311 Results For Hadith (Musnad Ahmad ) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12467

۔ (۱۲۴۶۷)۔ عَنْ أَبِی حَلْبَسٍ یَزِیدَ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَائِ تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ یَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَا سَمِعْتُہُ یُکَنِّیہِ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَہَا،یَقُولُ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: یَا عِیسٰی! إِنِّی بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِکَ أُمَّۃً، إِنْ أَصَابَہُمْ مَا یُحِبُّونَ حَمِدُوا اللّٰہَ وَشَکَرُوْا، وَإِنْ أَصَابَہُمْ مَا یَکْرَہُونَ احْتَسَبُوْا وَصَبَرُوْا، وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ، قَالَ: یَا رَبِّ! کَیْفَ ہٰذَا لَہُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ؟ قَالَ: أُعْطِیہِمْ مِنْ حِلْمِیْ وَعِلْمِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۹۵)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا،راویہ ام درداء کہتی ہیں: میں نے ابودرداء کو اس سے پہلے یا اس کے بعد رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر کنیت کے ساتھ کرتے نہیں سنا، بہرحال وہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تیرے بعد ایک ایسی امت بھیجنے والا ہوں، اگر ان کو وہ چیز ملے جس سے وہ محبت کرتے ہوں، تو وہ میری حمد کریں گے اور شکر بجا لائیںگے اور اگر ان کو ایسے احوال پیش آئیں، جو بظاہر انہیں ناپسند ہوں گے، تب بھی وہ صبر کریں گے اور ثواب کی امید رکھیں گے اور ان کے پاس نہ بردباری ہو گی اور نہ علم ہوگا، عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! جب ان کے پاس حلم اور علم نہ ہوگا تو مذکورہ خصائص ان میں کیسے آئیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنی طرف سے انہیں حلم اور علم سے نواز دوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12468

۔ (۱۲۴۶۸)۔ عَنْ حَکِیمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِینَ أُمَّۃً، أَنْتُمْ آخِرُہَا وَأَکْرَمُہَا عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْنِ مِنْ مَصَارِیعِ الْجَنَّۃِ مَسِیرَۃُ أَرْبَعِینَ عَامًا، وَلَیَأْتِیَنَّ عَلَیْہِیَوْمٌ وَإِنَّہُ لَکَظِیظٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۷۸)
سیدنا معاویہ بن جیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم امتوں کے ستر کے عدد کو پورا کرنے والے ہو، ان میں سے تم سب سے آخری اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزر اور مکرم ہو،جنت کے دروازوں کی جانبی لکڑیوں کے مابین چالیس برس کی مسافت ہے، لیکن جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہونے کے باوجود تمہارے رش کی وجہ سے تنگ پڑجائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12469

۔ (۱۲۴۶۹)۔ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: فُضِّلَتْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ عَلٰی سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ، جُعِلَتْ لَہَا الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُہَا عَلٰی صُفُوفِ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ ذَا: ((وَأُعْطِیتُ ہٰذِہِ الْآیَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَہَا نَبِیٌّ قَبْلِی۔))قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ: کُلُّہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۰)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اس امت کو باقی امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے: اس کے لیے پوری زمین کو ذریعۂ طہارت یعنی وضو کے قائم مقام تیمم کا ذریعہ اور عبادت گاہ بنایا گیا ہے اور اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات مجھے عرش کے نیچے والے خزانوں میں سے عطا کی گئی ہیں، ایسا خزانہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کا ایک راوی ابومعاویہ کہتا ہے کہ یہ ساری باتیں نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے منقول ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12470

۔ (۱۲۴۷۰)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَشِّرْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ بِالسَّنَائِ وَالرِّفْعَۃِ وَالدِّینِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْکِینِ فِی الْأَرْضِ۔)) وَہُوَ یَشُکُّ فِی السَّادِسَۃِ قَالَ: فَمَنْ عَمِلَ مِنْہُمْ عَمَلَ الْآخِرَۃِ لِلدُّنْیَا لَمْ یَکُنْ لَہُ فِی الْآخِرَۃِ نَصِیبٌ۔)) قَالَ عَبْد اللّٰہِ: قَالَ أَبِی أَبُو سَلَمَۃَ: ہٰذَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخُو عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیِّ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۳۹)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کو اللہ کے ہاں قدرو منزلت، بلند مرتبت، دین داری، تائید و نصرت اور زمین پر غلبہ کی بشارت دے دیں۔ راوی کو یہ پانچ چیزیں یاد رہیں اور چھٹی اس کے ذہن سے محو ہوگئی،اس کے بارے میں اسے شک ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کا جوآدمی آخرت کا عمل دنیا کے لیے کرے گا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میرے والد نے بتلایا کہ اس حدیث کے راوی ابو سلمہ کا اصل نام مغیرہ بن مسلم ہے اور وہ عبدالعزیز بن مسلم قسملی کا بھائی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12471

۔ (۱۲۴۷۱)۔ وعَنِ أَبِی مُوسٰی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أُمَّتِی أُمَّۃٌ مَرْحُومَۃٌ لَیْسَ عَلَیْہَا فِی الْآخِرَۃِ عَذَابٌ، إِنَّمَا عَذَابُہُمْ فِی الدُّنْیَا الْقَتْلُ وَالْبَلَابِلُ وَالزَّلَازِلُ)) قَالَ أَبُو النَّضْرِ: بِالزَّلَازِلِ وَالْقَتْلِ وَالْفِتَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۱۴)
سیدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت پر رحمت کر دی گئی ہے، اسے آخرت میں عذاب نہیں دیا جائے گا، میرے امتیوں کا عذاب دنیا میں قتل، پریشانیوں، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12472

۔ (۱۲۴۷۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اُمَّتِیْ اُمَّۃٌ مَرْحُوْمَۃٌ لَیْسَ عَلَیْہَا فِی الْآخِرَۃِ عَذَابٌ اِلَّا عَذَابُہَا فِی الدُّنْیَا الْقَتْلُ وَالْبَلَائُ وَالزَّلَازِلُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۹۰)
سیدناابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت پر اللہ کی خصوصی رحمت ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہو گا، اس کا عذاب تو دنیا میں قتل، پریشانیوں اور زلزلوں کی صورت میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12473

۔ (۱۲۴۷۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ: أَمَانَانِ کَانَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُہُمَا وَبَقِیَ الْآخَرُ: {وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} [الانفال: ۳۳]۔ (مسند احمد: ۱۹۸۳۶)
سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی طرف سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں اس امت کو دو ضمانتیں حاصل تھیں، اب ان میں سے ایک ضمانت تو اٹھا لی گئی ہے اور دوسری ابھی تک باقی ہے، امان کی ان دو قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} … اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12474

۔ (۱۲۴۷۴)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَنْ یَجْمَعَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ سَیْفَیْنِ، سَیْفًا مِنْہَا وَسَیْفًا مِنْ عَدُوِّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۹)
سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا،ایک تلوار اس امت کی اپنی اور دوسری دشمن کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12475

۔ (۱۲۴۷۵)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِی أَحْرَزَہُمُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ، عِصَابَۃٌ تَغْزُو الْہِنْدَ، وَعِصَابَۃٌ تَکُونُ مَعَ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۵۹)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میر ی امت کے دوگروہوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر لیا ہے، ایک وہ گروہ، جو ہندوستان پر حملہ کرے گا اور دوسرا وہ گروہ، جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12476

۔ (۱۲۴۷۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَیُّوبَ صَاحِبُ الْبَصْرِیِّ سُلَیْمَانُ بْنُ أَیُّوبَ، حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ دِینَارٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لَہُ: مَیْمُونُ بْنُ سُنْبَاذَ، یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((قِوَامُ أُمَّتِی بِشِرَارِہَا۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۲۳۳۴)
سیدنا میمون بن سنباذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نامی ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میر ی امت کا استحکام برے لوگوں سے ہوگا۔ یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار ارشاد فرمائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12477

۔ (۱۲۴۷۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أُمَّتِی لَمَنْ یَشْفَعُ لِأَکْثَرَ مِنْ رَبِیعَۃَ وَ مُضَرَ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِی لَمَنْ یَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتّٰییَکُونَ رُکْنًا مِنْ أَرْکَانِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۱۳)
سیدناابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے، جو قبیلہ ربیعہ اور مضر کے افراد سے زیادہ لوگوں کے حق میں سفارش کریں گے اور میری ہی امت میں بعض ایسے افراد بھی ہوں گے، جو جہنم کے لیے بڑے ہو جائیں گے، یہاں تک جہنم کا کونہ بھر جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12478

۔ (۱۲۴۷۸)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: ((لَا تَعْجِزُ أُمَّتِی عِنْدَ رَبِّی أَنْ یُؤَخِّرَہَا نِصْفَ یَوْمٍ۔)) وَسَأَلْتُ رَاشِدًا ہَلْ بَلَغَکَ مَاذَا النِّصْفُ یَوْمٍ؟ قَالَ خَمْسُ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۴)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجزنہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب میں نصف یوم تک روکے رکھے۔ ابو بکر کہتے ہیں: میں نے راشد سے کہا: کیاآپ کو اس بارے میں کوئی خبر پہنچی کہ نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12479

۔ (۱۲۴۷۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَعْجِزَ أُمَّتِی عِنْدَ رَبِّی، أَنْ یُؤَخِّرَہُمْ نِصْفَ یَوْمٍ۔)) فَقِیلَ لِسَعْدٍ: وَکَمْ نِصْفُ یَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجز نہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب کے لیے نصف یوم تک روکے رکھے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے پوچھا: نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوںنے کہا: پانچ سو سال۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12480

۔ (۱۲۴۸۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((کُلُّ أُمَّتِییَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا مَنْ أَبٰی۔)) قَالُوْا: وَمَنْ یَأْبٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبٰی۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میری ساری امت جنت میں جائے گی، ما سوائے ان لوگوں کے جو خود جنت میں جانے سے انکاری ہوں۔ صحابۂ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں جانے سے کون انکارکرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میںجائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12481

۔ (۱۲۴۸۱)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرْکَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی ثَبَجَ الْبَحْرِ، أَوْ ثَبَجَ ہٰذَا الْبَحْرِ، ہُمُ الْمُلُوکُ عَلَی الْأَسِرَّۃِ، أَوْ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۵۴)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک قوم اس سمندر کی سطح پر سوار ہوگی، وہ یوں لگیں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12482

۔ (۱۲۴۸۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَالَ: ((مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِییَرْکَبُونَ ہٰذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَثَلُہُمْ کَمَثَلِ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۲۱)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: وہ اللہ کی راہ میں غز وۂ کرتے ہوئے اس بحرا خضر کی سطح پر سوار ہوں گے، ان کی مثال یوں ہوگی جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12483

۔ (۱۲۴۸۳)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُ أُمَّتِی مَثَلُ الْمَطَرِ لَا یُدْرٰی أَوَّلُہُ خَیْرٌ أَمْ آخِرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۸۷)
سیدناعمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا ابتدائی حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12484

۔ (۱۲۴۸۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ مَثَلَ أُمَّتِی مَثَلُ الْمَطَرِ لَا یُدْرٰی أَوَّلُہُ خَیْرٌ أَوْ آخِرُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۵۲)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12485

۔ (۱۲۴۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُکُمْ وَمَثَلُ الْیَہُودِ وَالنَّصَارٰی، کَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ یَعْمَلُ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ إِلٰی نِصْفِ النَّہَارِ عَلٰی قِیرَاطٍ قِیرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ الْیَہُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنْ نِصْفِ النَّہَارِ إِلٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ عَلٰی قِیرَاطٍ قِیرَاطٍ؟ أَلَا فَعَمِلَتِ النَّصَارٰی، ثُمَّ قَالَ: مَنْ یَعْمَلُ لِی مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ إِلٰی غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلٰی قِیرَاطَیْنِ قِیرَاطَیْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِینَ عَمِلْتُمْ فَغَضِبَ الْیَہُودُ وَالنَّصَارٰی، قَالُوْا: نَحْنُ کُنَّا أَکْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَائً، قَالَ: ہَلْ ظَلَمْتُکُمْ مِنْ حَقِّکُمْ شَیْئًا؟ قَالُوْا: لَا، قَالَ: فَإِنَّمَا ہُوَ فَضْلِی أُوتِیہِ مَنْ أَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۴۵۰۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو بہت سے لوگوں کو بطور مزدور لگائے اور ان سے کہے: کون ہے جو صبح سے نصف النہار تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ یہودیوں نے اس شرط پر کام کیا، اس نے پھر کہا: کون ہے جو نصف النہار سے نماز عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ نصاریٰ نے اس شرط پر کام کرنا منظور کر لیا، اس نے بعد ازاں کہا: کون ہے جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض پر کام کرے گا۔ خبردار! وہ تم ہی ہو، جو تھوڑا وقت اور زیادہ معاوضہ پرکام کرنے والے ہو، یہ سن کر یہود اور نصاریٰ غضبناک ہوئے کہ ہم نے محنت زیادہ کی اور مزدوری تھوڑی ملی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پہلے یہ بتاؤ کہ کیا میں نے تمہارے حق میں کچھ کمی کی ہے یا اجرت کے سلسلہ میں تم پر کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، یہ میں جسے چاہتا ہوں، دے دیتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12486

۔ (۱۲۴۸۶)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ الْأَنْمَارِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَثَلُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ مَثَلُ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا وَعِلْمًا فَہُوَ یَعْمَلُ بِہِ فِی مَالِہِ فَیُنْفِقُہُ فِی حَقِّہِ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ عِلْمًا وَلَمْ یُؤْتِہِ مَالًا فَہُوَ یَقُولُ: لَوْ کَانَ لِی مِثْلُ مَا لِہٰذَا عَمِلْتُ فِیہِ مِثْلَ الَّذِییَعْمَلُ۔)) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَہُمَا فِی الْأَجْرِ سَوَائٌ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا وَلَمْ یُؤْتِہِ عِلْمًا فَہُوَ یَخْبِطُ فِیہِیُنْفِقُہُ فِی غَیْرِ حَقِّہِ، وَرَجُلٌ لَمْ یُؤْتِہِ اللّٰہُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَہُوَ یَقُولُ: لَوْ کَانَ لِی مَالٌ مِثْلُ ہٰذَا عَمِلْتُ فِیہِ مِثْلَ الَّذِییَعْمَلُ۔)) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَہُمَا فِی الْوِزْرِ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۷)
سیدناابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کی مثال چار آدمیوں کی مانند ہے، ایک کو اللہ تعالیٰ مال اور علم سے نوازے،وہ اپنے علم کو مال میں استعمال کرے اور مال حاصل کرکے اس کے جائز مقامات پر صرف کرے،دوسرے کو اللہ تعالیٰ علم عطا فرمائے اور مال نہ دے، وہ کہے اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اسے اس کی طرح اس کے جائز مقامات پر صرف کرتا،تیسرے کو اللہ تعالیٰ مال تو دے مگر علم نہ دے، وہ اپنے مال ہی میںمگن رہے، نہ تو صلہ رحمی کرے اور نہ کسی حقدار کو حق ادا کرے بلکہ وہ اس مال کو ناحق خرچ کرتا ہے اور چوتھے کو اللہ تعالیٰ نہ مال دے اور نہ علم اور وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں بھی اس کی طرح ناجائز کا موں میں خرچ کروں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گناہ میں یہ اور وہ دونوں برابر ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12487

۔ (۱۲۴۸۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قُبَّۃٍ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِینَ، فَقَالَ: ((أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوْا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوْا نِصْفَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، وَذَاکَ أَنَّ الْجَنَّۃَ لَا یَدْخُلُہَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِی الشِّرْکِ إِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوِ السَّوْدَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَحْمَرَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۶۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم تقریباً چالیس آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک قبہ میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات پر راضی ہو کہ اہل جنت کا چوتھا حصہ تم لوگ ہو گے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری تعداد اہل جنت کا تیسراحصہ ہو؟ ہم نے کہا:جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھی تعداد تمہاری ہوگی، اس لیے کہ جنت میں وہی لوگ جائیں گے جو مسلمان ہوں گے اور اہل شرک کے بالمقابل تمہاری تعداد یوں ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر سفید بال ہو یا سرخ بیل کی جلد پر سیاہ بال ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12488

۔ (۱۲۴۸۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کَیْفَ أَنْتُمْ وَرُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟ لَکُمْ رُبُعُہَا وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَۃُ أَرْبَاعِہَا۔)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَکَیْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثَہَا؟)) قَالُوْا فَذَاکَ أَکْثَرُ، قَالَ: ((فَکَیْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرَ؟)) قَالُوْا: فَذٰلِکَ أَکْثَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَہْلُ الْجَنَّۃِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِشْرُونَ وَمِائَۃُ صَفٍّ، أَنْتُمْ مِنْہَا ثَمَانُونَ صَفًّا۔)) (مسند احمد: ۴۳۲۸)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت کیا عالم ہوگا، جب جنت میں ایک چوتھائی تم لوگ ہو گے، پوری جنت کا چوتھا حصہ صرف تمہارے لیے اور تین چوتھائی باقی ساری امتوں کے لیے۔ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی؟ صحابہ نے کہا: تب تو پہلے سے بھی زیادہ ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں تمہاری ہوں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12489

۔ (۱۲۴۸۹)۔ وَعَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَہْلُ الْجَنَّۃِ عِشْرُونَ وَمِائَۃُ صَفٍّ، مِنْہُمْ ثَمَانُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: ((أَنْتُمْ مِنْہُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۸)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیںاس میری امت کے لوگوں کی ہوں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12490

۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12491

۔ (۱۲۴۹۱)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((أَرْجُو أَنْ یَکُونَ مَنْ یَتَّبِعُنِی مِنْ أُمَّتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ((أَرْجُو أَنْ یَکُونُوْا ثُلُثَ النَّاسِ۔)) قَالَ: فَکَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: ((أَرْجُوْ أَنْ یَّکُوْنُو الشَّطْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۸۱)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میری امت میں سے میری اتباع کرنے والے قیامت کے دن کل اہل جنت کا چوتھا حصہ ہوں گے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:یہ سن کر ہم نے خوشی سے اللہ اکبر کہا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے پیروکار اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے۔ یہ سن کر ہم نے خوشی سے پھر اللہ اکبر کہا،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے متبعین ا ہل جنت کی کل تعداد کا نصف ہوںگے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12492

۔ (۱۲۴۹۲)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُولُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ لِآدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: قُمْ فَجَہِّزْ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ تِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِینَ إِلَی النَّارِ وَوَاحِدًا إِلَی الْجَنَّۃِ۔)) فَبَکٰی أَصْحَابُہُ وَبَکَوْا ثُمَّ قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْفَعُوا رُؤُ وْسَکُمْ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! مَا أُمَّتِی فِی الْأُمَمِ إِلَّا کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔)) فَخَفَّفَ ذٰلِکَ عَنْہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۳۷)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: تم اٹھو اور اپنی اولاد کے ہر ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے الگ کردو۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام f رونے لگ گئے، اس کے بعدرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے سر اوپر اٹھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے! دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال ایسے ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہو۔ یہ سن کر صحابہ کا غم کچھ ہلکا ہوا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12493

۔ (۱۲۴۹۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَوَّلُ مَنْ یُدْعٰییَوْمَ الْقِیَامَۃِ آدَمُ، فَیُقَالُ: ہٰذَا أَبُوکُمْ آدَمُ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، فَیَقُولُ لَہُ رَبُّنَا: أَخْرِجْ نَصِیبَ جَہَنَّمَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ! وَکَمْ؟ فَیَقُولُ: مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا یَبْقٰی مِنَّا؟ قَالَ: ((إِنَّ أُمَّتِی فِی الْأُمَمِ کَالشَّعْرَۃِ الْبَیْضَائِ فِی الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۰۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو لا کر کہا جائے گا: یہ تمہارا باپ آدم علیہ السلام ہے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! میں حاضر ہوں، پھر ہمارا رب ان سے فرمائے گا: تم اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ الگ کر دو، وہ کہیں گے:اے میرے رب! کتنا حصہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میںسے ننانوے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہر سو میں ننانوے نکل گئے تو جنت میں جانے کے لیے ہم میں سے کتنے باقی بچیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باقی امتوں کے بالمقابل میری امت یوں ہوگی، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12494

۔ (۱۲۴۹۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ لِعَدُوِّہِمْ قَاہِرِینَ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ إِلَّا مَا أَصَابَہُمْ مِنْ لَأْوَائَ حَتَّییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کَذٰلِکَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَیْنَ ہُمْ؟ قَالَ: ((بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ وَأَکْنَافِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۶)
سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن پر غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا او روہ اسی حالت پر ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح میں ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12495

۔ (۱۲۴۹۵)۔ وَعَنْ مُعَاوِیْۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِی الدِّینِ، وَلَا تَزَالُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَیُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ عَلٰی مَنْ نَاوَأَہُمْ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۴)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطافرما دیتا ہے،مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12496

۔ (۱۲۴۹۶)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ ذَکَرَ حَدِیثًا رَوَاہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَمْ أَسْمَعْہُ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیثًا غَیْرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ یُرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِی الدِّینِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَیُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ عَلٰی مَنْ نَاوَأَہُمْ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۴)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل شام میں بگاڑ آگیا تومسلمانوں میںکوئی خیر نہیں رہے گی میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ رہے گا، جنہیںاللہ کی نصرت حاصل رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہوجائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12497

۔ (۱۲۴۹۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَیْرَ بْنَ ہَانِئٍ حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ عَلٰی ہٰذَا الْمِنْبَرِیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی قَائِمَۃً بِأَمْرِ اللّٰہِ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَذَلَہُمْ أَوْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَہُمْ ظَاہِرُونَ عَلَی النَّاسِ۔)) فَقَامَ مَالِکُ بْنُ یَخَامِرٍ السَّکْسَکِیُّ: فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَقُولُ: وَہُمْ أَہْلُ الشَّامِ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: وَرَفَعَ صَوْتَہُ ہٰذَا مَالِکٌ یَزْعُمُ أَنَّہُ سَمِعَ مُعَاذًا یَقُولُ: وَہُمْ أَہْلُ الشَّامِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۵۶)
عمیر بن ہانی سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا وہ اس منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک اللہ کے حکم سے موجود رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے،بلکہ وہ لوگوںپر غالب رہیں گے۔ مالک بن یخامر سکسکی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کہتے سنا ہے کہ اس حدیث کا مصداق اہل شام ہیں، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے کہا: یہ مالک کہہ رہا ہے کہ اس نے سیدنا معا ذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ اس گروہ سے مراد اہل شام ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12498

۔ (۱۲۴۹۸)۔ عَنْ سَہْلٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَزَالُ الْأُمَّۃُ عَلَی الشَّرِیعَۃِ مَا لَمْ یَظْہَرْ فِیہَا ثَلَاثٌ، مَا لَمْ یُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْہُمْ، وَیَکْثُرْ فِیہِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ، وَیَظْہَرْ فِیہِمُ الصَّقَّارُونَ۔)) قَالَ: وَمَا الصَّقَّارُونَ أَوْ الصَّقْلَاوُونَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((بَشَرٌ یَکُونُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ تَحِیَّتُہُمْ بَیْنَہُمُ التَّلَاعُنُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۳)
سیدنا معاذ بن انس جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت شریعت پر ثابت قدم رہے گی، جب تک ان میں یہ تین باتیں ظاہر نہ ہو جائیں گی: (۱) علم کا اٹھ جانا، (۲) زنا کی یعنی حرامی اولاد کی کثرت ہو جانا اور صَقَّارُون کا ظاہر ہونا۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! صقارون سے کون لوگ مرادہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایسے لوگ آئیں گے، جو ملاقات کے وقت سلام کی بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12499

۔ (۱۲۴۹۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ عِنَبَۃَ الْخَوْلَانِیَّیَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یَزَالُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَغْرِسُ فِی ہٰذَا الدِّینِ بِغَرْسٍ یَسْتَعْمِلُہُمْ فِی طَاعَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۴۰)
سیدنا ابو عتبہ خولانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دین میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا، جن کو وہ اپنی اطاعت کے لیے استعمال کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12500

۔ (۱۲۵۰۰)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِییُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: ((فَیَنْزِلُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَیَقُولُ أَمِیرُہُمْ: تَعَالَ صَلِّ بِنَا، فَیَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ أَمِیرٌ لِیُکْرِمَ اللّٰہُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ۔))(مسند احمد: ۱۴۷۷۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک دوسروں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا، تو اس گروہ کا امیر ان سے کہے گا: تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں، لیکن وہ جواباً کہیں گے:تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو (لہٰذا تم خود نماز پڑھاؤ)، یہ دراصل اللہ تعالیٰ اس امت کو عزت دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12501

۔ (۱۲۵۰۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ہٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقِّ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ، وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۵)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہو جائے گی اور وہ اسی طرز عمل پر ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12502

۔ (۱۲۵۰۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ عَلٰی ہٰذَا الْأَمْرِ عِصَابَۃٌ عَلَی الْحَقِّ، لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللّٰہِ، وَہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۵)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ اپنے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12503

۔ (۱۲۵۰۳)۔ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَۃَ، قَالَ شُرَیْحُ بْنُ عُبَیْدٍ: مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ وَعَلَیْہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِیُّ فَلَمْ یَعُدْہُ، فَدَخَلَ عَلٰی ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْکَلَاعِیِّینَ عَائِدًا، فَقَالَ لَہُ ثَوْبَانُ: أَتَکْتُبُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: اکْتُبْ، فَکَتَبَ لِلْأَمِینِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قُرْطٍ مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّہُ لَوْ کَانَ لِمُوسَی وَعِیسَی مَوْلًی بِحَضْرَتِکَ لَعُدْتَہُ ثُمَّ طَوَی الْکِتَابَ، وَقَالَ لَہُ: أَتُبَلِّغُہُ إِیَّاہُ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِکِتَابِہِ فَدَفَعَہُ إِلَی ابْنِ قُرْطٍ، فَلَمَّا قَرَأَہُ قَامَ فَزِعًا، فَقَالَ النَّاسُ: مَا شَأْنُہُ أَحَدَثَ أَمْرٌ؟ فَأَتٰی ثَوْبَانَ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْہِ فَعَادَہُ وَجَلَسَ عِنْدَہُ سَاعَۃً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِہِ وَقَالَ: اجْلِسْ حَتّٰی أُحَدِّثَکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۸۲)
شریح بن عبید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حمص میں سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار پڑگئے، ان دنوں وہاں کا عامل عبداللہ بن قرط ازدی تھا، وہ ان کی عیادت کے لیے نہ آیا، جب بنو کلاع قبیلہ کا ایک آدمی سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے آیا تو انھوں نے اس سے کہا: کیا تم لکھنا جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: لکھو، پھر انہوں نے یہ تحریر لکھوائی: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کے نام، امابعد! اگرتمہارے علاقہ میں موسی یا عیسیٰh کا کوئی خادم ہوتا تو تم ضرور اس کی بیمار پرسی کو جاتے۔ پھر انہوں نے خط لپیٹ کر کہا: کیا تم یہ خط عبداللہ تک پہنچادو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس جب اس آدمی نے جا کر وہ خط عبداللہ بن قرط کو دے دیا اور اس نے پڑھا تو وہ خوف زدہ سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا، لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوا؟ کیا کوئی حادثہ پیش آگیا ہے؟ وہ ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں پہنچا، ان کی عیادت کی اور کچھ دیر ان کی خدمت میں بیٹھا رہا، اس کے بعد اٹھ کر جانے لگا تو سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کی چادر پکڑی اور کہا: بیٹھ جاؤ، میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر آدمی ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12504

۔ (۱۲۵۰۴)۔ وَعَنْ سَہْلٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِیْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا اَوْ قَالَ: سَبْعُمِائِۃِ اَلْفٍ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۲۷)
سیدناسہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار یا فرمایا سات لاکھ آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12505

۔ (۱۲۵۰۵)۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ، حَدَّثَنَا ابْنُ ہُبَیْرَۃَ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا تَمِیمٍ الْجَیْشَانِیَّیَقُولُ: أَخْبَرَنِی سَعِیدٌ، أَنَّہُ سَمِعَ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِیَقُولُ: غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا فَلَمْ یَخْرُجْ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَنْ یَخْرُجَ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَۃً، فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَہُ قَدْ قُبِضَتْ فِیہَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ قَالَ: ((إِنَّ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اسْتَشَارَنِی فِی أُمَّتِی، مَاذَا أَفْعَلُ بِہِمْ؟ فَقُلْتُ: مَا شِئْتَ أَیْ رَبِّ، ہُمْ خَلْقُکَ، وَعِبَادُکَ، فَاسْتَشَارَنِی الثَّانِیَۃَ، فَقُلْتُ لَہُ کَذٰلِکَ، فَقَالَ: لَا أُحْزِنُکَ فِی أُمَّتِکَ یَا مُحَمَّدُ، وَبَشَّرَنِی أَنَّ أَوَّلَ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعُونَ أَلْفًا مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا، لَیْسَ عَلَیْہِمْ حِسَابٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَقَالَ: ادْعُ تُجَبْ، وَسَلْ تُعْطَ، فَقُلْتُ لِرَسُولِہِ: أَوَمُعْطِیَّ رَبِّی سُؤْلِی؟ فَقَالَ: مَا أَرْسَلَنِی إِلَیْکَ إِلَّا لِیُعْطِیَکَ، وَلَقَدْ أَعْطَانِی رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، وَغَفَرَ لِی مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِی وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنَا أَمْشِی حَیًّا صَحِیحًا، وَأَعْطَانِی أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِی وَلَا تُغْلَبَ، وَأَعْطَانِی الْکَوْثَرَ فَہُوَ نَہْرٌ مِنَ الْجَنَّۃِیَسِیلُ فِی حَوْضِی، وَأَعْطَانِی الْعِزَّ وَالنَّصْرَ وَالرُّعْبَ، یَسْعٰی بَیْنَیَدَیْ أُمَّتِی شَہْرًا، وَأَعْطَانِی أَنِّی أَوَّلُ الْأَنْبِیَائِ أَدْخُلُ الْجَنَّۃَ، وَطَیَّبَ لِی وَلِأُمَّتِی الْغَنِیمَۃَ، وَأَحَلَّ لَنَا کَثِیرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلٰی مَنْ قَبْلَنَا، وَلَمْ یَجْعَلْ عَلَیْنَا مِنْ حَرَجٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۲۵)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے پورا دن غائب رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف نہ لائے، ہم نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اب باہر بالکل نہیں آئیں گے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے آئے اور آتے ہی اس قدر طویل سجدہ کیا کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض کر لی گئی ہے، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: میرے رب نے مجھ سے میری امت کے بارے میں مشورہ لیاہے کہ میں ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کروں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! وہ تیری مخلوق اور بندے ہیں، تو ان کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے، کر سکتا ہے، اللہ نے دوبارہ مجھ سے مشورہ لیا، میں نے پھر اسی طرح کہا، پھر اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: اے محمد! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کی امت کے بارے میں غمگین نہیں کروں گا اور اس نے مجھے بشارت دی کہ سب سے پہلے میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ان میں سے ہر ہزار افراد کے ساتھ ستر ہزار آدمی بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی کہ آپ کوئی دعا کریں، قبول ہوگی، کچھ مانگیں آپ کو دیا جائے گا، میں نے اللہ کے فرستادے یعنی فرشتے سے کہا: کیا میں جو سوال کروں گا، میرا رب مجھے ضرو ر دے گا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا اسی لیے ہے کہ آپ جو سوال بھی کریں گے، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دے دے گا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، اس نے میرے اگلے پیچھے گناہ معاف کر دئیے ہیں اور میں تندرست صحیح چلتا ہوں اور اس نے مجھے یہ خصوصیت بھی دی ہے کہ میری امت قحط سے نہیں مرے گی اور نہ دشمن اس پر غالب آئے گا اور اللہ نے مجھے کو ثر سے نوازا ہے، یہ ایک نہر ہے، جو جنت سے بہہ کر میرے حوض میں گرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور نصرت عطا فرمائی ہے اور میری امت کا رعب اس سے ایک مہینہ کی مسافت کے برابر آگے آگے چلتا ہے اور اللہ نے مجھے یہ فضیلت بھی دی ہے کہ انبیائے کرام میں سے میں سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اور میری امت کے لیے غنیمت کو حلال ٹھہرا یا ہے اور ہم سے پہلے لوگوں پر جو سخت احکامات نازل ہوئے تھے ان میں سے بہت سے ہمارے لیے حلال کر دئیے اور ہم پر کوئی مشقت یا تنگی مقرر نہیں کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12506

۔ (۱۲۵۰۶)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِی أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی أَرْبَعَ مِائَۃِ أَلْفٍ۔)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: زِدْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَہٰکَذَا۔)) وَجَمَعَ کَفَّہُ قَالَ: زِدْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((وَہٰکَذَا)) فَقَالَ عُمَرُ: حَسْبُکَ یَا أَبَا بَکْرٍ!، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: دَعْنِییَا عُمَرُ! مَا عَلَیْکَ أَنْ یُدْخِلَنَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّۃَ کُلَّنَا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَائَ أَدْخَلَ خَلْقَہُ الْجَنَّۃَ بِکَفٍّ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((صَدَقَ عُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۲۵)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلی کو جمع کر کے فرمایا: اور اس طرح۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اس طرح۔ اتنے میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابو بکر! تمہیں یہ کافی ہے، اب بس کرو، لیکن سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عمر! تم مجھے چھوڑو، اور درخواست کر لینے دو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت میںداخل کرے تو آپ کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک ہی ہتھیلی سے اپنی ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سچ کہا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12507

۔ (۱۲۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَکْثَرْنَا الْحَدِیثَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَیْہِ، فَقَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ الْأَنْبِیَائُ اللَّیْلَۃَ بِأُمَمِہَا، فَجَعَلَ النَّبِیُّیَمُرُّ وَمَعَہُ الثَّلَاثَۃُ، وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ الْعِصَابَۃُ، وَالنَّبِیُّ وَمَعَہُ النَّفَرُ، وَالنَّبِیُّ لَیْسَ مَعَہُ أَحَدٌ، حَتّٰی مَرَّ عَلَیَّ مُوسٰی مَعَہُ کَبْکَبَۃٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، فَأَعْجَبُونِی فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ فَقِیلَ لِی: ہٰذَا أَخُوکَ مُوسٰی مَعَہُ بَنُو إِسْرَائِیلَ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَیْنَ أُمَّتِی؟ فَقِیلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَمِینِکَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوہِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قِیلَ لِیَ: انْظُرْ عَنْ یَسَارِکَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوہِ الرِّجَالِ، فَقِیلَ لِی: أَرَضِیتَ؟ فَقُلْتُ: رَضِیتُیَا رَبِّ، رَضِیتُیَا رَبِّ، قَالَ: فَقِیلَ لِی: إِنَّ مَعَ ہَؤُلَائِ سَبْعِینَ أَلْفًا یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فِدًا لَکُمْ اَبِیْ وَاُمِّیْ ٔوَأُمِّی إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَکُونُوا مِنَ السَّبْعِینَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَکُونُوْا مِنْ أَہْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَکُونُوا مِنْ أَہْلِ الْأُفُقِ، فَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ ثَمَّ نَاسًا یَتَہَاوَشُونَ۔)) فَقَامَ عُکَاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَ لِییَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ السَّبْعِینَ، فَدَعَا لَہُ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ، فَقَالَ: ((قَدْ سَبَقَکَ بِہَا عُکَاشَۃُ۔)) قَالَ: ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا: مَنْ تَرَوْنَ ہٰؤُلَائِ السَّبْعُونَ الْأَلْفُ، قَوْمٌ وُلِدُوا فِی الْإِسْلَامِ لَمْ یُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا حَتّٰی مَاتُوا، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ہُمْ الَّذِینَ لَا یَکْتَوُونَ، وَلَا یَسْتَرْقُونَ، وَلَا یَتَطَیَّرُونَ، وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک رات ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کا فی دیر تک باتیں کیں، پھر جب صبح کو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات تمام انبیاء اور ان کی امتیں میرے سامنے پیش کیے گئے، کسی نبی کے ساتھ تین آدمی تھے، کسی کے ساتھ چھوٹی سی جماعت، کسی کے ساتھ جھوٹا سا گروہ تھا اور کچھ نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میرے سامنے سے موسیٰ علیہ السلام گزرے اور ان کے ساتھ بنو اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی، وہ لوگ مجھے بڑے اچھے لگے،میں نے پوچھا:یہ کون لو گ ہیں؟ مجھے بتلایا گیا کہ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی قوم بنو اسرائیل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے پوچھا کہ میری امت کہاںہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ آپ اپنی دائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھاتو وہاں ایک بہت بڑا ہجوم ساتھا، جو لوگوں کے چہروں سے بھر ا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا: اپنی بائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو اس طرف والا افق لوگوں سے بھرا ہوا تھا، پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اب راضی ہیں؟ میں نے کہا: جی میں راضی ہوں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اے میرے ربّ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان امتیوں کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میںجائیں گے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم لوگوں پر فدا ہوں، اگر ہوسکے تو تم ان ستر ہزار میں سے بننے کی کوشش کرو اور اگر اس قدرمحنت نہ ہو سکے تو کم از کم اس ہجوم والوںمیں سے ہی بننے کی کوشش کرو اور اگر اتنا بھی نہ ہوسکے تو افق والوں میں سے بننے کی کوشش کرو، میں نے وہاں کچھ لوگوں کو دھکم پیل کرتے بھی دیکھا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان ستر ہزار والوں میں سے مجھے بھی بنا دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی، اتنے میں ان کے بعد ایک اور آدمی کھڑ اہوا اور اس نے بھی یہی درخواست کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عکاشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تم سے سبقت لے گیا۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ہم باتوں میں مصروف ہوگئے اور ہم نے کہا کہ اس بارے میں کیا خیال ہے کہ یہ ستر ہزار آدمی کون ہوسکتے ہیں، کیا یہ وہ لوگ ہیںجو اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر مرتے دم تک شرک کے قریب نہیں گئے؟ جب یہ باتیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ زخموں کو داغتے ہیں،نہ دم جھاڑ کرتے ہیں اور نہ بد فالی یا بد شگونی لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر مکمل توکل کرتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12508

۔ (۱۲۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِیِّ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ أُمَّتِی مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ تَعْرِفُہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فِی کَثْرَۃِ الْخَلَائِقِ؟ قَالَ: ((أَرَأَیْتَ لَوْ دَخَلْتَ صَبْرَۃً فِیہَا خَیْلٌ دُہْمٌ بُہْمٌ، وَفِیہَا فَرَسٌ أَغَرُّ مُحَجَّلٌ، أَمَا کُنْتَ تَعْرِفُہُ مِنْہَا؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((فَإِنَّ أُمَّتِییَوْمَئِذٍ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ، مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوئِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۴۵)
سیدناعبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز میں اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام f نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس قدر لوگوں میں سے آپ اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچان لیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے، اگر تم کسی اصطبل میں جاؤ، وہاں خالص سیاہ فام گھوڑے ہوں اور ان میں ایک ایسا گھوڑا ہو، جس کی پیشانی اور چاروں پاؤں سفید ہوں، تو کیا تم اسے جلدی سے پہچان نہ لوگے؟ صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میری امت کے افراد کی پیشانی سجدہ کی وجہ سے اور ہاتھ پاؤں وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12509

۔ (۱۲۵۰۹)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ أُمَّتِی أَحَدٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَنْ رَأَیْتَ وَمَنْ لَمْ تَرَ؟ قَالَ: ((مَنْ رَأَیْتُ وَمَنْ لَمْ أَرَ غُرًّا مُحَجَّلِینَ مِنْ أَثَرِ الطُّہُورِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۱۲)
سیدناابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! خواہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کودیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، ہر ایک کو پہچان لیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کسی کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12510

۔ (۱۲۵۱۰)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَہُ بِالسُّجُودِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَہُ أَنْ یَرْفَعَ رَأْسَہُ، فَأَنْظُرَ إِلٰی بَیْنِیَدَیَّ، فَأَعْرِفَ أُمَّتِی مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِی مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ یَمِینِی مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ شِمَالِی مِثْلُ ذٰلِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ فِیمَا بَیْنَ نُوحٍ إِلٰی أُمَّتِکَ؟ قَالَ: ((ہُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوئِ، لَیْسَ أَحَدٌ کَذَلِکَ غَیْرُہُمْ، وَأَعْرِفُہُمْ أَنَّہُمْ یُؤْتَوْنَ کُتُبَہُمْ بِأَیْمَانِہِمْ، وَأَعْرِفُہُمْ یَسْعَی بَیْنَ أَیْدِیہِمْ ذُرِّیَّتُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۰)
سیدناابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو ساری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا، میرے پیچھے میری دائیں اور میری بائیں جانب، ہرطرف لوگ ہی لوگ ہوں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نوح علیہ السلام سے اپنی امت تک کی امتوں کے افراد میں سے اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضو کی برکت سے ان کے وضو کے اعضا ء روشن ہوں گے، اس امت کے علاوہ کسی دوسری کا کوئی آدمی اس علامت کا حامل نہ ہوگا اور میری امت کے لوگوں کو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھوںمیں دئیے جائیں گے اور میںانہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کی اولاد ان کے سامنے دوڑ رہی ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12511

۔ (۱۲۵۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ مِنْ أَبِی ذَرٍّ، وَأَبِی الدَّرْدَائِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنِّی لَأَعْرِفُ أُمَّتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ؟ قَالَ: ((أَعْرِفُہُمْ یُؤْتَوْنَ کُتُبَہُمْ بِأَیْمَانِہِمْ، وَأَعْرِفُہُمْ بِسِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ، وَأَعْرِفُہُمْ بِنُورِہِمْ یَسْعٰی بَیْنَ أَیْدِیہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۳)
سیدنا ابو ذر اور سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں ساری امتوں میں سے اپنی امت کے لوگوں کو پہچان لوں گا۔ صحابہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںانہیںپہچان لوں گا، انہیں ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھوںمیں ملیں گے اور سجدوں کی وجہ سے ان کے چہروں پر علامت ہو گی، میں اس علامت کی وجہ سے بھی انہیں پہچان لوں گا اور ان کے آگے آگے روشنی دوڑ رہی ہوگی،اس سے بھی میں انہیں پہچان لوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12512

۔ (۱۲۵۱۲)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی مَرَرْنَا عَلٰی مَسْجِدِ بَنِی مُعَاوِیَۃَ، فَدَخَلَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَنَاجٰی رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ طَوِیلًا، قَالَ: ((سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، سَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالسَّنَۃِ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَجْعَلَ بَأْسَہُمْ بَیْنَہُمْفَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۶)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے، ہمارا مسجد بنی معاویہ کے پاس سے گزر ہوا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی، ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافی دیر تک اللہ سے مناجات کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں، میں نے ایک دعا یہ کی کہ اللہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ وہ میری امت کو قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے،اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی، میں نے تیسری دعا یہ کی کہ ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیںکی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12513

۔ (۱۲۵۱۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ صَلّٰی سُبْحَۃَ الضُّحٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّی صَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَغْبَۃٍ وَرَہْبَۃٍ، سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِی اثْنَتَیْنِ، وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَبْتَلِیَ أُمَّتِی بِالسِّنِینَ، وَلَا یُظْہِرَ عَلَیْہِمْ عَدُوَّہُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَأَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سفر میں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی، نماز سے فراغت کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج میں نے انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نما ز پڑھی ہے، میںنے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں،اس نے میری دو دعاؤں کو قبول اورایک کو قبول نہیں کیا، میں نے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے،اس نے اسے قبول کر لیا، پھر میں نے دعا کی کہ ان کا دشمن ان پر غالب نہ آئے، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے دعا کی کہ ان کے آپس میں اختلافات نہ ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12514

۔ (۱۲۵۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِیہِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ مَوْلٰی بَنِی زُہْرَۃَ، وَکَانَ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہُ قَالَ: رَاقَبْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی لَیْلَۃٍ، صَلَّاہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلَّہَا حَتّٰی کَانَ مَعَ الْفَجْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِہِ، جَائَ ہُ خَبَّابٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، لَقَدْ صَلَّیْتَ اللَّیْلَۃَ صَلَاۃً مَا رَأَیْتُکَ صَلَّیْتَ نَحْوَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجَلْ إِنَّہَا صَلَاۃُ رَغَبٍ وَرَہَبٍ، سَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ثَلَاثَ خِصَالٍ، فَأَعْطَانِی اثْنَتَیْنِ، وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ لَا یُہْلِکَنَا بِمَا أَہْلَکَ بِہِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا ٔیُظْہِرَ عَلَیْنَا عَدُوًّا غَیْرَنَا فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ لَا یَلْبِسَنَا شِیَعًا فَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۶۷)
سیدنا خباب بن ارت سے روایت ہے، یہ صحابی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نے ساری رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نگاہ رکھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری رات نماز پڑھنے میں گزاردی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فجر کا وقت سلام پھیرا، تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آج رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ میں نے قبل ازیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں یہ انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈروالی نماز تھی،میں نے اپنے رب تعالیٰ سے تین دعائیں کیں تو اس نے دو کو قبول اور ایک کو رد کردیا، میں نے اپنے رب تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمیں ان عذابوں کے ساتھ ہلاک نہ کرے جن کے ساتھ اس نے گزشتہ قوموں کو ہلاک کیا تھا، تو اس نے یہ دعا قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی کہ وہ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب نہ کرے، اس نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعاکی کہ وہ ہمارے درمیان آپس میں اختلافات نہ ڈالے، تو اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12515

۔ (۱۲۵۱۵)۔ عَنْ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا فَأَعْطَانِی ثَلَاثًا وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یَجْمَعَ أُمَّتِی عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یُہْلِکَہُمْ بِالسِّنِینَ کَمَا أَہْلَکَ الْأُمَمَ قَبْلَہُمْ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَہُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۶۶)
صحابی ٔ رسول سیدنا ابو بصرہ غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے چار دعائیں کی ہیں، اس نے تین کو قبول کر لیا اور ایک کو قبول نہ کیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ میری امت کو گمراہی پراکٹھا نہ کرے، اس نے میری یہ دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ اس نے جس طرح گزشتہ اقوام کو قحط کے ذریعے ہلاک کیا تھا، میری امت کو اس طرح ہلاک نہ کرے، اس نے اسے بھی قبول کر لیا اور میں نے یہ دعا بھی کی کہ وہ میری امت کو آپس کے اختلافات میں نہ ڈالے، لیکن اس نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12516

۔ (۱۲۵۱۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِی فَارْفُقْ بِہِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَیْہِمْ فَشُقَّ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۴۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو آدمی میری امت سے نرمی کا برتاؤ کرے تو بھی اس پرنرمی فرما اور جو آدمی ان سے سختی کرے اس پر تو بھی سختی فرما۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12517

۔ (۱۲۵۱۷)۔ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ قَیْسٍ أَخِی أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ أُمَّتِی فِی سَبِیلِکَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بھائی سیدنا ابوبردہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو میری امت کی موت اس طرح بنا دیا کہ وہ تیرے راستے میں نیزے کے ذریعے موت پائیں یا طاعون کے ذریعے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12518

۔ (۱۲۵۱۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ السَّرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِی ابْنٌ لِکِنَانَۃَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَبَاہُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ حَدَّثَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ لِأُمَّتِہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ فَأَکْثَرَ الدُّعَائَ، فَأَجَابَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْ قَدْ فَعَلْتُ وَغَفَرْتُ لِأُمَّتِکَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، فَقَالَ: یَا رَبِّ! إِنَّکَ قَادِرٌ أَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ، وَتُثِیبَ الْمَظْلُومَ خَیْرًا مِنْ مَظْلَمَتِہِ، فَلَمْ یَکُنْ فِی تِلْکَ الْعَشِیَّۃِ إِلَّا ذَا، فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ دَعَا غَدَاۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فَعَادَ یَدْعُو لِأُمَّتِہِ، فَلَمْ یَلْبَثِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَبَسَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِہِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، ضَحِکْتَ فِی سَاعَۃٍ لَمْ تَکُنْ تَضْحَکُ فِیہَا، فَمَا أَضْحَکَکَ أَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ؟ قَالَ: ((تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللّٰہِ إِبْلِیسَ حِینَ عَلِمَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اسْتَجَابَ لِی فِی أُمَّتِی وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ، أَہْوٰییَدْعُو بِالثُّبُورِ وَالْوَیْلِ، وَیَحْثُو التُّرَابَ عَلٰی رَأْسِہِ، فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا یَصْنَعُ جَزَعُہُ))۔ (مسند احمد: ۱۶۳۰۸)
سیدنا عباس بن مرداس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کے حق میں مغفرت و رحمت کی بہت سی دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے آپ کی یہ دعائیں قبول کر لیں ہیں اور میں نے آپ کی امت کی مغفرت کر دی ہے، البتہ لوگوں میں سے کوئی کسی پر ظلم کرے تو یہ جرم معاف نہ ہوگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے رب! تو اس بات پر قادر ہے کہ ظالم کو معاف کر دے اور مظلوم کو اس کے ظلم کے بقدر بدلہ اپنی طرف سے عطا فرما دے۔ اس رات صرف اتنی با ت ہوئی،دوسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ کو صبح کو دوبارہ امت کے حق میں دعائیں کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچانک مسکرانے لگ گئے، کسی صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے ایک ایسے وقت میں تبسم فرمایا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت تبسم نہیں فرمایا کرتے تھے، اللہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مسکراتا رکھے، اس مسکراہٹ کی وجہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے دشمن ابلیس کی حالت دیکھ کر مسکرایا ہوں، جب اسے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے امت کے حق میں میری دعا قبول کر لی ہے اور ظالم کو بھی بخشنے کا وعدہ کیا ہے تو وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی ہلاکت و تباہی کی باتیں کرنے لگا اور اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا، تو میں اس کی پریشانی اور گھبراہٹ دیکھ کر مسکرا دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12519

۔ (۱۲۵۱۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بُعِثْتُ مِنْ خَیْرِ قُرُونِ بَنِی آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّی بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِی کُنْتُ فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۸۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں زمانہ بہ زمانہ بنی آدم کے بہترین زمانہ میں مبعوث ہوا ہوں، تاآنکہ میں اس دور میں آیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12520

۔ (۱۲۵۲۰)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ: صَلَّیْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتّٰی نُصَلِّیَ مَعَہُ الْعِشَائَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَیْنَا، فَقَالَ: ((مَا زِلْتُمْ ہَاہُنَا۔)) قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قُلْنَا: نُصَلِّی مَعَکَ الْعِشَائَ، قَالَ: ((ٔأَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ۔)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ قَالَ: وَکَانَ کَثِیرًا مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((النُّجُومُ أَمَنَۃٌ لِلسَّمَائِ فَإِذَا ذَہَبَتِ النُّجُومُ أَتَی السَّمَائَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَۃٌ لِأَصْحَابِی، فَإِذَا ذَہَبْتُ أَتٰی أَصْحَابِی مَا یُوعَدُونَ وَأَصْحَابِی أَمَنَۃٌ لِأُمَّتِی، فَإِذَا ذَہَبَتْ أَصْحَابِی أَتٰی اُمَّتِیْ مَا یُوْعَدُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۵)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کی، اس کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم انتظار کر لیں اور عشاء کی نماز بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کر لیں، سو ہم نے انتظار کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عشاء کے وقت تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مغرب سے اب تک یہیں ٹھہرے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ہم نے سوچا تھا کہ عشاء کی نماز بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کرلیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اکثر و بیشتر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تار ے آسمان کے محافظ ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو اللہ نے آسمان کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا اور میں اپنے صحابہ کا محافظ ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ حالات پیش آ جائیں گے، جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے محافظ ہیں،جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ شدید حالات درپیش ہوں گے، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12521

۔ (۱۲۵۲۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قِیلَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((أَنَا وَمَنْ مَعِی۔)) قَالَ: فَقِیلَ لَہُ: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((الَّذِی عَلَی الْأَثَرِ۔)) قِیلَ لَہُ: ثُمَّ مَنْ؟ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: فَرَفَضَہُمْ۔ (مسند احمد: ۷۹۴۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگوںمیں سب سے افضل کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اور میرے ساتھ والے۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون لوگ افضل ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان سے بعد والے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون ہیں؟ تو آپ نے انس کو چھوڑ دیا (یعنی خاموش رہے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12522

۔ (۱۲۵۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیقٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((خَیْرُکُمْ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: لَا أَدْرِی ذَکَرَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ((ثُمَّ خَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ قَوْمٌ یُحِبُّونَ السَّمَانَۃَ،یَشْہَدُونَ وَلَا یُسْتَشْہَدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۱۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھراس کے بعد والا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نہیںجانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو بار اس چیز کا ذکر کیا یا تین بار، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور بغیر گواہی طلب کیے وہ گواہیاں دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12523

۔ (۱۲۵۲۳)۔ (وَعَنْہَااَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ أُمَّتِی الْقَرْنُ الَّذِی بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) وَاللّٰہُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَۃَ أَمْ لَا، ((ثُمَّ یَجِیئُ قَوْمٌ یُحِبُّونَ السَّمَانَۃَیَشْہَدُونَ قَبْلَ أَنْ یُسْتَشْہَدُوْا))۔ (مسند احمد: ۷۱۲۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے،پھر اس کے بعدوالا زمانہ افضل ہو گا، پھر اس کے بعد والا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی دیں گے، جب کہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12524

۔ (۱۲۵۲۴)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوَلَۃَ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أَسِیرُ بِالْأَہْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ یَسِیرُ بَیْنَیَدَیَّ عَلٰی بَغْلٍ أَوْ بَغْلَۃٍ، فَإِذَا ہُوَ یَقُولُ: اللَّہُمَّ ذَہَبَ قَرْنِی مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ فَأَلْحِقْنِی بِہِمْ، فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِی دَعْوَتِکَ، قَالَ: وَصَاحِبِی ہٰذَا إِنْ أَرَادَ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ أُمَّتِی قَرْنِی مِنْہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) قَالَ: وَلَا أَدْرِی أَذَکَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ یَظْہَرُ فِیہِمُ السِّمَنُ، یُہْرِیقُونَ الشَّہَادَۃَ وَلَا یَسْأَلُونَہَا۔)) قَالَ: وَإِذَا ہُوَ بُرَیْدَۃُ الْأَسْلَمِیُّ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۴۸)
عبد اللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اہوا ز میں چلا جارہا تھااور میرے آگے آگے ایک آدمی خچر پر سوار یوں کہتا جارہا تھا: یا اللہ اس امت میں میرا زمانہ پورا ہوگیا ہے، اب تو مجھے میرے ساتھیوں کے ساتھ ملا دے، میں نے ان کی بات سن کر کہا: اور میں بھی، مجھے بھی اپنی دعامیںشامل کرو، اس نے کہا: اے اللہ! میرا یہ ساتھی بھی میرے ساتھ ہو،اگر یہ بھی اس بات کا متمنی ہے تو، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے: میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والوںکا۔ اب میں نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا تھا یا نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعدایسے لوگ آجائیں گے، جن میں موٹاپا عام ہوگا، ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، مگر وہ گواہی دیں گے۔ یہ آدمی سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12525

۔ (۱۲۵۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَأْتِی بَعْدَ ذٰلِکَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَاتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ، وَأَیْمَانُہُمْ شَہَادَاتِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۹۴)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوںکے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھر اس کے بعد والا زمانہ، پھر اس کے بعد والا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا زمانہ، بعد ازاں ایسے لوگ آجائیں گے، جن کی گواہیاں ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہیوں پر سبقت لے جائیں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12526

۔ (۱۲۵۲۶)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَجِیئُ قَوْمٌ یَتَسَمَّنُونَ،یُحِبُّونَ السِّمَنَ، یُعْطُونَ الشَّہَادَۃَ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلُوہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۵۸)
سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کے لیے سب سے افضل میرا زمانہ ہے، اس کے بعد اس کے بعد والا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا دور، ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹے ہوں گے اور موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی طلب کیے جانے سے پہلے از خود گوائیاں دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12527

۔ (۱۲۵۲۷)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سَاَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((اَلْقُرُوْنَ الَّذِیْ اَنَا فِیْہِ ثُمَّ الثَّانِیْ ثُمَّ الثَّالِثُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۴۷)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: لوگوں کے لیے کونسا زمانہ سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس میں میں ہوں پھر اس کے بعد والا دوسرا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا تیسرا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12528

۔ (۱۲۵۲۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَیُقَالُ: ہَلْ فِیکُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیُفْتَحُ لَہُمْ ثُمَّ یَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَیُقَالُ: ہَلْ فِیکُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیُفْتَحُ لَہُمْ، ثُمَّ یَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَیَقُولُونَ: ہَلْ فِیکُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ فَیُفْتَحُ لَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۵۶)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ جنگ میں شامل ہوں گے، اسی دوران پوچھا جائے گا کیا تمہارے اندر کوئی صحابی ہے؟ جواباً کہا جائے گا جی ہاں! سو وہ فتح یاب ہو جائیں گے، اس کے بعد پھر جنگ ہو گی، اسی دوران پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے اندر کوئی تابعی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! چنانچہ وہ بھی فتح یاب ہو جائیں گے، اس کے بعد پھر لوگوں میں جنگ ہو گی، اسی دوران پوچھا جائے گا: کیا تمہارے اندر کوئی تبع تابعی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! تو وہ بھی فتح یاب ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12529

۔ (۱۲۵۲۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، قَالَ حَسَنٌ: ثُمَّ یَنْشَأُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ أَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ وَشَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۳۹)
سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس امت کا بہترین زمانہ اور بہترین لوگ وہ ہیں، جن کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا، ان کے بعد وہ لوگ جو اِس زمانے کے بعد آئیں گے، ان کے بعد وہ لوگ جو اِن کے بعد آئیں گے، اِن کے بعد وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے، جن کی قسمیں ان کی گواہی پر اوران کی گواہی ان کی قسموں سے سبقت لے جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12530

۔ (۱۲۵۳۰)۔ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَوَلَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ أَنَا فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَکُونُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ وَأَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ۔)) وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: ((الْقَرْنُ الَّذِینَ بُعِثْتُ فِیہِمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۱۲)
عبداللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اس امت کا بہترین دور وہ ہے، جس کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا ہے، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین اور اسکے بعد تبع تابعین کادور ہے، ان کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے کہ جن کی گواہی ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ عفان نے ایک مرتبہ روایت کو یوں بیان کیا: سب سے بہتر زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین کا اس کے بعد تبع تابعین کا اور اس کے بعد بعدوالوں کا زمانہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12531

۔ (۱۲۵۳۱)۔ وَعَنْ زَہْدَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍیُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَیَلُونَہُمْ، (قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِی قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ قَرْنِہِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً؟) ثُمَّ یَکُونُ بَعْدَہُمْ قَوْمٌ یَشْہَدُونَ وَلَا یُسْتَشْہَدُونَ، وَیَخُونُونَ وَلَا یُؤْتَمَنُونَ، وَیَنْذُرُونَ وَلَا یُوفُونَ، وَیَظْہَرُ فِیہِمُ السِّمَنُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۴۸)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا زمانہ جو اس کے بعد آئیں گے، پھر ان کے بعد والے لوگوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ بہتر ہو گا، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جن سے گواہی طلب نہ کی جائے گی، مگر وہ پھر بھی گواہی دیں گے، وہ خیانتیں کریں گے، امانتوں کا پاس نہیں کریں گے، وہ نذر مانیں گے، مگر پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا عام ہوگا۔ سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12532

۔ (۱۲۵۳۲)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَا یَاْتِیْ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ اِلَّا ھُوَ شَرٌّ مِنَ الزَّمَانِ الَّذِیْ قَبْلَہٗ،سَمِعْنَاذٰلِکَمِنْنَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸۶)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم پر جو بھی زمانہ آئے گا، وہ گزرے ہوئے زمانہ سے بدتر ہوگا، ہم نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دومرتبہ سنی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12533

۔ (۱۲۵۳۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: ((أَتْقَاہُمْ۔)) قَالُوْا: لَیْسَ عَنْ ہٰذَا نَسْأَلُکَ، قَالَ: ((فَیُوسُفُ نَبِیُّ اللّٰہِ ابْنُ نَبِیِّ اللّٰہِ ابْنِ نَبِیِّ اللّٰہِ ابْنِ خَلِیلِ اللّٰہِ۔)) قَالُوْا: لَیْسَ عَنْ ہٰذَا نَسْأَلُکَ، قَالَ: ((فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِّی، خِیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُہُمْ فِی الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُہُوْا))۔ (مسند احمد: ۹۵۶۴)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیاگیاـ: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ صحابہ نے کہا: ہم نے اس کے بارے میں تو سوال نہیں کیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والے اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام ہیں، جن کے باپ بھی نبی ہیں، دادا بھی نبی ہیں اور پڑدادا خلیل اللہ ہیں۔ صحابہ نے کہا: ہمارا سوال اس کے متعلق بھی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم عرب کی کانوں (یعنی مختلف لوگوں) کے متعلق سوال کررہے ہو؟ لوگ تو کانیں ہیں، ان میں سے زمانہ ٔ جاہلیت کے بہتر لوگ، اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ انھیں دین کی سمجھ ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12534

۔ (۱۲۵۳۴)۔ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ غَشَّ الْعَرْبَ لَمْ یَدْخُلْ فِیْ شَفَاعَتِیْ وَلَمْ تَنَلْہٗمَوَدَّتِیْ۔)) (مسند احمد: ۵۱۹)
سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عربوں سے دھوکہ کیا، وہ نہ میری شفاعت میں داخل ہو سکے گا اور نہ اسے میری محبت حاصل ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12535

۔ (۱۲۵۳۵)۔ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَا سَلْمَانُ لَا تُبْغِضْنِی فَتُفَارِقَ دِینَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ أُبْغِضُکَ وَبِکَ ہَدَانَا اللَّہُ؟ قَالَ: ((تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۳۲)
سیدناسلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھنا، یہ بغض تمہیں دین سے دور کر دے گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے ذریعہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیسے بغض رکھ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عربوں سے بغض رکھو توگویا یہ میرے ساتھ بغض رکھنا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12536

۔ (۱۲۵۳۶)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبْغِضُ الْعَرَبَ اِلَّا مُنَافِقٌ۔)) (مسند احمد: ۶۱۴)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی منافق ہی عربوں سے بغض رکھے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12537

۔ (۱۲۵۳۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: سَعِمْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ یُرِدْ ھَوْنَ قُرَیْشٍ اَھَانَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۳)
سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی قریش کی اہانت کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کر دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12538

۔ (۱۲۵۳۸)۔ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ لِیْ اَبِیْ: یَا بُنَیَّ اِنْ وَلِیْتَ مِنْ اَمْرِ النَّاسِ شَیْئًا فَاَکْرِمْ قُرَیْشًا، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ اَھَانَ قُرَیْشًا اَھَانَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۴۶۰)
عمرو بن عثمان بن عفان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد نے مجھ سے کہا: پیارے بیٹے! اگر تمہیںلوگوں پر حکم رانی کا موقع ملے تو قریش کا اکرام کرنا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے قریش کی توہین کی، اللہ اسے ذلیل و رسواکرے گا۔ فوائد:… دورِ جاہلیت میں قریش کو جو شرف حاصل رہا، ان کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام نے اس کو برقرار رکھا اور اسے عربوں کے بقیہ قبائل پر امامت و امارت میں مقدم قرار دیا۔ عامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ((اُنْظُرُوْا قُرَیْشًا،فَخُذُوْا مِنْ (وَفِيْ رِوَایَۃٍ: فَاسْمَعُوْا) قَوْلَھُمْ،وَذَرُوْا فِعْلَھُمْ۔)) … قریش کو سامنے رکھو، ان کے اقوال سنو، (اور پیروی کرو) اور ان کے افعال کو نظر انداز کر دو۔ (احمد:۴/۲۶۰، صحیحہ: ۱۵۷۷) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عام صحابہ کے بارے میں بھی یہی قانون پیش کیا ہے کہ ان کی حسنات و خیرات کو مدنظر رکھا جائے، ان کے بشری تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ جو صحابہ کرام کے بارے میں اپنا قبلہ درست رکھنا چاہتا ہے، اس کے لیے اسی کلیہ میں عافیت ہے کہ وہ صحابہ کرام کے معائب و نقائص کے سلسلے کو ہی بند کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12539

۔ (۱۲۵۳۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ، أَنَّ قَتَادَۃَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِیَّ وَقَعَ بِقُرَیْشٍ، فَکَأَنَّہُ نَالَ مِنْہُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا قَتَادَۃُ! لَا تَسُبَّنَّ قُرَیْشًا، فَلَعَلَّکَ أَنْ تَرٰی مِنْہُمْ رِجَالًا تَزْدَرِی عَمَلَکَ مَعَ أَعْمَالِہِمْ، وَفِعْلَکَ مَعَ أَفْعَالِہِمْ، وَتَغْبِطُہُمْ إِذَا رَأَیْتَہُمْ لَوْلَا أَنْ تَطْغٰی قُرَیْشٌ، لَأَخْبَرْتُہُمْ بِالَّذِی لَہُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ یَزِیدُ: سَمِعَنِی جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَسْلَمَ وَأَنَا أُحَدِّثُ ہٰذَا الْحَدِیثَ، فَقَالَ: ہٰکَذَا حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۹۹)
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قریش کے بارے میں ناقدانہ باتیں کیں اور ان کو برا بھلا بھی کہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتادہ! قریش کو برا بھلا مت کہو، ہوسکتا ہے تم ان میں ایسے افرادبھی دیکھوکہ ان کے اعمال کے بالمقابل تمہیں اپنے اعمال معمولی نظر آئیں اور تم اپنے افعال کو ان کے افعال کے بالمقابل کم تر خیال کرو اور تم انہیں دیکھو تو تم ان پر رشک کرو، اگر قریش کے اترانے اور مغرور ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں بتلا دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کاکیا مرتبہ ہے؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12540

۔ (۱۲۵۴۰)۔ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ، عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُرَیْشًا فَقَالَ: ((ہَلْ فِیکُمْ مِنْ غَیْرِکُمْ؟)) قَالُوْا: لَا، إِلَّا ابْنَ أُخْتِنَا وَحَلِیفَنَا وَمَوْلَانَا، فَقَالَ: ((ابْنُ أُخْتِکُمْ مِنْکُمْ، وَحَلِیفُکُمْ مِنْکُمْ، وَمَوْلَاکُمْ مِنْکُمْ، إِنَّ قُرَیْشًا أَہْلُ صِدْقٍ وَأَمَانَۃٍ، فَمَنْ بَغٰی لَہَا الْعَوَائِرَ أَکَبَّہُ اللّٰہُ فِی النَّارِ لِوَجْہِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۰۲)
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش کو جمع کیا اور فرمایا: کیا تمہارے درمیان اس وقت کوئی غیر قریشی تو نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا، ایک حلیف اور ایک غلام ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا بھانجا، تمہارا حلیف اور تمہارا غلام تم میں سے ہیں، بے شک قریش صدق و امانت کے حامل ہیں، جو آدمی ان کی کوتاہیاں اور لغزشیں تلاش کرے گا، اللہ اسے اس کے منہ کے بل جہنم میںـ ڈالے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12541

۔ (۱۲۵۴۱)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((خُذُوا بِقَوْلِ قُرَیْشٍ وَدَعُوا فِعْلَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۷۵)
سیدناعامر بن شہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے, رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریش کی بات کو سامنے رکھو اور ان کے اعمال کو نذر انداز کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12542

۔ (۱۲۵۴۲)۔ وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَقِیْمُوْا لِقُرَیْشٍ مَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴۷)
مولائے رسول سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم قریش کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، جب تک وہ بھی تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12543

۔ (۱۲۵۴۳)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ، صَالِحُہُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِہِمْ، وَشِرَارُہُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰)
سیدنا علی بن طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے یاد کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ قریش کے پیرو کار ہیں، نیک لوگ قریش کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور برے لوگ قریش کے برے لوگوں کے پیچھے چلتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12544

۔ (۱۲۵۴۴)۔ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: سَمِعْتُ أَبِی،یَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا یَزَالُ ہٰذَا الْأَمْرُ فِی قُرَیْشٍ، مَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ۔)) قَالَ: وَحَرَّکَ إِصْبَعَیْہِیَلْوِیہِمَا ہٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۴۸۳۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک دنیا میں دو آدمی باقی رہیں گے، یہ اقتدار ہمیشہ قریش میں رہے گا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دے کر دو کا اشارہ کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12545

۔ (۱۲۵۴۵)۔ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی الْہُذَیْلِ، قَالَ: کَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ یَتَخَوَّلُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَمْ تَنْتَہِ قُرَیْشٌ لَیَضَعَنَّ اللّٰہُ ہٰذَا الْأَمْرَ فِی جُمْہُورٍ مِنْ جَمَاہِیرِ الْعَرَبِ سِوَاہُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: کَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((قُرَیْشٌ وُلَاۃُ النَّاسِ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۶۱)
عبداللہ بن ہذیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے، بکر بن وائل کے قبیلہ میں سے کسی نے کہا: اگر قریش اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو یہ اقتدار ان سے نکل کر عربوں کے دوسرے قبائل میں چلا جائے گا، یہ سن کر سیدنا عمر و بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بھلائی کا کوئی کام ہو یا برائی کا، قیامت تک ہر کام میں قریش ہی لوگوں کے سربراہ رہیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12546

۔ (۱۲۵۴۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِی عَلٰی قُرَیْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَیْشٍ عَلَیْکُمْ حَقًّا، مَا حَکَمُوا فَعَدَلُوا، وَأْتُمِنُوا فَأَدَّوْا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا۔)) (مسند احمد: ۷۶۴۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے کچھ حقوق قریش کے ذـمہ ہیں اور قریش کے لیے کچھ حقوق تمہارے ذمے ہیں، جب تک وہ عدل و انصاف سے فیصلے کرتے رہیں، جب ان کے پاس امانتیں رکھی جائیں تو وہ امانتیں ادا کرتے رہیں اور جب ان سے رحم کا مطالبہ کیا جائے تو وہ شفقت کرتے رہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12547

۔ (۱۲۵۴۷)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِلْقُرَشِیِّ مِثْلَیْ قُوَّۃِ الرَّجُلِ مِنْ غَیْرِ قُرَیْشٍ۔)) فَقِیلَ لِلزُّہْرِیِّ: مَا عَنٰی بِذٰلِکَ؟ قَالَ: نُبْلَ الرَّأْیِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۶۳)
سیدناجبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک قریشی کو غیر قریشی سے دوگنا زیادہ قوت حاصل ہے۔ زہری سے پوچھا گیا: اس حدیث سے مراد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اصابت رائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12548

۔ (۱۲۵۴۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَائً قُرَیْشٌ، وَیُوشِکُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَۃُ بِالنَّعْلِ، فَتَقُولَ: إِنَّ ہٰذَا نَعْلُ قُرَشِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۸)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عرب کے قبائل میں سب سے جلدی ہلاک ہونے والا قبیلہ قریش کاہے، قریب ہے کہ ایک عورت ایک جوتے کے پاس سے گزرے اور کہے: یہ کسی قریشی آدمی کا جوتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12549

۔ (۱۲۵۴۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَا عَائِشَۃُ! إِنَّ أَوَّلَ مَنْ یَہْلِکُ مِنْ النَّاسِ قَوْمُکِ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَائَکَ أَبَنِی تَیْمٍ؟ قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ قُرَیْشٍ، تَسْتَحْلِیہِمُ الْمَنَایَا وَتَنَفَّسُ عَنْہُمْ أَوَّلَ النَّاسِ ہَلَاکًا۔)) قُلْتُ: فَمَا بَقَائُ النَّاسِ بَعْدَہُمْ؟ قَالَ: ((ہُمْ صُلْبُ النَّاسِ فَإِذَا ہَلَکُوا ہَلَکَ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۶۱)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ!لوگوں میں سے پہلے جو لوگ فنا ہوں گے، وہ تیری قوم کے لوگ ہوں گے۔ سیدہ نے کہا: میں نے کہا: اللہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا کرے، کیا اس سے بنو تیم مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، میری مراد یہ قریش ہیں، موتیں ان کو میٹھا سمجھیں گی اور ان کو برگشتہ کریں گی اور یہ سب سے پہلے تباہ ہوں گے۔ میں نے کہا: ان کے بعد باقی رہنے والے کیسے ہوں گے؟ فرمایا: وہ مضبوط لوگ ہوںگے، جب یہ ہلاک ہوجائیں گے توباقی لوگ بھی ہلاک ہو جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12550

۔ (۱۲۵۵۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُیَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((لَا یُقْتَلُ قُرَشِیٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْیَوْمِ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ) وَلَمْیُدْرِکْ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاۃِ قُرَیْشٍ غَیْرَ مُطِیعٍ، وَکَانَ اسْمُہُ عَاصِی فَسَمَّاہُ مُطِیعًایَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۲۲)
سیدنامطیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہیںکیا جائے گا۔ قریش کے عُصَاۃ یعنی عاص نامی افراد میں سے اس مطیع کے سوا کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا اور اس صحابی کانام بھی عاصی تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12551

۔ (۱۲۵۵۱)۔ عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ إِنَّکَ أَذَقْتَ أَوَائِلَ قُرَیْشٍ نَکَالًا، فَأَذِقْ آخِرَہُمْ نَوَالًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ تو نے قریش کے پہلے لوگوں کو عذاب دئیے، پس اب تو قریش کے بعد والے لوگوںکو نعمتوں سے نواز۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12552

۔ (۱۲۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ ہَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ، نِسَائُ قُرَیْشٍ أَحْنَاہُ عَلَی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ، وَأَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیرًا، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ إِلَّا قَوْلَہُ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بَعِیرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہوچکی ہوں اور میری کفالت میں بچے بھی ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ کی سواری کرتی ہیں، وہ قریشی خواتین ہیں، یہ اولاد پر ان کے بچپنے میں ازحد مہربان اور خاوندوں کے اموال کی بہت زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدہ مریم بنت عمران نے اونٹ پر کبھی سواری نہیں کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12553

۔ (۱۲۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ ہَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ، نِسَائُ قُرَیْشٍ أَحْنَاہُ عَلَی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ، وَأَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیرًا، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ إِلَّا قَوْلَہُ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بَعِیرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی نیک خواتین ہیں، جو اپنی اولاد کے بچپنے میں اس کا بہت خیال رکھنے والی اور اپنے خاوندوں کے مال و منال کی حفاظت کرنے والی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12554

۔ (۱۲۵۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ مَادَّۃً وَإِنَّ مَوَادَّ قُرَیْشٍ مَوَالِیہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۰۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر قوم کے کچھ معاون ہوتے ہیں، قریش کے معاون ان کے حلیف (یا غلام) ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12555

۔ (۱۲۵۵۵)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) ((اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ مَادَّۃً وَاِنَّ مَادَّۃَ قُرَیْشٍ مَوَالِیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۵۴۸)
دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’ہر قوم کا ایک معاون ہوتا ہے، قریش کے معاون ان کے حلیف (یا غلام) ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12556

۔ (۱۲۵۵۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْرِضُیَوْمًا خَیْلًا وَعِنْدَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِیُّ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَیْلِ مِنْکَ۔)) فَقَالَ عُیَیْنَۃُ: وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْکَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((وَکَیْفَ ذَاکَ؟)) قَالَ: خَیْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ یَحْمِلُونَ سُیُوفَہُمْ عَلٰی عَوَاتِقِہِمْ، جَاعِلِینَ رِمَاحَہُمْ عَلٰی مَنَاسِجِ خُیُولِہِمْ، لَابِسُو الْبُرُودِ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کَذَبْتَ، بَلْ خَیْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَہْلِ الْیَمَنِ، وَالْإِیمَانُیَمَانٍ إِلٰی لَخْمٍ وَجُذَامَ وَعَامِلَۃَ، وَمَأْکُولُ حِمْیَرَ خَیْرٌ مِنْ آکِلِہَا، وَحَضْرَمَوْتُ خَیْرٌ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ، وَقَبِیلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ قَبِیلَۃٍ وَقَبِیلَۃٌ شَرٌّ مِنْ قَبِیلَۃٍ، وَاللّٰہِ! مَا أُبَالِی أَنْ یَہْلِکَ الْحَارِثَانِ کِلَاہُمَا لَعَنَ اللّٰہُ الْمُلُوکَ الْأَرْبَعَۃَ جَمَدَائَ وَمِخْوَسَائَ وَمِشْرَخَائَ وَأَبْضَعَۃَ وَأُخْتَہُمْ الْعَمَرَّدَۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَمَرَنِی رَبِّی عَزَّوَجَلَّ أَنْ أَلْعَنَ قُرَیْشًا مَرَّتَیْنِ فَلَعَنْتُہُمْ، وَأَمَرَنِی أَنْ أُصَلِّیَ عَلَیْہِمْ فَصَلَّیْتُ عَلَیْہِمْ مَرَّتَیْنِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((عُصَیَّۃُ عَصَتِ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ غَیْرَ قَیْسٍ وَجَعْدَۃَ وَعُصَیَّۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَیْنَۃُ وَأَخْلَاطُہُمْ مِنْ جُہَیْنَۃَ خَیْرٌ مِنْ بَنِی أَسَدٍ وَتَمِیمٍ وَغَطَفَانَ وَہَوَازِنَ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((شَرُّ قَبِیلَتَیْنِ فِی الْعَرَبِ نَجْرَانُ وَبَنُو تَغْلِبَ، وَأَکْثَرُ الْقَبَائِلِ فِی الْجَنَّۃِ مَذْحِجٌ وَمَأْکُولٌ۔)) قَالَ: قَالَ أَبُو الْمُغِیرَۃِ: قَالَ صَفْوَانُ: حِمْیَرَ حِمْیَرَ خَیْرٌ مِنْ آکِلِہَا، قَالَ: مَنْ مَضَی خَیْرٌ مِمَّنْ بَقِیَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۷۵)
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے، عیینہ بن حصن بن بدر فزاری بھی آپ کے پاس موجود تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیینہ سے فرمایا: میں گھوڑوں کے بارے میں تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ عیینہ نے کہا: اور میں لوگوں کے بارے میں آپ سے زیادہ بصیرت رکھتا ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: لوگوں میں سب سے اچھے اور افضل لوگ وہ ہیں، جو اپنی تلواریں اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی گردنوں پر رکھتے ہوں اور نجد کی بنی ہوئی چادریں زیب تن کرتے ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے غلط کہا، صحیح یہ ہے کہ لوگو ں میں سب سے اچھے اہل یمن ہیں، قابل قدر ایمان یمنی یعنی اہل یمن کا ایمان ہے، آپ کا اشارہ لخـم، جذام اورعاملہ نامی قبائل کی طرف تھا اور قبیلہ حمیر کی ماکول نامی شاخ کے گزشتہ لوگ موجود لوگوں میں سے بہتر ہیں اور قبیلہ حضرموت، بنوحارث سے بہتر ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر یا ایک قبیلہ دوسرے سے بدترہو، اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کہ حارث کے دونوں قبیلے ہلاک ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے چار بادشاہوں جمدائ،1 منحوسائ، مشرفاء اور بضعہ پر اور ان سے ملتی جلتی عمر دۃ پر لعنت کرے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش پر دو مرتبہ لعنت کروں، پس میں نے ان پر لعنت کی اور ربّ تعالیٰ نے مجھے ان کے لیے دعائے رحمت کرنے کا حکم دیا تو میں نے ان کے حق میں دو مرتبہ رحمت کی دعا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے، البتہ ان میں سے قیس، جعدہ اور عصیہ2 کے قبائل معصیت سے محفوظ رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے دیگر قبائل اللہ تعالیٰ کے ہاں بنو اسد، تمیم، غطفان، ہوازن سے بہتر ہوں گے، عرب میں سے بنو نجران اور بنو تغلب کے قبیلے بد ترین ہیں اور جنت میں مذحج اور بنو ما کول کے افراد باقی قبائل کی نسبت زیادہ ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12557

۔ (۱۲۵۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) بَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْرِضُ خَیْلًا وَعِنْدَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِیُّ فَقَالَ لِعُیَیْنَۃَ: ((أَنَا أَبْصَرُ بِالْخَیْلِ مِنْکَ)) فَقَالَ عُیَیْنَۃُ: وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْکَ، قَالَ: ((فَکَیْفَ ذَاکَ؟)) قَالَ: خِیَارُ الرِّجَالِ الَّذِینَیَضَعُونَ أَسْیَافَہُمْ عَلٰی عَوَاتِقِہِمْ، وَیَعْرِضُونَ رِمَاحَہُمْ عَلٰی مَنَاسِجِ خُیُولِہِمْ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ، قَالَ: ((کَذَبْتَ خِیَارُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَہْلِ الْیَمَنِ، وَالْإِیمَانُیَمَانٍ وَأَنَا یَمَانٍ، وَأَکْثَرُ الْقَبَائِلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی الْجَنَّۃِ مَذْحِجٌ، وحَضْرَمَوْتُ خَیْرٌ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ، وَمَا أُبَالِی أَنْ یَہْلِکَ الْحَیَّانِ کِلَاہُمَا فَلَا قِیلَ وَلَا مُلْکَ إِلَّا لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، لَعَنَ اللّٰہُ الْمُلُوکَ الْأَرْبَعَۃَ جَمَدَائَ وَمِشْرَخَائَ وَمِخْوَسَائَ وَأَبْضَعَۃَ وَأُخْتَہُمْ الْعَمَرَّدَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۷۹)
۔ (دوسری سند) سیدناعمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے اور عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بد رفزاری بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیینہ سے فرمایا: میں گھوڑوں ے بارے میں تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ آگے سے عیینہ نے کہا: اور میں لوگوں کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: بہترین لوگ وہ اہل نجد ہیں، جو اپنی تلواریں اپنے کاندھوں پر یعنی نسخوں میں الفاظ کے ضبط میں فرق ہے۔ جس کی تفصیل مسند احمد کے محقق نسخے میں دیکھی جاسکتی ہے۔ @ بعض نسخوں میں عصیۃ کی جگہ عصمۃ ہے جو سیاق کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے۔ (عبداللہ رفیق) رکھتے ہیں اور اپنے نیزے گھوڑوں کی گردنوں پر رکھتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: تم نے غلط کہا، بہترین لوگ یمن کے ہیں اور بہترین ایما ن بھی اہل یمن کا ایمان ہے، میں بھی اصلاً یمنی ہی ہوں اور قیامت والے دن جنت میں تمام قبائل کی نسبت بنو مذ حج کے افراد زیادہ ہوں گے اور قبیلہ حضر موت، قبیلہ بنو حارث سے بہتر ہے اور مجھے ایک بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہے کہ دونوں قبیلے ہلاک ہوجائیں، حکمرانی اور بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ جمدائ، شرحائ، مخوساء اور ابضعہ چاروں بادشاہوں اور ان کی بہن عمردۃ پر لعنت کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12558

۔ (۱۲۵۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ، طَیِّبَۃٌ أَفْوَاہُہُمْ، بَرَّۃٌ أَیْمَانُہُمْ، نَقِیَّۃٌ قُلُوبُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبیلہ ازد کے لوگ بہترین لوگ ہیں، ان کے منہ یعنی گفتگو انتہائی شان دار ہوتی ہے، یہ اپنی قسم کو پورا کرتے ہیں اوردلوں کے صاف ہوتے ہیں، یعنی یہ کسی کے خلاف بغض یا حسد نہیں رکھتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12559

۔ (۱۲۵۵۹)۔ (وَعَنْہُ اَیْضا) قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الْعَنْ حِمْیَرَ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ جَائَ ہُ مِنْ نَاحِیَۃٍ أُخْرٰی، فَأَعْرَضَ عَنْہُ، وَہُوَ یَقُولُ: الْعَنْ حِمْیَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ حِمْیَرَ أَفْوَاہُہُمْ سَلَامٌ، وَأَیْدِیہِمْ طَعَامٌ، أَہْلُ أَمْنٍ وَإِیمَانٍ۔)) (مسند احمد: ۷۷۳۱)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض فرمایا، وہ دوسری طرف سے آگیا اور اس بار بھی یہی بات کہی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اور فرمایا: اللہ قبیلہ حمیر پر رحم فرمائے، ان کے منہ یعنی گفتگو سلامتی والی ہے، ان کے ہاتھ کھانا کھلانے والے ہیں اور یہ لوگ امن و ایمان والے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12560

۔ (۱۲۵۶۰)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِبَنِیْ نَاجِیَۃَ: ((اَنَا مِنْہُمْ وَھُمْ مِنِّی۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۷)
سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبیلہ بنی ناجیہ کے بارے میں فرمایا: میں ان سے اور وہ مجھ سے ہیں، (یعنی وہ میرے اور میں ان کا ہوں)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12561

۔ (۱۲۵۶۰)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِبَنِیْ نَاجِیَۃَ: ((اَنَا مِنْہُمْ وَھُمْ مِنِّی۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۷)
ایک دوسری روایت جو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بھتیجے سے مروی ہے، اس میں ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں بنو ناجیہ کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ قبیلہ مجھ سے ہے۔ اس روایت کی سند میں سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر نہیں کیا جاتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12562

۔ (۱۲۵۶۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: شَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُو لِہٰذَا الْحَیِّ مِنَ النَّخَعِ، أَوْ قَالَ: یُثْنِی عَلَیْہِمْ حَتّٰی تَمَنَّیْتُ أَنِّی رَجُلٌ مِنْہُمْ۔ (مسند احمد: ۳۸۲۶)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو نخع کے اس قبیلہ کے حق میں اس قدر دعا کی یا یوں کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی اس قدر مدح کی کہ میں نے تمنا کی کہ میں بھی ان میں سے ایک فرد ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12563

۔ (۱۲۵۶۳)۔ وَعَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَۃَ، أَنَّ أَبَاہُ حَنْظَلَۃَ بْنَ نُعَیْمٍ وَفَدَ إِلٰی عُمَرَ، فَکَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِہِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ سَأَلَہُ مِمَّنْ ہُوَ؟ حَتّٰی مَرَّ بِہِ أَبِی فَسَأَلَہُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عَنَزَۃَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((حَیٌّ مِنْ ہَاہُنَا مَبْغِیٌّ عَلَیْہِمْ مَنْصُورُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱)
حنظلہ بن نعیم سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے، یہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عادت تھی کہ جب وفد کا کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرتا تو وہ اس سے دریافت کرتے کہ وہ کس قبیلہ سے ہے؟ یہاں تک کہ میرے والد سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہیں؟ انہوںنے کہا: میں عنزہ قبیلے سے ہوں، یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: یہاںایک قبیلہ ایسا بھی ہے کہ ان پر ظلم کیا جائے گا، لیکن ان کی تائید و نصرت کی جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12564

۔ (۱۲۵۶۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُرَیْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُہَیْنَۃُ وَمُزَیْنَۃُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَأَشْجَعُ مَوَالِیَّ، لَیْسَ لَہُمْ مَوْلًی دُونَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، بنو اسلم، بنو غفار اور بنواشجع یہ سب میرے حلیف ہیں، ان کا اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی دوسرا حلیف نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12565

۔ (۱۲۵۶۵)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَشَیْئٌ مِنْ مُزَیْنَۃَ وَجُہَیْنَۃَ، أَوْ شَیْئٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ وَمُزَیْنَۃَ خَیْرٌ عِنْدَ اللّٰہِ۔)) قَالَ: أَحْسِبُہُ قَالَ: ((یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَہَوَازِنَ وَتَمِیمٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۵۰)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسلم اوربنو غفار اور مزینہ اور جہینہ قبیلے کے کچھ لوگ اللہ کے ہاں بہترین لوگ ہیں، راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ قبائل اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن بنو اسد بنو غطفان، بنو ہوازن اور بنو تمیم سے افضل اور بہتر ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12566

۔ (۱۲۵۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَسْلَمُ سَالَمَہَا اللّٰہُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللّٰہُ لَہَا، وَعُصَیَّۃُ الَّذِینَ عَصَوُا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۹۶۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بنو اسلم کو سلامت رکھے اور بنو غفار کی مغفرت فرمائے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی معصیت کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12567

۔ (۱۲۵۶۷)۔ حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَسْلَمُ سَالَمَہَا اللّٰہُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللّٰہُ لَہَا، أَمَا وَاللّٰہِ! مَا أَنَا قُلْتُہُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَالَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۳۲)
سیدناسلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بنو سالم کو سلامت رکھے اور بنو غفارکی مغفرت فرمائے، خبردار! اللہ کی قسم! یہ بات میں نے نہیں کہی، اللہ تعالیٰ نے خود فرمائی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12568

۔ (۱۲۵۶۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَسْلَمَ سَالَمَھَا اللّٰہُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللّٰہُ لَھَا، مَا اَنَا قُلْتُہٗوَلٰکِنَّاللّٰہَعَزَّوَجَلَّقَالَہٗ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۰۱۲)
سیدناابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سالم قبیلہ کو سلامت رکھے اور غفار قبیلہ کی مغفرت فرمائے، یہ بات میں نہیں کہہ رہا، اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12569

۔ (۱۲۵۶۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِییَعْقُوبَ الضَّبِّیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِی بَکْرَۃَ،یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا بَایَعَکَ سُرَّاقُ الْحَجِیجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارٍ وَمُزَیْنَۃَ، وَأَحْسَبُ جُہَیْنَۃَ، مُحَمَّدٌ الَّذِییَشُکُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَمُزَیْنَۃُ، وَأَحْسَبُ جُہَیْنَۃَ خَیْرًا مِنْ بَنِی تَمِیمٍ وَبَنِی عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ أَخَابُوْا وَخَسِرُوْا۔)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ إِنَّہُمْ لَأَخْیَرُ مِنْہُمْ إِنَّہُمْ لَأَخْیَرُ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۴)
سیدنا اقرع بن حابس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اسلم، غفار، مزینہ او رمیرا خیال ہے کہ راوی نے جہینہ کا نام بھی لیا تھا، یہ قبائل حاجیوں کی چوریاںکیاکرتے تھے، ان سب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ کے قبائل تمیم، عامر، اسد اور غطفان سے بہتر ہوں توکیا وہ قبائل خسارے میں نہ ہو ں گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ ا ن سے کہیں بہتر ہیں وہ ان سے بدر جہا بہتر ہیں۔ جہینہ قبیلے کے بارے میں محمد بن ابی یعقوب راوی کو شک ہواہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12570

۔ (۱۲۵۷۰)۔ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ أَسْلَمَ وَغِفَارًا وَمُزَیْنَۃَ وَأَشْجَعَ وَجُہَیْنَۃَ، وَمَنْ کَانَ مِنْ بَنِی کَعْبٍ مَوَالِیَّ دُونَ النَّاسِ، وَاللّٰہُ وَرَسُولُہُ مَوْلَاہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۳۹)
سیدناابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؒ نے فرمایا: اسلم، غفار، مزینہ، اشجع، جہینہ اور بنو کعب کے قبائل میرے حلیف، معاون اور مدد گار ہیں اوراللہ اور اس کے رسول ان کے مددگار ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12571

۔ (۱۲۵۷۱)۔ عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ بَجِیلَۃَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُکْتُبُوْا الْبَجَلِیِّینَ وَابْدَئُوْا بِالْأَحْمَسِیِّینَ۔)) قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ قَیْسٍ، قَالَ: حَتّٰی أَنْظُرَ مَا یَقُولُ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَا لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمْسَ مَرَّاتٍ: ((اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ، أَوْ اَللَّہُمَّ بَارِکْ فِیہِمْ۔)) مُخَارِقٌ الَّذِییَشُکُّ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۳۹)
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ بجیلہ کا ایک وفد، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: تم بنو بجیلہ کے افراد کے نام درج کر لو اور بنو احمس کے نا پہلے م لکھنا۔ یہ سن کر بنو قیس کا ایک آدمی پیچھے ہٹ گیا، تاکہ وہ یہ دیکھے کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، وہ بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں پانچ مرتبہ فرمایا: اے اللہ! تو ان پر رحمت فرما۔ یا اے اللہ! تو ان پر برکت نازل فرما۔ ان الفاظ میں مخارق راوی کو شک ہوا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12572

۔ (۱۲۵۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ أَحْمَسَ وَوَفْدُ قَیْسٍ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ابْدَئُ وْا بِالْأَحْمَسِیِّینَ قَبْلَ الْقَیْسِیِّینَ۔)) وَدَعَا لِأَحْمَسَ، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ بَارِکْ فِی أَحْمَسَ وَخَیْلِہَا وَرِجَالِہا۔)) سَبْعَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۳۹)
۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو احمس اور بنو قیس کے افراد کا ایک وفد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بنو قیس سے پہلے بنو احمس سے ابتدا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو احمس ے حق میں سات مرتبہ یہ دعا فرمائی، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ فِی أَحْمَسَ وَخَیْلِہَا وَرِجَالِہا (یااللہ! تو بنو احمس، ان کے سواروں اور پیادوں میں برکت فرما۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12573

۔ (۱۲۵۷۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِی بِی لُحُوقًا فِی الْجَنَّۃِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَحْمَسَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۲۲)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے بنو احمس کی ایک عورت مجھے آکر ملے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12574

۔ (۱۲۵۷۴)۔ عَنْ جَابِرِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ اھْدِ ثَقِیْفًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۵۸)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! بنو ثقیف کو ہدایت دے دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12575

۔ (۱۲۵۷۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الطُّفِیْلُ وَاَصْحَابُہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ دَوْسًا قَدِ اسْتَعْصَتْ، قَالَ: اَللّٰہُمَّ اھْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے تو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک بنو دوس نے سرکشی کی ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بنودوس کو ہدایت دے اور ان کومیرے پاس لے آ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12576

۔ (۱۲۵۷۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَہْدٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَکْرَۃً، فَعَوَّضَہُ سِتَّ بَکَرَاتٍ فَتَسَخَّطَہُ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، وہ تب بھی ناراض ہی رہا، جب یہ خبر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی نے مجھے ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی تھی، حالانکہ وہ میری ہی اونٹنی تھی، میں اسے اسی طرح پہچانتا ہوں، جیسے میں اپنے اہل خانہ کو پہنچانتا ہوں، وہ زغابہ کے1 د ن لڑائی میں میرے ہاتھو ں سے نکل گئی تھی، تاہم میں نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں دے دیں تھیں، مگر وہ پھر بھی ناراض رہا، اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے علاوہ کسی سے کوئی ہدیہ قبول نہ کروں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12577

۔ (۱۲۵۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ، طَیِّبَۃٌ أَفْوَاہُہُمْ، بَرَّۃٌ أَیْمَانُہُمْ، نَقِیَّۃٌ قُلُوبُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو ازد بہترین قوم ہیں، ان کے منہ یعنی ان کی گفتگو نہایت عمدہ ہے، یہ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور ان کے دل (بغض، حسد اور کینہ وغیرہ سے)صاف اور پاک ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12578

۔ (۱۲۵۷۸)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذِہِ صَدَقَۃُ قَوْمِی، وَہُمْ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَی الدَّجَّالِ۔)) یَعْنِی بَنِی تَمِیمٍ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: مَا کَانَ قَوْمٌ مِنَ الْأَحْیَائِ أَبْغَضُ إِلَیَّ مِنْہُمْ فَأَحْبَبْتُہُمْ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ ہٰذَا۔ (مسند احمد: ۹۰۵۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو تمیم کے بارے میں فرمایا: یہ صدقہ میری قوم کی طرف سے ہے اور یہ دجال کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں: ا س سے پہلے بنو تمیم کے لوگ مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھے، لیکن میں نے جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کے بارے میں یہ فرماتے سنا، تب سے میں ان سے محبت کرتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12579

۔ (۱۲۵۷۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ، حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ عِنْدَہُ فَأَخَذَ کَفًّا مِنْ حَصًی لِیَحْصِبَہُ، ثُمَّ قَالَ عِکْرِمَۃُ: حَدَّثَنِی فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّ تَمِیمًا ذُکِرُوْا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْطَأَ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ تَمِیمٍ، عَنْ ہٰذَا الْأَمْرِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی مُزَیْنَۃَ، فَقَالَ: ((مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ ہٰؤُلَائِ مِنْہُمْ۔)) وَقَالَ رَجُلٌ: یَوْمًا أَبْطَأَ ہٰؤُلَائِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِیمٍ بِصَدَقَاتِہِمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ، وَسُودٌ لِبَنِی تَمِیمٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((ہٰذِہِ نَعَمُ قَوْمِی۔)) وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا، فَقَالَ: ((لَا تَقُلْ لِبَنِی تَمِیمٍ إِلَّا خَیْرًا، فَإِنَّہُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَی الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۷۴)
عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ اس کے سامنے ایک آدمی نے ! زغابہ کے دن کی تفصیل محقق مسند احمد میں دیکھیں۔ بنو تمیم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے، تو انہوں نے اسے مارنے کے لیے کنکروں سے بھری ہوئی مٹھی اٹھالی، پھر عکرمہ نے کہا: مجھے فلاںصحابی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بنو تمیم کا ذکر کیا گیا تو کسی نے کہا: انہوں نے اسلام قبول کرنے میں کافی تاخیر کر دی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ان لوگوں نے کوئی دیر نہیں کی، بنو مزینہ بھی انہی میں سے ہیں۔ پھر ایک دن ایک آدمی نے یوں کہہ دیا کہ بنو تمیم نے اپنے صدقات کی ادائیگی اور ترسیل میں دیر کر دی ہے اور پھر بنو تمیم کی طرف سے سر خ اور سیاہ اونٹ آن پہنچے، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان اونٹوں کو دیکھ کر فرمایا: یہ میری قوم کی زکوۃ ہے۔ پھر ایک آدمی نے بنو تمیم کے بارے میں ناقدانہ تبصرہ کیا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بنو تمیم کے بارے میں اچھی باتوں کے سوا کچھ نہ کہا کرو، دجال کے مقابلے میں ان کے نیزے سب سے بلند ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12580

۔ (۱۲۵۸۰)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ نَحْوَ الْیَمَنِ، فَقَالَ: ((الْإِیمَانُ ہَاہُنَا، الْإِیمَانُ ہَاہُنَا، وَإِنَّ الْقَسْوَۃَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِی الْفَدَّادِینَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنَا الشَّیْطَانِ فِی رَبِیعَۃَ وَمُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۹)
سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ایمان یہاں ہے، ایمان یہاں ہے، اور شدت اور دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہے، جہاں سے ربیعہ اور مضر میں سے شیطان کے سینگ طلوع ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12581

۔ (۱۲۵۸۱)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَتَضْرِبَنَّ مُضَرُ عِبَادَ اللّٰہِ حَتّٰی لَا یُعْبَدَ لِلّٰہِ اسْمٌ، وَلَیَضْرِبَنَّہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَتّٰی لَا یَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۴۳)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو مضر اللہ کے بندوں کو اس حدتک ماریں گے کہ اللہ کی عبادت کرنے والا کوئی نام نہیں رہے گا، پھر اہل ایمان ان کو ضرور ضرور اس طرح ماریں گے اور وہ ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12582

۔ (۱۲۵۸۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْجِ الْوَلِیدَ وَسَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ وَعَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ، وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ، اَللّٰہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلٰی مُضَرَ، وَاجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ کَسِنِییُوسُفَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۵۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر کی آخری رکعت سے سر اٹھایا تو یوں دعا کی: اے اللہ! توں ہمارا رب ہے اور تیری ہی تعریف ہے، تو ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور بے کس مسلمانوں کو نجات دلا، اے اللہ! تو مضر پر اپنی گرفت سخت کر اور ان پر یوسف علیہ السلام کے دور جیسا قحط مسلط فرما۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12583

۔ (۱۲۵۸۳)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ، دَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی مُضَرَ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَکَ، وَأَعْطَاکَ، وَاسْتَجَابَ لَکَ، وَإِنَّ قَوْمَکَ قَدْ ہَلَکُوا، فَادْعُ اللّٰہَ لَہُمْ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَکَ، وَأَعْطَاکَ، وَاسْتَجَابَ لَکَ، وَإِنَّ قَوْمَکَ قَدْ ہَلَکُوْا، فَادْعُ اللّٰہَ لَہُمْ، قَالَ: ((اللَّہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیثًا مَرِیعًا طَبَقًا غَدَقًا، غَیْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ۔)) فَمَا کَانَتْ إِلَّا جُمُعَۃً أَوْ نَحْوَہَا حَتّٰی مُطِرُوْا، قَالَ شُعْبَۃُ فِی الدُّعَائِ کَلِمَۃٌ سَمِعْتُہَا مِنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ، عَنْ سَالِمٍ فِی الِاسْتِسْقَائِ، وَفِی حَدِیث حَبِیبٍ أَوْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: جِئْتُکَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا یَخْطِرُ لَہُمْ فَحْلٌ وَلَا یُتَزَوَّدُ لَہُمْ رَاعٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۲۹)
سیدناکعب بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مضر پر بددعا کی، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد فرمائی اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاقبول فرمائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قوم ہلاک ہورہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ سے ان کے حق میں دعافرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رخ پھیرلیا، میںنے دوبارہ کہا: اللہ کے رسول! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا قبول فرمائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ سے ان کے حق میں دعا فرمائیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! ایسی بارش نازل فرما، جو ہمیں سیراب کر دے، بہت زیادہ ہو، نفع والی ہو، نقصان والی نہ ہو۔ ایک ہفتہ کے لگ بھگ گزرا ہوگا کہ وہاں خوب بارش برسی۔ شعبہ راوی نے اس دعا میں ایسا لفظ بھی بیان کیا ہے جو میں نے حبیب بن ابی ثابت عن سالم سے الا ستسقاء میں بھی سنا ہے اور سالم سے حبیب یا عمرو کی روایت میں ہے: میں آپ کے پاس ایسی قوم کے پاس سے آرہا ہوں کہ شدت بھوک کی وجہ سے ان کے اونٹ اپنی دموں کو حرکت تک نہیں دیتے اور ان کے چرواہوں کے پاس زادِ راہ تک نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12584

۔ (۱۲۵۸۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((شَرُّ قَبِیلَتَیْنِ فِی الْعَرَبِ نَجْرَانُ وَبَنُو تَغْلِبَ، وَأَکْثَرُ الْقَبَائِلِ فِی الْجَنَّۃِ مَذْحِجٌ وَمَاکُوْلٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۷۵)
سیدناعمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نجران اور بنو تغلب، یہ دو قبیلے عرب میں بہت برے ہیں اور جنت میں بنو مذحج اور بنو ماکول کے لوگ سب سے زیادہ ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12585

۔ (۱۲۵۸۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ قَالَ: کَانَ أَبْغَضَ النَّاسِ أَوْ أَبْغَضَ الْأَحْیَائِ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَقِیفٌ وَبَنُو حَنِیفَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۱۳)
سیدناابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بنو ثقیف اور بنو حنیفہ سے سب سے زیادہ نفر ت تھی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12586

۔ (۱۲۵۸۶)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ ہٰذَا الْحَیَّ مِنْ مُضَرَ، لَا تَدَعُ لِلّٰہِ فِی الْأَرْضِ عَبْدًا صَالِحًا إِلَّا فَتَنَتْہُ وَأَہْلَکَتْہُ حَتّٰییُدْرِکَہَا اللّٰہُ بِجُنُودٍ مِنْ عِبَادِہِ، فَیُذِلَّہَا حَتّٰی لَا تَمْنَعَ ذَنَبَ تَلْعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۰۵)
سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مضر کا یہ قبیلہ زمین پر موجود صالح لوگوں کو فتنوں میں ڈالے گا اور انہیں ہلاک کرے گا، یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے لشکروں کے ذریعے ان کی گرفت کرے گا اور ان کو ذلت و رسوائی میں مبتلا کر دے گا اور وہ ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12587

۔ (۱۲۵۸۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ) قَالَ حُذَیْفَۃُ: وَاللّٰہِ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبْدًا لِلّٰہِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوہُ، أَوْ قَتَلُوہُ، أَوْ یَضْرِبُہُمُ اللّٰہُ وَالْمَلَائِکَۃُ وَالْمُؤْمِنُونَ، حَتّٰی لَا یَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَۃٍ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: أَتَقُولُ ہٰذَا، یَا عَبْدَ اللّٰہِ؟ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ، قَالَ: لَا أَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۳۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مضر کے لوگ اللہ کے مومن بندوں کو فتنوں میں ڈالیں گے یا انہیں قتل کر دیں گے، پھر اللہ تعالی، فرشتے اور اہل ایمان ان کی ایسی مار کٹائی کریں گے کہ وہ ذلیل و رسوا ہوکر رہ جائیں گے۔ ایک آدمی نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے اللہ کے بندے! تم خود مضر سے ہو اور یہ کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: میں وہی کہتا ہوں، جو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12588

۔ (۱۲۵۸۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا الْوَلِیْدُ الْاَوْزَاعِیُّ ثَنَا یَحْیٰی عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ أَبِی، وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ، حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمَعْنَی قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِمْ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ، وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ، ثُمَّ ہِیَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تَحِلُّ لُقْطَتُہَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ، إِمَّا أَنْ یَفْدِیَ، وَإِمَّا أَنْ یَقْتُلَ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِیُقَالُ لَہُ: أَبُو شَاہٍ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اکْتُبُوا لِی، فَقَالَ: ((اکْتُبُوا لَہُ۔)) فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِقُبُورِنَا وَبُیُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِیِّ: وَمَا قَوْلُہُ: اکْتُبُوا لِأَبِی شَاہٍ، وَمَا یَکْتُبُوْنَ لَہُ؟ قَالَ: یَقُولُ: اکْتُبُوا لَہُ خُطْبَتَہُ الَّتِی سَمِعَہَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَیْسَیُرْوَی فِی کِتَابَۃِ الْحَدِیثِ شَیْئٌ أَصَحُّ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ، لِأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَہُمْ قَالَ: ((اکْتُبُوْا لِأَبِی شَاہٍ۔)) مَا سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۲۴۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مکہ مکرمہ فتح کر ادیا تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیاتھا اور اللہ نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو مکہ پر تسلط دیاہے، میرے لیے دن کے کچھ حصہ کے لیے اس شہر میں لڑائی کی اجازت دی گئی اب یہ قیامت تک کے لیے حرم ہے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ دھمکایا جائے، یہاں پر گری ہوئی چیزوں کے ملنے پر اس کااٹھانا ناجائزہے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کر سکتا ہو تو وہ اٹھا سکتا ہے اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے، وہ یا تو فدیہ قبول کر لے یا قاتل کو قتل کرے۔ ایک یمنی آدمی، جس کا نام ابو شاہ تھا، نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ احکامات میرے لیے لکھوادیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے درخواست کی کہ حددو حرم میں سے اذخر گھا س کے کاٹنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ یہ قبروں اور گھروں کے عام استعمال کی چیز ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔ ولید راوی کہتے ہیں: میںنے اوزاعی سے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد ابو شاہ کے لیے لکھ دو کا کیا مطلب ہے؟ صحابہ نے اس کے لیے کیا لکھا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ کا مقصد تھا کہ جو خطبہ اس آدمی نے سنا ہے، وہ اس کے لیے لکھ دیا جائے، ابو عبدالرحمن نے کہا ہے کہ جواز کتابت حدیث کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی حدیث صحیح نہیں، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ ابو شاہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ لکھا جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12589

۔ (۱۲۵۸۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِی، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ، لَا یُخْتَلٰی خَلَاہَا، وَلَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ۔)) فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا، قَالَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۹)
سیدناسیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کوحرم ٹھہرایا ہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کے لیے بھی اس کی حدود میں لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی، مجھے بھی دن کے کچھ حصہ میں لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، درخت نہ کاٹے جائیں، شکار کو دھمکا یا نہ جائے اور اعلان کرنے واے کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی یہاں پر گری پڑی چیز کو نہ اٹھائے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اذخر گھاس کی اجازت دیں، کیونکہ سنار لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں اور یہ قبروں میں بھی استعمال ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کی اجازت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12590

۔ (۱۲۵۹۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((إِنَّ ہٰذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَہُ اللّٰہُ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَہُوَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللّٰہُ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِیہِ الْقَتْلُ غَیْرِی، وَلَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِی فِیہِ، حَتّٰی تَقُومَ السَّاعَۃُ، وَمَا أُحِلَّ لِی فِیہِ إِلَّا سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ، فَہُوَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی أَنْ تَقُومَ السَّاعَۃُ، وَلَا یُعْضَدُ شَوْکُہُ، وَلَا یُخْتَلٰی خَلَاہُ، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہُ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ۔)) قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: وَکَانَ مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ قَدْ عَلِمَ الَّذِی لَا بُدَّ لَہُمْ مِنْہُ إِلَّا الْإِذْخِرَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَإِنَّہُ لَا بُدَّ لَہُمْ مِنْہُ، فَإِنَّہُ لِلْقُبُورِ وَالْبُیُوتِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) فَإِنَّہُ لِبُیُوتِہِمْ وَلِقَیْنِہِمْ، فَقَالَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ، وَلَا ہِجْرَۃَ وَلٰکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۸)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان کی تخلیق کی، اسی دن سے اس نے اسے حرام قرارد یا، یہ قیامت تک حرم ہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد قیامت تک ہر ایک کے لیے اب یہ حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لیے حرم قرار دیا ہے، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، گھاس نہ اکھاڑی جائے، شکار کو نہ دھمکایا جائے اور یہاں پر گری ہوئی چیز کو کوئی نہ اٹھائے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کرنا چاہتا ہو تو وہ اٹھا سکتاہے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو مکہ کے باشندے تھے اور وہ اہل مکہ کی ضرور ت سے واقف تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول!اذخر گھاس کے کاٹنے کی تو اجازت دے دیں، یہ قبروں اور گھروں کی لازمی ضرورت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں اذخرگھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔ ایک رویت میں ہے: سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ اذخر لوگوں کے گھروںکی ضرورت ہے اور لوہار اور سنار استعمال کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کوکاٹنے کی اجازت ہے۔ نیز فرمایا: اب مکہ سے ہجرت نہیں ہوسکتی، البتہ جہاد اور ہجرت کی نیت باقی ہے،جب بھی ضرورت پڑی تو ہجرت یا جہاد کے لیے نکلیں گے اور جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو اٹھ کھڑے ہو جانا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12591

۔ (۱۲۵۹۱)۔ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْعَدَوِیِّ، أَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلٰی مَکَّۃَ: ائْذَنْ لِی أَیُّہَا الْأَمِیرُ! أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ، وَوَعَاہُ قَلْبِی، وَأَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حَیْثُ تَکَلَّمَ بِہِ، أَنَّہُ حَمِدَ اللّٰہَ، وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ، وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ، فَلَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا، وَلَا یَعْضِدَ فِیہَا شَجَرَۃً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہَا، فَقُولُوْا إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَذِنَ لِرَسُولِہِ، وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِی فِیہَا سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بِالْأَمْسِ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۶)
سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف اپنے لشکر بھیج رہا تھا تو ابو شریح عدوی نے اس سے کہا: اے امیر! میں تمہیں ایک ایسی بات بتلاتا ہوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن ارشاد فرمائی تھی، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد کیا اور میری آنکھوں نے دیکھا، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلام فرمائی، سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور پھر فرمایا: جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے روا نہیں کہ وہ اس شہر میں قتل و غارت کرے اور اس کے درخت کاٹے، اگر کوئی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لڑائی کو بنیاد بنا کر مکہ میں لڑائی کا جواز پیش کرے تو تم اسے بتلا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی اورمیرے لیے بھی دن کے ایک حصہ میں یعنی تھوڑی دیر کے لیے اجازت دی گئی تھی، آج اس کی حرمت اسی طرح بحال ہے، جیسے کل تھی، جو لوگ موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچا دیں، جو یہاں موجود نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12592

۔ (۱۲۵۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَخِی بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ أَبِیہِ مُطِیعٍ، وَکَانَ اسْمُہُ الْعَاصِ فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُطِیعًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَمَرَ بِقَتْلِ ہٰؤُلَائِ الرَّہْطِ بِمَکَّۃَ،یَقُولُ: ((لَا تُغْزٰی مَکَّۃُ بَعْدَ ہٰذَا الْعَامِ أَبَدًا، وَلَا یُقْتَلُ قُرَشِیٌّ بَعْدَ ہٰذَا الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۸۴)
ایک جماعت کے افراد کے قتل کا حکم دیا تو فرمایا: آج کے بعد مکہ پر لشکر کشی نہیں کی جائے گی اور آج کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12593

۔ (۱۲۵۹۳)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ابْنَ الزُّبَیْرِ، وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْحِجْرِ، فَقَالَ: یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ! إِیَّاکَ وَالْإِلْحَادَ فِی حَرَمِ اللّٰہِ، فَإِنِّی أَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((یُحِلُّہَا، وَیَحُلُّ بِہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُہُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَیْنِ لَوَزَنَتْہَا۔)) قَالَ: فَانْظُرْ أَنْ لَا تَکُونَ ہُوَ یَا ابْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّکَ قَدْ قَرَأْتَ الْکُتُبَ وَصَحِبْتَ الرَّسُولَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَإِنِّی أُشْہِدُکَ أَنَّ ہٰذَا وَجْہِی إِلَی الشَّامِ مُجَاہِدًا۔ (مسند احمد: ۷۰۴۳)
سعید بن عمرو سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، جبکہ وہ حطیم میں تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: اے ابن زبیر! اللہ کے حرم میں قتل و غارت سے بچو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک قریشی آدمی مکہ کی حرمت کو پامال کرے گا، اس کے گناہ اس قدر ہوں گے کہ اگران کا تمام انسانوں اور جنات کے گناہوں سے موازنہ کیا جائے تو اس کے گناہ وزنی ہوں گے۔ سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آگے سے کہا: اے ابن عمرو! خیال کرنا کہ وہ آدمی تم ہی نہ ہو، تم تو کتابیںپڑھے ہوئے ہیں اور تم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے، انہوں نے کہا: میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تو بغرض جہاد شام کی طرف جارہا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12594

۔ (۱۲۵۹۴)۔ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَتَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ: یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ! إِیَّاکَ وَالْإِلْحَادَ فِی حَرَمِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیُلْحِدُ فِیہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُہُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَیْنِ لَرَجَحَتْ۔)) قَالَ: فَانْظُرْ لَا تَکُونُہُ۔ (مسند احمد: ۶۲۰۰)
سعید سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور کہا: اے ابن زبیر! اللہ تعالیٰ کے حرم کے اندر فساد اور قتل و غارت سے بچو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب اس حرم میں ایک قریشی آدمی قتل و غارت کرے گا، وہ اس قدر گنہگارہو گا کہ اگر اس کے گناہوں کا تمام انسانوں اور جنوں کے گناہوں سے موازانہ کیا گیاتو اس کے گناہ بھاری ہوں گے۔ دیکھ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم ہی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12595

۔ (۱۲۵۹۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ بِخَیْرٍ مَا عَظَّمُوا ہٰذِہِ الْحُرْمَۃَ حَقَّ تَعْظِیمِہَا، فَإِذَا تَرَکُوہَا وَضَیَّعُوْہَا ہَلَکُوْا)) (مسند احمد: ۱۹۲۵۹)
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ امت جب تک مکہ کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھے گی، خیر و سلامتی کے ساتھ رہے گی اور جب وہ اس حرمت کو چھوڑدیں گے اور ضائع کریں گے تو وہ خود بھی تباہ ہو جائیںگے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12596

۔ (۱۲۵۹۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمَدِینَۃُ وَمَکَّۃُ مَحْفُوفَتَانِ بِالْمَلَائِکَۃِ عَلٰی کُلِّ نَقْبٍ مِنْہَا مَلَکٌ، لَا یَدْخُلُہَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی طرف سے مکہ اور مدینہ کو فرشتوں کے ذریعے گھیر دیا گیا ہے، ان کے ہر راستے پر فرشتہ مقرر ہے، دجال اور طاعون ان دونوں شہروں میں داخل نہیں ہو سکتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12597

۔ (۱۲۵۹۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: وَقَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْحَزْوَرَۃِ، فَقَالَ: ((عَلِمْتُ أَنَّکِ خَیْرُ أَرْضِ اللّٰہِ، وَأَحَبُّ الْأَرْضِ إِلَی اللّٰہِ، وَلَوْلَا أَنَّ أَہْلَکِ أَخْرَجُونِی مِنْکِ، مَا خَرَجْتُ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَالْحَزْوَرَۃُ عِنْدَ بَابِ الْحَنَّاطِینَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۲۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حزورہ کے مقام پر رکے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی سب سے بہتر اور اس کی محبوب ترین زمین ہے، اگر تیرے رہنے والے لو گ مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں از خود کبھی نہ جاتا۔ عبدالرزاق راوی حدیث کہتے ہیں: حزورہ مقام باب الحناطین کے قریب ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12598

۔ (۱۲۵۹۸)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَدِیِّ بْنِ الْحَمْرَائِ، أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ وَاقِفٌ بِالْحَزْوَرَۃِ مِنْ مَکَّۃَیَقُولُ لِمَکَّۃَ: ((وَاللّٰہِ! إِنَّکِ لَأَخْیَرُ أَرْضِ اللّٰہِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰہِ)) فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۸۹۲۳)
سیدناعبداللہ بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ کے حزورہ مقام پر کھڑے ہو کر مکہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر اور محبوب ترین جگہ ہے، …۔ آگے سابق روایت کی طرح کے الفاظ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12599

۔ (۱۲۵۹۹)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((سَیَخْرُجُ أَہْلُ مَکَّۃَ، ثُمَّ لَا یَعْمُرُوْنَھَا أَوْ لَا تُعْمَرُ إِلَّا قَلِیْلًا، ثُمَّ تَمْتَلِیئُ وَتُبْنٰی، ثُمَّ یَخْرُجُونَ مِنْہَا فَلَا یَعُودُونَ فِیہَا أَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۹۴)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب اہل مکہ یہاں سے نکل جائیں گے، پھر اس کے بعد وہ اسے آباد نہیں کرسکیں گے یا یوں فرمایا کہ اس کے بعد وہ آباد نہیں کیا جائے گا، مگر تھوڑا، پھر یہ آباد ہونا شروع ہو گا اور بھر جائے گا اور اس کو تعمیر کیا جائے گا، لیکن اس کے بعد جب لوگ نکل جائیں گے تو وہ کبھی بھی اس کی طرف واپس نہیں آئیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12600

۔ (۱۲۶۰۰)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خَیْرُ مَا رُکِبَتْ إِلَیْہِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدُ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَام وَمَسْجِدِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۶۷)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن مقامات کی طرف اونٹوں پر سفر کیا جاتا ہے، ان میں سے سب سے افضل اور بہترین مقامات ابراہیم علیہ السلام کی مسجد اور میری مسجد ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12601

۔ (۱۲۶۰۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃٌ فِی مَسْجِدِی ہٰذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاۃٌ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَۃِ أَلْفِ صَلَاۃٍ۔)) قَالَ حُسَیْنٌ: فِیمَا سِوَاہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۵۰)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ باقی مساجد کی ایک ہزار نماز وں سے افضل ہے اور مسجد حرام میں ادا کی گئی ایک نماز باقی مساجد کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12602

۔ (۱۲۶۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃٌ فِی مَسْجِدِی ہٰذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاۃٌ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَۃِ صَلَاۃٍ فِی ہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۱۶)
سیدناعبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز باقی مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، سوائے مسجد ِ حرام کے اورمسجد حرام کی ایک نماز اس مسجد کی سو نمازوں سے افضل ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12603

۔ (۱۲۶۰۳)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، أَنَّ جِبْرِیلَ لَمَّا رَکَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِہِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِیلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَائَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ ہَاجَرَ أُمَّ إِسْمَاعِیلَ، لَوْ تَرَکَتْہَا لَکَانَتْ مَائً مَعِینًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۴۳)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام نے زمزم کا پانی نکالنے کے لیے اپنی ایڑی پر زور دیا تو اسماعیل علیہ السلام کی ماں کشادہ وادی (پر بنیری بنا کر) اس کو جمع کرنے لگ گئی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ امِّ اسماعیل ہاجرہ پر رحم فرمائے، اگر وہ اس پانی کو چھوڑ دیتی تو یہ جاری چشمہ ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12604

۔ (۱۲۶۰۴)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۱۰)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے پیا جائے، وہی مقصد پورا ہو جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12605

۔ (۱۲۶۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّّ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ اِنَّہَا طَعَامُ طَاعِمٍ۔)) (یَعْنِیْ زَمْزَمَ) (مسند احمد: ۲۱۸۵۸)
سیدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آب زمزم بابرکت ہے اور کھانے والے کا کھاناہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12606

۔ (۱۲۶۰۶)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِیِّ، عَنْ اَبِیہِ، أَنَّہُ قَالَ: عَدَلَ إِلَیَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَۃٍ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَکَ تَحْتَ ہٰذِہِ السَّرْحَۃِ؟ قُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّہَا، قَالَ: ہَلْ غَیْرَ ذَلِکَ؟ قُلْتُ: لَا، مَا أَنْزَلَنِی إِلَّا ذٰلِکَ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا کُنْتَ بَیْنَ الْأَخْشَبَیْنِ مِنْ مِنًی، وَنَفَحَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِنَّ ہُنَالِکَ وَادِیًا،یُقَالُ لَہُ: السُّرَرُ، بِہِ سَرْحَۃٌ سُرَّ تَحْتَہَا سَبْعُونَ نَبِیًّا۔)) (مسند احمد: ۶۲۳۳)
سیدنا عمران انصاری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مکہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے ٹھہراہوا تھا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میری طرف آئے اور انہوں نے پوچھا: آپ اس درخت کے نیچے کس لیے ٹھہرے ہیں؟ میں نے کہا: میں تو محض اس کے سائے میں آرام کی غرض سے رکا ہوں، انہوں نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی کوئی مقصد ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، میں تو صرف سایہ میں آرام کی غرض سے یہاں ٹھہرا ہوں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم منی میں دو پہاڑوں کے درمیان پہنچ جاؤ اور پھر مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ وہاں ایک وادی ہے، جسے وادی سرر کہتے ہیں، اس میںایک بڑا درخت ہے، جس کے نیچے سترانبیاء کی ولادت ہوئی اور ان کی ناف یہیں کاٹی گئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12607

۔ (۱۲۶۰۷)۔ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی خِدَاشٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمَقْبُرَۃِ، وَہِیَ عَلٰی طَرِیقِہِ الْأُولٰی، أَشَارَ بِیَدِہِ وَرَائَ الضَّفِیرِ، أَوْ قَالَ: وَرَائَ الضَّفِیرَۃِ، شَکَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْمَقْبُرَۃُ ہٰذِہِ، فَقُلْتُ لِلَّذِی أَخْبَرَنِی أَخَصَّ الشِّعْبَ، قَالَ: ہٰکَذَا، قَالَ: فَلَمْ یُخْبِرْنِی أَنَّہُ خَصَّ شَیْئًا إِلَّا کَذٰلِکَ، أَشَارَ بِیَدِہِ وَرَائَ الضَّفِیرَۃِ أَوْ الضَّفِیرِ، وَکُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِیَِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ لِلْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۳۴۷۲)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ مکہ کے پہلے راستہ پر جو قبرستان واقع ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب وہاں ضفیریا ضفیرہ کے پیچھے پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بہترین قبرستان ہے۔ جس نے مجھے حدیث بیان کی، میں نے اس سے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھاٹی کا بھی بطور خاص ذکر کیاتھا، انہوں نے کہا: یہ الفاظ اسی طرح ہیں، گھاٹی کی تخصیص کے بارے میں انہوںنے ہمیں نہیں بتلایا، صرف اتنا ہی بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ضفیرہ یا ضفیر کے پیچھے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا اور ہم سنا کرتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے سامنے واقع گھاٹی کی تخصیص بھی کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12608

۔ (۱۲۶۰۸)۔ عَنْ أَبِی حَسَّانَ، أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَیُؤْتٰی، فَیُقَالُ: قَدْ فَعَلْنَا کَذَا وَکَذَا، فَیَقُولُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْأَشْتَرُ: إِنَّ ہٰذَا الَّذِی تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِی النَّاسِ أَفَشَیْئٌ عَہِدَہُ إِلَیْکَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا عَہِدَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا خَاصَّۃً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَیْئٌسَمِعْتُہُ مِنْہُ، فَہُوَ فِی صَحِیفَۃٍ فِی قِرَابِ سَیْفِی، قَالَ: فَلَمْ یَزَالُوا بِہِ حَتّٰی أَخْرَجَ الصَّحِیفَۃَ، قَالَ: فَإِذَا فِیہَا، ((مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ۔)) قَالَ: وَإِذَا فِیہَا، ((إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ، وَإِنِّی أُحَرِّمُ الْمَدِینَۃَ حَرَامٌ مَا بَیْنَ حَرَّتَیْہَا، وَحِمَاہَا کُلُّہُ، لَا یُخْتَلَی خَلَاہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِہَا، وَلَا تُقْطَعُ مِنْہَا شَجَرَۃٌ إِلَّا أَنْ یَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِیرَہُ، وَلَا یُحْمَلُ فِیہَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ۔)) قَالَ: وَإِذَا فِیہَا، ((الْمُؤْمِنُونَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ، وَیَسْعٰی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ، وَہُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاہُمْ، أَلَا! لَا یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ، وَلَا ذُو عَہْدٍ فِی عَہْدِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹)
ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب کوئی حکم دیتے اور وہ کام کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے تو وہ کہتے: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے،اشتر نے ان سے کہا:آپ جو ایسی ایسی بات کہہ جاتے ہیں، اب یہ لوگوں میں عام پھیل گئی ہے، کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جو آپ کو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بطورِ خاص ارشاد فرمائی ہے؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے لوگوں سے الگ طور پر کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی، البتہ میں نے آپ سے ایک بات سنی ہوئی ہے، جو اس صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے اور وہ صحیفہ میری تلوار کے میان میں محفوظ ہے، لوگوں کے اصرار پر انہو ں نے وہ صحیفہ نکالا تو اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان لکھا ہوا تھا: جو شخص دین میں نیا کام جاری کرے یا کسی نئے کام کرنے والے کو تحفظ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت مقبول نہیں ہو گی۔ نیز اس میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا اور میںمدینہ منورہ کی حرمت کاا علان کرتا ہوں، یہ دونوں حرّوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے اور اس کی تمام چراگاہوں میں سے گھاس نہ کاٹی جائے اور نہ اس کے شکار کو دھمکایا ڈرایاجائے اور یہاںپر گری ہوئی چیز کو نہ اٹھایا جائے، البتہ اگر کوئی اس کا اعلان کرنا چاہتا ہوتو اٹھاسکتا ہے اور نہ حدود حرم میں درخت کاٹے جائیں، ہاں کوئی آدمی اپنے اونٹ چرا سکتا ہے اور یہاں لڑائی کے لیے ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ اور اس میں یہ بھی تحریر تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام اہل ایمان کے خون برابر ہیں اور جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو امان دے دے تو سب مسلمان ا س عہد و پیمان کو پوار اکریں اور مسلمان اپنے دشمن کے مقابلہ میں سب مل کر ایک ہیں، یاد رکھو کہ کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جاسکتا اور نہ امان والے کو اس کی مدت امان میں قتل کیاجاسکتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12609

۔ (۱۲۶۰۹)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَدِیْنَۃُ حَرَمٌ مَا بَیْنَ عِیْرٍ اِلٰی ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۶۱۵)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ عیر پہاڑ سے ثور پہاڑ تک حرم ہے، جس نے مدینہ میںکوئی بدعت جاری کی یابدعتی کو پناہ دی، پس اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12610

۔ (۱۲۶۱۰)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لِکُلِّ نَبِیٍّ حَرَمٌ وَحَرَمِی الْمَدِینَۃُ، اللَّہُمَّ إِنِّی أُحَرِّمُہَا بِحُرَمِکَ، أَنْ لَا یُؤْوٰی فِیہَا مُحْدِثٌ، وَلَا یُخْتَلٰی خَلَاہَا، وَلَا یُعْضَدُ شَوْکُہَا، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُہَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ۔)) (مسند احمد: ۲۹۲۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں اسے آپ کی اجازت سے حرم قرار دیتا ہوں، کوئی بدعتی یا گناہ گار یہاں پناہ نہ لے سکے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ گھاس کاٹی جائے اور اعلان کرنے والے کے علاوہ کسی دوسری کے لیے یہاں کی گری ہوئی چیز اٹھانے کی اجازت نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12611

۔ (۱۲۶۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَوَلّٰی قَوْمًا بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا، وَالْمَدِینَۃُ حَرَامٌ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا أَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا، وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌ،یَسْعٰی بِہَا أَدْنَاہُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بناتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ کرے گا، مدینہ حرم ہے، جو شخص یہاں بدعت یا گناہ کاکام کرے یا کسی بدعتی اور گناہ گار کو پناہ دے، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ کرے گا، تمام مسلمانوں کی پناہ برابر ہے، کوئی ادنیٰ مسلمان کسی غیر مسلم کو پناہ دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑا، اس پراللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12612

۔ (۱۲۶۱۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَی لِسَانِی مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِ۔)) ثُمَّ جَائَ بَنِی حَارِثَۃَ، فَقَالَ: ((یَا بَنِی حَارِثَۃَ مَا أُرَاکُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ۔)) ثُمَّ نَظَرَ فَقَالَ: ((بَلْ أَنْتُمْ فِیہِ، بَلْ أَنْتُمْ فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۳۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو میری زبان کے ذریعے حرم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو حارثہ کے ہاں گئے اور فرمایا: بنو حارثہ! میرا خیال ہے کہ تمہاری سکونت حرم سے باہر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غور سے دیکھا اور فرمایا: نہیں،نہیں، تم حرم کے اندر ہی ہو، تم حرم کے اندر ہی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12613

۔ (۱۲۶۱۳)۔ وَعَنْہُ فِیْ اُخْرٰی قَالَ: عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِ، قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَائَ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا مَا ذَعَرْتُہَا، وَجَعَلَ حَوْلَ الْمَدِینَۃِ اثْنَیْ عَشَرَ مِیلًا حِمًی۔ (مسند احمد: ۷۷۴۰)
سیدنا ابوہریر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں ان دو حرّوں کے درمیان ہرن پاؤں تو میں ان کو ڈراتا دھمکاتا نہیں اور آپ نے مدینہ کے ارد گرد بار ہ میل کو حرم قرار دیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12614

۔ (۱۲۶۱۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: لَوْ رَأَیْتُ الْأَرْوٰی تَجُوسُ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَایَعْنِی الْمَدِینَۃَ مَا ہِجْتُہَا وَلَا مَسِسْتُہَا، وَذٰلِکَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ(( یُحَرِّمُ شَجَرَہَا أَنْ یُخْبَطَ أَوْ یُعْضَدَ۔)) (مسند احمد: ۷۴۶۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر میں جنگلی بکریوں کو مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان گھومتے دیکھو ں تو میں نہ انہیں ڈراتا دھمکاتا ہوں، اور نہ اس کو ہاتھ لگاتا ہوں، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے درختوں کو جھاڑنے یا کاٹنے کو حرام قرار دے رہے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12615

۔ (۱۲۶۱۵)۔ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ مَا بَیْنَ حَرَّتَیِ الْمَدِینَۃِ، لَا یُقْطَعُ مِنْہَا شَجَرَۃٌ إِلَّا أَنْ یَعْلِفَ الرَّجُلُ بَعِیرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۷۱)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کے د و حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے کہ وہاں سے کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا، البتہ اگر کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ ڈالنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12616

۔ (۱۲۶۱۶)۔ وَعَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: رَاَیْتُ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍ اَخَذَ رَجُلًا یَصِیْدُ فِی حَرَمِ الْمَدِیْنَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَسَلَبَہُ ثِیَابَہُ، فَجَائَ مَوَالِیہِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ ہٰذَا الْحَرَمَ، وَقَالَ: ((مَنْ رَأَیْتُمُوہُیَصِیدُ فِیہِ شَیْئًا فَلَہُ سَلَبُہُ۔)) فَلَا أَرُدُّ عَلَیْکُمْ طُعْمَۃً أَطْعَمَنِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلٰکِنْ إِنْ شِئْتُمْ أَعْطَیْتُکُمْ ثَمَنَہُ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أُعْطِیَکُمْ ثَمَنَہُ أَعْطَیْتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۰)
سلیمان بن ابی عبداللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حرم مدینہ، جسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا تھا، میںایک آدمی کو شکار کرتے دیکھا تو انھوں نے اس کے کپڑے اپنے قبضے میں لے لیے، اس کی برادری کے لوگ آئے، تو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس حرم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا اور فرمایاکہ تم اس حرم میں کسی کو شکار کرتا دیکھو تو اس سے چھینا ہوا مال اس کا ہو گا۔ پس جو چیز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دی ہے، میں تو اسے واپس نہیں کروں گا، البتہ اگر تم چاہتے ہو تو میں اس کی قیمت تمہیں دے دیتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12617

۔ (۱۲۶۱۷)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا رَکِبَ إِلٰی قَصْرِہِ بِالْعَقِیقِ، فَوَجَدَ غُلَامًا یَخْبِطُ شَجَرًا أَوْ یَقْطَعُہُ فَسَلَبَہُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَائَ ہُ أَہْلُ الْغُلَامِ فَکَلَّمُوہُ أَنْ یَرُدَّ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِہِمْ، فَقَالَ: مَعَاذَ اللّٰہِ أَنْ أَرُدَّ شَیْئًا نَفَّلَنِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبٰی أَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۳)
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سواری پر سوار ہو کر وادیٔ عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جارہے تھے، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا جو درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھایاکاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سازو سامان چھین لیا، جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو اس لڑکے کی برادری کے لوگوںنے آکر درخواست کی کہ انہوں نے اس لڑکے کا جو سامان قبضے میں لیا ہے، وہ اسے واپس کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو چیز اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دی ہو، میں وہ واپس کر دوں اور انہوں نے وہ سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12618

۔ (۱۲۶۱۸)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَلِیَّۃُ قَوْمٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَۃٌ رُئُ وْسُہُمْ۔)) وَسُئِلَ عَنْ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ: ((حَرَامٌ آمِنٌ حَرَامٌ آمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۷۲)
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سواری پر سوار ہو کر وادیٔ عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جارہے تھے، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا جو درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھایاکاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سازو سامان چھین لیا، جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو اس لڑکے کی برادری کے لوگوںنے آکر درخواست کی کہ انہوں نے اس لڑکے کا جو سامان قبضے میں لیا ہے، وہ اسے واپس کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو چیز اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دی ہو، میں وہ واپس کر دوں اور انہوں نے وہ سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12619

۔ (۱۲۶۱۹)۔ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: خَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ، فَذَکَرَ مَکَّۃَ وَحُرْمَتَہَا، فَنَادَاہُ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ فَقَالَ: إِنَّ مَکَّۃَ إِنْ تَکُنْ حَرَمًا، فَإِنَّ الْمَدِینَۃَ حَرَمٌ، حَرَّمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَہُوَ مَکْتُوبٌ عِنْدَنَا فِی أَدِیمٍ خَوْلَانِیٍّ، إِنْ شِئْتَ أَنْ نُقْرِئَ کَہُ، فَعَلْنَا فَنَادَاہُ مَرْوَانُ أَجَلْ، قَدْ بَلَغَنَا ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۰۴)
نافع بن جبیرسے مروی ہے کہ مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس نے مکہ اورحرم مکہ کا ذکر کیا، سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے اسے مخاطب کر کے کہا: اگر مکہ حرم ہے تو مدینہ منورہ بھی حرم ہے، جسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا ہے اور یہ مسئلہ ہمارے پاس خولانی چمڑے میں لکھا ہوا موجود ہے، اگر تم چاہو تو میں وہ تحریر تمہیں پڑھا سکتا ہوں، تو مروان نے بھی بآواز بلند کہا: ہاں ہاں یہ مسئلہ ہمیں بھی معلوم ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12620

۔ (۱۲۶۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: مَا بَیْنَ کَدَائٍ وَأُحُدٍ حَرَامٌ حَرَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، مَا کُنْتُ لِأَقْطَعَ بِہِ شَجَرَۃً، وَلَا أَقْتُلَ بِہِ طَائِرًا۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۸)
سیدناعبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کداء سے احد پہاڑ تک حرم ہے، اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرم قرار دیا ہے، میں حدودِ حرم میں سے نہ کوئی درخت کاٹتا ہوں اور نہ کسی پر ندے کو قتل کرتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12621

۔ (۱۲۶۲۱)۔ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی حَسَنٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْأَسْوَاقَ، وَقَالَ: فَأَثَرْتُ، وَقَالَ الْقَوَارِیرِیُّ مَرَّۃً: فَأَخَذْتُ دُبْسَتَیْنِ، قَالَ: وَأُمُّہُمَا تُرَشْرِشُ عَلَیْہِمَا، وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ آخُذَہُمَا، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیَّ أَبُو حَسَنٍ فَنَزَعَ مِتِّیخَۃً، قَالَ: فَضَرَبَنِی بِہَا، فَقَالَتْ لِی امْرَأَۃٌ مِنَّا یُقَالُ لَہَا مَرْیَمُ: لَقَدْ تَعِسْتَ مِنْ عَضُدِہِ وَمِنْ تَکْسِیرِ الْمِتِّیخَۃِ، فَقَالَ لِی: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِِِِِ؟ (مسند احمد: ۱۶۸۳۱)
یحیی بن عمارہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بازار میں داخل ہوا تو میں نے دو چھوٹے چھوٹے پرندے دیکھے، جن پر ان کی ماں اپنے پر پھیلائے بیٹھی تھی، میں نے ان کو پکڑ نا چاہا تواچانک ابو حسن آگئے، انہوں نے کھجور کی شاخ کھینچی اور مجھے مار دی، تو ہمارے خاندان کی ایک خاتون، جس کا نام مریم تھا، اس نے کہا: تو اس کے بازو اور کھجور کی شاخ توڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو جائے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کی دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12622

۔ (۱۲۶۲۲)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ قَالَ: أَخَذْتُ نُہَسًا بِالْأَسْوَاقِ، فَأَخَذَہُ مِنِّی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَأَرْسَلَہُ، وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا؟ (مسند احمد: ۲۱۹۰۹)
شرحبیل کہتے ہیں: میں نے (مدینہ منورہ کی) اسواق جگہ سے نُہَس پرندا پکڑ لیا، لیکن سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے لے کر چھوڑ دیا اور کہا: کیا آپ جانتے نہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دو حرّوں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12623

۔ (۱۲۶۲۳)۔ وَعَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدِ الْخُرَاسَانِیِّ سَمِعَ شُرَحْبِیْلَ بْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ: أَتَانَا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَنَحْنُ فِی حَائِطٍ لَنَا، وَمَعَنَا فِخَاخٌ نَنْصِبُ بِہَا فَصَاحَ بِنَا وَطَرَدَنَا وَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ صَیْدَہَا؟ (یَعْنِی الْمَدِیْنَۃَ)۔ (مسند احمد: ۲۲۰۰۳)
شرجیل بن سعد سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم انپے باغ میں پرندوں کے شکار کے لیے جال لگائے ہوئے تھے کہ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اورہمیں دیکھ کر چیخ اٹھے اور ہمیں بھگا دیا اور کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں شکار کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12624

۔ (۱۲۶۲۴)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ہُرْمُزَ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِیَّ، أَخْبَرَہُ أَنَّہُ کَانَ یَصِیدُ الْعَصَافِیرَ فِی بِئْرِ إِہَابٍ وَکَانَتْ لَہُمْ، قَالَ: فَرَآنِی عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ، فَیَنْزِعُہُ مِنِّی فَیُرْسِلُہُ وَیَقُولُ: أَیْ بُنَیَّ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا، کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ مَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۸۴)
عبداللہ بن عباد زرقی سے مروی ہے کہ وہ اِہاب کنویں کے قریب چڑیوں کا شکا رکر رہے تھے، یہ ان کا اپنا کنواں تھا، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے وہاں دیکھ لیا، جبکہ میں نے ایک چڑیا پکڑی ہوئی تھی، انہوںنے وہ مجھ سے چھین کر چھوڑ دی اور کہا: پیارے بیٹے! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12625

۔ (۱۲۶۲۵)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّہُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِالْحَرَّۃِ بِالسُّقْیَا الَّتِی کَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِئْتُونِی بِوَضُوئٍ۔)) فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ثُمَّ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: ((اللَّہُمَّ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ کَانَ عَبْدَکَ وَخَلِیلَکَ، دَعَا لِأَہْلِ مَکَّۃَ بِالْبَرَکَۃِ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، أَدْعُوکَ لِأَہْلِ الْمَدِینَۃِ، أَنْ تُبَارِکَ لَہُمْ فِی مُدِّہِمْ وَصَاعِہِمْ، مِثْلَیْ مَا بَارَکْتَ لِأَہْلِ مَکَّۃَ مَعَ الْبَرَکَۃِ بَرَکَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۶)
سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں باہر گئے، جب ہم حرّہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کنوئیں پر پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضو کا پانی لاؤ۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کر کے قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور پھر فرمایا: اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور خلیل تھے، انہوں نے مکہ والوں کے لیے برکت کی دعا کی تھی، میں محمد بھی تیرا بندہ اور رسول ہوں، میںتجھ سے اہل مدینہ کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ ان کے مد اور صاع میں اہل مکہ سے دو گنا زیادہ برکت کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12626

۔ (۱۲۶۲۶)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ، قَالَ: مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِ حَرَامٌ، قَدْ حَرَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ مَکَّۃَ، ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ الْبَرَکَۃَ فِیہَا بَرَکَتَیْنِ وَبَارِکْ لَہُمْ فِی صَاعِہِمْ وَمُدِّہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۷)
سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے دو حرّوںکے درمیان والی جگہ حرم ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اسی طرح حرم قرار دیا ہے، جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یااللہ! تو مدینہ میں دو گناہ برکت نازل فرما اور اہل مدینہ کے صاع اور مد میں برکت فرما۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12627

۔ (۱۲۶۲۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ مُدِّنَا وَصَاعِنَا وَاجْعَلِ الْبَرَکَۃَ بَرْکَتَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۵۲)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ہمار ے مد اور صاع میںبرکت فرما اور اس کی برکت کو دو گناکر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12628

۔ (۱۲۶۲۸)۔ وحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللّٰہِ الْقَرَّاظُ، أَنَّہُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَیَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اللَّہُمَّ بَارِکْ لِأَہْلِ الْمَدِینَۃِ فِی مَدِینَتِہِمْ، وَبَارِکْ لَہُمْ فِی صَاعِہِمْ، وَبَارِکْ لَہُمْ فِی مُدِّہِمْ، اللَّہُمَّ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ عَبْدُکَ وَخَلِیلُکَ، وَإِنِّی عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَإِنَّ إِبْرَاہِیمَ سَأَلَکَ لِأَہْلِ مَکَّۃَ، وَإِنِّی أَسْأَلُکَ لِأَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَمَا سَأَلَکَ إِبْرَاہِیمُ لِأَہْلِ مَکَّۃَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ، إِنَّ الْمَدِینَۃَ مُشْتَبِکَۃٌ بِالْمَلَائِکَۃِعَلٰی کُلِّ نَقْبٍ مِنْہَا مَلَکَانِ یَحْرُسَانِہَا، لَا یَدْخُلُہَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ، فَمَنْ أَرَادَہَا بِسُوئٍ أَذَابَہُ اللّٰہُ کَمَا یَذُوبُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳)
سیدنا سعدبن مالک اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یااللہ! اہل مدینہ کے لیے ان کے مدینہ میں برکت فرما اور ان کے لیے ان کے صاع اور مد میں برکت فرما، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور خلیل تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور رسول ہوں، ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی اور انہوںنے جس طرح اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی، اسی طرح میں اہل مدینہ کے لیے دو گنا برکت کی دعا کرتا ہوں، مدینہ منورہ فرشتوں سے ڈھانپا ہوا ہے، اس کے داخلہ کے ہر راستہ پر دو دو فرشتے مقرر ہیں، جو اس کی حفاظت کرتے ہیں، طاعون اور دجال مدینہ میں داخل نہیں ہوسکیں گے، جو آدمی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے اسی طرح پگھلا کر نیست و نابود کر دے گا، جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12629

۔ (۱۲۶۲۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِیْنَۃِ ضِعْفَیْ مَا بِمَکَّۃَ مِنَ الْبَرَکَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۷۹)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! مکہ میں جس قدر برکت ہے، مدینہ میں اس سے دوگنا زیادہ برکت نازل فرما۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12630

۔ (۱۲۶۳۰)۔ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا وَنَظَرَ إِلَی الشَّامِ، فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِہِمْ۔)) وَنَظَرَ إِلَی الْعِرَاقِ، فَقَالَ نَحْوَ ذٰلِکَ، وَنَظَرَ قِبَلَ کُلِّ أُفُقٍ فَفَعَلَ ذٰلِکَ، وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ، وَبَارِکْ لَنَا فِی مُدِّنَا وَصَاعِنَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۴۶)
سیدناجابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شام کی طرف رخ کیا اور یہ دعا کی: اے اللہ! ان کے دلوں کو ادھر مائل کردے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عراق کی جانب اور پھر ہر افق کی جانب رخ کر کے یہی دعا فرمائی اور پھر فرمایا: اے اللہ! ہمیں زمین کے پھلوں کا رزق عطا فرما اور ہمارے مد اور صاع میںبرکت فرما دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12631

۔ (۱۲۶۳۱)۔ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی بِأَرْضِ سَعْدٍ بِأَصْلِ الْحَرَّۃِ عِنْدَ بُیُوتِ السُّقْیَا، ثُمَّ قَالَ: ((اللَّہُمَّ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلَکَ وَعَبْدَکَ وَنَبِیَّکَدَعَاکَ لِأَہْلِ مَکَّۃَ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُکَ وَنَبِیُّکَ وَرَسُولُکَ أَدْعُوکَ لِأَہْلِ الْمَدِینَۃِ مِثْلَ مَا دَعَاکَ بِہِ إِبْرَاہِیمُ لِأَہْلِ مَکَّۃَ، نَدْعُوکَ أَنْ تُبَارِکَ لَہُمْ فِی صَاعِہِمْ وَمُدِّہِمْ وَثِمَارِہِمْ، اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَمَا حَبَّبْتَ إِلَیْنَا مَکَّۃَ، وَاجْـعَلْ مَا بِہَا مِنْ وَبَائٍ بِخُمٍّ، اللَّہُمَّ إِنِّی قَدْ حَرَّمْتُ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا کَمَا حَرَّمْتَ عَلٰی لِسَانِ إِبْرَاہِیمَ الْحَرَمَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۰۷)
سیدناابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور پھر حرہ میں واقع سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جگہ میں سقیا کے گھروں کے قریب نماز ادا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعا کی: اے اللہ! تیرے خلیل، بند ے اور نبی ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی، میں محمد تیرا بندہ، نبی اور رسول ہوں، میں تجھ سے اہل مدینہ کے لیے اسی طرح دعا کرتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی، ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ اہل مدینہ کے صاع،مد اور پھلوں میں برکت فرما، اے اللہ! تو نے جس طرح ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت رکھی ہے، اسی طرح مدینہ کی محبت بھی ہمارے دلوں میں ڈال دے اور یہاں کی وبا اور بیماری کو (جحفہ کے قریب) خُم میں منتقل کردے، اے اللہ! جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام کی زبانی مکہ کو حرم قرار دیا ہے، اسی طرح میں مدینہ کی دوحرّوںکے درمیان والی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12632

۔ (۱۲۶۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، وَہِیَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاشْتَکٰی أَبُو بَکْرٍ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْہَا، وَبَارِکْ لَنَا فِی مُدِّہَا وَصَاعِہَا وَانْقُلْ حُمَّاہَا، فَاجْعَلْہَا فِی الْجُحْفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۹۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہ روئے زمین پر سب سے زیادہ وبا زدہ زمین تھی، جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت بھی اسی طرح ڈال دے، جیسے ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ہے، یا اس سے بھی زیادہ محبت ڈال اور اسے بیماریوں سے پاک کر کے صحت و پاکیزگی والا بنا دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے حجفہ میں منتقل کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12633

۔ (۱۲۶۳۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ اشْتَکٰی أَصْحَابُہُ، وَاشْتَکٰی أَبُو بَکْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ مَوْلٰی أَبِی بَکْرٍ وَبِلَالٌ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عِیَادَتِہِمْ، فَأَذِنَ لَہَا، فَقَالَتْ لِأَبِی بَکْرٍ: کَیْفَ تَجِدُکَ؟ فَقَالَ: کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ وَالْمَوْتُ أَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ، وَسَأَلَتْ عَامِرًا، فَقَالَ: إِنِّی وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِہِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُہُ مِنْ فَوْقِہِ وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ: یَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِفَجٍّ وَحَوْلِی إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ، فَأَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْہُ بِقَوْلِہِمْ، فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ، وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِینَۃَ کَمَا حَبَّبْتَ إِلَیْنَا مَکَّۃَ اَوْأَشَدَّ، اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی صَاعِہَا وَفِی مُدِّہَا، وَانْقُلْ وَبَائَ ہَا إِلٰی مَہْیَعَۃَ۔)) وَہِیَ الْجُحْفَۃُ کَمَا زَعَمُوْا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۶۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو صحابہ کرامf بیمار پڑگئے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی بیمار پڑگئے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کی عیادت کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اجازت دے دی، پس وہ گئیں اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہر آدمی کو اپنے اہل و عیال میں صبح بخیر کہا جاتا ہے جبکہ موت اس کے جوتے کے تسمہ سے بھی قریب ترہوتی ہے ۔ پھر انھوں نے سیدنا عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا حال پوچھا تو انہوں نے کہا: میں موت آنے سے پہلے ہی موت چکھ رہا ہوں، بے شک بزدل آدمی پر اس کے اوپر سے موت آ گرتی ہے، جب سیدہ نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انھوں نے کہا: کاش مجھے معلوم ہو کہ میں کس رات مکہ کے قریب وادی فبح میں پہنچوں گا اوررات وہاں بسرکروں گا اور وہاں کی اذخر جھاڑی اور جلیل گھاس میرے ارد گرد ہوگی۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان حضرات کی کیفیات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر یہ دعاکی: اے اللہ! تو نے جس طرح ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ڈالی ہوئی ہے، اسی طرح ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت یا اس سے زیادہ محبت ڈال دے، اے اللہ! ہمارے لیے یہاں کے صاع اور مد میں برکت فرما اور یہاں کی وباء کو مھیعہ کی طرف منتقل کردے۔ اہل علم کہتے ہیں: مھیعہ سے مراد مقام جحفہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12634

۔ (۱۲۶۳۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ عَائِشَۃَ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ، وَلَیْسَ فِیْہِ ذِکْرُ عَامِرٍ وَفِیْہِ: اِنَّ بِلَالًا قَالَ: کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ، وَالْمَوْتُ أَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ، وَکَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْہُ تَغَنّٰی، فَقَالَ: أَلَا لَیْتَ شَعْرِی ہَلْ أَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ، وَحَوْلِیَ إِذْخِرٌ وَجَلِیلُ، وَہَلْ أَرِدْنَ یَوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ، وَہَلْ یَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلُ، اللَّہُمَّ اخْزِ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ وَأُمَیَّۃَ بْنَ خَلَفٍ کَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۲۶۷۷۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، اس طریق میں سیدنا عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذکر نہیں ہے، اس میں ہے کہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ کہا تھا: ہر آدمی کو اپنے اہل و عیال میں صبح بخیر کہا جاتا ہے جب کہ موت اس کے جوتے کے تسمہ سے بھی قریب ترہوتی ہے، جب سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بخار اتر جاتا تو وہ گا کر یہ پڑھتے تھے: کاش مجھے معلوم ہو کہ میں کونسی رات اس وادی میں جا کر گزاروں گا، جہا ں میرے ارد گرد اذخر اور جلیل گھاس ہوگی اور میں مجنہ وادی کے پانیوں میں پہنچوں گا اور شامہ اور طفیل نامی پہاڑ میری نظر کے سامنے ہوں گے۔ اے اللہ! تو عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو رسوا کر دے، جیسا کہ انھوں نے ہمیں مکہ سے نکال دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12635

۔ (۱۲۶۳۵)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّی أُحَرِّمُ مَا بَیْنَ لَابَتَیِ الْمَدِینَۃِ، أَنْ یُقْطَعَ عِضَاہُہَا، أَوْ یُقْتَلَ صَیْدُہَا، وَقَالَ: الْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُونَ، لَا یَخْرُجُ مِنْہَا أَحَدٌ، رَغْبَۃً عَنْہَا إِلَّا أَبْدَلَ اللّٰہُ فِیہَا مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْہُ، وَلَا یَثْبُتُ أَحَدٌ عَلٰی لَأْوَائِہَا وَجَہْدِہَا إِلَّا کُنْتُ لَہُ شَہِیدًا أَوْ شَفِیعًایَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۳)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں مدینہ منورہ کی دو حرّوں کے درمیان والی زمین کو حرم قرار دیتاہوں، یہاں سے کوئی جھاڑی نہ کاٹی جائے اور کوئی شکار نہ کیا جائے۔ نیز فرمایا: مدینہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہو گا، کاش کہ یہ لوگ اس بات سے واقف ہوتے،ـ جو کوئی یہاں سے اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے، اللہ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو اس میں لے آتاہے، جو آدمی یہاں کی پریشانیوں اور شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12636

۔ (۱۲۶۳۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ وَزَادَ: ((کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ حَرَمَہُ، لَا یُقْطَعُ عِضَاہُہَا، وَلَا یُقْتَلُ صَیْدُہَا، وَلَا یَخْرُجُ مِنْہَا أَحَدٌ رَغْبَۃً عَنْہَا إِلَّا أَبْدَلَہَا اللّٰہُ خَیْرًا مِنْہُ، وَالْمَدِینَۃُخَیْرٌ لَہُمْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُونَ، وَلَا یُرِیدُہُمْ أَحَدٌ بِسُوئٍ إِلَّا أَذَابَہُ اللّٰہُ ذَوْبَ الرَّصَاصِ فِی النَّارِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِی الْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۶)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے حرم کو حرمت والا بنایاکہ یہاں سے کوئی جھاڑی نہ کاٹی جائے، یہاں شکار نہ کیا جائے اورجو کوئی یہاں سے اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو لے آتاہے، جو آدمی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے یوں پگھلا دے گا، جیسے آگ میں پیتل یا پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12637

۔ (۱۲۶۳۷)۔ عَنْ یُحَنَّسَ مَوْلَی الزُّبَیْرِ، قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ أَتَتْہُ مَوْلَاۃٌ لَہُ، فَذَکَرَتْ شِدَّۃَ الْحَالِ، وَأَنَّہَا تُرِیدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ لَہَا: اجْلِسِی فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یَصْبِرُ أَحَدُکُمْ عَلٰی لَأْوَائِہَا وَشِدَّتِہَا إِلَّا کُنْتُ لَہُ شَفِیعًا أَوْ شَہِیدًایَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۹۳۵)
مولائے زبیر یحنس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی خادمہ ان کے پاس آئی اور اس نے حالات کی شدت کا شکوہ کیا، وہ چاہتی تھی کہ مدینہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلی جائے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: بیٹھ جا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے جو آدمی مدینہ منورہ میں پیش آنے والی تکالیف اور مصائب پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12638

۔ (۱۲۶۳۸)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اسْتَطَاعَ اَنْ یَمُوْتَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَلْیَفْعَلْ، فَاِنِّیْ اَشْفَعُ لِمَنْ مَاتَ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۵۴۳۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ اسے مدینہ میں موت آئے تو اس کی ضرور کوشش کرے، کیونکہ جو لوگ یہاں فوت ہوں گے، میں ان کے حق میں سفارش کروں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12639

۔ (۱۲۶۳۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِ یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ رِجَالٌ رَغْبَۃً عَنْہَا، وَالْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ لَھُمْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۰۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ مدینہ سے اعراض کرتے ہوئے یہاں سے چلے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا، کاش کہ وہ یہ بات جان لیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12640

۔ (۱۲۶۴۰)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُفْتَحُ الْأَرْیَافُ فَیَأْتِی نَاسٌ إِلٰی مَعَارِفِہِمْ فَیَذْہَبُونَ مَعَہُمْ، وَالْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ۔)) قَالَہَا مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۸۵۷۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوشحالی اور آسودگی والی زمین فتح ہوگی تو کچھ لوگ اپنے دوستوں کے ہمراہ ادھر منتقل ہوجائیں گے، حالانکہ مدینہ کی سکونت ان کے لیے بہتر ہوگی، لیکن کاش وہ یہ بات جان لیں۔ یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12641

۔ (۱۲۶۴۱)۔ وَعَنْہُ فِیْ اُخْرٰی، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((تُفْتَحُ الْبِلَادُ وَالْأَمْصَارُ فَیَقُولُ الرِّجَالُ لِإِخْوَانِہِمْ: ہَلُمُّوا إِلَی الرِّیفِ، وَالْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ، لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ، لَا یَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِہَا وَشِدَّتِہَا أَحَدٌ إِلَّا کُنْتُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَہِیدًا أَوْ شَفِیعًا۔)) (مسند احمد: ۸۴۳۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہت سے دوسرے علاقے اور شہر فتح ہوں گے توکچھ لوگ اپنے بھائیوں سے کہیں گے: آؤ ادھر چلیں، وہاں خوش حالی ہے، حالانکہ مدینہ کی سکونت ان کے حق میں بہتر ہوگی، اگر وہ اس بات کو جانیں، جو بھی آدمی مدینہ منورہ میںمشکلات وشدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ یا سفارشی بنو ںگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12642

۔ (۱۲۶۴۲)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ حَفْصَۃَ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِیدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ فِی مَجْلِسِ اللَّیْثِیِّینَیَذْکُرُونَ أَنَّ سُفْیَانَ أَخْبَرَہُمْ، أَنَّ فَرَسَہُ أَعْیَتْ بِالْعَقِیقِ، وَہُوَ فِی بَعْثٍ، بَعَثَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَیْہِیَسْتَحْمِلُہُ، فَزَعَمَ سُفْیَانُ کَمَا ذَکَرُوْا، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَہُ یَبْتَغِی لَہُ بَعِیرًا فَلَمْ یَجِدْ إِلَّا عِنْدَ أَبِی جَہْمِ بْنِ حُذَیْفَۃَ الْعَدَوِیِّ فَسَامَہُ لَہُ، فَقَالَ لَہُ أَبُو جَہْمٍ: لَا أَبِیعُکَہُیَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَلٰکِنْ خُذْہُ فَاحْمِلْ عَلَیْہِ مَنْ شِئْتَ، فَزَعَمَ أَنَّہُ أَخَذَہُ مِنْہُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی إِذَا بَلَغَ بِئْرَ الْإِہَابِ، زَعَمَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((یُوشِکُ الْبُنْیَانُ أَنْ یَأْتِیَ ہٰذَا الْمَکَانَ، وَیُوشِکُ الشَّامُ أَنْ یُفْتَتَحَ، فَیَأْتِیَہُ رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ ہٰذَا الْبَلَدِ، فَیُعْجِبَہُمْ رِیفُہُ وَرَخَاؤُہُ، وَالْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ، لَوْ کَانُوایَعْلَمُونَ، ثُمَّ یُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَیَأْتِی قَوْمٌ یَبُسُّونَ فَیَتَحَمَّلُونَ بِأَہْلِیہِمْ وَمَنْ أَطَاعَہُمْ، وَالْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ، إِنَّ إِبْرَاہِیمَ دَعَا لِأَہْلِ مَکَّۃَ، وَإِنِّی أَسْأَلُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ یُبَارِکَ لَنَا فِی صَاعِنَا، وَأَنْ یُبَارِکَ لَنَا فِی مُدِّنَا مِثْلَ مَا بَارَکَ لِأَہْلِ مَکَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۵۹)
بسر بن سعید سے مروی ہے کہ وہ بنولیث کے لوگوں کی ایک محفل میں تھے، وہاں ذکر ہورہا تھا کہ سفیان نے ان کو بتلایا کہ وادی ٔ عقیق میں ان کا گھوڑا چلنے سے عاجز آگیا، وہ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھیجے ہوئے ایک دستے میں تھے، وہ اپنی مجبوری کی بنا پر دوسری سواری لینے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف واپس گئے، ان لوگوں نے ذکر کیا کہ سفیان نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ اس کے لیے اونٹ کی تلاش میںنکلے، آپ کو ابو جہم بن حذیفہ عدوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں اونٹ ملا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے خرید نے کے لیے بات کی تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو یہ اونٹ قیمتاً نہیں دیتا، بلکہ آپ یہ ویسے ہی لے جائیں اور جسے چاہیں عنایت فرما دیں، سیدنا سفیان کہتے ہیں: آپ نے ان سے وہ اونٹ لے لیا اور وہاں سے روانہ ہوئے، جب بئرا ھاب میں پہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امیدہے کہ مدینہ کی آبادی یہاں تک پہنچ جائے گی اور امید ہے کہ شام کا ملک فتح ہوگا، مدینہ کے لوگ وہاںجائیںگے تو انہیں وہاں کی خوش حالی پسند آئے گی، حالانکہ اگر وہ جانتے ہوں تو ان کے لیے مدینہ کی سکونت ہی بہتر ہوگی، پھر عراق فتح ہوگا، یہ لوگ واپس آکر اپنے جانوروں کو ہانکتے ہوئے اور اپنے اہل و عیال اور ساتھیوں سمیت ادھر منتقل ہوجائیں گے، حالانکہ ان کے لیے مدینہ کی سکونت ہی بہتر ہوگی، اگر وہ اس بات کو جان لیں، ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے حق میں برکت کی دعا کی تھی اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس نے جس طرح اہل مکہ کے لیے برکت فرمائی اسی طرح وہ ہمارے صاع میں او ر مد میں برکت فرمائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12643

۔ (۱۲۶۴۳)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَاْتِیَنَّ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ زَمَانٌ یَنْطَلِقُ النَّاسُ فِیْہَا اِلٰی الْآفق، یَلْتَمِسُوْنَ الرَّخَائَ، فَیَجِدُوْنَ رَخَائً، ثُمَّ یَاُتْوُنَ فَیَتَحَمَّلُوْنَ بِاَھْلِیْہِمْ اِلَی الرَّخَائِ، وَالْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ لَھُمْ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۳۶)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ لوگ خوش حالی کی تلاش میں مدینہ سے نقل مکانی کر کے ادھر اُدھر چلے جائیں گے، جب وہ وہاں خوش حالی پائیں گے تو آخر اپنے اہل و عیال کو بھی وہیں لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ جانتے ہوں تو مدینہ ان کے لیے بہر حال بہتر ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12644

۔ (۱۲۶۴۴)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ، قَالَ: تُوُفِّیَ أَخِی وَأَتَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا سَعِیدٍ! إِنَّ أَخِی تُوُفِّیَ وَتَرَکَ عِیَالًا وَلِی عِیَالٌ وَلَیْسَ لَنَا مَالٌ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِیَالِی، وَعِیَالِ أَخِی حَتّٰی نَنْزِلَ بَعْضَ ہٰذِہِ الْأَمْصَارِ، فَیَکُونَ أَرْفَقَ عَلَیْنَا فِی مَعِیشَتِنَا، قَالَ: وَیْحَکَ لَا تَخْرُجْ فَإِنِّی سَمِعْتُہُ یَقُولُیَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَبَرَ عَلٰی لَأْوَائِہَا وَشِدَّتِہَا کُنْتُ لَہُ شَفِیعًا أَوْ شَہِیدًایَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۶۶)
مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میرے بھائی کا انتقال ہوگیا، میں سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، میں نے کہا: ابو سعید! میرے بھائی کا انتقال ہوگیاہے، وہ اہل و عیال چھوڑ گیا ہے، میرے اپنے بھی بال بچے ہیں، ہمارے پاس کچھ زیادہ مال بھی نہیں ہے، میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنے اور بھائی کے اہل وعیال کو لے کر کسی دوسرے علاقہ میں چلا جاؤں تاکہ وہاں ہمارے معاشی حالات کچھ بہتر ہوجائیں، انہوں نے کہا: تجھ پر افسوس، مدینہ چھوڑ کر مت جانا، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ منورہ میں آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12645

۔ (۱۲۶۴۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اَنَّہُ جَائَ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ لَیَالِیَ الْحَرَّۃِ، فَاسْتَشَارَہُ فِی الْجَلَائِ عَنِ الْمَدِیْنَۃِ، وَذَکَرَ نَحْوَہُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِہِ: کُنْتُ لَہٗشَفِیْعًا اَوْ شَہِیْدًایَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِذَا کَانَ مُسْلِمًا۔ (مسند احمد: ۱۱۵۷۵)
۔ (دوسری سند) ابو سعید واقعہ حرہ کے ایام میں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور مدینہ سے نقل مکانی کے بارے میں مشورہ کیا اور اوپر والی حدیث والا واقعہ بیان کیا، آخر میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا (جو آدمی مدینہ منورہ میں پیش آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا)، بشرطیکہ وہ مسلمان ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12646

۔ (۱۲۶۴۶)۔ وَعَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَخْبَرَہُ، أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ أَخْبَرَتْنِی، أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا یَصْبِرُ عَلٰی لَأْوَائِ الْمَدِینَۃِ وَشِدَّتِہَا أَحَدٌ إِلَّا کُنْتُ لَہُ شَفِیعًا أَوْ شَہِیدًایَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۲۵)
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی مدینہ میں پیش آنے والے مصائب و شدائد پر صبرکرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12647

۔ (۱۲۶۴۷)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُولُ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَایَعَہُ عَلَی الْإِسْلَامِ فَوُعِکَ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَقِلْنِی فَأَبٰی ثُمَّ أَتَاہُ فَأَبٰی، فَقَالَ: أَقِلْنِی فَأَبٰی فَسَأَلَ عَنْہُ، فَقَالُوْا: خَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ الْمَدِینَۃَ کَالْکِیرِ تَنْفِی خَبَثَہَا وَتُنَصِّعُ طَیِّبَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۳۵)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر اسلام پر بیعت کی، بعد میں اسے بخار ہوگیا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: آپ میری بیعت واپس کردیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کیا، وہ پھر آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر انکار کردیا، اس نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری بیعت واپس کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے پوچھا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ تو چلا گیا ہے، اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ ایک بھٹی کی مانند ہے، یہ برے لوگوں کو باہر نکال دیتا ہے اوراچھے لوگوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12648

۔ (۱۲۶۴۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ اُخْرٰی) جَائَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنْ الْأَعْرَابِ، فَأَسْلَمَ فَبَایَعَہُ عَلَی الْہِجْرَۃِ، فَلَمْ یَلْبَثْ أَنْ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَقِلْنِی، فَذَکَرَالْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر اسلام قبول کیا اور ہجرت پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر کہا: آپ میری بیعت واپس کر دیں، …۔ پھر روایت کا باقی حصہ ذکر کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12649

۔ (۱۲۶۴۹)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَخَافَ اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ ظُلْمًا اَخَافَہُ اللّٰہُ وَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یْومَ الْقِیَامَۃِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۳)
سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ظلم کرتے ہوئے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اللہ اسے خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12650

۔ (۱۲۶۵۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَخَافَ اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ اَخَافَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقَِیامۃ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوںکی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12651

۔ (۱۲۶۵۱)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّ أَمِیرًا مِنْ أُمَرَائِ الْفِتْنَۃِ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، وَکَانَ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِیلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّیْتَ عَنْہُ، فَخَرَجَ یَمْشِی بَیْنَ ابْنَیْہِ فَنُکِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنَاہُ أَوْ أَحَدُہُمَا: یَا أَبَتِ وَکَیْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَخَافَ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَیْنَ جَنْبَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ظالم حکمرانوں میں سے ایک حکمران مدینہ منورہ آیا، اس وقت سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی، کسی نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ اس سے ایک طرف ہی رہیں تو بہتر ہوگا، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے گئے تو انہیں چوٹ لگ گئی پس انہوں نے کہا: ہلاک ہواوہ آدمی جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خوف زدہ کیا، ان کے دونوں یا ایک بیٹے نے کہا: اباجان!اس نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیسے خوف زدہ کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو وفات پاچکے ہیں؟ انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اس نے مجھے ڈرایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12652

۔ (۱۲۶۵۲)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَیْہٍ، حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللّٰہِ الْقَرَّاظُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَرَادَ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ بِدَہْمٍ أَوْ بِسُوئٍ أَذَابَہُ اللّٰہُ کَمَا یَذُوبُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۸)
سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خو ف زدہ کرنے یا ان کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اسے اس طرح نسیت و نابود کردے گا، جیسے پانی میںنمک گھل جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12653

۔ (۱۲۶۵۳)۔ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللّٰہِ الْقَرَّاظِ، أَنَّہُ قَالَ: أَشْہَدُ الثَّلَاثَ عَلٰی أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: ((مَنْ أَرَادَ أَہْلَ الْبَلْدَۃِ بِسُوئٍ یَعْنِی أَہْلَ الْمَدِینَۃِ، أَذَابَہُ اللّٰہُ کَمَا یَذُوبُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۸۰۷۵)
ابو عبداللہ قراظ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تین بار سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر گواہی دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ انھوں نے کہا کہ ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اسے یوں ہلاک کر دے گا جیسے نمک پانی میں میں گھل جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12654

۔ (۱۲۶۵۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَرَادَ أَہْلَ الْبَلْدَۃِ بِسُوئٍ یَعْنِی أَہْلَ الْمَدِینَۃِ أَذَابَہُ اللّٰہُ کَمَا یَذُوبُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۷۲)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا،اللہ اسے اس طرح ختم کردے گا، جیسے نمک پانی میں حل ہو کر ختم ہوجاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12655

۔ (۱۲۶۵۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلٰی أَنْقَابِ الْمَدِینَۃِ مَلَائِکَۃٌ لَا یَدْخُلُہَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۶۳)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کے داخلی راستوں پرفرشتے مقرر ہیں، دجال اور طاعون مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12656

۔ (۱۲۶۵۶)۔ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍیُقَالُ لَہُ عِیَاضٌ، وَکَانَتْ بِنْتُ أُسَامَۃَ تَحْتَہُ، قَال: ذُکِرَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ خَرَجَ مِنْ بَعْضِ الْأَرْیَافِ حَتّٰی إِذَا کَانَ قَرِیبًا مِنَ الْمَدِینَۃِ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ أَصَابَہُ الْوَبَائُ، قَالَ: فَأَفْزَعَ ذٰلِکَ النَّاسَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَطْلُعَ عَلَیْنَا نِقَابُہَا یَعْنِی الْمَدِینَۃَ۔)) قَالَ أَبِی: و حَدَّثَنَاہ الْہَاشِمِیُّ وَیَعْقُوبُ وَقَالَا جَمِیعًا: إِنَّہُ سَمِعَ أُسَامَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۴۷)
اسامہ بن زید کے چچازاد عیاض سے مروی ہے، سیدنا اسامہ کی بیٹی اسی عیاض کی زوجیت میں تھی، ان سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا گیاکہ وہ کسی خوشحال علاقے سے نکلا،چنانچہ جب وہ مدینہ کے ایک راستے پر پہنچا تو وہ وباء میں مبتلا ہوگیا، عیاض کہتے ہیں: یہ سن کر لوگ خوف زدہ ہوگئے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ کوئی ظالم شخص ہمارے اوپر مدینہ میں نہیں آسکے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12657

۔ (۱۲۶۵۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیئُ الدَّجَّالُ فَیَطَأُ الْأَرْضَ إِلَّا مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃَ، فَیَأْتِی الْمَدِینَۃَ فَیَجِدُ بِکُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِہَا صُفُوفًا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، فَیَأْتِی سَبْخَۃَ الْجَرْفِ فَیَضْرِبُ رِوَاقَہُ، فَتَرْجُفُ الْمَدِینَۃُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، فَیَخْرُجُ إِلَیْہِ کُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۱۷)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال ظاہر ہو گا اور وہ تمام روئے زمین کو روند دے گا، ما سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے،جب وہ مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، تو وہ اس کے ہر راستے پر فرشتوں کی صفوں کو پائے گا اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، پھر وہ جرف کی شورزدہ زمین کی طرف جائے گا اوروہاں اپنے ڈیرے ڈالے گا، مدینہ منورہ تین دفعہ جھٹکے گا اور اس میں موجود ہر منافق مرد اور عورت نکل کر اس کی طرف چلا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12658

۔ (۱۲۶۵۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُوْشِکُ اَنْ یَرْجِعَ النَّاسُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ حَتّٰی تَصِیْرَ مَسَالِحُہُمْ بِسَلَاحٍ۔)) (مسند احمد: ۹۲۰۵)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگ مدینہ کی طرف رجوع کریں گے، یہاں تک کہ ان کی سرحد سلاح نامی جگہ کے قریب ہی ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12659

۔ (۱۲۶۵۹)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْإِیمَانَ لَیَأْرِزُ إِلَی الْمَدِینَۃِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَیَّۃُ إِلَی جُحْرِہَا۔)) (مسند احمد: ۷۸۳۳)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کہ ایمان سمٹ کر مدینہ کی طرف آجائے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف لوٹ آتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12660

۔ (۱۲۶۶۰)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَبْصَرَ جُدْرَانَ الْمَدِینَۃِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَہُ، فَإِنْ کَانَ عَلٰی دَابَّۃٍ حَرَّکَہَا مِنْ حُبِّہَا۔ (مسند احمد: ۱۲۶۴۶)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سفر سے واپسی پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نظر جب مدینہ کی دیواروں پر پڑتی تو مدینہ سے محبت کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی کو تیز کردیتے اور اگر کسی دوسرے جانور پر سوار ہوتے تو اسے بھی تیز چلنے کے لیے حرکت دیتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12661

۔ (۱۲۶۶۱)۔ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ کَنْزَ آلِ کِسْرٰی، الَّذِی فِی الْأَبْیَضِ۔)) قَالَ: وَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی سَمَّی الْمَدِیْنَۃَ طَیْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۰۶)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں یا مومنوں کی ایک جماعت آلِ کسری کے سفید محلات میں موجود خزانوں کو فتح کرے گی۔ نیز سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کا نام طیبہ رکھا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12662

۔ (۱۲۶۶۲)۔ وَعَنْ فَاطِمَۃَ بْنِ قَیْسٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ الْمَدِیْنَۃَ فَقَالَ: ((ھِیَ طَیْبَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۶۸)
سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ طیبہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12663

۔ (۱۲۶۶۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ بِقَرْیَۃٍ تَأْکُلُ الْقُرٰییَقُولُونَ: یَثْرِبُ وَہِیَ الْمَدِینَۃُ، تَنْفِی النَّاسَ کَمَا یَنْفِی الْکِیرُ خَبَثَ الْحَدِیدِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی یعنی اپنی فضیلت و مرتبہ کے لحاظ سے سب پر غالب آجائے گی، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، جبکہ یہ مدینہ ہے، یہ منافق اوربد کردار لوگوں کو یوں نکال دے گا، جیسے آگ کی بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12664

۔ (۱۲۶۶۴)۔ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَمَّی الْمَدِینَۃَیَثْرِبَ فَلْیَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ہِیَ طَابَۃُ ہِیَ طَابَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۱۸)
سیدنابراء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مدینہ منورہ کو یثرب کے نام سے ذکر کیا، وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، یہ طابہ ہے، اس کانام طابہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12665

۔ (۱۲۶۶۵)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَیْفَۃِ، فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَی الْمَدِینَۃِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَہُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْہُمْ فَقِیلَ: تَعَجَّلُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: ((تَعَجَّلُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ وَالنِّسَائِ، أَمَا إِنَّہُمْ سَیَدَعُونَہَا أَحْسَنَ مَا کَانَتْ۔))ثُمَّ قَالَ: ((لَیْتَ شِعْرِی مَتٰی تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِیئُ مِنْہَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوکًا بِبُصْرٰی کَضَوْئِ النَّہَار۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۱۳)
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے اور ہم ذوالحلیفہ میں ٹھہرے، کچھ لوگ تو مدینہ منورہ کی طرف جلدی چلے گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات وہیں بسر کی اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہی رات گزاری، صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان حضرات کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ بتلایا گیا کہ وہ تو مدینہ کی طرف جلدی چلے گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مدینہ کی طرف اور اپنی بیویوں کی طرف جلدی چلے گئے، خبردار! عنقریب ایک دور آئے گا کہ مدینہ کی اچھی بھلی حالت ہونے کے باوجود یہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاش کہ مجھے علم ہو کہ یمن کے جبل وارق سے کب وہ آگ نمودار ہوگی، جس سے بصریٰ میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں یوں چمکیں گی، جیسے دن میں چمکتی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12666

۔ (۱۲۶۶۶)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ: قَالَ رَجَائٌ: أَقْبَلْتُ مَعَ مِحْجَنٍ ذَاتَ یَوْمٍ حَتّٰی إِذَا انْتَہَیْنَا إِلٰی مَسْجِدِ الْبَصْرَۃِ، فَوَجَدْنَا بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیَّ عَلٰی بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ جَالِسًا، قَالَ: وَکَانَ فِی الْمَسْجِدِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: سُکْبَۃُیُطِیلُ الصَّلَاۃَ، فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلٰی بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَیْہِ بُرَیْدَۃُ، قَالَ: وَکَانَ بُرَیْدَۃُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ، قَالَ: یَا مِحْجَنُ! أَلَا تُصَلِّی کَمَا یُصَلِّی سُکْبَۃُ؟ قَالَ: فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ مِحْجَنٌ شَیْئًا وَرَجَعَ، قَالَ: وَقَالَ لِی مِحْجَنٌ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِیَدِی فَانْطَلَقَ یَمْشِی حَتّٰی صَعِدَ أُحُدًا، فَأَشْرَفَ عَلَی الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: ((وَیْلُ أُمِّہَا مِنْ قَرْیَۃٍیَتْرُکُہَا أَہْلُہَا کَأَعْمَرِ مَا تَکُونُ یَأْتِیہَا الدَّجَّالُ، فَیَجِدُ عَلٰی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِہَا مَلَکًا مُصْلِتًا، فَلَا یَدْخُلُہَا۔)) قَالَ: ثُمَّ انْحَدَرَ حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِسُدَّۃِ الْمَسْجِدِ رَأٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا یُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ، وَیَسْجُدُ وَیَرْکَعُ وَیَسْجُدُ وَیَرْکَعُ، قَالَ: فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ ہَذَا؟)) قَالَ: فَأَخَذْتُ أُطْرِیہِ لَہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا فُلَانٌ وَہٰذَا وَہٰذَا، قَالَ: ((اسْکُتْ لَا تُسْمِعْہُ فَتُہْلِکَہُ۔)) قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ یَمْشِی حَتّٰی إِذَا کُنَّا عِنْدَ حُجْرَۃٍ لٰکِنَّہُ رَفَضَ یَدِی ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ خَیْرَ دِینِکُمْ أَیْسَرُہُ، إِنَّ خَیْرَ دِینِکُمْ أَیْسَرُہُ، إِنَّ خَیْرَ دِینِکُمْ أَیْسَرُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۷)
محجن بن ادرع سے مروی ہے کہ رجاء کہتے ہیں: میں ایک روز محجن کے ہمراہ آیا اور ہم بصرہ کی مسجد میں جاپہنچے، مسجد کے ایک دروزے پر ہم نے بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بیٹھے ہوئے پایا، مسجد میں سکبہ نامی ایک شخص تھا، وہ کافی طویل نماز پڑھتا تھا، جب ہم مسجد کے دروازے پر واپس آئے تو سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہیں موجود تھے، وہ بڑے صاحب مزاح تھے، کہنے لگے: ارے محجن! کیا تم اس طرح نماز نہیں پڑھتے، جیسے سکبہ پڑھتا ہے؟ تو محجن نے کوئی جواب نہ دیا اور واپس آگئے، رجاء کہتے ہیں: محجن نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے، یہاں تک کہ احد کے اوپر چلے گئے، آپ نے مدینہ کی طرف جھانک کر فرمایا: افسوس ہے اس بستی پر کہ جب یہ خوب آباد ہوگی، یہاں کے باشندے اسے چھوڑ دیں گے یعنی یہاں سے نقل مکانی کر جائیں گے۔ (ایک روایت ہے محجن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے نبی! تب یہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ نے فرمایا: پرندے اور درندے) دجال اس بستی کی طرف آئے گا تو وہ اس کے ہر دروازے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھے گا اور اس میں داخل نہ ہو سکے گا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے کو اترے، جب ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا بس وہ رکوع و سجود ہی کیے جا رہا تھا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کے بعد اسے غور سے دیکھنا شروع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں آدمی ہے، یہ فلاں ہے اور یہ فلاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خاموش رہو، یہ الفاظ اسے سنا کر تم اسے ہلاکت میں ڈال دو گے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ جب ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجرہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اورفرمایا: تمہارا بہترین دین وہ ہے، جو سب سے آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے، جس میں سب سے زیادہ آسانی ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12667

۔ (۱۲۶۶۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَدَعَنَّ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ الْمَدِینَۃَ وَہِیَ خَیْرُ مَا یَکُونُ مُرْطِبَۃٌ مُونِعَۃٌ۔)) فَقِیلَ: مَنْ یَأْکُلُہَا؟ قَالَ: ((الطَّیْرُ وَالسِّبَاعُ۔)) (مسند احمد: ۹۰۵۵)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ، مدینہ کو چھوڑ جائیں گے، حالانکہ یہ ہر لحاظ سے خوش گوار اور آسودہ زندگی والاہو گا اور اس کے پھل خوب پکے ہوئے ہوں گے۔ کسی نے کہا: تب وہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پرندے اور درندے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12668

۔ (۱۲۶۶۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِینَۃِ: ((لَتَتْرُکَنَّہَا عَلٰی خَیْرِ مَا کَانَتْ مُذَلَّلَۃً لِلْعَوَافِییَعْنِی السِّبَاعَ وَالطَّیْرَ۔)) (مسند احمد: ۸۹۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے متعلق فرمایا: تم لوگ خوش حالی کے باوجود اس شہر کو درندوں اور پرندوں کے لیے چھوڑ جاؤ گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12669

۔ (۱۲۶۶۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمَدِینَۃُیَتْرُکُہَا أَہْلُہَا وَہِیَ مُرْطِبَۃٌ۔)) قَالُوْا: فَمَنْ یَأْکُلُہَایَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((السِّبَاعُ وَالْعَائِفُ۔)) قَالَ أَبُو عَوَانَۃَ: فَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ قَالَ: کَانَ فِی کِتَابِ سُلَیْمَانَ بْنِ قَیْسٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۱۱)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ اگر چہ تازہ کھجوروں والا ہوگا، مگر اہل مدینہ اسے چھوڑ جائیں گے۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہاں (کے پھل اور غلہ وغیرہ) کون کھائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درندے اور پرندے۔ ابو عوانہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ ابو بشر نے کہا ہے کہ یہ حدیث سلیمان بن قیس کی کتاب میں تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12670

۔ (۱۲۶۷۰)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَسِیرَنَّ رَاکِبٌ فِی جَنْبِ وَادِی الْمَدِینَۃِ، لَیَقُولَنَّ لَقَدْ کَانَ فِی ہٰذِہِ مَرَّۃً حَاضِرَۃٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ کَثِیرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۳۴)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ کی وادی کے قریب سے کوئی سوار گزرتے ہوئے کہے گا کہ کبھی ا س شہر میں اہل ایمان کی بہت بڑی آبادی ہوتی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12671

۔ (۱۲۶۷۱)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیَسِیرَنَّ الرَّاکِبُ فِی جَنَبَاتِ الْمَدِینَۃِ، ثُمَّ لَیَقُولُ: لَقَدْ کَانَ فِی ہَذَا حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ کَثِیرٌ۔)) قَالَ أَبِی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَلَمْ یَجُزْ بِہِ حَسَنٌ الْأَشْیَبُ جَابِرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۴)
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سوار مدینہ کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا کہ کبھی اس شہر میں اہل ایمان کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی۔ امام احمد بن حنبل نے کہا: حسن اشیب نے جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے آگے تجاوز نہیں کیا۔ (یعنی عمر بن خطاب کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ مسند جابر کے انداز میں حدیث بیان کی ہے)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12672

۔ (۱۲۶۷۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا ہٰذَا، لِیَتَعَلَّمَ خَیْرًا أَوْ لِیُعَلِّمَہُ، کَانَ کَالْمُجَاہِدِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَمَنْ دَخَلَہُ لِغَیْرِ ذٰلِکَ کَانَ کَالنَّاظِرِ إِلٰی مَا لَیْسَ لَہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَمَنْ جَائَ لِغَیْرِ ذٰلِکَ فَہُوَ بِمَنْزِلَۃِ رَجُلٍ یَنْظُرُ اِلٰی مَتَاعِ غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۵۸۷)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ہماری اس مسجد میں بھلائی سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اورجو آدمی اس مقصد کے علاوہ کسی دوسری غرض سے آئے گا تو وہ گویا ایسی چیز کو دیکھ رہا ہے جو اس کی نہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: اور جو آدمی کسی دوسری غرض سے آئے گا، وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو دوسرے کے سامان کی طرف دیکھ رہا ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12673

۔ (۱۲۶۷۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہٗاِلَّاالْمَسْجِدَالْحَرَامَ۔)) (مسنداحمد: ۱۶۰۵)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی ہوئی ایک نماز عام مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12674

۔ (۱۲۶۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا اَفْضَلُ مِنْ اَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہٗمِنَالْمَسَاجِدِاِلَّاالْمَسْجِدَالْحَرَامَفَہُوْاَفْضَلُ۔)) (مسنداحمد: ۴۸۳۸)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں اد ا کی ہوئی ایک نمازعام مسجد میں ادا کی ہوئی ہزار نمازوں سے بہتر ہے، ما سوائے مسجد حرام کے، وہاں کی نماز اس نماز سے افضل ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12675

۔ (۱۲۶۷۵)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَلَاۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ہٰذَا کَاَلْفِ صَلَاۃٍ فِیْمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَساجِدِ اِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12676

۔ (۱۲۶۷۶)۔ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَۃً اشْتَکَتْ شَکْوٰی، فَقَالَتْ: لَئِنْ شَفَانِی اللّٰہُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرِئَتْ فَتَجَہَّزَتْ تُرِیدُ الْخُرُوجَ، فَجَاء َتْ مَیْمُونَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُسَلِّمُ عَلَیْہَا، فَأَخْبَرَتْہَا ذٰلِکَ، فَقَالَتْ: اجْلِسِی فَکُلِی مَا صَنَعْتُ وَصَلِّی فِی مَسْجِدِ الرَّسُولِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((صَلَاۃٌ فِیہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا مَسْجِدَ الْکَعْبَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۶۳)
ابراہیم بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک عورت بیمار پڑگئی اور اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں بیت المقدس میں جاکر نماز پڑھوںگی، وہ تندرست ہوگئی اور اس نے جانے کی تیار ی کی اور سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گئی، انہیں سلام کہا اور اپنے ارادہ سے ان کو مطلع کیا، سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: بیٹھو اور جو کچھ میں نے تیار کیا، وہ کھاؤ اور مسجد نبوی میں ہی نماز پڑھ لو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے کعبہ کی مسجد کے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12677

۔ (۱۲۶۷۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَدَّعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا فَقَالَ لَہُ: ((أَیْنَ تُرِیدُ؟)) قَالَ: أُرِیدُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَصَلَاۃٌ فِی ہٰذَا الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ یَعْنِی مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍفِی غَیْرِہِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۵۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کو الوادع کرنے لگے تو اس سے پوچھا: اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا ارادہ کہاں کا ہے؟ اس نے کہا: بیت المقدس جانے کا ارادہ ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12678

۔ (۱۲۶۷۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ صَلّٰی فِی مَسْجِدِی أَرْبَعِینَ صَلَاۃً لَا یَفُوتُہُ صَلَاۃٌ، کُتِبَتْ لَہُ بَرَائَ ۃٌ مِنَ النَّارِ، وَنَجَاۃٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۱)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح باجماعت ادا کیں کہ کوئی نماز فوت نہ ہوئی تو اس کے لیے جہنم سے آزادی، عذاب سے نجات اور نفاق سے بری ہونے کا پروانہ لکھ دیاجاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12679

۔ (۱۲۶۷۹)۔ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَدْخُلُ مَسْجِدَنَا ہٰذَا مُشْرِکٌ بَعْدَ عَامِنَا ہٰذَا غَیْرَ أَہْلِ الْکِتَابِ وَخَدَمِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۰۳)
سیدنا جا بر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سال کے بعد ہماری اس مسجد میںکوئی مشرک داخل نہ ہو گا، البتہ اہل کتاب اور ان کے خدام آسکیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12680

۔ (۱۲۶۸۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: ((اِلاَّ اَہْلُ الْعَہْدِ وَخَدَمُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۹۱)
دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: ذمی لوگ اور ان کے خدام آسکیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12681

۔ (۱۲۶۸۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُولُ: اخْتَلَفَ رَجُلَانِ أَوْ امْتَرَیَا، رَجُلٌ مِنْ بَنِی خُدْرَۃَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِی الْمَسْجِدِ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی، قَالَ الْخُدْرِیُّ: ہُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْعَمْرِیُّ: ہُوَ مَسْجِدُ قُبَائَ، فَأَتَیَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَاہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((ہُوَ ہٰذَا الْمَسْجِدُ لِمَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: فِی ذَاکَ خَیْرٌ کَثِیرٌ،یَعْنِی مَسْجِدَ قُبَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۹۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو خدرہ اور بنو عمر بن عوف کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا کہ قرآن کریم میں جس مسجد کے متعلق آیا ہے کہ اس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، اس سے کون سی مسجد مراد ہے؟ بنو حذرہ کے شخص نے کہا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے اور بنو عمر بن عوف کے آدمی نے کہا: اس سے مراد مسجد ِ قباء ہے۔ وہ دونوں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد تو میری یہی مسجد یعنی مسجد نبوی ہے، ہاں مسجد قباء میں بھی بہت زیادہ خیر و بھلائی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12682

۔ (۱۲۶۸۲)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھُوَ مَسْجِدِیْ ہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۹۱)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اس مفہوم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ تو میری یہی مسجد ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12683

۔ (۱۲۶۸۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِبَنِی النَّجَّارِ، وَکَانَ فِیہِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِکِینَ، فَقَالَ لَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((ثَامِنُونِی بِہِ۔)) فَقَالُوْا: لَا نَأْخُذُ لَہُ ثَمَنًا، وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَبْنِیہِ وَہُمْ یُنَاوِلُونَہُ وَہُوَ یَقُولُ: ((أَلَا إِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْآخِرَہْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ۔)) قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی قَبْلَ أَنْ یُبْنَی الْمَسْجِدُ حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۰۲)
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12684

۔ (۱۲۶۸۴)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِبِنَائِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَۃً لَبِنَۃً، وَکَانَ عَمَّارٌ یَنْقُلُ لَبِنَتَیْنِ لَبِنَتَیْنِ فَتَتَرَّبُ رَأْسُہُ، قَالَ: فَحَدَّثَنِیأَصْحَابِی وَلَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ جَعَلَ یَنْفُضُ رَأْسَہُ وَیَقُولُ: ((وَیْحَکَیَا ابْنَ سُمَیَّۃَ تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۲۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مسجد تعمیر کرنے کا حکم فرمایا، ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے، جبکہ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، اس وجہ سے ان کا سر غبار آلود ہوگیا، سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں سنا، البتہ میرے ساتھیوں نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سر سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور ساتھ ساتھ فرما رہے تھے: سمیہ کے بیٹے! اللہ تجھ پر رحم کرے، ایک باغی گروہ تجھے قتل کر ے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12685

۔ (۱۲۶۸۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّہُمْ کَانُوْا یَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَائِ الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُمْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَارِضٌ لَبِنَۃً عَلَی بَطْنِہِ، فَظَنَنْتُ أَنَّہَا قَدْ شُقَّتْ عَلَیْہِ، قُلْتُ: نَاوِلْنِیہَایَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خُذْ غَیْرَہَایَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! فَإِنَّہُ لَا عَیْشَ إِلَّا عَیْشُ الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۳۸)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام f مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا تو دیکھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک بڑی اینٹ اپنے پیٹ پرلگا کر اٹھائے آرہے تھے، میں نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کاا ٹھانا مشکل ہور ہاہے، اس لیے میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ یہ مجھے دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! تم اور اٹھا لاؤ، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12686

۔ (۱۲۶۸۶)۔ عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ، أَخْبَرَہُ أَنَّ الْمَسْجِدَ کَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَبْنِیًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُہُ الْجَرِیدُ، وَعُمُدُہُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ یَزِدْ فِیہِ أَبُو بَکْرٍ شَیْئًا، وَزَادَ فِیہِ عُمَرُ وَبَنَاہُ عَلٰی بِنَائِہِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاللَّبِنِ وَالْجَرِیدِ، وَأَعَادَ عُمُدَہُ خَشَبًا، ثُمَّ غَیَّرَہُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِیہِ زِیَادَۃً کَثِیرَۃً، وَبَنٰی جِدَارَہُ بِالْحِجَارَۃِ الْمَنْقُوشَۃِ وَالْقَصَّۃِ، وَجَعَلَ عُمُدَہُ مِنْ حِجَارَۃٍ مَنْقُوشَۃٍ، وَسَقْفَہُ بِالسَّاجِ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۹)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں مسجد نبوی اینٹوں سے تعمیر ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے عہد میں اس میں کوئی اضافہ نہ کیا، البتہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ والی بنیادوں پر ہی اسکی بنیادیں اٹھائیں اور انہوں نے اسے اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی کے بنائے، بعد ازاں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے تعمیر کیا اور اس میںبہت زیادہ توسیع بھی کی، انہوں نے اس کی دیوار وں کو منقش پتھروں سے چونا گچ کیا اور اس کے ستون منقش پتھروں سے اور چھت ساگواں کی لکڑی سے بنائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12687

۔ (۱۲۶۸۷)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ زَادَ فِی الْمَسْجِدِ مِنَ الْأُسْطُوَانَۃِ إِلَی الْمَقْصُورَۃِ، وَزَادَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((نَبْغِی نَزِیدُ فِی مَسْجِدِنَا)) مَا زِدْتُ فِیہِ۔ (مسند احمد: ۳۳۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مسجد نبوی میں معروف ستون سے مقصورہ (پتھر) تک اضافہ کیا تھا اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اضافہ کیا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا تھا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہم اپنی اس مسجد میں توسیع کرنا چاہتے ہیں تو میں اس میں توسیع نہ کرتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12688

۔ (۱۲۶۸۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۲۲۲)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور منبرکے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12689

۔ (۱۲۶۸۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَیْنَ مِنْبَرِیْ اِلٰی حُجْرَتِیْ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَاِنَّ مِنْبَرِیْ عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۵۵)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے منبر اور میرے حجرے کے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے اور میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ پر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12690

۔ (۱۲۶۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّہٗسَمِعَرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مِنْبَرِیْ عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) فَقُلْتُ لَہُ: مَا التُّرْعَۃُیَا اَبَا الْعَبَّاسٍ؟ قَالَ: اَلْبَابُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۲۹)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔ راوی نے کہا:: ابوالعباس! التُّرْعَۃ کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: دروازہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12691

۔ (۱۲۶۹۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْبَرِی ہٰذَا عَلٰی تُرْعَۃٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۰۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا یہ منبرجنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12692

۔ (۱۲۶۹۲)۔ حَدَّثَنَا مَکِّیٌّ قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ: کُنْتُ آتِی مَعَ سَلَمَۃَ الْمَسْجِدَ فَیُصَلِّی مَعَ الْأُسْطُوَانَۃِ الَّتِی عِنْدَ الْمُصْحَفِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا مُسْلِمٍ! أَرَاکَ تَتَحَرَّی الصَّلَاۃَ عِنْدَ ہَذِہِ الْأُسْطُوَانَۃِ، قَالَ: فَإِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَحَرَّی الصَّلَاۃَ عِنْدَہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۶۳۱)
یزید بن ابی عبیدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مسجدنبوی میں آیا کرتا تھا، وہ مصحف کے قریب والے ستون کے قریب نماز ادا کیا کرتے تھے، میںنے ان سے کہا: ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے قریب نماز ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ستون کے قریب نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12693

۔ (۱۲۶۹۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ سَلَمَۃَ اَنَّہُ کَانَ یَتَحَرّٰی مَوْضِعَ الْمُصْحَفِ، وَذَکَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَحَرّٰی ذٰلِکَ الْمَکَانَ، وَکَانَ بَیْنَ الْمِنْبَرِ وَالْقِبْلَۃِ مَمَرُّ شَاۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۵۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا مصحف کے قریب والی جگہ پر نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس مقام پر خصوصی التزام و اہتمام کیا کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر اور قبلہ کے مابین ایک بکری کے گزرنے کی جگہ تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12694

۔ (۱۲۶۹۴)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَوَائِمُ مِنْبَرِیْ رَوَاتِبُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۰۹)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے منبر کے پائے جنت میں گڑھے ہوئے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12695

۔ (۱۲۶۹۵)۔ عَنِ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَیَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَحْلِفُ عِنْدَ ہٰذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَۃٌ عَلٰییَمِینٍ آثِمَۃٍ، وَلَوْ عَلٰی سِوَاکٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۲۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس منبر کے قریب کوئی مرد یا عورت گناہ والی قسم اٹھائے، خواہ وہ ایک تازہ مسواک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو، اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12696

۔ (۱۲۶۹۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ کَانَ جِذْعُ نَخْلَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ یُسْنِدُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ظَہْرَہُ إِلَیْہِ، إِذَا کَانَ یَوْمُ جُمُعَۃٍ، أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ یُرِیدُ أَنْ یُکَلِّمَ النَّاسَ، فَقَالُوْا: أَلَا نَجْعَلُ لَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! شَیْئًا کَقَدْرِ قِیَامِکَ؟ قَالَ: ((لَا عَلَیْکُمْ أَنْ تَفْعَلُوْا۔)) فَصَنَعُوْا لَہُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ۔ قَالَ: فَجَلَسَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَخَارَ الْجِذْعُ کَمَا تَخُورُ الْبَقَرَۃُ جَزَعًا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَالْتَزَمَہُ وَمَسَحَہُ حَتّٰی سَکَنَ۔ (مسند احمد: ۵۸۸۶)
سیدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میںکھجور کا ایک تنا تھا، جمعہ کے دن یا کسی خاص موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے مخاطب ہونا چاہتے تو اپنی پشت اس کے ساتھ لگا کر کھڑے ہوجاتے، لوگوںنے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کھڑے ہونے کے لیے بلند چیز نہ بنادیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو انہوں نے تین سیڑھیوں ولاا ایک منبر تیار کر دیا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دینے کے لیے اس پر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی پر غمگین ہو کر وہ تنا اس طرح بلند آواز سے جزع فزع کرنے لگا، جیسے گائے جزع فزع کرتی ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جا کر اسے سینہ سے لگایا اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12697

۔ (۱۲۶۹۷)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الْمِنْبَرِ مِنْ أَیِّ عُودٍ ہُوَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَعْرِفُ مِنْ أَیِّ عُودٍ ہُوَ؟ وَأَعْرِفُ مَنْ عَمِلَہُ؟ وَأَیُّیَوْمٍ صُنِعَ؟ وَأَیُّیَوْمٍ وُضِعَ؟ وَرَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ یَوْمٍ جَلَسَ عَلَیْہِ، أَرْسَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی امْرَأَۃٍ لَہَا غُلَامٌ نَجَّارٌ، فَقَالَ لَہَا: ((مُرِی غُلَامَکِ النَّجَّارَ أَنْ یَعْمَلَ لِی أَعْوَادًا، أَجْلِسُ عَلَیْہَا إِذَا کَلَّمْتُ النَّاسَ۔)) فَأَمَرَتْہُ فَذَہَبَ إِلَی الْغَابَۃِ فَقَطَعَ طَرْفَائَ فَعَمِلَ الْمِنْبَرَ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ، فَأَرْسَلَتْ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ فِی مَوْضِعِہِ ہٰذَا الَّذِی تَرَوْنَ فَجَلَسَ عَلَیْہِ أَوَّلَ یَوْمٍ وُضِعَ فَکَبَّرَ ہُوَ عَلَیْہِ، ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَہْقَرٰی فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَہُ، ثُمَّ عَادَ حَتّٰی فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ہٰذَا لِتَأْتَمُّوا بِی وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِی۔)) فَقِیلَ لِسَہْلٍ: ہَلْ کَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا یَقُولُ النَّاسُ، قَالَ: قَدْ کَانَ مِنْہُ الَّذِی کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۵۹)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا منبر کس چیز سے بنا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوںکہ وہ کس لکڑی کا بنا ہوا ہے؟ اسے کس نے کب بنایا ہے اور کس دن لا کر اسے رکھا گیا؟ اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہلے دن اس پر تشریف رکھتے دیکھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک خاتون کو پیغام بھیجا تھا، جس کا غلام بڑھئی تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تم اپنی غلام بڑھئی سے کہو کہ وہ لوگوں سے میرے مخاطب ہوتے وقت بلند جگہ بیٹھنے کے لیے لکڑی کی کوئی چیز تیار کردے۔ اس خاتون نے اس غلام کو اس کا حکم دیا، تو وہ جنگل میں گیا اور وہاں سے جھاؤ کی لکڑی کاٹ کر لایا اور اس نے تین سیڑھیوں پر مشتمل ایک منبر تیار کر دیا، چنانچہ اس خاتون نے وہ منبر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھجوادیا، چنانچہ اسے اس کی اسی جگہ پر رکھا گیا، جہاں تم اسے اب دیکھ رہے ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے دن اس منبرپر بیٹھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی پر اللہ اکبر کہا اور رکوع کیا اس کے بعد الٹے پاؤں نیچے اتر کر زمین پر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر منبر پر چلے گئے، تاآنکہ نماز سے فارغ ہوئے، نما ز سے فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے عمداً یہ کام کیا ہے، تاکہ تم میری اقتدا کرسکو اور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ سیدنا سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا گیا: اس تنے کا کوئی ایسا واقعہ بھی پیش آیا تھا جو لوگ بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایسا ہوا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12698

۔ (۱۲۶۹۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: کَانَ مِنْ اَثَلِ الْغَابَۃِ،یَعْنِیْ مِنْبَرَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۸۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: منبر نبوی جھاؤ کی لکڑی کا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12699

۔ (۱۲۶۹۹)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، أَنَّہُ قَالَ: لَقِیَ أَبُو بَصْرَۃَ الْغِفَارِیُّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ، وَہُوَ جَائَ مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: مِنَ الطُّورِ صَلَّیْتُ فِیہِ، قَالَ: أَمَا لَوْ أَدْرَکْتُکَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَیْہِ مَا رَحَلْتَ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ، الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِی ہٰذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصٰی۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۵۱)
عمر بن عبدالرحمن بن حارث سے روایت ہے کہ ابو بصرہ غفاری کی طور سے واپسی پرسیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے کہا: کہاں سے آرہے ہو؟ انھوں نے کہا: طور سے، میں وہاں نماز ادا کرنے گیا تھا، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم روانگی سے قبل مجھ سے ملتے تو تم وہاں نہ جاتے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پالانوں کو نہ کسا جائے، یعنی سفر کا خصوصی اہتمام نہ کیا جائے، مگر تین مساجد کی طرف، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12700

۔ (۱۲۷۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ، اِلَی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِیْ ہٰذَا، وَالْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی۔)) (مسند احمد: ۷۱۹۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف بطور خاص سفر نہ کیا جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12701

۔ (۱۲۷۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۵۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12702

۔ (۱۲۷۰۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ خَرَجَ حَتّٰییَاْتِیَ ہٰذَا الْمَسْجِدَ یَعْنِی مَسْجِدَ قُبَائَ، فَیُصَلِّیَ فِیْہِ کَانَ کَعَدْلِ عُمْرَۃٍ)) (مسند احمد: ۱۶۰۷۷)
سیدناسہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے گھر سے روانہ ہو کر مسجد ِ قباء میں جاکر نماز ادا کرے، اس کا یہ عمل عمرہ کے برابر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12703

۔ (۱۲۷۰۳)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہُ کَانَ یُحَدِّثُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَزُوْرُہُ رَاکِبًا وَ مَاشِیًایَعْنِیْ مَسْجِدَ قُبَائَ۔ (مسند احمد: ۵۳۳۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی سو ار اور کبھی پیدل جا کر قباء مسجد کی زیارت کیا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12704

۔ (۱۲۷۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ قَالَ: أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَائَ عَلٰی بَغْلَۃٍ لِی، قَدْ صَلَّیْتُ فِیہِ، فَلَقِیتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ مَاشِیًا، فَلَمَّا رَأَیْتُہُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِی، ثُمَّ قُلْتُ: اِرْکَبْ أَیْ عَمِّ! قَالَ: أَیِ ابْنَ أَخِی، لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْکَبَ الدَّوَابَّ لَرَکِبْتُ، وَلٰکِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِی إِلٰی ہٰذَا الْمَسْجِدِ حَتّٰییَأْتِیَ فَیُصَلِّیَ فِیہِ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِیَ إِلَیْہِ کَمَا رَأَیْتُہُیَمْشِی، قَالَ: فَأَبٰی أَنْ یَرْکَبَ وَمَضٰی عَلٰی وَجْہِہِ۔ (مسند احمد: ۵۹۹۹)
عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں قبا ء میں واقع مسجد بنی عمرو بن عوف میں نماز پڑھ کر اپنے خچر پر سوار ہو کر واپس آرہا تھا، راستے میں مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیدل چلتے مل گئے، میں نے انہیں دیکھا تو میں اپنے خچر سے اترآیا اورمیں نے کہا: چچا جان! آ پ اس پر سوار ہو جائیں، انہوں نے کہا: بھتیجے! میںسواری پر سوار ہونا چاہتا تو ہوسکتا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل چل کرجاتے دیکھا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جا کر وہاں نماز ادا کی، پس میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیدل جاتے دیکھا ہے، میں بھی پیدل ہی جاؤں اور انہوںنے سوار ہونے سے انکا ر کر دیا اور اسی طرح روانہ ہوگئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12705

۔ (۱۲۷۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ اِلیٰ قُبَائَ، (مسند احمد: ۱۱۰۵۸)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیر کے دن قباء کی طرف گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12706

۔ (۱۲۷۰۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِفَضِیْخٍ فِیْ مَسْجِدِ الْفَضِیْخِ فَشَرِبَہُ فَلِذٰلِکَ سُمِّیَ۔ (مسند احمد: ۵۸۴۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں مسجد فضیخ میں فضیخ پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ نو ش فرمایا، اسی مناسبت سے اس مسجد کا نام فضیخ رکھ دیا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12707

۔ (۱۲۷۰۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِی مُوَیْہِبَۃَ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ، فَقَالَ: ((یَا أَبَا مُوَیْہِبَۃَ! إِنِّی قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَہْلِ الْبَقِیعِ فَانْطَلِقْ مَعِی۔)) فَانْطَلَقْتُ مَعَہُ، فَلَمَّا وَقَفَ بَیْنَ أَظْہُرِہِمْ، قَالَ: ((السَّلَامُ عَلَیْکُمْ! یَا أَہْلَ الْمَقَابِرِ، لِیَہْنِ لَکُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِیہِ، مِمَّا أَصْبَحَ فِیہِ النَّاسُ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاکُمُ اللّٰہُ مِنْہُ، أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یَتْبَعُ أَوَّلُہَا آخِرَہَا، الَآخِرَۃُ شَرٌّ مِنَ الْأُولٰی۔)) قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ، فَقَالَ: ((یَا أَبَا مُوَیْہِبَۃَ! إِنِّی قَدْ أُوتِیتُ مَفَاتِیحَ خَزَائِنِ الدُّنْیَا وَالْخُلْدَ فِیہَا ثُمَّ الْجَنَّۃَ، وَخُیِّرْتُ بَیْنَ ذٰلِکَ وَبَیْنَ لِقَائِ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: قُلْتُ بِأَبِی وَأُمِّی فَخُذْ مَفَاتِیحَ الدُّنْیَا وَالْخُلْدَ فِیہَا ثُمَّ الْجَنَّۃَ، قَالَ: ((لَا، وَاللّٰہِ! یَا أَبَا مُوَیْہِبَۃَ، لَقَدْ اخْتَرْتُ لِقَائَ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ وَالْجَنَّۃَ۔)) ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَہْلِ الْبَقِیعِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَبُدِیئَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَجْعِہِ الَّذِیْ قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حِیْنَ اَصْبَح۔ (مسند احمد: ۱۶۰۹۳)
مولائے رسول سیدنا ابو مویہبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آدھی رات کو مجھے بیدا رکیا اور فرمایا: ابو مویہبہ!مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بقیع قبرستان والوں کے لیے مغفرت کی دعا کروں، تم بھی میرے ساتھ چلو۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ چل پڑا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں جا کر جب ان کے درمیان کھڑے ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو، تم جس حال میں ہو، وہ تمہیں مبارک ہو، ان حالات سے کہ جن میں اب لوگ ہیں، کاش کہ تم جان لو کہ اللہ نے تمہیں کس چیز سے بچا لیا ہے، فتنے اندھیری رات کے حصوں کی مانند ایک دوسرے کے پیچھے لگا تار آرہے ہیں، بعدمیں آنے والا فتنہ پہلے سے بدتر ہے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ابو مویہبہ! مجھے دنیا اور اس میں ہمیشگی کے خزانے دئیے گئے ہیں اور اس کے بعد جنت دی گئی ہے اور مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں دنیا یا اپنے رب کی ملاقات اور جنت میں سے جس چیز کا انتخاب کرنا چاہوں، کر لوں۔ ابو مو یہبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا کے خزانوں اور اس میں ہمیشگی اور اس کے بعد جنت کا انتخاب فرما لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابومویہبہ! اللہ کی قسم! ایسا نہیں میں نے اپنے رب کی ملاقات اور جنت کا انتخاب کر لیا ہے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل بقیع کے حق میں مغفرت کی دعائیں کیں اور واپس چل دئیے، دوسرے دن صبح کو ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ بیماری شروع ہوگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا سے اٹھالیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12708

۔ (۱۲۷۰۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: أُمِرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلٰی أَہْلِ الْبَقِیعِ، فَصَلّٰی عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا کَانَتِ اللَّیْلَۃُ الثَّانِیَۃُ، قَالَ: ((یَا أَبَا مُوَیْہِبَۃَ! أَسْرِجْ لِی دَابَّتِی۔)) قَالَ: فَرَکِبَ فَمَشَیْتُ حَتّٰی انْتَہٰی إِلَیْہِمْ، فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِہِ وَاَمْسَکْتُ الدَّابَّۃَ وَوَقَفَ عَلَیْہِمْ، أَوْ قَالَ: قَامَ عَلَیْہِمْ، فَقَالَ: ((لِیَہْنِکُمْ مَا أَنْتُمْ فِیہِ مِمَّا فِیہِ النَّاسُ، أَتَتِ الْفِتَنُ کَقِطَعِ اللَّیْلِیَرْکَبُ بَعْضُہَا بَعْضًا، الْآخِرَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَی، فَلْیَہْنِکُمْ مَا أَنْتُمْ فِیہِ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۹۲)
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو مویہبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بقیع قبرستان والوں کے حق میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات میں تین مرتبہ ان کے حق میں دعائیں کیں، جب دوسری رات ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! میری سواری تیار کرو۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر سوار ہوئے اور میں پیدل چلا، تاآنکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اہل بقیع کے پاس جا پہنچے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری سے نیچے اترے اور میں نے سواری کو پکڑ لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اہل بقیع! تم جس حال میں ہو، تمہیں مبارک ہو، اِدھر تو رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چڑھے آ رہے ہیں، ہر بعد والا فتنہ پہلے والے سے سخت ہے، لہذا تم جس حالت میں ہو، تمہیں یہ مبارک ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12709

۔ (۱۲۷۰۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ سُوَیْدِ نِ الْاَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَفَلْنَا مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوَۃِ خَیْبَرَ، فَلَمَّا بَدَا لَہُ أُحُدٌ، قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللّٰہُ أَکْبَرُ، جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۴۴)
سیدناسوید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں غزوہ ٔ خیبر سے واپس آ رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو احد پہاڑ دکھائی دیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12710

۔ (۱۲۷۱۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اُحُدًا، ھٰذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ۔)) (مسند احمد: ۹۰۱۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12711

۔ (۱۲۷۱۱)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ حَدَّثَہُمْ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَعِدَ اُحُدًا، فَتَبِعَہُ اَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِہِمُ الْجَبَلُ، فَقَالَ: ((اسْکُنْ عَلَیْکَ نَبِیٌّ وَصِدِّیْقٌ وَشَہِیْدَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، بلاشبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبل احد پر تشریف لے گئے، سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے آ گئے، ان کی آمد پر پہاڑہلنے لگا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: رک جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12712

۔ (۱۲۷۱۲)۔ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ، اَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ: اَخْبَرَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاُخْرِجَنَّ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ حَتّٰی لَا اَدَعَ اِلَّا مُسْلِمًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۱)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے اس حد تک نکال دوں گا اور یہاں صر ف مسلمانوں کو باقی چھوڑوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12713

۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12714

۔ (۱۲۷۱۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَلِیُّ اِنْ اَنْتَ وُلِّیْتَ الْاَمْرَ بَعْدُ فَاَخْرِجْ اَھْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۱)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے علی! میرے بعد اگر تمہیں سر براہی ملے تو اہل نجران کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12715

۔ (۱۲۷۱۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَلِیُّ اِنْ اَنْتَ وُلِّیْتَ الْاَمْرَ بَعْدُ فَاَخْرِجْ اَھْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۱)
سیدنا ابوعبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آخری گفتگو یہ تھی کہ تم حجاز اہل نجران کے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور یاد رکھو کہ سب سے برے لوگ وہ ہیں،جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12716

۔ (۱۲۷۱۶)۔ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((الْإِیمَانُ فِی أَہْلِ الْحِجَازِ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَائُ فِی الْفَدَّادِینَ فِی أَہْلِ الْمَشْرِقِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱۲)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اصل ایمان تو اہل حجاز میں ہے اور دلوں کی سختی اور شدت اہل مشرق کے اونٹوں کے مالکوں میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12717

۔ (۱۲۷۱۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حَوَالَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیَصِیْرُ الْاَمْرُ اِلٰی اَنْ تَکُوْنَ جُنُوْدٌ مجَنَّدَۃٌ، جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْیَمَنِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: فَخِرْ لِییَا رَسُولَ اللّٰہِ إِذَا کَانَ ذٰلِکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلَیْکَ بِالشَّامِ، عَلَیْکَ بِالشَّامِ ثَلَاثًا، عَلَیْکَ بِالشَّامِ، فَمَنْ أَبٰی فَلْیَلْحَقْ بِیَمَنِہِ، وَلْیَسْقِ مِنْ غُدُرِہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَدْ تَکَفَّلَ لِی بِالشَّامِ وَأَہْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۳۰)
سیدنا عبداللہ بن حوالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب اسلام کو اس قدر غلبہ حاصل ہو گا کہ اہل اسلام کے بہت سے لشکر ہوں گے، ایک لشکر شام میں ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہوگا۔ تو ابن حوالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرمجھے یہ دور نصیب ہوتو میرے لیے کسی علاقہ کا انتخاب فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ملک شام میں رہنا، تم شام کو لازم پکڑنا، بس تم شام میں رہنا، جو اس علاقے کا انکار کرے تو وہ یمن میں چلا جائے اور وہاں کے جوہڑوں کا پانی پیے، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12718

۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12719

۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12720

۔ (۱۲۷۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((بَیْنَا أَنَا فِی مَنَامِی أَتَتْنِی الْمَلَائِکَۃُ، فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْکِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِی فَعَمَدَتْ بِہِ إِلَی الشَّامِ أَلَا فَالْإِیمَانُ حَیْثُ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۲۸)
سیدناعمر وبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںسویا ہوا تھا کہ میرے پاس فرشتے آئے، میں نے خواب دیکھا کہ انہوں نے کتاب کا عمود میرے تکیے کے نیچے سے کھینچ لیا، پھر اس کو لے کر شام کی طرف کا قصد کیا، خبردار اصل ایمان شام کے اس علاقے میں ہو گا، جہاں فتنے بپا ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12721

۔ (۱۲۷۲۱)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَیْتُ عَمُودَ الْکِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِی، فَظَنَنْتُ أَنَّہُ مَذْہُوبٌ بِہِ، فَأَتْبَعْتُہُ بَصَرِی فَعُمِدَ بِہِ إِلَی الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِیمَانَ حِینَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۶)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ کتاب کا عمود میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا، پھر میں نے گمان کیا کہ اسے لے جایا جا رہا ہے، میں نے اپنی نگاہ کو اس کے پیچھے لگائے رکھا، پس اس کو شام لے جایا گیا، خبردار! جب فتنے واقع ہوں گے تو اصل ایمان شام میں ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12722

۔ (۱۲۷۲۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، إِذْ قَالَ: ((طُوبٰی لِلشَّامِ۔)) قِیلَ: وَلِمَ ذٰلِکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِِ، قَالَ: ((إِنَّ مَلَائِکَۃَ الرَّحْمٰنِ بَاسِطَۃٌ أَجْنِحَتَہَا عَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۴۳)
سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بیٹھے مختلف اشیاء پر مکتوب قرآن مجید جمع کر رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شام کے لیے خوشخبری ہے؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرشتوں نے اپنے پروں کو اس پر پھیلارکھا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12723

۔ (۱۲۷۲۳)۔ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ أَبِی الْمَشَّائِ، وَہُوَ لَقِیطُ بْنُ الْمَشَّائِ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَتَحَوَّلَ خِیَارُ أَہْلِ الْعِرَاقِ إِلَی الشَّامِ، وَیَتَحَوَّلَ شِرَارُ أَہْلِ الشَّامِ إِلَی الْعِرَاقِ، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکُمْ بِالشَّامِ۔)) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو الْمُثَنّٰییُقَالُ لَہُ: لَقِیطٌ، وَیَقُولُونَ: ابْنُ الْمُثَنّٰی وَأَبُو الْمُثَنّٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۴۹۷)
سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی، جب تک کہ اہل عراق میں سے اچھے لوگ شام کی طرف اور شام کے بد ترین لوگ عراق کی طرف منتقل نہ ہوجائیں اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شام کے ملک میں سکونت اختیار کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12724

۔ (۱۲۷۲۴)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَامِنَا ویَمَنِنَا۔)) مَرَّتَیْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ وَفِی مَشْرِقِنَا، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ ہُنَالِکَ یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ وَلَہَا تِسْعَۃُ أَعْشَارِ الشَّرِّ۔)) (مسند احمد: ۵۶۴۲)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شام اور یمن میں برکت فرما۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہمارے مشرق کے حق میں بھی دعا ہو جائے، لیکن اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہاں سے تو شیطان کے سینگ نمودار ہوں گے اور دنیا کے شر و فساد کے دس1 حصوں میں سے نو حصے وہیں ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12725

۔ (۱۲۷۲۵)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا فَسَدَ اَھْلُ الشَّامِ فَلَا خَیْرَ فِیْکُمْ، وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْصُوْرِیْنَ، لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۲)
سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل شام خرابیوں اور فساد میںمبتلا ہوگئے، تو تم مسلمانوں میںکوئی بھلائی نہ ہوگی اور میری امت میں سے ایک گروہ کی اللہ کی طرف سے ہمیشہ مدد کی جائے گی، ان سے ! دس حصوں میں سے نو حصوں والا جملہ بیان کرنے میں عبدالرحمن بن عطاء راوی متفرد ہے اور اس کی متابعت کسی نے نہیں کی، اس لیے یہ الفاظ منکر ہیں۔ تفصیل مسند احمد محقق میں دیکھیں۔ (عبداللہ رفیق)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12726

۔ (۱۲۷۲۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِینَ، وَإِنِّی لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوْا ہُمْ یَا أَہْلَ الشَّامِ)) (مسند احمد: ۱۹۵۰۵)
سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، بلاشبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمیشہ میری امت میں سے ایک گروہ حق پر رہے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اہل شام ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12727

۔ (۱۲۷۲۷)۔ وَعَنْ شُرَیْحٍیَعْنِی ابْنَ عُبَیْدٍ قَالَ: ذُکِرَ أَہْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَہُوَ بِالْعِرَاقِ، فَقَالُوْا: الْعَنْہُمْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ!، قَالَ: لَا، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((الْأَبْدَالُ یَکُونُونَ بِالشَّامِ، وَہُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، کُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللّٰہُ مَکَانَہُ رَجُلًا، یُسْقٰی بِہِمُ الْغَیْثُ، وَیُنْتَصَرُ بِہِمْ عَلَی الْأَعْدَائِ، وَیُصْرَفُ عَنْ أَہْلِ الشَّامِ بِہِمُ الْعَذَابُ۔)) (مسند احمد: ۸۹۶)
شریح بن عبید سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عراق میں تھے اور ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہونے لگا،لوگوں نے کہا: امیر المومنین! آپ ان پر لعنت کریں، انہوں نے کہا: نہیں، نہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شام میں چالیس آدمی ابدال کے مرتبہ سے شرف یاب ہوں گے، ان میں سے جب ایک فوت ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، ان کی وساطت سے بارش طلب کی جائے گی اور دشمن کے مقابلہ میں ان کے ذریعے مدد حاصل کی جائے گی اور ان کے سبب اہل شام سے عذاب ٹلیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12728

۔ (۱۲۷۲۸)۔ وَعَ