280 Results For Hadith (Musnad Ahmad ) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12779

۔ (۱۲۷۷۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) وَمَدَّ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ ساتھ ہی آپ نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو پھیلا کر اشارہ کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12780

۔ (۱۲۷۸۰)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ بِاِصْبَعَیْہِ وَیَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۶۰)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور فرمایا: میری بعثت اور قیامت اب اس طرح ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں جیسے یہ انگلی اس کے ساتھ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12781

۔ (۱۲۷۸۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ثَنَا الْاَ عْمَشُ عَنْ اَبِیْ خَالِدٍ عَنْ وَھْبٍ السَّوَائِیِّ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ، اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُہَا۔))وَجَمَعَ الْاَعْمَشُ اَلسَّبَّابَۃَ وَالْوُ سْطٰی وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُرَّۃَ اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۷۷)
سیدنا وہب سوائی کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میری بعثت اور قیامت اس طرح متصل ہیں جیسے یہ انگلی دوسری انگلی کے ساتھ متصل ہے، یقینا قریب تھا کہ قیامت میری بعثت سے پہلے قائم ہوجاتی ۔ پھر امام اعمش نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیان انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12782

۔ (۱۲۷۸۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ جَمِیْعًا اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔)) (مسند احمد:۲۳۳۳۵ )
سیدنابریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری بعثت اور قیامت کو ایک دوسرے کے ساتھ اس حد تک متصل کر دیا گیا کہ قریب تھا کہ قیامت مجھ سے سبقت لے جاتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12783

۔ (۱۲۷۸۳)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَہَاتَیْنِ۔)) وَ فَرَّقَ بَیْنَ اِصْبَعَیْہِ الْوُسْطٰی وَالَّتِیْ تَلِی الْاِبْہَامَ ثُمَّ قَالَ: ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَمَثَلِ فَرْسَیْ رَھَانٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَہُ قَوْمُہٗطَلِیْعَۃً فَلَمَّا خَشِیَ اَنْ یُسْبَقَ اَلَاحَ بِثَوْبِہٖاُتِیْتُمْ اُتِیْتُمْ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۹۵)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے‘ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور قیامت کے قرب کی مثال ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی (انگشت ِ شہادت) اور درمیانی (انگلی) کو تھوڑا سا الگ کر کے اشارہ کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کی سی ہے۔ پھر فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہو، جب اسے خطرہ ہو ا کہ دشمن اس سے آگے نکل جائے گا تو وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر قوم کو اطلاع دینے لگا کہ دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا، دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بس میں وہی ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12784

۔ (۱۲۷۸۴)۔ وَعَنِ الْمُطَّلَبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّہٗکَانَوَاقِفًابِعَرَفَاتٍفَنَظَرَاِلَی الشَّمْسِ حِیْنَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوْبِ فَبَکٰی وَاشْتَدَّ بُکَاؤُہُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ عِنْدَہٗ :یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَدْ وَقَفْتَ مَعِیَ مِرَارًا لَمْ تَصْنَعْ ہٰذَا فَقَالَ: ذَکَرَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ وَاقِفٌ بِمَکَانِیْ ہٰذَا فَقَالَ: ((اَیُّہَا النَّاسُ اِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ دُنْیَاکُمْ فِیْمَا مَضٰی مِنْہَا اِلاَّ کَمَا بَقِیَ مِنْ یَوْمِکُمْ ہٰذَا فِیْمَا مَضٰی مِنْہٗ۔)) (مسنداحمد:۶۱۷۳)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میدانِ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے، جب سورج غروب کے وقت ڈھا ل کی مانندہو کر نظر آنے لگا تو وہ رونے لگ گئے اور بہت زیادہ روئے، ان کے قریب کھڑے ایک آدمی نے کہا : اے ابو عبدالرحمن! آپ نے میرے ساتھ کئی بار وقوف کیا ہے، لیکن آپ نے کبھی بھی ایسے تو نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا:مجھے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یاد آ گئے ہیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہیں میری جگہ کھڑے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا : لوگو! دنیا کی گزری ہوئی مدت کے مقابلے میں بقیہ زمانے کی وہی نسبت ہے جو آج کے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس باقی وقت کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12785

۔ (۱۲۷۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ ذِئْبٌ اِلٰی رَاعِیْ الْغَنَمِ فَاَخَذَ مِنْہَا شَاۃً فَطَلَبَہٗالرَّاعِیْ حَتّٰی اِنْتَزَعَہَا مِنْہُ قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلٰی تَلٍّ فَاَقْعٰی وَاسْتَذْفَرَ فَقَالَ: عَمِدْتُّ اِلٰی رِزْقٍ رَزَقَنِیْہِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِنْتَزَعْتَہُ مِنِّی، فَقَال الرَّجُلُ: تَاللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتُ کَالْیَوْمِ ذِئْبًا یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ الذِّئْبُ: اَعْجَبُ مِنْ ہٰذَا رَجُلٌ فِی النَّخَلَاتِ بَیْنَ الْحَرَّتَیْنِیُخْبِرُکُمْ بِمَا مَضٰی وَبِمَا ھُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ وَکَانَ الرَّجُلُ یَہُوْدِیًّا، فَجَائَ الرَّجُلُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَبَّرَہُ: فَصَدَّقَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا اَمَارَۃٌ مِنْ اَمَارَاتِ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ قَدْ اَوْشَکَ الرَّجُلُ اَنْ یَّخْرُ جَ فَلَا یَرْجِعَحَتّٰی تُحَدِّثَہُ نَعْلَاہُ وَسَوْطُہُ مَا اَحْدَثَ اَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد:۸۰۴۹ )
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑیا ایک چرواہے کی طرف آیا اور اس کے ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کرلے گیا، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری کو چھڑالیا۔ بھیڑیا ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا اور اگلی ٹانگیں کھڑی کر کے سرین پر بیٹھ کر کہنے لگا:میں نے ایسے رزق کا قصد کیا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا، لیکن تو نے مجھ سے وہ چھین لیا، وہ چراوہا کہنے لگا: میں نے آج تلک ایسا منظر نہیں دیکھا کہ بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرتا ہو، یہ سن کربھیڑئیے نے کہا: تم میری بات سن کر تعجب کر رہے ہو، اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ دو حرّوں کے مابین کھجوروں کے باغات میںایک ایسا شخص ہے، جو انسانوں کو ماضی اور مستقبل کی باتیں بتلاتا ہے، وہ چرواہا یہودی تھا، جب اس نے آکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ سنایا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا: جانوروں کا انسانوں کی طرح باتیں کرنابھی علاماتِ قیامت میں سے ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان اپنے گھر سے باہر جا ئے گا تو اس کے اہل خانہ نے اس کی عدم موجودگی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کی واپسی پر اس کے جوتے اور چھڑی اسے سب کچھ بتلا دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12786

۔ (۱۲۷۸۶)۔ وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ: ((اَمَا اِنَّہَا قَائِمَۃٌ فَمَا اَعْدَدْتَّ لَھَا؟)) قَالَ: وَاللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ غَیْرَ اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ قَالَ: ((فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلَکَ مَا احْتَسَبْتَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃ؟)) فَاُتِیَ بِالرَّجُلِ فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْبَیْتِ فَاِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَھْطِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَیُقَالُ لَہٗسَعْدُبْنُمَالِکٍفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذَا الْغُلَامُ اِنْ طَالَ بِہٖعُمُرُہُلَمْیَبْلُغْ بِہِ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) قَالَ الْحَسَنُ: وَاَخْبَرَنِیْ اَنَسٌ اَنَّ الْغُلَامَ کَانَ یَوْ مَئِذٍ مِنْ اَقْرَانِیْ۔ (مسند احمد:۱۴۰۵۷ )
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا،ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ تو قائم ہو کر رہے گی، تم نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا :اللہ کی قسم ! میںنے قیامت کے لیے کوئی زیادہ اعمال تو نہیں کیے ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن کے ساتھ تم کو محبت ہو گی ‘ آخرت میں انہی کے ساتھ ہوگے اور تم جو امید رکھو گے، وہی کچھ تمہیں ملے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور جب نما ز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا آدمی کہاںہے؟ پس اسے لایا گیا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر کی طرف دیکھا،تو سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خاندان بنودوس کے ایک لڑکے پر نظر پڑھی، اس کا نام سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت آ جائے گی۔ حسن کہتے ہیں: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلایا کہ وہ نوجوان ان دنوں ان کا ہم عمر تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12787

۔ (۱۲۷۸۷)۔ وَعَنْ اَنَسٍ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَتٰی تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَعِنْدَہٗغُلَامٌمِنَالْاَنْصَارِیُقَالُ لَہُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَّعِشْ ہٰذَا الْغُلَامُ فَعَسٰی اَنْ لَّا یُدْرِکَہُ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد:۱۳۴۱۹ )
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی؟اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب محمد نامی ایک انصاری لڑکا موجود تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سوا ل کے جواب میں فرمایا : اگر یہ نوجوان زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12788

۔ (۱۲۷۸۸)۔ وَعَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَائَ تِ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ جَائَ الْمَوْتُ بِمَا فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۶۱)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین کو جھنجھوڑنے والی بس آ گئی ہے، اس کے بعد (سخت بھونچال) آنے والا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ موت اپنا سارا کچھ لے کر آ گئی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12789

۔ (۱۲۷۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی اِحْدٰی وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً فَہَلَکَتْ سَبْعُوْنَ فِرْقَۃً وَخَلَصَتْ فِرْقَۃٌ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَتَفْتَرِقُ عَلَی اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً فَتَہْلِکُ اِحْدٰی وَسَبْعُوْنَ وَتَخْلُصُ فِرْقَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کُلُّہَا فِی النَّارِاِلَّا فِرْقَۃٌ)۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ تِلْکَ الْفِرَقَۃُ؟ قَالَ: ((اَلْجَمَاعَۃُ الْجَمَاعَۃُ۔)) (مسند احمد:۱۲۵۰۷ )
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : بنو اسرائیل (۷۱) گروہوں میں تقسم ہوئے تھے، ان میں سے (۷۰) گروہ ہلاک ہو گئے اور ایک گروہ کامیاب ہوا ، اور میری امت (۷۲) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، ان میں سے (۷۱) فرقے ہلاک ہوں گے اور صرف ایک گروہ نجات پائے گا، ایک روایت میں ہے: سارے کے سارے فرقے آگ میں جائیں گے، ماسوائے ایک فرقے کے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسا گروہ ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت والا‘ جماعت والا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12790

۔ (۱۲۷۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِفْتَرَقَتِ الْیَہُوْدُعَلٰی اِحْدٰی اَوِ اثْنَتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ فِرَقَۃً وَ سَتَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ فِرْقَۃً۔)) (مسند احمد:۸۳۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہود (۷۱) یا (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت (۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12791

۔ (۱۲۷۹۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ عَمَّارٍ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ لُحَیٍّی قَالَ :حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَامَ حِیْنَ صَلّٰی صَلاَۃَ الظُّہْرِ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( اِنَّ اَہْلَ الْکِتَابِ اِفْتَرَقُوْا فِی دِیْنِہِمْ عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَاِنَّ ہٰذِہِ الْاُمَّۃَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً،یَعْنِیْ الْاَھْوَائَ، وَکُلُّہَا فِی النَّارِ اِلَّا وَاحِدَۃً وَھِیَ الْجَمَاعَۃُ‘ وَاِنَّہُ سَیَخْرُجُ فِی اُمَّتِیْ اَقْوَامٌیُجَارِیْ بِہِمْ تِلْکَ الْاَھْوَائُ کَمَا یُجَارِی الْکَلبُ بِصَاحِبِہِ لَا یَبْقٰی مِنْہُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ اِلَّا دَخَلَہُ۔)) وَاللّٰہِ!یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُوْمُوْا بِمَا جَائَ بِہِ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِغَیْرُکُمْ مِنَ النَّاسِ اَحْرٰی اَنْ لَا یَقُوْمُ بِہِ۔ (مسند احمد:۱۷۰۶۱)
ابو عامر عبداللہ بن لحی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں حج کیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو نماز ظہر کے بعد انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ: اہل کتاب دین کے بارے میں (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ امت (خواہشات کی وجہ سے) (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی، لیکن ایک گروہ کے علاوہ سب گروہ جہنم میں جائیں گے اور عنقریب میری امت میں بہت سے ایسے لوگ بھی ظاہر ہوں گے کہ ان میں خواہشات یوں سرایت کریں گی، جیسے باولے کتے (کے کٹنے کا زہر) آدمی میں اس طرح گھس جاتا ہے کہ اس کی کوئی رگ اور جوڑ باقی نہیں رہتا مگر اس میں سرایت کر جاتا ہے۔ اے عرب قوم! اللہ کی قسم! تمہارا نبی جس دین کو لے کر آیا ہے، اگر تم ہی اس پر کاربند نہ رہے تو ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا اس پر قائم نہیں رہے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12792

۔ (۱۲۷۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ فَجَائَ نِیْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُسَلِّمُ عَلَیَّ فَجَعَلْتُ اُحَدِّثُہُ عَنْ اِفْتِرَاقِ النَّاسِ وَمَا اَحْدَثُوْا فَجَعَلَ جَابِرٌیَبْکِیْ ثُمَّ قَالَ :سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( اِنَّ النَّاسَ دَخَلُوْا فِی دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا وَسَیَخْرُ جُوْنَ مِنْہُ اَفْوَاجًا۔)) (مسند احمد:۱۴۷۵۲ )
ابو عمار سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک ہمسائے نے کہا: جب میں ایک سفر سے واپس آیا تو سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے سلام کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں ان کو لوگوں کے افتراق اور ان کے ایجاد کردہ نئے نئے امور کے بارے میں بتلانے لگا، یہ سن کر سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگ گئے اور پھر کہا کہ میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: لوگ دین میں جوق در جوق داخل ہوئے اور قریب ہے کہ وہ فوج در فوج دین سے نکلنا شروع کر دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12793

۔ (۱۲۷۹۳)۔ وَعَنْ زَکَرِیَّا بْنِ سَلَامٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَجُلٍ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ:((اَیُّہَاالنَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَاِیَّاکُمْ وَالْفُرْقَۃَ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَھَا اِسْحٰقُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ)۔ (مسند احمد:۲۳۵۳۳ )
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تواس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یوں ارشاد فرما رہے تھے : لوگو! تم جماعت کے ساتھ مل کر رہنا اور تفرقہ بازی سے بچ کر رہنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12794

۔ (۱۲۷۹۴)۔ وَعَنْ عَرْفَجَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( تَکُوْنُ ھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقَ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ وَھُمْ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہٗبِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۸۴)
سیدنا عرفجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ فتنے اور ہنگامے ہوں گے، جب مسلمان متحد ہوں تو جو شخص ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا ارادہ کرے تو اسے تلوار سے قتل کر ڈالو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12795

۔ (۱۲۷۹۵)۔ وَعَنْ بِلَالٍ الْعَبَسِیِّ قَالَ اَنْبَاْنَا عِمْرَانُ بْنُ حِصْنٍ الضَّبَّیُّ اَنَّہُ اَتَی الْبَصَرَۃَ وَبِہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ اَمِیْرٌ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِیْ ظِلِّ الْقَصْرِ یَقُوْلُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ،صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ،لَا یَزِیْدُ عَلَی ذٰلِکَ، فَدَنَوْتُ مِنْہُ شَیْئًا فَقُلْتُ لَہٗ: لَقَدْاَکْثَرْتَمَنْقَوْلِکَ صَدَقَاللّٰہُوَرَسُوْلُہٗ فَقَالَ: اَمَاوَاللّٰہِ! لَئِنْشِئْتَلَاََخْبَرْتُکَ،فَقُلْتُ: اَجَلْ،فَقَالَ: اِجْلِسْاِذًا،فَقَالَ: اِنِّیْ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَبِالْمَدِیْنَۃِ فِیْ زِمَانِ کَذَا وَکَذَا وَقَدْکَانَ شَیْخَانِ لِلْحَیِّ قَدْ اِنْطَلَقَ اِبْنٌ لَھُمَا فَلَحِقَ بِہٖفَقَالَا: اِنَّکَقَادِمُالْمَدِیْنَۃِ وَاِنْ اِبْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِہٰذَا الرَّجُلِ فَأْتِہٖفَاَطْلُبْہٗمِنْہُ فَاِنْ اَبٰی اِلَّا الْاِفْتِدَائَ فَافْتَدِہْ، فَاَتَیْتُ اَلْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہ اِنَّ شَیْخَیْنِ لِلْحَیِّ اَمَرَانِیْ اَنْ اَطْلُبَ اِبْنَا لَھُمَا عِنْدَکَ فَقَالَ:(( تَعْرِفُہٗ؟)) فَقُلْتُ: اَعْرِفُنَسَبَہٗفَدَعَاالْغُلَامَفَجَائَ فَقَالَ:((ھُوَذَا، فَائْتِ بِہٖاَبَوَیْہٖ۔)) فَقُلْتُ: اَلْفِدَائُ یَانَبِیَّ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِنَّہُ لَا یُصْلِحُ لَنَا آلَ مُحَمَّّدٍ اَنْ نَّاْکُلَ ثَمَنَ اَحَدٍ مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ۔)) ثُمَّ ضَرَبَ عَلٰی کَتِفِیْ ثُمَّ قَالَ:(( لَا اَخْشٰیْ عَلٰی قُرَیْشٍ اِلَّا اَنْفُسَہَا۔)) قُلْتُ: وَمَالَھُمْ یَانَبِیَّ اللّٰہِ!؟ قَالَ:(( اِنْ طَالَ بِکَ الْعُمُرُ رَاَیْتَہُمْ ھٰہُنَا حَتّٰی تَرَی النَّاسَ بَیْنَہَا کَالْغَنَمِ بَیْنَ حَوْضَیْنِ اِلٰی ہٰذَا وَمَرَّۃً اِلٰی ہٰذَا۔)) فَاَنَا اَرٰی نَاسًا یَسْتَاذِنُوْنَ عَلَی ابْنِ عَبْاسٍ رَاَیْتُہُمُ الْعَامَ یَسْتَاذِنُوْنَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ فَذََکَرْتُ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد:۱۵۹۹۹ )
بلال عبسی سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہمیں عمران بن حصن ضبی نے بیان کیا کہ وہ بصرہ گئے، ان دنوں سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں کے امیر تھے، انہوں نے محل کے سائے میں ایک آدمی کو کھڑے دیکھا جو بار بار یہ کلمہ دوہرا رہا تھا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا،میں اس کے قریب ہوا اور اس سے کہا: آپ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اس کی وجہ کیا ہے؟اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں اس کی وجہ بیان کر دیتا ہوں، میں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر بیٹھ جاؤ، فلاں وقت کی بات ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف جانا چاہا، ایک قبیلہ کے دو بزرگ تھے، ان کا بیٹا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جا ملا تھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم مدینہ منورہ جارہے ہو، ہمارا ایک بیٹا اس شخص کے ساتھ جا ملا ہے، تم ان سے ہمارے بیٹے کو طلب کرنا اور اگر وہ فدیے کا مطالبہ کریں تو تم ادا کر دینا۔ میں مدینہ منورہ پہنچا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! فلاں قبیلہ کے دو بزرگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ان کا جو بیٹا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہے‘ میں اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے طلب کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اسے پہنچاتے ہو؟ میں نے کہا: جی، اس کا نسب جانتا ہوں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس لڑکے کو بلوایا اور فرمایا: یہ وہ لڑکا ہے، تم اسے اس کے والدین کے پاس لے جاؤ۔ میںنے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کا فدیہ کتنا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کی قیمت لے کر کھائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: : مجھے قریشیوں سے متعلقہ کوئی اندیشہ نہیں ہے، ما سوائے اس کے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی ! انہیں کیا ہوجائے گا کہ ایسا کرنے لگیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں طویل زندگی ملی تو دیکھنا کہ لوگ ان قریشیوں کے گروہوں کے درمیان ان بکریوں کی طرح آئیں جائیں گے جو دو حوضوں کے درمیان ہوں، کبھی اس حوض پر آجاتی ہوں اور کبھی دوسرے حوض پر ۔ پھر میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ہاں حاضری کے لیے اجازت لے رہے ہیں، اور اس سال دیکھا کہ وہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد یاد آگیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12796

۔ (۱۲۷۹۶)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ ثَلَاثًا فَاَعْطَانِیْ ثِنْتَیْنِ وَ مَنَعَنِیْ وَاحِدَۃً، سَاَلْتُ اَنْ لَّا یَبْتَلِیَ اُمَّتِیْ بِالسِّنِیْنَ فَفَعَلَ وَسَاَلْتُ اَنْ لَّا یَظْہَرَ عَلَیْہِمْ عَدُوُّھُمْ فَفَعَلَ وَسَاَلْتُ اَنْ لَّا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَاَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کیں، اس نے دو دعائیں قبول کر لیں اور ایک قبول نہیں کی، میں نے یہ دعا کی کہ وہ میری امت کو عام قحط میں مبتلا نہ کرے، اس نے یہ دعا قبول کر لی، پھر میں نے دوسری دعا یہ کی کہ میری امت کے دشمن اس پر غالب نہ آئیں، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے تیسری دعا یہ کہ وہ ان کو مختلف گروہوں میں بٹ جانے سے بچائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12797

۔ (۱۲۷۹۷)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُمُ الْیَوْمَ عَلٰی دِیْنٍ وَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ فَلَا تَمْشُوْا بَعْدِیْ اَلْقَہْقَرٰی۔)) (مسند احمد:۱۴۸۷۱ )
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: تم آج صحیح دین پر قائم ہو اور میں تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا میرے بعد تم دین سے واپس نہ پلٹ جانا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12798

۔ (۱۲۷۹۸)۔ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ اَخًا لِاَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَتَسَرَّعُ فِیْ الْفِتْنَۃِ فَجَعَلَ یَنْہَاہُ وَلَا یَنْتَہِیْ فَقَالَ: اِنْ کُنْتُ اَرٰی اِنَّہُ سَیَکْفِیْکَ مِنِّیْ الْیَسِیْرُ اَوْ قَالَ مِنَ الْمَوْعِظَۃِ دُوْنَ مَا اَرٰی‘ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( اِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہِمَا فَقَتَلَ اَحَدُھُمَا الآخَرَ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ :((اِنَّہٗاَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۹۸۱۹)
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک بھائی فتنوں میں پیش پیش رہتا تھا، وہ اسے منع تو کرتے تھے لیکن وہ باز نہیں آتا تھا،سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک دن اس سے کہا: میں تو سمجھتا تھا کہ میری تھوڑی سی وعظ و نصیحت تیرے لیے کافی رہے گی، لیکن صورتحال یہ ہے کہ میں اس کے برعکس دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: جب دومسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے بالمقابل نکل آئیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول ! قاتل تو جہنمی ہوا، مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے مقابلے میں آنے والے کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12799

۔ (۱۲۷۹۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((اِذَاالْمُسْلِمَانِحَمَلَاَحَدُھُمَاعَلٰی صَاحِبِہٖالسِّلَاحَفَہُمَاعَلٰی طَرَفِ جَہَنَّمَ، فَاِذَا قَتَلَ اَحَدُھُمَا صَاحِبَہٗ،دَخَلَاھَاجَمِیْعًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۵)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: دو مسلمان جب ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12800

۔ (۱۲۸۰۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اَلْھَرْجَ۔))قَالُوْا:وَمَا الْھَرْجُ؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ۔)) قَالُوْا :اَکْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ اِنَّا لَنَقْتُلُ کُلَّ َعامٍ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا قَالَ: ((اِنَّہٗلَیْسَ بِقَتْلِکُمُ الْمُشْرِکِیْنَ وَلٰکِنْ قَتْلُ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۔)) قَالُوْا: وَمَعَنَا عَقُوْلُنَا یَوْمَئِذٍ قَالَ :((اِنَّہٗلَتُنْزَعُعُقُوْلُاَھْلِذٰلِکَالزَّمَانِوَیُخَلَّفُ لَہٗھَبَائٌمِّنَالنَّاسِیَحْسِبُ اَکْثَرُھُمْ اَنَّہُمْ عَلٰی شَیْ ئٍ وَلَیْسُوْا عَلٰی شَیْ ئٍ۔)) قَالَ عَفَّانُ فِیْ حَدِیْثِہٖ: قَالَ اَبُوْ مُوْسٰی: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا اَجِدُ لِیْ وَلَکُمْ مِنْہَا مَخْرَجًا اِنْ اَدْرَکْتْنِیْ وَاِیَّاکُمْ اِلَّا اَنْ نَّخْرُجَ مِنْہَا کَمَا دَخَلْنَا فِیْہَا لَمْ نُصِبْ مِنْہَا دَمًا وَلَا مَالًا۔ (مسند احمد: ۱۹۷۲۱)
سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے ہَرْج ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: ھَرْج سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد قتل ِ عام ہے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: جس قدر اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں‘ کیا اس سے بھی زیادہ قتل ہوگا، آجکل تو ہم ہرسال ستر ہزار سے زائد افراد کو قتل کر دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اس قتل سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ تم مسلمانوں کا ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے۔ صحابہ نے پوچھا: جب یہ صورت ِ حال ہوگی تو ان دنوں ہماری عقلیں کہاں جائیں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس دور کے لوگوں کی عقلیں ان سے چھین لی جائیں گی،اور ناسمجھ لوگ اقتدارِ حکومت پر غالب ہوں گے کہ ان کی اکثریت خود کو صحیح سمجھے گی، جبکہ وہ کسی دینی چیز پر نہیں ہوں گے۔ راوی حدیث عفان نے کہا: سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے اور تم لوگوں کو ایسی صورت ِ حال کا سامنا ہو تو میںاپنے اور تمہارے لیے نجات کی صرف ایک صورت سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جس طرح ہم خالی ہاتھ فتنے میں داخل ہوں اسی طرح کچھ لیے دیئے بغیر اس سے بے دخل ہوجائیں، نہ ہم کوئی خون بہائیں اور نہ مال لیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12801

۔ (۱۲۸۰۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ اَنَّہٗسَمِعَقَیْسًایَقُوْلُ: سَمِعْتُ الصُّنَابِحِیَّ الْاَحْمَسِیَّ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((اَلَا اِنِّیْ فَرَطُکُمْ عَلٰی الْحَوْضِ وَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ، فَلَا تَقْتَتِلَنَّ بَعْدِیْ)) (مسند احمد: ۱۹۲۷۹)
سیدنا صنابحی احمسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوضِ کوثر پر موجود ہوںگا اور میں تمہاری کثرت ِ تعداد کی بنا پر دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا تم میرے بعد آپس میں قتال نہ کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12802

۔ (۱۲۸۰۲)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ اَیْضًا) عَنِ الصُّنَابِحِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ فَلَاتَرْجِعُنَّ بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۹۶)
۔ (دوسری سند) رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری کثرت کی بنا پر میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا،لہذا اس طرح نہ ہونے پائے کہ تم میرے بعد کافر بن کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنا شروع کر دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12803

۔ (۱۲۸۰۳)۔ وَعَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَنَحْنُ نَرْجُوْ اَنْ یُّحَدِّثَنَا حَدِیْثًا اَوْ حَدِیْثًا حَسَنًا فَبَدَرَنَا رَجُلٌ مِنَّا یُقَالُ لَہٗالْحَکَمُ، فَقَالَ: یَا اَبَاعَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَاتَقُوْلُ فِی الْقِتَالِ فِی الْفِتْنَۃِ؟ قَالَ: ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ وَھَلْ تَدْرِیْ مَا الْفِتْنَۃُ، اِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَاتِلُ الْمُشْرِکِیْنَ، فَکاَنَ الدُّخُوْلُ فِیْھِمْ اَوْ فِی دِیْنِہِمْ فِتْنَۃً وَلَیْسَ کَقِتَالِکُمْ عَلَی الْمُلْکِ۔ (مسند احمد: ۵۳۸۱)
سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہمارے ہاں تشریف لائے۔ہمیں توقع تھی کہ وہ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث یا کوئی اچھی بات سنائیں گے۔ ہم میں سے حکم نامی ایک آدمی نے جلدی کی اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! فتنہ کے دنوں میں قتال کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے کہا: تجھے تیری ماں گم پائے‘ کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا چیز ہے؟ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مشرکوں سے قتال کیا کرتے تھے، اس وقت مشرکین کی جماعت یا ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا،وہ قتال تمہاری اس لڑائی کی طرح نہیں تھا، جو حصولِ اقتدار کے لیے لڑی جاتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12804

۔ (۱۲۸۰۴)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ وَابِصَۃَ الْاَسَدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اِنِّیْ بِالْکُوْفَۃِ فِی دَارِیْ اِذْ سَمِعْتُ عَلٰی بَابِ الدَّارِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَلِجُ قُلْتُ :عَلَیْکُمُ السَّلَامُ فَلِجْ، فَلَمَّا دَخََلَ فَاِذَا ھُوَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قُلْتُ: یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! اَیَّۃَ سَاعَۃِ زِیَارَۃٍ ہٰذِہٖوَذٰلِکَفِی نَحْرِ الظَّہِیْرَۃِ؟ قَالَ: طَالَ عَلَّی النَّہَارُ فَذَکَرْتُ مَنْ اَتَحَدَّثُ اِلَیْہِ، قَالَ: فَجَعَلَ یُحَدِّثُنِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُحَدِّثُہٗ قَالَ: ثُمَّ اَنْشَاَ یُحَدِّثُنِیْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( تَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، النِّائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ وَالْقَاعِدُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ‘ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ خَیْرٌ مِنَ الرَّاکِبِ وَالرَّّاکِبُ خَیْرٌ مِنَ الْمُجْرِیْ، قَتْلَاھَا کُلُّہَا فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَتٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ:((ذٰلِکَ اَیَّامَ الْھَرْجِ۔)) قُلْتُ: وَمَتٰی اَیَّامُ الْھَرْجِ؟ قَالَ:((حِیْنَ لَا یَاْمَنُ الرَّجُلُ جَلِیْسَہٗ۔)) قَالَ قُلْتُ : فَمَا تَاْمُرُنِیْ اِنْ اَدْرَکْتُ ذٰلِکَ ؟قَالَ:((اُکْفُفْ نَفْسَکَ وَیَدَکَ وَادْخُلْ دَارَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَیَّ دَارِیْ؟ قَالَ:((فَادْخُلْ بَیْتَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: اَفَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ عَلَیَّ بَیْتِیْ؟ قَالَ:((فَادْخُلْ مَسْجِدَکَ وَاصْنَعْ ہٰکَذَا،وَقَبَضَ بِیَمِیْنِہٖ عَلَی الْکَوْعِ وَقُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ حَتّٰی تَمُوْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۴۲۸۶)
سیدنا وابصہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں کوفہ والے اپنے گھر میں تھا کہ دروازے پر یہ آواز سنائی دی:السلام علیکم، میں اندر آ جاؤں، میں نے کہا: وعلیکم السلام، جی تشریف لے آئیں، وہ آدمی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے؟ یہ عین دوپہر کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا: دن مجھ پر لمبا ہو رہا تھا، میں سوچنے لگا کہ کس کے ساتھ باتیں کر کے وقت گزارا جائے، (اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا)۔ پھر وہ مجھے احادیث ِ نبویہ بیان کرنے لگے اور میں ان کو، انھوں نے یہ حدیث بھی بیان کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنے بپا ہوں گے، ان حالات میں سویا ہو اآدمی لیٹے ہوئے سے،لیٹا ہوا بیٹھنے والے سے، بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے، چلنے والا سوار سے اور اونٹ سوار گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے والے آدمی سے بہتر ہو گا، ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتلِ عام کے دنوں میں۔ میں نے کہا:قتلِ عام کب ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب انسان اپنے ساتھ بیٹھنے والے آدمی پر اعتماد نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اگر میں ایسے زمانے کو پا لوں تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے نفس اور ہاتھ کو روک لینا اور گھر کے اندر ہی رہنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی جھگڑالو میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھر کے کسی کمرے میں چلے جانا۔ میں نے کہا: اگر وہ میرے کمرے کے اندر بھی گھس آئے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں داخل ہو جانا اور اس طرح کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی بند مٹھی کا انگوٹھے والا کنارہ پکڑ لیا اور فرمایا: اور کہنا کہ اللہ ہی میرا رب ہے، حتی کہ اسی حالت پر مر جانا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12805

۔ (۱۲۸۰۵)۔ وَعَنْ مُسْلِمٍ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، اَلْمُضْطِجِعُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْجَالِسِ وَالْجِالِسُ خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیُ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ۔)) قَالََ: فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا تَاْمُرُنِیْ؟ قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہٗاِبِلٌفَلْیَلْحَقْ بِاِبِلِہٖ‘وَمَنْکَانَتْ لَہٗغَنَمٌ،فَلْیَلْحَقْ بِغَنَمِہٖ،وَمَنْکَانَتْلَہٗاَرْضٌفَلْیَلْحَقْ بِاَرْضِہِ وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗشَیْ ئٌ مِنْ ذٰلِکَ فَلْیَعْمَدْ اِلٰی سَیْفِہِ فَلْیَضْرِبْ بِحَدِّہٖصَخْرَۃً ثُمَّ لِیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ ثُمَّ لْیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۸۳)
سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں لیٹے والا آدمی بیٹھے ہوئے سے ، بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے ،،کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا فتنوں میں بھاگ کر شامل ہونے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حالات کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں، وہ اپنے اونٹوں میں مشغول ہو جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ ان میں مصروف ہو جائے، جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں لگ جائے اور جس کے پاس ایسی کوئی مصروفیت نہ ہو وہ اپنی تلوار کو کسی پتھر پر مار کر اس کی دھار کو ناکارہ کر لے اور جس قدر ممکن ہو ان فتنوں سے دور رہے، اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12806

۔ (۱۲۸۰۶)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہٖ ثُمَّلِیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ ((اَللّٰہُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ‘ اَللّٰہُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ۔)) اِذْ قَالَ رَجُلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، اَرَاَیْتَ اِنْ اَخَذَ بِیَدِیْ مُکْرَھًا حَتّٰییَنْطَلِقَ بِیْ اِلٰی اَحَدِ الصَّفَّیْنِ اَوْ اِحْدٰی الْفِئَتَیْنِ،عُثْمَانُیَشُکُّ، فَیَحْذِفُنِیْ رَجُلٌ بِسَیْفِہِ فَیَقْتُلُنِیْ مَاذَا یَکُوْنُ مِنْ شَاْنِیْ؟ قَال: ((یَبُوئُ بِاِثْمِکَ وَاِثمِہٖوَیَکُوْنُ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۶۴)
۔ (دوسری سند) اوپر والی حدیث کے آخری الفاظ اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ کے بعد اس میں یہ اضافہ ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! تحقیق میں نے تیری بات پہنچا دی‘ اے اللہ! تحقیق میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے‘ اگر کوئی آدمی میرے ہاتھ کو پکڑ لیتا ہے اور مجبور کر کے کسی ایک صف یا گروہ کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے، پھرکوئی آدمی تلوار کی ضرب لگا کر مجھے قتل کر دیتا ہے، تو میرا کیا بنے گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اپنے گناہوں اور تیرے گناہوں کے ساتھ لوٹے گا اور وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12807

۔ (۱۲۸۰۷)۔ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ اَنَّ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال عِنْدَ فِتْنَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَشْہَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، اَلْقَاعِدُ فِیْھَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیُ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ۔)) قَالَ: اَفَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ عَلَّی بَیْتِیْ فَبَسَطَ یَدَہٗ اِلَیَّ لِیَقْتُلَنِیَْ قَالَ: ((کُنْ کَابْنِ آدَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۹)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں برپا ہونے والے فتنے کے موقع پر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ: عنقریب فتنہ برپا ہوگا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا اس فتنہ میں بھاگ کر حصہ لینے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک شخص نے کہا: اگر کوئی شخص زبردستی میرے گھر میں داخل ہو کر مجھے قتل کر نے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں کیا کروں؟ آ پ نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے اس بیٹے والا طرز عمل اختیار کرنا (جو خود تو قتل ہوگیا لیکن اس نے دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12808

۔ (۱۲۸۰۸)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ عَنَزَۃَیُقَالُ لَہٗزَائِدَۃُ اَوْ مَزِیْدَۃُ بْنُ حَوَالَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ مِنْ اَسْفَارِہِ فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا وَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ظِلِّ دَوْحَۃٍ فَرَآنِیْ وَاَنَا مُقْبِلٌ مِنْ حَاجَۃٍ لِیْ وَلَیْسَ غَیْرُہٗ وَغَیْرُ کَاتِبِہٖفَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اَنَکْتُبُکَیَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) قُلْتُ: عَلاَمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: فَلَہَا عَنِّیْ وَاَقْبَلَ عَلَی الْکَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ دَنَوْتُ دُوْنَ ذٰلِکَ قَالَ: فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَکْتُبُکَ یَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) قُلْتُ: عَلَامَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: فَلَہٰی عَنِّیْ وَاَقْبَلَ عَلٰی الْکَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَلَیْہِمَا فَاِذَا فِیْ صَدْرِ الْکِتَابِ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ فَظَنَنْتُ اَنَّہُمَا لَنْ یُکْتَبَا اِلَّافِیْ خَیْرٍ فَقَالَ: ((اَنَکْتُبُکَ یَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا ابْنَ حَوَالَۃَ! کَیْفَ تَصْنَعُ فِیْ فِتْنَۃٍ تَثُوْرُ فِیْ اَقْطَارِالْاَرْضِ کَاَنَّہَا صَیَاصِی بَقَرٍ؟))قَالَ: قُلْتُ: اَصْنَعُ مَاذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکَ بِالشَّامِ۔)) ثُمَّ قَالَ: کَیْفَ تَصْنَعُ فِیْ فِتْنَۃٍ کَاَنَّ الْاُوْلٰی فِیْہَا نَفْجَۃُ اَرْنَبٍ؟)) قَالَ: فَلَاأدْرِیْ کَیْفَ قَالَ فِیْ الآخِرَۃِ وَلَاَنْ اَکُوْنَ عَلِمْتُ کَیْفَ قَالَ فِیْ الآخِرَۃِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کَذَاوَکَذَا۔ (مسند احمد: ۲۰۶۲۳)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں:زائدہ یا مزیدہ بن حوالہ نامی عنزہ قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، لوگ ایک مقام پر ٹھہرے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایک بڑے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے، میں اپنے کسی کام سے فارغ ہو کر آرہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھ لیا، آپ کے پاس صرف کاتب (لکھنے والے) تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! کس سلسلہ میں؟ پھر آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، جب میں مزید قریب ہوا، تو آپ نے دوبارہ فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا:اللہ کے رسول! کس سلسلہ میں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالکل قریب آگیااور دیکھا کہ تحریر کے آغاز میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نام لکھے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر میںجان گیا کہ ان کے نام کسی اچھے کام کے لیے ہی لکھے گئے ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابن حوالہ! کیا ہم تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن حوالہ! تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جوزمین کے اطراف میں اس طرح پھیل جائے گا، جیسے وہ گائے کے سینگ ہوں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی بتلا دیں کہ مجھے اس دوران کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا : تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جو خرگوش کی چھلانگ کی مانند یعنی پہلے فتنہ کے بعد جلد ہی بپا ہو جائے گا؟ سیدنا زائدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ نے دوسرے فتنہ کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا، وہ مجھے یاد نہیں رہا، لیکن جو کچھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے فتنے میں بارے میں فرمایا تھا ، اگر وہ مجھے یاد ہوتا تو وہ مجھے اتنے اتنے خزانوں سے بھی محبوب ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12809

۔ (۱۲۸۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ قَالَ: مَرَرْتُ بِالرَّبْذَۃِ فَاِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا؟ فَقِیْلَ: لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ، فَاسْتَاْذَنْتُ عَلَیْہِ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ: رَحِمَکَ اللّٰہُ اِنَّکَ مِنْ ہٰذَا الْاَمْرِبِمَکَانٍ، فَلَوْ خَرَجْتَ اِلَی النَّاسِ فَاَمَرْتَ وَنَہَیْتَ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہُ سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ وَفُرْقَۃٌ وَاخْتِلَافٌ فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَأْتِ بِسَیْفِکَ اُحُدًا فَاضْرِبْ بِہٖعَرْضَہٗوَاکْسِرْنَبْلَکَوَاقْطَعْوَتَرَکَوَاجْلِسْ فِیْ بَیْتِکَ۔)) فَقَدْ کَانَ ذٰلِکَ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَاضْرِبْ بِہٖحَتّٰی تَقْطَعَہٗثُمَّاجْلِسْفِیْ بَیْتِکَ حَتّٰی تَاْتِیَکَیَدٌ خَاطِئَۃٌ اَوْ یُعَافِیَکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَقَدْ کَانَ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَفَعَلْتُ مَا اَمَرَنِیْ بِہٖ،ثُمَّاسْتَنْزَلَسَیْفًا کَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُوْد الْفُسْطَاطِ فَاخْتَرَطَہُ فَاِذَا سَیْفٌ مِنْ خَشَبٍ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ مَا اَمَرَنِیْ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاتَّخَذْتُ ہٰذَا اُرَھِّبُ بِہٖالنَّاسَ۔ (مسنداحمد: ۱۶۱۲۵)
سیدنا ابوبردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ربذہ مقام سے میرا گزر ہوا، وہاں ایک خیمہ لگا ہوا تھا،میں نے پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے؟ کسی نے کہا کہ یہ محمدبن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے، پس میں نے ان کے پاس خیمہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور اندر چلا گیا، میں نے کہا : آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ کا اس جنگل میں کیا کام؟ بہتر ہوتا کہ آپ لوگوں میں رہتے اور ان کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ، تفرقہ بازی اور اختلاف پیدا ہو گا، اور اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو تم اپنی تلوار لے کر اس احد پہاڑ پر مار کر اسے کند کر دینا‘ تیر کو توڑ ڈالنا اور کمان کی تندی کاٹ دینا اوراپنے گھر میں بیٹھ جانا۔ اب ایسے ہی ہو چکا ہے، (اس لیے میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں)۔ ایک روایت میں ہے: اپنی تلوار کو پہاڑ پر مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا، یہاں تک کہ کوئی ظالم آدمی تمھارے گھر کے اندر گھس آئے یا اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے۔ جو کچھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا، وہ ہو چکا ہے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جو حکم دیا تھا، میں نے اسی پر عمل کیا ہے۔ پھر انھوں نے خیمہ کے ستون سے لٹکی ہوئی تلوار اتروائی، لیکن جب اسے میان سے نکالا تو وہ تو لکڑی کی تلوار تھی، پھر انھوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم پر عمل کر کے اپنے تلوار توڑ ڈالی ہے اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے یہ رکھی ہوئی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12810

۔ (۱۲۸۱۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ عِمْرَانَ عَنْ ذِی الْاَصَابِعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِ ابْتُلِیْنَا بَعْْدَکَ بِالْبَقَائِ اَیْنَ تَاْمُرُنَا؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکَ بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ فَلَعَلَّہٗاَنْیَّنْشَاَ لَکَ ذُرِیَّۃٌیَغْدُوْنَ اِلٰی ذٰلِکَ الْمَسْجِدِ وَ یَرُوْحُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۴۹)
سیدنا ذو اصابع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد ہم اتنی زندگی پائیں کہ ہماری آزمائشیں شروع ہو جائیں تو آپ ہمیں کس مقام کی طرف چلے جانے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بیت المقدس چلے جانا، کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں تمہاری اولاد بڑھے اور وہ صبح شام مسجد میں جا سکیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12811

۔ (۱۲۸۱۱)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِمَارًا وَاَرْدَفَنِیْ خَلْفَہٗوَقَالَ:((یَا اَبَا ذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ اصَابَ النَّاسَ جُوْعٌ شَدِیْدٌ لَا تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَقُوْمُ مِنْ فِرَاشِکَ اِلٰی مَسْجِدِکَ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قَالَ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ۔قَالَ: ((تَعَفَّفْ۔)) قَالَ: یَا اَبَاذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ اَصَابَ النَّاسُ مَوْتٌ شَدِیْدٌیَکُوْنُ الْبَیْتُ فِیْہِ بِالْعَبْدِ یَعْنِیْ الْقَبْرَ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ،قَالَ: ((اِصْبِرْ۔)) قَالَ: یَا اَبَاذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا یَعْنِیْ حَتّٰی تَغْرَقَ حِجَارَۃُ الزِّیْتِ مِنَ الدِّمَائِ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قَالَ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ۔قَالَ: ((اُقْعُدْ فِیْ بَیْتِکَ وَاغْلِقْ عَلَیْکَ بَابَکَ۔)) قَالَ: فَاِنْ لَمْ اُتْرَکْ! قَالَ: ((فَائْتِ مَنْ اَنْتَ مِنْہُمْ فَکُنْ فِیْہِمْ۔)) قَالَ: فَآخُذُ سِلَاحِیْ؟ قَالَ:((اِذًا تُشَارِکُہُمْ فِیْمَا ھُمْ فِیْہِ وَلٰکِنْ اِنْ خَشِیْتُ اَنْ یَّرُوْعَکَ شُعَاعُ السِّیْفِ فَاَلْقِ طَرَفَ رِدَاِئکَ عَلٰی وَجْہِکَ حَتّٰییَبُوْئَ بِاِثْمِہٖوَاِثْمِکَ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۶۵۱)
سیدناابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: اے ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر لوگ شدید بھوک کی آزمائش سے دوچار ہو جائیں اورتم اپنے بستر سے مسجد تک جانے کی بھی استطاعت نہ رکھتے ہو تو تم کیا کرو گے؟ انہوںنے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا : ایسے حالات میں تم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا۔ آپ نے پھر پوچھا: ابوذر ! کیا خیال ہے کہ اگر لوگوں میںموت اس قدر عام ہوجائے کہ ایک قبر ایک غلام کے عوض ملے تو تم کیا کروگے؟ میںنے کہا :اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں تم صبر کرنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید پوچھا: ابوذر! کیا خیال ہے کہ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں اور اس قدر خون بہا دیا جائے کہ حجارۃ الزیت مقام خون میںڈوب جائے تو تم کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم گھر کے اندر بیٹھ جانا اور دروازہ بھی بند کیے رکھنا۔ میں نے کہا: اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنی قوم کے پاس جا کر انہی میں رہنا۔ میں نے کہا :کیا میں اپنے ہتھیار اٹھالوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہتھیار اٹھانے کی صورت میں تو تم بھی لوگوں کی لڑائی میں شریک ہو جاؤ گے۔، تمہاری صورتحال یہ ہونی چاہیے کہ جب تم تلوار کی شعاع سے ڈرنے لگو تو اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا، تاکہ (قاتِل) اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ واپس لوٹے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12812

۔ (۱۲۸۱۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((کَیْفَ اَنْتَ اِذَا بَقِیْتَ فِیْ حُثَالَۃٍ مِنَ النَّاسِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ ذٰلِکَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا مَرِجَتْ عُہُوْدُھُمْ وَاَمَانَاتُہُمْ وَکَانُوْا ہٰکَذَا۔)) وَشَبَّکَ یُوْنُسُ (اَحَدُالرُّوَاۃِ) بَیْنَ اَصَابِعِہٖیَصِفُ ذَاکَ ‘ قَالَ:قُلْتُ: مَا اَصْنَعُ عِنْدَ ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اِتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْکِرُ وَعَلَیْکَ بِخَاصَّتِکَ وَاِیَّاکَ وَعَوَامَّہُمْ۔)) (مسند احمد:۶۵۰۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا : تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم گھٹیا لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے؟ میںنے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : جب مسلمانوں کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پیدا ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہو جائیں گے۔ یونس راوی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انگلیوں میں تشبیک دی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس وقت کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا‘ اچھے عمل کرنا، غلط کاموں سے بچ کر رہنا اور اپنے مخصوص لوگوں کا خیال کرنا اور عام لوگوں سے بچ کر رہنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12813

۔ (۱۲۸۱۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَاْتِیْ عَلٰی النَّاسِ زَمَانٌ یُغَرْبَلُوْنَ فِیْہِ غَرْبَلَۃً،یَبْقٰی مِنْہُمْ حُثَالَۃٌ قَدْ مَرِجَتْ عُہُوْدُھُمْ وَاَمَانَاتُہُمْ وَاخْتَلَفُوْا فَکَانُوْا ہٰکَذَا۔)) وَشَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہِ قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((تَاْخُذُوْنَ مَا تَعْرِفُوْنَ وَتَدَعُوْنَ مَا تُنْکِرُوْنَ وَتُقْبِلُوْنَ عَلٰی اَمْرِخَاصَّتِکُمْ وَتَدَعُوْنَ اَمْرَ عَامَّتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۴۹)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں لوگوں کی اس طرح چھان بین کی جائے گی کہ صرف گھٹیا اور ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پید اہو جائے گی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے اختلاف کر یں گے اور اس طرح ہو جائیں گے۔ راوی نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات سے نکلنے کی صورت کیا ہوگی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اچھے کام کرنا، برے کاموں سے بچنا اور مخصوص لوگوں پر توجہ دینا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12814

۔ (۱۲۸۱۴)۔ وَعَنْ رِبْعِیٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِیْ جَنَازَۃِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: سَمِعْتُ صَاحِبَ ہٰذَا السَّرِیْرِیَقُوْلُ: مَا بِیْ بَاْسٌ مَاسَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَاَدْخُلَنَّ بَیْتِیْ، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَیَّ لَاَقُوْلَنَّ ھَا بُوْئَ بِاِثْمِیْ وَاِثْمِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۶)
ربعی کہتے ہیں: میںنے سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے اس چار پائی پر لیٹے ہوئے آدمی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا، وہ ایک دفعہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد مجھے کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، اگر تم آپس میں لڑ پڑو گے تو میںاپنے گھر میں داخل ہو جاؤں گا اور اگر کوئی (ظالم) میرے گھر میں گھس آیا تو میں کہوں گا: لیجئے(کر لے قتل) اور پھر میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ واپس چلا جا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12815

۔ (۱۲۸۱۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اِنَّہُ سَیَکُوْنُ بَعْدِیْ اِخْتِلَافٌ اَوْ اَمْرٌ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَکُوْنَ السِّلْمَ فَافْعَلْ۔)) (مسند احمد:۶۹۵ )
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب اختلافات وغیرہ ہوں گے، اگر تجھ میں ان سے بچ کر رہنے کی استطاعت ہوئی تو ایسے ہی کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12816

۔ (۱۲۸۱۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((یَاْتِیْ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ یُخَیَّرُ فِیْہِ الرَّجُلُ بَیْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُوْرِ فَمَنْ اَدْرَکَ ذٰلِکَ الزَّمَانَ فَلْیَخْتَرِ الْعَجْزَ عَلٰی الْفُجُوْرِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۳۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تمہارے اوپر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں آدمی کو دو میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے گا، یا تو وہ (لوگوں کی طعن و تشنیع اور ظلم و تعدّی) برداشت کرے یا پھر گناہ میں شریک ہوجائے، جس آدمی کو ایسا زمانہ ملے تو وہ گناہ میں شریک ہونے کی بجائے (طعن و تشنیع) کو برداشت کرلے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12817

۔ (۱۲۸۱۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْہَا مُوْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا اَلْقَاعِدُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ، فَاکْسِرُوْا قِسِیَِّکُمْ وَاقْطَعُوْا اَوْتَارَکُمْ وَاضْرِبُوْا بِسُیُوْفِکُمُ الْحِجَارَۃَ، فَاِنْ دُخِلَ عَلٰی اََحَدِکُمْ بَیْتَہٗفَلْیَکُنْ کَخَیْرِ ابْنَیْ آدَمَ۔)) (مسند احمد:۱۹۹۶۸ )
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے اندھیری رات میں اترنے والے اندھیروں کی طرح فتنے بپا ہوں گے، (اورحالات اس قدر شدید ہوجائیں گے کہ) ایک آدمی صبح کے وقت تو مومن ہوگا، مگر شام کو کافر ہوچکا ہوگا ، اسی طرح ایک آدمی شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا۔ ایسے حالات میں بیٹھا ہوا آدمی کھڑے ہونے والے سے ،کھڑا ہونے والاچلنے والے سے اور چلنے والا آدمی اس فتنہ میں بھاگنے والے یعنی حصہ لینے والے سے بہتر ہوگا۔ ایسے حالات میں تم اپنی کمانیں توڑ ڈالنا‘ ان کی تندیوں کو کاٹ ڈالنا اور اپنی تلواروں کو پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور اگر کوئی ظالم تمہارے گھر میں گھس کر زیادتی کرنے لگے تو تم آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے بہتر ِبیٹے کی طرح ہو جانا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12818

۔ (۱۲۸۱۸)۔ وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :صَحِبْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَمِعْنَاہُ یَقُوْلُ: ((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْہَا مُؤْمِنًا یُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُوْمِنًا ثُمَّ یُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیْعُ اَقْوَامٌ خَلَاقَہُمْ بِعَرَضِ مِنَ الدُّنْیَایَسِیْرٍ اَوْ بِعَرَضِ الدُّنْیَا۔)) قَالَ الْحَسَنُ: وَاللّٰہِ لَقَدْ رَاَیْنَاھُمْ صُوَرًا وَلَاعُقُوْلَ، اَجْسَامًا وَلَااَحْلَامَ فِرَاشَ نَارٍ،وَ ذَبَّانَ طَمْعٍ، یَغْدُوْنَ بِدِرْھَمَیْنِ وَیَرُوْحُوْنَ بِدِرْھَمَیْنِیَبِیْعُ اَحَدُھُمْ دِیْنَہٗ بِثَمَنِ الْعَنْزِ۔ (مسند احمد:۱۸۵۹۴ )
سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہے ہیں، ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا جائیں گے، (حالات اس قدر شدید ہوں گے کہ) آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کو کافر یا شام کے وقت مومن اور صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، لوگ دنیا کے معمولی سامان کے عوض اپنا حصہ (دین) بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں، ان کی صورتیں تو انسانوں جیسی ہیں، مگر عقل سے کورے ہیں اور ان کے جسم تو ہیں‘ لیکن سمجھ بوجھ سے عاری ہیں، وہ آگ کے پروانو ں کی طرح بے عقل اور مکھیوں کی طرح حریص ہیں، وہ دو درہم صبح کو لیتے ہیں اوور دو درہم شام کو اور ایک بکری کی قیمت کے عوض میں اپنے دین کو بیچ دیتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12819

۔ (۱۲۸۱۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْلٌ لِّلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا یَبِیْعُ قَوْمٌ دِیْنَہُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَاقَلِیْلٍ‘ اَلْمُتَمَسِّکُ یَوْمَئِذٍ بِدِیْنِہٖ کَالْقَابِضِ عَلٰی الْجَمَرِ)) اَوْ قَالَ:((عَلٰی الشَّوْکِ۔)) قَالَ حَسَنٌ: فِیْ حَدِیْثِہِ: خَبَطِ الشَّوْکَۃِ۔ (مسند احمد:۹۰۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے ہلاکت ہے، اس شرّ کی وجہ سے، جو قریب آ چکا ہے، یعنی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہو جائیں گے، (ان فتنوں کی شدت کی وجہ سے) ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا او رشام کو کافر، لوگ معمولی متاعِ دنیا کے عوض دین بیچ ڈالیں گے، ان دنوں میں دین پر عمل کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہو گی، جس نے اپنی مٹھی میں انگارا یا کانٹا پکڑ رکھا ہو۔ حسن نے اپنی حدیث میں کہا: کانٹے کے پتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12820

۔ (۱۲۸۲۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((لَیَاْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ اَفْضَلَ النَّاسِ فِیْہِ مَنْزِلَۃً رَجُلٌ اَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، کُلَّمَا سَمِعَ بِھَیْعَۃٍ اِسْتَوٰی عَلٰی مَتْنِہٖثُمَّطَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّہُ وَرَجُلٌ فِیْ شِعْبٍ مِنْ ہٰذِہِ الشِّعَابِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْ تِی الزَّکَاۃَ وَیَدَعُ النَّاسَ اِلَّا مِنْ خَیْرٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۲۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے افضل مرتبے کا حامل وہ آدمی ہوگا، جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے تیار کھڑا ہو، جہاد کی پکار سنتے ہی گھوڑے کی پشت پر سیدھا ہوجائے اور موت کو ایسے مقامات میں تلاش کرے،جہاں اس کے امکانات زیادہ ہوں، یا پھر وہ آدمی جو کسی پہاڑی گھاٹی میں مقیم ہو کر نماز باقاعدگی سے پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور لوگوں کے ساتھ صرف خیر والا معاملہ کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12821

۔ (۱۲۸۲۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا یَتْبَعُ بِہَاشَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہِ مِنَ الْفِتَنِ۔)) (مسند احمد:۱۱۰۴۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ ایسا وقت آ جائے کہ جس میں مسلمان آدمی کا بہترین مال بکریاں ہوںگی، جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چراتا پھرتا رہے گا اوراس طرح اپنے دین کو فتنوں سے بچا لے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12822

۔ (۱۲۸۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗکَانَقَائِمًاعِنْدَبَابِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَشَارَنَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ: ((اَلْفِتْنَۃُ ھٰہُنَا حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے دروازے کے قریب کھڑے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرق کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرکے فرمایا: یہاں فتنے ہیں، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12823

۔ (۱۲۸۲۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ اِلَی الْمَشْرِقِ یَقُوْلُ:((ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰہُنَا مِنْ حَیْثُیُطْلِعُ الشَّیْطَانُ قَرْنَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۸۰)
۔ (دوسری سند ) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خبردار! بیشک فتنے یہاں ہوں گے، خبردار! بلا شبہ فتنے ادھر ہوں گے، خبردار! فتنے یہاں ہوںگے، جہاں سے شیطان اپنا سینگ طلوع کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12824

۔ (۱۲۸۲۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یُشِیْرُ بِیَدِہٖیَؤُمُّ الْعِرَاقَ ((ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰھُنَا، ھَا اِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰھُنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مَنْ حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۳۰۲)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کیا، آپ کا مقصد عراق تھا، پھر فرمایا: خبردار! فتنے یہاں ہیں، خبردار! فتنے یہاں ہیں، (یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی)، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12825

۔ (۱۲۸۲۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَیْتِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَالَ: ((رَاْسُ الْکُفْرِ مِن ہٰھُنَا مِنْ حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۵۱)
۔ (چوتھی سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا : کفر کا مرکز یہاں ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12826

۔ (۱۲۸۲۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِیْ ئُ الْفِتْنَۃُ مِنْ ھٰہُنَا مِنَ الْمَشْرِقِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۵۴)
۔ (پانچویں سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنے یہاں سے یعنی مشرق کی طرف سے آئیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12827

۔ (۱۲۸۲۷)۔ عَن یُسَیْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْتُ :حَدِّثْنِیْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْحَرُوْرِیَّۃِ، قَالَ: اُحَدِّثُکَ مَا سَمِعْتُ لَا اَزِیْدُکَ عَلَیْہِ ‘ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ قَوْمًا:((یَخْرُجُوْنَ مِنْ ھٰہُنَا وَاَشَارَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْعِرَاقِ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَایَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) قُلْتُ: ھَلْ ذَکَرَ لَھُمْ عَلَامَۃً؟ قَالَ: ہٰذَا مَا سَمِعْتُ لَا اَزِیْدُکَ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۷۳)
یسیر بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی ایسا فرمان سنائیں جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حروریہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہو۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عراق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ادھر سے کچھ لوگ نکلیں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے تیزی سے پار نکل جاتا ہے۔ میں نے پوچھا : آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے اتنا ہی سنا ہے، میں اس پر اضافہ نہیں کروں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12828

۔ (۱۲۸۲۸)۔ وَعَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَۃَ قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ :اِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا فَلَاَنْ اَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ اَحَبُّ مِنْ اَنْ اَکْذِبَ عَلَیْہِ، وَاِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ غَیْرِہِ فَاِنَّمَا اَنَارَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خُدْعَۃٌ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ اَقْوَامٌ اَحْدَاثُ الْاَسْنَانِ سُفَہَائُ الْاَحْلَامِ یَقُوْلُوْنَ مِنْ قَوْلِ خَیْرِ الْبَرِیَّۃِ لَا یُجَاوِزُ اِیْمَانُہُمْ حَنَاجِرَھُمْ، فَاَیْنَمَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ فَاِنْ قَتْلَہُمْ اَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ باندھنے کی بہ نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں آسمان کی بلندی سے نیچے گر جاؤں، مگر جھوٹ نہ بولوں اور جب میں تمہیں کسی دوسرے کی کوئی بات سناؤں تو یاد رکھو کہ ان دنوں میری لوگوں سے لڑائی رہتی ہے اور لڑائی چالوں اور تدبیروں کو ہی کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو نو عمر اور کم عقل ہوں گے، وہ باتیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کریں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے گلوں سے آگے نہیں اترے گا، یہ لوگ تمہیں جہاں بھی ملیں، تم انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کے قاتلوں کو قیامت کے دن اس قتل کا اجر ملے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12829

۔ (۱۲۸۲۹)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ( بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((سَیَخْرُجُ اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ تَرَاقِیَھِمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُ قَرْنٌ قُطِعَ، حَتّٰی عَدَّھَا زِیَادَۃً عَلٰی عَشْرَۃِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْہُ قَرْنٌ قُطِعَ حَتّٰییَخْرُجُ الدَجَّالُ فِیْ بَقِیَّتِہِمْ۔)) (مسند احمد:۶۸۷۱ )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں مشرقی جہت سے ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو قرآن مجید تو بڑے خوبصورت انداز میں پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ،جب بھی ان میں سے کوئی نسل ظاہر ہو گی تو اسے قتل کر دیا جائے گا، پھر جب ان کی نسل منظرِ عام پر آئے گی تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس دفعہ ان کا اسی طرح ذکر کیا (اور آخری مرتبہ فرمایا:) جب بھی ان کی نسل ظاہر ہو گی تو اسے ختم کر دیا جائے گا، یہان تک کہ ان کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال نمودار ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12830

۔ (۱۲۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ :((یَخْرُجُ مِنْ اُمَّتِیْ قَوْمٌ یُسِیْئُوْنَ الْاَعْمَالَ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجَاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ۔)) قَالَ یَزِیْدُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): لَا اَعْلَمُہٗاِلَّاقَالَ: ((یَحْقِرُ اَحَدُکُمْ عَمَلَہُ مَعَ عَمَلِہِمْ یَقْتُلُوْنَ اَھْلَ الْاِسْلَامِ فَاِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، فَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلُوْہُ، کُلَّمَا طَلَعَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قَطَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِشْرِیْنَ مَرَّۃً اَوْ اَکْثَرَ وَاَنَا اَسْمَعُ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12831

۔ (۱۲۸۳۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرِکَانِیُّ فِیْ سَنَۃِ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ وَمِائَتَیْنِ، ثَنَا اَبُوْ عَقِیْلٍیَحْیَی بْنُ الْمُتَوَکِّلِ وَثَنَامُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ لُوَیْنٌ فِیْ سَنَۃِ اَرْبَعِیْنَ وَمَائَتَیْنِ ثَنَا اَبُوْ عَقِیْلٍیَحْیَی بْنُ الْمُتَوَکِّلِ عَنْ کَثِیْرِ نِ النَّوَائِ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَظْہَرُفِیْ آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ یُسْمَّوْنَ الرَّافِضَۃَ،یَرْفُضُوْنَ الْاِسْلَامَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۸)
سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ نمودار ہوں گے، ان کا نام رافضہ ہوگا، وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12832

۔ (۱۲۸۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ :عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ، کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ‘ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس ایسے دجال اور کذاب ظاہر نہ ہوجائیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12833

۔ (۱۲۸۳۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ کَذَّابُوْنَ مِنْہُمْ صَاحِبُ الْیَمَامَۃِ وَمِنْہُمْ صَاحِبُ صَنْعَائَ الْعَنْسِیُّ وَمِنْہُمْ صَاحِبُ حِمْیَرٍ وَمِنْہُمُ الدَّجَالُ وَھُوَ اَعْظَمُہُمْ فِتْنَۃً۔)) قَالَ جَابِرٌ: وَبَعْضُ اَصْحَابِیْیَقُوْلُ: قَرِیْبٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کَذَّابًا۔ (مسند احمد: ۱۴۷۷۵)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کئی کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے ایک یمامہ والا‘ ایک صنعاء والا عنسی‘ ایک حمیر والا اور ایک دجال ہوگا، مؤخر الذکر کا فتنہ سب سے بڑا ہو گا۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے بعض اصحاب کہتے ہیں کہ ان کذابین کی تعداد تقریباً تیس ہو گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12834

۔ (۱۲۸۳۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَکْثَرَ النَّاسُ فِیْ مُسَیْلَمَۃَ قَبْلَ اَنْ یَّقُوْلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ شَیْئًا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا فَقَالَ:((اَمَّا بَعْدُ فَفِیْ شَاْنِ ہٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ قَدْ اَکْثَرْتُمْ فِیْہِ وَاَنَّہُ کَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کَذَّابًا یَخْرُجُوْنَ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ وَاَنَّہُ لَیْسَ مِنْ بَلْدَۃٍ اِلَّا یَبْلُغُہَا رُعْبُ الْمَسِیْحِ (یَعْنِیْ الدَّجَّالَ) اِلَّا الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی کُلِّ نَقْبٍ مِنَ نِقَابِہَا مَلَکَانِ یَذُبَّانِ عَنْہَا رُعْبَ الْمَسِیْحِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۹)
سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قبل اس کے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسیلمہ کے متعلق کچھ فرمائیں، لوگوں نے اس کے بارے میں بہت باتیں کیں، بالآخر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! تم نے اس آدمی کے متعلق بہت باتیں کی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نمودار ہونے والے تیس کذابوں میں سے ایک ہے اور (یاد رکھو کہ) مدینہ منورہ کے علاوہ دنیا کے ہر شہر میں مسیح دجال کا رعب اورخوف پہنچے گا، مدینہ منورہ کے ہر راستے پر دو فرشتے مامور ہوں گے، وہ اس شہر سے مسیح دجال کے خوف کو دور رکھیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12835

۔ (۱۲۸۳۵)۔ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ یَقُوْلُ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُعُوْدًا نَذْکُرُ الْفِتَنَ، فَاَکْثَرَ ذِکْرَھَا حَتّٰی ذَکَرَ فِتْنَۃَ اْلاَحْلاَسِ،فَقَالَ قِائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللَّہِ! وَمَا فِتْنَۃُ اْلاَحْلَاسِ؟ قَالَ: ((فِتْنَۃُالْاَحْلاَسِ ھِيَ فِتْنَۃُ ھَرْبٍ وَحَرْبٍ، ثُمَّ فِتْنَۃُ السَّرَّائِ دَخَلُھَا اَوْ دَفَنُھَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ بَیْتِيیَزْعُمُ اَنَّہُ مِنِّي، وَلَیْسَ مِنِّي، اِنَّمَا وَلِیِّيَ الْمُتَّقُوْنَ، ثُمَّ یَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلٰی رَجُلٍ کَوَرِکٍ عَلٰی ضِلَعٍ، ثُمَّ فِتْنَۃُ الدُّھَیْمَائِ لَا تَدَعُ اَحَدًا مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا لَطَمَتْہُ لَطْمَۃً، فَاِذَا قِیْلَ : اِنْقَطَعَتْ، تَمَادَّتْ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْھَا مُؤْمِنًا وَیُمْسِيْ کَافِرًا، حَتّٰییَصِیْرَ النَّاسُ اِلٰی فُسْطَاطَیْنِ: فُسْطَاطِ اِیْمَانٍ لَا نِفَاقَ فِیْہِ، وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لاَ اِیْمَانَ فِیْہِ، اِذَا کَانَ ذَاکُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنَ الْیَوْمِ اَوْغَدٍ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶۸)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے فتنوں کا تذکرہ کر رہے تھے‘ آپ نے بھی فتنۂ احلاس سمیت بہت سے فتنوں کا ذکر کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! فتنۂ احلاس سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنۂ احلاس سے مرادجنگ و جدل اور شکست و ریخت کا زمانہ ہے‘ پھر خوشحالی و آسودگی کا فتنہ ابھرے گا‘ اس کی ابتداء و انتہاء اور سرپرستی و ذمہ داری ایسے آدمی کے ہاتھ میں ہو گی‘ جو اپنے گمان کے مطابق مجھ سے ہو گا‘ حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہو گا‘ میرے دوست تو پرہیز گار لوگ ہیں‘ پھر لوگ ایسے شخص پر صلح کریں گے، جو مستقل طور پربادشاہت کے لائق اوراس کا اہل نہیں ہو گا، اس کے بعد بھیانک آفت و مصیبت پر مشتمل فتنہ نمودار ہو گا‘ وہ اس امت کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دے گا۔ جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہو چکا ہے‘ تو وہ حد سے بڑھ کر سامنے آئے گا۔ بندہ بوقت ِ صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر، لوگ دو جماعتوں میں بٹ جائیں گے: ایک جماعت صاحبِ ایمان ہو گی‘ اس میں کوئی نفاق نہیں ہو گا اور دوسری جماعت صاحبِ نفاق ہو گی‘ اس میں کوئی ایمان نہیں ہو گا‘ جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو دجال کا انتظار کرنا‘ وہ اسی دن آسکتا ہے، یا پھر اگلے دن آ جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12836

۔ (۱۲۸۳۶)۔ وَعَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ: عَبْدَاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: لَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَاصَاحِبُ الدِّیْنَارِ وَالدِّرْھَمِ بِاَحَقَّ مِنْ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ ثُمَّ لَقَدْ رَاَیْتُنَا بِآخِرَۃٍ الآْنَ وَالدِّیْنَارُ وَالدِّرْھَمُ اَحَبُّ اِلٰی اَحَدِنَا مِنْ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ :((لَئِنْ اَنْتُمُ اتَّبَعْتُمْ اَذْنَابَ الْبَقَرِ وَتَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ وَتَرَکْتُمُ الْجِہَادَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَیَلْزِمَنَّکُمُ اللّٰہُ مَذَلَّۃً فِیْ اَعْنَاقِکُمْ ثُمَّ لَا تُنْزَعُ مِنْکُمْ حَتّٰی تَرْجِعُوْنَ اِلٰی مَا کُنْتُمْ عَلَیْہِ وَتَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰہِ۔)) وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَتَکُوْنَنَّ ھِجْرَۃٌ بَعْدَ ھِجْرَۃٍ اِلٰی مُہَاجَرِ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ علیہ السلام حَتّٰی لَایَبْقٰی فِی الْاَرْضِیْنَ اِلَّا شِرَارُ اَھْلِہَا وَتَلْفِظُہُمْ اَرْضُوْھُمْ وَتَقْذَرُھُمْ رُوْحُ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ وَتَحْشُرُھُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ تَقِیْلُ حَیْثُیَقِیْلُوْنَ وَتَبِیْتُ حَیْثُیَبِیْتُوْنَ وَمَاسَقَطَ مِنْہُمْ فَلَہَا۔)) وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَخْرُجُ مِنْ اُمَّتِیْ قَوْمٌ یُسِیْئُوْنَ الْاَعْمَالَ یَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ لَایُجْاوِزُ حَنَاجِرَھُمْ۔)) قَالَ یَزِیْدُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) لَااَعْلَمُہٗاِلَّاقَالَ: ((یَحْقِرُاَحَدُکُمْ عَمَلَہٗمَعَعَمَلِہِمْ یَقْتُلُوْنَ اَھْلَ الْاِسْلَامِ فَاِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ ثُمَّ اِذَا خَرَجُوْا فَاقْتُلُوْھُمْ، فَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلَہُمْ وَطُوْبٰی لِمَنْ قَتَلُوْہٗکُلَّمَاطَلَعَ مِنْہُمْ قَرْنٌ قَطَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَرَدَّدَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِشْرِیْنَ مَرَّۃً اَوْ اَکْثَرَ وَاَنَا اَسْمَعُ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۲)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب انسان اپنے مسلمان بھائی کو صاحب ِ ثروت اور مال دار کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتا تھا، لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمیں مسلم بھائی کی بہ نسبت دینار اوردرہم زیادہ محبوب ہیں۔ میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم نے جہاد کو چھوڑ دیا اور گائیوں کی دموں کے پیچھے لگ گئے اور بیع عِینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا،اور جب تک تم اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ نہیں کرو گے اور اپنے اصل دین کی طرف نہیں لوٹو گے تو وہ ذلت بھی تم سے جدا نہیں ہو گی۔ اور میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ : تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہجرت ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ باقی روئے زمین پر صرف بد ترین لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمین ان کو اگل دے گی اور اللہ تعالیٰ کی روح بھی ان سے نفرت کرے گی اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ گھیر کر ایک جگہ جمع کرے گی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، آگ بھی وہیں قیلولہ کرے گی اور جہاں وہ رات گزاریں گے، آگ بھی وہیں رات گزارے گی اور ان میں سے جو آدمی گر جائے، وہ آگ اسے جلا دے گی۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12837

۔ (۱۲۸۳۷)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۶۷۸۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12838

۔ (۱۲۸۳۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَھُوَ یَتَوَضَّاُ وُضُوْائً مَکِیْثًا فَرَفَعَ رَاْسَہُ فَنَظَرَ اِلَیَّ فَقَالَ:((سِتٌّ فِیْکُمْ اَیَّتُھَا الْاُمَّۃُ، مَوْتُ نَبِیِّکُمْ۔)) فَکَاَنَّمَا اِنْتَزَعَ قَلْبِیْ مِنْ مَکَانِہٖقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاحِدَۃً۔))، قَالَ: ((وَیَفِیْضُ الْمَالُ فِیْکُمْ حَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ لَیُعْطٰیْ عَشْرَۃَ آلَافٍ فَیَظِلُّیَتَسَخَّطُہَا۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثِنْتَیْنِ۔)) قَالَ: ((وَفِتْنَۃٌ تَدْخُلُ بَیْتَ کُلِّ رَجُلٍ مِنْکُمْ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثٌ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((وَمَوْتٌ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبعٌ، وَھُْدْنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِیْ الْاَصْفَرِ لَیَجْمَعُوْنَ لَکُمْ تِسْعَۃَ اَشْھُرٍ کَقَدْرِحَمْلِ الْمَرْاَۃِ، ثُمَّ یَکُوْنُوْنَ اَوْلٰی بِالْغَدْرِ مُنْکُمْ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((خَمْسٌ۔)) قَالَ: ((وَفَتْحُ مَدِیْنَۃٍ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سِتٌّ۔)) قُلْتُ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ مَدِیْنَۃٍ؟ قَالَ:((قُسْطُنْطِیْنَۃُ۔)) (مسند ۶۶۲۳)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت ٹھہر ٹھہر کر وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور مجھے دیکھ کر فرمایا: اے میری امت! (قیامت سے پہلے) تمہارے اندر چھ بڑے بڑے امور رونما ہوں گے، پہلی چیز تمہارے نبی کی موت ہے۔ یہ بات سن کر مجھے یوں لگا کہ میرا دل اپنی جگہ سے اڑ گیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ہے۔ پھر فرمایا: اور تمہارے اندر دولت کی اس قدر ریل پیل ہوجائے گی کہ کسی کو دس ہزار بھی دئیے جائیں گے تو وہ اسے قلیل سمجھتے ہوئے ناگواری کا اظہار کرے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ دوسری علامت ہو گئی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ رونما ہوگا جو تم میں سے ہر ایک کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیسری علامت ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح کثرت سے موتیں واقع ہوں، جیسے بکریاں ایک خاص بیماری کی وجہ سے مرنے لگتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ چوتھی علامت ہے اور تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان صلح ہوگی، وہ عورت کے حمل کی مدت یعنی نوماہ تک تو تم سے صلح رکھیں گے، پھر وہ تم سے بے وفائی کر جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ پانچویں علامت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اور ایک شہر فتح ہوگا، یہ چھٹی علامت ہو گی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا شہر ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قسطنطنیہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12839

۔ (۱۲۸۳۹)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((سِتٌ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ، مَوْتِیْ، وَفَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ، وَمَوْتٌ یَاْخُذُ فِی النَّاسِ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ وَفِتْنَۃٌیَدْخُلُ حَرْبُہَا بَیْتَ کُلَّ مُسْلِمٍ، وَاَنْ یُّعْطَی الرَّجُلُ اَلْفَ دِیْنَارٍ فَیَتَسَخَّطُہَا، وَاَنْ تَغْدِرَ الرُّوْمُ فَیَسِیْرُوْنَ فِیْ ثَمَانِیْنَ بَنْدًا کُلُّ بَنْدٍ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۴۲)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھ امور قیامت کی علامتوں میں سے ہیں: (۱)میری وفات ، (۲)بیت المقدس کی فتح، (۳)بکریوں میںموت کی وبا کی طرح انسانوں کی بکثرت اموات، (۴)وہ فتنہ جس کی لڑائی کی آگ ہر مسلمان کے گھر میں پہنچ جائے گی، (۵) (اس حدتک دولت کی کثرت ہو گی کہ) اگر ایک آدمی کو ایک ہزار دینار دئیے جائیں گے تو وہ انہیں قلیل سمجھ کر ناراضگی کا اظہار کرے گا اور (۶) رومیوں کی بد عہدی و بے وفائی، وہ اسی جھنڈوں کے نیچے چلیں گیں اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12840

۔ (۱۲۸۴۰)۔ وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْاَشْجَعِیِّ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((عَوْفٌ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ ،فَقَالَ: ((اُدْخُلْ))قَالَ: قُلْتُ: کُلٌّ اَوْ بَعْضِیْ قَالَ: ((بَلْ کُلُّکَ۔)) قَالَ: ((اُعْدُدْ یَاعَوْفُ! سِتًّا بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ، اَوَّلُھُنَّ مَوْتِیْ۔)) قَالَ: فَاسْتَبْکَیْتُ حَتّٰی جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَکِّتُنِیْ قَالَ: قُلْتُ: اِحْدٰی((وَالثَّانِیَۃُ فَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) قُلْتُ: اِثْنَیْنِ، ((وَالثَّالِثَۃُ مُوْتَانٌ یَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْیَاْخُذُھُمْ مِثْلَ قُعَاصِ الْغَنَمِ۔)) قَالَ: ((ثَلاَثًا وَالرَّابِعَۃُ فِتْنَۃٌ تَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ وَاَعْظَمُہَا۔)) قَالَ :((اَرْبَعًا وَالْخَامِسَۃُیَفِیْضُ الْمَالُ فِیْکُمْ حَتّٰی اَنَّ الرَّجُلَ لَیُعْطٰی الْمِائَۃَ دِیْنَارٍ فَیَتَسَخَّطُہَا۔)) قَالَ: ((خَمْسًا،وَالسَّادِسَۃُ ھُدْنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِیْ الْاَصْفَرِ فَیَسِیْرُوْنَ اِلَیْکُمْ عَلٰی ثَمَانِیْنَ غَایَۃً۔)) قُلْتُ: وَمَا الْغَایَۃُ؟ قَالَ: ((اَلرَّایَۃُ تَحْتَ کُلِّ رَاْیَۃٍ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا، فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِیْنَیَوْمَئِذٍ فِیْ اَرْضٍ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ فِیْ مَدِیْنَۃٍیُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۸۵)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سلام کہا، آپ نے پوچھا : عوف ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: اندر آجاؤ۔ میں نے کہا: سارا آجاؤں یا کچھ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : پورے کے پورے ہی آجاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہونے والے چھ بڑی بڑی علامتوں کو شمار کرو، پہلی علامت میری موت ہے۔ یہ سن کر میں رونے لگ گیا، پھر اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے چپ کرانے لگ گئے، میںنے کہا: یہ ایک ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوسری بیت المقدس کی فتح ہے۔ میں نے کہا: یہ دوسری ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیسری علامت یہ ہے کہ میری امت میں اس قدر زیادہ موتیں ہوں، جیسے بکریاں موت کی وباء میںمرنے لگتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ تیسری ہو گئی، اور چوتھی علامت یہ ہے کہ ایک بڑا فتنہ ہو گا، یہ چوتھی ہو گئی اور پانچواں یہ کہ دولت اس قدر عام ہوجائے گی کہ جب کسی کو ایک سو دینار دئیے جائیں گے تو وہ ان کو قلیل سمجھتے ہوئے غصے کا اظہار کرے گا۔ آپ نے فرمایا : یہ پانچویں ہوئی اور چھٹی علامت یہ ہو گی کہ تمہارے اور بنو الاصفر کے درمیان صلح ہوگی،لیکن وہ (عہد توڑ کر) اسی جھنڈوں کے نیچے چل کر آئیں گے۔ میں نے کہا: غایہ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد جھنڈا ہے، ہر جھندے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے، ان دنوں مسلمانوں کا مرکز دمشق میں غوطہ نامی مقام پر ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12841

۔ (۱۲۸۴۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ اَنَا مَعْمَرُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدِ نِ الْیَشْکَرِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتّٰی قَدِمْتُ الْکُوْفَۃَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَاِذَا اَنَا بِحَلْقَۃٍ فِیْہَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنَ الرِّجَالِ، حَسَنَ الثَّغْرِ، یُعْرَفُ فِیْہِ اَنَّہٗمِنْرِجَالِاَھْلِالْحِجَازِقَالَ: فَقُلْتُ مَنِ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ: اَوَمَا تَعْرِفُہٗ؟فَقُلْتُ: لَا،فَقَالُوْا :ہٰذَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَقَعَدْتُّ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ فَقَالَ: اِنَّ النَّاسَ کَانُوْا یَسْاَلُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ الخَیْرِ وَکُنْتُ اَسْاَلُہٗعَنِالشَّرِّ،فَاَنْکَرَذٰلِکَالْقَوْمُعَلَیْہِ فَقَالَ :لَھُمْ اِنِّیْ سَاُخْبِرُکُمْ بِمَا اَنْکَرْتُمْ مِنْ ذٰلِکَ، جَائَ الْاِسْلَامُ حِیْنَ جَائَ فَجَائَ اَمْرٌ لَیْسَ کَأَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ وَکُنْتُ قَدْ اُعْطِیْتُ فِی الْقُرْآنِ فَہْمًا، فَکَانَ رِجَالٌ یَجِیْئُوْنَ فَیَسْاَلُوْنَ عَنِ الْخَیْرِ فَکُنْتُ اَسْاَلُہٗعَنِالشََّرِّ،فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیَکُوْنُ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ شَرٌّ کَمَا کَانَ قَبْلَہُ شَرٌّ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَۃُیَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلسَّیْفُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَھَلْ بَعْدَ ہٰذَا السَّیْفِ بَقِیِّۃٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ تَکُوْنُ اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٌ عَلٰی دَخَنٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ: ((ثُمَّ تَنْشَاُ دُعَاۃُ الضَّلاَلَۃِ فَاِنْ کَانَ لِلّٰہِ یَوْمَئِذٍ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃٌ جَلَدَ ظَہْرَکَ وَاَخَذَ مَالَکَ فَالْزَمْہٗوَاِلَّافَمُتْوَاَنْتَعَاضٌّعَلٰی جَذْلِ َشَجَرَۃٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذٰلِکَ مَعَہٗنَہْرٌوَنَارٌمَنْوَقَعَفِیْ نَارِہٖٖوَجَبَاَجْرُہٗوَحَطَّوِزْرُہٗ،وَمَنْوَقَعَفِیْ نَہْرِہٖوَجَبَوِزْرُہٗوَحَطَّاَجْرُہٗ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّمَاذَا؟قَالَ: ((ثُمَّ نُتِجَ الْمَہْرُ فَلَا یُرْکَبُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) اَلصَّدَعُ مِنَ الرَّجَالِ الضَّرْبُ، وَقَوْلُہُ: فَمَا الْعِصْمَۃُ مِنْہُ قَالَ: اَلسَّیْفُ، کَانَ قَتَادَۃُیَضَعُہُ عَلَی الرِّدَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ فِیْ زَمَنِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَقَوْلُہُ اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٍ یَقُوْلُ صُلْحٌ وَقُوْلُہُ عَلٰی دَخَنٍ یَقُوْلُ عَلٰی ضَغَائِنَ، قِیْلَ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ مِمَّنْ التَّفْسِیْرُ قَالَ: عَنْ قَتَادَۃَ زَعَمَ۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ: ((مَاھُدْنَۃُ عَلٰی دَخَنٍ قَالَ: قُلُوْبٌ لَاتَعُوْدُ عَلٰی مَاکَانَتْ۔ (مسند احمد:۲۳۸۲۲ )
خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں:جس زمانے میں تُسْتَر فتح ہوا تھا، میں ان دنوں کوفہ میں گیا، میں ایک مسجد میں داخل ہوا اور دیکھا کہ لوگ وہاں ایک حلقہ کی صورت میں بیٹھے ہیں، اس میں ایک چھریرے بدن کا آدمی تھا، اس کے اگلے دانت یا منہ بہت خوبصورت تھا، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ حجاز کا رہنے والا ہے۔ میںنے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیا آپ ان کو نہیں جانتے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوںنے بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، یہ سن کر میں بھی بیٹھ گیا، وہ لوگوں سے باتیں کرتے رہے، انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شرّ کے متعلق پوچھا کرتا تھا۔ لوگوں کو اس بات پر حیرت ہوئی، لیکن انھوں نے کہا: تم جس بات پر تعجب کر رہے ہو، میں تمہیں بتلاتا ہوں۔ جب اسلام آیا تو ایسا ماحول پیدا ہوگیا کہ جو جاہلیت کے دور سے مختلف تھا، جبکہ مجھے فہمِ قرآن کا کافی ملکہ حاصل تھا، لوگ آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خیر کی بات پوچھا کر تے، جبکہ میں شرکے بارے میں پوچھا کرتا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعد شر (اورفتنوں) کا دور آئے گا، جیسا کہ اس سے پہلے تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے کہا: کیا تلوار کے چلنے کے بعد اسلام کا کوئی حصہ باقی رہے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن بباطن لڑائی ہو گی اور ظاہری صلح ہو گی‘ اس کے بعد ضلالت و گمراہی کی طرف پکارنے والے منظرِ عام پر آئیں گے‘ اگر ان دنوں میں تجھے کوئی خلیفہ نظر آ جائے تو اسے لازم پکڑ لینا‘ اگرچہ وہ تیرے جسم کو اذیت پہنچائے اور تیرا مال سلب کر لے، وگرنہ اس حال میں مر جانا کہ تو درخت کے تنے کے ساتھ چمٹا ہوا ہو۔ میںنے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر دجال نمودار ہو گا، اس کے پاس پانی کی نہر ہوگی اور آگ بھی ہوگی، جو آدمی اس کی آگ میں گیا، اس کے لیے اللہ کے ہاں اجر (اور نجات) لازمی ہوگی، اور اس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، لیکن جو کوئی اس کی نہر میں چلا گیا، وہ گنہگار ہوگا اور اس کا تمام اجر و ثواب ضائع ہوجائے گا۔ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اس قدر جلد قیامت آجائے گی کہ ان دنوں جو گھوڑی بچہ جنم دے گی، ابھی تک اس پر سواری نہ کی جائے گی کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ اَلصَّدَعُ مِنَ الرَّجَالِ سے مراد الضرب یعنی کم گوشت والا آدمی ہے، سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ سوال کہ اس فتنے سے بچنے کی کیا صورت ہوگی؟ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جواب کہ تلوار ہو گی، امام قتادہ اس کو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں ہونے والے ارتداد پر محمول کرتے تھے، اَمَارَۃٌ عَلٰی اَقْذَائٍ وَھُدْنَۃٍ سے مراد صلح ہے، اور الدخن سے مراد دلی نفرت اور کھوٹ ہے۔ جب حدیث کے راوی عبدالرزاق سے پوچھا گیا کہ ان الفاظ کی یہ وضاحت کس نے کی ہے تو انھوں نے کہا کہ امام قتادۃ نے کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12842

۔ (۱۲۸۴۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ)وَفِیْہِ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ بَعْدَ ہٰذَا لْخَیْرِ شَرٌّ کَمَاکَانَ قَبْلَہُ شَرٌّ؟ قَالَ: ((یَا حُذَیْفَۃُ! اِقْرَأْ کِتَابَ اللّٰہِ وَاعْمَلْ بِمَا فِیْہِ۔)) فَاَعْرَضَ عَنِّیْ فَاَعَدْتُّ عَلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَعَلِمْتُ اَنَّہُ اِنْ کَانَ خَیْرًا اِتَّبَعْتُہُ وَاِنْ کَانَ شَرًّا اِجْتَنَبْتُہُ، فَقُلْتُ: ھَلْ بَعْدَ ہٰذَا الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ فِتْنَۃٌ عَمْیَائُ عَمَّائُ صَمَّائُ وَدُعَاۃُ ضَلَالَۃٍ عَلٰی اَبْوَابِ جَہَنَّمَ، مَنْ اَجْلَبَہُمْ قَذَفُوْہُ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۴۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی ہدایت اور اسلام) کے بعدپھر شر (اور فتنے) کا دور آئے گا، جیسا کہ پہلے تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حذیفہ! اللہ کی کتاب پڑھتے رہنا اور اس پر عمل کرتے رہنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اعراض کر لیا، لیکن میں نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا دی، مجھے معلوم تھا کہ اگر خیر ہو گی تو اس کی پیروی کروں گا اور شرّ ہونے کی صورت میں اس سے اجتناب کروں گا، اس لیے میں نے پھر کہہ دیا کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ کا دور ہو گا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں‘ اندھا دھند فتنہ ہو گا‘ اور اس میں ایسے لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے داعی ہوں گے، جو آدمی ان کی بات مانے گا، وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12843

۔ (۱۲۸۴۳)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلآْیَاتٌ خَرَزَاتٌ مَنْظُوْمَاتٌ فِیْ سِلْکٍ فَاِنْ یَقْطَعِ السِّلْکَ یَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔)) (مسند احمد: ۷۰۴۰)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علاماتِ قیامت کی مثال دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہے کہ جب دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے تو باری باری گرنے لگ جاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12844

۔ (۱۲۸۴۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یُّرٰی رُعَاۃُ الشَّائِ رُؤُوْسَ النَّاسِ، وَاَنْ یُّرٰی الْحُفَاۃُ الْعُرَاۃُ الْجُوْعُ یَتَبَارَوْنَ فِی الْبِنَائِ، وَاَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّہَا اَوْ رَبَّتَہَا۔)) (مسند احمد: ۹۱۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کی علامات میں سے یہ بھی ہیں کہ بکریوں کے چرواہے لوگوں کے سردار اور حکمران بن جائیں گے اور ننگے پاؤں، برہنہ جسم اور بھوکے لوگ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جائیں گے اور لونڈیاں اپنے مالک یامالکہ کو جنم دیں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12845

۔ (۱۲۸۴۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَبَادَرُوْا بِالْاَعْمَالِ سِتًّا طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا، وَالدَّجَالَ، وَالدُّخَّانَ، وَدَابَّۃَ الْاَرْضِ، وَخُوَیْصَۃَ اَحَدِکُمْ،وَأَمْرَ الْعَامَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۲۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان چھ علامتوں کے ظہور سے پہلے پہلے جس قدر ہو سکے نیک عمل کر لو، (۱)مغرب سے طلوع ِ آفتاب، (۲)دجال، (۳)دھواں، (۴)زمین کا چوپایہ، (۵) نفسا نفسی کا عالم اور (۶)عام لوگوں کا معاملہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12846

۔ (۱۲۸۴۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ فُرَاتٍ عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ عَنْ اَبِیْ سَرِیْحَۃَ (حُذَیْفَۃُ بْنُ اُسَیْدِ نِ الْغِفَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غُرْفَۃٍ وَنَحْنُ تَحْتَہَا نَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَاَشْرَفَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاتَذْکُرُوْنَ؟)) قَالُوْا: اَلسَّاعَۃَ، قَالَ: ((اِنَّ السَّاعَۃَ لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ عَشْرَ آیَاتٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَۃُ وَطَلُوْعُ الشَّمْسِ مِن مَّغْرِبِہَا وَیَاجُوْجُ وَمَاجُوْجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدْنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ۔)) فَقَالَ شُعْبَۃُ: سَمِعْتُہُ وَاَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَنْزِلُ مَعَہُمْ حَیْثُ نَزَلُوْا اَوْ تَقِیْلُ مَعَہُمْ حَیْثُ قَالُوا۔)): قَالَ شُعْبَۃُ: وَحَدَّثَنِیْ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ رَجُلٌ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ عَنْ اَبِیْ سَرِیْحَۃَ لَمْ یَرْفَعْہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَحَدُ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ: ((نُزُوْلُ عِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ۔)) وَقَالَ الآْخَرُ: ((رِیْحٌ تُلْقِیْہِمْ فِی الْبَحْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۴۲)
ابو سریحہ سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالاخانے میں تشریف فرما تھے اور ہم نیچے باتیں کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری طرف جھانکا اور پوچھا: تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو؟ لوگو ں نے کہا: قیامت کے بارے میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک تم یہ دس علامات نہیں دیکھ لیتے، اس وقت تک قیامت قائم نہیں گی: (۱)مشرق میں لوگوں کا زمین میں دھنسنا۔ (۲)مغرب میں دھنسنا۔ (۳)جزیرۂ عرب میں دھنسنا۔ (۴)دھواں۔ (۵) دجال۔ (۶)زمین کا چوپایہ۔ (۷)مغرب کی جانب سے طلوع آفتاب۔ (۸)یاجوج ماجوج کا ظہور۔ (۹) عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ جو لوگوں کو دھکیل کر لے جائے گی۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے فرات سے یہ بھی سنا کہ لوگ جہاں اتریں گے، وہ آگ بھی وہیں ٹھہر جائے گی اور وہ جہاں قیلولہ کریں گے، وہ قیلولہ کرے گی۔ امام شعبہ کہتے ہیں: مجھے یہ حدیث فرات کے علاوہ ایک دوسرے آدمی نے بھی بیان کی، اس نے ابو طفیل سے روایت کی اور ابو طفیل نے سیدنا ابو سریحہ سے لی، لیکن اس نے اس حدیث کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرفوعاً بیان نہیں کیا، ان دو مشائخ میں سے ایک نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا اور سمندر میں پھینک دینے والی ہوا کابطورِ علامتِ قیامت ذکر کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12847

۔ (۱۲۸۴۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ ثَوْبَانَ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ مَکْحُوْلٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عُمْرَانُ بَیْتِ الْمَقْدَسِ خَرَابُ یَثْرِبَ، وَخَرَابُ یَثْرِبَ خُرُوْجُ الْمَلْحَمَۃِ، وَخُرُوْجُ الْمَلْحَمَۃِ فَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ، وَ فَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ خُرُوْجُ الدَّجَّالِ۔)) ثُمَّ ضَرَبَ عَلٰی فَخِذِہٖاَوْعَلٰی مَنْکِبِہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذَا الْحَقُّ کَمَا أَنَّکَ قَاعِدٌ۔)) وَکَانَ مَکْحُوْلُ یُحَدِّثُ بِہِ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ بْنِ یُخَامِرَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۷۳)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی آبادی، یثرب کی ویرانی کا، یثرب کی ویرانی، خون ریزی کا، اورخون ریزی، قسطنطنیہ کی فتح کا اور فتح ِ قسطنطنیہ، دجال کے خروج کا پیش خیمہ ہوگا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: یہ سب باتیں اسی طرح حق ہیں، جیسے یہاں تمہارا بیٹھنا یقینی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12848

۔ (۱۲۸۴۸)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَلْحَمَۃُ الْعُظْمٰی وَفَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃِ وَخُرُوْجُ الدَّجَالِ فِیْ سَبْعَۃِ اَشْہُرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۹۵)
سیدنامعاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑی خون ریزی ، فتحِ قسطنطنیہ اور خروجِ دجال، یہ تینوں امور سات ماہ کے اندر اندر ظاہر ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12849

۔ (۱۲۸۴۹)۔ وَعَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُفَیْلِ نِ السَّکُوْنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ قَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ اُتِیْتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَائِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: وَبِمَاذَا؟ قَالَ: ((بِمُسْخَنَۃٍ۔)) قَالُوْا: فَہَلْ کَانَ فِیْہَا فَضْلٌ عَنْکَ؟ قَالَ ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَمَا فُعِلَ بِہِ؟ قَالَ: ((رُفِعَ وَھُوَ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنِّیْ مَکْفُوْتٌ غَیْرُ لَابِثٍ فِیْکُمْوَلَسْتُمْ لَابِثِیْنَ بَعْدِیْ اِلَّا قَلِیْلًاِ بَلْ تَلْبِثُوْنَ حَتّٰی تَقُوْلُوْا مَتٰی وَسَتَاْتُوْنَ اَفْنَادًا یُفْنِیْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَبَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ مُوْتَانٌ شَدِیْدٌ وَبَعْدَہُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۸۹)
سیدناسلمہ بن نفیل سکونی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، اچانک ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا کبھی آپ کے پاس آسمان سے کھانا آیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر کہا: اس کے ساتھ کیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ ایسا برتن تھا،جس میں کھانا گرم رہتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا اس کھانے سے کچھ بچ بھی گیا تھا؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں اس نے پھر پوچھا: اس کا کیا بنا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اوپر اٹھا لیا گیا اور میری طرف یہ وحی کی جانے لگی کہ مجھے موت آنے والی ہے اور میں تم میں اب ٹھہرنے والا نہیں ہوں، اور تم بھی میرے بعد کم عرصہ ہی رہو گے، بلکہ تم اس قدر قلیل مدت رہو گے کہ ایک دوسرے سے پوچھو گے کہ کیا ہم اتنی جلدی چلے جائیں او ر تم گروہوں کی شکل میں آؤ گے اور ایک دوسرے کو فنا کرو گے اور قیامت سے پہلے اموات بکثرت ہوں گی او ر اس کے بعد زلزلوں والے سال شروع ہو جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12850

۔ (۱۲۸۵۰)۔ وَعَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ حَبِیْبٍ اَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْاَیَادِیَّ حَدَّثَہُ قَالَ: نَزَلَ عَلَیَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حَوَالَۃَ الْاَزْدِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ لِیْ وَاِنَّہُ لَنَازِلٌ عَلَیَّ فِیْ بَیْتِیْ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَوْلَ الْمَدِیْنَۃِ عَلٰی اَقْدَامِنَا لِنَغْنَمَ فَرَجَعْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَیْئًا وَعَرَفَ الْجُہْدَ فِیْ وُجُوْھِنَا فَقَامَ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَاتَکِلْہُمْ اِلَیَّ فَاَضْعُفَ، وَلاَتَکِلْہُمْ اِلٰی اَنْفُسِھِمْ فَیَعْجِزُوْا عَنْہَا، وَلاَتَکِلْہُمْ اِلَی النَّاسِ فَیَسْتَاْثِرُوْا عَلَیْہِمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَیُفْتَحَنَّ لَکُمُ الشَّامُ وَالرُّوْمُ وَفَارِسُ اَوِالرُّوْمُ وَفَارِسُ حَتّٰییَکُوْنَ لِاَحَدِکُمْ مِنَ الْاِبِلِ کَذَا وَکَذَا وَمِنَ الْبَقَرِ کَذَا وَکَذَا وَمِنَ الْغَنَمِ حَتّٰییُعْطٰی اَحَدُھُمْ مِائَۃَ دِیْنَارٍ فَیَسْخَطُہَا۔)) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی رَاْسِیْ اَوْ ھَامَتِیْ فَقَالَ: ((یَا ابْنَ حَوَالَۃَ! اِذَا رَاَیْتَ الْخِلَافَۃَ قَدْ نَزَلَتِ الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَایَا وَالْاُمُوْرُ الْعِظَامِ وَالسَّاعَۃُیَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ اِلٰی النَّاسِ مِنْ یَدِیْ ہٰذِہِ مِنْ رَاْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۵۴)
ابن زغب ایادی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس میرے گھر میں آئے ہوئے تھے، انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مدینہ منورہ کے گردو نواح میں پیدل روانہ کیا، تاکہ ہم مال ِ غنیمت لے کر لائیں، لیکن ہوا یوں کہ ہم مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکے، جب ہم لوٹے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے چہروں پر تھکاوٹ محسوس کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: یا اللہ! انہیں میرے سپرد نہ کرنا،میں اس ذمہ داری کو پورا کرنے سے کمزور ہوں، اور نہ ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر، کیونکہ یہ عاجز آجائیں گے، اور نہ ہی ان کو دوسرے لوگوں کے حوالے کر، کیونکہ لوگ دوسروں کو ان پر ترجیح دیں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور شام ، روم اور فارس (ایران) فتح ہو جائے گا، (اور اتنا مالِ غنیمت جمع ہو گا کہ) تم میں سے ہر آدمی کو کئی اونٹ ، کئی گائیں اور دوسری غنیمتیں ملیں گی، بلکہ جب کسی کو سو دینار دیا جائے گا تو وہ اسے کم سمجھ ناراضگی کا اظہار کرے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سر پر رکھ کر فرمایا: ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارضِ مقدسہ (یعنی بیت المقدس) میں قائم ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زلزلے، مصائب اور بڑی بڑی علاماتِ قیامت قریب آگئیں ہیںاور اس وقت قیامت لوگوں سے اس سے بھی زیادہ قریب ہوگی، جیسے میرا ہاتھ اور تمہارا سر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12851

۔ (۱۲۸۵۱)۔ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ جُلُوْسًا، فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: قَدْ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ۔ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہٗ،فَلَمَّادَخَلْنَاالْمَسْجِدَ،رَأَیْنَا النَّاسَ رُکُوْعًا فِیْ مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَکَبَّرَ وَرَکَعَ وَرَکَعْنَا ثُمَّ مَشَیْنَا، وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِیْ صَنَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ یُسْرِعُ فَقَالَ: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! فَقَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔فَلَمَّاصَلَّیْنَا وَرَجَعْنَا دَخَلَ عَلٰی أَھْلِہٖ،جَلَسْنَا،فَقَالَبَعْضُنَالِبَعْضٍ: أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّہٗعَلَی الرَّجُلِ: صَدَقَ اللّٰہُ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُہٗ۔أَیُّکُمْیَسْأَلُہٗ؟ فَقَالَ طَارِقٌ: أَنَا أَسْأَلُہٗ۔فَسَأَلَہٗحِیْنَ خَرَجَ، فَذَکَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ: تَسْلِیْمَ الْخَاصَّۃِ وَفُشُوَّ التِّجَارَۃِ حَتّٰی تُعِیْنَ الْمَرْأَۃُ زَوْجَھَا عَلَی التِّجَارَۃِ وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ وَشَھَادَۃَ الزُّوْرِ وَکِتْمَانَ شَھَادَۃِ الْحَقِّ وُظُھَوْرَ الْقَلَمِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۷۰)
طارق بن شہاب کہتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ ایک آدمی آیا اور کہا: اقامت کہی جا چکی ہے‘ وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جب ہم مسجد میں داخل ہو ئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (صف تک پہنچنے سے پہلے ہی) رکوع کیا‘ ہم نے بھی رکوع کیا‘ پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے(اور صف میں کھڑے ہو گئے) اورجیسے انھوں نے کیا ہم کرتے رہے۔ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا: ابو عبد الرحمن! عَلَیْکَ السَّلَامُ۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے: آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انھوں نے اُس آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے (اس کا پیغام) پہنچا دیاہے؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے گا؟ طارق نے کہا: میں سوال کروں گا۔ جب وہ باہر آئے تو انھوں نے سوال کیا۔ جوابًا انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ‘ حتی کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی‘ نیز قطع رحمی‘ جھوٹی گواہی‘ سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی (بھی عام ہو جائے گی)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12852

۔ (۱۲۸۵۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ یَسُوْقُ النَّاسَ بِعَصَاہُ۔)) (مسند احمد: ۹۳۹۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کہ جب تک بنو قحطان میں پیدا ہونے والا ایک آدمی لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا نہیں ، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12853

۔ (۱۲۸۵۳)۔ وَعََنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَذْھَبُ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ حَتّٰییَمْلِکَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِیْیُقَالُ لَہُ جَہْجَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۳۴۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دن رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے ،جب تک جہجاہ نامی ایک غلام لوگوں پر حکمرانی نہ کرلے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12854

۔ (۱۲۸۵۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ یُحَدِّثُ الْقَوْمَ فِیْ مَجْلِسِہِ حَدِیْثًا جَائَ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَتَی السَّاعَۃُ؟ قَالَ: فَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: سَمِعَ فَکِرَہُ مَا قَالَ، وَقَالَ: بَعْضُہُمْ: بَلْ لَمْ یَسْمَعْ حَتّٰی اِذَا قَضٰی حَدِیْثَہُ، قَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟ قَالَ: ھَا اَنَا ذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! قَالَ: ((اِذَا ضُیِّعَتِ الْاَمَانََۃُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ اَوْ قَالَ: مَا اِضَاعَتُہَا؟ قَالَ: ((اِذَا تَوَسَّدَ الْاَمْرُ غَیْرَ اَھْلِہِ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، اتنے میں ایک بدّو نے آکر پوچھا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات جاری رکھی، بعض لوگوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات توسن لی ہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سوال کو ناپسند کیا اور بعض نے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات ہی نہیںسنی، اُدھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بات پوری کر لی تو پوچھا: قیامت کے متعلق دریافت کرنے والا کہاں ہے؟ وہ بولا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب امانتوں کو ضائع کر دیا جائے گا تو قیامت کا انتظار کرنا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! امانتوں کو ضائع کرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب معاملات نااہل لوگوںکے سپرد کر دیئے جائیں گے، تو قیامت کا انتظار کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12855

۔ (۱۲۸۵۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ اَیُّوْبَ عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ اَبِیْ اَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیَ الْاَئِمَّۃَ الْمُضِلِّیْنِ۔)) وَبِہٖقَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ اَوْ قَالَ اِنَّ رَبِّیْ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا وَاِنَّ مُلْکَ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مَازَوٰی لِیْ مِنْہَا، وَاِنِّیْ اُعْطِیْتُ الْکَنْزَیْنِ الْاَحْمَرَ وَالْاَبْیَضَ، وَاِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ لِاُمَّتِیْ اَنْ لَّا یُہْلَکُوْا بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ، وَلَا یُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوٰی اَنْفُسِہِمْ یَسْتَبِیْحُ بَیْضَتَہُمْ، وَاِنَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنِّیْ اِذَا قَضَیْتُ قَضَائً فَاِنَّہُ لَا یُرَدُّ وَقَالَ یُوْنُسُ لَایُرَدُّ وَاِنِّیْ اَعْطَیْتُ لِاُمَّتِکَ اَنِّیْ لَااُھْلِکُہُمْ بِسَنَۃٍ بِعَامَّۃٍ، وَلاَ اَسَلِّطُ عَلَیْہِمْ عَدَوًّا مِنْ سِوٰی اَنْفُسِہِمْ یَسْتَبِیْحُ بَیْضَتَہُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَیْہِمْ مِنْ بَیْنِ اَقْطَارِھَا اَوْ قَالَ مَنْ بِاَقْطَارِھَاحَتّٰییَکُوْنَ بَعْضُہُمْ یُسْبِیْ بَعْضًا، وَاِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیَ الْاَئِمَۃَ الْمُضِلِّیْنَ وَاِذَا وُضِعَ فِیْ اُمَّتِی السَّیْفُ لَمْ یُرْفَعْ عَنْہُمْ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ بِالْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیَ الْاَوْثَانَ، وَاِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ، وَلَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ عَلٰی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ لَایَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰییَاْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۱۶)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ڈر ہے۔ پھر اسی سند سے سیدناثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا اور میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اس نے زمین کو میرے لیے سکیڑا اور مجھے سرخ و سفید (یعنی سونے اورچاندی) کے دو خزانے عطا کیے گئے، میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو عام قحط کے ذریعے ہلاک نہ کیا جائے اور ان پر ان کے غیر کو مسلّط نہ کیا جائے کہ وہ ان کا ستیاناس کر دے۔ میرے ربّ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور میں آپ کی یہ دعا آپ کی امت کے حق میں قبول کر تا ہوں کہ میں انہیں عام قحط کے ذریعے ہلاک نہیں کروں گا اور نہ ہی ان کے غیر کو ان پر مسلط کروں گا، جو انہیں قتل کر کے ان کو جڑ سے اکھاڑ دے، خواہ روئے زمین کے تمام دشمن جمع ہو کر آ جائیں، البتہ یہ ہو گا کہ یہ خود ایک دوسرے کو قیدی بنانے لگیں گے، اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ضرور ہے اور جب میری امت میں ایک دفعہ تلوار چل جائے گی،تو وہ قیامت تک بند نہیں ہو گی، نیز قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کئی قبائل مشرکوں کے ساتھ نہیں مل جائیں گے اور میری امت کے بہت سے قبائل بتوں کی پوجا شروع کر دیں گے،عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخر ی نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میری امت میں ایک گروہ قیامت تک حق پر قائم اور غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12856

۔ (۱۲۸۵۶)۔ وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ تَدَاعٰی عَلَیْکُمُ الْاُمَمُ مِنْ کُلِّ اُفُقٍ کَمَا تَدَاعَی الْاَکَلَۃُ عَلٰی قَصْعَتِہَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَمِنْ قِلَّۃٍ بِنَا یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ، وَلٰکِنْ تَکُوْنُوْنَ غُثَائً کَغُثَائِ السَّیْلِیُنْتَزَعُ الْمَہَابَۃُ مِنْ قُلُوْبِ عَدُوِّکُمْ وَیُجْعَلُ فِیْ قُلُوْبِکُمُ الْوَھْنُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَھْنُ؟ قَالَ: ((حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَۃُ الْمَوْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۶۰)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ساری ملّتوں والے ہر طرف سے تم پر اس طرح جھپٹ پڑیں، جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان دنوں میں قلیل ہوں گے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے ساتھ بہنے والے پتوں، تنکوں اور جھاگ کی سی ہو گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں وَھْن آجائے گا۔ ہم نے پوچھا: وھن سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنا اور موت کو ناپسند کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12857

۔ (۱۲۸۵۷)۔ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الْبَخْتَرِیِّ الطَّائِیِّ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَنْ یَّہْلِکَ النَّاسُ حَتّٰییُعْذِرُوْا مِنْ اَنْفُسِہِْمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۷۳)
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہرگز ہلاک نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ بہت گناہوں اور عیبوں والے نہ ہو جائیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12858

۔ (۱۲۸۵۸)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یُّسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَی الرَّجُلِ لَا یُسَلِّمُ عَلَیْہِ اِلَّا لِلْمَعْرِفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴۸)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بھی علاماتِ قیامت میں سے ہے کہ ایک آدمی محض اپنی واقفیت اور تعارف کی وجہ سے دوسرے پر سلام کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12859

۔ (۱۲۸۵۹)۔ وَعَنْ سَلَامَۃَ ابْنَۃِ الْحُرِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَقُوْلُ: ((اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَوْ فِیْ شِرَارِالْخَلْقِ اَنْ یَتَدَافَعَ اَھْلُ الْمَسْجِدِ لَا یَجِدُوْنَ اِمَامًا یُصَلِّیْ بِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷۹)
سیدہ سلامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیز بھی علاماتِ قیامت سے ہے یا لوگوں کی برائیوں میں سے ہے کہ مسجد والے (سارے لوگ امامت کرانے کے لیے) ایک دوسرے کو آگے دھکیلیں گے، چنانچہ وہ کوئی امام نہیں پائیں گے، جو ان کو نماز پڑھائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12860

۔ (۱۲۸۶۰)۔ وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِیْ اِلَّا قَلِیْلًا حَتّٰییَطْلُعَ فَکُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَیْ ئٌ ذَھَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُہُ حَتّٰییُوْلَدَ فِی الْجَوْرِ مَنْ لَا یَعْرِفُ غَیْرَہُ، ثُمَّ یَاْتِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِالْعَدْلِ فَکُلَّمَا جَائَ مِنَ الْعَدْلِ شَیْئٌ ذَہَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُہٗحَتّٰییُوْلَدَ فِی الْعَدْلِ مَنْ لَّا یَعْرِفُ غَیْرَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۷۴)
سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ عرصہ تک ظلم بندرہے گا، پھر وہ پھیلنا شروع ہوجائے گا اور جس قدر ظلم پھیلے گا، اسی مقدار میں عدل اٹھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جوظلم کے علاوہ کسی اور چیز کو پہنچانتے نہیں ہوں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدل کو لے آئے گا اور جس قدر عدل پھیلتا جائے گا، اسی مقدار میں ظلم اٹھتا جائے گا، یہاں تک ایسے لوگ لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو عدل کے علاوہ کسی اور چیز کو جانتے نہیں ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12861

۔ (۱۲۸۶۱)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذَکَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَھُوَ نَائِمٌ فَاسْتَیْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُہُ، فَقَالَ: ((غَیْرُ ذٰلِکَ اَخْوَفُ لِیْ عَلَیْکُمْ۔)) ذَکَرَ کَلِمَۃً۔ (مسند احمد: ۷۶۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دجال کر ذکر رہے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوگئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ ایک اور چیز کا زیادہ ڈر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بات ذکر کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12862

۔ (۱۲۸۶۲)۔ وَعَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ اَنَّہُ سَمِعَ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَذْکُرُ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مُدَّۃُ اُمَّتِکَ مِنَ الرَّخَائِ؟ فَلَمْ یَرُدُّ عَلَیْہِ شَیْئًا حَتّٰی سَاَلَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، کُلَّ ذٰلِکَ لَا یُجِیْبُہُ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، ثُمَّ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیْنَ السَّائِلُ؟)) فَرَدُّوْہُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: ((لَقَدْ سَاَلْتَنِیْ عَنْ شَیْ ئٍ مَا سَاَلَنِیْ عَنْہُ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِیْ، مُدَّۃُ اُمَّتِیْ مِنَ الرَّخَائِ مِائَۃُ سَنَۃٍ۔)) قَالَھَا مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، فَقََالَ الرَّجُلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! فَہَلْ لِذٰلِکَ مِنْ اَمَارَۃٍ اَوْ عَلَامَۃٍ اَوْ آیَۃٍ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ، اَلْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَاِرْسَالُ الشَّیَاطِیْنِ الْمُجْلَبَۃِ عَلٰی النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۵۱)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کی خوشحالی کتنی مدت تک رہے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، اُدھر اس نے تین مرتبہ اس سوال کو دہرا دیا، پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، وہ آدمی چلا گیا، بعد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا کہ: وہ سائل کہاں ہے؟ صحابہ نے اسے واپس بلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت میں سے کسی نے بھی مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، بات یہ ہے کہ میری امت کی خوشحالی کی مدت ایک سو سال ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ دہرائی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کوئی علامت بھی ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، زمین میں لوگوں کا دھنسنا، زلزلے آنا اورشیطانوں کو چھوڑا جانا، جو لوگوں کے خلاف چہار طرف سے اکٹھے ہو کر آئیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12863

۔ (۱۲۸۶۳)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَایُدْرِکُنِیْ زَمَانٌ اَوْلَاتُدْرِکُوْا زَمَانًا لَایُتْبَعُ فِیْہِ الْعَلِیْمُ وَلَا یُسْتَحْیٰ فِیْہِ مِنَ الْحَلِیْمِ، قُلُوْبُہُمْ قُلُوْبُ الْاَعَاجِمِ وَاَلْسِنَتُہُمْ اَلْسِنَۃُ الْعَرَبِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۶۷)
سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! مجھے ایسا دور نہ پائے یا تم لوگ ایسا زمانہ نہ دیکھو کہ جس میں صاحب ِ علم کی پیروی نہیں کی جائے گی، بردبار اور متحمل مزاج شخص سے شرمایا نہیں جائے گا، اس وقت کے لوگوں کے دل عجمیوں کے دلوں جیسے ہوں گے اور ان کی زبانیں عربوں کی زبانوں جیسی ہوں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12864

۔ (۱۲۸۶۴)۔ وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، مَافُتِحَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الْخَزَائِنِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، مَااُنْزِلَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ یُوْقِظُ صَوِاحِبَ الْحُجَرِ، یَارُبَّ کَاسِیَاتٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَاتٍ فِی الآخِرَۃِ)) (مسند احمد: ۲۷۰۸۰)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات کو بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے، اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر فتنے نازل کر دئیے گئے، کوئی ہے جو جاکر ان حجروں والیوں کو جگائے، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12865

۔ (۱۲۸۶۵)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ عَذَابًا اَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ کَانَ فِیْہِمْ ثُمَّ بُعِثُوْا عَلٰی اَعْمَالِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ عذاب سب لوگوں پر نازل ہوتا ہے، پھر حشر میں لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12866

۔ (۱۲۸۶۶)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَکُوْنُ فِتْنَۃٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ، قَتْـلَاھَا فِی النَّارِ، اَللِّسَانُ فِیْہَا اَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّیِفِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۸۰)
سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ آئے گا جو تمام عربوں کا ستیاناس کر دے گا، اس فتنہ میں قتل ہونے والے لوگ جہنمی ہوں گے، اس فتنہ کے دوران زبان کو استعمال کرنا تلوار کو استعمال کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12867

۔ (۱۲۸۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا قَلِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کے اندھیروں کی طرح پے در پے آنے والے فتنوں سے پہلے پہلے نیک عمل کرلو، ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ ایک آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا، لیکن شام کو کافر ہوچکا ہوگا یا وہ شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی مال کے عوض بیچ ڈالے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12868

۔ (۱۲۸۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا قَلِیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12869

۔ (۱۲۸۶۹)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِیْنَ خَدَّاعَۃً۔))فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ قِیْلَ: وَمَا الرُّوَیْبِضَۃُ؟ قَالَ: ((اَلْفُوَیْسِقُیَتَکَلَّمُ فِیْ اَمْرِ الْعَامَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا دجال سے پہلے بھی ایسے سال آئیں گے کہ جن میں حقائق کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ آگے اوپر والی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے: کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فاسق اور گھٹیا شخص جو عام لوگوں کے امور پر بحث کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12870

۔ (۱۲۸۷۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَاْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِیْ الْمَرْئُ بِمَا اَخَذَ مِنَ الْمَالِ، بِحَلَالٍ اَوْبِحَرَامٍ۔)) (مسند احمد: ۹۸۳۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان مال کے بارے میں یہ پروا نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12871

۔ (۱۲۸۷۱)۔ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ فِي آخِرِ اُمَّتِي رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی سُرُوْجٍ کَاَشْبَاہِ الرِّحَالِ، یَنْزِلُوْنَ عَلٰی اَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ، عَلٰی رُؤُوْسِھِنَّ کَاَسْنِمَۃِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ، اِلْعَنُوْھُنَّ فَاِنَّھُنَّ مَلْعُوْنَاتٌ، لَوْکَانَتْ وَرَائَکُمْ اُمَّۃٌ مِنَ الْاُمَمِ لَخَدَمَھُنَّ نِسَاوُکُمْ ، کَمَاخَدَمَکُمْ نِسَائُ اْلاُمَمِ قَبْلَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے‘ وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں‘ ان پر لعنت کرنا، اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12872

۔ (۱۲۸۷۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْیُحَدِّثُوْنَکُمْ مَالَمْ تَسْمَعُوْا بِہِ اَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُکُمْ فَاِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۲۵۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب آخری زمانہ میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے کہ جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12873

۔ (۱۲۸۷۳)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ اَقْوَامٌ اِخْوَانُ الْعَلَانِیَۃِ اَعْدَائُ السَّرِیْرَۃِ۔)) فَقِیْلَ: یَارََسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَیَکُوْنُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((ذٰلِکَ بِرَغْبَۃِ بَعْضِہِمْ اِلٰی بَعْضٍ وَرَھْبَۃِ بَعْضِہِمْ اِلٰی بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۰۵)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے لوگ ہوںگے، جو بظاہر بھائی بھائی(اورخیر خواہ) دکھائی دیں گے، لیکن باطنی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے بعض کی بعض کی طرف رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ایسا ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12874

۔ (۱۲۸۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗکَانَیَقُوْلُ: کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا لَمْ تَجْتَبُوْا دِیْنَارًاوَلَا دِرْھَمًا؟ فَقِیْلَ لَہُ: وَھَلْ تَرٰی ذٰلِکَ کَائِنًا یَااَبَاھُرَیْرَۃَ؟ فَقَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ! عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوْقِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالُوْا: وَعَمَّ ذَاکَ؟ قَالَ: تُنْتَہَکُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖفَیَشُدُّ اللّٰہُ قُلُوْبَ اَھْلِ الذِّمَّۃِ فَیَمْنَعُوْنَ مَا بِاَیْدِیْہِمْ، وَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ لَیَکُوْنَنَّ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۸۳۶۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے تھے: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہیں (جزیہ کے) دینار و درہم وصول نہیں ہوں گے، کسی نے ان سے پوچھا:اے ابو ہریرہ ! کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ایسا ہوگا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے!یہ تو صادق و مصدوق ہستی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے کہا: ایسا کیوں ہوگا؟ انھوں نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی پاسداری نہیں کی جائے گی، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا اور اس طرح وہ اس چیز کو روک لیں گے، جو ان کے ہاتھ میں ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ انہوںنے یہ بات دو مرتبہ دہرائی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12875

۔ (۱۲۸۷۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنَعَتِ الْعِرَاقُ قَفِیْزَھَا وَدِرْھَمَھَا، وَمَنَعَتِ الشَّامُ مُدَّھَا وَدِیْنَارَھَا۔ وَمُنَعَتَ مِصْرُ اِرْدَبَّہَا وَدِیْنَارَھَا وَعُدْتُّمْ مِنْ حَیْثُ بَدَاْتُمْ وَعُدْتُّمْ مِنْ حَیْثُ بَدَاْتُمْ۔)) یَشْہَدُ عَلٰی ذٰلِکَ لَحْمُ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ وَدَمُہُ۔ (مسند احمد: ۷۵۵۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایک وقت آئے گا) کہ اہل عراق اپنا قفیز اور درہم، شام اپنا مُدّ اور دینار اور مصر اپنا اِرْدَب اور دینار روک لے گا، اور تم وہاں لوٹ جاؤ گے، جہاں سے تم نے ابتدا کی تھی، اور تم وہیں لوٹ جاؤ گے، جہاں سے تمہاری ابتدا ہوئی تھی۔ ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس حقیقت پر گواہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12876

۔ (۱۲۸۷۶)۔ عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: یُوْشِکُ أَھْلُ الْعِرَاقِ اَلَّایُجْبٰی إِلَیْھِمْ قَفِیْزٌ وَلاَ دِرْھَمٌ، قُلْنَا: مِنْ أَیْنَ ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ یَمْنَعُوْنَ ذَاکَ، ثُمَّ قَالَ: یُوْشِکُ أَھْلُ الشَّامِ أَنْ لَّایُجْبٰی إِلَیْھِمْ دِیْنَارٌ وَلَا مُدٌّ، قُلْنَا: مِنْ أَیْنَ ذَاکَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّوْمِ یَمْنَعُوْنَ ذَاکَ، قَالَ: ثُمَّ أَمْسَکَ ھُنَیَّۃً ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُوْنُ فِیْ آخِرِ أُمَّتِیْ خَلِیْفَۃٌیَحْثُوْا الْمَالَ حَثْوًا، لَایَعُدُّہٗ عَدًّا۔)) قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ نَضْرَۃَ وَأَبِیْ الْعَلَائِ: أَتَرَیَانِ أَنَّہٗعُمَرُبْنُعَبْدِالْعَزِیْزِ؟ فَقَالَا: لَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۵۹)
ابونضرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھے‘ انھوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل عراق کی طرف قفیز اور درہم کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انھوں نے کہا: عجم کی طرف سے‘ (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ پھر انھوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل شام کی طرف دینار اور مدّ کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انھوں نے کہا: روم سے (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لئے بات کرنے سے رک گئے اور پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو مال کے چلو بھر بھر کے (لوگوں کو ) دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا ۔ میں نے ابونضرہ اور ابو علاء سے کہا: تمھارا کیا خیال ہے کہ وہ عمر بن عبدالعزیز ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12877

۔ (۱۲۸۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ عَائِذِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْخَوْلَانِیِّ سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَعْلَمُ النَّاسِ بِکُلِّ فِتْنَۃٍ ھِیَ کَائِنَۃٌ فِیْمَا بَیْنِیْ وَ بَیْنَ السَّاعَۃِ، وَمَا ذٰلِکَ اَنْیَّکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثََنِیْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْأً اَسَرَّہُ اِلَیَّ لَمْ یَکُنْ حَدَّثَ بِہِ غَیْرِیْ، وَلٰکِنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ، وَھُوَ یُحَدِّثُ مَجْلِسًا اَنَا فِیْہِ سُئِلَ عَنِ الْفِتَنِ وَھُوَ یَعُدُّ الْفِتَنَ: ((فِیْہِنَّ ثَلَاثٌ لَا یَذَرْنَ شَیْئًا مِنْہُنَّ کَرِیَاحِ الصَّیْفِ مِنْہَا صِغَارٌ، وَمِنْہَا کِبَارٌ۔)) قَالَ حُذَیْفَۃُ: فَذَھَبَ اُولٰئِکَ الرَّھْطُ کُلُّہُمْ غَیْرِیْ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۸۰)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آج سے قیامت تک جتنے فتنے رونما ہوں گے، میں ان کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایسی رازدارانہ چیزیں بتلائی ہوں، جو دوسروں کو بیان نہ کی ہوں، بات یہ ہے کہ ایک محفل میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنوں کے بارے میں پوچھا گیا، میں بھی اس مجلس میں موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتنوں کو شمار کر کے ان کی وضاحت کرنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے تین فتنے ایسے ہوں گے، جو (اپنی سنگینی کی وجہ سے) کسی چیز کو بھی نہیں چھوڑیں گے، بعض فتنے موسم گرما کی آندھیوں کے سے ہوں گے اور بعض چھوٹے ہوں گے اور بعض بڑے۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس محفل میں جتنے لوگ موجود تھے وہ سب وفات پا چکے ہیں، صرف میں زندہ ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12878

۔ (۱۲۸۷۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا ھُوَ کَائِنٌ اِلٰی اَنْ تَقُوْمَ السَّاعَۃُ، فَمَا مِنْہُ شَیْئٌ اِلاَّ قَدْ سَاَلْتُہُ اِلَّا اَنِّیْ لَمْ اَسْاَلْہُ مَا یُخْرِجُ اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۷۰)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ نے مجھے قیامت تک رونما ہونے والے (اہم واقعات اور فتنوں) سے آگاہ فرمایا ہے، میں آپ سے اس قسم کی ہر چیز کے بارے میں پوچھ چکا ہوں، البتہ میں یہ نہ پوچھ سکا کہ کون سی چیز مدینہ کے لوگوںکو مدینہ سے باہر نکالے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12879

۔ (۱۲۸۷۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقَامًا فَمَا تَرَکَ شَیْأًیَکُوْنُ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اِلَّا ذَکَرَہُ فِیْ مَقَامِہِ ذٰلِکَ حَفِظَہُ مَنْ حَفِظَہُ وَنَسِیَہُ مَنْ نَسِیَہُ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: فَاِنِّیْ لَاَرٰی اَشْیَائَ قَدْ کُنْتُ نَسِیْتُہَا، فَاَعْرِفُہَا کَمَا یَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْہَ الرَّجُلِ قَدْ کَانَ غَائِبًا عَنْہُ یَرَاہُ فَیَعْرِفُہُ، قَالَ وَکِیْعٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) مَرَّۃً: فَرَآہُ فَعَرَفَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۳)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قیامت تک ہونے والے ہر واقعہ کا ذکر فرما دیا، یاد رکھنے والوں نے ان کو یاد رکھا اور بھلا دینے والوں نے بھلا دیا، میں خود بھی بہت سی ایسی اشیاء دیکھتا ہوں، جو مجھے بھول گئی تھیں، لیکن وہ دیکھنے سے مجھے یاد آ جاتی ہیں، جیسے ایک آدمی جب غائب ہو جانے والے (اور بھول جانے والے) آدمی کو دیکھتا ہے تو وہ اسے پہنچان لیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12880

۔ (۱۲۸۸۰)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ (ابْنِ الْیَمَانِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ کُنَّا فِیْ شَرٍّ فَذَھَبَ اللّٰہُ بِذٰلِکَ الشَّرِّ وَجَائَ بِالْخَیْرِ عَلٰییَدَیْکَ فَہَلْ بَعْدَ الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: مَاھُوَ؟ قَالَ: ((فِتَنٌ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا، تَأْتِیْکُمْ مُشْتَبِہَۃً کَوُجُوْہِ الْبَقَرِ لَا تَدْرُوْنَ اَیًّا مِنْ اَیٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۱۷)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کفر کے شرّ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے اس شرّ کو ختم کر دیا اور آپ کے ہاتھوں پر خیر(اور دینِ اسلام) کو لے آیا، اب سوال یہ ہے کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ آئے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوںنے پوچھا: وہ کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فتنے ہوں گے، جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح پے در پے آئیں گے اور وہ گائیوں کے چہروں کی طرح ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں گے اورتم ان میں امتیاز نہیں کر سکو گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12881

۔ (۱۲۸۸۱)۔ وَعَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: لَمَّا جَلَسْنَا اِلَیْہِ اَمْسِ سَاَلَ اَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ؟ فَقَالُوْا: نَحْنُ سَمِعْنَاہُ، قَالَ: لَعَلَّکُمْ تَعْنُوْنَ فِتْنَۃَ الرَّجُلِ فِیْ اَھْلِہِ وَمَالِہِ؟ قَالُوْا: اَجَلْ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ تِلْکَ اَسْاَلُ، تِلْکَ یُکَفِّرُھَا الصَّلَاۃُ وَالصِّیَامُ وَالصَّدَقَۃُ، وَلٰکِنْ اَیُّکُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتَنِ الَّتِیْ تَمُوْجُ مَوْجَ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَاَمْسَکَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ اَنَّہُ اِیَّایَیُرِیْدُ، قَالَ: قُلْتُ: اَنَا، قَالَ لِیْ: اَنْتَ لِلّٰہِ اَبُوْکَ، قَالَ: قُلْتُ: تُعْرُضُ الْفِتَنُ عَلَی الْقُلُوْبِ عَرْضَ الْحَصِیْرِ، فَاَیُّ قَلْبٍ اَنْکَرَھَا نُکِتَتْ فِیْہِ نُکْتَۃٌ بَیْضَائُ، وَاَیُّ قَلْبٍ اُشْرِبَھَا نُکِتَتْ فِیْہِ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ حَتّٰییَصِیْرَ الْقَلْبُ عَلٰی قَلْبَیْنِ، اَبْیَضَ مِثْلَ الصَّفَا لَا یَضُرُّہُ فِتْنَۃٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ، وَالآخَرُأَسْوَدُ مِرْبَدٌ کَالْکُوْزِ مُجَخَّیًا وَأَمَالَ کَفَّہُ لَایَعْرِفُ مَعْرُوْفًا وَلَا یُنْکِرُ مُنْکَرًا اِلَّا مَااُشْرِبَ مِنْ ھَوَاہُ، وَحَدَّثْتُہُ وَبَیْنَہَا بَابًا مُغْلَقًا یُوْشِکُ اَنْ یُکْسَرَ کَسْرًا قَالَ عُمَرُ: کَسْرًا؟ لَا اَبًا لَکَ، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَوْ اَنَّہُ فُتِحَ کَانَ لَعَّلَہٗاَنْیُعَادَ فَیُغْلَقَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا بَلْ کَسْرًا، قَالَ وَحَدَّثْتُہٗاَنَّذٰلِکَالْبَابَرَجُلٌیُقْتَلُ اَوْیَمُوْتُ۔)) حَدِیْثًا لَیْسَ باِلْاَغَالِیْطِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۳۳)
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے آئے تو انہوں نے کہا: کل جب ہم ان کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے صحابہ سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنوں کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی احادیث سنی ہیں۔ انہوںنے کہا: شاید تم میرے سوال سے یہ سمجھ رہے ہو کہ میں انسان کے اہل وعیال اور مال کے فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، ہم تو یہی سمجھے ہیں۔ انہوںنے کہا: میں اس کے بارے میں نہیںپوچھ رہا، ایسے فتنوں کو تو نماز، روزہ اور صدقہ جیسی نیکیاں ختم کر دیتی ہیں،یہ بتلاؤ کہ کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان فتنوں کے متعلق سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح آئیں گے؟ ان کا یہ سوال سن کر لوگ خاموش ہوگئے۔ میں سمجھا کہ وہ مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں، اس لیے میں نے کہا: میں بیان کروں؟ انھوں نے کہا:اللہ تمہارے باپ کا بھلا کرے، تم ہی بیان کر دو، میںنے کہا کہ چٹائی کے پھیلاؤ کی طرح فتنے رونما ہوں گے، جو دل ان فتنوں سے محفوظ رہا اس میں سفید نقطہ لگادیا جائے گا اور جو دل اس فتنے میں ملوث ہوگیا اس میں سیاہ نقطہ لگادیا جائے گا، یہاں تک کہ نقطے لگتے لگتے دل دو قسم کے ہوجائیں گے، کچھ دل تو پتھر کی طرح بالکل سفید ہو جائیں گے، جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے ان کو کوئی فتنہ بھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا اور کچھ سیاہ ہو کر کوزے کی مانند اس طرح الٹ جائیں گے، اس کے ساتھ ہی انھوںنے اپنی ہتھیلی کو الٹا کر بات کو واضح کیا، وہ کسی اچھائی کو اچھائی اور برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے اورصرف اپنی خواہشات میںمگن ہوں گے۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںنے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بھی بیان کیا کہ آپ کو ان فتنوں سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ کے اور ان کے مابین ایک بند دروازہ ہے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اسے زور سے توڑ دیا جائے، یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تمہارا باپ نہ رہے، کیا اسے توڑ ڈالا جائے گا؟ میں نے کہا جی ہاں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر اسے سیدھی طرح کھول دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ کسی وقت بند بھی ہوجائے۔ میںنے کہا: اسے کھولا نہیں جائے گا، بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ نیز میں نے ان کو یہ بھی بیان کیا کہ اس دروازے سے مراد ایک انسان ہے جو قتل کیا جائے گا یا وہ اپنی طبعی موت مرے گا، یہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث ہے، محض کہانیاں نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12882

۔ (۱۲۸۸۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثََنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ عَنِ الْاَعْمَشِ حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ قَالَ: سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ وَوَکِیْعٌ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ شَقِیْقٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ وَقَالَ: سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: اَیُّکُمْیَحْفَظُ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْفِتْنَۃِ؟ قُلْتُ: اَنَا، کَمَا قَالَہُ، قَالَ: اِنَّکَ لَجَرِیْئٌ عَلَیْہَا اَوْعَلَیْہِ، قُلْتُ: فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِیْ اَھْلِہِ وَمَالِہِ وَوَلَدِہٖوَجَارِہِیُکَفِّرُھَا الصَّلَاۃُ وَالصَّدَقَۃُ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ۔ قَالَ: لَیْسَ ہٰذَا اُرِیْدُ وَلٰکِنِ الْفِتْنَۃُ الَّتِیْ تَمُوْجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ، قُلْتُ: لَیْسَ عَلَیْکَ مِنْہَا بَاْسٌ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنَّ بَیْنَکَ وَبَیْنَہَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: اَیُکْسَرُ اَوْ یُفْتَحُ؟ قُلْتُ: بَلْ یُکْسَرُ، قَالَ: اِذًا لاَ یُغْلَقُ اَبَدًا، قُلْنَا: اَکَانَ عُمَرُ یَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ، کَمَا یَعْلَمُ اَنَّ دُوْنَ غَدٍ لَیْلَۃً، قَالَ وَکِیْعٌ فِیْ حَدِیْثِہِ: قَالَ: فَقَالَ مَسْرُوْقٌ لِحُذَیْفَۃَ: یَا اَبَا عَبْدِاللّٰہِ کَانَ عُمَرُ یَعْلَمُ مَا حَدَّثْتَہُ بِہٖ؟قُلْنَا: اَکَانَعُمَرُیَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ کَمَا یَعْلَمُ اَنَّ دُوْنَ غَدٍ لَیْلَۃً، اِنِّیْ حَدَّثْتُہُ لَیْسَ بِالْاَغَالِیْطِ، فَہِبْنَا حُذَیْفَۃَ اَنْ نَسْاَلَہُ مَنِ الْبَابُ فَاَمَرْناَ مَسْرُوْقًا فَسَاَلَہُ فَقَالَ: اَلْبَابُ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۰۴)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوںنے سوال کیا کہ کیا تم میںسے کسی کو فتنوں کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث یا دہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، مجھے فتنہ کے متعلق حدیث یاد ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فتنہ کے بارے میں احادیث بیان کرنے میں تم جرأت والے ہو۔ میں نے کہا: انسان اپنے اہل و عیال، مال و اولاد اور ہمسایوں کے بارے میں جتنے فتنوں میں مبتلا ہوتا ہے، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے منع کرنے جیسی نیکیاں ایسے فتنوں کا کفارہ بنتی رہتی ہیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ایسے فتنے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، میرا سوال تو اس فتنے کے بارے میں ہے جو سمندر کی موج کی طرح آئے گا۔ میںنے کہا: اے امیر المومنین ! آپ کو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: بلکہ اسے توڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا: پھر تو وہ کبھی بھی بند نہ ہو سکے گا۔ ہم نے سیدنا حذیفہ سے دریافت کیا کہ آیا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ علم تھا کہ دروازہ سے مراد کون آدمی ہے؟ انہوںنے کہا:جی ہاں، وہ اس دروازے کو اس طرح جانتے تھے، جیسے وہ یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ وکیع نے اپنی حدیث میں یوں بیان کیا: مسروق نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو کچھ بیان کیا، آیا وہ اس کی حقیقت اور مفہوم کو جانتے تھے؟ جبکہ ہم نے کہا: آیا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جانتے تھے کہ یہ دروازہ کون ہے؟ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ وہ اس بات کو اس طرح جانتے تھے جیسے ان کو یہ علم تھا کہ کل سے پہلے رات آئے گی، یاد رکھو کہ میں نے یہ حقائق بیان کیے ہیں، یہ محض کہانیاں نہیں ہیں۔ پہلے تو ہم سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ پوچھنے کی جسارت نہ کر سکے کہ دروازہ سے مراد کون ہے؟ پھر ہم نے مسروق سے کہا کہ وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھے، سو جب اس نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا تو انھوں نے بتلایا کہ اس دروازہ سے مراد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12883

۔ (۱۲۸۸۳)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُحْصُوْا لِیْ کَمْ یَلْفِظُ الاِْسْلَامَ۔)) قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَخَافُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ مَابَیْنَ السِّتِّمِائَۃِ اِلَی السَّبْعِمِائَۃِ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ لَا تَدْرُوْنَ لَعَلَّکُمْ اَنْ تُبْتَلُوْا۔)) قَالَ: فَابْتُلِیْنَا حَتّٰی جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لاَ یُصَلِّیْ اِلاَّ سِرًّا۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۸)
سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کو شمار کرو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہماری تعداد چھ سو سے سات سوکے درمیان ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے کہ تم پر آزمائشیں آ پڑیں۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہمیں اس طرح آزمایا گیا کہ آدمی کو نماز بھی چھپ چھپ کر ادا کرنا پڑی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12884

۔ (۱۲۸۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ ثَوْرٍ قَالَ: بَعَثَ عُثْمَانُ یَوْمَ الْجَرَعَۃِ بِسَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ ،قَالَ: فَخَرَجُوْا اِلَیْہِ فَرَدُّوْہٗقَالَ: فَکُنْتُقَاعِدًامَعَاَبِیْ مَسْعُوْدٍ وَحُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ اَبُوْمَسْعُوْدٍ: مَا کُنْتُ اَرٰی اَنْ یَّرْجِعَ لَمْ یُہْرِقْ فِیْہِ دَمًا، قَالَ: فَقَالَ حُذَیْفَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَلٰکِنْ قَدْعَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلٰی عُقَیْبِہَا لَمْ یُھْرِقْ فِیْہَا مَحْجَمَۃَ دَمٍ وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا اِلَّا شَیْئًا عَلِمْتُہُ وَمُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیٌّحَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ لَیُصْبِحُ مُؤْمِنًا ثُمَّ یُمِْسیْ، مَامَعَہٗمِنْہُشَیْئٌ، وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ، مَامَعَہٗمِنْہُشَیْئٌ،یُقَاتِلُ فِئَتُہٗالْیَوْمَ وَیَقْتُلُہُ اللّٰہُ غَدًا، یُنَکِّسُ قَلْبَہٗ،تَعْلُوْہُاِسْتُہُ۔قَالَ: فَقُلْتُ: اَسْفَلُہُ،قَالَ: اِسْتُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۳۸)
ابوثور کہتے ہیں: امیرالمومنین سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جرعہ کے فتنہ کے موقعہ پر سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے روانہ کیا، لوگ ان کے مقابلے کے لیے نکلے اور ان کو واپس بھگا دیا۔ ابوثور کہتے ہیں: میں سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا تھا، سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ خون بہائے بغیر یوں ہی واپس پلٹ آئیں گے، ان کی بات سن کر سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تو اس بات کو یقینی طور پر جانتا تھا کہ یہ لوگ یونہی واپس پلٹ آئیں گے اور جتنا خون سینگی لگوانے میں نکلتا ہے، اس مہم میں اتنا خون بھی نہیں بہایا جائے گا اور مجھے اس بات کا اس وقت علم ہو گیا تھا، جب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حیات تھے، (ایسی صورتحال بھی پیدا ہو گی کہ ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا، لیکن جب شام ہوگی تو اس کے پاس اس ایمان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، اسی طرح ایک آد می ایمان کی حالت میں شام کرے گا، مگر صبح کے وقت اس کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہوگی، اس کا لشکر آج کسی کے ساتھ قتال کرے گا اور اگلے دن اللہ تعالیٰ اسی کو قتل کردے گا، اس کے دل کو یوں الٹ پلٹ کرے گا کہ اس کی دبر اس کی اوپر کی جانب ہوگی۔ میں نے کہا: اس کی نچلی جانب؟ اس نے جواب دیا: اس کی دبر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12885

۔ (۱۲۸۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَکُوْنُ السَّنَۃُ کَالشَّہْرِ، وَیَکُوْنُ الشَّہْرُ کَالْجُمُعَۃِ، وَتَکُوْنُ الْجُمُعَۃُ کَالْیَوْمِ، وَیَکُوْنُ الْیَوْمُ کَالسَّاعَۃِ، وَتَکُوْنُ السَّاعَۃُ کَاِحْتِرَاقِ السَّعَفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۵۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ زمانہ اس قدرمختصر نہیں ہوجائے گا کہ ایک سال ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک ہفتے کے برابر، ایک ہفتہ ایک دن کے برابر،ایک دن ایک گھڑی کے برابراور ایک گھڑی اس لمحے کے برابر ہو جائے گی، جس میں کھجور کا خشک پتہ جل جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12886

۔ (۱۲۸۸۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَیُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْہَرُ الْفِتَنُ وَیَکْثُرُ الْھَرْجُ۔)) قَالَ: قَالُوْا: اَیُّمَایَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۸۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) وقت مختصر ہوجائے گا، کنجوسی عام ہوجائے گی، فتنے عام ہو جائیں گے اور ھَرْج عام ہوجائے گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مؤخر الذکر سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: قتل ہو گا، قتل۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12887

۔ (۱۲۸۸۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَکْثُرَ فِیْکُمُ الْمَالُ وَیَفِیْضَ حَتّٰییَہُِمَّ رَبُّ الْمَالِ مَنْ یَّقْبَلُ مِنْہٗصَدَقَتَہٗقَالَ: وَیُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَیَقْتَرِبُ الزَّمَانُ، وَتَظْہَرُ الْفِتَنُ، وَیَکْثُرُ الْھَرْجُ۔)) قَالُوْا: اَلْھَرْجُ اَیُّمَا ھُوَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۸۱۲۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہوگی جب تمہارے اندر مال و دولت اس قدر عام ہوجائے گا کہ مال دار آدمی اس وجہ سے پریشان ہوجائے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا اور علم چھین لیا جائے گا، وقت مختصر ہوجائے گا، فتنے برپا ہوں گے اور ھَرْج عام ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا: قتل ہے، قتل۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12888

۔ (۱۲۸۸۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ اَبُوالْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَتَظْہَرَ الْفِتَنُ، وَیَکْثُرَ الْھَرْجُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الْھَرْجُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۷۴۸۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم ہوگی جب علم چھین لیا جائے گا، فتنے نمودار ہوں گے اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12889

۔ (۱۲۸۸۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَیَقُوْلُ: یَالَیْتَنِیْ مَکَانَہٗمَابِہٖحُبُّلِقَائِاللّٰہِعَزَّوَجَلَّ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۷۸)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس قسم کے حالات پیدا نہ ہوجائیں گے کہ ایک آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا: کاش میں اس کی جگہ پر ہوتا، یہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق کی وجہ سے نہیں ہو گا (بلکہ حالات کی سنگینی کی بنا پر ہو گا)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12890

۔ (۱۲۸۹۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَضْطَرِبَ اَلْیَاتُ نِسَائِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِی الْخَلَصَۃِ وَکَانَتْ صَنَمًا یَعْبُدُھَا دَوْسٌ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ بِتَبَالَۃَ۔)) (مسند احمد: ۷۶۶۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دوس قبیلے کی عورتیں کے چوتڑ ذُوْالْخَلَصَۃ نامی بت کے گرد چکر لگاتے ہوئے حرکت نہیں کریں گے، یہ (یمن کے علاقے میں) تَبَالَہ کے مقام پر ایک بت تھا،دوس قبیلے کے لوگ اسلام سے قبل اس کی عبادت کیا کرتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12891

۔ (۱۲۸۹۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَاْخُذَ اُمَّتِیْ بِمَاْخَذِ الْاُمَمِ وَالْقُرُوْنِ قَبْلَہَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّوْمُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَھَلِ النَّاسُ اِلَّا اُولٰئِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک میری امت ہو بہو پہلی امتوں اور لوگوں والے کام نہیں کرے گی؟ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جس طرح فارسی اور رومی لوگوں کے کام تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں سے مراد ہی یہی لوگ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12892

۔ (۱۲۸۹۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَعُوْدَ اَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوْجًا وَاَنْہَارًا وَحَتّٰییَسِیْرَ الرَّاکِبُ بَیْنَ الْعِرَاقِ وَمَکَّۃَ لَایَخَافُ اِلَّا ضَلَالَ الطَّرِیْقِ، وَحَتّٰییَکْثُرَ الْھَرْجُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الْھَرْجُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۱۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی, جب تک عربوں کی سر زمین سبزہ زاروں اور نہروں کی صورت اختیار نہیں کر لے گی اور جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ عراق سے مکہ تک سفر کرنے والے کو صرف راستہ بھول جانے کا ڈر ہو گا اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12893

۔ (۱۲۸۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَفِیْضَ فِیْکُمُ الْمَالُ وَحَتّٰییَہُمَّ الرَّجُلُ بِمَالِہِ مَنْ یَّقْبَلُہُ مِنْہُ حِیْنَیَتَصَدَّقُ بِہٖفَیَقُوْلُ الَّذِیْیَعْرِضُ عَلَیْہِ: لَا اَرَبَ لِیْ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۷۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ تمہارے اندر مال و دولت کی اس قدرفراوانی نہ ہوجائے گی کہ مال دار آدمی صدقہ کرتے وقت پریشان ہوگا کہ وہ کسے دے، اور وہ جسے دے گا، وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12894

۔ (۱۲۸۹۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتَتِلُ فِئَتَانِ عَظِیْمَتَانِیَکُوْنُ بَیْنَہُمَا مَقْتَلَۃٌ عَظِیْمَۃٌ وَدَعْوَاھُمَا وَاحِدَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۷۶)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دو بڑے گرہوں کے درمیان بڑی جنگ نہ ہو جائے اور دونوں کا دعوی بھی ایک ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12895

۔ (۱۲۸۹۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا خُوْزَ وَ کِرْمَانَ، قَوْمًا مِنَ الْاَعَاجِمِ، حُمْرَ الْوُجُوْہِ فُطْسَ الْاُنُوْفِ، کَاَنَّ وُجُوْھَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۸۲۲۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاـ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم دو عجمی قوموں خوز اور کرمان سے قتال نہیں کرو گے، جن کے چہرے سرخ اور ناک چپٹے ہوں گے، اور ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12896

۔ (۱۲۸۹۶)۔ وَعَنْہٗاَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا اَقْوَامًا نِعَالُھُمُ الشَّعْرُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۷۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کرو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12897

۔ (۱۲۸۹۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا التُّرْکَ صِغَارَ الْعُیُوْنِ حُمْرَ الْوُجُوْہِ، ذُلْفَ الْاُنُوْفِ، کَاَنَّ وُجُوْھَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۷۳)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ترکوں سے قتال نہیں کرو گے، جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناک چپٹے ہوں گے اور گویا ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چوڑے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12898

۔ (۱۲۸۹۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَیُؤْمِنُ النَّاسُ اَجْمَعُوْنَ، فَیَوْمَئِذٍ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا، لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا، وَلَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوا الْیَہُوْدَ فَیَفِرُّ الْیَہُوْدِیُّ وَرَائَ الْحَجَرِ، فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! یَا مُسْلِمُ! ہٰذَا یَہُوْدِیٌّ وَرَائِیْ، وَلَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تُقَاتِلُوْا قَوْمًا نِعَالُھُمُ الشَّعْرُ۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو، اور اس علامت کو دیکھ کر سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر جو لوگ اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکے ہوں گے یا جنھوں نے اچھے عمل نہیں کیے ہوں گے، ان کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہودیوں سے قتال نہیں کر لو گے، یہودی بچنے کے لیے دوڑ کر پتھر کے پیچھے پناہ لے گا، لیکن وہ پتھر یوں بولے گا: اے اللہ کے بندے! اے مسلم! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کر لو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12899

۔ (۱۲۸۹۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗرَسُوْلُاللّٰہِ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس کے قریب جھوٹے دجال پیدا نہیں ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12900

۔ (۱۲۹۰۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَتَبَاھَی النَّاسُ فِی الْمَسَاجِدِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۰۶)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک لوگ مساجد کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہیں کرنے لگیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12901

۔ (۱۲۹۰۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًایَرْفَعُ الْحَدِیْثَ قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُرْفَعَ الْعِلْمُ وَیَظْہَرَ الْجَہْلُ وَیَقِلَّ الرِّجَالُ وَیَکْثُرَ النِّسَائُ حَتّٰییَکُوْنَ قَیِّمَ خَمْسِیْنَ اِمْرَاَۃً رَجُلٌ وَاحِدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۶۶)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ علم اٹھ جائے گا،جہالت عام ہوجائے گی، مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ پچاس پچاس عورتوں پر ایک ایک مرد نگران ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12902

۔ (۱۲۹۰۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا وَلَا تُنْبِتُ الْاَرْضُ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۹۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ لوگوں پر بھرپور اور عام بارش نہیں برسے گی، لیکن زمین کوئی چیز نہیں اگائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12903

۔ (۱۲۹۰۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی لَایُقَالَ فِی الْاَرْضِ: اَللّٰہُ اَللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۱۳)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ، اللہ کہنا ختم نہ ہو جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12904

۔ (۱۲۹۰۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُلْتَمَسَ الرَّجُلُ مِنْ اَصْحَابِیْ کَمَا تُلْتَمَسَ الضَّالَّۃُ فَلَا یُوْجَدُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۰)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ میرے صحابہ میں سے ایک آدمی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا، جیسے گم شدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے، لیکن وہ آدمی ملے گا نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12905

۔ (۱۲۹۰۵)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَاْخُذَ اللّٰہُ شَرِیْطَتَہٗ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ فَیَبْقٰی فِیْہَا عُجَاجَۃٌ لَایَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا وَلَا یُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا۔)) (مسند احمد: ۶۹۶۴)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین میں اپنی شرط پوری نہیں کر لے گا،پھر صرف ایسے ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے ،جن کو نہ نیکی کی معرفت ہو گی اور نہ وہ برائی کو برا سمجھیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12906

۔ (۱۲۹۰۶)۔ وَعَنْ عَلْبَائَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّاعَلٰی حُثَالَۃِ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۶۸)
سیدنا علباء سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت صرف انتہائی رذیل اور گھٹیا لوگوں پر قائم ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12907

۔ (۱۲۹۰۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتُلُوْا اِمَامَکُمْ وَتَجْتَلِدُوْا بِاَسْیَافِکُمْ، وَیَرِثُ دِیَارَکُمْ شِرَارُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۱)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک تم اپنے امام کو قتل نہیں کر وگے اور اپنی تلواریں نہیں نکال لو گے اور تم میں سے بد ترین لوگ تمہارے حکمران نہیں بن جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12908

۔ (۱۲۹۰۷)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتُلُوْا اِمَامَکُمْ وَتَجْتَلِدُوْا بِاَسْیَافِکُمْ، وَیَرِثُ دِیَارَکُمْ شِرَارُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ درندے انسانوں سے کلام کریں، انسان کی لاٹھی کا سرا اور جوتے کا تسمہ اس سے ہم کلام ہو اور انسان کی ران اسے وہ کچھ بتلائے جو اس کے بعد اس کے اہل خانہ نے کیا ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12909

۔ (۱۲۹۰۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ قَوْمٌ یَاْکُلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ کَمَا تَاْکُلُ الْبَقَرُ بِاَلْسِنَتِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۷)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسے لوگ ظاہر نہیں ہوں گے۔ جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12910

۔ (۱۲۹۱۰)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا عَلٰی شِرَارِ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۳۷۳۵)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت صرف بد ترین لوگوں پر قائم ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12911

۔ (۱۲۹۱۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ شِرَارَ النَّاسِ مَنْ تُدْرِکُہُ السَّاعَۃُ وَھُمْ اَحْیَائٌ وَمَنْ یَّتَّخِذُ الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۴۱۴۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بد ترین لوگ وہ ہیں، جن کو قیامت زندہ پا لے گی، (یعنی جن پر قیامت قائم ہو گی) اور وہ جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12912

۔ (۱۲۹۱۲)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَکُوْنَ اَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْیَا لُکَعُ بْنُ لُکَعَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۲)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی،جب تک کہ کمینہ بن کمینہ کو لوگوں میں معزز ترین نہیں سمجھا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12913

۔ (۱۲۹۱۳)۔ وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارِ الْمُزَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْعَمَلُ فِی الْھَرْجِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَلْعِبَادَۃُ فِی الْفِتْنَۃِ، کَھِجْرَۃٍ اِلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۶۴)
سیدنا معقل بن یسار مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل و غارت گری کے دنوں میں عمل کرنا اور ایک روایت کے مطابق فتنوں کے دور میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی مانند ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12914

۔ (۱۲۹۱۴)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ اُرَاہُ قَالَ: ((قَدْ یَذْھَبُ فِیْہاَ النَّاسُ اَسْرَعَ ذِھَابٍ۔)) قَالَ: فَقِیْلَ: اَکُلُّہُمْ ھَالِکٌ اَمْ بَعْضُہُمْ؟ قَالَ: ((حَسْبُہُمْ اَوْ بِحَسْبِہِمُ الْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۷)
سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اندھیری رات کے اندھیروں کی طرح کے فتنوں کا ذکر کیا، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: ان فتنوں میں لوگ بہت جلدی ختم ہو جائیں گے۔ کسی نے پوچھا: آیا وہ سب ہلاک ہونے والے ہوں گے یا ان میں سے بعض؟ آپ نے فرمایا: ان کو قتل ہی کافی ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12915

۔ (۱۲۹۱۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) وَاَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اَیَّامًایَنْزِلُ فِیْہَا الْجَہْلُ وَیُرْفَعُ فِیْہَا الْعِلْمُ وَیَکْثُرُ فِیْھَاالْھَرْجُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْھَرْجُ؟ قَالَ: ((اَلْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۹۵)
سیدنا ابو وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدناابوموسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے قبل ایسا زمانہ ہو گا کہ اس میں جہالت عام ہو گی، علم اٹھ جائے گا اور ھَرْج عام ہوجائے گا۔ ہم نے پوچھا: ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12916

۔ (۱۲۹۱۶)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ السَّاعَۃِ: فَقَالَ: ((عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ لَا یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا اِلَّا ھُوَ، وَلٰکِنْ اُخْبِرُکُمْ بِمَشَارِیْطِہَا وَمَا یَکُوْنُ بَیْنَیَدَیْہَا، اِنَّ بَیْنَیَدَیْہَا فِتْنَۃً وَھَرْجًا۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلْفِتْنَۃُ قَدْ عَرَفْنَاھَا، فَالْھَرْجُ مَا ھُوَ؟ قَالَ: ((بِلِسَانِ الْحَبْشَۃِ الْقَتْلُ وَیُلْقٰی بَیْنَ النَّاسِ التَّنَاکُرُ فَلَا یَکَادُ اَحَدٌ اَنْ یَعْرِفَ اَحَدًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۵)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کا علم تو میرے رب کے پاس ہے،وہ اس کو اس کا وقت ہونے پر ظاہر کرے گا، البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامتیں اور اس سے پہلے کیا ہو گا، وہ بیان کر دیتا ہوں، قیامت سے پہلے فتنے ظاہر ہوں گے اور ھرج ہوگا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! فتنوں کا مفہوم تو ہم سمجھتے ہیں، ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں اور (تیسری علامت یہ ہے کہ) لوگوں میں ایک دوسرے سے اس قدر بے اعتنائی اور لاپروائی آجائے گی کہ کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12917

۔ (۱۲۹۱۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَزْرَۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ اَمِیْرُ ْالْمُؤْمِنِیْنَ (یَعْنِیْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) حِیْنَ اَلْقَی الشَّامُ بَوَانِیَہٗ بَثْنِیَۃً وَعَسَلًا، فَاَمَرَنِیْ اَنْ اَسِیْرَ اِلَی الْھِنْدِ وَالْھِنْدُ فِیْ اَنْفُسِنَا یَوْمَئِذٍ اَلْبَصْرَۃُ، قَالَ: وَاَنَا لِذٰلِکَ کَارِہٌ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لِیْ: یَا اَبَا سُلَیْمَانَ! اِتَّقِ اللّٰہَ فَاِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَہَرَتْ، قَالَ: فَقَالَ: وَابْنُ الْخَطَّابِ حَیٌّ، اِنَّمَا تَکُوْنُ بَعْدَہٗوَالنَّاسُبِذِیْ بِلِّیَانِ بِمَکَانٍ کَذَا وَکَذَا، فَیَنْظُرُ الرَّجُلُ فَیَتَفَکَّرُ ھَلْ یَجِدُ مَکَانًا لَمْ یَنْزِلْ بِہٖمِثْلُمَانَزَلَبِمَکَانِہِالَّذِیْ ھُوَ فِیْہِ مِنَ الْفِتْنَۃِ وَالشَّرِّ فَلاَ یَجِدُہُ، قَالَ: وَتِلْکَ الْاَیَّامُ الَّتِیْ ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ اَیَّامَ الْھَرْجِ، فَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ تُدْرِکَنَا وَاِیَّاکُمْ تِلْکَ الْاَیَّامُ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۴۴)
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ارضِ شام نے گندم اور شہد سمیت اپنی برکتوں کو ہمارے سامنے پیش کیا تو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ہند کی طرف روانگی کا حکم دیا، ان دنوں ہم ہند سے بصرہ مراد لیا کرتے تھے، میں اس چڑھائی کو ناپسند کر رہا تھا، اتنے میں ایک آدمی نے اٹھ کر مجھ سے کہا: ابو سلیمان! اللہ سے ڈرو، فتنوں کا ظہور ہوچکا ہے، اُدھر سے ایک آدمی نے کہا: ابھی فتنوں کا ظہور نہیں ہوا، کیونکہ ابن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ زندہ ہیں، فتنے ان کے بعد ہوں گے، (اور فتنوں کے دور میں) جب لوگ (یمن سے پرے واقع) بلیان کے مقام پرہوں گے، پھر آدمی ارد گرد کے حالات کو دیکھ کر غور کر ے گاکہ آیا کوئی ایسی جگہ بھی ہے، جہاں اس جگہ جیسے فتنے نہ ہوں، تو اسے کوئی ایسی پر سکون جگہ نہ ملے گی، بس یہی وہ زمانہ ہے، جس کے متعلق رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت سے پہلے قتل ِ عام ہوگا، اور ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ایسا زمانہ ہمیں اور تمہیں پائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12918

۔ (۱۲۹۱۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّعَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَلِیَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ بَیْتِیْیُوَاطِیئُ اِسْمُہٗاِسْمِیْ۔)) قَالَ اَبِیْ: حَدَّثَنَا بِہٖفِیْ بَیْتِہِ فِیْ غُرْفَتِہِ اُرَاہٗسَاَلَہٗبَعْضُوَلَدِجَعْفَرِبْنِیَحْیٰی اَوْ یَحْیَی بْنِ خَالِدِ بْنِ یَحْیٰی۔ (مسند احمد: ۳۵۷۱)
سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میرے اہل بیت کا ایک آدمی حکمران نہیں بنے گا، وہ میرا ہم نام ہوگا۔ امام احمد نے کہا: سفیان بن عینیہ نے ہمیں یہ حدیث اپنے گھر کے ایک کمرے میں اس وقت بیان کی، جب جعفر بن یحییٰ یا یحییٰ بن خالد کے ایک بیٹے نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12919

۔ (۱۲۹۱۹)۔ وَعَنْہُ (اَیْ اِبْنِ مَسْعُوْدٍ) بِلَفْظٍ آخَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَنْقَضِی الْاَیَّامُ، وَلَایَذْھَبُ الدَّھْرُ حَتّٰییَمْلِکَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ بَیْتِیْ، اِسْمُہٗیُوَاطِیئُ اِسْمِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۷۲)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایام اور یہ زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا،جب تک میرے اہل بیت کا ایک ایسا آدمی عرب کی سرزمین کا حکمران نہیں بنے گا، جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12920

۔ (۱۲۹۲۰)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَمْ یَبْقَ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا یَوْمٌ لَبَعَثَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ رَجُلًا مِنَّا یَمْلَؤُھَا عَدْلاً کَمَامُلِئَتْ جَوْرًا۔)) (مسند احمد: ۷۷۳)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگردنیا کا صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو توپھر بھی اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک آدمی کو بھیجے گا، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ وہ اس سے پہلے ظلم و عدوان سے بھری ہوئی ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12921

۔ (۱۲۹۲۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَمْلِکَ رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِ بَیْتِیْ اَجْلٰی اَقْنٰییَمْلَاُ الْاَرْضَ عَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ قَبْلَہُ ظُلْمًا یَکُوْنُ سَبْعَ سِنِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۷)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میرے اہل بیت کا ایک آدمی برسرِاقتدار نہیں آجائے گا، وہ انتہائی خوبصورت اونچے ناک والا ہوگا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا، جیسے یہ اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی، وہ سات برس ٹھہرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12922

۔ (۱۲۹۲۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: خَشِیْنَا اَنْ یَکُوْنَ بَعْدَ نَبِیِّنَا حَدَثٌ فَسَاَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فَقَالَ: ((یَخْرُجُ الْمَہْدِیُّ فِیْ اُمَّتِیْ خَمْسًا اَوْسَبْعًا اَوْ تِسْعًا۔)) زَیْدٌ الشَّاکُّ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ ) قَالَ: قُلْتُ: اَیُّشَیْئٍ؟ قَالَ: ((سِنِیْنَ ثُمَّ قَالَ:((یُرْسِلُ السَّّمَائَ عَلَیْہِمْ مِدْرَارًا وَلاَ تَدَّخِرُ الْاَرْضُ مِنْ نَبَاتِہَا شَیْئًا،وَیَکُوْنُ الْمَالُ کُدُوْسًا۔)) قَالَ: ((یَجِیْئُ الرَّجُلُ اِلَیْہِ فَیَقُوْلُ: یَامَہْدِیُّ! اَعْطِنِیْ اَعْطِنِیْ قَالَ: فَیُحْثِیْ لَہٗفِیْ ثَوْبِہٖمَااسْتَطَاعَاَنْیَحْمِلَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۸۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ نبی کریم کے بعد دنیا میں مختلف حوادث رونما ہوں گے، اس لیے ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک شخص مہدی پانچ یا سات یا نو کے لیے نکلے گا۔ زید راوی کو شک ہوا، میں نے کہا: اس عدد سے کیا مراد ہے؟ انھوں کہا: سال، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آسمان لوگوں پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا اور زمین اپنی کھیتیوں میں سے کچھ بھی اپنے اندر ذخیرہ نہیں رکھے گی اور مال و دولت کے ڈھیر لگے ہوں گے، ایک آدمی اس کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی!مجھے دو، مجھے دو، تو جتنا کچھ اسے اٹھانے کی طاقت ہو گی، اتنا کچھ وہ اس کے کپڑے میں ڈال دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12923

۔ (۱۲۹۲۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُبَشِّرُکُمْ بِالْمَہْدِیِّیُبْعَثُ فِیْ اُمَّتِیْ عَلٰی اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزِلَازِلَ فَیَمْلَاُ الْاَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا یَرْضٰیْ عَنْہُ سِاکِنُ السَّمَائِ وَسَاکِنُ الْاَرْضِ یُقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: مَاصِحَاحًا؟ قَالَ: ((بِالسَّوِیَّۃِ بَیْنَ النَّاسِ قَالَ: وَیَمْلَاُ اللّٰہُ قُلُوْبَ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غِنًی ویَسَعُھُمْ عَدْلُہُ حَتّٰییَاْمُرَ مُنَادِیًا فَیُنَادِیْ فَیَقُوْلُ: مَنْ لَہُ فِیْ مَالٍ حَاجَۃٌ؟ فَمَا یَقُوْمُ مِنَ النَّاسِ اِلَّا رَجُلٌ، فَیَقُوْلُ: اِئْتِ السَّدَّانَ یَعْنِی الْخَازِنَ فَقُلْ لَہُ اِنَّ الْمَہْدِیَّیَاْمُرُکَ اَنْ تُعْطِیَنِیْ مَالًا فَیَقُوْلُ لَہُ: اِحْثِ حَتّٰی اِذَا جَعَلَہُ فِیْ حِجْرِہٖوَائْتَزَرَہُنَدِمَفَیَقُوْلُ: کُنْتُ اَجْشَعَ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفْسًا اَوَعَجَزَ عَنِّی مَا وَسِعَہُمْ قَالَ: فَیَرُدَّہُ فَلَا یَقْبَلُ مِنْہُ، فَیُقَالُ لَہُ: اِنَّا لَانَاْخُذُ شَیْئًا اَعْطَیْنَاہُ فَیَکُوْنُ کَذٰلِکَ سَبْعَ سِنِیْنَ اَوْ ثَمَانَ سِنِیْنَ اَوْ تِسْعَ سِنِیْنَ ثُمَّ لَاخَیْرَ فِی الْعَیْشِ بَعْدَہُ اَوْ قَالَ: ثُمَّ لَاخَیْرَ فِی الْحَیَاۃِ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۴۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میری امت کے لوگوں میں اختلاف زوروں پر ہوگا اور زلزلے آرہے ہوں گے، میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا، جیسے اس سے پہلے یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی، آسمان والے اور زمین والے سب ہی اس سے خوش ہوں گے، وہ لوگوں کے درمیان مساوات کے ساتھ مال و دولت تقسیم کرے گا اور اللہ تعالیٰ امت ِ محمد کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا، اس کا عدل و انصاف ہر ایک کو پہنچے گا، وہ ایک منادی کرنے والے کو حکم دے گا، پھر وہ یہ اعلان کرے گا کہ کس کو مال کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان سن کر صرف ایک آدمی اٹھے گا، مہدی اس سے کہے گا: جا اورخزانچی سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال و دولت دو، وہ خزانچی اس سے کہے گا کہ تم جس قدر لینا چاہتے ہو اٹھالو، جب وہ اپنی جھولی میں بہت سا مال لے کر اسے باندھے گا تو خودہی نادم ہو کر کہے گا: امت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں میں ہی زیادہ بے صبرا نکلا، جو چیز ان سب کو پہنچ گئی، کیا وہ مجھ سے ہی عاجز آ گئی ہے، سو وہ اس مال کو واپس کرے گا، لیکن مہدی اس سے قبول نہیں کرے گا اور اسے کہا جائے گا: ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔ سات یا آٹھ یا نو سال اسی طرح خوش حالی کا دور دورہ رہے گا، اس کے بعد زندہ رہنے میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12924

۔ (۱۲۹۲۴)۔ وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا رَاَیْتُمُ الرَّایَاتِ السُّوْدَ قَدْ جَائَ تْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ، فَاْتُوْھَا فَاِنَّ فِیْہَا خَلِیْفَۃَ اللّٰہِ الْمَہْدِیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴۶)
مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے دیکھو تو تم ان کی طرف جا کر ان میں شامل ہوجانا، ان میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12925

۔ (۱۲۹۲۵)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَہْدِیُّ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِیُصْلِحُہُ اللّٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۴۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اللہ تعالیٰ ایک رات میں اس کی اصلاح فرمائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12926

۔ (۱۲۹۲۶)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِیْفَۃٍ فَیَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ ھَارِبًا اِلٰی مَکَّۃَ، فَیَاْتِیْہِ نَاسٌ مِنْ اَھْلِ مَکَّۃَ فَیُخْرِجُوْنَہُ وَھُوَ کَارِہٌ فَیُبَایِعُوْنَہُ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ، فَیَبْعَثُ اِلَیْہِمْ جَیْشٌ مِنَ الشَّامِ فَیُخْسَفُ بِہِمْ بِالْبَیْدَائِ فَاِذَا رَاَی النَّاسُ ذٰلِکَ اَتَتْہُ اَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ فَیُبَایِعُوْنَہُ ثُمَّ یَنْشَاُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، اَخْوَالُہُ کَلْبٌ فَیَبْعَثُ اِلَیْہِ الْمَکِیُّ بَعْثًا، فَیَظْہَرُوْنَ عَلَیْہِمْ وَذٰلِکَ بَعْثُ کَلْبٍ وَالْخَیْبَۃُ لِمَنْ لَّمْ یَشْہَدْ غَنِیْمَۃَ کَلْبٍ فَیَقْسِمُ الْمَالَ وَیَعْمَلُ فِی النَّاسِ سُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیُلْقِی الْاِسْلَامَ بِجِرَانِہِ اِلَی الْاَرْضِ، یَمْکَثُ تِسْعَ سِنِیْنَ۔))وَفِیْ رِوَایَۃٍ ((سَبْعَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۲۴)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ) کی وفات کے موقع پر لوگ اختلاف میں پڑ جائیں گے، اتنے میں ایک آدمی مدینہ منورہ سے فرار ہو کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آکر اسے باہر نکالیں گے اور حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، جبکہ وہ اس چیز کو ناپسند کر رہا ہو گا، ان کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف سے ایک لشکر چلے گا، لیکن جب وہ بیداء مقام پر پہنچے گا تو اسے وہیں زمین پر دھنسا دیا جائے گا، جب لوگ یہ صورت حال دیکھیں گے تو ملک شام کے صلحاء اور عراق کی فوجیں آکر اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش میں سے ایک ایسا آدمی اٹھے گا، جس کے ماموں بنو کلب کے لوگ ہوں گے، مکہ مکرمہ والا آدمی اس کے مقابلے کے لیے ایک دستہ بھیجے گا اور یہ ان پر غالب آ جائیں گے، یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا، ناکامی ہے ان لوگوں کے لیے، جو بنوکلب کی غنیمت میں حاضر نہیں ہوں گے، پھر وہ حاکم لوگوں میں مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں نبی کی سنت کے مطابق عمل رائج کرے گا اور دینِ اسلام کو زمین پر برپا اور مضبوط کرے گا، اور نویا سات برس تک ٹھہرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12927

۔ (۱۲۹۲۷)۔ وَعَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْقِبْطِیَۃِ قَالَ: دَخَلَ الْحٰرِثُ بْنُ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَفْوَانَ وَاَنَا مَعَہُمَا عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ: فَسَاَلَاھَا عَنِ الْجَیْشِ الَّذِیْیُخْسَفُ بِہٖوَکَانَذٰلِکَفِیْ اَیَّامِ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعُوْذُ عَائِذٌ بِالحِجْرِ فَیَبْعَثُ اللّٰہُ جَیْشًا فَاِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ خُسِفَ بِہِمْ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ اُخْرِجَ کَارِھًا؟ قَالَ: ((یُخْسَفُ بِہٖمَعَہُمْوَلٰکِنَّہُیُبْعَثُ عَلٰی نِیَّتِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَذَکَرَتُ ذٰلِکَ لِاَبِیْ جَعْفَرٍ فَقَالَ: ھِیَ بَیْدَائُ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۲۰)
عبید بن قبطیہ کہتے ہیں: حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، انھوں نے سیدہ سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا،یہ سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت کی بات تھی، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک پناہ طلب کرنے والا حطیم میں پناہ لے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے کے لیے ایک لشکر بھیجے گا، لیکن جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بندے کا کیا بنے گا، جو مجبوراً ان کے ساتھ آئے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بھی انہی کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھا دیا جائے گا۔ جب میں نے یہ حدیث ابو جعفر سے ذکر کی تو انھوں نے کہا کہ اس سے مدینہ والا بیداء مراد ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12928

۔ (۱۲۹۲۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یُوْنُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَا: ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ سَلِمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ اُمَّ سَلَمَۃَ (قَالَ حَسَنٌ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ) قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُضْطَجِعًا فِیْ بَیْتِیْ اِذِ احْتَفَزَ جَالِسًا وَھُوَ یَسْتَرْجِعُ فَقُلْتُ: بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ مَا شَاْنُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَسْتَرْجِعُ؟ قَالَ: ((جَیْشٌ مِّنْ اُمَّتِیْیَجِیْئُوْنَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ یَؤُمُّوْنَ الْبَیْتَ لِرَجُلٍ یَمْنَعُہُ اللّٰہُ مِنْہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ خُسِفَ بِہِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!: کَیْفَیُخْسَفُ بِہِمْ جَمِیْعًا وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی؟ فَقَالَ: ((اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ جُبِرَ، اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ جُبِرَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۶۷۵۷)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اچانک تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے لگ گئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا بات ہوئی کہ آپ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کا ایک لشکر شام کی طرف سے آئے گا، وہ ایک ایسے آدمی کے مقابلہ کے لیے آئیں گے کہ جس کی حفاظت کرنے والا اللہ تعالیٰ ہو گا، جب یہ لشکر ذوالحلیفہ کے قریب بیدائ مقام پر پہنچے گا تو اس میں شامل تمام افراد کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، البتہ ان کا زمین سے اٹھنا مختلف انداز میں ہوگا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوگا کہ سب افراد کو دھنسا تو دیا جائے گا، لیکن ان کا زمین سے اٹھنا ایک دوسرے سے مختلف ہو گا؟آپ نے فرمایا: ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے، جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا، ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12929

۔ (۱۲۹۲۹)۔ وَعَنْ اُمَیَّۃَ بْنِ صَفْوَانَ یَعْنِی ابْنَ عَبْدَاللّٰہِ بِنِ صَفْوَانَ عَنْ جَدِّہٖعَنْحَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَؤُمَّنَّ ہٰذَا الْبَیْتَ جَیْشٌیَغْزُوْنَہُ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ خُسِفَ بِاَوْسَطِہِمْ فَیُنَادِیْ اَوَّلُھُمْ وَآخِرُھُمْ فَلَایَنْجُوْ اِلَّا الشَّرِیْدُ الَّذِیْیُخْبِرُ عَنْہُمْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: کَذَا وَاللّٰہِ! مَاکَذَبَتُ عَلٰی حَفْصَۃَ وَلَا کَذَبَتْ حَفْصَۃُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۶)
سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لشکر بیت اللہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر کے اِدھر کو روانہ ہوگا، جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کے درمیان والوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ان کے شروع والے اور آخر والے، سب ایک دوسرے کو پکارنے لگیں گے، لیکن کوئی بھی بچ نہیں سکے گا، ماسوائے اس آوارہ کے، جو دھنسنے والوں کے بارے میں دوسرے لوگوں بتلائے گا۔ ایک راوی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ نہیں بولا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12930

۔ (۱۲۹۳۰)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَاْتِیْ جَیْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ یُرِیْدُوْنَ رَجُلًا مّنْ اَھْلِ مَکَّۃَ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ خُسِفَ بِہِمْ فَرَجَعَ مَنْ کَانَ اَمَامَہُمْ لِیَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ فَیُصِیْبُہُمْ مِثْلُ مَا اَصَابَہُمْ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ کَانَ مِنْہُمْ مُسْتَکْرَھًا؟ قَالَ: ((یُصِیْبُہُمْ کُلَّہُمْ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ کُلَّ امْرِیئٍ عَلٰی نِیَّتِہٖ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۹۰)
سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے ایک لشکر آئے گا، ان کا ارادہ مکہ کے ایک آدمی پر حملہ کرنے کا ہو گا، جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، آگے بڑھ جانے والے لوگ واپس پلٹ پڑیں گے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ پچھلے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، اتنے میں وہ بھی اسی مصیبت میں پھنس جائیں گے، میں (حفصہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان میں جن لوگوں کو مجبوراً لایا گیا ہوگا، ان کا کیا بنے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سب دھنسا دئیے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12931

۔ (۱۲۹۳۱)۔ وَعَنْ صَفِیَّۃَ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((لَا یَنْتَہِی النَّاسُ عَنْ غَزْوِ ہٰذَا الْبَیْتِ حَتّٰییَغْزُوْہُ جَیْشٌ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ خُسِفَ بِاَوَّلِھِمْ وَآخِرِ ھِمْ وَلَمْ یَنْجُ اَوْسَطُہُمْ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ الْمُکْرَہَ مِنْہُمْ؟ قَالَ: ((یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ عَلٰی مَا فِیْ اَنْفُسِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۹۵)
ام المومنین سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ اس بیت اللہ پر چڑھائی کرتے رہنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ اسی طرح کا ایک لشکر یہی ارادہ کر کے چلے گا، لیکن جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچیں گے توان کے شروع والے، آخر والے سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مجبوراً آئے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو ان کے دلوں کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12932

۔ (۱۲۹۳۲)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا اَبُوْ اِسْحٰقَ یَعْنِی الْفَزَارِیَّ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرِ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزَاۃٍ فَاَتَاہُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَیْہِمْ ثِیَابُ الصُّوْفِ فَوَافَقُوْہُ عِنْدَ اَکَمَۃٍ وَھُمْ قِیَامٌ وَھُوَ قَاعِدٌ، فَاَتَیْتُہُ فَقُمْتُ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَہُ فَحَفِظْتُ مِنْہُ اَرْبَعَ کَلِمَاتٍ اَعُدُّھُنَّ فِیْیَدِیْ، قَالَ: ((تَغْزُوْنَ جَزِیْرَۃَ الْعَرَبِ فَیَفْتَحُہَا اللّٰہُ، ثُمَّ تَغْزُوْنَ فَارِسَ فَیَفْتَحُہَا اللّٰہُ، ثُمَّ تَغْزُوْنَ الرُّوْمَ فَیَفْتَحُہَا اللّٰہُ، ثُمَّ تَغْزُوْنَ الدَّجَّالَ فَیَفْتَحُہُ اللّٰہُ۔)) قَالَ: نَافِعٌ: یَاجَابِرُ! اَلاَ تَرٰی اَنَّ الدَّجَّالَ لَا یَخْرُجُ حَتّٰی تُفْتَحَ الرُّوْمُ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۲)
سیدنا نافع بن عتبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا،مغرب کے علاقے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے، انھوں نے اونی لباس کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ایک ٹیلے کے پاس ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات ہوئی، وہ کھڑے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار باتیں یاد کر لیں، اب میں ان کو اپنے ہاتھ پر شمار کر سکتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا:: تم جزیرۂ عرب کے باسیوں سے لڑائی کرو گے‘ اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا‘ پھر فارس سے لڑائی ہو گی‘ وہ بھی فتح ہو جائے گا‘ پھر روم سے لڑائی ہو گی، اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور پھر تم دجال سے لڑائی کرو گے‘ اس پر بھی اللہ تعالیٰ تم کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12933

۔ (۱۲۹۳۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَزِیْدُ اَنَا الْمَسْعُوْدِیُّ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَۃَ فَذَکَرَنَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا نافع بن عتبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے گزشتہ طریق والی حدیث کی طرح ہی مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12934

۔ (۱۲۹۳۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا حُسَیْنٌ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ثَنَا زَائِدَۃُ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ جَابِرِ بْن سَمُرَۃَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ قَالَ: فَقَالَ جَابِرٌ: لَا یَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتّٰییَفْتَتِحَ الرُّوْمُ۔
۔ (تیسر ی سند) سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:جب تک روم فتح نہیں ہوجائے گا، اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12935

۔ (۱۲۹۳۵)۔ وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ یَمْلَاَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اَیْدِیَکُمْ مِنَ الْعَجَمِ ثُمَّ یَکُوْنُوْنَ اُسْدًا لَا یَفِرُّوْنَ فَیَقْتُلُوْنَ مُقَاتِلَتَکُمْ وَیَأْکُلُوْنَ فَیْأَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۸۴)
سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، لیکن اس کے بعد پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ شیر بن جائیں گے، تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں گے اورتمہارے چھوڑے ہوئے مال کو کھائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12936

۔ (۱۲۹۳۶)۔ وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیُصَالِحُکُمُ الرُّوْمُ صُلْحًا آمِنًا ثُمَّ تَغْزُوْنَ وَھُمْ عَدُوًّا فَتُنْصَرُوْنَ وَتَسْلَمُوْنَ وَتَغْنَمُوْنَ ثُمَّ تَنْصَرِفُوْنَ حَتّٰی تَنْزِلُوْا بِمَرْجٍ ذِی تُلُوْلٍ، فَیَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِیَّۃِ صَلِیْبًا فَیَقُوْلُ: غَلَبَ الصَّلِیْبُ، فَیَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، فَیَقُوْمُ اِلَیْہِ فَیَدُقُّہُ، فَعِنْدَ ذٰلِکَ تَغْدِرُ الرُّوْمُ وَیَجْمَعُوْنَ لِلْمَلْحَمَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۴۴)
ایک صحابی ٔ رسول سیدنا ذی مِخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ اہل روم تم سے امن والی صلح کر لیں گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے لڑائی کرو گے،تمہاری مدد کی جائے گی، پس تم سالم رہو گے اور مالِ غنیمت حاصل کرو گے، لیکن جب تم سرسبز وشاب ٹیلوں والے مقام میں قیام کرو گے تواس وقت ایک عیسائی آدمی صلیب کو بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی ہے۔ یہ سن کر ایک مسلمان غیرت کرے گا اور اٹھ کر اس صلیب کو توڑ ڈالے گا، اس موقع پر رومی تمہارے ساتھ بدعہدی کریں گے اور وہ گھمسان کی جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12937

۔ (۱۲۹۳۷)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍعَنْ ذِیْ مِخْمَرٍ (رَجُلٌ مِنَ الْحَبْشَۃِ کَانَ یَخْدِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُصَالِحُوْنَ الرُّوَْمَ صُلْحًا آمِنًا وَتَغْزُوْنَ اَنْتُمْ وَھُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِہِمْ فَتَسْلَمُوْنَ وَتَغْنَمُوْنَ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ((فَیَقُوْمُ اِلَیْہِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَیَقْتُلُہُ، فَعِنْدَ ذٰلِکَ تَغْدِرُ الرُّوْمُ وَتَکُوْنُ الْمَلَاحِمُ فَیَجْتَمِعُوْنَ اِلَیْکُمْ فَیَأْتُوْنَکُمْ فِیْ ثَمَانِیْنَ غَایَۃً، مَعَ کُلِّ غَایَۃٍ عَشْرَۃُ آلَافٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۵۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا ذی مخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یہ حبشی آدمی تھا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کرتا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ رومیوں کے ساتھ واقعی امن والی صلح کرو گے، پھر تم ان کے ساتھ مل کر کسی اور دشمن سے لڑائی کرو گے اور تم سالم بھی رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کروگے۔ سابقہ حدیث کی طرح ہی ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: ایک مسلمان اٹھے گا اور اس کی طرف جا کر اسے قتل کر دے گا، اس موقع پر رومی بد عہدی کر جائیں گے اور پھر گھمسان کی جنگیں لڑی جائیں گی، وہ جمع ہو کر (۸۰) جھنڈوں پر مشتمل لشکر کی صورت میں تمہاری طرف آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے دس ہزار افراد ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12938

۔ (۱۲۹۳۸)۔ وَعَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ عَنِ الْمَسْتَوْرِدِ الْفِہْرِیِّ اَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَالرُّوْمُ اَکْثَرُ النَّاسِ، فَقَالَ لَہُ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ: أَبْصِرْ مَا تَقُوْلُ: قَالَ: اَقُوْلُ لَکَ مَاسَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: اِنْ تَکُنْ قُلْتَ ذٰاکَ، اِنَّ فِیْہِمْ لَخِصَالًا اَرْبَعًا، اِنَّہُمْ لَاَسْرَعُ النَّاسِ کَرَّۃً بَعْدَ فَرَّۃٍ، وَاِنَّہُمْ لَخَیْرُ النَّاسِ لِمِسْکِیْنٍ وَفَقِیْرٍ وَضَعِیْفٍ، وَاِنَّہُمْ لَاَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَۃٍ، وَالرَّابِعَۃُ حَسَنَۃٌ جَمِیْلَۃٌ وَاِنَّہُمْ لَاَمْنَعُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوْکِ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۸۵)
سیدنا مستورد فہری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:قیامت قائم ہوتے وقت رومیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: ذرا غور کرو، کیا کہہ رہے ہو؟ انہوںنے کہا: میں نے جوبات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، وہی تم سے کہہ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم یہی بات کہتے ہو تو پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ رومیوں میں یہ چار اوصاف ہیں: (۱) اگر وہ میدانِ جنگ سے فرار ہوجائیں، تو (انتقامی) حملہ کرنے کے لیے بہت جلد واپس آتے ہیں، (۲)وہ غریبوں، فقیروں اور ضعیفوں کے حق میں دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہت بہتر ہیں، (۳) وہ لڑائی کے وقت سب سے زیادہ حوصلہ مند ثابت ہوتے ہیں اور (۴) یہ لوگ بادشاہوں کے مظالم کو سب سے بڑھ کر روکنے والے ہوتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12939

۔ (۱۲۹۳۹)۔ وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍ اَنَّ الْمَسْتَوْرِدَ قَالَ: بَیْنَمَا اَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَہُ: سَمِْعتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَشَدُّ النَّاسِ عَلَیْکُمُ الرُّوْمُ، اِنَّمَا ھَلَکَتُہُمْ مَعَ السَّاعَۃِ۔))فَقَالَ لَہُ عَمْرٌو: اَلَمْ اَزْجِرْکَ عَنْ مِثْلِ ہٰذَا۔ (مسند احمد: ۱۸۱۸۶)
سیدنا مستورد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، میںنے ان سے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے سب سے بڑے مخالف رومی ہیں، ان کا خاتمہ قیامت کے ساتھ ہوگا۔ سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: کیا میں نے تجھے ایسی احادیث بیان کرنے سے منع نہیں کیا تھا؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12940

۔ (۱۲۹۴۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ اَسِیْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: ھَاجَتْ رِیْحٌ حَمْرَائُ بِالْکُوْفَۃِ فَجَائَ رَجُلٌ لَیْسَ لَہٗھِجِّیْرٌ اَلَا یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ! جَائَ تِ السَّاعَۃُ قَالَ: وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: اِنَّ السَّاعَۃَ لَاتَقُوْمُ حَتّٰی لَا یُقْسَمَ مِیْرَاثٌ وَلَایُفْرَحَ بِغَنِیْمَۃٍ ، قَالَ: عَدُوًّا یَجْمَعُوْنَ لِاَھْلِ الْاِسْلَامِ وَیَجْمَعُ لَھُمْ اَھْلُ الْاِسْلَامِ وَنَحّٰی بَیَدِہِ نَحْوَ الشَّامِ، قُلْتُ: اَلرُّوْمَ تَعْنِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ: قَالَ: وَیَکُوْنُ عِنْدَ ذَاکُمُ الْقِتَالِ رِدَّۃٌ شَدِیْدَۃٌ قَالَ: فَیَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُوْنَ شَرْطَۃً لِلْمَوْتِ، لَاتَرْجِعُ اِلَّاغَالِبَۃً، فَیَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰییَحْجُرَ بَیْنَہُمُ اللَّیْلُ فَیَفِیْئُ ھٰؤُلَائِ وَھٰؤُلَائِ، کُلٌّ غَیْرُغَالِبٍ وَتَفْنَی الشَّرْطَۃُ، ثُمَّ یَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُوْنَ شَرْطَۃً لِلْمَوْتِ، لَاتَرْجِعُ اِلَّا غَالِبَۃً، فَیَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰییَحْجُرَ بَیْنَہُمُ اللَّیْلُ، فَیَفِیْئُ ھٰؤُلَائِ وَھٰؤُلَائِ، کُلٌّ غَیْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَی الشَّرْطَۃُ، ثُمَّ یَشْتَرِطُالْمُسْلِمُوْنَ شَرْطَۃً لِلْمَوْتِ، لَا تَرْجِعُ اِلَّا غَالِبَۃً، فَیَقْتَتِلُوْنَ حَتّٰییُمْسُوا فَیَفِیْئُ ھٰؤُلَائِ وَھٰؤُلاَئِ کُلٌّ غَیْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَی الشَّرْطَۃُ فَاِذَا کَانَ الْیَوْمُ الرَّابِعُ نَہَدَ اِلَیْہِمْ بَقِیَّۃُ اَھْلِ الْاِسْلَامِ، فَیَجْعَلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الدَّبْرَۃَ عَلَیْہِمْ، فَیَقْتُلُوْنَ مَقْتَلَۃً اِمَّا قَالَ: لاَ یُرٰی مِثْلُہَا واِمَّا قَالَ: لَمْ نَرَ مِثْلَہَا حَتّٰی اَنَّ الطَّائِرَ لَیَمُرُّ بِجَنَبَاتِہِمْ فَمَا یُخْلِفُہُمْ حَتّٰییَخِرَّ مَیِّتًا قَالَ: فَیَتَعَادُّ بَنُو الْاَبِ کَانُوْا مِائَۃً وَلَایَجِدُوْنَہٗ بَقِیَ مِنْہُمْ اِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِاَیِّ غَنِیْمَۃٍیُفْرَحُ اَوْ اَیُّ مِیْرَاثٍیُقَاسَمُ، قَالَ: بَیْنَاھُمْ کَذٰلِکَ اِذَا سَمِعُوا بِبَأسٍ ھُوَ اَکْبَرُ مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ جَائَھُمُ الصَّرِیْخُ: اِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِیْ ذَرَارِیِّہِمْ فَیَرْفُضُوْنَ مَا فِیْ اَیْدِیْہِمْ وَیَقْبَلُوْنَ فَیَبْعَثُوْنَ عَشَرَۃَ فَوَارِسَ طَلِیْعَۃً، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَسْمَائَھُمْ وَاَسْمَائَ آبَائِہِمْ وَاَلْوَانَ خُیُوْلِھِمْ، ھُمْ خَیْرُ فَوَارِسَ عَلٰی ظَہْرِ الْاَرْضِ یَوْمَئِذٍ۔)) (مسند احمد: ۴۱۴۶)
اسیر بن جابر سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: کوفہ میں ایک دفعہ سرخ رنگ کی آندھی چلی، ایک عام آدمی، جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی، نے سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ قیامت آگئی ہے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر بیٹھ گئے اور کہا: جب تک میراث تقسیم نہیں ہو جاتی اور غنیمت کی وجہ سے خوش نہیں ہوا جاتا، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ دشمنان ِ اسلام، اہل ِ اسلام کے مقابلہ کے لیے اور اہل ِ اسلام ان کے مقابلہ کے لیے جمع ہوں گے، یہ بات کہتے ہوئے انہوںنے شام کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: کیاآپ کی مراد رومی لوگ ہیں؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، اس وقت شدید قسم کی لڑائی ہوگی،مسلمان بھی اس پر موت کی شرط لگا دیں گے کہ فاتح ہی لوٹنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اور مسلمان اور رومی دونوں لوٹ آئیں گے اور ان میں سے کوئی بھی فاتح اور غالب نہیں ہوگا، اس طرح شرط بھی ختم ہو جائے گی، پھر مسلمان موت کی شرط لگا دیں گے کہ فاتح ہی لوٹنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اوردونوں اس حال میں واپس ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بھی فاتح نہیں ہوگا اور اس طرح یہ شرط بھی ختم ہو جائے گی، اس بار بھی مسلمان موت کی شرط لگا دیں گے کہ فتح کے ساتھ ہی واپس آنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ شام ہو جائے گی اور دونوں کی واپسی غیر فاتحانہ ہو گی اور شرط ختم ہو جائے گی، جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام بھی دشمن کے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان پر شکست کو مسلط کر دے گا، وہ ایسی لڑائی لڑیں گے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ہو گی، (اس قدر لاشوںکے پشتے لگ جائیں گے کہ) ایک پرندہ ایک طرف سے اڑے گا اور ابھی تک وہ ختم نہیں ہونے پائیں گے کہ وہ اڑتے اڑتے مر جائے گا، صورتحال یہ ہوگی کہ ایک باپ کے سو بیٹوں کو جب شمار کیا جائے گا تو بچنے والا صرف ایک ہو گا، ان حالات میں کس غنیمت کی خوشی ہو گی اور کون سی میراث تقسیم ہوگی؟ لوگ اس قسم کے حالات میں ہوں گے کہ اس سے بڑی ایک خبرسنائی دے گی اور وہ یہ کہ ایک چلّانے والا یوں چلّا رہا ہو گا کہ پیچھے لوگوں کے بچوں میں دجال پہنچ چکا ہے، یہ سن کر وہ تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور اُدھر متوجہ ہو کر دس گھڑ سواروں کا ایک دستہ بھیجیں گے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان گھڑ سواروں کے اور ان کے آباء واجداد کے ناموں اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں تک کو جانتا ہوں، وہ ان دنوں روئے زمین پر موجود تمام گھڑ سواروں سے افضل لوگ ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12941

۔ (۱۲۹۴۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ اَنَا الْعَوَّامُ ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ جَمْہَانَ عَنِ ابْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: ذَکَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْضًا یُقَالُ لَھَا اَلْبَصْرَۃُ اِلٰی جِنْبِہَا نَہْرٌ یُقَالُ لَہٗدَجْلَۃُ، ذُوْ نَخْلٍ کَثِیْرٍ وَیَنْزِلُ بِہٖبَنُوْ قَنْطُوْرَائَ، فَیَتَفَرَّقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِاَصْلِہَا وَھَلَکُوْا وَفِرْقَۃٌ تَاْخُذُ عَلٰی اَنْفُسِہَا وَکَفَرُوْا وَفِرْقَۃٌیَجْعَلُوْنَ ذَرَارِیَّہِمْ خَلْفَ ظُہُوْرِھِمْ فَیُقَاتِلُوْنَ، قَتْلَاھُمْ شُہَدَائُ، یَفْتَحُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ عَنْ بَقِیَّتِہِمْ۔ وَشَکَّ یَزِیْدُ فِیْہِ مَرَّۃً فَقَالَ اَلْبُصَیْرَۃُ اَوِ الْبَصْرَۃُ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۸۴)
سیدناابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بصرہ کی سر زمین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کی ایک جانب دجلہ نامی دریا ہے ، وہاں بہت زیادہ کھجوریں ہیں۔ بنو قنطوراء (یعنی ترک لوگ) وہاں آکر ٹھہریں گے اور مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ اپنے اصل کے ساتھ مل جائے گا، (یعنی اپنی کھیتوں اور مویشیوں میں مصروف ہوجائے گا)، یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے دوسرا گروہ الگ تھلک رہے گا، یہ لوگ کافر ہوں گے اور ایک گروہ اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ آئیں گے اورلڑیںگے، ان کے مقتولین شہید ہوں گے، پھر باقیوں کو اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا۔ یزید بن ہارون کو ایک دفعہ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہ شک ہوا کہ بصیرہ ہے یا بصرہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12942

۔ (۱۲۹۴۲)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیْدَ اَنَاالْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ جَمْہَانَ عَنْ ابْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَتَنْزِلُنَّ اَرْضًا یُقَالُ لَھَا الْبَصْرَۃُ اَوِ الْبُصَیْرَۃُ عَلٰی دَجْلَۃِ نَہْرٍ۔)) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ قَالَ الْعَوَّامُ: بَنُوْ قَنْطُوْرَائَ، ھُمُ التُّرْکُ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۸۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ضرور دریائے دجلہ کے کنارے بصرہ یا بصیرہ کی سر زمین میں اترو گے، … پھر گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا، عوام نے کہا: بنو قنطوراء سے مراد ترک ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12943

۔ (۱۲۹۴۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا اَبُوالنَّضْرِ ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ثَنَا الْحَشَرَجُ بْنُ نُبَاتَۃَ الْقَیْسِیُّ الْکُوْفِیُّ حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ جَمْہَانَ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرَۃَ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ فِیْ ہٰذَا الْمَسْجِدِ یَعْنِیْ مَسْجِدَ الْبَصْرَۃِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَتَنْزِلَنَّ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ اَرْضًا یُقَالُ لَھَا الْبَصْرَۃُیَکْثُرُ بِہَا عَدَدُھُمْ وَیَکْثُرُ بِہَا نَخْلُہُمْ ثُمَّ یَجِیْئُ بَنُوْ قَنْطُوْرَائَ عِرَاضُ الْوُجُوْہِ صِغَارُ الْعُیُوْنِ حَتّٰییَنْزِلُوْ ا عَلٰی جَسْرٍ لَھُمْ یُقَالُ لَہُ دَجْلَۃُ فَیَتَفَرَّقُ الْمُسْلِمُوْنَ ثَلَاثَ فِرَقٍ فَاَمَّا فِرْقَۃٌ فَیَاْخُذُوْنَ بِاَذْنَابِ الْاِبِلِ وَتَلْحَقُ بِالْبَادِیَۃِ وَھَلَکَتْ، وَاَمَّا فِرْقَۃٌ فَتَاْخُذُ عَلٰی اَنْفُسِہَا فَکَفَرَتْ فَہٰذِہِ وَتِلْکَ سَوَائٌ،وَاَمَّا فِرْقَۃٌ فَیَجْعَلُوْنَ عِیَالَھُمْ خَلْفَ ظُہُوْرِھِمْ وَیُقَاتِلُوْنَ فَقَتْلَاھُمْ شُہَدَائُ وَیَفْتَحُ اللّٰہُ عَلٰی بَقِیَّتِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۲۵)
۔ (تیسری سند) عبداللہ بن ابو بکرہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بصرہ کی اس مسجد میں بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ بصرہ نامی سرزمین میں ضرور اترے گا، یہاں ان کی بہت تعداد ہوگی اور یہاں کھجوریں بھی بکثرت ہوں گی،پھر بنو قنطورائ، جن کے چہرے چپٹے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، آکر دجلہ کے پل پر پڑاؤ ڈالیں گے، اُدھر مسلمان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے: ایک گروہ اونٹوں کی دموں کو پکڑ کر دیہاتوں کی طرف نکل جائے گا، یہ لوگ ہلاک ہوں گے، دوسرا گروہ اپنے حال میں مست رہے گا، یہ کافر ہوجائے گا، یہ دونوں گروہ انجام کے لحاظ سے برابر ہوں گے، تیسرا گروہ اپنے اہل و عیال کو پیچھے چھوڑ آئے گا اور کفار کے ساتھ جنگ کرے گا، ان کے مقتولین شہید ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ اس گروہ کے باقی لوگوں کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12944

۔ (۱۲۹۴۴)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ (الْاَسْلَمِیِّ) عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اُمَّتِیْیَسُوْقُہَا قَوْمٌ عِرَاضُ الْاَوْجُہِ صِغَارُالْاَعْیُنِ، کَاَنَّ وُجُوْہَھُمُ الْحَجَفُ ثَلَاثَ مِرَارٍ حَتّٰییَلْحَقُوْھُمْ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ، اَمَّا السَّابِقَۃُ الْاُوْلٰی فَیَنْجُوْ مَنْ ھَرَبَ مِنْہُمْ وَاَمَّا الثَّانِیَۃُ فَیَہْلِکُ بَعْضٌ وَیَنْجُوْ بَعْضٌ، وَاَمَّا الثَّالِثَۃُ فَیَصْطَلِمُوْنَ کُلَّہُمْ مَنْ بَقِیَ مِنْہُمْ۔)) قَالُوْا: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! مَنْ ھُمْ؟ قَالَ: ((ھُمُ التُّرْکُ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیَرْبِطُنَّ خُیُوْلَھُمْ اِلٰی سِوَارِیْ مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) قَالَ: وَکَانَ بُرَیْدَۃُ لَایُفَارِقُہٗ بَعِیْرَانِ اَوْثَلَاثَۃٌ وَمَتَاعُ السَّفْرِ وَالْاَسْقِیَّۃُیُعِدُّ ذٰلِکَ لِلْہَرْبِ مِمَّا سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْبَلَائِ مِنْ اُمَرَائِ التُّرْکِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۳۹)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سنا: ایک قوم، جن کے چہرے چوڑے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی،گویا کہ ان کے چہرے ڈھال کی مانند چوڑے ہوں گے، (یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ فرمایا)، یہ قوم میری امت کو جزیرۂ عرب کی طرف ہانک کر لے آئے گی، ان کے پہلے مقابلے میں بھاگ جانے والا نجات پا جائے گا، دوسرے مسابقے میں کچھ ہلاک ہو جائیں گے اور بعض نجات پائیں گے، تیسری دفعہ تو باقی بچ جانے والوں کا بھی صفایا کر دیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: یہ ترک لوگ ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ لوگ اپنے گھوڑوں کو مسلمانوں کی مساجد کے ستونوں کے ساتھ باندھیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن بریدہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ حدیث سننے کے بعد ترک حکمرانوں کی آزمائش سے بچ کر بھاگ جانے کے لیے دو تین اونٹ، سفر کا سامان اور مشکیزے ہر وقت تیار رکھا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12945

۔ (۱۲۹۴۵)۔ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَحْسِرُ الْفُرَاتُ أَوْ لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَھَبٍ فَیَقْتَتِلَ عَلَیْہِ النَّاسُ فَیُقْتَلُ مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَّتِسْعُوْنَ، یَا بُنَیَّ! فَاِنْ اَدْرَکْتَہُ فَلَاتَکُوْنَنَّ مِمَّنْ یُّقَاتِلُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کے اوپر سے ایک طرف سرک نہ جائے گا، پھر لوگ اس پر آپس میں اس قدر لڑیں گے کہ سو میں سے ننانوے آدمی اس لڑائی میں مارے جائیں گے۔ پیارے بیٹا! اگر تم ایسے حالات کو پالو تو ان لڑنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12946

۔ (۱۲۹۴۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَیْضًا: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُوْشِکُ اَنْ یَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَھَبِ یَقْتَتِلُ عَلَیْہِ النَّاسُ حَتّٰییُقْتَلَ مِنْ کُلِّ عَشَرَۃٍ تِسْعَۃٌ وَیَبْقٰی وَاحِدٌ۔)) (مسند احمد: ۸۵۴۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ سے ایک طرف سرک جائے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ اس قدر لڑائی کریں گے کہ ہر دس میں سے نو آدمی قتل ہوجائیں گے اور ایک باقی بچے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12947

۔ (۱۲۹۴۷)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بِشْرِ نِ الْخَثْعَمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ (بِشْرِ بْنِ سُحَیْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اَنَّہٗسَمِعَالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃُ فَلَنِعْمَ الْاَمِیْرُ اَمِیْرُھَا وَلَنِعْمَ الْجَیْشُ ذٰلِکَ الْجَیْشُ۔)) قَالَ: فَدَعَانِیْ مَسْلَمَۃُ بْنُ عَبْدِالْمَلِکِ فَسَاَلَنِیْ فَحَدَّثْتُہُ فَغَزَا الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۵)
سیدنابشر بن سحیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور بالضرور قسطنطنیہ فتح ہوگا، اس کو فتح کرنے والا امیر بہترین امیر ہو گا اور وہ لشکر بہترین لشکر ہوگا۔ عبداللہ کہتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلوا کر اس بارے میں پوچھا تو میں نے اس کو یہ حدیث سنائی، اس لیے اس نے قسطنطنیہ پر چڑھائی کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12948

۔ (۱۲۹۴۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ قَبِیْلٍ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَسُئِلَ اَیُّ الْمَدِیْنَتَیْنِ تُفْتَحُ اَوَّلًا، اَلْقُسْطُنْطِیْنِیَۃُ أَوْ رُوْمِیَۃُ فَدَعَا عَبْدُاللّٰہِ بِصَنْدُوْقٍ لَہُ حِلَقٌ، فَاَخْرَجَ مِنْہُ کِتَابًا، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: بَیْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَکْتُبُ اِذْ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْمَدِیْنَتَیْنِ تُفْتَحُ اَوَّلًا، أَقُسْطُنْطِیْنِیَۃُ اَوْ رُوْمِیَۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَدِیْنَۃُ ھِرَقْلَ تُقْتَحُ اَوَّلًا۔)) یَعْنِیْ قُسْطُنْطِیْنِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۶۴۵)
ابو قبیل کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ قسطنطنیہ اور رومیہ، ان دوشہروں میں سے پہلے کون سا فتح ہوگا؟ انہوںنے کنڈوں والا ایک صندوق منگوا کر اس سے ایک کتاب نکالی اور کہا:ایک دفعہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد بیٹھے احادیث لکھ رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہی بات دریافت کی گئی کہ پہلے کون سا شہر فتح ہو گا، قسطنطنیہ یا رومیہ، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر قل کاشہر یعنی قسطنطنیہ پہلے فتح ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12949

۔ (۱۲۹۴۹)۔ وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَلْحَمَۃُ الْعُظْمٰی وَفَتْحُ الْقُسْطُنْطِیْنِیَۃُ وَخُرُوْجُ الدَّجَّالِ فِیْ سَبْعَۃِ اَشْہُرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۹۵)
سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑی خون ریزی،قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا ظہور، یہ تینوں امور سات مہینوں میں ظاہر ہو جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12950

۔ (۱۲۹۵۰)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَ الْمَلْحَمَۃِ وَفَتْحِ الْمَدِیْنَۃِ سِتُّ سِنِیْنَ وَیَخْرُجُ مَسِیْحُ الدَّجَّالِ فِی السَّابِعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۴۳)
سیدنا عبداللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑی خون ریزی اور قسطنطنیہ کی فتح کے درمیان چھ سال کا فاصلہ ہوگا اور ساتویں سال دجال کا ظہور ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12951

۔ (۱۲۹۵۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا زَیْدٌ اَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیٍّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمْکُثُ اَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِیْنَ عَامًا لَا یُوْلَدُ لَھُمَا، ثُمَّ یُوْلَدُ لَھُمَا غُلَامٌ اَعْوَرُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَسْرُوْرًا مَخْتُوْنًا) اَضَرُّ شَیْئٍ وَاَقَلُّہٗنَفْعًاتَنَامُعَیْنَاہُ وَلَایَنَامُ قَلْبُہٗ۔)) ثُمَّنَعَتَاَبَوَیْہِ فَقَالَ: ((اَبُوْہُ رَجُلٌ طِوَالٌ، مُضْطَرِبُ اللَّحْمِ، طَوِیْلُ الْاَنْفِ، کَاَنَّ اَنْفَہٗمِنْقَارٌ،وَاُمُّہُاِمْرَاۃٌ فِرْضَاخِیَۃٌ عَظِیْمَۃُ الثَّدْیَیْنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: طَوِیْلَۃٌ)۔)) قَالَ: فَبَلَغَنَا اَنَّّ مَوْلُوْدًا مِنَ الْیَہُوْدِ وُلِدَ بِالْمَدِیْنَۃِ قَالَ: فَانْطَلَقَتُ اَنَا وَالزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتّٰی دَخَلْنَا عَلٰی اَبَوَیْہِ فَرَاَیْنَا فِیْہِمَا نَعْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِذَا ھُوَ مُنْجَدِلٌ فِی الشَّمْسِ فِیْ قَطِیْفَۃٍ لَہٗھَمْہَمَۃٌ، فَسَاَلْنَا أَبَوَیْہِ فَقَالَا: مَکَثْنَا ثَلَاثِیْنَ عَامًا لَا یُوْلَدُ لَنَا ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ اَعْوَرُ، اَضَرُّ شَیْ ئٍ وَاَقَلُّہُ نَفْعًا، فَلَمَّا خَرَجْنَا مَرَرْنَا بِہٖ۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَکَشَفْتُ عَنْ رَاْسِہِ) فَقَالَ: مَا کُنْتُمَا فِیْہِ، قُلْنَا: وَسَمِعْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، اِنَّہُ تَنَامُ عَیْنَایَ وَلَایَنَامُ قَلْبِیْ، فَاِذَا ھُوَ ابْنُ صَیَّادٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۸۹)
سیدناابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس سال تک کوئی ولادت نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں کانا بچہ پیدا ہوگا۔ (ایک روایت میں ہے: اس کا ناڑو پہلے سے ہی کٹا ہوگا اور وہ پیدائشی طور پر ختنہ شدہ ہوگا۔ ) وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، وہ جب سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے والدین کے بارے میں بتایا کہ اس کا باپ طویل قد اور کمزور جسم والا ہوگا، اس کی ناک چونچ کی طرح ہوگی اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی ہو گی اور اس کے پستان بڑے بڑے اور لمبے لمبے ہوں گے۔ بعد ازاں ہمیں اطلاع ملی کہ مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے، میں (ابو بکرہ) اور سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کے والدین کے ہاں چلے گئے، ہم نے ان میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ نشانیاں دیکھیں، اُدھر وہ بچہ دھوپ میں چادر اوڑھے ہوئے لیٹا تھا اور اس کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی، ہم نے اس کے ماں باپ سے کچھ باتیں پوچھیں، انہوں نے بتلایا: تیس سال تو ہمارے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی، اس کے بعد ہمارے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوا، جو بڑا ضرر رساں اور کم نفع والا تھا۔ پھر جب ہم وہاں سے نکلے تو اس بچے کے پاس سے گزرے، میں نے اس کے سر سے کپڑا ہٹایا تو وہ بولا: تم کیا باتیں کر رہے تھے؟ ہم نے کہا: کیا تو ہماری باتیں سن رہا تھا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا، وہ ابن صیاد تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12952

۔ (۱۲۹۵۲)۔ وَعَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: قَالَ اَبُوْذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَاَنْ اَحْلِفَ عَشْرَ مِرَارٍ اَنَّ ابْنَ صَیَّادٍ ھُوَ الدَّجَّالُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَحْلِفَ مَرَّۃً وَاحِدَۃً اَنَّہٗلَیْسَ بِہٖقَالَ: وَکَانَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَنِیْ اِلٰی اُمِّہِ قَالَ: ((سَلْہَا کَمْ حَمَلَتْ بِہٖ۔)) قَالَ: فَاَتَیْتُہَا فَسَاَلْتُہَا، فَقَالَتْ: حَمَلْتُ بِہٖاِثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا، قَالَ: ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ اِلَیْہَا فَقَالَ: ((سَلْہَا عَنْ صَیْحَتِہٖ حِیْنَ وَقَعَ۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلَیْہَا فَسَاَلْتُہَا فَقَالَتْ: صَاحَ صَیْحَۃِ الصَّبِیِّ اِبْنِ شَہْرٍ، ثُمَّ قَالَ لَہٗرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أِنِّیْ قَدْ خَبَأْتُ لَکَ خَبْاً۔)) قَالَ: خَبَأْتَ لِیْ خَطْمَ شَاۃٍ عَفْرَائَ وَالدُّخَانَ قَالَ: فَاَرَادَ اَنْ یَّقُوْلَ اَلدُّخَانَ فَلَمْ یَسْتَطِعْ، فَقَالَ: اَلدُّخَ اَلدُّخَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْسَاْ، فَاِنَّکَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۴۵)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اگر میں دس دفعہ قسم اٹھا کر کہوں کہ ابن صائد (یعنی ابن صیاد) ہی دجال ہے، تو یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ قسم اٹھا کر یہ کہوں کہ وہ دجال نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کی ماں کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ اس سے پوچھ کرآؤ کہ اس بچے کا حمل کتنا عرصہ اس کے پیٹ میں رہا۔ میں اس کے ہاں گیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے بتلایا کہ بارہ مہینے اسے اس کا حمل رہا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دوبارہ بھیج دیا اور فرمایا کہ یہ پوچھ کر آؤ کہ ولادت کے وقت اس کی چیخ کیسی تھی میں اس کے پاس دوبارہ گیا اور اس سے یہ سوال کیا، اس نے بتلایا کہ اس کی چیخ ایک ماہ کے بچے کی سی تھی،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے اپنے دل میں ایک چیز چھپائی ہے، (وہ کیا ہے)؟ ابن صیاد نے کہا:آپ مجھ سے خَطْمَ شَاۃٍ عَفْرَائَ وَالدُّخَانَ کے الفاظ چھپائے ہیں، وہ کہتا تو الدُّخَانَ چاہتا تھا، لیکن پورا لفظ کہنے کی اسے طاقت نہ ہوئی اس لیے اس نے کہہ دیا: اَلدُّخَ اَلدُّخَ ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12953

۔ (۱۲۹۵۳)۔ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ رَاٰی ابْنَ صَیَّادٍ فِیْ سِکَّۃٍ مِنْ سِکَکِ الْمَدِیْنَۃِ، فَسَبَّہُ ابْنُ عُمَرَ وَوَقَعَ فِیْہِ فَانْتَفَخَ حَتّٰی سَدَّ الطَّرِیْقَ فَضَرَبَہُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا کَانَتْ مَعَہُ حَتّٰی کَسَرَھَاعَلَیْہِ فَقَالَتْ لَہٗحَفْصَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : مَاشَاْنُکَ وَشَاْنُہُ یُوْلِعُکَ بِہٖ،اَمَاسَمِعْتَرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّمَا یَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضَبَۃٍیَغْضِبُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۷)
امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابن صیاد کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں دیکھا، تو انھوں نے اسے برا بھلا کہا اور اس کی ڈانٹ ڈپٹ کی، ابن صیاد غصے سے اس قدر پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک لاٹھی تھی، انہوں نے اسے مار مار کر لاٹھی توڑ دی، سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کون سی چیز تمہیں اس پر اکسا رہی ہے؟ کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: دجال اس وقت نکلے گا، جب اسے شدید غصہ آیا ہوا ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12954

۔ (۱۲۹۵۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقِیْتُ ابْنَ صَیَّادٍ مَرَّتَیْنِ، فَاَمَّا مَرَّۃً فَلَقِیْتُہُ وَمَعَہُ بَعْضُ اَصْحَابِہٖفَقُلْتُلِبَعْضِہِمْ: نَشَدْتُّکُمْبِاللّٰہِاِنْسَاَلْتُکُمْعَنْشَیْئٍ لَتَصْدُقُنِّیْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: اَتُحَدِّثُوْنِیْ اَنَّہٗھُوَ،قَالُوْا: لَا، قُلْتُ: کَذَبْتُمْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ حَدَّثَنِیْ بَعْضُکُمْ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ اَقَلُّکُمْ مَالًا وَوَلَدًا اَنَّہُ لَایَمُوْتُ حَتّٰییَکُوْنَ اَکْثَرَکُمْ مَالًا وَوَلَدًا وَھُوَالْیَوْمَ کَذٰلِکَ قَالَ: فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُہُ، ثُمَّ لَقِیْتُہُ مَرَّۃً اُخْرٰی وَقَدْ تَغَیَّرَتْ عَیْنُہُ فَقَلْتُ: مَتٰی فَعَلَتْ عَیْنُکَ مَا اَرٰی؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ، قُلْتُ:مَا تَدْرِیْ وَھِیَ فِیْ رَاْسِکَ، فَقَالَ: مَا تُرِیْدُ مِنِّیْیَا ابْنَ عُمَرَ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اَنْ یَّخْلُقَہُ مِنْ عَصَاکَ ہٰذِہٖخَلَقَہُوَنَخَرَکَاَشَدِّنَخِیْرِ حِمَارٍ سَمِعْتُہُ قَطُّ، فَزَعَمَ بَعْضُ اَصْحَابِیْ اَنَّیْ ضَرَبْتُہُ بِعَصًا کَانَتْ مَعِیَ حَتّٰی تَکَسَّرَتْ وَاَمَّا اَنَا فَوَاللّٰہِ مَاشَعَرْتُ قَالَ: فَدَخَلَ عَلٰی اُخْتِہِ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَاَخْبَرَھَا فَقَالَتْ: مَا تُرِیْدُ مِنْہُ؟ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّہُ قَالَ: تَعْنِی النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَوَّلَ خُرُوْجِہٖعَلٰی النَّاسِ مِنْ غَضَبَۃٍیَغْضِبُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۸)
امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابن صیادسے دو دفعہ میری ملاقات ہوئی، ایک دفعہ جب میں اسے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی بھی تھے، میں نے ان سے کہا: میںتم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو تم سچ بولو گے؟ انہوںنے کہا: ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا: کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ یہ (ابن صیاد) وہی (دجال) ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں ہے، میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، اللہ کی قسم! تم ہی میں سے بعض نے مجھے بتلایا تھا کہ دجال شروع میں مال و اولاد کے لحاظ سے سب سے کم ہوگا، لیکن جب اسے موت آئے گی تو اس کا مال بھی سب سے زیادہ ہوگا اور اولاد بھی، یہ ساری باتیں اس پر صادق آتی ہیں، اس کے بعد میں اسے چھوڑ کر چلا گیا، پھر جب میری اس سے دوسری مرتبہ ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ اس کی آنکھ خراب ہوچکی تھی، میں نے پوچھا: میں تمہاری آنکھ کو خراب دیکھ رہا ہوں، یہ کب سے ایسے ہے؟ وہ بولا: مجھے معلوم نہیں۔ میںنے کہا: یہ آنکھ تمہارے سر میں ہے اور تم نہیں جانتے کہ ایسا کب سے ہوا ہے؟ اس نے کہا: عبد اللہ بن عمر! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اگر اللہ نے چاہا تو تمہاری اس لاٹھی سے دجال کو پیدا کر دے گا، اس کے بعد وہ زور سے گدھے کی طرح خرّاٹے لینے لگا، میں نے ایسی (مکروہ) آواز کبھی نہیں سنی تھی۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک لاٹھی تھی اورمیںنے اس کو اتنا زدو کوب کیا کہ وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے تو اس چیز کا بالکل علم نہیں ہوا۔ نافع کہتے ہیں : پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے اور ان کو یہ واقعہ بیان کیا،انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: دجال کا لوگوں کے سامنے پہلا ظہور شدید غصے کی صورت میں ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12955

۔ (۱۲۹۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِاِبْنِ صَیَّادٍ فِیْ نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِہٖفِیْہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ اُطُمِ بَنِیْ مَغَالَۃَ وَ ھُوَ غُلَامٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَدْ نَاھَزَ الْحُلْمَ) فَلَمْ یَشْعُرْ حَتّٰی ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظَہَرَہُ بِیَدِہٖ ثُمَّ قَالَ: ((اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔)) فَنَظَرَ اِلَیْہِ ابْنُ صَیَّادٍ فَقَالَ: اَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ الْاُمِّیِّیْنَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَیَّادٍ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَتَشْہَدُ اَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَبِرُسُلِہٖ۔)) قَالَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَایَاْتِیْکَ؟)) قَالَ ابْنُ صَیَّادٍ: یَاْتِیْنِیْ صَادِقٌ وَکَاذِبٌ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُلِطَ لَکَ الْاَمْرُ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنِّی قَدْ خَبَاْتُ لَکَ خَبِیْئًا۔)) وَخَبَأَ لَہُ {یَوْمَ تَاْتِ السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔} فَقَالَ ابْنُ صَیَّادٍ: ھُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْسَاْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ۔)) فَقَالَ عُمَرَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِئْذَنْ لِیْ فِیْہِ فَاَضْرِبَ عُنَقَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَکُنْ ھُوَ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَیْہِ وَاِلَّا یَکُنْ ھُوَ، فَلَا خَیْرَ لَکَ فِیْ قَتْلِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۶۳۶۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے پاس سے گزر ہوا، جبک آپ کے ہمراہ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سمیت کچھ صحابہ بھی تھے، ابن صیاد ابھی بچہ تھا اور وہ بنو مغالہ کے قلعہ کے قریب بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، ایک روایت کے مطابق وہ بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا، اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا پتہ نہیں چلا سکا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے قریب گئے اور اپنا ہاتھ اس کی پشت پر رکھا اور پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہوکہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کرکہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اُمّی لوگوں کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کون آتا ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس ایک سچا آتا ہے اور ایک جھوٹا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھ پر معاملہ خلط ملط ہوگیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایک چیز اپنے ذہن میں سوچ رہا ہوں، تو بتا کہ وہ کیا ہے؟ جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل وہ چیز {یَوْمَ تَاْتِ السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔} تھی۔ اس نے کہا: وہ الدخ ہے۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ اُدھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اتار دوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی دجال ہے تو تم اس کو قتل ہی نہیں کر سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں تو اس کے قتل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12956

۔ (۱۲۹۵۶)۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَمْشِیْ اِذْ مَرَّ بِصِبْیَانٍیَلْعَبُوْنَ، فِیْہِمْ ابْنُ صَیَّادٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَرِبَتْ یَدَاکَ اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) فَقَاَلَ ھُوَ: أَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: دَعْنِیْ فَلِاَضْرِبَ عُنَقَہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَکُ الَّذِیْ تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِیْعَہُ۔)) (مسند احمد: ۴۳۷۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جارہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزرچند بچوں کے پاس سے ہوا، وہ کھیل رہے تھے اور ان میں ابن صیاد بھی تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ جواباً وہ کہنے لگا: اور کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میںاللہ کا رسول ہوں؟ یہ صورتحال دیکھ کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی دجال ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کر سکو گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12957

۔ (۱۲۹۵۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: کُنَّا نَمْشِیْ مَعَ النَّبِیِّ فَمَرَّ بِابْنِ صَیَّادٍ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ قَدْ خَبَاْتُ لَکَ خَبْأً۔)) قَالَ ابْنُ صَیَّادٍ: دُخٌّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أِخْسَاْ، فَلْنَ تَعْدُوَ قَدْرَکَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! دَعْنِیْ، اَضْرِبُ عُنَقَہُ قَالَ: ((لَا، اِنْ یَّکُنِ الَّذِیْ تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ قَتْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جارہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے لیے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہے، تو بتا وہ کیا ہے؟ ابن صیاد نے کہا: وہ دُخ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو ہر گز اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کو قتل کرنے دو۔ آپ نے فر مایا: نہیں، اگر یہ وہی دجال ہے، جس کا تمہیں اندیشہ ہو رہا ہے تو تم اسے ہرگز قتل نہیں کرسکو گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12958

۔ (۱۲۹۵۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۸)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12959

۔ (۱۲۹۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُبَیُّ بْنَ کَعْبٍ یَاْتِیَانِ النَّخْلَ الَّتِیْ فِیْہَا ابْنُ صَیَّادٍ حَتّٰی اِذَا دَخَلَا النَّخْلَ طَفِقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَّقِیْ بِجُذُوْعِ النَّخْلِ وَھُوَ یَخْتِلُ ابْنَ صَیَّادٍ اَنْ یَسْمَعَ عَنِ ابْنِ صَیَّادٍ شَیْئًا قَبْلَ اَنْ یَرَاہُ وَابْنُ صَیَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلٰی فِرَاشِہِ فِیْ قَطِیْفَۃٍ لَہُ فِیْہَا زَمْزَمَۃٌ، قَالَ: فَرَأَتْ اُمُّہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَّقِیْ بِجُذُوْعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ: اَیْ صَافِ! وَھُوَ اِسْمُہُ ھٰذَا مُحَمَّدٌ، فَثَارَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ تَرَکَتْہُ بَیَّنَ۔)) (مسند احمد: ۶۳۶۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس نخلستان میں گئے، جہاں ابن صیاد موجود تھا، جب باغ میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوشیدہ طور پر اس کی باتیں سننے کے لیے کھجوروں کے تنوں کے پیچھے چھپ چھپ کر اس کی طرف بڑھنے لگے، تاکہ قبل اس کے کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے کچھ سن سکیں، جبکہ وہ (ابن صیاد) ایک چادر اوڑھے اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی گنگناہٹ کی آواز آ رہی تھی، لیکن جب اس کی ماں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھجوروں کے تنوں کے پیچھے چھپ رہے ہیں، تو اس نے آواز دی: ارے صاف! (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ یہ سن کر وہ جھٹ سے اٹھ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ اسے خبردار نہ کرتی تو وہ اپنی باتوں سے اپنی حقیقت واضح کر دیتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12960

۔ (۱۲۹۶۰)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: اِنَّ اِمْرَاَۃً مِنَ الْیَہُوْدِ وَلَدَتْ غُلَامًا، مَمْسُوْحَۃً عَیْنُہُ طَالِعَۃً نَاتِئَۃً، فَاَشْفَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَکُوْنَ الدَّجَّالُ فَوَجَدَہُ تَحْتَ قَطِیْفَۃٍیُہَمْہِمُ فَآذَنَتْہُ اُمُّہُ فَقَالَتْ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! ہٰذَا اَبُو الْقَاسِمِ، قَدْجَائَ فَاخْرُ جْ اِلَیْہِ، فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِیْفَۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا لَھَا، قَاتَلَہَا اللّٰہُ، لَوْ تَرَکَتْہُ لَبَیَّنَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا ابْنَ صَائِدٍ مَاتَرٰی۔)) قَالَ: اَرٰی حَقًّا وَاَرٰی بَاطِلًا وَاَرٰی عَرْشًا عَلٰی الْمَائِ فَقَالَ: ((فَلُبِسَ عَلَیْہِ۔)) فَقَالَ: ((اَتَشْہَدُ اَنَّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ ھُوَ: اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ۔)) ثُمَّخَرَجَوَتَرَکَہُ،ثُمَّاَتَاہُمَرَّۃً اُخْرٰی، فَوَجَدَہُ فِی نَخْلٍ لَہُ یُہَمْہِمُ فَآذَنَتْہُ اُمُّہُ فَقَالَتْ: یَاعَبْدَاللّٰہِ! ہٰذَا اَبُوالْقَاسِمِ قَدْجَائَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَالَھَا، قَاتَلَہَا اللّٰہُ لَوْ تَرَکَتْہُ لَبَیَّنَ۔)) قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَطْمَعُ اَنْ یَسْمَعَ مِنْ کَلَامِہِ شَیْئًا فَیَعْلَمَ ھُوَ ھُوَ اَمْ لَا، قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاابْنَ صَائِدٍ مَاتَرٰی۔)) قَالَ: اَرٰی حَقًّا وَ اَرٰی بَاطِلًا وَاَرٰی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ، قَالَ: ((اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) قَالَ ھُوَ: اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ۔)) فَلُبِسَ عَلَیْہِ۔ ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَکَہُ ثُمَّ جَائَ فِی الثَّالِثَۃِ اَوِ الرَّابِعَۃِ وَمَعَہُ اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فِی نَفَرٍ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ ( ) وَاَنَا مَعَہُ فَبَادَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَرَجَا اَنْ یَسْمَعَ مِنْ کَلَامِہِ شَیْئًا، فَسَبَقَتْہُ اُمُّہُ اِلَیْہِ، فَقَالَتْ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! ہٰذَا اَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَائَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَالَھَا، قَاتَلَہَا اللّٰہُ لَوْ تَرَکَتْہُ لَبَیَّنَ۔))فَقَالَ: ((یَاابْنَ صَائِدٍ مَاتَرٰی۔)) قَالَ: اَرٰی حَقًّا وَاَرٰی بَاطِلًا وَاَرٰی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ قَالَ: ((اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) قَالَ: اَتَشْہَدُ اَنْتَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ۔)) فَلُبِسَ عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاابْنَ صَائِدٍ! اِنَّا قَدْ خَبَاْنَا لَکَ خَبِیْئًا فَمَا ھُوَ۔)) قَالَ: اَلدُّخُّ اَلدُّخُّ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْسَاْ اِخْسَاْ۔)) فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اِئْذَنْ لِیْ فَاَقْتُلَہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَکُنْ ھُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَہُ، اِنَّمَا صَاحِبُہُ عِیْسٰی بْنُ مَرْیَمَ علیہ السلام وَاِلَّا یَکُنْ ھُوَ فَلَیْسَ لَکَ اَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ الْعَہْدِ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُشْفِقًا اَنَّہُ الدَّجَّالُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۱۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک یہودی عورت نے ایک بچہ جنم دیا، اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی تھی اور وہ اوپر کی طرف ابھری ہوئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اندیشہ ہوا کہ یہی دجال ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیکھا کہ اس نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی اور اس کی گنگناہٹ کی آواز بھی آرہی تھی، لیکن اس کی ماں نے اسے متنبہ کرتے ہوئے کہا: اے عبد اللہ! یہ ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ گئے ہیں،ـ تو ان کی طرف جا، پس وہ چادر کے نیچے سے نکل کرآ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کو کیا تھا؟ اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اسے اسی طرح لیٹا رہنے دیتی تو وہ خود ہی اپنی باتوں سے اپنی اصلیت کو واضح کر دیتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن صائد! تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق بھی دیکھتا ہوں اور باطل بھی دیکھتا ہوں اور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس پر تو معاملہ خلط ملط کر دیاگیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: کیا آپ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے چھوڑ کر واپس آگئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دفعہ پھر اس کی طرف تشریف لے گئے اوراس کو کھجور کے درختوں کے درمیان پایا، وہ کچھ گنگنا رہا تھا، لیکن اس دفعہ بھی اس کی ماں نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا: عبد اللہ! یہ ابوالقاسم آگئے ہیں۔تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے کیا ہو گیا ہے، اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اس کو اسی طرح بے خبر رہنے دیتی تو وہ اپنی باتوں سے خود ہی اپنی حقیقت بیان کر دیتا۔ سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی باتیں سننا چاہتے تھے، تاکہ آپ کو علم ہو جاتا کہ یہ دجال ہے یا نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن صائد! تم کیا چیز دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق بھی دیکھتا ہوں، باطل بھی دیکھتا ہوں اور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: کیا آپ یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ پس اس کا معاملہ اس پر خلط ملط کر دیا گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے چھوڑ کر چلے گئے، اور پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصار و مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ اس کی طرف گئے، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی آپ کے ہمراہ تھے، ہوا یوں کہ اس بار رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی سے ہم سے آگے بڑ ھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوشش تھی کہ اس کی کوئی بات سن لیں، لیکن اس کی ماں جلدی جلدی اس کی طرف گئی اور کہا: عبد اللہ! یہ ابو القاسم آگئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا ہو اس کو؟ اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اسے ا سی طرح بے خبر رہنے دیتی تو وہ اپنی باتوں سے اپنی حقیقت کو واضح کر دیتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن صائد ! تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق اور باطل دیکھتا ہوںاور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ اس کا معاملہ اس پر خلط ملط کر دیا گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ابن صائد! ہم تیرے لیے یعنی تجھے آزمانے کے لیے اپنے دل میں ایک کلمہ سوچ رہے ہیں، تو بتا کہ وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: وہ الدخ ہے، الدخ ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: دفع ہو، دفع ہو۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ واقعی دجال ہے تو تمہارا اس سے کوئی مقابلہ نہیں، اس کا مقابلہ کرنے والے جنابِ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو آپ کے لیے ایک ذِمّی کو قتل کرنا روا نہیں ہے۔ بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ اندیشہ رہا کہ یہی دجال ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12961

۔ (۱۲۹۶۱)۔ وَعَنْ مَہْدِیِّ بْنِ عِمْرَانَ الْمَازِنِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الطُّفَیْلِ وَسُئِلَ: ھَلْ رَاَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، قِیْلَ فَہَلْ کَلَّمْتَہُ قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ رَاَیْتُہُ اِنْطَلَقَ مَکَانَ کَذَا وَکَذَا وَمَعَہُ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ وَاُنَاسٌ مِنْ اَصْحَابِہِ حَتّٰی اَتٰی دَارًا قَوْرَائَ فَقَالَ: ((اِفْتَحُوْا ھٰذِہٖالْبَابَ۔)) فَفُتِحَوَدَخَلَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدَخَلْتُ مَعَہُ فَاِذَا قَطِیْفَۃٌ فِیْ وَسْطِ الْبَیْتِ فَقَالَ: ((اِرْفَعُوْا ہٰذَا الْقَطِیْفَۃَ۔)) فَرَفَعُوْا الْقَطِیْفَۃَ، فَاِذَا غُلَامٌ اَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِیْفَۃِ فَقَالَ: ((قُمْ یَا غُلَامُ!)) فَقَامَ الْغُلَامُ، فَقَالَ: ((یَاغُلَامُ اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) قَالَ الْغُلَامُ: اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: ((اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) قَالَ الْغُلَامُ: اَتَشْہَدُ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ ھٰذَا۔)) مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۰۶)
مہدی بن عمران مازنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، جبکہ ان سے یہ سوال کیاگیا کہ آیا انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوںنے کہا:جی ہاں، پھر پوچھا گیا کہ آیا تم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کلام بھی کی ہے؟ انہوںنے کہا: جی نہیں، میں نے تو یہ دیکھا کہ آپ فلاں جگہ تشریف لے گئے، سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سمیت دیگر کچھ صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کشادہ گھر تک پہنچے تو فرمایا: یہ دروازہ کھولو۔ سو دروازہ کھولا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر داخل ہوئے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلا گیا، کمرہ کے وسط میں ایک چادر پڑی تھی۔ آپ نے فرمایا: اس چادر کو اٹھاؤ۔ پس انھوں نے چادر اٹھائی، اس کے نیچے ایک کانا لڑکا تھا، آپ نے فرمایا: او لڑکے! اٹھ۔ سو وہ کھڑا ہوگیا، آپ نے فرمایا: لڑکے! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ بولا:اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ـ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ پھر بولا: اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: تم اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12962

۔ (۱۲۹۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَقْبَلْنَا فِیْ جَیْشٍ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ قِبَلَ ہٰذَا الْمَشْرِقِ قَالَ: فَکَانَ فِی الْجَیْشِ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَیَّادٍ وَکَانَ لَایُسَایِرُہُ اَحَدٌ وَلَایُرَافِقُہُ وَلَایُوَاکِلُہُ وَلَایُشَارِبُہُ وَیُسَمُّوْنَہُ الدَّجَّالَ، فَبَیْنَا اَنَا ذَاتَ یَوْمٍ نَازِلٌ فِیْ مَنْزِلٍ لِیْ اِذْ رَآنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنِ صَیَّادٍ جَالِسًا، فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ اِلَیَّ، فَقَالَ: یَا اَبَاسَعِیْدٍ! اَ لَا تَرٰی اِلٰی مَا یَصْنَعُ النَّاسُ، لَایُسَایِرُنِیْ اَحَدٌ وََلَایُرَافِقُنِیْ اَحَدٌ وَلَایُشَارِبُنِیْ اَحَدٌ وَلَایُوَاکِلُنِیْ اَحَدٌ وَیَدَّعُوْنِی الدَّجَّالَ وَقَدْ عَلِمْتَ اَنْتَ یَا اَبَاسَعِیْدٍ! اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الدَّجَّالَ لَا یَدْخُلُ الْمَدِیْنَۃَ۔)) وَاِنِّیْ وُلِدْتُّ بِالْمَدِیْنَۃِ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الدَّجَّالَ لَایُوْلَدُ لَہُ۔)) وَقَدْ وُلِدَ لِیْ، فَوَاللّٰہِ لَقَدْ ھَمَمْتُ مِمَّا یَصْنَعُ بِیْ ھٰؤُلَائِ النَّاسِ اَنْ آخُذَ حَبْلاً فَاَخْلُوَ فَاَجْعَلَہُ فِیْعُنُقِیْ فَاَخْتَنِقَ فَاسْتَرِیْحَ مِنْ ھٰؤُلَائِ النَّاسُ، وَاللّٰہِ! مَا اَنَا بِالدَّجَّالِ وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ! لَوْ شِئْتَ لَاَخْبَرْتُکَ بِاِسْمِہِ وَاِسْمِ اَبِیْہِ وَاِسْمِ اُمِّہِ وَاِسْمِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْیَخْرُجُ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۷۷۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک لشکرمیں مشرق کی جانب واقع ایک شہر سے آئے، اس لشکر میں عبداللہ بن صیاد بھی تھا، کوئی آدمی نہ اس کے ساتھ چلتا تھا، نہ بیٹھتا تھا اور نہ اس کے ساتھ کھانا پینا پسند کرتا تھا اور لوگ اسے دجال کہتے تھے۔ میں ایک دن اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ عبداللہ بن صیاد نے مجھے دیکھ لیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا اورکہنے لگا: ابو سعید ! لوگ میرے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، تم دیکھتے ہی ہو، کوئی میرے ساتھ چلنا، بیٹھنا اور کھانا پینا پسند نہیں کرتا اور کہتے بھی مجھے دجال ہیں، ابو سعید! آپ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ: دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ جبکہ میری تو ولادت ہی مدینہ میںہوئی اور آپ یہ بھی اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سن چکے ہیں کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی۔ جبکہ میری تو اولاد بھی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر میںنے ارادہ کیا ہے کہ کسی خلوت والی جگہ جا کر ایک رسی اپنے گلے میں ڈالوں اور اسے گھونٹ دوں اور لوگوں کی باتوں سے راحت پالوں۔ اللہ کی قسم ! میں دجال نہیںہوں۔ اللہ کی قسمْ اگر تم چاہتے ہو تومیں تم لوگوں کو اس کا ، اس کے والد اور والدہ کے ناموں سے اور جس بستی سے اس کا ظہور ہوگا، اس بستی کے نام سے آپ کو آگاہ کر دیتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12963

۔ (۱۲۹۶۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: حَجَجْنَا فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَۃٍ وَجَائَ ابْنُ صَائِدٍ فَنَزَلَ فِیْ نَاحِیَتِہَا فَقُلْتُ: مَاصَبَّ اللّٰہُ ہٰذَا عَلَیَّ قَالَ: فَقَالَ: یَا اَبَاسَعِیْدٍ! مَا اَلْقٰی مِنَ النَّاسِ؟ یَقُوْلُوْنَلِیْ: اِنِّیْ الدَّجَّالُ، اَمَا سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلدَّجَّالُ لَایُوْلَدُ لَہُ وَلَا یَدْخُلُ الْمَدِیْنَۃَ وَلَامَکَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی وَقَالَ: قَدْ وُلِدَ لِیْ وَقَدْخَرَجْتُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ وَاَنَا اُرِیْدُ مَکَّۃَ، قَالَ: اَبُوْ سَعِیْدٍ: فَکَاَنِّیْ رَقَّقْتُ لَہُ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! اِنَّ اَعْلَمَ النَّاسِ بِمَکَانِہٖلَاَنَا،قَالَ: قُلْتُ: تَبًّالَکَسَائِرَالْیَوْمِ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۴۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم حج کے لیے گئے اورراستے میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرے، ابن صائد بھی آکر اس درخت کے نیچے ایک طرف بیٹھ گیا، میںنے کہا: یہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا مصیبت ڈال دی ہے۔ اس نے کہا: ابو سعید! مجھے لوگوں کی طرف سے کس قدر تکلیف دہ باتیں سننا پڑتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی اور وہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں نہیں جا سکے گا۔ میں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ پھر اس نے کہا: میری تو اولاد بھی ہے اور اب میں مدینہ سے نکلا اور مکہ مکرمہ کی طرف جا رہوں گا۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس اس کی باتین سن کر میرا دل اس کے لیے نرم ہوگیا۔ پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کی جائے ظہور کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ تو یہ سن کر میں نے کہا: سارا دن تیرے لیے بربادی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12964

۔ (۱۲۹۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ نِ سَعِیْدِ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَۃِ الْجَنَّۃِ فَقَالَ: دَرْمَکَۃٌ بَیْضَائُ مِسْکٌ خَالِصٌ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۰۹)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12965

۔ (۱۲۹۶۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لاِ بْنِ صَائِدٍ: ((مَاتَرٰی۔)) قَالَ: اَرٰی عَرْشًا عَلَی الْبَحْرِ حَوْلَہُ الْحَیَّاتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرٰی عَرْشَ اِبْلِیْسَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۵۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن صائد سے فرمایا: تجھے کیا چیز دکھائی دیتی ہے؟ اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں، جس کے ارد گرد سانپ ہوتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12966

۔ (۱۲۹۶۶)۔ وَعَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۱۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12967

۔ (۱۲۹۶۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: ذُکِرَ ابْنُ صَیَّادٍ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ عُمَرُ: اِنَّہُ یَزْعَمُ اَنَّہُ لَایَمُرُّ بِشَیْئٍ اِلَّا کَلَّمَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۷۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ابن صیاد کا ذکر کیاگیا، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جس چیز کے پاس سے گزرے، وہ اس سے کلام کرتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12968

۔ (۱۲۹۶۸)۔ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بِنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمْکُثُ اَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلاَثِیْنَ عَامًّا لَا یُوْلَدُ لَھُمَا ثُمَّ یُوْلَدُ لَھُمَا غُلَامٌ اَعْوَرُ اَضَّرُّ شَیْئٍ وَاَقَلُّہُ نَفْعًا، یَنَامُ عَیْنَاہُ وَلَایَنَامُ قَلْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۹۴)
سیدناابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس برس تک اولاد نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوگا،وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، جب وہ سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12969

۔ (۱۲۹۶۹)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ قَبْلَ خُرُوْجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِیْنَ، حَبَسَتِ السَّمَائُ ثُلُثَ قَطْرِھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ ثُلُثَ نَبََاتِہَا، فَاِذَا کَانَتِ السَّنَۃُ الثَّانِیَۃُ حَبَسَتِ السَّمَائُ ثُلُثَیْ قَطْرِھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ ثُلُثَیْ نَبَاتِہَا، وَاِذَا کَانَتِ السَّنَۃُالثَّالِِثَۃُ حَبَسَتِ السَّمَائُ قَطْرَھَا کُلَّھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ نَبَاتَہَا کُلَّہُ فَلَایَبْقٰی ذُوْخُفٍّ وَلَاظِلْفٍ اِلَّا ھَلَکَ، فَیَقُوْلُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ: اَرَاَیْتَ اِنْ بَعَثْتُ اِبِلَکَ ضِخَامًا ضُرُوْعُہَا عِظَامًا اَسْنِمَتُہَا اَتَعْلَمُ اَنِّیْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَتَمَثَّلَ لَہُ الشَّیَاطِیْنُ عَلٰی صُوْرَۃِ اِبِلِہٖفَیَتْبَعُہُ، وَیَقُوْلُ لِلرَّجُلِ: اَرَاَیْتَ اِنْ بَعَثْتُ اَبَاکَ وَاِبْنَکَ وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ اَھْلِکَ اَتَعْلَمُ اَنِّیْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَیُمَثِّلُ لَہُ الشَّیَاطِیْنَ عَلٰی صُوَرِھِمْ فَیَتْبَعُہُ۔)) ثُمَّ خَرََجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَکٰی اَھْلُ الْبَیْتِ، ثُمَّ رَجََعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نَبْکِیْ، فَقَالَ: ((مَا یُبْکِیْکُمْ؟)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ذَکَرْتَ مِنَ الدَّجَّالِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَقَدْ خَلَعْتَ اَفْئِدَتَنَا بِذِکْرِالدَّجَّالِ) فَوَاللّٰہِ! اِنَّ اَمَۃَ اَھْلِیْ لَتَعْجِنُ عَجِیْنَہَا فَمَا تَبْلُغُ حَتّٰی تَکَادُ تَفَنَّتْ مِنَ الْجُوْعِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِیْنَتَنَا فَمَا نَخْتَبِزُھَا حَتّٰی نَجُوْعَ) فَکَیْفَ نَصْنَعُ یَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکْفِی الْمُوْمِنِیْنَ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ یَوْمَئِذٍ التَّکْبِیْرُ وَالتَّسْبِیْحُ وَالتَّحْمِیْدُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَا تَبْکُوْا فَاِنْ یَّخْرُ جِ الدَّجَّالُ وَاَنَا فِیْکُمْ، فَاَنَا حَجِیْجُہُ وَاِنْ یَّخْرُ جْ بَعْدِیْ فَاللّٰہُ خَلِیْفَتِیْ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۲۰)
سیدہ اسماء بنت یزید سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں موجود تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظہور دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی پانی اور زمین ایک تہائی فصل رو ک لے گی، جب دوسرا سال آئے گا تو آسمان دو تہائی پانی اور زمین دو تہائی فصلیں روک لے گی، پھر جب تیسرا سال شروع ہو گا تو آسمان مکمل طور پر اپنا پانی اور زمین مکمل طور پر اپنی فصلیں روک لے گی، ٹاپوں (والے اونٹ) اور کھروں (والے گائے، بیل، بھیڑ بکری اور گھوڑے گدھے) سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اتنے میں اُدھر دجال پہنچ کر ایک دیہاتی آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہاری اونٹنیوں کو موٹی تازہ اور دودھ سے بھری تھنوں کی صورت میںپیدا کرکے دکھاؤں تو کیا تم مان جاؤ گے کہ میں تمہار اربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل۔ اس کے بعد شیطان اس آدمی کے اونٹوں کی شکل اختیار کریں گے تو وہ آدمی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔ اسی طرح وہ دجال ایک اور آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہارے باپ، بیٹے اور اور تم اپنے خاندان کے جن لوگوں کو پہچانتے ہو، سب کو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل، پھر وہ شیطانوں کو ان لوگوں کی شکل میں پیش کر دے گا تو وہ بھی اس نے پیچھے چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر چلے گئے اور گھر میں موجود سارے لوگ رونے لگ گئے، جب سیدہ اسماء بنت یزید سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں موجود تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظہور دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی پانی اور زمین ایک تہائی فصل رو ک لے گی، جب دوسرا سال آئے گا تو آسمان دو تہائی پانی اور زمین دو تہائی فصلیں روک لے گی، پھر جب تیسرا سال شروع ہو گا تو آسمان مکمل طور پر اپنا پانی اور زمین مکمل طور پر اپنی فصلیں روک لے گی، ٹاپوں (والے اونٹ) اور کھروں (والے گائے، بیل، بھیڑ بکری اور گھوڑے گدھے) سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اتنے میں اُدھر دجال پہنچ کر ایک دیہاتی آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہاری اونٹنیوں کو موٹی تازہ اور دودھ سے بھری تھنوں کی صورت میںپیدا کرکے دکھاؤں تو کیا تم مان جاؤ گے کہ میں تمہار اربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل۔ اس کے بعد شیطان اس آدمی کے اونٹوں کی شکل اختیار کریں گے تو وہ آدمی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔ اسی طرح وہ دجال ایک اور آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہارے باپ، بیٹے اور اور تم اپنے خاندان کے جن لوگوں کو پہچانتے ہو، سب کو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل، پھر وہ شیطانوں کو ان لوگوں کی شکل میں پیش کر دے گا تو وہ بھی اس نے پیچھے چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر چلے گئے اور گھر میں موجود سارے لوگ رونے لگ گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لائے تو ہم سب رو رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ میں (اسمائ) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے دجال کے متعلق جو کچھ بیان کیا، اس کی وجہ سے ۔ ایک روایت میں ہے: آپ نے تو دجال کر ذکر کر کے ہمارے دلوں کو ہلا دیاہے، اللہ کی قسم! میرے اہل کی ایک لونڈی ہے، جب وہ آٹا گوندھتی ہے تو ابھی تک اپنا کام پورا نہیں کرتی کہ بھوک کی وجہ سے ٹوٹنے لگ جاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب ہم آٹا گوندھتی ہیں تو ابھی تک روٹی نہیں پکاتی کہ بھوک لگی ہوتی ہے، تو اُس وقت ہم کیا کریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت اہل ایمان کو کھانے پینے کی بجائے تکبیر، تسبیح اور تحمید کفایت کریں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہ روؤو، کیونکہ اگر میری موجودگی میں دجال کا ظہور ہو گیا تو میں اس کا مقابلہ کر لوں گا اور اگر میرے بعد ہوا تو ہر مسلمان پر خلیفہ اللہ تعالیٰ خود ہو گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12970

۔ (۱۲۹۷۰)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ جَہْدًا یَکُوْنُ بَیْنَیَدَیِ الدَّجَّالِ۔ فَقَالُوْا: اَیُّ الْمَالِ خَیْرٌیَوْمَئِذٍ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غُلَامٌ شَدِیْدٌیَسْقِی اَھْلَہُ الْمَائَ، وَاَمَّا الطَّعَامُ فَلَیْسَ۔)) قَالُوْا: فَمَا طَعَامُ الْمُوْمِنِیْنَیَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَلتَّسْبِیْحُ وَالتَّقْدِیْسُ وَالتَّحْمِیْدُ وَالتَّہْلِیْلُ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأَیْنَ الْعَرَبُ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَلْعَرَبُ یَوْ مَئِذٍ قَلِیْلٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۷۴)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال کے ظہور سے قبل شدت کے دور کی بات کی،صحابہ کرام نے پوچھا: ان دنوں کو نسا مال بہتر ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاقت ور غلام، جو اپنے مالکوں کو پانی پلا سکے گا، رہا مسئلہ کھانے کا، تو وہ تو سرے سے ہو گا ہی نہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا: تو پھر ان دنوں مومنوں کا کھانا کیا ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تقدیس ، تحمید اور تہلیل بیان کرنا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پوچھا: ان دنوں عرب کہاںہوں گے؟ فرمایا: ان دنوں عرب تھوڑے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12971

۔ (۱۲۹۷۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذُکِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((لَاَنَا لَفِتْنِۃُ بَعْضِکُمْ اَخْوَفُ عِنْدِیْ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَلَنْ یَنْجُوَ اَحَدٌ مِمَّا قَبْلَہَا اِلَّا نَجَا مِنْہَا وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَۃٌ مُنْذُ کَانَتِ الدُّنْیَا صَغِیْرَۃً وَلَا کَبِیْرَۃً اِلَّا لِفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۳)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں دجال کے فتنے کی بہ نسبت تمہارے آپس کے فتنوں یعنی لڑائی جھگڑوں کا زیادہ خطرہ محسوس کرتا ہوں، اور (سنو کہ) جب سے دنیا قائم ہے، اس وقت سے جتنے چھوٹے بڑے فتنے ظہور پذیر ہوئے، وہ سارے کے سارے فتنۂ دجال کی خاطر ہی تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12972

۔ (۱۲۹۷۲)۔ وَعَنْ ہِشَامِ بْنِ عَامِرِ نِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَابَیْنَ خَلْقِ آدَمَ اِلَی اَنْ تَقُوْمَ السَّاعَۃُ فِتْنَۃٌ اَکْبَرُ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۷۳)
سیدنا ہشام بن عامرانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لے کر قیامت کے قائم ہونے تک کوئی ایسا فتنہ ظاہر نہیں ہوا، جو دجال کے فتنے سے زیادہ سنگین ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12973

۔ (۱۲۹۷۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((وَاللّٰہِ! مَابَیْنَ خَلْقِ آدَمَ اِلٰی قِیَامِ السَّاعَۃِ اَمْرٌ اَعْظَمُ مِنَ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۶۳)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تخلیقِ آدم سے قیامت تک کوئی معاملہ دجال سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12974

۔ (۱۲۹۷۴)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا کَانَتْ فِتْنَۃٌ وَلَاتَکُوْنُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ اَکْبَرَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۵۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ کوئی ایسا فتنہ رونما ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو فتنۂ دجال سے زیادہ سنگین ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12975

۔ (۱۲۹۷۵)۔ وَعَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ اِصْطِخَرُ نَادٰی مُنَادٍ: اَلَا اِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ، قَالَ: فَلَقِیَہُمُ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: لَوْلَا مَاتَقُوْلُوْنَ لَاَخْبَرْتُکُمْ اَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَایَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتّٰییَذْھَلَ النَّاسُ عَنْ ذِکْرِہٖوَحَتّٰی تَتْرُکَ الْاَئِمَّۃُ ذِکْرَہُ عَلٰی الْمَنَابِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۸۸)
راشد بن سعد کہتے ہیں: جب اصطخر فتح ہوا، تو ایک مُنادِی نے یہ آواز دی: خبردار! دجال کا ظہور ہوچکا ہے، یہ سن کر سیدنا مصعب بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو جاکرملے اور کہا:جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ایسا اگر نہ ہوتا تو میں تمہیں بتلاتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ لوگ اس کے ذکر سے مکمل طور پر غافل ہوجائیں اور ائمہ یعنی خطباء حضرات منبروں پر اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12976

۔ (۱۲۹۷۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ: ثَنَا مُجَالِدٌ قَالَ: ثَنَا عَامِرٌقَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ، فَاَتَیْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ فَحَدَّثَتْنِیْ اَنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ حَدِیْثَہَا فِی النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی وَزَوَاجَہَا بِاُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ (تَقَدَّمَ ذٰلِکَ فِیْ بَابِ النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی لِلْمُعْتَدَّۃِ الرَّجْعِیَّۃِ وَالْبَتُوْتَۃِ الْحَامِلِ) قَالَ: فَلَمَّا اَرَدْتُّ اَنْ اَخْرُجَ قَالَتْ: اِجْلِسْ حَتّٰی اُحَدِّثَکَ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا مِنَ الْاَیَّامِ فَصَلّٰی صَلاَۃَ الْھَاجِرَۃِ ثُمَّ قَعَدَ فَفَزِعَ النَّاسُ فَقَالَ: ((اِجْلِسُوْا اَیُّہَاالنَّاسُ فَاِنِّیْ لَمْ اَقُمْ مَقَامِیْ ہٰذَا لِفَزَعٍ وَلٰکِنَّ تَمِیْمًا الدَّارِیَّ اَتَانِیْ فَاَخْبَرَنِیْ خَبََرًا مَنَعَنِیْ الْقَیْلُوْلَۃُ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّۃِ الْعَیْنِ فَاَحْبَبْتُ اَنْ اَنْشُرَ عَلَیْکُمْ فَرَحَ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَخْبَرَنِیْ اَنَّ رَھْطًا مِنْ بَنِیْ عَمِّہٖرَکِبُوْاالْبَحْرَفَاَصَابَتْہُمْرِیْحٌ عَاصِفٌ فَاَلْجَاَتْہُمُ الرِّیْحُ اِلٰی جَزِیْرَۃٍ لَایَعْرِفُوْنَہَا فَقَعَدُوْا فِیْ قُوَیْرِبِ السَّفِیْنَۃِ حَتّٰی خَرَجُوْا اِلَی الْجَزِیْرَۃِ فَاِذَا ھُمْ بِشَیْئٍ اَھْلَبَ کَثِیْر الشَّعْرِ، لَا یَدْرُوْنَ اَرَجُلٌ ھُوَ اَوْ اِمْرَاَۃٌ فَسَلَّمُوْا عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ قَالُوْا: اَلَا تُخْبِرُنَا قَالَ: مَا اَنَا بِمُخْبِرِکُمْ وَلَابِمُسْتَخْبِرٍکُمْ وَلٰکِنَّ ہٰذَا الدَّیْرَ قَدْ رَھِقْتُمُوْہُ فَفِیْہِ مَنْ ھُوَ اِلٰی خَبَرِکُمْ بِالْاَشْوَاقِ اَنْ یُخْبِرَکُمْ وَیَسْتَخْبِرَکُمْ ، قَالَ: قُلْنَا: فَمَا اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَاالْجَسَّاسَۃُ،فَانْطَلَقُوْا حَتّٰی اَتَوُا الدَّیْرَ فَاِذَا ھُمْ بِرَجُلٍ مُوَثَّقٍ شَدِیْدِ الْوَثَاقِ مُظْہِرِ الْحُزْنِ کَثِیْرِ التَّشَکِّیْ، فَسَلَّمُوْا عَلَیْہِ، فَرَدَّ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: مِمَّنْ اَنْتُمْ؟ قَالُوْا: مِنَ الْعَرَبِ۔ قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ؟ اَخَرَجَ نَبِیُّہُمْ بَعْدُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ قَالَ: فَمَا فَعَلُوْا؟ قَالُوْا: خَیْرًا آمَنُوْا بِہٖوَصَدَّقُوْہُ؟قَالَ: ذٰلِکَخَیْرٌ لَّھُمْ وَکَانَ لَہُ عَدُوٌّ فَاَظْہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ قَالَ: فَالْعَرَبُ الْیَوْمَ اٰلِہُہُمْ وَاحِدٌ وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ وَکَلِمُتُہُمْ وَاحِدَۃٌ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَیْنُ زُغَرَ؟ قَالُوْا: صَالِحَۃٌیَشْرَبُ مِنْہَا اَھْلُھَا لِشَفَتِہِمْ وَیَسْقُوْنَ مِنْہَا زَرْعَہُمْ۔ قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَیْنَ عُمَّانَ وَبَیْسَانَ؟ قَالُوْا: صَالِحٌ یُطْعِمُ جَنَاہُ کُلَّ عَامٍ۔ قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَیْرَۃُ الطَّبْرِیَّۃُ؟ قَالُوْا: مَلْاٰی۔ قَالَ: فَزَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ حَلَفَ لَوْ خَرْجْتُ مِنْ مَّکَانِیْ ہٰذَا مَا تَرَکْتُ اَرْضًا مِنْ اَرْضِ اللّٰہِ اِلَّا وَطَئْتُہَا غَیْرَ طَیْبَۃَ، لَیْسَ لِیْ عَلَیْہَا سُلْطَانٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ غَیْرَمَکَّۃَ وَطَیْبَۃَ )۔)) قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلٰی ہٰذَا انْتَہٰی فَرْحِیْ ثَلَاثَ مِرَارٍ، اِنَّ طَیْبَۃَ الْمَدِیْنَۃُ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلٰی الدَّجَّالِ اَنْ یَّدْخُلَھَا۔)) ثُمَّ حَلَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ! مَالَھَا طَرِیْقٌ ضَیِّقٌ وَلَا وَاسِعٌ فِیْ سَہْلٍ وَلاَ فِیْ جَبَلٍ اِلَّا عَلَیْہِ مَلَکٌ شَاھِرٌ بِالسَّیْفِ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا یَسْتَطِیْعُ الدَّجَّالُ اَنْ یَّدْخُلَہَا عَلٰی اَھْلِہَا۔)) قَالَ عَامِرٌ: فَلَقِیْتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، فَحَدَّثْتُہُ حَدِیْثَ فَاطِمَۃَ بْنِ قَیْسٍ فَقَالَ: اَشْہَدُ عَلٰی اَبِیْ اَنَّہُ حَدَّثَنِیْ کَمَا حَدَّثَتْکَ فَاطِمَۃُ غَیْرَ اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَقِیْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَذَکَرْتُ لَہُ حَدِیْثَ فَاطِمَۃَ فَقَالَ: اَشْہَدُ عَلٰی عَائِشَۃَ اَنَّہَا حَدَّثَتْنِیْ کَمَا حَدَّثَتْکَ فَاطِمَۃُ غَیْرَ اَنَّہَا قَالَتْ: ((اَلْحَرَمَانِ عَلَیْہِ حَرَامٌ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۹۲)
عامر شعبی کہتے ہیں: میںمدینہ منورہ میں آیا اور سیدنافاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے بیان کیا عہد رسالت میں ان کے شوہرنے انکو طلاق دے دی تھی، پھر اس کے بعد نفقہ و رہائش اور سیدہ اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کی شادی کا واقعہ بیان کیا، ( بَابُ النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی لِلْمُعْتَدَّۃِ الرَّجْعِیَّۃِ وَالْبَتُوْتَۃِ الْحَامِلِ میں اس حدیث کا ذکر ہو چکا ہے۔) عامر کہتے ہیں: میں نے جب وہاں سے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھ سے کہاـ: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کرتی ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن مسجد میں تشریف لئے گئے اور نمازِظہر پڑھا کر وہیں بیٹھ گئے اور لوگ آپ کی حالت و کیفیت دیکھ کر گھبرا گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: لوگو بیٹھ جاؤ،میں اس وقت کسی پریشا نی کیو جہ سے یہاں سے کھڑا نہیں ہوا، بات یہ ہے کہ تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر مجھے ایک بات بتائی ہے ، مجھے اس کی وجہ سے اس قدر خوشی اور راحت ہوئی کہ میں قیلولہ بھی نہیں کر سکا ، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اپنے نبی کی خوشی والی بات سنو، اس نے مجھے بتلایا ہے کہ اس کے چچا کے بیٹوں کی ایک جماعت سمندری سفر کر رہی تھی، تیز ہوا چلنے لگی، وہ ہوا انہیں ایک جزیرے کی طرف لے گئی، ان کی اس جزیرہ سے کوئی واقفیت نہیں تھی، وہ لوگ طوفان کے دوران کسی ایک چھوٹی کشتی پر بیٹھ کر جزیرہ کی طرف جا پہنچے، وہاں انہیں ایک عجیب چیز نظر آئی، اس پر بال ہی بال تھے، وہ تو یہ بھی نہیں پہچان سکے کہ وہ مرد تھا یا عورت؟ انہوںنے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا، ان لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم ہمیں کچھ بتاؤ گی؟ وہ بولی: نہیں، میں نہ تمہیں کچھ بتاتی ہوں، اور نہ تم سے کچھ پوچھتی ہوں،یہ راہبوں کی خانقاہ ہے،اب تم اس کے قریب تو پہنچ چکے ہو اور اس میں ایک ایسا شخص ہے کہ وہ تمہاری باتیں سننے کا بہت زیادہ خواہش مند ہے، وہ تمہیں کچھ باتیں بتائے گا اور کچھ تم سے پوچھے گا، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جَسَّاسَہ ہوں، پھر وہ لوگ چلے گئے اور اس خانقاہ میں پہنچ گئے، وہاں ایک شخص بڑی مضبوط بندشوں میں جکڑا ہوا تھا، اس پر غم و حزن نمایاں تھا اور وہ تکلیف کی شکایت کا اظہار کرتا تھا، انہوںنے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا، اس نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب ہیں، اس نے پوچھا: عرب کیا کرتے ہیں؟ کیا ان کا نبی ظاہر ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: انھوںنے اس کے ساتھ کیا کیا؟ انھوں نے کہا: اچھا رویہ ہے، وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کی۔ اس نے کہا: ان کے لیے یہی بات بہتر ہے، اس کا ایک دشمن تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو اس پر غالب کر دیا۔ پھر اس نے پوچھا: کیا اب ان سب عربوں کا معبود ایک ہے، نیز کیا ان کا دین اور کلمہ بھی ایک ہی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: زغر والے چشمے کے بارے میں بتلاؤ، وہ کس حالت میں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ٹھیک ہے، لوگ اس سے پانی پیتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ اس نے پوچھا: عمان اور بیسان کے درمیان والی کھجوروں کی کیا حالت ہے؟انہوںنے کہا: وہ ٹھیک ہیں، ہر سال ان کے پھل کھائے جاتے ہیں۔ اس نے پوچھا:بحیرہ ٔ طبریہ کی صورتحال کیسی ہے؟ انہوںنے کہا: وہ بھی بھرا ہوا ہے۔ یہ باتیں سن کر وہ خوب اچھلا، پھر اس نے قسم اٹھا کر کہا: اگر میں اپنی اس جگہ سے نکل آؤںتو طیبہ(یعنی مدینہ منورہ) اور مکہ مکرمہ کے علاوہ ساری زمین پر چلوں گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو میری خوشی کی انتہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ تین دفعہ فرمایا، بے شک طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے، اللہ تعالیٰ نے دجال پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ اس میں داخل ہو سکے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حلف اٹھا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! مدینہ منورہ کی طرف آنے والے میدانی اور پہاڑی کشادہ اور تنگ ہر راستے پر اللہ کا فرشتہ قیامت تک تلوار لیے کھڑا ہے، دجال کسی راستے سے مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ عامر شعبی کہتے ہیں: پھر میری ملاقات محرر بن ابو ہریرہ سے ہوئی، میںنے انہیں سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سنی ہوئی یہ حدیث بیان کی، تو انہوںنے کہا: میں گواہی دیتا کہ میرے والد نے بھی یہ حدیث مجھے اسی طرح بیان کی تھی، جیسے آپ کو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا ہے، البتہ انہوںنے یہ بھی کہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مشرق کی جہت میں ہے۔ عامر کہتے ہیں: پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی،میںنے ان کو بھی سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سنی ہوئی یہ حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ حدیث اس طرح بیان کی تھی، جیسے آپ کو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا ہے، البتہ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بھی بیان کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ یہ دونوں حرم، دجال پر حرام ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12977

۔ (۱۲۹۷۷)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوٗدَیَعْنِی ابْنَ اَبِیْ ھِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ذَاتَ یَوْمٍ مُسْرِعًا فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَنُوْدِیَ فِی النَّاسِ: اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَالَ: ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ لَمْ اَدْعُکُمْ لِرَغْبَۃٍ نَزَلَتْ وَلاَ لِرَھْبِۃٍ وَلٰکِنَّ تَمِیْمًا الدَّارِیَّ اَخْبَرَنِیْ اَنَّ نَفَرًا مِنْ اَھْلِ فَلِسْطِیْنَ رَکِبُوْا الْبَحْرَ فَقَذَفَتْہُمُ الرِّیْحُ اِلٰی جَزِیْرَۃٍ مِّنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَاِذَا ھُمْ بِدَابَّۃٍ اَشْعَرَ، مَا یُدْرٰی اَذَکَرٌ ھُوَ اَمْ اُنْثٰی لِکَثْرَۃِ شَعْرِہٖ،قَالُوْا: مَنْاَنْتَفَقَالَتْ: اَنَاالْجَسَّاسَۃُ فَقَالُوْا: فَاَخْبِرِیْنَا فَقَالَتْ: مَا اَنَا بِمُخْبِرَتِکُمْ وَلَامُسْتَخْبِرَتِکُمْ وَلٰکِنْ فِیْ ہٰذَا الدَّیْرِ رَجُلٌ فَقِیْرٌ اِلٰی اَنْ یُخْبِرَکُمْ وَاِلٰی اَنْ یَسْتَخْبِرَکُمْ، فَدَخَلُوْا الدَّیْرَ فَاِذَا رَجُلٌ اَعْوَرُ مُصَفَّدٌ فِی الْحَدِیْدِ، فَقَالَ: مَنْ اَنْتُمْ؟ قُلْنَا: نَحْنُ الْعَرَبُ، فَقَالَ: ھَلْ بُعِثَ فِیْکُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَہَلْ اِتَّبَعَتْہُ الْعَرَبُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّھُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ ھَلْ ظَہَرَ عَلَیْہَا؟ قَالُوْا: لَمْ یَظْہَرْ عَلَیْہَا بَعْدُ، فَقَالَ: اَمَا اِنَّہُ سَیَظْہَرُ عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَیْنُ زُغَرَ؟ قَالُوْا: ھِیَ تَدْفُقُ مَلْاٰی، قَالَ: فَمَا فَعَل نَخْلُ بَیْسَانَ؟ ھَلْ اَطْعَمَ؟ قَالُوْا: قَدْ اَطْعَمَ اَوَائِلُہُ، قَالَ: فَوَثَبَ وَثْبَۃً حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہُ سَیَفْلِتُ، فَقُلْنَا: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَا الدَّجَّالُ، اَمَا اِنِّیْ سَاَطَأُ الْاَرْضَ کُلَّہَا غَیْرَ مَکَّۃَ وَطَیْبَۃَ۔)) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَبْشِرُوْا یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ! ہٰذَا طَیْبَۃُ لَا یَدْخُلُہَا۔)) یَعْنِی الدَّجَّالَ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۴۳)
۔ (دوسری سند) عامر شعبی کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی سے آکر منبر پر بیٹھ گئے اور لوگوں میں یہ اعلان کرا دیا گیا کہ اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ ، لوگ اکٹھے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں کوئی خوش کرنے والے یا ڈرانے دھمکانے والی خبر بتلانے کے لیے نہیں بلایا، جو آج نازل ہوئی ہو، بات یہ ہے کہ تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ایک خبر دی ہے، میں وہ تمہیں بتلانا چاہتا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، وہ طوفان کی وجہ سے ایک سمندری جزیرے پر پہنچ گئے، وہاں انہوںنے ایک ایسا جانور دیکھا جس کے اوپر بال ہی بال تھے اور بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کی یہ شناخت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ مذکر ہے یا مونث؟ بہرحال انھوں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جَسَّاسہ ہوں۔ انھوں نے کہا: ہمیں کچھ بتلاؤ، اس نے کہا: نہیں، میں نے تمہیں نہ کچھ بتلانا ہے اور نہ پوچھنا ہے، البتہ اس خانقاہ میںایک آدمی ہے، وہ تمہیں بعض باتیں بتانے اور بعض پوچھنے کا شوقین ہے، یہ لوگ اس مقام میں چلے گئے، وہاں ایک کانا آدمی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ہم عرب ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا تمہارے اندر نبی مبعوث ہو چکا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: کیا عربوں نے اس کی اطاعت کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: یہی چیز ان کے لیے بہتر ہے۔ اس نے پوچھا: فارس کا کیا بنا؟ کیا یہ نبی ان پر غالب آچکا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، ابھی تک وہ ان پر غالب نہیں آیا، اس نے کہا: لیکن عنقریب وہ اس پر غالب آجائے گا۔ پھر اس نے پوچھا: زغر کے چشمہ کی صورتحال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے۔ اس نے پوچھا: بیسان کے نخلستان کے بارے میں بتاؤ، کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی اس کے درخت پھل دے رہے ہیں،یہ باتیں سن کر وہ خوب اچھلا، ہم نے سمجھا کہ شاید وہ اپنی قید سے نکل جائے گا۔ پھر ہم نے اس سے پوچھا: تو کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں اور خبردار ہو جاؤ، میں عنقریب ساری زمین کو روند دوں گا، ماسوائے مکہ اور طیبہ (یعنی مدینہ) کے۔ پھررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ،یہ طیبہ ہے، دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12978

۔ (۱۲۹۷۸)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَکُوْنَنَّ قَبْلَ یَوْمِ الِقِیَامَۃِ الْمَسِیْحُ الدَّجَّالُ وَکَذَّابُوْنَ ثَلاَثُوْنَ اَوْ اَکْثَرُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۹۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے قبل مسیح دجال کا ظہور ہو گا اور اس کے علاوہ تیس یا اس سے زیادہ کذاب بھی آئیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12979