Mishkat-ul-Masabeh

Search Results(1)

16)

16) سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات

Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3555

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الْآخَرُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فاقْضِ بَيْننَا بكتابِ الله وائذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ: «تَكَلَّمْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبرُونِي أنَّ على ابْني الرَّجْم فاقتديت مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِن اعْترفت فارجمها» فَاعْترفت فرجمها
ابوہریرہ ؓ اور زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمی مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے عرض کیا ، ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں ، اور دوسرے نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے بات کرنے کی اجازت فرمائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بات کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا ، اس نے اس کی اہلیہ کے ساتھ زنا کر لیا تو انہوں (یعنی بعض لوگوں) نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم (کی سزا لاگو ہوتی) ہے ، لیکن میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی ، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی (کی سزا) ہے ، اور اس کی اہلیہ پر رجم ہے ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا ، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی وہ تمہیں واپس مل جائیں گی ، رہا تمہارا بیٹا تو اس پر سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی ہے اور اُنیس ! تم اس عورت کے پاس جاؤ ، اگر وہ اعترافِ جرم کر لے تو اسے رجم کر دو ۔‘‘ اس نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3556

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کنوارے زانی کے متعلق سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی کا حکم فرماتے ہوئے سنا ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3557

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِن الله بعث مُحَمَّدًا وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى آيَةُ الرَّجْمِ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ وَالرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كانَ الحَبَلُ أَو الِاعْتِرَاف
عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، اور آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اللہ تعالیٰ نے جو نازل فرمایا ، اس میں آیت رجم بھی تھی ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ، اور جب شادی شدہ مرد اور عورت زنا کرے تو اسے رجم کرنا اللہ کی کتاب سے ثابت ہے ۔ بشرطیکہ گواہی ثابت ہو جائے یا حمل واضح ہو جائے یا اعتراف جرم ہو جائے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3558

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا: الْبِكْرُ بالبكر جلد مائَة ووتغريب عَام وَالثَّيِّب بِالثَّيِّبِ جلد مائَة وَالرَّجم
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (حد زنا کے متعلق) مجھ سے احکام کی بابت معلومات لے لو ۔ مجھ سے احکام کی بابت معلومات لے لو ، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے (حد) مقرر کر دی ، کنوارا ، کنواری کے ساتھ زنا کرے تو اس کی حد سو کوڑے اور سال کی جلا وطنی ہے ، اور شادی شدہ ، شادی شدہ سے زنا کرے تو اس کی سزا سو کوڑے اور رجم ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3559

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَن الْيَهُود جاؤوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ؟» قَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ فإِذا فِيهَا آيةُ الرَّجم. فَقَالُوا: صدقَ يَا محمَّدُ فِيهَا آيَة الرَّجْم. فَأمر بهما النَّبِي صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ تَلُوحُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ وَلِكِنَّا نَتَكَاتَمُهُ بَيْنَنَا فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہود ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ کو بتایا کہ ان کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ تم رجم کے متعلق تورات میں کیا پاتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم انہیں ذلیل و رسوا کرتے ہیں اور انہیں کوڑے مارے جاتے ہیں ، عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا : تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ اس میں تو رجم (کا حکم) ہے ۔ وہ تورات لائے اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے آیتِ رجم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد والا حصہ پڑھ دیا ، عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا : اپنا ہاتھ اٹھاؤ ۔ اس نے (ہاتھ) اٹھایا تو اس میں آیت رجم تھی ، انہوں نے کہا : محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ! اس (عبداللہ بن سلام ؓ) نے سچ کہا ، اس میں آیت رجم ہے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں رجم کر دیا گیا ۔ دوسری روایت میں ہے : انہوں نے کہا : اپنا ہاتھ اٹھاؤ ، اس نے اٹھا لیا تو اس میں آیت رجم خوب واضح نظر آ رہی تھی ، اس نے کہا : محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اس میں آیت رجم ہے لیکن ہم اسے آپس میں چھپاتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں رجم کیا گیا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3560

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا شَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَبِكَ جُنُونٌ؟» قَالَ: لَا فَقَالَ: «أُحْصِنْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: فَرَجَمْنَاهُ بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فرجمناه حَتَّى مَاتَ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: عَنْ جَابِرٍ بَعْدَ قَوْلِهِ: قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خيرا وَصلى عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آواز دیتے ہوئے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا ، تو اس نے دوسری طرف سے ہو کر پھر عرض کیا ، میں نے زنا کیا ہے ۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا ، جب اس نے چار بار گواہی دی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلا کر فرمایا :’’ کیا تم دیوانے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم شادی شدہ ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے لے جاؤ اور رجم کر دو ۔‘‘ ابن شہاب نے کہا : مجھے اس شخص نے بتایا جس نے جابر بن عبداللہ ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ہم نے اس شخص کو مدینہ میں رجم کیا ، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ اٹھا حتی کہ ہم نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان پتھریلے علاقے میں اسے جا لیا تو ہم نے اسے رجم کیا حتی کہ وہ فوت ہو گیا ۔ اور جابر ؓ سے مروی بخاری کی روایت میں ، ’’ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ‘‘ کے بعد ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے جنازگاہ میں رجم کیا گیا ، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ اٹھا ، اسے پکڑ لیا گیا اور اسے رجم کیا گیا حتی کہ وہ فوت ہو گیا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق کلمہ خیر فرمایا اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3561

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بن مَالك النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ؟» قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَنِكْتَهَا؟» لَا يُكَنِّي قَالَ: نَعَمْ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمر رجمه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ماعز بن مالک ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شاید کہ تم نے بوسہ لیا ہو ، یا ہاتھ لگایا ہو یا دیکھا ہو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اس سے جماع کیا ؟‘‘ آپ نے کنایہ سے بات نہیں کی ، اس نے عرض کیا : جی ہاں ! تب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3562

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ: «وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفر الله وَتب إِلَيْهِ» . فَقَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي. فَقَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَة قَالَه لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيمَ أُطَهِّرُكَ؟» قَالَ: مِنَ الزِّنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِهِ جُنُونٌ؟» فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ: «أَشَرِبَ خَمْرًا؟» فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ فَقَالَ: «أَزَنَيْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَلَبِثُوا يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ» ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الْأَزْدِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ: «وَيَحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ» فَقَالَتْ: تُرِيدُ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ: إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا فَقَالَ: «أَنْتِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ لَهَا: «حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ» قَالَ: فكَفَلَها رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الغامديَّةُ فَقَالَ: «إِذاً لَا نرجُمها وندعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ: فَرَجَمَهَا. وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ لَهَا: «اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي» فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَ: «اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ» فَلَمَّا فَطَمَتْهُ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ فَقَالَتْ: هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوهَا فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجْرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مهلا يَا خَالِد فو الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ» ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فصلى عَلَيْهَا ودفنت. رَوَاهُ مُسلم
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ماعز بن مالک ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے ، واپس جاؤ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا حتی کہ جب اس نے چوتھی مرتبہ وہی جملہ کہا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ میں کس چیز سے تمہیں پاک کر دوں ؟‘‘ اس نے عرض کیا : زنا (کے گناہ) سے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اسے جنون ہے ؟‘‘ آپ کو بتایا گیا کہ اسے جنون نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس نے شراب پی ہے ؟‘‘ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے اس کے منہ سے شراب کی بُو سونگھی تو اس نے اس سے شراب کی بُو نہ پائی پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے زنا کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کیا گیا ، اس کے بعد صحابہ دو یا تین دن (اس معاملہ میں) خاموش رہے پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا :’’ ماعز بن مالک کے بارے میں مغفرت طلب کرو ۔ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے ایک جماعت کے درمیان تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان کے لیے کافی ہو جائے ۔‘‘ پھر قبیلہ غامد کی شاخ ازد سے ایک عورت آئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پاک کر دیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے چلی جاؤ ، اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اللہ کے حضور توبہ کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : آپ مجھے ویسے ہی واپس کرنا چاہتے ہیں ، جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کر دیا تھا ، میں تو زنا سے حاملہ ہو چکی ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ کیا :’’ تو (حاملہ) ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ وضع حمل تک صبر کر ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، انصار میں سے ایک آدمی نے اس کی کفالت کی ، حتی کہ اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ (انصاری) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، غامدیہ نے بچے کو جنم دے دیا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تب ہم اسے رجم نہیں کریں گے ، اور ہم اس کے چھوٹے سے بچے کو چھوڑ دیں جبکہ اس کی رضاعت کا انتظام کرنے والا بھی کوئی نہیں ؟‘‘ پھر انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! اس کی رضاعت میرے ذمہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کیا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ تم جاؤ حتی کہ تم بچے کو جنم دو ۔‘‘ جب اس نے بچے کو جنم دیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ چلی جاؤ اور اسے دودھ چھڑانے کی مدت تک اسے دودھ پلاؤ ۔‘‘ جب اس نے اس کا دودھ چھڑایا تو وہ بچے کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! یہ دیکھیں میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور یہ کھانا کھانے لگا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچہ کسی مسلمان شخص کے حوالے کیا ، پھر اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کے سینے کے برابر گڑھا کھودا گیا ، اور آپ نے لوگوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے اسے رجم کیا ۔ خالد بن ولید ؓ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا جس سے خون کا چھینٹا ان کے چہرے پر پڑا تو انہوں نے اسے بُرا بھلا کہا ، جس پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خالد ! ٹھہرو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس نے ایسی توبہ کی ہے ، کہ اگر محصول لینے والا ایسی توبہ کرے تو اس کی بھی مغفرت ہو جائے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا اور اس کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی اور اسے دفن کر دیا گیا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3563

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الحدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثمَّ إِنْ زنَتْ فلْيجلدْها الحدَّ وَلَا يُثَرِّبْ ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا ولوْ بحبْلٍ منْ شعرٍ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا کرنا واضح ہو جائے تو وہ اس پر حد قائم کرے اور اسے عار نہ دلائے ، پھر اگر وہ زنا کرے تو وہ اس پر حد قائم کرے اور اسے عار نہ دلائے ، پھر اگر وہ تیسری مرتبہ زنا کرے تو وہ اسے بیچ دے خواہ بالوں کی رسی کے عوض بیچنا پڑے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3564

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمُ الْحَدَّ مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحْسَنْتَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: «دَعْهَا حَتَّى يَنْقَطِعَ دَمُهَا ثُمَّ أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانكُم»
علی ؓ نے فرمایا : لوگو ! اپنے غلاموں پر حد قائم کرو ، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ، کیونکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم فرمایا کہ میں اسے کوڑے ماروں ، وہ زچگی کے ابتدائی ایام میں تھی ، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو میں اسے قتل کر دوں گا ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اچھا کیا ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو حتی کہ اس کا خون بند ہو جائے ، پھر اس پر حد قائم کرو اور اپنے غلاموں پر حدود قائم کیا کرو ۔‘‘ رواہ مسلم و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3565

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّه قدْ زَنى فأعرضَ عَنهُ ثمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زنى فَأَعْرض عَنهُ ثمَّ جَاءَ من شقَّه الْآخَرِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنى فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ. فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنه فرحين وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةٍ: «هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّه أَن يَتُوب الله عَلَيْهِ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ماعز اسلمی ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے ، آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، پھر وہ دوسری طرف سے آیا اور عرض کیا ، کہ اس نے زنا کیا ہے ، آپ نے پھر اس سے اعراض فرمایا تو وہ دوسری جانب سے آ گیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس نے زنا کیا ہے ، چوتھی مرتبہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا : اور اسے حرہ (مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان پتھریلی جگہ) کی طرف لے جایا گیا وہاں اسے پتھروں سے رجم کر دیا گیا ، جب اس نے پتھر لگنے کی تکلیف محسوس کی تو وہ تیزی سے بھاگ کھڑا ہوا حتی کہ وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرا جس کے پاس اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی تو اس نے وہ اسے دے ماری اور لوگ بھی اسے مارنے لگے حتی کہ وہ فوت ہو گیا ، انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا تذکرہ کیا کہ جب اس نے پتھروں کی تکلیف اور موت محسوس کی تو وہ بھاگ اٹھا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا ؟‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا شاید کے وہ توبہ کر لیتا تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3566

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ: «أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ؟» قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّكَ قَدْ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ» قَالَ: نَعَمْ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَأمر بهِ فرجم. رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماعز بن مالک سے فرمایا :’’ تمہارے متعلق جو بات مجھے پہنچی ہے کیا وہ درست ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : آپ کو میرے متعلق کیا بات پہنچی ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے آل فلاں کی لونڈی سے زنا کیا ہے ۔‘‘ اس نے چار بار اقرار کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3567

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ وَقَالَ لِهَزَّالٍ: «لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ» قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ: إِنَّ هَزَّالًا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيخبره. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
یزید بن نُعیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ ماعز ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں چار بار اقرار کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہزّال سے فرمایا : اگر تم اس کی پردہ پوشی کرتے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔ ابن منکدر نے فرمایاکہ ہزال نے ماعز ؓ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جائے اور آپ کو (یہ واقعہ) بتائے ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3568

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَعَافَوُا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حدود کو باہم معاف کر دیا کرو ، جب معاملہ مجھ تک پہنچ گیا تو پھر حد واجب ہو گئی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3569

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أقيلوا ذَوي الهيآت عثراتهم إِلَّا الْحُدُود» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اچھی صفات سے متصف لوگوں سے حدود کے علاوہ ان کی لغزشوں سے درگزر کیا کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3570

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «ادرؤا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: قَدْ رُوِيَ عَنْهَا وَلم يرفع وَهُوَ أصح
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس قدر ہو سکے مسلمان سے حدود دُور رکھو ، اگر کوئی بچاؤ کی راہ نکلتی ہو تو اس کی راہ چھوڑ دو ، کیونکہ امام کا درگزر کرنے میں غلطی کرنا ، سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے ۔‘‘ امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : یہ روایت عائشہ ؓ سے روایت کی گئی ہے اور اس کا مرفوع نہ ہونا زیادہ صحیح ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3571

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ایک عورت سے زنا بالجبر کیا گیا تو آپ نے اس پر حد قائم نہ کی بلکہ اس سے زیادتی کرنے والے پر حد قائم کی ۔ راوی نے ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے مہر مقرر کیا یا کہ نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3572

وَعَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ فَأَتَوْا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: «اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ» وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: «ارْجُمُوهُ» وَقَالَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ایک عورت نماز پڑھنے کے لیے نکلی تو ایک آدمی اسے ملا اور اس نے اسے ڈھانپ لیا اور زبردستی اس سے زنا کر لیا ، اس نے شور مچایا تو وہ چلا گیا ، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت گزری تو اس (عورت) نے کہا : فلاں شخص نے اس اس طرح میرے ساتھ کیا ہے ، انہوں نے اس آدمی کو پکڑا اور اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت سے فرمایا :’’ تم جاؤ اللہ نے تمہیں بخش دیا ۔‘‘ اور اس کے ساتھ زنا کرنے والے شخص کے متعلق فرمایا :’’ اسے رجم کر دو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ اس شخص نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایسی توبہ اہل مدینہ کرتے تو وہ ان کی طرف سے قبول ہو جاتی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3573

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّهُ مُحْصَنٌ فَأَمَرَ بِهِ فرجم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے کوڑے مارے گئے ، پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ ہے تو پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کیا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3574

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ كَانَ فِي الْحَيِّ مُخْدَجٍ سقيم فَوجدَ على أمة من إمَائِهِمْ بخبث بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ ضَرْبَة» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه نَحوه
سعید بن سعد بن عبادہ ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک ایسے شخص کو لائے جو قبیلے میں ناقص الخلقت اور مریض تھا لیکن وہ ان کی لونڈیوں میں سے کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرتا ہوا پایا گیا تھا ۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے لیے کھجور کی ایک ٹہنی لو جس میں سو شاخیں ہوں اور پھر اسے ایک ہی مرتبہ مارو ۔‘‘ شرح السنہ ، اور ابن ماجہ کی روایت میں اسی طرح ہے ۔ صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنہ و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3575

وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُول بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
عکرمہ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم جس شخص کو قوم لوط کا سا کام کرتے ہوئے دیکھو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3576

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ» . قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئا وَلَكِن أره كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا أَوْ يُنْتَفَعَ بِهَا وَقَدْ فُعِلَ بِهَا ذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چوپائے کے ساتھ بُرا فعل کرے تو اس شخص کو قتل کر دو اور اس کے ساتھ اس (چوپائے) کو بھی قتل کر دو ۔‘‘ ابن عباس ؓ سے عرض کیا گیا ، چوپائے کو کس لیے ؟ انہوں نے کہا : میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ نہیں سنا لیکن میرا خیال ہے کہ آپ نے ایسے جانور کا گوشت کھانے یا اس سے فائدہ اٹھانے کو ناپسند فرمایا جس کے ساتھ یہ فعل کیا گیا ہو ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3577

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اپنی امت کے متعلق قومِ لوط کے عمل میں ملوث ہونے کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3578

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَجَلَدَهُ مِائَةً وَكَانَ بِكْرًا ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بنوبکر بن لیث قبیلے کا ایک شخص نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کرنے کا چار بار اقرار کیا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے ، کیونکہ وہ کنوارا تھا ، پھر آپ نے اس شخص سے عورت کے خلاف گواہ طلب کیے ، (جب وہ اس سے عاجز آ گیا) تو اس عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! اس نے جھوٹ کہا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر حد قذف (اسی کوڑے سزا) قائم کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3579

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ فَلَمَّا نَزَلَ مِنَ الْمِنْبَرِ أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ وَالْمَرْأَةِ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب میری براءت کے بارے میں آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر کھڑے ہوئے تو اس کو ذکر فرمایا ، جب آپ منبر سے اترے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم فرمایا تو ان پر حد قائم کی گئی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3580

عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ وَقَعَ على وليدةٍ من الخُمسِ فاستَكرهَها حَتَّى افتضَّها فَجَلَدَهُ عُمَرُ وَلَمْ يَجْلِدْهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ استكرهها. رَوَاهُ البُخَارِيّ
نافع سے روایت ہے کہ (ابن عمر ؓ کی اہلیہ) صفیہ بنت ابی عبید نے اسے بتایا کہ امارت کے غلاموں میں سے ایک غلام نے خُمس کی ایک لونڈی سے زنا بالجبر کیا تو عمر ؓ نے اس غلام کو کوڑے مارے اور لونڈی کو کوڑے نہ مارے کیونکہ اس نے اسے مجبور کیا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3581

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي: ائْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا فَآتَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِني زنيتُ فأقِمْ عليَّ كتابَ اللَّهِ حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَبِمَنْ؟ قَالَ: بِفُلَانَةَ. قَالَ: «هَلْ ضَاجَعْتَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «هَلْ بَاشَرْتَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «هَلْ جَامَعْتَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَأُخْرِجُ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَجَزِعَ فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ. فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
یزید بن نعیم بن ہزّال اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ماعز بن مالک یتیم تھے اور میرے والد کی کفالت میں تھے ، انہوں نے قبیلہ کی ایک لونڈی سے زنا کیا تو میرے والد نے انہیں کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اور اپنی حرکت کے متعلق انہیں بتاؤ شاید کہ وہ تمہارے لیے مغفرت طلب کریں ، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید اس کے لیے نجات کی کوئی سبیل نکل آئے ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر اللہ کی کتاب (کا حکم) قائم کریں ، آپ نے اس سے اعراض فرمایا تو وہ دوبارہ آیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے ۔ آپ مجھ پر اللہ کی کتاب (کا حکم) قائم کریں ، (وہ کہتا رہا) حتی کہ اس نے چار مرتبہ ایسے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے چار مرتبہ یہ بات کی ہے ، بتاؤ تم نے کس کے ساتھ (زنا کیا ہے) ؟‘‘ اس نے عرض کیا : فلاں عورت کے ساتھ ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تو اس کے ساتھ ہم بستر ہوا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے اس کے ساتھ ملاپ کیا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے اس سے جماع کیا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا کہ اسے رجم کیا جائے ، اسے حرّہ کی طرف لے جایا گیا ، جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو وہ برداشت نہ کر سکا تو وہ (رجم کی جگہ سے) بھاگ کھڑا ہوا ۔ لیکن عبداللہ بن انیس نے اسے جا لیا جبکہ اس کے دیگر رفقاء پیچھے رہ گئے انہوں نے اونٹ کی پنڈلی کی ہڈی اسے ماری اور قتل کر دیا ، پھر وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کے متعلق بتایا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا شاید کہ وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3582

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الزِّنَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرِّشَا إِلَّا أخذُوا بِالرُّعْبِ» . رَوَاهُ أَحْمد
عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس قوم میں زنا عام ہو جاتا ہے وہ قحط سالی کا شکار ہو جاتی ہے ، اور جس قوم میں رشوت عام ہو جائے اس پر خوف مسلط کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3583

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ» . رَوَاهُ رَزِينٌ
ابن عباس ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قومِ لوط کا سا عمل کرے وہ ملعون ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ رزین ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3584

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عليَّاً رَضِي الله عَنهُ أحرَقَهما وَأَبا بكرٍ هدم عَلَيْهِمَا حَائِطا
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے ان دونوں (فاعل اور مفعول) کو جلا دیا ، جبکہ ابوبکر ؓ نے ان دونوں پر دیوار گرا دی ۔ لم اجدہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3585

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل اس آدمی کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھتا جو کسی مرد کے ساتھ بُرا فعل کرے یا وہ عورت کی پیٹھ (دبر) میں بدفعلی کرے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3586

وَعَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ وَهُوَ: «مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ» وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعلم
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو شخص کسی چوپائے کے ساتھ بُرا فعل کرے تو اس پر کوئی حد نہیں ۔‘‘ امام ترمذی نے سفیان ثوری سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا : یہ حدیث ، حدیث اول :’’ جو شخص کسی چوپائے کے ساتھ بُرا فعل کرے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ سے زیادہ صحیح ہے ۔ اور اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3587

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لوْمةُ لائمٍ» . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر قریب و بعید (نسب کے لحاظ سے یاقوت کے لحاظ سے) پر اللہ کی حدود نافذ کر دو ۔ اور اللہ کے (حکم جاری کرنے) میں کسی ملامت گر کی ملامت تمہارے آڑے نہ آئے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3588

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بلادِ الله» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی حدود میں سے کسی حد کا قائم کر دینا ، اللہ کے شہروں پر چالیس راتیں بارش ہونے سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذہ ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3589

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
امام نسائی نے اسے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3590

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُقطعُ يدُ السَّارِقِ إِلاَّ بربُعِ دِينَار فَصَاعِدا»
عائشہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (مالیت کی چوری) پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3591

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین درہم مالیت کی ڈھال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3592

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ السارِقَ يسرقُ البيضةَ فتُقطعُ يَده وَيسْرق الْحَبل فتقطع يَده»
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ چور پر لعنت کرے کہ وہ انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ، اور وہ رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3593

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ» رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
رافع بن خدیج ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ درخت پر لگے ہوئے پھل اور شگوفے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3594

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَالَ: «مَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينَ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کیا کہ آپ سے درختوں پر لگے ہوئے پھل (کی چوری) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس نے اسے گودام میں محفوظ کر لینے کے بعد چوری کیا اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ گیا تو پھر اس پر قطع (ہاتھ کاٹنا) ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3595

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ معلَّقٍ وَلَا فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَالْجَرِينُ فَالْقَطْعُ قيمًا بلغ ثمن الْمِجَن» . رَوَاهُ مَالك
عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین المکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لٹکے ہوئے پھلوں (کی چوری) میں قطع ہے نہ پہاڑ کے دامن میں چرنے والے جانور (کی چوری) میں ، جب وہ (جانور) باڑے میں پناہ گزیں ہوں اور پھل گودام میں محفوظ ہو تو پھر اس کی چوری پر قطع ہے جب وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3596

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ڈاکو پر قطع (ہاتھ کاٹنا) نہیں (اس کی سزا الگ ہے) ، اور جو شخص بڑے بڑے ڈاکے ڈالے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3597

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ وَلَا مُنْتَهِبٍ وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
جابر ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خیانت کرنے والے ، ڈاکہ ڈالنے والے اور جھپٹ کر مال حاصل کرنے والے پر ’’ قطع ‘‘ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3598

وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَ سَارِقٌ وَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَخَذَهُ صَفْوَانُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلا قبل أَن تَأتِينِي بِهِ»
اور شرح السنہ میں مروی ہے کہ صفوان بن امیہ ؓ مدینہ آئے تو وہ اپنی چادر کا سرہانہ بنا کر مسجد میں سو گئے ، ایک چور آیا اور اس نے ان کی چادر پکڑ لی تو انہوں نے اسے گرفتار کر لیا ، اور وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آئے ، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو صفوان ؓ نے عرض کیا ، میں نے اس (قطع) کا ارادہ نہیں کیا تھا ، وہ (چادر) اس (چور) پر صدقہ ہے ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کر دیا ۔‘‘ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3599

وَرَوَى نَحْوَهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن صَفْوَان عَن أَبِيه
امام ابن ماجہ نے اسی طرح عبداللہ بن صفوان عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3600

والدارمي عَن ابْن عَبَّاس
اور امام دارمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3601

وَعَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: «فِي السّفر» بدل «الْغَزْو»
بُسر بن ارطاۃ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ غزوہ میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں ۔‘‘ البتہ امام ابوداؤد اور امام نسائی نے غزوہ کے بجائے ’’ سفر ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی و ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3602

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ فِي السَّارِقِ: «إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا يَدَهُ ثُمَّ إِنْ سَرَقَ فَاقْطَعُوا رِجْلَهُ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
ابوسلمہ ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چور کے بارے میں فرمایا :’’ اگر وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو ، اگر پھر چوری کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو ، اگر پھر چوری کرے تو اس کا (دوسرا) ہاتھ کاٹ دو اور اگر پھر چوری کرے تو اس کا (دوسرا) پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذہ موضوع ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3603

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْطَعُوهُ» فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: «اقْطَعُوهُ» فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: «اقْطَعُوهُ» فَقُطِعَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: «اقْطَعُوهُ» فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ» فَانْطَلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاهُ ثُمَّ اجْتَرَرْنَاهُ فَأَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ وَرَمَيْنَا عَلَيْهِ الحجارةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک چور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔‘‘ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ پھر اسے (دوسری چوری میں) دوسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔‘‘ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر اسے تیسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کا پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا ، پھر چوتھی مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کا پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا ، پھر اسے پانچویں مرتبہ لایا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا ۔ پھر ہم نے اسے گھسیٹ کر کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3604

وَرُوِيَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ فِي قَطْعِ السَّارِقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْطَعُوهُ ثمَّ احسموه»
اور انہوں نے شرح السنہ میں چور کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس (کے ہاتھ) کو کاٹ دو پھر اسے داغ دو ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3605

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بسارقٍ فقُطِعَتْ يَدَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک چور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3606

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَرَقَ الْمَمْلُوكُ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک ’’ نش ‘‘ (بیس درہم) ہی ملے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3607

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَهُ فَقَالُوا: مَا كُنَّا نَرَاكَ تَبْلُغُ بِهِ هَذَا قَالَ: «لَوْ كانتْ فاطمةُ لقطعتَها» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک چور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ، تو انہوں (صحابہ) نے عرض کیا ، ہمارا آپ کے متعلق یہ گمان نہیں تھا کہ آپ اس کے متعلق یہ کچھ کریں گے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر (بفرضِ محال) فاطمہ ؓ بھی ہوتیں تو میں (بلا تفریق) ان کا ہاتھ بھی کاٹتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3608

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بِغُلَامٍ لَهُ فَقَالَ: اقْطَعْ يَدَهُ فَإِنَّهُ سرقَ مرآةَ لأمرأتي فَقَالَ عمَرُ رَضِي اللَّهُ عَنهُ: لَا قَطْعَ عَلَيْهِ وَهُوَ خَادِمُكُمْ أَخَذَ مَتَاعَكُمْ. رَوَاهُ مَالك
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اپنا غلام لے کر عمر ؓ کے پاس آیا تو اس نے کہا : اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں کیونکہ اس نے میری اہلیہ کا آئینہ چرا لیا ہے ۔ عمر ؓ نے فرمایا : اس پر قطع نہیں اور وہ تمہارا خادم ہے ، اس نے تمہارا سامان اٹھا لیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3609

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ» يَعْنِي الْقَبْرَ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ» قَالَ حمَّادُ بنُ أبي سُليمانَ: تُقْطَعُ يَدُ النَّبَّاشِ لِأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْمَيْتِ بيتَه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابوذر !‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ، اسی میں میری سعادت ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب لوگ کثرت سے موت کا شکار ہوں گے اور اس وقت قبر غلام کے عوض ملے گی ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم صبر کرنا ۔‘‘ حماد بن ابی سلیمان نے کہا : کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت پر اس کے گھر میں داخل ہوا ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3610

عَن عائشةَ رَضِي الله عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟» ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي روايةٍ لمسلمٍ: قالتْ: كانتِ امرأةٌ مخزوميَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ثمَّ ذكرَ الحديثَ بنحوِ مَا تقدَّمَ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مخزومیہ عورت ، جس نے چوری کی تھی ، کے واقعہ نے قریشیوں کو غمزدہ کر دیا تو انہوں نے کہا : اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کون سفارش کرے ؟ پھر انہوں نے کہا : یہ کام رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہیتے صرف اسامہ بن زید ؓ ہی کر سکتے ہیں ۔ اسامہ ؓ نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سفارش کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو ؟‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے ، خطبہ ارشاد فرمایا ، پھر فرمایا :’’ تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک کر دیے گئے کہ جب ان میں سے خاندانی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور شخص چوری کرتا تو وہ اس پر حد قائم کر دیتے ، اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد (محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی فاطمہ ؓ) بھی چوری کرتیں تو میں ان کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ، عائشہ ؓ نے بیان کیا : ایک مخزومیہ عورت (فاطمہ بنت اسود) تھی جو عاریۃً چیزیں لیا کرتی تھی اور پھر ان کی واپسی کا انکار کر دیا کرتی تھی ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو اس کے خاندان والے اسامہ ؓ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے بات کی اور اسامہ ؓ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سفارش کی ، پھر امام مسلم نے حدیث مذکورہ کے مطابق حدیث بیان کی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3611

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اله تَعَالَى حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَفِي روايةٍ للبيهقيِّ فِي شعبِ الْإِيمَان «مَنْ أَعانَ على خُصُومَةً لَا يَدْرِي أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخطِ اللَّهِ حَتَّى ينْزع»
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کے آگے حائل ہو گئی تو اس نے اللہ کی مخالفت کی ، جس نے جانتے ہوئے کسی باطل (ناحق) کے بارے میں جھگڑا کیا تو وہ اس سے دست کش ہونے تک اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہتا ہے اور جس نے کسی مومن پر بہتان لگایا تو وہ کچ لہو کے کیچڑ میں رہے گا حتی کہ وہ اس سے نکل آئے جو اس نے کہا ہے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، اور بیہقی کی شعب الایمان میں ایک روایت ہے :’’ جس نے کسی جھگڑے پر اعانت کی جبکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے حتی کہ وہ اس سے دست کش ہو جائے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و البیھقی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3612

وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ» . قَالَ: بَلَى فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَعْتَرِفُ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ» فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ تُبْ عليهِ» ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ هَكَذَا وجدتُ فِي الْأُصُول الْأَرْبَعَة وجامع الْأُصُول وَشُعَبُ الْإِيمَانِ وَمَعَالِمُ السُّنَنِ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ
ابوامیہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ، اس نے اعتراف جرم کر لیا لیکن اس سے مال برامد نہ ہوا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور کی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو یا تین مرتبہ یہ بات دہرائی لیکن وہ ہر مرتبہ اعتراف کرتا رہا ، آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ اور پھر اسے آپ کے پاس لایا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما ۔‘‘ اور میں نے اصول اربعہ ، جامع الاصول ، شعب الایمان اور معالم السنن میں ابوامیہ سے اسی طرح پایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارقطنی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3613

وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ بِالرَّاءِ والثاء الْمُثَلَّثَة بدل الْهمزَة وَالْيَاء
اور مصابیح کے نسخوں میں ’’ ابوامیہ ‘‘ کی بجائے ’’ ابورمثہ ‘‘ ہے ۔ ضعیف ، رواہ مصابیح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3614

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ والنِّعالِ وجلَدَ أَبُو بكرٍ رَضِي الله عَنهُ أربعينَ
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب نوشی پر کھجور کی ٹہنیاں اور جوتے مارے اور ابوبکر ؓ نے چالیس کوڑے مارے ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3615

وَفِي رِوَايَة عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ أَرْبَعِينَ
اور انس ؓ سے مروی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شراب نوشی پر چالیس جوتے اور شاخیں مارا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3616

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ يُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ عَلَيْهِ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ، ابوبکر ؓ کے دور خلافت اور عمر ؓ کے خلافت کے شروع کے دور میں شراب نوش کو لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھوں ، جوتوں اور اپنے کپڑوں کے ساتھ اسے مارتے تھے حتی کہ عمر ؓ کی خلافت کے آخری دور میں چالیس کوڑے مارے جاتے تھے حتی کہ جب وہ حد سے بڑھ گئے اور سرکشی پر اُتر آئے تو انہوں نے اسّی کوڑے مارے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3617

عَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ» قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَضَرَبَهُ وَلَمْ يقْتله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص شراب پیئے تو اسے کوڑے مارو ، اگر وہ چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر اس کے بعد نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک آدمی پیش کیا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے قتل نہیں کیا ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3618

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد عَن قبيصَة بن دؤيب
امام ابوداؤد نے اسے قبیصہ بن ذؤیب سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3619

وَفِي أُخْرَى لَهُمَا وَلِلنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيِّ عَنْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةُ وَأَبُو هُرَيْرَة والشريد إِلَى قَوْله: «فَاقْتُلُوهُ»
ابوداؤد اور ترمذی کی دوسری روایت اور نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی کی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی جماعت ، جن میں ابن عمر ؓ ، معاویہ ؓ ، ابوہریرہ ؓ اور شرید ؓ ہیں ، سے ’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ تک مروی ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3620

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ لِلنَّاسِ: «اضْرِبُوهُ» فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْمِيتَخَةِ. قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي الْجَرِيدَةَ الرَّطْبَةَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرَابًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهِ فِي وجهِه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبدالرحمن بن ازہر ؓ بیان کرتے ہیں ، گویا کہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا ہوں جب ایک شخص کو ، جس نے شراب پی رکھی تھی ، لایا گیا تو آپ نے لوگوں سے فرمایا :’’ اسے مارو ۔‘‘ ان میں سے کسی نے اسے جوتوں کے ساتھ مارا ، کسی نے لاٹھی کے ساتھ مارا اور کسی نے اسے کھجور کی سبز شاخ کے ساتھ مارا ، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین سے خاک اٹھائی اور اس کے چہرے پر دے ماری ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3621

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شربَ الخمرَ فَقَالَ: «اضْرِبُوهُ» فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ ثُمَّ قَالَ: «بَكِّتُوهُ» فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ. قَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے مارو ۔‘‘ ہم میں سے کوئی اسے ہاتھ مار رہا تھا ، کوئی اپنے کپڑے سے اور کوئی اپنے جوتے سے مار رہا تھا پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے ملامت کرو ۔‘‘ وہ اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے : تو اللہ سے نہ ڈرا ، تجھے اللہ کا خوف نہ آیا اور تجھے اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حیا نہ آئی ، اور کسی نے کہہ دیا : اللہ تمہیں رسوا کرے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس طرح نہ کہو ، اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔ بلکہ تم کہو : اے اللہ ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3622

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا حَاذَى دَارَ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فضحكَ وَقَالَ: «أفعَلَها؟» وَلم يأمرْ فيهِ بشيءٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے شراب پی تو وہ مدہوش ہو گیا ۔ وہ راستے میں جھومتا ہوا ملا تو اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لے جایا جانے لگا ۔ جب وہ عباس ؓ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ بھاگ کر عباس ؓ کے پاس پہنچ گیا اور ان سے چمٹ گیا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا دیے ، اور فرمایا :’’ کیا اس نے یہ کیا ؟‘‘ اور آپ نے اس کے متعلق کچھ بھی نہ کہا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3623

عَن عُمَيْر بن سعيد النخفي قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يسنه
عمیر بن سعید نخعی بیان کرتے ہیں ، میں نے علی بن ابی طالب ؓ کو فرماتے ہوئے سنا : اگر میں کسی شخص پر حد قائم کروں اور وہ فوت ہو جائے تو میں اپنے دل میں کسی قسم کا افسوس نہیں کروں گا ۔ لیکن اگر شرابی پر حد قائم کروں اور وہ فوت ہو جائے تو میں اس کی طرف سے دیت دوں گا ۔ یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بارے میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی ۔ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3624

وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ جَلْدَةً فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ وَإِذَا سَكِرَ هَذَى وَإِذَا هذَى افْتَرى فجلدَ عمرُ رَضِي الله عَنهُ فِي حَدِّ الْخَمْرِ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ مَالِكٌ
ثور بن زید دیلمی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے حد شراب کے متعلق مشورہ طلب کیا تو علی ؓ نے انہیں فرمایا : میرا خیال ہے کہ آپؓ اسے اسّی کوڑے ماریں ، کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو وہ مدہوش ہو جاتا ہے اور جب مدہوش ہو جاتا ہے تو وہ ہذیانی کیفیت میں اول فول باتیں کرتا ہے ۔ اور جب وہ اول فول باتیں کرتا ہے تو پھر افترا پردازی کرتا ہے ، عمر ؓ نے شراب کی حد میں اسّی کوڑے مارے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3625

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أنَّ رجلا اسمُه عبدُ اللَّهِ يُلَقَّبُ حمارا كَانَ يُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تلعنوه فو الله مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جس کا نام عبداللہ اور لقب حمار تھا ، وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہنسایا کرتا تھا ، جبکہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب نوشی کے جرم میں اس پر حد نافذ کی تھی ، ایک روز اسے پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کوڑے مارنے کا حکم فرمایا تو اسے کوڑے مارے گئے ، لوگوں میں سے کسی نے کہہ دیا ، اے اللہ اس پر لعنت فرما ، کتنی ہی بار اسے (شراب نوشی کے جرم میں) لایا جا چکا ہے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس پر لعنت نہ بھیجو ، اللہ کی قسم ! میں جو جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3626

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَالَ: «اضْرِبُوهُ» فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ: «لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جس نے پی رکھی تھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے مارو ۔‘‘ ہم میں سے کوئی اپنے ہاتھ سے مارنے والا تھا ، کوئی جوتوں کے ساتھ اور کوئی اپنے کپڑے کے ساتھ مارنے والا تھا ، جب وہ واپس ہوا تو کسی نے کہہ دیا : اللہ تمہیں رسوا کرے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایسے نہ کہو ، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3627

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ: «أَنِكْتَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟» قَالَ: نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ حَلَالًا قَالَ: «فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟» قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ فَسَكَتَ عَنْهُمَا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ برجلِهِ فَقَالَ: «أينَ فلانٌ وفلانٌ؟» فَقَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ» فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: «فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عَرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أنهارِ الجنَّةِ ينغمسُ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، اسلمی (ماعز ؓ) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ذات کے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ حرام کام (زنا) کا ارتکاب کیا ہے ۔ آپ ہر مرتبہ اس سے اعراض فرماتے رہے ، پانچویں مرتبہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توجہ فرمائی تو پوچھا :’’ کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، فرمایا :’’ حتی کہ تمہاری یہ چیز (شرم گاہ) اس عورت کی اس چیز (شرم گاہ) میں گم ہو گئی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس طرح سلائی سرمے دانی میں اور رسی کنویں میں داخل ہو (کر غائب ہو) جاتی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو زنا کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، میں نے اس کے ساتھ حرام طور پر وہ کام کیا ہے جو آدمی حلال طور پر اپنی اہلیہ کے ساتھ کرتا ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنے اس قول و اقرار سے کیا چاہتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک فرما دیں ، آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کو سنا کہ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا : اس آدمی کو دیکھو جس کی اللہ نے ستر پوشی کی تھی ، اس کے نفس نے اسے نہ چھوڑا حتی کہ وہ کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے متعلق خاموشی اختیار فرمائی ، پھر کچھ دیر چلے حتی کہ آپ ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے جس نے اپنی ٹانگ اٹھا رکھی تھی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ فلاں فلاں شخص کہاں ہیں ؟‘‘ ان دونوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم حاضر ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دونوں نیچے اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! اسے کون کھائے گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عزت خراب کی وہ اسے کھانے سے بھی زیادہ سنگین ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ تو اب جنت کی نہروں میں غوطہ زنی کر رہا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3628

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كفارتُه» رَوَاهُ فِي شرح السّنة
خزیمہ بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے کوئی گناہ کیا اور اس گناہ کی حد قائم کر دی گئی تو وہ (حد) اس کا کفارہ بن جاتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3629

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَة وَمن أصَاب حد فستره اللَّهُ عليهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ هَذَا الْبَاب خَال عَن الْفَصْل الثَّالِث
علی ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے موجب حد کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو اللہ اس سے زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے ، اور جو شخص کسی موجب حد گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے اور اس سے درگزر فرمائے تو اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ کسی چیز پر مؤاخذہ فرمائے جس سے اس نے درگزر فرمایا ہو ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3630

عَن أبي بردة بن ينار عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حد من حُدُود الله»
ابوبُردہ بن نیار ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے جائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3631

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الوجهَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مارے تو وہ چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3632

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
ابن عباس ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی کسی (مسلمان) آدمی سے کہے : اے یہودی ! تو اسے بیس کوڑے مارو ، اور جب کہے : اے ہجڑے ! تو اسے بیس کوڑے مارو اور جو شخص کسی محرم خاتون سے جماع کرے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3633

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاحْرُقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب هَذَا الْبَاب خَال من الْفَصْل الثَّالِث
عمر ؓ روایت کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم ایسا آدمی پاؤ جس نے اللہ کی راہ (مال غنیمت) میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اسے مارو ۔‘‘ ترمذی ۔ ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3634

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجرتينِ: النخلةِ والعِنَبَةِ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شراب ان درختوں کھجور اور انگور سے تیار ہوتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3635

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خطَبَ عمرُ رَضِي الله عَنهُ عَلَى مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ: الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ والشعيرِ والعسلِ وَالْخمر مَا خامر الْعقل . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر پر خطبہ دیا تو فرمایا : شراب کی حرمت نازل ہو چکی ، اور وہ پانچ اشیاء : انگور ، کھجور ، گندم ، جو اور شہد سے تیار ہوتی ہے ، اور شراب وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3636

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ خَمْرَ الْأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيلًا وَعَامة خمرنا الْبُسْر وَالتَّمْر. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب شراب حرام کی گئی ، ہم انگوروں کی شراب کم پاتے تھے ، اور ہماری زیادہ تر شراب خشک اور تازہ کھجور سے تیار ہوتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3637

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَهُوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شہد کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور مشروب حرام ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3638

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسی پر دوام کرتے ہوئے توبہ کیے بغیر فوت ہو جائے تو وہ اسے آخرت میں نہیں پیئے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3639

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوَ مُسْكِرٌ هُوَ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ یمن سے ایک آدمی آیا تو اس نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ، اپنے ملک میں جوار سے تیار ہونے والی مزر نامی پی جانے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہ نشہ آور ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ بے شک یہ بات اللہ کے ذمہ ہے کہ جو شخص نشہ آور چیز پیئے گا تو اللہ اسے ((طینۃ الخبال)) پلائے گا ۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ((طینۃ الخبال)) کیا چیز ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہنمیوں کا پسینہ یا جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والا خون اور پیپ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3640

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ. وَقَالَ: «انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَةٍ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تازہ کھجور اور خشک کھجور کو ملانے ، منقی اور تازہ کھجور کو ملانے اور کچی کھجور اور تازہ کھجور ملانے سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ تیار کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3641

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ يُتَّخَذُ خَلًّا؟ فَقَالَ: «لَا» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شراب سے سرکہ بنانے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3642

وَعَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ. فَقَالَ: إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وائل حضرمی سے روایت ہے کہ طارق بن سوید نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں منع فرما دیا ، انہوں نے عرض کیا : میں اسے دوائی کے لیے بناتا ہوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ دوائی نہیں ، وہ تو بیماری ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3643

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم«مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِن عَاد لم يقبل الله لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِن عَاد لم يقبل الله لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صباحا فَإِن تَابَ لم يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص شراب پیتا ہے تو اللہ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ دوبارہ پی لے تو اللہ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ سہ بارہ پی لے تو اللہ اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ چوتھی مرتبہ پی لے تو اللہ اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا ، اور وہ اسے جہنمیوں کے پیپ کی نہر سے پلائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3644

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ عَبْدِ الله بن عَمْرو
امام نسائی ، ابن ماجہ اور امام دارمی نے اسے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3645

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3646

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أسكرَ مِنْهُ الفرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب ’’ فرق ‘‘ (سورطل) نشہ آور ہو تو اس کا چلو بھر پینا بھی حرام ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3647

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ گندم سے شراب ہوتی ہے ، جو سے شراب ہوتی ہے ۔ کھجور سے شراب ہوتی ہے ، انگور سے بھی اور شہد سے بھی شراب ہوتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3648

وَعَن أبي سعيدٍ الخدريِّ قَالَ: كانَ عندَنا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ فَلَمَّا نَزَلَتِ (الْمَائِدَةُ) سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقُلْتُ: إِنَّه ليَتيمٍ فَقَالَ: «أهْريقوهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمارے پاس ایک یتیم بچے کی شراب تھی ، جب سورۂ مائدہ نازل ہوئی تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا اور میں نے عرض کیا ، وہ یتیم کی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے بہا دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3649

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي قَالَ: «أَهْرِقِ الْخَمْرَ وَاكْسِرِ الدِّنَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: أَنه سَأَلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ: «أَهْرِقْهَا» . قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خلاًّ؟ قَالَ: «لَا»
انس ؓ ، ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں نے اپنے زیر پرورش یتیم بچوں کے لیے شراب خریدی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شراب بہا دو اور (اس کے) برتن توڑ دو ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یتیم بچوں کے ورثہ میں آنے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے بہا دو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا میں اسے سرکہ نہ بنا لوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3650

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ ومقتر. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر نشہ آور اور قُویٰ میں سستی پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3651

وَعَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ وَنُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا قَالَ: «هَلْ يُسْكِرُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ: «إِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فقاتلوهم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
دیلم حمیری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم سرد علاقے میں رہتے ہیں اور وہاں مشقت والا کام کرتے ہیں ، ہم اس گندم سے شراب تیار کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم اپنے کام اور اپنے علاقے کی سردی کے مقابلے میں قوت حاصل کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہ نشہ آور ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس سے اجتناب کرو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : لوگ اسے ترک کرنے والے نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو ان سے لڑائی کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3652

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ وَقَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب جوئے ، نرد / چھوٹے طبلے اور غبیراء (شراب کی ایک قسم) سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3653

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا قَمَّارٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «وَلَا وَلَدَ زِنْيَةٍ» بَدَلَ «قمار»
عبداللہ بن عمرو ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ والدین کا نافرمان ، قمار ، احسان جتلانے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ دارمی ۔ اور انہی کی ایک روایت میں قمار کے بجائے ولد زنا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Share Ravi Bookmark Report

حدیث نمبر 3654

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَنِي رَحْمَة للعالمينَ وهُدىً لِلْعَالِمِينَ وَأَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِيرِ وَالْأَوْثَانِ وَالصُّلُبِ وَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَحَلَفَ رَبِّي عزَّ وجلَّ: بعِزَّتي لَا يشربُ عبدٌ منْ عَبِيدِي جرعة خَمْرٍ إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنَ الصَّدِيدِ مِثْلَهَا وَلَا يَتْرُكُهَا مِنْ مَخَافَتِي إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنْ حِيَاضِ الْقُدس . رَوَاهُ أَحْمد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے جہان والوں کے لیے باعث رحمت اور باعث ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا ۔ اور میرے رب نے آلاتِ موسیقی ، بتوں ، صلیبوں اور رسوماتِ جاہلیت ختم کرنے کا مجھے حکم فرمایا اور میرے رب عزوجل نے میری عزت کی قسم اٹھا کر فرمایا :’’ میرے جس بندے نے شراب کا ایک گھونٹ پیا تو میں اسی مثل اسے پیپ پلاؤں گا اور جس نے میرے ڈر کی وجہ سے اسے ترک کر دیا تو میں اسے شراب طہور پلاؤں گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔