315 Results For Hadith (Al Silsila Sahiha) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3330

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت كے دن میں جنت كے دروازے پر آكر دروازہ كھٹكھٹاؤں گا۔ پہرے دار كہے گا: آپ كون ہیں؟ میں كہوں گا: محمد۔ وہ كہے گا: مجھے آپ كے بارے میں كہا گیا تھا كہ میں آپ سے پہلے كسی كے لئے دروازہ نہ كھولوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3331

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَّهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْيَتِيمَةَ فَقَالَ: آنْتِ هِيَهْ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكِ فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ قَالَتِ الْجَارِيَةُ: دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ لَّا يَكْبَرَ سِنِّي أَوْ قَالَتْ: قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لَهَا: رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي؟ قَالَ: وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَّا يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُّ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَّيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَّجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَّزَكَاةً وَّقُرْبَةً يُّقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، كہتے ہیں كہ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا كے پاس ایك یتیم لڑكی تھی ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ نے اس یتیم لڑكی كو دیكھا تو فرمایا: كیا تم وہی ہو؟ تم تو بڑی ہو گئی ہو۔ تمہاری عمر لمبی نہ ہو۔ وہ یتیم لڑكی ام سلیم رضی اللہ عنہا كی طرف روتی ہوئی آئی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہانے كہا: بیٹی كیا ہوا؟ اس بچی نے كہا: اللہ كے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے بددعا دی ہے كہ میری عمر یا کہا کہ: میرا زمانہ لمبا نہ ہو۔ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنی چادر كو اپنے سر پر ڈالتے ہوئے جلدی جلدی نكلی، جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس پہنچی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا:ام سلیم تمہیں كیا ہوا؟ اس نے كہا: اے الہل كے نبی! كیا آپ نے میری یتیم بچی كے لئے بددعا كی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ام سلیم كونسی بددعا؟ ام سلیم نے كہا:اس كا خیال ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا كی ہے كہ اس كی عمر لمبی نہ ہو؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے پھر فرمایا:ام سلیم! كیا تم نہیں جانتی كہ میرے رب سے میری ایك شرط ہے جو میں نے اپنے رب پر لگائی ہے كہ: میں بشر ہوں، میں اسی طرح خوش ہوتا ہوں جس طرح بشر خوش ہوتا ، اور اسی طرح غصے ہوتا ہوں جس طرح بشر(انسان)غصے ہوتا ہے۔ تو میں اپنی امت میں سے جس شخص كے خلاف كوئی بددعا كروں اور وہ اس كا اہل نہ ہو تو وہ اسے اس كے لئے پاكیزگی اور گناہوں سے صفائی كا ذریعہ بنا دے اور قربت كا ذریعہ بنا دے جس كے ذریعے وہ قیامت كے دن اس كو اپنے قریب كر لے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3332

َنْ أَنَسٍ مَرْفُوعاً: آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: انصار كی محبت ایمان كی نشانی ہے اور انصار سے بغض منافقت كی نشانی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3333

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ قَالَ: أَبَى الهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُّخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی بیماری بڑھ گئی اور آپ نڈھال ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بكر رضی اللہ عنہ سے كہا: میرے پاس كاندھے كی ہڈی یا تختی لاؤ، تاكہ میں ابو بكر كے لئے وصیت لكھ دوں كہ اس پر(ابو بکر رضی اللہ عنہ پر) اختلاف نہ كیا جائے۔ ابھی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ جانے كے لئے كھڑے ہی ہوئے تھے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے ابو بكر! اللہ تعالیٰ اور مومنوں نے آپ پر اختلاف كو رد كر دیا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3334

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ابْتَاعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ رَجُلٍ مِّنْ الْأَعْرَابِ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِّنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ (وَتَمْرُ الذَّخِرَةِ: الْعَجْوَةُ) فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى بَيْتِهِ وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ! إِنَّا قَدْ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا -أَوْ جَزَائِرَ- بِوَسْقٍ مِّنْ تَمْرِ الذَّخْرَةِ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قَالَ: فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَا غَدْرَاهُ! قَالَتْ: فَهمّ النَّاسُ وَقَالُوا: قَاتَلَكَ اللهُ! أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا عَبْدَ الله! إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَا غَدْرَاهُ! فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا: قَاتَلَكَ اللهُ! أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا، فَرَدَّدَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِهِ: اذْهَبْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ فَقُلْ لَهَا: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ لَكِ: إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِّنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللهُ فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللهِ! فَابْعَثْ مَنْ يَّقْبِضُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلرَّجُلِ: اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ قَالَ: فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ قَالَتْ: فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللهِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایك بدو سے عجوہ كھجور كے ایك وسق كے بدلے ایك اونٹنی خریدی یا كچھ اونٹنیاں خریدیں ۔ رسول اللہ اسے لے کر گھر تشریف لائے اور اسے دینے کے لئے کھجوریں تلاش کیں تو کھجوریں نہ ملیں۔ آپ باہر تشریف لائے اور اسے فرمایا: ہم نے گھر میں عجوہ كھجور تلاش كی تو ہمیں نہ ملی۔ بدو نے كہا: ہائے عہد شکنی؟ لوگ اس كی طرف بڑھے اور كہنے لگے: اللہ تجھے برباد كرے! كیا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عہد شکنی كریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، كیوں كہ حق والے كو بات كرنے كا اختیار ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌واپس پلٹ آئےاور كہا: اے اللہ كے بندے! ہم نے تجھ سے كچھ اونٹنیاں خریدی تھیں، ہمارا خیال تھا كہ ہم نے جو مقرر كیا ہے وہ ہمارے پاس ہوگا۔ ہم نے تلاش كیا تو ہمیں نہ ملا، بدو نے پھر كہا: كتنا بڑا دھوكہ ہوا ہے۔ لوگ اس پر چلانے لگےاور كہنے لگے: اللہ تجھے برباد كرے! كیا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌دھوكہ كریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے چھوڑ دو كیوں كہ حق والے كو بات كرنے كا اختیار ہے۔ یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دو یا تین مرتبہ كہی، جب آپ نے دیكھا كہ یہ بدو بات ہی نہیں سمجھ رہا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے ایك صحابی سے كہا: خولہ بنت حكیم بن امیہ رضی اللہ عنہا كی طرف جاؤ اور اس سے كہو كہ: اللہ كے رسول تم سے كہہ رہے ہیں کہ اگر تمہارے پاس عجوہ كھجوروں كا ایك وسق ہو تو ہمیں ادھار دے دو، ان شاءاللہ ہم اسے ادا كردیں گے۔ وہ صحابی خولہ رضی اللہ عنہا كی طرف گیا، پھر واپس لوٹ آیا اور كہا: كہ خولہ رضی اللہ عنہا كہہ رہی ہیں: ٹھیك ہے كھجوریں میرے پاس ہیں آپ کسی کو بھیج دیں جو آکر لے جائے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس آدمی سے كہا: اسے لے جاؤ اور اس كا حق پورا كر كے دے دو۔ وہ صحابی اسے لے گیا اور اس كا جو حق تھا اسے پورا كر كے دے دیا، وہ بدو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے گزرا ، آپ اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے كہا: جزاك اللہ خیراً۔ آپ نے عمدہ طریقے سے پورا كر كے دیا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہی لوگ قیامت كے دن اللہ كے ہاں بہترین ہونگے جو عمدہ طریقے سے ماپ تول پورا كر كے دینے والے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3335

عَنْ مُحَمَّد بْن عُمَر الْأَسْلَمِيّ بِأَسَانِيد لَه عَنْ جَمْع مِّنَ الصَّحَابَة ، قَالَ : دَخَل حَدِيْث بَعْضِهُم فِي حَدِيث بَعْض قَالُوا : وَبَعَث رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَبْدَ اللهِ بْن حُذَافَة السَّهْمِيّ وَهُوَ أَحَد السِّتَّة إِلَى كِسْرَى يَدَعُوه إِلَى الْإِسْلَام وَكَتَب مَعَه كِتَابًا : قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَدَفَعْتُ إِلَيْه كِتَابَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقُرِئ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَه فَمَزَّقَه، فَلَمَّا بَلَغ ذَلِك رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : اللَّهُمَّ مَزِّقْ مَلَكَه . وَكَتَب كِسْرَى إِلَى بَاذَان عَامِلِه عَلَى الْيَمَن أَنِ ابعَث مِنْ عِنْدِك رَجُلَيْن جَلْدَيْن إِلَى هَذَا الرَّجُل الَّذِي بِالْحِجَاز فَلْيَأتِيَانِي بِخَبَرِه ، فَبَعَث بَاذَان قَهْرَمَان و رَجُلًا آخَر و كَتَب مَعَهُمَا كِتَابًا، فَقَدِمَا الْمَدِيَنَة، فَدَفَعَا كِتَاب بَاذَان إِلَى النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَتَبَسَّم رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَدَعَاهُمَا إِلَى الْإِسْلَام وَفَرَائِصُهُمَا تَرْعَد، وَقَالَ: ارْجِعَا عَنِّي يَوْمِكُمَا هَذَا حَتَّى تَأْتِيَانِي الْغَد فَأُخْبِرَكُمَا بِمَا أُرِيْد، فَجَاءَاه مِنَ الْغَد فَقَالَ لَهُمَا: أَبْلِغَا صَاحِبكُمَا أَنَّ رَبِّي قَدْ قَتَل رَبَّه كِسْرَى فِي هَذِه اللَّيْلَة.
محمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہےمحمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہےمحمد بن عمر اسلمی سے مروی: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌عبداللہ بن حذافہ سہمی جو چھ لوگوں میں سے ایک تھےكو كسریٰ كی طرف اسلام كی دعوت دینے كے لئے بھیجا، اور اسے ایك خط لكھ كردیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا خط اسے دیا گیا،وہ خط اس كے سامنے پڑھا گیا،تو اس نے خط لے كر پھاڑ دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے بددعا كی: اے اللہ ! اس كی بادشاہت كے ٹكڑے كر دے۔ كسریٰ نے باذان یمن كے عامل كی طرف پیغام بھیجا كہ اپنے پاس سے دو مضبوط آدمی اس آدمی كی طرف بھیجو جو حجاز میں ہے اور اس كے بارے میں میرے پاس اطلاع لائیں۔ باذان نے قہر مان اور ایك دوسرے آدمی كو بھیجا اور انہیں ایك خط لكھ كر دیا، وہ دونوں مدینے آئے اور باذان كا خط نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیا ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكرا دیئے۔ اور ان دونوں كو اسلام كی دعوت دی۔ ان كے كاندھوں كا گوشت ہل رہاتھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج تو میرے پاس سے واپس لوٹ جاؤ، كل آنا تب میں تمہیں بتاؤں گا كہ میں كیا چاہتا ہوں ۔ وہ دونوں دوسرے دن آپ كے پاس آئے ۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: اپنے مالك كو بتا دو كہ آج کی رات میرے رب نے اس كے رب كسریٰ كو قتل كر دیا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3336

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رفعه: ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ: هِشَامٌ وَ عَمْرٌو.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : عاص كے دو بیٹے، مومن ہیں ۔ ہشام اور عمرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3337

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ. عن جمع من الصحابہ ...... روی
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابو بكر و عمر پہلے اور بعد والے ادھیڑ عمر جنتی لوگوں كے سردار ہونگے۔( ) یہ حدیث ...... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3338

عَن جَابِر بن عَبدِ اللهِ قَال : قَال رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: أَبُو بَكر وَ عُمر مِن هَذا الدَِّيْن كَمَنْزِلَة السَّمْع و الْبَصَر من الرَّأْس.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابو بكرو عمر اس دین میں اس درجے پر ہیں جس طرح سر میں كان اور آنكھیں ہوتی ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3339

عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبُو سُفْيَانَ بن الْحَارِثِ خَيْرُ أَهْلِي.
) ابو حبہ البدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ابو سفیان بن حارث میرے گھر والوں میں سب سے بہترین ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3340

) عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيى قَالَ: لَمَا قُتِل عُثْمَان رضی اللہ عنہ أُتِي حُذَيْفَة، فَقِيْل: يَا أَبَا عَبْد الله! قُتِل هَذا الرَجُل؛ وَقَد اختَلفَ النَّاس؛ فَمَا تَقُوْلُ؟ فَقَال: أَسْنِدُونِي ؛ فَأَسْنِدُوه إِلَى صَدْرِ رَجُل فَقَال: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: أَبُو اليَقْظَان عَلى الفِطْرَة، لَا يدَعُها حَتَى يَمُوت، أَوْ يَمسَّهُ الهَرم.
) بلال بن یحییٰ سے مروی ہے كہ جب عثمان‌رضی اللہ عنہ كو شہید كیا گیا تو لوگ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كے پاس آئے اور ان سے پوچھا۔ ابو عبداللہ! اس شخص كو شہید كر دیا گیا ہے اور لوگوں كی مختلف رائے ہے۔ آپ كیا كہتے ہیں؟ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: مجھے ٹیك دو، ایك آدمی نے اپنے سینے كی ٹیك لگا كر انہیں بٹھایا تو انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ابو الیقظان فطرت پر ہے، یہ مرنے تك فطرت كو نہیں چھوڑے گا۔ یا یہ انتہائی لاغر ہو جائے (تب بھی فطرت كو نہیں چھوڑے گا)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3341

عَنْ مَعَاذ بن رِفَاعَة بن رَافِع الزُّرَقِيّ عَن أَبِيه - وَ كَان أَبُوه مِن أَهلِ بَدر و جَدُّه مِن أَهل الَعَقَبَة- قَالَ : أَتَى جِبْرِيل النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال : مَا تَعُدُّون أَهل بَدر فِيْكُم؟ قَال : مِنْ أَفْضَل الْمُسْلِمَيْن . قَال : وَ كَذَلِك مَن شَهِد فِينَا مِن الْمَلَائِكَة.
معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی اپنے والد سے روایت كرتے ہیں ان كے والد اہل بدر میں سے تھے ۔ اور ان کے دادا اہل عقبہ میں میں س تھے۔ كہتے ہیں كہ جبریل علیہ السلام نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: تم بدر والوں كو اپنے اندر كس طرح شمار كرتے ہو؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: افضل مسلمان ۔ جبریل علیہ السلام نے كہا: جو فرشتے بدر میں حاضر ہوئے ہم بھی انہیں اسی طرح شمار كرتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3342

عَنْ أَنْسٍ: أَن أُكَيْدِر الدّومة بَعَث إِلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جُبَّة سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَتَعَجَّب النَّاس مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِه ؟ فَوَ الَّذِي نَفَسِي بِيَدِه، لَمَنَادِيل سَعْد ابْن مَعَاذ فِي الْجَنَّة خَيْر مِّنْهَا ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَر، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! تُكْرِهُهَا وَألْبِسُهَا ؟ قَالَ: يَا عُمَر! إِنَّمَا أَرْسَلْت بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَث بِهَا وَجْهاً، فَتُصِيْب بِهَا مَالاً؛ وَذَلِكَ قَبْل أَنْ يُّنْهَى عَنِ الْحَرِيْر.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اكیدر دومہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے لئے ریشم كا ایك جبہ بھیجا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے پہنا تو لوگوں كو اس بات سے تعجب ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا: كیا تم اس كی وجہ سے تعجب كر رہے ہو؟ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! سعد بن معاذ كے رومال جنت میں اس سے بہتر ہیں، پھر وہ جبہ عمر‌رضی اللہ عنہ كو تحفے میں دے دیا۔ انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ اسے نا پسند كرتے ہیں، تو میں اسے كس طرح پہن لوں؟ آپ نے فرمایا: عمر ! میں نے یہ جبہ تمہاری طرف اس لئے بھیجا ہے تاكہ آپ اسے کسی کو بیچ کر اس كے ذریعے مال حاصل كریں۔ یہ واقعہ ریشم سے منع سے پہلے كا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3343

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: حُرٌّ وَّعَبْدٌ قُلْتُ: مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، قُلْتُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ...
عمرو بن عبسہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! اس دین پر كس شخص نے آپ كی پیروی كی ہے؟ آپ نے فرمایا: آزاد اور غلام نے ۔ میں نے كہا: اسلام كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: عمدہ بات کرنا اور كھانا كھلانا۔ میں نے پوچھا ایمان كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: صبر اور درگزر ۔ میں نے پوچھا كو نسا اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ میں نے كہا كونسا ایمان افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھا اخلاق ۔ میں نے كہا: كونسی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ میں نے كہا: كونسی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس چیز كو تیرے رب نے نا پسند كیا ہے اسے چھوڑ دینا۔ میں نے كہا: كونسا جہاد افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے گھوڑے كی كونچیں كاٹ دی جائیں اور اس كا خون بہا دیا جائے۔ میں نے كہا: كون سی گھڑی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: رات کا آخری حصہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3344

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ. ورد من حدیث ......
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (حرا ثابت کرو) حرا، رُک جا! كیوں كہ تم پر نبی، صدیق (سچے) یا شہید كے علاوہ كوئی نہیں۔( ) یہ حدیث ..... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3345

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(زَادَ مُسْلِم وَغَيْره: وَعُثْمَانَ) حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِّرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ: اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَالِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَّإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَّا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ.
سعید بن عاص سے مروی ہے كہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اور عثمان رضی اللہ عنہ ، دونوں نے بیان كیا كہ ابو بكر صدیق‌رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اجازت طلب، كی آپ اپنے بستر پر عائشہ رضی اللہ عنہا كی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ كو اجازت دے دی۔ اور آپ اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر چلے گئے۔ پھر عمر‌رضی اللہ عنہ نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ نے انہیں بھی اجازت دے دی، اور اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے بھی اپنا مقصد پورا كیا، پھر واپس چلے گئے۔ عثمان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: پھر میں نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ بیٹھ گئے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے كہا: اپنے كپڑے سمیٹ لو، میں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر واپس پلٹ آیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اے اللہ كے رسول! یہ میں كیا دیكھ رہی ہوں كہ آپ نے ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہ كے لئے گھبراہٹ ظاہر نہیں كی، جب كہ آپ عثمان‌رضی اللہ عنہ كے لئے اٹھ كر بیٹھ گئے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: عثمان ایك با حیا شخص ہے، مجھے خدشہ تھا كہ اسے اس حالت میں اجازت دوں تو ممکن ہے وہ اپنی ضرورت مجھ تك نہ پہنچا سكے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3346

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِـ(الْجَابِيَةِ) فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ فِينَا مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ: احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ: عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ نے (جابیہ) میں ہم سے خطاب كیا تو كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بھی ہم میں اس طرح كھڑے ہوئے تھے جس طرح میں تم میں كھڑا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے صحابہ كے بارے میں میری حفاظت كرو۔ پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں، پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں۔ پھر جھوٹ پھیل جائے گا، حتی كہ آدمی سے گواہی نہیں مانگی جائے گی وہ گواہی دے گا اور قسم نہیں اٹھوائی جائے گی لیكن وہ قسم كھائے گا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3347

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ دُعِيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَعَلَى عَدُوِّ اللهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ يَعُدُّ أَيَّامَهُ قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَتَبَسَّمُ حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ قَالَ: أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ قَدْ قِيلَ (لِي) اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ (التوبة: ٨٠) لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ قَالَ: ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ: فَعُجِبَ لِي وَجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَوَاللهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ (۸۴) (التوبة: ٨٤) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہماسے سنا، كہہ رہے تھے: جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا تو اس كی نماز جنازہ پڑھنے كے لئے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو بلایا گیا۔ آپ كھڑے ہوئے اور نماز پڑھانا چاہی تو میں گھوم كر آپ كے سامنے آگیا اور كہا: اے اللہ كے رسول! كیا اللہ كے دشمن عبداللہ بن ابی كی نماز جنازہ پڑھائیں گے؟ جس نے فلاں فلاں یہ دن یہ بات كہی تھی، اور دن شمار كرنے لاا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكراتے رہے،حتی كہ جب میں نے زیادہ كہنا شروع كر دیا تو آپ نے فرمایا: عمر! ہٹ جا ؤ، مجھے اختیار دیا گیا ہے، میں نے اس بات كو اختیار كیا ہے۔ مجھے كہا گیا ہے:( التوبہ: 80) ( آپ ان كے لئے بخشش طلب كریں یا نہ كریں، اگر ان كے لئے ستر مرتبہ بھی مغفرت طلب كریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا)۔ اگر مجھے معلوم ہوتا كہ اگر میں ستر مرتبہ سے زیادہ مغفرت مانگوں اور اسے بخش دیا جائے تو میں ایسا كرتا۔ پھر آپ نے اس كی نماز پڑھی اور اس كے جنازے كے ساتھ گئے۔ اس کی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ دفن سے فارغ ہوگئے۔ (بعد میں) مجھے رسول اللہ پر جرأت اور اصرار پر بڑا تعجب ہوا حالانکہ اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں، واللہ! ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا كہ یہ دو آیتیں نازل ہوئیں وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ( التوبہ84)( ان میں سے جو مرجائے اس كی نماز جنازہ كبھی بھی نہ پڑھو، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہو، كیوں كہ انہوں نے اللہ اور اس كے رسول كے ساتھ كفر كیا ہے۔ اور فسق كی حالت میں مرے ہیں۔) اس كے بعد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كسی منافق كی نماز نہیں پڑھی، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ اللہ تعالیٰ نے آپ كی روح قبض كر لی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3348

عَنْ كَعْبِ بن مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا فَتَحْتُمْ مِّصْرَ، فَاسْتَوْصُوا بِالْقِبْطِ خَيْرًا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا.
كعب بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم مصر كو فتح كر لو تو قبط (مصر میں عیسائیوں کا فرقہ)كے ساتھ اچھا برتاؤ كرنا، كیوں كہ ان كے لئے ذمہ اور صلہ رحمی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3349

قال صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي العَاص ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا دِينَ اللهِ دَخَلًا وَّعِبَادَ اللهِ خَوَلًا وَمَالَ اللهِ عَزَّ وَجَل دُوَلًا
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بنو ابی العاص تیس(آدمی) ہو جائیں گے تو وہ اللہ كے دین میں دخل اندازی كریں گے۔ اللہ كے بندوں کو غلام بنائیں گے (یعنی ان کا انتظام سنبھال لیں گے) اور اللہ عزوجل كے مال میں ہیرا پھیری كریں گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3350

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب میرے صحابہ كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ، جب ستاروں كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ، اور جب تقدیر كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3351

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ مَرْفُوْعاً: إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ لَا تزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَّنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے مرفوعا بیان كرتے ہیں: جب شام والے خراب ہو جائیں گے تو تم میں كوئی بھلائی باقی نہیں رہے گی۔ میری امت كا ایك گروہ مدد یافتہ رہے گا جو انہیں چھوڑ دے گا وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سكے گا۔ حتی كہ قیامت قائم ہو جائے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3352

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُّرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہمارے ہاں داخل ہونے کے لئے تمہارے لئے اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور تم پوشیدہ (آہستہ) گفتگو سن لو جب تک میں تمہیں منع نہ کردوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3353

عَنْ أَنَسٍ قَال: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ الله أُبَيّ بن كَعَبٍ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِيناً، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ رحمدل ابو بكر رضی اللہ عنہ ہیں، اور اللہ كے معاملے میں سب سے سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔سب سے زیادہ با حیا عثمان رضی اللہ عنہ ، سب سے زیادہ قاری ا بی بن كعب رضی اللہ عنہ ، فرائض كو جاننے والا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، اور حلال و حرام كا زیادہ علم ركھنے والا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہے۔ خبردار ہر امت كا ایك امین ہے اور میری امت كا امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3354

عَنْ أُمِّ حَبِيبَة ، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : أُريْتُ مَا تلَقَّى أُمَّتِي بَعْدِي ، وَسَفَك بَعْضَهُم دِمَاء بَعْض ، وَكَانَ ذَلِكَ سَابِقاً مِّنَ اللهِ كَمَا سَبَقَ فِي الْأُمَم قَبْلَهُم ، فَسَأَلَتُه أَنْ يُّوَلِّيَنِي شَفَاعَة فِيهِم يَوْم الْقِيَامَة فَفَعَل .
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے دكھایا گیا كہ میری امت میرے بعد كیا كرے گی۔ یہ ایك دوسرے كا خون بہائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ كی طرف سے پہلے ہی لكھا جا چكا ہے جس طرح كہ پہلی امتوں كے بارے میں لكھ دیا گیا تھا۔ میں نے اللہ سے درخواست كی كہ مجھے قیامت كے دن ان كی شفاعت كا حق دے، تو اللہ تعالیٰ نے میری درخواست قبول كر لی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3355

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ مَا حَاشَا فَاطِمَةَ وَلَا غَيْرَهَا .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے پیارا ہےصرف فاطمہ کے علاوہ کسی اور شخص کے علاوہ نہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3356

عَنْ حَبَّان بْن وَاسِع بن حَبَّان، عَنْ أَشْيَاخ مِّنْ قَوْمِه أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَدل صُفُوف أَصْحَابه يَوْم بَدر، وَفِي يَدِه قَدْحٌ يَعْدِلُ بِهِ الْقَوْم، فَمَرَّ بِسَوَاد بْن غَزِيَّة حَلِيْف بَنِي عَدِيِ بن النَّجَّار : وَهُوَ مُسْتَنْتِل مِّنَ الصَّفِّ ، فَطَعَنَ فِي بَطْنِه بِالْقَدْح ، وَقَالَ: اسْتَو يَا سَوَاد فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله! أَوْجَعَتْنِي وَقَد بَعَثَكَ الله بِالْعَدْل ، فَأَقدنِي قَالَ : فَكَشَفَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ بَطْنِه ، وَقَال: استَقِدْ قَالَ: فَاعْتَنَقَه ، وَقَبَّل بَطْنَه ، فَقَالَ: مَا حَمَلَك عَلَى هَذَا يَا سَوَاد؟ قَالَ : يَا رَسُولَ الله! حَضَرَنِي مَا تَرَى ، فَأَرَدْتُّ أَنْ يَّكُون آخِر الْعَهْد بِكَ أَنْ يَّمس جِلْدِي جِلْدَك ، فَدَعَا لَه رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِخَيْر ، وَقَالَ لَه: اسْتَو يَا سَوَاد .
حبان بن واسع اپنی قوم كے بزرگوں سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے بدر كے دن اپنے صحابہ كی صفیں درست كیں، آپ كے ہاتھ میں ایك تیر تھا جس كے ذریعے لوگوں كو سیدھا كر رہے تھے۔ جب سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ بنو عدی بن نجار كے حلیف كے پاس سے گزرے جو صف سے آگے نکلے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان كے پیٹ میں تیر چبھو دیا اور فرمایا: سواد سیدھے ہو جاؤ، انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ نے مجھے تكلیف دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ كو حق و انصاف دے كر بھیجا ہے، مجھے بھی بدلہ دیجئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے پیٹ مبارك سے كپڑا اٹھایا اور فرمایا: بدلہ لے لو ۔ وہ آپ سے چمٹ گیا اور آپ كے پیٹ كا بوسہ لے لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سواد! تمہیں یہ كام كرنے پر كس بات نے مجبور كیا؟ سواد نے كہا: اے اللہ كے رسول آپ دیكھ رہے ہیں كہ موت سامنے ہے، میں نے چاہا كہ آپ كے ساتھ میرا آخری معاملہ یہ ہو كہ میرا جسم آپ كے جسم سے مل جائے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس كے لئے خیر كی دعا كی اور اس سے كہا: سواد سیدھے ہو جاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3357

عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا - أَوْ قَالَ: مَعْرُوفًا - اقْبَلُوا مِنْ مُّحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُّسِيئِهِمْ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَّفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ: أَمْرُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ
علی بن زید سے مروی ہے كہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ گو انصار کے ایک سردار کی طرف سے کوئی (قابل اعتراض) بات پہنچی تو انہوں نے بدلہ لینےکا ارادہ کیا۔ انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے كہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، فرما رہے تھے: انصار كے ساتھ اچھا برتاؤ كرو، ان كے نیكی كرنے والے سے قبول كرو، اور ان كے برے شخص سے درگزر كرو، مصعب‌رضی اللہ عنہ نے خود كو چار پائی سے گرالیا اور اپنا رخسار چٹائی سے چمٹا لیا اور كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا حكم سر آنكھوں پر اور اسے چھوڑدیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3358

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ وَيُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ فَتَقُولَ إِنَّ هَذَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: عرب قبائل میں ہلاکت و فنا سے تیز ترین قریش ہیں۔ قریب ہے كہ كوئی عورت جوتی میں چلے تو كہا جائے یہ قریشی جوتی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3359

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْهَا وَلَكِنْ قَالَهَا اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قبیلہ اسلم، اللہ انہیں سلامتی دے، قبیلہ غفار، اللہ انہیں بخشے، یہ بات میں نے نہیں كہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات كہی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3360

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَسْلَمُ النَّاسِ وَآمَنُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ.
) عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: لوگوں میں سب سے زیادہ سلامتی اور امن والا عمرو بن عاص ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3361

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَأَشْجَعَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ وَاللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ .
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسلم، غفار، اشجع ،مزینہ، جہنیہ اور جو بنی كعب سے تعلق ركھتے ہیں، دوسرے لوگوں سے ہٹ كر میرے خاص دوست ہیں اور اللہ اور اس كا رسول انكے دوست ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3362

عَنِ ابْن شِهَاب مُرْسَلاً: أَشَبَه مَا رَأَيْتُ بِجِبْرائِيْل دِحْيَة الْكَلْبِيّ .
ابن شہاب سے مرسلا مروی ہے: جبرائیل كے سب سے زیادہ مشابہہ جو شخص میں نے دیكھا ہے وہ دحیہ كلبی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3363

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَّكُونُونَ أَوْ يَخْرُجُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ رَآنِي .
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت میں مجھ سے شدید ترین محبت كرنے والے ایسے ہونگے جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں سے ہر شخص چاہے گا كہ وہ اپنا گھر بار اور مال دے دے اور مجھے دیكھ لے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3364

عَنْ عَبْدِ الله بْن عُمَر رضی اللہ عنہ قَالَ : أَتَى النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كِتَاب رَجُل ، فَقَال لَعَبْد الله بن الْأَرْقَم : أَجِب عَنِّي فَكَتَب جَوَابَه ، ثُمَّ قَرَأَه عَلَيْهِ ، فَقَال : أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، اللَّهُمّ وَفِّقْه . فلما وُلِّي عُمَر كَانَ يُشَاوِره
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس ایك آدمی كا خط آیا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عبداللہ بن ارقم‌رضی اللہ عنہ سے كہا: میری طرف سے جواب لكھو۔ انہوں نے لكھا اور آپ كو پڑھ كر سنایا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم نے درست لكھا اوراچھا كیا۔ اے اللہ! اسے توفیق دے۔ پھر جب عمر‌رضی اللہ عنہ كو خلافت دی گئی تو وہ ان سے مشورہ كیا كرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3365

عَنْ أَنَس بن مالكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً وَأَنَا أُقِيمُ نَخْلِي بِهَا فَمُرْهُ أَنْ يُّعْطِيَنِي (إِيَّاهَا) (حَتَّى) أُقِيمَ حَائِطِي بِهَا. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ . فَأَبَى وَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ: بِعْنِي نَخْلَكَ بِحَائِطِي قَالَ: فَفَعَلَ . قال: فَأَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ! فلاں شخص كی ایك كھجور ہے، میں بھی وہاں كھجور لگا رہا ہوں، آپ اسے حكم دیجئے كہ وہ كھجور مجھے دے دے تاكہ میں وہاں اپنا باغ بنالوں۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا: جنت میں ایك كھجور كے بدلے اسے وہ درخت دے دو، اس نے انكار كر دیا۔ ابو دحداح‌رضی اللہ عنہ اس كے پاس آئے اور كہا : مجھے اپنی كھجور میرے باغ كے بدلے بیچ دو۔ اس نے كھجور بیچ دی، ابو دحداح‌رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: اے اللہ كے رسول! میں نے وہ كھجور اپنے باغ كے بدلے خریدلی ہے۔ یہ كھجور آپ اس كو دے دیجئے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كئی مرتبہ فرمایا: ابو داحداح كے لئے كتنی ہی كھجوریں جنت میں ہیں یہ جملہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کئی بار دہرایا۔ وہ اپنی بیوی كے پاس آئے اور كہا: ام داحداح باغ سے نكل آؤ، میں نے اسے جنت میں ایك كھجور كے درخت كے بدلے بیچ دیا ہے۔ اس نے كہا: تم نے نہایت نفع بخش تجارت كی ہے۔یااس طرح كی كوئی بات كہی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3366

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَّدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ فَاسْتَزَدْتُّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ آتٍ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى وَمُصِيبٌ مِّنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِي
ابو بكر صدیق‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے ستر ہزار ایسے امتی دیئے گئے جو بغیر حساب كے جنت میں داخل ہونگے۔ ان كے چہرے چودھویں رات كے چاند كی طرح روشن ہونگے۔ ان كے دل یكجان ہونگے۔ میں نے اپنے رب سے زیادہ كا مطالبہ كیا تو اس نے ہر شخص كے ساتھ ستر ہزار كا اضافہ كر دیا۔ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میرا خیال ہے كہ یہ لوگ بستی مكہ والوں كے پاس آنے والے اور دیہاتوں كی دیہاتوں کے اطراف میں آنے والے لوگ ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3367

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: أُعْطِيْتُ فَوَاتِح الْكَلِم وَخَوَاتِمَه ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ الله ، عَلَّمْنَا مِمَّا عَلَّمَك الله عَزَّ وَجَلَّ ، فَعَلَّمَنَا التَّشْهُد .
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے كلمات كی ابتداءو انتہا دی گئی ہے۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول جو اللہ تعالیٰ نے آپ كو سكھلایا ہے ہمیں بھی سكھلایئے۔ آپ نے ہمیں تشہد سكھایا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3368

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا هُوَ؟ قَالَ: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ .
) علی بن ابی طالب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو انبیاءمیں سے كسی كو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: رعب كے ساتھ میری مدد كی گئی ہے۔ مجھے زمین كی چابیاں دی گئیں۔ میرا نام احمد ركھا گیا، مٹی كو میرے لئے پاكیزگی كا ذریعہ بنایا گیا اور میری امت كو بہترین امت بنایا گیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3369

عَنْ وَاثِلَة بْن الْأَسْقَع، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَعْطِيْتُ مَكَان التَّوْرَاةِ السَّبْع الطِوال وَمَكَان الزَّبُور الْمَئِين وَمَكَان الْإِنْجِيل الْمَثَانِي وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّل
واثلہ بن اسقع سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے تورات كی جگہ سبع طوال(سات طویل سورتیں)،زبوركی جگہ مئین(ایک سو آیت پر مشتمل سورتیں) اور انجیل كی جگہ مثانی(بار بار پڑھی جانے والی) دی گئیں اور مجھے مفصل(جن میں جلدی جلدی بسم اللہ سے فصل آتی ہے) كے ساتھ فضیلت دی گئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3370

) عَنْ حُذَيْفَةَ مَرْفُوْعاً: أُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي (وَلاَ يُعْطَى مِنْهُ أَحَدٌ بَعْدِي) .
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : مجھے بقرہ كی یہ آخری آیات عرش كے نیچے خزانے سے دی گئیں ہیں۔ مجھ سے پہلے كسی نبی كو نہیں دی گئیں (اور نہ میرے بعد كسی كو دی جائیں گی)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3371

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَفْضَل الْأَيَّام عِنْد اللّه يَوْم الْجُمُعَة .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كے ہاں سب سے افضل دن جمعہ كا دن ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3372

قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: اقْتَدُوْا بِاللَّذَيْن مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَكْر وَعُمَر ، وَاهْتَدُوا بِهَدْي عَمَّار، وَتَمَسَّكُوا بِعَهْد ابْن مَسْعَود . روی من حدیث .......
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے بعد میرے صحابہ ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہما كی پیروی كرو۔ عمار‌رضی اللہ عنہ كے طریقے كو اختیار كرو، اور عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ كے عہد كو مضبوطی سے پكڑ لو۔( ) یہ حدیث ........... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3373

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا: أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ؟ وَّرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا. فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَوْمَأَ بِأَصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ فَقَالَ: اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، كہتے ہیں كہ: میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے جو بات سنتا اسے یاد كرنے كے لئے لكھ لیتا، میں اسے یاد کرنا چاہتا تھا۔ قریش نے مجھے منع كیا، اور كہنے لگے: كیا تم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی ہر بات لكھتے ہو؟ حالانكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بشر ہیں، غصے اور خوشی میں بھی بات كرتے ہیں ۔ میں لكھنے سےرك گیا اور رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ذكر كیا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنی انگلی سے اپنے منہ مبارك كی طرف اشارہ كیا اور فرمایا: لكھو، اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اس منہ سے حق كے علاوہ كچھ نہیں نكلتا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3374

قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ - أَوْ بِخَيْرِ الْأَنْصَارِ-؟ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدَيْهِ قَالَ: وَفِي دُورِ الْأَنْصَارِ كُلِّهَا خَيْرٌ . جآء من حدیث ............
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا میں تمہیں انصار كے بہترین گھروں یا انصار میں سے بہترین لوگوں كے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! كیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: بنو نجار ، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں، بنو عبدالاشھل ، پھر وہ لوگ جو ا ن سے متصل ہیں، بنو الحارث بن خزرج، پھر وہ لوگ جو ان سےمتصل بنو ساعدہ، پھر اپنے ہاتھ كو حركت دی اور اپنی انگلیاں بند كر لیں۔ پھر انہیں كھول لیا ، جس طرح کوئی چیز پھینکنے والا کرتا ہے، پھرفرمایا: انصار كے ہر گھر میں بھلائی ہے یہ حدیث ........... سے مروی ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3375

عن أنس بن مالک قال: خرج علینا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال: ألا إن لکل شيئٍ ترکۃ وضیعۃ، وإن ترکتي وضیعتي الأنصار، فاحفظوني فیھم۔
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ہر چیز کا ترکہ اور سامان ہوتا ہے، میرا ترکہ اور سامان انصار ہیں، ان کے بارے میں میرا خیال رکھو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3376

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ: أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبَةً، لَاتَّبَعْتُ شِعْبَةَ الْأَنْصَارِ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ فَمَنْ وَّلِيَ اَمْرَ الْأَنْصَارِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَاتَيْنِ وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌
ابو قتادہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌منبر پر كھڑے انصار كے لئے فرمارہے تھے: خبردار! لوگ لوگ اوپر کے کپڑوں کی طرح ہیں اور انصار جسم سے ملے ہوئے تحتانی لباس کی طرح ہیں، اگر لوگ ایك وادی میں چلیں اور انصار ایك گھاٹی میں چلیں تو میں انصار كے پیچھے چلوں گا۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار كا ایك فرد ہوتا، جو شخص انصار كے معاملے كا نگران بنے وہ ان كے نیك آدمی سے اچھا سلوك كرے اور برے آدمی سے در گزر كرے، اور جس شخص نے انہیں گھبراہٹ میں مبتلا كیا تو اس نے اس شخص كو گھبراہٹ میں مبتلا كیا جو ان دونوں پہلوؤں كے درمیان ہے اور اپنی طرف اشارہ كیا(یعنی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بذات خود)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3377

) قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خِلٍّ مِّنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَّاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللهِ . جآء من حدیث ........
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خبردار میں ہر دوست كی دوستی سے بری ہوں، اگر میں كوئی دوست بناتا تو ابو بكر كو دوست بناتا ۔ یقینا تمہارا ساتھی اللہ كا دوست ہے۔ یہ حدیث ......... سے مروی ہے۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3378

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوْصَى عِنْدَ وَفَاتِهِ، فَقَالَ: اللهَ اللهَ فِي قِبْطِ مِصْرَ، فَإِنَّكُمْ سَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَيَكُونُ لَكُمْ عِدَّةً، وَأَعْوَانًا فِي سَبِيلِ اللهِ .
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنی وفات كے وقت وصیت كی، فرمایا: اللہ اللہ، مصر كے قبط(عیسائیوں کا ایک فرقہ) عنقریب تم ان پر غالب آؤ گے۔ وہ اللہ كے راستے میں تمہارے لئے تیاری اور مددگار ہونگے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3379

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ مكے میں تونے جو بركت دی ہے اس سے دوگنی مدینے میں ركھ دے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3380

عن عبد الرَحَّمَن بن أبي عُمَيرَة الْمُزَنِيّ عن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قال فِي مُعَاوِيَةَ: اللهُمّ اجْعَلْه هَادِيًا مَهْدِيًّا و اهْدِه و اهْد بِه .
عبدالرحمن بن ابی عمیرہ مزنی سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے معاویہ كے بارے میں فرمایا: اے اللہ ! اسے ہدایت ہافتہ اور ہدایت دینے والا بنا۔ اسے بھی ہدایت دےاور اس كے ذریعے دوسروں کو بھی ہدایت دے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3381

عن عَائَشَة ، أَنَّ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَام بِعُمَر بن الْخِطَاب خَاصَّة .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ اسلام كو خاص طور پر عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ كے ذریعے عزت دے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3382

عَنْ حُذَيْفَة قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَصَلَّيْتُ مَعَه الْمَغْرِب ، فَلَمَا فَرَغَ صَلَّى، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاء ثُمَّ خَرَج ، فَتَبِعْتُه ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ : حُذَيْفَة ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِر لِحُذَيْفَة و لِأُمِّه .
حذیفہ بن یمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور ان كے ساتھ مغرب كی نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌فارغ ہوئے تو نماز پڑھنے لگے، اور عشاءتك نماز پڑھتے رہے۔ پھر باہر نكل گئے۔ میں آپ كے پیچھے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كون ہو؟ میں نے كہا: حذیفہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ حذیفہ اور اس كی ماں كی مغفرت فرما
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3383

عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: لَمَا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌طِيب النَفْس ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ! ادْعُ اللهَ لِي . قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَة مَا تَقَدَّم مِنْ ذَنْبِهَا وَمَا تَأَخَّر وَمَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ فَضَحِكَتْ عَائَشَة حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْر رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الضِّحْك ، فَقَالَ: أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَال: وَاللهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاة . فِي حِجْر رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الضِّحْك ، فَقَالَ: أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَال: وَاللهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاة . فِي حِجْر رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الضِّحْك ، فَقَالَ: أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ فَقَالَتْ : وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَال: وَاللهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاة .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ جب میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو خوش دیكھا تو كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے میرے لئے دعا كیجئے۔ آپ نے فرمایا: اے اللہ ! عائشہ كے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرما، جو چھپ كر كئے اور جو ظاہراً كئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا مسكرادیں حتی كہ ان كا سر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی گود میں آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تمہیں میری دعا اچھی لگی؟ انہوں نے كہا: مجھے كیا ہوا كہ آپ كی دعا مجھے اچھی نہ لگے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ہر نماز میں اپنی امت کے لئے یہ دعا کرتا ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3384

عن أنس بن مالک قال: انطلقت بي أي إلی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ، فقالت: یا رسول اﷲ، خویدمک فادع اﷲ لہ، فقال: اللھم أکثر مالہ وولدہ، وأطل عمرہ، واغفرلہ، قال: فکثر مالي، وطال عمري حتی قد استحییت من أھلي، وأینعت ثماري، وأما الرّابعۃ، یعني المغفرۃ۔
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میری والدہ مجھے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس لے گئیں او رکہا: اے اﷲ کے رسول آپ کا یہ چھوٹا سا خادم ہے۔ اس کے لیے دعا کیجیے۔ آپ نے دعا فرمائی۔ اے اﷲ اس کا مال او راس کی اولاد زیادہ کر، اس کی عمر لمبی اور اس کی بخشش فرما۔ انس کہتے ہیں کہ میرا مال زیادہ ہوگیا۔ اور میری عمر اتنی لمبی ہوئی ہے کہ میں اپنے گھر والوں سے شرم محسوس کرتا ہوں۔ میرے پھل خوب اچھے ہوتے ہیں۔ اب صرف چوتھی دعا باقی رہ گئی ہے یعنی مغفرت۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3385

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے اللہ ! اس كا مال اور اس كی اولاد زیادہ كر، اور جو تو اسے دے اس میں بركت فرما
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3386

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ : مَا رَأَيْتُ حَسَنًا قَطٌ إِلَّا فَاضَت عَيْنَاي دُمُوعًا ، وَذَلِك أَنَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَج يَوْمًا، فَوَجَدَنِي فيِ الْمَسْجِد ، فَأَخَذ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَتُ مَعَه ، فَمَا كَلَّمَنِي حَتَّى جِئْنَا سُوْق بَنِي قَيْنُقَاع، فَطَاف فِيْه وَنَظَر، ثُمَّ انْصَرَف وَأَنَا مَعَه، حَتَّى جِئْنَا الْمَسْجِد، فَجَلَس فَاحْتَبَى ثُمَّ قَالَ: أَيْن لُكَاع ؟ ادْعُ لِي لُكَاعًا، فَجَاء حَسن يَّشْتَدُّ فَوَقَع فِي حِجْرِه ، ثُمَّ أَدَخَل يَدَه فِي لِحْيَتِه ، ثُمَّ جَعَل النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَفْتَح فَاه فَيَدْخُل فَاه فِي فِيْه ، ثُمَّ قَالَ:اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّه ، فَأَحْببْه ، وَأَحِبَّ مَنْ يُّحِبُّه .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے جب بھی حسن‌رضی اللہ عنہ كو دیكھا تو میرے آنسو نكل پڑے، اور یہ اس وجہ سے كہ ایك دن نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہر نكلے۔ مجھے مسجد میں دیكھا تو میرا ہاتھ پكڑا، میں آپ كے ساتھ چل پڑا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی حتی کہ ہم بنی قینقاع کے بازار میں آگئے۔ آپ نے بازار كا جائزہ لیا ۔ پھر واپس لوٹ آئے۔ میں آپ كے ساتھ ہی تھا، جب ہم مسجد میں پہنچے تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا:چھوٹا بچہ کہاں ہے؟ چھوٹے بچے کو بلاؤ۔حسن‌رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی گود میں بیٹھ گئے ، پھر اپنا ہاتھ آپ كی داڑھی مبارك میں داخل كر دیا۔ جب كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنا منہ كھولتے اور حسن كا منہ اپنے منہ میں ڈالتے ،پھر فرمایا:اے اللہ میں اس سے محبت كرتا ہوں تو بھی اس سے محبت كر، اور جو اس سے محبت كرے اس سے بھی محبت كر۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3387

عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ وَيَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ .
براء ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، كہتے ہیں كہ میں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیكھا كہ حسن بن علی رضی اللہ عنہا آپ كے كاندھوں پر ہیں اور آپ فرما رہے ہیں: اے اللہ ! میں اس سے محبت كرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت كر۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3388

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَّبِلَالٌ. قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ!كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلَالُ! كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ وَيَقُولُ: وفي رواية لأحمد: تغني فقال: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَّحَوْلِي إِذْخِرٌ وَّجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنَّ يَوْمًا مِّيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنَّ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: اللهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ . (زَادَ أَحْمَد فِي رِوَايَة: قَالَ: فَكاَنَ الْمَوْلُوْد يُوْلَد بِالْجُحْفَة، فَمَا يَبْلُغُ الْحُلُم حَتَّى تَصْرَعُهُ الحُمَّى) .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ: جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینے آئے تو ابو بكر اور بلال رضی اللہ عنہما كو بخار ہوگیا۔ میں ان دونوں كے پاس آئی اور كہا: ابا جان! آپ كی طبیعت كیسی ہے؟ اور اے بلال! آپ كی طبیعت كیسی ہے؟ كہتی ہیں كہ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ كو جب بخار ہوا وہ یہ شعر تو كہہ رہے تھے: ہر وہ شخص جو اپنے گھر والوں میں صبح كرتا ہے، موت اس كے جوتے كے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔اور بلال‌رضی اللہ عنہ كو جب بخار کی شدت کم محسوس ہوتی تو اونچی آواز میں یہ اشعار کہتے: اے کاش کیا میں کوئی رات ایسی وادی میں گزاردوں گا کہ میرے ارد گرد اذخر اور جلیل ہوں اور کیا کسی دن میں مجنہ کے چشمے پر آؤں گا اور میں شامہ اور طفیل پہاڑ دیکھوں گا؟عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ: میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئی اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دعا فرمائی: اے اللہ! جس طرح ہمیں مكہ سے محبت تھی مدینہ بھی اسی طرح محبوب بنا دے یا اس سے بھی زیادہ اور اسے صحیح كر دے۔ اس كے صاع اور مد میں بركت دے اور اس كے بخار كو منتقل كر كے جحفہ میں ڈال دے۔ احمد نے اپنی روایت میں زیادہ كیا: پھر جحفہ میں جو بچہ پیدا ہوتا ابھی وہ بلوغت تك نہ پہنچتا كہ بخار اسے پچھاڑ دیتا( لاغر كر دیتا)۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3389

عَنْ عَائِشَة بِنْت سَعْد عَنْ أَبِيْهَا: أَنِّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ بَيْنَ يَدَيْه طَعَام، فَقَالَ:اللهمّ ! سُقْ إِلَى هَذَا الطَّعَام عَبْدًا تُحِبُّه وَيُحِبُّك، فَطَلَع سَعَد (بن أَبِي وَقَاص) .
عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت كرتی ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے سامنے كھانا ركھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس كھانے كی طرف اس شخص كو لا جس سے تو محبت كرتا ہے اور وہ تجھ سے محبت كرتا ہے۔ اتنے میں سعد(بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3390

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ. روی من حدیث .......( )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! معاویہ کو حساب و کتاب سکھا، اور اسے عذاب سے بچا۔ یہ حدیث ......... رایت کی گئی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3391

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: اَنَّهُ سَكَبَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَضُوءًا عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ , فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ:مَنْ وَّضَعَ لِي وَضُوئِي؟ قَالَتْ: ابْنُ أُخْتِي يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ:اللهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ , وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھا، جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہرآئے تو فرمایا: میرے لئے کس نے وضو کا پانی رکھا ہے؟ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھانجے نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے دین میں سمجھ اور تفسیر کا علم دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3392

عَنْ عُبَادَة بْن صَامِت مَرْفُوعاً: اللهم مَنْ ظَلَمَ أَهْل الْمَدِينَةِ وَأَخَافَهُمْ فَأَخِفْهُ، وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اهَِد، وَالْمَلائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اے اللہ! جس نے اہل مدینہ پر ظلم کیا اور انہیں ڈرایا تو بھی اسے ڈرا ، اور اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس سے فرض و نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3393

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ وَّعَلِيٌّ وَّزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى نَسْأَلَهُ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ فَقَالَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقُلْتُ: هَذَا جَعْفَرٌ وَّعَلِيٌّ وَّزَيْدٌ مَا أَقُولُ أَبِي قَالَ: ائْذَنْ لَهُمْ وَدَخَلُوا فَقَالُوا: مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: فَاطِمَةُ قَالُوا: نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ قَالَ: أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ! فَأَشْبَهَ خَلْقُكَ خَلْقِي وَأَشْبَهَ خُلُقِي خُلُقَكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ! فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي وَإِلَيَّ وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ
محمد بن اسامہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ: جعفر، علی اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ جعفر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیارا ہوں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارا ہوں۔ انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو تاکہ ہم آپ سے پوچھ لیں۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دیکھو یہ کون لوگ ہیں؟ میں نے کہا: یہ جعفر ،علی اور زید رضی اللہ عنہم ہیں۔ میں نے اپنے والدزید کا نہیں بتایا ؟ آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو، وہ اندر آئے اور کہنے لگے: آپ کو سب سے زیادہ پیارا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: فاطمہ، انہوں نے کہا: ہم آپ سے مردوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جعفر! تمہاری عادت میری عادت سے مشابہہ ہے اور میری صورت تمہاری صورت سے مشابہہ ہے تم مجھ سےاور میرے نسب سے ہو اور اے علی! تم میرے داماد اور میرے بیٹے کے والد ہو، میری بیٹی کے نگران ہو، میں تم سے ہوں۔ اور تم مجھ سے ہو ، اور اے زید ! تم میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہو اور میری طرف منسوب ہو اور لوگوں میں سب سےزیادہ محبوب ہو ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3394

عَنْ عَائِشَة، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَكَرَ فَاطِمَة ، قَالَتْ : فَتَكلَمْتُ أَنَا ، فَقَالَ : « أَمَا تَرْضِيْن أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَة ؟ » ، قُلْتُ: بَلَى وَاللهِ ، قَالَ : « فَأَنْتَ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَة » .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی رہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ،اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3395

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : أُتِي النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقِيْلَ لَهُ : هَذِه ِالْأَنْصَار رِجَالهُاَ وَنِسَاؤُهَا فِي الْمَسْجِد يَبْكُوْن ! قَالَ: وَمَا يَبْكِيْهَا ؟. قَالَ : يَخَافُوْنَ أَنْ تَمُوْتَ ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُّتَعَطِّفًا بِهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ(وكان آخر مجلس جلسه) فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَّلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا(من أمة محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاستطاع أن) يَّضُرَّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَهُ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُّحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُّسِيئِهِمْ . ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو بتایا گیا: یہ انصار ہیں ،ان کے مرد اور عورتیں مسجد میں رو رہے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کس بات نے رلایا ہے؟ اس نے کہا: یہ ڈرتے ہیں کہ آپ فوت ہو جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے آپ پر ایک چادر تھی جسے آپ نے اپنے کاندھوں پر ڈالا ہوا تھا، اور آپ نے سیاہی مائل عمامہ باندھا ہوا تھا۔ آپ آکر منبر پر بیٹھ گئے( یہ آپ کی آخری مجلس تھی جو آپ نے کی۔) اللہ کی حمدو ثنا کی پھر فرمایا: اما بعد! اے لوگو! لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور انصار کم ہو جائیں گے حتی کہ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہو جائیں گے۔ تم میں سے جو شخص (امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کسی معاملے کا نگران بنے( اور وہ اپنی طاقت کے مطابق) کسی کو نقصان پہنچائے یا نفع، تو وہ انصار کے نیک شخص سے قبول کرے اور خطار کار سے در گزر کرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3396

عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَّقُولُ: مَرَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِرَجُلٍ يُّقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ؟ فَقَالُوا: صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللهِ. فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُّفْطِرَ فَقَالَ: أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى تَصُومَ؟( )
ابو زبیر سے مروی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو دوہرا ہوا جا رہا تھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کے بارےمیں پوچھا تو لوگوں نے کہا: روزے دار ہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے روزہ کھولنے کا حکم دیا اور فرمایا: کیا تمہیں کافی نہیں کہ تم اللہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو؟ اور تمہیں روزہ رکھنے کی نوبت آگئی ہے؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3397

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّة مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . ورد من حدیث .........
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں خدیجہ کو(جنت میں) یاقوت کے ایک گھر کی بشارت دوں جس میں نہ شور ہو اور نہ تھکاوٹ۔ یہ حدیث ........ سے مروی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3398

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُوْل: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ: يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ . وَفِي رِوَايَة مِنْ طَرِيْقٍ أُخْرى عَنْهُ مَرْفُوْعًا بِلَفْظٍ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ فِيهَا خَيْرًا مِّنْهُ أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے جو بستیوں کو کھا جائے گی (حاوی ہوجائے گی)۔لوگ اسے یثرب کہتے ہیں ،اور یہ مدینہ ہے۔ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔ اور ایک دوسری روایت ان سے مرفوعا ان الفاظ کے ساتھ ہے: لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے چچازاد اور قریبی کو بلائے گا، آؤخوشحالی کی طرف، آؤ خوشحالی کی طرف، حالانکہ(اس وقت) مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر انہیں علم ہو تو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو شخص اس سے بے رغبت ہو کر نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے بہتر اس میں لے آئے گا، خبردار مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو بے کار لوگوں کو نکال دے گا، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مدینہ اپنے شریر لوگوں کو اس طرح نہ نکال دے جس طرح بھٹی لوہے کا زنگ نکالتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3399

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمن حَدَّثَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَة فَقَالَتْ لِي: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ لِي: أَمْرُكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ . ثُمَّ قَالَتْ: فَسَقَى اللهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِوَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَدْ وَصَلَهُنَّ بِمَالٍ فَبِيْعَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے مجھے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہا کرتے تھے: میرے بعد تمہارا معاملہ مجھے پریشان کئے ہوئے ہے اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کر سکتے ہیں۔ پھر کہنے لگیں: اللہ تعالیٰ تمہارے والد کو جنت کی نہر سے سیراب کرے،عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں مال (مویشی ) دیا تو وہ چالیس ہزار (درہم یا دینار )کا بیچا گیا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3400

عَنْ جَابِر قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِأَصْحَابِه : « امْشُوا أَمَامِي وَخَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَة ».( )
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو اپنے صحابہ سے کہا: میرے آگے آگے چلو ،میرے پیچھے فرشتوں کے لئے جگہ چھوڑ دو ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3401

عَنْ عَبْدِالمَلك بْن عُمَيْر قَالَ: اسْتَعْمَل عُمَر بْن الخَطَّاب أَبَا عُبَيْدَة بْن الجَرَّاح عَلَى الشَّام، وَعَزَلَ خَالِد بْن الوَلِيْد ، فَقَالَ : خَالِدُ بْن الوَلِيْد : بُعِثَ عَلَيْكُم أَمِيْنُ هَذِهِ الْأُمَّة ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: أَمِيْن هَذِهِ الأُمَّة أَبُو عُبَيْدَة بْن الجَرَّاح فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَة : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: خَالِد سَيْف مِّنْ سُيُوفِ اللهِ نِعْمَ فَتَى الْعَشِيْرَة
عبدالملک بن عمیر سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا نگران بنایا، اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: تم پر اس امت کے امین کو نگران بنا کر بھیجا گیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نےکہا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہےاور قبیلے کا بہترین جوان ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3402

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا وَ حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ و دَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَ صَاعِهَا فِي مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ .
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کےلئے دعا کی اور میں نے مدینے کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے صاع اور مد میں برکت کے لئے دعا کی ہے جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لئے دعا کی تھی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3403

أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَا تُخْبِرْ نِسَاءَكَ أَنِّي اخْتَرْتُكَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا وَّلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنِّتًا
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اپنی بیویوں کو مت بتائیں کہ میں نے آپ کو پسند کر لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ بنا کر بھیجا ہے مجھے مشقت میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3404

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ .
واثلہ بن اسقع‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اولاد اسماعیل میں سے کنانہ کو چنا، کنانہ سے قریش کو چنا، قریش سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم سے مجھے چنا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3405

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا: إِنَّ اللهَ -عَزَّوَجَلَّ- (وفي لفظ: لَعَلَّ اللهَ) اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:یقینا اللہ عزوجل نے (اور ایک روایت میں ہے : شاید اللہ تعالیٰ نے) اہل بدر کو دیکھا تو فرمایا: جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3406

عَنْ كَعْب بْن عَاصِم الأَشْعَرِيِّ ، سَمِعَ النِّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل : « إِنَّ اللهَ قَدْ أَجَارَ أُمَّتِي مِنْ أَنْ تَجْتَمِعَ عَلَى ضَلَالَة »
کعب بن عاصم اشعری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے بچا لیا ہے کہ وہ گمراہی پر جمع ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3407

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات دنیا والوں کی طرف جھانکتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے، سوائے مشرک اور بغض وعداوت اور کینہ رکھنے والے کے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3408

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا يُّفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوْ قَالَ : يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا نَافَحَ أَوْ فَاخَرَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں حسان رضی اللہ عنہ کے لئے منبر رکھواتے، جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فخریہ کلمات کہتے، یارسول اللہ کی مدافعت کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : اللہ تعالیٰ روح قدس کے ذریعے حسان کی مدد کرے جب تک وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فخریہ کلمات کہتا ہے۔یارسول اللہ کی مدافعت کرتا ہے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3409

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِنَّ أُنَاساً مِّنْ أُمَّتِي يَأْتُوْنَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُم لَوِ اشْتَرَى رَؤْيَتِي بِأَهْلِهِ وَمَالِه »
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو چاہیں گے کہ اپنا مال اور گھر بار دے کر میری ایک جھلک دیکھ لیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3410

عَنْ أَنَس بْن ماَلِك : أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَجَ يَوْماً عَاصِباً رَأْسُهُ ، فَتَلَقَّاهُ ذِرَارِي الأَنْصَار وَخَدمُهُم ذَخْرَةالأَنْصَار يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : « وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأُحِبُّكُمْ » مَرَّتَيْن أَوْ ثَلاَثاً ، ثُمَّ قَالَ : « إِنَّ الأَنْصَارَ قَدْ قَضَوُا الذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِي الَّذِي عَلَيْكُمْ ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُّسِيْئِهِمْ » . ( )
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر نکلے تواس دن انصار کے بچوں اور خدمتگاروں کےچہروں پر پریشانی کے آثار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم سے محبت کرتا ہوں( دو یا تین مرتبہ فرمایا) پھر فرمایا: انصار نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور تمہاری ذمہ داری باقی ہے۔ ان کے نیک شخص سے اچھا سلوک کرو اور ان کے خطاکار شخص سے در گزر کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3411

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ قال: أن رَجُلا سأل ابْنَ عُمَرَ (وَأَنَا جَالِسٌ) عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ لَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فقَالَ ابن عمر: (هَا) انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا.( )
عبدالرحمن بن ابی نعم سے مروی ہے کہ: ایک آدمی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا جو کپڑے میں لگ جاتا ہے؟(میں بیٹھا ہوا تھا) (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟ اس نے کہا: اہل عراق سے ہوں۔) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:اوہ! (کلمہ تعجب) اس شخص کی طرف دیکھو، یہ مچھر کے خون کے بارے میں سوال کر رہا ہے؟ حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: حسن اور حسین دنیا میں میری خوشبو ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3412

عَنْ أَبي مَالِكْ الْأَشْعَرِي مَرْفُوْعاً: إِنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللهُ وَإنَّ شِرَارَ عِبَادِ اللهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ للبرَآءَ الْعَنَتَ
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اس امت میں سے اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب ان پر نظر پڑے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائے اور اس امت کے بدترین لوگ وہ ہیں کہ جو چغل خوری کرتے ہیں، پیاروں کے مابین تفریق ڈالتے ہیں، اورپاکدامن لوگوں پر تہمت لگاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3413

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِّنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَاقَةً مِّنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِـ(الْغَابَةِ) فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ فَتَسَخَّطَهُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ رِجَالًا مِّنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمْ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ عَلَيَّ وَايْمُ اللهِ! لَا أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِّنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ان اونٹوں میں سے دی جو انہوں نے( غابہ) میں حاصل کی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے کچھ دیا، جس پر وہ غصے ہوگیا، میں نے اس منبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:عرب کا کوئی شخص مجھے تحفہ دیتا ہے تو میرے پاس جتنی استطاعت ہوتی ہے اس کے بدلے میں دےدیتاہوں وہ ناراض ہو جاتا ہے اور مجھ پر غصے رہتا ہے۔ اللہ کی قسم! آج کے بعد میں کسی عرب سے تحفہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی ، انصاری ، ثقفی یا دوسی کے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3414

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ امْرَأَةً مِّنْ قَوْمِ يُّقَالُ لَهَا سَوْدَةُ وَكَانَتْ مُصْبِيَةً كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟ قَالَتْ وَاللهِ! يَا نَبِيَّ اللهِ! مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَّا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَّضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةُ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَّعَشِيَّةً قَالَ: فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا وَاللهِ! قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَرْحَمُكِ اللهُ إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَخشاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےقوم (قریش) کی ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا جسے سودہ کہا جاتا تھا، اس کی ایک پریشانی تھی کہ اس کے پہلے شوہر سے جو مر چکا تھا پانچ یا چھ بچے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تمہیں مجھ سے کونسی بات روک رہی ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے آپ سے کوئی بات منع نہیں کر رہی کہ آپ ساری مخلوق سے زیادہ مجھے پسند ہیں، لیکن میں آپ کی عزت کرتی ہوں اور یہ بچے رات دن آپ کے سر پر کھڑے ہو کر شور مچائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ کوئی اور بات تمہیں روکتی ہے؟ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: واللہ! نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے، بہترین عورتیں جو اونٹوں کی سواری کرتی ہیں قریش کی نیک عورتیں ہیں، بچپن میں بچے کے بارے میں خوفزدہ رہتی ہیں اور اپنے شوہر مال و منال اور آرام کا خیال رکھتی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3415

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اهْجُوا قُرَيْشًا فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ فَأَرْسَلَ إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ فَقَالَ: اهْجُهُمْ فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ فَأَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ حَسَّانُ: قَدْ آنَ لَكُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَى هَذَا الْأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِهِ ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يُحَرِّكُهُ فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الْأَدِيمِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَعْجَلْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا وَإِنَّ لِي فِيهِمْ نَسَبًا حَتَّى يُلَخِّصَ لَكَ نَسَبِي فَأَتَاهُ حَسَّانُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! قَدْ لَخَّصَ لِي نَسَبَكَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ لِحَسَّانَ: إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى قَالَ حَسَّانُ : هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ وَعِنْدَ اللهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا حَنِيفًا رَسُولَ اللهِ شِيمَتُهُ الْوَفَاءُ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ ثَكِلْتُ بُنَيَّتِي إِنْ لَمْ تَرَوْهَا تُثِيرُ النَّقْعَ مِنْ كَنَفَيْ كَدَاءِ يُبَارِينَ الْأَعِنَّةَ مُصْعِدَاتٍ عَلَى أَكْتَافِهَا الْأَسَلُ الظِّمَاءُ تَظَلُّ جِيَادُنَا مُتَمَطِّرَاتٍ تُلَطِّمُهُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَاءُ فَإِنْ أَعْرَضْتُمُو عَنَّا اعْتَمَرْنَا وَكَانَ الْفَتْحُ وَانْكَشَفَ الْغِطَاءُ وَإِلَّا فَاصْبِرُوا لِضِرَابِ يَوْمٍ يُعِزُّ اللهُ فِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَقَالَ اللهُ قَدْ أَرْسَلْتُ عَبْدًا يَقُولُ الْحَقَّ لَيْسَ بِهِ خَفَاءُ وَقَالَ اللهُ قَدْ يَسَّرْتُ جُنْدًا هُمُ الْأَنْصَارُ عُرْضَتُهَا اللِّقَاءُ لَنَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مِّنْ مَّعَدٍّ سِبَابٌ أَوْ قِتَالٌ أَوْ هِجَاءُ فَمَنْ يَّهْجُو رَسُولَ اللهِ مِنْكُمْ وَيَمْدَحُهُ وَيَنْصُرُهُ سَوَاءُ وَجِبْرِيلٌ رَسُولُ اللهِ فِينَا وَرُوحُ الْقُدُسِ لَيْسَ لَهُ كِفَاءُ . ( )
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش کی ہجو کرو کیوں کہ یہ ان پر تیر سے زیادہ تیز لگتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ان کی ہجو کرو، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ہجو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا، پھر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا۔ جب حسان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس شیر کی طرف پیغام بھیجیں جو اپنی دم مارتا ہے پھر اپنی زبان کو حرکت دی اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں اپنی زبان سے ان کو چمڑے کی طرح چاک کردوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی مت کرو، کیوں کہ ابو بکر قریش کے نسب کو زیادہ جانتے ہیں، اور ان میں میرا نسب بھی ہے۔ انتظار کرو تاکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ میرا نسب الگ کر دیں۔ حسان رضی اللہ عنہ ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے پھر واپس آکر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ کانسب الگ کر کے بتادیا گیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں آپ کو ایسے نکال لوں گا جس طرح آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حسان رضی اللہ عنہ کے لئے فرما رہے تھے: روح القدس تمہاری مدد کرتا رہے گا جب تک تم اللہ اور اس کے رسولکا دفاع کرتے رہو گے اور کہتی ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے:حسان نے ان کی ایسی ہجو کی ہے کہ اللہ کے رسول کا دل ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا:تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہجو کی ہے اور میں اس کا جواب دے رہا ہوں اور اس کام کی اللہ کے پاس جزاء ہے۔ تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی جو یکسو اور نیکوکار ہیں، اللہ کے رسول ہیں، وفا ان کی عادت ہے۔میرے ماں باپ اور میری عزت ، محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی عزت بچانے کیلئے تمہارے سامنے رکاوٹ ہیں۔ دفاع کرنے والے ہیں۔ میری بچے گم ہوجائیں اگر تم انہیں نہ دیکھو کہ وہ کداء کے دونوں جانب گرد و غبار اڑائے ہوئے آرہے ہیں۔ وہ ایسے گھوڑوں یا اونٹنیوں پر اس جن کی باگیں کھچی ہوئی ہیں۔ ہمارے گھوڑے گرد وغبار اڑا رہے ہیں، جن کی پیشانیاں عورتیں اپنے دوپٹوں سے صاف کرتی ہیں۔ اگر تم ہم سے اعراض کرو تو ہم عمرہ کرلیں، اور یوں فتح ہوجائے اور پردہ ہٹ جائے۔ وگر نہ صبر کرو، اس دن کی جنگ کیلئے جس دن اللہ تعالی جسے چاہے عزت دے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے ایک بندہ بھیجا ہے جو حق بات کہتا ہے، اس میں کوئی اخفا یا شک شبہ نہیں ہے۔اور اللہ تعالی فرماتا ہے: میں نے اس کے لئے لشکر میسر کردئے ہیں، وہ انصار ہیں، یہ میری ملاقات کے خواہشمند ہیں۔ ہر دن معد کی طرف سےگالی، یا قتال یا ہجو در پیش ہے۔ تم میں سے جو شخص اللہ کے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی ہجو کرتا ہے یا اس کی مدح کرتا یا اس کی نفرت کرتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جبریل ہم میں اللہ کا قاصد ہے اور روح القدس ہے اس کے برابر کوئی نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3416

عَنْ يَحْيَى بْن عُبَاد بْن عَبْد الله (بْن زُبيَرْ) ، عَنْ أَبِيْه ، عَنْ جَدِّه رضی اللہ عنہ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول عِنْد قَتْلِ حَنْظَلَة بْن أَبِي عَامِر بَعْدَ أَنِ التقى هُوَ وَأَبُو سُفْيَان بْن الحَارِث حِيْنَ عَلَاه شَدَّاد بن الأَسْوَد بِالسَّيْف فَقَتَلَه ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِنَّ صَاحِبَكُمْ تغْسِلُه المَلَائِكَة » فَسَأَلوُا صَاحِبَتَهُ فَقَالَتْ : إِنَّه خَرَجَ لَمَّا سَمِعَ الهَائِعَة وَهُوَ جُنبٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « لِذَلِكَ غَسَلَتْهُ المَلَائِكَة »
یحیی بن عباد بن عبداللہ( بن زیبر) اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت فرما رہے تھے: جب حنظلہ اور ابو سفیان بن حارث کا مقابلہ ہوا اور شداد بن اسود تلوار لے کر حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سینے پر چڑھ گیا اور انہیں شہید کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کو فرشتے غسل دے رہے تھے۔ لوگوں نے اس کی بیوی سے پوچھا تو اس نے کہا: جب اس نے اعلان سنا تو یہ جنبی حالت میں باہر چلا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے فرشتے اسےغسل دے رہے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3417

قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِنَّ العُلَمَاءَ إِذَا حَضَرُوا رَبَّهُم -عَزَّوَجَلَّ- كَانَ مُعَاذ بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ رَتْوَة بِحَجَرٍ » .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علماء جب اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے، تو معاذ ان کے سامنے پتھر پر کھڑا ہو گا یا پتھر رکھ رہا ہوگا (یعنی ان کے علم کی فضیلت کی وجہ سے وہ آگے ہونگے )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3418

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ . . ورد من حدیث ..........
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اس طرح ہے جس طرح باقی کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔ یہ حدیث ...... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3419

عَنْ زَيْد بْن عَبْدِ الرَّحمَن بْن سَعِيْد بْن عَمْرو بْن نُفَيل مِنْ بَنِي عَدِي عَنْ أَبِيْه قَالَ : جِئْتُ جَابِر بْن عَبْدِ الله الأَنْصَارِيّ فِي فِتْيَانٍ مِّنْ قُرَيْش ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ أَنْ كفَّ بَصَرُه ، فَوَجَدْنَا حَبْلاً مُّعَلَّقاً فِي السَّقْفِ وَ أَقْرَاصًا مَّطْرُوْحَة بَيْنَ يَدَيْه أَوْ خُبْزًا ، فَكُلَّمَا اسِتَطْعَمَ مِسْكِيْن قَامَ جَابِر إِلَى قَرْص مِّنْهَا وَأَخَذَ الحَبْل حَتَّى يَأْتِيَ المِسْكِيْن فَيُعْطِيَه ، ثُمَّ يَرْجِع بِالحَبَل حَتَّى يَقْعُد ، فَقُلْتُ لَه : عَافَاكَ الله نَحْنُ إِذَا جَاءَ المِسْكِيْن أَعْطَيْنَا، فَقَالَ : إِنِّي أَحْتَسِبُ المَشْيَ فِي هَذاَ . ثُمَّ قَالَ : أَلاَ أُخْبِرُكُمْ شَيْئاً سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌؟ قَالُوا: بَلَى ، قَالَ: سَمِعْتُه يَقُولُ : إِنَّ قُرَيْشاً أَهْل أَمَانَة ، لاَ يَبْغِيْهِمُ العثرات أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْخِرِيْه .
زید بن عبدالرحمن بن سعید بن عمرو بن نفیل اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں قریش کے کچھ نو جوانوں کے ساتھ جا بر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ نابینا ہوگئے تھے۔ ہم نے چھت میں ایک رسی لٹکتی دیکھی، کچھ ٹکیاں یا روٹیاں ان کے سامنے رکھی ہوئی تھیں، جب کوئی مسکین ان سے کھانا مانگتا تو جابر رضی اللہ عنہ ایک ٹکیہ اٹھا کر کھڑے ہو جاتے اور رسی پکڑ کر اس مسکین کے پاس آتے اور اسے وہ ٹکیہ دے دیتے۔ پھر رسی کے ذریعے واپس آکر بیٹھ جاتے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کو عافیت دے، ہمارے پاس کوئی مسکین آتا ہے تو ہم( بیٹھے بیٹھے) اسے دے دیتے ہیں۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس طرح چلنے میں ثواب کی امید رکھتا ہوں۔ پھر کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ سب نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قریش اہل امانت ہیں، جو شخص ان کے خلاف ان کی لغزشیں تلاش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل بچھاڑ دے گا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3420

عَنْ عَمْرو بن سَلمَة الهَمْدَانِي قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ عَلَى بَابِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَبْلَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ ، فَإِذَا خَرَجَ مَشَيْنَا مَعَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِىُّ فَقَالَ : أَخَرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَعْدُ؟ قُلْنَا : لَا، فَجَلَسَ مَعَنَا حَتَّى خَرَجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ قُمْنَا إِلَيْهِ جَمِيعاً ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! إِنِّى رَأَيْتُ فِى الْمَسْجِدِ آنِفاً أَمْراً أَنْكَرْتُهُ ، وَلَمْ أَرَ وَالْحَمْدُ لِلهِ إِلاَّ خَيْرًا. قَالَ : فَمَا هُوَ؟ فَقَالَ : إِنْ عِشْتَ فَسَتَرَاهُ - قَالَ - رَأَيْتُ فِى الْمَسْجِدِ قَوْماً حِلَقاً جُلُوساً يَّنْتَظِرُونَ الصَّلاَةَ ، فِى كُلِّ حَلْقَةٍ رَجُلٌ ، وَفِى أَيْدِيهِمْ حَصًى فَيَقُولُ : كَبِّرُوا مِائَةً ، فَيُكَبِّرُونَ مِائَةً ، فَيَقُولُ : هَلِّلُوا مِائَةً ، فَيُهَلِّلُونَ مِائَةً ، وَيَقُولُ : سَبِّحُوا مِائَةً فَيُسَبِّحُونَ مِائَةً. قَالَ : فَمَاذَا قُلْتَ لَهُمْ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَهُمْ شَيْئاً انْتِظَارَ رَأْيِكَ. قَالَ : أَفَلاَ أَمَرْتَهُمْ أَنْ يَّعُدُّوا سَيِّئَاتِهِمْ وَضَمِنْتَ لَهُمْ أَنْ لَّا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِهِمْ شَيْئاً؟ ثُمَّ مَضَى وَمَضَيْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى حَلْقَةً مِّنْ تِلْكَ الْحِلَقِ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : مَا هَذَا الَّذِى أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! حَصًى نَّعُدُّ بِها التَّكْبِيرَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّسْبِيحَ. قَالَ : فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَّا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَىْءٌ ، وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ ، هَؤُلاَءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صلی اللہ علیہ وسلم مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبُلْ وَآنِيَتُهُ لَمْ تَكْسُرْ ، وَالَّذِى نَفْسِى فِى يَدِهِ! إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِىَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ ، أَوْ مُفْتَتِحوا بَابَ ضَلاَلَةٍ. قَالُوا : وَاللهِ! يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا أَرَدْنَا إِلاَّ الْخَيْرَ. قَالَ: وَكَمْ مِّنْ مُّرِيدٍ لِّلْخَيْرِ لَنْ يُّصِيبَهُ ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَنَا إنَّ قَوْماً يَّقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُوْنَ مِنَ الْإِسْلاَم كَمَا يَمْرقُ السَّهمُ مِنَ الرَّمِيَّة، وَأيْمُ اللهِ! مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِّنْكُمْ! ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَلِمَةَ : فرَأَيْنَا عَامَّةَ أُولَئِكَ الْحِلَقِ يُطَاعِنُونَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ الْخَوَارِجِ . ( )
عمرو بن سلمہ ہمدانی سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: ہم صبح کی نماز سے قبل عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھ جاتے تھے، جب وہ باہر نکلتے تو ہم مسجد کی طرف ان کے ساتھ چلتے۔ (ایک دن) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا ابھی تک ابو عبدالرحمن تمہارے پاس نہیں آئے؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ ان کے نکلنے تک ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ جب وہ نکلے تو ہم سب کھڑے ہو کر ان کی طرف گئے، ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابو عبدالرحمن! میں نے ابھی مسجد میں ایسا معاملہ دیکھا ہے جو میری نظر میں عجیب ہے، الحمدللہ! میں نے نیکی کا کام ہی دیکھا ہے، انہوں نے کہا: وہ کیا کام ہے؟ ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ زندہ رہے تو جلدہی دیکھ لیں گے۔ میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو حلقہ بنائے بیٹھے دیکھا، جو نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر حلقے میں ایک آدمی ہے اور سب لوگوں کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں وہ آدمی کہتا ہے: سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، وہ لوگ سو مرتبہ اللہ اکبر کہتےہیں، وہ کہتا ہے: سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو وہ سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ وہ کہتا ہے: سو مرتبہ سبحان اللہ کہو، وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہتے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ان سے کیا کہا؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ کی رائے کے انتظار میں ان سے کچھ بھی نہ کہا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں، اور تم نے انہیں ضمانت کیوں نہیں دی کہ ان کی کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی؟ پھر وہ چلے تو ہم بھی ان کے ساتھ چلے وہ ایک حلقے کے پاس پہنچے اور ان کے سروں پر کھڑے ہو گئے، کہنے لگے: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: ابو عبدالرحمن! یہ کنکریاں ہیں، ہم ان کے ساتھ تکبیر تہلیل اور تسبیح کررہے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے گناہ شمار کرو، میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی۔افسوس! اےامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم کتنی جلدی ہلاکت میں پڑ گئے۔ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار صحابہ موجود ہیں، یہ آپ کے کپڑے ہیں جو بوسیدہ نہیں ہوئے، یہ آپ کے برتن ہیں جو ابھی ٹوٹے نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کیا تم ایسی ملت پر ہو جو ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا تم گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! واللہ! ہم نے تو نیکی کا ارادہ کیا تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کتنے ہی بھلائی کا ارادہ کرنے والے بھلائی تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کیا کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ شاید اکثر تم میں سے اس حدیث کا مصداق ہوں گے، پھر ان سے منہ موڑ لیا، عمرو بن سلمہ نے کہا: ہم نے ان حلقوں کے اکثر لوگوں کو دیکھا کہ نہروان کے دن خوارج کے ساتھ مل کر ہم سے مقابلہ کر رہے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3421

عَنْ عَبْد اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَرَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَكَ بِالدُّفِّ قَالَ: إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِي وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي فَلَا تَفْعَلِي فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَّهِيَ تَضْرِبُ وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ أَنَا جَالِسٌ هَاهُنَا وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ: ایک کالی لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے سے واپس آئے تھے، کہنے لگی: میں نے نذر مانی تھی کہ: اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آئے تو میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم نے یہ نذرمانی ہے تو کرلو، اور اگر نہیں تو نہ کرو، وہ دف بجانے لگی، ابو بکر رضی اللہ عنہ اندر آئے وہ دف بجاتی رہی، پھر کوئی اور آیا وہ دف بجاتی رہی، پھر عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو اس نے دف کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے، میں یہاں بیٹھا ہوں، یہ لوگ داخل ہوئے تو یہ دف بجاتی رہی جب تم داخل ہوئے تو دیکھ رہے ہو اس نےکیسا کام کیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3422

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قال: قال رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌:إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ: بِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: بِنَبْلِ الرَّأْيِ .
جبیر بن مطعم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قریشی کی غیر قریشی کے مقابلے میں دوگنی قوت ہے، زہری سے پوچھا گیا: کس نسبت سے؟ زہری نے کہا: عمدہ رائے کی وجہ سے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3423

عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا وَإِنَّهُمْ يَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً وَإِنِّي أَرْجُو اللهَ أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً
سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا حوض ہوگا او ر وہ ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے پاس زیادہ پیرو کار آتے ہیں، اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ میرے پاس سب سے زیادہ پیرو کار آئیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3424

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ مَرْفوعا: إِنَّ لِلهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گھومتے پھرتے ہیں اور میری امت کی طرف سے بھیجا جانے والا سلام مجھے پہنچاتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3425

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَنَائِلَةَ وَإِسَافٍ لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَّاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا تَبْكِي حَتّٰی دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ! أَرِينِي وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا: هَا هُوَ ذَا وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ وَعَقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَأَخَذَ قَبْضَةً مِّنَ التُّرَابِ فَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِّنْهُمْ مِّنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: قریش کے سردار حجر اسود کے پاس جمع ہوئے اور لات، عزی، مناة، نائلہ اور اساف کے نام پر عہد کیا کہ اگر ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں گے تو ہم سب یکبار گی آپ پر حملہ کریں گے اور جب تک آپ کو قتل نہ کر دیں چھوڑیں گے نہیں۔ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگیں: قریش کے ان سرداروں نے آپ کے خلاف عہد کیا ہے کہ اگر آپ کو دیکھیں گے تو یکبارگی حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں گے، اس طرح ان میں سےہر شخص آپ کے خون سے اپنے حصے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی وضو کا برتن لاؤ، آپ نے وضو کیا، پھر ان کے پاس مسجد میں گئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: یہ آگیا، ان کی نظریں جھک گئیں اور ٹھوڑیاں سینے سے آلگیں اوراپنی جگہوں پر دہشت زدہ ہوگئے، کسی نےآپ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا نہ کوئی آپ کی طرف کھڑا ہوا۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان کے سروں پر کھڑے ہوگئے ،مٹی کی ایک مٹھی بھری اور فرمایا :چہرے برباد ہوجائیں ۔پھر ان کی طرف پھینک دی ،ان میں سے جس شخص تک اس کے ذرات پہنچے وہ بدر کے دن کفر کی حالت میں مرا ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3426

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: يَا أُمَّهْ! قَدْ خِفْتُ أَنْ يُّهْلِكَنِي كَثْرَةُ مَالِي أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا قَالَتْ: يَا بُنَيَّ! فَأَنْفِقْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَّا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ فَخَرَجَ فَلَقِيَ عُمَرَ فَجَاءَ عُمَرُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ: بِاللهِ! مِنْهُمْ أَنَا قَالَتْ: لَا وَلَنْ أُبْلِيَ أَحَدًا بَعْدَكَ .
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے پاس عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اماں!(ام المومنین ) مجھے خدشہ ہے کہ کہیں مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کر دے، میں قریش میں سب سے زیادہ مال والا ہوں؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! اسے خرچ کرو کیوں کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میرےکچھ صحابہ ایسے ہوں گے کہ جب میں ان سے جدا ہو جاؤں گا تو وہ مجھے دیکھ نہ سکیں گے۔ وہ باہر نکلے تو عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی،اور عمر‌رضی اللہ عنہ کو بتایا تو عمر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! ان میں سے میں بھی ہوں؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں میں تمہارے بعد کسی کو بھی ہر گزعذر پیش نہیں کروں گی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3427

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُّعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ ، يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ
عبدالرحمن بن حضرمی سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا یہ لوگ برائی کا انکار کریں گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3428

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَّا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتہ نہیں گرتا وہ مسلمان کی طرح ہے، مجھے بتاؤ وہ کونسا درخت ہے؟ لوگ پہاڑوں کے درختوں کے بارے میں بتانے لگے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن میں بتانے میں شرم محسوس کر رہا تھا، پھر صحابہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں بتایئے وہ کونسا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3429

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَخَرَجَ عَلَيْنَا مِنْ بَعْضِ بُيُوتِ نِسَائِهِ قَالَ: فَقُمْنَا مَعَهُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُهُ فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ يَخْصِفُهَا فَمَضَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمَضَيْنَا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ يَنْتَظِرُهُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقَالَ: إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُّقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ هَذَا الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِينَا أَبُو بَكْرٍ وَّعُمَرُ فَقَالَ: لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ قَالَ: فَجِئْنَا نُبَشِّرُهُ قَالَ: وَكَأَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ . ( )
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ ہم بیٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ اپنی کسی بیوی کے گھر سے نکلے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، آپ کی چپل ٹوٹ گئی، علی‌رضی اللہ عنہ اسے گانٹھنے کے لئے پیچھے رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چل پڑے ہم بھی آپ کے ساتھ چلنے لگے، پھر آپ کھڑے ہو کر علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تاویل(تفسیر) کے تحفظ کے لئے قتال کرے گا جس طرح میں نے اس کے نزول پر قتال کیا۔ ہم نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو ہم میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں لیکن چپل گانٹھنے والا ہے۔ ہم علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دینے گئے لیکن ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے سن لیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3430

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ صُلَيْعٍ حَتَّى أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُّضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ عَبْدًا صَالِحًا إِلَّا فَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ حَتَّى يُدْرِكَهَا اللهُ بِجُنُودٍ مِنْ عِبَادِهِ فَيُذِلَّهَا حَتَّى لَا تَمْنَعَ ذَنَبَ تَلْعَةٍ .
ابو طفیل سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں اور عمرو بن صلیع حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مضر کا یہ قبیلہ روئے زمین پر اللہ کے کسی نیک بندے کو نہیں چھوڑےگا کہ اسے فتنے میں مبتلا نہ کر دے، اور ہلاک نہ کردے،جب تک ان کے پاس اللہ کے بندوں کا لشکر نہ پہنچ جائے جو انہیں ذلیل کرے حتی کہ یہ کسی پست زمین کے عام لوگوں کو بھی کچھ نہیں کہیں گے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3431

عَنْ سِيَابَة، أَنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: أَنَا ابْنُ الْعَوَاتِكِ .
سیابہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن فرمایا: میں میں شریف زادیوں کا بیٹا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3432

عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ أَنَسًا الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَ عَطَاءً أَنَّهُ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ صَائِمٌ فَأَمَرَ امْرَأَتَهُ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ رَسُولَ اللهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ فَقَالَ أَنَا أَتْقَاكُمْ لِلهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِ اللهِ .
عطاء بن یسار سے مروی ہے، کہ وہ ایک انصاری سے کہ انس انصاری نے عطاء کو بتایا کہ: اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھ کر آئے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کرتے ہیں۔ اس کی بیوی نے اسے بتایا تو اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ چیزوں میں رخصت دی گئی ہے، واپس جاؤ اور دوبارہ آپ سے پوچھو۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئی اور کہا کہ وہ یعنی میرا شوہر کہتا ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ چیزوں میں رخصت دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں تم سے زیادہ متقی اور اللہ کی حدود کا علم رکھنے والا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3433

عَنْ أَنَسٍ مَرفوعا:« أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَّأْخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا »
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) : میں پہلا شخص ہوں جو جنت کے دروازے کا کڑا پکڑے گا اور اسے کھٹکھٹائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3434

قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ . . ورد من حدیث ........( )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں۔ یہ حدیث ........... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3435

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِيها اللهُ .
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں محمد بن عبداللہ ہوں۔ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، مجھے پسند نہیں کہ تم مجھے میرے اس درجے سے بڑھاؤ، جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے متمکن کیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3436

عَنْ سَفِينَةَ قَالَ: كُنَّا (مَعَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ) فِي سَفَرٍ قَالَ: فَكَانَ كُلَّمَا أَعْيَا رَجُلٌ أَلْقَى عَلَيَّ ثِيَابَهُ تُرْسًا أَوْ سَيْفًا حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنْتَ سَفِينَةُ . ( )
سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ: ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب کبھی کوئی آدمی تھک جاتا تو مجھ پر اپنی ڈھال یا تلوار ڈال دیتا، جب میں نے بہت زیادہ چیزیں اٹھالیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو سفینہ(کشتی) ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3437

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَنْتَ عَتِيقُ اللهِ مِنَ النَّارِ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم اللہ کی طرف سے آگ سے آزاد کر دیئے گئے ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3438

عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: انْظُرُوا قُرَيْشًا فَخُذُوا مِنْ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَاسْمَعُوا) قَوْلِهِمْ وَذَرُوا فِعْلَهُمْ .
عامر بن شہر سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: قریش کو دیکھو، ان کی بات لے لو (اور ایک روایت میں ہے: سنو) او ران کا فعل چھوڑ دو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3439

عن أُمِّ الْفَضْلِ بنتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا مَارَّةٌ وَّالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ:يَا أُمَّ الْفَضْلِ! قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلامٍ، قَالَتْ: كَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ لا تُولِدُونَ النِّسَاءُ؟ قَالَ:هُوَ مَا أَقُولُ لَكِ، فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَائْتِنِي بِهِ، فَلَمَّا وَضَعَتْهُ أَتَتْ بِهِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ، وَأَلْبَأَهُ مِنْ رِيقِهِ، ثُمَّ قَالَ:اذْهَبِي بِهِ، فَلَتَجِدِنَّهُ كَيِّسًا، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَلَبَّسَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَكَانَ رَجُلا جَمِيلا مَدِيدَ الْقَامَةِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ إِلَيْهِ فَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ عَنْ يَّمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ:هَذَا عَمِّي، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاه بِعَمِّهِ، قَالَ الْعَبَّاسُ: بَعْضَ الْقَوْلِ يَا رَسُولُ اللهَ! قَالَ: وَلِمَ لا أَقُولُ وَأَنْتَ عَمِّي وَبَقِيَّةُ آبَائِي، وَالْعَمُّ وَالِدٌ.
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں گزر رہی تھی، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ام فضل! میں نے کہا: حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم ایک بچے کو جنم دوگی، ام فضل نے کہا: کس طرح ممکن ہے حالانکہ قریش نے قسم کھائی ہے کہ عورتوں سے بچے نہیں جنوائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح میں تم سے کہہ رہا ہوں اسی طرح ہوگا۔ جب تم بچے کو جنم دے دو تو میرے پاس لے آنا۔ جب میں نےبچےکو جنم دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کا نام عبداللہ رکھااور اسے اپنے لعاب مبارک کی گھٹی دی پھر فرمایا: اسے لے جاؤ یہ بہت ذہین ہوگا۔ کہتی ہیں کہ میں عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں بتایا،انہوں نے چادر اوڑھی پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ ایک خوب صورت دراز قد شخص تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو کر ان کی طرف گئے اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا، پھر انہیں اپنے دائیں طرف بٹھایا، پھر فرمایا: یہ میرے چچا ہیں، تم میں سے جو شخص چاہے اپنے چچا پر فخر کرے، پھر عباس رضی اللہ عنہ نے کوئی بات کہی اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں نہ کہوں، آپ میرے چچا ہیں اور میرے والدین کی نشانی ہیں اور چچا باپ کے برابر ہوتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3440

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مرفوعا: إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ وَّاللهُ يَهْدِي وَقَاسِمٌ وَّاللهُ يُعْطِي فَمَنْ بَلَغَهُ مِنِّي شَيْءٌ بِحُسْنِ رَغْبَةٍ وَحُسْنِ هُدًى فَإِنَّ ذَلِكَ الَّذِي يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ بَلَغَهُ عَنِّي شَيْءٌ بِسُوءِ رَغْبَةٍ وَّسُوءِ هُدًى فَذَاكَ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: میں تو تبلیغ کرنے والا ہوں، ہدایت تو اللہ دیتا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں ،عطا کرنے والا اللہ ہے۔میری طرف سے کسی کو کوئی چیز اچھے طریقے اور ا چھی رغبت سے پہنچے تو اس کے لئے اس میں برکت کر دی جائے گی، اور جس شخص کے پاس میری طرف سے کوئی چیز برے طریقے اور بری رغبت سے پہنچے تو یہ ایسا شخص ہے جو کھائے گا لیکن سیر نہیں ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3441

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبَهَا .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: ایک اعرابی نے اسلام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، اعرابی کو مدینے میں شدید بخارہوا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیعت واپس کر دیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، وہ پھرآپ کے پاس آیا اور کہا: میری بیعت واپس کر دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، وہ پھر آپ کے پاس آیا اور کہا: میری بیعت واپس کر دیجئے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انکار کر دیا۔ اعرابی باہر نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ بھٹی کی طرح ہے، میل کو نکال دیتا ہے اور صاف باقی رکھتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3442

عَنْ أَنْسٍ: أَن أُكَيْدِر الدّومة بَعَث إِلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جُبَّة سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَتَعَجَّب النَّاس مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِه ؟ فَوَ الَّذِي نَفَسِي بِيَدِه، لَمَنَادِيل سَعْد ابْن مَعَاذ فِي الْجَنَّة خَيْر مِّنْهَا ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَر، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! تُكْرِهُهَا وَألْبِسُهَا ؟ قَالَ: يَا عُمَر! إِنَّمَا أَرْسَلْت بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَث بِهَا وَجْهاً، فَتُصِيْب بِهَا مَالاً؛ وَذَلِكَ قَبْل أَنْ يُّنْهَى عَنِ الْحَرِيْر.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اكیدر دومہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے لئے ریشم كا ایك جبہ بھیجا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے پہنا تو لوگوں كو اس بات سے تعجب ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا: كیا تم اس كی وجہ سے تعجب كر رہے ہو؟ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! سعد بن معاذ كے رومال جنت میں اس سے بہتر ہیں، پھر وہ جبہ عمر‌رضی اللہ عنہ كو تحفے میں دے دیا۔ انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ اسے نا پسند كرتے ہیں، تو میں اسے كس طرح پہن لوں؟ آپ نے فرمایا: عمر ! میں نے یہ جبہ تمہاری طرف اس لئے بھیجا ہے تاكہ آپ اسے کسی کو بیچ کر اس كے ذریعے مال حاصل كریں۔ یہ واقعہ ریشم سے منع سے پہلے كا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3443

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: حُرٌّ وَّعَبْدٌ قُلْتُ: مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، قُلْتُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ...
عمرو بن عبسہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! اس دین پر كس شخص نے آپ كی پیروی كی ہے؟ آپ نے فرمایا: آزاد اور غلام نے ۔ میں نے كہا: اسلام كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: عمدہ بات کرنا اور كھانا كھلانا۔ میں نے پوچھا ایمان كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: صبر اور درگزر ۔ میں نے پوچھا كو نسا اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ میں نے كہا كونسا ایمان افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھا اخلاق ۔ میں نے كہا: كونسی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ میں نے كہا: كونسی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس چیز كو تیرے رب نے نا پسند كیا ہے اسے چھوڑ دینا۔ میں نے كہا: كونسا جہاد افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے گھوڑے كی كونچیں كاٹ دی جائیں اور اس كا خون بہا دیا جائے۔ میں نے كہا: كون سی گھڑی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: رات کا آخری حصہ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3444

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ. ورد من حدیث ......
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (حرا ثابت کرو) حرا، رُک جا! كیوں كہ تم پر نبی، صدیق (سچے) یا شہید كے علاوہ كوئی نہیں۔( ) یہ حدیث ..... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3445

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(زَادَ مُسْلِم وَغَيْره: وَعُثْمَانَ) حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِّرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ: اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَالِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَّإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَّا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ.
) سعید بن عاص سے مروی ہے كہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اور عثمان رضی اللہ عنہ ، دونوں نے بیان كیا كہ ابو بكر صدیق‌رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اجازت طلب، كی آپ اپنے بستر پر عائشہ رضی اللہ عنہا كی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ كو اجازت دے دی۔ اور آپ اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر چلے گئے۔ پھر عمر‌رضی اللہ عنہ نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ نے انہیں بھی اجازت دے دی، اور اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے بھی اپنا مقصد پورا كیا، پھر واپس چلے گئے۔ عثمان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: پھر میں نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ بیٹھ گئے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے كہا: اپنے كپڑے سمیٹ لو، میں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر واپس پلٹ آیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اے اللہ كے رسول! یہ میں كیا دیكھ رہی ہوں كہ آپ نے ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہ كے لئے گھبراہٹ ظاہر نہیں كی، جب كہ آپ عثمان‌رضی اللہ عنہ كے لئے اٹھ كر بیٹھ گئے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: عثمان ایك با حیا شخص ہے، مجھے خدشہ تھا كہ اسے اس حالت میں اجازت دوں تو ممکن ہے وہ اپنی ضرورت مجھ تك نہ پہنچا سكے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3446

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِـ(الْجَابِيَةِ) فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ فِينَا مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ: احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ.
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ: عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ نے (جابیہ) میں ہم سے خطاب كیا تو كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بھی ہم میں اس طرح كھڑے ہوئے تھے جس طرح میں تم میں كھڑا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے صحابہ كے بارے میں میری حفاظت كرو۔ پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں، پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں۔ پھر جھوٹ پھیل جائے گا، حتی كہ آدمی سے گواہی نہیں مانگی جائے گی وہ گواہی دے گا اور قسم نہیں اٹھوائی جائے گی لیكن وہ قسم كھائے گا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3447

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ دُعِيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَعَلَى عَدُوِّ اللهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ يَعُدُّ أَيَّامَهُ قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَتَبَسَّمُ حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ قَالَ: أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ قَدْ قِيلَ (لِي) ﮋ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟﭠ ﮊ (التوبة: ٨٠) لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ قَالَ: ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ: فَعُجِبَ لِي وَجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَوَاللهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ ﮋ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﮊ (التوبة: ٨٤) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، كہہ رہے تھے: جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا تو اس كی نماز جنازہ پڑھنے كے لئے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو بلایا گیا۔ آپ كھڑے ہوئے اور نماز پڑھانا چاہی تو میں گھوم كر آپ كے سامنے آگیا اور كہا: اے اللہ كے رسول! كیا اللہ كے دشمن عبداللہ بن ابی كی نماز جنازہ پڑھائیں گے؟ جس نے فلاں فلاں یہ دن یہ بات كہی تھی، اور دن شمار كرنے لاا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكراتے رہے،حتی كہ جب میں نے زیادہ كہنا شروع كر دیا تو آپ نے فرمایا: عمر! ہٹ جا ؤ، مجھے اختیار دیا گیا ہے، میں نے اس بات كو اختیار كیا ہے۔ مجھے كہا گیا ہے: ﮋ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟﭠ ﮊ ( التوبہ: 80) ( آپ ان كے لئے بخشش طلب كریں یا نہ كریں، اگر ان كے لئے ستر مرتبہ بھی مغفرت طلب كریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا)۔ اگر مجھے معلوم ہوتا كہ اگر میں ستر مرتبہ سے زیادہ مغفرت مانگوں اور اسے بخش دیا جائے تو میں ایسا كرتا۔ پھر آپ نے اس كی نماز پڑھی اور اس كے جنازے كے ساتھ گئے۔ اس کی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ دفن سے فارغ ہوگئے۔ (بعد میں) مجھے رسول اللہ پر جرأت اور اصرار پر بڑا تعجب ہوا حالانکہ اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں، واللہ! ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا كہ یہ دو آیتیں نازل ہوئیںﮋ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﮊ ( التوبہ84)( ان میں سے جو مرجائے اس كی نماز جنازہ كبھی بھی نہ پڑھو، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہو، كیوں كہ انہوں نے اللہ اور اس كے رسول كے ساتھ كفر كیا ہے۔ اور فسق كی حالت میں مرے ہیں۔) اس كے بعد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كسی منافق كی نماز نہیں پڑھی، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ اللہ تعالیٰ نے آپ كی روح قبض كر لی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3448

« إِنِّي أُرِيتُ فِي مَنَامِي كَأَنَّ بَنِي الحَكَم بْن أَبِي العَاص يَنزون عَلى مِنْبَري كَماَ تَنزو القِرْدَة » . ورد من ھدیث ابی ھریرة و ثوبان و مرسل سعید بن المسیب و لفظ حدیث ابی ھریرة ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال... فذکرہ قَالَ: فَمَا رَئِي النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُسْتَجْمِعاً ضَاحِكاً حَتَّى توُفِيَّ
میں نے خواب میں دیکھا کہ حکم بن ابی العاص کی اولاد میرے اس منبر پر اس طرح چڑھ گئی ہے جس طرح بندر چڑھتے ہیں کہتے ہیں کہ اس کے بعد فوت ہونے تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھل کرہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ یہ حدیث سیدنا ابوھریرۃ اور ثوبان رضی اللہ عنہما اور سعید بن مسیب سے مرسلا روایت کی گئی ہے۔ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ بھی ذکر کئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3449

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ:إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً . ( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہا گیا کہ: اے اللہ کے رسول! مشرکین کے خلاف بددعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لعنت دینے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3450

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا؟ قَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مزاح کرتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں صرف سچ بات کہتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3451

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُذْرِيِّ مَرْفُوْعاً: اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مِّنْ فَرْحِ الرَّبِّ عَزَّوَجَلَّ . ( )
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: سعد بن معاذ کی موت پر اللہ عزوجل کی خوشی کی وجہ سے عرش ہلنے لگا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3452

عَنْ أَنَس ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، قَالَ: وَجَنَازَة سَعَد مَوضُوْعَة : « اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَن » فَطَفِقَ المُنَافِقُونَ فِي جَنَازَتِهِ وَقَالُوا : مَا أَخَفَّهَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقَالَ : « إِنَّمَا كاَنَتْ تَحْمِلُه المَلَائِكَة مَعَهُمْ » . ( )
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبکہ سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا، اس جنازے کے لئے رحمن کا عرش ہل گیا۔ منافقین بھی ان کے جنازے میں چلے اور کہنے لگے: یہ کتنا ہلکا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: ان کے ساتھ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3453

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَهْلُ الْيَمَنِ أَرَقُّ قُلُوبًا وَّأَلْيَنُ أَفْئِدَةً وَأَنْجَعُ طَاعَةً
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن رقیق القلب،نرم دل اور اطاعت کے ذریعے فلاح پانے والے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3454

عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: كَانَ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دِرْعَانِ يَوْمَ أُحُدٍ فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَأَقْعَدَ طَلْحَةُ تَحْتَهُ فَصَعِدَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ . ( )
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دو زرہیں تھیں، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے تو کامیاب نہ ہوسکے، طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے نیچے بیٹھ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قدم رکھا، پھر چٹان پر چڑھ گئے زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:طلحہ نے(جنت) واجب کر لی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3455

عَنْ عَائِشَة ، مَرْفُوْعاً : « إِنَّ أَوَّلَ النِّاس هَلاَكاً قَوْمُك ، وَأَوَّلُ قُرَيْشٍ هَلَاكاً أَهْل بَيْتِي »
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ: لوگوں میں سب سے پہلے قریش ہلاک ہوں گے اور قریش میں سے میرے گھر والے سب سے پہلے ہلاک ہوں گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3456

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلَانِ فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَّا أَصَابَهُ هَذَانِ ، قَالَ: وَمَا ذَاكِ؟ قَالَتْ قُلْتُ: لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا ، قَالَ: أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُّ عَلَيْهِ رَبِّي؟ قُلْتُ: اللهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَّأَجْرًا .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے کسی مسئلے میں آپ سے بات کی، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا بات تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو لعنت ملامت کی اور سب و شتم کیا۔ جب وہ چلے گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جتنی بھلائی ان دونوں کو ملی ہے شاید ہی کسی کو ملی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ نے ان دونوں کو لعنت ملامت اور سب و شتم کی، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے اپنے رب سے کون سی شرط طے کی ہے؟ میں نے دعا کی ہے: اے اللہ میں بشر ہوں، جس بھی مسلمان کو میں نے لعنت کی یا اسے گالی دی تو یہ اس کے لئے پاکیزگی اور اجر کا باعث بنا دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3457

عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: زَارَنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَبَاتَ عِنْدَنَا وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ نَائِمَانِ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى قِرْبَةٍ لَّنَا فَجَعَلَ يَعْصِرُهَا فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَسْقِيهِ، فَتَنَاوَلَ الْحُسَيْنُ لِيَشْرَبَ فَمَنَعَهُ وَبَدَأَ بِالْحَسَنِ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ! كَأَنَّهُ أَحَب إِلَيْكَ، فقَالَ: لا ولكنه اسْتَسْقَى أَوَّلَ مَرَّةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي وأياكِ وَهَذَيْنِ، وَهَذَا الرَّاقِدَ، يَعْنِي عَلِيًّا، يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ . یعنی فاطمة وولديها: الحسن والحسين
ابو فاختہ سے مروی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ملاقات کرنے کے لئے آئے۔ رات ہمارے پاس گزاری، حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سوئے ہوئے تھے۔ حسن‌رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزہ کے پاس گئے اور اس میں سے پیالے میں پانی انڈیلا، پلانے لگے تو حسین رضی اللہ عنہ نے پیالہ پکڑ لیا اور پینا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا اور حسن رضی اللہ عنہ سے ابتداء کی، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! لگتا ہے حسن آپ کو زیادہ پیارا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں حسن نے پہلے پانی مانگا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور تم یہ دونوں اور یہ سونے والا( یعنی علی) قیامت کے دن ایک مکان میں ہوں گے۔ یعنی فاطمہ اور اس کے دو بیٹے: حسن اور حسین ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3458

عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِأُنَاسٍ مِّنْ أَصْحَابِهِ فِي الْغَضَبِ فَيَنْطَلِقُ نَاسٌ مِّمَّنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ حُذَيْفَةَ فَيَأْتُونَ سَلْمَانَ فَيَذْكُرُونَ لَهُ قَوْلَ حُذَيْفَةَ فَيَقُولُ سَلْمَانُ: حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ فَيَرْجِعُونَ إِلَى حُذَيْفَةَ فَيَقُولُونَ لَهُ: قَدْ ذَكَرْنَا قَوْلَكَ لِسَلْمَانَ فَمَا صَدَّقَكَ وَلَا كَذَّبَكَ فَأَتَى حُذَيْفَةُ سَلْمَانَ وَهُوَ فِي مَبْقَلَةٍ فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ! مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَدِّقَنِي بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ سَلْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ فِي الْغَضَبِ لِنَاسٍ مِّنْ أَصْحَابِهِ وَيَرْضَى فَيَقُولُ فِي الرِّضَا لِنَاسٍ مِّنْ أَصْحَابِهِ أَمَا تَنْتَهِي حَتَّى ثورت رِجَالًا حُبَّ رِجَالٍ وَرِجَالًا بُغْضَ رِجَالٍ وَحَتَّى تُوقِعَ اخْتِلَافًا وَفُرْقَةً؟ وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ فَقَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ مِّنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فِي غَضَبِي فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَّلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ صَلَاةً يَّوْمَ الْقِيَامَةِ . وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ
عمرو بن ابی قرہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے، انہوں نے کچھ باتوں کا تذکرہ کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت میں اپنے صحابہ سے کہی تھیں۔حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جن لوگوں نے یہ باتیں سنیں وہ سلمان‌رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی باتوں کا ذکر کیا سلمان‌رضی اللہ عنہ نے کہا: حذیفہ اپنی کہی ہوئی باتوں کے متعلق زیادہ جانتے ہیں۔ وہ حذیفہ‌رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور ان سے کہا: ہم نے آپ کی بات سلمان‌رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھی تو نہ انہوں نے آپ کی تصدیق کی نہ تکذیب کی۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سلمان رضی اللہ عنہ سبزیوں کے کھیت میں تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سلمان! جو بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، اس بارے میں میری تصدیق کرنے سے تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ہوا کرتے تھے تو غصے میں اپنے صحابہ سے کوئی بات کہہ دیا کرتے تھے اور خوش ہوتے تو خوشی میں صحابہ سے کوئی بات کہہ دیا کرتے تھے تم باز نہیں آؤ گے حتی کہ لوگوں کے دلوں میں بعض کی محبت اور بعض کی نفرت اور ان میں اختلاف و افتراق ڈال دو گے۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: میری امت میں سے میں نے جس شخص کو گالی دی ہے یا غصے میں لعنت کی ہے، تو میں بھی آدم کی اولاد ہوں جس طرح دوسرے لوگ غصے ہوتے ہیں میں بھی غصے ہوتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃللعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ اے اللہ! قیامت کے دن اس کو ان کے لئے رحمت کا باعث بنا۔ واللہ! یا تو تم باز آجاؤ وگرنہ میں عمر‌رضی اللہ عنہ کو (شکایت)لکھتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3459

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِّنْ قُرَيْشٍ يسألنه وَيَسْتَكْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَخَلَ والنبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَضْحَكُ فَقَالَ: أَضْحَكَ اللهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ! بأبي أنت وأمي فَقَالَ: عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ تبادرن الْحِجَابَ فَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَّهَبْنَ يَا رَسُولَ اللهِ. ثُمَّ أقبل عليهن ، فقال: يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ! أَتَهَبْنَنِي وَلَم تَهَبْنَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقُلْنَ: إنَّك أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ
محمد بن سعد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ سے بہت زیادہ سوالات کر رہی تھیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اونچی آواز میں گفتگو کر رہی تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو وہ جلدی سے اوٹ میں ہوگئیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو مسکراتا رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر تعجب ہے جو میرے پاس بیٹھی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے اوٹ میں ہو گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کا زیادہ حق ہے کہ یہ آپ سے ڈریں ،پھر ان عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: اپنی جان کی دشمنو! تم مجھ سے ڈر رہی ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں؟ کہنے لگیں: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں زیادہ سخت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن الخطاب ! بس کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان تم سے جس گلی میں بھی ملتا ہے تو وہ دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3460

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: اشْتَكَى النَّاس عَلِيًّا – رضوان الله عليه- فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِينَا خَطِيبًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ! لَا تَشْكُوا عَلِيًّا فَوَاللهِ! إِنَّهُ لَأَحْسَنَ فِي ذَاتِ اللهِ أَوْ فِي سَبِيلِ اللهِ مِنْ أَنْ يُّشْكَى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ : لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر فرمانے لگے: لوگو! علی کی شکایت نہ کرو، واللہ! یہ اللہ کے بارے میں یا اللہ کے راستے میں اس بات سے بہتر ہے کہ اس کی شکایت کی جائے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3461

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مرفوعا:الأَخَوَاتُ الْأَرْبَع : مَيْمُونَةُ ، وَأُمُّ الْفَضْلِ ، وسَلْمَى ، وَأَسْمَاءُ بنتُ عُمَيْسٍ - أُخْتُهُنَّ لأُمِّهِنَّ – مُؤْمِنَات
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: چار بہنیں : میمونہ ،ام فضل،سلمی اور اسماءبنت عمیس رضی اللہ عنہن،مومنات ہیں۔ یہ اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہا ماں کی طرف سے ان کی بہن تھیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3462

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَّالنَّاسُ دِثَارٌ. وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ اسْتَقْبَلُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَّاسْتَقْبَلَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا لَّسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَار
سھل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار تحتانی لباس یعنی جسم سے ملا ہوا کپڑا، اور لوگ اس سے اوپر کا کپڑا ہیں،اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار کسی اور وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا ، اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3463

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اَلْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَالنَّاسُ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُّحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُّسِيئِهِمْ . جآء من حدیث ....... ( )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصارمیرے مخلص ساتھی اور ہم راز ہیں۔ لوگ زیادہ ہوں گے اور یہ انصار کم ہو جائیں گے۔ ان کے اچھے شخص سے قبول کرو اور ان کے برے شخص سے در گزر کرو۔ یہ حدیث ........ سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3464

) عَنِ الْبَرَاءَبن عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعاً: اَلْأَنْصَارُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ .
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: انصار سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور صرف منافق ہی انصار سے نفرت کرتا ہے۔ جس شخص نے ان سے محبت کی اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرے گا اور جس شخص نے ان سے نفرت کی اللہ تعالیٰ بھی اس سے نفرت کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3465

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : بَشِّرُوا خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ في الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . جَآء من حدیث ......
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدیجہ کو جنت میں یاقوت کے ایک گھر کی خوشخبری دے دو، نہ اس میں شور ہو گا نہ تھکاوٹ۔ یہ حدیث..... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3466

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: بَعَثَنِي إِلَى (قومي) (بَاهِلَةَ)،(فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَأَنَا طَاوٍ)، فَأَتَيْتُ وَهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، (وَفِي رِوَايَةٍ: يَأكُلُوْنَ دَمًا)، فَرَجَعُوا بِي وَأَكْرَمُونِي، قَالُوا: مَرْحَبًا بِالصُّدَيِّ بن عَجْلانَ، قَالُوا: بَلَغَنَا أَنَّكَ صَبَوْتَ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ. قُلْتُ: لا وَلَكِنْ آمَنْتُ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ، وَبَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَيْكُم أَعْرِضُ عَلَيْكُمُ الإِسْلامَ وَشَرَائِعَهُ ،وَقَالُوا: تَعَالَ كُلْ، فَقُلْتُ: (وَيْحَكُمْ إِنَّمَا) جِئْتُ لأَنْهَاكُمْ عَنْ هَذَا ، وَأَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، أَتَيْتُكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِهِ،(فَجَعَلْتُ أَدْعُوْهُمْ إِلَى الْإِسْلَام) فَكَذَّبُونِي وَزَبَرُونِي،فَقُلْتُ لَهُمْ: وَيْحَكُمُ ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِّنْ مَّاءٍ، فَإِنِّي شَدِيدُ الْعَطَشِ ، قَالَ: وَعَلَيَّ عِمَامَتِي، قَالُوا: لا، وَلَكِنْ نَدَعُكَ تَمُوتُ عَطَشًا،فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا جَائِعٌ ظَمْآنُ قَدْ نَزَلَ بِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، قَالَ: فَاعْتَمَمْتُ وَضَرَبْتُ رَأْسِي فِي الْعِمَامَةِ، وَنِمْتُ فِي الرَّمْضَاءِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ،فَأُتِيتُ فِي مَنَامِي بِشَرْبَةٍ مِّنْ لَبَنٍ،لَمْ يَرَ النَّاسُ أَلَذَّ مِنْهُ، فَأَمْكَنَنِي مِنْهَا فَشَرِبْتُ ، وَرَوَيْتُ وَعَظُمَ بَطْنِي، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَتَاكُمْ رَجُلٌ مِّنْ خِيَارِكُمْ وَأَشْرَافِكُمْ فَرَدَدْتُّمُوهُ، فَاذْهَبُوا إِلَيْهِ فَأَطْعِمُوهُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مَا يَشْتَهِي، فَأَتَوْنِي بِطَعَامٍ، قُلْتُ: لا حَاجَةَ لِي فِي طَعَامِكُمْ وَشَرَابِكُمْ، فَإِنَّ اللهَ قَدْ أَطْعَمَنِي وَسَقَانِي، فَنَظَرُوا إِلَى الْحَالِ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا،فأريتهم بطني فَنَظَرُوا فَآمَنُوا بِي، وَبِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(فأَسْلَمُواعَنْ آخِرَهُمْ)
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم (باہلہ) کی طرف بھیجا۔ (جب میں ان کے پاس پہنچا تو سخت بھوکا تھا) میں ان کے پاس آیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔( اور ایک روایت میں ہے: خون کھا رہے تھے۔) وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے عزت دی(کہنے لگے: صدی بن عجلان کو خوش آمدید، ہمیں خبر ملی ہے کہ تم نے اس شخص کی طرف مائل ہوگئے ہو اور بے دین ہو گئے ہو میں نے کہا: نہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آیا ہوں، اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ میں تمہارے سامنے اسلام اور اس کے اصول پیش کر سکوں) کہنے لگے: آؤ،کھاؤ، میں نے کہا: (برا ہو) میں تو اس سے منع کرنے آیا ہوں، اور میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ۔(میں نے انہیں اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو) انہوں نے مجھے جھٹلایا اور مجھے دھمکانے ڈانٹنے لگے۔ ( میں نے ان سے کہا: افسوس! مجھے تھوڑا پانی تو دے دو میں شدید پیاسا ہوں ۔میرے سر پر عمامہ بندھا ہوا تھا وہ کہنے لگے: نہیں ہم تمہیں اس حالت میں چھوڑیں گے کہ تم پیاسے مر جاؤ)۔ میں بھوک اور پیاس کی حالت میں وہاں سے چل پڑا، مجھے شدید تکلیف محسوس ہو رہی تھی اور میں نے اپنا سر عمامہ پر رکھ لیا۔ میں(شدید گرمی میں تپتی ہوئی زمین پر)سو گیا۔ مجھے خواب میں دودھ کا ایک مشروب پلایا گیا، لوگوں نے اس سے لذیذ کوئی چیز نہیں پی ہوگی، میں نے برتن پکڑ لیااور سیر ہو کر پیا، میرا پیٹ بوجھل ہوگیا۔ پھر انہی لوگوں نے کہا: تمہارے پاس تمہارا ایک بہترین اور شریف آدمی آیا تھا اور تم نے اسے لوٹا دیا، جاؤ اسے کھانا کھلاؤ، اور جو چاہتا ہے پلاؤ۔ وہ میرے پاس کھانا لائے میں نے کہا: مجھے تمہارے کھانے پینے کی کوئی ضرورت نہیں ، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کھلا دیا ہے اور پلا بھی دیا ہے۔ انہوں نے میرا حال دیکھا ( میں نے انہیں اپنا پیٹ دکھایا(جب انہوں نے یہ صورتحال) دیکھی تو وہ مجھ پر اور جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لایا تھا اس پر ایمان لے آئے( اور ان کے آخری شخص نے بھی اسلام قبول کر لیا)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3467

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ فَنَادَى عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللهِ! اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللهِ! بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ: وَمَاذَا؟ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَاتَ يَوْمٍ وَّعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَغْضَبَكَ أَحَدٌ؟ مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ: بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ. قَالَ: فَقَالَ: هَلْ لَّكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ ، فَمَدَّ يَدَهُ فَقَبَضَ قَبْضَةً مِّنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا . ( )
عبداللہ بن نجی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ علی‌رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے،وہ ان کے وضو کا برتن (لوٹا) اٹھایا کرتے تھے۔ جب وہ (نینوی) کے قریب پہنچے جبکہ علی‌رضی اللہ عنہ صفین کی طرف جا رہے تھے۔ تو علی‌رضی اللہ عنہ نے آواز دی :ابو عبداللہ! رکو، ابو عبداللہ! فرات کے کنارے رکو، میں نے کہا: کیا ہوا؟ علی‌رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا،آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے؟ آپ کی آنکھوں آنسو کیوں جاری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، بلکہ جبریل ابھی ابھی میرے پا س سے اٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ حسین فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند کرو گے کہ میں اس کی مٹی کی خوشبو سنگھاؤں؟ علی‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ آگے بڑھایا، آپ نے مٹی کی ایک مٹھی مجھے دی، مجھے بھی اپنی آنکھوں پر قابونہ رہا اور آنسو نکل آئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3468

قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا جَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ وَّعُمَرُ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِّنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ ، فَنَزَعَ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ . جآء من حدیث ........ ( )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک کنویں سے پانی نکال رہا تھا کہ میرے پاس ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ آئے۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے ڈول پکڑا اور اس سے ایک یا دو ڈول نکالے، ان کے پانی کھینچنے میں تھوڑی کمزوری تھی، اللہ انہیں معاف کرے۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو برل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈول لےلیا پھر تو وہ بہت بڑا ڈول ثابت ہوا وہ تیزی سے پانی نکالنے لگے۔میں نے لوگوں میں کوئی ایسا باکمال شخص نہیں دیکھا جو اس طرح کام کرتا ہو۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے مویشی سیراب کرلئے اور پانی کے پاس ٹھہر گئے۔یہ حدیث ....... سےمروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3469

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَّجُرُّهُ . قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: الدِّينَ
ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے مروی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا ،میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے۔ ان پر قمیضیں تھیں ،کچھ سینے تک تھیں، کچھ اس سے نیچے، میرے سامنے عمر رضی اللہ عنہ آئے تو ان پر ایسی قمیض تھی جسے وہ کھینچ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3470

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَطَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أخطط، ثم قَالَ: تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار خط کھینچے، پھر فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتےہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کی افضل عورتیں، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ،مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم، فرعون کی بیوی ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3471

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن عُمَر قَالَ : « تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَإِنَّ نَمْرَة مِّنْ صوف تَنْسِجُ لَه »
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو اون کا ایک؟؟؟، آپ کے کے لئے بنا جا رہا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3472

عَنِ البَرَاء بْن عَازِب ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَتَي فَقِيْلَ: يَا رَسُولَ الله! إِنَّ أَبَا سُفْيَان بْن الحَارِث بْن عَبْدِ المُطَّلِبْ يَهْجُوكَ فَقَامَ ابْنُ رَوَاحَة ، فَقَال : يَا رَسُولَ اللهِ! إِيْذَنْ لِي فِيْهِ ، فَقاَلَ : « أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ثَبَّتَ اللهُ ؟ » قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ : فَثَبَّتَ اللهُ مَا أَعْطَاكَ مِنْ حُسْنِ تَثْبِيْت مُوسَى وَنَصَرا مِثْل مَا نَصَرُوا قَالَ : « وَأَنْتَ يَفْعَل اللهُ بِكَ خَيْرًا مِّثْل ذَلِك » قَالَ : ثُمَّ وَثَبَ كَعْب فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ! إِيْذَنْ لِي فِيْه قَالَ : « أَنْتَ الَّذِي تَقُول هَمَّتْ » . قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ يَا رَسُولَ الله : هَمَّتْ سَخِيْنَة أَنْ تُغَالِبَ رَبَّهَا فَلَيَغْلِبَنَّ مَغَالِبَ الغلَاب قَالَ : « أَمَا إِنَّ اللهَ لَمْ يَنْسَ لَكَ ذَلِكَ » قَالَ : ثُمَّ قَامَ حَسَّان ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ! إِيْذَنْ لِي فِيْهِ وَأَخْرَج لِسَاناً لَه أَسْوَد فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ! إِيْذَنْ لِي إِنْ شِئْتَ أَفَريتُ بِهِ المزاد فَقَالَ : « اذْهَبْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ لِّيُحَدِّثَك حَدِيْث القَوْمِ وَأَيَّامَهُمْ وَأَحْسَابَهُمْ ، ثُمَّ اهْجهُمْ وَجِبْرِيْلُ مَعَكَ »
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان بن حارث آپ کی ہجو کر رہا ہے۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس بارے میں کچھ کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہی ہو جو کہتے ہو: اللہ تعالیٰ ثابت رکھے۔۔۔؟ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نےکہا : اے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ آپ کوثابت قدم رکھے اللہ نے آپ کو جو موسی کی طرح ثابت قدمی دی ہے اور جس طرح موسی کی مددکی آپ کی بھی مددکرے۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارا یہ کام نہیں بھولے گا۔ ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : ہی تو ہو جوکہتے ہو جنگ نے ارادہ کیا :حسان رضی اللہ عنہ نے کہا :جی ہاں، میں نے کہا:اے اللہ کے رسول جنگ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اپنے مالک پر غالب آجائے ۔لیکن اس کا مالک جنگ کے ہر میدان اور ماقع پر اس جنگ پر غالب آئے گا۔ پھر حسان‌رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ اس بارے میں کچھ کہہ سکوں، اور اس (ابو سفیان بن حارث) کے بارے میں سیاہ زبان نکالوں۔ اے اللہ کے رسول! اگر آپ چاہیں تو مجھے اجازت دیں کہ اس کے بارے میں بہت کچھ کہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر کے پا سجاؤ تاکہ وہ تمہیں اس قوم کے نسب کے بارے میں، ایام کے بارے میں اور ان کے اپنے بارے میں بتائے۔ پھر ان کی ہجو کرو، جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔ ترجمہ ناقص ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3473

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَالَسْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَكْثَرَ مِنْ مِّائَةِ مَرَّةٍ فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ سَاكِتٌ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ . ( )
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سو مرتبہ سے زائد بیٹھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اشعار کہا کرتے تھے۔ اور جاہلیت کی کچھ چیزوں کا تذکرہ کرتے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌خاموش بیٹھے رہتے، کبھی کبھی مسکرا دیتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3474

عَنْ جَابِر بْن عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : أَمَرَ أَبِي بِخَزِيْرَة فَصَنَعْتُ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : فَأَتَيْتُه وَهُوَ فِي مَنْزِلِه قَالَ : فَقَالَ لِي : « مَاذَا مَعَكَ يَا جاَبِر ، أَلَحْمٌ ذَا ؟ » قَالَ: قُلْتُ : لَا، قَالَ : فَأَتَيْتُ أَبِي ، فَقَالَ لِي : هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلَّا سَمِعْتُه يَقُول شَيْئاً؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ ليِ : « مَاذاَ مَعَك يَا جَابِر ، أَلَحْمٌ ذَا ؟ » قَالَ : لَعَلَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ يَّكُونَ اشْتَهى ، فَأَمَرَ بِشَاةِ لَّنَا دَاجِنٌ فُذُبِحَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِّيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي : مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِر؟ فَأَخْبَرْتُه ، فَقَالَ : «جَزَى اللهُ الأَنْصَار عَنَّا خَيْرًا ، وَلاَ سِيْمَا عَبْد الله بْن عَمْرو بْن حَرَام ، وَسَعَد بْن عُبَادة »
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد نے مجھے کھچڑی بنانے کا حکم دیا، پھر مجھے حکم دیا تو میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، میں آپ کے پاس آیا تو آپ اپنے گھر میں تھے ۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سے کہا: جا بر تمہارے پاس کیاہے؟ کیا گوشت ہے؟ میں نے کہا: نہیں، پھر میں اپنے والد کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھ سےکہا:کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ کیا تم نے ان سے کوئی بات سنی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: جابر تمہارے پاس کیا ہے؟ کیا یہ گوشت ہے؟ میرے والد نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گوشت کھانے کی خواہش رکھتے ہوں۔ انہوں نے گھر کی پالتو بکری کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اسے ذبح کیا گیا اور بھوننے کا حکم دیا تو وہ بھونی گئی، مجھے حکم دیا تو میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر تمہارے پاس کیا ہے؟ میں نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کہا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو بہترین بدلہ دے، خاص طور عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3475

عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ فَقَالَ وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حِجْرِهِ وَقَالَ الحَسَنُ مِنِّي وَالْحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا .
خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مقدام بن معدیکرب اور عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما فوت ہو چکے ہیں؟ مقدام رضی اللہ عنہ نے اناللہ پڑھی، معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تم اسے مصیبت سمجھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھایا اور فرمایا: حسن مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3476

) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ . ورد من حدیث .......
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین نوجوانان اہل جنت کے سردار ہیں۔ یہ حدیث ......... سے مروی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3477

الصحيحة رقم (796) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ ، بَاب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رضی اللہ عنہ ، رقم (3701)
یعلی بن مرہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسین مجھ سے ہےاور میں حسین سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔حسین ایک بہترین نواسہ ہے ،(یا بہترین شخص ہے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3478

عَنِ ابْنِ شَهَابٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: حَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِّنْ بَنِي الْحَارِثِ
ابن شہاب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضر موت بنو حارث سے بہتر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3479

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَّأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَّمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَّسَالِمٍ مَّوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار لوگوں سے قرآن سیکھو۔ عبداللہ بن مسعود سے، ابی بن کعب سے، معاذبن جبل سے، اور سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہا سے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3480

) عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہم بْنِ مَوَلَةَ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَّسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ: اَللهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ ، قَالَ: وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ . قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَّظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ وَلَا يُسْأَلُونَهَا. قَالَ: وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ
ابو نضرہ، عبداللہ بن مولہ سے بیان کرتے ہیں کہ: میں اہواز میں سے گزر رہا تھا، اچانک میں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک آدمی خچر پر سوار چل رہا ہے اور کہہ رہا ہے : اے اللہ! اس امت میں سے میرا زمانہ چلا گیا(میرا وقت ختم ہوگیا )، مجھے بھی ان کے ساتھ ملا دے، میں نے کہا: مجھے بھی اپنی دعا میں شامل کر لو، اس نے کہا: اور میرے اس ساتھی کو بھی اگریہ چاہے تو ،پھر کہنے لگا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ میرے زمانے والے ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا ظاہر ہوگا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی۔ابو نضرہ نے کہا :میں نے دیکھا تو وہ ابو بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3481

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعاً: خَيْرُ أٌمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ (ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ) وَاللهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جن میں مجھے بھیجا گیا ہے، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں(پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔)واللہ اعلم ،آپ نے تیسری صدی کا ذکر کیا یا نہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا پے کو پسند کریں گے ،گواہی مانگنے سے پہلے ہی گواہی دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3482

عَنْ عِمْرَان بْنِ حُصَيْنٍ مرفوعا: خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَّشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَفْشُو فِيهِمْ السِّمَنُ
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میری بہترین امت وہ لوگ ہیں جس زمانے میں مجھے بھیجا گیا ہے ۔ پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔ واللہ اعلم آپ نے تیسری صدی کا ذکر کیا یا نہیں۔پھر ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی، نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے، خیانت کریں گے ،امانت دار نہیں ہوں گے۔ اور ان میں موٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3483

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوعاً: خَيْرُ أَهْل المَشْرِقْ عَبْدُ القَيْس؛ أَسْلَم النَّاسُ كَرْهًا وَّأَسْلَمُوا طَائِعِيْن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ : اہل مشرق میں بہترین لوگ عبدالقیس ہیں، لوگ مجبوری میں مسلمان ہوئے اور وہ خوشی سے برضا و رغبت مسلمان ہوئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3484

عَنْ أُسَيْرِ بْنَ جَابِرٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ لأويس القرني: استغفر لي . قال: أنت أحق أن تستغفر لي ، إنك من أصحاب رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فقال: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ مِّنْ قَرْن يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ
اسیر بن جابر سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اویس قرنی سے کہا: میرے لئے بخشش کی دعا کیجئے۔ اویس قرنی نے کہا: آپ کا زیادہ حق ہے کہ میرے لئے بخشش طلب کریں، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بہترین تابعی قرن قبیلے کا اویس نامی آدمی ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3485

عَنْ عَمَر بْن الخَطَّاب قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خَيْرُ النَّاس قَرْنِيَ الَّذِي أَنَا مِنْهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ [ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ] ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَام يَّفْشُو فِيْهِمُ السِّمَن يَشْهَدُوْنَ وَلَا يُسْتَشْهَدُوْن وَلَهُمْ لَغْطٌ فِي أَسْوَاقِهِمْ.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین لوگ میرے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں(پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں)۔ پھر ایسے لوگ پیدا ہونگے جن میں موٹاپا غالب ہوگا، گواہی دیں گے حالانکہ گواہی مانگی نہیں جائے گی اور بازاروں میں شور شرابہ کریں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3486

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مَرْفُوعاً: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَّتَسَمَّنُونَ يُحِبُّونَ السِّمَنَ ينطقون الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا
عمران بن حینل‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے ہوں گے، موٹاپے کو پسند کریں گے، گواہی مانگنے سے پہلے ہی گواہی دیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3487

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعاً: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قوم تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ .
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہی ان کی قسم سے سبقت لے جائے گی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3488

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعاً: خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بہترین عورتیں جو اونٹوں کی سواری کرتی ہیں قریش کی نیک عورتیں ہیں، اپنے بچے پر بچپن میں نرم اور اپنے شوہر کے مال و منال کا خیال رکھنے والی ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3489

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوعاً: « خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي مِنْ بَعْدِي »
ابو ہریر ہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے گھر والوں کے لئے بہترین ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3490

عَنْ عَامِر الشَّعْبِي قَالَ: شَبَّه رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَلَاثَة مِّنْ نَّفَرٍ اُمَيَّةَ، فَقَالَ : دِحْيَة الكَلْبِيِّ يُشْبِه جِبْرِيْل ، وَعُرْوَة بْن مَسْعُود الثَّقَفِي يُشْبِه عِيْسَى ابْن مَرْيَم ، وَعَبْدُ العُزَّى يُشْبِه الدَّجَّال
عامر شعبی سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیہ کے تین آدمیوں کو تشبیہ دی ،دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو جبرائیل سے مشابہت دی، عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کو عیسی بن مریم سے تشبیہ دی اور عبدالعزی کو دجال سے تشبیہ دی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3491

عَنْ عَبْدِ الله بْن بُرَيْدَة ، عَنْ أَبِيْه ، مَرْفُوعاً : « دَخَلْتُ الجَنَّةَ فَاسْتَقْبَلَتْنِي جَارِيَة شَابَّة فَقُلْتُ : لِمَنْ أَنْتِ ؟ » قَالَتْ : أَنَا لِزَيْد بْن حَارَثِة رضی اللہ عنہ .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں جنت میں داخل ہوا تو ایک نوجوان لڑکی نے میرااستقبال کیا۔ میں نے کہا: تم کس کے لئے ہو؟ اس نے کہا: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے لئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3492

عَنْ عَائِشَة  مَرْفُوعاً: « دَخَلْتُ الجَنَّة فَسَمِعْتُ فِيْهَا قِرَاءَةً قُلْتُ : مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: حَارِثَة بْن النُّعْمَان كَذَلِكُمْ البِرّ كَذَلِكُمْ البِرّ » ، (وَكَانَ أَبَرَّ النَّاس بِأُمِّه)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے قراءت کی آواز سنی۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ فرشتے کہنے لگے: حارثہ بن نعمان، اسی طرح نیک شخص ہوتا ہے ،اسی طرح نیک شخص ہوتا ہے ۔حارثہ‌رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے بہت اچھا سلوک کرنے والے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3493

عَنِ ابْن عُمَر ، قَالَ : ذُكِرَ حَاتِمُ عِنْدَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، فَقَالَ : « ذَاكَ رَجُلٌ أَراَدَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ »
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاتم کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسا آدمی تھا جب کسی کام کا ارادہ کرتا تو اسے پالیتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3494

عَنْ مُجَاشِع بن مسعود قَالَ: أَتَيْتُ رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأَخِي مجالد بَعْدَ الْفَتْحِ فقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ جِئْتُكَ بِأَخِي مجالد لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فقَالَ: ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا . فَقُلْتُ: فعَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ يا رسول الله؟ قَالَ: أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَاد
مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی مجالد کو لایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس اپنے بھائی مجالد کو لایا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل ہجرت، ہجرت کا اجر لے گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس بات پر آپ اس سے بیعت لیں گے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے اسلام، ایمان اور جہاد پر بیعت لوں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3495

عَنْ عَمْرو بْن حُرَيث قَالَ : « ذَهَبْتْ بِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم (وَأَناَ غُلَام) فَمَسَح عَلَى رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالرِّزْق» ، (وَفِي رِوَايَة: بِالْبَرْكَة)
عمرو بن حریث‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی( میں بچہ ہی تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے رزق کی دعا کی۔(اور ایک روایت میں ہے: برکت کی دعا کی)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3496

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِي قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : رَأَتْ أُمِّي كأَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری والدہ نے دیکھا ،گویا ان سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3497

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : رَأَيْتُ جَعْفَرَ بن أَبِي طَالِبٍ ، مَلَكًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ ، مع الملائكة ِبجَنَاحَيْنِ .رویمن حدیث.......
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو جنت میں فرشتے کی صورت میں اڑتے ہوئے دیکھا، فرشتوں کے ساتھ دو پروں کےذریعے۔ یہ حدیث ......... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3498

عَنِ ابْنِ عُمَر قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « رَأَيْتُ غَنَماً كَثِيْرة سَوْدَاء دَخَلَتْ فِيْهَا غَنَم كَثِيْرة بِيْض » قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌؟ قَالَ: « العَجَم يَشْرَكُونَكُمْ فِي دِيْنِكُمْ وَأَنْسَابِكُمْ » قَالُوا : العَجَم يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: «لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِّنَ العَجَم وَأَسْعَدَهم بِهِ النَّاس »
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بہت زیادہ کالی بکریاں دیکھیں، جن میں بہت زیادہ سفید بکریاں داخل ہوگئی ہیں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجمی لوگ تمہارے دین اور نسب میں شامل ہو جائیں گے۔ صحابہ نے تعجب سے کہا: اے اللہ کے رسول! عجمی لوگ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایمان ثریا کے ساتھ معلق ہوتا توبھی عجم کے کئی لوگ اسے حاصل کر لیتے اور کتنے خوش نصیب لوگ ہوتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3499

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ وَّرَأَيْتُ بَقَرًا مُّنَحَّرَةً فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ وَأَنَّ الْبَقَرَ، هُوَ وَاللهِ! خَيْرٌ قَالَ: فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! وَاللهِ! مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ؟ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ: شَأْنَكُمْ إِذًا قَالَ: فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ قَالَ: فَقَالَ الْأَنْصَارُ: رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأْيَهُ فَجَاءُوا فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ! شَأْنَكَ إِذًا فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَّضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے(خواب میں) اپنے آپ کو دیکھا، گویا کہ میں ایک مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں۔ اور ذبح کی ہوئی ایک گائے دیکھی، میں نے تعبیر کی کہ مضبوط زرہ مدینہ ہے اور گائے، واللہ! خیر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: اگر ہم مدینے میں ٹھہرے رہیں اوراگر وہ یہاں داخل ہو جائیں تو ہم ان سےقتال کریں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! واللہ! وہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے خلاف مدینے میں داخل نہ ہو سکے تو اب اسلام میں وہ ہمارے خلاف مدینے میں کس طرح داخل ہو سکتے ہیں؟ عفان نے اپنی حدیث میں کہا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب جو تمہاری مرضی، اور اپنی زرہ پہن لی، انصار نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے رد کر دی، وہ آئے اور کہنے لگے: اے للہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جو آپ کی مرضی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لائق نہیں کہ جب وہ اپنی زرہ پہن لے تو قتال کرنے سے پہلے اسے اتار دے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3500

عَنْ جَابِرٍ : رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا بِلَالٌ وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ قَالَ: قُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ: فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ عُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، يَا رَسُولَ اللهِ! أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ؟
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں نےدیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوگیا ہوں۔ میں رمیصاء ابو طلحہ کی بیوی کے پاس سے گزرا، اور میں نے اپنے سامنے چلنے کی آواز سنی تو میں نے کہا: جبرائیل یہ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا: یہ بلال ہے، اور میں نے ایک سفید محل دیکھا اس کے صحن میں ایک لڑکی تھی ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کے لئے ہے؟ جبرائیل نے کہا: عمر بن خطاب کے لئے۔میں نے اس میں داخل ہو کر اسے دیکھنے کا ارادہ کیا تو مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3501

عَنْ عَبْدِاللهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: رَضِيتُ لأُمَّتِي بِمَا رَضِيَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت کے لئے اس پر راضی ہوا جس پر ام عبد(عبد اللہ بن مسعود)کا بیٹا راضی ہوا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3502

عَنْ عُرْوَة ، عَنْ عَائِشَة ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : « زَيْنَبُ خَيْرٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَفْضَل) بَنَاتِي أُصِيْبَت بِي » . فَبَلَغَ ذَلِك عَلِيّ بْن حُسَيْن ، فَأَتَاهُ قَالَ: مَا حَدِيْث يَّبْلُغُنِي عَنْك تَنْتَقِصُ فِيْهِ فَاطِمَة ؟ فَقَالَ عُرْوَة : مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا ، وَإِنِّي أَنْتَقِصُ فَاطِمَة حَقًّا هُوَ لَهَا ، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَكَ عَلَيَّ أَنْ لَّا أُحَدِّث بِهِ أَبَداً .
عروہ سے مروی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زینب میری بہترین اور ایک روایت میں ہے :افضل بیٹی ہے، میری وجہ سے اسے تکلیف پہنچی ۔ یہ بات علی بن حسین تک پہنچی تو وہ عروہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یہ کونسی حدیث ہے جو مجھ تک پہنچی ہے،جس میں تم فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تنقیص کر رہے ہو؟ عروہ نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے فلاں فلاں چیز ہو اور میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے حق میں کمی کروں ۔رہی یہ بات تو اس کے بعد مجھ پر تمہارے لئے لازم ہے کہ میں یہ حدیث کبھی بھی بیان نہیں کروں گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3503

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الزُّبَيْرُ ابْنُ عَمَّتِي وَحَوَارِيِّیْ مِنْ أُمَّتِي
جابر‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر میری پھوپھی کا بیٹا ہے اور میری امت سے میرا حواری ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3504

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوْعاً : « سَأَلْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ الشَفَاعَة لِأُمَّتِي فَقَالَ لِي : لَكَ سَبْعُوْنَ أَلْفًا يَّدْخُلُوْنَ الْجَنَّة بِغَيْرِ حِسَاب ، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ! زِدْنِي ، فَقَالَ: فَإِنَّ لَكَ هَكَذاَ فَحَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَعَنْ يَّمِيْنِه ، وَعَنْ شِمَالِه »
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: میں نے اللہ عزوجل سے اپنی امت کی شفاعت کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: تمہارے لئے ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ ! مجھے مزید عطا کر، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تمہارے لئے اتنے ہیں اور اپنے دائیں بائیں اور سامنے ڈھیر لگادئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3505

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :سَأَلْتُ رَبِّي مَسْأَلَةً وَّدِدْتُّ أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ، قُلْتُ: يَا رَبِّ! كَانَتْ قَبْلِي رُسُلٌ، مِنْهُمْ مَّنْ سَخَّرْتَ لَهُ الرِّيَاحَ، وَمِنْهُمْ مَّنْ كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى، (وَكَلَّمْتَ مُوْسَى) قَالَ: أَلَمْ أَجِدْكَ يَتِيمًا فآوَيْتُكَ؟ أَلَمْ أَجِدْكَ ضَالا فَهَدَيْتُكَ؟ أَلَمْ أَجِدْكَ عَائِلا فَأَغْنَيْتُكَ؟ أَلَمْ أَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ، وَوَضَعْتُ عَنْكَ وِزْرَكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَبِّ! (فَوَدِدْتُّ أَنْ لَمْ أَسْأَله)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا، (بعد میں) چاہا کہ یہ سوال میں نے نہ کیا ہوتا۔ میں نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے پہلے رسول تھے، ان میں سے کسی کے لئے آپ نے ہوا کو مسخر کر دیا، کوئی ایساتھا جو مردوں کو زندہ کرتا تھا( اور آپ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم یتیم نہیں تھے میں نے تمہیں پناہ دی؟ کیا تم انجان نہیں تھے میں نے تمہیں ہدایت دی، (راستہ دکھایا) کیا تم محتاج نہیں تھے میں نے تمہیں غنی کر دیا؟ کیا میں نے تمہارا سینہ کشادہ نہیں کیا؟ اور تم سے تمہارا بوجھ نہیں ہٹایا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں اے میرے رب! (تب میں نے خواہش کی کہ کاش میں اللہ تعالیٰ سے سوال نہ کرتا۔)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3506

عَنْ جَابِر رَضِي اللّه عَنْه، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : سَيِّد الشُّهَدَاء حَمْزة بْن عَبْد الْمُطَّلِب ، وَرَجُل قَامَ إِلَى إِمَام جَائِر فَأَمَرَه وَنَهَاه فَقَتَلَه
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ شخص بھی ہے جو ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہوا اس نے اسے (اچھائی کا) حکم دیا اور (برائی سے) منع کیا۔ تو اس حکمران نے اسے قتل کر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3507

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ: سَيِّداتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ بَعْدَ مَرْيَمَ بنتِ عِمْرَانَ، فَاطِمَةُ، وَخَدِيجَةُ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً بیان کیا کہ: مریم بنت عمران کے بعد اہل جنت کی سردار عورتیں فاطمہ ، خدیجہ اور آسیہ رضی اللہ عنہن زوجہ فرعون ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3508

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: شَهِدْتُّ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ مَعَ عُمُومَتِي وَأَنَا غُلَامٌ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي أَنْكُثُهُ .
عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مطیبین (حلف الفضول) کے حلف نامے میں موجود تھا۔ اس وقت میں بچہ ہی تھا، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے لئے سرخ اونٹ ہوں اور میں اس (قسم نامہ) کو توڑ دوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3509

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: شَهِدْتُّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنَ (النَّخْعِ) أَوْ قَالَ: يُثْنِي عَلَيْهِمْ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِّنْهُمْ
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ،آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌(نخع) کے اس قبیلے کے لئے دعا کر رہے تھے یا ان کی تعریف کر رہے تھے حتی کہ مجھے بھی خواہش ہوئی کہ میں ان کا ایک فرد ہوتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3510

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرْفُوْعاً: صَفْوَةُ اللهِ مِنْ أَرْضِهِ الشَّام، وَفِيهَا صَفْوَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَعِبَادِهِ، وَلَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي ثُلَّةٌ، لا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلا عَذَابَ
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ کی زمین میں چنا ہوا ٹکڑا شام ہے۔ اور اس میں اس کی چنی ہوئی مخلوق اور بندے ہیں، اور میری امت میں سے ایک گروہ جنت میں داخل ہوگا جن پر نہ کوئی حساب ہوگا نہ کوئی عذاب۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3511

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوْعاً: طُوبَى لِلشَّامِ إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِ .
زید بن ثابت‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ : شام کے لئے خوشخبری ہے،رحمن کے فرشتے اس پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3512

) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَطُوبَى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِّمَنْ لَّمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ اس شخص کے لئے سات مرتبہ خوشخبری ہے جس نے مجھے نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3513

عَنْ عَبْدِ الله بْن بُسْر، صَاحِب النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : طُوبَى لِمَن رَآنِي وَطُوبَى لِمَن رَأَى مَنْ رَآنِي وَلِمَن رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي وَآمَن بِي
عبداللہ بن بسر‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا اور اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نےا س شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھنے والے شخص کو دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3514

عَنْ مُسْلِم البَطِين قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : عَائِشَةُ زَوْجِي فِي الْجَنَّة .
مسلم بطین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا جنت میں میری بیوی ہوں گی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3515

عَنْ جَابِر بْن عَبْدِالله مَرْفُوْعاً : « عُثْماَن فِي الْجَنَّة »
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: عثمان رضی اللہ عنہ جنتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3516

عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا اللهُ مِن النَّارِ: عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام
ثوبان رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے بچا لیا۔ ایک وہ گروہ جو ہندؤں سے جہاد کرے گا، اور دوسرا وہ گروہ جو عیسیٰ بن مریم کے ساتھ مل کر جہاد کرے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3517

قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: عَلِيٌّ يَقْضِي دَيْنِي . روی من حدیث .......
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ میرا قرض ادا کرے گا۔ یہ حدیث ..... سے مروی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3518

عَنْ طَلْحَة بْنِ عُبَيْدِ اللهِ قال:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ .
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3519

قال صلی اللہ علیہ وسلم : البّاس عمّ رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وإنّ عمّ الرّجل صنو أبیہ۔
آٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عباس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور چچا باپ کے برابر ہوتا ہے۔ یہ حدیث ...... سے مروی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3520

عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ وَالْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دلوں کی سختی اور جفا مشرق میں ہے ، اور ایمان اہل حجاز میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3521

عَنِ الْمِسْوَر ، أَنَّه بَعَث إِلَيْه حَسَن بْن حَسَن يَخْطُب ابْنَتَه ، فَقَالَ لَهُ: قُل لَه: فَيَلْقَانِي فِي الْعَتَمَة ، قَالَ: فَلَقِيَه فَحَمِد الله الْمِسْوَر وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَا بَعَد! أَيْمُ الله! مَا مِنْ نَّسَب وَّلَا سَبَب وَّلَا صِهْر أَحَبّ إِلَيَّ مِنْ نَّسَبِكُم (وَسَبَبِكُمْ) وَصِهْرِكُم ، وَلَكِنْ رَّسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: فَاطِمَة بِضْعَة مِنِّيٌ يَقْبِضُنِي ما يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُنِي ما يَبْسُطَهَا، وَإِنَّ الْأَنْسَاب يَوْم الْقِيَامَة تَنْقَطِع غَيْر نَسَبِي وَسَبَبِي وَصِهْرِي . وَعِنْدَك ابْنَتُهَا ، وَلَو زَوَّجْتُك لَقَبَضَهَا ذَلِك فَانْطَلَق عُذْرًا لَّه .
مسور سے مروی ہے کہ: حسن بن حسن نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ مسورنے کہا: اس سے کہو مجھے رات کے وقت ملے۔ حسن نے اس سے ملاقات کی تو مسور نے اللہ کی حمدو ثناء کی، پھر کہا: اما بعد! اللہ کی قسم! کوئی نسب ،کوئی تعلق اور کوئی سسرال مجھے تمہارے نسب (تمہارے تعلق) اور تمہارے سسرال سے زیادہ محبوب نہیں ۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جو چیز اسے تنگ کرتی ہے مجھے تنگ کرتی ہے اور جو بات اسےخوش کرتی ہے مجھے خوش کرتی ہے اور تمام نسب قیامت کے دن ختم ہو جائیں گے، میرے نسب، تعلق اور سسرال کے علاوہ اور تمہارے پاس فاطمہ کی بیٹی ہے، اگر میں نے تم سے شادی کر دی تو یہ بات اسے تنگ کرے گی۔ (یہ سن کر) انہوں نے اسے معذور سمجھا اور چل دئیے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3522

عَنْ أُمِّ هَانِئٍ مَّرْفُوْعاً: فَضَّلَ اللهُ قُرَيْش بِسَبْعِ خِصَالٍ : 1- فَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُمْ عَبَدُوا اللهَ عَشْرَ سِنِينَ لَا يَعْبُدُهُ إِلَّا قُرْشِي، 2- وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُ نَصَرَهُمْ يَوْمَ الْفِيلِ وَهُمْ مُّشْرِكُوْن ، 3-وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِمْ سُورَةٌ مِّنَ الْقُرْآنِ لَمْ يُدْخَل فِيهِمْ غَيْرُهُمْ لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿۱﴾ (قريش) ، 4-وَفَضَّلَهُمْ بِأَنَّ فِيهِمُ النُّبُوَّةَ ، 5-وَالْخِلاَفَةَ ، 6-وَالْحِجابَةَ ، 7-وَالسِّقَايَةَ
ام ہانی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات باتوں کی وجہ سے فضیلت دی:۱۔اس بات سے فضیلت دی کہ انہوں نے دس سال اللہ کی عبادت کی جبکہ قریش کے علاوہ کوئی اور اللہ کی عبادت نہیں کرتا تھا۔ ۲۔ اس بات کی وجہ سے فضیلت دی کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والے دن ان کی مدد کی حالانکہ وہ مشرک تھے۔۳۔ ان کے بارے میں قرآن کی ایک مکمل سورت نازل ہوئی کہ ان کے علاوہ اس میں کسی اور کاتذکرہ نہیں کیاگیا : لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿۱﴾ (قریش: ۱) ۔۴۔ان میں نبوت رکھی۔۴۔ خلافت رکھی۔۶۔بیت اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری۔۷۔حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری رکھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3523

عَنْ عَبْدِ الله بْن عَمْرو عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: فِي كُلِّ قَرْن مِّنْ أُمَّتِي سَابِقُوْن . ( )
عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے ہر زمانے(صدی) میں سبقت کرنے والے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3524

عَنْ عَبْدِ الله بْن عَمْرو مَرْفُوْعاً: قَاتِلُ عَمَّار وَسَالِبُه فِي النَّار . ( )
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: عمار سے لڑائی کرنے والا اور اس کا مال سلب کرنے والا آگ میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3525

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ أَهْلُ الْيّمَنِ قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : قَدْ أَقْبَلَ أَهْلُ الْيَمَنِ وَهُمْ أَرَق قُلُوبًا مِّنْكُمْ . (قَالَ أَنَس): وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ جب اہل یمن آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن آگئے، یہ تم سے زیادہ رقیق القلب ہیں۔(انس‌رضی اللہ عنہ نے کہا) یہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے مصافحہ کو رواج دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3526

عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَّعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً، لَا تُرْوِيهَا قَالَ: فَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى جَبَا الرَّكِيَّةِ فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَصَقَ فِيهَا قَالَ: فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ قَالَ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَسَطٍ مِّنَ النَّاسِ قَالَ: بَايِعْ يَا سَلَمَةُ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللهِ! فِي أَوَّلِ النَّاسِ قَالَ: وَأَيْضًا قَالَ: وَرَآنِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَزْلًا يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ قَالَ: فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ: أَلَا تُبَايِعُنِي يَا سَلَمَةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ وَفِي أَوْسَطِ النَّاسِ قَالَ: وَأَيْضًا قَالَ: فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قَالَ لِي: يَا سَلَمَةُ! أَيْنَ حَجَفَتُكَ أَوْ دَرَقَتُكَ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ عَزْلًا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ: إِنَّكَ كَالَّذِي قَالَ الْأَوَّلُ: اللهُمَّ أَبْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَّفْسِي ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ وَّاصْطَلَحْنَا قَالَ: وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَسْقِي فَرَسَهُ وَأَحُسُّهُ وَأَخْدِمُهُ وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَكْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا فَاضْطَجَعْتُ فِي أَصْلِهَا قَالَ: فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَبْغَضْتُهُمْ فَتَحَوَّلْتُ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِّنْ أَسْفَلِ الْوَادِي: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ! قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ قَالَ: فَاخْتَرَطْتُّ سَيْفِي ثُمَّ شَدَدْتَّ عَلَى أُولَئِكَ الْأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ! لَا يَرْفَعُ أَحَدٌ مِّنْكُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ! قَالَ: وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِّنَ الْعَبَلَاتِ يُقَالُ لَهُ: مِكْرَزٌ يَّقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى فَرَسٍ مُّجَفَّفٍ فِي سَبْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: دَعُوهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَنْزَلَ اللهُ :وَ ہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ۔(الفتح: ٢٤) الْآيَةَ كُلَّهَا قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَّهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِمَنْ رَقِيَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ كَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِّلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَصْحَابِهِ قَالَ سَلَمَةُ: فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ غَادر عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَبَاحُ! خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِهِ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهْ! ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِّنْهُمْ فَأَصُكُّ سَهْمًا فِي رَحْلِهِ حَتَّى خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَى كَتِفِهِ قَالَ: قُلْتُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: فَوَاللهِ! مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ فَعَقَرْتُ بِهِ حَتَّى إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ قَالَ: فَمَا زِلْتُ كَذَلِكَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّى مَا خَلَقَ اللهُ مِنْ بَعِيرٍ مِّنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً وَّثَلَاثِينَ رُمْحًا يَّسْتَخِفُّونَ وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِّنْ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِّنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلَانُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ يَعْنِي يَتَغَدَّوْنَ وَجَلَسْتُ عَلَى رَأْسِ قَرْنٍ قَالَ الْفَزَارِيُّ: مَا هَذَا الَّذِي أَرَى؟ قَالُوا: لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ، وَاللهِ! مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ، يَرْمِينَا حَتَّى انْتَزَعَ كُلَّ شَيْءٍ فِي أَيْدِينَا قَالَ: فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِّنْكُمْ أَرْبَعَةٌ قَالَ: فَصَعِدَ إِلَيَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِي الْجَبَلِ قَالَ: فَلَمَّا أَمْكَنُونِي مِنَ الْكَلَامِ قَالَ: قُلْتُ: هَلْ تَعْرِفُونِي؟ قَالُوا: لَا وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ! لَا أَطْلُبُ رَجُلًا مِّنْكُمْ إِلَّا أَدْرَكْتُهُ وَلَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِّنْكُمْ فَيُدْرِكَنِي قَالَ أَحَدُهُمْ: أَنَا أَظُنُّ قَالَ: فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَكَانِي حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ قَالَ: فَإِذَا أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ عَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ قَالَ: فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الْأَخْرَمِ قَالَ: فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ قُلْتُ: يَا أَخْرَمُ! احْذَرْهُمْ لَا يَقْتَطِعُوكَ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَصْحَابُهُ قَالَ: يَا سَلَمَةُ! إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ قَالَ: فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَى هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَلَى فَرَسِهِ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ! لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَى رِجْلَيَّ حَتَّى مَا أَرَى وَرَائِي مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَا غُبَارِهِمْ شَيْئًا حَتَّى يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ ذَو قَرَدٍ لِّيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ قَالَ: فَنَظَرُوا إِلَيَّ أَعْدُو وَرَاءَهُمْ فَخَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ يَعْنِي أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً قَالَ: وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ: فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلًامِّنْهُمْ فَأَصُكُّهُ بِسَهْمٍ فِي نُغْضِ كَتِفِهِ قَالَ: قُلْتُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَع وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: يَا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ! أَكْوَعُهُ بُكْرَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَكْوَعُكَ بُكْرَةَ قَالَ: وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَى ثَنِيَّةٍ قَالَ: فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِّنْ لَبَنٍ وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَتَوَضَّأْتُ وَشَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي خليتهم عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ أَخَذَ تِلْكَ الْإِبِلَ وَكُلَّ شَيْءٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَكُلَّ رُمْحٍ وَّبُرْدَةٍ وَإِذَا بِلَالٌ نَحَرَ نَاقَةً مِّنَ الْإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنَ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! خَلِّنِي فَأَنْتَخِبُ مِنَ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلَا يَبْقَى مِنْهُمْ مُّخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ فَقَالَ: يَا سَلَمَةُ! أَتُرَاكَ كُنْتَ فَاعِلًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ فَقَالَ: إِنَّهُمْ الْآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ غَطَفَانَ فَقَالَ: نَحَرَ لَهُمْ فُلَانٌ جَزُورًا فَلَمَّا كَشَفُوا جلودهَا رَأَوْا غُبَارًا فَقَالُوا: أَتَاكُمُ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :كَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَهْمَيْنِ سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا لِي جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: أَلَا مُسَابِقٌ إِلَى الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ مُّسَابِقٍ؟ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلَامَهُ قُلْتُ: أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَّلَا تَهَابُ شَرِيفًا؟ قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ يَّكُونَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! بِأَبِي وَأُمِّي! ذَرْنِي فَلِأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ: إِنْ شِئْتَ قَالَ: قُلْتُ: اذْهَبْ إِلَيْكَ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ قَالَ: فَرَبَطْتُّ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي ثُمَّ عَدَوْتُ فِي إِثْرِهِ فَرَبَطْتُّ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ إِنِّي رَفَعْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ قَالَ: فَأَصُكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ سُبِقْتَ وَاللهِ! قَالَ: أَنَا أَظُنُّ قَالَ: فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: فَوَاللهِ! مَا لَبِثْنَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَّرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللهِ لَوْلَا اللهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَنَا عَامِرٌ قَالَ: غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ قَالَ: وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِإِنْسَانٍ يَّخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ قَالَ: فَنَادَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ لَّهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ! لَوْلَا مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ؟ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ قَالَ: خَرَجَ مَلِكُهُمْ مَّرْحَبٌ يَّخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ : قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرٌ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُّغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ قَالَ سَلَمَةُ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُونَ: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ! بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ قَالَ: كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٍّ وَّهُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُّحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَبَسَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ثُمَّ كَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ . ( )
ایاس بن سلمہ سے مروی ہے کہ: میرے ابا جان (سلمہ بن اکوع‌رضی اللہ عنہ )نےبیا ن کیا، کہتے ہیں :۱۔ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ آئے، اس وقت ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ پچاس بکریاں تھیں اور (حدیبیہ کا کنواں) ان کو بھی سیراب کرنے کے لئے ناکافی تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے، تو دعا کی یا اس میں لعاب دہن ڈالا تو اسی وقت پانی ابل آیا۔ ہم نے خود بھی پیا اور جانوروں کو بھی پلایا۔ ۲۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیعت کے لئے درخت کے نیچے بلایا، میں نے ابتدائی لوگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت کرتے رہے حتی کہ نصف لوگ بیعت کر چکے تو آپ نے فرمایا: سلمہ! بیعت کرو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ابتدائی لوگوں میں بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ اسی طرح بیعت کرو۔۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بغیر ہتھیاروں کے دیکھا تو مجھے ایک ڈھال دی۔ پھر بیعت کرتے رہے، جب آخری لوگ بچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! کیا تم میری بیعت نہیں کرو گے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ابتداء اور درمیان میں بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح دو بارہ بیعت کر لو۔ میں نے تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ۴۔ سلمہ! تمہاری ڈھال کہاں ہے جو میں نے تمہیں دی تھی؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میرے چچا ملے ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، میں نے وہ ڈھال انہیں دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے اور فرمایا:تم اس اگلے شخص کی طرح ہو جس نے کہا: اے اللہ مجھے ایسا محبوب دے جومجھے خود سے زیادہ پیارا ہو۔۵۔ پھر مشرکین نے صلح کر لی، حتی کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ چلنے لگے، میں طلحہ بن عبیداللہ‌رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا،میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا، اس کی پیٹھ کھجاتا اور اس کی خدمت کرتا تھا، اور انہی کے ساتھ کھاتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرتے ہوئے اپنا گھر بار اور مال و دولت چھوڑ دیا تھا۔ جب ہم نے اور اہل مکہ نے صلح کر لی اور ایک دوسرے میں مل جل گئے تو میں ایک درخت کے نیچے آیا، اس کے کانٹے صاف کئے اور اس کے نیچے لیٹ گیا۔ میرے پاس مکے کے چار مشرکین آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔مجھے ان سے نفرت ہوگئی میں ایک دوسرے درخت کی طرف چلا گیا۔ انہوں نے ہتھیار لٹکا دئے اور لیٹ گئے۔ ابھی وہ اسی کیفیت میں تھے کہ اچانک وادی کے نشیبی علاقے سے آواز آئی:اے مہاجرین !ابن زنیم قتل کر دیا گیا۔ میں نے اپنی تلوار سونت لی، پھر ان چاروں پر چڑھ دوڑا، وہ لیٹے ہوئے تھے۔ میں نے ان کے ہتھیار ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں کرلئے، پھر میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چہرے کو عزت بخشی! تم میں سے جس شخص نے بھی اپنا سر اٹھایا میں اس کی کھوپڑی اڑادوں گا۔ پھر میں انہیں ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔۶۔ میرے چچا عامر‌رضی اللہ عنہ ایک آدمی کو لائے جسے مکرز کہا جاتا تھا۔ وہ ایسے گھوڑے پر جس پر جھول پڑی ہوئی تھی، ستر مشرکین تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چھوڑ دو۔ عہد شکنی کی ابتدا ان کی طرف سے ہونے دو اور پھر دوبارہ بھی انہی کی طرف سے ہونے دو۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: وَ ہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ۔(الفتح: ٢٤) اور وہ ذات ( اللہ ) جس نے مکہ کی وادی میں تمہیں ان پر غلبہ دینے کے بعد ان کے ہاتھ تم سے روکے اور تمہارے ہاتھ ان سے روکے (پوری آیت)۔ ۷۔پھر ہم مدینے واپسی کے لئے نکلے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا ،ہمارے اور بنو لحیان کے درمیان ایک پہاڑ تھا، وہ مشرکین تھے اس رات جو لوگ پہرہ دینے کے لئے اس پہاڑ پر چڑھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بخشش کی دعا کی، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی حفاظت کے لئے گویا کہ وہ ہراول دستہ ہے۔ میں اس رات دو یا تین مرتبہ چڑھا۔ ۔ پھر ہم مدینہ آگئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام رباح کے ساتھ اپنی اونٹنیاں بھیجیں، میں بھی اس کے ساتھ طلحہ‌رضی اللہ عنہ کا گھوڑا لے کر نکلا جسے میں خوب بھٹکا رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو اچانک عبدالرحمن فزاری حملہ کر کے ساری اونٹنیاں ہانک کر لے گیا۔ اور چرواہے کو قتل کر دیا۔ میں نے رباح سے کہا: یہ گھوڑا پکڑو اور اسے طلحہ بن عبیداللہ‌رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا دینا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانا کہ مشرکین آپ کے مویشی لوٹ کر لے گئے ہیں۔ پھر میں ایک اونچی جگہ پر چڑھا اور مدینے کی طرف رخ کر کے تین مرتبہ پکارا: یا صباحاہ! پھر ان لوگوں کے نشان دیکھتا ہوا ان کے پیچھے لگ گیا، انہیں تیر مارتا اور یہ شعر پڑھتا: میں اکوع کا بیٹا ہوں،آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے،میں کسی آدمی سے جا ملتا اور سامان سفر کے تھیلے پر تیر مارتا حتی کہ تیر کی نوک اس کے کاندھے میں پیوست ہو جاتی، میں کہتا: لو اس کوپکڑو،میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔واللہ! میں انہیں تیر مارتا اور انہیں زخمی کرتا رہا، جب ان میں سے کوئی گھڑ سوا رمیری طرف پلٹا، تو میں کسی درخت کی اوٹ لے کر اس کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر تیر مار کر اس کے گھوڑے کو زخمی کر دیتا، حتی کہ جب پہاڑ کا دامن تنگ ہوگیا اور وہ اس میں داخل ہوگئے تو میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور انہیں پتھر مارنے لگا۔ میں اسی طرح ان کے پیچھے لگا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سواری کی جو اونٹنیاں پیدا کی تھیں، وہ سب میں نے پیچھے چھوڑ دیں۔پھر میں ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور انہیں تیر مارتا رہا حتی کہ انہوں نے تیس(۳۰) سے زیادہ چادریں اور نیزے اپنے آپ کو ہلکا کرنے کے لئے پھینک دئے ۔ وہ جو چیز بھی پھینکتے میں اس پر نشان لگا دیتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پہچان لیں۔ پھر وہ گھاٹی کے ایک تنگ درے میں آگئے، جب وہ وہاں آئے تو فلاں بن بدر فزاری ان کے پاس آیا وہ بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ میں بھی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ گیا، فزاری نے کہا: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ وہ کہنے لگے: ہمیں اس نے تنگ کر رکھا ہے، کل سے یہ ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے اور ہم سے ہر چیز چھین لی ہے۔ اس نے کہا: تم میں سے چار شخص اس پر حملہ کیوں نہیں کر دیتے؟ ان میں سے چار شخص میری طرف پہاڑ پر چڑھنے لگے، جب وہ مجھ سے بات کرنے کی دوری پر ہو گئے تو میں نے کہا: کیا تم مجھے جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سلمہ بن اکوع ہوں، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! میں تم میں سے جس شخص کے پیچھے لگوں اس تک پہنچ جاؤں گا، اور تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو میرے پیچھے لگے اور مجھ تک پہنچ جائے ۔ان میں سے ایک نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔۹۔ پھر وہ واپس پلٹ گئے، میں ابھی اپنی جگہ پر ہی تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار دیکھے جو درختوں کی اوٹ میں آرہے تھے ۔سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، اس کے پیچھے ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ اور اس کے پیچھے مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ ، میں نے اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑلی۔ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے۔ میں نے کہا: اخرم‌رضی اللہ عنہ ان سے بچنا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نہ پہنچ جائیں اس وقت تک یہ تم تک نہ پہنچ سکیں، اخرم‌رضی اللہ عنہ نے کہا: سلمہ! اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور جانتے ہو کہ جنت اور جہنم حق ہیں، تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ مت بنو، میں نے راستہ چھوڑ دیا وہ اور عبدالرحمن آمنے سامنے آگئے۔ اخرم‌رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں، جب کہ عبدالرحمن نے اخرم‌رضی اللہ عنہ کو نیزہ مار کر قتل کر دیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےشہسوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ عبدالرحمن سے جا ملے اور اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی ہے! میں اپنے پیروں پر ان کے پیچھے لگا رہا، یہاں تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کی گردو غبار بھی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ سورج غروب ہونے سے پہلے وہ ایک گھاٹی میں پہنچے جس میں ایک چشمہ تھا۔ اس کو ذوقرد(بندروں والا) کہا جاتا تھا، وہ پیاسے تھے، اس سے پانی پینے لگے تو انہوں نے میری طرف دیکھا کہ میں ان کے پیچھے بھاگتاہوا آرہا ہوں۔ میں نے انہیں اس چشمے سے دور کر دیا انہوں نے اس سے ایک قطرہ پانی نہیں پیا، وہ وہاں سے نکلے اور گھاٹی میں دوڑنے لگے، میں ان میں سے کسی کے سر پر پہنچ گیا اور اس کے کاندھے میں تیر مارا اورکہا: لو اسے پکڑو ،میں اکوع کا بیٹا ہوں ،آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔اس نے کہا: تجھے تیری ماں گم پائے! تو صبح والا اکوع ہی ہے؟ میں نے کہا: اپنی جان کے دشمن! ہاں وہی صبح والا اکوع ہے۔ انہوں نے گھاٹی میں دو گھوڑے چھوڑے، میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔۱۰۔ عامر‌رضی اللہ عنہ مجھے مشکیزے کے ساتھ ملے جس میں پانی ملا دودھ (کچی لسی )تھی اور دوسرے مشکیزے میں پانی تھا۔ میں نے وضو کیا اور پانی ملا دودھ پیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چشمے پر تھے جس سے میں نے ان لوگوں کو دور کیا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اونٹ اور ہر وہ چیز جو میں نے مشرکین سے چھڑائی تھی اور ہر نیزہ اور چادرآپ نے اپنے قبضے میں کی ہوئی ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے قبضے مںا کی ہوئی ایک اونٹنی نحر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کا جگر اور کوہان بھوننے لگے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں ان لوگوں میں سے سو آدمی منتخب کر کے ان لوگوں کا پیچھا کروں،ان ان سب کو قتل کردوں کہ اپنی قوم کو خبر دینے کے لئے بھی باقی نہ رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئےحتی کہ آگ کی روشنی میں آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! تمہارے خیال میں کیا تم یہ کام کر لو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت غطفان کے علاقے میں ان کی ضیافت کی جا رہی ہے۔ غطفان سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: فلاں نے ان کے لئے اونٹنی نحر کی ہے۔ جب وہ لوگ اس کی کھال اتار رہے تھے تو انہوں نے گردوغبار دیکھا۔ کہنے لگے: وہ لوگ آگئے اور بھاگتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔ ۱۱۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن ہمارے بہترین شہسوارابو قتادہ اور بہترین پیادہ سلمہ ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو حصے عطا کئے، ایک شہسوار کا اور ایک پیادہ کا۔آپ نے اکھٹے ہی مجھے دونوں حصے دیئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عضباء پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا اور ہم مدینے کی طرف واپس آنے لگے۔۱۲۔ہم چلے آرہے تھے کہ ایک انصاری شخص تھا جو دوڑ میں کبھی نہیں ہارا تھا، کہنے لگا: کیا کوئی مدینے تک مقابلہ کرنے والا ہے،کیا کوئی مقابلہ کرنے والا ہے؟ وہ بار بار یہی بات دہراتا ،جب میں نے اس کی یہ بات سنی تو میں نے کہا: کیا تم کریم شخص کی عزت نہیں کرتے اور کسی شریف سے نہیں ڈرتے ؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے اجازت دیجئے میں اس آدمی سے مقابلہ کرو ں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اگر تم چاہو تو میں نے اس سے کہا: تم چلو میں تمہاری طرف آرہا ہوں میں نے اپنی ٹانگوں کو دوہرا کیا اور اونٹنی سے چھلانگ مار کر نیچے کود گیا میں اس کے پیچھے ایک یا دو اونچی جگہوں پر چڑھامیں اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگا پھر میں اس کے پیچھے دوڑنے لگا، ایک یا دو اونچی جگہوں پر آرام سے چڑھا پھر میں دوڑتا گیا حتی کہ اسے جا لیا، اور اس کے کاندھوں کے درمیان ہاتھ مارا اور کہا: واللہ! تم ہار گئے، وہ کہنے لگا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ پھر میں مدینے تک اس سے آگے رہا۔۱۳۔ واللہ! ابھی تین راتیں ہی گزری تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ میرے چچا عامر‌رضی اللہ عنہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے: اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے، ہم تیرے فضل سے بے پرواہ نہیں، اگر ہم دشمن سے ملیں تو ہمیں ثابت قدم رکھ ،اور ہم پر سکینت نازل فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں عامر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب تمہیں بخش دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے لئے بھی خاص کر کے بخشش کی دعا کی وہ شہید ہو گیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پکار لگائی، وہ اپنے اونٹ پر تھے۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں عامر‌رضی اللہ عنہ سے فائدہ کیوں نہ اٹھانے دیا۔۱۴۔ جب ہم خیبر آئے تو ان کا سردار مرحب تلوار سونتے میدان میں آیا اور کہہ رہا تھا: خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، کانٹے دار اسلحہ رکھنے والا، بہادر تجربہ کار، جب جنگ شعلے بھڑکانے لگے۔ اس کے مقابلے میں میرے چچا عامر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے میدا ن میں اترے :خیبر والے جانتے ہیں کہ میں عامر ہوں، کانٹے دار اسلحہ رکھنے والا، بہادر، سخت لڑائی میں گھس جانے والا،ان دونوں کی تلواریں آپس میں ٹکرائیں ،مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر پڑی، عامر رضی اللہ عنہ نے اس پر نیچے سے حملہ کیا تو عامر کی تلوار ان کے اپنے ہاتھ کی رگ میں لگی اور اس میں ان کی جان چلی گئی۔۱۵۔ سلمہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں باہر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کہہ رہے تھے کہ: عامر‌رضی اللہ عنہ کا عمل ضائع ہوگیا۔ اس نے اپنے آپ کو قتل کر لیا۔ میں روتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا عامر رضی اللہ عنہ کا عمل ضائع ہوگیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس نے یہ بات کہی؟ میں نے کہا: آپ کےکچھ صحابہ نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے یہ بات کہی انہوں نے جھوٹ بولا۔ عامر کے لئے تو دوگنا اجر ہے۔ پھر مجھے علی‌رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہوں گے، میں علی‌رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ،اور ان کا ہاتھ پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔ اور آپ نے انہیں جھنڈا دے دیا۔ مرحب یہ کہتا ہوا میدان میں آیا :خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، کانٹے دار اسلحہ رکھنے والا بہادر تجربہ کار جب جنگیں شعلے بھڑکاتی ہیں۔علی‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے، جنگل کے شیر کی طرح ،ہیبت ناک منظر والا، میں دشمن کو پورا تول کر دیتا ہوں۔ علی‌رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر میں ضرب لگائی اور اسے قتل کر دیا۔ پھر فتح بھی ان کے ہاتھ پر ہوئی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3527

عَنْ عَبْد اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قال: كَانَ نَاسٌ مِّنْ رَبِيعَةَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَتَنْتَهِيَنَّ قُرَيْشٌ أَوْ لَيَجْعَلَنَّ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِّنَ الْعَرَبِ غَيْرِهِمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: كَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: قُرَيْشٌ وُّلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
عبداللہ بن ابی ہذیل سے مروی ہے کہ: بنو ربیعہ کے کچھ لوگ عمرو بن عاص‌رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، بکر بن وائل کے ایک شخص نے کہا: یا تو قریش باز آجائیں وگرنہ اللہ تعالیٰ یہ امارت عرب کے دوسرے لوگوں کو دے دے گا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا قریش قیامت تک لوگوں کے خیرو شر میں نگران ہوں گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3528

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَبُو بَكْرٍ فِي طَائِفَةٍ مِّنَ الْمَدِينَةِ قَالَ: فَجَاءَ فَكَشَفَ عَنْ وَّجْهِهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَّمَيِّتًا مَاتَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَتَقَاوَدَانِ حَتَّى أَتَوْهُمْ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَّلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا أُنْزِلَ فِي الْأَنْصَارِ وَلَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ شَأْنِهِمْ إِلَّا وَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَّسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ . وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا سَعْدُ! أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: وَأَنْتَ قَاعِدٌ قُرَيْشٌ وُّلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِّبَرِّهِمْ وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِّفَاجِرِهِمْ قَالَ: فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: صَدَقْتَ نَحْنُ الْوُزَرَاءُ وَأَنْتُمْ الْأُمَرَاءُ
حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ مدینے کےایک دوسرے علاقے میں تھے۔ وہ آئے اور آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر آپ کو بوسہ دیا، اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ زندگی میں اور مرنے کے بعد کتنے پاکیزہ ہیں۔ رب کعبہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں.... حدیث ذکر کی ۔کہتے ہیں کہ: ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ دونوں چلتے ہوئے لوگوں کے پاس آئے ،ابو بکر‌رضی اللہ عنہ بولنے لگے اور انصار کے بارے میں جو کچھ بھی نازل ہوا تھا بیان کر دیا، اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا وہ بھی ذکر کر دیا۔ اور کہنے لگے: تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ اے سعد! تمہیں معلوم ہے تم بھی بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ۔ :قریش اس معاملے(خلافت) کے نگران ہیں۔ نیک لوگ ان کے نیک کے پیچھے چلیں گے، اور فاجر لوگ ان کے فاجرکے پیچھے چلیں گے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم نے سچ کہا، ہم وزراء ہیں اور تم امراء ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3529

عَنْ صَالِحٍ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو جُمُعَةَ الأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ وَمَعَنَا رَجَاءُ بن حَيْوَةَ يَوْمَئِذٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ خَرَجْنَا مَعَهُ لِنُشَيِّعَهُ ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الانْصِرَافَ، قَالَ : إِنَّ لَكُمْ عَلَيَّ جَائِزَةً وَّحَقًّا أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقُلْنَا: هَاتِه يَرْحَمُكَ اللهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَعَنَا مُعَاذُ بن جَبَلٍ عَاشِرَ عَشَرَةٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ! هَلْ مِنْ قَوْمٍ أَعْظَمُ مِنَّا أَجْرًا؟ آمَنَّا بِكَ وَاتَّبَعْنَاكَ ؟ قَالَ: مَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ يَأْتِيكُمُ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ؟ بل قَوْمٌ يَّأتون من بعدكم يَأْتِيهِمْ كِتَابٌ بَيْنَ لَوْحَيْنِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا
صالح بن جبیر سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ: ابو جمعہ انصاری رضی اللہ عنہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہمارے پاس بیت المقدس میں نماز پڑھنے آئے، اس دن ہمارے ساتھ رجاء بن حیوہ بھی تھے۔ جب وہ واپس پلٹے تو ہم بھی ان کے ساتھ باہر نکل آئے۔ جب ہم واپس پلٹنے لگے تو انہوں نے کہا: تمہارے لئے میرے ذمے انعام اور تمہارا حق ہے۔ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ ہم نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، ہمیں حدیث سنائیے۔ وہ کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارے ساتھ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ بھی تھے، دس میں سے ایک،ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو ہم سے زیادہ اجر والے ہوں گے؟ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی پیروی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(ایمان لانے سے)تمہیں کونسی بات روکتی ہے، جب کہ اللہ کے رسول تمہارے درمیان موجود ہیں؟ آسمان سے تمہارے پاس وحی آتی ہے؟ تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن کے پاس کتاب لکھی ہوئی آئے گی، وہ اس پر ایمان لائیں گے، او ر اس پر عمل کریں گے، یہ لوگ تم سے زیادہ اجر والے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3530

عَنْ عَبْدِالله بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُوْل :القَائِمُ بَعْدِي فِي الْجَنَّة ( وَالَّذِي يَقُوْم بَعْدَهُ فِي الْجَنَّة ) وَالثَّالِثُ وَالرَّابِعُ فِي الْجَنَّة .
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: میرے بعدخلافت قائم کرنے والا جنت میں ہوگا (اس کے بعد جو شخص (خلافت )قائم کرےگا وہ جنت میں ہوگا) تیسرا اور چوتھا جنت میں ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3531

) عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ يَّقُوْل : « اذْهَبُوا بِهِ إِلىَ فُلَانَة فَإِنَّهاَ كَانَتْ صَدِيْقَة خَدِيْجَة ، اذْهَبُوا بِهِ إِلَى فُلَانَة فَإِنَّهاَ كاَنَتْ تُحِبُّ خَدِيْجَة »
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرماتے: اسے فلاں عورت کے پاس لے جاؤ، وہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کی سہیلی تھی، اسے فلاں کی طرف لے جاؤ وہ خدیجہ رضی اللہ عنہ سے محبت کرتی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3532

عَنْ بَكْر بْنِ عَبْدِ الله قَالَ: كَانَ أَصَحَابُ النَّبِيِّ يَتَبَادَحُوْنَ بِالْبِطِّيْخ ، فَإِذَا كَانَت الْحَقَائِقُ كَانُوا هُم الرِّجَال . ( )
بکر بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایک دوسرے پر خربوزے پھینکتے اور جب دفاع کرنے کا وقت آتا تو مرد بن کر دفاع کر تے ۔fs
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3533

) عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ . ( )
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سویا کرتی تھیں لیکن آپ کا دل نہیں سویا کرتا تھا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3534

عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم ضَخْمَ الْيَدَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم موٹے(بھاری) ہاتھ اور پاؤں والے تھے۔ خوب صورت چہرے والے تھے، میں نے آپ سے پہلے اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌جیسا خوبصورت شخص نہیں دیکھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3535

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى ذَلِكَ الْحَال، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَال ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَرْخَى عَلَيْهِ مِنْ ثِيَابِهِ فَلَمَّا قَامُوا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَّأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ الْحَال.. (وَفِيْهِ) فَقَالَ يَا عَائِشَةُ! أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَّجُلٍ وَاللهِ! إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَسْتَحْيِي مِنْهُ
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے کپڑا ہٹا ہوا تھا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اجازت دے دی اور آپ اسی طرح لیٹے رہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور آپ اسی طرح لیٹے رہے، پھر عثمان‌رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا نیچے لٹکا کر (ران کو ڈھانپ لیا)۔ جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سے ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی آپ اسی طرح لیٹے رہے۔۔۔(اور اسی روایت میں ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! میں اس شخص سے حیا کیوں نہ کروں واللہ! جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3536

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ مرفوعا:كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لا يُخَيَّلُ عَلَى مَنْ رَآهُ . ( )
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جس شخص کو دیکھ لیتے اس کے بارے میں وہم نہ کرتے (یعنی وہ شخص بھولتا نہیں تھا )۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3537

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ وَيَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں(اسامہ) اور حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر فرماتے: اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3538

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الجَدلِي قَالَ: قَالَتْ لِي أُمُّ سَلمَة : « أَيُسَبُّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِيْكُمْ عَلَى الْمَناَبِر ؟ قُلْتُ : سُبْحَانَ الله! وَأَنَّى يُسَبُّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌؟ قَالَتْ : » أَلَيْسَ يُسَبّ عَلِي بْن أَبِي طَالِب وَمَنْ يَّحِبُّه ؟ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُوْل اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُحِبُّهُ
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ مجھ سے ام سلمہ نے کہا: کیا تمہارے درمیان منبروں پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی جاتی ہے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح گالی دی جا سکتی ہے؟ کہنے لگیں: کیا علی بن ابی طالب‌رضی اللہ عنہ اور جوان سے محبت کرتے ہیں ، انہیں گالی نہیں دی جاتی؟ اور میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3539

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، :« أَنَّ رَسُوْل اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَربِطُ الْحَجَر عَلَى بَطْنِه مِنَ الغَرَث »
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3540

عَنْ جَابِرِ : كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْقِفِ فَيَقُوْل: أَلَا رَجُلٌ يَّحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ؟ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم موقف میں خود کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور فرماتے :کیا کوئی ایسا شخص ہے جو مجھے اپنی قوم کی طرف لے جائے؟ کیوں کہ قریش نے مجھے اپنے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3541

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: كَانَ يَعْرِضُ يَوْمًا خَيْلًا وَّعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ فَقَالَ عُيَيْنَةُ: وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ:خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ يَّحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ جَاعِلِينَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ لَابِسُو الْبُرُودِ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَذَبْتَ بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ وَعَامِلَةَ وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِّنْ آكِلِهَا وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِّنْ بَنِي الْحَارِثِ وَقَبِيلَةٌ خَيْرٌ مِّنْ قَبِيلَةٍ وَقَبِيلَةٌ شَرٌّ مِّنْ قَبِيلَةٍ وَاللهِ! مَا أُبَالِي أَنْ يَّهْلِكَ الْحَارِثَانِ كِلَاهُمَا لَعَنَ اللهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ جَمَدَاءَ وَمِخْوَسَاءَ وَمِشْرَخَاءَ وَأَبْضَعَةَ وَأُخْتَهُمْ الْعَمَرَّدَةَ ثُمَّ قَالَ: أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا مَّرَّتَيْنِ فَلَعَنْتُهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: عُصَيَّةُ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ غَيْرَ قَيْسٍ وَّجَعْدَةَ وَعُصَيَّةَ ثُمَّ قَالَ: لَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَأَخْلَاطُهُمْ مِّنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِّنْ بَنِي أَسَدٍ وَّتَمِيمٍ وَّغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ قَالَ: شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ نَجْرَانُ وَبَنُو تَغْلِبَ وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ وَّمَأْكُولُ .
عمرو بن عبسہ سلمی کہتے ہیں کہ: ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھوڑوں کا جائزہ لے رہے تھے، آپ کے پاس عیینہ بن حنن بن بدر الفزاری بھی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: میں گھوڑوں کے بارے میں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں۔ عینیہ کہنے لگا کہ: میں لوگوں کے بارے میں آپ سے زیادہ معلومات رکھتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: وہ کس طرح ؟ کہنے لگا: بہترین آدمی وہ ہیں جو اپنی تلواریں اپنی گردنوں میں لٹکائے، اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی زین پر رکھے، چادریں پہنے نجد سے تعلق رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ بولتے ہو، بلکہ بہترین آدمی اہل یمن سے ہیں، اور ایمان یمنی ہے۔ لخم جذام اور عاملہ تک۔ حمیر کے عام لوگ سرداروں سے بہتر ہیں۔ حضر موت بنو حارث سے بہتر ہے۔ ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے بہتر ہے۔ اور ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے بدتر ہے۔ واللہ! مجھے پرواہ نہیں کہ دونوں حارث مر جائیں ۔اللہ تعالیٰ نے چار بادشاہوں پر لعتت فرمائی، جمداء، مخوساء، مشرخاء، اور ابضعہ پر۔ اور ان کی بہن عمّردہ پر ختم کیا۔ پھر فرمایا: مجھے میرے رب عزوجل نے حکم دیا کہ میں قریش پر دو مرتبہ لعنت کروں تو میں نے ان پر لعنت کی۔ اور مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لئے رحمت کی دعا کروں تو میں نے دو مرتبہ ان کے لئے رحمت کی دعا کی۔ پھر فرمایا: اللہ کی نا فرمان قوم ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کی ہے، سوائے قیس، جعدہ اور عصیۃ کے۔ پھر فرمایا: بنو اسلم، غفار، مزینہ، اور جہینہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بنی اسد، تمیم ،غطفان اور ہوازن سے زیادہ بہتر ہوں گے، ۔ پھر فرمایا: عرب میں دو بدترین قبیلے ،نجران اور بنو تغلب ہیں، اور جنت میں زیادہ لوگ (قبائل) مذحج اور مأکول کے ہوں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3542

عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَقُولُ: إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ أَوْ قَالَ: اللهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرَ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایاکرتے تھے: بھلائی ،آخرت کی بھلائی ہے، یا فرمایا: اے اللہ آخرت کی بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں، انصار اور مہاجرین کو بخش دے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3543

عَنْ مَحْمُود بْن لَبِيد قَالَ : لَمَّا أُصِيْب أَكْحَل سَعد يَوْم الْخَنْدَق فَثَقُل حَوَّلُوْهُ عِنْدَ امْرَأَة يُقَالُ لَهَا رُفَيْدَة وَكَانَت تُدَاوِي الْجَرْحَى فَكَان النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا مَرَّ بِهِ يَقُول : كَيْفَ أَمْسَيْتَ؟ وَإِذَا أَصَبَح قَالَ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ فَيُخْبُرَه حَتَّى كَانَت اللَّيْلَة الَّتِي نَقَلَه قَوْمُه فِيهَا فَثَقلَ فَاحْتَمَلُوه إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَل إِلَى مَنَازِلِهِمْ وَجَاء رَسُولُ الله كَمَا كَانَ يَسْأَل عَنْهُ وَقَالُوا: قَد انْطَلَقُوا بِهِ فَخَرَج رَسُولُ اللهِ وَخَرَجْنَا مَعَه فَأَسْرَع الْمَشْي حَتَّى تَقَطَّعَتْ شُسُوعُ نِعَالَنَا وَسَقَطَت أَرْدِيَتُنَا عَنْ أَعْنَاقِنَا فَشَكَا ذَلِك إِلَيْه أَصْحَابُه : يَا رَسُولَ الله! أَتْعَبْتَنَا فِي الْمَشْي فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَسْبِقَنَا الْمَلَائِكَة إِلَيْه فَتَغْسِلُه كَمَا غَسَلَتْ حَنْظَلَة فَانْتَهَى رَسُولُ الله إِلَى البَيْت وَهُوَ يُغْسَل وَأُمُّه تَبْكِيْه وَهِي تَقُول: وَيْــــل أُمّــك سَعْــــــــــــدًا حَـــــــــزَامَه وَجِـــــــــــــــدًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ نَائِحَة تَكْذِبُ إِلَّا أُمَّ سَعَد ثُمَّ خَرَجَ بِهِ، قَالَ: يَقُوْلُ لَهُ القَوْم أَوْ مَنْ شَاءَ اللهُ مِنْهُم: يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا حَمَلْنَا مَيِّتاً أَخَفُّ عَلَيْنَا مِنْ سَعَد، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكُمْ مِّنْ أَنْ يُخَفَّ عَلَيْكُمْ؟ وَقَدْ هَبَطَ مِنَ الْمَلَائِكَة كَذَا وَكَذاَ، وَقَدْ سَمَّى عِدَة كَثِيْرَة لَمْ أَحْفَظْهَا لَمْ يَهْبِطُوا قَطٌ قَبْل يَوْمِهِمْ قَدْ حَملُوْه مَعَكُمْ .
محمود بن لبید سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: جب خندق کے دن سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں زخم لگا اور زخم بڑھ گیا ہوگئے، تو لوگ انہیں ایک عورت رفیدہ کے پاس لے گئے، وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس سے گزرتے تو فرماتے: شام کس طرح گزر رہی ہے؟ اور جب صبح آتے تو فرماتے: صبح کیسی گزر رہی ہے؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتے، حتی کہ جب وہ رات آئی جس مین ان کی قوم نے انہیں منتقل کیا، ان کا زخم زیادہ بڑھ گیا تھا تو لوگ انہیں اٹھا کر بنی عبدالاشہل کے گھروں کی طرف لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے جس طرح وہ ان کے بارے میں پوچھا کرتے تھے، لوگوں نے کہا :وہ انہیں اٹھا کر لے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے۔ آپ تیز تیز چلے حتی کہ ہمارے جوتوں کے تسمے ٹوٹ گئے۔ ہمارے کاندھوں سے چادریں گر گئیں۔ صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں تھکا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خدشہ ہے کہ کہیں فرشتے ہم سے پہلے ان تک نہ پہنچ جائیں ،اور جس طرح حنظلہ‌رضی اللہ عنہ کو غسل دیا تھا انہیں بھی غسل نہ دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر تک پہنچے، انہیں غسل دیا جارہا تھا۔ ان کی والدہ رو رہی تھیں۔ اور غمزدہ ہو کر کہہ رہی تھیں: سعد تیری ماں برباد ہوگئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نوحہ کرنے والی جھوٹ بولتی ہے، سوائے ام سعد کے، پھر ان کی میت کو لے کر نکلے، لوگوں نے آپ سے کہا یا جنہیں اللہ نے توفیق دی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے کوئی ایسی میت نہیں اٹھائی جو ہم پر سعد سے زیادہ ہلکی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہلکی کیوں نہ ہو؟ جتنے فرشتے آج اترے ہیں اس سے پہلے اتنے کبھی نہیں اترے۔ (راوی کہتا ہے کہ): آپ نے تعداد بھی بتائی تھی لیکن مجھے یاد نہیں رہی۔ جنہوں نے تمہارے ساتھ اس جنازے کو اٹھایا ہوا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3544

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَّلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مکہ میں ،میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۔ہم کسی جانب نکلے، آپ کے سامنے کوئی پہاڑ یا درخت آتا تو وہ کہتا: اے اللہ کے رسول آپ پر سلامتی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3545

عَنْ أَنَس مَرْفُوْعاً: لَأَسْلَم وَغِفَار وَرِجَال مِّنْ مُزَيْنَة وَجُهَيْنَة خَيْر مِّنَ الْحَلِيفَيْن غَطْفَانَ وَبَنِي عَامِر بْن صَعْصَعَة قَالَ: فَقَالَ عُيَيْنَة بْن بَدَر: وَاللهِ! لَأَنْ أَكُونَ فِي هَؤُلَاءِ فِي النَّار - يَعْنِي: غَطْفَان وَبَنِي عَامِر - أَحَبُّ إِلَيَّّ مِنْ أَنْ أَكُونَ فِي هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّة
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اسلم ، غفار، اور مزینہ اور جہینہ کے آدمی دو حلیفوں غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔ عیینہ بن بدر نے کہا: واللہ! میں ان لوگوں کے ساتھ یعنی غطفان اور بنی عامر کے ساتھ جہنم میں چلاجاؤں (یا ان لوگوں کے ساتھ ) تو مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ان کے ساتھ جنت میں جاؤں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3546

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً: لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِّنْ فِئَةٍ .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: لشکر میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ایک گروہ سے بہتر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3547

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُوْ طَالِبٍ فَقَالَ: لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِّنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے چچا ابو طالب کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: ممکن ہے قیامت کے دن میری سفارش انہیں نفع دے ،اور انہیں جہنم کے کم گہرے حصے میں رکھا جائے جہاں آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے جس سے ان کا دماغ کھول رہا ہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3548

عَنِ ابْن عُمَر قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَقَدْ نَزَلَ لِمَوْتِ سَعَد بْن مُعَاذ سَبْعُوْنَ أَلْف مَلَكٍ مَا وَطَئُوا الأَرْضَ قَبْلَهَا وَقَالَ: حِيْنَ دُفِنَ: سُبْحَانَ اللهِ! لَوْ انْفَلَتْ أَحَدٌ مِّنْ ضَغْطَة القَبْرِ لَانْفَلَتْ مِنْهَا سَعَد [وَلَقَدْ ضَمَّ ضَمَّةً ثُمَّ أُفْرِجَ عَنْهُ]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر ایسے ستر ہزار فرشتے نازل ہوئے جو اس سے پہلے زمین پر نہیں آئے تھے۔ اور جب وہ دفن کئے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! اگر قبر کا دباؤ کسی کو چھوڑتا تو وہ سعد رضی اللہ عنہ ہوتے(اسے بھی ایک مرتبہ دبایا، پھر کشادہ ہو گئی)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3549

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَن بْن أَبِي سَعِيْدِ الخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :« لِلْمُهَاجِرِيْن مَنَابِرٌ مِّنْ ذَهَبٍ يَجْلِسُوْنَ عَلَيْهَا يَوْمَ القِيَامَةِ قَدْ أَمِنُوا مِنَ الفَزَعِ
عبدالرحمن بن ابی سعید خدری‌رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مہاجرین کے لئے سونے کے ممبر ہوں گے ،جن پر وہ بیٹھیں گے، اور گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3550

عَنْ عَائِشَة  قَالَتْ : « لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى الْمَسْجِد الأَقْصَى أَصْبَحَ يَتَحَدَّث النَّاسُ بِذَلِكَ ، فَارْتَدَّ نَاسٌ مِّمَّنْ كَانُوا آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوْهُ ، وَسَعَوْا بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالُوا: هَلْ لَكَ إِلَى صَاحِبِك يَزْعُمُ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ اللَّيْلَة إِلَى بَيْتِ الْمَقْدَس ؟ قَالَ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ كَانَ قَالَ ذَلِكَ لَقَدْ صَدَقَ، قَالُوا: أَوَ تُصَدِّقُهُ أَنَّهُ ذَهَبَ اللَّيْلَة إِلَى بَيْتِ الْمَقْدَس وَجاَءَ قَبْلَ أَنْ يُّصْبَح؟ قَالَ: نَعَم، إِنِّي لَأَصَدِّقُهُ فِي مَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِك أُصَدِّقُهُ بِخَبَر السَّمَاءِ فِي غَدْوَة أَوْ رَوْحَة، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ أَبُو بَكْرٍ: الصِدِّيْق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌»
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی طرف لے جایا گیا ،لوگ اس کے برے میں باتیں کرنے لگے۔ آپ پر جو لوگ ایمان لائے تھے اور آپ کی تصدیق کی تھی ان میں سے کچھ لوگ مرتد ہو گئے اور دوڑتے ہوئے ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کے پاس آئے کہنے لگے: اپنے ساتھی کو دیکھو، اس کا خیال ہے کہ اسے رات کے وقت بیت المقدس لے جایا گیا ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اس نے یہ بات کہی ہے تو اس نے سچ کہا۔ لوگوں نے کہا: کیا آپ اس کی تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ رات کے وقت بیت المقدس گیا اور صبح ہونے سے پہلے آگیا؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، میں تو اس سے بڑی بات کی تصدیق کرتا ہوں، میں صبح یا شام کو آسمان سے آنے والی خبر کی بھی تصدیق کرتا ہوں ،اسی وجہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام صدیق ہوا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3551

عَنْ جَابِر قَالَ: « لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِّنَ الْحَبْشَة عَانَقَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌»
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ :جب جعفر‌رضی اللہ عنہ حبشہ سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معانقہ کیا۔(گلے ملے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3552

عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ :اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ ۙ﴿۱﴾ (النصر) قَالَ: أَتَاکُمْ أَھْلُ الْیَمَنِ ھُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا الْإِیْمَانٍ الْفِقْہُ یَمَانٍ الْحِکْمَۃُ یَمَانِیَۃٌ۔
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: جب یہ آیت نازل ہوئی: اِذَا جَآئَ نَصْرُ اﷲِ وَ الْفَتْحُ۔(النصر) ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں جو نرم دل ہیں۔ ایمان ینیق ہے، فقہ یمنی ہے، حکمت یمنی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3553

عَنْ عِيَاضٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفاَا یَاْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ۔(المائدة: ٥٤) أومأ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى أَبِي مُوسَى بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ فَقَالَ: هُمْ قَوْمُ هَذَا
عیاض اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: جب یہ آیت نازل ہوئی: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفاَا یَاْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ۔(المائدة: ٥٤) اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہو گیا تو عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم لائے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہو گا اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہوں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ کی طرف کسی چیز سے اشارہ کیا جو آپ کے پاس تھی، فرمانے لگے: وہ اس کی قوم ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3554

عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوْعاً: لَنْ يَّدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرًا وَّالْحُدَيْبِيَةَ
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: وہ شخص آگ میں داخل نہیں ہوگا جو بدریا حدیبیہ میں موجود تھا۔