270 Results For Hadith (Al Silsila Sahiha) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 205

عن أبي هريرة ، عن رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، أنه قال : « آمركُم بثلاث ، وأنهاكُم عن ثَلاث آمُركُم : أن تعبدُوا الله ، ولا تشركُوا به شَيئًا ، وتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا ولا تفْرقُوا ، وتُطيعُوا لمن ولَّاهُ الله عَليكُم أَمركُم ، وأَنهاكُم عن : قِيلَ وَقالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور تین باتوں سے منع کرتا ہوں، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ مت بنو، اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملات کا نگران بنایا ہے اس کی اطاعت کرو اور میں تمہیں فضول گفتگو ، کثرت سوال اور مال ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 206

) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَلِيْمٍ أَوْ سُلَيْمٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ مَّعَ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ أَيُّكُمْ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ فَإِمَّا أَنْ يَّكُونَ أَوْمَأَ إِلَى نَفْسِهِ وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ أَشَارَ إِلَيْهِ الْقَوْمُ قَالَ فَإِذَا هُوَ مُحْتَبٍ بِبُرْدَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَجْفُو عَنْ أَشْيَاءَ فَعَلِّمْنِي قَالَ اتَّقِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَإِيَّاكَ وَالْمَخِيلَةَ فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِأَمْرٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِأَمْرٍ تَعْلَمُهُ فِيهِ فَيَكُونَ لَكَ أَجْرُهُ وَعَلَيْهِ إِثْمُهُ وَلَا تَشْتُمَنَّ أَحَدًا
جابر بن سَلیم یا سُلیم سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: تم میں نبی کون ہے؟ یا تو آپ نے خود اپنی طرف اشارہ کیا یا لوگوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا ، آپ کپڑا کمر سے ڈال کر گھٹنے کھڑے کرکے کمر والے کپڑے سے باندھ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ کپڑے کا کنارہ آپ کے قدموں پر گرا ہوا تھا میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میں کچھ چیزیں جنہیں میں پختہ یاد نہیں رکھ سکتا(بھول جاتا ہوں)آپ مجھے سکھلائیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل سے ڈرو اور نیکی کے کسی کام کو حقیر مت سمجھو، اگرچہ تم اپنےڈول سے پانی لینے والے کے برتن میں پانی ہی کیوں نہ ڈالو۔ تکبر سے بچو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص تم میں موجود کسی خامی کو دیکھ کر تم پر ہنسے اور عار دلائے تو تم اس میں موجود کسی خامی کو دیکھ کر اسے عار نہ دلاؤ۔ اس بات کا تمہیں اجر ملے گا اور اس پر گناہ ہوگا اور کسی کو گالی مت دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 207

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ اتقُوا اللهَ فِي الصَّلَاةِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَجَعلَ يُكَرِّرُهَا.
ام سلمہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں فرمایا:نماز اور غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ آپ بار بار اسی بات کو دہراتے رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 208

عن جابر رضی اللہ عنہ مرفوعاً: « أَحبُ الطَعَام إلَى الله مَا كَثُرَتْ عَلَيه الأَيدي ».
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے اللہ کو سب سے پیارا کھانا وہ لگتا ہے جس میں کھانے والے ہاتھ زیادہ ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 209

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ وَأَيُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللهِ تَعَالَى أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ وَأَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللهِ عَزوَجَل سُرُورٌ يُّدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ أَوْ يَكَشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً أَوْ يَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا أَوْ يَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا وَلأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخِ فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ شَهْرًا وَمَنَ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ مَلأَ اللهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَّوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَّشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى تَتَهَيَّأَ لَهُ أَثْبَتَ اللهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الأَقْدَامُ. (وَإنَّ سوءَ الْخُلُقِ يُفْسِدُ الْعَمَلَ كَمَا يُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ).
عبداللہ بن عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول! کونسا شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے اور کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے ہاں وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع دینے والا ہے ۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ خوشی ہے جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دے، یا اس سے مصیبت دور کرے ،یا اس کا قرض ادا کرے یا اس کی بھوک ختم کرے، اور اگر میں کسی بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے چلوں تو یہ مجھے اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں ایک ماہ اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ جس شخص نے اپنا غصہ روکا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا، جو شخص اپنے غصے کے مطابق عمل کرنے کی طاقت کے باوجود اپنے غصے کو پی گیا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید سے بھر دے گا۔ اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کی ضرورت پوری ہونے تک اس کے ساتھ چلا تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدم رکھیں گے جس دن قدم ڈگمگا رہے ہوں گے (اور یقیناً بد اخلاقی عمل کو خراب کر دیتی ہے جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 210

عَنْ يَزِيدَ بْنِ أسيدٍ أنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ: أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ.
(۲۱۰) یزید بن اسید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 211

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَمِعَ كَلِمَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَقَالَ أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فَيكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ سنا تو آپ کو بہت اچھا لگا آپ نے فرمایا : ہم نے نیک شگون تمہارے منہ سے لےلیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 212

عَنْ رَجُلٌ مِّنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقَالَ أَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : اخْرُجْ إِلَى هَذَا فَعَلِّمْهُ الِاسْتِئْذَانَ فَقُلْ لَهُ قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَخَلَ.
بنو عامر کے ایک شخص سے مروی ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی آپ اپنے گھر میں تھے اس نے (کہا) داخل ہوجاؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (خادم سے) فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھلاؤ۔ اور اس سے کہو کہ اس طرح کہے السلام علیکم کیا میں اندر آجاؤں؟ اس شخص نے یہ بات سن لی اس نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آجاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازدت دے دی تو وہ اندر آگیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 213

عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِخَادِمِهِ اخْرُجِي إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ فَقُولِي: فَلْيَقُلِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ؟
بنو عامر کے ایک شخص سے مروی ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو اس نے کہا : کیا میں اندر آجاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لونڈی سے کہا: اس کے پاس جاؤ وہ عمدہ طریقے سے اجازت نہیں مانگ رہا ، اس سے کہو کہ اس طرح کہے: السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 214

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللهِ يَومَ القِيَامةِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے برا نام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنا نام شہنشاہ رکھا ہوگا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 215

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إذا أبردتم إلي بَريدًا فابْعَثُوهُ حَسَنَ الْوَجْهِ، حَسَنَ الاسْمِ .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے پاس کسی ایلچی (پیغامبر)کو بھیجو تو اچھی صورت اور اچھے نام والے کو بھجو ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 216

عَنْ أَبِي سَعيدِ الضحَّاكِ بن قَيْسٍ، الفَهرِي یقول سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا، فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا لَه: قَحْطًا، فَقَحْطًا لَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو سعید ضحاک بن قیس فہری سے مروی ہے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے خوش آمدید کہیں تو جس دن وہ اپنے رب سے ملے گا اس دن بھی اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ اور جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے برا بھلاکہیں تو قیامت کے دن بھی اس کے لئے برائی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 217

عَنْ أَبِي سَعيدِ الضحَّاكِ بن قَيْسٍ، الفَهرِي یقول سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا، فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا لَه: قَحْطًا، فَقَحْطًا لَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو سعید ضحاک بن قیس فہری سے مروی ہے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے خوش آمدید کہیں تو جس دن وہ اپنے رب سے ملے گا اس دن بھی اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ اور جب کوئی آدمی کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے برا بھلاکہیں تو قیامت کے دن ان کے لئے بھی برائی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 218

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ. روی من حدیث عبداللہ بن عمر و جریر عبداللہ و جابر بن عبداللہ و ابی ھریرۃ و عبداللہ بن عباس و معاذ بن جبل وعدی بن حاتم وابی راشد عبدالرحمن بن عبد و انس بن مالک رضی اللہ عنھم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 219

عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ مَرفُوعاً: إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ أَنَّه يُحِبُّهُ.
مقدام بن معدی کرب سے مرفوعا مروی ہے جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 220

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ بِأَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلهِ عَزّوجل.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جب تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی سے محبت کرے تو وہ اس کے پاس اس کے گھر آئے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ عزوجل کے لئے محبت کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 221

عن مُجَاهِد قال : لَقِينِي رَجل مِّن أَصحَاب النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخَذ بِمنْكبِي من وَّرَائِي ، قال : أَمَا إِنِّي أحبك ، قُلْت : أحبك الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَه ، فَقَال : لَوْلَا أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : إِذَا أحب الرَجل الرجل فَلْيُخْبِرْه أَنَّه أحبه لما أَخْبَرتك ، قال : ثُم أَخذ يعرض علي الْخُطْبَة قال : أمَا إِن عِنْدَنَا جَارِيَة ، أَمَا إِنَّهَا عَوْرَاء
مجاہد سے مروی ہے اس نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی مجھ سے ملا اور میرے پیچھے سے میرے کاندھے پکڑ کر کہنے لگا: میں تم سے محبت کرتا ہوں، میں نے کہا جس کے لئے تم نے مجھ سے محبت کی وہ تم سے محبت کرے۔ اس صحابی نے کہا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے محبت کرے تو اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے تو میں تمہیں نہ بتاتا ،پھر وہ مجھے نکاح کا پیغام دینے لگا کہنے لگا ہمارے پاس ایک بچی ہے لیکن وہ بھینگی ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 222

عَن عَبْدِ اللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَّسْأَلَ، فَلْيَبْدَأْ بِالْمِدْحَةِ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ لْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، ثُمَّ لِيَسْأَلْ بَعْدُ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يََّْجَحَ . موقوف في حكم المرفوع.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: جب تم میں سے کوئی شخص مانگنا چاہے تو اللہ کی حمدوثنا سے ابتداء کرے ،پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے پھر اس کے بعد مانگے ،یہ کامیابی کے لئے زیادہ مناسب ہے ،(یہ حدیث) مرفوع کے حکم میں موقوف ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 223

) عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِّنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ فَقَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ؟ قُلْتُ اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ وَاللهِ لَتُقِيمَنَّ عَلَيْهِ بَيِّنَةً أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَاللهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ ذَلِكَ.
ابو سعید نے کہا میں انصاریوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ ابو موسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا : میں نے عمر‌رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انہوں نے مجھے اجازت نہیں دی میں واپس آنے لگا تو عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کس وجہ سے واپس جارہے ہو؟ ابو موسیٰ نے کہا: میں نے تین مرتبہ اجازت مانگی مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس جانے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس لوٹ جائے ۔عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ تم اس کا ثبوت لاؤ گے ، کیا تم میں سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہارے ساتھ سب سے کم عمر شخص جائے گا،میں (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) سب سے کم عمر تھا میں ان کے ساتھ گیا اور عمر‌رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 224

عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَا يَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کمر کے بل چت لیٹے تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 225

عَنْ أَبِي الدَرْدَاء ، مرفوعا: إِذَا اصطحَبَ رَجُلَان مُسْلِمَان فَحَال بَيْنَهُمَا شَجَرٌ أَو حَجرٌ أَو مَدرٌ فَلْيسلم أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخر ، وَيتبَادلَان السَّلَام
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب دو مسلمان ساتھ ساتھ چل رہے ہوں اور ان دونوں کے درمیان کوئی درخت، پتھر یا دیوار(چٹان) آجائے(جب اس سے گذر ہو جائےپھر ملیں) تو ایک دوسرے کو سلام کہیں اور سلام کا تبادلہ کریں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 226

عَنْ مُصْعَبِ بن شَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، مَرفُوعاً: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَإِنْ وُسِّعَ لَهُ فَلْيَجْلِسْ، وَإِلا فَلْيَنْظُرْ أَوْسَع مَكَانٍ يَّرَاهُ فَلْيَجْلِسْ فِيهِ .
مصعب بن شیبہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں : جب تم میں سے کوئی شخص مجلس میں آئے اور اسے جگہ دے دی جائے تو وہ بیٹھ جائے ۔وگرنہ وہ کوئی کھلی جگہ دیکھے تو وہاں بیٹھ جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 227

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعاً: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَّقُومَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتْ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنْ الْآخِرَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کوئی شخص مجلس میں آئے تو سلام کہے اور جب کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو سلام کہے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ افضل نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 228

عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُّحَدِّثُهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُمَـا فَضَرَبَ بِيَدِهِ صَـدْرِي وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا.
سعید مقبری سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا کوئی بات کر رہا تھا میں ان دونوں کے پاس آیا تو ابن عمر نے میرے سینے پر تھپڑ مارا اور کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو آدمی سر گوشی کر رہے ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر ان کے پاس نہ بیٹھو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 229

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا ثُم قَالَ إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر کھنگار دیکھا تو ایک پتھر لے کر اسے کھرچ دیا، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھنگارے تو وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے یا اپنے بائیں قدم کے نیچے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 230

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرفُوعاً: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ.
جابر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جب کوئی آدمی بات کرے اور آس پاس جھانکے تو اس کی وہ بات امانت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 231

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِذَا رَأَى أَحدكُم الرُّؤْيَا تُعْجِبُه فليذكرها وليفسرها و إِذَا رَأَى أَحدكُم الرُّؤْيَا تسوءه، فَلَا يَذْكُرهَا وَ لَا يُفَسِّرْهَا .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے پسند ہو تو وہ اس کا ذکر کرے اور اس کی تعبیر بتائے اور جب کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو نہ تو اس کا ذکر کرے اور نہ اس کی تعبیر بیان کرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 232

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَتَحَوَّلْ وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَّسَارِهِ ثَلَاثًا وَّلْيَسْأَلِ اللهَ مِنْ خَيْرِهَا وَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایساخواب دیکھے جو اسے برالگے تو وہ اپنا پہلو بدل لے اور اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکے، اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرے اور اس کے شر سے پناہ مانگے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 233

عَن ابن عُمر قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَجَلسَ عِندَه فَلَا يَقُومَن حَتى يَستَأَذنَه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے اور اس کے پاس بیٹھے تو اجازت لینے سے پہلے وہاں سے کھڑا نہ ہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 234

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ مِنْ طَعَامِهِ فَلْيَأْكُلْ، وَلا يَسْأَلْه عَنْهُ، وَإِنْ سَقَاهُ مِنْ شَرَابِهِ فَلْيَشْرَبْ وَلا يَسْأَلْه عَنْهُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ مسلمان اپنے کھانے میں سے اسے کھلائے تو وہ کھالے اور اس سے اس کھانے کے متعلق سوال نہ کرے، اور اگر وہ اسے کوئی مشروب پلائے تو پی لے اور اس سے اس کے متعلق سوال نہ کرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 235

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ. ورد من حدیث المقداد بن الاسود و عبداللہ بن عمرو ابی ھریرۃ و عبادۃ بن الثابت رضی اللہ عنھم۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم خوشامد کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 236

عَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارِ السَّكُونِيِّ ثُمَّ الْعَوْفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا
مالک بن یسار سکونی عوفی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی ہتھیلیوں کا رخ آسمان کی طرف کر کے مانگو اور اس سے ہتھیلیوں کی پشت کے رخ پر نہ مانگو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 237

عن جابر بن عبد الله قال : سمعت رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يقول : « إِذَا سَمِعْتُم نُبَاح الْكَلب بِاللَّيْل أَو نُهَاق الْحَمِير فَتَعَوَّذُوا بِالله ؛ فَإِنَّهُم يَرَوْن مَا لَا تَرَوْن . وَأقِلُّوا الْخُرُوج إِذَا هَدَأت الرِّجُلُ ؛ فَإِن الله يَبُثُّ فِي لَيْلَه مِن خَلقِه مَا يَشَاء . وَأَجِيفُوا الْأَبْوَاب وَاذْكُرُوا اسْمَ الله عَلَيْهَا ؛ فَإِن الشَّيْطَان لَا يَفْتَح بَابًا أجِيف وَذُكرَ اسْمُ الله عَليه . وَغَطُّوا الْجِرَارَ واكفئُوا الْآنِيَة وَأَوْكُوا الْقُرُب».
جابر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب تم رات کے وقت کتے بھونکنے یا گدھے کے ہنہنانے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی مخلوق دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے اور جب پاؤں پرسکون ہوجائیں تو باہر کم ہی نلوَ کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے۔ بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کر دو، کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا جسے بسم اللہ پڑھ کر بند کیاگیا ہو، مٹکے اور برتن ڈھانپ دیا کرو اور مشکیزوں کے منہ بند کردیا کرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 238

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِذَا صَنَعَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ طَعَامًا فَوَلِيَ حَرَّهُ وَمَشَقَّتَهُ فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ فَإِنْ لَمْ يَدْعُهُ فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا بنائے جس کی گرمی اور مشقت اس نے برداشت کی ہے تو وہ اسے بلائے اور اپنے ساتھ کھانا کھلائے اور اگر نہ بلائے تو اسے اس کھانے میں سے کچھ نہ کچھ دے دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 239

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ فَإِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کوئی شخص مارے تو چہرے پر مارنے سے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 240

عَن أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ فَعَطَسْتُ وَلَمْ يُشَمِّتْنِي وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا قَالَتْ: عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا فَقَالَ: إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدْ اللهَ تَعَالَى فَلَمْ أُشَمِّتْهُ وَإِنَّهَا عَطَسَتْ فَحَمَدَتْ اللهَ تَعَالَى فَشَمَّتُّهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تُشَمِّتُوهُ فَقَالَتْ: أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ.
ابو بردہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں ابو موسیٰ کے پاس ام فضل کی بیٹی کے گھر آیا، مجھے چھینک آئی تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔ جب اسے (ام فضل کو)چھینک آئی تو اسے جواب دےدیا۔ میں اپنی والدہ کے پاس آیااور انہیں بتایا، پھر جب ابو موسیٰ آئے تو میری والدہ نے کہا : تمہارے پاس میرے بیٹے نے چھینک ماری تو تم نے اسے جواب نہیں دیا جبکہ اس نے (ام فضل کی بیٹی نے) چھینک ماری تو اسے جواب دے دیا؟ ابو موسیٰ نے کہا: تمہارے بیٹے نے چھینک ماری لیکن الحمد اللہ نہیں کہا تو میں نے اسے جواب نہیں دیا، اور اس نے چھینک ماری تو اس نے الحمدللہ کہا اس لئے میں نے اسے جواب دے دیا۔ اور میں نےر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : جب تم میں سے کوئی شخص چھینک مار کر الحمدللہ کہے تو اسے جواب دو اور اگر الحمدللہ نہ کہے تو اسے جواب نہ دو۔ میری والدہ نے کہا: تم نے اچھا کیا، تم نے اچھا کیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 241

عن أبي هريرة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مرفوعا: إِذَا عَطس أَحدكُم فليُشمته جَلِيسَه ، وَإِن زَاد عَلَى ثَلَاث فَهُو مَزْكُوم ، وَلَا يُشَمَّت بَعَد ذَلِك.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : تم میں سے کوئی شخص چھینک مارے تو اس کے پاس بیٹھنے والا اسے جواب دے (یرحمک اللہ کہے) اگر وہ تین مرتبہ سے زیادہ چھینک مارے تو اسے زکام ہے اس کے بعد اسے جواب نہ دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 242

عَن عبد الله بن بُرَيْدَة ، عن أَبِيه مرفوعا: إِذَا قَالَ الرَجُل لِلْمُنَافِق يَا سَيِّد فَقَد أَغْضَب رَبَّه تَبَارَك وتعالى.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں : جب کوئی آدمی کسی منافق سے کہتا ہے اے سردار( یا اے محترم) تو وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 243

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَّجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 244

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ أَنْصِتُوا وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ فَقَدْ أَلْغَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ (يعني يوم الجمعة).
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب (دوران خطبہ) لوگ باتیں کر رہے ہوں اور تم ان سے کہو خاموش ہو جاؤ، تو تم نے بھی لغو کام کیا (یعنی جمعے کے دن)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 245

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ وَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ فَلْيَقُمْ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں کوئی شخص سائے میں ہو پھر سایہ اس سے سمٹ جائے اور اس کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ حصہ سائے میں ہو تو وہاں سے اٹھ جائے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 246

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ جَمِيعًا فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین شخص اکٹھے ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سر گوشی نہ کریں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 247

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِّنَ العِشَاءِ فَخَلُّوهُمْ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب شام کا وقت ہوجائے تو اپنے بچوں کو روک لو، کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ،پھر جب عشاء کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 248

أَبُو سُفْيَانَ (عَنْ جَابِرٍ) قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلٌ وَّهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا رَأَى النَّائِمُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ وَسَقَطَ رَأْسِي (فَتدحرج) فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ (فَضَحِك النَبِي صلی اللہ علیہ وسلم ) فَقَالَ: إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ فَلَا يُحَدِّث بِهِ النَّاسَ.
ابو سفیان (جابر سے)بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا:ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ خطبہ دے رہے تھے، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! میں نے رات ایک خواب دیکھا کہ میری گردن کاٹ دی گئی اور میرا سرگرگیا ہے(اور لڑھک گیا ہے)میں اس کے پیچھے گیا اور اسے پکڑ کر واپس لگا لیا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے)اورفرمانے لگے، جب شیطان تم میں سے کسی کے ساتھ نیند میں کھیلے تو وہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 249

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ أَوْ جِدَارٌ أَوْ حَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ أَيْضًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کہے اگر ان کے درمیان کوئی درخت ،دیوار، یا پتھر حائل ہو جائے پھر اس سے ملے تو اسی طرح سلا م کہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 250

عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِّنْ قَوْمِهِ قَالَ: طَلَبْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا نَفَرٌ هُوَ فِيهِمْ وَلَا أَعْرِفُهُ وَهُوَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ مَعَهُ بَعْضُهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَلْيَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ و برکاتہ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ.
ابو تمیمہ ہجیمی اپنی قوم کے ایک فرد سے روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا لیکن آپ نہ ملے میں بیٹھ گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جماعت آرہی ہے ۔آپ بھی انہی میں ہیں، میں آپ کو پہچانتا نہیں تھا، آپ ان کے درمیان صلح کروارہے تھے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ کے ساتھ بعض لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں نے اتنی بات ہی سنی تھی کہ میں کہنے لگا : اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو ، اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو ، اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو! آپ نے فرمایا: ‘‘علیک السلام’’ مُردوں پر سلام کرنے کا طریقہ ہے۔ یا ‘‘علیک السلام’’ کے الفاظ کے ذریعے مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو کہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو، تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو، تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 251

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا لَقِيتُمُ الْمُشْرِكِينَ (وَفِي رواية: أَهْل الْكِتَاب) فَلَا تَبْدَؤُهُمْ بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم مشرکین سے ملو(اور ایک روایت میں ہےکہ اہل کتاب سے ملو) تو انہیں سلام میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں کسی راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 252

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «إِذَا مَرَّ رِجَالٌ بِقَومٍ فَسَلَّمَ رَجُلٌ عَنِ الَّذِينَ مَرُّوا عَلَى الْجَالِسِينَ ، وَرَدَّ مِنْ هَؤُلاَءِ وَاحِدٌ أَجْزَأَ عَنْ هَؤُلاَءِ وَعَنْ هَؤُلاَءِ».
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کچھ آدمی کسی قوم کے پاس سے گزریں تو گزرنے والوں میں سے ایک آدمی بیٹھے ہوئے لوگوں پر سلام کہے اور ان میں سے ایک شخص جواب دے دے، ان سے بھی کفایت کر جائے گا اور ان سے بھی کفایت کر جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 253

عن أبي بصرة الغفاري قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا مَرَرْتُم بِالْيَهُود فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِم فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُم فَقُولُوا : وَعَلَيْكُم.
ابی ابو بصرہ غفاری سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم یہودیوں .....کے پاس سے گزروتو انہیں سلام مت کہو اور جب وہ تمہیں سلام کہیں تو تم صرف ‘‘وعلیکم’’ کہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 254

عن ابن عباس ، قال : جَاءَت فَأْرَة ، فَأَخَذَت تَجر الفتيلة، فَذَهَبَت الْجَارِيَة تزجرها، فَقَال نَبِي الله صلی اللہ علیہ وسلم : « دعيها » فَجَاءَت بِهَا فَأَلْقَتْهَا بَيْن يَدَي رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى الْخُمْرَةِ الَّتِي كَان عَلَيْهَا قَاعِدًا، فَأَحْرَقَت مِنها مثل مَوْضِع دِرْهَم ، فَقَال ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِذَا نِمْتُم فَأَطْفِئُوا سُرجَكم، فَإِن الشَّيْطَان يَدُلّ مَثل هَذِه عَلَى هذا فَيُحرِقَكُم ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ایک چوہیا آئی اور بتی کھینچنے لگی۔ ایک بچی اسے بھگانے کے لئے گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دووہ چوہیا اس بتی کو کھینچ کر لائی اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چٹائی پر ڈال دیا، جس پر آپ بیٹھے ہوئے تھے اس چٹائی کا ایک درہم کے برا بر حصہ جلا دیا ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان اس جیسے جانور کو ایسے کام کی طرف راہنمائی کرتا ہے، پس وہ تمہیں جلا دے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 255

عن سعيد بن زيد ، مرفوعا: « أَرْبَى الرِّبَا شَتَم الْأَعْرَاض».
سعید بن زید‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : سب سے بڑا گناہ عزتوں کا خراب کرنا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 256

عَنْ كَلَدَةَ بْنَ حنبل قَالَ: إِنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ بِلَبَنٍ وَّلِبَإٍ وَّضَغَابِيسَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأَعْلَى الْوَادِي قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : ارْجِعْ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟
کلدہ بن حنبل سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: صفوان بن امیہ نے دودھ پہلے قت کا گاڑھا دودھ اور ایک قسم کی گھاس، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکے کے بالائی حصے میں تھے ،میں آپ کے پاس آیا نہ تو سلام کیا اورنہ اجازت طلب کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس لوٹ جاؤ اور کہو: السلام علیکم کیا میں آسکتا ہوں؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 257

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اسْتَعِينُوا عَلَى إِنْجَاحِ الْحَوَائِجِ بِالْكِتْمَانِ، فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُودٌ .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے رازداری کے ساتھ کام لیا کرو کیونکہ ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 258

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے میں فرما رہے تھے : جوتے زیادہ پہنا کرو، کیونکہ آدمی اس وقت تک سوار ہے جب تک وہ جوتا پہنے رہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 259

عَنْ عَلِيٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَّكَّـةَ اتَّبَعَتْنَا ابْنَـةُ حَمْـزَةَ فَنَادت يَا عَـمِّ! يَا عَـمِّ! فَأخذتُ بِيَـدِهَـا فَتَنَاوَلْتُهَا فَاطِمَةَ رضی اللہ عنہا قُلْتُ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اخْتَصَمْنَا فِيهَا أَنَا وَزَيْدٌ وَّجَعْفَرٌ فَقُلْتُ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي وَقَالَ: زَيْدٌ ابْنَةُ أَخِي وَقَالَ: جَعْفَرٌ ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لِجَعْفَر أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ: أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا وَقَال لِي أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ ادفعوها إلى خَالَتِهَا فَإِنَّ الْخَالَةَ أُمّ فُقُلْتُ أَلَا تَزَوَّجُهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چلی آئی اور آواز دینے لگی: چچا جان ،چچاجان! میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑا دیا، میں نے کہا: اپنے چچا کی بیٹی کو پکڑو جب ہم مدینے آئے تو میں زید اور جعفر اس کے بارے میں جھگڑنے لگے، میں نے کہا: میں اسے لوں گا، یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، زید نے کہا: میرے بھائی کی بیٹی ہے، جعفرنے کہا : میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ (میرے نکاح میں ہے)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے کہا: تم خلقت میں اور اخلاق میں میرے مشابہ ہو ،زید سے کہا: تم ہمارے بھائی اور دوست ہو اور مجھ سے کہا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، اسے اس کی خالہ کے سپرد کر دو، کیونکہ خالہ ماں کی مانندہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول کیا آپ اس سے شادی نہ کر لںں ؟ آپ نے فرمایا: یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 260

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا فَإِنِّي لَأُرِيدُ الْأَمْرَ فَأُؤَخِّرُهُ كَيْمَا تَشْفَعُوا فَتُؤْجَرُوا
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفارش کیا کرو تمہیں اجر دیا جائے گا ۔ میں کسی معاملے کا ارادہ کرتا ہوں، پھر اسے موخر کر دیتا ہوں تاکہ تم سفارش کرو تو تمہیں اجر دیا جائے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 261

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ، سلام کو عام کرو، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 262

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ ، مَرفُوعاَ: أَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعَاءِ، وَأَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلامِ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: لوگوں میں سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو دعا کرنے سے عاجز ہواور سلام میں بخل کرنے والا سب سے بڑا بخیل ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 263

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِيْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَدِيثَهُ مِنْ فِيهِ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا فَارِسِيًّا مِنْ أَهْلِ أَصْبَهَانَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ مِّنْهَا يُقَالُ لَهَا (جَيٌّ) وَكَانَ أَبِي دِهْقَانُ قَرْيَتِهِ وَكُنْتُ أَحَبَّ خَلْقِ اللهِ إِلَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ حُبُّهُ إِيَّايَ حَتَّى حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ أَيْ مُلَازِمَ النَّارِ كَمَا تُحْبَسُ الْجَارِيَةُ وَأَجْهَدْتُّ فِي الْمَجُوسِيَّةِ حَتَّى كُنْتُ قَاطنَ النَّارِ الَّذِي يُوقِدُهَا لَا يَتْرُكُهَا تَخْبُو سَاعَةً قَالَ: وَكَانَتْ لِأَبِي ضَيْعَةٌ عَظِيمَةٌ قَالَ: فَشُغِلَ فِي بُنْيَانٍ لَّهُ يَوْمًا فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ! إِنِّي شُغِلْتُ فِي بُنْيَانٍ هَذَا الْيَوْمَ عَنْ ضَيْعَتِي فَاذْهَبْ فَاطَّلِعْهَا وَأَمَرَنِي فِيهَا بِبَعْضِ مَا يُرِيدُ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ ضَيْعَتَهُ فَمَرَرْتُ بِكَنِيسَةٍ مِّنْ كَنَائِسِ النَّصَارَى فَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ فِيهَا وَهُمْ يُصَلُّونَ وَكُنْتُ لَا أَدْرِي مَا أَمْرُ النَّاسِ لِحَبْسِ أَبِي إِيَّايَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا مَرَرْتُ بِهِمْ وَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ أَنْظُرُ مَا يَصْنَعُونَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبَتنِي صَلَاتُهُمْ وَرَغِبْتُ فِي أَمْرِهِمْ وَقُلْتُ: هَذَا وَاللهِ خَيْرٌ مِّنَ الدِّينِ الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ فَوَاللهِ مَا تَرَكْتُهُمْ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَرَكْتُ ضَيْعَةَ أَبِي وَلَمْ آتِهَا فَقُلْتُ: لَهُمْ أَيْنَ أَصْلُ هَذَا الدِّينِ؟ قَالُوا: بِالشَّامِ قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي وَقَدْ بَعَثَ فِي طَلَبِي وَشَغَلْتُهُ عَنْ عَمَلِهِ كُلِّهِ قَالَ: فَلَمَّا جِئْتُهُ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! أَيْنَ كُنْتَ؟ أَلَمْ أَكُنْ عَهِدْتُ إِلَيْكَ مَا عَهِدْتُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتِ! مَرَرْتُ بِنَاسٍ يُّصَلُّونَ فِي كَنِيسَةٍ لَّهُمْ فَأَعْجَبَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ دِينِهِمْ فَوَاللهِ مَازِلْتُ عِنْدَهُمْ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! لَيْسَ فِي ذَلِكَ الدِّينِ خَيْرٌ دِينُكَ وَدِينُ آبَائِكَ خَيْرٌ مِّنْهُ قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا وَاللهِ إِنَّهُ خَيْرٌ مِّنْ دِينِنَا قَالَ: فَخَافَنِي فَجَعَلَ فِي رِجْلَيَّ قَيْدًا ثُمَّ حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ قَالَ: وَبَعَثَتْ إِلَيَّ النَّصَارَى فَقُلْتُ لَهُمْ: إِذَا قَدِمَ عَلَيْكُمْ رَكْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنَ النَّصَارَى فَأَخْبِرُونِي بِهِمْ قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ رَكْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنَ النَّصَارَى قَالَ: فَأَخْبَرُونِي بِهِمْ قَالَ: فَقُلْتُ: لَهُمْ إِذَا قَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَأَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ فَآذِنُونِي بِهِمْ، فَلَمَّا أَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ أَخْبَرُونِي بِهِمْ فَأَلْقَيْتُ الْحَدِيدَ مِنْ رِجْلَيَّ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَمَّا قَدِمْتُهَا قُلْتُ: مَنْ أَفْضَلُ أَهْلِ هَذَا الدِّينِ قَالُوا: الْأَسْقُفُّ فِي الْكَنِيسَةِ قَالَ: فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ رَغِبْتُ فِي هَذَا الدِّينِ وَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ أَخْدُمُكَ فِي كَنِيسَتِكَ وَأَتَعَلَّمُ مِنْكَ وَأُصَلِّي مَعَكَ قَالَ: فَادْخُلْ فَدَخَلْتُ مَعَهُ قَالَ: فَكَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُهُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُهُمْ فِيهَا فَإِذَا جَمَعُوا إِلَيْهِ مِنْهَا أَشْيَاءَ اكْتَنَزَهُ لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ الْمَسَاكِينَ حَتَّى جَمَعَ سَبْعَ قِلَالٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّوَرِقٍ قَالَ وَأَبْغَضْتُهُ بُغْضًا شَدِيدًا لِّمَا رَأَيْتُهُ يَصْنَعُ ثُمَّ مَاتَ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ النَّصَارَى لِيَدْفِنُوهُ فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّ هَذَا كَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُكُمْ فِيهَا فَإِذَا جِئْتُمُوهُ بِهَا اكْتَنَزَهَا لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِ الْمَسَاكِينَ مِنْهَا شَيْئًا قَالُوا: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ؟ قَالَ قُلْتُ: أَنَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِهِ قَالُوا: فَدُلَّنَا عَلَيْهِ قَالَ: فَأَرَيْتُهُمْ مَّوْضِعَهُ قَالَ: فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ سَبْعَ قِلَالٍ مَّمْلُوءَةٍ ذَهَبًا وَّوَرِقًا قَالَ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا: وَاللهِ لَا نَدْفِنُهُ أَبَدًا فَصَلَبُوهُ ثُمَّ رَجَمُوهُ بِالْحِجَارَةِ ثُمَّ جَاءُوا بِرَجُلٍ آخَرَ فَجَعَلُوهُ بِمَكَانِهِ قَالَ: يَقُولُ سَلْمَانُ فَمَا رَأَيْتُ رَجُلًا لَا يُصَلِّي الْخَمْسَ أَرَى أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْهُ أَزْهَدُ فِي الدُّنْيَا وَلَا أَرْغَبُ فِي الْآخِرَةِ وَلَا أَدْأَبُ لَيْلًا وَنَهَارًا مِّنْهُ قَالَ: فَأَحْبَبْتُهُ حُبًّا لَّمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَهُ وَأَقَمْتُ مَعَهُ زَمَانًا ثُمَّ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنِّي كُنْتُ مَعَكَ وَأَحْبَبْتُكَ حُبًّا لَّمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَكَ وَقَدْ حَضَرَكَ مَا تَرَى مِنْ أَمْرِ اللهِ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! وَاللهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا الْيَوْمَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ لَقَدْ هَلَكَ النَّاسُ وَبَدَّلُوا وَتَرَكُوا أَكْثَرَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلًا ‘‘الرمل’’ وَهُوَ فُلَانٌ فَهُوَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ فَالْحَقْ بِهِ قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ الْمَوْصِلِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا أَوْصَانِي عِنْدَ مَوْتِهِ أَنْ أَلْحَقَ بِكَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّكَ عَلَى أَمْرِهِ قَالَ: فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَوَجَدْتُهُ خَيْرَ رَجُلٍ عَلَى أَمْرِ صَاحِبِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَّاتَ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا أَوْصَى بِي إِلَيْكَ وَأَمَرَنِي بِاللُّحُوقِ بِكَ وَقَدْ حَضَرَكَ مِنْ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا تَرَى فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ أَيْ بُنَيَّ! وَاللهِ مَا أَعْلَمُ رَجُلًا عَلَى مِثْلِ مَا كُنَّا عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلاً بِنَصِيبِينَ وَهُوَ فُلَانٌ فَالْحَقْ بِهِ وَقَالَ فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ نَصِيبِينَ فَجِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِي وَمَا أَمَرَنِي بِهِ صَاحِبِي قَالَ: فَأَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى أَمْرِ صَاحِبَيْهِ فَأَقَمْتُ مَعَ خَيْرِ رَجُلٍ فَوَاللهِ مَا لَبِثَ أَنْ نَّزَلَ بِهِ الْمَوْتُ فَلَمَّا حُضرَ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا كَانَ أَوْصَى بِي إِلَى فُلَانٍ ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ فَإِلَى مَنْ تُوصِي؟ بِي وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ أَيْ بُنَيَّ وَاللهِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا بَقِيَ عَلَى أَمْرِنَا آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ إِلَّا رَجُلًا بِعَمُّورِيَّةَ فَإِنَّهُ بِمِثْلِ مَا نَحْنُ عَلَيْهِ فَإِنْ أَحْبَبْتَ فَأْتِهِ قَالَ: فَإِنَّهُ عَلَى أَمْرِنَا قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ عَمُّورِيَّةَ وَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ: أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ مَعَ رَجُلٍ عَلَى هَدْيِ أَصْحَابِهِ وَأَمْرِهِمْ قَالَ وَاكْتَسَبْتُ حَتَّى كَانَ لِي بَقَرَاتٌ وَّغُنَيْمَةٌ قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ بِهِ أَمْرُ اللهِ فَلَمَّا حُضِرَ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ إِنِّي كُنْتُ مَعَ فُلَانٍ فَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ وَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! مَا أَعْلَمُهُ أَصْبَحَ عَلَى مَا كُنَّا عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ وَلَكِنَّهُ قَدْ أَظَلَّكَ زَمَانُ نَبِيٍّ هُوَ مَبْعُوثٌ بِدِينِ إِبْرَاهِيمَ يَخْرُجُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ مُهَاجِرًا إِلَى أَرْضٍ بَيْنَ حَرَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا نَخْلٌ بِهِ عَلَامَاتٌ لَا تَخْفَى يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَلْحَقَ بِتِلْكَ الْبِلَادِ فَافْعَلْ قَالَ: ثُمَّ مَاتَ وَغُيِّبَ فَمَكَثْتُ فِي عَمُّورِيَّةَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَمْكُثَ ثُمَّ مَرَّ بِي نَفَرٌ مِنْ كَلْبٍ تُجَّارًا فَقُلْتُ لَهُمْ: تَحْمِلُونِي إِلَى أَرْضِ الْعَرَبِ وَأُعْطِيكُمْ بَقَرَاتِي هَذِهِ وَغُنَيْمَتِي هَذِهِ قَالُوا: نَعَمْ فَأَعْطَيْتُهُمُوهَا وَحَمَلُونِي حَتَّى إِذَا قَدِمُوا بِي وَادِي الْقُرَى ظَلَمُونِي فَبَاعُونِي مِنْ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَبْدًا فَكُنْتُ عِنْدَهُ وَرَأَيْتُ النَّخْلَ وَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ الْبَلَدَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي وَلَمْ يَحِقَّ لِي فِي نَفْسِي فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ قَدِمَ عَلَيْهِ ابْنُ عَمٍّ لَّهُ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَابْتَاعَنِي مِنْهُ فَاحْتَمَلَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا فَعَرَفْتُهَا بِصِفَةِ صَاحِبِي فَأَقَمْتُ بِهَا وَبَعَثَ اللهُ رَسُولَهُ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ مَا أَقَامَ لَا أَسْمَعُ لَهُ بِذِكْرٍ مَّعَ مَا أَنَا فِيهِ مِنْ شُغْلِ الرِّقِّ ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللهِ إِنِّي لَفِي رَأْسِ عَذْقٍ لِسَيِّدِي أَعْمَلُ فِيهِ بَعْضَ الْعَمَلِ وَسَيِّدِي جَالِسٌ إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ عَمٍّ لَّهُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: فُلَانُ قَاتَلَ اللهُ! بَنِي قَيْلَةَ وَاللهِ إِنَّهُمْ الْآنَ لَمُجْتَمِعُونَ بِقُبَاءَ عَلَى رَجُلٍ قَدِمَ عَلَيْهِمْ مِنْ مَّكَّةَ الْيَوْمَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَخَذَتْنِي الْعُرَوَاءُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَني سَأَسْقُطُ عَلَى سَيِّدِي قَالَ: وَنَزَلْتُ عَنِ النَّخْلَةِ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِابْنِ عَمِّهِ: ذَلِكَ مَاذَا تَقُولُ؟ مَاذَا تَقُولُ؟ قَالَ: فَغَضِبَ سَيِّدِي فَلَكَمَنِي لَكْمَةً شَدِيدَةً ثُمَّ قَالَ مَا لَكَ وَلِهَذَا؟ أَقْبِلْ عَلَى عَمَلِكَ قَالَ: قُلْتُ: لَا شَيْءَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَثْبِتَ عَمَّا قَالَ: وَقَدْ كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ قَدْ جَمَعْتُهُ فَلَمَّا أَمْسَيْتُ أَخَذْتُهُ ثُمَّ ذَهَبْتُ بِه إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ وَهُوَ بِقُبَاءَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ وَّمَعَكَ أَصْحَابٌ لَّكَ غُرَبَاءُ ذَوُو حَاجَةٍ وَّهَذَا شَيْءٌ كَانَ عِنْدِي لِلصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُكُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالَ: فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا وَأَمْسَكَ يَدَهُ فَلَمْ يَأْكُلْ قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذِهِ وَاحِدَةٌ ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْهُ فَجَمَعْتُ شَيْئًا وَّتَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أَكْرَمْتُكَ بِهَا قَالَ: فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا مَعَهُ قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَاتَانِ اثْنَتَانِ ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ وَهُوَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ: وَقَدْ تَبِعَ جَنَازَةً مِّنْ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ شَمْلَتَانِ لَهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَدَرْتُ أَنْظُرُ إِلَى ظَهْرِهِ هَلْ أَرَى الْخَاتَمَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي؟ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ اسْتَدَرْتُهُ عَرَفَ أَنِّي أَسْتَثْبِتُ فِي شَيْءٍ وُّصِفَ لِي قَالَ: فَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ فَعَرَفْتُهُ فَانْكَبَبْتُ عَلَيْهِ أُقَبِّلُهُ وَأَبْكِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: تَحَوَّلْ فَتَحَوَّلْتُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ حَدِيثِي كَمَا حَدَّثْتُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَنْ يَسْمَعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ شَغَلَ سَلْمَانَ الرِّقُّ حَتَّى فَاتَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ بَدْرٌ وَّأُحُدٌ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ فَكَاتَبْتُ صَاحِبِي عَلَى ثَلَاثِ مِائَةِ نَخْلَةٍ أُحْيِيهَا لَهُ بِالْفَقِيرِ وَبِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَعِينُوا أَخَاكُمْ فَأَعَانُونِي بِالنَّخْلِ الرَّجُلُ بِثَلَاثِينَ وَدِيَّةً وَالرَّجُلُ بِعِشْرِينَ وَالرَّجُلُ بِخَمْسَ عَشْرَةَ وَالرَّجُلُ بِعَشْرٍ يَعْنِي الرَّجُلُ بِقَدْرِ مَا عِنْدَهُ حَتَّى اجْتَمَعَتْ لِي ثَلَاثُ مِائَةِ وَدِيَّةٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: اذْهَبْ يَا سَلْمَانُ! فَفَقِّرْ لَهَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَأْتِنِي أَكُونُ أَنَا أَضَعُهَا بِيَدَيَّ فَفَقَّرْتُ لَهَا وَأَعَانَنِي أَصْحَابِي حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْهَا جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَعِي إِلَيْهَا فَجَعَلْنَا نُقَرِّبُ لَهُ الْوَدِيَّ وَيَضَعُهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِيَدِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ مَا مَاتَتْ مِنْهَا وَدِيَّةٌ وَّاحِدَةٌ فَأَدَّيْتُ النَّخْلَ وَبَقِيَ عَلَيَّ الْمَالُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِمِثْلِ بَيْضَةِ الدَّجَاجَةِ مِنْ ذَهَبٍ مِّنْ بَعْضِ الْمَغَازِي فَقَالَ مَا فَعَلَ الْفَارِسِيُّ الْمُكَاتَبُ؟ قَالَ: فَدُعِيتُ لَهُ فَقَالَ: خُذْ هَذِهِ فَأَدِّ بِهَا مَا عَلَيْكَ يَا سَلْمَانُ فَقُلْتُ: وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّا عَلَيَّ؟ قَالَ: خُذْهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُؤَدِّي بِهَا عَنْكَ قَالَ: فَأَخَذْتُهَا فَوَزَنْتُ لَهُمْ مِّنْهَا وَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَأَوْفَيْتُهُمْ حَقَّهُمْ وَعُتِقْتُ فَشَهِدْتُّ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ الْخَنْدَقَ ثُمَّ لَمْ يَفُتْنِي مَعَهُ مَشْهَدٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سےمروی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنی آپ بیتی خود سنائی کہنے لگے : میں اصبہان کی ایک بستی میں جسے ‘‘جئی’’ کہا جاتا تھا کا رہنے والا ایک فارسی شخص تھا، میرے والد اپنی بستی کے کسان تھے ، میں انہیں سب سے زیادہ محبوب تھا، وہ مجھ سے اسی طرح محبت کرتے رہے حتی کہ انہوں نے مجھے اس طرح اپنے گھر میں روک لیا یعنی آگ کا رکھوالا بنا کر جس طرح لڑکی کو روکا جاتا ہے۔ میں نے مجوسیت میں بہت محنت کی حتی کہ میں آگ کا مستقل نگران بن گیا جو آگ کو ایک گھڑی بجھنے نہیں دیتا تھا، میرے والدکی بہت بڑی جاگیر تھی ایک دن وہ گھر کے کام کاج میں مصروف تھے، مجھ سے کہنے لگے بیٹے آج میں گھر میں کام میں مصروف ہوں آپ جاگیر کا چکر لگا آؤ اور کچھ باتوں کا کہا، میں ان کے کام سے نکلا ،میں عیسائیوں کے ایک کلیسے کے پاس سے گزرا میں نے ان کی آواز سنی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں لوگوں کے معاملات کو نہیں جانتا تھا کیونکہ میرے والد نے مجھے گھر تک محدود رکھا تھا۔جب میں ان کے پاس سے گذرا اور ان کی آوازیں سنیں تو ان کے پاس چلا گیا، تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھے ان کی نماز اچھی لگی، اور ان کے معاملےمیں دلچسپی ہونے لگی، میں کہنے لگا واللہ! یہ اس دین سے بہتر ہے جس پر ہم ہیں، واللہ! میں نے غروب آفتاب تک انہیں نہیں چھوڑا اور والد کے کہنے کے مطابق جاگیر پر بھی نہیں گیا۔ میں نے ان سے کہا: اس دین کی اصل کہاں ہے؟ وہ کہنے لگے شام میں ،پھر میں اپنے والد کے پاس آنے لگا جو میری تلاش میں چند لوگ بھیج چکے تھے۔ میں نے ان کو ان کے کام سے بھی مصروف کردیا تھا۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا بیٹے کہاں تھے؟ ، کیا میں نے تمہیں کام سے نہیں بھیجا تھا ؟ میں نے کہا: ابا جان! میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو اپنے کلیسےمیں نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان کا طریقہ دیکھا تو مجھے بہت اچھا لگا ،میں سورج غروب ہونے تک انکے پاس ہی تھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے ! اس دین میں کوئی خیر نہیں ،تمہارا اور تمہارے آباء کا دین اس سے بہتر ہے ، میں نے کہا : ہر گز نہیں اللہ کی قسم! وہ ہمارے دین سے بہتر ہے۔ وہ میرے بارے میں خوف زدہ ہو گیا (کہ کہیں میں ان کا دین نہ قبول کرلوں) اور میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں پھر مجھے اپنے گھر میں قید کر دیا۔ عیسائیوں نے میرے پاس پیغام بھیجا تو میں نے کہا کہ جب تمہارے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب ان کے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آیا تو انہوں نے مجھےاطلاع دی ،میں نے کہا جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر جانے لگیں تب مجھے خبر دینا پھر جب وہ واپس جانے لگے تو انہوں نے مجھے بتایا میں نے اپنے پاؤں سے بیڑیاں نکالیں اور ان کے ساتھ شام آگیا جب میں شام پہنچا تو میں نے کہا: اس دین کے ماننے والوں میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا کنیسا کا پادری۔ میں اس کے پاس آیا اور کہا: مجھے اس دین کا شوق ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کنیسا مین آپ کے ساتھ رہوں کنیسا میں آپ کی خدمت کروں۔ آپ سے تعلیم حاصل کروں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھو ں اس نے کہا: آجاؤ، میں اس کے ساتھ اندر چلاگیا ، وہ ایک برا آدمی تھا۔ لوگوں کو صدقے کی ترغیب دیتا تھا جب لوگ صدقے کی چیزیں جمع کر کے اس کے پاس لاتے تو اپنے پاس محفوظ کر لیتا اور مسکینوں کو اس میں سے کوئی چیز نہ دیتا۔ حتی کہ اس نے سونے چاندی کے سات مٹکے بھر لئے ۔ اسے ایسا کرتے دیکھ کر مجھے اس پر سخت غصہ آیا۔ پھر وہ مرگیا ، عیسائی اسے دفنانے کے لئے جمع ہو ئے میں نے ان سے کہا: یہ ایک برا آدمی تھا، یہ تمہیں صدقے کا حکم اور ترغیب دیتا تھا جب تم صدقہ اس کے پاس لاتے تو اپنے لئے رکھ لیتا اور مساکین کو اس میں سے کوئی چیز نہ دیتا۔ لوگوں نے کہا: یہ بات تمہیں کس نے بتائی؟ میں نے کہا: میں تمہیں اس کے خزانے تک لے چلتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم اس کا خزانہ ہمیں دکھاؤ، میں نے اس کے خزانے کی جگہ انہیں دکھائی انہوں نے وہاں سے سونے چاندی کے بھرے ہوئے سات مٹکے نکالے۔ جب انہوں نے وہ مٹکے دیکھے تو کہا: واللہ ہم تو اسے کبھی بھی دفن نہیں کریں گے۔ لوگوں نے اسے سولی پرچڑھا دیا۔ پھر اسے پتھروں سے رجم کر دیا۔ پھر ایک دوسرے آدمی کو لا کر اس کی جگہ مقرر کر دیا۔ میں نےپانچ نمازیں نہ پڑھنے والوں میں سے (یعنی مسلمانوں کے علاوہ) ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا، دنیا میں انتہائی بے رغبت ،آخرت کی طرف رغبت رکھنے والا، دن اوررات عبادت میں انتہائی محنت کرنے والا۔میں اس سے اتنی محبت کرنے لگا کہ اس سے پہلے کسی سے نہ کی تھی، میں کافی عرصہ اس کے ساتھ رہا، جب وہ فوت ہونے لگا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! میں تمہارے ساتھ رہا اور تم سے اتنی محبت کی جتنی پہلے کسی سے نہ کی تھی۔ اور اب آپ کے لئے اللہ کا حکم آپہنچا ہے۔ اب کس شخص کی طرف جانے کا مجھے حکم دیتے ہیں؟ اور میرے لئے اب کیا حکم ہے؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ آج کے دن میں کسی کو اس دین پر نہیں دیکھتا جس پر میں ہوں، لوگ ہلاک ہوگئے اور انہوں نے دین میں تبدیلیاں کرلیں اور ان اکثر چیزوں کو چھوڑ دیا جن پر اسلاف تھے، سوائے ایک شخص کے جو(موصل)میں ہے۔ اس کا خاص نام بتایا، وہ اسی دین پر ہے جس پر میں ہوں اس سے جا کر موا۔ جب وہ مر گیا اوراسے دفنا دیا گیا تو میں(موصل) والے شخص کے پاس پہنچ گیا۔ اور اس سے کہا: اے فلاں ،فلاں شخص نے اپنی موت کے وقت مجھے وصیت کی تھی کہ میں تم سے ملوں اور اس نے مجھے بتایا تھا کہ تم اس کے دین پر ہو۔ اس نے مجھے کہا: ٹھیک ہے میرے پاس قیام کرو، میں اس کے پاس ٹھہرا رہا میں نے اسے بھی اپنے ساتھی کے دین پر عمل کرنے والا بہترین آدمی پایا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت آگیا جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے مجھے تمہاری طرف بھیجا تھا اور اب تمہارے پاس بھی اللہ کا حکم آگیا ہے، آپ مجھے کس شخص کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہیں اور مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس دین پر ہو جس پر ہم تھے سوائے ایک شخص کے جو(نصیبین) میں ہے۔ فلاں نام ہے اس سے جا ملو۔ جب وہ مرگیا اور اسے دفنا دیا گیا تو میں(نصیبین ) والے سے جا ملا۔ میں اس کے پاس آیا اور اپنا واقعہ بتایا اور میرے ساتھی نے مجھے جو حکم دیا تھا۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے میرے پاس ٹھہرو ۔ میں نے اس کے پاس قیام کیا اور اسے بھی اپنے دونوں ساتھیوں کے دین پر پایا۔ میں نے ایک بہتر شخص کے ساتھ قیام کیا واللہ ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت بھی آگیا ۔جب اس کی موت کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے مجھے فلاں کی طرف وصیت کی، پھر اس نے مجھے تمہاری طرف وصیت کی تم کس شخص کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہو؟ اور مجھے کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ میرے علم میں نہیں کہ ہمارے دین پر کوئی شخص باقی ہے جس کے بارے میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ سوائے ایک آدمی کے جو عموریہ میں ہے، وہ شخص ہمارے دین پر ہے۔ اگر تمہیں پسند ہو تو اس کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ ہمارے دین پر ہے۔ جب وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا تو میں عموریہ والے کے پاس چلا گیا اور اپنا واقعہ بتلایا۔ اس نے کہا: میرے پاس قیام کر لو، میں اس شخص کے پاس ٹھہرا رہا جو اپنے ساتھیوں کے دین اور طریقے پر تھا۔ میں نے کمائی بھی کی حتی کہ میری کچھ گائیں اور مال ہو گیا۔ پھر اس پر بھی اللہ کا حکم نازل ہو گیا، جب اس کی موت کا وقت آگیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں میں فلاں کے پاس تھا ،اس نے مجھے فلاں کے پاس جانے کی وصیت کی ،اس نے مجھے کسی اور کے پاس جانے کی وصیت کی، پھر اس نے مجھے تمہاری طرف جانے کی وصیت کی ۔تم مجھے کس کی طرف آنے کی وصیت کرتے ہو؟ اور مجھے کیا حکم دیتےہو؟ اس نے کہا: بیٹے! اب ایسا وقت آگیا ہے کہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو ہمارے دین پر ہو جس کے بارے میں میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ، لیکن اب ایک نبی کے مبعوث ہونے کا وقت قریب ہے، جو دین ابراہیم کے ساتھ مبعوث ہوگا، عرب کی سر زمین میں اس کا ظہور ہوگا، دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کی طرف ہجرت کرے گا، جس میں کھجوریں ہیں، اس میں ایسی علامات ہیں جو مخفی نہیں،تحفہ قبول کرے گا، صدقہ نہیں کھائے گا، اس کے کاندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی، اگر تم میں اتنی طاقت ہے کہ اس سے جا ملو تو ایسا کر گزرو۔ پھر وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا جب تک اللہ نے چاہا میں (عموریہ) میں ٹھہرا رہا، پھر بنو کلب کا ایک تجارتی قافلہ میرے پاس سے گزراتو میں نے ان سے کہا: تم مجھے سر زمین عرب تک لے چلو ، میں اپنی ساری گائیں اور بکریاں تمہیں دے دوں گا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں نے انہیں ساری گائیں اور بکریاں دے دیں اور انہوں نے مجھے سوار کر لیا ،حتی کہ جب وادی قریٰ میں پہنچے تو مجھ پر ظلم کرتے ہوئے ایک یہودی شخص کے ہاتھ غلام بنا کر بیچ دیا ،میں اس کے پاس ٹھہرا رہا ، میں نے کھجوریں دیکھیں، مجھے امید تھی کہ یہ وہی شہر ہے جس کے بارے میں مجھے میرے ساتھی نے بتایا تھا ، لیکن ابھی مجھے پختہ یقین نہیں تھا، میں اس یہودی کے پاس ہی تھا کہ بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا اس کے چچا کا بیٹا مدینے سے اس کے پاس آیا اور اس سے مجھے خرید لیا ، اور مدینے لے آیا ۔ واللہ جب میں نے وہ علاقہ دیکھا تو اپنے ساتھی کے بتائے ہوئے وصف کی بنا پر اسے پہچان لیا۔ میں وہیں ٹھہرا رہا ، اللہ نے اپنے رسول کو مکہ میں مبعوث کر دیا ، اور وہ مکہ میں قیام پذیر رہا جب تک اللہ نے چاہا میں غلامی کی مصیبت میں ہونے کی وجہ سے اس کا تذکرہ نہیں سن سکا۔ پھر اس نے مدینے کی طرف ہجرت کی ۔ واللہ میں ایک کھجور کی چوٹی پر چڑھا کوئی کام کر رہا تھا، میرا مالک نیچے بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس کے چچا کا بیٹا اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گاو اور کہنے لگا: اللہ بنی قیلہ کو برباد کرے وہ اس وقت(قباء) میں اس شخص کے پاس جمع ہو رہے ہیں جو آج مکہ سے آیا ہے، ان کا خیال ہے کہ وہ نبی ہے۔جب میں نے یہ بات سنی تو مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی ،حتی کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر جاؤں گا۔ میں نیچے اترا اور اس کے چچا کے بیٹے سے پوچھنے لگا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ تم کیا کہہ رہےتھے؟ میرا مالک غصے ہوگیا اورایک شدید قسم کا گھونسہ رسید کردیا پھر کہنے لگا:تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اپنے کا م پر توجہ دو، میں نے کہا: کچھ نہیں میں تو ویسے ہی یہ بات پوچھ رہا تھا۔ میرے پاس کچھ سامان تھا جو میں نے جمع کیا تھا ، شام ہوئی تو میں وہ سامان لے کر رسول اللہ ﷺکے پاس پہنچا آپ قبا میں تھے ، میں آپ کے پاس آیا تو کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے غریب حاجتمند ساتھی ہیں، میرے پاس یہ کچھ سامان صدقے کے لئے ہے، تو میرے خیال میں آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؟ میں نےوہ سامان آپ کی طرف بڑھا دیا۔ رسول اللہ ﷺنے اپنے صحابہ سے کہا: کھاؤاور اپنا ہاتھ روک لیا، آپ نے اس میں سے نہیں کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا : یہ پہلی نشانی ہے۔ پھر میں واپس لوٹ آیا اور کچھ چیزیں جمع کیں رسول اللہ ﷺمدینے آگئے میں آپ کے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے ، یہ آپ کے لئے تحفہ ہے، رسول اللہ ﷺنے اس میں سے کھا لیا اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تو انہوں نے بھی اس میں سے کھا لیا ،میں نے اپنے دل میں کہا: یہ دوسری نشانی ہے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺکے پاس آیا آپ بقیع الغرقد میں تھے اور اپنے کسی صحابی کے جنازے میں شریک تھے ۔آپ کے اوپر دو چادریں تھیں اورآپ صحابہ میں بیٹھےتھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا، پھر میں گھوما، آپ کی پشت کی طرف آکر دیکھا کہ کیا میں وہ مہر دیکھ سکتا ہوں جو میرے ساتھی نے مجھے بتائی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺنے مجھے اس طرح گھومتے دیکھا تو جان گئے کہ میں ایسی چیز کا ثبوت تلاش کر رہا ہوں جو مجھے بیان کی گئی ہے۔ آپ نے اپنی کمر سے چادر گرادی میں نے اس مہر کی طرف دیکھا تو پہچان گیا، میں اس سے چمٹ گیا اسے بوسہ دینے لگا اور ساتھ ساتھ رونے لگا۔ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا کہ پیچھے ہو جاؤ۔ میں اس سے ہٹ گیا اور آپ کو اپنی داستان سنائی جس طرح اے ابن عباس: میں نے آپ کو سنائی ہے رسول اللہ ﷺکو یہ بات پسند آئی کہ میں اپنی داستان آپ کے صحابہ کو سناؤں، اس کے بعد سلمان غلام ہی رہے ،غلامی کی وجہ سے غزوہ بدر و احد میں شریک نہ ہو سکے ، پھر رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا: سلمان! مکاتبت کر لو۔ میں نے اپنے مالک سے پانی کے راستے پر تین سو کھجور کے درخت لگانے اور چالیس اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کرو، لوگوں نے کھجور کے درختوں کے پنیری کے ساتھ میری مدد کی، کوئی آدمی تیس کھجوریں ، کوئی آدمی بیس، کوئی پندرہ ، کوئی دس لے آیا یعنی جس آدمی کی جتنی استطاعت تھی اس نے میری مدد کی ،حتی کہ میرے لئے تین سو کھجور کی پنیری گئی۔ جمع ہوگئیں، رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا: سلمان جاؤ ان کے لئے گڑھے کھودو، جب گڑھے کھود کر فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس آجانا ،میں انہیں اپنے ہاتھ سے رکھوں گا۔ میں نے ان کے لئے گڑھے کھودے، میرے ساتھیوں نے میری مدد کی ،جب میں ان سے فارغ ہو گیا تو آپ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺمیرے ساتھ نکل پڑے۔ ہم کھجور کے پودے آپ کے قریب کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺانہیں اپنے ہاتھ سے رکھنے لگے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے، ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مر جھایا، میں نے وہ کھویریں اسے دے دیں باقی مال میرے ذمے رہا۔ رسول اللہ ﷺکے پاس مرغی کے انڈے کے برابر سونے کی ڈلی کسی معرکے میں سے آئی تو آپ نے فرمایا: فارسی کا کیا حال ہے؟ مجھے بلایا گیا، آپ نے فرمایا: یہ پکڑو اور تم پر جو ہے اسے ادا کردو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول !مجھ پر جو رقم ہے یہ اس کے برابر کہاں پہنچ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسے لے لو اللہ عزوجل اس کے ذریعے تمہاری رقم ادا کردے گا۔ میں نے وہ ڈلی لے لی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے، اس ڈل سے میں نے ان کو چالیس اوقیے وزن کرکے دئیے۔ میں نے ان کا حق انہیں ادا کیا ، مجھے آزاد کر دیا گیا پھر میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ خندق میں حاضر ہوا اس کے بعد پھر کسی معرکہ میں بھی پیچھے نہیں رہا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 264

عَنِ الْبَرَاءِ مَرفُوعاً: أَفْشُوا السَّلَامَ تسلموا.
براء‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : سلام کو عام کرو ، تم سلامت رہو گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 265

عَنِ ابْن عُمَرَ مَرفُوعاً: أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللهُ عَزَّ وَجَلّ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے :سلام کو عام کرو،کھانا کھلاؤاورجس طرح اللہ نےتمہیں حکم دیاہےاس طرح بھائی بھائی ہوجاؤ ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 266

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم :اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلَابَ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى. ورد من حدیث ابن عمر و عائشہ رضی اللہ عنھم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں اور کتوں کو قتل کرو اور ذَا الطُّفْيَتَيْنِ (دو دھاری سانپ) وَالْأَبْتَرَ (چھوٹا دم کٹا سانپ)کو قتل کرو، کیونکہ یہ نظروں کو اچک لیتے ہیں اور اور حاملہ عورتوں کے حمل گرادیتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 267

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرفُوعاً: أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ فَإِنَّ لِلهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ فِي الْأَرْضِ فِي تِلْكَ السَّاعَة.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : رات ہونے کے بعد باہر نکلنا کم کر دو کیونکہ اللہ کے کچھ جانور ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اسی گھڑی میں زمین کے اندر پھیلا دیتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 268

عَنْ هِشَامِ بن عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : يا رَسول الله! كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي، فَقَالَ لَهَا رَسُول صلی اللہ علیہ وسلم :اكْتَنِي (بِابْنِكِ عَبْدِ اللهِ يعني: ابْنَ الزُّبَيْرِ) أَنتِ أُمُّ عَبْدِ اللهِ، قَالَ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَبْدِ اللهِ، حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی تمام بیویوں کی کنیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا:(اپنے بیٹے عبداللہ، یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما)کے نام پر کنیت رکھ لو، تم ام عبداللہ ہو، انہیں ام عبداللہ کہا جاتا رہا حتی کہ فوت ہو گئیں ۔لیکن ان کی کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 269

عن شقيق ، قال : لَبّٰى عَبْدُ اللهِ رضی اللہ عنہ ، على الصَّفَا ثُم قَالَ: يَا لِسَانُ، قُلْ خَيْرًا تَغْنَمْ، اُسْكُتْ تَسْلَمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدَمَ، قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَحْمَن! هَذَا شَيْءٌ أنت تَقُولُه أَوْ سَمِعتَه؟ قَالَ: لَا، بَل، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ:أَكْثَرُ خَطَايَا ابنِ آدَمَ فِي لِسَانِهِ.
شقیق سے مروی ہے کہ عبداﷲ رضی اللہ عنہ نے صفا پر تلبیہ کہا پھر کہا: اے زبان اچھی بات کہو انعام حاصل کروگی، خاموش رہو شرمندہ ہونے سے سلامت رہوگی۔ لوگوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن یہ بات تم خود کہہ رہے ہو یا تم نے کسی سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ میں نے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرمارہے تھے۔ ابن آدم کی اکثر خطائیں اس کی زبان میں پوشیدہ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 270

عَنْ فُضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ.
فضالہ بن عبید‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: کیا میں تمہیں مومن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جس سے لوگوں کے اموال اور جانیں محفوظ رہیں (وہ مؤمن ہے)، اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مجاہدوہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے اور مہاجر وہ ہے جو خطائیں اور گناہ چھوڑ دے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 271

عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ :« أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً ؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ :« رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ ». أَوْ قَالَ :« فَرَسٍ فِى سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ ». قَالَ :« فَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِى يَلِيهِ؟ ». قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ :« امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِى شِعْبٍ يُّقِيمُ الصَّلاَةَ وَيُؤْتِى الزَّكَاةَ ، وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ قَالَ:« فَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً؟ ». قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ :« الَّذِى يُسْأَلُ بِاللهِ العَظِيم وَلاَ يُعْطِى بِهِ ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں درجات کے لحاظ سے بہترین شخص کے بارےمیں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ وہ آدمی جو اللہ کے راستے میں گھوڑے کا سر یا گھوڑا تھامے ہوئے ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس کے قریب ترین ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص جو کسی گھاٹی میں تنہا ہے ، نماز قائم کرتا ہے ، زکاۃ ادا کرتا ہے اور لوگوں سے علیحدہ رہتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں درجات کے لحاظ سے بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر مانگا جاتا ہے لیکن وہ دیتا نہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 272

عَن ابْنِ عَبَاسٍ مَرْفُوعاً: أَلا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِّنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُوْرُه إِلَّا لِلهِ عَزَّوَجَلَّ۔ وَنِسَاؤُكُمُ مِّنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ الْـوَدُودُ الْوَلُـوْدُ العَؤُوْدُ عَلىٰ زَوْجِهَـا الَّتِيْ إِذَا غَضِبَ جَآءَتْ حـَتّٰى تَضَعَ يَدَهَا فِيْ يَدِ زَوْجِهَا وَتَقُوْلُ لَا أَذُوْقُ غَمْضًا حَتَّى تَرْضَى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ نبی جنت میں ہوگا، سچ بولنے والا جنت میں ہوگا، شہید جنت میں ہوگا، بچہ جنت میں ہوگا، وہ شخص جنت میں ہوگا جو شہر کے کسی کونے میں اپنے بھائی سے ملاقات صرف اللہ کے لئے کرتا ہے ۔ تمہاری بیویاں بھی جنت میں ہونگی جو اپنے شوہروں سے بہت زیادہ محبت کرنے والی ، زیادہ بچے جننے والی اور بار بار شوہر کی طرف آنے والی ہوں گی۔ وہ بیوی جب ان کا شوہر ناراض ہو جائے تو آکر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھےاورکہےجب تک تم راضی نہیں ہوگے میں ایک لقمہ بھی نہیں چکھوں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 273

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَّكُوْنَ نَاكِحًا أَوْ مَحْرَمٍ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار کوئی شخص کسی بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کے پاس تنہائی میں رات نہ گزارے ،یا تو وہ خاوند ہو یا پھر اس کا محرم ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 274

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَّنْ تُخْلِفَنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُّهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَّزَكَاةً وَّقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ میں تجھ سے ایک عہد لیتا ہوں جس کے خلاف نہ کرنا، کیونکہ میں بشر ہوں، جس مومن کو میں نے تکلیف دی ہو،برا بھلا کہاہو،لعنت کی ہو، یا مارا ہو تو یہ اس کے لئے رحمت پاکیزگی اور قربت کا ذریعہ بناد ے، جس کے ذریعے تو قیامت کے دن اسے قریب کرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 275

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا) فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَّفَرَّقَ شَعْرُهُ فَقَالَ: أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ؟ وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ وَعَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ: أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَّغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے(ہمارے گھر ملاقات کرنے کے لئے آئے) آپ نے ایک پراگندہ حال بکھرے بالوں والا آدمی دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کیا اسے کوئی ایسی چیز میسر نہیں جو اس کے بالوں کو بٹھادے؟ ایک آدمی کو دیکھا جس نے گندے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا اسے پانی میسر نہیں جس کے ذریعے یہ اپنے کپڑے دھو سکے؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 276

عن ابن عمر ، مرفوعا: « أَمَرَنِي جِبْرِيل أَن أُقَدِّمَ الْأَكَابِر »
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ : جبرئیل علیہ السلام نے مجھے حکم دیا کہ میں بزرگوں کو مقدم رکھوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 277

عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأسلَمي قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ قَالَ أَمِطِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ فَإِنَّهُ لَكَ صَدَقَة.
ابو برزہ اسلمی سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے کسی عمل کے بارے میں حکم دیجئے جو میں کر سکوں؟ آپ نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو کیونکہ یہ تمہارے لئے صدقہ ہوگا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 278

عَنْ عُقْبَةَ بْن عَامِرٍ الجُهني قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ
عقبہ بن عامر جہنی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نجات کن اعمال کے کرنے میں ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنی زبان روک کر رکھو، اپنے آپ کو گھر تک محدود رکھو (بغیر ضرورت گھر سے مت نکلو)، اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 279

) عن أسود بن أصرم المحاربي قال : قلت : يَا رَسُـول الله ، أَوْصِـنِي . قال : « املك يَـدَك » وفي روايـة: لَا تَبْسُطْ يَدَك إِلَا إلى خَيْر.
اسود بن اصرم محاربی سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کیجئے ۔ آپ نے فرمایا: اپنے ہاتھ پر قابو رکھو اور دوسری روایت میں ہے کہ اپنے ہاتھ کو نیکی کے علاوہ نہ کھولنا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 280

عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى مَجْلِسٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَجْلِسُوا فَاهْدُوا السَّبِيلَ وَرُدُّوا السَّلَامَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ
براء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اگر تم راستے میں بیٹھنے پر بضد ہو تو (مسافروں کو) راستے کی رہنمائی کرو، سلام کا جواب دو اور مظلوم کی مدد کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 281

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ لَهُ: إِنْ أَرَدْتَّ تَلْيِيْنَ قَلْبِكَ فَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اس کا دل بہت سخت ہے۔ آپ نے اس سے کہا: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے تو مسکین کو کھانا کھلاؤ، اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 282

عن عائشة رضی اللہ عنہا مرفوعا: إِن أُعَظم النَّاس جُرْمًا إِنْسَان شَاعِر يَّهْجُو الْقَبِيلَة من أَسرهَا وَرَجُل تَنَفِّى من أَبِيه
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ : جرم کے لحاظ سے سب سےبڑا شخص وہ شاعر ہے جوپورے قبیلے کی ہجو کرتا ہے اور وہ شخص ہے جو اپنے باپ کا انکار کرتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 283

عَنْ عَائِشَةَ أنها قَالَـتْ: قَالَ رَسُـولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَعْظَـمَ النَّـاسِ فِرْيَـةً لَّرَجُلٌ هَجَا رَجُلًا فَهَجَا الْقَبِيلَةَ بِأَسْرِهَا وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ وَزَنَّي أُمَّهُ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ(جھوٹ)کے لحاظ سے سب سے بڑا مجرم وہ آدمی ہے کہ کسی نے اس کی ہجو کی تو اس نے اس کے پورے قبیلے کی ہجو کردی۔ اور وہ آدمی جو اپنے باپ کا انکار کرکے اپنی ماں کو زانیہ قرار دے دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 284

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مرفوعاً: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ تَخَلُّلَ الْبَاقِرَةِ بِلِسَانِهَا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یقیناً اللہ عزوجل چرب زبان سے بغض رکھتا ہے۔ وہ شخص جو اپنی زبان کو اس طرح گھماتا ہے جس طرح گائے (جگالی کرتے ہوئے) اپنی زبان گھماتی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 285

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ الْعَقِيْقَةِ؟ فَقَالَ: إن الله لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الْاِسْمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا نَسْأَلُكَ أَحَدُنَا يُولَدُ لَهُ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُم أَنْ يَّنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ عَنِِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نا فرمانی کو پسند نہیں کرتا گویا کہ آپ نے اس نام کو نا پسند کیا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ہم اپنے کسی شخص کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس کے ہاں کو ئی بچہ پیدا ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: جو شخص پسند کرے کہ اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرے تو وہ کر لے لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 286

عَنْ حُسَيْنِ بن عَلِيٍّ ، مَرفوعاً: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الأُمُورِ وأَشْرَافَهَا ، وَيَكْرَهُ سَفَسَافِهَا .
حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ رفعت و عزو شرف والے معاملات کو پسند کرتا ہےاور برے معاملات کو نا پسند کرتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 287

عن أنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال : قال رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِن الرُّؤْيَا تَقَع عَلَى ما تُعْبَرُ، وَمَثَلُ ذَلِك مَثَلُ رَجَلٍ رَفَع رِجُلَه فَهُو يَنْتَظِر مَتًى يَضَعَهَا ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُم رُؤْيَا فَلَا يحدث بِهَا إِلَا نَاصِحًا أَو عَالِمًا ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب اسی طرح واقع ہو جاتا ہے جس طرح اس کی تعبیر بیان کی جائے ۔ اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے اپنی ایک ٹانگ اٹھا رکھی ہے اور وہ منتظر ہے کہ کب اسے رکھے۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص خواب دیکھے تو کسی خیر خواہ یا عالم کے علاوہ کسی کو نہ بیان کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 288

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: إِنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَّهُ فِي قَرْيَةٍ فَأَرْصَدَ اللهُ تعالى عَلى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ المَلَكُ قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ أُزُور أَخًا لِّي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ: هَلْ لَّكَ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ (تَرُبُّهَا)؟ قَالَ: لَا إلَا أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكَ أَنَّ اللهَ عزوجل قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ لَه.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ایک آدمی کسی بستی میں اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کے لئے چلا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتہ بٹھا دیا، وہ اس کے پاس سے گزرا تو فرشتے نے پوچھا تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا: اس بستی میں میرا بھائی ہے اس سے ملنے جا رہا ہوں، فرشتے نے کہا: کیا تم نے اس پر کوئی احسان کیا تھا(جس کا بدلہ لینے جا رہے ہو)؟ اس نے کہا:نہیں بس میں اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا:میں تمہاری طرف اللہ کا پیغامبر بن کر آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے اسی طرح محبت کرتا ہے جس طرح تونے اللہ کے لئے اس سے محبت کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 289

عَنْ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللهِ لَا يَغْفِرُ اللهُ لِفُلَانٍ وَإِنَّ اللهَ قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ؟ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُّ عَمَلَكَ أَوْ كَمَا قَالَ
جندب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ کون ہوتا ہے جو میرے بارے میں بات کر تا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے فلاں کو بخش دیا اور اس شخص کے عمل ضائع کر دیئے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 290

عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ
بلال بن حارث‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: کبھی آدمی اللہ کی خوشنودی کی ایسی بات زبان سے نکال دیتاہے جس کے بارے میں اسے گمان تک نہیں ہوتا کہ بلنددرجے تک پہنچ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت کے دن اپنی خوشنودی لکھ دیتے ہیں۔ اور کبھی آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایسی بات زبان سے نکال دیتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان تک نہیں ہوتا کہ یہ انتہائی نچلے درجے کیہوگی۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لئے اس بات کی وجہ سے ناراضگی لکھ دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 291

عَنْ أنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :إِنَّ السَّلامَ اِسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَضَعَهُ فِي الأَرْضِ فَأَفْشُوا السَّلامَ بَينَكُمْ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اس نے دنیا میں رکھ دیا ہے اس لئے آپس میں سلام کو عام کیا کرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 292

عَنْ عَبْدِ اللهِ، مرفوعا: إِنَّ السَّلامَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَضَعَهُ الله فِي الأَرْضِ، فَأَفْشُوهُ فِيكُمْ، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ فَرَدُّوا عَلَيْهِ، كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ فَضْلُ دَرَجَةٍ، لأَنَّهُ ذَكَّرَهُمْ، فَإِنْ لَّمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِّنْهُمْ وَأَطْيَبُ
سیدنا عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رکھ دیا ہے ۔ اس لئے آپس میں سلام کو عام کرو، کیونکہ جب آدمی کسی قوم پر سلام بھیجتا ہے اور وہ اس کا جواب دیتے ہیں تو اس کے لئے ان پر فضیلت ہوتی ہے کیونکہ اس نے انہیں یاد دہانی کروائی۔ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو جو ان سے بہتر اور پاکیزہ ہے وہ اس کا جواب دیتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 293

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الْعَبْدَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيْهَا يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ کبھی ایسی بات کرتا ہےجسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس بات کی وجہ سے وہ مشرق و مغرب میں دوری سے بھی زیادہ جہنم کی گہرائی میں گرجاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 294

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَيِّدًا، وَّإِنَّ سَيِّدَ الْمَجَالِسِ قُبَالَةَ الْقِبْلَةِ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً ہر چیز کا سردار ہوتا ہےاور مجالس کا سرداروہ ہے جو جس کی طرف رخ کرکے شرکائے مجلس بیٹھے ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 295

عن حذيفة بن اليمان ، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: « إِن الْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِي الْمُؤْمِنَ فَسَلَّم عليه ، وَأَخَذ بِيَده ، فَصَافَحَه ، تناثرت خطاياهما ، كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَق الشَّجَر ».
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب مومن سے ملتا ہے اور اسے سلام کہتا ہے ، اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو ان دونوں کی خطائیں اس طرح جھڑجاتی ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 296

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ مَرفُوعاً: إِنَّ مَسَابّٰكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَابٍ عَلَى أَحَدٍ وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤُوهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَّكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّـا بَخِيلًا جَبَانًا.
عقبہ بن عامر جہنی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ تمہارا ایک دوسرے کے نسب میں عیب جوئی کرنا کسی کے حق میں عیب کی بات نہیں ہے، تم تو آدم کی اولاد ہو جوایک دوسرے کے برابرہیں،کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے دین یا نیک عمل کے،آدمی کے تباہ ہونےکےلئے یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو بدگو، بخیل اور بزدل ہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 297

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَآءَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ (وفي رواية لأحمد: فَجَعَلَ يُثْنِي عَلَيْهِ) فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو(دیا تی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ایک واضح بات کرنا شروع کی(اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آپ کی تعریف کرنے لگا) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں ارو بعض اشعار پُرحکمت ہوتےہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 298

عَنْ أُبَيّ بْنَ كَعْبٍ مَرفُوعاً: إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حِكْمَةً.
ابی بن کعب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : بعض اشعار پرحکمت ہوتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 299

عَنْ هَانِئِ بن يَزِيدَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ!، دُلَّنِي عَلَى عَمِلٍ يُّدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ مِنْ مّوجِبَاتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ السَّلامِ، وَحُسْنُ الْكَلامِ.
ہانی بن یزید سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کی راہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔آپ نے فر مایا: یقینا مغفرت کو واجب کرنے والی چیزوں میں سے سلام پھیلانا اور اچھی بات کرنا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 300

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يهودي على رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ يا محمد! فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : وَعَلَيْكَ فَقَالَتْ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فعلمت كراهية النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لذلك فسكتُّ ، ثم دخل آخر فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ: عَلَيْكَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فعلمت كراهية النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لذلك ثم دخل الثالث فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ فلم أصبر حتى قلت : وعليك السام وَغَضَبُ اللهِ وَلَعْنَتُه إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَتَحَيُّونَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللهُ؟ فَقَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا: قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ إِن الْيَهُود قَوْم حُسُّدٌ ، وَإِنَّهُم لَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى شَيْء كَمَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى السَّلَام ، وَعَلَى آمين ».
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: السام علیک یا محمد(اے محمد آپ پر ہلاکت ہو) ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلیک(اور تجھ پربھی) ۔عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بولنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آئے۔ میں خاموش رہی۔ پھر دوسرا یہودی داخل ہوا اس نے بھی یہی کہا: السام علیک، میں نےبولنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پھر ناپسندیدگی کے آثار نظر آئے۔ پھر تیسرا یہودی داخل ہوا اور کہا: السام علیک، مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں نے کہہ دیا : وعليك السام وغضب اللہ ولعنته، اخوان القردة والخنازیر(تم پر بھی ہلاکت ہو اور اللہ کا غضب اور اس کی لعنت بندروں اور خنزیر کے بھائیو)تم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو ایسا سلام کہہ رہے ہو جو اللہ تعالیٰ نے انہیں نہیں کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ فحش کو پسند نہیں کرتا نہ ہی تکلف سے فحش کہنے کو پسند کرتا ہے انہوں نے ایسی بات کہی تو ہم نے بھی انہیں جواب دے دیا۔ یقیناً یہودی حاسد قوم ہےکسی چیز پر یہ ہم سے اتا حسد نہیں کرتے جتنا حسد یہ ہم سے”سلام “اور”آمین“ پر کرتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 301

عن أَنس قال : لَمَا حَضَرَت أبا سَلمْة الْوَفَاة قَالَت أَم سَلمْة : إلى من تَكِلنِي ؟ فَقَال : اللَّهُمّ إِنَّك لَأم سَلمْة خَيْر من أبي سَلمْة ، فَلَمَا تُوَفِّي خَطَبَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقَالَت : إِنِّي كَبِيرَة السِّنّ ، قال : أَنا أكبر مِنْك سنا ، وَالْعِيَال عَلَى الله وَرَسُوله ، وَأَمَّا الْغَيْرَة فَأَرْجُو الله أَن يُذْهِبهَا ، فَتَزَوَّجَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَأَرْسَل إِلَيْهَا برحايَيَنِ ، وَجَرَۃً للماء.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ہیںس کس کے سپرد کر کے جار ہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ ! ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے لئے تو ابو سلمہ رضی اللہ عنہا سے بہتر ہے۔ جب وہ فوت ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بڑی عمر کی ہوں آپ نے فرمایا: میں عمر میں تم سے بڑا ہوں۔ اور بچوں کی کفالت اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہے، رہی بات غیرت کی تو میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ اللہ اسے لے جائیگا ،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی اور ان کی طرف دو چکیاں اور پانی کا ایک مٹکا بھیجا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 302

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرفُوعاً: أَنَا زَعِيمُ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ببیت فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ببیت فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ.
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میں اس شخص کے لئے جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ حق پر بھی ہو اور اس شخص کے لئے جنت کے وسط میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہ بولےاور جو اپنے اخلاق کو اچھا کرلے اس کے لئے جنت کے اعلےٰ درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 303

عن جابر بن صخر ، قال : سمعتُ النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يقول : « إِنَّا نُهِينَا أَن تُرَى عَوْرَاتُنَا ».
جابر بن صخر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہمارے ستَر(شرمگاہ) دیکھے جائیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 304

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ مَرفُوعاً: أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَلِيلًا
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ آپ نے اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں میں تھوڑا سا فرق رکھا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 305

) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ أَنْتِ جَمِيلَةُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ(نا فرمانی کرنے والی)نام تبدیل کیا اور فرمایا: تم جمیلہ ہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 306

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَهُ: مَا اسْمُكَ قَالَ: حَزْنٌ قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ قَالَ: لَا السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ.
سعید بن مسیب اپنے والد سےوہ ان کےدادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا حزن غم آپ نے فرمایا تم سہل(نرمی) ہو۔ انہوں نے کہا نہیں، نرمی روند دی جاتی ہے اور اسے حقیر و معمولی سمجھا جاتا ہے۔ سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں سختیوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 307

عن جَابَر مرفوعا: انْطَلقُوا بِنَا إلى الْبَصِير الذى في بَنِى وَاقِف نَعُودُه قال وكان رَجُلًا اعمى.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ہمارے ساتھ بصیر کی طرف چلو جو بنو واقف میں ہے کہ ہم اس کی عیادت کریں وہ ایک نابینا آدمی تھا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 308

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلٌ يُّقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَامِسَ خَمْسَةٍ فَدَعَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَّهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ قَالَ: بَلْ أَذِنْتُ لَهُ.
ابو مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری شخص تھا اسے ابو شعب کہا جاتا تھا۔ اس کا ایک غلام قصاب تھا ۔ اس نے کہا میرے لئے کھانا بناؤ، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں گا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کی آپ کے پیچھے ایک اور آدمی چلنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ہم پانچ آدمیوں کی دعوت کی تھی اور یہ آدمی ہمارے پیچھے پیچھے آرہا ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو اور اگر چاہو تو نہ دو۔ اس نے کہا نہیں میں نے اسے اجازت دے دی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 309

إِنَّهُ اتَّبَعَنَا رَجُلٌ لَّمْ يَكُنْ مَعَنَا حِينَ دَعَوْتَنَا فَإِنْ أَذِنْتَ لَهُ دَخَلَ جَاءَ من حديث أَبِي مَسْعُودٍ البَدري، وجابر بن عبدالله. هذا لفظ حديث أَبِي مَسْعُود البدري قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُّقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ إِلَى غُلَامٍ لَّهُ لَحَّام فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَّكْفِي خَمْسَةً فَإِنِّي رَأَيْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْجُوعَ قَالَ: فَصَنَعَ طَعَامًا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَعَاهُ وَجُلَسَاءَهُ الَّذِينَ مَعَهُ فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ لَّمْ يَكُنْ مَّعَهُمْ حِينَ دُعُوا فَلَمَّا انْتَهَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى الْبَابِ قَالَ لِصَاحِبِ الْمَنْزِلِ...فذكره قَالَ: فَقَدْ أَذِنَّا لَهُ فَلْيَدْخُلْ.
ہمارے پیچھے ایک آدمی چلنے لگاجو ہمارے ساتھ نہیں تھا جب ہمیں دعوت دی گئی اگر تم اسے اجازت دو تو یہ اندر آجائے ۔ یہ حدیث ابو مسعود البدری اور جابر بن عبداللہ سے مروی ہے اور ابو مسعود بدری انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایک آدمی جسے ابو شعیب کہا جاتا تھا اپنے ایک قصاب غلام کی طرف آیا اور کہا : میرے لئے اتنا کھانا بناؤ جو پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو ،کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کے آثار دیکھے ہیں۔ اس نے کھانا بنایا ، پھرابو شعیب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا آپ کو اور آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ساتھیوں کو بلایا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ایک آدمی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا جو دعوت کے وقت ان کے ساتھ نہیں تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے تک پہنچے تو آپ نے گھر کے مالک سے کہا:۔ ۔ ۔حدیث ذکر کی اور اس نے کہا: ہم نے اسے اجازت دے دی ہے یہ اندر آجائے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 310

عَنْ إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّهُ سَيُلْحِدُ فِيهِ رَجُلٌ مِّنْ قُرَيْشٍ لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَرَجَحَتْ قَالَ: فَانْظُرْ لَا تَكُونُهُ.
اسحاق بن سعید اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ،عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا اے ابن زبیر! اللہ تبارک وتعالیٰ کے حرم میں الحاد سے بچو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے کہ اس میں ایک قریشی شخص الحاد کرے گا۔ اگر اس کے گناہوں کا وزن جن و انس کے گناہوں کے ساتھ کیا جائے تب بھی اس کے گناہ بھاری ہوں گے ۔ دیکھو کہیں تم نہ ہونا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 311

عَنْ عَلِيٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ قَالَ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ فَقُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا
علی‌رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ جب حسن پیدا ہوئےتو ان کا نام حمزہ رکھا ، جب حسین پیدا ہوئے تو اس کے چچا کے نام پرجعفر رکھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور کہا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان دونوں ناموں کو بدل دوں ،میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ نے دونوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 312

) عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي نِسْوَةٍ نُّبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللهِ نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لَا نُّشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا وَّلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ قَالَتْ: فَقُلْنَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، هَلُمَّ نُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَا أُصَـافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَـةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَّاحِدَة.
امیمہ بنت رققہی سے مروی ہے کہ میں کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ ہم سب آپ سے اسلام پر بیعت کرنے آئی تھیں۔ عورتوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے اس بات پر بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی، نہ ہم چوری کریں گی، نہ ہم زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، نہ ہم کسی پر بہتان باندھیں گی، اور نہ ہم نیکی کے کام میں نافرمانی کریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن استطاعت اور طاقت کے مطابق۔ عورتوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہیں۔ اے اللہ کےر سول! آئیے ہم آپ کی بیعت کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ۔سو(100) عورتوں کے لئے بھی میری بات اسی طرح ہے جس طرح ایک عورت کے لئے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 313

عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ.
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ سے لڑائی کے دن حسان بن ثابت‌رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مشرکین کی ہجو کرو،یقیناً جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 314

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: اهْجُوا بِالشِّعْـرِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِـدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّـدٍ صلی اللہ علیہ وسلم بِيَدِهِ كَأَنَّمَا تَنْضَحُوهُمْ بِالنَّبْلِ.
کعب بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) شعر کے ساتھ ہجو کرو۔ یقیناً مومن اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے گویا کہ تم انہیں تیروں سے چھلنی کر رہے ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 315

عًنْ جَرْمُوز الْهُجَيْمِيَّ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي قَالَ أُوصِيكَ أَنْ لَا تَكُونَ لَعَّانًا.
جرموز ہجیمی سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ بہت زیادہ لعنت کرنے والے نہ بن جانا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 316

عن جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : « إِيَّاك وَالسَّمَر بَعَد هَدَأَة اللَّيْل فَإِنَّكُم لَا تَدْرُون ما يَأْتِي اللهُ مِنْ خَلْقِه ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:رات پرسکون ہوجانے کے بعد رات کی بات چیت سے بچو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے کون سی مخلوق لےآئے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 317

عن أَنس بن مَالَك مرفوعا: إِيَّاك وَكُلَّ مَا يُعْتَذرُ مِنْه.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ہر اس کا م سے بچو جس سے بعد میں معذرت کرنی پڑے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 318

عَنْ مُعَاوِيَةَ مرفوعا: إِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ.
معاویہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : ایک دوسرے کی خوشامد کرنے سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنے کے مترادف ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 319

عَنْ عَدِيِّ بن حَاتِمٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيْمَنُ امْرِئٍ وَأَشْأَمُهُ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ .
عدی بن حاتم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی خوش بختی اور بدبختی اس کے دو جبڑوں کے درمیان (یعنی زبان) ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 320

عن أنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : بَابَان مُعَجَّلَان عُقُوبَتهما في الدُّنْيَا الْبَغْيُ وَالْعُقُوقُ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دروازے(گناہ کے) ایسے ہیں جنکی سزا دنیا میں جلدی ملتی ہے:”سرکشی و بغاوت اور نافرمانی“
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 321

عن عَائَشَة قَالَت : قُلْت : يَا رَسُولَ الله ! كُلْ جَعَلَنِي اللهُ فَدَاكَ مُتَّكِئًا ؛ فَإِنَّه أَهْوَنُ عَليكَ فأَحْنى رَأَسَهُ حَتَّى كَادَ أَن تُصِيبَ جَبْهَتُه الْأَرَضَ وَقَالَ : بَلْ آكَلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ وَأَجْلسُ كَمَا يَجْلِسُ العَبدُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، ٹیک لگا کر کھائیے، کیونکہ یہ آپ کے لئے آسان ہے۔ آپ نے اپنا سر جھکایا ممکن تھا کہ آپ کا چہرہ زمین سے لگ جاتا اور فرمایا: نہیں میں اسی طرح کھاؤں گا جس طرح عام بندہ کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھوں گا جس طرح عام بندہ بیٹھتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 322

عن ابن عباس ، مَرفوعاً: « الْبَرَكَة مَعَ أكَابركُمْ »
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: برکت تمہارے بزرگوں (عمر رسیدہ لوگوں)کے ساتھ ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 323

عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَرفُوعاً: تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَةَ وَالْعَظْمَ عَنْ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ.
ابوذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تم اپنے بھائی سے مسکرا کر ملو تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور تم نیکی کا حکم کرو برائی سے روکو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتاؤ یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے او رکسی نا بینا(کمزور نظر) کو راستہ دکھاؤ یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے اور راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی ہٹاؤ تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے۔ اور تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالو تو یہ بھی تمہارے لئے صدقہ ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 324

عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيْهِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَنَا قَاعِدٌ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: تَحَوَّلْ إِلَى الظِّلِّ.
قیس بن ابی حازم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا میں دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا: سائے میں آجاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 325

عن جَابَر مرفوعا: تَسْلِيمُ الرجل بِإِصْبَع وَّاحِدَة يُشِيْر بِهَا فِعلُ الْيَهُود .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : آدمی کا ایک انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے سلام کرنا یہودیوں کا فعل ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 326

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: التَّأَنِّي مِنَ اللهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَان .
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آہستہ روی اور توقف اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 327

عَنِ الْأَعْمَش عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ .
اعمش سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر کام اطمینان سے کرنا ہے سوائے آخرت کے عمل کے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 328

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلَاثٌ لَّا تُرَدُّ: الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں واپس نہ کی جائیں (یعنی ھدیۃ لینے سے انکار نہ کیا جائے) تکیے،عطر اور دودھ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 329

عَنِ ابن عُمَرَ مَرفُوعاً: ثَلاثَةٌ لَّا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَنَّانُ عَطَاءَه، وَثَلاثَةٌ لَّا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ ، وَالدَّيُّوثُ، وَالْرَّجُلَة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن(رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا۔ اپنے والدین کی نا فرمانی کرنے والا ، مستقل شراب پنےی والا اور اپنی دی ہوئی چیز پر احسان جتلانے والا احسان جتانے والا اور تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے ، اپنے والدین کی نافرمانی کرنے والا دیوث (بے غیرت شخص) اور مرد کی مشابہت کرنے والی عورت۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 330

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِّنْ (خَيْبَرَ) فَاتَّبَعَهُ رَجُلَانِ وَآخَرُ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ ارْجِعَا ارْجِعَا حَتَّى رَدَّهُمَا ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُّهُمَا فَإِذَا أَتَيْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّا هَهُنَا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَبَعَثْنَا بِهَا إِلَيْهِ . قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْخَلْوَة ِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ(خیبر)سے ایک آدمی نکلا ۔اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے اور ایک اور آدمی ان دونوں کے پیچھے چل پڑا جو کہہ رہا تھا واپس آجاؤ، واپس آجاؤ، حتی کہ ان دونوں کو واپس کر دیا۔ پھر پہلے سے ملا اور کہا: یہ دونوں شیطان تھے میں ان کے ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ انہیں واپس بھیج دیا۔ تم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو تو انہیں میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ میں یہاں زکوٰۃ جمع کرنے میں لگا ہوا ہوں۔ اگر یہ آپ کے لئے درست ہو تو میں آپ کی طرف بھیج دوں جب وہ آدمی مدینے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے سفر کرنے سے منع فرمایا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 331

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ وَرَائِي –يَعْنِي: حِسَّ الْأَرْضِ- قَالَتْ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ قَالَتْ فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَمَرَّ سَعْدٌ وَّعَلَيْهِ دِرْعٌ مِّنْ حَدِيدٍ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ قَالَتْ: فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: لَبِّثْ قَلِيلًا يُّدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ: فَقُمْتُ فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِّنْ الْمُسْلِمَينَ وَإِذَا فِيْهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ سِبْغَةٌ لَّهُ –يَعْنِي: مِغْفَرًا- فَقَالَ عُمَرُ: مَا جَاءَ بِكِ؟ لَعَمْرِي وَاللهِ إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ! وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَّكُونَ بَلَاءٌ أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ؟ قَالَتْ فَمَا زَالَ يَلُوْمُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا قَالَتْ: فَرَفَعَ الرَّجُلُ السَّبْغَةَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ فَقَالَ: يَا عُمَرُ! إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوْ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَتْ: وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ يُّقَالُ لَهُ: اِبْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَّهُ فَقَالَ لَهُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرَقَةِ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهُ فَدَعَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَعْدٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ قَالَتْ: وَكَانُوا حُلَفَاءَ وَمَوَالِيَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ: فَرَقَى كَلْمُهُ –أَي: جَرْحُهُ- وَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللهُ قَوِيًّا عَزِيزًا فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَّعَهُ بِتِهَامَةَ وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَّعَهُ بِنَجْدٍ وَرَجَعَ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي صَيَاصِيْهِمْ وَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَضَعَ السِّلَاحَ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِّنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ: فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ  وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَنَقْعُ الْغُبَارِ فَقَالَ: أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللهِ مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ، اُخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ قَالَتْ: فَلَبِسَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَأْمَتَهُ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَّخْرُجُوا فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ حَوْلَهُ فَقَالَ: مَنْ مَّرَّ بِكُمْ؟ فَقَالُوا مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ وَسِنُّهُ وَوَجْهُهُ جِبْرِيلَ  فَقَالَتْ: فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَّعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ قِيلَ لَهُمْ: انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ قَالُوا: نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَنَزَلُوا وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِّيفٍ وَقَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا عَمْرٍو حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ، فَلَمْ يُرْجِعْ إِلَيْهِمْ شَيْئًا وَّلَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمْ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: قَدْ أَنَّى لِي أَنْ لَّا أُبَالِيَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزَلُوهُ فَقَالَ: عُمَرُ سَيِّدُنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :احْكُمْ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ . قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ قَالَتْ: فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرِئَ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ﭽ ﭚ ﭛﭜﭼ قَالَ عَلْقَمَةُ: قُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَصْنَعُ؟ قَالَتْ: كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجِــدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ .
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ خندق کے موقع پر میں باہر نکلی لوگوں کے نشانات پر چل رہی تھی میں نے اپنے پیچھے زمین کے روندنے کی آواز سنی ۔میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو سعد بن معاذنظر آئے ان کے ساتھ ان کا بھتیجا حارث بن اوس تھا جس نے اپنی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی۔ میں زمین پر بیٹھ گئی سعد گزرے تو ان پر لوہے کی زرع تھی جس کے کنارے نکلے ہوئے تھے ۔میں سعد کے نکلے ہوئے کناروں سے خوف محسوس کر رہی تھی۔ وہ گزرے تو یہ شعر پڑھ رہے تھے: تھوڑی دیر ٹھہروکہ اونٹ لڑائی میں پہنچ جائے۔ جب موت کا وقت آجائے تو کتنی اچھی موت ہے۔میں کھڑی ہوئی اور ایک باغ میں داخل گئی ۔ کیا دیکھتی ہوں کہ اس میں مسلمانوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی ، ان میں عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ بھی تھے اورایک آدمی ایسا بھی تھا جس نے اپنے جسم پر خود پہناہوا تھا۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں کونسی چیز یہاں پر لائی ہے؟ واللہ تم تو بہادر ہو ،اگر کوئی آزمائش آگئی یا پسپائی اختیار کرنا پڑی تو تمہیں کونسی چیز بچائے گی؟ وہ مجھے ملامت کرتے رہے حتی کہ میں سوچنے لگی کہ اس وقت زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ اس آدمی نے اپنے چہرے سے خود ہٹایا تو وہ طلحہ بن عبیداللہ تھے ۔انہوں نے کہا اے عمر! آج کے دن تو آپ نے حد کر دی، اللہ عزوجل کے علاوہ پناہ یا فرارکہاں ہے؟ ایک قریشی مشرک نے سعد‌رضی اللہ عنہ کو ایک تیر پھینک کر مارا ؛جسے ابن العرقہ کہا جاتا تھا۔ اور کہا :لو اسے پکڑو میں بھی ابن العرقہ ہوں،وہ تیر سعد‌رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل سے دعا کی : اے اللہ ! جب تک تو قریظہ کے انجام سے میری آنکھ ٹھنڈی نہ کردے مجھے موت نہ دینا۔ قریظہ جاہلیت میں ان کے حلیف تھے۔ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم بھر گیا۔ پھر اللہ عزوجل نے مشرکین کے خلاف ایک سخت آندھی بھیجی اور اس طرح اللہ تعالیٰ مومنوں کو قتال کرنے سے کافی ہوگیا، اور اللہ تعالیٰ قوی اور غالب ہے ۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ چلے گئے جبکہ عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد او ر بنو قریظہ اپنے قلعوں میں بند ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے واپس پلٹے اور اپنا اسلحہ اتار کر دکھ دیا۔ اور چمڑے کا ایک خیمہ لگانے کا حکم دیا۔ مسجد میں سعد‌رضی اللہ عنہ کے لئے ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ جبریل آئے ان پر گردو غبار کے آثار تھے، کہنے لگے کیا آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے؟ واللہ ابھی تک فرشتوں نے اسلحہ نہیں رکھا۔ بنو قریظہ کی طرف جائیے اور ان سے قتال کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ پہنی اور لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو بنو غنم کے پاس سے گزرے ،یہ لوگ مسجد کے ارد گرد رہتے تھے آپ نے پوچھا تمہارے پاس سے کون گزرا ہے؟ انہوں نے کہا ہمارے پاس سے دحیہ کلبی گزرے ہیں، دحیہ کلبی کی داڑھی دانت اور چہرہ جبریل کے مشابہ تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا، پچیس دن محاصرہ جاری رہا، جب محاصرہ شدت اختیار کرگیا اور پریشانی بڑھ گئی تو ان سے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر اتر آؤ۔ انہوں نے ابو لبابہ بن عبدالمنذر سے مشورہ مانگا تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ تمہیں نیچے اتار کر ذبح کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر اتریں گے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے سعد بن معاذ رضی اللہ کے فیصلے پر اتر آؤ۔ وہ اتر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ کی طرف پیغام بھیجا۔ انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا۔ جس پر پتوں کا پالان تھا وہ گدھے پر سوار تھے۔ ان کی قوم نےانہیں گھیرلیا اور کہنے لگے اے ابو عمرو! وہ تمہارے حلیف تمہارے دوست ،اب وہ شکست خوردہ ہیں اور جو آپ جانتے ہیں ۔ لیکن سعد‌رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف نہیں دیکھا نہ ان کی طرف پلٹے حتی کہ جب ان کے گھروں کے قریب پہنچے تو اپنی قوم کی طرف دیکھا اور کہا: مجھ پر ایسا وقت آگیا ہے کہ میں اللہ کی رضا کے لئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ ابو سعید نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو کر جاؤ۔ اور انہیں سواری سےنیچے اتارو۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم وہ ہمارے سردار ہیں۔ آپ نے فرمایا سعد کو نیچے اتارو، لوگوں نے سعد‌رضی اللہ عنہ کو نیچے اتارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجو قتل کر دیئے جائیں، ان کے بچے اور عورتیں غلام بنالئے جائیں اور ان کے اموال تقسیم کردیئے جائیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ تھا تم بھی نے وہی فیصلہ کیا ہے ۔ پھر سعد‌رضی اللہ عنہ نے دعا کی اے اللہ! اگر تو نے اپنے نبی کے خلاف کوئی جنگ قریش کی طرف سے باقی رکھی ہے تو اس کے لئے مجھے باقی رکھ اور اگر تو نے ان کے درمیان جنگ ختم کر دی ہے تو میری روح قبض کر لے۔ ان کا زخم اسی وقت بہنے لگا۔ ان کا زخم ٹھیک ہو چکا تھا صرف کان کی بالی کی مانند سا نشان باقی تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ اپنے اس خیمے میں واپس آگئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے لگوایا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،ابو بکر‌رضی اللہ عنہ اور عمر‌رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں ابو بکر کے رونے کی طرح عمر کے رونے کی آواز پہچان گئی میں اپنے حجرے میں تھی ۔یہ لوگ اسی طرح تھے جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﭽ(رحمآء بینہم) آپس میں رحمدل۔ علقمہ نے کہا اے ام المومنین! رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کس طرح کر رہے تھے ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ان کی آنکھ کسی بھی شخص پر آنسو نہیں بہاتی تھی لیکن جب وہ غمگین ہوتے تو وہ اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 332

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ: رَدُّ التَّحِيَّةِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَشُهُودُ الْجَنَازَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللهَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کہنا ، دعوت قبول کرنا، جنازے میں حاضر ہونا، مریض کی عیادت کرنا اور چھینک مارنے والے کو جواب دینا، جب وہ الحمد للہ کہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 333

الصحيحة رقم (1832) سنن ابن ماجة كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ رقم (1425)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ :اللہ کے ہاں بہترین دوست وہ ہے جو اپنے دوست کے نزدیک بہترین ہے اور اللہ کے ہاں بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لئے بہترین ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 334

عَنْ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ : أُوذنَ أَبُو سَعِيدٍ بِجِنَازَةٍ فِي قَوْمِه ، فَكَأَنَّهُ تَخَلَّفَ حَتَّى إِذَا أَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَهُمْ ثُمَّ جَاءَ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَسَرَّبُوا عَنْهُ ، فَقَامَ بَعْضُهُمْ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسِهِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنِّي سَمِعْتُ رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ : « خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا » .
عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری کہتے ہیں کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم کے ایک آدمی کے جنازے کی خبر دی گئی تو انھوں نے کچھ تاخیر کی تاکہ لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھ جائیں۔ پھر وہ تشریف لائے۔ پس جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو آگے پیچھے ہونے لگے اور کچھ لوگ اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہو تاکہ وہ بیٹھ جائیں۔ انہوں نے فرمایا: خبردار! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہتر مجلس وسعت والی ہوتی ہے۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 335

عَنْ عَائِشَةَ مَرفُوعاً: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ ، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے : تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہےاور جب تمہارا ساتھی مر جائے تو اسے چھوڑ دو( اس کی خامیاں بیان نہ کرو)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 336

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ بن الخطاب وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ آئے تو حبشی مسجد میں کھیل رہے تھے۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:(اے عمر!)انہیں چھوڑ دو کیونکہ یہ بنو ارفدہ ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 337

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلا مِّنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا دَنَا مِنْ مَّنْزِلِهِ سَمِعَهُ يَتَكَلَّمُ فِي الدَّاخِلِ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ دَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سَمِعْتُكَ تُكَلِّمُ غَيْرَكَ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ دَخَلْتُ الدَّاخِلَ اغْتِمَامًا بِكَلامِ النَّاسِ مِمَّا بِي مِنَ الْحُمَّى فَدَخَلَ عَلَيَّ دَاخِلٌ مَّا رَأَيْتُ رَجُلاً قَطُّ بَعْدَكَ أَكْرَمَ مَجْلِسًا وَلَا أَحْسَنَ حَدِيْثًا مِّنْهُ قَالَ:ذَاكَ جِبْرِيلُ علیہ السلام وَإِنَّ مِنْكُمْ لَرِجَالًا، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يُقْسِمُ عَلَى اللهِ لأَبَرَّهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کی عیادت کی، جب آپ اس کے گھر کے نزدیک پہنچے تو اندر سے بات کرنے کی آواز سنی ، جب اس سے اجازت لے کر اندر گئے تو کوئی بھی نظر نہ آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس سے کہا: میں نے تمہیں کسی شخص سے بات کرتے سنا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول میں تو بخار کی وجہ سے لوگوں کی باتوں سے اکتا کر گھر آگیا تو میرے پاس ایسا شخص آیا تھا کہ آپ کے بعد میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو میرے پاس اچھی مجلس اور خوب صورت بات کرنے والا ہو۔ آپ نے فرمایا: وہ جبریل علیہ ا لسلام تھے تم میں ایسے بھی آدمی ہیں جو اگر اللہ پر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پورا کر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 338

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعاً: ذُبُّوا بِأَمْوَالِكُم عَنْ أَعْرَاضِكُم قَالُوا : يَا رَسُولَ الله ! كَيْفَ نَذُبُّ بِأَمْوَالِنَا عَنْ أَعْرَاضِنَا ؟ قَالَ : يُعْطَى الشَّاعِرُ وَمَنْ تَخَافُونَ لِسَانَه
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اموال کے ذریعے اپنی عزتوں کی حفاظت کرو، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے اموال کے ذریعے اپنی عزتوں کی حفاظت کس طرح کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: شاعر اور جس کی زبان سے تم ڈرتے ہو اسے مال دیا کرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 339

عن الحسن ، مرفوعاً مرسلاً: « رَحِمَ اللهُ عَبْداً قَالَ فَغَنِمَ ، أَوْ سَكَتَ فَسَلِمَ ».
حسن سے مرفوعا مرسلا مروی ہے : اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جس نے بات کی تو داد وصول کی اور خاموش رہا تو سالم رہا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 340

عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ قَالَتْ: رَخَّصَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ الْكَذِبِ فِي ثَلَاثٍ فِي الْحَرْبِ وَفِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ وَقَوْلِ الرَّجُلِ لِامْرَأَتِهِ، وَفِي رواية: وَحَدِيثِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا
ام کلثوم بنت عقبہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں میں جھوٹ بولنے کی رخصت دی : جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلاح کرانے میں اور بیوی سے اور ایک روایت میں ہے: شوہر کے بیوی سے اور بیوی کے شوہر سے بات کرنے میں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 341

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ فَالبُشْرَى مِنَ اللهِ وَحَدِيثُ النَّفْسِ وَتَخْوِيفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُصّها إِنْ شَآءَ وَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَّكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ وَلْيَقُمْ يُصَلِّي
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : خواب تین قسم کے ہیں اللہ کی طرف سے خوش خبری ، دل میں آیا ہوا خیال اور شیطان کی طرف سے خوف دلانے والا، جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو اگر وہ چاہے تو اسے بیان کردے۔ اور جب ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو وہ کسی سے بھی بیان نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 342

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِىِّ - وَكَانَ أَمِيراً عَلَى الْكُوفَةِ - قَالَ: أَتَيْنَا قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِى بَيْتِهِ فأذَّنَ الْؤُذِّنُ، فَقُلْنَا لِقَيْسٍ: قُمْ فَصَلِّ لَنَا. فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لّأُصَلِّىَ بِقَوْمٍ لَسْتُ عَلَيْهِمْ بِأَمِيرٍ. فَقَالَ: رَجُلٌ لَيْسَ بِدُونِهِ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْظَلَةَ الْغَسِيلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌:« الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَصَدْرِ فِرَاشِهِ وَأَنْ يَّؤُمَّ فِى رَحْلِهِ ». قَالَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ: عِنْدَ ذَلِكَ يَا فُلاَنُ لِمَوْلًى لَهُ : قُمْ فَصَلِّ لَهُمْ.
عبداللہ بن یزید خطمی امیر کوفہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم قیس بن سعد بن عبادہ کے پاس ان کے گھر آئے۔ موذن نے نماز کے لئے اذان دی، ہم نے قیس سے کہا: اٹھو اور ہمیں نماز پڑھاؤ۔ انہوں نے کہا: میں ایسا نہیں کہ جن لوگوں کا امیر نہیں انہیں نماز پڑھاؤں۔ ایک آدمی جو کہ درجہ میں کم نہیں تھا جسے عبداللہ بن حنظلہ غسیل کہا جاتا تھا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے اور اپنے بستر پر آگے بیٹھنے کا اور یہ کہ اپنے گھر میں امامت کروانے کا زیادہ حقدار ہے(قیس بن سعد نے (یہ سن کر) اپنے غلام سے کہا۔ اور فلاں! اٹھو اور نماز پڑھاؤ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 343

) عن عبد الله بن عَمَرٍو رضی اللہ عنہ مرفوعاً: سِبَابُ الْمُؤْمِنِ كَالْمُشْرِفِ عَلَى هَلكَةٍ.
عبداللہ بن عمر و‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : مومن کو گالی دینے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ہلاکت پر سوار ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 344

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنَ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَّهُ بِأَيْمَنَ وَفِئَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ حَلُّوا أُزُرَهُمْ فَجَعَلُوهَا مَخَارِيْقَ يَجْتَلِدُونَ بِهَا وَهُمْ عُرَاةٌ قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَلَمَّا مَرَرْنَا بِهِمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ قِسِّيْسُونَ فَدَعُوهُمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَبْصَرُوهُ تَبَدَّدُوا فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُغْضَبًا حَتَّى دَخَلَ وَكُنْتُ وَرَاءَ الْحُجْرَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سُبْحَانَ اللهِ لَا مِنَ اللهِ اسْتَحْيَوْا وَلَا مِنْ رَّسُولِ اللهِ اسْتَتَرُوا وَأُمُّ أَيْمَنَ عِنْدَهُ تَقُولُ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَبِلَأْيٍ مَّا أَسْتَغْفِرُ لَهُمْ.
سلیمان بن زیاد حضرمی سے مروی ہے کہ عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی نے بیان کیا کہ وہ گزر رہے تھے ان کا ساتھی دائیں طرف میں تھااورقریش کی ایک برہنہ جماعت جنہوں نے اپنے تہہ بند اتار کر انھیں کوڑوں کی شکل بٹ دے کر برہنہ حالت میں پٹا کھیل رہے تھے۔عبداللہ نے کہا: جب ہم ان کے پاس سےگزرے تو انہوں نے کہا: یہ درویش(پاگل) لوگ ہیں انہیں چھوڑ دو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو دیکھا تو بھاگ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں واپس آئے اور گھر میں داخل ہو گئے میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا:”سبحان اللہ نہ اللہ سے شرم کرتے ہیں ، نہ اللہ کے رسول سے پردہ کرتے ہیں“۔ ام ایمن ان کے پاس تھیں کہہ رہی تھیں اللہ کے رسول ان کے لئے بخشش طلب کیجئے۔ عبداللہ نے کہا: آپ نے کسی دشواری کی وجہ سے ان کے لئے بخشش طلب نہیں کی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 345

عَن جَابر بن عَبد الله رضی اللہ عنہ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ هُنَا غُلَامٌ فَقَالُوا : مَا نُسَمِيه ؟ فَقَال النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « سَمُّوه بِأَحَبّ الْأَسْمَاء إِلَيّ حَمْزة بن عَبد الْمُطَّلِب ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: یہاں ایک شخص کے گھر بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے کہا: ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جو سب سے پیارا نام ہے وہ رکھو”حمزہ بن عبدالمطلب“
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 346

عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: السَّلامُ اسْمٌ مِّنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَضَعَهُ فِي الأَرْضِ، فَأَفْشُوهُ بَينَكُمْ، فَإِنَّ الرَّجُلَ الْمُسلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَوْمٍ فَسَلَّم عَلَيهِم فَرَدُّوا عَلَيْهِ كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ فَضْلُ دَرَجَةٍ، فَإِنْ لَّمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَأَطْيَبُ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ نے مین میں رکھا ہے ۔ اسے آپس میں پھیلایا کرو کیونکہ جب ایک مسلمان آدمی کسی قوم کے پاس سے گزرتا ہے اور انہیں سلام کہتا ہے اور وہ اسے جواب دیتے ہیں تو اس کے لئے ان پر(فضیلت کا درجہ ہے)۔ اگر وہ جواب نہ دیں تو جو ان سے اچھے اور پاکیزہ ہیں وہ انہیں جواب دیتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 347

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: السَّلامُ قَبل السُؤَالِ فَمَنْ بَدَأَكُم بِالسُّؤَالِ قَبْلَ السَّلامِ فَلا تُجِيبُوهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنے سے پہلے سلام کہو، اگر کوئی سلام کرنے سے پہلے تم سے سوال کرے تو اسے جواب نہ دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 348

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَمْرٍو، مَرفُوعاً: الشِّعْرُ بِمَنْزِلَةِ الْكَلامِ، حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلامِ، وقَبِيحُهُ كَقَبيْحِ الْكَلامِ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : شعر بات کی طرح ہے اچھا شعر اچھی بات کی طرح اور برا شعر بری بات کی طرح ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 349

عن عامر بن سعد ، عن أبيه مرفوعا: « طَهِّرُوا أَفْنِيَتَكُمْ ، فَإِنَّ اليَهُودَ لَا تُطَهِّرُ أَفْنِيَتَهَا ».
عامر بن سعید اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ:اپنے صحن صاف رکھا کرو کیونکہ یہودی اپنے صحن صاف نہیں رکھتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 350

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ: کھانا کھا کر شکر کرنے والا صبر کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 351

عَنْ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ مَرفُوعاً: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ پوچھا گیا اگر اس کے پاس نہ ہو تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے، خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ پوچھا گیا اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو؟ کہا کہ فقیر حاجت مند کی مدد کرے۔ پوچھا گیا اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے؟ کہا کہ نیکی کا حکم کرے ۔ پوچھا گیا: اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھے؟ انہوں نے کہا: برائی سے رکا رہے یہی اس کا صدقہ ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 352

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ مَرفُوعاً: عَلَى كُلِّ نَفْسٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِّنْهُ عَلَى نَفْسِهِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مِنْ أَيْنَ أَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ؟ قَالَ: لَأَنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْكَةَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَةَ وَالْحَجَرَ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُسْمِعُ الْأَصَـمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ، وَتُـدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَـةٍ لَّهُ قَـدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْـكَ إِلَى اللَّهْفَانِ، الْمُسْتَغِيثِ، وَتَرْفَـعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ، وَلَكَ فِي جِمَاعِكَ زَوْجَتَكَ أَجْرٌ. قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ، أَكُنْتَ تَحْتَسِبُهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ: قَالَ: بَلْ اللهُ خَلَقَهُ. قَالَ: فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ؟ قَالَ: بَلِ اللهُ هَدَاهُ. قَالَ: فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ؟ قَالَ: بَلِ اللهُ كَانَ يَرْزُقُهُ. قَالَ: كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ، فَإِنْ شَاءَ اللهُ أَحْيَاهُ، وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ، وَلَكَ أَجْرٌ.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ہر شخص پر صدقہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہاں سے صدقہ کروں ہمارے پاس تو مال نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا :تکبیر(اللہ اکبر)،سبحان اللہ، الحمدللہ ،لا الہ الا اللہ اور استغفراللہ صدقے سے تعلق رکھتے ہیں۔تم نیکی کا حکم کرو برائی سے منع کرو۔ لوگوں کے راستے سے کانٹا ،ہڈی اور پتھر ہٹاؤ، اندھے کو راستہ بتاؤ، بہرے گونگے کو بات سمجھاؤ، حاجت مند کو اس کی حاجت کا راستہ بتاؤ جوتم جانتے ہو،مدد طلب کرنے والے مجبور شخص کی طرف دوڑ کر جاؤ اور کمزور کا بوجھ اٹھانے میں ہاتھ بٹاؤ،یہ سب کام تمہارے اپنے آپ پر صدقہ کرنے کی قبیل سے ہیں۔ اور تمہارے لئے تمہاری اپنی بیوی سے جماع کرنے میں اجر ہے، ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لئے میری اس شہوت میں کس طرح اجر ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے خیال میں اگر تمہارا کوئی بیٹا ہوتا، وہ بڑا ہو جاتا تم اس سے بھلائی(کمائی) کی امید رکھتے اور وہ مرجاتا تو کیا تمہیں اس کا ثواب نہیں ملتا ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پیدا کیا ہے؟ ابو ذر نے کہا: نہیں اللہ نے اسے پیدا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی تھی؟ ابو ذر نے کہا: نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے رزق دیا تھا؟ ابو ذر نے کہا: نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح اپنی شہوت کو حلال جگہ پورا کرو اور حرام کاری سے اجتناب کرو، اگر اللہ نے چاہا تو اسے زندہ رکے گا اور اگر اللہ نے چاہا تو اسے مار دے گا ، اور تمہارے لئے اس میں اجر ہوگا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 353

عن ابن عمر مَرفُوعاً: عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: کوڑے کو وہاں لٹکاؤ جہاں گھر والے دیکھتے رہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 354

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَرفُوعاً:عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَإِنَّهُ لَهُمْ أَدَبٌ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ کوڑے کو وہاں لٹکاؤ جہاں گھر والے دیکھتے رہیں کیونکہ یہ ان کے لئے ادب سکھانے کا ذریعہ ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 355

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَّنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَّمْ يُغَطَّ وَلَا سِقَاءٍ لَّمْ يُوكَ إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَآءِ.
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن ڈھانپ دیا کرو، مشکیزوں کے منہ بند کر دیا کرو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وباء نازل ہوتی ہے ، جو برتن کھلا ہوتا ہے یا جو مشکیزہ کھلا ہوتا ہے اس میں یہ وباء داخل ہوجاتی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 356

عَنْ وَحْشِـيٍّ أَنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبـَعُ قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ اجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ.
وحشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: شاید تم الگ الگ کھانا کھاتے ہو، اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا کرو۔ اللہ تعالیٰ کا نام لو اس میں تمہارے لئے برکت کر دی جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 357

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَرفُوعاً: فِي ابْنِ آدَمَ سِتُّونَ وَثَلاثُ مِائَةِ سُلَامَي أَو عَظیمٌ أَو مَفْصِلٌ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، كُلُ كَلِمَةٍ طَّيِّبَةٍ صَدَقَةٌ، وَعَوْنُ الرَّجُلِ أَخَاهُ صَدَقَةٌ، وَالشَّربَةُ مِنَ الْمَاءِ تُسْقِيهَا صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہےکہ:ابن آدم میں تین سو ساٹھ جوڑ یا ہڈیاں ہوتی ہیں، ہر دن ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ ہر اچھی بات صدقہ ہے آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے تو صدقہ ہے پانی کا جو گھونٹ تم پلاتے ہو صدقہ ہے ،راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا صدقہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 358

عن عائشة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم في قوله : (ذلک ادنی الا تعولوا)، قال : « أَنْ لَا تَجُوْرُوا ». ( )
عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں: (ذلک ادنی الا تعولوا) فرمایا کہ تم ظلم نہ کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 359

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا ﮋقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌﮊ وَﮋقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِﮊ وَﮋقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِﮊ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں ملاتے پھر ان میں پھونک مارتے اور ان ہتھیلیوں میں (سورۃ اخلاص، سورۃ فلق، سورۃ الناس) پڑھتے، پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے جسم پر پھیرتے اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے اس کی ابتداء کرتے۔ آپ یہ کام تین مرتبہ کرتے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 360

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِـنْ أَصْحَـابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَـالَ: بَشِّـرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی صحابی کو کسی کام سے بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دینا نفرت نہ دلانا اور آسانی کرنا تنگی نہ کرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 361

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے حتی کہ بات سمجھ میں آجاتی اور جب کسی قوم کے پاس آتے اور انہیں سلام کہتے تو تین مرتبہ سلام کہتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 362

عَنْ عَائِشَةَ مَرفُوعاً: كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى صَلَاةً تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ: إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً له: سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَاتُوْبُ اِلَیْکَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ جب آپ کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے: عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کلمات کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اچھی بات کرے تو قیامت تک ان پر مہر ہوگی، اور اگر کوئی دوسری بات کرے تو یہ اس کا کفارہ ہوگا: (سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ الیک)، اے اللہ! تو پاک ہے ، اپنی تعریف کے ساتھ، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ،میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 363

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَّزِلَّ (وفي رواية: أَزِلَّ...بالإفراد في الأفعال كلها)أونُزَلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْنُضَلَ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا
ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے: بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ ،اللہ کے نام کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ، اے اللہ ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں کہ کہیں ہم پھسل نہ جائیں(اور ایک روایت میں ہے کہ کہیں میں پھسل نہ جاؤں باہم پھسلائے جائیں، یا ہم گمراہ ہوں یا ہم گمراہ کردئے جائیں۔ یا ہم ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے یا ہم جہالت کریں یا ہم پر جہالت کی جائے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 364

عَن أَنَس بن مَالكٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَافَحَ رَجُلًا لَّمْ يَتْرُك يَدَه حَتَّى يَكُونَ هُوَ التَّارِكُ لِيَدِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جب آپ کسی شخص سے مصافحہ کرتے تو اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 365

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن جَعْفَرٍ ذِي الْجَنَاحَيْنِ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا عَطَسَ حَمِدَ اللهَ فَيُقَالُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَيَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.
عبداللہ بن جعفر طیار‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چھینکتے تو الْحَمْدُلِلهِ کہتے ،آپ کو يَرْحَمُـكَ اللهُ کہا جاتا تو آپ کہتے يَهْدِيـكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ، اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 366

عَن أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ النَبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا تَلَاقَوْا تَصَافَحُوا ، وَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَر تَعَانَقُوْا ».
انس‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جب ملتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 367

) عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُه يَمْشُونَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ وَيَدَعُونَ ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے تو آپ کے صحابہ آپ کے آگے چلتے اور آپ کی پشت کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 368

عَنْ أَبِي مَدِينَةَ الدَّارِمِيِّ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا الْتَقَيَا لَمْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَقْرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ: وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾ ، ثُمَّ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ .
ابو مدینہ دارمی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ جب ملتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک یہ آیت نہ پڑھ لیتے العصر﴿۱﴾ ﴿۲﴾ زمانے کی قسم یقینا انسان خسارے میں ہے۔ پھر ان میں سے کوئی دوسرے سے سلام کہتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 369

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاطَّلَعَ فِي الْبَيْتِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَسَدَّدَهُ نَحْوَ عَيْنَيْهِ حَتَّى انْصَرَفَ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور آپ کے گھر میں جھانکا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش سے ایک تیر لیا اور اس کی آنکھ کی طرف سیدھا کر دیا حتی کہ وہ واپس پلٹ گیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 370

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَّلْعَبُوْنَ فِيْهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِيْنَةَ قَالَ: كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللهُ بِهِمَا خَيْرًا مِّنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اہل جاہلیت کے لئے ہر سال میں دو دن تھے جس میں وہ کھیلا کرتے تھے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو فرمایا: تمہارے لئے دو دن تھے جن میں تم کھیلا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے بہتر دنوں سے بدل دیا ہے، وہ دن عیدا لفطر اور عید الاضحٰی کے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 371

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كاَنَ نَاسٌ يَّأتُونَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ اليَهُودِ فَيَقُولُونَ : السَّامُ عَلَيْكَ، فَيَقُولُ: وَعَلَيْكُم فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ فَسَبَّتْهُمْ (وفي رواية: قَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ) فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَهْ يَا عَائِشَةُ (لَا تَكُونِي فَاحِشَةً)فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولُ اللهِ! إِنَّهُم يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُّ عَلَيْهِمْ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَ اِذَا جَآئُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اﷲُ۔.
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے اور کہتے : السام علیک(آپ پر ہلاکت ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرماتے: وعلیکم( اور تم پر بھی)، عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں سمجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہا(اور ایک روایت میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر ہلاکت اور مذمت ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ رک جاؤ، (بد زبان مت بنو) کیونکہ اللہ تعالیٰ بدزبانی کو پسند نہیں کرتا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ اس طرح کہہ رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا میں نے انہیں جواب نہیں دیا؟ تب اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل کی وَ اِذَا جَآئُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اﷲُ۔ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسا سلام کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہیں کہا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 372

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يُسَمِّي الْأُنْثَى مِنَ الْخَيْلِ فَرَسًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑی کا نام فرس رکھا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 373

عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بن عَلِيِّ بنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى قَالَتْ: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم يَكْرَهُ أَنْ يُّؤْخَذَ مِنْ رَأْسِ الطَّعَامِ.
عبیداللہ بن علی بن ابی رافع اپنی دادی سلمی سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ کھانے کے درمیان سے لیا جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 374

عن عبد الله بن عَمَرٍو رضی اللہ عنہ قال: كَان رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَكْرَه أَنْ يَّطَأ أَحدٌ عَقِبَه وَلَكِنْ يَّمِيْنٌ وَّشِمَالٌ.
عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے لیکن دائیں بائیں چلنے کو ناپسند نہیں کرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 375

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: كُلُّ خُطْبَةٍ لَّيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کہتے اور ان کے لئے برکت کی دعا کرتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 376

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: كُلُّ خُطْبَةٍ لَّيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ ہر خطبہ جس میں(توحیدورسالت کی) شہادت نہ ہو کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 377

) عن أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كُلُ نَفَسٍ مِّنْ بَنِي آدَم سَيِّدٌ فَالرَّجُل سَيِّدُ أَهِلِـهِ وَالْمَرْأَةُ سَيِّدَةُ بَيْتِهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی آدم کا ہر شخص سردار ہے آدمی اپنے گھر والوں کا سردار ہے اور عورت اپنے گھر کی سردار ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 378

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كُلُوا جَمِيعًا وَّلا تَفَرَّقُوا ، فَإِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاثْنَيْنِ ، وَطَعَامَ الاثْنَيْنِ يَكْفِي الأَرْبَعَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکھٹے کھاؤ الگ الگ نہ ہو جاؤ کیونکہ ایک شخص کا کھانا دو کے لئے کافی ہوجاتا ہے، اور دو آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لئے کافی ہو جاتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 379

) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا انْتَهَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي.
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچتے تو ہم میں سے ہر شخص وہاں بیٹھتا جہاں اسے جگہ ملتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 380

عَن زَيْد بن أَرقَم قَالَ: كُنَّا إِذَا سَلَّم النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْنَا، قُلْنَا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُه.
زید بن ارقم‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سلام کہتے تو ہم کہتے علیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ (آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت، اس کی برکتیں اور اس کی مغفرت ہو)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 381

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ وَّنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھڑے ہو کر پانی پیتےاور چلتے پھرتے کھانا کھالیتے تھے۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 382

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَأَنْ يَّمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَّمْتَلِئَ شِعْرًا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کا پیٹ بدبو دار پیپ سے بھر جائے حتی کہ وہ اسے دیکھ لے تو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 383

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ
ابو مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے دوسرےمسلمان پر چار حقوق ہیں جب وہ چھینکے تو اسے جواب دے جب اسے دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 384

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَمَّا عَرَجَ بِي ربي عزوجل مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَّهُمْ أَظْفَارٌ مِّنْ نُّحَاسٍ يَّخْمُشُونَ وُجُوْهَهُمْ وَصُدُوْرَهُمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میرے ر ب نے مجھے معراج کروائی تو میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ لوگوں کا گوشت کھاتے تھے(یعنی غیبت کرتے تھے) اور ان کی عزتیں خراب کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 385

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِطَّلَعَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَهُوَ يمد لِسَانَهُ فَقَالَ: ما تصنع يا خَلِيْفَةَ رَسُوْلِ الله ؟ فَقَالَ: هَذَا أَوْرَدَنِيَ الْمَوَارِدَ، إِن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : لَيْس شَيْء مِّنَ الْجَسَدِ إِلَا يَشْكُوْ إلى الله اللِّسَان عَلَى حِدَّتِه
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے خلیفۂ رسول آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں لاپھینکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ سے زبان کی تیزی کی شکایت نہ کرتی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 386

عن أبي هريرة ، مرفوعا : « لَيْس لِلنِّسَاء وَسَطُ الطَّرِيقِ ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ عورتوں کے لئے راستے کادرمیانی حصہ نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 387

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِه.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 388

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا بِاللَّعَّانِ وَلَا بِالْفَاحِشِ وَلَا بِالْبَذِيءِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بہت زیادہ لعنت کرنے والا ،طعنہ دینے والا، بدزبان اور بد کلام نہیں ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 389

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: سَمعِتُ النَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: لِيُسَلِّمِ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ وَليُسَلِّمِ الرَّاجِلُ عَلَى الْقَائِد وَليُسَلِّمِ الْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ فَهُوَ لَهُ وَمَنْ لَّمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ.
عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کہے ، پیدل چلنے والا بیٹھےہوئے شخص کو سلام کہے، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کہیں جس نے سلام کا جواب دیا اس کا اجر اس کے لئے ہے اورجس شخص نے جواب نہ دیا اس کے لئے کوئی اجر نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 390

عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ الشَّامِيِّ مَرفُوعاً: لَيْلَةُ الضَّيْفِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ إِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ.
ابو کریمہ شامی سے مرفوعا مروی ہے کہ :ایک رات مہمان نوازی کرنامہمان کا ہر مسلمان پرحق ہےتوجو شخص میربان کے صحن میں صبح بھی کرلے (یعنی رات گذارے) تووہ اس میزبان پر قرض ہے وہ مہمان اگر چاہےتو اس کا مطالبہ کرے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 391

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذَهَبْتُ أَحْكِي امْرَأَةً وَّ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے لئے اتنا اور اتنا (خزانہ)بھی ہو تو مجھے پسند نہیں کہ میں کسی کی نقل اتاروں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 392

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرفُوعاً: مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلهِ إِلَّا أَكْرَمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جو بندہ کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معزز بنا دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 393

عن أنس مرفوعا: « مَا تَحَابَّ رَجُلَان فِي اللهِ إِلَا كَان أَحَبُّهُمَا إِلى اللهِ عَزّ وَجَل أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : جودو شخص اللہ کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں تو اللہ کو زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 394

عن عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ.
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے نہیں دیکھا گیا، اور نہ ہی کبھی آپ کے پیچھے دو آدمی چلتے دیکھے گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 395

عن أبي هريرة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مرفوعاً: « مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَيْرًا لَّه وَلَا أوسَعَ مِنَ الصَّبْرِ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ :بندے کو جتنی بھی چیزیں دی گئی ہیں ان میں صبر سے بہتر اور وسعت والی کوئی چیز نہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 396

عَنْ أَنَسِ قَالَ: مَا كَانَ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ رُؤْيَةً مِّنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ
انس‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کے نزدیک دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی شخص دیکھنے کے اعتبار سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ صحابہ جب آپ کو دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ اس بات کو نا پسند کرتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 397

) عن أُسَامَةَ بن شَريكٍ ، مَرفُوعاً : « مَا كَرِهَتَ أَن يَّرَاهُ النَّاسُ فَلَا تَفْعَلْهُ إِذَا خَلَوْتَ »
اسامہ بن شریک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جس بات کو تو ناپسند کرے کہ لوگ اسے دیکھیں وہ کام تو تنہائی میں بھی نہ کر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 398

عَنْ شُرَحْبِيلِ بْن مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ زَارَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ فَوَجَدَهُ يُنَقِّي شَعِيْرًا لِّفَرَسِهِ قَالَ: وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ فَقَالَ لَهُ: رَوْحٌ أَمَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَّكْفِيكَ؟ قَالَ تَمِيمٌ: بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنِ امْرِئٍ مُّسْلِمٍ يُّنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ثُمَّ يُعَلِّقُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ.
شرحبیل بن مسلم خولانی سے مروی ہے کہ روح بن زنباع نے تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے آئے۔ تو انہیں اپنے گھوڑے کے لئے جوصاف کرتے دیکھا اور ان کے گرد ان کے گھر والے تھے ۔ روح نے ان سے کہا: کیا ان میں کوئی ایسا نہیں جو آپ کا کام کر دے؟ تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے ، جو بھی مسلمان اپنے گھوڑے کے لئے جَو صاف کرے پھر انہیں کھانے کے لئے لٹکادے تو اس کے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی لکھی جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 399

عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ مُّسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَّفْتَرِقَا.
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو الگ ہونے سے پہلے ان دونوں کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 400

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ مَرفُوعاً: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
نعمان بن بشیر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : محبت، رحمدلی اور شفقت کے اعتبار سے مؤمنوں کی مثال ان کی محبت رحمدلی اور شفقت میں ایک جسم کی مانند ہے، جب بھی کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم درد اور بخار کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 401

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ آذَى الْمُسْلِمِينَ فِي طُرُقِهِمْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ لَعْنَتُهُمْ . روی مِنْ حَدِیْثِ قَتَادَۃَ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ عن حُذَیفَۃ بْنِ اُسَیْدٍ مرفوعا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مسلمانوں کو ان کے راستوں میں تکلیف دی تو اس پر ان کی لعنت واجب ہوگئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 402

عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَنْ أُبْلِيَ بَلَاءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی نعمت دی گئی اس نے اس کا ذکر کیا تو اس نے اس نعمت کا شکر ادا کیا اور اگر اس نے اسے چھپایا تو اس نے اس کا کی ناشکری کی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 403

عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ بَيْتًا فِيه عَبْدُ اللهِ بن الزُّبَيْر وَ عَبْدُ اللهِ بن عَامِرٍ فَقَامَ ابن عَامِر وَثَبَتَ ابنُ الزُّبَيْر وَكَانَ أَدْرَبَهُمَا فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: اِجْلِسْ يَا ابنَ عَامِر فَإنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَّتَمَثَّلَ لَهُ النَّاسُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ .
ابو مجلز نے کہا کہ معاویہ‌رضی اللہ عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے اس میں عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہم تھے، عبداللہ بن عامر کھڑے ہوگئے جب کہ عبداللہ بن زبیر بیٹھے رہے وہ دونوں سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار تھے۔معاویہ نے کہا: ابن عامر بیٹھے رہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے :جو شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے لئے مجسمے کی طرح کھڑے ہو جائیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 404

عن أبي بُردَة ، قال : قَدمتُ الْمَدِيَنَةَ ، فَأَتَانِي عبدُ الله بنُ عُمرَ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي لِمَ أَتَيْتُكَ ؟ ، قالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، يَقولُ : « من أَحَبّ أَن يَّصِلَ أَبَاهُ في قَبْرَهِ ، فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيه بَعْدَهُ » وَإِنَّه كَان بَيْنَ أبي عُمرَ وَبَيْنَ أَبِيكَ إِخَاءٌ وَّوُدٌّ ، فَأَحْبَبْتُ أَن أَصِلَ ذَلكَ
ابو بردہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا تو میرے پاس عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ میں نے کہا: نہیں، عبداللہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے والد سے اس کی قبر میں صلہ رحمی کرے تو وہ اپنے والد کے دوستوں سے اس کے مرنے کے بعد ملتا رہے۔ میرےوالد عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے والد کے درمیان مواخاۃ(بھائی چارہ) اور محبت تھی اس لئے میں نے پسند کیا کہ میں اس صلہ رحمی کو قائم رکھوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 405

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِلهِ وَأَبْغَضَ لِلهِ وَأَعْطَى لِلهِ وَمَنَعَ لِلهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ.
ابو امامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے لئے محبت کی اور اللہ کے لئے بغض کیا، اللہ کے لئے دیا اور اللہ کے لئے روکا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 406

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ أُعْطِيَ عَطَآءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ وَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ فَإِنَّ مَنْ أَثْنَى فَقَدْ شَكَرَ وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی چیز دی گئی اگر اس کے پاس بھی استطاعت ہو تو بدلہ دے دے اور اگر اس کے پاس استطاعت نہ ہو تو وہ اس کی تعریف کرے کیونکہ جس شخص نے تعریف کی اس نے شکریہ ادا کیا اورجس شخص نے چھپایا اس نے نا شکری کی اور جس شخص نے ایسی چیز کا اظہار کیا جو اسے نہیں دی گئی تو وہ جھوٹ کا لباس پہنےر والے کی طرح ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 407

عَنِ الْمُسْتَوْرِد أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً فَإِنَّ اللهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّم وَمَنِ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا فَإِنَّ اللهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ فِي جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُّسْلِمٍ مَّقَامَ سُمْعَةٍ فَإِنَّ اللهَ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَّوْمَ الْقِيَامَةِ.
مستوردسےمروی ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نےکسی مسلمان کےبدلےایک لقمہ(حرام)کھایا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اتنا ہی کھلائے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان کے بدلےایک کپڑا پہنا اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں اتنا ہی کپڑاپہنائے گا ،ا ور جو شخص کسی مسلمان کے بدلے شہرت کی جگہ کھڑا ہوا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے بدنامی کے مقام پر کھڑا کردے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 408

عَنْ مُعَاوِيَةُ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: من أكل عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْخَبِيثَتَيْنِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهِمَا فَأَمِيتُمُوهُمَا طَبْخًا.
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ان دوخبیث درختوں (پیازاورلہسن)سے کھایا وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔اگر تم ان دونوں کوضرورہی کھانے والے ہو تو ان کی بو پکا کر ختم کر دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 409

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّه سَمِع رَجُلًا يَّقول: يَاآلَ فُلَان! فَقَال لَه: اُعْضُضْ بِهَنِ أَبِيكَ، و لَم يَكُنِ، فَقَالَ لَه: يَا أبا الْمُنْذِر مَا كُنْتَ فَحَّاشًـا، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم يَقولُ: مَنْ تَعَزَّى بِعَـزَى الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ بِهَـنِ أَبِيه وَلَا تَكْنُوا.
ابی بن کعب سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا: اے آل فلاں!توابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اشارہ کنایہ کئے بغیر کہا اس سے کہا: اپنے باپ کی شرم گاہ دانتوں سے کاٹو۔ اس نے ابی بن کعب سے کہا: اے ابو المنذر!آپ تو بدزبان نہیں تھے!، ابو المنذر نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا ،فرما رہے تھے: جو شخص جاہلیت کے تفاخر کا اظہار کرے تو اسے اس کے باپ کی شرم گاہ دانتوں سے کٹواؤ اوراشارہ وکنایۃ نہ استعمال کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 410

عَنْ حُذَيْفَةَ بن اليمان مَرفُوعاً: مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتفلَتُه بَيْنَ عَيْنَيْه.
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جس شخص نے قبلے کی طرف رخ کر کے تھوکا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کے سامنے ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 411

عن أبي هريرة عَن النَبي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ:مَنْ ذَكَرَ رَجُلًا بِمَا فِيه فَقَدْ اغْتَابَه ، وَمَنْ ذَكَرَه بِغَيْرِ مَا فِيهِ فَقَدْ بَهَتَهُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی آدمی کا تذکرہ اس میں موجود خامیوں کے ساتھ کیاتو اس نے اس کی غیبت کی اور جس شخص نے اس کے علاوہ تذکرہ کیا تواس نے اس پر بہتان باندھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 412

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرْفُوعاً: مَنْ رَحِمَ، وَلَوْ ذَبِيحَةَ عُصْفُورٍ رَحِمَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جس شخص نے رحم کیا اگرچہ ایک چڑیا کو ذبح کرنے میں ہی کیوں نہ کیا ہو،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر رحم کرے گا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 413

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ صَمَتَ نَجَا.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خاموش رہا وہ نجات پاگیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 414

عن أبي هريرة أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:مِنْ فِطْرَةٍ الإسلامِ: الْغُسْلُ يَومَ الْجُمعَةِ، والاستنانُ، وَأَخذُ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللُّحَى ، فَإِنَّ الْمَجُوسَ تُعفِي شَوَارِبَها ، وتُحفي لُحاهَا ، فَخَالِفُوهُم: خُذُوا شَوَارِبَكُم ، وَأَعْفُوا لُحَاكُمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فطرت ِاسلام میں سے ہے: جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، داڑھی کو معاف کرنا۔ کیونکہ مجوسی اپنی مونچھیں بڑھاتے ہیں اور داڑھی کاٹتے ہیں، اس لئے ان کی مخالفت کرو اپنی مونچھیں کاٹو اور اپنی داڑھی بڑھاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 415

عَن أَبي هُريرَة عَن النَبي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إلَى فِرَاشِه : لَا إِلَه إِلَا الله وَحْدَهُ لَا شَريكَ لَه لَهُ الْملَكَ وَلَهُ الْحَمْـدُ وَهوَ عَلَى كُلِ شَيْءٍ قَـدِيرٌ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُـوةَ إِلَا بِاللهِ، سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْـدُ لِلهِ وَلَا إِلَه إِلَا الله وَاللهُ أَكْبَرُ، غُفِرتْ لَه ذُنُوبَه - أَو قَالَ: خَطَايَاه شَكَّ مِسْعَرٌ - وَإِنْ كَان مِثْلَ زَبَدَ الْبَحْر
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے بستر پر آتے ہوئے یہ کلمات کہے لَا إِلَه إِلَا الله وَحْدَه لَا شَريك لَه، لَه الْملَك وَلَه الْحَمْد وَهو عَلَى كُل شَيْء قَدِير، لَا حَوْل وَلَا قُوة إِلَا بِالله، سُبْحَان الله وَالْحَمْد لِلهِ وَلَا إِلَه إِلَا الله وَالله أكبر اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 416

عَنْ أَبي هُريرَةَ مَرْفَوعاً: مَنْ قَطَعَ رَحَمًا أَوْ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ رَأَى وَبَاله قَبْلَ أَنْ يَّمُوتَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جس شخص نے قطع رحمی کی یا نا فرمانی پر قسم کھائی وہ موت سے پہلے اس کا وبال دیکھ لے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 417

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ البَاهِلي أَنَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا.
ابو امامہ باہلی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ ریشم اور سونا نہ پہنے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 418

عن أنس بن مالك مرفوعا: « من كَفّ غَضَبَه كَفَّ اللهُ عَنْه عَذَابَه ، وَمَنْ خَزَن لِسَانَه سَتَر اللهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلىَ اللهِ قَبِلَ اللهُ عُذْرَهُ ».
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جس شخص نے اپنے غصےپر قابوپالیا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنا عذاب روک لے گا اور جس شخص نے اپنی زبان کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ سے معذرت کرے گا اللہ اس سے اس کی معذرت قبول کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 419

عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ لَّا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ وَمَنْ لَّا يَغْفِرُ لَا يُغْفَرْ لَهُ وَمَنْ لَّا يَتُبْ لَا يُتَبْ عَلَيْهِ.
جریر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پرر حم نہیں کیا جاتا،جو معاف نہیں کرتا اسے معاف نہیں کیا جائے گا، اور جو توبہ نہیں کرتا اسے توبہ کی توفیق نہیں دی جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 420

عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَرفُوعاً: مَنْ لَّاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَألبِسُوهم مِمَّا تَلْبَسُونَ وَمَنْ لَّا يُلَائِمُكُمْ مِّنْ خَدَمِكُمْ فَبِيعُوا وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تمہارے خادموں میں سے جو تمہیں موافق ہوں یا تمہارے فرماں بردار ہوں انہیں اپنے کھانے سے کھلاؤ اور اپنے کپڑوں میں سے پہناؤ، اور تمہارے خادموں میں سےجو تمہارے موافق نہ ہوں یا ناپسندیدہ ہوں یا جو تمہارے فرماں بردار نہیں ہیں تو انہیں بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 421

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ وَّقَاهُ اللهُ شَرَّ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَشَرَّ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے زبان اور شرمگاہ کے شر سے بچالیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 422

عَنْ جَابِر بن عَبْدِ اللهِ ، مَرفُوعاً : « من يَّكُنْ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ يَكُنِ اللهُ فِي حَاجَتِهِ »
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ جوشخص اپنےبھائی کی ضرورت میں لگارہتاہےاللہ تعالیٰ اس کی ضرورت میں لگارہتاہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 423

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ خَيْرٌ مِّنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ : جو مومن لوگوں میں مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں سے مل جل کر نہیں رہتا اور ان کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 424

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ مَرْفُوعاً: الْمُؤْمِنُ مَأْلَفَةٌ وَّلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَّا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ.
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:مومن سراپائے الفت ہے،اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو الفت نہیں کرتا نہ اس سے الفت کی جاتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 425

عن أبي هريرة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مرفوعا: الْمُؤْمِنُ يَألَفُ وَيُؤْلَفُ ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ وَخَيْرُ النَّاسِ أَنفعُهُمْ لِلنَّاس
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ مومن الفت کرتا بھی ہے اور لوگ اس سے الفت رکھتے بھی ہیں اور اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو الفت نہیں رکھتا اور نہ لوگ اس سے الفت رکھتے ہیں اور لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لئے نفع مند ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 426

عن أبي بَرْزَة قَالَ: قُلتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَل أَنْتَفِع به قَالَ : نَحِّ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمَيْن.
ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایسے عمل کی طرف راہنمائی کیجئے جس سے میں نفع اٹھا سکوں آپ نے فرمایا: مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 427

عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جَالِسٌ وَّمَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَعَ رَجُلٌ بِأَبِي بَكْرٍ فَآذَاهُ فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ آذَاهُ الثَّانِيَةَ فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ آذَاهُ الثَّالِثَةَ فَانْتَصَرَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَجَدْتَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: نَزَلَ مَلَكٌ مِّنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لِّأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ.
سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے۔ ایک آدمی ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہنے لگا اور انہیں تکلیف دی۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ اس پرخاموش رہے اس نے دوسری مرتبہ پھر تکلیف دی، ابو بکر‌رضی اللہ عنہ اس پر بھی خاموش رہے ،اس نے تیر ی مرتبہ پھر تکلیف دی تو ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لے لیا۔جب ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے بدلہ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ پر ناراض ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا، جو اس بات کی تکذیب کر رہا تھا جو یہ تم سے کہہ رہا تھا ، جب تم نے اس سے بدلہ لیا تو شیطان آدھمکا، جب شیطان آجائے تو میرے لائق نہیں کہ میں بیٹھا رہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 428

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو بن العَاص مَرْفُوعاً: نَهَى أَنْ يَّجْلِسَ الرَّجُلُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضیاللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس بات سے منع کیا کہ کوئی آدمی دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 429

عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : نَهَى أَنْ يُّجْلَسَ بَيْنَ الضَّحِّ وَالظِّلِّ وَقَالَ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سائے اور دھوپ کے درمیان بیٹھنے سے منع کیا اور فرمایا: یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 430

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى أَنْ يَّضَعَ (وفي رواية: يَرْفَعَ) الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى. زَادَ في الرواية الأُخْرَى: وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھنے سے منع فرمایا اور دوسری روایت میں یہ اضافہ کیا کہ اس حال میں کہ وہ اپنی پشت کے بل لیٹا ہوا ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 431

) عَن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَّصْنَعَ ذَلِكَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویر رکھنے سے منع فرمایا اور اس بات سے بھی کہ آدمی تصویریں بنائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 432

عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنَ الْوَحْدَةِ: أَنْ يَّبِيتَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ أَوْ يُسَافِرَ وَحْدَهُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےمروی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےتنہائی سےمنع فرمایاکہ آدمی تنہارات گزارےیااکیلےسفر کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 433

عن شَقِيقٍ قَالَ: دَخلتُ أَنا وَصَاحِبٌ لِّي عَلَى سَلْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خُبْزًا وَّمِلْحاً فَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم نَهَانَا عَنِ التَّكَلُّفُ لَتَكَلفْتُ لَكُم.فَقَالَ صَاحِبي: لَو كَان في مِلْحِنا سِعْتَرْ فَبَعَثَ بِمِطْهَرَتِهِ إِلَى الْبَقَّالِ فَرَهَنَها فَجَاءَ بِسِعْتَرٍ فَأَلْقَاهُ فِيْهِ فَلَمَّا أَكَلْنَا قَالَ صَاحِبي: اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا.فَقَالَ سَلْمَانُ: لَو قَنَعْتَ بِمَا رُزِقْتَ لَمْ تَكُنْ مِطْهَرَتِي مَرْهُونَةٌ عَنْدَ الْبَقَّالِ
شقیق کہتے ہیں کہ میں اور میرا دوست سلمان‌رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے روٹی اور نمکین چیز ہمارے سامنے کر دی۔پھر فرمایا: آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیں تکلف سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمہارےلئےتکلف کرتا۔ میرے دوست نے کہا: اگر ہماری اس نمکین ڈش میں پہاڑی پودینہ ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ انہوں نے اپنے وضو کا برتن سبزی فروش کی طرف بھیجا ،اسے گروی رکھا اورپہاڑی پودینہ لے آئے۔ اور اس میں ڈال دیا۔ جب ہم نے کھانا کھا لیا تو میرے دوست نے کہا: الحمدللہ جس نے ہمیں ہمارے رزق پر قناعت کی توفیق دی۔ سلمان نے کہا: اگر تم اس پر قناعت کرتے جو تمہارے سامنے پیش کیا گیا تو میرا برتن گروی نہ رکھا ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 434

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ فَأَرْحَمُهَا. قَالَ: وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللهُ.
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بکری ذبح کرتا ہوں تو مجھے اس پر رحم آجاتا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے بکری پر شفقت کی ہے تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 435

عن أنس بن مالك مرفوعا: « وَالَّذِي نَفْسِي بِيَده ، لَا يَضَعُ اللهُ رَحْمَتَهُ إِلّا عَلَى رَحِيمٍ » ، قَالُوا : كُلُّنَا يَرْحَمُ ، قَالَ: « لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحْدِكُمْ صَاحِبَهُ يَرْحَمُ النَّاسَ كَافَّةً ».
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت صرف رحم کرنے والے شخص پر نازل کرتا ہے ۔ لوگوں نے کہا: ہم سب رحم کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے کسی دوست پر رحم (مہربانی) کرنا رحم نہیں ۔ بلکہ وہ تمام لوگوں پر رحم(مہربانی) کرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 436

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَكُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: (وَراءك) يَا بُنَيَّ! إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ فَلَا تَدْخُلْ عَلَيَّ إِلَّا بِإِذْنٍ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھااور میں بغیر اجازت اندر داخل ہوجایا کرتا تھا، ایک دن میں اندر داخل ہوا تو آپ نے فرمایا: بیٹے(واپس جاؤ) ایک نیاحکم آیا ہے، اب تم بغیر اجازت اندر مت آنا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 437

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَأْكُلْ مُتَّكِئًا، وَّلَا عَلَى غِرْبَالٍ وَّلَا تَتَّخِذَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ مُصَلًّى لَا تُصَلِّي إِلَا فِيه وَلا تَخُطَّ رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيَجعَلُكَ اللهُ لَهم جِسْرًا يَّومَ الْقِيَامَة
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹیک لگا کر مت کھاؤ، برادے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی مت کھاؤ، نہ مسجد میں کوئی مخصوص جگہ بناؤ کہ صرف اسی جگہ نماز پڑھو۔ اور جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگو، ورنہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے لئے پل بنادیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 438

عن جابر مرفوعا: « لَا تَأذَنُوا لِمَنْ لَّمْ يَبْدَأْ بِالسَّلَامِ ».
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مرو ی ہے کہ جو سلام سے ابتداء نہ کرے اسے اجازت نہ دو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 439

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرقُوعاً: لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَـدَهُمْ فِي طرِيقٍ فَاضْطَـرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : یہودو نصاری کو سلام میں پہل نہ کرو اور جب تم ان سے راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستے کی جانب مجبور کرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 440

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعَاً: لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي (أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ، وَاللهُ يُعْطِي وَأَنَا أَقْسِمُ).
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میرے نام اور کنیت کو جمع نہ کرو(میں ابو القاسم ہوں، اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 441

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَنَّه دَخَل عَلَى زَيْنَبَ بنْتِ أَبي سَلَمَةَ فَسَأَلْتُه عَنِ اسْمِ أُخْتٍ لَّه عِنْدَه ؟ قال : فَقُلْت : اسْمُهَا بَرَّة ، قَالَت : غَيِّرْ اسْمَهَا ، فَإِنَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَكَح زَيْنَب بنَت جَحْشٍ وَّ اسْمُهَا بَرَّةٌ ، فَغَيَّر اِسْمَهَا إلى زَيْنَبَ. فَدَخَلَ عَلَى أَم سَلمةَ حِينَ تَزَوَّجَهَا و اسْمِي بَرَّةٌ ، فَسَمِعَهَا تَدَعُونِي بَرَةً ، قال: لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُم ، فَإِن الله هَو أَعلَمُ بالبرَّةِ مِنْكُنَّّ و الْفَاجِرَةِ ، سَمِيْهَا زَيْنَبَ فَقَالَت (أَمَّ سَلمة) : فَهِي زَيْنَب ، فَقُلْتُ لَهَا : اسْمِي ؟ فَقَالَت : غَيِّرِ إلى مَا غَيَّر إِلَيْه رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، سَمِّهَا زَيْنَبُ .
محمد بن عمرو بن عطاء سے مروی ہے کہ وہ زینب بنت ابی سلمہ کےپاس آئے تو زینب نے اس کی بہن کا نام پوچھا۔ محمد بن عمرو نے کہا: برہ ( نیکو کار)۔زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کا نام بدل دو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کا نام برہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان کا نام تبدیل کر کے زینب رکھ دیا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے جب شادی کی اور ان کے پاس آئے، اس وقت میرا نام برہ تھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے سنا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا مجھے برہ کے نام سے بلا رہی ہیں تو آپ نے فرمایا: اپنے آپ کا تزکیہ بیان نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکو کار اور فاجر کو جانتا ہے اس کا نام زینب رکھ دو۔ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اب یہ زینب ہے۔ محمد بن عمرو نے کہا: میں کیا نام رکھو؟ زینب نے کہا : اس کا نام وہی رکھو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اس کا نا م زینب رکھو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 442

عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا يَّصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ مَرَّتَيْنِ قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ قُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكَ قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللهِ الَّذِيإِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ قُلْتُ: اعْهِدْ إِلَيَّ قَالَ: لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا قَالَ: وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ الْمَعْرُوفِ وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيْلَةِ وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيْلَةَ وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ. وزاد بعد قوله: لا تسبن أحدا. قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَّلَا عَبْدًا وَّلَا بَعِيرًا وَّلَا شَاةً.
ابو جری جابر بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کی بات کو تسلیم کرتے تھے۔ وہ جو بھی بات کہتا لوگ اسے تسلیم کرلیتے۔ میں نےپوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا :یہ اللہ کے رسول ہیں۔ میں نے کہا: آپ پر سلام ہو اے اللہ کے رسول! دو مرتبہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آپ پر سلام ہو(علیک السلام) نہ کہو کیونکہ علیک السلام مُردُوں کا سلام ہے السلام علیک کہو۔ میں نے کہا کیا آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچے اور تم اسے مدد کے لئے بلاؤ تو وہ تمہاری تکلیف دور کردے گا اور جب کسی سال قحط ہو جائے اور تم اس سے دعا کرو تو وہ تمہاری فصل اگادے گا۔ اور جب تم کسی صحرا یا جنگل میں ہو تمہارے سواری گم ہو جائے اور تم اس سے دعا کرو تو وہ سواری تمہیں لوٹا دے گا، میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو گالی مت دینا، کسی نیکی کو حقیر مت سمجھنا، اپنے بھائی سے کشادہ چہرے سے بات کرنا یہ بھی نیکی ہے، نصف پنڈلی تک اپنا تہہ بند اوپر کر لو، اگر اتنا نہ کر سکو تو ٹخنوں تک ، ٹخنوں سے نیچے تہہ بند لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں۔ اگر کوئی آدمی تمہیں گالی دے اور تمہیں تمہاری اس خامی کا عار دلائے جو اسے معلوم ہیں تو اسے اس خامی کی عار نہ دلاؤ جسے تم جانتے ہو کیونکہ یہ اس پر وبال ہوگا۔ ایک روایت میں اس قول کہ کسی شخص کو گالی مت دینا کے بعد یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی کسی آزاد، غلام اونٹ یا بکری کو بھی گالی نہیں دی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 443

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه كَانَ يَقُول: لَا تُقَصُّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اپنا خواب عالم یا خیر خواہ کے علاوہ کسی کو بیان نہ کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 444

قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ.ورد من حدیث عائشہ و سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھما۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چھپکلی نقصان پہنچانے والی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 445

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ مَرفُوعاً: لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدُنَا فَإِنَّهُ إِنْ يَّكُ سَيِّدَكُمْ فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ منافق کو”میرا سردار“مت کہو، کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوگا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 446

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَعَنَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَلْعَنِ الريحَ فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَّعَنَ شَيْئًا لَّيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی کی چادر ہوانے اڑادی تو اس نے ہوا کو لعنت دی۔نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہوا کو لعنت نہ دو کیونکہ یہ مامور ہے ، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز کو لعنت دی جس کی وہ اہل نہیں تو لعنت اسی کی طرف لوٹ آئے گی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 447

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَعَنَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَلْعَنِ الريحَ فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَّعَنَ شَيْئًا لَّيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی کی چادر ہوانے اڑادی تو اس نے ہوا کو لعنت دی۔نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہوا کو لعنت نہ دو کیونکہ یہ مامور ہے ، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز کو لعنت دی جس کی وہ اہل نہیں تو لعنت اسی کی طرف لوٹ آئے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 448

عَنْ جَابِرٍ مَرفُوعاً: لَا تَنْزِلُوا عَلَى جَوَاد الطُّرُ قِ وَلَا تَقْضُوا عَلَيْهَا الْحَاجَاتِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: کہ کشادہ راستوں پر پڑاؤ نہ ڈالو، نہ وہاں پر قضائے حاجت کرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 449

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَال: قِيْل لِلنَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانَةَ تَقُوم اللَّيل وَتَصُوم النَّهَار، وَتفعَل، وَتصدق، وتُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، فَقَال رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا خَيْرَ فِيْهَا هِيَ مِنْ أَهْلِ النَّار، قال: وَفُلَانَةَ تصلي المَكْتُوبَة، تُصَدِّقُ بِأَثْوَارِ (مِّنْ الْأَقِطِ) وَلَا تُؤْذِي أَحْدًا ، فَقَال رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « هِيَ مِنْ أَهلِ الجَنَّة ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے کام بھی کرتی ہے اور صدقہ بھی کرتی ہے ، لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں وہ دوزخی ہے ۔ اس نے کہا: اور فلاں عورت صرف فرض نمازیں پڑھتی ہےاور(پنیر)کےٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے کسی بھی شخص کو تکلیف نہیں پہنچاتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جنتی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 450

عَنْ عَبْدِ اللهِ مَرفُوعاً: لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ .
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : نماز پڑھنے والے اور مسافر کے علاوہ کسی کے لئے رات کو جاگنا درست نہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 451

عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : « لَا يَتَكَلَّفَنَّ أَحَدٌ لِضَيْفِهِ مَا لَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ ».
سلمان سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنی طاقت سے زیادہ مہمان کے لئے تکلف نہ کرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 452

عَنْ سَهَلِ بن سَعَد قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « لَا يَجْلِسُ الرَّجُلُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَابْنِهِ فِي الْمَجْلِسِ »
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص مجلس میں کسی آدمی اور اس کے بیٹے کے درمیان نہ بیٹھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 453

عَنْ هِشَامِ بْن عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَّهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَلى الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى حَرَامِهِمَا فَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتُهُ فَإِنْ سَلَّمَ وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ فَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ أَبَدًا.
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو فرماتے ہوئے سنا: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے کیونکہ یہ دونوں جب تک اپنے حرام کام پر رہیں گےحق سے بھٹکے رہیں گے ان میں جو شخص رجوع کرنے میں سبقت کرتا ہے اس کا سبقت کرنا اس کے لئے کفارہ ہے اگر وہ سلام کہے اور دوسرا شخص اس کو جواب نہ دے تو فرشتے اسے جواب دیتے ہیں جبکہ دوسرے شخص کو شیطان جواب دیتا ہےاگر وہ اسی قطع تعلقی پر فوت ہوجائیں تو کبھی بھی جنت میں جمع نہ ہوں گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 454

عَنْ حُذَيْفَةَ بن اليَمَان مَرفُوعاً: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ.
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : چغل خور کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 455

عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ مَرفُوعاً: لَا يَشْكُرُ اللهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ.
اشعث بن قیس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : جس شخص نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ کا شکریہ ادا نہیں کیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 456

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ مَرفُوعاً: لَا يَعْضَه بَعْضُكُم بَعْضًا.
عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : ایک دوسرے پر بہتان نہ لگاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 457

عَنْ مُحَمَّدِ بن سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: زَرَعْتُ، وَلَكِنْ لِّيَقُلْ: حَرَثْتُ قال محمدٌ: قَالَ أبو هريرة : أَلَمْ تَسْمَعُوا إلىٰ قَولِ اللهِ تَباركَ وتَعالىٰ : اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَہٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ ﴿۶۴﴾ .(الواقعة)
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نےاگایاہے بلکہ یہ کہوکہ میں نےکاشت کیاہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿(الواقعة۶۳،۶۴﴾ ۔ ترجمہ:”اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہواسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم ہی اگانے والے ہیں؟“
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 458

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ وَلَكِنْ لِّيَقُلْ فَتَايَ وَلَا يَقُل الْعَبْدُ رَبِّي وَلَكِنْ لِّيَقُلْ سَيِّدِي.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ کوئی شخص ہر گز یہ نہ کہے کہ میرا (غلام)، کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو، لیکن یہ کہہ سکتے ہو میرا جوان(میراخادم) اور غلام یہ نہ کہے کہ میرا رب(مالک) بلکہ وہ کہے ، میرا سردار
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 459

) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: لَا يَقُومُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَّجْلِسِهِ وَلَكِنْ اِفْسَحُوا يَفْسِح اللهُ لَكُمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کے لئے اپنی جگہ سے کھڑا نہ ہو ۔لیکن کشادہ ہو جایا کرو اللہ تعالیٰ تمہیں کشادہ کرےگا