MISHKAT

Search Results(1)

1)

1) کتاب ایمان کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْأَعْمَال بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لكل امْرِئ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهجرَته إِلَى مَا هَاجر إِلَيْهِ»
عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ، ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے نیت کی ، پس جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی خاطر ، اور جس کی ہجرت حصول دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کی خاطر ہوئی تو اس کی ہجرت اس کی خاطر ہے جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱ ، ۵۴ ، ۲۵۲۹ ، ۳۸۹۸ ، ۵۰۷۰ ، ۶۶۸۹ ، ۶۹۵۳) و مسلم (۴۹۲۷) ۔
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فأسند رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ: الْإِسْلَامُ: أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا . قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ. قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» . قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ. قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ: «مَا المسؤول عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا. قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» . قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ» ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرِيل أَتَاكُم يعلمكم دينكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم
عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک روز رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اس اثنا میں ایک آدمی ہمارے پاس آیا ، جس کے کپڑے بہت ہی سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے ، اس پر سفر کے آثار نظر آتے تھے نہ ہم میں سے کوئی اسے جانتا تھا ، حتیٰ کہ وہ دو زانو ہو کر نبیﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے ، اور کہا : محمدﷺ! اسلام کے متعلق مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، ہمیں اس سے تعجب ہوا کہ وہ آپ سے پوچھتا ہے اور آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے ، اس نے کہا : ایمان کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ اور تم تقدیر کے اچھا اور برا ہونے پر ایمان لاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، پھر اس نے کہا ، احسان کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکے تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔‘‘ اس نے کہا، قیامت کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسٔول اس کے متعلق سائل سے زیادہ نہیں جانتا ۔‘‘ اس نے کہا ، اس کی نشانیوں کے بارے میں مجھے بتا دیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی اور یہ کہ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، تنگ دست بکریوں کے چرواہوں کو بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اور ان پر فخر کرتے ہوئے دیکھو گے ۔‘‘ عمرؓ نے فرمایا : پھر وہ شخص چلا گیا ، میں کچھ دیر ٹھہرا ۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا :’’ عمر ! کیا تم جانتے ہو سائل کون تھا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جبریل ؑ تھے ، وہ تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے تمہارے پاس تشریف لائے تھے ۔‘‘ رواہ مسلم (۹۳) ۔
وَرَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَة مَعَ اخْتِلَافٍ وَفِيهِ: وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكْمَ مُلُوكَ الْأَرْضِ فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ. ثُمَّ قَرَأَ: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ)
ابوہریرہؓ نے اس حدیث کو کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ، اس حدیث میں ہے :’’ جب تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، بہرے ، گونگے لوگوں کو ملک کے بادشاہ دیکھو گے ، اور یہ (وقوع قیامت) پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے ،،،،،،، ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰ ، ۴۷۷۷) و مسلم
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ
ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ، گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸) و مسلم
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بضع وَسَبْعُونَ شُعْبَة فأفضلها: قَول لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا: إِمَاطَةُ الْأَذَى عَن الطَّرِيق والحياة شُعْبَة من الايمان
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایمان کی ستر سے کچھ زائد شاخیں ہیں ان میں سے سب سے افضل یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ اور سب سے ادنی ٰ یہ ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۹) و مسلم
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ» هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ من لِسَانه وَيَده
عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو ترک کر دے ۔‘‘ یہ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں ، جبکہ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں : فرمایا کہ کسی آدمی نے نبیﷺ سے دریافت کیا ، کون سا مسلمان بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۰) و مسلم
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
انسؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۵) و مسلم
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يكره أَن يلقى فِي النَّار
انسؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص میں تین خصلتیں ہوں اس نے ان کے ذریعے ایمان کی لذت و حلاوت کو پا لیا ، جس کو اللہ اور اس کے رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں ، جو شخص کسی سے محض اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو ، اور جو شخص دوبارہ کافر بننا ، اس کے بعد کہ اللہ نے اسے اس سے بچا لیا ، ایسے ناپسند کرتا ہو جیسے وہ آگ میں ڈالا جانا ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱) و مسلم
وَعَن الْعَبَّاس بن عبد الْمطلب قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عباس بن عبدالمطلبؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا اس نے ایمان کی لذت کو پا لیا ۔‘‘ رواہ مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 10

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يسمع بِي أحدق مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ من أَصْحَاب النَّار» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ، اس امت کے جس یہودی اور عیسائی نے میرے متعلق سن لیا اور پھر وہ مجھ پر اتارے گئے دین و شریعت پر ایمان لائے بغیر فوت ہو جائے تو وہ جہنمی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 11

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمِهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ
ابوموسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگوں کے لیے دو اجر ہیں ، اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا ، مملوک غلام جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا بھی حق ادا کرے ، اور ایک وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو ، وہ اس سے ہم بستری کرتا ہو ، پس وہ اسے آداب سکھائے اور اچھی طرح سے مؤدب بنائے ، اس کو بہترین زیور تعلیم سے آراستہ کرے ۔ پھر اس کو آزاد کر دے اور اس کے بعد اس سے شادی کر لے تو اس کے لئے دو اجر ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۹۷ والادب المفرد : ۲۰۳) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 12

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَق الْإِسْلَام وحسابهم على الله. إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ» إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَام
ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں ، جب ان کا یہ طرز عمل ہو گا تو انہوں نے حدودِ اسلام کے علاوہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو مجھ سے بچا لیا ، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ البتہ امام مسلم نے ’’حدود اسلام ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 13

وَعَن أنس أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذمَّته» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انسؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے ، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ ایسا مسلمان ہے جسے اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہے ، سو تم اللہ کی امان اور ذمہ کو نہ توڑو ۔‘‘ رواہ البخاری (۳۹۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 14

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: «تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ» . قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ. فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجنَّة فَلْينْظر إِلَى هَذَا»
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، ایک دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کے کرنے سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو ، فرض نماز قائم کرو ۔ فرض زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو ۔‘‘ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا ، جب وہ چلا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو پسند ہو کہ وہ جنتی شخص کو دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۹۷) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 15

وَعَن سُفْيَان بن عبد الله الثَّقَفِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ وَفِي رِوَايَةٍ: غَيْرَكَ قَالَ: قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّه ثمَّ اسْتَقِم. رَوَاهُ مُسلم
سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں اس کے متعلق آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں ، اور ایک روایت میں ہے ۔ آپ کے سوا کسی سے نہ پوچھوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو میں اللہ پر ایمان لایا ۔ پھر ثابت قدم ہو جاؤ ۔‘‘ رواہ مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 16

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفَقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ» . فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ فَقَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ . قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ» . قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ فَقَالَ: لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ. قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلح الرجل إِن صدق»
طلحہ بن عبیداللہؓ بیان کرتے ہیں اہل نجد سے پریشان حال بکھرے بالوں والا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سن رہے تھے لیکن ہم اس کی بات نہیں سمجھ رہے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوا ، اور وہ اسلام کے متعلق پوچھنے لگا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دن اور رات میں پانچ نمازیں ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، کیا ان کے علاوہ بھی کوئی چیز مجھ پر فرض ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، مگر یہ کہ تم نفل پڑھو ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔’’ اور ماہ رمضان کے روزے ۔‘‘ اس نے پوچھا : کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی چیز لازم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، الا یہ کہ تم نفلی روزہ رکھو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اسے زکوۃ کے متعلق بتایا تو اس نے کہا : کیا اس کے علاوہ مجھ پر کوئی چیز فرض ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، الا یہ کہ تم نفلی صدقہ کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا : اللہ کی قسم ! میں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کروں گا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔’’ اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ کامیاب ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۶) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 17

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ أَوْ: مَنِ الْوَفْدُ؟ قَالُوا: رَبِيعَةُ. قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ: بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى . قَالُوا: يَا رَسُول الله إِنَّا لَا نستطيع أَن نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فصل نخبر بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ. فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ» وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ: «احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ» وَلَفظه للْبُخَارِيّ
ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں ، کہ جب عبدالقیس کا وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔’’ یہ کون لوگ ہیں یا کون سا وفد ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم ربیعہ قبیلہ کے لوگ ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم یا وفد ! خوش آمدید ، تم کشادہ جگہ آئے اور تم رسوا ہوئے نہ نادم ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں ، ہمارے اور آپ کے مابین مضر کے کفار کا یہ قبیلہ آباد ہے ، آپ کسی فیصلہ کن امر کے متعلق حکم فرما دیں تاکہ ہم اپنے پچھلے ساتھیوں کو اس کے متعلق بتائیں اور ہم سب اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں ۔ اور انہوں نے آپ سے مشروبات کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے چار چیزوں کے متعلق انہیں حکم فرمایا اور چار چیزوں سے انہیں منع فرمایا ، آپ نے ایک اللہ پر ایمان لانے کے متعلق انہیں حکم دیا :’’ فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ ایک اللہ پر ایمان لانے سے کیا مراد ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا ۔ زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ، اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو ۔‘‘ اور آپ نے انہیں چار چیزوں سے منع فرمایا ، آپ نے بڑے مٹکوں ، کدو سے بنے ہوئے پیالوں ، لکڑی سے تراشے ہوئے لگن اور تارکول سے رنگے ہوئے روغنی برتنوں سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ انہیں یاد رکھو اور اپنے پچھلے ساتھیوں کو ان کے متعلق بتا دو ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۳) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 18

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: بَايَعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ إِلَى اللَّهِ: إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِك
عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے جبکہ آپ کے صحابہ کرام کی ایک جماعت آپ کے اردگرد تھی ۔ فرمایا :’’ تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گے ، تم چوری کرو گے نہ زنا کرو گے ، تم اپنی اولاد کو قتل کرو گے نہ اپنی طرف سے کسی پر بہتان لگاؤ گے اور نہ ہی معروف میں نافرمانی کرو گے ، پس تم میں سے جو شخص (یہ عہد) وفا کرے گا تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ، اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو اس کے لیے کفارہ ہے ۔ اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔ اگر وہ چاہے تو اس سے درگزر فرمائے اور اگر چاہے تو اسے سزا دے ۔‘‘ پس ہم نے اس پر آپ کی بیعت کر لی ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۸) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 19

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرجل الحازم من إحداكن قُلْنَ وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ قُلْنَ بَلَى قَالَ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَان عقلهَا أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تَصِلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ بَلَى قَالَ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا
ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ عیدالاضحی یا عیدالفطر کے موقع پر عید گاہ کی طرف تشریف لائے تو آپ خواتین کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ خواتین کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں تمہاری اکثریت دیکھی ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کس وجہ سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو دین اور عقل میں نقص رکھنے کے باوجود پختہ رائے مرد کی عقل کو لے جانے والا نہیں پایا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے دین اور ہماری عقل کا کیا نقصان ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف نہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ، کیوں نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس کی عقل کا نقص ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا جب اسے حیض آتا ہے تو اس وقت وہ نماز اور روزہ ترک نہیں کرتی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ایسے ہی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس کے دین کے نقص میں سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۰۴) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 20

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ كَذبَنِي ابْن آدم وَلم يكن لَهُ ذَلِك وَشَتَمَنِي وَلم يكن لَهُ ذَلِك أما تَكْذِيبه إيَّايَ أَن يَقُول إِنِّي لن أُعِيدهُ كَمَا بَدأته وَأما شَتمه إيَّايَ أَن يَقُول اتخذ الله ولدا وَأَنا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ وَلَمْ يكن لي كُفؤًا أحد (لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفؤًا أحد) كُفؤًا وكفيئا وكفاء وَاحِد
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم نے میری تکذیب کی حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں ، اور اس نے مجھے برا بھلا کہا ، حالانکہ یہ اس کے لائق نہیں تھا ۔ رہا اس کا مجھے جھٹلانا ، تو وہ اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جیسے اس نے شروع میں مجھے پیدا کیا تھا ، حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا میرے لیے دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ؟ اور رہا اس کا مجھے برا بھلا کہنا ، تو وہ اس کا یہ کہنا ہے : اللہ کی اولاد ہے ، حالانکہ میں یکتا ، بے نیاز ہوں جس کی اولاد ہے نہ والدین اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے ۔‘‘ رواہ البخاری (۴۹۷۴ ، ۴۹۷۵)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 21

وَفِي رِوَايَة عَن ابْنِ عَبَّاسٍ: وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لِي وَلَدٌ وَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا
ابن عباسؓ سے مروی حدیث میں ہے :’’ اور رہا اس کا مجھے گالی دینا ، تو وہ اس کا یہ کہنا ہے : میری اولاد ہے ، حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ میری بیوی ہو یا میری اولاد ہو ۔‘‘ رواہ البخاری (۴۴۸۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 22

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ابن آدم زمانے کو گالی دینے کے باعث مجھے تکلیف پہنچاتا ہے ، حالانکہ میں زمانہ ہوں ، تمام معاملات میرے ہاتھ میں ہیں ، میں ہی دن رات کو بدلتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۸۲۶ ، ۷۴۹۱) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 23

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ يَدْعُونَ لَهُ الْوَلَدَ ثُمَّ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ»
ابوموسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تکلیف دہ بات سن کر اس پر صبر کرنے والا اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں ، وہ اس کے لیے اولاد کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن وہ پھر بھی ان سے درگزر کرتا ہے اور انہیں رزق بہم پہنچاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۳۷۸) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 24

وَعَن معَاذ رَضِي الله عَنهُ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم على حمَار يُقَال لَهُ عفير فَقَالَ يَا معَاذ هَل تَدْرِي حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرُهُمْ فَيَتَّكِلُوا
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا ، میرے اور آپ کے درمیان صرف پالان کی ایک لکڑی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرتا ہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں بشارت نہ دو ورنہ وہ (اس بات پر) توکل کر لیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۵۶) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 25

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ رديفه على الرحل قَالَ: «يَا معَاذ بن جبل قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْديك ثَلَاثًا قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاس فيستبشروا قَالَ إِذا يتكلوا وَأخْبر بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا»
انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سواری پر تھے جبکہ معاذ ؓ آپ کے پیچھے بیٹھے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ !‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں ۔ آپ نے پھر فرمایا :’’ معاذ !‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں ، آپ نے پھر فرمایا :’’ معاذ !‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں ، تین مرتبہ ایسے ہوا پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص صدق دل سے یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تو اللہ ا س پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اس کے متعلق لوگوں کو نہ بتا دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تب تو وہ توکل کر لیں گے ۔‘‘ پھر معاذ ؓ نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی موت کے قریب اس کے متعلق بتایا ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 26

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ وَهُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا قَالَ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَر»
ابوذرؓ بیان کرتے ہیں ۔ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے ۔ میں پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے ۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے یہ اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ پھر وہ اسی پر فوت ہو گیا ۔ تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔‘‘ میں نے پھر عرض کیا ، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ خواہ ابوذر کو ناگوار ہو ۔‘‘ ابوذرؓ جب یہ حدیث بیان کرتے تو یہ الفاظ بھی بیان کرتے تھے ۔ اگرچہ ابوذر کو ناگوار گزرے ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۸۲۷) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 27

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَابْنُ أَمَتِهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ من الْعَمَل»
عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اور یہ کہ عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کی باندی کے بیٹے ہیں ، اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم ؑ کی طرف ڈالا اور اس کی طرف ایک روح ہیں ۔ جنت اور جہنم حق ہیں ۔ اللہ اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا ، خواہ اس کے اعمال کیسے بھی ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۳۵) و مسلم
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 28

وَعَن عَمْرو بن الْعَاصِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقلت ابْسُطْ يَمِينك فلأبايعك فَبسط يَمِينه قَالَ فَقَبَضْتُ يَدِي فَقَالَ مَا لَكَ يَا عَمْرُو قلت أردْت أَن أشْتَرط قَالَ تَشْتَرِطُ مَاذَا قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِي قَالَ أما علمت أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يهدم مَا كَانَ قبله» ؟ وَالْحَدِيثَانِ الْمَرْوِيَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: «أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ» . والاخر: «الْكِبْرِيَاء رِدَائي» سَنَذْكُرُهُمَا فِي بَابِ الرِّيَاءِ وَالْكِبْرِ إِنْ شَاءَ الله تَعَالَى
عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں ۔ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا :اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں ، آپ نے دایاں ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمرو ! تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میں شرط قائم کرنا چاہتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بتاؤ ! کیا شرط قائم کرنا چاہتے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : یہ کہ مجھے بخش دیا جائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمرو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام پہلے (حالت کفر والے) گناہ مٹا دیتا ہے ۔ ہجرت اپنے سے پہلے کیے ہوئے گناہ مٹا دیتی ہے اور بیشک حج بھی ان گناہوں کو مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے کیے ہوتے ہیں ۔‘‘ اور ابوہریرہؓ سے مروی دو حدیثیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ میں شرکاء کے شرک سے بے نیاز ہوں ۔‘‘ اور دوسری حدیث :’’ کبر میری چادر ہے ۔‘‘ میں ان دونوں حدیثوں کو ان شاء اللہ تعالیٰ ’’باب الریاء‘‘ اور ’’باب الکبر‘‘ میں بیان کروں گا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 29

عَن معَاذ بن جبل قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سفر فَأَصْبَحت يَوْمًا قَرِيبا مِنْهُ وَنحن نسير فَقلت يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدنِي عَن النَّار قَالَ لقد سَأَلتنِي عَن عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لِيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْت ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةُ كَمَا يُطْفِئُ المَاء النَّار وَصَلَاة الرجل من جَوف اللَّيْل قَالَ ثمَّ تَلا (تَتَجَافَى جنُوبهم عَن الْمضَاجِع) حَتَّى بَلَغَ (يَعْمَلُونَ) ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ بِرَأْس الْأَمر كُله وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نتكلم بِهِ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ایک بہت بڑی بات کے متعلق پوچھا ہے ، لیکن وہ ایسے شخص کے لیے آسان ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ اسے آسان فرما دے ، تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ابواب خیر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور رات کے اوقات میں آدمی کا نماز پڑھنا (گناہوں کو مٹا دیتا ہے ) ۔‘‘ پھر آپ نے (سورۃ السجدہ کی آیت) تلاوت فرمائی :’’ ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ نے ’’ وہ عمل کیا کرتے تھے ‘‘ تک تلاوت مکمل فرمائی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں دین کی بنیاد اس کے ستون اور اس کی چوٹی کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دین کی بنیاد اسلام ہے ، اس کا ستون نماز اور اس کی چوٹی جہاد ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ان سب سے بڑی چیز کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے نبی ! ضرور بتائیں ، آپ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا :’’ اسے روک لو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم اس سے جو کلام کرتے ہیں کیا اس پر ہمارا مؤاخذا ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ ! تیری ماں تجھے گم پائے ۔ لوگوں کو ان کی زبانوں کی کاٹ ہی ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ۔ رواہ احمد (۵/ ۲۳۱ ح ۲۲۳۶۶) والترمذی (۲۶۱۶) و ابن ماجہ (۳۹۷۳) و احمد (۵ / ۲۳۶ ، ۲۳۷ ، ۲۴۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 30

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتكْمل الْإِيمَان» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوامامہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ کے لیے محبت کی ، اللہ کی خاطر بغض رکھا ، اللہ کی رضا کی خاطر عطا کیا اور اللہ کے لیے روک لیا تو اس نے ایمان مکمل کر لیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداود (۴۶۸۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 31

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ مَعَ تَقْدِيمٍ وَتَأْخِير وَفِيه: «فقد اسْتكْمل إيمَانه»
اور امام ترمذی ؒ نے معاذ بن انس ؓ سے الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ اسے یوں روایت کیا ہے :’’ اس شخص نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۵۲۱) و صحیحہ الحاکم علیٰ شرط الشیخین (۲/ ۱۶۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 32

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوذرؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی رضا کی خاطر بغض رکھنا اعمال میں سب سے افضل عمل ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابوداود (۴۵۹۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 33

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔ اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں بے خوف اور پر امن ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۶۲۷) و النسائی (۸/ ۱۰۴ ، ۱۰۵ ح ۴۹۹۸) و صحیحہ ابن حبان (الاحسان : ۱۸۰) و الحاکم (۱ / ۱۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 34

وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . بِرِوَايَةِ فَضَالَةَ: «وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَالْمُهَاجِر من هجر الْخَطَايَا والذنُوب»
امام بیہقی نے فضالہ اور مجاہد کی روایت سے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے بارے میں اپنے نفس سے جہاد کرے ، جبکہ مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں سے کنارہ کش ہو جائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۱۱۲۳) و احمد (۶/ ۲۱ ، ۲۲ ح۲۴۴۵۸ ، ۲۴۴۶۷) و ابن ماجہ (۳۹۳۴) وصحیحہ ابن حبان (الموارد ۲۵) و الحاکم (۱ / ۱۰ ، ۱۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 35

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب بھی ہمیں خطاب کرتے تو فرماتے :’’ جس شخص میں امانت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں ، اور جس شخص کا عہد نہیں اس کا کوئی دین ہی نہیں ۔‘‘ حسن رواہ البیھقی فی شعیب الایمان (۴۳۵۲ و السنن الکبریٰ ۶ / ۲۸۸) و احمد (۳/ ۱۳۵ ح ۱۲۴۱۰ ، و ۳/ ۱۵۴ ، ۲۱۰ ، ۲۵۱) و اوردہ الضیاء فی المختارۃ (۵/ ۷۴ ح ۱۶۹۹ ، ۷/ ۲۲۴ ح ۲۶۶۰ ، ۲۶۶۳) و ابن حبان (الاحسان : ۱۹۴) و ابن خزیمہ (۳۳۳۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 36

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ الله عَلَيْهِ النَّار»
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ نے اس کو جہنم پر حرام کر دیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی (۲۶۳۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 37

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو اس حالت میں موت آئے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی (۱/ ۶۵ ، ۴۶۴ ، ابن حبان (۲۰۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 38

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثِنْتَانِ مُوجِبَتَانِ. قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ قَالَ: (مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئا دخل الْجنَّة) (رَوَاهُ مُسلم)
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو خصلتیں باعث موجب ہیں ۔‘‘ کسی شخص نے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! وہ دو موجب کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا فوت ہو جائے ، تو وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ اور جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم و احمد ۳/ ۳۹۱ ، ۱۵۲۷۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 39

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعنا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِيَنَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ فاحتفزت كَمَا يحتفز الثَّعْلَب فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلَاء النَّاس ورائي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَة وَأَعْطَانِي نَعْلَيْه قَالَ اذْهَبْ بنعلي هَاتين فَمن لقِيت من وَرَاء هَذَا الْحَائِط يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ عُمَرَ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَة فَقلت هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشرته بِالْجنَّةِ فَضرب عمر بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ لِاسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأجهشت بكاء وركبني عمر فَإِذا هُوَ على أثري فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَك يَا أَبَا هُرَيْرَة قلت لقِيت عمر فَأَخْبَرته بِالَّذِي بعثتني بِهِ فَضرب بَين ثديي فَخَرَرْت لاستي قَالَ ارْجع فَقَالَ لَهُ رَسُول الله يَا عُمَرُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فخلهم يعْملُونَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فخلهم . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ابوبکر و عمر ؓ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ہمارے ساتھ تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے اٹھ کر چلے گئے ، آپ نے ہمارے پاس واپس آنے میں تاخیر کی تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے ، پس ہم (آپ کی تلاش میں) اٹھ کھڑے ہوئے ، تو سب سے پہلا شخص میں تھا جو پریشان ہوا تو میں وہاں سے رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرنے کے لیے روانہ ہوا ، حتیٰ کہ میں انصار قبیلے کے ایک خاندان بنونجار کے ایک باغ کے پاس آیا تو میں نے اس کا چکر لگایا تاکہ مجھے اس کا کوئی دروازہ مل جائے لیکن میں نے کوئی دروازہ نہ پایا ، لیکن وہاں ایک بیرونی کنواں تھا جس سے ایک نالی باغ کی دیوار سے اندر جاتی تھی ، پس میں سمٹ کر اس راستے سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا ، تو آپ ﷺ نے پوچھا ؛’’ ابوہریرہ !‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں کیا ہوا (کہ یہاں چلے آئے) ؟‘‘ میں نے عرض کیا : آپ ہمارے پاس تشریف فرما تھے کہ آپ اٹھ کر آ گئے اور ہمارے پاس واپس آنے میں تاخیر کی تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے ، پس ہم گھبرا گئے ، میں پہلا شخص تھا جو پریشانی کا شکار ہوا ، پس میں اس باغ کے پاس پہنچا تو میں سکڑ کر اس نالے کے ذریعے اندر آ گیا جس طرح لومڑ سکڑ اور سمٹ جاتا ہے ، اور وہ لوگ میرے پیچھے ہیں ، اور آپ ﷺ نے اپنے نعلین مبارک مجھے دیکر فرمایا :’’ اے ابوہریرہ ! میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس دیوار کے باہر ایسا جو شخص تمہیں ملے جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو اسے جنت کی بشارت دے دو ۔‘‘ تو سب سے پہلے عمر ؓ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے پوچھا : ابوہریرہ ! یہ دونوں جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا : یہ دونوں جوتے رسول اللہ ﷺ کے ہیں ۔ آپ نے یہ دے کر مجھے بھیجا ہے کہ میں ایسے جس شخص سے ملوں جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں اسے جنت کی بشارت دوں ، (یہ سن کر) عمر ؓ نے میرے سینے پر مارا تو میں سرین کے بل گر پڑا ، انہوں نے کہا : ابوہریرہ واپس چلے جاؤ ۔ میں روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس آیا ، جبکہ عمر ؓ بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آئے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا : میں عمر ؓ سے ملا تو انہوں نے میرے سینے پر اس زور سے مارا کہ میں سرین کے بل گر پڑا ۔ اور کہا کہ واپس چلے جاؤ ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ نے اپنے جوتے دے کر ابوہریرہ کو بھیجا تھا کہ تم جس ایسے شخص کو ملو ، جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اس کو جنت کی خوشخبری سنا دو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ ایسے نہ کریں ، مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اس بات پر توکل کر لیں گے آپ انہیں چھوڑ دیں تاکہ وہ عمل کرتے رہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں (اپنے حال پر) چھوڑ دو (تاکہ عمل کرتے رہیں) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 40

عَن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا الله» . رَوَاهُ أَحْمد
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جنت کی چابی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵/ ۲۴۲ ح ۲۲۴۵۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 41

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ قَالَ عُثْمَان وَكنت مِنْهُم فَبينا أَنا جَالس فِي ظلّ أَطَم من الْآطَام مر عَليّ عمر رَضِي الله عَنهُ فَسلم عَليّ فَلم أشعر أَنه مر وَلَا سلم فَانْطَلق عمر حَتَّى دخل على أبي بكر رَضِي الله عَنهُ فَقَالَ لَهُ مَا يُعْجِبك أَنِّي مَرَرْت على عُثْمَان فَسلمت عَلَيْهِ فَلم يرد عَليّ السَّلَام وَأَقْبل هُوَ وَأَبُو بكر فِي وِلَايَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى سلما عَليّ جَمِيعًا ثمَّ قَالَ أَبُو بكر جَاءَنِي أَخُوك عمر فَذكر أَنه مر عَلَيْك فَسلم فَلم ترد عَلَيْهِ السَّلَام فَمَا الَّذِي حملك على ذَلِك قَالَ قُلْتُ مَا فَعَلْتُ فَقَالَ عُمَرُ بَلَى وَاللَّهِ لقد فعلت وَلكنهَا عبيتكم يَا بني أُميَّة قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقَ عُثْمَانُ وَقد شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ فَقُلْتُ أَجْلَ قَالَ مَا هُوَ فَقَالَ عُثْمَان رَضِي الله عَنهُ توفى الله عز وَجل نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ أَبُو بكر قد سَأَلته عَن ذَلِك قَالَ فَقُمْت إِلَيْهِ فَقلت لَهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا فَهِيَ لَهُ نجاة. رَوَاهُ أَحْمد
عثمانؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ نے وفات پائی تو آپ کے صحابہ کرام آپ کی وفات پر غم زدہ ہو گئے ، حتیٰ کہ قریب تھا ان میں سے بعض وسوسہ کا شکار ہو جاتے ، عثمان ؓ بیان کرتے ہیں اور میں بھی انہی میں سے تھا ، پس میں بیٹھا ہوا تھا ، کہ اس اثنا میں عمر ؓ پاس سے گزرے اور انہوں نے مجھے سلام کیا ، لیکن (شدت غم کی وجہ سے) مجھے اس کا کوئی پتہ نہیں چلا ، پس عمر ؓ نے ابوبکر ؓ سے شکایت کی ، پھر وہ دونوں آئے حتیٰ کہ ان دونوں نے ایک ساتھ مجھے سلام کیا ، تو ابوبکر ؓ نے فرمایا : آپ نے کس وجہ سے اپنے بھائی عمر کے سلام کا جواب نہیں دیا ، میں نے کہا ، میں نے تو ایسے نہیں کیا ، تو عمر ؓ نے فرمایا : کیوں نہیں ، اللہ کی قسم ! آپ نے ایسے کیا ہے ، عثمان ؓ کہتے ہیں میں نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے آپ کے گزرنے کا پتہ ہے نہ سلام کرنے کا ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : عثمان نے سچ فرمایا ، کسی اہم کام نے آپ کو اس سے غافل رکھا ہو گا ؟ تو میں نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ، انہوں نے پوچھا : وہ کون سا اہم کام ہے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو وفات دے دی اس سے پہلے کہ ہم آپ سے اس معاملے کی نجات کے بارے میں دریافت کر لیتے ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں نے اس کے متعلق آپ سے پوچھ لیا تھا ، میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں کہا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، آپ ہی اس کے زیادہ حق دار تھے ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس معاملے کا حل کیا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے مجھ سے وہ کلمہ ، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا لیکن اس نے انکار کر دیا ، قبول کر لیا تو وہی اس کے لیے نجات ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۱/ ۶ ح ۲۰)
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 42

عَن الْمِقْدَاد بن الْأسود قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كلمة الاسلام بعز عَزِيز أَو ذل ذليل إِمَّا يعزهم الله عز وَجل فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهَا رَوَاهُ أَحْمد
مقداد ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ روئے زمین کے ہر شہر و بستی کے ہر گھر میں کلمہ اسلام داخل فرما دے گا ، خواہ اسے کوئی عزت کے ساتھ قبول کر لے یا ذلت کے ساتھ زندہ رہے ، وہ لوگ جنہیں اللہ عزت عطا فرمائے گا تو وہ ان کو اس کا اہل (محافظ) بنا دے گا یا ان کو ذلیل کر دے گا تو وہ اس کی اطاعت اختیار کر لیں گے ۔‘‘ میں نے کہا : گویا دین پورے کا پورا اسی کا ہو جائے گا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۶/ ۴ ح ۲۴۳۱۵) و صحیحہ ابن حبان (موارد : ۱۶۳۱ ، ۱۶۳۲) و الحاکم (۴/ ۴۳۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 43

عَن وهب بن مُنَبّه قِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لَيْسَ مِفْتَاحٌ إِلَّا لَهُ أَسْنَانٌ فَإِنْ جِئْتَ بِمِفْتَاحٍ لَهُ أَسْنَانٌ فَتَحَ لَكَ وَإِلَّا لَمْ يَفْتَحْ لَكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَة بَاب
وہب بن منبہ ؓ سے روایت ہے ، انہیں کہا گیا ، کیا لا الہ الا اللہ ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ جنت کی چابی نہیں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن ہر چابی کے دندانے ہوتے ہیں ، اگر تم دندان والی چابی لاؤ گے تو آپ کے لیے اسے کھول دیا جائے گا ، ورنہ نہیں کھولا جائے گا ۔ رواہ البخاری کتاب الجنائز باب : ۱ قبل ح ۱۲۳۷)۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 44

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِعشر أَمْثَالهَا إِلَى سبع مائَة ضعف وكل سَيِّئَة يعملها تكْتب لَهُ بِمِثْلِهَا
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے اسلام کو سنوار لے تو اس کا ہر نیک عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا کر لکھا جائے گا ، جبکہ اس کی ہر برائی اتنی ہی لکھی جائے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۲) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 45

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الْإِيمَانُ قَالَ إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْإِثْمُ قَالَ إِذَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ، ایمان کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جب تیری نیکی تجھے خوش کر دے اور تیری برائی تجھے غمگین کر دے تو تو ُ مومن ہے ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! تو گناہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۵/ ۲۵۱ ح ۲۲۵۱۹) و صحیحہ ابن حبان (الموارد : ۱۰۳) و الحاکم (۱/ ۱۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 46

عَن عَمْرو بن عبسة قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُول الله من تبعك عَلَى هَذَا الْأَمْرِ قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قُلْتُ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ قُلْتُ مَا الْإِيمَانُ قَالَ الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ قَالَ خُلُقٌ حَسَنٌ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا كره رَبك عز وَجل قَالَ قلت فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ قُلْتُ أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ قَالَ جَوف اللَّيْل الآخر. . . رَوَاهُ أَحْمد
عمرو بن عبسہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس دین پر آپ کے ساتھ اور کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آزاد اور غلام ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اچھی اور پاکیزہ گفتگو اور اچھا کھانا کھلانا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : ایمان کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ صبرو استقامت ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : کون سا مسلمان افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔‘‘ انہوں نے کہا ، میں نے عرض کیا : کون سا ایمان افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اچھے اخلاق ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں عرض کیا : کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لمبے قیام والی ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : کون سی ہجرت بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو اپنے رب کی ناپسند چیزوں سے کنارہ کش ہو جا ۔‘‘ انہوں نے کہا : میں نے پوچھا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ؛’’ جس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں اور اسے شہید کر دیا جائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : کون سا وقت بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ رات کا نصف آخر ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۴/ ۳۸۵ ح ۱۹۶۵۵) و ابن ماجہ (۲۷۹۴) و مسلم و الحاکم (۱/ ۱۶۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 47

وَعَن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئا يُصَلِّي الْخَمْسَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَهُ قُلْتُ أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ دَعْهُمْ يَعْمَلُوا» . رَوَاهُ أَحْمد
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اس حالت میں اللہ سے ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو ، پانچوں نمازیں پڑھتا ہو اور رمضان کے روزے رکھتا ہو تو اسے بخش دیا جائے گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں انہیں بشارت نہ سنا دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ؛’’ انہیں چھوڑ دو تاکہ وہ عمل کرتے رہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۵/ ۲۳۲ ح ۲۲۳۷۸) و الترمذی (۲۵۳۰ ، ۲۵۳۱) و صحیحہ الحاکم (۱/ ۸۰) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 48

وَعَن معَاذ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: «أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ وماذا يَا رَسُول الله قَالَ وَأَن تحب للنَّاس مَا تحب لنَفسك وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے ۔ انہوں نے نبی ﷺ سے ایمان کی بہترین خصلت کے بارے میں دریافت کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اللہ کے لیے محبت کرو ، اللہ کے لیے بغض رکھو اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں مصروف رکھو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس کے بعد کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو اور ان کے لیے اس چیز کو ناپسند کرو جسے اپنے لیے ناپسند کرتے ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵/ ۲۴۷ ح ۲۲۴۸۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 49

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قَالَ ثمَّ أَي قَالَ ثمَّ أَن تُزَانِي بحليلة جَارك فَأنْزل الله عز وَجل تَصْدِيقَهَا (وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يزنون وَمن يفعل ذَلِك يلق أثاما) الْآيَة
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تو اللہ کا شریک بنائے حالانکہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا :‘‘ اس نے کہا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا :’’ یہ کہ تو اس اندیشے کے پیش نظر اپنے بچے کو قتل کر دے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا :’’ یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے ۔‘‘ اللہ نے اس مسئلہ کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی :’’ اور وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اور معبودوں کو نہیں پکارتے اور جس کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ ہی وہ زنا کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۶۱) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 50

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْيَمِين الْغمُوس» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تو اللہ کا شریک بنائے حالانکہ اس نے تمہیں پیدا فرمایا :‘‘ اس نے کہا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا :’’ یہ کہ تو اس اندیشے کے پیش نظر اپنے بچے کو قتل کر دے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا :’’ یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے ۔‘‘ اللہ نے اس مسئلہ کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی :’’ اور وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اور معبودوں کو نہیں پکارتے اور جس کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ ہی وہ زنا کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۶۱) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 51

وَفِي رِوَايَةِ أَنَسٍ: «وَشَهَادَةُ الزُّورِ» بَدَلُ: «الْيَمِينُ الْغمُوس»
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے ساتھ شریک بنانا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، قتل نفس اور جھوٹی قسم اٹھانا کبیرہ گناہ ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری (۶۶۷۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 52

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ»
انس ؓ کی روایت میں جھوٹی قسم کی بجائے جھوٹی گواہی کا ذکر ہے ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۶۵۳) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 53

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يشرب الْخمر حِين يشْربهَا وَهُوَ مُؤمن وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ينتهب نهبة ذَات شرف يرفع النَّاس إِلَيْهِ أَبْصَارهم فِيهَا حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِين يغل وَهُوَ مُؤمن فإياكم إيَّاكُمْ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سات مہلک چیزوں سے اجتناب کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، جادو کرنا ، جس کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ، اسے ناحق قتل کرنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ، معرکہ کے دن میدان جہاد سے پیٹھ پھیر کر فرار ہونا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۷۶۶) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 54

وَفِي رِوَايَة ابْن عَبَّاس: «وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَا يَكُونُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُونُ لَهُ نُورُ الْإِيمَان. هَذَا لفظ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس وقت زانی زنا کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا ، جس وقت چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ، جب وہ شراب پیتا ہے تو شراب نوشی کے وقت وہ مومن نہیں ہوتا ، جب لوٹنے والا لوٹتا ہے تو وہ لوٹنے کے وقت مومن نہیں ہوتا جبکہ لوگ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور جب خیانت کرنے والا خیانت کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا ۔ پس تم بچ جاؤ ، بچ جاؤ ۔‘‘ متفق علیہ رواہ البخاری (۲۴۷۵) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 55

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( «آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ» . زَادَ مُسْلِمٌ: «وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ» . ثُمَّ اتَّفَقَا: «إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤتمن خَان»
ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے :’’ جس وقت قاتل قتل کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ۔‘‘ عکرمہ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا : اس سے ایمان کیسے نکال لیا جاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس طرح اور انہوں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور پھر انہیں نکال لیا ، پس اگر وہ توبہ کر لے تو ایمان اس کی طرف اس طرح لوٹ آتا ہے ، اور انہوں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں ، اور ابوعبداللہ (امام بخاری ؒ) نے فرمایا : ایسا شخص کامل مومن ہو گا نہ اس کے لیے نور ایمان ہو گا ۔‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ رواہ البخاری (۶۸۰۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 56

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذا خَاصم فجر»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ منافق کی تین نشانیاں ہیں ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے ، خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳) و مسلم ۔ امام مسلم نے الفاظ زائد نقل کئے ہیں :’’ اگرچہ وہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے ۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 57

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مثل الْمُنَافِق كَمثل الشَّاة الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغُنْمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِه مرّة» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ خالص (پکا) منافق ہے ، اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے حتیٰ کہ وہ اسے ترک کر دے ۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے ، جب بات کرے جھوٹ بولے ، جب عہد کرے تو عہد شکنی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ پر اتر آئے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری(۳۴) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 58

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لصَاحبه اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِي فَقَالَ صَاحِبُهُ لَا تَقُلْ نَبِيٌّ إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَة أَعْيُنٍ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَقَالَ لَهُم: «لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلَا تَسْحَرُوا وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوا مُحصنَة وَلَا توَلّوا الْفِرَار يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً الْيَهُودَ أَنْ لَا تَعْتَدوا فِي السبت» . قَالَ فقبلوا يَده وَرجله فَقَالَا نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تتبعوني قَالُوا إِن دَاوُد دَعَا ربه أَن لَا يزَال فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ منافق کی مثال اس متردد بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو ، کبھی وہ اس کی طرف جاتی ہے کبھی اس کی طرف ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 59

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «ثَلَاث من أَصْلِ الْإِيمَانِ الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَلَا نكفره بذنب وَلَا نخرجهُ من الْإِسْلَام بِعَمَل وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتل آخر أمتِي الدَّجَّالَ لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادل وَالْإِيمَان بالأقدار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
صفوان بن عسال ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا : ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو ، تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا : تم نبی نہ کہو : کیونکہ اگر اس نے تمہاری بات سن لی تو وہ بہت خوش ہو گا ، پس وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے واضح نشانیوں کے بارے میں آپ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، نہ زنا کرو ، نہ کسی ایسی جان کو جس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ کسی بے گناہ شخص کو کسی صاحب اقتدار کے پاس لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ، جادو کرو نہ سود کھاؤ ، پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ نہ معرکہ کے دن میدان جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگو ، اور تم بالخصوص یہود پر لازم ہے کہ تم ہفتے کے دن کے بارے میں زیادتی نہ کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ان دونوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں چومے اور کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نبی ہیں ، آپ نے فرمایا :’’ تو پھر کون سی چیز تمہیں میری اتباع نہیں کرنے دیتی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : داؤد ؑ نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ نبوت کا سلسلہ اس کی اولاد میں جاری رہے ، اور ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ ﷺ کی اتباع کر لی تو یہود ہمیں قتل کر دیں گے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۷۳۳ ، ۳۱۴۴) و ابوداؤد (لم اجدہ) و النسائی (۷/ ۱۱۱ ح ۴۰۸۳) و ابن ماجہ (۳۷۰۵) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 60

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذا خرج من ذَلِك الْعَمَل عَاد إِلَيْهِ الايمان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین (خصلتیں) ایمان کی اصل بنیاد ہیں ، (لا الہ الا اللہ) ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ کا اقرار کرنے والے شخص کے درپے ہونے سے رک جانا ، کسی گناہ یا کسی اور خلاف شرع عمل کی وجہ سے کسی کو اسلام سے خارج مت کرو ، جہاد جاری ہے ، جب سے اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے ، اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب اس امت کا آخری شخص دجال سے قتال کرے گا ، کسی ظالم کا ظلم اسے روک سکے گا نہ کسی عادل کا عدل ، اور تقدیر پر ایمان رکھنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۵۳۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 61

عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتُ وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَإِنَّهُ رَأَسَ كُلِّ فَاحِشَةٍ وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّ بالمعصية حل سخط الله عز وَجل وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ وَإِذا أصَاب النَّاس موتان وَأَنت فيهم فَاثْبتْ وَأنْفق عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل کر چھتری کی طرح اس کے سر پر ہو جاتا ہے ، جب وہ اس عمل سے رجوع کر لیتا ہے تو ایمان بھی اس کی طرف پلٹ آتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (معلقاً بعد ح ۲۶۲۵) و ابوداؤد (۴۶۹۰) و صحیحہ الحاکم (۱/ ۲۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 62

وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: إِنَّمَا كَانَ النِّفَاق عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكفْر بعد الايمان. رَوَاهُ البُخَارِيّ
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے دس چیزوں کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ؛’’ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا خواہ تجھے قتل کر دیا جائے اور جلا دیا جائے ، والدین کی نافرمانی نہ کرنا خواہ وہ تمہیں حکم دیں کہ تو اپنے اہل و مال سے الگ ہو جا ، فرض نماز قصداً ترک نہ کرنا کیونکہ جس نے عمداً فرض نماز ترک کر دی تو اس سے اللہ کی امان ختم ہو گئی ، شراب نہ پینا کیونکہ وہ ہر بے حیائی کی بنیاد ہے ، معصیت سے بچتے رہنا کیونکہ معصیت اللہ کی ناراضی کا باعث بنتی ہے ، میدان جہاد سے فرار نہ ہونا خواہ لوگ ہلاک ہو جائیں ، جب لوگ (طاعون کی وجہ سے) موت کا شکار ہو جائیں اور تم ان میں موجود ہو تو پھر وہیں رہو ، اپنی استطاعت کے مطابق اپنے مال میں سے اپنی اولاد پر خرچ کر ، ادب سکھانے کی خاطر ان سے کوئی سمجھوتہ نہ کر (مارنے کی ضرورت پڑے تو مار) اور اللہ کے بارے میں انہیں ڈراتے رہو ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد (۵/ ۲۳۸ ح ۲۲۴۲۵) و ابن ماجہ (۴۰۳۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 63

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ بِهِ صُدُورُهَا مَا لم تعْمل بِهِ أَو تَتَكَلَّم»
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نفاق تو رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھا ، جبکہ اب تو کفر ہے یا ایمان ہے ۔ رواہ البخاری (۷۱۱۴) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 64

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: «أَو قد وجدتموه» قَالُوا: نعم. قَالَ: «ذَاك صَرِيح الْإِيمَان» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرمایا ہے جب تک وہ ان کے مطابق عمل نہ کر لیں یا بات نہ کر لیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵۲۸) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 65

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خلق كَذَا؟ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے چند صحابہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا : ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں کہ انہیں بیان کرنا ہم بہت گراں سمجھتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم بھی ایسا محسوس کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو صریح ایمان ہے ۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 66

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ: آمَنت بِاللَّه وَرُسُله
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شیطان تمہارے کسی شخص کے پاس آتا ہے تو وہ کہتا ہے : اس کو کس نے پیدا کیا ؟ اس کو کس نے پیدا کیا ؟ حتیٰ کہ کہتا ہے : تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ پس جب تم میں سے کوئی اس حد تک پہنچ جائے تو وہ اللہ کی پناہ طلب کرے اور اس (شیطانی خیال) کو چھوڑ دے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۲۷۶) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 67

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ. قَالُوا: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَإِيَّايَ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ آپس میں سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ کہا جائے گا : اس مخلوق کو تو اللہ نے پیدا فرمایا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ پس جو اس طرح کی صورت محسوس کرے تو وہ کہے : میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۲۹۶) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 68

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانسان مجْرى الدَّم»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا ایک جن اور ایک فرشتہ ساتھی مامور کر دیا گیا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ﷺ کے ساتھ بھی ؟ آپ نے فرمایا :’’ میرے ساتھ بھی لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری اعانت کی تو وہ مطیع ہو گیا ، وہ مجھے صرف خیرو بھلائی کی بات ہی کہتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 69

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۳۸) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 70

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ من الشَّيْطَان»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مریم اور ان کے بیٹے (عیسیٰ ؑ) کے سوا اولاد آدم کے ہاں پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان اس کی ولادت کے وقت مس کرتا ہے تو وہ شیطان کی چھیڑ پر روتے ہوئے چیخ مارتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۴۳۱) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 71

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى المَاء ثمَّ يبْعَث سراياه فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلَتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكَتُهُ حَتَّى فَرَّقَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نَعَمْ أَنْتَ قَالَ الْأَعْمَشُ أرَاهُ قَالَ «فيلتزمه» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بچہ پیدائش کے وقت چیختا ہے تو اس کا یہ چیخنا شیطان کے کچوکے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۵۴۸) و مسلم س۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 72

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِن الشَّيْطَان قد أيس أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَكِنَّ فِي التحريش بَينهم» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شیطان اپنا تخت پانی پر سجاتا ہے ۔ پھر وہ اپنے لشکروں کو روانہ کرتا ہے ، وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ان میں سے اس کا زیادہ مقرب وہ ہوتا ہے جو ان میں سب سے زیادہ گمراہ کن ہو ، ان میں سے ایک آتا ہے تو وہ بتاتا ہے ، میں نے یہ یہ کیا ، تو وہ کہتا ہے ، تو نے کچھ بھی نہیں کیا ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر ان میں سے ایک آتا ہے تو وہ کہتا ہے ، میں نے فلاں کا پیچھا نہیں چھوڑا حتیٰ کہ میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (شیطان) اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے :’’ ہاں تم بہت خوب ہو ۔‘‘ اعمش بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو وہ (شیطان) اسے گلے لگا لیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 73

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں نمازی اس کی پوجا کریں ، لیکن وہ انہیں آپس میں لڑانے کی کوشش کرتا رہے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 74

وَعَن بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلشَّيْطَانَ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانَ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ من الله فليحمد اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ الْأُخْرَى فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ثُمَّ قَرَأَ (الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ ويأمركم بالفحشاء) الْآيَة) أخرجه التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میرے دل میں کچھ ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے بیان کرنے سے کوئلہ بن جانا مجھے زیادہ پسند ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے کو وسوسہ میں بدل دیا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداود (۵۱۱۲) و النسائی فی الکبریٰ (۱۰۵۰۳) و صحیحہ ابن حبان (۴۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 75

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا قَالُوا ذَلِك فَقولُوا الله أحد الله الصَّمد لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كفوا أحد ثمَّ ليتفل عَن يسَاره ثَلَاثًا وليستعذ من الشَّيْطَان . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شیطان ابن آدم کے دل میں خیال ڈالتا ہے اور فرشتہ بھی خیال ڈالتا ہے ۔ رہا شیطان کا وسوسہ ڈالنا تو وہ شر اور حق کے جھٹلانے کا وعدہ دیتا ہے ، رہا فرشتے کا خیال ڈالنا تو وہ خیر اور تصدیق حق کا وعدہ دیتا ہے ، جو شخص اس طرح کا خیال محسوس کرے تو وہ جان لے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ، پس وہ اللہ کا شکر ادا کرے ، اور جو شخص دوسرا خیال پائے تو وہ شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرے ۔‘‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔’’ شیطان تمہیں مفلسی کا وعدہ دیتا ہے اور برے کام کی ترغیب و حکم دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۸۸) و النسائی فی الکبریٰ (۱۱۰۵۱) و ابن حبان (۴۰) الطبری فی تفسیر (۳/ ۵۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 76

عَن أنس بن مَالك يَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا الله خَالق كل شَيْء فَمن خلق الله» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَلِمُسْلِمٍ: قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجل: إِن أمتك لَا يزالون يَقُولُونَ: مَا كَذَا؟ مَا كَذَا؟ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجل؟
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’ لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ یوں بھی کہا جائے گا : اس مخلوق کو تو اللہ نے تخلیق کیا ، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب وہ یہ کہیں تو تم کہنا : اللہ یکتا ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، اس کی اولاد ہے نہ والدین اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے ۔ پھر تین مرتبہ اپنی بائیں جانب تھوک دے ، اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور ہم عمرو بن احوص سے مروی حدیث ان شاءاللہ باب خطبۃ یوم النحر میں ذکر کریں گے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۷۲۳ ، ۴۷۲۱) و النسائی فی الکبریٰ (۱۰۴۹۷ ، ۶۶۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 77

عَن عُثْمَان بن أبي الْعَاصِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بيني وَبَين صَلَاتي وقراءتي يُلَبِّسُهَا عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزِبٌ فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفُلْ عَلَى يسارك ثَلَاثًا قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي» . رَوَاهُ مَسْلِمٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ وہ کہیں گے ، ان سب چیزوں کو اللہ نے پیدا فرمایا ، تو پھر اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا ؟‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۲۹۶) و مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : آپ کی امت کے لوگ اس طرح کہتے رہیں گے ، یہ کیا ؟ اسے کیوں پیدا کیا ہے ؟ حتیٰ کہ وہ کہیں گے : اس مخلوق کو تو اللہ نے پیدا فرمایا تو پھر اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا ہے :‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 78

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنِّي أهم فِي صَلَاتي فيكثر ذَلِك عَليّ فَقَالَ الْقَاسِم بن مُحَمَّد امْضِ فِي صَلَاتك فَإِنَّهُ لن يذهب عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتي» . رَوَاهُ مَالك
عثمان بن ابی العاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ ! بے شک شیطان میرے ، میری نماز اور میری قراءت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور وہ نماز کو مجھ پر ملتبس کر دیتا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شیطان ہے اسے خنزب کہا جاتا ہے ، پس جب تم محسوس کرو تو اس سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور تین بار اپنی بائیں جانب تھوک دو ۔‘‘ (وہ بیان کرتے ہیں) پس میں نے ایسے کیا تو اللہ نے اسے مجھ سے دور کر دیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 79

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَتَبَ اللَّهُ مقادير الْخَلَائق قبل أَن يخلق السَّمَوَات وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» قَالَ: «وَكَانَ عَرْشُهُ على المَاء» . رَوَاهُ مُسلم
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے ان سے مسئلہ دریافت کیا تو کہا : نماز میں میرا خیال کسی دوسری طرف چلا جاتا ہے ، اور اکثر ایسا ہوتا ہے ۔ تو انہوں نے کہا : اپنی نماز جاری رکھو ، کیونکہ تمہارے نماز سے فارغ ہونے تک یہ آتے رہیں گے ، اور (نماز کے اختتام پر ) تم کہو گے : میں نے اپنی نماز مکمل نہیں کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک فی الموطا (۱/ ۱۰۰ ح ۲۲۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 80

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجز والكيس» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیر لکھی ، اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔‘‘ رواہ مسلم و تاریخ بغداد (۲/ ۲۵۲) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 81

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى قَالَ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ ثُمَّ أَهَبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الأَرْض فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا فَبِكَمْ وَجَدَتِ اللَّهِ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَى بِأَرْبَعِينَ عَامًا قَالَ آدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا (وَعَصَى آدَمُ ربه فغوى) قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر چیز حتیٰ کہ عجزو دانائی ، تقدیر کے مطابق ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 82

عَن عبد الله بن مَسْعُود قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِق المصدوق: «إِن أحدكُم يجمع خلقه فِي بطن أمه أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثمَّ يكون فِي ذَلِك علقَة مثل ذَلِك ثمَّ يكون فِي ذَلِك مُضْغَة مثل ذَلِك ثمَّ يُرْسل الْملك فينفخ فِيهِ الرّوح وَيُؤمر بِأَرْبَع كَلِمَات بكتب رزقه وأجله وَعَمله وشقي أَو سعيد فوالذي لَا إِلَه غَيره إِن أحدكُم لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدم اور موسیٰ ؑ نے اپنے رب کے ہاں مناظرہ و مباحشہ کیا ، تو آدم ؑ موسیٰ ؑ پر غالب رہے ، موسیٰ ؑ نے فرمایا : آپ آدم ؑ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا ، اس میں اپنی روح پھونکی ، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ، آپ کو اپنی جنت میں بسایا پھر آپ نے اپنی خطا سے لوگوں کو زمین پر اتارا ، آدم ؑ نے فرمایا : آپ موسیٰ ؑ ہیں جنہیں اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لیے منتخب فرمایا ، آپ کو تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کا بیان ہے ، آپ کو کسی واسطے کے بغیر سرگوشی کا شرف بخشا ، آپ کے خیال میں میری تخلیق سے کتنا عرصہ قبل اللہ تعالیٰ نے تورات لکھی ہو گی ؟ موسیٰ ؑ نے فرمایا : چالیس برس ، آدم ؑ نے فرمایا : کیا آپ نے اس میں یہ چیز بھی پائی : آدم ؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گئے ۔؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ، آدم ؑ نے فرمایا : کیا آپ مجھے ایسے عمل کرنے پر ملامت کرتے ہیں جس کا کرنا اللہ نے مجھے پیدا کرنے سے بھی چالیس برس پہلے مجھ پر لازم کر دیا تھا ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدم ؑ موسیٰ ؑ پر غالب آ گئے ۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 83

وَعَن سهل بن سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجنَّة وَإنَّهُ من أهل النَّار وَإِنَّمَا الْعمَّال بالخواتيم»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ جو کہ صادق و مصدوق ہیں ، فرمایا :’’ تم میں سے ہر ایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں اس طرح مکمل کی جاتی ہے کہ وہ چالیس روز تک نطفہ رہتا ہے ، پھر اتنی مدت جما ہوا خون رہتا ہے ۔ پھر اتنی ہی مدت گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے ، پھر اللہ چار باتیں لکھنے کے لیے اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے ، پس وہ اس کا عمل ، اس کی عمر ، اس کا رزق اور اس کا بد نصیب یا سعادت مند ہونا لکھتا ہے ۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ۔ پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، بے شک تم میں سے کوئی شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ نوشتہ تقدیر اس پر غالب آ جاتا ہے تو وہ جہنمیوں کا سا کوئی عمل کر بیٹھتا ہے تو وہ اس میں داخل ہو جاتا ہے ، اور (اسی طرح) تم میں سے کوئی جہنمیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ نوشتہ تقدیر اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا سا عمل کر لیتا ہے تو وہ اس میں داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۵۹۴) و مسلم و ابوداؤد (۴۷۰۸) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 84

عَن عَائِشَة أم الْمُؤمنِينَ قَالَتْ: «دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةِ صَبِيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوءُ وَلَمْ يُدْرِكْهُ قَالَ أَوَ غَيْرُ ذَلِكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وهم فِي أصلاب آبَائِهِم» . رَوَاهُ مُسلم
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’ـ’ بندہ جہنمیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ، دوسرا آدمی جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے ، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے ، اعمال تو وہ (قابل اعتبار) ہیں جو آخری ہیں :‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۰۷) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 85

عَن عَليّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ كُنَّا فِي جَنَازَة فِي بَقِيع الْغَرْقَد فَأَتَانَا النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقعدَ وقعدنا حوله وَمَعَهُ مخصرة فَنَكس فَجعل ينكت بمخصرته ثمَّ قَالَ مَا مِنْكُم من أحد مَا من نفس منفوسة إِلَّا كتب مَكَانهَا من الْجنَّة وَالنَّار وَإِلَّا قد كتب شقية أَو سعيدة فَقَالَ رجل يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدع الْعَمَل فَمن كَانَ منا من أهل السَّعَادَة فسيصير إِلَى عمل أهل السَّعَادَة وَأما من كَانَ منا من أهل الشقاوة فسيصير إِلَى عمل أهل الشقاوة قَالَ أما أهل السَّعَادَة فييسرون لعمل السَّعَادَة وَأما أهل الشقاوة فييسرون لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ ثُمَّ قَرَأَ (فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصدق بِالْحُسْنَى) الْآيَة
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر ایک کی جہنم میں اور جنت میں جگہ لکھ دی گئی ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم پھر اپنے نوشتہ تقدیر پر بھروسہ کر لیں ۔ اور عمل کرنا چھوڑ دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمل کرتے رہو ، ہر ایک کو ، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے ، میسر کر دیا جاتا ہے ، جو شخص سعادت مندوں میں سے ہو گا تو اس کے لیے اہل سعادت کے عمل آسان کر دئیے جائیں گے ، اور جو شخص بد نصیبوں میں سے ہوا تو اس کے لیے بدنصیبی والے عمل آسان کر دئیے جائیں گے ۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جس کسی نے اللہ کی راہ میں دیا اور ڈرتا رہا ، اور اچھی بات کی تصدیق کی ، تو ہم بہت جلد اس کے لیے نیکی کی راہ آسان کر دیں گے :‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۶۲) و مسلم و البیھقی فی کتاب القضاء و القدر (۴۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 86

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يصدق ذَلِك كُله ويكذبه» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا مُدْرِكٌ ذَلِكَ لَا محَالة فالعينان زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے اولاد آدم پر اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے ، جسے وہ ضرور پا کر رہے گا ، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے ، زبان کا زنا بولنا ہے جبکہ نفس تمنا اور آرزو کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ اللہ نے ابن آدم پر اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے ، جسے وہ ضرور پا کر رہے گا ، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے ، کانوں کا زنا سننا ہے ، زبان کا زنا بات کرنا ہے ، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے ، ٹانگ کا زنا چل کر جانا ہے ، جبکہ نفس تمنا اور آرزو کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۱۲ ، ۶۲۴۳) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 87

وَعَن عمرَان بن حضين: إِن رجلَيْنِ من مزينة أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشِيءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فيهم من قدر قد سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سواهَا فألهمها فجورها وتقواها) رَوَاهُ مُسلم
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ مزینہ قبیلہ کے دو آدمیوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! لوگ جو آج عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے محنت و کوشش کر رہے ہیں ، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور پہلے سے جو تقدیر ہے وہ نافذ ہو چکی ہے ، یا وہ اس چیز کی طرف جا رہے ہیں جو ان کے نبی ان کے پاس لے کر آئے اور ان کے خلاف حجت قائم کی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ان کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اور ان کے بارے میں نافذ ہو چکی ہے ، اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے :’’ اور نفس کی قسم ! اور اس کی جو کچھ اس نے درست کیا ، پھر بدکاری اور پرہیزگاری دونوں کی اسے سمجھ عطا کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 88

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ وَأَنَا أَخَافُ عَلَى نَفْسِي الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ النِّسَاءَ كأَنَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الِاخْتِصَاءِ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ فَاخْتَصِ على ذَلِك أَو ذَر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں جوان آدمی ہوں اور مجھے اپنے متعلق زنا کا اندیشہ ہے ، جبکہ میرے پاس شادی کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ، گویا کہ وہ آپ سے خصی ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا ، پھر میں نے وہی بات عرض کی ، آپ پھر خاموش رہے ، میں نے پھر وہی عرض کی ، آپ پھر خاموش رہے کوئی جواب نہ دیا ، میں نے پھر وہی بات عرض کی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! تم نے جو کچھ کرنا ہے یا تمہارے ساتھ جو کچھ ہونا ہے اس کے متعلق قلم لکھ کر خشک ہو چکا اب اس کے باوجود تم خصی ہو جاؤ یا چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ البخاری (۵۰۷۶) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 89

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُول إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلِّهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ من أَصَابِع الرَّحْمَن كقلب وَاحِد يصرفهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الله مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اولاد آدم کے تمام قلوب ، قلب واحد کی طرح رحمن کی دو انگلیوں میں ہیں ۔ وہ جیسے چاہتا ہے اسے بدلتا رہتا ہے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! دلوں کو پھیرنے والے ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دینا (یعنی ثابت قدم) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 90

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ كَانَ يحدث قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُول أَبُو هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ (فطْرَة الله الَّتِي فطر النَّاس عَلَيْهَا) الْآيَة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا کیا جاتا ہے ، پس اس کے والدین اسے یہودی بنا دیتے ہیں ، یا اسے نصرانی بنا دیتے ہیں یا اسے مجوسی بنا دیتے ہیں ، جیسے جانور صحیح سالم جانور کو جنم دیتا ہے ، کیا تم اس میں سے کسی کا کان کٹا ہوا محسوس کرتے ہو ؟‘‘ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی :’’ یہ وہ فطرت ہے ، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اللہ کی اس بنائی ہوئی چیز میں کوئی تبدیلی نہ کرو ، یہی درست دین ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۵۸) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 91

وَعَن أبي مُوسَى قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عز وَجل لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْل حجابه النُّور» . رَوَاهُ مُسلم
ابوموسیٰ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر ہمیں پانچ چیزوں کے متعلق خبر دیتے ہوئے فرمایا :’’ بے شک اللہ سوتا ہے نہ یہ اس کی شان کے لائق ہے کہ وہ سو جائے ، وہ میزان کو اوپر نیچے کرتا رہتا ہے ۔ رات کا عمل ، دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے ، اس کی طرف پہنچا دیا جاتا ہے ، اس کا حجاب نور ہے ، اگر وہ اس حجاب کو اٹھا دے تو اس کے چہرے کے انوار ، وہاں تک اس مخلوق کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 92

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدُ اللَّهِ مَلْأَى لَا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَدِهِ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيرْفَع» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلْآنُ سَحَّاءُ لَا يُغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْل والنهار»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے ، رات دن کی سخاوت اسے کم نہیں کرتی ، تم نے دیکھا کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے جو خرچ کیا اس نے اس کے ہاتھ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی ، اور اس کا عرش پانی پر ہے ، اور میزان اس کے ہاتھ میں ہے وہ اسے پست کرتا اور بلند کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۶۸۴) و مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے ۔‘‘ ابن نمیر نے کہا :’’ دونوں ہاتھ بھرے ہوئے ہیں ۔ رات اور دن کی سخاوت اس میں کوئی کمی نہیں کرتی ۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 93

وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَّارِيِّ الْمُشْرِكِينَ قَالَ: «اللَّهُ أعلم بِمَا كَانُوا عاملين»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان کے اعمال کے متعلق اللہ بہتر جانتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۸۴) و مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 94

وَعَن عبَادَة بن الصَّامِت قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول «إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمُ فَقَالَ اكْتُبْ فَقَالَ مَا أَكْتُبُ قَالَ اكْتُبِ الْقَدَرَ مَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَدِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا تو اسے فرمایا :’’ لکھو ۔ اس نے عرض کیا ، کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھو ، اس نے جو کچھ ہو چکا تھا اور جو کچھ ہونا تھا سب لکھ دیا ۔‘‘ ترمذی ، اور امام ترمذی نے فرمایا ، یہ حدیث سند کے لحاظ سے غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ ترمذی (۳۳۱۹ ، ۲۱۵۵) روی ابویعلی (۲۳۲۹) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 95

وَعَن مُسلم بن يسَار قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورهمْ) قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يسْأَل عَنْهَا فَقَالَ: «خلق آدم ثمَّ مسح ظَهره بِيَمِينِهِ فأاستخرج مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقَتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أهل الْجنَّة يعْملُونَ ثمَّ مسح ظَهره فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقَتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وبعمل أهل النَّار يعْملُونَ فَقَالَ رجل يَا رَسُول الله فَفِيمَ الْعَمَل يَا رَسُول الله قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ من أَعمال أهل الْجنَّة فيدخله الله الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعمال أهل النَّار فيدخله الله النَّار» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
مسلم بن یسار ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا :’’ جب تیرے رب نے بنی آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو پیدا کیا ۔‘‘ تو عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو جب ان سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ نے آدم ؑ کو پیدا فرمایا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ ان کی پشت پر پھیرا تو اس سے کچھ اولاد نکالی اور فرمایا : میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ اہل جنت کے سے عمل کریں گے ، پھر ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو اس سے کچھ اولاد نکالی تو فرمایا : میں نے انہیں جہنم کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ اہل جہنم کے سے عمل کریں گے ۔ (یہ سن کر) کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! تو پھر عمل کس لیے کرنا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اسے اہل جنت کے اعمال پر لگا دیتا ہے حتیٰ کہ وہ اہل جنت کے سے اعمال پر ہی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے ، اور جب وہ کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اسے جہنمیوں والے اعمال پر لگا دیتا ہے حتیٰ کہ وہ جہنمیوں والے اعمال پر ہی فوت ہوتا ہے تو وہ اس وجہ سے اس کو جہنم میں داخل کر دیتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف رواہ مالک فی الموطا (۲/ ۸۹۸ ح ۱۷۲۶) و الترمذی (۳۰۷۵) و ابوداؤد (۴۷۰۳) و فی شرح السنہ (۱/ ۱۳۸ ، ۱۳۹ ح۷۷) و ابن حبان (۸/ ۲۶۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 96

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَده كِتَابَانِ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الكتابان فَقُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاء آبَائِهِم وقبائلهم ثمَّ أجمل على آخِرهم فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي شِمَالِهِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ فِيهِ أَسْمَاءُ أَهْلِ النَّارِ وَأَسْمَاء آبَائِهِم وقبائلهم ثمَّ أجمل على آخِرهم فَلَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا فَقَالَ أَصْحَابُهُ فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقَالَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ فَنَبَذَهُمَا ثُمَّ قَالَ فَرَغَ رَبُّكُمْ مِنَ الْعِبَادِ فريق فِي الْجنَّة وفريق فِي السعير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيح
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ کے ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں ، آپ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ یہ دو کتابیں کیا ہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جب تک آپ نہ بتائیں ، ہم نہیں جانتے ، تو آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا :’’ یہ کتاب ربّ العالمین کی طرف سے ہے ، اس میں جنتیوں ، ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، پھر ان کے آخر پر پورا حساب کر دیا گیا ہے لہذا ان میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی ۔‘‘ پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا :’’ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے اس میں جہنمیوں ، ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، پھر ان کے آخر پر پورا حساب کر دیا گیا ہے لہذا اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی ۔‘‘ تو آپ کے صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جب فیصلہ ہو چکا ہے تو پھر عمل کس لیے کرنا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ میانہ روی سے درست اعمال کرتے رہو ، کیونکہ جنتی شخص سے آخری عمل جنتیوں والا کرایا جائے گا ، اگرچہ پہلے اس نے کیسے بھی عمل کیے ہوں ، اور جہنمی سے آخری عمل جہنمیوں والا کرایا جائے گا ، خواہ اس سے پہلے اس نے کیسے بھی عمل کیے ہوں ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے وہ کتابیں رکھ کر فرمایا :’’ تمہارا رب بندوں (کے معاملے) سے فارغ ہو چکا ، پس ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۱۴۱) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 97

وَعَن أبي خزامة عَن أَبِيه قَالَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ: «هِيَ مِنْ قَدَرِ الله» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! راہنمائی فرمائیں ، دم جس کے ذریعے ہم دم کراتے ہیں ، دوائی ، جس کے ذریعے ہم علاج کرتے ہیں ، اور بچاؤ کی چیزیں (مثلاً ڈھال وغیرہ) جن کے ذریعے ہم بچاؤ کرتے ہیں ۔ کیا یہ اللہ کی تقدیر سے کچھ روک سکتی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (اسباب اختیار کرنا) بھی اللہ کی تقدیر میں سے ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۳/ ۴۲۱ ح ۱۵۵۵۱ ، ۱۵۵۵۴) و الترمذی (۲۰۶۵) و ابن ماجہ (۳۴۳۷) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 98

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِي الْقَدَرِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وجنتيه الرُّمَّانِ فَقَالَ أَبِهَذَا: «أُمِرْتُمْ أَمْ بِهَذَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلُكُمْ حِينَ تنازعوا فِي هَذَا الْأَمر عزمت عَلَيْكُم أَلا تتنازعوا فِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ من حَدِيث صَالح المري وَله غرائب يتفرد بهَا لَا يُتَابع عَلَيْهَا قلت: لَكِن يشْهد لَهُ الَّذِي بعده
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے اسی دوران رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور آپ سخت ناراض ہوئے حتیٰ کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا گویا آپ کے رخساروں پر انار کے دانے نچوڑ دیے گئے ہیں ، تو آپ نے فرمایا :’’ کیا تمہیں اس (تقدیر کے مسئلہ پر بحث کرنے) کا حکم دیا گیا ، کیا مجھے اس چیز کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ؟ تم سے پہلی قوموں نے اس معاملے میں بحث و تنازع کیا تو وہ ہلاک ہو گئیں ، میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور تم پر واجب کرتا ہوں کہ تم اس مسئلہ پر بحث و تنازع نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۱۳۳) ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 99

وروى ابْن مَاجَه فِي الْقدر نَحْوَهُ عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ
ابن ماجہ نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۸۵) ۔