256 Results For Hadith (Al Silsila Sahiha) Book ()
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 919

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُول اللهِ! إِنَّا هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَة وَقَد حَالَت بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَار مُضَر فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلَ بِه وَنَدْعُوإِلَيْهِ مَنْ وَرَائنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فقال: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَ رَسُولُ اللهِ وَعَقَدَ وَاحِدةً وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكم عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم بنو ربیعہ سے تعلق ركھتے ہیں۔ ہمارے اور آپ كے درمیان كفارِ مضر ہیں ہم آپ كے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آسكتے ہیں۔ ہمیں كسی ایسے كام كا حكم دیجئے جس پر ہم عمل كر سكیں اور جوہمارے پیچھے ہیں انہیں اس كی دعوت دیں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں كا حكم دیتا ہوں اورچار باتوں سے منع كرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان، پھر ان كے لئے وضاحت كی كہ اس بات كی گواہی دینا كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور میں محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اللہ کا رسول ہوں، آپ نے ان کے لیے اس کی تفسیر بیان کی۔ نماز قائم كرنا، زكوٰۃ ادا كرنا، اور تمہیں جوغنیمت حاصل ہواس كا پانچواں حصہ دینا اور میں تمہیں کدوکے برتن ،شراب والے برتن(جوسبزی مائل ہوتاہے)،تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن سے منع کرتا ہوں۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 920

) عن أبي شُرَيْح الْخُزَاعِيّ قال: خَرَج عَلَيْنَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: أَبْشِرُوا أَبْشِرُوا أَلَيْس تَشْهَدُون أَن لَا إِلَه إِلَا الله وأَنِّي رَسُول الله ؟ قَالُوا: نعم، قال: فَإِن هذا الْقُرْآنُ سَبَبٌ طَرَفُه بَيْد الله وطَرَفُه بِأَيْدِيكُم، فَتَمَسَّكُوا بِه، فَإِنَّكُم لَن تَضِلُّوا ولَن تَهْلِكُوا بَعْدَه أَبَدًا.
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے اور فرمایا: خوش ہوجاؤ، خوش ہوجاؤ، كیا تم گواہی نہیں دیتے كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبود ِ برحق نہیں اور میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ كا رسول ہوں؟ انہوں نے كہا: ہاں، آپ نے فرمایا: یقینا یہ قرآن ایك ذریعہ (رسی،سیڑھی )ہے جس كا ایك سرا اللہ كے ہاتھ میں اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اسے مضبوطی سے پكڑ لوكیونكہ اس كے بعد تم كبھی بھی گمراہ اور ہلاك نہیں ہوگے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 921

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي فَقَالَ أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ صَادِقًا دَخَلَ الْجَنَّةَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نُبَشِّرُ النَّاسَ فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَسُولَ اللهِ مَن رَدَّكُم؟ قَالُوا: عُمرُ قَال: لِمَ رَدَدْتَهُم يَا عُمرُ! فقال عمر: إِذَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
ابوبكر بن ابوموسیٰ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں وہ کہتے ہیں كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا، میرے ساتھ میری قوم كے لوگ بھی تھے۔ آپ نے فرمایا: خوش ہوجاؤ، اور پیچھے رہنے والوں كوبھی جا كر خوش خبری دے دو، کہ جس شخص نے سچے دل سے گواہی دی كہ اللہ كے علاوہ كوئی سچا معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ہم نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے نكلے تولوگوں كوخوشخبری دینا شروع كردی۔ عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ ہمیں ملے توہمیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس لے آئے( رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہیں كون لے آیا ہے؟ وہ كہنے لگے: عمر‌رضی اللہ عنہ ،آپ نے فرمایا: اے عمر ! تم انہیں واپس كیوں لائے؟) عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: تب تولوگ بھروسہ كر كے بیٹھ جائیں گے، تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌خاموش ہوگئے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 922

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللهِ ثَلَاثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِء بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كوتین بندے سب سے زیادہ نا پسند ہیں، حرم میں الحادكرنے والا، اسلام میں جاہلیت كا طریقہ تلاش كرنے والا، اورنا حق كسی آدمی كے خون کامتلاشی تاكہ اس كا خون بہائے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 923

عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَنِيَّةِ قَالَتْ: أَتَى حَبْرٌ مِنْ الْأَحْبَارِ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ قَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَمَا ذَاكَ قَالَ تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ وَالْكَعْبَةِ قَالَتْ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلهِ نِدًّا قَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ قَالَت: فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ قَالَ مَا شَاءَ اللهُ فَلْيَقُلْ مَعَهَا: ثُمَّ شِئْتَ.
) قتیلہ بنت صیفی جہنیہ سے مروی ہے كہ ایك یہودی عالم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا، اور كہنے لگا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اچھے لوگ ہیں اگر آپ شرك نہ كریں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ یہ كس طرح ہے؟ اس نے كہا: جب آپ قسم كھاتے ہیں توكہتے ہیں، كعبہ كی قسم ۔ قتیلہ نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا: جوشخص قسم كھانا چاہے تووہ كہے رب كعبہ كی قسم۔اس نے كہا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اچھے لوگ ہیں اگر آپ اللہ كے ساتھ كسی اور كوشریك نہ بنائیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ یہ كس طرح ہے؟ اس نے كہا: آپ كہتے ہیں جواللہ چاہے اور جوتم چاہو۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: جس نے كہہ دیا سوكہہ دیا۔ جوشخص یہ كہے: جواللہ چاہے تواس كے ساتھ كہے پھر جوآپ چاہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 924

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اجْتَنِبُوا الْكَبَائرَ وَسَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا
) جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كبیرہ گناہوں سے بچو،قریب کرو اور خوش خبریاں دو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 925

) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَآءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَرَاجَعَهُ فِي بَعْضِ الكْلَاَمِ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَجَعَلْتَنِي مَع اللهَ عَدْلًا؟ -وفي لفظ: ندا- لا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سےمروی ہےكہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كےپاس آیا اورآپ كے ساتھ گفتگوكرنے لگا پھر كہا: جواللہ چاہے اورجوآپ چاہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم نے مجھے اللہ كے برابر كر دیا ہے ؟ اس طرح نہیں بلكہ كہو صرف اللہ چاہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 926

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قال رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْصُوا لِي كُلُّ مَن تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامَ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ! أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائةٍ إِلَى السَّبْعِ مِائةٍ؟ فَقَالَ رسول الله: إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا قَالَ فَابْتُلِيَنَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا ما يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر وہ شخص جس نے اسلام كا اظہار زبان سے كیا ہے ان كا شمار كرو، ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول! كیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، ہم چھ سوسے سات سوكے درمیان ہیں؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم نہیں جانتے شاید تمہیں آزمایا جائے گا، حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ہم آزمائش میں مبتلا ہوئے حتی كہ ہم نے چھپ كر نماز پڑھنا شروع كر دی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 927

عن ابن عمر مرفوعا: احلفوا بِالله وبَرُّوا واصْدُقُوا، فَإِن الله يَكْرَه أَن يَحْلِف إِلَا بِه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ كی قسم كھاؤ، اسے پورا كرو،نیكی كرواور سچ بولوكیونكہ اللہ تعالیٰ اس بات كوناپسندكرتا ہے كہ اس كے علاوہ كسی اور كی قسم كھائی جائے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 928

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُئلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال كیا گیا كہ اللہ كے نزدیك سب سے پیارا دین كونسا ہے؟ آپ نے فرمایا: آسان اور یکسو
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 929

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: أَخَّر الْكَلَام في الْقَدَر لِشَرَارِ أَمَتِي في آخَر الزَّمَان. ( )
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعا مروی ہےكہ تقدیركےبارےمیں گفتگوكومؤخركردیاگیاآخری زمانے میں میری امت کے بدترین لوگوں كی وجہ سے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 930

عن سَلِيم بن عَامِر قال: سَمِعَت أبا بكر رضی اللہ عنہ يَقول: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اخْرُج فَنَاد في النَّاس: من شَهِد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَجَبَتْ لَه الْجَنَّة. قال: فَخَرَجَت فَلَقِيَنِي عمر بن الْخِطَاب فَقَال: مَالَك أبا بكر فَقُلْتُ: قال لِي رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَخْرُجْ فَنَاد في النَّاس: من شَهِد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَجَبَتْ لَه الْجَنَّة. قال عمر: ارْجِع إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَإِنِّي أَخَافُ أَن يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا، فَرَجَعْتُ إلى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: ما رَدَّك؟ فَأَخْبَرْتُه بِقَول عُمر، فَقَال: صَدَقَ.
سلمك بن عامر سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے ابوبكر‌رضی اللہ عنہ سے سنا وہ كہہ رہے تھے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: باہرنكلواور لوگوں میں اعلان كرو، جس شخص نے لاالہ الا اللہ كی گواہی دی، اس كے لئے جنت واجب ہوگئی۔ میں باہر نكلا توعمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے، كہنے لگے: ابوبكر تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حكم دیا ہے كہ باہر نكلواور لوگوں میں اعلان كرو کہ جس شخص نے لاا لٰہ الا اللہ كی گواہی دی اس كے لئے جنت واجب ہوگئی۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس واپس جاؤ، مجھے ڈر ہے كہ لوگ اسی پر بھروسہ كر لیں گے؟ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس واپس آیا توآپ نے پوچھا: تم كیوں واپس آگئے؟ میں نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوعمر‌رضی اللہ عنہ كی بات بتائی توآپ نے فرمایا: عمر نے سچ كہا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 931

عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْهُجَيْمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَامَ تَدْعُوقَالَ أَدْعُو إِلَى اللهِ وَحْدَهُ الَّذِي إِنْ مَسَّكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَ عَنْكَ وَالَّذِي إِنْ ضَلَلْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ دَعَوْتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ وَالَّذِي إِنْ أَصَابَتْكَ سَنَةٌ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ عَلَيْكَ.
ابوتمیمہ ہجیمی سے مروی ہے وہ ہجیم کے ایك شخص سے بیان كرتے ہیں اس نے كہا كہ:اے اللہ كے رسول آپ کس کی طرف بلاتے ہیں؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ایک اللہ کی طرف، اللہ وہ ذات ہے كہ اگر تمہیں كوئی تكلیف پہنچے اور تم اسے پكاروتووہ تكلیف دور كر دے گا، اور اگر تم كسی جنگل میں راستہ بھٹك جاؤ اور اسے پكاروتووہ تمہیں راستہ بتادے گا۔ اللہ وہ ذات ہے اگر تم قحط میں مبتلا ہوجاؤ اور اسے پكاروتووہ تمہیں خوشحالی عطا كر دے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 932

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (أبي موسى الأشعري) قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: ادْعُوَا النَّاسَ وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا بِالْيَمَنِ، الْبِتْعُ وَهُو مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ وَالْمِزْرُ وَهُو مِنْ الذُّرَةِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ فَقَالَ: أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنْ الصَّلَاةِ. وَفِي رِوَايَةِ لْمُسْلِمِ (6/99): (وَعَلِّمَا) بَدَلَ: (وَلاَ تُعَسِّراَ).
ابوبردہ اپنے والد(ابوموسیٰ اشعری‌رضی اللہ عنہ ) سے بیان كرتے ہیں كہ انہوں(ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) نے کہا مجھے اور معاذ‌رضی اللہ عنہ كورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یمن كی طرف بھیجا اور فرمایا: لوگوں كودعوت دو، خوشخبری دو، متنفر نہ كرو، آسانی كرو، تنگی نہ كرو۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول! ہمیں ان دومشروبات كے بارے میں بتایئے جوہم یمن میں بناتے تھے۔ تبع:یہ شہد سے بنائی ہوئی نبیذ ہے جوتیز ہوتی ہے۔ اور مزر: یہ مكئی سے بنائی ہوئی نبیذ ہوتی ہے یہ بھی تیز ہوتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوجامع كلمات دیئے گئے تھے، آپ نے فرمایا: میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع كرتا ہوں جونماز سے غافل كر دے۔ مسلم كی روایت میں تنگی نہ كروكی جگہ انہیں تعلیم دوکے الفاظ ہیں ۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 933

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنْ مُحَمَّد رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائةِ ضِعْفٍ وَكُلُّ سَيِّئةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میں سے كسی شخص كا اسلام اچھا ہوجائے توہر نیكی جووہ كرتا ہے دس گنا سے سات سوگناتك لكھی جاتی ہے۔ اور ہر برائی جووہ كرتا ہے، ایك برائی لكھی جاتی ہے، حتی كہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات كرلے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 934

عن أبي عِزَة الْهُذَلِيّ قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذا أَرَاد الله قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَل لَه فِيهَا حَاجَة. ( )
ابوعزہ ہذلی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ كسی بندے كی روح كسی علاقے میں قبض كرنا چاہے تواس علاقے میں اس كے لئے كوئی ضرورت پیدا كردیتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 935

) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ كَتَبَ اللهُ لَهُ كُلَّ حَسَنَةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا وَمُحِيَتْ عَنْهُ كُلُّ سَيِّئةٍ كَانَ أَزْلَفَهَا ثُمَّ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائةِ ضِعْفٍ وَالسَّيِّئةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا.
ابوسعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بندہ مسلمان ہوتا ہے اور اس كا اسلام اچھا ہوجاتا ہے تواللہ تعالیٰ اس كے لئےسابقہ تمام نیکیاں لکھ دیتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے ۔ پھر اس كے بعد بدلہ ہوتا ہے، ایك نیكی دس گنا سے لے كر سات سوگنا تك، اور برائی ایك ہی لكھی جائے گی، اور اللہ عزوجل اگر چاہے تواسے بھی معاف كردے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 936

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا تَكَلَّمَ اللهُ بِالْوَحْيِ سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا فَيُصْعَقُونَ فَلَا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ حَتَّى إِذَا جَاءَ جِبْرِيلُ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالَ فَيَقُولُونَ يَا جِبْرِيلُ مَاذَا قَالَ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ الْحَقَّ فَيَقُولُونَ الْحَقَّ الْحَقَّ.
عبداللہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ وحی كا كلام كرتا ہے توآسمان والے سنتے ہیں، آسمان میں زنجیروں كی آوازاس طرح ہوتی ہے جس طرح صفا پر زنجیریں كھینچی جائیں۔ آسمان والوں پر غشی طاری ہوجاتی ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں جب تک جبرئیل علیہ السلام كے پاس نہ آجائیں، جب جبریل علیہ السلام ان كے پاس آتے ہیں توان كی گھبراہٹ ختم ہوجاتی ہے۔ آسمان والے كہتے ہیں اے جبریل تمہارے رب نے كیا كہا؟ جبریل علیہ السلام كہتے ہیں: حق بات كہی تووہ بھی كہتے ہیں حق بات كہی۔ حق بات كہی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 937

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئتَ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ شِئتَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص قسم كھائے تووہ اس طرح نہ كہے، جواللہ چاہے اور آپ چاہیں، لیكن اس طرح كہے: جواللہ چاہے ۔ پھر آپ چاہیں ۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 938

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قال: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْه الْإِيمَان، وكان كَالظُّلَّة، فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْهَا رَجَعَ إِلَيْه الْإِيْمَان
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب بندہ زنا كرتا ہے توایمان اس سے نكل جاتاہےاورایك چھتری(سائے) كی طرح اس كے سر پر كھڑا ہوجاتا ہے۔ جب زنا سے رک/ ہٹ جاتا ہے توایمان اس كی طرف لوٹ آتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 939

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ! فَمَا الْإِثْمُ؟ قَالَ إِذَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ.
ابوامامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ایمان كیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب نیكی تمہیں اچھی لگے اور گناہ تمہیں برا لگے توتم مومن ہو۔اس نے كہا: اے اللہ كے رسول گناہ كیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تمہارے سینے میں كسی چیز كے بارے میں کوئی اندیشہ یا شک وغیرہ ہوتواسے چھوڑ دو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 940

عن عبد الله قال: قال رجلٌ: يَا رَسُولَ الله! كَيْفَ لِي أَن أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ؟ قال: إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَك يَقُولُون أَحْسَنْتَ، فَقَد أَحْسَنْتَ، وإِذَا سَمِعْتَهُم يَقُولُون: قَد أَسَأْتَ، فقَدْ أَسَأْتَ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول مجھے كس طرح معلوم ہوگا كہ میں نے نیكی کی ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں سے سنوكہ تم نے نیكی كی ہے توتم نے واقعی نیكی كی ہے، اور جب تم ان سے سنوكہ تم نے برائی كی ہے توتم نے واقعی برائی كی ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 941

عَنْ عِمْرَانَ بن حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَهُو كَقَتْلِهِ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ.
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے كہے: اے كافر، تویہ لفظ اسے قتل كرنے كے برابر ہے۔ اور مومن پر لعنت كرنا اسے قتل كرنے كے برابر ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 942

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَعَنَا أَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى أَتَيْتُ حَائطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائطٍ مِنْ بِئرٍ خَارِجَةٍ وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ فَاحْتَفَزْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَبُوهُرَيْرَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مِنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائي فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ: هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ لِاسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً وَرَكِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوعَلَى أَثَرِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قُلْتُ: لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي قَالَ: ارْجِعْ قَالَ رَسُولُ اللهِ: يَا عُمَرُ! مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ بِـأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَـعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّـةِ؟ قَالَ: نَعَـمْ قَالَ فَـلَا تَـفْعَلْ فَـإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَخَلِّهِمْ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے گرد بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ ابوبكر اور عمر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے درمیان سے اٹھ كر چلے گئے اور واپس آنے میں تاخیر كی۔ہمیں خدشہ ہوا كہ كہیں آپ كوراستے میں نہ روك لیا گیا ہو، ہم گھبرا كر كھڑے ہوگئے۔ سب سے پہلے میں گھبرا كر اٹھا، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوتلاش كرنے نكلا، حتی كہ میں بنی نجار كے باغ تك پہنچ گیا، میں اس كےچاروں طرف گھوماشاید كہ كوئی دروازہ مل جائے ۔لیكن مجھے دروازہ نہ ملا۔ربیع: پانی کے چھوٹے نالے کو کہتے ہیں اور خارجہ کوئی نام نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ باہر شے پانی کا ایک نالہ باغ میں سكڑ كر باغ كے اندر داخل ہوگیا، اور رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس پہنچ گیا۔ آپ نے فرمایا: ابوہریرہ ہو؟ میں نے كہا: جی ہاں اے اللہ كے رسول، آپ نے فرمایا: تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: آپ ہمارے درمیان تھے، آپ اٹھ كر چلے آئے اور دیر كر دی۔ہمیں ڈر ہوا كہ كہیں آپ كونقصان نہ پہنچ جائے۔ ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے مجھے پریشانی ہوئی میں اس باغ كے پاس آیا اور اس طرح سكڑ گیا جس طرح لومڑی سكڑتی ہےاور وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے دونوں جوتے دےكرفرمایا: میرے یہ دونوں جوتے لے جاؤ، اس باغ كے باہر تمہیں جوبھی ملے، جوسچے دل سے لاا لہ ا لا اللہ كی گواہی دیتا ہواسے جنت كی خوشخبری دے دو۔ سب سے پہلے مجھے عمر‌رضی اللہ عنہ ملے اوركہنے لگے: یہ دونوں جوتے تمہارے پاس كس طرح ؟ میں نے كہا: یہ دونوں جوتے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ہیں آپ نے مجھے یہ دونوں جوتے دے كر بھیجا ہے كہ میں جس شخص سے ملوں جولاالہ الا اللہ كی گواہی سچے دل سے دے،میں اسے جنت كی خوشخبری دوں۔ عمر نے میرے سینے پر ہاتھ مارا میں سرین كے بل گر گیا،كہنے لگے: ابوہریرہ واپس جاؤ، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور رونے کے قریب ہوگیا، عمر مجھ پر چڑھے ہوئے آئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كہا: ابوہریرہ تمہیں كیا ہوا؟ میں نے كہا: میں عمر سے ملا، اور جوپیغام آپ نے دے كر بھیجا تھا انہیں بتایا توانہوں نے میرے سینے پر تھپڑ مارا،میں سیرین كے بل گر پڑا۔ عمر نے كہاواپس جاؤ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے عمر تم نے جوكام كیا ہے اس پر تمہیں كس بات نے مجبور كیا ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں كیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ كواپنے جوتے دے كر بھیجا تھا كہ جوشخص ملے جولاالہ الا اللہ كی گواہی سچے دل سے دیتا ہواسے جنت كی خوشخبری دےدو؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: ایسا نہ كیجئے، كیونكہ مجھے ڈر ہے كہ لوگ اسی پر بھروسہ كر لیں گے، انہیں چھوڑ دیجئے وہ عمل كرتے رہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 943

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي الْأَحْسَابِ وَالْعَدْوَى أَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائةَ بَعِيرٍ مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ؟ وَالْأَنْوَاءُ مُطِرْنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَكَذَا.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میری امت میں چار كام جاہلیت سےتعلق رکھتے ہیں، لوگ انہیں كبھی بھی نہیں چھوڑیں گے۔ نوحہ كرنا، حسب نسب میں طعن كرنا، چھوت سمجھنا كہ ایك اونٹ كوخارش ہوئی تواس نے سواونٹوں كوخارش زدہ كردیا۔ بھلا پہلے اونٹ كوكس نے خارش میں مبتلا كیا؟ اور ستارہ پرستی كہ ہم پر فلاں فلاں ستارے كی(گردش كی) وجہ سے بارش ہوئی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 944

عَن أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ مَرْفُوْعاً: أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ الْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ.
ابومالك اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ میری امت كے چار كام جاہلیت سے ہیں، انہیں یہ كبھی نہیں چھوڑیں گے۔ حسب میں فخر كرنا، نسب میں طعن كرنا، ستاروں سے بارش طلب كرنا اور نوحہ كرنا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 945

عَنِ الأَسْوَدِ بن سَرِيعٍ، مَرْفُوْعاً: أَرْبَعَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدْلُونَ بِحُجَّةٍ: رَجْلٌ أَصَمُّ لا يَسْمَعُ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرَمٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَأَمَّا الأَصَمُّ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، جَاءَ الإِسْلامُ وَمَا اسمَع شيْئاً وَأَمَّا الأَحْمَق فَيَقُول: جَاء الإِسْلامُ وَالصِّبْيَانُ يَقْذِفُونَنِي بِالْبَعْرِ، وَأَمَّا الْهَرَمُ، فَيَقُولُ: لَقَدْ جَاءَ الإِسْلامُ وَمَا أَعْقِلُ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! مَا أَتَانِي رَسُولُكَ، فَيَأْخُذَ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعَنَّهُ، فَيُرْسِلَ إِلَيْهِمْ رَسُولا أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَودَخَلُوهَا لَكَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلامًا.
) اسود بن سریع سے مرفوعا مروی ہے كہ چارآدمی قیامت كے دن ثبوت كے ساتھ دلیل پیش كریں گے۔ بہرا آدمی جوسنتا نہیں، احمق آدمی، پاگل ناسمجھ آدمی اور وہ شخص جورسولوں كے درمیانی وقفے میں مرا۔ بہراآدمی كہے گا: اے میرے رب اسلام توآگیا لیكن مجھے كچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ احمق كہے گا: اسلام آگیا اور بچے مجھے مینگنی مارا كرتے تھے۔ پاگل كہے گا: اسلام توآگیا لیكن میں كوئی بات سمجھتا نہیں تھا۔ اور وہ شخص جورسولوں كی آمد كے درمیانی وقفے میں مرا وہ كہے گا: اے میرے رب میرے پاس توتیرا رسول ہی نہیں آیا كہ وہ لوگوں سے پختہ وعدہ لیتا اور لوگ اس کی پیروی کرتے ۔اللہ تعالیٰ ان كی طرف ایك فرشتہ بھیجے گا كہ انہیں آگ میں داخل كردو۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ آگ میں بھی داخل ہوں گے تووہ آگ ان كے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 946

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لِرَجُلٍ: أَسْلِمْ قَالَ: أَجِدُنِي كَارِهًا قَالَ: أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا.
) انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایك آدمی سے كہا: اسلام لے آؤ، اس نے كہا: میں یہ بات نا پسند كرتا ہوں ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسلام لے آؤ اگرچہ تم نا پسندہی كیوں نہ كرو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 947

عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ مَرْفُوْعاً: أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ.
) حكیم بن حزام سے مرفوعا مروی ہے كہ:جب تک نیکی کرتے رہوگے سلامت رہوگے ۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 948

عن عمر، قال: كُنَّا مَع النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌في غَزَاة، فَقُلْنَا: يَا رَسُول الله، إِن الْعَدُوَّ قَد حَضَر وَهُم شِباعٌ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَقَالَت الْأَنَصَار: أَلَا نَنْحَر نَوَاضِحَنَا فَنُطْعِمَهَا النَّاسَ؟ فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : من كَان مَعَه فَضْلُ طعامٍ فَلْيَجِئ بَه. فَجَعَل يَجِيء بِالْمُدّ وَالصَّاع وَأَكْثَر وَأَقَلّ، فَكَان جَمِيعَ مَا في الْجَيْشِ بِضْعًا وَعِشْرِين صَاعًا. فَجَلَس النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إلى جَنْبِه وَدَعَا بِالْبَرَكَة، فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : خُذُوا وَلَا تَنتَهِبُوا. فَجَعَل الرَّجُلُ يَأْخُذُ في جِرَابِه وَفِي غِرَارَتِه، وَأَخَذُوا في أَوْعِيَتِهِم، حَتَّى إِن الرَّجُلَ لَيَرْبِطُ كُمَّ قَمِيصِه فَيَمْلَأَه، فَفَرَغُوا وَالطَّعَامُ كَمَا هَو. ثم قال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : أَشْهَد أَن لَا إِلَه إِلَا الله وَأَنِّي رَسُول الله، لَا يَأْتِي بِهمَا عبدٌ مُحِقٌ إِلَا وَقَاهُ الله حَرَّ النَّارِ.
عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے کہا: ہم ایك غزوے میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ تھے۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول دشمن سامنے ہے اور ان کا پیٹ بھرا ہوا ہے، جبكہ ہم لوگ بھوكے ہیں؟ انصار نے كہا:كیا ہم اپنی اونٹنیاں ذبح نہ كریں اور انہیں لوگوں كوكھلادیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص كے پاس زائد كھانا ہووہ لے آئے۔ ہر شخص كوئی ایك مد لا رہاہے كوئی صاع لا رہا ہے كوئی زیادہ كوئی كم، سارے لشكر میں بیس سے اوپر كچھ صاع بنے ۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس كے پہلومیں بیٹھ گئے۔ اور بركت كی دعا كی۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے لے لواورچھینا جھپٹی نہ کرو۔ سارے آدمی كوئی اپنے چمڑے کے برتن میں كوئی اپنےکسی اور برتن میں میں بھرنے لگے۔ نوبت یہاں تك پہنچی كہ آدمی اپنی قمیض كی گرہ لگاتا كہ اس میں كتنا آئے گا اور اسے بھر لیتا۔ لوگ فارغ ہوگئے۔ كھانا اسی طرح تھا۔ پھر نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایاكہ: میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ كا رسول ہوں، جوبندہ اسے سچائی كے ساتھ ادا كرے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ كی گرمی سے بچا لے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 949

عن أبي الدَّرْدَاء حِين حَضَرَتْه الْوَفَاة قال: أَحَدِّثُكُم حَدِيثًا سَمِعْتُه مِنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ: اعْبُدْ الله كَأَنَّكَ تَرَاه، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاه فَإِنَّه يَرَاكَ، واعْدُدْ نَفْسَكَ في الْمَوْتَى وإِيَّاكَ ودَعَوْةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تُسْتَجَابُ، ومَنْ اسْتَطَاعَ مِنكُم أَن يَشْهَد الصَّلَاتَيْن الْعِشَاءَ والصُّبْحَ ولَو حَبْوًا فَلْيَفْعَلْ.
ابودرداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب ان كی وفات كا وقت آیا توانہوں نے كہا: میں تمہیں ایك حدیث سناتا ہوں،جومیں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے۔ آپ فرما رہے تھے: اللہ كی عبادت اس طرح كروجیسے تم اسے دیكھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیكھ رہے تووہ تمہیں دیكھ رہا ہے۔ اپنے آپ كومُردوں میں شمار كرو، مظلوم كی بددعا سے بچوكیونكہ مظلوم كی دعا قبول كی جاتی ہے۔ اور تم میں سے جواس بات كی طاقت ركھے كہ وہ عشاء اور فجر كی دونوں نمازوں میں حاضر ہو اگرچہ گھٹنوں كے بل ہی كیوں نہ ہوتووہ ایسا كرے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 950

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: اعْبُدْ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ وَكُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوعَابِرُ سَبِيلٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے پكڑ كر كہا: اللہ كی عبادت اس طرح كروگویا كہ تم اس كودیكھ رہے ہواور دنیا میں اس طرح رہوجسےر كوئی اجنبی یامسافر رہتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 951

عَنْ مُعَاذ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْصِنِي، فَقَالَ: اعْبُد اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، وَاعْدُدْ نَفْسَكَ مِنَ الْمَوْتَى، وَاذْكُرِ اللهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَعِنْدَ كُلِّ شَجَرٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئةً، فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةً، السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلانِيَةُ بِالْعَلانِيَةِ.
معاذ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول مجھے نصیحت كیجئے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كی عبادت اس طرح كروگویا كہ تم اسے دیكھ رہے ہو،اپنے آپ كومُردوں میں شمار كرو، ہر پتھراور درخت كے پاس اللہ كویاد كرو، اگر كوئی گناہ كر لوتواس كے بعد نیكی(كرو)،پوشیدہ (گناہ) كے بدلے پوشیدہ(نیكی)اور ظاہری( گناہ) كے بدلے ظاہری( نیكی)۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 952

) عَنْ مُحَمَّدِ بن جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَمِيلٍ لَهُ عَنْ أبِيهِ وَكَانَ أبوه يُكْنَى أَبَا الْمُنْتَفِقِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِعَرَفَةَ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ عُنُقُ رَاحِلَتِي عُنُقَ رَاحِلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، انبِئنِي بِعملٍ يُنَجِّينِي مِنْ عَذَابِ اللهِ وَيُدْخِلُنِي جَنَّتَهُ، قَالَ: اعْبُدِ اللهَ وَلا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئا، وَأَقِمِ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَـةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَـفْرُوضَـةَ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ، قال: أشهد وَأَظُنُّهُ قَالَ: وَصُمْ رَمَضَانَ، وَانْظُرْ مَا تُحِبُّ لِلنَّاسِ أَنْ يَأْتُوهُ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ من الناس أَنْ يَأْتُوهُ إِلَيْكَ فَذَرْهُمْ مِنْهُ.
ابومنتفق سے مروی ہے كہ میں عرفہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا،آپ كے اتناقریب ہواكہ آپ كی سواری اور میری سواری كی گردن ملنےلگی ۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول مجھے كسی ایسے عمل كے بارے میں بتایئے جومجھے اللہ كے عذاب سے نجات دےدےاور جنت میں داخل كر دے؟آپ نے فرمایا:اللہ كی عبادت كرو، اس كے ساتھ كسی كوشریك نہ كرو، فرض نماز ادا كرو، فرض زكاۃ ادا كرو، حج كرواور عمرہ كرو اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا: یا غالباً یہ بھی فرمایا: رمضان كے روزے ركھواور دیكھوكہ تم لوگوں سے اپنے معاملے میں کس طرزعمل كوپسند كرتےہوان كے ساتھ بھی ایسا ہی طرز عمل كرو، اور لوگوں كے جس طرزعمل كو اپنے لیے نا پسند كرتے ہواس طرح كا طرز عمل ان سے بھی نہ كرو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 953

عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سوَيْد الثَّقَفِي، قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ إِليَّ أَنْ أَعْتِق عَنْهَا رَقَبَةٌ وَإن عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ فَقَال صلی اللہ علیہ وسلم :َ ادْعُ بِهَا فَقَالَ: مَنْ رَبُّكِ؟ قَالَتْ: اللهُ قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ رَسُولُ اللهِ قَالَ: أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.
شرید بن سوید ثقفی سے مروی ہے كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول میری ماں نے مجھے وصیت كی تھی كہ ان كی طرف سے ایك گردن آزاد كروں، میرے پاس ایك حبشی سیاہ لونڈی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اسے بلاؤ،وہ اسےلےآئے آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا رب كون ہے؟ اس نے كہا: اللہ۔ آپ نے فرمایا: میں كون ہوں؟ اس نے كہا:آپ اللہ كے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے آزاد كردویہ مومنہ ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 954

) عن مَعْقَل بن يسار مَرْفُوْعاً: أُفْضَلُ الْإِيمَان الصَّبْرُ والسَّمَاحَة.
معقل بن یسار سے مرفوعا مروی ہے كہ افضل ایمان صبر اور درگزر كرنا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 955

عن أبي ذَر، مرفوعا: أُفْضَلُ الْعَمَل إِيمَانٌ بِالله، وَجِهَادٌ في سَبِيلِه.
ابوذر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ افضل عمل اللہ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 956

عن الْعَلَاء ابن زَيَاد قال: سَأَل رَجَلٌ عبد الله بن عَمَرٍو بن الْعاص فَقَال: أَي الْمُؤْمِنِين أُفْضَلُ إِسْلَامًا؟ قال أُفْضَلُ الْمُؤْمِنِين إِسْلَامًا من سَلِمَ الْمُسْلِمُون من لِسَانَه ويَدِه وأُفْضَلُ الْجِهَاد من جَاهَد نَفَسَه في ذَات الله وأُفْضَلُ الْمُهَاجِرِين من جَاهَد نَفَسَه وهَوَاه في ذَات الله. قال: أَنْتَ قُلْتَه يَا عبد الله بن عَمَرٍو أَو رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال: بَل رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَه.
علاء بن زیاد سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے سوال كیا كہ اسلام كے لحاظ سے افضل مومن كون ہے؟ انہوں نے كہا:اسلام كے لحاظ سے افضل مومن وہ ہے جس كے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور افضل جہاد اللہ كے لئے اپنے نفس سےجہادكرنا ہےاورافضل مہاجروہ ہےجس نےاللہ كےلئےاپنےنفس اورخواہش سےجہادكیا۔ اس آدمی نے كہا:اے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما یہ بات آپ نے كہی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہی ہے ؟ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا بلكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ بات كہی ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 957

عَنْ عَمْرُو بِنْ عَبْسَةَ مَرْفُوْعاً: أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عزوجل.
عمروبن عبسہ سے مرفوعا مروی ہے كہ افضل ہجرت یہ ہے كہ تم اس چیز كوچھوڑ دوجسے اللہ عزوجل نا پسند كرتے ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 958

عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ:أَفْلَحَ مَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ به.
فضالہ بن عبید سے مرفوعا مروی ہے كہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص كواسلام كی ہدایت دے دی گئی وہ كامیاب ہوگیا۔اس کے وسائل گذارے جتنے تھے اور اس پر اس نے قناعت كی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 959

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئتُ بِهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں لوگوں سےاس وقت تك قتال كروں گا جب تك وہ لاالہ الا اللہ كی گواہی نہ دے دیں اور مجھ پر ایمان نہ لے آئیں ، اور جودین میں لایا ہوں اس پر ایمان نہ لے آئیں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے تومجھ سے اپنی جان ومال محفوظ كر لیں گے۔ سوائے اس كے حق كے اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 960

عَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ جَلَبْتُ جَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ لَأَلْقَيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ قَالَ فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَقْفَائهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ عَلَى ابْنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابِكَ ذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا أَيْ لَا فَقَالَ ابْنُهُ أي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَأَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ فَقَالَ: أَقِيمُوا الْيَهُودِيَّ عَنْ أَخِيكُمْ. يَعْنِي: ابْنَ اليَهُوْدِيَّ الذَّي أَسْلَمَ. ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ. ( )
ابوصخر عقیلی سے مروی ہے كہ مجھے ایك بدونے حدیث بیان كی كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی زندگی میں ایك دودھیل اونٹنی مدینے لے گیا، میں خرید وفروخت سے فارغ ہوا تومیں نے كہا: میں اس آدمی(محمد صلی اللہ علیہ وسلم )سےضرورملوں گا اوراس كی بات سنوں گا۔آپ مجھےابوبكراورعمر رضی اللہ عنہما كے درمیان ملے، وہ جا رہے تھے ۔ میں ان كے پیچھے پیچھے چل پڑا، وہ ایك یہودی كے پاس پہنچے جوتورات كھولے پڑھ رہا تھا۔ اپنے بیٹے كی موت كے وقت اس کے ذریعے اپنے دل کو تسلی دے رہاتھا ،اس كا بیٹا بہت خوب صورت تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں اس ذات كی قسم دیتا ہوں جس نے تورات نازل كی! كیا تمہیں تورات میں میری صفت اور میرے مبعوث ہونے كا ذكر ملتا ہے؟ اس نے اپنے سر كے اشارے سے جواب دیاکہ نہیں ۔ اس كے بیٹے نے كہا: ہاں اس ذات كی قسم جس نے تورات نازل كی، ہم اپنی كتاب میں آپ كا وصف اور آپ كے مبعوث ہونے كا ذكر پاتے ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی سچا معبود نہیں اور آپ اللہ كے رسول ہیں۔توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنے بھائی كے پاس سے اس یہودی كواٹھادو۔ یعنی اس یہودی كے بیٹے كے پاس سے جومسلمان ہوگیا تھا( اس كے باپ كواٹھادو) پھر آپ نے اس كے كفن كا انتظام كیا،اسے خوشبولگائی اور اس كی نماز جنازہ پڑھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 961

عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: أَكْثِرُوا من شَهَادَة أَن لَا إِلَه إِلَا الله، قَبل أَن يُحَال بَيْنَكُم وبَيْنَهَا ولَقِّنُوهّا مَوْتَاكُم.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ لاالہ الا اللہ كی گواہی كثرت سے دیا كرواس سے پہلے كہ تمہارے اور اس گواہی كے دمیان كوئی ركاوٹ حائل ہوجائے اور اپنے مُردوں كواس كی تلقین كیا كرو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 962

) عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا قَالَ فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَيْهِنَّ مِنِّي إِذْ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
سلمہ بن قیس اشجعی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حجۃ الوداع كے موقع پر فرمایا: خبردار یہ چار چیزیں ہیں: اللہ كے ساتھ كسی كوشریك نہ كرو، اس جان كوقتل نہ كروجسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے سوائے حق كے۔ زنا نہ كرو اور چوری نہ كرو، سَلَمَةَ‌رضی اللہ عنہ نےکہا: جب سے میں نے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہیں میں نے كبھی ان چیزوں پر حرص نہیں كی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 963

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا فَيُقَالُ لَهُ: أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ! فَيَقُولُ نَعَمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ.
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی مسجد میں عشاء كی نماز پڑھا كرتے تھے ۔ پھر ایك وتر پڑھتے، اس سے زیادہ نہ پڑھتے۔ ان سے كہا جاتا: ابواسحاق آپ ایك وتر پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ نہیں پڑھتے؟ وہ كہتے ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے جوشخص وتر پڑھ كر سوتا ہے وہ دانش مند ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 964

عَنْ عَبْداللهِ بْنِ عَمْرٍو قاَلَ: أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائةَ بَدَنَةٍ وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَمَّا أَبُوكَ فَلَوكَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ عاص بن وائل نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی كہ وہ سواونٹنیاں نحر كرے گا۔ ہشام بن عاص نے اپنا حصہ پچاس اونٹنیاں قربان كیں، عمرونے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بارے میں سوال كیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے والد اگر توحید كا اقرار كرلیتے اور تم روزے ركھتے اور اپنی طرف سے صدقہ كرتے تواسے نفع پہنچتا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 965

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا عَدِيُّ اطْرَحْ هَذَا الْوَثَنَ وَسَمِعْتُهُ يَقْـرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ﴿۳۱﴾ (التوبة: ٣١) (فقلت: إنا لَسْنَا نَعْبُدَهُم) قَالَ أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئاً اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئاً حَرَّمُوهُ؟ (فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ).
عدی بن حاتم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا تومیری گرد ن میں سونے كی ایك صلیب تھی۔ آپ نے فرمایا: اے عدی اس بت كوپھینك دو، اور میں نے آپ کو سورۂ برات كی آیت تلاوت كرتے ہوئے سنا:(التوبة: ٣١) انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں كورب بنا لیا۔ میں نے كہا: ہم ان كی عبادت نہیں كرتے ؟ آپ نے فرمایا: ایسا نہیں كہ وہ ان كی عبادت كرتے ہوں،بلكہ معاملہ اس طرح تھا كہ جب وہ كسی چیز كوحلال كرتے تووہ لوگ بھی اسے حلال سمجھنے لگے اور جب ان پر كسی چیز كوحرام كرتے تووہ بھی اسے حرام سمجھتے (یہ ان كی عبادت ہے)۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 966

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَيَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلَاتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ (فَقَدْ) حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ اس بات كی گواہی نہ دے دیں كہ لاالہ الا اللہ محمدا عبدہ ورسولہ، (اللہ كے علاوہ كوئی معبودِبرحق نہیں اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس كے بندے اور رسول ہیں۔) ہمارے قبلے كی طرف منہ كر كے نماز نہ پڑھ لیں، ہمارا ذبیحہ نہ كھالیں، اور ہماری نماز كی طرح نماز نہ پڑھنے لگ جائیں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے توہم پر ان كا خون اور ان كے مال حرام ہوجائیں گے سوائے اس (اسلام) كے حق كے، ان كے لئے وہی حقوق ہوں گے جومسلمانوں كے لئے ہیں اور ان كے ذمے وہی فرائض لاگوہوں گے جومسلمانوں كے ذمے ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 967

عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمِرْتُ أَن أُقَاتِل النَّاس حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَه إِلَا الله، فَمَن قال لَا إِلَه إِلَا الله فَقَد عَصَمَ مِنِّي مَالَه ونَفْسَه إِلَا بِحَقِّه، وحِسَابُه عَلَى الله.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ یہ گواہی نہ دےدیں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، توجس شخص نے لا الہ الا اللہ كہا اس نے مجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ كر لیا سوائے اس كے حق كے، اور اس كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 968

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذلك عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإسلام وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ. ( )
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے قتال كروں حتی كہ وہ گواہی دیں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ كے رسول ہیں، اور نماز قائم كریں، زكاۃ ادا كریں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے تومجھ سے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ كر لیں گے سوائے اس كے حق كے، اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 969

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ثُمَّ قَرَأَ: اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾ لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾ (الغاشية).
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ لا الہ الا اللہ نہ كہہ لیں۔ جب وہ لا الہ الا اللہ كہہ لیں گے تومجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ كر لیں گے سوائے اس كے حق كے اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(الغاشیة ۲۱،۲۲) آپ صرف یاد دہانی كروانے والے ہیں، آپ ان پر نگران نہیں۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 970

) عن جَابِرٍ، أَمَرَنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأَرْبَعٍ، وَنَهَانَا عن خَمْسٍ، إِذَا رَقَدْتَ فَأَغْلِقْ بَابَكَ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ، وَأَطْفِئ مِصْبَاحَكَ، فَإِن الشَّيْطَان لَا يَفْتَحُ بَابًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً، وَإِنَّ الْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَة تُحَرِّقُ عَلَى أَهَل الْبَيْتِ بَيْتَهُم، وَلَا تَأَكُلْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَشْرَبْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَمْشِ في نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ، وَلَا تَحْتَبْ في الإِزَارِ مُفْضِيًا.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں چار باتوں كا حكم دیا اور پانچ باتوں سے منع كیا۔ (١) جب سونے لگوتواپنادروازہ بند كر لو، (٢) مشكیزے كا منہ بند كردو، (٣) برتن پر كپڑا ڈھانك دو،(٤) اپنا چراغ بجھا دو،كیونكہ شیطان دروازہ نہیں كھولتا،نہ وہ مشكیزہ كھولتا ہے، نہ كپڑا ہٹاتا ہے، اور فاسق چوہیا گھر جلا دیتی ہے۔ (١) اپنے بائیں ہاتھ سے مت كھاؤ،(٢) بائیں ہاتھ سے مت پیو،(٣) ایك جوتے میں نہ چلو،(٤)چادر كو پورے جسم پر نہ لپیٹو،(٥) اور گوٹھ مار كر نہ بیٹھو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 971

عَنْ عِمْرَانَ بن الْحُصَيْنِ، قَالَ: جَاءَ حُصَيْنٌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلاً كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ مَاتَ قَبْلَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ. فَمَا مَضَتْ عِشرُون لَيْلَةً حَتَى مَاتَ مُشْرِكاً.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ حصین نبی كریم ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جوصلہ رحمی كرتاتھا ، مہمان نوازی كرتا تھا، آپ سے پہلے مر گیا؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے اور تمہارے والد آگ میں ہیں۔ ابھی بیس دن ہی گزرے تھے كہ وہ شرك كی حالت میں مر گیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 972

عَنْ عَائشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَكَ فَيَقُولُ اللهُ فَيَقُولُ فَمَنْ خَلَقَ اللهَ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقْرَأْ آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے كسی شخص كے پاس شیطان آتا ہے اور كہتا ہے: تمہیں كس نے پیدا كیا؟ وہ آدمی كہتا ہے اللہ نے۔ شیطان كہتا ہے: اللہ كوكس نے پیدا كیا؟ ۔ جب ایسی صورتحال ہوتووہ یہ كلمات ادا كرے : آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ، میں اللہ اور كے رسولوں پر آیمان لایا۔ اس طرح شیطان اسکے پاس سے بھاگ جائے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 973

عن حذيفة قَالَ: قَالَ رسولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن أَخْوَفَ ما أَخَافُ عَلَيْكُم رَجُلٌ قَرَأَ القُرْآنَ، حَتَّى إِذَا رُئيَتْ بَهْجَتُه عَلَيه، وَكَانَ رِدْءاً لِلإِسْلَامِ؛ انْسَلَخَ مِنْه ونَبَذَه وَرَاءَ ظَهْرِه، وَسَعَى عَلَى جَارِه بِالسَّيْفِ، وَرَمَاه بِالشِّرْكِ. قُلْتُ: يَا نبيَّ الله! أيُّهُما أَوْلَى بِالشِّرْكِ، الرَّامِي أَوالمَرْمِي؟ قال: بَل الرَّامِي.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ خوف اس شخص پر ہے جس نے قرآن پڑھا، یہاں تك كہ قرآن كا نور اس شخص كے چہرے پر نظر آنے لگا۔وہ اسلام کا مددگار تھا پھر اس سے نكل گیا اور اسے پس پشت ڈال دیا، تلوار لے كر اپنے پڑوسی كے خلاف چڑھ دوڑا، اور اس پر شرك كی تتہ لگائی گئی، میں نے كہا: اے اللہ كے نبی ان دونوں میں شرك كے زیادہ قریب كون ہے؟ تہمت لگانے والا یا جس پر تہمت لگائی؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تہمت لگانے والا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 974

عن مَحْمُود بن لَبِيد قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن أَخْوَف ما أَخَاف عَلَيْكُم الشِّرْك الْأَصْغَر، قَالُوا: وما الشِّرْك الْأَصْغَر؟ قال الرِّيَاء، يَقول الله عَزّ وَجَل لِأَصْحَاب ذَلِك يَوم الْقِيَامَة إِذَا جازى النَّاس: اذْهَبُوا إلى الَّذِين كُنْتُم تَرَاءَوْن في الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَل تَجِدُون عِنْدَهُم جَزَاءً؟
محمود بن لبید سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے تم پر سب سے زیادہ شرك اصغر كا خوف ہے۔ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول شرك اصغر كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ریا ءكاری۔ اللہ عزوجل قیامت كے دن لوگوں كوبدلہ دے گاتوریا کاروں سے فرمائے گا: دنیا میں جن لوگوں كودكھایا كرتے تھے ان كے پاس چلے جاؤ،دیكھوكیا تمہیں ان كے پاس كچھ بدلہ ملے گا؟( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 975

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ دَخلَتْ عليه أُمُّ مُبَشر بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ ابني فَاقْرَأْئه مِنِّي السَّلَامَ قَالَ: غَفَرَ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ مُبَشر نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ بَلَى قَالَتْ: فَهُو ذَاكَ.
کعب بن مالک سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جب کعب کی موت کا وقت قریب آیا تو ام مبشر بنت البراء بن معرور ان کے پاس آئیں اور کہا: اے ابوعبدالرحمن اگر تم فلاں شے ملو تو اسے سلام کہنا, کعب نے کہا: ام مبشر اللہ تمہیں معاف کرے ہم تو اس سے زیادہ مصروفیت میں ہیں۔ کہنے لگیں: ابوعبدالرحمن کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے نہیں سنا فرمارہے تھے: مومنین کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں جنت کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں کہنے لگیں: تو یہی بات تو میں کہہ رہی تھی۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 976

عن عبداللہ ابن مسعود عن النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: ان الاشلام بدا غریبا وسیعود غریبا کما بدا فطوبی للغرباء۔ قیل: من ھم یا رسول اللہ؟ قال: الذین یصلحون اذا فسد الناس۔
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعا مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہواتھا اور جس طرح اجنبی حالت میں شروع ہوا تھا اسی طرح اجنبی حالت میں واپس لوٹ جائے گا۔ اجنبیوں كے لئے خوش خبری ہو۔ پوچھا گیا: اے اللہ كے رسول یہ كون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب لوگ فساد كریں گےتویہ لوگ اصلاح كریں گے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 977

عن مُجَاهِد، قال: خَرَجْتُ إلى الْعِرَاقِ، وشَيَّعَنَا عبد الله بن عمر، فَلَمَّا فَارقَنَا، قال: إِنّي لَيْس عندي شَيْءٌ أُعْطِيَكُم، وَلَكني سَمِعتُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول: إن اللهَ إِذَا اسْتَوْدِعَ شَيْئاً حَفِظَه، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ الله دِينَكُم وأمانَتَكُم، وَخَوَاتِيمَ أعَمَالَكُم. ( )
مجاہد سے مروی ہے کہ جب میں ایک شخص کے ساتھ عراق کی طرف نکلا تو عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہا ہمارے ساتھ چلنے لگے۔ جب ہم سے جدا ہونے لگے تو کہنے لگے: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہیں دوں، لیکن میں نے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرمارہے تھے: اﷲ تعالیٰ کو جب کوئی چیز سپرد کی جاتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے، اور میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کا خاتمہ اﷲ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 978

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمِ (بن حزام) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدٍ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ.
معاویہ بن حكیم(بن حزام)اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ تبارك وتعالیٰ اس بندے كی توبہ قبول نہیں فرماتا جو اسلام لانے كے بعد كفر كرتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 979

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ اللهَ قَالَ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُه وَمَا زَالَ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ قَبْضِ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تبارك وتعالیٰ فرماتا ہے ،جس نے میرے دوست سےدشمنی كی میں نے اس سے اعلان جنگ كردیا ہے، اور میرا بندہ جتنا میرے عائد كردہ فرض كی ادائیگی كر كے میرے قریب ہوتا ہے كسی اور چیز سے نہیں ہوتا۔ اور میرا بندہ نوافل كے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے ، یہاں تك كہ میں اس سے محبت كرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت كرتا ہوں تومیں اس كا كان ہوجاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اور اس كی آنكھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیكھتا ہے، اور اس كا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس كے ذریعے وہ پكڑتا ہے، اور اس كا پاؤں بن جاتا ہے جس كے ذریعے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے سوال كرے تومیں اسے ضرور دیتا ہوں، اگر مجھ سے پناہ مانگے تومیں اسے پناہ دیتا ہوں، اورمیں جوكام كرتاہوں اس میں تردد نہیں كرتا لیكن مومن كی روح قبض كرتے ہوئے مجھے تردد ہوتا ہے۔ وہ موت كوناپسند كرتا ہے اور میں اس كی تكلیف كوناپسند كرتا ہوں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 980

عن يُونس بن مَيْسَرَة بن حَلْبَس قال: دَخَلْنَا عَلَى يَزيد بن الْأَسْوَد، فَدَخَلَ عَلَيه وَاثِلَةُ، فَلَمَا نَظَرَ إِلَيْه مَـدَّ يَدَه، فَأَخَذَ بِيَدهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَه وَصَدْرَه، لَأَنَّه بَايَع بِهَا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال لَه: يَا يَزيد كَيْف ظَنُّكَ بِرَبِّكَ؟ قال: حَسَنٌ. قال: فَأَبْشِر، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقولُ: إِن الله تَعَالَى يَقُولُ: أَنا عِنْدَ ظَنّ عَبْدِي بِي، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ.
یونس بن میسرہ بن حلبس نے كہا كہ ہم یزید بن اسود كے پاس آئے۔ اتنے میں واثلہ بھی آگئے، جب انہوں نے ان كی طرف دیكھا تواپنا ہاتھ آگے كیا۔ انہوں نے ان كا ہاتھ پكڑا اور اسے اپنے چہرے اور سینے پر لگایا ،كیونكہ انہوں نے اس ہاتھ سے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی بیعت كی تھی۔ واثلہ نے كہا: یزید تم اپنے رب كے بارے میں كس طرح كا گمان ركھتے ہو؟انہوں نے كہا: اچھا گمان ركھتا ہوں۔ واثلہ نے كہا: خوش ہوجاؤ كیونكہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے كے گمان كے مطابق ہوتا ہوں ۔اگر اچھا گمان ركھے تواچھا اور اگر برا گمان ركھے توبرا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 981

عن مِحْجَن بن الْأَدْرَع أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَلَغَه أَن رَجُلًا في الْمَسْجِد يُطِيلُ الصَّلَاةَ، فَأَتَاه فَأَخَذَ بِمَنْكَبِه ثم قال: إِن الله رَضِي لِهَذِه الْأُمَةِ الْيُسْرَ وكَرِهَ لَهم الْعُسْرَ، (قَالَهَا ثَلَاث مَرَّات) وإِنَّ هَذا أَخَذَ بالعُسْرِ وتَرَكَ الْيُسْرَ.
محجن بن ادرع سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك یہ بات پہنچی كہ مسجد میں ایك آدمی لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ آپ اس كے پاس آئے اور اس كے كاندھے سے پكڑا پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس امت كے لئے آسانی كوپسند كیا ہے اورتنگی كونا پسند كیا ہے( آپ نےیہ بات تین مرتبہ فرمائی) اور اس شخص نے تنگی كواختیار كیا ہے اور آسانی كوچھوڑ دیا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 982

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ: وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(المائدة44) فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(المائدة45) فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(المائدة47)قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنْزَلَهَا اللهُ فِي الطَّائفَتَيْنِ مِنْ الْيَهُودِ وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتْ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى ارْتَضَوْا واصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الْعَزِيزَةُ مِنْ الذَّلِيلَةِ فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الذَّلِيلَةُ مِنْ الْعَزِيزَةِ فَدِيَتُهُ مِائةُ وَسْقٍ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِينَةَ فَذَلَّتْ الطَّائفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَيَوْمَئذٍ لَمْ يَظْهَرْ وَلَمْ يُوطِئهُمَا عَلَيْهِ وَهُو فِي الصُّلْحِ فَقَتَلَتْ الذَّلِيلَةُ مِنْ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا فَأَرْسَلَتْ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ أَنْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائةِ وَسْقٍ فَقَالَتْ الذَّلِيلَةُ وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا وَفَرَقًا مِنْكُمْ فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ فَكَادَتْ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَيْنَهُمْ ثُمَّ ذَكَرَتْ الْعَزِيزَةُ فَقَالَتْ وَاللهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ وَلَقَدْ صَدَقُوا مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا وَقَهْرًا لَهُمْ فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَاسًا مِنْ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبُرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَخْبَرَ اللهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لااَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ ٰامَنَّا(المائدة: ٤١) وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ (المائدة) ثُمَّ قَالَ فِيهِمَا وَاللهِ نَزَلَتْ وَإِيَّاهُمَا عَنَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں:(المائدة44)اور (المائدة45)اور (المائدة47)اور جولوگ اللہ تعالیٰ كی نازل كردہ شریعت كے مطابق فیصلہ نہیں كرتے یہی لوگ كافر ہیں اور یہی لوگ ظالم ہیں اور یہی لوگ فاسق ہیں“۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یہودیوں كے دوگروہوں كے بارے میں نازل فرمائی،زمانۂ جاہلیت میں ان میں سے ایك گروہ نے دوسرے پر ظلم كیا، پھر اس شرط پر راضی ہوئے اور صلح كی كہ ہر مقتول كے بدلے جسے(طاقتور قبیلےنے كمزورقبیلے سے )قتل كیا ہوگا پچاس وسق ہوں گے، اور ہر وہ مقتول (جسے كمزورقبیلے نے طاقتور قبیلےسے) قتل كیا ہوگا سووسق ہوں گے۔ یہ لوگ اسی معاہدے پر قائم تھے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینے آگئے۔ دونوں گروہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے آنے كی وجہ سےکمزور (ذلیل)ہوگئے اس دن نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نہ ان كے سامنے آئے اور نہ ان كی صلح پر كوئی بات كی۔ وہ معاہدے پر تھے كہ(كمزورقبیلےنے،طاقتورقبیلے كا) ایك شخص قتل كر دیا(طاقتورقبیلے نے، كمزورقبیلےكی) طرف پیغام بھیجا كہ ہمیں سووسق بھیجو۔ (كمزور) كہنے لگے: یہ دوقبیلوں كے درمیان كبھی بھی نہیں ہوسكتا جن كا دین ایك ہو، ان كا نسب ایك ہو، ان كا شہر ایك ہو، ایك قبیلے کی دیت دوسرے قبیلے كی دیت سے آدھی ہو؟ پہلے ہم نے تمہیں وہ دیت تمہاری بخیلی كی وجہ سے اور تم سے ڈرتے ہوئے دی ۔ اب جبكہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آگئے ہیں توہم تمہیں یہ دیت نہیں دیں گے ۔ قریب تھا كہ جنگ بھڑك اٹھتی کہ وہ اس بات پر راضی ہوگئے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كوثالث بنالیں۔ پھر(طاقتور قبیلہ) كہنے لگا: اللہ كی قسم محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) توتمہیں اس سے دوگنا نہیں دیں گے، جوتم ان كودیتے ہو۔ انہوں نے بھی سچ كہا ہے كہ وہ ہمیں دوگنا ہماری بخیلی اور طاقت كی وجہ سے دیتے تھے۔ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) كی طرف كوئی آدمی بھیجوجوان كی رائے لے كر آئے۔ اگر جوتم چاہتے ہووہ تمہیں دے دے توتم اس سے فیصلہ كروالو، اور اگر تمہیں تمہارا حصہ نہ دے تواس سے فیصلہ مت كرواؤ۔ انہوں نے كچھ منافق لوگ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی طرف بھیجے،تاكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی رائے جان سكیں۔ جب وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے تواللہ تعالیٰ نے اپنے رسول كوان كے سارے معاملے اور جوچاہتے تھے سب بتا دیا۔ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل كیں:(المائدة) عبداللہ بن عباس نے كہا: واللہ ان دونوں قبیلوں كے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور ان دونوں كے بارے میں اللہ عزوجل نے سمجھایا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 983

عَنْ عَبْدِ اللهِ، مَرْفُوْعاً: إِنَّ اللهَ عزوجل لَيُؤَيِّدُ هَذا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:یقینا اللہ عزوجل اس دین كی مدد گناہگار آدمی سے بھی كروادیتاہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 984

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَضْحَكُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَيُدْخِلُهُمَا اللهُ الجنة، يَكُونُ أَحَدُهُمَا كَافِرًا فَيَقْتُلُ الْآخَرَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيَغْزُوفِي سَبِيلِ اللهِ فَيُقْتَلُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ عزوجل دوآدمیوں كودیكھ كر مسكراتا ہے ۔ ان میں سے ایك شخص دوسرے شخص كوقتل كر دیتاہے، اللہ تعالیٰ ان دونوں كوجنت میں داخل كر دیتاہے۔ ایك شخص كافر ہے وہ دوسرے كوقتل كردیتا ہے ۔ پھر مسلمان ہوجاتا ہے، اور اللہ كے راستے میں جہاد كرتا ہوا شہید ہوجاتاہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 985

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت كے لئے ہر سوسال كے سرے پر اس شخص كو پیدا كر ے گا جوان كے لئے ان كے دین كی تجدید كرے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 986

عن حُذَيْفَة، مرفوعا: إِنَّ الله يَصْنَعُ خَالِقَ كُلَّ صَانِعٍ وَصِنْعَتِه.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اللہ تعالیٰ ہر بنانے والے اور اس كی بنائی ہوئی چیز كوبنانے والا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 987

عن الضَّحَّاك بن قيس قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله يَقول: أَنا خَيْر شَريك، فَمَن أَشْرَك بِي أَحَدًا فَهُو لشريكي يَا أَيَّهَا النَّاس أَخْلِصُوا الْأَعْمَال لِلهِ، فَإِن الله عَزّ وَجَل لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَل إِلَا ما خَلَص لَه، ولاتقولوا: هذا لِلهِ ولِلرَّحِم ولَيْس لِلهِ مِنْه شَيْءٌ! ولَا تَقُولُوا: هذا لِلهِ ولِوُجُوهِكُمْ، فَإِنَّه لِوُجُوهِكُم، ولَيْس لِلهِ مِنْه شَيْءٌ.
ضحاك بن قیس سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ فرماتاہےجس نے میرےساتھ كسی كوشریك كیا وہ میرے شریك كے لئے ہے۔ اے لوگو! اللہ كے لئے اعمال خالص كرو، كیونكہ اللہ عزوجل صرف خالص عمل قبول كرتا ہے اور یہ نہ كہو: یہ اللہ كیلئے اوریہ رشتے داروں كے لئے(صلہ رحمی كے لئے)ہےاس میں سے كوئی بھی چیز اللہ كےلئےنہیں اوریہ نہ كہویہ اللہ كیلئےہےاوریہ تمہارے معززلوگوں كے لئے۔ وہ تمہارے معززلوگوں كے لئے ہوگا اللہ كے لئے اس میں سے كوئی بھی چیز نہیں ۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 988

عن عبد الله بن عَمَرٍو بن الْعاص، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الْإِيمَان ليَخْلَقُ في جَوْفِ أَحَدِكُم كَمَا يَخْلَق الثَّوْبُ، فَاسْأَلُوا الله أَن يُجَدِّد الْإِيمَانَ في قُلُوبُكُم.
عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایمان تمہارے پیٹ (دل)میں اس طرح خراب ہوتارہتا ہے جس طرح كپڑا بوسیدہ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اللہ سے سوال كروكہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان كی تجدید كرتا رہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 989

عن ابن عمر رضي الله عنهما: أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِن أَوَّل شَيْءٍ خَلَقَه الله الْقَلَمَ، فَأَخَذَه بِيَمِينِه وَكِلْتَا يَدَيْه يَمِينٌ قال: فَكَتَبَ الدُّنْيَا وَمَا يَكُون فِيهَا من عَمَلٍ مَعْمُولٍ، بِرٌّ أَوفُجُورٌ، رَطْـبٌ أَويابسٌ، فَأَحْصَـاه في الذِكْر، ثم قال: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:ہٰذَا کِتبُنَااٰا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(الجاثية) فَـهَـل تَكُونُ النَسْخَة إِلَا من أَمْرٍ قَد فُرِّغَ مِنْه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جواللہ تعالیٰ نے پیدا كی وہ قلم ہے ،اللہ نے اس کودائیں ہاتھ میں پکڑا اور اللہ كے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ فرمایا:اس قلم نے دنیا اور جوكچھ دنیا میں عمل ہوناہے نیك یا بد،تر یا خشك لكھ دیا۔ اللہ نے اسے اپنے پاس ذكر میں محفوظ كر لیا، پھر فرمایا: اگر تم چاہوتویہ آیت پڑھ سكتے ہو: (الجاثية :۲۹) یہ ہماری كتاب ہے جوتمہارے خلاف سچائی كے ساتھ بولے گی، یقینا ہم تمہارے اعمال لكھا كرتے تھے نسخ(نقل كرنا) اسی وقت ہوتا ہے جب لکھنے کے کام سے فراغت ہوچکی ہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 990

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوقَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُو جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ.
سلیمان بن یسار سے مروی ہے كہ جب لوگ ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ كے پاس سے منتشر ہوگئے ان سے اہل شام نے كہا: یا شیخ ہمیں كوئی حدیث بیان كیجئے، جوآپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہو۔ ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: ہاں میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: سب سے پہلا شخص جس كے خلاف قیامت كے دن فیصلہ كیا جائے گا، وہ شخص ہوگا جسے(دنیامیں)شہید سمجھا جاتا ہوگا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا وہ ان كا اعتراف كرے گا۔ اللہ فرمائے گا: ان كے بدلے تم نے كیا كیا؟ وہ كہے گا میں شہید ہونے تك تیرے راستے میں قتال كر تا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے، تم نے تواس لئے قتال كیا تاكہ تمہیں بہادر كہا جائے، اور یہ بات دنیا میں كہہ دی گئی۔ پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے منہ كے بل گھسیٹ كر جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص ہوگا جس نے علم(دین) سیكھا اور سكھایا ہوگا، اور قرآن پڑھا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور كا اعتراف كرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے ان كے بدلے كیا عمل كیا ؟ وہ كہے گا: میں نے علم سیكھا اور سكھایا اور تیرے لئے قرآن پڑھتا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے تم نے توعلم اس لئے سكھاا تاكہ تمہیں عالم كہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تاكہ تمہیں قاری كہا جائے۔ تویہ بات دنیامیں كہہ دی گئی ۔ پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے گھسیٹ كر منہ كے بل جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے مال ودولت كی فراوانی دی ہوگی اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا وہ ان كا اعتراف كرے گا ۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے ان كے بدلے كیا كیا؟ وہ كہے گا: میں نے تیرے ہر اس راستے میں خرچ كیا جس میں توچاہتا تھا كہ خرچ كیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے، تونے تویہ كام اس لئے كیا تھا، تاكہ تجھے سخی كہا جائے اور یہ بات دنیا میں كہہ دی گئی ہے۔پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے بھی گھسیٹ كر جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 991

عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: لَقِيَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فَذَكَرْنَا لَهُ الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ زَادَ قَالَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوجُهَيْنَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ فِيمَا نَعْمَلُ؟ أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَومَضَى أَوفِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا وَمَضَى فَقَالَ الرَّجُلُ أَوبَعْضُ الْقَـوْمِ فَفِـيمَ الْعَمَلُ؟ قَـالَ إِنَّ أَهْـلَ الْجَنَّـةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمن سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم عبداللہ بن عمر سے ملے اور ان سے تقدیر كا ذكر كیا اورجوکچھ لوگ اس بارے میں كہتے تھے،انہوں نے كہا: ایك مزنی یا جہنی نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے (تقدیر كے بارے میں )سوال كیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم كس میں عمل كریں؟ كیا اس چیز میں جوگزر چكی ہے یا اس میں جوابھی موجود ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس چیز میں جوگزر چكی ہے۔ اس آدمی یا بعض لوگوں نے كہا: پھر عمل کیوں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنتی لوگوں کیلئے جنتیوں والے عمل آسان کردئے گئےاور جہنمی لوگوں کیلئے جہنمیوں والے عمل آسان کردئے گئے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 992

عن أبي هُرَيْرَة، قال: مَرُّوا عَلَى رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِجَنَازَة فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَال: وَجَبتْ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا شَرًّا، فَقَال: وَجَبَتْ ثم قَال: إِن بَعْضَكُم عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاء.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے ایك جنازہ گزرا تولوگوں نے اس کی تعریف كی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: واجب ہوگئی۔پھر ایك دوسرا جنازہ گزرا تولوگوں نے اس كی برائی كی، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: واجب ہوگئی، پھر فرمایا: تم ایك دوسرے پر گواہ ہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 993

عَنِ النُّعْمَان بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَذْكُرُ الرَّقِيمَ فَقَالَ إِنَّ ثَلَاثَةً كَانُوا فِي كَهْفٍ فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأُوصِدَ عَلَيْهِمْ قَالَ قَائلٌ مِنْهُمْ تَذَاكَرُوا أَيُّكُمْ عَمِلَ حَسَنَةً لَعَلَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِي فَاسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَطَ النَّهَارِ فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَطْرِ أَصْحَابِهِ فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الزِّمَامِ أَنْ لَا أُنْقِصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَتُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي وَلَمْ يَعْمَلْ إِلَّا نِصْفَ نَهَارٍ؟ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللهِ لَمْ أَبْخَسْكَ شَيْئا مِنْ شَرْطِكَ وَإِنَّمَا هُومَالِي أَحْكُمُ فِيهِ مَا شِئتُ قَالَ فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ قَالَ فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبٍ مِنْ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ مَرَّتْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ بَقَرٌ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنْ الْبَقَرِ فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللهُ فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخًا ضَعِيفًا لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ إِيَّاكَ أَبْغِي هَذَا حَقُّكَ فَعَرَضْتُه عَلَيْهِ جَمِيعَهَا فَقَالَ يَا عَبْدَ اللهِ لَا تَسْخَرْ بِي إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي قُلت: وَاللهِ لَا أَسْخَرُ بِكَ إِنَّهَا لَحَقُّكَ مَالِي مِنْهَا شَيْءٌ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا اللهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ وَأَبْصَرُوا قَالَ الْآخَرُ قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتْ النَّاسَ شِدَّةٌ فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا قَالَ فَقُلْتُ وَاللهِ مَا هُودُونَ نَفْسِكِ فَأَبَتْ عَلَيَّ فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَذَكَّرَتْنِي بِاللهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ لَا وَاللهِ مَا هُودُونَ نَفْسِكِ فَأَبَتْ عَلَيَّ وَذَهَبَتْ فَذَكَرَتْ لِزَوْجِهَا فَقَالَ لَهَا أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَأَغْنِي عِيَالَكِ فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ وَاللهِ مَا هُودُونَ نَفْسِكِ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ إِلَيَّ نَفْسَهَا فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي فَقُلْتُ لَهَا مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ أَخَافُ اللهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ قُلْتُ لَهَا خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخاءِ فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ بِمَا تَكَشَّفْتُهَا اللهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَانْصَدَعَ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ قَالَ الْآخَرُ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي قَالَ فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ حَبَسَنِي فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَأَخَذْتُ مِحْلَبِي فَحَلَبْتُ غَنَمِي قَائمَةٌ فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدِي حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ فَسَقَيْتُهُمَا اللهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ النُّعْمَانُ لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ الْجَبَلُ طَاقْ فَفَرَّجَ اللهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا.
نعمان بن بشیر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اس نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو غار كا ذكر كرتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین آدمی غار میں تھے كہ غار كے دہانے پر ایك پتھر گرا اور دروازہ بند كر دیا۔ ان میں سے ایك نے كہا: یاد كروكہ تم نے كونسا نیك عمل كیا ہے، شاید كہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم پر رحم فرمائے،ان میں سے ایك آدمی نے كہا: میرے كچھ مزدور تھے جوكام كیا كرتے تھے، میرے كچھ مزدور آئے،میں نے ان سے ایك مناسب معاوضہ طے كر لیا، ایك دن ایك آدمی میرے پاس دوپہر كے وقت آیا میں نے دوسرے مزدوروں كا نصف معاوضہ اس سے طے كر لیا۔ اس نے باقی دن میں اتنا كام كیا جتنا دوسرے مزدوروں نے پورے دن میں كیا تھا ۔میری سمجھ میں یہ بات آئی كہ جتنا میں اس كے ساتھیوں کومعاوضہ دوں اس میں سے اسے كم كر كے نہ دوں كیونكہ اس نے محنت زیادہ كی تھی۔ ان میں سے ایك آدمی نے كہا: كیا تم اسے بھی اتنا دوگے جتنا ہمیں دے رہے ہو؟ اس نے توصرف آدھا دن كام كیا ہے؟ میں نے كہا: اے اللہ كے بندے میں نے تمہارے معاوضے میں سے كچھ بھی كم نہیں كیا، یہ میرا مال ہے جیسا میرا جی چاہے گا كروں گا۔ وہ غصے ہوگیا اور اپنے مزدوری چھوڑ كر چلا گیا، جب تك اللہ نے چاہا، میں نے اس كی مزدوری گھر میں ایك طرف ركھ دی۔،پھر ایك گائے میرے پاس سے گزری تومیں نے گائےکا ایك بچھڑا خرید لیا۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اس میں بركت دی، كافی وقت كے بعد ایك بوڑھا شخص میرے پاس سے گزرا جسے میں نہیں جانتا تھا كہنے لگا: تمہارے پاس میرا حق ہے۔ اس نے مجھے یاد دلایا مجھے یاد آگیا۔ میں نے كہا: میں توتمہیں تلاش كر رہا تھا۔ یہ تمہارا حق ہے، میں نے سارا ریوڑ اسے دے دیا، اس نے كہا: اے اللہ كے بندے مجھ سے مذاق مت كرو، اگر تم مجھ پر صدقہ نہیں كر سكتے توكم از كم میرا حق تومجھے دے دو۔ میں نے كہا: اللہ كی قسم میں تم سے مذاق نہیں كر رہا، یہ تمہارا حق ہے، اس میں میرا كچھ بھی نہیں اور سارا مال اسے دے دیا۔ اے اللہ اگر میں نے یہ كام تیری خوشنودی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے۔ پتھر تھوڑا سا كھسك گیا،ا تنا كہ اس میں سے باہر نظر آنے لگا، دوسرے شخص نے كہا: میں نے بھی ایك مرتبہ ایك نیكی كی تھی، میرے پاس كافی دولت تھی، لوگوں كوقحط كی سختی آئی توایك عورت میرے پاس آئی اور مجھ سے مدد مانگی، میں نے كہا: تمہاری مدد اسی وقت كر سكتا ہوں، جب تم اپنا آپ مجھے دےدوگی؟ اس نے انكار كر دیا اور چلی گئی ۔ كچھ وقت كے بعد وہ پھر آئی اور مجھے اللہ كی یاد دلائی میں نے كہا: واللہ یہ مدد اس وقت ہوگی جب تم اپنا آپ مجھے دے دوگی، اور بس اس طرح میں نے انكار كر دیا۔ اس نے بھی انكار كر دیا اور چلی گئی۔ اس نے اپنے شوہر سے اس بات كا تذكرہ كیا تواس نے كہا: اپنا آپ اسے دے دواور اپنے بچوں كا پیٹ بھرو۔ وہ میرے پاس واپس آئی اور مجھے اللہ كا واسطہ دیا میں نے انكار كر دیا اور كہا تمہارے نفس کے بدلے میں مدد كروں گا جب اس نے دیكھا كہ كوئی چارہ نہیں توخود كومیرےسپرد كردیا۔ جب میں نے اس كا كپڑا اٹھایا اور ملنے كا ارادہ كیا تومیرے نیچے سے تڑپ كر نكل گئی، میں نے كہا: تمہیں كیا ہوا؟ كہنے لگی میں اللہ رب العالمین سے ڈرتی ہوں۔ میں نے اس سے كہا: تم بھوك میں اس سے ڈرتی ہواور میں اس سے خوشحالی میں نہیں ڈرتا۔ میں نے اسے چھوڑ دیااور اس كا جوكپڑا ہٹایا تھا اس كے بدلے جوحق اس كابنتا تھا اسے دیدیا۔ اے اللہ اگر میں نے یہ كام تیری رضامندی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے ۔ پتھر كچھ اور ہٹ گیا۔ اتنا كہ وہ باہر جھانك كر دیكھ سكتے ۔ تیسرے آدمی نے كہا: میں نے بھی ایك نیكی كی ہے،میرے بوڑھے والدین تھے اور میں بكریاں چراتا تھا۔ میں اپنے والدین كوكھانا كھلاتا اور دودھ پلاتا، پھر اپنی بكریوں كی طرف آتا، ایك دن بارش ہوئی جس كی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی اور شام دیر سے گھر پہنچا،میں نے دودھ كا برتن لیا اور دودھ نكالنے لگا، دودھ نكال كر اپنے والدین كی طرف گیا تووہ سوچكے تھے۔ میں نے انہیں جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ اور یہ بھی مناسب نہیں سمجھا كہ اپنی بكریوں كوچھوڑ دوں، میں بیٹھارہا دودھ كا برتن میرے ہاتھ میں تھا۔ جب صبح ہوئی تومیں نے ان دونوں كودودھ پلایا۔ اے اللہ اگرمیں نے یہ عمل تیری رضا مندی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے۔ نعمان كہتے ہیں گویا كہ یہ حدیث میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سن رہا ہوں۔ پہاڑ ہلا اورپتھر لڑھك گیا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مصیبت سے نجات دلائی اور وہ باہر نكل آئے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 994

عن أَنس أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إن الدَجَّالَ يَطْوِي الارْضَ كُلَّهَا إِلَا مَكَّة وَالْمَدِينَة، قال: فَيَأْتِي الْمَدِيَنَة فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ من أَنْقَابِهَا صُفُوفًا من الْمَلَائكَة، فَيَأْتِي سَبَخَة الْجُرْفِ فَيَضْرِبُ رُوَاقَه ثم تَرْجُفُ الْمَدِيَنَة ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْه كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ.
) انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دجال ساری زمین میں پھرے گا، سوائے مكہ مدینہ كے ۔ وہ مدینے كے پاس آئے گا تومدینے كے ہر راستے پر فرشتوں كی صفیں پائے گا۔ وہ دلدلی علاقے كے مقام پر آئے گا اوراپنا سینگ مارے گاپھر مدینہ تین مرتبہ ہلے گا اس وقت ہر منافق اور منافقہ اس كی طرف چلے جائیں گے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 995

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ مَا قُدِّرَ فِي الرَّحِمِ سَيَكُونُ.
ابوسعید زرقی سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے عزل كے بارے میں سوال كیا ۔ كہنے لگا میری بیوی میرے بچے كودودھ پلا رہی ہے۔ مجھے ابھی اس كا حاملہ ہونا پسند نہیں ۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: رحم میں جومقدر كر دیا گیا وہ ہوكر رہے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 996

عن قيس بن السَّكَن الْأَسَدِيّ، قال: دَخَل عبد الله بن مَسْعَود رضی اللہ عنہ عَلَى امْرَأَةٍ فَرَأَى عَلَيْهَا حِرْزًا من اَلْحُمْرَة فَقَطَعَه قَطَعًا عَنِيفًا ثم قال: إِن آل عبد الله عن الشِّرْكِ أَغْنِيَاءَ وَقَال: كَان مِمَّا حَفِظْنَا عن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَن الرُّقَى وَالتَّمَائم وَالتِّوَلَة مِنَ الشِّرْكِ.
قیس بن سكن اسدی سے مروی ہے كہ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ اپنی بیوی كے پاس آئے۔ توبخار سے بچاؤ كے لئے اس كے ہاتھ میں دھاگا بندھا ہوا دیكھا۔ انہوں نے سختی سے اسے كاٹ دیا۔پھر كہا: عبداللہ كے گھر والے شرك سے بری ہیں، اور كہنے لگے:ہم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے جوبات یاد كی ہے وہ یہ ہے كہ (شركیہ) دم، تعویذ اورجادوشرك ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 997

عن أَبَى هُرَيْرَة قال: ثَلَاثٌ سَمِعْتُهُنّ لِبَنِى تَمِيمٍ مِنْ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا اُبْغِضُ بَنِى تَمِيمٍ بَعْدَهُنّ اَبَداً كَان عَلَى عَائشَة رِضى الله عَنْهَا نَذْرُ مُحَرَّر مِنْ وُلْدِ اسمعيل فَسَبى سَبىٌ مِن بَني العَنْبَر فَلَمَا جئ بِذَلِك السَبْىِ قال لَهَا رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ان سَرَّكِ اَنْ تَفِى بِنَذْرِكِ فَأَعْتِقِي مُحَرَّرًا من هَؤُلَاء وقال: فَجَعَلَهُم من وُلْدِ اسمعيل، وجئ بنِعَمِ من نِعَم الصَّدَقَة فَلَمَا رَآه راعَه حُسْنَه قال فَقَال هذا نِعَم قَوْمِي فَجَعَلَهُم قَوْمَه، قال وَقَال هُم اشدُّ قِتَالًا في الْمَلَاحِم.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بنی تمیم کے بارے میں تین باتیں سنیں ،اس كے بعد میں نے كبھی بھی بنی تمیم سے بغض نہیں ركھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اولاد اسماعیل سے ایك غلام آزاد كرنے كی نذر تھی۔ بنی عنبر كے كچھ قیدی لائے گئے۔ تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے كہا: اگر تم اپنی نذر پوری كرنا چاہوتوكرلو۔ ان میں سے ایك غلام آزاد كردو۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں اولاد اسماعیل سے شمار كیا۔ صدقے كے اونٹ آئے ۔جب آپ نے وہ اونٹ دیكھے توان كی خوبصورتی آپ كوپسند آئی آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ میری قوم كے اونٹ ہیں۔ آپ نے انہیں اپنی قوم كہا اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ لوگ جنگوں میں بے تحاشہ لڑتے ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 998

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان اس بات سے نا امید ہوچكا ہے كہ تمہاری اس زمین میں اس كی عبادت كی جائے۔ لیكن وہ اس بات سے راضی ہےکہ تم دوسروں كوحقیر سمجھتے ہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 999

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْداللهِ الْأَنْصَارِيِّ مَرْفُوْعاً: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ.
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: شیطان اس بات سے ناامید ہوچكا ہے كہ جزیرۃ العرب میں نمازی اس كی عبادت كریں،لیكن وہ انہیں آپس میں بھڑكاتا رہتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1000

عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ: تُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ؟ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ: تُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ؟ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ فَقَالَ: تُجَاهِدُ فَهُو جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَمُ الْمَالُ فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَووَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ.
) مسہرہ بن ابی فاكہہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان ابن آدم كے لئے اس كے راستوں میں بیٹھتا ہے، وہ اس كے لئے اسلام كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم اسلام قبول كروگے اور اپنے آباء واجداد كا دین چھوڑ دوگے؟ وہ آدمی شیطان كی بات نہیں مانتا اور اسلام قبول كر لیتا ہے۔ پھر وہ اس كے لئے ہجرت كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم ہجرت كروگے، اپنی زمین اپنا آسمان چھوڑدوگے؟ ہجرت كرنے والے كی مثال تواس گھوڑے كی طرح ہے جورسی سے بندھا ادھر ادھر بھاگ رہا ہوتا ہے؟ وہ اس كی بات نہیں مانتا اور ہجرت كر لیتا ہے۔پھر وہ اس كے لئے جہاد كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم جہاد كروگے جوكہ جان اور مال كا جہاد ہے ؟ تم قتال كروگے توتمہیں قتل كر دیا جائے گا۔ تمہاری بیوی سے كوئی دوسرا شخص نكاح كر لے گا۔تمہارا مال تقسیم ہوجائے گا، وہ اس كی بات نہیں مانتا اور جہاد كرتاہے ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے ایسا كیا اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل فرمائے، اور جوشخص قتل كر دیا گیا اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے۔ اگر وہ ڈوب جائے تواللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے،یا اس كی سواری اسے گرا كر ہلاك كر دے تواللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كر ے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1001

عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ذَكَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ لوگوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس نحوست كا تذكرہ كیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر كسی چیز میں نحوست ہوتی تو،گھر میں،عورت میں اور گھوڑے میں ہوتی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1002

عَنْ طُفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا قَالَ: أَنَّهُ رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّهُ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْيَهُودُ قَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ عُزَيْرا ابْنُ اللهِ فَقَالَتْ الْيَهُودُ: وَأَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ! ثُمَّ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنْ النَّصَارَى فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ النَّصَارَى فَقَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ الْمَسِيحُ ابْنُ الهَِ قَالُوا: وَإِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ! فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: هَلْ أَخْبَرْتَ بِهَا أَحَدًا؟ قَالَ: نَعَمْ فَلَمَّا صَلَّوْا خَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ طُفَيْلًا رَأَى رُؤْيَا فَأَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْكُمْ وَإِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَقُولُونَ كَلِمَةً كَانَ يَمْنُعُنِي الْحَيَاءُ مِنْكُمْ أَنْ أَنْهَاكُمْ عَنْهَا قَالَ: لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ.
طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا كے اخیافی بھائی سے مروی ہے كہ انہوں نے ایك خواب دیكھا گویا كہ وہ یہودیوں كے ایك گروہ كے پاس سے گزرے ہیں۔طفیل نے كہا: تم كون ہو؟ كہنے لگے ہم یہودی ہیں۔ طفیل نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو اگر تم عزیر علیہ السلام كو اللہ كا بیٹا نہ با تے(تو كتنا بہتر ہوتا)۔ یہود نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو جو یہ كہتے كہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ پھر طفیل عیسائیوں كے ایك گروہ كے پاس سے گزرے ۔طفیل نے كہا: تم كون ہو؟ كہنے لگے: ہم عیسائی ہیں۔ طفیل نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو جو یہ نہ كہتے كہ مسیح اللہ كے بیٹے ہیں( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ كہنے لگے: تم وہ لوگ ہو اگر تم یہ نہ كہتے جو اللہ نے چاہا اور جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ جب صبح ہوئی تو طفیل نے كسی شخص كو بتایا۔ پھر نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور آپ كواپنا خواب بیان کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تم نے كسی اور كو بتایا ہے؟ طفیل نے كہا : جی ہاں، جب لوگوں نے نماز پڑھ لی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں خطبہ ارشاد فرمایا:اللہ كی حمد و ثنا كی پھر فرمایا: طفیل نے ایك خواب دیكھا ہے اس نے تم میں سے كسی شخص کو بتایا بھی ہے۔ تم ایك ایسی بات كہتے ہو كہ مجھے حیا روكتی تھی كہ میں تمہیں اس سے منع كروں۔ اس طرح نہ كہا كرو: جو اللہ نے چاہا اور جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1003

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ بِالرَّجُلِ بِإِذْنِ اللهِ حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےآنکھ بھی اللہ کے حکم سےآدمی سے جھوٹ بولتی ہےحتی کہ وہ پہاڑکی چوٹی پرچڑھ جاتا ہےپھر اس سے نیچے گرجاتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1004

أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا) فعن أسماء أنها قالت للحجاج: أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَنَا أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا؟ فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا اَخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. ( )
(بنو ثقیف میں ایك کذا ب اورسفاک شخص ہوگا۔)اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ انہوں نے حجاج سے كہا: ہمیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حدیث بیان كی تھی كہ ثقیف میں ایك كذاب اور سفاک شخص ہوگا۔ كذاب (یعنی مسیلمہ)تو ہم نے دیكھ لیا اورمیرے خیال میں سفاک تم ہی ہو۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1005

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ كَيْفَ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقینا تمام بنی آدم كے دل رحمن كی انگلیوں میں سے دوانگلیوں كے درمیان ایك دل كی طرح ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے پھیر دیتا ہے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے دلوں كو پھركنے والے ہمارے دل اپنی اطاعت كی طرف پھیر دے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1006

عَنْ أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إنّ قوماً يأتونَ مِن بعْدِي، يودُّ أحدُهم أنْ يفتدِيَ برؤيتي أهلَه ومالَه.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے بعد كچھ لوگ آئیں گے جنہیں یہ بات پسند ہوگی كہ اپنے گھربار اور مال كے بدلے میری ایك جھلك دیكھ لیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1007

عَنْ أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ عَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِن لِلْإِسْلَام صوىً و مناراً كمنارِ الطَّرِيق ، مِنها أَن تُؤمِن بِالله ولَا تُشْرِك بَه شَيْئًا وإِقَام الصّلاة و إِيتَاء الزَّكَاة وصَوْمِ رَمَضَان وحَجّ الْبَيْت والْأَمْرُ بِالْمَعْرُوف والنَّهْيُ عن الْمُنْكَر وأَن تُسَلِّم عَلَى أَهْلِكَ إِذَا دَخَلَتَ عَلَيْهِم و أَن تُسَلِّم عَلَى الْقَوْم إِذَا مَرَرْت بَهْم فَمَن تَرَك من ذَلِك شَيْئًا، فَقَد تَرَك سَهْمًا من الْإِسْلَام و من تَرَكَهُنّ كُلَّهُنّ ، فَقَد وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَه.
) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام كے سنگ میل اور راستہ كے مینار كی طرح مینار ہوتے ہیں۔ ان میں سے یہ ہیں: اللہ پر ایمان لانا، اس كے ساتھ كسی كو شریك نہ كرنا، نماز قائم كرنا، زكوٰۃ ادا كرنا، رمضان كے روزے ركھنا، بیت اللہ كا حج كرنا، نیكی كا حكم دینا، برائی سے منع كرنا، اپنے گھر والوں كو سلام كہناجب تم گھر میں داخل ہواور جب تم اپنی قوم كے پاس سے گذرو تو انہیں سلام كہنا، جس نے ان میں سے كسی چیز كو چھوڑ دیا اس نے اسلام كا ایك حصہ چھوڑ دیا اور جس نے ان سب كو چھوڑ دیا اس نے اسلام كو پس پشت ڈال دیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1008

عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ حَلِيفًا لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَمَرَّ بِحَلَقَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَقُولُ: إِنَّى مُسْلِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ. ( )
) فرات بن حاقن سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل كرنے كا حكم دیا، وہ ابو سفیان كا جاسوس اور انصار كے ایك آدمی كا حلیف تھا۔ وہ انصار كے ایك حلقے كے پاس سے گزرا تو كہنے لگا:میں مسلمان ہوں۔ ایك انصاری نے كہا: اے اللہ كے رسول یہ كہتا ہے كہ میں مسلمان ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كچھ آدمی ایسے ہیں جنہیں ہم ان كے ایمان كے سپرد كرتے ہیں، ان میں سے فرات بن حانن بھی ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1009

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَكَتْهُمْ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَدْعُونَا فَجِئْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ اللهُ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نجد كی جانب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ مل كر جہاد كیا، جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹ آئے۔ درختوں والی ایك وادی میں دوپہر ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اتر آئے، لوگ بھی درختوں کا سایہ حاصل كرنے كے لئے بكھر گئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك كیكر كے درخت كے نیچے آئے، اس پر اپنی تلوار لٹكائی ،جابر كہتے ہیں: پھر ہم سوگئے۔ اچانك رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمیں پكارنے لگے۔ ہم آپ كے پاس آئے كیا دیكھتے ہیں ایك بدو آپ كے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس نے میری تلوار سونت لی میں سویا ہوا تھا، میں جاگا تو تلوار اس كے ہاتھ میں تنی ہوئی تھی اس نے مجھ سے كہا: تمہیں مجھ سے كون بچائے گا؟ میں نے كہا: اللہ، اب یہ یہاں بیٹھا ہے ۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے سزا نہیں دی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1010

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّ هَذا الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنْ الدُّلْجَةِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: یہ دین آسان ہے، جو شخص اس دین میں سختی كرے گا یہ دین اس پر غالب آجائے گا۔(معاملات کو) سیدھا رکھو قریب رہو خوشخبری دو اور صبح شام اور رات كی سیاہی (اندھیرے)میں مدد طلب كرتے رہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1011

عَنْ يَزِيد بْن عَبْدِ اللهِ بْنِ الخيرِ قَالَ: بَينَا نَحنُ بِالْمِرْبَدِ إِذ أَتَى عَلَيْنَا أَعْرَابِي شَعثُ الرِأسِ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَو قِطْعَةُ جِرَابٍ فَقُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ فَقَالَ: أَجل هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ القُوم: هَاتِ فَأَخذْتُه فَقَرأَتُه فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ قَالَ أَبُو العَلَا: وَهُمْ حَيٌّ مِنْ عُكْلٍ إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدتُم أَنّ لَا إِلَه إلَا الله، وَأَقَمْتُمْ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمْ الزَّكَاةَ وَفَارَقْتُمْ الْمُشْرِكِينَ وَأَعْطَيْتُمْ مِنْ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَسَهْمَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالصَّفِيَّ وَرُبَّمَا قَالَ: وَصَفِيَّهُ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ.
) یزید بن عبداللہ بن خیر رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ ہم مربد (نامی مقام)میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانك بكھرے بالوں والا ایك اعرابی ہمارے پاس آیا، اس كے پاس چمڑے كا ایك ٹكڑا تھا۔ ہم كہنے لگے: ایسا لگتا ہے كہ یہ بدو ہے۔ اس نے كہا: ہاں یہ خط ہے جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے لكھ كر دیا ہے۔ لوگوں نے كہا: لاؤ، میں نے وہ خط لیا اور پڑھنا شروع كر دیا۔ اس میں لكھا تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم ،یہ خط محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ كے رسول كی طرف سے بنی زہیر بن اقیش(جوعکل نامی ایک قبیلہ تھا) كے لئے لكھا گیا ہے۔ اگر تم گواہی دو كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں ، نماز قائم كرو، زكاۃ ادا كرو، مشركین كو چھوڑ دو، اور غنیمتوں میں سے خمس اور اللہ كے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا حصہ اور چنا ہوا مال(منتخب شدہ) دو تو تم اللہ اور اس كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی امان میں ہو“۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1012

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّه لَيْس شَيْءٌ يُقَرِّبُكُم إلى الْجَنَّة إِلَا قَد أَمَرْتُكُم بَه و لَيْس شَيْءٌ يُقَرِّبُكُم إلى النَّار إِلَا قَد نَهَيْتُكُم عَنْه ، إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رَوْعِي : إِنَّ نفْسًا لَا تَمُوت حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا فَاتَّقُوا الله وأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، وَلا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوه بمعاصي الله ، فَإِن الله لَا يُدْرك مَا عِنْدَهُ إِلا بِطَاعَتِهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جو چیز تمہیں جنت كے قریب كر سكتی تھی میں نے تمہیں اس كا حكم دے دیا، اور جو چیزتمہیں آگ كے قریب كر سكتی تھی اس سے منع كر دیا۔ روح القدس (جبریل علیہ السلام) نے مجھے بتایا ہے كہ كوئی نفس اس وقت تك نہیں مرے گا جب تك اپنا رزق مكمل نہ كر لے ۔اس لئے اللہ سے ڈرو ، اور اچھے انداز سے طلب كرو، اور رزق میں تاخیر تمہیں اللہ تعالیٰ كی نا فرمانی پرنہ ابھارے۔ كیوں كہ اللہ تعالیٰ كے پاس جو كچھ ہے اس كی اطاعت كے ذریعے ہی حاصل كیا جا سكتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1013

عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ مجھے ایك انصاری صحابی نے بتایا كہ ایك رات وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ بیٹھے ہوئےتھے ۔ ایك ستارہ ٹوٹ كر گرا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے كہا: تم زمانہ جاہلیت میں كیا كہا كرتے تھے جب اس طرح كوئی ستارہ ٹوٹتا؟كہنے لگے اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ ہم كہا كرتے تھے، آج كی رات كوئی عظیم آدمی پید اہوا ہے یا كوئی عظیم آدمی فوت ہوا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ كسی كی موت یا زندگی كی وجہ سے نہیں ٹوٹتا ، معاملہ اس طرح ہے كہ جب ہمارا رب تبارك وتعالیٰ كسی معاملے كا فیصلہ كرتا ہے تو عرش اٹھانے والے فرشتے تسبیح بیان كرتے ہیں۔ پھر اس آسمان والے تسبیح بیان كرتے ہیں جو ان سے ملا ہوتا ہے حتی كہ وہ تسبیح اس دنیا كے آسمان والوں تك پہنچتی ہے۔ پھر عرش كے نیےں والے عرش اٹھانے والے فرشتوں سے كہتے ہیں تمہارے رب نے كیا كہا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے كہا ہوتا ہے۔ آسمان والے ایك دوسرے سے پوچھتے ہیں حتی كہ آسمانِ دنیا والوں تك یہ خبر پہنچتی ہے ۔یہ خبرجن سن لیتے ہیں اور دوستوں كو بتاتے ہیں۔ یہ ستارہ انہیں مارا جاتا ہے، جو خبر اصل صورت میں لاتے ہیں وہ صحیح ہوتی ہے ۔لیكن یہ اس میں اضافہ كر لیتے ہیں اور جھوٹ ملا لیتے ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1014

عَنْ سَلمْة بن نُفَيْل السَّكُّونِيّ قال: دَنَوْت من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، حَتَّى كَادَت رُكْبَتَاي تَمَسَّان فخذه، فقلت: يارسول الله! تُركَتْ الخَيلُ، وَأُلْقِي السِّلاحُ، وَزَعَم أَقْوَامٌ أَن لَا قِتَالَ! فَقَال:كَذَبُوا! الْآن جَاء القتال، لَا تَزَال من أَمَتِي أَمَة قَائِمَةٌ عَلَى الحق، ظَاهَرْةٌ عَلَى الناس، يَزِيغُ الله قُلُوبَ قَوْمٍ قَاتَلُوهُم لِيَنَالُوا مِنْهم. وَقَال وَهو مُوَلّ ظَهْره إلى اليمن: إِنِّي أَجِد نَفَس الرَحمَن من هنا- يُشِير إلى الْيَمَن وَلَقَد أُوحِي إِلَيّ أَنِّي مَكْفُوفٌ غَيْر ملبث، وَتَتْبَعُونِي أفْنَاداً، وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ في نَوَاصِيهَا الْخَيْر إلى يَوِم القيامة، وَأَهْلَهَا مُعَانُون عَلَيها.
سلمہ بن نفیل سكونی سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے قریب ہوا اتنا كہ میرے گھٹنے آپ كی ران كو چھونے لگے۔میں نے كہا: اے اللہ كے رسول گھوڑے چھوڑ دیئے گئے، اسلحہ ركھ دیا گیا اور لوگوں نے سمجھ لیا كہ اب كوئی قتال نہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، ابھی تو قتال آیاہے ۔ میری امت كا ایك گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، لوگوں پر غالب ہوگا ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں كے دلوں كو ٹیڑھا كر دےگا جو انہیں نقصان پہنچانے كی غرض سے ان سے لڑائی كریں گے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌یمن كی طرف پیٹھ كئے ہوئے تھے فرمایا: میں یہاں سے محسوس كر رہا ہوں۔ یمن كی طرف اشارہ كیا میری طرف وحی كی گئی كہ میں محفوظ ہوں، اور ركا ہوا نہیں ہوں اور تم گروہ در گروہ میری پیروی كر رہے ہو اور گھوڑوں كی پیشانی میں قیامت تك خیر ركھ دی گئی ہےاورگھوڑوں والوں كی مدد كی گئی ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1015

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَيَّ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اضْرِبْ لَهُ مَثَلًا فَقَالَ اسْمَعْ سَمِعَتْ أُذُنُكَ وَاعْقِلْ عَقِلَ قَلْبُكَ إِنَّمَا مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَائِدَةً ثُمَّ بَعَثَ رَسُولًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَهُ فَاللهُ هُوَ الْمَلِكُ وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ رَسُولٌ فَمَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الْإِسْلَامَ وَمَنْ دَخَلَ الْإِسْلَامَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مَا فِيهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك دن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے اور فرمایا: میں نے نیند میں دیكھا كہ گویاجبریل میرے سرہانے كھڑے ہیں اور میكائیل میرے پیروں كے پاس كھڑے ہیں۔ ایك دوسرے سے كہہ رہا ہے: اس كے لئے كوئی مثال بیان كرو، دوسرے نے كہا: غور سے سنو، اور اچھی طرح سمجھو، آپ كی مثال اور آپ كی امت كی مثال اس بادشاہ كی طرح ہے جس نے گھر بنایا پھر اس میں ایك بڑا كمرہ بنایا، اس میں دستر خوان ركھا اور اپنا قاصد بھیجا جو لوگوں كو كھانے كی دعوت دے۔ ان میں سے كچھ نے قاصد كی دعوت قبول كی اور كچھ نے دعوت قبول نہ كی۔ اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے، گھر اسلام ہے، بڑا كمراہ جنت ہے، اور آپ اے محمد قاصد ہیں۔ جس نے دعوت قبول كی وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور جو اسلام میں داخل ہوا وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جو جنت میں داخل ہوا اس نے اس میں موجود سب چیزیں كھالیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1016

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ: فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنْ الْبَقْلِ وَيَتَخَلَّى مِنْ الدُّنْيَا! ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنْ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى مِنْ الدُّنْيَا قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسي بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمُقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً.
ابو امامہ سے مروی ہے كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ ایك معركے كے لئے نكلے ایك آدمی ایك غار كے پاس سے گزرا جس میں كچھ پانی تھا۔ اس نے دل میں سوچا كہ وہ اس غار میں قیام كر لے، اس غار میں موجود پانی پیتا رہے اور اردگرد سبزیاں وغیرہ كھاکرگذارہ کرتا رہےگا، دنیا سےکنارہ کش ہو جائے، پھر كہنے لگا ، اگر میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس جا كر ان سے اس بات كا تذكرہ كروں تو بہتر رہے گا۔ اگر آپ مجھے اجازت دے دیں تو میں ایسا كر لوں گا اور اگر اجازت نہ دیں تو رك جاؤں گا۔ وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پا س آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے نبی میں ایك غار كے پاس سے گزرا اس میں میری كفایت كے لئے پانی اور سبزی موجود ہے، میں نے دل میں سوچا كہ میں اس میں قیام كروں اور دنیا سے الگ ہو جاؤں۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے یہودیت و نصرانیت دے كر مبعوث نہیں كیا گیا۔ مجھے دینِ حنیف دے كر مبعوث كیا گیا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ایك اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا اور جو كچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے اور تم میں سے كوئی شخص جنگی صف میں كھڑا ہو تو یہ اس كے لئے ساٹھ سال كی نماز سے بہتر ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1017

) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ هَاتِ اُلْقُطْ لِي فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَوَضَعْهُنَّ فِي يَدِهِ فَقَالَ: بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ: بِيَدِهِ فَأَشَارَ يَحْيَى –أحد رواته- أَنَّهُ رَفَعَهَا وَقَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِين فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے عقبہ كی صبح كہا آپ اپنی سواری پر كھڑے تھے۔ آپ نےفرمایا: مجھے زمین سے كچھ اٹھا كر دو، میں نے چنے کے برابر كچھ كنكریاں اٹھا كر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیں۔ آپ نے دوبارفرمایا: ان جیسی(کے ساتھ جمرات کو نشانہ بناؤ)، پھرآپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: دین میں غلو سے بچو، كیوں كہ تم سے پہلے لوگ بھی دین میں غلو كی وجہ سے ہلاك ہوئے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1018

عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ: أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْعَرَبِ أَوْ الْعجمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الْإِسْلَامَ قَالَ: ثُمَّ مَهْ قَالَ: ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ قَالَ رجُلٌ: كَلَّا وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ: بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ثُمَّ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.
كرز بن علقمہ خزاعی سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا:اے اللہ كے رسول كیا اسلام كی بھی كوئی انتہا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اہل عرب یا عجم كا جو بھی گھر ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی كا ارادہ فرمالیا ہے اللہ تعالیٰ ان گھروں میں اسلام داخل كر دے گا، پھر فتنوں كا ظہور ہوگا۔ جس طرح سائے ہوتے ہیں۔(اس آدمی نے )كہا:واللہ ہر گز نہیں اگراللہ نے چاہا۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:كیوں نہیں اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے، پھر تم بڑی تعدادمیں واپس لوٹوگےاور ایك دوسرے كی گردن مارو گے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1019

عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أَبَا عَامِرٍ أَلَا غَيَّرْتَ؟ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ (المائدة) فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَالَ: أَيْنَ ذَهَبْتُمْ؟ إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنْ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ. ورواه طبراني ولفظه: عَنْ أَبِي عَامِرٍ، أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ شَيْءٌ فَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا حَبَسَكَ؟ قَالَ: قَرَأْتُ هَذِهِ الآيَةَ: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنْ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ.
ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ان كا ایك آدمی (اوطاس) میں قتل كر دیا گیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا: ابو عامر تمہیں غیرت نہیں آئی؟ ابو عامر نے یہ آیت پڑھی: (المائدة:۱۰۵).ترجمہ: ”اے ایمان والو!اپنی فکر کرو جب تم راہِ راست پر چل رہے ہو توجو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں“۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌غصے ہو گئے اور فرمایا: تم كہاں چلے گئے؟اس آیت کا مفہوم یہ ہے: ”اے ایمان والو جب تمہیں ہدایت مل جائے تو جو لوگ (كافروں میں سے)گمراہ ہیں وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سكیں گے“۔طبرانی نے روایت بیان كی اس كے الفاظ یہ ہیں كہ ابو عامر سے مروی ہے ان میں كوئی مسئلہ ہو گیا تووہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آنے سے رك گیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:تمہیں كس چیز نے روكا؟ ابو عامر نے كہا: میں نے یہ آیت پڑھی تھی:(المائدة:۱۰۵)”اے ایمان والو اپنے آپ كا خیال ركھو ، جب تمہیں ہدایت مل جائے تو جو لوگ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سكیں گے“۔نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابو عامر سے كہا: جب تمہیں ہدایت مل جائے تو كفار میں سے جو لوگ گمراہ ہیں وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سكیں گے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1020

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ: وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ وفي رواية: على الآخر.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے اپنے بھائی سے كہا: اے كافر! اگر اسی طرح ہے تو یہ بات دونوں میں سے كسی ایك كی طرف واپس آئے گی وگرنہ اسی شخص پر لوٹ جائے گی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1021

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا فَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: ایمان كے ستر سے زیادہ درجے ہیں۔ كم ترین درجہ راستے سے تكلیف دہ چیز كو ہٹانا اور افضل ترین درجہ” لا الہ الا اللہ“ كہنا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1022

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ مَرفُوعاً: الْإِيمَانُ الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ.
عمرو بن عبسہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: ایمان صبر اور درگزر كا نام ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1023

عَنِ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: الْإِيمَانُ يَمَانٍ هَكَذَا إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ.
انس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:بہترین ایمان یمنیوں کا ہے ، اور ہاتھ کے اشارےسے قبیلۂ لخم اور جذام کی طرف اشارہ کیا۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1024

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْكُفْرُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَإِنَّ السَّكِينَةَ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَإِنَّ الرِّيَاءَ وَالْفَخْرَ فِي أَهْلِ الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَأَهْلِ الْخَيْلِ وَيَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ حَتَّى إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ تَلَقَّتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَضَرَبَتْ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ هُنَالِكَ يُهْلَكُ هُنَالِكَ يُهْلَكُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بہترین ایمان یمنی ہے، اور كفر مشرق كی طرف سے،سكون بكریوں والوں میں ہے،ریا اور فخر اونٹ اور گھوڑے والوں میں ہے۔ مسیح(دجال) مشرق كی طرف سے آئے گا اور مدینے كا رخ كرے گا۔ احد كے پیچھے پہنچ جائے گا توفرشتے اس كے سامنے آجائیں گے اور اس كے چہرے كو شام كی طرف پھیر دیں گے۔ یہیں وہ ہلاك ہوگا۔ یہیں وہ ہلاك ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1025

عَنِ عَبْدِ اللهِ ابْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: بِتُّ اللَّيْلَةَ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنِّ رُفَقَاءَ بِـ (الْحَجُونِ).
) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایك رات میں نے مقامِ حجون میں جنوں کے سامنے قرآن پڑھتے ہوئے گزاری۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1026

عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْن حَرْبٍ: أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانُوا تُجَارًا بِالشَّأمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ فَأَتَوْهُ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ثُمَّ دَعَاهُمْ وَدَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا فَقَالَ: أَدْنُوهُ مِنِّي وَقَرِّبُوا أَصْحَابَهُ فَاجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا الرَّجُلِ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ فَوَاللهِ لَوْلَا الْحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ عَنْهُ ثُمَّ كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَنْ قَالَ: كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ: أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا؟! قَالَ: وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلْتُ: الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ قَالَ: مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: اعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ آبَاؤُكُمْ وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ أَحَدٌ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ لَقُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَسِي بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا قُلْتُ فَلَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ أَبِيهِ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ وَسَأَلْتُكَ: أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمْ اتَّبَعُوهُ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُكَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ أَمْرُ الْإِيمَانِ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ؟ فَذَكَرْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ بِمَا يَأْمُرُكُمْ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمِهِ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الَّذِي بَعَثَ بِهِ دِحْيَةُ إِلَى عَظِيمِ بَصْرَى فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اهُِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ ﮊ آل عمران، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ وَارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ وَكَانَ ابْنُ النَّاطُورِ صَاحِبُ إِيلِيَاءَ وَهِرَقْلَ سُقُفاً عَلَى نَصَارَى الشَّامِ يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حِينَ قَدِمَ إِيلِيَاءَ أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ قَدْ اسْتَنْكَرْنَا هَيْئَتَكَ قَالَ ابْنُ النَّاطُورِ وَكَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَالُوا لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا الْيَهُودُ فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ وَاكْتُبْ إِلَى مَدَايِنِ مُلْكِكَ فَيَقْتُلُوا مَنْ فِيهِمْ مِنْ الْيَهُودِ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى أَمْرِهِمْ أُتِيَ هِرَقْلُ بِرَجُلٍ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ خَبَرِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا اسْتَخْبَرَهُ هِرَقْلُ قَالَ اذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ وَسَأَلَهُ عَنْ الْعَرَبِ فَقَالَ: هُمْ يَخْتَتِنُونَ فَقَالَ هِرَقْلُ: هَذَا مُلْكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَدْ ظَهَرَ ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَةَ وَكَانَ نَظِيرَهُ فِي الْعِلْمِ وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ كِتَابٌ مِنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَنَّهُ نَبِيٌّ فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ ثُمَّ أَمَرَ بِأَبْوَابِهَا فَغُلِّقَتْ ثُمَّ اطَّلَعَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الرُّومِ هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرُّشْدِ وَأَنْ يَثْبُتَ مُلْكُكُمْ؟ فَتُبَايِعُوا هَذَا النَّبِيَّ فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ نَفْرَتَهُمْ وَأَيِسَ مِنْ الْإِيمَانِ قَالَ رُدُّوهُمْ عَلَيَّ وَقَالَ إِنِّي قُلْتُ مَقَالَتِي آنِفًا أَخْتَبِرُ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ.
ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ قریش كے ایك تجارتی قافلے میں تھے۔ ہرقل نے اس كی طرف پیغام بھیجا۔ یہ لوگ شام میں تجارت كی غرض سے اس مدتِ معاہدہ كے دوران آئے تھے جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اور ابو سفیان و كفارِ قریش كے درمیان ہوا تھا۔ یہ لوگ ایلیا میں تھے ، ہر قل نے انہیں قریب بلایا اور اس کے پاس روم کے سرکردہ لوگ تھے،اور اپنا ترجمان بھی بلایا۔ ہر قل نے كہا: جو شخص نبوت كا دعوی كرتا ہے اس كا رشتے دار كون ہے؟ ابو سفیان نے كہا: میں ہوں، ہر قل نے كہا: اسے میرے قریب كر دو ۔اور اس كے ساتھیوں كو اس كے پیچھے كھڑا كر دو، پھر اپنے ترجمان سے كہا، ان سے كہو: میں اس سے سوال كروں گا، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو اس كی تكذیب كر دو ۔ابو سفیان نے كہا: اللہ كی قسم مجھے اس بات كی شرم نہ ہوتی كہ یہ مجھے جھوٹا كہیں گے تو میں آپ كے بارے میں جھوٹ بولتا ۔ پھر پہلاسوال ہر قل نے كاہ: تم میں اس كا نسب كیسا ہے؟ ابو سفیان: وہ ہم میں اچھے نسب والے ہیں۔ ہر قل: كیا تم میں سے كسی نے پہلے كبھی ایسی بات كہی ہے؟ ابو سفیان: نہیں۔ہر قل: كیا اس كے آباءو اجداد میں كوئی بادشاہ گزرا ہے؟ ابو سفیان: نہیں ۔ ہر قل: بڑے لوگ اس كی پیروی كرتے ہیں یا كمزور اور غریب لوگ؟ ابو سفیان: كمزور و ضعیف لوگ۔ ہر قل: وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا كم ہو رہے ہیں؟ابو سفیان: وہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ہر قل: كیا اس كے دین میں داخل ہونے كے بعد كوئی اس كے دین كو نا پسند كرتے ہوئے مرتدبھی ہوا ہے ؟ ابو سفیان : نہیں۔ ہر قل : كیا وہ دھوكہ دیتا ہے؟ ابو سفیان : نہیں، لیكن ہمارے درمیان ایك معاہدہ ہوا ہے جس كے بارے میں ہم نہیں جانتے كہ وہ اس میں كیا كرے گا؟ ابو سفیان نے كہا كہ اس بات كے علاوہ مجھے كوئی ایسی بات نہیں ملی جو میں اس گفتگو میں شامل كرتا۔ ہر قل: كیا تم نے اس سے قتال كیا ہے؟ ابو سفیان: ہاں۔ ہر قل: تمہارے درمیان جنگ كی كیا كیفیت رہی؟ ابو سفیان: ہمارے درمیان جنگ كبھی ان كے حق میں اور كبھی ہمارے حق میں رہی۔ ہر قل : وہ تمہیں كیا حكم دیتا ہے؟ ابو سفیان: وہ كہتا ہے ، اللہ كی عبادت كرو، اس كے ساتھ كسی كو شریك نہ كرو، جو تمہارے آباء كہتے ہیں انہیں چھوڑ دو، ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے، پاكدامنی اور صلہ رحمی كا حكم دیتا ہے۔ہر قل نے اپنے ترجمان سے كہا : اس سے كہو، میں نے تم سے اس كے نسب كے بارے میں پوچھا تو تم نے كہا كہ وہ ہم میں اچھے نسب والا ہے، رسول اسی طرح ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی قوم كے اچھے نسب والے خاندان میں مبعوث كیا جاتا ہے۔ اور میں نے تم سے سوال كیا كہ كیا اس سے پہلے بھی كسی نے ایسی بات كہی ہے؟ تو تم نے كہا: نہیں۔ میں كہتا ہوں كہ اگر اس سے پہلے كسی نے ایسی بات كہی ہوتی تو میں كہتا یہ ایسا شخص ہے جو ایسی بات كی نقل كر رہا ہے جو كہی جا چكی ہے۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ كیا اس كے آباء میں سے كوئی بادشاہ گزرا ہے؟ تو تم نے كہا كہ نہیں۔ میں كہتا ہوں كہ اگر اس كے آباء میں سے كوئی بادشاہ ہوتا تو یہ ایسا شخص ہے جو اپنے آباء كی بادشاہت كا خواہش مند ہے۔ میں نے تم سے كہا كہ كاا تم نے كبھی اس پر اس دعوے سے پہلے جھوٹ كی تہمت لگائی ہے؟ تو تم نے كہا: نہیں۔ مجھے معلوم ہو گیا كہ ایك شخص جو لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ كے متعلق كس طرح جھوٹ بول سكتا ہے۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ امیر لوگ اس كی پیروی كر رہے ہیں یا غریب لوگ؟ تو تم نے كہا: غریب لوگ اور یہی لوگ رسولوں كے پیرو كار ہوتے ہیں۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں یا كم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے كہا كہ وہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ ایمان كا معاملہ اسی طرح ہوتا ہے حتیٰ كہ وہ مكمل ہو جائے۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ كیا اس كے دین كو ناپسند كرتے ہوئے كوئی مرتد بھی ہوا ہے؟ تو تم نے كہا: نہیں۔ ایمان كی حالت اسی طرح ہوتی ہے جب اس كی تازگی دلوں میں رچ بس جائے ۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ كیا وہ دھوكہ دہی كرتا ہے؟ تو تم نے كہا: نہیں۔ رسول دھوكہ نہیں دیتے۔ میں نے تم سے سوال كیا كہ وہ تمہیں كس بات كا حكم دیتا ہے؟ تو تم نے كہا كہ وہ تمہیں نماز پڑھنے، سچ بولنے ، پاكدامنی اختیار كرنے ، اللہ كی عبادت كرنے ، شرك نہ كرنے، بتوں كی عبادت سے رك جانے كا حكم دیتا ہے۔ اگر جو تم نے كہا ہے سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان قدموں كے نیچے والی جگہ (تخت) كا مالك بنے گا۔ مجھے یہ معلوم تھا كہ اس كا ظہور ہونے والا ہے لیكن یہ خیال نہیں تھا كہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگر میں سمجھتا كہ میں اس كے پاس پہنچ جاؤں گا تو میں ضرور اس كی ملاقات كے لئے جاتا، اگر میں اس كے پاس ہوتا تو میں اس كے قدم دھوتا۔ پھر اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا وہ خط منگوایا جو آپ نے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ كے ہاتھ بصرہ كے والی كی طرف بھیجا تھا ۔ وہ خط ہر قل كو دیا گیا، ہر قل نے وہ خط پڑھا تو اس میں لكھا تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد اللہ كے بندے اور اس كے رسول كی طرف سے ، ہر قل روم كے بادشاہ كی طرف، اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت كی پیروی كی۔ اما بعد: میں تمہیں اسلام كی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آؤ سلامت رہو گے، اللہ تعالیٰ تمہیں دو گنا اجر دے گا۔ اگر تم اسلام سے پھر گئے تو تم پر تمہاری رعایا كا بھی گناہ ہوگا ’’اور اے اہل كتاب اس كلمہ كی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترك ہے كہ ہم اللہ كے سوا كسی كی عبادت نہ كریں اور نہ اس كے ساتھ كسی كو شریك كریں، اور نہ ہم میں كوئی كسی دوسرے كو اللہ كے علاوہ رب بنائے۔ اگر یہ لوگ پھر جائیں تو تم كہو ہم اس بات كی گواہی دیتے ہیں كہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘( آل عمران) ابو سفیان نے كہا:جب ہر قل اپنی بات كہہ چكا اور خط سے فارغ ہو گیا تو اس كے پاس آوازیں بلند ہونے لگیں اور چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ ہمیں باہر بھیج دیا گیا، جب ہمیں باہر بھیجا گیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے كہا: ابن ابی كبشہ كا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ہے۔ اس سے تو روم كا بادشاہ بھی ڈر رہا ہے۔ پھر مجھے یہ یقین ہو گیا كہ عنقریب وہ غالب ہوگا، حتی كہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام داخل كر دیا۔ابن ناطور ہرقل کی طرف سے ایلیاء کا والی اور نصارٰی شام کا پادری (عالم) بھی تھا۔ابن ناطور كہتا ہے كہ ہر قل جب ایلیا آیا تو ایك دن بوجھل طبیعت كے ساتھ اٹھا، اس كے كسی جرنیل نے كہا: آج ہم آپ كی طبیعت نا ساز دیكھ رہے ہیں۔ ابن ناطور كہتا ہے كہ ہر قل علم نجوم كا ماہر تھا۔ جب ساتھیوں نے اس سے كہا تو اس نے ان سے كہا: آج رات میں نے ستارے دیكھے تو مجھے ختنہ كرنے والے لوگوں كا بادشاہ نظر آیا اس كا ظہور ہو چكا ہے۔ اس امت میں كون لوگ ختنہ كرتے ہیں؟ اس كے ساتھیوں نے كہا: صرف یہودی لوگ ختنہ كرتے ہیں اور آپ کو ان کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ ملک کے بڑے بڑے شہروں کے حاکموں کو لکھ بھیجئے کہ جتنے یہود وہاں ہیں سب قتل کردئے جائیں۔ وہ ابھی اسی گفتگو میں مصروف تھے كہ ہر قل كے پاس ایك آدمی لایا گیا ،جسے غسان كے بادشاہ كی طرف سے بھیجا گیا تھا،وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے بارے میں بتا رہا تھا۔ جب ہر قل نے اس سے یہ ؟؟؟ معلوم کی کہ تو كاب: اسے لے جاؤ اور دیكھو اس كا ختنہ ہوا ہے یا نہیں؟ انہوں نے اسے دیكھا تو انہیں انكشاف ہوا كہ اس كا ختنہ ہوا ہے۔ ہر قل نے اس سے عرب كے لوگوں كے بارے میں پوچھا تو اس نے كہا: وہ ختنہ كرتے ہیں۔ ہر قل نے كہا: یہ اس امت كا بادشاہ ہے، اس كا ظہور ہو گیا ۔ پھر ہر قل نے رومیہ میں اپنے نگران كو خط لكھا وہ بھی علم میں اس كے ہم پلہ تھا، اور خود حمص كی طرف چل پڑا، ابھی وہ حمص پہنچا ہی تھا كہ اس كے پاس اس كے نگران كا خط آ پہنچا جو ہر قل كی رائے كے موافق تھا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا ظہور ہو چكا ہے اور وہ نبی ہیں۔ ہر قل نے حمص میں اپنے ایك بڑے ہال میں روم كے سرداروں كو جمع كیا، پھر دروازے بند كرنے كا حكم دیا۔ اور سامنے آكر كہنے لگا: اے روم كے لوگو كیا تمہیں ہدایت و بھلائی سے كچھ دلچسپی ہے؟ اور یہ كہ تمہاری بادشاہت سلامت رہے ، تو اس نبی كی بیعت كر لو؟ وہ لوگ وحشی گدھوں كی طرح دروازوں كی طرف بھاگے تو انہیں ؟؟؟ جب ہر قل نے ان کی اس قدر نفرت كو دیكھا اور ان كے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو كہنے لگا: انہیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر کہنے لگا: میں نے تمہیں ابھی جو بات کہی تھی وہ اس لیے کہ میں تمہارے دین کی مضبوطی کا امتحان لوں۔ یہ میں نے دیکھ لیا، انہوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے راضی ہوگئے۔ یہ ہر قل کا آخری معاملہ تھا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1027

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مَرفُوعاً: تَفَكَّرُوا فِي آلاءِ اللهِ ، وَلا تَتَفَكَّرُوا فِي اللهِ .
) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : اللہ كی نشانیوں میں غورو فكر كیا كرو، اللہ كے بارے میں غورو فكر نہ كیا كرو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1028

) عَنْ أَنسٍ قَالَ : قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلَاثٌ لَن تَزَالَ في أَمَتِي: التَّفَاخُرُ في الْأَحْسَاب و النِّيَاحَةُ و الأَنْوَاء.
انس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تین عادتیں میری امت میں ہمیشہ رہیں گے۔ حسب نسب میں ایك دوسرے پر فخر كرنا، نوحہ خوانی اور ستارہ پرستی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1029

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: ثَلَاثٌ مِنْ عَمَلِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُنَّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ النِّيَاحَةُ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ وَكَذَا قُلْتُ لِسَعِيدٍ (يعني المقبري): وَمَا هُوَ؟ قَالَ: دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ يَا آلَ فُلَانٍ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: تین كام جاہلیت سے ہیں، اہل اسلام بھی انہیں نہیں چھوڑیں گے: نوحہ خوانی، ستاروں سےبارش طلب كرنا، اور اس طرح میں نے سعید مقبری سے كہا: وہ كیا؟ انہوں نے كہا جاہلیت كا دعوی اے آل فلاں، اے آل فلاں، اے آل فلاں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1030

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيِّ مَرفُوعاً: ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ عَبدَ اللهَ وَحْدَهُ وَأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ رَافِدَةً عَلَيْهِ كُلَّ عَامٍ وَلَا يُعْطِي الْهَرِمَةَ وَلَا الدَّرِنَةَ وَلَا الْمَرِيضَةَ وَلَا الشَّرَطَ اللَّئِيمَةَ وَلَكِنْ مِنْ وَسَطِ أَمْوَالِكُمْ فَإِنَّ اللهَ لَمْ يَسْأَلْكُمْ خَيْرَهُ وَلَمْ يَأْمُرْكُمْ بِشَرِّهِ.
عبداللہ بن معاویہ غاضری سے مرفوعا مروی ہے كہ تین عمل ایسے ہیں جس نے یہ عمل كئے اس نے ایمان كا ذائقہ چكھ لیا:جس شخص نے اللہ وحدہ كی عبادت كی، اور یہ كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبود بر حق نہیں اور خوشدلی سے اپنے مال كی زكوٰۃ دی، ہر سال اس پر كاربند رہا ، زكاۃ میں نہ بوڑھا جانور دیا نہ لاغر، نہ مریض دیا،نہ ہی حقیر جانوردیا،لیكن درمیانے درجے کے مال سے دیا، كیوں كہ اللہ تعالیٰ تمہارا بہترین مال نہیں مانگتا نہ تمہیں برے مال دینے كا حكم دیتا ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1031

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ وَطَعْمَهُ أَنْ يَكُونَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ فِي اللهِ وَيُبْغِضَ فِي اللهِ وَأَنْ تُوقَدَ نَارٌ عَظِيمَةٌ فَيَقَعَ فِيهَا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا.
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص میں یہ تین عادتیں ہوں گی وہ ایمان كی مٹھاس چكھ لے گا۔ اللہ اور اس كا رسول اسے سب سے زیادہ محبوب ہو، اللہ كے لئے محبت كرے اور اللہ كے لئے نفرت كرے، اور یہ كہ ایك بڑی آگ جلائی جائے اور وہ اس میں كود ے یہ كام اسے شرك كرنے سے زیادہ پیارا ہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1032

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اللہ عنہ ، ثَلاثَةٌ لا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُمْ صَرْفٌ، وَلا عَدْلٌ: عَاقٌّ، وَمَنَّانٌ، وَمُكَذِّبٌ بِقَدْرٍ.
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : تین آدمی ایسے ہیں جن کے فرض و نفل اللہ تعالیٰ قبول نہیں كرے گا:(والدین كا) نافرمان، احسان جتلانے والا، تقدیر كو جھٹلانے والا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1033

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رضی اللہ عنہ مَرفوعا: ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا وَمَمْلُوكٌ أَعْطَى حَقَّ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ آمَنَ بِكِتَابِهِ وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم .
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ تین آدمی ایسے ہیں جنہیں دو گنا اجر دیا جائے گا: وہ شخص جس كی كوئی لونڈی تھی اس نےاسے اچھی طرح سكھایا اور اچھی تربیت دی، پھر اسےآزاد كر كے اس سے شادی كر لی۔ دوسرا وہ غلام جس نے اپنےرب اور اپنے مالكوں كا حق ادا كیا، اور وہ شخص جو اپنی كتاب اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر ایمان لایا ۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1034

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَسَأَلَ عَنْ الْعَزْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ أَنَّ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ مِنْهُ الْوَلَدُ أَهْرَقْتَهُ عَلَى صَخْرَةٍ لَأَخْرَجَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا أَوْ لَخَرَجَ مِنْهَا وَلَدٌ وَلَيَخْلُقَنَّ اللهُ نَفْسًا هُوَ خَالِقُهَا.
انس بن مالك رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كےپاس آیا اور”عزل“ كے بارے میں سوال كیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:وہ پانی(كا قطرہ) جس سے بچہ پیدا ہونا ہو اگر تم كسی چٹان پر بھی گرادو گے تو اللہ تعالیٰ اس سے بچہ نكا ل دے گا یا اس سے بچہ نكل آئے گا، اور اللہ تعالیٰ اس جان كو ضرور پیدا كرے گا جس كے پیدا كرنے كا ارادہ كر لیا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1035

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَال: قَال النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَىَّ وفي طريق: إنَ مَلَكَ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا حَتَى أَتَى مُوسَي عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ أَجِبْ رَبَّكَ فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ (يَا رَبِّ!) إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي (وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ) قَالَ فَرَدَّ اللهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعَرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً قَالَ: (أَيْ رَبِّ) ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ: فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ رَبِّ أَمِتْنِي مِنْ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ (قَالَ: فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ قَالَ: فَجَاء بَعد ذَلِك إِلى النَّاسَ خُفيّاً) قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاللهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ وفي الطريق: تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ملك الموت ایك راستے میں آیا۔ اور ایک سند میں یہ الفاظ ہیں۔ پہلے ملك الموت سامنے آیا كرتا تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام كے پاس آیا تو اس سے كہا: اپنےرب كا فیصلہ قبول كرو۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس كی آنكھ پر ہاتھ مار كر اسے پھوڑ دیا۔ ملك الموت اللہ كے پاس واپس گیا اور كہا: (اے اللہ) تو نے مجھے اپنے ایك بندے كی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اس نے میری آنكھ بھی پھوڑ دی ہے(اگر تیرے یہاں اس كی عزت نہ ہوتی تو میں اس پر بہت بھاری ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے اس كی آنكھ دوبارہ ٹھیك كر دی اور فرمایا: میرے بندے كے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو:كیا تم زندگی چاہتے ہو؟ اگر تم زندگی چاہتے ہو تو اپنا ہاتھ بیل كی پشت پر ركھو، جتنے بالوں كو تمہارا ہاتھ ڈھانپ لے تو ہر بال كے بدلے تم ایك سال زندہ رہو گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے كہا:(اے میرے رب) پھر اس كے بعد كیا ہوگا؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: پھر تم مر جاؤ گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے كہا: تو پھر ابھی كیوں نہیں ۔ اے میرے رب مجھے ارض مقدسہ كے مقام پر موت دے(ملك الموت نے انہیں ہلكا سا چھوا اور اس كی روح قبض كر لی، پھر اس کےبعد ملك الموت لوگوں كے پاس پوشیدہ آنے لگا)۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: واللہ اگر میں اس كے پاس ہوتا تو تمہیں اس كی قبر دكھاتا، سرخ ٹیلے کے پاس راستے میں اور ایک روایت میں ہے کہ : سرخ ٹیلے کے نیچے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1036

عَنْ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جنت تمہارے نزدیك تمہارے جوتے كے تسمے سےبھی زیادہ قریب ہے، اور آگ بھی اسی طرح ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1037

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تبارك وتعالى أَنَّهُ قَالَ: الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ وَالسَّيِّئَةُ بِوَاحِدَةٍ أَوْ أَغْفِرُهَا وَلَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ہمیں صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث قدسی بیان کی كہ اللہ تبارك وتعالیٰ نے فرمایا: نیكی( كا اجر )دس گنا ہے یا میں زیادہ بھی كر سكتا ہوں، اور گناہ ایك ہی ہے یا میں اسے بھی بخش دوں۔ اگر تم زمین بھر كے گناہ لے كر مجھ سے اس حال میں ملوكہ تم نے شرك نہ كیا ہو تو میں بھی زمین بھرمغفرت لے كر تم سے ملوں گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1038

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ:الْحَلالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ شُبُهَاتٌ، فَمَنْ أَوْقَعَ بِهِنَّ فَهُوَ قَمِنٌ أَنْ يَأْثَمَ، وَمَنِ اجْتَنَبَهُنَّ فَهُوَ أَوْفَرُ لِدِينِهِ كَمُرْتِعٍ إِلَى جَنْبِ حِمًى أَوْشَكَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، لِكُلِّ مَلَكٍ حِمًى، وَحِمَى اللهِ الْحَرَامُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح کرلیاہے، اور ان كےدرمیان كچھ شبہے والی چیزیں ہیں، جو ان میں داخل ہو گیا تو قریب ہے كہ وہ گناہ كر لے اور جو ان سے بچ گیا تو اس نے اپنے آپ کو كو محفوظ کرلیا، اس چرواہے کی طرح چراگاہ كے ارد گرد چر رہی ہے قریب ہے كہ وہ اس میں داخل ہو جائے ہر بادشاہ كی ایك چراگاہ ہے اور اللہ كی چراگاہ حرام كر دہ چیزیں ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1039

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مرفوعا: الْحَيَاء مِن الْإِيمَان ، و أَحْيَا أمَتِي عُثمَان رضی اللہ عنہ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: حیا ایمان سے ہے اور میری امت میں سب سے با حیا شخص عثمان ( رضی اللہ عنہ )ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1040

عَنْ عَبْدِ اللهِ مرفوعا: خَلَقَ اللهُ يَحْيَى بن زَكَرِيَّا فِي بَطْنِ أُمِّهِ مُؤْمِنًا، وَخَلَقَ فِرْعَوْنَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ كَافِرًا.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : اللہ تعالیٰ نے یحییٰ علیہ السلام كو اس كی ماں كے پیٹ میں مومن بنایا اور فرعون كو اس كی ماں كےپیٹ میں كافر بنایا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1041

عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ: اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾ لقمان. ( )
عبداللہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے اپنے والد بریدہ سے سنا كہہ رہے تھے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پانچ باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ كے علاوہ كوئی نہیں جانتا ۔اللہ تعالیٰ كو قیامت كا علم ہے، اور وہ بارش برساتا ہے، ماں كے رحم میں موجود بچے كو جانتا ہے، اور كوئی شخص نہیں جانتا كہ كل كیا كمائے گا، اور كوئی شخص نہیں جانتا كہ كس زمین میں مرے گا، یقینا اللہ تعالیٰ علم ركھنے والا خبر ركھنے والا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1042

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ قَالَ: فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ! تَعَالَهْ قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ: إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمْ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا فَقَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللُّبْثَ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ يَقُولُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى! قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ! جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ: ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ قَالَ بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ! وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى؟ قَالَ نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ.
ابو ذر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك رات میں باہر نكلا كیا دیكھتا ہوں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اكیلے چلے جا رہے ہیں، ان كے ساتھ كوئی بھی نہیں ۔ میں سمجھا شاید انہیں اچھا نہ لگتا ہو كہ كوئی ان كے ساتھ چلے، میں چاند كے سائے میں چلنے لگا۔ آپ نے میری طرف دیكھا تو پوچھا: كون ہو؟ میں نے كہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان كرے ،میں ابو ذر ہوں۔ فرمایا اے ابو ذرآجاؤ میں كچھ دیر آپ كے ساتھ چلا تو آپ نے كہا: زیادہ جمع كرنے والے قیامت كے دن سب سے كم مال والے ہوں گے سوائے اس كے جسے اللہ تعالیٰ مال عطا كرے، تو وہ اسے اپنے دائیں بائیں آگے پیچھے خرچ كرے اور اس كے ساتھ بھلائی كا كام كرے۔ پھر میں كچھ دیر آپ كے ساتھ چلتا رہاآپ نے مجھے ایک نرم زمین پربٹھایا اس کے اردگرد پتھر پڑے ہوئے تھےتو آپ نے مجھ سے كہا یہاں بیٹھ جاؤ۔ جب تك میں واپس نہ آ جاؤں ، آپ حرہ (نامی وادی)میں چلتے ہوئے آنكھوں سے اوجھل ہو گئے۔ آپ كافی دیر بعد آئے، پھر میں نے انہیں كہتے ہوئے سنا: اگرچہ وہ چوری كرے یا زنا كرے۔ جب وہ آئے تو مجھ سے صبر نہ ہو سكا میں نے كہا: اے اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان كرے، حرہ كی طرف كس سے بات كی جا رہی تھی؟ میں نے كسی شخص كو جواب دیتے ہوئے نہیں سنا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ جبریل تھے جو حرہ كی جانب مجھ سے ملے اور كہنے لگے اپنی امت كو خوشخبری دے دیجئے كہ جو شخص اس حال میں مرا كہ اس نے اللہ تعالیٰ كے ساتھ شرك نہ كیا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے كہا: اے جبریل اگرچہ اس نے چوری كی ہو اور زنا كیا ہو؟ جبریل نے كہا: ہاں۔ میں نے كہا : اگر چہ اس نے چوری كی ہو اور زنا كیا ہو؟ جبریل نے كہا: ہاں۔ اگرچہ اس نے شراب بھی كیوں نہ پی ہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1043

) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ وَحَجَّ الْبَيْتَ لَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا قَالَ مُعَاذٌ أَلَا أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ذَرِ النَّاسَ يَعْمَلُونَ فَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَـيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْفِـرْدَوْسُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَفَـوْقَ ذَلِكَ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِـنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ فَإِذَاسَأَلْتُمُ اللهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس نے رمضان كے روزے ركھے ،نماز ادا كی اور بیت اللہ كا حج ادا كیا، مجھے معلوم نہیں آپ نے زكاۃ كا ذكر كیا یا نہیں تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے بخش دے۔ اللہ كے راستے میں ہجرت كی یا اپنی اسی زمین میں بیٹھا رہا جس میں پیدا ہوا۔ معاذ نے كہا: كیا میں لوگوں كو خبر نہ دوں؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لوگوں كو ان كے حال پر چھوڑ دو وہ عمل كرتے رہیں كیوں كہ جنت میں سو درجے ہیں ہر دو درجوں كے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان كے درمیان ہے، اور فردوس جنت كا وسطی اور بلند ترین حصہ ہے ۔ اس كے اوپر رحمن كا عرش ہے ، اسی سے جنت کی نہریں جاری ہیں۔ جب تم اللہ سے سوال كرو تو فردوس كا سوال كرو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1044

عَنْ أَنَسِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ذَرُوهَا ذَمِيمَةً.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم ایك گھر میں تھے جس میں ہماری تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارا مال(مویشی) بھی زیادہ تھا۔ پھر ہم ایك دوسرے گھر میں گئے جس میں ہماری تعداد بھی كم ہوگئی اور ہمارا مال بھی كم ہوگیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے قابل مذمت حالت میں چھوڑ دو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1045

عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشرين جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سچا خواب نبوت كا پچیسواں حصہ ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1046

عن أبي عُبَيدة بن الجَرَّاحَ رضی اللہ عنہ عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رأيتُ ربِّي في أَحْسَنِ صُورةٍ، فَقَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الملأُ الأعَلى؟ فقُلتُ: لَا أَدْرِي، فَوَضَعَ يَدَه بَيْنَ كَتِفيَّ، حتَّى وَجَدتُ بَرْدَ أَنَامِلِه، ثُمَّ قَالَ: فِيْمَ يَخْتَصِمُ المَلَأُ الأعَلى؟ قُلْتُ: في الكَفَّارَاتِ والدَّرَجَاتِ، قَالَ: ومَا الكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ: إِسْبَاغُ الوُضُوءِ في السَّبَراتِ، ونَقْلُ الأَقْدَامِ إلى الجَمَاعَاتِ، وانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَمَا الدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَصَلَاةٌ بِاللَّيْلِ والنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ:قُلْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلِ: اللهمّ! إنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلاً بِالحَسَنَاتِ، وتَرْكاً لِلْمُنْكَرَاتِ، وإذا أَرَدْتَ في قَومٍ فِتْنَةً وَأَنَا فِيهِم؛ فَاقْبِضْنِي إِلِيكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ.
ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نے اللہ عزوجل كو احسن ترین صورت میں دیكھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ فرشتے كس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے كہا : مجھےمعلوم نہیں۔اللہ نے اپنا ہاتھ میرے كاندھوں كے درمیان ركھا حتی كہ میں نے انگلیوں كی ٹھنڈك محسوس كی ، پھر فرمایا: یہ فرشتے كس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے كہا: كفارات اور درجات میں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كفارات كیا ہیں؟ میں نے كہا: ٹھنڈی صبح كے وقت اچھی طرح وضو كرنا، جماعت كی طرف قدم اٹھانا، نماز كے بعد نماز كا انتظار كرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: درجات كیا ہیں؟ میں نے كہا: كھانا كھلانا، سلام كو عام كرنا، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں اس وقت نماز پڑھنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كہو میں نے كہا: میں كیا كہوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كہو: اللهمّ! إنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلاً بِالحَسَنَاتِ، وتَرْكاً لِلْمُنْكَرَاتِ، وإذا أَرَدْتَ في قَومٍ فِتْنَةً وَأَنَا فِيهِم؛ فَاقْبِضْنِي إِلِيكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ. اے اللہ میں تجھ سے نیك عمل كرنے اور برائیوں كو چھوڑنے كا سوال كرتا ہوں، اور جب تو كسی قوم كو آزمانے كا ارادہ كرے اور میں اس میں ہوں تو مجھے بغیر آزمائے موت دے دے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1047

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ. ( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:آدمی اپنے دوست كے دین پر ہوتا ہے، تو ہرشخص دیكھےكہ اس كادوست كون ہے
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1048

عَنْ أَنسٍ مرفوعا: سَأَلتُ رَبِّي اللَاهِين، فَأَعطَانيهم. قُلْتُ: وَ مَا اللَاهُون؟ قَال: ذَرَارِيَّ البَشَرِ.
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میں نے اپنے رب سے لاہین كا سوال كیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے دے دیئے۔ میں نے پوچھا:لاہین كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگوں كے بچے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1049

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دو عادتیں ایسی ہیں جو جاہلیت سے ہیں لوگ انہیں كبھی نہیں چھوڑیں گے۔ نوحہ خوانی اور نسب میں طعن كرنا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1050

عَنْ ابنِ عَبَاسٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ! مَا الْكَبَائِر؟ قَالَ الشِّرْكُ بِاللهِ وَالْإيَاسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول كبائر كیا ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كے ساتھ شرك كرنا اللہ كی رحمت سے نا امید ہونا، اور اللہ كی رحمت سے مایوس ہونا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1051

عن أنس رضی اللہ عنہ قال لمَّا جاءَ نَعْيُ النَّجَاشِي قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : صَلُّوا عليه. قالوا: يا رسول الله ! نُصَلِّي على عَبْدٍ حَبَشِيٍّ (لَيْسَ بِمُسْلِمٍ) ؟ فأنزل الله عز وجل: وَ اِنَّ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ خٰشِعِیۡنَ لِلّٰہِ ۙ لَا یَشۡتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ال عمران 199. ( )
۱) انس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ جب نجاشی كی موت كی خبر آئی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس كی نماز جنازہ پڑھو۔ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا ہم ایك حبشی شخص كی نماز جنازہ پڑھیں(جو مسلمان بھی نہیں)؟ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:(آل عمران 199) ” اور اہل كتاب میں سے ایسے بھی لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو تمہاری طرف نازل كیا گیا ، اور جو ان كی طرف نازل كیا گیا اس پر ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اللہ كی آیات كے بدلے تھوڑی قیمت نہیں لیتے“۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1052

عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الهِل صلی اللہ علیہ وسلم : ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غَيرِهِ فَقَالَ أَبُو رَزِين أَوَ يَضْحَكُ الرَّبُّ عزوجل؟ قَالَ: نَعَمْ فَقَالَ: لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا.
٢) ابو رزین سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہمارا رب اپنے بندوں كی مایوسی پر ہنستا ہے ۔ ابو رزین نے كہا: كیا اللہ عزوجل بھی ہنستا ہے؟ آپ نے فرمایا:جی ہاں ، ابورزین نے كہا: جو رب ہنستا ہے ہم كبھی بھی اس كی خیر سے مایوس نہیں ہوں گے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1053

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌طَلَعَ رَاكِبَانِ فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ حَتَّى أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ قَالَ فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ قَالَ فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ مَاذَا لَهُ؟ قَالَ: طُوبَى لَهُ قَالَ: فَمَسَحَ يَدِهِ فَانْصَرَفَ ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنْ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ قَالَ طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ قَالَ فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ.
ابو عبدالرحمن جہنی سے مروی ہے انہوں نے كہا: ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس تھے۔ دوسوار آئے جب آپ نے انہیں دیكھا توفرمایا: دونوں كندی ہیں۔ مذحجی ہیں۔ جب وہ آپ كے پاس آگئے تو وہ(مذحج)كے آدمی تھے۔ ان میں سے ایك آپ كی بیعت كرنے كے لئے آگے بڑھا جب اس نے آپ كا ہاتھ پكڑا تو كا : اے اللہ كے رسول آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جس نے آپ كو دیكھا تو آپ پر ایمان لایا، آپ كی تصدیق كی اور آپ كی پیروی كی، اس كے لئے كیا اجر ہے؟ آپ نے فرمایا : اس كے لئے طوبی(جنت کی خوش خبری )ہے۔ اس نے آپ كا ہاتھ چھوا پھر واپس ہو گیا، پھر دوسرا شخص آگے آیا اور بیعت كرنے كےلئے آپ كا ہاتھ پكڑا اور كہا : اے اللہ كے رسول آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جو آپ پر ایمان لایا، آپ كی تصدیق كی، اور آپ كی پیروی كی اور آپ كو نہیں دیكھا؟ آپ نے فرمایا: اس كے لئے خوشخبری ہے ، اور پھر اس كے لئے خوشخبری ہے۔ پھر اس كے لئے خوشخبری ہے۔ اس شخص نے آپ كا ہاتھ چھوا اور واپس پلٹ گیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1054

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّاهُ! حَدِّثِينِي بِشَىءٍ سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الطَّيْرُ تَجْرِي بِقَدَرٍ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ.
ابو بردہ كہتے ہیں كہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا كے پاس آیا اور كہا: اے امی جان مجھے كوئی ایسی حدیث بیان كیجئے جو آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہو۔ انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پرندے تقدیر پریقین رکھتے ہوئےاڑتے ہیں اور آپ كو اچھی فال پسند تھی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1055

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ مَرفُوعا: الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا... وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ.
٥) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ بدشگونی شرك ہے، اور ہم میں سے كوئی نہیں مگر۔۔۔(اس کے ذہن میں وسوسے آتے ہیں) لیكن اللہ تعالیٰ اسے توكل كے ذریعے ختم کردیتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1056

عن أَنس مرفوعا: الظُّلم ثَلَاثَةٌ ، فَظُلْمٌ لَا يَتْرُكْه اهلُ وظلمٌ يَغْفِر و ظلمٌ لَا يَغْفِر ، فَأَمَّا الظُّلمُ الَّذِي لَا يَغْفِرُ ، فَالشِّرْكُ لَا يَغْفِرَه الله ، و أَمَا الظُّلمُ الَّذِي يَغْفِرُ، فَظُلْمُ الْعَبْدِ فِيمَا بَيْنَه و بَيْنَ رَبِّه ، و أَمَا الظُّلمُ الَّذِي لَا يَتركُ ، فَظُلْمُ الْعِبَادِ ، فَيَقْتَصّ اللهُ بَعْضَهُم مِنْ بَعْضٍ.
٦) انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ ظلم تین قسم كے ہیں: ایك ظلم كو اللہ تعالیٰ نہیں چھوڑے گا، اور ایك ظلم كو بخش دے گا اور تیسرا ظلم بخشا نہیں جائے گا۔ وہ ظلم جو بخشا نہیں جائے گا وہ شرك ہے، جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں كرے گا ۔اور وہ ظلم جسے اللہ تعالیٰ بخش دے گا تو وہ یہ ظلم ہے جو بندے اور اس كے رب كے درمیان ہے، اور وہ ظلم جسے چھوڑا نہیں جائے گا وہ بندوں كے ظلم ہیں ، اللہ تعالیٰ ایك دوسرے كو بدلہ لے كر دے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1057

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے بندے كے گمان كے مطابق ہوتاہوں اور جب وہ مجھے پكارتا ہے میں اس كے ساتھ ہوتا ہوں
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1058

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ وَفِي رِوَاية: يَسُب الدَهر. فَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے : ابن آدم مجھے تكلیف دیتا ہے ،كہتا ہے ہائےزمانے كی خرابی اور ایك روایت میں ہے زمانے كو گالی دیتا ہے۔ اس لئے تم میں سے ہرگز كوئی نہ كہے: ہائے زمانے كی خرابی كیوں كہ میں زمانہ ہوں، میں اس كے رات دن پھیرتا ہوں، اور جب چاہوں گا انہیں قبض كر لوں گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1059

عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَوْلُهُ: وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ (۴۴) وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ (۴۵) وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ (۴۷) قَالَ هِيَ فِي الْكُفَّارِ كُلُّهَا.
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كا فرمان ہے: اور جس شخص نے اللہ كے نازل كردہ (قرآن) كے مطابق فیصلہ نہ كیا تو یہی لوگ كافر ہیں۔ اور جس شخص نے اللہ كے نازل كردہ (قرآن) كے مطابق فیصلہ نہ كیا تو یہی لوگ ظالم ہیں، اور جن لوگوں نے اللہ كے نازل كر دہ (قرآن) كے مطابق فیصلہ نہ كیا تو یہی لوگ فاسق ہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ تمام آیات كفار كے بارے میں ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1060

عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ امرأةً من جُهَيْنةِ قَالَتْ: إِنّ حبْراًجاءَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال: إِنَّكُمْ تُشْرِكُونَ! تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَشِئْتَ وَتَقُولُونَ وَالْكَعْبَة فَقَال رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ شِئْتَ وقولوا: وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.
٦٠) قتیلہ بنت صیفی جُهَيْنةِسے مروی ہے كہ ایك یہودی عالم نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: تم بھی شرك كرتے ہو، تم كہتے ہو جو اللہ نے چاہا اور جو تونے چاہا اور تم كہتے ہو كعبہ كی قسم،تب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم كہو: جو اللہ نے چاہا پھر جو تم چاہو اور كہو كعبہ كے رب كی قسم۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1061

عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ: دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَاهَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُون: الطِّيَرَةُ مِنْ الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ. فَغَضِبَتْ فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ وَقَالَتْ: وَالَّذِي أَنْزَلَ الْفُرْقَانَ عَلَى مُحَمَّدٍ مَا قَالَهَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَطُّ إِنَّمَا قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ.
ابو حسان سے مروی ہے كہتے ہیں كہ بنو عاصم سے دو آدمی عائشہ رضی اللہ عنہا كے پاس آئے اور انہیں بتایا كہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان كرتے ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اہل جاہلیت یہ كہا كرتے تھے کہ نحوست گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہے۔ وہ غصے ہو گئیں، كبھی آسمان كی طرف دیكھتیں،كبھی زمین كی طرف اور كہنے لگیں اس ذات كی قسم جس نے محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر قرآن نازل كیا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كبھی بھی یہ نہیں كہا وہ تو كہا كرتے تھے كہ اہل جاہلیت ان سے بدشگونی لیتے تھے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1062

عَنْ أَبِي نَضْرَة الْعَوَقِيّ قَالَ: سَأَلتُ أَبَا سَعِيد الْخُدْرِيّ عَن خَاتَم رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فقال: كَان خَاتَم النُّبُوَّة في ظَهْره بَضْعَةٌ نَاشِزَةٌ .
ابو نضرہ عوفی سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ كی مہر نبوت كے بارے میں پوچھا تو انہوں نےكہا نبوت كی مہر آپ كی پشت پر ابھری ہوئی تھی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1063

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓعَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم :كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ: انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ يُحْرِقُوهُ حَتَّى يَدَعُوهُ حُمَمًا ثُمَّ اطْحَنُوهُ ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمِ رِيحٍ (ثُمَّ أَذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللهِ لَئِنْ قَدَرَ اللهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ) فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ (فَأَمَرَ اللهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ) فَإِذَا هُوَ (قَائِمٌ) فِي قَبْضَةِ الهُِ فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ! مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ أَيْ رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ وفي الطريق آخر: مِنْ خَشْيَتِكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ قَالَ فَغُفِرَ لَهُ بِهَا وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ. ( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوںمیں ایك شخص ایسا تھا جس نے توحید کے اقرارکے علاوہ كبھی كوئی بھلائی نہیں كی تھی، جب اس كی موت كا وقت آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے كہا: دیكھو جب میں مر جاؤں تو میری لاش كو جلا كر كوئلہ كر دینا ،پھر اسے پیس كر كسی آندھی والے دن بكھیر دینا(اس كا نصف خشكی میں اور نصف سمندر میں بكھیر دینا، اللہ كی قسم اگر اللہ تعالیٰ نے اس پر قدرت حاصل كر لی تو اسے شدید عذاب دے گا۔ ایسا عذاب دنیا والوں میں سے كسی كو نہ دیا ہوگا)۔ جب وہ مر گیا تو انہوں نے ایسا ہی كیا۔( اللہ تعالیٰ نے خشكی كو حكم دیا تو اس نے تمام ذرات كو جمع كر دیا، اور سمندر كو حكم دیا تو اس نے بھی تمام ذرات كو جمع كر دیا) پھر وہ اللہ كے قبضے میں (كھڑا)تھا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: اے ابن آدم تمہیں اس كام پر كس نے مجبور كیا؟ اس نے كہا: اے رب، تیرے ڈر نے ۔ اور ایك دوسری روایت میں ہے: تو جانتا ہے كہ تیرے ڈر سے ایسا كام كیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس كے اس عمل كی وجہ سے اسے بخش دیا۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1064

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فَجَزِعَ فَأَخَذَ سِكِّينًا فَحَزَّ بِهَا يَدَهُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ قَالَ اللهُ تَعَالَى بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ.
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایك شخص تھا جسے ایك زخم لگا تووہ گھبرا گیا۔ اس نے چھری لے كر اپنا ہاتھ كاٹ لیا، جب تك وہ مرنہ گیا خون نہ ركا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے متعلق فیصلہ كرنے میں جلدی كی میں نے اس پر جنت حرام كر دی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1065

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اللہ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُفْرٌ بِالمْرِءِ ادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يَعْرِفُهُ أَوْ جَحْدُهُ وَإِنْ دَقَّ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آدمی كا كفر یہ ہے كہ وہ كسی ایسے نسب كا دعویٰ كرے جسے وہ جانتا نہ ہو یااگر معمولی ہوتو اس كا انكار كرے ۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1066

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حِيدة قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَلَّا آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللهُ وَرَسُولُهُ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟ قَالَ: بِالْإِسْلَامِ قَالَ: قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَخَلَّيْتُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ أَخَوَانِ نَصِيرَانِ لَا يَقْبَلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ مُشْرِكٍ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا أَوْ يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ.
معاویہ بن حیدہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے نبی جب تك میں آپ كے پاس پہنچا تو میں نے ان(انگلیوں) كی تعداد سے زیادہ مرتبہ قسم كھا ئی كہ میں آپ كے پاس نہیں آؤں گا اور نہ آپ كے دین كے پاس آؤں گا۔میں ایسا آدمی تھا جسے كسی چیز كی سمجھ نہیں تھی سوائے اس كے جو اللہ اور اس كے رسول نے سكھا دی، اور میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ اللہ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ یا مبعوث کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام كے ساتھ ۔میں نے كہا: اسلام كی نشانیا ں كیا ہیں؟ آپ نے فرمایا:تم كہو، میں نے اپنے چہرے كو اللہ كی طرف مطیع كر لیا، (باقی تمام چیزوں سے)، اور تم نماز قائم كرو ،زكاۃ ادا كرو، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے لائقِ حرمت ہے۔یہ دونوں بھائی ایک دوسرےکی مدد کرنے والے ہیں۔اسلام لانے كے بعد اللہ تعالیٰ كسی مشرك كا كوئی عمل قبول نہیں كرے گا، یا وہ مشركین كو چھوڑ كر مسلمانوں كی طرف آجائے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1067

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنْ اسْمِهِ فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ.
عبداللہ بن بریدہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كسی چیز سے بدشگونی نہیں لیا كرتے تھے۔ اور آپ جب كسی عامل كوبھیجتے تو اس كے نام كے بارے میں پوچھتے، جب اس كا نام آپ كو پسند آتا تو آپ خوش ہو جاتے اور آپ كے چہرے میں اس كی تروتازگی دیكھی جاتی، اور اگر اس كا نام پسند نہ آتا تو نا پسندیدگی آپ كے چہرے میں دیكھی جاتی، اور جب كسی بستی میں داخل ہوتے تو اس كا نام پوچھتے، اس كا نام پسند آجاتا تو خوش ہو جاتے اور آپ كے چہرے پر تروتازگی دیكھی جاتی اور اگر اس كا نام پسند نہ آتا تو آپ كے چہرے میں اس كی كراہیت دیكھی جاتی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1068

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فال نہ نكالتے، نہ بدشگونی لیتے اور انہیں اچھا نام پسند آتا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1069

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالُوا: فَكَيْفَ الْعَمَل يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم جو عمل كرتے ہیں اس كے بارے میں آپ كا كیا خیال ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جس سے فارغ ہو اجا چكا ہے یا ایسا معاملہ ہے جسے ہم نئے سرے سے كرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلكہ ایسا معاملہ ہے جس سے فارغ ہوا جا چكا ہے۔ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول پھر عمل كس بات كا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی كو اس كام كی طرف آسانی دی جاتی ہے جس كے لئے وہ پیدا كیا گیا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1070

عَنْ خَالِدِ بْنِ دِهْقَانَ قَالَ كُنَّا فِي غَزْوَةِ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ بِـ(ذُلُقْيَةَ) فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَخِيَارِهِمْ يَعْرِفُونَ ذَلِكَ لَهُ يُقَالُ لَهُ هَانِئُ بْنُ كُلْثُومِ بْنِ شَرِيكٍ الْكِنَانِيُّ فَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا وَكَانَ يَعْرِفُ لَهُ حَقَّهُ قَالَ لَنَا خَالِدٌ: فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا أَوْ مُؤْمِنٌ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا.
خالد بن دھقان سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم قسطنطنیہ كے غزوے میں(ذلقیہ)كے مقام پر شریك تھے۔ اہل فلسطین كے اشراف سے ایك آدمی ان كی طرف متوجہ ہوا، لوگ اس كی حالت جانتے تھے۔ اسے ھانی بن كلثوم بن شریك كنانی كہا جاتا تھا۔ اس نے عبداللہ بن ابی زكریا كو سلام كہا، وہ اس كا حق پہچانتے تھے۔ خالد نے ہمیں كہا كہ عبداللہ بن ابی زكریا نے ہمیں بیان كیا كہتے ہیں كہ میں نے ام درداءسے سنا كہہ رہی تھیں كہ میں نے ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ كہہ رہے تھے كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے : ممكن ہے اللہ تعالیٰ ہر گناہ كو معاف كر دے سوائے اس شخص كے جو شرك كی حالت میں مر گیا، یا جس نے كسی مومن كو جان بوجھ كر قتل كیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1071

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ سَبَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلا سَبَبِي ونَسَبِي.
) آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت كے دن سوائے میرے ذریعے اور نسب كےہر ذریعہ ختم ہو جائے گا ۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1072

عَنْ طَاوس اليَماني أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ قَالَ طاوس: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ أَوْ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ.
طاؤس یمانی رحمۃ اللہ علیہ سےمروی ہےانہوں نےكہاكہ میں نےرسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ كوپایا،فرماتےتھے: ہر چیز تقدیر سے ہے،طاؤس نے کہا:اور میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ فرما رہے تھےکہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہرچیز تقدیر سے ہے،حتی كہ عاجزی اوردانشمندی بھی یا دانشمندی اور عاجزی بھی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1073

عَنْ ابْنِ عُمر ، قَالَ : سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: كُلُّ يَمِينٍ يُحْلَفُ بِهَا دُون الله شِركٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: اللہ كے علاوہ جس كی بھی قسم كھائی جائے وہ شرك ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1074

عَنْ يَزِيدِ بن مَرْثَد قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كَمَا لَا يُجْتَنَى من الشَّوْكِ الْعِنَبَ، كَذَلِك لَا يُنَزَّل الْأَبْرَار مَنَازِلَ الْفُجَّار، فَاسْلُكُوا أَيَّ طَرِيقٍ شِئْتُم ، فَأَيَّ طَرِيقٍ سَلَكْتُم وَرَدْتُمْ عَلَى أَهْلِهِ.
یزید بن مرثد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس طرح كانٹے دار جھاڑی سے انگور نہیں چنا جا سكتا اسی طرح نیک لوگ بدلوگوں كے درجات پر نہیں لائے جائیں گے۔ جس راستے پر چاہوچلو كیوں كہ تم جس راستے پر چلو گے اسی راستے والوں سے ملو گے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1075

قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ: لَا أَقُولُ فِي رَجُلٍ خَيْرًا وَلَا شَرًّا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يُخْتَمُ لَهُ يَعْنِي بَعَدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قِيلَ: وَمَا سَمِعْتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَشَدُّ انْقِلَابًا مِنْ الْقِدْرِ إِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْياناً.
) مقداد بن اسود نے كہا: میں كسی شخص كے بارے میں نیک یابدنہیں کہہ سکتا، جب تك میں دیكھ نہ لوں كہ اس كا خاتمہ كس طرح ہوا۔ یعنی جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا ہے ۔پوچھا گیا: تم نے كیا سنا؟ انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: ابنِ آدم كا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ تیزی سے بدلتا ہے جو ہنڈیا كھول رہی ہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1076

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةٌ وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ.
) ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر چیز كی ایك حقیقت ہے اور بندہ ایمان كی حقیقت تك اس وقت تك نہیں پہنچ سكتا جب تك اسے اس بات كا پختہ علم نہ ہو جائے كہ جو کچھ اسے ملنے والا ہے وہ اس سے ٹلنے کا نہیں۔ اور جو کچھ اس کو (اللہ کی طرف سے) نہیں ملنا تھا وہ اسے (کسی صورت) حاصل نہیں کرسکتا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1077

عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لِلجَارِية: اخْرُجِي فَقُولِي لَهُ: قُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ. قَالَ فَسَمِعْتُها قَبْل أَن تَخرجَ إليّ الجَارِيةُ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ فَقَالَ: وَعَليكَ اُدْخُلْ. قَالَ فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ بِأَيِّ شِئٍ جِئتَ؟ فَقَالَ لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ أَتَيْتُكُمْ لِتَعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَتَدَعُوا عِبَادة اللَّاتِ وَالْعُزَّى وَتُصَلُّوا فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَتَصُومُوا مِنْ السَّنَةِ شَهْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا هَذا الْبَيْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ مَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ لَقَدْ عَلِمَ اللهُ خَيْرًا وَإِنَّ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللهُ خَمسٌ لَا يَعلمُهُن إلا الله: اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ لقمان: ٣٤
بنی عامر كے ایك آدمی سے مروی ہے كہ وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا كیا میں اندر آسكتا ہوں؟ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے لونڈی سے كہا: باہر جاؤ اور اس سے كہو كہ وہ السلام علیكم كہہ كر پوچھے كہ كیا میں اندر آسكتا ہوں؟ كیوں كہ اس نے احسن انداز میں اجازت طلب نہیں كی۔ اس نے كہا كہ میں نے لونڈی كے پہنچنے سے پہلے ہی یہ بات سن لی۔ میں نے كہا: السلام علیكم ، كیا میں اندر آسكتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلیك(تم پر بھی) اندر آجاؤ۔ میں اندر آیا، اور پوچھا آپ كونسی بات لائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہارے پاس صرف بھلائی لایا ہوں۔ میں تمہارے پاس یہ پیغام لے كر آیا ہوں كہ تم اللہ كی عبادت كرو جو اكیلا ہے اور اس كا كوئی شریك نہیں اور تم لات و عزی كی عبادت چھوڑدو ، رات اور دن میں پانچ نمازیں پڑھو، سال میں ایك ماہ كے روزے ركھو، اور اس گھر كا حج كرو، اور اپنے امیروں كے اموال لے كر اپنے غریبوں میں تقسیم كرو۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ بہترجانتا ہے اور ایسا بھی علم ہے جو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ پانچ باتیں ایسی ہیں جو صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ یقینا اللہ كے پاس قیامت كا علم ہے، وہ بارش برساتا ہے اور ماں كے رحم میں موجود بچے كو جانتا ہے، اور كسی نفس كو نہیں پتہ كہ كل وہ كیا كمائے گا، اور كسی نفس كو نہیں پتہ كہ وہ كس علاقے میں مرے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1078

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَكَّةَ رَنَّ إِبْلِيسُ رَنَّةً اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ جُنُودُهُ، فَقَالَ: ايْئَسُوا أَنْ نَرَى أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلَى الشِّرْكِ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَا ، وَلَكِنِ افْتُنُوهُمْ فِي دِينِهِمْ ، وَأَفْشُوا فِيهِمُ النَّوْحَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مكہ فتح كیا تو ابلیس بے تحاشہ رویا۔ اس كے چیلےلاؤ لشكرکے ساتھ اس كے گرد جمع ہو گئے۔ شیطان نے كہا: اس بات سے نا امید ہو جاؤ كہ ہم اس دن كے بعد امت محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو شرك پر دیكھیں گے۔ لیكن انہیں ان كے دین میں فتنے میں ڈال دو اور ان میں نوحہ خوانی عام كردو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1079

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظِعْتُ بِأَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ فَقَعَدَ مُعْتَزِلًا حَزِينًا قَالَ: فَمَرَّ عَدُوُّ اللهِ أَبُو جَهْلٍ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: كَالْمُسْتَهْزِئِ هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : نَعَمْ قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ فَلَمْ يَرَ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَعَمْ فَقَالَ: هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ! قَالَ فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا قَالَ: حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالُوا: إِلَى أَيْنَ؟ قَال: إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالُوا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ! قَالُوا: وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ قَالَ: فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عِقَالٍ أَوْ عُقَيْلٍ فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَالَ: وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللهِ لَقَدْ أَصَابَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس رات مجھے معراج كروائی گئی اور میں مكہ میں آیا تومیں اپنے معاملے میں پر اعتماد نہ تھااور مجھے معلوم ہوگیا كہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ۔ آپ غمگین ہو كر علیحدہ بیٹھ گئے۔ اللہ كا دشمن ابو جہل وہاں سے گزرا اور آكر آپ كے پاس بیٹھ گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استہزاء كرتے ہوئے كہا: كیا كوئی نئی بات ہو گئی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں ۔ اس نے كہا: وہ كیا؟ آپ نے فرمایا: آج رات مجھے سیر کروائی گئی ہے۔ ابو جہل نے كہا : كس طرف؟ آپ نے فرمایا: بیت المقدس كی طرف۔ ابو جہل نے كہا: (واہ) پھر بھی آپ صبح كے وقت ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ابو جہل كو سمجھ نہیں آئی كہ آپ كو جھٹلا دے اس ڈر سے كہ كہیں وہ آپ كی قوم كو بلائے تو آپ اس بات كا انكار كر دیں۔ ابو جہل نے كہا: اگر میں آپ كی قوم كو بلاؤں اور جو آپ نے مجھے بتایا ہے انہیں بھی بتائیں تو آپ كا اس بارے میں كیا خیال ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ٹھیك ہے۔ ابو جہل نے آواز دی: اے بنی كعب بن لؤئی كے لوگو آؤ۔ لوگ ٹولیوں كی صورت میں اس كی طرف آنے لگے اور آكر بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے كہا: اپنی قوم كو بتاؤ جو آپ نے مجھے بتایا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آج رات مجھے سفر كروایا گیا۔ لوگوں نے كہا: كس طرف؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بیت المقدس كی طرف لوگوں نے كہا: آپ پھر بھی ہمارے درمیان بیٹھے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، كچھ لوگ تالیاں بجانے لگے اور كچھ لوگ آپ کے (ان کے گمان میں) جھوٹے دعوے پر تعجب كرتے ہوئے اپنے ہاتھ اپنے سرپر ركھنے لگے، كہنے لگے: كیا آپ ہمیں اس مسجد كے اوصاف بیان كرنے كی قدرت ركھتے ہیں؟ ان لوگوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس ملك میں گئے تھے اور وہ مسجد دیكھی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں انہیں اوصاف بتانے لگا میں انہیں اوصاف بتا رہا تھا كہ كوئی نشانی مجھ پر ملتبس ہو گئی۔ آپ نے فرمایا: وہ مسجد میرے سامنے كر دی گئی میں اسے دیكھ رہا تھا حتی كہ وہ عقال یا عقیل كے گھروں كے سامنے كر دی گئی اور میں اس كی نشانیاں بتا رہا تھا۔ اور اسے دیكھ رہا تھا۔ اس میں ایسی نشانی بھی تھی جو مجھے یاد نہیں تھی۔ لوگوں نے كہا: اللہ كی قسم یہ نشانی اس نے درست بتائی ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1080

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء مرفوعا: لَن يَلِجَ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى مَنْ تَكهَّن أَو تُكُهِّن لَه ، أَو رَجَعَ مِنْ سَفرٍ تَطيُّراً.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ وہ شخص كبھی بھی بلند درجات تك نہیں پہچ سكتا جس نے كہانت كی یا اس كے لئے كہانت كی گئی یا بدشگونی كرتے ہوئے سفر سے واپس پلٹ آیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1081

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ مَا بَقِىَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر مجھ پر دس یہودی بھی ایمان لے آئیں تو روئے زمین پر كوئی یہودی باقی نہیں بچے گا جو اسلام نہ لائے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1082

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلٌ حَاجَةً فَخَرَجَ إِلَى الْبَرِّيَّةِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مَا نَعْتَجِنُ وَمَا نَخْتَبِزُ، فَجَاءَ الرَّجُلُ وَالْجَفْنَةُ مَلأَى عَجِينًا، وَفِي التَّنُّورِ جَنُوبُ الشِّوَاءِ، وَالرَّحَا تَطْحَنُ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا؟ قَالَتْ: مِنْ رِزْقِ اللهِ، فَكَنَسَ مَا حَوْلَ الرَّحَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ تَرَكَتْهَا لَدَارَتْ، أَوْ طَحَنَتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی كو ضرورت پیش آئی تو وہ جنگل كی طرف نكل گیا، اس كی بیوی نے كہا: اے اللہ جس چیز كا ہم آٹا بنائیں اور روٹی پكائیں وہ ہمیں عطا كر۔ وہ آدمی آیا تو برتن آٹے سے بھرا ہوا تھا اور تنور بھنی ہوئی رانوں سے بھرا ہوا تھا۔ چكی آٹا پیس رہی تھی۔ اس نے پوچھا یہ كہاں سے؟ اس نے كہا: اللہ كے رزق سے۔ اس نے چكی كا پاٹ اٹھالیا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر وہ اسے چھوڑ دیتا تو وہ گھومتی رہتی یا وہ قیامت تك آٹا پیستی رہتی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1083

) عَنْ ابنِ عُمرَ مرفوعا: لَو تَعْلَمُون قَدْرَ رَحْمَةِ الله عَزّ وَجَل لاتَّكَلْتُم وَ مَا عَمِلْتُم مِنْ عَمَلٍ وَ لَو عَلِمْتُم قَدْرَ غَضَبِه مَا نَفَعَكُم شَيْءٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ اگر تمہیں اللہ كی رحمت كی مقدار معلوم ہو جائے تو تم توكل كر كے بیٹھ جاؤ اور كوئی كام نہ كرو اور اگر تمہیں اللہ كے غصے كی مقدار معلوم ہو جائے تو تمہیں كوئی چیز نفع نہ دے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1084

قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ قُلْتَ: بِسْمِ اللهِ ، لَطَارَتْ بِكَ الْمَلائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ. قَالَه لطَلحة حِين قُطِعَتْ أَصَابِعَهُ فَقَالَ: حِسِّ.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم”بسم اللہ“کہتے تو فرشتے تمہیں لے كر اڑنے لگتے اور لوگ تیری طرف دیكھ رہے ہوتے۔ آپ نے یہ بات طلحہ رضی اللہ عنہ سےكہی جب ان كی انگلیاں كاٹ دی گئیں تھیں۔ طلحہ نے كہا تھا”اف“(تكلیف كے وقت كلمہ)۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1085

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس كھانا مانگنے آیا ۔ آپ نے اسے جَو كا نصف وسق دیا۔ وہ آدمی اس كی بیوی اور ان كا مہمان اس سے كھاتے رہے حتی كہ اس نے اس كا وزن كیا ۔وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم وزن نہ کرتےتو تم اس سے كھاتے رہتے اور وہ تمہارے لئے برابر موجود رہتا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1086

عَنِ الأَسْوَدِ بن سَرِيعٍ مَرفُوعاً: لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلا أَحَدٌ أَكْثَرَ مَعَاذِيرَ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
اسود بن سریع سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ سے زیادہ كسی كو بھی تعریف پسند نہیں اور اللہ سے زیادہ كوئی عذر قبول كرنے والا نہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1087

عَنْ أَبِي مُوسَى مرفوعا: لَيْسَ أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنْ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا (وَيَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا) وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ (وَيَدْفَعُ عَنْهُمْ) وَيَرْزُقُهُمْ (وَيُعْطِيهِمْ).
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ تعالیٰ سے زیادہ كوئی بھی صبر كرنے والا نہیں اس تكلیف دہ بات پر جسے وہ سنتا ہے۔ لوگ اللہ كے لئے اولاد بناتے ہیں(اور اس كا شریك بناتے ہیں) جب كہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف كرتا رہتا ہے (اور ان سے درگزر كرتا رہتا ہے)۔ اور انہیں رزق دیتا رہتا ہے(اور عطا كرتا رہتا ہے)۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1088

عَنْ عِمْرَانَ بن حُصَيْنٍ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلا فِي عَضُدِهِ حَلْقَةً مِنَ صُفَرٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: نِعْت لِي مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ: أَمَا لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ أَوْ تُطُيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے ایك آدمی كو دیكھا جس كے ہاتھ میں پیتل كا ایك كڑا تھا۔ انہوں نے اس سے كہا: یہ كیا ہے؟ اس نے كہا: كمزوری كی وجہ سے۔ انہوں نے كہا: اگر تم مر گئے اور یہ تمہارے ہاتھ میں ہوا تو تمہیں اس كے سپرد كر دیا جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے بدشگونی لی یا اس كے لئے بدشگونی لی گئی ۔ یا كہانت كی یا اس كے لئے كہانت كی گئی، یا اس نے جادو كیا یا اس كے لئے جادو كیا گیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1089

عن ابن عَبَاس مرفوعا: لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَحَر أَو سُحِرَ لَه، أَو تَكَهَّنَ أَو تُكُهِّنَ لَه، أَو تَطيَّر أَو تُطيِّر لَه.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے جادو كیا یا اس كے لئے جادو كیا گیا یا كہانت كی یااس كے لئے كہانت كی گئی، یا بدشگونی لی یا اس كے لئے بد شگونی لی گئی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1090

عَنْ أَنسٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُول الله، إِنَّا نَكُون عِنْدكَ عَلَى حَالٍ فَإِذَا فَارَقْنَاكَ كُنَّا عَلَى غَيْرِه. فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتُم وَرَبُّكُم؟. وقَالَ: أَبُو يَعلَى وَنَبِيُّكُم؟ قَالُوا: اللهُ رَبُّنَا وَفِي أَبِي يَعلَى أَنَتَ نَبِيَّنَا في السِّرِّ وَالْعَلَانِيَة ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكُم النِّفَاق.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم آپ كے پاس ہوتے ہیں تو ہماری ایك(اچھی)حالت ہوتی ہےاور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہماری حالت بدل جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے رب اور نبی كے بارے میں كیا خیال ہوتا ہے؟ انہوں نے كہا: اللہ ہمارا رب ہے ، آپ ہمارے نبی ہیں ظاہر اور پوشیدہ ۔آپ نے فرمایا: یہ نفاق نہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1091

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء قَالَ: قَحَطَ الْمَطَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَسَأَلْنَاه أَن يَسْتَقِي لَنَا، (فَاسْتَقَى)، فَغَدَا النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ؛ فَإِذَا هَو بِـقَوْمٍ يَتَحَدَّثُون يَقُولُون: سُقِينَا بِـنَجْمِ كَذَا وَكَذَا! فَقَال النبي صلی اللہ علیہ وسلم : ما أَنعَمَ اللهُ عَلَى قومٍ نِعْمَةًإلا أصْبَحُوا بها كافرِينَ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں بارش كا قحط پڑ گیا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست كی كہ آپ ہمارےلئے بارش کی دعاكریں۔ ( آپ نے ہمارے لئے پانی مانگا) دوسرے دن نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے تو لوگ آپس میں باتیں كر رہے تھے كہ فلاں فلاں ستارے كی وجہ سے پانی دیا گیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب بھی كسی قوم پر كوئی احسان كرتا ہے تو دوسرے دن وہ اس كا انكار كرنے لگتے ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1092

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ يَقُولُ:كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ! وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ! فَقَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ كَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ. (قَالَ جَابِرٌ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَكْثَرَ ثُمَّ كَثُرَ الْمُهَاجِرُونَ بَعْدُ) فَسَمَّعَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ قَدْ فَعَلُوهَا؟! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ! فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ ہم ایك غزوے میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ تھے۔ ایك مہاجر نے ایك انصاری كی سرین پرتھپڑ مارا۔ انصاری نے كہا: اے انصاریو! اور مہاجر نے كہا: اے ماےجرو! رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ جاہلیت کی پکار کیوں لگا رہے ہو؟ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول ایك مہاجر نے ایك انصاری كی سرین پر تھپڑ مارا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے (عصبیت کو) چھوڑ دو، كیونكہ یہ بدبودار ہے(جابر كہتے ہیں كہ جب نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے تو انصاری زیادہ تھے۔ پھر بعد میں مہاجر زیادہ ہو گئے)۔ عبداللہ بن ابی نے اس بات کو بڑھاوا دیا یا شہرت دی: انہوں نے ایسا كام كیا ہے اگر ہم مدینے واپس پہنچے تو عزت دار ذلت والے كو نكال دے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق كی گردن اڑاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے چھوڑ دو كہیں لوگ یہ نہ كہیں كہ محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے ساتھیوں كو قتل كرتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1093

عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَغَزَوْتُ مَعَهُ فَأَصَبْتُ ظَهْر أَفضَل النَّاسُ يَوْمَئِذٍ حَتَّى قَتَلُوا الْوِلْدَانَ وَقَالَ مَرَّةً: الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: مَا بَالُ قَوم جَاوَزَهُمْ الْقَتْلُ الْيَوْمَ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّمَا هُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ أَلَا إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ قَالَ: أَلَا، لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً أَلَا، لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً قَالَ كُلُّ نَسَمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يَهُبَ عَنْهَا لِسَانُهَا فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا وَيُنَصِّرَانِهَا. ( )
اسود بن سریع سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور ان كے ساتھ مل كر جہاد كیا۔مجھے ایک سواری ہاتھ آئی۔لوگوں نے اس دن خوب قتل و غارت گری کی حتی كہ انہوں نے بچوں كو بھی قتل كیا۔ یہ بات رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تك پہنچی تو آپ نے فرمایا: لوگوں كو كیا ہو گیا ہے؟ آج قتل میں حد سے گزر گئے حتی کہ بچوں تک کو قتل کردیا ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول وہ تو مشركین كی اولاد تھے ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خبردار تمہارے بہترین لوگ مشركین كے بچے ہیں۔ پھر فرمایا: خبردار! بچوں كو قتل نہ كرو، خبردار! بچوں كو قتل نہ كرو۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتاہے ، جب تك وہ بولنا نہ سیكھ لے۔ پھر اس كے والدین اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1094

قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ أَحد يَسمع بِي مِن هَذِه الْأَمَة، وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ، فَلَا يُؤَمِنُ بِي إِلَا دَخلَ النَّارَ.
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس امت میں سے میرے متعلق جو بھی سنتا ہے چاہے یہودی ہو یا عیسائی، پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ آگ میں داخل ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1095

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَرفوعا: مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِي تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى قَلْبِ مُوقِنٍ إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهَا.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جو بھی شخص یہ گواہی دیتےہوئےمرتا ہےكہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں اور میں (محمد) اللہ كا رسول ہوں۔ اور یہ بات پختہ یقین كے ساتھ كہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1096

عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مرفوعا: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ لَا تَأَكُل إِلَا طَيِّبَا وَ لَا تَضَعُ إِلَا طَيِّبَا.
ابو رزین اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے مرفوعا مروی ہے كہ: مومن كی مثال كھجور كے درخت كی طرح ہے ۔جو صرف پاكیزہ كھاتا ہے اور پاكیزہ پھل دیتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1097

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَقَالَ: طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاللهِ أَنَّا لَوَدِدْنَا أَن رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ فَاسْتُغْضِبَ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلُ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللهُ عَنْهُ لَا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ؟! وَاللهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اهَِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمْ اللهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ أَوَلَا تَحْمَدُونَ اللهَ إِذْ أَخْرَجَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ قَدْ كُفِيتُمْ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ؟ وَاللهِ لَقَدْ بَعَثَ اللهُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فِي فَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّق بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ وَوَلَدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ فَلَا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ وَإِنَّهَا للَّتِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ الفرقان: ٧٤
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں كہتے ہیں كہ ایك دن ہم مقداد بن اسود كے پاس بیٹھے تھے۔ ایك آدمی گزرا تو اس نے كہا: ان دو آنكھوں كےلئے خوشخبری ہو جنہوں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیكھا، اللہ كی قسم ہماری خواہش ہے كہ ہم نے بھی وہ دیکھا ہوتا جو آپ نے دیکھا اور ہم بھی وہاں موجود ہوتے جہاں آپ موجود تھے۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ غصے ہوگئے۔میں تعجب کرنے لگا کہ اس شخص نے تو اچھی بات کہی ہے ،پھر اس كی طرف متوجہ ہوئےاور كہا: اس آدمی كو كس بات نے مجبور كیا كہ یہ اس دور میں حاضر ہونے كی تمنا كرے جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے بعد میں پیدا كیا؟ اسے نہیں معلوم كہ اگر یہ اس وقت موجود ہوتا تو اس كے ساتھ كیا صورتحال ہوتی؟ اللہ كی قسم رسول! اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے زمانے میں ایسے لوگ موجود تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے منہ كے بل جہنم میں پھینك دیا۔ نہ انہوں نے اسلام قبول كیا اور نہ آپ كی تصدیق كی۔ كیا تم اللہ كی حمد بیان نہیں كرتے كہ تمہیں اس وقت پیدا كیا جب تم صرف اپنے رب كو پہچانتے ہو ، جو تمہارا نبی لایا اس كی تصدیق كرنے والے ہو، تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں كو آزمائش میں مبتلا كیا گیا ۔ اللہ كی قسم اللہ تعالیٰ نے جب اپنے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو مبعوث كیا تو وہ صورتحال اس سے بھی زیادہ سخت تھی جو كسی نبی كو درپیش ہوئی یا آپ دور جاہلیت میں اور اس وقفے میں مبعوث ہو جس میں انبیاء کا سسلہ موقوف تھا۔ وہ بتوں کی عبادت سے بڑھ کر کسی دین کو افضل خیال نہیں کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (قرآن) فرقان نازل كیا اور اس كے ذریعے حق وباطل كے درمیان فرق كیا۔ والد اور اس كے بچے كے درمیان فرق كیا، حتی كہ صورتحال ایسی ہو گئی كہ جس شخص كے دل كا تالا اللہ تعالیٰ نے ایمان كے لئے كھول دیا تھا وہ اگر اپنے باپ بیٹے یا بھائی كو دیكھتا كہ یہ كافر ہے تو اسے معلوم ہو جاتا كہ اگر یہ ہلاك ہو گیا تو آگ میں داخل ہوگا۔ جب اسے معلوم ہو جاتا كہ اس كا پیارا جہنم میں جائے گا تو اس كی آنكھوں كا قرار ختم ہو جاتا۔ یہ وہی حالت ہے جس كے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا:وہ لوگ جو دعا كرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنكھوں كی ٹھنڈك عطا فرما۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1098

عن يَزيد بن الْمُهلَب لَمَّا وُلِّي خُرَاسَان قال: دُلُّونِي عَلَى رَجلٍ كُلٍ لخِصَالِ الْخَيْر، فَدَلّ عَلَى أَن أبي بردة بن أبي مَوسَى الأشعري، فَلَمَا جَاءَه رَآه رَجُلًا فائقا، فَلَمَا كَلَّمَه رَأَى مخبرته أفضل من مرآته، قال: إِنِّي وليتك كَذَا وكَذَا من عَمَلي، فَاسْتَعْفَاه فَأَبَى أَن يعفيه، فَقَال: أَيّهَا الأمير! أَلَا أخْبرك بِشَيْء حَدَّثَنِيه أبي أَنَّه سَمِعَه من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال: هَاتِه، قال: إِنَّه سَمِع النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول: من تَوَلى عَمَلًا وهَو يعلم أَنَّه لَيْس لِذَلِك الْعَمَل أَهَلٌ فَلْيَتَبَوَّأ مَقْعَدَه من النَّار، قال: و أَنا أشهد أَيّهَا الْأَمِير! إِنِّي لَسْتُ بِأَهْلٍ لِمَا دَعَوْتَنِي إِلَيْه، فَقَال لَه يَزيد: ما زدْتُ إِلَا أَن حَرَّضْتَني عَلَى نَفْسكَ و رَغْبَتُنَا فِيكَ، فَاخْرجْ إلى عَهْدكَ فَإِنِّي غَيْر معفيك، ثم فَخَرَج (كَذَا الْأَصْل و لَعل الصوَاب: فَخَرَج ثم) أَقَام فِيه ما شَاء الله أَن يُقِيم، واسْتَأذَنَه بِالْقُدوم عليه، فَأَذَّن لَه، فَقَال: أَيهَا الْأَمِير! أَلَا أحدثك بِشَيْء حَدَّثَنِيه أبي أَنَّه سَمِع من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال هَاتِه، قال: مَلْعُونٌ من سَأَل بِوَجْه (الله) ومَلْعُون من يَسْأَل بِوَجْه الله ثم مَنَع سَائِلَه ما لَم يسْأَله هَجْراً، قال: وأَنا أَسْأَلكَ بِوَجْه الله أَلَا ما أعفيتني أَيّهَا الْأَمِير! من عَملكَ. فَأَعْفَاه .
یزید بن مہلب جب خراسان كا والی بنا تو كہنے لگا: مجھے اس شخص كے بارے میں بتاؤ جس كی تمام عادتیں بھلائی پر مبنی ہوں۔ انہیں ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ كے متعلق بتایا گیا۔ جب وہ ان كے پاس آیا تو انہیں ایك لائق شخص پایا۔جب ان سے گفتگو كی تو انہیں ان كی ظاہری شخصیت سے زیادہ ذہین پایا۔ یزید نے كہا: میں تمہیں اپنے فلاں فلاں كام كا نگران بناتا ہوں۔ انہوں نے معذرت طلب كی لیكن یزید نہ مانا، ابو بردہ كہنے لگے: امیر صاحب كیا میں آپ كو ایسی بات نہ بتاؤں جو مجھے میرے والد نے بتائی ہے؟ کہا بتاؤ، کہا انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جو شخص كسی كام كا نگران بنا اور اسے معلوم ہو كہ وہ اس كا اہل نہیں تو وہ اپنا ٹھكانہ جہنم میں بنالے۔ اور امیرِ محترم میں گواہی دیتا ہوں كہ جس كام كا آپ نے مجھے كہا ہے میں اس كا اہل نہیں یزید نے ان سے كہا: آپ نے تو ہمیں اپنی طرف زیادہ متوجہ كر لیا ہے اور ہماری دل چسپی آپ میں بڑھ گئی ہے۔ اپنے كام كی طرف نكلئے میں آپ كی معذرت قبول نہیں كروں گا۔وہ چلے گئے پھر جب تك اللہ نے چاہا وہ وہاں مقیم رہے۔ پھر اس سے ملنے كے اجازت طلب كی انہوں نے اجازت دے دی۔ ابو بردہ كہنے لگے: امیر محترم كیا میں آپ كو ایسی حدیث نہ سناؤں جو میرے والد نے مجھے بیان كی اور انہوں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی؟ یزید نے كہا: سناؤ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ملعون ہے وہ شخص جس سے( اللہ كے )نام پر سوال كیا گیا اور ملعون ہے وہ شخص جس سے اللہ كے نام پر سوال كیا جاتا ہےپھر سوال كرنے والے كو روك دے،جو اس سے چمٹ کرسوال نہیں کرتااور میں تم سے اللہ كے نام پر سوال كرتا ہوں كہ امیر محترم میرا استعفیٰ قبول كریں۔ تب یزید نے ان كا استعفیٰ قبول كر لیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1099

عَنْ جَابِر بْنِ عَبْدِ اللهِ عَن النّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو شخص كاہن كے پاس آیا اور اس كی بات كی تصدیق كی اس نےمحمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر نازل شدہ (شریعت) كا انكار كیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1100

عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول جاہلیت میں ہم نے جو عمل كئے كیا ان كی وجہ سے ہمارا مواخذہ كیا جائے گا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس نے اسلام لانے كے بعد نیك اعمال كئے اس كا جاہلیت میں كئے گئے اعمال كی وجہ سے مواخذہ نہیں كیا جائے گا ، اور جس نے اسلام لانے كے بعد بھی روش تبدیل نہ كی اسے پہلے اور بعد كے گناہوں كی وجہ سے پكڑا جائے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1101

عَنْ أَبِي ذَر رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَن أَحْسَنَ فِيمَا بَقِيَ غُفرَ له ما مضَى، ومَنْ أَسَاءَ فِيمَا بَقِيَ أُخِذَ بِمَا مَضَى ومَا بَقِيَ.
ابو ذر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس نے باقی ماندہ زندگی میں نیك عمل كئے تو اس كی گذشتہ زندگی كے گناہ معاف كر دئے جائیں گے۔ اور جس نے باقی ماندہ زندگی میں برے عمل كئے اسے گزشتہ زندگی اور باقی ماندہ زندگی كے گناہوں میں جكڑ لیا جائے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1102

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: كُنْتُ تَحتَ رَاحِلَةِ رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ قَوْلا حَسَنًا، فَقَالَ فِيمَا قَالَ: «مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، وَلَهُ مِثْلُ الَّذِي لَنَا، وَعَلَيْهِ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا، وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَهُ أَجْرُهُ، وَلَهُ مِثْلُ الَّذِي لَنَا، وَعَلَيْهِ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا.
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی اونٹنی كے ساتھ كھڑا تھا۔ آپ نے اچھی باتیں كہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اہل كتاب میں سے جو اسلام لے آیا اس كے لئے دو گنا اجر ہے اور اس كے لئے وہی كچھ ہے جو ہمارے لئے ہے اور اس پر وہی ذمہ داری ہے جو ہم پر ہے۔ اور مشركین میں سے جو مسلمان ہوا اس كے لئے اس كا اجر ہے۔ اس كے لئے وہی كچھ ہے جو ہمارے لئے ہے اور اس كے ذمے وہی كچھ ہے جو ہمارے ذمے ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1103

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعا: مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنْ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنْ السِّحْرِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے علم نجوم حاصل كیا ، اس نے جادو كا ایك حصہ حاصل كیا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1104

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مرفوعا: مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے ہدایت كی طرف بلایا اس شخص كے لئے ان لوگوں كے اجر كے برابر اجر ہوگا جنہوں نے اس كی پیروی كی، ان كے اجر میں سے كوئی چیز كم نہیں كی جائے گی۔ اور جس شخص نے گمراہی كی طرف بلایا اس پر ان لوگوں كے گناہوں كے برابر گناہ ہو گا جنہوں نے اس كی پیروی كی، ان كے گناہوں سے كچھ كم نہیں ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1105

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ رَأَى مُبْتَلًى، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلا لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ الْبَلاءُ .
) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے كسی تكلیف میں مبتلا شخص كو دیكھا اور یہ کلمات كہے: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلا.”تمام تعریفات اس اللہ كے لئے جس نے مجھے اس تكلیف سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا كیا، اور مجھے بہت ساری مخلوق پر فضیلت دی“۔ تو اسے وہ مصیبت نہیں پہنچے گی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1106

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلهِ عَزَّوَجَلَّ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جسے یہ بات پسند ہو كہ وہ ایمان كا ذائقہ محسوس كرے تو كسی بھی شخص سےاللہ كے لئے محبت كرے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1107

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مرفوعا: مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللهُ بِهِ مَسَامِعَ خَلْقِهِ يَوم القِيامَة وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے لوگوں میں اپنے عمل كی تشہیر كی اللہ تعالیٰ اسے بھی قیامت كے دن اپنی مخلوق كے سامنے مشہور كر دے گا۔ اور اسے حقیرو ذلیل كرے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1108

عَنْ عُمر رضی اللہ عنہ مرفوعا: مَنْ شَهِد أَن لَا إِلَه إِلَا الله دَخَل الْجَنة.
عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : جس شخص نے گواہی دی كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1109

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اهِی وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللهَ فِي ذِمَّتِهِ
انس بن مالك رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے طریقے پر نماز پڑھی، ہمارے قبلے كی طرف رخ كیا، ہمارا ذبیحہ كھایا، تو یہ وہی مسلمان ہے جس كے لئے اللہ اور اس كے رسول كا ذمہ ہے۔ اس لئے تم اللہ كے ذمے كو نہ توڑو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1110

عَنْ جَابِر بْنِ عَبدِ اللهِ مرفوعا: مَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللهُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّةَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے خالص دل سے ”لا الہ الا اللہ“ كہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1111

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ لَقِيَ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملا كہ نہ تو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کیااور نہ حرام خون بہایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1112

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَنْ لَقِيَ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا يُصَلِّي الصَلوَات الْخَمْسَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَهُ قُلْتُ أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ دَعْهُمْ يَعْمَلُوا.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملا كہ اللہ كے ساتھ كسی كوشریك نہیں كرتا تھا، پانچ نمازیں پڑھتا، رمضان كے روزے ركھتاتھا، اسے بخش دیا جائے گا۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا میں انہیں خوشخبری نہ دے دوں ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو (یہ) عمل كرتے رہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1113

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: مَنْ لَمْ يَدْعُ اللهَ سُبْحَانَهُ يَغْضَبُ عَلَيْهِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جو شخص اللہ كو نہیں پكارتا (اللہ سے دعا نہیں کرتا)اللہ اس پر غصے ہوتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1114

عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ مرفوعا: مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ .
ا بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جو شخص شرك كی حالت میں مر گیا وہ آگ میں داخل ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1115

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ (طارق بن أشيم) مرفوعا: مَنْ وَحَّدَ اللهَ تَعَالَى وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
ابو مالك اشجعی اپنے والد(طارق بن اشیم)سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ كو ایك سمجھا اور اللہ كے علاوہ دوسرے معبودوں كا انكار كیا اس كا مال اور خون حرام ہے اور اس كا حساب اللہ عزوجل كے ذمے ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1116

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مومن مومن كا آئینہ ہے اور مومن مومن كا بھائی ہے۔ اس كے مال كی حفاظت كرتا ہے اور اسے تحفظ دیتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1117

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ مرفوعا: الْمُؤْمِنُ مِنْ أَهْلِ الإِيمَانِ، بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِما يُصِيْبُ أَهْلِ الإِيمَانِ، كَمَا يَأْلَمُ الرَّأْسِ لِمَا يُصِيْبُ الْجَسَدُ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اہل ایمان میں سے مومنین سر اور جسم كی مانند ہیں۔ اہل ایمان كو جو تكلیف پہنچتی ہے، مومن بھی وہ تكلیف محسوس كرتا ہے۔ جس طرح جسم میں تكلیف ہوتی ہے تو سر بھی وہ تكلیف محسوس كرتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1118

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر خود ظلم کرتا ہےاور نہ اسے کسی کے سپرد کرتا ہے،اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت میں لگا رہتا ہےاللہ تعالیٰ اس کی ضرورت (پوری کرنے میں )لگا رہتا ہے،اورجس شخص نے کسی مسلمان سے کسی تکلیف کو دور کیااللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی تکالیف میں سے کسی تکلیف کو دور کردے گا۔اورجس شخص نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1119

عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رضی اللہ عنہ مرفوعا: الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنْ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وَإِنْ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں ،اگر آنکھ میں تکلیف ہوتی ہے توسارابدن تکلیف محسوس کرتا ہےاور اگر سر میں تکلیف ہوتی ہےتو سارا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1120

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لأَبِي ذَرٍّ: أَيُّ عُرَى الإِيمَانَ أَظُنُّهُ قَالَ: أَوْثَقُ؟ قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: الْمُوَالاةُ فِي اللهِ، وَالْمُعَادَاةُ فِي اللهِ، وَالْحُبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے كہا: ایمان کا کونسا گوشہ۔ میرا گمان ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا کہ زیادہ قابل بھروسہ ہے؟ ابو ذرنے كہا: اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے لئے دوستی اور اللہ كے لئے دشمنی اللہ كے لئے محبت اور اللہ كے لئے نفرت کرنا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1121

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لأَبِي ذَرٍّ: أَيُّ عُرَى الإِيمَانِ أَظُنُّهُ قَالَ: أَوْثَقُ؟ قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:الْمُوَالاةُ فِي اللهِ، وَالْمُعَادَاةُ فِي اللهِ، وَالْحُبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے كہا: ایمان كا كونسا كڑا مضبوط ہے؟ ابو ذرنے كہا: اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے لئے دوستی اور اللہ كے لئے دشمنی اللہ كے لئے محبت اور اللہ كے لئے نفرت۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1122

عَنِ ابْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : فَقَالَ : نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ . يعني قوله تعالى: ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ ﴿۴۸﴾ اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقۡنٰہُ بِقَدَرٍ ﴿۴۹﴾ (القمر)
ابن زرارہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: آخری زمانے میں اللہ كی تقدیر كو جھٹلانے والوں كے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (القمر۴۸:۴۹) ترجمہ :(اوران گناہ گاروں سےکہاجائےگا)دوزخ کی آگ لگنےکےمزےچکھو۔بےشک ہم نےہرچیز کو ایک مقررہ اندازے پر پیدا کیا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1123

) عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نَحْوًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ فَقُلْنَا: مَا بَعَثَ إِلَيْهِ السَّاعَةَ إِلَّا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ عَنْهُ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: أَجَلْ سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: نَضَّرَ اللهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ فَإِنَّهُ رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثُ خِصَالٍ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ أَبَدًا إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلهِ وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ وَقَالَ: مَنْ كَانَ هَمُّهُ الْآخِرَةَ جَمَعَ اللهُ شَمْلَهُ وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا فَرَّقَ اللهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ.
ابان بن عثمان سے مروی ہے كہ زید بن ثابت مروان كے پاس سےتقریباً نصف النہار كے وقت باہر نكلے۔انہیں اس وقت کچھ پوچھنے کے لئےہی بلایا گیا ہوگا۔ میں ان کی طرف بڑھا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ اس نے مجھ سے کچھ ایسی باتیں پوچھیں جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنیں ہیں۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے : اللہ تعالیٰ اس شخص كو تروتازہ ركھے جس نے ہم سے كوئی بات سنی اسے یاد كیا اور اسے دوسرے تك پہنچایا۔ كیوں كہ كچھ سننے والے لوگ فقیہ نہیں ہوتے اور كچھ فقیہ لوگ ایسے شخص تك بات پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں۔ تین عادتیں ایسی ہیں جن پر كسی مسلمان كا دل كبھی دھوكہ نہیں كرتا: اللہ تعالیٰ كے لئے خالص عمل كرنا، امراء كی خیر خواہی كرنا، اور جماعت كے ساتھ چمٹے رہنا۔ كیوں كہ ان کو دعوت پچھلے لوگوں کا بھی احاطہ کرلیتی ہے۔ اور فرمایا:جس شخص كا غم آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس كے بكھرے كام جمع كر دیتا ہے اور اس كے دل میں غنا(بے پروائی)ركھ دیتا ہے۔ اور دنیا ذلیل ہو كر اس كے پاس آتی ہے، اور جس شخص كا مقصد دنیا كمانا ہو اللہ تعالیٰ اس كے كام بكھیر دیتا ہے، اور اس كی آنكھوں كے درمیان فقیری (محتاجی)ركھ دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی حاصل ہوتی ہے جتنی اس كے مقدر میں لكھی جاچكی ہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1124

عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ وَلَدَ جَعْفَرٍ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ.
عبید بن رفاعہ زرقی سے مروی ہے كہ اسماء بنت عمیس نے كہا:اے اللہ كے رسول جعفر كے بچوں كوجلدی نظر لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لئے کوئی دم سیکھ لوں یا ان کو دم کروا لیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ٹھیك ہے اگر كوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جاتی تو نظر اس سے سبقت لے جاتی۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1125

عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: النَّاسُ أَرْبَعَةٌ وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ فَالنَّاسُ: 1- مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ 2- وَمُوَسَّعٌ لَهُ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ 3- وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ 4- وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. وَالْأَعْمَالُ: 1و2- مُوجِبَتَانِ 3و4- وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ 5- وَعَشْرَةُ أَضْعَافٍ 6- وَسَبْعُ مِائَةِ ضِعْفٍ. 1و2- فَالْمُوجِبَتَانِ: مَنْ مَاتَ مُسْلِمًا مُؤْمِنًا لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ مَاتَ كَافِرًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ 3و4- وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَعَلِمَ اللهُ أَنَّهُ قَدْ أَشْعَرَهَا قَلْبَهُ وَحَرَصَ عَلَيْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ وَمَنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ وَاحِدَةً وَلَمْ تُضَاعَفْ عَلَيْهِ 5- وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً كَانَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا 6- وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَتْ لَهُ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ.
خریم بن فاتك اسدی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لوگ چار قسم كے ہیں اور اعمال چھ قسم كے۔ لوگوں میں ایك جسے دنیا وآخرت میں فراخی دی گئی، دوسرا وہ جسے دنیا میں فراخی اور آخرت میں محتاجی دی گئی، تیسرا وہ جسے دنیا میں محتاجی اور آخرت میں فراخی دی گئی، چوتھا وہ جو دنیا وآخرت میں بد بخت ہے، اور اعمال (١) اور (٢) واجب كرنے والے ہیں، (٣) اور (٤) برابر برابر ہیں، پانچواں دس گنا اور چھٹا سات سو گنا تك۔ ١ اور ٢: جو واجب كرنے والے ہیں،وہ یہ ہیں كہ جومسلمان شخص ایمان كی حالت میں مرا اور اس نے اللہ كے ساتھ شرك نہیں كیا اس كے لئے جنت واجب ہوگئی، اور جو شخص كفر كی حالت میں مرا اس كے لئے آگ واجب ہوگئی۔ ٣ اور ٤: جس شخص نے نیكی كا ارادہ كیا اور نیكی نہیں كی اور اللہ تعالیٰ كو معلوم ہے كہ اس نے دل میں ارادہ كیا تھا اور عمل كرنے پر حریص تھا، اس كے لئے ایك نیكی لكھ دی گئی، اور جس شخص نے كسی برائی كا ارادہ كیا وہ لكھی نہیں جائے گی، اور جس شخص نے برائی كر لی اس كے لئے ایك ہی لكھی جائے گی، اس سے زیادہ نہیں۔٥: جس شخص نے كوئی نیكی كی وہ دس گنا تك ہے۔٦: اور جس شخص نے اللہ كے راستے میں كوئی چیز خرچ كی اس كے لئے سات سو گنا تك ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1126

عَنْ ابنِ عُمَر عَن النِّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّه قَالَ فِي القَبضَتَيْن: هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دو مٹھیوں كے بارے میں فرمایا: یہ اس كے لئے اور یہ اس كے لئے ہیں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1127

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بني عَامِرٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَكَانَ يُدَاوِي ، وَيُعَالِجُ ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءَ ، فَهَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ؟ قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ إِلَى اللهِ عَزِّ وَجَلِّ ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟ وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرَةٌ ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَذْقًا مِنْهَا فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ ، وَهُوَ يَسْجُدُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ارْجِعْ إِلَى مَكَانِكَ، فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ ، قَالَ الْعَامِرِيُّ: وَاللهِ! لا أُكَذِّبُكَ بِقَوْلٍ أَبَدًا ، ثُمَّ قَالَ: يَا آلَ بني صَعْصَعَةَ وَاللهِ! لا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ يَقُولُهُ أَبَدًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ بنو عامر كا ایك شخص رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پا س آیا ۔ وہ علاج معالجہ كرتا تھا،كہنے لگا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )آپ كچھ عجیب سی باتیں كرتے ہیں،كہیں تو میں آپ كا علاج كروں؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے اللہ كی طرف دعوت دی پھر فرمایا: كیا تم كوئی نشانی دیكھنا چاہتے ہو؟ اس كے پاس كھجور كا ایك درخت تھا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس كی ایك شاخ كو بلایا تو اس كا رخ آپ كی طرف ہو گیا، وہ آپ كو سجدہ كرتا اور اپنا سر اٹھاتا ہوا آپ كے پاس پہنچ گیا اورآپ كے سامنے كھڑا ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا:اپنی جگہ واپس چلے جاؤ، وہ اپنی جگہ لوٹ گیا، عامری نے كہا: واللہ میں كبھی بھی آپ كی بات كو نہیں جھٹلاؤں گا ،پھر كہنے لگا: اے آل بنی صعصعہ واللہ میں ان کی کسی بات كو كبھی بھی نہیں جھٹلاؤں گا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1128

عَنْ أَبِي صَالِح قَالَ سَمِعتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ وَسئل عَنْ: الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا (يونس) قَالَ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبلَك مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اهَِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ قَبلكَ: هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبد أَوْ تُرَى لَهُ.
ابو صالح سے مروی ہے كہ میں نے ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے اس آیت كے بارے میں سوال كیا گیا :﴿(يونس۶۳) وہ لوگ جو ایمان لائے اور پرہیز گاربنے ان كے لئے دنیا كی زندگی میں خوشخبری ہے“۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ نے كہا: جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال كیا ہے تمہارے علاوہ مجھ سے كسی نےیہ سوال نہیں كیا: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا کہ تم سے پہلے اس کے بارے میں کسی نے نہیں پوچھا، یہ نیك خواب ہے جو بندہ دیكھتا ہے یا اسے دكھایا جاتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1129

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي رَجُلٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ لَمْ يُؤْمِنْ بِي إِلَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جو شخص میرے بارے میں سنے ،یہودی ہو یا عیسائی پھر مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1130

عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعَ رَجُلا فِي الْوَادِي، يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَأَنَا أَشْهَدُ، وَأَشْهَدُ أَن لَا يَشْهَدُ بِهَا أَحَدٌ، إِلا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ. يَعنِي الشَهَادَتَيْن .واللفظ للنسائي وَزَاد الطبراني في أوله: إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِيمَانٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ ثُمَّ سَمِعَ ... . الحديث. ( )
یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ جا رہے تھے كہ آپ نے وادی میں ایك آدمی كو سنا جو كہہ رہاتھا”أَشْهَدُ أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اهُت ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رّسُولُ اللهِ“( میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اللہ كے رسول ہیں)۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اور میں بھی گواہی دیتا ہوں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں كہ: جس شخص نے بھی یہ گواہی دی تو وہ شرك سے بری ہے۔ یعنی شہادتین كی گواہی، یہ لفظ نسائی كے ہیں اور طبرانی نے شروع میں یہ الفاظ زیادہ كئے : ۔۔۔جب لوگوں نے سنا وہ كہہ رہے تھے :اے اللہ كے رسول كون سا عمل افضل ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ اور اس كے رسول پر ایمان لانا، جہاد فی سبیل اللہ كرنا اور مقبول حج ، اور پھر آگے یہی الفاظ ہیں۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1131

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: لِلنَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : هِشَامَ بن الْمُغِيرَةِ كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيَفُكُّ الْعَناه، وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَلَوْ أَدْرَكَ أَسْلَمَ، فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعَه؟ قَالَ: لا. إِنّه كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَذِكْرِهَا، وَحَمِدَهَا وَلَم يَقُل يَوْمًا قَطُّ: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ میں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كہا: ہشام بن مغیرہ صلہ رحمی كرتا تھا، مہمان نوازی كرتاتھا، غلام آزاد كرتا تھا، كھانا كھلاتا تھا، اگر وہ آپ كے دور میں زندہ ہوتا تو اسلام لے آتا ، كیا یہ كام اسے نفع دے گا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں ،كیوں كہ وہ دنیا كے لئے دیا كرتا تھا ، شہرت اور تعریف كے لئے دیا كرتا تھا اور كبھی بھی اس نے یہ نہیں كہا: اے میرے رب قیامت كے دن میری خطائیں معاف كر دے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1132

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الْإِيمَانُ بِاللهِ وَتَصْدِيقٌ بِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ! قَالَ السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ. قَالَ: أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: لَا تَتَّهِمِ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے نبی كونسا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور تصدیق كرنا اور اس كے راستے میں جہاد كرنا، اس نے كہا: اے اللہ كے رسول میں اس سے كم درجے والا عمل پوچھ رہا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: درگزر اور صبر،اس نے كہا: اے اللہ كے رسول !میں اس سے بھی كم درجے والا عمل پوچھ رہا ہوں۔آپ نے فرمایا : اللہ تبارك و تعالیٰ نے تمہارے لئے جو فیصلہ كر دیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ كو الزام نہ دو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1133

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنَا الدَّهْرُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي لِي أُجَدِّدُهَا وَأُبْلِيهَا وَآتِي بِمُلُوكٍ بَعْدَ مُلُوكٍ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زمانے كو گالی نہ دو، كیوں كہ اللہ عزوجل نے فرمایا: میں زمانہ ہوں، دن اور رات میرے لئے ہیں میں نئے سرے سے انہیں بناتا ہوں اور پھیرتا ہوں، اور میں بادشاہوں كے بعد دوسرے بادشاہ لاتا ہوں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1134

عَنْ جَابِر بْنِ عَبدِ الله، أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ، فَإِنَّه لَمْ يَكُنْ عَبْدٌ ليَمُوتَ حَتَى يَبْلُغ آخر رِزْقٍ هُو لَه، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، أَخْذِ الْحَلَال وَتَرْكِ الْحَرَام.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: رزق كے بارے میں كبھی بھی یہ خیال مت كرو كہ وہ دیر سےپہنچا كیوں كہ كوئی بھی بندہ اس وقت تك نہیں مرے گا جب تك وہ اپنے رزق كا آخری لقمہ نہ كھا لے اس لئے مانگنے میں اچھا طریقہ اختیار كرو، حلال لو، حرام چھوڑ دو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1135

عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَعْجَبُوا بِعَملِ أَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَا يُخْتَمُ لَهُ فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ دَهْرِهِ أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ (عَلَيْهِ) دَخَلَ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا سَيِّئًا وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ لَوْ مَاتَ (عَلَيْهِ) دَخَلَ النَّارَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ فَوَفَّقَهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ (ثُمَّ يَقْبِضُ عَلَيْهِ).
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كسی شخص كے عمل كو دیكھ كر خوش نہ ہو جاؤ جب تك تم اس كاخاتمہ نہ دیكھ لو۔ كیوں كہ عمل كرنے والا ایك طویل عرصے تك نیك عمل كرتا رہتا ہے كہ اگر( اسی عمل پر)مر جائے تو جنت میں داخل ہو جائے۔ پھر اچانك وہ برے عمل كرنا شروع كر دیتا ہے، اور كوئی شخص طویل عرصہ برے عمل كرتا رہتا ہے كہ اگر( اسی عمل پر)مر جائے تو جہنم میں داخل ہو جائے، پھر اچانك وہ نیك عمل شروع كر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ كسی بندے سے بھلائی كا ارادہ كرتا ہے تو اسے اس كی موت سے پہلے استعمال كرلیتاہے۔ اس كے لئے نیك عمل كے دروازے كھول دیتاہے(پھر اس كی روح قبض كر لیتا ہے)۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1136

عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيد ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ مرفوعا: لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ.
سائب بن یزید ابن ا خت نمر سے مرفوعاً مروی ہے كہ : كوئی بیماری متعدی نہیں نہ صفر(پیٹ كی بیماری)ہے اور نہ ہی ہامہ(الو، رات كا ایك پرندہ)ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1137

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مرفوعا: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ كوئی بیماری متعدی نہیں، نہ ہی كوئی بدشگونی ہے اور میں نیك فال كو پسند كرتا ہوں ۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1138

عَنْ ابْنِ عُمَرَ مرفوعا: لَاعَدْوَى وَلَاطِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ: الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ .
ا بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : كوئی بیماری متعدی نہیں، نہ كوئی بدشگونی ہے اور نحوست تین چیزوں میں ہے، عورت میں ، گھوڑے میں اور گھر میں۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1139

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مرفوعا: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَالْعَيْنُ حَقٌّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ، نہ ہی بدشگونی جائز ہےاور نظر لگنا سچ بات ہے۔ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1140

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ أَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا؟ قَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟!.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: كوئی بیماری متعدی نہیں، نہ ہی بدشگونی جائزہے، نہ صرَ(پیٹ كی بیماری)ہے، نہ ہامہ(الو)، رات كا پرندہ)ہے، ایک بدو نے كہا: ان اونٹوں كی كیا صورتحال ہےجو ریگستان میں ہوتے ہیں گویا كہ وہ صحت مند ہر نیاں ہیں، ان میں ایك خارش زدہ اونٹ مل جاتا ہے ، اور انہیں بھی خارش زدہ كر دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: پہلے اونٹ كو كس نے خارش زدہ كیا؟ ( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1141

عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ مرفوعا: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غُولَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ كوئی بیماری متعدی نہیں، نہ ہی بدشگونی جائزہے اور نہ غول(چھلاوہ، جن بھوت)وغیرہ ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1142

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الطِّيَرَةِ؟ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ؟! فَكَرِهْتُ أَنْ أُحَدِّثَهُ مَنْ حَدَّثَنِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَ إِنْ تَكُنِ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَهْبِطُوا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ.
سعید بن مسیب سے مروی ہے كہ میں نے سعد بن ابی وقاص سے بدشگونی كے بارے میں سوال كیا تو انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور كہنےلگے تمہیں كس نے بتایا؟ میں نے مناسب نہیں سمجھا كہ انہیں اس شخص كے بارے میں بتاؤں جس نے مجھے بتایا ہے؟ (پھر) کہا کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كوئی بیماری متعدی نہیں، نہ بدشگونی جائزہے، اور نہ ہام(الو)ہے۔ اگر كسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔ اور جب تم كسی علاقے میں طاعون كے متعلق سنو تو اس میں نہ جاؤ اور جب طاعون كسی علاقے میں آجائے اور تم اس میں ہو تو پھر وہاں سے نہ بھاگو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1143

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ وَفِرَّ مِنْ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنْ الْأَسَدِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ كوئی بیماری متعدی نہیں، نہ كوئی بدشگونی ہے، نہ ہامہ(الو)ہے اور نہ ہی صفر(پیٹ كی بیماری)ہے اور كوڑھی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے (ڈر كر) بھاگتے ہو۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1144

عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ.
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ كوئی بیماری متعدی نہیں، نہ كوئی بدشگونی ہے اور مجھے نیك فال اچھا کلمہ پسند ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1145

عَنْ أَبِي الزِّنَاد قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ أَهَلُ رِضًى وقَنَاعَةٍ مِن أَبْنَاء الصَّحَابَة وَأَولية النَّاس أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : لَا عَدْوَى ولَا هَامَة ولَا صَفَر، واتَّقَوْا الْمَجْذُوم كَمَا يُتَّقَى الأسد.
ابو زناد رحمہ اللہ كہتے ہیں كہ میں نے صحابہ كی اولاد میں سے اللہ کے پسندیدہ، قناعت کرنے والے اور لوگوں کے خیر خواہوں جس سے کچھ لوگوں نے بیان كیا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كوئی بیماری متعدی نہیں، نہ ہی ہامہ ہے اور نہ صفرہے، اور كوڑھی سے اس طرح بچو جس طرح شیر سے بچا جاتا ہے۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1146

عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ أَنّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا نَعْلَمُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مِائَةٍ مِثْلِهِ إِلَّا الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہم نے سو ایك جیسی چیزوں میں سے سوائے مومن آدمی كے كسی كو بہتر نہیں جانا۔( )
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1147

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مرفوعاً: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (مِنْ الْخَيْرِ). ( )
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ تم میں سے كوئی شخص اس وقت تك مومن نہیں ہو سكتا جب تك وہ اپنے بھائی كے لئے (بھلائی کے اعتبار سے) وہی كچھ پسند نہ كرے جو وہ اپنے لئے پسند كرتا ہے۔
Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 1148

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مرفوعا: لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَش