AL MUSLIM

Search Result (231)

44) The Book of Virtues

44) کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5938

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، جَمِيعًا عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ»
Wathila b. al-Asqa' reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Verily Allah granted eminence to Kinana from amongst the descendants of Isma'il, and he granted eminence to the Quraish amongst Kinana, and he granted eminence to Banu Hashim amonsgst the Quraish, and he granted me eminence from the tribe of Banu Hashim. 5938 ۔ ابو عمار شدادسے رویت ہے کہ انھوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا؛ " اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب کیا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5939

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ»
Jabir b. Samura reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I recognise the stone in Mecca which used to pay me salutations before my advent as a Prophet and I recognise that even now. حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں مکہ میں اس پتھر کو اچھی طرح پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ، بلاشبہ میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5940

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I shall be pre-eminent amongst the descendants of Adam on the Day of Resurrection and I will be the first intercessor and the first whose intercession will be accepted (by Allah). عبداللہ بن فروخ نے کہا : مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں قیامت کے دن ( تمام ) اولاد آدم کا سردار ہوں گا ، پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی ، سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول ہوگی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5941

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ. قَالَ: فَجَعَلْتُ «أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ»
Anas reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called for water and he was given a vessel and the people began to perform ablution in that and I counted (the persons) and they were between fifty and eighty and I saw water which was spouting from his fingers. ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو ایک کھلا ہوا پیالہ لایا گیا ، لوگ اس سے وضو کرنے لگے ، میں نے ساٹھ سے اسی تک کی تعداد کا اندازہ لگایا ، میں ( اپنی آنکھوں سے ) اس پانی کی طرف دیکھنے لگا ، وہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5942

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ: «فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ»
Anas b. Malik reported: I saw Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) during the time of the afternoon prayer and the people asking for water for performing ablution which they did not find. (A small quantity) of water was brought to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he placed his hand in that vessel and commanded people to perform ablution. I saw water spouting from his fingers and the people performing ablution until the last amongst them performed it. اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کا وقت آچکا تھا ، لوگوں نے وضو کا پانی تلاش کیا اور انھیں نہ ملا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا کچھ پانی لایاگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور لوگوں کو اس پانی میں سے وضو کا حکم دیا ۔ کہا : تو میں نے د یکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا اور لوگوں نے اپنے آخری آدمی تک ( اس سے ) وضو کرلیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5943

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ - قَالَ: وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ - دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ «فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ» قَالَ قُلْتُ: كَمْ كَانُوا؟ يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ: «كَانُوا زُهَاءَ الثَّلَاثِمِائَةِ»
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and his Companions were at a place known as az-Zaura' (az-Zaurd' is a place in the bazar of Medina near the mosque) that he called for a vessel containing water. He put his hand in that. And there began to spout (water) between his fingers and all the Companions performed ablution. Qatada, one of the narrators in the chain of narrators, said: Abu Hamza (the kunya of Hadrat Anas b. Malik), how many people were they? He said: They were about three hundred. معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ( مقام ) زوراء میں تھے { اور زوراء مدینہ میں مسجد اور بازار کے نزدیک ایک مقام ہے } آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اپنی ہتھیلی اس میں رکھ دی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹنے لگا اور تمام اصحاب رضی اللہ عنہم نے وضو کر لیا ۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوحمزہ! اس وقت آپ کتنے آدمی ہوں گے؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تین سو کے قریب تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5944

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءٍ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ
Anas reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was at az-Zaura' and a vessel containing water was brought to him in which his finger could not be completely dipped or completely covered; the rest of the hadith is the same. سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوراء میں تھے ، آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا ، وہ آپ کی انگلیوں کے اوپر تک بھی نہیں آتاتھا ( جس میں آپ کی انگلیاں بھی نہیں ڈوبتی تھیں ) یا اس قدر تھا کہ ( شاید ) آپ کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتا ۔ پھر ہشام کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5945

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ، كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا، فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ، فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا، فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَصَرْتِيهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ «لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا»
Jabir reported that Umm Malik used to send clarified butter in a small skin to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Her sons would come to her and ask for seasoning when they had nothing with them (in the form of condiments) and she would go to that (skin) in which she offered (clarified butter) to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and she would find in that clarified butter and it kept providing her with seasoning for her household until she had (completely) squeezed it. She came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and (informed him about it). Thereupon, he (the Holy Prophet) said: Did you squeeze it? She said: Yes. Thereupon he said: If you had left it in that very state, it would have kept on provid- ing you (the clarified butter) on end. سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپی میں بطور تحفہ کے گھی بھیجا کرتی تھیں ، پھر اس کے بیٹے آتے اور اس سے سالن مانگتے اور گھر میں کچھ نہ ہوتا تو ام مالک رضی اللہ عنہا اس کپی کے پاس جاتی ، تو اس میں گھی ہوتا ۔ اسی طرح ہمیشہ اس کے گھر کا سالن قائم رہتا ۔ ایک بار ام مالک نے ( حرص کر کے ) اس کپی کو نچوڑ لیا ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا کہ کیا تم نے اس کو نچوڑ لیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو اس کو یوں ہی رہنے دیتی ( اور ضرورت کے وقت لیتی ) تو وہ ہمیشہ قائم رہتا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5946

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا، حَتَّى كَالَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ»
Jabir reported that a person came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and asked for food. And he gave him half a wasq of barley, and the person and his wife and their guests kept on making use of it (as a food) until he weighed it (in order to find out the actual quantity, and it was no more). He came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) (and informed him about it). He said: Had you not weighed it, you would be eating out of it and it would have remained intact for you. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا حاصل کرنے کے لئے آیا ، آپ نے اسے آدھا وسق ( تقریباً 120کلو ) جو دیے تو وہ آدمی ، اس کی بیوی اور ان دونوں کے مہمان مسلسل اس میں سے کھاتے رہے ، یہاں تک کہ ( ایک دن ) اس نے ان کو ماپ لیا ، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا ( اور ماجرابتایا ) تو آپ نے فرمایا؛ " اگرتم اس کو نہ ماپتے تو مسلسل اس میں سے کھاتے رہتے اور یہ ( سلسلہ ) تمھارے لئے قائم رہتا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5947

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا، إِنْ شَاءَ اللهُ، عَيْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ» فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، قَالَ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟» قَالَا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ. قَالَ: ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، قَالَ وَغَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ أَوْ قَالَ: غَزِيرٍ - شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ - حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ «يُوشِكُ، يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا»
Mu'adh b. Jabal reported that he went along with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in the expedition of Tabuk and he (the Holy Prophet) combined the prayers. He offered the noon and afternoon prayers together and the sunset and night prayers together and on the other day he deferred the prayers; he then came out and offered the noon and afternoon prayers together. He then went in and (later on) came out and then after that offered the sunset and night prayers together and then said: God willing, you would reach by tomorrow the fountain of Tabuk and you should not come to that until it is dawn, and he who amongst you happens to go there should not touch its water until I come. We came to that and two persons (amongst) us reached that fountain ahead of us. It was a thin flow of water like the shoelace. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked them whether they had touched the water. They said: Yes. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) scolded them, and he said to them what he had to say by the will of God. The people then took water of the fountain in their palms until it became somewhat significant and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) washed his hands and his face too in it, and then, took it again in that (fountain) and there gushed forth abundant water from that fountain, until all the people drank to their fill. He then said: Mu'adh, it is hoped that if you live long you would see its water irrigating well the gardens. ہمیں ابو علی حنفی نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں مالک بن انس نے ابو زبیر مکی سے حدیث بیان کی کہ ابو طفیل عامر بن واثلہ نے انھیں خبردی ، انھیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا ، کہا : کہ ہم غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سال نکلے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر میں دو نمازوں کو جمع کرتے تھے ۔ پس ظہر اور عصر دونوں ملا کر پڑھیں اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دیر کی ۔ پھر نکلے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھیں پھر اندر چلے گئے ۔ پھر اس کے بعد نکلے تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھیں اس کے بعد فرمایا کہ کل تم لوگ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور دن نکلنے سے پہلے نہیں پہنچ سکو گے اور جو کوئی تم میں سے اس چشمے کے پاس جائے ، تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اس چشمے پر پہنچے اور ہم سے پہلے وہاں دو آدمی پہنچ گئے تھے ۔ چشمہ کے پانی کا یہ حال تھا کہ جوتی کے تسمہ کے برابر ہو گا ، وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہا ( اس لئے کہ انہوں نے حکم کے خلاف کیا تھا ) اور اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنایا ۔ پھر لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھویا ، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا تو وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا اور لوگوں نے ( اپنے جانوروں اور آدمیوں کو ) پانی پلانا شروع کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! اگر تیری زندگی رہی تو تو دیکھے گا کہ یہاں جو جگہ ہے وہ گھنے باغات سے لہلہااٹھے گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5948

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُصُوهَا» فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ: «أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ، إِنْ شَاءَ اللهُ» وَانْطَلَقْنَا، حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ» فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ، وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ، صَاحِبِ أَيْلَةَ، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى، فَسَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا «كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا؟» فَقَالَتْ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي مُسْرِعٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ» فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلَنَا آخِرًا فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلْتَنَا آخِرًا، فَقَالَ: «أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ»
Abu Humaid as-Sa'idi reported: We went out with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on the expedition to Tabuk and we came to a wadi where there was a garden belonging to a woman. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said. Make an assessment (of the price of its fruit). And Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) also made an assessment and it was ten wasqs. He asked that lady (to calculate the amount) until they would, God willing, come back to her. So we proceeded on until we came to Tabuk and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The violent storm will overtake you during the night, so none amongst you should stand up and he who has a camel with him should hobble it firmly. A violent storm blew and a person who had stood up was carried away by the storm and thrown between the mountains of Tayy. Then the messenger of the son of al 'Alma', the ruler of Aila, came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with a letter and a gift of a white mule. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) wrote him (the reply) and presented him a cloak. We came back until we halted in the Wadi al-Qura. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked that lady about her garden and the price of the fruits in that. She said: Ten wasqs. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I am going to depart, and he who amongst you wishes may depart with me but he who wants to stay may stay. We resumed the journey until we came to the outskirts of Medina. (It was at this time) that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: This is Taba, this is Uhud, that is a mountain which loves us and we love it, and then said: The best amongst the houses of the Ansar is the house of Bani Najjar. Then the house of Bani Abd al-Ashhal, then the house of Bani Abd al-Harith b. Khazraj, then the house of Bani Sa'ida, and there is goodness in all the houses of the Ansar. Said b. Ubada came to us and Abu Usaid said to him: Did you not see that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has declared the houses of the Ansar good and he has kept us at the end. Said met Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, you have declared the house of the Ansar as good and have kept us at the end, whereupon he said: Is it not enough for you that you have been counted amongst the good. ۔ سلیمان بن بلال نے عمرو بن یحییٰ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عباس بن سہل بن سعد ساعدی سے ، انھوں نے ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تبوک کی جنگ ( غزوہ تبوک ) میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ وادی القریٰ ( شام کے راستے میں مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے ) میں ایک عورت کے باغ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اندازہ لگاؤ اس باغ میں کتنا میوہ ہے؟ ہم نے اندازہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کے اندازے میں وہ دس وسق معلوم ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ جب تک ہم لوٹ کر آئیں تم یہ ( اندازہ ) گنتی یاد رکھنا ، اگر اللہ نے چاہا ۔ پھر ہم لوگ آگے چلے ، یہاں تک کہ تبوک میں پہنچے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات تیز آندھی چلے گی ، لہٰذا کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو ، وہ اس کو مضبوطی سے باندھ لے ۔ پھر ایسا ہی ہوا کہ زوردار آندھی چلی ۔ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس کو ہوا اڑا لے گئی ، اور ( وادی ) طے کے دونوں پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا ۔ ابن العلماء حاکم ایلہ کا ایلچی ایک خط لے کر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سفید خچر تحفہ لایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر تحفہ بھیجی ۔ پھر ہم لوٹے ، یہاں تک کہ وادی القریٰ میں پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے باغ کے میوے کا حال پوچھا کہ کتنا نکلا؟ اس نے کہا پورا دس وسق نکلا ۔ ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جلدی جاؤں گا ، لہٰذا تم میں سے جس کا دل چاہے وہ میرے ساتھ جلدی چلے اور جس کا دل چاہے ٹھہر جائے ۔ ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ دیکھائی دینے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ”طابہ“ ہے ( طابہ مدینہ منورہ کا نام ہے ) اور یہ احد پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم اس کو چاہتے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ انصار کے گھروں میں بنی نجار کے گھر بہترین ہیں ( کیونکہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے ) پھر بنی عبدالاشہل کے گھر ، پھر بنی حارث بن خزرج کے گھر ۔ پھر بنی ساعدہ کے گھر اور انصار کے سب گھروں میں بہتری ہے ۔ پھر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہم سے ملے ۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کی بہتری بیان فرمائی تو ہم کو سب کے اخیر میں کر دیا؟ ۔ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے انصار کی فضیلت بیان کی اور ہم کو سب سے آخر میں کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم کو یہ کافی نہیں ہے کہ تم خیر وبرکت والوں میں سے ہوجاؤ؟ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5949

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ «وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Yahya with the same chain of transmitters up to the words: There is good in all the houses of the Ansar, and there is no mention of the subsequent event pertaining to Sa'd b. 'Ubada. عفان اور مغیرہ بن سلمہ مخزومی دونوں نے کہا : ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عمر وبن یحییٰ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تک : " اور انصار کے تمام گھروں میں خیروبرکت ہے ۔ " انھوں نے سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قصہ ، جو اس کے بعد ہے ، ذکر نہیں کیا ۔ اور وہیب کی حدیث میں مزید یہ بیان کیا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا سارا علاقہ ( بطورحاکم ) اس کولکھ دیا ، نیز وہیب کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5950

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَأَدْرَكَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا قَالَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ، فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ قُلْتُ: اللهُ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ قُلْتُ: اللهُ، قَالَ: فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Jabir b. Abdullah reported: We went along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) on an expedition towards Najd and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) found us in a valley abounding in thorny trees. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stayed for rest under a tree and he suspended his sword by one of its branches under which he was taking rest. The persons scattered in the valley and they also began to take rest under the shade of trees, and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: A person came to me while I was asleep and he took hold of the sword. I woke up and found him standing upon my head and I had hardly become alert (and saw) that the sword was in his hand. And he said: Who can protect you from me? I said: Allah. He again said: Who can protect you from me? I said: Allah. He put his sword in the sheath (and you can see) this man sitting here. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not in any way touch him. معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز محمد بن جعفر بن زیاد نے ۔ الفاظ انھی کے ہیں ۔ ابراہیم بن سعد سے ، انھوں نے سنان بن ابی سنان دؤلی سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کو گئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وادی میں پایا جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار ایک شاخ سے لٹکا دی اور لوگ اس وادی میں الگ الگ ہو کر سایہ ڈھونڈھتے ہوئے پھیل گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص میرے پاس آیا ، میں سو رہا تھا کہ اس نے تلوار اتار لی اور میں جاگا تو وہ میرے سر پر کھڑا ہوا تھا ۔ مجھے اس وقت خبر ہوئی جب اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار آ گئی تھی ۔ وہ بولا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ! پھر دوسری بار اس نے یہی کہا تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ۔ یہ سن کر اس نے تلوار نیام میں کر لی ۔ وہ شخص یہ بیٹھا ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ بھی نہ کہا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5951

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ وَمَعْمَرٍ.
Jabir b. 'Abdullah al-Ansiri, who was one amongst the Companions of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported that he went on an expedition along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) towards Najd and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stayed there, and when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came back he also came back along with him. They, for one day, stayed for rest; the rest of the hadith is the same. شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں ، ان دونوں کو خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نجد کی طرف ایک جنگ میں حصہ لیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس ہوئے ، ایک دن دوپہر کے آرام کا وقت ہوگیا ، اس کے بعد انھوں نے ابراہیم بن سعد اور معمر کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5952

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Jabir b. 'Abdullah reported: We went along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and as we reached the place Dhat-ur-Riqa'; the rest of the hadith is the same, but there is no mention of the word that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not harm him. یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( واپس ) آئے ، یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع پہنچے ، ( پھر ) زہری کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور یہ نہیں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی تعرض نہ فرمایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5953

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ - قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى، وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا، وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً، وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِيَ اللهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ»
Abu Musa reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of that guidance and knowledge with which Allah, the Exalted and Glorious, has sent me is that of rain falling upon the earth. There is a good piece of land which receives the rainfall (eagerly) and as a result of it there is grown in it herbage and grass abundantly. Then there is a land hard and barren which retains water and the people derive benefit from it and they drink it and make the animals drink. Then there is another land which is barren. Neither water is retained in it, nor is the grass grown in it. And that is the similitude of the first one who develops the understanding of the religion of Allah and it becomes a source of benefit to him with which Allah sent me. (The second one is that) who acquires the knowledge of religion and imparts it to others. (Then the other type is) one who does not pay attention to (the revealed knowledge) and thus does not accept guidance of Allah with which I have been sent. سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی مثال جو اللہ نے مجھے ہدایت اور علم دیا ، ایسی ہے جیسے زمین پر بارش برسی اور اس ( زمین ) میں کچھ حصہ ایسا تھا جس نے پانی کو چوس لیا اور چارا اور بہت سا سبزہ اگایا ۔ اور اس کا کچھ حصہ کڑا سخت تھا ، اس نے پانی کو جمع رکھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس ( پانی ) سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا کہ انہوں نے اس میں سے پیا ، پلایا اور چرایا ۔ اور اس کا کچھ حصہ چٹیل میدان ہے کہ نہ تو پانی کو روکے اور نہ گھاس اگائے ۔ ( جیسے چکنی چٹان کہ پانی لگا اور چل دیا ) تو یہ اس کی مثال ہے کہ جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ نے اس کو اس چیز سے فائدہ دیا جو مجھے عطا فرمائی ، اس نے آپ بھی جانا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور جس نے اس طرف سر نہ اٹھایا ( یعنی توجہ نہ کی ) اور اللہ کی ہدایت کو جس کو میں دے کر بھیجا گیا قبول نہ کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5954

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللهُ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ، فَالنَّجَاءَ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَى مُهْلَتِهِمْ، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللهُ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ، فَالنَّجَاءَ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَى مُهْلَتِهِمْ، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ
Abu Musa reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of mine and of that with which Allah sent me is that of a person who came to us and said: O people, I have seen an army with my eyes and I am a plain warner (and issue you warning) that you should immediately manage to find an escape. A group of people from amongst them paying heed (to his warning) fled to a place of protection and a group amongst them belied him and the morning overtook them in their houses and the army attacked them and killed them and they were routed. And that is the similitude of the one who obeyed me, followed with which I had been sent and the similitude of the other is of one who disobeyed and belied me and the Truth with which I have been sent. سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے ، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے ( یعنی دشمن کی فوج کو ) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں ، پس جلدی بھاگو ۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا ۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا کہنا نہ مانا اور سچے دین کو جھٹلایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5955

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَتِ الدَّوَابُّ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهِ، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهِ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of mine and that of my Umma is that of a person who lit fire and there began to fall into it insects and moths. And I am there to hold you back, but you plunge into it. مغیرہ بن عبدالرحمان قرشی نے ہمیں ابو زناد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری اور میری امت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو حشرات الارض اور پتنگے اس آگ میں گرنے لگے ۔ تو میں تم کو کمر سے پکڑ کر روکنے والا ہوں اور تم زبردستی اس میں گرتے جارہے ہو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5956

وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
The above hadith was likewise narrated with another chain of transmitters. سفیان نے ابو زناد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5957

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا، قَالَ فَذَلِكُمْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا»
Hammam b. Munabbih reported: Abu Huraira reported us some ahadith from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) amongst many, (and) one is this that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: A person lit fire and when the atmosphere was aglow, moths and insects began to fall into the fire, but I am there to hold them back, but they are plunging into it despite my efforts, and he further added: That is your example and mine. I am there to hold you back from fire and to save you from it, but you are plunging into it despite my efforts. ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول سے بیان کیں ۔ انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ، جب اس کے گرد روشنی ہوئی تو اس میں کیڑے اور یہ جانور جو آگ میں ہیں ، گرنے لگے اور وہ شخص ان کو روکنے لگا ، لیکن وہ نہ رکے اور اس میں گرنے لگے ۔ یہ مثال ہے میری اور تمہاری ، میں تمہاری کمر پکڑ کر جہنم سے روکتا ہوں اور کہتا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ اور تم نہیں مانتے اسی میں گھسے جاتے ہو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5958

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا، وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا، وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي»
Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying. My example and your example is that of a person who lit the fire and insects and moths began to fall in it and he would be making efforts to take them out, and I am going to hold you back from fire, but you are slipping from my hand. حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میری اور تمھاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکڑے اور پتنگے اس میں گرنے لگے ۔ وہ شخص ہے کہ ان کو اس سے روک رہا ہے ، میں تمھاری کمروں پر پکڑ کر تمھیں آگ سے ہٹا رہا ہوں اور تم ہو کہ م میرے ہاتھوں سے نکلے جارہے ہو ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5959

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ، يَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، إِلَّا هَذِهِ اللَّبِنَةَ، فَكُنْتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles (before me) is that of a person who constructed a building and he built it fine and well and the people went round it saying: Never have we seen a building more imposing than this. but for one brick, and I am that brick (with which you give the finishing touch to the building). اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری اور دوسرے پیغمبروں کی مثال جو کہ میرے سے پہلے ہو چکے ہیں ، ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کی زیبائش اور آرائش کی ، لیکن اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی پس لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور انہیں وہ عمارت پسند آئی اور وہ کہنے لگے کہ یہ تو نے ایک اینٹ یہاں کیوں نہ رکھ دی گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہ اینٹ ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5960

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَكْمَلَهَا، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمُ الْبُنْيَانُ فَيَقُولُونَ: أَلَّا وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً فَيَتِمَّ بُنْيَانُكَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful and he made it complete but for one brick in one of its corners. People began to walk round it, and the building pleased them and they would say: But for this brick your building would have been perfect. Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: And I am that final brick. معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ ( احادیث ) ہمیں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابو القاسم نے فرمایا : " میری اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہ السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ( ایک عمارت میں ) کئی گھر بنائے ، انھیں بہت اچھا ، بہت خوبصورت بنایا اور اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ، ایک اینٹ کی جگہ کے سوا اس ( پوری عمارت ) کو اچھی طرح مکمل کردیا ، لوگ اس کے ارد گرد گھومنے لگے وہ عمارت انھیں بہت اچھی لگتی اور وہ کہتے : آپ نے اس جگہ ایک اینٹ کیوں نہ لگادی تاکہ تمھاری عمارت مکمل ہوجاتی ۔ " تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں ہی وہ اینٹ تھا ( جس کے لگ جانے کے بعد وہ عمارت مکمل ہوگئی ۔ ) "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5961

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ
Abu Hurairh reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful, but for one brick in one of its corners. People would go round it, appreciating the building, but saying: Why has the brick not been fixed here? He said: I am that brick and I am the last of the Apostles. ابو صالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " : میری اور دوسرے پیغمبروں کی مثال جو کہ میرے سے پہلے ہو چکے ہیں ، ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کی زیبائش اور آرائش کی ، لیکن اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی پس لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور انہیں وہ عمارت پسند آئی اور وہ کہنے لگے کہ یہ تو نے ایک اینٹ یہاں کیوں نہ رکھ دی گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5962

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ» فَذَكَرَ نَحْوَهُ
Abu Sa'id reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles; the rest of the hadith is the same. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میری اور ( سابقہ ) انبیاء علیہ السلام کی مثال " پھر اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5963

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَكْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا، وَيَقُولُونَ: لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ»
Jabir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles is like that of a person who built a house and he completed it and made it perfect but for the space of a brick. People entered therein and they were surprised at it and said: Had there been a brick (it would have been complete in all respects). Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I am that place where the brick (completing the building is to be placed), and I have come to finalise the chain of Apostles. عفان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سلیم بن حیان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میری اور ( مجھ سے پہلے ) انبیاء علیہ السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور ایک اینٹ کی جگہ کے سوا اس ( سارے گھر ) کو پورا کردیا اور اچھی طرح مکمل کردیا ۔ لوگ اس میں داخل ہوتے ، اس ( کی خوبصورتی ) پر حیران ہوتے اور کہتے : کاش!اس اینٹ کی جگہ ( خالی ) نہ ہوتی! " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس اینٹ کی جگہ ( کو پرکرنے والا ) میں ہوں ، میں آیا تو انبیاء علیہ السلام کے سلسلے کو مکمل کردیا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5964

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ بَدَلَ - أَتَمَّهَا - أَحْسَنَهَا
This hadith has been narrated through another chain of transmitters but with a slight variation of wording. ابن مہدی نے کہا : ہمیں سلیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔ اور " اسے پورا کیا " کے بجائے " اسے خوبصورت بنایا " کہا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5965

وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَمِمَّنْ رَوَى ذَلِكَ عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ، قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ، عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ، فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ»
Abu Musa reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When Allah, the Exalted and Glorious, intends to show mercy to an Umma from amongst His servants He calls back His Apostle to his eternal home and makes him a harbinger and recompense in the world to come; and when He intends to cause destruction to an Umma, He punishes it while its Apostle is alive and He destroys it as he (the Apostle) witnesses it and he cools his eyes by destruction as they had belied him and disobeyed his command حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ " جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ایک اُمت پر رحمت کرنا چاہتاہے تو وہ اس امت سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے اور اسے ( امت ) سے آگےپہلے پہنچنے والا ، ( اس کا ) پیش رو بنادیتاہے ۔ اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنا چاہتاہےتو اسے اس کے نبی کی زندگی میں عذاب میں مبتلا کردیتا ہے اوراس کی نظروں کے سامنے انھیں ہلاک کرتاہے ۔ انھوں نے جو اس کو جھٹلایا تھا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی تو وہ انھیں ہلاک کرکے اس ( نبی ) کی آنکھیں ٹھنڈی کرتاہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5966

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ»
Jundab reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I shall be there at the Cistern before you. ہمیں زائدہ نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالمطلب بن عمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جندب ( بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " میں حوض پرتمھارا پیش رو ہوں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5967

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Jundab through another chain of transmitters. مسعر اور شعبہ دونوں نے عبدالملک بن عمیر سے ، انھوں نے حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ا س کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5968

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ» قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ؟ قَالَ فَقُلْتُ: نَعَمْ.
Sahl (b. Sa'd) reported: I heard Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I shall go to the Cistern before you and he who comes would drink and he who drinks would never feel thirsty, and there would come to me people whom I would know and who would know me. Then there would be intervention between me and them. Abu Hazim said that Nu'man b. Abu 'Ayyash heard it and I narrated to them this hadith, and said: Is it this that you heard Sahl saying? He said: Yes, and I bear witness to the fact that I heard it from Abu Sa'id Khudri also, but he made this addition that he (the Holy Prophet) would say: They are my followers, and it would be said to him: You do not know what they did after you and I will say to them: Woe to him who changes (his religion) after me. یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابو حازم سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( ابن سعد ساعدی ) سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" میں تم سے پہلے اپنے حوض پر پہنچنے والا ہوں ، جو اس حوض پر پینے کے لئے آجائے گا ، پی لے گا اور جو پی لے گا وہ کبھی پیا سا نہیں ہوگا ۔ میرے پاس بہت سے لوگ آئیں گے میں انھیں جانتا ہوں گا ، وہ مجھے جانتے ہوں گے ، پھر میرے اور ان کے درمیان ر کاوٹ حائل کردی جائے گی ۔ "" ابوحازم نے کہا : میں یہ حدیث ( سننے والوں کو ) سنا رہا تھا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی یہ حدیث سنی تو کہنے لگے : آپ نے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے؟میں نے کہا : جی ہاں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5969

قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ «إِنَّهُمْ مِنِّي»، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: «سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي»
Same as Hadees 5968 انھوں ( نعمان بن ابی عیاش ) نے کہا : اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری سے سنا ، وہ اس ( حدیث ) میں مزید یہ بیان کرتے تھےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے : " یہ میرے ( لوگ ) ہیں تو کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا ۔ تو میں کہوں گا : دوری ہو ، ہلاکت ہو!ان کے لئے جنھوں نے میرے بعد ( دین میں ) تبدیلی کردی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5970

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters. ابو اسامہ نے ابو حازم سے ، انھوں نے سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےاور ( دوسری سند کے ساتھ ابو حازم نے ) نعمان بن ابی عیاش سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یعقوب ( بن عبدالرحمان القاری ) کی حدیث کے مانند بیا ن کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5971

وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ، وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الْوَرِقِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا»
`Abdullah b. `Amr al-`As, reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: My Cistern (is as wide and broad that it requires) a month's journey (to go round it) all, and its sides are equal and its water is whiter than silver, and its odour is more fragrant than the fragrance of musk, and its jugs (placed around it) are like stars in the sky; and he who would drink from it would never feel thirsty after that. نافع بن عمر جحمی نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میر احوض ( لمبائی چوڑائی میں ) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے ( چاروں ) کنارے برابر ہیں ( مربع ہے ) ، اس کاپانی چاندی سے زیادہ چمکدار ، اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ معطر ہے ، اس کے کوزے آسمان کےستاروں جتنے ہیں ۔ جو شخص اس میں سے پی لے گا ، اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5972

وَقَالَتْ: أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ؟ وَاللهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ قَالَ: فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا»
Asma', daughter of Abu Bakr said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I would be on the Cistern so that I would be seeing those who would be coming to me from you, but some people would be detained (before reaching me). I would say: My Lord, they are my followers and belong to my Ummah, and it would be said to me: Do you know what they did after you? By Allah, they did not do good after you, and they turned back upon their heels. He (the narrator) said: lbn Abu Mulaika used to say (in supplication): O Allah, I seek refuge with Thee that we should turn back upon our heels or put to any trial about our religion. حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حوض میں ( موجود ) میں ہوں گا تا کہ دیکھوں کہ تم میں سے کو ن میرے پاس آتا ہے ، کچھ لوگوں کو مجھ ( تک پہنچنے ) سے پہلے ہی پکڑ لیا جا ئے گا ۔ تو میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ہیں میری امت میں سے ہیں ۔ تو کہا جا ئے گا ، آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انھوں نے کیا ( کچھ ) کیا؟آپ کے بعد انھوں نے اپنی ایڑیوں پرواپس گھومنے میں ( ذرا ) دیر نہیں کی ۔ ( نافع نے ) کہا : ابن ابی ملیکہ یہ دعا کرتے تھے : " اے اللہ !ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جا ئیں یا ہمیں کسی آزمائش میں دال کر اپنے دین سے ہٹا دیا جا ئے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5973

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، فَوَاللهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ، فَلَأَقُولَنَّ: أَيْ رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيَقُولُ: «إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ»
A'isha reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say in the company of his Companions: I would be on the Cistern waiting for those who would be coming to me from amongst you. By Allah, some persons would be prevented from coming to me, and I would say: My Lord, they are my followers and people of my Umma. And He would say,: You don't know what they did after you; they had been constantly turning back on their heels (from their religion). حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ تھے اور فرما رہے تھے ۔ : " میں حوض پر ہوں گا ۔ انتظار کر رہا ہو ں گا کہ پاس پینے کے لیے کون آتا ہے ۔ اللہ کی قسم! مجھ ( تک پہنچنے ) سے پہلے کچھ لو گوں کو کا ٹ ( کر الگ کر ) دیا جا ئےگا ، تو میں کہوں گا : میرے رب! ( یہ ) میرے ہیں میری امت میں سے ہیں ۔ تو اللہ تعا لیٰ فرما ئے گا ، آپ نے جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا ؟یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر پلٹتے رہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5974

وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ، وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ» فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي، قَالَتْ: إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ، فَقُلْتُ: إِنِّي مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِيَّايَ لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، فَأَقُولُ: فِيمَ هَذَا؟ فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا
Umm Salama, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said I used to hear from people making a mention of the Cistern, but I did not hear about it from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). One day while a girl was combing me I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: O people. I said to that girl: Keep away from me. She said: He (the Holy Prophet) has addressed the men only and he has not invited the attention of the women. I said: I am amongst the people also (and have thus every right to listen to the things pertaining to religion). Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I shall be your harbinger on the Cistern; therefore, be cautious lest one of you should come (to me) and may be driven away like a stray camel. I would ask the reasons, and it would be said to me: You don't know what innovations they made after you. And I would then also say: Be away. بکیر نے قاسم بن عباس ہاشمی سے روایت کی ، انھوں نےحضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مولیٰ عبید اللہ بن رافع سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں لو گوں سے سنتی تھی کہ وہ حوض ( کوثر ) کا ذکر کرتے تھے ۔ میں نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی ، پھر ان ( میری باری کے ) دنوں میں سے ایک دن ہوا ۔ اور خادمہ میری کنگھی کر رہی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہو ئے سنا : " اے لوگو! " میں نے خادمہ سے کہا : مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ !وہ کہنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو پکا را ( مخاطب فر ما یا ) ہے عورتوں کو نہیں ۔ میں نے کہا : میں بھی لوگوں میں سے ہوں ( صرف مرد ہی لو گ نہیں ہو تے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض پر تمھارا پیش رو ہوں گا ۔ میرے پاس تم میں سے کو ئی اس طرح نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور دھکیلا جا رہا ہو ، جس طرح بھٹکے ہو ئے اونٹ کو ( ریوڑ سے ) اور دور دھکیلا جا تا ہے ۔ میں پوچھوں گا ۔ یہ کس وجہ سے ہو رہا ہے؟ تو کہا جا ئے گا ۔ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئے کا م نکا لے تھے ۔ تو میں کہوں گا دوری ہو! "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5975

وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهِيَ تَمْتَشِطُ: «أَيُّهَا النَّاسُ» فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا: كُفِّي رَأْسِي، بِنَحْوِ حَدِيثِ بُكَيْرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ
Umm Salama reported that she heard Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying this as he was sitting on the pulpit and she was getting her hair combed. (He uttered these words): O people. And she said to one who was combing: Leave my head; the rest of the hadith is the same. ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں عبد اللہ بن رافع نے حدیث سنائی ، کہا؛ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرما تے ہو ئے سنا ، اس وقت وہ کنگھی کرارہی تھیں ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) " اے لوگو! " انھوں نے اپنی کنگھی کرنے والی سے کہا : میرا سر چھوڑ دو! جس طرح بکیر نے قاسم بن عباس سے حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5976

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي، وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا»
Uqba b. 'Amir reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) one day went out and he offered prayer over the martyrs of Uhud just as prayer is offered over the dead. He then came back and sat on pulpit and said: I shall be present there (at the Cistern) before you. I shall be your witness and, by Allah, I perceive as if I am seeing with my own eyes my Cistern at this very state and I have been given the keys of the treasures of the earth or the keys of the earth and, by Allah, I am not afraid concerning you that you would associate anything (with Allah after me), but I am afraid that you would be vying with one another (for the possession of) the treasures of the earth. لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور اہل احد پر اسی طرح نماز جنازہ پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے ، پھر آپ پلٹ کر منبر پر تشریف فرما ہو ئے اور فرما یا : " میں حوض پر تمھا را پیش رو ہو ں گا اور میں تم پر گواہی دینے والا ہوں گا اور میں ، اللہ کی قسم !جیسے اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہو ں گا ۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا ( فرمایا : ) زمین کی چابیاں عطا کی گئیں اور اللہ کی قسم!میں تمھا رے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد تم شرک کرو گے ۔ لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم ان ( خزانوں کے معاملے ) میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرو گے ( کہ ان میں سے کو ن زیادہ فائدہ اٹھا تا اور زیادہ دولت مندی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ ) "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5977

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ:، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، فَقَالَ: «إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ، إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا، وَتَقْتَتِلُوا، فَتَهْلِكُوا، كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ» قَالَ عُقْبَةُ: «فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ»
Uqba b. 'Amir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Allah's Messenger offered prayer over those who had fallen matyrs at Uhud. He then climbed the pulpit as if someone is saying good-bye to the living and the dead, and then said: I shall be there as your predecesor on the Cistern before you, and it is as wide as the distance between Aila and Juhfa (Aila is at the top of the gulf of 'Aqaba). I am not afraid that you would associate anything with Allah after me, but I am afraid that you may be (allured) by the world and (vie) with one another (in possessing material wealth) and begin killing one another, and you would be destroyed as were destroyed those who had gone before you. 'Uqba said that that was the last occasion that he saw Allah's Massenger on the pulpit. ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے شقیق ( بن سلمہ اسدی ) سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ سے روایت بیان کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض پر تمھا را پیش رو ہوں گا ۔ میں کچھ اقوام ( لو گوں ) کے بارے میں ( فرشتوں سے ) جھگڑوں گا ، پھر ان کے حوالے سے ( فرشتوں کو ) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جا ئے گا ، میں کہوں گا : اے میرے رب ! ( یہ ) میرے ساتھی ہیں ۔ میرے ساتھی ہیں ، تو مجھ سے کہا جا ئے گا : بلا شبہ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں ( بدعات ) نکا لی تھیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5978

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَلَأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي، أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ «
Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying; I shall be there at the Cistern before you, and I shall have to contend for some people, but I shall have to yield. I would be saying: My Lord, they are my friends, they are my friends, and it would be said: You don't know what innovations they made after you. ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انھوں نے شقیق ( بن سلمہ اسدی ) سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ سے روایت بیان کی ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض پر تمھا را پیش رو ہوں گا ۔ میں کچھ اقوام ( لو گوں ) کے بارے میں ( فرشتوں سے ) جھگڑوں گا ، پھر ان کے حوالے سے ( فرشتوں کو ) مجھ پر غلبہ عطا کر دیا جا ئے گا ، میں کہوں گا : اے میرے رب ! ( یہ ) میرے ساتھی ہیں ۔ میرے ساتھی ہیں ، تو مجھ سے کہا جا ئے گا : بلا شبہ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں ( بدعات ) نکا لی تھیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5979

وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ» أَصْحَابِي، أَصْحَابِي
The hadith has been narrated on the authority ot al-A'mash with the same chain of transmitters but no mention is made of: They are my companions; they are my companions. جریر اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور " میرے ساتھی ہیں ۔ میرے ساتھی ہیں ، کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5980

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ.
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah through another chain of transmitters. جریر اور شعبہ نے مغیرہ سے ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند روایت کی ۔ شعبہ کی مغیرہ سے روایت ( کی سند ) میں یہ الفا ظ ہیں : میں نے ابو وائل سے سنا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5981

وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَمُغِيرَةَ
This hadith has been narrated on the authority of Hudhaifa through another chain of transmitters. عبثراور ابن فضیل دونوں نے حصین سے انھوں نے ابو وائل سے ، انھون نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جس طرح اعمش اور مغیرہ کی روایت ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5982

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ» فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ قَالَ: «الْأَوَانِي»؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: «تُرَى فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ»
Haritha reported that he heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: His Cistern would be as extensive as the distance between San'a' and Medina. Mustaurid (one of the narrators) said: Did you not hear anything about the utensils? Thereupon he said. No. Mustaurid said: You would find that the utensils would be like stars. ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، انھوں نے معبد بن خالد سے ، انھوں نے حضرت حارثہ ( بن وہب خزاعی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فر ما یا : " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض ( اتنا چوڑا ہے ) جتنا صنعاءاور مدینہ کے درمیان ( کا فاصلہ ) ہے ۔ مستورد ( ابن شداد ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان ( حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ، کہ آپ نے فرما یا : " برتن " ؟انھوں نے کہا : نہیں تو مستورد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : " اس میں برتن ستاروں کی طرح نظر آئیں گے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5983

وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَذَكَرَ الْحَوْضَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْمُسْتَوْرِدِ وَقَوْلَهُ
Haritha b. Wahb al-Khuza'i reported Allah's Messeiiger's ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) words concerning the Cistern like it, but he made no mention of the words of Mustaurid. حرمی بن عمارہ نے کہا : ہمیں شعبہ نے معبد بن خالد سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا اور انھوں نے ( حرمی بن عمارہ ) نے حوض کا ذکر کیا ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں نے حضرت مستورد اور ان ( حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا قول ذکر نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5984

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا، مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ»
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is before you a Cistern and the distance between its two sides is as it is between Jarba' and Adhruh. ایوب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تمھا رے آگے ( جس منزل کی طرف تم جا رہے ہو ) حوض ہے اس کے دو کناروں کے درمیان جرباء اور اذرح ( شام اور فلسطین کے دو مقام ) کے درمیان جتنا فاصلہ ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5985

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى «حَوْضِي»
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Umar and the words are: That he said there would be before you a Cistern extending from jarba' and Adhruh and the same has been transmitted on the authority of Ibn Muthanna and the wording is: My Cistern. زہیر بن حرب محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " تمھا رے آگے حوض ہے ( اس کی وسعت اتنی ہے جتنا ) جرباء اور اذرح کے درمیان کا فاصلہ ہے ۔ " اور ابن مثنیٰ کی روایت میں " میرا حوض " کے الفا ظ ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5986

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ: قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَرْيَتَيْنِ بِالشَّأْمِ، بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِ لَيَالٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ: ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.
A hadith like this has been transmitted on the authority, of 'Ubaidullah with this addition: Ubaidullah was asked (about these two names, i. e. Jarba' and Adhruh). He said: These are the two towns of Syria and there is between them the distance which can be covered in three nights, and the hadith transmitted on the authority of Ibn Bishr (the words are). Three days. عبد اللہ بن نمیر اور محمد بن بشر نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت کی اور مزید بیان کیا کہ عبید اللہ نے کہا : میں نے ان ( نافع ) سے پو چھا تو انھوں نے کہا : شام کی دوبستیاں ہیں ان کے درمیان تین راتوں کی مسافت ہے ۔ ابن بشر کی روایت میں تین دن ( کا ذکر ) ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5987

وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters. موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5988

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ، فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا»
Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There would be before you a Cistern (as extensive) as there is the distance between Jarba' and Adhruh and there would be jugs like stars in the sky; he who would come to that and drink from it would never feel thirsty after that. عمر بن نافع سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تمھا رے سامنے ایسا حوض ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان کی مسافت ہے اس میں آسمان کے ستاروں جتنے کو زے ہیں جو اس تک پہنچے گا اور اس میں سے پیے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5989

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا، أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ، آنِيَةُ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ، يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ، مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ»
Abu Dharr said: Allah's Messenger, what about the vessels of that Cistern? He said: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, the vessels would outnumber the stars in the sky and its planets shining on a dark cloudless night. These would be the vessels of Paradise. He who drinks out of it (the Cistern) would never feel thirsty. There would flow in it two spouts from Paradise and he who would drink out of it would not feel thirsty; and the distance between its (two corners) is that between 'Amman and Aila, and its water is whiter than milk and sweeter than honey. عبد اللہ بن صامت نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے پو چھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !حوض کے برتن کیسے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!اس حوض کے برتن آسمان کے چھوٹے اور بڑے ( تمام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ۔ یاد رکھو!جو اندھیری صاف مطلع کی رات میں ہو تے ہیں وہ جنت کے برتن ہیں کہ جوان سے ( شراب کو ثر ) پی لے گا وہ اپنے ذمے ( جنت میں جا نے کے دورانیے ) کے اخر تک کبھی پیا سا نہیں ہو گا ۔ اس میں جنت ( کی باران رحمت ) کے دو پر نالے آکر گرتے ہیں جو اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبا ئی کے برابر ہے جیسے عمان سے ایلہ تک ( کا فاصلہ ) ہے ۔ اس کا پا نی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5990

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ». فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ فَقَالَ: «مِنْ مَقَامِي إِلَى عَمَّانَ» وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ»
Thauban reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I would be pushing back from my Cistern the crowd of people. I would strike away from it (the Cistern) with my staff the people of Yemen until the water (of the Haud) would spout forth upon them. He was asked about its breadth. He said: From this place of mine to 'Amman, and he was asked about the drink and he said: It is whiter than milk and sweeter than honey. There would spout into it two streamlets having their sources in Paradise. the one is from gold and the other is from silver. ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے ، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں اپنے حوض پر پینے کی جگہ سے اہل یمن ( انصاراصلاًیمن سے تھے ) کے لیے لو گوں کو ہٹاؤں گا ۔ میں ( اپنے حوض کے پانی پر ) اپنی لا ٹھی ماروں گا تو وہ ان پر بہنے لگے گا ۔ " آپ سے اس ( حوض ) کی چوڑائی کے بارے میں پو چھا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میرے کھڑے ہو نے کی ( اس ) جگہ سے عمان تک ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( حوض ) کے مشروب کے بارے میں پو چھا گیا تو فرما یا : " وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جنت سے دو پر نالے اس میں تیز سے شامل ہو کر اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ۔ ان میں سے ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5991

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ هِشَامٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «أَنَا، يَوْمَ الْقِيَامَةِ، عِنْدَ عُقْرِ الْحَوْضِ»
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and the words are: I would be on the Day of Resurrection near the bank of the Cistern. شیبان نے قتادہ سے ہشام کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر اس نے اس طرح کہا : " میں قیامت کے دن حوض کے پانی پینے کی جگہ پر ہوں گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5992

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَ الْحَوْضِ فَقُلْتُ: لِيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ: هَذَا حَدِيثٌ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ، فَقَالَ: وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا مِنْ شُعْبَةَ فَقُلْتُ: انْظُرْ لِي فِيهِ، فَنَظَرَ لِي فِيهِ فَحَدَّثَنِي بِهِ
Thaubin reported this hadith pertaining to the Cistern. Muhammad b. Bashshar said: I said to Yahya b. Hammad: This is the hadith that I heard from Abu 'Awana and he said: I also heard it from Shu'ba. I said: Narrate that to me and he narrated that to me. محمد بن بشار نے کہا : ہمیں یحییٰ بن حماد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انھوں نے معدان سے ، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی حدیث روایت کی ، میں نے یحییٰ بن حماد سےکہا : یہ حدیث آپ نے ابو عوانہ سے سنی ہے؟ تو انھوں نے کہا : اور شعبہ سے بھی سنی ہے ۔ میں نے کہا : میری خاطر اس میں نگاہ ( بھی ) ڈالیں ۔ ( آپ کے صحیفے میں جہا ں لکھی ہو ئی ہے اسے بھی پڑھ لیں ) انھوں نے میری خاطر اس میں نظر کی ( اسے پڑھا ) اور مجھے وہ حدیث بیان کی ، ( ان کی روایت میں کسی بھول چوک کا بھی امکا ن نہیں ۔ )
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5993

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالًا كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ»
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I will drive away from my Cistern people just as the stray camels are driven away. ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں حوض سے لوگوں کو اس طرح ہٹاؤں گا جس طرح اجنبی اونٹوں کو ( اپنے گھاٹ سے ) ہٹا یا جا تا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5994

وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain ot transmitters. شعبہ نے محمد بن زیاد سےروایت کی ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ، اسی کے مانند ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5995

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَدْرُ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ مِنَ الْيَمَنِ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ»
Anas b. Malik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: My Cistern would be as extensive as the distance between Aila and San'a, of Yemen, and there would be in it jugs like stars in the sky. ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میرے حوض کی مقدار اتنی ہے جتنی ایلہ اور یمن کے صنعاء کے درمیان مسافت ہے اور اس کے برتنوں کی تعدادآسمان کے ستاروں کی طرح ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5996

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ، يُحَدِّثُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَاحَبَنِي، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ وَرُفِعُوا إِلَيَّ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ: أَيْ رَبِّ أُصَيْحَابِي، أُصَيْحَابِي، فَلَيُقَالَنَّ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
Anas b. Malik reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Some persons from amongst my associates would turn to my Cistern; when I would see them and they would be presented to me, they would be detained in the way while coming to me. I would say: My Lord, they are my companions, they are my companions, and it would be said to me: You don't know what innovations they made after you. عبد العزیز بن صہیب نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " حوض پر میرے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی آئیں گےحتی کہ جب میں انھیں دیکھوں گا اور ان کو میرے سامنے کیا جا ئے گا تو انھیں مجھ ( تک پہنچنے ) سے پہلے اٹھا لیا جا ئے ، میں زور دے کر کہوں گا : اے میرے رب! ( یہ ) میرے ساتھی ہیں میرے ساتھی ہیں تو مجھ سے کہا جا ئے گا ۔ آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کےبعد کیا نئی باتیں نکا لیں ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5997

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى وَزَادَ «آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ»
Anas reported a hadith like this from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he made this addition: The vessels would be as numerous as the number of stars. مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم میں روایت کی اور اس میں مزید یہ کہا : اس کےبرتن ستاروں کی تعداد میں ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5998

وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى - وَاللَّفْظُ لِعَاصِمٍ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ»
Anas b. Milik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There would be such a vast distance between the sides of my Cistern as it is between Sana' and Medina. معتمر کے والد سلیمان نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میرے حوض کی دوطرفوں ( دونوں کناروں ) کے درمیان اتنافاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 5999

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُمَا شَكَّا فَقَالَا: أَوْ مِثْلَ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ «مَا بَيْنَ لَابَتَيْ حَوْضِي»
Anas reported this hadith with this change that there was some doubt between (places mentioned) and there is a slight variation of wording. ہشام اور ابو عوانہ دونوں نے قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانندروایت کی ، مگر ان دونوں نے شک سے کام لیتے ہو ئے کہا : یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ) " مدینہ اور عمان کے درمیان کی مسافت کے مانند ( فاصلہ ہے ) " اور ابو عوانہ کی حدیث میں یہ الفا ظ ہیں ۔ " میرے حوض کے دونوں کناروں کے درمیان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6000

وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرُّزِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ»
Anas reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: You would be shown in it jugs of gold and silver (as numerous) as the number of stars in the sky. سعید نے قتادہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس میں آسمان کے ستاروں جتنی تعداد میں سونے چاندی کے کو زے ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6001

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِثْلَهُ وَزَادَ «أَوْ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ»
This hadith has been transmitted on the authority of Anas b. Malik with this addition: More numerous than stars in the sky. شیبان نے قتادہ سے روایت کی کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ اس ( سابقہ روایت ) کے مانند اور مزید بیان کیا : " یا آسمان کے ستاروں سے زیادہ د ( کھائی دیتے ہیں ۔ ) "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6002

حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ السَّكُونِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللهُ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ، كَأَنَّ الْأَبَارِيقَ فِيهِ النُّجُومُ»
Jabir b. Samura reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Behold, I shall be present ahead of you on the Cistern, and the distance between its different sides would be like that between Sana' and Aila, and its jugs would be like stars in the sky. سماک بن حرب نے حضرت جا بربن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " سنو! میں حوض پر تمھا را پیش رو ہو ں گا اور اس ( حوض ) کے دوکناروں کا فاصلہ صنعاء اور ایلہ کے مابین فاصلے کی طرح ہے ۔ اس میں کو زےستاروں جیسے لگتے ہیں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6003

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ»
Amir b. Sa'd b. Abu Waqqas reported: I wrote (a letter) to Jabir b. Samura (and it was sent) through my servant Nafi' asking him to inform me about something (pertaining to the Haud Kauthar). He wrote to me: I heard him (the Holy Prophet) say: I shall be there ahead of you at the Haud Kauthar. عامر بن سعد بن ابی وقاص نے کہا : میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط بھیجا کہ آپ مجھے کو ئی ایسی چیز بتا ئیں ۔ جو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، انھوں نے مجھے ( جواب میں ) لکھا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہو ئے سناہے ۔ " میں حوض پر ( تمھا را ) پیش رو ہو ں گا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6004

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، يَعْنِي جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ»
Sa`d reported that on the Day of Uhud I saw on the right side of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and on his left side two persons dressed in white clothes and whom I did not see before nor after that, and they were Gabriel and Michael (Allah be pleased with both of them). مسعرنے سعد بن ابرا ہیم سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں دوآدمیوں کو دیکھا وہ سفید لباس میں تھے ، ان کو نہ میں نے اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ بعد میں یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام اور مکائیل علیہ السلام کو ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6005

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ يَسَارِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ»
Sa'd b. Abu Waqqas reported: I saw on the right side of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and on his left side two persons with white clothes on the Day of Uhtid fighting a desperate fight, and I saw them neither before nor after that. ابرا ہیم بن سعد نے کہا : ہمیں سعد نے اپنے والد ( ابراہیم ) سے انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں سفید کپڑوں میں ملبوس دوآدمی دیکھے وہ آپ کی طرف سے شدت کے ساتھ جنگ کر رہے تھے ۔ میں نے ان کو نہ اس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں کبھی دیکھا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6006

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ» وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ، فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ: «لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا» قَالَ: «وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ» قَالَ: وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was the sublimest among people (in character) and the most generous amongst them and he was the bravest of men. One night the people of Medina felt disturbed and set forth in the direction of a sound when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) met them on his way back as he had gone towards that sound ahead of them. He was on the horse of Abu Talha which had no saddle over it, and a sword was slung round his neck, and he was saying: There was nothing to be afraid of, and he also said: We found it (this horse) like a torrent of water (indicating its swift-footedness), whereas the horse had been slow before that time. ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوبصورت سب انسانوں سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادرتھے ۔ ایک رات اہل مدینہ ( ایک آواز سن کر ) خوف زدہ ہو گئے ، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس آواز کی طرف گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اس جگہ سے واپس آتے ہو ئے ملے ، آپ سب سے پہلے آواز ( کی جگہ ) تک پہنچے ، آپ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے ، آپ کی گردن مبارک میں تلوار حمائل تھی اور آپ فر ما رہےتھے ۔ " خوف میں مبتلا نہ ہو خوف میں مبتلانہ ہو " ( پھر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم " ہم نے اس ( گھوڑے ) کو سمندر کی طرح پا یا ہے یا ( فرما یا ) وہ تو سمندر ہے ۔ " انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اور ( اس سے پہلے ) وہ سست رفتار گھوڑا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6007

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَكِبَهُ فَقَالَ: «مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا»
Anas reported that there was consternation in Medina. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) borrowed the horse from Abu Talha which was called Mandub. He rode it and said: We have found no reason for consternation, and we have found it to be (as quick as a torrent) of water. وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک بار مدینہ میں خوف پھیل گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک گھوڑا مستعار لیا ، اسے مندوب کہا جاتا تھا آپ اس پر سوار ہو ئے تو آپ نے فرما یا : " ہم نے کو ئی ڈر اور خوف کی بات نہیں دیکھی اور اس گھوڑے کو ہم نے سمندر ( کی طرح ) پا یا ہے ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6008

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: فَرَسًا لَنَا، وَلَمْ يَقُلْ: لِأَبِي طَلْحَةَ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسًا
This hadith has been transmitted on the authority of Anas with a slight variation of wording. محمد بن جعفر اور خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور ابن جعفر کی روایت میں ہے ، انھوں ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : ہمارا گھوڑا ۔ اور انھوں نے یہ نہیں کہا کہ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ( گھوڑا ۔ ) اور خالد کی حدیث میں ہے ۔ قتادہ سے روایت ہے ۔ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6009

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَلْقَاهُ، فِي كُلِّ سَنَةٍ، فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ، فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ»
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was the most generous of people in charity, but he was generous to the utmost in the month of Ramadan. Gabriel (peace be upon him) would meet him every year during the month of Ramadin until it ended, and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited to him the Qur'an; and when Gabriel met him Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was most generous in giving charity like the blowing wind. ابرا ہیم ( بن سعد ) نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر ( اچھی چیزوں ) میں تمام انسانوں میں سے زیادہ سخی تھے ۔ اور آپ رمضان کے مہینے میں سخاوت میں بہت ہی زیادہ بڑھ جا تے تھے ۔ جبرئیل علیہ السلام ہر سال رمضان کے مہینے میں اس کے ختم ہو نے تک ( روزانہ آکر ) آپ سے ملتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے قرآن مجید کی قراءت فر ما تے تھے ۔ اور جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے آکر ملتے تھے تو آپ خیر ( کے عطا کرنے ) میں بارش برسانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہو جا تے تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6010

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters. یو نس اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6011

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، وَاللهِ مَا قَالَ لِي: أُفًّا قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا؟ وَهَلَّا فَعَلْتَ كَذَا؟ زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ: لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَاللهِ
Anas b. Malik reported: I served the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for ten years, and, by Allah, he never said to me any harsh word, and he never said to me about a thing as to why I had done that and as to why I had not done that. Abu Rabi' has made this addition (in this narration): The work which a servant should do. There is no mention of his words By Allah . سعید بن منصور اور ابو ربیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ( تقریباً ) دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ، اللہ کی قسم! آپ مجھ سے کبھی اُف تک نہیں کہا اور نہ کبھی کسی چیز لے لیے مجھ سے یہ کہا کہ تم نے فلا ں کا م کیوں کیا؟ یا فلا ں کا م کیوں نہ کیا ۔ ؟ابو ربیع نے اضافہ کیا : ( نہ آپ نے کبھی یہ فرما یا ) " خادم ایسا نہیں کرتا ۔ " انھوں نے ان ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی بات " اللہ کی قسم! " کا ذکر نہیں کیا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6012

وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters. سلام بن مسکین نے کہا : ہمیں ثابت بنا نی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6013

وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ - قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَاللهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ: لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا؟
Anas reported: When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to Medina, Abla Talha took hold of my hand and brought me to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, Anas is a prudent young boy, and he will serve you. He (Anas) said: I served him in journey and at home, but, by Allah, he never asked me about a thing which I did as to why I did so, nor about a thing which I did not do as to why I had not done that. ہمیں عبد العزیز نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لا ئے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انس ایک سمجھدار لڑکا ہے ، اس لیے یہ آپ کی خدمت کرے گا ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر میں سفر اور حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا اللہ کی قسم! میں نے کو ئی کا م کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرما یا : تم نے یہ کا م اس طرح کیوں کیا؟اور میں نے کو ئی کام نہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فر ما یا : تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا ؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6014

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ
Anas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I served the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for nine years, and I do not know (of any instance) when he said to me: Why you have done this and that, and he never found fault with me in anything. سعید بن ابی بردہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نو سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ، مجھے علم نہیں کہ آپ نے کبھی مجھ سے یوں فرما یا : ہو تم نے اس اس طرح کیوں کیا؟ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز میں کبھی مجھ پر نکتہ چینی کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6015

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ أَنَسٌ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا»، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أَذْهَبُ، وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: «يَا أُنَيْسُ أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟» قَالَ قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا أَذْهَبُ، يَا رَسُولَ اللهِ
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had the best disposition amongst people. He sent me on an errand one day, and I said: By Allah, I would not go. I had, however, this idea in my mind that I would do as Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had commanded me to do. I went out until I happened to come across children who had been playing in the street. In the meanwhile, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came there and he caught me by the back of my neck from behind me. As I looked towards him I found him smiling and he said: Unais, did you go where I commanded you to go? I said: Allah's Messenger, yes, I am going. اسحٰق نے کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں اخلا ق کے سب سے اچھے تھے ، آپ نے ایک دن مجھے کسی کام سے بھیجا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں نہیں جا ؤں گا ۔ حالانکہ میرے دل میں یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جس کام کا حکم دیا ہے میں اس کے لیے ضرورجا ؤں گا ۔ تومیں چلا گیا حتیٰ کہ میں چند لڑکوں کے پاس سے گزرا ، وہ بازار میں کھیل رہے تھے ، پھر اچانک ( میں نے دیکھا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میری گدی سے مجھے پکڑ لیا ، میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : " اے چھوٹے انس! کیا تم وہاں گئے تھے جہاں ( جانے کو ) میں نے کہا تھا ؟ " میں نے کہا جی! ہاں ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جا رہا ہوں ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6016

قَالَ أَنَسٌ: وَاللهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ، مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ أَوْ لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ: هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا
Anas further said: I served him for nine years but I know not that he ever said to me about a thing which I had done why I did that, or about a thing I had left as to why I had not done that. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسمً میں نے نوسال آپ کی خدمت کی ، میں نے آپ کو کبھی نہ دیکھا کہ کسی کام کے بارے میں جو میں نے کیا ، یہ کہا ہو تم نے فلاں فلا ں کام کیوں کیا؟ اور کو ئی چیز جو میں نے چھوڑدی ہو ( اس کے بارےمیں کہا ہو : ) تم نے فلاں فلاں کا م کیوں نہ کیا؟
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6017

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا»
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was the best amongst people in disposition and behaviour. ابو تیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوش اخلا ق تھے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6018

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا»
Jabir b. 'Abdullah reported: It never happened that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was asked for anything and he said: No. ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرما یا ہو ۔ نہیں ،
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6019

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ، مِثْلَهُ سَوَاءً
This hadith has been narrated on the authority of Jabir b. 'Abdullah through another chain of transmitters. اشجعی اور عبد الرحمٰن بن مہدی دونوں نے سفیان سے انھوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : سمیں نے حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، بالکل اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6020

وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ
Musa b. Anas reported on the authority of his father: It never happened that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was asked anything for the sake of Islam and he did not give that. There came to him a person and he gave him a large flock (of sheep and goats) and he went back to his people and said: My people, embrace Islam, for Muhammad gives so much charity as if he has no fear of want. موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام ( لا نے ) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ، کہا : ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں اسے دے دیں ، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6021

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ: «أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ» فَقَالَ أَنَسٌ: «إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا»
Anas 'b. Malik reported that a person requested Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to give him a very large flock and he gave that to him. He came to his tribe and said: O people, embrace Islam. By Allah, Muhammad donates so much as if he did not fear want. Anas said that the person embraced Islam for the sake of the world but later he became Muslim until Islam became dearer to him than the world and what it contains. ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں مانگیں ، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میری قوم اسلام لے آؤ ، کیونکہ اللہ کی قسم!بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : بے شک کو ئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جا تا تھا ، پھر جو نہی وہ اسلام لا تا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6022

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ، فَنَصَرَ اللهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ: «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
Ibn Shihab reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went on the expedition of Victory, i. e. the Victory of Mecca, and then he went out along with the Muslims and they fought at Hunain, and Allah granted victory to his religion and to the Muslims, and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave one hundred camels to Safwan b. Umayya. He again gave him one hundred camels, and then again gave him one hundred camels. Sa'id b. Musayyib said that Safwan told him: (By Allah) Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave me what he gave me (and my state of mind at that time was) that he was the most detested person amongst people in my eyes. But he continued giving to me until now he is the dearest of people to me. یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی ، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرما ئی ، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ، پھر سواونٹ پھر سواونٹ ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6023

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، - وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ لِي: عُدَّهَا، فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ، فَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: In case we get wealth from Bahrain, I would give you so much and so much; he made an indication of it with both his hands. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) died before wealth from Bahrain came, and it fell to the lot of Abu Bakr after him. He commanded the announcer to make announcement to the effect that he to whom Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had held out promise or owed any debt should come (to him). I came and said: Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said to me: In case there comes to us the wealth of Bahrain I shall give you so much, and so much. Abu Bakr took a handful (of the coins) and gave that to me once and asked me to count them I counted them as five hundred dinars and he said: Here is double of this for you. سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ( اسی طرح ) سفیان نے ابن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز عمرو سے روایت ہے ، انھوں نے محمد بن علی سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، اسی طرح ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ انھی کے ہیں ۔ کہا : سفیان نے کہا : میں نے محمد بن منکدر سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت جابر بن اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، سفیان نے یہ بھی کہا : میں نے عمرو بن دینار سے سنا ، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔ ان دونوں میں سے ( بھی ) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا ، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ( یعنی تین لپ بھر کر ) ۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ۔ وہ مال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لئے حکم دیا کہ جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو ، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے ۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا ، اتنا اور اتنا دیں گے ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن ۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے ( تو تین لپ ہو گئے ) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6024

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ، فَلْيَأْتِنَا بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
Jabir b. 'Abdullah reported: When Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) died, there came to Abfi Bakr wealth from al-'Ala' b. al-Hadrami. Abu Bakr said: He to whom Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) owed any debt or held out any promise should come to us; the rest of the hadith is the same. ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے محمد بن علی سے خبر دی ، انھو ں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز کہا : مجھے محمد بن منکدر نے ( بھی ) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی تھی ، انھوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو ئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ( بحرین کے گورنر ) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مال آیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کو ئی قرض ہو یا آپ کی طرف سے کسی کے ساتھ وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۔ ( آگے ) ابن عیینہ کی حدیث کی مانند ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6025

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ، - وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ» ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ، امْرَأَةِ قَيْنٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو سَيْفٍ، فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ وَاتَّبَعْتُهُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ، قَدِ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَيْفٍ أَمْسِكْ، جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمْسَكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، فَقَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبَّنَا، وَاللهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ»
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: A child was born into me this night and I named him after the name of my father Ibrihim. He then sent him to Umm Saif, the wife of a blacksmith who was called Abu Saif. He (the Holy Prophet) went to him and I followed him until we reached Abu Saif and he was blowing fire with the help of blacksmith's bellows and the house was filled with smoke. I hastened my step and went ahead of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Abu Saif, stop it, as there comes Allah's Messenger (may peace he upon him). He stopped and Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called for the child. He embraced him and said what Allah had desired. Anas said: I saw that the boy breathed his last in the presence of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The eyes of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) shed tears and he said: Ibrahim, our eyes shed tears and our hearts are filled with grief, but we do not say anything except that by which Allah is pleased. O Ibrahim, we are grieved for you. ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" آج رات میرا ایک بیٹا پیداہوا ہے جس کا نام میں نے اپنے والد کے نام پر ابرا ہیم رکھا ہے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو ابو سیف نامی لوہار کی بیوی ام سیف رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کر دیا ، پھر ( ایک روز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کے پاس جا نے کے لیے چل پڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا ہم ابو سیف کے پاس پہنچے وہ بھٹی پھونک رہا تھا ۔ گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا ۔ میں تیزی سے چلتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہوگیا اور کہا : ابو سیف!رک جاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں ، وہ رک گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو منگوا بھیجا ، آپ نے اسے اپنے ساتھ لگالیا اور جو اللہ چاہتا تھا ، آپ نے فرمایا ( محبت وشفقت کے بول بولے ۔ ) تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے اس بچے کو دیکھا ، وہ رسول اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی آنکھوں ) کے سامنے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر رہا تھا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آنکھیں آنسوبہارہی ہیں اور دل غم سے بھر ا ہواہے لیکن ہم اس کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو ، اللہ کی قسم!ابراہیم!ہم آپ کی ( جدائی کی ) وجہ سے سخت غمزدہ ہیں ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6026

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ: «كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ» قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُكَمِّلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ»
Anas b. Malik reported: I have never seen anyone more kind to one's family than Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and Ibrahim was sent to the suburb of Medina for suckling. He used to go there and we accompanied him. He entered the house, and it was filled with smoke as his foster-father was a bricksmith. He took him (his son Ibrihim) and kissed him and then came back. 'Amr said that when Ibrihim died. Allah's LMessenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Ibrihim is my son and he dies as a suckling babe. He has now two foster-mothers who would complete his suckling period in Paradise. عمرو بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنی اولاد پر شفیق نہیں دیکھا ، ( آپ کے فرزند ) حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کی بالائی بستی میں دودھ پیتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے ، آپ گھر میں داخل ہوتے تو وہاں دھوا ں ہوتا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رضاعی والد لوہار تھا ۔ آپ بچے کو لیتے ، اسے پیار کرتے اور پھر لوٹ آتے ۔ عمرو ( بن سعید ) نے کہا : جب حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" ابراہیم میر ابیٹا ہے اور وہ دودھ پینے کے ایام میں فوت ہواہے ، اس کی دودھ پلانے والی دو مائیں ہیں جو جنت میں اس کی رضاعت ( کی مدت ) مکمل کریں گی ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6027

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالُوا: لَكِنَّا وَاللهِ مَا نُقَبِّلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللهُ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ» وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: «مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ»
A'isha (Allah be pleased with her) reported that there came a few desert Arabs to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Do you kiss your children? He said: Yes. Thereupon they said: By Allah but we do not kiss our children. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Then what can I do if Allah has deprived you of mercy? Ibn Numair said: (We has deprived) your heart of mercy ابو اسامہ اور ابن نمیر نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س بادیہ سے کچھ لوگ آئےاور انھوں نےپوچھا : کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو کچھ بوسہ دیتے ہیں؟لوگوں نے کہا : ہاں ، تو ان لوگوں نے کہا : لیکن واللہ! ہم تو اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیتے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر اللہ تعالیٰ نے تمھارے اندر سے رحمت نکال دی ہے ( تو کیا ہوسکتا ہے! ) "" ابن نمیر کی روایت میں ہے : "" تمھارے دل سے رحمت نکال دی ہے ۔ ""
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6028

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ فَقَالَ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ»
Abu Huraira reported that al-Aqra' b. Habis saw Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kissing Hasan. He said: I have ten children, but I have never kissed any one of them, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who does not show mercy (towards his children), no mercy would be shown to him. سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بوسہ دے رہے تھے ، انھوں نے کہا : میرے دس بچے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6029

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
The above hadith has likewise been narrated through another chain of transmitters. معمر نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6030

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، وَأَبِي ظِبْيَانَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ، لَا يَرْحَمْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ»
This hadith has been narrated on the authority of Jarir b. 'Abdullah through different chains of transmitters and the words are: That the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who shows no mercy to the people, Allah, the Exalted and Glorious, does not show mercy to him. جریر ، عیسیٰ بن یونس ، ابو معاویہ اور حفص بن غیاث سب نے اعمش سے ، انھوں نے زید بن وہب اور ابوظبیان سے ، انھوں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا ۔ "
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 6031

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ
This hadith has been narrated on the authority of Jarir through other chains of transmitters. قیس اور نافع بن جبیر نے جریر سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔