Sahih Muslim

Search Results(1)

33) The Book Of Jihad And Expeditions

33) کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے اختیار کردہ طریقے

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4519

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ قَالَ يَحْيَى: أَحْسِبُهُ قَالَ جُوَيْرِيَةَ أَو قَالَ: الْبَتَّةَ۔ ۔۔۔۔۔۔ابْنَةَ الْحَارِثِ ، وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَاكَ الْجَيْشِ
Ibn 'Aun reported: I wrote to Nafi' inquiring from him whether it was necessary to extend (to the disbelievers) an invitation to accept (Islam) before meeting them in fight. He wrote (in reply) to me that it was necessary in the early days of Islam. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made a raid upon Banu Mustaliq while they were unaware and their cattle were having a drink at the water. He killed those who fought and imprisoned others. On that very day, he captured Juwairiya bint al-Harith. Nafi' said that this tradition was related to him by Abdullah b. Umar who (himself) was among the raiding troops. یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : سلیم بن اخضر نے ہمیں ابن عون سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قتال سے پہلے ( اسلام کی ) دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کو خط لکھا ۔ کہا : تو انہوں نے مجھے جواب لکھا : یہ شروع اسلام میں تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر حملہ کیا جبکہ وہ بے خبر تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے ، آپ نے ان کے جنگجو افراد کو قتل کیا اور جنگ نہ کرنے کے قابل لوگوں کو قیدی بنایا اور آپ کو اس دن ۔ یحییٰ نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : جویریہ ۔ یا قطیعت سے بنت حارث کہا ۔ ملیں ۔ مجھے یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں موجود تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4520

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. وَقَالَ: جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَلَمْ يَشُكَّ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Aun and the name of Juwairiya bint al-Harith was mentioned beyond any doubt. ابن ابی عدی نے ابن عون سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہا ، شک نہیں کیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4521

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً، ح
Same as Hadees 4522 ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع بن جراح نے سفیان سے حدی بیان کی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں یحییٰ بن آدم نے خبر دی ، کہا : ہمیں سفیان نے خبر دی ، کہا : یہ حدیث انہوں نے ہمیں املا کروائی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4522

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْ سَرِيَّةٍ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللهِ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: «اغْزُوا بِاسْمِ اللهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ - أَوْ خِلَالٍ - فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ، وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ، وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللهِ فِيهِمْ أَمْ لَا»، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، قَالَ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ - قَالَ يَحْيَى: يَعْنِي أَنَّ عَلْقَمَةَ يَقُولُهُ لِابْنِ حَيَّانَ - فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
It has been reported from Sulaiman b. Buraida through his father that when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) appointed anyone as leader of an army or detachment he would especially exhort him to fear Allah and to be good to the Muslims who were with him. He would say: Fight in the name of Allah and in the way of Allah. Fight against those who disbelieve in Allah. Make a holy war, do not embezzle the spoils; do not break your pledge; and do not mutilate (the dead) bodies; do not kill the children. When you meet your enemies who are polytheists, invite them to three courses of action. If they respond to any one of these, you also accept it and withhold yourself from doing them any harm. Invite them to (accept) Islam; if they respond to you, accept it from them and desist from fighting against them. Then invite them to migrate from their lands to the land of the Muhajireen and inform them that, if they do so, they shall have all the privileges and obligations of the Muhajireen. If they refuse to migrate, tell them that they will have the status of Bedouin Muslims and will be subjected to the Commands of Allah like other Muslims, but they will not get any share from the spoils of war or Fai' except when they actually fight with the Muslims (against the disbelievers). If they refuse to accept Islam, demand from them the Jizya. If they agree to pay, accept it from them and hold off your hands. If they refuse to pay the tax, seek Allah's help and fight them. When you lay siege to a fort and the besieged appeal to you for protection in the name of Allah and His Prophet, do not accord to them the guarantee of Allah and His Prophet, but accord to them your own guarantee and the guarantee of your companions for it is a lesser sin that the security given by you or your companions be disregarded than that the security granted in the name of Allah and His Prophet be violated. When you besiege a fort and the besieged want you to let them out in accordance with Allah's Command, do not let them come out in accordance with His Command, but do so at your (own) command, for you do not know whether or not you will be able to carry out Allah's behest with regard to them. نیز عبداللہ بن ہاشم نے کہا ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ مجھے عبدالرحمٰن بن مہدی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے علقمہ بن مرثد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بڑے لشکر یا چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اس کی اپنی ذات کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی اور ان تمام مسلمانوں کے بارے میں ، جو اس کے ساتھ ہیں ، بھلائی کی تلقین کرتے ، پھر فرماتے : "" اللہ کے نام سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، جو اللہ تعالیٰ سے کفر کرتے ہیں ان سے لڑو ، نہ خیانت کرو ، نہ بد عہدی کرو ، نہ مثلہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو اور جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے ٹکراؤ تو انہیں تین باتوں کی طرف بلاؤ ، ان میں سے جسے وہ تسلیم کر لیں ، ( اسی کو ) ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان ( پر حملے ) سے رک جاؤ ، انہیں اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ مان لیں تو اسے ان ( کی طرف ) سے قبول کر لو اور ( جنگ سے ) رک جاؤ ، پھر انہیں اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے میں آ جانے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ دریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں ۔ اگر وہ وہاں سے نقل مکانی کرنے پر انکار کریں تو انہیں بتاؤ کہ پھر وہ بادیہ نشیں مسلمانوں کی طرح ہوں گے ، ان پر اللہ کا وہی حکم نافذ ہو گا جو مومنوں پر نافذ ہوتا ہے اور غنیمت اور فے میں سے ان کے لیے کچھ نہ ہو گا مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں ۔ اگر وہ انکار کریں تو ان سے جزیے کا مطالبہ کرو ، اگر وہ تسلیم کر لیں تو ان کی طرف سے قبول کر لو اور رک جاؤ اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے لڑو اور جب تم کسی قلعے ( میں رہنے ) والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کا عہدوپیمان عطا کرو تو انہیں اللہ اور اس کے نبی کا عہدوپیمان نہ دو بلکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے عہد و امان دو ، کیونکہ یہ بات کہ تم لوگ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہدوپیمان کی خلاف ورزی کر بیٹھو ، اس کی نسبت ہلکی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہدوپیمان توڑ دو ۔ اور جب تم قلعہ بند لوگوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر ( قلعے سے ) نیچے اترنے دو تو انہیں اللہ کے حکم پر نیچے نہ اترنے دو بلکہ اپنے حکم پر انہیں نیچے اتارو کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے صحیح حکم پر پہنچ پاتے ہو یا نہیں ۔ "" ( ابن ہشام نے کہا : ) عبدالرحمان نے یہی کہا یا اسی طرح کہا ۔ اسحا نے اپنی حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا : یحییٰ بن آدم سے روایت ہے کہ ( علقمہ نے ) کہا : میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی ۔ ۔ یحییٰ نے کہا : یعنی علقمہ نے ابن حیان سے بیان کی ۔ ۔ تو انہوں نے کہا : مجھے مسلم بن ہیصم نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4523

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا، أَوْ سَرِيَّةً دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ
Sulaiman b. Buraida repotted on the authority of his father that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an Amir with a detachment he called him and advised him. The rest of the hadith is the same. عبدالصمد بن عبدالوارث نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے علقمہ بن مرثد نے حدیث بیان کی کہ انہیں سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی امیر کو یا چھوٹے لشکر کو روانہ کرتے تو آپ اسے بلاتے اور تلقین فرماتے ۔ ۔ پھر انہوں ( شعبہ ) نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4524

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba. حسین بن ولید نے شعبہ سے یہی حدیث روایت کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4525

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ، قَالَ: «بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا
It has been narrated on the authority of Abu Masa that when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) deputed any of his Companions on a mission, he would say: Give tidings (to the people) ; do not create (in their minds) aversion (towards religion) ; show them leniency and do not be hard upon them حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو جب اپنے کسی معاملے کی ذمہ داری دے کر روانہ کرتے تو فرماتے : " خوشخبری دو ، دور نہ بھگاؤ ، آسانی پیدا کرو اور مشکل میں نہ ڈالو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4526

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: «يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
It has also been narrated by Sa'd b. Abu Burda through his father through his grandfather that the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent him and Mu'adh (on a mission) to the Yemen, and said (by way of advising them): Show leniency (to the people) ; don't be hard upon them; give them glad tidings (of Divine favours in this world and the Hereafter) ; and do not create aversion. Work in collaboration and don't be divided شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے ، انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : " تم دونوں آسانی پیدا کرنا ، مشکل میں نہ ڈالنا ، خوشخبری دینا ، دور نہ بھگانا ، آپس میں اتفاق رکھنا ، اختلاف نہ کرنا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4527

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ: «وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
This hadith has been transmitted on the authority of Buraida but for the last two words. عمرو اور زید بن ابی انیسہ دونوں نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے ( آگے ) اپنے دادا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبہ کی حدیث کی طرح روایت کی ۔ اور زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں یہ نہیں ہے : " دونوں آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4528

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا
The Messenger of Allah (may peace he upon him) has been reported by Anas b. Malik to have said: Show leniency; do not be hard; give solace and do not create aversion. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آسانی کرو ، دشواری پیدا نہ کرو ، اطمینان دلاؤ اور دور نہ بھگاؤ
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4529

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي أَبَا قُدَامَةَ السَّرَخْسِيَّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَمَعَ اللهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُرْفَعُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ، فَقِيلَ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When Allah will gather together, on the Day of Judgment, all the earlier and later generations of mankind, a flag will be raised (to mark off) every person guilty of breach of faith, and it will be announced that this is the perfidy of so and so, son of so and so (to attract the attention of people to his guilt). عبیداللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن اللہ جب پہلے آنے والوں اور بعد میں آنے والوں کو جمع کرے گا تو بدعہدی کرنے والے ہر شخص کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا : یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ( کا نشان ) ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4530

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through some other Chains of transmitters. ایوب اور صخر بن جویریہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4531

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْغَادِرَ يَنْصِبُ اللهُ لَهُ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: أَلَا هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of the same narrator, with the wording: Allah will set up a flag for every person guilty of breach of faith on the Day of Judgment, and it will be announced: Look, this is the perfidy of so and so. عبداللہ بن دینار سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن اللہ ایک جھنڈا نصب کرے گا اور کہا جائے گا : سنو! یہ فلاں کی عہد شکنی ( کا نشان ) ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4532

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
Ibn Umar reported that he heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying: There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment. عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4533

وحَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
Abdullah reported Allah's Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment, and it would be said: Here is the perfidy of so and so. محمد بن ابراہیم ) ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا ، کہا جائے گا : یہ فلاں کی عہد شکنی ( کا نشان ) ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4534

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ح وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with a slight variation of wording. نضر بن شمیل اور عبدالرحمان ( بن مہدی ) نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور عبدالرحمان کی حدیث میں یہ ( الفاظ ) نہیں ہیں : " کہا جائے گا : یہ فلاں کی عہد شکنی ( کا نشان ) ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4535

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ، يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
It has been narrated on the authority of Abdullah that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There will be for every perfidious person on the Day of Judgment a flag by which he will be recognised. It will be announced: Here is the breach of faith of so and so. یزید بن عبدالعزیز نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا ، وہ اس کے ذریعے سے پہچانا جائے گا ، کہا جائے گا : یہ فلاں کی بدعہدی ( کا نشان ) ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4536

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ
Anas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said this: There would be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment by which he will be recognised. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جس سے وہ پہچانا جائے گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4537

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
It is narrated on the authority of Abu Sa'id that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: On the Day of Judgment there will be a flag fixed behind the buttocks of every person guilty of the breach of faith. خُلید نے ابونضرہ سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " بدعہدی کرنے والے ہر شخص کے لیے ، قیامت کے دن اس کی سرین کے پاس ایک جھنڈا ( نصب ) ہو گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4538

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ، أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ
It is narrated on the authority of Abu Sa'id that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: On the Day of Judgment there will be a flag for every person guilty of the breach of faith. It will be raised in proportion to the extent of his guilt; and there is no guilt of treachery more serious than the one committed by the ruler of men. مستمر بن ریان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عہد شکنی کرنے والے ہر شخص کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جو اس کی بدعہدی کے بقدر بلند کیا جائے گا ، سنو! عہد شکنی میں کوئی عوام کے ( عہد شکن ) امیر سے بڑا نہیں ہو گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4539

وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، وَزُهَيْرٍ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: War is a stratagem. حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنگ ایک چال ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4540

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ
This hadith has also been narrated on the authority of Abu Huraira. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنگ ( دشمن کو ) دھوکے ( میں رکھنے ) کا نام ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4541

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do not desire an encounter with the enemy; but when you encounter them, be firm. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو ، لیکن جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4542

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ، يُخْبِرُهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ، يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ»، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «اللهُمَّ، مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ
It is narrated by Abu Nadr that he learnt from a letter sent by a man from the Aslam tribe, who was a Companion of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and whose name was 'Abdullah b. Abu Aufa, to 'Umar b. 'Ubaidullah when the latter marched upon Haruriyya (Khawarij) informing him that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in one of those days when lie was confronting the enemy waited until the sun had declined. Then he stood up (to address the people) and said: O ye men, do not wish for an encounter with the enemy. Pray to Allah to grant you security; (but) when you (have to) encounter them exercise patience, and you should know that Paradise is under the shadows of the swords. Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up (again) and said: O Allah. Revealer of the Book, Disperser of the clouds, Defeater of the hordes, put our enemy to rout and help us against them. ابونضر سے روایت ہے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی ، جنہیں عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، کے خط سے روایت کی ، انہوں نے عمر بن عبیداللہ کو ، جب انہوں نے ( جہاد کی غرض سے ) حروریہ کی طرف کوچ کیا ، یہ بتانے کے لیے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض ایام ( جنگ ) میں ، جن میں آپ کا دشمن سے مقابلہ ہوتا ، انتظار کرتے ، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا ، آپ ان ( ساتھیوں ) کے درمیان کھڑے ہوتے اور فرماتے : " لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگو ، ( لیکن ) جب تم ان کا سامنا کرو تو صبر کرو اور جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے ۔ " پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے ، بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر نصرت عطا فرما
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4543

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ:«اللهُمَّ، مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللهُمَّ، اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ
It is narrated on the authority of Ibn Abu Aufa that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) cursed the tribes (who had marched upon Medina with a combined force in 5 H) and said: O Allah, Revealer of the Book, swift in (taking) account, put the tribes to rout. O Lord, defeat them and shake them. خالد بن عبداللہ نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ پر حملے کرنے والے ) لشکروں کے خلاف یہ دعا کی : " اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے! جلد حساب کرنے والے! سب لشکروں کو شکست دے ، اے اللہ! انہیں شکست دے اور ان کے قدم لرزا دے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4544

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «هَازِمَ الْأَحْزَابِ»، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَه«اللهُمَّ»،
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abu Aufa with a slight variation of words. وکیع بن جراح نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ۔ ۔ ( آگے ) خالد کی حدیث کے مانند ہے ، البتہ انہوں نے " ( اے ) لشکروں کو شکست دینے والے " کے الفاظ کہے اور آپ کے فرمان " اللهم " کا ذکر نہیں کیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4545

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: «مُجْرِيَ السَّحَابِ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Uyaina through another chain of transmitters (who added the words) the Disperser of clouds in his narration. اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ابن عیینہ سے ، انہوں نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں " بادلوں کو چلانے والےکے الفاظ کا اضافہ کیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4546

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «اللهُمَّ، إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ
It is narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said on the day of the Battle of Uhud: O Allah, if Thou wilt (defeat Muslims), there will be none on the earth to worship Thee. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( جنگِ ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بار بار ) یہ فرما رہے تھے : " اے اللہ! اگر تو یہ چاہتا ہے تو ( آج کےبعد ) زمین میں تیری عبادے نہ کی جائے گی ۔ " ( تیری عبادت کرنے والی آخری امت ختم ہو جائے گی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4547

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثِ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
It is narrated on the authority of 'Abdullah that a woman was found killed in one of the battles fought by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He disapproved of the killing of women and children. لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غزوے میں ایک عورت مقتول ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر ( سخت ) ناگواری کا اظہار کیا ( اور اس سے منع فرما دیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4548

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَغَازِي، فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
It is narrated by Ibn 'Umar that a woman was found killed in one of these battles; so the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the killing of women and children. عبیداللہ بن عمر نے ہمیں نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : غزوات میں سے ایک غزوے میں ایک عورت مقتول ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4549

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّرَارِيِّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ؟ يُبَيَّتُونَ فَيُصِيبُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ ، فَقَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ
It is reported on the authority of Sa'b b. Jaththama that the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said: They are from them. سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھرانے کے بارے میں پوچھا گیا ، ان پر شب خون مارا جاتا ہے تو وہ ( حملہ کرنے والے ) ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ انہی میں سے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4550

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نُصِيبُ فِي الْبَيَاتِ مِنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ
It is narrated by Sa'b b. Jaththama that he said (to the Holy Prophet): Messenger of Allah, we kill the children of the polytheists during the night raids. He said: They are from them. معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! شب خون میں ہم مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : وہ انہی میں سے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4551

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: «هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ
Sa'b b. Jaththama has narrated that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked: What about the children of polytheists killed by the cavalry during the night raid? He said: They are from them. عمرو بن دینار نے مجھے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کچھ گھڑ سوار رات کو دھاوا بولیں اور مشرکوں کے ( ساتھ ان کے کچھ ) بیٹوں کو ( بھی ) قتل کر دیں ( تو گناہ تو نہیں ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4552

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ»، زَادَ قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ فِي حَدِيثِهِمَا: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ
It is narrated on the authority of 'Abdullah that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ordered the date-palms of Banu Nadir to be burnt and cut. These palms were at Buwaira. Qutaibah and Ibn Rumh in their versions of the tradition have added: So Allah, the Glorious and Exalted, revealed the verse: Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks, it was with the permission of Allah so that He may disgrace the evil-doers (lix. یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح اور قتیبہ بن سعید نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجور کے درخت جلائے اور کاٹ ڈالے اور یہ بویرہ کا مقام تھا ( جہاں یہ درخت واقع تھےقتیبہ اور ابن رمح نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : " تم نے کھجور کا جو درخت کاٹ ڈالا یا اسے اپنی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور اس لیے تاکہ وہ ( اللہ ) نافرمانوں کو رسوا کرے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4553

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَحَرَّقَ»، وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ: وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ ... حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ ، وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا} [الحشر: 5] الْآيَةَ
It is narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) caused the date-palms of Banu Nadir to be cut down and burnt. It is in this connection that Hassan (the poet) said: It was easy for the nobles of Quraish to burn Buwaira whose sparks were flying in all directions, in the same connection was revealed the Qur'anic verse: Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks. موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے اور جلا دیے ۔ اسی کے بارے میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "" بنو لؤی ( قریش ) کے سرداروں کے لیے بویرہ میں ہر طرف پھیلنے والی آگ کی کوئی حیثیت نہ تھی اور اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : "" تم نے کھجور کا جو بھی درخت کاٹا یا اسے چھوڑ دیا ۔ ۔ "" آیت کے آخر تک
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4554

وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: «حَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ
Abdullah b. Umar reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) burnt the date-palms of Banu Nadir. عبیداللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کی کھجوروں کے درخت جلا دیے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4555

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا، وَلَمَّا يَبْنِ، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا، وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا - أَوْ خَلِفَاتٍ - وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَادَهَا ، قَالَ: فَغَزَا فَأَدْنَى لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَةٌ، وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللهُمَّ، احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ ، قَالَ: فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ، فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ، فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعُوهُ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَبَايَعَتْهُ ، قَالَ: فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا، فَطَيَّبَهَا لَنَا
It has been narrated by Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: One of the Prophets made a holy war. He said to his followers: One who has married a woman and wants to consummate to his marriage but has not yet done so; another who has built a house but has not yet erected its roof; and another who has bought goats and pregnantshe-camels and is waiting for their offspring-will not accommpany me. So he marched on and approached a village at or about the time of the Asr prayers. He said to the sun: Thou art subserviant (to Allah) and so am I. O Allah, stop it for me a little. It was stopped for him until Allah granted him victory. The people gathered the spoils of war (at one place). A fire approached the spoils to devour them, but it did not devour them. He (the Holy Prophet) said: Some of you have been guilty of misappropriation. So one man from each tribe should swear fealty to me. The did so (putting their hands into his). The hand of one man stuck to his hand and the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Your tribe is guilty of misappropriation. Let all the members of your tribe swear fealty to me one by one. They did so, when the hands of two or three persons got stuck with his hand. He said: You have misappropriated. So they took out gold equal in volume to the head of a cow. They-placed it among the spoils on the earth. Then the fire approached the spoils and devoured them. The spoils of war were not made lawful for any people before us, This is because Allah saw our weakness and humility and made them lawful for us. ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ ( احادیث ) ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انبیاء میں سے کسی نبی نے جہاد کیا تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا : میرے ساتھ وہ آدمی نہ آئے جس نے کسی عورت سے شادی کی ہے ، وہ اس کے ساتھ شب زفاف گزارنا چاہتا ہے اور ابھی تک نہیں گزاری ، نہ وہ جس نے گھر تعمیر کیا ہے اور ابھی تک اس کی چھتیں بلند نہیں کیں اور نہ وہ جس نے بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے بچہ دینے کا منتظر ہے ۔ کہا : وہ جہاد کے لیے نکلے ، نماز عصر کے وقت یا اس کے قریب ، وہ بستی کے نزدیک پہنچے تو انہوں نے سورج سے کہا : تو بھی ( اللہ کے حکم کا ) پابند ہے اور میں بھی پابند ہوں ، اے اللہ! اسے کچھ وقت کے لیے مجھ پر روک دے ۔ تو اسے روک دیا گیا ، حتی کہ اللہ نے انہیں فتح دی ۔ کہا : انہیں غنیمت میں جو ملا ، انہوں نے اس کو اکٹھا کر لیا ، آگ اسے کھانے کے لیے آئی تو اسے کھانے سے باز رہی ۔ اس پر انہوں نے کہا : تمہارے درمیان خیانت ( کا ارتکاب ہوا ) ہے ، ہر قبیلے کا ایک آدمی میری بیعت کرے ۔ انہوں نے ان کی بیعت کی تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ۔ انہوں نے کہا : خیانت تم لوگوں میں ہوئی ہے ، لہذا تمہارا قبیلہ میری بیعت کرے ۔ اس قبیلے نے ان کی بیعت کی تو ( آپ کا ہاتھ ) دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ سے چمٹ گیا ۔ اس پر انہوں نے کہا : خیانت تم میں ہے ، تم نے خیانت کی ہے ۔ کہا : تو وہ گائے کے سر کے بقدر سونا نکال کر ان کے پاس لے آئے ۔ کہا : انہوں نے اسے مالِ غنیمت میں رکھا ، وہ بلند جگہ پر رکھا ہوا تھا ، تو آگ آئی اور اسے کھا گئی ۔ اموالِ غنیمت ہم سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھے ، یہ ( ہمارے لیے حلال ) اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عجز کو دیکھا تو اس نے ان کو ہمارے لیے حلال کر دیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4556

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخَذَ أَبِي مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَبْ لِي هَذَا»، فَأَبَى، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1]
A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying: My father took a sword from Khums and brought it to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Grant it to me. He refused. At this Allah revealed (the Qur'anic verse): They ask thee concerning the spoils of war. Say: The spoils of war are for Allah and the Apostle (viii. 1). ابوعوانہ نے سماک سے ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے خمس میں سے کوئی چیز لی ، اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : یہ مجھے ہبہ فرما دیں تو آپ نے انکار کیا ۔ کہا : اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ حکم ) نازل فرمایا : " لوگ آپ سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجئے : اموالِ غنیمت اللہ کے لیے اور رسول کے لیے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4557

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ: أَصَبْتُ سَيْفًا، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ: «ضَعْهُ»، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ»، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «ضَعْهُ»، فَقَامَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، أَؤُجْعَلُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ»، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1]
A hadith has been narrated by Mus'ab b. Sa'd who heard it from his father as saying: Four verses of the Qur'an have been revealed about me. I found a sword (among the spoils of war). It was brought to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He (my father) said: Messenger of Allah, bestow it upon me. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Place it there. Then he (my father) stood up and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Place it from where you got it. (At this) he (my father) said again: Messenger of Allah, bestow it upon me Shall I be treated like one who has no share in (the booty)? The Apostle of Allah (may peace be upon him said: Place it from where you got it. At this was revealed the verse: They ask thee about the spoils of war.... Say: The spoils of war are for Allah and the Messenger شعبہ نے ہمیں سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں : مجھے ایک تلوار ملی ، ( پھر کہا : ) وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ تلوار مجھے مزید عطا فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( یہ تلوار ) مجھے مزید دے دیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ بھی مجھے عنایت فرما دیں ۔ تو آپ نے فرمایا : " اسے رکھ دو ۔ " وہ پھر اٹھے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ( اپنے حصے کے علاوہ ) یہ مجھے عنایت فرما دیں ۔ کیا میں اس شخص جیسا قرار دیا جاؤں گا جس کے لیے ( جنگ میں ) کوئی فائدہ نہیں ہوا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم نے اسے جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو ۔ " کہا : اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دیجئے! غنیمتیں اللہ کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4558

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا، أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expedition to Najd and I was among the troops. They got a large number of camels as a booty. Eleven or twelve camels fell to the lot of every fighter and each of them also got one extra camel. امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، میں بھی ان میں تھا ، انہوں نے بہت سے اونٹ غنیمت میں حاصل کیے تو ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ یا گیارہ گیارہ اونٹ تھا اور انہیں ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4559

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ، وَفِيهِمُ ابْنُ عُمَرَ، وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا، فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expedition to Najd and Ibn Umar was also among the troops, and their share (of the spoils) came to twelve camels and they were given one camel over and above that. and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not make any change in it. لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا ، ان میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان کے حصے بارہ بارہ اونٹ تک پہنچ گئے اور اس کے علاوہ انہیں ایک ایک اونٹ زائد ( بھی ) ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( فیصلے ) کو تبدیل نہیں کیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4560

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا
It has been narrated by Ibn 'Umar that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an expedition to Najd, and I (also) went with the troops. We got camels and goats as spoils of war, and our share amounted to twelve camels per head, and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave an extra camel to each of us. علی بن مسہر اور عبدالرحیم بن سلیمان نے عبیداللہ بن عمر سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی جانب ایک دستہ بھیجا ، میں بھی اس میں گیا ۔ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں تو ہمارے حصے بارہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد بھی دیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4561

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters. ٰ قطان نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4562

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ، أَسْأَلُهُ عَنِ النَّفَلِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى، ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
Ibn Aun said: I wrote to Nafi' asking him about Nafl (spoils of war) and be wrote to me that Ibn 'Umar was among that expedition. (The rest of the hadith is the same.) ایوب نے ہمیں حدیث بیان کی ، اور ( ایک دوسری سند سے ) ابن عون نے کہا : میں نے غنیمت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کی طرف خط لکھا ، انہوں نے مجھے جواب بھی لکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دستے میں تھے ۔ ۔ ۔ ، نیز موسیٰ اور اسامہ بن زید نے بھی حدیث بیان کی ، ان سب ( ایوب ، ابن عون ، موسیٰ اور اسامہ ) نے نافع سے اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4563

وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَفَّلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلًا سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمْسِ، فَأَصَابَنِي شَارِفٌ، وَالشَّارِفُ: الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ
A hadith has been narrated by Salim who learnt it from his father and said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave us an extra (camel) besides our share of Khums; (and in this extra share) I got a Sharif (and a Sharif is a big old camel). عبداللہ بن رجاء نے یونس سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خمس سے ہمارے حصے کے سوا اضافی بھی دیا تو مجھے ایک شارف ملا ۔ ۔ اور شارف سے مراد پختہ عمر کا ( مضبوط ) اونٹ ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4564

وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَفَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَاءٍ
Ibn Shihab reported: It reached me through Ibn Umar that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave a share of spoils to the troop. The rest of the hadith is the same. ابن مبارک اور ابن وہب دونوں نے یونس کے حوالے سے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث پہنچی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستے کو زائد دیا ۔ ۔ ابن رجاء کی حدیث کی طرح
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4565

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا، لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً، سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، وَالْخُمْسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلِّهِ
It has been narrated on the authority of Abdullah b. 'Umar that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to give (from the spoils of war) to small troops seat on expeditions something more than the due share of each fighter in a large force. And Khums (one-fifth of the total spoils) was to be reserved (for Allah and His Apostle) in all cases. عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات عام لشکر کی تقسیم سے ہٹ کر بعض دستوں کو ، جنہیں آپ روانہ فرماتے تھے ، خصوصی طور پر ان کے لیے زائد عطیات دیتے تھے ، اور خمس ان سب مہموں میں واجب تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4566

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ
Abu Muammad al-Ansari, who was the close companion of Abu Qatada. narrated the hadith (which follows). ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے اور انہوں نے ابومحمد انصاری سے روایت کی اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے ، انہوں نے کہا : حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور انہوں ( ابومحمد ) نے حدیث بیان کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4567

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ
Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatada reported on the authority of Abu Qatda and narrated the hadith. لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے ، انہوں نے ابومحمد ( المعروف بہ ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ ۔ اور حدیث بیان کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4568

وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ، وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَا لِلنَّاسِ؟ فَقُلْتُ: أَمْرُ اللهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ [ص:1371] رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ»، قَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟» فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: لَا هَا اللهِ، إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللهِ، يُقَاتِلُ عَنِ اللهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ، فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ»، فَأَعْطَانِي، قَالَ: فَبِعْتُ الدِّرْعَ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَلَّا لَا يُعْطِيهِ، أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللهِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ
Abu Qatada reported: We accompanied the Messenger of Allah (my peace be upon him) on an expedition in the year of the Battle of Hunain. When we encountered the enemy, (some of the Muslims turned back (in fear). I saw that a man from the polytheists overpowered one of the Muslims. I turned round and attacked him from behind giving a blow between his neck and shoulder. He turned towards me and grappled with me in such a way that I began to see death staring me in the face. Then death overtook him and left me alone. I joined 'Umar b. al-Khattab who was saying: What has happened to the people (that they are retreating)? I said: It is the Decree of Allah. Then the people returned. (The battle ended in a victory for the Muslims) and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sat down (to distribute the spoils of war). He said: One who has killed an enemy and can bring evidence to prove it will get his belongings. So I stood up and said: Who will give evidence for me? Then I sat down. Then he (the Holy Prophet) said like this. I stood up (again) and said: Who will bear witness for me? He (the Holy Prophet) made the same observation the third time, and I stood up (once again). Now the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What has happened to you, O Abu Qatada? Then I related the (whole) story, to him. At this, one of the people said: He has told the truth. Messenger of Allah 1 The belongings of the enemy killed by him are with me. Persuade him to forgo his right (in my favour). (Objecting to this proposal) Abu Bakr said: BY Allah, this will not happen. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) will not like to deprive one of the lions from among the lions of Allah who fight in the cause of Allah and His Messenger and give thee his share of the booty. So the Messenger of Allah (may peace he upon him) said: He (Abu Bakr) has told the truth, and so give the belongings to him (Abu Qatada). So he gave them to me. I sold the armour (which was a part of my share of the booty) and bought with the sale proceeds a garden in the street of Banu Salama. This was the first property I acquired after embracing Islam. In a version of the hadith narrated by Laith, the words uttered by Abu Bakr are: No, never! He will not give it to a fox from the Quraish leaving aside a lion from the lions of Allah among.... And the hadith is closed with the words: The first property I acquired. امام مالک بن انس کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی ۔ کہا : میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی دیکھا جو مسلمانوں کے ایک آدمی پر غالب آ گیا تھا ، میں گھوم کر اس کی طرف بڑھا حتی کہ اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر وار کیا ، وہ ( اسے چھوڑ کر ) میری طرف بڑھا اور مجھے اس زور سے دبایا کہ مجھے اس ( دبانے ) سے موت کی بو محسوس ہونے لگی ، پھر اس کو موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا ، اس کے بعد میری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا : اللہ کا حکم ہے ۔ پھر لوگ واپس پلٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : "" جس نے کسی کو قتل کیا ، ( اور ) اس کے پاس اس کی کوئی دلیل ( نشانی وغیرہ ) ہو تو اس ( مقتول ) سے چھینا ہوا سامان اسی کا ہو گا ۔ "" کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ۔ کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی فرمایا ۔ کہا : میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ "" تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا ۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! اس نے سچ کہا ہے ۔ اس مقتول کا چھینا ہوا سامان میرے پاس ہے ، آپ انہیں ان کے حق سے ( دستبردار ہونے پر ) مطمئن کر دیجیے ۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر سے ، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کرتا ہے ، نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے مقتول کا چھینا ہوا سامان تمہیں دے دیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انہوں نے سچ کہا : وہ انہی کو دے دو ۔ "" تو اس نے ( وہ سامان ) مجھے دے دیا ، کہا : میں نے ( اسی سامان میں سے ) زرہ فروخت کی اور اس ( کی قیمت ) سے ( اپنی ) بنو سلمہ ( کی آبادی ) میں ایک باغ خرید لیا ۔ وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام ( کے زمانے ) میں بنایا ۔ لیث کی حدیث میں ہے : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر قریش کے ایک چھوٹے سے لگڑ بگھے کو عطا نہیں کریں گے ۔ لیث کی حدیث میں ہے : ( انہوں نے کہا ) وہ پہلا مال تھا جو میں نے بنایا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4569

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ، نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: يَا عَمِّ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، قَالَ: فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ، فَقَالَ: مِثْلَهَا، قَالَ: فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَيَانِ؟ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ، قَالَ: فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ: «أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟» فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُ، فَقَالَ: «هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟» قَالَا: لَا، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ: «كِلَاكُمَا قَتَلَهُ»، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ
It has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Auf who said: While I was standing in the battle array on the Day of Badr, I looked towards my right and my left, and found myself between two boys from the Ansar quite young in age. I wished I were between stronger persons. One of them made a sign to me and. said: Uncle, do you recognise Abu Jahl? 1 said: Yes. What do you want to do with him, O my nephew? He said: I have been told that he abuses the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). By Allah, in Whose Hand is my life, if I see him (I will grapple with him) and will not leave him until one of us who is destined to die earlier is killed. The narrator said: I wondered at this. Then the other made a sign to me and said similar words. Soon after I saw Abu Jahl. He was moving about among men. I said to the two boys: Don't you see? He is the man you were inquiring about. (As soon as they heard this), they dashed towards him, struck him with their swords until he was killed. Then they returned to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and informed him (to this effect). He asked: Which of you has killed him? Each one of them said: I have killed him. He said: Have you wiped your swords? They said: No. He examined their swords and said: Both of you have killed him. He then decided that the belongings of Abu Jahl he handed over to Mu'adh b. Amr b. al-Jamuh. And the two boys were Mu'adh b. Amr b. Jawth and Mu'adh b. Afra. حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : بدر کے دن جب میں صف میں کھڑا تھا ، میں نے اپنی دائیں اور بائیں طرف نظر دوڑائی تو میں انصار کے دو لڑکوں کے درمیان میں کھڑا تھا ، ان کی عمریں کم تھیں ، میں نے آرزو کی ، کاش! میں ان دونوں کی نسبت زیادہ طاقتور آدمیوں کے درمیان ہوتا ، ( اتنے میں ) ان میں سے ایک نے مجھے ہاتھ لگا کر متوجہ کیا اور کہا : چچا! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ کہا : میں نے کہا : ہاں ، بھتیجے! تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجوداس وقت تک اس کے وجود سے الگ نہیں ہو گا یہاں تک کہ ہم میں سے جلد تر مرنے والے کو موت آ جائے ۔ کہا : میں نے اس پر تعجب کیا تو دوسرے نے مجھے متوجہ کیا اور وہی بات کہی ، کہا : پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ میری نظر ابوجہل پر پڑی ، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا ۔ تو میں نے ( ان دونوں سے ) کہا : تم دیکھ نہیں رہے؟ یہ ہے تمہارا ( مطلوبہ ) بندہ جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے ۔ کہا : وہ دونوں یکدم اس کی طرف لپکے اور اس پر اپنی تلواریں برسا دیں حتی کہ اسے قتل کر دیا ، پھر پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے پوچھا : " تم دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ " ان دونوں میں سے ہر ایک نے جواب دیا : میں نے اسے قتل کیا ہے ۔ آپ نے پوچھا : " کیا تم دونوں نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ " انہوں نے کہا : نہیں ۔ آپ نے دونوں تلواریں دیکھیں اور فرمایا : " تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے ۔ " اور اس کے سازوسامان کا فیصلہ آپ نے عاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے حق میں دیا ۔ اور وہ دونوں جوان معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہم تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4570

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرَادَ سَلَبَهُ، فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لِخَالِدٍ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ؟» قَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «ادْفَعْهُ إِلَيْهِ»، فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفٍ، فَجَرَّ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ: «لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي؟ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا، أَوْ غَنَمًا، فَرَعَاهَا، ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا، فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا، فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ، وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ، فَصَفْوُهُ لَكُمْ، وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ
Auf b. Malik has narrated that a man from the Himyar tribe killed an enemy and wanted to take the booty. Khalid b. Walid, who was the commander over them, forbade, him. 'Auf b Malik (the narrator) came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and informed him (to this effect). The latter asked Khalid: What prevented you from giving the booty to him? Khalid said: I thought it was too much. He (the Holy Prophet) said: Hand it over to him. Now when Khalid by Auf, the latter pulled him by his cloak and said (by way of chafing him): Hasn't the same thing happened what I reported to you from the Messenger of Allah (may peace he upon him)? When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) heard it. he was angry (and said): Khalid, don't give him, Khalid, don't give him. Are you going to desert the commanders appointed by roe? Your similitude and theirs is like a person who took camels and sheep for grazing. He grazed them and when it was time for them to have a drink, he brought them to a pool. So they drank from it, drinking away its clear water and leaving the turbid water below So the clear water (i. e. the best reward) is for you and the turbid water (i e. blame) is for them. معاویہ بن صالح نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کا سلب ( مقتول کا سازوسامان ) لینا چاہا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور وہ ان پر امیر تھے ، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ( اپنے حمیری ساتھی کی حمایت کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھا : " تمہیں اس کے مقتول کا سامان اسے دینے سے کیا امر مانع ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ سمجھا ۔ آپ نے فرمایا : " وہ ( سامان ) ان کے حوالے کر دو ۔ " اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کی چادر کھینچی اور کہا : کیا میں نے پورا کر دیا جو میں نے آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کہا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن لی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا : " خالد! اسے مت دو ، خالد! اسے مت دو ۔ کیا تم میرے ( مقرر کیے ہوئے ) امیروں کو میرے لیے چھوڑ سکتے ہو ( کہ میں اصلاح کروں ، تم طعن و تشنیع نہ کرو! ) تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا بنایا گیا ، اس نے انہیں چرایا ، پھر ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا ، انہوں نے اس میں سے پینا شروع کیا تو انہوں نے اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4571

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَ عَوْفٌ: فَقُلْتُ: يَا خَالِدُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ
It has been narrated on the authority of Auf b. Malik al-Ashja'i who said: I joined the expedition that marched under Zaid b. Haritha to Muta, and I received reinformcement from the Yemen. (After this introduction), the narrator narrated the tradition that had gone before except that in his version Auf was reported to have said (to Khalid): Khalid, didn't you know that the Messenger of Allah (way peace be upon him) had decided In favour of giving the booty (sized from an enemy) to one who killed him? He (Khalid) said: Yes. but I thought it was too much. صفوان بن عمرو نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جانے والوں کے ساتھ روانہ ہوا ، یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی بھی میرا رفیق سفر ہوا ۔ ۔ ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے حدیث میں کہا : عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے کہا : خالد! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب ( مقتول کے سازوسامان ) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا تھا؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4572

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَأَنَاخَهُ، ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ، فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ، وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ، وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ، إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ، فَأَتَى جَمَلَهُ، فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ، وَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ، قَالَ سَلَمَةُ: وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ فِي الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ، فَنَدَرَ، ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟» قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: «لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ
It has been reported by Salama b. al-Akwa': We fought the Battle of Hawazin along with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). (One day) when we were having our breakfast with the Messenger of Allah (may peace he upon him), a man came riding a red camel. He made it kneel down, extracted a strip of leather from its girth and tethered the camel with it. Then he began to take food with the people and look (curiously around). We were in a poor condition as some of us were on foot (being without any riding animals). All of a sudden, he left us hurriedy, came to his camel, untethered it, made it kneel down, mounted it and urged the beast which ran off with him. A man on a brown rhe-camel chased him (taking him for a spy). Salama (the narrator) said: I followed on foot. I ran on until I was near the thigh of the she-camel. I advanced further until I was near the haunches of the camel. I advanced still further until I caught hold of the nosestring of the camel. I made it kneel down. As soon as it placed its knee on the ground, I drew my sword and struck at the head, of the rider who fell down. I brought the camel driving it along with the man's baggage and weapons. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came forward to meet me and the people were with him. He asked: Who has killed the man? The people said: Ibn Akwa'. He said: Everything of the man is for him (Ibn Akwa'). ایاس بن سلمہ نے کہا : مجھے میرے والد حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حنین کی جنگ لڑی ، اس دوران میں ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے کہ سرخ اونٹ پر ایک آدمی آیا ، اسے بٹھایا ، پھر اس نے اپنے پٹکے سے چمڑے کی ایک رسی نکالی اور اس سے اونٹ کو باندھ دیا ، پھر وہ لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے آگے بڑھا اور جائزہ لینے لگا ، ہم میں کمزوری اور ہماری سواریوں میں دبلا پن موجود تھا ، ہم میں کچھ پیدل بھی تھے ، اچانک وہ دوڑتا ہوا نکلا ، اپنے اونٹ کے پاس آیا ، اس کی رسی کھولی ، پھر اسے بٹھایا ، اس پر سوار ہوا اور اسے اٹھایا تو وہ ( اونٹ ) اسے لے کر دوڑ پڑا ۔ ( یہ دیکھ کر ) خاکستری رنگ کی اونٹنی پر ایک آدمی اس کے پیچھے لگ گیا ۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بھی دوڑتا ہوا نکلا ، میں ( پیچھا کرنے والے مسلمان کی ) اونٹنی کے پچھلے حصے کے پاس پہنچ گیا ، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ اونٹ کے پچھلے حصے کے پاس پہنچ گیا ، پھر میں آگے بڑھا حتی کہ میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھا دیا ، جب اس نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار نکالی اور اس شخص کے سر پر وار کیا تو وہ ( گردن سے ) الگ ہو گیا ، پھر میں اونٹ کو نکیل سے چلاتا ہوا لے آیا ، اس پر اس کا پالان اور ( سوار کا ) اسلحہ بھی تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سمیت میرا استقبال کیا اور پوچھا : "" اس آدمی کو کس نے قتل کیا؟ "" لوگوں نے کہا : ابن اکوع رضی اللہ عنہ نے ۔ آپ نے فرمایا : "" اس کا چھینا ہوا سازوسامان اسی کا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4573

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: غَزَوْنَا فَزَارَةَ وَعَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، أَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمَاءِ سَاعَةٌ، أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا، ثُمَّ شَنَّ الْغَارَةَ، فَوَرَدَ الْمَاءَ، فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ عَلَيْهِ، وَسَبَى، وَأَنْظُرُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِمُ الذَّرَارِيُّ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَلَمَّا رَأَوُا السَّهْمَ وَقَفُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ وَفِيهِمِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ - قَالَ: الْقَشْعُ: النِّطْعُ - مَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَسُقْتُهُمْ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِمْ أَبَا بَكْرٍ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِي الْمَرْأَةَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ، فَقَالَ لِي: «يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ»، فَقُلْتُ: هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَفَدَى بِهَا نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا أُسِرُوا بِمَكَّةَ
It has been narrated on the authority of Salama (b. al-Akwa') who said: We fought against the Fazara, and Abu Bakr was the commander over us. He had been appointed by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). When we were only at an hour's distance from the water of the enemy, Abu Bakr ordered us to attack. We made a halt during the last part of the night to rest and then we attacked from all sides and reached their watering-place where a battle was fought. Some of the enemies were killed and some were taken prisoners. I saw a group of persons that consisted of women and children. I was afraid lest they should reach the mountain before me, so I shot an arrow between them and the mountain. When they saw the arrow, they stopped. So I brought them, driving them along. Among them was a woman from Banu Fazara. She was wearing a leather coat. With her was her daughter who was one of the prettiest girls in Arabia. I drove them along until I brought them to Abu Bakr who bestowed that girl upon me as a prize. So we arrived in Medina. I had not yet disrobed her when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) met me in the street and said: Give me that girl, O Salama. I said: Messenger of Allah, she has fascinated me. I had not yet disrobed her. When on the next day the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) again met me in the street, he said: O Salama, give me that girl, may God bless your father. I said: She is for you, Messenger of Allah! By Allah. I have not yet disrobed her. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent her to the people of Mecca, and surrendered her as ransom for a number of Muslims who had been kept as prisoners at Mecca. حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے بنوفزارہ سے جنگ لڑی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سربراہ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر بنایا تھا ، جب ہمارے اور چشمے کے درمیان ایک گھڑی کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور رات کے آخری حصے میں ہم اتر پڑے ، پھر انہوں نے دھاوا بول دیا اور پانی پر پہنچ گئے ، میں نے ان لوگوں کی ایک قطار سی دیکھی ، اس میں عورتیں اور بچے تھے ، مجھے خدشہ محسوس ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک پہنچ جائیں گے ، چنانچہ میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیر پھینکا ، جب انہوں نے تیر دیکھا تو ٹھہر گئے ( انہیں یقین ہو گیا کہ وہ تیر کا نشانہ بنیں گے ) ، میں انہیں ہانکتا ہوا لے آیا ، ان میں بنوفزارہ کی ایک عورت تھی ، اس ( کے جسم ) پر رنگے ہوئے چمڑے کی چادر تھی ۔ ۔ قَشع ، چمڑے کی بنی ہوئی چادر ہوتی ہے ۔ ۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی ۔ میں نے انہیں آگے لگایا حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا ، انہوں نے اس کی بیٹی مجھے انعام میں دے دی ۔ ہم مدینہ آئے اور میں نے ( ابھی تک ) اس کا کپڑا نہیں کھولا تھا کہ بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی ، آپ نے فرمایا : " سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو ۔ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت اچھی لگی ہے اور ( ابھی تک ) میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا ، پھر اگلے دن بازار ( ہی ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا : " سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دو ، اللہ تمہارے باپ کو برکت دے! " میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! وہ آپ کے لیے ہے ۔ اللہ کی قسم! میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ بھیج دیا اور اس کے بدلے مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو چھڑا لیا جو مکہ میں قید کیے گئے تھے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4574

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا، وَأَقَمْتُمْ فِيهَا، فَسَهْمُكُمْ فِيهَا، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ هِيَ لَكُمْ»
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If you come to a township (which has surrendered without a formal war) and stay therein, you have a share (that will be in the form of an award) in (the properties obtained from) it. If a township disobeys Allah and His Messenger (and actually fights against the Muslims) one-fifth of the booty seized therefrom is for Allah and His Apostle and the rest is for you. ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث ذکر کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ جس بستی میں آؤ اور اس میں قیام کرو ( بغیر جنگ کے تمہاری تحویل میں آ جائے ) تو اس میں تمہارے لیے ( دوسرے مسلمانوں کی طرح ایک ) حصہ ہے اور جس بستی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ( اور تم نے لڑ کر اسے حاصل کیا ) تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا حصہ ہے ، پھر وہ ( باقی سب ) تمہارا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4575

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِيَ يَجْعَلُهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ
It has been narrated on the authority of Umar, who said: The properties abandoned by Banu Nadir were the ones which Allah bestowed upon His Apostle for which no expedition was undertaken either with cavalry or camelry. These properties were particularly meant for the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He would meet the annual expenditure of his family from the income thereof, and would spend what remained for purchasing horses and weapons as preparation for Jihad. قتیبہ بن سعید ، محمد بن عباد ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ اسحاق نے کہا کہ ہمیں خبر دی ، جبکہ دوسروں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے مالک بن اوس سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بنونضیر کے اموال ان اموال میں سے تھے جو اللہ نے اپنے رسول کو ( بطور فے ) عطا کیے جس پر مسلمانوں نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ ۔ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھے ۔ آپ ( ان میں سے ) اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا خرچ لیتے اور جو بچ جاتا اسے اللہ کی راہ میں ( جہاد کی ) تیاری کے لیے جنگی سواریوں اور اسلحے پر لگا دیتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4576

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri. معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4577

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسٍ، حَدَّثَهُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رُمَالِهِ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ لِي: يَا مَالُ، إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ، فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي، قَالَ: خُذْهُ يَا مَالُ، قَالَ: فَجَاءَ يَرْفَا، فَقَالَ: هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ؟ فَقَالَ عُمَرُ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ، وَعَلِيٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمَا، فَقَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الْآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ [ص:1378]، فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ: يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: اتَّئِدَا، أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»، قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ، وَعَلِيٍّ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمَا بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ»، قَالَا: نَعَمْ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللهَ جَلَّ وَعَزَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاصَّةٍ، لَمْ يُخَصِّصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ، قَالَ: {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ} [الحشر: 7]- مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لَا - قَالَ: فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَكُمْ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ، فَوَاللهِ، مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ، وَلَا أَخَذَهَا دُونَكُمْ، حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا، وَعَلِيًّا، بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ، أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ»، فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ، فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللهِ أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ، قَالَ: أَكَذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا، وَلَا وَاللهِ لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَيَّ
It is reported by Zuhri that this tradition was narrated to him by Malik b. Aus who said: Umar b. al-Khattab sent for me and I came to him when the day had advanced. I found him in his house sitting on his bare bed-stead, reclining on a leather pillow. He said (to me): Malik, some people of your tribe have hastened to me (with a request for help). I have ordered a little money for them. Take it and distribute it among them. I said: I wish you had ordered somebody else to do this job. He said: Malik, take it (and do what you have been told). At this moment (his man-servant) Yarfa' came in and said: Commander of the Faithful, what do you say about Uthman, Abd al-Rabman b. 'Auf, Zubair and Sa'd (who have come to seek an audience with you)? He said: Yes, and permitted them. so they entered. Then he (Yarfa') came again and said: What do you say about 'Ali and Abbas (who are present at the door)? He said: Yes, and permitted them to enter. Abbas said: Commander of the Faithful, decide (the dispute) between me and this sinful, treacherous, dishonest liar. The people (who were present) also said: Yes. Commander of the Faithful, do decide (the dispute) and have mercy on them. Malik b. Aus said: I could well imagine that they had sent them in advance for this purpose (by 'Ali and Abbas). 'Umar said: Wait and be patient. I adjure you by Allah by Whose order the heavens and the earth are sustained, don't you know that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: We (prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity ? They said: Yes. Then he turned to Abbas and 'Ali and said: I adjure you both by Allah by Whose order the heavens and earth are sustained, don't you know that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: We do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity ? They (too) said: Yes. (Then) Umar said: Allah, the Glorious and Exalted, had done to His Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a special favour that He has not done to anyone else except him. He quoted the Qur'anic verse: What Allah has bestowed upon His Apostle from (the properties) of the people of township is for Allah and His Messenger . The narrator said: I do not know whether he also recited the previous verse or not. Umar continued: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) distrbuted among you the properties abandoned by Banu Nadir. By Allah, he never preferred himself over you and never appropriated anything to your exclusion. (After a fair distribution in this way) this property was left over. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would meet from its income his annual expenditure, and what remained would be deposited in the Bait-ul-Mal. (Continuing further) he said: I adjure you by Allah by Whose order the heavens and the earth are sustained. Do you know this? They said: Yes. Then he adjured Abbas and 'All as he had adjured the other persons and asked: Do you both know this? They said: Yes. He said: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) passed away, Abu Bakr said: I am the successor of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Both of you came to demand your shares from the property (left behind by the Messenger of Allah). (Referring to Hadrat 'Abbas), he said: You demanded your share from the property of your nephew, and he (referring to 'Ali) demanded a share on behalf of his wife from the property of her father. Abu Bakr (Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: We do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity. So both of you thought him to be a liar, sinful, treacherous and dishonest. And Allah knows that he was true, virtuous, well-guided and a follower of truth. When Abu Bakr passed away and (I have become) the successor of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and Abu Bakr (Allah be pleased with him), you thought me to be a liar, sinful, treacherous and dishonest. And Allah knows that I am true, virtuous, well-guided and a follower of truth. I became the guardian of this property. Then you as well as he came to me. Both of you have come and your purpose is identical. You said: Entrust the property to us. I said: If you wish that I should entrust it to you, it will be on the condition that both of you will undertake to abide by a pledge made with Allah that you will use it in the same way as the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used it. So both of you got it. He said: Wasn't it like this? They said: Yes. He said: Then you have (again) come to me with the request that I should adjudge between you. No, by Allah. I will not give any other judgment except this until the arrival of the Doomsday. If you are unable to hold the property on this condition, return it to me. امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ انہیں مالک بن اوس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف قاصد بھیجا ، دن چڑھ چکا تھا کہ میں ان کے پاس پہنچا ۔ کہا : میں نے ان کو ان کے گھر میں اپنی چارپائی پر بیٹھے ہوئے پایا ، انہوں نے اپنا جسم کھجور سے بنے ہوئے بان کے ساتھ لگایا ہوا تھا اور چمڑے کے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اے مال ( مالک ) ! تمہاری قوم میں سے کچھ خاندان لپکتے ہوئے آئے تھے تو میں نے ان کے لیے تھوڑا سا عطیہ دینے کا حکم دیا ہے ، اسے لو اور ان میں تقسیم کر دو ۔ کہا : میں نے کہا : اگر آپ میرے سوا کسی اور کو اس کا حکم دے دیں ( تو کیسا رہے؟ ) انہوں نے کہا : اے مال! تم لے لو ۔ کہا : ( اتنے میں ان کے مولیٰ ) یرفا ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : امیر المومنین! کیا آپ کو عثمان ، عبدالرحمان بن عوف ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم ( کے ساتھ ملنے ) میں دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو اس نے ان کو اجازت دی ۔ وہ اندر آ گئے ، وہ پھر آیا اور کہنے لگا : کیا آپ کو عباس اور علی رضی اللہ عنہما ( کے ساتھ ملنے ) میں دلچسپی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ تو اس نے ان دونوں کو بھی اجازت دے دی ۔ تو عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المومنین! میرے اور اس جھوٹے ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن کے درمیان فیصلہ کر دیں ۔ کہا : اس پر ان لوگوں نے کہا : ہاں ، امیر المومنین! ان کے درمیان فیصلہ کر کے ان کو ( جھگڑے کے عذاب سے ) راحت دلا دیں ۔ ۔ مالک بن اوس نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو اسی غرض سے اپنے آگے بھیجا تھا ۔ ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم دونوں رکو ، میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " ہمارا کوئی وارث نہیں بنے گا ، ہم جو چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا " ؟ ان سب نے کہا : ہاں ۔ پھر وہ حضرت عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " تمہارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو کچھ چھوڑیں گے ، صدقہ ہو گا " ؟ ان دونوں نے کہا : ہاں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص چیز عطا کی تھی جو اس نے آپ کے علاوہ کسی کے لیے مخصوص نہیں کی تھی ، اس نے فرمایا ہے : " جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول پر لوٹایا وہ اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے " ۔ ۔ مجھے پتہ نہیں کہ انہوں نے اس سے پہلے والی آیت بھی پڑھی یا نہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے اموال تم سب میں تقسیم کر دیے ، اللہ کی قسم! آپ نے ( اپنی ذات کو ) تم پر ترجیح نہیں دی اور نہ تمہیں چھوڑ کر وہ مال لیا ، حتی کہ یہ مال باقی بچ گیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے سال بھر کا خرچ لیتے ، پھر جو باقی بچ جاتا اسے ( بیت المال کے ) مال کے مطابق ( عام لوگوں کے فائدے کے لیے ) استعمال کرتے ۔ انہوں نے پھر کہا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں! کیا تم یہ بات جانتے ہو؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ پھر انہوں نے عباس اور علی رضی اللہ عنہ کو وہی قسم دی جو باقی لوگوں کو دی تھی ( اور کہا ) : کیا تم دونوں یہ بات جانتے ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ پھر کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشیں ہوں تو آپ دونوں آئے ، آپ اپنے بھتیجے کی وراثت مانگ رہے تھے اور یہ اپنی بیوی کی ان کے والد کی طرف سے وراثت مانگ رہے تھے ۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " ہمارا کوئی وارث نہیں ہو گا ، ہم جو چھوڑیں گے ، صدقہ ہے ۔ " تو تم نے انہیں جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن خیال کیا تھا اور اللہ جانتا ہے وہ سچے ، نیکوکار ، راست رَو اور حق کے پیروکار تھے ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جانشیں بنا تو تم نے مجھے جھوٹا ، گناہ گار ، عہد شکن اور خائن خیال کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ، نیکوکار ، راست رَو اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں ، میں اس کا منتظم بنا ، پھر تم اور یہ میرے پاس آئے ، تم دونوں اکٹھے ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے ۔ تم نے کہا : یہ ( اموال ) ہمارے سپرد کر دو ۔ میں نے کہا : اگر تم چاہو تو میں اس شرط پر یہ تم دونوں کے حوالے کر دیتا ہوں کہ تم دونوں پر اللہ کے عہد کی پاسداری لازمی ہو گی ، تم بھی اس میں وہی کرو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے تو تم نے اس شرط پر اسے لے لیا ۔ انہوں نے پوچھا : کیا ایسا ہی ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا ۔ ہاں ۔ انہوں نے کہا : پھر تم ( اب ) دونوں میرے پاس آئے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں ۔ نہیں ، اللہ کی قسم! میں قیامت کے قائم ہونے تک تمہارے درمیان اس کے سوا اور فیصلہ نہیں کروں گا ۔ اگر تم اس کے انتظام سے عاجز ہو تو وہ مال مجھے واپس کر دو
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4578

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: يَحْبِسُ قُوتَ أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
The same hadith has been narrated by a different chain of transmitters with a slight variation in wording: 'Umar b. al-Khattab sent for me and said: Some families from your tribe have come to me (then follows the foregoing hadith) by Malik with the difference that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would spend on his family for a year. And sometimes Ma'mar said: He would retain sustenance for his family for a year, and what was left of that he spent in the cause of Allah, the Majestic and Exalted. معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے مالک بن اوس بن حدثان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا اور کہا : تمہاری قوم میں سے کچھ گھرانوں کے لوگ آئے تھے ۔ ۔ مالک کی حدیث کی طرح ، البتہ انہوں نے اس میں کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سال بھر اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ۔ اور ( حدیث بیان کرتے ہوئے ) بسا اوقات معمر نے کہا : آپ اس سے اپنے گھر والوں کی سال بھر کی کم از کم خوراک الگ کر لیتے ، پھر جو بچتا اسے اللہ کے مال ( بیت المال ) کے مصارف پر لگاتے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4579

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ ‏ ‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of 'A'isha who said: When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away, his wives made up their minds to send 'Uthman b. 'Affan (as their spokesman) to Abu Bakr to demand from him their share from the legacy of the Prophet (ﷺ). (At this), A'isha said to them: Hasn't the Messenger of Allah (ﷺ) said: We (Prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity ? ام المومنین حضرت عائشہ رصی اﷲ عنہا سے روایت ہے جب رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیبیوں نے حضرت عثمان رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بھیجنا چاہا اپنا ترکہ مانگنے کے لیے رسول اﷲ کے مال سے، حضرت عائشہ رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا ان سے کیا جناب رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے نہیں فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو ہم چھوڑ جاویں وہ صدقہ ہے۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4580

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ ‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم - فِي هَذَا الْمَالِ ‏ ‏ ‏.‏ وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ - قَالَ - فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلاً وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلاَ يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ - كَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - فَقَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ وَاللَّهِ لاَ تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ ‏.‏ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ وَكُنَّا نَحْنُ نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرٍ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهِ عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ عَلِيٌّ لأَبِي بَكْرٍ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ ‏.‏ فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلاَةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلاَ إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ ‏.‏ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ ‏.‏
It is narrated on the authority of Urwa b. Zubair who narrated from A'isha that she informed him that Fatima, daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), sent someone to Abu Bakr to demand from him her share of the legacy left by the Messenger of Allah (ﷺ) from what Allah had bestowed upon him at Medina and Fadak and what was left from one-filth of the income (annually received) from Khaibar. Abu Bakr said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: We (prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity. The household of the Messenger of Allah (ﷺ) will live on the income from these properties, but, by Allah, I will not change the charity of the Messenger of Allah (ﷺ) from the condition in which it was in his own time. I will do the same with it as the Messenger of Allah (may peace be upun him) himself used to do. So Abu Bakr refused to hand over anything from it to Fatima who got angry with Abu Bakr for this reason. She forsook him and did not talk to him until the end of her life. She lived for six months after the death of the Messenger of Allah (ﷺ). When she died, her husband. 'Ali b. Abu Talib, buried her at night. He did not inform Abu Bakr about her death and offered the funeral prayer over her himself. During the lifetime of Fatima, 'All received (special) regard from the people. After she had died, he felt estrangement in the faces of the people towards him. So he sought to make peace with Abu Bakr and offer his allegiance to him. He had not yet owed allegiance to him as Caliph during these months. He sent a person to Abu Bakr requesting him to visit him unaccompanied by anyone (disapproving the presence of Umar). 'Umar said to Abu Bakr: BY Allah, you will not visit them alone. Abu Bakr said: What will they do to me? By Allah, I will visit them. And he did pay them a visit alone. 'All recited Tashahhud (as it is done in the beginning of a religious sermon) ; then said: We recognise your moral excellence and what Allah has bestowed upon you. We do not envy the favour (i. e. the Catiphate) which Allah nas conferred upon you; but you have done it (assumed the position of Caliph) alone (without consulting us), and we thought we had a right (to be consulted) on account of our kinship with the Messenger of Allah (ﷺ). He continued to talk to Abu Bakr (in this vein) until the latter's eyes welled up with tears. Then Abd Bakr spoke and said: By Allah, in Whose Hand is my life, the kinship of the Messenger of Allah (ﷺ) is dearer to me than the kinship of my own people. As regards the dispute that has arisen between you and me about these properties, I have not deviated from the right course and I have not given up doing about them what the Messenger of Allah (ﷺ) used to do. So 'Ali said to Abu Bakr: This aftetnoon is (fixed) for (swearing) allegiance (to you). So when Abu Bakr had finished his Zuhr prayer, he ascended the pulpit and recited Tashahhud, and described the status of 'Ali, his delay in swearing allegiance and the excuse which lie had offered to him (for this delay). (After this) he asked for God's forgiveness. Then 'Ali b. Abu Talib recited the Tashahhud. extolled the merits of Abu Bakr and (said that) his action was nott prompted by any jealousy of Abu Bakr on his part or his refusal to accept the high position which Allah had conferred upon him, (adding: ) But we were of the opinion that we should have a share in the government, but the matter had been decided without taking us into confidence, and this displeased us. (Hence the delay in offering allegiance. The Muslims were pleased with this (explanation) and they said: You have done the right thing. The Muslims were (again) favourably inclined to 'Ali since he adopted the proper course of action ام المومنین حضرت عائشہ رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے حضرت فاطمہ زہرا رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی صاحبزادی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اپنا ترکہ مانگنے کو رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے ان مالوں میں سے جو اﷲ تعالیٰ نے دئیے آپ کو مدینہ میں اور فدک میں اور جو کچھ بچتا تھا خیبر کے خمس میں سے۔ حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑ جاویں وہ صدقہ ہے اور حضرت محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی اولاد اسی مال میں سے کھاوے گی اور میں تو قسم خدا کی رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے صدقہ کو کچھ بھی نہیں بدلوں گا اس حال سے جیسے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے زمانہ مبارک میں تھا اور میں اس میں وہی کام کروں گا جو جناب رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کرتے تھے۔ غرضیکہ حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انکار کیا حضرت فاطمہ رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کچھ دینے اور حضرت فاطمہ کو غصہ آیا انہوں نے حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات چھوڑ دی اور بات نہ کی یہاں تک کہ وفات ہوئی ان کی ( نوویؒ نے کہا یہ ترک ملاقات وہ ترک نہیں جو شرع میں حرام ہے او روہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت سلام نہ کرے یا سلام کا جواب نہ دے ) اور وہ رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے بعد صرف چھ مہینہ زندہ رہیں۔ ( بعضوں نے کہا آٹھ مہینے یا نو مہینے یا دو مہینے یا ستر دن ) بہرحال تین تاریخ رمضان مبارک ۱۱ھ مقدس کو انہوں نے انتقال فرمایا۔ جب ان کا انتقال ہوا ت وان کے خاوند حضرت علی بن ابی طالب رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو رات کو دفن کیااور حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خبر نہ کی ( اس سے معلوم ہوا کہ رات کو دفن کرنا بھی جائز ہے اور دن کو افضل ہے اگر کوئی عذر نہ ہو ) اور نماز پڑھی ان پر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے اور جب تک حضرت فاطمہ زہرا رضی ‌اللہ ‌عنہ زندہ تھیں تب تک لوگ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی طرف مائل تھے ( بوجہ فاطمہ رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ) ۔ جب وہ انتقال کرگئیں تو حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا لوگ میری طرف سے پھر گئے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ سے صلح کرلینا چاہا اور ان سے بیعت کرلینا مناسب سمجھا اور ابھی تک کئی مہینے گزرے تھے انہوں نے بیعت نہیں کی تھی حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ سے تو حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا بھیجا او ریہ کہلا بھیجا کہ آپ اکیلے آئیے آپ کے ساتھ کوئی نہ آوے کیونکہ وہ حضرت عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آنا ناپسند کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا قسم خدا کی تم اکیلے ان کے پاس نہ جاؤگے۔ حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا وہ میرے ساتھ کیا کریں گے قسم خدا کی میں تو اکیلا جاؤں گا۔ آخر حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس گئے اور حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تشہد پڑھا ( جیسے خطبہ کے شروع میں پڑھتے ہیں ) پھر کہا ہم نے پہچانا اے ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہاری فضیلت کو اور جو اﷲ نے تم کو دیا اور ہم رشک نہیں کرتے اس نعمت پر جو اﷲ نے تم کو دی ( یعنی خلافت او رحکومت ) لیکن تم نے اکیلے اکیلے یہ کام کرلیا اور ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا بھی حق ہے اس میں کیونکہ ہم قرابت رکھتے تھے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم سے۔ پھر برابر حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ جب حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے گفتگو شروع کی تو کہا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جناب رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی قرابت کا لحاظ مجھ کو اپنی قرابت سے زیادہ ہے اور یہ جو مجھ میں اور تم میں ان باتوں کی بابت ( یعنی فدک اور نضیر او رخمس خیبر وغیرہ ) اختلاف ہوا تو میں نے حق کو نہیں چھوڑا او رمیں نے وہ کوئی کام نہیں چھوڑا جس کو میں نے دیکھا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کو کرتے ہوئے بلکہ اس کو میں نے کیا۔ حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا اچھا آج سہ پہر کو ہم آپ سے بیعت کریں گے۔ جب حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو منبر پر چڑھے اور تشہد پڑھا او رحضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قصہ بیان کیا اور ان کے دیر کرنے کا بیعت سے اور جو عذر انہوں نے بیان کیا تھا وہ بھی کہا پھر دعا کی مغفرت کی اور حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تشہد پڑھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت بیان کی اور یہ کہا کہ میرا دیر کرنا بیعت میں اس وجہ سے نہ تھا کہ مجھ کو حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ پر شک ہے یا ان کی بزرگی اور فضیلت کا مجھے انکار ہے بلکہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس خلافت میں ہمارا بھی حصہ ہے اور حضرت ابوبکر نے اکیلے بعیر صلاح کے یہ کام کرلیا اس وجہ سے ہمارے دل کو یہ رنج ہوا۔ یہ سن کر مسلمان خوش ہوئے اور سب نے حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا تم نے ٹھیک کام کیا۔ اس روز سے مسلمان حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف مائل ہوگئے جب انہوں نے واجبی امر کو اختیار کیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4581

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّصلى الله عليه وسلم وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَكْرٍ وَذَكَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَى إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ فَقَالُوا أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ ‏.‏ فَكَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَى عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'A'isha that Fatima and 'Abbas approached Abu Bakr, soliciting transfer of the legacy of the Messenger of Allah (ﷺ) to them. At that time, they were demanding his (Holy Prophet's) lands at Fadak and his share from Khaibar. Abu Bakr said to them: I have heard from the Messenger of Allah (ﷺ). Then he quoted the hadith having nearly the same meaning as the one which has been narrated by Uqail on the authority of al-Zuhri (and which his gone before) except that in his version he said: Then 'Ali stood up, extolled the merits of Abu Bakr mentioned his superiority, and his earlier acceptance of Islam. Then he walked to Abu Bakr and swore allegiance to him. (At this) people turned towards 'Ali and said: you have done the right thing. And they became favourably inclined to 'Ali after he had adopted the proper course of action. ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے حضرت فاطمہ زہرا رضی ‌اللہ ‌عنہ اور حضرت عباس دونوں حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اپنا حصہ مانگتے تھے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے مال میں سے اور وہ اس وقت طلب کرتے تھے فدک کی زمین او رخیبر کا حصہ ابوبکر صدیق نے کہا کہ میں نے سنا ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم سے پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری اس میں یہ ہے کہ پھر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کھڑے ہوئے اور حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بڑائی بیان کی اور ان کی فضیلت اور سبقت اسلام کا ذکر کیا پھر ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور ان سے بیعت کی۔ اس وقت لوگ حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے او رکہنے لگے آپ نے ٹھیک کیا اور اچھا کیا اور اس وقت سے لوگ ان کے طرفدار ہوگئے جب سے انہوں نے واجبی بات کو مان لیا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4582

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏.‏ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ ‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الأَمْرَ قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ ‏.‏
Report Error | Share It has been narrated by 'Urwa b Zubair on the authority of 'A'isha, wife of the Prophet (ﷺ), that Fatima, daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), requested Abu Bakr, after the death of the Messenger of Allah (may peace he upon him), that he should set apart her share from what the Messenger of Allah (ﷺ) had left from the properties that God had bestowed upon him. Abu Bakr said to her: The Messenger of Allah (ﷺ) said: We do not have any heirs; what we leave behind is Sadaqa (charity). The narrator said: She (Fatima) lived six months after the death of the Messenger of Allah (ﷺ) and she used to demand from Abu Bakr her share from the legacy of the Messenger of Allah (ﷺ) from Khaibar, Fadak and his charitable endowments at Medina. Abu Bakr refused to give her this, and said: I am not going to give up doing anything which the Messenger of Allah (ﷺ) used to do. I am afraid that it I go against his instructions in any matter I shall deviate from the right course. So far as the charitable endowments at Medina were concerned, 'Umar handed them over to 'Ali and Abbas, but 'Ali got the better of him (and kept the property under his exclusive possession). And as far as Khaibar and Fadak were concerned 'Umar kept them with him, and said: These are the endowments of the Messenger of Allah (ﷺ) (to the Umma). Their income was spent on the discharge of the responsibilities that devolved upon him on the emergencies he had to meet. And their management was to be in the hands of one who managed the affairs (of the Islamic State). The narrator said: They have been managed as such up to this day. ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی صاحبزادی نے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اپناحصہ مانگا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے ترکہ سے جو اﷲ تعالیٰ نے آپ کو دیا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا ہے ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑ جاویں وہ صدقہ ہے اور حضرت فاطمہ رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کی وفات کے بعد صرف چھ مہینے تک زندہ رہیں اور وہ اپنا حصہ مانگتی تھیں خیبر اور فدک اور مدینہ کے صدقہ میں سے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نہ دیا اور یہ کہا کہ میں کوئی کام جس کو رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کرتے تھے چھوڑنے والا نہیں میں ڈرتا ہوں کہیں گمراہ نہ ہوجاؤں۔ پھر مدینہ کا صدقہ حضرت عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے زمانے میں حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ اور عباس رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دے دیا لیکن حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عباس رضی ‌اللہ ‌عنہ پر غلبہ کیا ( یعنی اپنے قبضہ میں رکھا ) او رخیبر اور فدک کو حضرت عمر رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے قبضہ میں رکھا اور یہ کہا کہ یہ دونوں صدقہ تھے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے جو صرف ہوتے آپ کے حقوق او رکاموں میں جو پیش آتے آپ کو اور یہ دونوں اس کے اختیار میں رہیں گے جو حاکم ہو مسلمانوں کا پھر آج تک ایسا ہی رہا ( یعنی خیبر اور فدک ہمیشہ خلیفہ وقت کے قبضہ میں رہے۔ حضرت علی رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اپنی خلاف میں ان کو تقسیم نہیں کیا۔ پس شیعوں کا اعتراض حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہم پر لغو ہوگیا ) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4583

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ ""‏ لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِيِنَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ ‏""‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said: My heirs cannot share even a dinar (from my legacy) ; what I leave behind after paving maintenance allowance to my wives and remuneration to my manager is (to go in) charity. حضرت ‌ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌میرے ‌وارث ‌ایك ‌دینار ‌بھی ‌بانٹ ‌نہیں ‌سكتے ‌جو ‌چھوڑ ‌جاؤں ‌اپنی ‌عورتوں ‌كے ‌خرچ ‌كے ‌بعد ‌اور ‌منتظم ‌كی ‌اجرت ‌كے ‌بعد ‌بچے ‌تو ‌وہ ‌صدقہ ‌ہے ‌.
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4584

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ ‏.‏
A similar hadith has been narrated on the authority of Abu Zinad through a different chain of transmitters. ترجمہ ‌وہی ‌جو ‌اوپر ‌٤٥٨٣ ‌میں ‌گزرا۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4585

وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ ""‏ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ‏""‏ ‏.‏
It his been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "" We do not have any heirs; what we leave behind is a charitable endowment."" ابو ‌ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌كہ ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌ہمارا ‌كوئی ‌وارث ‌نہیں ‌جو ‌ہم ‌چھوڑ ‌جائیں ‌وہ ‌صدقہ ‌ہے ‌۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4586

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ فِي النَّفَلِ، لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا
It is narrated on the authority of 'A'isha who said: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) passed away, his wives made up their minds to send 'Uthman b. 'Affan (as their spokesman) to Abu Bakr to demand from him their share from the legacy of the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). (At this), A'isha said to them: Hasn't the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: We (Prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity ? سلیم بن اخضر نے ہمیں عبیداللہ بن عمر سے خبر دی ، کہا : ہمیں نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت میں سے گھوڑے کے لیے دو حصے اور آدمی ( سوار ) کے لیے ایک حصہ نکالا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4587

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي النَّفَلِ
The same tradition has been narrated on the authority of Ubaidullah by a different chain of transmitters who do not mention the words: from the booty . عبداللہ بن نمیر نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے یہ نہیں کہا : غنیمت میں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4588

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ [ص:1384] نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ، وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ: «اللهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ»، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ، مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ} [الأنفال: 9] فَأَمَدَّهُ اللهُ بِالْمَلَائِكَةِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ، إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ يَقُولُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ، فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ، وَشُقَّ وَجْهُهُ، كَضَرْبَةِ السَّوْطِ [ص:1385] فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «صَدَقْتَ، ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ»، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ، وَأَسَرُوا سَبْعِينَ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ: «مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ، أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ، فَعَسَى اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟» قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلَانٍ نَسِيبًا لِعُمَرَ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا، فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمِ الْفِدَاءَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} [الأنفال: 67] إِلَى قَوْلِهِ {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: 69] فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ
It has been narrated on the authority of `Umar b. al-Khattab who said: When it was the day on which the Battle of Badr was fought, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) cast a glance at the infidels, and they were one thousand while his own Companions were three hundred and nineteen. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) turned (his face) towards the Qibla. Then he stretched his hands and began his supplication to his Lord: O Allah, accomplish for me what Thou hast promised to me. O Allah, bring about what Thou hast promised to me. O Allah, if this small band of Muslims is destroyed. Thou will not be worshipped on this earth. He continued his supplication to his Lord, stretching his hands, facing the Qibla, until his mantle slipped down from his shoulders. So Abu Bakr came to him, picked up his mantle and put it on his shoulders. Then he embraced him from behind and said: Prophet of Allah, this prayer of yours to your Lord will suffice you, and He will fulfill for you what He has promised you. So Allah, the Glorious and Exalted, revealed (the Qur'anic verse): When ye appealed to your Lord for help, He responded to your call (saying): I will help you with one thousand angels coming in succession. So Allah helped him with angels. Abu Zumail said that the hadith was narrated to him by Ibn `Abbas who said: While on that day a Muslim was chasing a disbeliever who was going ahead of him, he heard over him the swishing of the whip and the voice of the rider saying: Go ahead, Haizum! He glanced at the polytheist who had (now) fallen down on his back. When he looked at him (carefully he found that) there was a scar on his nose and his face was torn as if it had been lashed with a whip, and had turned green with its poison. An Ansari came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and related this (event) to him. He said: You have told the truth. This was the help from the third heaven. The Muslims that day (i.e. the day of the Battle of Badr) killed seventy persons and captured seventy. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to Abu Bakr and `Umar (Allah be pleased with them): What is your opinion about these captives? Abu Bakr said: They are our kith and kin. I think you should release them after getting from them a ransom. This will be a source of strength to us against the infidels. It is quite possible that Allah may guide them to Islam. Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What is your opinion, Ibn Khattab? He said: Messenger of Allah, I do not hold the same opinion as Abu Bakr. I am of the opinion that you should hand them over to us so that we may cut off their heads. Hand over `Aqil to `Ali that he may cut off his head, and hand over such and such relative to me that I may cut off his head. They are leaders of the disbelievers and veterans among them. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) approved the opinion of Abu Bakr and did not approve what I said. The next day when I came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), I found that both he and Abu Bakr were sitting shedding tears. I said: Messenger of Allah, why are you and your Companion shedding tears? Tell me the reason. For I will weep, or I will at least pretend to weep in sympathy with you. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I weep for what has happened to your companions for taking ransom (from the prisoners). I was shown the torture to which they were subjected. It was brought to me as close as this tree. (He pointed to a tree close to him.) Then God revealed the verse: It is not befitting for a prophet that he should take prisoners until the force of the disbelievers has been crushed... to the end of the verse: so eat ye the spoils of war, (it is) lawful and pure. So Allah made booty lawful for them. ابوزمیل سماک حنفی نے کہا : مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب در کا دن تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی طرف دیکھا ، وہ ایک ہزار تھے ، اور آپ کے ساتھ تین سو انیس آدمی تھے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے ، پھر اپنے ہاتھ پھیلائے اور بلند آواز سے اپنے رب کو پکارنے لگے : "" اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا اسے میرے لیے پورا فرما ۔ اے اللہ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا مجھے عطا فرما ۔ اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری بندگی نہیں ہو گی ۔ "" آپ قبلہ رو ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلائے مسلسل اپنے رب کو پکارتے رہے حتی کہ آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر گئی ۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے ، چادر اٹھائی اور اسے آپ کے کندھوں پر ڈالا ، پھر پیچھے سے آپ کے ساتھ چمٹ گئے اور کہنے لگے : اللہ کے نبی! اپنے رب سے آپ کا مانگنا اور پکارنا کافی ہو گیا ۔ وہ جلد ہی آپ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : "" جب تم لوگ اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں ایک دوسرے کے پیچھے اترنے والے ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا ۔ "" پھر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی ۔ ابوزمیل نے کہا : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : اس دوران میں ، اس دن مسلمانوں میں سے ایک شخص اپنے سامنے بھاگتے ہوئے مشرکوں میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنے اوپر سے کوڑا مارنے اور اس کے اوپر سے گھڑ سوار کی آواز سنی ، جو کہہ رہا تھا : حیزوم! آگے بڑھ ۔ اس نے اپنے سامنے مشرک کی طرف دیکھا تو وہ چت پڑا ہوا تھا ، اس نے اس پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان پڑا ہوا تھا ، کوڑے کی ضرب کی طرح اس کا چہرہ پھٹا ہوا تھا اور وہ پورے کا پورا سبز ہو چکا تھا ، وہ انصاری آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا : "" تم نے سچ کہا ، یہ تیسرے آسمان سے ( آئی ہوئی ) مدد تھی ۔ "" انہوں ( صحابہ ) نے اس دن ستر آدمی قتل کیے اور ستر قیدی بنائے ۔ ابوزمیل نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب انہوں نے قیدیوں کو گرفتار کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : "" ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ "" تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے بیٹے ہیں ۔ میری رائے ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، یہ کافروں کے خلاف ہماری قوت کا باعث ہو گا ، ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کو اسلام کی راہ پر چلا دے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : "" ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے؟ "" کہا : میں نے عرض کی : نہیں ، اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میری رائے وہ نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے ، بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ ہمیں اختیار دیں اور ہم ان کی گردنیں اڑا دیں ۔ آپ عقیل پر علی رضی اللہ عنہ کو اختیار دیں وہ اس کی گردن اڑا دیں اور مجھے فلاں ۔ ۔ عمر کے ہم نسب ۔ ۔ پر اختیار دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ یہ لوگ کفر کے پیشوا اور بڑے سردار ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پسند کیا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی تھی اور جو میں نے کہا تھا اسے پسند نہ فرمایا ۔ جب اگلا دن ہوا ( اور ) میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں رو رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے بتائیے ، آپ اور آپ کا ساتھی کس چیز پر رو رہے ہیں؟ اگر مجھے رونا آ یا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو بھی میں آپ دونوں کے رونے کی بنا پر رونے کی کوشش کروں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں اس بات پر رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے ان سے فدیہ لینے کے بارے میں میرے سامنے پیش کی تھی ، ان کا عذاب مجھے اس درخت سے بھی قریب تر دکھایا گیا "" ۔ ۔ وہ درخت جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا ۔ ۔ اور اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائی ہیں : "" کسی نبی کے لیے ( روا ) نہ تھا کہ اس کے پاس قیدی ہوں ، یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون بہائے ۔ ۔ ۔ "" اس فرمان تک ۔ ۔ ۔ "" تو تم اس میں سے کھاؤ جو حلال اور پاکیزہ غنیمتیں تم نے حاصل کی ہیں ۔ "" تو اس طرح اللہ نے ان کے لیے غنیمت کو حلال کر دیا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4589

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟» فَقَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ: «مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟» قَالَ: مَا قُلْتُ لَكَ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: «مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟» فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ»، فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا مُحَمَّدُ، وَاللهِ، مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَاللهِ، مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَيَّ، وَاللهِ، مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ: أَصَبَوْتَ، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَاللهِ، لَا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
It has been narrated on the authority of Abu Huraira who said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent some horsemen to Najd. They captured a man. He was from the tribe of Banu Hanifa and was called Thumama b. Uthal. He was the chief of the people of Yamama. People bound him with one of the pillars of the mosque. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came out to (see) him. He said: O Thumama, what do you think? He replied: Muhammad, I have good opinion of you. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you do me a favour, you will do a favour to a grateful person. If you want wealth, ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah (may peace be pon him) lefthim (in this condition) for two days, (and came to him again) and said: What do you think, O Thumama? He replied: What I have already told you. If you do a favour, you will do a favour to a grateful person. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you want wealth, ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) left him until the next day when he (came to him again) and said: What do you think, O Thumama? He replied: What I have already told you. If you do me a favour, you will do a favour to a grateful person. If you kill me, you will kill a person who has spilt blood. If you want wealth ask and you will get what you will demand. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Set Thumama free. He went to a palm-grove near the mosque and took a bath. Then he entered the mosque and said: I bear testimony (to the truth) that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His bondman and His messenger. O Muhammad, by Allah, there was no face on the earth more hateful to me than your face, but (now) your face has become to me the dearest of all faces. By Allah, there was no religion more hateful to me than your religion, but (now) your religion has become the dearest of all religions to me. By Allah, there was no city more hateful to me than your city, but (now) your city has become the dearest of all cities to me. Your horsemen captured me when I intended going for Umra. Now what is your opinion (in the matter)? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) announced good tidings to him and told him to go on 'Umra. When he reached Mecca, somebody said to him: Have you changed your religion? He said: No! I have rather embraced Islam with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). By Allah, you will not get a single grain of wheat from Yamama until it is permitted by the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). لیث نے ہمیں سعید بن ابی سعید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی جانب گھڑ سواروں کا ایک دستہ بھیجا تو وہ بنوحنفیہ کے ایک آدمی کو پکڑ لائے ، جسے ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا ، وہ اہل یمامہ کا سردار تھا ، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) نکل کر اس کے پاس آئے اور پوچھا : " ثمامہ! تمہارے پاس کیا ( خبر ) ہے؟ " اس نے جواب دیا : اے محمد! میرے پاس اچھی بات ہے ، اگر آپ قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا حق مانگا جاتا ہے اور اگر احسان کریں گے تو اس پر احسان کریں گے جو شکر کرنے والا ہے ۔ اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجئے ، آپ جو چاہتے ہیں ، آپ کو دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اس کے حال پر ) چھوڑ دیا حتی کہ جب اگلے سے بعد کا دن ( آئندہ پرسوں ) ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ثمامہ! تمہارے پاس ( کہنے کو ) کیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : ( وہی ) جو میں نے آپ سے کہا تھا ، اگر احسان کریں گے تو ایک شکر کرنے والے پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو ایک خون والے کو قتل کریں گے اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجئے ، آپ جو چاہتے ہیں آپ کو وہی دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اسی حال میں ) چھوڑ دیا حتی کہ جب اگلا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : میرے پاس وہی ہے جو میں نے آپ سے کہا تھا : اگر احسان کریں گے تو ایک احسان شناس پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون ضائع نہیں جاتا ، اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجیے ، آپ جو چاہتے ہیں وہی آپ کو دیا جائے گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ثمامہ کو آزاد کر دو ۔ " وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے ایک باغ کی طرف گیا ، غسل کیا ، پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اے محمد! اللہ کی قسم! روئے زمین پر آپ کے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ نہیں تھا جس سے مجھے بغض ہو اور اب آپ کے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ نہیں جو مجھے زیادہ محبوب ہو ۔ اللہ کی قسم! آپ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین مجھے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، اب آپ کا دین سب سے بڑھ کر محبوب دین ہو گیا ہے ۔ اللہ کی قسم! مجھے آپ کے شہر سے بڑھ کر کوئی شہر برا نہیں لگتا تھا ، اب مجھے آپ کے شہر سے بڑھ کو کوئی اور شہر محبوب نہیں ۔ آپ کے گھڑسواروں نے مجھے ( اس وقت ) پکڑا تھا جب میں عمرہ کرنا چاہتا تھا ۔ اب آپ کیا ( صحیح ) سمجھتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ایمان کی قبولیت کی ) خوشخبری دی اور حکم دیا کہ عمرہ ادا کرے ۔ جب وہ مکہ آئے تو کسی کہنے والے نے ان سے کہا : کیا بے دین ہو گئے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا : نہیں ، بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا ہوں ، اور اللہ کی قسم! یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت دے دیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4590

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا لَهُ نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ
The same tradition has been narrated by a different chain of transmitters with a slight difference in the wording. اور انہوں نے لیث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے ( آپ قتل کریں گے کے بجائے ) " اگر مجھے قتل کریں گے تو ایک خون والے کو قتل کریں گے ‘ کے الفاظ کہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4591

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ»، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَاهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُمْ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا»، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ أُرِيدُ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا»، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ أُرِيدُ»، فَقَالَ لَهُمُ الثَّالِثَةَ: فَقَالَ: «اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
It has been narrated on the authority of Abu Huraira who said: We were (sitting) in the mosque when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to us and said: (Let us) go to the Jews. We went out with him until we came to them. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up and called out to them (saying): O ye assembly of Jews, accept Islam (and) you will be safe. They said: Abu'l-Qasim, you have communicated (God's Message to us). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I want this (i. e. you should admit that God's Message has been communicated to you), accept Islam and you would be safe. They said: Abu'l-Qisim, you have communicated (Allah's Message). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I want this... - He said to them (the same words) the third time (and on getting the same reply) he added: You should know that the earth belongs to Allah and His Apostle, and I wish that I should expel you from this land Those of you who have any property with them should sell it, otherwise they should know that the earth belongs to Allah and His Apostle (and they may have to go away leaving everything behind). حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ایک بار ہم مسجد میں تھے کہ ( اچانک ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : " یہود کی طرف چلو ۔ " ہم آپ کے ساتھ نکلے حتی کہ ان کے ہاں پہنچ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، بلند آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا : " اے یہود کی جماعت! اسلام قبول کر لو ، سلامتی پاؤ گے ۔ " انہوں نے کہا : اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " میں یہی ( پیغام پہنچانا ) چاہتا ہوں ، اسلام قبول کر لو ، سلامتی پاؤ گے ۔ " انہوں نے کہا : اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " میں یہی چاہتا ہوں ۔ " آپ نے ان سے تیسری مرتبہ کہا اور فرمایا : " جان لو! یہ زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس زمین سے جلا وطن کر دوں ، تم میں سے جسے اپنے مال کے عوض کچھ ملے تو وہ اسے فروخت کر دے ، ورنہ جان لو کہ یہ زمین اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4592

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقُرَيْظَةَ، حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ، بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Jews of Banu Nadir and Banu Quraiza fought against the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who expelled Banu Nadir, and allowed Quraiza to stay on, and granted favour to them until they too fought against him Then he killed their men, and distributed their women, children and properties among the Muslims, except that some of them had joined the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who granted them security. They embraced Islam. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) turned out all the Jews of Medina. Banu Qainuqa' (the tribe of 'Abdullah b. Salim) and the Jews of Banu Haritha and every other Jew who was in Medina. ابن جریج نے موسیٰ بن عقبہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ بنونضیر اور قریظہ کے یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کو جلاوطن کر دیا اور قریظہ کو ٹھہرنے دیا اور ان پر احسان کیا ، یہاں تک کہ اس کے ( ایک ڈیڑھ سال ) بعد قریظہ نے ( غزوہ احزاب میں دشمن کا ساتھ دیا اور ) جنگ کی تو آپ نے ( ان کے چنے ہوئے ثالث حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ) ان کے ( جنگجو ) مردوں کو قتل کر دیا اور ان کی عورتیں ، بچے اور اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دیے ، البتہ ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستہ ہو گئے تو آپ نے انہیں امان عطا کی اور وہ مسلمان ہو گئے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خود اپنے فیصلے کی رو سے ) مدینہ کے تمام یہود کو جلا وطن کیا : بنی قینقاع کو ، یہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم تھی ، بنو حارثہ کے یہود کو اور ہر یہودی کو جو مدینہ میں تھا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4593

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ. وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَكْثَرُ وَأَتَمُّ
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Jews of Banu Nadir and Banu Quraiza fought against the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who expelled Banu Nadir, and allowed Quraiza to stay on, and granted favour to them until they too fought against him Then he killed their men, and distributed their women, children and properties among the Muslims, except that some of them had joined the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who granted them security. They embraced Islam. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) turned out all the Jews of Medina. Banu Qainuqa' (the tribe of 'Abdullah b. Salim) and the Jews of Banu Haritha and every other Jew who was in Medina. حفص بن میسرہ نے موسیٰ سے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی اور ابن جریج کی حدیث زیادہ لمبی اور زیادہ مکمل ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4594

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا
It has been narrated by 'Umar b. al-Khattib that he heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: I will expel the Jews and Christians from the Arabian Peninsula and will not leave any but Muslim. ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " میں یہود و نصاریٰ کو ہر صورت جزیرہ عرب سے نکال دوں گا یہاں تک کہ میں مسلمانوں کے سوا کسی اور کو نہیں رہنے دوں گا
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4595

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Zubair with the same chain of transmitters. سفیان ثوری اور معقل بن عبیداللہ دونوں نے ابوزبیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4596

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ، فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ» أَوْ «خَيْرِكُمْ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ»، قَالَ: تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذُرِّيَّتَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللهِ»، وَرُبَّمَا قَالَ: «قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ»، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى وَرُبَّمَا قَالَ: «قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ
It has been narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudri who said: The people of Quraiza surrendered accepting the decision of Sa'd b. Mu'adh about them. Accordingly, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent for Sa'd who came to him riding a donkey. When he approached the mosque, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to the Ansar: Stand up to receive your chieftain. Then he said (to Sa'd): These people have surrendered accepting your decision. He (Sa'd) said: You will kill their fighters and capture their women and children. (Hearing this), the Propbot (may peace he tpon him) said: You have adjudged by the command of God. The narrator is reported to have said: Perhaps he said: You have adjuged by the decision of a king. Ibn Muthanna (in his version of the tradition) has not mentioned the alternative words. ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ۔ ۔ ان سب کے الفاظ قریب قریب ہیں ۔ ۔ ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ابوبکر نے کہا : ہمیں غندر نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر ( غندر ) نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ۔ ۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : قریظہ کے یہود حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے ( کو قبول کرنے کی شرط ) پر ( قلعہ سے ) اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا ، وہ گدھے پر سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا : " اپنے سردار ۔ ۔ یا ( فرمایا : ) اپنے بہترین آدمی ۔ ۔ کے ( استقبال کے ) لیے اٹھو ۔ " پھر فرمایا : " یہ لوگ تمہارے فیصلے ( کی شرط ) پر ( قلعے سے ) اترے ہیں ۔ " انہوں نے کہا : ان کے جنگجو افراد کو قتل کر دیا جائے اور ( ان کی عورتوں اور ) ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے ۔ کہا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ " اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ( اصل ) بادشاہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ " ابن مثنیٰ نے یہ بیان نہیں کیا : اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے بادشاہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4597

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ»، وَقَالَ مَرَّةً: «لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ
Through the same chain of transmitters Shu'ba has narrated the same tradition in which he says that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said (to Sa'd): You have adjudged according to the command of God. And once he said: you have adjudged by the decision of a king. عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ " اور ایک بار فرمایا : " تم نے ( حقیقی ) بادشاہ ( اللہ ) کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4598

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ، فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ، فَاغْتَسَلَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللهِ، مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْنَ؟» فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ، وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ
It has been narrated on the authority of A'isha who said: Sa'd was wounded on the day of the Battle of the Ditch. A man from the Quraish called Ibn al-Ariqah shot at him an arrow which pierced the artery in the middle of his forearm. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) pitched a tent for him in the mosque and would inquire after him being in close proximity. When he returned from the Ditch and laid down his arms and took a bath, the angel Gabriel appeared to him and he was removing dust from his hair (as if he had just returned from the battle). The latter said: You have laid down arms. By God, we haven't (yet) laid them down. So march against them. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked: Where? He pointed to Banu Quraiza. So the Messenger of Allah (may peace he upon him) fought against them. They surrendered at the command of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), but he referred the decision about them to Sa'd who said: I decide about them that those of them who can fight be killed, their women and children taken prisoners and their properties distributed (among the Muslims). حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : خندق کے دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے ، انہیں قریش کے ایک آدمی نے ، جسے ابن عرقہ کہا جاتا تھا ، تیر مارا ۔ اس نے انہیں بازو کی بڑی رگ میں تیر مارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا ، آپ قریب سے ان کی تیمارداری کرنا چاہتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس ہوئے ، اسلحہ اتارا اور غسل کیا تو ( ایک انسان کی شکل میں ) جبریل علیہ السلام آئے ، وہ اپنے سر سے گردوغبار جھاڑ رہے تھے ، انہوں نے کہا : آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے؟ اللہ کی قسم! ہم نے نہیں اتارا ، ان کی طرف نکلیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کہاں؟ " انہوں نے بنوقریظہ کی طرف اشارہ کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فیصلہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا ، انہوں نے کہا : میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جنگجو افراد کو قتل کر دیا جائے اور یہ کہ بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال تقسیم کر دیے جائیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4599

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: قَالَ أَبِي: فَأَخْبَرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
It has been narrated on the authority of Hisham (who learnt it from his father) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said (to Sa'd): You have adjudged their case with the judgment of God. the Exalted and Glorified. عروہ نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ان کے بارے میں اللہ عزوجل کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4600

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ وَتَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْرَجُوهُ، اللهُمَّ، فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ، فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيكَ، اللهُمَّ، فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا»، فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ، فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ، فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا، فَمَاتَ مِنْهَا
It has been narrated on the authority of 'A'isha that Sa'd's wound became dry and was going to heal when he prayed: O God, surely Thou knowest that nothing is dearer to me than that I should fight for Thy cause against the people who disbeliever Your Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and turned him out (from his native place). If anything yet remains to be decided from the war against the Quraish, spare my life so that I may fight against them in Thy cause. O Lord, I think Thou hast ended the war between us and them. If Thou hast done so, open my wound (so that it may discharge) and cause my death thereby. So the wound begin to bleed from the front part of his neck. The people were not scared except when the blood flowed towards them, and in the mosque along with Sa'd's tent was the tent of Banu Ghifar. They said: O people of the tent, what is it that is coming to us from you? Lo! it was Sa'd's wound that was bleeding and he died thereof. ابن نمیر نے ہشام سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ، جب ان کا زخم بھر رہا تھا ، ( تو دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے راستے میں ، اس قوم کے خلاف جہاد سے بڑھ کر کسی کے خلاف جہاد کرنا محبوب نہیں جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور نکالا ۔ اگر قریش کی جنگ کا کوئی حصہ باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ تاکہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں ۔ اے اللہ! میرا خیال ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی ختم کر دی ہے ۔ اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی واقعی ختم کر دی ہے تو اس ( زخم ) کو پھاڑ دے اور مجھے اسی میں موت عطا فرما ، چنانچہ ان کی ہنسلی سے خون بہنے لگا ، لوگوں کو ۔ ۔ اور مسجد میں ان کے ساتھ بنو غفار کا خیمہ تھا ۔ ۔ اس خون نے ہی خوفزدہ کیا جو ان کی طرف بہہ رہا تھا ۔ انہوں نے پوچھا : اے خیمے والو! یہ کیا ہے جو تمہاری جانب سے ہماری طرف آ رہا ہے؟ تو وہ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم تھا جس سے مسلسل خوب بہہ رہا ہے ، چنانچہ وہ اسی ( کیفیت ) میں فوت ہو گئے
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4601

وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَا زَالَ يَسِيلُ حَتَّى مَاتَ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ [البحر الوافر] أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ ... فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ ... غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لَا شَيْءَ فِيهَا ... وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ ... أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالًا ... كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ
This tradition has been narrated by Hishim through the same chain of transmitters with a little difference in the wording. He said: (His wound) began to bleed that very night and it continued to bleed until he died. He has made the addition that it was then that (a non-believing) poet said: Hark, O Sa'd, Sa'd of Banu Mu'adh, What have the Quraiaa and Nadir done? By thy life! Sa'd b. Mu'adh>br> Was steadfast on the morn they departed. You have left your cooking-pot empty, While the cooking-pot of the people is hot and boiling. Abu Hubab the nobleman has said, O Qainuqa', do not depart. They were weighty in their country just aa rocks are weighty in Maitan. عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : اسی رات سے خوب بہنے لگا اور مسلسل بہتا رہا حتی کہ وہ وفات پا گئے ۔ اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا ، کہا : یہی وقت ہے جب ( ایک کافر ) شاعر کہتا ہے : اے سعد! بنو معاذ کے ( گھرانے کے ) سعد! وہ کیا تھا جو بنو قریظہ نے کیا اور ( وہ کیا تھا جو ) بنونضیر نے کیا؟ تمہاری زندگی کی قسم! بنو معاذ کا سعد ، جس صبح ان لوگوں نے سزا برداشت کی ، خوب صبر کرنے والا تھا ۔ تم ( اوس کے ) لوگوں نے اپنی ہڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ باقی نہ بچا تھا جبکہ قوم ( بنو خزرج ) کی ہانڈیاں گرم تھیں ، ابل رہی تھیں ( انہوں نے اپنے حلیف بنو نضیر کا ساتھ دیا تھا ۔ ) ایک کریم انسان ابوحباب ( رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول ) نے کہا تھا : ( بنو ) قینقاع! مقیم رہو ، مت جاو ۔ وہ لوگ اپنے شہر میں بہت وزن رکھتے تھے ( باوقعت تھے ) جس طرح جبلِ میطان کی چٹانیں بہت وزن رکھتی ہیں
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4602

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَادَى فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الْأَحْزَابِ «أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ»، فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ، فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ، قَالَ: فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ
It has been narrated on the authority of Abdullah who said: On the day he returned from the Battle of Ahzab, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made for us an announcement that nobody would say his Zuhr prayer but in the quarters of Banu Quraiza (Some) people, being afraid that the time for prayer would expire, said their prayers before reaching the street of Banu Quraiza. The others said: We will not say our prayer except where the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has ordered us to say it even if the time expires. When he learned of the difference in the view of the two groups of the people, the Messenger of Allah (may peace be tipon him) did not blame anyone from the two groups. حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جس روز آپ جنگِ احزاب سے لوٹےہم میں منادی کرائی کہ کوئی شخص بنو قریظہ کے سوا کہیں اور نمازِ ظہر ادا نہ کرے ۔ کچھ لوگوں کو وقت نکل جانے کا خوف محسوس ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ ( پہنچنے ) سے پہلے ہی نماز پڑھ لی ، جبکہ دوسروں نے کہا : چاہے وقت ختم ہو جائے ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ کہا : تو آپ نے فریقین میں سے کسی کو بھی ملامت نہ کی
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 4603

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ، مِنْ مَكَّةَ، الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمُ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ، كُلَّ عَامٍ، وَيَكْفُونَهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهِيَ تُدْعَى أُمَّ سُلَيْمٍ، وَكَانَتْ أُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، كَانَ أَخًا لِأَنَسٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا لَهَا، فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ، مَوْلَاتَهُ، أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ، وَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، قَالَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّي عِذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ مِنَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ أَبُوهُ، فَكَانَت