہُمْ فَأَحَبَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَأَبْغَضَہُ اللّٰہُ۔)) قَالَ قُلْتُ لَہُ: أَنْتَ سَمِعْتَ الْبَرَائَ؟ قَالَ: إِیَّایَ یُحَدِّثُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۷۷)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: اہل ایمان ان سے محبت رکھتے ہیں اور منافق ان سے بغض رکھتے ہیں، جو کوئی ان سے محبت کرے گا، اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو کوئی ان سے بغض رکھے گا،اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ حدیث کے راوی شعبہ نے اپنے شیخ سے کہا: کیا آپ نے خود یہ حدیث سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے؟ انہوںنے کہا:جی سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہی مجھے بیان کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11548

۔ (۱۱۵۴۸)۔ عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حُوَیْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ أَنَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّا وُضُوْئَ لَہٗ، وَلَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ تَعَالٰی، وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِیْ، وَلَا یُؤْمِنُ بِیْ مَنْ لَّا یُحِبُّ الْأَنْصَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۸۸)
رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری دادی نے مجھے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، (یعنی بسم اللہ نہیں پڑھی) اس کا کوئیوضو نہیں اور جو شخص میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11549

۔ (۱۱۵۴۹)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِیُّ، وَہُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ تِیبَ عَلَیْہِمْ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ یَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَہُ فَقَالَ فِی خُطْبَتِہِ: ((أَمَّا بَعْدُ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! فَإِنَّکُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِیدُونَ وَأَصْبَحَتِ الْأَنْصَارُ لَا تَزِیدُ عَلٰی ہَیْئَتِہَا الَّتِی ہِیَ عَلَیْہَا الْیَوْمَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَیْبَتِی الَّتِی أَوَیْتُ إِلَیْہَا، فَأَکْرِمُوا کَرِیمَہُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِیئِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۲)
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری،یہ کعب ان تین میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی، سے مروی ہے کہ اس کو کسی صحابی نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر تشریف لائے اور اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: اما بعد! اے مہاجرین کی جماعت! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انصار آج اپنی پہلی سی تعداد میںنہیں ہیں،یہ انصار میرے خاص اور راز دان لوگ ہیں، جن کی طرف آکر میں نے پناہ لی، پس تم ان کے معزز شخص کا اکرام کرتے رہنا اور ان میں سے کوتاہی کرنے والے سے درگزر کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11550

۔ (۱۱۵۵۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ الْمُشْرِکِینَ لَمَّا رَہِقُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ فِی سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَ رَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ، قَالَ: ((مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا؟ وَہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا أَرْہَقُوہُ أَیْضًا، قَالَ: ((مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنِّی؟ وَہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ۔)) حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَاحِبِہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا إِخْوَانَنَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۰۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب مشرکین نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر چڑھ آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات انصاریوں اور دو قریشیوں کے ہمراہ تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان مشرکین کو ہم سے کون ہٹائے گا، وہ اس عمل کے نتیجہ میں جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ جواباً ایک انصاری آگے بڑھا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرتے ہوئے دشمن سے لڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔ جب مشرکین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر پھر چڑھ آئے تو آپ نے پھر فرمایا: کون ہے جو ان مشرکین کو ہم سے ہٹائے اور دور رکھے، اس عمل کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ یہاں تک کہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دو قریشی ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11551

۔ (۱۱۵۵۱)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکْثِرُ زِیَارَۃَ الْأَنْصَارِ خَاصَّۃً وَعَامَّۃً، فَکَانَ إِذَا زَارَ خَاصَّۃً أَتَی الرَّجُلَ فِی مَنْزِلِہِ، وَإِذَا زَارَ عَامَّۃً أَتَی الْمَسْجِدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۹۲)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاص و عام انصار کی زیارت و ملاقات کے لیے کثرت سے تشریف لے جایا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی خاص آدمی کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے گھر تشریف لے جاتے او ر جب عام لوگوں سے ملاقات کرنا ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف رکھتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11552

۔ (۱۱۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی عُقْبَۃَ، وَکَانَ مَوْلًی مِنْ أَہْلِ فَارِسَ، قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَقُلْتُ: خُذْہَا مِنِّی وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِیُّ، فَبَلَغَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہَلَّا قُلْتَ خُذْہَا مِنِّی وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِیُّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۸۲)
سیدنا ابو عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ ایک فارسی غلام تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھا، میں نے ایک مشرک پر زبردست قسم کا وار کرتے ہوئے کہا: لے مزہ چکھ، میں ایک فارسی لڑکا ہوں۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یوں کیوں نہ کہا کہ لے مزہ چکھ، میں ایک انصاری لڑکا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11553

۔ (۱۱۵۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا یَضُرُّ امْرَأَۃً نَزَلَتْ بَیْنَ بَیْتَیْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْ نَزَلَتْ بَیْنَ أَبَوَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۳۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس عورت کو کوئی تکلیف نہیں جو انصاریوں کے گھروں میں اترے یا اپنے والدین کے گھر اترے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11554

۔ (۱۱۵۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((بَنُو عَبْدِ الْأَشْہَلِ وَہُمْ رَہْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ بَنُو سَاعِدَۃَ۔)) قَالُوْا، ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((ثُمَّ فِی کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَیْرٌ۔)) قَالَ مَعْمَرٌ: أَخْبَرَنِیْ ثَابِتٌ وَقَتاَدَۃُ اَنَّہُمَا سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَذْکُرُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ إِلاَّ أَنَّہٗ قَالَ: ((بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُوْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیںیہ نہ بتلائوں کہ انصار کے سب سے اچھے گھرانے کون کون سے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور بیان فرمائیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو عبدالاشھل، یہ سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قبیلہ تھا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر بنو نجار ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : پھر بنو حارث بن خزرج۔ صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ان کے بعد کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر بنو ساعدہ۔ صحابہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان کے بعد کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر انصار کے سب ہی گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ معمر سے مروی ہے کہ ثابت اور قتادہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ان دونوں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہی حدیث بیان کرتے سنا تو انہوںنے سب سے پہلے بنو نجار کا اور ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا ذکر کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11555

۔ (۱۱۵۵۵)۔ عَنْ أَبِی أُسَیْدٍ السَّاعِدِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((خَیْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْہَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَفِی کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَیْرٌ)) فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ: جَعَلَنَا رَابِعَ أَرْبَعَۃٍ، أَسْرِجُوا لِی حِمَارِی، فَقَالَ ابْنُ أَخِیہِ: أَتُرِیدُ أَنْ تَرُدَّ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَسْبُکَ أَنْ تَکُونَ رَابِعَ أَرْبَعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۴۷)
ابو اسید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصارکے گھرانوں میں سب سے بہترین گھر انہ بنو نجار کا، ان کے بعد بنو عبدالاشھل کا، ان کے بعد بنو حارث بن خزرج اور ان کے بعد بنو ساعدہ کا ہے، ویسے انصار کے سب گھرانوں میں خیر ہی خیر ہے۔ یہ سن کر سیدناسعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارا نام چوتھے نمبر پر لیا، میرے گدھے پر زین کسو (میں جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ شکایت کرتا ہوں)۔ لیکن ان کے بھتیجے نے ان سے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات پر اعتراض کریں گے؟ تمہارے لیےیہ اعزاز بھی کافی ہے کہ تم چوتھے نمبر پر ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11556

۔ (۱۱۵۵۶)۔ عَنْ جَرِیرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ أَوْلِیَائُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ، وَالطُّلَقَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، وَالْعُتَقَائُ مِنْ ثَقِیفٍ، بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَالْمُہَاجِرُوْنَ وَالْاَنْصَارُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۸)
سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہاجرین اور انصار یہ سب ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں، اسی طرح قریش کے وہ لوگ جنہیں فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا اور بنو ثقیف کے آزاد کردہ لوگ دنیا اورآخرت میں ایک دوسرے کے مددگار اور معاون ہیں اور مہاجرین و انصار قیامت تک ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11557

۔ (۱۱۵۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالطُّلَقَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، وَالْعُتَقَائُ مِنْ ثَقِیفٍ، بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَالْمُہَاجِرُوْنَ وَالْاَنْصَارُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۳۱)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش کے جن لوگوں کو فتح مکہ کے دن معاف کر دیا گیا، وہ اور بنو ثقیف کے وہ لوگ جنہیں آزاد کر دیا گیا،یہ سب دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے معاون اور مدد گار ہیں، اور مہاجرین و انصار بھی دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے مدد گار اور معاون ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11558

۔ (۱۱۵۵۸)۔ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا، فَأَجَابَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللَّہُمَّ إِنَّ الْخَیْرَ خَیْرُ الْآخِرَہْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَأَصْلِحِ الْاَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۶۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انصار نے یوں کہا: نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدًا (ہم وہ لوگ ہیں جنہوںنے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی ہے کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے، جہاد کرتے رہیں گے۔) تو ان کے اس قول کے جواب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ ایک روایت میں ہے: پس تو انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11559

۔ (۱۱۵۵۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُہَاجِرُونَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَیْہِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاۃً فِی قَلِیلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِی کَثِیرٍ، لَقَدْ کَفَوْنَا الْمَئُونَۃَ، وَأَشْرَکُونَا فِی الْمَہْنَإِ حَتّٰی لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ یَذْہَبُوْا بِالْأَجْرِ کُلِّہِ، قَالَ: ((لَا مَا أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِمْ وَدَعَوْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۵۳)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم جن انصاری لوگوں کے پاس آئے ہیں، ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کم ہوں تو خوب ہمدردی کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس کھانے پینے کو وافر ہو تو بھی خوب خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں محنت مزدوری سے بچایا اور اپنی کمائی میں ہمیں اپنا شریک بنایا۔ ہمیں تو اندیشہ ہے کہ سارا اجرو ثواب یہ لوگ لے جائیں گے۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ بات نہیںہے ، تم لوگ جب تک ان کی تعریف کرو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں کرو گے توتمہیں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11560

۔ (۱۱۵۶۰)۔ عَنْ أَنْسٍ قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ فِی دَارِنَا، قَالَ سُفْیَانُ: کَأَنَّہُ یَقُولُ: آخٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین اور انصار کے ما بین ایک معاہدہ کرایا۔اس حدیث کا ایک راوی سفیان کہتے ہیں:سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معاہدہ سے مراد مواخات اور بھائی چارہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11561

۔ (۱۱۵۶۱)۔ عَنْ أَبِی مُوسٰی أَنَّ أَسْمَائَ لَمَّا قَدِمَتْ لَقِیَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: آلْحَبَشِیَّۃُ ہِیَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ، لَوْلَا أَنَّکُمْ سُبِقْتُمْ بِالْہِجْرَۃِ، فَقَالَتْ ہِیَ لِعُمَرَ: کُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ رَاجِلَکُمْ وَیُعَلِّمُ جَاہِلَکُمْ وَفَرَرْنَا بِدِینِنَا، أَمَا إِنِّی لَا أَرْجِعُ حَتّٰی أَذْکُرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَجَعَتْ إِلَیْہِ فَقَالَتْ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((بَلْ لَکُمُ الْہِجْرَۃُ مَرَّتَیْنِ، ہِجْرَتُکُمْ إِلَی الْمَدِینَۃِ، وَہِجْرَتُکُمْ إِلَی الْحَبَشَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۵۳)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا جب حبشہ سے واپس آئیں تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے بارے میںکہا: کیایہ وہی ہے جو حبشہ سے آئی ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر لوگ ہجرت کرنے میں تم پر سبقت نہ لے چکے ہوتے تو تم بہترین لوگ ہوتے، یہ سن کر انھوں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہے، تم میں سے جو سواری سے محروم ہوتا یعنی پیدل ہوتا، اللہ کے رسول اسے سواری دیتے اور تم میں سے جو کوئی دین کے مسائل سے واقف نہ ہوتا، اللہ کے رسول اسے تعلیم دیتے اور ہم تو اپنا دین بچانے کے لیےیہاں سے فرار ہو گئے تھے، اب میں جب تک اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر نہ کر لوں واپس نہیں آئوں گی۔ پس وہ آپ کی خدمت میں گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا: بلکہ تمہاری تو دوہجرتیں ہو گئیں، ایک مدینہ کی طرف اور ایک حبشہ کی طرف۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11562

۔ (۱۱۵۶۲)۔ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ الْہَمْدَانِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ: أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ قَالَ: فَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِالثَّانِی، قَالَ: فَذَکَرَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُکُمْ بِالثَّالِثِ، قَالَ: وَسَکَتَ فَرَأَیْنَا أَنَّہُ یَعْنِی نَفْسَہُ، فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ یَقُولُ ہٰذَا؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ وَإِلَّا صُمَّتَا۔ (مسند احمد: ۹۰۹)
عبد خیر ہمدانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، وہ منبر پر تشریف فرما تھے اور کہہ رہے تھے: لوگو! کیا میں تمہیں نہ بتلائوں کہ اس امت میں نبی کے بعد کون سب سے افضل ہے؟ پھر انہوںنے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا۔ پھر کہا: کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں نہ بتلائوں جو نبی کے بعد امت میں دوسرے درجہ پر ہے؟ پھر انہوںنے خود ہی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا۔ اور پھر کہا: اگر میں چاہوں تو تمہیں اس آدمی کے متعلق بتلا سکتا ہوں جو تیسرے درجہ پر ہے۔ عبد خیر کہتے ہیں کہ یہ کہہ کرو ہ خاموش رہے۔ ہم یہی سمجھے کہ وہ اپنے آپ کو مراد لے رہے ہیں۔ میں نے ان سے دریافت کیا، کیا آپ نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!، اگر میں نے خود نہ سنا ہو تو میرےیہ کان بہرے ہو جائیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11563

۔ (۱۱۵۶۳)۔ حَدَّثَنِی اَبُوْ جُحَیْفَۃَ الَّذِیْ کَانَ عَلِیٌّ یُسَمِّیْہِ وَھْبَ الْخَیْرِ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: یَا أَبَا جُحَیْفَۃَ! اَلا أُخْبِرُکَ أَفْضَلَ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، وَلَمْ أَکُنْ أَرٰی أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْہُ، قَالَ: أَفْضَلُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْ بَکْرٍ، وَبَعْدَ أَبِیْ بَکْرٍ عُمَرُ، وَبَعْدَ ھُمَا آخَرُ ثَالِثٌ وَلَمْ یُسَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۸۳۵)
ابو حجیفہ، جنہیں علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہب الخیر کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے، ان سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیںیہ نہ بتلائوں کہ اس امت میں نبی کے بعد افضل ترین آدمی کون ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بتلائیں اور میرا خیال تھا کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن انھوں نے کہا: نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کے بعد سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، پھر انہوں نے اس کا نام نہ لیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11564

۔ (۱۱۵۶۴)۔ عَنْ وَھْبِ نِ الشَّوَائِیِّ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَنْ خَیْرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا؟ فَقُلْتُ: أَنْتَ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، قَالَ: لَا، خَیْرُ ھٰذِہِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَمَا نُبْعِدُ اَنَّ السَّکِیْنَۃَ تَنْطِقُ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ۔ (مسند احمد: ۸۳۴)
وہب سوائی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اورپوچھا کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ خود ہیں، اے امیر المؤمنین! لیکن انھوں نے کہا: نہیں، اس امت میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے افضل ہیں، ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں اور ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے کہ سکون اور وقار عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زبان پر بولتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11565

۔ (۱۱۵۶۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَبَقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلّٰی أَبُوْ بَکْرٍ وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ، یَعْفُوا اللّٰہُ عَمَّنْ یَشَائُ۔ (مسند احمد: ۸۹۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ فضیلت و مرتبہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے آگے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی ہی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نائب کے طور پر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امامت کے فرائض سر انجام دیئے اور تیسرا درجہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔ ان کے بعد ہم فتنوں میں مبتلا ہوگئے اور اللہ جس سے چاہے گا، درگزر فرمائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11566

۔ (۱۱۵۶۶)۔ وَعَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِیْ جُحَیْفَۃَ قَالَ: کَانَ أَبِیْ مِنْ شُرَطِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ، فَحَدَّثَنِیْ أَبِیْ: أَنَّہٗ صَعِدَ الْمِنْبَرَ یَعْنِیْ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَصَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: خَیْرُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوْ بَکْرٍ وَالثَّانِیْ عُمَرُ، وَقَالَ: یَجْعَلُ اللّٰہُ تَعَالَی الْخَیْرَحَیْثُ أَحَبَّ۔ (مسند احمد: ۸۳۷)
عون بن ابی جحیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میرے والد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خصوصی پہرہ داروں میں سے تھے، وہ منبر کے قریب بیٹھے تھے، انہوںنے مجھے بیان کیا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منبر پر آکر اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجا اور کہا: اس امت میں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے افضل ہیں۔ پھر کہا: اللہ جہاں چاہتا ہے، خیر وبرکت نازل کر دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11567

۔ (۱۱۵۶۷)۔ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ إِلَی الْمَسْجِدِ فِیہِ الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، وَمَا مِنْہُمْ أَحَدٌ یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنْ حَبْوَتِہِ إِلَّا أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، فَیَتَبَسَّمُ إِلَیْہِمَا وَیَتَبَسَّمَانِ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۴۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لاتے، وہاں مہاجرین و انصار سب موجود تھے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوا کوئی آدمی آپ کی طرف سر نہ اٹھاتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11568

۔ (۱۱۵۶۸)۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ حَازِمٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا کَانَ مَنْزِلَۃُ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: کَمَنْزِلَتِہِمَا السَّاعَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۲۹)
ابن ابی حازم سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے علی بن حسین کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کیا مقام تھا؟ انہوںنے کہا: (ان دو ہستیوں کا وہی مقام تھا) جو اس گھڑی میں ان کا حاصل ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11569

۔ (۱۱۵۶۹)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ امْرَأَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَہُ طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ، ثُمَّ قَالَ: ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ، ثُمَّ قَالَ: ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُدْخِلُ رَأْسَہُ تَحْتَ الْوَدِیِّ فَیَقُولُ: ((اللَّہُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَہُ عَلِیًّا۔)) فَدَخَلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَنَّیْنَاہْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۰۴)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری خاتون نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعوت کی اور کھانا تیار کیا، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آرہا ہے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے، ہم نے ان کو مبارکباد دی ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک جنتی آدمی تمہارے پاس آنے والا ہے۔ اتنے میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے۔ ہم نے انہیں مبارک باد دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کہہ کر اپنا سر کھجور کے چھوٹے درختوں کے نیچے کر لیا اور فرمایا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو آنے والا علی ہو۔ اتنے میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے،اورہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11570

۔ (۱۱۵۷۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ الْأَشْعَرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِاَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : ((لَوِ اجْتَمَعْتُمَا فِیْ مَشْورَۃٍ مَا خَلَفْتُکُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۷)
عبدالرحمن بن غنم اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اگر کسی مشورہ میں تم دونوں کی رائے ایک ہو تو میں تمہاری رائے سے اختلاف نہیں کروں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11571

۔ (۱۱۵۷۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِیْ اَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۳۴)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ابو بکر اور عمر کی اقتداء کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11572

۔ (۱۱۵۷۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ اَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَسَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالُوْا لَنَا: انْطَلَقُوْا إِلٰی مَسْجِدِ التَّقْوٰی، فَانْطَلَقْنَا نَحْوَہُ فَاسْتَقْبَلْنَاہُ یَدَاہُ عَلٰی کَاہِلِ أَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَثُرْنَا فِیْ وَجْہِہِ، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰؤُلَائِ یَا اَبَا بَکْرٍ؟)) قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَاَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَسَمُرَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئے، لوگوں نے ہمیں بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو تقویٰ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ہیں، ہم بھی ادھر چل دیئے،جب ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے ہاتھ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کاندھوں پر تھے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار محسوس کیے، آپ نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوںنے بتلایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11573

۔ (۱۱۵۷۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ، فَقَالَ: ((بَیْنَا رَجُلٌ یَسُوقُ بَقَرَۃً إِذْ رَکِبَہَا فَضَرَبَہَا، قَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِہٰذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَۃِ۔)) فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! بَقَرَۃٌ تَتَکَلَّمُ؟ فَقَالَ: ((فَإِنِّی أُومِنُ بِہٰذَا أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ غَدًا غَدًا وَعُمَرُ۔)) وَمَا ہُمَا ثَمَّ، ((وَبَیْنَا رَجُلٌ فِی غَنَمِہِ إِذْ عَدَا عَلَیْہَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاۃً مِنْہَا فَطَلَبَہُ فَأَدْرَکَہُ فَاسْتَنْقَذَہَا مِنْہُ فَقَالَ: یَا ہٰذَا اسْتَنْقَذْتَہَا مِنِّی فَمَنْ لَہَا یَوْمَ السَّبُعِ یَوْمَ لَا رَاعِیَ لَہَا غَیْرِی؟)) قَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! ذِئْبٌ یَتَکَلَّمُ؟ فَقَالَ: ((إِنِّی أُومِنُ بِذٰلِکَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ۔)) وَمَا ہُمَا ثَمَّ۔ (مسند احمد: ۷۳۴۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ایک دفعہ ایک آدمی بیل کو ہانکے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہوگیا اور اس نے اسے مارا، آگے سے بیل نے بول کر کہا کہ ہمیں سواری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیا، ہمیں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے یہ بات سن کر ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بیل باتیں کرنے لگا۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر اور عمرکا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے حملہ کرکے ایک بکری کو اچک لیا، اس نے اس کا پیچھا کرکے اسے جا لیا اور اس سے بکری کو چھڑا لیا، تو بھیڑیئے نے بول کر کہا: ارے تو نے آج تو اسے مجھ سے چھڑا لیا، فتنوں کے دنوں میں جب لوگ مویشیوں کو یونہی چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور اس دن میرے سوا ان کا کوئی چرواہا (محافظ) نہ ہوگا، تب ان کو مجھ سے کون بچائے گا؟ لوگوں نے یہ سن کر بھی ازراہ تعجب کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرنے لگا۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بات کی صداقت پر میرا، ابو بکر کا اور عمر کا بھی ایمان ہے۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11574

۔ (۱۱۵۷۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْبَلَ اَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: ((یَا عَلِیُّ! ھٰذَانِ سَیِّدَا کُہُوْلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَشَبَابِہَا عَدَا النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تھا کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنتی بزرگوں اور نوجوانوںکے سردار ہوں گے، ماسوائے انبیاء و رسل کے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11575

۔ (۱۱۵۷۵)۔ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَعَمِلَ بِعَمَلِہِ وَسَارَ بِسِیرَتِہِ حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی ذٰلِکَ فَعَمِلَ بِعَمَلِہِمَا وَسَارَ بِسِیرَتِہِمَا حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ذٰلِکَََََ۔ (مسند احمد: ۱۰۵۵)
عبد خیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر خیر کیا اور فرمایا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوںنے سارے امور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل کے مطابق سر انجام دیئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی کے طریقے پر چلتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ا پنے پاس بلا لیا۔ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ چن لیا گیا، انہوںنے بھی اپنے دونوں پیش روؤں کے عمل کے مطابق امور سرانجام دیئے اور ان دونو ں کے طریقے پر چلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے ہاں بلا لیااور وہ اسی منہج پر قائم تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11576

۔ (۱۱۵۷۶)۔ قَالَ نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی دَخَلَ حَائِطًا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِیْنَۃِ)، فَقَالَ لِی: أَمْسِکْ عَلَیَّ الْبَابَ، فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ عَلَی الْقُفِّ وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ فَضُرِبَ الْبَابُ، قُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: أَبُوبَکْرٍ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا أَبُوبَکْرٍ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قُفِّ الْبِئْرِ) وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ، ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا عُمَرُ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ وَدَلّٰی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ، قَالَ: ثُمَّ ضُرِبَ الْبَابُ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہٰذَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ مَعَہَا بَلَائٌ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَسَیَلْقٰی بَلَائً)، فَأَذِنْتُ لَہُ وَبَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ، فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَیْہِ فِی الْبِئْرِ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۸)
سیدنا نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گیا،یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ کے باغات میں سے ایک ایسے باغ میں داخل ہو گئے، اس کے باہر چار دیواری بنی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دروازے پر ٹھہرو ۔ اور آپ خود کنوئیں کی منڈیر پر جا بیٹھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پائوں کنوئیں کے اندر لٹکالیے، کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟آنے والے نے کہا: میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر آئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میںنے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت دے دی۔ وہ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی اسی طرح کنوئیں میں پائوں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، کچھ دیر بعد پھر دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ اس نے کہا: میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عمرآئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنا دی، وہ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کنوئیں کی منڈیر پر کنوئیں میں پائوں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر کچھ دیربعد دروازے پر دستک دی گئی۔ میں نے پوچھا: کون ہو؟ انہوںنے کہا: میں عثمان ہوں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو، لیکن کچھ آزمائش کے بعد۔ میں نے انہیں بھی اندر آنے کی اجازت دی اور جنت کی بھی بشارت سنائی۔ وہ بھی آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (آپ کے سامنے) کنوئیں میں پائوں لٹکا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11577

۔ (۱۱۵۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوا قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ اَبُوْ بَکْرٍ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہٗ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ۔)) ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہٗ بِالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: فَأَیْنَ أَنَا؟ قَالَ: ((أَنْتَ مَعَ أَبِیْکَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اور انہوںنے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دے دو۔ اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوںنے بھی آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: انہیں بھی اندر کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ اس کے بعد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوںنے بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم انہیں اندر آنے کی اجازت اور جنت کی بشارت دے دو۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا کہ میں کہاں ہوں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ کے ساتھ ہو گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11578

۔ (۱۱۵۷۸)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَسِبْتُہُ، قَالَ: فِی حَائِطٍ، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اذْہَبْ فَأْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) فَذَہَبْتُ فَإِذَا ہُوَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ، فَمَا زَالَ یَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی جَلَسَ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ائْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا ہُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ، فَمَا زَالَ یَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰی جَلَسَ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اذْہَبْ فَأْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ عَلٰی بَلْوٰی شَدِیدَۃٍ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا ہُوَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ عَلٰی بَلْوٰی شَدِیدَۃٍ، قَالَ: فَجَعَلَ یَقُولُ: اللَّہُمَّ صَبْرًا حَتّٰی جَلَسَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۳۸)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک باغ میں تھا کہ ایک آدمی نے آکر سلام کہا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر ان کو اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں نے دروازے پر جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: جی اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے لگے یہاں تک کہ بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ میں دروازے پر گیا تو وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ پھر ایک اور آدمی نے آکر سلام کہا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے بھی اندر آنے کی اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی سنا، لیکنیہ جنت ایک سخت امتحان کے بعد ملے گی۔ میں گیا تو وہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، میں نے ان سے کہا کہ اندر آجائیں اور آپ کو جنت کی بشارت ہو، لیکن ایک سخت امتحان اور آزمائش کے بعد ملے گی۔ تو وہ کہنے لگے: یا اللہ! مجھے اس وقت صبر کی توفیق سے نوازنا، وہ یہ دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ بھی بیٹھ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11579

۔ (۱۱۵۷۹)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! رَأَیْتُ کَأَنَّ دَلْوًا دُلِّیَتْ مِنَ السَّمَائِ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ مِنْہُ شُرْبًا ضَعِیفًا، قَالَ عَفَّانُ: وَفِیہِ ضَعْفٌ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ حَتّٰی تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِیبِہَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْہُ فَانْتَضَحَ عَلَیْہِ مِنْہَا شَیْئٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۰۵)
سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ڈول نیچے لٹکایا گیا، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر اس سے تھوڑا سا پانی پیا اور ان کے پینے میں کچھ کمزوری سی تھی۔ ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوںنے ڈول کو دونوں طرف سے پکڑ کر خوب سیراب ہو کر پیا، ان کے بعد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، انہوںنے بھی ڈول کو دونوں طرف سے تھام لیا، اس میں کچھ لرزہ سا تھا۔ اس میں سے کچھ چھینٹے عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر جا گرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11580

۔ (۱۱۵۸۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ جَالِسًا عَلٰی حِرَائٍ وَمَعَہُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، فَتَحَرَّکَ الْجَبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اثْبُتْ حِرَائُ! فَإِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْکَ إِلَّا نَبِیٌّ أَوْ صِدِّیقٌ أَوْ شَہِیدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۴)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوہ حراء پر تشریف فرما تھے،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اچانک کوہ حراء (خوشی سے) جھومنے لگا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حراء ٹھہر جا، تجھ پر نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11581

۔ (۱۱۵۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نَعُدُّ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیٌّ وَأَصْحَابُہُ مُتَوَافِرُوْنَ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ثُمَّ نَسْکُتُ۔ (مسند احمد: ۴۶۲۶)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میںہم ابو بکر، عمر اور عثمان کے نام اسی ترتیب سے لیا کرتے اور اس کے بعد ہم خاموش ہو جاتے تھے، جبکہ صحابۂ کرام کثیر تعداد میں تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11582

۔ (۱۱۵۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ غَدَاۃٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَقَالَ: ((رَأَیْتُ قُبَیْلَ الْفَجْرِ کَأَنِّی أُعْطِیتُ الْمَقَالِیدَ وَالْمَوَازِینَ، فَأَمَّا الْمَقَالِیدُ فَہٰذِہِ الْمَفَاتِیحُ، وَأَمَّا الْمَوَازِینُ فَہِیَ الَّتِی تَزِنُونَ بِہَا، فَوُضِعْتُ فِی کِفَّۃٍ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ، فَوُزِنْتُ بِہِمْ فَرَجَحْتُ، ثُمَّ جِیئَ بِأَبِی بَکْرٍ فَوُزِنَ بِہِمْ فَوَزَنَ، ثُمَّ جِیئَ بِعُمَرَ فَوُزِنَ فَوَزَنَ، ثُمَّ جِیئَ بِعُثْمَانَ فَوُزِنَ بِہِمْ، ثُمَّ رُفِعَتْْْْْ۔)) (مسند احمد: ۵۴۶۹)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز طلوع آفتاب کے بعدرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میں نے آج طلوع فجر سے کچھ دیر قبل یوں دیکھا کہ گویا مجھے چابیاں اور ترازو دیئے گئے، چابیاں تو یہی چابیاں ہیں، اور ترازو سے مراد بھییہی ترازو ہیں، جن سے تم اشیاء کا وزن کرتے ہو۔ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر میرا ان کے بالمقابل وزن کیا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لا کر ان کے بالمقابل وزن کیا گیا۔ تو وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لایا گیا اور وزن کیا گیا تو وہ بھاری رہے، اس کے بعد ترازو کو اوپر اٹھا لیا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11583

۔ (۱۱۵۸۳)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَسَمِعْتُ فِیہَا خَشْفَۃً بَیْنَ یَدَیَّ، فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا؟ قَالَ: بِلَالٌ، قَالَ: فَمَضَیْتُ فَإِذَا أَکْثَرُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فُقَرَائُ الْمُہَاجِرِینَ وَذَرَارِیُّ الْمُسْلِمِینَ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِیَائِ وَالنِّسَائِ، قِیلَ لِی: أَمَّا الْأَغْنِیَائُ فَہُمْ ہَاہُنَا بِالْبَابِ یُحَاسَبُونَ وَیُمَحَّصُونَ، وَأَمَّا النِّسَائُ فَأَلْہَاہُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّہَبُ وَالْحَرِیرُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ، فَلَمَّا کُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِیتُ بِکِفَّۃٍ فَوُضِعْتُ فِیہَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَرَجَحْتُ بِہَا، ثُمَّ أُتِیَ بِأَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیئَ بِجَمِیعِ أُمَّتِی فِی کِفَّۃٍ فَوُضِعُوْا فَرَجَحَ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَجِیئَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِی کِفَّۃٍ وَجِیئَ بِجَمِیعِ أُمَّتِی فَوُضِعُوا فَرَجَحَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَعُرِضَتْ أُمَّتِی رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوا یَمُرُّونَ فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ، ثُمَّ جَائَ بَعْدَ الْإِیَاسِ فَقُلْتُ: عَبْدُ الرُّحْمٰنِ، فَقَالَ: بِأَبِی وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا خَلَصْتُ إِلَیْکَ حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنِّی لَا أَنْظُرُ إِلَیْکَ أَبَدًا إِلَّاِِِِبَعْدَ الْمُشِیبَاتِ، قَال: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ کَثْرَۃِ مَالِی أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۷)
سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے کسی کے پائوں کی آہٹ سنی، میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ جبریل نے بتایا کہ یہ بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے، میں آگے گیا تو دیکھا کہ جنت میں زیادہ تعداد غریب مہاجرین اور مسلمانوں کی چھوٹی اولادوں کی ہے اور جنت میں مال داروں اور خواتین کی بہت کم تعداد نظر آئی، مجھے بتایا گیا کہ مال داروں کو وہاں جنت کے دروازے پر حساب دینے اور کوتاہیوں سے پاک و صاف کیے جانے کے لیے روک لیا گیا ہے۔ باقی رہیں خواتین تو انہیں سونے اور ریشم کے شوق نے غفلت میں مبتلا کیے رکھا، پھر ہم جنت کے آٹھ میں سے ایک دروازے سے باہر آئے اور جب میں دروازے کے قریب تھا تو ترازو کا ایک پلڑا میرے قریب کیا گیا اور مجھے اس میں رکھ کر میری امت کو دوسرے میں رکھا گیا، تو میں وزنی رہا۔ پھر ابو بکرکو لایا گیا، ان کو ایک پلڑے میں اور باقی ساری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، ابو بکر وزنی رہے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لایا گیا، ان کو ایک پلڑے میں اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھاری رہے، میری ساری امت ایک ایک کرکے میرے سامنے پیش کی گئی اور لوگ گزرتے گئے۔ مجھے عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دکھائی نہ دیئے، میں ان کی طرف سے مایوس ہو چکا تھا کہ وہ آگئے۔ میں نے کہا: عبدالرحمن! تم کہاں رہے؟ انہوںنے کہا: اللہ کے رسول میرے والدین آپ پر فدا ہوں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں آپ تک بمشکل پہنچا ہوں، میں تو سمجھ رہا تھا کہ اب میں بہت زیادہ مشکلات کے بعد ہیآپ کی زیارت کر سکوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کیوں؟ انہوںنے کہا: مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے میرا بہت زیادہ حساب کتاب لیا گیا اور کوتاہیوں سے پاک کیا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11584

۔ (۱۱۵۸۴)۔ عن خَالِدِ بْنِ سُمَیْرٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُہُ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَیْہِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَۃَ فَارِسُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشَ الْأُمَرَائِ وَقَالَ: ((عَلَیْکُمْ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ فَإِنْ أُصِیبَ زَیْدٌ فجَعْفَرٌ فَإِنْ أُصِیبَ جَعْفَرٌ فعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ الْأَنْصَارِیُّ)) فَوَثَبَ جَعْفَرٌ فَقَالَ: بِأَبِی أَنْتَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ وَأُمِّی مَا کُنْتُ أَرْہَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَیَّ زَیْدًا، قَالَ: ((امْضُوا فَإِنَّکَ لَا تَدْرِی أَیُّ ذٰلِکَ خَیْرٌ)) قَالَ: فَانْطَلَقَ الْجَیْشُ فَلَبِثُوا مَا شَائَ اللَّہُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَأَمَرَ أَنْ یُنَادَی الصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((نَابَ خَبْرٌ أَوْ ثَابَ خَبْرٌ (شَکَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ) أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنْ جَیْشِکُمْ ہٰذَا الْغَازِی! إِنَّہُمْ انْطَلَقُوا حَتّٰی لَقُوا الْعَدُوَّ فَأُصِیبَ زَیْدٌ شَہِیدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ)) فَاسْتَغْفَرَ لَہُ النَّاسُ، ((ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَی الْقَوْمِ حَتّٰی قُتِلَ شَہِیدًا أَشْہَدُ لَہُ بِالشَّہَادَۃِ فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَأَثْبَتَ قَدَمَیْہِ حَتّٰی أُصِیبَ شَہِیدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ)) وَلَمْ یَکُنْ مِنَ الْأُمَرَائِ ہُوَ أَمَّرَ نَفْسَہُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُصْبُعَیْہِ وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ ہُوَ سَیْفٌ مِنْ سُیُوفِکَ فَانْصُرْہُ)) وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ مَرَّۃً: فَانْتَصِرْ بِہِ، فَیَوْمَئِذٍ سُمِّیَ خَالِدٌ سَیْفَ اللّٰہِ ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَکُمْ وَلَا یَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ)) فَنَفَرَ النَّاسُ فِی حَرٍّ شَدِیدٍ مُشَاۃً وَرُکْبَانًا۔ (مسند احمد: ۲۲۹۱۸)
خالد بن سمیر سے مروی ہے کہ عبداللہ بن رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ تو میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ لوگ ان کے اردگرد جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے شاہ سوار ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جیش الامراء بھیجا اور فرمایا تمہارے اوپر زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ امیر ہیں۔ اگر وہ شہید ہو جائیں تو ان کے بعد جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ امیر ہوں گے۔ وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ امیر ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اچھل کر بولے اے اللہ کے نبی میرا والد آپ پر فدا ہو مجھے یہ توقع نہ تھی کہ آپ زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مجھ پر امیر مقرر فرمائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ۔ تم نہیں جانتے کہ کونسی بات زیادہ بہتر ہے۔ لشکر روانہ ہو گیا۔ جب تک اللہ کو منظور تھا وہ لوگ سفر میں رہے پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے۔ اور آپ نے حکم دیا کہ نماز ہونے کا اعلان کیا جائے۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ ایک خبر پھیلی ہے۔ کیا میں تمہیں غزوہ میں مصروف اس لشکر کے متعلق نہ بتلاؤں؟ یہ لوگ گئے ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔ اور زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے۔ تم ان کی مغفرت کی دعاء کرو۔ تو لوگوں نے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ تم ان کی شہادت کی گواہی دو۔ لوگوں نے ان کے حق میں بھی مغفرت کی دعا کی۔ پھر عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا اُٹھا لیا۔ وہ بھی دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ وہ بھی شہادت سے سرفراز ہوئے۔ صحابہ نے ان کے حق میں بھی دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقرر کردہ امیروں میں سے نہ تھے۔ پیش آمدہ حالات کے پیش ِنظر وہ از خود امیر بن گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تو اس کی مدد فرما۔ عبدالرحمن راوی نے ایک دفعہ کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کی برکت سے وہ فتح یاب ہوئے۔ اس روز سے خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیف اللہ کہلائے۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ اور جا کر اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ اور تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے۔ لوگ شدید گرمی میں پیدل اور سوار روانہ ہو گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11585

۔ (۱۱۵۸۵)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَرْحَمُ أُمَّتِی أَبُو بَکْرٍ وَأَشَدُّہَا فِی دِینِ اللّٰہِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُہَا حَیَائً عُثْمَانُ، وَأَعْلَمُہَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَقْرَؤُہَا لِکِتَابِ اللّٰہِ أُبَیٌّ، وَأَعْلَمُہَا بِالْفَرَائِضِ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَمِینٌ وَأَمِینُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۳۵)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابو بکر ہیں، امت میں دین کے بارے میں عمر سب سے سخت ہیں، امت میں عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ حیا دار ہیں، معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ جانتے ہیں، قرآن کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ قاری ابی بن کعب ہیں اور امت میں مسائل وراثت (یا فرائض) کے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11586

۔ (۱۱۵۸۶)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَمِیرَۃَ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِیلَ لَہُ: یَا أَبَاعَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَوْصِنَا!، قَالَ: أَجْلِسُونِی، فَقَالَ: إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِیمَانَ مَکَانَہُمَا مَنْ ابْتَغَاہُمَا وَجَدَہُمَا، یَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَۃِ رَہْطٍ عِنْدَ عُوَیْمِرٍ أَبِی الدَّرْدَائِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ وَعِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِی کَانَ یَہُودِیًّا ثُمَّ أَسْلَمَ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ عَاشِرُ عَشَرَۃٍ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۵۵)
یزید بن عمیرہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ہمیں کوئی وصیت ہی کر دیں،انھوں نے کہا:مجھے بٹھا دو۔ پھر انھوں نے کہا: علم اور ایمان ایسی چیزیں ہیں کہ جو آدمی انہیں ان کے مرکز اور مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرے تو وہ انہیں حاصل کر ہی لیتا ہے۔ یہ بات انہوںنے تین مرتبہ کہی۔ تم چار آدمیوں سے علم حاصل کرو: سیدنا ابو درداء عویمر، سیدنا سلمان فارسی، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن سلام سے، مؤخر الذکر پہلے یہودی تھے، بعد میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ وہ جنت میں جانے والے خاص دس آدمیوں سے ایک ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11587

۔ (۱۱۵۸۷)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جُلُوسًا فَقَالَ: ((إِنِّی لَا أَدْرِی مَا قَدْرُ بَقَائِی فِیکُمْ؟ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِی۔)) وَأَشَارَ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ((وَتَمَسَّکُوا بِعَہْدِ عَمَّارٍ وَمَا حَدَّثَکُمْ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۶۵)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میں کتنا عرصہ تمہارے درمیان رہوں گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تم میرے بعد ان دونوں کی اقتدا کرنا، عمار کے عہد کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور عبداللہ بن مسعود تمہیں جو کچھ بیان کریں ان کی تصدیق کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11588

۔ (۱۱۵۸۸)۔ عَن أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ کَثِیرٌ،وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَائِ غَیْرُ مَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِیَۃَ امْرَأَۃِ فِرْعَوْنَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۰۴)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سے لوگوں کو درجۂ کمال حاصل ہوا ہے، البتہ عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون ہی درجۂ کمال تک پہنچی ہیں اور عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو باقی تمام عورتوںپر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثرید کو باقی سارے کھانوں پر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11589

۔ (۱۱۵۸۹)۔ عَنْ عَلَیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((خَیْرُ نِسَائِھَا بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۰)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11590

۔ (۱۱۵۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ خُطُوْطٍ، قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا ھٰذِہِ؟)) فَقَالُوْا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَفْضَلُ نِسَائِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ، وَ فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ آسِیَۃُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ اِمْرَاَۃُ فِرْعَوْنَ وَ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِیَ اللّٰہِ عَنْھُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۶۶۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11591

۔ (۱۱۵۹۱)۔ حَدَّثَنِی جَدِّی رِیَاحُ بْنُ الْحَارِثِ: أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ کَانَ فِی الْمَسْجِدِ الْأَکْبَرِ وَعِنْدَہُ أَہْلُ الْکُوفَۃِ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ، فَجَائَہُ رَجُلٌ یُدْعٰی سَعِیدَ بْنَ زَیْدٍ فَحَیَّاہُ الْمُغِیرَۃُ وَأَجْلَسَہُ عِنْدَ رِجْلَیْہِ عَلَی السَّرِیرِ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِیرَۃَ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ: مَنْ یَسُبُّ ہٰذَا یَا مُغِیرَۃُ!، قَالَ: یَسُبُّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، قَالَ: یَا مُغِیرَ بْنَ شُعْبَ یَا مُغِیرَ بْنَ شُعْبَ ثَلَاثًا، أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَبُّونَ عِنْدَکَ لَا تُنْکِرُ وَلَا تُغَیِّرُ، فَأَنَا أَشْہَدُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِنِّی لَمْ أَکُنْ أَرْوِی عَنْہُ کَذِبًا یَسْأَلُنِی عَنْہُ إِذَا لَقِیتُہُ أَنَّہُ قَالَ: ((أَبُو بَکْرٍ فِی الْجَنَّۃِ، وَعُمَرُ فِی الْجَنَّۃِ، وَعَلِیٌّ فِی الْجَنَّۃِ، وَعُثْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ، وَطَلْحَۃُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالزُّبَیْرُ فِی الْجَنَّۃِ، وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ فِی الْجَنَّۃِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِکٍ فِی الْجَنَّۃِ۔)) وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِینَ فِی الْجَنَّۃِ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّیَہُ لَسَمَّیْتُہُ، قَالَ: فَضَجَّ أَہْلُ الْمَسْجِدِ یُنَاشِدُونَہُ: یَا صَاحِبَ رَسُولِ اللّٰہِ مَنِ التَّاسِعُ؟، قَالَ: نَاشَدْتُمُونِی بِاللّٰہِ، وَاللّٰہِ الْعَظِیمِ أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِینَ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَاشِرُ، ثُمَّ أَتْبَعَ ذٰلِکَ یَمِینًا، قَالَ: وَاللّٰہِ لَمَشْہَدٌ شَہِدَہُ رَجُلٌ یُغَبِّرُ فِیہِ وَجْہَہُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِکُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَیْہِ السَّلَام علیہ السلام ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۹)
ریاح بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد اکبرمیں تشریف فرما تھے اور اہل کوفہ ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں سیدنا سعید بن زید ان کی خدمت میں آئے اور سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو خوش آمدید کہا اور اپنی چار پائی کی پائنتی کی طرف ان کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اتنے میں کوفہ کا ایک اور آدمی آیا۔ اس نے آکر سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف رخ کرکے بہت زیادہ برا بھلاکہنے لگا۔ سیدنا سعید نے کہا: اے مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوںنے بتایا کہ یہ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو گالیاں دے رہا ہے۔ اس نے کہا: اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب! کیا میں یہ نہیں سنتا کہ آپ کے سامنے اصحاب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں، لیکن آپ نہ ان کا انکار کرتے ہیں اور نہ اس سے کسی کو روکتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، میرے دل نے خوب یاد رکھا ہے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کوئی ایسا جھوٹ باندھنے والا نہیں، جس کے متعلق رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ملاقات کے وقت مجھ سے باز پر س کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جنتی ہے، اور اہل ایمان میں سے نویں نمبر پر مسلمان ہونے والا جنتی ہے۔ میں چاہوں تو اس کا نام ذکر کر سکتا ہوں۔ ریاح کہتے ہیں: اس کی بات سن کر اہل مسجد زور زور سے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول کے صحابی! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں آپ بتلائیں کہ نواں آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: اب جبکہ تم لوگوں نے مجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہی ہے تو میں بتا دیتا ہوں کہ اللہ عظیم کی قسم میں اہل ایمان میں سے نواں ہوں اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں سے دسویں فرد ہیں۔ اس کے بعد انہوںنے دوسری قسم اٹھا کر کہا کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوۂ میں شریک ہو اور اس میں اس کے چہرے پر غبار پڑی ہو وہ تمہارے زندگی بھر کے اعمال سے افضل ہے خواہ اسے عمر نوح ہی مل جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11592

۔ (۱۱۵۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِیِّ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ مُعَاوِیَۃُ مِنَ الْکُوفَۃِ اسْتَعْمَلَ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ، قَالَ: فَأَقَامَ خُطَبَائَ یَقَعُونَ فِی عَلِیٍّ، قَالَ: وَأَنَا إِلَی جَنْبِ سَعِیدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ، قَالَ: فَغَضِبَ فَقَامَ فَأَخَذَ بِیَدِی فَتَبِعْتُہُ، فَقَالَ: أَلَا تَرٰی إِلٰی ہٰذَا الرَّجُلِ الظَّالِمِ لِنَفْسِہِ الَّذِی یَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، فَأَشْہَدُ عَلَی التِّسْعَۃِ أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ، وَلَوْ شَہِدْتُ عَلَی الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اثْبُتْ حِرَائُ فَإِنَّہُ لَیْسَ عَلَیْکَ إِلَّا نَبِیٌّ أَوْ صِدِّیقٌ أَوْ شَہِیدٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ہُمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ وَطَلْحَۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ مَالِکٍ۔)) قَالَ ثُمَّ سَکَتَ قَالَ: قُلْتُ: وَمَنِ الْعَاشِرُ؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا۔ وَفِیْ لَفْظٍ: اِھْتَزَّ حِرَائُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اثبُتْ حِرَائُ…۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۴)
عبداللہ بن ظالم مازنی سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوفہ سے باہر تشریف لے گئے تو مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنا نائب مقرر کر گئے، انہوںنے بعض ایسے خطباء کا تقرر کر دیا جو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تنقیص کرتے تھے۔ عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں کہ میں سعید بن زید کے پہلو میں بیٹھاتھا۔ وہ شدید غصے میں آئے اور اٹھ گئے۔ انہوںنے میرا ہاتھ پکڑا تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا۔ انہوںنے کہا: کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو جو اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے اور ایک جنتی آدمی پر لعنت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ میں نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ سب جنتی ہیں۔ اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دے دوں کہ وہ بھی جنتی ہے تو میں گنہگار نہیں ہوں گا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا:وہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: اے حرا! تو سکون کر جا، تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیںوہیا تو نبی ہیںیا صدیقیا شہید۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون کون تھے؟ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعید بن مالک، اس سے آگے وہ خاموش رہے۔ میں نے پوچھا اور دسواں آدمی کون تھا؟ انھوں نے کہا: میں خود۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ حراء خوشی سے حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اے حرائ، سکون کر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11593

۔ (۱۱۵۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عَلٰی حِرَاء ٍ ہُوَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِیٌّ وَطَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَۃُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اہْدَأْ فَمَا عَلَیْکَ إِلَّا نَبِیٌّ أَوْ صِدِّیقٌ أَوْ شَہِیدٌ۔)) وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَکْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۲۱)
ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدناابو بکر ، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر یہ سب کوہ حراء پر تھے کہ پہاڑی حرکت کرنے لگی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ یا تو نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔ نیزرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر اچھا آدمی ہے، ابو عبیدہ بن جراح اچھا آدمی ہے، اسید بن حضیر بہترین آدمی ہے، ثابت بن قیس بن شماس کیا عمدہ آدمی ہے، معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خوب آدمی ہے اور معاذ بن عمرو بن جموح اچھا آدمی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11594

۔ (۱۱۵۹۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ قَبْلِی نَبِیٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِیَ سَبْعَۃَ رُفَقَائَ نُجَبَائَ وُزَرَائَ، وَإِنِّی أُعْطِیتُ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ حَمْزَۃُ وَجَعْفَرٌ وَعَلِیٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَیْنٌ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَالْمِقْدَادُ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَیْفَۃُ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَبِلَالٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات بہترین اور عمدہ ساتھی بطور وزیر دیئے گئے تھے، جبکہ مجھے اس قسم کے چودہ افراد دیئے گئے ہیں، ان کے نام یہ ہیں، حمزہ، جعفر، علی، حسن ، حسین، ابو بکر، عمر، مقداد ، عبداللہ بن مسعود، ابو ذر، حذیفہ، سلمان، عمر، بلال۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11595

۔ (۱۱۵۹۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَکْوَانَ، عَنْ عَبْدِالْوَاحِدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْأَبْدَالُ فِی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلِ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، کُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَکَانَہُ رَجُلًا۔)) قَالَ اَبِیْ رَحِمَہُ اللّٰہُ فِیْہِ یَعْنِی حَدِیْثَ عَبْدِ الْوَھَّابِ: کَلَامٌ غَیْرُ ھٰذَا، أَوْ ھُوَ مُنْکرٌ، یَعْنِیْ حَدِیْثَ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۳۱)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت میں اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام جیسے تیس ابدال ہوں گے، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا تو اللہ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11596

۔ (۱۱۵۹۶)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ عَلَیْنَا فِی الصُّفَّۃِ وَعَلَیْنَا الْحَوْتَکِیَّۃُ، فَیَقُولُ: ((لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَکُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلٰی مَا زُوِیَ عَنْکُمْ، وَلَیُفْتَحَنَّ لَکُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۹۳)
سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس صفہ میں تشریف لاتے، جبکہ ہم پر پگڑی ہوتی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اگر تم یہ جان لو کہ اللہ کے ہاں تمہارے لیے کیا کچھ جمع ہے، تو تمہیں ان چیزوں پر کوئی غم نہیں ہو گا، جو تم کو دنیا میں نہیںدی گئیں،یاد رکھو کہ تمہارے ہاتھوں فارس اور روم ضرور بالضرور فتح ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11597

۔ (۱۱۵۹۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِطَّلَعَ عَلٰی أَھْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اِعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۹۲۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور فرمایا: تم جو چاہو عمل کرتے رہو، میں نے تم کو بخش دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11598

۔ (۱۱۵۹۸)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یَدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۳۵)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی آدمی جہنم میں ہر گز نہیں جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11599

۔ (۱۱۵۹۹)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: اِنَّ جِبْرِیْلَ أَوْ مَلِکًا جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَ مَنْ شَہِدَ بَدْرًا فِیْکُمْ قَالُوْا: ((خِیَارَنَا۔)) قَالَ: کَذٰلِکَ ھُمْ عِنْدَنَا خِیَارُنَا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۱۴)
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام یاکوئی اور فرشتہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: تم لوگوں کے ہاں اہل بدر کا کیا مقام ہے؟ صحابۂ کرام نے کہا: وہ ہم میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔ اس فرشتے نے کہا:ہمارے ہاں بھی معاملہ اسی طرح ہے کہ بدر میں شریک ہونے والے فرشتے باقی فرشتوں کی بہ نسبت بہتر اور افضل ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11600

۔ (۱۱۶۰۰)۔ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَأَرْجُوْ أَنْ لَّا یَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَائَ اللّٰہُ أَحَدٌ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: اَلَیْسَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا قَالَتْ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} [مریم: ۷۲]۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۲)
سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی فرد ان شاء اللہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس طرح نہیں ہے کہ {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} … اور تم میں سے کوئی نہیں ہے، مگر وہ جہنم میں وارد ہونے والا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے آگے یوںتلاوت کرتے ہوئے سنا: {ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} … پھر ہم اللہ سے ڈرنے والوں کو نجات دے دیں گے اور کافروں کو گھٹنوں کے بل جہنم میں پڑا رہنے دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11601

۔ (۱۱۶۰۱)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْحُدَیْبِیَۃِ، قَالَ: ((لَا تُوقِدُوْا نَارًا بِلَیْلٍ۔)) قَالَ: فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَاکَ، قَالَ: ((أَوْقِدُوْا وَاصْطَنِعُوا، فَإِنَّہُ لَا یُدْرِکُ قَوْمٌ بَعْدَکُمْ صَاعَکُمْ وَلَا مُدَّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۲۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ رات کو آگ نہ جلائیں (تاکہ دشمن کو ہمارا اندازہ نہ ہو)۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب حالات پر امن ہوئے تو آپ نے عام اجازت دے دی تھی کہ جب چاہو آگ جلا اور کھانا تیار کر سکتے ہو، پس بیشک شان یہ ہے کہ تمہارے بعد والی کوئی قوم تمہارے صاع اورمُدّ کو نہیں پہنچ سکتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11602

۔ (۱۱۶۰۲)۔ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ قَالَتْ: جَائَ غُلَامُ حَاطِبٍ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَا یَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَذَبْتَ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۸۵)
سیدہ ام مبشر زوجہ زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام نے آکر کہا: اللہ کی قسم! حاطب جنت میں نہیں جائے گا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم غلط کہہ رہے ہو، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11603

۔ (۱۱۶۰۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنََّہٗ قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَابَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۳۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11604

۔ (۱۱۶۰۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّ عِدَّۃَ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانُوْا یَوْمَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ اَصْحَابِ طَالُوْتَ یَوْمَ جَالُوْتَ، ثَلَاثُ مَائِۃٍ وَ بِضْعَۃَ عَشَرَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوا مَعَہُ النَّھْرَ، قَالَ: وَ لَمْ یُجَاوِزْ مَعَہُ النَّھْرَ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۴)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابۂ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو چودہ پندرہ افراد تھے، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11605

۔ (۱۱۶۰۵)۔ عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِیِّ قَالَ: قَالَ حُذَیْفَۃُ: مَا أَخْبِیَۃٌ بَعْدَ أَخْبِیَۃٍ کَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَدْرٍ، مَا یُدْفَعُ عَنْہُمْ مَا یُدْفَعُ عَنْ أَہْلِ ہٰذِہِ الْأَخْبِیَۃِ، وَلَا یُرِیدُ بِہِمْ قَوْمٌ سُوئً إِلَّا أَتَاہُمْ مَا یَشْغَلُہُمْ عَنْہ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۵)
بلال عبسی سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:بدر کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جو خیمے تھے، ویسے اب خیمے کہاں ہیں؟ جو شرف اور مقام اہل بدر کا ہے وہ کسی دوسرے خیمے والوں کا کیسے ہو سکتا ہے؟ جس نے بھی اہل بدر کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، اللہ کی طرف سے اس کی ایسی گرفت ہوئی کہ وہ اسی میں پھنسے رہ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11606

۔ (۱۱۶۰۶)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ مَوْتِہِ بِقَلِیْلٍ أَوْ بِشَہْرٍ: ((مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ أَوْ مَا مِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ الْیَوْمَ مَنْفُوْسَۃٍ یَأْتِیْ عَلَیْہَا مِائْۃُ سَنَۃٍ وَھِیَ یَوْمَئِذٍ حَیَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۳۲)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی وفات سے تقریباً ایک ماہ قبل ارشاد فرمایا: آج روئے زمین پر تم میں سے جو کوئی بھی نفس موجود ہے، سوسال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11607

۔ (۱۱۶۰۷)۔ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ دِجَاجَۃَ، أَنَّہُ قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِیُّ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: أَنْتَ الَّذِی تَقُولُ: لَا یَأْتِی عَلَی النَّاسِ مِائَۃُ سَنَۃٍ وَعَلَی الْأَرْضِ عَیْنٌ تَطْرِفُ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَأْتِی عَلَی النَّاسِ مِائَۃُ سَنَۃٍ وَعَلَی الْأَرْضِ عَیْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ ہُوَ حَیٌّ الْیَوْمَ۔)) وَاللّٰہِ! إِنَّ رَجَائَ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ مِائَۃِ عَامٍ۔ (مسند احمد: ۷۱۴)
نعیم بن دجانہ سے مروی ہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری، سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا تم یہ کہتے ہو کہ لوگوں پر سو سال گزریں گے تو ان میں سے کوئی بھی آنکھ پھڑکتی نہ ہوگی ( یعنی قیامت بپا ہو جائے گی اور کوئی آدمی زندہ باقی نہ رہے گا۔) جبکہ حقیقتیہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جو بھی آنکھ پھڑک رہی ہے یعنی جو بھی انسان زندہ موجود ہے، آج سے سوسال کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ ہوگا۔ اللہ کی قسم! اس امت کی خوش حالی کا اصل دور تو سوسال کے بعد بھی ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11608

۔ (۱۱۶۰۸)۔ عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ صَلَاۃَ الْعِشَاء ِ فِی آخِرِ حَیَاتِہِ، فَلَمَّا قَامَ قَالَ: ((أَرَأَیْتُمْ لَیْلَتَکُمْ ہٰذِہِ عَلٰی رَأْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ مِنْہَا لَا یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَہِلَ النَّاسُ فِی مَقَالَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِلْکَ فِیمَا یَتَحَدَّثُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأَحَادِیثِ عَنْ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَبْقَی الْیَوْمَ مِمَّنْ ہُوَ عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ یُرِیدُ أَنْ یَنْخَرِمَ ذٰلِکَ الْقَرْنُ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲۸)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی کے اواخر میں ایک رات عشاء کی نماز پڑھائی اور پھر کھڑے ہو کر فرمایا: آج رات جو بھی جان دار اس روئے زمین پر موجود ہے، سو سال بعد ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہیں رہے گا۔ سیدنا عبداللہ (بن عمر) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات سن کر سب لوگ دم بخود رہ گئے اور سو سال سے متعلقہ ان احادیث کے متعلق مختلف باتیں کرنے لگے، حالانکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ آج جو لوگ روئے زمین پر موجود ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ رہے گا، یعنییہ طبقہ اور زمانہ ختم ہو جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11609

۔ (۱۱۶۰۹)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، ثَنَا ابْنُ لَھِیْعَۃَ، ثَنَا زُھْرَۃُ اَبُوْ عَقِیْلٍ الْقُرَشِیُّ، أَنَّ جَدَّہٗ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ ہِشَامٍ احْتَلَمَ فِیْ زَمَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَکَحَ النِّسَائَ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۷۱)
ابو عقیل زہرہ قرشی نے بیان کیا کہ اس کا دادا سیدنا عبداللہ بن ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بالغ ہوا اور عورتوں سے نکاح بھی کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11610

۔ (۱۱۶۱۰)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، حَدَّثَنِی مَحْمُودُ بْنُ لَبِیدٍ، أَنَّہُ عَقَلَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَقَلَ مَجَّۃً، مَجَّہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ وَجْہِہِ) مِنْ دَلْوٍ کَانَ فِی دَارِہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۳۸)
زہری سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں : مجھے سیدنا محمود بن لیبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ انہوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیارت کی اور (انھوں نے اس زیارت کو خوب سمجھا ہے، یہاں تک کہ) انھوں نے یہ بھی سمجھا کہ ان کے گھر میں ایک ڈول تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کلی کی اور کلی والا پانی اس کے چہرے پر پھینکا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11611

۔ (۱۱۶۱۱)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ حَجَّ بِیْ أَبِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاع، وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۹)
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شرکت کی تھی، جبکہ میری عمر سات برس تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11612

۔ (۱۱۶۱۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعَدِیِّ اَنَّہُ شَہِدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمُتَلَاعِنَیْنِ فَتَلَاعَنا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَاَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ اَمْسَکْتُہَا فَقَدْ کَذَبْتُ عَلَیْھَا، قَالَ: فَجَائَ تْ بِہِ لِلَّذِیْ یَکْرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۸۹)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں پیش آنے والے واقعہ لعان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ موجود تھے، میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا تھا، جبکہ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی۔لعان کرنے والا شوہر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے۔ پھر لعان کرنے والی عورت نے ایسی شکل والا بچہ جنم دیا تھا، جس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ناپسند کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11613

۔ (۱۱۶۱۳)۔ (۹۰۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَتَوَضَّأُ اِذَا جَامَعَ وَاِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْجِعَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: أَبُو سَعِیْدٍ أَدْرَکَ الْحَرَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۵۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے بعد تک زندہ رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11614

۔ (۱۱۶۱۴)۔ حَدَّثَنَا قَرَّانُ بْنُ تَمَامٍ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خِفَافٍ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائَشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ الْغَلَّۃَ بِالضَّمَانِ۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ أَبِیْ: سَمِعْتُ مِنْ قَرَّانَ بْنِ تَمَامٍ فِیْ سَنَۃِ اِحْدٰی وَثَمَانِیْنَ وَمِائَۃٍ، وَکَان ابْنُ الْمُبَارَکِ بَاقِیًا وَفِیْہَا مَاتَ ابْنُ الْمُبارَکِ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۹۰)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ نفع ضمانت کے عوض ہوتا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد امام احمد بن حنبل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: میں نے قران بن تمام سے ۱۸۱ ھ میں سماع کیا تھا، اس سال امام ابن مبارک حیات تھے، لیکن پھر اسی سال ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11615

۔ (۱۱۶۱۵)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِیِّ، قَالَ: رَأَیْتُ سَبْعَۃَ نَفَرٍ خَمْسَۃً قَدْ صَحِبُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاثْنَیْنِ قَدْ أَکَلَا الدَّمَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَلَمْ یَصْحَبَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَّا اللَّذَانِ لَمْ یَصْحَبَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَبُوْ عُقْبَۃَ الْخَوْلَانِیُّ، وَأَبُو فَاتِحٍ الْأَنْمَارِیُّ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۳۸)
شرجیل بن مسلم خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے سات ایسے افراد کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے کہ ان میں سے پانچ تو وہ ہیں، جنہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا اعزاز حاصل تھا اور دو آدمی ایسے تھے، جنہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف حاصل نہ ہو سکا، وہ قبل از اسلام دور جاہلیت میں جانوروں کے جسم سے بہنے والا خون پیا کرتے تھے، ان کے نام ابو عقبہ خولانی اور ابو صالح انماری ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11616

۔ (۱۱۶۱۶)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أُبَیُّ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَیْکَ سُورَۃَ کَذَا وَکَذَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَقَدْ ذُکِرْتُ ہُنَاکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَفَرِحْتَ بِذٰلِکَ؟ قَالَ: وَمَا یَمْنَعُنِی؟ وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُولُ: {قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} قَالَ مُؤَمَّلٌ: قُلْتُ لِسُفْیَانَ: ہٰذِہِ الْقِرَائَۃُ فِی الْحَدِیثِ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۵۵)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابی! اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے سامنے فلاں سورت کی تلاوت کروں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے ہاں میرا نام لیا گیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ عبداللہ بن ابزیٰ نے سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو منذر! کیایہ بات سن کر آپ کو خوشی ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: خوشی کیوں نہ ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:{قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} … اے نبی! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ تم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش رہو، یہ لوگ جو دنیوی مال و اسباب جمع کرتے ہیں،یہ اس سے بہتر ہے۔ (چونکہ قرآن کریم کی قرأت متواترہ فَلْیَفْرَحُوْا ہے)، امام احمد کے شیخ مؤمل سے مروی ہے کہ میں نے اپنے شیخ سفیان سے دریافت کیا، کیایہ قرأت فَلْتَفْرَحُوْا حدیث میں ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11617

۔ (۱۱۶۱۷)۔ حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اِسْحٰقَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ زَیْنَبُ ابْنَۃُ کَعْبِ بْنِ عُجَرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرِسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَرَاَیْتَ ھٰذِہِ الْاَمْرَاضَ الَّتِیْ تُصِیْبُنَا مَالَنَا بِھَا؟ قَالَ: ((کَفَّارَاتٌ۔)) قَالَ اَبِیْ: وَاِنْ قَلَّتْ؟ قَالَ: ((وَاِنْ شَوْکَۃً فَمَا فَوْقَھَا۔)) قَالَ: فَدَعَا اَبِیْ عَلٰی نَفْسِہِ اَنْ لَّا یُفَارِقَہُ الْوَعْکُ حَتّٰی یَمُوْتَ فِیْ اَنْ لَّا یَشْغَلَہُ عَنْ حَجٍّ، وَلا عُمْرَۃٍ، وَلا جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّّٰہِ، وَلا صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَمَا مَسَّہُ اِنْسَانٌ اِلَّا وَجَدَ حَرَّہُ حَتّٰی مَاتَ۔(مسند احمد: ۱۱۲۰۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11618

۔ (۱۱۶۱۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ: ((اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَاَ عَلَیْکَ: {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا}۔)) قَالَ :وَ سَمَّانِیْ لَکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَبَکٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۳۴۵)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورۂ بینہ کی تلاوت کروں۔ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیاہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ سن کر سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رو پڑے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11619

۔ (۱۱۶۱۹)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُبَیًّا قَالَ لِعُمَرَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! إِنِّی تَلَقَّیْتُ الْقُرْآنَ مِمَّنْ تَلَقَّاہُ (وَقَالَ عَفَّانُ مِمَّنْ یَتَلَقَّاہُ) مِنْ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَام وَہُوَ رَطْبٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۲۹)
سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! میں نے قرآن کریم براہ راست اس ہستی سے سنا اور سیکھا ہے جنہوںنے جبریل علیہ السلام سے حاصل کیا، جبکہ وہ تروتازہ تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11620

۔ (۱۱۶۲۰)۔ عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِی سَبْرَۃَ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِالنَّاسِ فَتَرَکَ آیَۃً فَقَالَ: ((أَیُّکُمْ أَخَذَ عَلَیَّ شَیْئًا مِنْ قِرَائَتِی؟)) فَقَالَ أُبَیٌّ: أَنَا، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! تَرَکْتَ آیَۃَ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قَدْ عَلِمْتُ إِنْ کَانَ أَحَدٌ أَخَذَہَا عَلَیَّ فَإِنَّکَ أَنْتَ ہُوَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۵)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور بھول کر ایک آیت ترک کر گئے، بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم میں سے کسی کو قرأت میں میری غلطی کا احساس ہوا ہے؟ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ چل گیا تھا، آپ فلاں آیت چھوڑ گئے ہیں۔ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے پتہ تھا کہ اگر کسی کا اس کا ادراک ہو گا تو وہ تم ہی ہو گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11621

۔ (۱۱۶۲۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أُبَیٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَہُ: ((أَیُّ آیَۃٍ فِی کِتَابِ اللّٰہِ أَعْظَمُ؟)) قَالَ: اَللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، فَرَدَّدَہَا مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ أُبَیٌّ: آیَۃُ الْکُرْسِیِّ، قَالَ: ((لِیَہْنِکَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ لَہَا لِسَانًا وَشَفَتَیْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِکَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۲)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے دریافت کیا: اللہ کی کتاب میںکونسی آیت سب سے زیادہ عظمت کی حامل ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بار بار یہی سوال کیا، تو سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: وہ آیت الکرسی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو المنذر! تمہیںیہ علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور یہ اللہ کے عرش کے پائے کے قریب اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور پاکی بیان کرتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11622

۔ (۱۱۶۲۲)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَمَّرَ أُسَامَۃَ بَلَغَہُ أَنَّ النَّاسَ یَعِیبُونَ أُسَامَۃَ وَیَطْعَنُونَ فِی إِمَارَتِہِ، فَقَامَ کَمَا حَدَّثَنِی سَالِمٌ فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ تَعِیبُونَ أُسَامَۃَ وَتَطْعَنُونَ فِی إِمَارَتِہِ، وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ فِی أَبِیہِ مِنْ قَبْلُ، وَإِنْ کَانَ لَخَلِیقًا لِلْإِمَارَۃِ، وَإِنْ کَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ کُلِّہِمْ إِلَیَّ، وَإِنَّ ابْنَہُ ہٰذَا بَعْدَہُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، فَاسْتَوْصُوا بِہِ خَیْرًا، فَإِنَّہُ مِنْ خِیَارِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۵۶۳۰)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لشکر کا سربراہ مقرر فرمایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ لوگ اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سربراہ بننے پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کو امیر بنائے جانے پر طعن کرتے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: تم لوگ اسامہ کو سربراہِ لشکر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو اور ان کو امیر بنائے جانے پر طنز کرتے ہو، یہی کام تم نے اس سے قبل اس کے والد کے بارے میں بھی کیا تھا، حالانکہ وہ امیر بنائے جانے کا بجا طور پر حق دار تھا۔ اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی تھا، اس کے بعد اس کا یہ بیٹامجھے سب سے زیادہ پیارے لوگوں میں سے ہے، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11623

۔ (۱۱۶۲۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُسَامَۃُ أَحَبُّ الناَّسِ اِلَیَّ مَا حَاشَا فَاطِمَۃَ وَلَا غَیْرَھَا۔)) (مسند احمد: ۵۷۰۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ محبوب اسامہ (بن زید) ہے، فاطمہ وغیرہ کے علاوہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11624

۔ (۱۱۶۲۴)۔ وَعَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: لَمَّا ثَقَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھَبَطْتُ وَھَبَطَ النَّاسُ مَعِیَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ اَصْمَتَ فَلَا یَتَکَلَّمُ، فَجَعَلَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ، ثُمَّ یَصُبُّہَا عَلَیَّ أَعْرِفُ أَنَّہٗ یَدْعُوْلِیْ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۹۸)
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تو میں اور میرے رفقاء ہم سب مدینہ کے ایک نواح میں ٹھہر گئے، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالکل خاموش تھے اور شدت مرض کی وجہ سے بول نہ سکتے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر میری طرف جھکا کر اشارہ کرتے۔ میں جان گیا کہ آپ میرے حق میں دعائیں کر رہے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11625

۔ (۱۱۶۲۵)۔ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِیہِ، قَالَ سَمِعْتُ: أَبَا تَمِیمَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ، یُحَدِّثُہُ أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْخُذُنِی فَیُقْعِدُنِی عَلٰی فَخِذِہِ، وَیُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ عَلٰی فَخِذِہِ الْأُخْرٰی، ثُمَّ یَضُمُّنَا ثُمَّ یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ ارْحَمْہُمَا فَإِنِّی أَرْحَمُہُمَا۔)) قَالَ أَبِی: قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ: ہُوَ السَّلِّیُّ مِنْ عَنَزَۃَ إِلٰی رَبِیعَۃَ یَعْنِی أَبَا تَمِیمَۃَ السَّلِّیَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۳۰)
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور دوسری ران پر سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بٹھا لیتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں اپنے سینے سے چمٹا کر فرماتے: یا اللہ! میں ان پر شفقت کرتا ہوں تو بھی ان پر رحم فرما دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11626

۔ (۱۱۶۲۶)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: لَا یَنْبَغِی لِأَحَدٍ أَنْ یَبْغُضَ أُسَامَۃَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ کَانَ یُحِبُّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَہُ فَلْیُحِبَّ أُسَامَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۴۸)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو،وہ اسامہ سے محبت رکھے۔ اس فرمان کے بعد کسی کے لیے اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بغض رکھنا روا نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11627

۔ (۱۱۶۲۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ عَثَرَ بِأُسْکُفَّۃِ أَوْ عَتَبَۃِ الْبَابِ فَشُجَّ فِی جَبْہَتِہِ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمِیطِی عَنْہُ أَوْ نَحِّی عَنْہُ الْأَذٰی۔)) قَالَتْ: فَتَقَذَّرْتُہُ، قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمُصُّہُ ثُمَّ یَمُجُّہُ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَوْ کَانَ أُسَامَۃُ جَارِیَۃً لَکَسَوْتُہُ وَحَلَّیْتُہُ حَتّٰی أُنْفِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۸۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دروازے کی چوکھٹ میں گر پڑے اور ان کی پیشانی پر زخم آگیا۔ (اور ایک روایت میںیوں ہے کہ خون بہنے لگا) تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس کی پیشانی سے خون صاف کر دو۔ لیکن مجھے کچھ کراہت سی محسوسی ہوئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود شروع ہو گئے اور زخم کو چوس کر تھوکتے رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لڑکی ہوتا تو میں اسے اچھے اچھے کپڑے اور زیور پہنا کر اس قدر خوب صورت بنا دیتا کہ لوگ اس سے شادی کرنے میں رغبت کا اظہار کرتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11628

۔ (۱۱۶۲۸)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ، وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ، تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً فِی حَاجَۃٍ لَہُمَا حَتّٰی ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌ وَلَیْلَۃٌ شَدِیدَۃُ الظُّلْمَۃِ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْقَلِبَانِ وَبِیَدِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عُصَیَّۃٌ، فَأَضَاء َتْ عَصَا أَحَدِہِمَا لَہُمَا حَتّٰی مَشَیَا فِی ضَوْئِہَا حَتّٰی إِذَا افْتَرَقَ بِہِمَا الطَّرِیقُ أَضَائَ تْ لِلْآخَرِ عَصَاہُ، فَمَشٰی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فِی ضَوْء ِ عَصَاہُ حَتّٰی بَلَغَ إِلٰی أَہْلِہِ۔(مسند احمد: ۱۲۴۳۱)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک انصاری شخص (عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) رات کو دیر تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے،یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا، جبکہ رات بھی سخت اندھیری تھی۔ پھرجب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے اٹھ کر واپس چلے تو دونوں کے پاس ایک ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے گئے، آگے جا کر جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور اس طرح وہ دونوں اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں اپنے گھر پہنچ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11629

۔ (۱۱۶۲۹)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): أَنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ کَانَا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی لَیْلَۃٍ ظَلْمَائَ حِنْدِسٍ، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِہِ فَأَضَائَ تْ عَصَا أَحَدِہِمَا، فَجَعَلَا یَمْشِیَانِ فِی ضَوْئِہَا، فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَائَ تْ عَصَا الْآخَرِ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَیْضًا: فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَائَ تْ عَصَا ذَا وَعَصَا ذَا۔ (مسند احمد: ۱۳۹۰۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سخت اندھیری رات میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے رہے، وہ آپ کے ہاں سے اٹھ کر گئے تو ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے گئے، آگے جا کر جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو دوسرے کیلاٹھی بھی روشن ہوگئی۔ حماد راوی نے یوں کہا ہے کہ جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو اس کی لاٹھی روشن تھی اور دوسرے کی بھی روشن ہوگئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11630

۔ (۱۱۶۳۰)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَرَاَ رَجُلٌ الْکَہْفَ وَفِیْ الدَّارِ دَابَّۃٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَاِذَا ضَبَابَۃٌ اَوْ سَحَابَۃٌ قَدْ غَشِیَتْہُ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اقْرَاْ فَلَانُ! فَاِنَّہَا السَّکِیْنَۃُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ اَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۶۶)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کہف کی تلاوت کی، جس گھر میں وہ تلاوت کر رہا تھا، اس میں اس کی سواری بھی بندھی ہوئی تھی، وہ سواری بدکنا شروع ہو گئی، اس نے دیکھا کہ ایک بادل اس پر چھا رہا ہے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او فلاں! تو پڑھتا رہتا، یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہو رہی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11631

۔ (۱۱۶۳۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّہَا کَانَتْ تَقُولُ: کَانَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ مِنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ، وَکَانَ یَقُولُ: لَوْ أَنِّی أَکُونُ کَمَا أَکُونُ عَلَی أَحْوَالٍ ثَلَاثٍ مِنْ أَحْوَالِی لَکُنْتُ، حِینَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَحِینَ أَسْمَعُہُ یُقْرَأُ، وَإِذَا سَمِعْتُ خُطْبَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِذَا شَہِدْتُ جِنَازَۃً وَمَا شَہِدْتُ جِنَازَۃً قَطُّ فَحَدَّثْتُ نَفْسِی بِسِوَی مَا ہُوَ مَفْعُولٌ بِہَا وَمَا ہِیَ صَائِرَۃٌ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۰۳)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہا کرتی تھیں کہ سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا افضل ترین لوگوں میں سے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ تین مواقع پر میری جو کیفیت ہوتی ہے، اگر میں اسی حالت پر برقرار رہوں تو یقینا جنتی ہوں گا: (۱)جب میں قرآن کی تلاوت خود کر رہا ہوں یا کسیسے سن رہا ہوں، (۲)جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ سنتا ہوں اور (۳)جب میں کسی جنازہ میں شریک ہوتا ہوں تو میری تمام تر توجہ اس طرف ہوتی ہے کہ اس شخص کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11632

۔ (۱۱۶۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ فَتُلُقِّینَا بِذِی الْحُلَیْفَۃِ، وَکَانَ غِلْمَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَہْلِیہِمْ فَلَقُوا أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ فَنَعَوْا لَہُ امْرَأَتَہُ فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ یَبْکِی، قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہُ: غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَکَ مِنْ السَّابِقَۃِ وَالْقِدَمِ، مَا لَکَ تَبْکِی عَلَی امْرَأَۃٍ، فَکَشَفَ عَنْ رَأْسِہِ وَقَالَ: صَدَقْتِ لَعَمْرِی حَقِّی أَنْ لَا أَبْکِی عَلٰی أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَدْ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا قَالَ، قَالَتْ: قُلْتُ لَہُ: مَا قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقَدِ اہْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاۃِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔)) قَالَتْ: وَہُوَ یَسِیرُ بَیْنِی وَبَیْنَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۰۵)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب ہم حج یا عمرہ سے واپس آئے تو اہل مدینہ نے ذوالحلیفہ میں آکر ہمارا استقبال کیا، انصار کے لڑکے بھی اپنے گھر والوں کو ملنے آئے، جب ان کی سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی تو ان کو ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی، انہوںنے اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لیا اور رونے لگ گئے۔ ام المومنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے آپ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کو بہت سی فضیلتیں حاصل ہیں۔ آپ بیوی کی وفات پر اس قدر کیوں رو رہے ہیں؟ انہوںنے اپنے سر سے کپڑا ہٹا کر کہا: آپ نے درست کہا ہے، واقعی حق تو یہ ہے کہ میں سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد کسی پر نہ روئوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں بہت کچھ فرمایا ہے۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ انہوںنے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاکہ اللہ کا عرش سعد بن معاذ کی وفات پر جھوم گیا۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: یہ بات بیان کرتے وقت سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11633

۔ (۱۱۶۳۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: کَانَ یَقُولُ: حَدِّثُوْنِی عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ الْجَنَّۃَ لَمْ یُصَلِّ قَطُّ، فَإِذَا لَمْ یَعْرِفْہُ النَّاسُ، سَأَلُوْہُ: مَنْ ہُوَ؟ فَیَقُولُ: أُصَیْرِمُ بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ، عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ وَقْشٍ، قَالَ: الْحُصَیْنُ فَقُلْتُ لِمَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ: کَیْفَ کَانَ شَأْنُ الْأُصَیْرِمِ؟ قَالَ: کَانَ یَأْبَی الْإِسْلَامَ عَلٰی قَوْمِہِ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أُحُدٍ بَدَا لَہُ الْإِسْلَامُ، فَأَسْلَمَ فَأَخَذَ سَیْفَہُ فَغَدَا حَتّٰی أَتَی الْقَوْمَ فَدَخَلَ فِی عُرْضِ النَّاسِ فَقَاتَلَ حَتّٰی أَثْبَتَتْہُ الْجِرَاحَۃُ، قَالَ: فَبَیْنَمَا رِجَالُ بَنِی عَبْدِ الْأَشْہَلِ یَلْتَمِسُونَ قَتْلَاہُمْ فِی الْمَعْرَکَۃِ إِذَا ہُمْ بِہِ فَقَالُوْا: وَاللّٰہِ إِنَّ ہٰذَا لَلْأُصَیْرِمُ، وَمَا جَائَ لَقَدْ تَرَکْنَاہُ، وَإِنَّہُ لَمُنْکِرٌ ہٰذَا الْحَدِیثَ، فَسَأَلُوْہُ: مَا جَائَ بِہِ، قَالُوْا، مَا جَائَ بِکَ یَا عَمْرُو أَحَرْبًا عَلٰی قَوْمِکَ أَوْ رَغْبَۃً فِی الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: بَلْ رَغْبَۃً فِی الْإِسْلَامِ، آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ أَخَذْتُ سَیْفِی فَغَدَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَاتَلْتُ حَتّٰی أَصَابَنِی مَا أَصَابَنِی، قَالَ: ثُمَّ لَمْ یَلْبَثْ أَنْ مَاتَ فِی أَیْدِیہِمْ فَذَکَرُوْہُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنَّہُ لَمِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۳۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: تم مجھے کسی ایسے آدمی کے متعلق بتلائو جس نے نماز بالکل نہیں پڑھی اور وہ جنت میں گیا ہو۔ لوگ نہ بتلا سکے، پھر ان ہی سے دریافت کیا کہ وہ کون ہے؟ انہوںنے جواب دیا کہ وہ بنو عبدالاشھل کا ایک شخص اصیرم ہے، اس کا نام عمرو بن ثابت بن وقش ہے۔ راویٔ حدیث الحصین کہتے ہیں کہ میں نے محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ اصیرم کا کیا واقعہ ہے؟ انہوںنے بتلایا کہ وہ اپنی قوم کے مسلمان ہونے پر اعتراض اور ان کی مخالفت کیا کرتا تھا۔ غزوۂ احد کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب غزوۂ کے لیے تشریف لے گئے تو اسے قبول اسلام کا خیال آیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔ اس نے تلوار اٹھائی اور چل پڑا۔ وہ مسلمانوں کے پاس جا کر کفار کی فوج میں گھس گیا اور اس نے اس قدر شدت سے قتال کیا کہ زخموں سے چور اور نڈھال ہو کر گر پڑا۔ بنو عبدالاشھل کے لوگ مقتولین میں اپنے خاندان کے لوگوں کو ڈھونڈ رہے تھے، تو یہ ان کے سامنے آگئے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو اصیرم ہے، یہ ہمارے ساتھ تو نہیں آیا تھا۔ ہم تو اسے اس حال میں چھوڑ کر آئے تھے کہ یہ اسلام کا منکر اورمخالف تھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا: عمرو! تم یہاں کیسے آگئے؟ اپنی قوم کے خلاف لڑنے کے ارادے سے یا اسلام میں رغبت کی وجہ سے؟ اس نے جواب دیا، قومی عصبیت کی وجہ سے نہیں بلکہ رغبت اسلام کی وجہ سے میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر مسلمان ہوا۔ اپنی تلوار لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلا ، دشمنوں سے قتال کیا اور میرایہ انجام ہوا۔ سیدنا محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ ان باتوں سے کچھ ہی دیر بعد وہ ان کے ہاتھوں ہی اللہ کو پیارا ہو گیا۔ جب لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11634

۔ (۱۱۶۳۴)۔ عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی أُمِّ سُلَیْمٍ فَأَتَتْہُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَکَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: ((أَعِیدُوْا تَمْرَکُمْ فِی وِعَائِہِ وَسَمْنَکُمْ فِی سِقَائِہِ۔)) ثُمَّ قَامَ إِلٰی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَیْمٍ وَلِأَہْلِہَا بِخَیْرٍ، فَقَالَتْ: أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی خُوَیْصَّۃً، قَالَ: ((وَمَا ہِیَ۔)) قَالَتْ: خَادِمُکَ أَنَسٌ، قَالَ: فَمَا تَرَکَ خَیْرَ آخِرَۃٍ وَلَا دُنْیَا إِلَّا دَعَا لِی بِہِ، وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ارْزُقْہُ مَالًا وَوَلَدًا، وَبَارِکْ لَہُ فِیہِ۔)) قَالَ: فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَکْثَرُ مِنِّی مَالًا، وَذَکَرَ أَنَّہُ لَا یَمْلِکُ ذَہَبًا وَلَا فِضَّۃً غَیْرَ خَاتَمِہِ، قَالَ: وَذَکَرَ أَنَّ ابْنَتَہُ الْکُبْرٰی أُمَیْنَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِہِ إِلٰی مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَیِّفًا عَلٰی عِشْرِینَ وَمِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوںنے آپ کی خدمت میں کھجوریں اور گھی پیش کیا،لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دن روزے سے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کھجوریں ان کے تھیلے میں اور گھی اس کے ڈبے میں واپس رکھ دو۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سیدنا ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے اہل خانہ کے حق میں برکت کی دعا کی۔ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوںنے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خادم سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے، اس کے حق میں خصوصی دعا کر دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر کی میرے حق میں دعا کر دی اور فرمایا: یا اللہ! اسے بہت سا مال اور اولاد عنایت فرما اور اس کے لیے ان میں برکت فرما۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ تمام انصار میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس صرف ایک انگوٹھی تھی اور ان کی بڑی بیٹی امینہ نے بتلایا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے تک اپنی اولاد میں سے تقریباً ایک سو پچیس چھبیس افراد کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔1
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11635

۔ (۱۱۶۳۵)۔ عَنْ أُمِّ سُلَیْمٍ أَنَّہَا قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنَسٌ خَادِمُکَ، اُدْعُ اللّٰہَ لَہُ، قَالَ: فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَللّٰہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہُ وَوَلَدَہُ، وَبَارِکْ لَہُ فِیمَا أَعْطَیْتَہُ۔)) قَالَ حَجَّاجٌ فِی حَدِیثِہِ: قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: أَخْبَرَنِی بَعْضُ وَلَدِی أَنَّہُ قَدْ دُفِنَ مِنْ وَلَدِی وَوَلَدِ وَلَدِی أَکْثَرُ مِنْ مِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۹۷۲)
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، انہوںنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ انس آپ کا خادم ہے، آپ اس کے حق میں اللہ سے دعا کر دیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کر اور تو اسے جو کچھ عطا کرے، اس میں برکت فرما۔ راویٔ حدیث حجاج نے اپنی حدیث میں ذکر کیا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ میری اولاد میں سے بعض نے مجھے بتلایا کہ میری اولاد اور اولاد کی اولاد میں سے ایک سو سے زائد لوگ دفن کیے جا چکے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11636

۔ (۱۱۶۳۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنٍ قَالَ: کَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَحْسَنَ النَّاسِ صَلَاۃً فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۲)
سیدنا انس بن سیرین کا بیان کا ہے کہ سفر و حضرمیں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ خوبصورت نماز ادا کرنے والے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11637

۔ (۱۱۶۳۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْمَدِینَۃِ أَخَذَ أَبُوْ طَلْحَۃَ بِیَدِی فَانْطَلَقَ بِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ کَیِّسٌ فَلْیَخْدُمْکَ، قَالَ: فَخَدَمْتُہُ فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَاللّٰہِ! مَا قَالَ لِی لِشَیْئٍ صَنَعْتُہُ: لِمَ صَنَعْتَ ہٰذَا ہٰکَذَا؟ وَلَا لِشَیْئٍ لَمْ أَصْنَعْہُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ ہٰذَا ہٰکَذَا؟ (مسند احمد: ۱۲۰۱۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (ہجرت کے بعد) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرا ہاتھ پکڑکر مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سمجھداراور ہوشیار بچہ ہے، یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا۔ چنانچہ میں (انس) نے سفر و حفر میں دس سال تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت سر انجام دی ۔ اللہ کی قسم! میں نے کوئی کام کر لیا تو آپ نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟یا اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11638

۔ (۱۱۶۳۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: أَخَذَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ بِیَدِی مَقْدَمَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، فَأَتَتْ بِی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا ابْنِی وَہُوَ غُلَامٌ کَاتِبٌ، قَالَ: فَخَدَمْتُہُ تِسْعَ سِنِینَ فَمَا قَالَ لِی لِشَیْئٍ قَطُّ صَنَعْتُہُ، أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۷۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوئی تو میری والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرا ہاتھ پکڑے مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میرایہ بیٹا لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔ (اسے اپنی خدمت کے لیے قبول فرمائیں) چنانچہ میں نے آپ کی نو برس تک خدمت کی، میں نے کوئیکام کیا ہو تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یوں نہ فرمایا کہ تونے برا کام کیا ہے، یا تو نے غلط کام کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11639

۔ (۱۱۶۳۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ سَقَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَدَحِی ہٰذَا الشَّرَابَ کُلَّہُ الْعَسَلَ وَالْمَائَ وَاللَّبَنَ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۱۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو شہد، پانی اور دودھ، بلکہ ہر قسم کا مشروب پلایا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11640

۔ (۱۱۶۴۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَوَجِّہًا إِلَی أَہْلِی، فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ یَلْعَبُونَ فَأَعْجَبَنِی لَعِبُہُمْ، فَقُمْتُ عَلَی الْغِلْمَانِ فَانْتَہٰی إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا قَائِمٌ عَلَی الْغِلْمَانِ، فَسَلَّمَ عَلَی الْغِلْمَانِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَاجَۃٍ لَہُ فَرَجَعْتُ، فَخَرَجْتُ إِلٰی أَہْلِی بَعْدَ السَّاعَۃِ الَّتِی کُنْتُ أَرْجِعُ إِلَیْہِمْ فِیہَا، فَقَالَتْ لِی أُمِّی: مَا حَبَسَکَ الْیَوْمَ یَا بُنَیَّ؟ فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَاجَۃٍ لَہُ، فَقَالَتْ: أَیُّ حَاجَۃٍ یَا بُنَیَّ؟ فَقُلْتُ: یَا أُمَّاہُ إِنَّہَا سِرٌّ، فَقَالَتْ: یَا بُنَیَّ احْفَظْ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِرَّہُ، قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ أَتَحْفَظُ تِلْکَ الْحَاجَۃَ الْیَوْمَ أَوْ تَذْکُرُہَا، قَالَ: إِی وَاللّٰہِ! وَإِنِّی لَا أَذْکُرُہَا، وَلَوْ کُنْتُ مُحَدِّثًا بِہَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَحَدَّثْتُکَ بِہَا یَا ثَابِتُ! (مسند احمد: ۱۳۴۱۳)
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے روانہ ہو کر اپنے اہل کی طرف چلا اورراستے میں کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس سے گزرا، مجھے ان کا کھیل اچھا لگاتو میں وہاں رک کر انہیںدیکھنے لگا، میں ابھی وہیں کھڑاتھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں تشریف لے آئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آکر بچوں کو سلام کہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے روانہ فرمایا، میں کام کرکے واپس آیا تو اپنے سابقہ معمول سے ہٹ کر ذرا لیٹ گھر پہنچا، تو میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا: بیٹے! کہاں دیر ہوگئی تھی؟ میں نے عرض کیا: امی جان! یہ ایک راز کی بات ہے۔ انہوںنے کہا: بیٹے! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ ثابت کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: ابو حمزہ! کیا آج بھی آپ کو وہ کام یاد ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم یاد رہے، لیکن میں بتائوں گا نہیں۔ ثابت! اگر لوگوں میں سے کسی کو میں نے وہ بتانا ہوتا تو تمہیں ضرور بتلا دیتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11641

۔ (۱۱۶۴۱)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا ابْنُ عَشَرٍ وَمَاتَ وَأنَا ابْنُ عِشْرِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۰۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت میری عمر دس سال تھی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت میری عمر بیس برس تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11642

۔ (۱۱۶۴۲)۔ عَنْ حُمِیْدٍ عَنْ أَنَسٍ عُمِّرَ مِائَۃَ سَنَۃٍ غَیْرَ سَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۷۵)
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عمر ننانوے سال تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11643

۔ (۱۱۶۴۳)۔ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: عَمِّی أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ، سُمِّیتُ بِہِ، لَمْ یَشْہَدْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ: فَشَقَّ عَلَیْہِ، وَقَالَ: فِی أَوَّلِ مَشْہَدٍ شَہِدَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غِبْتُ عَنْہُ، لَئِنْ أَرَانِی اللّٰہُ مَشْہَدًا فِیمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیَرَیَنَّ اللّٰہُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَہَابَ أَنْ یَقُولَ غَیْرَہَا، قَالَ: فَشَہِدَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ أَنَسٌ: یَا أَبَا عَمْرٍو! أَیْنَ؟ قَالَ: وَاہًا لِرِیحِ الْجَنَّۃِ أَجِدُہُ دُونَ أُحُدٍ، قَالَ: فَقَاتَلَہُمْ حَتّٰی قُتِلَ فَوُجِدَ فِی جَسَدِہِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَۃٍ وَطَعْنَۃٍ وَرَمْیَۃٍ، قَالَ: فَقَالَتْ أُخْتُہُ عَمَّتِی الرُّبَیِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ: فَمَا عَرَفْتُ أَخِی إِلَّا بِبَنَانِہِ، وَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیلًا} [الأحزاب: ۲۳] قَالَ: فَکَانُوْا یَرَوْنَ أَنَّہَا نَزَلَتْ فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدر کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حاضر نہ ہوئے تھے، اسی چچا کے نام پر میرا نام بھی انس رکھا گیا، اس کا انہیں بہت قلق تھا، وہ کہا کرتے تھے: بدر پہلا معرکہ تھا، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حاضر ہوئے اور میں حاضر نہ ہو سکا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی اور معرکے کا موقع دیا تو وہ دیکھے گا کہ میں کرتا کیا ہوں، پھر وہ مزید کوئی دعوی کرنے سے ڈر گئے، پھر سیدنا انس بن نضر احد کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سامنے آرہے تھے،سیدنا انس بن نضر نے ان سے کہا : ابو عمرو! کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: آہ، میں احد کی جانب سے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔پھر سیدنا انس لڑتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہوگئے، ان کے جسم میں تلوار، نیزے اور تیر کے اسی (۸۰) سے زائد زخم آئے تھے۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ان کی بہن یعنی میری پھوپھی ربیع بنت نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے بھائی کو پوروں سے پہچانا تھا کہ یہ ان کے بھائی ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی: {رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیلًا} … کچھ مرد ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اللہ سے جو عہد کیا تھا، وہ سچا کر دکھایا، پس ان میں سے بعض وہ ہیں، جنہوں نے اپنینذر کو پورا کر دیا اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو انتظار کررہے ہیں اور انہوں نے اپنے وعدوں میں ذرہ برابر تبدیلی نہیںکی۔ صحابہ کا یہی خیال تھا کہ یہ آیت سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھیوں (جیسے سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کے بارے میں نازل ہوئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11644

۔ (۱۱۶۴۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ وَاَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ اَمَّا اَھْلُ الْجَنَّۃِ، فَکُلُّ ضَعِیْفٍ مُتَضَعِّفٍ اَشَعَثَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَوْ اَقَسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہُ، وَاَمَّا اَھْلُ النَّارِ فَکُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِیْ تَبَعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۰۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہلِ جہنم اور اہلِ جنت کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ جنتی لوگ یہ ہیں: ہر کمزور، جس کو کمزور سمجھا جاتا ہے، پراگندہ بالوں والا اور دو بوسیدہ پرانے کپڑوں والا، (لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی وقعت والا ہے کہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دے تو وہ بھی اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ اور جہنمی لوگ یہ ہیں: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا اور دوسرے لوگ جس کی پیروی کرتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11645

۔ (۱۱۶۴۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، اَنَّ أَبَاہٗ غَزَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سِتَّ عَشَرَۃَ غَزْوَۃً۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۱)
سیدنا عبداللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی سعادت حاصل رہی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11646

۔ (۱۱۶۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا بِلَالُ حَدِّثْنِی بِأَرْجٰی عَمَلٍ عَمِلْتَہُ فِی الْإِسْلَامِ عِنْدَکَ مَنْفَعَۃً، فَإِنِّی سَمِعْتُ اللَّیْلَۃَ خَشْفَ نَعْلَیْکَ بَیْنَ یَدَیَّ فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِی الْإِسْلَامِ أَرْجٰی عِنْدِی مَنْفَعَۃً إِلَّا أَنِّی لَمْ أَتَطَہَّرْ طُہُورًا تَامًّا فِی سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ إِلَّا صَلَّیْتُ بِذٰلِکَ الطُّہُورِ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لِی أَنْ أُصَلِّیَ۔ (مسند احمد: ۹۶۷۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم ایسا کون سا عمل کرتے ہو کہ تمہیں اسلام میں اس کے بہت زیادہ نفع یعنی ثو اب کی امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ سیدنا بلا ل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: میں نے اسلام میں اور تو کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جس پر مجھے یہ ثواب ملا ہو،البتہ میرا معمول ہے کہ میں دن رات میںجب بھی وضو کرتا ہوں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ مجھے جس قدر توفیق دیتا ہے، میں نماز ادا کر لیتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11647

۔ (۱۱۶۴۷)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہٗ وَفِیْہِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِبِلَالٍ: ((بِمَ سَبَقْتَنِیْ اِلَی الْجَنَّۃِ؟)) فَقَالَ: مَا أُحْدِثُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۴)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزشتہ حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے،البتہ اس میں یہ وضاحت ہے: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم کس عمل کی بدولت جنت میں مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ انہوں نے عرض کیا: میں کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا البتہ جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کرتا ہوں اور پھر دور رکعت نماز ادا کرتا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بس اسی عمل کی وجہ سے ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11648

۔ (۱۱۶۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَیْلَۃً أُسْرِیَ بِنَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدَخَلَ الْجَنَّۃَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِھَا وَجْسًا قَالَ: ((یَاجِبْرِیْلُ! مَاھٰذَا؟)) قَالَ: ھٰذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ جَائَ اِلَی النَّاسِ: ((قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ، رَأَیْتُ لَہُ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11649

۔ (۱۱۶۴۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، إِنَّ بِلَالًا أَبْطَأَ عَنِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا حَبَسَکَ؟)) فَقَالَ: مَرَرْتُ بِفَاطِمَۃَ وَھِیْ تَطْحَنُ وَالصَّبِیُّ یَبْکِیْ، فَقُلْتُ لَہَا: اِنْ شِئْتِ کَفَیْتُکِ الرَّحَا وَکَفَیْتِنِیَ الصَّبِیَّ، وَاِنْ شِئْتِ کَفَیْتُکِ الصَّبِیَّ وَکَفَیْتِنِیَ الرَّحَا، فَقَالَتْ: أَنَا أَرْفَقُ بِاِبْنِیْ مِنْکَ فَذَاکَ حَبَسَنِیْ قَالَ: ((فَرَحِمْتَہَا رَحِمَکَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۵۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نمازِ فجر سے پیچھے رہ گئے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کہاں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس سے گزرا، وہ چکی چلا رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ چاہیں تو میں چکیچلا دوں اور آپ بچے کو سنبھالیںیا میں بچے کو سنبھال لوں اور آپ چکی چلائیں، انھوں نے کہا: تمہاری نسبت بچے پر میں زیادہ شفیق اور مہربان ہوں، تو اس کام نے مجھے نماز سے دیر کرا دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر شفقت کی، اللہ تم پر رحم فرمائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11650

۔ (۱۱۶۵۰)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ شَاعِرًا قَالَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَبِلَالُ عَبْدِ اللّٰہِ خَیْرُ بِلَالٖ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرُ: کَذَبْتَ ذَاکَ بِلَالُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۶۳۸)
سالم بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے ان کے بیٹے بلال کی وفات پر ایک قصیدہ پڑھتے ہوئے کہا: عبد اللہ کا بلال، بہترین بلال تھا۔یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو، یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بلال تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11651

۔ (۱۱۶۵۱)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: تُوُفِّیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ یَعْنِی أَبَاہُ أَوِ اسْتُشْہِدَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ، فَاسْتَعَنْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی غُرَمَائِہِ أَنْ یَضَعُوا مِنْ دَیْنِہِ شَیْئًا، فَطَلَبَ إِلَیْہِمْ فَأَبَوْا، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اذْہَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَکَ أَصْنَافًا الْعَجْوَۃَ عَلٰی حِدَۃٍ، وَعِذْقَ زَیْدٍ عَلٰی حِدَۃٍ، وَأَصْنَافَہُ، ثُمَّ ابْعَثْ إِلَیَّ۔)) قَالَ: فَفَعَلْتُ فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ عَلٰی أَعْلَاہُ أَوْ فِی وَسَطِہِ ثُمَّ قَالَ: ((کِلْ لِلْقَوْمِ۔)) قَالَ: فَکِلْتُ لِلْقَوْمِ حَتّٰی أَوْفَیْتُہُمْ وَبَقِیَ تَمْرِی کَأَنَّہُ لَمْ یَنْقُصْ مِنْہُ شَیْئٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۱۱)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے اور ان کے ذمے کافی قرض تھا، میں نے قرض خواہوں کو ادائیگی کے سلسلہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تعاون کی درخواست کی کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ وہ اپنے قرض میں سے کچھ معاف کر دیں،لیکن ان لوگوں نے یہ رعایت دینے سے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر ہر قسم کی کجھور الگ الگ کر دو، عجوہ الگ رکھو، عذق زید الگ رکھو اور اس کے بعد مجھے اطلاع دو۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ کی ہدایت کے مطابق سارا کام کیا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور کھجور کے سب سے اونچے یا سب سے درمیان والے ڈھیر پربیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا: تم پیمانے بھر بھر کر ان لوگوں کو ادائیگی کرتے جائو۔ میں نے ایسے ہی کیا کہ پیمانے بھر بھر کر ان لوگوں کا قرض چکا دیا اور میری کھجوریں اسی طرح باقی رہیں گویا ان میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11652

۔ (۱۱۶۵۲)۔ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ قَالَ: أَتَیْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِی بِحَدِیثٍ شَہِدْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: تُوُفِّیَ وَالِدِی وَتَرَکَ عَلَیْہِ عِشْرِینَ وَسْقًا تَمْرًا دَیْنًا وَلَنَا تُمْرَانٌ شَتّٰی، وَالْعَجْوَۃُ لَا یَفِی بِمَا عَلَیْنَا مِنَ الدَّیْنِ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَبَعَثَ إِلٰی غَرِیمِی فَأَبٰی إِلَّا أَنْ یَأْخُذَ الْعَجْوَۃَ کُلَّہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((انْطَلِقْ فَأَعْطِہِ۔)) فَانْطَلَقْتُ إِلَی عَرِیشٍ لَنَا أَنَا وَصَاحِبَۃٌ لِی فَصَرَمْنَا تَمْرَنَا، وَلَنَا عَنْزٌ نُطْعِمُہَا مِنَ الْحَشَفِ قَدْ سَمُنَتْ، إِذَا أَقْبَلَ رَجُلَانِ إِلَیْنَا إِذَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرُ، فَقُلْتُ: مَرْحَبًا یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَرْحَبًا یَا عُمَرُ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا جَابِرُ! انْطَلِقْ بِنَا حَتّٰی نَطُوفَ فِی نَخْلِکَ ہٰذَا۔)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَطُفْنَا بِہَا وَأَمَرْتُ بِالْعَنْزِ فَذُبِحَتْ، ثُمَّ جِئْنَا بِوِسَادَۃٍ فَتَوَسَّدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوِسَادَۃٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُہَا لِیفٌ، فَأَمَّا عُمَرُ فَمَا وَجَدْتُ لَہُ مِنْ وِسَادَۃٍ، ثُمَّ جِئْنَا بِمَائِدَۃٍ لَنَا عَلَیْہَا رُطَبٌ وَتَمْرٌ وَلَحْمٌ فَقَدَّمْنَاہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَ فَأَکَلَا، وَکُنْتُ أَنَا رَجُلًا مِنْ نِشْوِیِّ الْحَیَائُ، فَلَمَّا ذَہَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہَضُ، قَالَتْ صَاحِبَتِی: یَا رَسُولَ اللّٰہِ دَعَوَاتٌ مِنْکَ، قَالَ: ((نَعَمْ، فَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) قَالَ: نَعَمْ، فَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ، ثُمَّ بَعَثْتُ بَعْدَ ذٰلِکَ إِلٰی غُرَمَائِی فَجَائُ وْا بِأَحْمِرَۃٍ وَجَوَالِیقَ، وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِی أَنْ أَشْتَرِیَ لَہُمْ مِنَ الْعَجْوَۃِ، أُوفِیہِمُ الْعَجْوَۃَ الَّذِی عَلٰی أَبِی فَأَوْفَیْتُہُمْ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ عِشْرِینَ وَسْقًا مِنَ الْعَجْوَۃِ وَفَضَلَ فَضْلٌ حَسَنٌ، فَانْطَلَقْتُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُبَشِّرُہُ بِمَا سَاقَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیَّ، فَلَمَّا أَخْبَرْتُہُ قَالَ: ((اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ، اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ۔)): فَقَالَ لِعُمَرَ: ((إِنَّ جَابِرًا قَدْ أَوْفٰی غَرِیمَہُ۔)) فَجَعَلَ عُمَرُ یَحْمَدُ اللّٰہَ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۶۹)
ابو المتوکل کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں جا کر عرض کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی ایسا واقعہ سنائیں جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود مشاہدہ کیا ہو، انہوںنے بیان کیا کہ میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ذمے بیس وسق کھجوروں کا قرض تھا (ایک وسق تقریباً۱۳۰ کلو کے برابر ہوتا ہے)، ہمارے پاس عجوہ اور مختلف قسم کی اتنی کھجوریں تھیںکہ ان سے ہمارا قرض پورا ادا نہ ہو سکتا تھا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر صورت حال کا ذکر کیا، آپ نے میرے قرض خواہ کو پیغام بھیجا کہ وہ کچھ رعایت کر دے، مگر اس نے رعایت دینے سے انکار کیا اور اصرار کیا کہ وہ تو عجوہ کھجور ہی لے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے عجوہ ہی کی ادائیگی کر دو۔ میں اور میری بیوی اپنے باغ میں گئے، ہم نے کھجوریں اتاریں،ہماری ایک بکری تھی جسے ہم ردی ردی کھجوریں کھلایا کرتے تھے۔ وہ کھجوریں کھا کھا کر خوب موٹی تازی ہو چکی تھی، میں نے اچانک دیکھا تو دو آدمی آرہے تھے، ایک اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور دوسرے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مرحبا، عمر! مرحبا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر! آئو ہم تمہاری کھجوروں میں گھوم کر آئیں۔ میں نے عرض کیا: جی ٹھیک ہے۔ چنانچہ ہم نے باغ میں چکر لگایا اور میں نے بکری کے ذبح کرنے کا کہا، اس کو ذبح کر دیا گیا۔ پھر ہم بالوں کا بنا ہوا ایک تکیہ لائے جس کے اندر کھجور کی جالی بھر ی گئی تھی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دینے کے لیے ہمارے پاس تکیہ دستیاب نہ ہو سکا، پھر ہم نے دستر خوان پر تازہ اور خشک کھجور اور گوشت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا، ان دونوں نے کھانا کھایا، میں اور ایک ایسا آدمی تھا کہ جھجک رہا تھا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جانے لگے تو میری اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی دعائوں کی ضرورت ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اللہ تمہارے رزق میں برکت فرمائے گا، اللہ تمہارے رزق میں برکت فرمائے۔ اس کے بعد میں نے اپنے قرض خواہوں کو پیغام بھیجا، وہ گدھے اور بورے لے کر آگئے، میں پختہ ارادہ کر چکا تھا کہ ان کے لیے عجوہ یعنی عمدہ قسم کی کھجور خرید کر میں اپنے والد کے ذمے عجوہ کھجور کی ادائیگی کروں گا۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے پورے بیس وسق عجوہ کھجور کے پورے ادا کر دیئے اور کافی ساری کھجور بچ رہی۔ میں نے جا کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خوش خبری دی کہ کس طرح اللہ نے میرے مال میں برکت فرمائی۔ جب میں نے آپ کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ تیرا شکر ہے۔ آپ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی بتلایا کہ جابر نے اپنے قرض خواہوں کو پورا پورا قرض ادا کر دیا ہے، وہ بھی اللہ کی تعریفیں کرنے لگے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11653

۔ (۱۱۶۵۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نُبَیْحٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْتَعِینُہُ فِی دَیْنٍ کَانَ عَلٰی أَبِی، قَالَ: فَقَالَ: ((آتِیکُمْ۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ لِلْمَرْأَۃِ: لَا تُکَلِّمِی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا تَسْأَلِیہِ، قَالَ: فَأَتَانَا فَذَبَحْنَا لَہُ دَاجِنًا کَانَ لَنَا، فَقَالَ: ((یَا جَابِرُ! کَأَنَّکُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا اللَّحْمَ۔)) قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ لَہُ الْمَرْأَۃُ: صَلِّ عَلَیَّ وَعَلٰی زَوْجِی أَوْ صَلِّ عَلَیْنَا؟ قَالَ: فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ لَہَا: أَلَیْسَ قَدْ نَہَیْتُکِ؟ قَالَتْ: تَرٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدْخُلُ عَلَیْنَا وَلَا یَدْعُو لَنَا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۹۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد کے ذمے قرض تھا، میں اس کی ادائیگی کے سلسلے میں تعاون کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہارے پاس آئوں گا۔ میں نے جا کر اپنی اہلیہ سے کہہ دیا کہ تم اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ نہ کہنا اور نہ کچھ مانگنا۔ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ کی تشریف آوری پر ہم نے ایک بکریذبح کی، آپ نے گوشت دیکھ کر فرمایا: جابر! لگتا ہے تمہیںپتہ چل گیا کہ ہمیں گوشت پسند ہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر آپ جانے لگے تو میری اہلیہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے درخواست کی: اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے اور میرے شوہر کے حق میں دعائے رحمت کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ ! ان پر رحمتیں نازل فرما۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی اہلیہ سے کہا، کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟ وہ بولی: تم جانتے ہو کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے پہلے ہمارے ہاں تشریف لاتے اور ہمارے حق میں دعا نہیں فرماتے تھے، (اس لیے میں نے دعا کی درخواست کی)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11654

۔ (۱۱۶۵۴)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِینَۃِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی حَدِیثُ عَہْدٍ بِعُرْسٍ فَأْذَنْ لِی فِی أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلٰی أَہْلِی، قَالَ: ((أَفَتَزَوَّجْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((بِکْرًا أَمْ ثَیِّبًا؟)) قَالَ: قُلْتُ: ثَیِّبًا، قَالَ: ((فَہَلَّا بِکْرًا تُلَاعِبُہَا وَتُلَاعِبُکَ وَفِیْ رِوَایَۃٍ تُلَاعِبُکَ وَتُلَاعِبُھَا وَتُضَاحِکُکَ وَتُضَاھِکُھَا)) قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ ہَلَکَ وَتَرَکَ عَلَیَّ جَوَارِیَ فَکَرِہْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَیْہِنَّ مِثْلَہُنَّ، فَقَالَ: ((لَا تَأْتِ أَہْلَکَ طُرُوقًا۔)) قَالَ: وَکُنْتُ عَلٰی جَمَلٍ فَاعْتَلَّ، قَالَ: فَلَحِقَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا فِی آخِرِ النَّاسِ قَالَ: فَقَالَ: ((مَا لَکَ یَا جَابِرُ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اعْتَلَّ بَعِیرِی، قَالَ: ((فَأَخَذَ بِذَنَبِہِ۔)) ثُمَّ زَجَرَہُ قَالَ: فَمَا زِلْتُ إِنَّمَا أَنَا فِی أَوَّلِ النَّاسِ یَہُمُّنِی رَأْسُہُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِینَۃِ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا فَعَلَ الْجَمَلُ؟)) قُلْتُ: ہُوَ ذَا، قَالَ: ((فَبِعْنِیہِ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ: أَتَبِیْعُنِیْہِ بِکَذَا وَکَذَا وَاللّٰہُ یَغْفِرُلَکَ) قُلْتُ: لَا بَلْ ھُوَ لَکَ، قَالَ ((بِعْنِیْہِ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَزَادَنِیْ قَالَ: أَتَبِیْعُنِیْہِ بِکَذَا وَکَذَا وَاللّٰہُ یَغْفِرُ لَکَ) قُلْتُ: ہُوَ لَکَ، قَالَ: ((لَا قَدْ أَخَذْتُہُ بِأُوقِیَّۃٍ ارْکَبْہُ فَإِذَا قَدِمْتَ فَأْتِنَا بِہِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ جِئْتُ بِہِ، فَقَالَ: ((یَا بِلَالُ زِنْ لَہُ وُقِیَّۃً وَزِدْہُ قِیرَاطًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: ہٰذَا قِیرَاطٌ زَادَنِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُفَارِقُنِی أَبَدًا حَتّٰی أَمُوتَ، قَالَ: فَجَعَلْتُہُ فِی کِیسٍ، فَلَمْ یَزَلْ عِنْدِی حَتّٰی جَائَ أَہْلُ الشَّامِ یَوْمَ الْحَرَّۃِ فَأَخَذُوْہٗ فِیْمَا أَخَذُوْہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۲۹)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، واپسی پر جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، اجازت ہو تو میں ذرا جلدییعنی دوسروں سے پہلے گھر چلا جائوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: وہ کنواری ہے یا بیوہ؟ میں نے عرض کیا: جی وہ بیوہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا؟ وہ تمہارے ساتھ اور تم اس کے ساتھ خوب کھیلتے؟ ۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: تم اس کے ساتھ اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی، اور وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔ میں نے عرض کیا: (میرے والد) عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال اس حال میں ہوا ہے کہ ان کے بعد میری(سات) جو ان بہنیں میری کفالت میں ہیں،میں نے ان پر ان کی ہم عمر عورت کو (بیوی کے طور پر لانا) مناسب نہیں سمجھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر رات کو یعنی بلا اطلاع نہ جانا۔ میں ایک اونٹ پر سوار تھا، و ہ بیمار پڑ گیا، میں سب سے پیچھے آہستہ آہستہ چلا جا رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے آ ملے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جابر! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ بیمار پڑ گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی دم پکڑ کراسے ذرا ڈانٹا، دیکھتے ہی دیکھتے میں سب سے آگے نکل گیا، میں اس کی مہار کو کھینچ کھینچ کر اس کے سر کو پیچھے کی طرف لاتا تاکہ اس کی رفتار ذرا کم ہو، جب ہم مدینہ منورہ کے قریب آ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا: جییہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے میرے ہاتھ بیچ دو۔ دوسری روایت کے لفظ یوں ہیں: آپ نے فرمایا: اللہ تمہاری مغفرت کرے، کیا تم اسے میرے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں اسے آپ کے ہاتھ فروخت نہیں کرتا بلکہ یہ (بلاعوض) آپ ہی کا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میں بلا معاوضہ نہیں لوں گا، تم اسے میرے ہاتھ بیچ دو۔ ایک روایت میں ہے:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیمت میں پہلے سے اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم اتنے میں اسے میرے ہاتھ بیچتے ہو؟ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ میں نے عرض کیا: یہ آپ ہی کا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، میں اسے ایک اوقیہ سونے کے عوض خریدتا ہوں۔ مدینہ منورہ پہنچ کر اسے ہمارے حوالے کر دینا۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں جب مدینہ منورہ پہنچا تو اونٹ کو آپ کی خدمت میں لے گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! تم ایک اوقیہ سونا اور مزید ایک قیراط تول کر اسے دے دو۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: قیراط زائد سونا رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عنایت فرمایا،یہ میرے مرنے تک میرے پاس رہے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اسے اپنی جیب میںیا تھیلی میں رکھتا تھا اور وہ میرے پاس ہی موجود رہا یہاں تک کہ حرہ کی لڑائی کے دن جب اہل شام آئے تو ہمارے ہاں سے لوٹے ہوئے مال میں اسے بھی لوٹ کے گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11655

۔ (۱۱۶۵۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: فَقَدْتُ جَمَلِی لَیْلَۃً فَمَرَرْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَشُدُّ لِعَائِشَۃَ، قَالَ: فَقَالَ لِی: ((مَا لَکَ یَا جَابِرُ؟)) قَالَ: قُلْتُ: فَقَدْتُ جَمَلِی أَوْ ذَہَبَ جَمَلِی فِی لَیْلَۃٍ ظَلْمَائَ، قَالَ: فَقَالَ لِی: ((ہَذَا جَمَلُکَ اذْہَبْ فَخُذْہُ۔)) قَالَ: فَذَہَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِی فَلَمْ أَجِدْہُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا وَجَدْتُہُ، قَالَ: فَقَالَ لِی: ((ہٰذَا جَمَلُکَ اذْہَبْ فَخُذْہُ۔)) قَالَ: فَذَہَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِی فَلَمْ أَجِدْہُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ بِأَبِی وَأُمِّی یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَا وَاللّٰہِ مَا وَجَدْتُہُ، قَالَ: فَقَالَ لِی: ((عَلٰی رِسْلِکَ۔)) حَتّٰی إِذَا فَرَغَ أَخَذَ بِیَدِی فَانْطَلَقَ بِی حَتّٰی أَتَیْنَا الْجَمَلَ فَدَفَعَہُ إِلَیَّ، قَالَ: ((ہٰذَا جَمَلُکَ۔)) قَالَ: وَقَدْ سَارَ النَّاسُ، قَالَ: ((فَبَیْنَمَا أَنَا أَسِیرُ عَلٰی جَمَلِی فِی عُقْبَتِی۔)) قَالَ: وَکَانَ جَمَلًا فِیہِ قِطَافٌ، قَالَ: قُلْتُ: یَا لَہْفَ أُمِّی أَنْ یَکُونَ لِی إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ، قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدِی یَسِیرُ، قَالَ: فَسَمِعَ مَا قُلْتُ، قَالَ: فَلَحِقَ بِی، فَقَالَ: ((مَا قُلْتَ یَا جَابِرُ قَبْلُ؟)) قَالَ: فَنَسِیتُ مَا قُلْتُ، قَالَ: قُلْتُ: مَا قُلْتُ شَیْئًا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ!، قَالَ: فَذَکَرْتُ مَا قُلْتُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ یَا لَہْفَاہُ أَنْ یَکُونَ لِی إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ، قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَجُزَ الْجَمَلِ بِسَوْطٍ أَوْ بِسَوْطِی، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَکِبْتُہُ قَطُّ وَہُوَ یُنَازِعُنِی خِطَامَہُ، قَالَ: فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَنْتَ بَائِعِی جَمَلَکَ ہٰذَا؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((بِکَمْ؟)) قَالَ: قُلْتُ: بِوُقِیَّۃٍ، قَالَ: قَالَ لِی: ((بَخٍ بَخٍ، کَمْ فِی أُوقِیَّۃٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ مَا بِالْمَدِینَۃِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّہُ لَنَا مَکَانَہُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قَدْ أَخَذْتُہُ بِوُقِیَّۃٍ۔)) قَالَ: فَنَزَلْتُ عَنِ الرَّحْلِ إِلَی الْأَرْضِ، قَالَ: ((مَا شَأْنُکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: جَمَلُکَ، قَالَ: قَالَ لِی: ((ارْکَبْ جَمَلَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: مَا ہُوَ بِجَمَلِی وَلٰکِنَّہُ جَمَلُکَ، قَالَ: کُنَّا نُرَاجِعُہُ مَرَّتَیْنِ فِی الْأَمْرِ إِذَا أَمَرَنَا بِہِ فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَۃَ لَمْ نُرَاجِعْہُ، قَالَ: فَرَکِبْتُ الْجَمَلَ حَتّٰی أَتَیْتُ عَمَّتِی بِالْمَدِینَۃِ، قَالَ: وَقُلْتُ لَہَا: أَلَمْ تَرَیْ أَنِّی بِعْتُ نَاضِحَنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأُوقِیَّۃٍ؟ قَالَ: فَمَا رَأَیْتُہَا أَعْجَبَہَا ذٰلِکَ، قَالَ: وَکَانَ نَاضِحًا فَارِہًا، قَالَ: ثُمَّ أَخَذْتُ شَیْئًا مِنْ خَبَطٍ أَوْجَرْتُہُ إِیَّاہُ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِہِ فَقُدْتُہُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُقَاوِمًا رَجُلًا یُکَلِّمُہُ، قَالَ: قُلْتُ: دُونَکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ جَمَلَکَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِخِطَامِہِ ثُمَّ نَادَی بِلَالًا، فَقَالَ: ((زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِیَّۃً وَأَوْفِہِ۔)) فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ فَوَزَنَ لِی أُوقِیَّۃً وَأَوْفٰی مِنَ الْوَزْنِ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ قَائِمٌ یُحَدِّثُ ذٰلِکَ الرَّجُلَ، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: قَدْ وَزَنَ لِی أُوقِیَّۃً وَأَوْفَانِی، قَالَ: فَبَیْنَمَا ہُوَ کَذٰلِکَ إِذْ ذَہَبْتُ إِلٰی بَیْتِی وَلَا أَشْعُرُ، قَالَ: ((فَنَادٰی أَیْنَ جَابِرٌ؟)) قَالُوْا: ذَہَبَ إِلٰی أَہْلِہِ، قَالَ: أَدْرِکْ ائْتِنِی بِہِ، قَالَ: فَأَتَانِی رَسُولُہُ یَسْعٰی، قَالَ: یَا جَابِرُ یَدْعُوکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَأَتَیْتُہُ، فَقَالَ: ((فَخُذْ جَمَلَکَ۔)) قُلْتُ: مَا ھُوَ جَمَلِیْ وَإِنَّمَا ھُوَ جَمَلُکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خُذْ جَمَلَکَ۔)) قَالَ: فَأَخَذْتُہُ، قَالَ: فَقَالَ: ((لَعَمْرِیْ مَا نَفَعْنَاکَ لِنُنْزِلَکَ عَنْہٗ۔)) قَالَ: فَجِئْتُ إِلٰی عَمَّتِیْ وَالنَّاضِحُ مَعِیْ وَبِالْوَقِیَّۃِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَھَا: مَا تُرِیْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْطَانِیْ أَوْقِیَّۃً وَرَدَّ عَلَیَّ جَمَلِیْ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۲۵)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میرا اونٹ گم ہوگیا، اس کی تلاش میں میرا گزر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ہوا۔ آپ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے لیے اونٹ کو تیار کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: جابر! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: رات اندھیری ہے اور میرا اونٹ گم ہو گیا ہے۔آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اونٹ وہاں ہے، جا کر اسے پکڑ لو۔ آپ نے جس طرح اشارہ فرمایا تھا، میں ادھر کو گیا لیکن اونٹ تو مجھے نہ ملا، میں آپ کی خدمت میں واپس آیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے باپ اور ماں آپ پر فدا ہوں،مجھے تو اونٹ نہیں ملا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اونٹ وہیں ہے، جا کر اسے پکڑ لو۔ آپ نے جس طرف کا اشارہ کیا تھا، میں ادھر گیا، لیکن اونٹ مجھے نہ ملا، میں نے واپس آکر عرض کیا: اے اللہ کے نبی ! اللہ کی قسم! اونٹ مجھے تو نہیں ملا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا ٹھہرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کام سے فارغ ہو کر میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے، یہاں تک کہ ہم چلتے چلتے اونٹ کے پاس جا پہنچے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ میرے حوالے کیا اور فرمایا: یہ اونٹ ہے۔ لوگ آگے جا چکے تھے، میں اپنے اونٹ پر سوار چلا جا رہا تھا، میرا اونٹ سست رفتار تھا، میں کہہ رہا تھا کہ کس قدر افسوس ہے کہ میرا اونٹ سست رفتار ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی میرے پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ آپ نے میری بات سن لی۔ آپ مجھ سے آن ملے۔ اور فرمایا۔جابر! ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ مجھے اپنی کہی ہوئی بات بھول چکی تھی۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی! میں نے تو کچھ نہیں کہا۔ پھر اچانک مجھے یہ بات یاد آگئی۔ تو میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی میں نے کہا تھا، افسوس! میرا اونٹ کس قدر سست ہے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ کے پچھلے حصے پر اپنییامیری لاٹھی ماری۔ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ لاٹھی پڑتے ہی اونٹ اس قدر تیز دوڑا کہ میں آج تک کبھی بھی اس قدر تیز رفتار اونٹ پر سوار نہیں ہوا۔ وہ اپنی مہار مجھ سے چھڑاتا تھا اور قابو میں نہ آرہا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اپنا یہ اونٹ میرے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: کتنے ہیں؟ میں نے عرض کیا، کہ ایک اوقیہ سونے کے عوض۔ آپ نے فرمایا بہت خوب، ایک اوقیہ کے کتنے اونٹ آتے ہیں؟ میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی! پورے مدینہ میں ہمیں کوئی اونٹ اس سے زیادہ پیارا نہیں لگتا۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک اوقیہ کے بدلے یہ اونٹ میں نے لے لیا۔یہ سنتے ہی میں اونٹ سے نیچے اتر آیا۔ آپ نے فرمایا: کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ اب یہ اونٹ میرا نہیں بلکہ آپ کا ہے۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے اونٹ پر سوار ہو جائو۔ میں نے کہا، اب یہ اونٹ میرا نہیں رہا۔ بلکہ آپ کا ہو چکا ہے۔ ہم نے دو مرتبہ یہ باتیں دہرائیں۔ اور تیسری دفعہ نہ دہرائی۔ اور میں اونٹ پر سوار ہو گیا۔ مدینہ منورہ جا کر میں اپنی پھوپھی جان کے پاس گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ دیکھیں میں نے یہ اونٹ ایک اوقیہ سونے کے عو ض رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ یہ سودا انہیں اچھا نہیں لگا، دراصل وہ اونٹ بڑا تیز اور طاقت ور تھا،میں نے ایک درخت کے پتے جھاڑ کر اونٹ کو کھلائے اور اس کی مہار پکڑ کر اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سپرد کر نے چلا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کے ساتھ محو گفتگو تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ اپنا یہ اونٹ سنبھال لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم جابر کوایک اوقیہ سونا تول دو اور کچھ زیادہ دے دینا۔ میں بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ گیا، انہوںنے ایک اوقیہ سونا مجھے تول کر مزید بھی دے دیا، میں قیمت وصول کرکے واپس آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک اس آدمی کے ساتھ محوکلام تھے۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ایک اوقیہ سونا اور کچھ مزید دے دیا ہے۔ آپ وہیں کھڑے تھے اور میں اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ میں اپنے خیالوں میں جا رہا تھا کہ آپ نے آواز دی: جابر کہاں ہے؟ صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ وہ تو اپنے گھر چلا گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جاؤ اور اسے میرے پاس بلا لائو۔ آپ کا قاصد دوڑتا ہوا میرے پاس آیا۔ اس نے کہا: جابر! آپ کو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلایا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنا اونٹ لے جائو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹ میرا نہیں بلکہ اب تو آپ کا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنا اونٹ لے جائو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اب یہ اونٹ میرا نہیں، بلکہ آپ کا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنا اونٹ لے جائو۔ چنانچہ میں نے اونٹ لے لیا، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں ہم نے سوچا کہ اگر ہم آپ کے اس سودے سے منحرف ہوتے ہیں تو یہ بات ہمارے حق میں قطعاً مفید نہیں۔چنانچہ میں اپنی پھوپھی جان کے پاس گیا، اونٹ میرے ساتھ تھااور ایک اوقیہ سونا بھی میرے پاس تھا۔ میں نے پھوپھی جان کو بتلایا کہ دیکھیں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک اوقیہ سونا بھی دیا ہے اور میرا اونٹ بھی مجھے واپس کر دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11656

۔ (۱۱۶۵۶)۔ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: وَقَالَ جَرِیرٌ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَدِینَۃِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِی، ثُمَّ حَلَلْتُ عَیْبَتِی، ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِی، ثُمَّ دَخَلْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَسَلَّمْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، فَرَمَانِی النَّاسُ بِالْحَدَقِ، فَقُلْتُ لِجَلِیسِی: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! ذَکَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ ذَکَرَکَ آنِفًا بِأَحْسَنِ ذِکْرٍ، فَبَیْنَمَا ہُوَ یَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَہُ فِی خُطْبَتِہِ، وَقَالَ: ((یَدْخُلُ عَلَیْکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ: أَنَّہٗ سَیَدْخُلُ عَلَیْکُمْ) مِنْ ہٰذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ ہٰذَا الْفَجِّ مِنْ خَیْرِ ذِی یَمَنٍ إِلَّا أَنَّ عَلٰی وَجْہِہِ مَسْحَۃَ مَلَکٍ۔)) قَالَ جَرِیرٌ: فَحَمِدْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی مَا أَبْلَانِی۔ (مسند احمد: ۱۹۳۹۴)
سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا، میں نے اپنا تھیلا کھولا، اپنا بہترین لباس زیب تن کیا اور اس کے بعد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، لوگ مجھے بڑی توجہ سے دیکھنے لگے تو میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی حوالے سے میرا ذکر کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابھی ابھی تمہارا بڑے احسن انداز میں ذکر کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے خطبے کے دوران ہی فرمایا: ابھی تمہارے پاس اس دروازے سے ایک شخص آرہا ہے، جو یمنکے بہترین لوگوں میں سے ہے، اس کے چہرے پر بادشاہ کی سی علامت ہو گی۔ پھر سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جن اعزازات سے نوا زا، میں نے ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11657

۔ (۱۱۶۵۷)۔ عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: مَا حَجَبَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَأْنِیْ إِلَّا تَبَسَّمَ فِیْ وَجْہِیْ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۹۳)
سیدنا جریر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سے میں نے اسلام قبو ل کیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاس آنے سے مجھے کبھی نہیں روکا اور آپ نے جب بھی مجھے دیکھا تو مسکرا دیئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11658

۔ (۱۱۶۵۸)۔ عَنْ قَیْسٍ قَالَ: قَالَ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا تُرِیحُنِی مِنْ ذِی الْخَلَصَۃِ۔)) وَکَانَ بَیْتًا فِی خَثْعَمَ یُسَمَّی کَعْبَۃَ الْیَمَانِیَۃِ، فَنَفَرْتُ إِلَیْہِ فِی سَبْعِینَ وَمِائَۃِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، قَالَ: فَأَتَاہَا فَحَرَّقَہَا بِالنَّارِ وَبَعَثَ جَرِیرٌ بَشِیرًا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَتَیْتُکَ حَتّٰی تَرَکْتُہَا کَأَنَّہَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَرَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی خَیْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِہَا خَمْسَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۰۲)
سیدنا جریر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ (بت خانہ) سے راحت نہیں پہنچا سکتے؟ وہ یمن کے قبیلہ خثعم میں ایک بت خانہ تھا، جسے یمنی کعبہ کہا جاتا تھا، چنانچہ میں ایک سو ستر (اور ایک روایت کے مطابق ایک سو پچاس) گھوڑ سواروں کو ساتھ لے کر روانہ ہوا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مبارک اس قدر زور سے مارا کہ میں نے آپ کی انگلیوں کے نشانات اپنے سینہ پر محسوس کئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا دی: یا اللہ اسے جم کر بیٹھنے کی توفیق دے اور اسے راہ ہدایت دکھانے والا اور ہدایتیافتہ بنا دے۔ یہ اس بت خانے کی طرف گئے، جا کر اسے توڑ ڈالا اور جلا کر خاکستر کر دیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ایک آدمی کو خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا، سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاصد نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے، میں آپ کی طرف اس وقت تک روانہ نہیں ہوا، جب تک کہ میں نے اسے جلنے کے بعد خارش زدہ اونٹ کی طرح بالکل سیاہ شدہ نہیں دیکھ لیا، چناچنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احمس کے گھوڑ سواروں اور پیادہ لوگوں کے لیے برکت کی پانچ دفعہ دعا کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11659

۔ (۱۱۶۵۹)۔ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ قَالَ: قَالَ جَرِیرٌ بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، وَعَلٰی أَنْ أَنْصَحَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ، قَالَ: وَکَانَ جَرِیرٌ إِذَا اشْتَرَی الشَّیْئَ وَکَانَ أَعْجَبَ إِلَیْہِ مِنْ ثَمَنِہِ، قَالَ لِصَاحِبِہِ: تَعْلَمَنَّ وَاللّٰہِ! لَمَا أَخَذْنَا أَحَبُّ إِلَیْنَا مِمَّا أَعْطَیْنَاکَ، کَأَنَّہُ یُرِیدُ بِذٰلِکَ الْوَفَائَ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۴۲)
سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر ان باتوں کی بیعت کی تھی کہ میں آپ کا حکم سن کر اس کی اطاعت کروں گا اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کروں گا۔ ابو زرعہ کہتے ہیں کہ جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب کوئی چیز خریدتے اور ان کے خیال میں وہ چیزطے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت کی ہوتی تو فروخت کنندہ سے کہتے: اللہ کی قسم! ہم نے تمہیں جو دیا ہے اس کی نسبت ہم نے جو چیز تم سے لی ہے، وہ ہمیں زیادہ محبوب ہے۔ گویا وہ یہ بات کہہ کر بائع کی حوصلہ افزائی کرکے اپنی کی ہوئی بیعت کے تقاضا کو پورا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11660

۔ (۱۱۶۶۰)۔ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ اِبْنٌ لِجَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَتْ نَعْلُ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ طُوْلُھَا ذِرَاعٌ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۲۵)
سفیان کہتے ہیں کہ سیدنا جریر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹے نے مجھے بیان کیا کہ جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے جوتے کی لمبائی ایک ہاتھ تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11661

۔ (۱۱۶۶۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((اَشْبَہْتَ خَلْقِیْ وَخُلُقِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۱۸)
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غلام سیدنا عبید اللہ بن اسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا کرتے تھے کہ تم جسمانی طور پر اور اخلاق کے لحاظ سے میرے مشابہ ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11662

۔ (۱۱۶۶۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: مَا احْتَذَی النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ وَلَا رَکِبَ الْمَطَایَا وَلَا لَبِسَ الْکُورَ مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، یَعْنِی فِی الْجُودِ وَالْکَرَمِ۔ (مسند احمد: ۹۳۴۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کسی آدمی نے جوتا نہیں پہنا، نہ سواریوں پر سوار ہوا اور نہ عمامہ استعمال کیا جو سیدنا جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بڑھ کر فضیلت والا ہو، ان کی مراد جود و سخاوت تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11663

۔ (۱۱۶۶۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ، وَقَالَ: ((فَإِنْ قُتِلَ زَیْدٌ أَوِ اسْتُشْہِدَ فَأَمِیرُکُمْ جَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ أَوِ اسْتُشْہِدَ فَأَمِیرُکُمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ)) فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَأَخَذَ الرَّایَۃَ زَیْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَفَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَأَتَی خَبَرُہُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ إِلَی النَّاسِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: ((إِنَّ إِخْوَانَکُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ وَإِنَّ زَیْدًا أَخَذَ الرَّایَۃَ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ أَوْ اسْتُشْہِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ بَعْدَہُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ أَوِ اسْتُشْہِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ أَوِ اسْتُشْہِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّایَۃَ سَیْفٌ مِنْ سُیُوفِ اللّٰہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَفَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ)) فَأَمْہَلَ ثُمَّ أَمْہَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ یَأْتِیَہُمْ ثُمَّ أَتَاہُمْ فَقَالَ: ((لَا تَبْکُوا عَلٰی أَخِی بَعْدَ الْیَوْمِ أَوْ غَدٍ ادْعُوا لِی ابْنَیْ أَخِی)) قَالَ، فَجِیئَ بِنَا کَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: ((ادْعُوا إِلَیَّ الْحَلَّاقَ)) فَجِیئَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُئُ وْسَنَا، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِیہُ عَمِّنَا أَبِی طَالِبٍ وَأَمَّا عَبْدُ اللّٰہِ فَشَبِیہُ خَلْقِی وَخُلُقِی)) ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِی فَأَشَالَہَا فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِی أَہْلِہِ وَبَارِکْ لِعَبْدِ اللّٰہِ فِی صَفْقَۃِ یَمِینِہِ)) قَالَہَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَجَائَ تْ أُمُّنَا فَذَکَرَتْ لَہُ یُتْمَنَا وَجَعَلَتْ تُفْرِحُ لَہُ، فَقَالَ: ((الْعَیْلَۃَ تَخَافِینَ عَلَیْہِمْ وَأَنَا وَلِیُّہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ))۔ (مسند احمد: ۱۷۵۰)
عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر کیا۔ اور فرمایا اگر زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو جائیں تو جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن ابی طالب تمہارے امیر ہوں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہارے امیر ہوں گے۔ مسلمانوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ تو جھنڈا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اُٹھایا۔ وہ دشمن سے لڑتے رہے بالآخر شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا سنبھالا۔ وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ ان کے بعد خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا سنبھال لیا۔ اور اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی۔ ان کی اطلاع نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی۔ آپ لوگوں کی طرف باہر تشریف لائے۔ اور اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ تمہارے بھائیوں کا دشمن سے مقابلہ ہوا۔ سب سے پہلے زید نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن ابی طالب نے جھنڈا اُٹھایا وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کے بعد عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا سنبھالا لیا۔ وہ بھی لڑتے لڑتے شہادت کے رتبہ پر فائز ہو گئے۔ ان کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور ان کے ہاتھوں اللہ نے فتح نصیب فرمائی۔ آل جعفر تین روز تک اس انتظار میں رہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لے جائیں تیسرے دن کے بعد آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا تم آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا، میرے بھتیجوں کوبلاؤ ہمیں لایا گیا تو ہم چوزوں کی طرح بالکل چھوٹے چھوٹے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا نائی کو بلاؤ اسے بلایا گیا تو اس نے ہمارے سر مونڈ دئیے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایایہ محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے۔ اور عبداللہ شکل وصورت اور مزاج میں میرے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کو اُٹھا کر فرمایایا اللہ جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اہل وعیال میں اس کا نائب بنا اور عبداللہ کی تجارت میں برکت فرما۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا تین مرتبہ کی۔ ہماری والدہ آپ کے پاس آئی اور اس نے اس پر غم کا اظہار کیا کہ یہ بچے اب بے آسرا ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کیا تم ان کے بارے میں فقروفاقہ کا اندیشہ کرتی ہو؟ دنیا اور آخرت میں میں ان کا سرپرست ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11664

۔ (۱۱۶۶۴)۔ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَارَّۃَ، أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ: أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ: لَوْ رَأَیْتَنِیْ وَقُثَمَ وَعُبَیْدَ اللّٰہِ ابْنَیْ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ صِبْیَانٌ نَلْعَبُ إِذْ مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی دَابَّۃٍ، فَقَالَ: ((ارْفَعُوا ہَذَا إِلَیَّ۔)) قَالَ: فَحَمَلَنِی أَمَامَہُ، وَقَالَ لِقُثَمَ: ((ارْفَعُوا ہٰذَا إِلَیَّ۔)) فَجَعَلَہُ وَرَائَ ہُ وَکَانَ عُبَیْدُ اللّٰہِ أَحَبَّ إِلٰی عَبَّاسٍ مِنْ قُثَمَ، فَمَا اسْتَحٰی مِنْ عَمِّہِ أَنْ حَمَلَ قُثَمًا وَتَرَکَہُ، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی رَأْسِی ثَلَاثًا، وَقَالَ کُلَّمَا مَسَحَ: ((اللَّہُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِی وَلَدِہِ۔)) قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ: مَا فَعَلَ قُثَمُ؟ قَالَ: اسْتُشْہِدَ، قَالَ: قُلْتُ: اللّٰہُ أَعْلَمُ بِالْخَیْرِ وَرَسُولُہُ بِالْخَیْرِ، قَالَ: أَجَلْ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۰)
خالد بن سارہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن جعفر نے اسے بتلایا کہ کاش تم مجھے، سیدنا قثم بن عباس اور سیدنا عبید اللہ بن عباس کو دیکھتے، جب ہم بچے کھیل رہے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر سوار ہمارے قریب سے گزرے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اٹھا کر مجھے پکڑا دو اور آپ نے مجھے اپنے آگے سواری پر سوار کر لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قثم کے متعلق فرمایا کہ اسے بھی میری طرف اٹھائو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنے پیچھے سوار کر لیا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قثم سے زیادہ عبید اللہ سے محبت تھی، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے چچا سے اس بات کی جھجک محسوس نہیں کی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قثم کو اپنے ساتھ سوار کر لیا اور عبید اللہ کو سوار نہ کیا، پھر آپ نے تین بار میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ہر دفعہ یہ دعا کی: یا اللہ! جعفر کی اولاد میں تو ان کا خلیفہ بن جا۔ خالد بن سارہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر سے دریافت کیا کہ سیدنا قثم کی موت کیسے واقع ہوئی تھی ؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی خیر اور بھلائی کو بہتر جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، واقعی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11665

۔ (۱۱۶۶۵)۔ وَعَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُصِیبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُہُ، دَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ دَبَغْتُ أَرْبَعِینَ مَنِیئَۃً وَعَجَنْتُ عَجِینِی وَغَسَّلْتُ بَنِیَّ وَدَہَنْتُہُمْ وَنَظَّفْتُہُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ائْتِینِی بِبَنِی جَعْفَرٍ۔)) قَالَتْ: فَأَتَیْتُہُ بِہِمْ فَشَمَّہُمْ وَذَرَفَتْ عَیْنَاہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی مَا یُبْکِیکَ؟ أَبَلَغَکَ عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِہِ شَیْئٌ، قَالَ: ((نَعَمْ، أُصِیبُوا ہٰذَا الْیَوْمَ۔)) قَالَتْ: فَقُمْتُ أَصِیحُ وَاجْتَمَعَ إِلَیَّ النِّسَائُ وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَہْلِہِ، فَقَالَ: ((لَا تُغْفِلُوْا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَہُمْ طَعَامًا، فَإِنَّہُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۲۶)
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے رفقاء جب شہادت پا چکے تھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں نے چالیس کھالیں صاف کرنے کے لیے ڈالی ہوئی تھیں، آٹا گوندھا ہوا تھا اور میں نے اپنے بچوں کو نہلا کر تیل لگا کر ان کو خوب صاف ستھرے کیاہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آکر فرمایا: جعفر کے بیٹوں کو میرے پاس لائو۔ میں انہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لائی، آپ نے ان کو سونگھا اور ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق آپ کے پاس کوئی خبر آئی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ لوگ آج شہید ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر میں اٹھی اور چیخی، عورتیں میرے پاس جمع ہوگئیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھرتشریف لے گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے سے غافل نہ ہونا، وہ اپنے سرپرست کی شہادت کے صدمے میں مبتلا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11666

۔ (۱۱۶۶۶)۔ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ الْعَدَوِیِّ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، أَنَّ جُلَیْبِیبًا کَانَ امْرَأً یَدْخُلُ عَلَی النِّسَائِ یَمُرُّ بِہِنَّ وَیُلَاعِبُہُنَّ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِی: لَا یَدْخُلَنَّ عَلَیْکُمْ جُلَیْبِیبٌ، فَإِنَّہُ إِنْ دَخَلَ عَلَیْکُمْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ، قَالَ: وَکَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا کَانَ لِأَحَدِہِمْ أَیِّمٌ لَمْ یُزَوِّجْہَا حَتّٰی یَعْلَمَ ہَلْ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہَا حَاجَۃٌ أَمْ لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: ((زَوِّجْنِی ابْنَتَکَ۔)) فَقَالَ: نِعِمَّ وَکَرَامَۃٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَنُعْمَ عَیْنِی، فَقَالَ: ((إِنِّی لَسْتُ أُرِیدُہَا لِنَفْسِی۔)) قَالَ: فَلِمَنْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ لِجُلَیْبِیبٍ: قَالَ: فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أُشَاوِرُ أُمَّہَا فَأَتٰی أُمَّہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ ابْنَتَکِ، فَقَالَتْ: نِعِمَّ وَنُعْمَۃُ عَیْنِی، فَقَالَ: إِنَّہُ لَیْسَ یَخْطُبُہَا لِنَفْسِہِ إِنَّمَا یَخْطُبُہَا لِجُلَیْبِیبٍ، فَقَالَتْ: أَجُلَیْبِیبٌ ابْنَہْ أَجُلَیْبِیبٌ ابْنَہْ أَجُلَیْبِیبٌ ابْنَہْ لَا لَعَمْرُ اللّٰہِ لَا تُزَوَّجُہُ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَقُومَ لِیَأْتِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیُخْبِرَہُ بِمَا قَالَتْ أُمُّہَا، قَالَتْ الْجَارِیَۃُ: مَنْ خَطَبَنِی إِلَیْکُمْ؟ فَأَخْبَرَتْہَا أُمُّہَا، فَقَالَتْ: أَتَرُدُّونَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْرَہُ؟ ادْفَعُونِی فَإِنَّہُ لَمْ یُضَیِّعْنِی، فَانْطَلَقَ أَبُوہَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، قَالَ: شَأْنَکَ بِہَا فَزَوَّجَہَا جُلَیْبِیبًا، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃٍ لَہُ، قَالَ: فَلَمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، قَالَ لِأَصْحَابِہِ: ((ہَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟)) قَالُوْا نَفْقِدُ فُلَانًا وَنَفْقِدُ فُلَانًا، قَالَ: ((انْظُرُوْا ہَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟)) قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((لٰکِنِّی أَفْقِدُ جُلَیْبِیبًا۔)) قَالَ: ((فَاطْلُبُوْہُ فِی الْقَتْلٰی؟)) قَالَ: فَطَلَبُوہُ فَوَجَدُوہُ إِلٰی جَنْبِ سَبْعَۃٍ قَدْ قَتَلَہُمْ ثُمَّ قَتَلُوہُ، فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَا ہُوَ ذَا إِلٰی جَنْبِ سَبْعَۃٍ قَدْ قَتَلَہُمْ ثُمَّ قَتَلُوہُ، فَأَتَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: ((قَتَلَ سَبْعَۃً وَقَتَلُوہُ، ہٰذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ، ہٰذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی سَاعِدَیْہِ، وَحُفِرَ لَہُ مَا لَہُ سَرِیرٌ إِلَّا سَاعِدَا رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ وَضَعَہُ فِی قَبْرِہِ وَلَمْ یُذْکَرْ أَنَّہُ غَسَّلَہُ، قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا کَانَ فِی الْأَنْصَارِ أَیِّمٌ أَنْفَقَ مِنْہَا وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ ثَابِتًا، قَالَ: ہَلْ تَعْلَمْ مَا دَعَا لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اللَّہُمَّ صُبَّ عَلَیْہَا الْخَیْرَ صَبًّا، وَلَا تَجْعَلْ عَیْشَہَا کَدًّا کَدًّا۔)) قَالَ: فَمَا کَانَ فِی الْأَنْصَارِ أَیِّمٌ أَنْفَقَ مِنْہَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمٰنِ: مَا حَدَّثَ بِہِ فِی الدُّنْیَا أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ مَا أَحْسَنَہُ مِنْ حَدِیثٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۲۲)
سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خوش مزاج قسم کے آدمی تھے، وہ عورتوں کے پاس چلے جاتے اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کوئی مزاحیہ بات کر جاتے، ان کے اس مزاج کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا تھا کہ جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہارے پاس نہ آئے، اگر وہ آیا تو تمہاری خیر نہیں۔ انصار کا یہ معمول تھا کہ ان کے ہاں کوئی بن شوہر عورت ہوتی تو وہ اس وقت تک اس کی شادی نہ کرتے جب تک انہیںیہ علم نہ ہو جاتا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی حاجت ہے یا نہیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک انصاری سے فرمایا: تم اپنی بیٹی کا نکاح مجھے دے دو۔ اس نے کہا: جی ٹھیک ہے، اے اللہ کے رسول! اور یہ بات میرے لیے باعث افتخار و اعتزاز ہوگی اور اس سے مجھے از حدخوشی ہوگی، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضاحت کر دی کہ میں اسے اپنے لیے طلب نہیں کر رہا۔ اس نے کہا، اللہ کے رسول! پھر کس کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جلیبیب کے لیے۔ یہ سن کر اس نے کہا:اے اللہ کے رسول!میں بچی کی ماں یعنی اپنی بیوی سے مشورہ کر لوں، وہ بچی کی ماں کے پاس گیا اور بتلایا کہ اللہ کے رسول تمہاری بیٹی کا رشتہ طلب کرتے ہیں۔ وہ بولی کہ بالکل ٹھیک ہے اور اس سے ہمیں از حد خوشی ہوگی۔ شوہر نے بتلایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے لیے نہیں، بلکہ جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے رشتہ طلب کرتے ہیں۔ اس نے کہا: کیا جلیبیب کے لیے، نہیں، جلیبیب کو ہم بیٹی نہیں دے سکتے، جلیبیب نہیں۔اللہ کی قسم! ہم جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس کا نکاح نہیں کریں گے، جب وہ مرد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف جانے لگا تاکہ اپنی بیوی کے جواب سے آپ کو مطلع کرے تو وہ بچی بول اٹھی کہ آپ لوگوں کے پاس میرے نکاح کا پیغام کس نے بھیجا ہے؟ تو اس کی ماں نے اسے بتلا دیا۔ و ہ لڑکی بولی: کیا تم اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات کا انکار کر دو گے؟ آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوالے کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ضائع نہیں کریں گے، چنانچہ بچی کا باپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا اور اس نے ساری بات آپ کے گوش گزارکی اور کہا: اب آپ اس کے متعلق با اختیار ہیں۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا نکاح جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے، جب اللہ نے آپ کو فتح سے ہم کنار کر دیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم کسی آدمی کو غیر موجود پاتے ہو؟ صحابہ نے بتلایا کہ فلاں فلاں آدمی نظر نہیںآرہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر دیکھو کون کون نظر نہیں آرہا، صحابہ نے کہا: اور تو کوئی آدمی ایسا نظر نہیں آتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن مجھے جلیبیب دکھائی نہیں دے رہا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ اسے مقتولینیعنی شہداء میں جا کر تلاش کرو، صحابہ نے جا کر ان کو تلاش کیا تو انہیں اس حال میں پایا کہ ان کے قریب سات کافر مرے پڑے تھے۔ معلوم ہوتاتھا کہ وہ ان ساتوں کو مارنے کے بعد شہید ہوئے ہیں، صحابہ نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو سات کافروں کو قتل کرنے کے بعد خود شہید ہوا پڑا ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی لاش کے پاس آئے، اس کے قریب کھڑے ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا، اس کے بعد کافروں نے اسے شہید کر ڈالا، یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں، یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو تین بار ارشاد فرمائی، اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی لاش کو اپنے بازوئوں پر اٹھا لیا ، اس کی قبر تیار کی گئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بازواس کے چارپائی بنے ہوئے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے قبر میں اتارا، ان کو غسل دیئے جانے کا ذکر نہیں ہے۔ ثابت کہتے ہیں کہ انصار یوں میں یہ واحد بیوہ تھی، جس سے بہت زیادہ لوگوںنے نکاح کرنے کی رغبت کا اظہار کیا۔اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ثابت سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے حق میں کیا دعا کی تھی؟ آپ نے یہ دعا کی تھی: یا اللہ! اس پر خیر و برکت کی برکھا برسا دے اور اس کی معیشت تنگ نہ ہو۔ اس دعا کی برکت تھی کہ یہ انصار میں واحد بیوہ تھی کہ جس سے بہت زیادہ لوگوں کو نکاح کرنے کی رغبت تھی۔ ابو عبدالرحمن عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں کہ دنیا میں اس حدیث کو صرف حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے اور یہ کیسی عمدہ حدیث ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11667

۔ (۱۱۶۶۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ حَارِثَۃَ خَرَجَ نَظَّارًا فَأَتَاہُ سَہْمٌ فَقَتَلَہُ، فَقَالَتْ أُمُّہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعَ حَارِثَۃَ مِنِّی، فَإِنْ کَانَ فِی الْجَنَّۃِ صَبَرْتُ وَإِلَّا رَأَیْتَ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: یَا أُمَّ حَارِثَۃَ! إِنَّہَا لَیْسَتْ بِجَنَّۃٍ وَاحِدَۃٍ وَلٰکِنَّہَا جِنَانٌ کَثِیرَۃٌ، وَإِنَّ حَارِثَۃَ لَفِی أَفْضَلِہَا، أَوْ قَالَ: فِی أَعَلَی الْفِرْدَوْسِ شَکَّ یَزِیدُ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۷۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ر وایت ہے کہ سیدنا حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جاسوسی کے لیے گئے،اچانک انہیں ایک تیر آلگا اور وہ شہید ہوگئے،ان کی والدہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میرا حارثہ کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہے، اب اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں، وگر نہ آپ دیکھیںگے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت ایک تو نہیں ہے، کئی جنتیں ہیں اور حارثہ تو افضل جنت میں ہے۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تو جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام میں ہے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں بہت سی ہیں اور حارثہ اعلیٰ جنت الفردوس میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11668

۔ (۱۱۶۶۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِمْتُ فَرَأَیْتُنِیْ فِی الْجَنَّۃِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِیئٍ یَقْرَئُ فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: ھٰذَا حَارِثَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ۔)) فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَذَاکَ الْبِرُّ کَذَاک البِّرُ۔)) وَکَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۵۱)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سو گیا اور میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا اور میں نے وہاں قرآن پڑھتے ایک آدمی کی آواز سنی، میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتلایا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس صحابی کے حق میں فرمایا: حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے، حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یہ صحابی لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11669

۔ (۱۱۶۶۹)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: مَرَرْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام جَالِسٌ فِی الْمَقَاعِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ثُمَّ أَجَزْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہَلْ رَأَیْتَ الَّذِی کَانَ مَعِی؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنَّہُ جِبْرِیلُ وَقَدْ رَدَّ عَلَیْکَ السَّلَامَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۷۷)
سیدنا حا رثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ (مسجد کے قریب) المقاعد جگہ میں بیٹھے تھے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا اور میں آگے گزر گیا، جب میں واپس آیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی وہاں سے واپس ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بیٹھے آدمی کو تم نے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے اور انہوںنے تمہارے سلام کا جواب دیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11670

۔ (۱۱۶۷۰)۔ عن عَلِیّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَا وَالزُّبَیْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: ((انْطَلِقُوا حَتّٰی تَأْتُوا رَوْضَۃَ خَاخٍ فَإِنَّ بِہَا ظَعِینَۃً مَعَہَا کِتَابٌ فَخُذُوہُ مِنْہَا۔)) فَانْطَلَقْنَا تَعَادٰی بِنَا خَیْلُنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الرَّوْضَۃَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِینَۃِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِی الْکِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِی مِنْ کِتَابٍ، قُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّیَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ الْکِتَابَ مِنْ عِقَاصِہَا، فَأَخَذْنَا الْکِتَابَ، فَأَتَیْنَا بِہِ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا فِیہِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلٰی نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ بِمَکَّۃَ، یُخْبِرُہُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا حَاطِبُ! مَا ہٰذَا؟)) قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَیَّ إِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِی قُرَیْشٍ، وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا، وَکَانَ مَنْ کَانَ مَعَکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ لَہُمْ قَرَابَاتٌ یَحْمُونَ أَہْلِیہِمْ بِمَکَّۃَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِی ذٰلِکَ مِنَ النَّسَبِ فِیہِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِیہِمْ یَدًا یَحْمُونَ بِہَا قَرَابَتِی، وَمَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ کُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِینِی وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہُ قَدْ صَدَقَکُمْ۔)) فَقَالَ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: دَعْنِی أَضْرِبْ عُنُقَ ہٰذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: ((إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا، وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللّٰہَ قَدِ اطَّلَعَ عَلٰی أَہْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۶۰۰)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا مقدار کو بھیجا اور فرمایا: تم چلو، یہاں تک کہ روضۂ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں ایک مسافر خاتون کے پاس ایک خط ہو گا، وہ خط اس سے لے لو۔ سو ہم چل پڑے، ہمارے گھوڑے دوڑتے گئے، یہاں تک کہ ہم اس روضہ کے پاس پہنچے، وہاں تو واقعی ایک خاتون موجود تھی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکال دے، وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، یہ سن کر اس نے اپنے بالوں کی لٹ سے خط نکال دیا، ہم نے وہ لیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، اس خط میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: یہ خط حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ کے مشرکوں کی طرف ہے، …۔ وہ ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض امور کی خبر دے رہے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھ پر جلدی نہ کرنا (میں تفصیل بتاتا ہوں)، بات یہ ہے کہ میں معاہدے کی بنا پر قریشیوں سے ملا ہوا تھا اور میں نسب کے لحاظ سے ان میں سے نہیں تھا، آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، ان کی قریشیوں سے رشتہ داریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ قریشیوں سے میرا نسب تو ملتا نہیں ہے، تو میں نے سوچا کہ اگر میں ان پر کوئی ایسا احسان کر دوں کہ جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں (اس مقصد کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے)، نہ میں نے یہ کاروائی کفر کرتے ہوئے کی، نہ اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ اس آدمی نے تم سے سچ بولا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: چھوڑیئے مجھے، میں اس منافق کی گردن اتار پھینکوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوا تھا، اور تجھے پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا: آج کے بعد جو چاہو کر گزرو، میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11671

۔ (۱۱۶۷۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِیْ بَلْتَعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَتَبَ إِلٰی مَکَّۃَ یَذْکُرُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَادَ غَزْوَھُمْ، فَدَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمَرْأَۃٍ الَّتِیْ مَعَہَا الْکِتَابُ فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۳۳)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھ کر ان کو اطلاع دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر حملہ کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابۂ کرام کو اس عورت کے متعلق بتلا دیا، جس کے پاس وہ خط تھا… اس سے آگے حدیث گزشتہ حدیث کی مانند ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11672

۔ (۱۱۶۷۲)۔ قَالَ جَائَ عَبْدٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِیْ بَلْتَعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَحَدُ بَنِی أَسَدٍ یَشْتَکِیْ سَیِّدَہٗ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَیَدْخُلَنَّ حَاطِبُ النَّارَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَذَبْتَ لَا یَدْخُلُہَا اِنَّہٗ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۳۰)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک غلام، جو بنی اسد کے قبیلہ سے تھا، آیا اور اپنے مالک کی شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائے گا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تم غلط کہتے ہو، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کی سعادت حاصل کر چکا ہے، (جبکہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرنے والے جہنم میں نہیں جائیں گے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11673

۔ (۱۱۶۷۳)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: قَالَتْ لِی أُمِّی: مَتٰی عَہْدُکَ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقُلْتُ: مَا لِی بِہِ عَہْدٌ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: فَہَمَّتْ بِی، قُلْتُ: یَا أُمَّہْ دَعِینِی حَتّٰی أَذْہَبَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَا أَدَعُہُ حَتّٰی یَسْتَغْفِرَ لِی وَیَسْتَغْفِرَ لَکِ، قَالَ: فَجِئْتُہُ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَامَ یُصَلِّی فَلَمْ یَزَلْ یُصَلِّی حَتّٰی صَلَّی الْعِشَائَ، ثُمَّ خَرَجَ (وَزَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: مَا لَکَ؟ فَحَدَّثْتُہٗ بِالْأَمْرِ، فَقَالَ: غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ وَلِأُمِّکَ)۔ (مسند احمد: ۲۳۸۲۹)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہاری نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کب ہوئی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں تو اتنے عرصہ سے آپ سے ملاقات نہیں کر سکا، انہوںنے مجھے سخت سست کہا۔ میں نے عرض کیا: امی جان! آپ اجازت دیں تاکہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جائوں اور میں اس وقت ان کو چھوڑ کر الگ نہ ہوں گا، جب تک وہ میرے اور آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں دعائے مغفرت نہ کریں، چنانچہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں نماز مغرب ادا کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کھڑے ہو کر مزید نفل نماز ادا کرنے لگے یہاں تک کہ آپ نے نماز عشاء ادا کی۔ اس کے بعد آپ باہر تشریف لے چلے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں:آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فرمائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11674

۔ (۱۱۶۷۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ: مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِی حُسَیْلُ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ، فَقَالُوْا إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا؟ قُلْنَا: مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ، فَأَخَذُوْا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((انْصَرِفَا نَفِی بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۴۶)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ بدر میں ہماری عدم شرکت کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اور میرا والد سیدنا حسیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جا رہے تھے کہ قریشی کفار نے ہمیں گرفتار کر لیا، انھوں نے کہا کہ تم لوگ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف جا رہے ہو۔ ہم نے کہا کہ ہم تو مدینہ کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوںنے ہم سے اللہ کی قسم اور پختہ عہد لیا کہ ہم مدینہ کی طرف جائیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لیں۔ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ، ہم ان سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ کی مدد کے خواستگار ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11675

۔ (۱۱۶۷۵)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کُلِّ شَیْئٍ حَتّٰی مَسْحِ الْحِصٰی فَقَالَ: ((وَاحِدَۃً أَوْ دَعْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۶۴)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک ایک مسئلہ دریافت کیا،یہاں تک کہ میں نے یہ بھی پوچھا کہ (نماز کے دوران سجدہ والی جگہ سے) کنکریوں کو ہٹانا یا صاف کرنا کیسا ہے؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ہٹا سکتے ہو یا پھر یہ بھی رہنے دو (تو بہتر ہے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11676

۔ (۱۱۶۷۶)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ، أَنَّہُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا جَلَسْنَا إِلَیْہِ أَمْسِ سَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ؟ فَقَالُوْا: نَحْنُ سَمِعْنَاہُ، قَالَ: لَعَلَّکُمْ تَعْنُونَ فِتْنَۃَ الرَّجُلِ فِی أَہْلِہِ وَمَالِہِ؟، قَالُوْا: أَجَلْ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ تِلْکَ أَسْأَلُ، تِلْکَ یُکَفِّرُہَا الصَّلَاۃُ وَالصِّیَامُ وَالصَّدَقَۃُ، وَلٰکِنْ أَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ الَّتِی تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَأَمْسَکَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ أَنَّہُ إِیَّایَ یُرِیدُ، قُلْتُ: أَنَا، قَالَ لِی: أَنْتَ لِلَّہِ أَبُوکَ، قَالَ: قُلْتُ: تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَی الْقُلُوبِ عَرْضَ الْحَصِیرِ، فَأَیُّ قَلْبٍ أَنْکَرَہَا نُکِتَتْ فِیہِ نُکْتَۃٌ بَیْضَائُ، وَأَیُّ قَلْبٍ أُشْرِبَہَا نُکِتَتْ فِیہِ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ، حَتّٰی یَصِیرَ الْقَلْبُ عَلٰی قَلْبَیْنِ أَبْیَضَ مِثْلِ الصَّفَا لَا یَضُرُّہُ فِتْنَۃٌ مَا دَامَتْ السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَالْآخَرِ أَسْوَدَ مُرْبَدٍّ کَالْکُوزِ مُخْجِیًا وَأَمَالَ کَفَّہُ لَا یَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا یُنْکِرُ مُنْکَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ ہَوَاہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۹)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے واپس آئے تو بیان کیا کہ کل جب ہم ان کی خدمت میں بیٹھے تھے تو انہوں نے صحابۂ کرام سے دریافت کیا کہ تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قیامت سے قبل بپا ہونے والے فتن کے بارے میں حدیث سنی ہو؟ تو سب نے کہا کہ اس بارے میں تو ہم سب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بہت کچھ سن چکے ہیں۔ انہوںنے کہا:شاید تم لوگ میری بات سے انسان کے اس کے اہل اور مال کا فتنہ سمجھ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: میں اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، ان فتنوں کو تو نماز، روزہ اور صدقات مٹا دیتے ہیں، میں تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان فتنوں کے بارے میں سنا ہو جو سمندر کی موجوں کی طرح تندی تیزی سے آئیں گے۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر سب لوگ خاموش ہوگئے۔ میں سمجھ گیا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: میں سن چکا ہوں۔ انھوں نے کہا: بہت خوب، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے بیان کیا کہ فتنے انسانوں کے دلوں پر اس طرح مسلسل چھا جائیں گے جیسے چٹائی کے تنکے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہوتے ہیں، جو دل ان فتنوں سے مانوس نہیں ہوں گے یعنی ان میں ملوث نہ ہوں گے ان پر سفید نقطے لگتے جائیں گے اور جو دل ان فتنوں سے مانوس ہو جائیں گے یعنی ان میں ملوث ہو جائیں گے ان پر سیاہ نقطے لگتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ لوگوں کے دل یعنی لوگ دو قسم کے ہو جائیں گے۔ ایک قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کے دل چکنے پتھر کی مانند صاف ہوں گے، جب تک آسمان اور زمین باقی ہیںیعنی قیامت تک کوئی فتنہ ان کو ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کے دل کا لے سیاہ اور ٹیڑھے ہوں گے (ساتھ ہی آپ نے اپنی ہتھیلی کو الٹا کر بھی دکھایا) ایسے اپنی خواہشات کے ہی تابع ہوں گے، وہ کسی بھی اچھائی کو اچھا یا برائی کو برانہیں سمجھیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11677

۔ (۱۱۶۷۷)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا خَالَہُ أَخَا أُمِّ سُلَیْمٍ فِی سَبْعِینَ رَجُلًا، فَقُتِلُوا یَوْمَ بِئْرِ مَعُونَۃَ، وَکَانَ رَئِیسُ الْمُشْرِکِینَ یَوْمَئِذٍ عَامِرُ بْنُ الطُّفَیْلِ، وَکَانَ ہُوَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اخْتَرْ مِنِّی ثَلَاثَ خِصَالٍ یَکُونُ لَکَ أَہْلُ السَّہْلِ وَیَکُونُ لِی أَہْلُ الْوَبَرِ، أَوْ أَکُونُ خَلِیفَۃً مِنْ بَعْدِکَ أَوْ أَغْزُوکَ بِغَطَفَانَ أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَائ، قَالَ: فَطُعِنَ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی فُلَانٍ، فَقَالَ: غُدَّۃٌ کَغُدَّۃِ الْبَعِیرِ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی فُلَانٍ ائْتُونِی بِفَرَسِی، فَأُتِیَ بِہِ فَرَکِبَہُ فَمَاتَ وَہُوَ عَلٰی ظَہْرِہِ، فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَیْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی أُمَیَّۃَ، وَرَجُلٌ أَعْرَجُ، فَقَالَ لَہُمْ: کُونُوا قَرِیبًا مِنِّی حَتّٰی آتِیَہُمْ فَإِنْ آمَنُونِی وَإِلَّا کُنْتُمْ قَرِیبًا، فَإِنْ قَتَلُونِی أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَکُمْ، قَالَ: فَأَتَاہُمْ حَرَامٌ، فَقَالَ: أَتُؤْمِنُونِی أُبَلِّغْکُمْ رِسَالَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْکُمْ، قَالُوا: نَعَمْ، فَجَعَلَ یُحَدِّثُہُمْ وَأَوْمَئُوا إِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ مِنْ خَلْفِہِ فَطَعَنَہُ حَتّٰی أَنْفَذَہُ بِالرُّمْحِ، قَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، قَالَ: ثُمَّ قَتَلُوہُمْ کُلَّہُمْ غَیْرَ الْأَعْرَجِ، کَانَ فِی رَأْسِ جَبَلٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَأُنْزِلَ عَلَیْنَا وَکَانَ مِمَّا یُقْرَأُ فَنُسِخَ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، قَالَ: فَدَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیْہِمْ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا عَلٰی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَبَنِی لِحْیَانَ، وَعُصَیَّۃَ الَّذِینَ عَصَوُا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۲۷)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بھائی میرے ماموں حرام کو ستر افراد کے ایک دستہ کے ہمراہ بھیجا تھا اور یہ لوگ بئر معونہ کے دن قتل کر دئیے گئے تھے۔ ان دنوں مشرکین کا لیڈر عامر بن طفیل بن مالک عامری تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر پیش کش کی تھی کہ آپ میری طرف سے تین میں سے کوئی ایک بات قبول کر لیں: (۱)دیہاتی علاقے آپ کے اور شہری علاقے میرے ہوں، یا (۲)آپ کے بعد خلافت مجھے دی جائے، یا (۳)میں بنو غطفان کو ساتھ ملا کر ایک ہزار اونٹوں اور ایک ہزار اونٹنیوں کے ساتھ آپ سے لڑوں گا۔ ( اس موقعہ پر آپ نے دعا کی کہ یا اللہ عامر کے مقابلے میں میری مدد فرما) چنانچہ وہ بنو فلان کے ایک گھرانے میں تھا کہ اسے طاعون نے آلیا، وہ کہنے لگا: یہ تو بنو فلاں کی عورت کے گھر میں اونٹوں کی گلٹی جیسی گلٹی ہے، میرا گھوڑا میرے پاس لاؤ۔ اس کا گھوڑا اس کے پاس لایا گیا،یہ اس پر سوار ہو ا اور اس کی پشت پر ہی اسے موت آگئی۔ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بھائی سیدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور اس کے ساتھ دو آدمی، ان میں سے ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور دوسرا اعرج یعنی لنگڑا تھا، کو ساتھ لئے چلا، اور اس نے ان تینوں سے کہا: تم میرے قریب قریب رہنا تاآنکہ میں ان کے پاس جا پہنچوں، انہوں نے اگر مجھے کچھ نہ کہا تو بہتر اور اگر کوئی دوسری صورت پیدا ہوئی تو تم میرے قریب ہی ہو گئے اور اگر انہوں نے مجھے قتل کر ڈالا تو تم پیچھے والے اپنے ساتھیوں کواطلاع تو دے سکو گے۔ چنانچہ حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے قریب پہنچے اور ان سے کہا: کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا سکوں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، یہ ان کے سامنے گفتگو کرنے لگے اور ان لوگوں نے حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے سے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا ور اس نے ان پر نیزے کا وار کیا، جوان کے جسم سے پار ہو گیا۔ سیدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس وقت کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔ پھر انہوں نے اعرج کے سوا باقی دو کو قتل کر دیا، وہ پہاڑ کی چوٹی پر تھا اس لئے بچ گیا۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں اسی واقعہ کے سلسلہ میں ہم پر یہ آیت نازل ہوئی، اس کی باقاعدہ تلاوت کی جاتی تھی،یہ بعد میں منسوخ کر دی گئی: بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ (ہماری قوم تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے ہمیں بھی راضی کر دیا ہے۔)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان رِعل، ذکوان، بنو لحیان اور بنو عصیہ پر چالیس دن تک بددعا کی، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معصیت کی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11678

۔ (۱۱۶۷۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَضَعَ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِدِ یُنَافِحُ عَنْہُ بِالشِّعْرِ، ثُمَّ یَقُولُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ، یُنَافِحُ عَنْ رَسُولِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۴۱)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھوایا تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر (کفار کے ہجو والے اشعار کے جواب میں) اشعار پڑھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کریں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: حسان جب تک اللہ کے رسول کا دفاع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت تک روح القدس یعنی جبریل علیہ السلام کے ذریعے اس کی مدد فرماتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11679

۔ (۱۱۶۷۹)۔ عَنِ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: ((اہْجُ الْمُشْرِکِینَ فَإِنَّ جِبْرِیلَ مَعَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۰۱)
سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم مشرکین کی ہجو کا جواب دو، جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11680

۔ (۱۱۶۸۰)۔ عَنْ ذَیَّالِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ حَنْظَلَۃَ، عَنْ جَدَّۃِ حَنْظَلَۃَ بْنِ حِذْیَمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ أَبَاہٗ دَنَا بِہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ لِی بَنِینَ ذَوِی لِحًی وَدُونَ ذٰلِکَ، وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُہُمْ فَادْعُ اللّٰہَ لَہُ فَمَسَحَ رَأْسَہُ، وَقَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ فِیکَ أَوْ بُورِکَ فِیہِ۔)) قَالَ ذَیَّالٌ: فَلَقَدْ رَأَیْتُ حَنْظَلَۃَ یُؤْتٰی بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْہُہُ أَوِ الْبَہِیمَۃِ الْوَارِمَۃِ الضَّرْعُ فَیَتْفُلُ عَلٰی یَدَیْہِ وَیَقُولُ: بِسْمِ اللّٰہِ، وَیَضَعُ یَدَہُ عَلٰی رَأْسِہِ، وَیَقُولُ: عَلٰی مَوْضِعِ کَفِّ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَمْسَحُہُ عَلَیْہِ وَقَالَ ذَیَّالٌ: فَیَذْہَبُ الْوَرَمُ۔ (احمد: ۲۰۹۴۱)
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب جا بٹھایا اور عرض کیا: میرے بیٹے باریشیعنی بڑی عمر کے بھی ہیں اور ان سے چھوٹے بھی ہیں،یہ سب سے چھوٹا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تمہارے اندر برکت فرمائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11681

۔ (۱۱۶۸۱)۔ عَنْ وَحْشِیِّ بْنِ حَرَبٍ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ عَلٰی قِتَالِ أَھْلِ الرِّدَّۃِ وَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نِعْمَ عَبْدُ اللّٰہِ وَأَخُوْ الْعَشِیْرَۃِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ سَلَّہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَی الْکُفَّارِ وَالْمُنَافِقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۳)
ذیال کہتے ہیں: میں نے سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھاکہ جب کسی آدمی کا چہرہ یا جانور کا تھن متورم ہو جاتا اور ایسے آدمییا جانور کو سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لایا جاتا اور وہ بسم اللہ کہہ کر اپنے سر کے اس حصے پر ہاتھ لگاتے، جہاں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلی مبارک رکھی تھی اور اس کے بعد وہ اپنا ہاتھ اس بیمار آدمییا جانور پر پھیرتے تو اس کا ورم زائل ہو جاتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11682

۔
سیدنا وحشی بن حرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مرتدین کے مقابلے کے لیے مقرر فرمایا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سنا کہ خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اللہ کا بہترین بندہ اور قوم کا بہترین فرد ہے، یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین پر مسلط کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11683

۔ (۱۱۶۸۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا تَحْتَ ثَنِیَّۃِ لِفْتٍ طَلَعَ عَلَیْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ مِنَ الثَّنِیَّۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَبِی ہُرَیْرَۃَ: ((انْظُرْ مَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ أَبُوہُرَیْرَۃَ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((نِعْمَ عَبْدُ اللّٰہِ ہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۰۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے، جب ہم لفت نامی پہاڑی گھاٹی پر پہنچے تو گھاٹی میں سے سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے سامنے آگئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: دیکھنا،یہ کون آرہا ہے؟ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا بہترین بندہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11684

۔ (۱۱۶۸۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: وَکَانَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْأَزْہَرِ یُحَدِّثُ: أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ جُرِحَ یَوْمَئِذٍ وَکَانَ عَلَی الْخَیْلِ خَیْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ابْنُ الْأَزْہَرِ: قَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَمَا ہَزَمَ اللّٰہُ الْکُفَّارَ وَرَجَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلٰی رِحَالِہِمْ یَمْشِی فِی الْمُسْلِمِینَ، وَیَقُولُ: ((مَنْ یَدُلُّ عَلَی رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ؟)) قَالَ: فَمَشَیْتُ أَوْ قَالَ فَسَعَیْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ، وَأَنَا مُحْتَلِمٌ، أَقُولُ: مَنْ یَدُلُّ عَلٰی رَحْلِ خَالِدٍ حَتّٰی حَلَلْنَا عَلٰی رَحْلِہِ، فَإِذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ مُسْتَنِدٌ إِلٰی مُؤْخِرَۃِ رَحْلِہِ، فَأَتَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَظَرَ إِلٰی جُرْحِہِ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَحَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: وَنَفَثَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۹۱)
عبد الرحمن بن ازہر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس دن زخمی ہو گئے اور وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھڑ سواروں کے دستہ کے قائد تھے۔ ابن ازہر کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست سے دو چار کیا اور مسلمان اپنے خیموں کی طرف واپس آئے تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان چلتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے آرہے تھے کہ کوئی خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خیمے کے بارے میں بتلائے، میں آپ کے آگے آگے تیزی سے گیا، میں ان دنوں بالغ تھا، میں پکارتاجا رہا تھا کہ کوئی ہے جو خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خیمے کے متعلق بتلائے۔ یہاں تک کہ ہم چلتے چلتے ان کے خیمے میں جا داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے پالان کے پچھلے حصہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے قریب آئے۔ ان کے زخم کو دیکھا۔ زہری سے مروی ہے میرا خیال ہے کہ عبدالرحمن بن ازہر نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے زخم پر لعاب مبارک بھی لگایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11685

۔ (۱۱۶۸۵)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِیْ قِصَّۃِ اِسْلَامِہٖ قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأُسْلِمَ، فَلَقِیتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ، وَذٰلِکَ قُبَیْلَ الْفَتْحِ وَہُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَکَّۃَ، فَقُلْتُ: أَیْنَ یَا أَبَا سُلَیْمَانَ؟ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِیٌّ، أَذْہَبُ وَاللّٰہِ أُسْلِمُ فَحَتّٰی مَتٰی قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ، مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ، قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَأَسْلَمَ وَبَایَعَ، اَلْحَدِیْثَ۔ وَفِیْ آخِرِہِ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَقَدْ حَدَّثَنِی مَنْ لَا أَتَّہِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ کَانَ مَعَہُمَا أَسْلَمَ حِینَ أَسْلَمَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۳۰)
سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنا قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر میں اسلام قبول کرنے کے ارادے سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف جانے کا قصد کرکے روانہ ہوا، یہ فتح مکہ سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے، میری خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوگئی، وہ مکہ کی طرف سے آرہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: اے ابو سلیمان! کدھر کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اب تو راستہ واضح اور نکھر چکا ہے اور وہ آدمییعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واقعی اللہ کا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر اسلام قبول کرتا ہوں، کب تک ادھر ادھر دھکے کھاتا رہوں گا۔ ان کی باتیں سن کر میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی مسلمان ہونے اور اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔ چنانچہ ہم دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا پہنچے،سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آگے بڑھ کر اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ اس حدیث کے آخر میں ہے اسی حدیث کے ایک راوی ابن اسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک انتہائی با اعتماد آدمی نے بیان کیا کہ جب خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسلمان ہوئے تو عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11686

۔ (۱۱۶۸۶)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی خَبَّابٍ وَقَدِ اکْتَوٰی سَبْعًا، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا یَتَمَنّٰی أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ۔)) لَتَمَنَّیْتُہُ۔ وَلَقَدْ رَأَیْتُنِی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَمْلِکُ دِرْہَمًا، وَإِنَّ فِی جَانِبِ بَیْتِی الْآنَ لَأَرْبَعِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ، قَالَ: ثُمَّ أُتِیَ بِکَفَنِہِ فَلَمَّا رَآہُ بَکٰی، قَالَ: لٰکِنَّ حَمْزَۃَ لَمْ یُوجَدْ لَہُ کَفَنٌ إِلَّا بُرْدَۃٌ مَلْحَائُ، إِذَا جُعِلَتْ عَلٰی رَأْسِہِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَیْہِ، وَإِذَا جُعِلَتْ عَلٰی قَدَمَیْہِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِہِ حَتّٰی مُدَّتْ عَلٰی رَأْسِہِ وَجُعِلَ عَلٰی قَدَمَیْہِ الْإِذْخِرُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۶۱)
حارثہ بن مضرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، وہ ایک بیماری کے علاج کے سلسلہ میں سات داغ لگوا چکے تھے، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا تھا، انھوں نے کہا:اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے۔ تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا ۔ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میرے پاس ایک بھی درہم نہیں ہوتا تھا اور اب یہ حال ہے کہ میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم موجود ہیں، اس کے بعد ان کے پاس ان کا کفن لایا گیا، وہ اسے دیکھ کر رونے لگے اور پھر کہا: ہمارے پاس ایسا کفن موجود ہے۔ لیکن سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے کہ ان کے کفن کے لیے محض ایک دھاری دار چادر تھی،ان کے سر پر ڈالی جاتی تو ان کے پائوں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پائوں پر ڈالی جاتی تو سر سے اتر جاتی، بالآخر اسے ان کے سر پر ڈال دیا گیا اور ان کے پائوں پر اذخرڈال دی گئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11687

۔ (۱۱۶۸۷)۔ عَنْ خَبَّابِ (بْنِ الْأَرَتِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَبَتَغِی وَجْہَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَمِنَّا مَنْ مَضٰی لَمْ یَأَکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا، مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَیْئًا نُکَفِّنُہُ فِیْہِ إِلَّا نَمِرَۃً کُنَّا إِذَا غَطَّیْنَا بِہَا رَأْسَہُ خَرَجَتْ رِجْلَاہُ، وَإِذَا غَطَّیْنَا رِجْلَیْہِ خَرَجَ رَأْسُہُ، فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّیَ بِہَا رَأْسَہُ، وَنَجْعَلَ عَلٰی رِجْلَیْہِ إِذْخِرًا، وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ، لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِ بُہَا یَعْنِی یَجْتَنِیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۷۲)
سیّدناخباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہجرت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ پر ہمارا ثواب ثابت ہو گیا( جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے)۔ پھر ہم میں بعض لوگ ایسے تھے، جو اپنے عمل کا اجر کھائے بغیر اللہ کے پاس چلے گئے، ان میں سے ایک سیّدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، جو احد کے دن شہید ہو گئے، ہمیں ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر مل سکی اور وہ بھی اس قدر مختصر تھی کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پائوں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پائوں کو ڈھانپا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔بالآخر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پائوں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، جبکہ ہم میں بعض ایسے بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور اب وہ اسے چن رہا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11688

۔ (۱۱۶۸۸)۔ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ: شَکَوْنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَوْمَئِذٍ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَوْ أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا؟ فَقَالَ: ((قَدْ کَانَ الرَّجُلُ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یُؤْخَذُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِی الْأَرْضِ فَیُجَائُ بِالْمِنْشَارِ عَلٰی رَأْسِہِ فَیُجْعَلُ بِنِصْفَیْنِ فَمَا یَصُدُّہُ ذٰلِکَ عَنْ دِینِہِ، وَیُمَشَّطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیدِ مَا دُونَ عَظْمِہِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ فَمَا یَصُدُّہُ ذٰلِکَ، وَاللّٰہِ لَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذَا الْأَمْرَ حَتّٰی یَسِیرَ الرَّاکِبُ مِنَ الْمَدِینَۃِ إِلٰی حَضْرَمَوْتَ لَا یَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ تَعَالٰی وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ، وَلٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُونَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۸۸)
سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کفار کے مظالم کی شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو سر کے نیچے رکھے لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے ہماری نصرت کی دعا کیوں نہیں فرماتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگوں پر یہ حالات بھی آئے کہ ایک آدمی کو زمین میں گڑھا کھود کر اس میں کھڑا کر دیا جاتا اور پھر اس کے سر پر آرا چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے۔ اس قدر ظلم بھی ان لوگوں کو دین سے نہ ہٹانا۔ اور ان لوگوں کے جسموں پر لوہے کی کنگھیاں چلا دی جائیں اور وہ ان کی ہڈیوں اور پٹھوں کے اوپر سے گوشت ادھیڑ کر رکھ دیتیں۔ اس کے باوجود وہ لوگ دین سے پیچھے نہ ہٹتے۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور اپنے دین کو اس حد تک مکمل اور غالب کرے گا کہ ایک سوار مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر حضر موت تک کا سفر کرے گا۔ اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ اسے اپنی بکریوں پر بھیڑیوں کے حملے کا بھی خوف نہ ہوگا۔ تم تو بہت جلدی کر رہے ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11689

۔ (۱۱۶۸۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَۃَ رَہْطٍ عَیْنًا وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِی الْأَقْلَحِ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَانْطَلَقُوا حَتّٰی إِذَا کَانُوا بِالْہَدَّۃِ بَیْنَ عُسْفَانَ وَمَکَّۃَ، ذُکِرُوْا لِحَیٍّ مِنْ ہُذَیْلٍ یُقَالُ لَہُمْ: بَنُو لِحْیَانَ، فَنَفَرُوْا لَہُمْ بِقَرِیبٍ مِنْ مِائَۃِ رَجُلٍ رَامٍ فَاقْتَصُّوا آثَارَہُمْ حَتّٰی وَجَدُوْا مَأْکَلَہُمُ التَّمْرَ فِی مَنْزِلٍ نَزَلُوہُ قَالُوْا: نَوٰی تَمْرِ یَثْرِبَ، فَاتَّبَعُوْا آثَارَہُمْ فَلَمَّا أُخْبِرَ بِہِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُہُ لَجَئُوا إِلٰی فَدْفَدٍ، فَأَحَاطَ بِہِمُ الْقَوْمُ فَقَالُوا لَہُمْ: انْزِلُوْا وَأَعْطُونَا بِأَیْدِیکُمْ وَلَکُمُ الْعَہْدُ وَالْمِیثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْکُمْ أَحَدًا، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِیرُ الْقَوْمِ: أَمَّا أَنَا وَاللّٰہِ لَا أَنْزِلُ فِی ذِمَّۃِ کَافِرٍ، اللَّہُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِیَّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَمَوْہُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوْا عَاصِمًا فِی سَبْعَۃٍ وَنَزَلَ إِلَیْہِمْ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ عَلَی الْعَہْدِ وَالْمِیثَاقِ، مِنْہُمْ خُبَیْبٌ الْأَنْصَارِیُّ وَزَیْدُ بْنُ الدَّثِنَۃِ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَلَمَّا تَمَکَّنُوْا مِنْہُمْ أَطْلَقُوْا أَوْتَارَ قِسِیِّہِمْ فَرَبَطُوہُمْ بِہَا، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ: ہٰذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللّٰہِ لَا أَصْحَبُکُمْ إِنَّ لِی بِہٰؤُلَائِ لَأُسْوَۃً یُرِیدُ الْقَتْلَ فَجَرَّرُوْہُ وَعَالَجُوہُ، فَأَبٰی أَنْ یَصْحَبَہُمْ، فَقَتَلُوْہُ فَانْطَلَقُوْا بِخُبَیْبٍ وَزَیْدِ بْنِ الدَّثِنَۃِ حَتّٰی بَاعُوہُمَا بِمَکَّۃَ بَعْدَ وَقْعَۃِ بَدْرٍ، فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ خُبَیْبًا، وَکَانَ خُبَیْبٌ ہُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ یَوْمَ بَدْرٍ، فَلَبِثَ خُبَیْبٌ عِنْدَہُمْ أَسِیرًا حَتّٰی أَجْمَعُوْا قَتْلَہُ، فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسٰی یَسْتَحِدُّ بِہَا لِلْقَتْلِ فَأَعَارَتْہُ إِیَّاہَا، فَدَرَجَ بُنَیٌّ لَہَا قَالَتْ: وَأَنَا غَافِلَۃٌ حَتّٰی أَتَاہُ فَوَجَدْتُہُ یُجْلِسُہُ عَلٰی فَخِذِہِ وَالْمُوسٰی بِیَدِہِ، قَالَتْ: فَفَزِعْتُ فَزْعَۃً عَرَفَہَا خُبَیْبٌ، قَالَ: أَتَخْشَیْنَ أَنِّی أَقْتُلُہُ؟ مَا کُنْتُ لِأَفْعَلَ، فَقَالَتْ: وَاللّٰہِ مَا رَأَیْتُ أَسِیرًا قَطُّ خَیْرًا مِنْ خُبَیْبٍ، قَالَتْ: وَاللّٰہِ لَقَدْ وَجَدْتُہُ یَوْمًا یَأْکُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِی یَدِہِ، وَإِنَّہُ لَمُوثَقٌ فِی الْحَدِیدِ وَمَا بِمَکَّۃَ مِنْ ثَمَرَۃٍ، وَکَانَتْ: تَقُولُ إِنَّہُ لَرِزْقٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ خُبَیْبًا، فَلَمَّا خَرَجُوْا بِہِ مِنَ الْحَرَمِ لِیَقْتُلُوْہُ فِی الْحِلِّ، قَالَ لَہُمْ خُبَیْبٌ: دَعُوْنِی أَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ، فَتَرَکُوہُ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوْا أَنَّ مَا بِی جَزَعًا مِنَ الْقَتْلِ لَزِدْتُ، اللّٰہُمَّ أَحْصِہِمْ عَدَدًا، وَاقْتُلْہُمْ بَدَدًا، وَلَا تُبْقِ مِنْہُمْ أَحَدًا، فَلَسْتُ أُبَالِی حِینَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا، عَلٰی أَیِّ جَنْبٍ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِی، وَذٰلِکَ فِی ذَاتِ الْإِلٰہِ وَإِنْ یَشَأْ یُبَارِکْ عَلٰی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ، ثُمَّ قَامَ إِلَیْہِ أَبُو سِرْوَعَۃَ عُقْبَۃُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَہُ، وَکَانَ خُبَیْبٌ ہُوَ سَنَّ لِکُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا، الصَّلَاۃَ وَاسْتَجَابَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ یَوْمَ أُصِیبَ، فَأَخْبَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَصْحَابَہُ یَوْمَ أُصِیبُوْا خَبَرَہُمْ، وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ قُرَیْشٍ إِلٰی عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ حِینَ حُدِّثُوْا أَنَّہُ قُتِلَ لِیُؤْتٰی بِشَیْئٍ مِنْہُ یُعْرَفُ وَکَانَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِہِمْ یَوْمَ بَدْرٍ، فَبَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی عَاصِمٍ مِثْلَ الظُّلَّۃِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْہُ مِنْ رُسُلِہِمْ فَلَمْ یَقْدِرُوْا عَلٰی أَنْ یَقْطَعُوْا مِنْہُ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۷۹۱۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس آدمیوں کی ایک جماعت کو اہل مکہ کی جاسوسی کے لیے روانہ فرمایااور ان پر عاصم بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نانا سیدنا عاصم بن ثابت بن اقلح انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر کیا،یہ لوگ روانہ ہوئے، جب یہ عسفان اور مکہ مکرمہ کے درمیان ہَدَّہ کے مقام پر پہنچے تو بنو ہذیل کے ایک قبیلے بنو لحیان کو ان کی خبرہو گئی۔ وہ تقریباً ایک سو تیر اندازوں کا جتھہ بن کر ان کی طرف نکل پڑے، ان کے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے ایک مقام پر جا پہنچے، جہاں ان لوگوں نے قیام کیا تھا،ان کے کھانے کے آثار دیکھ کر انھوں نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجوروں کی گٹھلیاں ہیں، وہ ان کے آثار و علامات کے پیچھے چلتے رہے۔ جب عاصم اور ان کے ساتھیوں کو ان کفار کے بارے میں پتہ چلا تو وہ ایک بلند پہاڑی پر چڑھ گئے۔ تو کفار نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ اور ان سے کہا کہ تم نیچے اتر آئو اور اپنے ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں دے دو۔ ہم تمہارے ساتھ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے، امیر لشکر سیدنا عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو کسی کافر کی پناہ میں نہیں جاتا۔ یا اللہ! ہمارے ان حالات سے اپنے نبی کو مطلع کر دینا، کفار نے مسلمانوں پر تیر برسائے اور سیدنا عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سمیت سات مسلمانوں کو شہید کر دیا اور باقی تین آدمی سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا زید بن دثنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک تیسرا شخص ان کے عہدو میثاق کے جھانسے میں آگئے، جب کفار نے ان پر اچھی طرح قابو پالیا تو انہوںنے اپنی کمانوں کی رسیاں کھول کر ان کے ساتھ ان تینوں کو باندھ لیا، ان تین میں سے تیسرا آدمی بولا کہ یہ تمہاری پہلی بدعہدی ہے۔ اللہ کی قسم!میں تمہارے ساتھ بالکل نہیں جائوں گا اور اس نے ان مقتولینیعنی شہداء ساتھیوں کی طرف اشارہ کرکے کہاکہ میرے لیےیہ لوگ بہترین نمونہ ہیں۔ کفار نے اسے گھسیٹا اور پورا زور لگایا مگر اس نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ آخر کار کافروںنے اسے بھی قتل کر دیا او ر انہوںنے سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اور سیدنا زید بن دثنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ساتھ لے جا کر مکہ میں فروخت کر دیا،یہ سارا واقعہ بدر کے بعد پیش آیا تھا، حارث بن نوفل بن عبد مناف کی اولاد نے سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خرید لیا، کیونکہ سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حارث بن عامر بن نوفل کو بدر والے دن قتل کیا تھا، سو وہ قیدی کی حیثیت سے ان کے ہاں رہے تاآنکہ انہوںنے ان کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حارث کی ایک بیٹی سے استرا طلب کیا تاکہ قتل ہونے سے پہلے غیر ضروری بال صاف کر لیں، اس نے ان کو استرا لا دیا، اس کا ایک چھوٹا سا بیٹا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف آگیا، ماں کو پتہ نہ چل سکا تھا، جب ماں اسے تلاش کرتے کرتے ادھر آئی تو دیکھا کہ خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بچے کو اپنی ران پر بٹھایا ہوا ہے اور استرا ان کے ہاتھ میں ہے۔ اس عورت سے مروی ہے کہ میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہوگئی، خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میری پریشانی کو بھانپ گئے اور کہنے لگے: کیا تمہیں ڈر ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا، میں ہر گز ایسا نہیں کر سکتا۔ وہ کہتی ہے کہ میں نے کبھی بھی خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بہتر قیدی کوئی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن اسے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں انگور کا گچھا تھا اور وہ اسے کھا رہے تھے، حالانکہ وہ تو زنجیروں میںبندھے ہوئے تھے اور ان دنوں مکہ میں کوئی پھل بھی دستیاب نہیں تھا، وہ کہا کرتی تھی کہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عطا کیا تھا۔ وہ لوگ جب خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے چلے تو سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: مجھے دو رکعت نماز ادا کر لینے دو۔ انہوںنے اسے اجازت دے دی۔ چنانچہ انہوںنے دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر کہا: اللہ کی قسم اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ مجھے قتل کا خوف لاحق ہے تو میں مزید نماز بھی ادا کرتا۔ یا اللہ! ان کی تعداد کو شمار میں رکھ۔ ان سب کو الگ الگ ہلاک کر اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ، پھر انھوں نے کہا: میں بحالت اسلام قتل ہو رہا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اللہ کی راہ میں کس پہلو پر گر رہا ہوں، میرے ساتھ یہ سلوک اللہ کی راہ میںیعنی اللہ پر ایمان لانے کے نتیجہ میں ہو رہا ہے، اگر اللہ چاہے تو میرے جسم کے بکھرے ہوئے اعضاء میں بھی برکتیں ڈال دے۔اس کے بعد ابو سروعہ عقبہ بن حارث اٹھ کر ان کی طرف گیا اور انہیں شہید کر دیا ۔ سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہر مسلمان کے لیےیہ طریقہ جاری کر دیا کہ جب اسے ظلماً قتل کیا جا رہا ہو تو وہ قتل ہونے سے پہلے نماز ادا کرے اور اللہ تعالیٰ نے عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل والے دن کی دعا قبول کیا ور اسی واقعہ کے روز اللہ نے اپنے رسول اور ان کے صحابہ کو ان کے واقعہ کی اطلاع کر دی۔ جب قریش کو سیدنا عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قتل کی خبر ہوئی تو انہوںنے مزیدیقین کے لیے لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ ان کے جسم کے کچھ حصے کاٹ لائیں۔ سیدنا عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بدر کے دن رؤسائے قریش میں سے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا، وہ لوگ آئے تو اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی فوج ادھر بھیج دی۔ وہ عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے جسم پر بادل کی مانند چھا گئی اور ان قریشی نمائندوں سے ان کے جسم کو بچایا اور وہ ان کے جسم کے کسی بھی حصہ کو نہ کاٹ سکے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11690

۔ (۱۱۶۹۰)۔ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الْضَّمَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ وَحْدَہُ عَیْنًا إِلٰی قُرَیْشٍ، قَالَ: جِئْتُ إِلَی خَشَبَۃِ خُبَیْبٍ وَأَنَا أَتَخَوَّفُ الْعُیُونَ، فَرَقِیتُ فِیہَا فَحَلَلْتُ خُبَیْبًا، فَوَقَعَ إِلَی الْأَرْضِ، فَانْتَبَذْتُ غَیْرَ بَعِیدٍ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ خُبَیْبًا، وَلَکَأَنَّمَا ابْتَلَعَتْہُ الْأَرْضُ فَلَمْ یُرَ لِخُبَیْبٍ أَثَرٌ حَتَّی السَّاعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۸۴)
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس اکیلے کو قریش کی طرف جاسوس کی حیثیت سے روانہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس لکڑی کے پاس آیا، جس پر خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لٹکایا گیا تھا۔ مجھے قریش کا بھی ڈر تھا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لیں، میں اس لکڑی پر چڑھ گیا، میں نے خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رسی کو کھولا، وہ زمین پر گرے۔ جب میں نے ان کی طرف دھیان کیا تو خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا جسم مجھے دکھائی نہیں دیا،یوں لگتا ہے زمین ان کو نگل گئی، اب تک ان کے جسم کا کوئی اثر دکھائی نہیںدیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11691

۔ (۱۱۶۹۱)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ بِشْرِ نِ التَّغْلَبِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَبِیْ، وَکَانَ جَلِیْسًا لِأَبِی الدَّرْدَائِ، قَالَ: کَانَ بِدَمِشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَالُ لَہُ: ابْنُ الْحَنْظَلِیَّۃِ، وَکَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا قَلَّمَا یُجَالِسُ النَّاسَ، إِنَّمَا ہُوَ فِی صَلَاۃٍ، فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا یُسَبِّحُ وَیُکَبِّرُ حَتّٰی یَأْتِیَ أَہْلَہُ، فَمَرَّ بِنَا یَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِی الدَّرْدَائِ فَقَالَ لَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ: کَلِمَۃً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّکَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَیْمٌ الْأَسَدِیُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِہِ وَإِسْبَالُ إِزَارِہِ۔)) فَبَلَغَ ذٰلِکَ خُرَیْمًا فَجَعَلَ یَأْخُذُ شَفْرَۃً یَقْطَعُ بِہَا شَعَرَہُ إِلٰی أَنْصَافِ أُذُنَیْہِ، وَرَفَعَ إِزَارَہُ إِلٰی أَنْصَافِ سَاقَیْہِ قَالَ: فَأَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ: دَخَلْتُ بَعْدَ ذٰلِکَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ فَإِذَا عِنْدَہُ شَیْخٌ جُمَّتُہُ فَوْقَ أُذُنَیْہِ وَرِدَاؤُہُ إِلٰی سَاقَیْہِ، فَسَأَلْتُ عَنْہُ، فَقَالُوْا: ہَذَا خُرَیْمٌ الْأَسَدِیََََُّ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۶۹)
بشر تغلبی سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے، انہوںنے بتلایا کہ دمشق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک صحابی تھے، ان کو ابن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا جاتا تھا،وہ گوشتہ نشین قسم کے آدمی تھے، وہ لوگوں سے بہت کم ملتے جلتے تھے، بس نماز میں مصروف رہتے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد گھر آنے تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر میں مشغول رہتے۔ ہم ایک دن سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے پاس سے گزرے۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا کہ کوئی بات ہی ارشاد فرما دیں، ہمیں اس سے فائدہ ہو جائے گا اور آپ کا کچھ نہ جائے گا۔ انہوںنے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خریماسدی میں دو باتیں نہ ہوں تو وہ بہت ہی اچھا آدمی ہے، ایک تو اس کے بال کاندھوں تک لمبے ہیں اور دوسرے اس کی چادر ٹخنوں سے نیچے رہتی ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں اگر وہ اپنے بال چھوٹے اور چادر بھی چھوٹی کر لے۔ جب یہ بات سیدنا خریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک جا پہنچی تو انہوںنے چھری لے کر فوراً اپنے بال نصف کا نوں تک کاٹ دیئے اور اپنی چادر نصف پنڈلی تک اوپر اٹھا لی۔ قیس کہتے ہیں: اس واقعہ کے بعد میں ایک دفعہ سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، ان کے ہاں ایک بزرگ تشریف فرما تھے،ان کے سر کے بال کانوں سے اوپر اور چادر نصف پنڈلی تک تھی، میں نے ان کے متعلق دریافت کیا تو کہنے والوں نے بتایا کہ یہ سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11692

۔ (۱۱۶۹۲)۔ حَدَّثَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ، حَدَّثَنِی عُمَارَۃُ بْنُ خُزَیْمَۃَ الْأَنْصَارِیُّ، أَنَّ عَمَّہُ حَدَّثَہُ وَہُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِیٍّ فَاسْتَتْبَعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیَقْضِیَہُ ثَمَنَ فَرَسِہِ، فَأَسْرَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَشْیَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِیُّ، فَطَفِقَ رِجَالٌ یَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِیَّ، فَیُسَاوِمُونَ بِالْفَرَسِ لَا یَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْتَاعَہُ حَتّٰی زَادَ بَعْضُہُمُ الْأَعْرَابِیَّ فِی السَّوْمِ عَلٰی ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِی ابْتَاعَہُ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَادَی الْأَعْرَابِیُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنْ کُنْتَ مُبْتَاعَا ہٰذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْہُ وَإِلَّا بِعْتُہُ، فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ سَمِعَ نِدَائَ الْأَعْرَابِیِّ، فَقَالَ: ((أَوَلَیْسَ قَدِ ابْتَعْتُہُ مِنْکَ؟)) قَالَ الْأَعْرَابِیُّ: لَا، وَاللّٰہِ مَا بِعْتُکَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((بَلٰی قَدِ ابْتَعْتُہُ مِنْکَ۔)) فَطَفِقَ النَّاسُ یَلُوذُونَ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْأَعْرَابِیِّ وَہُمَا یَتَرَاجَعَانِ، فَطَفِقَ الْأَعْرَابِیُّ یَقُولُ: ہَلُمَّ شَہِیدًا یَشْہَدُ أَنِّی بَایَعْتُکَ، فَمَنْ جَائَ مِنْ الْمُسْلِمِینَ قَالَ لِلْأَعْرَابِیِّ: وَیْلَکَ، النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْ لِیَقُولَ إِلَّا حَقًّا، حَتَّی جَائَ خُزَیْمَۃُ فَاسْتَمَعَ لِمُرَاجَعَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمُرَاجَعَۃِ الْأَعْرَابِیِّ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِیُّ یَقُولُ: ہَلُمَّ شَہِیدًا یَشْہَدُ أَنِّی بَایَعْتُکَ، قَالَ خُزَیْمَۃُ: أَنَا أَشْہَدُ أَنَّکَ قَدْ بَایَعْتَہُ، فَأَقْبَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی خُزَیْمَۃَ، فَقَالَ: ((بِمَ تَشْہَدُ؟)) فَقَالَ: بِتَصْدِیقِکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہَادَۃَ خُزَیْمَۃَ شَہَادَۃَ رَجُلَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۲۸)
عمارہ بن خزیمہ انصاری سے مروی ہے کہ ان کے چچا جو کہ صحابی تھے، نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بدّو سے ایک گھوڑا خریدا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: میرے ساتھ آکر گھوڑے کی قیمت وصول کر لو۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز رفتار تھے اور بدّو کی رفتار سست تھی، سو یہ بدّو پیچھے رہ گیا اور کچھ لوگ اعرابی کے پاس آئے اور اس کے ساتھ گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ انہیںیہ علم نہیں تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے گھوڑے کا سودا طے کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس قیمت میں گھوڑا خریدا تھا۔ ایک آدمی نے گھوڑے کی قیمت اس سے زیادہ لگا دی، اعرابی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکار کر کہا: آپ یہ گھوڑا خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں ورنہ میں کسی اور کے ہاتھ بیچ رہا ہوں۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اعرابی کی آواز سنی تو رک گئے اور فرمایا: کیایہ گھوڑا میں تم سے خرید نہیں چکا ہوں؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم نہیں، میں نے تو آپ کے ہاتھ اسے بیچا ہی نہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، میں تو اسے تم سے خرید چکا ہوں۔ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور اعرابی کے اردا گرد اکٹھے ہوگئے اور وہ ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے کہ اس اعرابی نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو کوئی گواہ پیش کریں، جو گواہی دے کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔ اتنے میں ایک مسلمان نے آگے بڑھ کر اعرابی سے کہا: تجھ پر افسوس ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیشہ سچ ہی کہتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے۔ یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے اور انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور اعرابی کی باتیں سنیں، اعرابی کہہ رہا تھا کہ کوئی گواہ پیش کرو جو گواہی دے کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔ سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ یہ گھوڑا فروخت کر دیا ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم یہ گواہی کس بنیاد پردے رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی بنیاد پر کہا، آپ ہمیشہ سچ ہی بولتے ہیں۔تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اکیلے کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11693

۔ (۱۱۶۹۳)۔ أَبِیْ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ھُوَ ابْنُ فَارِسٍ، أَنَا یُوْنُسُ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنِ ابْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِیِّ صَاحِبِ الشَّہَادَتَیْنِ، عَنْ عَمِّہِ، أَنَّ خُزَیْمَۃَ بْنَ ثَابِتِ نِ الْاَنْصَارِیِّ رَآی فِی الْمَنَامِ أَنَّہٗ سَجَدَ عَلَی جَبْہَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذٰلِکَ، فَاضْطَجَعَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((صَدِّقْ بِذٰلِکَ رُؤْیَاکَ فَسَجَدَ عَلٰی جَبْہَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۲۷)
عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدناخزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خواب میں دیکھا کہ انہوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پرسجدہ کیا۔ پھر جب انہوںنے اپنا یہ خواب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے سامنے لیٹ گئے اور فرمایا: تم اپنا خواب اس طرح پورا کر لو۔ چنانچہ انہوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11694

۔ (۱۱۶۹۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَوْ غَیْرِہِ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: لَمَّا کُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آیَۃً کُنْتُ أَسْمَعُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْتُہَا عِنْدَ خُزَیْمَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، {مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ … …تَبْدِیلًا} قَالَ: فَکَانَ خُزَیْمَۃُ یُدْعٰی ذَا الشَّہَادَتَیْنِ، أَجَازَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہَادَتَہُ بِشَہَادَۃِ رَجُلَیْنِ، قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَقُتِلَ یَوْمَ صِفِّیْنَ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۱)
سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کے مصاحف لکھے جا رہے تھے تو میں نے ایک آیت گم پائی، میں خود اس آیت کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا کرتا تھا، وہ مجھے کسی کے ہاں سے لکھی ہوئی نہیں مل رہی تھی، آخر کار وہ مجھے سیدنا خزیمہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں سے لکھی ہوئی ملی، وہ آیتیہ تھی:{مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗوَمِنْھُمْمَّنْیَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔} … اہل ایمان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہدو پیمان کو خوب پورا کیا اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے مقصد اور منزل کو پاگئے اور بعض حصول منزل کے منتظر ہیں اور انہوںنے اپنے کئے ہوئے عہد میں تبدیلی بالکل نہیں کی۔ (سورۂ احزاب: ۲۳) سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ذوالشھادتین یعنی دو گواہیوں والے کہلاتے تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان اکیلے کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا تھا۔ زہری کہتے ہیں کہ وہ صفین کے موقعہ پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں قتل ہوئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11695

۔ (۱۱۶۹۵)۔ قَالَ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِی جَدَّتِی، یَعْنِی امْرَأَۃَ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ، قَالَ عَفَّانُ: عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ أَبِیہِ امْرَأَۃِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ، أَنَّ رَافِعًا رَمٰی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ أُحُدٍ اَوْ یَوْمَ خَیْبَرَ، قَالَ: أَنَا أَشُکُّ بِسَہْمٍ فِی ثَنْدُوَتِہِ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ انْزِعِ السَّہْمَ، قَالَ: ((یَا رَافِعُ إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّہْمَ وَالْقُطْبَۃَ جَمِیعًا، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّہْمَ وَتَرَکْتُ الْقُطْبَۃَ، وَشَہِدْتُ لَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنَّکَ شَہِیدٌ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ بَلْ انْزِعِ السَّہْمَ وَاتْرُکِ الْقُطْبَۃَ، وَاشْہَدْ لِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنِّی شَہِیدٌ، قَالَ: فَنَزَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم السَّہْمَ وَتَرَکَ الْقُطْبَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۶۹)
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ نے بیان کیا کہ سیدنا رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ احدیا خیبر کے دن ایک تیر ان کے سینے میں آ کر لگا تھا، انہوںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس تیر کو باہر کھینچ دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رافع! اگر تم چاہو تو میں تیر اور اس کے پھل دونوں کو کھینچ دوں، لیکن اگر چاہو تو تیر کو باہر کھینچ لوں اور اس کے پھل کو اندر ہی رہنے دوں اور میں قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دوں کہ تم اللہ کی راہ میں شہید ہو۔ انہوںنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ تیر کھینچ لیں اور اس کے پھل کو اندر رہنے دیں اور آپ قیامت کے دن میرے حق میں گواہی دیں کہ میں اللہ کی راہ میں شہید ہوا ہوں۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیر کو باہر کھینچ لیا اور اس کا پھل رہنے دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11696

۔ (۱۱۶۹۶)۔ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَکُ یَعْنِی ابْنَ فَضَالَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ، عَنْ رَبِیعَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، قَالَ: کُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا رَبِیعَۃُ أَلَا تَزَوَّجُ؟)) قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مَا أُرِیدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِی مَا یُقِیمُ الْمَرْأَۃَ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ یَشْغَلَنِی عَنْکَ شَیْئٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّی فَخَدَمْتُہُ مَا خَدَمْتُہُ، ثُمَّ قَال لِی الثَّانِیَۃَ: ((یَا رَبِیعَۃُ! أَلَا تَزَوَّجُ؟)) فَقُلْتُ: مَا أُرِیدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ، مَا عِنْدِی مَا یُقِیمُ الْمَرْأَۃَ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ یَشْغَلَنِیْ عَنْکَ شَیْئٌ فَأَعْرَضَ عَنِّی، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلٰی نَفْسِی، فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا یُصْلِحُنِی فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ أَعْلَمُ مِنِّی، وَاللّٰہِ! لَئِنْ قَالَ: تَزَوَّجْ، لَأَقُولَنَّ: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، مُرْنِی بِمَا شِئْتَ، قَالَ فَقَالَ: ((یَا رَبِیعَۃُ أَلَا تَزَوَّجُ؟)) فَقُلْتُ: بَلٰی مُرْنِی بِمَا شِئْتَ، قَالَ: ((انْطَلِقْ إِلٰی آلِ فُلَانٍ حَیٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَکَانَ فِیہِمْ تَرَاخٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْ لَہُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْسَلَنِیْ إِلَیْکُمْ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِیْ فُلَانَۃَ لِامْرَأَۃٍ مِنْہُمْ۔)) فَذَہَبْتُ: فَقُلْتُ لَہُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ أَرْسَلَنِی إِلَیْکُمْ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِیْ فُلَانَۃَ فَقَالُوْا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللّٰہِ وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاللّٰہِ، لَا یَرْجِعُ رَسُولُ رَسُولِ اللّٰہِ ص ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا بِحَاجَتِہِ فَزَوَّجُونِیْ وَأَلْطَفُونِیْ وَمَا سَأَلُونِی الْبَیِّنَۃَ، فَرَجَعْتُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَزِینًا، فَقَالَ لِی: ((مَا لَکَ یَا رَبِیعَۃُ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ، أَتَیْتُ قَوْمًا کِرَامًا فَزَوَّجُونِیْ وَأَکْرَمُونِی وَأَلْطَفُونِی وَمَا سَأَلُونِی بَیِّنَۃً وَلَیْسَ عِنْدِی صَدَاقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا بُرَیْدَۃُ الْأَسْلَمِیُّ اجْمَعُوْا لَہُ وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ۔)) قَالَ: فَجَمَعُوْا لِی وَزْنَ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوْا لِی فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اذْہَبْ بِہٰذَا إِلَیْہِمْ فَقُلْ: ہٰذَا صَدَاقُہَا۔)) فَأَتَیْتُہُمْ فَقُلْتُ: ہَذَا صَدَاقُہَا فَرَضُوہُ وَقَبِلُوہُ وَقَالُوْا: کَثِیرٌ طَیِّبٌ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَزِینًا، فَقَالَ: ((یَا رَبِیعَۃُ! مَا لَکَ حَزِینٌ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ قَوْمًا أَکْرَمَ مِنْہُمْ، رَضُوْا بِمَا آتَیْتُہُمْ وَأَحْسَنُوْا وَقَالُوْا: کَثِیرًا طَیِّبًا، وَلَیْسَ عِنْدِی مَا أُولِمُ، قَالَ: ((یَا بُرَیْدَۃُ اجْمَعُوْا لَہُ شَاۃً۔)) قَالَ: فَجَمَعُوْا لِی کَبْشًا عَظِیمًا سَمِینًا، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اذْہَبْ إِلٰی عَائِشَۃَ، فَقُلْ لَہَا: فَلْتَبْعَثْ بِالْمِکْتَلِ الَّذِی فِیہِ الطَّعَامُ۔)) قَالَ: فَأَتَیْتُہَا فَقُلْتُ لَہَا مَا أَمَرَنِی بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: ہٰذَا الْمِکْتَلُ فِیہِ تِسْعُ آصُعِ شَعِیرٍ، لَا وَاللّٰہِ إِنْ أَصْبَحَ لَنَا طَعَامٌ غَیْرُہُ خُذْہُ، فَأَخَذْتُہُ فَأَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَََََ وَأَخْبَرْتُہُ مَا قَالَتْ عَائِشَۃُ، فَقَالَ: ((اذْہَبْ بِہٰذَا إِلَیْہِمْ فَقُلْ: لِیُصْبِحْ ہٰذَا عِنْدَکُمْ خُبْزًا۔)) فَذَہَبْتُ إِلَیْہِمْ وَذَہَبْتُ بِالْکَبْشِ وَمَعِی أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ، فَقَالَ: لِیُصْبِحْ ہٰذَا عِنْدَکُمْ خُبْزًا وَہٰذَا طَبِیخًا، فَقَالُوْا: أَمَّا الْخُبْزُ فَسَنَکْفِیکُمُوہُ وَأَمَّا الْکَبْشُ فَاکْفُونَا أَنْتُمْ، فَأَخَذْنَا الْکَبْشَ أَنَا وَأُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَذَبَحْنَاہُ وَسَلَخْنَاہُ وَطَبَخْنَاہُ فَأَصْبَحَ عِنْدَنَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَوْلَمْتُ وَدَعَوْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْطَانِی أَرْضًا وَأَعْطَانِی أَبُو بَکْرٍ أَرْضًا وَجَاء َتْ الدُّنْیَا فَاخْتَلَفْنَا فِی عِذْقِ نَخْلَۃٍ، فَقُلْتُ: أَنَا ہِیَ فِی حَدِّی، وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: ہِیَ فِی حَدِّی فَکَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَبِی بَکْرٍ کَلَامٌ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ کَلِمَۃً کَرِہَہَا وَنَدِمَ، فَقَالَ لِی: یَا رَبِیعَۃُ رُدَّ عَلَیَّ مِثْلَہَا حَتَّی تَکُونَ قِصَاصًا، قَالَ: قُلْتُ: لَا أَفْعَلُ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِیَنَّ عَلَیْکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ: وَرَفَضَ الْأَرْضَ وَانْطَلَقَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوْہُ، فَجَائَ نَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوْا لِی: رَحِمَ اللّٰہُ أَبَا بَکْرٍ فِی أَیِّ شَیْئٍ یَسْتَعْدِی عَلَیْکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ قَالَ لَکَ مَا قَالَ، فَقُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَا ہٰذَا؟ ہٰذَا أَبُوْ بَکْرٍ الصِّدِّیقُ، ہٰذَا ثَانِیَ اثْنَیْنِ، وَہٰذَا ذُوْ شَیْبَۃِ الْمُسْلِمِینَ، إِیَّاکُمْ لَایَلْتَفِتُ فَیَرَاکُمْ تَنْصُرُونِی عَلَیْہِ، فَیَغْضَبَ فَیَأْتِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَغْضَبَ لِغَضَبِہِ فَیَغْضَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِغَضَبِہِمَا فَیُہْلِکَ رَبِیعَۃَ، قَالُوْا: مَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ارْجِعُوْا، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَبِعْتُہُ وَحْدِی حَتّٰی أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَہُ الْحَدِیثَ، کَمَا کَانَ فَرَفَعَ إِلَیَّ رَأْسَہُ، فَقَالَ: ((یَا رَبِیعَۃُ! مَا لَکَ وَلِلصِّدِّیقِ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَانَ کَذَا کَانَ کَذَا، قَالَ لِیْ کَلِمَۃً کَرِھَہَا، فَقَالَ لِیْ: قُلْ کَمَا قُلْتُ حَتّٰی یَکُوْنَ قِصَاصًا فَاَبَیْتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجَلْ فَلَا تَرُدَّ عَلَیْہِ وَلٰکِنْ، قُلْ: غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ!۔)) فَقُلْتُ: غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ، قَالَ الْحَسَنُ: فَوَلّٰی أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَبْکِیْ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۹۳)
سیدنا ربیعہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شادی نہیں کرنا چاہتا، میں بیوی کی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی چیز مجھے آپ کی طرف سے مصروف (اور غافل) کر دے۔ آپ نے اس بارے میں مجھ سے مزید کچھ نہ کہا۔ پھر جب تک اللہ کو منظور تھا، میں آپ کی خدمت بجا لاتا رہا۔ کافی عرصہ بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دفعہ پھر مجھ سے فرمایا: ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شادی نہیں کرنا چاہتا، نہ ہی میں بیوی کی ضروریات پوری کر سکتا ہوں، میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی چیز مجھے آپ کی طرف سے مشغول (یا غافل) کرے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے مزید کچھ نہ کہا، میں نے اس کے بعد دل میں سوچاکہ اللہ کے رسول بہتر جانتے ہیں کہ کونسی چیز میرے لیے دنیا اور آخرت میں بہتر ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نکاح کے متعلق ارشاد فرمایا تو میں کہہ دوں گا کہ اللہ کے رسو ل ٹھیک ہے، آپ جو چاہیں مجھے ارشاد فرمائیں۔ آپ نے ایک دفعہ پھر مجھ سے فرمایا: ربیعہ! تم نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ میں نے عرض کیا:جی ٹھیک ہے، آپ جو چاہیں مجھے حکم فرمائیں، آپ نے ایک انصاری قبیلہ کا نام لے کر فرمایا کہ تم ان کے ہاں جائو، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کچھ وقفہ سے آیا کرتے تھے، تم جا کر ان سے کہو کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے، وہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے خاندان کی فلاں خاتون کا نکاح میرے ساتھ کر دو، چنانچہ میں نے ان کے ہاں جا کر ان سے کہا کہ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہاری طرف بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ تم فلاں خاتون کا نکاح میرے ساتھ کردو۔ وہ کہنے لگے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کے نمائندے کو مرحبا (خوش آمدید)، اللہ کی قسم، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بھیجا ہوا آدمی اپنی ضرورت پوری کرکے واپس جائے گا۔ چنانچہ انہوںنے میرا نکاح کر دیا اور میرے ساتھ بہت اچھا برتائو کیا۔ انہوں نے مجھ سے اس بات کا بھی ثبوت طلب نہ کیا کہ کیا واقعی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا بھی ہے؟ میں غمگین سا ہو کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں واپس آیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: ربیعہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت ہی با اخلاق لوگوں کے پاس گیا، انہوںنے میری خوب آئو بھگت کی اور میرے ساتھ حسن سلوک کیا، انہوںنے مجھ سے اس بات کی دلیل بھی نہیں مانگی کہ کیا واقعی آپ نے مجھے ان کی طرف بھیجا ہے؟ اب مسئلہ یہ ہے کہ میں مہر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بریدہ اسلمی! تم اس کے لیے پانچ درہم چاندی کی قیمت کے مساوی سونا جمع کرو۔ پس انہوںنے میرے لیےاتنا سونا جمع کر دیا، انہوںنے میری خاطر جو سونا جمع کیا تھا میں اسے لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آگیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یہ سونا ان یعنی اپنے سسرال کے ہاں لے جائو اور ان سے کہنا کہ یہ اس کا مہر ہے۔ چنانچہ میں ان لوگوں کے ہاں گیا اور میں نے ان سے کہا کہ یہ اس کا (یعنی میری بیوی کا) مہر ہے۔ وہ اس پر راضی ہوگئے اور انہوںنے اسی کو قبول کر لیا اور ساتھ ہی کہا کہ یہ بہت ہی پاکیزہ ہے۔ سیدنا ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں ایک دفعہ پھر غمگین ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: ربیعہ! کیا بات ہے؟ غمگین کیوں ہو؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے بڑھ کر شریف لوگ نہیں دیکھے، میں نے ان کو جو بھی دیا وہ اسی پر راضی ہوگئے اورانہوںنے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بہت ہے اور پاکیزہ ہے۔اب میری تو حالت یہ ہے کہ میں ولیمہ کرنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا: اے بریدہ! اس کے لیے ایک بکری کا انتظام کرو۔ چنانچہ انہوں نے میرے لیے اتنی رقم جمع کر دی کہ ایک بڑا اور موٹا تازہ مینڈھا خرید لیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس جا کر ان سے کھانے والا بڑا برتن لے آئو۔ میں ان کی خدمت میں گیا اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جو حکم فرمایا تھا، میں نے ان سے بیان کر دیا۔ انہوںنے کہا: وہ یہ برتن ہے، اس میں نو صاع (تقریباً۲۲کلو) جو ہیں۔ اللہ کی قسم! ہمارے ہاں اس کے علاوہ کھانے کی اور کوئی چیز نہیں ہے، تم یہ لے جائو۔ چنانچہ میں وہ لے گیااور لے جاکر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اور ام المومنین نے جو کچھ کہا تھا وہ بھی بیان کر دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یہ خوراک ان (اپنے سسرال) کے ہاں لے جائو۔ اور کہو کہ یہ تمہارے ہاں روٹی کے کام آئیں گے۔ چنانچہ میں مینڈھا بھی ساتھ لے کر وہاں چلا گیا، میرے ساتھ میرے قبیلہ کے لوگ بھی تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ جو روٹی کے لیے اور یہ مینڈھا سالن پکانے کے لیے ہے، وہ کہنے لگے کہ روٹی ہم تیار کرتے ہیں اور مینڈھے کو تم تیار کرو، میں نے اور قبیلہ کے کچھ لوگوں نے مینڈھے کو ذبح کرکے اس کی کھال اتار کر گوشت تیار کرکے اسے پکایا، ہمارے پاس روٹی اور گوشت کا سالن تیار تھا۔ میں نے ولیمہ کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی دعوت دی۔ اس سے آگے سیدنا ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد مجھے اور ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قطعۂ زمین عنایت فرمایا، ہمارے پاس دنیا کا مال آگیا، میرا اور ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کھجور کے ایک درخت کے بارے میں جھگڑا ہو گیا۔ میں نے دعوی کیا کہ یہ میری حد میں ہے اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کہ یہ میری حد میں ہے۔ میرے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان تو تکار ہوگئی، غصے میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سخت کلمہ کہہ گئے، وہ خود انہیں بھی اچھا نہ لگا اور وہ خود اس پر نادم ہوئے، انہوںنے مجھ سے کہا: ربیعہ! تم بھی مجھے اسی قسم کے الفاظ کہہ لو، تاکہ بدلہ پورا ہو جائے۔ میں نے کہا کہ میں تو ایسے نہیں کروںگا، ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بولے تمہیں ایسے الفاظ کہنے ہوں گے ورنہ میں اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کر دوں گا۔ میںنے کہا: میں تو ایسا کام نہیں کر سکتا یعنی آپ کو ایسے الفاظ نہیں کہہ سکتا۔ ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ متنازعہ جگہ چھوڑ دی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چل دیئے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ میرے قبیلے بنو اسلم کے بھی کچھ لوگ آگئے اور انہوںنے مجھ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر رحم کرے، وہ کس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تیری شکایت کریں گے؟ حالانکہ سخت اور ناگوار قسم کے الفاظ تو خود انہوںنے کہے ہیں۔ میں نے ان لوگوں سے کہا: کیا تم جانتے ہو وہ کون ہیں؟ وہ ابو بکرصدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں،وہ ثانی اثنین ہیں۔ (یعنی جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہجرت کی تو غار میں اللہ کے رسول کے ساتھ دوسرے فرد وہی تھے۔) تمام مسلمانوں میں سے معزز و مکرم وہی ہیں۔ خبردار! خیال کرو کہ وہ کہیں مڑ کر تمہیں نہ دیکھ لیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کرنے آئے ہو۔ انہوںنے دیکھ لیا تو ناراض ہو جائیں گے۔ وہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے تو ان کے غصہ کی بنیاد پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ناراض ہو جائیں گے اور ان دونوں کی ناراضگی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہو جائے گا اور ربیعہ ہلاک ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: تو پھر تم ہمیں کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا:تم واپس چلے جائو۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں چلے گئے، ان کے پیچھے پیچھے میں بھی اکیلا چلا گیا۔ انہوں نے جا کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلا دی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف سر اٹھا کر دریافت فرمایا: ربیعہ! تمہارے اور ابو بکر کے درمیان کیا بات ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!بات اس طرح ہوئی تھی۔ انہوںنے مجھے ایسے الفاظ کہہ دیئے جو خود انہیں بھی اچھے نہیں لگے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں بھی ان کو اسی قسم کے الفاظ کہوں تاکہ قصاص ہو جائے۔ لیکن میں نے ایسے الفاظ کہنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہت اچھا، تم ایسے الفاظ نہ کہنا، بلکہ تم یوں کہو ابو بکر! اللہ آپ کو معاف کرے۔ تو میں نے کہا: اے ابو بکر! اللہ آپ کو معاف کرے۔ حسن نے بیان کیا کہ اس کے بعد ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روتے ہوئے چلے گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11697

۔ (۱۱۶۹۷)۔ عَنْ نُعَیْمٍ الْمُجْمِرِ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: کُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَقُومُ لَہُ فِی حَوَائِجِہِ نَہَارِی أَجْمَعَ حَتّٰی یُصَلِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ، فَأَجْلِسَ بِبَابِہِ إِذَا دَخَلَ بَیْتَہُ أَقُولُ لَعَلَّہَا أَنْ تَحْدُثَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجَۃٌ، فَمَا أَزَالُ أَسْمَعُہُ یَقُولُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((سُبْحَانَ اللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔)) حَتّٰی أَمَلَّ فَأَرْجِعَ أَوْ تَغْلِبَنِی عَیْنِی فَأَرْقُدَ قَالَ: فَقَالَ لِی: یَوْمًا لِمَا یَرٰی مِنْ خِفَّتِی لَہُ وَخِدْمَتِی إِیَّاہُ: ((سَلْنِی یَا رَبِیعَۃُ أُعْطِکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: أَنْظُرُ فِی أَمْرِی یَا رَسُولَ اللّٰہِ ثُمَّ أُعْلِمُکَ ذٰلِکَ، قَالَ: فَفَکَّرْتُ فِی نَفْسِی فَعَرَفْتُ أَنَّ الدُّنْیَا مُنْقَطِعَۃٌ زَائِلَۃٌ وَأَنَّ لِی فِیہَا رِزْقًا سَیَکْفِینِی وَیَأْتِینِی، قَالَ: فَقُلْتُ: أَسْأَلُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِآخِرَتِی، فَإِنَّہُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِالْمَنْزِلِ الَّذِی ہُوَ بِہِ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقَالَ: ((مَا فَعَلْتَ؟ یَا رَبِیعَۃُ!۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ، أَسْأَلُکَ أَنْ تَشْفَعَ لِی إِلٰی رَبِّکَ فَیُعْتِقَنِی مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَقَالَ: ((مَنْ أَمَرَکَ بِہٰذَا یَا رَبِیعَۃُ!۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ الَّذِی بَعَثَکِ بِالْحَقِّ، مَا أَمَرَنِی بِہِ أَحَدٌ، وَلٰکِنَّکَ لَمَّا قُلْتَ سَلْنِی أُعْطِکَ وَکُنْتَ مِنَ اللّٰہِ بِالْمَنْزِلِ الَّذِی أَنْتَ بِہِ، نَظَرْتُ فِی أَمْرِی وَعَرَفْتُ أَنَّ الدُّنْیَا مُنْقَطِعَۃٌ وَزَائِلَۃٌ، وَأَنَّ لِی فِیہَا رِزْقًا سَیَأْتِینِی، فَقُلْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِآخِرَتِی، قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَوِیلًا ثُمَّ قَالَ لِی: ((إِنِّی فَاعِلٌ فَأَعِنِّی عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُودِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۹۵)
نعیم بن مجمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ربیعہ بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور سارا سارا دن آپ کی ضروریات پوری کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عشاء کی نمازادا فرما لیتے، نماز عشاء کے بعد آپ اپنے گھر تشریف لے جاتے تو میں آپ کے دروازے پر بیٹھ رہتا۔ میں سوچتا کہ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی ضرورت پیش آجائے، میں کافی دیر تک آپ کی آواز سنتا رہتا کہ آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِکے الفاظ ادا کرتے رہتے، یہاں تک کہ میں ہی تھک کر واپس آجاتا، یا مجھ پر آنکھیں غلبہ پالیتیں اور میں سو جاتا، میں چونکہ آپ کی خدمت کے لیے ہر وقت مستعد رہتا اور خوب خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ربیعہ! مجھ سے کچھ مانگو، میں تمہیں دوں گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں غور کرکے عرض کروں گا۔ میں نے دل میں کافی سوچ بچار کی، مجھے خیال آیا کہ دنیا تو منقطع ہو جانے والی چیز ہے اور میرے پاس دنیوی رزق کافی ہے، مزید بھی آتا رہے گا، میں نے سوچا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آخرت کے بارے کچھ طلب کر لوں۔ کیونکہ آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند مقام ہے، چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ربیعہ! سنائو کیا سوچا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے سوچ لیا ہے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ کہ آپ میرے حق میں رب تعالیٰ کے ہاں سفارش کریں کہ وہ مجھے جہنم سے آزاد کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’ربیعہ! یہ دعا کرنے کا تمہیں کس نے کہا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، اس بات کا مجھے کسی نے بھی نہیں کہا، لیکن جب آپ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا اور آپ کا اللہ کے ہاں جو مقام ہے وہ تو ہے ہی۔ تو میں نے اپنے تمام معاملات میں غور کیا تو مجھے یاد آیا کہ دنیا تو منقطع ہو جانے والی چیز ہے اور میرے پاس دنیوی رزق بہت ہے اور مزید ملتا بھی رہے گا۔ میں نے سوچا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آخرت کے بارے میں کچھ طلب کر لوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کافی دیر خاموش رہے، پھر مجھ سے فرمایا: ٹھیک ہے میں یہ کام کروں گا،لیکن تم بکثرت سجدے کرکے میری مدد کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11698

۔ (۱۱۶۹۸)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ کَانَ اسْمُہُ زَاہِرًا، کَانَ یُہْدِی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْہَدِیَّۃَ مِنَ الْبَادِیَۃِ، فَیُجَہِّزُہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ زَاہِرًا بَادِیَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوہُ۔)) وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّہُ، وَکَانَ رَجُلًا دَمِیمًا، فَأَتَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا وَہُوَ یَبِیعُ مَتَاعَہُ، فَاحْتَضَنَہُ مِنْ خَلْفِہِ وَہُوَ لَا یُبْصِرُہُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرْسِلْنِی مَنْ ہٰذَا؟ فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ لَا یَأْلُوْ مَا أَلْصَقَ ظَہْرَہُ بِصَدْرِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ عَرَفَہُ، وَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ یَشْتَرِی الْعَبْدَ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِذًا وَاللّٰہِ تَجِدُنِی کَاسِدًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لٰکِنْ عِنْدَ اللّٰہِ لَسْتَ بِکَاسِدٍ۔)) أَوْ قَالَ: ((لٰکِنْ عِنْدَ اللّٰہِ أَنْتَ غَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۷۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی، جس کا نام زاہرتھا، وہ دیہات سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تحائف لایا کرتا تھا، اس کی واپسی پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اسے بدلے میں کوئی چیز عطا فرمایا کرتے تھے، ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زاہر ہمارا دیہاتی اور ہم اس کے شہری ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے بہت محبت تھی، وہ حسین نہیں تھے، وہ ایک دن اپنا سامان بیچ رہا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس پہنچ گئے، وہ نہ دیکھ سکا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے پیچھے سے اسے پکڑ کر اپنے بازووں کے حصار میں لے لیا، وہ کہنے لگا: مجھے چھوڑ، کون ہے؟ اس نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچان لیا، اب وہ کوشش کرکے اپنی پشت کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینہ مبارک کے ساتھ اچھی طرح لگانے لگا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: اس غلام کو کون خریدے گا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! آپ مجھے کم قیمت پائیں گے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن تم اللہ کے ہاں تو کم قیمت نہیں ہو، بلکہ اللہ کے ہاں تمہاری بہت زیادہ قیمت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11699

۔ (۱۱۶۹۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِشْتَدَّ الْأَمْرُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلاَ رَجُلٍ یَأْتِیْنَا بِخَبَرِ بَنِیْ قُرَیْظَۃَ؟)) فَانْطَلَقَ الزُّبَیْرُ فَجَائَ بِخَبْرِھِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْاَمْرُ اَیْضًا، فَذَکَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیًّا وَإِنَّ الزُّبَیْرَ حَوَارِیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۲۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ خندق کے دن جب حالات سنگین ہو گئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہے جو جا کر بنو قریظہ کی خبر لے کر آئے۔ یہ سن کر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے اور ان کے احوال معلوم کرکے آئے، جب پھر معاملہ سخت ہوا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح تین مرتبہ فرمایاکہ کون ہے جو بنو قریظہ کے احوال معلوم کرکے آئے۔ ہر بار سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھ کر گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11700

۔ (۱۱۷۰۰)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلزُّبَیْرُ اِبْنُ عَمَّتِیْ وَحَوَارِیَّ مِنْ اُمَّتِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۲۷)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زبیر میرا پھوپھی زاد اور میری امت میں سے میرا حواری ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11701

۔ (۱۱۷۰۱)۔ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلٰی عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَأَنَا عِنْدَہُ، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِیَّۃَ بِالنَّارِ، ثُمَّ قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیًّا وَحَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ۔)) سَمِعْت سُفْیَانَ یَقُولُ: الْحَوَارِیُّ النَّاصِرُ۔ (مسند احمد: ۶۸۱)
زربن جیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میںحاضر تھا کہ ابن جرموز نے ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بیٹےیعنی سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے دو۔ اس کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتاہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ امام سفیان نے کہا: حواری سے مراد مدگار ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11702

۔ (۱۱۷۰۲)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلٰی عَلِیّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اِبْنُ جَرْمُوْزٍ یَسْتَأْذِنُ قَالَ: ائْذَنُوْا لَہُ لِیَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَیْرِ النَّارَ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ الْمُتَقَدِّمَ۔ (مسند احمد: ۶۸۰)
زر بن جیش سے روایت ہے کہ ابن جرموز نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی، انھوں نے دریافت کیا: کون ہے ؟ لوگوںنے بتلایا کہ ابن جرموز آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اسے آنے دو، زبیر کا قاتل ضرور بالضرور جہنم رسید ہوگا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کہتے سنا، پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11703

۔ (۱۱۷۰۳)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗ قَالَ لِاِبْنِہِ عَبْدِ اللّٰہِ: یَا بُنَیَّ! اَمَا وَاللّٰہِ! اِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیَجْمَعُ لِیْ اَبَوَیْہِ جَمِیْعًا یُفْدِیْنِیْ بِہِمَا یَقُوْلُ: ((فِدَاکَ اَبِیْ وَ أُمِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۹)
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،انہوںنے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا: میرے پیارے بیٹے ! اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے والدین کا ذکر کرکے فرمایا کرتے تھے: تجھ پر میرے والدین قربان ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11704

۔ (۱۱۷۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ مَوْلٰی اَسْمَائَ اَنَّہٗ سَمِعَ اَسْمَائَ بِنْتَ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: عِنْدِیْ لِلزُّبَیْرِ سَاعِدَانِ مِنْ دِیْیَاجِ کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْطَا ھُمَا اِیَّاہٗ یُقَاتِلُ فِیْہِمَا۔ (مسند احمد: ۲۷۵۱۵)
سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے غلام عبد اللہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میرے پاس زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو آستینیں ہیں، جو ریشم کی بنی ہوئی وہ ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عنایت کی تھیں، وہ انہیں پہن کر دشمن کے مقابلے کو نکلا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11705

۔ (۱۱۷۰۵)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَرْوَانَ، وَمَا إِخَالُہُ یُتَّہَمُ عَلَیْنَا، قَالَ: أَصَابَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ رُعَافٌ سَنَۃَ الرُّعَافِ حَتّٰی تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصٰی، فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ فَقَالَ: اسْتَخْلِفْ، قَالَ: وَقَالُوْہُ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ ہُوَ؟ قَالَ: فَسَکَتَ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لَہُ الْأَوَّلُ وَرَدَّ عَلَیْہِ نَحْوَ ذٰلِکَ، قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: قَالُوْا الزُّبَیْرَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، إِنْ کَانَ لَخَیْرَہُمْ مَا عَلِمْتُ وَأَحَبَّہُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۵۵)
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ مروان سے بیان کرتے ہیں،میں نہیں سمجھتا کہ وہ ہمارے نزدیک قابل تہمت ہو، ا س نے کہا کہ (۳۱) سن ہجری جو کہ سنۃ الرعاف یعنی نکسیر کا سال کہلاتا ہے، اس سال سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نکسیر آئی اور ان کو اس قدر نکسیر آنے لگی کہ وہ حج کے لیے بھی نہ جا سکے اور انہیں موت کا اندیشہ لاحق ہوا تو انہوںنے اپنے بعد وصیت بھی کر دی، ایک قریشی آدمی ان کی خدمت میں گیا تو اس نے پوچھا: کیا آپ کے بعد کسی کو خلیفہ نام زد کر دیا گیا ہے؟ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: کیا لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے پوچھا: وہ کون ہے یعنی خلیفہ کسے نامزد کیا گیاہے ؟ وہ خاموش رہا ، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی پہلے آدمی والی بات کی اور انہوںنے اسے بھی وہی جواب دیا۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا لوگ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: اس ذات کیقسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے علم کے مطابق وہ سب سے افضل ہیں اور ررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11706

۔ (۱۱۷۰۶)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ، أَنَّ أَبَاہُ زَیْدًا أَخْبَرَہُ أَنَّہُ لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، قَالَ زَیْدٌ: ذُہِبَ بِی إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُعْجِبَ بِی، فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا غُلَامٌ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ مَعَہُ مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ بِضْعَ عَشْرَۃَ سُورَۃً، فَأَعْجَبَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((یَا زَیْدُ! تَعَلَّمْ لِی کِتَابَ یَہُودَ فَإِنِّی وَاللّٰہِ مَا آمَنُ یَہُودَ عَلٰی کِتَابِی۔)) قَالَ زَیْدٌ: فَتَعَلَّمْتُ کِتَابَہُمْ مَا مَرَّتْ بِی خَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً حَتّٰی حَذَقْتُہُ وَکُنْتُ أَقْرَأُ لَہُ کُتُبَہُمْ إِذَا کَتَبُوْا إِلَیْہِ وَأُجِیبُ عَنْہُ إِذَا کَتَب۔ (مسند احمد: ۲۱۹۵۴)
خارجہ بن زید سے روایت ہے،ان کے والد سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بتلانا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے دیکھ کر خوش ہوئے،گھر والوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بنو نجار کے اس لڑکے کوآپ پر نازل کی گئی سورتوں میں سے دس سے زیادہ سورتیںیاد ہیں،یہ بات بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بہت اچھی لگی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زید! تم یہودیوں کی زبان اورلکھنا پڑھنا سیکھ لو، اللہ کی قسم میں اپنی تحریروں کے بارے میں یہودیوں پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کی زبان لکھنا پڑھنا اور سیکھنا شروع کی اور میں پندرہ دنوں میں اس کا ماہر ہو گیا، اس کے بعد جب یہودی لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام خطوط لکھتے تو میں ہی وہ پڑھ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سناتا اور جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے خطوط کا جواب لکھواتے تو میں ہی لکھا کرتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11707

۔ (۱۱۷۰۷)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((تُحْسِنُ السُّرْیَانِیَّۃَ إِنَّہَا تَأْتِینِی کُتُبٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَتَعَلَّمْہَا۔)) فَتَعَلَّمْتُہَا فِی سَبْعَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔ (مسند احمد: ۲۱۹۲۰)
سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’کیا تم سریانی زبان اچھی طرح جانتے ہو؟ میر ے پاس اس زبان میں خطوط آتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: جی نہیں، آپ نے فرمایا: تو پھر تم اس زبان کو اچھی طرح سیکھ لو۔ پس میں نے سترہ دنوں میں یہ زبان اچھی طرح سیکھ لی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11708

۔ (۱۱۷۰۸)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ وَعَلِیٌّ وَزَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا أَحَبُّکُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عَلِیٌّ: أَنَا أَحَبُّکُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ زَیْدٌ: أَنَا أَحَبُّکُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی نَسْأَلَہُ، فَقَالَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ: فَجَائُ وْا یَسْتَأْذِنُونَہُ، فَقَالَ: ((اخْرُجْ فَانْظُرْ مَنْ ہٰؤُلَائِ؟)) فَقُلْتُ: ہٰذَا جَعْفَرٌ وَعَلِیٌّ وَزَیْدٌ، مَا أَقُولُ أَبِی؟ قَالَ: ((ائْذَنْ لَہُمْ۔)) وَدَخَلُوْا فَقَالُوْا: مَنْ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: ((فَاطِمَۃُ۔)) قَالُوْا: نَسْأَلُکَ عَنْ الرِّجَالِ، قَالَ: ((أَمَّا أَنْتَ یَا جَعْفَرُ فَأَشْبَہَ خَلْقُکَ خَلْقِی وَأَشْبَہَ خُلُقِی خُلُقَکَ وَأَنْتَ مِنِّی وَشَجَرَتِی، وَأَمَّا أَنْتَ یَا عَلِیُّ! فَخَتَنِی وَأَبُو وَلَدِی وَأَنَا مِنْکَ وَأَنْتَ مِنِّی، وَأَمَّا أَنْتَ یَا زَیْدُ! فَمَوْلَایَ وَمِنِّی وَإِلَیَّ وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۲۰)
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا جعفر، سیدنا علی اور سیدنا زید بن حارثہ اکٹھے ہوگئے۔ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کو تم میں سب سے زیادہ محبت مجھ سے ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کو تم میں سب سے زیادہ مجھ سے محبت ہے۔ اور سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی کہا کہ تم سب کی بہ نسبت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مجھ سے زیادہ محبت ہے۔ پھر وہ سب بولے کہ چلو اللہ کے رسول کے پاس چلتے ہیں، پس ان سب نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسامہ باہر جا کر دیکھو کون لوگ ہیں؟ انھوں نے بتلایا کہ سیدنا جعفر، سیدنا علی اور سیدنا زید ہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ میرے والد ہیں (یاد رہے کہ سیدنا زید، سیدنا اسامہ کے والد تھے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو آنے کی اجازت دے دو۔ سو وہ لوگ آئے اور انہوںنے دریافت کیا کہ آپ کو ہم میں سے زیادہ محبت کس کے ساتھ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فاطمہ کے ساتھ۔ ‘ انھوں نے کہا: ہم تو آپ سے مردوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اے جعفر ! تمہاری شکل و صورت میری شکل و صورت سے اور میری شکل و صورت تمہاری شکل و صورت کے مشابہ ہے، آپ مجھ سے اور میرے خاندان میں سے ہیں، اے علی! آپ میرے داماد اور میری اولاد کے باپ ہیں، میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو اور اے زید! آپ میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہیں، آپ کا مجھ سے گہرا تعلق ہے اور تم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11709

۔ (۱۱۷۰۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ فِیْ جَیْشٍ قَطُّ اِلاَّ أَمَّرَہٗ عَلَیْہِ، وَلَوْ بَقِیَ بَعْدَہُ اسْتَخْلَفَہٗ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۲۳)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جس لشکر میں بھی روانہ کیا، ان کو اس کا امیر ہی مقررکیا، اگر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد زندہ رہتے تو آپ انہیں کو لشکروں کا امیر بنا دیتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11710

۔ (۱۱۷۱۰)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جِیْئَ بِیْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ جَائَ بِی عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُہَیْرٌ فَجَعَلُوْا یُثْنُوْنَ عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا تُعْلِمُونِی بِہِ قَدْ کَانَ صَاحِبِی فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔)) قَالَ: قَالَ نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَنِعْمَ الصَّاحِبُ کُنْتَ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَا سَائِبُ انْظُرْ أَخْلَاقَکَ الَّتِی کُنْتَ تَصْنَعُہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَاجْعَلْہَا فِی الْإِسْلَامِ، أَقْرِ الضَّیْفَ، وَأَکْرِمِ الْیَتِیمَ، وَأَحْسِنْ إِلٰی جَارِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۸۵)
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: فتح مکہ والے روز مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا، سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا زہیر مجھے لے کر آئے تھے، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے میری تعریف و توصیف کرنے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے بارے میں مجھے بتلانے کی ضروت نہیں،یہ قبل از اسلام میرے ساتھی تھے۔ سیدنا سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی کہا: آپ کے رسول نے بالکل درست فرمایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہترین رفیق تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سائب! تم اپنے اسلام سے پہلے والے اخلاق پر نظر رکھنا اور اسلام میں بھی وہی اخلاق اپنائے رکھنا، مہمانوں کی مہمان نوازی کیا کرو، یتیموں کا اکرام کیا کرو اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے رہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11711

۔ (۱۱۷۱۱)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِی السَّائِبِ، أَنَّہُ کَانَ یُشَارِکُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِی التِّجَارَۃِ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْفَتْحِ جَائَ ہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَرْحَبًا بِأَخِی وَشَرِیکِی (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کُنْتَ شَرِیْکِیْ وَکُنْتَ خَیْرَ شَرِیْکٍ) کَانَ لَا یُدَارِیُٔ وَلَا یُمَارِی یَا سَائِبُ، قَدْ کُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ لَا تُقْبَلُ مِنْکَ، وَہِیَ الْیَوْمَ تُقْبَلُ مِنْکَ۔)) وَکَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۹۰)
سیدنا سائب بن ابی سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ اسلام سے قبل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر تجارت کیا کرتے تھے، مکہ فتح ہوا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: میں اپنے بھائی اور شریک کار کو مرحبا کہتا ہوں۔ دوسری روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے شریک کار تھے اور بہترین شریک کار تھے، وہ کسی بھی معاملے میں اختلاف اور جھگڑانہیں کرتے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سائب! تم جاہلیت میں بہت اچھے عمل کرتے رہے، مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتے تھے،، اب تمہاری طرف سے ایسے اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوں گے۔ سیدنا سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو ادھار اور ادائیگی میں مہلت دیا کرتے اور صلہ رحمی کیا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11712

۔ (۱۱۷۱۲)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ حَجَّ بِیْ أَبِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاع، وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۰۹)
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:حجۃ الوداع میں، جبکہ میری عمر سات برس تھی، میرے والد نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مجھے حج کرایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11713

۔ (۱۱۷۱۳)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْیَانِ إِلَی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ، نَتَلَقّٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: أَذْکُرُ مَقْدَمَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ تَبُوکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۲)
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے تو میں دوسرے بچوں کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع کی طرف گیا تھا۔سفیان راوی نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا: سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا واقعہ یاد ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تبوک سے واپس آئے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11714

۔ (۱۱۷۱۴)۔ عَنِ ابْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اَبْطَأْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا حَبَسَکِ یَا عَائِشَۃُ؟)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ فِی الْمَسْجِدِ رَجُلًا مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَائَۃً مِنْہٗ، قَالَ: فَذَھَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ھُوَ سَالِمٌ مَوْلٰی أَبِیْ حُذَیْفَۃَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِی أُمَّتِیْ مِثْلَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۳۴)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضری دینے میں تاخیر ہوگئی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: عائشہ! تم کیوں لیٹ ہو گئی ہو؟ انہوںنے کہا: اے اللہ کے رسول! مسجد میں ایک آدمی تھا، میں نے اس سے زیادہ حسین قرأت کرتے کسی کو نہیں سنا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ان کو دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے، جس نے میری امت میں تم جیسے لوگ بھی پیدا کیے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11715

۔ (۱۱۷۱۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْلَمْتُ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اجْعَلْ لِقَوْمِی مَا أَسْلَمُوْا عَلَیْہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاسْتَعْمَلَنِی عَلَیْہِمْ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِی أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِی عُمَرُ مِنْ بَعْدِہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۴۸)
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور اسلام قبول کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قبول اسلام کے وقت میری قوم کے لوگوں کے پاس جو اموال ہیں، آپ وہ اموال انہی کی ملکیت میں رہنے دیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا اور مجھے میری قوم پر امیر مقرر کر دیا، بعد میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اور ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی مجھے میری قوم پر امیر مقرر کیے رکھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11716

۔ (۱۱۷۱۶)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجْمَعُ أَبَاہٗ وَأُمَّہٗ لِاَحَدٍ غَیْرِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُہٗ یَُقْولُ یَوْمَ اُحُدٍ: ((اِرْمِ یَا سَعْدُ! فِدَاکَ أَبِیْ وَأُمِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۷)
سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی نہیں سنا کہ آپ نے کسی کے لیےیوں فرمایا ہو کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماں باب اس پر فدا ہوں، ما سوائے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے، میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احد والے دن فرمایا: اے سعد! تم دشمن پر تیر برسائو، میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11717

۔ (۱۱۷۱۷)۔ وَعَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَمَعَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبْوَیْہِ یَوْمَ أُحُدٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۵)
سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: احد کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے حق میںفدائیہ جملہ کہتے ہوئے اپنے والدا ور والدہ دونوں کا ذکر کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11718

۔ (۱۱۷۱۸)۔ حَدَّثَنَا قَیْسٌ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: إِنِّی لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمٰی بِسَہْمٍ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَلَقَدْ أَتَیْنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا لَنَا طَعَامٌ نَأْکُلُہُ إِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَۃِ، وَہٰذَا السَّمُرَ حَتّٰی إِنَّ أَحَدَنَا لَیَضَعُ کَمَا تَضَعُ الشَّاۃُ مَا لَہُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ یُعَزِّرُونِی عَلَی الدِّینِ، لَقَدْ خِبْتُ إِذَنْ وَضَلَّ عَمَلِی۔ (مسند احمد: ۱۶۱۸)
سیدنا سعد بن مالک یعنی سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سب سے پہلا عرب ہوں، جس نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر برسانے1 کی سعادت نصیب ہوئی، میں نے صحابہ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس حال میں بھی دیکھا ہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے خاردار درختوں کے پتوں اور ببول کے درخت کے سوا کچھ نہ تھا، ہم قضائے حاجت کو جاتے تو بکریوں کی طرح مینگنیاں کرتے، فضلہ کے ساتھ کسی قسم کی آلائش نہ ہوتی (یعنی بالکل خشک فضلہ ہوتا ! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ۱ھ میں ایک سریہ روانہ کیا۔ مقصد قریشی تجارتی قافلہ پر حملہ تھا۔ اس میں دونوں طرف سے تیروں کا تبادلہ ہوا۔ سعد اس سریہ میں شامل تھے اور سب سے پہلے انہوں نے تیر چلایا تھا، جس کا وہ اس حدیث میں تذکرہ کر رہے ہیں۔ فتح الباری: ص ۸۲۔ (عبداللہ رفیق) تھا)۔ اب بنو اسد کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دین کے بارے میں مجھ پر طنز کرتے ہیں، اگر ان کا طنز حقیقت پر مبنی ہوتو میں تو خسارے میں رہا اور میرے اعمال برباد ہوگئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11719

۔ (۱۱۷۱۹)۔ (وَعَنْہٗ بِلَفِظٍ آخَرَ) قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَابِعَ سَبْعَۃٍ، وَمَا لَنَا طَعَامٌ اِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَۃِ، حَتّٰی أَنَّ أَحَدَنَا لَیَضَعُ کَمَا تَضَعُ الشَّاۃُ مَا یُخَالِطُہٗ شَیْئٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُوْ أَسَدٍ یُعَزِّرُوْنِّیْ عَلَی الْاِسْلَامِ، لَقَدْ خَسِرْتُ اِذًا وَضَلَّ سَعْیِیْ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۸)
۔ (دوسری روایت) سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے خود کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ دیکھا، میں مسلمان ہونے والے گروہ میں ساتواں1 فرد تھا، ہمارے پاس خوراک کے طور پر صرف خاردار درختوں کے پتے تھے ا ور ہم قضائے حاجت کرتے تو بکریوں کی طرح مینگنیاں کرتے تھے اور یہ فضلہ لیس دار نہیں ہوتا تھا،لیکن اب بنو اسد اسلام کے بارے میں مجھ پر طنز کرتے ہیں، اگر ان کی بات درست ہو تو میں تو خسارے میں رہا اور میرے سارے اعمال اکارت گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11720

۔ (۱۱۷۲۰)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قاَلَ: ((أَوَّلُ مَنْ یَدْخُلُ مِنْ ھٰذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَدَخَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِیْ وَقَّاصٍ۔ (مسند احمد: ۷۰۶۹)
عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس دروازے سے سب سے پہلے داخل ہونے والا آدمی اہل جنت میں سے ہے۔ پس سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس دروازے سے داخل ہوئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11721

۔ (۱۱۷۲۱)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أُنْزِلَتْ فِی أَبِی أَرْبَعُ آیَاتٍ قَالَ: قَالَ أَبِی أَصَبْتُ سَیْفًا قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَفِّلْنِیہِ، قَالَ: ((ضَعْہُ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَفِّلْنِیہِ، أُجْعَلْ کَمَنْ لَا غَنَائَ لَہُ، قَالَ: ((ضَعْہُ مِنْ حَیْثُ أَخَذْتَہُ۔)) فَنَزَلَتْ: {یَسْأَلُونَکَ الْأَنْفَالَ} قَالَ: وَہِیَ فِی قِرَائَ ۃِ ابْنِ مَسْعُودٍ کَذٰلِکَ {قُلِ الْأَنْفَالُ} وَقَالَتْ أُمِّی: أَلَیْسَ اللّٰہُ یَأْمُرُکَ بِصِلَۃِ الرَّحِمِ وَبِرِّ الْوَالِدَیْنِ، وَاللّٰہِ! لَا آکُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَکَانَتْ لَا تَأْکُلُ حَتّٰی یَشْجُرُوْا فَمَہَا بِعَصًا فَیَصُبُّوا فِیہِ الشَّرَابَ، قَالَ شُعْبَۃُ: وَأُرَاہُ قَالَ: وَالطَّعَامَ، فَأُنْزِلَتْ: {وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ أُمُّہُ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ} وَقَرَأَ حَتّٰی بَلَغَ {بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} وَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَرِیضٌ، قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ فَنَہَانِی، قُلْتُ: النِّصْفُ، قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: الثُّلُثُ، فَسَکَتَ فَأَخَذَ النَّاسُ بِہِ وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَأَکَلُوْا وَشَرِبُوا وَانْتَشَوْا مِنَ الْخَمْرِ، وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَہُ فَتَفَاخَرُوْا وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: الْأَنْصَارُ خَیْرٌ، وَقَالَتِ الْمُہَاجِرُونَ: الْمُہَاجِرُونَ خَیْرٌ، فَأَہْوٰی لَہُ رَجُلٌ بِلَحْیَیْ جَزُورٍ فَفَزَرَ أَنْفَہُ، فَکَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا فَنَزَلَتْ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ} إِلٰی قَوْلِہِ {فَہَلْ أَنْتُمْ مُنْتَہُونَ} [المائدۃ: ۹۰۔۹۱]۔ (مسند احمد: ۱۵۶۷)
سیدنا مصعب بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ (سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کے بارے میں چار آیات نازل ہوئی ہیں،میرے والد نے کہا: (غزوہ بدر کے ! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص بالکل ابتدائی مسلمان ہونے والوں میں سے ہیں۔ (بخاری: ۳۷۲۷) کی ایک روایت کے مطابق انہوں نے اپنے آپ کو ثلث الاسلام بھی قرار دیا ہے۔ دوران) مجھے ایک تلوار ملی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ تلوار مجھے زائد حصہ کے طور پر دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ میں نے عرض کیا :اللہ کے رسول! آپ یہ تلوار تو مجھے میرے حصہ سے زائد کے طور پر عنایت فرما دیں، بس آپ مجھے یوں سمجھیں کہ میرا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یہ جہاں سے اٹھائی ہے، وہیں رکھ دو۔ اس موقع پر آیت نازل ہوئی: {یَسْأَلُونَکَ الْأَنْفَالَ قُلِ الْأَنْفَالُ} یہ قراء ت سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہے، (جبکہ قرآن کریم کی متواتر قرأت میں یَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْأَنْفَالِ ہے)۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میری والدہ نے کہا: کیا اللہ آپ کو صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم نہیں دیتا؟ اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کچھ کھائوں گی اور نہ پیوں گی جب تک تم محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرو گے، پس وہ کچھ نہیں کھاتی تھی،یہاں تک کہ گھر والے لکڑی کے ذریعے اس کے منہ کو کھول کر رکھتے اور وہ اس میں پینے کی کوئی چیز ڈالتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ میر ے شیخ سماک بن حرب نے کھانے کا بھی ذکر کیا تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۔ وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْمٌفَلَاتُطِعْہُمَاوَصَاحِبْہُمَافِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ْ وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور حقیقتیہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں ضعف پر ضعف اٹھا کر اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔لیکن وہ اگر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے،اس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے تھے۔ (سورۂ لقمان: ۱۴،۱۵) سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی ) وصیت کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پوچھا: ایک تہائی کی۔ آپ یہ بات سن کر خاموش ہو گئے اور لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا، ایک انصاری نے کھانے کی دعو ت کی، لوگوں نے وہاں کھانا کھایا اور شراب پی کر نشے میں مست ہوگئے، یہ حرمت ِ شراب سے پہلے کی بات ہے، ہم اس کے ہاں جمع ہوئے، لوگ ایک دوسرے پر تفاخر کا اظہار کرنے لگے، انصار نے کہا کہ ہم افضل ہیں اور مہاجرین کہنے لگے کہ ہم افضل ہیں، ایک آدمی نے اونٹ کا جبڑا اٹھا کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے مارااور ان کی ناک کو چیر ڈالا، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ناک چیری ہوئی تھی۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَائَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گند ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ،شراب اور جوئے کے ذریعے شیطان تمہارے درمیان عداوت اور بعض ڈالنا اور تمہیں اللہ کییاد اور نماز سے غافل کرنا چاہتا ہے۔ تو کیا تم ان دونوں کاموں سے باز نہیں آئو گے؟ (سورۂ مائدہ: ۹۰، ۹۱)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11722

۔ (۱۱۷۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ یُحَدِّثُ: أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ تُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہِرَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَہِیَ إِلٰی جَنْبِہِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا شَأْنُکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ: ((لَیْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِی یَحْرُسُنِی اللَّیْلَۃَ۔)) قَالَ: ((فَبَیْنَا أَنَا عَلٰی ذٰلِکَ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلَاحِ۔)) فَقَالَ: ((مَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ: أَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ، فَقَالَ: ((مَا جَائَ بِکَ۔)) قَالَ: جِئْتُ لِأَحْرُسَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ غَطِیطَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَوْمِہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۰۶)
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نیند نہیں آرہی تھی، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں تھیں، انہوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرا پہرہ دیتا۔ میں ابھی انہی خیالات میں ہی تھی کہ میں نے اسلحہ کی آوازیں سنیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ آنے والے نے کہا: اے ا للہ کے رسول! میں سعد بن مالک ہوں، آپ کا پہرہ دینے کی سعادت حاصل کرنے آیا ہوں۔ (اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر سکون سے ہوئے کہ) سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: اس کے بعد میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سوتے ہوئے خراٹے لیتے سنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11723

۔ (۱۱۷۲۳)۔ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا بَنَی الْقَصْرَ قَالَ: انْقَطَعَ الصُّوَیْتُ، فَبَعَثَ إِلَیْہِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ فَلَمَّا قَدِمَ أَخْرَجَ زَنْدَہُ وَأَوْرٰی نَارَہُ وَابْتَاعَ حَطَبًا بِدِرْہَمٍ، وَقِیلَ لِسَعْدٍ: إِنَّ رَجُلًا فَعَلَ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ: ذَاکَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ، فَخَرَجَ إِلَیْہِ فَحَلَفَ بِاللّٰہِ مَا قَالَہُ، فَقَالَ: نُؤَدِّیْ عَنْکَ الَّذِی تَقُولُہُ، وَنَفْعَلُ مَا أُمِرْنَا بِہِ، فَأَحْرَقَ الْبَابَ ثُمَّ أَقْبَلَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ أَنْ یُزَوِّدَہُ فَأَبٰی، فَخَرَجَ فَقَدِمَ عَلٰی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَہَجَّرَ إِلَیْہِ فَسَارَ ذَہَابَہُ وَرُجُوعَہُ تِسْعَ عَشْرَۃَ، فَقَالَ: لَوْلَا حُسْنُ الظَّنِّ بِکَ لَرَأَیْنَا أَنَّکَ لَمْ تُؤَدِّ عَنَّا، قَالَ: بَلٰی أَرْسَلَ یَقْرَأُ السَّلَامَ وَیَعْتَذِرُ وَیَحْلِفُ بِاللّٰہِ مَا قَالَہُ، قَالَ: فَہَلْ زَوَّدَکَ شَیْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تُزَوِّدَنِی أَنْتَ، قَالَ: إِنِّی کَرِہْتُ: أَنْ آمُرَ لَکَ، فَیَکُونَ لَکَ الْبَارِدُ وَیَکُونَ لِی الْحَارُّ، وَحَوْلِی أَہْلُ الْمَدِینَۃِ قَدْ قَتَلَہُمْ الْجُوعُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا یَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۳۹۰)
عبایہ بن رفاعہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کواطلاع پہنچی کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب محل تعمیر کیا تو کہا: اب لوگوں کی آوازیں (شور آنا) بند ہوگئی ہیں۔ تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ادھر بھیجا، وہ آئے تو انہوںنے آتے ہی تیاری کی، ایک درہم کی لکڑی خریدی اور اس دروازے کو آگ لگا دی۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتلایا گیا کہ ایک آدمی نے یہ کام کیا ہے، انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ محمد بن مسلمہ بن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کی خدمت میں گئے اور جا کر کہا:اللہ کی قسم! میں نے ایسا کوئی لفظ نہیں کہا۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں، ہم آپ کی اس بات کو امیر المومنین تک پہنچا دیں گے اور ہمیں جو حکم ہوا ہے، ہم اس کی تعمیل کریں گے، چنانچہ انہوں نے دروازے کو آگ لگا دی۔ پھر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے محمد بن مسلمہ کو مال کی پیش کش کی تو انہوںنے کچھ لینے سے انکار کر دیا۔ وہاں سے روانہ ہو کر محمد بن مسلمہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں آئے، وہ بہت جلد واپس آئے تھے، ان کے جانے اور واپسی میں صرف انیس دن لگے تھے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر مجھے آپ کے بارے میں حسن ظن نہ ہوتا تو ہم سمجھتے کہ آپ نے ہماری طرف سے مفوضہ ذمہ داری کو پورے طور پر سر انجام نہیں دیا۔محمد بن مسلمہ نے کہا: کیوں نہیں، میں اپنی ذمہ داری کو بجا طور پر کیوں نہ ادا کرتا۔ انھوں نے کہا: سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ پ کو سلام کہتے ہیں اور معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: آیا انہوںنے آپ کو زادِ راہ دیا ہے یا نہیں دیا؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: جی نہیں دیا۔ آپ نے خود مجھے زاد راہ کیوں نہ دیا؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے تمہارے لیے زادراہ دیئے جانے کا حکم اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تم تو فائدہ اٹھائو اور اہل مدینہ کی حاجت کی وجہ سے ذمہ داری مجھ پر رہے، میرے ارد گرد یہ اہل مدینہ موجود ہیں، جنہیں بھوک کی شدت نے قتل کر رکھا ہے۔ میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سن چکا ہوں کہ کوئی آدمی اکیلا سیر ہو کر نہ کھائے کہ اس کا ہم سایہ بھوکا ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11724

۔ (۱۱۷۲۴)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَنْزِلِنَا، فَقَالَ: ((اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِیًّا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاتَّبَعَہُ سَعْدٌ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ قَدْ کُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِیمَکَ وَأَرُدُّ عَلَیْکَ رَدًّا خَفِیًّا لِتُکْثِرَ عَلَیْنَا مِنَ السَّلَامِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ مَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَمَرَ لَہُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ فَوُضِعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلَہُ أَوْ قَالَ: نَاوَلُوْہُ مِلْحَفَۃً مَصْبُوغَۃً بِزَعْفَرَانٍ وَوَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِہَا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَیْہِ وَہُوَ یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ عَلٰی آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَصَابَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ إِلَیْہِ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَیْہِ بِقَطِیفَۃٍ، فَرَکِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ سَعْدٌ: یَا قَیْسُ! اصْحَبْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ قَیْسٌ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ارْکَبْ۔)) فَأَبَیْتُ ثُمَّ قَالَ: ((إِمَّا أَنْ تَرْکَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۵)
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِکہا۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پست آواز سے سلام کا جواب دیا، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سلام تین بار کہا تھا اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تین بار ہی اتنی پست آواز میں جواب دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں سنا) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس چل دیئے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چلے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے سلام کی آواز سن رہا تھا اور آہستہ آواز سے جواب دے رہا تھا تا کہ آپ ہم پر زیادہ سے زیادہ سلام کہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ساتھ واپس تشریف لے آئے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ کے غسل کے لیے پانی رکھوایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کیا، اس کے بعد انہوںنے زعفران یا ورس سے رنگا ہوا ایک خوشبودار کپڑا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ کپڑا اپنے اوپر لے لیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی: یا اللہ! سعد بن عبادہ کی آل کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال فرما۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانا تناول فرمایا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپسی کا ارادہ کیا تو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری کے لیے گدھا پیش کیا، جس کے اوپر ایکموٹی چادر رکھ دی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گدھے پر سوار ہوگئے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جائے، سو سیدنا قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ساتھ چل دیئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بھی سوار ہو جائو۔ انہوںنے تو (احتراماً) سوار ہونے سے انکار کر دیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یاتو سوار ہو جائو یا پھر واپس چلے جائو۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11725

۔ (۱۱۷۲۵)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِی وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَکَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِہِمْ وَأَطْوَلِہِمْ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالَ لِی: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّکَ بِسَعْدٍ أَشْبَہُ ثُمَّ بَکٰی وَأَکْثَرَ الْبُکَائَ، فَقَالَ: رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی سَعْدٍ، کَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِہِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشًا إِلٰی أُکَیْدِرَ دُومَۃَ، فَأَرْسَلَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجُبَّۃٍ مِنْ دِیبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِیہِ الذَّہَبُ، فَلَبِسَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ یَلْمِسُونَ الْجُبَّۃَ وَیَنْظُرُونَ إِلَیْہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَتَعْجَبُونَ مِنْہَا۔)) قَالُوْا: مَا رَأَیْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَمَنَادِیلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّۃِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۴۸)
محمد بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ انتہائی حسین و جمیل ، عظیم الجثہ اور دراز قامت آدمی تھے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، انہوںنے مجھ سے دریافت کیا کہ میں کون ہوں۔ میں نے عرض کیا:میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ انھوں نے کہا: تم تو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مشابہ ہو، اس کے بعد وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے اور کہا: سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ سب سے بڑھ کر جسیم اور طویل قامت تھے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دومہ کے والی اکیدر کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ارسال کیا، جس پر سونے کی کڑھائی کی گئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے زیب تن فرمایا اور منبر پر کھڑے ہوئے یا بیٹھے، آپ نے کچھ گفتگو نہ کی اور ویسے ہی نیچے اتر آئے۔ لوگ اس جبہ کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے (اور اس کی عمدگی پرتعجب کرنے لگے)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس جبہ پر تعجب کرتے ہو؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، ہم نے اس سے اچھا کپڑا کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جو کپڑا دیکھ رہے ہو، جنت میںسعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11726

۔ (۱۱۷۲۶)۔ وَعَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِھْتَزَّالْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مٰعَاذٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۸۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا عرش جھوم گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11727

۔ (۱۱۷۲۷)۔ وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ جَدَّتِہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: وَلَوْ أَشَائُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِی بَیْنَ کَتِفَیْہِ مِنْ قُرْبِی مِنْہُ لَفَعَلْتُ، یَقُولُ: ((اہْتَزَّ لَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) یُرِیدُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ یَوْمَ تُوُفِّیَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۲۹)
عاصم بن عمر بن قتاد ہ اپنی جدہ سیدہ رمیثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ میں اس وقت آپ کے اس قدر قریب تھی کہ اگر میں اس وقت چاہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مہر نبوت کو بوسہ دے سکتی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے تو اللہ کا عرش جھوم اٹھا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، جس دن وہ فوت ہوئے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11728

۔ (۱۱۷۲۸)۔ وَعَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّیَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَلَا یَرْفَأُ دَمْعُکِ وَیَذْہَبُ حُزْنُکِ؟ فَإِنَّ ابْنَکِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِکَ اللّٰہُ لَہُ، وَاہْتَزَّ لَہُ الْعَرْشُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۳۳)
سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی ماں رونے چیخنے لگی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے آنسو رکتے نہیں،کیا تمہارے غم کا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا، تمہارے بیٹے کی شان تو یہ ہے کہ یہ وہ پہلا آدمی ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰہنسے ہیں اور جس کے لیے اس کا عرش جھوم اٹھا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11729

۔ (۱۱۷۲۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَجَناَزَۃُ سَعْدٍ مَوْضُوْعَۃٌ: ((اِھْتَزَّ لَھَا عَرْشُ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۸۸)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اس کی خاطر رحمن عزوجل کا عرش جھوم اٹھا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11730

۔ (۱۱۷۳۰)۔ عَنْ عَائَشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أُصِیبَ سَعْدٌ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاہُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَۃِ فِی الْأَکْحَلِ، فَضَرَبَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْمَۃً فِی الْمَسْجِدِ لِیَعُودَہُ مِنْ قَرِیبٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۹۸)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خندق کے دن زخمی ہو گئے، حبان بن عرقہ قریشی نے ا ن کے بازو کی اکحل نامی رگ پر تیر مارا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریب سے ان کی تیمار داری کر نے کے لیے ان کے لیے مسجد میں خیمہ نصب کرایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11731

۔ (۱۱۷۳۱)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ: نَزَلَ أَہْلُ قُرَیْظَۃَ عَلٰی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی سَعْدٍ فَأَتَاہُ عَلٰی حِمَارٍ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا قَرِیبًا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُوْمُوْا إِلٰی سَیِّدِکُمْ أَوْ خَیْرِکُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ہٰؤُلَائِ نَزَلُوا عَلٰی حُکْمِکَ۔)) قَالَ: تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُہُمْ وَتُسْبٰی ذَرَارِیُّہُمْ قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَقَدْ قَضَیْتَ بِحُکْمِ اللّٰہِ۔)) وَرُبَّمَا قَالَ: ((قَضَیْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۸۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگ سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلے پر راضی ہوگئے، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا، وہ گدھے پر سوار ہو کر تشریف لائے، جب وہ مسجد نبوی کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے سردار کی طرف اٹھ کر جائو یایوں فرمایا تم اپنے رئیس کی طرف اٹھ کر جائو (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: یہیہودی لوگ آپ سے فیصلہ کرانے پر راضی ہوئے ہیں۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ نے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کیا ہے، (یعنی جو فیصلہ کیا ہے اللہ کو بھی وہی منظور ہے۔) اور کسی وقت سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یوں بیان کیا: آپ نے تو بادشاہ1 والا فیصلہ کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11732

۔ (۱۱۷۳۲)۔ عَنْ