315 Results For Hadith (Al Silsila Sahiha) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 475

عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ يُبَايِعُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! اُبْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ وَاشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ قَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللهَ وَتُقِيْمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتُنَاصِحَ الْمُسْلِمِينَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكَ .
جریر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا ۔آپ بیعت لے رہے تھے، میں نے كہا: اے اللہ كے رسول اپنا ہاتھ آگے كیجئے، تاكہ میں آپ كی بیعت كر سكوں ، اور مجھ پر كچھ شرائط عائد كیجئے كیونكہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تم سے اس شرط پر بیعت لیتا ہوں كہ تم اللہ كی عبادت كرو گے، نماز قائم كرو گے، زكاۃ ادا كرو گے، مسلمانوں كی خیر خواہی كرو گے اور مشركین كو چھوڑ دو گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 476

عن الْمُطَّلِب بن عبد الله بن حَنْطَب ، عن عبد الله بن عَمرو بن الْعاص ، قال : صَعِد رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمِنْبَر فَقَال : لَا أُقْسِمُ ، لَا أُقْسِمُ ، لَا أُقْسِمُ ، ثمَّ نَزل فَقَال أبْشِرُوا، أَبْشِرُوا، إنَّه مَنْ صَلَّى الصَّلوَاتِ الخمسَ، واجْتَنَبَ الكَبَائِرَ، دَخَلَ مِنْ أيِّ أبوابِ الجَنَّةِ شَاءَ قال المطلب : سَمعتُ رَجُلاً يَّسْأَلُ عبد الله بن عَمرٍو ، أسَمِعتَ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَذْكُرهُنّ؟ قال: نَعَم، عُقوْقُ الوَالِدَيْنِ، والشِّرْكُ بالله، وقتلُ النَّفس، وقَذْفُ المحصَنات، وأكلُ مالِ اليتيمِ، والفرارُمن الزَّحفِ. وأكلُ الربا
مطلب بن عبداللہ ،عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت كرتے ہیں ،انہوں نے كہا کہ: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌منبر پر چڑھے ، اور فرمایا : میں قسم نہیں كھاتا ، میں قسم نہیں كھاتا ، میں قسم نہیں كھاتا ، پھر نیچے اتر آئے اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، خوش ہو جاؤ، جس نے پانچ نمازیں پڑھیں اور كبائر سے اجتناب كیا ، وہ جنت كے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہو جائے گا۔ مطلب نے كہا: میں نے ایك آدمی كو عبداللہ بن عمرو سے سوال كرتے ہوئے سنا، كہ كیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ان كبائر كا ذكر سنا ہے؟ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جی ہاں ، وہ یہ ہیں: والدین كی نافرمانی، اللہ كے ساتھ شرك، بے گناہ كو قتل كرنا، پاكدامن پر تہمت لگانا، یتیم كا مال كھانا، میدان جنگ فرار اور سود كھانا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 477

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَغْرِبَ فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ وَعَقَبَ مَنْ عَقَبَ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ وَقَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ: أَبْشِرُوا هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِّنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً وَّهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہاكہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ مغرب كی نماز پڑھی ،جانے والے چلے گئے ،كچھ لوگ بیٹھے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی میں آئے آپ كا سانس پھول ر ہا تھا، آپ نے اپنے گھٹنےسےکپڑا ہٹا دیا پھرآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمانے لگے: خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا رب ہے، جس نے آسمان كے دروازوں میں سے ایك دروازہ كھول دیا ہے، تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر كر رہا ہے اور فرما رہا ہے میرے بندوں كی طرف دیكھو، جنہوں نے ایك فرض ادا كيا، اور دوسرے كے منتظر ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 478

قال صلی اللہ علیہ وسلم : «ابْنوه عَرِيشًا كَعَرِيش مُوسَى». -يعني: مسجد المدينة۔ روی مرسلا عن الحسن البصری و سالم بن عطیہ والزھری و راشدین سعد و موصولا عن ابی الدرداء و عبادہ بن الصامت
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے(مسجد نبوی كو) لکڑی سے اس طرح بناؤ جس طرح موسی علیہ السلام نے بنائی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 479

عن أبي إِدْرِيس الْخَوْلَانيّ ، قال: كُنْتُ في مَجْلِسٍ مِّنْ أَصَحَاب النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِيهِم عُبَادَةُ بنُ الصَّامِت فَذَكَرُوا الْوِتْرَ فَقَال بَعْضهُم : وَاجِبٌ وَقَال بَعْضَهُم : سُنَةٌ فَقَالَ عُبَادَةُ بنُ الصَّامِت : أَمَا أَنا فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعَتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ : أَتَانِي جِبْرِيلُ عليه السلام مِن عنْدِ الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ : يَا مُحَمدُ إِن الله عَزّ وَجَل قَالَ لَكَ: إِنِّي قَد فَرَضْتُ عَلَى أُمَّتكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ مَنْ وَّافَاهُن عَلَى وُضُوئِهِنّ وَمَوَاقِيتِهِنّ وَسُجُودِهِنّ فَإِن لَه عِنْدِي بِهَنَّ عَهْدًا أَن أُدْخِلَه بِهَن الْجَنَّة ، وَمَنْ لَقِيَنِي قَد اَنْقَصَ مِنْ ذَلِك شَيْئًا أَو كَلِمَةً تُشْبهُهَا فَلَيْس لَه عِنْدِي عَهدٌ إِن شِئْتُ عَذَّبْتُه وَإِن شِئْتُ رَحِمتُه .
ابو ادریس خولانی سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ كی ایك مجلس میں تھا۔ ان میں عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وتر كا تذكرہ چل پڑا، كسی نے كہا: واجب ہے، اور كسی نے كہا: سنت ہے۔ عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں گواہی دیتا ہوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: میرے پاس جبریل علیہ السلام، اللہ تبارك وتعالیٰ كے پاس سے آئے اور كہا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) یقینا اللہ عزوجل نے آپ كے لئے فرمایا ہے كہ میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض كی ہیں، جس شخص نے ان كا وضو ، رکوع اور سجدہ اچھے انداز سے کیااور انہیں وقت پر ادا كیا تو اس شخص كے لئے ان كے بدلے میرے ذمے عہد ہے كہ میں اسے جنت میں داخل كروں گا، اور جو شخص مجھ سے اس حال میں ملا كہ اس نے ان میں كمی كوتاہی كی ہوگی۔ یا ایسا ہی كوئی جملہ كہا، تو میرے ذمے اس كے لئے وعدہ نہیں۔ اگر میں چاہوں تو اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں تو اس پر رحم كروں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 480

عَنْ جَابِر بنْ عَبْداللهِ رضي الله عنهما قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَصَلَّى فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ مُعَاذٌ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتُرِيْدُ أَنْ تَكُوْنَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ! إِذَا أَمَمْت النَّاسَ فَاقْرَأْ بِـ وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں كو عشاء كی نماز پڑھائی، تونماز لمبی كر دی۔ ہم میں سے ایك آدمی پیچھے ہو گیا( اور نماز پڑھ لی) ،معاذ رضی اللہ عنہ كو اس كے بارے میں بتلایا گیا تو معاذ نے كہا: وہ منافق ہے، اس آدمی كو جب یہ پتہ چلا تو وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور جو بات معاذ نے كہی تھی وہ آپ كو بتائی۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے معاذ سے كہا: معاذ كیا تم فتنہ كا باعث بنناچاہتے ہو؟ جب تم لوگوں كی امامت كرواؤ تو : وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ پڑھا كرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 481

عن أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ: اتَّقُوا اللهَ رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ .
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، حجۃ الوداع كا خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے:اللہ سے ڈرو جو کہ تمہارا رب ہے، پانچ نمازیں پڑھو، رمضان كے روزے ركھو، اپنے اموال كی زكاۃ ادا كرو، اپنے امراء كی فرمانبرداری كرو، تم اپنے رب كی جنت میں داخل ہو جاؤ گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 482

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِوَجْهِهِ حِيْنَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: أَتِمُّوا الصُّفُوفَ (وَفِي رِوَايَةٍ: اِسْتَوُوْا، اِسْتَوُوْا) (وَتَرَاصُّوا)، فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي (كَمَا أَراَكُمْ بَيْنَ يَدَيَّ) .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب نماز كے لئے كھڑے ہوئے تو تكبیر كہنے سے پہلے اپنا رخ ہماری طرف كر كے متوجہ ہوئے۔ اور فرمایا: صفیں مكمل كرو(اور ایك روایت میں ہے: برابر ،برابر ہو جاؤ) (آپس میں اچھی طرح مل جاؤ)میں تمہیں اپنے پیچھے سے اس طرح دیكھتا ہوں(جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیكھتا ہوں)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 483

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مَرْفُوْعاً: اثْنَانِ لا تُجَاوِزُ صَلاتُهُمَا رُءُوسَهُمَا: عَبْدٌ أبَقَ مِنْ مَّوَالِيهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ، وَامْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا حَتَّى تَرْجِعَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ: دو آدمی ایسے ہیں جن كی نمازیں ان كے سروں سے اوپر نہیں جاتیں۔ مفرور غلام حتی كے اپنے مالكوں كی طرف لوٹ آئے، اور وہ عورت جو اپنے شوہر كی نافرمانی كرے، جب تک کہ باز نہ آجائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 484

قال صلی اللہ علیہ وسلم : اجْعَل بَيْن أَذَانِك وَإِقَامَتِك نَفَسًا قَدْرَ ما يَقْضِي الْمُعْتَصِرُ حَاجَتَه في سَهل وَقَدْرَ ما يَفْرُغ الْآكِل مِنْ طَعَامِه في مَهْل. روی من حدیث اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَّ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ وَابِیْ ھُرَیْرَہَ وَسَلْمَانَ الْفَارِسیِّ
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنی اذان اور اقامت كے درمیان اتنا وقفہ كرو كہ پانی پینے والا سہولت سے پی لےاور كھانا كھانے(یعنی افطار كرنے) والا تسلی سے كھانا كھالے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 485

عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ.
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا تو كہا: بیٹھ جاؤ، اہل كتاب اس لئے برباد ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 486

عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا تو كہا: بیٹھ جاؤ، اہل كتاب اس لئے برباد ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 487

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي (بَعْدَهَا) فَرَآهُ عُمَرُ ، (فَأَخَذَ بِرِدَائِه أَوْ بِثَوْبِهِ) فَقَالَ لَه:ُ اِجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ (وَفِي رِوَايَةٍ:صَدَقَ) ابْنُ الْخَطَّابِ .
عبداللہ بن رباح، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے روایت كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ عصر کے بعد ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا( تو اس كی چادر یا اس كا كپڑا پكڑا) اور كہا: بیٹھ جاؤ، كیونكہ اہل كتاب اس لئے ہلاك ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا(اور ایك روایت میں ہے: ابن الخطاب نے سچ كہا)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 488

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اُحْضُرُوا الذِّكْرَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نصیحت كی مجالس (خطبہ جمعہ) میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو کیونکہ آدمی دور ہوتا رہتا ہے حتی کہ وہ جنت میں بھی پیچھے رہ جاتا ہے اگرچہ اس میں داخل ہوجا ئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 489

عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ فَسَأَلْنَا أُمَّ عَطِيَّةَ : هَلْ سَمِعْتِ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ بِأَبَا - وَكَانَتْ إِذَا حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ : بِأَبَا - سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ :« أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَلْيَشْهَدْنَ الْعِيْدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِيْنَ ، وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِيْنَ » .
حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ہم نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے سوال كیا كہ كیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے كہا: جی ہاں میرے باپ آپ پر قربان ہوں۔ وہ جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے حدیث بیان كرتیں تو كہا كرتی تھیں میرے باپ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر قربان ہوں: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے نوجوان اور بالغ لڑكیوں كو نکالو کہ وہ عید اور مسلمانوں كی دعا میں شریك ہوں، اور حائضہ عورتیں عیدگاہ سے الگ رہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 490

عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَّنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ فِي إِدَاوَةٍ وَّأَمَرَنَا فَقَالَ: اُخْرُجُوا فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بَيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا قُالوا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يَنْشُفُ؟ فَقَالَ مُدُّوْهُ مِنَ الْمَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَكَسَرْنَا بِيعَتَنَا ثُمَّ نَضَحْنَا مَكَانَهَا وَاتَّخَذْنَاهَا مَسْجِدًا فَنَادَيْنَا فِيهِ بِالْأَذَانِ قَالَ: وَالرَّاهِبُ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ قَالَ: دَعْوَةُ حَقٍّ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ تَلْعَةً مِّنْ تِلَاعِنَا فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ .
طلق بن علی سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ ہم ایك وفد كی صورت میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے۔ ان سے بیعت كی اور ان كے ساتھ نماز پڑھی۔ ہم نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو بتایا كہ ہمارے علاقے میں ایك گرجا گھرہے۔ ہم نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے پانی منگوایا، وضو كیا اور كلی كی، پھر اسے برتن میں ڈال دیا، اور ہمیں حكم دیا كہ جاؤ، اور جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اپنے گرجے كو توڑ دینا۔ اس پانی كو اس جگہ چھڑكنا اور وہاں مسجد بنا لینا۔ لوگوں نے كہا: علاقہ دور ہے، گرمی شدید ہے یہ پانی تو ختم ہوجائے گا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس میں پانی ملالینا، یہ اسے پاكیزگی میں زیادہ كرے گا، ہم وہاں سے چل پڑے، اور اپنے علاقے میں پہنچ گئے۔ ہم نے گرجے كو توڑا ، اس جگہ پرپانی چھڑكا اور وہاں مسجد بنالی، پھر اس میں اذان كہی، وہاں كا راہب قبیلہ طے كا تھا جب اس نے اذان سنی تو كہا: سچی دعوت ہے پھروہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیااس كے بعد ہم نے اسے نہیں دیكھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 491

عن سَعد بن أبي وَقَاص، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذا أَتَيْتَ الصَّلاةَ فَأتِهَا بِوَقَارٍ وَّسكِينَةٍ، فَصَلِّ مَا أَدْرَكتَ، وَاقْضِ مَا فَاتَكَ.
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم نماز كے لئے آؤ تو وقار اور سكون كے ساتھ آؤ۔ جو مل جائے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے (بعد میں)پورا كر لو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 492

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ (أول) سَجْدَةٍ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ وَإِذَا أَدْرَكَ (أولَ) سَجْدَةٍ مِّنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب تم میں سے كوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے نمازِ عصر كی ایك ركعت پالے تو وہ اپنی نماز مكمل كرلے ، اور جب سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح كی نماز كی ایك ركعت پالے تو اپنی نماز مكمل كرلے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 493

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إِذَا أَدْرَكْتَ رَكْعَةً مِّنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ (فَطَلَعْتَ)، فَصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم سورج طلوع ہونےسے پہلے نمازِ فجر كی ایك ركعت پالو(اور پھر سورج طلوع ہو جائے) تو دوسری ركعت بھی پڑھ لو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 494

عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَذَّنْتَ الْمَغْرِبَ فَاحْدُرْهَا مَعَ الشَّمْسِ حَدْرًا .
ابو محذورہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سےفرمایا: جب تم مغرب كی اذان دو تو سورج غروب ہوتے ہی جلدی جلدی اذان دے دیا کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 495

عن ابى هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذا اسْتُوْذِنَ عَلَى الرَّجُلِ وَهو يُصَلى فَاذْنُه التَّسْبِيح وَإِذَا اسْتُوْذِنَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَهِي تُصَلى فَاذْنُها التَّصْفِيقُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور اس سے اجازت مانگی جائے تو اس كی اجازت تسبیح(سبحان اللہ کہنا ہے)ہے اور جب عورت نماز پڑھ رہی ہو، اور اس سے اجازت مانگی جائے تو اس كی اجازت تالی (ہاتھ پر ہاتھ مارنا )ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 496

عَنْ أَنسِ بن مَالكٍ يُخْبرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَحَدُكُم صَائِمٌ فَلْيَبْدَأ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، وَلَا تَعْجَلُوْا عَن عَشَائِكُم .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان كرتے ہیں : آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا، جب نماز (مغرب) کے لئے اذان کہہ دی جائے اور تم میں سے كوئی روزے سے ہو تو وہ نماز مغرب سے پہلے كھانا كھالے، اور کھانے سے (پہلے کوئی کام کرنے یعنی نماز پڑھنے میں) جلدی نہ کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 497

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: آخِرُ مَا عَهِدَ بِه إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ
عثمان بن ابی العاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سے آخری عہد یہ لیا كہ ، جب تم لوگوں كی امامت كراؤ تو انہیں ہلكی نماز پڑھاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 498

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَّافَقَ تَأْمِيْنُهُ تَأْمِيْنَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب قاری(امام)آمین كہے ، تو تم بھی آمین كہو۔ كیونكہ اس وقت فرشتے بھی آمین كہتے ہیں ۔اور جس شخص كی آمین فرشتوں كی آمین كے موافق ہو گئی ، ا س كے پچھلے تمام گناہ معاف كر دیئے جائیں گے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 499

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: إِذَا بَدَا (وَفِي لَفْظٍ: طَلَعَ) حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : جب سورج كی ٹكیہ طلوع ہونا شروع ہو جائے تو(فجرکی) نماز مؤ خر كر دو، حتی كہ وہ اچھی طرح طلوع ہو جائے اور جب سورج كی ٹكیہ غروب ہونا شروع ہو جائے تو نماز(عصر)مؤ خر كر دو، حتیٰ كہ وہ اچھی طرح غروب ہو جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 500

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقاَصٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيُغَيِّبْهَا لَا تُصِبُ جِلْدَةَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ فَتُؤْذِيَهُ .
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں تھوك پھینكے تو اسے ختم كر دے تا كہ وہ مومن كے جسم یا كپڑے پر لگ كر اسے تكلیف نہ دے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 501

عَنْ بُسْر بْن مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَّعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَـأذِّنَ بِالصَّـلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ لَمْ يُصَلِّ مَعَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ وَلَكِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ
بسر بن محجن اپنے والد محجن‌رضی اللہ عنہ سے روایت كرتے ہیں كہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ایك مجلس میں شریک تھے۔ نماز کےلئے اذان کہی گئ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہو گئے اور نماز پڑھائی۔ پھر آپ واپس لوٹ آئے، محجن‌رضی اللہ عنہ اسی مجلس میں بیٹھے تھے، آپ كے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: لوگوں كے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں كس چیز نے روكا؟ كیا تم مسلمان نہیں ہو؟ محجن‌رضی اللہ عنہ نے كہا:اے اللہ كے رسول كیوں نہیں! لیكن میں اپنے گھرمیں نماز پڑھ چكا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا:جب تم آؤ تو لوگوں كے ساتھ نماز پڑھو، اگرچہ تم نماز پڑھ چكے ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 502

عَنْ كَثِيرِ بن قاَرَوَنْد قَالَ: سَأَلْنَا سَالِمَ بن عَبْدِ اللهِ عَنْ صَلاةِ أَبِيهِ فِي السَّفَرِ؟ فأَخْبَرَ عَنْ أَبِيهِ ،ابن عمر رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الأَمْرُ يَخْشَـى فَوْتَهُ فَلْيُصَـلِّ هَذِهِ الصَّلاةَ (يَعْنِي) الْجَـمْـع بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ.
كثیر بن قاروند سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان كے والد كی نماز كے بارے میں دریافت كیا؟ تو انہوں نے اپنے والد(عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) سے روایت بیان كی كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كسی كو یہ معاملہ (یعنی سفر) در پیش آئے جس میں نماز كے فوت ہونے سے ڈرتا ہو تو وہ یہ نماز پڑھ لے(یعنی جمع بین الصلاتین كر لے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 503

عن أبي هُرَيْرَة، قَال: قَال رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَرَجَ الْمُسْلِمُ إلى الْمَسْجِدِ كَتَبَ اللهُ لَه بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَسَنَةً، وَّمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً ، حَتَّى يَأْتِيَ مَقَامَهُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان مسجد كی طرف نكلتا ہے تو جتنے قدم چلتا ہے اسکے ہر قدم كے بدلے ایك نیكی لكھی جاتی ہے اور اس كے بدلے اس كی ایك غلطی مٹادی جاتی ہے۔ حتی كہ وہ اپنی جگہ پہنچ جائے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 504

عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ أَنَّ النَبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِذَا خَرَجَتْ إِحْداَكُنَّ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا تَقْرَبَنَّ طِيبًا
زینب ثقفیۃ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں جائے تو خوشبو کے قریب بھی نہ پھٹکے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 505

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْتَغْتَسِلْ مِنَ الطِّيبِ كَمَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت مسجد كی طرف نكلے تو خوشبو سے اس طرح غسل كرے(صاف) جس طرح جنابت سے غسل كرتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 506

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدري قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ وَأَمِنُوا فَ (والذي نفسي بيده) مَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا (ويجاهدون معنا) فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ قَالَ: فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ منهم فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَّنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنْ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَّمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾ النساء قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ الله: شَفَعَتِ الْمَلَائِكَةُ، وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ، وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ: فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِّنَ النَّارِ أَوْ قَالَ: قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَّمْ يَعْمَلُوا لِلهِ خَيْرًا قَطُّ قَدْ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمُ الْخَاتَمُ عُتَقَاءُ اللهِ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُمْ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: رِضَائِي عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن لوگ آگ سے خلاصی پالیں گے، اور بے خوف ہو جائیں گے، تو ( اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے) تم میں سے كوئی شخص دنیا میں اپنے ساتھی سے اتنا سخت جھگڑا نہیں كرتا جتنا شدید جھگڑا مومنین اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں كے بارے میں كریں گے جو آگ میں ڈال دیئے گئے ہونگے ۔ كہیں گے اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھا كرتے تھے، روزہ ركھا كرتے تھے، حج كیا كرتے تھے( اور ہمارے ساتھ جہاد كیا كرتے تھے) پھر بھی آپ نے انہیں آگ میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ، ان میں سے جن كو پہچانتے ہو آگ سے نكال لو۔ جنتی ان كے پاس آئیں گے ، وہ انہیں ان كے چہروں سے پہچانیں گے۔ آگ ان كے چہروں كو نہیں جلائے گی۔ ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں آگ نصف پنڈلیوں تك جلائے گی، ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں ٹخنوں تك جلائے گی( جنتی) ان میں سے (بے شمار) لوگوں كو نكال لیں گے وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے انہیں نكال لیا۔ پھر( وہ دوبارہ آئیں گے، اور بات چیت كریں گے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ایک دینار جنان بھی ایمان ہے اسے آگ سے نكال لو۔ (جنتی بے شمار لوگوں كو نكالیں گے) ۔پھر(وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان میں سے آگ میں ایك بھی نہیں چھوڑا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: لوٹ جاؤ)جس شخص كے دل میں نصف دینار كے وزن كے برابر ایمان ہو( اسے بھی آگ سے نكال لو، جنتی اس میں سے بے شمار لوگوں كو نكالیں گے، جنتی كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ایك بھی نہیں چھوڑا ۔) حتیٰ كہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نكال لو(جنتی بے شمار لوگوں كو نكال لیں گے۔) ابو سعید نے كہا: جو شخص اس حدیث كی تصدیق نہ كرے وہ یہ آیت پڑھ لے: ﴿النساء:۴۰﴾ ترجمہ: یقینا اللہ تعالیٰ ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں كرتا ، اور اگر نیكی ہو تو اسے کئی گناہ بڑھا دے گا، اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت كرتا ہے ۔ جنتی لوگ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان سب كو نكال لیا، اب آگ میں كوئی بھی شخص ایسا نہیں جس میں كوئی بھلائی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش كی، انبیاءنے سفارش كی، مومنین نے سفارش كی، اب ارحم الراحمین باقی رہ گیا۔ اللہ آگ میں سے ایك مٹھی، یا دو مٹھی ایسے لوگوں كی بھر كر نكالے گا، جنہوں نے كبھی كوئی نیكی نہیں كی ہوگی، جو جل كر كوئلہ ہو چكے ہونگے۔ انہیں اس پانی تك لایا جائے گا جسے( آب حیات) كہا جاتا ہے۔ ان پر پانی ڈالا جائے گا وہ اس طرح اُگ آئیں گے جس طرح دانہ سیلاب كے كچرے میں پھوٹ آتا ہے۔(جسےا تم نے چٹان كے اطراف میں دیكھا ہوگا، اور درختوں كے اطراف میں، ان میں سے جو سورج كی طرف ہوتا ہے، وہ سر سبز ہوجاتا ہے، اور جو سائے كی طرف ہوتاہے وہ سفید رہ جاتاہے)۔ ان كے جسم موتی كی طرح ہوجائیں گے ، اور ان كی گردنوں پر مہر لگی ہوگی( اور ایك روایت میں ہے، مہریں لگی ہونگی) یہ اللہ كے آزاد كردہ ہیں۔ ان سے كہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، جس چیز كی تمنا كرو گے ، اور جو چیز دیكھو گے وہ تمہارے لئے ہے۔ (اہل جنت كہیں گے: یہ رحمن كے آزاد كردہ ہیں، اس نے کسی عمل اور نیکی کے بغیر انہیں جنت میں داخل كیا ہے)، وہ كہیں گے: اے ہمارے رب تو نے ہمیں وہ دے دیا جو دنیا والوں میں سے كسی كو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے پاس تمہارے لئے اس سے بھی عمدہ چیز ہے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب اس سے عمدہ كیا چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تم سے راضی ہو گیا، اب میں كبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہونگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 507

عن عَطَاء، أَنَّه سَمِع ابنَ الزُبَيْر، عَلَى الْمِنْبَر يَقولُ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُم الْمَسْجِدَ، وَالنَّاسُ رُكُوعٌ فَلْيَرْكَعْ حِين يَدْخُلُ، ثم يَدُبُّ رَاكِعًا حَتَّى يَدْخُلَ في الصَّفّ، فَإِن ذَلِك السُّنَةُ
عطاء سے مروی ہے انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بر سرِ منبر سنا كہہ رہے تھے: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں داخل ہو اور لوگ ركوع میں ہوں تو وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت ركوع كر لے، آہستہ آہستہ چلتا ہوا/سرکتا ہوا صف میں آجائے كیونكہ یہ سنت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 508

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: عُثْماَن) فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لِمَ تَحْتَبِسُونَ عَنِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعُوا النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمْعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ؟.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ عمر‌رضی اللہ عنہ خطبۂ جمعہ دے رہے تھے، اچانك ایك آدمی ( اور ایك روایت میں ہے عثمان رضی اللہ عنہ )مسجد میں داخل ہوا۔ تو عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: تم نماز سے پیچھے کیوں رہتے ہو؟ اس آدمی نے كہا: معاملہ دراصل یہ ہے كہ میں نے اذان سنی تو وضو كر لیا۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص جمعہ كے لئے جائے تو غسل كر لے؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 509

عَنْ كَعْبِ بن عُجْرَةَ، أَنَّ أَعْمَى أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ، وَلَعَلِّي لا أَجِدُ قَائِدًا؟ قَالَ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَأَجِبْ دَاعِيَ اللهِ عزوجل
كعب بن عجرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك نابيناآدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے رسول میں اذان سنتا ہوں لیکن كبھی مجھے ساتھ لانے والا کوئی نہیں ہوتا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو اللہ كے داعی كو جواب دو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 510

عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِيَ يُثَوِّبُ بِالصَّـلَاةِ فَقُولُـوا كَـمَا يَقُولُ
سہل بن معاذ اپنے والد معاذ‌رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں،كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان دینے والے كو سنو جو نماز كے لئے پكار رہا ہے، تو جس طرح وہ كہہ رہا ہے تم بھی اسی طرح كہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 511

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ وَاحِدَةً صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَلْيَبْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ فَإِنْ لَّمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَإِنْ لَّمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثَلَاثٍ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُّسَلِّمَ .
عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز میں بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے ایك ركعت پڑھی ہے یا دو ركعتیں تو وہ ایك پر بنیاد ركھے۔ اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے دو پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو پر بنیاد ركھے، اور اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے تین ركعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تین پر بنیاد ركھے، اور سلام سے پہلے دو سجدے كرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 512

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ وَاحِدَةً صَلَّى أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَلْيَبْنِ عَلَى وَاحِدَةٍ فَإِنْ لَّمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَوْ ثَلَاثًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَإِنْ لَّمْ يَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّى أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَبْنِ عَلَى ثَلَاثٍ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُّسَلِّمَ
عبدالرحمن بن عوف‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز میں بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے ایك ركعت پڑھی ہے یا دو ركعتیں تو وہ ایك پر بنیاد ركھے۔ اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے دو پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو پر بنیاد ركھے، اور اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے تین ركعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تین پر بنیاد ركھے، اور سلام سے پہلے دو سجدے كرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 513

عَنْ جُبَيْرِ بن مُطْعِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ ، فَلْيَـدْنُ مِنْهَا، لا يَمُرُّ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُ ، وَبَيْنَهَا
جبیر بن مطعم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص سترے كی طرف رخ كر كے نماز پڑھے ، تو اس كے قریب ہو جائے تاكہ اس شخص اور سترے كے درمیان سے شیطان نہ گزر سكے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 514

عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِك الْخَطْمِي، مَرْفُوْعاً: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ، فَلا يُصَلِّي بَعْدَهَا شَيْئًا حَتَّى يَتَكَلَّمَ أَوْ يَخْرُجَ .
عصمہ بن مالك خطمی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب تم میں سے كوئی شخص جمعہ پڑھے، تو اس كے بعد كوئی نماز نہ پڑھے جب تک بات نہ كرلے، یااس جگہ سے ہٹ نہ جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 515

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيَلْبَسْ ثَوْبَيْهِ ، فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ مَنْ تُزُيِّنَ لَهُ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز پڑھے ،تو وہ اپنے دونوں كپڑے پہن لے۔ كیوں كہ اللہ تعالیٰ اس كی آرائش كا زیادہ حقدار ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 516

عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قال: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذاَ صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
معاویہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام بیٹھا ہوا نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ كر نماز پڑھو ۔ (یہ حکم ابتدائی طور پر تھا بعد میں یہ منسوخ ہوگیا)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 517

عن ربيع بن معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذَا صَلَّوا عَلى جَنَازَةٍ وَأَثْنَوا خَيراً يَّقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَل: أَجَزْتُ شَهَادَتَهُم فِيْمَا يَعْلَمُونَ وَأَغْفِرُ لَه مَا لَا يَعْلَمُونَ.
ربیع بن معوذ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ کسی میت کی نمازِ جنازہ پڑھیں، اور اس كی تعریف كریں تو اللہ رب العزت فرماتا ہے: جو یہ لوگ جانتے ہیں اس بارے میں ان كی گواہی كافی ہوگئی، اور جو یہ لوگ نہیں جانتے میں اسے بخشتا ہوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 518

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَّأَنَا بِهِ جَاهِلٌ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بقَرْنَي شَيْطانٍ فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ وَّمُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ فَإِذَا اعْتَدَلَتْ عَلَى رَأْسِكَ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُّتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، (ثُمَّ دَعِ الصَّلاَة حَتَّى تَغِيْبَ الشَّمْسُ)
صفوان بن معطل سلمی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا كہ:اے اللہ كے رسول ! میں آپ سے اس چیز كے بارے میں سوال كرنا چاہتا ہوں ،جسے آپ جانتے ہیں اور میں لاعلم ہوں۔ رات و دن كے كونسے اوقات ہیں جن میں نماز پڑھنانا پسندیدہ عمل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم صبح كی نماز پڑھ لو تو سورج طلوع ہونے تك نماز پڑھنے سے ركے رہو،( كیونكہ سورج شیطان كے دو سینگوں كے درمیان سے طلو ع ہوتاہے) جب سورج طلوع ہو جائے تو پھر نماز پڑھو۔ كیونكہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مقبول ہوتی ہے۔حتیٰ كہ جب سورج عین تمہارے سر پر كھڑا ہو جائے۔(تو پھر نماز نہ پڑھو)۔ جب وہ تمہارے سر كے برابر ہو جائے تو یہ وہ گھڑی ہے جس میں جہنم بھڑكائی جاتی ہے ، اور اس گھڑی میں جہنم كے دروازے كھولے جاتے ہیں ۔حتی كہ وہ تمہارے دائیں طرف ڈھل جائے(زوال ہوجائے)۔ جب وہ تمہارے دائیں طرف ڈھل جائے تو پھر نماز پڑھو۔كیونكہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور مقبول ہوتی ہے حتی كہ تم عصر پڑھ لو۔پھر سورج غروب ہونے تك نماز چھوڑ دو(نہ پڑھو)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 519

عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَّمِينِكَ وَلَكِنْ ابْصُـقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا وَإِلَّا فَتَحْتَ قَدَمَيْكَ وَادْلُكْهُ .
طارق بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے نہ تھوكو نہ اپنے دائیں طرف تھوکو لیكن اپنے بائیں جانب تھوکو اگر وہ خالی ہو، وگرنہ اپنے قدموں کے درمیان تھوك کرمسل دو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 520

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ فَإِنَّمَا يُنَاجِي اللهَ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ وَلَا عَنْ يَّمِينِهِ فَإِنَّ عَنْ يَّمِينِهِ مَلَكًا وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَّسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَيَدْفِنُهَا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز كے لئے كھڑا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوكے ،كیونكہ جب تك وہ نماز میں ہے اللہ سے سر گوشی كر رہا ہے، اور نہ اپنے دائیں طرف تھوكے ،كیونكہ اس كے دائیں طرف فرشتہ ہے ۔ لیكن وہ اپنے بائیں طرف یا اپنے قدم كے نیچے تھوك كر اسے دفن كر دے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 521

عَنْ حُذَيْفَة قال: إِن رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُم، أَو قَالَ الرَجُلُ في صَلَاتِه يُقْبِلُ اللهُ عَلَيه بِوَجْهِه، فَلَا يَبْزُقَنّ أَحَدُكُم في قِبْلَتِه، وَلَا يَبْزُقَنَّ عَنْ يَمِينِه، فَإِنَّ كَاتِبَ الْحَسَنَاتِ عَن يَمِينِه، وَلَكِنْ لِيَبْزُقْ عن يَسَارِه
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہاكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنی نماز میں كھڑا ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے كا رخ اس كی طرف كر كے متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے كوئی شخص اپنے قبلہ كی طرف ہر گز نہ تھوكے ، نہ اپنے دائیں طرف تھوكے۔ كیونكہ نیكیاں لكھنے والے دائیں طرف ہوتے ہیں، لیكن اپنے بائیں طرف تھوكے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 522

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَّسْتَوِيَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ
مغیرہ بن شعبہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام دو ركعتوں کے بعد كھڑا ہو جائے، اگر اسے سیدھا كھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے، اور اگر وہ سیدھا كھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے بلكہ سجدہ سہو كرلے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 523

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ وَإِنْ لَّمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب صاحب قرآن (حافظ قرآن) كھڑا ہوتا ہے ، اور رات دن تلاوت كرتا ہے، تو اسے یاد رہتا ہے ، اور اگروہ تلاوت نہ كرے تو قرآن بھول جاتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 524

عَنْ أبي هُرَيْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لاَالضَّآلِّیْنَ) فأمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِن الْمَلَائِكَة تُؤَمِّن عَلَى دُعَائِه، فَمَن وَّافَق تَأْمِينُه تَأْمِينَ الْمَلَائِكَة ، غُفِر لَه ما تَقَدَّم من ذُنْبِه .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لاَالضَّآلِّیْنَ)پڑھتا ہے اور آمین كہتا ہے تو تم بھی آمین كہو۔كیونكہ فرشتے بھی اس كی دعا پر آمین كہتے ہیں۔ تو جس شخص كی آمین فرشتوں كی آمین كے موافق ہوگئی۔ اس كے پچھلے تمام گناہ معاف كردیئے جاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 525

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ في مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِّنْ صَلَاتهِ فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں اپنی( فرض) نماز پوری كر لے تو اپنی نماز كا كچھ حصہ اپنے گھر میں پڑھے۔ كیونكہ اللہ تعالیٰ گھر میں نماز پڑھنے كی وجہ سے بھلائی عطا كرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 526

عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا لا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتين غَيرَ أَنْ نُّسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنَحْمَدَ رَبَّنَا، وَإِنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، فقَالَ: إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَقُولُوا: اَلتَّحِيَّاتُ لِلهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، اَلسَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا: ہم نہیں جانتے تھے كہ ہم دو ركعتوں میں كیا پڑھیں؟ ہم تو صرف تسبیح، تكبیر اور اپنے رب كی تحمید كیا كرتے تھے۔ اور یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خرأ كی ابتداء و انتامء سكھلادی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دو ركعتوں میں بیٹھو تو یہ كہا كروالتَّحِيَّاتُ لِلهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، وَالسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ترجمہ: تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں، اے نبی آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور برکات ہوں،ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر جو دعا اسے پسند ہو وہ دعا كرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 527

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ فَقَالَ: إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَّلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا وَاجْمَعِ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي أ يْدِيْ النَّاسِ .
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہنے لگا مجھے ایك مكمل ومختصر نصیحت كیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز كے لئے كھڑے ہوا كرو تو الوداعی نماز سمجھ کر پڑھا كرو، اور كوئی ایسی بات نہ كہو جس كی وجہ سے تمہیں كل معذرت كرنی پڑے، اور لوگوں كے پاس جو كچھ ہے اس سے مایوس ہو جاؤ
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 528

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَـالَ: إِذَا قُـمْتُـمْ إِلَى الصَّـلاةِ فَـلا تَسْبِقُوا قَارِئَـكُمْ بـالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَكِنَّه لِيَسْبِقَكُمْ .
سمرہ بن جندب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز میں كھڑے ہوا كرو تو اپنے امام سے ركوع و سجود میں جلدی نہ كیا كرو ،لیكن وہ تم سے سبقت كرتا رہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 529

عَنْ رَجُلٍ مِّنْ جُهَيْنَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ؟ قَالَ: إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ فَصَلِّ الْعِشَاءَ الآخِرَة
ایك جہنی شخص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیامیں عشاءكی نماز كب پڑھا كروں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب رات كا اندھیرا ہر وادی میں پھیل جائے، تب عشاء كی نماز پڑھو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 530

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِّنْ مَّجْلِسِهِ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِهِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: جب جمعہ كے دن تم میں سے كسی شخص كو اونگھ آئے تو وہ اپنی اس جگہ سے اٹھ كر دوسری جگہ چلا جائے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 531

عن أَنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال: أن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذَا نُودِي بِالصَّلَاة فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ . ( )
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نمازكے لئے پكارا جاتا ہے تو آسمان كے دروازے كھول دیئے جاتے ہیں، اور دعا قبول كی جاتی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 532

عَنِ ابنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ رِيْحاً فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: جب تم میں سے كوئی شخص نماز میں ہو اور اس كی ہوا خارج ہو جائے تو جا كر وضو كرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 533

عن عبد الله بن مغفل قَالَ: قَالَ النَّبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَاْ وَجَدْتُمْ الإِمَامَ سَاجِداً فَاسْجُدُوا أَوْ رَاكِعاً فَارْكَعُوا أَوْ قَائِماً فَقُومُوا وَلَا تَعْتَدُوا بِالسُّجُودِ إِذَا لَمْ تُدْرِكُوْا الرَّكْعَةَ.
عبداللہ مغفل مزنی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم امام كو سجدے كی حالت میں پاؤ تو سجدہ كرو، یا ركوع كی حالت میں پاؤ تو ركوع كرو، یا قیام كی حالت میں پاؤ تو قیام كرو۔ اور جب تمہیں ركعت نہ ملے تو سجدوں كو شمار نہ كرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 534

عَنِ قَيْسِ بن طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طلق بن علی، قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى رسولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، خَمْسَةٌ مِنْ بني حَنِيفَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بني ضَبْعَةَ بن رَبِيعَةَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَبايعنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيْعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُوْرِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَبـَّهُ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ،ثم قَـالَ: اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ،وانْضَحُوا مَكَانَهَا مِنَ هذا الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا ، فَقُلْنَا: يَا رسول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ وَالْمَاءُ يَنْشَفُ، قَالَ: فَاَمِدُّوْهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لا يَزِيدُهُ إِلا طِيبًا ، فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَنَّا عَلَى حَمْلِ الْإِدَاوَة ، أَيُّنَا يَحْمِلُهَا؟ فَجَعَلَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَوْباً بَينَناَ لِكُلّ رَجَلٍ مِنًّا يَوْمًا وَّلَيْلَةً ، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا، فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا وَرَاهِـبُ الْيَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَـيٍّ ، فَنَـادَيْنَا بِالصّـَلاةِ، فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ
قیس بن طلق اپنے والد طلق بن علی‌رضی اللہ عنہ سے روایت بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ ہم چھ آدمی وفد بن كر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پانچ آدمی بنو حنیفہ سے اور ایك آدمی بنو ضبعۃ بن ربیعہ سے تعلق ركھتا تھا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے تو ہم نے آپ كی بیعت كی، آپ كے ساتھ نماز پڑھی، اور انہیں بتایا كہ ہمارے علاقے میں كلیسا ہے۔اور ہم نے آپ سے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اس سے وضو كیا، كلی كی، پھر ایك برتن میں ہمارے لئے اسے ڈال دیا، پھر فرمایا: اس پانی كو لے جاؤ، جب تم اپنے شہر میں پہنچو تو اپنے كلیسےكو توڑ دینا، اور اس جگہ پر یہ پانی چھڑكنا اور اس جگہ مسجد بنا لینا، ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمارا شہر دور ہے یہ پانی تو خشک ہوجائے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی كو زیادہ كر لینا وہ اسے پاكیزہ كرے گا، ہم باہر نكلے تو ہم اس برتن کو اٹھانے کے لئے آپس میں جھگڑ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان باری مقرر فرمادی۔ ہم میں سے ہر شخص كی باری ایك دن اور ایك رات كی تھی۔ ہم اسے لے كر نكلے حتی كہ ہم اپنے شہر پہنچ گئے۔ پھر ہم نے وہی كام كیا جس كا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حكم دیا تھا۔ ان دنوں راہب قبیلہ طئے كا تھا، جب ہم نے نماز كے لئے پكارا(اذان دی) تو راہب نے كہا: یہ حق كی دعوت ہے اور بھاگ گیا اس كے بعد وہ نظر نہ آیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 535

عَنْ عُثْمَان قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهَرٌ يَّجْرِي يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْـسَ مَرَّاتٍ مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِـهِ؟ قَالُوا: لَا شَيْءَ قَالَ: إِنَّ الصَّلَوَاتِ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِـبُ الْمَـاءُ الدَّرَنَ
عثمان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: تمہارا كیا خیال ہے، اگر تم میں سے كسی شخص كے صحن میں سے ایك نہر گزر رہی ہو ، جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل كرے، كیا اس پر كوئی میل كچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے كہا: كچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازیں گناہوں كو اس طرح ختم كر دیتی ہیں جس طرح پانی میل كچیل كو ختم كر دیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 536

عن أبي صَالَحٍ مَرفُوعاً مُرْسَلًا: أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْر يَعدِلْنَ بِصَلَاةِ السَحَرِ
ابو صالح سے مرفوعا مرسلا روایت ہے ،ظہر سے پہلے كی چار ركعات سحری(تہجد) كی نماز كے برابر ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 537

عن جَابِر بْنِ عَبْدِ الله قال: دَخَل سُلَيْك الْغَطَفَانِيّ الْمَسْجِدَ يَوَمَ الْجُمُعَة، وَرَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ لَه رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : ارْكَع رَكْعَتَيْن، وَلَا تَعُودَنّ لَمِثْل هذا -يعني التأخير فی المجئ الي الجمعة- قَالَ: فَرَكَعَهُمَا ثـم جَلَس .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا: جمعہ كے دن سكیّ غطفانی رضی اللہ عنہ مسجدمیں داخل ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےكہا: دو ركعتیں پڑھو، اور آئندہ ایسا نہ كرنا( یعنی جمعہ كے لئے آنے میں تاخیر نہ كرنا)وہ دو ركعتیں پڑھ کر بیٹھ گئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 538

عَنْ عَبْدِ الْمَلَك بْنِ الرَّبِيْع بْن سَبْرَة بْن مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عن جَدِّه قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : اسْتَتـرُوا فِي صَلَاتِكُم (وَفِي رِوَايَةٍ: لِيَسْتَتِر أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ) وَلَو بِسَهْم
سررہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نماز میں سترے كا اہتمام كیا كرو( اور ایك روایت میں ہے: تم میں سے ہر شخص سترے كا اہتمام كرے) اگرچہ تیر كے ساتھ ہی كیوں نہ ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 539

عن جابر قَال: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : (أَشْفِعِ الأَذَانَ وأَوْتِر الإِقَامَةَ ).
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان كے كلمات دو دو مرتبہ اور اقامت كے كلمات ایك ایك مرتبہ كہو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 540

عن أبي هُرَيْرَة قال: رَأَى رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلًا يُّصَلِّي وَالْمُؤَذِّن يُقِيْمُ فَقَال لَه رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَصَلَاتَانِ مَعًا؟.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك آدمی كو نماز پڑھتے ہوئے دیكھا، جبکہ موذن اقامت كہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے كہا: كیا دو نمازیں اكٹھی ہیں؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 541

عن مَكْحُول عَنِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّه قال: اطْلُبُوا اِسْتِجَابَة الدُّعَاء عِنْد اِلْتِقَاء الْجُيُوشِ وَإِقَامَةِ الصّلاة وَنُزُول الْمطَرِِ
مكحول‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا كی قبولیت لشكروں سے ٹكرانے كے وقت ،نماز كی اقامت كے وقت اور بارش كے نزول كے وقت تلاش كرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 542

عَنِ ابْنِ مَسْعَودٍ ، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قال : أَمَر بِعَبْد مِّنْ عِبَادِ الله أَن يُّضْرَبَ في قَبْرِه مِائَة جَلْدَة ، فَلَم يَزَل يَسْأَل وَيَدْعُو حَتَّى صَارَت جَلْدَة وَاحِدَة ، فَجُلِد جَلْدَةً وَّاحِدَة ، فَامْتَلَأَ قَبْرُه عليه نَـارًا ، فَلَمَّا ارْتَفَـعَ عَنْـه وأفـاق قال : عَلَامَ جَلَدتُمُوني ؟ ، قَالُوا : إِنَّكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً واحِدَةً بِغَيْر طَهُورٍ ، وَمَرَرْتَ عَلَى مَظْلُومٍ فَلَم تَنْصُرُه
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ایك بندے كے بارے میں حكم دیا گیا كہ اسے قبر میں سو كوڑے مارے جائیں۔ وہ التجاو دعائیں كرتا رہا حتی كہ ایك كوڑا بطور سزا رہ گیا۔ اسے ایك كوڑا مارا گیا، اس كی قبر آگ سے بھر گئی، جب آگ ختم ہوئی اور اسے كچھ افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا : تم نے مجھ كس وجہ سے كوڑا مارا ہے؟ فرشتوں نے كہا: تم نے ایك نماز بغیر طہارت كی پڑھی تھی، اور تم ایك مظلوم كے پاس سے گزرے تھے لیكن تم نے اس كی مدد نہیں كی تھی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 543

عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ قُلْتُ لِإ بْنِ عَبَّاسٍ زَْعَمُواَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَّمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَّمَسُّوا مِنَ الطِّيْبِ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي وَأَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ .
طاؤس یمانی سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے كہا: لوگوں كا خیال ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ كے دن غسل كرو، اپنے سروں كو دھوؤ، اگرچہ تم جنبی بھی نہ ہو، اور خوشبو لگاؤ؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: خوشبو كے بارے میں مجھے علم نہیں ، جبكہ غسل كی بات درست ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 544

عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ كَمْ افْتَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ مِنْ الصَّلَوَاتِ؟ قَالَ: افْتَرَضَ اللهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْئًا؟ قَالَ:: افْتَرَضَ اللهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا (قَالهَاَ ثَلاَثاً) فَحَلَفَ الرَّجُلُ (بِاللهِ) لَا يَزِيدُ عَلَيْهِ شَيْئًا وَّلَا يَنْقُصُ مِنْهُ شَيْئًا . قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ایك آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا كہنے لگا: اے اللہ كے رسول اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر كتنی نمازیں فرض كی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض كی ہیںاس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس آدمی نے( اللہ كی ) قسم كھائی كہ: وہ اس میں زیادتی نہیں كرے گا، نہ ہی اس میں كمی كرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ كہا تو یہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 545

عَنِ ابن عُمرَ قَال لِحُمْرَانَ بْنِ أَبَان: مَا مَنَعَكَ أَن تُصَلِّي فِي جَمَاعَةٍ ؟ قَالَ :قَدْ صَلَّيْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي جَمَاعَة الصُّبْحِ ، قَالَ : أَو مَا بَلَغَكَ؟ أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : أَفْضَلُ الصَّلَوَات عِنْدَ اللهِ صَلَاةُ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ في جَمَاعَةٍ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ،انہوں نے حمران بن ابان سے كہا: تمہیں جماعت كے ساتھ نماز پڑھنے سے كس چیز نے منع كیا؟ اس نے كہا: میں نے جمعہ كے دن صبح كی نماز باجماعت پڑھ لی تھی۔ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تمہیں یہ خبر نہیں ملی كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے نزدیک افضل نماز جمعہ كے دن صبح كی نماز باجماعت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 546

عن عُقْبَةَ بن عَامَرٍ ، قَالَ : قَالَ لِیْ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: اِقْرَؤُوا الْمُعَوِّذَاتِ في دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ . ( )
عقبہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے كہا: ہر نماز كے بعد معوذات پڑھا كرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 547

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں صف سیدھی كیا كرو، كیونكہ صف كا سیدھا كرنا نماز كی خوب صورتی سے ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 548

عَنْ أَبِي شَجَرَةَ مَرْفُوْعاً: أَقِيمُوا الصُّفُوفَ فَإِنَّمَا تَصُفُّونَ بِصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ ,حَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَّصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللهُ
ابو شجرہ سے مرفوعا مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں صفوں كو سیدھا كیا كرو، تم فرشتوں كی طرح صفیں بنایا كرو، كاندھے برابر كیا كرو، خالی جگہیں پر كیا كرو، شیطان كے لئے خالی جگہیں نہ چھوڑو۔ جس شخص نے صف كو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 549

عن أبي هُرَيْرَة قال : بَعَث رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْـرَعُوا الْكَرَّة ، فَقَال رَجَلٌ : يَا رَسُـول الله! ما رَأَيْنَا بَعْثَ قَوْمٍ بأَسْرَعَ كَرَّةٍ ، وَأَعْظَمَ غَنِيمَةٍ مِّنْ هَذا الْبَعْثِ ، فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا أَخْبُرِكُم بِأَسْرَعِ كَرَّةٍ وَأَعْظَمَ غَنِيمَةٍ مِّنْ هٰذَا الْبَعْث؟ رَجَلٌ تَوَضَّأَ في بَيْتَه فَأَحْسَنَ وُضُوءَه ، ثم تَحَملَ إلى الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى فِيه الْغَدَاةَ ، ثُمَّ عَقِبَ بِصَلَاةِ الضُّحَى ، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّة ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ . ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 550

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! ذَهَبَ أَهْلُ الْأَمْوَالِ وَالدُّثُورِ بِالْأَجْرِ يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ۔ وَيُنْـفِـقُونَ وَلَا نُنْفِقُ قَالَ لِي: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْـرٍ إِذَا فَعَلْتُمُـوهُ أَدْرَكْتُمْ مَّنْ قَبْلَكُمْ وَفُـتُّـمْ مَّنْ بَعْدَكُمْ تَحْمَدُونَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ وَّتُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ ثَلَاثًا وَّثَلَاثِينَ وَّثَلَاثًا وَّثَلَاثِينَ وَّأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا یا میں نے پوچھا: اے اللہ كے رسول مال و دولت والے اجر لے گئے، جس طرح ہم كہتے ہیں وہ بھی كہتے ہیں( كرتے ہیں)، وہ خرچ كرتے ہیں لیكن ہم خرچ نہیں كر سكتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كہا: كیا میں تمہیں ایسے عمل كے بارے میں نہ بتاؤں كہ جب تم وہ عمل كرو گے تو تم اپنے ان ساتھیوں کے برابر پہنچ جاؤ گے اور اپنے بعد والوں سے آگے بڑھ جاؤ گےتم ہر نماز كے بعد اللہ كی حمد، تسبیح اور بڑائی بیان كرو، (الحمدللہ ، سبحان اللہ)٣٣،٣٣ مرتبہ اور اللہ اکبر 34 مرتبہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 551

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِصَلاَةِ الْمُنَافِقِ؟ أَنْ يُّؤَخِّرَ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشمسُ كَثَرْبِ الْبَقَرَةِ صَلاَّهَا »
رافع بن خدیج‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا میں تمہیں منافق كی نماز كے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ عصر كی نماز مو خر كر تا رہتا ہے حتی كہ جب سورج گائے كی كھال كی طرح زرد ہوجاتا ہے، تو پھر نماز پڑھتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 552

عن عَوْف بْن مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً فَقَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟ وَكُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟ فَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا: قَدْ بَايَعْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: عَلَى أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمـْسِ وَتُطِيـعُوا وَأَسَرَّ كَلِـمَةً خَفِيَّةً وَّلَا تَسْـأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُّنَاوِلُهُ إِيَّاهُ .
عوف بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ،نو ،آٹھ، یا سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے ابھی كچھ عرصہ پہلے ہی بیعت كی تھی۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: كیا تم اللہ كے رسول كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: كیا تم اللہ كے رسول كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے اپنے ہاتھ آگے كر دیئے اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں، اب كس بات پر بیعت كریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس بات پر كہ تم اللہ كی عبادت كرو گے، اس كے ساتھ كسی كو شریك نہیں كرو گے، پانچ نمازیں ادا كروگے، اور فرمانبرداری كرو گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات آہستہ سے كہی ’’اور تم لوگوں سے كسی بھی چیز كا سوال نہیں كرو گے۔ عوف‌رضی اللہ عنہ نے كہا كہ میں نے اس جماعت كے كچھ لوگوں كو دیكھا، ان میں سے كسی كا كوڑا بھی گر جاتا تو اسے پكڑ انے كے لئے كسی سے سوال نہیں كرتا تھا۔‘‘
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 553

عن طَلْحَة بن عُبَيْد الله ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَن رَجُلَيْن من بَلِيً وَهو حَيٌّ مَّنْ قُضَاعَة، قُتِل أَحَدُهُمَا في سَبِيْلِ الله، وَأُخِّر الْآخَر بَعْدَه سَنَة، ثم مَات. قال طَلْحَة: فَرَأَيْتُ في الْمَنَام الْجَنَّةَ فُتِحَتْ، فَرَأَيْتُ الْآخَر مِنَ الرَّجُلَيْن دَخَلَ الْجَنَّة قَبْل الْاَوَّلِ فَتَعَجَّبْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحَتُ ذَكَرَتُ ذَلِك، فَبَلَغَت رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال لي رَسُـول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَيْـس قَد صَام بَعْدَه رَمَضَان؟ وَصَلَّى بَعْدَه سِتَّةَ رَكْعَةٍ، وَكَذَا وَكَذَا رَكْعَةٍ لِصَلَاةِ اٰلَافِ السَّنَہِ
طلحہ بن عبیداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ بلی جو كہ قضاعہ كا ایك قبیلہ تھا، كے دو آدمی تھے، ان میں سے ایك اللہ كے راستے میں قتل كر دیا گیا، جبكہ دوسرا شخص اس كے ایك سال فوت ہوا، طلحہ نے كہا كہ: میں نے خواب میں جنت كو دیكھا کہ جنت كا دروازہ كھول دیا گیا ہے۔ میں نے دوسرے شخص كو دیكھا كہ وہ پہلےشخص سے پہلےجنت میں داخل ہو رہا ہے۔مجھے تعجب ہوا، جب صبح ہوئی تو مجھے یہ خواب یاد آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات كا تذكرہ كیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كہا: كیا اس نے اس كے بعد رمضان كے روزے نہیں ركھے؟ اور اس كے بعد چھ ہزار ركعات ادا نہیں كیں ، اور سال کی اتنی اتنی ركعتیں ؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 554

عَنِ ابْنِ مَسْعَودٍ ، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قال : أَمَر بِعَبْد مِّنْ عِبَادِ الله أَن يُّضْرَبَ في قَبْرِه مِائَة جَلْدَة ، فَلَم يَزَل يَسْأَل وَيَدْعُو حَتَّى صَارَت جَلْدَة وَاحِدَة ، فَجُلِد جَلْدَةً وَّاحِدَة ، فَامْتَلَأَ قَبْرُه عليه نَـارًا ، فَلَمَّا ارْتَفَـعَ عَنْـه وأفـاق قال : عَلَامَ جَلَدتُمُوني ؟ ، قَالُوا : إِنَّكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً واحِدَةً بِغَيْر طَهُورٍ ، وَمَرَرْتَ عَلَى مَظْلُومٍ فَلَم تَنْصُرُه
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ایك بندے كے بارے میں حكم دیا گیا كہ اسے قبر میں سو كوڑے مارے جائیں۔ وہ التجاو دعائیں كرتا رہا حتی كہ ایك كوڑا بطور سزا رہ گیا۔ اسے ایك كوڑا مارا گیا، اس كی قبر آگ سے بھر گئی، جب آگ ختم ہوئی اور اسے كچھ افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا : تم نے مجھے كس وجہ سے كوڑا مارا ہے؟ فرشتوں نے كہا: تم نے ایك نماز بغیر طہارت كے پڑھی تھی، اور تم ایك مظلوم كے پاس سے گزرے تھے لیكن تم نے اس كی مدد نہیں كی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 555

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِأَبِي بَكْرٍ: أَيَّ حِينٍ تُوتِرُ؟ قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَ: فَأَنَتَ يَا عُمَرُ؟ فَقَالَ آخِرَ اللَّيْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَأَخَذْتَ بِالْوُثْقَى وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ سےپوچھا: تم كس وقت وتر كی نماز ادا كرتے ہو؟ ابوبكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: عشاء كی نماز كے بعد رات كے ابتدائی حصے میں۔ آپ نے فرمایا: عمر تم كب پڑھتے ہو؟ عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: رات كے پچھلے پہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بكر! تم نے مضبوط كڑا پكڑ لیا ہے، اور اے عمر! تم نے قوت كو اختیار كیا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 556

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ:كَانَتْ بَنُو سَلَمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمۡ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ قال: فَلَم يَنْتَقِلُوا
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ بنو سلمہ مدینے كی ایك جانب آباد تھے۔ انہوں نے مسجد كے قریب منتقل ہونے كا ارادہ كیا تو یہ آیت نازل ہوئی: (سورۃ یٰس: ۱۲) ترجمہ: ہم مردوں كو زندہ كرتے ہیں، اور ان كے آگے بھیجے جانے والے اعمال اور نشانات لكھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے نشانات لكھے جاتے ہیں۔ ابو سعید كہتے ہیں: اس آیت كے نزول كے بعد انہوں نے نقل مكانی نہیں كی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 557

عن رَجُلٍ مِّن بَنِي بَيَاضَة أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اعْتَكَف الْعَشْر من رَمَضَان، وَقَال: إِن أَحَدَكُم إِذَا كَان في الصّلاة ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّه فَلَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُم بِالْقُرْآن فَتُؤْذُوا الْمُؤْمِنِين .
بنی بیاضہ كے ایك شخص سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان كا ایك عشرہ اعتكاف كیا اور فرمایا: تم میں سے كوئی شخص جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات كرتا ہے۔ اس وقت تم بلند آواز سے قرآن مت پڑھو كہیں تم مومنوں كو تكلیف دینے كاسبب نہ بن جاؤ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 558

عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ إِنَّ أَبَا بَصْرَةَ حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ زَادَكُمْ صَلَاةً وَّهِيَ الْوِتْرُ فَصَلُّوهَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو تَمِيمٍ: فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَسَارَ إلِي الْمَسْجِدِ إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ مَا قَالَ عَـمْرٌو؟ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ
ابو تمیم جیشانی سے مروی ہے كہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جمعے كے دن لوگوں كو خطبہ دیا اور كہا: ابو بصرہ‌رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان كی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایك نماز زائد دی ہے، جو وتر ہے، اسے تم نماز عشاءاور نماز فجر كے درمیان پڑھ سكتے ہو۔ ابو تمیم نے كہا: ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پكڑا اور مسجد میں ابو بصرہ رضی اللہ عنہ كی طرف لے گئے، اور اس سے كہا: كیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو عمرو رضی اللہ عنہ بیان كر رہے ہیں؟ ابو بصرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 559

عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ، قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله عزوجل زَادَكُم صَلَاة إلى صَلَاتِكُم هِيَ خَيْر لكم من حُمُر النَّعَم أَلَا وَهِي الرَّكْعَتَان قَبَّل صَلَاة الْفَجْر
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے تمہیں ایك نماز زائد دی ہے۔ یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، یہ نماز فجر سے پہلے كی دو ركعتیں ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 560

عن عَبْد اللهِ بْن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَرْفُوْعاً: إِنَّ اللهَ لَيَعْجَبُ مِنَ الصَّلَاةِ فِي الْجَمِيعِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : یقینا اللہ تعالیٰ جماعت كی نماز سے بہت خوش ہوتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 561

عن أَنس قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الله لَيُنَادِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ جِيرَانِي؟ أَيْن جِيرَانِي؟ قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: رَبَّنَا وَمَن يَنْبَغِي أَنْ يُّجَاوِرَكَ:؟ فَيَقُول: أَيْن عُمَّار الْمَسَاجِد؟
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن ندا دے گا میرے پڑوسی كہاں ہیں؟ میرے پڑوسی كہاں ہیں؟ فرشتے كہیں گے: اے ہمارے رب كس كے لائق ہےكہ وہ آپ كا پڑوسی بنے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مساجد كو آباد كرنے والے كہاں ہیں؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 562

عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور فرشتے ان لوگوں پر رحمت و بركت بھیجتے ہیں جو صفوں كو ملاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 563

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور اس كے فرشتے ان لوگوں پر رحمت و بركت بھیجتے ہیں جو صفوں كو ملاتے ہیں ، اور جس شخص نے خالی جگہ كو پر كیا اللہ تعالیٰ اس كے بدلے ایك درجہ بلند كر دے گا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 564

عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا، نَّنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(فِي الْمُصَلَّى) يَوْمَ الأَضْحَى، فَجَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، وَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْسَكِ (وَفِي رِوَايَةٍ: نُسُكِ) يَوْمِكُمْ هَذَا الصَّلاةُ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ أُعْطِيَ قَوْسًا، أَوْ عَصًا فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَأَمَرَهُمْ، وَنَهَاهُمْ
براء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ہم عیدالاضحی كے دن( عیدگاہ میں) بیٹھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا انتظار كر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور لوگوں كو سلام كیا اور فرمایا: یقینا آج کے دن پہلی عبادت نماز ہے۔ آپ آگے بڑھے اور لوگوں كو دو ركعت نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا۔ اس كے بعد لوگوں كی طرف اپنا رخ كر كے متوجہ ہوئے، آپ كو ایك كمان یا لكڑی دی گئی آپ نے اس کا سہارا لیا، اللہ كی حمدو ثناء بیان كی، اورنیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع كیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 565

عن أبي مَوسَى الْأَشْعَرِيّ، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله يَبْعَثُ الْأَيَّامَ يَومَ الْقِيَامَة عَلَى هَيْئَتِهَا، وَيَبْعَثُ الْجُمُعَةَ زَهْرَاءَ مُنِيرَة، أَهْلُهَا يحفون بِهَا كالعَروس تُهـدى، إلى كَريمِها تُضـِيءُ لَهـم، يَمْشُون في ضَوْئِهَـا، أَلْوَانُهُـم كالثَّلجِ بَيَاضًا، ورِيحُهم تَسْطعُ كَالْمِسْك يَخُوضُون في جِبَال الْكَافُور، يَنْظُرُ إِلَيْهِم الثَّقَلَان ما يطرفون تَعَجُّبًا حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّة، لَا يُخَالِطُهُم أَحدٌ إِلَا الْمُؤَذِّنُون الْمُحْتَسِبُون
ابو موسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن،دنوں( ایام) كو ان كی حالت میں ظاہر كرے گا، اور جمعہ كے دن كو چمكتا ہوا ستارہ بنا كر ظاہر كرے گا، اہل جمعہ اس کو اس طرح گھیرے ہوئے ہوں گے جیسے دلہن کو اس کےشوہر کی طرف بھیجتے ہوئے گھیر لیا جاتا ہے۔یہ ان کے لئے روشنی کرے گا۔ اور وہ اس كی روشنی میں چلیں گے، ان كے رنگ برف كی طرح سفید ہونگے ، ان كی خوشبو كستوری كی طرح پھوٹ رہی ہوگی، وہ كافور كے پہاڑوںمیں مگن ہوں گے۔ جن و انس انہیں دیكھ رہے ہوں گے۔ وہ خوشی سے کسی کی طرف التفات نہیں کریں گے، حتی كہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ان كے ساتھ صر ف ثواب كی نیت سے اذان دینے والوں كے علاوہ كوئی شریك نہ ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 566

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ خَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدِي هَذَا وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین جگہ جس كی طرف لوگ سوار ہو كر آئیں گے وہ میری یہ مسجد ہے، اور بیت اللہ خانہ كعبہ ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 567

عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ رَأَى شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ يَبْزُقُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: يَا شَبَثُ! لَا تَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَقْبَلَ اللهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَنْقَلِبَ أَوْ يُحْدِثَ حَدَثَ سُوءٍ.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے شبث بن ربعی كو اپنے سامنے تھوك پھینكتے ہوئے دیكھا توكہا: اے شبث اپنے سامنے نہ تھوكو، كیونكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع كرتے تھے، اور آپ نے فرمایا : جب آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا رخ كر كے اس كی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، حتی كہ وہ شخص واپس پلٹ جائے یا كوئی بری حركت كرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 568

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: إِن الرجل لَيُصَلِّي سِتِّين سَنَةً ما تُقْبَل لَه صَلَاةٌ لَعَلَّه يُتِمُّ الـرُّكُوعَ وَلَا يُتِـمُّ السُّجُودَ وَيُتِمُّ السُّجُودَ وَلَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : آدمی ساٹھ سال تك نماز پڑھتا رہتا ہے اور اس كی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی، شاید اس نے كبھی ركوع مكمل كیا ہو، اور سجدہ مكمل نہ كیا ہو، یا سجدہ مكمل كیا ہو لیكن ركوع مكمل نہ كیا ہو؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 569

عَنْ نَافِع بْن سَرْجِسَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ وَأَدْوَمُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَطْوَلُ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ.
نافع بن سرجس سے مروی ہے كہ وہ ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابی كے پاس ان كے مرض الموت میں آئے ، تو انہوں نے كہا: یقینا اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں كو ہلكی نماز پڑھایا كرتے تھے، اور خود تنہا لمبی نماز پڑھا كرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 570

عن الزَّهْرِيّ (مُرْسَلاً) أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَخْرُج يَومَ الْفِطْرِ فَيُكَـبِّر حَـتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى وَحَـتَّى يَقْـضِيَ الصّلاةَ فَإِذَا قَضَى الصَّلاةَ قَطَعَ التَكْبِيرَ
زہری سے مرسلا مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر كے دن نكلتے تو تكبیر كہتے ہوئے عید گاہ میں پہنچتے ، حتیٰ کہ نماز مكمل كرلیتے۔ جب نماز مكمل كر لیتے تو تكبیر كہنا ختم كر دیتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 571

عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ قَدِمْتُ الرِّقَّةَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ: قُلْتُ: غَنِيمَةٌ فَدَفَعْنَا إِلَى وَابِصَةَ قُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ فَنَنْظُرُ إِلَى دَلِّهِ فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ لَاطِئَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ وَإِذَا هُوَ مُعْتَـمِدٌ عَلَى عَصَا فِي صَلَاتِهِ فَقُلْنَا له: بَعْدَ أَنْ سَلَّـمْنَـا فَقَالَ: حَدَّثَـتْنِي أُمُّ قَـيْسِ بِنْتُ مِحْصَنٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَمَّا أَسَنَّ وَحَمَلَ اللَّحْمَ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلَّاهُ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ
ہلال بن یساف سے مروی ہے انہوں نے كہا: میں رقہ آیا، مجھے میرے كسی ساتھی نے كہا: كیا تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے كسی صحابی سے ملاقات كرنے میں دلچسپی ہے؟ میں نے كہا: یہ تو غنیمت كی بات ہے۔ ہم وابصہ رضی اللہ عنہ كی طرف گئے۔میں نے اپنے ساتھی سے كہا: ہم ان كی حالت (وضع قطع) کی طرف دیكھنا شروع كرتے ہیں۔ كیا دیكھتے ہیں ان پر ایك دو كانوں والی ٹوپی اور ایک خاکی رنگ کا اونی سر پر پہننے کا کپڑا لپیٹے ہوئے ہیں۔ اور وہ اپنی نماز میں لاٹھی پر ٹیك لگائے ہوئے ہیں۔ سلام كرنےکے بعد ہم نے ان سے پوچھا؟ انہوں نے كہا: مجھے ام قیس بنت محصن نے بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمر رسیدہ ہو گئے ، اور اور جسم قدرے بھاری ہوگیا۔ تو آپ نے اپنی نماز كی جگہ میں ستون بنوالیا تھا، جس پر آپ ٹیك لگایا كرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 572

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّـلَاةِ ذَهَبَ حَـتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاء
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: شیطان جب آذان كی آواز سنتا ہے تو بھاگ كر مقام روحاء تك پہنچ جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 573

عَنْ عَاصِمِ بن عُمَرَ بن قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بن النُّعْمَانِ، قَالَ: كَانَتْ لَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ وَالْمَطَرِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَنِّي اغْتَنَمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ شُهُودَ الْعَتَمَةِ مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ! فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَبْصَرَنِي وَمَعَهُ عُرْجُونٌ يَّمْشِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا قَتَادَةُ، هَهُنَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟ ، قُلْتُ: اغْتَنَمْتُ شُهُودَ الصَّلاةِ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللهُ، فَأَعْطَانِي الْعُرْجُونَ، فَقَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ خَلَفَكَ فِي أَهْلِكَ، فَاذْهَبْ بِهَذَا الْعُرْجُونِ، فَأَمْسِكْ بِهِ حَتَّى تَأْتِيَ بَيْتَكَ، فَخُذْهُ مِنْ وَّرَاءِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ بِالْعُرْجُونِ ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَضَاءَ الْعُرْجُونُ مِثْلَ الشَّمْعَةِ نُورًا فَاسْتَضَأْتُ بِهِ، فَأَتَيْتُ أَهْـلِي فَوَجَدْتُهُمْ رُقُـودًا، فَنَظَـرْتُ فِي الزَّاوِيَـةِ، فَإِذَا فِيهَا قُنْفُذٌ، فَلَـمْ أَزَلْأَضْرِبُهُ بِالْعُرْجُونِ حَتَّى خَرَجَ
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے والد سے وہ ان كے دادا قتادہ بن نعمان‌رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں، انہوں نے كہا: رات انتہائی سیاہ اور برسات والی تھی، میں نے سوچا اگر میں اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ عشاء كی نماز میں حاضر ہو نے كی سعادت حاصل كر لوں، تو بہت اچھا ہوگا۔ میں نے ایسا ہی كیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو مجھ پر نظر پڑی، آپ كے پاس ایك كھجور كی ٹہنی تھی جس كے سہارے آپ چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قتادہ تمہیں كیا ہوا،اس وقت یہاں پر؟میں نے كہا: اے اللہ كے رسول میں آپ كے ساتھ نماز پڑھنے كی سعادت حاصل كرنا چاہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كھجور كی ٹہنی دے دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں كے پاس آیا ہے۔ اس ٹہنی كو لے جاؤ ،گھر پہنچنے تك اسے مضبوطی سے پكڑے ركھو، اسے گھر كے پچھواڑے میں پكڑ كر اس ٹہنی سے مارنا۔ میں مسجد سے نكلا تو ٹہنی شمع كی طرح روشن ہو گئی میں اپنے گھر والوں كے پاس آیا تو انہیں سویا ہوا پایا۔ میں نےاس طرف دیکھا تو ایک سیہہ(ایک جانور جس کے پورے جسم پر کانٹے ہوتےہیں) پر نظر پڑی میں اسے اس ٹہنی سے مارتا رہا حتی كہ وہ بھاگ گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 574

عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ مَنْ رَأَى مِنَّا رُؤْيَا يَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: اللهم إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي رُؤْيَا يُعَبِّرُهَا لِيَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ فَأَخَذُوا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ
سالم ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں غیر شادی شدہ نو جوان تھا، مسجد میں سویا كرتا تھا۔ ہم میں سے جو شخص خواب دیكھتا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كرتا۔ میں نے دعا كی: اے اللہ اگر تیرے پاس میرے لئے كوئی بھلائی ہے تو مجھے كوئی خواب دكھا جس كی تعبیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں۔میں سوگیا، میں نے دو فرشتے اپنی طرف آتے ہوئے دیكھے، وہ مجھے لے گئے، ان دونوں كو ایك تیسرا فرشتہ ملا، اس نے كہا: دُور نہیں پھر وہ دونوں مجھے آگ( جہنم) كی طرف لے گئے۔ وہ كنویں كی طرح لپٹی ہوئی تھی۔ اس میں كچھ لوگ تھے۔ بعض كو میں نے پہچان لیا۔ پھر انہوں نے مجھے دائیں طرف لے گئے، جب صبح ہوئی تو میں نے خواب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان كیا۔ حفصہ سالم ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں غیر شادی شدہ نو جوان تھا، مسجد میں سویا كرتا تھا۔ ہم میں سے جو شخص خواب دیكھتا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كرتا۔ میں نے دعا كی: اے اللہ اگر تیرے پاس میرے لئے كوئی بھلائی ہے تو مجھے كوئی خواب دكھا جس كی تعبیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں۔میں سوگیا، میں نے دو فرشتے اپنی طرف آتے ہوئے دیكھے، وہ مجھے لے گئے، ان دونوں كو ایك تیسرا فرشتہ ملا، اس نے كہا: دُور نہیں پھر وہ دونوں مجھے آگ( جہنم) كی طرف لے گئے۔ وہ كنویں كی طرح لپٹی ہوئی تھی۔ اس میں كچھ لوگ تھے۔ بعض كو میں نے پہچان لیا۔ پھر انہوں نے مجھے دائیں طرف لے گئے، جب صبح ہوئی تو میں نے خواب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان كیا۔ حفصہ نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ نیك آدمی ہے، اگر یہ رات كو كثرت سے نماز پڑھے۔ سالم نے كہا: پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ كثرت سے نماز پڑھا كرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 575

عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ مَنْ رَأَى مِنَّا رُؤْيَا يَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: اللهم إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي رُؤْيَا يُعَبِّرُهَا لِيَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ فَأَخَذُوا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ .
ابو منیب سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایك نو جوان كو لمبی نماز پڑھتے ہوئے دیكھا تو انہوں نے كہا: تم میں سے كون اسے پہچانتا ہے؟ ایك آدمی نے كہا: میں اسے پہچانتا ہوں۔ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اگر میں اسے پہچانتا ہوتا تو اسے كثرت ركوع و سجود كا مشورہ دیتا، كیونكہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: بنده جب نماز كے لئے كھڑا ہوتا ہے تو اس كے تمام گناہ اس كے پاس لائے جاتے ہیں، اور اس كے كاندھوں پر ركھ دیئے جاتے ہیں۔ جب بھی وہ ركوع یا سجدہ كرتا ہے تو اس كے گناہ گر جاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 576

عن علي ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَرَنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالسِّوَاك وَقَال: إِن الْعَبْد إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَتَاه الْمَلَك فَقَـامَ خَلْفَـه، يَسْمَـعُ الْقُـرْآنَ وَيَدْنُو فَلَا يَزَالُ يَسْتَمِعُ وَيَدْنُو حَتَّى يَضَعَ فَاه عَلَى فِيه فَلَا يَقْرَأُ آيَةً إِلَا كَانَتْ في جَوْفِ الْمَلَكِ
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مسواك كا حكم دیا اور فرمایا: بندہ جب نماز كے لئے كھڑا ہوتا ہے تو ایك فرشتہ اس كے پاس آتا ہے اور اس كے پیچھے كھڑا ہو كر غور سے قرآن سننے لگتا ہے، اور قریب ہوتا رہتا ہے۔ وہ سنتا رہتا ہے ، اور قریب ہوتا رہتا ہے، حتی كہ وہ اپنا منہ اس كے منہ پر ركھ دیتا ہے۔ اس كے بعد وہ جو آیت بھی پڑھتا ہے تو وہ فرشتے كے پیٹ میں جاتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 577

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَآخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا نماز كا اول وقت بھی ہے اور آخری وقت بھی ہے۔ نماز ظہر كا اول وقت جب سورج ڈھلتا ہے، اور آخر ی وقت جب نماز عصر كا وقت شروع ہو ،نماز عصر كا اول وقت جب اس كا وقت شروع ہو جائے، اور اس كا آخری وقت جب سورج زرد ہو جائے۔ نماز مغرب كا اول وقت جب سورج غروب ہو جائے، اور نماز مغرب كا آخری وقت جب شفق غائب ہو جائے، عشاءكی نماز كا اول وقت جب شفق غائب ہو جائے اور آخری وقت جب رات آدھی ہو جائے، اور نماز فجر كا اول وقت جب فجر طلوع ہو، اور آخری وقت جب سورج طلوع ہوتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 578

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاؤُهُمْ إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُونَهُمْ وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ . وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : جَلِيسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَـالٍ: أَخٍ مُسْتَفَـادٍ أَوْ كَلِمَةٍ مُحْكَمَةٍ أَوْ رَحْمَةٍ مُنْتَظَرَةٍ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا مساجد كے کچھ کھونٹے (مستقل لوگ) ہوتے ہیں فرشتے ان كے ہم مجلس ہیں اگر وہ غیر حاضر ہوں تو انہیں تلاش كرتے ہیں۔ اور اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان كی عیادت كرتے ہیں، اگر وہ كسی مشكل میں ہوں تو ان كی مدد كرتے ہیں، اور فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا ان تین خوبیوں میں سے کسی ایک پر ہوتا ہے۔ ایسا بھائی جس سے لوگ فائدہ اٹھائے ہیں، یا وہ کوئی حکمت و دانائی کی بات کرتا ہے اور یا (اللہ کی)رحمت کا منتظر رہتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 579

عن سَلْمَان الْفَارِسِيّ قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْمُسْلِمَ َيُصَلِّي وَخَطَايَاه مَرْفُوْعَةٌ عَلَى رَأْسِهِ، فَكُلَّمَا سَجَدتَحَاتتْ عَنْه، فيَفْرُغُ مِنْ صَلَاتِه، وَقَدْ تَحَاتت خَطَايَاه
سلمان فارسی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نماز پڑھتا ہے ، اور اس كی خطائیں اس كے سر پر منڈلا رہی ہوتی ہیں، وہ جب بھی سجدہ كرتا ہے تو وہ خطائیں گرتی رہتی ہیں، حتی كہ جب نماز سے فارغ ہوجاتا ہے تو اس كی خطائیں گر چكی ہوتی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 580

عن أبي هُرَيْرَة، وَعَائِشَة، عن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، أَنَّه اطَّلَع من بَيْتِه، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ يَجْهَرُون بِالْقِرَاءَة، فَقَالَ لَهم: إِن الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّه فَلْيَنْظُر بِمَا يُنَاجِيه، وَلَا يَجْهَر بَعْضُكُم عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ
ابو ہریر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر سے جھانكا تو لوگ نماز میں بلند آواز سے قرأت كر رہے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا: نماز پڑھنے والا اپنے رب سے سرگوشی كرتا ہے، اس لئے وہ اس بات كا خیال ركھے كہ وہ كس سے سر گوشی كر رہا ہے اور آپس میں ایك دوسرے سے بڑھ كر بلند آواز سے قرآن كی تلاوت نہ كرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 581

عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرٍ، فَقَال: إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جُهْدٌ، وَثِقْلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ، وَإِلا كَانَتَا لَهُ
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ہم ایك سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا یہ سفر مشقت اور ثقل (بوجھ) سے بھر پور ہوتا ہے۔ جب تم میں سے كوئی شخص وتر پڑھنا چاہے تو دو ركعت پڑھے، اگر وہ بیدار ہو جائے تو (ٹھیک) وگر نہ یہ دونوں ركعتیں ہی اسے كافی ہوں گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 582

عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَـنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَـرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْـلُعَ الشَّـاهِـدُ۔ الشَّاهِدُ: النَّجْمُ .
ابوبصرہ غفاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ مخمص میں عصر كی نماز پڑھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر بھی پیش كی گئی ،لیكن انہوں نے اسے ضائع كر دیا، جس شخص نے اس كی حفاظت كی اس كے لئے اس كا دوہرا اجر ہے، اور اس کے بعد ستارہ طلوع ہونے تک (یعنی غروب آفتاب تک)کوئی اور نماز نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 583

عَن أنس أن رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِنَّ اليَهودَ لَيَحْسُدُونَكُمْ عَلى السَّلَامِ وَ التَّأْمِين .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی تم سے سلام اور آمین كہنے پر حسد كرتے ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 584

عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ ، أَن رَجُلًا سَلَّم عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهو في الصَّلَاةِ ، فَرَدَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِإِشَارَة ، فَلَمَّا سَلَّم قالَ له النَّبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌:إناكُنَّا نَرُدُّ السَّلَامَ في صَلَاتِنَا ، فَنُهِينَا عن ذَلِك
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو سلام كہا آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر لیا تو فرمایا: ہم نماز میں سلام كا جواب دیا كرتے تھے،پھر ہمیں اس سے منع كر دیا گیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 585

عن أَنس ، أَنَّ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ مِنَ اللَّيْل وَامْرَأَةٌ تُصَلِّي بِصَلَاتِه ، فَلَمَّا أَحَسَّ اِلْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ لَهَا : اضْطَجِعي إِن شِئْتِ قَالَتْ : إِنِّي أَجِد نَشَاطًا ، قَالَ : إِنَّكِ لَسْتِ مِثْلِي ، إِنَّمَا جُعِلَ قُرَّةُ عَيْنَي فِي الصَّلَاةِ .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات كے وقت قیام كیا، تو ایك عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے پیچھے نماز پڑھنے لگی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس كیا تو اس كی طرف دیكھا اور كہا: اگر تم چاہو تو سو سكتی ہو۔ اس نے كہا: میں نشاط محسوس كر رہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میری طرح نہیں ہو ، میری آنكھوں كی ٹھنڈك تو نماز میں ركھ دی گئی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 586

) عَنْ سَعِيدِ بن أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَصْرَةَ جَمِيلَ بن بَصْرَةَ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِّنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ لَقِيتُكَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَهُ لم تَأْتِه، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: إِنَّمَا تُضْرَبُ أَكْبَادُ الْمَطِيِّ إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي هَذَا ، وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى.
سعید بن ابی سعید مقبری سے مروی ہے كہ ابو بصرہ جمیل بن بصرہ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے ملے۔ وہ (طور) سے آ رہے تھے، ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر طُور پر جانے سے پہلے میں آپ سے ملتا تو آپ کبھی طور پرنہ جاتے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: سواریوں کو تین مساجد کی طف بھگایا جاسکتا ہے۔ (یعنی تین مساجد کی طرف ثواب کی نیت سے سفر کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ نہیں۔) (نیکی کی نیت سے سفر کرنا)، مسجد حرام كی طرف، میری اس مسجد كی طرف اور مسجد اقصیٰ كی طرف۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 587

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَجِّرِ إِلَى الصَّلَاةِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَقَرَةَ ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ دو پہر كے وقت نماز(جمعہ) كے لئے جلدی جانے والاا س شخص كی طرح ہے جو اونٹنی كی قربانی كرتا ہے۔ پھر اس كے بعد آنے والا اس شخص كی طرح ہے جو گائے كی قربانی كرتا ہے، پھر اس كے بعد آنے والااس شخص كی طرح ہے جو مینڈھے كی قربانی كرتا ہے، پھر اس كے بعد آنے والااس شخص كی طرح ہے جو مرغی كی قربانی (صدقہ) كرتا ہے، پھر اس كے بعد آنے والا اس شخص كی طرح ہے جو انڈے كی قربانی (صدقہ) كر تاہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 588

عَنِ الأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ، فَقَالَ: إِنَّمَا الْوِتْرُ بِاللَّيْلِ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ، قَالَ: فَأَوْتِرْ
اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہنے لگا:اے اللہ كے نبی صبح ہوگئی اور میں وتر نہیں پڑھ سکا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر رات كی نماز ہے،اس نے پھر كہا اے اللہ كے نبی صبح ہوگئی اور میں وتر نہیں پڑھ سکا ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:وتر پڑھ لو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 589

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَـحَ سَـرَقَ؟ قَـالَ: إِنَّـهُ سَيَنْهَاهُ مَا يَقُولُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: فلاں شخص رات کو قیام کرتا ہے اور صبح کو چوری کرتا ہے، توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:عنقریب وہ باز آجائےگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 590

عن عَطَاء بن يَسَار عن رَجُل مِّن الانصار من بنی بیاضہ أَنَّه سَمِع رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهو مُجَاوِرٌ في المَسْجَد يَوْمًا فَوعَظَ النَّاسَ وَحَذَّرَهُم وَرَغَّبَهُمْ ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مُصَلِّ إِلَا وَهو يُنَاجِي رَبَّه فلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُم عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرآءة.
عطاءبن یسار سے مروی ہے وہ بنو بیاضہ كے ایك انصاری سے بیان كرتے ہیں كہ اس نے مسجد میں اعتکاف کی حالت میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو فرماتے ہوئے سنا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے لوگوں كو وعظ و نصیحت كی۔ انہیں ڈرایا اور رغبت دلائی۔ پھر فرمایا: جو بھی نماز پڑھنے والا ہے وہ اپنے رب سے سر گوشی كرنے والا ہے، اس لئے تم آپس میں ایك دوسرے سے بڑھ كر بلند آواز سے قرأت نہ کیا كرو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 591

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:كَانَتْ لِرَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَمِيصَةٌ، فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ، فَقِيْلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ هَذِهِ الْخَمِيصَةَ خَيْرٌ مِّنْ الْإِنْبِجَامِيَّةِ! فَقَالَ: إِنَّهَا تُلْهِيْنِي عَنْ صَلَاتِي، أَوْ قَالَ: تُشْغِلُنِي
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی ایك دھاری دار قمیص تھی،آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے وہ ابو جہم كو دے دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كہا گیا: اے اللہ كے رسول یہ انبجامیہ سے بہتر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے میری نماز سے غافل كرتی ہے یا فرمایا مجھے میری نماز سے توجہ ہٹا كر مصروف كر دیتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 592

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا صَلَاةً فَأَطَالَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَطَلْتَ الْيَوْمَ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لِأُمَّتِي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَرَدَّ عَلَيَّ وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَـا وَسَأَلْتُـهُ أَنْ لَا يُهْلِـكَهُمْ غَرَقًـا فَأَعْطَـانِـيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ .
معاذبن جبل‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك دن نماز پڑھائی تو لمبی كر دی ، جب سلام پھیرا تو ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آج آپ نے لمبی نماز پڑھائی ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نے خوف اور امید والی نماز پڑھائی ہے۔ میں نے اللہ عزوجل سے اپنی امت كے لئے تین چیزوں كا مطالبہ كیا، اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں دے دیں، اور ایك کاانكار كر دیا۔ میں نے اللہ سے سوال كیا كہ وہ میری امت پر كسی غیر دشمن كو مسلط نہ كرے ، اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول كر لی، میں نے اللہ سے سوال كیا كہ وہ میری امت كو غرق كر كے نہ مارے، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول كر لی، اور میں نے اللہ سے سوال كیا كہ وہ میری امت كو آپس میں نہ لڑائے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں كی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 593

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي قَدْ بَدَّنْـتُ فَإِذَا رَكَعْـتُ فَارْكَعُـوا وَإِذَا رَفَعْـتُ فَارْفَعُـوا وَإِذَا سَجَدْتُ فَاسْجُدُوا وَلَا أُلْفِيَنَّ رَجُلًا يَسْبِقُنِي إِلَى الرُّكُوعِ وَلَا إِلَى السُّجُودِ .
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں كچھ کمزور اور عمر رسیدہ گیا ہوں۔ جب میں ركوع كروں تو ركوع كرو، اور جب میں سر اٹھاؤں تو سر اٹھاؤ، اور جب میں سجدہ كروں تو سجدہ كرو، اور میں كسی شخص كو اس حالت میں نہ پاؤں كہ وہ مجھ سے پہلے ركوع یا سجدہ كرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 594

عن عَائَشَة أَن رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوْتَر بِخَمْسٍ، وَأَوْتَر بِسَبْعٍ .
عائشہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ ركعت وتر پڑھی اور سات ركعت وتر(بھی) پڑھی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 595

) عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً: أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الأَمَانَةُ، وَآخِرُهُ الصَّلاةُ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : تم اپنے دین میں سب سے پہلی چیز جو گم پاؤ گے وہ امانت ہو گی اور آخری چیز نماز ہوگی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 596

عن عَائَشَة ، قَالَت: أَوَّلُ ما فُرِضَتِ الصَّلاَةُ رَكْعَتَيْن رَكْعَتَيْن، فَلَمَّا قَدِم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِيَنَة، صَلَّى إلى كُلِّ صَلَاةٍ مِثْلُهَا غَيْر الْمَغْرِب فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَار ، وَصَلَاةُ الصُّبْح لِطُول قِرَاءَتِهَا ، وَكَانَ إِذَا سَافَرَ عَادَ إِلى صَلَاتِه الْأُولَى
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہتی ہیں كہ سب سے پہلے دو دو ركعت نماز فرض ہوئی ،جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے تو ہر نماز میں اسی کی مثل اضافہ کردیا سوائے مغرب کی نماز کے کہ وہ دن کی نماز کو وتر بناتی ہے اور فجر کے کہ اس میں لمبی قرأت کی جاتی ہے۔ كیونكہ مغرب دن كی وتر نماز ہے اور صبح كی نماز لمبی قرأت سے پڑھی اور جب آپ سفر میں جاتے تو پہلے كی طرح (دو دو ركعت) نماز پڑھتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 597

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ وَأَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جس كا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہوگی ، اور سب سے پہلا معاملہ جس كا فیصلہ كیا جائے گا وہ خون(قتل ) ہوگا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 598

عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً: أَوَّلُ ما يُحَاسَب به الْعَبْدُ يَوم الْقِيَامَة الصَّلَاةُ، فَإِن صَلَحَت صَلَح لَه سَائِرُ عَمَلِه، وَإِن فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرَ عَمَلِه
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ قیامت كے دن بندے كا سب سے پہلا حساب نماز كے بارے میں لیا جائے گا۔ اگر وہ درست رہی تو اس كے سارے عمل درست رہیں گے، اور اگر وہ خراب رہی تو اس كے سارے عمل خراب رہیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 599

عن ابن عَبَاس، قال: قال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : إِيَّاي وَالْفُرَجُ يَعْنِي: فِي الصَّلاَة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں (صفوں کے درمیان) فاصلے سے بچو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 600

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ . ( )
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس عورت نے بخور(خوشبو) لگائی وہ ہمارے ساتھ عشاءكی نماز میں حاضر نہ ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 601

عَنْ حَازِمٍ قَالَ كَانَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ يُقَدِّمُ فِتْيَانَ قَوْمِهِ يُصَلُّونَ بِهِمْ فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ وَلَكَ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَكَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: الْإِمَامُ ضَامِنٌ فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ وَلَهُمْ وَإِنْ أَسَاءَ يَعْنِي فَعَلَيْهِ وَلَهُمْ .( )
ابو حازم سے مروی ہے كہتے ہیں كہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم كے نوجوانوں كو نماز پڑھانے كے لئے آگے كرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا:آپ یہ كام كرتے ہیں حالانكہ آپ بزرگی كے حامل ہیں؟ انہوں نے كہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے، امام ضامن ہوتا ہے، اگر وہ درست نماز پڑھائے تو اس كے لئے بھی اجر ہے اور مقتدیوں كے لئے بھی اور اگر وہ غلط نماز پڑھائے تو اس پر گناہ ہے اور مقتدیوں كے لئے اجر ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 602

عن سَلْمَان الفارسي مَرْفُوْعاً: الْبَرَكَةُ في ثَلَاثٍ: في الْجَمَاعَةِ، وَالثَّرِيدِ، وَالسَّحُورِ . ( )
سلمان فارسی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: بركت تین چیزوں میں ہے، جماعت میں، ثرید میں اور سحر ی میں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 603

عن رَجلٍ مِنْ أَصحَابِ مُحَمَدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: تَطَوَّعُ الرَّجُلِ في بَيْتِه يَزيدُ عَلَى تَطَوُّعِه عنْدَ النَّاسِ، كَفَضْلِ صَلَاةِ الرَّجُلِ في جَمَاعَةٍ عَلَي صَلَاتِه وَحْدَهُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ آدمی اپنے گھرمیں نفل نماز پڑھے تو یہ لوگوں كے پاس نفل نماز پڑھنے اسی قدر سے افضل ہے، جس طرح آدمی كی جماعت سے نماز اس كے اكیلے نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 604

عن أبي ذَر عن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: تُعَاد الصّلاةُ مِنْ مَّمَرِّ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْكَلْبِ الْأَسْوَد، قُلْتُ(عبدالله بن صامت):ما بَالُ الْأَسْوَدِ مِنْ كَلبِ الْأَصْفَر مِنْ كَلْبِ الْأَحْمَر؟ فَقَال: سَألتُ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَمَـا سَأَلتَـنِي، فَقَـال: الْكَلبُ الْأَسْوَد شَيْطَانٌ
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كرتے ہیں كہ گدھے، عورت اور سیاہ كتے كے گزرنے كی وجہ سے نماز دہرائی جائیگی۔ عبداللہ بن صامت نے كہا: كالے كتے كا، زرد اور سرخ كتے سے فرق كیوں ہے؟ تو انہوں نے كہا میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوال كیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے كیا ہے، تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كالا كتا شیطان ہوتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 605

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمِيعِ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت كی نماز، اكیلے شخص كی نماز سے پچیس گناافضل ہے، اور رات اور دن كے فرشتے فجر كی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 606

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَعْنِي إِتْماَمُ الْمُسَافِر إِذاَ اقْتَدَى بِالْمُقِيْمِ، وَإِلَّا فَالْقَصْر .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم كی سنت ہے، یعنی مسافر جب مقیم كے پیچھے نماز پڑھے تو پوری نماز پڑھے وگرنہ قصر كرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 607

عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَـابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم مَرْفُوْعاً: ثَلَاثٌ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: الْغُسْـلُ يَـوْمَ الْجُـمُعَةِ وَالسِّوَاكُ وَيَمَسُّ مِنْ طِيبٍ إِنْ وَجَدَ
ایك انصاری صحابی سے مرفوعا مروی ہے كہ: تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر لازم ہیں، جمعہ كے دن غسل كرنا، مسواك كرنا اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگانا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 608

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: عِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَشُهُودُ الْجنَازَةِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللهَ -عَزَّ وَجَلَّ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہر مسلمان پر لازم ہیں۔مریض كی عیادت كرنا، جنازے میں حاضر ہونا، چھینكنے والا جب الحمدللہ كہے تو اسے جواب میں ‘‘یَرْحَمُکَ اللہُ کہنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 609

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: ثَلاَثَةٌ فِى ضَمَانِ اللهِ -عَزَّ وَجَلَّ-: رَجُـلٌ خَـرَجَ إِلَى مَسْـجِـدٍ مِـنْ مَسَاجِدِ اللهِ -عَزَّ وَجَلَّ-، وَرَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِى سَبِيلِ اللهِ، وَرَجُلٌ خَرَجَ حَاجًّا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص اللہ كی ضمانت میں ہیں، وہ شخص جو اللہ كی مساجدمیں سے كسی مسجد كی طرف نكلا ، اور وہ شخص جو اللہ كے راستے میں جہاد كے لئے نكلا اور وہ شخص جو حج كرنے كے لئے نكلا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 610

) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: ثَلَاثَةٌ لَا يُقْبَلُ مِنْهُم صَلَاةٌ، وَلَا تَصْعَدُ إلى السَّمَاء، وَلَا تُجَاوِزُ رُءُوسَهُم: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَه كَارِهُون، وَرَجُلٌ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَلَم يُؤْمَرْ، وَامْرَأَةٌ دَعَاهَا زَوْجُهَا مِنَ اللَّيْل فَأَبَتْ عَليهِ . ( )
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : تین شخص ایسے ہیں جن كی نماز قبول نہیں ہوتی، اور نہ ہی وہ آسمان كی طرف بلند ہوتی ہے، نہ ان كے سر سے اوپر جاتی ہے۔ وہ شخص جو كسی قوم كی امامت كرواتا ہے جبكہ لوگ اسے ناپسند كرتے ہوں۔ وہ شخص جس نے جنازے كی نماز پڑھائی حالانكہ اسے كہا نہیں گیا، اور وہ عورت جسے رات كے وقت اس كے شوہر نے بلایا لیكن اس نے انكار كر دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 611

عَنْ مُحَمَد بن إِسْمَاعِيل قال: قيْل لَعَبْد الله بن أبي حَبِيبَة: هَل أَدْرَكت من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال: جَاءَنَــــا رَسُولُ الله في مَسْجِدِنَا بِــ(قُـبَـاء) فَجِئْـتُ وَأَنَـا غُلَامٌ (حَدَثٌ) حَتَّى جَلَسْتُ عَنْ يَمِينِه (وجَلَسَ أَبُو بَكَر عَنْ يَسَارِه) ثُمَّ دَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَانِيه وَأَنَا عَن يَمِينه فَشَرِبتُ منه ثُم قَامَ يُصَلِّي فَرَأَيْتُه يُصَلِّي في نَعْلَيْه
محمدبن اسماعیل سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ عبداللہ بن ابی حبیبہ‌رضی اللہ عنہ سے كہا گیا كہ كیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے كوئی چیز حاصل كی ہے؟ انہوں نے كہا: رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (قباء) میں ہماری مسجد میں آئے، میں ابھی نوجوان ہی تھا۔ میں آپ كے دائیں طرف بیٹھ گیا،( اور ابو بكر‌رضی اللہ عنہ آپ كے بائیں جانب بیٹھ گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب منگوایا اور اس میں سے پیا، پھر مجھے دے دیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے دائیں طرف تھا۔میں نے اس میں سے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہو كر نماز پڑھنے لگے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیكھا كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے جوتوں میں نماز پڑھ رہے تھے۔(612) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: جُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ .
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 612

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: جُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ . ( )
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ میری آنكھوں كی ٹھنڈك نماز میں ركھ دی گئی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 613

عَنِ الْمُغِيرَة بن شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلاةِ . ( )
مغیرہ بن شعبہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری آنكھوں كی ٹھنڈك نماز میں رکھ دی گئی ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 614

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سےمروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جمعہ دوسرے جمعے تك درمیانی ایام كا كفارہ ہے جب تك كبیرہ گناہوں كا ارتكاب نہ ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 615

عَنْ فُضَالَةَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي، أَنْ قَالَ لی: حَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ، إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي، قَـالَ: حَافِـظْ عَـلَى الْعَصْرَيْنِ: صَلاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا
فضالہ لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تعلیم دی، انہوں نے مجھے جو تعلیم دی اس میں یہ بات بھی تھی كہ، پانچ نمازوں كی حفاظت كرو، میں نے كہا: ان اوقات میں مجھے مصروفیت ہوتی ہے۔ مجھے كسی جامع كام كا حكم دیجئے۔ جب میں وہ كام كروں تو مجھے كفایت كر جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصرین كی حفاظت كرو، ایك نماز طلوع شمس سے پہلے اور ایك غروب شمس سے پہلے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 616

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْدِمْنَا فَقَالَ: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَقَالَ: خِرْ لِي قَالَ: خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي قَدْ نُهِيْتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ الْغُـلَامَ الْآخَـرَ فَقَالَ: اسْتَـوْصِ بِهِ خَـيْرًا ثُـمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ! مَا فَعَلَ الْغُلَامُ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ؟ قَالَ: أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ خَيْرًا فَأَعْتَقْتُهُ
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے آئے ان كے ساتھ دو غلام تھے۔ علی‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمیں خادم دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے جسے چاہولے لو، علی‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میرے لئے پسند كیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے لے لو، اور اسے مارنا مت، كیونكہ میں نے اسے خیبر سے آتے ہوئے نماز پڑھتے دیكھا ہے۔ اور مجھے نمازیوں كو مارنے سے منع كیا گیا ہے۔ابو ذر‌رضی اللہ عنہ كو دوسرا غلام دیا اور اس كے بارے میں بھلا ئی كا حكم دیا ، پھر فرمایا: اے ابو ذر تم نے غلام كا كیا كیا جو میں نے تمہیں دیا تھا؟ انہوں نے كہا كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حكم دیا تھا كہ اس كے ساتھ بھلائی كروں تو میں نے اسے آزاد كر دیا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 617

عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ فَجَاءَتْهُ الْأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ يَقُولُ: هَكَذَا وَبَسَطَ كَفَّهُ وَبَسَطَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كَفَّهُ وَجَعَلَ بَطْنَهُ أَسْفَلَ وَجَعَلَ ظَهْرَهُ إِلَى فَوْقٍ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌قباء کی طرف نماز پڑھنے كے لئےآئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس انصار آئے اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نماز پڑھ رہے تھے کہ انھوں نے سلام کہا۔ میں نے بلال‌رضی اللہ عنہ سےپوچھا: تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كو كس طرح جواب دیتے ہوئے دیكھا جب یہ سلام كہہ رہے تھے اور آپ حالت نما ز میں تھے؟ بلال نے كہا: آپ اس طرح كر رہے تھے اور اپنی ہتھیلی كھولی، جعفر بن عون نے بھی اپنی ہتھیلی كھولی اور اس كے اندر كا حصہ نیچے اور پشت والا حصہ اوپر كیا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 618

عن عَائَشَة مَرْفُوْعاً: خِصَالُ سِتٍّ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ في وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، إِلَا كَانتْ ضَامِنًا عَلَى الله أَن يُدْخِلَه الْجَنَّةَ: رَجَلٌ خَرَجَ مُجَاهِدًا، فَإِن مَاتَ في وَجْهِه كَان ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ تَبِعَ جَنَازَةً، فَإِن مَاتَ في وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ عَادَ مَرِيضًا، فَإِن مَاتَ في وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوَضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إلى المَسْجِدِ لصَلَاتِهِ، فَإِنَّ مَاتَ في وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ أَتَى إِمَامًا، لَا يَأْتِيَه إِلَا لِيُعَذِّرهُ وَيُوَقِّرَهُ، فَإِنْ مَاتَ في وَجْهِهِ ذَلِكَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ في بَيْتِه لَا يَغْتَابُ مُسْلِمًا، وَلَا يَجُرُّ إِلَيْهم سَخَطاً وَلَانَقْمَةً، فَإِنْ مَاتَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ : چھ حالتیں ایسی ہیں جو بھی مسلمان ان میں سے كسی ایك حالت میں فوت ہوا تو اللہ پر ذمہ ہے كہ وہ اسے جنت میں داخل كر دے۔ (١) وہ شخص جو جہاد كرنے كے لئے نكلا ،اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو اللہ كا ذمہ ہے، (٢) وہ شخص جو كسی جنازے كے ساتھ چلا، اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو وہ اللہ كے ذمے میں ہے،(٣)وہ شخص جس نے كسی مریض كی عیادت كی اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو وہ اللہ كے ذمے میں ہے،(٤)وہ شخص جس نے اچھی طرح وضو كیا پھر نماز پڑھنے كے لئے مسجد كی طرف چلا اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو وہ اللہ كے ذمے میں ہے،(٥)وہ شخص جوكسی شرعی امیر كے پاس آیا اس كے پاس صرف اس كی مدد اور عزت كے لئے آیا اگر یہ اسی حالت میں مرگیا تو یہ اللہ كے ذمے میں ہے،(٦)وہ شخص جو اپنے گھر میں ہے كسی مسلمان كی غیبت نہیں كرتا، نہ ان پر ناراضگی كا اظہار كرتا ہے، اور نہ غصے كا، اگر وہ مرگیاتو وہ اللہ كے ذمے میں ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 619

عن أبي هُرَيْرَة قال: مرَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى قَبْرٍ دُفِنَ حَدِيثًا فَقَالَ: رَكْعَتَان خَفِيفَـتَان مِمَّـا تَحْقِـرُون وتَنْـفُلُون يَزِيدُهُما هَذا في عَمَلِه أَحَبَّ إِلَيْه مِنْ بَقِيةِ دُنْيَاكُم .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایك نئی قبر كے پاس سے گزرے تو فرمایا: دو ہلكی پلكی ركعتیں ہیں ،جنہیں تم حقیر اور اضافی چیز سمجھتے ہو، اگر یہ شخص دو رکعتوں کا اہتمام کرلیتا تو اب اسے تمہاری بقیہ پوری دنیا سے زیادہ عزیز ہوتیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 620

أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَرَسُولَ اللهِ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمْ الَّذِي رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : زَادَكَ اللهُ حِرْصًـا وَلَا تَعُدْ
ابو بكرہ‌رضی اللہ عنہ (نماز میں) اس وقت پہنچے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ركوع كی حالت میں تھے، ابو بكرہ‌رضی اللہ عنہ نے صف سے پہلے ہی ركوع كر لیا۔ پھر صف كی طرف چل پڑے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: تم میں سے كس شخص نے صف سے پہلے ركوع كیا پھر صف كی طرف بڑھا؟ ابو بكرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری حرص زیادہ كرے اور آئندہ ایسا نہ كرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 621

عن عَائَشَة قَالَت : قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : سَجْدَتَا السَّهْوِ تُجْزِئُ فِي الصَّلاَةِ مِنْ كُلِّ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَان
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہتی ہیں كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدۂ سہو نماز میں ہر كمی و زیادتی سے كفایت كر جاتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 622

عن أبي هُرَيْرَة مَرْفُوْعاً: شَرَفُ الْمُؤْمنِ صَلَاتهُ بِاللَّيْل ، وعِزُّه اسْتِغْنَاؤُهُ عَمَّا في أَيْدِي النَّاس .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مومن كا شرف رات كو نماز پڑھنے میں ہے، اور اس كی عزت اس چیز سے مستغنی ہوجانے میں ہے جو لوگوں کے ہاتھ میں ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 623

) عن ابن عباس قال : صَلَّى بِنَا بِالْمَدِيْنَة ثَمَانِية وَسَبْعاً : الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْربَ وَالْعِشَاءَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ :آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینے میں آٹھ اور سات ركعتیں نماز پڑھائی، ظہراور عصر، مغرب اور عشاء۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 624

عَنْ عَبْدِ الله ابن بُحَيْنَة: صَلَّى لَنا رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ، (وفِي رِوَايَة: صَلَاةَ الظُّهْرِ)، فَقَام مِنِ اثْنَتَيْن (وَلَمْ يَجْلِسْ) فَسُبِّحَ بِه (فَلَمّا اعْتَدَلَ مَضَى وَلَمْ يَرْجِع)، (فَقَامَ النّاسُ مَعَه)، فَمَضَى حَتَّى (إذَا) فرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَلَم يَبْق إِلَا السَّلَام، (وَ انْتَظَرَ النّاسُ تَسْلِيْمَه) سَجَدَ سَجْدَتَيْن، (يُكَبِّرُ فِي كُل سَجْدَةٍ، وَهُو جَالِس) قَبْل أَن يُسَلّم (ثُمّ سَلَّم) ، (وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَه ، مَكاَن مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلوس)
عبداللہ بن بحینہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایك نماز پڑھائی( اور ایك روایت میں ہے ظہر كی نماز) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌دو ركعتیں پڑھ كر كھڑے ہوگئے( بیٹھے نہیں) ۔ سبحان اللہ كہا گیا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہوگئے تو پھر كھڑے ہی رہے واپس بیٹھے نہیں)۔لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ كھڑے ہوگئے یہاں تک کہ نماز مکمل کر لی اور سلام باقی رہ گیا۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے سلام كا انتظار كر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے (ہر سجدے میں اللہ اکبر کہتے)( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا)۔( لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ سجدے كئے۔ یہ سجدے تشہد میں بیٹھنے سے بھول كی وجہ سےتھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 625

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! حَدِّثْنِي حَدِيْثاً وَاجْعَلْهُ مُوجِزًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ، كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِن كُنْتَ لا تَرَاهُ فَإِنَّه يَرَاكَ، وَأْيِسْ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ تَعْشُ غَـنِيًّـا، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ مِنْهُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ایك آدمی آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے رسول مجھے كوئی حدیث بیان كیجئے جو جامع ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: الوداع ہونے والے شخص كی طرح نماز پڑھو، گویا كہ تم اللہ كو دیكھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیكھ رہے تو وہ تمہیں دیكھ رہا ہے، اور لوگوں كے ہاتھوں میں جو كچھ بھی ہے اس سے مایوس ہو جاؤ تم غنی بن كر زندگی گزارو گے۔ جس بات كی وجہ سے معذرت كرنی پڑے اس سے بچو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 626

عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى قَوْمًا يُّصَلُّونَ فِي الضُّحَى فَقَالَ: أَمَا لَقَدْ عَلِـمُوا أَنَّ الصّـَلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ ترْمضُ الْفِصَال
قاسم شیبانی سے مروی ہے كہ زید بن ارقم‌رضی اللہ عنہ نے ایك قوم كو دیكھا جو چاشت كے وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ تو انہوں نے كہا: كیا انہیں معلوم نہیں كہ اس گھڑی كے علاوہ دوسرے وقت میں نماز افضل ہے؟ كیونكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اوابین كی نماز اس وقت ہے جب اونٹنی كے بچے كے پاؤں جلنے لگیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 627

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ مَرْفُوْعاً: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْـنَى مَثْـنَى وَجَـوْفُ اللَّيْلِ الْآخِـر أَجْوَبُهُ دَعْوَةً. قـال: قُلْـتُ: أَوْجَبُهُ؟ قَالَ: لَا بَلْ أَجْوَبُهُ ، يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةَ
عمرو بن عبسہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : رات كی نماز دو دو ركعت ہے۔ اور رات كے آخری حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے كہا: كیا یہ( قبولیت) واجب ہو جاتی ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا نہیں ، بلكہ زیادہ قبولیت كا موقع مل جاتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 628

عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قال: قال رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : صَلَاةُ الرَّجُلِ في جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِه وَحْـدَه خَمْـسًا وَعِشْرِين دَرَجَةً، فَإِذَا صَلَّاهَا بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَأَتَمَّ وُضُوءَهَا وَرُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ صَلَاتهُ خَمْسِينَ دَرَجَةً .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت كی نماز آدمی كے اكیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ افضل ہے، اور اگر وہ كسی جنگل میں نمازپڑھے، اس كا وضو ركوع اور سجود پورے كرے تو اس كی نماز پچاس گنا درجے تك پہنچ جاتی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 629

عَنْ قبَاثِ بن أَشْيَمَ اللَّيْثِى مَرفُوعاً: صَلَاةُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا، صَاحِبهُ أَزْكَى عِنْدَ اللهِ مِنْ صَلاةِ ثَمَانِيَةٍ تَتْرَى ، وَصَلاةُ أَرْبَعَةٍ يَؤُمُّهُمْ أَحَدُهُمْ، أَزْكَى عِنْدَ اللهِ مِنْ صَلاةِ مِائَةٍ تَتْرَى
قا ث بن اشیم لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:دو آدمیوں کی نماز كہ ان میں سے ایك امامت كروائے، اللہ كے نزدیك پے درپے پڑھی جانے والی آٹھ نمازوں سے بہتر ہے۔ اور چار آدمیوں كی نماز كہ ان میں سے ایك شخص امامت كروائے اللہ كے نزدیك ان سو نمازوں سے بہتر ہے جو پے در پے پڑھی جائیں؟
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 630

عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلي النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: (نفلی نماز) بیٹھ كر نماز پڑھنے والے كا اجر كھڑے ہو كر نماز پڑھنے والے كے اجر كا نصف ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 631

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عُثْمَان بن الأَرْقَمْ (عَنْ جَدِّهِ الأرقم) أَنَّه قَالَ: جِئْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ لِي: أَيْن تُرِيدُ ؟ فقُلْتُ: إلي بَيْت الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: إِلَى تِجَارَةٍ ؟ فقُلْتُ: لاَ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَصَلِّيَ فِيْهِ، قَالَ: صَلَاةٌ هَاهُنَا – يُرِيدُ الْمَدِيَنَة- خَيْرٌ مِنْ أَلِفِ صَلَاةٍ هَاهُنَا –يُرِيد: إِيلِيَاء
عبداللہ بن عثمان بن ارقم( اپنے دادا ارقم رضی اللہ عنہ )سے بیان كرتے ہیں،انہوں نے كہا كہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سے كہا: تم كہاں جا رہے ہو؟ میں نے كہا: بیت المقدس،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجارت كی غرض سے؟ میں نے كہا: نہیں، لیكن میں وہاں پر نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہاں كی نماز یعنی مدینے میں ، وہاں یعنی بیت المقدس میں(نماز پڑھنے سے)كی نماز سے ایك ہزار گنا افضل ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 632

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرْفُوْعاً: صَلُّوا صَلاةَ الْمَغْرِبِ مَعَ سُقُوطِ الشَّمْسِ بَادِرُوا بِهَا طُلُوعَ النَّجْمِ.(
ابو ایوب‌رضی اللہ عنہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان كرتے ہیں کہ :سورج غروب ہوتے ہی مغرب كی نماز پڑھ لو، اور ستاروں كے طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا كر لو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 633

عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ قَالَا: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : صَلُّوْا فِي بُيُوْتِكُمْ وَ لَا تَتْرُكُوْا النَّوَافِلَ فِيْهَا
انس اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، ان میں نوافل پڑھنا نہ چھوڑو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 634

عن ابى هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعاً: صَلُّوْا في مَرَاحِ الْغَنَمِ وَامْسَحُوا رِغَامَهَا فَاِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّة
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:بكریوں كے باڑے میں نماز پڑھ لواور(اگر باڑے میں جاتے ہوے بکری کی ناک لگ جائے تو وہ نجس نہیں بلکہ اس کو )صاف کردیا کرو، كیونكہ یہ جنت كے چوپائے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 635

عَنْ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: صَلُّـوا قَبْـلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ. ثم قال في الثالثة: لِمَنْ شَاءَ خَافَ أَنْ يَحْسَبَهَا النَّاسُ سُنَّةً
عبداللہ مزنی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب سے پہلے دو ركعت نماز پڑھی پھر فرمایا: مغرب كی نماز سے پہلے دو ركعتیں پڑھو، (تین دفعہ فرمایا اور) پھر تیسری مرتبہ فرمایا: جو پڑھنا چاہے، اس ڈر سے كہ كہیں لوگ اسے لازم نہ سمجھ لیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 636

قَالَ عَبْدُاﷲِ بن مَسْعُودٍ: جَمَعَ رَسُوّلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم : بَیّنَ الأُولَی وَالْعَصْرِ، وَبَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ، فَقِیْلَ لَہُ، فَقَالَ: صَنَعْتُ ھٰذَا لِکَيْ لَا تُحْرَجُ أُمَّتِي۔
عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بارے میں پوچھا گیا؟ تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تاکہ میری امت پر مشکل نہ ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 637

عَنِ الأَزْرَقِ بن قَيْسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بن عُمَرَ وَهُوَ يَعْجِنُ فِي الصَّـلاةِ يَعْتَمِـدُ عَـلَى يَدَيْـهِ إِذَا قَـامَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَعْجِنُ فِي الصَّلاةِ .
ازرق بن قیس سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كو دیكھا آپ نماز میں ہاتھوں کا سہارا لے رہے تھے (یعنی مٹھیاں بنا رہے تھے ) جب كھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں كا سہارا لیتے، میں نے كہا: ابو عبدالرحمن یہ كیا ہے؟ انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو نماز میں ہاتھوں کا سہارا لیتے دیکھا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 638

) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قال: آخِرُ كَلَامٍ كَلَّمَنِي رَسُوْل اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذْ اسْتَعْمَلَنِي عَلَى الطَّائِفِ َقَالَ: خَفِّفِ الصَّلَاةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى وَقَّتَ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾(الأعلى) اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾ (العلق) وَأَشْبَاهَهَا مِنْ الْقُرْآنِ
عثمان بن ابی العاص نے كہا كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جوآخری كلام كیا جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے طائف كا نگران بنایا وہ یہ تھاكہ لوگوں كو ہلكی نماز پڑھانا حتی كہ ﴿سورۃ الاعلى، سورۃ العلق﴾اور اس طرح كی دوسری سورتیں مقرر كر دیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 639

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلا مِنْ أَصْحَابِهِ مَرِيضًا وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى عُودٍ فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْعُودِ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَطَرَحَ الْعُودَ وَأَخَذَ وِسَادَةً فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعْهَا عَنْكَ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الأَرْضِ وَإِلا فَأَوْمِئْ إِيمَاءً وَاجْعَلْ سُجُودَكَ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِكِ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایك صحابی كی عیادت كی میں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ تھا۔ آپ اس كے پاس تو وہ ایک لکڑی پر نماز پڑھ رہا تھا۔ (سجدے کے وقت وہ اپنی پیشانی لکڑی پر رکھ دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف (منع کے انداز میں) اشارہ کیا تو اس نے لکڑی پھینک کر تکیہ لے لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اگر ہو سكے تو زمین پر سجدہ كرو، وگرنہ اشارہ كردو، اور اپنے سجدے كو ركوع سے زیادہ نیچے لے جاؤ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 640

لَا، وَلَكِنْ تَصَافَحُوْا، يَعْنِي: لَا يَنْحَنِي لِصَدِيْقِهِ...وَلَا يُقَبِّلُهُ حِيْنَ يَلْقَاهُ. عنْ أنَس بن مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيْقَه أَيَنْحَنِي لَه؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا، قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ وَ يُقَبِّلُه؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَيُصَافِحُه؟ قَالَ: نَعَمْ إِنْ شَاءَ .هذا السياق لأحمد وكذا الترمذي لَكِنْ لَيْسَ عِنْدَه اِنْ شَاءَ
)(ايك روايت ميں ہے)نہیں لیكن مصافحہ كرو۔ یعنی اپنے دوست كے لئے نہ جھكے نہ اس سے چمٹےاور جب اس سے ملے تو اس كا بوسہ نہ لے۔ انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم میں سے كوئی شخص اپنے دوست سے ملتا ہے تو كیا اس كے لئے جھكے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں ، اس نے كہا، اس گلے لگائے اور اس كا بوسہ لے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:نہیں ۔ اس نے كہا اس سے مصافحہ كرے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا، ہاں اگر چاہے تو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 641

عَنِ عبدالله بْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِب فِي الصَّلاةِ، وَمَا من خُطْوَةٍ أَعْظَم أَجْرًا مِنْ خُطْوَةٍ مَشَاهَا رَجُلٌ إِلَى فُرْجَةٍ فِي الصَّفِّ فَسَدَّهَا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم میں بہترین شخص وہ ہے جس كے كاندھے نماز میں نرم رہتے ہیں، كوئی قدم اجر كے لحاظ سے اس قدم سے بڑھ كر نہیں جو صف كی خالی جگہ پر كرنے كے لئے بڑھا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 642

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ مَرْفوُعاً: خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ بُيُوتُهُنَّ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: عورتوں كی بہترین مسجد ان كے گھرہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 643

عن أبي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الصَّلَاةُ ثَلَاثةُ أَثْلَاثٍ الطَّهُوْرُ ثُلُثٌ وَالرُّكُوعُ ثُلُثٌ وَالسُّجُودُ ثُلُثٌ فَمَنْ أَدَّاهَا بِحَقِّهَا قُبِلَتْ منه وَقُبِلَ مِنْهُ سَائِرُ عَمَلِهِ وَمَنْ رُدَّتْ عَلَيْهِ صَلَاته رُدّ عَلَيْهِ سَائِرُ عَمَلِه.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تین حصوں میں تقسیم ہے، پاكیزگی ایك تہائی ہے،اور رکوع ایک تہائی ہے اورسجدے ایك تہائی ہیں، جس نے اسے كماحقہ ادا كیا تو اس كی نماز قبول كی جائے گی، اور اس كے سارے اعمال قبول ہوں گے اور جس كی نماز مردود ہوگئی اس كے سارے اعمال مردود ہو گئے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 644

) عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَالْجِهَادُ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا گیا: كونسا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نماز كو وقت پر ادا كرنا، والدین كے ساتھ نیكی كرنا اور جہاد كرنا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 645

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَـا اجْتُنِبَـتِ الْكَبَائِـرُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پانچ نمازیں اپنے درمیانی اوقات كے گناہوں كا كفارہ ہیں جب تك كبائر سے اجتناب کیا جاتارہے، اور جمعہ دوسرے جمعہ تك گناہوں كا كفارہ ہے اور تین دن زیادہ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 646

عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کَانَ یَقُوْلُ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَۃُ إلَی الْجُمْعَۃِ وَرَمَضَانُ إلٰی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِمَا بَیْنَھُنَّ إِذَا اجْتَنَبَتِ الْکَبَائِرَ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کہا کرتے تھے: پانچ نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور رمضان دوسرے رمضان تک اپنے درمیانی اوقات تک گناہوں کا کفارہ ہیں۔ جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جاتا رہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 647

عَنِ ابن عَبَاسٍ:أَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسْجُدُ عَلَى وَجْهِهِ وَلَا يَضَعُ أَنْفَه قَالَ:ضَعْ أَنْفَكَ يَسْجُدُ مَعَكَ. ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایك آدمی كے پاس آئے ،جو اپنے چہرے كے بل سجدہ كر رہا تھا۔ لیكن ناك زمین پر نہیں لگا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ناك ركھو یہ بھی تمہارے ساتھ سجدہ كرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 648

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِيَ الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ نُزُولًا فِي بَقِيعِ بَطْحَانَ وَالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالْمَدِينَةِ فَكَانَ يَتَنَاوَبُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ فَأَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ: عَلَى رِسْلِكُمْ! أَبْشِرُوا إِنَّ مِنْ نِعْمَة اللهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ أَوْ قَالَ: مَا صَلَّى هَذِهِ الصلاةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ لَا يَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى: فَرَجَعْنَا فَرِحْينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .قوله: (ابْهَارَّ) أي: انْتَصَفَ . وبَهْرَةُ كُلِّ شَيءٍ : وَسَطُهُ. وَقِيْلَ: (أبهار الليل) إِذَا طَلَعَتْ نُجُومهُ وَاسْتَنَارَتْ ، والأوَّلُ أَكْثَر
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں اور میرے ساتھ جو میرے ساتھ كشتی میں (جثہ سے) آئے تھے بقیع بطحان میں ٹھہرے ہوئے تھے جبکہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینے میں تھے، ان میں سے ایك گروہ ہر رات نماز عشاء كے وقت بار ی باری نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آتا۔ میں اور میرے ساتھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كسی كام میں مصروف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تاخیر كی حتیٰ كہ آدھی رات ہوگئی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نكلے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے نماز مكمل كی تو حاضرین سے کہا کہ: اپنی جگہ ٹھہرو۔ (پھر فرمایا) خوش ہو جاؤ، تم پر اللہ كی نعمت ہے كہ تمہارے علاوہ اس گھڑی میں كوئی نماز نہیں پڑھ رہایا فرمایا: تمہارے علاوہ یہ نماز كسی (اس وقت) نے نہیں پڑھی۔ معلوم نہیں آپ نے كونسا كلمہ كہا؟ ابو موسیٰ نے كہا: ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات سنی تھی اس كی وجہ سے خوشی خوشی واپس پلٹے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 649

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَ قَالَ: فِي كُلِّ رَكَعْتَيْنِ تَشَهُّدٌ وَ تَسْلِيْمٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَعَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْن
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو ركعتوں میں تشہد اور رسولوں پر سلام بھیجنا ہے اور اللہ کے ان نیک بندوں پر جنہوں نے (رسولوں) کی پیروی کی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 650

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ وَتَحِلُّ فِيهِ الصَّلاَةُ وَفَجْرٌ تحْرُمُ فِيهِ الصَّلاَةُ وَيَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر دو ہیں، ایك فجر جس میں (سحری) كھانا ممنوع ہو جاتا ہے، اور نماز (فجر) جائز ہو جاتی ہے، اور دوسری فجر جس میں نماز (فجر) ممنوع ہوتی ہے اور كھانا (سحری) جائز ہوتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 651

عن جابر بن عبد الله قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَجْرٌ يُقَالُ لَهُ: ذَنَبُ السِّرْحَان وَهُوَ الْكَاذِبُ يَذْهَبُ طُوْلاً وَلَا يَذْهَبُ عَرْضًا وَالْفَجْرُ الآخِرُ يَذْهَبُ عَرْضًا وَلَا يَذْهَبُ طُوْلًا. ( )
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر دو ہیں ایك فجر جسے ذنب السرحان(بھیڑئے کی دم) كہا جاتا ہے۔ یہ (فجر)كاذب ہے۔ یہ لمبائی میں پھیلتی ہے ،چوڑائی میں نہیں ۔ اور دوسری فجر(صادق) چوڑائی میں پھیلتی ہے، لمبائی میں نہیں ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 652

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ الله عَزَّ وَجَلَّ: افْتَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا أَنَّهُ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلَا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي .
ابو قتادہ بن ربعی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتے ہیں: میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض كی ہیں، اور میں نے اپنے پاس ایك عہد كیا ہے كہ جس شخص نے ان كے اوقات پر ان كی محافظت كی میں اسے جنت میں داخل كروں گا۔ اور جس نے ان كی حفاظت نہیں كی اس كے لئے میرے پاس كوئی عہد نہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 653

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ كَشْحِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ سَاجِدٌ .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں ، گویا كہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم كی پہلو كی سفیدی دیكھ رہا ہوں(ہاتھوں کو چوڑا کرنے کی وجہ سے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے كی حالت میں ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 654

عن أبي هُرَيْرَة ، أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان إِذا أَرَاد أَن يَسْجُدَ كَبَّر ثم يَسْجُد ، وَإِذَا قَام من الْقَعْدَة كَبَّر، ثُمَّ قَام .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے كا ارادہ كرتے تو پہلے تكبیر كہتے ،پھر سجدہ كرتے، اور جب قعدے سے كھڑے ہوتے تو پہلے تكبیر كہتے پھر كھڑے ہوتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 655

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: سُبْحَانَكَ اللهم وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْركَ .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز كی ابتداء كرتے تو كہتے:سُبْحَانَكَ اللهم وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَترجمہ: اے اللہ پاك ہے تو اپنی تعریف كے ساتھ، تیرا نام بابركت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ كوئی معبود برحق نہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 656

عَنْ أَبِي مَالَك الْأَشْجَعِي، عن أَبِيه (طارق بن أَشْيَم)، قَالَ: كَانَ إِذَا أَسْلَمَ الرَّجْلُ كَانَ أَوَّلَ مَا يُعَلِّمنَا الصّلاة، أَوْ قَالَ: عَلَّمَهُ الصَّلَاةَ .
ابو مالك اشجعی اپنے والد( طارق بن اشیم) سے بیان كرتے ہیں كہتے ہیں كہ جب كوئی آدمی مسلمان ہوتا تو سب سے پہلی تعلیم جو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ دیتے وہ نماز كی ہوتی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 657

عن أَنس: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذا أَعْجَبَه نَحْوَ الرَّجُلِ أَمَرَه بِالصَّلَاة .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو جب كسی آدمی کی کوئی ادا پسند آتی تو اسے نماز كا حكم دیتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 658

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ وَيَقُولُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح كی نماز سے پلٹتے تو كہتے: كیا تم میں سے كسی شخص نے آج رات كوئی خواب دیكھا ہے؟ اور فرماتے : میرے بعد نبوت میں سے سچے خواب كے علاوہ كچھ نہیں بچا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 659

عن عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا جَلَسَ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوْ فِي الْأَرْبَعِ يَضَعُ يَدَه عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ أَشَارَ بِإصْبَعِهِ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو ركعتوں میں بیٹھتے یا چوتھی ركعت میں بیٹھتے تو اپنا ہاتھ گھٹنے پر ركھتے، اور اپنی انگلی سے اشارہ كرتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 660

عن أبي هُرَيْرَة أَنَّ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأَسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ في صَلَاةِ الصُّبْحِ في آخرِ رَكعَةٍ قَنَتَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح كی نماز میں آخری ركعت میں ركوع سے سر اٹھاتے تو قنوت كرتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 661

عن البراء بن عازب: كان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَكَعَ ، لَوْ صُبَّ عَلَى ظَهْرِهِ مَاءٌ لاسْتَقَرَّ.
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ركوع كرتے تو آپ كی پیٹھ پر اگر پانی ڈالا جاتا تو وہ بھی ٹھہر جاتا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 662

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: اللهم أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو (قبلہ رخ)اتنی دیر بیٹھتے كہ آپ یہ كلمات كہہ لیتے: اے اللہ تو سلام ہے، اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے، تو بابركت ہے۔ اے عظمت و شان والے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 663

عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ .
ابو رافع‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مو ذن كی آواز سنتے تو اسی طرح كہتے جس طرح مو ذن كہتا۔ اور یہاں تک جب مؤذن جب مو ذن: حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح كہتا تو آپ لا حول ولا قوۃ الا باللہ كہتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 664

عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ تَطَوُّعِ النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالنَّهَارِ؟ فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ قال: قُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا اَطقْنَا قَالَ: كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ أمْهل حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا –يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ- مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَاهُنَا - مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ- قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا –يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ- مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَاهُـنَا- يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَغْـرِبِ- قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ، (يَجْعَلُ التَّسْلِيْم فِي آخِرِهِ) .
عاصم بن ضمرہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم نے علی‌رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے دن كے نوافل كے بارے میں سوال كیا تو انہوں نے كہا: تم اس كی طاقت نہیں ركھتے ۔ ہم نے كہا: آپ ہمیں بتایئے، جو ہماری طاقت میں ہوگا ہم اسے اختیار كر لیں گے۔ انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر كی نماز پڑھ لیتے تو جب تك سورج مشرق كی طرف سے اتنا اونچا نہ ہو جاتا جتنا عصر كی نماز كے بعد مغرب كی طرف وہ جاتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہتےاس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے۔ اس كے بعد پھر ٹھہر رہتے حتی کہ سورج مشرق کی طرف سے اتنا بلند ہوجاتا جتنا کہ مغرب کی طرف بوقت ظہر ہوتا ہے (یعنی زوال سے کچھ دیر قبل) تو آپ كھڑے ہوجاتے اور چار ركعت نماز پڑھتے ،جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر سے پہلے چار ركعت پڑھتے اور دو ركعتیں ظہر كے بعد پڑھتے ، چار ركعت عصر سے پہلے پڑھتے، اور ہر دو ركعتوں میں مقرب فرشتوں، انبیاء اور ان كے مسلمان پیرو كاروں پر سلام كہہ كر فاصلہ كرتے (نماز كے آخرمیں سلام پھیرتے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 665

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ :كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر كی نماز پڑھتے تو اپنی جگہ چار زانو ہو کر بیٹھ رہتے حتی كہ سورج طلوع ہو جاتا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 666

عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَلَّى هَمَسَ فَقَالَ: أَفَطِنْتُمْ لِذلِك؟ إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ: مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يُقَاتِلْ هَؤُلَاءِ؟ أَوْ كَلِمَة شبهها، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ: أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا ،أَوِ الْجُوعَ ، أَوِ الْمَوْتَ، فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: نَكِلُ ذَلِكَ إِلَيْكَ، أَنْتَ نَبِيُّ اللهِ فَقَامَ فَصَلَّى وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا، فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ: يَا رَبِّ أَمَّا الْجُوعُ أَوِ العَدُوّ فَلَا وَلَكِنَّ الْمَوْتُ، فَسُلِّطَ عَلَيْهِمِ الْمَوْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُـونَ أَلْفًا فَهَمْسـِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ: اللهمّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِـكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِك.
صہیب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے توسرگوشی کرتےفرمایا: كیا تم یہ بات سمجھے ہو؟ مجھے ایك نبی یاد آئے، جنہیں اپنی قوم میں سے كچھ لشكردیئے گئے اور كہا: ان لوگوں كے لئے كون كافی ہوگا یا كہا ان لوگوں سے كون قتال كرے گا؟ یا اسی سے ملتا جلتا جملہ كہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس كی طرف وحی كی كہ اپنی قوم كے لئے تین چیزوں میں سے ایك اختیار كرو، یہ كہ میں ان پر دشمن مسلط كردوں ،یا بھوك یا موت مسلط كر دوں، انہوں نے اپنی قوم سے مشورہ كیا تو انہوں نے كہا كہ ہم معاملہ آپ کے سپردکرتے ہیں، آپ اللہ كے نبی ہیں۔ وہ نماز پڑھتے كھڑے ہوگئے ، اور جب وہ پریشان ہوتے تھے تو نماز پڑھتے تھے۔ اس نبی نے كہا: اے اللہ دشمن اور بھوك تو مسلط نہ كر، لیكن موت مسلط كر دے، اللہ تعالیٰ نے ان پر تین دن موت مسلط كر دی۔ ان میں سے ستر ہزار آدمی مر گئے۔میری سرگوشی جو تم دیكھ رہے ہو تو میں یہ كہتا ہوں: اے اللہ تیری مدد سے ہی ہم قتال كرتے ہیں اور تیری مدد كے ساتھ ہی ہم حملہ كرتے ہیں ، اور گناہ سے بچنے كی طاقت اور نیكی كرنے کی قوت تیری توفیق كے بغیر نہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 667

عَنْ عَلْقَمَةَ بن وَائِلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أن النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم :كَانَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلاةِ قَبَضَ عَلَى شِمَالِهِ بِيَمِينِهِ .
علقمہ بن وائل اپنے والد سےبیان کرتے ہیں کہ: نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو گرفت میں لے لیتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 668

عن أبي هُرَيْرَة :كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذا قَام من اللَّيْل يَتَهَجَّدُ صَلَّى رَكْعَتَيْن خَفِيفَتَيْن .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات كو تہجد پڑھتے تو دو ہلكی ركعتیں پڑھتے(یعنی ان سے آغاز کرتے)۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 669

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا كَانَ رَاكِعًا أَوْسَاجِدًا، قَالَ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ركوع یا سجدے كی حالت میں ہوتے تو یہ کلمات كہتے : اے اللہ تو پاك ہے ، اپنی تعریف كے ساتھ، میں تجھ سے بخشش طلب كرتا ہوں، تیری طرف رجوع كرتا ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 670

عَنْ يَحْيَى بْنِ یَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ-وكُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ- فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ (شَّك شُعْبَةُ) قَصَرَ الصَّلاَة . وَفِي رِوَايَةٍ:( صَلَّى رَكْعَتَيْنِ) .
یحییٰ بن یزید ہنائی سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ میں نے انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے قصر نماز كے بارے میں سوال کیا، میں كوفہ جایا كرتا تھا اور واپس لوٹنے تك دو ركعت نماز پڑھا كرتا تھا۔ انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ (شعبہ کو شک ہے) كے فاصلے تک (یا اس سے زیادہ) سفر كرتے تو نماز قصر كیا كرتے تھے، اور ایك روایت میں ہے( دو ركعتیں پڑھا كرتے تھے)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 671

عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا أَفْهَمُهُ وَلَا يُخْبِرُنَا بِهِ قَالَ: أَفَطِنْتُمْ لِي؟ قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَعْجَبَ بِأُمَّتِهِ) فَقَالَ: مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ؟ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ أَوْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلَامِ (وَفِي الرَّوَايَةِ الْأُخْرَى: مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ وَلَمْ يَشُكَّ) فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا: أَنْتَ نَبِيُّ اللهِ فَكُلُّ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللهُ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَيْ رَبِّ! أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا، أَوِ الْجُوعُ فَلَا، وَلَكِنَّ الْمَوْتُ فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتُ فَمَاتَ مِنْهُمْ (فِي يَوْمٍ) سَبْعُونَ أَلْفًا فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ اللهمَّ بِكَ أَحُوْل، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ .
صہیب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے توسرگوشی کرتے جسے نہ میں سمجھ سکا، اور نہ آپ ہمیں بتلاتے۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اسےسمجھتے ہو؟ ہم نے كہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: مجھے ایك نبی یاد آگئے، جنہیں ان كی قوم كے كچھ لشكر دیئے گئے،( اورایك روایت میں ہے:انہیں اپنی امت پر فخر ہوا)تو انہوں نے كہا: ان سے كون مقابلہ کریگا؟ یا ان لوگوں كے سامنے كون ٹھہر سکے گا؟ یا اس كے علاوہ كوئی بات كہی۔( اور دوسری روایت میں ہے: ان لوگوں كے سامنے ٹھر سکے سگا، اس میں شك نہیں) ان كی طرف وحی كی گئی كہ اپنی قوم كے لئے تین میں سے ایك بات اختیار كر لیں، یا تو ہم ان پر ان كے علاوہ دشمن مسلط كر دیں یا بھوك یاپھر موت مسلط كردیں؟انہوں نے اس بارے میں اپنی قوم سے مشورہ كیا تو انہوں نے كہا: آپ اللہ كے نبی ہیں، سب معاملہ آپ كے ہاتھ میں ہے، آپ ہمارے لئے( جو چاہیں) اختیار كر لیں۔ وہ نبی نماز كے لئے كھڑے ہوئے، وہ لوگ جب پریشان ہوتے تو فوراً نماز كے لئے كھڑے ہو جاتے ۔ جتنا اللہ نے چاہا اس نبی نے نماز پڑھی، پھر كہا: اے میرے رب ان كے علاوہ دشمن یا بھوك تو نہیں ،لیكن موت مسلط كر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط كر دی( ایك دن میں) ستر ہزار لوگ مر گئے۔میں اپنی سر گوشی میں كہتا ہوں:اے اللہ تیری توفیق كے ساتھ میں حملہ كرتا ہوں اور تیری مدد كے ساتھ میں قتال كرتا ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 672

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ وَقَالَ « آمِينَ » .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ام القرآن( فاتحہ) كی قرأٔت سے فارغ ہوتے تو اپنی آواز بلند كرتے اور كہتےآمین( اے اللہ قبول فرما)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 673

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَمُرُّ بِالْقِدْرِ فَيَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُصِيبُ مِنْهُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً . (وَفِي رِوَايَةٍ: فَمَا تَوَضَّأَ وَلاَ تَمَضْمَضَ).
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنڈیا كے پاس سے گزرتے تو گوشت کی بوٹی اٹھا کر اس میں سے کھا لیتےپھر نماز پڑھتے اور نہ وضو كرتے نہ پانی كو چھوتے، اور ایك روایت میں ہے نہ وضو كیا نہ كلی كی
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 674

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ كانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي غَزْوَةِ تَبُوك إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى أَنْ يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ عَجَّلَ الْعَصْرَ إِلَى الظُّهْرِ وَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ.
معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوك میں جب سورج كے زوال سے پہلے كوچ كرتے تو ظہر كو مؤ خر كر كے عصر كے ساتھ جمع كر لیتے، اور دونوں نمازیں اكھٹی ادا كرتے۔ اور جب سورج كے زوال كے بعد كوچ كرتے تو عصر كو ظہر كے ساتھ جمع كر كے جلدی ادا كرتے، پھر سفر كرتے۔ اور جب مغرب سے پہلے كوچ كرتے تو مغرب كومؤخر كر كے عشاء كے ساتھ ادا كرتے اور جب مغرب کے بعد سفر شروع کرتے تو عشاء کو مقدم کرکے مغرب کے ساتھ پڑھتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 675

عَنْ عَوْنِ بن أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرِهِ الَّذِي نَامُوا فِيهِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ كُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَرَدَّ اللهُ إِلَيْكُمْ أَرْوَاحَكُمْ فَمَنْ نَامَ عَنْ صَلاةٍ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ، وَمَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا.
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایك سفر میں تھے لوگ اس طرح سوئےكہ سورج طلوع ہوگیا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم مر چكے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحیں واپس لوٹا دیں تو جو شخص نماز سے سویا رہے، جب جاگ جائے تو نماز ادا كرے اور جو شخص نماز بھول جائے تو جب یاد آئے تو نماز ادا كر لے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 676

عَنْ أَنسِ بْنِ مَالَكٍ رضی اللہ عنہ قال: كَان الْمُؤَذِّنُ يُؤَذَّنُ عَلَى عَهِدِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَيَبْتَدِرُ لُبَابُ أَصَحَابِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌السَّوَارِيَ يُصَلُّون الرَّكْعَتَيْن قَبْلَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُمْ يُصَلُّون. (فَيَجِيُء الْغَرِيْبُ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلاَةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيْهِمَا)، (وَكاَنَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ يَسِيْرٌ).
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں مو ذن مغرب كی اذان دیا كرتا ،تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم كے چنیدہ صحابہ ستونوں كی طرف جلدی جانے کی کوشش كرتے، مغرب سے پہلے دو ركعتیں ادا كرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نكلتے تو صحابہ نماز پڑھ رہے ہوتے( كوئی اجنبی آتا تو دو رکعت پڑھنے والوں کی کثرت کی وجہ سے وہ سمجھتا كہ نماز ہو چكی ہے) (اذان اور اقامت كے درمیان تھوڑا وقفہ ہوتاتھا)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 677

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ نَبِيُّكُمْ إِذَا كَانَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، قَالَ:سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ركوع یا سجدے كی حالت میں ہوتے تو كہتے : اے اللہ تو پاك ہے، اپنی تعریف كے ساتھ میں تجھ سے بخشش طلب كرتا ہوں، اور تیری طرف رجوع كرتاہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 678

عَنْ إِبْرَاهِيم بن مُحَمَد بن الْمُنْتَشِر عن أَبِيه أَنَّه كَان يُصَلِّي بَعَد الْعَصْر رَكْعَتَيْن فَقِيل لَه: فَقَال: لَو لَم أُصَلِّهِما إِلَا أَنِّي رَأَيْتُ مَسْرُوقًا يُصَلِّيَهُمَا لَكَانَ ثِقَةً وَلَكِنِّي سَأَلَتُ عَائَشَة فَقَالَت: كَان رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْن قَبـل الْفَجْر وَرَكْعَتَيْن بَعَد العَصْر
ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ وہ عصر كے بعد دو ركعت پڑھا كرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا: تو انہوں نے كہا: میں یہ دوركعت نہ پڑھتا لیكن میں نے مسروق كو دیكھا ہے كہ وہ یہ دو ركعت پڑھا كرتے تھے۔ وہ ثقہ ہیں لیكن میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال كیا تو انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو ركعت اور عصر كے بعد دو ركعت نہیں چھوڑا كرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 679

عَنْ عَائِشَةَ :كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يُصَلِّي فِي لُحُفِنَا .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بستروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 680

) عن أَنس: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يَقْنُت إِلَا إِذًا دَعَا لِقَوْمٍ أَو دَعَا عَلَى قَوْمٍ .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ قنوت صرف اس وقت کرتے جب کسی کے لئے دعا کرتے یا کسی کے خلاف دعا کرتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 681

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَمَّنْ حَدَّثَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ الْمَسَاجِدَ فِي دُورِنَا وَأَنْ نُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا .
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابی سے بیان كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمیں حكم دیتے كہ ہم اپنے محلوں میں مسجدیں بنائیں، انہیں اچھی طرح بنائیں اور پاك صاف ركھیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 682

عن أبي سعيد : أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَجْمَع بَيْن الصَّلَاتَيْن في السَّفَر.
ابو سعید سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو نمازیں جمع كیا كرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 683

عَنْ أَنَس بن مالك الأشعري: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ .
انس بن مالك اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس بات كو پسند كرتے تھے كہ مہاجرین و انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے قریب رہیں تاكہ وہ آپ كی حفاظت كر سكیں یا آپ سے سیکھ سکیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 684

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِى إِسْرَائِيلَ لَا يَقُومُ إِلَّا لِعُظْمِ صَلَاةٍ
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کا زیادہ تر حصہ بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کرتے رہے اور صرف نماز کی عظمت کی وجہ سے اٹھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 685

عن سَالِم ابى النَّضْر ان النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَخْرُجُ بَعَدَ النِّداءِ إلى الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَأَى اَهَلَ الْمَسْجِــــدِ قَلِيلًا جَلَسَ حَتَّى يَرَى مِنْهم جَمَاعَةً ثُمَّ يُصَلِّى وَكَانَ إِذَا خَرَجَ فَرَأَى جَمَاعَةً اَقَامَ الصَلَوةَ .
سالم بن ابی نضر سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اذان کےبعدمسجد كی طرف نكلا كرتے تھے ،جب مسجدمیں تھوڑے افراددیكھتے تو بیٹھ جاتے حتی كہ لوگ جمع ہو جاتے ،تو پھر نماز پڑھاتے، اور جب باہر نكلتے اور جماعت دیكھتے تو نماز كھڑی كر دیتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 686

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ :كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ (قائماً) (عَلي رِجْلَيهِ) فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ (بِوَجْهِه) وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ .
ابو سعیدخدری‌رضی اللہ عنہ مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی اور عیدالفطر كے دن باہر نكلتے تو نماز سے ابتداء كرتے، جب نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیر لیتے تو (اپنے پاؤں پر) كھڑے ہو جاتے اور( اپنے چہرے كا رخ لوگوں كی طرف کرلیتے۔ لوگ اپنی جگہ بیٹھے ہوتے، اگر کہیں فوج یا وفد بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں كے سامنے ذكر كردیتے، یا اس كے علاوہ كوئی اورضرورت ہوتی تو انہیں حكم دے دیتے، اور آپ فرمایا كرتے تھے : صدقہ كرو، صدقہ كرو، صدقہ کرو عورتیں زیادہ صدقہ كیا كرتی تھیں، پھر آپ واپس چلے جاتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 687

عن عَامِر بن عَبدِ الله بن الزُبَيْر عن أَبِيه أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَخْطُبُ بِمِخْصَرَة فِي يَدِه . ( )
عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ میں چھڑی لے کر خطبہ دیا كرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 688

عَنِ الْبَرَاء بْنُ عَازِبٍ : كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْجُدُ عَلَى ألْيَتَيِ الْكَفِّ .
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلیوں كے اندرونی گدا ز حصے پر سجدہ كیا كرتے تھے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 689

عن أَنَسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً.
) انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایك سلام (بهی)كہا كرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 690

عَنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰى أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّاحَةِ فِي الصَّلَاةِ.
عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنی شہادت كی انگلی سے اشارہ كیا كرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 691

عَنْ عَائَشَة قالتْ: كَان صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي بِمَكَّة رَكْعَتَيْن - يَعْني:- الْفَرَائِض، فَلَمَّا قَدِم الْمَدِيَنَة، وَفُرِضَتْ عَلَيه الصَّلاةُ أَرْبَعًا وَثَلَاثًا صَلَّى وَتَرَك الرَّكْعَتَيْن كَان يُصَلِّيِهُمَا بِمَكَّة تَمَامًا لِلْمُسَافِر .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مكہ میں دو ركعت نماز پڑھا كرتے تھے ۔ یعنی فرائض ، جب مدینے آئے تو آپ پر چار ركعت نما زفرض ہوئی، اور تین ركعت۔ آپ مكمل نماز پڑھتے، اور دو ركعتیں جو مكہ میں پڑھا كرتے تھے وہ مسافر كے لئے چھوڑدیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 692

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كان يُصَلِّی بِهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ بِالْبَطْحَاءِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا أَنْ تَأَخِرِي فَرَجَعَتْ حَتَّى صَلَّى ثُمَّ مَرَّتْ .
عبداللہ بن زید‌رضی اللہ عنہ اور ابو بشیر انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك دن نماز پڑھا رہے تھے کہ ایك عورت بطحاء سے گزری، آپ نے اسے اشارہ كیا كہ پیچھے ہو جائے۔ وہ واپس ہو گئی۔ جب آپ نے نماز پڑھ لی تو اس کے بعد وہاں سے گزری۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 693

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلَّي عِنْدَ الْمَقَامِ، فَمَرَّ بِهِ أَبُوجَهْل بْن هِشَامٍ فَقَالَ: يَا مُحّمَّدْ! أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا؟! وَتَوَعَّدَهُ ، فَأَغْلَظَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَانْتَهَرَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدْ! بِأَيِّ شَيْءٍ تُهَدِّدُني؟ ! أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَكْثَرُ هَذَا الْوَادِي نَادِياً ، فَأَنْزَلَ اللهُ فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ۱۷﴾ سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ۱۸﴾ (العلق) قَالَ ابْن عَبَّاسٍ: لَوْ دَعَا نَادِيَهُ أَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ مِنْ سَاعَتِهِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ( ابراہیم) كے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو جہل بن ہشام وہاں سے گزرا تو كہا: اے محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم (كیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں كیا تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو ڈرانے کی کوشش کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر غصے ہو گئے اور اسے ڈانٹا، اس نے كہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )تم كس وجہ سے مجھے دھمكا رہے ہو؟ واللہ میں اس وادی میں زیادہ حمایت یافتہ ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:سورۃ العلق :۱۷،۱۸﴾ ترجمہ: وہ اپنے حمایتی (مددگاروں)كو بلائے، ہم بھی عذاب فرشتوں كو بلالیں گے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: اگر وہ اپنے حمایتی كو بلاتا تو اسی لمحے عذاب كےفرشتے اسے پكڑ لیتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 694

عن عبد الله بن مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِذَا أَرَادُوا أَن يَمْنَعُوهُمَا أَشَار إِلَيْهِم : أَن دَعُوهُمَا، فَلَمَا قَضَى الصَّلَاةَ وَضَعَهُمَا في حَجَره وَقَال: من أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْن.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو حسن اور حسین اچھل كر آپ كی پیٹھ پر چڑھ گئے۔ لوگوں نے انہیں منع كرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌ نے انہیں اشارے سے منع كر دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مكمل كر لی تو ان دونوں كو اپنی گود میں بٹھا لیا، اور فرمایا: جو مجھ سے محبت كرتا ہے وہ ان دونوں سے محبت كرے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 695

عن عَائَشَة قَالَت : كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلِّي قَائِمًا (تَطَوُّعاً، وَالْبَابُ فِي الْقِبْلَةِ) ، (مُغْلَقٌ عَلَيْهِ) فَاسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ ، فَمَشَى عَلَى يَمِينِه أوَشِمِالِه ، فَفَتَحَ الْبَاب ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَاْنِهِ .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہو كر( نفل نماز)پڑھ رہے تھے اور دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی جانب اور بند تھا۔ (ایک مرتبہ )میں نے دروازہ كھٹكھٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دائیں یا بائیں(پاؤں) پرچل کرا دروازہ كھولا پھر اپنی جگہ واپس آگئے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 696

عَنْ قَابُوس عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَرْسَلَ أَبِي امْرَأَةً إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا أَيُّ الصَّلَاةِ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يَدَعُ صَحِيحًا وَلَا مَرِيضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاهِدًا فَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ.
قابوس اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ میرے والد نے ایك عورت عائشہ رضی اللہ عنہا كی طرف بھیجی، كہ ان سے پوچھ كر آئے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو كونسی نماز سب سے زیادہ پسند تھی جس پر ہمیشگی كیا كرتے تھے؟ انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌ظہرسے پہلے چار ركعت پڑھا كرتے تھے، اور ان میں لمبا قیام كیا كرتے ، ركوع و سجود احسن طریقے سے ادا كرتے، اور جو نماز وہ چھوڑ انہیں كرتے تھے، تندر ست ہوں یا بیمار سفر میں ہوں یا حضر میں وہ فجر سے پہلے كی دو ركعتیں ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 697

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ-بَعْدَ الزَّوَالِ- أَرْبَعًا وَيَقُولُ إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ (فيها) فَأُحبُّ أَنْ أُقَدِّمَ فِيهَا عَمَلًا صَالِحًا.
عبداللہ بن سائب سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال كے بعد ظہر سے پہلے چار ركعت نماز پڑھتے، اور فرماتے : یقینا آسمان كے دروازے (اس وقت) كھولے جاتے ہیں ۔ میں پسند كرتا ہوں كہ اس وقت میں نیك عمل بھیجوں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 698

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ.
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء كے درمیانی وقت میں نماز پڑھا كرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 699

عن الْمِقْدَام بن شُرَيْح عن أَبِيه قال سَأَلْتُ عَائَشَة عن صَـلَاةِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي؟ فَقَـالَت: كَان يُصَلِّي الْهَجِيرَ ثم يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْن ثم يُصَلِّي الْعَصْرَ ثم يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْن قُلْت: فَقَدْ كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ عَلَيْهِمَا وَيَنْهَى عَنْهُمَا؟ فَقَالَتْ: كَانَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ يُصَلِّيَهُمَا وَقَدْ عَلِمَ أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يُصَلِّيَهُمَا وَلَكِنْ قَوْمَكَ أَهَلَ الْيَمَنِ قَوْمٌ طُغَامٌ يُصَلُّون الظُّهْر ثم يُصَلُّون ما بَيْن الظُّهْر وَالْعَصْر وَيُصَلُّون الْعَصْر ثم يُصَلُّون ما بَيْن الْعَصْر والمغرب فضربهم عمر وَقَد أَحْسَنَ.
مقدام بن شریح اپنے والد سے بیان كرتے ہیں ، انہوں نے كہا كہ: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی نماز كے بارے میں سوال كیا كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كس طرح نماز پڑھا كرتے تھے؟ انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر كی نماز پڑھتے ،پھر اس كے بعد دو ركعت نماز پڑھتے، پھر عصر كی نماز پڑھتے تو اس كے بعد دو ركعتیں پڑھتے۔ میں نے كہا: عمر‌رضی اللہ عنہ ان دو ركعتوں پر مارتے تھے۔ اور ان سے روكتے تھے؟ انہوں نے كہا: عمر‌رضی اللہ عنہ یہ دو ركعتیں پڑھتے تھے، اور انہیں معلوم ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو ركعتیں پڑھتے تھے ،لیكن تمہاری یمنی قوم کم ظرف اور جاہل ہیں۔ظہر كی نماز پڑھتے ہیں پھر ظہر اور عصر كے درمیان نماز پڑھتے ہیں، اور عصر كی نماز پڑھتے ہیں، تو پھر عصر اور مغرب كے درمیان نماز پڑھتے ہیں، اس لئے عمر‌رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا ہے اور انہوں نے اچھا كیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 700

عن عبد الله قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلِّي وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَلْعَبَاْنِ وَيَقْعُدَاْنِ عَلَى ظَهْرِهِ فَأَخَذَ الْمُسْلِمُوْنَ يُمِيْطُونَهُمَا فَلَمَّا اْنْصَرَفَ قَاْلَ: ذَرُوْهُمَا - بِأَبِي وَأُمِّي - مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو حسن اور حسین دونوں كھیل رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی پیٹھ مبارك پر بیٹھ رہے تھے۔ مسلمان انہیں ہٹانے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام كہہ دیا تو فرمایا: میرے ماں باپ قربان! ان دونوں كو چھوڑ دو، جو مجھ سے محبت كرتا ہے وہ ان دونوں سے محبت كرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 701

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم يُعَلِّمُنَا يَقُولُ: لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ (بالركوع والسجود) إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ {وَلَا الضَّالِّينَ} فَقُولُوا آمِينَ (فَإِنَّهُ إِذَا وَافَقَ كَلَامُهُ كَلَامَ المَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ) (مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: (سَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَهُ) فَقُولُوا: (اللهم رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ)، (وَلاَ تَرْفَعُوْا قَبْلَهُ)، (وَإِذا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا).
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے تو فرماتے:( ركوع و سجود میں) امام سے جلدی نہ كرو، جب وہ تكبیر كہے تو تم بھی تكبیر كہو، اور جب وہ وَلَا الضَّالِّينَ كہے تو تم آمین كہو( كیونكہ جب اس كی بات فرشتوں كے كلام سے مل گئی تو اس سے جو گناہ سرزد ہوئے ہیں بخش دیے جائیں گے)۔ اور جب وہ ركوع كرے تو تم بھی ركوع كرو، اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ(اللہ نے اس شخص كی فریاد سن لی جس نے اس كی تعریف کی) كہے: تو تم اللهم رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ (اے اللہ ہمارے رب تیرے لئے ہی تعریفات ہیں)كہو: ( اور اس سے پہلے نہ اٹھو)( اور جب وہ سجدہ كرے تو تم بھی سجدہ كرو)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 702

عن ابن عُمَرَ أَنَّ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَي الْفَجْرِ (وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر كی دو ركعتوں (اور مغرب كے بعد دو ركعتوں میں الکفرون ، الاخلاص پڑھا كرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 703

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾ (الأعلى) ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اورعصر میں سورۃ الاعلی ، سورۃ الغاشیہ پڑھا كرتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 704

عَنِ وَرَّادٍ كاتب الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي كِتَابٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ (حِيْنَ يُسَلَّمْ) لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْـدُ وَهُـوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ .
وراد،مغیرہ بن شعبہ‌رضی اللہ عنہ كے كاتب سے مروی ہے اس نے كہا كہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ كی طرف بھیجے گئے، خط میں مجھ سے لكھوایا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب سلام پھیر لیتے تو) ہر فرض نماز كے بعد كہتے: لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. ترجمہ: اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں ، وہ اكیلا ہے اس كا كوئی شریك نہیں اسی كے لئے بادشاہت ہے، اور اسی كے لئے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ جو تو دینا چاہے اسے كوئی روك نہیں سكتا، اور جس سے تو روكنا چاہے اسے كوئی دے نہیں سكتا، اور كسی شان والے كو اس كی شان تجھ سے فائدہ نہیں دے سكے گی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 705

عن مَيْمُونَةَ زَوْج النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْم فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْل (عَلى خُمْرَتِهِ) (قَالَتْ مَيْمُوْنَة) وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ (مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ) فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي (طَرَفُ) ثَوْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ
میمونہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہوتے (اور اپنی چادر پر ) نماز پڑھتے۔(میمونہ رضی اللہ عنہا نے كہا) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے پہلو میں آپ کی جائے نماز پر سو رہی ہوتی۔ جب آپ سجدہ كرتے تو آپ كے كپڑے كا(كنارہ) مجھے لگتا اور میں حالت حیض میں ہوتی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 706

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَنَامُ وَهُوَ سَاجِدٌ، وَمَا يُعْرَفُ نَوْمُهُ إِلا بنفْخِهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَمْضِي فِي صَلاتِهِ
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے كی حالت میں سوجاتے ،آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی نیند آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے خراٹوں سے معلوم ہوتی۔ پھر آپ كھڑے ہوتے اور نماز مكمل كرتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 707

عن عائشة قَالَتْ : كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ، وَكَانَ يَتَكَلَّمُ بَيْنَ الرَكْعَتَيْنِ وَالرَّكْعَة.
عائشہ رضی اللہ عنہاكہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایك ركعت وتر پڑھتے ۔ اور آپ دو ركعتوں اورایك ركعت كے درمیان گفتگو كر لیتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 708

عَنِ ابْنُ عُمَرَ قَالَ: كان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ قَبْلَها وَلَا بَعْدَهَا. يَعْنِي: الْفَرِيْضَة .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں فرض سے پہلے یا بعد میں نفل نماز نہیں پڑھا كرتے تھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 709

عَنْ عَائَشَة أَنَّها كَانَت تَحُتُّ الْمَنِيّ من ثَوْبه ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهو يُصَلِّي .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے كپڑے سے منی كھرچ لیتی تھی پھر آپ اس کپڑے میں نماز پڑھتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 710

عن رَاشِد أبي مُحَمَد الْحِمَّانِيّ قال : رَأَيْتُ أَنسَ بنَ مَالَك عَلَيْهِ فَرْوٌ أَحْمَر، فَقَال: كَانَت لُحُفنَا عَلَى عَهِد رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَلْبَسُهَا ونصلي فِيهَا.
راشد ابو محمد حمانی سے مروی ہے كہ میں نے انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ كو دیكھا انہوں نے سرخ رنگ کی پوستین پہنی ہوئی تھی انہوں نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے زمانے میں ہمارے یہ چادریں تھے ہم انہیں پہنتے اور ان میں نماز پڑھتے تھے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 711

عَنِ الْبَرَاء بن عَازِب أَنَّهُم كَانُوا يُصَلُّون مَع رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَإِذَا رَكَع رَكَعُوا، وَإِذَا قال: سَمِع الله لَمَن حَمِدَه لَم يَزَالُوا قِيَاما حَتَّى يَرَوْه قَد وَضَع وَجهَه (وَفِي لَفْظٍ: جَبْهَتَهُ) في الْأَرَض ، ثم يَتْبَعُونَه
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ نماز پڑھا كرتے تھے ۔جب آپ ركوع كرتے تو وہ بھی ركوع كرتے اور جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ كہتے تو وہ اس وقت تك كھڑے رہتے جب تك آپ اپنی پیشانی زمین پر نہ ركھ دیتے پھر صحابہ بھی آپ كی پیروی كرتے ۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 712

عَنْ صُهَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : كَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ . يَعْنِي: الأَنْبِيَاءَ
) صہیب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ یعنی انبیاء پریشان ہوتے تو فوراً نماز پڑھتے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 713

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي السَّفَرِ فَقُلْنَا: زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ؟ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ جب ہم كسی سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ہوتے تو ہم كہتے سورج زائل ہوگیا، یا زائل نہیں ہوا۔ آپ ظہر كی نماز پڑھتے پھر كوچ كرتے۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے فوراً بعد نماز پڑھ لیتے)
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 714

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نَصُفَّ بَيْنَ السَّوَارِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا.
معاویہ بن قرہ اپنے والد‌رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں ہمیں ستونوں كے درمیان صف بنانے سے منع كیا جاتا تھا، اور ہمیں وہاں سے ہٹا دیا جاتا تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 715

عن عبد الله قال : سُئِل النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وسلم عن لَيْلَة الْقَدر، فَقَال : قَد كَنت أُعْلِمْتُهَا ثم اُفْلِتَتْ مِنِّي، فَاطْلُبُوهَا في سَبع يَّبْقَيْن ، أَو ثَلَاث يَّبْقَيْن
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر كے بارے میں سوال كیا گیا، تو آپ نے فرمایا: مجھے وہ رات بتلائی گئی ،پھر مجھے بھلادی گئی۔ اس لئے سات باقی رہ جائیں یا تین باقی رہ جائیں (یعنی تیسویں یا ستائیسویں) میں تلاش کرو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 716

عن عَائَشَة مرفوعاً: لَأَن تُصَلِّي الْمَرْأَة في بَيْتَهَا خَيْر من أَن تُصَلِّي في حُجْرَتِهَا ، وَلَأَن تُصَلِّي في حُجْرَتِهَا خَيْر من أَن تُصَلِّي في الدَّار ، وَأَن تُصَلِّي في الدَّار خَيْر من أَن تُصَلِّي في الْمَسْجِد .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ :عورت اپنے گھر (کے اندرونی کمرے) میں نماز پڑھے تو یہ اس كے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ اپنے حجرے میں نماز پڑھے، اور وہ حجرے میں نماز پڑھے تو یہ اس كے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ کھلے گھر میں نماز پڑھے، اور وہ گھر میں نماز پڑھے تو اس کیلئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ مسجد میں نماز پڑھے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 717

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنِ الْحَصَى(في الصلاة) خَيْرٌ لَهُ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَق فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(نماز میں) تم میں سے كوئی شخص اپنا ہاتھ كنكری سے روك كر ركھے تو یہ اس كے لئے سو اونٹنیوں سے بہتر ہےجوکہ سب كی سب سیاہ آنکھوں والی ہوں ، اگر تم میں سے كسی شخص پر شیطان غالب آجائے، تو وہ ایك مرتبہ چھو کر (ہموار کرلے)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 718

عن عائشة قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مُرُوطِنَا، وَ نَنْصَرِفُ وَمَا يَعْرِفُ بَعْضُنَا وُجُوهَ بَعْضٍ
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ چادروں میں لپٹی ہوئی نماز پڑھتیں اور جب واپس لوٹتیں تو ایک دوسری کے چہروں کو پہچانتی نہیں تھیں۔ پھرہم نماز پڑھ كر واپس جاتیں تو ہمارے چہرے نہ پہچانے جاتے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 719

عن ابن عمر مرفوعاً: لِيُصَلِّ الرَّجُلُ في الْمَسْجِد الذي يَلِيه وَلَا يَتْبَعُ الْمَسَاجِد .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ آدمی اس مسجد میں نماز پڑھے جو اس كے قریب ہے دوسری مسجدیں ڈھونڈتا نہ پھرے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 720

عَنِ الْحَكَمِ بْن مِينَاءَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ .
حكم بن میناء سے مروی ہے كہ عبداللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم نے اسے بیان كیا كہ ان دونوں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے منبر پر كھڑے فرما رہے تھے: لوگ یا تو جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان كے دلوں پر مہر لگادے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 721

عن جابر موقوفاً: مَا أُحِبُّ أَنْ أُسَلِّمَ عَلَى الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي وَلَوْ سَلَّمَ عَلَيَّ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے كہ مجھے یہ بات پسند نہیں كہ كوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو اور میں اسے سلام كہوں۔ اور اگر كوئی مجھے سلام كہے گا تو میں اسے جواب دوں گا
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 722

عن أنس قال : سُئِلََ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الغَدَاةِ ؟ فَصَلَّى حِيْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَسْفَرَ بَعْدُ ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح كی نماز كے وقت كے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے ایک دن طلوع فجر کے (فوراً) بعد نماز پڑھی ۔ پھر (دوسرے دن) كچھ روشنی میں نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: صبح كی نماز كے وقت كے بارے میں پوچھنے والا كہاں ہے؟ ان دونوں اوقات كے درمیان وقت ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 723

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرٍ فَقَالَ إِنَّكُمْ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا تَعْطَشُوا وَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ يُرِيدُونَ الْمَاءَ وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَمَالَتْ بِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَاحِلَتُهُ فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَعَمْتُهُ فَأَدْعَمَ ثُمَّ مَالَ فَدَعَمْتُهُ فَأَدْعَمَ ثُمَّ مَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَدَعَمْتُهُ فَانْتَبَهَ فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: أَبُو قَتَادَةَ قَالَ: مُذْ كَمْ كَانَ مَسِيرُكَ؟ قُلْتُ: مُنْذُ اللَّيْلَةِ قَالَ: حَفِظَكَ الله كَمَا حَفِظْتَ رَسُولَهُ ثُمَّ قَالَ: لَوْ عَرَّسْنَا؟ فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ فَنَزَلَ فَقَالَ: انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا؟ قُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ هَذَانِ رَاكِبَانِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً فَقُلنا: احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا فَنِمْنَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَبَهْنَا فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَارَ وَسِرْنَا هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ أَمَعَكُمْ مَاءٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ: ائْتِ بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ: مَسُّوا مِنْهَا مَسُّوا مِنْهَا فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ فَقَالَ: ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا تَقُولُونَ: إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا فَقَالَ: لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَهَا ثُمَّ قَالَ: ظُنُّوا بِالْقَوْمِ قَالُوا: إِنَّكَ قُلْتَ بِالْأَمْسِ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا تَعْطَشُوا فَالنَّاسُ بِالْمَاءِ فَقَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ فَقَالَ: بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالْمَاءِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَا: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَمْ يَكُنْ لِيَسْبِقَكُمْ إِلَى الْمَاءِ وَيُخَلِّفَكُمْ وَإِنْ يُطِعِ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا قَالَهَا ثَلَاثًا فَلَمَّا اشْتَدَّتْ الظَّهِيرَةُ رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! هَلَكْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ فَقَالَ: لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا قَتَادَةَ! ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ: احْلِلْ لِي غُمَرِي يَعْنِي قَدْحَهُ فَحَلَلْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ وَيَسْقِي النَّاسُ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَكُلُّكُمْ يُصْدِرُ عَنْ رِيٍّ فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَصَبَّ لِي فَقَالَ: اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ: اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ بَعْدِي وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ.
ابو قتادہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا: ممكن ہے كل تمہیں پانی نہ ملے اور تم پا۔س سے بے حال ہو جاؤ۔ جلد باز لوگ جلدی سے پانی کی تلاش میں نكل گئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ساتھ رہا۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سواری پر ایک طرف جھکنے لگے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو اونگھ آگئی تھی۔ میں نے آپ کو سہارا دیا تو آپ سنبھل گئے، آپ پھر جھکنے لگنے، پھر آپ کو سہارا دیا تو آپ سنبھل گئے پھر آپ جھکنے لگے حتی کہ ممکن تھا کہ آپ اپنی اونٹنی سے گرجائیں ، میں نےآپ کو سہارا دیا تو آپ جاگ گئے۔ آپ نے کہا کون ہے ؟میں نے كہا: ابو قتادہ۔آپ نے فرمایا: تمہیں كتنا وقت ہوا ہے ؟ میں نے كہا رات سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: جس طرح تم نے اللہ كے رسول كی حفاظت كی ہے اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت كرے۔ پھر فرمایا: اگر ہم پڑاؤ ڈال لیں تو بہتر ہوگا۔ آپ ایك درخت كی طرف چل پڑے، اور وہاں جا كر اتر گئے۔ آپ نے فرمایا: دیكھو كیا تمہیں كوئی نظر آرہا ہے؟ میں نے كہا: یہ ایك سوار ہے، یہ دو ہیں، حتیٰ كہ سات تك عدد پہنچ گیا۔ ہم نے كہا: نماز فجر کا خیال کرنا پھر ہم سو گئے اور سورج كی تپش نے ہی ہمیں جگایا۔ ہم اٹھ كھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو كر چل پڑے ہم بھی آپ كے ساتھ، تھوڑی دور چلے، پھر آپ سواری سے اتر گئے۔ آپ نے فرمایا: كیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے كہا: جی ہاں، میرے پاس وضو كا برتن ہے، اس میں كچھ پانی ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے لے آؤ، میں اسے لے آیا۔ آپ نے فرمایا: اس میں سے لے لو، اس میں سے لے لو، لوگوں نے وضو كیا اور ایك گھونٹ پانی باقی رہ گیا۔ آپ نے فرمایا: ابو قتادہ اسے سنبھال كر ركھ لو، عنقریب یہ ہمارے لئے بڑی خرل بنے گا۔ پھر بلال‌رضی اللہ عنہ نے اذن كہی۔ لوگوں نے فجر سے پہلے دو ركعتیں ادا كیں، پھر فجر كی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ ہم بھی سوار ہو گئے۔ لوگوں نے ایك دوسرے سے كہا: ہم نے نماز میں كوتاہی كی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم كیا كہہ رہے ہو؟ اگر تمہاری دنیا كا معاملہ ہے تو تم جانو اور اگر تمہارے دین كا معاملہ ہے تو میرے سامنے پیش كرو۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم نے نماز میں كوتاہی كی ہے۔ آپ نے فرمایا: نیند میں کوتاہی نہیں ، کوتاہی جاگتے ہوئے ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو نماز پڑھ لیا کرو، اور دوسرے دن اس كے وقت پر ادا كرو، پھر فرمایا: قوم کے بارے میں خیال کرو، لوگ كہنے لگے آپ نے كل كہا تھا كہ ممكن ہے تمہیں كل پانی نہ ملے اور تم پیاس سے بے حال ہو جاؤ تو لوگ پانی كی تلاش میں ہیں۔ راوی نے كہا جب صبح ہوئی تو لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو نہ پایا تو ایك دوسرے سے كہنے لگے۔: یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی كے پاس ہیں۔ ان لوگوں میں ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، دونوں كہنے لگے: لوگو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں كہ خود پانی پر پہنچ جائیں اور تمہیں پیچھے چھوڑ دیں۔ اگر لوگ ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہما كی پیروی كریں گے تو سیدھے راستے پر رہیں گے۔ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، جب دوپہر سخت ہو گئی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌لوگوں کے سامنے آئے۔لوگ كہنے لگے: اے اللہ كے رسول ہم پیاس كی وجہ سے ہلاك ہو گئے۔ گلے خشک ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر كوئی ہلا كت نہیں، پھر فرمایا: ابو قتادہ وضو كا برتن لاؤ، میں برتن آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس لایا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پیالہ کھولو۔ میں پیالہ کھول کر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس لے آیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس میں پانی ڈالنے لگے اور لوگ پینے لگے۔ لوگوں کی بھیڑ لگ گئی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: منظم طریقے سے پیو یا بھرو، ہر کوئی سیراب ہو کر لوٹے گا۔ لوگ اس كے گرد جمع ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو اچھی طرح پانی بھر لوتم میں سے ہر شخص سیراب ہو کر نکلے گا،سب لوگوں نے پانی پی لیا، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی بچ گئے۔ آپ نے میرے لئے پانی ڈالا اور فرمایا: ابو قتادہ پیو، میں نے كہا : اے اللہ كے رسول آپ پیئں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں كو پانی پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ میں نے پانی پیا اور میرے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا۔ وضو والے برتن میں اتنا ہی پانی موجود تھا جتنا اس میں تھا۔ اس دن لوگوں كی تعداد تین سو تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 724

عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(وهو يصلي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِي مَا شَأْنِي؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَالَكَ؟) أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ؟ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللهِ الَّذِي أَعْطَاكَ الله؟ قَالَ فَأَعْجَبْتُهُ فَدَعَا اللهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا زاد احمد: قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! الصَّلَاةَ فَقَامَ فَصَلَّى مَا أَعَادَ وُضُوءًا .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا( آپ رات كے آخر ی وقت میں نماز پڑھ رہے تھے) میں آپ كے پیچھے نماز پڑھنے لگا۔ آپ نے مجھے میرے ہاتھ سے پكڑا ،اور مجھے اپنے برابر كھڑا كر لیا۔ جب آپ نماز میں مشغول ہو گئے تو میں كھسك کر پیچھے ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے كہا: تمہیں كیا ہوگیا، میں نے تمہیں اپنے برابر كھڑا كیا لیكن تم پیچھے ہو گئے؟ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا كسی شخص كے لائق ہے كہ وہ آپ كے برابر نماز پڑھے؟ آپ اللہ كے رسول ہیں اللہ نے آپ كو نبوت عطا كی ہے؟ میری باتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے تو آپ نے اللہ سے میرے لئے دعا كی كہ: اللہ میرے علم اور فہم میں اضافہ كرے۔ امام احمد نے اپنی روایت میں اضافہ كیا: پھر میں نے رسول اللہ كو دیكھا كہ آپ سو گئے ہیں یہاں ک کہ میں نے آپ كے خراٹوں كی آواز سنی۔ پھر آپ كے پاس بلال‌رضی اللہ عنہ آئے اور كہا اے اللہ كے رسول نماز، آپ كھڑے ہوئے۔ نماز پڑھی اور دوبارہ وضو نہیں كیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 725

عَنْ عَبْدِ اللهِ بن الزُّبَيْرِ مرفوعاً: مَا مِنْ صَلاةٍ مَفْرُوضَةٍ، إِلا وَبَيْنَ يَدَيْهَا رَكْعَتَانِ .
عبداللہ بن زبیر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جو بھی فرض نماز ہے اس سے پہلے دو ركعت (نفعل) ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 726

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوجَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِئةُ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ -أُرَاهُ- فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: جواللہ اور اس كے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم كی، رمضان كےروزے ركھے، اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے، اس نے اللہ كے راستے میں جہاد كیا، یا اپنے اسی علاقے میں بیٹھا رہا جہاں پیداہوا۔ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا ہم لوگوں كوخوشخبری نہ دے دیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقینا جنت میں سو درجے ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مجاہدین فی سبیل اللہ كے لئے تیار كئے ہیں۔ دودرجوں كا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین كے درمیان ہے۔ جب تم اللہ سے سوال كروتوجنت الفردوس كا سوال كرو، كیونكہ یہ جنت كا درمیانی اور بلند درجہ ہے۔ میرے خیال میں اس كے اوپر رحمن كا عرش ہے، اور اسی سے جنت كی نہریں جاری ہوتی ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 727

عَنِ ابْنِ عُمَر مَرْفُوْعاً: مَنْ أَذَّنَ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِى كُلِّ مَرَّةٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَبِإِقَامَتِهِ ثَلاَثُونَ حَسَنَةً .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس نے بارہ سال اذان كہی اس كے لئے جنت واجب ہوگئی، اور ہر مرتبہ اس كی اذان كی وجہ سے ساٹھ نیكیاں لكھی جاتی ہیں۔ اور اس كی اقامت كی وجہ سے تیس نیكیاں لكھی جاتی ہیں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 728

عن عبد الله بن أبي قَتَادَة قال: دَخَلَ َعَليَّ أَبِي وَأَنَا أَغْتَسِلُ يَوِمَ الْجُمُعَة، فَقَال: غُسْلُكَ هَذَا مِنْ جَنَابَةٍ أَولِلْجُمُعَة ؟ قُلْتُ: مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ: أَعِدْ غُسْلًا آخَرَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ: مَنِ اغْتَسَلَ يَومَ الْجُمُعَة كَانَ فِي طَهَارَةٍ إلى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى.
عبداللہ بن ابی قتادہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ جمعہ كے دن میں غسل كر رہا تھا كہ میرے والد آگئے اور كہنے لگے تمہارا یہ غسل جنابت كی وجہ سے ہے یا جمعہ كے لئے ہے؟ میں نے كہا: جنابت كی وجہ سے۔ انہوں نے كہا: دوسرا غسل كروكیونكہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جس شخص نے جمعہ كے دن غسل كیا وہ دوسرے جمعہ تك طہارت میں ہوگا