Mishkat-ul-Masabeh

Search Results(1)

11)

11) حدود، معاملات اور احکام کا بیان

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2759

عَن الْمِقْدَاد بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عمل يَدَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی شخص نے اپنی ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا ، اور اللہ کے نبی داؤد ؑ اپنے ہاتھوں کی کمائی سے کھایا کرتے تھے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2760

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَأَنَّ اللَّهَ أَمَرَ المؤْمنينَ بِمَا أمرَ بِهِ المرسَلينَ فَقَالَ: (يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ واعْمَلوا صَالحا) وَقَالَ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ) ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے متعلق رسولوں کو حکم فرمایا ، اسی چیز کے متعلق مومنوں کو حکم فرمایا تو فرمایا :’’ رسولوں کی جماعت ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ ایمان والو ! ہم نے جو پاکیزہ چیزیں تمہیں عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ ۔‘‘ پھر آپ نے اس آدمی کا ذکر فرمایا جو دُور دراز کا سفر طے کرتا ہے پراگندہ بال اور خاک آلود ہے ، آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے دعا کرتا ہے : رب جی ! حالانکہ اس کا کھانا حرام ، اس کا پینا حرام ، اس کا لباس حرام اور اسے حرام کی غذا دی گئی تو ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2761

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلَالِ أم من الْحَرَام» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ حلال طریقے سے کما رہا ہے یا حرام طریقے سے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2762

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشبهاب استبرَأَ لدِينهِ وعِرْضِهِ ومَنْ وقَعَ فِي الشبُّهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُله أَلا وَهِي الْقلب»
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ، جبکہ ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں ۔ بہت سے لوگ انہیں نہیں جانتے ، پس جو شخص شبہات سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا ، اور جو شخص شبہات میں مبتلا ہو گیا تو وہ حرام میں مبتلا ہو گیا ، جیسے وہ چرواہا جو چراگاہ کے آس پاس چراتا ہے ، تو قریب ہے کہ وہ اس (چراگاہ) میں چرائے گا ، سن لو ! بے شک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے ، سن لو ! بے شک اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں : سن لو ! جسم میں ایک لوتھڑا ہے ، جب وہ درست ہو جاتا ہے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے ، اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے ، یاد رکھو ! وہ دل ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2763

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ» . رَوَاهُ مُسلم
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کتے کی قیمت ، زانیہ کی اجرت اور پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2764

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت ، زانیہ کی اجرت اور کاہن کی شرینی (یعنی نیاز) سے منع فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2765

وَعَن أبي حجيفة أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُصَوِّرَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوجحیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خون کی قیمت ، کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی سے منع فرمایا ، اور سود کھانے والے ، کھلانے والے ، جسم گوندنے والی اور گدوانے والی اور مصور پر لعنت فرمائی ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2766

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ؟ فَإِنَّهُ تُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ فَقَالَ: «لَا هُوَ حَرَامٌ» . ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ»
جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ میں فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ اور اس کے رسول نے شراب ، مردار ، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! مردار کی چربی کے بارے میں بتائیں ؟ کیونکہ اس کے ذریعے کشتیوں کو روغن کیا جاتا ہے ، کھالیں چکنی کی جاتی ہیں ، اور لوگ اسے چراغوں میں جلا کر روشنی حاصل کرتے ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، وہ حرام ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ یہود کو غارت کرے ، کیونکہ اللہ نے جب اس کی چربی حرام قرار دی تو انہوں نے پگھلا کر بیچا اور پھر اس کی قیمت کھائی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2767

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فجملوها فَبَاعُوهَا»
عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ یہود کو غارت کرے ان پر (مردار کی) چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2768

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2769

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خراجه
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پچھنے لگائے تو آپ نے اسے ایک صاع (تقریباً اڑھائی کلو) کھجوریں دینے اور اس کے مالکوں کو اس کے خزاج میں تخفیف کرنے کا حکم فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2770

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالدَّارِمِيِّ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَده من كَسبه»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی کمائی سے کھانا سب سے پاکیزہ کھانا ہے ، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و ابوداؤد و الدارمی ۔ ابوداؤد اور دارمی کی روایت میں ہے :’’ آدمی کا اپنی کمائی سے کھانا سب سے پاکیزہ کھانا ہے ، اور بے شک اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے ۔‘‘
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2771

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يكْسب عبد مَال حرَام فتيصدق مِنْهُ فَيُقْبَلُ مِنْهُ وَلَا يُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ. إِنَّ اللَّهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَكَذَا فِي شرح السّنة
عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر کوئی شخص حرام مال کھاتا ہے اور پھر اس سے صدقہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہوتا ، اور وہ اس میں سے جو خرچ کرتا ہے تو اس میں برکت نہیں کی جاتی ، اور اگر وہ اسے ترکہ میں چھوڑ جاتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ میں اضافے کا باعث بنتا ہے ، کیونکہ اللہ برائی کے ذریعے برائی ختم نہیں کرتا بلکہ وہ نیکی کے ذریعے برائی ختم کرتا ہے اور خبیث ، خبیث کو ختم نہیں کرتا ۔‘‘ احمد ، شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2772

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نبَتَ منَ السُّحْتِ وكلُّ لحمٍ نبَتَ منَ السُّحْتِ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حرام سے پرورش پانے والا گوشت ، جنت میں داخل نہیں ہو گا ، اور حرام سے پرورش پانے والا ہر گوشت جہنم کی آگ ہی اس کی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2773

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ الْفَصْل الأول
حسن بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یاد کیا :’’ جو چیز تجھے شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دے اور شک سے پاک چیز اختیار کر ، کیونکہ سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، نسائی ۔ اور امام دارمی نے اس حدیث کا پہلا حصہ روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2774

وَعَن وابصَةَ بن مَعْبدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا وَابِصَةُ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ فَضَرَبَ صَدْرَهُ وَقَالَ: «اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ» ثَلَاثًا «الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدارمي
وابصہ بن معبد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وابصہ ! تم نیکی اور گناہ کی تعریف پوچھنے آئے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں اکٹھی کیں اور میرے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا :’’ اپنے نفس سے پوچھو ، اپنے دل سے پوچھو ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا ۔ اور پھر فرمایا :’’ نیکی وہ ہے جس پر نفس اور دل مطمئن ہو جائے ، جبکہ گناہ یہ ہے کہ وہ تیرے نفس میں کھٹکے اور دل میں تردد پیدا کرے اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2775

وَعَن عطيَّةَ السَّعدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ المتَّقينَ حَتَّى يدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ بأسٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وابنُ مَاجَه
عطیہ سعدی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بندہ حقیقی متقی تب بنتا ہے کہ وہ قابل اعتراض چیزوں کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ایسی چیزیں بھی چھوڑے جن پر کوئی اعتراض نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2776

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً: عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَآكِلَ ثَمَنِهَا وَالْمُشْتَرِي لَهَا وَالْمُشْتَرَى لَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب سے متعلق دس قسم کے افراد پر لعنت فرمائی : اس کے بنانے والے ، اس کے بنوانے والے ، اس کے پینے والے ، اسے اٹھانے والے ، جس کے پاس لے جائی جائے ، اس کے پلانے والے ، اسے بیچنے والے ، اس کی قیمت کھانے والے ، اسے خریدنے والے اور جس کے لیے خریدی جائے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2777

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقَيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے شراب پر ، اس کے پینے والے ، اس کے پلانے والے ، اس کے بیچنے والے ، اس کے خریدنے والے ، اس کے بنانے والے ، جس کے لیے بنائی جائے اس پر ، اسے لے کر جانے والے اور جس کے لیے لے کر جائی جائے ، ان سب پر لعنت فرمائی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2778

وَعَن محيصة أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُجْرَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ فَلَمْ يَزَلْ يَسْتَأْذِنُهُ حَتَّى قَالَ: «اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
محّیصہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے پچھنے لگانے والی کی اجرت کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں منع فرما دیا ، وہ آپ سے مسلسل اجازت طلب کرتے رہے حتی کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے اپنے اونٹ کو کھلا دیا کر اور اسے غلام کو کھلا دیا کر ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2779

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وكسْبِ الزَّمارةِ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتے کی قیمت اور گانے والی (گلوکارہ یا زانیہ) کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2780

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ وَفِي مِثْلِ هَذَا نَزَلَتْ: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لهْوَ الحَديثِ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعلي بن يزِيد الرواي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: نُهِيَ عَن أكل أهر فِي بَابِ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ إِنْ شَاءَ الله تَعَالَى
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ گانے والیوں کو بیچو نہ انہیں خریدو اور نہ ہی انہیں تربیت دو ، اور ان کی قیمت حرام ہے ۔ ایسے مسائل کے متعلق یہ حکم نازل ہوا :’’ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ باتیں خریدتے ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور علی بن یزید ، راوی حدیث میں ضعیف ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔ اور ہم جابر سے مروی حدیث : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلی کھانے سے منع فرمایا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ باب ما یحل اکلہ میں ذکر کریں گے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2781

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ فرائض کے بعد کسب حلال کی تلاش بھی فرض ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2782

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أُجْرَةِ كِتَابَةِ الْمُصْحَفِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ إِنَّمَا هُمْ مُصَوِّرُونَ وَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَأْكُلُونَ من عمل أَيْديهم. رَوَاهُ رزين
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان سے قرآن کریم کی کتابت کی اجرت کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ، وہ تو (حروف کے) مصور ہی ہیں ، اور وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی کھاتے ہیں ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2783

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کون سا کسب سب سے پاکیزہ ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر اچھی تجارت ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2784

وَعَن أبي بكرِ بنِ أبي مريمَ قَالَ: كَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ جَارِيَةٌ تَبِيعُ اللَّبَنَ وَيَقْبِضُ الْمِقْدَامُ ثَمَنَهُ فَقِيلَ لَهُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَتَبِيعُ اللَّبَنَ؟ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ؟ فَقَالَ نَعَمْ وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا الدِّينَارُ وَالدِّرْهَم» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوبکر بن ابومریم بیان کرتے ہیں ، مقدام بن معدیکرب ؓ کی ایک لونڈی دودھ بیچا کرتی تھی اور مقدام ؓ اس کی قیمت وصول کرتے تھے ، ان سے کہا گیا ، سبحان اللہ ! کیا وہ دودھ بیچتی ہے اور تم اس کی قیمت وصول کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، اس میں کوئی حرج نہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا جس میں درہم و دینار ہی انہیں فائدہ پہنچائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2785

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مِصْرَ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَتَيْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى العراقِ فقالتْ: لَا تفعلْ مالكَ وَلِمَتْجَرِكَ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَبَّبَ اللَّهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه
نافع بیان کرتے ہیں ، میں شام اور مصر کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ، چنانچہ اب میں نے عراق کی طرف سامان بھیجنے کی تیاری کی تو میں ام المومنین عائشہ ؓ کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا ، ام المومنین ! میں شام کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ، لیکن اب میں نے عراق کے لیے تیاری کی ہے ، انہوں نے فرمایا : ایسے نہ کرو ، تمہارے تجارتی مرکز کو کیا ہوا ؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کی روزی کا کوئی سبب بنائے تو وہ اسے نہ چھوڑے جب تک کہ (عدم منافع کی وجہ سے) اس میں تبدیلی رونما نہ ہو یا اسے اس میں نقصان ہونے لگے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2786

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلَامٌ يُخْرِّجُ لَهُ الْخَرَاجَ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ فَجَاءَ يَوْمًا بشيءٍ فأكلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: تَدْرِي مَا هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحسِنُ الكهَانةَ إِلاَّ أَنِّي خدَعتُه فلَقيَني فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ قَالَتْ: فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابوبکر ؓ کا ایک غلام تھا ، وہ آپ کو خراج دیا کرتا تھا ، اور ابوبکر ؓ اس کے خراج میں سے کھایا کرتے تھے ، ایک روز وہ کچھ لے کر آیا تو ابوبکر ؓ نے اس میں سے کھایا ۔ غلام نے آپ سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا تھا ؟ تو ابوبکر ؓ نے فرمایا : وہ کیا تھا ؟ اس نے کہا : میں جاہلیت میں ایک انسان کے لیے کہانت کیا کرتا تھا ، حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی ، میں نے تو اسے صرف دھوکہ ہی دیا تھا ، وہ مجھے ملا ہے تو اس نے مجھے یہ عطا کیا ہے جس میں سے آپ نے کھایا ہے ، وہ بیان کرتی ہیں ، ابوبکر ؓ نے اپنا ہاتھ (منہ میں) ڈالا اور پیٹ کی ہر چیز قے کر ڈالی ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2787

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ جَسَدٌ غُذِّيَ بالحرَامِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حرام سے پرورش پانے والا جسم جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2788

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ: شَرِبَ عمر بن الْخطاب لَبَنًا وَأَعْجَبَهُ وَقَالَ لِلَّذِي سَقَاهُ: مَنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِيَ وَهُو هَذَا فَأَدْخَلَ عُمَرُ يَدَهُ فاسْتقاءَه. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا اور انہیں خوشگوار محسوس ہوا ۔ جس شخص نے دودھ پلایا تھا اس سے دریافت کیا کہ تو نے یہ دودھ کہاں سے حاصل کیا ؟ اس نے بتایا کہ وہ ایک تالاب پر گیا جس کا اس نے نام لیا ۔ وہاں زکوۃ کے اونٹ تھے جن کو وہ پانی پلا رہے تھے ، انہوں نے مجھے بھی ان کا دودھ دھو کر دیا میں نے دودھ کو اپنے مشکیزے میں ڈال لیا یہ وہ دودھ تھا ۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور دودھ کی قے کر دی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2789

وَعَن ابنِ عُمَرَ قَالَ: مَنِ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهَ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ: إِسْنَادُهُ ضَعِيف
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص دس درہم میں کوئی کپڑا خریدے اور ان میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس پر رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، پھر انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال کر فرمایا : اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنی ہو تو یہ دونوں (کان) بہرے ہو جائیں ۔ احمد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور فرمایا : اس کی اسناد ضعیف ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2790

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ وَإِذَا اشْتَرَى وَإِذَا اقْتَضَى رَوَاهُ البُخَارِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے جو بیچتے ، خریدتے اور تقاضا کرتے وقت نرمی اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2791

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ الْمَلَكُ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ فَقيل لَهُ: هَل علمت مَنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ. قِيلَ لَهُ انْظُرْ قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَأُجَازِيهِمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا ، فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لیے اس کے پاس آیا تو اس سے پوچھا گیا : کیا تم نے کوئی نیکی کا کام کیا ہے ؟ اس نے کہا : مجھے پتہ نہیں ، پھر اسے کہا گیا : دیکھ لو اس نے کہا : مجھے اس کے علاوہ تو کوئی اور بات یاد نہیں کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ بیع کیا کرتا تھا ، اور میں ان سے اچھے انداز سے تقاضا کیا کرتا تھا ، میں مال دار شخص کو مہلت دے دیتا تھا جبکہ تنگدست کو ویسے ہی معاف کر دیا کرتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرما دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2792

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ «فَقَالَ اللَّهُ أَنَا أَحَق بذا مِنْك تجاوزوا عَن عَبدِي»
اور صحیح مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے جو کہ عقبہ بن عامر ؓ اور ابومسعود انصاری ؓ سے مروی ہے :’’ میں اس کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں ، (فرشتو !) میرے بندے سے درگزر فرماؤ ۔‘‘ رواہ ،مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2793

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بیع کرتے وقت زیادہ قسمیں اٹھانے سے بچو ، کیونکہ اس سے تجارت کو فروغ تو ملتا ہے لیکن پھر وہ ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2794

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحلف منفقعة للسلعة ممحقة للبركة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قسم سودے کو رواج دیتی ہے لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2795

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» . قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحلف الْكَاذِب» . رَوَاهُ مُسلم
ابوذر ؓ نبی سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ روز قیامت تین قسم کے لوگوں سے کلام فرمائے گا نہ (نظر رحمت سے) اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی ان کا تزکیہ فرمائے گا اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہو گا ۔‘‘ ابوذر ؓ نے عرض کیا ، وہ تو ناکام و نامراد ہو گئے ، اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا :’’ ازار لٹکانے والا ، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2796

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ معَ النبِّيِينَ والصِّدِّيقينَ والشهداءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالدَّارَقُطْنِيّ.
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سچا امانت دار تاجر انبیا علیہم السلام ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی و الدارقطنی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2797

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن ماجہ نے اسے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے ، اور ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2798

وَعَن قيس بن أبي غَرزَة قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
قیس بن ابی غرزہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ہم (تاجروں) کو ’’ بروکر ‘‘ (دلال) کہا جاتا تھا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو کہ اس سے بہتر تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تاجروں کی جماعت ! بیع کرتے وقت لغو باتیں ہو جاتی ہیں اور قسمیں بھی ہوتی ہیں ، لہذا تم اس کے ساتھ صدقہ کو شامل کر لیا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2799

وَعَن عبيد بنِ رفاعةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
عبید بن رفاعہ اپنے والد سے اور وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تاجروں کو فاجروں کے زمرے میں جمع کیا جائے گا بجز اس کے جس نے تقوی اختیار کیا ، نیکی کی اور صدقہ کیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2800

وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. عَنِ الْبَرَاءِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ مِنَ الْفَصْلِ الثَّالِثِ
امام بیہقی نے براء ؓ سے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2801

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَّفَرَقَا إِلَّا بيع الْخِيَار» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كانَ بيعُهما عَن خيارٍ فقد وَجَبَ» وَفَى رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا» . وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اخْتَرْ «بَدَلَ» أَوْ يختارا
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بیع خیار کے علاوہ خریدو فروخت کرنے والے میں سے ہر ایک کو ، جُدا نہ ہونے سے پہلے تک (بیع کو پختہ کرنے یا فسخ کرنے کا) اختیار ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے ’’ جب دو بیع کرنے والے بیع کرتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے تک اپنی بیع کے بارے میں اختیار ہوتا ہے ، یا پھر ان کی بیع خیار ہو ، پس جب ان کی بیع اختیار ہو گی تو وہ واجب ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو ایک دوسرے سے جدُا ہونے سے پہلے تک اختیار باقی رہتا ہے ، یا پھر انہوں نے بیع خیار کی ہو ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے :’’ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے کہے کہ تجھے اختیار حاصل ہے ۔ ((یختارا)) کے بجائے ((اِختَر)) ’’ اختیار کی شرط کر ‘‘ کا لفظ ہے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2802

وَعَن حَكِيم بن حزَام قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوِرَكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا»
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو جُدا ہونے تک اختیار باقی رہتا ہے ، اگر انہوں نے سچ بولا اور (مال کے بارے میں) وضاحت کی تو ان دونوں کے لیے ان کی بیع میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر انہوں نے (مال کے نقص وغیرہ کو) چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان کی بیع سے برکت ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2803

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خلابة فَكَانَ الرجل يَقُوله
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرمایا : بیع میں میرے ساتھ دھوکہ ہو جاتا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم بیع کرو تو کہا کرو : دھوکہ فریب نہیں چلے گا ۔‘‘ وہ آدمی یہ الفاظ کہا کرتا تھا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2804

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو جُدا ہونے سے پہلے تک اختیار ہوتا ہے الا یہ کہ بیع اختیار ہو ، اور اس کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر اپنے ساتھی سے جُدا ہونا جائز نہیں کہ وہ اس (بیع) کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2805

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَفَرَّقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عنْ تراضٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دونوں باہمی رضا مندی کے بغیر ایک دوسرے سے جُدا نہ ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2806

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم خيَّرَ أعرابيَّاً بَعْدَ الْبَيْعِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اعرابی کو بیع کے بعد اختیار دیا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2807

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ، اور فرمایا :’’ (گناہ میں) وہ سب برابر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2808

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْملح بالملح مثلا بِمثل سَوَاء بسَواءٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ» . رَوَاهُ مُسلم
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونے کے بدلے سونا ، چاندی کے بدلے چاندی ، گندم کے بدلے گندم ، جو کے بدلے جو ، کھجور کے بدلے کھجور ، اور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد ہوں ، جب یہ اصناف بدل جائیں تو پھر اگر وہ نقد ہوں تو جیسے چاہو بیچو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2809

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ، گندم گندم کے بدلے ، جو جو کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر اور نقد بنقد ہوں ، جس شخص نے زیادہ دیا یا جس نے زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سودی کام کیا ، اور اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2810

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تبِيعُوا مِنْهَا غَائِبا بناجز» وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرق بالورق إِلَّا وزنا بِوَزْن»
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے برابر ہی فروخت کرو ، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو ، چاندی کو چاندی کے برابر ہی فروخت کرو اور ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو ، اور اس میں سے غیر موجود چیز کو موجود چیز کے بدلے فروخت نہ کرو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں باہم برابر وزن میں فروخت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2811

وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنْتُ أسمع رَسُول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بمثْلٍ» . رَوَاهُ مُسلم
معمر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سن رہاتھا :’’ اناج ، اناج (غلہ غلے) کے برابر برابر ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2812

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بالبُرَّ إِلَّا هَاء وهاء وَالشعِير بِالشَّعِيرِ رَبًّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وهاء»
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونے کی سونے کے بدلے ، چاندی کی چاندی کے بدلے ، گندم کی گندم کے بدلے ، جو کی جو کے بدلے اور کھجور کی کھجور کے بدلے ادھار بیع کرنا سود ہے لیکن اگر دست بدست ہو تو جائز ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2813

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ: «أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟» قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ فَقَالَ: «لَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا» . وَقَالَ: «فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ»
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو خیبر پر عامل مقرر کیا ، تو وہ اچھی قسم کی کھجوریں لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح کی ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ! ہم دو صاع کے بدلے یہ ایک صاع اور تین صاع کے بدلے دو صاع لے لیتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایسے نہ کیا کرو ، ساری کھجوریں درہموں کے حساب سے بیچ دیا کرو اور پھر درہموں کے بدلے عمدہ قسم کی کھجوریں خرید لیا کرو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں بھی یہی اصول ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2814

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ هَذَا؟» قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ: «أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمرَ ببَيْعٍ آخر ثمَّ اشْتَرِ بِهِ»
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، بلال ؓ برنی (بڑی عمدہ قسم کی) کھجوریں لے کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا :’’ یہ کہاں سے لائے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہمارے پاس نکمی کھجوریں تھیں میں نے ان کے دو صاع کے عوض ان کا ایک صاع لیا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ افسوس ! افسوس ! یہ تو بالکل سود ہے ، بالکل سود ہے ، ایسے نہ کرو ، بلکہ جب تم خریدنا چاہو تو ان کھجوروں کو فروخت کرو ، پھر اس (قیمت) کے عوض انہیں خریدو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2815

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بِعَيْنِه» فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَهُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ أَوْ حُرٌّ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک غلام آیا تو اس نے ہجرت پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی ، جبکہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے ، اتنے میں اس کا مالک آیا اور اس کا مطالبہ کرنے لگا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ اسے مجھے بیچ دو ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو حبشی غلاموں کے بدلے میں اسے خرید لیا ، اس کے بعد آپ کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے حتی کہ آپ اس سے پوچھ لیتے کیا وہ غلام ہے یا آزاد ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2816

وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معلوم شدہ وزن کھجور کے بدلے میں غیر معلوم وزن کھجوروں کے ڈھیر کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2817

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفصَّلَ» . رَوَاهُ مُسلم
فضالہ بن ابی عُبید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے خیبر کے دن بارہ دینار کے بدلے میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور گھونگھے تھے ، میں نے اس ہار کو کھول دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کو نہ بیچا جائے حتی کہ اسے کھول کر الگ کر لیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2818

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ» . وَيُرْوَى مِنْ «غُبَارِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ تمام لوگ سود کھانے والے ہوں گے ، اگر کوئی اسے نہیں بھی کھائے گا تو اس کا اثر اس تک پہنچ جائے گا ۔‘‘ اور اس طرح بھی مروی ہے کہ ’’ اس کا غبار پہنچ جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2819

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ» . رَوَاهُ الشَّافِعِي
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے بدلے میں ، چاندی کو چاندی ، گندم کو گندم ، جو کو جو ، کھجور کو کھجور اور نمک کو نمک کے بدلے میں فروخت نہ کرو ، ہاں یہ کہ وہ برابر برابر ، نقد بنقد اور دست بدست ہوں ۔ اور سونے کو چاندی کے بدلے میں ، چاندی کو سونے کے بدلے میں ، گندم کو جو کے بدلے میں ، جو کو گندم کے بدلے میں ، کھجور کو نمک اور نمک کو کھجور کے بدلے میں دست بدست جیسے تم چاہو بیچو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الشافعی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2820

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ، آپ سے تازہ کھجوروں کے بدلے میں چھوہارے خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کھجور خشک ہو جاتی ہے تو کیا وہ (وزن میں) کم ہو جاتی ہے ؟‘‘ تو اس شخص نے عرض کی ، جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2821

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
سعید بن مسیّب ؒ سے مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حیوان کے بدلے گوشت کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔ سعید ؒ نے فرمایا : یہ جاہلیت کے جوئے کی ایک صورت تھی ۔ صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2822

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حیوان کے بدلے حیوان کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2823

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَن يُجهِّزَ جَيْشًا فنفدتِ الإِبلُ فأمرَهُ أَن يَأْخُذَ عَلَى قَلَائِصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں لشکر تیار کرنے کا حکم فرمایا تو اونٹ کم پڑ گئے ، پھر آپ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ صدقہ کی جوان سال اونٹنیوں کے وعدہ پر اونٹ لے لیں ، چنانچہ وہ ایک اونٹ دو اونٹنیوں کے بدلے صدقہ کے اونٹ آنے تک کے وعدہ پر لے رہے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2824

عَنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يدا بيد»
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سود ادھار میں ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو نقد بنقد ہو اس میں سود نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2825

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زِنْيَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدراقطني وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ: وَقَالَ: «مَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنَ السُّحت فَالنَّار أولى بِهِ»
غسیل الملائکہ حنظلہ ؓ کے بیٹے عبداللہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جانتے ہوئے ایک درہم سود کھاتا ہے تو یہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔‘‘ اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، اور یہ اضافہ نقل کرتے ہوئے فرمایا :’’ جس شخص کا گوشت حرام سے تیار ہوا ہو تو آگ اس کی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و الدارقطنی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2826

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرِّبَا سَبْعُونَ جُزْءًا أيسرها أَن الرجل أمه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سود کے (گناہ کے) ستر حصے ہیں ، ان میں سے کم تر گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح (جماع) کرے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2827

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فإِنَّ عاقبتَه تصيرُ إِلى قُلِّ: رَوَاهُمَا ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَرَوَى أَحْمد الْأَخير
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک سود خواہ کتنا بھی زیادہ ہو جائے لیکن اس کا انجام فقرو ذلت ہے ۔‘‘ ان دونوں روایات کو ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں جبکہ آخری حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان و احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2828

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ معراج کی رات میں ایک قوم کے پاس آیا جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے جن میں سانپ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آ رہے تھے ، میں نے کہا : جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا :’’ سود خور ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2829

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لعن آكِلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَكَانَ ينْهَى عَن النوح. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا آپ نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، اس کے لکھنے والے اور زکوۃ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نوحہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2830

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ آخری آیت سود کے بارے میں نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہو گئے لیکن آپ نے اس کی ہمیں تفسیر نہیں بتائی تھی ، تم سود اور مثل سود ترک کر دو ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2831

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کسی کو قرض دے ، پھر وہ (مقروض) شخص اس کو کوئی تحفہ دے یا اسے سواری پر بٹھائے تو وہ اس پر سوار ہو نہ اس تحفہ کو قبول کرے ۔ البتہ اگر ان کے درمیان یہ کام (تحائف کا تبادلہ وغیرہ) پہلے سے ہی جاری ہو تو جائز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2832

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَقْرَضَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلَا يَأْخُذُ هَدِيَّةً» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقى
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی ، آدمی کو قرض دے تو پھر وہ ہدیہ قبول نہ کرے ۔‘‘ امام بخاری نے اسے تاریخ میں روایت کیا ، اور المنتقی میں بھی اسی طرح ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ البخاری فی تاریخہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2833

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قدمت الْمَدِينَة فَلَقِيت عبد الله بن سلا م فَقَالَ: إِنَّك بِأَرْض فِيهَا الرِّبَا فَاش إِذا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تَبْنٍ أَو حِملَ شعيرِ أَو حَبْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهُ رِبًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوبردہ بن ابوموسی ٰ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ گیا تو میں نے عبداللہ بن سلام ؓ سے ملاقات کی تو انہوں نے فرمایا : تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں سود عام ہے ، جب تمہارا کسی آدمی پر کوئی حق ہو اور وہ گھاس کا ایک گٹھا یا جو یا جنگلی ہرے چارے کا ایک گٹھا بطور ہدیہ بھیجے تو اسے نہ لو کیونکہ وہ سود ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2834

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ: أَنْ يَبِيع تمر حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلَا وَإِنْ كَانَ كرْماً أنْ يَبيعَه زبيبِ كَيْلَا أَوْ كَانَ وَعِنْدَ مُسْلِمٍ وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذلكَ كُله. مُتَّفق عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ قَالَ: والمُزابنَة: أنْ يُباعَ مَا فِي رُؤوسِ النَّخلِ بتمْرٍ بكيلٍ مُسمَّىً إِنْ زادَ فعلي وَإِن نقص فعلي)
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ’’مزابنہ ‘‘ سے منع فرمایا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے باغ کا پھل ، اگر کھجور ہو تو معلوم شدہ مقدار خشک کھجور کے ساتھ ، اگر انگور ہو تو اسے منقی کے ساتھ ناپ کر ، اور مسلم میں ہے : اگر کھیتی ہو تو اناج کے ساتھ ناپ کر بیچنا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سب صورتوں سے منع فرمایا ہے ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیحین ہی کی روایت میں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجوروں کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے ساتھ مقررہ پیمانے سے بیچنا ، اور یوں کہے کہ اگر زیادہ ہو تو میرا اور اگر کم ہو تو میں دوں گا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2835

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقٍ حِنطةً والمزابنةُ: أنْ يبيعَ التمْرَ فِي رؤوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقٍ وَالْمُخَابَرَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ والرُّبُعِ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ محاقلہ یہ ہے کہ آدمی سو فرق (وزن کا پیمانہ) گندم کے بدلے کھیتی فروخت کر دے ، مزابنہ یہ ہے کہ وہ سو فرق کھجور کے بدلے میں کھجوروں کو درختوں پر فروخت کر دے ، اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو تہائی یا چوتھائی حصے پر کاشت کرنے کو دیا جائے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2836

وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ ، باغ کو کئی سال پر ٹھیکے پر دینے اور استثنا سے منع کیا ہے ، البتہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اندازہ لگانے کی اجازت فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2837

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بيعِ التمْر بالتمْرِ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا
سہل بن ابی حشمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خشک کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ آپ نے اندازہ لگانے کی اجازت دی ، وہ یہ ہے کہ اس کو اندازہ سے خشک کھجوروں کے عوض بیچ دیا جائے ، تاکہ اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا سکیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2838

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَة أوسق أَو خَمْسَة أوسق شكّ دَاوُد ابْن الْحصين
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم خشک کھجور کے اندازہ سے تازہ کھجوروں کو بیچنے کی اجازت فرمائی ۔‘‘ داؤد بن حصین راوی کو پانچ یا پانچ سے کم میں شک ہوا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2839

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِي. مُتَّفِقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنِ السنبل حَتَّى يبيض ويأمن العاهة
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بائع اور مشتری دونوں کو منع فرمایا ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنبل (بالیوں) کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سفید ہو جائیں اور آفت سے بچ جائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2840

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بيع الثِّمَارِ حَتَّى تَزْهَى قِيلَ: وَمَا تَزْهَى؟ قَالَ: حَتَّى تخمر وَقَالَ: «أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ يَأْخُذ أحدكُم مَال أَخِيه؟»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ ’’ زھو ‘‘ (پختہ) ہو جائیں ۔‘‘ عرض کیا گیا ، ’’ زھو ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ، اور فرمایا :’’ مجھے بتاؤ اگر اللہ پھل روک لے تو پھر تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کا مال کس چیز کے عوض حاصل کرے گا ؟‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2841

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ بوضْعِ الجوائحِ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا اور آفت سے ہونے والے نقصان کو منہا کرنے کا حکم فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2842

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حقٍ؟» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اپنے (کسی مسلمان) بھائی کو پھل فروخت کرو اور پھر اس پر کوئی آفت آ جائے تو تمہارے لیے اس سے کچھ لینا حلال نہیں ، تم اپنے بھائی کا مال ناحق کس چیز کے بدلے حاصل کرو گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2843

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعلَى السُّوقِ فيبيعُونَه فِي مكانهِ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِهِ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقِلُوهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَلم أَجِدهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگ بازار کے بالائی حصے سے اناج خریدتے اور اسے وہیں فروخت کر دیا کرتے تھے ، لیکن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اسی جگہ پر فروخت کرنے سے منع فرما دیا حتی کہ وہ اسے منتقل کریں ۔ ابوداؤد ۔ میں نے اسے صحیحین میں نہیں پایا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2844

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيه»
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص غلہ خرید لے تو وہ اسے قبضہ میں لینے سے پہلے فروخت نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2845

وَفَى رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «حَتَّى يكْتالَه»
اور ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے :’’ حتی کہ وہ اسے ناپ لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2846

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلاَّ مثلَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رہی وہ چیز جس سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا ہے کہ اسے فروخت نہ کیا جائے حتی کہ اس پر قبضہ کر لیا جائے تو وہ اناج ہے ، اور ابن عباس ؓ نے فرمایا : جبکہ میرا ہر چیز کے بارے میں یہی خیال ہے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2847

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَلَقُّوُا الرُّكْبَانَ لِبَيْعٍ وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمِنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظِرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يحلبَها: إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تمر وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ: فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعهَا صَاعا من طَعَام لَا سمراء
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بیع کے لیے تجارتی قافلے کو (شہر سے باہر جا کر) نہ ملو ، کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے ، بلا ارادہ خرید ، محض قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ دو ، کوئی شہری ، دیہاتی کے لیے کوئی مال فروخت نہ کرے ، اونٹنی اور بکری کا دودھ نہ روکو ، اگر کوئی ایسا جانور خرید لیتا ہے تو دودھ دھونے کے بعد اسے دونوں اختیار حاصل ہیں : اگر وہ اس پر راضی ہو تو اسے رکھ لے اور اگر راضی نہ ہو تو اسے واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی اس کے ساتھ دے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ جو شخص ایسی بکری خریدے جس کا دودھ روکا گیا ہو تو اسے تین دن تک اختیار ہے ، اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھانے کا بھی واپس کرے لیکن وہ گندم نہ ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2848

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلَقَّوُا الْجَلَبَ فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بالخَيارِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم اناج لانے والوں کو راستے میں جا کر نہ ملو ، جو شخص اسے ملے اور اس سے غلہ خرید لے ، پھر اس کا مالک بازار آ جائے تو اسے اختیار حاصل ہے ۔‘‘ (چاہے تو سودا رہنے دے اور چاہے تو فسخ کر دے) رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2849

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلَقَّوُا السِّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بهَا إِلى السُّوق»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم سامانِ تجارت کو شہر سے باہر جا کر نہ ملو حتی کہ اسے بازار میں اتار دیا جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2850

وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطِبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أنْ يأذَنَ لَهُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے نہ اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح بھیجے مگر یہ کہ وہ اسے اجازت دے دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2851

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَسُمِ الرَّجُلُ على سَوْمِ أخيهِ الْمُسلم» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی اپنے مسلمان بھائی کی بیع طے ہونے تک بھاؤ نہ کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2852

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ من بعض» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کوئی شہری ، کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے ، لوگوں کو (اپنے حال پر) چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ بعض کے ذریعے بعض کو رزق فراہم کرتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2853

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ والمُنابذَةِ فِي البيعِ وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَو بالنَّهارِ وَلَا يقْلِبُه إِلَّا بِذَلِكَ وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ ثَوْبَهُ وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ وَاللِّبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالصَّمَّاءُ: أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُوَ أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرَى: احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ليسَ على فرجه مِنْهُ شَيْء
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو طرح کے پہناووں اور دو طرح کی تجارت سے منع فرمایا ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ، ملامسہ یہ ہے کہ آدمی دن یا رات کے وقت کسی دوسرے شخص کے کپڑے کو ہاتھ سے چھوتا ہے اور اسے الٹ پلٹ کر کے نہیں دیکھتا اور بس اس طرح بیع ہو جاتی ہے ، جبکہ منابذہ یہ ہے کہ آدمی اپنا کپڑا دوسرے شخص کی طرف اور وہ اپنا کپڑا اس پہلے شخص کی طرف پھینکتا ہے اور بس اسی طرح بِن دیکھے اور بغیر رضا مندی کے بیع ہو جاتی ہے ۔ اور دو پہناوے یہ ہیں : ان میں سے ایک ’’ اشتمال الصماء‘‘ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنا کپڑا اپنے کسی ایک کندھے پر رکھے اور اس کا ایک پہلو ظاہر رہے جس پر کوئی کپڑا نہ ہو ، اور دوسرا پہناوا یہ ہے کہ گوٹ مار کر اس طرح بیٹھنا کہ اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ اس کی شرم گاہ پر نہ ہو ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2854

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ بيعِ الحصاةِ وعنْ بيعِ الغَرَرِ. رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنکری پھینک کر بیع کرنے اور دھوکے کی بیع کرنے سے منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2855

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنتَجَ النَّاقةُ ثمَّ تُنتَجُ الَّتِي فِي بطنِها
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ’’ حبل الحبلۃ ‘‘ کی بیع سے منع فرمایا ، اور اہل جاہلیت اس طرح کی بیع کیا کرتے تھے ، اور وہ اس طرح کہ آدمی اس اقرار پر اونٹنی خریدتا کہ یہ اونٹنی بچہ جنے گی اور پھر جب وہ بچہ ، بچہ جنے گا تب اس کی قیمت ادا کروں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2856

وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نرسے جفتی کرانے پر اجرت لینے سے منع فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2857

وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ سے اونٹنی پر جفتی کروانے پر اجرت لینے اور کھیتی باڑی کے لیے دی جانے والی زمین اور پانی پر اجرت لینے سے منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2858

وَعنهُ قَالَ: نهى رَسُول الله عَن بيع فضل المَاء. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زائد از ضرورت پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2859

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبَاع فضل المَاء ليباع بِهِ الْكلأ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زائد از ضرورت پانی فروخت نہ کیا جائے تاکہ اس کے ذریعے گھاس فروخت کی جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2860

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مني» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا تو آپ کی انگلیاں نم ہو گئیں تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اناج والے ! یہ کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس پر بارش ہو گئی تھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے اناج کے اوپر کیوں نہ کیا تاکہ لوگ جان لیتے ، (جان لو) جس شخص نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2861

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أنْ يُعلمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (غیر معین اشیاء میں) استثنا کرنے سے منع فرمایا ، البتہ اگر وہ (مستثنیٰ چیز) معلوم ہو تو جائز ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 2862

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ هَكَذَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ أَنَسٍ. وَالزِّيَادَة الَّتِي فِي المصابيح وَهُوَ قولُه: نهى عَن بيْعِ التَمْرِ حَتَّى تزهوَ إِنَّما ثبتَ فِي رِوَايَتِهِمَا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ (پک کر) سیاہ ہو جائیں اور دانوں (غلہ اناج وغیرہ) کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ (پک کر) سخت ہو جائیں ۔‘‘ امام ترمذی اور ابوداؤد نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے ، ان دونوں کے ہاں (انس ؓ) سے مروی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا : حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ البتہ ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ اور یہ اضافہ جو مصابیح میں ہے وہ یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔ البتہ ان دونوں کی ابن عمر ؓ سے مروی روایت میں مذکورہ الفاظ موجود ہیں :’’ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ ہو جائیں ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔