449 Results For Hadith (Musnad Ahmad ) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12018

۔ (۱۲۰۱۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی وَجَعِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ، فَقَالَ النَّاسُ: یَا أَبَا حَسَنٍ! کَیْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللّٰہِ بَارِئًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَخَذَ بِیَدِہِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: أَلَا تَرٰی أَنْتَ وَاللّٰہِ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیُتَوَفّٰی فِی وَجَعِہِ ہٰذَا إِنِّی أَعْرِفُ وُجُوہَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاذْہَبْ بِنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْہُ فِیمَنْ ہٰذَا الْأَمْرُ، فَإِنْ کَانَ فِینَا عَلِمْنَا ذٰلِکَ وَإِنْ کَانَ فِی غَیْرِنَا کَلَّمْنَاہُ فَأَوْصٰی بِنَا، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَاللّٰہِ! لَئِنْ سَأَلْنَاہَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنَعَنَاہَا لَا یُعْطِینَاہَا النَّاسُ أَبَدًا، فَوَاللّٰہِ! لَا أَسْأَلُہُ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۳۷۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مرض الموت کے دنوں میں ایک روز سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پاس سے باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابو الحسن! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس حال میں ہیں؟ انہو ں نے کہا: الحمد اللہ بہتر ہیں۔ ان کی بات سن کر سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن عبدالمطلب نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: آپ دیکھتے نہیں؟ اللہ کی قسم! رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اس بیماری میں فوت ہوجائیں گے، میں عبدالمطب کے خاندان کے افراد کو چہروں سے پہچانتا ہوں کہ موت سے قبل ان کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ آؤ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں جا کر ا س امر (خلافت) کے بارے میں پوچھ لیں۔ اگر یہ ہمارا حق ہو اتو ہمیں پتہ چل جائے گا اور اگر یہ کسی دوسرے کے متعلق بات ہوئی تو ہم اس بارے میں پوچھ گچھ کر لیتے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے حق میں وصیت کردیںگے۔ یہ سن کر علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا اور آپ نے ہمیں اس سے محروم کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں یہ حق نہیں دیں گے، لہٰذا اللہ کی قسم ! میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں کچھ نہ پوچھوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12019

۔ (۱۲۰۱۹)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ رَجُلٍ،عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ یَوْمَ الْجَمَلِ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَعْہَدْ إِلَیْنَا عَہْدًا، نَأْخُذُ بِہِ فِی الْإِمَارَۃِ، وَلٰکِنَّہُ شَیْئٌ رَأَیْنَاہُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی أَبِی بَکْرٍ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی عُمَرَ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتّٰی ضَرَبَ الدِّینُ بِجِرَانِہِ۔ (مسند احمد: ۹۲۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جنگ جمل کے روز فرمایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امارت (خلافت) کے بارے میں ہم سے کچھ نہیں فرمایا، بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے یعنی امت نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلفیہ منتخب کر لیا گیا، ان پر اللہ کی رحمت ہوـ، انہو ں نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا، ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری کو اس قد رعمدگی سے ادا کیا کہ روئے زمین پر اسلام کا بول بالا ہوگیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12020

۔ (۱۲۰۲۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَنْ یُؤَمَّرُ بَعْدَکَ؟ قَالَ: ((إِنْ تُؤَمِّرُوْا أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تَجِدُوہُ أَمِینًا، زَاہِدًا فِی الدُّنْیَا، رَاغِبًا فِی الْآخِرَۃِ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوْا عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ تَجِدُوہُ قَوِیًّا أَمِینًا، لَا یَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوْا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَلَا أُرَاکُمْ فَاعِلِینَ، تَجِدُوہُ ہَادِیًا مَہْدِیًّا، یَأْخُذُ بِکُمُ الطَّرِیقَ الْمُسْتَقِیمَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کس کو امیربنایا جائے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو تم اسے ایسا پاؤ گے کہ اس کو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی رغبت ہوگی، اگرتم عمر کو امیر بناؤ گے تو تم اسے قوی اور اما نتدار پاؤ گے، جو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرے گا اور اگر تم علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر بناؤ گے تو تم اس کو رہنما اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے جائے گا، لیکن میرا خیال ہے کہ تم اسے خلیفہ نہیں بناؤ گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12021

۔ (۱۲۰۲۱)۔ عَنْ قَیْسٍ الْخَارِفِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُولُ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِ: سَبَقَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَثَلَّثَ عُمَرُ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَۃٌ أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ، فَکَانَ مَا شَائَ اللّٰہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَعْفُو اللّٰہُ عَمَّنْ یَّشَائُ)۔ (مسند احمد: ۱۲۵۹)
قیس خارفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس ممبر پر یہ کہتے ہوئے سنا: سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، آپ کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے امت کو نمازیں پڑھائیں، تیسرے نمبر پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے،ان کے بعد تو ہمیں فتنوں اور آزمائشوںنے آلیا، پھر وہی ہوا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ جس کو چاہے گا، معاف کر دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12022

۔ (۱۲۰۲۲)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بِمِثْلِہٖ وَفِیْہِ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَۃٌ فَمَا شَائَ اللّٰہُ جَلَّ جَلَالُہُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِی قَوْلُہُ: ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَۃٌ، أَرَادَ أَنْ یَتَوَاضَعَ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۰)
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا، پھر وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے والد نے کہا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ کہنا کہ ان حضرات کے بعد ہمیں آزمائشوں نے آلیا۔ یہ انہوں نے ازراہ تواضع فرمایا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12023

۔ (۱۲۰۲۳)۔ عَنْ سَہْلٍ أَبِی الْأَسَدِ قَالَ: حَدَّثَنِی بُکَیْرُ بْنُ وَہْبٍ الْجَزَرِیُّ، قَالَ: قَالَ لِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا مَا أُحَدِّثُہُ کُلَّ أَحَدٍ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ عَلَی بَابِ الْبَیْتِ وَنَحْنُ فِیہِ، فَقَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ، إِنَّ لَہُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا، وَلَکُمْ عَلَیْہِمْ حَقًّا مِثْلَ ذٰلِکَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوْا فَرَحِمُوْا، وَإِنْ عَاہَدُوْا وَفَوْا، وَإِنْ حَکَمُوْا عَدَلُوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۳۲)
بکیر بن وہب جزری کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں،یہ حدیث میں نے کسی اور کو بیان نہیں کی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم بھی اس گھر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، تمہارے ذمے ان کے حقوق ہیں اور اسی طرح ان کے ذمے تمہارے حقوق ہیں،اگر ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12024

۔ (۱۲۰۲۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ سَہْلٍ أَبِی الْأَسَدِ، عَنْ بُکَیْرٍ الْجَزَرِیِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کُنَّا فِی بَیْتِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی وَقَفَ فَأَخَذَ بِعِضَادَۃِ الْبَابِ فَقَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ…الخ))۔ (مسند احمد: ۱۲۹۳۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک دفعہ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آکر دروازے کی چوکھٹ کے بازوکو پکڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، …۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12025

۔ (۱۲۰۲۵)۔ حَدَّثَنَا سَیَّارُ بْنُ سَلَامَۃَ، سَمِعَ أَبَا بَرْزَۃَ، یَرْفَعُہُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ، إِذَا اسْتُرْحِمُوْا رَحِمُوْا وَإِذَا عَاہَدُوْا وَفَوْا، وَإِذَا حَکَمُوْا عَدَلُوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَلِکَ مِنْہُمْ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۵)
سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے تھے: کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلفاء اور حکمران قریش میںسے ہوں گے۔ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12026

۔ (۱۲۰۲۶)۔ عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، یُحَدِّثُ أَنَّہُ بَلَغَ مُعَاوِیَۃَ، وَہُوَ عِنْدَہُ فِی وَفْدٍ مِنْ قُرَیْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَیَکُونُ مَلِکٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِیَۃُ، فَقَامَ فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالًا مِنْکُمْ یُحَدِّثُونَ أَحَادِیثَ لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أُولَئِکَ جُہَّالُکُمْ، فَإِیَّاکُمْ وَالْأَمَانِیَّ الَّتِی تُضِلُّ أَہْلَہَا، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ فِی قُرَیْشٍ، لَا یُنَازِعُہُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَکَبَّہُ اللّٰہُ عَلٰی وَجْہِہِ مَا أَقَامُوا الدِّین۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۷)
امام زہری کہتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم ایک قریشی وفدمیں شریک سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، انھوں نے بیان کیا کہ معاویہ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ عنقریب قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا، تو معاویہ غصے میں آ گئے، کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بعض لوگ ایسی باتیں بیان کرتے ہیں، جو نہ تو اللہ کی کتاب میں پائی جاتی ہیں اور نہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہوتی ہیں۔ یہ لوگ پر لے درجے کے جاہل ہیں۔ اس قسم کی خواہشات سے بچوجو خواہش پرستوں کو گمراہ کر دیتی ہیں۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا: یہ (امارت والا) معاملہ قریشیوں میں رہے گا، جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے، ان سے دشمنی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ منہ کے بل گرادے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12027

۔ (۱۲۰۲۷)۔ عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قَرِیبٍ مِنْ ثَمَانِینَ رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ، لَیْسَ فِیہِمْ إِلَّا قُرَشِیٌّ، لَا وَاللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ صَفْحَۃَ وُجُوہِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوہِہِمْ یَوْمَئِذٍ، فَذَکَرُوْا النِّسَائَ فَتَحَـدَّثُوا فِیہِنَّ، فَتَحَدَّثَ مَعَہُمْ حَتَّی أَحْبَبْتُ أَنْ یَسْکُتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَتَشَہَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! فَإِنَّکُمْ أَہْلُ ہٰذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللّٰہَ، فَإِذَا عَصَیْتُمُوہُ بَعَثَ إِلَیْکُمْ مَنْ یَلْحَاکُمْ کَمَا یُلْحٰی ہٰذَا الْقَضِیبُ۔)) لِقَضِیبٍ فِی یَدِہِ ثُمَّ لَحَا قَضِیبَہُ فَإِذَا ہُوَ أَبْیَضُ یَصْلِدُ۔ (مسند احمد: ۴۳۸۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم تقریبًا قریش کے اسی (۸۰) آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے تھے، تمام کے تمام قریشی تھے۔ اللہ کی قسم! اُس دن یہ لوگ بہت خوبصورت نظر آ رہے تھے، انھوں نے عورتوں کا ذکر کیا، ان کے بارے میں باتیں کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے ساتھ گفتگو کرتے رہے (اور اتنا زیادہ کلام کیا کہ) میں نے چاہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔ پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ نے خطبۂ شہادت پڑھا اور فرمایا: حمد و صلوۃ کے بعد (میں یہ کہوں گا کہ) قریشیو! تم لوگ اس (امارت) کے مستحق ہو، جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرو گے، اگر تم نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجے گا جو تمھاری چمڑی ادھیڑ دیں گے، جس طرح اس شاخ (جو آپ کے ہاتھ میں تھی) کا چھلکا اتار لیا جاتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی شاخ کا چھلکا اتارا، (جس کی وجہ سے) وہ اچانک سفید اور سخت نظر آنے لگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12028

۔ (۱۲۰۲۸)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ فِیکُمْ وَإِنَّکُمْ وُلَاتُہُ، وَلَنْ یَزَالَ فِیکُمْ حَتّٰی تُحْدِثُوا أَعْمَالًا، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْکُمْ شَرَّ خَلْقِہِ، فَیَلْتَحِیکُمْ کَمَا یُلْتَحَی الْقَضِیبُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۹۷)
سیدناابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: یہ خلافت تمہارے پاس رہے گی اور تم ہی اس کے مالک ہو، یہ اس وقت تک تمہارے پاس رہے گی جب تک تم غیر شرعی کام نہیں کرو گے، جب تم نے غیر شرعی کام کیے تو اللہ تعالیٰ برے لوگوں کو تمہارے خلاف کھڑا کر دے گا اور وہ تمہاری یوں چمڑی ادھیڑیں گے، جیسے چھڑی کو چھیل دیا جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12029

۔ (۱۲۰۲۹)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْخِلَافَۃُ فِی قُرَیْشٍ، وَالْحُکْمُ فِی الْأَنْصَارِ، وَالدَّعْوَۃُ فِی الْحَبَشَۃِ، وَالْہِجْرَۃُ فِی الْمُسْلِمِینَ وَالْمُہَاجِرِینَ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۰۴)
سیدنا عتبہ بن عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلافت قریش میں، عہدۂ قضا انصاریوں میں، دعوت و تبلیغ حبشیوں میں اور ہجرت مسلمانوں میں اور بعد والے مہاجروں میں ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12030

۔ (۱۲۰۳۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْشٍ، مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اِثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۱۲۱)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دو آدمی بھی باقی رہیں گے، یہ خلافت قریش میں ہی رہے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12031

۔ (۱۲۰۳۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ہٰذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُہُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِہِمْ، وَکَافِرُہُمْ تَبَعٌ لِکَافِرِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۰۴)
سیدنا ابو ہریرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں، مسلمان، مسلم قریشیوں کے تابع ہیں اور کافر، کافر قریشیوں کے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12032

۔ (۱۲۰۳۲)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: َقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِی ہٰذَا الْأَمْرِ، خِیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُہُمْ فِی الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِہُوا، وَاللّٰہِ! لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَیْشٌ لَأَخْبَرْتُہَا مَا لِخِیَارِہَا عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۵۲)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکومت کے معاملہ میں لوگ قریش کے تابع ہیں،ـ جو لوگ قبل از اسلام اچھے تھے، وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اچھے ہیں، بشر طیکہ وہ دین میںفقاہت حاصل کرلیں۔ اللہ کی قسم! اگر قریشی لوگوں کے مغرور ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتلا دیتا کہ ان میں سے اچھے لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12033

۔ (۱۲۰۳۳)۔ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ ھٰذَا الْأَمْرُ فِیْ حِمْیَرَ فَنَزَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْھُمْ فَجَعَلَہُ فِیْ قُرَیْشٍ وَ سَ یَ عُ وْ دُ إِ لَ یْ ھِمْ۔)) وَکَذَا کَانَ فِیْ کِتَابِ أَبِیْ مُقَطَّعٍ وَحَیْثُ حَدَّثَنَا بِہٖ تَکَلَّمَ عَلَی الْإِسْتَوَائِ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۲)
سیدنا ذو مخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت و ملوکیت والا) معاملہ حمیر قبیلے میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے سلب کر کے قریش کے سپرد کر دیا، عنقریب یہ معاملہ ان ہی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میرے باپ کی کتاب میں آخری الفاظ مقطّعات شکل میں تھے، البتہ انھوں نے ہم کو بیان کرتے وقت ان کو برابر ہی پڑھا تھا، (جیسے باقی حدیث پڑھی)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12034

۔ (۱۲۰۳۴)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ، قَالَ: کُنَّا قُعُوْدًا فِیْ الْمَسْجِدِ۔ وَکَانَ بَشِیْرٌ رَجُلاً یَکُفُّ حَدِیْثَہٗ۔ فَجَائَ أَبُوْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ، فَقَالَ: یَابَشِیْرُ بْنُ سَعْدٍ! أَتَحْفَظُ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْأَمْرِ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَہٗ فَجَلَسَ أَبُوْ ثَعْلَبَۃَ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَھَاَ، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیًّا، فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ، ثُمَّ سَکَتَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۹۶)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔بشیر اپنی بات کو روک دیتے تھے۔ اتنے میں ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور کہا: بشیر بن سعد! کیا تجھے امراء کے بارے میں کوئی حدیثِ نبوی یاد ہے؟ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (اس معاملے میں) مجھے آپ کا خطبہ یاد ہے۔ ابو ثعلبہ بیٹھ گئے اور حذیفہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق کچھ عرصہ تک نبوت قائم رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے اسے اٹھا لیں گے۔ نبوت کے بعد اس کے منہج پر اللہ کی مرضی کے مطابق کچھ عرصہ تک خلافت ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دیں گے، پھر اللہ کے فیصلے کے مطابق کچھ عرصہ تک بادشاہت ہو گی، جس میں ظلم و زیادتی ہو گا، بالآخر وہ بھی ختم ہو جائے گی، پھر جبری بادشاہت ہو گی، وہ کچھ عرصہ کے بعد زوال پذیر ہو جائے گی، اس کے بعد منہجِ نبوت پر پھر خلافت ہو گی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12035

۔ (۱۲۰۳۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُونُ بَعْدِی اثْنَا عَشَرَ خَلِیفَۃً کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مَنْزِلِہِ فَأَتَتْہُ قُرَیْشٌ فَقَالُوْا: ثُمَّ یَکُونُ مَاذَا؟ قَالَ: ((ثُمَّ یَکُونُ الْہَرْجُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۵۰)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد بارہ خلفا آئیں گے، جن کا تعلق قریش خاندان سے ہوگا۔ یہ کہنے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر تشریف لے گئے، قریش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: اس کے بعد کیاہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد قتل ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12036

۔ (۱۲۰۳۶)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ عَنْ حَدِیثِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُ الدِّینُ قَائِمًا حَتّٰییَکُونَ اثْنَا عَشَرَ خَلِیفَۃً مِنْ قُرَیْشٍ، ثُمَّ یَخْرُجُ کَذَّابُونَ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ، ثُمَّ تَخْرُجُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، فَیَسْتَخْرِجُونَ کَنْزَ الْأَبْیَضِ کِسْرٰی وَآلِ کِسْرٰی، وَإِذَا أَعْطَی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَحَدَکُمْ خَیْرًا فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہِ وَأَہْلِہِ، وَأَنَا فَرَطُکُمْ عَلَیالْحَوْضِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۸۶)
عامر بن سعد کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دین غالب رہے گا، یہاں تک کہ قریش کے بارہ خلفاء ہوں گے، ان کے بعد قیامت سے قبل کچھ جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، ان کے بعد مسلمانوں کی ایک جماعت آئے گی، وہ کسری اور آل کسری کے سفید خزانوں کو باہر نکال لائیں گے، جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو مال و برکت سے نوازے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر اور پھر اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے اور میںحوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12037

۔ (۱۲۰۳۷)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَہُوَ یُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! ہَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمْ تَمْلِکُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ مِنْ خَلِیفَۃٍ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَا سَأَلَنِی عَنْہَا أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَکَ، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ، وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((اثْنَا عَشَرَ کَعِدَّۃِ نُقَبَائِ بَنِی إِسْرَائِیلَ۔)) (مسند احمد: ۳۷۸۱)
مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہمیں قرآن کریم پڑھا رہے تھے، اس دوران ایک آدمی نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمن! کیا آپ نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کبھی یہ دریافت کیا کہ اس امت میں کتنے خلفاء آئیں گے؟ انھوں نے کہا: میں جب سے عراق میں آیاہوں، آپ سے پہلے کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، جی ہاں، ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا کہ میری امت میںخلفاء کی تعداد بارہ ہو گی، جو بنو اسرائیل کے نقباء کی تعداد تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12038

۔ (۱۲۰۳۸)۔ عَنْ سَفِینَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((الْخِلَافَۃُ ثَلَاثُونَ عَامًا، ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَ ذٰلِکَ الْمُلْکُ۔)) قَالَ سَفِینَۃُ: أَمْسِکْ خِلَافَۃَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَنَتَیْنِ، وَخِلَافَۃَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَشْرَ سِنِینَ، وَخِلَافَۃَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اثْنَیْ عَشْرَ سَنَۃً، وَخِلَافَۃَ عَلِیٍّ سِتَّ سِنِینَ ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۶۴)
سیدنا سفینہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلافت تیس برس تک رہے گی، بعد ازاں ملوکیت آجائے گی۔ سفینہ نے کہا، ذرا شمار کرو، دو سال سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت، دس سال سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت، بارہ سال سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور چھ سال سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12039

۔ (۱۲۰۳۹)۔ عَن عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ، قَالَ: وَفَدْنَا مَعَ زِیَادٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَفَدْتُّ مَعَ اَبِیْ) إِلٰی مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: نَعْزِیْہٖ) وَفِینَا أَبُو بَکْرَۃَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَیْہِ لَمْ یُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا، فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْجِبُہُ الرُّؤْیَا الْحَسَنَۃُ، وَیَسْأَلُ عَنْہَا، فَقَالَ ذَاتَ یَوْمٍ: ((أَیُّکُمْ رَأْی رُؤْیًا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَیْتُ کَأَنَّ مِیزَانًا دُلِّیَ مِنَ السَّمَائِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَکْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِی بَکْرٍ، ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَکْرٍ بِعُمَرَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِیزَانُ فَاسْتَائَ لَہَا، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: أَیْضًا فَسَائَ ہُ ذَاکَ، ثُمَّ قَالَ: ((خِلَافَۃُ نُبُوَّۃٍ ثُمَّ یُؤْتِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْمُلْکَ مَنْ یَشَائُ))، قَالَ: فَزُخَّ فِی أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا، فَقَالَ زِیَادٌ: لَا أَبًا لَکَ أَمَا وَجَدْتَ حَدِیثًا غَیْرَ ذَا حَدِّثْہُ بِغَیْرِ ذَا، قَالَ: لَا وَاللّٰہِ! لَا أُحَدِّثُہُ إِلَّا بِذَا حَتّٰی أُفَارِقَہُ فَتَرَکَنَا، ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَکَعَہُ بِہِ فَزُخَّ فِی أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا، فَقَالَ زِیَادٌ: لَا أَبًا لَکَ أَمَا تَجِدُ حَدِیثًا غَیْرَ ذَا حَدِّثْہُ بِغَیْرِ ذَا، فَقَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! لَا أُحَدِّثُہُ إِلَّا بِہِ حَتّٰی أُفَارِقَہُ، قَالَ: ثُمَّ تَرَکَنَا أَیَّامًا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرَۃَ! حَدِّثْنَا بِشَیْئٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَکَعَہُ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُٔ:ٔ أَتَقُولُ: الْمُلْکَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: تَقُوْلُ: اَنَا مُلُوْکٌ) فَقَدْ رَضِینَا بِالْمُلْکِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمٰنِ: وَجَدْتُ ہٰذِہِ الْأَحَادِیثَ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۷۷)
عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک وفد کی صورت میںزیاد کے ہمراہ گئے، ایک روایت میں ہے کہ میں اپنے والد کی معیت میں وفد کی صورت میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گیا، ایک اور حدیث میںہے کہ عبدالرحمن نے کہا، ہم ان کے ہاں تعزیت کے لیے گئے، جب ہم ان کے ہاں پہنچے تو وہ کسی وفد کی آمد پر اس قدر خوش نہ ہوئے تھے، جس قدر وہ ہمارے وفد کے آنے پر خوس ہوئے، انہو ںنے کہا: ابو بکرہ ! آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیں، سیدنا ابو بکر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھے خواب بہت پسند تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے پوچھا کرتے تھے کہ اگر کسی نے اچھا خواب دیکھا ہو تو وہ بیان کرے۔ ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہوتو وہ بیان کرے۔ ایک آدمی نے کہا: جی میں نے دیکھا کہ گویا ایک ترازو آسمان کی طرف سے نیچے کولٹکا دی گئی ہے، آپ کا اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا، تو ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وزنی رہے، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تو لاگیا، تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وزنی رہے، اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تولاگیا، عمر وزنی رہے اس کے بعد ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غمگین ہوگئے، حماد نے بھی بیان کیا کہ یہ بات سن کر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ افسردہ ہوگئے۔ اور پھر کہا: اس حدیث میں میں نبوت والی خلافت کی طرف اشارہ ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا، حکومت عطا فرمائے گا۔ یہ حدیث سن کر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں اپنے دربار سے باہر بھجوادیا، زیاد نے کہا: کیا آپ کو اس کے سوا دوسری کوئی حدیث یاد نہ تھی؟ سیدنا ابوبکر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں جب تک ان کے پاس جاتا رہوں گا، ان کو یہی حدیث سناؤں گا، کچھ دنوں بعد ایک دفعہ پھر سیدنا معاویہ نے ہمیں بلوایا اور کہا: ابو بکرہ! آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث ہی بیان کر دیں، انہوں نے وہی حدیث دہرائی۔ سیدنا معاویہ کو یہ حدیث سنناناپسندگزرا اور انہوں نے ہمیں اپنے دربار سے باہر نکلوادیا۔ زیاد نے کہا: کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور حدیث یاد نہیں تھی؟ ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں جب تک ان کے ہا ںجاتا رہوں گا، یہی حدیث سناتا رہوں گا، کچھ دنوں بعد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں پھر بلوایا اور کہا: ابو بکرہ ! ہمیں کوئی حدیث ِ رسول ہی سنا دو، سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پھر وہی حدیث ِ مبارکہ دوہرا دی، انہیں پھر ناگوار گزری، لیکن اس بار سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ ہماری حکومت کو ملوکیت کہتے ہیں؟ ایک روایت میں ہے:آپ ہمیں خلیفہ کی بجائے بادشاہ کہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہم ملوکیت پر ہی راضی ہیں۔ابو عبدالرحمن نے کہا کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12040

۔ (۱۲۰۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَقْرَبَہُمْ مِنْہُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ، وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَشَدَّہُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۴۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عادل حکمران قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب جگہ پائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب کا مستحق وہ حکمران ہوگا جو دنیا میں دوسروں پر ظلم ڈھاتا رہا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12041

۔ (۱۲۰۴۱)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیْسَ مِنْ وَالِی أُمَّۃٍ قَلَّتْ أَوْ کَثُرَتْ لَا یَعْدِلُ فِیہَا إِلَّا کَبَّہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی وَجْہِہٖفِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۶)
سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے تھوڑے یا زیادہ افراد پر جس آدمی کو حکومت کرنے کا موقع ملے اور پھر وہ عدل سے کام نہ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل جہنم میں ڈالے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12042

۔ (۱۲۰۴۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ أَمِیرِ عَشَرَۃٍ إِلَّا یُؤْتٰی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُولًا لَا یَفُکُّہُ إِلَّا الْعَدْلُ أَوْ یُوبِقُہُ الْجَوْرُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی دس افراد کی چھوٹی سی جماعت پر امیر اور حاکم مقرر ہوتا ہے، اسے قیامت کے روز باندھ کر پیش کیا جائے گا، اسے اس کا عدل وانصاف رہائی دلائے گااور اس کا ظلم وجور اس کو ہلاک کر دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12043

۔ (۱۲۰۴۳)۔ عَنْ أَبِی قَحْذَمٍ قَالَ: وُجِدَ فِی زَمَنِ زِیَادٍ أَوْ ابْنِ زِیَادٍ صُرَّۃٌ فِیہَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوٰی، عَلَیْہِ مَکْتُوبٌ ہٰذَا نَبَتَ فِی زَمَانٍ کَانَ یُعْمَلُ فِیہِ بِالْعَدْلِ۔ (مسند احمد: ۷۹۳۶)
ابو قحذم کہتے ہیں: زیاد یا ابن زیاد کے عہد میں ایک تھیلی میں گٹھلیوں کے برابر غلے کے (موٹے موٹے) دانے ملے، ان پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ غلہ اس زمانہ میں ہوتا تھا، جب عدل کا دور دورہ تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12044

۔ (۱۲۰۴۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَلِی أَمْرَ عَشَرَۃٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ إِلَّا أَتَی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِیَدُہُ إِلَی عُنُقِہِ، فَکَّہُ بِرُّہُ أَوْ أَوْبَقَہُ إِثْمُہُ، أَوَّلُہَا مَلَامَۃٌ وَأَوْسَطُہَا نَدَامَۃٌ، وَآخِرُہَا خِزْیٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۵۶)
سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو حکمران دس یا اس سے زیادہ افراد پر حکومت پائے، اسے قیامت کے د ن اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا، اس اس کی نیکی اس کو چھڑائے گی یا اس کا گناہ اس کو ہلاک کر دے گا، اس اقتدار کی ابتدا میں ملامت ہے، درمیان میں ندامت ہے اور اس کا انجام قیامت کے روز رسوائی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12045

۔ (۱۲۰۴۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُونُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ خَلِیفَۃٌیُعْطِی الْمَالَ وَلَا یَعُدُّہُ عَدًّا))۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((یَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا یَعُدُّہٗ))۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا، جو شمار کیے بغیر لوگوں کو مال عطا کیا کرے گا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ لوگوں میںاموال تقسیم کرے گا، مگر شمار نہ کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12046

۔ (۱۲۰۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِہِ، وَیُتَّقٰی بِہِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوٰی وَعَدَلَ فَإِنَّ لَہُ بِذٰلِکَ أَجْرًا، وَإِنْ أَمَرَ بِغَیْرِ ذٰلِکَ فَإِنَّ عَلَیْہِ فِیہِ وِزْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام اور حکمران ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے سے دشمن سے لڑاجاتا ہے اور اس کے ذریعہ دشمن کے وار سے بچاجاتا ہے، اگر وہ تقویٰ کا حکم دے اور عدل سے کام لے تو اسے ان کاموں کا اجر ملے گا اور اگر اس کے سوا کسی دوسری بات کا حکم دے تو اسے اس کا گناہ ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12047

۔ (۱۲۰۴۷)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! مَا یَأْتِی عَلَیْنَا أَمِیرٌ إِلَّا وَہُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِی، وَلَا عَامٌ إِلَّا وَہُوَ شَرٌّ مِنْ الْمَاضِی، قَالَ: لَوْلَا شَیْئٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقُلْتُ مِثْلَ مَا یَقُولُ، وَلٰکِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أُمَرَائِکُمْ أَمِیرًایَحْثِی الْمَالَ حَثْیًا وَلَا یَعُدُّہُ عَدًّا، یَأْتِیہِ الرَّجُلُ فَیَسْأَلُہُ فَیَقُولُ: خُذْ فَیَبْسُطُ الرَّجُلُ ثَوْبَہُ فَیَحْثِی فِیہِ))، وَبَسَطَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِلْحَفَۃً غَلِیظَۃً کَانَتْ عَلَیْہِ،یَحْکِی صَنِیعَ الرَّجُلِ، ثُمَّ جَمَعَ إِلَیْہِ أَکْنَافَہَا، قَالَ: ((فَیَأْخُذُہُ ثُمَّ یَنْطَلِقُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۶۲)
ابو الو داک کہتے ہیں: میں نے کہا: ہمارے اوپر جو بھی حکمران آتا ہے، وہ پہلے سے بدتر ہوتا ہے اور ہر آنے والا سال بھی گزشتہ سال سے برا ہوتا ہے۔یہ سن کر سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں بھی یہی کہتا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر ایک ایسا حکمران آئے گا جو خوب مال تقسیم کرنے والا ہو گا، اسے شمار تک نہیں کرے گا، جو آدمی اس کے پاس آکر سوال کرے گا، وہ کہے گا: لے جا، چنانچہ وہ آدمی اپنا کپڑا بچھا کر اسے بھر کر لے جائے گا۔ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوپر ایک موٹی سی چادر تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بچھا کر بیان کیا کہ وہ اسے یوں بھر لے گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چادر کے کناروں کو پکڑ کر دکھایا۔ اور فرمایا: وہ مال سے بھری چادر کو یوں لے کر چلا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12048

۔ (۱۲۰۴۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((کُلُّکُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، الْإِمَامُ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، وَالرَّجُلُ فِی أَہْلِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا وَہِیَ مَسْئُولَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِہَا، وَالْخَادِمُ فِی مَالِ سَیِّدِہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ۔)) قَالَ: سَمِعْتُ ہٰؤُلَائِ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسَبُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَالرَّجُلُ فِی مَالِ أَبِیہِ رَاعٍ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ، فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِِِِِ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲۶)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں ہر کوئی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی، حکمران ذمہ دار ہے، اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا، مرد اپنے اہل وعیال کا ذمہ دار ہے، اس سے اس سے متعلقہ افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی، عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے، اس سے اس کی ذمہ داریوں کے متعلق سوال وجواب ہوگا، خادم اپنے آقا کے مال پر نگران ہے، اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میںنے یہ الفاظ تو نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے والد کے مال کا ذمہ دار اور نگران ہے، پس اس سے اس کے بارے میں بھی پوچھ گچھ ہوگی، غرضیکہ تم میں سے ہر آدمی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12049

۔ (۱۲۰۴۹)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْتَرْعِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَبْدًا رَعِیَّۃً قَلَّتْ أَوْ کَثُرَتْ إِلَّا سَأَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَنْہَایَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَقَامَ فِیہِمْ أَمْرَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَمْ أَضَاعَہُ؟ حَتّٰییَسْأَلَہ عَنْ اَھْلِ بَیْتِہٖ خَاصَّۃً۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۷)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کو تھوڑی یا زیادہ رعایا پر حکمرانی عطا فرماتا ہے، اس سے ان کے متعلق قیامت کے روز پوچھے گا کہ اس نے ان میں اللہ کا حکم نافذ کیایا نہیں کیا، یہاں تک کہ خاص طور پر ا س سے اس کے اہل کے بارے میں بھی پوچھے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12050

۔ (۱۲۰۵۰)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) رَأٰی رَاعِیَ غَنَمٍ فِی مَکَانٍ قَبِیحٍ، وَقَدْ رَأَی ابْنُ عُمَرَ مَکَانًا أَمْثَلَ مِنْہُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَیْحَکَیَا رَاعِی! حَوِّلْہَا فَإِنِّی سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((کُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۸۶۹)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بکریوں کے ایک چروا ہے کو دیکھا کہ وہ انتہائی گندی جگہ بکریاں چرا رہا تھا، جبکہ وہ ا س سے بہتر جگہ دیکھ آئے تھے، اس لیے انھوں نے کہا: چرواہے! تجھ پر افسوس ہے، ان بکریوں کو یہاں سے منتقل کر کے وہاں لے جا، کیونکہ میںنے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر ذمہ دار سے اس کی رعایا کے متعلق باز پرس ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12051

۔ (۱۲۰۵۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ اشْتَکٰی، فَدَخَلَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زِیَادٍیَعْنِییَعُودُہُ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّی أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا لَمْ أَکُنْ حَدَّثْتُکَ بِہِ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسْتَرْعِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَبْدًا رَعِیَّۃً، فَیَمُوتُیَوْمَیَمُوتُ وَہُوَ لَہَا غَاشٌّ إِلَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَھُوَ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۵۷)
حسن سے روایت ہے کہ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے اورعبید اللہ بن زیاد ان کی تیماداری کے لیے آئے، سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے پہلے نہیں سنائی تھی، میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بند ے کو رعایا پر حکمرانی عطا فرمائے، لیکن اگر وہ حکمران ا س حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کو دھوکا دیتا تھا تو اللہ تعالیٰ ا س پر جنت کو حرام کردیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ جہنمی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12052

۔ (۱۲۰۵۲)۔ (وَبِالطَّرِیْقِ الثَّانِیْ) عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ مَرَضًا ثَقُلَ فِیہِ فَأَتَاہُ ابْنُ زِیَادٍیَعُودُہُ، فَقَالَ: إِنِّی مُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنِ اسْتُرْعِیَ رَعِیَّۃً فَلَمْیُحِطْہُمْ بِنَصِیحَۃٍ لَمْ یَجِدْ رِیحَ الْجَنَّۃِ، وَرِیحُہَایُوجَدُ مِنْ مَسِیرَۃِ مِائَۃِ عَامٍ۔)) قَالَ ابْنُ زِیَادٍ: أَلَا کُنْتَ حَدَّثْتَنِی بِہٰذَا قَبْلَ الْآنَ، قَالَ: وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ لَمْ أُحَدِّثْکَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۸۱)
۔ (دوسری سند) حسن سے مروی ہے کہ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑ گئے، مرض شدت اختیار کر گئی، ابن زیاد ان کی تیمارداری کے لیے آئے، سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو حکمرانی ملی اور وہ اپنی رعایا کے ساتھ بھلائی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا،حالانکہ اس کی خوشبو سوسال کی مسافت سے محسوس ہوجاتی ہے۔ ابن زیادنے کہا: تم نے یہ حدیث اس سے پہلے بیان کیوں نہیں کی؟سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ جس مقام پر اب ہیں، اگر اس پر نہ ہوتے تو میں اب بھی آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12053

۔ (۱۲۰۵۳)۔ عَنْ أَبِی الشَّمَّاخِ الْأَزْدِیِّ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَہُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَتٰی مُعَاوِیَۃَ فَدَخَلَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ وَلِیَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَہُ دُونَ الْمِسْکِینِ وَالْمَظْلُومِ أَوْ ذِی الْحَاجَۃِ أَغْلَقَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی دُونَہُ أَبْوَابَ رَحْمَتِہِ عِنْدَ حَاجَتِہِ وَفَقْرِہِ أَفْقَرَ مَا یَکُونُ إِلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۳۷)
ابو الشماخ ازدی اپنے ایک چچا زاد بھائی، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی لوگوں پر حاکم بنا اور اس نے مسکین، مظلوم یا ضرورت مند سے اپنا دروازہ بند کیا، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور فقر کے موقع پر اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کر دے گا، جبکہ وہ اس کی رحمت کا شدید محتاج ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12054

۔ (۱۲۰۵۴)۔ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ وَلِیَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَیْئًا، فَاحْتَجَبَ عَنْ أُولِی الضَّعْفَۃِ وَالْحَاجَۃِ، احْتَجَبَ اللّٰہُ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲۶)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو لوگوں پر حکمرانی حاصل ہو اور وہ کمزروں اور ضرورت مندوں سے الگ تھلگ ہو جائے (اور ان کی ضروریات پوری نہ کرے) تو روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑ لے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12055

۔ (۱۲۰۵۵)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو حَسَنٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّۃَ قَالَ لِمُعَاوِیَۃَ: یَا مُعَاوِیَۃُ! إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ إِمَامٍ أَوْ وَالٍ یُغْلِقُ بَابَہُ دُونَ ذَوِی الْحَاجَۃِ وَالْخَلَّۃِ وَالْمَسْکَنَۃِ إِلَّا أَغْلَقَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَبْوَابَ السَّمَائِ، دُونَ حَاجَتِہِ وَخَلَّتِہِ وَمَسْکَنَتِہِ۔)) قَالَ: فَجَعَلَ مُعَاوِیَۃُ رَجُلًا عَلَی حَوَائِجِ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۹۶)
ابو الحسن سے روایت ہے کہ عمروبن مرہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے معاویہ! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو حاکم ضرورت مندوں اور مسکینوں کے سامنے اپنا دروازہ بند کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت، حاجت اورمسکینی کے وقت آسمان کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ اس کے بعد سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک شخص مقرر کر دیا، جو لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12056

۔ (۱۲۰۵۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ نَبِیٍّ وَلَا وَالٍ إِلَّا وَلَہُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالْمَعْرُوفِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَتَنْہَاہٗعَنِالْمُنْکَرِ)،وَبِطَانَۃٌ لَا تَأْلُوہُ خَبَالًا، وَمَنْ وُقِیَ شَرَّہُمَا فَقَدْ وُقِیَ، وَہُوَ مَعَ الَّتِی تَغْلِبُ عَلَیْہِ مِنْہُمَا))۔ (مسند احمد: ۷۲۳۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی اور حاکم کے دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اور دوسرا اس کی ہلاکت و تباہی کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ جو حاکم اس کے شرّ سے بچ گیا، وہ تو محفوظ ہو گیا اور وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو ان میں سے غالب آجاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12057

۔ (۱۲۰۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ وَلَّاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ شَیْئًا، فَأَرَادَ بِہِ خَیْرًا، جَعَلَ لَہُ وَزِیرَ صِدْقٍ، فَإِنْ نَسِیَ ذَکَّرَہُ، وَإِنْ ذَکَرَ أَعَانَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کو مسلمانوں کے معاملات سپرد کردے اور پھر اس کے بارے میں خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو مخلص وزیر عطا کر دیتا ہے، وہ اگر بھولنے لگتا ہے تو وہ وزیر اسے یاددہانی کرادیتا ہے اور اگر اسے بات یادرہتی ہے تو وہ وزیر اس کی اعانت کر دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12058

۔ (۱۲۰۵۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا بُعِثَ مِنْ نَبِیٍّ، وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِیفَۃٍ، إِلَّا کَانَتْ لَہُ بِطَانَتَانِ، بِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالْخَیْرِ وَتَحُضُّہُ عَلَیْہِ، وَبِطَانَۃٌ تَأْمُرُہُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّہُ عَلَیْہِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۶۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا اور کسی خلیفہ کو خلافت عطا نہیں کی گئی، مگر اس کے دو خاص مشیر ہوتے ہیں، ایک مشیر اسے اچھائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دلاتا ہے اور دوسرا مشیر اسے برائی کا حکم دیتا اور اس پر آمادہ کرتا رہتا ہے، بہرحال معصوم وہی ہو گا، جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12059

۔ (۱۲۰۵۹)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، وَأَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ ہُبَیْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زُرَیْرٍ أَنَّہُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ حَسَنٌ: یَوْمَ الْأَضْحٰی، فَقَرَّبَ إِلَیْنَا خَزِیرَۃً، فَقُلْتُ: أَصْلَحَکَ اللّٰہُ، لَوْ قَرَّبْتَ إِلَیْنَا مِنْ ہٰذَا الْبَطِّ یَعْنِی الْوَزَّ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَکْثَرَ الْخَیْرَ، فَقَالَ: یَا ابْنَ زُرَیْرٍ! إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا یَحِلُّ لِلْخَلِیفَۃِ مِنْ مَالِ اللّٰہِ إِلَّا قَصْعَتَانِ، قَصْعَۃٌیَأْکُلُہَا ہُوَ وَأَہْلُہُ، وَقَصْعَۃٌیَضَعُہَا بَیْنَیَدَیْ النَّاسِ))۔ (مسند احمد: ۵۷۸)
عبداللہ بن زریر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عیدالا ضحی کے روز سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گیا،انہوں نے خزیرہ ہمیں پیش کیا، میںنے عرض کیا: اللہ آپ کے احوال کی اصلاح فرمائے، اگر آپ اس بطخ کے گوشت میں سے کچھ ہمارے سامنے پیش کر دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا، اللہ نے آپ کو آسودہ اور خوش حال بنایا ہے، انہوںنے کہا: اے ابن زریر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: خلیفہ کے لیے اللہ کے مال یعنی بیت المال میں صرف دو پیالے لینا حلال ہے، ایک پیالہ اپنے اور اس کے اہل و عیال کے کھانے کے لیے اور دوسرا لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12060

۔ (۱۲۰۶۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَۃِ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَہْوٰی بِیَدِہِ إِلٰی وَبَرَۃٍ مِنْ جَنْبِ بَعِیرٍ، فَقَالَ: ((مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِہٰذِہِ الْوَبَرَۃِ مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِینَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۷)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صدقہ کے اونٹ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب سے گزرے،آپ نے ایک اونٹ کے پہلو سے اون کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس اون کا جتنا حقدار ایک عام مسلمان ہے، میں میرا حق اس سے زیادہ حقدار نہیں ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12061

۔ (۱۲۰۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ! لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَۃَ، فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیتَہَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِلْتَ إِلَیْہَا، وَإِنْ أُعْطِیتَہَا عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلٰییَمِینٍ، فَرَأَیْتَ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا، فَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ، وَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۹۸)
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمن! حکمرانی یا ذمہ داری طلب نہ کرنا، اگر تجھے تیرے طلب کرنے کے بعد حکمرانی ملی تو تجھے اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر تجھے طلب کرنے کے بغیر حکمرانی ملی تو اس بارے میں تیری مدد کی جائے گی اور جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے، اسکے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اس کے برعکس کام زیادہ بہتر ہے تو وہ کام کر لینا جو زیادہ بہتر ہو اور اپنے حلف کا کفارہ دے دینا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12062

۔ (۱۲۰۶۲)۔ وَعَنِ الْحَارِثِ بْنُ یَزِیدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حُجَیْرَۃَ الشَّیْخَیَقُولُ: أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: نَاجَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃً إِلَی الصُّبْحِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمِّرْنِی، فَقَالَ: ((إِنَّہَا أَمَانَۃٌ وَخِزْیٌ وَنَدَامَۃٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا مَنْ أَخَذَہَا بِحَقِّہَا، وَأَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ فِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۴۵)
ابن حُجیرہ کہتے ہیں:سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سننے والے آدمی نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میںنے ایک رات صبح تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سرگوشیاں کرتا رہا، میںنے باتوں باتوں میں عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے کسی علاقہ کا امیربنادیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حکمرانی امانت ہے اور قیامت کے دن، شرمندگی، اور رسوائی کا باعث ہوگی، ما سوائے اس آدمی کے، جو اس ذمہ داری کو حق کے ساتھ لے اور اس ضمن میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوںکو ادا کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12063

۔ (۱۲۰۶۳)۔ وَعَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیْ سَالِمٍ الْجَیْشَانِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیمٍ، وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِِِِِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۶)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوذر! تو کسی یتیم کے مال پر نگران نہ بننا اور دوآدمیوں کے اوپر امیر نہ بننا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12064

۔ (۱۲۰۶۴)۔ وعَنِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الْإِمَارَۃِ، وَسَتَصِیرُ حَسْرَۃً وَنَدَامَۃً۔)) قَالَ حَجَّاجٌ: یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، ((نِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہٗ: اَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الْإِمَارَۃِ، وَسَتَصِیرُ نَدَامَۃً وَحَسْرَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَبِئْسَتِ الْمُرْضِعَۃُ وَنِعْمَتِ الْفَاطِمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۶۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب امارت،حکمرانی کا لالچ کرو گے، لیکن یہ چیز قیامت والے دن بطورِ انجام حسرت اور ندامت ہوئی، یہ دودھ پلانے کے لحاظ سے تو بہت اچھی ہے، لیکن دودھ چھڑانے کی حیثیت میں بہت بری ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عنقریب امارت اور حکمرانی کا لالچ کر وگے، لیکن قیامت کے دن اس کا انجام مذامت اور حسرت ہوگا، یہ دودھ پلاتے ہوئے بہت اچھی اور دودھ چھڑانے کے بعد بہت بری لگتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12065

۔ (۱۲۰۶۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَیْلٌ لِلْأُمَرَائِ، وَیْلٌ لِلْعُرَفَائِ، وَیْلٌ لِلْأُمَنَائِ، لَیَتَمَنَّیَنَّ أَقْوَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، أَنَّ ذَوَائِبَہُمْ کَانَتْ مُعَلَّقَۃً بِالثُّرَیَّا،یَتَذَبْذَبُونَ بَیْنَ السَّمَائِ، وَالْأَرْضِ وَلَمْ یَکُونُوا عَمِلُوا عَلٰی شَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۶۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکمرانوں کے لیے تباہی ہے، ان کے ماتحت افسروںاور کارندوں کے لیے ہلاکت ہے، دنیا میں جن لوگوں کو امین سمجھ کر امانات ان کے سپرد کی گئیں، ان کے لیے ہدایت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھ دئیے جاتے اور یہ آسمان اور زمین کے درمیان لٹکتے رہتے اور یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12066

۔ (۱۲۰۶۶)۔ وَعَنْہٗبِلَفْظٍآخَرَعَنِالنَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ((وَیْلٌ لِلْوُزَرَائِ لَیَتَمَنّٰی أَقْوَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، أَنَّ ذَوَائِبَہُمْ کَانَتْ مُعَلَّقَۃً بِالثُّرَیَّا،یَتَذَبْذَبُونَ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَأَنَّہُمْ لَمْ یَلُوا عَمَلًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۶۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وزیروں کے لیے ہلاکت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بالوں کو ثریا ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا اور یہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکتے رہتے، لیکن یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12067

۔ (۱۲۰۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِدُونَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ أَشَدَّہُمْ کَرَاہِیَۃً لِہٰذَا الشَّأْنِ حَتّٰییَقَعَ فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۰۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سب سے اچھا اس آدمی کو پاؤگے جو امارت و حکمرانی کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس میں پڑ جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12068

۔ (۱۲۰۶۸)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِی مِنْ قَوْمِی، قَالَ: فَأَتَیْنَا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا وَتَکَلَّمَا فَجَعَلَا یُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ، فَتَغَیَّرَ وَجْہُ النَّبِیِّ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ رُئِیَ فِی وَجْہِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَخْوَنَکُمْ عِنْدِی مَنْ یَطْلُبُہُ فَعَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ: فَمَا اسْتَعَانَ بِہِمَا عَلٰی شَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۳۷)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری قوم کے دو آدمی میرے ساتھ آئے، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، ان دونوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گفتگو کی اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئولیت کا مطالبہ کیا، ان کی یہ بات سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہوگیا یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ناراضی کے آثار آپ کے چہرہ پر دکھائی دینے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ـ: جو آدمی امارت کا طلبگار ہو، میر ے نزدیک تم سب سے بڑھ کر خائن ہے، تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کسی ذمہ داری پر مامور نہ کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12069

۔ (۱۲۰۶۹)۔ عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمَسْجِدِ، فَمَرَّ عَلَیْنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، فَقُلْنَا لَہُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ فِی الْفِتْنَۃِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَکُونُ بَعْدِی قَوْمٌ، یَأْخُذُونَ الْمُلْکَ، یَقْتُلُ عَلَیْہِ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔)) قَالَ: قُلْنَا لَہُ: لَوْ حَدَّثَنَا غَیْرُکَ مَا صَدَّقْنَاہُ، قَالَ: فَإِنَّہُ سَیَکُونُ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۰)
ثروان بن ملحان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، ہمارے پاس سے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنہ کے بارے میں کچھ سنا ہو تو ہمیں بیان کریں، انہوں نے کہا: میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے، جو ایک دوسرے کو قتل کر کے حکومت حاصل کریںگے۔ ہم نے ان سے کہا: اگر کوئی دوسرا آدمی ہمیں یہ حدیث بیان کرتا تو ہم اس کی تصدیق نہ کرتے، انہوں نے کہا: ایسا عنقریب ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12070

۔ (۱۲۰۷۰)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حِینَ بَعَثَنِی إِلَی الشَّامِ: یَایَزِیدُ! إِنَّ لَکَ قَرَابَۃً، عَسَیْتَ أَنْ تُؤْثِرَہُمْ بِالْإِمَارَۃِ، وَذٰلِکَ أَکْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَیْکَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَلِیَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ شَیْئًا، فَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ أَحَدًا مُحَابَاۃً، فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا حَتّٰییُدْخِلَہُ جَہَنَّمَ، وَمَنْ أَعْطٰی أَحَدًا حِمَی اللّٰہِ، فَقَدْ انْتَہَکَ فِی حِمَی اللّٰہِ شَیْئًابِغَیْرِ حَقِّہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، أَوْ قَالَ: تَبَرَّأَتْ مِنْہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ))۔ (مسند احمد: ۲۱)
یزید بن ابی سفیان کہتے ہیں: سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب مجھے شام کی طرف روانہ کیا تو مجھ سے کہا: اے یزید! وہاں تیری قرابت داری ہے، ہوسکتا ہے تم ذمہ داریاں دینے میں اپنے قرابت داروں کو ترجیح دو، مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا سب چیزوں سے زیادہ اندیشہ ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے امور میں سے کسی امر کا ذمہ دار بنے، پھر وہ اپنی پسند کے پیش نظر کسی کو ان پر حاکم بنائے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ یایوں فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12071

۔ (۱۲۰۷۱)۔ وعَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِیصَۃَ، أَوْ قَبِیصَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ یَقُولُ: صَلّٰی ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ، فَلَمَّا صَلَّوْا، قَالَ شَابٌّ مِنْہُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیُفْتَحُ لَکُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُہَا، وَإِنَّ عُمَّالَہَا فِی النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَی اللّٰہَ وَأَدَّی الْأَمَانَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۹۷)
مسعود بن قبییصہ یا قبیصہ بن مسعود کہتے ہیں کہ بنو محارب کے اس قبیلہ کے لوگوں نے نمازِ فجر ادا کی، جب وہ نماز پڑھ چکے تو ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تمہارے لیے زمین کے مشرق و مغرب کی فتح ہو گی، لیکن خبردار! نگران حکمران جہنم میں جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈر گئے اور امانت ادا کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12072

۔ (۱۲۰۷۲)۔ قَالَ عُمَرُ یَعْنِی لِکَعْبٍ: إِنِّی أَسْأَلُکَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَکْتُمْنِی، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَا أَکْتُمُکَ شَیْئًا أَعْلَمُہُ، قَالَ: مَا أَخْوَفُ شَیْئٍ تَخَوَّفُہُ عَلَی أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَئِمَّۃً مُضِلِّینَ، قَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ قَدْ أَسَرَّ ذٰلِکَ إِلَیَّ، وَأَعْلَمَنِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۹۳)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں، تم نے مجھ سے کوئی بات چھپانی نہیں ہے،سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جو کچھ جانتا ہوں، اللہ کی قسم! اس میں سے کچھ بھی آپ سے نہیں چھپاؤں گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم امت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوف کھاتے ہیں؟ انہوں نے کہا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم نے درست کہا ہے،اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ بات راز دارانہ انداز سے بتلائی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12073

۔ (۱۲۰۷۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُولُ: کُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا إِلٰی مَنْزِلِہِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِی مِنَ الدَّجَّالِ۔)) فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَدْخُلَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ شَیْئٍ أَخْوَفُ عَلٰی أُمَّتِکَ مِنَ الدَّجَّالِ، قَالَ: ((الْأَئِمَّۃَ الْمُضِلِّینَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۲)
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو بہ پہلو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر کی طرف جارہا تھا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: دجال کے علاوہ بھی ایک فتنہ ہے، جس کا مجھے اپنی امت پر اندیشہ ہے۔ جب میں اس بات سے ڈرا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اپنے گھر میں داخل ہونے لگے ہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ کس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12074

۔ (۱۲۰۷۴)۔ وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: عَہِدَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ الْاَئِمَّۃُ الضّٰلُّوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۳)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے تاکیداً فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر گمراہ حکمرانوں کا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12075

۔ (۱۲۰۷۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: ((أَعَاذَکَ اللّٰہُ مِنْ إِمَارَۃِ السُّفَہَائِ۔)) قَالَ: ومَا إِمَارَۃُ السُّفَہَائِ؟ قَالَ: ((أُمَرَائُ یَکُونُونَ بَعْدِی لَا یَقْتَدُوْنَ بِہَدْیِی، وَلَا یَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِی، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَأُولَئِکَ لَیْسُوا مِنِّی، وَلَسْتُ مِنْہُمْ، وَلَا یَرِدُوْا1 عَلَیَّ حَوْضِی، وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَأُولَئِکَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُمْ، وَسَیَرِدُوْا عَلَیَّ حَوْضِی۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۴)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اللہ تمہیں بے وقوفوںاور نااہل لوگوں کی حکمرانی سے بچائے۔ سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے وقوفوں کی حکومت سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو امراء میرے بعد آئیں گے، وہ میرے طریقے کی اقتداء نہیں کریں گے اور میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم وجور کے باوجود ان کی مدد کی، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ وہ مجھ پر میرے حوض پر آئیں گے اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور یہی لوگ میرے پاس میرے حوض پر آئیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12076

۔ (۱۲۰۷۶)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ دَخَلَ وَنَحْنُ تِسْعَۃٌ، وَبَیْنَنَا وِسَادَۃٌ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: ((إِنَّہَا سَتَکُونُ بَعْدِی أُمَرَائُ، یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ فَصَدَّقَہُمْ بِکِذْبِہِمْ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۸۳۰۶)
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے،ہم نو آدمی تھے، ہمارے درمیان چمڑے کا ایک تکیہ پڑا تھا، آپ نے فرمایا: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریںگے، جو ان کے پا س گیا اور ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی، … پھر سابق روایت کی طرح کے الفاظ ذکر کیے۔ ! مضارع کے نون اعرابی گرنے کی ظاہری کوئی وجہ نظر نہیں آتی (محقق مسند)۔ (عبداللہ رفیق)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12077

۔ (۱۲۰۷۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَّانِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۹)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12078

۔ (۱۲۰۷۸)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ، رَفَعَ بَصَرَہُ إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ خَفَضَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ قَدْ حَدَثَ فِی السَّمَائِ شَیْئٌ، فَقَالَ: ((أَلَا إِنَّہُ سَیَکُونُ بَعْدِی أُمَرَائُ یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَمَالَأَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَا أَنَا مِنْہُ، وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَلَمْ یُمَالِئْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ کَفَّارَتُہُ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، ہُنَّ الْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۴۳)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کیا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھاکہ آسمان پر کوئی اہم واقعہ رونماہوا ہے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ظلم پر ان کی مدد کی، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جس نے ان کی جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور ان کے ظلم پر ان کی موافقت نہ کی، وہ میرا اور میں اس کا ہوں، خبردار! مسلمان کا خون کفارہ ہے اوریہ کلمات باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلَّہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَللَّہُ أَکْبَرُ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12079

۔ (۱۲۰۷۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ وَتَرَوْنَ أَثْرَۃً۔)) قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَمَا یَصْنَعُ مَنْ أَدْرَکَ ذَاکَ مِنَّا؟ قَالَ: ((أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِی عَلَیْکُمْ، وَسَلُوْا اللّٰہَ الَّذِی لَکُمْ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِیْ اَثْرَۃً وَاُمُوْرًا تُنْکِرُوْنَھَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: مَا تَاْمُرُنَا؟ قَالَ: ((اَدُّوْا لَہُمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُو اللّٰہَ حَقَّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر کچھ حکمران مسلط ہوں گے، تم دیکھو گے کہ وہ مستحقین پر غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی ایسے حالات پائے، وہ کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمہ جو حقوق ہوں، تم ان کو ادا کرنا اور جو تمہارے حقوق ہوں، تم ان کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا۔ ایک روایت میں ہے: تم میرے بعد دیکھو گے کہ نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دی جائے گی اور تم ایسے ایسے کام دیکھو گے جنہیں تم اچھا نہیں سمجھو گے۔ ہم نے کہا: ایسی صور ت حال میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمے ان کے جو حقوق ہوں، تم انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے رہنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12080

۔ (۱۲۰۸۰)۔ (وَعَنْہٗبِلَفْظٍآخَرَ) قَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ سَیَلِی أَمْرَکُمْ مِنْ بَعْدِی رِجَالٌ یُطْفِئُونَ السُّنَّۃَ، وَیُحْدِثُونَ بِدْعَۃً، وَیُؤَخِّرُونَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیتِہَا۔)) قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِی إِذَا أَدْرَکْتُہُمْ، قَالَ: ((لَیْسَیَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ! طَاعَۃٌ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ۔)) قَالَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۳۷۸۹)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے،بدعات کو فروغ دیں گے اور نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے مؤخر کریں گے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان لوگوں کو پالوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12081

۔ (۱۲۰۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((سَیَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائٌ یَأْمُرُونَکُمْ بِمَا لَا یَفْعَلُونَ، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکِذْبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ، وَلَنْ یَرِدَ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔)) (مسند احمد: ۵۷۰۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران آئیں گے کہ وہ تمہیں ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن پر خود عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، ایسا آدمی ہر گز میرے پاس حوض پر نہیں آئے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12082

۔ (۱۲۰۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَکُونُ أُمَرَائُ تَغْشَاہُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، یَظْلِمُونَ وَیَکْذِبُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ، فَصَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ، وَمَنْ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہِمْ، وَیُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَیُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۱۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ حکمران ہوں گے کمینے قسم کے لوگ ان کے پاس کثرت سے ہوں گے، وہ ظلم کریں گے او رجھوٹ بولیں گے، جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے اور جو آدمی ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی او رنہ ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس کاہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12083

۔ (۱۲۰۸۳)۔ وعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ضَافَ ضَیْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، وَفِی دَارِہِ کَلْبَۃٌ مُجِحٌّ، فَقَالَتِ الْکَلْبَۃُ: وَاللّٰہِ! لَا أَنْبَحُ ضَیْفَ أَہْلِی، قَالَ: فَعَوٰی جِرَاؤُہَا فِی بَطْنِہَا، قَالَ: قِیلَ: مَا ہٰذَا؟ قَالَ: فَأَوْحَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی رَجُلٍ مِنْہُمْ، ہٰذَا مَثَلُ أُمَّۃٍ تَکُونُ مِنْ بَعْدِکُمْ، یَقْہَرُ سُفَہَاؤُہَا أَحْلَامَہَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۸)
عبد اللہ بن عمر و بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک آدمی دوسرے کے ہاں مہمان ٹھہرا، میزبان کے گھر میں ایک حاملہ کتیا تھی، کتیا نے سوچا، اللہ کی قسم! میں اپنے مالکوں کے مہمان کو نہیں بھونکوں گی۔ اتنے میں اس کے پیٹ کا پلّا مسلسل چیخنے لگ گیا، کسی نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ یہ اس امت کی مثال ہے، جو تمہارے بعد آئے گی، اس کے بیوقوف لوگ اس کے عقلمندوں پر غالب آ جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12084

۔ (۱۲۰۸۴)۔ وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عَلٰی بَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نَنْتَظِرُ أَنْ یَخْرُجَ لِصَلَاۃِ الظُّہْرِ، إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا، فَقَالَ: ((اسْمَعُوْا۔)) فَقُلْنَا: سَمِعْنَا، ثُمَّ قَالَ: ((اسْمَعُوْا۔)) فَقُلْنَا: سَمِعْنَا، فَقَالَ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ فَلَا تُعِینُوہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، فَلَنْ یَرِدَ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۸۹)
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر بیٹھے اس انتظار میں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ ظہر کے لیے باہر تشریف لائیں گے، آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: سنو! ہم نے عرض کیا: جی ہم سن رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ فرمایا: سنو! ہم نے کہا: ہم سن رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر حکمران مسلط ہوں گے، تم نے ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرنا، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی وہ حوضِ کوثر پرمیرے پاس نہیں آئے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12085

۔ (۱۲۰۸۵)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَیَکُوْنُ اُمَرَائُ بَعْدِیْ،یَقُوْلُوْنَ مَالَا یَفْعَلُوْنَ، وَیَفْعَلُوْنَ مَالَا یُؤْمَرُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۳۶۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے، جو ایسی باتیں کریں گے، جن پر ان کا اپنا عمل نہیں ہو گا اور وہ جو کچھ کریں گے، اس کا ان کو حکم نہیں دیا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12086

۔ (۱۲۰۸۶)۔ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُمَرَ قَالَا: ثَنَا کَامِلٌ، قَالَ: ثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَذْہَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی تَصِیرَ لِلُکَعٍ۔)) قَالَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُمَرَ: حَتَّی تَصِیرَ لِلُکَعِ بْنِ لُکَعٍ، و قَالَ ابْنُ أَبِی بُکَیْرٍ: لِلَکِیعِ بْنِ لَکِیعٍ، و قَالَ أَسْوَدُ: یَعْنِی اللَّئِیْمَ بْنَ اللَّئِیْمِ۔ (مسند احمد: ۸۳۰۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک کہ یہ حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسمٰعیل بن عمر اور ابن بکیر نے کہا: جب تک یہ حقیر بن حقیر کی ملکیت میں نہیں آجائے گی۔ اسود راوی نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مراد برا شخص کا برا بیٹا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12087

۔ (۱۲۰۸۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ نِیَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۳۱)
سیدنا ابو بردہ بن نیاز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12088

۔ (۱۲۰۸۸)۔ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِی أُمَامَۃَ، قَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْأَمِیرَ إِذَا ابْتَغَی الرِّیبَۃَ فِی النَّاسِ أَفْسَدَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۱۶)
سیدنا مقداد بن اسود اور سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب حاکم لوگوںکے عیوب ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ان کو خراب کر دیتاہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12089

۔ (۱۲۰۸۸)۔ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِی أُمَامَۃَ، قَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْأَمِیرَ إِذَا ابْتَغَی الرِّیبَۃَ فِی النَّاسِ أَفْسَدَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۱۶)
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی معصیت کر کے اپنے بادشاہ کو تقویت پہنچاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مکر کو کمزور اور ناکام کر دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12090

۔ (۱۲۰۹۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا بَلَغَ بَنُو آلِ فُلَانٍ ثَلَاثِینَ رَجُلًا، اتَّخَذُوْا مَالَ اللّٰہِ دُوَلًا، وَدِینَ اللّٰہِ دَخَلًا، وَعِبَادَ اللّٰہِ خَوَلًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۰)
ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب فلاں آدمی کی اولاد کی تعداد تیس ہوجائے گی تو یہ لوگ اللہ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے، اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے اور اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12091

۔ (۱۲۰۹۱)۔ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی صَالِحٍ، قَالَ: أَقْبَلَ مَرْوَانُ یَوْمًا، فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْہَہُ عَلَی الْقَبْرِ فَقَالَ: أَتَدْرِی مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ فَإِذَا ہُوَ أَبُو أَیُّوبَ، فَقَالَ: نَعَمْ، جِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا تَبْکُوا عَلَی الدِّینِ إِذَا وَلِیَہُ أَہْلُہُ، وَلٰکِنْ ابْکُوا عَلَیْہِ إِذَا وَلِیَہُ غَیْرُ أَہْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۸۳)
داود بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مرو ان آیا اور اس نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنا چہرہ قبر کے اوپر رکھا ہوا تھا، مروان نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو کیا کر رہا ہے؟ جب وہ اس پر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ وہ تو سیدنا ابو ایو ب تھے، پس انہوں نے کہا: ہاں، میں جانتا ہوں، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا ہوں، نہ کہ کسی پتھر کے پاس، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا، جب نا اہل لوگ اس کے وارث اور مالک بن جائیں گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12092

۔ (۱۲۰۹۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیٍّ، حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ: وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، أَخْبَرَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: دَخَلَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ یَزِیدُ: وَکَانَ مِنْ صَالِحِی أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَلٰی عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ، فَقَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((شَرُّ الرِّعَائِ الْحُطَمَۃُ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: فَأَظُنُّہُ قَالَ: إِیَّاکَ أَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ، وَلَمْ یَشُکَّ یَزِیدُ فَقَالَ: اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَۃِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَہَلْ کَانَتْ لَہُمْ أَوْ فِیہِمْ نُخَالَۃٌ، إِنَّمَا کَانَتْ النُّخَالَۃُ بَعْدَہُمْ وَفِی غَیْرِہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۱۳)
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عائذبن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نیکوکار صحابہ میں سے تھے، عبید اللہ بن زیاد کے ہاں گئے،اور انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بد ترین حکمران وہ ہوں گے جو لوگوں پر ظلم ڈھائیں گے، پس تو ان میں سے ہونے سے بچ جا۔ آگے سے ابن زیاد نے کہا: بیٹھ جا، تو تو آٹے کے چھانن کی طرح کم تر صحابہ میں سے ہے، انھوں نے کہا: صحابۂ کرام میں سے کم تر کوئی نہیں تھا، یہ کمتری تو بعد والوں میں اور غیر صحابہ میں پائی جاتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12093

۔ (۱۲۰۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((ہَلَاکُ أُمَّتِی عَلٰییَدِ غِلْمَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالَ مَرْوَانُ: وَہُوَ مَعَنَا فِی الْحَلْقَۃِ قَبْلَ أَنْ یَلِیَ شَیْئًا، فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ غِلْمَۃً، قَالَ: وَ أَمَا وَاللّٰہِ لَوْ أَشَائُ أَقُولُ بَنُو فُلَانٍ وَبَنُو فُلَانٍ لَفَعَلْتُ، قَالَ: فَقُمْتُ أَخْرُجُ أَنَا مَعَ أَبِی وَجَدِّی إِلٰی مَرْوَانَ بَعْدَمَا مُلِّکُوا، فَإِذَا ہُمْ یُبَایِعُونَ الصِّبْیَانَ مِنْہُمْ، وَمَنْ یُبَایِعُ لَہُ، وَہُوَ فِی خِرْقَۃٍ، قَالَ لَنَا: ہَلْ عَسَی أَصْحَابُکُمْ ہٰؤُلَائِ أَنْ یَکُونُوا الَّذِینَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَذْکُرُ أَنَّ ہٰذِہِ الْمُلُوکَ یُشْبِہُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔ (مسند احمد: ۸۲۸۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریش کے لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔ اس وقت مروان بھی ہمارے ساتھ اس حلقہ درس میں موجود تھا اور ابھی اسے حکومت نہیں ملی تھی، یہ سن کر وہ کہنے لگا: ان نوجوانوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو بیان کرسکتا اور بتاسکتا ہوں کہ وہ بنو فلاں اور بنو فلاں ہوںگے۔ یعنی سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے قبائل اور خاندانوں کے ناموں سے بھی واقف تھے، بعد میں جب مروان کا خاندان بر سراقتدار آیا تو میں اپنے والد اور دادا کے ہمراہ مروان کے ہاں گیا،وہ اپنے لڑکوں کے حق میں بیعت لے رہے تھے اور بیعت کرنے والے بھی لڑکے ہی تھے، مروان شاہی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، اس نے ہم سے کہا: میں نے ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا تھا کہ وہ ذکر کر رہے تھے کہ یہ بادشاہ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12094

۔ (۱۲۰۹۴)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ ظَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَبَا الْقَاسِمِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، یَقُولُ: ((إِنَّ ہَلَاکَ أُمَّتِی أَوْ فَسَادَ أُمَّتِی رُئُ وْسٌ أُمَرَائُ أُغَیْلِمَۃٌ سُفَہَائُ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سچے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت اور فساد قریش کے ناسمجھ نوجوان حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12095

۔ (۱۲۰۹۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ رَاْسِ السَّبْعِیْنَ، وَاِمَارَۃِ الصِّیْبَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۳۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ستر سال کے بعد والے دور سے اور لڑکوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12096

۔ (۱۲۰۹۶)۔ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ کَلِمَتَیْنِ، مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، کَلِمَۃٌ وَمِنَ النَّجَاشِیِّ أُخْرٰی، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((انْظُرُوْا قُرَیْشًا فَخُذُوْا مِنْ قَوْلِہِمْ، وَذَرُوْا فِعْلَہُمْ۔)) وَکُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِیِّ جَالِسًا فَجَائَ ابْنُہُ مِنَ الْکُتَّابِ فَقَرَأَ آیَۃً مِنَ الْإِنْجِیلِ، فَعَرَفْتُہَا أَوْ فَہِمْتُہَا فَضَحِکْتُ، فَقَالَ: مِمَّ تَضْحَکُ أَمِنْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی؟ فَوَاللّٰہِ! إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ أَنَّ اللَّعْنَۃَ تَکُونُ فِی الْأَرْضِ، إِذَا کَانَ أُمَرَاؤُہَا الصِّبْیَانَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۲۱)
سیدنا عامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خاص باتیں سنی ہیں، ایک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور دوسری نجاشی سے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم قریش پر نظر رکھنا، تم نے ان کی باتیں قبول کر لینی ہیں اور ان کے کردار کو چھوڑ دینا ہے۔ اور میں نجاشی کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا بیٹا ایک کتاب لے کرآیا، اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، میں نے اسے سمجھ لیا تو میں ہنس پڑا، نجاشی نے کہا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کی کتاب سن کر ہنسے ہو؟ اللہ کی قسم! عیسیٰ بن مریم پر جو باتیں نازل کی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب دنیا میں نوجوان حکمران ہوں گے تو زمین پر لعنت اترے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12097

۔ (۱۲۰۹۷)۔ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّہُ شَہِدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَتَاہُ بَشِیرٌیُبَشِّرُہُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَہُ عَلٰی عَدُوِّہِمْ وَ رَأْسُہُ فِی حِجْرِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَیُسَائِلُ الْبَشِیرَ، فَأَخْبَرَہُ فِیمَا أَخْبَرَہُ أَنَّہُ وَلِیَ أَمْرَہُمُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((الْآنَ ہَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ، ہَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ ثَلَاثًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۲۹)
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12098

۔ (۱۲۰۹۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ یَلِیْ اَمْرَ فَارِسٍ))) قَالُوْ: اِمْرَاَۃٌ، قَالَ: ((مَا اَفْلَحَ قَوْمٌ یَلِیْ اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۸۲)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایران کا حکمر ان کون ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ ایک عورت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی، جس پر عورت حکمران ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12099

۔ (۱۲۰۹۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَفْظٍ: ((لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ تَمْلِکُھُمْ اِمْرَاَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷۳)
۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس قوم پر عورت حکمران ہو وہ ہرگز فلاح نہیں پاسکتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12100

۔ (۱۲۱۰۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ اَسْنَدُوْا اَمْرَھُمْ اِلٰی اِمْرَاَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷۳)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پاسکتی، جو اپنے معاملات کو عورتوں کے سپرد کردیتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12101

۔ (۱۲۱۰۱)۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ: اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ فَارِسٍ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَدْ قَتَلَ رَبَّکَ)) (یَعْنِیْ کِسْریٰ)، قَالَ: وَقِیْلَ لَہُ (یَعْنِی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ): اِنَّہُ قَدِ اسْتَخْلَفَ اِبْنَتَہٗ،قَالَ: فَقَالَ: ((لَا یُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِکُہُمُ امْرَاَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۱۰)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہلِ فارس میں سے ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے ربّ یعنی کسریٰ کو قتل کر دیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ اس نے اپنی بیٹی کو اپنا نائب بنا رکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قوم فلاح نہیں پائے گی، جس پر عورت حکمران ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12102

۔ (۱۲۱۰۲)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتْلُوْ عَلَیَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَوْ أَنَّ النَّاسَ کُلَّہُمْ أَخَذُوا بِہَا لَکَفَتْہُمْ۔)) قَالَ: فَجَعَلَ یَتْلُو بِہَا وَیُرَدِّدُہَا عَلَیَّ حَتّٰی نَعَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ کَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِینَۃِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِلَی السَّعَۃِ وَالدَّعَۃِ أَنْطَلِقُ حَتَّی أَکُونَ حَمَامَۃً مِنْ حَمَامِ مَکَّۃَ، قَالَ: ((کَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنْ مَکَّۃَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِلَی السَّعَۃِ وَالدَّعَۃِ إِلَی الشَّامِ وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ، قَالَ: ((وَکَیْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِذَنْ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ أَضَعَ سَیْفِی عَلٰی عَاتِقِی، قَالَ: ((أَوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَوَ خَیْرٌ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((تَسْمَعُ وَتُطِیعُ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیًّا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۴)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا} … جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے ابو ذر! اگر سب لوگ اس آیت پر عمل کرنے لگ جائیں تو یہ آیت ان سب کے لیے کافی ہو گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس آیت کو پڑھتے اور میرے سامنے بار بار دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں اونگھنے لگا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! اگر تمہیں مدینہ سے نکال دیا گیا، تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں کسی ایسے علاقے میں چلا جاؤں گا، جہاں وسعت اور فراخی ہوگی، میں مکہ جا کر اس کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤںگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں مکہ سے نکال دیا گیا تو پھر کیا کرو گے؟ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں وسعت وفراخی والی جگہ شام کی طرف چلا جاؤں گا کہ وہ مقدس سرزمین ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو تب کیاکروگے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! تب میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوںگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: کیا کوئی کام اس سے بھی بہتر ہے؟ آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حاکم کی بات سننا اور اس کو مان لینا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12103

۔ (۱۲۱۰۳)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! کَیْفَ أَنْتَ عِنْد وُلَاۃٍ؟ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَیْفَ اَنْتَ وَاٰئِمَّۃٌ مِنْ بَعْدِیْ؟) یَسْتَأْثِرُونَ عَلَیْکَ بِہٰذَا الْفَیْئِ۔)) قَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، أَضَعُ سَیْفِی عَلٰی عَاتِقِی فَأَضْرِبُ بِہِ حَتّٰی أَلْحَقَکَ، قَالَ: ((أَفَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی خَیْرٍ لَکَ مِنَ ذٰلِکَ، تَصْبِرُ حَتّٰی تَلْقَانِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۱)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! جب ایسے حکمران آجائیں جو مال کے بارے میں تمہارے اوپر دوسروں کو ترجیح دیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا۔ اور پھر اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دوں گا، یہاں تک کہ آپ سے آ ملوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتلادوں؟ وہ یہ ہے کہ تم ان حالات پر صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھے آملو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12104

۔ (۱۲۱۰۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلَیْکَ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ، وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْکَ وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَہْلَہُ، وَإِنْ رَأَیْتَ أَنَّ لَکَ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((مَالَمْ یَاْمُرُوْکَ بِاِثْمٍ بَوَاحٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱۵)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشکل ہویا آسانی،خوشی ہو یا غمی اور خواہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، تم پر لازم ہے کہ تم حکمران کی بات سنو اور اس کو تسلیم کرو اور حکومت کے بارے میں حکومت والوں سے جھگڑا نہ کرواور تم ان کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہیں صریح گناہ کا حکم نہ دیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12105

۔ (۱۲۱۰۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَلَیْکَ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ، وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا ناخوشی اور بیشک تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، پھر بھی تم نے حکمران کی بات سننی ہے اور اس کو ماننا ہے۔ ‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12106

۔ (۱۲۱۰۶)۔ عَنْ أُمِّ الْحُصَیْنِ الْأَحْمَسِیَّۃِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ وَہُوَ یَقُولُ: ((وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ یَقُودُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوْا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: و سَمِعْتُ أَبِییَقُولُ: إِنِّی لَأَرٰی لَہُ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ، فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱۲)
سیدہ ام حصین احمسیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفات میں خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے سنا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے اوپر کسی غلام کو حکمران بنا دیاجائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت و رہنمائی کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا مجبوری، ہر حال میں حکمران کی بات سننی اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12107

۔ (۱۲۱۰۷)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ، عَلَیْہِ بُرْدٌ لَہُ قَدْ الْتَفَعَ بِہِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِہِ، قَالَتْ: فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی عَضَلَۃِ عَضُدِہِ تَرْتَجُّ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اتَّقُوا اللّٰہَ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوْا لَہُ وَأَطِیعُوْا مَا أَقَامَ فِیکُمْ کِتَابَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۰۲)
فوائد:… اگر حکمران قرآن و حدیث کی روشنی میں رعایا کی حکمرانی کر رہا ہو تو پھر تو کوئی چارۂ کار نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ اس کی بات مانی جائے، اگرچہ وہ ناقص الخلقت اور ادھورا ہو، مال و دولت سے محروم ہو اور حسن و جمال سے خالی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12108

۔ (۱۲۱۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَطْمَئِنُّ إِلَیْہِمُ الْقُلُوبُ، وَتَلِینُ لَہُمُ الْجُلُودُ، ثُمَّ یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَشْمَئِزُّ مِنْہُمُ الْقُلُوبُ، وَتَقْشَعِرُّ مِنْہُمُ الْجُلُودُ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنُقَاتِلُہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا، مَا أَقَامُوا الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوںگے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12109

۔ (۱۲۱۰۹)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّہُ سَتَکُونُ أُمَرَائُ تَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ، فَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا نُقَاتِلُہُمْ؟ قَالَ: ((لَا، مَا صَلَّوْا لَکُمُ الْخَمْسَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۶۳)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض امور کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند، جس نے ان کے غلط کام پر انکار کیا، وہ بری ہو گیا، (یعنی اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی) ،جس نے ان کے غلط کام کو ناپسند کیا، وہ بھی (اللہ کی ناراضگی سے) بچ گیا، لیکن جو آدمی ان کے غلط کاموں پر راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کرتا رہا، ( وہ اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے گا۔) صحابہ کرام نے کہا:اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی نہ کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ جب تک تمہارے لیے (یعنی تمہارے سامنے) پانچ نماز ادا کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہیں لڑنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12110

۔ (۱۲۱۱۰)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا، وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ حَبَشِیٌّ، کَأَنَّ رَأْسَہُ زَبِیبَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۵۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہارے اوپر کوئی ایسا حبشی حکمران بنا دیا جائے، جس کا سر منقّی جیسا ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12111

۔ (۱۲۱۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُہْلِکُ أُمَّتِی ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوہُمْ۔)) و قَالَ أَبِی فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ: اضْرِبْ عَلٰی ہٰذَا الْحَدِیثِ فَإِنَّہُ خِلَافُ الْأَحَادِیثِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَعْنِی قَوْلَہُ: ((اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا وَاصْبِرُوا۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے( تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12112

۔ (۱۲۱۱۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ، وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۶۴۳)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12113

۔ (۱۲۱۱۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ: قُرِئَ عَلٰی سُفْیَانَ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَمِعْتُ سُفْیَانَیَقُولُ: ((مَنْ أَطَاعَ أَمِیرِی فَقَدْ أَطَاعَنِی، وَمَنْ أَطَاعَنِی فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۳۳۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی۔ اور جس نے میری اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12114

۔ (۱۲۱۱۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ عَبَدَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ، وَآتَی الزَّکَاۃَ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییُدْخِلُہُ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ شَائَ، وَلَہَا ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابٍ، وَمَنْ عَبَدَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، وَأَقَامَ الصَّلَاۃَ، وَآتَی الزَّکَاۃَ، وَسَمِعَ وَعَصَی، فَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی مِنْ أَمْرِہِ بِالْخِیَارِ، إِنْ شَائَ رَحِمَہُ وَإِنْ شَائَ عَذَّبَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۸)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی عبادت کرے، ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ اسے اسی دروازے سے جنت میں داخل کرے گااو ر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت نہ کرے، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب سے دوچار کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12115

۔ (۱۲۱۱۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَاعَۃَ لِبَشَرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتو کسی بھی انسان کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12116

۔ (۱۲۱۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12117

۔ (۱۲۱۱۷)۔ (وَعَنْہ) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجُوْا، قَالَ: وَجَدَ عَلَیْہِمْ فِی شَیْئٍ، فَقَالَ لَہُمْ: أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُطِیعُونِی؟ قَالَ: قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: فَقَالَ: اجْمَعُوْا حَطَبًا، ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ، فَأَضْرَمَہَا فِیہِ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ لَتَدْخُلُنَّہَا، قَالَ: فَہَمَّ الْقَوْمُ أَنْ یَدْخُلُوہَا، قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ شَابٌّ مِنْہُمْ: إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ النَّارِ، فَلَا تَعْجَلُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَإِنْ أَمَرَکُمْ أَنْ تَدْخُلُوہَا فَادْخُلُوْا، قَالَ: فَرَجَعُوْا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرُوہُ، فَقَالَ لَہُمْ: ((لَوْ دَخَلْتُمُوہَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْہَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوفِ۔))
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیااور ایک نصاری کو ان پر امیر مقر ر فرمایا، وہ کسی بات پر اپنے لشکر سے ناراض ہوگیا، اس نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں،دیا ہے، پس اس نے کہا: لکڑیاں جمع کرو، پھر اس نے آگ منگوا کر ان کو آگ لگا دی اور کہا:میں تم لوگوں کو تاکیدی حکم دیتا ہو ں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، بعض لوگوں نے تو واقعی آگ میں گھس جانے کا ارادہ کر لیا، اتنے میں ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: تم آگ سے بچنے کے لیے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آئے ہو، لہٰذا جلدبازی نہ کرو، پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تو مل لو، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آگ میں داخل ہونے کا حکم ہی دیا تو داخل ہوجانا، پس جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا ماجرہ سنایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو کبھی بھی اس سے نہ نکل سکتے، اطاعت صرف جائز کا م میں ہوتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12118

۔ (۱۲۱۱۸)۔ (وَعَنْہٗمِنْطَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہٖ: ((لَوْ دَخَلْتُمُوْھَا لَمْ تَزَالُوْا فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) وَقَالَ لِلْاَخَرِیْنْ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ: ((لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَّۃِ اللّٰہِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۴)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔ اور جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے سے انکار کیا تھا، آپ نے ان کے بارے میں اچھی بات ارشاد فرمائی اور فرمایا: اللہ کی معصیت ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، اطاعت تو صرف جائز کام میں ہوتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12119

۔ (۱۲۱۱۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ فِیمَا أَحَبَّ أَوْ کَرِہَ إِلَّا أَنْ یُؤْمَرَ بِمَعْصِیَۃٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَََََ۔)) (مسند احمد: ۴۶۶۸)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انسان پر لازم ہے کہ وہ حکمران کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، وہ ان امور کو چاہتا ہو یا نہ چاہتا ہو، ما سوائے اس کے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس حکم کو نہ سنے اور نہ اس کی اطاعت کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12120

۔ (۱۲۱۲۰)۔ وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۴۶)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی فرمانبرداری نہیںہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12121

۔ (۱۲۱۲۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا یُونُسُ وَحُمَیْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ زِیَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَکَمَ الْغِفَارِیَّ عَلٰی جَیْشٍ، فَأَتَاہُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ، فَلَقِیَہُ بَیْنَ النَّاسِ فَقَالَ: أَتَدْرِی لِمَ جِئْتُکَ؟ فَقَالَ لَہُ: لِمَ؟ قَالَ: ہَلْ تَذْکُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ الَّذِی قَالَ لَہُ أَمِیرُہُ: قَعْ فِی النَّارِ، فَأَدْرَکَ فَاحْتَبَسَ، فَأُخْبِرَ بِذٰلِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَال:َ ((لَوْ وَقَعَ فِیہَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِیعًا لَا طَاعَۃَ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اِنَّمَا اَرَدْتُّ اَنْ اُذَکِّرُکَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۳۵)
حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم غفاری کو ایک لشکر پر امیر بنایا، سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے ما بین اس سے ملے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ہاں کس لیے آیا ہوں؟ ا س نے کہا: جی بتائیں، کس لیے آئے ہیں؟ انہو ں نے کہا، کیا تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ بات یاد ہے جوآپ نے اس آدمی سے ارشاد فرمائی تھی، جسے اس کے امیر نے کہا تھا، آگ میں گھس جا، مگر اس آدمی نے یہ بات ماننے سے انکار کیا تھا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: اگر وہ آگ میں داخل ہو جاتا تو وہ دونوں(حکم دینے والا اور اس کو ماننے والا) جہنم میں جاتے، اللہ تعالیٰ کی معصیت ہو رہی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ حکم غفاری نے کہا: جی ہاں، یاد ہے۔ پھر سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہیں یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12122

۔ (۱۲۱۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَرَادَ زِیَادٌ أَنْ یَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ عَلٰی خُرَاسَانَ فَأَبٰی عَلَیْہِمْ، فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: أَتَرَکْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَکُونَ عَلَیْہَا؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّی وَاللّٰہِ! مَایَسُرُّنِی أَنْ أُصَلِّیَ بِحَرِّہَا، وَتُصَلُّونَ بِبَرْدِہَا، إِنِّی أَخَافُ إِذَا کُنْتُ فِی نُحُورِ الْعَدُوِّ أَنْ یَأْتِیَنِی کِتَابٌ مِنْ زِیَادٍ، فَإِنْ أَنَا مَضَیْتُ ہَلَکْتُ، وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِی، قَالَ: فَأَرَادَ الْحَکَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِیُّ عَلَیْہَا، قَالَ: فَانْقَادَ لِأَمْرِہِ، قَالَ: فَقَالَ عِمْرَانُ: أَلَا أَحَدٌ یَدْعُو لِی الْحَکَمَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الْحَکَمُ إِلَیْہِ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَکَمِ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا طَاعَۃَ لِأَحَدٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عِمْرَانُ: لِلَّہِ الْحَمْدُ أَوِ اللّٰہُ أَکْبَرُ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۳۰)
سیدنا عبداللہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ زیاد نے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خراسان کی طرف بھیجنے کا اردہ کیا، لیکن انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: آپ نے خراسان کی امارت کا انکار کر دیا؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ امارت کی مشکلات تو میں برداشت کروں اور اس کے ثمرات سے تم فائدہ اٹھاؤ، دراصل میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں دشمن کے مقابلے میں ہوں اور زیاد کا خط مجھے ملے، (اس خط کے مطابق) اگر میں آگے بڑھوں تو ہلاک ہوتا ہوں اور اگر پیچھے ہٹوں تومجھے قتل کر دیا جائے، پس زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس لشکر پر امیر بنانے کا ارادہ کیا اور انھوں نے زیاد کے اس حکم کو تسلیم کر لیا، اُدھر سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:کوئی ہے جو حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو میرے پاس بلا لائے؟ ایک آدمی گیا اور حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے،جب وہ ان کے ہا ں پہنچے تو سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ ؟ انھوں نے کہا، جی ہاں، عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (نے شکر ادا کرتے ہوئے) لِلّٰہِ الْحَمْدُ یا اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12123

۔ (۱۲۱۲۳)۔ وَعَنْ أَنَسِ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَہُ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ عَلَیْنَا أُمَرَائُ لَا یَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِکَ، وَلَا یَأْخُذُونَ بِأَمْرِکَ، فَمَا تَأْمُرُ فِی أَمْرِہِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا طَاعَۃَ لِمَنْ لَمْ یُطِعْ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۵۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے راویت ہے، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہو جائیں جو آپ کی سنت کی اقتدا نہ کریں اور آپ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کے بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہو گا؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا، اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12124

۔ (۱۲۱۲۴)۔ فَقَالَ عُبَادَۃُ لِأَبِی ہُرَیْرَۃَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! إِنَّکَ لَمْ تَکُنْ مَعَنَا إِذْ بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِنَّا بَایَعْنَاہُ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسَلِ، وَعَلَی النَّفَقَۃِ فِی الْیُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَعَلَی الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَعَلٰی أَنْ نَقُولَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَلَا نَخَافَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ فِیہِ، وَعَلٰی َٔنْ نَنْصُرَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ عَلَیْنَایَثْرِبَ فَنَمْنَعُہُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ أَنْفُسَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَأَبْنَائَ نَا، وَلَنَا الْجَنَّۃُ، فَہٰذِہِ بَیْعَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّتِی بَایَعْنَا عَلَیْہَا، فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَایَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہِ، وَمَنْ أَوْفٰی بِمَا بَایَعَ رَسُولَ اللّٰہِ وَفَّی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِمَا بَایَعَ عَلَیْہِ نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَیَّ الشَّامَ وَأَہْلَہُ، فَإِمَّا تُکِنُّ إِلَیْکَ عُبَادَۃَ، وَإِمَّا أُخَلِّی بَیْنَہُ وَبَیْنَ الشَّامِ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَۃَ حَتّٰی تُرْجِعَہُ إِلٰی دَارِہِ مِنَ الْمَدِینَۃِ، فَبَعَثَ بِعُبَادَۃَ حَتّٰی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، فَدَخَلَ عَلٰی عُثْمَانَ فِی الدَّارِ وَلَیْسَ فِی الدَّارِ غَیْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِینَ أَوْ مِنَ التَّابِعِینَ، قَدْ أَدْرَکَ الْقَوْمَ فَلَمْ یَفْجَأْ عُثْمَانَ إِلَّا وَہُوَ قَاعِدٌ فِی جَنْبِ الدَّارِ، فَالْتَفَتَ إِلَیْہِ فَقَالَ: یَا عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ! مَا لَنَا وَلَکَ؟ فَقَامَ عُبَادَۃُ بَیْنَ ظَہْرَیِ النَّاسِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیَلِی أُمُورَکُمْ بَعْدِی رِجَالٌ یُعَرِّفُونَکُمْ مَا تُنْکِرُونَ، وَیُنْکِرُونَ عَلَیْکُمْ مَا تَعْرِفُونَ، فَلَا طَاعَۃ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۹)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوںنے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ابو ہریرہ! تم تو اس وقت موجود نہ تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے ہمارے ہاں یثرب میں تشریف لائے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ ہم چستی اور سستی یعنی ہر حال میں آپ کی بات سن کر اس کی اطاعت کریںگے، اور خوش حالی ہو یا تنگ دستی، جب بھی ضرورت پڑی تو ہر حال میں خرچ کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی والی بات کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے سے خوف زدہ نہیں ہوں گے، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دل وجان سے مدد کریں گے اورجن جن چیزوں سے ہم اپنی جانوں، بیویوں اور بیٹوں کو بچاتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی ان سے بچائیں گے اور اس کے بدلے ہمیں جنت ملے گی۔ یہ وہ امورِ بیعت ہیں، جن پر ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اللہ کے بارے میں جو بیعت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لی اور کی ہے، کون ہے جو اپنی بیعت کو ان سے بڑھ کر پورا کرنے والا ہو؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھا کر سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر دیا ہے، آپ یا تو عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے ہاں بلالیں، ورنہ میں انہیں شام سے باہر نکلوا دوں گا۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں لکھا کہ آپ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مدینہ واپس بھیج دیں، پس سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو واپس بھجوادیا، پس جب وہ مدینہ واپس آئے تو وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھرمیں ان کے ہاں گئے، گھر میں سابقین اولین میں سے صرف ایک آدمی تھا اور وہ بھی لوگوںکے پاس چلا گیا، عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، وہ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عبادہ!آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے؟ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے ابو القاسم محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے معاملات پر اسے لوگ غالب آجائیں گے کہ تم جن کاموں کو غلط سمجھتے ہو گے، وہ انہیں صحیح سمجھیں گے اور تم جن کاموں کو اچھا سمجھتے ہو گے، وہ انہیں غلط سمجھیں گے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، تم اپنے رب کے ہاں اس کی کوئی معذرت پیش نہیں کر سکو گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12125

۔ (۱۲۱۲۵)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((نَضَّرَ اللّٰہُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِی ہٰذِہِ فَحَمَلَہَا، فَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْہِ فِیہِ غَیْرُ فَقِیہٍ، وَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْہِ إِلٰی مَنْ ہُوَ أَفْقَہُ مِنْہُ، ثَلَاثٌ لَا یُغِلُّ عَلَیْہِنَّ صَدْرُ مُسْلِمٍ، إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمُنَاصَحَۃُ أُولِی الْأَمْرِ، وَلُزُومُ جَمَاعَۃِ الْمُسْلِمِینَ، فَإِنَّ دَعْوَتَہُمْ تُحِیطُ مِنْ وَرَائِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۸۳)
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12126

۔ (۱۲۱۲۶)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَنِ الْقَاسِمِ، وَقَالَیَزِیدُ فِی حَدِیثِہِ: حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّیْبَانِیُّ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: کُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِی ذَرٍّ شَیْئًا نُرِیدُ أَنْ نُعْطِیَہُ إِیَّاہُ، فَأَتَیْنَا الرَّبَذَۃَ، فَسَأَلْنَا عَنْہُ، فَلَمْ نَجِدْہُ، قِیلَ: اسْتَأْذَنَ فِی الْحَجِّ، فَأُذِنَ لَہُ، فَأَتَیْنَاہُ بِالْبَلْدَۃِ وَہِیَ مِنًی، فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَہُ إِذْ قِیلَ لَہُ: إِنَّ عُثْمَانَ صَلّٰی أَرْبَعًا، فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَبِی ذَرٍّ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِیدًا، وَقَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلّٰی أَرْبَعًا، فَقِیلَ لَہُ: عِبْتَ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ شَیْئًا، ثُمَّ صَنَعْتَ، قَالَ: الْخِلَافُ أَشَدُّ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَقَالَ: ((إِنَّہُ کَائِنٌ بَعْدِی سُلْطَانٌ، فَلَا تُذِلُّوہُ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ یُذِلَّہُ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ، وَلَیْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْہُ تَوْبَۃٌ حَتّٰییَسُدَّ ثُلْمَتَہُ الَّتِی ثَلَمَ، وَلَیْسَ بِفَاعِلٍ۔)) ثُمَّ یَعُودُ فَیَکُونُ فِیمَنْیُعِزُّہُ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا یَغْلِبُونَا عَلٰی ثَلَاثٍ، أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ، وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۹۲)
قاسم بن عوف شیبانی، ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا:ہم ابوذر کو کوئی چیز بطور ہدیہ دینا چاہتے تھے، ہم وہ اٹھا کر لے گئے اور ربذہ مقام میں پہنچے، جب ہم نے ان کے متعلق دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ انہوں نے حج کے لیے جانے کی اجازت مانگی تھی اور انہیںمل گئی تھی، پھر ہم منیٰ میں ان سے ملے، ہم ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کو بتایا گیا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مِنی میں چاررکعت پڑھی ہے، یہ بات ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بہت گراں گزری اور انہوں نے سخت باتیں کہہ دیں اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہاں نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ یہاں مِنی میں نماز پڑھی ہے (انھوں نے بھی دو رکعتیں پڑھائی ہیں)، اس کے بعد سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اٹھ کر چار رکعات پڑھیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم نے جس با ت کو امیر المومنین کے لیے معیوب سمجھا ہے، اس پر خود عمل کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اختلاف کرنا بہت برا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا، تم اسے رسوانہ کرنا، جس نے اسے رسواکرنے کا ارادہ کیا، اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے اتار پھینکا، اور اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی، جب تک اس کی ڈالی ہوئی دراڑ ختم نہ ہو گی، مگر وہ ایسا نہ کرسکے گا۔ یعنی اپنی ڈالی ہوئی دراڈ کو پر نہ کر سکے گا۔ اس کے بعد وہ اس بادشاہ کی عزت کرے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ یہ حکمران تین باتوں میں ہم پر غالب نہ آجائیں یعنی وہ ہمیں ان تین کاموں سے روک نہ سکیں، بلکہ ہم یہ کام برابر کرتے رہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر او رلوگوں کو سنتوں کی تعلیم دینا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12127

۔ (۱۲۱۲۷)۔ وَعَنْ سَعِیدِ بْنِ جُمْہَانَ قَالَ: لَقِیتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفٰی، وَہُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، قَالَ لِی: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ وَالِدُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَتَلَتْہُ الْأَزَارِقَۃُ، قَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ الْأَزَارِقَۃَ، لَعَنَ اللّٰہُ الْأَزَارِقَۃَ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّہُمْ کِلَابُ النَّارِ، قَالَ: قُلْتُ: الْأَزَارِقَۃُ وَحْدَہُمْ أَمْ الْخَوَارِجُ کُلُّہَا؟ قَالَ: بَلَی الْخَوَارِجُ کُلُّہَا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ السُّلْطَانَ یَظْلِمُ النَّاسَ، وَیَفْعَلُبِہِمْ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ یَدِی فَغَمَزَہَا بِیَدِہِ غَمْزَۃً شَدِیدَۃً ثُمَّ قَالَ: وَیْحَکَیَا ابْنَ جُمْہَانَ! عَلَیْکَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، عَلَیْکَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، إِنْ کَانَ السُّلْطَانُ یَسْمَعُ مِنْکَ، فَأْتِہِ فِی بَیْتِہِ فَأَخْبِرْہُ بِمَا تَعْلَمُ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْکَ، وَإِلَّا فَدَعْہُ فَإِنَّکَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۳۵)
سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ نابینا ہوچکے تھے، میں نے سلام کہا، انہوں نے مجھ سے پوچھا، تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعید بن جمہان ہوں، انہو ںنے کہا: تمہارے والد کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ میں نے کہا: ازارقہ نے اسے قتل کر ڈالا۔ انھوں نے کہا: اللہ، ازارقہ پر لعنت کرے، اللہ ازارقہ پر لعنت کرے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا کہ یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں۔ میں نے پوچھا: صرف ازارقہ یا سارے خوارج؟ انہو ںنے کہا: سارے خوارج۔ میں نے کہا: بادشاہ لوگوں پر ظلم ڈھاتا ہے اور کچھ اچھے کام بھی کرتا ہے، (اس کے بارے میں کیا کہنا یا کرنا چاہیے)؟ انہو ں نے میرا ہاتھ پکڑ کر زور سے دبایا اور پھر کہا: اے ابن جمہان! تم پر افسوس، تم سوا داعظم یعنی بڑے لشکر کے ساتھ رہنا، اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہو تو اس کے گھر میں اس کے پاس جا کر جو کچھ تم جانتے ہو، اس بتلا دینا، اگر وہ آپ کی بات مان لے تو بہتر، ورنہ رہنے دینا، کیونکہ تم اس سے زیادہ نہیں جانتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12128

۔ (۱۲۱۲۸)۔ وعن شُرَیْحِ بْنِ عُبَیْدٍ الْحَضْرَمِیِّ وَغَیْرِہِ قَالَ: جَلَدَ عِیَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارٍ حِینَ فُتِحَتْ، فَأَغْلَظَ لَہُ ہِشَامُ بْنُ حَکِیمٍ الْقَوْلَ حَتّٰی غَضِبَ عِیَاضٌ، ثُمَّ مَکَثَ لَیَالِیَ فَأَتَاہُ ہِشَامُ بْنُ حَکِیمٍ، فَاعْتَذَرَ إِلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ ہِشَامٌ لِعِیَاضٍ: أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا أَشَدَّہُمْ عَذَابًا فِی الدُّنْیَا لِلنَّاسِ۔)) فَقَالَ عِیَاضُ بْنُ غَنْمٍ: یَا ہِشَامُ بْنَ حَکِیمٍ! قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ، وَرَأَیْنَا مَا رَأَیْتَ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ فَلَا یُبْدِلَہُ عَلَانِیَۃً، وَلٰکِنْ لِیَأْخُذْ بِیَدِہِ فَیَخْلُوَ بِہِ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْہُ فَذَاکَ، وَإِلَّا کَانَ قَدْ أَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ لَہُ۔)) وَإِنَّکَ یَا ہِشَامُ! لَأَنْتَ الْجَرِیئُ إِذْ تَجْتَرِئُ عَلٰی سُلْطَانِ اللّٰہِ، فَہَلَّا خَشِیتَ أَنْ یَقْتُلَکَ السُّلْطَانُ، فَتَکُونَ قَتِیلَ سُلْطَانِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔ (مسند احمد: ۱۵۴۰۸)
شریح بن عبید حضرمی وغیرہ سے مروی ہے کہ ایک علاقہ فتح ہوا اور سیدنا عیاض بن غنم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک گھر کے مالک کی پٹائی کردی، سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام نے ان کو سخت قسم کی باتیں کہہ دیں، عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ناراض ہوگئے، کچھ دنوں کے بعد سیدنا ہشام بن حکیم نے آکر معذرت کی، پھر سیدنا ہشام نے عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو دنیا میں لوگوں کو سخت عذاب دیتے ہیں۔ سیدناعیاض بن غنم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہشام! جو کچھ تم نے سنا، وہ ہم بھی سن چکے ہیںاور جو کچھ تم نے دیکھا، وہ ہم بھی دیکھ چکے ہیں۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بادشاہ کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا ارادہ کرے، وہ لوگوں کے سامنے کچھ نہ کہے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے جائے، اگر وہ حکمران اس کی بات کو قبول کر لے تو بہتر، ورنہ اس آدمی نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ اے ہشام! تم بڑے جرأت مند ہو،کیونکہ تم نے تو اللہ کے سلطان پر جرأت کی ہے، کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ تعالیٰ کا بادشاہ تم کو قتل کر دے اور اس طرح تم اللہ کے بادشاہ کے مقتول بن جاؤ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12129

۔ (۱۲۱۲۹)۔ عَنِ الْبَخْتَرِیِّ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اثْنَانِ خَیْرٌ مِنْ وَاحِدٍ، وَثَلَاثٌ خَیْرٌ مِنِ اثْنَیْنِ، وَأَرْبَعَۃٌ خَیْرٌ مِنْ ثَلَاثَۃٍ، فَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ یَجْمَعَ أُمَّتِی إِلَّا عَلٰی ہُدًی۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۱۷)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک کی نسبت دو، دو کی نسبت تین اور تین کی نسبت چا ر بہتر ہیں، پس تم جماعت کے ساتھ رہو، اللہ تعالیٰ میری امت کو ہدایت کے سوا دوسرے کسی کا م پر ہرگز جمع نہیں کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12130

۔ (۱۲۱۳۰)۔ (ز۔وَعَنْہٗاَیْضًا) قَالَ: قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ فِی عُنُقِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۸۹۳)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی، اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتار پھینکی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12131

۔ (۱۲۱۳۱)۔ وَعَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ:انْطَلَقْتُ إِلَی حُذَیْفَۃَ بِالْمَدَائِنِ لَیَالِیَ سَارَ النَّاسُ إِلَی عُثْمَانَ فَقَالَ: یَا رِبْعِیُّ! مَا فَعَلَ قَوْمُکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَنْ أَیِّ بَالِہِمْ تَسْأَلُ؟ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنْہُمْ إِلٰی ہٰذَا الرَّجُلِ، فَسَمَّیْتُ رِجَالًا فِیمَنْ خَرَجَ إِلَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ، وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَۃَ، لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْہَ لَہُ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۷۲)
ربعی بن حراش کہتے ہیں: جن ایام میں لوگ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مخالفت میں بغاوت کر کے ان کی طرف روانہ ہوئے تو میں انہی راتوں میں سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں مدائن گیا، انہو ںنے مجھ سے کہا: ربعی! تمہاری قوم نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ ان کے کس فعل کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ انہو ںنے کہا: کون لوگ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے ہیں؟ سو میں نے جانے والوں میں سے کچھ افراد کے نام ذکر کر دئیے، انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور امارت و حکومت کو ذلیل کرنے کی کوشش کی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں جا کر ملے گا کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی توقیر نہیں ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12132

۔ (۱۲۱۳۲)۔ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَکْرَمَ سُلْطَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِی الدُّنْیَا، أَکْرَمَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ أَہَانَ سُلْطَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِی الدُّنْیَا،أَہَانَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۵)
سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے بادشاہ کا اکرام کرے، اللہ قیامت کے دن اس کا اکرام کرے گا اور جس نے دنیا میں اللہ کے بنائے ہوئے بادشاہ کی توہین و تذلیل کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلیل ورسوا کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12133

۔ (۱۲۱۳۳)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبَایِعُ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، ثُمَّ یَقُولُ: ((فِیمَا اسْتَطَعْتَ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: فَیُلَقِّنُ أَحَدَنَا فِیمَا اسْتَطَعْتَ۔ (مسند احمد: ۴۵۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کی بیعت لیا کرتے تھے کہ حاکم کا حکم سن کر اس کی اطاعت کی جائے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ہی فرما دیتے: جتنی تم میں طاقت اور استطاعت ہو۔ ایک راوی نے کہا: پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں لقمہ دیتے اور یادہانی کرا دیتے کہ جتنی تم میں طاقت ہو گی (اس کے مطابق تم حاکم کی اطاعت کرو گے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12134

۔ (۱۲۱۳۴)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فَقَالَ: ((فِیْمَا اسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۲۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی کہ ہم حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن تمہاری استطاعت کے مطابق۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12135

۔ (۱۲۱۳۴)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فَقَالَ: ((فِیْمَا اسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۲۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں حکمران کی بات سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن جتنی طاقت، اس کے مطابق۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12136

۔ (۱۲۱۳۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فِی عُسْرِنَا وَیُسْرِنَا، وَمَنْشَطِنَا وَمَکْرَہِنَا، وَالْأَثَرَۃِ عَلَیْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَہْلَہُ، وَنَقُومَ بِالْحَقِّ حَیْثُ کَانَ، وَلَا نَخَافَ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ))۔ (مسند احمد: ۲۳۱۰۴)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی کہ ہم مشکل میں اور آسانی میں، چستی میں اور سستی میں اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کے باوجود حاکم کی بات مانیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور حکومت کے معاملے میں حکومت کے افراد سے جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ جہاں بھی ہو گا، اور ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12137

۔ (۱۲۱۳۷)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ یَحْیَی، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، سَمِعَہُ مِنْ جَدِّہِ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: عَنْ جَدِّہِ عُبَادَۃَ، قَالَ سُفْیَانُ: وَعُبَادَۃُ نَقِیبٌ، وَہُوَ مِنْ السَّبْعَۃِ، بَایَعْنَارَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ، وَلَا نُنَازِعُ الْأَمْرَ أَہْلَہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَاِنْ رَاَیْتَ اِنَّ لَکَ)، نَقُوْلُ بِالْحَقِّ حَیْثُمَا کُنَّا، لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، قَالَ سُفْیَانُ: زَادَ بَعْضُ النَّاسِ مَا لَمْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا۔ (مسند احمد: ۲۳۰۵۵)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ سات نقباء میں سے ایک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم تنگی اور آسانی میں اور خوشی اور ناخوشی میں حکمران کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے، حکومت کے بارے میں اہل حکومت سے جھگڑ انہیں کر یں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کریں گے۔ سفیان راوی نے کہا: بعض حضرات نے اس حدیث میں یہ الفاظ زائد روایت کیے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (تم اس وقت تک حکمران کی اطاعت کرنا) جب تک واضح کفر نہ دیکھ لو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12138

۔ (۱۲۱۳۸)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ، عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ، قَالَ خَالِدٌ: أَحْسِبُہُ ذَکَرَہُ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ، قَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ: أَخَذَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ سِتًّا: ((أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ، وَلَا یَعْضِدْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا، وَلَا تَعْصُونِی فِی مَعْرُوفٍ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْکُمْ مِنْہُنَّ حَدًّا، فَعُجِّلَ لَہُ عُقُوبَتُہُ، فَہُوَ کَفَّارَتُہُ، وَإِنْ أُخِّرَ عَنْہُ، فَأَمْرُہُ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَائَ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۴)
سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے چھ امور کی بیعت لی تھی، اسی طرح ہم سے بھی اتنے امور کی کی بیعت لی، یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤگے، چوری نہیں کروگے، زنا نہیں کر و گے، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کر و گے، ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہیں کرو گے، اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے، تم میں سے جس کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس پر شرعی حد واجب ہوتی ہو، تو اگر اس کو دنیا میں اس جرم کی سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے لیے کفارہ ہوگی اور اگر سزا آخرت تک مؤخر ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کر سکتا ہے، جیسے اس کی مرضی ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12139

۔ (۱۲۱۳۹)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ قَیْسٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَلَا إِنَّمَا ہُنَّ أَرْبَعٌ، أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا۔)) قَالَ: فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَیْہِنَّ مِنِّی إِذْ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۹۹)
سیدنا سلمہ بن قیس اشجمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: خبردار! یہ چار امور ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ نے جس جان کے قتل کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے، اسے ناحق قتل نہ کرنا، زنانہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔ سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے جب سے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہیں، اس وقت سے مجھے ان کی کوئی رغبت اور حرص ہی نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12140

۔ (۱۲۱۴۰)۔ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا۔ (مسند احمد: ۱۵۳۸۶)
سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں نہیں گروں گا، مگر کھڑے کھڑے ہی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12141

۔ (۱۲۱۴۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سَدُوسٍ، عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ قَتَادَۃَ قَالَ: بَایَعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی ابْنَتِی الْحَوْصَلَۃِ، وَکَانَ یُکَنَّی بِأَبِی الْحَوْصَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۳۹)
سیدناقطبہ بن قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی بیٹی حوصلہ کی طرف سے بیعت کی تھی۔ ان کی کنیت ابو حوصلہ تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12142

۔ (۱۲۱۴۲)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِیفٍ إِذْ بَایَعَتْ فَقَالَ: اشْتَرَطَتْ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا صَدَقَۃَ عَلَیْہَا وَلَا جِہَادَ، وَأَخْبَرَنِی جَابِرٌ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَصَّدَّقُونَ وَیُجَاہِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوْا)) یَعْنِی ثَقِیفًا۔ (مسند احمد: ۱۴۷۲۹)
ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بنو ثقیف کے بارے میں پوچھا، جب انھوں نے بیعت کی تھی؟ انہوںنے کہا: بنو ثقیف نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ نہ ان پر صدقہ ہو گا اور نہ جہاد، پھر ابوزبیر نے کہا کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جب وہ صحیح طور پر مسلمان ہوجائیں گے تو عنقریب صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12143

۔ (۱۲۱۴۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ عَبْدٌ فَبَایَعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، وَلَمْ یَشْعُرْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ عَبْدٌ، فَجَائَ سَیِّدُہُیُرِیدُہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِعْنِیہِ۔)) فَاشْتَرَاہُ بِعَبْدَیْنِ أَسْوَدَیْنِ، ثُمَّ لَمْ یُبَایِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتّٰییَسْأَلَہُ: ((أَعَبْدٌ ہُوَ؟)) (مسند احمد: ۱۴۸۳۱)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہجرت کرنے پر بعیت کر لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک اسے لینے کے لیے آگیا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا۔ تم یہ غلام مجھے بیچ دو۔ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض اس کو خریدلیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا یہ شخص غلام ہے؟ اس وقت تک کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12144

۔ (۱۲۱۴۴)۔ عَنْ اَبِی صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بَنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَنْ مَاتَ بِغَیْرِ اِمَامٍ، مَاتَ مِیْتَۃَ جَاھِلِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۰۰)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ٔٔٔٔٔٔٔٔ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حکمران کے بغیر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12145

۔ (۱۲۱۴۵)۔ وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ مَاتَ وَلَیْسَتْ عَلَیْہِ طَاعَۃٌ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً، فَإِنْ خَلَعَہَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِہَا فِی عُنُقِہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بَعْدَ عَقْدِہِ اِیَّاھَا فِیْ عُنُقِہِ) لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَلَیْسَتْ لَہُ حُجَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۸۴)
سیدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا کہ اس نے اپنے اوپر کسی امام کی اطاعت کو لازم نہیں کیا تھا، یعنی کسی کو اپنا امام تسلیم نہیں کیا تھا، و ہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اپنی گردن سے کسی امام کی اطاعت کا ہار اتارپھینکا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ کے ہاں پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12146

۔ (۱۲۱۴۶)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَانَتْ تَسُوسُہُمُ الْأَنْبِیَائُ، کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَ نَبِیٌّ، وَإِنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی، إِنَّہُ سَیَکُونُ خُلَفَائُ فَتَکْثُرُ۔)) قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ((فُوا بِبَیْعَۃِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوہُمْ حَقَّہُمْ الَّذِی جَعَلَ اللّٰہُ لَہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ سَائِلُہُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاہُمْ))۔ (مسند احمد: ۷۹۴۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کرتے تھے، جب ایک نبی فو ت ہوجاتا تو دوسر ا آجاتا، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء بکثرت ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر آپ ہمیں ان کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پہلے خلیفہ سے کی گئی بیعت کوپورا کرنا، پھر جو اس کے بعد ہو، اس کی بیعت کو پورا کرنا اوراللہ نے ان کے لیے جو حقوق مقرر کیے ہیں، وہ ادا کرنا، رہا مسئلہ تمہارے حقوق کا تو اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12147

۔ (۱۲۱۴۷)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَۃِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَۃَ، فَمَاتَ فَمِیتَتُہُ جَاہِلِیَّۃٌ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَایَۃٍ عِمِّیَّۃٍیَغْضَبُ لِعَصَبَتِہِ وَیُقَاتِلُ لِعَصَبَتِہِ وَیَنْصُرُ عَصَبَتَہُ فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاہِلِیَّۃٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلٰی أُمَّتِییَضْرِبُ بَرَّہَا وَفَاجِرَہَا لَا یَتَحَاشٰی لِمُؤْمِنِہَا وَلَا یَفِی لِذِی عَہْدِہَا فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۳۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی امام اور حاکم کی اطاعت سے نکل گیا اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حالت میں اس کو موت آ گئی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا، جو اندھا دھند جھنڈے کے نیچے لڑا، جس میں وہ عصبیت کی بنا پر غصے ہوتا ہے اور تعصب کی بنا پر مدد کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں قتل ہو جاتا ہے تو اس کا قتل بھی جاہلیت والا ہو گا او رجو آدمی میری امت پر بغاوت کرتے ہوئے نکلا اور نیکوں اور بروں کو مارتا گیا،نہ اس نے اہل ایمان کا لحاظ کیا اور نہ عہد والے کا عہد پورا کیا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12148

۔ (۱۲۱۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَأٰی مِنْ أَمِیرِہِ شَیْئًایَکْرَہُہُ فَلْیَصْبِرْ، فَإِنَّہُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِیتَتُہُ جَاہِلِیَّۃٌ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَیَمُوْتُ اِلَّا مَاتَ مِیْتَۃَ جَاھِلِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے امیر کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جواسے اچھی نہ لگے تو وہ صبر کرے، کیونکہ جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12149

۔ (۱۲۱۴۹)۔ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَۃَ، وَکَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِکٍ یَقولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خِیَارُ أَئِمَّتِکُمْ مَنْ تُحِبُّونَہُمْ وَیُحِبُّونَکُمْ، وَتُصَلُّونَ عَلَیْہِمْ وَیُصَلُّونَ عَلَیْکُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمُ الَّذِینَ تُبْغِضُونَہُمْ وَیُبْغِضُونَکُمْ، وَتَلْعَنُونَہُمْ وَیَلْعَنُونَکُمْ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفَلَا نُنَابِذُہُمْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((لَا، مَا أَقَامُوا لَکُمُ الصَّلَاۃَ، أَلَا وَمَنْ وُلِّیَ عَلَیْہِ أَمِیرٌ وَالٍ فَرَآہُ یَأْتِی شَیْئًا مِنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ فَلْیُنْکِرْ مَا یَأْتِی مِنْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، وَلَا یَنْزِعَنَّیَدًا مِنْ طَاعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۱)
سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے حق میں رحمت کی دعائیں کرو اور وہ تمہارے حق میں رحمت کی دعائیں کریں اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں کہ جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنتیں کرو اور وہ تم پر لعنتیں کریں۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسی صورت حال میں ہم ان سے الگ تھلگ نہ ہوجائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تک وہ نما زکی پابندی کریں، تم ان سے الگ نہیں ہوسکتے، خبردار! تم میں سے کسی پر کوئی آدمی امیر اورحکمران ہو اور وہ اپنے امیر کو اللہ کی معصیت کا کام کرتے ہوئے دیکھے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس معصیت کا انکار کرے اور اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12150

۔ (۱۲۱۵۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ مَاتَ عَلٰی غَیْرِ طَاعَۃِ اللّٰہِ مَاتَ وَلَا حُجَّۃَ لَہُ، وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ نَزَعَ یَدَہُ مِنْ بَیْعَۃٍ، کَانَتْ مِیتَتُہُ مِیتَۃَ ضَلَالَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۷)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز پر مرا تو وہ اس حال میں مرے گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہو گی اور جو اس حال میں مرا کہ اس نے بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہو تو اس کی موت گمراہی کی موت ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12151

۔ (۱۲۱۵۱)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعٍ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، ضَعُوا لَہُ وِسَادَۃً، فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُکَ لِأُحَدِّثَکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ نَزَعَ یَدًا مِنْ طَاعَۃِ اللّٰہِ فَإِنَّہُ یَأْتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَا حُجَّۃَ لَہُ، وَمَنْ مَاتَ وَہُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَۃِ فَإِنَّہُ یَمُوتُ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً۔)) (مسند احمد: ۵۵۵۱)
زید بن اسلم اپنے والدسے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں عبداللہ بن مطیع کے ہاں گیا، انہو ں نے کہا: ابو عبدالرحمن کو خوش آمدید، ان کے لیے تکیہ لگاؤ، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث سنانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو آدمی اس حال میں مرا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ تھلگ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12152

۔ (۱۲۱۵۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَۃِ، قَالَ: انْتَہَیْتُ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: بَیْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ، فَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا وَفِیْہِ: ((وَمَنْ بَایَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاہُ صَفْقَۃَیَدِہِ وَثَمَرَۃَ قَلْبِہِ فَلْیُطِعْہُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَائَ آخَرُ یُنَازِعُہُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ۔)) قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی مِنْ بَیْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ: أَنْشُدُکَ بِاللّٰہِ آنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، قَالَ: فَقُلْتُ: ہٗذَاابْنُعَمِّکَمُعَاوِیَۃُیَعْنِییَأْمُرُنَا بِأَکْلِ أَمْوَالِنَا بَیْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} قَالَ: فَجَمَعَ یَدَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عَلٰی جَبْہَتِہِ ثُمَّ نَکَسَ ہُنَیَّۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: أَطِعْہُ فِی طَاعَۃِ اللّٰہِ، وَاعْصِہِ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔(مسند احمد: ۶۵۰۳)
عبدالرحمن بن عبد ِربّ ِکعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں سفر میں تھے، پھر انہو ں نے طویل حدیث بیان کی، اس کا ایک اقتباس یہ تھا: جس نے کسی حکمران کی بیعت کی اور اس سے معاہدہ کیا اور اس کو دل کا پھل دے دیا، تو وہ حسب ِ استطاعت اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس پہلے حاکم سے اختلا ف کرے تو بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبد الرحمن کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے اپنا سر لوگوں کے درمیان میںداخل کیا اور کہا: میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے یہ حدیث اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس حدیث کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا۔ عبدالرحمن نے کہا: یہ آپ کا چچازاد بھائی سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ}… اے ایمان والو! تم اپنے اموال آپس میں باطل طریقوں سے مت کھاؤ۔ یہ سن کر انہو ںنے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کیے اور انہیں اپنی پیشانی کے اوپر رکھا اور پھر کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھے رہے، پھر کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور کہا: اللہ کی اطاعت کا کام ہوتو ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی ہوتو ان کی بات نہ مانو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12153

۔ (۱۲۱۵۳)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اقْتَدُوْا بِالَّذَیْنِ مِنْ بَّعْدِیْ اَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۳۴)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد ان دو حضرات کی اقتدا کرنا، ابوبکر اور عمر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12154

۔ (۱۲۱۵۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا اَبُوْ بَکْرٍ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)، ثُمَّ قَالَ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ اَبِیْ بَکْرٍ، عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۸۳۳)
سیدنا ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میںتمہیں نہ بتلاؤں کہ اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، کیا میں تمہیں یہ بھی بتلا دوں کہ اس امت میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12155

۔ (۱۲۱۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ عَاصِبًا رَأْسَہُ فِی خِرْقَۃٍ، فَقَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَیَّ فِی نَفْسِہِ وَمَالِہِ مِنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی قُحَافَۃَ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِیلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِیلًا، وَلٰکِنْ خُلَّۃُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ، سُدُّوْا عَنِّی کُلَّ خَوْخَۃٍ فِی ہٰذَا الْمَسْجِدِ غَیْرَ خَوْخَۃِ أَبِی بَکْرٍ))۔ (مسند احمد: ۲۴۳۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرض الموت کے ایام میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور ممبر پر جلوہ افروز ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اورپھر فرمایا: اپنی جان اور مال کے بارے میں ابو بکر بن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا کون محسن نہیں ہے،اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں نے ابو بکر کو اپنا خلیل بناتا، البتہ اسلامی دوستی اور تعلق سب سے زیادہ فضیلت والا ہے، اس مسجد کی طرف کھلنے والے ہر دروازے اور راستے کو بند کر دو، ما سوائے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے راستے کے، وہ کھلا رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12156

۔ (۱۲۱۵۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۱۱۵۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12157

۔ (۱۲۱۵۷)۔ وَعَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ امْرَاَۃً اَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَلَّمَتْہُ فِی شَیْئٍ فَأَمَرَہَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَیْتَیَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنْ لَمْ أَجِدْکَ؟ قَالَ: ((إِنْ لَمْ تَجِدِینِی فَأْتِی أَبَا بَکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۷۷)
سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتو ن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کسی معاملہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے حق میں کوئی حکم فرمایا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں آؤںاور آپ کو نہ پاؤں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس چلی جانا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12158

۔ (۱۲۱۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخر عَنْ اَبِیْہٖ اَیْضًا) أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُہُ شَیْئًا فَقَالَ لَہَا: ((ارْجِعِی إِلَیَّ۔)) فَقَالَتْ: فَإِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! تُعَرِّضُ بِالْمَوْتِ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَإِنْ رَجَعْتِ فَلَمْ تَجِدِینِی فَالْقَیْ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۸۹)
۔ (دوسری سند) ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اوراس نے آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: تو میرے پاس دوبارہ آنا۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میںآؤں اور آ پ کو نہ پاؤں تو؟ وہ اشارۃً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کی بات کر رہی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: جب تم دوبارہ آؤ اور مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مل لینا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12159

۔ (۱۲۱۵۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ قَالَ: لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا عِنْدَہُ فِی نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، قَالَ: دَعَا بِلَالٌ لِلصَّلَاۃِ، فَقَالَ: ((مُرُوْا مَنْ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِی النَّاسِ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ غَائِبًا، فَقَالَ: قُمْ یَا عُمَرُ! فَصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَ: فَقَامَ فَلَمَّا کَبَّرَ عُمَرُ سَمِعَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَوْتَہُ، وَکَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْہِرًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَأَیْنَ أَبُو بَکْرٍ؟ یَأْبَی اللّٰہُ ذٰلِکَ وَالْمُسْلِمُونَ، یَأْبَی اللّٰہُ ذٰلِکَ وَالْمُسْلِمُونَ۔)) قَالَ: فَبَعَثَ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ فَجَائَ بَعْدَ أَنْ صَلّٰی عُمَرُ تِلْکَ الصَّلَاۃَ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ زَمْعَۃَ: قَالَ لِی عُمَرُ: وَیْحَکَ مَاذَا صَنَعْتَ بِییَا ابْنَ زَمْعَۃَ! وَاللّٰہِ، مَا ظَنَنْتُ حِینَ أَمَرْتَنِی إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَکَ بِذٰلِکَ، وَلَوْلَا ذٰلِکَ مَا صَلَّیْتُ بِالنَّاسِ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ، مَا أَمَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلٰکِنْ حِینَ لَمْ أَرَ أَبَا بَکْرٍ رَأَیْتُکَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۱۳)
سیدنا عبداللہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بیماری کا غلبہ تھا تو میں چند مسلمانوں کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تھا، سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز پڑھانے کی درخواست کی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کسی سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ سیدنا ابن زمعہ کہتے ہیں: میں گیا اور دیکھا کہ وہاں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود نہ تھے، البتہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود تھے، میں نے جا کر کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، سو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، چونکہ وہ بلند آواز والے آدمی تھے، اس لیے انہوں نے جب تکبیر کہی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آواز سن لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان اس کو نہیں مانیںگے، اللہ اور مسلمان تو اس کا انکار کریں گے۔ بہرحال وہ نماز تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پڑھا دی۔ اس کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پیغام بھیجا گیا، بعد میں انہوں نے لوگوں کو نماز یں پڑھائیں۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: ابن زمعہ! تجھ پر بڑا افسوس ہے، تو نے میرے ساتھ کیا کیا؟ جب تم نے مجھے آکر نماز پڑھانے کا کہا تو میں یہی سمجھا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے، اگر میرے خیال میں یہ بات نہ ہوتی تو میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ سیدنا ابن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا (کہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کہوں اور آپ کو نہ کہوں)۔ لیکن جب مجھے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نظر نہ آئے تو میں نے موجودہ لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ مستحق سمجھاکہ آپ نماز پڑھائیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12160

۔ (۱۲۱۶۰)۔ وعَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ: ((ائْتِنِی بِکَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتّٰی أَکْتُبَ لِأَبِی بَکْرٍ کِتَابًا لَا یُخْتَلَفُ عَلَیْہِ۔)) فَلَمَّا ذَہَبَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ لِیَقُومَ قَالَ: ((أَبَی اللّٰہُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ یُخْتَلَفَ عَلَیْکَیَا أَبَا بَکْرٍ!)) (مسند احمد: ۲۴۷۰۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدید بیمار ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم میرے پاس کندھے کی چوڑی ہڈی یا ایک تختی لے کر آؤ تاکہ میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ اس پر اختلاف ہی واقع نہ ہو۔ جب عبدالرحمن اٹھ کر جانے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! اللہ ! مسند میں مذکور ایک راوی عبدالرحمن بن ابی بکر ضعیف ہیں ایک آدمی اس نام (عبدالرحمن بن ابی بکر) سے حدیث میں مذکور ہے یہ صحابی اور ابوبکر صدیق کے بیٹے ہیں۔ (عبداللہ رفیق) اور اہل ایمان نے اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ تجھ پر اختلاف کیا جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12161

۔ (۱۲۱۶۱)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَتْ: لَمَّا کَانَ وَجَعُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ قَالَ: ّّادْعُوا لِی أَبَا بَکْرٍ، وَابْنَہُ فَلْیَکْتُبْ لِکَیْلَایَطْمَعَ فِی أَمْرِ أَبِی بَکْرٍ طَامِعٌ، وَلَا یَتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَأْبَی اللّٰہُ ذٰلِکَ وَالْمُسْلِمُونَ۔)) مَرَّتَیْنِ، و قَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّۃً: وَالْمُؤْمِنُونَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأَبَی اللّٰہُ وَالْمُسْلِمُوْنَ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ اَبِیْ فَکَانَ اَبِیْ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۵۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ابو بکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلا کر لاؤ، تاکہ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے معاملے میں کوئی لالچی لالچ نہ کرے اور اس امر کی خواہش رکھنے والا اس چیز کی خواہش نہ کرے۔ آپ نے یہ کلمہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں نے اس چیز کا انکار کر دیا ہے (ما سوائے ابو بکر کے)۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ نے اور مسلمانوں نے اس چیز کے لیے لوگوںکا انکار کر دیا ہے، ما سوائے میرے باپ کے اور پھر میرے باپ ہی خلیفہ بنے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12162

۔ (۱۲۱۶۲)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا عَلٰی مِنْبَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمْنَ خِلَافَتِہٖ،مِنْہَاقَوْلُہٗ: وَقَدْبَلَغَنِی أَنَّ قَائِلًا مِنْکُمْ یَقُولُ: لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَایَعْتُ فُلَانًا، فَلَا یَغْتَرَّنَّ امْرُؤٌ أَنْ یَقُولَ: إِنَّ بَیْعَۃَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَتْ فَلْتَۃً، أَلَا وَإِنَّہَا کَانَتْ کَذَلِکَ، أَلَا وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَقٰی شَرَّہَا، وَلَیْسَ فِیکُمُ الْیَوْمَ مَنْ تُقْطَعُ إِلَیْہِ الْأَعْنَاقُ مِثْلُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَلَا وَإِنَّہُ کَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِیًّا وَالزُّبَیْرَ وَمَنْ کَانَ مَعَہُمَا تَخَلَّفُوا فِی بَیْتِ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بِنْتِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَتَخَلَّفَتْ عَنَّا الْأَنْصَارُ بِأَجْمَعِہَا فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ، وَاجْتَمَعَ الْمُہَاجِرُونَ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا بَکْرٍ! انْطَلِقْ بِنَا إِلٰی إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْطَلَقْنَا نَؤُمُّہُمْ حَتّٰی لَقِیَنَا رَجُلَانِ صَالِحَانِ، فَذَکَرَا لَنَا الَّذِی صَنَعَ الْقَوْمُ، فَقَالَا: أَیْنَ تُرِیدُونَ؟یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! فَقُلْتُ: نُرِیدُ إِخْوَانَنَا ہٰؤُلَائِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: لَا عَلَیْکُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوہُمْ وَاقْضُوْا أَمْرَکُمْ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَنَأْتِیَنَّہُمْ، فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی جِئْنَاہُمْ فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ، فَإِذَا ہُمْ مُجْتَمِعُونَ، وَإِذَا بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِمْ رَجُلٌ مُزَمَّلٌ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ، فَقُلْتُ: مَا لَہُ؟ قَالُوْا: وَجِعٌ، فَلَمَّا جَلَسْنَا قَامَ خَطِیبُہُمْ، فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ، وَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَکَتِیبَۃُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتُمْ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! رَہْطٌ مِنَّا، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّۃٌ مِنْکُمْ، یُرِیدُونَ أَنْ یَخْزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَیَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ، فَلَمَّا سَکَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ وَکُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَۃً أَعْجَبَتْنِی، أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَہَا بَیْنَیَدَیْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَقَدْ کُنْتُ أُدَارِی مِنْہُ بَعْضَ الْحَدِّ، وَہُوَ کَانَ أَحْلَمَ مِنِّی وَأَوْقَرَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: عَلٰی رِسْلِکَ، فَکَرِہْتُ أَنْ أُغْضِبَہُ وَکَانَ أَعْلَمَ مِنِّی وَأَوْقَرَ، وَاللّٰہِ! مَا تَرَکَ مِنْ کَلِمَۃٍ أَعْجَبَتْنِی فِی تَزْوِیرِی إِلَّا قَالَہَا فِی بَدِیہَتِہِ، وَأَفْضَلَ حَتّٰی سَکَتَ، فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَمَا ذَکَرْتُمْ مِنْ خَیْرٍ فَأَنْتُمْ أَہْلُہُ، وَلَمْ تَعْرِفْ الْعَرَبُ ہٰذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِہٰذَا الْحَیِّ مِنْ قُرَیْشٍ، ہُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا، وَقَدْ رَضِیتُ لَکُمْ أَحَدَ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ أَیَّہُمَا شِئْتُمْ، وَأَخَذَ بِیَدِی وَبِیَدِ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ، فَلَمْ أَکْرَہْ مِمَّا قَالَ غَیْرَہَا، وَکَانَ وَاللّٰہِ! أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِی، لَا یُقَرِّبُنِی ذٰلِکَ إِلٰی إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلٰی قَوْمٍ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِلَّا أَنْ تَغَیَّرَ نَفْسِی عِنْدَ الْمَوْتِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَاالْمُرَجَّبُ، مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌیَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! فَقُلْتُ لِمَالِکٍ: مَا مَعْنَی أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ؟ قَالَ: کَأَنَّہُ یَقُولُ: أَنَا دَاہِیَتُہَا، قَالَ: وَکَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتّٰی خَشِیتُ الِاخْتِلَافَ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ یَدَکَیَا أَبَا بَکْرٍ! فَبَسَطَ یَدَہُ فَبَایَعْتُہُ وَبَایَعَہُ الْمُہَاجِرُونَ، ثُمَّ بَایَعَہُ الْأَنْصَارُ، وَنَزَوْنَا عَلٰی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ: قَتَلْتُمْ سَعْدًا، فَقُلْتُ: قَتَلَ اللّٰہُ سَعْدًا، وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا وَجَدْنَا فِیمَا حَضَرْنَا أَمْرًا ہُوَ أَقْوٰی مِنْ مُبَایَعَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، خَشِینَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ وَلَمْ تَکُنْ بَیْعَۃٌ أَنْ یُحْدِثُوا بَعْدَنَا بَیْعَۃً، فَإِمَّا أَنْ نُتَابِعَہُمْ عَلٰی مَا لَا نَرْضٰی، وَإِمَّا أَنْ نُخَالِفَہُمْ فَیَکُونَ فِیہِ فَسَادٌ، فَمَنْ بَایَعَ أَمِیرًا عَنْ غَیْرِ مَشْوَرَۃِ الْمُسْلِمِینَ، فَلَا بَیْعَۃَ لَہُ وَلَا بَیْعَۃَ لِلَّذِی بَایَعَہُ تَغِرَّۃً أَنْ یُقْتَلَا، قَالَ مَالِکٌ: وَأَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، أَنَّ الرَّجُلَیْنِ اللَّذَیْنِ لَقِیَاہُمَا عُوَیْمِرُ بْنُ سَاعِدَۃَ وَمَعْنُ بْنُ عَدِیٍّ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَأَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ الَّذِی قَالَ: أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ، الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ۔ (مسند احمد: ۳۹۱)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے دور خلافت میں منبرِ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایک خطبہ دیا، اس میں آپ نے یہ بھی کہا تھا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ اگر عمر فوت ہوجائیں تو میں فلاں کی بیعت کروں گا اور کوئی آدمی یہ دھوکا نہ کھائے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اچانک ہوئی تھی، خبردار! اگرچہ وہ اسی طرح ہی ہوئی تھی، لیکن خبردار! اللہ تعالیٰ نے اچانک ہونے والی بیعت کے شر سے محفوظ رکھا، آج تمہارے اندر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جیسا ایک بھی آدمی نہیںہے، جسے دیکھنے کے لیے دور دراز کے سفر کیے جائیں، یا د رکھو جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم سب سے افضل تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھ والے افراد دختر رسول سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر چلے گئے اور تمام انصار سقیفہ بنی ساعدہ میںجمع ہوگئے اور مہاجرین ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف روانہ ہوگئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو بکر! آؤانصاری بھائیوں کی طرف چلیں، ہم ان کا قصد کر کے ان کی طرف روانہ ہو گئے، راستے میں ہمیں دو نیک آدمی ملے اور انہوں نے ہمیںلوگوں کے عمل سے مطلع کیا اور انہوں ے پوچھا: اے مہاجرین! تم کدھر جارہے ہو؟ میںنے کہا: ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جارہے ہیں۔ ان دونوں نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! اگر تم ان کے ہاں نہ جاؤ اور اپنا معاملہ خودہی حل کر لو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کے پاس ضرور جائیں گے، پس ہم آگے چل دیئے، یہاں تک کہ ہم سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچ گئے، وہ لوگ جمع تھے، ان کے درمیان سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود تھے، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ میں نے کہا: ان کو کیا ہوا ہے؟لوگوں نے بتلایا کہ یہ بیمار ہیں، جب ہم بیٹھ گئے تو ان کا ایک مقرر کھڑا ہوا، اس نے اللہ کی کما حقہ حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد اس نے کہا:ہم اللہ تعالیٰ کے انصار اور اسلامی لشکر ہیں اور اے مہاجرو! تم ہمارا ہی چھوٹا سا حصہ ہو، تم میں سے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے مقام سے نیچے گرادیں اور ہمیں حکمرانی سے محروم کردیں، جب وہ آدمی خاموش ہوا تو میرا (عمر) نے بھی ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موجودگی میں کچھ کہنے کا ارادہ کیا، میں ایک مقالہ یعنی تقریر تیار کر چکا تھا، وہ خود مجھے بھی خوب اچھی لگ رہی تھی، میں کسی حد تک ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے جھجکتا تھا، وہ مجھ سے زیادہ با حوصلہ اور باوقار تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، میں نے ان کو ناراض کرنا اچھا نہ سمجھا، جبکہ وہ مجھ سے زیادہ صاحب علم اور صاحب وقا رتھے، اللہ کی قسم! میں اپنی تیار کردہ تقریر میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فی البدیہ وہ سب کچھ کہہ دیا، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے، پھر انھوں نے کہا: اے انصار! تم نے جس فضلیت اور خوبی کا تذکرہ کیا ہے، تم واقعی اس کے اہل ہو، لیکن عرب لوگ خلافت کے فضلیت و شرف کا مستحق صرف قریش کو ہی سمجھتے ہیں، وہ اپنے نسب اور سکونت کے لحاظ سے تمام عرب سے اعلیٰ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے میں (عمر) کااور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا:میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں کا انتخاب کر رہا ہوں، تم ان میں سے جسے چاہو اپنا امیر مقرر کر لو، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جتنی باتیں کی تھیں، ان میں سے مجھے صرف یہی بات ناگوار گزری تھی، اللہ کی قسم! اگر مجھے آگے لایا جاتا اور میری گردن اڑادی جاتی اور کوئی سابھی گناہ مجھے اس مقام تک نہ لے جاتا، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہوتے ہوئے کسی قوم کا امیر بن جاؤں،انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا: میں وہ آدمی ہوں، جس سے اس معاملے کی شفا حاصل کی جا سکتی ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی طرف اس معاملے میں رجوع ہونا چاہیے، بس اے قریش کی جماعت! ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے۔ میں نے امام مالک سے کہا: مَا مَعْنٰی أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: شاید وہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں ہی معاملہ فہم ہوں اور اس چیز کا شعور رکھتا ہوں۔ اس پر شور مچ گیا ور آوازیں بلند ہوگئیں، یہاں تک کہ مجھے لڑائی کا خدشہ ہو گیا، میں نے کہا: اے ابوبکر! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،میں نے ان کی بیعت کرلی اور مہاجرین نے بھی ان کی بیعت شروع کر دی، اس کے بعد انصار نے بھی ان کی بیعت کرلی، بیچ میں ہم نے سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اوپر ہجو م کیا، ان میں سے ایک نے کہا: تم نے سعد کو قتل کر دیا ہے۔میںنے کہا: اللہ سعد کو قتل کرے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں جس قدر بھی امور پیش آئے، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت سے بڑھ کر ہم نے کسی امر کو زیادہ قوی نہیں پایا، ہمیں اندیشہ تھا کہ اگر ہم لوگوں کو چھوڑ گئے او ربیعت نہ ہوئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ کوئی اور بیعت کرلیں، تب یا تو ہم ان سے ایسے امر پر بیعت کریں گے، جو ہمیں پسند نہیں ہو گا، یا ہم ان کی مخالفت کریں گے تو فساد مچ جائے گا، جو آدمی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی امیر کی بیعت کر لے، اس کی بیعت کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا، اسی طرح جس کے حق میں بیعت کی گئی ہو گی، وہ بھی غیر معتبر ہو گا، یہ دونوں بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا قتل کر دئیے جانے کے حقدار ہوں گے۔ امام مالک نے کہا: مجھے ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے بیان کیا کہ جو دو آدمی راستے میں ملے تھے وہ سیدہا عریمر بن ساعدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا معمر بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ابن شہاب نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بیان کیا کہ جس آدمی نے یہ بات کی تھی کہ میں وہ آدمی ہوں، جس سے اس معاملے کی شفا حاصل کی جا سکتی ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی طرف اس معاملے میں رجوع ہونا چاہیے۔ وہ سیدنا حباب بن منذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12163

۔ (۱۲۱۶۳)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَائُ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَ مِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ: یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْکُمْ قَرَنَ مَعَہُ رَجُلًا مِنَّا، فَنَرَی أَنْ یَلِیَ ہَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ أَحَدُہُمَا مِنْکُمْ وَالْآخَرُ مِنَّا، قَالَ: فَتَتَابَعَتْ خُطَبَائُ الْأَنْصَارِ عَلٰی ذَلِکَ، قَالَ فَقَامَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ، وَإِنَّمَا الْإِمَامُ یَکُونُ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ، وَنَحْنُ أَنْصَارُہُ کَمَا کُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ: جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرًا مِنْ حَیٍّیَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، وَثَبَّتَ قَائِلَکُمْ، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَوْ فَعَلْتُمْ غَیْرَ ذٰلِکَ لَمَا صَالَحْنَاکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۵۳)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہو اتو انصار کے کچھ خطیب اورمقرر حضرات کھڑے ہوئے، ان میں سے بعض نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! اللہ کے رسول جب تم میں سے کسی کو عامل مقرر کرتے تو اس کے ساتھ ہم میں سے ایک آدمی کو بھی مقرر کرتے تھے، اس لیے ہماری رائے یہ ہے کہ دو آدمی حکمران ہوں، ایک تم میں سے اور ایک ہم میں سے۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:تمام انصاری مقررین نے یہی بات دہرائی، پھر سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہاـ: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہاجرین میں سے تھے، لہٰذا اـمام اور حاکم بھی مہاجرین میں سے ہوگا اور ہم اس کے اسی طرح انصار اورمعاون ہوں گے، جیسے ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انصار تھے۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور انہوں نے کہا: اسے انصار کی جماعت! اللہ آپ کے قبیلے کو جزائے خیرے عطا فرمائے اور اس تجویز دینے والے کو ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھے۔ بعد ازاں کہا: اللہ کی قسم! اگر تم اس کے بر خلاف کچھ تجویز کرتے تو ہم تم سے اتفاق نہ کرتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12164

۔ (۱۲۱۶۴)۔ عَنْ رَافِعٍ الطَّائِیِّ رَفِیقِ أَبِی بَکْرٍ فِی غَزْوَۃِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: وَسَأَلْتُہُ عَمَّا قِیلَ مِنْ بَیْعَتِہِمْ، فَقَالَ: وَہُوَ یُحَدِّثُہُ عَمَّا تَکَلَّمَتْ بِہِ الْأَنْصَارُ، وَمَا کَلَّمَہُمْ بِہِ، وَمَا کَلَّمَ بِہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ، وَمَا ذَکَّرَہُمْ بِہِ مِنْ إِمَامَتِی إِیَّاہُمْ بِأَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ، فَبَایَعُونِی لِذٰلِکَ، وَقَبِلْتُہَا مِنْہُمْ، وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَکُونَ فِتْنَۃٌ، تَکُونُ بَعْدَہَا رِدَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۴۲)
سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غزوۂ سلا سل کے دوران ساتھ رہنے والے رافع طائی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کی بیعت کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے وہ کچھ بیان کیا، جو انصار نے کہا، جو انھوں نے خود بیان کیا اور پھر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے جواب میں جو کچھ کہا، سیدنا عمر نے بیچ میں یہ بات بھی ذکر کی کہ میں (ابوبکر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مرض الموت کے دوران میں امامت کراتا رہا، پس پھر لوگوں نے میری بیعت کی اور میں نے ان سے ان کی بیعت قبول کی، لیکن مجھے ڈرتھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسا فتنہ بپا ہو جائے کہ جس کے بعد لوگ دین سے مرتد ہونا شروع ہو جائیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12165

۔ (۱۲۱۶۵)۔ عَنْ زَائِدَۃَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ، فَأَتَاہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنْ یَؤُمَّ النَّاسَ؟ فَأَیُّکُمْ تَطِیبُ نَفْسُہُ أَنْ یَتَقَدَّمَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ؟ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَعُوذُ بِاللّٰہِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۳۸۴۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو انصاریوں نے کہا:ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم مہاجرین میں سے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جانتے ہیں، پھر انھوں نے کہا: تو پھر تم میں سے کس میں حوصلہ ہے کہ وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے آگے کھڑا ہو؟ انصار نے کہا: ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے آگے کھڑے ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12166

۔ (۱۲۱۶۶)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَکْرٍ فِی طَائِفَۃٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: فَجَائَ فَکَشَفَ عَنْ وَجْہِہِ فَقَبَّلَہُ وَقَالَ: فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی، مَا أَطْیَبَکَ حَیًّا وَمَیِّتًا، مَاتَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ یَتَقَاوَدَانِ حَتّٰی أَتَوْہُمْ، فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ وَلَمْ یَتْرُکْ شَیْئًا أُنْزِلَ فِی الْأَنْصَارِ، وَلَا ذَکَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ شَأْنِہِمْ إِلَّا وَذَکَرَہُ، وَقَالَ: وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا، وَسَلَکَتِ الْأَنْصَارُ وَادِیًا، سَلَکْتُ وَادِیَ الْأَنْصَارِ۔)) وَلَقَدْ عَلِمْتَ یَا سَعْدُ! أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَأَنْتَ قَاعِدٌ: ((قُرَیْشٌ وُلَاۃُ ہٰذَا الْأَمْرِ، فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّہِمْ، وَفَاجِرُہُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِہِمْ۔)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ: صَدَقْتَ نَحْنُ الْوُزَرَائُ وَأَنْتُمُ الْأُمَرَائُ۔ (مسند احمد: ۱۸)
حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدینہ منورہ کے کسی نواحی علاقے میں تھے، پس وہ آئے اور آپ کے چہرۂ اقدس سے چادر ہٹائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دیا اور فرمایا: میرے والدین آپ پر فدا ہوں، آپ کس قدر پاکیزہ ہیں، زندہ ہوں یا میت، رب کعبہ کی قسم! محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پاگئے ہیں، پھر راوی نے حدیث ذکر کی، ایک اقتباس یہ تھا: پھر ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چلتے چلتے انصاری لوگوں کے پاس پہنچ گئے، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے گفتگو کی اور انصار کے حق میں جو کچھ نازل ہوا تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو کچھ ان کے بارے میں بیان فرمایا تھا، ان سب فضائل کا ذکر کیا اور ان میںسے کوئی بات بھی نہ چھوڑی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہارے حق میں فرمایا تھا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسرے وادی میں چلیں تو میں انصار والی وادی میں چلو ں گا۔ اسے سعد! تم بھی موجود تھے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ قریش اس اقتدار کے حقدار اور اہل ہیں، نیک لوگ نیک قریشیوں کے تابع ہیں اور فاجر لوگ فاجر قریشیوں کے۔ یہ سن کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ نے درست کہا، امیر حکمران آپ ہوں گے اور ہم آپ کے وزیر ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12167

۔ (۱۲۱۶۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بِالْمَدِینَۃِ وَفَدَکَ وَمَا بَقِیَ مِنْ خُمُسِ خَیْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ، إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِی ہٰذَا الْمَالِ۔)) وَإِنِّی وَاللّٰہِ لَا أُغَیِّرُ شَیْئًا مِنْ صَدَقَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِہَا الَّتِی کَانَتْ عَلَیْہَا فِی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِیہَا بِمَا عَمِلَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَبٰی أَبُو بَکْرٍ أَنْ یَدْفَعَ إِلٰی فَاطِمَۃَ مِنْہَا شَیْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَۃُ عَلٰی أَبِی بَکْرٍ فِی ذٰلِکَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَرَابَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِی، وَأَمَّا الَّذِی شَجَرَ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ مِنْ ہٰذِہِ الْأَمْوَالِ، فَإِنِّی لَمْ آلُ فِیہَا عَنِ الْحَقِّ، وَلَمْ أَتْرُکْ أَمْرًا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُہُ فِیہَا إِلَّا صَنَعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۵۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف یہ مطالبہ کرنے کے لیے پیغام بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مدینہ میں جو مال دیا، اور فدک اور خیبر کے خُمُس میں سے مجھے بطور وراثت میرا حصہ دیا جائے۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: ہمارا چھوڑا ہوا مال بطور وراثت تقسیم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہوتا ہے، البتہ آل محمد اس مال میں سے کھاسکتے ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ صدقات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیا ت مباکہ میں جس طرز پرتھے، میں ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لاؤں گا اور میں ان کو اسی طرح استعمال کروں گا، جس طرح اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو کام میںلاتے تھے، غرضیکہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ان میں سے کوئی چیز دینے سے انکا کر دیا، اس وجہ سے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ناراض ہوگئیں۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رشتہ دار اپنے رشتہ داروں سے بڑھ کر محبوب ہیں، مگر ان اموال کی وجہ سے میرے اور آپ کے درمیان جو صور ت حال پیدا ہوگئی ہے، میں نے اس میں حق و صداقت پر عمل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس میں جو کچھ کرتے دیکھا، میں نے اس میں سے کسی چیز کو ترک نہیں کیا، بلکہ میں نے ہر کام اسی طرح سرانجام دیا ہے، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12168

۔ (۱۲۱۶۸)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَۃُ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ: أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمْ أَہْلُہُ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا، بَلْ أَہْلُہُ، قَالَتْ: فَأَیْنَ سَہْمُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِیًّا طُعْمَۃً ثُمَّ قَبَضَہُ، جَعَلَہُ لِلَّذِییَقُومُ مِنْ بَعْدِہِ۔)) فَرَأَیْتُ أَنْ أَرُدَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، فَقَالَتْ: فَأَنْتَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ۔ (مسند احمد: ۱۴)
سیدنا ابوطفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال ہو اتو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وارث آپ ہیں یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر کے افراد؟ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وارث میں نہیں ہوں، بلکہ آپ کے اہل خانہ ہی ہیں، سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حصہ کہا ںہے؟ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کوئی چیز عطا کرتا ہے اور اسکے بعد اپنے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے تو وہ چیز اس کے خلیفہ کے کنٹرول میں آجاتی ہے۔ پس میں نے سوچا ہے کہ میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں، سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو پھر آپ ہی اس کو جو آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث سنی ہے، بہتر جانتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12169

۔ (۱۲۱۶۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰییَقُولُوا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَإِذَا قَالُوہَا عَصَمُوا مِنِّی دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَکْرٍ وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ، أَرَادَ أَبُو بَکْرٍ قِتَالَہُمْ، قَالَ عُمَرُ: کَیْفَ تُقَاتِلُ ہٰؤُلَائِ الْقَوْمَ وَہُمْ یُصَلُّونَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: وَاللّٰہِ لَأُقَاتِلَنَّ قَوْمًا ارْتَدُّوْا عَنِ الزَّکَاۃِ، وَاللّٰہِ لَوْ مَنَعُونِی عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ لَقَاتَلْتُہُمْ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَیْتُ اللّٰہَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ لِقِتَالِہِمْ عَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ۔ (مسند احمد: ۱۰۸۵۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں، جب تک وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکا اقرار نہ کرلیں، پس جب وہ یہ کلمہ پڑھ کر اس کا اقرار کر لیں گے تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور اس کے بعد ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا۔ پس جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے تو کچھ لوگ اس قدر مرتد ہوگئے (کہ زکوۃ دینے سے انکار کر دیا)، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ان لوگوں سے قتال کیوں کریں گے، حالانکہ یہ نماز پڑھتے ہیں؟ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو لوگ زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں، میں ضرور ضرور ان سے قتال کروں گا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ اور اس کے رسول نے ان پر بھیڑ یا بکری کا ایک بچہ بھی بطور زکوٰۃ فرض کی ہے اور اگر یہ لوگ اسے ادا نہیں کریں گے تو میں ان سے قتال کروں گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سینہ ان لوگوں سے قتال کرنے کے لیے کھول دیا ہے تو میں جان گیا کہ یہی بات حق ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12170

۔ (۱۲۱۷۰)۔ عَنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَرْسَلَ إِلَیْہِ مَقْتَلَ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ، فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِی، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَہْلِ الْیَمَامَۃِ مِنْ قُرَّائِ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، وَأَنَا أَخْشٰی أَنْ یَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّائِ فِی الْمَوَاطِنِ، فَیَذْہَبَ قُرْآنٌ کَثِیرٌ لَا یُوعٰی، وَإِنِّی أَرٰی أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَکَیْفَ أَفْعَلُ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: ہُوَ وَاللّٰہِ! خَیْرٌ، فَلَمْ یَزَلْیُرَاجِعُنِی فِی ذٰلِکَ حَتّٰی شَرَحَ اللّٰہُ بِذٰلِکَ صَدْرِی، وَرَأَیْتُ فِیہِ الَّذِی رَأٰی عُمَرُ، قَالَ زَیْدٌ وَعُمَرُ عِنْدَہُ جَالِسٌ لَا یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ أَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِنَّکَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّہِمُکَ، وَقَدْ کُنْتَ تَکْتُبُ الْوَحْیَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاجْمَعْہُ، قَالَ زَیْدٌ: فَوَاللّٰہِ! لَوْ کَلَّفُونِی نَقْلَ جَبَلٍ مِنْ الْجِبَالِ مَا کَانَ بِأَثْقَلَ عَلَیَّ مِمَّا أَمَرَنِی بِہِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: کَیْفَ تَفْعَلُونَ شَیْئًا لَمْ یَفْعَلْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ (مسند احمد: ۷۶)
سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یمامہ کی لڑائی کے متعلق میری طرف پیغام بھیجا، جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے، اس وقت سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پا س آئے ہیں اور انہو ں نے بتلایا کہ یمامہ میں شدید لڑائی ہوئی اور بہت سے مسلمان قرائِ کرام شہید ہوگئے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ اگر جنگوںمیں اسی طرح قراء شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کا بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا، جسے محفوظ نہیں کیا گیا ہوگا۔ میر اخیا ل ہے کہ آپ قرآن کریم کو یکجا جمع کرنے کا حکم صادر فرمائیں، میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: جو کام اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا، وہ میں کیونکر کروں؟ انہو ںنے کہا: اللہ کی قسم!یہ کام بہتر ہے، وہ میرے ساتھ اس بارے میں اصرار کرتے رہے تاآنکہ اللہ نے اس کا م کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میر ی رائے بھی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کے موافق ہوگئی۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے، مگر انہوں نے کوئی بات نہ کی، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: زید! تم ایک سمجھدار نوجوان ہو، ہم کسی مسئلے میں تم پر کوئی الزام نہیں لگاتے، تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے وحی لکھا کرتے تھے، اب تم ہی اسے ایک جگہ جمع کرو۔ سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ میرے لیے اس قدر گراں نہ ہوتا، جتنا میرے لیے قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا حکم گراں گزرا ہے۔ میں نے بھی ان سے کہا تھا کہ تم لوگ وہ کام کیوں کرتے ہو، جو رسول الہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں کیا؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12171

۔ (۱۲۱۷۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا إِنِّی أَبْرَأُ إِلٰی کُلِّ خَلِیلٍ مِنْ خُلَّتِہِ، وَلَوِ اتَّخَذْتُ خَلِیلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِیلًا، إِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیلُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۳۵۸۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میں اپنے ہر خلیل کی خلت اور گہری دوستی سے اظہار براء ت کرتا ہوں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہو تا تو ابو بکر کو بتاتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ تعالیٰ کا دوست ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12172

۔ (۱۲۱۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَا نَفَعَنِیْ مَالٌ قَطٌّ مَا نَفَعَنِیْ مَالُ اَبِیْ بَکْرٍ۔)) فَبَکٰی اَبُوْ بَکْرٍ وَقَالَ: ھَلْ اَنَا وَمَالِیْ اِلَّا لَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! (مسند احمد: ۷۴۳۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جتنا فائدہ مجھے ابو بکر کے مال سے پہنچاہے، اتنا کسی دوسرے کے مال سے نہیںپہنچا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خوشی سے رو پڑے اور کہا: اللہ کے رسول! میں اور میرا مال، سب کچھ آپ کا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12173

۔ (۱۲۱۷۳)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حَدَّثَہُ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ فِی الْغَارِ، وَقَالَ مَرَّۃً: وَنَحْنُ فِی الْغَارِ: لَوْ أَنَّ أَحَدَہُمْ نَظَرَ إِلٰی قَدَمَیْہِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَا اَبَا بَکْرٍ! مَاظَنُّکَ بِاثْنَیْنِ اللّٰہُ ثَالِثُہُمَا؟)) (مسند احمد: ۱۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غار میں تھے اور دشمن غار کے منہ پر کھڑے تھے، تو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اگر ان میںسے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف جھانکا تو اپنے قدموں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے، جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12174

۔ (۱۲۱۷۴)۔ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی جَیْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: ((عَائِشَۃُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَمِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: ((أَبُوہَا۔)) قُلْتُ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((عُمَرُ۔)) قَالَ: فَعَدَّ رِجَالًا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۴)
سیدنا عمر و بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے غزوۂ ذات ِسلاسل کے لیے روانہ کیا، میں اس سے فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میںسے آپ کو سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ سے۔ میں نے کہا: اور مردو ں میں سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے والد سے۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر سے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید چند آدمیوں کے نام لیے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12175

۔ (۱۲۱۷۵)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ: کَانَ رُبَمَا سَقَطَ الْخِطَامُ مِنْ یَدِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: فَیَضْرِبُ بِذِرَاعِ نَاقَتِہِ فَیُنِیخُہَا فَیَأْخُذُہُ، قَالَ: فَقَالُوْا لَہُ: أَفَلَا أَمَرْتَنَا نُنَاوِلُکَہُ؟ فَقَالَ: إِنَّ حَبِیبِی رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِی أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۶۵)
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ بسا اوقات سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ سے اونٹنی کی مہار چھوٹ کر نیچے گر جاتی تو وہ اونٹنی کی اگلی ٹانگ پر کوئی چیز مارکر اسے بٹھاتے اور خود اتر کر اس کو اٹھاتے تھے، لوگوں نے کہا: آپ ہمیں حکم دے دیتے، ہم آپ کو پکڑا دیتے، انھوں نے کہا: میرے حبیب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12176

۔ (۱۲۱۷۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قِیْلَ لِاَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَا خَلِیْفَۃَ اللّٰہِ!، فَقَالَ: اَنَا خَلِیْفَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَناَ رَاضٍ بہٖ،وَاَناَرَاضٍبہِ،وَاَناَرَاضٍبہٖ۔ (مسنداحمد: ۵۹)
ابن ابی مکیہ سے مروی ہے کہ اس نے کہا: کسی نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے اللہ کے خلیفہ! تو انھوں نے آگے سے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خلیفہ ہوں اور میں اسی پر راضی ہوں، میں اسی پر راضی ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12177

۔ (۱۲۱۷۷)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی الْمُعَلَّی، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ یَوْمًا فَقَالَ: ((إِنَّ رَجُلًا خَیَّرَہُ رَبُّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَ أَنْ یَعِیشَ فِی الدُّنْیَا مَا شَائَ أَنْ یَعِیشَ فِیہَا، وَیَأْکُلَ فِی الدُّنْیَا مَا شَائَ أَنْ یَأْکُلَ فِیہَا، وَبَیْنَ لِقَائِ رَبِّہِ فَاخْتَارَ لِقَائَ رَبِّہِ، فَاخْتَارَ لِقَائَ رَبِّہٖ۔)) قَالَ: فَبَکٰی أَبُو بَکْرٍ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ ہٰذَا الشَّیْخِ، أَنْ ذَکَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا، خَیَّرَہُ رَبُّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَ لِقَائِ رَبِّہِ وَبَیْنَ الدُّنْیَا، فَاخْتَارَ لِقَائَ رَبِّہِ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ أَعْلَمَہُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: بَلْ نَفْدِیکَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَیْنَا فِی صُحْبَتِہِ وَذَاتِ یَدِہِ مِنِ ابْنِ أَبِی قُحَافَۃَ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِی قُحَافَۃَ، وَلٰکِنْ وُدٌّ وَإِخَائُ إِیمَانٍ، وَلٰکِنْ وُدٌّ وَإِخَائُ إِیمَانٍ مَرَّتَیْنِ، وَإِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۰۶)
سیدنا ابو معلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن خطاب کیا اور فرمایا: ایک بندے کو اس کے رب نے اختیار دیا ہے کہ و ہ چاہے تو دنیا میں زندہ رہے اور جو چاہے کھائے پئے، اور اگر وہ چاہے تو اپنے ربّ سے جاملے، اس بندے نے اپنے رب کی ملاقات کو پسند کرلیا ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگ گئے، صحابہ نے کہا: اس بزرگ کو دیکھو،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی صالح بندے کا ذکر کیا ہے کہ اس کے رب نے اسے اپنی ملاقات یا دنیا میں رہنے میں سے ایک بات کو منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس نے اپنے رب کی ملاقات کو منتخب کیا۔ (اور ابو بکر نے رونا شروع کر دیا)۔ دراصل سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن کر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے اموال اور اولاد سمیت آپ پر فدا ہوں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کوئی اپنی صحبت اور مال کے لحاظ سے ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا محسن نہیں، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا، البتہ محبت اور ایمانی بھائی چارہ قائم ہے،البتہ ہمارے درمیان محبت اور اخوّت ِ ایمانی کا تعلق قائم ہے، تمہارا یہ ساتھی اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12178

۔ (۱۲۱۷۸)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ: إِنِّی لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ خَلِیفَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَفَاۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَہْرٍ، فَذَکَرَ قِصَّۃً فَنُودِیَ فِی النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاۃَ جَامِعَۃٌ، وَہِیَ أَوَّلُ صَلَاۃٍ فِی الْمُسْلِمِینَ نُودِیَ بِہَا إِنَّ الصَّلَاۃَ جَامِعَۃٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ شَیْئًا صُنِعَ لَہُ کَانَ یَخْطُبُ عَلَیْہِ، وَہِیَ أَوَّلُ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا فِی الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! وَلَوَدِدْتُ أَنَّ ہٰذَا کَفَانِیہِ غَیْرِی، وَلَئِنْ أَخَذْتُمُونِی بِسُنَّۃِ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا أُطِیقُہَا، إِنْ کَانَ لَمَعْصُومًا مِنَ الشَّیْطَانِ، وَإِنْ کَانَ لَیَنْزِلُ عَلَیْہِ الْوَحْیُ مِنَ السَّمَائِ۔ (مسند احمد: ۸۰)
قیس بن ابی حازم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے ایک مہینہ بعد خلیفۂ رسول سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں انہیں کوئی بات یا د آئی اور انھوں نے لوگوں میں یہ اعلان کرایا کہ اَلصَّلَاۃَ جَامِعَۃٌ ،مسلمانوں میں یہ پہلی نماز تھی، جس کے لیے اس الصَّلَاۃَ جَامِعَۃٌ کے الفاظ کے ساتھ اعلان کیا گیا، لوگ اکٹھے ہوئے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ منبر پر تشریف لے آئے، اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور کہا: لوگو! میں چاہتا ہو ں کہ اس بارِ خلافت کو کوئی اور آدمی سنبھال لے اور میں نے ا س سے سبکدوش ہو جاؤں، اگر تم اپنے نبی کی سنت کے مطابق میرا مؤاخذہ کرنے لگو تو میں اس کی تاب نہ لاسکوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر تو آسمان سے وحی نازل ہوتی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شیطانی اثر سے معصوم و محفوظ تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12179

۔ (۱۲۱۷۹)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَنَّہُ خَطَبَ فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ، وَتَضَعُونَہَا عَلٰی غَیْرِ مَا وَضَعَہَا اللّٰہُ: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْکَرَ بَیْنَہُمْ فَلَمْ یُنْکِرُوہُیُوشِکُ أَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہٖ))۔ (مسند احمد: ۵۳)
قیس بن ابی حازم سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے تو ہو مگر تم اس آیت کو اس کے غیر محل پر چسپاں کر رہے ہو، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ میں نے خود اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لو گ جب کسی برائی کو اپنے درمیا ن دیکھ کر اس پر انکار نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب نازل کر دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12180

۔ (۱۲۱۸۰)۔ عَنْ أَوْسَطَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَنَۃٍ، فَأَلْفَیْتُ أَبَا بَکْرٍ یَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ فَخَنَقَتْہُ الْعَبْرَۃُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! سَلُوا اللّٰہَ الْمُعَافَاۃَ، فَإِنَّہُ لَمْ یُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ یَقِینٍ بَعْدَ مُعَافَاۃٍ، وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِیبَۃٍ بَعْدَ کُفْرٍ، وَعَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّہُ یَہْدِی إِلَی الْبِرِّ، وَہُمَا فِی الْجَنَّۃِ، وَإِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ، فَإِنَّہُ یَہْدِی إِلَی الْفُجُورِ، وَہُمَا فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۴۴)
اوسط بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ آیا، میںنے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انہوںنے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گزشتہ سال ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، یہ کہہ کر ان کی آواز آنسوؤں کی وجہ سے بند ہو گئی، تین بار ایسے ہی ہوا، بالآخر کہا:لوگو! اللہ سے عافیت کا سوال کرو، عافیت کے بعد ایمان و ایقان جیسی کوئی نعمت نہیں، جو بندے کو دی گئی ہو، اور نہ کفر کے بعد شک و شبہ سے بڑھ کر کوئی سخت گناہ ہے، تم صدق اور سچائی کو لازم پکڑو، یہ انسان کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور صدق اور نیکی کا انجام جنت ہے اور تم جھوٹ سے بچ کر رہو، یہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹ اور گناہ کا انجام جہنم ہے۔ُُ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12181

۔ (۱۲۱۸۱)۔ (عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: خَطَبَنَا اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقَامِیْ ہٰذَا عَامَ الْاَوَّلِ، وَبَکٰی اَبُوْ بَکْرٍ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: سَلُوا اللّٰہَ الْمُعَافَاہَ اَوْ قَالَ: الْعَافِیَۃَ، فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِالْمُتَقَدِّمِ وَزَادَ: ((وَلَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَقَاطَعُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَکُوْنُوْا اِخْوَانًا کَمَا اَمَرَکُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۵)
۔ (دوسری سند) اوسط بن عمر و کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: گزشتہ سال اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری اسی جگہ پر کھڑے ہوئے، یہ کہہ کر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رو پڑے، پھر انھوں نے کہا: تم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو، پھر سابق حدیث کی طرح ذکر کیا اور مزید کہا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، آپس میں بغض نہ رکھو، آپس میں قطع رحمی نہ کرو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی اختیار نہ کرو اور تم بھائی بھائی بن کر رہو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12182

۔ (۱۲۱۸۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، أَنَّہَا تَمَثَّلَتْ بِہَذَا الْبَیْتِ، وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقْضِی وَأَبْیَضَیُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْہِہِ، رَبِیعُ الْیَتَامَی عِصْمَۃٌ لِلْأَرَامِلِ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَاللّٰہُ عَنْہُ: ذَاکَ وَاللّٰہِ! رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہو رہے تھے تو انہوں نے یہ شعر پڑھا۔ وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقٰی الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ رَبِیْعُ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَ رَامِلٖ اور سفید فام، جس کے چہرے کے ذریعے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا مربی اور بیواؤںکا محافظ ہے۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ سن کر کہا: اللہ کی قسم! یہ ہستی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12183

۔ (۱۲۱۸۳)۔ عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَت: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو بَکْرٍ، قَالَ: أَیُّیَوْمٍ ہٰذَا؟ قُلْنَا: یَوْمُ الِاثْنَیْنِ، قَالَ: فَأَیُّیَوْمٍ قُبِضَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْنَا: قُبِضَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، قَالَ: فَإِنِّی أَرْجُو مَا بَیْنِی وَبَیْنَ اللَّیْلِ، قَالَتْ: وَکَانَ عَلَیْہِ ثَوْبٌ فِیہِ رَدْعٌ مِنْ مِشْقٍ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلُوا ثَوْبِی ہٰذَا، وَضُمُّوا إِلَیْہِ ثَوْبَیْنِ جَدِیدَیْنِ فَکَفِّنُونِی فِی ثَلَاثَۃِ أَثْوَابٍ، فَقُلْنَا: أَفَلَا نَجْعَلُہَا جُدُدًا کُلَّہَا؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا ہُوَ لِلْمُہْلَۃِ، قَالَتْ: فَمَاتَ لَیْلَۃَ الثُّلَاثَائِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شدید بیمار ہو گئے تو پوچھا کہ آج کو نسا دن ہے؟ ہم نے کہا: جی آج سوموار ہے، انہوںنے پوچھا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس دن فوت ہوئے تھے؟ ہم نے کہا: سوموار کے دن، انہوںنے کہا: مجھے لگتا ہے کہ میں آج رات تک فوت ہو جاؤں گا،انہوں نے ایک کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، اس پر گیرو کا نشان لگا ہوا تھا، انھوں نے کہا: جب میں فوت ہوجاؤں تو میرے اسی کپڑے کو دھولینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملالینا اورمجھے تین کپڑوںمیں کفن دے دینا۔ ہم نے کہا: کیا ہم سارے کپڑے نئے نہ بنا دیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ (میت کی) پیپ کے لیے ہیں، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ منگل کی رات کو وفات پا گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12184

۔ (۱۲۱۸۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَالَ لَہَا: فِی أَیِّیَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: فِییَوْمِ الِاثْنَیْنِ، فَقَالَ: مَا شَائَ اللّٰہُ إِنِّی لَا أَرْجُو فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ اللَّیْلِ، قَالَ: فَفِیمَ کَفَّنْتُمُوہُ؟ قَالَتْ: فِی ثَلَاثَۃِ أَثْوَابٍ بِیضٍ سُحُولِیَّۃٍیَمَانِیَۃٍ، لَیْسَ فِیہَا قَمِیصٌ وَلَا عِمَامَۃٌ، وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: اُنْظُرِی ثَوْبِی ہٰذَا فِیہِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ، أَوْ مِشْقٍ فَاغْسِلِیہِ وَاجْعَلِی مَعَہُ ثَوْبَیْنِ آخَرَیْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا أَبَتِ! ہُوَ خَلِقٌ؟قَالَ: إِنَّ الْحَیَّ أَحَقُّ بِالْجَدِیدِ، وَإِنَّمَا ہُوَ لِلْمُہْلَۃِ، وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ أَعْطَاہُمْ حُلَّۃً حِبَرَۃً فَأُدْرِجَ فِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَخْرَجُوہُ مِنْہَا، فَکُفِّنَ فِی ثَلَاثَۃِ أَثْوَابٍ بِیضٍ، قَالَ: فَأَخَذَ عَبْدُ اللّٰہِ الْحُلَّۃَ، فَقَالَ: لَأُکَفِّنَنَّ نَفْسِی فِی شَیْئٍ مَسَّ جِلْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بَعْدَ ذٰلِکَ وَاللّٰہِ! لَا أُکَفِّنُ نَفْسِی فِی شَیْئٍ مَنَعَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُکَفَّنَ فِیہِ، فَمَاتَ لَیْلَۃَ الثُّلَاثَائِ، وَدُفِنَ لَیْلًا، وَمَاتَتْ عَائِشَۃُ، فَدَفَنَہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ لَیْلًا۔ (مسند احمد: ۲۵۵۱۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتقال کس روز کو ہواتھا؟ انہوں نے کہا: سوموار کو۔انہوں نے کہا: ماء شا اللہ، مجھے لگتا ہے کہ میںآج رات فوت ہوجاؤں گا، انھوں نے پوچھا: تم لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کس قسم کے کپڑوں میںکفن دیا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ یمن کی سحول بستی کے بنے ہوئے تین سفید کپڑوں میں، ان میں قمیض تھی نہ پگڑی، انھوں نے کہا: میرے اس کپڑے کو زعفران کا داغ لگا ہوا ہے، اسے دھولینا اور اس کے ساتھ دو اور کپڑے ملا لینا، سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا:ابا جان! یہ تو پرانا ہے، انہو ں نے کہا: زندہ آدمی نئے کپڑے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے، کفن کا کپڑا تو پیپ (گلے سڑے جسم) کے لیے ہوتا ہے، سیدنا عبداللہ بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں ایک دھاری دار چادر دی تھی، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی لپیٹا گیا تھا۔ پھر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ا س سے باہر نکال کر تین سفید کپڑوں میں کفن دیاگیا، بعد میں سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ چادر خود رکھ لی تھی اور کہا: میں اپنا کفن اس کپڑے سے تیار کراؤں گا، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسد اطہر کو مس کر چکا ہو، پھر بعدمیں انہوں نے کہا: اللہ کی قسم!میں خود کو ایسے کپڑے میں دفن نہیں کراؤں گا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دفن نہیں ہونے دیا۔ پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ منگل کی رات کو انتقال کر گئے اور انہیں رات ہی کو دفن کر دیا گیا اور جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا انتقال ہوا تھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں بھی رات کو دفن کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12185

۔ (۱۲۱۸۵)۔ عَنْ قَیْسٍ قَالَ: رَأَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَبِیَدِہِ عَسِیبُ نَخْلٍ، وَہُوَ یُجْلِسُ النَّاسَ یَقُولُ: اسْمَعُوا لِقَوْلِ خَلِیفَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَجَائَ مَوْلًی لِأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُیُقَالُ لَہُ: شَدِیدٌ بِصَحِیفَۃٍ فَقَرَأَہَا عَلَی النَّاسِ، فَقَالَ: یَقُولُ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا لِمَا فِی ہٰذِہِ الصَّحِیفَۃِ، فَوَاللّٰہِ! مَا أَلَوْتُکُمْ، قَالَ قَیْسٌ: فَرَأَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَعْدَ ذٰلِکَ عَلَی الْمِنْبَرِ۔ (مسند احمد: ۲۵۹)
قیس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی، وہ لوگو ں کو بٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خلیفہ کی بات سنو، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک خادم، جس کا نام شدید تھا، وہ ایک تحریر لے کر آیا اور اس نے وہ تحریر لوگوں کے سامنے پڑھی۔ اس نے کہا:سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اس تحریر میں جو کچھ ہے، اسے سنو اور تسلیم کرو۔ اللہ کی قسم! میں نے تمہارے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔قیس کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منبر پر دیکھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12186

۔ (۱۲۱۸۶)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْ کَانَ مِنْ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۰)
سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: اگر میرے بعد کوئی نبی آنا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12187

۔ (۱۲۱۸۷)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قال: ((اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ بِاَبِیْ جَہْلٍ اَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَکَانَ اَحَبُّہُمَا اِلَی اللّٰہِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ کو ان میں زیادہ محبوب سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12188

۔ (۱۲۱۸۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ نَوْفَلٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: إِذَا ذُکِرَ الصَّالِحُونَ فَحَیَّہَلًا بِعُمَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۶۷)
ابو نوفل سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جب صالحین کا تذکرہ کیا جائے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی یاد کیے جانے کے اہل ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12189

۔ (۱۲۱۸۹)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ، عَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّہُ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: نِعْمَ الْفَتٰی غُضَیْفٌ، فَلَقِیَہُ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ: أَیْ أُخَیَّ اسْتَغْفِرْ لِی، قَالَ: أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِی، فَقَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ: نِعْمَ الْفَتٰی غُضَیْفٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ بِالْحَقِّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہِ۔)) قَالَ عَفَّانُ: عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ یَقُولُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۲۰)
غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب سے گزرے، انہو ں نے کہا، غضیف! اچھا آدمی ہے، پھر غصیف کی سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی تو سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ غضیف نے کہا: آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہیں، آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے حق میں دعا کریں، انھوں نے کہا: میں نے عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ غضیف اچھا آدمی ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دل و زبان پر حق کو جاری کر دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12190

۔ (۱۲۱۹۰)۔ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَی شَیْبَۃَ بْنِ عُثْمَانَ فِی ہَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: جَلَسَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَکَ ہٰذَا، فَقَالَ: لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِیہَا صَفْرَائَ وَلَا بَیْضَائَ إِلَّا قَسَمْتُہَا بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ، قَالَ: لِمَ؟ قُلْتُ: لَمْ یَفْعَلْہُ صَاحِبَاکَ، قَالَ: ہُمَا الْمَرْئَ انِ یُقْتَدٰی بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۱۵۴۵۷)
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زبان کے لیے حق کو لازم قرار دیا ہے، ان کی زبان حق سے باطل کی طرف تجاوز نہیںکر سکتی۔ سبحان اللہ! سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جس آدمی کو اچھا کہہ دیتے، لوگ اسے اچھا سمجھنا شروع کر دیتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12191

۔ (۱۲۱۹۱)۔ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، فَرَأَیْتُ قَصْرًا مِنْ ذَہَبٍ، قُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَیْشٍ، فَظَنَنْتُ أَنِّی أَنَا ہُوَ، قَالُوْا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ)) (مسند احمد: ۱۳۸۸۳)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: میںجنت میں داخل ہوا اور میں نے وہاں سونے سے بنا ہوا ایک محل دیکھا، میں نے دریافت کیا کہ یہ محل کس کا ہے، انہو ں نے کہا یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے سمجھا کہ شاید اس سے مراد میں ہوں، انہو ں نے بتلایا کہ یہ عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12192

۔ (۱۲۱۹۲)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا) أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا أَسِیرُ فِی الْجَنَّۃِ، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا یَا جِبْرِیلُ؟ وَرَجَوْتُ أَنْ یَکُونَ لِی، قَالَ: قَالَ: لِعُمَرَ، قَالَ: ثُمَّ سِرْتُ سَاعَۃً فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ خَیْرٍ مِنَ الْقَصْرِ الْأَوَّلِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا یَا جِبْرِیلُ؟ وَرَجَوْتُ أَنْ یَکُونَ لِی، قَالَ: قَالَ لِعُمَرَ، وَإِنَّ فِیہِ لَمِنَ الْحُورِ الْعِینِ،یَا أَبَا حَفْصٍ! وَمَا مَنَعَنِی أَنْ أَدْخُلَہُ إِلَّا غَیْرَتُکَ۔)) قَالَ: فَاغْرَوْرَقَتْ عَیْنَا عُمَرَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا عَلَیْکَ فَلَمْ أَکُنْ لِأَغَارَ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۸۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںجنت میں چلا جارہا تھا کہ مجھے ایک محل دکھائی دیا، میں نے کہا اے جبریل! یہ کس کا ہے؟ جبکہ مجھے امید تھی کہ یہ میرا ہوگا، انھوں نے کہا: یہ عمر کا ہے، پھر میں مزید کچھ دیر چلا تو پہلے سے زیادہ خوبصورت محل نظر آیا، میں نے کہا: جبریل! یہ کس کا ہے؟ جبکہ مجھے توقع تھی کہ وہ میرا ہوگا، انہو ںنے بتلایا کہ یہ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے اور اس میں فراخ چشم حوریں بھی ہیں، اے عمر! اگر تمہاری غیرت مانع نہ ہوتی تو میں اس کے اندر چلا جاتا۔ یہ سن کر عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور انہو ںے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر تو غیرت نہیں کھاسکتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12193

۔ (۱۲۱۹۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: ((یَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِی إِلَی الْجَنَّۃِ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَکَ أَمَامِی، إِنِّی دَخَلْتُ الْبَارِحَۃَ الْجَنَّۃَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَکَ، فَأَتَیْتُ عَلٰی قَصْرٍ مِنْ ذَہَبٍ مُرْتَفِعٍ مُشْرِفٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ، قُلْتُ: أَنَا عَرَبِیٌّ، لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: فَأَنَا مُحَمَّدٌ لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔)) فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَوْلَا غَیْرَتُکَیَا عُمَرُ! لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا کُنْتُ لِأَغَارَ عَلَیْکَ، قَالَ: وَقَالَ لِبِلَالٍ: ((بِمَ سَبَقْتَنِی إِلَی الْجَنَّۃِ؟)) قَالَ: مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بِہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۴)
سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کے وقت سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلاایا اور ان سے فرمایا: اے بلال! تم کس عمل کی بنا پر جنت میں مجھ سے سبقت لے جا رہے تھے؟ میں جب بھی جنت میں گیا، وہاںمیں نے تمہارے پاؤں کی آہٹ اپنے سامنے سنی ہے۔ گزشتہ رات میں جنت میں گیا تو میں نے تمہاری وہی آواز سنی، پھر میں سونے سے بنے ہوئے ایک بلند وبالا محل کے پاس پہنچا۔ میں نے دریافت کیاکہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک عربی شخص کا ہے، میں نے کہا: عربی تو میں بھی ہوں، یہ محل ہے کس کا؟ انہو ںنے بتلایا کہ یہ امت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں سے ایک آدمی کا ہے، میں نے کہا: میں ہی محمد ہوں، مجھے بتلاؤ کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہو ں نے کہا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! اگر تمہاری غیرت کالحاظ نہ ہوتا تو میں محل کے اندر چلا جاتا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ پر غیرت نہیں کر سکتا۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم کس عمل کی بنا پر جنت میں مجھ سے سبقت لیے جا رہے تھے؟ انہوں نے کہا: میںجب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کرتا ہوں اور دو رکعت (تحیۃ الوضو پڑھتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12194

۔ (۱۲۱۹۴)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((رَأَیْتُنِی دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ، فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَیْصَائِ امْرَأَۃِ أَبِی طَلْحَۃَ۔)) قَالَ: ((وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِی، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ: ہٰذَا بِلَالٌ، قَالَ: وَرَأَیْتُ قَصْرًا أَبْیَضَ بِفِنَائِہِ جَارِیَۃٌ، قَالَ: قُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالَ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَیْہِ، قَالَ: فَذَکَرْتُ غَیْرَتَکَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَعَلَیْکَ أَغَارُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۶۶)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12195

۔ (۱۲۱۹۵)۔ عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: حَدَّثَنِی ابْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَیْتُنِی فِی الْجَنَّۃِ، فَإِذَا امْرَأَۃٌ تَوَضَّأُ إِلٰی جَنْبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَکَرْتُ غَیْرَتَکَ فَوَلَّیْتُ مُدْبِرًا۔)) وَعُمَرُ رَحِمَہُ اللّٰہُ حِینَیَقُولُ ذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ عِنْدَہُ مَعَ الْقَوْمِ، فَبَکٰی عُمَرُ حِینَ سَمِعَ ذٰلِکَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَعَلَیْکَ بِأَبِی أَنْتَ أَغَارُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ (مسند احمد: ۸۴۵۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں ہوں، ایک خاتون ایک محل کے پاس وضو کر رہی تھی، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔ عمر! (میں نے اس کے اندر جانا چاہا لیکن) مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی، پس میں واپس پلٹ آیا۔ جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات ارشاد فرما رہے تھے تو اس وقت سیدنا عمر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ بھی لوگوںکے ساتھ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہو ںنے جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات سنی تو رونے لگ گئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا والد آپ پر قربان جائے، کیا میں آپ پر غیرت کھا سکتا ہوں؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12196

۔ (۱۲۱۹۵)۔ عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: حَدَّثَنِی ابْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَیْتُنِی فِی الْجَنَّۃِ، فَإِذَا امْرَأَۃٌ تَوَضَّأُ إِلٰی جَنْبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَکَرْتُ غَیْرَتَکَ فَوَلَّیْتُ مُدْبِرًا۔)) وَعُمَرُ رَحِمَہُ اللّٰہُ حِینَیَقُولُ ذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ عِنْدَہُ مَعَ الْقَوْمِ، فَبَکٰی عُمَرُ حِینَ سَمِعَ ذٰلِکَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَعَلَیْکَ بِأَبِی أَنْتَ أَغَارُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ (مسند احمد: ۸۴۵۱)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یقینا جنتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیداری کی حالت میں یا خواب کی حالت میں میں جو کچھ دیکھا، وہ برحق ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جنت میں تھا، میں نے ایک محل دیکھا اور پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے، بتلایا گیا کہ یہ عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12197

۔ (۱۲۱۹۵)۔ عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: حَدَّثَنِی ابْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَیْتُنِی فِی الْجَنَّۃِ، فَإِذَا امْرَأَۃٌ تَوَضَّأُ إِلٰی جَنْبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوْا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَکَرْتُ غَیْرَتَکَ فَوَلَّیْتُ مُدْبِرًا۔)) وَعُمَرُ رَحِمَہُ اللّٰہُ حِینَیَقُولُ ذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ عِنْدَہُ مَعَ الْقَوْمِ، فَبَکٰی عُمَرُ حِینَ سَمِعَ ذٰلِکَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَعَلَیْکَ بِأَبِی أَنْتَ أَغَارُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ (مسند احمد: ۸۴۵۱)
سیدنا مصعب بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جنتی ہیں، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ مجھے انتہائی قیمتی سرخ اونٹ مل جائیں اور تم اٹھ کر چلے جاؤ قبل اس کے کہ میں تمہیں پوری بات بتلاؤں کہ میں نے یہ بات کیوں کہی ہے، ا س کے بعد انہو ں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب بیان کیا اور پھر کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب حق ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12198

۔ (۱۲۱۹۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُتِیتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْہُ، ثُمَّ أَعْطَیْتُ فَضْلِی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔)) قَالُوْا: فَمَا أَوَّلْتَہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْعِلْمُ۔)) (مسند احمد: ۵۸۶۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، میں نے اس میں سے نوش کیا اور پھر بچا ہوا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے دیا۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علم۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12199

۔ (۱۲۱۹۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَیْتُ أَنِّی أَنْزِعُ عَلٰی حَوْضِی، أَسْقِی النَّاسَ، فَأَتَانِی أَبُو بَکْرٍ، فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ یَدِی، لِیُرَفِّہَ حَتّٰی نَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَیْنِ، وَفِی نَزْعِہِ ضَعْفٌ، قَالَ: فَأَتَانِی ابْنُ الْخَطَّابِ، وَاللّٰہُ یَغْفِرُ لَہُ، فَأَخَذَہَا مِنِّی فَلَمْ یَنْزِعْ رَجُلٌ حَتّٰی تَوَلَّی النَّاسُ، وَالْحَوْضُ یَتَفَجَّرُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۲۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ میں اپنے حوض پر کھڑا پانی کھینچ کھینچ کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، اتنے میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے راحت دلانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا، انہو ں نے ایک دو ڈول کھینچے، ان کے اس عمل میں کچھ کمزوری تھی، اس کے بعدابن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے ڈول لے لیا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے،وہ تو مسلسل کھینچتے رہے، یہاں تک کہ سب لوگ سیراب ہو کر واپس چلے گئے، اور حوض جو ش مارہا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12200

۔ (۱۲۲۰۰)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((رَأَیْتُ فِیمَایَرَی النَّائِمُ، کَأَنِّی أَنْزِعُ أَرْضًا، وَرَدَتْ عَلَیَّ غَنَمٌ سُودٌ، وَغَنَمٌ عُفْرٌ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَیْنِ، وَفِیہِمَا ضَعْفٌ، وَاللّٰہُ یَغْفِرُ لَہُ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ، فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَمَلَأَ الْحَوْضَ، وَأَرْوَی الْوَارِدَۃَ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِیًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ السُّودَ الْعَرَبُ، وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۱۱)
سیدنا ابوطفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جیسے سونے والا خواب دیکھتا ہے، اسی طرح میں نے دیکھا کہ گویا میں پانی کے ڈول کھینچ کھینچ کر زمین کو سیراب کر رہاہوں، میرے پاس کچھ سیاہ اور کچھ مٹیالے رنگ کی بکریاں آئیں، اتنے میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے، انہوں نے ایک دو ڈول تو کھینچے، لیکن اس کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ انہیں معاف کرے، اس کے بعد عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے اور انہوں نے ڈول کھینچنا شروع کیے، وہ ڈول بہت بڑا ڈول بن گیا، انہوں نے پانی کھینچ کھینچ کر حوض کو بھر دیا اور آنے والوں کو خوب سیر کردیا، میں نے کسی جوان کو عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بہتر انداز میں ڈول کھینچتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر میں نے اس خواب کی تعبیر یوں کی کہ سیاہ بکریوں سے عرب لوگ اور مٹیالے رنگ والی بکریوں سے مراد عجمی لوگ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12201

۔ (۱۲۲۰۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّیَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ النَّاسَ یُعْرَضُونَ، وَعَلَیْہِمْ قُمُصٌ، مِنْہَا مَا یَبْلُغُ الثَّدْیَ، وَمِنْہَا مَا یَبْلُغُ دُونَ ذٰلِکَ، وَمَرَّ عَلَیَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَیْہِ قَمِیصٌیَجُرُّہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا أَوَّلْتَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الدِّینُ))۔ (مسند احمد: ۱۱۸۳۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں لوگوں کو دیکھا، وہ میرے سامنے آرہے تھے، انہو ںنے قمیصیں پہن رکھی ہیں، کسی کی قمیص اس کی چھاتی تک ہے اور کسی کی اس سے نیچے تک، جب عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے سامنے سے گزرے تو وہ قمیص (لمبی ہونے کی وجہ سے) زمین پر گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12202

۔ (۱۲۲۰۲)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ النَّاسَ یُعْرَضُونَ عَلَیَّ، وَعَلَیْہِمْ قُمُصٌ، مِنْہَا مَا یَبْلُغُ الثَّدْیَ، وَفِیہَا مَا یَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ، فَعُرِضَ عَلَیَّ عُمَرُ، وَعَلَیْہِ قَمِیصٌیَجُرُّہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَاکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الدِّینُ۔))(مسند احمد: ۲۳۵۵۹)
سہل بن حنیف کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ مجھ پر پیش کیے جانے لگے، جبکہ انھوں نے قمیضیں پہنی ہوئی تھیں، کسی کی قمیض چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور کسی کی اس سے نیچے تک، اتنے میں عمر کو مجھ پر پیش کیا گیا، (ان کی قمیض تو اس قدر لمبی تھی) کہ وہ اسی کو گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12203

۔ (۱۲۲۰۲)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُ النَّاسَ یُعْرَضُونَ عَلَیَّ، وَعَلَیْہِمْ قُمُصٌ، مِنْہَا مَا یَبْلُغُ الثَّدْیَ، وَفِیہَا مَا یَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ، فَعُرِضَ عَلَیَّ عُمَرُ، وَعَلَیْہِ قَمِیصٌیَجُرُّہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَاکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الدِّینُ۔))(مسند احمد: ۲۳۵۵۹)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: تم میں سے کس نے آج کسی جنازہ میں شرکت کی ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے آج کسی بیمارکی تیمارداری کی ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں نے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت واجب ہوگئی ہے، واقعی واجب ہوگئی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12204

۔ (۱۲۲۰۴)۔ عَنْ أَبِی سِنَانٍ الدُّؤَلِیِّ أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَعِنْدَہُ نَفَرٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ الْأَوَّلِینَ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَی سَفَطٍ أُتِیَ بِہِ مِنْ قَلْعَۃٍ مِنَ الْعِرَاقِ، فَکَانَ فِیہِخَاتَمٌ، فَأَخَذَہُ بَعْضُ بَنِیہِ، فَأَدْخَلَہُ فِی فِیہِ فَانْتَزَعَہُ عُمَرُ مِنْہُ، ثُمَّ بَکٰی عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ لَہُ مَنْ عِنْدَہُ: لِمَ تَبْکِی؟ وَقَدْ فَتَحَ اللّٰہُ لَکَ وَأَظْہَرَکَ عَلٰی عَدُوِّکَ وَأَقَرَّ عَیْنَکَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تُفْتَحُ الدُّنْیَا عَلٰی أَحَدٍ إِلَّا أَلْقَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَائَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ وَأَنَا أُشْفِقُ مِنْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۹۳)
ابوسنان دؤلی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے، جبکہ ان کے پاس اولین مہاجرین کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، انہو ں نے پیغام بھیج کر خوشبو کی ڈبیہ منگوائی، جو عراق کے ایک قلعہ سے منگوائی گئی تھی، اس میں ایک انگوٹھی تھی، ان کے ایک بیٹے نے اسے لا کر اپنے منہ میں ڈال لیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے منہ سے نکلو ادی، اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے، وہاں پر موجود لوگوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ کیوں روتے ہیں، جبکہ اللہ نے آپ کو فتح سے نوازا اور آپ کو دشمن پر غلبہ دے کر آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا ہے؟ سیدنا عمر نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ جس بندے پر دنیا فراخ کر دیتا ہے تو وہ ان لوگوں کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے۔ اور مجھے اس بات کا اندیشہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12205

۔ (۱۲۲۰۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَدْ کَانَ فِی الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ یَکُنْ مِنْ أُمَّتِی فَعُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۸۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گزشتہ امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے، جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوتا تھا، اگر میری امت میں کوئی ایسا آدمی ہے تو وہ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12206

۔ (۱۲۲۰۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ قَدْ کَانَ فِیمَا مَضٰی قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ یُحَدَّثُونَ، وَإِنَّہُ إِنْ کَانَ فِی أُمَّتِی ہٰذِہِ مِنْہُمْ أَحَدٌ، فَإِنَّہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے پہلی امتوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے تھے کہ جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوتا تھا، اگر میری امت میں کوئی ایسا آدمی ہواتو وہ عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12207

۔ (۱۲۲۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَی قَلْبِ عُمَرَ وَلِسَانِہِ۔)) قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ، فَقَالُوْا فِیہِ، وَقَالَ فِیہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَوْ قَالَ عُمَرُ، إِلَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی نَحْوٍ مِمَّا قَالَ عُمَرُُ۔ (مسند احمد: ۵۶۹۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دل و زبان پر حق جاری کر دیا ہے۔ جب لوگوں کو کوئی معاملہ پیش آتا اور مختلف افراد اپنی اپنی رائے دیتے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی رائے دیتے تو قرآن مجید سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کی موافقت میں نازل ہوتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12208

۔ (۱۲۲۰۸)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ فِی ثَلَاثٍ، أَوْ وَافَقَنِی رَبِّی فِی ثَلَاثٍ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَوِ اتَّخَذْتَ الْمَقَامَ مُصَلًّی؟ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی} وَقُلْتُ: لَوْ حَجَبْتَ عَنْ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ، فَإِنَّہُ یَدْخُلُ عَلَیْکَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَأُنْزِلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ، قَالَ: وَبَلَغَنِی عَنْ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ شَیْئٌ فَاسْتَقْرَیْتُہُنَّ أَقُولُ لَہُنَّ: لَتَکُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ لَیُبْدِلَنَّہُ اللّٰہُ بِکُنَّ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ مُسْلِمَاتٍ حَتّٰی أَتَیْتُ عَلٰی إِحْدٰی أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ، فَقَالَتْ: یَا عُمَرُ! أَمَا فِی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَعِظُ نِسَائَ ہُ حَتّٰی تَعِظَہُنَّ، فَکَفَفْتُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {عَسَی رَبُّہُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ یُبْدِلَہُ أَزْوَاجًا خَیْرًا مِنْکُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ} الْآیَۃَـ (مسند احمد: ۱۶۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے تین باتوں میں اپنے رب کے فیصلہ کی موافقت کی ہے یا میرے ربّ نے تین باتوں میں میری موافقت کی ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لیں تو؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی}… تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ میںنے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ کی خدمت میںنیک اور فاجر ہر قسم کے لوگ آتے ہیں، اس لیے اگر آپ امہات المومنین کو پردہ کر ائیں تو بہتر ہو گا۔ اس کے بعد پردہ سے متعلقہ آیات نازل ہوگئیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے امہات المومنین کے بارے میں کوئی خبر ملی، سو میں نے ایک ایک سے جاکر کہا کہ تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کے مطالبات کرنا چھوڑ دو، وگرنہ اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ تم سے بہتر مسلم خواتین کو لے آئے گا، ایک ام المومنین کی خدمت میں جب میں نے گزارش کی تو اس نے تو یہ کہہ دیا کہ عمر! اللہ کے رسول اپنی ازواج کو جو کچھ نصیحت فرماتے ہیں، کیا وہ کافی نہیں ہیں کہ تم بھی اس بارے میں انہیں وعظ کرنے لگے ہو؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: {عَسٰی رَبُّہٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّاَبْکَارًا} … اس کارب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12209

۔ (۱۲۲۰۹)۔ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ بِأَرْبَعٍ، بِذِکْرِ الْأَسْرٰییَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِہِمْ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ} وَبِذِکْرِہِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَائَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَحْتَجِبْنَ، فَقَالَتْ لَہُ زَیْنَبُ: وَإِنَّکَ عَلَیْنَایَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَالْوَحْیُیَنْزِلُ فِی بُیُوتِنَا، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوہُنَّ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ} وَبِدَعْوَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَہُ: ((اللَّہُمَّ أَیِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ۔)) وَبِرَأْیِہِ فِی أَبِی بَکْرٍ کَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَایَعَہُ۔ ((مسند احمد: ۴۳۶۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چار امور میں لوگوں پر فضیلت لے گئے، انہو ں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چار امور میں لوگوں پر فضیلت لے گئے، انہو ں نے بدر کے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12210

۔ (۱۲۲۱۰)۔ عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زَیْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَخْبَرَہُ، أَنَّ أَبَاہُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ: اِسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَعِنْدَہُ نِسَائٌ مِنْ قُرَیْشٍیُکَلِّمْنَہُ وَیَسْتَکْثِرْنَہُ، عَالِیَۃٌ أَصْوَاتُہُنَّ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ قُمْنَ یَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِی فَدَخَلَ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَجِبْتُ مِنْ ہٰؤُلَائِ اللَّاتِی کُنَّ عِنْدِی، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ۔)) قَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کُنْتَ أَحَقَّ أَنْ یَہَبْنَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: أَیْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِہِنَّ أَتَہَبْنَنِی وَلَا تَہَبْنَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْنَ: نَعَمْ، أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا لَقِیَکَ الشَّیْطَانُ قَطُّ سَالِکًا فَجًّا إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ۔)) وَقَالَ یَعْقُوبُ: مَا أُحْصِی مَا سَمِعْتُہُ یَقُولُ: حَدَّثَنَا صَالِحٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۲)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جانے کی اجازت طلب کی، اس وقت کچھ قریشی خواتین آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھی گفتگو کر رہی تھیں اور نان ونفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں خاصی بلند ہورہی تھیں، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ جلدی سے چھپنے لگ گئیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کوآنے کی اجازت دی، جب وہ آئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا رہے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کے دانتوں کو ہنستا رکھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ان خواتین پر تعجب ہو رہا ہے، یہ میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، جب انہو ں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے چھپ گئیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ آپ سے ڈریں۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اپنی جانوں کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیںڈرتیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تم رسول اللہ کی بہ نسبت سخت اور درشت مزاج ہو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اے عمر! جب بھی شیطان تجھ سے ملتا ہے تو جس راستے پر تو چل رہا ہوتا ہے، وہ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12211

۔ (۱۲۲۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ، أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ سَرِیعٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ حَمِدْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِمَحَامِدَ وَمدَحٍ وَإِیَّاکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا إِنَّ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰییُحِبُّ الْمَدْحَ، ہَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِہِ رَبَّکَ۔)) قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنْشِدُہُ فَجَائَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ أَدْلَمُ أَصْلَعُ أَعْسَرُ أَیْسَرُ، قَالَ: فَاسْتَنْصَتَنِی لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَۃَ کَیْفَ اسْتَنْصَتَہُ، قَالَ: کَمَا صَنَعَ بِالْہِرِّ، فَدَخَلَ الرَّجُلُ فَتَکَلَّمَ سَاعَۃً ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُہُ أَیْضًا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ فَاسْتَنْصَتَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَوَصَفَہُ أَیْضًا، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَنْ ذَا الَّذِی اسْتَنْصَتَّنِی لَہُ، فَقَالَ: ((ہٰذَا رَجُلٌ لَا یُحِبُّ الْبَاطِلَ ہٰذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۵)
سیدنا اسودبن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے رب کی تعریفات بیان کی ہیں اور آپ کی بھی مدح سرائی کی ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یاد رکھو! تمہارے ربّ حمد کو پسند کرتا ہے، تم نے اپنے رب کی جو مدح کی ہے، وہ ذرا سناؤ تو سہی۔ میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنانے لگا، اتنے میں ایک سیاہ فام، دراز قد، گنجا اور اپنے دائیں اور بائیں دونوںہاتھوں سے کام کرنے والا ایک آدمی آگیا۔ اس کے آنے پررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے چپ کر ادیا۔ ابو سلمہ نے ہمارے سامنے ان کے چپ کرانے کی کیفیت بھی بیان کی کہ جیسے بلی کو آوازدی جاتی ہے، پس وہ آدمی آیا، اس نے کچھ دیر گفتگو کی اور اس کے بعد وہ چلا گیا، اس کے جانے کے بعد میں دوبارہ اپنا کلام پیش کرنے لگا، وہ آدمی دوبارہ آگیا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پھر خاموش کر ادیا۔ ابو سلمہ نے دوبارہ خاموش کرانے کی کیفیت کو دہرایا، دو تین مرتبہ ایسے ہی ہوا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون آدمی ہے جس کی آمد پر آپ نے مجھے خاموش کرادیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ آدمی ہے جو لغو کو پسند نہیں کرتا، یہ عمر بن خطاب ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12212

۔ (۱۲۲۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کُنْتُ أَدْخُلُ بَیْتِی الَّذِی دُفِنَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی، فَأَضَعُ ثَوْبِی، فَأَقُولُ: إِنَّمَا ہُوَ زَوْجِی وَأَبِی، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَہُمْ فَوَاللّٰہِ! مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَۃٌ عَلَیَّ ثِیَابِی، حَیَائً مِنْ عُمَرَ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۷۹)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اس گھر میں داخل ہوتی رہتی تھی، جس میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور میرے والد مدفون تھے، میں وہاں کپڑا بھی اتار لیتی تھی اور کہتی تھی کہ ایک میرا شوہر ہیں اور ایک میرے والد، لیکن اللہ کی قسم! جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دفن کیے گئے تو میں ان سے حیا کرتے ہوئے اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر داخل ہوتی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12213

۔ (۱۲۲۱۳)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ أَنَّ أَمَۃً سَوْدَائَ أَتَتْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِیہِ، فَقَالَتْ: إِنِّی کُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّکَ اللّٰہُ صَالِحًا، أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَکَ بِالدُّفِّ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِی، وَإِنْ کُنْتِ لَمْ تَفْعَلِی فَلَا تَفْعَلِی۔)) فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ وَہِیَ تَضْرِبُ، وَدَخَلَ غَیْرُہُ وَہِیَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّہَا خَلْفَہَا، وَہِیَ مُقَنَّعَۃٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَفْرَقُ مِنْکَ یَا عُمَرُ، أَنَا جَالِسٌ ہَاہُنَا، وَدَخَلَ ہٰؤُلَائِ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ، فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۷۷)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی غزوہ سے واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام لونڈی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا:میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سالم واپس لائے تومیں آپ کے پاس دف بجاؤں گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے یہ نذر مانی ہے تو اسے پورا کر لو اور اگر تم نے یہ منت نہیں مانی تھی تو اس کام کو رہنے دو۔ پس وہ دف بجانے لگ گئی، اسی دوران سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے، وہ دف بجاتی رہی، کچھ دوسرے حضرات بھی آئے، وہ مسلسل دف بجاتی رہی۔ لیکن بعد میں جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو اس نے دف کو اپنے پیچھے کر لیا اور خود بھی چھپنے لگی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! بیشک تجھ سے تو شیطان بھی ڈرتا ہے، میں یہاں بیٹھا ہوں اور یہ لوگ بھی آئے ہیں، یہ لونڈی دف بجانے میں مگن رہی، لیکن جب تم آئے تو اس نے یہ کاروائی کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12214

۔ (۱۲۲۱۴)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْکِنْدِیِّ، أَنَّہُ رَکِبَ إِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَسْأَلُہُ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ، قَالَ: فَقَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَسَأَلَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مَا أَقْدَمَکَ؟ قَالَ: لِأَسْأَلَکَ عَنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ، قَالَ: وَمَا ہُنَّ؟ قَالَ: رُبَّمَا کُنْتُ أَنَا وَالْمَرْأَۃُ فِی بِنَائٍ ضَیِّقٍ، فَتَحْضُرُ الصَّلَاۃُ، فَإِنْ صَلَّیْتُ أَنَا وَہِیَ کَانَتْ بِحِذَائِی، وَإِنْ صَلَّتْ خَلْفِی خَرَجَتْ مِنَ الْبِنَائِ، فَقَالَ عُمَرُ: تَسْتُرُ بَیْنَکَ وَبَیْنَہَا بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّی بِحِذَائِکَ إِنْ شِئْتَ، وَعَنْ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: نَہَانِی عَنْہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَعَنْ الْقَصَصِ فَإِنَّہُمْ أَرَادُونِی عَلَی الْقَصَصِ، فَقَالَ: مَا شِئْتَ کَأَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَمْنَعَہُ، قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَنْتَہِیَ إِلَی قَوْلِکَ، قَالَ: أَخْشٰی عَلَیْکَ أَنْ تَقُصَّ، فَتَرْتَفِعَ عَلَیْہِمْ فِی نَفْسِکَ، ثُمَّ تَقُصَّ فَتَرْتَفِعَ حَتّٰییُخَیَّلَ إِلَیْکَ أَنَّکَ فَوْقَہُمْ بِمَنْزِلَۃِ الثُّرَیَّا، فَیَضَعَکَ اللّٰہُ تَحْتَ أَقْدَامِہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقَدْرِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۱۱)
حارث بن معاویہ کندی سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں تین باتیں دریافت کرنے کے لیے سوار ہو کر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گیا، جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ میں نے بتلایا کہ آپ سے تین امور کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: وہ کون سے امور ہیں؟ میں نے کہا: بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں اور میری اہلیہ کسی تنگ مکان میں ہوتے ہیں، اتنے میں نماز کا وقت ہو جاتا ہے، لیکن اگر میں نماز پڑھوں تو وہ میرے سامنے آ جاتی ہے اور اگر وہ میرے پیچھے نماز ادا کرے تو مکان سے باہر نکل جاتی ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم اپنے اور ا س کے درمیان کپڑا لٹکا لیا کرو، پھر وہ تمہارے سامنے نماز پڑھتی رہے، اگر چاہے تو۔ پھر میں نے ان سے عصر کے بعد دورکعتیں ادا کرنے کے بارے میں پوچھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ان دورکعتوں سے منع فرمایا تھا، پھر میں نے کہا: تیسری بات یہ ہے کہ میں آپ سے وعظ و تقریر کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان کے سامنے وعظ و تقریر کیا کروں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو تم چاہتے ہو، کر لو۔ بس یوں لگا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو اس کام سے روکنے کو ناپسند کیا۔ اس آدمی نے کہا: میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ تم ان کے سامنے وعظ و تقریر کرو گے اور تم دلی طو رپر اپنے آپ کو دوسروں سے اعلی اور برتر سمجھنے لگو، تم پھر وعظ و تقریر کرو گے اور تم اپنے آپ کو ان کے مقابلہ میں یوں سمجھنے لگو گے کہ گویا تم ثریا ستارے کی طرح اعلی و افضل ہو، لیکن تم اپنے آپ کو ان سے جس قدر برتر سمجھو گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی قدر تمہیں ان کے قدموں کے نیچے ڈالے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12215

۔ (۱۲۲۱۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ رَخَّصَ لِنَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا شَائَ، وَإِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ مَضٰی لِسَبِیلِہِ، فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ کَمَا أَمَرَکُمْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، وَحَصِّنُوْا فُرُوجَ ہٰذِہِ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جو چاہا، اپنے نبی کو رخصتیں دیں اور نبی کریم دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لہٰذا تم حج و عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح پورا کرو، جیسا کہ اس نے تمہیں حکم دیا ہے، نیز تم اپنی بیویوں کی شرم گاہوں کو پاکدامن رکھو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12216

۔ (۱۲۲۱۶)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو سَمِعَ بَجَالَۃَیَقُوْلُ: کُنْتُ کَاتِبًا لِجَزْئِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ فَأَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِہِ بِسَنَۃٍ: أَنِ اقْتُلُوْا کُلَّ سَاحِرٍ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْیَانُ: وَسَاحِرَۃٍ، وَفَرِّقُوْا بَیْنَ کُلِّ ذِیْ مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوْسِ وَانْہَوْھُمْ عَنِ الْزَمْزَمَۃِ، فَقَتَلْنَا ثَلَاثَۃَ سَوَا حِرَ،وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ حَرِیْمَتِہِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَصَنَعَ جَزْئٌ طَعَامًا کَثِیْرًا وَعَرَضَ السَّیْفَ عَلٰی فَخِذِہِ وَدَعَا الْمَجُوْسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَیْنِ مِنْ وَرِقٍ فَأَکَلُوْا مِنْ غَیْرِ زَمْزَمَۃَ وَلَمْ یَکُنْ عُمَرُ أَخَذَ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْیَانُ: قَبِلَ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوْسِ حَتّٰی شَہِدَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَھَا مِنْ مَجُوْسِ ھَجَرَ، وَقَالَ اَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ: حَجَّ بَجَالَۃُ مَعَ مُصْعَبٍ سَنَۃَ سَبْعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۷)
بجالہ کہتے ہیں: میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، وہ احنف بن قیس کے چچا تھے، ہمارے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خط آیا، یہ ان کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے، اس میں یہ بات تحریر کی گئی تھی کہ ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کر دو اور مجوسیوں بجالہ کہتے ہیں: میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، وہ احنف بن قیس کے چچا تھے، ہمارے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خط آیا، یہ ان کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے، اس میں یہ بات تحریر کی گئی تھی کہ ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کر دو اور مجوسیوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12217

۔ (۱۲۲۱۷)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَبَیْنَا أَنَا کَذٰلِکَ إِذْ جَائَ ہُ مَوْلَاہُ یَرْفَأُ، فَقَالَ: ہٰذَا عُثْمَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَسَعْدٌ وَالزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، قَالَ: وَلَا أَدْرِی أَذَکَرَ طَلْحَۃَ أَمْ لَا، یَسْتَأْذِنُونَ عَلَیْکَ، قَالَ: ائْذَنْ لَہُمْ ثُمَّ مَکَثَ سَاعَۃً، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ہٰذَا الْعَبَّاسُ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَسْتَأْذِنَانِ عَلَیْکَ، قَالَ: ائْذَنْ لَہُمَا فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ قَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! اقْضِ بَیْنِی وَبَیْنَ ہٰذَا، وَہُمَا حِینَئِذٍیَخْتَصِمَانِ فِیمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِی النَّضِیرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: اِقْضِ بَیْنَہُمَایَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! وَأَرِحْ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْ صَاحِبِہِ، فَقَدْ طَالَتْ خُصُومَتُہُمَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنْشُدُکُمُ اللّٰہَ الَّذِی بِإِذْنِہِ تَقُومُ السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ۔))؟ قَالُوْا: قَدْ قَالَ ذٰلِکَ، وَقَالَ لَہُمَا مِثْلَ ذٰلِکَ، فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّی سَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ہٰذَا الْفَیْئِ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہُ بِشَیْئٍ لَمْ یُعْطِہِ غَیْرَہُ فَقَالَ: {وَمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ} وَکَانَتْ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاصَّۃً، وَاللّٰہِ! مَا احْتَازَہَا دُونَکُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِہَاعَلَیْکُمْ، لَقَدْ قَسَمَہَا بَیْنَکُمْ وَبَثَّہَا فِیکُمْ حَتّٰی بَقِیَ مِنْہَا ہٰذَا الْمَالُ، فَکَانَیُنْفِقُ عَلٰی أَہْلِہِ مِنْہُ سَنَۃً، ثُمَّ یَجْعَلُ مَا بَقِیَ مِنْہُ مَجْعَلَ مَالِ اللّٰہِ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا وَلِیُّ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَہُ أَعْمَلُ فِیہَا بِمَا کَانَ یَعْمَلُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہَا۔ (مسند احمد: ۴۲۵)
مالک بن اوس بن حدثان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بلوایا، ابھی تک میں وہیں تھا کہ ان کے خادم یرفا نے آکر بتلایا کہ سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن، سیدنا سعد اور سیدنا زبیر بن عوام آئے ہیں، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس نے سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا تھا یا نہیں، یہ حضرات آپ کے ہاںآنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: جی ان حضرات کو آنے دو، کچھ دیر کے بعد غلام نے آکر کہا: سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے ہیں، وہ آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں،انہو ں نے کہا: جی ان کو بھی آنے دو۔ جب سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو انہو ں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ اس کے اور میرے درمیان فیصلہ کر دیں، اس وقت وہ بنو نضیر کے اموال میں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مالِ فی ٔ کے بارے میں الجھ رہے تھے، ان کی بات سن کر سب لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں اور دونوں کو ایک دوسرے سے راحت دلائیں۔ ان کا یہ جھگڑا خاصا طو ل ہو چکاہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس کے حکم سے یہ آسمان اور زمین قائم ہیں! کیاتم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ؟ سب نے کہا: جی واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب یہی بات ان دونوں سے پوچھی تو انھوں نے بھی مثبت جواب دیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہیں اس مالِ فی ٔ کے بارے میں بتلاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مالِ فی ٔ کو اپنے نبی کے لیے مخصوص کیا ہے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے علاوہ یہ کسی دوسرے کو نہیں دیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ}… اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے اپنے رسول کو جو مال فے دیا ہے، اس کے حصول کے لیے تم نے گھوڑوں اور سواریوں کو نہیں بھگایا۔ یہ اموال اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے خاص تھے، اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو اکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سارا مال خود رکھ لیا ہو اور تمہیں نہ دیا ہو اور نہ ہی آپ نے اس مال کے بارے میں دوسروںکو تمہارے ا وپر ترجیح دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سارے اموال تمہارے درمیان تقسیم کر دیتے، پھر اس سے جو بچ جاتا، آپ اس میں سے سارا سال اپنے اہل خانہ پر خرچ کر تے تھے اور جو بچ جاتا، اس کو اللہ کے مال کے طور پر خرچ کردیتے تھے، جب اللہ کے رسول کا انتقال ہوا تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خلیفہ ہوں، میں اس مال میں اسی طرح تصرف کروں گا، جیسے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تصرف کیا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12218

۔ (۱۲۲۱۸)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِی شَیْخٌ مِنْ قُرَیْشٍ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ قَالَ: حَدَّثَنِی فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَقَالَ: فَعَدَّ سِتَّۃً أَوْ سَبْعَۃً کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ، فِیہِمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ، قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ، إِذْ دَخَلَ عَلِیٌّ وَالْعَبَّاسُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَدِ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: مَہْ یَا عَبَّاسُ! قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ، تَقُولُ ابْنُ أَخِی وَلِی شَطْرُ الْمَالِ، وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُیَا عَلِیُّ! تَقُولُ ابْنَتُہُ تَحْتِی وَلَہَا شَطْرُ الْمَالِ، وَہٰذَا مَا کَانَ فِییَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ رَأَیْنَا کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ فِیہِ، فَوَلِیَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ بَعْدِہِ، فَعَمِلَ فِیہِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلِیتُہُ مِنْ بَعْدِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَحْلِفُ بِاللّٰہِ لَأَجْہَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِیہِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللّٰہِ وَعَمَلِ أَبِی بَکْرٍ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَحَلَفَ بِأَنَّہُ لَصَادِقٌ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ النَّبِیَّ لَا یُورَثُ، وَإِنَّمَا مِیرَاثُہُ فِی فُقَرَائِ الْمُسْلِمِینَ وَالْمَسَاکِینِ۔)) و حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَحَلَفَ بِاللّٰہِ إِنَّہُ صَادِقٌ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ النَّبِیَّ لَا یَمُوتُ حَتّٰییَؤُمَّہُ بَعْضُ أُمَّتِہِ۔)) وَہٰذَا مَا کَانَ فِییَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ رَأَیْنَا کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ فِیہِ، فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَیْتُکُمَا لِتَعْمَلَا فِیہِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَعَمَلِ أَبِی بَکْرٍ حَتّٰی أَدْفَعَہُ إِلَیْکُمَا، قَالَ: فَخَلَوَا ثُمَّ جَائَ ا فَقَالَ الْعَبَّاسُ: ادْفَعْہُ إِلٰی عَلِیٍّ فَإِنِّی قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِہِ لَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸)
عاصم بن کلیب سے مروی ہے کہ قریش کے بنو تمیم کے ایک بزرگ نے ان کو بیان کیا اس نے چھ سات قریشی بزرگوںکا نام لے کر کہا کہ اس کو ان حضرات نے بیان کیا، ان میں سے ایک نام سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بھی تھا، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، ان کے جھگڑنے کی وجہ سے ان کی آوازیں بہت بلند ہورہی تھیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عباس! ذرا رکو تو سہی، تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو میں اسے جانتا ہوں، تم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے بھتیجے تھے، اس لیے مجھے آدھا مال ملنا چاہیے، اور علی! تم بھی جو کچھ کہنا چاہتے ہو، میں اس کو بھی جانتا ہوں، تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ آپ کی بیٹی تمہاری زوجیت میں ہے اور وہ نصف مال کی حقدار ہے۔ سنو! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں جو کچھ تھا، وہ تو وہی ہے جو ہم سب دیکھ چکے ہیں،ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں کیسے تصرف کیا کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خلیفہ بنے، انہوں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرح تصرف کیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد میں ان کا نگران مقرر ہوا ہوں، میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکا میں اسی طرح عمل کروں گا۔ اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قسم اٹھا کر کہا کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سچ بولنے والے تھے، ان سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی نبی کاوارث نہیں ہوتا، ان کی میراث تو تنگ دست و نادار مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتی ہے۔ او ر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا، جبکہ اللہ کی قسم ہے کہ وہ سچ بولنے والے تھے، یہ بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا، جب تک وہ اپنی امت میں سے کسی کی اقتدا میں نماز ادا نہ کر لے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ہم سب دیکھ چکے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں کیسے تصرف کیا کرتے تھے، اب اگرتم دونوں چاہو تو میں یہ مال تمہیںدے دیتا ہوں تاکہ تم بھی اس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرح تصرف کرتے رہو، پس وہ دونوں علیحدہ ہو گئے اور پھر آئے اور سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی آپ یہ مال سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حوالے کر دیں، میں اس بارے میں علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دلی طور پر راضی ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12219

۔ (۱۲۲۱۹)۔ عَنْ سِمَاکٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِیَاضًا الْأَشْعَرِیَّ، قَالَ: شَہِدْتُ الْیَرْمُوکَ، وَعَلَیْنَا خَمْسَۃُ أُمَرَائَ، أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَابْنُ حَسَنَۃَ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَعِیَاضٌ، وَلَیْسَ عِیَاضٌ ہٰذَا بِالَّذِی حَدَّثَ سِمَاکًا، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِذَا کَانَ قِتَالٌ فَعَلَیْکُمْ أَبُو عُبَیْدَۃَ، قَالَ: فَکَتَبْنَا إِلَیْہِ أَ نَّہُ قَدْ جَاشَ إِلَیْنَا الْمَوْتُ وَاسْتَمْدَدْنَاہُ، فَکَتَبَ إِلَیْنَا إِنَّہُ قَدْ جَائَ نِی کِتَابُکُمْ تَسْتَمِدُّونِی، وَإِنِّی أَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ ہُوَ أَعَزُّ نَصْرًا وَأَحْضَرُ جُنْدًا، اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْتَنْصِرُوہُ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ نُصِرَ یَوْمَ بَدْرٍ فِی أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِکُمْ، فَإِذَا أَتَاکُمْ کِتَابِی ہٰذَا فَقَاتِلُوہُمْ، وَلَا تُرَاجِعُونِی، قَالَ: فَقَاتَلْنَاہُمْ، فَہَزَمْنَاہُمْ، وَقَتَلْنَاہُمْ أَرْبَعَ فَرَاسِخَ، قَالَ: وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا فَتَشَاوَرُوا، فَأَشَارَ عَلَیْنَا عِیَاضٌ، أَنْ نُعْطِیَعَنْ کُلِّ رَأْسٍ عَشْرَۃً، قَالَ: وَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: مَنْ یُرَاہِنِّی؟ فَقَالَ شَابٌّ: أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ، قَالَ: فَسَبَقَہُ فَرَأَیْتُ عَقِیصَتَیْ أَبِی عُبَیْدَۃَ تَنْقُزَانِ، وَہُوَ خَلْفَہُ عَلٰی فَرَسٍ عَرَبِیٍّ۔ (مسند احمد: ۳۴۴)
عیاض اشعر ی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں یرموک کے معرکہ میں شامل تھا، پانچ افراد ہمارے اوپر امیر مقرر تھے، سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا یزید بن ابی سفیان، سیدنا ابن حسنہ، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عیاض اس جگہ عیاض سے مراد وہ عیاض نہیں جس سے سماک حدیث بیان کرتے ہیں بلکہ یہ کوئی اور شخص ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ ہدایت دی تھی کہ جب لڑائی شروع ہو تو ابوعبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہارے امیر ہوں گے، ہم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھا کہ موت ہمیں نگلنے کے لیے تیارہے، پھر ہم نے ان سے مزید کمک کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے جواباً لکھا کہ مجھے تمہاراخط ملا ہے، تم لوگوں نے مجھے سے مزید کمک طلب کی ہے، میں بہت بڑی طاقت اور تعداد کی طرف تمہاری رہنمائی کرتاہوں، تم اللہ تعالیٰ سے نصرت مانگو، بدر کے دن تمہاری بہ نسبت تعداد بہت کم تھی، لیکن پھر بھی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی گئی تھی، میرا یہ خط جب تمہارے پاس پہنچے تو تم دشمن سے لڑائی شروع کر دینا اور مجھ سے مدد طلب نہ کرنا۔ عیاض کہتے ہیں: جب ہماری دشمن سے لڑائی ہوئی تو ہم نے ان کو شکست دے دی اور ہم نے بارہ میل تک انہیں قتل کیا اور ہمیں بہت سارامالِ غنیمت حاصل ہوا، جب لوگوں نے آپس میں مشاورت کی توعیاض نے ہمیں مشورہ دیاکہ ہم ہر سر کی طرف سے دس دیں۔ سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم میں سے کون ہے جو گھڑ دوڑ میں مجھ سے بازی لگائے گا؟ ایک نوجوان نے کہا: اگرآپ ناراض نہ ہوں تو میں حاضر ہوں، چنانچہ وہ آگے آیا، میں نے سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں لٹوں کودیکھا کہ وہ ہوا میں لہرا رہی تھیں، وہ نوجوان ان کے پیچھے اور ایک عربی گھوڑے پر سوار تھا یعنی وہ نوجوان ابو عبیدہ کے مقابلہ میں پیچھے رہ گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12220

۔ (۱۲۲۲۰)۔ عَنْ سِمَاکٍ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَیَفْتَحَنَّ رَہْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ کُنُوزَ کِسْرَی الَّتِی (قَالَ أَبُو نُعَیْمٍ:) الَّذِی بِالْأَبْیَضِ۔)) قَالَ جَابِرٌ: فَکُنْتُ فِیہِمْ فَأَصَابَنِی أَلْفُ دِرْہَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۰۷)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی ایک جماعت کسریٰ کے خزانوں کو ضرورضرور فتح کرے گی۔ ابو نعیم راوی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: وہ خزانے جو اس کے سفید محلات میں ہیں۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی ان خزانوں کو فتح کرنے والوں میں شامل تھا اور ایک ہزار درہم میرے حصہ میں آئے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12221

۔ (۱۲۲۲۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِیَۃِ، فَقَالَ: قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَقَامِی فِیکُمْ، فَقَالَ: ((اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِی خَیْرًا،ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ حَتّٰی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَبْتَدِیُٔ بِالشَّہَادَۃِ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلَہَا، فَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ بَحْبَحَۃَ الْجَنَّۃِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَۃَ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَمَعَ الْوَاحِدِ، وَہُوَ مِنَ الْاِثْنَیْنِ أَبْعَدُ، لَا یَخْلُوَنَّ أَحَدُکُمْ بِامْرَأَۃٍ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ ثَالِثُہُمَا، وَمَنْ سَرَّتْہُ حَسَنَتُہُ وَسَائَـتْـہُ سَیِّئَتُہُ فَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطاب کیا اور اس میں کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے تھے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑ اہوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیںاپنے صحابہ سے اچھا سلوک کرنے کی تاکید کرتا ہوں، اور ان کے بعد آنے والے لوگوں اور پھر اُن لوگوں کے بعد آنے والوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی تمہیں وصیت کرتا ہوں، ان زمانوں کے بعد جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ آدمی گواہی کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دینا شروع کر دے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت کے وسط میں مقام بنانا چاہے، وہ جماعت کے ساتھ مل کر رہے، کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور اگر دو آدمی اکٹھے ہوں تو وہ ان سے زیادہ دور رہتا ہے اور تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ علیحدہ نہ ہو، کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہو گا، نیز جب کسی آدمی کو اس کی نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے تو وہ مؤمن ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12222

۔ (۱۲۲۲۲)۔ عَنْ نَاشِرَۃَ بْنِ سُمَیٍّ الْیَزَنِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ یَقُولُ فِییَوْمِ الْجَابِیَۃِ وَہُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِی خَازِنًا لِہٰذَا الْمَالِ وَقَاسِمَہُ لَہُ، ثُمَّ قَالَ: بَلِ اللّٰہُ یَقْسِمُہُ وَأَنَا بَادِئٌ بِأَہْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَشْرَفِہِمْ فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَشْرَۃَ آلَافٍ إِلَّا جُوَیْرِیَۃَ وَصَفِیَّۃَ ومَیْمُونَۃَ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَعْدِلُ بَیْنَنَا فَعَدَلَ بَیْنَہُنَّ عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّی بَادِئٌ بِأَصْحَابِی الْمُہَاجِرِینَ الْأَوَّلِینَ، فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا ثُمَّ أَشْرَفِہِمْ، فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْہُمْ خَمْسَۃَ آلَافٍ، وَلِمَنْ کَانَ شَہِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَۃَ آلَافٍ، وَلِمَنْ شَہِدَ أُحُدًا ثَلَاثَۃَ آلَافٍ، قَالَ: وَمَنْ أَسْرَعَ فِی الْہِجْرَۃِ أَسْرَعَ بِہِ الْعَطَائُ، وَمَنْ أَبْطَأَ فِی الْہِجْرَۃِ أَبْطَأَ بِہِ الْعَطَائُ، فَلَا یَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مُنَاخَ رَاحِلَتِہِ، وَإِنِّی أَعْتَذِرُ إِلَیْکُمْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ، إِنِّی أَمَرْتُہُ أَنْ یَحْبِسَ ہٰذَا الْمَالَ عَلٰی ضَعَفَۃِ الْمُہَاجِرِینَ، فَأَعْطٰی ذَا الْبَأْسِ وَذَا الشَّرَفِ وَذَا اللَّسَانَۃِ، فَنَزَعْتُہُ وَأَمَّرْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ: وَاللّٰہِ! مَا أَعْذَرْتَ یَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ! لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَغَمَدْتَ سَیْفًا سَلَّہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعْتَ لِوَائً نَصَبَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ، وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّکَ قَرِیبُ الْقَرَابَۃِ، حَدِیثُ السِّنِّ، مُغْضَبٌ مِنْ ابْنِ عَمِّکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۰۰)
ناشرہ بن سمی یزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جابیہ کے مقام پر سنا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مال کا خازن او رتقسیم کنند ہ بنایا ہے۔ پھر کہا: دراصل اللہ تعالیٰ ہی تقسیم کرنے والا ہے، اب میں تقسیم کرتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل خانہ سے ابتداء کرتا ہوں، پھر ان کے بعد جو افضل ہو گا، اسے دوں گا، چنانچہ انہوں نے امہات المومنین میں سیدہ جو یریہ، سیدہ صفیہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہن کے سوا باقی تمام ازواج مطہرات کے لیے دس دس ہزار مقرر کیے، لیکن جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو ہمارے درمیان عدل اور برابری فرمایا کرتے تھے، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سب کو برابر برابر حصہ دیا ہے اورپھر کہا: اب میں سب سے پہلے ان حضرات کو دیتا ہوں جو اولین مہاجرین میں سے ہیں، کیونکہ ان لوگوں پر ظلم اورزیادتی کرتے ہوئے ان کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا تھا، ان کے بعد جو لوگ فضل و شرف والے ہوں گے، ان کو دوں گا، پس انہوں نے اصحاب بدر کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے اور انصاری بدری صحابہ کے لیے چار چار ہزار اور شرکائے احد کے لیے تین تین ہزار مقرر کیے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا: جس نے ہجرت کرنے میں جلدی کی، اس کو زیادہ دیا جائے گا اور جس نے ہجرت کرنے میںدیر کی، میں بھی اس کو کم حصہ دوں گا، ہر آدمی اپنے اونٹ کے بٹھانے کی جگہ کو ملامت کرے (یعنی اگر کسی کو حصہ کم دیا جا رہا ہے تو وہ اس کی اپنی تاخیر کی وجہ سے ہے، وہ ہم پر طعن نہ کرے) اورمیں تمہارے سامنے خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں معذرت پیش کرتا ہوں،ـ میں نے انہیں حکم دیا تھا کہ یہ مال کمزور مہاجرین میں تقسیم کریں، لیکن انہوں نے یہ مال تندرست، اصحاب مرتبہ اور چالاک لوگوں میں تقسیم کر دیا، اس لیے میں یہ ذمہ داری ان سے لے کر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سونپتا ہوں،یہ سن کر ابو عمر بن حفص بن مغیرہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے عمر بن خطاب! آپ کا عذر معقول نہیں، آپ نے اس عامل کو معزدل کیا ہے جسے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مقرر فرمایا تھا، آپ نے اس تلوار کو نیام میں بند کیا ہے، جسے اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لہرایا تھا اور آپ نے اس جھنڈے کو لپیٹ دیا ہے، جس کو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نصب کیا تھا اور آپ نے یہ کام کر کے اپنے چچا زاد سے قطع رحمی کی ار اس سے حسد کا ثبوت دیا ہے۔ یہ باتیں سن کر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم اپنے اس چچازاد کے قریبی رشتہ دار ہو اور نو عمر ہو، سو تم اس کے حق میں طرف داری کر رہے ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12223

۔ (۱۲۲۲۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ، فَلَمَّا جَائَ سَرْغَ بَلَغَہُ أَنَّ الْوَبَائَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، فَأَخْبَرَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ بِہِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوْا عَلَیْہِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْہُ۔)) فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ، (وَفِیْ لَفْظٍ) فَحَمِدَ اللّٰہَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۲)
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب شام کے لیے روانہ ہوئے، جب ’ ’ سرغ مقام تک پہنچے تو ان کو اطلا ع ملی کہ شام میں (طاعون کی) وبا پھیل چکی ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بتلایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب تم کسی علاقے میں موجود ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو اس سے ڈر کر وہاں سے نہ نکلو۔ یہ حدیث سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور سرغ مقام سے واپس لوٹ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12224

۔ (۱۲۲۲۴)۔ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِی نَافِعٌ مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَالزُّبَیْرُ والْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ إِلَی أَمْوَالِنَا بِخَیْبَرَ نَتَعَاہَدُہَا، فَلَمَّا قَدِمْنَاہَا تَفَرَّقْنَا فِی أَمْوَالِنَا، قَالَ: فَعُدِیَ عَلَیَّ تَحْتَ اللَّیْلِ، وَأَنَا نَائِمٌ عَلَی فِرَاشِی، فَفُدِعَتْ یَدَایَ مِنْ مِرْفَقِی، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اسْتُصْرِخَ عَلَیَّ صَاحِبَایَ، فَأَتَیَانِی فَسَأَلَانِی عَمَّنْ صَنَعَ ہٰذَا بِکَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِی، قَالَ: فَأَصْلَحَا مِنْیَدَیَّ، ثُمَّ قَدِمُوْا بِی عَلٰی عُمَرَ، فَقَالَ: ہَذَا عَمَلُ یَہُودَ، ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ خَطِیبًا، فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ عَامَلَ یَہُودَ خَیْبَرَ عَلٰی أَنَّا نُخْرِجُہُمْ إِذَا شِئْنَا، وَقَدْ عَدَوْا عَلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَفَدَعُوْا یَدَیْہِ کَمَا بَلَغَکُمْ مَعَ عَدْوَتِہِمْ عَلَی الْأَنْصَارِ قَبْلَہُ لَا نَشُکُّ أَنَّہُمْ أَصْحَابُہُمْ، لَیْسَ لَنَا ہُنَاکَ عَدُوٌّ غَیْرُہُمْ، فَمَنْ کَانَ لَہُ مَالٌ بِخَیْبَرَ فَلْیَلْحَقْ بِہِ، فَإِنِّی مُخْرِجٌ یَہُودَ فَأَخْرَجَہُمْ۔ (مسند احمد: ۹۰)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خیبر میں اپنے اموال کی دیکھ بھال کے لیے گئے، وہاں پہنچ کر ہم میں ہر کوئی اپنے اپنے مال میں چلا گیا، میں اپنے بستر پر رات کو سویا ہوا تھا کہ مجھ پر حملہ کر دیا گیا اور کہنیوں سے میرے دونوں بازئوں کو اس طرح کھینچا گیا کہ جوڑوں میں کجی پیدا ہو گئی، جب صبح ہوئی تو میرے دونوں ساتھیوں کو میرے پاس میری مدد کے لیے بلایا گیا،جب وہ میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھ سے کہا:تمہارے ساتھ یہ کاروائی کس نے کی ہے؟ میں نے کہا: مجھے تو کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ کون تھے، انہوں نے میرے ہاتھوں کا علاج کیا اور مجھے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لے گئے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ یہودیوں کی کارستانی ہے، پھر وہ خطاب کرنے کے لیے لوگوں میں کھڑے ہوئے اور کہا، لوگو! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے معاہدہ کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے، انہیں یہاں سے نکال سکیں گے۔ ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے زیادتی کی ہے اور ان کے ہاتھ کھینچ ڈالے ہیں، جیسا کہ تم کو پتہ چل چکا ہے اور اس سے پہلے یہ انصاریوں سے دشمنی کا اظہار کر چکے ہیں، اب ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ زیادتیاں انھوں نے ہی کی ہیں، کیونکہ یہاں ہمارا کوئی اور دشمن ہی نہیں ہے، لہذا خیبر میں جس جس آدمی کا مال ہے، وہ جاکر اسے سنبھال لے، میں یہودیوں کو خیبر سے نکالنے ہی والا ہوں۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہودیوںکو وہاں سے جلا وطن کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12225

۔ (۱۲۲۲۵)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ أَبِی فِرَاسٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَلَا إِنَّا إِنَّمَا کُنَّا نَعْرِفُکُمْ، إِذْ بَیْنَ ظَہْرَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَإِذْ یَنْزِلُ الْوَحْیُ، وَإِذْ یُنْبِئُنَا اللّٰہُ مِنْ أَخْبَارِکُمْ، أَلَا! وَإِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ، وَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْیُ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُکُمْ بِمَا نَقُولُ لَکُمْ مَنْ أَظْہَرَ مِنْکُمْ خَیْرًا، ظَنَنَّا بِہِ خَیْرًا، وَأَحْبَبْنَاہُ عَلَیْہِ، وَمَنْ أَظْہَرَ مِنْکُمْ لَنَا شَرًّا، ظَنَنَّا بِہِ شَرًّا، وَأَبْغَضْنَاہُ عَلَیْہِ سَرَائِرُکُمْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ، أَلَا! إِنَّہُ قَدْ أَتٰی عَلَیَّ حِینٌ، وَأَنَا أَحْسِبُ أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ یُرِیدُ اللّٰہَ، وَمَا عِنْدَہُ فَقَدْ خُیِّلَ إِلَیَّ بِآخِرَۃٍ، أَلَا! إِنَّ رِجَالًا قَدْ قَرَئُ وْہُ یُرِیدُونَ بِہِ مَا عِنْدَ النَّاسِ، فَأَرِیدُوا اللّٰہَ بِقِرَائَتِکُمْ، وَأَرِیدُوہُ بِأَعْمَالِکُمْ، أَلَا! إِنِّی وَاللّٰہِ مَا أُرْسِلُ عُمَّالِی إِلَیْکُمْ لِیَضْرِبُوا أَبْشَارَکُمْ، وَلَا لِیَأْخُذُوْا أَمْوَالَکُمْ، وَلَکِنْ أُرْسِلُہُمْ إِلَیْکُمْ لِیُعَلِّمُوکُمْ دِینَکُمْ وَسُنَّتَکُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِہِ شَیْئٌ سِوَی ذَلِکَ فَلْیَرْفَعْہُ إِلَیَّ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِذَنْ لَأُقِصَّنَّہُ مِنْہُ، فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! أَوَ رَأَیْتَ إِنْ کَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ عَلَی رَعِیَّۃٍ، فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِیَّتِہِ، أَئِنَّکَ لَمُقْتَصُّہُ مِنْہُ؟ قَالَ: إِی وَالَّذِی نَفْسُ عُمَرَ بِیَدِہِ! إِذَنْ لَأُقِصَّنَّہُ مِنْہُ، وَقَدْ رَاَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقِصُّ مِنْ نَفْسِہِ، أَلَا! لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِینَ فَتُذِلُّوہُمْ، وَلَا تُجَمِّرُوہُمْ فَتَفْتِنُوہُمْ، وَلَا تَمْنَعُوہُمْ حُقُوقَہُمْ فَتُکَفِّرُوہُمْ، وَلَا تُنْزِلُوہُمْ الْغِیَاضَ فَتُضَیِّعُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۶)
ابو فراس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: لوگو! جب ہمارے درمیان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوا کر تی تھی اور اللہ تعالیٰ تمہاری کاروائیوں سے ہمیں باخبر کر دیا کرتے تھے، ہم تم سب کو اچھی طرح پہچان لیتے تھے، اب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا چکے ہیں اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے، اب ہم تمہیں جو کچھ کہیں گے، اسی کی روشنی میں تمہیں پہچاننے کی کوشش کریں گے، تم میں سے جو آدمی اچھائی کا اظہار کرے گا، ہم بھی اس کے متعلق اچھا گمان رکھیں گے اور اسی کے مطابق اس کے ساتھ رویہ اختیار کریں گے اور تم میں سے جس نے ہمارے ساتھ برائی کا اظہار کیا، ہم بھی اس کے متعلق برا گمان رکھیں گے اور اسی کے مطابق اس سے بغض رکھیں گے، تمہارے راز اور اندر کی باتیں تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہیں۔ خبردار! مجھ پر ایک ایسا وقت بھی گزر چکا ہے کہ میں جسے قرآن پڑھتا دیکھتا تھا، اس کے بارے میں یہی سمجھتا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، اس کو حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا ہے، اس کے بارے میں میں آخر تک یہی سمجھتا رہا، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے اس کا معاوضہ اور مال چاہتے ہیں، میں تم کو یہی کہوں گا کہ تم اپنی قراء ت اور اعمال کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ارادہ کرو۔ خبردار! اللہ کی قسم! میں اپنے عمال اور مسئولین کو تمہاری طرف اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہیں سزائیں دیں اور نہ میں انہیں اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہارے اموال ہتھیا لیں، میرا ان کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور سنت سکھائیں، اگر میرا کوئی عامل اس کے الٹ کاروائی کرے تو اس کے بارے میں مجھے خبر دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے! میں اس سے اس کی کاروائی کا بدلہ دلواؤں گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر و بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور انھوں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا خیال ہے اگر ایک مسلمان آدمی کچھ لوگوں پر حاکم ہو اور وہ اپنی رعایا کے بعض افراد کو ادب سکھانے کے لیے سزا وغیرہ دیتا ہو تو کیا آپ اس سے بدلہ لیں گے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں تب بھی ضرور ضرور اس سے بدلہ لوںگا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بدلے کے لیے خود کو پیش کر دیا تھا۔ خبردار! تم مسلمانوں کو سزائیں دے دے کر ان کو ذلیل ورسوانہ کرو اور تم انہیں زیادہ عرصے تک سرحدوں پر روک کر نہ رکھو، اس طرح تم انہیں فتنوں میں مبتلا کر دو گے اور تم انہیں ان کے حق سے محروم نہ کرو، وگرنہ تم انہیں ناشکرے بندے بنا دو گے اور تم لشکروں کو درختوں کے جھنڈوں میں نہ اتارا کرو (کیونکہ اس طرح سے وہ بکھر جائیں گے) اور ضائع ہو جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12226

۔ (۱۲۲۲۶)۔ وَعَنْ اَبِی الْعَجْفَائِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ: أَلَا! لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَائِ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ، قَالَ إِسْمَاعِیلُ: وَذَکَرَ أَیُّوبُ وَہِشَامٌ وَابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ، عَنْ عُمَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِیثِ سَلَمَۃَ إِلَّا أَنَّہُمْ قَالُوا: لَمْ یَقُلْ مُحَمَّدٌ: نُبِّئْتُ عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ۔ (مسند احمد: ۲۸۷)
ابو العجفاء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار! تم عورتوں کے مہر میں غلوّ میں نہ پڑو، پھر باقی حدیث ذکر کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12227

۔ (۱۲۲۲۷)۔ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ ذَکَرَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ رُؤْیَا، لَا أُرَاہَا إِلَّا لِحُضُورِ أَجَلِی، رَأَیْتُ کَأَنَّ دِیکًا نَقَرَنِی نَقْرَتَیْنِ، قَالَ: وَذَکَرَ لِی أَنَّہُ دِیکٌ أَحْمَرُ، فَقَصَصْتُہَا عَلَی أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ، امْرَأَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، فَقَالَتْ: یَقْتُلُکَ رَجُلٌ مِنَ الْعَجَمِ، قَالَ: وَإِنَّ النَّاسَ یَأْمُرُونَنِی أَنْ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُنْ لِیُضَیِّعَ دِینَہُ وَخِلَافَتَہُ الَّتِی بَعَثَ بِہَا نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ یَعْجَلْ بِی أَمْرٌ فَإِنَّ الشُّورٰی فِی ہٰؤُلَائِ السِّتَّۃِ الَّذِینَ مَاتَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ، فَمَنْ بَایَعْتُمْ مِنْہُمْ فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوا، وَإِنِّی أَعْلَمُ أَنَّ أُنَاسًا سَیَطْعَنُونَ فِی ہٰذَا الْأَمْرِ، أَنَا قَاتَلْتُہُمْ بِیَدِی ہٰذِہِ عَلَی الْإِسْلَامِ، أُولَئِکَ أَعْدَائُ اللّٰہِ الْکُفَّارُ الضُّلَّالُ، وَایْمُ اللّٰہِ! مَا أَتْرُکُ فِیمَا عَہِدَ إِلَیَّ رَبِّی فَاسْتَخْلَفَنِی شَیْئًا أَہَمَّ إِلَیَّ مِنَ الْکَلَالَۃِ، وَایْمُ اللّٰہِ! مَا أَغْلَظَ لِی نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَیْئٍ مُنْذُ صَحِبْتُہُ أَشَدَّ مَا أَغْلَظَ لِی فِی شَأْنِ الْکَلَالَۃِ حَتّٰی طَعَنَ بِإِصْبَعِہِ فِی صَدْرِی، وَقَالَ: تَکْفِیکَ آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِی نَزَلَتْ فِی آخِرِ سُورَۃِ النِّسَائِ، وَإِنِّی إِنْ أَعِشْ فَسَأَقْضِی فِیہَا بِقَضَائٍ یَعْلَمُہُ مَنْ یَقْرَأُ وَمَنْ لَا یَقْرَأُ، وَإِنِّی أُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی أُمَرَائِ الْأَمْصَارِ، إِنِّی إِنَّمَا بَعَثْتُہُمْ لِیُعَلِّمُوا النَّاسَ دِینَہُمْ وَیُبَیِّنُوا لَہُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَیَرْفَعُوا إِلَیَّ مَا عُمِّیَ عَلَیْہِمْ، ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ! تَأْکُلُونَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لَا أُرَاہُمَا إِلَّا خَبِیثَتَیْنِ ہٰذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ، وَایْمُ اللّٰہِ! لَقَدْ کُنْتُ أَرٰی نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَجِدُ رِیحَہُمَا مِنَ الرَّجُلِ فَیَأْمُرُ بِہِ فَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ فَیُخْرَجُ بِہِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰییُؤْتٰی بِہِ الْبَقِیعَ، فَمَنْ أَکَلَہُمَا لَا بُدَّ فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔ قَالَ: فَخَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَأُصِیبَیَوْمَ الْأَرْبِعَائِ۔ (مسند احمد: ۸۹)
معبد بن ابی طلحہ یعمری سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہوئے،ا للہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، میرے خیال میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ اب میری وفا ت کا وقت قریب آچکا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ ایک سرـخ مرغ نے مجھے دو ٹھونگیں ماری ہیں، جب میںنے یہ خواب سیدہ اسماء بنت عمیس معبد بن ابی طلحہ یعمری سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہوئے،ا للہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، میرے خیال میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ اب میری وفا ت کا وقت قریب آچکا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ ایک سرـخ مرغ نے مجھے دو ٹھونگیں ماری ہیں، جب میںنے یہ خواب سیدہ اسماء بنت عمیس
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12228

۔ (۱۲۲۲۸)۔ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ بْنِ قُدَامَۃَ، قَالَ: حَجَجْتُ فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ الْعَامَ الَّذِی أُصِیبَ فِیہِ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: فَخَطَبَ فَقَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ کَأَنَّ دِیکًا أَحْمَرَ نَقَرَنِی نَقْرَۃً أَوْ نَقْرَتَیْنِ، شُعْبَۃُ الشَّاکُّ، فَکَانَ مِنْ أَمْرِہِ أَنَّہُ طُعِنَ فَأُذِنَ لِلنَّاسِ عَلَیْہِ، فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ، ثُمَّ أَہْلُ الشَّامِ، ثُمَّ أُذِنَ لِأَہْلِ الْعِرَاقِ فَدَخَلْتُ فِیمَنْ دَخَلَ، قَالَ: فَکَانَ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہِ قَوْمٌ أَثْنَوْا عَلَیْہِ وَبَکَوْا، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَیْہِ،قَالَ: وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَہُ بِعِمَامَۃٍ سَوْدَائَ، وَالدَّمُ یَسِیلُ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَوْصِنَا، قَالَ: وَمَا سَأَلَہُ الْوَصِیَّۃَ أَحَدٌ غَیْرُنَا، فَقَالَ: عَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ، فَإِنَّکُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوہُ، فَقُلْنَا: أَوْصِنَا، فَقَالَ: أُوصِیکُمْ بِالْمُہَاجِرِینَ، فَإِنَّ النَّاسَ سَیَکْثُرُونَ وَیَقِلُّونَ، وَأُوصِیکُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّہُمْ شِعْبُ الْإِسْلَامِ الَّذِی لَجِئَ إِلَیْہِ، وَأُوصِیکُمْ بِالْأَعْرَابِ فَإِنَّہُمْ أَصْلُکُمْ وَمَادَّتُکُمْ، وَأُوصِیکُمْ بِأَہْلِ ذِمَّتِکُمْ فَإِنَّہُمْ عَہْدُ نَبِیِّکُمْ، وَرِزْقُ عِیَالِکُمْ، قُومُوْا عَنِّی، قَالَ: فَمَا زَادَنَا عَلٰی ہَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: قَالَ شُعْبَۃُ: ثُمَّ سَأَلْتُہُ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَقَالَ فِی الْأَعْرَابِ: وَأُوصِیکُمْ بِالْأَعْرَابِ، فَإِنَّہُمْ إِخْوَانُکُمْ وَعَدُوُّ عَدُوِّکُمْ۔ (مسند احمد: ۳۶۲)
جو یریہ بن قدامہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس سال سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا، اس سال میں نے حج کیا اور پھر میںمدینہ منورہ آیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک سرخ مرغ نے مجھے ایک دو ٹھونگیں ماری ہیں۔ ، پھر ہوا یوں کہ واقعی ان پر قاتلانہ حملہ ہو گیا، جب لوگوں کو ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت دی گئی تو سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب ان کے پاس گئے، ان کے بعد باقی اہل مدینہ، ان کے بعد اہل شام اور ان کے بعد اہل عراق، میں بھی ان لوگوں میں موجود تھا، جب لو گ ان کے پاس جاتے تو ان کی تعریف کرتے اور رونے لگ جاتے، جب ہم گئے تو ان کے پیٹ کو ایک سیاہ پگڑی کے ساتھ باندھا گیا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں وصیت فرمائیں، ہمارے گروہ کے سوا کسی نے وصیت کرنے کی درخواست نہیں کی تھی، ہماری درخواست سن کر انہوں نے کہا: تم اللہ کی کتاب کو لازم پکڑو، تم جب تک اس کی پیروی کرتے رہوگے، اس وقت تک گمراہ نہیں ہوگے۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں مزید وصیت کریں، انھوں نے کہا: میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتاہوں، لوگوں کی تعداد بڑھ رہی اور مہاجرین کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور میں تمہیں انصار کے بارے میں بھی وصیت کرتا ہوں، یہ وہ گھاٹی ہیں، جس میں اسلام نے آکر پناہ لی،میں تمہیں بادیہ نشینوں کے متعلق بھی وصیت کرتاہوں، کیونکہ وہ مسلمانوں کی اصل او ربنیادی جوہر ہیں اور میں تمہیں ذمی لوگوں کے بارے میں بھی وصیت کرتا ہوں،تمہارے نبی نے ان کو امان دی ہے اور یہ لوگ تمہارے اہل وعیال کی روزی کا ذریعہ بھی ہیں، اب تم میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے زیادہ ہم سے باتیں نہیں کیں۔ شعبہ کہتے ہیں:اس کے بعد ایک بار میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے بدوؤں کے بارے میں کہا: میں تمہیں بادیہ نشینوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ تمہارے بھائی ہیں اورتمہارے دشمنوں کے دشمن ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12229

۔ (۱۲۲۲۹)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَۃِ، قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ أَتٰی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حِینَ طُعِنَ، فَقَالَ: احْفَظْ عَنِّی ثَلَاثًا، فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ لَا یُدْرِکَنِیالنَّاسُ، أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَقْضِ فِی الْکَلَالَۃِ قَضَائً، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ عَلَی النَّاسِ خَلِیفَۃً، وَکُلُّ مَمْلُوکٍ لَہُ عَتِیقٌ، فَقَالَ لَہُ النَّاسُ: اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: أَیَّ ذٰلِکَ أَفْعَلُ فَقَدْ فَعَلَہُ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنِّی، إِنْ أَدَعْ إِلَی النَّاسِ أَمْرَہُمْ، فَقَدْ تَرَکَہُ نَبِیُّ اللّٰہِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدْ اسْتَخْلَفَ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنِّی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقُلْتُ لَہُ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّۃِ، صَاحَبْتَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَطَلْتَ صُحْبَتَہُ وَوُلِّیتَ أَمْرَ الْمُؤْمِنِینَ، فَقَوِیتَ وَأَدَّیْتَ الْأَمَانَۃَ، فَقَالَ: أَمَّا تَبْشِیرُکَ إِیَّایَ بِالْجَنَّۃِ، فَوَاللّٰہِ! لَوْ أَنَّ لِی قَالَ عَفَّانُ: فَلَا، وَاللّٰہِ الَّذِی لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ، لَوْ أَنَّ لِی الدُّنْیَا بِمَا فِیہَا لَافْتَدَیْتُ بِہِ مِنْ ہَوْلِ مَا أَمَامِی قَبْلَ أَنْ أَعْلَمَ الْخَبَرَ، وَأَمَّا قَوْلُکَ فِی أَمْرِ الْمُؤْمِنِینَ فَوَاللّٰہِ، لَوَدِدْتُ أَنَّ ذٰلِکَ کَفَافًا لَا لِیوَلَا عَلَیَّ، وَأَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنْ صُحْبَۃِ نَبِیِّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۳۲۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو میں سب سے پہلے ان کے پاس گیا اور انہوں نے مجھ سے کہا: تم میری تین باتیں یادرکھنا، مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ مجھے نہ مل سکیں گے، ایک یہ کہ میں نے کلالہ کی بابت کوئی حتمی فیصلہ نہیںکیا۔ دوسری یہ کہ میںنے کسی کو لوگوں پر خلیفہ نامزد نہیں کیا اور تیسری یہ کہ تمام غلام جو میری ملکیت میں ہیں، وہ سب آزاد ہیں۔پھر لوگوں نے ان سے کہا: آپ کسی کو خلیفہ نامزد کردیں۔ انہوں نے کہا: میں دو امور میں سے جو بھی کروں، وہی کام مجھ سے افضل ہستی کر چکی ہے، اگر میں خلافت کے معاملے کو لوگوں کے سپرد کر جاؤں تو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا،اور اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد کر جاؤں تو مجھ سے پہلے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ کام کر چکے ہیں، جبکہ وہ مجھ سے بہتر ہیں۔میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی بشارت ہو، آپ کو طویل عرصہ تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل رہا، آپ کو امیر المومنین کا منصب سونپا گیا تو آپ نے قوت کا مظاہرہ کیااور امانت کا خوب حق ادا کیا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جہاں تک تمہارا مجھے جنت کی بشارت دینے کا تعلق ہے، تو اللہ کی قسم ہے کہ مجھے آخرت کا اس قدرڈر ہے کہ اس بارے حتمی خبر جاننے سے قبل اگر میرے پاس دنیا بھر کی دولت بھی ہوتو میں اس ڈر سے بچنے کی خاطر ساری دولت بطور فدیہ دے دوں، اہل ایمان پر خلافت و امارت کے بارے میں جو کچھ تم نے کہا ہے، میں تو یہ پسند کرتاہوں کہ اگر حساب برابر سرابر ہو جائے، یعنی نہ مجھے کچھ ملے اور نہ مجھ پہ کوئی جرم لگایا جائے تو اس چیز کو میں اپنے حق میں کافی سمجھوں گا، البتہ تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت جو ذکر کیا ہے، وہ شرف باعث ِ اعزاز ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12230

۔ (۱۲۲۳۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَنَّہُ قَالَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: إِنِّی سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُولُونَ مَقَالَۃً، فَآلَیْتُ أَنْ أَقُولَہَا لَکُمْ، زَعَمُوْا أَنَّکَ غَیْرُ مُسْتَخْلِفٍ، فَوَضَعَ رَأْسَہُ سَاعَۃً ثُمَّ رَفَعَہُ فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَحْفَظُ دِینَہُ، وَإِنِّی إِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَسْتَخْلِفْ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدِ اسْتَخْلَفَ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا ہُوَ إِلَّا أَنْ ذَکَرَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ، فَعَلِمْتُ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْیَعْدِلُ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَدًا، وَأَنَّہُ غَیْرُ مُسْتَخْلِفٍ۔ (مسند احمد: ۳۳۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں نے لوگوں کو کچھ باتیں کرتے ہوئے سنا ہے تو میں نے عزم کیا کہ ان باتوں کاآپ سے ذکر کروں، لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کر رہے، یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا اور پھر سر اٹھا کر کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کرے گا،اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد نہ کروں تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی کسی کو نامزد نہیں گیا تھا اوراگر میں کسی کو خلیفہ نامزد کردوں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہو گا، کیونکہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نامزد کیا تھا۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب انہوں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، اِن دو ہستیوں کا ذکر کیا تو میںجان گیا کہ وہ کسی کو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے برابر نہیں کریں گے اور کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12231

۔ (۱۲۲۳۱)۔ عَنْ أَبِی رَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، کَانَ مُسْتَنِدًا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعِنْدَہُ ابْنُ عُمَرَ وَسَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنِّی لَمْ أَقُلْ فِی الْکَلَالَۃِ شَیْئًا، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِی أَحَدًا، وَأَنَّہُ مَنْ أَدْرَکَ وَفَاتِی مِنْ سَبْیِ الْعَرَبِ فَہُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ: أَمَا إِنَّکَ لَوْ أَشَرْتَ بِرَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِینَ لَأْتَمَنَکَ النَّاسُ، وَقَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأْتَمَنَہُ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: قَدْ رَأَیْتُ مِنْ أَصْحَابِی حِرْصًا سَیِّئًا، وَإِنِّی جَاعِلٌ ہٰذَا الْأَمْرَ إِلٰی ہَؤُلَائِ النَّفَرِ السِّتَّۃِ، الَّذِینَ مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: لَوْ أَدْرَکَنِی أَحَدُ رَجُلَیْنِ ثُمَّ جَعَلْتُ ہٰذَا الْأَمْرَ إِلَیْہِ لَوَثِقْتُ بِہِ، سَالِمٌ مَوْلٰی اَبِیْ حُذَیْفَۃَ وَاَبُوْ عُبَیْدَۃَ ابْنُ الْجَرَّاحِ۔ (مسند احمد: ۱۲۹)
ابو رافع سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابن عمر اور سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ان کے ہاں موجود تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یا درکھو کہ میں نے کلالہ کی بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور میں نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ کے طور پر نامزد نہیں کیا اور میری وفات کے وقت جتنے عرب غلام میری ملکیت میں ہوں، وہ سب اللہ تعالیٰ کے مال سے آزاد ہوں گے۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اگر آپ خلافت کے بارے میں کسی مسلمان کا اشارہ کر دیں تو لوگ اس بارے میں آپ کو امین خیال کریں گے، جیسا کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایسا کرگئے تھے اور لوگوں نے ان کو امین سمجھا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اپنے ساتھیوں میں خلافت کی شدید حرص دیکھی ہے، پس میں اس امر کو ایسے چھ اشخاص کے سپرد کر رہا ہوں کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات کے وقت جن سے خوش تھے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگرمجھے ان دو افراد میں کوئی ایک پا لیتا تو میں یہ معاملہ اس کے سپرد کر کے اس پر اعتماد کرتا، ایک سالم مولی ابی حذیفہ اور دوسرا ابو عبیدہ بن الجراح۔1
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12232

۔ (۱۲۲۳۲)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ، أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ: وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی سَرِیرِہِ، فَتَکَنَّفَہُ النَّاسُ یَدْعُونَ وَیُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ، وَأَنَا فِیہِمْ فَلَمْ یَرُعْنِی إِلَّا رَجُلٌ، قَدْ أَخَذَ بِمَنْکِبِی مِنْ وَرَائِی، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا ہُوَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَتَرَحَّمَ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَیَّ أَنْ أَلْقَی اللّٰہَ تَعَالٰی بِمِثْلِ عَمَلِہِ مِنْکَ، وَایْمُ اللّٰہِ! إِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّ لَیَجْعَلَنَّکَ اللّٰہُ مَعَ صَاحِبَیْکَ، وَذٰلِکَ أَنِّی کُنْتُ أُکْثِرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((فَذَہَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا ٔوَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ۔)) وَإِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّ لَیَجْعَلَنَّکَ اللّٰہُ مَعَہُمَا۔ (مسند احمد: ۸۹۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو ان کو اٹھائے جانے سے قبل لوگوں نے ان کی چارپائی کو گھیر لیا اور ان کے حق میں دعائیں اور رحمت کی التجائیں کرنے لگے، میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا، اچانک ایک آدمی نے پیچھے سے میرے ! سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ابوبکر کی خلافت میں جنگ یمامہ میں شہید ہوگئے تھے اور ابو عبیدہ بن جراح عہد فاروقی میں ۱۸ ھ میں فوت ہو گئے تھے۔ عمر بن خطاب نے اپنے اس فرمان میں ان دو شخصیات کی عظمت و جلالت کا اعتراف کیا ہے۔ (عبداللہ رفیق) کندھوں کو پکڑا، جب میں اُدھر متوجہ ہوا تو کیا دیکھا کہ وہ سیدنا علی ابن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ انہوں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دعائے رحمت کی اور کہا: آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا آدمی نہیں چھوڑا کہ جس کے بارے میں میں یہ تمنا کرسکوں کہ جب اللہ تعالیٰ سے ملوں تو میرے اعمال اس کے اعمال جیسے ہوں، اللہ کی قسم!مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ضرور ملائے گا، اس لیے کہ میں کثرت سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا کہ ’‘میں، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں، ابو بکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابو بکر اور عمر باہر گئے۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ آپ کو ان کے ساتھ ضرور ملائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12233

۔ (۱۲۲۳۳)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بَیْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقَبَرِ، فَجَائَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی قَامَ بَیْنَیَدَیِ الصُّفُوفِ، فَقَالَ: ہُوَ ہٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْکَ، مَا مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ تَعَالٰی أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَلْقَاہُ بِصَحِیفَتِہِ بَعْدَ صَحِیفَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا الْمُسَجّٰی عَلَیْہِ ثَوْبُہُ۔ (مسند احمد: ۸۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منبراور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر کے درمیان لا کر رکھا گیا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آکر صفوں آگے کھڑ ے ہوگئے اور انہوں نے تین بار کہا: آپ پر اللہ کی رحمت ہو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس ڈھانپے ہوئے آدمی کے علاوہ کوئی ایسا بشر نہیں ہے کہ میں اس جیسے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کروں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12234

۔ (۱۲۲۳۴)۔ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَہُوَ مُسَجًّی بِثَوْبِہِ، قَدْ قَضٰی نَحْبَہُ، فَجَائَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَکَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْہِہِ، ثُمَّ قَالَ: رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْکَ، أَبَا حَفْصٍ! فَوَاللّٰہِ، مَا بَقِیَ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَلْقَی اللّٰہَ تَعَالٰی بِصَحِیفَتِہِ مِنْکَ۔ (مسند احمد: ۸۶۷)
ابو حجیفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، ان پر ایک کپڑا ڈال کر انہیںڈھانپا گیا، وہ وفات پا چکے تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، انہوں نے آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور کہا: اے ابو حفص! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد آپ سے بڑھ کر کوئی آدمی مجھے اتنا محبوب نہیں کہ میں اس جیسا نامہ اعمال لیے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جا کر ملوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12235

۔ (۱۲۲۳۵)۔ وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیَّ، اَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اُصِیْبَیَوْمَ الْاَرْبِعَائِ، لِاَرْبَعَ لَیَالٍ بَقِیْنَ مِنْ ذِی الْحَجَّۃِ۔ (مسند احمد: ۳۴۱)
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بدھ کے روز قاتلانہ حملہ ہوا، ابھی تک ماہِ ذوالحجہ کے چار دن باقی تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12236

۔ (۱۲۲۳۶)۔ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ: کَیْفَ بَایَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَکْتُمْ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ؟ قَالَ: مَا ذَنْبِی قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِیٍّ، فَقُلْتُ: أُبَایِعُکَ عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ وَسُنَّۃِ رَسُولِہِ وَسِیرَۃِ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ: فَقَالَ: فِیمَا اسْتَطَعْتُ، قَالَ: ثُمَّ عَرَضْتُہَا عَلٰی عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَبِلَہَا۔ (مسند احمد: ۵۵۷)
ابووائل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: یہ کیسے ہوا کہ آپ لوگوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو چھوڑ کر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کر لی، انہوں نے کہا: اس میں میراکیا قصور ہے؟میں پہلے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیاا ور میںنے کہا: میں اللہ کی کتاب، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی سیرت کی روشنی میں آپ کی بیعت کرتاہوں، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میری طاقت کے مطابق، عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پھرمیں نے یہ چیز سیدنا عثمان پر پیش کی تو انہوں نے اسے قبول کرلیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12237

۔ (۱۲۲۳۷)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ہِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ، قَالَ: کَانَ یَقُولُ فِی خِلَافَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَا یَمُوتُ عُثْمَانُ حَتّٰییُسْتَخْلَفَ، قُلْنَا: مِنْ أَیْنَ تَعْلَمُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ کَأَنَّہُ ثَلَاثَۃٌ مِنْ أَصْحَابِی وُزِنُوْا فَوُزِنَ أَبُو بَکْرٍ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ صَاحِبُنَا، وَہُوَ صَالِحٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۲۱)
اسو د بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میںکہا کرتے تھے کہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جب تک خلافت نہیں ملے گی، انہیں اس وقت تک موت نہیں آئے گی۔ ہم نے کہا: تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے گزشتہ رات نیند میں دیکھا ہے کہ گویا میرے تین صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیاگیا، پس ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا، وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاوزن کیا گیا، وہ بھی بھاری رہے، بعد ازاں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا وزن کیا گیا تو وہ ذرا کم وزن تھے، بہرحال وہ بھی صالح آدمی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12238

۔ (۱۲۲۳۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! لَوْ کَانَ عِنْدَنَا مَنْ یُحَدِّثُنَا۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا أَبْعَثُ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ؟ فَسَکَتَ ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ کَانَ عِنْدَنَا مَنْ یُحَدِّثُنَا۔)) فَقُلْتُ: أَلَا أَبْعَثُ إِلٰی عُمَرَ؟ فَسَکَتَ، قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا وَصِیفًا بَیْنَیَدَیْہِ فَسَارَّہُ فَذَہَبَ، قَالَتْ: فَإِذَا عُثْمَانُ یَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَہُ، فَدَخَلَ فَنَاجَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَوِیلًا، ثُمَّ قَالَ: ((یَا عُثْمَانُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُکَ قَمِیصًا، فَإِنْ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُونَ عَلٰی أَنْ تَخْلَعَہُ فَلَا تَخْلَعْہُ لَہُمْ وَلَا کَرَامَۃَ۔)) یَقُولُہَا لَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! کاش ہمارے پاس کوئی ایسا آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: کاش ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: کیا میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ لیکن آپ اس بار بھی خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خادم کو بلوایا اور راز دارنہ انداز میں اس کے ساتھ کوئی بات کی، وہ چلا گیا،تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اجازت دی اور وہ اندر تشریف لے آئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافی دیر تک ان کے ساتھ سرگوشی کرتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عثمان! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اس قمیص کو اتارنے کا مطالبہ کریں تو ان کے کہنے پر تم اسے نہ اتارنا، کیونکہ اس کے اتارنے میں کوئی عزت نہیں رہے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12239

۔ (۱۲۲۳۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ أَقْبَلت إِحْدَانَا عَلَی الْأُخْرٰی، فَکَانَ مِنْ آخِرِ کَلَامٍ کَلَّمَہُ أَنْ ضَرَبَ مَنْکِبَہُ، وَقَالَ: ((یَا عُثْمَانُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ عَسٰی أَنْ یُلْبِسَکَ قَمِیْصًا، فَإِنْ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُوْنَ عَلٰی خَلْعِہٖفَلَاتَخْلَعْہٗحَتّٰی تَلْقَانِیْ،یَا عُثْمَانُ! إِنَّ اللّٰہَ عَسٰی أَنْ یُلْبِسَکَ قَمِیْصًا فَإِنْ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُوْنَ عَلٰی خَلْعِہٖفَلَاتَخْلَعْہُحَتّٰی تَلْقَانِیْ ثَلَاثًا۔)) فَقُلْتُ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤُمِنِیْنَ! فَأَیْنَ کَانَ ہَذٰا عَنْکِ؟ قَالَتْ: نَسِیْتُہُ وَاللّٰہِ! فَمَا ذَکَرْتُہُ، قَالَ: فَأَخْبَرْتُہُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِیْ سُفْیَانَ فَلَمْ یَرْضَ بِالَّذِیْ أَخْبَرْتُہُ حَتّٰی کَتَبَ إِلٰی أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنْ اکْتُبِیْ إِلَیَّ بِہِ، فَکَتَبَتْ إِلَیْہِ بِہٖکِتَابًا۔ (مسنداحمد: ۲۵۰۷۳)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے، جب ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حالت میں دیکھا تو ہم ایک طرف جا کر جمع ہوگئیں، تاکہ آپ آزادی سے گفتگو کرسکیں، بات چیت ہوتی رہی، آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ ما ر کر فرمایا: عثمان! امید ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم کو ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین تم سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو مجھے ملنے تک اس قمیض کو نہ اتارنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی۔ سیدنا نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: یہ حدیث اب تک کہاں رہی؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں بھول گئی تھی، اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں رہی تھی، سیدنا نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںنے یہ حدیث سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتلائی، لیکن انہیں میری خبر پر تسلی نہ ہوئی، یہاں تک کہ انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف لکھ بھیجا کہ وہ یہ حدیث لکھوا کر ارسال کردیں، پس سیدہ نے ایک تحریر ان کو بھجوادی، جس میں یہ حدیث لکھی ہوئی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12240

۔ (۱۲۲۴۰)۔ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا اسْتَمَعْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّۃً، فَإِنَّ عُثْمَانَ جَائَہُ فِی نَحْرِ الظَّہِیرَۃِ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُ جَائَہُ فِی أَمْرِ النِّسَائِ، فَحَمَلَتْنِی الْغَیْرَۃُ عَلٰی أَنْ أَصْغَیْتُ إِلَیْہِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْبِسُکَ قَمِیصًا، تُرِیدُکَ أُمَّتِی عَلٰی خَلْعِہِ فَلَا تَخْلَعْہُ۔)) فَلَمَّا رَأَیْتُ عُثْمَانَ یَبْذُلُ لَہُمْ مَا سَأَلُوہُ إِلَّا خَلْعَہُ، عَلِمْتُ أَنَّہُ مِنْ عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِی عَہِدَ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۴۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میںنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بے خبری میں صرف ایک بار آپ کی بات سننے کی کوشش کی اور سنی، تفصیل یہ ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دوپہر کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے سمجھا کہ شاید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں کے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے، پس میری غیرت نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں نے اپنے کان اُدھر لگا دئیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ تم کو ایک قمیص پہنائے گا، میری امت کے لوگ تم سے مطالبہ کریں گے کہ تم اس قمیض کو اتار دو، مگر تم نے وہ قمیص نہیں اتارنی۔ جب میں نے دیکھا کہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کی ہربات کو پورا کرتے آرہے ہیں، البتہ اس خلافت سے دست بردار نہیں ہورہے تو میں جان گئی کہ یہ وہی بات اور عہد ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12241

۔ (۱۲۲۴۱)۔ حَدَّثَنَا یُونُسُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْیَشْکُرِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمِّی تُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّہَا انْطَلَقَتْ إِلَی الْبَیْتِ حَاجَّۃً، وَالْبَیْتُیَوْمَئِذٍ لَہُ بَابَانِ، قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَیْتُ طَوَافِی، دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ! إِنَّ بَعْضَ بَنِیکِ بَعَثَ یُقْرِئُکِ السَّلَامَ، وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَکْثَرُوا فِی عُثْمَانَ، فَمَا تَقُولِینَ فِیہِ؟ قَالَتْ: لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَہُ، لَا أَحْسِبُہَا إِلَّا قَالَتْ ثَلَاثَ مِرَارٍ، لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَہُ إِلٰی عُثْمَانَ، وَإِنِّی لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِینِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَإِنَّ الْوَحْیَیَنْزِلُ عَلَیْہِ، وَلَقَدْ زَوَّجَہُ ابْنَتَیْہِ إِحْدَاہُمَا عَلٰی إِثْرِ الْأُخْرٰی، وَإِنَّہُ لَیَقُولُ: ((اُکْتُبْ عُثْمَانُ۔)) قَالَتْ: مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِیِّہِ بِتِلْکَ الْمَنْزِلَۃِ إِلَّا عَبْدًا عَلَیْہِ کَرِیمًا۔ (مسند احمد: ۲۶۷۷۷)
عمر بن ابراہیم یشکری نے اپنی ماں سے بیان کیا اور انھوں نے اپنی ماں سے روایت کی ہے کہ وہ حج کے لیے بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئیں، ان دنوں بیت اللہ کے دو درواز ے ہوتے تھے، وہ کہتی ہیں: جب میں نے اپنا طواف مکمل کیا تو میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی اور میں نے کہا: آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا تھا، یہ جو لوگ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں بہت سی باتیں کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، جن پر وہ لعنت کرے، یہ بات انہوں نے تین بار دوہرائی، میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کی ران مبارک سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ملی ہوئی تھی، جبکہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی ٔ مبارک سے پسینہ صاف کر رہی تھی، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول ہورہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کیا تھا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: عثمان! وحی لکھو۔ پھر انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے ہاں ایسا بلند مرتبہ اپنے کسی مقرب بندے کو ہی دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12242

۔ (۱۲۲۴۲)۔ عَنْ أَبِیْ حَبِیبَۃَ أَنَّہُ دَخَلَ الدَّارَ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِیہَا، وَأَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِی الْکَلَامِ فَأَذِنَ لَہُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّکُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِی فِتْنَۃً وَاخْتِلَافًا، أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَۃً۔)) فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ مِنْ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَمِینِ وَأَصْحَابِہِ۔)) وَہُوَ یُشِیرُ إِلٰی عُثْمَانَ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۸۵۲۲)
ابو حبیبہ سے روایت ہے کہ وہ اس گھر میں داخل ہوئے، جس میں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ محصور تھے اور اس نے سنا کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کچھ کہنے کی اجازت طلب کر رہے تھے، جب انہوں نے اجازت دی تو سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوسنا ہے، آپ فرما رہے تھے کہ تم میرے بعد فتنوں اور اختلافات کو پاؤ گے۔ کسی آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس وقت ہمارا کون ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس امانت دار اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑے رہنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرماتے ہوئے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12243

۔ (۱۲۲۴۳)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِتْنَۃً فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ: ((یُقْتَلُ فِیْہَا ہٰذَا الْمُقَنَّعُ یَوْمَئِذٍ مَظْلُوْمًا۔)) قَالَ: فَنَظَرْتُ فَاِذَا ھُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۵۹۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا، اس دوران ایک آدمی کا وہاں سے گزر ہوا، اس کو دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دنوں یہ آدمی، جو کپڑا ڈھانپ کر جا رہا ہے، مظلومیت کی حالت میں قتل ہوگا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب میں نے جا کر دیکھا تو وہ آدمی سیدنا عثمان ‌رضی ‌الل